رَدِّ قادیانیت
رسائل
o حضرت مولانا نور الحق علوی اٹک
o حضرت مولانا احمد صادق سونڈوی
o حضرت مولانا عبدالعزیز مناظر ملتانی
o حضرت مولانا عبدالقدیر امروہی
o حضرت مولانا عبدالمجید مونگیری
o جناب ابو المحاسن محمد ارشد
o جناب فصیح احمد بہاری
o حافظ محمد اسحاق قریشی حلبی
o حضرت مولانا سید ادریس دہلوی
o ڈاکٹر حکیم محمد علی صاحب دہلوی
o علامہ عبدالرشّید طالوت
احتساب قادیانیت
جلد ٣١
عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوّۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٣١
- حضرت مولانا نورالحق علوی اٹک
- حضرت مولانا احمد صدیق سوندویؒ
- حضرت مولانا عبدالعزیز ناظم ملتانؒ
- حضرت مولانا عبدالقدیر امروہیؒ
- حضرت مولانا عبدالمجید مونگیریؒ
- جناب ابوالمحاسن محمد ارشد
- جناب فصیح احمد بہاری
- حافظ محمد اسحاق قریشی حلبیؒ
- حضرت مولانا سید ادریس دہلویؒ
- ڈاکٹر حکیم محمد علی صاحب داؤدیؒ
- علامہ عبدالرشید طالوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اکتیس (٣١) مصنفین : مولانا احمد صدیق سوہدروی ڈاکٹر نور حسین صابر کربلائی جعفری خان حبیب الرحمن خان کابلی قادیانی جناب عبداللطیف گجراتی جناب عبدالقدیر امروہی جناب ابوالحسن محمد ارشد جناب حافظ محمد اسحق قریشی حکیم ڈاکٹر محمد علی امرتسری علامہ عبدالرشید طالوت حضرت مولانا نور الحق علوی حضرت مولانا عبدالمجید مولانا ابوالحریر عبدالعزیز جناب فصیح احمد بہاری سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور سیکرٹری دارالاشاعت رحمانی مونگیر مولانا سید محمد ادریس دہلوی صفحات : ٥٥٢ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : جنوری ٢٠١٠ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم اللہ الرحمن الـ
فہرست رسائل مشمولہ ..... احتـ
عرض مرتب
- ١...... اسلامی درّہ المعروف کذبات مرزا مـ
- ٢...... خاتم النبوۃ ڈاکٹـ
- ٣...... قادیان دارالامان میں انقلاب خان
- ٤...... کینچواں نبی، بشیر چتر بگو، مسلم، بخاری دا ڈاٹا جـ
- ٥...... مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی جـ
- ٦...... رشد و ہدایت، بجواب کفر و ضلالت جـ
- ٧...... کشف التلبیس جـ
- ٨...... اظہار الحق حـ
- ٩...... سودائے مرزا عـ
- ١٠...... مضمون چور حـ
- ١١...... قادیانیت اور اس کے مقتداء حـ
- ١٢...... التعرف بیوز آسف مـ
- ١٣...... الشہاب علی الرجیم الکاذب، یعنی اسلام اور مرزائیت کـ جـ
- ١٤...... مجلس مستشار العلماء کا قیام سـ
- ١٥...... تعبیر رویائے حقانی بردّ خرافات قادیانی سـ
- ١٦...... اکاذیب مرزا مـ
- ١٧...... پنجابی مسیح موعود پر ایک سرسری نظر
- ١٨...... خدمات مرزا
- ١٩...... آئینہ کمالات مرزا
- ٢٠...... حقیقت مرزا
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد٣١
عرض مرتب ٤
- ١...... اسلامی درّہ المعروف کذبات مرزا جناب احمد صدیق سوہدروی ٩
- ٢...... خاتم النبوۃ ڈاکٹر نور حسین صابر کربلائی سیالوی ٢٩
- ٣...... قادیان دارالامان میں انقلاب خان حبیب الرحمٰن خان کابلی قادیانی ٩٧
- ٤...... کنجواں نبی، بشیر پتر بحکم مسلم، بخاری دا ونڈا جناب عبداللطیف گجراتی ١٤٧
- ٥...... مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی جناب عبدالقدیر امروہوی ١٥٥
- ٦...... رشد و ہدایت، بجواب کفر و ضلالت ابوالمحاسن محمد ارشد ١٦٣
- ٧...... کشف التلبیس جناب حافظ محمد اسحق قریشی ١٨٣
- ٨...... اظہار الحق // // ٢٠٥
- ٩...... سودائے مرزا حکیم ڈاکٹر محمد علی امرتسری ٢٥٥
- ١٠...... مضمون چور علامہ عبدالرشید طالوتؒ ٢٨٩
- ١١...... قادیانیت اور اس کے مقتداء حضرت مولانا نور الحق علویؒ ٢٩٩
- ١٢...... التعرف بیوذ آسف // // ٣٢٩
- ١٣...... الشہاب علی الرجیم الکاذب، یعنی اسلام اور مرزائیت کا تضاد // // ٣٦١
- ١٤...... مجلس مستشار العلماء کا قیام // // ٤٠١
- ١٥...... تعبیر رویائے حقانی، بر ہفوات قادیانی حضرت مولانا عبدالمجیدؒ ٤٠٩
- ١٦...... اکاذیب مرزا مولانا ابوالخیر عبدالعزیزؒ ٤٢٩
- ١٧...... پنجابی مسیح موعود پر ایک سرسری نظر فصیح احمد بہاریؒ ٤٤٧
- ١٨...... خدمات مرزا سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور ٤٨٥
- ١٩...... آئینہ کمالات مرزا سیکرٹری دارالاشاعت رحمانی مونگیر ٤٩٧
- ٢٠...... حقیقت مرزا مولانا سید محمد ادریس دہلویؒ ٥٣٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عرض مرتب
الحمدلله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء . اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد اکتیس قارئین کے لئے حاضر خدمت ہے۔ اس جلد میں کل بیس رسائل شامل اشاعت ہیں۔
- .......١ اسلامی دڑہ۔ (المعروف کذبات مرزا) یہ رسالہ حضرت مولانا احمد
صدیق سونڈویؒ کا مرتب کردہ ہے۔ مولانا احمد صدیق سونڈویؒ کے والد گرامی شاہ محمد ابراہیم مجددی نقشبندی کیرانوی تھے جو حضرت شاہ رفیع الدین عثمانیؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا احمد صدیق کے مرشد مولانا شاہ عزیز الرحمن صاحبؒ تھے جو دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم تھے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے کذبات درج ہیں جو اس رسالہ کو یاد کرے گا وہ ہمیشہ مرزائیوں پر غالب رہے گا اور جو مرزائی اس کو ایمان وانصاف سے دیکھے گا اس کو انشاء اللہ ! ضرور توبہ کی توفیق نصیب ہوگی۔
- .......٢ خاتم النبوۃ۔ جناب ڈاکٹر نور حسین صابر گورنمنٹ پنشنر جعفری کربلائی
جھنگ سیالوی نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ مولانا علی الحائری نے اس کی تقریظ تحریر کی۔ جناب علی الحائری وہ شخصیت ہیں جو مرزا قادیانی ملعون کے مقابلہ میں میدانِ عمل میں ثابت قدم رہے۔ مرزا قادیانی ان کی تردید کرتا رہا۔ لیکن مولانا علی الحائری نے مرزا قادیانی کا ناطقہ بند کئے رکھا۔ اس رسالہ کی آپ نے تقریظ تحریر فرمائی۔ رسالہ شیعہ نقطہ نظر سے رد قادیانیت پر لکھا گیا ہے۔ تاہم مرزا قادیانی کی ”بولورام“ کر دی گئی ہے۔
- .......٣ قادیان دارالامان میں انقلاب۔ خان حبیب الرحمن خان کابلی الافغانی
نے ١٩٣٧ء میں یہ رسالہ ترتیب دیا۔ خان حبیب الرحمن خان کابلی اس نام کے دو آدمی گزرے ہیں۔ ایک حبیب الرحمن خان کابلی مجلس احرار اسلام کے ممتاز رہنما تھے۔ انہوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی سوانح عمری تحریر فرمائی۔ دوسرے خان حبیب الرحمن خان کابلی قادیانی تھے۔ انہوں نے ”قادیان دارالامان میں انقلاب“ نامی یہ رسالہ تحریر کیا۔ مصنف قادیانی تھا۔ اس نے مرزا محمود قادیانی خلیفہ کے ظلم وستم کی اس رسالہ میں کہانی سپرد قلم کی۔ عبدالرحمن مصری جو لاہوری مرزائی تھا۔ اس نے مرزا محمود کے کردار اور ظلم وستم کی کہانی اس رسالہ میں بیان کر کے مرزا محمود کے ظلم و ستم
و بدکرداری کو چیلنج کیا۔ اس رسالہ میں عبدالرحمن و حبیب کے خطوط شائع ہوئے۔ مرزا محمود کو کھلے الفاظ میں قادیانیوں عملاً مظاہرہ کیا۔ تفصیل اس رسالہ میں ملاحظہ کی جاسک
- .......٤ محکوم مسلم، بھینچواں نبی،
گجراتی نے چار نظمیں پنجابی زبان میں تحریر کیں کا نام ”بشیر پتر“ ہے۔ یہ نظم مولانا سید داؤد غزنوی میں پڑھی گئی۔ تیسری نظم کا نام ”محکوم مسلم“ ہے بخاریؒ کی زیر صدارت راولپنڈی کے اجتماع میں ہے۔ چار نظموں پر مشتمل یہ رسالہ تقسیم سے قبل شد وزیر آبادی نے اسے شائع کیا۔
- .......٥ مرزائی احمدیوں کی شرمن
جو پہلے القاسم دیوبند رجب ١٣٣٩ء میں شائع
- :١....... موریشش افریقہ کی مسجد سے قادیانیوں کی ا
السلام اور قادیانی ملعون ۔٣....... محمدی بیگم کا نکا قادیانی۔ ان چار طریقوں پر مرزائیوں کی رسو گیا ہے۔ نوے سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی
- .......٦ رشد وہدایت۔ ابوالعا
کے جواب میں تحریر فرمایا۔ جناب محمد ارشد م رکھتے تھے۔ آپ نے عبدالرحیم قادیانی کے جھ محمد علی مونگیریؒ کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ہے
- .......٧ کشف التلبیس۔
عبداللطیف صاحبؒ بانی ومہتمم جامعہ حنفیہ ج کے در و دیوار سے حق کی گونج ایسے بلند ہوئ مترادف تھی۔ جہلم قادیانی جماعت کے سیکر جس میں قادیانی عقائد کو پیش کرتے ہوئے محمد اسحق قریشی نے اس رسالہ میں قادیانی رس
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عرض مرتب
علی سید الرسل وخاتم الانبیاء ، امابعد! و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد اکتیس قارئین کے لئے ں رسائل شامل اشاعت ہیں۔
- ...... (المعروف کذبات مرزا) یہ رسالہ حضرت مولانا احمد
مولانا احمد صدیق سونڈوی کے والد گرامی شاہ محمد ابراہیم رت شاہ رفیع الدین عثمانی کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولانا احمد ن صاحب تھے جو دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم تھے۔ اس درج ہیں جو اس رسالہ کو یاد کرے گا وہ ہمیشہ مرزائیوں پر نا وانصاف سے دیکھے گا اس کو انشاء اللہ ! ضرور توبہ کی توفیق
جناب ڈاکٹر نور حسین صابر گورنمنٹ پنشنر جعفری کربلائی مولانا علی الحائری نے اس کی تقریظ تحریر کی۔ جناب علی ن کے مقابلہ میں میدان عمل میں ثابت قدم رہے۔ مرزا علی الحائری نے مرزا قادیانی کا ناطقہ بند کئے رکھا۔ اس ے نقطہ نظر سے رد قادیانیت پر لکھا گیا ہے۔ تاہم مرزا
یں انقلاب۔ خان حبیب الرحمن خان کابلی الافغانی بیب الرحمن خان کابلی اس نام کے دو آدمی گزرے رِ اسلام کے ممتاز رہنما تھے۔ انہوں نے سید عطاء اللہ ے خان حبیب الرحمن خان کابلی قادیانی تھے۔ انہوں رسالہ تحریر کیا۔ مصنف قادیانی تھا۔ اس نے مرزا محمود کافی سپرد قلم کی۔ عبدالرحمن مصری جو لاہوری مرزائی کہانی اس رسالہ میں بیان کر کے مرزا محمود کے ظلم وستم
وبدکرداری کو چیلنج کیا۔ اس رسالہ میں عبدالرحمن و حبیب الرحمن خان کابلی قادیانی کے قلم سے حقائق شائع ہوئے۔ مرزا محمود کو کھلے الفاظ میں قادیانیوں نے چیلنج کیا۔ مرزا محمود نے کمال ڈھیٹ پن کا عملاً مظاہرہ کیا۔ تفصیل اس رسالہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
- ٤...... محکوم مسلم، کینچواں نبی، بشیر پتر، بخاری کا ڈنڈا۔ جناب عبداللطیف
گجراتی نے چار نظمیں پنجابی زبان میں تحریر کیں۔ پہلی نظم کا نام ”کینچواں نبی“ ہے۔ دوسری نظم کا نام ”بشیر پتر“ ہے۔ یہ نظم مولانا سید داؤد غزنوی کی زیرصدارت احرار تبلیغ کانفرنس لائل پور میں پڑھی گئی۔ تیسری نظم کا نام ”محکوم مسلم“ ہے۔ یہ نظم حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی زیرصدارت راولپنڈی کے اجتماع میں پڑھی گئی۔ چوتھی نظم کا نام ”بخاری دا ڈنڈا“ ہے۔ چار نظموں پر مشتمل یہ رسالہ تقسیم سے قبل شائع ہوا۔ محترم جناب کامریڈ عبدالکریم احراری وزیر آبادی نے اسے شائع کیا۔
- ٥...... مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی۔ جناب عبدالقدیر امرتسری کا مضمون
جو پہلے القاسم دیوبند رجب ١٣٣٩ء میں شائع ہوا۔ پھر رسالہ کی شکل میں شائع ہوا۔ اس میں
- :١...... موریشس افریقہ کی مسجد سے قادیانیوں کی قانونی بے دخلی ۔٢...... سیدنا مہدی ، سیدنا مسیح علیہم
السلام اور قادیانی ملعون ۔٣...... محمدی بیگم کا نکاح اور قادیانی ملعون ۔٤...... سلطان بیگ اور مرزا قادیانی۔ ان چار طریقوں پر مرزائیوں کی رسوائی اور مرزا ملعون قادیانی کے کذب کو واضح کیا گیا ہے۔ نوے سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی مجلس کو سعادت نصیب ہو رہی ہے۔
- ٦...... رشد و ہدایت۔ ابوالحسن محمد ارشد نے یہ رسالہ قادیانی عبدالرحیم مرزائی
کے جواب میں تحریر فرمایا۔ جناب محمد ارشد صاحب، حضرت مونگیریؒ کے حلقہ ارادت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے عبدالرحیم قادیانی کے جواب میں یہ رسالہ تحریر کیا۔ اس میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
- ٧...... کشف التلبیس۔ مصنفہ حافظ محمد اسحق قریشی جہلم۔ حضرت مولانا
عبداللطیف صاحب بانی و مہتمم جامعہ حنفیہ جہلم اکابر علماء حق میں تھے۔ آپ کے بیان سے مسجد و منبر کے در و دیوار سے حق کی گونج ایسے بلند ہوتی تھی جو قادیانی کفر کو گرم توے پر رقص کرا دینے کے مترادف تھی۔ جہلم قادیانی جماعت کے سیکرٹری نے ستمبر ١٩٦٦ء میں رسالہ تحریر کیا ”ہمارا نقطہ نظر“ جس میں قادیانی عقائد کو پیش کرتے ہوئے حضرت مولانا عبداللطیف کو نشانہ تنقید بنایا گیا۔ جناب محمد اسحق قریشی نے اس رسالہ میں قادیانی رسالہ کا منہ توڑ جواب دیا۔
- ٨ ...... اعجاز الحق بجواب اظہار الحق ۔ مصنفہ محمد اسحق قریشی جہلم ۔ قادیانی رسالہ
ہمارا نقطہ کا جواب حافظ محمد اسحق قریشی نے کشف التلبیس کے نام سے شائع کیا۔ قادیانیوں نے اس کا جواب ”اظہار الحق“ کے نام سے ایک رسالہ کی شکل میں شائع کیا۔ جناب قریشی صاحب نے قادیانی رسالہ اظہار الحق کا جواب ”اعجاز الحق“ کے نام سے اس رسالہ میں دیا۔ اس کے بعد قادیانی کی بولتی بند ہوگئی۔
- ٩ ...... سودائے مرزا۔ حکیم ڈاکٹر محمد علی ۔ یہ رسالہ ١٩؍ اکتوبر ١٩٣١ء میں امرتسر
سے شائع ہوا۔ ڈاکٹر حکیم محمد علی صاحب طبیہ کالج دہلی کے سند یافتہ تھے۔ طبیہ کالج امرتسر کے ہیڈ پروفیسر بھی تھے۔ آپ نے اس رسالہ میں طبی دلائل اور مرزا قادیانی کی تحریرات سے ثابت کیا ہے کہ مرزا ملعون قادیان، نہ نبی تھا نہ مسیح نہ مجدد اور نہ ہی ولی و ملہم بلکہ مرض مالخولیا کا مریض تھا۔ اس کے کل الہامات و دعاوی محض مرض مالخولیا کے باعث تھے۔
- ١٠ ...... مضمون چور ۔ علامہ ابوالفضل جروتی ۔ یہ رسالہ ١٩؍ فروری ١٩٥٠ء میں
حضرت علامہ عبدالرشید طالوتؒ نے تحریر کیا۔ ابوالفضل جروتی آپ کا قلمی نام تھا۔ اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی دوسرے حضرات کے مضامین کو چوری کر کے اپنی کتابوں میں شامل کیا کرتا تھا۔
- ١١ ...... قادیانیت اور اس کے مقتداء ۔ حضرت مولانا محمد نور الحق علویؒ ۔
٢٢؍ جولائی ١٩٣٣ء کو حضرت مصنف نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ مولانا نور الحقؒ صاحب معروف دانشور جناب غلام جیلانی برق کے بڑے بھائی تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ سے آپ نے دورہ حدیث کیا۔ لاہور میں رد قادیانیت کے لئے ایک جماعت مستشار العلماء پنجاب قائم کی۔ حضرت مولانا محمد خلیلؒ صدر اور مولانا نجم الدینؒ پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور نائب صدر، مولانا نور الحقؒ ناظم عمومی مقرر ہوئے۔ مستشار العلماء کے تحت پہلا رسالہ یہ شائع ہوا۔
- ١٢ ...... التعرف بیوذ آسف ۔ حضرت مولانا نور الحق علویؒ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔
مرزا قادیانی ملعون نے یوذ آسف کو یسوع مسیح ثابت کرنا چاہا۔ پھر یوذ آسف کی قبر کشمیر کو مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت کرنے کے درپے ہوا۔ دجل در دجل، کذب در کذب، فراڈ در فراڈ کے بعد ایک ایسا موقف پیش کیا۔ مسلمان، مسیحی، یہودی، تینوں آسمانی مذاہب کے پیروکاروں میں سے ایک شخص نے بھی مرزا قادیانی کے موقف کو تسلیم نہ کیا۔ نتیجتاً مرزا قادیانی ملعون کے حصہ میں سوائے دھوکہ دہی کی ابدی لعنت کے اور کچھ نہ آیا۔
مولانا نور الحق علویؒ نے اس رسالہ میں خود ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ یوذ آسف شہزادہ نبی تھا ہے۔ اس عنوان پر بہت سارے حضرات نے بہت یہ رسالہ حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔
- ١٣ ...... الشہاب الثاقب علی الرجم
حضرت مولانا نور الحق علویؒ نے ستمبر ١٩٣٢ء میں یہ بعد اس رسالہ کی اہمیت اور ضرورت باقی ہے۔
- ١٤ ...... مجلس مستشار العلماء کا
مستشار العلماء کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مولانا قا مولانا نور الحق علویؒ کو اس کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا کشمیریؒ قرار پائے۔ اس تنظیم کے تحت میں رد کئے گئے۔ اس جماعت کے اراکین کے اسماء نور الحقؒ نے شائع کیا۔ جو شامل اشاعت ہے شاہ کشمیریؒ نے اپنے رسالہ دعوت حفظ ایمان ساتھ مدد کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔
- ١٥ ...... تعبیر رویائے حقانی
کتاب ہذا میں قادیانی رسالہ ”اسرار نہانی“ فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ اور مولانا سید محمد گیا کہ قادیانیوں کے دانت کھٹے کر دیئے گئے
- ١٦ ...... ”اکاذیب مرزا“
فرمایا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے پچاس کیا گیا ہے کہ ایسا شخص نبی تو بجائے خود حوالہ جات کو غلط ثابت کرلے۔ ہر حوالہ پر
- ١٧ ...... پنجابی مسیح موعود
احمد بہاری رائل پاکستان ائیر فورس ناشر رسالہ میں مرزا قادیانی کے دجل وفریب
مولانا نور الحق علویؒ نے اس رسالہ میں ثابت کیا کہ یوز آسف مرزا قادیانی کی طرح خود ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ یوز آسف شہزادہ نبی نہ تھا بلکہ ایک ملعون تھا۔ یہ اس رسالہ کا موضوع ہے۔ اس عنوان پر بہت سارے حضرات نے بہت کچھ تحریر فرمایا۔ فقیر کی رائے میں اس موضوع پر یہ رسالہ حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔
- ١٣...... الشہاب الثاقب علی الرجیم الکاذب۔ یعنی اسلام اور مرزائیت کا تضاد،
حضرت مولانا نور الحق علویؒ نے ستمبر ١٩٣٤ء میں یہ رسالہ تحریر فرمایا تھا۔ چھیاسی سال گزرنے کے بعد اس رسالہ کی اہمیت اور ضرورت باقی ہے۔
- ١٤...... مجلس مستشار العلماء کا قیام۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مجلس
مستشار العلماء کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مولانا قاضی محمد خلیلؒ سابق مفتی مالیر کوٹلہ کو اس کا صدر اور مولانا نور الحق علویؒ کو اس کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ سرپرست اس کے حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ قرار پائے۔ اس تنظیم کے تحت میں رد قادیانیت کے کام کے لئے مختلف شعبہ جات قائم کئے گئے۔ اس جماعت کے اراکین کے اسماء اور اغراض ومقاصد پر مشتمل تعارفی پمفلٹ مولانا نور الحقؒ نے شائع کیا۔ جو شامل اشاعت ہے۔ یہ وہی مستشار العلماء ہے جس کا مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے رسالہ دعوت حفظ ایمان نمبر ٢ میں تذکرہ کیا ہے اور ساتھیوں کو اس تنظیم کے ساتھ مدد کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔
- ١٥...... تعبیر رویائے حقانی۔ رد ہفوات قادیانی۔ تحریر جناب مولانا عبد المجید
کتاب ہذا میں قادیانی رسالہ ”اسرار نہانی“ کا محققانہ و مفصل جواب دیا گیا ہے۔ حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ اور مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے متعلق قادیانی خرافات کا ایسا جواب دیا گیا کہ قادیانیوں کے دانت کھٹے کر دیئے گئے۔
- ١٦...... ”اکاذیب مرزا“ مولانا ابوالخیر عبدالعزیز مناظر ملتانی نے یہ رسالہ تحریر
فرمایا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے پچاس جھوٹ ان کی کتابوں سے لکھے گئے ہیں اور ثابت کیا گیا ہے کہ ایسا شخص نبی تو بجائے خود صحیح معنوں میں مسلمان بھی نہیں ہوسکتا اور جو قادیانی ان حوالہ جات کو غلط ثابت کرلے۔ ہر حوالہ پر انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
- ١٧...... پنجابی مسیح موعود۔ یہ رسالہ جناب فصیح احمد بہاری کا مرتب کردہ ہے۔ فصیح
احمد بہاری رائل پاکستان ائیر فورس ناشر مکتبہ تحفظ ختم نبوت پشاور اس کے ٹائٹل پر لکھا ہے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دجل و فریب طشت از بام کئے گئے ہیں۔
- ١٨....... خدمات مرزا۔ انجمن تائید الاسلام لاہور کے ماہواری رسالہ تائید الاسلام
سے ایک مضمون لے کر اسے اس کتابچہ کی شکل میں شائع کیا گیا۔ مکمل نام یہ ہے۔ ”مرزائی نبوت کا آخری سہارا۔ خدمات مرزا۔ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی امت غیر اللہ کے دروازے پر مرزائی مذہب کے بنیادی اصول پر محققانہ تبصرہ۔“
- ١٩....... آئینہ کمالات مرزا۔ ناظم دارالاشاعت رحمانی مونگیر کا مرتب کردہ ہے۔
خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے صحیفہ رحمانیہ شائع ہوتا تھا۔ اس کے کل چوبیس شمارے شائع ہوئے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ! کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے صحیفہ رحمانیہ کی مکمل فائل جو چوبیس رسائل پر مشتمل تھی۔ احتساب قادیانیت کی جلد پانچ میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس طرح خانقاہ عالیہ رحمانیہ مونگیر شریف سے ایک رسالہ صحیفہ محمدیہ کے نام پر بھی شائع ہوتا تھا۔ اس کے کل کتنے شمارے شائع ہوئے۔ ان کی فائل کہاں سے مل سکتی ہے۔ اعتراف کرتا ہوں کہ اس سلسلہ کی معلومات کے حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جس کی سخت ندامت ہے۔ صحیفہ محمدیہ کے تمام شمارے اتنے اہم موضوعات پر مشتمل ہوتے تھے کہ ان رسائل کے پہلے پانچ شمارہ جات کو ”آئینہ کمالات مرزا“ کے نام پر خود خانقاہ مونگیر کے حضرات نے شائع کیا۔ لیجئے ۔ صحیفہ محمدیہ شمارہ ١ تا ٥ کا مجموعہ ”آئینہ کمالات مرزا“ پیش خدمت ہے۔ اس کا مزید تعارف خود ناشرین نے کرادیا ہے۔ جو قارئین پڑھ لیں گے۔ تاہم اتنا عرض کئے بغیر چارہ نہیں کہ اس کا شمارہ نمبر ٣ بطور خاص پڑھنے کی چیز ہے۔ اس میں مختلف حضرات نے مرزا قادیانی کے متعلق خواب دیکھے۔ وہ انہوں نے شائع کردیئے۔ قادیانی گروہ خواب پرست ہے۔ تو لیجئے۔ یہ خواب بھی ان کے پڑھنے کی چیز ہیں۔ تاکہ ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ یہی ناشرین کے سامنے شائع کرنے کا مقصد تھا۔
- ٢٠....... حقیقت مرزا۔ مولانا سید محمد ادریس صاحب جو انجمن اصلاح المسلمین
دہلی کے سیکرٹری تھے۔ انہوں نے یکم دسمبر ١٩٣١ء کو یہ رسالہ دہلی سے شائع کیا۔ قادیانی عقائد کو مختصراً جمع کر دیا گیا ہے۔ یوں سولہ حضرات کے بیس رسائل احتساب کی اس جلد میں شائع کرنے کی اللہ رب العزت نے توفیق سے سرفراز فرمایا۔ فالحمد للہ!
فقیر اللہ وسایا ! ٧ صفر الخیر ١٤٣١ھ ٢٣ جنوری ٢٠١٠ء
خاتم النبیین
اسلامی
المعروف
کذبات
جناب احمد صد
خاتم النبیین لا نبی بعدی
نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں
اسلامی درّہ
المعروف
کذبات مرزا
جناب احمد صدیق سونڈوی
اسلامی درہ
حصہ اوّل
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً ومسلماً!
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم!
ناظرین! منشی غلام احمد قادیانی آنجہانی کو آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس نے اپنے لئے بہت سے دعوے کئے۔ لیکن سب ہی غلط ثابت ہوئے۔ مجدد، محدث، ولی، آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم، محمد، احمد، غرض جس قدر بھی دنیا میں انبیاء علیہم السلام تشریف لائے وہ سب ہی مرزا قادیانی (معاذ اللہ) ہوئے ہیں۔
جری اللہ فی حلل الانبیاء بھی الہام ہے۔ آریوں کے بادشاہ بھی بنے تو ہندوؤں کے کرشن بھی۔ عیسائیوں کے یسوع مسیح بھی ہوئے تو مسلمانوں کے لئے مسیح موعود، پھر مردوں کے مراتب طے فرما کر عورت بھی ہوئے، حائضہ وحاملہ بھی ہوئے، دردِ زہ بھی شروع ہوئے، بچے بھی جنے گئے اور خود ہی مریم پھر ابن مریم بھی ہوئے۔ ہمبستری کس کے ساتھ ہوئی اور حمل کس سے ٹھہرا اس کو بھی مرزا قادیانی نے خود ہی بیان فرما دیا۔ غور سے پڑھئے۔
مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد صاحب پلیڈر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے واسطے اشارہ کافی ہے۔ (استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ)“
(ٹریکٹ نمبر ٣٤ ص ١٢، موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر)
غرض کہ مرزا قادیانی سب کچھ ہوئے مگر ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی ایمان ان کو نصیب نہ ہوا۔
این جملہ شدی ولے مسلمان نشدی
آخر میں نبی بروزی، ظلی، مجازی، لغوی ہو کر نبی حقیقی شرعی پر بس نہیں کی۔ بلکہ صاحب شریعت بھی ہوئے۔ لیکن ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی، مولوی ثناء اللہ امرتسری اور سلطان محمد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح کے ہو جانے کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت اور کذب کا معیار
قرار دیا تھا۔ ان سب سے پہلے خود ہی بمرض ہیضہ لاہور میں مر کر اپنی ناکامی و نامرادی اور اپنا کذاب ہونا ایسا ثابت کر گئے کہ نہ موافقوں کو دم مارنے کی جگہ باقی رہی نہ مخالفوں کو زیادہ گفت وشنید کی ضرورت ۔ جھوٹ بولے تو ایسے ایسے ڈبل بولے کہ زمین و آسمان تو ان کا تحمل کر نہیں سکتے۔ ہاں مرزا قادیانی کی قبر ہی میں ان کو تلاش کیا جائے تو ضرور ملیں۔
حضرات! ہماری تحقیق تو یہ ہے کہ ولایت میں کوئی مشین کتنی ہی تیز چلنے والی ہو اتنا کپڑا نہیں بن سکتی ۔ جتنا قادیانی مشین میں دروغ بنایا جاتا ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ منشی غلام احمد قادیانی آنجہانی عام انسانوں پر تو جھوٹ اور افتراء کرتے ہی تھے۔ لیکن خدا اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی جھوٹ اور افتراء لگانے سے ان کو پرہیز نہ تھا اور اس کی مثالیں ہم نے کئی دفعہ بذریعہ اخبار شائع کی ہیں۔ جن کا جواب قادیانی امت نے بجز خاموشی کے اور کچھ نہ دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب قادیانی کابل تشریف لے گئے ہیں۔ کسی مرزائی کی تجہیز و تکفین کرنے۔
مرزائیوں کی غفلت سے بیچاری مرزائیت کا تو بری طرح تڑپ تڑپ کر خاتمہ ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنازہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کا جنازہ تو لاہور سے دجال کے گدھے پر سوار کر کے قادیان پہنچایا گیا تھا۔ دیکھئے بیچاری مرزائیت قادیان سے لاہور آتی ہے۔ یا لاہور سے قادیان جاتی ہے یا لاوارثی میں عیسائیت کے سپرد ہوتی ہے۔
ٹھوکریں کھاتی پھرے تھی نعش کفنائی ہوئی
سلطان القلم کے مریدو! اگر آپ لوگ منشی جی کو سچا ثابت نہیں کر سکتے ۔ تو پھر یہ کہہ دو کہ ہم مرزا قادیانی کے کس قدر جھوٹ ثابت کر دیں تو آپ بھی ان کو جھوٹا کہیں گے۔ مناظروں کا دعویٰ ، مباہلوں کا شور تھا۔ مگر سب ہی سیٹی پٹاخے بھول گئے اور کوئی جواب نہیں بنتا۔
کیا شفق نے کھلا دیا سیندور
مرزائیو! تمہاری غیرت و شرم و حیا کہاں چلی گئی یا اسلام کے ساتھ اخلاق سے بھی خارج ہو گئے۔
بے وفا تیری وفا میری شکیبائی ہوئی
روزانہ اخبار واشتہار ورسائل نکلتے ہیں۔ مگر ایک صفحہ جواب کا نہیں لکھ سکتے۔ قلم، دوات، کاغذ، پریس، مشینیں سب ہی کچھ موجود ہیں۔ مگر کوئی مرزائی ہے جو ہمارے مقابلہ میں قلم اٹھائے۔
مرزائیت کی پوری خانہ ویرانی کے بعد ہندوستان کے تمام قادیانیوں کو چیلنج دیا۔ اس کو کس نے نہیں دیکھا۔ مگر کوئی مرزائی بولا یا بول سکتا ہے؟ پھر کس منہ سے مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہو اور کس حق کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہو۔ تم تو ابھی ابھی اسلام سے خارج ہوئے ہو۔ انصاف سے بات کرو۔
افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم سے اصولی بحث کرلو۔ جب اصولی بحث شروع ہوتی ہے تو جان چھڑا جاتے ہیں۔ کیا یہی اعلیٰ اصولی بحث ہے کہ جھوٹ بولنے والا بھی خدا کا مخاطب یا ملہم ہو سکتا ہے؟
دوستو! دیکھنا تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دنیا میں آ کر کس قدر جھوٹ بولے، اگر مرزا قادیانی کا ایک جھوٹ بھی ثابت ہو جائے تو بس قصہ ہی ختم۔
حیرت کا مقام ہے کہ یہ مرزائی کس طرح آستینیں چڑھا چڑھا کر مخالفین اسلام سے بحثیں کرنے جاتے ہیں اور وہاں اسلام کے دلائل سے فتح پا کر احمدیت کی فتح مشہور کرتے ہیں۔ مگر جب احمدیت پر حملہ ہوتا ہے تو ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے ”کالمغشی علیہ من الموت“
مرزائیو! ہم تمہارے بھلے کی بات کہتے ہیں کہ جھوٹوں کا ساتھ چھوڑ دو اور بحکم خدا ”کونوا مع الصادقین“ سچوں کا ساتھ دو۔
قادیانی دوستو! آپ لوگوں پر بہت ہی افسوس ہے کہ تم لوگ مرزا قادیانی کے تخت و تاج کے وارث بن کر ”مرزا قادیانی“ کے جھوٹ کو خاموشی سے سن رہے ہو اور ادھر ادھر کی فضول باتوں میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو اور جھوٹی گپیں مشہور کر کے ناواقفوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہو۔ مگر مرزا آنجہانی سے کذبات کا الزام دور کرنے کی طرف نہیں آتے۔
مجھے امید قوی ہے کہ اگر کوئی مرزائی خالی الذہن ہو کر خلوص نیت سے اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو وہ ضرور کذاب قادیانی سے قطع تعلق کر کے دوبارہ سرکار مدینہ ﷺ کے جھنڈے تلے پناہ لے گا۔
دوستو! میرا اور تمام اہل اسلام وہ تو ایک سیدھے سادھے مسلمان بلکہ حق اور یہودیوں پر نظر ڈالئے، پارسی اور ہند انسان آپ کو ملیں گے جنہوں نے عمر بھر ک انسانوں کو دھوکہ دینے والا ہو۔
ناظرین! اب ہم منشی غلام اح درج کرتے ہیں۔ تاکہ مرزا قادیانی کے ا دیکھا جائے کہ آیا وہ اس قابل انسان تھے ی
جھوٹ دھوکہ اور افتراء
- ١...... امام مہدی علیہ ال
(ازالہ اوہام ص ٢٣٥، خزائن ج ٣ ص ٢١٨) پر م خالی نہیں۔ اسی وجہ سے امامین حدیث نے پھر اسی کتاب کے (ص ٥١٨ ”مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے مریم کا ہو یہ خیال قلت تدبر کی وجہ سے ہے لئے ایک لازم غیر منفک ہونا اور مسیح کے کہ یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخ اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن امام مہد ہر دو اقتباس ظاہر کر رہے ہیں ہے کہ مہدی کے بارہ میں کوئی بھی حد مصنف ابوالخطا جلندھری قادیانی)
حضرات! دیکھا آپ نے ک مہدی علیہ السلام کے بارہ میں جو احادی اسماعیل نے صحیح بخاری شریف میں اما
عالمی ... کانفرنس مکمل کار ... عالمی سیرت ک ...
دوستو! میرا اور تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود و نبی تو کیا ہوتے وہ تو ایک سیدھے سادھے مسلمان بلکہ حق بات تو یہ ہے وہ ایک سچے انسان بھی نہ تھے۔ عیسائیوں اور یہودیوں پر نظر ڈالئے ، پارسی اور ہندوؤں کو دیکھئے کہ باوجود ان کے کفر کے بہت سے ایسے انسان آپ کو ملیں گے جنہوں نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا ہوگا۔ خاص کر وہ جھوٹ جو دوسرے انسانوں کو دھوکہ دینے والا ہو۔
ناظرین! اب ہم منشی غلام احمد قادیانی آنجہانی کے کذبات کے ایک طویل فہرست درج کرتے ہیں۔ تاکہ مرزا قادیانی کے اسلام اور مجددیت اور نبوت سے پہلے ان کے کذبات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ اس قابل انسان تھے کہ ان کی بات یا دعویٰ کو سنا بھی جائے۔
خادم العلماء: بندہ احمد صدیق سونڈوی
جھوٹ دھوکہ اور افتراء
- ١....... امام مہدی علیہ السلام کی بابت مرزا قادیانی اپنی تصنیف ازالہ اوہام یعنی کتاب
(ازالہ اوہام ص ٢٣٥ ، خزائن ج ٣ ص ٢١٨) پر لکھتے ہیں کہ: ” میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں۔ اسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا۔“
پھر اسی کتاب کے (ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨) پر بہت زور دے کر لکھتے ہیں کہ:
” مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے امام مہدی آویں ، اور بعد اس کے ظہور مسیح ابن مریم کا ہو یہ خیال قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن امام مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔“
ہر دو اقتباس ظاہر کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کس زور و شور سے اس امر کو بیان کیا ہے کہ مہدی کے بارہ میں کوئی بھی حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے۔ (کتاب تفہیمات شیطانیہ،
مصنف ابوالخطا جالندھری قادیانی)
حضرات! دیکھا آپ نے کہ ١٣١٠ھ تک مرزا قادیانی یہی رٹ لگاتے رہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے بارہ میں جو احادیث ہیں وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔ اس لئے کہ امام محمد اسماعیل نے صحیح بخاری شریف میں امام مہدی علیہ السلام کا نام تک نہیں لیا۔ لیکن جب ماہ
رمضان ١٣١١ھ میں سورج اور چاند کو گرہن ١؎ لگا تو جھٹ سے مرزا قادیانی نے انہیں ضعیف حدیثوں کو صحیح مان کر کتاب (شہادۃ القرآن ص ٤٠، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) پر ایک افتراء امام بخاریؒ پر اس طرح تصنیف کیا۔ لکھتے ہیں کہ: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ اس کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو ’اصح الکتاب بعد کتاب اللہ‘ ہے۔“
یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ مرزائی پچاس روپیہ انعام پائے ورنہ جھوٹے کی نسبت ہم وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں اس پر اعتبار نہیں ہوتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
٢...... دجال کا دوسرا دجل دیکھئے۔ کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٧٢، خزائن ج ١٧ ص ٢١١) پر ایک حدیث اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”نسائی نے ابوہریرہؓ سے دجال کی صفت میں آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث لکھی ہے۔ ”يخرج في أخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضأن السنتهم أحلى من العسل وقلوبهم قلوب الذياب يقول الله عزوجل ابى يفترون ام على يخبرون“ اور اگر کوئی مرزائی ہمت کر کے یہ حدیث نسائی (یا کسی اور صحیح حدیث کی کتاب میں) دکھائے تو چالیس روپیہ انعام پائے۔ ”ورنہ جھوٹے کی نسبت مرزا قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ: ”ایمانداروں کی یہی علامت ہے کہ جب ایک موقعہ پر ایسا خیال جھوٹا ثابت ہو گیا تو پھر چاہئے کہ عمر بھر اس کا نام نہ لیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٧)
١؎ حالانکہ ایسے گرہن پہلے بھی کئی دفعہ سورج اور چاند کو لگ چکے ہیں اور تعجب ہے کہ ایک جھوٹی روایت کو یہ کہتے ہوئے خدا کا خوف نہیں اور رسول سے شرم بھی نہیں آتی کہ یہ حدیث ہے۔ دوستو! آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ ”من كذب علي متعمداً فليتبوأ مقعده في النار“ جو کوئی مجھ پر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔ (حدیث)
٣....... حضرت ابو ہریرہؓ ایک جلیل القدر صحابی گزرے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آسمان سے نازل ہونے کی نسبت ایک حدیث آنحضرت ﷺ سے بیان فرما کر اس کی تائید میں ایک آیت قرآنی پیش کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے مرزا قادیانی کا اگر کوئی قصور کیا ہے تو وہ یہی ہے کہ حدیث کی تائید میں آیت قرآنی کیوں چسپاں کردی۔ یہ آیت دیکھنے کے بعد مرزا قادیانی اور وہ مرزا جس کی بدزبانی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی پاک ہستی نہ بچ سکی تو اس کے مقابلہ میں حضرت ابو ہریرہؓ کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔ ان کی نسبت برا بھلا کہہ کر اور پھر طرفہ یہ کہ وہ الفاظ صاحب تفسیر ثنائی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مرزائیو سنو اور کان کھول کر سنو! کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠) پر مرزا قادیانی اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابو ہریرہؓ کے نزدیک یہی معنی ہیں۔ مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ابو ہریرہؓ کا فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی روایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔“ ارے دجال کے مریدو! صاحب تفسیر نے کہاں لکھا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کا فہم قرآن میں ناقص ہے۔ یہ الفاظ تفسیر ثنائی میں اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ تیس روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بدذات اور شریروں کی نسبت لکھا ہے کہ: ”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“
(آریہ دھرم ص ١٩، خزائن ج ١٠ ص ١٣)
٤....... حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم جنگ تبوک سے واپس آئے تو ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب ہوگی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: ”تمام بنی آدم پر سو سال نہ گزرے گا۔ مگر آج کے زندوں میں کوئی روئے زمین پر نہ ہوگا۔“
(معجم صغیر طبرانی مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص ١٥، وجامع ترمذی کتاب الفتن ج ٢ ص ٤٩، صحیح مسلم کتاب الفتن)
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ان کی عمروں کے لئے غالب امر یہی تھا کہ وہ اس مدت سے تجاوز نہ کریں۔ جس کی تعیین آنحضرت ﷺ نے فرمادی تھی اور تب اس زمانہ کے تمام لوگوں پر قیامت آگئی۔ (منقول از تجلیات رحمانیہ مؤلفہ ابوالعطا جالندھری)
١؎ کسی بزرگ نے سچ کہا ہے کہ دماغ مرزا کا صحیح نہیں اور بیوقوف لوگ پیرو ہو گئے۔
یعنی جس وقت آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث فرمائی تھی اس وقت جتنے لوگ دنیا میں زندہ تھے ان کی بابت فرمایا کہ سو سال تک ایک بھی نہ رہے گا۔ اب ذرا سودیشی نبی قادیانی کی بھی سنئے۔ کتاب (ازالہ اوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧) پر اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ حدیث یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی۔“
آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے سو برس تک قیامت آنے والی حدیث اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ بیس روپیہ انعام پائے۔ ورنہ جھوٹ بولنے کی نسبت مرزا قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ: ”اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ٥......... حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ: ”طاعون
ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر نازل کیا گیا تھا۔ اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پیدا ہو جائے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگ کر وہاں سے نہ چلے جاؤ۔“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اب مسیح قادیانی کے بھی عقائد سنئے! لکھتے ہیں کہ: ”ہم نہ شریعت میں کچھ بڑھاتے ہیں اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرہ کی کمی بیشی نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے ہم کو پہنچا ہے اس کو قبول کرتے ہیں۔ چاہے اس کو ہم سمجھیں یا اس کے بھید کو نہ سمجھیں۔“
(نور الحق حصہ اوّل ص ٥، خزائن ج ٨ ص ٧)
پھر لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا عقیدہ ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کی فرمانبرداری سے حاصل ہو سکتی ہے اور جو امور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ ہم ان سے بالکل بیزار اور بری ہیں اور ہمارے پاک رسول محمد ﷺ جو کچھ لائے ہیں اس پر ہمارا پختہ ایمان ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٧، ٣٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
حضرات! دیکھا آپ نے کہ مرزا قادیانی کا احادیث پر کیسا پکا ایمان ہے۔ اب ذرا اس ایماندار کا پختہ ایمان بھی ملاحظہ فرمائیے۔ (اشتہار اگست ١٩٠٧ء، ریویو قادیان ج ٦ ص ٣٦٥) پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت ایک افتراء اس طرح بیان کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ وائسرائے
اس تجویز کو پسند فرماتے ہیں کہ: ”جب کسی گاؤں یا اس شہر کے کسی محلہ میں طاعون پیدا ہو تو یہ بہترین علاج ہے کہ اس گاؤں یا اس شہر کے محلہ کے لوگ جن کا محلہ طاعون سے آلودہ ہے فی الفور بلا توقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دیں اور باہر جنگل میں کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے، رہائش اختیار کریں۔ سو میں دلی یقین سے جانتا ہوں کہ یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔“
ارے کذاب کے مریدو! آنحضرت ﷺ نے کہاں فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ اگر کوئی مرزائی یہ حدیث دکھائے تو وہ دس روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”سچ بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روا رکھ لیتا ہے تو حیا اور خدا کا خوف بھی کم ہو جاتا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣)
- ٦...... مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے مخالف ایک بزرگ مولوی غلام دستگیر
صاحب قصوری تھے۔ انہوں نے ایک کتاب ”فتح رحمانی“ منشی جی کے رد میں لکھی تھی اور دوسرے بزرگ مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی تھے۔ انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے رد میں ایک کتاب ”اعلان الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح“ لکھی تھی اور اس بزرگ نے تو مرزا قادیانی کی یا اپنی موت کا ذکر تک نہیں کیا۔
اب ان یزیدی صفت لوگوں کے مرشد اعظم کا سفید جھوٹ ملاحظہ ہو۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھی والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا ہے کہ وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔“
مرزائیو! مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی والے کی کتاب میں سے مذکورہ بالا الفاظ نکال کر اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ پانچ روپیہ انعام پائے۔ ورنہ جھوٹے کی نسبت ہم وہی کہیں گے جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جھوٹ بولنا ایک شیطان اور لعنتی کا کام ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٨)
- ٧...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میں ایمان لاتا ہوں اللہ پر، ملائکہ پر، رسولوں
پر۔“
(اشتہار ١٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١)
اس ایماندار کا رسولوں پر کیسا ایمان تھا وہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
ناظرین! جب مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتی رہیں تو ایک طرف سے عیسائیوں اور ہندوؤں نے لے کھسیٹا، تو دوسری طرف سے دیوبندیوں نے دھر دبایا کہ آپ کیسے نبی اور کیسے مسیح موعود ہیں کہ آپ کی ایک پیش گوئی بھی سچی نہیں نکلتی۔ تو مولویوں کا منہ بند کرنے کا یہ طریقہ مرزا قادیانی اختیار کرتے ہیں اور رسولوں پر جو ایمان تھا اس کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ اگر ہم نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں غلطی کھائی تو ہوا کیا ۔ بلکہ: ”کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی پیش گوئی سمجھنے میں غلطی نہ کھائی ہو۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٨٦، خزائن ج٢١ ص١٦٨)
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک کسی ایک نبی کی پیش گوئی اگر کوئی مرزائی غلط ثابت کر دکھائے تو وہ مرزائی ہزار روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”خدا کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے۔“
(تریاق القلوب ص٦، خزائن ج١٥ ص١٤٠)
- ٨...... حضرت پیر صاحب العلم پیر صاحب جھنڈے والے عالم باعمل، بزرگ،
درویش، صوفی، ولی اللہ، حنفی و سنی جن کے لاکھوں مرید ہیں۔ آپ کے ملفوظات ومکتوبات شائع شدہ ہیں۔ حضرت پیر صاحبؒ نے قرآن شریف کی ایک تفسیر بزبان سندھی بھی لکھی ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور پھر دوبارہ دنیا میں آنا عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب (حقیقت الوحی ص٢٠٢، خزائن ج٢٢ ص٢١٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”میری نسبت پیر صاحب العلم سندھی نے جس کے ایک لاکھ مرید تھے اور وہ اپنی نواح میں مشہور بزرگ تھے خواب میں دیکھا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ (مرزا قادیانی) سچا ہے اور ہماری طرف سے ہے۔“
پھر وہی مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص٦٠، خزائن ج١١ ص٣٤٤) پر اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”پیر صاحب العلم (قدس سرہ) جو بلاد سندھ کے مشاہیر مشائخ میں سے ہیں۔
کہ: ”میں ایمان لاتا ہوں اللہ پر، ملائکہ پر، رسولوں
(اشتہار ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١)
اعتقاد کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔ پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتی رہیں تو ایک طرف سے کی طرف سے دیوبندیوں نے دھر دبایا کہ آپ کیسے سے کوئی بھی سچی نہیں نکلتی۔ تو مولویوں کا منہ بند کرنے کا اس پر جو ایمان تھا اس کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔ میں غلطی کھائی تو ہوا کیا۔ بلکہ: ”کوئی نبی دنیا میں ایسا نہ کھائی ہو۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٨٦، خزائن ج٢١ ص١٦٨)
مگر آنحضرت ﷺ تک کی ایک نبی کی پیش گوئی اگر یا چار روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے۔“
(تریاق القلوب ص٦، خزائن ج١٥ ص١٤٠)
علم پیر صاحب جھنڈے والے عالم باعمل، بزرگ، ہزاروں مرید ہیں۔ آپ کے ملفوظات و مکتوبات شائع کی ایک تفسیر بزبان سندھی بھی لکھی ہے۔ اس میں دوبارہ دنیا میں آنا عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا (حقیقت الوحی ص٢٠٢، خزائن ج٢٢ ص٢١٠) پر لکھتے جس کے ایک لاکھ مرید تھے اور وہ اپنی نواح میں ﷺ نے فرمایا کہ وہ (مرزا قادیانی) سچا ہے (ضمیمہ انجام آتھم ص٦٠، خزائن ج١١ ص٣٤٤) پر اس صوبہ بلاد سندھ کے مشاہیر مشائخ میں سے ہیں۔
جن کے مرید ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہوں گے اور باوجود اس کے وہ علوم عربیہ میں مہارت تامہ رکھتے ہیں اور علماء راسخین میں سے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جو میری نسبت گواہی دی ہے وہ یہ ہے۔ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ کو عالم کشف میں دیکھا۔ پس میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا یہ جھوٹا مفتری ہے یا صادق ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ صادق ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس میں نے سمجھ لیا کہ آپ حق پر ہیں۔ اب بعد اس کے ہم آپ کے امور میں شک نہیں کریں گے اور آپ کی شان میں ہمیں کچھ شبہ نہ ہوگا اور جو کچھ آپ فرمائیں گے ہم وہی کریں گے۔ پس اگر آپ یہ کہو کہ ہم امریکہ ١؎ میں چلے جاویں تو ہم وہیں جائیں گے۔“
اگر کوئی مرزائی یا سیٹھ اسماعیل آدم میمن پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ بمبئی حضرت پیر صاحب العلم کا خط دکھائے تو وہ تین روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹے کی نسبت لکھا ہے کہ: ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔“
(ازالۃ الاوہام ص٨٦٦، خزائن ج٣ ص٥٧٢)
- ٩...... قادیانی دوستو! ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کا رسولوں پر تو کیا ایمان تھا۔
بلکہ سید المرسلین، خاتم النبیین شفیع المذنبین ﷺ پر بھی اس کذاب کا ایمان نہ تھا۔ یقین نہ آئے تو سنئے۔ (ازالۃ الاوہام ص٤٠٠، خزائن ج٣ ص٣٠٧) پر دشمن رسول لکھتا ہے کہ: ”میرا تو یہی مذہب ہے۔ جس کو دلیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کی فراست کے برابر نہیں۔ مگر پھر بھی بعض پیش گوئیوں کی نسبت آنحضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلی حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی۔“
اگر کوئی مرزائی ایک پیش گوئی بھی آنحضرت ﷺ کی ایسی بتائے جس میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ پیش گوئی سمجھنے میں میں نے غلطی کھائی ہے تو وہ مرزائی دو روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١١٩، خزائن ج٢٢ ص٥٥٢)
١؎ مرزائیو! جیسے مرزا قادیانی نے قادیان کو دمشق بنا دیا تھا ویسے آپ کہیں طاغوت کو طاعون نہ بنا لینا۔
- ١٠....... کتاب (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ص٥) پر ایک افتراء خدا تعالیٰ پر اس
طرح تصنیف کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“ کوئی مرزائی یہ آیت دکھائے تو وہ ایک روپیہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جس امر میں قرآن اور رسول کریم پر زد پڑتی ہو تو ایماندار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرلے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ص ٤١)
مسیح موعود کے وقت کا نشان
بندہ نے ایک دفعہ مرزا قادیانی کو پوچھا کہ جناب والا اگر دجال پادری ہیں تو ان کا گدھا کون سا ہے؟ فرمانے لگے کہ دجال کا گدھا یہی ریل کی سواری ہے۔
(ازالہ اوہام ص ١٦٢، خزائن ج ٣ ص ١٧٤)
ناظرین! غور کیجئے کہ اس ریل کی ایجاد ١٨٠٠ء سے بھی پہلے کی ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد بھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور پھر تماشہ یہ کہ اسی گدھے پر خود بھی سوار ہوتے رہے اور پنجاب میں سیر کرتے رہے۔ لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ یہ ریل بھی مسیح موعود کے وقت کا نشان ہے۔ بلکہ اسی ریل کو دجال کا گدھا ہی ظاہر کرتے رہے۔
حضرات! جب سلطان عبدالحمید خان مرحوم نے حاجیوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے اسلامی دنیا میں تحریک کی کہ حجاز میں ریل بنائی جائے تو مرزا قادیانی نے سوچا کہ جب حجاز میں ریل تیار ہوگی تو ضرور ہے کہ دمشق سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ پھر جدہ تک بھی ریل تیار ہو جائے گی۔ اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر آپ نے بھی اپنی صداقت کا نشان دکھانے کے لئے یہ اعلان کردیا کہ یہ ریل جو حجاز میں تیار ہو رہی ہے یہ بھی میری صداقت کا نشان ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس فن میں کمال حاصل کرچکے تھے کہ جب کبھی کوئی پیش گوئی یا کسی کی نسبت اعلان کرتے تھے تو دونوں پہلوؤں کو پہلے سوچ لیتے تھے اور اپنے بچاؤ کی صورت کوئی نہ کوئی رکھ لیتے تھے۔ کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اگر مولویوں کے رگڑے میں آ گیا تو پیس کر ہی رکھ دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہ سوچا کہ اگر مدینہ اور مکہ کے درمیان ریل تیار ہوگئی اور لوگوں کی آمدورفت شروع ہوگئی تب تو پانچوں انگلیاں فلاں ابن فلاں میں اور اگر ریل نہ تیار ہوئی تو یہ کہہ کر جان چھڑاؤں گا کہ یہ ایڈیٹران اخبار کا مقولہ ہے جو میں نے نقل کیا ہے اور اس وقت ریل تیار ہو رہی تھی۔ اس لئے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور اگر ریل تیار نہ ہوئی تو نہ سہی۔ اس کی جگہ پر موٹریں تو چل رہی ہیں اور یہ دجال کے چھوٹے گدھے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا!
اصل الفاظ بے مرز ص ١٠٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”آسمان قبول نہ کیا۔ میں وہی (کاذب آیت کریمہ 'واذا العشار ع فلا يسعى عليها “ نے ای اخبار اور جرائد والے اپنے پرچ ہے یہ بھی اس پیش گوئی کا ظہور کے وقت کا یہ نشان ہے۔“ اگر کوئی مرزائی مرز ماہ دسمبر میں ظلی حج ادا کرنے ورنہ ہم تو وہی کہیں گے جیسا ک ہیں۔ ایک خدا پر افتراء کرنے
- ١٢....... تین
١٨٥٢ء یا ١٨٥٣ء میں عرصہ دوسرا مرزا فضل احمد پیدا ہو پڑھا تھا اور گواہ فرشتہ بچی بچ مرزا قادیانی نے اپنی زوجہ ا شادی ١٨٨٤ء میں بمقام پ ان تین عورتوں کی نسبت م ”براہین احمدیہ میں بھی اس
١؎ یہ متعصب اس بات پر آتی ہے کہ دجال اور لطف یہ کہ مدینہ اور مکہ ہو رہی ہے۔
٢؎ اچھا مسیح آ
اصل الفاظ ١؎ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔ سنئے کتاب (اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) پر لکھتے ہیں کہ : ”آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی (کاذب) ہوں جس کے وقت میں اونٹ ٢؎ بیکار ہوگئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ”واذا العشار عطلت“ پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ”ولیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا“ نے اپنی پوری پوری چمک دکھلادی۔ یہاں تک کہ عرب و عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہ بھی اس پیش گوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“
اگر کوئی مرزائی مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان ریل کی سواری دکھلائے تو وہ مرزائی ماہ دسمبر میں ظلی حج ادا کرنے کے لئے کراچی سے قادیان تک ریٹرن ٹکٹ ریل کی ہم سے پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے جیسا کہ مرزا قادیانی نے کافروں کی نسبت لکھا ہے کہ: ”بڑے کافر وہ ہی ہیں۔ ایک خدا پر افتراء کرنے والا دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- ١٢...... تین عورتوں کے نکاح والا لنگڑا الہام ۔ مرزا قادیانی کی پہلی شادی غالباً
١٨٥٢ء یا ١٨٥٣ء میں حرمت بی بی سے ہوئی۔ جس کے بطن سے دو بیٹے ایک مرزا سلطان احمد اور دوسرا مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ مگر محمدی بیگم جس کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ خدائے آسمان پر پڑھا تھا اور گواہ فرشتہ یحییٰ ؑ تھا۔ جب اس منکوحہ آسمانی کا نکاح سلطان محمد آف پٹی سے ہوا تو مرزا قادیانی نے اپنی زوجہ اوّل حرمت بی بی کو طلاق دے دی اور بیٹوں کو بھی عاق کر دیا۔ دوسری شادی ١٨٨٤ء میں بمقام دہلی نصرت جہاں بیگم سے ہوئی اور تیسرا نکاح محمدی بیگم سے ہونا تھا۔ ان تین عورتوں کی نسبت مرزا قادیانی اپنا لنگڑا الہام اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے ١٧ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو
١؎ یہ معمہ اب تک سمجھ میں نہیں آیا کہ گدھا تو دجال کا اور نشان مرزا قادیانی کا، اور ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ دجال ہندوستان میں مسیح موعود قادیان میں اور دجال کا گدھا عربستان میں اور لطف یہ کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان میں یہ دین کی تجدید ہو رہی ہے یا قرآن اور حدیث کی تردید ہو رہی ہے۔
٢؎ اچھا مسیح آیا کہ بے روزگاری بڑھ گئی۔
اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام یہ ہے جو (براہین احمدیہ ص ٤٩٧، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں مذکور ہے۔”يٰادم اسكن انت وزوجك الجنة . يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة . يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة“ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم ...... اس وقت پہلی زوجہ ١؎ (حرمت بی بی) کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ (نصرت جہاں بیگم) کے وقت میں مریم ٢؎ نام رکھا....... اور تیسری زوجہ (محمدی بیگم) جس کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا ۔“
ناظرین! اس تیسری بیوی نے تو مرزا قادیانی کو دنیا میں تا قیامت ایسا رسوا۔ ذلیل اور بدنام کیا ہے۔ جس کی انتہا نہیں۔ حتیٰ کہ پنڈت لیکھرام نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ: ”جب پچاس سال تک محروم تو اب کیا مقسوم ۔“ آگے لکھتے ہیں کہ مرزاغلام احمد کی عمر پچاس برس کی تو ہوچکی۔ مگر اب تک عورتوں کی خواہش باقی ہے۔ (کتاب ضمیمات شیطانیہ ص ١٠٥، مصنفہ مولوی ابوالخدا جالندھری)
اب تیسری شادی کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی سنئے۔ (اشتہار مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢) میں لنگڑا الہام اس طرح شائع کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں کہ: ”اور خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس (نصرت جہاں بیگم) کے بعد پائے گا ۔“
اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا اور نہ کوئی خواتین مبارکہ یا نامبارکہ ہی ملی۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید لنگڑے الہام کو سچا کر دیتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ جھوٹے کو سچا کر دکھائے۔
اس الہام کے بعد کسی عورت سے مرزا قادیانی کا نکاح اگر کوئی مرزائی ثابت کر دکھائے تو وہ آٹھ آنہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
١٣....... حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اپنے (مکتوبات جلد ثانی ص ٩٩) میں ایک مکتوب بنام محمد صدیق صاحب لکھتے ہیں اور اسی مکتوب کو (جب کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا) کتاب (ازالہ اوہام ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) پر اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”اے دوست تمہیں معلوم ہو کہ اللہ جل شانہ کا بشر کے ساتھ کلام کرنا کبھی روبرو اور ہمکلامی کے رنگ میں ہوتا ہے۔..... اور جو شخص کثرت سے شرف ہم کلامی کا پاتا ہے۔ اس کو محدث بولتے ہیں ۔“ ازالہ اوہام
١؎ وہ عورت تو مطلقہ ہوگئی۔ یہ الہام تو کانا نکلا۔
٢؎ یہ وہی مرزائی مریم ہے جس سے خدا نے مرد بن کر ہم بستری کی تھی۔
میں مرزا قادیانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ جس شخص کو بکثرت مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے وہ محدث کہلاتا ہے۔
دجالوں کے کام اور کون سے ہوتے ہیں۔ غور کیجئے کہ جب مرزا قادیانی کھلم کھلا اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں تو حضرت امام مجدد صاحب کی اسی تحریر کو یوں نقل کرتے ہیں اور یہود کی مثل ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کا مصداق اس طرح خود کو ثابت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”بات یہ ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندی (رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
یہ عبارت امام مجدد صاحب کے مکتوبات میں اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ چار آنہ انعام پائے۔ ورنہ ہم وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”ایمانداروں کی یہی علامت ہے کہ جب ایک موقعہ میں ایسا خیال جھوٹا ثابت ہو گیا تو پھر چاہئے کہ عمر بھر اس کا نام نہ لیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٧)
- ١٤...... برادران اسلام! میں نہایت پختہ طور سے آپ پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ خود
مرزا قادیانی کے اقراروں سے ان کی حالت سے ان کے وجود کے بے سود ہونے سے ان کے علانیہ جھوٹ بولنے سے ہم نے سنداً قادیانی کو کاذب ثابت کر دیا ہے۔ اب غضب یہ ہے کہ ایسے شخص کو حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ظل کہا جاتا ہے۔ بلکہ حضرت سرور عالم ﷺ کا دوسرا جنم قرار دیا جاتا ہے۔ کیا ایسے علانیہ جھوٹ بولنے والے کا سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ سے کچھ واسطہ ہو سکتا ہے؟ اگر ایسے شخص کو واسطہ ہو سکتا ہے تو نبوت ورسالت بلکہ خدائی درہم برہم ہو جائے اور دہریوں کو بغلیں بجانے کا موقع ملے۔ ایک اور سنئے! مرزائیوں کا خوابی الہ (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) پر لکھتا ہے کہ: ”قرآن شریف خدا کا کلام میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ کیا یہ الفاظ کوئی لاطینی یا عبرانی ہیں۔ جن کو کوئی نہ سمجھتا ہو، یا عربی ہیں جو آپ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ الف لام استغراقی ہے یا قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے ۔ یہ تو صاف اردو کے الفاظ ہیں۔ ایک جاہل سے جاہل بلکہ ایک سکول کے لڑکے سے بھی
- ١۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اللہ ہو گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ ہاں واقعی میں
خدا ہوں۔ پھر میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی۔
(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
پوچھیں گے تو یہی کہے گا کہ یہ الفاظ کفریہ ہیں اور ایسا شخص ہرگز ہرگز مسلمان کہلائے جانے کا مستحق نہیں۔ اگر کوئی مرزائی قرآن شریف کو مرزا قادیانی کے منہ کی باتیں ثابت کر دکھائے تو وہ مرزائی دوآنہ انعام پائے۔ ورنہ کیا اب بھی نہ کہیں کہ : ”لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٢، خزائن ج ١٧ص ٥٨)
- ١٥...... مرزا قادیانی نے ٥ / جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ کے
خاتمہ پر اپنے حریف مقابل ڈپٹی آتھم کی نسبت یہ پیش گوئی کی تھی کہ: ”آتھم پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔“
(جنگ مقدس ص٢١١، خزائن ج٦ص٢٩٣)
اچھا جناب اگر ڈپٹی آتھم پندرہ ماہ کے عرصہ میں نہ مرا تو پھر مرزا قادیانی کو کون سی سزا دی جائے۔ اس کا فیصلہ بھی مرزا قادیانی نے خود ہی فرمایا۔ لکھتے ہیں کہ : ”اگر آتھم پندرہ ماہ کے عرصہ میں نہ مرا تو مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں (سوادوانج کا) رسہ ڈال دیا جاوے۔ (اور پھر ) مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“
(جنگ مقدس ص٢١١، خزائن ج٦ص٢٩٣)
ناظرین! جب ڈپٹی آتھم پندرہ ماہ کے عرصہ میں نہ مرا تو عیسائیوں نے بڑی خوشیاں منائیں اور ڈپٹی آتھم کا امرتسر میں ایک بڑا جلوس نکالا اور جلوس کے آگے آگے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے۔
سارے الہام بھول جائیں گے
خاتم ہووے گا نبوت کا
پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
لیکن مثل مشہور ہے کہ مرزائی آن باشد کہ چپ نہ شود۔ مرزا قادیانی تو جھوٹوں کے مائی باپ تھے ہی فوراً کتاب (کشتی نوح ص٦، خزائن ج١٩ص٦) پر اس طرح لکھ دیا کہ : ”آتھم والی پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا ۔“ یہ الفاظ پیش گوئی میں اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ مرزائی ایک آنہ انعام پائے۔ ورنہ ہم تو وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جھوٹ بولنا بے ایمانی اور گوہ کھانے کے برابر ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ص٣٣٣)
......١٦ ہم نے پوچھا کہ جناب والا آپ کہاں مریں گے۔ تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ (میگزین ١٤ جنوری ١٩٠٦ء، البشریٰ ج ٢ ص ٥) دوستو! یہ تو آپ ہی جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی۔ لاہور میں مرے اور خر دجال پر سوار کر کے قادیان پہنچا دیئے گئے اور وہاں ہی گاڑ دیئے گئے۔ مثل مشہور ہے کہ: ”جیسا منہ ویسے تھپڑ“ سچے ہوتے تو مدینہ میں مرتے۔ اگر کوئی مرزائی منشی غلام احمد قادیانی کا مرنا مکہ یا مدینہ میں ثابت کر دکھائے تو وہ مرزائی ٩ پائی انعام پائے ورنہ جھوٹے کی نسبت ہم وہی کہیں گے۔ جیسا کہ خود آنجناب نے لکھا ہے کہ: ”جیسا بت پوجنا شرک ہے ویسے ہی جھوٹ بولنا شرک ہے۔“
(الحکم ١٧؍اپریل ١٩٠٥ء)
......١٧ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں کئی احادیث ہیں۔ مگر کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ وہ فلاں سن میں نازل ہوں گے یا ظاہر ہوں گے۔ لیکن منشی قادیانی نے سچ بولنے کی قسم کھائی ہے جو بات بھی کہیں گے وہ لاجواب ہوگی۔ چنانچہ (ریویو ج ٢ نمبر ١١، ١٢ ص ٤٣٧) پر لکھتے ہیں کہ: ”حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرہویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔“
اگر کوئی مرزائی بہت حدیثیں نہیں بلکہ ایک ہی حدیث دکھائے تو وہ مرزائی دو پیسہ انعام پائے۔ ورنہ جھوٹے کو ہم وہی کہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جھوٹے پر خدا کی لعنت ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٠)
......١٨ مرزائیو! دل و جگر کو سامنے کیجئے اور مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ سنئے۔ جن کو مرزا قادیانی لے کر آئے ہیں۔ (اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤) پر فرماتے ہیں کہ: ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ:
- ......١ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔
- ......٢ اس کو کافر قرار دیں گے۔
- ......٣ اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔
- ......٤ اس کی توہین کی جائے گی۔
- ......٥ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے گا۔
- .......٦....... اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔
ان چھ مضمونوں کی نسبت مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھے ہیں۔ یہ چھ مضامین اگر کوئی مرزائی قرآن شریف میں دکھائے تو وہ مرزائی ایک پیسہ انعام پائے۔ ورنہ اے دوستو! اتنا ہی کہہ دو کہ مرزا قادیانی دجال ہیں، کذاب ہیں، مفتری علی اللہ ہیں، محرف قرآن ہیں، جھوٹے ہیں۔ یہ انہوں نے جھوٹ کہا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ مرزائی ایمان اور قرآن کو چاہتے ہیں یا مرزائیت اور خسران کو۔
- .......١٩....... نبیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار گذری ہے۔ لیکن کلام اللہ میں
پچیس انبیاء علیہم السلام کا صراحتاً ذکر موجود ہے۔
ناظرین! صحاح ستہ میں یہ حدیث متعدد مرتبہ آئی ہے کہ دجال کے ذکر پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”انی لا نذر کموہ وما من نبی الا وقد انذر قومہ ولقد انذرہ نوح قومہ“ یعنی میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی نہیں گذرا۔ مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔
(مسلم، ترمذی، ابواب الفتن)
کیا مطلب کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کو دجال کے فتنہ کی خبر دیتے رہے۔ لیکن وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی۔ سو اب بھی ہے۔ کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں کہ: ”اے عزیزو تم نے وہ وقت پایا ہے۔ جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (دجال) کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی ہے۔“
اجی دوستو! تمام نبیوں کی نہیں بلکہ پچیس نبیوں کی بشارت اور ان کے اسمائے گرامی جن کو مرزا قادیانی کے دیکھنے کی خواہش تھی۔ اگر کوئی مرزائی بتائے تو دو پائی انعام پائے۔ ورنہ جھوٹ بولنے والے کی نسبت مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اے مرزائیو! جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢)
- .......٢٠....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے۔ اچھا
اگر یہی بات ہے تو سنئے، لکھتے ہیں کہ: ”تین شہروں کے نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کئے گئے ہیں۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
مرزا قادیانی کے لنگر خانہ کی روٹیاں کھانے والو! تھوڑی سی تکلیف اٹھا کر قرآن شریف میں قادیان کا نام اگر کوئی مرزائی دکھائے تو وہ مرزائی ایک پائی انعام پائے۔ ورنہ اے دوستو!
آئیے توبہ کیجئے اور سیدھے سادھے مسلمان ہو جائیے اور ہر کاذب کو لاکھ کی ایک بات سنائیے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوچکی۔ اب آپ کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب صحیح حدیث کے دجال ہے، کذاب ہے۔ بس اس میں آپ کو کوئی مشکل نہیں پڑے گی۔ کفر آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا۔ عقل آپ کی قائم رہے گی۔ علم آپ کا صحیح و سالم رہے گا اور آپ انصاف پر ہو کر ایسے سب کاذب، مدعیوں کو ایک ہی حکم سناسکیں گے۔ قیامت کے دن رسول کریم ﷺ کے جھنڈے تلے ہو کر شفاعت کے امیدوار ہوسکیں گے۔ خدا کرے کہ آپ لوگوں کو سمجھ آ جائے۔
میں نے تو درگذر نہ کی جو مجھ سے ہوسکا
مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج
مرزائیت کا جنازہ بے گور وکفن
تمام مرزائی جماعتیں مل کر تجہیز و تکفین کریں۔ کفن ارزاں، قبر مفت ورنہ میت پولیس کے حوالے ۔ حضرات! عرض یہ ہے کہ مرزائی مرزا قادیانی کو سچ صادق کہتے ہیں اور مسلمان منشی غلام احمد قادیانی کو کاذب کہتے ہیں۔ جب مرزائی مرزا قادیانی کو سچا ثابت نہیں کرسکتے تو مسلمان مرزا قادیانی کو کاذب ثابت کرتے ہیں۔ چونکہ ہم کو مرزائیوں پر اعتماد نہیں۔ نہ ہمارے تجربہ میں وہ طالب حق ثابت ہوئے۔ بلکہ ہم کو یقین ہے کہ ان دنیاوی منافع کی بناء پر جو ان کو مرزائی ہونے میں حاصل ہیں اور مسلمان ہونے یا رہنے میں حاصل نہیں ہو سکتے اور دلائل قاہرہ کے باوجود بھی مرزائیت سے تائب نہیں ہوتے ہیں۔
تاہم بطور اتمام حجت تمام مرزائی جماعتوں کی خدمت میں بہت مختصر اور آسان فیصلہ پیش کرتے ہیں کہ وہ مشورہ کر کے یا علیحدہ علیحدہ بذریعہ اشتہار مطبوعہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے کاذب اور جھوٹا ہونے کے اس قدر قطعی یقینی جھوٹ ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ بس جو تعداد مرزائی مشتہر کریں گے خدا چاہے اسی قدر مرزا قادیانی کے ایسے جھوٹ جن میں مرزائی کوئی معقول تاویل بھی نہ کرسکیں وہ ہم پیش کردیں گے اور ایک غیر مسلم حکم بھی مقرر ہوسکتا ہے اور بڑا حکم تو مرزائیوں کا اس کے جواب سے سکوت ہے۔ کیونکہ کسی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کے جھوٹ ثابت کئے جائیں ۔ ورنہ جھوٹ بول کر بھی انسان جھوٹا ثابت نہ ہو تو پھر اسے کس طرح جھوٹا ثابت کیا جائے۔
بس اب زیادہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کے جھوٹا ثابت ہونے کے لئے جس قدر بھی جھوٹوں کی ضرورت ہو وہ تعداد دل مضبوط کر کے تحریر فرمادی جاوے۔ پھر خدا چاہے جھوٹ ہم بتا دیں گے اور اگر یہ ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اگر کروڑ جھوٹ بھی ثابت کر دو تو بھی مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہی نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ مرزا قادیانی کے خاص دعاوی مختصہ میں جھوٹا ہونا ثابت نہ کیا جاوے تو بہت اچھا۔ اس مضمون کو صاف لکھ کر پھر یہ لکھ دو کہ مرزا قادیانی کے خاص خاص دعویٰ فلاں فلاں ہیں۔ ان میں سے اس قدر جھوٹ ثابت ہو جائیں تو مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ پھر آپ ملاحظہ کریں کہ کیسے تعمیل ارشاد ہوتی ہے اور مرزا قادیانی کے مختصہ دعاوی کو کیسے جھوٹا ثابت کر دیا جائے گا۔ بحول اللہ وقدرتہ ۔ ہم مرزائیوں کو قبر کے دروازہ تک پہنچا کر رہیں گے۔ مگر کیا کریں ہم کو اس فرقہ سے اس قدر بدگمانی ہے کہ توبہ کی ان سے پھر بھی امید نہیں۔
مسلمانو اور مرزائیو! پھر تمام اہل عقل سے عرض ہے کہ اس سے بڑھ کر اور فیصلہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ اگر مرزائیوں نے اس کا صحیح جواب نہ دیا تو پھر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام ہے؟
خدا کے فضل وکرم اور اسلام کی حقانیت پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ مرزائی اس کا جواب بھی نہ دے سکیں گے۔ کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ ویسے بھی جھوٹ بولتے تھے اور ان کے دعاوی بھی جھوٹے ہیں اور اگر ہمارا یہ خیال غلط ہے تو بسم اللہ، مرزائی خلفاء، امیر ولشکر سب مل کر ہمارے سوال کا جواب دیں۔ مگر خدا چاہے جواب نہیں دے سکتے، نہیں دے سکتے، نہیں دے سکتے۔
حضرات! جو بھی مرزائی ملے تو اس سے اسی کا مطالبہ ہو کہ اس کا کیا جواب ہے۔ کہو کہ مرزا قادیانی کے کس قدر جھوٹ چاہئیں۔ پھر بھی جواب نہ دیں تو سمجھ لو کہ وہ خود بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا اور کاذب جان کر بھی کسی خاص مصلحت سے اتباع کرتے ہیں۔
”وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقه ونور عرشه سیدنا ومولانا محمد وآله وصحبه اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین“
خاتم النبیین
خاتم
ڈاکٹر نور حسین صابر
خاتم النبیین ﷺ
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ
خاتم النبوۃ
ڈاکٹر نور حسین صابر کربلائی سیالوی
تمہید
بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ والہ الکریم! "الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد آخر الانبیاء والمرسلین وخاتم النبیین لا نبی بعدہ الیٰ یوم الدین وعلیٰ آلہ الطیبین الطاھرین اجمعین"
حضرات مومنین پر روشن ہے کہ مقام خم غدیر پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کبار کے روبرو اونٹوں کے پالانوں کے ممبر پر جناب سردار دو جہاں ﷺ نے جناب سیدنا ومولانا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر بحکم خدا تعالیٰ جل شانہ فرمایا تھا۔ "من کنت مولاہ فعلی مولاہ، اللھم وال من والاہ، وعاد من عاداہ" اور تمام صحابہ کرام نے اس کا اقرار کر کے بیعت امیری کی تھی...... منشاء ذات پاک رسول مقبول ﷺ کا یہی تھا کہ امت کا شیرازہ اتفاق بندھا رہے اور یہ متفرق نہ ہو جائیں اور سب کے سب ایک ہی راستہ و دین اسلام پر قائم رہیں۔.....
جھوٹے مدعیان نے جناب سرور عالم ﷺ کے بالمقابل دعویٰ نبوت ورسالت کر دیا۔ سب سے اوّل مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا۔ کئی مدعیان مہدویت پیدا ہوئے چوبیس جھوٹے کاذب نبی اور مہدی ہوئے۔ ان کے بعد ہمارے زمانہ میں قادیان ملک پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی دعوے کئے۔ سب سے اوّل مجدد کہلائے۔ رفتہ رفتہ مہدی مسعود و مسیح موعود، محدث، ملہم، بروزی وظلی بنے۔ آخر کار حقیقی نبی کا دعویٰ کر کے اپنی جماعت میں تفرقہ ڈال کر تمام امت محمدیہ ﷺ کو کافر بنا کر بے نیل و مرام دنیا سے کوچ کر گئے۔ قادیان کو دارالامان بنایا۔ مسجد کو مسجد اقصیٰ اور قبرستان کو جنت البقیع قرار دیکر لاکھوں کی جائیداد اپنی اولاد کے واسطے چھوڑ گئے اور اسلام کا نام تو ڈبو گئے۔
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
چونکہ ان دنوں خلیفہ قادیان گدی نشین کے ایماء و حکم سے اہل بیت رسالت ﷺ پر ان کے اخباروں اور رسالوں میں یک بیک حملے ہوتے رہتے ہیں اور یہ لوگ توہین و تذلیل مذہب امامیہ سے باز نہیں آتے اور مسلمانوں کو راہ حق وصراط مستقیم اور حقیقی اسلام سے بہکانے کی ہر طرح
کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے میں نے النبوۃ'' لکھا ہے۔ تاکہ احقاق حق و ابطال باطل فائدہ اٹھائیں اور مرزائیوں کے جال مکر و فریب نہ کریں۔ اس سے پیشتر ایک رسالہ ''تحفہ نور جواب آج تک خلیفہ صاحب قادیان سے نہ میرے مقابلہ میں تاب مقابلہ نہ لاسکا۔ جو آیا من یشاء ''ہندو پنجاب میں کوئی مرزائی مد تحریرات سے ثابت کر دکھائے۔ یہ ہمارا چیلنج نہ کسی کے مذہب سے سروکار رکھا ہے۔ لیکن کو گالیاں دی جائیں اور ہم کو خواہ مخواہ چھیڑا نہ کرنا سراسر گناہ و بزدلی و بے غیرتی ہے۔
بسم الله
تعریف نبوت
جس طرح انسان حیوانات و نباتات غذائے لطیف کی ضرورت ہوتی ہے اور جس کے قائم رکھنے کے واسطے بادشاہ کی حاجت زندگی کی تازگی اور دنیا و آخرت کے فلاح و روحانی غذا کی ضرورت پڑتی ہے اور فسق و فجور واسطے اور معرفت الہیہ کے لئے ایک روحانی خدا تعالیٰ کی طرف ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح نیک و خالص موحد پاک و مقدس انسان کا اصطلاح میں نبی یا رسول یا خلیفۃ اللہ کہتے وشکل کو شکم مادر میں بناتا ہے۔ قول تعالیٰ "ھو وہ اللہ جو رحم میں جس طرح چاہتا ہے صورت ہے عطاء کرتا ہے۔ قولہ تعالیٰ "اللہ اعلم
کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے میں نے دفاعی طور جماعت قادیانی کے واسطے یہ رسالہ ”خاتم النبوۃ“ لکھا ہے۔ تاکہ احقاق حق و ابطال باطل ہو اور سعید روح اور نیک فطرت مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں اور مرزائیوں کے جال مکر وفریب میں ہرگز نہ پھنسیں اور چند روزہ زندگانی کو خراب نہ کریں۔ اس سے پیشتر ایک رسالہ ”تحفہ نورانی انعامی ایک ہزار روپیہ“ شائع کر چکا ہوں۔ جس کا جواب آج تک خلیفہ صاحب قادیان سے نہ بن سکا۔ مجھے فخر حاصل ہے کہ آج تک کوئی مرزائی میرے مقابلہ میں تاب مقابلہ نہ لا سکا۔ جو آیا منہ کی کھا کر فرار ہوا ۔”ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء “ ہند و پنجاب میں کوئی مرزائی ہے جو اسلام و ایمان مرزا قادیانی کو کتاب اللہ اور ان کی تحریرات سے ثابت کر دکھائے۔ یہ ہمارا چیلنج ہے۔ میں نے آج تک کبھی بھی پیش قدمی نہیں کی اور نہ کسی کے مذہب سے سروکار رکھا ہے۔ لیکن جب ہم پر ہمارے مذہب حقہ پر ناجائز حملے ہوں۔ ہم کو گالیاں دی جائیں اور ہم کو خواہ مخواہ چھیڑا جائے تو پھر چپ کر رہنا اور جواب نہ دینا اور اظہار حق نہ کرنا سراسر گناہ و بزدلی و بے غیرتی ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم!
تعریف نبوت
جس طرح انسان حیوانات و نباتات کی پرورش و بالیدگی و نشو و نما سرسبزی کے واسطے غذائے لطیف کی ضرورت ہوتی ہے اور جس طرح ممالک میں فتنہ و فساد کے روکنے اور حفظ امن کے قائم رکھنے کے واسطے بادشاہ کی حاجت ہوتی ہے۔ ویسا ہی انسانی تزکیہ نفس اور ان کی روحانی زندگی کی تازگی اور دنیا و آخرت کے فلاح و بہبودی و نجات ابدی اور خالص مؤمن کامل کے لئے روحانی غذا کی ضرورت پڑتی ہے اور فسق و فجور زناء شراب قتل چوری و فسادات کے دور کرنے کے واسطے اور معرفت الٰہیہ کے لئے ایک روحانی بادشاہ کی حاجت پڑتی ہے۔ جس طرح غذا کا پہنچانا خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا لازمی ہے۔ اسی طرح روحانی غذا پہنچانے کے واسطے بھی لیڈر، ریفارمر، نیک و خالص موحد پاک و مقدس انسان کا مقرر کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جن کو مذہبی اصطلاح میں نبی یا رسول یا خلیفۃ اللہ کہتے ہیں۔ جس طرح خداوند کریم جلشانہ انسانی صورت وشکل کو شکم مادر میں بناتا ہے۔ قول تعالیٰ ”ھو الذی یصورکم فی الارحام كيف يشاء “ وہ اللہ جو رحم میں جس طرح چاہتا ہے صورت بناتا ہے۔ ویسا ہی نبوت رسالت کا درجہ جس کو چاہتا ہے عطاء کرتا ہے۔ قول تعالیٰ ”الله اعلم حيث يجعل رسالته“ یعنی خدا ہی کو معلوم ہے جو
٣
نبوت رسالت کے قابل ہے اور تقرر، رسول نبی کا خدا ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔ کیونکہ خداوند کریم ان کو اپنا مظہر اوصاف واخلاق بنا کر مخلوق پر بھیجتا ہے اور اپنے جلال و جمال کا آئینہ بناتا ہے۔ قولہ تعالیٰ ”ربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرة سبحان الله وتعالى عما يشركون (قصص)“ ﴿ تیرا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے خلق کرتا ہے۔ ﴾ ”يلقى الروح من امر على من يشاء من عباده “ ﴿ اپنے حکم سے جس بندہ پر چاہتا ہے القائے روحانی کرتا ہے۔ ﴾
جس طرح خاص پہاڑوں میں سے سونا چاندی و جواہرات نکلتے ہیں اور چمکتے دمکتے ہیں۔ خاص حیوان سے مشک کستوری پائی جاتی ہے۔ خاص زمین کشمیر میں زعفران پیدا ہوتا ہے۔ خاص خاص پھول زیادہ خوشبودار ہوتے ہیں، دمکتے ہیں اور ان کی رنگت، خوشبو، چمک و دمک سب قدرتی ہوتی ہیں۔ اسی طرح نبی یا رسول میں پیدائشی و فطرتی نبوت رسالت کا مادہ موجود ہوتا ہے۔ تمام کمالات انسانی ان میں ختم ہوتے ہیں۔ وہ تمام مخلوق سے برگزیدہ و منتخب ہوتے ہیں۔ وہ ایک منور روشن چراغ ہوتے ہیں۔ جن کی روشنی و نور سے ظلمت دور ہو کر جہان دنیا جگمگا اٹھتا ہے۔ ان میں معرفت الٰہیہ روحانیت و نورانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ نفسانیت تمام، عیوب ظاہری و باطنی سے پاک و منزہ ہوتے ہیں۔ وہ سراپا نور و مظہر اتم الوہیت ہوتے ہیں۔ مکالمات، مخاطبات و مکاشفات الٰہیہ و حقیقی وحی و رؤیائے صادقہ و عرفان الٰہی کے فوارے ان کے قلب سلیم سے ہر وقت موجزن رہتے ہیں۔ ان سے کسی قسم کی غلطی یا کوئی برائی سرزد ہو ہی نہیں سکتی اور نہ ہی ان کی کوئی کلام یا پیشین گوئی غلط ہوتی ہے۔ کیونکہ ۔
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
عوام الناس کی عقل و دانائی اور فطرت سے نبوت و رسالت کی فطرت اعلیٰ و برتر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ منصبی عطیہ خداداد وہبی ہے۔ اکتسابی نہیں جو کوشش یا تعلیم یا عبادت و ریاضت سے حاصل ہو۔ کوئی شخص کیسا ہی زاہد عابد متقی پرہیزگار ہو۔ وہ اپنے زہد، عبادت، ریاضت و اتقا کے ذریعہ نبی یا رسول نہیں بن سکتا۔ نہ کوئی شخص کسی نبی یا رسول کی کامل اتباع و پیروی سے رسول یا نبی بن سکتا ہے۔ کیونکہ مدرسہ نبوت کا حقیقی معلم خود خداوند کریم جل شانہ ہے۔ وہی سرٹیفکیٹ عطاء فرماوے تو نبی یا رسول ہو سکتا ہے۔ ورنہ کوئی نبی یا رسول کسی کو سرٹیفکیٹ نبوت دے کر نبی یا رسول نہیں بنا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر زمانہ میں کروڑوں انبیاء و مرسلین ہی ہوتے اور عام امتی بہت کم
٤
رہے۔ ہاں فیضان وانوار نبوت سے انسان، قطب، ولی، غوث، ابدال، اصحاب، مؤمن، صدیق وصالح کا درجہ حاصل کر سکتا ہے اور ان کی معیت میں شامل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں دنیا میں انسان کو پیدا کیا اور اس نے انسان کی باامن عارفانہ زندگی بسر کرنے کے واسطے قانون بھی بنا دیئے۔ اس قانون کے بتانے والے اور انسان کو سیدھے راستہ پر چلانے والے مذہب میں رسول اور نبی کے نام سے پکارے گئے۔ جب دنیا میں جہالت ظلم و شرک، فسق و فجور، فساد بدامنی کی تاریکی چھا جاتی ہے اور تمام مخلوق بادشاہ سے لے کر رعایا تک اس میں مستغرق ہو جاتی ہیں۔ قدرتی وفطرتی قوانین کو توڑا جاتا ہے۔ عبادت الہی سے منہ موڑ کر مخلوق پرستی و دنیا پرستی اختیار کی جاتی ہے۔ تب نبی یا رسول یا امام کی آمد آمد ہوتی ہے۔ جو دنیا میں مبعوث ہو کر خدائی نصرت و مدد سے لوگوں کو ہدایت کرتا ہے۔ بس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار معصوم نبی ورسول ہدایت خلق کے واسطے مبعوث ہوئے اور آخری نبی ہمارا سردار سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ ”لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ“
اول ...... معیار نبوت
قرآن شریف میں ایسے سچے حقیقی نبی یا رسول کی شناخت ومعیار نبوت مفصلہ ذیل ہے۔
- ١...... نبی یا رسول خدا کا خلیفہ قائمقام ہے
اور خدا ہی کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے۔ لوگ کمیٹی کر کے نبی یا رسول نہیں بنا سکتے۔ ”قولہ تعالیٰ واذ قال ربک للملئكۃ اني جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک قال انى اعلم مالا تعلمون (البقرہ)“ ﴿اور (اے پیغمبر) لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو۔ جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب بنانے والا ہوں۔ تو فرشتے بولے کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بناتا ہے۔ جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور بناتا ہے تو ہم کو بنا کہ ہم تیری حمد وثناء کے ساتھ تیری تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ خدا نے فرمایا میں وہ مصلحتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔﴾
(ترجمہ مولوی نذیر احمد دہلوی)
- ف...... جب مقدس و پاک نورانی مخلوق فرشتوں کا اجماع و کمیٹی نامنظور ہوئی اور
خداوند کریم جل شانہ نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنا دیا تو بھلا غیر معصوم ناقص العقل انسان کے اجماع وشوریٰ سے کب نبی، رسول یا امام بن سکتا ہے۔ اگر لاکھوں اندھے جمع ہو جائیں تو ایک بینا آنکھوں والا نہیں بنا سکتے۔ کروڑوں جاہل و ناقص العقل لوگ کمیٹی کر کے ایک عقلمند نہیں
٥
بنا سکتے۔ جاہلوں و ناقصوں کا مجموعہ ناقص ہوتا ہے۔ اجماع و کمیٹی والے ہمیشہ انتخاب میں دھڑ بندی پارٹی فیلنگ اور دوستی و رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں اور رعب و لحاظ سے ووٹ دیا کرتے ہیں۔
- الف...... قولہ تعالیٰ ”واذ ابتلى ابراهيم ربه بكلمت فاتمهن قال اني
جاعلك للناس اماما قال ومن ذريتى قال لاينال عهدى الظالمين (البقر)“ ﴿اے پیغمبر بنی اسرائیل کو وہ وقت یاد دلا جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کر دکھایا تو خدا نے رضا مند ہو کر فرمایا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام یعنی پیشوا بنانے والے ہیں۔ ابراہیم نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے، فرمایا ہاں مگر ہمارے اس اقرار میں وہ داخل نہیں جو بر سر ناحق ہوں گے۔﴾
- ب...... ”ولقد بعثنا فى كل امة رسولا (النحل)“ ﴿اور ہم نے ہر ایک
امت میں کوئی نہ کوئی رسول بھیجا۔﴾
- ج...... ”انما انت منذر ولكل قوم هاد (الرعد)“ ﴿تحقیق تو ڈرانے
والا ہے اور ہر قوم کے واسطے ہدایت کرنے والا بھیجا۔﴾
- د...... ”وان من امة الا خلا فيها نذير (فاطر)“ ﴿اور کوئی امت ایسی
نہیں ہوئی کہ اس میں کوئی ڈرانے والا نہ گذرا ہو۔﴾
- ہ...... ”يا داؤد انا جعلناك خليفة فى الارض“ ﴿اے داؤد ہم نے
تجھ کو زمین میں خلیفہ یا نائب بنا کر بھیجا ہے۔﴾
- و...... ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس ان الله سميع
بصير (انبياء)“ ﴿اللہ تعالیٰ فرشتوں اور آدمیوں سے رسول چھانٹ لیتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہے۔﴾
- ز...... ”انا ارسلناك بشيرا ونذيراً ولا تسئل عن اصحاب
الجحيم (بقره)“ ﴿اے پیغمبر ہم نے تجھ کو دین حق دے کر مسلمانوں کو نجات کی خوش خبری دینے والا اور کافروں کو عذاب آخرت سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تم سے دوزخیوں کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔﴾
- ح...... ”انا ارسلنا اليكم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الى
فرعون رسولا (مزمل)“ ﴿لوگو! جس طرح ہم نے فرعون کی طرف موسیٰ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا، تمہاری طرف بھی جناب محمد کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔﴾
٦
- ٢...... امور غیبیہ کی خبر دینا
نبی یا رسول وہ ہے جو بڑے امور غیبیہ کی خبر دے۔ خداوند کریم سے مکالمہ ومخاطبہ وحی رکھتا ہو، راست باز، سچی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہو۔ ”عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداً الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصداً لیعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم واحاط بما لدیھم واحصٰی کل شئ عددا (الجن)“ ﴿اسی کو غیب کی خبر ہے تو وہ اپنی غیب کی باتیں کسی پر ظاہر نہیں کیا کرتا۔ مگر ہاں اپنے برگزیدہ پیغمبروں پر مصلحتاً کوئی بات ظاہر کرنی چاہتا ہے تو وہ بھی اس احتیاط سے کہ ان کے آگے اور ان کے پیچھے فرشتوں کا پہرہ ان کے ساتھ رکھتا ہے۔ تاکہ دیکھ لے کہ پیغمبروں نے اپنے پروردگار کے پیغام لوگوں کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دے اور ان کے سارے معاملات اسی کے احاطہ علم میں ہیں اور اس نے تمام چیزوں کی گنتی تک اپنی نظر میں کر رکھی ہے۔﴾ (ترجمہ حمائل شریف مولوی نذیر احمد دہلوی)
- ب...... ”ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک (یوسف)“ ﴿یہ اخبار غیب
تیری طرف وحی ہوئی۔﴾
بشیر ونذیر
- الف...... ”وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین
(الانعام)“ ﴿رسولوں کو ہم نہیں بھیجا کرتے۔ مگر وہ خوشخبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے ہوتے ہیں۔﴾
- ب...... ”یا ایھا النبی انا ارسلنٰک شاھداً ومبشراً ونذیراً وداعیا
الی اللّٰہ باذنہ وسراجاً منیرا (الاحزاب)“ ﴿اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور نیکوں کو خوشنودی خدا کی خوشخبری دینے والا اور بدوں کو اس کے غضب سے ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا اور ہدایت کا روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔﴾
- ٣...... مطاع وصاحب امر ہونا
نبی ورسول وہ ہے جس کی تمام لوگ بادشاہ سے لے کر رعایا تک تابعداری واطاعت کریں۔ نبی ورسول مطاع، حاکم سردار ہو اور باقی تمام مخلوق ان کے احکام کی فرمانبردار ہوں جو رسول کسی بادشاہ کی تابعداری کرے یا لوگوں کا محتاج ہو لوگ یا حاکم یا بادشاہ اس پر حکومت کریں تو وہ نبی یا رسول نہیں ہو سکتا۔ ”ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللّٰہ“ ﴿ہم نے رسولوں میں سے ایسا رسول کوئی نہیں بھیجا کہ جس کی اطاعت اللہ کے حکم سے نہ کی گئی ہو۔﴾
٧
- ب...... تمام مخلوق خدا کو نبی ورسول کی اطاعت وتابعداری فرض ہے۔ نبی ورسول
کسی کا تابع ومحتاج نہیں ہوتا اور نہ وہ اشاعت دین واحکام میں کسی کی رعایت و پاس خاطر کرتا ہے۔نہ لحاظ کرتا ہے۔"من یطع الرسول فقد اطاع الله ومن تولى فما ارسلناك عليهم حفيظا (النساء)" ﴿جو رسول کا کہا مانے اس نے اللہ کا کہا مانا اور جو کوئی نہ مانے تو ہم نے تجھ کو ان پر سزاول نہیں بنایا۔﴾
- ج...... "واطيعوالله واطيعوالرسول واحذروا فان توليتم
فاعلموا انما على رسولنا البلغ المبين (المائده)" ﴿اور اللہ تعالیٰ کا کہا مانو اور رسول کا کہا مانو اور بچے رہو۔ اگر تم نہ مانو تو یہ سمجھ لو کہ ہمارے رسول کا کام یہی ہے۔(اللہ کا حکم تم کو) کھول کر پہنچا دینا۔﴾
- د...... "واطيعوالله ورسوله ان كنتم مؤمنين (الانفال)" ﴿اور
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانو اگر تم ایماندار ہو۔﴾
- ھ...... "یا ایها الذين أمنوا اطيعوالله ورسوله ولا تولوا عنه وانتم
تسمعون ولا تكونوا كالذين قالوا سمعنا وهم لا يسمعون (الانفال)" ﴿مسلمانو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور رسول کا حکم سن کر اس سے منہ نہ پھیرو اور ان لوگوں کی طرف مت ہو جو منہ سے کہہ دیتے ہیں ہم نے سنا اور وہ سنتے نہیں۔﴾
- و...... "ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزاً عظيما (الاحزاب)"
﴿جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کہے پر چلے اس نے بڑی مراد پائی۔﴾
- ز...... "ومن يعص الله ورسوله فان له نار جهنم خالدين فيها
ابدا (الجن)" ﴿اور جو لوگ اللہ اور اس کی نافرمانی کریں۔ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔﴾
اخلاق حسنہ
ہر ایک نبی ورسول کے واسطے خوش خلقی، اعلیٰ چال چلن اور نیک زندگی کا بسر کرنا لازمی ہے۔ تا کہ اس کی امت اس کی پیروی کر کے نیک نمونے بنیں اور زندہ مثالیں ہوں۔"انك لعلى خلق عظيم" ﴿اے نبی تحقیق تیرا بڑا ہی خلق ہے۔﴾ نبی ورسول فحش گو گالی گلوچ دینے والا اور پھکڑ باز نہیں ہوتا اور کسی کی توہین نہیں کرتا۔
٨
اطاعت و تابعداری فرض ہے۔ نبی و رسول احکام میں کسی کی رعایت و پاس خاطر کرنا اطاع الله ومن تولى فما ارسلناك اس نے اللہ کا کہا مانا اور جو کوئی نہ مانے تو ہم
الرسول واحذرو افان توليتم ) ”اور اللہ تعالیٰ کا کہا مانو اور رسول کا رسول کا کام یہی ہے۔ (اللہ کا حکم تم کو) کھول
ان كنتم مؤمنين (الانفال)“ ﴿اور
عوالله ورسوله ولا تولوا عنه وانتم م لا يسمعون (الانفال)“ ﴿مسلمانو اس سے منہ نہ پھیرو اور ان لوگوں کی طرف ہے۔﴾
فقد فاز فوزاً عظيما (الاحزاب)“ نے بڑی مراد پائی ہے۔﴾ فان له نار جهنم خالدين فيها ہیں۔ ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔
ل چلن اور نیک زندگی کا بسر کرنا لازمی نما اور زندہ مثالیں ہوں۔ ”انك لعلى اور رسول فحش گو گالی گلوچ دینے والا اور
- ب...... ”لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم
حريص عليكم بالمؤمنين رؤف الرحيم (التوبة)“ ﴿لوگو تمہارے پاس تم ہی میں کا ایک پیغمبر آچکا۔ تمہاری تکلیف اس کو ناگوار ہے۔ تمہاری بھلائی کی اس کو لگی ہے۔ مسلمانوں پر بہت شفقت کرتا ہے۔﴾
- ج...... ”لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة فمن كان يرجو
الله واليوم الآخر وذكره الله كثيرا (الاحزاب)“ ﴿مسلمانوں تحقیق تمہارے واسطے رسول خدا میں نیک نمونے موجود ہیں۔ ان لوگوں کے واسطے جو اللہ اور پچھلے دن سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے ہیں۔﴾
اخلاق قادیانی
مرزا قادیانی کے اخلاق کا نمونہ ان کی تصانیف اعجاز احمدی وغیرہ میں کہ الف سے لے کر یے تک کوئی گالی نہیں جو نہ نکالی ہو۔ بدذات، بے ایمان، نجاست خور، شیطان، مفسد، بھیڑیا، کمینہ، مکار، کتا، جاہل، فریبی، پلید، ابن البغا، مچھر، کفروم، حیض والی عورت، کذاب، خبیث، مشرک، دیو، پاخانہ، فاسق، گھوڑا، شریر وغیرہ الفاظ علماء کرام کی نسبت نکالے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کی تہذیب، اخلاق حسنہ، مسیحیت، مہدویت، ونبوت کا بین ثبوت ہیں۔
- الف....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ معجزات عیسوی مسمریزم ہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف درکھان کہا ہے۔ کذاب، ناپاک خیال، شرابی، متکبر، شریر، راست بازوں کا دشمن، یہودی کا شاگرد کہا ہے۔
- ب....... ”مسیح کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی
زنا کار اور کسبی عورتیں تھی۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظاہر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)
- ج....... ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔
پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
٤...... عصمت و طہارت
شرائط و معیار نبوت میں سے سب سے بھاری شرط عصمت الانبیاء ہے۔ نبی و رسول و امام معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے گناہ کبیرہ وصغیرہ کا کسی وقت عمداً و سہواً بلکہ کسی کام کا جو خلاف
٩
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
رضائے خدا ہو قبل نبوت یا بعد نبوت مرتکب نہیں ہوتا۔ جیسے ہیرا، لعل، جواہر، سونا کی اصلی رنگت وچمک دمک ہوتی ہے اور وہ ان کی ذات کے ساتھ ملے رہتے ہیں۔ اسی طرح انبیاء کی سرشت وفطرت میں پیدائش ہی سے بلکہ روح ہی میں نورانیت عصمت پیوستہ ہوتی ہے۔ اگر نبی معصوم نہ ہوں تو ان سے مخلوق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور خویشتن گم است کرا رہبری کند۔ جب خود گنہگار ہوگا تو دوسروں کو کیسے ہدایت کر سکتا ہے۔ اس کے امر ونہی وعدہ وعید احکام الٰہی میں اس کے کہنے پر ہرگز بھروسہ نہیں ہو سکتا۔ نبی ورسول کی اطاعت فرض ہے۔ اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہو گا تو اس گناہ کی بھی اطاعت کرنی پڑے گی اور یہ محال ہے۔ اگر انبیاء گناہ کے مرتکب ہوں تو ان کی سزا اور ایذا واجب ہو گی۔ حالانکہ یہ پیغمبروں کے ساتھ حرام ہے اور ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ "انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا" کے خطاب میں جناب رسول اللہ ﷺ مخاطب ہیں اور "وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى" کی سند عصمت کے واسطے کافی ہے اور "انا فتحنالك فتحا مبينا ليغفرلك الله ما تقدم من ذنبك ويتم نعمته عليك ويهديك صراط مستقيما وينصرك الله نصراً عزيز (فتح)" شاہد ہے انبیاء علیہم السلام پیدائشی پاک ہیں۔ ان کی فطرت میں عصمت وطہارت ہے۔ جو پاک اور معصوم ہو وہی دوسرے کو پاک وصاف کر سکتا ہے۔ اصلی غرض نبوت ہدایت وتزکیہ نفس ہوتی ہے۔ جس سے مؤمنین کے ہر نفس پاک ہو کر وہ کامل انسان بن جاتے ہیں اور مقربین بارگاہ الٰہی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ۔ "لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولاً من انفسهم يتلوا عليهم أياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمت وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين (آل عمران)" ﴿ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر احسان کیا کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے پیغمبر بھیجا۔ ان پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے۔ ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تحقیق اس سے پہلے ظاہر گمراہی میں تھے۔ قرآن شریف سنانا، اور تزکیہ نفس کرنا اور تعلیم قرآن اور حکمت دینا اصلی منشاء نبوت ہے۔ ﴾
عصمت قادیانی
مرزا قادیانی آنجہانی معصوم و پاک نہ تھے۔ اس لئے نبی ورسول نہ تھے۔ (کرامات الصادقین ص ٥، خزائن ج ٧ ص ٤٧) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“ ١٠
- ب.......... ”مگر ایک اور قول
ہے اور اس دریا میں ہمیشہ رہتی ہے اور ایک جو پیدائشی پاک ہیں اور ان کی فطرت میں
- ج.......... جناب مرزا قادیانی
بچہ کی صورت میں منتقل ہو گیا اور عیسیٰ علیہ چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی
٥...... معجزہ
ہر نبی ورسول کے واسطے معجزہ اور لوگ عاجز ہوں اور عادت کے خلاف ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب کوئی واختیارات نہ رکھتا ہو۔ ہرگز قابل قبول ہے۔ جب تک کوئی شاہی پروانہ دستخط نہ ہو تو دعویٰ بے دلیل، قبول نہیں بازی، مکر وفریب سے لوگوں کو بہکا ورنہ اصلی ونقلی نبوت میں شناخت نہ کیا اور کوئی معجزہ یا کرامت نہ دکھا والوالعزم انبیاء مرسلین نے سینکڑوں السلام کو عطاء ہوا اور لشکر فرعون دریا آگ گل زار ہو گئی۔ سیدنا اسماعیل ہو گیا۔ سیدنا داؤد علیہ السلام کے جنات وحوش وطیور رہے اور ان کے زندہ کیا۔ کوڑھوں،مبروص مادر زاد پتھر سے اونٹنی ملی۔ سیدنا محمد رسول
عاکف اکیڈمی کانفرنس مکھڈ عقائد کا پروگرام
میں ہوتا۔ جیسے ہیرا، لعل، جواہر، سونا کی اصلی رنگت ساتھ ملے رہتے ہیں۔ اسی طرح انبیاء کی سرشت نورانیت عصمت پیوستہ ہوتی ہے۔ اگر نبی معصوم نہ خویشتن گم است کرا رہبری کند۔ جب خود گنہگار کے امر و نہی وعدہ و عید احکام الٰہی میں اس کے کہنے سخت فرض ہے۔ اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہوگا تو رہا ہے۔ اگر انبیاء گناہ کے مرتکب ہوں تو ان کی سزا ساتھ حرام ہے اور ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ عن اهل البيت ويطهركم تطهيرا “ کے و ما ينطق عن الهوى ان هو الا انا فتحنالك فتحاً مبينا نعمته عليك ويهديك صراط مستقيما ہے انبیاء علیہم السلام پیدائشی پاک ہیں۔ ان کی معصوم ہو وہی دوسرے کو پاک و صاف کر سکتا ہے۔ جس سے مؤمنین کے ہر نفس پاک ہو کر وہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان بعث فيهم رسولاً من انفسهم يتلوا والحكمت وان كانوا من قبل لفى تعالیٰ نے مؤمنوں پر احسان کیا کہ ان کے درمیان سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے۔ ان کو کتاب اور گمراہی میں تھے۔ قرآن شریف سنانا، اور تزکیہ نفس ہے۔
تھے۔ اس لئے نبی و رسول نہ تھے۔ ( کرامات یہ ہیں کہ: ”نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء
- ب....... مگر ایک اور قوم بھی ہے جو مچھلیوں کی طرح اس دریا میں ہی پیدا ہوتی
ہے اور اس دریا میں ہمیشہ رہتی ہے اور ایک دم بھی اس دریا کے بغیر جی نہیں سکتی۔ وہ وہی لوگ ہیں جو پیدائشی پاک ہیں اور ان کی فطرت میں عصمت ہے۔ انہیں کا نام نبی اور رسول اور پیغمبر ہے۔“
(رسالہ ست بچن ص ٨٦ خزائن ج ١٠ ص ٢١٠)
- ج....... جناب مرزا قادیانی کو حیض آتا تھا اور ان میں پلیدی موجود تھی۔ وہ حیض
بچہ کی صورت میں منتقل ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام بن گیا۔ دیکھو مریدو! ان پر الہام بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔
(حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
٥....... معجزہ
ہر نبی و رسول کے واسطے معجزہ کا ہونا ضروری ہے۔ معجزہ وہ فعل ہے جس کے کرنے سے اور لوگ عاجز ہوں اور عادت کے خلاف اور دعوائے پیغمبری اور مقابلہ کے ساتھ ساتھ ہو۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب کوئی شخص کسی بڑے عہدے کا دعویٰ کرے تاوقتیکہ کوئی سند دلیل و اختیارات نہ رکھتا ہو۔ ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کوئی شخص دعویٰ کرے کہ وہ بادشاہ یا گورنر ہے۔ جب تک کوئی شاہی پروانہ پیش نہ کرے یا سزا دینا، معاف کرنا انعام و اکرام اس کے اختیار نہ ہو تو دعویٰ بے دلیل، قبول نہیں۔ اگر کوئی رسالت کا جھوٹا دعویٰ کرے یا سحر اور شعبدہ بازی، مکر و فریب سے لوگوں کو بہکائے تو خداوند کریم پر واجب ہے کہ اس کا دعویٰ جھوٹا کرے۔ ورنہ اصلی و نقلی نبوت میں شناخت نہ ہوگی۔ جیسا کہ ان دنوں مرزا قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور کوئی معجزہ یا کرامت نہ دکھا سکا۔ وہ شرمسار ہو کر دنیا فانی سے چل بسا۔ اللہ کے پیارے والوالعزم انبیاء مرسلین نے سینکڑوں معجزے مخلوق خدا کو دکھائے۔ عصاء، ید بیضا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عطاء ہوا اور لشکر فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر آگ گل زار ہو گئی۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ کے پاؤں مارنے سے چشمہ زمزم جاری ہو گیا۔ سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھ سے لوہا و فولاد نرم ہوا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تابع جنات وحوش و طیور رہے اور ان کے تخت کو ہوا اٹھائے پھری۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کیا۔ کوڑھوں، مبروص مادر زاد اندھوں اور بیماروں کو اچھا کیا۔ سیدنا حضرت صالح علیہ السلام کو پتھر سے اونٹنی ملی۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر میں کنکروں سے کفار کو بھگایا۔ چاند کے
١١
دو ٹکڑے کر ڈالے۔ انگلیوں سے چشمے جاری کئے۔ مردوں کو زندہ کیا۔ آفتاب کو غروب کے وقت دوبارہ لوٹایا۔ قرآن شریف کا زندہ معجزہ اب تک موجود ہے کہ آج تک کوئی ایک سورت تو کجا ایک آیت بھی مقابلہ میں نہیں بنا سکا۔
- الف ...... ”ان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من
مثله وادعوا شهداءكم من دون الله ان كنتم صدقين (الم، البقره) “ ﴿اور وہ جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر قرآن اتارا ہے اگر تم کو اس میں شک ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدا کی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی ہے اور اپنے اس دعوٰی میں سچے ہو تو اس جیسی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی جماعتوں کو بھی بلا لاؤ۔﴾ (ترجمہ مولوی نذیر احمد دہلوی)
- ب ...... ”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا
القرآن لاياتون بمثله ولوكان بعضهم لبعض ظهيرا “ ﴿کہو اگر انسان اور جن جمع ہو کر اس قرآن کی مانند بنالا دیں تو اس کی مثل ہرگز نہ بنا سکیں گے۔ اگر ایک دوسرے کے مددگار کیوں نہ ہو جاویں۔﴾
اعجاز قادیانی
غلط الہامات شائع کرنا توہین رسالت کرنا اور گالیاں دینا کوئی قادیانی یا پنجابی غیر مسلم مسلمان نہ ہوا۔ محمدی بیگم کا آسمانی نکاح ٹوٹ گیا۔ کوئی زلزلہ عظیم نہ آیا۔ نہ قادیان سے طاعون دور ہوا نہ کوئی آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ تمام مخالفین مرزا قادیانی بغلیں بجاتے رہے ان کے سامنے کوئی دشمن فوت نہ ہوا۔ نہ کوئی مردہ زندہ ہوا۔ نہ مریض اچھا ہوا۔ خود مرزا قادیانی دائم المرض رہے۔ مفرح معجونات ومقویات کھاتے رہے۔ مگر فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار ہیضہ وبائی کی موت سے فوت ہوئے۔ چونکہ سیدنا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کو معاذ اللہ گوہ کے برابر کہا کرتا تھا۔ اس لئے خود مرزا کو اسہال کی بیماری لاحق ہوئی۔
٦...... اُمّی ہونا
شرائط و معیار نبوت میں یہ بھی ایک شرط ہے۔ نبی کسی مدرسہ یا کالج کا طالب العلم وگریجویٹ نہ ہو۔ نہ کسی ملاں ومولویوں کے ہاں اس نے سبق پڑھا ہو۔ وہ لکھ پڑھ نہ سکتا ہو۔ بلکہ خداوند کریم کی طرف سے اس کو علم لدنی حاصل ہو۔ وہی اس کا معلم حقیقی ہو۔ نبی کو علم وہبی ہوتا ہے۔ علم اکتسابی کچھ علم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر ایک عالم سے زیادہ اور عالم بھی ہوتا ہے۔ ”فــوجــدا
١٢
عبداً من عبادنا آتينه رحمة من عندنا نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر حصہ دیا اور اپنی طرف سے اس کو ایک خاص علم عنا
- پ ...... ”الذين يتبعون
مكتوباً عندهم فى التورة والانجيـ سے ناواقف کی تابعداری کرتے ہیں۔ جن کا ذکـ
٧...... ہدایت و تزکیہ نفس
نبی ہدایت خلق کے واسطے آتے ہیـ کرتے ہیں۔ ہادی ومہدی ورہبر کامل ہوتے ہیـ
- الف ...... ”ولكل قوم هاد“ ﴿ہر قوم کے واسطے ہدایت کرنے والا آ
- ب ...... حضرت آدم علیہ السلا
”فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع والذين كفروا وكذبوا بايتنا اولئك ـ ﴿اگر ہماری طرف سے تم لوگوں کے پاس کوئی پیروی کریں گے۔ آخرت میں ان پر نہ تو کـ غمگین رہیں گے اور جو لوگ نافرمانی کریں گے اور وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے
- ج ...... ”هو الذى بعـ
آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والمـ
ہدایت قادیانی
شرک فی الذات و شرک فی الصـ انبیاء علیہم السلام اور خاص کر حضرت سیدنا عـ سیدنا احمد مختار ﷺ پر یک بیک حملے کئے۔ ا علیہ السلام اور امام محمد مہدی آخر الزمان سے
مقالہ 3 پرا عا کانفرنس نمبر عالمی مجلـ
یہ مردوں کو زندہ کیا۔ آفتاب کو غروب کے وقت موجود ہے کہ آج تک کوئی ایک سورت تو کجا ایک
مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من كنتم صدقين (الم، البقره) ”اور وہ جو ہم کو اس میں شک ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدا دعوٰی میں سچے ہو تو اس جیسی ایک سورۃ تم بھی “ (ترجمہ مولوی نذیر احمد دہلوی) الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا لبعض ظهيرا ”کہو اگر انسان اور جن جمع نہ بنا سکیں گے۔ اگر ایک دوسرے کے مددگار
اور گالیاں دینا کوئی قادیانی یا پنجابی غیر مسلم زلزلہ عظیم نہ آیا۔ نہ قادیان سے طاعون دور اپنی بغلیں بجاتے رہے ان کے سامنے کوئی نہ ہوا۔ خود مرزا قادیانی دائم المرض رہے۔ ہوا۔ آخر کار ہیضہ ہی کی موت سے فوت الہ کو وہ وحی کے برابر کہا کرتا تھا۔ اس لئے خود
ہے۔ نبی کسی مدرسہ یا کالج کا طالب العلم سبق پڑھا ہو۔ وہ لکھ پڑھ نہ سکتا ہو۔ بلکہ اس کا معلم حقیقی ہو۔ نبی کو علم وہبی ہوتا اور عالم بھی ہوتا ہے۔” فــوجــدا
عبداً من عبادنا اتينه رحمة من عندنا وعلمنه من لدنا علما (كهف) ”انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا۔ جس کو ہم نے اپنی خاص مہربانی سے ایک حصہ دیا اور اپنی طرف سے اس کو ایک خاص علم سکھایا تھا۔“
- ب...... ”الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه
مكتوباً عندهم في التورة والانجيل (الاعراف) ”وہ لوگ اس رسول کتابی علوم سے ناواقف کی تابعداری کرتے ہیں۔ جن کا ذکر وہ توریت اور انجیل میں پاتے ہیں۔“
٧...... ہدایت و تزکیہ نفس
نبی ہدایت خلق کے واسطے آتے ہیں اور لوگوں کو حقانی تعلیم دے کر ان کا تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ ہادی و مہدی و رہبر کامل ہوتے ہیں اور خود ہدایت یافتہ ہوتے ہیں۔ ”ولكل قوم هاد“ ﴿ہر قوم کے واسطے ہدایت کرنے والا بھیجا گیا ہے۔﴾
- ب....... حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی لغزش کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
”فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون . والذين كفروا وكذبوا بايتنا اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون (البقره)“
﴿اگر ہماری طرف سے تم لوگوں کے پاس کوئی ہدایت پہنچے تو اس پر چلنا۔ کیونکہ جو ہماری ہدایت کی پیروی کریں گے۔ آخرت میں ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف طاری ہوگا اور نہ وہ کسی طرح حزین و ملول رہیں گے اور جو لوگ نافرمانی کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے۔ وہی دوزخی ہوں گے اور وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے۔﴾
- ج....... ”هو الذى بعث فى الاميين رسولاً منهم يتلوا عليهم
آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة (جمعه)“
ہدایت قادیانی
شرک فی الذات و شرک فی الصفات اور شرک فی الطاعات کا سبق پڑھا گئے۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور خاص کر حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سخت توہین کر گئے۔ ائمہ اطہار اولاد سیدنا احمد محمد ﷺ پر پے در پے حملے کئے۔ عذاب قبر ، وجود ملائکہ ، یاجوج ماجوج ، نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور امام محمد مہدی آخرالزمان سے صاف انکار کیا۔ (تحفہ نورانی)
١٣
الہامات مرزا
- ١...... ”انت اسمى الاعلى“ تو میرا سب سے بڑا امام ہے۔
(اربعین ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤)
- ٢...... خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشین گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے
کہ میری ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جس کو کئی باتوں میں مسیح علیہ السلام سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ اسیروں کو دستگیری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الحق والعلاء ”وكان الله نزل من السماء“ گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل ہوا۔
(ازالہ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ٣...... مرزا خدا کا بیٹا۔ الہام ”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
- ٤...... خدا کا نماز پڑھنا اور سونا اصلی واصوم اقوم وانام۔ میں نماز پڑھوں گا۔
روزے رکھوں گا۔ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
- ٥...... ”كل لك ولامرك“ سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہیں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠)
- ٦...... ”كان الله نزل من السماء“ گویا خدائے تعالیٰ آسمان سے اترا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
- ٧...... ”اني مع الرسول اجيب واخطى واصيب“ میں رسول کے ساتھ
جواب دوں گا۔ کبھی خطا بھی کروں گا اور کبھی صواب بھی۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
- ٨...... دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں
لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کے مانند۔
(اربعین ٣ ص ٨١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- ا...... صاحب کتاب ہونا
ہر ایک نبی ورسول کے واسطے صاحب کتاب وصحیفہ وشریعت کا ہونا ضروری ہے۔ جو نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس کوئی کتاب وشریعت الہیہ نہ ہو یا خدائی ہدایت نہ ہو وہ کذاب نبی ورسول ہوتا ہے۔ وہ درخت بے ثمر وانسان بے بصر ہوتا ہے اور اس کی نبوت ہے۔
١٤
- الف........ ”الم الله لا الہ
بالحق مصدقاً لما بين يديه وانزل وانزل الفرقان ، ان الذين كفر ذوانتقام (آل عمران) ”الم کارخانہ عالم کا سنبھالنے والا۔ اے پیغمبر آ کی تصدیق کرتی ہے۔ جو اس سے پہلے نا جن سے حق و باطل کا فرق ظاہر ہوتا ہے عذاب ہوگا اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے
- ب ........ ”لقد ارسلن
(حدید) ”ہم نے اپنے رسولوں کو نشان
- ب...... صاحب شریعت ہونا
”شرع لكم من الدي وصيـنـا بـه ابراهيم وموسى (الشوری) ”لوگو! اس نے تمہارے نوح کو حکم دیا تھا اور اے پیغمبر تمہاری طر ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو ڈالنا۔ پھر زبور، توریت، انجیل، فرقان، کے لئے شریعت تھی اور تمام انبیاء و مرسل کسی دوسرے کے ماتحت نہ تھا اور ن وصاحب الشریعت بلاواسطہ رسول اور ا ہرگز نہ تھے۔ قادیانیوں کا دعویٰ مخالف
- ج ....... ”تلك الرس
ورفع بعضهم درجت وآتين (بـقـره) ”یہ پیغمبر جو ہم نے بھی ایسے ہیں جن کے ساتھ خود اللہ نے ک بیٹے عیسیٰ کو ہم نے کھلے کھلے معجزے و
ت سے بڑا امام ہے۔
(اربعین ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
کوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے مسیح علیہ السلام سے مشابہت ہوگی۔ وہ امیروں کو دستگیری بخشے گا اور ان عطیہ گرامی دار، چند مظہر الحق والعلاء نازل ہوا۔
(ازالہ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
سے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
م رکع و انام۔ میں نماز پڑھوں گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
لئے اور تیرے حکم کے لئے ہیں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠)
یا خدائے تعالیٰ آسمان سے اترا۔
(حقیقۃ الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
ن واصیب" میں رسول کے ساتھ
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں
(نمبر ٣ ص ٨١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣١٣)
اور شریعت کا ہونا ضروری ہے۔ جو شریعت الہیہ نہ ہو یا خدائی ہدایت نہ سے ممیز ہوتا ہے اور اس کی نبوت
- الف ....... "الم الله لا اله الا هو الحى القيوم ٠ نزل عليك الكتاب
بالحق مصدقاً لما بين يديه وانزل التوراة والانجيل من قبل هدى للناس وانزل الفرقان ٠ ان الذين كفروا بايت الله لهم عذاب شديد الله عزيز ذو انتقام (آل عمران)" "الم اللہ وہ ذات پاک ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ زندہ کارخانہ عالم کا سنبھالنے والا۔ اے پیغمبر اُسی نے تم پر یہ کتاب برحق اتاری۔ جو ان آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں اور اسی نے اور چیزوں کو بھی نازل کیا۔ جن سے حق و باطل کا فرق ظاہر ہوتا ہے جو لوگ خدا کی آیتوں سے منکر ہیں۔ بیشک ان کو سخت عذاب ہوگا اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا۔"
- ب ....... "لقد ارسلنا رسلنا بالبينت وانزلنا معهم الكتاب
(حدید)" "ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اتاری۔"
- ب ....... صاحب شریعت ہونا
"شرع لكم من الدين ما وصى به نوحاً والذى اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه (الشورى)" "لوگو! اس نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ ٹھہرایا ہے۔ جس پر چلنے کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور اے پیغمبر تمہاری طرف بھی ہم نے اسی رستے کی وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو بھی حکم دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ پھر زبور، توریت، انجیل، فرقان مجید یہ مشہور الہامی کتابیں ہیں اور ان میں اپنے اپنے وقت کے لئے شریعت تھی اور تمام انبیاء و مرسلین صاحب شریعت تھے اور کوئی نبی یا رسول صاحب شریعت کسی دوسرے کے ماتحت نہ تھا اور نہ کسی کا خلیفہ تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام صاحب الکتاب وصاحب الشریعت بلا واسطہ رسول اور اولوالعزم تھے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفے یا نائب ہرگز نہ تھے۔ قادیانیوں کا دعویٰ مخالف کتاب اللہ ہے۔ سنو!
- ج ....... "تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله
ورفع بعضهم درجت واتينا عيسى ابن مريم البينت وايدناه بروح القدس (بقره)" "یہ پیغمبر جو ہم نے بھیجے ان میں سے بعض کو بعض پر برتری دی۔ ان میں سے کوئی تو ایسے ہیں جن کے ساتھ خود اللہ نے کلام کیا اور بعض کے درجے اور طرح پر بلند کئے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو ہم نے کھلے کھلے معجزے دیئے اور روح القدس یعنی جبرئیل سے ان کی تائید کی۔"
١٥
و...... ”قال انى عبدالله . اتينى الكتاب وجعلنى نبيا وجعلنى مباركاً اين ما كنت واوصنى بالصلوة والزكوة مادمت حياً وبراً بوالدتى ولم يجعلنى جباراً شقيا (مریم)“ ﴿فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب انجیل عنایت فرمائی اور مجھ کو پیغمبر بنایا اور کہیں بھی رہوں مجھ کو بابرکت کیا اور مجھ کو حکم دیا کہ جب تک زندہ ہوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں۔ اور نیز مجھ کو اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا اور مجھ کو سخت گیر اور بدراہ نہیں کیا۔﴾
ف...... حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفہ نازل ہوا۔
٩...... وحی، نزول جبرئیل علیہ السلام
ہر ایک نبی و رسول کے واسطے صاحب الوحی ہونا ضروری ہے۔ وحی کی تین اقسام ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے بندوں کے واسطے احکام وہدایت نبی و رسول کو پہنچاتے ہیں۔ گویا نبی و رسول در حقیقت خالق اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طریق پر اپنے مقدس و پاک برگزیدہ انبیاء، و مرسلین سے کلام کرتا ہے اس کا نام وحی ہے۔ ”انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد“ ﴿کہہ دو کہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔ میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔﴾
”وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولاً فيوحى باذنه ما يشاء (الشورى)“ ﴿کسی بشر کے لئے یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے۔ سوائے اس کے اشارہ کے طور یا پردہ کے پیچھے یا اپنے رسول (وحی جبرائیل) کو بھیجے۔﴾ اس آیت شریف سے اشارہ (رویا، و کشف) مکالمہ و جبرئیل علیہ السلام پر تین قسم کے وحی کا ہونا معلوم ہوا اور سب سے اعلیٰ درجہ کی وحی کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رسولوں پر نازل ہونا ہے جو تمام قسم کی وحیوں سے اعلیٰ اور غلطیوں کو دور کرنے والی ہے۔ کیونکہ اس کا محافظ حقیقی خود حق تعالیٰ ہوتا ہے۔ ”انا اوحينا اليك كما اوحينا الى نوح والنبيين من بعد واوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحق ويعقوب والاسباط وعيسى ايوب ويونس وهارون وسليمن وآتينا داؤد زبوراً ورسلاً قد قصصنهم عليك من قبل ورسلاً لم نقصصهم عليك وكلم الله موسى تكليما رسلاً مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل وكان الله عزيزاً
١٦
حكيما (النساء)“ ﴿اے پیغمبر ہم نے نوح اور دوسرے پیغمبروں کی طرف۔ وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داو ہیں۔ جن کا حال ہم اس سے پہلے تم سے ب سے اب تک بیان نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ خوشخبری دینے والے اور بدوں کو عذاب پ لوگوں کو خدا پر کسی طرح کا حجت لانے کا موق
ب...... ”قل من كان ع مصدقاً لما بين يديه وهدى وبشر کہو کہ جو شخص جبرئیل فرشتے کا دشمن ہو تمہارے دل میں ڈالا ہے اور قرآن ان پہلے موجود ہیں اور ایمان والوں کے لے و رسالت کے واسطے نزول وحی جبرئیل علیہ
١٠...... اجابت دعا
نبی و رسول مستجاب الدعوۃ ہو سیدنا نوح علیہ السلام نے نو سال برابر کفا کے باقی سب کے سب کافر و مشرک رہ ”وقال نوح رب لا تذر على الارض کے حق میں یہ بددعا کی کہ اے میرے چھوڑ۔﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کو طوفان عظ ”انهم كانوا قوم سو غرق کر دیا۔﴾
ب...... ”وايوب اذ ن الراحمين فاستجبنا له فكشفنا م
حكيما (النساء) ”اے پیغمبر ہم نے تمہاری طرف اس طرح وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور دوسرے پیغمبروں کی طرف۔ جو ان کے بعد ہوئے۔ وحی بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور دی تھی اور تمہاری طرف ہم کتنے پیغمبر بھیج چکے ہیں۔ جن کا حال ہم اس سے پہلے تم سے بیان کر چکے ہیں اور کتنے پیغمبر اور جن کا حال ہم نے تم سے اب تک بیان نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے تو باتیں بھی کیں۔ یہ سب پیغمبر نیکوں کو جنت کی خوشخبری دینے والے اور بدوں کو عذاب سے ڈرانے والے تھے۔ تاکہ پیغمبروں کے آگے پیچھے لوگوں کو خدا پر کسی طرح کا حجت رکھنے کا موقع باقی نہ رہے اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔“
- ب...... ”قل من كان عدوا لجبريل فانه نزله على قلبك باذن الله
مصدقاً لما بين يديه وهدى وبشرى للمؤمنين (البقرة) ”اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ جو شخص جبرئیل فرشتے کا دشمن ہو (ہوا کرے) یہ قرآن اسی فرشتہ نے خدا کے حکم سے تمہارے دل میں ڈالا ہے اور قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس کے زمانہ نزول سے پہلے موجود ہیں اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور فلاح دارین کی خوشخبری ہے۔ پس نبوت ورسالت کے واسطے نزول وحی جبرئیل علیہ السلام ضروری ہے۔“
- ١٠....... اجابت دعا
نبی ورسول مستجاب الدعوۃ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جو دعا چاہیں قبول ہوتی ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے نو سو سال برابر کفار ومشرکین کو دعوت توحید فرمائی۔ مگر سوائے چند آدمیوں کے باقی سب کے سب کافر ومشرک رہے۔ جس پر جناب نوح علیہ السلام کو التجا کرنی پڑی۔ ”وقال نوح رب لا تذر على الارض من الكفرين ديارا (نوح) ”اور نوح نے ان کے حق میں یہ بددعا کی کہ اے میرے پروردگار ان کافروں میں سے ایک کو بھی زمین پر نہ چھوڑ۔“ سو اللہ تعالیٰ نے ان کو طوفان میں غرق کر دیا۔
”انهم كانوا قوم سوء فاغرقنهم اجمعين ”اس بدکار تمام قوم کو ہم نے غرق کر دیا۔“
- ب....... ”وايوب اذ نادى ربه انى مسنى الضر وانت ارحم
الراحمين فاستجبنا له فكشفنا ما به من ضر و آتينه اهله ومثلهم معهم رحمة
١
من عندنا وذكرى للعبدين (انبياء) ”اے پیغمبر ایوب کی وہ حالت یاد کر جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے تو میرے حال پر رحم فرما۔ تو ہم نے ان کی فریاد سن لی اور جو دکھ ان کو تھا اس کو دور کر دیا اور ان کو ان کے اہل وعیال عطاء فرمائے۔ بلکہ ان کے ساتھ اتنی ہی اور یہ محض ہماری مہربانی تھی۔ جو ہم نے ان پر کی اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ واقعہ قابل یادگار ہے تا کہ ان کو عبادت کی طرف زیادہ ترغیب ہو۔﴿
- ج...... ”وذا النون اذ ذهب مغاضباً فظن ان لن نقدر عليه فنادى
فی الظلمت ان لا اله الا انت سبحانك انی كنت من الظلمين ٠ فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذالك ننجی المؤمنين (انبياء) ”اور ذوالنون یعنی یونس کو یاد کر جب خفا ہو کر چل دے اور جاتے وقت غصے میں بہ تقاضائے بشریت ان کو ایسا واہمہ گزرا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے تو آخر کار عاجز آ کر اندھیروں کے اندر چلا اٹھے کہ اے خدا تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ذات ہے۔ میں نے بڑا ظلم کیا تو ہم نے ان کی فریاد سن لی اور ان کو غم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچالیا کرتے ہیں۔﴿
- و...... ”وزكريا اذ نادى ربه لا تذرنی فرداً وانت خير الورثين
فاستجبنا له ووهبنا له یحییٰ واصلحنا له زوجه (الانبیاء) ”اور زکریا کو یاد کرو جب انہوں نے اولاد کی طرف سے مایوس ہو کر اپنے پروردگار کو پکارا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اکیلا یعنی بے اولاد نہ چھوڑ اور یوں تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے۔ تو ہم نے فریاد سن لی اور ان کو بھی فرزند عنایت کیا اور ان کی بی بی کو ان کے لئے بھلا چنگا کر دیا۔﴿
اجابت دعا قادیانی
مرزا قادیانی اور ان کی امت ہمیشہ اپنے مخالفین کے واسطے دعاء مانگتے رہے۔ مباہلے کرتے رہے۔ مگر ہمیشہ الٹا اثر ہوتا رہا۔ مسٹر عبداللہ آتھم پیشین گوئی کے موافق وقت مقررہ پر فوت نہ ہوا اور مرزائی شرمندہ ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان و فاضل امرتسری مولوی ثناء اللہ صاحب اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی وغیرہ زندہ رہے اور مرزا قادیانی ان کے سامنے فوت ہوا۔ صادقین کے بالمقابل کاذب چل بسا۔ نہ صلیب ٹوٹی نہ دجال مارا گیا اور نہ مرزائیوں کو بادشاہت ملی۔ قادیان کے آریہ و ہندو مسلمان نہ ہوسکے۔ کوئی دشمن اس دنیا سے ہلاک ہو کر مرا۔ نہ ہی مکہ معظمہ و مدینہ
١٨
منورہ کے درمیان ریل جاری ہوئی اور نہ اونٹ بیکار ہوئے۔ نہ عیسائیوں کو کبھی شکست ہوئی۔ بلکہ سلطنت عثمانیہ کا تہ و بالا ہوا۔ خلافت پر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ نہ مرزا قادیانی کی جماعت میں روحانیت پیدا ہوئی۔ لاہوری پارٹی اور قادیانی پارٹی علیحدہ ہو گئی۔ دونوں میں ہمیشہ جھگڑا فساد رہا۔ کفر و تکفیر کے فتوے چھپے ایک دوسرے سے اصولاً علیحدہ ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے فرزند ارجمند ایک لڑکے کے واسطے دعاء مانگی۔ مگر صاحبزادی پیدا ہوئی۔ براہین احمدیہ غیر مکمل چھوڑ گئے ۔ وعدہ ایفا نہ کیا۔ محمدی بیگم کا آسمانی نکاح پورا نہ ہوا۔ مرزا قادیانی اسی ہوس میں فوت ہوئے۔
١١.......نصرت الہی
ہر ایک نبی و رسول کے ساتھ تائید و برکات الہی ہمیشہ شامل ہوتی ہیں۔ نبی ورسول صاحب نصرت و فتح ہوتے ہیں۔ خدا کی حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ آخر کار برہان وصداقت کا غلبہ ہوکر رہتا ہے۔ نبی و رسول برگزیدہ ومنتخب ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم الہیہ سب سے اعلیٰ و افضل ہوتی ہے۔ وہ اپنے زمانہ کے صالحین ومومنین سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ نبی کا علم، فہم اور دانش بلکہ تمام صفات، کمال، مکارم اخلاق، عزت، مروت، شجاعت، عفت، امانت اور دیانت میں تمام اہل زمانہ سے افضل ہوتے ہیں۔
- ب....... انبیاء سہو، نسیان، غلطی اور امراض دماغی جنون سے پاک ہوتے ہیں۔
- ج....... انبیاء ومرسلین کے دین براہین ودلائل میں سب مخالف مذاہب پر غلبہ
رکھتے ہیں۔
- ١....... "نصر من الله فتح قريب"
- ٢....... "والله يعصمك من الناس"
- ٣....... "هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدین کله ولوکره الکافرون " ﴿وہ اللہ تعالیٰ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر روانہ کیا تا کہ تمام مذاہب پر اس کا غلبہ ہو اور اگرچہ کفار کڑھتے رہیں۔ ﴾
- ٤....... "النبی اولیٰ بالمؤمنين من انفسهم" ﴿نبی مومنین سے افضل
واعلیٰ ہوتا ہے اور ان کا حاکم و سردار ہوتا ہے۔﴾
- ٥....... "اولئك الذين انعم الله عليهم من النبيين من ذرية آدم
وممن حملنا مع نوح ومن ذرية ابرهيم واسرائيل وممن هدينا واجتبينا (مریم) " ﴿یہ پیغمبر وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں کی
١٩
اولاد میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) چڑھالیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور یہ لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت کی سچی راہ بتلائی اور ان کو ساری خلقت میں سے چن لیا۔ ﴿
- ٦...... ”ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين انهم لهم
المنصورون وان جندنا لهم الغلبون (الصفت)“ ﴿ اور ہم تو پہلے ہی پیغمبروں کے باب میں فرماچکے ہیں کہ آخر ایک روز ضرور ان کو ہماری مدد پہنچے گی اور ضرور ہمارا ہی لشکر غالب ہوگا۔ ﴿
- ٧...... ”ولقد ارسلنا من قبلك رسلًا الى قومهم فجاؤهم
بالبينت فانتقمنا من الذين اجرموا وكان حقاً علينا نصر المؤمنين (الروم)“ ﴿ اور اے پیغمبر ہم تجھ سے پہلے کئی پیغمبر، ان کی قوم کی طرف بھیج چکے ہیں۔ وہ نشانیاں (معجزے لے کر آئے مگر انہوں نے نہ مانا) آخر گنہگاروں سے ہم نے بدلہ لیا اور ایمان والوں کی مدد ہم کو ضرور تھی۔ ﴿
- ٨...... ”اذا جاء نصر الله والفتح ورايت الناس يدخلون في دين
الله افواجا“ ﴿ جب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح آوے گی تو لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج ہو کر داخل دیکھے گا۔ ﴿
- ٩...... ”ما ضل صاحبكم وما غوى وما ينطق عن الهوى ان
هو الا وحي يوحىٰ (النجم)“ ﴿ تمہارا ساتھی یعنی پیغمبر نہ تو بہکا ہے نہ بھٹکا اور نہ اپنے دل کی خواہش سے وہ کوئی بات کرتا ہے۔ اس کی جو بات ہے وہ وحی ہے جو اس پر بھیجی جاتی ہے۔ ﴿
- ١٠...... ”وما صاحبكم بمجنون ولقد راه بالافق المبين وما هو
على الغيب بضنين (التكوير)“ ﴿ اور اے مکہ والو تمہارا ساتھی محمد دیوانہ نہیں اور اس نے اس فرشتے کو آسمان کے صاف کھلے ہوئے کنارے میں دیکھا اور وہ جو باتیں غیب کی اس کو معلوم ہوتی ہیں اور بتلاتا ہے۔ ان کے بیان کر دینے میں بخیل نہیں۔ ﴿
نصرت قادیانی
جناب مرزا قادیانی نے جس مشن کا بیڑا اٹھایا تھا۔ وہ پورا نہ ہوا۔ نہ اسلام کا بول بالا ہوا۔ نہ ہی پنجاب سے کفر و شرک مٹا۔ وہی صلیبی جھنڈے لہرا رہے ہیں اور عیسائیت کا دن بدن غلبہ ہو رہا ہے۔ وہی کالی دیوی کی جے پکاری جاتی ہے۔ بت پرستی، پیر پرستی، گور پرستی، قوالی، تاج،
٢٠
مجرے، رنگ رلیاں ہورہی ہیں۔ مسلمان اپنا ا ہوتی جاتی ہے۔ عالمان دین مسلمانوں کو کا مسلمان عورتیں اہل ہنود کے گھر آباد ہیں۔ مس کمال درجہ پر ہے۔ یہ ہیں قادیانی پنجابی نبی ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
- ١٢...... دعوئی نبوت ورسالت وامام
نبی ورسول نبوت ورسالت کا ا وصداقت پیش کرتے ہیں۔ کل انبیاء ومرسلین رسول الله اليكم جميعاً (اعراف ہوں۔ ﴿
- ب...... حضرت موسیٰ وحضر
جا کر دعویٰ رسالت ونبوت فرماتے ہیں۔ ”ف بنى اسرائيل ولا تعذبهم قد جئناك (طہ)“ ﴿ تم دونوں مل کر فرعون کے پا ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کردے ا تیرے پاس آئے ہیں اور خداوند کے عذاب
- ج...... ”ولقد ارسلنا
رسول رب العالمين فلما جائ ﴿ اور ہم تو موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرع نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ جو سارے ان کے پاس پہنچا دیکھا تو وہ ہنسی میں اڑانے
- د...... جناب سیدنا عیسیٰ ع
جئتكم باية من ربكم انى اخلق طيراً باذن الله وابرئ الاكمه بما تأكلون وما تدخرون في بـ (آل عمران)“ ﴿ میں تمہارے پاس تمہا
شتی میں) چڑھا لیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد ے ہدایت کی سچی راہ بتلائی اور ان کو ساری خلقت میں
ت كلمتنا لعبادنا المرسلين انهم لهم لبون (الصافت) ”اور ہم تو پہلے ہی پیغمبروں ضرور ان کو ہماری مدد پہنچے گی اور ضرور ہمارا ہی لشکر
ا من قبلك رسلاً الى قومهم فجاؤهم اجرموا وكان حقاً علينا نصر المؤمنين پیغمبر، ان کی قوم کی طرف بھیج چکے ہیں۔ وہ نشانیاں گنہگاروں سے ہم نے بدلہ لیا اور ایمان والوں کی
والفتح ورأيت الناس يدخلون في دين طرح آوے گی تو لوگوں کو دین الٰہی میں فوج درفوج
م وما غوى وما ينطق عن الهوى ان ی، یعنی پیغمبر نہ تو بہکا ہے نہ بھٹکا اور نہ اپنے دل کی ہے وہ وحی ہے جو اس پر بھیجی جاتی ہے۔﴾
نون ولقد رآه بالافق المبين وما هو مکہ والو تمہارا ساتھی محمد دیوانہ نہیں اور اس نے میں دیکھا اور وہ جو باتیں غیب کی اس کو معلوم خیل نہیں۔﴾
انبیاء تھا۔ وہ پورا نہ ہوا۔ نہ اسلام کا بول بالا ے لہرا رہے ہیں اور عیسائیت کا دن بدن ، بت پرستی، پیر پرستی، گور پرستی، قوالی، ناچ،
مجرے، رنگ رلیاں ہورہی ہیں۔ مسلمان اپنا اسلام چھوڑ بیٹھے اور دن بدن مسلمانوں کی حالت ابتر ہوتی جاتی ہے۔ عالمان دین مسلمانوں کو کافر بناتے پھرتے ہیں اور بائیکاٹ کرارہے ہیں۔ مسلمان عورتیں اہل ہنود کے گھر آباد ہیں۔ مسلمان عورتیں ومرد عیسائی ہوتے جاتے ہیں۔ قحط سالی کمال درجہ پر ہے۔ یہ ہیں قادیانی پنجابی نبی کے برکات اور نصرت کہ بجائے ترقی اسلام کے تنزلی ہوگئی۔ انا لله وانا اليه راجعون!
- ١٢...... دعویٰ نبوت ورسالت وامامت
نبی و رسول نبوت ورسالت کا پہلے خود دعویٰ کرتے ہیں اور اس دعویٰ پر دلیل معجزہ وصداقت پیش کرتے ہیں۔ کل انبیاء و مرسلین نے دعویٰ رسالت کیا۔ ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (اعراف)“ ﴿کہو اے لوگو میں تم تمام کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔﴾
- ب...... حضرت موسیٰ وحضرت ہارون علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام فرعون کے پاس
جاکر دعویٰ رسالت و نبوت فرماتے ہیں۔ ”فاتياه فقولا انا رسولا ربك فارسل معنا بني اسرائيل ولا تعذبهم قد جئناك باية من ربك والسلام على من اتبع الهدى (طہ)“ ﴿تم دونوں مل کر فرعون کے پاس جاو۔ اس سے کہو کہ ہم تیرے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کردے اور ان کو مت ستا۔ ہم ایک نشانی تیرے مالک کی لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور خداوند کے عذاب سے وہی بچے گا جو سیدھے رستے پر چلے گا۔﴾
- ج...... ”ولقد ارسلنا موسى بايتنا الى فرعون وملائه فقال انى
رسول رب العالمين فلما جاؤهم بايتنا اذا هم منها يضحكون (الزخرف)“ ﴿اور ہم تو موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیج چکے ہیں تو موسیٰ نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ جو سارے جہاں کا مالک ہے۔ جب موسیٰ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچا دیکھا تو وہ ہنسی میں اڑاتے ہیں۔﴾
- د...... جناب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو فرماتے ہیں۔ ”انى قد
جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهية الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الاكمه والابرص واحي الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين (آل عمران)“ ﴿میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں
٢١
مٹی کا ایک پتلہ چڑیا کی شکل پر بناتا ہوں۔ پھر اس پر پھونک مارتا ہوں اور خدائی قدرت سے اڑنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھے کو بھلا چنگا کر دیتا ہوں اور مردے کو جلا دیتا ہوں اور تم جو کھا کر آؤ اور جو اپنے گھروں میں رکھ چھوڑو وہ سب میں تم کو بتا دیتا ہوں۔ اگر تم میں ایمان ہے تو یہ تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔﴾
- ١٣...... نبی یا رسول شاعر نہیں ہوتا
”انہ لقول رسول کریم وما ہو بقول شاعر (الحاقہ)“ ﴿یہ قرآن شریف رسول کریم کا فرمان ہے۔ وہ شاعر کا قول نہیں ہے۔﴾ مرزا قادیانی شاعر تھا۔
- ١٤...... نبی ورسول اپنے آپ کو امتی نہیں کہتا
نبی کا دعویٰ مضبوط و پکا ہوتا ہے۔ لوگوں سے نہیں ڈرتا۔ مرزا قادیانی امتی تھے۔ حکام وقت سے ڈرتے رہے۔ عدالت میں معافی نامہ پیش کیا۔ علماء اسلام کے روبرو مباحثہ و مناظرہ کو نہ نکلے۔ قادیانی چار دیواریوں میں محبوس رہے۔
- ١٥...... کتب الہامی
سابقہ میں آنے والے نبی ورسول کے واسطے پیشین گوئیاں درج ہوتی ہیں۔
- ١٦...... نبی ورسول
نبی ورسول وہ ہے جو گذشتہ انبیاء و مرسلین کی تصدیق کرے۔ ان کی نبوت میں فرق نہ کرے۔ ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ کا مصداق ہو اور آنے والے نبی ورسول کی پیشین گوئی فرمائے۔ ”واذ قال عیسیٰ ابن مریم انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدیہ من التورات ومبشراً برسول یأتی من بعدہ اسمہ احمد . فلما جائہم البینات قالوا ھذا سحر مبین “ ﴿اور جب عیسیٰ ابن مریم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں اور کتاب تورات جو مجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر کی تم کو خوشخبری سناتا ہوں۔ جو میرے بعد آئیں گے اور ان کا نام ہوگا احمد۔ پھر جب وہ احمد جن کا دوسرا نام محمد ہے بنی اسرائیل کے پاس کھلے کھلے معجزے لے کر آئے۔ وہ کہنے لگے کہ صریح جادو ہے۔﴾ کیا غضب ہے کہ اس آیت شریف کو مرزا قادیانی نے غصب کر کے اپنا نام احمد رکھ لیا ہے۔ جناب رسول خداﷺ نے بھی احمد ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی غلامی چھوڑ کر احمد کے نام کا دعویٰ کیا ہے۔
٢٢
عالمگیر کانفرنس کو
- ١٧...... توہین اہل بیت رسالت
کسی مجدد نبی نے کسی بزرگ زبان درازی و سخت کلامی سے کام لیا ہ عصمت و طہارت بیان کرتا ہے اور اللہ تع شریف پڑھتے ہیں اور مؤمنین کو حکم ہوتا کی اولاد مقبول پر صلوٰۃ و سلام بھیجو۔ بغی شریف میں اہل بیت رسالت ﷺ کی م حرام ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ قر قابل تمسک کر کے چھوڑتے ہیں۔ مگر رسالت ﷺ پر رکیک حملہ کرتا ہے اور اہ اپنے اسلام اور ایمان کو ضائع کرتا ہے۔
- ١......اے شیعہ پرانی
(مرزا) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑ
- ٢......اور انہوں نے
اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہا
- ٣......”کیا تو اس (ا
کہ اس سے (امام حسینؓ) سے تمہیں و
- ٤......اور میں محمد ﷺ
برگزیدہ ہوں۔ جس کو ورثہ پہنچ گئی۔
- ٥......اسی طرح اسلا
ہلاک کر چکے ہیں۔ تم گمان کرتے ہو کہ ح
١٧...... توہین اہل بیت رسالت
کسی مجدد نبی نے کسی بزرگ دین و خاندان رسالت کی ہتک نہیں کی اور نہ ہی بدزبانی، زبان درازی و سخت کلامی سے کام لیا ہے۔ خاندان رسالت ﷺ کی اللہ تعالیٰ آیت تطہیر میں عصمت وطہارت بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی مکرم اور ان کی اولاد معظم پر درود شریف پڑھتے ہیں اور مؤمنین کو حکم ہوتا ہے کہ تم لوگ بھی اللہ کے پیارے رسول اللہ ﷺ اور اس کی اولاد مقبول پر صلوٰۃ وسلام بھیجو۔ بغیر درود شریف نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اہل بیت رسالت ﷺ کی محبت ومودۃ کو فرض گردانتا ہے۔ بے حب اہل بیت عبادت حرام ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ قرآن شریف اور عترت اہل بیت کو مسلمانوں میں امان اور قابل تمسک کر کے چھوڑتے ہیں۔ مگر چودہویں صدی کا مصنوعی پنجابی رسول قادیانی اہل بیت رسالت ﷺ پر رکیک حملہ کرتا ہے اور ان کی سخت توہین وہتک کرتا ہے اور خارجانہ خیالات کر کے اپنے اسلام اور ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ سنو:
- ١...... اے شیعو پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو اور ایک زندہ علی
(مرزا) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور ایک مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٠؍نومبر ١٩٠٠ء، ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
- ٢...... اور انہوں نے کہا کہ اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسنؓ اور حسینؓ سے
اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کردے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
- ٣...... ’’کیا تو اس (امام حسینؓ) کو دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہے اور یہ تو بتلاؤ
کہ اس سے (امام حسینؓ) سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا، اے مبالغہ کرنے والے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ١٨٠)
- ٤...... اور میں محمد ﷺ کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اس کی آل
برگزیدہ ہوں۔ جس کو ورثہ پہنچ گئی۔
(اعجاز احمدی ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)
- ٥...... اسی طرح اسلام میں شیعہ مذہب پھیل گیا۔ چوروں کی طرح بہتوں کو
ہلاک کر چکے ہیں۔ تم گمان کرتے ہو کہ حسینؓ تمام مخلوق کا سردار ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٨٠، خزائن ج ١٩ ص ١٩٢)
٢٢٣
٦...... تم نے اس کشتہ (حسینؓ) سے نجات چاہی جو نومیدی (نا امیدی) سے مر گیا اور بخدا اسے (حسینؓ کو) مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ص١٩٣)
٧...... تم نے حسینؓ کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا...... مصیبتوں اور دکھوں کے وقت تم اسی کو یاد کرتے ہو۔ گویا حسین تمہارا رب ہے۔ اے بد بخت جھوٹ بولنے والے۔
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ص١٩٤)
٨...... اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے جو اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔ لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ص٢٣٣)
٩...... یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسینؓ کو رتبہ ابنیت (پسر سرور عالم) کا بھی نہیں دیا۔ بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ ان سے زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔
(نزول المسیح ص٤٥، خزائن ج١٨ص٤٢٣)
١٠...... ہاں یہ سچ ہے کہ وہ (حسینؓ) بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے۔ لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔
(نزول المسیح ص٤٨، خزائن ج١٨ص٤٢٦)
١١...... کربلائے است سیر ہر آنم ..... صد حسین است در گریبانم۔
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
١٢...... کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) حسینؓ سے افضل ہے اور جامع کمالات متفرقہ ہے۔
(نزول المسیح ص٤٩، خزائن ج١٨ص٤٢٧، ٤٢٨)
١٣...... تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسینؓ ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔
(اعجاز احمدی ص٨٢، خزائن ص١٩ص١٩٤)
٢٤
١٨...... نبی ورسول کی قومی زبان ہوتی ہے جتنے نبی ورسول گزرے وہ اپنی قوم میں انکی زبان ومحاورات میں صحائف وکتابیں نازل ہوئ مرزا قادیانی پنجابی رسول ہو کر کبھی انگریزی غلط الہا کبھی عربی اور جو قصیدہ عربی لکھا اس میں کئی غلطیاں بلسان قومہ لیبین لہم (ابراہیم) ’’اور تاکہ ان کو سمجھا سکے۔‘‘ ف....... عجب پنجابی رسول آیا کہ وعظ سنایا۔
١٩...... نبی ورسول خود مؤمن کامل ہو ’’آمن الرسول بما انزل (محمدﷺ) اس کتاب کو مانتے ہیں جو ان کے پرور ساتھ دوسرے مسلمان بھی وہ سب کے سب اللہ ا پیغمبروں پر ایمان لائے کہ سب پیغمبروں کا دین میں سے کسی ایک کو بھی جدا نہیں سمجھتے۔ یعنی سب ک ب....... ’’انا اوّل المسلمین رسالت مآبﷺ کی طرف سے قرآن شریف
اسلام قادیانی
مرزا قادیانی آنجہانی کے عقائد ا صاف ظاہر ہے کہ ان کے عقائد اسلامیہ ہر گز تھا۔ ان کو اللہ ورسول کی معرفت حاصل نہ تھی۔ سے اللہ تعالیٰ مجسم ومشبہ قرار پاتا ہے۔ قرآن ش قادیانی کتاب تحفہ نورانی میں شائع ہوچکے ہیں اسلام اور ایمان پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ جس مؤمن کامل نہ ہو اور نہ اسلامی عقائد رکھتا ہو تو وہ
١٨....... نبی ورسول کی قومی زبان ہوتی ہے
جتنے نبی ورسول گزرے وہ اپنی قوم میں اسی کی زبان میں تبلیغ کرتے رہے اور اسی قوم کی زبان و محاورات میں صحائف و کتابیں نازل ہوتی رہیں۔ جیسے عبرانی، فارسی ، سنسکرت وعربی مگر مرزا قادیانی پنجابی رسول ہو کر کبھی انگریزی غلط الہام شائع کرتے رہے۔ کبھی فارسی ، کبھی اردو اور کبھی عربی اور جو قصیدہ عربی لکھا اس میں کئی غلطیاں نکلیں ۔ ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم (ابراهیم) “ ﴿اور ہم نے جو کوئی پیغمبر بھیجا تو اس کی قوم کی بولی والا تاکہ ان کو سمجھا سکے ۔ ﴾
ف....... عجب پنجابی رسول آیا کہ جس نے پنجابی امت کے سامنے عربی و انگریزی وعظ سنایا ۔
١٩....... نبی ورسول خود مؤمن کامل ہو
”امن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون “ ﴿ہمارے پیغمبر (محمد ﷺ) اس کتاب کو مانتے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر اتری ہے اور پیغمبر کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی وہ سب کے سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے کہ سب پیغمبروں کا دین ایک ہی ہے اور کہتے ہیں کہ ہم خدا کے پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی جدا نہیں سمجھتے ۔ یعنی سب کو مانتے ہیں۔﴾
ب....... ”انا اول المسلمین“ اور ”انا اوّل المؤمنین “ کا اظہار جناب رسالت مآب ﷺ کی طرف سے قرآن شریف میں موجود ہے۔
اسلام قادیانی
مرزا قادیانی آنجہانی کے عقائد اور ان کے ملفوظات اور تصانیف والہامات سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے عقائد اسلامیہ ہرگز نہ تھے اور ان کا ایمان رسول مقبول ﷺ پر کامل نہ تھا۔ ان کو اللہ و رسول کی معرفت حاصل نہ تھی۔ ان کے عقائد سے شرک ٹپکتا ہے۔ ان کے خیالات سے اللہ تعالیٰ مجسم و مشبہ قرار پاتا ہے۔ قرآن شریف و نبوت کی وہ توہین کرتے ہیں۔ مفصل عقائد قادیانی کتاب تحفہ نورانی میں شائع ہوچکے ہیں ۔ اس سے چند عقائد لکھے جاتے ہیں اور ان کے اسلام اور ایمان پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ جس بزرگ کے اسلام اور ایمان میں بھی خلل ہو اور وہ مؤمن کامل نہ ہو اور نہ اسلامی عقائد رکھتا ہو تو وہ مسیح موعود اور نبی کسی طرح بن سکتا ہے ۔
٢٥
اوّل ...... توحید باری تعالیٰ
- ١...... "ہمارا خدا عاجی ہے۔" (ہاتھی دانت کا)
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ حاشیہ ، خزائن ج١ ص ٦٦٤)
- ٢...... الہام و کشف مرزا "میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ پھر میں
نے آسمان اور دنیا کو پیدا کیا اور انا زین السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔"
(کتاب البریہ ص ٨٥ تا ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ تا ١٠٥)
- ٣...... "رائت ربی علی صورت ابی۔ میں نے اپنے باپ غلام مرتضےٰ کی صورت
پر اپنے رب کو دیکھا۔"
(پیغام صلح ص ١٤، ١٩)
- ٤...... "گویا خدا تعالیٰ اس کے قلب پر اترا ہوا ہے۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
- ٥...... "انت منی بمنزلۃ ولدی" تو مجھ سے میرے فرزند کی مانند ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ٦...... "انی بایعتک بایعنی ربی" میں نے تیری بیعت کی مجھ سے
اللہ تعالیٰ نے بیعت کی۔
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
- ٧...... "یحمدک الله من عرشہ" اے مرزا اللہ تعالیٰ عرش سے تیری حمد کرتا
ہے۔
(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٨ حاشیہ)
- ٨...... اور جیسا اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے
لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
- ٩...... "يحمدک الله ويمشی الیک" خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری
طرف چلا آتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥، حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- ١٠...... "انت منی بمنزلة اولادی، انت منی وانا منک" تو مجھ سے
ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد۔ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
- ب ...... "انت منی بمنزلة توحيدی وتفریدی"
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
٢٦
- ١١...... قادیانی خدا کلرک ہے
کرتے ہیں۔ اس کو کلرک بناتے ہیں اور ایک سیاہی اس کے کپڑوں پر چھڑکتا ہے۔
- ب ...... "انت منی بمنزلۃ
- ١٢...... "انت من مائنا
سے۔
- ١٣...... زمانہ حال کے مہند
قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجت
- ١٤...... قرآن شریف خدا ک
- ١٥...... "انا انزلناہ قر
شاید قریب نصف کے موقعہ پر ہے۔
دوم ...... توہین نبوت
- ١٦...... "مگر یہ بات الزام
غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت ع ہوئیں۔"
- ١٧...... "جناب رسول خد
- ١٨...... "جناب رسول خ
وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔"
- ١٩...... "ہر ایک نبی کا نا
گذر رہا ہے۔ جس کو رو در گوپال بھی کہتے بھی مجھے دیا گیا۔"
- ١١....... قادیانی خدا کلرک ہے۔ مرزا قادیانی خداوند کریم کی تمثیلی طور پر زیارت
کرتے ہیں۔ اس کو کلرک بناتے ہیں اور ایک کاغذ پر دستخط کراتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ دوات کی سیاہی اس کے کپڑوں پر چھڑکتا ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥ تلخیص، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ب....... ”انت منی بمنزلۃ ولدی“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩، ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ١٢....... ”انت من مائنا وھم من فشل“ تو ہمارے لفظ سے ہے اور وہ فشلی
سے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤)
- ١٣....... زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک گالی ہے۔ لیکن
قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔
(ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١٥)
- ١٤....... قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔
(ضمیمہ تریاق القلوب ص ١٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٦)
- ١٥....... ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ قرآن شریف میں دائیں صفحہ
شاید قریب نصف کے موقعہ پر ہے۔
(خلاصہ ازالۃ اوہام ص ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
دوم...... توہین نبوت
- ١٦....... ”مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں۔ کیونکہ امور اخباریہ کشفیہ میں اجتہادی
غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی بعض پیشین گوئیاں بھی اسی صورت پر ظہور نہیں ہوئیں۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ١٧....... ”جناب رسول خدا ﷺ کی پیشین گوئیوں میں بھی غلطی واقع ہوئی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٤ حصہ دوم)
- ١٨....... ”جناب رسول خدا ﷺ کا سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا۔ بلکہ
وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
- ١٩....... ”ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا ہے۔ چنانچہ ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی
گزرا ہے۔ جس کو رودر گوپال بھی کہتے ہیں۔ یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا۔ اس کا نام بھی مجھے دیا گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
٢٧
- ٢٠ ...... "جناب رسول خدا ﷺ کے الہام اور وحی غلط نکلے۔"
(ازالہ اوہام ص ٢٨٨، ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٤٧١)
سوئم ...... توہین عیسوی
- ٢١ ...... "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تمام معجزے شعبدہ بازی کے طور تھے۔"
(ازالہ اوہام ص ١٥٢ ملخص، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢)
- ٢٢ ...... "مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام
الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔"
(ازالہ اوہام ص ١٥٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
- ٢٣ ...... جس قدر مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہ نکلیں۔
(ازالہ اوہام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ٢٤ ...... اتنی مدت گذرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے۔
(ازالہ اوہام ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٢٧)
- ٢٥ ...... اگر تو یہ کذب ہے تو یسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی کذاب نہیں گذرا۔
(رسالہ فتح مسیح ص ١٩)
- ٢٦ ...... کیا یسوع کی بزرگ دادیوں نانیوں نے متعہ کیا تھا۔ یا صریح زنا کاری
تھی۔
(فتح مسیح نمبر ٢ ص ٥١)
- ٢٧ ...... آپ کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی
زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔
(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٢٨ ...... پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا
مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- ٢٩ ...... اس رسول کے ادنیٰ خادم مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ٥٠ ملخص، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
٢٨
- ٣٠ ...... مریم کا بیٹا کو شلیا کے
- ٣١ ...... یہود عیسیٰ علیہ السلام
جواب دینے سے حیران ہیں۔ بغیر اس کے کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت ہیں۔
- ٣٢ ...... یسوع شریر، چور،
- ٣٣ ...... حضرت ابن مریم
نجاری (ترکھان) کا کام بھی کرتے رہے
- ٣٤ ...... ابن مریم کے ذکر کو
الغرض ان عقائد کو پڑھ کر کوئی ہرگز خیال نہیں کرتا۔ چہ جائیکہ ان کو مہدی
دوم ...... بشارات نبوت سیدنا اح
جب ایک لاکھ چوبیس ہزار ہدایت کے واسطے مختلف مقامات و ممالک ہمارے آقائے نامدار سرور دو عالم حضر سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مکہ م المؤمنین کا تاج آپ کے سر اقدس پر رکھ اولوالعزم نبی و رسول فرماتے چلے آئے بشارات موجود ہیں۔
بشارت اوّل ...... بارہ سردار
اور اسماعیل کے حق میں خ برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں بناؤں گا۔
(پ
- ٣٠...... مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)
- ٣١...... یہود عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی
جواب دینے سے حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہیں۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلیلیں قائم ہیں۔
(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)
- ٣٢...... یسوع شریر، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا، مکار۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٩)
- ٣٣...... حضرت ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک
نجاری (ترکھان) کا کام بھی کرتے رہے۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٣٤...... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
الغرض ان عقائد کو پڑھ کر کوئی مسلمان صاحب ایمان مرزا قادیانی کو مسلمان اور مؤمن ہرگز خیال نہیں کرتا۔ چہ جائیکہ ان کو مہدی، مسیح اور نبی مانا جائے۔
دوم...... بشارات نبوت سیدنا احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰ ﷺ
جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین علیہم السلام دنیا جہاں میں مختلف اقوام کی ہدایت کے واسطے مختلف مقامات و ممالک میں تشریف فرما چکے تو سب سے اخیر ہمارے سردار ہمارے آقائے نامدار سرور دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ حسب بشارات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام و دعا سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مکہ معظمہ میں مبعوث ہوئے۔ سید المرسلین و خاتم النبیین و شفیع المذنبین کا تاج آپؐ کے سر اقدس پر رکھا گیا۔ کیونکہ حضور انور ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئیاں تمام اولوالعزم نبی و رسول فرماتے چلے آتے تھے۔ چنانچہ تورات وانجیل مروجہ گو محرفہ ہیں۔ اب تک یہ بشارات موجود ہیں۔
بشارت اوّل...... بارہ سردار
اور اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی۔ دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔
(کتاب پیدائش، پرانا عہد نامہ، باب ١٧، آیت ٢٠، ص ٢٦، سن ١٩٠٨ء)
٢٩
بشارات دوم...... فاران
خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔ ہاں وہ اس قوم سے بڑی محبت رکھتا ہے۔ اس کے سارے مقدس تیرے ہاتھ میں ہیں۔ وہ تیرے قدموں کے نزدیک بیٹھے ہیں اور تیری باتوں کو مانیں گے۔
(کتاب استثناء پرانا عہد نامہ باب ٣٣ آیت دوم، ١٨٩٥ء)
ب...... اے خداوند میں نے تیری خبر سنی اور ڈر گیا۔ اے خداوند تو برسوں کے درمیان اپنے نئے کام کو نئے سرے رونق بخش، برسوں کے درمیان اسے شہرت دے۔ قہر کے درمیان رحم کو یاد کر۔ خدا تیماں سے اور وہ جو قدوس ہے۔ کوہ فاران سے آیا۔ سلاہ اس کے شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔ اس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلتیں۔
(کتاب حبوق نبی باب ٣، آیت ٢، ٣، ٤، سن ١٩٠٨ء)
فائدہ: سینا سے کوہ طور سینا مراد ہے۔ جس کا تعلق سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہے اور شعیر وہ پہاڑ ہے جو بیت اللحم اور ناصرت کے پاس ہے۔ جس کا تعلق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہے اور فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے۔ جس کے معنی وادی غیر ذی ذرع ہیں۔ جس میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے حضرت بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسایا اور جن کی اولاد مقدس سے ہمارے نبی مکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔
ا...... فاران کا ذکر
توریت شریف میں کئی جگہ آیا ہے۔ تب خدا نے اس لڑکے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی آواز سنی اور خدا کے فرشتے نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اس سے کہا کہ اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا۔ مت ڈر کہ اس لڑکے کی آواز جہاں وہ پڑا ہے۔ خدا نے سنی اٹھ اور لڑکے کو اٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اسے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جا کر اس مشک کو پانی سے بھرلیا اور لڑکے کو پلایا اور خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہ گیا اور تیر انداز ہو گیا اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اس سے بیاہنے کو لی۔
فاران کا پہاڑ مکہ معظمہ میں ہے۔ جہاں پانی کا کنواں چاہ زمزم پیدا ہوا اور بی بی ہاجرہ کا چڑھنا اترنا صفا و مروہ کی پہاڑیاں ہیں اور بڑی قوم سے قوم بنی اسماعیل مراد ہیں۔
٣٠
ان ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔ رے ہاتھ میں ہیں۔ وہ تیرے
تثناء باب ٣٣ آیت دوم، ١٨٩٥ء)
یا۔ اے خداوند تو برسوں کے دن اسے شہرت دے۔ قہر کے سے آیا۔ سلاہ اس کی شوکت ہٹ نور کی مانند تھی۔ اس کے
باب ٣، آیت ٢، ٣، ٤، سن ١٩٠٨ء)
موسیٰ علیہ السلام سے ہے اور ں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے واقع ہیں۔ جس میں حضرت علیہ السلام کو بسایا اور جن کی
(حضرت اسماعیل علیہ کہا کہ اے ہاجرہ تجھ اُٹھ اور لڑکے کو اٹھا اور اسے اس کی آنکھیں کھولیں اور لڑکے کو پلایا اور خدا اس وہ فاران کے بیابان میں
پیدا ہوا اور بی بی ہاجرہ کا مراد ہیں۔
- ٢...... تو بنی اسماعیل دشت سینا سے اپنے اپنے سفروں میں چلے اور بدلی دشت
فاران میں جا ٹھہری۔
- ٣...... اور پھر کے موسیٰ اور ہارون اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس
دشت فاران کے قادس میں آئے۔
ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ وادی سینا اور ہے اور وادی فاران اور ہے اور یہ مکہ معظمہ میں ہے۔ جس کو زبور اور قرآن شریف میں بکہ نام سے پکارا گیا ہے۔ ”ان اول بیت وضع للناس للذى ببكة مباركا وهدى للعلمين فيه أيات بينت مقام ابراهيم ومن دخله كان أمنا “ پہلا گھر جو خدا کی عبادت کے لئے بنا ہوا ہے وہ (بکہ) مکہ کی وادی میں ہے۔ مبارک اور لوگوں کے واسطے اس میں کھلے کھلے معجزے ہیں۔ ابراہیم کا مقام جو اس میں داخل ہوا۔ امن میں آ گیا۔ ﴾
زبور میں وادی بکا (بکہ ) کا اس طرح ذکر ہے۔ مبارک وہ ہیں جو تیرے گھر میں بستے ہیں۔ وہ سدا تیری ستائش کریں گے۔ سلاہ، مبارک وہ انسان جس میں قوۃ تجھ سے ہے۔ ان کے دل میں تیری راہیں ہیں۔ وہ بکا کی وادی میں گذر کرتے ہوئے اسے ایک کوآ بناتے ۔
قرآن شریف میں فاران کی پیشین گوئی کا اس طرح ذکر ہے۔ ”والتيـــــــــــــــن ، والزيتون ، وطور سنين ، وهذا البلد الامين“
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اسی وادی بکہ کوہ فاران میں یہ دعاء فرمائی تھی اور قرآن مجید نے اس کو عیسائیوں اور یہودیوں میں شائع کیا۔ لیکن زمانہ نبوت کے یہود و عیسائی اس کی تردید و تکذیب نہ کر سکے۔ ”واذ قال ابراهيم رب اجعل هذا البلد أمنا وارزق اهله من الثمرات من امن منهم بالله واليوم الاخر (البقره) “ اور جب ابراہیم نے اپنے مالک سے عرض کیا پروردگار اس جگہ کو ایک امن کا شہر بنا دے اور وہاں کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاویں۔ ان کو میوے کھانے کو دے۔ ﴾
- ب ....... ” ربنا وابعث فيهم رسولاً منهم يتلوا عليهم أيتك ويعلمهم
الكتاب والحكمة ويزكيهم . انك انت العزيز الحکیم (البقرہ) “ پروردگار ہمارے اس گروہ میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیج ۔ جو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور کتاب قرآن شریف اور حکمت (حدیث شریف ) ان کو سکھلائے اور شرک سے ان کو پاک کرے۔ بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔ ﴾
٣١
ج...... ”ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتك المحرم ربنا لیقیموا الصلوة فاجعل افئدة من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون (ابراھیم)“ مالک ہمارے، میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک ایسے میدان میں لاکر بسایا۔ جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ تیرے ادب والے گھر کے پاس مالک ہمارے۔ یہاں میں نے ان کو اس لئے بسایا کہ وہ تیرے گھر کے پاس نماز کو درستی سے ادا کریں تو ان کی گذران کے لئے کہ کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھک جائیں اور ان کو طرح طرح کے میوے کھلا تاکہ وہ شکر کریں۔ پس تورات وزبور کا الٰہی وعدہ اور دعاء خلیل اسی طرح پوری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے وادی فاران مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اردگرد بنی اسماعیل کو آباد کیا اور ان میں سے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو بڑی قوم بنایا کہ وہ قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہیں اور خدا کی حمد کرتے ہیں۔ کوئی شرک نہیں کرتا اور اگرچہ خاص مکہ معظمہ میں کوئی باغ نہیں مگر تمام دنیا کے میوہ جات تر ہمیشہ وہاں ملتے ہیں اور تمام اسلامی دنیا کے دل اہل مکہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ عیسائیو، یہودیو، بتاؤ ایسی صاف وصریح پیشین گوئی کسی اور کے واسطے ہو سکتی ہے۔
بشارت سوم...... مماثلت موسوی
خداوند تیرا خدا تیرے ہی لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میرے مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی طرف کان دھریو۔ اس سب کے مانند جو تو نے خداوند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز سنوں اور ایسی شدت کی آگ کو پھر دیکھوں تاکہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔
(استثناء باب ١٨ آیت ١٥ تا ١٩ ص ٣٢٢)
ف...... اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی ورسول سے نبوت ورسالت محمد ﷺ کے اقرار کا وعدہ لیا تھا۔ اسی واسطے ہر ایک نبی اپنی امت کو نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق نبوت کے واسطے حکم دیتا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ”واذ اخذ الله میثاق النبیین مما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال
٣٢
اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا (آل عمران) ”اے پیغمبر جب اللہ نے پیغمبروں سے اقرار لیا۔ میں جو تم کو کتاب اور شریعت دیتا ہوں تو اگر کوئی رسول ایسا آئے جو تمہاری کتاب کو سچ بتائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے یہ اقرار کیا اور میرے اس عہد کو قبول کیا۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا گواہ رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پھر اس کے بعد جو پھر جائے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔“
دوم ...... پس توبہ کرو اور رجوع لاؤ تا کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں اور وہ اس مسیح کو جو تمہارے واسطے مقرر ہوا ہے۔ یعنی یسوع کو بھیجے ضرور ہے کہ وہ آسمان میں اس وقت تک رہے۔ جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں۔ جن کا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے۔ جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔ چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ خداوند خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کرے گا۔ جو کچھ وہ تم سے کہے اس کی سننا اور یہ ہوگا کہ جو شخص اس نبی کی نہ سنے گا وہ امت میں سے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ بلکہ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کہیں۔ ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے۔
(انجیل مقدس ١٩٠٨ء، رسولوں کے اعمال باب ٣ آیات ١٩ تا ٢٣ ص ٢٢٥)
نوٹ: یہ ہر دو پیشین گوئیاں ہمارے نبی آخرالزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واسطے صاف ہیں کہ بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل تھے۔ ان میں جناب سرور عالم ﷺ مبعوث ہوئے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی ایسا اولوالعزم نبی یا رسول نہیں پیدا ہوا اور جناب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے خود فرما دیا ہے کہ جب تک وہ نبی آخر الزمان ﷺ پیدا نہ ہوں وہ آسمان میں ہی رہیں گے۔ وہ دوبارہ نہیں آسکتے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسماعیل میں پیدا ہوتے تو وہ بیشک اس بشارت توریت کے مصداق ہو سکتے تھے۔ مگر وہ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔ دوسرا سوائے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے جناب مسیح علیہ السلام مثل موسیٰ بھی نہیں۔ سنو:
- ١...... جناب موسیٰ علیہ السلام نے دشمنوں کے خوف سے ہجرت فرمائی۔ اسی
طرح ہمارے نبی مکرم ﷺ نے کفار و مشرکین عرب کے شر سے بچنے کے واسطے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
- ٢...... حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یثرب کی طرف کوچ کیا تھا۔ اسی طرح
حضور سرور دو عالم ﷺ نے بھی یثرب کو کوچ کیا۔
٣٣
- ٣...... حضرت موسیٰ علیہ السلام پر دس احکام توریت بلفظ نازل ہوئے تھے۔ اسی
طرح حضور انور رسول اکرم ﷺ پر قرآن شریف عربی زبان میں نازل ہوا جو اب تک موجود ہے۔
- ٤...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون و مصر کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اسی طرح جناب
سرور کائنات علیہ افضل الصلوات کو ابو جہل فرعون مکہ سے واسطہ پڑا۔ فرعون مصر تو پانی ( دریائے نیل ) میں غرق ہوا۔ مگر فرعون مکہ معظمہ خون کے دریا میں غرق کیا گیا اور جنگ بدر میں مارا گیا۔
- ٥...... حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم وستم سے چھڑایا
اور شام میں آکر بسایا۔ اسی طرح جناب سرور دو عالم ﷺ نے بنی اسماعیل کو فرعون مکہ معظمہ کے جور و ستم سے چھڑا کر مدینہ میں آکر بسایا۔
- ٦...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر جوتیاں اتار کر جانا پڑا۔ مگر حضور انور
سید البشر ﷺ کو جوتیوں کے ساتھ عرش معلیٰ پر معراج ہوا۔ بلکہ قاب قوسین او ادنیٰ کا درجہ ملا۔
- ٧...... حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کفار و مشرکین سے جہاد کیا۔ اسی طرح
آنحضرت ﷺ نے بھی دفاع (ڈیفینسیو ) طور جہاد فی سبیل اللہ کیا۔
- ٨...... حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خلفاء کو ظاہری سلطنت و بادشاہت بھی
ملی۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ تمام دنیا اسلامی کے دینی اور دنیاوی بادشاہ اور نبی ورسول ہوئے اور آپ کے اصحاب کبار بادشاہ ہوئے۔
- ٩...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت کے ذریعہ شریعت عطاء ہوئی۔ اسی
طرح آنحضرت ﷺ کو بھی قرآن شریف کے ذریعہ شریعت کاملہ عطاء ہوئی۔
- ١٠...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کے منہ میں توریت خدا کا کلام دیا گیا۔ اسی طرح
ہمارے نبی مکرم ﷺ کے منہ میں قرآن کریم خدا کا کلام دیا گیا۔
- ١١...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاون و مددگار شریک نبوت حضرت ہارون بنایا
گیا۔ اسی طرح ہمارے نبی مکرم ﷺ کا مونس وغمگسار ، وصی و وزیر وخلیفہ سیدنا حضرت علی المرتضےٰ علیہ السلام بنایا گیا۔ پڑھو ”يا على انت منى بمنزلة هارون من موسى“
- ١٢...... جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک آسمانوں سے نازل
ہوں گے۔ اسی طرح سیدنا امام محمد مہدی آخرالزمان علیہ السلام کا بھی ظہور ہوگا۔
- ١٣...... جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معجزات یدبیضاء عطاء ہوا ہے۔ اسی
طرح سرور عالم ﷺ کو معجزہ شق القمر عطاء ہوا۔ حضور انور ﷺ کا سایہ نہ تھا۔ حضور انور ﷺ کے
٣٤
دست مبارک میں کنکریوں نے کلمہ ہوئے۔ انگلیوں سے چشمے جاری ہوئے طرح فرمایا ہے۔ ”انا ارسلنا الیکم رسولاً فعصى فرعون الرسول پیغمبر ہم نے فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ و بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی د اس کو بڑے وبال میں دھر پکڑا۔﴾
- ١٤...... جس طرح ح
جانے کے بعد خلیفہ قوم مقرر ہوئے تبوک میں جانشین قرار پائے اور دعو میں مقرر ہوئے۔
- ١٥...... حضرت ہارون
جناب امیر علی علیہ السلام کے تین فرز کے نام سے مشہور ہوئے۔
- ١٦...... حضرت ہارون
طرح جناب امیر علیہ السلام کو معہ حس اجازت حاصل ہوئی اور دیگر کے درواز
چہارم......مکاشفہ یوحنا انجیل مقدس، نیا عہد نامہ
- ١...... اور ایک بڑا ن
اور چاند اس کے پاؤں تلے اور اس ک سے چلاتی اور جننے کو بیٹھتی تھی۔ پھر ایک جس کے سات اور دس سینگ اور اس آسمان کے تہائی ستارے کھینچے اور انہی جا کھڑا ہوا۔ تاکہ جب وہ جنے تو اس عصائے کے سب قوموں پر حکومت کر
دست مبارک میں کنکریوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ جانور ہم زبان ہوئے۔ مردے زندہ ہوئے۔ انگلیوں سے چشمے جاری ہوئے۔ قرآن شریف نے بھی اس مماثلت و بشارت کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔ ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً فعصى فرعون الرسول فاخذنه اخذاً وبيلا (المزمل)“ ”لوگوں جیسا پیغمبر ہم نے فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ ویسا ہی تمہارے پاس بھی ایک پیغمبر یعنی حضرت محمدﷺ کو بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا۔ تو فرعون نے اپنے پیغمبر کا کہنا نہ مانا۔ آخر ہم نے اس کو بڑے وبال میں دھر پکڑا۔“
- ١٤....... جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور
جانے کے بعد خلیفہ قوم مقرر ہوئے تھے۔ اسی طرح جناب امیر المومنین علی علیہ السلام غزوہ تبوک میں جانشین قرار پائے اور دعوتِ قریش، شبِ ہجرت، تبلیغِ یمن، سورۂ برأت اور خمِ غدیر میں مقرر ہوئے۔
- ١٥....... حضرت ہارون علیہ السلام کے تین فرزند، شبر، شبیر اور مبشر تھے۔ ویسا ہی
جناب امیر علیہ السلام کے تین فرزند، امام حسن، امام حسین اور محسن تھے۔ جو شبر شبیر اور مبشر کے نام سے مشہور ہوئے۔
- ١٦....... حضرت ہارون علیہ السلام کو ہیکل موسوی میں معہ فرزندان جگہ ملی تھی۔ اسی
طرح جناب امیر علیہ السلام کو معہ حسنین الشریفین علیہم الصلوۃ والسلام مسجدِ نبوی میں رہنے کی اجازت حاصل ہوئی اور دیگر کے دروازے بند کئے گئے۔
چہارم...... مکاشفۂ یوحنا
انجیل مقدس، نیا عہد نامہ، کتاب مکاشفہ، یوحنا باب ١٢ میں یہ بشارت موجود ہے۔
- ١....... اور ایک بڑا نشان آسمان پر نظر آیا۔ ایک عورت سورج کو اوڑھے ہوئے
اور چاند اس کے پاؤں تلے اور اس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج تھا اور وہ عورت حاملہ تھی اور درد سے چلاتی اور جننے کو بیٹھتی تھی۔ پھر ایک اور نشان آسمان پر دکھائی دیا اور دیکھو ایک بڑا سرخ اژدھا جس کے سات سر اور دس سینگ اور اس کے سروں پر سات تاج تھے۔ ظاہر ہوا۔ اس کی دم نے آسمان کے تہائی ستارے کھینچے اور انہیں زمین پر ڈالا اور وہ اژدھا اس عورت کے آگے جو جننے پر تھی جا کھڑا ہوا۔ تاکہ جب وہ جنے تو اس کے بچے کو نگل جاوے اور وہ فرزند نرینہ جنی جو کہ لوہے کا عصا لے کے سب قوموں پر حکومت کرے گا اور اس کا لڑکا خدا کے اور اس کے تخت کے آگے اٹھا لیا
٣٥
گیا اور وہ عورت بیابان میں جہاں اس کی جگہ خدا نے تیار کی تھی بھاگ گئی۔ تاکہ وہاں والے ایک ہزار دو سو ساٹھ دن تک پرورش کریں۔ پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکائیل اور اس کے فرشتے اژدھے سے لڑے اور اژدھا اور اس کے فرشتے لڑے۔ لیکن غالب نہ ہوئے اور نہ آسمان پر ان کی پھر جگہ ملی۔ سو بڑا اژدھا نکالا گیا۔ وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور جو سارے جہاں کو دغا دیتا ہے۔ وہ زمین پر گرایا گیا اور اس کے فرشتے بھی اس کے ساتھ گرائے گئے۔
(مکاشفہ یوحنا ص ٥٠١، ٥٠٢، انجیل مقدس از کتاب مقدس ١٨٩٥ء)
پنجم ...... بشارت داؤدی
کتاب مقدس، پرانا عہد نامہ، زبور نمبر ٤٥ ص ١٠٨٢ مطبوعہ لاہور ١٨٩٥ء پر سردار مغنی کے لئے بنی قرح کا مشکیل کے عنوان میں حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں۔
- ١...... تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ دنیا
جہاں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔
- ٢...... تیرے ہونٹوں میں لطف بٹایا گیا ہے۔ یعنی قرآن شریف کی فصاحت
و بلاغت دی گئی ہے۔ اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا۔ یعنی تو خاتم النبیین ہے۔ تیرا نام قیامت تک رہے گا۔
- ٣...... اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے۔ حمائل کر کے
ران پر لٹکا۔ یعنی تلوار سے جہاد کر۔
- ٤...... اور اپنی بزرگواری سے سوار ہو اور سچائی اور ملائمت اور صداقت کے واسطے
اقبال مندی سے آگے بڑھ۔ یعنی تیرا لقب صادق، امین ہے اور تیرا خلق عظیم ہے اور تو رؤف الرحیم ہے۔
- ٥...... تیرا داہنا ہاتھ تجھ کو عجب کام سکھلا دے گا۔ یعنی جناب علی المرتضیٰ شیر خدا
تیرا قوت بازو ہوگا۔ تیرے تیر تیز ہیں۔ لوگ تیرے نیچے گر پڑتے ہیں تیر بادشاہ کے دشمنوں کے دل میں لگ جاتے ہیں۔
- ٦...... تیرا تخت اے خدا ابدالآباد ہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔
- ٧...... تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے۔ اس سبب خدا نے تجھ کو خوشی
کے تیل سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ مسح کیا۔ یعنی تجھ کو سید المرسلین وسید الصادقین اور افضل النبیین بنایا۔
٣٦
- ٨...... بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والیوں میں ہیں۔ بلکہ اوفیر کے سونے
سے آراستہ ہو کے تیرے داہنے ہاتھ کھڑی ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جناب بی بی خدیجہ الکبریٰ شہزادی عرب سے نکاح کیا تو آپ مالا مال ہو گئے۔ شام تک تجارت کے اونٹ چلتے تھے۔ سونے کے زیورات و اسباب بیشمار ہاتھ اور جناب بی بی صفیہ بنت حیی سردار خیبر کی نوجوان لڑکی نو عروس زیورات سے آراستہ پیراستہ جناب کے حرم سرائے میں داخل ہوئیں۔ بی بی شہر بانو شہزادی ایران اولاد نوشیرواں سے سیدنا امام حسین کے نکاح میں آئیں۔
- ٩...... تیرے بیٹے باپ دادوں کے قائم مقام ہوں گے تو انہیں تمام زمین کے
سردار مقرر کرے گا۔ میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا۔ پس سارے لوگ ابدالاباد تیری ستائش کریں گے۔
تفسیر...... جناب علی المرتضیٰ تو آنحضرت ﷺ کے ابن عم چچازاد بھائی اور داماد تھے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے آپ کی پرورش کی تھی اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور ان کی اولاد تا امام مہدی آخرالزمان علیہ الرضوان قرآن شریف کی نص سے آپ کے فرزند ہیں اور بنی فاطمہ ہیں۔ نواسے ہمیشہ بیٹے ہوا کرتے ہیں۔ یہ بارہ ائمہ اطہار اولاد سیدنا احمد مختار ﷺ بعد وفات النبی ﷺ حضرت ہاشم، حضرت عبدالمطلب، حضرت ابوطالب کی وراثت کے ذریعہ حجاز کے وارث ہوئے اور جناب سرور عالم ﷺ نے مقام خم غدیر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کبار کے روبرو جناب علی المرتضیٰ کو ان کا سردار مقرر کیا۔ فرمایا: ”من کنت ومولاہ فعلی مولاہ“ جس کا میں سردار ہوں اس کا علی بھی سردار ہے اور حدیث ثقلین کے ذریعہ باقی ائمہ اطہار علیہم السلام کے ساتھ تمام امت کو تمسک کرنے کا حکم دیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر میں حضرت جابر انصاری سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک بارہ سردار خلیفہ اس دین اسلام میں نہ ہولیں۔ یہ دنیا برابر قائم رہے گی اور وہ سب قریش اور بحدیث مودۃ القربیٰ بنی ہاشم ہوں گے۔ پس حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ بشارت جناب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی اولاد ائمہ الہدیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام پر پوری صادق آتی ہے اور ایک حق پسند انسان کو راہ حق بتلاتی ہے۔ بشرطیکہ چشم بصیرت حاصل ہو۔ فقرہ سارے لوگ ابدالاباد تک تیری ستائش کریں گے۔ یعنی قیامت تک سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا نام جاری رہے گا۔ کلمہ شہادت واذان قیامت تک پکارے جائیں گے اور تمام دنیا جہاں میں سردار دو جہاں کی تعریف و ستائش ہوتی رہے گی۔ تمام مسلمان آپ پر اور جناب کی اولاد پر درود وصلوٰت پڑھتے رہیں گے۔
٣٧
"اللھم صل علی سیدنا محمد وآل سیدنا محمد وبارک وسلم" اس سے صاف ثابت ہے کہ نبی آخرالزمان اسلام کا بادشاہ ایک ہی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور جو اب ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ بروزی یا ظلی یا تشریعی یا غیر تشریعی نبی بن بیٹھے وہ کافر کذاب دجال ہے۔
ششم...... معیار صداقت نبیؐ
(استثناء باب ١٨، آیت ٢٠،٢٢ ص ٣٩٩ سن ١٨٩٥ء، کتاب مقدس، پرانا عہد نامہ) میں ہے۔
لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں۔ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر۔
(استثناء ص ٣٩٩ باب ١٨)
تفسیر....... حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ بشارت و پیشین گوئی جناب سیدنا احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰ ﷺ نبی آخرالزمان پر صادق آتی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل میں مبعوث ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے یہ بشارت نہیں۔ کیونکہ وہ بنی اسرائیل میں سے قوم بنی اسرائیل کے واسطے بھیجے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مماثلت محمدی ﷺ بھی ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزرا، نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت وآمد آمد کے واسطے ہر ایک نبی ورسول اپنی اپنی امت کو اطلاع وخبر دیتا چلا آیا ہے کہ وہ تمام دنیا و جہاں کا سردار اکیلا ہی نبی ہوگا۔ سو اللہ تعالیٰ نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النبیین بنایا۔ ان کے بعد کوئی نیا نبی ورسول نہیں آئے گا۔ جو دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
ب...... اسی باب کی آیات ٢٠ سے ٢٢ تک ہر ایک نبی ورسول کی صداقت کے معیار مقرر ہے اور یہ ایک اعلیٰ کسوٹی سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان ہے کہ جھوٹے کاذب نبی و بناوٹی رسول کی تمام باتیں جھوٹی، بناوٹی ہوں گی اور اس کی تمام پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوں گی۔ سابقہ تمام انبیاء ومرسلین کے فرمان اور پیشین گوئیاں صحیح وسچی نکلیں اور وہ نبی ورسول صادق ومصدوق کہلائے۔ قرآن شریف گواہی دیتا ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے تمام احکام و پیشین گوئیاں ہوبہو سچی نکلیں۔ ایک بال بھر کا فرق نہ آیا۔
مرزائی دوستو! آؤ آپ کے بناوٹی، مصنوعی پنجابی رسول کی صداقت پرکھیں کیا جناب
٣٨
مرزا قادیانی کے الہامات و مکاشفات و پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہوئیں۔ سنو:
- ١...... ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب عیسائی کی موت کا وقت مقرر کیا تو وہ صاحب ہرگز فوت نہ
ہوئے۔
- ٢...... فاضل امرتسری کے واسطے مباہلہ کیا اور اشتہارات چھاپے۔ گڑگڑا کر دعائیں
مانگیں۔ مگر وہ دعا قبول نہ ہوئی۔ صادق کے سامنے کاذب فوت ہو گیا۔
- ٣...... ڈاکٹر عبدالحکیم خان مفسر قرآن مرید خاص کے واسطے پیشین گوئی کی۔ مگر پوری نہ
ہوئی۔ بلکہ ڈاکٹر صاحب کی پیشین گوئی کے عین مطابق آپ کے مصنوعی نبی فوت ہو گئے۔
- ٤...... محمدی بیگم کے نکاح کا بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے روبرو
مرزا قادیانی کا آسمان پر نکاح پڑھا۔ مگر محمدی بیگم نکاح میں نہ آئی اور مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی کو دوسرے صاحب نکاح کر کے لے گئے۔ مرزا قادیانی تاکتے رہے۔
- ٥...... قادیان دارالامان طاعون سے نہ بچ سکا۔ مرزا قادیانی کے خاص مرید پلیگ سے مرے۔
- ٦...... منشی عبدالکریم سیالکوٹی دشمن خاندان رسالت ﷺ بڑے سخت عذاب میں مبتلا ہو کر
اس جہاں سے چل بسا اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط نکلی۔
- ٧...... مرزائیوں کو آج تک کوئی سلطنت، کوئی حکومت، کوئی بادشاہت نہ ملی، ہوس ہی رہی۔
- ٨...... مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں آج تک ریل گاڑی نہ ہوئی۔ مرزا قادیانی کے کذب پر
مہر لگ گئی۔
- ٩...... زلزلہ کی پیشین گوئی کی اور قادیان سے باہر باغ میں مصنوعی پنجابی رسول نے ڈیرے
خیمے لگائے۔ مگر نہ کوئی زلزلہ آیا اور نہ ہی زمین کو جنبش ہوئی۔ مرزا قادیانی کو شرمندہ ہونا پڑا۔
- ١٠...... مرزا قادیانی نے ایک سعید الفطرت عالم کباب لڑکے کی ولادت کے واسطے پیشین گوئی
فرمائی۔ مگر بجائے لڑکے کے صاحبزادی پیدا ہوئی۔ مرزا قادیانی کو کھسیانا ہونا پڑا۔
- ١١...... مشرقی مینارہ اب تک مکمل نہ ہوا۔ کتاب براہین احمدیہ کے چندے خورد برد ہوئے۔
مگر وہ کتاب اب تک مکمل ہو کر نہ چھپی۔ مرزائی ہر ایک میدان مناظرہ سے بھاگتے رہے اور ان کو کتاب اللہ و سنت کے مقابلہ میں کبھی بھی فتح نہ ہوئی اور نہ ہی مرزا قادیانی کا ایمان ثابت سکے۔
٣٩
الغرض جناب موسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور قرآن شریف کی تصدیق کے مطابق ”ولو تقول علینا بعض الاقاویل لا خذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ)“
اور اگر پیغمبر زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکتا تو ہم نے فوراً اس کی گردن اڑادی ہوتی۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ہر ایک دعویٰ میں صادق و سچے نہ نکلے اور نہ ہی اپنے کسی دعویٰ کو علماء کرام کے روبرو ثابت کرسکے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو مرض اسہال قے یا ہیضہ میں مبتلا کیا کہ وہ اپنے مشن کو ادھورا چھوڑ کر لاہور میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے اور ہزار ہا لوگوں کو دوزخ میں دھکیل گئے۔
بشارت ہشتم ..... محمدیم
”میرا محبوب سرخ وسفید ہے۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کے مانند کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا سر ایسا ہے جیسا چوکھا سونا۔ اسکی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔ اس کی آنکھیں ان کبوتروں کے مانند ہیں۔ جولب دریا دودھ میں نہا کے تمکنت سے بیٹھے ہیں۔ اس کے رخسار سے پھولوں کے چمن اور بلسان کے ابھری ہوئی کیاری کے مانند ہیں۔ اس کی قامت لبنان کی سی وہ خوبی میں رشک سرو ہے۔ اس کا منہ شیرینی ہے۔ ہاں وہ سراپا عشق انگیز (محمدیم) ہے۔ اے یروشلم کے بیٹیو یہ میرا پیارا یہ میرا جانی ہے۔“
(غزل الغزلات باب ٥ آیات ١٠ تا ١٦ ص ١٠٦٥، پرانا عہد نامہ ١٩٠٨ء)
نوٹ: ضد وتعصب کا ستیاناس ہو۔ عیسائیوں نے جناب سرور عالم ﷺ کی عداوت اور حق کو چھپانے کے واسطے بائبل میں جگہ جگہ تحریف کردی۔ حالانکہ عبرانی اصل کتاب میں ”وخلو محمدیم زہ ودوھی وزہ رعی بنوث یروشلائم“ اب تک موجود ہے۔ مگر محمدیم کا ترجمہ اردو عیسائیوں نے عشق انگیز کردیا۔ عبرانی زبان میں حروف ی اور م تعظیم اور جمع کے واسطے آتی ہیں۔ پس یہاں محمدیم بجائے محمد کے تعظیماً آیا ہے۔ بشارات میں آنحضرت ﷺ کا نام آجانا ثبوت نبوت کی نہایت قوی دلیل ہے۔ اس بشارت میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضور انور ﷺ کا حلیہ مبارک بیان فرمایا ہے۔ پس عیسائی و یہودی ضد سے باز آکر جناب سرور عالم ﷺ پر ایمان لاکر زیادہ ثواب حاصل کریں۔
بشارت نہم ..... عرب کی بابت الہامی کلام
عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔ اے دانیوں کے قافلو۔ پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔ اے تیما کی سرزمین کے باشندو، روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔
٤٠
کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے بھاگے ہیں۔ کیونکہ خداوند نے مجھ ک میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل
نوٹ تفسیری: یہ بشار حشمت جاتی رہی اور اس کے سا پوتے یقطان کے بیٹے اور سباء کے میں آباد ہوئی۔ جن سے اوس وخز ان میں یہ آپ کے ولی عہد ہوی حجاز میں آباد ہوئے۔ یہ تمام قریہ تیرانداز تھے۔ (پیدائش باب ٢١ آی الکتب اسمعیل ”میں ہے کہ فان اباکم کان رامیا“ اے
بشارت دہم ..... وہ نبی
یوحنا کی انجیل باب یروشلم سے کاہن اور لیوی یہ پوچھ کیا۔ بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں پس انہوں نے اس سے کہا پھر تو کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا میں ج ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا ک یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ای
بشارت یازدہم ..... فارقل
میں نے یہ باتیں کلیوطاس ، فارقلیط ، احمد ) جسے
ہم کی بشارت اور قرآن شریف کی تصدیق کے مطابق ”ولو لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقه)“ سر چپکتا تو ہم نے فوراً اس کی گردن اڑا دی ہوتی۔﴿ ہر ایک دعویٰ میں صادق و سچے نہ نکلے اور نہ ہی اپنے کسی تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو مرض اسہالِ مہلکہ یا ہیضہ میں لاہور میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اور ہزار ہا لوگوں
ہے۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کے مانند کا سونا۔ اسکی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔ ہیں۔ جو لب دریا دودھ میں نہا کے تمکنت سے بیٹھے ہیں۔ اور بلسان کے ابھری ہوئی کیاری کے مانند ہیں۔ اس کی مرو ہے۔ اس کا منہ شیرینی ہے۔ ہاں وہ سراپا عشق انگیز ڑا پیارا یہ میرا جانی ہے۔“
(غزل الغزلات باب ٥ آیات ١٠ تا ١٦ ص ١٠٦٥، پرانا عہد نامہ ١٩٠٨ء)
اس ہو۔ عیسائیوں نے جناب سرور عالمﷺ کی عداوت ی جگہ جگہ تحریف کر دی۔ حالانکہ عبرانی اصل کتاب میں وہ رعی بلوث یروشلائم “ اب تک موجود ہے۔ مگر ڑ کر دیا۔ عبرانی زبان میں حروف ی اور م تعظیم اور جمع کے محمد کے تعظیماً آیا ہے۔ بشارات میں آنحضرتﷺ کا نام ہے۔ اس بشارت میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضور ت۔ پس عیسائی و یہودی ضد سے باز آ کر جناب سرور کریں۔
الہامی کلام
آؤ گے۔ اے دانیوں کے قافلو۔ پانی لے کے پیاسے کا کے باشندو، روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔
٤٠
کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھنچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔ کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔
(پرانا عہد نامہ کتاب یسعیاہ نبی کے باب ٢١ آیات ١٣ تا ١٧ ص ١٠٩٥)
نوٹ تفسیری: یہ بشارت والہامی کلام جنگ بدر میں پوری ہوئی۔ ابو جہل قیدار کی حشمت جاتی رہی اور اس کے ساتھی عرب بھاگ نکلے۔ ”دوان“ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے، لقمان کے بیٹے اور سباء کے بھائی کا نام ہے۔ (پیدائش باب ٢٥) ”دوان“ کی اولاد ملک یمن میں آباد ہوئی۔ جن سے اوس وخزرج کے قبائل ہیں۔ قیدار، حضرت اسماعیل کے بارہ بیٹے تھے۔ ان میں یہ آپ کے ولی عہد ہوئے۔ لفظ قیدار کے معنی صاحب الابل ہیں۔ اونٹ والے یہ ملک حجاز میں آباد ہوئے۔ یہ تمام قریش کے قبائل کے مورث اعلیٰ تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام تیر انداز تھے۔ (پیدائش باب ٢١ آیت ١٣) صحیح بخاری کے باب ”قول اللہ عزوجل واذکر فی الکتب اسمعیل “ میں ہے کہ جناب رسالت مآبﷺ نے فرمایا: ”ارمو بنی اسمعیل فان اباکم کان رامیا“ اے بنی اسماعیل تیر اندازی کرو۔ کیونکہ تمہارا باپ تیر انداز تھا۔
بشارت دہم ...... وہ نبی
یوحنا کی انجیل باب اول آیت ١٩ اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لیوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجی کہ تو کون ہے تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا۔ بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے۔ کیا تو ایلیا ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی (آخر الزمان) ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون تا کہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیا نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے۔
(انجیل یوحنا ص ١٧٢)
بشارت یاز دہم ...... فارقلیط
میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں۔ لیکن مددگار وکیل، شفیع ( پیری کلیوطاس، فارقلیط، احمد ) جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا۔ وہی تمہیں سب باتیں سکھلائے گا۔
٤١
جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔
(انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ٢٥، ٢٦)
- ب....... اُس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار
آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔
(انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠ ص ٢٠٥ سن ١٩٠٨ء)
- ج....... مگر اب تو انہوں نے مجھے اور میرے باپ دونوں کو دیکھا اور دونوں سے
عداوت کی۔ لیکن یہ اس لئے ہوا کہ وہ قول پورا ہو جو ان کی شریعت میں لکھا ہے کہ انہوں نے مجھ سے مفت عداوت کی۔ لیکن جب وہ مددگار (فارقلیط احمد ) آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا۔ یعنی سچائی کا روح جو باپ کی طرف سے نکلتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا اور تم بھی گواہ ہو۔ کیونکہ شروع سے میرے ساتھ ہو۔
(انجیل یوحنا باب ١٥ آیات ٢٤ تا ٢٧)
- د....... (انجیل یوحنا باب ١٦ آیات ٧ تا ١٤ مطبوعہ ١٩٠٨ء ص ٢٠٧) پر ہے۔ لیکن میں تم
سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (فارقلیط ، احمد ) تمہارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔ راست بازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ (احمد) یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہیں کہے گا۔ لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔
تفسیری نوٹ: عیسائی اناجیل ہمیشہ تحریف کرتے رہتے ہیں اور مسلمان جو اعتراض کرتے ہیں اور جو بشارت احمدیہ ان کو دکھلاتے ہیں۔ یہ جھٹ بدل دیتے ہیں۔ جس قدر اناجیل آج تک چھپ چکی ہیں وہ ایک دوسری کے ساتھ نہیں ملتیں۔ عبارت میں بہت تغیر و تبدل ہے۔ جو ١٩٠٨ء میں انجیل مقدس چھپی ہے۔ وہ ١٨٩٣ء سے ١٩٠٢ء تک تصحیح کر کے اب سولہویں بار چھپوائی گئی ہے۔ یہ تو عیسائیوں کی صداقت انجیل کا حال ہے۔ فارقلیط کا لفظ اڑا کر مددگار بنا دیا گیا ہے۔ سرولیم مور تسلیم کرتے ہیں کہ لفظ پیری کلیوطاس (احمد) صحیح ہے۔ پھر تو یہ بشارت صاف اور کھلی ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام کی تصدیق سرور عالمﷺ نے فرمائی۔ یہودیوں کی تہمت اور بے جا گستاخانہ الزامات سے ان کو بری کیا۔ ”وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی“
٤٢
حضور سرور عالم ﷺ کی شان میں فرمایا گیا اور ’نزلہ روح القدس من ربك بالحق “ آپ کی عزت میں اتری۔ آپ نے مسیح علیہ السلام کی عظمت وجلالت کو قائم رکھا اور ان کے منکروں پر سزا کا حکم جاری فرمایا۔ ان پر تہمت لگانے والوں کو کافر قرار دیا اور ان کی دوبارہ جاہ و جلال کے ساتھ آمد کی تصدیق فرمائی اور حضور انور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہی سردار دو جہاں کہلائے ۔ وہی دنیا کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔
الغرض توریت ، زبور، انجیل میں بشارات احمدیہ موجود ہیں ۔ اگر عیسائیوں اور یہودیوں کی متعصب آنکھ نہ دیکھے تو اس کا کیا علاج ہے۔ علاوہ اس کے ثبوت نبوت محمدی ﷺ کے اور کئی دلائل ہیں۔
- اول ....... جو کمالات اور اوصاف فردا فرداً انبیاء و مرسلین، رشی منی اتاروں میں موجود
تھے۔ وہ سب کے سب جامع طور ہمارے آقائے نامدار اور رسولوں کے سردار میں پائے جاتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی ، ہندو و آریہ اور بدھ مذہب کے پیرو جس معیار و شرائط سے اپنے اپنے نبیوں، ریفارمروں اور اتاروں کو پرکھیں گے۔ ہم تمام معیار و شرائط ثبوت محمدیہ میں ثابت کردیں گے۔
- دوم....... حضور انور ﷺ کی پاک ومقدس زندگی آپ کے طرز معاشرت و تمدن
عبادت وریاضت اُسوہ حسنہ ۔ آپ کا توحیدی مشن ، استقلال و استقامت، نبوت کے واسطے کافی ثبوت ہیں۔ آپ نے تن تنہا یتیمی و بیکسی کی حالت میں دعویٰ رسالت کیا اور ہزاروں رکاوٹیں ومخالفتیں مصائب و تکالیف میں اس کو اخیر تک نبھادیا اور باوجودیکہ آپ کو زر مال و دولت ، ملک، حسین و خوبصورت عورتوں کے پیشکش ہونے کے بھی اپنا مشن جاری رکھا اور دنیاوی جاہ و جلال ولالچ و حکومت پر لات مار دی اور فرمایا کہ اگر تمام دنیا کا مال و دولت مجھ کو دیا جائے آفتاب داہنے ہاتھ میں اور مہتاب بائیں ہاتھ میں رکھا جائے تو بھی اشاعت توحید الہیٰ سے منہ نہ موڑوں گا۔
زمانہ جاہلیت
حضور انور ﷺ نے عرب کے وحشی لوگوں میں نشو و نما پائی۔ انہیں میں رہے۔ باوجود ان کی اخلاق ضمیمہ وافعال ناپسندیدہ کے آپ تمام اخلاق حسنہ، علم، عفت، حلم، تواضع، جود و سخاوت، حیاء و شجاعت، کرم، مروت، صدق، امانت، زہد تقویٰ، دیانت میں موصوف ہوئے اور قبل نبوت بھی صادق و امین کہلائے ۔ تو یہ عطیہ خدا داد و نعمت الہیٰ نہیں تو اور کیا ہے۔
- ١ ....... حضور انور سرور عالم ﷺ سے پیشتر کا زمانہ عرب میں ایام و زمانہ جاہلیت
٤٣
کہلاتا ہے۔ کیونکہ بعثت نبوت سے پیشتر عرب تو کیا تمام دنیا میں جہالت، بطالت، شرک وظلم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ یورپ میں غلامی کا عام رواج تھا۔ فسق وفجور کا بازار گرم۔ تمام دین ودنیاوی اختیارات پوپ اعظم کے ہاتھ میں تھے۔ وہ معبود خلائق بنے ہوئے تھے۔ ایشیاء، ایران وہند میں بت پرستی، شرک، دختر کشی، آتش پرستی اور زنا کاری کا بازار گرم تھا۔ مندروں وشوالوں میں عورتوں کی ننگی تصویریں نظر آتی تھیں۔ مخلوق پرستی وعناصر پرستی، دیوی، دیوتا پرستی، درخت پرستی غرض تینتیس کروڑ دیوتا کی پوجا ہو رہی تھی۔ ہند میں اب تک گائے کا پیشاب اور سرگیں بھی پوتر، پاک گنا جاتا ہے اور گاؤ کو ماتا کہہ کر پوجا جاتا ہے۔ عرب کے اعراب کا فحش، شعر و شاعری، بت پرستی واوہام پرستی، زنا، جوا بازی، تیروں پر فال بازی، قمار بازی، سود خوری، لڑکیوں کو خرید کر لونڈی بنانا، نچوانا، گانا سکھانا، ان کی کمائی کھانا، رہزنی، قتل، غارت گری اور خونریزی کرنا باہمی جنگ وجدل کرنا ایک عام مشغلہ تھا۔
- ٢....... مردہ کی قبر پر اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے۔ حتی کہ وہ غریب جانور
بھوک و پیاس سے ہلاک ہو جاتا۔ قحط سالی میں گائے کی دم میں گھاس و کانٹے باندھ کر اس کو آگ لگا کر پہاڑوں میں چھوڑ دیتے تھے تا کہ بارش ہو۔ یہ مینہ برسانے کے واسطے ان کا ٹوٹکہ تھا۔
- ٣....... عورتیں شرم وننگ وناموس خاندان کے واسطے دودھیلی اونٹنی، گائے، بھیڑ،
بکری کا دودھ نہیں دوہتی تھیں۔
- ٤....... خانہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت تھے اور پیغمبروں کی تصاویر
دیواروں پر تھیں۔ یہ لوگ برہنہ ہو کر بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے۔ ہر ایک قبیلہ کا جدا جدا بت تھا۔ بت پرستی عام تھی اور ان بتوں پر ہر قسم کی قربانی چڑھائی جاتی تھی۔ سفر کی آمد ورفت کے وقت ان کو چومتے تھے۔ لات، منات، ود، سواع، یغوث، ہبل، عزی، یعوق، اساف، نائلہ، بتوں کے نام تھے۔
- ٥....... فاسق، زندیق، صابی، مشرک، یہودی، عیسائی، دہریہ، آتش پرست سب
قوم کے لوگ تھے۔
- ٦....... عورتوں پر سخت ظلم ہوتا تھا۔ بات بات میں ظہار تھا۔ ان کے حقوق سلب
کئے جاتے تھے۔ شوہر کے مرنے کے بعد سوتیلا بیٹا اس پر چادر ڈال دیتا تھا۔ ایام حیض میں عورت گھر سے علیحدہ رہتی اور نجس شمار ہوتی۔ لڑکیاں زندہ دفن کی جاتی تھیں۔ کیونکہ وہ خاندان کے واسطے باعث شرم وننگ تھیں۔
٤٤
- ٧....... جاہل عرب، بت پر
کرنے والے، ٹونے ٹوٹکے، شگون لینے والے، ستارہ اور مردہ جانوروں کو کھاتے تھے۔ قحط وخشک تھے۔ ان کی عمدہ غذاؤں میں سے اونٹ کا گو اہل ہند، اہل بنو جعفر کے پاس سفیر ہو کر ج عرقیات کشید کر پینے کا از حد شوق تھا۔ کنواری اور بیاہی عورتیں زنا کو یتیم بچوں کا مال کھا لینے میں ذرا بھی تأمل ن نہ جانتے تھے۔ مرنا جینا صرف اسی دنیا کے نسب نامے اور شجرے یاد رکھتے۔ خوابوں آزادانہ گزارہ کرتی تھیں۔ خانہ بدوش تھیں اکثر مشاعرہ میں ابیات واشعار عشقیہ بیان
- ٨....... عرب میں بعض ق
قبائل کی نسبت زیادہ تھے اور ان میں شرافت جاہلیت ہرگز نہ تھی۔ مہمان نوازی، فیا بہادری، مروت، خدا پرستی، احسان، شجاعت سے بنو ہاشم زیادہ ممتاز تھے۔
جناب ہاشم بن عبد مناف
قریش میں بہت مالدار اور ذی تھے اور وہ مکہ معظمہ کے حاکم وسردار تھے۔ حضرت عبد المطلب کو اپنے چچا مطلب کرتے رہے اور قریش کے دس بڑے حکومت میں ممد و معاون رہے۔ حضرت لشکر اور بیشمار فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کی کر ڈالے اور مکہ سے ایک منزل کے فا سواروں کا روانہ کیا کہ اونٹ اور آدمی ج
- ٧...... جاہل عرب، بت پرست، ملحد، قاطع الرحم، اللہ کے ذکر سے اعراض
کرنے والے، ٹوٹکے، شگون لینے والے ستاروں اور پتھروں کو پوجنے والے تھے۔ گوہ، بچھو، سانپ اور مردہ جانوروں کو کھاتے تھے۔ قحط و خشک سالی میں اونٹوں کو زخمی کر کے ان کا خون پیا کرتے تھے۔ ان کی عمدہ غذاؤں میں سے اونٹ کا گوشت تھا اور بڑی عزت ان کی اس میں تھی کہ وہ ملوک آل مند، آل بنو جعفر کے پاس سفیر ہو کر جاتے تھے۔ بدکاری سے نفرت نہ تھی۔ شراب نوشی اور عرقیات نشی پینے کا بڑا شوق تھا۔
کنواری اور بیاہی عورتیں زنا کو فخر سمجھتی تھیں اور نیوگ کی رسم بعض قبائل میں جاری تھی۔ یتیم بچوں کا مال کھا لینے میں ذرا بھی تأمل نہ کرتے تھے۔ حق ہمسائیگی کوئی چیز ہی نہ تھا۔ آخرت کو نہ جانتے تھے۔ مرنا جینا صرف اسی دنیا کے واسطے جانتے تھے۔ باوجو د اس جہالت کے خاندان کے نسب نامے اور شجرے یاد رکھتے۔ خوابوں کی تعبیر کرنے والے راہب کاہن کہلاتے۔ تمام قومیں آزادانہ گزارہ کرتی تھیں۔ خانہ بدوش تھیں، تاجر اور فصیح اللسان بھی تھیں۔ شعر وسخن کا چرچا عام تھا۔ اکثر مشاعرہ میں ابیات و اشعار عشقیہ بیان کئے جاتے۔
- ٨...... عرب میں بعض قبیلے ایسے بھی تھے جن میں تہذیب و تمدن و معاشرت اور
قبائل کی نسبت زیادہ تھے اور ان میں شرافت و نجابت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ فسق و فجور و دیگر افعال جاہلیت ہر گز نہ تھی۔ مہمان نوازی، فیاضی وعدہ وفائی، تیز فہمی، طبیعت کی غواصی، شہسواری، بہادری، مروت، خدا پرستی، احسان، شجاعت میں مشہور تھے اور وہ سردار قوم شمار ہوتے تھے ان قبائل سے بنو ہاشم زیادہ ممتاز تھے۔
جناب ہاشم بن عبد مناف
قریش میں بہت مالدار اور ذی وجاہت و بااثر تھے۔ فیاض، رحم دل، تاجر، شجاع وسخی تھے اور وہ مکہ معظمہ کے حاکم و سردار تھے۔ ٥١٠ء کو ہاشم نے انتقال فرمایا اور ان کی جگہ ان کے بیٹے حضرت عبدالمطلب کو اپنے چچا مطلب کے بعد جگہ ملی اور قریب ساٹھ سال تک مکہ پر حکومت کرتے رہے اور قریش کے دس بڑے قبیلوں کے سردار جو شیوخ کہلاتے تھے وہ سب ان کی حکومت میں ممد و معاون رہے۔ حضرت عبدالمطلب کے زمانہ میں ابرہہ حاکم یمن نے ہاتھیوں کا لشکر اور بیشمار فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کی تا کہ معاذ اللہ خانہ کعبہ کو گرا کر برباد کرے اور قریش کو قتل کر ڈالے اور مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر قیام کر کے اسود بن مقصود کی ماتحتی میں ایک دستہ سواروں کا روانہ کیا کہ اونٹ اور آدمی بیکار پکڑ لائے۔ پس اسود اہل مکہ کے کچھ مویشی اور حضرت
عبدالمطلب کے دو سو اونٹ پکڑ لایا۔ حضرت عبدالمطلب چند رؤسائے قریش کو ساتھ لے کر ابرہہ کے پاس گئے۔ ابرہہ بڑے تپاک سے پیش آیا۔ تخت سے اتر کر ان کے ساتھ فرش پر بیٹھا۔ اثناء کلام میں جناب عبدالمطلب نے اپنے اونٹوں کی رہائی کی سفارش کی۔ ابرہہ نے متعجب ہو کر کہا۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ کعبہ کے بارے میں تم نے مجھ سے کچھ التجا نہ کی یہ تو تمہارے آبا و اجداد کی مذہبی مکان ہے اور اونٹوں کا سوال کیا۔ جناب عبدالمطلب نے جواب دیا۔ میں اونٹوں کا مالک ہوں۔ اونٹوں کو مانگتا ہوں اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے۔ وہ غالباً روکے گا۔ ابرہہ نے یہ سن کر تھوڑی دیر تک سکوت کیا اور بلاتأمل جناب عبدالمطلب کے اونٹ واپس کر دیے۔
جب جناب عبدالمطلب گھر آئے تو تمام قریش کو پہاڑ پر روانہ کر دیا اور خود وقت روانگی خانہ کعبہ کا دروازہ پکڑ کر کھڑے ہو گئے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔
یارب فامنع عنهم حماءکا
ان عدوا البيت من عاداکا
فامنعهم ان يخربو قراکا
یہ اشعار فرما کر پہاڑ پر چلے گئے۔ ابرہہ بادشاہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر خانہ کعبہ گرانے کو مکہ معظمہ کی طرف بڑھا۔ اللہ جل شانہ نے ابابیل پرندوں کا ایک جھنڈ دریا سے بھیجا جو ان پر کنکریاں برسانے لگا۔ جس پر وہ کنکر پڑ جاتا وہیں رہ جاتا۔ مقام محسر میں ان کے جسم میں چیچک کے سے دانے بھی نکل آئے۔ جس سے وہ ہلاک ہوئے۔ ابرہہ بادشاہ کے بھی اسی مرض سے اعضاء کٹ کٹ کر گر گئے اور جو ہاتھی محمود نامی آگے بڑھایا تھا وہ پیچھے کو ہٹتا تھا۔ آخر تمام ہاتھی کنکریوں اور چیچک سے مر گئے۔ تب اللہ جلشانہ نے ایک سیلاب بھیجا جو ان سب کو دریا میں بہا لے گیا۔
نوٹ : محمود نامی ہاتھی نے تو خانہ کعبہ کو نہ گرایا۔ مگر خلیفہ صاحب محمود ثانی نے دعویٰ اسلام کر کے اسلام کی بنیاد کو ادھیڑ ڈالا۔ حیوان اور انسان میں فرق خود کر لو۔
چونکہ ہاتھی کو عربوں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس لئے اس سال کا نام عام الفیل رکھا گیا۔ جس کا تذکرہ قرآن شریف میں اس طرح ہے ۔ "الم تركيف فعل ربک باصحاب الفيل ، الم يجعل کیدہم فی تضلیل ، وارسل علیہم طیراً ابابیل ، ترمیہم بحجارة من سجیل ، فجعلہم کعصف ماکول" "اے پیغمبر کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والے کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔ کیا اس نے ان کے تمام داؤ
٤٦
غلط نہیں کر دیئے اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے یہاں تک کہ ان کو کھائے ہوئے خوید (بھوسہ
ولادت با سعادت
پس حضرت عبدالمطلب جیسے مو وفیاض وسخی کے چھوٹے فرزند حضرت عبد ١٢ ربیع الاول عام الفیل ٢٠ جو جمعہ بوقت صبح صادق شعب ابی طالب میں ا و آلہ و سلم ! اور ایک نور ظہور ہوا۔ جس س پرستش ہوتی تھی خشک ہو گئی۔ خشک وادی سم آیا۔ کسریٰ کے ایوان میں ایسا زلزلہ آیا کہ دو ہو گیا۔ آتشکدے بجھ گئے۔ سطیح کاہن و تھیں۔ سرنگوں نہ تھی۔ منہ سینہ میں تھا۔ چش خبریں بیان کرتا تھا۔ یہ عجیب الخلقت انسا تمام دنیا کے بت سرنگوں ہو گئے۔ شیطان او
خداوند کریم نے جناب سرور عا میں تاج نبوت و رسالت دے کر تاریکی انو ﷺ کو سراج منیر بنا کر بھیجا۔ ”هو الذ اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب و (جمعہ) ”وہ خدا ہی تو ہے جس نے عرب پیغمبر بنا کر بھیجا کہ وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑ صاف کرت اور ان کو کتاب الٰہی اور عقل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ وہ عرب کے بدو ج مشرک و وحشی تھے اور ہر وقت اونٹ کی م عابد وزاہد متقی پرہیزگار، عالم، متدین، موج مہار چھوڑ کر سلطنت و حکومت کی ایسی باگ
غلط نہیں کر دیئے اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے جو ان پر کنکر کی پتھریاں اوپر سے پھینکتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو کھائے ہوئے خوید (بھوسہ) کی طرح تباہ کر دیا۔ ﴾
ولادت باسعادت
پس حضرت عبدالمطلب جیسے موحد و پابند ملت ابراہیمی حاکم وسردار مکہ معظمہ، شجاع وفیاض وسخی کے چھوٹے فرزند حضرت عبداللہ کے ہاں جناب سیدنا محمد مصطفیٰ واحمد مجتبیٰ ﷺ ١٢ /بقول ١٧ ماہ ربیع الاول عام الفیل ٤٠ جلوس نوشیرواں عادل مطابق ٢٩ اگست ٥٧٠ء کو یوم جمعہ بوقت صبح صادق شعب ابی طالب میں اس دار دنیا میں تشریف لائے۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اور ایک نور ظہور ہوا۔ جس کے اطراف کے ملک روشن ہو گئے۔ جھیل ساوہ جس کی پرستش ہوتی تھی خشک ہو گئی۔ خشک وادی سماوہ ملک شام میں پانی جاری ہو گیا۔ دجلہ طغیانی میں آیا۔ کسریٰ کے ایوان میں ایسا زلزلہ آیا کہ ١٤ کنگرے اس کے گر پڑے اور طاق کسریٰ بیچ میں دو ہو گیا۔ آتشکدے بجھ گئے۔ ستیح کاہن جس کی عمر نوسو سال کی تھی۔ بدن میں جوڑ کی ہڈیاں نہ تھیں۔ سرگردن نہ تھی۔ منہ سینہ میں تھا۔ جابیہ میں رہتا تھا۔ گٹھری باندھ کر اٹھاتے تھے وہ غیب کی خبریں بیان کرتا تھا۔ یہ عجیب الخلقت انسان اوندھا ہوکر غیب کی باتیں سنایا کرتا تھا انتقال کر گیا۔ تمام دنیا کے بت سرنگوں ہو گئے۔ شیطان اور اس کی اولاد کا آسمان پر جانا بند ہو گیا۔
(تاریخ الاسلام ص ٣١)
خداوند کریم نے جناب سرور عالم نبی مکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں تاج نبوت ورسالت دے کر تاریکی وظلمت شرک وظلم جہالت کو دور کرنے کے لئے حضور انور ﷺ کو سراج منیر بنا کر بھیجا۔ ”ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاته ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (جمعه)“ وہ خدا ہی تو ہے جس نے عرب کے جاہلوں میں ان ہی میں سے (حضرت محمد ﷺ) کو پیغمبر بنا کر بھیجا کہ وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو کفر و شرک کی گندگی سے پاک صاف کرتے اور ان کو کتاب الٰہی اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں۔ ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ وہ عرب کے بدو جو فاسق وفاجر، زانی، شرابی اور بت پرست اکھڑ اجہل مشرک و وحشی تھے اور ہر وقت اونٹ کی مہار پکڑے رہتے تھے۔ یہ برکت وفیض نبی مکرم ﷺ عابد وزاہد متقی پرہیزگار، عالم، متدین، موحد، خالص ومؤمن ہوکر مہذب بن گئے اور اونٹ کی مہار چھوڑ کر سلطنت وحکومت کی ایسی باگ پکڑی کہ تمام یورپ، ایشیاء ودیگر قوموں کو مہذب بنا دیا۔
٤٧
لاکھوں ہوئے یہود ونصاریٰ محمدؐی
جناب سرور عالم ﷺ اشاعت دین اسلام کے واسطے تیرہ سال برابر مکہ معظمہ میں رہے اور ہزارہا قسم کی تکالیف ومصائب اعلاء کلمۃ اللہ کے واسطے اٹھائیں۔ آخر کفار ومشرکین کے جور و ستم سے تنگ آ کر تیرہویں سال نبوت سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں دس سال برابر دین اسلام پھیلاتے رہے اور کفار ومشرکین سے کئی جنگ وغزوات لڑے اور کل حجاز عرب کو مسلمان کر کے اس دنیا سے کوچ فرمایا۔ انا للّٰه وانا الیه راجعون۔ اللھم صل علی سیدنا محمد وآل سیدنا محمد وبارک وسلم!
سوم ختم نبوت
کل کمالات و اوصاف جمیلہ واخلاق حسنہ ودرجات عالیہ وعنایات الٰہیہ واسوۃ حسنہ جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں تھیں۔ وہ سب کے سب جامع طور حضور انور سرور کائنات ﷺ کو عطاء کی گئیں اور حضور انور مظہر اتم الوہیت اور خاتم النبیین قرار پائی۔ کیونکہ انسانی کمالات کا خاتمہ آپؐ پر ہو چکا اور آپؐ سے کل ادیان کی تکمیل ہوئی اور تمام نعمہائے الٰہیہ ختم کر دی گئیں۔
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
وہ نعمت بہ مرتبہ اتمام پہنچ چکی۔ جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہوجاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رسالت اور نبوت کی علت غائی جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنی ہیں کیونکہ یہ سلسلہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آیا ہے۔ وہ اس کامل انسان سرور دوجہاں ﷺ پر آ کر ختم ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے تھے وہ مجموعی طور پر ہادی کامل پر ختم ہولئے اور دنیا میں جو غرض انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی بعثت سے تھی وہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس ذات سے پوری ہوگئی۔ تمام نبیوں ورسولوں کے صحیفوں اور کتب الٰہیہ کا خلاصہ قرآن شریف میں درج کیا گیا اور دنیا، ریل، تار، جہازرانی کے ذریعہ ایک دوسری سے مل گئی۔ اس لئے یہ مکمل کتاب قرآن شریف تمام دنیا کے واسطے کافی ہوا اور دین کی اس سے تکمیل ہوئی۔ اب کسی نبی ورسول کی آنے کی ضرورت نہیں۔ سرچشمہ ہدایت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے فیض جاری ہے۔
٤٨
بنے یہود ونصاریٰ محمدیؐ
محنت دین اسلام کے واسطے تیرہ سال برابر مکہ معظمہ میں اعلاء کلمۃ اللہ کے واسطے اٹھائیں۔ آخر کفار ومشرکین کے اذیت سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں دس اور کفار ومشرکین سے کئی جنگ وغزوات لڑے اور کل حجاز فرمایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ، اللهم صل محمد وبارک وسلم!
جملہ واخلاق حسنہ ودرجات عالیہ وعنایات الٰہیہ واسوۂ حسنہ جو وہ سب کے سب جامع طور حضور انور سرور کائنات ﷺ کو نبوت اور خاتم النبیین قرار پائی۔ کیونکہ انسانی کمالات کا خاتمہ تکمیل ہوئی اور تمام نعمہائے الٰہیہ ختم کر دی گئیں۔
ہمہ دارند تو تنہا داری
ہے۔ جس کے ذریعہ سے انسان راہِ راست کو اختیار کر کے ثابت ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر نمایاں ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کمالِ انسانیتؐ پر ختم ہوئی اور یہی ختمِ نبوت کے معنی ہیں کیونکہ کا آیا ہے۔ وہ اس کامل انسان سرور دوجہاں ﷺ پر آ کر رتبۂ نبوت میں رکھے تھے وہ مجموعی طور پر ہادیِ کامل پر ختم علیہ السلام کی بعثت سے تھی وہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی رسولوں کے صحیفوں اور کتب الٰہیہ کا خلاصہ قرآن شریف اس کے ذریعہ ایک دوسری سے مل گئی۔ اس لئے یہ مکمل ہوا اور دین کی اُس سے تکمیل ہوئی۔ اب کسی نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے فیض جاری ہے۔ م
٧٧
خـــــاتــــم الــــرســـل الـــكــــرام
- ب...... ”اور تمام کتابیں اور تمام نبوتیں جو پہلے گذر چکیں۔ ان کی الگ طور پر
پیروی کی حاجت نہیں رہی۔ کیونکہ نبوت محمدیہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کی سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں۔ اس کے اندر ہیں۔ نہ اس کے بعد کوئی سچائی آئے گی اور نہ اس کے پہلے ایسی کوئی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں۔ اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جس چیز کے لئے آغاز ہے اس کے لئے انجام بھی ہے۔“
(الوصیت مرزا غلام احمد قادیانی ص ١٠ خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)
آیت ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب)“ ”لوگو تمہارے مردوں میں سے محمد کسی کا باپ نہیں (تو زید کے کیوں ہوں) اور اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کے عالم ہے۔ خداوند کریم نے جناب سرور ﷺ کے صلبی فرزند حضرت ابراہیم، طیب طاہر و قاسم کو اس جہاں سے اٹھا لیا۔ کیونکہ سلسلۂ نبوت ختم ہو گیا تھا۔ ورنہ وہ سنت اللہ کے موافق نبی ہوتے۔ ہاں فیضانِ نبوت باقی ہے کہ اتباعِ رسول مقبول سے انسان کامل انسان ہو سکتا ہے اور یہ فیضان قیامت تک جاری ہے کہ سب سے اوّل خلیفہ رسول مقبول سے شروع ہو کر آخیر قیامت تک سیدنا امام محمد مہدی علیہ الرضوان پر ختم ہو گا اور ان کے فیض و برکت سے تمام امتِ محمدیہ فیضیاب ہوتی رہی اور ان نورانی چشموں سے سیراب ہوتی رہی۔ خلیفہ دوم ہمیشہ ”لولا علی لھلک عمر“ فرماتے رہے اور حضرت نعمان بن ثابت کوفی نے اعتراف کیا کہ ”لولا السنتان لھلک النعمان“ اگر نعمان حضرت امام جعفر صادقؑ کی صحبت نہ گذارتا تو ہلاک ہو جاتا۔ تمام اولیاء کرام وصوفیائے عظام کے سلسلے حضرت علی المرتضیٰؓ تک ختم ہوتے ہیں۔ امت محمدیہ کے یہ سب سے زیادہ عالم زیادہ قاضی، زیادہ عابد، زاہد اور عارف وامام وپیشوا ہیں۔ یہ طریقت میں اور مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی اعتراف ہے کہ انہوں نے فیضانِ علم جناب علی المرتضیٰ شیرِ خدا سے حاصل کیا ہے۔
- ا...... ”٧ دسمبر ١٨٩٢ء کو ایک اور رؤیا دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ
بن گیا ہوں۔ یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور رسول اللہ میرے پاس ہیں۔ جو مجھے یاعلیؓ کے نام سے بلاتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٨ حاشیہ ، خزائن ج ٥ ص ٢١٨)
٤٩
- ......٢ ”نماز مغرب کے بعد بیعت میں جناب پیغمبر خدا ﷺ حضرت علیؓ وحسنینؓ وفاطمہؓ سامنے آگئے۔ بعد اس کے مجھے تفسیر قرآن دی گئی۔ جس کو (حضرت) علیؓ نے تالیف کیا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٣ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٩)
- ......٣ ”رہ مولیٰ کہ گم کردند مردم ۔ بجو از آل و اعوان محمد ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٩٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٥)
- ......٤ ”جن کے (جناب علیؓ) کے ایمان کو آسمان کے فرشتے بھی تعجب کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جن کی صافی عرفان میں سے اس قدر علوم وانوار وبرکات وشجاعت واستقامت کے چشمے نکلے تھے کہ جن کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔“
(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٣)
- ......٥ ”میں نے جناب علیؓ کو خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں دیکھا کہ انہوں نے مجھے کتاب اللہ کی تفسیر عطاء کی۔ میں نے شکریہ ادا کیا۔“ (سر الخلافہ ص ٣٤، خزائن ج ٨ ص ٣٥٨) جب جناب علی المرتضیٰؓ استاد و مرشد حضرت مرزا قادیانی تھے تو ہم جناب علی المرتضیٰؓ کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کو کس طرح مرشد، مہدی، مسیح و نبی اللہ مان لیں۔ جب کہ ان کے مرشد و استاد نے خود نبوت کا دعویٰ نہ کیا اور نہ ہی ختم نبوت کو جاری رکھا۔
تفسیر قادیانی
- ......١ ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧، ٢١٨)
- ......٢ ”قرآن شریف جیسا کہ آیت ’الیوم اکملت لکم دینکم‘ اور ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٨٩، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)
- ......٣ ”نبوت تامہ کاملہ تمام کمالات وحی کی جامعہ ہمارا ایمان ہے۔ اس روز سے ختم ہو چکی۔ جب یہ آیت اتری ’ماکان محمد ابا احد‘ “
(توضیح مرام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ٦١)
٥٠
- ٤....... ”غرض قرآن شریف میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور
حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠٠ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)
خاتم النبوۃ
نباض دہر، حجۃ الاسلام، صدر المفسرین، سرکار علامہ حائری قبلہ مجتہد العصر دامت برکاتہم نے نہایت قابل دید معرکۃ الآراء لاجواب تقریر کی ہے۔ ہم اس کو کتاب ”عین الیقین“ مطبوعہ شوکت الاسلام پریس مصنفہ علامہ السید فیض حسین صاحب حیدر آباد دکن ص ١٩٦ سے بعینہٖ اس جگہ نقل کرتے ہیں۔ جس سے بہتر کوئی تقریر اس موضوع خاتم النبوۃ پر نہیں ہو سکتی۔ قولہ اور عمدۃ المفسرین زبدۃ المحققین جناب علامہ سید علی الحائری صاحب دام ظلہ العالی نے اپنے بعض مصنفات (مراد فلسفۃ الاسلام وغیرہ ہے) میں خاتم النبیین کے متعلق ایک عمدہ بحث کی ہے۔ جس کا اقتباس افادۂ مومنین کے لئے یہاں لکھا جاتا ہے۔ وھو ھذا!
دنیا میں بعثت انبیاء کی ضرورت یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ ہدایت پا کر بندگان خدا کو پہنچائیں اور یہ ہدایت جیسا کہ دنیا کی مختلف اقوام کی ضرورت تقاضا کرتی تھی۔ ہر قوم کی حالت اور ہر زمانے کی ضرورت کے موافق نازل ہوتی رہی۔ مگر جامع طور پر کسی پیغمبر پر اس کا نزول نہ ہوا اور معلوم ہے کہ جب تک ہدایت جامع کامل نہ ہو۔ انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے اور بعد تکمیل ہدایت عبث اور بے فائدہ۔ پس خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہونے کا دعویٰ اسی کو سزاوار ہے جو تکمیل ہدایت کر دے اور شریعت کے ایسے جامع اصول بیان فرماوے کہ ان کے بعد اور اصول کی ضرورت نہ ہو اور دنیا کی ہر قوم ہمیشہ کے لئے اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ جناب مسیح مقر ہیں کہ ان سے ہدایت جامعہ کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ اس کے ساتھ اپنے اس عظیم الشان ضرورت کو بھی بیان فرما دیا کہ جب روح حق آئے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی اور پھر ارشاد کیا کہ ابھی ایک کی ضرورت ہے جو سچائی اور ہدایت کی مکمل راہیں بتائے۔ اب دیکھ لو کہ جب وہ روح حق آئی تو اس نے پکار کر کہہ دیا جاء الحق۔ یعنی وہ روح حق آگئی۔ جس کی دنیا کو ضرورت تھی۔ جس کے بغیر انسان کی پیدائش عبث ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ انسان اپنے اعلیٰ سے اعلیٰ کمال کو نہ پاسکتا اور اس روح حق نے جیسا کہ چاہئے تھا اپنا پیغام پورے طور پر دنیا کو پہنچا دیا اور ایسے شرائع جامعہ اور احکام
٥١
کاملہ کی تبلیغ کی کہ تمام قوموں کے حالت اور تمام زمانوں کے لحاظ سے وہ حقیقی طور پر مکمل اور کافی ہیں۔ اب قیامت تک نہ ان کی تنسیخ ہو سکتی ہے نہ ترمیم۔ پس ایسے پیغمبر کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت کہاں باقی رہی جو حضرات چاہتے ہیں کہ قادیانی رسول کو شریک فی النبوة قرار دے کر ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ کی ختم نبوت کو توڑ دیا جائے۔
یاد رہے کہ ایک چیز جب تک اپنے حقیقی کمال کو نہ پہنچے وہ من جمیع الوجوہ کامل نہیں اور ایک چیز جب کمال کو پہنچ جائے ۔ مگر اس میں پھر نقص پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو پھر وہ کمال کی محتاج ہوگی۔ اس لئے جب تک یہ دونوں صورتیں جمع نہ ہوں ختم نبوۃ کا منشاء پورا نہیں ہو سکتا۔ مگر وہ خدا جس نے شروع سے حضور ختمی نبوت کے ذریعہ سے نبوت کو اس کے کمال تک پہنچانے کا ارادہ فرمایا تھا اور پھر اس کمال کو قائم رکھنا چاہا تھا۔ تا کہ اس کامل انسان کے بعد سب اس کی شاگردی میں زانو تہہ کریں۔ اس نے نہ چاہا کہ ایک پہلو سے ختم نبوت کر کے دوسرے پہلو کو یوں ہی چھوڑ دے اور نبوت کی ضرورت جیسی کہ ویسی باقی رہے۔ بلکہ اس نے ختم نبوت کو خوب پختہ کیا اور اس میں کسی قسم کے نقصان کا احتمال باقی نہ چھوڑا۔ جب ہر طرح سے اس کی تکمیل فرمادی تو پھر اس کے سلسلہ کو بند کر دیا۔ اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ قرآن مجید نے جملہ ضروریات کے اصول کو پورا کر دیا۔ اس کا ایک ایک لفظ ہدایت ہے ۔ ”ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين “ اس نے ہر پہلو سے تزکیہ نفس تصفیہ قلب اور تکمیل روح فرمادی ہے۔ اس لئے آئندہ نہ ضرورت کسی اور نبی کی ہے اور نہ کسی کتاب کی۔
یہ سچ ہے کہ لفظ خاتم کے معنی مہر کے بھی ہیں اور خاتم کے بھی اس لئے اس کی دوسری قرأت خاتم بھی آئی ہے۔ جس سے غرض یہ ہے کہ تمام انبیاء اور ان کے کام بند کر دیئے گئے اور معلوم ہے کہ مہر ہر چیز کے آخر میں ہوتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چیز موثق بھی ہے اور آخر بھی ہوگئی ہے۔ اب سب کام قیامت تک آپ ہی کے افاضہ کمال سے ہوا کریں گے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی پر حکمت کلام نے ایک ایسا عجیب اور جامع لفظ اختیار کیا۔ جس میں دونوں امر مضمر ہیں۔ آپ تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔ یعنی ان کی تصدیق کرنے والے اور ان کی تعداد کی زیادتی اور ان کے کاموں کو بند کرنے والے۔ یعنی اب جو کام ہدایت کا ہوگا۔ وہ ہمیشہ آپ کے افاضہ کمال سے ہوتا رہے گا اور آپ انبیاء کے خاتم ہیں۔ یعنی آپ کے زمانہ میں اور آپ کے بعد قیامت تک
٥٢
کوئی نبی نہ آئے گا۔ اسی بناء پر حضور ختمی نبوت فداہ ابی وامی نے ارشاد فرمایا۔ ”یا علی انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی “ اس جملہ لا نبی بعدی کے کہنے کی اس لئے ضرورت ہوئی کہ موسیٰ و ہارون میں نسبت اور نسبتوں کے سوا ایک یہ بھی تھی کہ نبی تو دونوں تھے۔ مگر موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے اور ہارون غیر صاحب شریعت اور تابع موسیٰ علیہ السلام ۔ اب غور کا مقام ہے کہ آنحضرت ﷺ جناب امیر علیہ السلام کا اپنی نسبت وہی مرتبہ قائم کرتے ہیں جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ مگر ایک استثناء فرماتے ہیں۔ اگر یہ استثناء نہ ہوتا تو جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام غیر صاحب شریعت پیغمبر تھے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے ساتھ جناب امیر غیر صاحب شریعت پیغمبر ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ حضرت امیر علیہ السلام بھی ایک غیر تشریعی نبی ہوں ۔ مگر جملہ ”الا انہ لا نبی بعدی“ نے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور آپ کے بعد نبوت غیر تشریعی کے بھی امکان کو دور کر دیا۔ کیونکہ اگر یہ نہ مانیں تو حدیث بے معنی ٹھہرتی ہے۔ پس اس استثناء نے قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد تشریعی اور غیر تشریعی کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے خود حضور لامع النور نے قطعی طور پر فرمادیا ہے۔ ” و انہ سیکون فی امتی ثلثون کذاباً کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ یعنی میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ۔ جن میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں تمام پیغمبروں کا ختم کرنے والا ہوں کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔ انتھی بلفظ !
- ١...... شہید کل : ”فکیف اذا جئنا من کل امة بشہید وجئنا بک
علی ہولاء شہیدا ، یومئذ یود الذین کفروا وعصو الرسول لوتسویٰ بہم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (النساء)“ پھر اس وقت کیا حال ہوگا۔ جب ہم ہر امت پر ایک گواہ بنا کر لائیں گے اور تجھ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور پیغمبر کی نافرمانی کی وہ آرزو کریں گے۔ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور زمین ان پر برابر ہو جائے اور اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے ۔ ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے ۔ بولو مرزائیو ! جناب سرور عالم ﷺ تو تمام مخلوق کے قیامت کو شہید کل ہوں گے تو تمہارے پنجابی نبی قادیانی کہاں جائیں گے۔ کیا وہ مخلوق میں داخل ہیں یا نہیں۔
- ٢...... ”ویوم نبعث فی کل امة شہیداً علیہم من انفسہم وجئنا
٥٣
بك شهيداً على هولاء (النحل) ﴿اور وہ دن یاد کر جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے اور تجھ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔﴾
- ٣...... ”قل یا ایها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً ن الذى له
ملك السموات والارض لا اله الا هو یحیی ویمیت فامنوا بالله ورسوله النبى الامى الذى يؤمن بالله وكلمته واتبعوه لعلكم تهتدون (الاعراف) “﴿اے پیغمبر کہہ دے میں تم سب لوگوں کی طرف عرب ہوں یا عجم اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی آسمان اور زمین سب جگہ بادشاہت ہے۔ اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے تو لوگو اللہ پر اور اس کے ان پڑھ پیغمبر پر جو اللہ تعالیٰ اور اس کی کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو۔ تا کہ تم راہ پاؤ۔﴾
نوٹ: سابقہ نبی ورسول علیحدہ علیحدہ متفرق طور اپنی اپنی قوم یا ایک دو شہروں کے واسطے آتے رہے اور ان کی تعلیم متفرق طور پر تھی۔ جب قوم اور ملک کی حد بندیاں ٹوٹ گئیں اور تمام قومیں ایک دوسرے سے ملنے لگ گئیں تو کامل تعلیم نازل ہوئی اور کل دنیا کے واسطے رسول کریم مبعوث ہوئے۔ جہاں جہاں انسان پایا جاتا ہے تو اب قادیانی نبی ورسول کون سی دنیا کا رسول و نبی بن کر آیا ہے۔
- ٤...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدين كله ولوكره المشركون (التوبه) “﴿وہی خدا ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی باتیں اور سچا دین اسلام دے کر بھیجا۔ اس لئے کہ ہر دین پر غالب کرے۔ گو مشرک برا جانیں۔﴾ جب تمام ادیان باطلہ پر دین اسلام کا غلبہ رہا تو اب دوسرے نبی و رسول کی آنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ اپنا دین کا غلبہ کس پر کرے گا۔
- ٥...... ”تبرك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين
نذيرا (الفرقان) “﴿بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے (حضرت محمدﷺ) پر قرآن اتارا۔ اس لئے کہ سارے جہاں کا ڈرانے والا ہو۔ جب سرور عالمﷺ نذیر کل ہوئے تو پھر کسی اور نبی کی کیا ضرورت ہے اور وہ کس جہاں کا نذیر و بشیر ہوگا۔﴾
- ٦...... ”وما ارسلناك الا كافة للناس بشيراً ونذيرا ولكن اكثر
الناس لا يعلمون (السباء) “﴿اور اے پیغمبر ہم نے تو تجھ کو ساری دنیا کے لوگوں کو خوشخبری سنانے اور عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔﴾ یہ آیت شریف
٥٤
محمودی مرزائیوں کے واسطے خاص ہ کل دنیا فرمایا ہے۔
- ٧...... ”وما ار
رحمت دونوں جہاں کی۔﴾
ف...... ہم کو کیا ضر طاعون، جنگ وجدل، اسلام میں اسلامی خلافت کا مٹ جانا۔ فتنہ مرز
- ٨...... ”قل ان
ويغفرلكم ذنوبكم . والله فان الله لا يحب الكفرين ( میری راہ پر چلو۔ اللہ بھی تم سے محب ہے۔ (اے پیغمبر) کہہ دے اللہ اور اس آیت شریف سے خاص اطاعت تک کسی اور شخص کی اطاعت جائز نہی اور کاذب نبی و مہدی کے پیرو ہوئے
- ٩...... ”والذي
محمد وهو الحق من ربه ﴿اور جو لوگ ایمان لاوے اور انہو پر بھی ایمان لائے اور وہ برحق ہے ان کے گناہ ان پر سے اتار دیئے ا شریف کی موجودگی میں الہامات مرز
ایمان قادیانی
خود خدا، خدا کا بیٹا، خد کچھ خیال نہ رکھا۔ ان کا ختم نبوت کر خاندان نبوت کو گالیاں کرنا ان آیات قرآنی کو جو شان ر
محمودی مرزائیوں کے واسطے خاص تازیانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جناب سرور عالم ﷺ کو نذیر و بشیر کل دنیا فرمایا ہے۔
٧....... ”وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین“ ﴿اور نہیں بھیجا تجھ کو مگر رحمت دونوں جہاں کی۔﴾
ف....... ہم کو کیا ضرورت ہے کہ دنیا و آخرت کی رحمت کو چھوڑ کر زحمت خریدیں۔ طاعون، جنگ و جدل، اسلام میں نفاق و فرقہ بندی، قحط سالی، شور و شر، بغاوت الحاد و بیدینی، اسلامی خلافت کا مٹ جانا۔ فتنہ مرزائیت کا نتیجہ ہے۔
٨....... ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم ٠ واللہ غفور رحیم ٠ قل اطیعوا اللہ والرسول فان تولوا فان اللہ لا یحب الکفرین (آل عمران) ﴿اے پیغمبر کہہ دے اگر تم کو اللہ کی محبت ہے تو میری راہ پر چلو۔ اللہ بھی تم سے محبت رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (اے پیغمبر) کہہ دے اللہ اور رسول کا کہا مانو اگر وہ نہ سنیں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔ اس آیت شریف سے خاص اطاعت و فرمانبرداری جناب سرور عالم ﷺ کی فرض ہوئی اور قیامت تک کسی اور شخص کی اطاعت جائز نہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرمان کو چھوڑ کر جھوٹے اور کاذب نبی و مہدی کے پیرو ہوئے ہیں۔ اس نص جلی کے حکم سے کافر ہیں۔﴾
٩....... ”والذین اٰمنوا وعملوا الصالحٰت واٰمنوا بما نزل علی محمد وهو الحق من ربہم کفر عنہم سیاتھم واصلح بالہم (سورۃ محمد) “ ﴿اور جو لوگ ایمان لاوے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے اور قرآن جو محمدؐ پر نازل ہوا ہے۔ اس پر بھی ایمان لائے اور وہ برحق ہے اور ان کے پروردگار ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ خدا نے ان کے گناہ ان پر سے اتار دیئے اور ان کی دینی و دنیوی حالت بھی درست کردی۔﴾ اب قرآن شریف کی موجودگی میں الہامات مرزا کی کیا ضرورت ہے۔
ایمان قادیانی
خود خدا، خدا کا بیٹا، خدا کا ہم سر، تثلیث کا قائل بننا، انبیاء و مرسلین کے مراتب مدارج کا کچھ خیال نہ رکھا۔ انکار ختم نبوت کرنا، معجزات عیسوی و حیات مسیح سے صاف منکر ہوگئے۔ خاندان نبوت کو گالیاں سنائیں اور قرآن شریف کی بے ادبی کی اور خود نبوت کا دعویٰ کرنا ان آیات قرآنی کو جو شان رسول مقبول ﷺ میں نازل ہوئی تھیں۔ وہ اپنی ذات کی طرف
٥٥
منسوب کیں۔ جنت البقیع کے بالمقابل مقبرہ بہشتی بنایا۔ بی بی زینب کے نکاح آسمانی کے بالمقابل محمدی بیگم کا نکاح بنایا۔ حضرت ابو عبیدہ امین الامۃ کے مقابلہ حکیم نور دین کو خطاب حکیم الامۃ دیا اور خاندان رسول مقبول ﷺ کے بالمقابل مرزا قادیانی کا کنبہ خاندان رسالت قرار پایا۔ یہ تھا ایمان قادیانی۔ (دیکھو تحفہ نورانی)
- ١٠........ الم . ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين . الذين
يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلوة مما رزقنهم ينفقون . والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون . اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون (البقر) ”الم! یہ وہ کتاب ہے جس کے کلام الٰہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں۔ پرہیزگاروں کی رہنما ہے۔ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے راہ خدا میں بھی خرچ کرتے ہیں اور اے پیغمبر جو کتاب ان پر اتری اور جو کتاب تم سے پہلے اتریں ان سب پر ایمان لاتے اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے رستے پر ہیں اور یہی آخرت میں منمانی مراد پاویں گے۔“ جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ سے پہلے کسی نبی و رسول علیہ السلام نے کل دنیا کی طرف مبعوث ہونے کا دعویٰ نہیں فرمایا۔ اسی طرح کسی نبی ورسول نے یہ بھی ضروری قرار نہیں دیا کہ تم دنیا کے سارے پہلے نبیوں پر ایمان لاؤ۔ درحقیقت یہ بھی ختم نبوت کا ایک امتیازی نشان ہے۔ اگر کوئی نبی و رسول جناب سرور عالم ﷺ کے بعد آنے والا ہوتا تو ما انزل من بعد کا فرمان بھی ہوتا۔ غرض اس آیت نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی و رسول ہیں اور جو شخص کہ اب نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا مفتری اور کذاب ہے۔
- ١١........ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت
لكم الاسلام دينا“ ”آج کے دن تمہارے واسطے تمہارا دین میں نے کامل کیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے واسطے دین اسلام کے لئے میں راضی ہوا۔ قرآن شریف نے پکار کر کہا کہ ہدایت و تزکیہ نفس اور دین اسلام کو مکمل کر دیا گیا۔“
یہ دعویٰ قرآنی ختم نبوت کی تائید کرتا ہے۔ قرآن شریف مکمل ہو چکا۔ شریعت مکمل ہوئی۔ وحی بند ہوئی۔ تو اب دوسرے نبی کے آنے کی کیا ضرورت رہی۔ قرآن شریف آخری کتاب ہے۔ اس لئے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ جو قرآن شریف کو لائے۔ آخری نبی ہیں۔ جن پر نعمت الٰہی کا خاتمہ ہوا۔ اگر دنیا میں کوئی عید کا دن کہلاسکتا ہے تو مسلمانوں کے واسطے یہی دن عید کا
٥٦
متبنیٰ بنایا۔ بی بی زینبؓ کے نکاح آسمانی کے بالمقابل علامہ کے مقابلہ حکیم نور دین کو خطاب حکیم الامۃ دیا اور قادیانی کا کنبہ خاندان رسالت قرار پایا۔ یہ تھا ایمان
كتاب لا ريب فيه هدى للمتقين . الذين ة ومما رزقنهم ينفقون . والذين يؤمنون بما بالاخرة هم يوقنون . اولئك على هدى من ”الم“ یہ وہ کتاب ہے جس کے کلام الہی ہونے میں ہے۔ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور نا سے راہ خدا میں بھی خرچ کرتے ہیں اور اے پیغمبر جو پہلے اتریں ان سب پر ایمان لاتے اور وہ آخرت کا بھی کے سیدھے رستے پر ہیں اور یہی آخرت میں منمانی مراد مرنے سے پہلے کسی نبی ورسول علیہ السلام نے کل دنیا کی اسی طرح کسی نبی ورسول نے یہ بھی ضروری قرار نہیں دیا جاؤ۔ درحقیقت یہ بھی ختم نبوت کا ایک امتیازی نشان لانے کے بعد آنے والا ہوتا تو ما انزل من بعد کا فرمان بھی کر دیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی و رسول ہیں اور وہ جھوٹا مفتری اور کذاب ہے۔
لكم دينكم واتممت علیکم نعمتی ورضیت تمہارے واسطے تمہارا دین میں نے کامل کیا اور میں نے تم دین اسلام کے لئے میں راضی ہوا۔ قرآن شریف نے کومکمل کر دیا گیا۔﴾ گزرتا ہے۔ قرآن شریف مکمل ہو چکا۔ شریعت مکمل لئے آنے کی کیا ضرورت رہی۔ قرآن شریف آخری جو قرآن شریف کولائے ۔ آخری نبی ہیں۔ جن پر سچ کو لا سکتا ہے تو مسلمانوں کے واسطے یہی دن عید کا
٥٦
٨٥ ہے۔ جب کہ خم غدیر میں جناب علی المرتضیٰ علیہ السلام کو نیابت و ولایت کا درجہ عطاء ہوا۔ تو یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ اس وقت ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ سو مسلمانوں کے لئے ضرور یہ عید کا دن تھا۔ لیکن اگر سچ پوچھو تو یہ نسل انسانی کے لئے عید کا دن تھا۔ اگر ساری نسل انسانی کبھی کوئی حقیقی عید منائے گی تو وہ یہی عید ہوگی۔ جس دن دین کے کمال کو پہنچ جانے کا، ہدایت کی نعمت پورا ہو جانے کا اعلان دنیا میں ہو گیا اور انسان کو خدا کی طرف سے یہ مبارک باد دی گئی کہ اب تمہارے کمال حاصل کرنے کا وقت آگیا اور تمہارے دنیا میں پیدا کئے جانے کی غرض پوری ہو گئی۔ پس یہ شرف و فخر تمام مسلمانوں کے مذاہب میں سے صرف مذہب شیعہ ہی کو حاصل ہے کہ وہ اس روز ١٨ / ذی الحجہ کو تکمیل دین اسلام و ولایت و نیابت جناب علی علیہ السلام کے واسطے عید غدیر مناتے ہیں اور نسلاً بعد نسلاً خوشی کرتے جائیں گے۔ مگر باقی فرقے مخالف اور قادیانی وغیرہ اس عید سے جلتے ہیں۔
چہارم ..... احادیث خاتم النبوۃ
- ١....... حدیث شریف ” ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن
رسول الله وخاتم النبيين “ اس آیت شریف کی صحیح تفسیر جناب رسول خدا ﷺ نے خود فرمائی ہے۔ ہر مسلمان کو اس کا مان لینا فرض ہے ۔ ”قال النبى ﷺ لعلى اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (متفق عليه، مشكوة شریف باب مناقب علی علیہ السلام) “ جناب رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ حضرت علی علیہ السلام سے کیا تم اس سے خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے ہارون کا درجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
ف ....... اس حدیث شریف سے سوا کمال نبوت کے اور تمام کمالات کا مجمع حضرت علی علیہ السلام ثابت ہوتے ہیں کہ ایک نبی حضرت ہارون علیہ السلام سے مشابہت دی گئی ہے۔ جناب امیر علیہ السلام میں اوصاف نبوت پائے جاتے تھے۔ مگر چونکہ نبوت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس لئے آپ نبی نہ ہوئے ۔ اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو بعد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ آپ ضرور نبی ہوتے ۔ جب جناب امیر علیہ السلام کو درجہ نبوت نہ ملا اور وہ نبی تشریعی یا غیر تشریعی نہ ہوئے تو مرزا قادیانی جو ایک معمولی مسلمان کا سا بھی درجہ نہیں رکھتے تھے۔ کس طرح نبی و رسول ہو سکتے ہیں۔ خلیفہ نور الدین صاحب آنجہانی ہمیشہ جناب مرزا قادیانی کو ولی اور مجدد ہی فرماتے رہے اور جناب مرزا قادیانی کا پہلے پہل خود دعویٰ مجددیت کا تھا۔
٥٧
- ٢....... حدیث شریف’ قال رسول الله ﷺ ان لی خمسة اسماء انا
محمد واحمد وانا الماحی الذی یمحو الله بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب (صحیح بخاری ص٢٦)‘ ﴿ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میرے واسطے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، اور احمد اور ماحی یعنی مٹانے والا کفر کو۔ اللہ کفر کو میرے ہاتھ سے مٹائے گا اور حاشر یعنی لوگ میرے بعد حشر کئے جائیں گے اور عاقب یعنی میرے بعد دنیا میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آوے گا۔ ﴾
ف....... جناب رسول خدا ﷺ کا نام محمد جلالی ہے اور احمد جمالی ہے اور مرزا قادیانی کا نام تو غلام احمد ہے۔ یعنی احمد کا غلام وہ غلامی چھوڑ کر احمد کس طرح بن گئے اور ادھر جناب سرور عالم ﷺ کا دعویٰ کہ ان کا نام احمد ہے ادھر جناب مرزا محمود قادیانی کا دعویٰ کہ یہ نام احمد ان کے والد کو دیا گیا ہے تو فرمائیے دونوں مدعیوں سے کون سچا ہے؟
- ٣....... حدیث شریف’ قال النبی ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کرجل
بنی داراً فاکملها واحسنها الا موضع لبنة فجعل الناس یدخلونها ویتعجبون ویقولون لولا وضع اللبنة (بخاری ص٢٧، کتاب المناقب باب خاتم النبیین، صحیح مسلم ص٢٣١٨، باب ذکر کونہ خاتم النبیین) ‘‘ ﴿ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور دوسرے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ تو لوگ اس گھر میں جانے لگے اور تعجب کرنے لگے۔ یہ اینٹ کی جگہ اگر خالی نہ ہوتی۔ (تو کیسا مکمل اچھا گھر ہوتا ) ﴾
ف....... مکان نبوت میں ختم رسالت کی نورانی اینٹ لگا کر وہ مکان مکمل کیا گیا ہے۔ اگر قادیانی محمودی پارٹی کا اختیار ہے تو یہ اینٹ اکھاڑ کر مرزا قادیانی کی اینٹ لگاویں۔
- ٤....... حدیث شریف’ عن ابی هریرة ان رسول الله ﷺ قال ان
مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون به ویعجبون له ویقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبیین (بخاری ص٢٧، باب خاتم النبیین) ‘‘ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور اگلے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر ایک
٥٨
ان رسول اللہ ﷺ ان لی خمسة اسماء انا یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر (بخاری ص ٢٦) ”جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اور احمد اور ماحی یعنی مٹانے والا کفر کو۔ اللہ کفر کو لوگ میرے بعد حشر کئے جائیں گے اور عاقب یعنی
کہ نام محمد جلالی ہے اور احمد جمالی ہے اور مرزا قادیانی غلامی چھوڑ کر احمد کس طرح بن گئے اور ادھر جناب سرور کہ جناب مرزا محمود قادیانی کا دعویٰ کہ یہ نام احمد ان کے والد کیسے خود سچا ہے؟
قال النبی ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کرجل صنع لبنة فجعل الناس یدخلونها ویتعجبون (بخاری ص ٢٧، کتاب المناقب باب خاتم النبیین، کونه خاتم النبیین) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ کہ ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ تو لوگ اس گھر میں جانے لگے اور تعجب کرنے لگے۔ یہ تنا اچھا گھر ہوتا) ﴾
بزم رسالت کی نورانی اینٹ لگا کر وہ مکان مکمل کیا گیا بے حیا، منہ اکھاڑ کر مرزا قادیانی کی اینٹ لگا دیں۔
عن ابی هریرة ان رسول اللہ ﷺ قال ان ورجل بنی بیتاً فاحسنه واجمله الا موضع يطوفون به ویعجبون له ویقولون هلا وضعت انا خاتم النبیین (بخاری ص ٢٧، باب خاتم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور اگلے نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر ایک ٥٨
کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں پھرتے ہیں۔ تعجب کرتے ہیں۔ ایسا آراستہ گھر یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی تو اینٹ میں ہوں۔ میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں۔ ﴿
(زیادہ دیکھو مشکوۃ ج ٤ باب فضائل سید المرسلین ﷺ فصل اوّل ص ٢٢٧، ٢٢٨، مرقاۃ ج ٥ ص ٣٥٨، لمعات ج ٤
ص ٤٩٢، مظاہر حق ج ٤ ص ٥٠١، المعلم ترجمہ صحیح مسلم ص ٢٣١٩ سطر ٥، باب خاتم النبیین)
- ٥ ....... حديث شريف عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل
تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی وانه لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون (بخاری ص ١١٤، باب ماذکر عن بنی اسرائیل، خصائص کبری ج ٢ ص ١١٣، فتح الباری ج ١٣ ص ٢٨٣، قسطلانی ج ٥ ص ٤٢١، عمدة القاری ج ٧ ص ٤٥٦) ”جناب رسول خدا ﷺ سے ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں پر پیغمبر حکومت کیا کرتے۔ جب ایک پیغمبر گزر جاتا۔ دوسرا اس کا قائم مقام ہوتا۔ مگر میرے بعد تو کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔ البتہ خلیفہ ہوں گے۔﴾
ف ....... اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی مبعوث کیا جاتا۔ مگر امت محمدیہ میں ایسا نہ ہوگا کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت ملے۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جو نبی علیہم السلام گزرے ہیں وہ توریت ہی پر عمل کرتے تھے۔ جناب صاحب شریعت نبی نہ تھے۔ پس فرمان ”انه لا نبی بعدی“ نے صاف فیصلہ کر دیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو تشریعی یا غیر تشریعی نبوت نہ ملے گی۔ اس پر لفظ نبی کا اطلاق نہ ہوگا۔ بلکہ وہ خلیفہ کہلائے گا۔ جب نبوت کا لفظ ہی اڑ گیا تو مرزا قادیانی نبی کس طرح ہو سکتے ہیں۔ فافهم وتدبر!
- ٦ ....... حديث شريف عن انس بن مالک قال، قال رسول
الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت ولا رسول بعدی ولا نبی بعدی قال فشق ذالك على الناس فقال المبشرات فقالوا يارسول الله وما المبشرات قال رؤياء المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة (سنن ترمذی ص ٢٧٠١، المعلم ترجمہ صحیح المسلم) ”حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت تمام ہوگئی۔ پس اب نہ کوئی رسول اور نہ کوئی نبی میرے بعد ہوگا۔ پس لوگوں پر یہ بات گراں گزری۔ تب آپ نے فرمایا لیکن ٥٩
مبشرات باقی ہیں۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ فرمایا آپ نے مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے۔ ﴿
ف…… لفظ انقطعت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ رسالت و نبوت کا سلسلہ قطع ہو گیا، ٹوٹ گیا، بند ہو گیا۔ ”و لا رسول بعدی ولا نبی بعدی“ کے فرمان نے مدعیان نبوت کی جڑ کاٹ دی۔ ہاں رؤیائے صادقہ سچے خواب باقی ہیں۔ وہ ہر ایک مسلمان کو آسکتے ہیں۔ اس میں کسی کی خصوصیت نہیں۔
- ٧…… ”عن ابی ھریرةؓ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی
الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطھوراً وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون (رواہ مسلم، مشکوٰة الربع الرابع باب فضائل سید المرسلین ص ٢٢٨، ٢٢٩، امرتسری مرقاة ج ٥ ص ٣٦١، لمعات ج ٤ ص ٤٩٥، مظاھر حق ج ٤ ص ٥٠٣، خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ١٩٣) “ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نبیوں پر چھ خصلتوں سے فضیلت دیا گیا ہوں۔ ساتھ مجھے جامع قرآن شریف اور دشمنوں کے دل میں رعب ڈالنے کے ساتھ مدد دیا گیا ہوں اور میرے واسطے مال غنیمت حلال ہوا اور زمین میرے واسطے مسجد اور پاک کرنے والی کی گئی اور تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میرے ساتھ نبوت ختم ہو گئی۔ ﴿
- ٨…… مدعی نبوت کذاب ہے۔ حدیث شریف ”قال رسول اللہ ﷺ ولا
تقوم الساعة حتی یبعث دجالون کذابون قریباً من ثلثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ (بخاری ص ٥٣، کتاب المناقب، ترمذی ج ٢ ص ١١٢، ابواب الفتن) “ ﴿جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی۔ جب تک کہ تیس جھوٹے (دجال و مکار) نہ گزریں۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ ﴿
ف…… جناب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں وہ نبی آخرالزمان ہیں۔ یہ زمانہ قیامت تک انہی کی بادشاہت کا ہے۔ پانچوں وقت اذان تمام اسلامی دنیا میں ”اشھد ان محمد رسول اللہ “ کی منادی کرتی رہتی ہے کہ کل مخلوق کا ایک ہی رسول ہے۔ اب جس نے بالمقابل دعوائے نبوت ورسالت کا کیا وہ جھوٹا کذاب دجال قرار پایا۔ جناب مرزا قادیانی کے دعوائے
٦٠
سے پیشتر چوبیس جھوٹے مدعیان نبوت ہو آچکے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے دعوٰی نبو
- ٩…… مدعی نبوت کذا
تقوم الساعة حتی تلحق قبائل وانہ سیکون فی امتی ثلاثون ک لا نبی بعدی ھذا حدیث صحی ج…… ص ٢٣٣، مشکوٰة ج ٤ ص ٨١ ج ٤ ص ٣٢٩، ابوداؤد ص ١٠٧١، م فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک ک کہ بتوں کی پرستش نہ ہونے لگے اور ہر ایک کہ میں نبی ہوں اور میں خاتم النبیین ہو
- ١٠…… جناب رسول ا
دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں چار عور ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ف…… اس سے معلو نبوت کو آنحضرت ﷺ جھوٹا اور دجال تشریعی اور بعض نے نبوت غیر تشریعی پ کہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ الفاظ لا نبی بع
- ١١…… حدیث شری
اللہ ﷺ فکان اکثر خطبة ح قولہ ان قال انہ لم تکن فتن الدجال وان اللہ لم یبعث نب اخرالامم (رفع الحجاجه، ابن ماج کثیر ج ٣ ص ٢٣٨، کنز العما
کی یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ فرمایا آپ نے ان میں سے ایک ٹکڑا ہے۔﴾ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ رسالت و نبوت کا سلسلہ قطع ہو گیا، عدی ولا نبی بعدی‘‘ کے فرمان نے مدعیان نبوت کی خواب باقی ہیں۔ وہ ہر ایک مسلمان کو آ سکتے ہیں۔ اس میں
حریرةؓ ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی مع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لى الغنائم وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بى ع الرابع باب فضائل سيد المرسلين ص ٢٢٨، ٢٢٩، ت ج ٤ ص ٤٩٥ ، مظاهر حق ج ٤ ص ٥٠٣، خصائص رت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فیلت دیا گیا ہوں۔ مجھے کلمے جامع دیئے گئے ہیں اور اتھ مدد دیا گیا ہوں اور میرے واسطے مال غنیمت حلال ہوا اک کرنے والی کی گئی اور تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور
ہے۔ حدیث شریف ”قال رسول الله ﷺ ولا الون كذابون قريباً من ثلثين كلهم يزعم انه ب المناقب، ترمذی ج ٢ ص ١١٢، ابواب الفتن) “ ت قائم نہ ہوگی۔ جب تک کہ تیس جھوٹے (دجال ومکار) نہ ہوں۔﴾ سول اللہ ﷺ حیات النبی ہیں وہ نبی آخر الزمان ہیں۔ یہ مہ پانچوں وقت اذان میں تمام اسلامی دنیا میں ”اشهد ان ہوتی ہے کہ کل مخلوق کا ایک ہی رسول ہے۔ اب جس نے کو کذاب دجال قرار دیا۔ جناب مرزا قادیانی کے دعویٰ ٦٠
سے پیشتر چوبیس جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت گزر چکے ہیں اور اس حدیث شریف کے ماتحت آ چکے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت کو اس حدیث شریف سے مقابلہ کر لو۔
......٩ مدعی نبوت کذاب ہے۔ حدیث شریف ”قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من امتى بالمشركين وحتى يعبدوا الاوثان وانه سيكون فى امتى ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى هذا حديث صحيح (ترمذی ج ٢ ص ١١٢، ابواب الفتن، سنن ابو داؤد ج...... ص ٢٣٢، مشکوۃ ج ٤ ص ٨١، مرقاہ ج ٥ ص ٥١، لمعات ج ٤ ص ٣١٤، مظاهر حق ج ٤ ص ٣٢٩، ابو داؤد ص ١٠٧١، کنز العمال ج ٧ ص ١٧٣) ﴿جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ کچھ قبیلے میری امت سے مشرکوں کے ساتھ مل لیں اور تاکہ بتوں کی پرستش نہ کریں اور میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
......١٠ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت میں ٢٧ جھوٹے فریبی دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں چار عورتیں دعویٰ نبوت کریں گی اور میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(رواہ احمد، طبرانی، بحوالہ کنز العمال ج ٧ ص ١٧٠)
ف...... اس سے معلوم ہوا کہ خاتم النبیین سے مراد لا نبی بعدی ہے اور تمام مدعیان نبوت کو آنحضرت ﷺ جھوٹا اور دجال فرماتے ہیں۔ چونکہ ان مدعیان نبوت سے بعض نے نبوت تشریعی اور بعض نے نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے مدعیان نبوت کو جھوٹا کہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ الفاظ لا نبی بعدی میں ہر دو طرح نبوت کے اجرا کی نفی ہے۔
(اخبار اہل حدیث ج ١٩ ص ٢٤ س ٤٠ھ)
......١١ حدیث شریف ”عن ابى امامة الباهلى قال خطبنا رسول الله ﷺ فكان اكثر خطبته حديثاً حدثناه عن الدجال وحذرناه فكان من قوله ان قال انه لم تكن فتنة فى الارض منذ ذرية آدم اعظم من فتنة الدجال وان الله لم يبعث نبيئاً الا حذر امته الدجال وانا اخر الانبياء وانتم اخر الامم (رفع الحجاجه، ابن ماجه ج ٢ ص ٣٣٣، سنن ابی داؤد ص ٣٠٧، تفسیر ابن كثير ج ٣ ص ٢٣٨ ، كنز العمال ج ٧ ص ١٩٣) ﴿ابو امامہ باہلیؓ سے روایت ہے کہ ٦١
آنحضرت ﷺ نے خطبہ سنایا تو بڑا خطبہ آپ کا دجال سے متعلق تھا۔ آپ نے دجال کا حال ہم سے بیان کیا اور ہم کو ڈرایا۔ فرمایا اس سے بڑا کوئی فتنہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو پیدا کیا۔ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑھ کر نہیں ہوا اور اللہ جل جلالہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں ہو۔ ﴿
- ١٢....... آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے دجال اور دجال سے پہلے تیس
یا زیادہ جھوٹے کذاب ہوں گے۔ وہ ہمارے طریق کے برخلاف چلیں گے۔ دین وسنت کو مٹائیں گے۔
(کنز العمال ج ٧ ص ١٧١)
نتیجہ: ان دلائل سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ جناب سرور عالم ﷺ سب انبیاء سے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی۔ خواہ تشریعی ہو۔ خواہ غیر تشریعی اور جو دعوئی نبوت کرے گا وہ جھوٹا کذاب دجال ہو کر مرے گا۔ پس جب جناب سردار دو جہاں ﷺ نے خود فیصلہ حقانی فرما دیا تو آپ اس میں چون و چرا کرنی اور بے جا تاویل کرنی سراسر بطالت و جہالت وضلالت ہے۔
معانی خاتم
تمام تفاسیر اہل سنت میں خاتم النبیین کے معنی تمام نبیوں کے ختم کرنے والا آخر آنے والا ہے۔ (تفسیر ابن جریر الطبری ج ٢٢ ص ١١، تفسیر درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤، لسان العرب ج ١٥ ص ٥٥، تفسیر کشاف ج ٢ ص ٢١٥ مدارک ج ٣ ص ٢٧٠، جامع البیان ص ٣٦٢، ارشاد الساری شرح صحیح بخاری ج ٦ ص ١، لمعات ج ٤ ص ٣١٤، اخبار اہل حدیث ج ١٩ نمبر ٢٤ مورخہ ١٣ شعبان ١٣٣٠ھ)
- ب...... اگر مہر کے معنی لئے جائیں تو ہمیشہ خطوط، اسٹامپ اور پارسلوں پر مہر
(سیل) بند کرنے کے واسطے لگائی جاتی ہے۔ اگر خاتم کے معنی نگینہ یا تصدیق کے لئے جائیں تو قرآن شریف کی ان آیات شریف کے کیا معنی ہوں گے۔
- الف...... ”ختم اللہ علی قلوبهم وعلی سمعهم“
- ب...... ”الیوم نختم علی افواههم (یسین)“
- ج...... ”وختم اللہ علی قلوبکم من اله غیر اللہ یاتیکم (انعام)“
- د...... ”وختم علی سمعه وقلبه“
- ه...... ”فان یشاء اللہ یختم علی قلبک“
٦٢
ان تمام آیات بینات میں ختم کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ مہر لگانا ایک عربی محاورہ ہے ۔ اگر حقیقی معنی لئے جائیں تو کوئی مرزائی قادیانی ہو یا لاہوری کسی کافر و مشرک کے دل ، کان اور منہ پر مہر لگی ہوئی دکھا سکتا ہے۔ یا کسی ڈاکٹر صاحب نے پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کسی دل پر مہر لگی ہوئی دیکھی ہے۔ پس خاتم النبیین کے معنی ہیں۔ نبیوں کے بند کرنے والا۔ یعنی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو کر یا رسول ہو کر قیامت تک دنیا میں نہیں آئے گا۔
اگر ختم کے معنی جاری ہونے کے لئے جائیں تو عبارت یوں ہونی چاہئے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر جاری ہوگئی۔ پس ختم نبوت کے بعد اسلام میں کوئی نبی نہیں آسکتا۔
پنجم ...... خاتم النبیین کی معانی مرزا قادیانی کی زبانی
- ١ ...... "نبوت جو تامہ کاملہ ہے اور سارے کمالات وحی کو اپنے اندر جمع رکھتی
ہے۔ ہم ایمان لائے ہیں۔ اس کے منقطع ہو جانے پر اس دن سے جب یہ اترا۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“
(توضیح المرام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ٦١)
- ٢ ...... "حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں۔ جن
کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی۔ جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ١٣٨، ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)
- ٣ ...... "بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی ﷺ کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور
مقتداء نہیں۔ جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں۔"
(ازالہ اوہام ص ١٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٨٨)
- ٤ ...... ”اللہ (وہ) وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا
جائے گا۔"
(ازالہ اوہام ص ٥٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤١٦)
- ٥ ...... ”اکیسویں آیت یہ ہے۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم
ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔"
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
٦٣
- ٦....... ”چہارم قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔
خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہء وحی رسالت نہ ہو ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦١١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
- ٧....... ”ہم آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا
ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠،١٩٩)
- ٨....... ”اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو ہمارے رسول کے ساتھ ختم کر دیا اور وحی نبوت
منقطع ہو گئی۔“
(تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩)
- ٩....... ”اللہ تعالیٰ کو یہ شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں
اس کو کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے اسے قطع کر چکا ہے اور بعض احکام قرآن کو منسوخ کر دے یا ان پر بڑھا دے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)
- ١٠....... ”اور نبوت بعد نبی کریم کے منقطع ہو گئی ہے اور نہیں ہے کوئی کتاب بعد
فرقان کے اور وہ پہلے سب صحیفوں سے بہتر ہے اور نہیں کوئی شریعت بعد شریعت محمدیہ کے۔“ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩) میں ختم نبوت کے معنی دیکھو شاید صراط مستقیم نصیب ہو۔ یہ چند اقوال جناب مرزا قادیانی طالبان حق کے واسطے کافی ہیں اور محمودی عقائد کے ابطال کے واسطے شافی ہیں۔
نوٹ: مرزا قادیانی کی تحریرات وعقائد، تاویلات، استعارات، سب متضاد متناقض مخالف کتاب اللہ وسنت ہیں۔ آپ کے لٹریچر سے ایک محقق انسان کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانیت حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ ایک گمراہی و گورکھ دھندے میں پڑ کر اپنا اسلام اور ایمان خارج کر بیٹھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے عقائد کے مختلف رنگ بدلے، مجدد، ملہم، مہدی، مسیح موعود، بروزی وظلی نبی، حقیقی نبی بنتے گئے۔ کبھی خدا کا ہمسر، کبھی خدا کا باپ، کبھی خدا کا بیٹا، کبھی خدا کا محبوب، آخر سب چھوڑ کر کرشن اوتار کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا قادیانی کی ہر ایک تحریر میں اختلاف عظیم ہے۔ ان کے عقائد وتعلیمات کے دیکھنے سے ان کے اسلام اور ایمان پر کافی روشنی پڑسکتی ہے۔ جو آیات الوہیت نبوت وامامت وغیرہ کے قرآن شریف میں ہیں۔ وہی دعاوی
٦٤
مرزا قادیانی نے کر دیئے ہیں۔ شریک فی ال نہ خدا تعالیٰ سے کم رہے اور نہ جناب رسول ...... اور ان کی منہ کی باتیں ہیں۔“
- ١١....... ”کیا نہیں جانتے
استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا اور ہمارے نبی نبی نہیں آئے گا اور طالبین حق کے لئے یہ با کے آنے کی جواز قبول کریں تو گویا ہم نے اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی طری منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا
- ١٢....... ”اگر کوئی کہے کہ ف
اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا۔ تو جواب یہ ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا ال خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا
(نور القرآن ص ١٠، خزا
براہین صابریہ
- ١....... آیات بینات واحاد
صاف ظاہر ہے کہ اسلام میں نبوت کا دروازہ واحمد مجتبیٰ ﷺ نبی آخر الزمان ہے۔ ان کے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا نام کذاب، دجال رکھا
ہیں جزو بدن اور جان
تمام معارف ونکات قرآنی وعلوم انہی انوار نبوت سے چمکیں اور جہاں کی جہا لوگ وہ ہیں جو ائمہ اطہار اولیا وسید الابرار ہیں اور ہر ایک کاذب مدعی کو چھوڑ کر صراط مستق ان ائمہ اطہار نے دنیا میں آ کر اسلام کا حقیقی ر
بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ لیکن بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل یہ ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی
(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
نے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠،١٩٩)
نبوتوں کو ہمارے رسول کے ساتھ ختم کر دیا اور وحی نبوت
(تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩)
نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں خدا تعالیٰ نے اس سے قطع کر چکا ہے اور بعض احکام
(حقیقۃ الوحی ص ٢٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٧)
کے منقطع ہوگئی ہے اور نہیں ہے کوئی کتاب بعد نہیں کوئی شریعت بعد شریعت محمدیہ کے۔“
(ضمیمہ
حجت کے معنی دیکھو شاید صراط مستقیم نصیب ہو۔ یہ واسطے کافی ہیں اور محمودی عقائد کے ابطال کے واسطے
دھوکہ، تاویلات، استعارات، سب متضاد متناقض جن سے ایک محقق انسان کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا اور نہ گمراہی و کور کے دھندے میں پڑ کر اپنا اسلام اور ایمان عقائد کے مختلف رنگ بدلے، مجدد، ملہم، مہدی، مسیح کبھی خدا کا ہمسر، کبھی خدا کا باپ، کبھی خدا کا بیٹا، کبھی دعوٰی کر دیا۔ مرزا قادیانی کی ہر ایک تحریر میں اختلاف جن سے ان کے اسلام اور ایمان پر کافی روشنی پڑ سکتی وغیرہ کے قرآن شریف میں ہیں۔ وہی دعاوی ٦٤
مرزا قادیانی نے کر دیئے ہیں۔ شریک فی الذات والصفات الٰہی اور شریک نبوت محمد ﷺ بن کر نہ خدا تعالیٰ سے کم رہے اور نہ جناب رسول اللہ ﷺ سے گھٹیا رہے ہیں۔ ”قرآن شریف خدا کی ...... اور ان کی منہ کی باتیں ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
- ......١١ ”کیا نہیں جانتے کہ خدائے رحیم کریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی
استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا اور ہمارے نبی ﷺ نے بطور تفسیر آیت مذکور فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا جواز قبول کریں تو گویا ہم نے وحی نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ حالانکہ وہ بند ہو چکا ہے اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ جبکہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
- ......١٢ ”اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ کم نہیں۔ پھر
اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا۔ تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا۔“
(نور القرآن ص ١٠، خزائن ج ٩ ص ٣٣٩ حاشیہ، بابت جون، جولائی، اگست ١٨٩٥ء)
براہین صابریہ
- ......١ آیاتِ بیّنات واحادیثِ سرور کائنات ومرزا قادیانی کی تحریرات سے
صاف ظاہر ہے کہ اسلام میں نبوت کا دروازہ بند ہے اور اسلام کا سردار اور سید الابرار سیدنا محمد مصطفٰی واحمد مجتبٰی ﷺ نبی آخرالزمان ہے۔ ان کے بعد کوئی شخص رسول یا نبی ہو کر نہیں آئے گا۔ جس نے نبوت کا دعوٰی کیا اس کا نام کذاب، دجال رکھا گیا۔ اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق واجماع ہے۔
ہیں جزو بدن اور جان نبی ہے نور نبی ان چاروں میں
تمام معارف ونکات قرآنی وعلوم ظاہر وباطن وحقائق حقانی اور اصلی اسلام کی شعاعیں انہی انوار نبوت سے چمکیں اور جہاں کی جہالت وشرک وکفر کی تاریکی دور ہوگئی۔ نیک اور سعید لوگ وہ ہیں جو ائمہ اطہار اولاد سید الابرار ﷺ کی کامل پیروی کر کے معرفت الٰہی حاصل کرتے ہیں اور ہر ایک کاذب مدعی کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں جو اصلی راہ نجات ہے۔ ان ائمہ اطہار نے دنیا میں آکر اسلام کا حقیقی راستہ بتلایا کہ من کل الوجوہ دروازہ نبوت بند ہو گیا اور ٦٥
قطعی طور پر وحی رسالت منقطع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی ورسول ہرگز نہیں آئے گا۔ ان کے بعد ہر ایک مدعی نبوت کاذب اور کافر ہے۔
- ٢....... جبکہ مرزا قادیانی نبی اللہ نہیں۔ نہ ان کا کلمہ، نہ درود، نہ اذان، نہ شریعت، نہ
احکام، نہ وحی نہ ان کے انکار سے کوئی کافر ہو سکتا ہے۔ بلکہ پکا مسلمان رہتا ہے۔ نہ ان کا ماننا کوئی جزو رکن دنیائے اسلام ہے، نہ ہی غیر مسلم کو مسلمان بناتے وقت ان کا کوئی کلمہ پڑھایا جاتا ہے۔ بلکہ کلمہ توحید ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ سکھایا جاتا ہے۔ اسلام مکمل، شریعت محمدیہ مکمل، قرآن شریف مکمل، نبی مکرم اکمل و افضل، ائمۃ الطاہرین کے فرمان مکمل، آثار صحابہ عظام مکمل تو ان سب کو چھوڑ کر خواہ مخواہ مرزا قادیانی کے دور از قیاس مخالف کتاب اللہ وسنت، الہامات و تحریرات کو مان کر اپنا اسلام کیوں ضائع کریں اور اپنا روپیہ چندوں میں کیوں خراب کریں۔
- ٣....... اگر فرض کر لیا جائے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا اور امت محمدیہ کے
واسطے کھڑکی کھلی ہوئی ہے اور امتی لوگ اس کھڑکی کی مشین سے نبی ڈھلکر نکلتے رہیں گے تو کیا وجہ ہے کہ تیرہ سو سال میں پہلے ایک بھی ایسا مکمل یا باکمال شخص پیدا نہیں ہوا جو اس کھڑکی سے نبی بن کر نکلتا۔ کیا اہل بیت کرام و صحابہ عظام و جناب علی علیہ السلام جو استاد مرزا قادیانی ہیں۔ سب کے سب اس فیضان نبوت سے محروم رہے۔ جنہوں نے تمام عمر اپنی جاں نثاری رسول مقبول ﷺ میں فدا کر دی۔ کفار کے ساتھ جہاد کئے اور ہمیشہ حضور انور ﷺ کے فیضان صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے اور وحی رسالت ﷺ کو دیکھا کئے۔ اور کامل مطیع و تابعدار ہو کر اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ جن پر صلوت و رحمت الٰہی برستی رہی۔ وہ تو نبی ورسول نہ بن سکے اور اس مدرسہ نبوت میں سے سب فیل ہوگئے۔ مگر چودھویں صدی میں مرزا قادیانی اس فرضی کھڑکی کو پھلانگ کر مسند نبوت پر آ بیٹھے ۔ حالانکہ آپ نے جناب سرور عالم ﷺ کے دیدار فیض آثار تو کجا روضہ مطہرہ کی زیارت بھی حاصل نہیں کی اور نہ ہی آپ کو حج بیت اللہ شریف نصیب ہوئے۔
- ٤....... اگر یہ مان لیا جائے کہ سنت اللہ اور فطرۃ الٰہی کے موافق گذشتہ امتوں میں
نبی ورسول ہر زمانہ میں اپنی قوم میں آتا رہا ہے۔ اب بھی آنا چاہئے تو آپ صاحبان کو بتلانا پڑے گا کہ گذشتہ تیرہ سو سال میں امت محمدیہ ﷺ میں کہاں کہاں اور کتنے نبی ورسول آئے۔ ان کا کیا نام ہے اور کس کس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اگر مرزا قادیانی کو نبی اللہ مانتے ہو تو پادری ڈوئی صاحب مدعی نبوت امریکہ کو کیوں جھٹلاتے ہو اور بہاء اللہ بابی ایرانی سے کیوں شرماتے ہو۔
- ٥....... دراصل اسلام کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور ختم نبوت پر منحصر ہے کہ تمام
٦٦
مخلوق زمین و آسمان دنیا جہاں کا ایک ہی خالق و تمام مخلوق ایک ہی مالک وحقیقی رب کی اطاعت ک ورنہ زمین پر فسادات رہتے اور دو خدا ان کے بندے ا طرح منشاء حق تعالیٰ یہی تھا کہ ”واعتصموا بح تمام مخلوق جہاں ایک ہی سردار نبی ورسول اکرم ﷺ کے سب ایک ہی رستہ پر ہو کر چلیں اور خدا تعالیٰ ک فساد و جھگڑا نہ ہو۔ اس لئے دین اسلام کو مکمل کر کے ا ایک نورانی زنجیر میں جکڑ دیا اور قیامت تک توحید و کا سردار محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ پس اس کلمہ طیبہ ک ضرورت نہیں ہے اور قرآن شریف اور سنت نبوی اقوال کی ضرورت نہیں۔ کامل کو چھوڑ کر ناقص پر ع کریں اور اسلام سے خارج ہوں۔
- ٦....... ہر ایک مسلمان پانچوں
و برکاتہ پڑھا کرتا ہے۔ جس سے ظاہر و باطن انو ہے اور ہمیشہ فنا فی الرسول ہو کر حضور انور ﷺ کو ا ہے۔ اس لفظ نے بتا دیا ہے کہ دوسرا کوئی نبی اس ا و بے محل تھا۔ اسی النبی پر روز میثاق میں تمام اروا تھا۔ یہی لفظ النبی یا وہ نبی یا آنحضرت ﷺ تمام خلیفہ صاحب قادیانی ہم کو سیدنا محمد رسول اللہ کہہ کر کافر بنانا چاہتا ہے اور تمام اسلام کی جڑ اکھا میں الفاظ النبی، الرسول (یا ایہا النبی یا ایہا الرسول رسول اللہ ﷺ کے نام نامی واسم گرامی سے مخصوص فائدہ نہ اٹھائے۔ ”ان الله وملئكته يصلون عليه وسلموا تسليما“ یہ فرمان ایزدمنان ت مکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر امت مرحومہ پڑھے ورسول اور اللہ والی امت اور گنہگاروں کے شفیع ہیں
١٧
جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی ورسول ہرگز نہیں ئی نبی اللہ نہیں۔ نہ ان کا کلمہ، نہ درود، نہ اذان، نہ شریعت، نہ کافر ہو سکتا ہے۔ بلکہ پکا مسلمان رہتا ہے۔ نہ ان کا ماننا کوئی مسلم کو مسلمان بناتے وقت ان کا کوئی کلمہ پڑھا جاتا ہے۔ بلکہ رسول اللہ“ سکھایا جاتا ہے۔ اسلام مکمل، شریعت محمدیہ مکمل، ال، ائمۃ الطاہرین کے فرمان مکمل، آثار صحابہ عظام مکمل تو ان دور از قیاس مخالف کتاب اللہ وسنت، الہامات وتحریرات کو اپنا روپیہ چندوں میں کیوں خراب کریں۔
آجائے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا اور امت محمدیہ کے اس کھڑکی کی مشین سے نبی ڈھلکر نکلتے رہیں گے تو کیا وجہ ایسا مکمل باکمال شخص پیدا نہیں ہوا جو اس کھڑکی سے نبی بن کر و جناب علی علیہ السلام جو استاد مرزا قادیانی ہیں۔ سب کے ۔ جنہوں نے تمام عمر اپنی جاں نثاری رسول مقبول ﷺ میں ، ہمیشہ حضور انور ﷺ کے فیضان صحبت سے فیضیاب ہوتے اور کامل مطیع و تابعدار ہو کر اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ جن نبی ورسول نہ بن سکے اور اس مدرسہ نبوت میں سے سب فیل قادیانی اس فرضی کھڑکی سے جھانک کر سند نبوت لے آئی۔ حالانکہ دار فیض آثار تو کجا روضہ مطہرہ کی زیارت بھی نصیب نہیں ہوئی۔
آجائے کہ سنت اللہ اور فطرۃ الٰہی کے موافق گذشتہ امتوں میں ں اتار رہا ہے۔ اب بھی آنا چاہئے تو آپ صاحبان کو بتلانا ت محمدیہ ﷺ میں کہاں کہاں اور کتنے نبی ورسول آئے۔ ان کا ت ہوئے۔ اگر مرزا قادیانی کو نبی اللہ مانتے ہو تو پادری ڈوئی مانتے ہو اور بہاء اللہ بابی ایرانی سے کیوں شرماتے ہو۔ ام کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور ختم نبوت پر منحصر ہے کہ تمام
٦٦
مخلوق زمین و آسمان دنیا جہاں کا ایک ہی خالق مالک رازق اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ تاکہ تمام مخلوق ایک ہی مالک و حقیقی رب کی اطاعت و عبادت کریں۔ اگر دو خدا مالک ہوتے تو ہمیشہ زمین پر فسادات رہتے اور دو خدا ان کے بندے ہمیشہ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ اسی طرح منشاء حق تعالیٰ یہی تھا کہ ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘ پر عمل کر کے تمام مخلوق جہاں ایک ہی سردار نبی ورسول اکرم کے ماتحت ہو کر حقیقی وحدت حاصل کریں۔ سب کے سب ایک ہی رستہ پر ہو کر چلیں اور خدا تعالیٰ کے بندے ایک ہی دین پر رہیں۔ تاکہ ان میں فساد و جھگڑا نہ ہو۔ اس لئے دین اسلام کو مکمل کر کے کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے نورانی زنجیر میں جکڑ دیا اور قیامت تک توحید ورسالت کا اقرار امت محمدیہ ﷺ کا طے کیا کہ دنیا کا سردار محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ پس اس کلمہ طیبہ کی موجودگی میں ہم کو کسی دوسرے نبی ورسول کی ضرورت نہیں ہے اور قرآن شریف اور سنت نبوی ﷺ کی موجودگی میں ہم کو اور کسی کتاب اور اقوال کی ضرورت نہیں۔ کامل کو چھوڑ کر ناقص کیوں اختیار کریں۔ نور کے عوض میں اندھیر خرید کریں اور اسلام سے خارج ہوں۔
- ٢....... ہر ایک مسلمان پانچوں وقت نماز میں اسلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ پڑھا کرتا ہے۔ جس سے ظاہر و باطن اوّل آخر النبی سے مراد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ لینا ہے اور ہمیشہ فدائی الرسول ہو کر حضور انور ﷺ کو اپنا سردار و آقائے نامدار سمجھ کر درود شریف پڑھتا ہے۔ اس لفظ نے بتا دیا ہے کہ دوسرا کوئی نبی اس امت کا ولی نہیں۔ اگر کوئی ہوتا تو لفظ النبی بے معنی و بے محل تھا۔ اسی النبی پر روز میثاق میں تمام ارواح انبیاء مرسلین علیہم السلام سے وعدہ نصرت لیا تھا۔ یہی لفظ النبی یا وہ نبی یا آنحضرت ﷺ تمام امت سابقہ میں مشہور و معروف چلا آیا ہے۔ مگر خلیفہ صاحب قادیانی ہم کو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے چھڑا کر اور اقرار نبوت مرزا قادیانی کرا کر کافر بنانا چاہتا ہے اور تمام اسلام کی جڑ اکھاڑنا چاہتا ہے۔ جو امر محال ہے۔ قرآن شریف میں الفاظ النبی ، الرسول (یا ایہا النبی یا ایہا الرسول ) کا استعمال بکثرت ہوا ہے اور النبی کو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے نام نامی واسم گرامی سے مخصوص کر دیا ہے۔ تاکہ کوئی دوسرا جھوٹا نبی اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔ ’’ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایہا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘‘ یہ فرمان ایزد منان قیامت تک ہے اور صلوٰۃ اور درود شریف اس نبی مکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر امت مرحومہ پڑھتے رہیں گے جو اسلام کے اکیلے بادشاہ اور نبی ورسول اور اللہ والی امت اور گنہگاروں کے شفیع ہیں۔ یہی ختم نبوت کی اعلیٰ دلیل ہے۔
٦٧
- ٧...... اس ختم نبوت کی حفاظت خداوند تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ ”انا نحن
نزلنا الذكر وانا له لحافظون“ کے فرمان سے جس کاذب، جھوٹے شخص نے دعویٰ نبوت کیا وہ کاذب ٹھہرایا گیا۔ جیسے مسیلمہ کذاب اور جو مقابلہ میں آیا وہ مارا گیا اور اسلام سے خارج ہو کر قوم کافرین میں شمار ہوا۔
- ٨...... مسلمانوں کی ہر ایک مسجد میں پانچوں وقت اذان میں اشہد ان محمد رسول الله
کے منادی بڑے زور و شور سے ہوتی رہتی ہے۔ جب تک یہ اذان قائم ہے۔ تب تک ہر مسلمان کی گواہی ہوتی رہے گی کہ وہ رسول ﷺ جس کی رسالت کے اقرار سے انسان مسلمان ہوتا ہے۔ صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور کوئی نبی و رسول نہیں جس نے محمد رسول اللہ ﷺ سے منہ موڑا۔ اس نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا۔ وہ کافر و دوزخی ہو کر مرا۔ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“
- ٩...... ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن
شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے اور وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں...... ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا اور جس نے ہمارے رسول اللہ ﷺ اور سردار کے بعد کہا کہ میں نبی اور رسول حقیقی ہوں۔ اس نے افتراء باندھا۔ قرآن کو ترک کیا۔ احکام شریعت کو چھوڑا۔ وہ کافر کذاب ہے۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)
- ١٠...... ”نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نبیوں میں مشترک تھا۔ یعنی مسلمانوں
اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“
(راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٨)
پس مسلمانو! تم صراط مستقیم کو چھوڑ کر قادیانی گورکھ دھندے میں مت پھنسو اور ائمہ اطہار اولاد سید الابرار ﷺ حقیقی پیشویان و وارثان مذہب اسلام کی پیروی کرو تا کہ حیات ابدی راہ حق حاصل ہو۔
ورنہ در ہر طریق گمراہی
تمت بالخیر !
٦٨
نے اپنے ذمہ لی ہے۔ ”انا نحن کاذب، جھوٹے شخص نے دعویٰ نبوت میں آیا وہ مارا گیا اور اسلام سے خارج
اس وقت اذان میں اشہد ان محمد رسول اللہ ایمان قائم ہے۔ تب تک ہر مسلمان کی کے اقرار سے انسان مسلمان ہوتا ہے۔ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے منہ موڑا۔ اس محمد رسول اللہ“ اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن سکتا ہے اور وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد ے رسول اللہ ﷺ اور سردار کے بعد قرآن کو ترک کیا۔ احکام شریعت کو حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧) نبیوں میں مشترک تھا۔ یعنی مسلمانوں کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“ (راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٨) کے پھندے میں مت پھنسو اور ائمہ السلام کی پیروی کرو تا کہ حیات ابدی راہ
خواہی گمراہی !
سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
قادیان دارالامان
میں
انقلاب
خان حبیب الرحمن خان کابلی قادیانی
تمہید
قادیان میں جو موجودہ نظام قائم کیا گیا ہے اس سے احمدیت کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسیح موعود نے جماعت احمدیہ کی بنیاد اس لئے رکھی تھی کہ دنیا میں اس کے ذریعہ اشاعت اسلام ہو اور خدا کی مخلوق کا اخلاق درست ہو۔ دنیا میں امن قائم ہو اور سب سے بڑی بات یہ ہے۔ ایسی پر یقین اور محکم جماعت قائم ہو۔ جس کے ذریعہ ملک اور ملت کی آزادی کے لئے بھی بوقت ضرورت کام کیا جاسکے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔ آپ کا آخری لیکچر پیغام صلح اس بات کا بین ثبوت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کانگریس جو ملک کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ اپنے آخری لیکچر پیغام صلح میں آپ نے نہایت لطیف پیرائے میں کانگریس کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔
لیکن قادیان کا موجودہ نظام انگریزوں کی ایجنٹی سکھاتا ہے اور احمدیوں کو مذہب سے بیگانہ کرتا ہے اور لامذہبیت کی طرف لے جاتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی مخالفت اور ذاتی اقتدار پر سب سے زیادہ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور اس موجودہ نظام کے ماتحت اشاعت احمدیت اور اشاعت اسلام کے لئے قطعاً کوئی کام نہیں کیا جاتا۔ اس لئے جماعت احمدیہ کے اس حصہ میں جس کو اسلام اور احمدیت اور اپنے وطن سے محبت ہے۔ ہمیشہ موجودہ نظام کے خلاف احتجاج بلند ہوتا رہا ہے۔ مگر روپے اور بیجا رعب و داب سے مخلصین کو دبانے کی کوشش کر کے کامیابی حاصل کی گئی۔
١٩٣٤ء کے آخر میں ریفارم لیگ نے بھی جماعت کے موجودہ نظام کے خلاف احتجاج کیا۔ لیکن اس احتجاج کو بھی پراسرار طریقوں سے بند کرانے کی کوشش کی گئی۔ آج بھی یہی کوشش ہے اور اس بات کی طرف قادیان کے ارباب اقتدار اور خود جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد ہرگز آمادہ اور تیار نہیں ہوتے کہ قادیان کے موجودہ نظام کو درست کیا جائے اور جماعت میں وہ روح قائم کی جائے جو مسیح موعود قائم کرانا چاہتے تھے۔ قادیان کے ارباب بست و کشاد اور خود جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد کی اس تغافل کیشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت میں کئی دفعہ انتشار پیدا ہوا اور ابھی اس انتشار میں کمی پیدا نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ انتشار ایک خوفناک انقلاب کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
٢
میں نے اور احمدیہ ریفارم لیگ نے گندے الزامات نہیں عائد کئے اور نہ کبھی جماعت قادیان کے ارباب اقتدار ہمیشہ اپنی فریب کاریوں اور یہ ان کی آرزو رہی ہے کہ کسی طرح میں اور احمد دیں۔ اس کے لئے کئی قسم کے پاپڑ بیلے گئے۔ مگر اقتدار اور جناب مرزا بشیر الدین محمود کو اس بات کا ناموافق حالت میں بھی وہ ترک احمدیت کا اعلان مقتدر احمدیہ ریفارم لیگ کے نصب العین اور خیالات اور منشی فخر الدین اور دیگر متعدد احمدیوں کی علیحدگی بھی وقت ہے کہ قادیان کے صاحب اقتدار اور سے کام لیں۔ منبع فساد کو تلاش کر کے اس کو بند کریں ملتانی اور شیخ عبدالرحمن مصری کی علیحدگی جماعت ہے اور کوشش کی کہ وہ جماعت سے علیحدہ نہ ہوں ریفارم لیگ کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ مگر پھر بھی ملاقات اس لئے مناسب نہ سمجھی کہ مبادا ہماری ملا لیکن اب میں نے اور ریفارم لیگ ہمارے نہ ملنے کی وجہ سے سخت نقصان ہم کو بھی نے ان کو تنگ کیا اور میں نے اور ریفارم لیگ کوشش کی۔ جس کا نتیجہ اس صورت میں رونما ہوا چلے جائیں۔ مجھے اور ریفارم لیگ کو اس غلطی پر کوشش یہ ہوگی کہ منشی فخر دین صاحب اور شیخ دشمنوں سے نہ ملنے دیا جائے۔ اپنے ساتھ ملا لیں ظالمانہ نظام کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔ یا ا خدا کی ہزار ہا مخلوق کو قادیان کے موجودہ مظالم حاصل کریں۔ خدا تعالیٰ اس نیک مقصد میں ہمیں
میں نے اور احمدیہ ریفارم لیگ نے کبھی جناب مرزا بشیر الدین محمود کے کریکٹر پر گندے الزامات نہیں عائد کئے اور نہ کبھی جماعت کو ابتلاء میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن قادیان کے ارباب اقتدار ہمیشہ اپنی فریب کاریوں کے ذریعہ اس کوشش میں مصروف رہے ہیں اور یہ ان کی آرزو رہی ہے کہ کسی طرح میں اور ارکان احمدیہ ریفارم لیگ ترک احمدیت کا اعلان کر دیں۔ اس کے لئے کئی قسم کے پاپڑ بیلے گئے۔ مگر خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ قادیان کے ارباب اقتدار اور جناب مرزا بشیر الدین محمود کو اس بات میں سخت ناکامی ہوئی اور ہم سے باوجود سخت ناموافق حالت میں بھی وہ ترک احمدیت کا اعلان نہیں کرا سکے۔ ان کی ہی روش سے بیزار ہو کر مقتدر احمدیہ ریفارم لیگ کے نصب العین اور خیالات کے حامی ہوئے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اور منشی فخر الدین اور دیگر متعدد احمدیوں کی علیحدگی ریفارم لیگ کی کامیابی کا نمایاں نشان ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ قادیان کے صاحب اقتدار اور جناب مرزا بشیر الدین محمود ٹھنڈے دل اور دماغ سے کام لیں۔ منبع فساد کو تلاش کر کے اس کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ ریفارم لیگ کو منشی فخر الدین ملتانی اور شیخ عبدالرحمن مصری کی علیحدگی جماعت پر قطعا مسرت نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ رنج محسوس کیا ہے اور کوشش کی کہ وہ جماعت سے علیحدہ نہ ہوں۔ لیکن جماعت کے موجودہ رویہ نے میری اور ریفارم لیگ کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ مگر پھر بھی میں نے اور ریفارم لیگ نے ان لوگوں سے ملاقات اس لئے مناسب نہ سمجھی کہ مبادا ہماری ملاقات سے زیادہ برے نتائج مرتب ہو جائیں۔
لیکن اب میں نے اور ریفارم لیگ نے اس بات کو بہت بری طرح محسوس کیا کہ ہمارے نہ ملنے کی وجہ سے سخت نقصان ہم کو بھی اور ان کو بھی پہنچا ہے۔ اس لئے کہ قادیان والوں نے ان کو تنگ کیا اور میں نے اور ریفارم لیگ نے بھی بجائے ہمدردی کے ان کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ اس صورت میں رونما ہوا کہ یہ لوگ مسیح موعود کے گندہ دہن دشمن کی پناہ میں چلے جائیں۔ مجھے اور ریفارم لیگ کو اس غلطی کا افسوس ہے اور اب میری اور ریفارم لیگ کی انتہائی کوشش یہ ہوگی کہ منشی فخر دین صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب جیسے فاضل افراد کو مسیح موعود کے دشمنوں سے نہ ملنے دیا جائے۔ اپنے ساتھ ملائیں اور اس طرح ان کی امداد سے قادیان کے موجودہ ظالمانہ نظام کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔ یا اس کی اصلاح کی جائے اور غریبوں اور مسکینوں اور خدا کی ہزار ہا مخلوق کو قادیان کے موجودہ مظالم سے آزاد کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ خدا تعالیٰ اس نیک مقصد میں ہمیں کامیابی عطاء کرے۔ آمین!
٣
نوٹ: اس پمفلٹ میں قادیان کے مظالم کی جو کیفیت درج ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیان میں مظلومین قادیان کی زندگیاں کس قدر مصیبت میں ہیں۔ مظلومین قادیان کی پشت پر کوئی طلائی طاقت اہل قادیان کی طرح نہیں۔ اس لئے ہر مذہب وملت کے ایسے افراد سے اپیل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مظلومین کی امداد کرنا بہترین خدمت ہے۔ وہ مظلومین قادیان کی امداد کریں۔ امداد کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ ہمارے لٹریچر کو سینکڑوں کی تعداد میں خرید کر مفت تقسیم کیا جائے۔ اس سے زیادہ امداد کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔
انچارج دفتر ریفارم لیگ لاہور!
حقائق ومعارف
خدا رکھے حکومت کو کہ آڑے وقت کام آئی خلافت کا وگرنہ ہوچکا تھا ساز ناکارا
اشارہ چشم ارزق گوں کا اہل دل سمجھتے ہیں حکومت کی نظر میں قادیاں ہے آنکھ کا تارا
زمین قادیان ارضِ حرم ہے کیا حقیقت میں؟
ہوئے ارضِ حرم میں کیا میاں صاحب سریرآرا
یہاں ملتانی ومصری بھی رہتے ہیں مگر ان کو نہیں دم مارنے کا سامنے محمود کے یارا
انہیں ہندو مسلماں اور سکھ محروم آزادی؟ قیامت ہے نہ ہو مظلوم کی فریاد کا یارا
حقائق اور معارف قادیاں کے کھل نہیں سکتے
سمجھ سکتا نہیں اس چیستاں کو فہمِ بے چارا
یہاں ادراک ودانش کام کیا دیں اے خرد مندو ہے کب الہام کے آگے کسی عاقل نے دم مارا
یہاں علم وعمل فکر رسا بیکار ہیں سارے کہ یہ چالیں سیاسی کھیل ہیں اعجاز کا سارا
یہ اسرار وغوامض معترض پہ کھل نہیں سکتے
کہ کس کشود بکشائد بحکمت ایں معمارا
راست گوئی کی سزا
صلہ اچھا خلافت سے ملا اخلاص مندی کا وہی ٹھہرے منافق جن میں کچھ غیرت تھی ایمانی
خدا نا کردہ کیوں ہو معصیت سے آپ کو نسبت کہ ہر دھبہ ہے دامن پر گواہِ پاک دامانی
٤
سنا ہے قادیاں میں جو خدا کے نیک بندے
یہ حالت ہے اسی دارالاماں میں حرف آ
ہوئی ہیں جمع بائیکاٹ کی کوشش کے تر
کوئی مصری سے پوچھے کیوں کہا تھا اس امار
ڈاکٹر احسان علی اور
مقد
نوٹ: قادیان میں جو کچھ صاحب مصری کی صورت میں رونما ہو متعلق ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جائے۔ تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ مخالفین کو جن کی پشت پناہ جماعت احمد
احسان علی بنام محمد اسماعیل
قادیان میں ایک ڈاکٹر (معالج) ہے کی ہے جو کہ اسی جگہ (یعنی قادیان میں اسماعیل کے خلاف یہ الزام تھا کہ اس نے مذہبی اور اخلاقی طور پر ناواجب تھی ۔ امور عامہ قادیان نے اس مقدمہ کی ط ناظر صاحب نے ملزم محمد اسماعیل کو ب بیان تقریباً تمام ان گواہوں کے حلف بیان کا ایک حصہ احسان علی کو بطور گواہ متعلق ہے۔ ملزم نے بیان کیا کہ اس میں ریا کاری سے مدد لیتا ہے اور گاہ پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے ہیں۔ عصمت دری کرتا ہے۔ اس کے
سنا ہے قادیاں میں جو خدا کے نیک بندے ہیں خلیفہ کے غضب سے ان کو مشکل ہے اماں پانی
یہ حالت ہے اسی دارالاماں میں حرف حق کہہ کر نہ دانہ عبدالرحمٰن کو نہ فخر الدین کو پانی
ہوئی ہیں جمع بائیکاٹ کی کوشش کے مرکز پر خلیفہ کی نظر میں طاقتیں جتنی تھیں روحانی
کوئی مصری سے پوچھے کیوں کہا حق اس زمانے میں چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
ڈاکٹر احسان علی اور محمد اسماعیل رکن ریفارم لیگ کے
مقدمہ کا دلچسپ فیصلہ
نوٹ: قادیان میں جو جدید انقلاب منشی فخر الدین ملتانی اور جناب شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری کی صورت میں رونما ہوا ہے۔ اس کی ابتداء احسان علی اور اس کے بھائیوں سے متعلق ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ احسان علی کے متعلق عدالت کے فیصلہ کو ذیل میں درج کیا جائے۔ تا کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ منشی فخر الدین اور جناب شیخ عبدالرحمٰن مصری اور ان کے مخالفین کو جن کی پشت پناہ جماعت احمدیہ بنی ہوئی ہے، میں کس قدر فرق ہے۔
احسان علی بنام محمد اسماعیل زیر دفعہ نمبر ٥٠٠ ہتک عزت، احسان علی خان کابلی جو کہ قادیان میں ایک ڈاکٹر (معالج) ہے۔ اس نے ایک شکایت زیر دفعہ نمبر ٥٠٠ محمد اسماعیل کے نام کی ہے جو کہ اسی جگہ (یعنی قادیان) میں ڈاکٹر ہے۔ فریقین جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔ ملزم اسماعیل کے خلاف یہ الزام تھا کہ اُس نے پولیس حکام کو رشوت کے ساتھ ساز باز کر رکھی تھی۔ جو کہ مذہبی اور اخلاقی طور پر ناواجب تھی۔ اس وجہ سے جماعت احمدیہ کو نقصان پہنچا تھا۔ فرزند علی ناظر امور عامہ قادیان نے اس مقدمہ کی دیکھ بھال کی۔ اس نے متعدد گواہوں کے بیانات بھی سنے۔ ناظر صاحب نے ملزم محمد اسماعیل کو بھی بیان دینے کے لئے کہا۔ ملزم نے ایک تحریری بیان دیا۔ یہ بیان تقریباً تمام ان گواہوں کے متعلق ہے۔ جنہوں نے ملزم کے خلاف شہادتیں دی تھیں۔ اس بیان کا ایک حصہ احسان علی کو بطور گواہ ذکر کرتا ہے اور موجودہ مقدمہ صرف بیان کے اس حصہ کے متعلق ہے۔ ملزم نے بیان کیا کہ احسان علی ایک جھوٹا دھوکہ باز اور باتونی شخص ہے اور تمام باتوں میں ریا کاری سے مدد لیتا ہے اور پھر یہ کہا ہے کہ احسان علی کی اخلاقی حالت سخت خراب ہے اور اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس طرح وہ ان عورتوں کو جو ہسپتال میں علاج کرانے آتی ہیں۔ عصمت دری کرتا ہے۔ اس ضمن میں مسمات سلمیٰ کا خاص ذکر ہے۔ اس طرح اسے ناظر اعلیٰ
٥
کی رپورٹ پر ہسپتال سے خارج کر دیا گیا تھا۔ ناظر اعلیٰ ذوالفقار علی خان نے لکھا تھا کہ ایسے آدمی کی موجودگی میں یہ سخت خطرہ تھا کہ ہماری بہو بیٹیاں ہسپتال میں علاج کرائیں۔ ایک اور الزام یہ تھا کہ آب کاری کے انسپکٹر کو خبر دی تھی کہ حشمت اللہ کے پاس کوکین ہے۔
ملزم اسماعیل نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اوپر والے الزامات اس کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں۔ احسان علی مستغیث کے بیان کے مطابق یہ بیانات جھوٹے ہیں اور صرف احسان علی کو بدنام کرنے کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر احسان علی اپنے آپ کو ایک باعزت آدمی ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ باعزت لوگوں کے گھروں پر جاتا ہے اور ان الزامات سے اس کی شہرت اور عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔ احسان علی اپنی طرف سے غلام محمد ہیڈ ماسٹر گرلز سکول قادیان اور قاضی محمد عبداللہ ٹیچر اور نذر حسین کے بیانات پیش کرتا ہے کہ اسے بڑی عزت اور شہرت حاصل ہے۔
دوسری طرف اسماعیل ملزم یہ کہتا ہے کہ اس نے یہ الزام صرف اپنی پوزیشن کو صاف کرنے کی غرض سے لگائے اور مقصد یہ تھا کہ وہ گواہ جنہوں نے اس کے خلاف الزام لگائے ہیں۔ کسی طرح بھی اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ یعنی اسماعیل کے یہ الزام صرف اپنے بچاؤ کی خاطر عائد کئے ہیں۔ اپنے الزامات کی تائید میں اس نے دس گواہ پیش کئے ہیں۔
- ١...... ایک لڑکی سلمیٰ بعمر ٢٢ سال نے بیان دیا کہ وہ نور ہسپتال قادیان میں
بغرض علاج گئی تھی اور احسان علی نے اسے لیٹ جانے کو کہا اور پھر عصمت دری کی۔ لڑکی نے شور مچایا اور مرزا محمود قادیانی سے رپورٹ کی۔
- ٢...... زینب ایک اور نوجوان عورت تھی۔ اس نے بھی بیان دیا کہ احسان علی نے
اس کی عصمت دری کی ہے۔
- ٣...... میاں غلام قادر قریشی نے بھی بیان دیا اور کہا کہ احسان علی ایک بداخلاق
شخص ہے اور زینب اور سلمیٰ کی اس نے اپنے روبرو عصمت دری کا مرتکب احسان کو بتایا۔
- ٤...... مسٹر ہریونس لال کھنہ اور خاں خالق داد خاں بٹالہ کے مجسٹریٹ تھے۔ وہ
کہتے ہیں کہ اسماعیل نے کبھی ہم سے قادیان کے متعلق بات نہیں کہی۔ جس میں کہ مرزا محمود قادیانی کی مخالفت کی گئی ہو۔
- ٥...... سید ولی اللہ شاہ صاحب سیکرٹری دعوت و تبلیغ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ......
شکایت کی تھی کہ احسان علی نے اس کی عصمت دری کی ہے۔ اس بات کی تفتیش کی گئی۔ لیکن جرم غلط ثابت ہوا۔
٦
٦....... دولت رام نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر عبداللہ اور اسماعیل دونوں احسان علی کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔ محمد یعقوب کمپوڈر نور ہسپتال نے ایک خط اسماعیل کو لکھا تھا۔ جس میں بیان کیا گیا تھا کہ احسان علی کا اخلاق برا ہے اور اس نے ایک عورت کے ساتھ برا سلوک کیا ہے۔
ایک ملزم جو اپنے بچاؤ کی خاطر دوسرے پر الزام عائد کرے وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ملزم کا خیال ان الزامات کے عائد کرنے سے اپنے آپ کو بچانے کا تھا اور اس کا مقصد ضرور یہ تھا کہ احسان علی ایک ناقابل اعتبار شخص ہے اور اس کے اخلاق ٹھیک نہیں ہیں۔ بہر حال یہ الزام ثابت کرتے ہیں کہ اس کا اخلاق ٹھیک نہیں ہے۔ ایک اور بیان سے ظاہر ہے کہ احسان علی کا ایک نام سان ہے۔ جس کے معنی عورت کے پیچھے بھاگنے والے کے ہیں۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ ملزم اسماعیل چونکہ احمدیہ جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے اور مرزائی اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس لئے کئی احراری لوگ جو قادیان میں ہیں۔ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ بہر حال ملزم سے اس بات کی توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اس حد تک ثبوت بہم پہنچائے۔ جہاں تک کہ احسان علی کو اس کی سزا مل سکے۔ ایک اور الزام چونکہ احسان علی پر عائد کیا گیا تھا۔ وہ بہر حال ثابت نہیں ہوتا۔ الزام یہ تھا کہ احسان علی جھوٹا اور مکار ہے۔ ان باتوں کا صحیح ثبوت نہیں ملتا۔ اس لئے میں سمجھ سکتا ہوں کہ ملزم اپنے ثبوت کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کر سکا۔ ہو سکتا ہے کہ اسماعیل نے کسی خاص نقصان پہنچانے کی غرض سے یہ الزامات عائد نہ کئے ہوں۔ لیکن ملزم اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ احسان علی کی عزت اور شہرت کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ اس وجہ سے ملزم زیر دفعہ نمبر ٥٠٠ مجرم ہے۔ میں ان تمام وجوہات کے پیش نظر پچاس روپے جرمانہ کرتا ہوں اور بصورت عدم ادائیگی تین ماہ قید بامشقت کی سزا دیتا ہوں۔ جرمانہ بصورت ادائیگی احسان علی کو بطور جرمانہ دیا جائے گا۔ ویشنو بھگوان ایڈیشنل مجسٹریٹ ٢١ ستمبر ١٩٣٥ء
نوٹ: محمد اسماعیل صاحب کی طرف سے ریفارم لیگ نے ٥٠ روپے جرمانہ ادا کر دیئے تھے اور بعد ازاں معلوم ہوا ہے کہ محمد اسماعیل اپیل میں بالکل بری ہو گئے۔ محمد اسماعیل اب معافی مانگ کر ریفارم لیگ سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ خان کاملی
قادیان میں انقلاب عظیم
ہر احمدی کو اس امر کا اقرار ہے کہ تقویٰ وطہارت پیدا کرنے اور اخلاق فاضلہ کا سبق دینے کے لئے احمدیت کا ظہور ہوا۔ مسیح موعود نے اپنی ساری زندگی جماعت میں نیکی وتقویٰ پیدا
٧
کرنے میں صرف فرمادی۔ مگر ہماری بدقسمتی سے خلافت ثانیہ کا عہد احمدیت کی بدنامی کا باعث ہورہا ہے۔ خلیفہ صاب جماعت کو مذہب سے ہٹا کر سیاست اور مادیت کی طرف لے جارہے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہی وجہ ہے کہ جماعت سے نیکی کا اصل جوہر مفقود ہورہا ہے۔ خلیفہ صاحب کی تمام تر توجہ جائداد پیدا کرنے اور امیر وکبیر ہستی بننے میں مرکوز ہے۔ رات دن بلڈنگیں بنوانے اور زمینیں خریدنے کی فکر ہورہی ہے۔ تبلیغ احمدیت بطور نمائش رہ گئی ہے۔ آج خلیفہ صاحب کے نزدیک احمدیت نام ہے۔ مقدمہ بازی، ڈپلومیسی، حکمت عملی، چالبازی، دعوت وٹی پارٹی، حکام سے اعلیٰ تعلقات کا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ بہشتی مقبرہ اور تبلیغ کے نام پر موصول ہونے والا تمام روپیہ کہاں صرف ہورہا ہے۔ کیا، روپیہ میں سے ایک آنہ بھی تبلیغ پر صرف ہوتا ہے؟
جناب خلیفہ قادیان کی ذات پر اعتراضات
عرصہ دراز سے خلیفہ صاحب کی ذات پر اس نوعیت کے اعتراضات ہورہے ہیں کہ آپ کی زندگی منصب خلافت کے منافی ہے۔ یہ سلسلہ آپ کے عہدہ خلافت پر فائز ہونے سے قبل کا جاری ہے۔ چونکہ خلیفہ صاحب کو یہ حقائق بخوبی معلوم ہیں۔ اس لئے اپنے کاروبار کو محفوظ رکھنے اور بیرونی مریدوں کے اخلاص کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے حفظ ماتقدم کے طور پر احتیاطاً مختلف طریقے اختیار کئے۔ مثلاً:
- ١....... احمدیہ جماعت لاہور کے خلاف اپنی جماعت میں انتہائی نفرت، بغض
وکینہ پیدا کیا گیا۔ تاکہ سچے اعتراضات کو اس جماعت کا فعل کہہ کر پناہ حاصل کی جائے۔ درآنحالیکہ اس اعتراض کا جماعت لاہور سے کوئی دور کا بھی تعلق نہ ہو۔ (فی زمانہ اس حربہ میں یہ اضافہ ہوگیا ہے کہ سچے معترض کو احراری بتا کر جماعت کی توجہ ہٹائی جاتی ہے)
- ٢....... وقتاً فوقتاً جماعت میں یہ خیال پیدا کیا گیا کہ ہماری جماعت میں منافق
پیدا ہوگئے ہیں۔ حتیٰ کہ خلیفہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ رویا میں تمام منافقین جن کی تعداد ٥٠٠ ہے، کی شکلیں دکھائی گئی ہیں۔ تاکہ ہر معترض کو منافق بتا کر خلاصی حاصل کی جائے۔
- ٣....... اپنے اعتراضات پر اصرار کرنے والے کو جماعت سے خارج اور بائیکاٹ
کر کے مریدوں کو قطع کلام کا حکم دے کر اسے جور و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاکہ نہ مرید اس سے کلام کریں اور نہ سچے اعتراضات سے متاثر ہوں۔
- ٤....... ہر سچے معترض کے خلاف چند وجوہات تراش کر یہ پراپیگنڈا کیا جاتا ہے
کہ یہ اعتراضات بغض و کینہ کا نتیجہ ہیں۔
٨
- ٥....... ہر مہاجر احمدی
تاکہ حقیقت حال معلوم ہونے پر وہ ا پورے کرسکیں۔
- ٦....... قادیان کو ریاس
لئے زدوکوب، مارپیٹ، قتل وغارت کی ہیبت کا سکہ بیٹھ جائے۔
- ٧....... معترضین کو بط
جاتی ہے۔
آہ! یہ طریق اس جماعت کی گئی تھی۔ جو غیر احمدیوں کو اس لئے گناہ سمجھتے ہیں۔ بعض مقامات پر احمدی ہم غیر احمدیوں کے اس طریق کو دیکھ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ مگر افسو اعتراضات کا غیر متناہی سلسلہ
باوجود خلیفہ صاحب کی جماعت کے حقیقی ہمدرد اپنی جانوں کر کے خلیفہ صاحب سے یہ کر سکے۔ اس لئے آپ اس عہدہ اسے اپنی غلامی سے آزاد کردیں۔ لیا گیا۔ کسی کو لاہوری، کسی کو مناف کیا گیا۔ وہ بہشتی مقبرہ جو پاک و قاتلوں کو جگہ ملنے لگی۔ قادیان می رہے اور وہ ہمیشہ اس غلطی میں مبت مگر خود ہمت نہ کی کہ تمام کے تمام صاحب بھی ہمیشہ نہایت ہوشیاری پر عنایات کی بارش کرتے ہوئے
لافت ثانیہ کا عہد احمدیت کی بدنامی کا باعث ہو رہا ہے اور مادیت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اگر اصل جوہر مفقود ہو رہا ہے۔ خلیفہ صاحب کی تمام تر میں مرکوز ہے۔ رات دن بلڈنگیں بنوانے اور زمینیں میں لگی رہتی ہے۔ آج خلیفہ صاحب کے نزدیک مت عملی، چال بازی، دعوت وٹی پارٹی، حکام سے اعلیٰ ذاتی مقبرہ اور تبلیغ کے نام پر موصول ہونے والا تمام کیا آج بھی تبلیغ پر صرف ہوتا ہے؟
اعتراضات
ہم پر اس نوعیت کے اعتراضات ہو رہے ہیں کہ سلسلہ آپ کے عہدہ خلافت پر فائز ہونے سے کو معلوم ہیں۔ اس لئے اپنے کاروبار کو محفوظ کے لئے اپنے حفظ ما تقدم کے طور پر احتیاطاً خلاف اپنی جماعت میں انتہائی نفرت، بغض جماعت کا غسل کہہ کر پناہ حاصل کی جائے۔ کوئی بھی تعلق نہ ہو۔ (فی زمانہ اس حربہ میں یہ جماعت کی توجہ ہٹائی جاتی ہے)
یہ خیال پیدا کیا گیا کہ ہماری جماعت میں منافق کہا کہ رویا میں تمام منافقین جن کی تعداد ٥٠٠ ہے، کو غلامی حاصل کی جائے۔
کرنے والے کو جماعت سے خارج اور بائیکاٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تا کہ نہ مرید اس سے خلاف چند وجوہات تراش کر یہ پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ
٨
- ٥...... ہر مہاجر احمدی کو مفلس وقلاش بنانے کا پروگرام اختیار کیا گیا ہے۔
تا کہ حقیقت حال معلوم ہونے پر وہ اس قابل نہ رہیں کہ قادیان سے باہر جا کر زندگی کے دن پورے کر سکیں۔
- ٦...... قادیان کو ریاست کی شکل دی گئی۔ تمام مقامی پبلک کو مرعوب رکھنے کے
لئے زدوکوب، مار پیٹ، قتل وغارت کی وارداتیں رونما کی گئیں۔ تا کہ معترض پر خلیفہ صاحب کی ہیبت کا سکہ بیٹھ جائے۔
- ٧...... معترضین کو بعض مقدمات میں مبتلا کر کے خاموش کرانے کی کوشش کی
جاتی ہے۔
آہ! یہ طریق اس جماعت میں اختیار کئے گئے۔ جو نیکی وتقویٰ پیدا کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی۔ جو غیر احمدیوں کو اس لئے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا کرتے تھے کہ وہ احمدیت کا لٹریچر پڑھنا گناہ سمجھتے ہیں۔ بعض مقامات پر احمدیوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ احمدیوں سے کلام کرنا نہیں چاہتے۔ ہم غیر احمدیوں کے اس طریق کو کمینگی، عدم رواداری، بے حوصلگی اور اوچھا پن، ایمانی کمزوری وغیرہ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ آج خود ہمیں ان امراض میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
اعتراضات کا غیر متناہی سلسلہ
باوجود خلیفہ صاحب کی ان احتیاطی تدابیر کے وقتاً فوقتاً دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی جماعت کے حقیقی ہمدرد اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر خلیفہ صاحب قادیان کی ذات پر اعتراضات کر کے خلیفہ صاحب سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ آپ اپنی زندگی کو خلافت کا اہل ثابت نہیں کر سکے۔ اس لئے آپ اس عہدہ سے دست بردار ہو جائیں اور جماعت کے حال پر رحم کھا کر اسے اپنی غلامی سے آزاد کر دیں۔ مگر انہیں دبانے کے لئے انتہائی تشدد اور دنیاوی وسائل سے کام لیا گیا۔ کسی کو لاہوری، کسی کو منافق کا خطاب دیا گیا۔ قتل جیسے قابل نفرین فعل سے اجتناب نہ کیا گیا۔ وہ بہشتی مقبرہ جو پاک و نیک انسانوں کی یادگار قائم رکھنے کے لئے تجویز ہوا تھا۔ وہاں قاتلوں کو جگہ ملنے لگی۔ قادیان میں حقیقت حال سے واقف اصحاب اس جور وتشدد سے سہم جاتے رہے اور وہ ہمیشہ اس غلطی میں مبتلا رہے کہ اپنے بعض بھائیوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنتے دیکھتے رہے۔ مگر خود ہمت نہ کی کہ تمام کے تمام یکدم بیعت سے علیحدہ ہو کر جماعت میں اصلاح کریں اور خلیفہ صاحب بھی ہمیشہ نہایت ہوشیاری سے اعتراضات کے زمانہ میں حقیقت حال سے واقف لوگوں پر عنایات کی بارش کرتے ہوئے ان کو خوش کر کے اپنا وقت نکالتے رہے۔ غرض کہ جماعت میں
٩
مختلف اوقات میں ایسے مخلص حضرات پیدا ہوتے رہے۔ جنہوں نے جماعت کی سچی خدمت کے خیال سے خلیفہ صاحب پر سچے اعتراضات کر کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا۔ مگر بجائے کسی نیک طریقہ اختیار کرنے کے ان کی آواز کو ظلم و جور سے دبانے کی کوشش کی گئی اور دعویٰ یہ کیا جاتا رہا کہ خلیفہ صاحب مثیل عمرؓ ہیں۔ یعنی وہ عمرؓ ہیں جو برسر اجلاس اعتراض ہونے پر خطبہ دینے سے پہلے اعتراض کا جواب دیتے ہیں۔
قدرت خداوندی کا ظہور
جناب شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری بی۔ اے اور جناب مولانا فخرالدین صاحب ملتانی کی بیعت سے علیحدگی۔
بالآخر گذشتہ مظلوموں کی گریہ وزاری کو اللہ جلشانہ نے سنا۔ اس کی رحمت جوش میں آئی اور ان مقتدر حضرات کی بیعت سے علیحدگی ظہور پذیر ہوئی۔ جن پر منافقت کا الزام عائد کرنا ناممکن ہے۔ جناب شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری ایک جید عالم، مبلغ یورپ کے لئے خلیفہ صاحب کے ہمراہ رہے۔ مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر، امیر جماعت قادیان، پریزیڈنٹ لوکل جماعت، سمال ٹاؤن کمیٹی کے ممبر، غرضیکہ وہ ہستی جو ان عہدوں پر فائز رہی جو عرصہ بیس سال سے جماعت کے بچوں کی تربیت کرنے کے نازک کام پر مامور رہے۔ ان پر آج خلیفہ صاحب منافقت کا الزام نہیں لگا سکتے۔ خصوصاً اس لئے کہ یکم اپریل ١٩٣٠ء کے ”الفضل“ میں خلیفہ صاحب کا وہ خطبہ درج ہے جس میں آپ کا ارشاد ہے کہ تمام منافقین بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں اور عورتوں کی شکلیں انہیں رؤیا میں دکھائی گئی ہیں۔ اگر اس رؤیا میں محترم شیخ صاحب اور مولانا فخرالدین صاحب کی شکلیں دکھائیں گئی تھیں تو ان کو ہرگز ان عہدوں پر مامور نہ کیا جاتا۔ اسی مولانا فخرالدین صاحب کا اخلاص جماعت میں کسی تشریح کا محتاج نہیں۔
آج ان اصحاب کی علیحدگی سے خلیفہ صاحب کی تمام سابقہ احتیاطی تدابیر فیل ہوگئیں۔ البتہ اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے۔ جور و تشدد کیا جارہا ہے۔ قانون شکنی کے لئے انگیخت ہو رہی ہے۔ خلیفہ صاحب نے قادیان میں اپنے ملازمین کی جو مختلف ناموں سے انجمنیں بنا رکھی ہیں۔ ان سے نفرت کے ریزولیوشن پاس کروائے جارہے ہیں۔ تاکہ ان کو دیکھ کر بیرونی جماعتیں بھی جو بیچاری حالات سے بے خبر ہیں ریزولیوشن پاس کر کے خلیفہ صاحب کی ڈھارس بندھائیں۔ مگر یہ حربہ بھی بے سود ثابت ہورہا ہے۔ کیونکہ اپنے ملازمین سے ریزولیوشن منظور کرانا بالفاظ دیگر خود خلیفہ صاحب کی اپنی آواز ہے۔ لطف جب تھا کہ ملازموں سے ریزولیوشن پاس نہ ١٠
کرواتے اور بیرونی آواز کی انتظار کی جاتی۔ رس ثاروں کا حشر محمد امین مجاہد بخارا کا حشر ہوتا ہے ہے کہ اگر پھانسی چڑھنا سلسلہ کی عزت ہے تو اب خلافت کے امیدوار ) کو قتل و غارت کے لئے آماد میں شہادت کا مرتبہ حاصل کریں۔ یہ فخر صرف سا ”میں مسیح موعود کی پیش گوئیوں کا مر موعود کی پیش گوئیوں کو جھٹلاؤ گے۔“ یہ وہ ڈھال ب تقلید کے جواز میں پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ:
- ......١ حضرت مسیح موعود کی پیش
تھا اور پیش گوئی کے وقت مرزا محمود احمد صاحب ن
- ......٢ اگر مسیح موعود کے نزدیک
تھے تو فرمائیے حضور کی زندگی میں جب خلیفہ صا جواب کیوں نہ دیا گیا کہ میرا بیٹا ایسا نہیں ہو سکت موعود نے یہ نہ فرمایا تھا کہ اگر محمود ایسا ہی ثابت ہ کمیشن کا تقرر ہو سکتا ہے اور ہونا چاہئے۔
جناب خلیفہ صاحب کی خدمت میں ع
موجودہ حالات میں یہ ہے کہ اشتہ ١٩٣٠ء تھا۔ نقص امن اور قانون شکنی کی تمام تر ذم ہوگی آپ کی گردن پر ہوگی۔ مخلص اور ہمدرد اصحاب فی الواقعہ مخلص ہیں۔ جور و ستم چھوڑ کر و ممات مسیح علیہ السلام یا مسئلہ ختم نبوت پر شرائ آئیے۔ فیصلہ کن مناظرہ میں طے کیجئے۔ آوازم جناب خلیفہ صاحب! محمد امین مجاہد سوچیں کہ حضرت مولانا نور الدین خلیفہ اوّل کے نیک اختر صاحب زادی امتہ الحئی صاحبہ کی روح مسلم کی روح کیا پکار رہی ہے؟ لاپتہ شیخ فتح محمد
کرواتے اور بیرونی آواز کی انتظار کی جاتی۔ رہے قادیان کے احمدی ، سو انہیں معلوم ہے کہ جان نثاروں کا حشر محمد امین مجاہد بخارا کا حشر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشتعال انگیزی کا جواب یہ مل رہا ہے کہ اگر پھانسی چڑھنا سلسلہ کی عزت ہے تو اپنی اولاد مبارک احمد ، منور احمد، ناصر احمد ، (تیسری خلافت کے امیدوار ) کو قتل وغارت کے لئے آمادہ کیجئے ۔ تا کہ وہ پھانسی کے تختہ پر گورداسپور جیل میں شہادت کا مرتبہ حاصل کریں۔ یہ فخر صرف سادہ لوح یا کرایہ داروں کے حصہ میں ہی نہیں آیا۔
” میں مسیح موعود کی پیش گوئیوں کا مصداق ہوں۔ اگر مجھ پر اعتراض کرو گے تو مسیح موعود کی پیش گوئیوں کو جھٹلاؤ گے ۔“ یہ وہ ڈھال ہے جو بھولے بھالے مریدوں کے سامنے اندھی تقلید کے جواز میں پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ:
- ١...... حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ لڑکا ابھی پیدا ہونا
تھا اور پیش گوئی کے وقت مرزا محمود احمد صاحب پیدا ہو چکے تھے۔
- ٢...... اگر مسیح موعود کے نزدیک مرزا محمود احمد ہی آپ کی پیش گوئیوں کے مصداق
تھے تو فرمایئے حضور کی زندگی میں جب خلیفہ صاحب پر الزام لگا تو کیوں ایک کمیشن بٹھایا گیا۔ یہی جواب کیوں نہ دیا گیا کہ میرا بیٹا ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ تو ہماری پیش گوئیوں کا مصداق ہے۔ کیا مسیح موعود نے یہ نہ فرمایا تھا کہ اگر محمود ایسا ہی ثابت ہو تو میں اسے عاق کردوں گا ۔ پس یہ ثابت ہے کہ کمیشن کا تقرر ہو سکتا ہے اور ہونا چاہئے۔
جناب خلیفہ صاحب کی خدمت میں مخلصانہ مشورہ
موجودہ حالات میں یہ ہے کہ اشتعال انگیزی کو چھوڑیئے ۔ کیونکہ یہ ١٩٣٧ء ہے اور وہ ١٩٣٠ء تھا۔ نقص امن اور قانون شکنی کی تمام تر ذمہ داری جو اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوگی آپ کی گردن پر ہوگی ۔ مخلص اور ہمدرد بے سود ہے۔ کیونکہ آپ خوب جانتے ہیں کہ یہ مخلص اصحاب فی الواقعہ مخلص ہیں۔ جور وستم چھوڑ کر کوئی معقول طریق فیصلہ کو منظور کیجئے۔ اگر حیات وممات مسیح علیہ السلام یا مسئلہ ختم نبوت پر شرائط طے کر کے مخالفین سے مناظرے ہو سکتے ہیں تو آیئے ۔ فیصلہ کن مناظرہ میں طے کیجئے۔ آزاد تحقیقاتی کمیشن آپ پر بیٹھ سکتا ہے یا نہیں۔
جناب خلیفہ صاحب ! محمد امین مجاہد بخارا کی روح قادیان کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ ذرا سوچیں کہ حضرت مولانا نور دین خلیفہ اول کے فرزند ارجمند میاں عبدالحئی مرحوم اور آپ کی دختر نیک اختر صاحب زادی امتہ الحی صاحبہ کی روحیں آپ کو کیا نصیحت کر رہی ہیں؟ شیخ عبدالعزیز نو مسلم کی روح کیا پکار رہی ہے؟ لاپتہ شیخ فتح محمد منیجر احمدیہ اسٹور کیا آواز دے رہا ہے؟ قاضی محمد علی کا
١١
بٹالوی مقتول کیا کہہ رہا ہے؟ اور خود محمد علی کیا چیخ رہا ہے اور بھی بے شمار ارواح آپ کو کیا آوازیں دے رہی ہیں؟ سوچیں! سوچیں! علیحدگی میں خوب سوچیں!! آپ ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہوئے جماعت کو ہلاکت سے بچائیں۔ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔ ذرا خیال فرمائیے کہ غیر احمدیوں کی جماعت مجلس احرار کا قادیان میں ورود آپ کے کن افعال و حرکات کا نتیجہ ہے اور کیا قادیان میں اس جماعت کا ورود عذاب خداوندی نہیں؟ اگر آپ کو نواب یا راجہ بننے کا شوق ہے تو خدارا اس کے لئے جماعت کو استعمال نہ کیجئے۔ بہتر یہی ہے کہ کوئی فیصلہ کن راہ اختیار کیجئے۔ یہ دھمکیاں، یہ مذہبی اشتعال انگیزی، یہ جور و تشدد اب کام نہ دے گا۔ جماعت کو دعا اور روزوں کی تلقین کا حربہ بھی اعتراضات سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ نہیں ہو سکے گا۔ یہ ہتھیار بھی پرانا ہو چکا ہے۔ کیونکہ محمد علی کو چالیس روزے اور دعائیں بچا نہ سکی تھیں۔ خدارا غور کیجئے کہ آج جماعت کے تقدس کا وہ رعب کہاں ہے جو مسیح موعود کے وقت تھا۔
جماعت کے مخلصین سے اپیل
قادیان کے ان حضرات سے جو حالات سے واقف ہیں اور اعتراضات کی سچائی سے آگاہ ہیں۔ ہماری یہ اپیل ہے کہ خدا پر بھروسہ کرو۔ وہ رازق ہے جو سب کو دیتا ہے اور دے گا۔ جانوروں کو جنگل میں رزق پہنچانے والے اور غاروں میں رزق دینے والے خدا پر یقین پیدا کرو اور سچائی کی حمایت کرتے ہوئے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کریں۔
بیرونی احمدی اصحاب سے گذارش ہے کہ موجودہ حالات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ انہیں حالات کا علم نہیں۔ ان کا مبلغ علم ”الفضل“ ہے جو خلیفہ صاحب کی آواز ہے۔ آزاد تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ فیصلہ کی راہ پیدا کیجئے۔ تحقیقات تمام حقائق کو آشکارا کر دے گی۔ جناب خلیفہ صاحب سے مطالبہ کیجئے کہ جناب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی تین چٹھیاں جن کو خواہ مخواہ گندی، گندی کہہ کر اصل واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شائع فرمائیں۔ تاکہ جماعت ان چٹھیوں کی معقولیت سے آگاہ ہو کر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے۔
نوٹ: خلیفہ صاحب قادیان کی طرف سے شیخ مصری صاحب سے ایک سو دہریوں کے ناموں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مگر اس سے پیشتر خلیفہ صاحب فرما چکے ہیں کہ جماعت قادیان میں مجھے پانچ سو منافقین دکھائے گئے ہیں۔ مہربانی کر کے ان منافقین میں سے کم از کم ایک سو کے نام مشتہر کئے جائیں۔ اس کے بعد دہریوں کے ناموں کا مطالبہ کیا جائے۔
سیکرٹری انجمن انوار احمدیہ قادیان!
١٢
قاتلانہ حملہ
قادیان ٧؍اگست تقریباً پانچ بجے منشی فخر الدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز جبکہ پولیس چوکی میں ایک اطلاع دینے کے لئے جارہے تھے۔ قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ حملہ آور احمدی بیان کیا جاتا ہے اور گرفتار ہو گیا۔ ہر دو مجروحین گورداسپور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ذیل میں منشی فخر الدین صاحب ملتانی نے اخراج کے بعد جو پہلا بیان شائع کیا ہے اس کو درج کیا جاتا ہے۔
پر اسرار اخراج کی حقیقت
میرے اخراج کے اعلان میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ دو تین روز تک تفصیلی بیان شائع کیا جائے گا۔ اس لئے میں مطمئن تھا کہ تفصیلی بیان کے پڑھنے پر دوستوں کو میرے ان جرائم کا اندازہ ہو جائے گا۔ جن کی پاداش میں میرے جیسے تیس سالہ خادم سلسلہ و مہاجر کو ایسی سنگین سزا دی گئی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے آج دو ہفتہ سے زیادہ گزر رہا ہے کہ کسی خاص مصلحت کے ماتحت تفصیلی بیان شائع نہیں کیا جاسکا۔ مگر اس وقفہ خاموشی میں میرے متعلق طرح طرح کے جھوٹے اور مکروہ پروپیگنڈے کر کے میرے خلاف خواہ مخواہ منافرت اور حقارت عامہ پھیلائی جارہی ہے کہ گویا میں چھپا ہوا احراری یا پیغامی یا بابی وغیرہ تھا۔ یا اب ہوں۔ یا ان سے کسی طرح کی سازش ہے۔ العیاذ باللہ !
پھر اسی سزا کے دوران میں جب کہ ٢٤ گھنٹہ میرے گھر کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور میری ہر حرکت و سکون پر کڑی نگرانی ہے۔ میرے گھر سفید پوش آدمی آتے ہیں اور میرے گھر کی تاکی توڑی گئی۔ بدقسمتی سے وہ سفید پوش سودیشی چور ہاتھ سے نکل گیا۔ مگر اس کے متعلق یہ مشہور کیا جارہا ہے کہ گویا ہم نے خود تاکی توڑ کر شور ڈال دیا۔ ان دونوں امور کے متعلق مکروہ پروپیگنڈا کرنے والے احمدی دوستوں کو مسیح موعود کے اصول و معیار صداقت کے ماتحت چیلنج کرتا ہوں کہ ان میں سے ایک یا دو یا سب اپنے اپنے اہل و عیال لے کر میرے مقابل میدان میں نکلیں۔ میں بھی اپنے اہل و عیال لا کر اور اپنے شیر خوار بچہ کو گود میں لے کر خدا کے حضور میں تریاق القلوب کی قسم کھاتا ہوں اور وہ بھی قسم کھاویں۔ میں اپنے بیان کی تصدیق میں اور وہ اپنے بیان کی تصدیق میں۔ پھر اس کے نتیجہ کے لئے خدا کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ اس فیصلہ کن طریق سے جو حضرت مسیح موعود کا بیان فرمودہ ہے کسی احمدی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ میرا یہ بیان ہے کہ میں تادم تحریر ہذا نہ احراریوں اور نہ پیغامیوں سے ملا اور نہ احراریوں سے بذریعہ تحریر و تقریر کسی قسم کی سازش کی۔ حالانکہ بعد اخراج مجھے ان سے ملنے میں کوئی روک نہ تھی۔ اس طرح تاکی توڑنے والے سودیشی سفید پوش آدمی میں نے اور میرے لڑکے نے اپنی آنکھوں سے صرف دو تین فٹ
١٣
کے فاصلہ پر سے دیکھے۔ یعنی کھڑکی کے آر پار کا فاصلہ تھا اور ہم نے نہیں توڑی یا تڑوائی۔ اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں تو یا الہ العالمین مجھے ایک سال کے اندر اندر جھوٹوں کی سزا دے۔ اسی طرح مد مقابل بھی دعا کرے اور ہم سب مل کر آمین کہیں اور اگر اس طریق فیصلہ پر آنے کے لئے کوئی تیار نہ ہو تو پھر دوستو! ایسے مکروہ پروپیگنڈے سے اپنے ایمانوں کو ضائع مت کرو۔ کیونکہ اس طریق سے ممکن ہے کہ انسان کو چند روز کے لئے خوش کر لے۔ مگر خدا ناراض ہوگا۔
میرے اخراج کے اعلان میں سزا صرف یہ ظاہر کی گئی تھی کہ کلام سلام پیام فخر الدین سے بند۔ مگر اس کی سزا کی جو عملاً تشریح کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ:
- ١...... میری اہلیہ اور میرے بچوں کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ اس جرم میں کہ وہ میرے بچے ہیں۔
- ٢...... میرے شیر خوار اور بیمار بچے کا دودھ بند کرا دیا گیا ہے۔ اس جرم میں کہ میرا بچہ ہے۔
- ٣...... میری معذور بیوی کو نہلانے والی عورت کو میرے گھر آنے سے روک دیا گیا ہے۔
- ٤...... میرے نہایت ہی عزیزوں، پیاروں کو میرے گھر آنے سے روک دیا گیا ہے۔
- ٥...... میرے مکانوں کے کرایہ داروں کو مجبور کر کے مکان خالی کرا دیا گیا ہے۔
- ٦...... میری دوکان پر سے شمس الدین معذور کو محض اس لئے اٹھا دیا گیا ہے کہ ان کے خیال
میں وہ میری دوکان کی نگرانی کرتا تھا۔
- ٧...... میرے مکان کے ارد گرد ٢٤ گھنٹہ بیسیوں آدمیوں اور لڑکوں کا پہرہ رکھ کر میرے اہل
وعیال کو اور مجھے بے جا تخویف اور ہیبت کا تختہ مشق بنایا گیا ہے۔
- ٨...... احمدی دوکانداروں کو مجھے ضروریات زندگی دینے سے روکا گیا ہے۔
- ٩...... میرے کاروبار کو مطلقاً بند کر کے مجھے اور میرے اہل وعیال کو نان شبینہ کا محتاج اور
مفلوک الحال بنانے کی اسکیم بنائی گئی ہے۔
- ١٠...... میرے مکان کی ناکہ بندی کرنے سے ١٣، ١٤ کی درمیانی شب میرے گھر میں سفید
پوش مویشی چوروں نے گھس کر میرے جان و مال پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر تاکی توڑنے میں وہ یہ دیکھ کر کہ ہم ہوشیار ہیں بھاگ گئے۔ مگر اس دن سے ہم سب رات بھر بے چین اور خوف زدہ اپنے کوٹھے پر جاگتے رہتے ہیں اور ہمارے سب دوست ہمسایہ وغیرہ سب اس وقت آرام کی میٹھی نیند سوتے ہیں۔ تیرہ برس سے میرا مکان آباد ہے۔ مگر اب ان کی ناکہ بندی میں یہ فعل کیا گیا۔
١٤
- ١١...... میرے مکان کی بیرونی کھڑکیوں کے
ہے۔ جن میں سے بعض لڑکے را سامنے الف ننگے کھڑے ہو جاتے کھڑی ہوتی ہے۔
- ١٢...... میرے متعلق منافرت، احراریت و
کے عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے۔ حالا اور انشاء اللہ احمدی مروں گا۔ خوا پہنچائے جائیں۔ احمدیت میری بچھونا، احمدیت، اور انشاء اللہ احم سے میرے رگ وریشہ اور روح و براہ راست مسیح موعود کے ہاتھوں
- ١٣...... میرے معصوم بچوں کو اسکول میں
وہ میرے بچے ہیں۔
- ١٤...... چھوٹے چھوٹے بچوں اور عوام ک
بے عزت اور حقیر کرنے کی کوش
- ١٥...... اعلان میں بے جا اتہام کا لفظ ا
شائع نہ کر کے لوگوں کو یہ یقین د ہوا ہے۔ حالانکہ دراصل نہایت دخل نہیں۔ یعنی اخویم ڈاکٹر فضل کے متعلق چنانچہ ایک ذاتی شکو کر دیا گیا۔ مگر اس صاف مع وسعت اور اہمیت دی گئی ہے
- ١٦...... ہمارے کہیں ادھر ادھر آنے ج
- ١٧...... سلام، کلام، پیام، بذریعہ تحری
معاملہ کو جماعت کے لوگوں لینے کے لئے جماعت کو مجبو
- ١١...... میرے مکان کی بیرونی کھڑکیوں کے سامنے ٢٤ گھنٹہ ایسی قسم کے لڑکوں کو بٹھایا جاتا
ہے۔ جن میں سے بعض لڑکے رات کو ہمارے احتیاطاً ٹارچ روشن کرنے پر سامنے الف ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت میری اہلیہ اور لڑکی بھی سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
- ١٢...... میرے متعلق منافرت، احراریت، پیغامیت اور بابیت، مکروہ اور جھوٹا پروپیگنڈہ کر
کے عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے۔ حالانکہ میں خدا کے فضل سے احمدی تھا۔ احمدی ہوں، اور انشاء اللہ احمدی مروں گا۔ خواہ مجھے اس سے بھی زیادہ تکلیفیں اور دکھ کیوں نہ پہنچائے جائیں۔ احمدیت میری خوراک، احمدیت میری پوشاک، میرا اوڑھنا اور بچھونا، احمدیت، اور انشاء اللہ احمدیت ہی میرا کفن بنے گی۔ احمدیت خدا کے فضل سے میرے رگ و ریشہ اور روح و جسم میں جزو لاینفک بن چکی ہے۔ یہ جوہر میں نے براہ راست مسیح موعود کے ہاتھوں سے پایا ہے۔
- ١٣...... میرے معصوم بچوں کو اسکول میں تعلیم دینے سے انکار کر کے نکال دیا گیا ہے۔ کیونکہ
وہ میرے بچے ہیں۔
- ١٤...... چھوٹے چھوٹے بچوں اور عوام کو ہمارے اوپر پہرہ دار مقرر کر کے ہمیں انتہائی طور پر
بے عزت اور حقیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
- ١٥...... اعلان میں بے جا اتہام کا لفظ لکھ کر اور تفصیلی بیان باوجود وعدہ کرنے کے اب تک
شائع نہ کر کے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ واقعی سنگین جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔ حالانکہ دراصل نہایت معمولی بات ہے۔ اس میں ایمانیات یا اتہام کا کوئی دخل نہیں۔ یعنی اخویم ڈاکٹر فضل الدین صاحب آف کپالہ کے گھر کی چوری کے واقعہ کے متعلق چند ایک ذاتی شکوک تھے۔ جن کو بہ نیت صفائی قلب صاف صاف بیان کر دیا گیا۔ مگر اس صاف بیانی کو اتہام سے موسوم کر لیا گیا ہے اور اسے اتنی بڑی وسعت اور اہمیت دی گئی ہے۔
- ١٦...... ہمارے کہیں ادھر ادھر آنے جانے پر سایہ کی طرح آدمی اور لڑکے لگا رکھے ہیں۔
- ١٧...... سلام، کلام، پیام، بذریعہ تحریر و تقریر بند کر کے میرے ڈیفنس اور اصل حالات اور
معاملہ کو جماعت کے لوگوں سے مخفی رکھا گیا ہے اور اپنے یکطرفہ بیانات پر یقین کر لینے کے لئے جماعت کو مجبور کیا گیا ہے۔
١٥
اب دوست اور وہ دوست جو کبھی احمدیت کی وجہ سے غیر احمدیوں کے بائیکاٹ کے تختہ مشق رہ چکے ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ آیا اس بائیکاٹ اور اس بائیکاٹ میں کوئی فرق ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو دوستو ! فکر کرو کہ ان زیادتیوں کی وجہ سے جلد کوئی عذاب آنے والا نہ ہو۔ اگر مجھے صفائی سے یہ کہہ دیا جائے کہ ان حرکات سے ہمارا منشاء یہ ہے کہ تم قادیان سے نکل جاؤ تو خدا کی قسم ایک لمحہ بھی نہ ٹھہروں گا۔ چابیاں یہاں کے ذمہ دار کے سپرد کر کے فوراً چلا جاؤں گا۔
اس اعلان اخراج کے بعد میں نے حضرت اقدس کے فرمان کے ماتحت کہ: ”سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔“ ایک خواب کی بناء پر سچے دل سے معافی بھی مانگی ہے۔ جس کا جواب تا حال خاموشی ہے۔
پیارے دوستو! قادیان کے ہو یا باہر کے۔ آپ لوگ جانتے ہو کہ میں نے آج تک کبھی کسی سے برائی نہیں کی۔ جہاں تک ہو سکا خدمت کی، نیکی کی اور وفا کی، دغا نہیں کی۔ بہ نیت ثواب اور خوشنودی خدا، احسان اور مروت کی، کیوں؟ محض اپنے پیارے مسیح کی تعلیم کے طفیل۔ انہی کے ماتحت۔ اب بھی ان تمام زیادتیوں کو برداشت کر رہا ہوں۔ تو بھی محض اپنے پیارے مسیح موعود کی خاطر۔ اس قادیان اور قادیان کے رہنے والوں کی عظمت اور محبت میں۔ ورنہ آپ جانتے ہیں کہ مندرجہ بالا زیادتیوں میں سے ہر ایک کا جواب زبردست سے زبردست ہو سکتا ہے۔ عملی بھی اور علمی بھی۔ مگر میں ابھی تک ان کے جواب کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ یہ بدنما ہولی فوراً ختم کر دی جائے اور سلسلہ احمدیہ کی امن پسندی اور سلامت روی والی روایت کی عزت وعظمت برقرار رکھی جاوے۔ غیر لوگ یہ حالت دیکھ کر اور سن کر سلسلہ احمدیہ کی نیک نام روایت کو افسانہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ پس سزا کو سزا کے الفاظ تک محدود رکھو۔ ان اللہ لا یحب المعتدین ! خدا سے ڈرو، ذاتی جوش اور کدورتوں اور انتقامی جذبہ سے بچو۔ ورنہ خدا کی پکڑ بہت سخت ہے۔
میں سمجھ لوں گا کہ دوسرے احمدیوں کو ابتدائے احمدیت میں بیگانوں کے جور و مظالم کا تختہ مشق بننا پڑا اور مجھے انتہائے احمدیت میں اپنوں کے جور و ستم کا شکار بننا پڑا۔
پس اے خدائے علیم و خبیر جو دلوں کے مخفی بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ تو خوب جانتا ہے کہ میں دل و یقین سے اپنی طرف سے مخلص احمدی ہوں۔ گو میں بہت سی عصیان، و کفران اور نسیان کا مجموعہ ہوں۔ مگر میری محبت اور سچی محبت حضرت مسیح موعود سے اور حضرت مسیح موعود کے
١٦
طفیل اور واسطہ سے ان کے خاندان کے افراد سے ہے اور ان کی ہر جائز خدمت کا شوق اور تڑپ ہے اور احمدیت کے لئے تیرے ہی فضل سے میرے اندر خاص جوش اور عزت بخشی گئی ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ ہر صورت میں صاف گوئی اور راست گفتاری کو مقدم رکھتا ہوں۔ خواہ دوسرا کتنا ہی برہم کیوں نہ ہو۔ اس راست گفتاری کے باعث میرا خواہ کتنا سے کتنا عزیز اور بزرگ ناراض اور کبیدہ خاطر کیوں نہ ہو۔ میرا دل ہرگز جنبش نہیں کرتا۔ پس اے میرے محافظ حقیقی خدا تو نے محض اپنے فضل سے اس عاصی پر معاصی بندے کو ابتداء میں بیگانوں کے فتنہ و شر سے محفوظ رکھ کر دارالامن میں پناہ دی تھی۔ اس طرح بھی ان بیگانوں کی تازہ کرم فرمائیوں سے جن کا مختصر سا خاکہ اوپر دے چکا ہوں۔ محفوظ و مامون رکھ کر دارالامن میں پرسکینت سکونت عطا فرمایا۔ میرے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور میری معذور بیوی تن تنہا محض تجھ اکیلے ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے اوپر زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ لاہور، امرتسر یا دوسرا شہر نہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے دروازے پر پناہ گزینی کی درخواست دی جائے۔ قادیان ہے جہاں صرف تیری آسمانی گورنمنٹ ہی ہم عاجزوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا خاکہ مصائب سے ظاہر ہے۔ جماعت سے اخراج گویا انسانیت سے ہی اخراج ہے۔ عام انسانیت کا سلوک بھی ہم عاجزوں اور بے کسوں سے روا نہیں رکھا جا سکتا۔ انسانیت چھوڑ حیوانیت کے دائرے سے بھی نکالا جا رہا ہے۔ بھلا شیر خوار بچے کے لئے دودھ دینے سے روک دینا۔ طوفان، آندھی سے ایک دیوار گر گئی۔ اس کے بنانے کے لئے راج کو منع کر دینا کس مذہب اور کس سوسائٹی میں جائز ہے یا کس قانون و آئین میں سزا کی قسم ہے۔
اس حالت پر تین ہفتے گزرنے کو ہیں اور معلوم نہیں کہ عرصہ مصائب کتنا لمبا اور وسیع ہوگا۔ دارالامن والامان میں یہ حالت کہ پرندوں کے بسیرے کے لئے درخت موجود، جنگل کے پرندوں کے لئے بھٹ موجود، مگر ابن آدم اور اس کے معصوم اور ننھے ننھے بیمار معذور بچوں کے لئے یہ بدامنی کہ نہ رات چین سے گزرتی ہے اور نہ دن کو قرار ملتا ہے۔ ڈنڈا فوج کے ہر وقت کا پہرہ میری بیوی اور بچوں کے دلوں پر عجب حیرت طاری کر رہا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں کہ میں نے چند ایک شکوے پیش کئے۔ جن کو ناواجب اتہام سے موسوم کر کے تمام احمدی جماعت کو میرے خلاف ابھارا گیا ہے۔
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ قادیان جیسے مقدس خطہ میں جو ایک صلح و آشتی اور
١٧
سلامتی کے شہزادہ کا تخت گاہ ہے۔ جہاں سے روحانی علوم کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں۔ جہاں سے تمام دنیا کو سلامتی پہنچانے کا پیغام جاری ہوا ہے۔ وہاں ایسے پر جفا ستم زا کارروائیاں ۔ پھر اس پر روا رکھی جا رہی ہیں۔ جو وفادار اور خدمت گذار احمدی ہے۔ اس کے اوپر یہ ظلم و ستم ، الٰہی تیری پناہ!
جماعت میری آرزو سے متفق ہو یا نہ ہو۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ کیونکہ میں احمدی ہوں۔ محض اپنی نجات کے لئے میرے خدا تیری رضا جوئی کے لئے۔ میں یہ بیان اس لئے نہیں شائع کر رہا کہ جماعت کے لوگ مجھ پر خوش ہو جائیں یا میرا رزق نہ روکیں۔ رازق ذی القوۃ المتین تجھ وحدہ لاشریک لہ کو سمجھتا ہوں۔ یہ مصائب اور ابتلا آنی ہیں۔ مجھے یہ تسکین قلب حاصل ہے کہ میں حق پر ہوں اور حق پر ہی مرنے کا آرزومند ہوں۔ میں نے ایمانی جرأت سے کام لے کر جو جو شکوے میرے دل میں تھے صاف صاف عرض کر دیئے تھے۔ اب اگر اس صاف گوئی کا کوئی بزرگ یا خورد اسے پسند نہیں کرتا تو پرواہ نہیں۔ تو میرا خدا میرا والی میرا رب اس کو ضرور پسند کرتا ہے۔ مسیح موعود کی غلامی سے میں نے یہی ایک جوہر پایا۔ کیا میں اسے ضائع کر کے خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق ہوں۔ العیاذ باللہ!
اے میرے خدا تو جانتا ہے کہ میں منافق نہیں۔ میرے سر پر کوئی تلوار لئے نہیں کھڑا کہ میں جھوٹ بول کر اپنے تئیں احمدی ظاہر کروں۔ لیکن میں درپردہ غیروں سے ملا ہوا ہوں۔ کیونکہ تیرے پاک کلام میں منافق کی یہی جامع و مانع تعریف ہے کہ: ”واذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا واذا خلوا الى شياطينهم قالوا انا معكم انما نحن مستهزؤن“ کہ جب مومنوں کو ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب غیروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ مگر اب تو منافقت کی تعریف کو اس قدر وسعت دی گئی ہے کہ بات بات پر اور معمولی سے معمولی ذاتیات پر اچھے بھلے مؤمن کو منافق کہہ کر ادنیٰ اور اعلیٰ کی نظروں سے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو ہی ہمیں اس اندر کے پیدا شدہ فتنہ سے ہر طرح محفوظ رکھ۔ میرے خدا تو جانتا ہے کہ اس وقت بھی محض ذاتیات کی بناء پر مجھ پر اور میرے اہل و عیال پر ہر ممکن سے ممکن تکلیف اور مصیبت کو ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر سختی اور کیا ہوگی کہ ناراضگی مجھ پر ہے۔ مگر دودھ میرے شیر خوار بچہ کا بند کر دیا گیا۔ بھلا اس معصوم بچہ نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ اس کا ایک بازو ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کی معذور ماں کے پستانوں میں اس کی قسمت کا دودھ نہیں ہے۔ اس کا اگر قصور ہے تو صرف یہ کہ وہ مجھ بدنصیب انسان کا بیٹا کہلاتا ہے۔ اس جرم کی
١٨
پاداش میں یہ حکم نافذ فرمایا گیا کہ ان کو و ہے۔ حضرت عثمانؓ پر بھی جب باغیوں ن فعل نہ کافروں کا ہے اور نہ مومنوں کا ۔ م مومن کے مومن ۔ مگر وہ شیر خوار بچہ منافق
ہیں تفاوت
میرے پیارے خدا تو جا عزیز واقارب سے منہ موڑا محض حق کی خ ناطوں کو توڑا محض حق کی خاطر ۔ تو اب م طاقت روحانی اس قدر گر چکے ہیں کہ حق ہمارے دنیوی اغراض ضائع ہوں گی یا ہ بھوت سر پر سوار ہو جائے گا۔ تو بس پھر کیفیت نہیں بڑھ سکتی۔ وہ ہمارے لئے کے لئے موتوا قبل ان تموتوا پر عمل کر کے طب
پس اے خدا تو ہماری بے ب ہماری حفاظت کر ۔ ’رب کل شیء محقر خاکسار فخر الدین ملتانی قادیان۔ م
میرے معافی نامہ کی اہمیت
اولاً میں بفضلہ تعالیٰ ہی سہی مگر میرے اوپر احسان کر کے میر محفوظ کر دیا۔ جو میں نے اپنے ایک خط کی طرح تذلل اختیار کرو۔“ کے ماتحت اور نہایت ایمانی جرأت سے لکھا۔ اللہ تع نتائج کیسے ہی بد سے بد کیوں نہ نکلیں۔ اقدس کے اس قول کی جو ١٩٠٢ء میں
پاداش میں یہ حکم نافذ فرمایا گیا کہ ان کو دودھ دینا بند کردو۔ کیونکہ یہ ہمارے فلاں مجرم کا لخت جگر ہے۔ حضرت عثمانؓ پر بھی جب باغیوں نے پانی بند کر دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ یہ فعل نہ کافروں کا ہے اور نہ مومنوں کا۔ مگر یہاں شیر خوار بچہ کا مدار زندگی بند کر دیا جاتا ہے۔ پھر مومن کے مومن۔ مگر وہ شیر خوار بچہ منافق زادہ۔
میرے پیارے خدا تو جانتا ہے کہ میں نے وطن چھوڑا محض حق کی خاطر۔ عزیز و اقارب سے منہ موڑا محض حق کی خاطر۔ قادیان میں کنبہ چھوڑا محض حق کی خاطر۔ پچھلے رشتہ ناتوں کو توڑا محض حق کی خاطر۔ تو اب قادیان میں حق کی خاطر رہ کر پھر اگر ہمارا جذبہ ایمانی اور طاقت روحانی اس قدر گر چکے ہیں کہ حق گوئی کے لئے محض ہم اس لئے جرأت نہیں کرتے کہ کہیں ہمارے دنیوی اغراض ضائع ہوں گی یا سوشل تعلقات میں فرق پڑے گا۔ یا بائیکاٹ اور اخراج کا بھوت سر پر سوار ہو جائے گا۔ تو بس پھر ہماری ایمانی ترقی معلوم شد، صحابہ کرام سے ہماری روحانی کیفیت نہیں بڑھ سکتی۔ وہ ہمارے لئے نظیر ہے۔ حق کی خاطر نہ فساد و فتنہ کی خاطر۔ اگر ان تکالیف کے لئے موتوا قبل ان تموتوا پر عمل کر کے طبیعت کو تیار کر لیا جاوے تو پھر بس کوئی ڈر نہیں۔
پس اے خدا تو ہماری بے بسی اور بے یاری و مددگاری کو خوب جانتا ہے۔ تو آپ ہی ہماری حفاظت کر۔ ”رب كل شئ ...... رب واحفظنی وانصرنی وارحمنی“ ایک مہجور مقہور خاکسار فخر الدین ملتانی قادیان۔
بجواب الفضل
میرے معافی نامہ کی اہمیت
اولاً میں الفضل کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ جس نے خواہ اپنے اغراض کی تکمیل کے لئے ہی سہی مگر میرے اوپر احسان کر کے میرے اس معافی نامہ کو من وعن شائع کر کے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔ جو میں نے اپنے ایک خواب کے مفہوم کو بھی مسیح موعود کے فرمان ”سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔“ کے ماتحت اور مطابق کر کے صحیح اور حقیقی رنگ میں بلا خوف لومۃ لائم اور نہایت ایمانی جرأت سے لکھا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خواہ ان واقعات پیش آمدہ کے نتائج کیسے ہی بد سے بد کیوں نہ نکلیں۔ مگر مجھے ہمیشہ کے لئے یہ بجا فخر حاصل ہو گیا ہے کہ حضرت اقدس کے اس قول کی جو ١٩٠٢ء میں کشتی نوح کے ذریعہ ہم تک پہنچا۔ آج ١٩٢٧ء میں پورے
١٩
٣٥ سال کے بعد اس قدر عمدگی اور وضاحت اور خوبی سے اس پر عمل کرنے کی توفیق محض اور محض خاکسار جیسے سیہ کار کو ملی۔ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ ایک سبق ہے کہ حضرت اقدس کے اس فرمان ”سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔“ کی لفظ بہ لفظ اور حرف بحرف صداقت سے تعمیل کس طرح ہو سکتی ہے۔ میں سچے دل سے عرض کرتا ہوں کہ اس معافی نامہ کے الفاظ کی بندش اور ترکیب ایک طرح القائے خداوندی تھی اور عجیب بات یہ ہے کہ میرے مخدوم و مکرم حضرت حافظ صاحب مرحوم آف منصوری کی اہلیہ محترمہ کے خواب میں یہ اشارہ ہے کہ تین دن کے اندر اندر معافی مانگ لوں اور یہ خواب مجھے ٢٠/ جون یعنی اعلان اخراج سے بارہ تیرہ روز بعد پہنچایا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس خواب کی تعمیل قبل از اطلاع خواب اخراج کے تین ہی روز کے اندر اس معافی نامہ کے ذریعہ کرا دی۔ میرا معافی نامہ ١٠/ جون ١٩٣٧ء کا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان پر میں جس قدر بھی سجدات شکر بجا لاؤں کم ہیں۔ ایک طرف اپنے پیارے مسیح موعود کے قول کی تعمیل بدرجہ احسن اتم کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ دوسری طرف اس خواب کے اشارہ کی تعمیل بھی عین وقت معین کے اندر کرائی۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
مگر اس کے بالمقابل اسی کشتی نوح کے اندر حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد بھی ہے کہ جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کے گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے۔ وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ اب جو شخص حضرت اقدس کے اس فرمان کی تعمیل نہیں کرتا وہ اس عدم تعمیل کے نتائج کا آپ ہی ذمہ دار ہے۔ ”انی بریء مما تعملون“ میں نے اپنی آنکھوں سے مسیح موعود کو دیکھا ہے کہ سخت سے سخت قصور واروں کو نہایت ادنیٰ بلکہ بناوٹی عذر داری اور لجاجت پر ہی نہایت فراخ دلی سے معاف فرما دیا کرتے تھے۔
پس اس صورت میں میرے خواب یا معافی نامہ یا کسی اور ہمدرد کے خواب کا حوالہ دے کر ان پر جفا واقعات پر پردہ ڈالنا یقیناً یقیناً تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔ بھلا الفضل کے پندرہ سولہ کالم یونہی ادھر ادھر کی ملاقاتوں اور خوابوں وغیرہ کے ذکر اذکار میں سیاہ کر دینا اور اصل واقعات سے تجاہل عارفانہ کے رنگ میں گذر جانا یہ کہاں کا تقویٰ اور دیانت ہے۔ کیا مسیح موعود نے ہمیں اسی قسم کے تقوے کی تعلیم دی ہے؟
ایڈیٹر صاحب الفضل یا اور کوئی مستور مضمون نگار زندہ خدا اور جبار قہار اور علیم خبیر خدا
٢٠
کی ہستی پر ایمان لاکر ذرا اس پر ٹھنڈے دل سے سوچے اور غور کرے کہ کیا اس قسم کے ڈپلومیٹک مضامین سے اصلیت چھپ سکتی ہے۔
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
میں نے جفاکاریوں میں سے بطور نمونہ سولہ سترہ واقعات پیش کئے تھے۔ دیانت اور امانت کا تقاضا تھا کہ ان میں ایک ایک کا انکار کیا جاتا۔ یا اقرار یا جھوٹی سچی تاویل۔ پھر جن دو امور کے متعلق میں نے بددعا کے لئے عرض کیا تھا اس چیلنج کی منظوری کا اعلان کیا جاتا۔ بجائے میرے چیلنج کو منظور کرنے کے اپنی طرف سے ایک تیسرا چیلنج کر دیا کہ شیر خوار بچہ کا دودھ بند نہیں کیا گیا۔ ”لعنت الله علی الکاذبین“ اس کے متعلق ایک بے تعلق دوکاندار جس سے عرصہ تین چار سال سے شیر خرید کیا۔ اپنے گھر کے دودھ کی باندھ بھی نہ تھی۔ اس کی بے سروپا شہادت بنا کر پیش کر دی کہ میری دوکان سے شیر خوار بچہ کا دودھ بند نہیں کیا گیا۔ میں نے کب لکھا تھا۔ محمد یوسف دوکاندار کی دوکان سے شیر خوار بچہ کا دودھ بند کیا گیا۔ یہ بھول بھلیاں احمدیہ جماعت کے سرکاری آرگن الفضل کو زیب دیتی ہیں۔ مجھے تو خود ہی اندر ہی اندر شرم محسوس ہو رہی ہے کہ غیر کیا کہتے ہوں گے اور اس بے چارے ان پڑھے محمد یوسف شیر فروش پر رحم آ رہا ہے کہ اناپ شناپ لکھ کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے ایمان بالغیب لاکر اور کار ثواب سمجھ کر اوپر جو کچھ نشان انگوٹھا یا شائد دستخط کر دیئے ہوں گے۔ ورنہ مختصراً حقیقت یہ ہے کہ ٧ جون کو میرا بائیکاٹ ہوا۔ اس شام ہم نے جو کچھ بھی روکھا سوکھا ہو سکا۔ بچوں کا پیٹ بھر کر رات کو تھپک کر سلا دیا۔
٨ جون کی صبح میں نے ایک عریضہ ناظر صاحب امور عامہ کی خدمت میں بھیجا کہ رات تو خدا خدا کر کے کاٹ لی ہے۔ اب پھر دن نکلا ہے۔ اگر اس مقاطعہ میں احمدی دوکانداروں کو مجھے ضروریات زندگی دینا جائز ہے تو آپ اس اعلان میں اس اجازت کا اضافہ کردیں۔ تا کہ وہ مجھے ضروریات زندگی دے دیا کریں۔ اس کا جواب ناظر صاحب امور عامہ نے بعد استصواب حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ یہ دیا کہ احمدی دوکانداروں کو خرید و فروخت کی اجازت بوجہ اس کے تعلقات کی نگرانی ناممکن ہو جاتی ہے۔ نہیں دی جاسکتی۔ اب ناظر صاحب امور عامہ کے اس واضح حکم نامہ کی رو سے اگر کوئی مجھے یا میرے بچہ کو کچھ دیتا ہے تو گویا حکم عدولی کا مرتکب ہوتا ہے۔ مگر اس کے بعد کے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ خصوصاً میرے معافی نامہ کے بعد بجائے نرمی اور زیادہ جارحانہ اقدامات شروع ہو گئے اور جہاں سے میرے شیر خوار بچہ کا دودھ بطور مستقل
٢١
باندھ کے آتا تھا۔ ان کو سخت مجبور کر کے روک دیا گیا۔ پہلے وہ باوجود میرے اخراج کے اور اشاروں کنایوں کے امتناعات کے میرے معصوم بچے پر رحم کھا کر دودھ دیتے رہے۔ مگر ١٣؍جون کو جب کہ اگلی شب میرے مکان میں سودیشی سفید پوش چور آئے۔ یکدم دودھ بند کر دیا گیا۔ پھر ہم دو روز تک بڑی مشکل سے ادھر ادھر بندوبست کرتے رہے۔ آخر ١٥؍جون کو دوسرے گاؤں سے دودھ کا بندوبست کیا گیا۔ اب پبلک خود اندازہ لگالے کہ ناظر صاحب امور عامہ کا اصل حکم جس کی اندرونی سرکلروں کے ذریعہ تعمیل کرائی جاتی ہے۔ تو مندرجہ ذیل احمدی دوکانداروں کو خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مگر الفضل کے مؤقر مضمون نگار کے معلومات دفتری کی رو سے یہ ہے کہ جو چیز آسانی سے غیر احمدی یا اور ہندو دوکانداروں سے مل سکتی ہیں۔ احمدی دوکاندار نہ دیں۔ لیکن باقی چیزیں ضرور دے دیں۔
اس بعد المشرقین فرق اور اختلاف کی مطابقت کر کے دکھانا کارے دارد والا معاملہ ہے۔ ہائے میں کس قدر بدبخت اور بدقسمت واقع ہوا ہوں کہ میری وجہ سے مؤقر الفضل یا اس کا مستور مضمون نگار ایسے راہ پر چلنے کے لئے مجبور ہوا ہے جو تقویٰ اور دیانت سے کوسوں دور ہے۔ کہاں تو یہ کہ اجازت نہیں دی جاسکتی اور کہاں یہ کہ باقی چیزیں ضرور دے دیں۔ یہ ہر دو فقرے معمولی ابجد خواں کے سامنے ہی رکھ کر دیکھ لے کہ وہ کیا نتیجہ نکالتا ہے۔ یہی تو میں نے اپنے پہلے پوسٹر میں رونا رویا تھا کہ اعلان اخراج میں تو صرف کلام، سلام، پیام، بند ظاہر کیا گیا ہے۔ مگر عملاً اس کی یہ تعمیل کی جارہی ہے کہ ہر ممکن سے ممکن تکلیف اور ایذارسانی جو ایک شخص کی موت کا موجب ہو سکتی ہے دی جارہی ہے اور جہاں تک کہ روحانی اختیارات میں ممکن ہے ہمیں نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نہ معلوم مضمون نگار الفضل نے کس طرح یہ لکھ دینے کی جرأت کی کہ مفروضہ مظالم کی بے بنیاد داستان۔ سچ ہے کہ ہماری جان گئی اور آپ کی ادا ٹھہری۔ ابھی تو روحانی حکومت ہے اور گورنمنٹ برطانیہ کی جسمانی حکومت کا برائے نام دور کا سایہ ہے۔ ورنہ اگر خدانخواستہ جسمانی اختیارات بھی کلی طور پر حاصل ہوتے تو پھر خدا جانے کیا کیا ہوتا۔ مؤقر مضمون نگار نے پبلک کی توجہ اصل حقیقت سے پھیرنے کی خاطر میری ایک ملاقات کے طول طویل ذکر فرمایا ہے جو بالکل سوال از آسمان اور جواب از ریسمان کا مصداق ہے۔ میں احتجاج کر رہا ہوں کہ مجھ پر فلاں فلاں زیادتی کی جارہی ہے۔ برائے خدا رحم کی نظر فرمائیے۔ مگر وہاں
٢٢
کا ستم ظریفانہ مظاہرہ اختیار کیا جاتا ہے۔ میرے نہایت ہی مکرم اور محب دوست میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور عزیز دوست سید عزیز اللہ شاہ صاحب جن کی ملاقات کو کسی نہ معلوم بنا پر خاص اہمیت دی گئی ہے۔ واقعی مجھ سے غیر معمولی محبت اور اخلاص رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بوقت ملاقات یہ بھی فرمایا کہ ہمارے قادیان آنے کے پروگرام میں ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم آپ سے ملیں۔ محض للہی محبت ہے۔ جس کی میرے دل میں خاص قدر ہے کہ میں باوجود اس طرح کا نااہل ہونے کے ان قدسیوں کے خاندان کا منظور نظر ہوں۔ انہیں نہ صرف محبت ہی ہے۔ بلکہ میری وہ عزت بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ جتنی دیر ان سے ملاقات رہی۔ نہایت محبت وعزت سے پیش آتے رہے اور کسی قسم کا ایسا طریق اختیار نہیں کیا گیا جو کسی نفرت یا حقارت یا تذلیل پر مبنی ہو۔ ان کی خاندانی شرافت و نجابت ہی اس قسم کی حرکات کے سخت مخالف ہے۔ مگر اخبار میں اس ملاقات کے بیان میں جو رویہ تحقیرانہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی ان ہر دو عزیزوں سے ظاہر نہیں ہوا۔ تم تم کے الفاظ کو ان کی میٹھی اور شائستہ زبان سے دور کی نسبت بھی نہیں۔ وہ واقعی سچی محبت اور تڑپ سے بلا کسی خارجی تحریک کے آئے ہوں گے۔ انہوں نے زبانی بھی اور اب اس بیان ملاقات کے دوران میں بھی بار بار اس امر پر زیادہ زور دیا ہے کہ ہم بغیر کسی کی تحریک کے آئے ہیں۔ حالانکہ میں پہلے ہی سے ان کی فطرت سے اور اپنے باہمی تعلقات سے یہی توقع رکھتا تھا۔ اگرچہ ایک موقعہ پر ان کی زبان سے یہ بھی نکل گیا کہ فلاں تیسرا آدمی بھی ہمارے ساتھ آنے کو تھا۔ بلکہ اس فلاں تیسرے آدمی کا نام لیتے وقت اخویم میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کے چہرے پر اسے کسی قدر اجنبیت اور ناواقفیت کے آثار بھی ظاہر ہوتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی ان کے منہ سے یہ بھی نکل گیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فون میں اطلاع کر دی ہے کہ وہ فلاں تیسرے صاحب پرسوں سے چلے گئے ہیں۔ اس لئے ہم صرف دو ہی آئے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ کے اور فلاں تیسرے صاحب کے میرے ساتھ تعلقات میں گو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ دونوں میں سے ایک بھی آجاتا تو دوسرے سو سے بھی زیادہ ہے۔ بہرحال ملاقات ہوئی۔ میں نے اپنے تمام شکوے باوجود ان کے منع کرنے کے جبراً بیان کر دیئے۔ مجھے ان دونوں پیاروں نے کہا کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ معافی نامہ کے بعد جو ١٥؍ جون ١٩٣٧ء کو بھیجا گیا تھا۔ فخر الدین کے متعلق رپورٹیں بڑی خلاف آرہی ہیں اور اس نے کوئی اصلاح نہیں کی اور آپ کی پارٹی نے فلاں فلاں باتیں لکھی ہیں۔ میں نے کہا کہ میری کوئی پارٹی نہیں اور نہ ہی میں کسی کی تحریک کا ذمہ دار ہوں۔ میری کھڑکی توڑی گئی۔ چور آئے۔ مگر اس کو
٢٣
انہوں نے جعلی کارروائی مشہور کر دیا۔ ایسی ایسی باتوں پر میں سوائے لعنت اللہ علی الکاذبین کے اور کیا کہہ سکتا ہوں۔ غرضیکہ جو کچھ اس ملاقات کا بیان شائع ہوا ہے مجھے اس کی تصدیق کرنے میں کوئی تامل نہیں۔ سوائے اس دست برد کے جو مضمون نگار نے مرتب کرتے وقت حسب منشاء کرلی ہے۔ یا سوائے ایک آدھ موقعہ کے جہاں میں سمجھتا ہوں کہ وہ حافظہ کی غلطی ہے۔ ورنہ ان کی ذات سے مجھے ایک آن کے لئے بھی دروغ کی توقع نہیں۔ مثلاً مکرم میجر صاحب نے پوچھا کہ تم نے کوئی اشتہار نکالا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں اور اس دن یعنی ٢٢؍ جون ١٩٣٥ء کو کہنا صحیح تھا۔ کیونکہ اشتہار ٢٣؍ جون کو نکلا ہے۔ مگر مؤقر مضمون نگار نے اپنے تشریحی نوٹ میں یوں تدبیر کر لی۔ ”فخر الدین نے کہا کہ میں نے کوئی اشتہار نہیں نکالا۔“ حالانکہ اصل سوال و جواب میں نکلنے کا لفظ نہیں۔ بلکہ نکالنے کا لفظ ہے۔ اسی طرح لعنت اللہ علی الکاذبین کا فقرہ اصل سوال و جواب میں عام الزامات اور جھوٹی رپورٹوں پر عرض کیا گیا۔ مگر مؤقر مضمون نگار نے دھینگا دھینگی کھینچ تان کر لعنت اللہ کو میرے اس انکار سے ملحق کر دیا۔ میں حیران ہوں کہ الفضل جیسے مذہبی اخبار میں مؤقر مضمون نگار کو تقویٰ اور راستی سے الگ ہو کر اس قسم کی لفظی اور ترتیبی تصرف کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ پیارو میں پھر کہتا ہوں تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دو اپنے بغضوں اور کینوں پر قابو پاؤ۔ اس طرح تحریر و تقریر میں بغض و عناد سے مغلوب ہو کر گالیاں دینا اور تحقیر تذلیل کرنا متقی اور شریف انسان کے شایاں نہیں۔ بھلا اس اشتہار میں اور کون سی بات تھی جو کسی معافی نامے کے منافی تھی۔ ایک احتجاج تھی جو نہایت مؤدبانہ اور مہذبانہ رنگ میں کی گئی۔ اس پر اس قدر غل در آتش ہونا کیا معنی۔ آخر قادیان کے نظام کی طرف سے بھی اس اثناء میں کئی ایک سرکلر شائع ہو چکے ہیں۔ باہر کی جماعتوں کو میرے خلاف اکسانے اور بھڑکانے کی ان تھک کوشش کی جارہی ہے۔ یا ہماری ناکہ بندی اور ناطقہ بندی زوروں پر کی جارہی ہے۔ اگر میں ایک احتجاج نامہ دکھوں سے تنگ آ کر نکال دیا تو کون سا اندھیرا آ گیا۔
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ایک موقعہ پر میری طرف منسوب کر کے ایک فقرہ یہ لکھا ہے کہ حضرت صاحب کو ہی خلیفہ ماننے والا ہوں۔ یہ ہی کا لفظ مجھے ہرگز یاد نہیں کہ میں نے اس کے بولنے کی ضرورت کیوں سمجھی۔ یہ تو بالکل بے معنی اور بے تعلق لفظ ہے۔ کیونکہ جب اور کوئی خلیفہ ہی سامنے نہیں تو پھر میں ہی کا لفظ خواہ مخواہ بولتا۔ اسی طرح مجھے میجر صاحب کے یہ فرمانے پر کہ تمہاری پارٹی کے بعض ممبروں
٢٤
نے یہ بھی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو نوٹس دیا ہے کہ مباہلہ والوں کو تو اپنی پوزیشن وغیرہ کے رعب سے دبا لیا تھا ۔ مگر جب ہم سے معاملہ پڑے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ پارٹی بہت زبردست ہے۔ اس کا میں نے نفی اور قطعاً لا علمی میں جواب دیا تھا۔ اگر شاہ صاحبان کی مراد پارٹی سے شیخ صاحب وغیرہ تھے تو اب ان کے فسخ بیعت کے اعلان کے بعد ملنے پر میں نے دریافت کیا تو انہوں نے پر زور الفاظ میں اس کی تردید کی کہ ایسی دھمکی یا الفاظ میں نے ہرگز نہیں لکھے۔
البتہ مکرمی شاہ صاحب نے فرط محبت میں مجھے یہ ضرور کہا کہ اس سابقہ مسل پر جس میں آپ کے شکوے شکایات ہیں۔ مٹی ڈال دو اور دل پاک صاف کر کے توبہ کر لو۔ یا شائد کہا کہ معافی مانگ لو۔ اس پر میں نے انہیں عرض کیا کہ وہ شکوے واقعات پر مبنی ہیں۔ ان واقعات کی تغلیط یا تردید کئے بغیر میرا دل پر اتنا زور نہیں کہ لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا کے خلاف میں دل کو کہوں کہ تو پاک صاف ہو جا اور وہ بغیر کسی معقول دلیل یا حجت کے میری زبان کے ساتھ ہو جائے۔ اس لئے مجھے حضرت کے حضور لے چلیں۔ میں سب کچھ عرض کر کے معاملہ صاف کرالوں گا۔ اس پر وہ تیار نہ ہوئے۔
غرضیکہ میں نے اپنے پوسٹر کی قریباً تمام شکایات ایک ایک کر کے مکرمی شاہ صاحبان کی خدمت میں بیان کر دیں اور سودیشی چوروں کے آنے جانے کے کھرے، کھڑکی وغیرہ سب مفصل سنائے دکھائے۔ کیونکہ میں انہیں حقیقی طور پر اپنا سچا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھتا تھا۔ معافی نامہ کا ذکر میں نے بار بار کیا کہ آج تیرہ روز ہو گئے۔ مگر کوئی جواب سوال نہیں۔ مکرمی شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب بھی فرمارہے تھے کہ اس معافی نامہ میں جوش اور اخلاص پایا جاتا ہے۔ مگر اس کے بعد اس کے خلاف رپورٹیں بڑی آرہی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ سب بکواس ہے اور سی۔آئی۔ڈی اپنا کچھ کر کے دکھانے کے لئے جھوٹ سچ لکھ دیتے ہیں۔ اس پر شاہ صاحب مجھے تسلی دے کر چلے گئے۔ مگر دوسری صبح موٹر پر لاہور جاتے وقت میرے مکان کے قریب رک کر مجھے بلایا اور فرمایا کہ آپ کا معافی نامہ تو حضرت صاحب تک پہنچا ہی نہیں۔ اپنے لڑکے سے دریافت کر کے اطلاع دیں کہ وہ کس کو دے آیا ہے۔ اب میں حیران ہوں کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ کیونکہ کل شام یہی شاہ صاحب مجھے فرمارہے تھے کہ معافی نامہ کے بعد آپ کے خلاف رپورٹیں آرہی ہیں۔ حضرت صاحب معافی نامہ میں اخلاص وغیرہ کا ذکر فرمارہے تھے۔ بہرحال یہ معمہ میں نے شاہ صاحب کے سامنے بھی رکھا۔ مگر اس وقت غالباً جلدی کی وجہ سے بھی شائد خود بھی اس معمہ کو سمجھنے سے قاصر رہنے کی وجہ سے حل نہ کر سکے اور معاملہ جوں کا توں رہا۔
٢٥
کہتے ہیں کہ احراریوں سے تعلق ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کا اشتہار احراریوں نے تقسیم کیا۔ کیا ہی خوش فہمی ہے ادھر احمدیوں سے بکلی مقاطعہ کر کے غیر احمدیوں سے لین دین کے تعلقات کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور جب وہ اشتہار غیر احمدیوں کے ذریعہ تقسیم ہوا تو جھٹ یہ لکھ دیا کہ احراریوں سے تعلق ہے۔ میں نے ابتداء میں ہی اپنے دوستوں کو کہہ دیا تھا کہ احمدیوں سے بائیکاٹ اور غیر احمدیوں سے میل ملاپ پر مجبور کر کے آخر میں جماعت کو کہہ دیں گے کہ دیکھا ہم نے کہا نہ تھا کہ یہ احراریوں سے ملا ہوا ہے۔
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش
پس میں اگر احراریوں یا ہندوؤں وغیرہ کے ذریعہ کوئی اشتہار تقسیم کرادوں تو انہیں کوئی شکوہ نہ ہونا چاہئے۔ حالانکہ امر واقعہ بھی اس کے خلاف ہے۔ میرے پاس ایک احمدی میاں عبدالمجید احمدی سابق کباب فروش آئے جو کچھ عرصہ سے میری طرح جماعت سے خارج شدہ ہیں۔ مگر ہیں پختہ احمدی میں نے انہیں کہا کہ ان اشتہاروں کو تقسیم کرانے کا کوئی انتظام کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر اپنے طور پر انتظام کر دیا تو اس معمولی سے واقعہ سے تنکوں کے سہارے لے کر مؤقر مضمون نگار کا بے تحاشہ ہاتھ پیر مارنا حق وانصاف سے بالکل بعید ہے۔
نہایت افسوس اور رنج سے مجھے عرض کرنا پڑتا ہے کہ اب باوجود میری طرف سے تریاق القلوب والی بددعا کا چیلنج جماعت کے ذمہ دار کی طرف سے سکوت رہنے کے پھر اصلیت پر پردہ ڈالنے کے لئے اس مکروہ پروپیگنڈا کو پھیلایا جا رہا ہے کہ گویا غیروں سے کسی طرح کی ساز باز تھی۔ لعنت اللہ علی الکاذبین میں معاملہ میں مکرم چوہدری فتح محمد صاحب ناظر اعلیٰ اور مکرمی مولوی فضل الدین صاحب وکیل کو خدائے جبار قہار کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ وہ اس وقت اظہار حق کی خاطر بلا خوف لومۃ لائم اور بلا خوف ولحاظ کسی انسان ضعیف البنیان کے گواہی دیں کہ کیا میں مخالفین کے خلاف نہایت ہی اشد بصیغہ راز امور میں ابھی چند ہی روز ہوئے رازدار نہیں رہا اور کیا میرے ذریعہ ایک اہم معاملہ میں آپ لوگوں کو مفید اور کامیاب کن مواد میسر نہیں آیا۔ اگر یہ درست ہے اور واقعی درست ہے تو پھر یہ کس قدر شرم کا مقام ہے کہ جماعت میں ابلہ فریبی کے رنگ میں ایک ایسا خیال پھیلایا جا رہا ہے جو بالکل جھوٹ وافتراء ہے اور اس پر اب باہر سے ریزولیوشن بھی پاس کرانے شروع کر دیئے ہیں۔ دوستو! اگر مکروہ پراپیگنڈے کے پھیلانے میں حق پر ہو تو پھر کیوں
٢٦
نہیں اس خدائی فیصلے کی طرف رخ کرتے۔ جسے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنی صداقت جیسے اہم معاملہ کے لئے دنیا میں پیش کیا ہے اور بار بار اس پر عمل بھی فرمایا ہے۔
ناکہ بندی کی عجیب و غریب مضحکہ خیز تشریح
ناکہ بندی کے پہرہ کی عجیب تاویل یہ فرمائی گئی کہ تا نظام سلسلہ کے علم میں یہ بات آجائے کہ کوئی شخص ایسا ہے جو باوجود مخالفت کے میاں فخر الدین سے ملتا اور ساز باز رکھتا ہے۔ اگر اس کا یہ خیال درست ہے کہ اس جیسے لوگوں کی کوئی پارٹی نہیں تو پھر پہرے سے ڈر کس بات کا۔ یہ تو اس کے مکان کی حفاظت ہو رہی تھی۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء! میرے مکان کی خوب حفاظت ہوئی۔ تیرہ برس سے مکان آباد ہے۔ کبھی کوئی واردات سرقہ میرے گھر پر نہیں ہوئی۔ مگر اس حفاظتی پہرہ کی برکت سے عین ناکہ بندی کی صورت میں اس طرف سے جہاں سے بدیشی چور کبھی جرأت ہی نہیں کر سکتا۔ سو دیشی سفید پوش (میرے ایمان اور مشاہدہ کے مطابق احمدی بھائی) بصورت چور خانہ واحد سمجھ کر نہایت بے تکلفی سے تشریف لائے اور اپنی کارروائی شروع کی۔ مگر بدقسمتی سے ہم جاگ اٹھے اور وہ ناکام گئے۔ بہرحال حفاظت کا خوب مظاہرہ ہو رہا ہے کہ اسی دن سے ہم رات کو ایک منٹ بھی آرام کی نیند نہیں سو سکتے اور دیکھنا تو صرف یہ تھا کہ میرے مکان پر کون کون آتا ہے۔ مگر لٹھ بند بیسیوں کی تعداد میں والنٹیر اور بیچارے غریب طالب علم بچے، جنہیں والدین اس لئے یہاں بھیجتے ہیں کہ دینی و دنیوی تعلیم حاصل کر کے بچے مبلغ بن کر باہر آئیں۔ ان کے قیمتی اوقات کا اس طرح بیدردی سے خون کیا جا رہا ہے۔ اس امر کی نگرانی کے لئے تو ایک آدھ آدمی کافی ہوتا ہے۔ پھر رات بھر کسی کے پاس کون آتا رہتا ہے۔ مگر اس قدر کڑا پہرہ کہ بیسیوں کی تعداد میں میرے مکان کے ارد گرد رات بھر طواف کرتے ہیں اور اب شیخ مصری صاحب اور بیچارے بد نصیب اور بے گناہ اور بے زبان سردار مصباح الدین کے مکان کے ارد گرد قبل از مرگ واویلا مچا کر چھاؤنیاں ڈال رکھی ہیں۔ وہ پہرے دار کیا ہیں۔ ہمارے لئے تو علی بابا چالیس چور کے قائم مقام ہیں۔ کیونکہ وہ رات بھر حرکات اس قسم کی کرتے ہیں جو پہرہ داروں سے متوقع نہیں۔ چنانچہ شیخ مصری صاحب کے ساتھ بھی میری طرح وہی ظلم روا رکھا جا رہا ہے کہ ان کی شیر خوار بچی کا دودھ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ایک روز تو وہ معصوم بچی تمام کا تمام دن مارے بھوک کے تڑپتی رہی۔ حالانکہ وہ اپنے پاس کے گاؤں بھینی دودھ لیتے تھے۔ مگر وہاں بھی قادیان کے رضا کار پہنچ گئے۔ اسی طرح ان کی بھنگن کو بھی ان کے گھر کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سخت رونے کا مقام ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ یہ جھوٹے ہتھیار ادنیٰ اور بے
٢٧
مہذب اور جاہل قوموں میں اور فرقوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن اب زمانہ کی کروٹ بدلنے پر وہ ادنیٰ قومیں بھی ان جھوٹے ہتھیاروں کو چھوڑتی جارہی ہیں۔ مگر اب اس اولڈ فیشن مکروہ ہتھیار کو احمدیہ جماعت قادیان جیسی مہذب اور تازہ بتازہ تربیت یافتہ قوم اختیار کر رہی ہے۔ پس اصل حفاظت تو خدا ہی کی حفاظت ہے۔ جب زمینی گورنمنٹ میجارٹی کے پراپیگنڈا سے لرزاں ہے تو یہاں کے دوست احباب عزیز واقارب جن کا ہر طرح کا دارومدار زندگی اور معاشرت قادیان کی لوکل گورنمنٹ پر ہے۔ کس طرح ہمارا ساتھ دے کر ان مصائب اور رنج وآلام کا تختہ مشق ہو سکتے ہیں۔ جو کسی زمانہ میں احمدیوں سے اٹھا چکے ہیں۔ پس اے میرے خدا تو آپ ہی ہماری حفاظت کر۔ آمین !
بالآخر ایڈیٹر الفضل کو عرض کرتا ہوں کہ بہتر ہوگا کہ زبان کو شستہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ورنہ میں گنبد کی صدا استعمال کرنے پر مجبور ہوں گا۔ پھر نہ شرافت و تہذیب کی دہائی مچانے لگ جانا۔ خدا کے فضل سے مجھے ہر قسم کا لکھنا آتا ہے۔ فخرالدین ملتانی، ٢٩؍جون ١٩٣٧ء!
ناواجب اتہامات کا راز طشت از بام
حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی تقریر پر مختصر سا تبصرہ
آخر آمد ز پس پردۂ تقدیر پدید
میرے اخراج کے اعلان میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ فخرالدین کا تعلق سلسلہ سے مخلصانہ نہیں ہے اور بعض ایسی باتوں کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ذات اور سلسلہ کے دوسرے کارکنوں پر ناواجب اتہام لگاتے ہیں۔ سلسلہ سے مخلصانہ تعلق کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ بظاہر یہ ہے کہ میں بغیر کسی قسم کے جبر اور طمع کے احمدی ہوں اور قادیان میں مقیم ہوں اور مقیم رہنے کا مصمم ارادہ ہے۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سے زیادہ رنج وآلام کا تختہ مشق کیوں نہ بننا پڑے اور تا ایندم کسی غیر سے کسی قسم کا مذہبی تعلق اشارۃً یا کنایۃً بھی کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا۔ ’’وَاللہ عَلیٰ مَا اَقُوْلُ شَہِیْد‘‘ دوسری شق تھی ان ذاتی شکوک کی جنہیں ناواجب اتہامات سے موسوم کر کے میرے اخراج کی وجہ قرار دی گئی۔ جماعت سے اخراج تو اب کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسیح موعود کا زمانہ پایا اور حضور کے ہاتھ سے احمدیت کا چولا پہنا۔ اب کون ہے جو اسے اتار سکے۔
٢٨
لیکن اب زمانہ کی کروٹ بدلنے پر مگر اب اس اولڈ فیشن مکروہ ہتھیار کو قوم اختیار کر رہی ہے۔ پس اصل علی کے پراپیگنڈا سے لرزاں ہے تو مدار زندگی اور معاشرت قادیان کی ب اور رنج و آلام کا تختہ مشق ہو سکتے میرے خدا تو آپ ہی ہماری حفاظت
کہ زبان کو شستہ رکھنے کی کوشش کی گر نہ شرافت و تہذیب کی دہائی مچانے فخر الدین ملتانی، ٢٩؍ جون ١٩٣٧ء!
تشت از بام
تقدیر پدید
کہ فخر الدین کا تعلق سلسلہ سے مخلصانہ نہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ذات اور سلسلہ سے مخلصانہ تعلق کا علم تو اللہ تعالیٰ احمدی ہوں اور قادیان میں مقیم ہوں اور علاوہ رنج و آلام کا تختہ مشق کیوں نہ بننا نہیں، کبھی کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا۔ دلوں کی جنہیں ناواجب اتہامات سے اخراج تو اب کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ اور حضور کے ہاتھ سے احمدیت کا چولا
چونکہ اس اعلان اخراج میں دو تین روز کے بعد مفصل بیان شائع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس لئے مجھے بھی اور دیگر دوستوں کو بھی انتظار تھا کہ ایسی کون سی وجوہات اور شکایات ہیں۔ جن کی بناء پر ایک اچھا خاصہ پر جوش مخلص احمدی جماعت سے خارج ہو جاتا ہے۔ آخر دس روز کی جدوجہد اور سوچ و بچار کے بعد ٢٦؍ جون کو خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے تقریر بیان فرمائی۔ جس میں وجوہات اخراج کے متعلق بہت کچھ تفاصیل دیں۔ ابھی وہ تقریر چھپ کر میرے سامنے نہیں آئی کہ اس پر میں تبصرہ کر کے احباب کو اصلیت اور طریق تفتیش کی حقیقت کو ظاہر کر سکوں اور سردست اتنا ضرور عرض کرتا ہوں کہ میرے وہ شکوے جو حضرت صاحب اور سلسلہ کے دوسرے کارکنوں پر ناواجب اتہام کے مصداق تھے صحیح ثابت ہوئے۔
- ١...... میں نے لکھا تھا کہ مال مسروقہ کے نوے روپے حضرت میاں شریف احمد
صاحب نے اپنے پاس رکھے اور اس طرح اڑھائی تین ہزار روپیہ کی چوری کو ضائع ہونے کا موقع مل گیا۔ چنانچہ اس تقریر کے موقعہ پر برسرِ عام حضرت میاں صاحب کی زبان سے اس کی تصدیق ہوئی۔ اگرچہ اس کی تصدیق عدالت کے بیانوں میں پہلے بھی موجود تھی۔
- ٢...... میں نے لکھا تھا کہ حضرت میاں شریف احمد صاحب نے احسان علی کو کہا
کہ تم جا کر انچارج تھانہ بٹالہ کو قابو کر لو۔ اس کے متعلق احسان علی نے ایک تحریر ناظر امور عامہ کو دے دی۔ اس کے متعلق احسان علی کا حلفی بیان نہ لیا گیا۔ دفتر امور عامہ کے اس کلرک سے بیان لیا گیا جو اس مقدمہ کی تمام روئیداد سے بکلی بے علمی کا پہلے ہی اظہار کر چکا تھا۔ مگر اس کے متعلق شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری کا حلفیہ بیان ہے کہ وہ تحریر مجھے خان صاحب فرزند علی نے خود دکھائی اور میں نے اپنی آنکھوں سے پڑھی۔
- ٣...... میں نے لکھا تھا کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے منظور علی شاہ صاحب
کو رقعہ دفتر سکول میں بھیج کر رخصت دلائی۔ تاکہ وہ جا کر ملزم کی ضمانت وغیرہ کی امداد کرے۔ اس پر مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر کی شہادت ہوئی کہ ہاں واقعی رقعہ اس کی رخصت کے متعلق گیا تھا۔ صرف اتنا فرق حضرت میاں صاحب کی شہادت میں ہوا کہ میاں صاحب موصوف نے اپنی شہادت میں فرمایا کہ میرے پاس احسان علی کا باپ ڈاکٹر فیض علی منظور علی شاہ صاحب کی رخصت کے لئے آیا تھا۔ پھر منظور علی شاہ صاحب نے شہادت میں یہ کہا کہ میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے پاس گیا کہ ملزم کی ضمانت وغیرہ کے لئے جانا ہے۔ تو میاں صاحب نے فرمایا کہ ناظر
٢٩
امور عامہ سے باقی امور دریافت کرلو۔ ناظر امور عامہ نے شہادت دی کہ ملزم کو قانونی فائدہ جو پہنچ سکتا ہے وہ ضرور پہنچاؤ۔
- ٤...... میں نے عرض کیا تھا کہ عبدالرحمٰن برادر احسان علی کو باوجود اس کے خلاف
رپورٹیں آنے کے اس کو پچیس روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا۔ جب کہ اس سے زیادہ مستحق پندرہ بیس روپے پر دھکے کھا رہے ہیں۔ اس کو بھی حضرت صاحب نے تسلیم فرمایا۔ مگر اس کی بہت طول طویل وجوہات وغیرہ بیان کیں۔
- ٥...... اس طرح پٹرول خریدنے کے متعلق حضرت صاحب نے اپنے بیان
میں تسلیم فرمایا۔
- ٦...... حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے احسان علی کو قرضہ دینے کے متعلق تسلیم
کیا۔ مگر ساتھ ہی بے تعلق اور بغیر پوچھے یہ بھی کہا کہ مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری اور اہلیہ ڈاکٹر فضل دین صاحب بھی قرضہ لیتے رہے ہیں۔
- ٧...... احسان علی کے مقدمہ کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر اسماعیل کے
خلاف احسان علی کی حمایت میں سینکڑوں روپیہ نظارت نے خرچ کیا تاکہ احسان علی بدنامی سے بچے اور ڈاکٹر اسماعیل قید ہو جائے۔ مگر معصوم اور مظلوم عورتوں کی عفت و عصمت اور جان مال کی خاطر نظارت نے اپنے نظام کے ماتحت بھی ایکشن نہیں لیا۔ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب کی اپنی زبان سے تصدیق ہو گئی کہ واقعی احسان علی کے مقدمہ میں نظارت نے خرچ کیا۔ اگرچہ اس مقدمہ میں نہایت ذلیل طور پر شکست ہوئی اور احسان علی ہمیشہ کے لئے ہائیکورٹ تک داغدار اور بدنام قرار دیا گیا۔ حضرت صاحب نے اس مقدمہ پر خرچ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ مقدمہ قوم کی خاطر کیا گیا۔ ڈاکٹر اسماعیل کے متعلق حضرت صاحب نے بیان فرمایا کہ وہ اس وقت جماعت سے نکالا ہوا تھا۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ اس وقت جماعت میں شامل تھا۔ مقدمہ کے جاری ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد اس کو ایک عذر نکال کر خارج کیا گیا۔ ورنہ جس وقت مقدمہ شروع ہوا تھا تو ڈاکٹر اسماعیل ہر طرف سے معافی مانگتا رہا اور بار بار درخواستیں دیتا رہا کہ نظام اس مقدمہ کو آپ سنے اور میں لکھ کر دیتا ہوں کہ جو بھی سزا تجویز کرے میں لینے کو تیار ہوں۔ مگر اس وقت اس کی ایک بھی نہ سنی گئی اور مقدمہ ہائیکورٹ تک لڑا گیا۔ بالآخر سینکڑوں روپیہ بے دریغ خرچ کرنے کے بعد خطرناک شکست اور ذلت میں اس کا انجام ہوا۔
٣٠
شہادت دی کہ ملزم کو قانونی فائدہ جو پہنچ ا اور احسان علی کو باوجود اس کے خلاف لیا۔ جب کہ اس سے زیادہ مستحق پندرہ ب نے تسلیم فرمایا۔ مگر اس کی بہت طول متعلق حضرت صاحب نے اپنے بیان نے احسان علی کو قرضہ دینے کے متعلق تسلیم سے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اور اہلیہ میں نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر اسماعیل کے لئے خرچ کیا تاکہ احسان علی بدنامی سے عورتوں کی عفت وعصمت اور جان مال کی ا۔ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب کی میں نظارت نے خرچ کیا۔ اگرچہ اس عضہ کے لئے ہائیکورٹ تک داغدار اور کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی ہے حضرت صاحب نے بیان فرمایا کہ وہ اس رہ وہ اس وقت جماعت میں شامل تھا۔ عذر نکال کر خارج کیا گیا۔ ورنہ جس فی مانگتا رہا اور بار بار درخواستیں دیتا رہا بھی سزا تجویز کرنے میں لینے کو تیار ت تک لڑا گیا۔ بالآخر سینکڑوں روپیہ اس کا انجام ہوا۔
برادران! یہ چند ایک شکوے تھے جن کو اتہامات قرار دیا گیا اور جن کی بابت بڑی تان کھینچ اور ادعائی واحتیاطی پہلو اختیار کرنے کے بھرے مجمع میں تصدیق ہوگئی اور تفتیش اور تحقیق کا دنیا سے نرالا اور انوکھا طریق تھا کہ ملزم یا مدعا علیہ کو ان گواہوں پر جرح قدح کا کوئی موقعہ نہیں دیا گیا۔ تاہم خدا کا شکر ہے کہ ان ناواجب اتہامات کی حقیقت طشت از بام ہو گئی۔ باقی بعض تنخواہ دار اجارہ داروں کی ادھر ادھر کی بے تعلق اور بعض جھوٹی اور خلاف واقعہ باتوں کو دہرا دہرا کر پبلک میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ جن کو میں خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ بہر حال اصلیت یہ تھی جو کسی نہ کسی طرح ظاہر ہوگئی۔
اب احباب اندازہ لگا لیں کہ کیا یہ شکوے تھے یا ناواجب اتہام اور کیا یہ ذاتی تھے یا نظام سلسلہ کے کارکنوں پر جیسا کہ اعلان میں ظاہر کیا گیا تھا۔ پس ان امور کو اتنی طوالت دی گئی کہ گویا سلسلہ سے میرا مخلصانہ تعلق نہیں رہا اور سلسلہ کے کارکنوں پر ناواجب اتہام بھی بن گئے اور میری احراریوں سے ساز باز بھی ہوگئی اور میں دشمن سلسلہ بھی سمجھا گیا وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ تقریر کرتے وقت حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کو اس قدر غصہ اور اشتعال آ جاتا تھا کہ بے حیا، کمبخت اور خبیث الفطرت وغیرہ طرح طرح کے گندے الفاظ حضور کے منہ سے نکل رہے تھے اور میں اندر ہی اندر مارے شرم کے غرق ہوا جا رہا تھا۔ کیونکہ اپنی جماعت کے دوست تو خیر محبت واخلاص میں اس درشت کلامی اور دشنام دہی کا احساس نہیں کر سکتے۔ مگر اس دن بدقسمتی سے غیر احمدی کثرت سے تھے اور پولیس والے بھی تھے۔ ان کا ڈر تھا کہ کم بختوں پر کیا اثر پڑا ہو گا کہ جماعت احمدیہ جیسی پاک جماعت کے حضرت امام کی زبان سے محض اس وجہ سے کہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے متعلق ایک شخص نے ذاتی شکوے بیان کئے ہیں۔ ایسے ایسے ناشائستہ اور غیر موزوں سخت الفاظ نکل رہے ہیں۔ حالانکہ اصولاً تو ان کو ذاتی معاملہ میں خود دخل بھی نہ دینا چاہئے تھا۔ بہرحال مختصر سی کیفیت عرض ہے۔ باقی مفصل تقریر شائع ہونے پر اگر ضرورت ہوئی تو عرض کروں گا۔ (خاکسار فخر الدین ملتانی قادیان)
واہ میر صاحب واہ! (یعنی میر محمد اسحق صاحب)
آپ نے میرے جیسے دیرینہ ودردینہ مصاحب اور واقف رموز واسرار نیازمند کی اس نیاز مندانہ گذارش پر عمل نہ کیا جو میں نے چند روز قبل؎
کے الفاظ سے آپ تک پہنچائی تھی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ جیسے بزرگانِ ملت کو اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے جبراً وقہراً اس طرح سرگرم حصہ لینا پڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے حال زار پر رحم فرمائے۔
٣١
آپ نے ٦ جولائی ١٩٢٧ء کی شب کی تقریر میں فرمایا کہ : ”رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد کہ ”الکفر ملة واحدة“ اس موقعہ پر بھی پورا ہورہا ہے۔ مصری صاحب جب تک جماعت میں تھے کوئی احراری کوئی غیر مبائع اور کوئی غیر احمدی ان کے پاس نہ آتا تھا اور نہ وہ ان لوگوں سے میل جول رکھتے تھے۔ لیکن ادھر ان کو جماعت سے علیحدہ کیا گیا۔ ادھر ڈاکٹر عبداللہ کا لڑکا ان کے مکان پر پہنچ گیا۔ مہرالدین آتشباز ان کے لئے بیتاب ہو گئے۔ عمر دین پیغامی ان کے پاس دوڑا آیا۔ باوجود اختلاف عقائد کے ان کا آپس میں کیا تعلق پیدا ہو گیا۔ یہی کہ الکفر ملة واحدة“
سبحان اللہ کیا ہی عجیب و غریب نکتہ معرفت ہے۔ خود داد ملی ہوگی۔ میر صاحب اگر آپ نے ”الکفر ملة واحدة“ کا پرکیف نظارہ ملاحظہ کرنا ہو تو جاؤ احرار زمیندار اور احسان کی گلیوں اور کوچوں میں اور دیکھو کہ کون غریب اور نادار احمدی قوم کے گاڑھے پسینہ کی کمائی کی تھیلیاں لٹانے کے لئے پھر رہے ہیں۔ کبھی ایڈیٹر ”زمیندار“ کی ناصیہ فرسائی ہورہی ہے تو کہیں احسان کے دفتر میں تملق بازی کی جارہی ہے اور کہیں قادیان کے موقعہ شناس اور ضرورت مند غیر احمدیوں کو سنہری روپہلی وعدے دیئے جارہے ہیں۔ مولوی عبدالغنی خان صاحب ضرور گواہی دے دیں گے کہ یہی مہر دین آتش باز ان کے خلوت خانہ میں ان سے گھنٹوں راز و نیاز بازی کرتا رہتا تھا اور پھر بار بار اسی مہر دین کو بلوایا جاتا تھا۔ مولوی عمر دین شملوی آج نہیں۔ بلکہ ہمیشہ سے آتا اور میرے ہی ہاں رہتا ہے اور پھر سب چھوٹے اور موٹے بزرگوں اور خوردوں سے خوب میل جول رکھتا رہا ہے۔
ہاں میر صاحب! یاد آیا۔ یہ مہرالدین پیامی وہی تو ہیں جسے آپ نے اپنے رازدار خصوصی اجمیری کو ایک کار خاص کے لئے دہلی بھیج کر بلوایا تھا اور وہ ایک خاص مخفی مہم کی سرانجامی کے لئے بہشتی مقبرہ کی سڑک والی مشہور و معروف تاریخی بلڈنگ میں بھیجے گئے۔ مگر افسوس کہ وہ مہم ناکام رہی۔
پس میر صاحب مکرم ! ان احراریوں اور دشمنان احمدیت کی کوچہ گردی نذرانہ خاص کی تھیلیاں ہاتھ میں لے کر پھرنے پر ”الکفر ملة واحدة“ عائد نہیں ہوتا تو اب جماعت احمدیہ کی طرف سے اس قدر ناروا مظالم اور بیوفائی اور جور و استبداد کے مظاہرہ کے وقت اگر کوئی احراری یا غیر احمدی یا ہندو کسی روپیہ کے لالچ سے نہیں بلکہ انسانیت کے تقاضے سے ہمارے پاس از خود آتا
٣٢
ہے تو آپ کی چشم مبارک میں ”الکفر ملۃ واحدۃ“ کا تنکا کیوں چبھا۔ واہ میر صاحب واہ ؎
کے مشہور ومعروف مقولہ کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھ کر ارشادات گرامی فرمایا کریں۔ ورنہ پھر ہم بھی آپ کی طرح جبراً وقہراً حصہ لینے پر مجبور ہوں گے اور پھر پرانی اور فراموش شدہ روایات، واقعات اور کہانیوں کی یاد چلتی پھرتی اور بولتی چالتی تصویروں کی طرح زندہ کی جائے گی اور پورے الفاظ میں کہتا ہوں کہ ؎
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
(فخرالدین ملتانی، کتاب گھر قادیان، مورخہ ١٢؍جولائی ١٩٣٧ء)
الحب یعمی ویصم
فرمایا گیا ہے کہ محبت انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے۔ مگر جہاں علاوہ محبت عمومی کے تعلقات و رشتہ داری خصوصی بھی شامل حال ہو جائیں وہاں تو نور علیٰ نور کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں تو انسان بس مطلق فنا در فنا کے مقام میں ہو کر روحانی اور جسمانی طور پر مجذوبیت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس لئے اس وقت اس کا کوئی فعل اختیاری نہیں ہوتا۔ بالکل یہی کیفیت میرے نہایت ہی کرم فرما اور محبّ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب پنشنر پر طاری ہے۔ حضرت میر صاحب موصوف چونکہ میرے نہایت ہی بے تکلف بزرگوں میں سے واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ ان کے کسی ریمارک پر جو میرے متعلق ہو یا جس میں میرا کسی طرح کا اشتراک ہو بے تکلفانہ انداز میں جرح قدح کروں۔ حضرت قبلہ میر صاحب موصوف نے ٦؍جولائی کی رتی چھلہ والی تقریر میں میرے متعلق اور مصری صاحب کے متعلق ارشاد فرمایا کہ:
”جب کہ وہ (یعنی ہم دونوں) قادیان میں نہایت غربت اور تنگدستی کی حالت میں آئے تھے تو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کس طرح ذاتی طور پر ان پر بے حد احسان کئے۔“
میرا ظن غالب ہے کہ قبلہ میر صاحب موصوف نے یہ اظہار خیال اپنے ذاتی علم کی بناء پر نہیں فرمایا۔ کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شیخ صاحب مصری اور خاکسار ملتانی چند ماہ آگے پیچھے قادیان میں ١٩٠٦ء میں حاضر ہوئے اور خدانخواستہ ایسی ناداری کی حالت نہیں تھی جیسے دہلی کے غدر زدہ بے کس و بے نوا فقط اپنی جانیں بصد مشکل بچا بچا کر پنجاب میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ بلکہ خدا کے فضل سے ہم دونوں پیچھے سے اچھے کھاتے پیتے تھے۔ ہمارے والدین کسی وظیفہ یا
٣٣
نذرانہ پر گزارہ نہ کرتے تھے۔ بلکہ تاجر تھے۔ محض صداقت کی وجہ سے سب کچھ قربان کر کے یہاں آئے۔ خود حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بھی اس وقت یعنی ١٩٠٦ء میں زندگی کے ابتدائی مرحلہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سایہ عاطفت میں گزار رہے تھے۔ حسن اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت کے ہمارے جیسے مہاجرین فی سبیل اللہ کے ان داتا وہ لوگ تھے جو روٹھ کر لاہور جا بیٹھے ہیں۔ میں مدرسہ میں پڑھا، قرض حسنہ لے کر جو پائی پائی وصول کر لیا گیا۔ اس کے بعد مختلف ملازمتیں قادیان اور باہر کرتا پھرا۔ اس کے بعد کتاب گھر محض توکل علی اللہ شروع کیا اور جماعت جانتی ہے کہ میں نے کیا کچھ کیا اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھ پر میری توقعات سے بڑھ کر برکت کا نزول فرمایا۔ کئی ایک مکان بنائے جب کبھی کسی دینی یا پولیٹیکل خدمت کے لئے بلاوا آیا۔ بلا تامل اپنے گھر سے کھا کما کر خدمات انجام دیں۔ کئی مرتبہ سر کو ہتھیلی پر رکھ کر خدمت کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔
ذاتی طور پر مجھے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا کوئی خاص قابل ذکر احسان یاد نہیں۔ سوائے دعاؤں کی درخواستوں کا جواب مثبت میں دینے کے یا کبھی کوئی کتاب یا قرآن شائع کیا تو اس پر کبھی نہ کبھی کوئی ریویو فرما دیا گیا۔ حضرت میر صاحب نے ”ذاتی طور“ پر زیادہ زور دے کر مجھے ممنونیت اور مشکوریت کا اشارہ فرمایا ہے۔ مگر میں ایاز قدر خود بشناس پر عمل کرتا ہوا اپنے تئیں خوب پہچانتا ہوں کہ میرے اندر اس وقت یا اس وقت کوئی خاص ایسے ذاتی جوہر اور لیاقت موجود نہیں۔ جن کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ذاتی طور پر مجھے خاص طور پر نوازتے یا احسان فرماتے۔ اس لئے میں بغیر کسی استحقاقی صفت کے حضرت صاحب سے کسی طرح ذاتی احسان کی توقع رکھ سکتا ہوں؟ اور یہی کیفیت شیخ مصری صاحب کی ہے۔ مصری صاحب فرمان خصوصی کے ماتحت انٹرنس اور مولوی فاضل پاس کر کے مع مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مصر بغرض تعلیم گئے۔ مصری صاحب باقاعدہ عالم بن کر آئے اور مکرم شاہ صاحب موصوف ماشاء اللہ ہو کر واپس تشریف لائے۔ مگر بعض حالات و مجبوریات کے ماتحت مصری صاحب کم گریڈ والی تنخواہ پر مقرر ہوئے اور شاہ صاحب موصوف بعض حالات و ضروریات پیش آمدہ کے ماتحت آفیشل لائن میں اعلیٰ تنخواہ پر مقرر کئے گئے۔ مصری صاحب نے اپنی محنت اور ذاتی خرچ سے بی۔ اے پاس کیا۔ اپنے بچوں کو پڑھایا اور کسی قسم کی امداد حضرت صاحب سے نہ ذاتی اور نہ ہی صفاتی طور پر حاصل کی۔ باقی احسانات کی تفصیل پر خود مصری صاحب ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔
بایں ہمہ ہم تو پھر بھی حضرت صاحب کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے اب تک کے
٣٤
ایام زندگی قادیان میں گزارنے دیئے۔ ورنہ یہی سلوک جو آج کل ہمارے ساتھ جاری ہے۔ شروع سے کرتے تو پھر ممکن تھا کہ یہ ایام بھی چین سے نہ گزار سکتے۔ ایں ہم غنیمت است۔ ابھی میں الزامی جوابات سے اجتناب کرتا ہوں۔ ورنہ ....................
پس مکرم میر صاحب! لغو قسم خلاف واقعہ باتیں آپ اللہ دتہ وغیرہ جیسے تنخواہ دار مجاہدین کے لئے رہنے دیجئے۔ آن مکرم کی علو مرتبت اور نجابت ان باتوں کی ہرگز متحمل نہیں۔ آپ چند صوفیانہ نکتے بیان فرما کر سامعین کو محظوظ فرمایا کریں۔ فقط والسلام!
خاکسار فخرالدین ملتانی، ١٤ جولائی ١٩٣٧ء!
جناب شیخ صاحب عبدالرحمن مصری
شیخ عبدالرحمن صاحب مصری مولوی فاضل کے بیانات کو درج کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شخصیت کو دنیا کے سامنے خود صاحب زادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تحریر سے ہی ثابت کر کے پیش کیا جائے۔ ١٩٣٥ء میں جب احرار اور جماعت احمدیہ میں جنگ مباہلہ شروع ہوئی تو جناب شیخ صاحب صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ناظر دعوت و تبلیغ تھے اور احرار کے مقابلہ میں مستعد نمائندے تھے۔ چنانچہ صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تحریر ملاحظہ ہو۔
٥ شعبان مطابق ٣ نومبر ١٩٣٥ء
مکرمی ناظر صاحب دعوت وتبلیغ (شیخ عبدالرحمن صاحب مصری) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
”میرے تازہ ٹریکٹ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آپ کو میں نے اپنی طرف سے مباہلہ کی شرائط طے کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ سو یہ تحریر بطور سند دیتا ہوں کہ آپ میری طرف سے اس غرض کے لئے نمائندے ہیں۔ آپ جلد سے جلد احرار کے نمائندے سے شرائط طے کر کے مباہلہ کی تاریخ کا اعلان کر دیں۔“
والسلام!
خاکسار: مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی
مندرجہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ جناب شیخ صاحب کی شخصیت جماعت میں اور خود جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے نزدیک کس قدر نمائندہ اور مخلص شخصیت تھی۔ اس کے بعد بھی جناب صاحبزادہ صاحب کا یہ کہنا کہ آپ ١٩٣٠ء میں اور ١٩٣١ء میں ہی منافق تھے۔ حقیقت پر پردہ ڈالنا ہے۔
٣٥
اب جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد کا وہ اعلان درج کیا جاتا ہے جو شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے متعلق الفضل میں شائع کیا گیا ہے۔ اس بیان کی اشاعت سے مقصد یہ ہے۔ تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ شیخ صاحب خود جماعت سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ ان کو جماعت سے علیحدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جناب شیخ صاحب کے بیانات درج ہیں۔
فیصلہ قارئین کے فہم رسا پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (خان کابلی)
شیخ عبدالرحمن مصری کا جماعت سے اخراج
”اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ٠ بسم الله الرحمن الرحيم ٠ نحمده ونصلي على رسوله الكريم“ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر مکرم شیخ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کے تین خط ملے۔ پہلے خط کا مضمون اس قدر گندہ اور گالیوں سے پر تھا کہ اس کے بعد آپ کی نسبت یہ خیال کرنا کہ آپ بیعت میں شامل ہیں اور جماعت احمدیہ میں داخل ہیں۔ بالکل خلاف عقل تھا۔ پس میں اس فکر میں تھا کہ آپ کو توجہ دلاؤں کہ آپ خدا تعالیٰ سے استخارہ کریں کہ اس عرصہ میں آپ کا دوسرا خط ملا۔ جس میں فخر الدین ملتانی صاحب کی طرف سے معافی نامہ بھجوانے کا ذکر تھا۔ میں اس معافی نامہ کی انتظار میں رہا۔ مگر وہ ایک غلطی کی وجہ سے میری نظر سے نہیں گزرا اور کل دس گیارہ بجے اس کا علم ہوا اور اسی وقت ان کو اس کی اطلاع کر دی گئی۔ اس کے چند گھنٹہ بعد آپ کا تیسرا خط ملا۔ کہ اگر چوبیس گھنٹہ تک آپ کی تسلی نہ کی گئی تو آپ جماعت سے علیحدہ ہو جاویں گے۔ سو میں اس کا جواب بعد استخارہ لکھ رہا ہوں۔ کہ آپ کا جماعت سے علیحدہ ہونا بے معنی ہے۔ جب سے آپ کے دل میں وہ گند پیدا ہوا ہے جو آپ نے اپنے خطوں میں لکھا ہے۔ آپ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جماعت سے خارج ہیں۔ خدا تعالیٰ اب بھی آپ کو توبہ کی توفیق دے کہ جب سے آپ نے میرے خط میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے اسی وقت سے آپ جماعت سے میری نگاہ میں بھی الگ ہیں۔ لیکن اگر آپ کو میری تحریر کی ہی ضرورت ہے تو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو ان خیالات کے پیدا ہونے کے دن سے ہی جماعت احمدیہ سے خارج ہیں اور ان خطوط کے بعد جو حال میں آپ نے مجھے لکھے ہیں میں بھی آپ کو جماعت سے خارج سمجھتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔ آپ نے مجھے بہت سی
٣٦
پروفیسر عبد آسان طر
دھمکیاں دی ہیں۔ میں ان کا جواب اِسی بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ اگر وہ الہامات جو م خواہیں جو اس بارہ میں مجھے آئی ہیں ا خدا تعالیٰ باوجود آپ کے ادعاء رسوخ العلی العظیم“ خاکسا جماعت احمدیہ کی خدمت میں ”بسم الله الرحمن ال قادیان ٢٩ /جون ١٩٣٧ ہے کہ میں آپ کے بعض ایسے قائم ک تفصیل میں نے اپنی تین چٹھیوں م ہاں اگر آپ اپنے نقائص کی اصلاح ہوں گے تو میں اپنی فسخ بیعت کا اعلا کسی خاص مصلحت کے ماتحت پبلک خارج کر رہے ہیں۔ حالانکہ جماع کے متعلق انشاء اللہ مفصل بحث بعد اضطراب پھیلا ہوا ہے اور لوگ در حضرت صاحب سے اتنا اخلاص ن خاکسار کے خاندان کو ان کے طال تعلق رہا ہے اور جس نے اتنا لمبا بیعت سے الگ ہوا ہے اور اس طر تھی اس کے ضائع ہونے کی بھی اسے کوئی اور ذریعہ معاش میسر نہ اختیار کر جاتا ہے جب کہ یہ دیکھا ہے۔ دو بچے کالج میں بھی تعلیم پا کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ اس کی کو دور کرنے کے لئے ایک نہای
دھمکیاں دی ہیں۔ میں ان کا جواب ابھی کچھ نہیں دیتا۔ میرا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ اگر میں اس کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ اگر وہ الہامات جو حضرت مسیح موعود کو میرے بارہ میں ہوئے ہیں اور وہ بیسیوں خوابیں جو اس بارہ میں مجھے آئی ہیں اور وہ سینکڑوں خوابیں جو دوسروں کو آئی ہیں۔ درست ہیں تو خدا تعالیٰ باوجود آپ کے ادعاء رسوخ واثر کے آپ کو ناکام کرے گا ۔”وما توفيقى الا بالله العلی العظیم“ خاکسار ! مرزا محمود احمد، الفضل قادیان ، مورخہ ٢٦ / جون ١٩٣٧ء!
جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک دردمندانہ اپیل
”بسم الله الرحمن الرحيم ٠ نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم“
قادیان ٢٦/ جون ١٩٣٧ء جب سے میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو اطلاع دی ہے کہ میں آپ کے بعض ایسے نقائص کی وجہ سے جو خلافت کے منصب کے منافی ہیں۔ (جن کی تفصیل میں نے اپنی تین چٹھیوں میں بیان کر دی ہے ) آپ کی بیعت سے الگ ہوتا ہوں۔ ہاں اگر آپ اپنے نقائص کی اصلاح کرلیں اور مجھے یقین دلاویں کہ آئندہ پھر یہ نقائص پیدا نہیں ہوں گے تو میں اپنی فسخ بیعت کا اعلان نہیں کروں گا اور آپ کا خادم رہوں گا اور جس کو انہوں نے کسی خاص مصلحت کے ماتحت پبلک میں اس طرح ظاہر کیا ہے کہ گویا وہ مجھے خود جماعت سے خارج کر رہے ہیں۔ حالانکہ جماعت سے خارج کرنے کا انہیں کوئی اختیار ہی نہیں ۔ ان باتوں کے متعلق انشاء اللہ مفصل بحث بعد میں کی جاوے گی ۔ اس وقت سے جماعت میں سخت ہیجان اور اضطراب پھیلا ہوا ہے اور لوگ دریافت کر رہے ہیں کہ اس فسخ بیعت کی کیا وجہ ہے۔ خاکسار جسے حضرت صاحب سے اتنا اخلاص ومحبت اور حضرت صاحب کو خاکسار سے اتنا تعلق ومحبت اور خاکسار کے خاندان کو ان کے خاندان سے اور ان کے خاندان کو خاکسار کے خاندان سے گہرا تعلق رہا ہے اور جس نے اتنا لمبا عرصہ نہایت اخلاص کے ساتھ خدمت کی ہے۔ آج وہ ان کی بیعت سے الگ ہوا ہے اور اس علیحدگی میں اس نے اپنی تمام عزت جو اس کو جماعت میں حاصل تھی اس کے ضائع ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اپنی ملازمت کو ایسی حالت میں جب کہ بظاہر اسے کوئی اور ذریعہ معاش میسر نہیں آسکتا ۔ خطرہ میں ڈال دیا ہے اور یہ نقصان اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب کہ یہ دیکھا جاوے کہ پندرہ سولہ نفوس پر مشتمل کنبہ کی پرورش اس کے ذمہ ہے۔ دو بچے کالج میں بھی تعلیم پارہے ہیں۔ پس مال وعزت کی اتنی بڑی قربانی کسی معمولی بات کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ اس کی تہ میں ضرور کوئی بڑی بات ہے۔ لوگوں کے اس استعجاب وحیرت کو دور کرنے کے لئے ایک نہایت ہی جھوٹا ومکروہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ گویا میں نے اپنی لڑکی
٣٧
حضرت صاحب کی خدمت میں بغرض شادی پیش کی تھی اور حضرت صاحب نے اس کو اپنے عقد میں لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر میں حضرت صاحب سے ناراض ہو گیا اور اس ناراضگی کے غصہ میں اس قسم کی حرکت کا مرتکب ہوا ہوں۔ میں اس پروپیگنڈا کو دیر سے سن رہا ہوں۔ لیکن خاموشی اور صبر کے ساتھ اس کی تکلیف برداشت کرتا چلا آ رہا ہوں۔ لیکن اب جب کہ تمام قادیان میں اور باہر دونوں جگہ یہی وجہ ذہن نشین کرا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مجھے خیال پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا جا رہا ہے کہ تا لوگوں کو وجہ دریافت کرنے کی جو طبعی خواہش ہے وہ اس وجہ کے بیان کر دینے سے پوری ہو جائے اور وہ اس سے تسلی پا کر وہ امر جو اس علیحدگی کا حقیقی باعث ہے اسے دریافت کرنے سے رک جائیں۔ میں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس غلط بیانی کی اب علانیہ تردید کروں۔ قادیان میں تو ہر ایک کی زبان پر یہی وجہ جاری ہے لیکن مجھے اطلاع ملی ہے کہ لاہور میں بھی مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے بیان کیا کہ شیخ صاحب نے خاندان نبوت میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس لئے شیخ صاحب نے علیحدگی اختیار کر لی۔ گو مجھے یقین نہیں کہ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی جیسے عالم آدمی نے اتنی بے احتیاطی سے کام لیا ہو کہ ایسی بے بنیاد بات بغیر تحقیق کہہ دی ہو۔ لیکن بہر حال چونکہ اس کا چرچا عام ہے۔ اس لئے میں اس کے متعلق اتنا عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیا دوستوں کا یہ فرض نہ تھا کہ ایسی بات منہ سے نکالنے سے قبل وہ ان سے بھی دریافت کر لیتے۔ جن کا اس معاملہ کے ساتھ تعلق تھا۔ یعنی خود حضرت صاحب سے یا اس خاکسار سے میرے نزدیک یقیناً ان کا مذہباً اور اخلاقاً دونوں لحاظ سے فرض تھا۔ پس انہوں نے ایک اہم فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کر کے اپنے ایک بھائی کے احساسات کو ناواجب طور پر مجروح کیا ہے اور اس کی طرف ایسی گندی اور کمینہ بات منسوب کی ہے کہ اس پر جتنی بھی نفرین کی جاوے کم ہے۔ یعنی ایک ادنیٰ سی دنیوی خواہش کے پورا نہ کئے جانے پر جماعت کے خلیفہ کے خلاف آواز اٹھا کر جماعت کے اتحاد کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ اس ذہنیت پر میں سوائے ’انا للہ وانا الیہ راجعون‘ کہنے کے اور کیا کہہ سکتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ جن دوستوں نے اس قسم کی وجہ گھڑنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے وہ اپنی غلطی کی معافی اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے اور آئندہ سے اس کی اشاعت سے اپنی زبان کو روک لیں گے۔
میں اس تحریر کے ذریعہ تمام دوستوں کو خواہ وہ قادیان کے ہیں یا باہر کے اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں نے کبھی بھی حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی لڑکی کا رشتہ ٣٨
پیش نہیں کیا۔ نہ تحریراً نہ تقریراً نہ اشارۃً اور نہ کنایۃً نہ بالواسطہ نہ بلا واسطہ۔ کسی کو میرے اس بیان میں شک ہو تو خود حضرت صاحب سے براہ راست دریافت کر لے۔ مجھے چند ماہ قبل ایک معزز دوست اور پھر چند دن قبل ایک دوسرے معزز دوست نے بتلایا کہ حضرت صاحب نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ صاحب نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ مجھے بھی یہ افواہ پہنچی ہے۔ مگر نہ معلوم کس شخص نے اسے پھیلا دیا ہے۔ پس دوستو! یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وجہ بالکل غلط اور کسی شریر کی بنائی ہوئی ہے۔ اسی طرح پر اگر کوئی اور وجہ جس کا تعلق کسی نفسانی غرض یا دنیوی مفاد کے ساتھ ہو۔ میری طرف منسوب کی جاوے تو اس کو بھی اسی طرح غلط سمجھیں اور میرے مفصل بیان کا انتظار کریں۔ جس میں اس اقدام کی اصل وجہ بیان کروں گا۔ اس مفصل بیان کو شائع کرنے کے لئے سردست میں متردد ہوں۔ کیونکہ جماعت کے شیرازہ کے بکھر جانے کا غم میرے دل کو کھائے جا رہا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ معاملہ بغیر پبلک میں آئے۔ اندر ہی اندر طے ہو جائے۔ لیکن میری کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور اس کی بھی اصل وجہ میرے مفصل بیان میں آجائے گی۔ اگر وہ شائع ہو۔ لیکن اس کے شائع کرنے سے قبل میں جماعت کے تمام ذمہ دار دوستوں کی خدمت میں پرزور اور دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ بہتر صورت یہی ہے کہ اس نازک معاملہ کو باہمی طور پر سلجھائیں۔ مجھ پہ گالیوں اور گند اچھالنے اور کمینگی دکھانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کے سامنے اپنی تینوں چٹھیاں رکھ دوں گا اور تمام اپنے شکوے پیش کر دوں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو ان کے دوست ہونے کے ثبوت بھی بتلا دوں گا۔ جن کی روشنی میں وہ خود دیکھ لیں گے کہ آیا میری تحریروں میں کسی قسم کی گالی ہے۔ میں نے جو قدم اٹھایا ہے محض خدا کے لئے اٹھایا ہے اور جماعت کے اندر ایک بہت بڑا بگاڑ مشاہدہ کر کے جو بہت سے لوگوں کو دہریت کی طرف لے جا چکا ہے اور بہتوں کو لے جانے والا ہے۔ اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس کر کے بلکہ اس کو ضروری جان کر اٹھایا ہے اور اس سے میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ ممکن ہے کہ میرے خلاف نفرت کے ریزولیشن پاس کرا دیئے جائیں۔ یا جماعت کو اور رنگ میں ابھار دیا جاوے۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں میری آواز آج نہیں کل۔ کل نہیں پرسوں سنی جاوے گی اور ضرور سنی جاوے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ کیونکہ وہ آواز اپنے اندر حق رکھتی ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جاسکتا۔ مجھے ناکامی سے ڈرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی لوگ اٹھے اور ناکام رہے۔ ممکن ہے کہ پہلے اٹھنے والے کسی دنیوی غرض کے ماتحت یا انتقامی جذبہ کے ماتحت اٹھے ہوں۔ اس لئے ناکام رہے ہوں۔ لیکن مجھے اپنی کامیابی پر خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور تائید کے
٣٩
ساتھ پورا یقین ہے۔ کیونکہ میں اس کی ذات پر بھروسہ کر کے اسی کے پیارے مسیح موعود کی لائی ہوئی تعلیم اور اس کی بنائی ہوئی مقدس جماعت میں جو بگاڑ پیدا ہو کر اسے تباہی کے گڑھے کی طرف لے جانے والا ہے۔ اس کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ مجھے بعض دوستوں نے کہا ہے کہ ان کو جماعت پر بڑا اقتدار ہے۔ پھونک مار کر تمہیں اڑا دیں گے۔ میں نے کہا کہ ان کے اقتدار اور اپنی بے بسی کو میں بھی سمجھتا ہوں۔ لیکن حق کی قوت بڑی زبردست قوت ہے۔ جو باطل کی تمام قوتوں کو مٹا ڈالتی ہے۔ ممکن ہے کہ میں کچلا جاؤں اور جماعت میری طرف توجہ نہ کرے۔ لیکن جو بات میں جماعت کے اندر قائم کرنا چاہتا ہوں اور جس سچائی کی طرف لانا چاہتا ہوں وہ ضرور قائم ہو کر رہے گی اور وہ نقائص جو گھن کی طرح سلسلہ کی چھتوں کی لکڑی کو کھا رہے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دور ہو جائیں گے۔
پس میں دوستوں کی طرف سے اس دردمندانہ اپیل کے جواب کا چند دن تک انتظار کر کے اپنے مفصل بیان کو شائع کرنے کے متعلق فیصلہ کردوں گا۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ! خاکسار! عبدالرحمٰن مصری ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان، مورخہ ٢٩/ جون ١٩٣٧ء!
جماعت کو خطاب
”ولا يجرمنكم شنان قوم علىٰ“ (اے مومنو) لوگوں کی دشمنی ہمیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے۔ ”الا تعدلوا اعدلوا ھو“ کہ تم انصاف کو ہاتھ سے دے دو۔ انصاف کرو۔ کیونکہ یہی !!! ”اقرب للتقویٰ“ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
اے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس اور صحابہ کرامؓ کی بروز جماعت میں آپ کو ارشاد الٰہی ذكر فان الذكرىٰ تنفع المؤمنين۔ (الٰہی ارشادات یاد دلاتا ہوں۔ کیونکہ یہ مومنوں کو نفع دیتا ہے) کے ماتحت آپ کو ایک عظیم الشان غلطی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ جس کا ارتکاب آپ سے نادانستہ اور بغیر سوچے سمجھے ہو گیا ہے اور یقین رکھتا ہوں کہ اس کا علم پانے پر آپ فوراً اس غلطی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے واپس لیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں مومنوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے۔ ”والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب الا الله ولم يصروا علىٰ ما فعلوا وهم يعلمون“ یعنی مومن سے اگر کوئی غلطی ہو جاوے۔ خواہ بڑی ہو
٤٠
یا چھوٹی۔ وہ اللہ تعالیٰ سے فوراً اس کی معافی اور پھر فرماتا ہے۔ ”انما المؤمنون ا عليهم آياته زادتهم ايماناً وعلى ر ہیں جن کے سامنے جس وقت بھی اللہ تعالیٰ وقت بھی اللہ تعالیٰ کے احکام ان کو سنائے ج میں زیادتی شروع ہو جاتی ہے اور جس کے ب محض اللہ تعالیٰ پر ہی توکل ہو جاتا ہے۔ م قصور بھائی، ہاں اس بھائی کو جو محض آپ بے خبر ہیں کے پنجہ سے چھڑانے کے لی اہل وعیال کا آرام، اپنے عزیز بچوں کی تعلی خدمت کے لئے نکلا۔ (مجھے یقین ہے کہ آ نہیں کرے گا اور ضرور اس کے نیک مقا متکفل ہوگا۔ انشاء اللہ ) دشمن قرار دے ک کے ریزولیوشن پاس کرتے ہوئے بے شمار عزیزو! بے شک اس سب د لیا ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچ لیتے کہ جزا وس وزرا اخرى“ وارد ہوا ہے۔ کیا مجرم ک معاف کر دی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ارش کریم ﷺ کے فرمان ”المسلم من سلم کے ہاتھ اور زبان کی ایذارسانی سے تمام مجھ کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں آپ گر عزیزو! آپ خشیت اللہ کو ہا مومن بھائی کو منافق بناتے ہوئے مزا ل ہے اس علامت کے ماتحت ”اذا خاص اس کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو جائے تو گال پیدا نہیں کر لی۔
ہے کہ اسی کے پیارے مسیح موعود کی لائی ہوئی اور گرائے جہنم کے گڑھے کی طرف مجھے بعض دوستوں نے کہا ہے کہ ان کو میں نے کہا کہ ان کے اقتدار اور اپنی اوقات ہے۔ جو باطل کی تمام قوتوں کو طرف توجہ نہ کرے۔ لیکن جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ ضرور قائم ہو کر رہے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے فضل سے
البلاغ المبین
عاجزانہ اپیل کے جواب کا چند دن تک انتظار کروں گا۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ قادیان، مورخہ ٢٩؍جون ١٩٣٧ء
(مومنو!) لوگوں کی دشمنی تمہیں اس بات کو ہاتھ سے دے دو۔ انصاف کرو۔
صحابہ کرام کی بروز جماعت میں آپ کو یہ ارشادات یاد دلاتا ہوں۔ کیونکہ میں اسی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ جس کا یقین رکھتا ہوں کہ اس کا علم پانے پر لیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی والذین اذا فعلوا فاحشة او ومن یغفر الذنوب الا الله ولم اگر کوئی غلطی ہو جاوے۔ خواہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ وہ اللہ تعالیٰ سے فوراً اس کی معافی کا طالب ہوتا ہے اور علم پا کر اس پر کبھی اصرار نہیں کرتا اور پھر فرماتا ہے۔ ”انما المؤمنون الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم واذا تليت عليهم آياته زادتهم ايماناً وعلى ربهم يتوكلون “ یعنی حقیقی مومن صرف وہی ہوتے ہیں جن کے سامنے جس وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام آ جائے۔ ان کے دل فوراً ڈر جاتے ہیں اور جس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے احکام ان کو سنائے جاتے ہیں ان پر عمل کرنے کی وجہ سے ان کے ایمانوں میں زیادتی شروع ہو جاتی ہے اور جس کے نتیجہ میں ان کو ماسوائے اللہ کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ بلکہ محض اللہ تعالیٰ پر ہی توکل ہو جاتا ہے۔ میرے عزیزو! میرے بزرگو! آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی ، ہاں اس بھائی کو جو محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظلم جس سے آپ میں سے اکثر بے خبر ہیں کے پنجے سے چھڑانے کے لئے اپنی عزت اپنا مال اپنی سبل معاش ، اپنا آرام، اپنے اہل وعیال کا آرام، اپنے عزیز بچوں کی تعلیم سب کچھ قربان کر کے محض ابتغاء لمرضات اللہ آپ کی خدمت کے لئے نکلا۔ (مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے میری اس قربانی کو ضائع نہیں کرے گا اور ضرور اس کے نیک نتائج پیدا کرے گا اور میری تمام ضروریات کا بھی وہ خود ہی متکفل ہوگا۔ انشاء اللہ ) دشمن قرار دے کر بغیر کسی قسم کی تحقیق کے اس کے خلاف نفرت وحقارت کے ریزولیوشن پاس کرتے ہوئے بے شمار گالیوں کا اسے نشانہ بنایا ہے۔
عزیزو! بے شک اس سب وشتم سے آپ نے ایک انسان کو تو خوش کرنے کا سامان کر لیا ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچ لیتے کہ جزا وسزا کے دن کے لئے جس کی شان میں ”لا تزر وازرة وزر اخرى “ وارد ہوا ہے۔ کیا جواب تیار کیا ہے۔ میں نے تو دل سے یہ سب گالیاں آپ کو معاف کر دی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”فتبینوا“ (یعنی تحقیق کر لیا کرو) اور رسول کریم ﷺ کے فرمان ”المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده“ (مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کی ایذا رسانی سے تمام مسلمان محفوظ رہیں) کو جو آپ نے توڑا ہے۔ اس لئے مجھ کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں آپ گرفت کے نیچے نہ آ جائیں۔
عزیزو! آپ خشیت اللہ کو دل میں رکھتے ہوئے غور تو کریں کہ تمہیں اپنے ایک مومن بھائی کو منافق بتاتے ہوئے منافق کے متعلق رسول کریم ﷺ کی بیان کردہ علامتوں میں سے اس علامت کے ماتحت ”اذا خاصم فجر“ یعنی منافق کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ جب اس کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو جائے تو گالیاں دیتا ہے۔ آپ نے اپنے اندر تو کوئی علامت نفاق پیدا نہیں کر لی۔
٤١
میرے پیارے بھائیو! آپ نے اپنے تمام ریزولیوشنز کی بنا اس بناء پر رکھی ہے کہ میں نے خلیفہ وقت کے مقابل جماعت میں اپنے اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ اس اثر و رسوخ سے کام لے کر میں خلیفہ کو گرا دینے کا مدعی ہوں۔ لیکن آپ سے نہایت ادب سے یہ دریافت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے ریزولیوشنز پاس کرنے سے قبل میرے اس دعویٰ کو میرے خطوط میں خود پڑھ لیا تھا۔ یا میرے وہ الفاظ جس میں میرا یہ دعویٰ صراحتاً مذکور ہو سن لئے تھے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں۔ تو پھر آپ ہی خدا کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ اپنے ایک بھائی کے خلاف اتنا خطرناک قدم اٹھانے میں اللہ تعالیٰ اور تمام منصف مزاج لوگوں کے نزدیک آپ کس طرح حق بجانب ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کہیں کہ خلیفہ وقت کے اعلان میں اس عاجز کی طرف یہ دعویٰ منسوب کیا گیا تھا۔ اس لئے آپ لوگوں نے اسے صحیح تسلیم کر لیا تو میں نہایت ادب سے عرض کروں گا کہ اپنے ایک بھائی کو منافق، مرتد، بد باطن، فتنہ پرور، ابلیس، بے شرم وغیرہ کے خطاب عنایت کرنے میں یہ عذر قطعاً قابل سماعت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خلیفہ خدا نہیں۔ آخر وہ بھی انسان ہے۔ جس کی طرف گو عمداً غلط بیانی منسوب نہ کی جائے۔ لیکن اس سے غلطی، نسیان و سہو وغیرہ کے وقوع میں آنے کا تو ہر وقت احتمال موجود ہے۔ پس مذہبًا اور اخلاقًا یہ فرض تھا کہ آپ مکمل تحقیق کے ذریعہ علیٰ وجہ البصیرت ہونے سے قبل بالکل خاموش رہتے اور میرے اصل الفاظ کے شائع کرنے کا مطالبہ کرتے اور ساتھ ہی مجھ سے بھی حقیقت دریافت کرتے۔ اس کے بعد آپ کا حق تھا کہ اخلاق کی حدود کے اندر رہتے ہوئے جو قدم آپ چاہتے اٹھاتے۔
میرے مؤمن بھائیو! ایمان کے ثمرات میں سے ایک یہ بھی ثمرہ ہے کہ اس نعمت عظمیٰ کو حاصل کر لینے والا انسان حق گوئی، حق بینی، حق فہمی میں کسی شخصیت کے دباؤ کے نیچے نہیں آتا۔ خواہ وہ کتنی عظیم الشان ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ وہ ’’لا يخافون لومة لائم‘‘ کا مصداق ہوتا ہے۔ پس آج میں اپنے اس اشتہار کے ذریعہ آپ کی خدمت میں اس ایمان کا واسطہ دے کر جو خدا کے مرسل حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے ذریعے آپ لوگوں کو ملا ہے عرض کرتا ہوں کہ میرے اصل الفاظ کو دکھلانے کا مطالبہ کریں۔ جن میں میں نے اثر و رسوخ اور اس کی بناء پر خلیفہ کو گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر وہ نہ دکھا سکیں اور یقیناً نہیں دکھا سکیں گے۔ تو پھر خود ہی فیصلہ کر لیں کہ مجھ پر کس قدر ظلم کیا گیا ہے اور ان تمام گالیوں کی ذمہ داری کس پر آتی ہے جو تمام اکناف عالم سے مجھے دی گئی ہیں یا دی جائیں گی۔ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ انہیں علم بھی دے دیا گیا ہے کہ اس عاجز کے تینوں خطوط نہ صرف یہ کہ وہ اس دعوے سے خالی ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ان میں اس حقیقت ٤٢
کا کھلے الفاظ میں اظہار ہے کہ آپ کے اقتدار کی وجہ سے شروع میں جماعت اس عاجز کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں کرے گی اور یہ کہ یہ عاجز بالکل بے بس اور بیکس ہے۔ باوجود یہ علم پانے کے وہ اب تک خاموش ہیں اور اس کی تردید نہیں کرتے۔ اب میں ذیل میں دوستوں کے علم کے لئے بھی اپنے خط میں سے چند الفاظ نقل کر دیتا ہوں تا کہ احباب کو اصل حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہو۔
”بے شک ان باتوں کی وجہ سے کہ جو اقتدار آپ کو حاصل ہو چکا ہے۔ اس پر آپ کو ناز ہے اور آپ یقین رکھتے ہیں کہ میں (آپ) اپنے مد مقابل کا سر ایک آن میں کچل سکتا ہوں اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں جو آپ کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ ایک نہایت ہی کمزور، بے بس، بیکس، بے مال، بے مددگار ہوں اور جہاں آپ کو اپنی طاقت پر ناز ہے وہاں مجھے اپنی کمزوریوں کا اقرار ہے۔ ہاں میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حق کی قوت میرے ساتھ ہے اور غلبہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کو ہوتا ہے جو حق کی تلوار لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں میری بات کی طرف توجہ نہ کی جائے اور میں اس مقابلہ میں کچلا جاؤں۔ لیکن حق کی تائید کے لئے اور باطل کے سر کچلنے کی غرض سے کھڑے ہونے والے علماء اس قسم کے انجاموں سے کبھی نہیں ڈرتے۔“
”پس اس مقابلہ میں مجھے اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کہ میرا انجام کیا ہوگا اور میری بات کوئی سنے گا یا نہیں۔ میری تقویت اور ہمت بڑھانے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ میں حق پر ہوں اور آپ باطل پر ہیں۔“
میری مندرجہ بالا عبارتیں ایسی واضح ہیں کہ ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے والا بھی بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان میں اثر و رسوخ کا دعویٰ تو کجا، بلکہ اثر و رسوخ کی صریح الفاظ میں نفی کی گئی ہے اور کھلے الفاظ میں اقرار کیا گیا ہے کہ ابتداء میں جماعت توجہ نہیں کرے گی اور میں کچلا جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو قدم میں نے اٹھایا ہے اس کے اٹھاتے وقت یہ سب کچھ میرے سامنے تھا۔ جو اب وقوع میں آ رہا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے اشتہار دردمندانہ اپیل میں جو ٢٦؍ جون کو لکھا گیا تھا۔ صاف الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے میرے خلاف نفرت کے ریزولیوشن پاس کرا دیئے جائیں یا جماعت کو اور رنگ میں ابھار دیا جائے۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میری آواز آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں سنی جائے گی اور ضرور سنی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ کیونکہ وہ آواز اپنے اندر حق رکھتی ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جاسکتا۔ پس یہ ریزولیوشنز خدا کے فضل سے میرے دل میں ذرا بھی گھبراہٹ پیدا نہیں کر سکتے اور
٤٣
نہ میری ہمت کو پست کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جب ناقابل تردید حقیقت سامنے آئے گی اس وقت ان ریزولیوشنوں کو کس نے پوچھنا ہے اور اظہار عقیدت کے ان دعوؤں کی کس نے پرواہ کرنی ہے۔ جو روزانہ الفضل میں چھپتے رہتے ہیں۔ یہ جماعت چونکہ مومنوں کی جماعت ہے اور اس کا تعلق خواہ کسی شخص کے ساتھ ہو محض خدا کے لئے ہے۔ اس لئے مجھے اطمینان ہے کہ جب وہ اس شخص کو خدائے تعالیٰ کے احکام کے صریح خلاف چلتے دیکھے گی اور اس پر یہ بات دلائل سے ثابت ہو جائے گی تو وہ اس تعلق کو توڑنے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں لگائے گی۔
میری طرف جو دعویٰ اثر و رسوخ منسوب کیا گیا ہے۔ میری طرف سے اس کے ثبوت کے مطالبہ پر میرے خط میں سے ایک عبارت ”الفضل“ میں شائع کی گئی ہے۔ گو اس عبارت کا اس دعویٰ کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں۔ لیکن یہ خیانت ہوگی۔ اگر میں اس جگہ اس کا بھی ذکر نہ کر دوں اور وہ عبارت یہ ہے۔
”کیونکہ آپ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے عذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا۔ یا ان کی لڑکی پر سوت کے لانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر یہاں اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں چل سکتا۔ اس کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح رد نہیں کر دے گی۔ بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی ۔“ اب قطع نظر اس کے کہ اس عبارت کو پیش کرتے وقت متشابہ کو محکم کے ماتحت کرنے کے مسلمہ اصول کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور قطع نظر اس کے کہ اس سے پہلی اور اس کے بعد کی عبارت کو کاٹ کر اسے پیش کیا گیا ہے۔ پھر بھی اس عبارت میں سے نہ ہی اثر و رسوخ کا لفظ دکھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ بتایا جا سکتا ہے جو اثر و رسوخ پر دلالت کرتا ہو۔
گو میری عبارت میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں۔ لیکن ”الفضل“ میں جن الفاظ سے غلط طور پر ایسا نتیجہ نکالا گیا ہے وہ یہ ہیں۔ ”بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی ۔“ اب احباب خود ہی غور فرمائیں کہ میری عبارت میں کیا کان دھرنے کی وجہ اثر و رسوخ بتائی گئی ہے یا اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ میری طرف نہ تو کوئی دنیوی غرض منسوب کی جاسکتی ہے۔ جیسے کہ مستریوں کی طرف گئی تھی اور نہ کوئی ایسی بات پیش کی جاسکتی ہے جو میرے اخلاق کو مشتبہ کر سکے۔ پس جب خود میری عبارت میں اصل وجہ موجود تھی تو اس کو چھوڑ کر کوئی دوسری وجہ نکالنے کی کوشش کرنا کیا حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کے مترادف نہیں۔ کیا تقویٰ اسی کا نام ہے؟
٤٤
عزت کے لفظ سے بھی یہ استدلال ہوں۔ کیا جماعت میں بہت سے احباب عز والے یا وہ جن کی عزت کی جاتی ہے۔ ان میں اس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفہ کے مقابل اے ب میرے اس لفظ کے استعمال سے یہ کیوں سمجھا جگہ اس امر کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ بلکہ اس کا تعلق دو سال قبل کے زمانہ کے ساتھ موجودہ خلیفہ کی بیعت سے علیحدہ ہوا ہوں۔ ا وقت سے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ خلیفہ صا کی تحقیق میں لگا ہوا ہوں۔ تو اسی وقت اندی شروع کر دیا گیا جس کی غرض احباب کی نظر میں ظاہر کرے تو کہا جا سکے۔ جیسا کہ اب کہا جا ر محرک ہوا ہے۔ پس میں نے اس عبارت سے شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ آپ اچھی طرح سے اس سے قبل کوئی بات ہے۔ جس کی علت اور ن بتا رہا ہے کہ یہ بات کسی گذشتہ زمانہ کے ساتھ میں اس نقص کا اظہار اسی وقت کر دیتا جس وقت چونکہ میرے خلاف آپ کے ہاتھ میں کوئی با بات پر کان دھرنے سے روک سکتے۔ اس لئے کردہ عبارت کے بعد کی عبارت اس مفہوم کو ا اس میں اپنی خیر سمجھی کہ آہستہ آہستہ اندر ہی اند نظر سے گرایا جائے اور اس کو اس مقام پر سے جماعت توجہ نہ کرے اور اس کی بات کو بھی اس کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات تھیں۔ جن کو پ پڑے ہیں اور ادھر سے آپ شور مچانا شروع کر
عزت کے لفظ سے بھی یہ استدلال کیا گیا ہے۔ مگر میں اس استدلال کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کیا جماعت میں بہت سے احباب عزت کی نظر سے نہیں دیکھے جاتے تو کیا عزت کرنے والے یا وہ جن کی عزت کی جاتی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی یہ خیال دل میں لا سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفہ کے مقابل اسے جماعت میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اگر نہیں تو پھر میرے اس لفظ کے استعمال سے یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ میں کسی اثر و رسوخ کا مدعی ہوں۔ میں اس جگہ اس امر کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ عبارت موجودہ وقت کے ساتھ تعلق ہی نہیں رکھتی۔ بلکہ اس کا تعلق دو سال قبل کے زمانہ کے ساتھ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس نقص کو دیکھ کر میں موجودہ خلیفہ کی بیعت سے علیحدہ ہوا ہوں۔ اس کا علم مجھے قریباً دو سال قبل ہوا تھا اور میں نے اسی وقت سے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ خلیفہ صاحب کو بھی علم ہو گیا کہ مجھے علم ہو گیا ہے اور میں اس کی تحقیق میں لگا ہوا ہوں۔ تو اسی وقت اندر ہی اندر میرے خلاف جماعت میں ایسا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا جس کی غرض احباب کی نظر میں مجھے گرانا تھا تا کہ اگر یہ خاکسار کسی وقت اس نقص کو ظاہر کرے تو کہا جا سکے۔ جیسا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ فلاں دنیاوی غرض کو پورا نہ کرنا اس علیحدگی کا محرک ہوا ہے۔ پس میں نے اس عبارت سے قبل یہی بات لکھی ہے کہ میرے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ آپ اچھی طرح سے جانتے تھے۔ چنانچہ ”کیونکہ“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس سے قبل کوئی بات ہے۔ جس کی علت اور وجہ اب بتائی جانے لگی ہے۔ اور ”جانتے تھے“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ بات کسی گذشتہ زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ نہ کہ موجودہ وقت کے ساتھ۔ اگر میں اس نقص کا اظہار اسی وقت کر دیتا جس وقت مجھے اس کا علم ہوا تھا۔ یعنی دو سال قبل تو اس وقت چونکہ میرے خلاف آپ کے ہاتھ میں کوئی بات نہ تھی۔ جس کو پیش کر کے آپ جماعت کو میری بات پر کان دھرنے سے روک سکتے۔ اس لئے جماعت ضرور میری بات پر کان دھرتی۔ چنانچہ نقل کردہ عبارت کے بعد کی عبارت اس مفہوم کو اچھی طرح سے واضح کر رہی ہے۔ اس لئے آپ نے اس میں اپنی خیر سمجھی کہ آہستہ آہستہ اندر ہی اندر اس شخص کو جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعہ جماعت کی نظر سے گرایا جائے اور اس کو اس مقام پر لے آیا جائے کہ اگر یہ میرے اس نقص کو فاش کرے تو جماعت توجہ نہ کرے اور اس کی بات کو بھی اس طرف منسوب کرنے لگ پڑے کہ اس شخص کی بھی کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات تھیں۔ جن کو چونکہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ بھی ایسا کہنے لگ پڑے ہیں اور ادھر سے آپ شور مچانا شروع کر دیں کہ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ یہ اندر سے مستریوں ٤٥
یا پیغامیوں یا احراریوں سے ملے ہوئے ہیں اور ایسے تمام لوگوں کے منہ بند کرنے کے لئے جن کو آپ سے ان (نقائص) کا علم ہو جاتا ہے۔ آپ کے پاس زیادہ تر یہی ایک زبردست حربہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے سامنے میں نے کھول کر اس امر کو رکھ دیا ہے کہ میری طرف جو اثر ورسوخ کا دعویٰ منسوب کیا گیا ہے اور جس موہوم اور فرضی دعویٰ کو میری طرف سے جماعت کو چیلنج قرار دے کر جماعت سے میرے خلاف ریزولیوشنز پاس کرا دیئے گئے ہیں۔ وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں اور اس بات کا فیصلہ کرنا کہ اس معاملہ میں کہاں تک تقویٰ اللہ اور دیانتداری سے کام لیا گیا ہے۔ جماعت کا کام ہے اور جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کے نتیجہ میں جو ظلم مجھ پر ہوا ہے۔ اس کی تلافی رسول کریم ﷺ کے ارشاد مبارک ”انصر اخاک ظالما او مظلوما“ کی تعمیل میں کرے اور یہ اب جماعت کا کام ہے کہ وہ اپنے فرض کو پہچانے یا نہ پہچانے۔ میں نے اس کے سامنے حقیقت رکھ دی ہے۔
ایک اور غلط بات جو اعلان میں میری طرف منسوب کر کے جماعت کو بھڑکایا گیا ہے اور اس کو بھی جماعت نے میرے خلاف ریزولیوشنز کی بناء ٹھہرایا ہے کہ اعلان میں یہ لکھا گیا ہے۔ اس کے چند گھنٹہ بعد آپ کا تیسرا خط ملا کہ اگر چوبیس گھنٹہ تک آپ کی تسلی نہ کی گئی تو آپ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ حالانکہ میرے کسی خط میں بھی نہ صرف یہ کہ جماعت سے علیحدہ ہونے کا ذکر ہی نہیں۔ بلکہ برعکس اس کے ان خطوں میں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کو ضروری قرار دیئے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ ذیل کی عبارتیں میرے اس بیان کی پوری طرح تصدیق کر دیں گی۔
”میں آپ سے الگ ہو سکتا ہوں۔ لیکن جماعت سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جماعت سے علیحدگی ہلاکت کا موجب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے اور چونکہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے صحیح عقائد و تعلیم پر قائم ہو۔ بجز اس جماعت کے جس نے آپ کو خلیفہ تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس لئے میں دوراہوں میں سے ایک کو ہی اختیار کر سکتا ہوں۔ یا تو میں جماعت کو آپ کی صحیح حالت سے آگاہ کر کے آپ کو خلافت سے معزول کرا کر نئے خلیفہ کا انتخاب کراؤں اور یہ راہ پر از خطرات ہے اور یا جماعت میں آپ کے ساتھ مل کر اس طرح رہوں جس طرح میں نے اوپر بیان کیا ہے۔“
پس اگر آپ توبہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو مجھے آپ اپنی بیعت سے علیحدہ سمجھ لیں۔
٤٦
کیونکہ میں ایسے آدمی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا جو ایسے نقائص میں مبتلا ہو۔ ہاں جیسا کہ میں پہلے بھی مفصل عرض کر چکا ہوں۔ میں جماعت کا باقاعدہ فرد ہوں۔ جماعت سے میں الگ نہیں ہو سکتا۔ آپ کی بیعت کا جوا اپنی گردن سے اتارنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ میں آزاد ہو کر جماعت کو دوسرے خلیفہ کے انتخاب کی طرف جلد توجہ دلا سکوں۔
”اگر آپ اس توبہ پر راضی ہوں تو میں آپ کا خادم ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ رہوں گا۔ ورنہ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ قطعاً نہیں رہ سکتا۔“
مندرجہ بالا عبارتوں میں سے سات باتیں عیاں ہیں۔
- ١...... میں جماعت سے علیحدگی کو ہلاکت یقین کرتا ہوں۔
- ٢...... میں جماعت کا باقاعدہ فرد ہوں۔
- ٣...... موجودہ خلیفہ کے وجود میں بعض اہم نقائص کی وجہ سے میں ان کی بیعت میں نہیں
رہ سکتا۔
- ٤...... وہ نقائص ایسے ہیں جو ان کی معزولی کے متقاضی ہیں۔
- ٥...... میری بیعت سے علیحدگی بدیں وجہ ہے کہ میں آزاد ہو کر جماعت کو نئے خلیفہ کے
انتخاب کی طرف توجہ دلا سکوں۔
- ٦...... میں خلافت کا قائل ہوں (جو لوگ مجھے خلافت کا منکر قرار دے رہے ہیں۔ وہ میری
مندرجہ بالا تحریر کو غور سے پڑھیں)
- ٧...... میری انتہائی کوشش ہے کہ اگر موجودہ خلیفہ ہی رجوع کرے تو خلافت کو نہ بدلا
جائے۔ اس کی تائید میری مندرجہ ذیل عبارت سے یہی ہوتی ہے۔ ”میں ہرگز اس بات کو نہیں چاہتا کہ سلسلہ کے موجودہ نظام کو توڑ دیا جائے اور اس وقت تک کہ آپ کی اصلاح ہو جائے۔ آپ کے (نقائص) کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں یہ سمجھ لوں گا۔“
اب ان واضح تحریروں کے ہوتے ہوئے یہ اعلان میں ظاہر کرنا کہ میں نے یہ لکھا کہ میں جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔ کس قدر جسارت اور جماعت کے عقول اور اس کے اخلاص کے ساتھ کھیلنا ہے۔ میں اس جگہ بعض دوستوں کے اس خیال کے متعلق بھی کہ خلیفہ سے علیحدگی جماعت سے علیحدگی کے ہی مترادف ہے۔ کچھ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا یا بیعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے۔ وہ اصل سلسلہ سے
٤٧
بھی الگ ہو جاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرت ابوبکرؓ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی تو کیا کوئی ان کے متعلق یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اس وقت تک اسلام سے خارج تھے۔ حضرت علیؓ کی بیعت مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ نے نہیں کی تھی تو کیا وہ سب اسلام سے خارج تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی تھی۔ تو کیا انہیں اسلام سے خارج سمجھتے ہو۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ جیسے جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا۔ مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔ دوستو! یہ خیال کسی مصلحت کے ماتحت آج پیدا کیا جا رہا ہے۔ ورنہ قرآن کریم احادیث نبوی عمل صحابہ کرام میں اس کا نام ونشان بھی نہیں ملتا۔ امور مندرجہ اعلان سے میں اس وقت صرف انہیں دو امروں کی وضاحت پر اکتفا کرتا ہوں۔ کیونکہ جماعت کو میرے خلاف مشتعل کرنے کے لئے یہی دو باتیں تراشی گئی ہیں۔ مفصل تنقید اس اعلان پر انشاء اللہ الگ ٹریکٹ میں کروں گا۔ اس وقت احباب کو اور بھی وضاحت سے معلوم ہو جائے گا کہ کس عجیب و غریب ڈھنگ سے جماعت کو اصل حقیقت سے تاریکی میں رکھا گیا ہے۔ میرے پیارے بھائیو! آپ خود ہی غور فرمائیں کہ ایک ایسے شخص کو جو خلافت جیسے عظیم الشان منصب پر سرفراز ہے اور جس کا توکل تمام تر محض اللہ تعالیٰ پر ہی ہے۔ مجھ جیسے ناچیز اور بے حیثیت انسان سے جماعت کو بدظن کرنے کے لئے ایسا طریق اختیار کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی۔ (مجھے معاف فرمایا جائے اگر میں یہ کہوں) کہ یقیناً یہ تقوے سے کوسوں دور ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے خطوط میں سے اثر ورسوخ کا دعویٰ دکھلایا جائے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر تمام وہ علماء جو میرے خلاف آج کل لیکچر دینے اور منافرت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ اکٹھے ہو کر بھی کوشش کریں تب بھی وہ باتیں نہیں دکھلا سکیں گے اور ہرگز نہیں دکھلا سکیں گے۔
ہاں مجھے یاد آیا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے قادیان میں تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ عاجز اپنے خطوں میں عہدہ کا طلبگار ہوا ہے۔ میں اس امر کو بھی اپنے چیلنج میں شامل کر لیتا ہوں۔ اب احباب ہی مجھے بتائیں کہ ان کھلی کھلی تحریروں کے ہوتے ہوئے جن میں نہ صرف یہ کہ اثر ورسوخ کا ذکر تک نہیں بلکہ اس کے خلاف عدم اثر و عدم رسوخ کا پرزور الفاظ میں اقرار ہے اور جن میں نہ صرف یہ کہ جماعت سے علیحدگی کا اشارہ تک بھی نہیں ۔ بلکہ برعکس اس کے جماعت کا باقاعدہ فرد ہونے پر زور ہے۔ پھر اعلان میں اس عاجز کی طرف غلط طور پر یہ دونوں باتیں منسوب کی گئیں ہیں۔ مہربانی فرما کر مجھے بتلایا جائے کہ یہ فعل خلیفہ صاحب کے شایان ہے ٤٨
اور مجھے یہ بھی جماعت بتلائے کہ اگر میں اس طریق کو خلاف تقویٰ طریق کے نام سے موسوم کروں تو میں حق بجانب ہوں یا نہیں۔ کیا خلیفہ کی طرف سے اس قسم کی صریح غلط بیانی کا ارتکاب حیرت میں ڈالنے والا نہیں۔ میرے نزدیک تو ایک غور کرنے والے شخص کے لئے میرے سچا ہونے پر ان کا یہ فعل ہی زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ یہ اظہر من الشمس ہے کہ اثر و رسوخ کے ادعاء کے الفاظ زائد کرنے سے بغیر اس کے اور کوئی غرض نہیں ہو سکتی کہ جماعت یہ دیکھ کر کہ ایک شخص خلیفہ کے مقابل اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتا ہے۔ فوراً بھڑک اٹھے اور نفرت کا اظہار شروع کر دے۔ چنانچہ اشارہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس اعلان کے بعد الفضل میں یہ اعلان کر کے کہ عبدالرحمن مصری کا جماعتوں کو کھلا چیلنج ہے۔ اب دیکھیں جماعتیں اس چیلنج کا کیا جواب دیتی ہیں۔ اس غرض کی وضاحت کر دی گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ غیر مستحسن طریق کیوں اختیار کیا گیا اور کیوں جماعت میں منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سو یاد رہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کارروائی محض اس لئے کی گئی ہے کہ جماعت کی توجہ اس اصل وجہ کی تحقیق سے ہٹ جائے۔ جو میرے بیعت سے علیحدگی کا باعث ہوئی ہے۔ کیونکہ اس بات کو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کے خلاف دل نفرت کے جذبات سے بھر جائے۔ اس کی بات خواہ کتنی ہی سچی کیوں نہ ہو۔ اثر نہیں رکھتی۔ پس انہوں نے بھی انسانی فطرت کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت کو میرے خلاف مشتعل کر کے احباب کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کر دیئے۔ تاکہ جس وقت یہ عاجز ان مبنی بر حقیقت نقائص کو بیان کر دے تو جماعت کے دل اسے رد کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر وہ نقائص سچے نہ ہوتے تو انہیں اس فریب کے راستہ کو اختیار کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہ آتی۔ بلکہ مومنانہ سادگی صاف گوئی اور تقویٰ سے کام لیتے ہوئے مجھے جرأت اور دلیری کے ساتھ یہ جواب دیتے کہ جو نقص تم نے میری طرف منسوب کئے ہیں وہ بالکل غلط ہیں۔ بیشک علانیہ ان کی تحقیق کر لو۔ چاہئے تو یہ تھا کہ فوراً ایک آزاد کمیشن بٹھانے کی رائے کا اظہار کرتے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے تسلی چاہنے والے کے متعلق جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
اے صحابہ کرام کے بروز کہلانے والی جماعت ایسے مواقع پر صحابہ کرام کا جو طرزعمل ہوا کرتا تھا وہ آپ لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ یہ تھا کہ جب کسی مسلمان کو کوئی شکایت پیدا ہوئی اور خلیفہ وقت نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ تو وہ حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو توجہ دلاتے تھے اور وہ فوراً خلیفہ وقت کے پاس جاتے اور ان شکایات کو پیش کرتے اور اگر انہیں درست پاتے تو خلیفہ
٤٩
مرکزِ تحقیق و اشاعت
آسمانِ خطابت
پروفیسر عبدالرحمن مصری
کٹھن
بشیر پینٹر
بخاری
جناب عبد
وقت سے ان کی تلافی کراتے اور خلیفہ وقت بھی علی الاعلان اپنی غلطی کا اقرار کرتا اور اس سے رجوع کا اعلان کراتا۔ پس صحابہ کرام کے اس طرز عمل کو پیش کر کے میں بھی اپنی جماعت سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ میری شکایات کو سننے کے لئے فوراً ایک آزاد کمیشن مقرر کرے، اگر وہ کمیشن میری شکایات کو سن کر میرے ساتھ متفق ہو جائے کہ ان شکایات کی موجودگی میں خلیفہ، خلیفہ نہیں رہ سکتا تو پھر وہ ان شکایات کی تحقیق میں اگر وہ شکایات صحیح ثابت ہو جائیں تو موجودہ اور آئندہ خلیفہ کے متعلق اپنا فیصلہ کرے۔ میں جماعت کو یقین دلاتا ہوں کہ جن نقائص کی وجہ سے میں بیعت سے علیحدہ ہوا ہوں وہ یقیناً خلیفہ میں موجود ہیں اور ان کے اثبات کے لئے میرے پاس کافی دلائل ہیں اور وہ ایسے نقائص ہیں کہ جن کی موجودگی میں کوئی شخص خلیفہ نہیں رہ سکتا۔ پس جماعت کا یہ فرض ہے کہ ان کی تحقیق کی طرف فوراً توجہ کرے۔ ورنہ وہ مجرمانہ خاموشی کی مرتکب ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اس غفلت کی جوابدہ ہوگی۔ جب تک انہیں علم نہیں تھا۔ اس وقت تک وہ معذور تھے۔ لیکن اب جب کہ ان کے علم میں بات آگئی ہے تو اب خاموشی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انہیں قصور وار بنا دے گی۔
پس دوستو! اٹھو اور خوف کی چادر اتار کر مومنانہ دلیری سے کام لیتے ہوئے تحقیق شروع کر دو۔ خلیفہ کی اجازت کی اس میں قطعاً ضرورت نہیں۔ خلیفہ اور خاکسار کا مقدمہ جماعت کے سامنے پیش ہے۔ جماعت کا فرض ہے کہ وہ فریقین کے بیانات سن کر انصاف کے ساتھ اپنا فیصلہ کر دے۔ نہ کہ یکطرفہ بیان سن کر ہی ایک بھائی کے خلاف ڈگری دے دے۔ جیسا کہ اس وقت تک کیا گیا ہے۔ درست یاد رکھیں کہ اگر انہوں نے اس وقت دلیری سے کام لے کر تحقیق نہ کی تو وہ خلیفہ کو ان نقائص میں مبتلا رکھنے میں ان کے ممد و معاون بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور خود مجرم قرار پائیں گے اور ان نقائص کی وجہ سے جو خطرناک نتائج جماعت میں پیدا ہو رہے ہیں۔ ان تمام کی ذمہ داری خود جماعت پر ہوگی۔
اے خدا تو گواہ رہ کہ میں نے وما علینا الا البلاغ کے ماتحت جماعت کو اس کے فرض سے آگاہ کر دیا ہے اور اب اگر وہ اپنے فرض کو شناخت نہیں کرتی تو یہ اس کا قصور ہے۔ میں اب بری الذمہ ہوں۔ ہاں میں اللہ تعالیٰ کے دوسرے ارشاد ذکر کی تعمیل میں حسب توفیق و حسب استطاعت پھر بھی یاد کراتا رہوں گا۔ ”وما توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب والسلام على من اتبع الهدى“
خاکسار: عبدالرحمن مصری، مورخہ ١٣؍ جولائی ١٩٣٧ء
٥٠
اپنی غلطی کا اقرار کرتا اور اس سے رجوع کر کے میں بھی اپنی جماعت سے ایک آزاد کمیشن مقرر کرے، اگر وہ ان شکایات کی موجودگی میں خلیفہ، شکایات صحیح ثابت ہو جائیں تو موجودہ اور یقین دلاتا ہوں کہ جن نقائص کی وجہ سے اور ان کے اثبات کے لئے میرے پاس دنیا میں کوئی شخص خلیفہ نہیں رہ سکتا۔ پس کرے۔ ورنہ وہ مجرمانہ خاموشی کی مرتکب ۔ جب تک انہیں علم نہیں تھا۔ اس وقت آ گئی ہے تو اب خاموشی اللہ تعالیٰ کی نگاہ
دلیری سے کام لیتے ہوئے تحقیق شروع خلیفہ اور خاکسار کا مقدمہ جماعت کے امانت بن کر انصاف کے ساتھ اپنا فیصلہ کی ڈگری دے دے۔ جیسا کہ اس وقت وقت دلیری سے کام لے کر تحقیق نہ کی تو وہ ہی بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور خود مجرم قرار جماعت میں پیدا ہو رہے ہیں۔ ان تمام کی
اطلاع کے ماتحت جماعت کو اس کے مداخلت نہیں کرتی تو یہ اس کا قصور ہے۔ اپنے ارشاد مذکور کی تعمیل میں حسب توفیق توفیقی الا بالله عليه توكلت
ابن مصری، مورخہ ١٣/ جولائی ١٩٣٧ء!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
کھینچواں نبی
بشیر پتر ، محکوم مسلم
بخاری دا ڈنڈا
جناب عبداللطیف گجراتی
مرکز پروفیسر آسان مطالعہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
کھینچواں نبی
گویا اپنی قوم دی ہدایت لئی سارے سن
اک دوجے نالوں چنگے اللہ دے پیارے سن
ٹھنڈک ساڈے دل دی تے اکھیاں دے تارے سن
ساریاں تے لیاوناں ایمان ساڈا فرض اے
شرط اے ایمان دی تے دین دی ایہہ غرض اے
آمدرفت نبیاں دی انج سی جہان تے
برجو برجی تارے جیویں پھرن آسمان تے
آفتاب نکلیا جاں عرب دے میدان تے
جھک گئے انوار اوہدے دنیا دے آسمان تے
چن تارے سارے اوہدی تاب اگے مات ہوئے
آب دار موتی اوہدی آب اگے مات ہوئے
غور کرو دوستو گل ایہہ ایمان دی
اکو گل کافی سارا جھگڑا مٹان دی
صبح ویلے لوڑ کاہدی شمع نوں جگان دی
سارا جگ جان دا اے لوڑ نہیں سنان دی
دن دی روشنائی وچہ دیوا جنہیں بالیا
ایمان دا دیوالہ اونہیں کڈھ کے وکھالیا
عالماں نے پھول پھول ویکھیا قرآن وچہ
غور خوض کیتا بڑا نبی دے فرمان وچہ
کوئی نہیں حدیث نبی ظلی دے بیان وچہ
فیر کتھوں جمیا اے نبی ایہہ جہان وچہ
٢
کھینچواں ایہہ نبی دھکو دھکی چک کڈھیا نے
حدیث دیکھو ختم نبوت دے بیان وچہ
اک دی سی تھاں جو نبوت دے مکان وچہ
اوہدی تھاں تے آئے نبی آخری جہان وچہ
اوہدوں بعد آیا جیہڑا نبی قادیان وچہ
رہندی کھوندی کثر اوہنے کڈھ کے وکھائی اے
نظر پٹو کالی ہانڈی بوہے نال لائی اے
کہندائے جہاں رب نال میری ملاقات ہوئی
موسیٰ دی وی شان اودوں میرے اگے مات ہوئی
الہاماں دی فیر اوہدوں پچھے بڑی بہتات ہوئی
انج جویں میرے اتے وحی دی برسات ہوئی
بھل کے الہام ا جیہڑا میرے اتوں رہ گیا
رہندا کھوندا بھانڈا میری امت اتے پے گیا
نواں نواں بیت اک ہویا سی جناب دی
ہڈورتی اوس نے سنائی گل خواب دی
جنت وچہ وہناں بوتل بھری اے شراب دی
خوشبو کیوڑے دی تے رنگت اے گلاب دی
لاکے میں ڈیک اوہنوں غٹ غٹ پی گیا
چھڈیا نہ اک گھٹ جھٹ پٹ پی گیا
پیندیاں شراب آیا عجب سرور مینوں
نشے اتے نشہ آیا نشے کیتا چور مینوں
بھل گئے دنیا دے انار تے انگور مینوں
مذہب اتے آیا بڑا ناز تے غرور مینوں
٣
پروفیسر محمد عبد اللہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی جلد ٢ ٢٤ جمادی الاولیٰ ١٤٠٢ھ شمارہ ٥ آسان مطالعہ
اکھ کھلی ویکھاں کتے انھے وچہ موتیا ئے
دعوئی کی نبوت دا ایہہ بچیاں دی چھیڑ اے
تھاں تھاں اج ہوندی نبیاں دی بھیڑ اے
ماردا اے ڈھاک کوئی ماردا اکھیڑ اے
جیہو جیہا منہ اے تے اوہو جیہی چپیڑ اے
جیہو جیہے کوہن والے تیہو جیہے ای کھان والے
جیہو جیہے نبی تیہو جیہے ای ایمان والے
میرے جیہا نبی کوئی ہویا نہیں جہان وچہ
سو سو حسین کہندا میرے گریبان وچہ
ایہہ وصف ہون یارو جیہڑے مسلمان وچہ
باقی دسو فرق کیہڑا کفر تے ایمان وچہ
غور کرو دوستو کجھ تے انصاف کرو
کافر تائیں کافر آکھو گل صاف صاف کرو
اک دن بیٹھیاں خیال مینوں آیا سی
نقطہ عجیب رب دل وچہ پایا سی
ناؤں مدینت اگوں ”ت“ نوں اڈایا سی
اوہدی تھاں تے نسبت والی ”ی“ نوں لگایا سی
مدینے تھیں قانون نال بن گیا اے مدنی
قادیان وچوں کیویں بن گیا اے قدنی
یار اس ڈڈی والی تانہی داستان آئی
ڈھگے دی جو ریس نال کھریاں لوان آئی
نعلبند کہیا تینوں سوچ کی نادان آئی
توں بھلا کیوں اینویں پیراں نوں وڈھان آئی
لیاڑی تے آئی بھلا دودھ چوان نوں
پھڑ بھلا پچھو آئی اے کیہڑے بھتان نوں
م
حقیقت الوحی معنی خیز جملے عبارتاں نے سارا تپدی یا گھوکی نکمے پھٹے جملے جے ایہو جیہا وحی آخری جو اوہدے وچ ہے سچا سی تے نطفہ اہدے واسطے رب حق اتے باطل پہلے کمترین عرشاں اتے سفر آخر کار نبی دن اوہ ویکھا ایمان ایس نبی حق دار تائیں اک وار مرنے ہال ہال کر جنت وچ جانا کراں گے سر نوں جھکاندے تھوڑیاں ہی رہ ڈٹھا جدوں
معنی خیز جملے نہ سورتاں سیپارے نے
عبارتاں نے ساریاں یا گونگے دے اشارے نے
تپ دی یا گھوکی نال کیتے ہوئے بکارے نے
مٹے پھٹے جملے نہ سرے نہ پیر اے
جے ایہو جیہا وحی اے تاں اللہ تیری خیر اے
آخری جو فیصلہ ثناء اللہ نال سی
اوہدے وچہ سچے اتے جھوٹھے دا سوال سی
سچا سی تے زندہ رہندا ایڈی کاہدی کاہل سی
اوہدے واسطے رب کولے زندگی دا کال سی
حق اتے باطل وچہ آپے فرق ہوگیا
پہلے منکرین دا ای بیڑا غرق ہوگیا
عرشاں اتے سنیاں سی جس دا نکاح ہویا
آخر کار پٹی وچہ اس دا ویاہ ہویا
رن اوہ ویندا رہیا ہور کوئی راہ ہویا
ایڈاں ایس نبی دا نہ رب خیر خواہ ہویا
حق دار تائیں اوہدا حق تے دوا دیندا
اک وار مرزے تائیں صاحباں تے ملا دیندا
ہال ہال کردے بھج جاندے نے سرکار اگے
جنت وچہ جانا ئیں تے جھک جاؤ احرار اگے
کراں گے سفارش تہاڈی پرور دگار اگے
سر نوں جھکاندے او مراق دے بیمار اگے
تھوڑیاں ہی دناں توں کجھ مت گئی ماری اے
ڈنڈا جدوں چوپڑ کے چا پھیریا بخاری نے
عبداللطیف گجراتی ! ٥
بشیر پتر
مولانا سید داؤد غزنوی کی صدارت میں احرار تبلیغ کانفرنس لائل پور میں پڑھی گئی۔
فوجاں دیکھ امیر شریعت دیاں ہویا لالیوں چٹا امیر پتر
گیا وچہ عدالت پیو پچھے کنج کھڑیا اے دلگیر پتر
پھر آزادی نال سکدا نہیں جھوٹھے نبی دا جھوٹھا کبیر پتر
جدوں بیڑا احرار اٹھا لیا اے تد دی آئی اے تیری تقصیر پتر
چلنا قادیان وچہ حکم اساں دا اے رہ گئی اے کچھ تاخیر پتر
ہیسی تیرے توں ودھ کے جرأت والی جٹی جھنگ سیالاں دی ہیر پتر
بن کے عمر ثانی بیٹھا ایں قادیان وچہ اپنے آپ بنائیں بے نظیر پتر
جدوں ڈنڈا بخاری نے پھیریا چا ہو جائیں ولایت نوں تیر پتر
تیرے پیو نے عیش سی خوب کیتی الٹ گئی اے تیری تقدیر پتر
دنیا سب دشمن تیرے مذہب دی اے کر ہن کوئی ہور تدبیر پتر
آ کے سامنے گل نہیں اک کردا گھر بیٹھائیں سور بیر پتر
تیرا ساتھ نہیں ہند وچہ کسے دینا کلا پھریں گا تھاں تھاں بے پیر پتر
مددگار تیرا کیہڑا وچہ دنیا اکو ہے ظفر اللہ شہتیر پتر
آ بن مسلم چھا جا دنیا اتے کیوں ہویا ایں ذلیل حقیر پتر
دیکھ سبق آزادی دا اساں توں پیو دا لا نہ رکھ ضمیر پتر
کتھے نبی دے پتر غلام رہندے توں کیوں غیراں دا ہویا اسیر پتر
آ کے توڑ غلامی دے جال تائیں پھڑ کے طارق دے وانگ شمشیر پتر
ماں دے پیٹ وچہ گلاں ایں کرن والا پہلاں جمن توں پیو دا مشیر پتر
کہڑے نبی جہاد حرام کیتا ذرا پیو دی دیکھ تحریر پتر
کرنائیں کم توں جیہڑے وچہ قادیاں دے سب کچھ ویکھدا اے رب بصیر پتر
لگسی عیش آرام دا پتہ اودوں جدوں سڑیں گا وچہ سعیر پتر
٦
مالی نہ ہوے بوٹا لان والا تیری نہ لبھے لیر لیر پتر
بھولے مسلم مرتد توں کر لئے نے دس کے مومناں والی تصویر پتر
ڈر جا قادر کریم تھیں ہو مسلم کر لے اپنی اچھی اخیر پتر
متے غم یا فکر دے نال کدھرے تینوں لگ جائے بواسیر پتر
محکوم مسلم
یہ نظم امیر شریعت کی صدارت میں مقام راولپنڈی میں پڑھی گئی۔
کدی رہی نہ کتے محکوم ہو کے جتھے رہی جماعت احرار تیری
دیکھ لے تاریخ اسلام بھانویں کدی ایہو جہی تیرے نال ہوئی نہیں سی
قبضے تیرے وچہ ملکاں دے ملک رہے سن کتھے دس ملی تینوں ڈھوئی نہیں سی
اج جناں کتاں تینوں گھور لیا ایڈا تیرے مقابلے کوئی نہیں سی
جیہڑی قوم بھل تیرے نال لڑن آئی ہو ذلیل خوار اوہ موئی نہیں سی
دشمن دیکھ تینوں قدمیں ڈگدے سن ایسی ہوندی سی ہیبت جرار تیری
اج غلاماں دا ہویا غلام ہیں توں پھڑ کے بردے نوں تخت بٹھان والے
اج تیرے تے ماردے سب چھاپا اکل لکھاں نوں دس ہٹان والے
ڈرنا ئیں اج توں دیکھ ٹڈیاں نوں بلدی اگ چوں لنگھ جان والے
اج ہے اپنی جان دا فکر تینوں کدی غیراں دی جان بچان والے
بانگاں تیریاں ہویاں نے بند کدھرے ہوئی مسجد اے کتے مسمار تیری
سن لے چودھویں صدی دیا مسلماناں تینوں سچ گلاں اج سنائیاں نے
گلاں دساں گا تینوں میں تیریاں کی ایپر تیراں سو سال پرانیاں نے
اج توں باطل پرستاں دا ساتھ دینا ئیں حق ول تکیں نظراں کانیاں نے
پاگل کدوں کو آوے گی سمجھ تینوں گلاں بریاں توں کدوں گوانیاں نے
٧
اج پرچے دکھاندائے کوئی تینوں بند کر لئی اے تیری زبان کردا
گھیرا پاکے لکھاں نوں پھڑن والے تیرا بنیا اے اج چالان کردا
کاہدا نشہ پی کے ہویا مست ہیں تو کیوں نہیں بچن دا کچھ سامان کردا
ہوندا کریم آزاد دل کھول کے تے دسدا فیر میں کچھ بیان کردا
تیرے وچہ اج غیرت نہ نظر آوے کتھے گئی مجاہدا اے خار تیری
بخاری دا ڈنڈا بطرز چھٹی
احراریاں دے آکھے لگ جا چھٹی
تینوں تیز چھریاں نالوں دن او مرزیا احرار دیاں سچیاں گلاں چھٹی
آیا ویلا تے دساں گے تینواو مرزیا تے گن گن لیساں بدلے چھٹی
کر گل میدان وچہ آ کے او مرزیا کیوں اندر وڑ رولا پاناں ایں چھٹی
ایہہ صدا راج نہیں رہنا او مرزیا توں اچھی طرح جاننائیں چھٹی
تینوں باپ وخت گیا پا او بشیر دینا نبوت دا دعویٰ کر کے چھٹی
توں چیلیاں دے کولوں مروانائیں او مرزیا احرار دیاں غازیاں نوں چھٹی
تینوں مسلمان کر چھڈنائیں بشیر دیناں احرار دیاں ببر شیراں نے چھٹی
نبی وکھرا تے سکہ تیرا وکھرا بشیر دیناں توں مسلمان باقی کاہدا ایں چھٹی
پڑھو کلمہ مدینے والے نبی دا مرزائیو تے جھوٹا نبی چھڈ وی دیہو چھٹی
ناں نبی نہ نبی دے نے چیلے او بھائیو تجارتاں دی ایہہ وے کمیٹی چھٹی
توں چھڈ دے پیو دا کھاڑا او بشیر دیناں جے جنت وچہ جاونائیں چھٹی
توں جے پیو نوں نہیں چھڈنا بشیر دینا تے بسترا گول کر لے چھٹی
توں ڈنڈا بخاری دا ناں جانیں بشیر دیناں جنہیں تیرے وٹ کڈھنے چھٹی
دِنوں دن پیا ہلکا ہونا ایں بشیر دینا پتر نبی پنجویں دیا چھٹی
تـــــــــمـــــــــت
نوٹ : پہلے شعر کی طرح ہر مصرعہ کو نصف (او مرزیا) تک پڑھ کر دوبارہ پڑھنا چاہئے۔
٨
اے تیری زبان کردا
کیا اے اج جہان کردا
بچن دا کچھ سامان کردا
فیر میں کچھ بیان کردا
گئی مجاہدا اے خار تیری
چھٹی
جا چھٹی
دیاں پیاں گلاں چھٹی
ن گن لیساں بدلے چھٹی
روز رولا پانا ایں چھٹی
اچھی طرح جاندا ایں چھٹی
ت دا دعوٰی کر کے چھٹی
ہزار دیاں غازیاں نوں چھٹی
دیاں ببر شیراں نے چھٹی
مسلمان باقی رہندا ایں چھٹی
جھوٹا نبی چھڈ وی دیہو چھٹی
تاں دی ایہہ دے کمینی چھٹی
جہنم جنت وچہ جاونا نیں چھٹی
بستر گول کر لے چھٹی
میں تیرے وٹ کڈھنے چھٹی
پچھتانویں دیا چھٹی
نوٹ (مرزایا) تک پڑھ کر دوبارہ پڑھنا چاہئے۔
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میرے آخری نبی ہونے کے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائی احمدیوں
کی
شرمناک رسوائی
جناب عبدالقدیر امروہی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٢ کے شروع میں شریعت محمدیہ اور اقوال مرزائیہ میں جو مخالفت دکھائی گئی ہے یہ اس وقت دکھائی ہے کہ شہر مونگیر کی ایک مسجد سے قادیانی بحکم حاکم نکالے گئے ہیں اور ان کی طرف سے ہائی کورٹ پٹنہ میں یہ مقدمہ پیش ہوا ہے اور علمائے اسلام کی طرف سے مرزا کی مخالفت اسلام سے دکھائی گئی ہے اور حکام عالیہ نے ملاحظہ کر کے مرزائیوں کے مسجد سے نکالے جانے کا حکم بحال رکھا اور ان کی رسوائی پر خوب روغن چڑھا دیا۔ مونگیر کے قریب بھاگلپور ہے۔ وہاں کے قادیانی مولوی عبد الماجد نے پورینی کے عید گاہ پر دعویٰ کیا کہ یہ عید گاہ ہماری ہے۔ اس میں مسلمان نہ آئیں۔ مگر حاکم نے مقدمہ خارج کر دیا۔ اب اس میں مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ مرزائی جماعت وہاں منہ بھی نہیں دکھاتی۔ یہ قدرتی حکم اور جگہوں کے لئے نظیر ہو گیا اور دو جگہ انہیں اسی قسم کی اور رسوائی ہوئی۔ چنانچہ کٹک میں بھی مرزائیوں کے مسجد سے نکالے جانے کا مقدمہ اہل اسلام نے دائر کیا اور وہی مونگیر والے مقدمہ کی مثل منگا کر پیش کی۔ وہاں کی مسجد سے بھی مرزائی نکالے گئے اور مرزائیوں کو تین جگہ رسوائی ہوئی۔
ماریشس افریقہ کی مسجد سے مرزائیوں کا نکالا جانا
افریقہ جنوبی کے شہر ماریشس میں قادیانیوں نے غلبہ کیا تھا اور تیس چالیس مسلمانوں کو بہکا کر مرزائی بنا لیا تھا اور کئی مسجدوں پر قابض ہو گئے تھے۔ مولانا عبداللہ رشید صاحب امام جامع مسجد نے مسلمانوں سے مقدمہ دائر کرایا اور مرزائیوں نے بڑے زور سے دعویٰ کیا کہ ہم اہل حق ہیں۔ ضرور جیتیں گے۔ اگر نہ جیتیں تو ہم جھوٹے ہیں۔ تقریباً دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ اس میں مولانا عبداللہ رشید صاحب نے بڑا کام کیا۔ مونگیر سے مقدمہ مذکور کی نقل منگا کر پیش کی۔ وہاں کا قادیانی مولوی انگریزی دان بی ۔ اے تھا اور اپنے بیرسٹر کو سوالات لکھ کر دیتا تھا۔ مگر جناب مولانا عبداللہ رشید صاحب نے وہ محنت اور توجہ کی کہ اس کی انگریزی دانی سب رد ہو گئی۔ جناب امام صاحب کے اظہار چھ مہینے سے زیادہ ہوتے رہے۔ یعنی مسلمانوں کے دعویٰ کا ثبوت بیان کرتے
٢
رہے اور مونگیر میں ان کے خطوط برابر آتے تھے اور حضرت مولانا مونگیریؒ کامیابی کی دعاء فرماتے تھے۔ قادیانیوں کی طرف سے ہر طرح کے دھوکے دیئے گئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مولانا کی ہمت و کوشش اور حضرت مولانا کی دعاء سے گروہ حقہ اہل اسلام کو فتحیاب کیا اور فرقہ گمراہ مرزائیہ اپنے اقرار اور جھوٹے دعویٰ کے بموجب ذلیل وخوار ہوا اور جس روز مقدمہ فتح ہوا۔ اس کے دوسرے روز اس فتح یابی کا تار مونگیر پہنچا۔ جس مسجد پر پانچ سال سے مرزائیوں کا قبضہ تھا اس سے نکالے گئے اور وہاں کی تمام مسجدوں میں جانے سے قطعی ممانعت کر دی گئی۔ اب وہاں مرزائیوں کا نہ وعظ ہے اور نہ کچھ تذکرہ ہے۔ یہ چار رسوائیاں یکے بعد دیگرے قادیانیوں کو ہوئیں اور مرزائے قادیان کی کذابی کا کامل ثبوت ان کے اقرار کے بموجب ہو گیا۔
جناب مولانا عبدالرشید صاحب نے ایک رسالہ رد قادیانی میں خود لکھ کر وہاں شائع کیا۔ اس کا نام ’الفرقان بین وحی الرحمٰن و وحی الشیطان‘ ہے اور ایک رسالہ جسے خلاصہ فیصلہ آسمانی کہنا چاہئے۔ انگریزی زبان میں لکھا ہوا مونگیر میں تھا۔ اسے منگا کر چھپوایا اور شائع کیا۔ اب وہ مکرر بنگال میں چھپا ہے۔ وہ مونگیر سے ملے گا۔ چونکہ اس کے مؤلف عربی اور انگریزی دونوں میں کامل تھے۔ اس لئے نہایت عمدہ رسالہ لکھا ہے۔ افریقہ میں ایک قادیانی نے اپنے جاہلانہ خیال کے بموجب صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ کے جواب میں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا تھا۔ مولانا عبدالرشید صاحب نے اسے مونگیر بھیجا۔ اس کا جواب صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١ میں دیا گیا۔ جس کا عنوان خاتم النبیین ہے اور بہت شائع ہو چکا ہے۔ جس میں ختم نبوت کے سوا مرزا کی دہریت ثابت کی گئی ہے۔
دوسرے طریقے سے مرزائیوں کی رسوائی
اور امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر
مرزائی عام مسلمانوں کو اس طرح فریب دیتے ہیں کہ امام مہدی اور مسیح موعود کا آنا سب مسلمان جانتے ہیں۔ وہ مہدی اور مسیح موعود آ گئے۔ قصبہ قادیان ملک پنجاب میں ان کا مکان ہے۔ ان پر ایمان لاؤ۔
٣
مسلمانو! اس پر ایمان رکھو کہ امام مہدی اور مسیح موعود جن کے آنے کی خبر ہے۔ وہ ہرگز نہیں آئے جو کوئی کہتا ہے کہ آگئے وہ محض جھوٹا ہے اور مسلمانوں کو فریب دیتا ہے اور اس کا بھی پورا یقین کر لو کہ جسے یہ امام مہدی اور مسیح موعود کہتے ہیں۔ وہ بڑا جھوٹا اور فریبی اور بے دین دہریہ شخص ہے۔ اب میں مختصراً ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل بیان کرتا ہوں۔ اچھی طرح غور سے دیکھئے اور ان کے جھوٹے ہونے کو ملاحظہ کیجئے۔
سچے امام مہدی اور مسیح موعود کے آنے کی علامت یہ ہے کہ جس وقت وہ آئیں گے اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ یہ بات حدیث میں آئی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی بھی کہتا ہے۔ چنانچہ (ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) میں لکھتے ہیں کہ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا میں پھیل جائے گا۔ ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ راست بازی ترقی کرے گی ۔“ قادیانی مسیح نے تین علامتیں مسیح موعود کے آنے کی بیان کیں اور اس پر خیال رہے کہ یہ تینوں علامتیں حضرت مسیح کے نزول کے وقت بیان کر رہے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے نزول کا یہ اثر دنیا پر ہوگا کہ تمام دنیا کے کافر مسلمان ہو جائیں گے اور ایمان لے آئیں گے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان کی برسوں کی سعی اور کوشش اور ان کی خونریزی اور ان کے خلفا کے کوشش سے کافر مسلمان ہوں گے۔ اب دیکھا جائے کہ قادیانی مسیح کے نزول کو تیس برس سے زیادہ ہو گیا۔ بارہ برس انہیں مرے ہو گئے اور ان کے خلیفہ بے انتہاء کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ان کی کوشش سے ایک گاؤں میں بھی اسلام نہیں پھیلا بلکہ کروڑوں مسلمان عیسائی ہو رہے ہیں۔ آریہ ہو رہے ہیں۔ قادیانی ہورہے ہیں۔ کسی دین باطل کے سو پچاس کافر بھی مسیح قادیان کی وجہ سے اور نہ ان کے خلیفہ کی کوشش سے مسلمان ہوئے۔ بلکہ مسلمانوں کو کافر کر رہے ہیں۔
نہایت ظاہر ہے کہ راست بازی کی جگہ مرزائے قادیان کے وقت سے جھوٹ اور فریب اور ہر قسم کی آفتیں اور امراض ہندوستان پر آ رہے ہیں۔ کوئی وقت خالی نہیں جاتا۔ اس سے بالیقین معلوم ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے قول سے مہدی اور مسیح ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یقینی
٤
جھوٹا ہے اور اس کے ماننے سے یہ س دیکھئے اور اسی خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ مرتب) تیسرے طریقے سے مرزائیوں مرزا احمد بیگ مرزائے قاد لڑکے کی سالی تھی۔ اسے مرزا نے کہیں یہ پیغامی خط ١٠ مئی ١٨٨٨ء کے اخب (کمالات اسلام ص ٥٧٢، خزائن ج ٥ ص ٤ کیا۔ ایک یہ کہ اس کا مذہب خراب ہ بچے رکھنے والے تھے۔ اس لئے مرزا کر دیا۔ اب مرزا قادیانی نے اس ل اور اس لڑکی کو منکوحہ آسمانی مشہور کیا دیا ہے۔ مرزا قادیانی کی یہ دھمکی تھی کہ پڑھا دیا ہے تو وہ ضرور مرزا قادیانی ک انیس برس تک نہایت اعتماد اور وثوق آئے گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اور ٢ مئی ١٨٩١ء کے اش طرف سے یہی قرار پاچکا ہے کہ وہ ص ٢١٩) مگر وہ ان کے نکاح میں ن ثابت کر کے تمام مرزائیوں کو رسوا ہیں۔ اب یہ مرزائی اپنا کفر اسلام
جھوٹا ہے اور اس کے ماننے سے یہ سب بلائیں پھیل رہی ہیں۔ تفصیل اس کی چشمۂ ہدایت میں دیکھئے اور اسی خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے منگائیے۔ (نوٹ: چشمۂ ہدایت احتساب قادیانیت کی جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ مرتب)
تیسرے طریقے سے مرزائیوں کی رسوائی
مرزا احمد بیگ مرزائے قادیان کا ایک رشتہ دار ہے۔ اس کی لڑکی محمدی بیگم، مرزا کے لڑکے کی سالی تھی۔ اسے مرزا نے کہیں دیکھ لیا اور پسند آگئی۔ اس کے باپ سے نکاح کا پیغام کیا۔ یہ پیغامی خط ١٠؍مئی ١٨٨٨ء کے اخبار نور افشاں میں چھپا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (کمالات اسلام ص ٥٧٢، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤) میں نقل کیا ہے۔ اس کے باپ نے دو وجہ سے انکار کیا۔ ایک یہ کہ اس کا مذہب خراب ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کم سن لڑکی تھی اور یہ سن رسیدہ اور بیوی بچے رکھنے والے تھے۔ اس لئے مرزا احمد بیگ نے نکاح سے انکار کیا اور دوسرے شخص سے نکاح کر دیا۔ اب مرزا قادیانی نے اس کے ڈرانے دھمکانے کے لئے پیشین گوئیاں کرنا شروع کیں اور اس لڑکی کو منکوحہ آسمانی مشہور کیا۔ یعنی اس کا نکاح آسمان پر اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ پڑھا دیا ہے۔ مرزا قادیانی کی یہ دھمکی تھی۔ اس الہام سے عوام یہ سمجھیں گے کہ جب اللہ نے اس کا نکاح پڑھا دیا ہے تو وہ ضرور مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کی تائید میں اس کی نسبت اٹھارہ انیس برس تک نہایت اعتماد اور وثوق سے اپنا الہام بیان کرتے رہے کہ وہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔‘‘
(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اور ٢؍مئی ١٨٩١ء کے اشتہار مطبوعہ حقانی پریس لدھیانہ میں لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی قرار پا چکا ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩) مگر وہ ان کے نکاح میں نہ آئی اور نہایت علانیہ طور سے تمام دنیا پر مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کر کے تمام مرزائیوں کو رسوا کر دیا۔ یہ یقینی رسوائی ہوئی کہ مرزائی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ اب یہ مرزائی اپنا کفر اسلام میں پھیلا کر اپنی سرخ روئی دیکھنا چاہتے ہیں۔ افسوس اس بے
٥
حیائی پر اس کی پوری تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ اوّل سے معلوم ہوگی۔ جس سے ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا توریت مقدس اور قرآن مجید سے بالیقین ثابت ہے۔
چوتھے طریقے سے ان کی رسوائی
مرزا قادیانی نے اس فرضی منکوحہ کے نکاح سے پہلے اس کے شوہر کے مرجانے کے لئے ڈھائی برس کی میعاد مقرر کی تھی۔ یعنی یہ پیشین گوئی کی کہ اگر مرزا احمد بیگ اس سے نکاح کر دے گا تو ڈھائی برس کے اندر اس کا یہ شوہر مر جائے گا۔ مگر اس مدت میں وہ نہ مرا اور مرزا جھوٹے ہوئے اور مسلمانوں نے ان کے جھوٹے ہونے کا شہرہ کیا۔ اس پر انہوں نے بہت باتیں بنائیں اور دوسری پیشین گوئی کی کہ اس کا شوہر میری زندگی میں ضرور مرے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں بالیقین آئے گی۔ اس پر انہیں اس قدر وثوق تھا کہ اپنے رسالہ (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١) میں لکھا ہے کہ: ”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“ یعنی اگر میں جھوٹا ہوں تو منکوحہ آسمانی کا شوہر میرے سامنے نہ مرے گا اور میں اس کے سامنے مر جاؤں گا اور اس کے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں یہ لکھا ہے کہ: ”اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ (یعنی منکوحہ آسمانی کا شوہر میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
اب قدرت خدا ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کی صداقت چار طریقوں سے بیان کی ہے اور اسے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے۔ مگر یہ پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور مرزا قادیانی اپنے پختہ اقرار سے بدترین خلائق اور جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور اپنے خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ثابت کیا اور جھوٹ کا ثبوت بھی اس طرح ہوا کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے بارہ برس سے زیادہ ہو گئے اور اس منکوحہ آسمانی کا شوہر اب تک زندہ رہ کر
٦
مرزا قادیانی کا اقراری جھوٹا ہونا دنیا کو دکھ کچھ شرم نہیں آتی۔ ایسے بیحیا جو ایسے علانی باللہ) مدینہ اور قادیان کو مکہ مان رہے ہی علانیہ کذابوں کو نہیں دیکھتے جو آفتاب کی اسلام کے مدعی ہو کر ان سے روپیہ لوٹ ر ہمارے بہت مسلمان بھائی غور نہیں کرت
بھائیو! مرزا قادیانی کی کذاب ہے اور مشتہر ہو رہی ہے۔ مگر یہاں بغر لئے بہت کافی ہیں۔ اگر زیادہ تفصیل آسمانی، محکمات ربانی، مسیح کاذب اور م چکے ہیں اور بہت رسالے مطبع اہل حد انہیں منگا کر دیکھئے اور نہایت خیر خواہان مبلغ قادیانی کلکتہ سے التماس ہے۔ ورنہ ان رسالوں کا جواب تو آپ کیا دیں ۔ کے جواب سے آپ بالکل عاجز ہیں ی بھیجے گئے ہیں۔ دوسری شہادت آسمانی زور شور سے ہوا ہوگا۔ اگر آپ خوف بالیقین مرزا قادیانی کو جھوٹا جانیں گے طرز سے مرزا کا جھوٹ اور فریب اور ہے۔ یہ رسالہ بھی نہایت قابلیت کے
ماہنامہ لولاک تحریک ختم نبوت آسمانی فیصلہ آسمانی حصہ اول سے معلوم ہو گی ۔ جس سے ظاہر ہو جائے گا کہ مقدس اور قرآن مجید سے بالیقین ثابت ہے۔
رسوائی
کہ فرضی منکوحہ کے نکاح سے پہلے اس کے شوہر کے مرجانے کی تھی۔ یعنی یہ پیشین گوئی کی کہ اگر مرزا احمد بیگ اس سے نکاح کر لے گا تو اس کا شوہر مرجائے گا۔ مگر اس مدت میں وہ نہ مرا اور مرزا جھوٹے پھر جھوٹے ہونے کا شہرہ کیا۔ اس پر انہوں نے بہت باتیں بنائیں کہ شوہر میری زندگی میں ضرور مرے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں اس قدر وثوق تھا کہ اپنے رسالہ (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔ اور وہ منکوحہ آسمانی کا شوہر میرے سامنے نہ مرے گا اور میں اس کے (ضمیمہ ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں یہ لکھا ہے کہ : ”اگر یہ پیشین گوئی کہ منکوحہ آسمانی کا شوہر میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں
ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کی صداقت پر اپنے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے۔ مگر یہ پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ یعنی قادیانی اپنے پختہ اقرار سے بدترین خلائق اور جھوٹے ثابت ہوئے۔ حق ثابت کیا اور جھوٹ کا ثبوت بھی اس طرح ہوا کہ مرزا قادیانی تو نابود ہو گئے اور اس منکوحہ آسمانی کا شوہر اب تک زندہ رہ کر ٦
مرزا قادیانی کا اقراری جھوٹا ہونا دنیا کو دکھا رہا ہے اور مرزائیوں کو دنیا میں رسوا کر رہا ہے اور انہیں کچھ شرم نہیں آتی۔ ایسے بیحیا جو ایسے علانیہ کذاب کو بعض مجدد اور اس کی جائے موت لاہور کو (نعوذ باللہ) مدینہ اور قادیان کو مکہ مان رہے ہیں اور بعض نبی اور رسول مہدی مان رہے ہیں اور ایسی علانیہ کذابیوں کو نہیں دیکھتے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ با ایں ہمہ مسلمانوں میں اشاعت اسلام کے مدعی ہو کر ان سے روپیہ لوٹ رہے ہیں۔ ”استغفر اللہ“ اس علانیہ جھوٹ اور فریب کو ہمارے بہت مسلمان بھائی غور نہیں کرتے اور روپیہ برباد کر رہے ہیں۔
بھائیو! مرزا قادیانی کی کذابی اور مرزائیوں کی رسوائی بہت طریقوں سے ثابت کی گئی ہے اور مشتہر ہو رہی ہے۔ مگر یہاں بغرض اختصار صرف چار طریقے بیان کئے گئے جو حیا دار کے لئے بہت کافی ہیں۔ اگر زیادہ تفصیل دیکھنا ہو تو رسالہ فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ، دوسری شہادت آسمانی، محکمات ربانی، مسیح کذاب اور صحائف رحمانیہ بائیس نمبر تک خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں چھپ چکے ہیں اور بہت رسالے مطبع اہل حدیث امرتسر میں چھپے ہیں۔ مثلاً تاریخ مرزا، نکاح مرزا وغیرہ انہیں منگا کر دیکھئے اور نہایت خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہو جئے۔ خصوصاً فاضل مبلغ قادیانی کلکتہ سے التماس ہے۔ ورنہ ان کتابوں کا محققانہ جواب لکھیں۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ ان رسالوں کا جواب تو آپ کیا دیں گے۔ تمام دنیا کے مرزائی جواب سے عاجز ہیں۔ اس مختصر تحریر کے جواب سے آپ بالکل عاجز ہیں۔ آپ کے اشتہار عیدی کے جواب میں خیر خواہانہ دو رسالے بھیجے گئے ہیں۔ دوسری شہادت آسمانی اور محکمات ربانی انہیں دیکھ کر تو آپ کے یہاں محرمی ماتم زور شور سے ہوا ہوگا۔ اگر آپ خوف خدا کو دل میں لا کر ان حقانی رسالوں کو ملاحظہ کریں گے۔ بالیقین مرزا قادیانی کو جھوٹا جانیں گے۔ پہلا رسالہ ایک سو سولہ صفحہ میں ہے۔ اس میں نہایت مدلل طرز سے مرزا کا جھوٹ اور فریب اور جہالت ثابت کی گئی ہے اور دوسرا رسالہ ایک سو آٹھ صفحہ میں ہے۔ یہ رسالہ بھی نہایت قابلیت کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ٧
پروفیسر ترتیب و آسان مطا
مولوی عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری نے حصہ دوم فیصلہ آسمانی کے جواب میں ایک رسالہ لقائے ربانی لکھا تھا۔ اسی کے رد میں یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔ اس میں علاوہ دندان شکن جواب ہونے کے مولوی عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری کی جہالت فریب دہی، دروغ بیانی بھی کھول کھول کر دکھائی گئی ہے اور اس القا کے جواب میں اور رسالے بھی لکھے گئے ہیں۔ مثلاً صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠ جس میں القا کے چند سطروں میں دس عظیم الشان غلطیاں دکھائی ہیں اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١، ١٢ اس میں ان کی بددیانتیاں اور نافہمیاں دکھائی ہیں اور مولوی صاحب نے اس وقت تک کسی کا جواب نہیں دیا اور نہ دے سکتے ہیں۔
مسلمانو! غور کرو اور سمجھو! مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ معمولی فتنہ نہیں ہے۔ جس سے غفلت برتی جاسکے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنے ان عقائد سے اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ حامیان اسلام اور معاونان دین محمدی اس غارت گر دین وایمان کا پوری قوت سے مقابلہ کریں اور سمجھ لیں کہ اس قسم کے مفتری اور فتنہ پرداز سابق زمانوں میں بھی ہوتے رہیں اور ان کے زمانہ کے اہل اسلام نے بھی پوری قوت سے احقاق حق کیا ہے۔ اگر تم نے اس جماعت سے غفلت برتی یا اس کے فتنہ کو معمولی فتنہ سمجھا تو یاد رکھو کہ خداوند عالم اس دین کی حمایت کرے گا اور اس کو اس جماعت کی ابلہ فریبیوں سے محفوظ رکھے گا۔ مگر تم حمایت اسلام کے اجر جزیل سے محروم رہ جاؤ گے۔
ہمارا کام سمجھانا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ایسی کھلی کھلی غلطیاں دکھائیں جن سے معمولی فہم والا بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی کذابی اور دروغ پر مطلع ہو کر اس دام فریب سے محفوظ رہے۔ لیکن اگر تم اس پر بھی غور نہ کرو تو تم جانو اور تمہارا کام۔
الراقم محمد عبدالقدیر امروہی
٨
محمد ﷺ
خاتم النبیین
رشد و
کفر و
ابوالمحاس
پروفیسر محمد ارشد
آسان مطالعہ
فیصلہ آسمانی کے جواب میں ایک ہے۔ اس میں علاوہ دندان شکن جواب فریب دہی، دروغ بیانی بھی کھول کھول لکھے گئے ہیں۔ مثلاً صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠ دکھائی ہیں اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١،١٢ اس صاحب نے اس وقت تک کسی کا جواب
ان کا فتنہ معمولی فتنہ نہیں ہے۔ جس سے مدد سے اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کا اور محافظان دین محمدی اس غارت گر دین م کے مفتری اور فتنہ پرداز سابق زمانوں نے بھی پوری قوت سے احقاق حق کیا ہے۔ معمولی فتنہ سمجھا تو یاد رکھو کہ خداوند عالم اس ان سے محفوظ رکھے گا۔ مگر تم حمایت اسلام
کہ مرزا قادیانی کی ایسی کھلی کھلی غلطیاں کی کذابی اور دروغ پر مطلع ہو کر اس دام نکالو اور تمہارا کام۔ الراقم: محمد عبدالقدیر امروہی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
رشد و ہدایت
بجواب
کفر و ضلالت
ابو المحاسن محمد ارشد
بسم الله الرحمن الرحیم!
نحمد الله العظیم ونصلی علٰی رسولہ الکریم!
مہربان، مخلصان، دشمن ایمان: ۔ السلام علٰی من اتبع الھدٰی! میں نے بنظر خیر خواہی آپ کے پاس ہدایت نما رسالے بھیجے تھے تاکہ آپ اس وقت کے دجالی فتنہ کی واقعی حالت کا معائنہ کر کے اس سے علیحدہ ہو جائیں اور راہ مستقیم اختیار کریں۔ مگر آپ کے نامۂ پرغضب سے معلوم ہوا کہ آپ ”ختم الله علٰی قلوبھم وعلٰی سمعھم“ کے گروہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ جنہیں خدا اور رسول کے کلام سے بھی ہدایت نہیں ہوئی اور اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں متعدد نفس پرست بظاہر قرآن وحدیث کو مان کر ”فمن اظلم ممن افترٰی علی الله کذباً “ کے مصداق بنے اور بہت مخلوق کو اپنا پیرو بنا کر انہیں جہنم کا مستحق بنایا۔ اسی طرح آپ کے گمراہ کرنے والے نے حضرت سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والثنا کی چالیس کروڑ امت کو جسے اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں ”خیر امۃ “ یعنی بہترین امت کا خطاب دے چکا تھا۔ انہیں کافر اور جہنم کا مستحق ٹھہرا کر صداقت کلام الٰہی اور عظمت و شان محمدی کو پامال کیا۔ اب آپ اس کی تائید میں مخصوص امت محمدیہ یعنی سچے حضرات صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ جن میں حضرت جنید، حضرت شبلی، حضرت غوث جیلانی، حضرت معین الدین چشتی، حضرت بہاء الدین نقشبندی علیہم الرحمۃ داخل ہیں ان مقبولان خدا پر جھوٹے الزام لگا کر وعید ”من عادٰی ولیا فقد اذنته بالحرب“ کے مستحق ہو گئے۔ بایں ہمہ اپنے مقتدا دجال وقت کے کسی الزام کا جواب نہ دے سکے اور ان کے جھوٹا ہونے اور بے انتہاء کذابی کو تسلیم کر کے الزامی جواب یہ دیا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا اور اس کا رسول یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام (جن کی پیروی کے لئے ارشاد خداوندی ہوا) ”واتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا “ وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر اگر دوسرا جھوٹ بولے تو اس پر کیا الزام ہے۔ (اس میں جو کچھ اسلام کی بیخ کنی ہے وہ ہر ذی عقل پر ظاہر ہے) یہ تو آپ کی تمام تحریر کا نتیجہ ہے۔ اب میں آپ کے الزامات کا مختصراً جواب بھی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو آپ نے اپنی کور باطنی سے ایک علامہ زمان، مجدد دوران، ہادی مضلان، رہنمائے گم گشتگان پر لگائے ہیں۔ جس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ میں نے جو بغرض خیر خواہی بعض رسالے آپ کے پاس بھیجے تھے اس سے آپ کو غصہ ہوا اور اس غصہ نے ان رسالوں کو سمجھنے نہ دیا اور اپنے مقتدا گمراہ کنندہ کی صداقت بھی ثابت نہ کر سکے۔ اس لئے طیش میں آ کر ایک ایسے بزرگ پر جھوٹے الزام لگائے جن کے فیض ہدایت سے ایک عالم مستفیض ہوا اور
٢
ہو رہا ہے۔ معلوم کر لیجئے کہ ان کے فیض سے ہزاروں مسلمان عیسائی ہونے سے محفوظ ہیں۔ کتنے کرسٹان مسلمان ہوئے اور پادریوں کا وہ زور شور اور ہر شہر و دیہات میں جا بجا ہنکانا بند ہو گیا۔ یہ تو اس صدی کے شروع میں ہوا اور اب صدی کے تہائی پر جدید مسیح کاذب اور اس کے پیرووں کے فریب سے ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمان محفوظ رہے اور ایک جگہ کے نہیں، اکثر ہندوستان کے، بنگال کے، عرب شریف کے، برہما اور رنگون کے، ملک افریقہ کے، مسلمان آپ کے لاجواب رسائل اور خطوط دیکھ کر اس گمراہی سے بچے اور بہت ناواقف جو ان کے دام میں آکر اپنا ایمان تباہ کر چکے تھے وہ توبہ کر کے پھر مسلمان ہوئے۔ آپ کی ہدایت اور اثر صحبت سے ہزاروں بے نمازی، نمازی ہو گئے۔ بہت رند مشرب نشہ خوار نہایت راست باز صالح دیندار ہو گئے۔ مگر آپ کے مرشد مرزا قادیانی کے وجود سے ساری دنیا کے مسلمان کافر ہو گئے۔ کوئی کافر کی جماعت مسلمان نہ ہوئی جو مسلمان ان پر ایمان لائے۔ وہ پہلے اگر نیک تھے تو ان کے فریب میں آکر احکام اسلام سے آزاد ہو گئے اور جھوٹ وفریب اور ترک صوم وصلوٰۃ کے عادی ہو گئے۔ یہ قدرت الٰہی کا نمونہ اللہ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے میں فرق دکھانے کے لئے ظاہر کیا۔ ہمارے حضرت پر آپ کا پہلا الزام یہ ہے کہ پادری فنڈر عمادالدین وغیرہما نے جو الزامات حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر لگائے ہیں ان کا جواب نہیں دیا اور اپنے اس انکار پر قسم کھائی ہے۔ ”لعنة الله علی الکاذب الشقی“ اب اس کے جوابات ملاحظہ کیجئے۔ مگر ذرا دل کو ٹھنڈا کر کے انصاف سے دیکھئے۔ (افسوس ہے کہ آپ کو انصاف اور حق طلبی سے کیا واسطہ۔ مگر میں اپنا کام کرتا ہوں۔ کوئی حق طلب دیکھے گا) پہلا جواب یہ فرمائیے کہ جن پادریوں کا نام آپ نے لکھا ہے ان کے اعتراضوں کے جواب آپ کے مرزا یا ان کے خلیفہ وغیرہ نے دیئے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں دیئے تو اس الزام کے بڑے مورد آپ اور آپ کی جماعت اور مقتدا ہیں۔ کیونکہ انہیں دعویٰ اسلام کے علاوہ تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کا بھی دعویٰ ہے۔ ذرا چشمہ ہدایت کو ملاحظہ کیجئے اور دوسروں کو الزام نہ دیجئے اور اگر آپ کی جماعت میں کسی نے جواب دیئے ہیں تو ہمارے اہل حق کے ذمہ اب یہ فرض نہیں رہا۔ خدا نے اپنی قدرت کا نمونہ دکھا کر جو در حقیقت مخالف اسلام تھے ان سے تائید اسلام کا کام لیا اور علماء حقانی کو ایک فرض سے سبکدوش کر دیا۔ ”ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء“ دوسرا جواب فرائض اسلامی دو قسم کے ہیں۔ ایک فرض عین، دوسرا فرض کفایہ۔ یعنی بعض فرائض اسلام وہ ہیں جن کا ادا کرنا ہر مسلمان کو ضرور ہے۔ جیسے نماز و روزہ اور بعض وہ ہیں جو بعض کے کرنے سے سب کے ذمہ سے اس کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے اور ان کے ذمہ وہ فرض نہیں ٣
رہتا۔ جیسے نماز جنازہ اور حمایت اسلام۔ اب آپ اس کو معلوم کر کے اپنی بیخبری پر افسوس کیجئے کہ پادریوں کے جواب دینے کا فرض بہت اہل علم نے ادا کیا ہے۔ اس وقت میرے سامنے رسالہ مراسلات مذہبی اور پیغام محمدی رکھا ہے۔ اوّل رسالہ کے شروع میں صفحہ ١٥ سے لے کر صفحہ ٥٣ تک ایک سو ستاون رسالوں کے نام اور ایک اخبار منشور محمدی کا ذکر ہے۔ یہ کل رسائل مخالفین اسلام کے جواب میں ہیں۔ اکثر رسائل پادریوں کے جواب میں اور بعض ہنود وغیرہ کے رد میں اور دوسرے رسالہ میں ستر رسالوں کے نام اور ان کی اجمالی حالت لکھی ہے اور ان کے مصنفین کے چھتیس نام بتائے ہیں۔ اس کے بعد صفحہ ٤٧ میں اجمالاً دو سو گیارہ رسالوں کی تعداد لکھی ہے اور اخبار منشور محمدی کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو بنگلور علاقہ مدراس سے عرصہ تک صرف پادریوں کے جواب میں نکلتا رہا ہے۔ اس میں مضامین آپ کے چھپے ہیں۔ ١٢٨٩ھ سے اس کا اجراء ہوا تھا اور عرصہ تک جاری رہا ہے۔ رسائل کے مؤلفوں میں مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین کا بھی نام ہے۔ مگر یہ اسلامی خدمت ان دونوں صاحبوں کی اس زمانہ کی ہے کہ اسلامی حد سے متجاوز نہیں ہوئے تھے۔ یعنی حکیم نورالدین مرزا قادیانی کے گروہ میں داخل نہیں ہوئے تھے اور مرزا قادیانی کو دعویٰ مسیحیت اور نبوت نہیں ہوا تھا۔ البتہ کچھ دلی خیال معلوم ہوتا تھا۔ جس کا ثبوت ان کے اس جھوٹے اشتہار سے ہوتا ہے۔ جو براہین کے پہلے حصہ میں بہت موٹے حرفوں میں لکھا ہے۔ اس بیان سے پادر اور ہنود کا تو خاتمہ ہو گیا اور کامل طور سے ان دونوں گروہوں کا قلع و قمع مذکورہ رسائل سے ہو گیا۔ دیانتدار تمام گروہ آریہ کی بیخ کنی بھی بخوبی ہوچکی ہے۔ مولانا امرتسری اور مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب مناظروں میں شکست پر شکست دے رہے ہیں اور آریہ عاجز ہورہے ہیں۔ کانپور کے مدرسہ الہیات میں یہی کام ہوتا ہے۔ چند رسالوں کے نام ملاحظہ کیجئے۔
رسائل حامیان اسلام و رد کفریات آریہ
نمبر نام کتاب نام مصنف کتاب کیفیت ١ حدوث وید مولوی ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری آریہ وید کو قدیم کہتے ہیں۔ لیکن اس رسالہ میں مصنف موصوف نے خود وید سے وید کا حدوث ثابت کیا ہے۔ ٢ بحث تناسخ فاتح قادیان آریہ آواگون کے قائل ہیں۔ اس کا غلط ہونا اس رسالہ میں ثابت کیا ہے اور چونکہ مرزا محمود کا بھی اسلام کے خلاف یہی خیال ہے۔ لہٰذا ان کے خیال کا بھی یہی رد ہو گیا۔
٤
٣ الہام // ٤ جہاد وید // ٥ سوامی دیانند // کا علم و عقل ٦ تبر اسلام // ٧ الہامی کتاب // ٨ حق پرکاش // ٩ ترک اسلام // ١٠ تغلیب اسلام جلد....... (١) فاتح قادیان جناب جلد....... (٢) ابوالوفا ثناء اللہ جلد....... (٣) جلد....... (٤) ١١ مناظرہ بھگینہ //
یہ گیارہ رسالے آریہ کے رد قادیان کے اندر پہنچ کر مع قادیان پر فتح سے باہر نہ نکلتے تھے تو دیانند اور اس کے ایک توجہ کا نتیجہ ہو بلکہ گیارہ رسالے ہیں حملہ آپ نے کیا ہے اور آریوں کے قلعہ قادیان کا نام سن کر ہمارے مہربان میاں ان کے حواس بجا نہ رہے ہوں گے۔ اب رسالے آریہ کے رد میں لکھے ہیں۔ اگر نسبت حمایت اسلام کا نام نہ لیجئے گا۔ اب رسالے پیش کرتا ہوں اور دکھاتا ہوں ہمارے کسی ذی علم کو ضرور نہیں ہے کہ دیا
٣ الہام " الہام کی تشریح اور آریوں کا رد ہے ٤ جہاد وید " ٥ سوامی دیانند " کا علم وعقل ٦ تبر اسلام " دھرم پال کے رسالہ ترک اسلام کا جواب لائق دید ہے ٧ الہامی کتاب " وید اور قرآن مجید کے الہام پر بحث ہے ٨ حق پرکاش " دیانند کے ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب ہے ٩ ترک اسلام " رسالہ ترک اسلام کا جواب ہے ١٠ تغلیب اسلام فاتح قادیان جناب مولوی جلد...... (١) ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری یہ دھرم پال آریہ کے رسالہ تکذیب الاسلام کا جواب ہے جلد...... (٢) جلد...... (٣) جلد...... (٤) ١١ مناظرہ بھگینہ " یہ مشہور مناظرہ ہے جو بھگینہ میں مولانا فاتح قادیان سے ہوا تھا اور آریہ کو فاش شکست ہوئی تھی
یہ گیارہ رسالے آریہ کے رد میں مولانا فاتح قادیان کے ہیں۔ جنہوں نے خاص قادیان کے اندر پہنچ کر مسیح قادیان پر فتح حاصل کی تھی اور جناب مسیح کاذب مارے خوف کے گھر سے باہر نہ نکلتے تھے تو دیانند اور اس کے پابند آریوں کی کیا ہستی ہے اور پھر یہ ایک رسالہ نہیں جو ایک توجہ کا نتیجہ ہو بلکہ گیارہ رسالے ہیں ۔ میرے علم میں یعنی آریوں کے قلعہ پر گیارہ مرتبہ پورا حملہ آپ نے کیا ہے اور آریوں کے قلعہ پر دلائل حقانی کی گولہ باری کی ہے۔ مگر یہ دیکھ کر اور فاتح قادیان کا نام سن کر ہمارے مہربان میاں عبدالرحیم قادیانی کے حواس پراگندہ ہو گئے ہوں گے اور ان کے حواس بجا نہ رہے ہوں گے ۔ اب یہ تو بتائیے کہ آپ کے مرشد یا ان کے کسی مرید نے اتنے رسالے آریہ کے رد میں لکھے ہیں ۔ اگر لکھے ہوں تو پیش کیجئے ۔ ورنہ شرمندہ ہو کر مرزا قادیانی کی نسبت حمایت اسلام کا نام نہ لیجئے گا۔ اب میں رد آریہ میں دوسرے حضرات کے نام اور ان کے رسالے پیش کرتا ہوں اور دکھاتا ہوں کہ آریوں کا قلع قمع پورے طور پر کر دیا گیا ہے ۔ اب ہمارے کسی ذی علم کو ضرورت نہیں ہے کہ دیانند اور دھرم پال کو پامال کرے۔
٥
بقیہ رسائل رد آریہ
نمبر نام کتاب نام مصنف کتاب کیفیت ١٢ اصلی ستیارتھ پرکاش میاں عبدالغفور دھرم پال اصل کتاب دیانند بانی مذہب آریہ کی ہے اور سوامی دھرم مع تنقید پال عبدالغفور صاحب نے آریہ کے اصول کے موافق اس کی ہر بات کا رد کیا ہے۔ انہوں نے آریہ ہو کر ان کے مذہب سے خوب واقفیت حاصل کی اور پھر اس کا رد کیا ١٣ رسائل اندر مجموعہ میاں عبدالغفور صاحب غازی صاحب نے رسالہ نکالا تھا جس کا نام المسلم رسائل المسلم غازی محمود دھرم پال ہے۔ پھر ان رسائل کے مضامین کو ایک کتاب میں جمع کیا جس کا نام رسائل اندر ہے۔ ١٤ ست پرکاش مولوی عبدالغفور داناپوری ١٥ آریہ کا پول میاں عبدالعزیز عرف آریوں کے رد میں نہایت عمدہ رسالہ ہے۔ تین حصوں تین حصہ جگد مبا پرشاد دہلوی میں۔ ١٦ ٹریکٹ مدرسہ اس مدرسہ میں زبان بھاشا اور سنسکرت کی تعلیم کے لئے الٰہیات کانپور ایک پنڈت نوکر ہیں جو آریوں کے نہایت مخالف ہیں از نمبر ١ تا ٦ وہ طالبعلموں کو پڑھاتے اور اسی زبان میں ان سے بیان کرایا جاتا ہے اور جابجا انہیں بیان کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ یہ چھ ٹریکٹ بمنزلہ چھ رسالوں کے ہیں ١٧ مجادلہ حسنہ مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب اس میں وہ مناظرہ ہے جو امروہے میں بابو رام چندر دہلوی مناظر بینظیر آریہ اور مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب سے ہوا تھا اور آریہ کو شکست فاش ہوئی تھی۔ ان کے سوا اور بھی رسائل ہیں۔
یہ سترہ رسالے آریوں کی گمراہی کو نیست و نابود کرنے کے لئے بہت کافی ہیں۔ ان میں ایک رسالہ سرمہ چشم آریہ بھی ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنی شہرت اور روپیہ کمانے کے لئے لکھا تھا۔ بہرحال اور حامیان اسلام نے دس دس گیارہ گیارہ رسالے لکھے۔ اب اگر مرزا قادیانی نے ایک رسالہ لکھا تو کون سے فخر کی بات ہوئی۔ دوسرے حامیان اسلام اس بات میں بھی ان سے
٦
افضل و بہتر رہے۔ مگر مرزائی حضرات ا اور حضرت اقدس کو الزام دیتے ہیں کہ بدخواہی یا دلی عداوت ہے کہ غیر ضروری جن کا ذکر اوپر کیا گیا پادری فنڈر وغیرہ حمایت کا فرض ادا ہو چکا تھا۔ اب حضرت سے آپ پر کوئی الزام نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے دجل و فریب آپ پورے طور سے ادا کر رہے ہیں اور عبدالرحیم خوب متوجہ ہو کر اور آنکھیں پ افسوس کیجئے۔ حضرت ممدوح (مولانا م پادریوں سے مناظرے کئے ہیں اور ان مرزا قادیانی تو کیا لکھتے۔ کسی ذی علم نے نے بہت زور کیا تھا۔ رسائل واخبارات جگہ ہر ایک گلی کوچہ میں پادری پریچر اسلا کئی پادریوں سے آپ نے مناظرہ ک ہوئے۔ بڑے بڑے دعویٰ کر کے پاد جامع مسجد کا اور کوتوالی کے قریب کا واق فیض عام میں دو مرتبہ دو پادری آئے اور صاحب نے جو کچھ کیا اللہ کے واسطے ک غل نہیں مچایا اور اپنی تعریف نہیں کی۔ مرزا اور نہایت برا نتیجہ ہوا۔ حضرت ممدوح نے شہر کانپور میں جا کر پریچروں سے مناظر نتیجہ یہ ہوا کہ پادریوں نے جابجا کاوش ہو گئے اور جس طرح مولانا رحمت اللہ علی کیا تھا۔ اسی طرح جناب ممدوح نے م اٹھا کر داس پادری کا ناطقہ بند کیا تھا۔ ا
تذکرہ مجدد اعظم حصہ دوم
ریہ
کیفیت
اہل کتاب دیانند بانی مذہب آریہ کی ہے اور سوامی دھرم پال عبدالغفور صاحب نے آریہ کے اصول کے موافق اس کی ہر بات کا رد کیا ہے۔ انہوں نے آریہ ہو کر ان کے مذہب سے خوب واقفیت حاصل کی اور پھر اس کا رد کیا
قاضی صاحب نے رسالہ نکالا تھا جس کا نام السلم ہے۔ پھر ان رسائل کے مضامین کو ایک کتاب میں جمع کیا جس کا نام رسائل اندر ہے۔
آریوں کے رد میں نہایت عمدہ رسالہ ہے۔ تین حصوں میں ۔
اس مدرسہ میں زبان بھاشا اور سنسکرت کی تعلیم کے لئے ایک پنڈت نوکر ہیں جو آریوں کے نہایت مخالف ہیں وہ طالب علموں کو پڑھاتے اور اسی زبان میں ان سے بیان کرایا جاتا ہے اور جابجا انہیں بیان کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی بحر کے چار رسالوں کے ہیں
اس میں وہ مناظرہ ہے جو امروہے میں بابورام چند دہلوی آریہ اور مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب سے ہوا تھا اور آریہ کو شکست فاش ہوئی تھی۔ ان کے سوا اور بھی رسائل ہیں۔
رد کرنے کے لئے بہت کافی ہیں۔ ان کی شہرت اور روپیہ کمانے کے لئے لکھا رسالے لکھے ۔ اب اگر مرزا قادیانی نے دین اسلام اس بات میں بھی ان سے
افضل و بہتر رہے ۔ مگر مرزائی حضرات ایسے ضعیف الایمان ہیں کہ اتنے رسالوں کو کافی نہیں سمجھتے اور حضرت اقدس کو الزام دیتے ہیں کہ آپ نے کوئی رسالہ آریوں کے رد میں نہیں لکھا۔ کیسی بدحواسی یا دلی عداوت ہے کہ غیر ضروری بات کا الزام دے رہے ہیں۔ جب اس قدر رسالوں میں جن کا ذکر اوپر کیا گیا پادری فنڈر وغیرہ اور آریوں کے اعتراضوں کا جواب دیا گیا تھا تو اسلامی حمایت کا فرض ادا ہو چکا تھا۔ اب حضرت ممدوح اس طرف توجہ نہ کریں تو شریعت اسلام کے رو سے آپ پر کوئی الزام نہیں ہے ۔ بلکہ اب جو آپ پر الزام لگائے وہ مجرم ہے۔ اس وقت میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے دجل وفریب سے مسلمانوں کو بچانا بڑا فرض اسلامی ہے۔ اس کو آپ پورے طور سے ادا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو بہت کچھ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تیسرا جواب میاں عبدالرحیم خوب متوجہ ہو کر اور آنکھیں کھول کر اچھی طرح دیکھئے اور اپنی بیخبری اور بیجا تعصب پر افسوس کیجئے ۔ حضرت ممدوح ( مولانا محمد علی مونگیریؒ) عم فیضہم نے ایسی حمایت کی ہے اور متعدد پادریوں سے مناظرے کئے ہیں اور ان کے جواب میں وہ نادر رسالے لکھے ہیں کہ آپ کے مرزا قادیانی تو کیا لکھتے۔ کسی ذی علم نے آپ کے وقت میں نہیں لکھے۔ ایک وقت تھا کہ پادریوں نے بہت زور کیا تھا۔ رسائل واخبارات میں اسلام پر اعتراض برابر کرتے تھے۔ شہروں میں اکثر جگہ ہر ایک گلی کوچہ میں پادری پرچر اسلام پر اعتراض کرتے تھے۔ اس وقت آپ مستعد ہوئے اور کئی پادریوں سے آپ نے مناظرہ کر کے انہیں نہایت عاجز کیا۔ یہ واقعے کانپور اور علی گڑھ میں ہوئے ۔ بڑے بڑے دعویٰ کر کے پادری آئے اور تھوڑی دیر میں بالکل عاجز ہو گئے ۔ علی گڑھ کی جامع مسجد کا اور کوتوالی کے قریب کا واقعہ بہت مسلمان اور ہنود کے سامنے کا ہے۔ کانپور کے مدرسہ فیض عام میں دو مرتبہ دو پادری آئے اور تھوڑی دیر میں دونوں عاجز لا جواب ہو کر گئے۔ مگر حضرت صاحب نے جو کچھ کیا اللہ کے واسطے کیا۔ مرزا قادیانی کی طرح بذریعہ اخبارات واشتہارات کے غل نہیں مچایا اور اپنی تعریف نہیں کی۔ مرزا قادیانی نے صرف ایک پادری آتھم سے کئی روز بحث کی اور نہایت برا نتیجہ ہوا۔ حضرت ممدوح نے علاوہ تقریر وتحریر کے بعض احباب کو تیار کیا تھا۔ وہ جابجا شہر کانپور میں جا کر پرچروں سے مناظرہ کرتے تھے اور انہیں بیان کرنے نہیں دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پادریوں نے جابجا کا وعظ کہنا چھوڑ دیا اور بھی تدبیریں کیں۔ جس سے پادری تنگ ہو گئے اور جس طرح مولانا رحمت اللہ مرحوم نے پادری فنڈر کا ناطقہ ہندوستان اور قسطنطنیہ میں بند کیا تھا۔ اسی طرح جناب ممدوح نے صفدر علی عیسائی اور پادری عمادالدین اور پادری فیلڈ ہیرلو اور ٹھاکر داس پادری کا ناطقہ بند کیا تھا۔ آپ کے مرزا قادیانی کئی روز تک پادری آتھم سے مناظرہ
٧
کرتے رہے اور اس میں جھوٹی پیشین گوئی کر کے آلہ آباد سے لے کر لاہور تک کے پادریوں کو خوشیاں کرنے اور مرزا قادیانی پر مضحکہ اڑانے کا موقع دیا۔ اس کا ذکر الہامات مرزا کے شروع میں کیا گیا ہے اور نہایت پرلطف اشعار ١؎ بھی لکھے گئے ہیں اور جہاں تک مجھے علم ہے۔ آپ کے رسائل پادریوں کے رد میں حسب ذیل ہیں۔
رسائل محمدیہ بجواب کفریات مسیحیہ
- ١...... ترانہ حجازی
پادری عمادالدین نے نغمہ طنبوری میں چودہ سوال کئے ہیں اور ان کا جواب قرآن مجید سے مانگا تھا۔ اس رسالہ میں اس کے حسب خواہ قرآن مجید سے ان کا جواب دے کر آخر میں حضرت سرور انبیاء ﷺ کی نبوت کو نہایت خوبی سے ثابت کیا ہے اور پھر عمادالدین سے سوالات کئے ہیں اور وہ ان کے جواب سے عاجز رہا ہے۔ اس پر مرزا قادیانی کے بڑے صاحبزادے نے حاشیہ لکھا ہے۔ یہ رسالہ پہلے ١٣٠٥ھ میں مطبع کوہ نور لاہور میں چھپا تھا اور دوسری مرتبہ ١٣٢٧ھ
١؎ الہامات مرزا مطبوعہ بار چہارم کا ص ٢٨ سے ٣٠ تک ملاحظہ ہو۔ اس کے چند اشعار ہیں ۔ جن میں پہلا شعر بہت ہی مناسب حال ہے۔
عیسیٰ نتوان گشت بتصدیق خرے چند
ارے منحوس نافرجام مرزا
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
عیسائیوں کی طرف سے جو اشتہارات نکلے ان میں ایک یہ تھا۔
سارے الہام بھول جائیں گے
خاتمہ ہوگا اب نبوت کا
پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
اب زیادہ اشعار لکھنے سے ہمارے مخاطب زیادہ ناخوش ہوں گے اس لئے اور اشعار نہیں لکھتا۔
٨
میں مطبع رحمانیہ مونگیر میں چھپا ہے۔ مطبع رحمانیہ مونگیر سے منگا کر دیکھ لیجئے اور اس کے مثل اپنے مرزا یا کسی مرزائی کا رسالہ دکھائیے۔
٢...... مراۃ المومنین لاغلاط ہدایت المسلمین
پادری عمادالدین نے ایک رسالہ ہدایت المسلمین لکھا ہے۔ جس میں اس نے اسلام پر اعتراضات کئے ہیں۔ اس کی غلطیاں اور اس کے جھوٹ اس رسالہ میں دکھائے ہیں۔ ١٣٠٠ھ میں مطبع نامی کانپور میں یہ رسالہ چھپا ہے۔ یہ دونوں رسالے چھپنے کے بعد عمادالدین اور دوسرے پادریوں کے پاس بھیجے گئے اور جواب کے لئے پانچ سو روپیہ کا اشتہار بھی دیا گیا تھا۔ مگر سب پادری جواب سے عاجز رہے۔
٣...... تکمیل الادیان باحکام القرآن یعنی آئینہ اسلام
پادری صفدر علی نے رسالہ نیاز نامہ میں تعلیم عیسوی کی تعریف کی تھی اور تعلیم محمدیہ کا نقص دکھایا تھا۔ اس رسالہ میں اس کا جواب دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تعلیم موسوی اور عیسوی کی تکمیل تعلیم محمدی یعنی قرآن مجید سے ہوئی۔ ١٣٠١ھ میں مطبع نامی کانپور میں چھپا ہے۔
٤......دفع التلبیسات
اس میں نہایت خوبی سے حضرت سرور انبیاءﷺ کی نبوت کو ثابت کیا ہے اور عیسائیوں کی انجیل کو انہیں کے اقوال سے غیر معتبر ہونا نہایت تحقیق سے ثابت کیا ہے اور درحقیقت تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دیا ہے۔ کیونکہ عیسائیوں کے خیال میں تثلیث کا ثبوت ان کی انجیل سے ہوتا ہے اور جب اس کا بے اصل اور بے سند ہونا ثابت کر دیا گیا تو بالضرور تثلیث پرستی کا ستون توڑ دیا گیا اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مسیح قادیان نے کچھ نہیں کیا اور مسیح موعود ہونے اور ستون توڑنے کا محض غلط دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کی غلطی رسالہ چشمہ ہدایت میں کامل طور سے بیان کی گئی ہے اور ہم نہایت دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔
٥...... پیغام محمدی
اس بینظیر کتاب میں عجیب وغریب تحقیق سے عیسائیوں پر اعتراضات اور تعلیم محمدی کی خوبیاں بیان کر کے نبوت محمدیہ کو ثابت کیا ہے۔ تین حصوں میں لکھی گئی ہے اور صفدر علی عیسائی کے نیاز نامہ اور پادری ٹھاکر داس کے رسالہ عدم ضرورت قرآن کا نہایت عمدہ جواب ہے۔ پہلی مرتبہ ١٣٠٨ھ میں مطبع نامی کانپور اور دوسری مرتبہ بریلی میں پہلا حصہ چھپا ہے اور صفدر علی وغیرہ
٩
عیسائیوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔ اس کے لاجواب ہونے کو عیسائی پادریوں نے تسلیم کر لیا ہے۔ ابھی دو واقعے ہوئے۔ ایک مونگیر میں اور ایک مظفر پور میں۔ مظفر پور کے پادری نے اس رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس رسالے نے ہمارے تمام شبہات کو دور کر دیا جو ہمیں اسلام پر تھے۔ مگر نوکری سے مجبور ہیں۔ سو روپیہ کون دے گا جو ہم قبول اسلام کر لیں۔ یہی حال جدید مسیحیوں ( قادیانیوں ) کا ہے کہ دام میں پھنسنے کے بعد جب تر لقمہ کھانے کو ملنے لگا تو اس سے کیسے علیحدہ ہوں۔ یہ رسائل اگر چہ پادریوں کے مقابلہ میں لکھے گئے ہیں۔ مگر متعدد طریقہ سے اس خوبی سے نبوت حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ اور حقانیت مذہب اسلام کو ثابت کیا ہے کہ عیسائی، ہنود، آریہ وغیرہ تمام مخالفین کو لاجواب کر دیا ہے۔ البتہ پادریوں کے لئے تحقیقی اور الزامی دونوں طرح کے جواب ہیں اور دوسرے مخالفین کے لئے صرف تحقیقی جواب ہے اور حق پسند اور طالبین حق کے لئے اسی کی ضرورت ہے۔ اس لئے ان رسائل میں جس طرح پادریوں کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کی گئی ہے۔ اسی طرح آریہ وغیرہ کے مقابلہ میں بھی ثابت کی گئی ہے۔ ہر ایک کے اعتراضات کا ان میں جواب ہے۔ البتہ کچھ سمجھ اور انصاف پسندی کی ضرورت ہے۔
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ نواب مرشد آباد صاحب نے ایک میم سے نکاح کر لیا تھا اور وہ مونگیر ہی میں مقیم تھے۔ ان کی میم انہیں عیسائی ہونے کو کہتی تھی۔ نواب صاحب محلہ دلاور پور کے معززین کے پاس آئے اور عیسائیوں کے رد کا رسالہ طلب کیا۔ انہیں یہی رسالہ پیغام محمدی دیا گیا۔ وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور رسالہ اپنی میم کو دیا اور اس میم نے پادری کو دیا۔ پادری نے دیکھ کر کہا کہ یہ رسالہ تو ایسا ہے کہ لاٹ پادری بھی اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ اب آپ بتائیے کہ مرزا قادیانی نے کون سی کتاب لکھی جس میں یہ خوبیاں ہوں۔ ہرگز ہرگز نہیں البتہ لن ترانیاں اور جھوٹی تعلیاں بہت کی ہیں اور جو کچھ لکھا وہ روپیہ کمانے کے لئے لکھا۔ اس کی شرح آئندہ کی جاوے گی۔
- ٦...... ساطع البرہان
اس میں قرآن مجید کا کلام الہی ہونا ثابت کیا گیا ہے اور پادری عماد الدین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔
- ٧...... براہین ساطعہ
اس میں عیسائیوں کے عقائد کو دلائل قاطعہ سے رد کیا ہے۔
١٠
- ٨...... مراسلات مذہبی
کانپور میں ایک بڑا زبردست مذہبی ( حضرت مونگیری ) نے اپنے خاص آشنا چوہدری مناظرہ اس سے قرار پایا۔ اس کے بعد چوہدری حضرت اقدس ان سے مضمون لکھواتے تھے۔ اور لکھا ہوا مضمون پادری کے پاس جاتا تھا اور پادری کا رد لکھوا کر بھیجتے تھے۔ انہیں تحریرات کا مجموعہ ہے۔ اس میں بھی اہم اعتراضات کے جوابات کا بطلان کیا گیا ہے۔ چونکہ چوہدری صاحب اس لئے آپ نے انہیں کے نام سے چھپوایا ہے نہیں تھے۔ اس لئے متعدد رسالے اپنے لکھے ہوئے
- ٩...... اسکات المعتدین بجواب امہات
شہر باندا میں ایک سخت دشمن اسلام رسالہ امہات المؤمنین لکھا تھا۔ اس میں نہایت المؤمنین پر اعتراضات کئے تھے اور حضور سرور اس نے یہ رسالہ بھیجا تھا۔ یہ وہ جوش دلانے والا ایمانی ہوتی تو خدا جانے اس کے مؤلف کی کیا جواب میں یہ دندان شکن جواب دیا ہے۔ سرسید کا جواب الجواب اس نے دیا اور ہمارے حضرت امہات کا باپ کرسٹان ہوا تھا۔ عماد الدین کی بیٹی بھی بڑے دعویٰ سے مناظرہ کے لئے آیا اور حضرت حضرت ابواحمد صاحب عم فیضہم مؤلف اسکات میں وہ بالکل عاجز ہو گیا اور تمام حاضرین جلسہ اور اس تنخواہ نے کرسٹان بنایا جو تمہیں ملتی ہے نہ تنخواہ بند ہو جائے اور کوئی مسلمان ان کا کفیل ہو
٨......مراسلات مذہبی
کانپور میں ایک بڑا زبردست مدعی اور مناظر پادری فیلڈ بیرلو آیا تھا۔ حضرت ممدوح (حضرت مونگیریؒ) نے اپنے خاص آشنا چوہدری مولا بخش مرحوم کو اس کے پاس بھیجا اور تحریری مناظرہ اس سے قرار پایا۔ اس کے بعد چوہدری صاحب روزانہ حضرت کے پاس آتے تھے اور حضرت اقدس ان سے مضمون لکھواتے تھے۔ یعنی آپ بولتے جاتے تھے اور وہ لکھتے جاتے تھے اور لکھا ہوا مضمون پادری کے پاس جاتا تھا اور پھر اس کا جواب وہ بھیجتا تھا اور پھر حضرت اقدس اس کا رد لکھوا کر بھیجتے تھے۔ انہیں تحریرات کا مجموعہ دو حصوں میں مطبع نامی کانپور میں ١٨٨٨ء میں چھپا ہے۔ اس میں بھی اہم اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں اور الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ کا بطلان کیا گیا ہے۔ چونکہ چوہدری صاحب مرحوم نے اس میں محنت کی تھی اور تعلیم یافتہ تھے۔ اس لئے آپ نے انہیں کے نام سے چھپوایا ہے۔ حضرت اقدس مرزا قادیانی کی طرح شہرت پسند نہیں تھے۔ اس لئے متعدد رسالے اپنے لکھے ہوئے دوسروں کے نام سے چھپوائے ہیں۔
٩......اسکات المعتدین بجواب امہات المؤمنین
شہر باندہ میں ایک سخت دشمن اسلام اور نہایت غیر مہذب پاجی عیسائی تھا۔ اس نے رسالہ امہات المؤمنین لکھا تھا۔ اس میں نہایت فضیحت کن طریقہ سے ازواج مطہرات امہات المؤمنین پر اعتراضات کئے تھے اور حضور سرور عالم ﷺ پر بھی اور ہندوستان کے بہت علماء کے نام اس نے یہ رسالہ بھیجا تھا۔ یہ وہ جوش دلانے والا رسالہ تھا کہ اگر مسلمانوں میں کامل قوت، قوت ایمانی ہوتی تو خدا جانے اس کے مؤلف کی کیا حالت کرتے۔ حضرت ممدوح نے اس رسالے کے جواب میں یہ دندان شکن جواب دیا ہے۔ سرسید احمد خان وغیرہ نے بھی اس کا جواب دیا تھا۔ مگر اس کا جواب الجواب اس نے دیا اور ہمارے حضرت کے رسالہ کا جواب نہیں دے سکا۔ مؤلف امہات کا باپ کرسٹان ہوا تھا۔ عمادالدین کی طرح یہ بھی عربی پڑھا تھا۔ عبد العلی اس کا نام تھا۔ یہ بھی بڑے دعوے سے مناظرہ کے لئے آیا اور چوہدری مولا بخش مرحوم کے مکان پر جلسہ عام میں حضرت ابو احمد صاحب عم فہیم مؤلف اسکات المعتدین نے اس سے مناظرہ کیا اور دو تین گھنٹہ میں وہ بالکل عاجز ہو گیا اور تمام حاضرین جلسہ نے اسے بہت کچھ نفرین کی اور یہی کہا کہ تمہیں لالچ اور اس تنخواہ نے کرسٹان بنایا جو تمہیں ملتی ہے۔ یہی حال ہمارے مخاطب کا ہے۔ اگر قادیان سے تنخواہ بند ہو جائے اور کوئی مسلمان ان کا کفیل ہو جائے تو مرزائیت پر سو لعنتیں برسائیں گے۔
١١
آسمانی فیصلہ احتساب قادیانیت حصہ اوّل
میاں عبدالرحیم ملاحظہ کیجئے۔ حامی اسلام یہ بزرگ ہیں جنہوں نے مخالفین اسلام کے مقابلہ میں اتنے رسالے لکھے اور متعدد پادریوں سے مناظرہ کر کے انہیں عاجز کیا ہے۔ ایک کا ذکر تو ابھی ہوا اور کئی پادریوں کے مناظرہ کا پہلے ذکر لکھ آیا ہوں۔ آپ کے مرزا نے صرف ایک پادری آتھم سے مناظرہ کر کے کس قدر غل مچایا ہے اور آپ بھی اسے دکھا رہے ہیں اور یہ شرم نہیں آتی کہ حامیان اسلام نے کتنے پادریوں سے مناظرہ کیا ہے اور کتنے رسائل حقانیت اسلام پر لکھے ہیں اور عیسائیوں کا رد کیا ہے اور مرزا قادیانی نے فقط ایک پادری سے مناظرہ کیا اور اس میں جھوٹی پیشین گوئی کر کے ذلیل ہوئے اور بالفرض باتیں بنا کر اسے سچا مانا جائے تو پیشین گوئی کا پورا ہو جانا رسالت ونبوت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ کسی نبی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ پنجاب میں بہت سے رمال پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور پوری بھی ہوتی ہیں۔ انہیں میں مرزا قادیانی بھی ہوئے۔ رسالہ مذکور یعنی اسکات المعتدین رسالہ تحفہ محمدیہ کے مطبع میں چھپا تھا۔ یہ رسالہ بھی حضرت ہی نے تائید اسلام کے لئے جاری کیا تھا اور طبع اس کے ذمے کر کے اس کے مہتمم مولوی محمد احسن مرحوم بہاری کو کیا تھا۔ مرزا نے یا کسی مرزائی نے تو اس کا جواب نہیں دیا۔ ایک اور بات یاد آئی۔ غالباً ١٢٩١ یا ١٢٩٠ھ میں راجہ کشمیر کے وزیر کرپا رام اور اس کے بیٹے اننت رام کے مضامین خلاف اسلام اخبار کوہ نور لاہور میں چھپا کرتے تھے اور حضرت ممدوح ان کا جواب دیتے تھے۔ آخر میں کرپا رام کا رسالہ تناسخ کے ثبوت میں شائع ہوا۔ جس میں سولہ دلیلیں اس نے تناسخ کے ثبوت میں لکھی تھیں۔ حضرت نے اس کا کامل جواب لکھ کر اخبار پنجابی لاہور میں شائع کرایا۔ وہ پورا ایک ہی مرتبہ صاحب اخبار نے چھاپ دیا تھا۔ اس کا جواب بھی کسی نے نہیں دیا۔ مرزا نے کیا کیا؟ بجز اس کے کہ دو رسالے لکھ کر بہت کچھ روپیہ کمایا اور بہت رسالے اپنی تعریف اور علمائے امت کی برائی میں لکھ کر شائع کئے۔ میاں عبدالرحیم صاحب اب بھی آپ کو اپنی جھوٹی قسم پر شرم نہ آئے گی۔ مگر جب آپ کے نبی بیشمار جھوٹ بول چکے ہیں اور آپ کے نزدیک خدا اور رسول کا جھوٹ بولنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے تو آپ کو جھوٹ بولنے میں کیا شرم آئے گی۔ بلکہ اپنے مرشد کی سنت سمجھ کر بہت دلیری سے جھوٹ بولیں گے۔ مگر یہ تو فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے کن پادریوں کو جواب دیا ہے اور کن رسالوں کا جواب لکھا ہے۔ براہین احمدیہ کے حصہ اوّل میں روپیہ کمانے اور اپنے آپ کو مشہور کرنے کے لئے اسلام کی حقانیت پر ایک دلیل نہ لکھی اور بڑے زور وشور سے خوب موٹے موٹے حرفوں میں کئی جز کا اشتہار دیا۔ جس کے ہر صفحہ میں چار سطریں اور ہر سطر میں چار لفظ تھے۔ اس میں لکھا کہ میں حقانیت اسلام پر ایک دلیل لکھتا ہوں۔ اسی طرح کی تین سو دلیلیں لکھ کر شائع کروں گا۔ اس کی پیشگی قیمت مجھے دو پہلے اس کی قیمت کم رکھی تھی۔ مگر جب لوگوں کی توجہ دیکھی اور روپیہ آنا شروع
١٢
آسمانی فیصلہ
ہوا تو قیمت بڑھاتے گئے۔ غالباً ہندوستان میں اشتہارات کا سلسلہ شائع نہیں ہوئے تھے۔ جیسا اپنے محمد حسین بٹالوی جو اس وقت مرزا ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس ذریعہ دلیلیں بھی نہ لکھیں اور جب تقاضہ ہے اور ہم سے یہ لوگ اس قدر روپیہ روپیہ دینے والوں نے روپیہ مانگا مشیت الٰہی تھی اس قدر لکھا گیا اور سکتا۔ اب کس قدر افسوس اور حیرت فریب دے اور ان کا روپیہ لے کر جائے اور جس بزرگ نے حمایت عاجز کیا ہو جس کی تائیدی مضامین اور انہوں نے کسی وقت کسی بہانہ ” مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ اور ایک بہت بڑے دنیا طلب کو رس وہ تائید اسلام اور تجدید دین متین فریب سے آپ نے امت محمدیہ حفاظت اور امت محمدیہ کی نہایت مسیحیوں کی سخت گمراہی سے آپ کذب میں آپ نے لکھے اور بعض بطور مثال بعض رسالوں کے نام لکھتے
مسیح قادیان کی
- ١...... فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)
١٦ صفحوں کا یہ رسالہ جھوٹی ثابت کر کے دکھایا ہے اور ان
ہوا تو قیمت بڑھاتے گئے۔ غالباً آخر میں اس کی قیمت پچیس روپیہ رکھی تھی۔ کیونکہ اس وقت ہندوستان میں اشتہارات کا سلسلہ اس قدر نہیں ہوا تھا۔ جیسا اب ہے اور جھوٹے اشتہارات ایسے شائع نہیں ہوئے تھے۔ جیسا اب تجربہ ہورہا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں نے بہت روپیہ بھیجا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی جو اس وقت مرزا قادیانی کے بڑے دوست تھے۔ اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس ذریعہ سے دس ہزار روپیہ کمایا۔ پھر آخر عمر تک تین سو دلیلوں کی جگہ تین دلیلیں بھی نہ لکھیں اور جب تقاضہ کیا تو سختی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ قرآن مجید تو تئیس برس میں اترا ہے اور ہم سے یہ لوگ اس قدر جلد دلائل لکھنے کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ جب زیادہ مدت گزر گئی اور روپیہ دینے والوں نے روپیہ مانگا تو روپیہ کے عوض انہیں گالیاں دیں اور یہ کہہ دیا کہ جس قدر مشیت الٰہی تھی اس قدر لکھا گیا اور جھوٹی باتیں بنا دیں۔ کوئی سچا ہمدرد اسلام ایسا فریب نہیں دے سکتا۔ اب کس قدر افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ جو شخص ایسے علانیہ جھوٹ بولے اور مسلمانوں کو فریب دے اور ان کا روپیہ لے کر ہضم کر جائے۔ اسے تو مجدد اور مسیح۔ یہاں تک کہ خدا کا رسول مانا جائے اور جس بزرگ نے حمایت اسلام میں اپنی عمر صرف کی ہو اور مخالفین اسلام کو تقریراً اور تحریراً عاجز کیا ہو جس کی تائیدی مضامین متعدد رسالوں میں متعدد اخباروں میں شائع ہو چکے ہوں اور انہوں نے کسی وقت کسی بہانہ سے اپنی تعریف نہ کی ہو اور روپیہ کی طلب میں اشتہار نہ دیا ہو اور ”من یتوکل علیٰ اللہ فھو حسبہ“ پر عمل کرتے رہے ہوں۔ ان پر اعتراض کئے جائیں اور ایک بہت بڑے دنیا طلب کو رسول و نبی مانا جائے۔ افسوس! یہاں تک کہ جو کچھ میں نے ذکر کیا وہ تائید اسلام اور تجدید دین متین حضرت ممدوح کی ابتدائی صدی میں تھی اور قدیم مسیحیوں کے فریب سے آپ نے امت محمدیہ کو بچایا تھا اور صدی کی تہائی پر ان کی ذات مبارک سے اسلام کی حفاظت اور امت محمدیہ کی نہایت عظیم الشان خیر خواہی یہ ہوئی کہ اس وقت کے مسیح کاذب اور جدید مسیحیوں کی سخت گمراہی سے آپ کے رسالوں نے بہت دنیا کو محفوظ رکھا۔ جو رسالے مسیح جدید کے کذب میں آپ نے لکھے اور بعض اہل علموں سے لکھوائے۔ ان کی تعداد پچاس سے زیادہ ہوگی۔ بطور مثال بعض رسالوں کے نام لکھتا ہوں۔
مسیح قادیانی کی کذابی کے بیان میں بعض رسائل
- ١...... فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)
١٦ صفحوں کا یہ رسالہ ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی نہایت ہی عظیم الشان پیشین گوئی کو جھوٹی ثابت کر کے دکھایا ہے اور ان کی صداقت کے نشان کو خاک میں ملایا ہے اور توریت مقدس ١٣
کے صریح بیان اور قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا ہے اور جس قدر بیہودہ اور لچر جواب خود انہوں نے اور ان کے خلیفہ وغیرہ نے دیئے تھے۔ ان سب کو محض غلط ثابت کر کے ان کا یقینی جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔
- ٢...... فیصلہ آسمانی (حصہ دوم)
اس میں احمد بیگ کے داماد والی پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا اور حضرت سرور عالم ﷺ کی حدیبیہ والی پیشین گوئی کا ہر طرح سچا ہونا ثابت کر کے مرزا قادیانی کا جھوٹا اور گستاخ و بے ادب ہونا دکھایا ہے اور قطع وتین کی نہایت عمدہ بحث کر کے مرزا قادیانی کی عظیم الشان دلیل کو فریب اور جہالت کا نمونہ دکھایا ہے۔
- ٣...... دلائل حقانی
یہ گیارہ جز کا رسالہ ہے۔ اس میں نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے وعدہ اور وعید الہی کے پورا ہونے پر بینظیر تحریر کی ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کے علاوہ در پردہ مخالف اسلام اور دہریہ ثابت کیا ہے۔ نہایت قابل دید ہے۔
- ٤...... حقیقت رسائل اعجازیہ
جس میں رسالہ اعجاز المسیح و اعجاز احمدی کی حالت کو دکھا کر پندرہ دلیلوں سے مرزا قادیانی کے دعوٰی کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔
- ٥...... آئینہ کمالات مرزا
جس میں مرزا قادیانی کے جھوٹ وفریب اور انبیاء کی توہین دکھائی ہے۔
- ٦...... چشمہ ہدایت
جس میں مسیح قادیان پر ١٩ ڈگریاں اقراری ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی اپنے اقراروں سے جھوٹے ملعون، مردود اور ہر بد سے بدتر ثابت ہوئے۔
- ٧...... دوسری شہادت آسمانی
جس میں مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کو خاک میں ملایا ہے اور مرزا قادیانی کی کذابی کو دکھایا ہے۔ رمضان میں چاند وسورج گرہن کے اجتماع کی حقیقت کو کھولا ہے اور مرزا قادیانی کی جہالت اور کذب و فریب کو خوب دکھایا ہے۔
١٤
- ٨...... رسالہ عبرت خیز
جس میں بعض مدعیان کاذب ناکامی کے عبرت خیز واقعات ہیں۔ جس مرزا قادیانی ذلیل ہوئے۔ یہ رسالہ نہایت رسالہ حفاظت ایمان میں ٩٠ و ثبوت میں لکھے گئے ہیں۔ میاں عبدالرحیم مسیح مرزائی کی بیخ کنی کر کے ان کا خاکہ ا انبیاء علیہم السلام والثناء کی عظمت وشان کو ہیں اور حضور سرور عالم ﷺ کی چالیس کرو ہیں۔ یہ بھی لکھنا ضرور ہے کہ رسائل مذکور کہ توجہ کے لائق نہیں ہیں۔ ایسی جھوٹ وفر
رسائل حقانی کی نسبت چیلنج
میاں عبدالرحیم یہ وہ رسالے طرح روشن ہو گیا۔ کس کس خوبی سے اور ہونا نہایت ظاہر کر کے دکھایا ہے۔ کیا و مرزا قادیانی کی کذابی کے ثبوت میں وا کے نصوص قطعیہ نے انہیں جھوٹا اور مفتری اور دجال کا لقب دیتا ہے۔ ان کے اقوال سے جھوٹے اور ہر ایک بد سے بدتر قرار ٹھہراتا ہے۔ ہم اس کے ثابت کرنے کے
چیلنج
ہم عام جلسہ کریں گے اور جہ پیش کریں گے اور اس کے مضامین سنا سے لیں گے کہ اس رسالہ سے مسیح قادی ثابت ہو گیا یا نہیں اور حضرات قادیانی کو کے اس کا جواب طلب کریں گے۔ مگر
- ٨......رسالہ عبرت خیز
جس میں بعض مدعیان کاذب کی فایز المرامی اور بعض انبیاء علیہم السلام کی دنیاوی ناکامی کے عبرت خیز واقعات ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کی عظیم الشان دلیل بیکار ہوگئی اور مرزا قادیانی ذلیل ہوئے۔ یہ رسالہ نہایت قابل دید ہے۔
رسالہ حفاظت ایمان میں ٩٠ رسالوں کا نام لکھا ہے جو آپ کے مرشد کی کذابی کے ثبوت میں لکھے گئے ہیں۔ میاں عبدالرحیم خوب یاد رکھئے کہ حضرت اقدس نے قدیم مسیحی اور جدید مسیحی مرزائی کی بیخ کنی کر کے ان کا خاکہ اڑا دیا ہے اور امت محمدیہ کا خیر الامم ہونا اور حضرت سرور انبیاء علیہم السلام والثناء کی عظمت و شان کو قائم رکھا ہے۔ جسے مرزا قادیانی اور مرزائیان مٹا رہے ہیں اور حضور سرور عالم ﷺ کی چالیس کروڑ امت کو جہنمی بنا کر سرور امت کی عظمت کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی لکھنا ضرور ہے کہ رسائل مذکورہ کی نسبت عوام کے فریب دینے کی غرض سے لکھ دیا ہے کہ توجہ کے لائق نہیں ہیں۔ ایسی جھوٹ وفریب سے اپنے دام گرفتوں کو سنبھال رہے ہو۔
رسائل حقانی کی نسبت چیلنج
میاں عبدالرحیم یہ وہ رسالے ہیں جن سے مرزا قادیانی کا جھوٹ اور فریب آفتاب کی طرح روشن ہوگیا۔ کس کس خوبی سے اور کیسے کیسے طریقوں سے مرزا قادیانی کا دجال اور مفتری ہونا نہایت ظاہر کر کے دکھایا ہے۔ کیا دیکھنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ صرف رسالہ فیصلہ آسمانی مرزا قادیانی کی کذابی کے ثبوت میں واقعی آسمانی فیصلہ ہے۔ اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ کلام الہی کے نصوص قطعیہ نے انہیں جھوٹا اور مفتری ثابت کر دیا۔ کلام رسول اللہ ﷺ انہیں جھوٹا فرماتا ہے اور دجال کا لقب دیتا ہے۔ ان کے اقوال ان کی کذابی کے شاہد ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے اور ہر ایک بد سے بدتر قرار پاتے ہیں۔ ان کا بیان بازاری شہدوں کی طرح انہیں جھوٹا ٹھہراتا ہے۔ ہم اس کے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔
چیلنج
ہم عام جلسہ کریں گے اور ہر مذہب کے تعلیم یافتہ حضرات کو جمع کر کے ہر ایک رسالہ پیش کریں گے اور اس کے مضامین سنائیں گے اور رسالوں کو دکھائیں گے اور پھر قطعی فیصلہ ان سے لیں گے کہ اس رسالہ سے مسیح قادیان مرزا غلام احمد کا کذاب اور مفتری ہونا کافی طور سے ثابت ہوگیا یا نہیں اور حضرات قادیانی کو بھی بلائیں گے اور ان کی کذابی کی ہر ایک دلیل کو پیش کر کے اس کا جواب طلب کریں گے۔ مگر ہم یقینی اور قطعی طور سے کہتے ہیں کہ یہاں سے لے کر
١٥
قادیان تک کوئی جواب نہیں دے سکتا اور نہ تا قیامت کوئی دے سکے گا۔ اس وقت ہم ہر ایک دلیل کے جواب کے لئے انعام بھی مقرر کریں گے اور بہ آواز بلند کہیں گے کہ ہمارا یہ اعتراض ہے۔ اس کا جواب دو۔ یہ اعتراض اسی رسالہ میں ہے جسے تم بے حقیقت اور کمزور کہتے ہو۔ اس وقت اظہر من الشمس ہو جائے گا کہ وہ ہدایت نما رسالہ بے حقیقت و کمزور ہے یا تم اس کے جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم کیا اگر قادیان کے تمام سرگروہ زور لگائیں اور کسی طرح مرزا قادیانی کو قبر سے اٹھا لائیں تو بھی جواب نہیں دے سکیں گے۔ ہر گز نہیں دے سکیں گے۔ خوب یاد رہے۔
آپ کا دوسرا اعتراض جو ایک جاہل بندۂ درہم و دینار کا نکالا ہوا ہے۔ اس کا جواب دو رسالوں میں چھپ چکا ہے۔ ایک کا نام تعبیر رویائی حقانی ہے۔ یہ رسالہ بہتر (٧٢) صفحوں کا ہے۔ ١٣٣٤ھ میں چھپا ہے۔ اس میں نہایت تحقیق و تہذیب سے اس بندۂ درہم و دینار کے اعتراضات کا جواب دیا ہے اور نہایت روشن کر کے دکھا دیا ہے کہ جس خواب پر یہ شیطانی گروہ اعتراض کرتا ہے اور شیطانی اثر بتاتا ہے۔ اگر یہ سچ ہو تو جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر بلکہ صوفیائے کرام پر بھی وہی اعتراض ہوگا۔ جو حضرت اقدس پر یہ شیطانی گروہ کرتا ہے۔ اس رسالہ کو اچھی طرح دیکھو اگر آنکھیں ہیں۔ دوسرے رسالہ کا نام آئینہ صداقت ہے۔ یہ رسالہ سوا تین جز کا ہے اور اس وقت کلکتہ میں شائع ہو رہا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ کیجئے۔ میں یہاں چار قول بہت بڑے اولیاء اللہ کے نقل کرتا ہوں۔ حضرت مخدوم الملک قطب الاقطاب وقت مولانا شرف الدین بہاری قدس سرہ اپنی کتاب ارشاد السالکین میں تحریر فرماتے ہیں۔ تا سالک سر بر دار خود را نہ برد مسلمان نشود و تا بمادر خود جفت نشود مسلمان نشود۔ یعنی مسلمان کامل نشود و مرتبہ ولایت نیابد۔ اس قول کی شرح حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے اپنے مکتوبات کے جلد سوم میں کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شیخ المشائخ حضرت شرف الدین یحییٰ منیریؒ نے ولایت کے ایک درجہ کا بیان کیا ہے۔ مگر چونکہ قادیانی گروہ کو اللہ اور رسول سے اور اولیاء اللہ سے واسطہ نہیں ہے۔ بلکہ دلی عداوت ہے۔ اگرچہ ظاہر نہ کریں۔ اس لئے آپ بھی عام صوفیائے کرام کی سخت برائی بیان کرتے ہیں اور عداوت و تاریکی قلب کی وجہ سے ان کی خوبیوں کو بڑا عیب سمجھتے ہیں۔
سچا مقولہ ہے۔ اب یہ بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ بزرگوں کے خواب میں جفت مادر ہونے کو کون شخص برا سمجھتا ہے۔ اسے بھی بزرگوں نے بیان فرمایا ہے۔ حضرت مولانا یعقوب چرخیؒ جو ا کابر اولیاء اللہ میں ہیں۔ اپنے رسالہ انسیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔
١٦
از انم گبر میخوانند کز مادر زنا کردم
یعنی بزرگوں کے جفت مادر پر اعتراض کرنے والے گبر ہیں۔ کوئی مسلمان اس پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ یہی شعر حضرت سید جہانگیر اشرف سمنانیؒ مکتوب ٧٨ میں اسرار اولیاء اللہ میں بعینہ بیان کر کے فرماتے ہیں۔ این شعر نیز منسوب بحضرت مولوی قدس سرہ است و از اشعار نا درہ ایشان است۔ (لطیفہ شانز دہم لطائف اشرفی مطبوعہ نصرۃ المطابع دہلی ملاحظہ ہو)
ان دونوں اولیاء اللہ کے کلام سے بلکہ تین بزرگوں کے بیان سے ثابت ہوا کہ جفت مادر سے اشارہ خاص مقام ولایت کی طرف ہے۔ اس پر کوئی مسلمان اعتراض نہیں کرسکتا۔ البتہ جس کو اسلام سے واسطہ نہیں ہے۔ یعنی گبر، بت پرست ہے۔ وہ ایسا اعتراض کرے گا۔ جیسا کہ قادیانی حضرات کرتے ہیں۔ اس بیان سے پانچ اولیاء اللہ کی شہادت اس پر معلوم ہوئی کہ مادر سے جفت ہونا مرتبہ ولایت کو پہنچنا ہے اور دو شہادتیں یعنی قطب زمان حضرت مولانا فضل رحمانؒ اور حضرت ہادی اعظم شاہ محمد آفاق علیہما الرحمۃ کے ارشاد رحمانی میں لکھی ہیں۔ ان کے سوا اور بھی شہادتیں ہیں۔ رسالہ کامل التعبیر میں دیکھا جائے۔ غرضیکہ حضرت اقدس کے خواب کی عمدگی اور ان کا مرتبہ ولایت پر پہنچنے کی شہادت بہت بزرگوں نے دی ہے۔ اب گبر یا مسخ دہریہ انہیں کچھ بیہودہ کہے تو ایسا ہی ہے۔ جیسے پادری اور آریہ حضرت سرور انبیا ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں۔ اب اعتراض کرنے والے کوئی ذلیل ہوں یا رجیم ہوں یہ تو فرمائیے کہ اولیاء اللہ کی باتیں آپ کی سمجھ میں نہ آئیں اور مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) میں فرماتے ہیں کہ میں مرد سے عورت ہوا۔ یعنی مریم بن گیا اور دس مہینہ حاملہ رہا اور پھر مجھ سے داڑھی مونچھ والا عیسیٰ پیدا ہوا اور پھر سنت اللہ کے خلاف بچہ پیدا ہوا۔ اب یہ تو کہئے کہ وہ مرد سے عورت کیسے ہو گئے اور پھر کس مرد نے ان سے صحبت کی اور کتنے روز تک مرزا قادیانی اس کے ساتھ ہم بستر رہے اور حمل کی حالت میں کتنا بڑا پیٹ ہو گیا تھا۔ جس سے ایک بڑا آدمی پیٹ سے نکلا۔ اس پر کوئی اعتراض آپ کے خیال میں نہیں آتا۔ افسوس دوسرا جواب ملاحظہ کیجئے ان علانیہ شہادتوں کے علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جن بزرگ پر آپ اپنی شقاوت قلبی اور عداوت دلی سے ایک بیہودہ اعتراض کر کے مرزا قادیانی کے کذب پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہیں کوئی رسالت یا نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ وہ یہ تو نہیں کہتے کہ مجھ پر ایمان لاؤ۔ ورنہ جہنمی ہو گے۔ پھر ان پر اعتراض کیسا، تم انہیں بزرگ نہ مانو اور کسی کذاب کے فریب میں مبتلا رہو مگر اپنے مرزا کی تو خبر لو کہ اس کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ اس کی کذابی کو چمکا ١٧
کر مثل آفتاب دنیا کو دکھا دیا۔ ذرا اس قدرت خدا کو ملاحظہ کیجئے کہ جسے انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ ہو۔ ”انت بمنزلۃ ولدی“
(حقیقت الوحی ص ٨٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
جس کا الہام ہو۔ جو یہ کہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خدائی اختیارات مجھے دیئے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) اور کن فیکون کا مجھے الہام ہوا ہے۔ ایسا مدعی اپنے غریب کنبے والوں سے لڑکی طلب کرے اور اپنے نکاح میں لانے کے لئے ملتجی ہو اور اقسام کی ترغیبیں انہیں دے اور انکار پر طرح طرح کے خوف سے انہیں ڈرائے اور برسوں بار بار الہام اتار کر سنائے اور دھمکائے اور کہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ یہ لڑکی ہر طرح تیرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) اور اٹھارہ بیس برس تک یہی کہتے رہے اور اس کو اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان بناتے رہے۔ مگر ان کی معشوقہ جس کا نام محمدی ہے ان کے آغوش میں نہ آئی اور دنیا سے ترستے ہوئے آغوش لحد میں چلے گئے اور ان کے خدائی اختیارات کچھ کام نہ آئے اور ان کے قرب و فضیلت کے الہامات ان کی کذابی اور افتراء پردازی کے نشانات ثابت ہوئے۔ خفا نہ ہو جیئے گا۔ واقعی بات کہتا ہوں۔ خیال کیجئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی عظمت و شان میں کس قدر الہامات اتارے اور خاص منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کے متعلق برسوں بہت کچھ الہامات انہیں ہوئے۔ مگر سب کا نتیجہ یہی ہوا جو میں نے بیان کیا۔ جس معزز مرزائی کو حوصلہ ہو اس بات پر مناظرہ کرے۔ اسی معشوقہ کے ذکر میں بہت باتیں مرزا قادیانی نے بیان کی ہیں۔ جنہیں ہر ایک مسلمان معلوم کر کے یہی کہے گا کہ مرزا قادیانی باوجود دعویٰ نبوت کے بہت بڑے بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جو خیالی زنا سے ہزار گنا زیادہ ہیں۔ بطور نمونہ چند باتیں پیش کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں آپ کے مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”پیشین گوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔“ میں دریافت کرتا ہوں کہ آپ کے نزدیک مرزا قادیانی کا یہ کہنا سچ ہے؟ کیا یہ بات دنیا پر اور بالخصوص اہل پنجاب پر پوشیدہ ہے کہ دنیا میں اور بالخصوص پنجاب میں رمل جاننے والے بہت ہیں اور وہ جابجا جا کر پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور بالخصوص عوام ان سے شادی بیاہ وغیرہ کی نسبت دریافت کرتے ہیں اور وہ خبریں دیتے ہیں اور بہت خبریں صحیح بھی ہوتی ہیں۔ اکثر اخباروں میں پیشین گوئیاں مشتہر ہوتی ہیں۔ کیا اس کا علم مرزا قادیانی کو نہیں تھا۔ ضرور تھا۔ مرزا قادیانی ایسے نادان نہ تھے کہ دنیا کی مشہور باتوں سے ١٨
ناواقف ہوں۔ پھر علانیہ واقعات خاص غرض سے ہے۔ صرف جھوٹ کا معیار اپنی پیشین گوئیوں کا پورا ہو اس لئے ایک معمولی با دیتے ہیں۔ اس کے سوا اس کذب معلوم ہو گا کہ ان کے اوّل خلیفہ ح چنانچہ اس طرف بھی ان کے شاگر ہیں۔ اگر کچھ پڑھا ہے تو آپ دریافت کیا کہ حضرت مسلمان چ زنا کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں فرمایا کہ نہیں اب دیکھ لیا جائے کہ بات یہ کہ مقامِ مذکور پر منکوحہ آس مطلب تو ظاہر الفاظ سے یہی غریب عزیز داروں کی تھی اور مرزا پہلو میں آ جاتی تو ان کا بہت ہی ہوتا۔ یہ مانا کہ وہ لوگ مخالف تھے کے پاس آیا تھا۔ اگر وہ نکاح کر نشان سے بھی بہت اعلیٰ واشرف ہمارے خیال میں تو یہی وجہ معلوم ہونے کے اس کی عظمت اور اس اس سے ہم آغوش ہونے کو بہت عاشق کو اپنے معشوق سے ملنے یاس نہیں ہوئی۔ اس کے نکاح شوہر مرے گا اور ہماری معشوقہ کے ضمیمہ میں مختلف اوقات میں
سے بعض انبیاء سے افضل ہونے کا وحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) خدائی اختیارات مجھے دیئے الہام ہوا ہے۔ ایسا مدعی اپنے نے کے لئے ملتجی ہو اور اقسام کی آئے اور برسوں بار بار الہام اتار لڑکی ہر طرح تیرے نکاح میں ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) اور نہایت عظیم الشان نشان بناتے نہ آئی اور دنیا سے ترستے ہوئے آئے اور ان کے قرب و فضیلت ہوئے۔ خفا نہ ہوجیئے گا۔ واقعی میں کس قدر الہامات اتارے اور الہامات انہیں ہوئے۔ مگر سب کا اس بات پر مناظرہ کرے۔ اسی جس میں ہر ایک مسلمان معلوم کر کے کیسے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جو نہیں۔ ایک یہ کہ (شہادت القرآن پیشن گوئی ایسی بات نہیں جو دریافت کرتا ہوں کہ آپ کے اہل پنجاب پر پوشیدہ ہے کہ دنیا بچا کر پیشین گوئیاں کرتے ہیں ہیں اور وہ خبریں دیتے ہیں اور مشتہر ہوتی ہیں۔ کیا اس کا علم ہے کہ دنیا کی مشہور باتوں سے
قادیانی مذہب مرزا قادیانی کا آسمانی نکاح
ناواقف ہوں۔ پھر علانیہ واقعات کے خلاف یہ کہنا کہ پیشین گوئی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی خاص غرض سے ہے۔ صرف جھوٹ ہی نہیں بلکہ علانیہ فریب ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی اپنی صداقت کا معیار اپنی پیشین گوئیوں کا پورا ہونا بیان کر چکے ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام)
اس لئے ایک معمولی بات کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ناواقفوں کو فریب دیتے ہیں۔ اس کے سوا اس کذب بیانی کی وجہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ اسے بیان کیجئے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے اوّل خلیفہ شعبدہ مسمریزم کے استاد تھے۔ دس روپیہ فی سبق تعلیم کا لیتے تھے۔ چنانچہ اس طرف بھی ان کے شاگرد موجود ہیں۔ مسمریزم کے جاننے والے بھی پیشین گوئی کرتے ہیں۔ اگر کچھ پڑھا ہے تو آپ نے یہ حدیث دیکھی ہوگی کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضرت مسلمان چوری کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر دریافت کیا کہ مسلمان زنا کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ آخر میں دریافت کیا کہ مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں اب دیکھ لیا جائے کہ صرف جھوٹ کتنا بڑا گناہ ہے کہ مسلمان اسے نہیں کر سکتا۔ دوسری بات یہ کہ مقام مذکور پر منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کو بہت ہی عظیم الشان نشان کہتے ہیں۔ اسکا مطلب تو ظاہر الفاظ سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اگر وہ حسینہ خوبصورت لڑکی جو مرزا قادیانی کے غریب عزیز داروں کی تھی اور مرزا قادیانی نے اس سے نکاح کا پیام دیا تھا۔ وہ اگر مرزا قادیانی کے پہلو میں آجاتی تو ان کا بہت ہی عظیم الشان نشان ہوتا۔ مگر یہ فرمائیے کہ اس میں عظیم الشان نشان کیا ہوتا۔ یہ مانا کہ وہ لوگ مخالف تھے۔ مگر غریب تھے۔ لڑکی کا باپ ایک سخت حاجت لے کر مرزا قادیانی کے پاس آیا تھا۔ اگر وہ نکاح کر دیتا تو اس میں نشان و معجزہ کیا ہوتا۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ عظیم الشان نشان سے بھی بہت اعلیٰ و اشرف بہت ہی عظیم الشان نشان اسے فرماتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔
ہمارے خیال میں تو یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اس لڑکی پر مرزا قادیانی عاشق تھے۔ بسبب کمال محبوب ہونے کے اس کی عظمت اور اس کی ملنے کی مسرت مرزا قادیانی کے قلب میں بہت کچھ تھی۔ اس لئے اس سے ہم آغوش ہونے کو بہت ہی عظیم الشان بات سمجھتے تھے اور غلبہ عشق کی یہ کامل نشانی ہے کہ عاشق کو اپنے معشوق سے ملنے سے کبھی مایوسی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی کو مرتے دم تک یاس نہیں ہوئی۔ اس کے نکاح ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کا نہایت پختہ خیال یہی رہا کہ اس کا شوہر مرے گا اور ہماری معشوقہ ہمارے آغوش میں ضرور آئے گی۔ ازالۃ الاوہام، انجام آتھم اور اس کے ضمیمہ میں مختلف اوقات میں مختلف طور سے اس کے نکاح میں آنے اور اس کے شوہر کے مرنے
١٩
کے الہام اتارے اور اپنا یقین ظاہر کیا ہے۔ اس کے سوا آپ کوئی وجہ بیان کریں۔ جس سے آپ کے نبی کا معجزہ ظاہر ہو۔ عظیم الشان نہ سہی معمولی معجزہ سہی۔ مگر میرے خیال میں اس قول کی عظمت کی وجہ یہ ہے کہ آپ معلوم کر کے پھڑک جائیں گے۔ یہ واقعہ مرزا قادیانی کی کذابی کا بہت ہی عظیم الشان نشان ہوا کہ نہایت معمولی بات جس کے لئے مرزا قادیانی تمام عمر ترستے رہے۔ مگر اس کا ظہور نہ ہوا اور مرزا قادیانی کے فریب سے بہت مخلوق خدا محفوظ رہی۔ کہئے کیسی باریک بات میں نے نکالی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی معشوقہ کو منکوحہ آسمانی کیوں کہتے ہیں۔ دنیا میں تو کسی وقت نکاح میں نہیں آئی۔ کیا مرزا قادیانی آسمان پر گئے تھے اور اسی ذات نے نکاح پڑھایا تھا۔ جس نے بقول مرزا سرخ روشنائی کا چھینٹا مرزا قادیانی پر ڈالا تھا۔ یہ فرمائیے کہ یہ آسمانی نکاح کس وقت ہوا۔ اس کے دنیاوی نکاح سے پہلے یا بعد اگر پہلے ہوا تھا تو وہ مرزا قادیانی کی بیوی ہو چکی تھیں۔ جس طرح حضرت زینب جناب رسول اللہ ﷺ کی بیوی تھیں۔ اب تو ان پر فرض تھا کہ اس کا نکاح ہونے نہ دیتے اور فریاد کر کے اپنی بیوی کو لیتے۔ مگر مرزا قادیانی تو کچھ نہیں کہا اور اپنی بیوی کو دوسرے کے پاس چھوڑ دیا اور مرزا قادیانی دیوث ہوئے اور اگر اس کے نکاح کے بعد یہ آسمانی نکاح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے کی بیوی سے نکاح پڑھا دیا۔ کیا اسے اس کا علم نہ تھا کہ یہ منکوحہ آخر عمر تک اپنے اسی شوہر کے نکاح میں رہے گی اور کسی وقت بیوہ نہ ہوگی۔ اس کا شوہر مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرے گا۔ اگر علم نہ تھا تو مرزا قادیانی کا خدا عالم الغیب نہیں ہے اور اگر عالم الغیب تھا تو کیوں۔ ایسی حماقت ظاہر کی کہ دوسرے کی بیوی سے نکاح پڑھایا اور اس کا نتیجہ بجز اس کے کہ اس کے نبی کی ذلت اور رسوائی ہو اور کچھ نہ ہوا۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ اوّل میں ملاحظہ کر کے کچھ تو شرمائیے۔ مگر آپ یہ فرمائیں گے کہ شرم وحیا چہ کتی ست کہ پیش مرزائیان بیاید۔ یہ تو آپ کو اختیار ہے۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ایسے شخص کو آپ کا دل بزرگ تو ہرگز نہ سمجھتا ہوگا اور نبوت رسالت تو بہت بڑی بات ہے۔ مگر اس دروغ بانی اور تبلیغ کذبی میں تر لقمہ ملتا ہے۔ اگر چھوڑ دیں تو کوئی مسلمان تو توجہ نہ کرے گا۔ پھر پیٹ کیسے بھرے گا۔ یہ خیال آپ کا صحیح ہے۔ اس پر ہم بھی صاد کرتے ہیں۔ آپ یہ شعر بھی کبھی پڑھ لیتے ہوں گے۔
عاقبت کی خبر خدا جانے
ابوالمحاسن محمد ارشد!
٢٠
خَاتَمُ النَّبِيّٖينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
کشف التلبیس
جناب حافظ محمد اسحاق قریشی
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد خاتم النبیین وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین!
جہلم کی مرزائی پارٹی نے ایک ٹریکٹ سیکرٹری اصلاح وارشاد جماعت مرزائیہ کی طرف سے ختم نبوت اور بعض دیگر مسائل کے بارے میں ”ہمارا نقطہ نظر“ کے نام سے ستمبر ١٩٦٦ء کے مہینہ میں شائع کیا تھا۔ جس میں نہ صرف یہ کہ عالم حقانی حضرت مولانا عبداللطیف صاحب فاضل دیوبند خطیب جامع مسجد گنبد والی زید مجدہم کے خلاف کیچڑ اچھالا گیا ہے۔ بلکہ تمام ان مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور پھر قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہونے کے معتقد ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ ٹریکٹ مذکور ص٦ پر مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ: ”ایک اور بات جو بڑے تکرار سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ اصول ہمارے نزدیک بالکل درست اور صحیح ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ صحیح سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے معتقد اور ان کا انتظار کرنے والے ختم نبوت کے منکر اور اپنے مسلمہ عقیدہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ یہ پرفریب عبارت تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی اشتعال انگیز تھی اور حضرت مولانا عبداللطیف صاحب موصوف کے متعلق ٹریکٹ مذکور ص ١ کے یہ الفاظ بھی کچھ کم فتنہ انگیز نہیں تھے کہ:
”چند دنوں سے گنبد والی مسجد کے خطیب مسلسل جماعت احمدیہ کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ اور اشتعال انگیزی میں مصروف ہیں۔ ہم ان کی اشتعال انگیزی کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد۔ البتہ خطیب صاحب مذکور کے اعتراضات والزامات کی حقیقت اس غرض سے بیان کی جاتی ہے کہ عوام الناس کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائیں۔“
علاوہ اشتعال انگیزی کے مرزائی سیکرٹری نے حضرت مولانا موصوف کی تقاریر کو بہانہ بنا کر از خود بعض مابہ النزاع مسائل کو چھیڑا ہے۔ اس لئے اس کا جواب دینا ضروری تھا۔ تا کہ عامتہ المسلمین مرزائیت کے دجل وفریب سے بچ جائیں۔ لیکن ان دنوں میں چونکہ مرزائیوں ہی کی مفسدانہ حرکات کی وجہ سے ضلع جہلم کے حالات تشویش ناک تھے۔
٢
چکوال میں بھی انہوں نے لاؤڈ سپیکر پر اشتعال انگیز تقاریر کی تھیں اور اشتہار میں ایک تقریر کا موضوع ”وفات مسیح“ مقرر کر کے اہل اسلام کے قلوب کو مجروح کیا تھا اور جہلم میں ان کی دیگر شرانگیز کاروائیوں کے علاوہ گورنمنٹ ہائی سکول کے ایک مرزائی ٹیچر فضل داد نے ایک نابالغ لڑکے نعیم احمد متعلم کلاس نہم کو ڈنڈے مار مار کر اس کے بازو کی ہڈی اس بناء پر توڑ دی تھی کہ اس نے بلیک بورڈ پر ”ختم نبوت زندہ باد“ کے الفاظ لکھے تھے۔ چنانچہ مرزائی مذکور نے اس بات کو تحریری طور پر تسلیم بھی کر لیا تھا کہ نعیم احمد کو اس نے اسی وجہ سے سزا دی ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ باوجود مسلمانوں کے احتجاجات اور قراردادوں کے محکمہ تعلیم کی طرف سے اس ٹیچر کو بالکل معاف کر دیا گیا ہے۔ بہر حال ایسے مکدر حالات میں ہم نے اس مرزائی ٹریکٹ کا جواب شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نمبر وار مرزائی سوالات کی عبارت درج کر کے اس کا مدلل جواب دیں گے۔ قارئین پڑھنے والوں کی خدمت میں ہم گذارش کرتے ہیں کہ وہ اس جوابی ٹریکٹ کو بغور پڑھیں۔ انشاء اللہ مرزائیوں کی تلبیسات کا پردہ چاک نظر آئے گا۔ ”واللہ المستعان وعلیہ التکلان“
مرزائی سوال نمبر ١
خطیب صاحب مذکور کے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ: ”کسی نبی کا استاد نہیں ہوتا اور نہ نبی کسی سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔“
اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید میں کسی جگہ ایسے کسی معیار کا ذکر نہیں۔ بلکہ خود ساختہ معیار ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے۔ نیز یہ کہ قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کی نمایاں غیر معمولی صفت کے طور پر آپ کو امی قرار دیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر واسطہ استاد خدا تعالیٰ سے براہ راست علم حاصل کر کے دنیا کی رہنمائی کرنا حضور ﷺ کی امتیازی شان تھی اور اس میں کسی اور کو شریک کرنا آنحضرت ﷺ کی توہین اور ہتک ہے۔ اس جگہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی قرآن مجید یا بخاری شریف پڑھی ہو۔ وہ ایسا لغو اور بے بنیاد اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تحصیل علم کی خاطر ایک لمبا سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے ایک بندے سے تحصیل علم کی درخواست کرنا اور پھر اپنے معلم کے ساتھ شاگردوں کی طرح رہنا اور اس سے بعض باتیں سیکھنا مذکور ہے۔ (الکہف) اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بخاری شریف میں یہ واضح ذکر موجود ہے کہ آپ نے بنو جرہم سے ادب عربی کی تعلیم حاصل کی۔
(مرزائی ٹریکٹ ص: ٤)
٣
الجواب نمبر ١
مرزائی سیکرٹری نے یہاں جو الزامات حضرت مولانا عبداللطیف صاحب موصوف پر لگائے ہیں۔ وہ سب مرزا غلام احمد قادیانی پر صادق آتے ہیں۔ جس نے خود یہ لکھا ہے کہ: ”لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولی کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کر کے اپنی قدرت عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔ (براہین احمدیہ حصہ اول ص٧، خزائن ج١ ص١٦) اور براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“
(اشتہار مرزا ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج٥ ص٦٥٧)
بتلائیے جب براہین احمدیہ میں جو اس درجہ کی کتاب ہے مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی استاد کے خود ہی تعلیم دی ہے تو اب مرزائی سیکرٹری کو مرزا قادیانی کے متعلق بھی وہی فیصلہ دینا چاہئے جو اس نے حضرت مولانا عبداللطیف صاحب کے متعلق دیا ہے۔ یعنی:
- الف ...... مرزا غلام احمد کی یہ بات خود ساختہ معیار ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے۔
- ب ...... مرزا قادیانی نے دوسرے انبیاء کرام کو حضورﷺ کی صفت خاصہ ”امی“ میں شریک کر
کے آنحضرتﷺ کی توہین اور ہتک کی ہے۔
- ج ...... مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی قرآن مجید یا بخاری شریف نہیں پڑھی۔
- د ...... مرزا قادیانی نے یہ لغو اور بے بنیاد اصول پیش کیا۔
- ہ ...... مرزا قادیانی نے چونکہ قرآن وحدیث کے علوم دوسرے استادوں سے پڑھے ہیں۔
اس لئے وہ اپنے پیش کردہ اصول کے تحت نبی نہیں ہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے یہ بھی تصریح کی کہ: ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل علیہ السلام حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٦١٢، خزائن ج٣ ص٤٣٢)
کیا مرزائی سیکرٹری مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق یہ باتیں تسلیم کرے گا۔
٤
- ٢........ حضرت موسیٰ علیہ الس
حاصل نہیں کئے۔ وہ تو چند جزئی واقعات کے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہ بتلائے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے وحدیث پڑھے ہیں۔ کیا اس میں اللہ تعالیٰ کا ببیں تفاوت
- ٣........ اگر حضرت اسماعیل
اس کا دین وشریعت کے ساتھ کیا تعلق ہے کرتا ہے۔ کسی نبی کا استاد نہ ہونے کا مطلب اخذ کرتا ہے۔ نہ کہ دنیوی استادوں سے۔ کرام کو دین وشریعت کی خصوصی تعلیم وہا کے اسماء مبارکہ ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرما مستقیم“ ”آخر میں امام الانبیاء والمرسلین فبهداهم اقتده“ یعنی ان تمام انبیاء انہیں کے طریقہ پر چلیں۔ (الانعام) اور یہ اللہ کی طرف سے پیغام لائے اور نبی وہی انبیاء کرام کو حق تعالیٰ بذریعہ وحی علوم واخ ہوتے اور مرزا قادیانی کی تو قابلیت یہ ہے بعد انہوں نے مہدویت، مسیحیت اور نبوت
مرزائی سوال نمبر ٢
یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ اسے خانہ کعبہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی جگہ یہ اصول بیا خود ساختہ اصول ہے جہاں تک حضرت ا شریعت میں حج کی جو شرائط بیان ہوئی ہیں
- ٢...... حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دینی و شرعی علوم حضرت خضر علیہ السلام سے
حاصل نہیں کئے۔ وہ تو چند جزئی واقعات تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کو بتلا دیئے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہ بتلائے۔ نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے۔ بتلائیے مرزا قادیانی نے جن اساتذہ سے قرآن وحدیث پڑھے ہیں۔ کیا اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا تھا کہ ان استاد سے پڑھو۔
- ٣...... اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عربی زبان بنو جرہم قبیلہ سے سیکھی ہے تو
اس کا دین و شریعت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ہر نبی اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مادری زبان حاصل کرتا ہے۔ کسی نبی کا استاد نہ ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہر نبی اپنے شرعی علوم و احکام حق تعالیٰ سے اخذ کرتا ہے۔ نہ کہ دنیوی استادوں سے، قرآن مجید میں تصریح ہے کہ حق تعالیٰ وہبی طور پر انبیاء کرام کو دین و شریعت کی خصوصی تعلیم و ہدایت دیتا ہے۔ چنانچہ سورۃ انعام میں اٹھارہ انبیاء کرام کے اسماء مبارکہ ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”واجتبيناهم وهدينهم الى صراط مستقیم“ آخر میں امام الانبیاء والمرسلین ﷺ کو خطاب فرمایا۔ ”اولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده“ یعنی ان تمام انبیاء کو اللہ نے ہی (خصوصی) ہدایت فرمائی ہے۔ سو آپ بھی انہیں کے طریقہ پر چلیں۔ (الانعام) اور یہ تو معمولی علم والا بھی جانتا ہے کہ رسول وہی ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے پیغام لائے اور نبی وہی ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے خبر لا کر امت کو بتائے۔ انبیاء کرام کو حق تعالیٰ بذریعہ وحی علوم و احکام عطاء فرماتے ہیں۔ وہ دنیوی اساتذہ کے محتاج نہیں ہوتے اور مرزا قادیانی کی تو قابلیت یہ ہے کہ وہ مختاری کے امتحان میں فیل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مہدویت، مسیحیت اور نبوت کا ڈھونگ رچایا۔
مرزائی سوال نمبر ٢
یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ ہر نبی نے خانہ کعبہ کا حج کیا ہے اور یہ کہ دجال کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ اسے خانہ کعبہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کا اصولی جواب بھی یہی ہے کہ قرآن مجید میں کسی جگہ یہ اصول بیان نہیں کیا گیا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو حج کرے۔ لہٰذا یہ بھی خود ساختہ اصول ہے جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حج نہ کرنے کا تعلق ہے۔ اسلامی شریعت میں حج کی جو شرائط بیان ہوئی ہیں۔ اس کے مطابق آپ پر حج فرض نہیں تھا۔
(مرزائی ٹریکٹ ص ٣)
٥
الجواب نمبر ٢
یہاں بھی مرزائی سیکرٹری نے تلبیس سے کام لیا ہے۔ اصلی اعتراض یہ ہے کہ احادیث میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے۔ چونکہ مرزا غلام احمد نے حج نہیں کیا۔ اس لئے وہ مسیح موعود نہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے ۔”يحدث ابو هريره عن النبى ﷺ قال والذى نفسى بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او يثنيهما (مسلم شریف باب جواز التمتع فى الحج والعمرة) “ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے۔ اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضرت ابن مریم ضرور فج روحا سے حج کے لئے احرام باندھیں گے یا عمرہ کے لئے یا حج اور عمرہ دونوں کے لئے یہاں نبی کریم ﷺ نے قسم اٹھا کے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور حج یا عمرہ کے لئے احرام باندھیں گے اور چونکہ مرزا قادیانی کو حج یا عمرہ کے لئے بالکل احرام نصیب نہیں ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ قسم کے متعلق خود مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :” والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء“
(حمامة البشریٰ ص١٤،خزائن ج٧ ص١٩٢)
یعنی قسم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ خبر ظاہر معنی پر ہی محمول ہے۔ اس میں تاویل اور استثناء کی گنجائش نہیں۔ قارئین اندازہ لگائیں کہ مرزائی اپنے نبی کے کذب پر پردہ ڈالنے کے لئے کس طرح فریب کاری سے کام لیتے ہیں۔
اور طرفہ یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی نے بھی حضرت مسیح کے حج کرنے کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ (ایام الصلح ص ١٦٨، ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦) میں لکھا ہے۔ ”ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔“ بتلائیے مرزا قادیانی اپنی اس تحریر کی بناء پر سچا ثابت ہوتا ہے یا جھوٹا؟
مرزائی سوال نمبر ٣
ایک اور فرسودہ اعتراض دہرایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی بہت تعریف کی ہے۔ ہم اس جگہ بلا تامل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ازرہ انصاف و امر واقعہ انگریزی حکومت کی تعریف کی ہے اور سکھوں کے ظالمانہ عہد حکومت کے بعد انگریزی حکومت واقعی قابل تعریف تھی۔ جیسا کہ اس زمانہ کے تمام مشہور علماء اور سیاسی زعماء کے بیانات سے ظاہر ہے۔ مثلاً مولانا ظفر علی خان نے انگریزوں کو ”اولی الامر“ قرار دیتے ہوئے لکھا
٦
ہے کہ اگر خدانخواستہ گورنمنٹ انگلیشیہ کی کسی مسلمان طاقت سے ان بن ہو جائے تو مسلمانان ہند اوّل تو آخر وقت تک گورنمنٹ سے یہی التجا کریں گے کہ وہ اس جنگ سے محترز رہے۔ اگر ان کی استدعاء شرف پذیرائی حاصل نہ کرے اور گورنمنٹ کو لڑائی کے بغیر اپنی مصلحتوں کی بناء پر چارہ نہ رہے تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اسی طرح سرکار کی طرف سے جلتی آگ میں کود کر اپنی عقلمندی ثابت کرنی چاہئے۔ جس طرح سرحدی علاقے اور صومالی لینڈ کی لڑائیوں میں مسلمان فوجی سپاہیوں نے اپنے مذہبی اور قومی بھائیوں کے خلاف جنگ کر کے اس بات کا بارہا ثبوت دیا ہے کہ اطاعت اولی الامر کے اصول کے وہ کس درجہ پابند ہیں۔
(زمیندار ١٢ نومبر ١٩١١ء)
نیز لکھا ہے کہ ہمیں ہمارا پاک مذہب بادشاہ وقت کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ ہم کو سرکار انگلیشیہ کے سایہ عاطفت میں ہر قسم کی دینی و دنیوی برکات حاصل ہیں۔ ہم پر از روئے مذہب گورنمنٹ کی اطاعت فرض ہے۔ ہم انگریزوں کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں۔ زبانی نہیں بلکہ جب وقت آئے گا تو اس پر عمل بھی کر کے دکھائیں گے۔ (زمیندار یکم نومبر ١٩١١ء) اس جگہ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جہاں تک سکھوں کے مظالم سے نجات دلانے کا تعلق تھا مسیح موعود نے انگریزی حکومت کی تعریف تو کی ہے۔ لیکن جہاں تک ان کے عقائد کا تعلق ہے اس پر آپ نے پوری جرأت اور دلیری کے ساتھ زبردست تنقید فرمائی۔ یہاں تک کہ وفات مسیح علیہ السلام مدلل اعلان فرما کر قصر عیسائیت کی بنیادیں ہلا دیں۔ نیز حضرت مسیح موعود قیصرہ ہند اور دیگر تمام ارکان سلطنت کو برملا دعوتِ اسلام دینے میں تمام عالم اسلام میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔
(مرزائی ٹریکٹ ص ٤)
الجواب
- .......١ مرزا قادیانی کی انگریز پرستی کو جائز ثابت کرنے کے لئے مولانا ظفر علی
خان مرحوم کی تحریر کا سہارا لینا ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ لینے کے مترادف ہے۔ کیا مولانا ظفر علی خان کی یہ تحریر کوئی شرعی کسوٹی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کے صدق و کذب کو پرکھا جائے۔
مولانا ظفر علی خان صاحب کا یہ ابتدائی دور کا تصور ہے۔ بعد ازاں جنگ بلقان کے بعد جنگ عظیم کے دوران جب ان کو انگریزی حکومت کی عیاریوں اور اسلام دشمن سرگرمیوں کا علم ہوا تو پھر ساری عمر انگریزی اقتدار کے خلاف نبرد آزما رہے اور اس راہ میں بڑی بڑی صعوبتیں برداشت کیں۔ اگر مولانا مرحوم کی بات کو ہی ماننا ہے تو ان کے آخری لائحہ عمل کو حق مان کر مرزائیوں کو اپنے مرزا آنجہانی کی نبوت سے بیزاری کا اعلان کر دینا چاہئے۔
٧
- ٢...... اگر مرزا قادیانی نے صرف اس پہلو سے انگریزی حکومت کی تعریف کی
ہوتی کہ وہ سکھوں کی حکومت کی نسبت سے اچھی ہے تو اور بات تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کی زندگی کا تو اہم مقصد ہی انگریزی حکومت کی وفاداری اور ثنا خوانی تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
- الف...... ”اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں
نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں میں اردو فارسی عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا۔ اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
بتلائیے ایک مدعی نبوت انگریزی حکومت کی وفاداری میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس اسلام دشمن گورنمنٹ کی سچی اطاعت کو مسلمانوں کے لئے فرض سمجھتا ہے اور جہاد جیسے اسلامی فریضہ کے جذبات کو مسلمانوں کے دل سے نکالنے کے لئے ہزاروں کتابیں شائع کرتا ہے۔ بیشک مرزا قادیانی اس کفر نوازی میں بے نظیر ہیں۔ کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ انصاف پسند طبقہ اندازہ لگائے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ انگریزی حکومت کی اطاعت میں یہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ جن کا ذکر اس نے خود کیا ہے۔ یہ ایک انگریزی ایجنٹ کا کام ہے۔ یا اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے کسی نبی کا، عبرت، عبرت، عبرت۔
علاوہ ازیں یہ بھی ملحوظ رہے کہ مرزا قادیانی نے جو یہاں لکھا ہے ”گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے“ تو اس سے کون مسلمان مراد ہیں؟ جب کہ مرزا قادیانی کے نزدیک وہ لوگ مسلمان ہی نہیں جو اس کو نبی نہیں مانتے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(مرزا قادیانی کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی) (تذکرہ ص ٦٠٧ طبع ٣)
٨
- ٣....... مرزا قادیانی نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ: ”بعض احمق اور نادان سوال
کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ملحقہ شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
بتلائیے جس شخص کا مذہب ہی یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بعد حکومت برطانیہ کی اطاعت فرض ہے۔ اس کے انگریزی نبی ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔ قرآن میں تو اطاعت خدا کے بعد اطاعت رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے۔ ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم“ لیکن قادیانی شریعت میں خدا کی اطاعت کے بعد حکومت برطانیہ کی اطاعت کا درجہ ہے۔ بعض لوگ بالخصوص مرزائی اس آیت میں اولی الامر منکم سے انگریزی حکومت کی اطاعت کو فرض ثابت کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک گمراہ کن مغالطہ ہے۔ کیونکہ آیت میں تو منکم کی قید ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمانوں میں سے جو اولی الامر اصحاب حکم ہوں اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بھی کرتے ہوں ان کی تابعداری کرو۔ انگریز نہ منکم میں داخل ہیں نہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان کی اطاعت از روئے قرآن کس طرح فرض قرار دی جاسکتی ہے۔
- ٤....... ملکہ وکٹوریہ کو مرزا قادیانی نے خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ”اے ملکہ
معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور، نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی، تاریکی کو کھینچتی ہے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٦)
- ٥....... ”جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام
٩
کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری کی تدبیروں میں مشغول ہے۔ اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹادے۔ سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
قارئین سے عرض ہے کہ وہ نمبر ٤ اور ٥ کی مندرجہ عبارتوں کو بار بار پڑھیں اور قادیانی نبوت کا جائزہ لیں کہ یہ کہاں سے آئی ہے۔
- الف ...... جب کہ خود مرزا قادیانی نے ایک کافرہ ملکہ کو زمین کا نور اور اپنے آپ
کو آسمان کا نور قرار دے کر کہا کہ نور، نور کو کھینچتا ہے اور تاریکی، تاریکی کو اور چونکہ ملکہ کافرہ تھی اس کا باطن تاریک تھا۔ اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ کفر نے کفر کو کھینچا اور تاریکی نے تاریکی کو اپنی طرف جذب کیا۔
- ب ...... نمبر ٥ کی عبارت میں تو بالکل تصریح کر دی کہ یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا
تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا نتیجہ ہے۔ اب بتلائیے جس شخص کی نبوت ایک کافرہ ملکہ کے وجود کی برکت اور اس کی سچی ہمدردی کا نتیجہ ہو تو وہ انگریزی نبوت ہوگی یا خدائی اس کے بعد بھی کیا مرزائی یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کس اسلام کی دعوت دی۔ جب کہ خود مرزا قادیانی کی نبوت ہی ملکہ کے وجود کی رہین منت اور اس کی سچی ہمدردی اور نیک نیتی کا نتیجہ ہے۔ ”فاعتبرو یا اولی الابصار“
مرزائی سوال نمبر ٤
ایک پامال شدہ اعتراض یہ بھی دہرایا گیا ہے کہ کوئی پیغمبر ایسا نہیں گزرا جو کافر حکومت کے ماتحت پیدا ہوا ہو اور زندگی بھر کافر حکومت کے ماتحت رہے اور اس کے مرنے پر وہ حکومت قائم ہو۔ یہ اعتراض بھی باقی اعتراضات کی طرح خود ساختہ ہے اور معترض کی قرآن دانی اور تاریخ دانی کا شاہکار ہے۔ قرآن میں انبیاء کے جو کام بیان ہوئے ہیں ان میں کسی جگہ یہ کام نہیں بتایا گیا کہ وہ حکومتوں کے تختے الٹنے کے لئے آتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک کافر حکومت میں بطور وزیر و مشیر شامل رہے اور آپ اس دنیا سے اس حال میں اٹھ گئے کہ اس حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیابان میں فوت ہوگئے اور کافر حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا سے اٹھ گئے اور کافر حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔
(مرزائی ٹریکٹ ص ٥)
١٠
الجواب
- الف ...... یہاں بھی مرزائی سیکرٹری نے انتہائی تلبیس سے کام لیا ہے۔ مرزا قادیانی
کی جو عبارتیں انگریزی سلطنت اور ملکہ وکٹوریہ کے متعلق سابقہ نمبروں میں درج کی گئی ہیں۔ کیا کوئی نبی ایسا گزرا ہے جس نے اپنے مقابل کی کافر حکومت کی اس طرح ثنا خوانی اور اطاعت کی ہو اور اپنی نبوت کو کسی کافر گورنمنٹ کی برکت کا نتیجہ قرار دیا ہو۔
- ب ...... قرآن مجید میں تصریح ہے۔ ’ کتب الله لا غلبن انا ورسلی ان
الله لقوی عزیز (المجادلہ) ” اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ ضرور غالب آؤں گا۔ میں اور میرے پیغمبر بیشک اللہ بہت زور والا اور زبردست ہے۔ حق تعالیٰ نے عموماً انبیاء کرام کو اعدائے اسلام کے مقابلہ میں نصرت و غلبہ عطاء فرمایا اور کافر قوموں کو عذاب سے ہلاک کیا۔
- ج ...... مرزا قادیانی پر جو اصل اعتراض ہے اس پر مرزائی سیکرٹری نے پردہ ڈالنا
چاہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو ان کے لئے ضروری تھا کہ کافرانہ حکومت واقتدار کو ختم کرتے ۔ کیونکہ احادیث میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آمد ثانی کے بعد عادلانہ حکومت قائم کریں گے اور دجال کو بھی قتل کریں گے۔ عیسائیت کے عقائد و افعال ختم ہو جائیں گے اور اسلام دنیا میں پھیل جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی انگریزوں کی غلامی میں ہی پیدا ہوئے اور غلامی میں ہی مر گئے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی نشانی ان میں نہیں پائی گئی۔ اس لئے وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
- د ...... مرزائی سیکرٹری نے یہاں جن انبیاء کی مثالیں دی ہیں۔ اس میں بھی
مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ عظیم الشان رسول ہیں۔ جن کو ید بیضا اور عصا کے اثر دکھانے کے معجزات عطاء کئے گئے اور ان کے مقابلہ میں فرعون جو الوہیت کا مدعی تھا اپنی تمام پارٹی سمیت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے دریائے قلزم میں غرق ہوا۔ یوسف علیہ السلام کو ابتلائے عظیم (اتہام زلیخا اور قید و بند کے مصائب ) کے بعد قادر مطلق نے ملک مصر کا اقتدار اعلیٰ عطاء فرمایا۔ جس کے متعلق قرآن عظیم میں صاف ارشاد ہے۔ ” وكذلك مكنا ليوسف فى الارض يتبوأ منها حيث يشاء (یوسف) “ اور اسی طرح ہم نے حضرت یوسف کو اس ملک میں قدرت عطاء کی جہاں چاہتے اس ملک میں جگہ پکڑتے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو بٹھایا اور وہ آپ کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ جیسا کہ فرمایا ” ورفع ابويه على العرش وخروا له
١١
سجداً " (یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس شریعت میں اس طرح سجدہ تعظیمی جائز تھا۔ لیکن اب وہ حرام ہے ) نیز حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی دعاء میں فرمایا ہے۔ ” رب قد اتیتنی من الملك “ اے میرے پروردگار بیشک تو نے مجھ کو بادشاہی دی ہے۔ ان آیات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اصل اقتدار کے مالک حضرت یوسف علیہ السلام ہی تھے اور بادشاہ ریان بن الولید برائے نام تھا اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ آخر میں بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا۔ فرمائیے۔ کہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار مصر کی حیات مبارکہ اور کہاں مرزا غلام احمد کی غلامانہ زندگی جو کافر گورنمنٹ کی ثنا خوانی اور دعاء گوئی ہی میں گزر گئی۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ باقی رہا مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں اٹھ گئے اور کافر حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔ سو اس میں بھی حیرت انگیز تلبیس سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق احادیث سے صراحتاً مذکور ہے کہ وہ قیامت سے پہلے آمد ثانی پر اقتدار و حکومت پر فائز ہوں گے اور قرآن مجید میں مذکور ہے کہ حق تعالیٰ نے پہلے دور میں بھی ان کو یہودی اقتدار کے تسلط سے بچا کر اپنی قدرت و حکمت سے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ مرزائیوں کا یہ بہت بڑا فریب ہے جو وہ کہتے ہیں کہ از روئے قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں صاف اعلان ہے کہ : " و ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (النساء) “ ﴿ اور انہوں نے نہ آپ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا اور انہوں نے آپ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ ﴾
قرآن مجید کی ان آیات سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ جن کو یہود قتل کرنا چاہتے تھے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا یہی تقاضا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو قتل کرنا اور سولی پر لٹکانا چاہتے تھے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے آپ کو جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا۔
مرزائی یہاں رفع سے درجات کی بلندی مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ اس کا اس مضمون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مطلب کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے درجے بلند کر دیئے۔ نعوذ باللہ! عجیب بدفہمی ہے۔ علاوہ ازیں حسب ذیل احادیث میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
١٢
- "عن ابی ہریرۃ ...... ١
بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم اب الخنزیر ویضع الحرب ولیفی السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم، ترمذی) نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس اتریں گے۔ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ پھر کا خاتمہ کریں گے اور ان کے ذریعہ مال ا اور لوگوں کا حال یہاں تک ہو جائے گا کہ ہوگا۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضر گے۔ عیسائیت کے عقائد و اعمال عقیدہ ص ہوں گی اور اسلام غالب ہو جائے گا۔
- "عن مجمع ...... ٢
ابن مریم الدجال بباب لد (ترم ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے
نزول عیسیٰ کے متعلق احادیث گئی ہیں۔ اب ناظرین انصاف فرمائیں یعنی جس مسیح کے آنے کی پیش گوئی ہے وہ حالانکہ احادیث میں تصریح دجال کو قتل کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی ہے نہ حکومت کی ہے۔ بلکہ وہ تو انگریزی ا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کس طرح مسیح موعود
ایک مشکل کا حل
جب مرزا قادیانی نے مسیح بن جن میں تصریح ہے کہ آنے والے ابن مر اس مشکل کو بھی حل کر دیا۔ چنانچہ لکھتے
......١ ”عن ابی ھریرة قال، قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ولیفیض المال حتی لا یقبله احد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا من الدنیا وما فیها (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم، ترمذی)“ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تم میں ابن مریم ضرور اتریں گے۔ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ پھر وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جنگ کا خاتمہ کریں گے اور ان کے ذریعہ مال اس کثرت سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول کرنے والا نہ ہوگا اور لوگوں کا حال یہاں تک ہو جائے گا کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ حکومت عادلہ عطاء فرمائیں گے۔ عیسائیت کے عقائد و اعمال عقیدہ صلیب اور اکل خنزیر سب ختم ہو جائیں گے۔ برکات نازل ہوں گی اور اسلام غالب ہو جائے گا۔
......٢ ”عن مجمع بن جارية قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقتل ابن مریم الدجال بباب لد (ترمذی ابواب الفتن)“ حضرت مجمع بن جاریہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔ نزول عیسیٰ کے متعلق احادیث تو بہت ہیں۔ یہاں بطور نمونہ صرف دو حدیثیں درج کی گئی ہیں۔ اب ناظرین انصاف فرمائیں۔ مرزائی فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود مانتا ہے۔ یعنی جس مسیح کے آنے کی پیش گوئی ہے وہ مرزا قادیانی ہی ہیں۔
حالانکہ احادیث میں تصریح ہے کہ جو مسیح آئیں گے وہ مریم کے بیٹے ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی چراغ بی بی کے بیٹے ہیں۔ نہ انہوں نے دجال کو قتل کیا ہے نہ حکومت کی ہے۔ بلکہ وہ تو انگریزی حکومت کے زیر سایہ غلامانہ زندگی گزار کر اس دنیا سے چل بسے۔ پھر مرزا قادیانی کس طرح مسیح موعود بن سکتے ہیں۔
ایک مشکل کا حل
جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود بننا چاہا تو ان کی راہ میں مذکورہ احادیث حائل تھیں۔ جن میں تصریح ہے کہ آنے والے ابن مریم ہوں گے۔ لیکن مرزا قادیانی نے کمال ہوشیاری سے اس مشکل کو بھی حل کر دیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک
١٤
ختم نبوت
صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردے میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٦) میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طرح سے میں عیسیٰ بن مریم ٹھہرا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦١،١٩٢)
یہ ہے مرزا قادیانی کے مسیح موعود بننے کی حقیقت اور یہ ہیں ملکہ وکٹوریہ کی برکات اور اس کے نتائج۔
(کشتی نوح ص ٤٧،٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٧،٤٥)
غلام احمد ابن چراغ بی بی کس طرح عیسیٰ بن مریم بن گئے۔ ایسے شخص کے لئے کیا مشکل ہے جو چاہے بن بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ مرزائیوں کی عقل سے پردہ ہٹائیں تو ان کو مرزا قادیانی کی حقیقت منکشف ہو۔ ”واللہ الہادی“
مرزا قادیانی کی ایمانی شجاعت
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو عادل حاکم ہوں گے اور کفر و عیسائیت کو ختم کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کی پوزیشن کیا رہی ہے۔ اس کے لئے صرف ایک حوالہ ہی یہاں کافی ہے۔ مرزا قادیانی نے جب اپنے مخالفین کے خلاف پیش گوئیوں کا سلسلہ جاری کیا اور ان کے حق میں سخت توہین آمیز الفاظ لکھے اور ملک میں انتشار کا خطرہ پیدا ہوا تو حالات کی نزاکت کے پیش نظر مسٹر ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے حکم بھیجا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔ ”پس مرزا قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرات استعمال کریں۔ ورنہ بحیثیت صاحب مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کارروائی کرنی پڑے گی۔“
اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو حلفی اقرار نامہ مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں پیش کیا۔ اس کے بعض اجزاء درج ذیل ہیں۔ ”میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر و ناظر جان کر باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ“
- ......١ میں ایسی پیش گوئی جس سے کسی شخص کی تحقیر (ذلت) کی جائے یا
نامناسب طور سے حقارت (ذلت) سمجھی جائے یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔
- ......٢ میں ایسے الہام کی اشاعت سے پرہیز کروں گا۔ جس سے کسی شخص کا حقیر
١٤
ختم
(ذلیل) ہونا یا موردعتاب الہی ہونا ظاہر ہو
- ......٣ میں حتی الوسع ہرا
ہونے کے لئے ترغیب دوں گا۔ جیسا کہ
دستخط صاحب مجسٹریٹ ضلع مسٹر ڈوئی بحرف دستخط مرزا غلام احمد قادیانی ”یہ ہے مرزا قادیانی کی دلیری
مرزائی سوال نمبر ٥
یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی نبی کا ن یہ بھی خود ساختہ معیار ہے۔ جس کا قرآن جاہل انسان کی طرف سے ہوتا تو چنداں اعتراض حیرت انگیز ہے کہ اس کو یہ بھی بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد مر الفاظ ہیں نیز قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ گیا ہے جو یقینا مرکب ہے۔
الجواب
مرزائی سیکرٹری دوسروں کو
- .......١ اس نے ابرا
اسرائیل نام نہیں بلکہ حضرت یعقوب علی لقب لہ ”یعنی اسرائیل حضرت یعقوب
- .......٢ اسی طرح مر
مرکب نام ہے۔ یہ بھی اس کی محض جہ بیٹا) نام (علم) نہیں۔ بلکہ ان کی والہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے۔ اس لئے مریم فرمایا گیا ہے۔
(ذلیل) ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے اظہار کے وجوہ پائے جاتے ہوں۔
- .......٣ میں حتی الوسع ہر ایک شخص کو جس پر میرا اثر ہو سکتا ہے۔ اس طرح کار بند
ہونے کے لئے ترغیب دوں گا۔ جیسا کہ میں نے فقرہ نمبر ١، ٢، ٤، ٥، میں اقرار کیا ہے۔
مورخہ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء
دستخط صاحب مجسٹریٹ ضلع مسٹر ڈوئی بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی دستخط مرزا غلام احمد قادیانی کمال الدین پلیڈر
”یہ ہے مرزا قادیانی کی دلیری اور ان کا توبہ نامہ ایک انگریز ڈی سی کی بارگاہ میں۔“
(منقول از تازیانہ عبرت مؤلفہ مولانا محمد کرم الدین صاحب دبیرؒ)
مرزائی سوال نمبر ٥
یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔ معترض کے باقی اعتراضات کی طرح یہ بھی خود ساختہ معیار ہے۔ جس کا قرآن مجید واحادیث میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ یہ اعتراض اگر کسی جاہل انسان کی طرف سے ہوتا تو چنداں تعجب انگیز نہ تھا۔ لیکن ایک ”عالم دین“ کے منہ سے ایسا اعتراض حیرت انگیز ہے کہ اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے جو نام بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد مرکب ہیں۔ مثلاً اسرائیل، اسماعیل جو عربی زبان کے مرکب الفاظ ہیں نیز قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نام اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم (آل عمران) بتایا گیا ہے جو یقینا مرکب ہے۔
الجواب
مرزائی سیکرٹری دوسروں کو طعن دیتا ہے۔ لیکن خود جہالت کا شکار ہے۔ مثلاً:
- ......١ اس نے اسرائیل کو بھی انبیاء کے مرکب ناموں میں شمار کیا ہے۔ حالانکہ
اسرائیل نام نہیں بلکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔ چنانچہ تفسیر مدارک میں ہے۔”وهو لقب لہ“ یعنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔ اس کا معنی عبداللہ ہے یعنی اللہ کا بندہ۔
- ......٢ اسی طرح مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا کہ عیسیٰ بن مریم حضرت مسیح علیہ السلام کا
مرکب نام ہے۔ یہ بھی اس کی محض جہالت ہے۔ کیونکہ نام تو مسیح اور عیسیٰ ہیں۔ ابن مریم (مریم کا بیٹا) نام (علم) نہیں۔ بلکہ ان کی والدہ حضرت مریم کی طرف نسبت ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلا باپ پیدا ہوئے۔ اس خصوصیت کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن وحدیث میں ان کو ابن مریم فرمایا گیا ہے۔
١٥
- ٣.......اسماعیل عبرانی زبان میں گو ترکیب رکھتا ہے۔ لیکن وہ کالمفرد ہی استعمال
ہوتا ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ اصل اعتراض جو مرزا غلام احمد پر علماء کا ہے۔ جس کو مرزائی سیکرٹری نے نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا اصلی نام غلام احمد ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی تصانیف میں بھی لکھا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ لکھتے ہیں کہ: ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “یہ میرے حق میں نازل ہوا ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١) حالانکہ اس آیت میں احمد سے مراد سرور کائنات کی ذات ہے۔ جن کے متعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ مرزا قادیانی کا نام احمد نہیں بلکہ غلام احمد ہے۔ عربی قاعدہ کے تحت مضاف و مضاف الیہ آپس میں مغائر ہوتے ہیں۔ مرزائیوں کو احمدی کہنا جائز نہیں۔ وہ تو غلام احمدی ہیں۔ یعنی غلمدی یہ بھی عجیب قسم کا نبی ہے جو آیات رحمۃ للعالمین ﷺ کے حق میں قریبا چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی ہیں۔ وہ اپنے بارے میں استعمال کرتا ہے۔ کیا یہ کم دجل وفریب ہے۔
مسئلہ ختم نبوت
مرزائی سوال نمبر ٦
مرزائی سیکرٹری ص ٦ پر لکھتا ہے۔ ایک اور بات جو بڑے تکرار سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ اصول ہمارے نزدیک بالکل درست اور صحیح ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے متعلق اور ان کا انتظار کرنے والے ختم نبوت کے منکر اور اپنے مسلمہ عقیدہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
الجواب
- ١.......مرزائیوں کو اگر مسلمان، کافر کہتے ہیں تو وہ بہت چیختے چلاتے ہیں اور کہتے
ہیں کہ ہمارے عقائد اسلام کے مطابق ہیں۔ پھر ہمیں کیوں کافر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہاں پر مرزائی سیکرٹری نے زمانہ حال اور ماضی کے ان تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے معتقد ہیں۔
- ٢.......ہم پوچھتے ہیں کہ تمہارے اس فتویٰ کی زد کہیں مرزا غلام احمد پر تو نہیں
پڑتی۔ کیونکہ دعویٰ مسیحیت سے پہلے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے تو تمہارے اس فتویٰ کے مطابق اس وقت وہ بھی کافر تھے۔ کیا تمہارے نزدیک
١٦
محاسبہ قادیانیت
کوئی نبی کسی زمانہ میں کافر بھی رہ سکتا ہے۔
- ٣...... مرزائی سیکرٹری نے یہاں بھی اسی موروثی دجل وفریب سے کام لیا ہے جو
ان کا عام شیوہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بیشک ختم نبوت کا منکر کافر ہے اور تم یقیناً ختم نبوت کے منکر ہو۔ اس لئے امت مسلمہ کا تمہارے کفر پر اجماع ہے اور جہلم کے مرزائیوں کو تو یہ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ کیونکہ گورنمنٹ ہائی سکول جہلم کے مرزائی ٹیچر فضل داد نے نعیم احمد کلاس نہم کے بازو کی ہڈی اس بناء پر توڑ دی تھی کہ اس نے بلیک بورڈ پر ختم نبوت زندہ باد کے الفاظ لکھے تھے اور مرزائی ٹیچر نے اس بات کی تحریر بھی دے دی ہے کہ اس نے اسی بناء پر مارا تھا۔ اگر مرزائی ختم نبوت کے معتقد ہوتے تو اس کو ان الفاظ سے کیوں اشتعال آتا۔ باقی رہا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے تو یہ قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ عقیدہ قطعاً ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ ختم نبوت کا مفہوم خود رحمۃ للعالمین خاتم النبیین ﷺ نے واضح فرما دیا ہے۔ چنانچہ:
- ١...... حدیث میں ہے ۔ ” انہ سيكون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم
يزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی شریف) “ ﴿بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہی گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔﴾
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت میں ٣٠ کذاب دعویٰ نبوت کریں گے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں نہ بعد کے۔ چنانچہ قرآن مجید میں تصریح ہے۔ ” ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “ ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی کہ میرے بعد ایک عظیم الشان رسول آئیں گے ان کا نام احمد ہوگا﴾ اور مرزا قادیانی چونکہ حضور ﷺ کی امت میں پیدا ہوا اور حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کیا اس لئے وہ ارشاد نبوی کی روشنی میں کذاب ہوگا۔ برعکس اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے کے نبی ہیں۔ نہ حضور ﷺ سے بعد کے۔ البتہ آپ کی عمر حق تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت طویل کر دی اور وہ دوبارہ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننا (جو پہلے کے ہیں) اور انکی آمد ثانی ماننا ختم نبوت کے حقیقی صحیح مفہوم کے خلاف نہیں ہے۔
- ٢...... ختم نبوت کے مسئلہ کو نبی کریم ﷺ نے ایک مثال سے بھی واضح فرمایا ہے۔
١٧
چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مثلی ومثل الانبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنةٍ من زاوية من زواياه، فجعل الناس يطوفون به ويعجبون منه ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (صحیح بخاری، مسلم، ترمذی) “ فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی ہے۔ جس نے ایک گھر بنایا اور اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ پس لوگ اسے دیکھنے آتے اور خوش ہوتے اور یہ کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھی گئی۔ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ﴿
اس مثال سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ قصر نبوت میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی جو خاتم النبیین ﷺ کی تشریف آوری سے پر ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قصر نبوت میں شامل ہوچکے تھے۔ اب مرزا قادیانی اگر نبی ہے تو قصر نبوت میں اس کی جگہ کہاں ہے۔ جب کہ نبوت کے محل میں کسی اینٹ کی جگہ خالی نہیں رہی۔ خواہ کسی قسم کی نبوت ہو۔ لامحالہ مرزا قادیانی ہو یا کوئی اور جو بھی نبی کریم ﷺ کے بعد پیدا ہوکر دعویٰ نبوت کرے گا وہ قصر نبوت کو گرانے والا ہوگا اور طرفہ یہ کہ مرزا قادیانی نے خود بھی یہی مفہوم تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
- ١...... ”نبوت کا دعویٰ نہیں محدثیت کا ہے اور محدثیت کے دعویٰ سے دعویٰ نبوت
نہیں ہوسکتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٢٠)
- ٢...... ”معنی خاتم النبیین۔ ختم کرنے والا نبیوں کا۔“
(ازالۃ الاوہام ص٦١٤، خزائن ج٣ ص٤٣١)
- ٣...... ”وما كان لي ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق
بقوم كافرين “ یعنی میرے لئے یہ کب جائز ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہوکر کافروں میں شامل ہوجاؤں۔
(حمامة البشریٰ ص٨٠، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
بتلایئے ! مرزا قادیانی اگر نبوت کے مدعی ہوئے ہیں تو اپنے اس فتویٰ کی بناء پر کیوں اسلام سے خارج ہوکر کافروں میں شامل نہیں ہوئے؟ یہی حال ان کے ماننے والوں کا سمجھئے۔
مرزائی سوال نمبر٧
مرزائی سیکرٹری ص٦ پر لکھتا ہے کہ: جہاں تک جماعت احمدیہ کے عقیدہ کا تعلق ہے اس
١٨
کے لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (مرزا قادیانی) کا مندرجہ ذیل ارشاد بڑا واضح اور مکمل ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن مجید کو پنجہ مارنے کا حکم ہے۔ ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے۔ وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افتراء کرتا ہے اور قیامت میں ہمارا اس پر دعویٰ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔
الجواب
- ١...... مرزا قادیانی کی مذکورہ عبارت کی بناء پر تمام مرزائیوں سے ہمارا یہ سوال
ہے کہ اگر کوئی اور شخص ان تمام عقائد کو مانے جو مرزا قادیانی نے یہاں لکھے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود نہ مانے تو کیا اس کو مؤمن اور مسلمان سمجھتے ہو؟ اگر مرزائی یہ جواب دیں کہ ہم ایسے شخص کو مؤمن اور مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ ان کا فریب ہوگا۔
- الف...... کیونکہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جو مجھے نہیں پہچانتا وہ کافر اور
مردود اور اس کے اعمال حسنہ نامقبول اور وہ دنیا میں معذب اور آخرت میں ملعون ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٠)
- ب...... مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود احمد خلیفہ نے لکھا ہے کہ: ”کل مسلمان جو
حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
جس طرح مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ نے تصریح کر دی ہے کہ جو مسلمان مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ اسی طرح علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ بوجہ دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ہونے کے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ خواہ وہ ان عقائد کا اقرار کریں جو مرزا قادیانی نے مذکورہ عبارت میں لکھے ہیں۔
١٩
- .......٢ مرزا قادیانی نے جو یہ لکھا ہے کہ: ”وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے
سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے۔ اگر وہ اس قول میں سچے ہیں تو پھر ختم نبوت کا وہ صحیح مفہوم کیوں نہیں مانتے جو اہل سنت بلکہ تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے۔“
- .......١ چنانچہ امام غزالیؒ لفظ خاتم النبیین کے متعلق فرماتے ہیں ۔ ” ان الامۃ
فھمت بالاجماع من ھذا للفظ ومن قرائن احوالہ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداً وعدم رسول بعدہ ابداً وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص (الاقتصاد فی الاعتقاد مصری ص ١٤٦) “ یعنی امت نے اس لفظ خاتم النبیین اور آنحضرت ﷺ کے احوال وقرائن سے اجماعی طور پر یہی سمجھا ہے کہ حضور ﷺ نے یہی سمجھایا ہے کہ آپ کے بعد ہمیشہ ہمیشہ نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول۔ اس میں نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ کسی تخصیص کی۔
- .......٢ علامہ آلوسی مفتی بغداد نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ: ” و کــونــــہ ﷺ
خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفـر مدعـی خلافـہ ویقتل ان اصرأ (روح الـمـعـانـی ج ٧ ص ٦٥) “ یعنی آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا قطعی مسئلہ ہے کہ جس کو قرآن نے بیان کیا ہے اور سنت نے اس کی وضاحت کی ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ اس کے خلاف نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو قتل کر دیا جائے گا۔
- .......٣ حضرت سلطان عالمگیر غازیؒ کے حکم سے اس وقت کے جلیل القدر علمائے
اہل سنت نے جو فتاویٰ مرتب کیا ہے۔ اس میں تصریح ہے کہ: ” اذا لـم یـعـرف ان مـحـمـداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء فليس بمسلم ولو قال انا رسول اللہ اوقـال بـالفـارسیہ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر “ یعنی جب کوئی شخص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہ سمجھتا ہو تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور اس کی مراد یہ ہو کہ میں اللہ کا پیغام لاتا ہوں تو وہ کافر ہوگا۔
(فتاویٰ عالمگیر ج ٢ ص ٢٦٢)
ہم نے بطور نمونہ یہ تین حوالے پیش کئے ہیں۔ اب اگر مرزائی اس بات میں دیانتدار ہیں کہ مرزا قادیانی اہل سنت کے اجماعی عقائد کو مانتے تھے اور وہ بھی مانتے ہیں تو اس مسئلہ ختم نبوت اور اس کے مفہوم پر امت کا جو اجماع ہے ان کو مان لینا چاہئے اور اس کی روشنی میں
٢٠
مرزا قادیانی کے متعلق ان کو اپنا سابق عقیدہ بدل لینا چاہئے۔ کیا کوئی مرزائی ایسا ہے جو اس امر حق کو تسلیم کرے۔ ”الیس منکم رجل رشید“
آہ محمدی بیگم
آخر میں قارئین کی ضیافت طبع کے لئے ہم مرزا قادیانی کی ایک عجیب و غریب پیش گوئی اور اس میں انتہائی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کی نبوت کی حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں یہ الہام شائع کیا۔
”خداوند کریم نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو نصرت بیگم کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“ چونکہ آپ کی نظر محمدی بیگم دختر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری پر لگی ہوئی تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ صاحب کو بھی خط میں لکھ دیا کہ: ”خدا تعالیٰ نے اپنے الہام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی اس رشتہ سے دور کر دے گا اور آپ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر برکت دے گا اور اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا۔ آپ کے لئے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہوگی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
گو مرزا قادیانی نے ان کو بہت ڈرایا۔ لیکن مرزا احمد بیگ نے ایمانی جرأت سے کام لے کر اپنی دختر محمدی بیگم کا نکاح ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور کے ساتھ کردیا۔
مرزا قادیانی نے یہ بھی الہام شائع کیا تھا کہ: ”اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں کو پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
٢١
تقدیر الہی سے محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ٣٠؍ ستمبر ١٨٩٢ء کو فوت ہو گیا تو مرزا قادیانی نے اس کو اپنی صداقت کا نشان قرار دیا۔ لیکن محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد زندہ رہا۔ جس کے متعلق الہام درج کیا تھا کہ اڑھائی سال تک مرجائے گا اور مرزا قادیانی اس سے پہلے ١٩٠٨ء کو اس جہان سے کوچ کر گئے۔ حالانکہ الہام کی صداقت کا نشان تو مرزا سلطان محمد کے لئے ثابت ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ وہی مرزا قادیانی کا رقیب تھا۔ جس نے ان کی منکوحہ آسمانی کو اپنے نکاح میں لے لیا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کب بس کرنے والے تھے۔ یہ الہام بھی شائع کر دیا تھا کہ: ”خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لادے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے۔ ”كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله يردها اليك لا تبديل لكلمات الله“ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ ، ٢٨٧، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦ ، ٢٨٧ ، مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء)
قارئین اندازہ لگائیں۔ مرزا قادیانی نے کتنی زبردست پیش گوئی شائع کی تھی کہ ”خدا تعالیٰ اس کو ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لادے گا۔“ لیکن مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں موت کا لقمہ بن گئے۔ ان کو کوئی اور منکوحہ بھی نصیب نہ ہوئی۔ نہ ہی محمدی بیگم کے نکاح میں کامیاب ہوئے۔ بلکہ اس کے بعد محمدی بیگم ٥٨ سال تک زندہ رہی اور گذشتہ سال لاہور میں ١٩؍ نومبر ١٩٦٦ء کو اس کی وفات ہوئی۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“ اللہ تعالیٰ اس خوش نصیب خاتون پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں جو نصف صدی سے زیادہ مرزا قادیانی کے کذب و فریب کے خلاف ایک خدائی نشان کے طور پر زندہ رہی۔ کیا مرزائیوں کے لئے اب بھی مرزا قادیانی کو سچا ماننے کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ واللہ الہادی!
چھپاتے کیوں ہیں اسے آج دیکھو مرزائی
فروری ١٩٦٧ء
٢٢
نحمده ونصلى على رسوله الكريم
اظہار
جناب حافظ
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
اظہار الحق
جناب حافظ محمد اسحاق قریشی
بسم الله الرحمن الرحيم!
مرزائی سیکرٹری کا حیرت انگیز جھوٹ
فرقہ قادیانیہ جہلم کے ایک ٹریکٹ ”ختم نبوت“ کے جواب میں ہم نے ایک رسالہ ”کشف تلبیس“ لکھا تھا۔ جس میں مرزائی سیکرٹری کی تلبیسات کا پردہ چاک کر کے حق واضح کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری کی طرف سے ”اظہار الحق“ شائع ہوا ہے۔ جس میں اس نے بڑی دیدہ دلیری سے ہماری ایک عبارت غلط لکھ کر الٹا ہمیں مورد الزام بنایا ہے۔ چنانچہ ص ٦ میں لکھا ہے کہ: ”پہلا اعتراض یہ تھا کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔ جب قرآن مجید اور احادیث سے ثابت کیا گیا کہ انبیاء کے بھی استاد ہو سکتے ہیں تو اس اعتراف کے بغیر معترض کو کوئی چارہ نہ رہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دینی و شرعی علوم حضرت خضر علیہ السلام سے حاصل کئے۔“ ص ٧ حالانکہ ہم نے کشف تلبیس میں (حاصل نہیں کئے) لکھا ہے۔ لیکن مرزائی سیکرٹری نے اس کو ”حاصل کئے“ بنالیا۔
چیلنج
ہم مرزائی سیکرٹری کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر وہ ”کشف تلبیس“ کی مذکورہ عبارت میں ”حاصل کئے“ کے الفاظ ثابت کر دے تو اس کو ٢٥ ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ عبرت: جب اردو الفاظ میں یہ فرقہ اس طرح خیانت کرتا ہے تو دوسرے علمی مسائل میں ان کی دیانت کا کیا حال ہوگا؟ منجانب: حافظ محمد اسحاق قریشی جہلم شہر
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله وحده والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ وعلیٰ آلہ وصحبہ الذین جاہدوا فی الله معہ! برادرانِ اسلام پر واضح ہو کہ جہلم کی مرزائی پارٹی کے سیکرٹری اصلاح وارشاد کی طرف سے ایک ٹریکٹ ستمبر ١٩٦٦ء میں بنام ”ختم نبوت اور بعض دیگر مسائل کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر“ شائع ہوا تھا۔ جس کے جواب میں ہم نے فروری ١٩٦٧ء میں ”کشف تلبیس“ شائع کیا۔ جس میں مرزائی سیکرٹری کی تلبیسات کا پردہ چاک کیا گیا تھا۔ اب اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری کی طرف سے ایک ٹریکٹ ”اظہار الحق“ بجواب کشف تلبیس شائع کیا گیا ہے۔ جس میں تاریخ اشاعت نہیں لکھی گئی۔ گو کشف تلبیس کے دلائل و اعتراضات کا ٢
جواب مرزائی سیکرٹری نہیں دے سکے اور نہ ہی آئندہ انشاء اللہ دے سکتے ہیں۔ لیکن ناواقف لوگوں کو چونکہ ان کی تلبیسات سے دھوکا ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس کے جواب میں ”اعجاز الحق“ شائع کیا جا رہا ہے۔ اہل عقل وانصاف اگر غور فرمائیں گے تو ان کو یقین ہو جائے گا کہ مرزائیوں کا یہ ٹریکٹ درحقیقت ”اظہار حق“ نہیں بلکہ ”اخفاء الحق“ ہے۔ وما توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب !
مرزائی سیکرٹری نے شروع میں لکھا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد ہمارے مذکورہ ٹریکٹ کو آڑ بنا کر کشف التلبیس کے نام سے ایک ٹریکٹ شائع کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے جوابات کی مضبوطی کی وجہ سے وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ حضرت مولانا موصوف کی تقاریر کو بہانہ بنا کر از خود ما بہ النزاع مسائل کو چھیڑا ہے۔ بات تو اسی جگہ ختم ہو سکتی ہے۔ مولوی صاحب مذکور تحریری طور پر یہ اعلان کر دیں کہ انہوں نے احمدیت پر کبھی اعتراض نہیں کیا یا وہ اپنے اعتراضات واپس لیتے ہیں۔ ہم اسی وقت اپنا جواب واپس لینے کا اعلان کر دیں گے۔
الجواب
کیا ہی الٹی فہم ہے۔ مجاہد اسلام حضرت مولانا عبداللطیف صاحب زیدمجدہم خطیب جامع مسجد گنبد والی ہر باطل کے خلاف سینہ سپر ہیں اور جعلی مرزائی نبوت کی تردید بھی ان کے فرائض تبلیغ میں داخل ہے۔ وہ جب تک زندہ ہیں انشاء اللہ مرزائیت کی تردید کرتے رہیں گے۔ وہ انکار کیوں کریں وہ اپنے لاجواب اعتراضات واپس کیوں لیں۔ اگر مرزائی بروزی جعلی نبوت کی تبلیغ کا حق رکھتے ہیں تو مولانا موصوف کو بھی اس کی تردید کا حق حاصل ہے۔ ہم نے جو یہ لکھا تھا کہ حضرت مولانا موصوف کی تقاریر کو بہانہ بنا کر از خود ما بہ النزاع مسائل کو چھیڑا ہے۔ تو اس سے مراد مقامی مرزائیوں کی طرف سے تحریری طور پر جوابی سابقہ ٹریکٹ کی اشاعت ہے۔ جو مولانا موصوف کی تقاریر کو بہانہ بنا کر ہی لکھا گیا ہے اور اس میں یہ لکھنے کی بھی جسارت کی گئی ہے کہ ”حیات مسیح کا عقیدہ رکھنے والے بھی نعوذ باللہ ختم نبوت کے منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ (دیکھئے مرزائی ٹریکٹ ص ٦) علاوہ ازیں مرزائی سیکرٹری نے چکوال کے متعلق جو یہ لکھا ہے کہ اس وقت بھی حالات کی خرابی کی ذمہ داری ان لوگوں پر آتی ہے جو اپنی کثرت کے زعم میں زبانی اشتعال انگیزی کو کافی نہ سمجھتے ہوئے چکوال میں ہمارے جلسہ کے دوران غیر قانونی جلوس کی صورت میں مسجد میں حملہ آور ہوئے ۔ ”ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها ٣
آسان مطالعہ
تحریک ختم نبوت
پروفیسر
اسمہ“ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزائی مسجد اس آیت کا مصداق ہی نہیں بن سکتی۔ کیونکہ آیت میں ذکر اللہ سے منع کرنے کو ظلم کیا گیا ہے اور مرزائیوں کی تبلیغ نہ اللہ کے ذکر میں داخل ہے اور نہ ہی نبوت حقہ اور عقائد صحیحہ کی تبلیغ میں۔ عقائد کفریہ اور خیالات باطلہ کی تبلیغ کرنے والے تو اس آیت کا مصداق ہیں۔ ”ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد الله شاهدین علی انفسهم بالکفر (توبه) “ یعنی کفر و شرک کرنے والے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔
ب...... چکوال میں مرزائیوں کو لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ تبلیغ کرنے سے روکا گیا تھا اور مقامی حکام نے بھی حالات کی نزاکت کے پیش نظر ان کو لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔ کیونکہ ان کی تقاریر اہل اسلام کے لئے اشتعال انگیز ہوتی ہیں۔
جہلم کے ایک طالب علم کا واقعہ
مرزائی سیکرٹری نے اپنے رسالہ (اظہار الحق ص ٥) پر لکھا ہے کہ: ”مذکورہ ٹریکٹ میں ایک سے زیادہ جگہ یہ غلط بات بیان کی گئی ہے کہ ایک طالب علم کو ڈنڈے سے مار مار کر اس کے بازو کی ہڈی اس بناء پر توڑ دی گئی تھی کہ اس نے بلیک بورڈ پر ”ختم نبوت زندہ باد“ کے الفاظ لکھے تھے۔ چونکہ ہم آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں۔ اس لئے اس امر پر کسی احمدی کے مشتعل ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ البتہ اس طالب علم نے حضرت بانی احمدیت (مرزا قادیانی) کے متعلق بعض نازیبا کلمات بورڈ پر لکھے اور اپنے استاد سے گستاخی سے پیش آیا تھا اور پھر یہ بھی غلط ہے کہ اس کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ کیونکہ آپ لوگوں نے محکمہ تعلیم کے اس معاملہ میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائز و ناجائز تمام کوششیں کر کے دیکھ لیں۔ اگر اس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہوتی تو آپ یہ اعتراف کیوں کرتے کہ اس ٹیچر کو بالکل معاف کر دیا گیا ہے۔ ہڈی ٹوٹ گئی ہوتی تو پھر معاملہ قابل دست اندازی پولیس ہوتا۔ آپ کے معافی کے کیا معنی۔“
الجواب...... غلط بیانی اور بدحواسی
الف...... مرزائی سیکرٹری پر تو مدعی سست اور گواہ چست کی مثل صادق آتی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ فضل داد مرزائی ٹیچر نے محمد نعیم طالب علم کو اس لئے نہیں مارا کہ اس نے ”ختم نبوت زندہ باد“ کے الفاظ لکھے تھے۔ کیونکہ وہ ختم نبوت کو مانتے ہیں۔ حالانکہ خود فضل داد ٹیچر مذکور کی تحریر موجود ہے کہ اس نے اسی بناء پر اسی کو سزادی تھی۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ (مرزائی ماسٹر کا
٤
اقرار جرم) نقل مطابق اصل: جناب م نبوت زندہ باد، لکھا تھا۔ میں جماعت ہـ اس کے بازو پر بے احتیاطی سے شدید چـ ہر طرح محتاط رہوں گا۔ کسی قسم کی شکائـ مرزائیت کا پرچار سکول یا جماعت میں نـ
اب مرزائی سیکرٹری سے کوئـ ب...... طالب علم مذکو جاتا۔ لیکن گورنمنٹ ہائی سکول کے ہیـ کے درمیان مصالحت کرادی۔ اس لئـ ج...... مرزائی سیکرٹـ گئی ہوتی تو پھر معاملہ قابل دست اندا کشف التلبیس میں یہ نہیں لکھا کہ ہم مسلمانوں کے احتجاجات اور قرارداد کر دیا گیا ہے۔ اس میں تو محکمہ تعلیم کی اتنا سراسیمہ ہو گیا ہے کہ وہ اردو عبارت
سوال و جواب کی حقیقت
مرزائی سیکرٹری نے لکھا نقطۂ نظر ٹریکٹ کا نام اور اس کے مصـ نہیں کیا گیا۔ بلکہ بعض اعتراضات کشف التلبیس کے مصنف سوال جواب کو سوال قرار دیا گیا ہے اور خو
الجواب
ا...... مرزا قادیـ ہے۔ گویا سوال کا نام جواب رکھ دیـ
اقرار جرم ) نقل مطابق اصل ۔ ”جناب عالی! التماس ہے کہ محمد نعیم متعلم نہم ای نے بلیک بورڈ پر ’ختم نبوت زندہ باد‘ لکھا تھا۔ میں جماعت میں آیا تو یہ لکھا ہوا دیکھ کر جذبات میں آ کر اسے سزا دی۔ اس کے بازو پر بے احتیاطی سے شدید چوٹ لگ گئی۔ جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ میں ہر طرح محتاط رہوں گا۔ کسی قسم کی شکایت کا موقعہ پیدا نہ ہونے دوں گا۔ پیش ازیں میں نے مرزائیت کا پرچار سکول یا جماعت میں نہیں کیا۔“ دستخط : فضل داد گورنمنٹ ہائی سکول جہلم، مورخہ ١٧؍ ستمبر ١٩٦٦ء
اب مرزائی سیکرٹری سے کوئی پوچھے کہ غلط بیان کون ہے؟
- ب ...... طالب علم مذکور کے بازو کی ہڈی بھی یقیناً ٹوٹی تھی جس کی بناء پر کیس چلایا
جاتا۔ لیکن گورنمنٹ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر نے جلدی ہی ٹیچر مذکور اور محمد نعیم طالب علم کے والد کے درمیان مصالحت کرادی۔ اس لئے کیس نہ چل سکا۔
- ج ...... مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا اس کی انتہائی بدحواسی کی دلیل ہے کہ ہڈی ٹوٹ
گئی ہوتی تو پھر معاملہ قابل دست اندازی پولیس ہوتا۔ آپ کی معافی کے کیا معنی؟ (ص٥) ہم نے کشف تلبیس میں یہ نہیں لکھا کہ ہم نے فضل داد ٹیچر کو معاف کر دیا۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ باوجود مسلمانوں کے احتجاجات اور قراردادوں کے محکمہ تعلیمات کی طرف سے اس ٹیچر کو بالکل معاف کر دیا گیا ہے۔ اس میں تو محکمہ تعلیم کی شکایت کی گئی ہے۔ لیکن مرزائی سیکرٹری کشف تلبیس سے اتنا سراسیمہ ہو گیا ہے کہ وہ اردو عبارت بھی سمجھ نہیں سکتا۔
سوال و جواب کی حقیقت
مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ: ”ختم نبوت اور بعض دیگر مسائل کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر ٹریکٹ کا نام اور اس کے مندرجات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ بلکہ بعض اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات دیکھنے میں آئی ہے کہ کشف تلبیس کے مصنف سوال اور جواب میں فرق کرنے سے عاری ہیں۔ چنانچہ ہمارے جواب کو سوال قرار دیا گیا ہے اور خود جو جواب دیئے ہیں وہ اس قسم کے ہیں ۔“
الجواب
- ا...... مرزا قادیانی کی مذکورہ عبارت کی بناء پر تمام مرزائیوں سے ہمارا یہ سوال
ہے۔ گویا سوال کا نام جواب رکھ دیا اور جواب کا نام سوال۔ (ص٦)
٥
الجواب
الف...... مرزائی سیکرٹری کا یہ اعتراض اس کی کم فہمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ یہ کوئی ضابطہ نہیں کہ جس کتاب میں کسی کے اعتراضات کا جواب دیا جائے۔ اس میں کوئی سوال نہ پیش کیا جائے۔
ب...... مرزائی سیکرٹری نے ٹریکٹ اول میں جو لکھا تھا کہ: ”جس شخص نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی قرآن مجید یا بخاری شریف پڑھی ہو وہ ایسا لغو اور بے بنیاد اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تحصیل علم کی خاطر ایک لمبا سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے ایک بندے سے تحصیل علم کی درخواست کرنا اور پھر اپنے معلم کے ساتھ شاگردوں کی طرح رہنا اور اس سے بعض باتیں سیکھنا مذکور ہے۔“
اسی جوابی عبارت میں جو یہ لکھا ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی قرآن مجید یا بخاری شریف پڑھی ہو وہ ایسا لغو اور بے بنیاد اعتراض نہیں کر سکتا۔ اس میں دراصل یہ ایک سوال پایا جاتا ہے کہ کیا مولانا عبداللطیف موصوف نے بخاری شریف پڑھی ہے؟ یا انہوں نے بغور قرآن مجید پڑھا ہے؟ کیونکہ اگر پڑھا ہے، تو مذکورہ اعتراض نہ کرتے۔ مرزائی سیکرٹری بیچارہ یہی سمجھتا ہے کہ سوال وہی ہے جہاں سوالیہ الفاظ ہوں۔ حالانکہ بعض دفعہ حرف استفہام محذوف ہوتا ہے۔ مثلاً ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ دیکھ کر فرمایا۔ ”هٰذَا رَبِّی (انعام)“ ﴿یعنی کیا (تمہارے گمان میں) یہ میرا رب ہے؟﴾
ب...... مرزائی سیکرٹری نے پھر یہ لکھا ہے کہ یہ بات قرآن سے ثابت کریں کہ کسی نبی کا استاد نہیں ہوتا؟ حالانکہ ہم نے اس کا تسلی بخش جواب دے دیا تھا اور مرزا قادیانی کی یہ دونوں عبارتیں پیش کر دی تھیں کہ:
- ١...... ”لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے
ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کر کے اپنی قدرتِ عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوضِ قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔“
(براہین احمدیہ حصہ اول ص ٧، خزائن ج ١ ص ١٦)
- ٢...... ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ
جبرائیل علیہ السلام حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
٦
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
کی کمی فہمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ یہ کوئی دیا جائے۔ اس میں کوئی سوال نہ
نے جو لکھا تھا کہ: ”جس شخص نے اپنی وہ ایسا لغو اور بے بنیاد اعتراض تحصیل علم کی خاطر ایک لمبا سفر کر کے مگر اپنے معلم کے ساتھ شاگردوں کی
نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی قرآن نہیں کر سکتا۔ اس میں دراصل یہ ایک ری شریف پڑھی ہے؟ یا انہوں نے پیش نہ کرتے۔ مرزائی سیکرٹری بیچارہ کہ بعض دفعہ حرف استفہام محذوف ہوتا ہے۔ (انعام) “ یعنی کیا
بات قرآن سے ثابت کریں کہ کسی نہ دیا تھا اور مرزا قادیانی کی یہ دونوں
اسی ذات کے لائق ہے کہ جس نے امر سے پیدا کر کے اپنی قدرت پیش کے آپ ہی تعلیم اور تادیب حاشیہ حصہ اول ص ٧، خزائن ج ١ ص ١٦) حاصل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ کہ وحی رسالت تاقیامت منقطع انجام ص ٦١٤ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
ایمانداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ مرزائی سیکرٹری اپنے نبی کی بات بلا چون و چرا مان لیتا۔ لیکن دانستہ انکار کرتے ہوئے اس میں یہ تاویل کردی کہ اسی جگہ انہی روحانی علوم کا ذکر ہے۔ جس کے لئے انبیاء کرام کسی استاد کے محتاج نہیں ہوتے اور نہ حضرت مسیح موعود نے وہ کسی سے سیکھے تھے۔
(قادیانی رسالہ اظہار الحق ص ٧، ٨)
الجواب
الف..... مندرجہ عبارتوں میں مرزا قادیانی نے تعلیم و تادیب اور دینی علوم کے الفاظ لکھے ہیں تو کیا دینی علوم سے مراد ایسے روحانی علوم ہیں جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا؟ یہ بات تو ہر لکھا پڑھا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ دینی علوم سے مراد شرعی علوم ہی ہوتے ہیں جو امت کی ہدایت کا سبب بنتے ہیں اور یہ الفاظ کہ ”بذریعہ جبرائیل علیہ السلام حاصل کرے اور یہ کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہاں وہی دینی علوم مراد ہیں جن کا تعلق رسالت سے ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں مرزائی سیکرٹری یہ بھی بتائیں کہ کیا شرعی علوم روحانیت سے خالی ہوتے ہیں؟ شریعت تو قلوب وارواح کی تربیت و تطہیر کے لئے ہی نازل ہوتی ہے۔ کیا کوئی ایسا علم بھی ہے جو انبیاء کو بحیثیت رسالت و نبوت عطاء ہو اور اس کے ساتھ امت کی ہدایت وابستہ ہو اور وہ روحانیت سے خالی ہو۔ مرزائی سیکرٹری کی اس تاویل کا تو یہ نتیجہ ماننا پڑے گا کہ قرآن وحدیث کے علوم روحانی نہیں ہیں۔ روحانی علوم تو ان کے ماسوا ہیں جو مرزا قادیانی کو بغیر استاد عطاء کئے گئے ہیں۔ کیا مرزائی سیکرٹری یہ جاہلانہ نظریہ رکھتا ہے کہ شریعت اور طریقت دو متضاد چیزیں ہیں۔
ج..... مرزائی سیکرٹری نے اس سلسلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی مثال پیش کی ہے۔ لیکن وہ اس کے لئے مفید نہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے دینی علوم نہیں حاصل کئے تھے۔ بلکہ چند جزوی واقعات تھے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کو دے دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہ دیا۔ اسی طرح بخاری شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنو جرہم قبیلہ سے ادب عربی سیکھا تھا تو اس کا بھی دینی علوم سے کوئی تعلق نہیں اور ہر نبی زبان اور اس کے محاورات اپنے قبیلہ اور قوم ہی سے حاصل کیا کرتا ہے۔ یہ تو مرزائی سیکرٹری بھی مانتا ہے کہ رسول خدا ﷺ امی تھے اور آپ نے کسی
٧
پر تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم وا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ رہے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد بنے اور سپاہی اپنے افسر
استاد سے دین نہیں سیکھا تھا۔ کیا اسکا یہ بھی خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عربی زبان بھی اپنی قوم کے واسطہ سے نہیں بلکہ بواسطہ وحی حاصل کی تھی۔ خلاصہ یہ کہ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب نے جو فرمایا ہے کہ کسی نبی کا دین میں کوئی استاد نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہی بذریعہ وحی ان کو دینی علوم واحکام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہی بات مرزا قادیانی نے مندرجہ عبارتوں میں صراحۃً تسلیم کی ہے۔ لیکن یہ عجیب حق پرستی ہے کہ باوجود اس کے مرزا قادیانی تو نبی ہی رہیں اور مولانا موصوف قرآن وحدیث سے ناواقف قرار دیئے جائیں۔ عبرت، عبرت!
د....... بدحواسی اور اندھاپن
مرزائی سیکرٹری ہمارے اعتراضات اور دلائل سے اس قدر حواس باختہ ہو گیا ہے کہ وہ نفی اور اثبات میں تمیز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ (اظہار حق ص ٦) پر لکھتا ہے کہ: ”پہلا اعتراض یہ تھا کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔ جب قرآن مجید اور احادیث سے ثابت ہو گیا کہ انبیاء کے بھی استاد ہو سکتے ہیں تو اس اعتراف کے بغیر معترض کو کوئی چارہ نہ رہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دینی و شرعی علوم حضرت خضر علیہ السلام سے حاصل کئے۔“
پچیس ہزار روپیہ انعام
”ہم مرزائی سیکرٹری کو یہ چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ”کشف التلبیس“ سے یہ ثابت کر دے کہ ہم نے اس کی اس دلیل کو تسلیم کر لیا ہے۔ اگر وہ ایسا ثابت کر دے تو اس کو مبلغ دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔“ اور اگر نہ ثابت کر سکے تو مرزائیت سے تائب ہو کر ملت محمدیہ میں شامل ہو جائے۔
قارئین کرام سے گذارش ہے کہ وہ خود (کشف التلبیس ص ٧) کی زیر بحث عبارت پڑھ کر دیکھیں۔ ہم نے تو وہاں صاف طور پر ”حاصل نہیں کئے“ کے الفاظ لکھے ہیں۔ لیکن مرزائی سیکرٹری کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ گیا کہ اس کو ”نہیں“ کا لفظ نظر نہیں آیا اور ”حاصل کئے“ کے الفاظ پڑھ لئے۔ یا ”نہیں“ کا لفظ دیکھ تو لیا۔ لیکن اپنی روایتی بددیانتی کی وجہ سے جواب میں ”نہیں“ کا لفظ حذف کر دیا تاکہ ناواقف لوگوں کو فریب دیا جا سکے۔ آخر کون کون ”کشف التلبیس“ کی عبارت دیکھنے کی تکلیف کرے گا۔ مرزائیوں کی ایسی ہی حرکات کی بناء پر تو ہم نے جوابی ٹریکٹ کا نام ”کشف التلبیس“ رکھا تھا۔ کیا اس سے زیادہ بھی کوئی خطرناک اور حیرت انگیز تلبیس ہو سکتی ہے۔ ”چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد“ یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہاں
٨
مرزائی سیکرٹری کتابت کی غلطی کا عذر بھی نہیں کر ہے کہ ہم نے ”کشف التلبیس“ میں ”حاصل تلبیس یا اندھاپن کا اقرار کرے گا؟
س....... کشف التلبیس ص وهدينهم الى صراط مستقيم ہی صراط مستقیم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ”واجتبيناهم وهدينهم الى ہے۔ کیونکہ اس میں کسی نبی کے علم حاصل کرنے ہے کہ اٹھارہ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ ہی ہدایت ارشاد ہوتا ہے کہ آپ بھی انہی کے طریقے پر کا تو کوئی استاد نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ ہی نے ان وہ رہنما تھے اور آپ ان کے طریقہ کے پیرو
الجواب
الف....... دلیل تو صاف ہے کو چلانے کے لئے آئے ہیں اور شرعی علوم تعالیٰ نے خود انبیائے کرام کو صراط مستقیم علوم سیکھنے کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے وہ پھر شرعی علوم سیکھیں ان سے جن پر وہ سے یہ ہدایت خاصہ کا حصول ہی غیر ممکن ”كلا هدينا ونوحاً هدينا من قبل حضرت نوح علیہ السلام کو بھی اس سے پہلے واضح فرمایا: ”اجتبيناهم وهدينهم ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ ایصال الی المقصود (مقصود تک پہنچانا
ب....... اس کے بعد کے متعلق جو یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا ان
صحابہؓ کو تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے مجلسی پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ﷺ نے عربی زبان بھی اپنی قوم حضرت مولانا عبداللطیف صاحب الی ہی بذریعہ وحی ان کو دینی علوم عبارتوں میں صراحۃً تسلیم کی ہے۔ عمار ہیں اور مولانا موصوف قرآن
اس قدر حواس باختہ ہو گیا ہے کہ وہ تا ہے کہ: ”پہلا اعتراض یہ تھا کہ نبی ثابت ہو گیا کہ انبیاء کے بھی استاد ہو سکتے موسیٰ علیہ السلام نے دینی و شرعی علوم
’کشف تلبیس“ سے یہ ثابت کر پہنچانا ثابت کر دے تو اس کو مبلغ دس مرزائیت سے تائب ہو کر ملت محمدیہ
تلبیس ص ٧) کی زیر بحث عبارت کے الفاظ لکھے ہیں۔ لیکن مرزائی کر نہیں آیا اور ”حاصل کئے“ کے بد دیانتی کی وجہ سے جواب میں نہ جاسکے۔ آخر کون کون ”کشف گستاخی حرکات کی بناء پر تو ہم نے کی کوئی خطرناک اور حیرت انگیز کی“ یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہاں
مرزائی سیکرٹری کتابت کی غلطی کا عذر بھی نہیں پیش کر سکتا۔ کیونکہ اس نے جواب ہی اس بنیاد پر دیا ہے کہ ہم نے ”کشف تلبیس“ میں ”حاصل کئے“ کے الفاظ لکھے ہیں۔ کیا مرزائی سیکرٹری اپنی تلبیس یا اندھا پن کا اقرار کرے گا؟
س ...... کشف تلبیس میں ہم نے سورہ انعام کی آیت ”واجتبيناهم وهدينهم الى صراط مستقيم“ سے یہ ثابت کیا تھا کہ انبیاء کرام کو حق تعالیٰ کی طرف سے ہی صراطِ مستقیم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ: ”واجتبيناهم وهدينهم الى صراط مستقيم“ میں آپ کے دعوٰی کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں کسی نبی کے علم حاصل کرنے کی نفی نہیں کی گئی۔ البتہ اس جگہ یہ امر ضرور قابل غور ہے کہ اٹھارہ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ ہی نے (خصوصی) ہدایت فرمائی ہے۔ لیکن حضور ﷺ کو یہ ارشاد ہوتا ہے کہ آپ بھی انہی کے طریقے پر چلیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ انبیاء کرام کا تو کوئی استاذ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں خصوصی ہدایت فرمائی تھی۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کے وہ رہنما تھے اور آپ ان کے طریقہ کے پیروکار اور گویا ان کے شاگرد۔ (معاذ اللہ ) (اظہار حق ص ٧)
الجواب
الف ...... دلیل تو صاف ہے۔ کیونکہ انبیائے کرام صراط مستقیم پر خود چلنے اور دوسروں کو چلانے کے لئے آئے ہیں اور شرعی و دینی علوم ہی صراط مستقیم پر چلنے کا ذریعہ ہیں۔ تو جب حق تعالیٰ نے خود انبیائے کرام کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمادی تو اس میں ان کو کسی دوسرے سے دینی علوم سیکھنے کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے؟ یہ عجیب بات ہے کہ شرعی وحی تو انبیاء کرام پر نازل ہو اور وہ پھر شرعی علوم سیکھیں ان سے جن پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہی ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت خاصہ کا حصول ہی غیر سے دینی علوم کے حصول کی نفی کو مستلزم ہے۔ اسی لئے فرمایا: ”كلا هدينا ونوحاً هدينا من قبل“ ﴿ہم نے ان میں سے ہر ایک نبی کو ہدایت دی اور حضرت نوح علیہ السلام کو بھی اس سے پہلے ہدایت دی۔﴾ اور آخر میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرمایا: ”اجتبيناهم وهدينهم الى صراط مستقيم“ ﴿ہم نے ان سب کو چن لیا اور ان کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دی۔﴾ یہاں لفظ ہدایت میں اراءۃ الطریق (راہِ حق دکھلانا) اور ایصال الی المقصد (مقصود تک پہنچانا) دونوں معنی آگئے۔
ب ...... اس کے بعد مرزائی سیکرٹری نے امام الانبیاء والمرسلین خاتم النبیین ﷺ کے متعلق جو یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا ان کے شاگرد تو یہ اس کی انتہائی کوتاہ اندیشی کی دلیل ہے۔ کیونکہ
٩
اپنے کو تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم مُوا بَيْنَ يَدَىِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
مانے یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد نے اور سپاہی اپنے افسر
الف ........ جب ہماری طرف اس بارے میں مرزائی بھی وہی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کسی کے شاگرد نہیں تھے تو یہ نتیجہ کیونکر نکالا جا سکتا ہے؟
ب ........ ہم نے وہی لکھا ہے جو حق تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے۔ کیا مرزائی سیکرٹری ”فبھداہم اقتدہ“ کے الفاظ قرآنی پر بھی یہی اعتراض کرنا چاہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سابقہ انبیاء کے شاگرد تھے۔ العیاذ باللہ!
ج ........ قرآنی الفاظ ”فبھداہم اقتدہ“ ﴿آپ بھی ان انبیاء کے طریق پر چلیں۔﴾ سے کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت ﷺ کو ان انبیاء کی شاگردی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہاں ان انبیاء کے طریقہ پر چلنے کا حکم ہے نہ کہ ان سے دین و شریعت سیکھنے کا اور مطلب ہے کہ حق تعالیٰ نے انبیاء سابقین کو جو دین دیا تھا۔ آپ بھی اسی دین پر چلیں۔ کیونکہ سب انبیاء کا دین ایک ہی ہے اور احوال زمانہ کے اعتبار سے شریعتیں جدا جدا ہیں۔ اسی حقیقت کو ”ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً“ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو ملت عطاء ہوئی اور انبیائے سابقین کو جو دین دیا گیا وہ سب حق تعالیٰ ہی کی طرف سے تھا۔ اس لئے ملت ابراہیمی اور دین وہدایت انبیاء کی اتباع درحقیقت حق تعالیٰ ہی کی اتباع ہوگی۔ چنانچہ سرور انبیاء علیہم السلام کو دین انبیاء اور ملت ابراہیمی کا علم بھی حق تعالیٰ نے خود ہی بذریعہ وحی عطاء فرمایا ہے۔ یعنی انبیاء کی شاگردی سے اس حکم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا اور اگر مرزائی سیکرٹری کی الٹی فہم یہی نتیجہ نکالتی ہے تو یہ اعتراض اس کا قرآن پر ہے نہ ہم پر۔
سوال و جواب نمبر ٢
”حضرت مسیح علیہ السلام حج کریں گے۔“
مرزائی سیکرٹری نے (اظہار الحق ص٨) پر لکھا ہے کہ ہمارے جواب کے مسکت و مدلل ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مذکورہ اعتراض کو نظر انداز کر کے ”اصل اعتراض یہ ہے“ لکھ کر ایک زائد اعتراض کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ خطیب صاحب مذکور کی تقاریر سننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے مذکورہ اعتراض بڑے زور اور اصرار و تکرار سے کیا تھا۔
الجواب
الف ........ ”ہر نبی حج کرتا ہے۔“ کی بحث کو چھوڑ کر اس بحث کا اختیار کرنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ضرور حج کریں گے۔ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی مخالف کے ہاتھ کو چھوڑ کر اس کے گلے کو پکڑ لیا جائے۔ اب تو ہم نے مرزائیوں کا گلہ پکڑ لیا ہے۔ کیونکہ اصل بحث یہ ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی نے حج
١٠
نہیں کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام از روئے احادیث نہیں ہو سکتے جن کے آنے کی احادیث میں خبر دی گئی ہیں۔ ہم نے تو مرزا قادیانی کی نبوت کو جھوٹا ثابت کر ب ........ ”کشف اللبیس“ میں حضر بارے میں مسلم شریف کی یہ حدیث پیش کی گئی کہ: ” والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج التمتع فی الحج والعمرة) ”حضرت ابو ہریرہؓ سے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حض یا عمرہ کے لئے یا حج و عمرہ دونوں کے لئے احرام باند کا کوئی جواب دیا ہے؟ اور جواب ہو بھی نہیں سکتا۔ ک حضرت ابن مریم ضرور احرام باندھیں گے اور م مرزا قادیانی کو حج یا عمرہ کا احرام کسی طرح بھی نصیب ہو سکتے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی سیکرٹری نے ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مسیح موعود کو کشف میں د ہوتے ہیں۔ اس میں بھی تلبیس یا بدفہمی کا ثبوت دی مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ:
الف ........ مسلم شریف کی مذکورہ حد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حج کرتے دیکھا ہے میں ضرور حج یا عمرہ کریں گے۔
ب ........ اور مظاہر حق میں الح آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے حضرت اس کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جو قرب قیام الساعۃ میں بھی مرزا قادیانی کی عبارت کا تعلق اس اس کے یہ الفاظ ہیں۔ ”کیونکہ بموجب حدیث م
تعجب ہے کہ مرزائی سیکرٹری اپنے نبی
نہیں کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام از روئے احادیث ضرور حج کریں گے۔ لہٰذا مرزا قادیانی وہ مسیح نہیں ہو سکتے جن کے آنے کی احادیث میں خبر دی گئی ہے۔ آپ اس دلیل سے کیوں سراسیمہ ہو گئے ہیں۔ ہم نے تو مرزا قادیانی کی نبوت کو جھوٹا ثابت کرنا ہے۔ خواہ کسی دلیل سے کریں۔
ب...... ”کشف التلبیس“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حج و عمرہ کرنے کے بارے میں مسلم شریف کی یہ حدیث پیش کی گئی کہ: ”يحدث ابوهريرة عن النبي ﷺ قال والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً أو معتمراً (باب جواز التمتع في الحج والعمرة) “حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضرت ابن مریم ضرور فج روحاء سے حج کے لئے یا عمرہ کے لئے یا حج و عمرہ دونوں کے لئے احرام باندھیں گے۔ کیا مرزائی سیکرٹری نے اس حدیث کا کوئی جواب دیا ہے؟ اور جواب ہو بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ قسم کھا کے فرما رہے ہیں کہ حضرت ابن مریم ضرور احرام باندھیں گے اور مقام فج روحاء کی بھی تصریح کر دی اور چونکہ مرزا قادیانی کو حج یا عمرہ کا احرام کسی طرح بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس لئے آپ مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی سیکرٹری نے جو یہ لکھا ہے کہ ایام الصلح کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مسیح موعود کو کشف میں حج کرتے ہوئے دیکھا ہے اور کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔ اس میں بھی تلبیس یا بد فہمی کا ثبوت دیا ہے اور مظاہر حق کا حوالہ بھی ہرگز اس کے مفید مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ:
الف...... مسلم شریف کی مذکورہ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حج کرتے دیکھا ہے۔ بلکہ بطور پیش گوئی یہ فرمایا ہے کہ وہ آئندہ زمانہ میں ضرور حج یا عمرہ کریں گے۔
ب...... اور مظاہر حق میں ان روایات کی توجیہہ کی گئی ہے۔ جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طواف کرتے دیکھا ہے۔ لیکن اس کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جو قرب قیامت میں نزول مسیح کے بعد پیش آئے گا اور ایام الصلح میں بھی مرزا قادیانی کی عبارت کا تعلق اس پیش گوئی سے ہے نہ کہ کشف ماضی سے۔ کیونکہ اس کے یہ الفاظ ہیں۔ ”کیونکہ بموجب حدیث کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔“
(ایام الصلح ص ١٦٨، ١٦٩ خزائن ج ١٤ ص ٤١٦، ٤١٧)
تعجب ہے کہ مرزائی سیکرٹری اپنے نبی کی بات بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
١١
ج...... مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں کشف کے تعبیر طلب ہونے کی نفی نہیں کی گئی۔ لہٰذا وہ عبارت بھی معترض کے مفید مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے حمامۃ البشریٰ کی عبارت اس لئے پیش کی تھی کہ حدیث میں حضورﷺ نے جو قسم کھا کے فرمایا ہے کہ ابن مریم ضرور احرام باندھیں گے۔ اس میں مرزائیوں کی طرف سے کوئی تاویل پیش نہ کی جاسکے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جب خود لکھ دیا ہے کہ ”والقسم يدل على أن الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء“ (حمامۃ البشریٰ ص١٤ حاشیہ، خزائن ج٧ ص١٩٢) یعنی قسم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ خبر ظاہری معنی پر ہی محمول ہے جس میں تاویل اور استثناء کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن باوجود مرزا قادیانی کی اس تصریح کے مرزائی سیکرٹری نے اس میں یہ تاویل کر ہی دی ہے کہ: ”حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں کشف کے تعبیر طلب ہونے کی نفی نہیں کی گئی ۔“ اور یہی مرزائیوں کی وہ ہٹ دھرمی ہے جس کی وجہ سے ان کو قبول حق کی توفیق نہیں ہوتی اور اس ضد میں وہ اپنے مسلمہ نبی کی بات کو بھی ٹھکرا دیتے ہیں۔ کیا ہی عجیب ایمان ہے۔
سوال و جواب نمبر ٣
کیا خدا کی اطاعت کے بعد انگریزی حکومت کی اطاعت فرض ہے۔
مرزائی سیکرٹری نے پہلے ٹریکٹ میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے سکھوں کی ظالمانہ حکومت کے مقابلے میں انگریزی حکومت کی تعریف کی تھی اور اس کی تائید میں مولانا ظفر علی خان مرحوم کی وہ تحریریں پیش کی تھیں جو انہوں نے کسی زمانہ میں انگریزی حکومت کی تعریف میں لکھی تھیں۔ اس کے جواب میں ہم نے ”کشف التلبیس“ میں مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں درج کی تھیں جن میں انہوں نے انگریزی اطاعت کو ایک دینی فریضہ قرار دیا تھا اور ایسی تعریف لکھی تھی جو قرآنی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے کہ کوئی نبی ایسی باتیں نہیں کہہ سکتا۔ مثلاً:
- ١...... ”سو میرا مذہب جس کو بار بار ظاہر کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے
ہی۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، ملحقہ شہادت القرآن ص ٨٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
اس سے ثابت ہوا کہ حکومت برطانیہ کی اطاعت کرنا مرزا قادیانی کا مستقل مذہب ہے اور خدا کی اطاعت کے بعد اطاعت رسول ﷺ کی جگہ اطاعت برطانیہ پر ان کا ایمان ہے۔
١٢
حالانکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات میں اطاعت دیا گیا ہے۔ مثلاً: ”اطيعوا الله واطيعوا الرسـ الله“ کیا مولانا ظفر علی خان مرحوم نے بھی انگریز کے ہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مولانا ظفر علی خان انگریزی حکومت کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔ مرزا روزنامہ زمیندار سے نقل کی ہیں وہ ١٩١١ء کی ہیں۔ لیکن نے ان کے گاؤں کرم آباد میں نظر بند کر دیا تھا۔ اس تھے کہ ایک انگریز انجینئر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر وہا مشکل سے نوکروں نے اس کی جان چھڑائی۔ انگریز گالیاں دیں اور پھر یہ کہا کہ ہم اگلی بار ریوالور ساتھ شوٹ کر دے گا۔ یہ سننا تھا کہ مولانا مرحوم کو بھی جلال نوکروں کو حکم دیا کہ خوب مرمت کرو۔ اس سفید ہند ہوش کر دیا۔
(نوائے وقت ٢٦ نومبر ١٩٦٧ء) مولانا مر
کافی ہے اور اخبار زمیندار کا بحق سرکار جو سرمایہ ضبط بعد بھی مرزائی سیکرٹری یہی چیختا رہے گا کہ مولانا ظفر حکومت کے بارے میں یکساں تھے؟
ب...... ہم نے (کشف التلبیس ص پرستی کو جائز ثابت کرنے کے لئے مولانا ظفر علی خان لینے کے مترادف ہے۔ کیا مولانا ظفر علی خان کی پا کے صدق و کذب کو پرکھا جائے ۔“ لیکن مرزائی سیکر الحق“ میں مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولانا بھی وہ تحریریں درج کر دیں جن میں انگریزی حکو مرزائیوں کے لئے تب حجت بن سکتی ہیں جب وہ ا میں شامل کر لیں۔ یا کم از کم ان علماء کو مرزا قادیانی مرزائی ہے جو قرآن وحدیث سے یہ ثابت کر سکے
١٣
حالانکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات میں اطاعت خداوندی کے بعد اطاعت رسول ﷺ کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً : ’’اطیعوا الله واطیعوا الرسول ۔ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ‘‘ کیا مولانا ظفر علی خان مرحوم نے بھی انگریز کی اطاعت کو یہی مقام دیا ہے جو مرزا قادیانی کے ہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مولانا ظفر علی خان پر جب انگریز کی اسلام دشمنی ظاہر ہو گئی تو وہ انگریزی حکومت کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔ مرزائی سیکرٹری نے مولانا ظفر علی خان کی جو تحریریں روزنامہ زمیندار سے نقل کی ہیں وہ ١٩١١ء کی ہیں۔ لیکن مولانا مرحوم کو ١٩١٤ء کی جنگ عظیم میں انگریز نے ان کے گاؤں کرم آباد میں نظر بند کر دیا تھا۔ اس دوران میں ایک دفعہ آپ اپنے باغ میں بیٹھے تھے کہ ایک انگریز انجینئر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر وہاں سے گزرا تو کتوں نے اس کو گھیر لیا اور بڑی مشکل سے نوکروں نے اس کی جان چھڑائی۔ انگریز افسر نے فرط غضب میں مولانا کو انگریزی میں گالیاں دیں اور پھر یہ کہا کہ ہم اگلی بار ریوالور ساتھ لائے گا اور تمہارے ان ڈاگڑ (کتوں) کو شوٹ کر دے گا۔ یہ سننا تھا کہ مولانا مرحوم کو بھی جلال آ گیا۔ پہلے اس کے گال پر تھپڑ رسید کیا۔ پھر نوکروں کو حکم دیا کہ خوب مرمت کرو۔ اس سفید بندر کی۔ چنانچہ نوکروں نے اس کو مار مار کر بے ہوش کر دیا۔ (نوائے وقت ٢٦؍ نومبر ١٩٦٧ء) مولانا مرحوم نے انگریز کے زمانہ میں تقریباً ١٥ سال قید کاٹی ہے اور اخبار زمیندار کا بحق سرکار جو سرمایہ ضبط ہوا وہ تقریباً دو لاکھ ہے۔ کیا ان واقعات کے بعد بھی مرزائی سیکرٹری یہی چیختا رہے گا کہ مولانا ظفر علی خان اور مرزا قادیانی کے نظریات انگریزی حکومت کے بارے میں یکساں تھے؟
- ب ..... ہم نے (کشف التلبیس ص ١٢) پر یہ لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی کی انگریز
پرستی کو جائز ثابت کرنے کے لئے مولانا ظفر علی خان مرحوم کی تحریر کا سہارا لینا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لینے کے مترادف ہے۔ کیا مولانا ظفر علی خان کی یہ تحریر کوئی شرعی کسوٹی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کے صدق و کذب کو پرکھا جائے ۔“ لیکن مرزائی سیکرٹری نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور ”اظہار الحق“ میں مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولانا نذیر حسین صاحب دہلوی اور دارالعلوم ندوہ کی بھی وہ تحریریں درج کر دیں جن میں انگریزی حکومت کی تعریف ثابت ہے۔ لیکن یہ تحریریں مرزائیوں کے لئے تب حجت بن سکتی ہیں جب وہ ان علماء کو مرزا قادیانی کی طرح انبیاء کی فہرست میں شامل کر لیں۔ یا کم از کم ان علماء کو مرزا قادیانی کا استاد و مرشد مان لیں۔ کیا کوئی ایسا قابل مرزائی ہے جو قرآن وحدیث سے یہ ثابت کر سکے کہ خدا کی عبادت کے بعد دوسری چیز انگریز
١٣
اپنے کو تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اپنے لئے یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے ، اپ کرے یہ عین ادب وشائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک ہوتے ہیں جیسے مرید اپنے مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
حکومت کی اطاعت ہے ۔ ”ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین“ قرآن مجید میں تصریح ہے کہ ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم“ لیکن مرزائی فرقہ اس آیت کے تحت حکومت برطانیہ کو تیسرے درجہ پر اولی الامر بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ آیت میں ”منکم“ کی قید ہے۔ جس سے مراد وہ اولی الامر ( حکام ) ہیں جو ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ کے پابند ہوں اور انگریز تو اس آیت کے ہی سرے سے منکر اور کافر ہیں۔ وہ اولی الامر ”منکم“ میں کیونکر داخل ہو سکتے ہیں؟
- ٢...... ہم نے ”کشف التلبیس“ میں مرزا قادیانی کی جو عبارتیں پیش کی تھیں۔
ان میں ملکہ وکٹوریہ کے خطاب میں یہ عبارت بھی تھی۔ ”سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے ۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
اب تمام مرزائی امت کو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ شرعی دلائل سے یہ ثابت کریں کہ کسی سچے نبی کی نبوت کسی کافر حاکم کے وجود کی برکت کا نتیجہ ہو سکتی ہے؟ کیا مولانا ظفر علی خان اور مذکورہ علماء میں سے بھی کسی نے ملکہ وکٹوریہ اور انگریزی حکومت کی یہ شان لکھی ہے؟
- ٣...... انگریزی نبی اور پچاس الماریاں
یہاں ہم مرزا قادیانی کی بعض اور ایسی عبارتیں پیش کرتے ہیں جنکو پڑھنے کے بعد کسی صاحب عقل و شعور انسان کو اس بات میں شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کی نبوت انگریز کی طرف سے ہے نہ کہ خداوند عالم کی طرف سے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
اب مرزائی سیکرٹری بتائے کہ جس شخص نے انگریزی اطاعت اور جہاد کی ممانعت میں اتنی کتابیں لکھی ہیں جن سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں تو اس سے مقصود کیا صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ سکھوں کی ظالمانہ حکومت کے مقابلہ میں انگریزی حکومت اچھی ہے یا یہ مقصود تھا کہ مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا جذبہ نکل جائے اور وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح انگریز کی اطاعت کو اپنا مذہب بنالیں۔ تاکہ انگریزی حکومت کو کسی اسلامی انقلاب کا خدشہ باقی نہ رہے۔ اگر خدانخواستہ ١٤
مسلمان مرزا قادیانی کی اس نصیحت پر عمل کرتے اور ہند پیدا نہ ہوتے تو کیا ہندوستان آزاد اور پاکستان قائم ہ اطاعت اور غلامی میں ہی مسلمان زندگی بسر کرتے ۔ ”فاع
- ٤...... ان پچاس الماریوں میں سے اگ
دو درخواستیں ہی پڑھ لیں تو مرزائی نبوت بے نقاب ہو جا ہم ان کے بعض اقتباسات ہی پیش کریں گے۔ ان میں نے خود یہ لکھا ہے۔ ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزا
- الف ...... ”یہ عاجز گورنمنٹ کے اس قدی
خواہی کا گورنمنٹ کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا۔ اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیر خواہ اور دلی جانثار تھے ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے۔ جن کو دربار گورنری خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح ان کے دل میں دھن خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دنیا ۔ نے اس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لئے سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدرد مرحوم کو ..... اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں بست (٢٠) سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا ا سکتا ..... میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں مرحوم کے اثر نے ۔ (٢) اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانو الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طر
(مرزا غلام احمد از قادیان المرقوم ٢٧ دسمبر ١٨٩٩ء ملحقہ تریاق القلوب ص
درخواست دوم
مرزا قادیانی کی دوسری درخواست کا یہ عنوان دام اقبالہ“ ١٥
مسلمان مرزا قادیانی کی اس نصیحت پر عمل کرتے اور ہندوستان میں انگریزی حکومت کے مخالفین پیدا نہ ہوتے تو کیا ہندوستان آزاد اور پاکستان قائم ہو سکتا تھا۔ آج تک خدانخواستہ انگریز کی اطاعت اور غلامی میں ہی مسلمان زندگی بسر کرتے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
- ٣...... ان پچاس الماریوں میں سے اگر تعلیم یافتہ مسلمان مرزا قادیانی کی صرف
دو درخواستیں ہی پڑھ لیں تو مرزائی نبوت بے نقاب ہو جاتی ہے۔ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں ہم ان کے بعض اقتباسات ہی پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک درخواست کا عنوان مرزا قادیانی نے خود یہ لکھا ہے۔ ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست“ اس میں لکھتے ہیں کہ:
- الف...... ”یہ عاجز گورنمنٹ کے اس قدیم خیر خواہ خاندان میں سے ہے جس کی خیر
خواہی کا گورنمنٹ کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا ہے۔...... میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیر خواہ اور دلی جانثار تھے۔...... والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملی تھی...... اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح ان کے دل میں دھنس گئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے اس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لئے پسند کر لیا۔ لیکن اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو...... اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بیس (٢٠) سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا...... میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔“
(مرزا غلام احمد از قادیان المرقوم ٢٧/ ستمبر ١٨٩٩ء بملحقہ تریاق القلوب ص ٣٥٩ تا ٣٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٧ تا ٤٩١)
درخواست دوم
مرزا قادیانی کی دوسری درخواست کا یہ عنوان ہے۔ ”بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ“
١٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ حکام کے لیے بھی ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تھے، مجلس، پیر ومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ب....... ”چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے۔ پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٨)
ج....... ”سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ چنانچہ جناب چیف کمشنر بہادر پنجاب کی چٹھی نمبری ٥٧٢ مورخہ ١٠ اگست ١٨٥٨ء میں یہ مفصل بیان ہے کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان کیسے سرکار انگریزی کے سچے وفادار اور نیک نام رئیس تھے اور کس طرح ان سے ١٨٥٧ء میں رفاقت اور خیر خواہی اور مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ ظہور میں آئی...... گورنمنٹ عالیہ اس چٹھی کو اپنے دفتر سے نکال کر ملاحظہ کر سکتی ہے اور رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر لاہور نے بھی اپنے مراسلہ میں جو میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے نام ہے۔ چٹھی مذکورہ بالا کا حوالہ دیا ہے...... اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بصلۂ اسی خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطاء ہوتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٩)
د....... ”دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں۔ سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو میرے دل میں ہے۔ بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو در حقیقت ان کی محسن ہے۔ سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گناہگار ہوں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
”یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو دلوں میں جمادیں...... اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں...... یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ ١٦
مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں میں نے کبھی ہماری کـ مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔ (اس کے بعد مرزا قادیانی تاریخ طبع اور نمبر صفحات کی فہرست پیش کی ہے) گو جو مسلمانوں کو اطاعت گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کر اور غیر ملکوں کے لوگوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم برطانیہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کارروائی کیوں اور کـ ایسی کتابیں اور اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدعا تھـ
”میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قریشی خونی اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے نہیں سمجھتا اور محض ذخیرۂ موضوعات جانتا ہوں۔ ہـ کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غریب یقین رکھتا ہوں جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلـ
ط....... ”چوتھی گذارش یہ ہے کہ جمـ اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر خدام اور احباب اور یا تاجر یا وکلا اور یا نو تعلیم یافتہ انگـ اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکر اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگـ غریب طبع، غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میـ ١٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تھے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے۔ جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٨)
بھی دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان ہونے سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل سے جناب چیف کمشنر بہادر پنجاب کی چٹھی ان ہے کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس ہم رئیس تھے اور کس طرح ان سے ١٨٥٧ء نکشیہ ظہور میں آئی ...... گورنمنٹ عالیہ اس وٹ کسٹ صاحب کمشنر لاہور نے بھی اپنے کے نام ہے۔ چٹھی مذکورہ بالا کا حوالہ دیا بھی خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٩)
ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ ور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں۔ اس اعتقاد کی تحریک سے جو میرے دل میں نا پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو کرنی چاہئے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گناہگار
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)
روز خود بھی روح کے جوش سے اس بات میں عوام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے ہیں۔ ...... یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ
مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پرزور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں۔ جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں۔ (اس کے بعد مرزا قادیانی نے ٢٤ عدد کتابوں اور اشتہاروں کے نام تاریخ طبع اور نمبر صفحات کی فہرست پیش کی ہے) گورنمنٹ متوجہ ہو کر سوچے کہ یہ مسلسل کارروائی جو مسلمانوں کو اطاعت گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کرنے کے لئے برابر اٹھارہ برس سے ہو رہی ہے اور غیر ملکوں کے لوگوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کیسے امن اور آزادی سے زیر سایہ گورنمنٹ برطانیہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کارروائی کیوں اور کس غرض سے ہے اور غیر ممالک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدعا تھا۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٢ تا١٤)
”میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قریشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعود کا ادّعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا...... اور میں یقین رکھتا ہوں جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)
ط ...... ”چوتھی گذارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں۔ اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر یا وکلا اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں۔ یا ان کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا سجادہ نشینان غریب طبع، غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٠)
١٧
’’لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی توجہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ یہ ہے کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں۔ میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سر لیپل گرفن کی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضائع اور برباد نہ ہو جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی مکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
خودکاشتہ پودہ
’’صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گذار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط سے اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
اس کے بعد مرزا قادیانی نے ٣١٦ مریدوں کے نام لکھے ہیں۔ جو سرکار انگریزی کے نمک پروردہ اور جانثار ہیں۔
تبصرہ
مرزا قادیانی نے گورنمنٹ برطانیہ اور اس کے لیفٹیننٹ گورنر کے حضور میں جو عاجزانہ درخواستیں پیش کی ہیں۔ ان پر تفصیلی تبصرہ کی ضرورت نہیں رہتی اور دوسری درخواست کی آخری سطور میں مرزا قادیانی نے اپنے اور سارے خاندان کو انگریز کا خودکاشتہ پودہ تسلیم کر کے قادیانی
١٨
نبوت کی خود ہی قلعی کھول دی ہے۔ اس کے بعد بھی کیا اس علمی بحث کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کس درجہ میں نبی تھے یا نہ؟ ہاں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ انگریزی نبی ضرور تھے۔ بھلا جو شخص مسلمانوں کے دلوں میں انگریزی حکومت کی اطاعت جمانے کے لئے پچاس الماریوں کی مقدار میں کتابیں لکھے۔ خدا کی اطاعت کے بعد بجائے اطاعت رسول ﷺ کے اس کا دین وایمان انگریز کی اطاعت ہو اور جس کی درخواستوں کی زبان ایک نہایت کم ظرف اور مفاد پرست چپراسی کی زبان ہو جو کوئی خوددار ملازم بھی اپنے افسر کے سامنے استعمال کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو۔ یہ گداگری کا کشکول ہے یا رسالت الہیہ کی تبلیغ؟ ایک باضمیر چپراسی بھی اتنی خوشامد لجاجت اور چاپلوسی کسی افسر کی نہیں کر سکتا جو ایک مدعی مسیحیت نے انگریز کو راضی کرنے کے لئے کی ہے۔ مقتدر کفار کے مقابلے میں تو انبیاء کی زبان وہ ہوتی ہے جو حضرت ہود علیہ السلام نے استعمال فرمائی۔ ’’فکیدونی جمیعاً ثم لا تنظرون انی توکلت علی الله ربی وربکم ‘‘ ﴿پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرلو۔ پھر مجھ کو مہلت نہ دو۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے۔﴾
انبیاء معصومین کا مقام تو بہت بلند و برتر ہے کہ مرزا قادیانی کا ان سے کوئی موازنہ کیا جائے۔ صحابہ کرامؓ کے مجاہدانہ کارنامے قیصر و کسریٰ کے دربار میں ان کے باطل شکن چیلنج مجددین کا بڑے بڑے باجبروت سلاطین کے دربار میں اعلانِ حق سلف صالحین اور علمائے ربانیین کی حق بیانیاں تاریخِ اسلام کے صفحات میں نمایاں ہیں۔ لیکن اس کے برعکس قادیانی نبی کا کردار ملاحظہ فرمائیں کہ کاسۂ گدائی ہاتھ میں لئے انگریز جیسے مسلم کش کافر کی چوکھٹ پر کھڑے ہیں۔ ’’بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا‘‘
ان تحریروں کے باوجود مرزائی سیکرٹری کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کبھی کوئی جاگیر اور انعام حاصل نہیں کیا۔ بھلا انگریزی نبوت سے زیادہ بھی کوئی بڑا انعام دنیوی اعتبار سے ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی جاگیر اور ریاست انگریز کا خودکاشتہ پودا ہونے کے مساوی ہو سکتی ہے؟ ١٨٥٧ء میں آپ کے والد صاحب نے فرنگی فرمانبرداری اور غلامی کا جو حق ادا کیا اور جس کے صلہ میں ان کو مبلغ دو سو روپے انعام دیا گیا اور دربار گورنری میں کرسی نشین ہونے کا شرف پایا اور سرکاری خصوصی چٹھیات سے ان کو اور سارے خاندان کو سرفراز کیا گیا اور خود مرزا قادیانی نے بھی یہاں تک عرض کر دیا کہ : ’’میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو۔ الخ!‘‘
١٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
اللّٰهَ.......يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا لَا تَرْفَعُوُا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
یہ اپنے تمام مریدوں کی فہرست لیفٹیننٹ گورنر کے حضور میں کیوں پیش کی جا رہی ہے۔ یہ سب جاگیر دار اور رئیس اور گورنمنٹ کے تنخواہ دار اور پنشن دار آخر مرزا قادیانی کی نبوت کے کیونکر قائل ہو گئے۔ کیا یہ باتیں اب سر بستہ راز ہیں کہ مرزائی سیکرٹری ان سے واقف نہیں ہے۔ اگر بالفرض پہلے وہ بے خبر تھا تو ہم نے مذکورہ درخواستوں کے اقتباسات نقل کر کے یہ فرض بھی ادا کر دیا ہے۔ اب بھی اگر وہ قادیانی نبوت کا معتقد رہے تو خدا کی مہر کون توڑ سکتا ہے۔ ”مَن يضلل الله فلا هادی له “
ملکہ وکٹوریہ کو دعوت اسلام کی حقیقت
مرزائی سیکرٹری نے بڑے فخر سے لکھا ہے کہ ملکہ اور ساری غیر مسلم دنیا کو آپ (یعنی مرزا قادیانی) ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کی دعوت دیتے تھے۔
الجواب
ہم مرزائی سیکرٹری سے پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ستارہ قیصرہ میں اس ملکہ کی خدمت میں یہ لکھ دیا ہے کہ : ”یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٨ ، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
تو جب مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ہی خود ملکہ کے وجود کی برکت کا نتیجہ ہے۔ اگر ملکہ کا وجود نہ ہوتا تو مرزا قادیانی مسیح موعود ہی نہ بن سکتے۔ تو اب بتائیں کہ اس سے زیادہ بابرکت اسلام کس کا ہو سکتا ہے جو ملکہ کو نصیب تھا۔ اگر مرزا قادیانی مسیح ہیں تو ملکہ وکٹوریہ ماشاء اللہ مسیح گر ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کا اپنے مسیح گر کو دعوت اسلام دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اسی بناء پر ہم نے سوال کیا تھا کہ مرزا قادیانی نے ملکہ کو کس اسلام کی دعوت دی تھی؟
ب....... مرزا قادیانی کا یہ مذہبی عقیدہ تھا کہ ملکہ وکٹوریہ کی اطاعت کی جائے۔ حتیٰ کہ اس اطاعت کی بجا آوری میں انہوں نے پچاس الماریاں کتابوں کی شائع کر دیں تو اس حیثیت سے تو ملکہ مطاع ہوگی اور مرزا قادیانی اس کے مطیع۔ پھر ایک مطیع کا اپنے مطاع کو اپنی اطاعت کی دعوت دینا کیا معنی رکھتا ہے۔
ج....... کلمہ طیبہ میں مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنی ذات مراد لیتے ہیں کہ میں رسول عربی مکی مدنی کی ذات مقدسہ ہوں۔ جیسا کہ انہوں نے ایک غلطی کا ازالہ میں لکھ دیا ہے۔ ”خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
٢٠
پادریوں سے بحث رچانے کا ڈھونگ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کے لئے یہ ایک بڑا اشکال تھا۔ گروہ ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اب یہ سوال دجال آ گیا ہو۔ اس کا جواب ظاہر ہو گیا اور تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی دل کی معہود یہی ہے جو آ چکا۔ مگر تم نے اسے شناخت
خردجال
دجال کا گدھا، مرزا قادیانی کے ہے کہ: ”چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے۔ گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔“
دجال کا قتل
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مطلب مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ: ”پھر جو بیجا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے
فریب کا پردہ چاک ہو گیا
مرزا قادیانی نے دجال کا مسیح پادریوں کے جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔ میں آنجہانی ہو گئے اور پادری بدستور ان بدستور مرتد بنا رہے ہیں۔ نعوذ باللہ! مرزا قادیانی نے دجال کے گدھے قوم کا ایجاد ہے اور پادری ان کے امام اور چلائی تھی تو دجال اور اس کے گدھے کا خاتمہ
پادریوں سے بحث رچانے کا ڈھونگ
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے وغیرہ۔ مرزا قادیانی کے لئے یہ ایک بڑا اشکال تھا۔ اس کو اس طرح حل کیا کہ دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اب یہ سوال جو کیا جاتا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح ابن مریم سے پہلے دجال آ گیا ہو۔ اس کا جواب ظاہر ہو گیا اور پایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی دل کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔ سو اے بزرگو! دجال معہود یہی ہے جو آچکا۔ مگر تم نے اسے شناخت نہیں کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٨٩، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
خردجال
دجال کا گدھا، مرزا قادیانی کے نزدیک ریل گاڑی ہے۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ: ”چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے۔ جن کا امام اور مقتدا یہی دجال گروہ ہے۔ اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
دجال کا قتل
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باب لد پر دجال کو قتل کریں گے۔ اس کا مطلب مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ: ”پھر آخر باب لد پر قتل کیا جائے گا۔ لد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بیجا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب دجال کے بیجا جھڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢، ٤٩٣)
فریب کا پردہ چاک ہو گیا
مرزا قادیانی نے دجال کا مسیح کے ہاتھوں قتل ہونے کا یہ مطلب لیا ہے کہ مسیح موعود پادریوں کے جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔ لیکن یہ مطلب بھی ان کا پورا نہ ہوا۔ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں آنجہانی ہو گئے اور پادری بدستور ان کے بعد بھی دندناتے رہے اور آج تک مسلمانوں کو بدستور مرتد بنا رہے ہیں۔ نعوذ باللہ!
مرزا قادیانی نے دجال کے گدھے کو ریل گاڑی تسلیم کر کے یہ مان لیا ہے کہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے اور پادری ان کے امام اور مقتداء ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریل گاڑی انگریز حکومت نے چلائی تھی تو دجال اور اس کے گدھے کا خاتمہ تو جب تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ انگریزی حکومت ہی برباد
٢١ برباد
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ کرے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک کیسے ممکن ہے کہ ایک ماتحت اور سپاہی اپنے افسر
کردی جاتی۔ جس کے سہارے پادریوں کا گروہ جھگڑے کرتا رہا۔ لیکن مرزا قادیانی اس دنیا سے چل بسے اور تقریباً ٣٦ سال بعد تک ہندوستان میں انگریزی حکومت قائم رہی۔ حتیٰ کہ ١٩٤٧ء میں ہندوستان آزاد ہوا اور پاکستان عالم وجود میں آیا۔ لیکن پادریوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ارتداد کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اب تمام مرزائی امت سے ہمارا یہ ایک لایحل سوال ہے کہ مرزا قادیانی کس لئے مسیح موعود بنائے گئے تھے؟
پادریوں کے جواب میں جو کتابیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں۔ اس کی حقیقت بھی انہوں نے خود ظاہر کر دی ہے۔ چنانچہ گورنمنٹ برطانیہ کے حضور میں مذکورہ عاجزانہ درخواست میں لکھتے ہیں:۔
- الف....... ”سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت
عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥ خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
- ب....... لیفٹیننٹ گورنر کی خدمت میں مذکورہ درخواست میں لکھتے ہیں کہ: ”دیسی
پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کی عوض میں کس قدر مہذبانہ سختی استعمال نہ آتی تو بعض جاہل جو جلد بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں۔ شاید یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے۔ مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٦)
فرمائیے! کیا مرزا قادیانی نے جوابی کتابیں اسلام کی نصرت کے لئے لکھی تھیں۔ نہیں بلکہ اس میں بھی انگریز کی وفاداری اور اطاعت ملحوظ تھی کہ انگریز گورنمنٹ کے خلاف مسلمانوں میں جو جوش پیدا ہوا ہے وہ اندر ہی اندر دب جائے۔ معاذ اللہ حالانکہ پادریوں کی ناپاک تحریریں ایسی تھیں کہ مسلمان سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسی تحریروں کو برداشت نہیں کر سکتے اور انتہائی ذلت آمیز طریق یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے پادریوں کی وہ گندی عبارات بھی ان درخواستوں میں لکھ دی ہیں اور باوجود اس کے پھر انگریز کی خوشامد کر رہے ہیں۔ چنانچہ گورنمنٹ برطانیہ کے حضور
٢٢
میں مذکورہ درخواست میں لکھا ہے کہ: ” سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈا شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑ دلوں پر جو جوش رکھنے والی قوم ہے ان ط نے ان کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے ل الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں ا
مقام عبرت
مرزا قادیانی نے واقعی حق نم سرکار انگریزی کو خوش کرنے کے لئے پاد ورنہ مرزا قادیانی کے دل میں رحمت اللعا ہوا۔ جس گورنمنٹ عالیہ کے سایہ میں عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا اور قادیانی م اور گندی کتابیں ضبط کی جائیں اور پادر نام بھی مسلم حکومت ہوتی تو پادریوں کو ای اگر خدانخواستہ لکھنے کی جسارت کرتے تو جم
سوال و جواب نمبر ٤
”انبیاء کرام اور کافر حکوم مرزائی سیکرٹری نے اس سلسل لکھا تھا کہ قرآن مجید میں انبیاء کے جو کا وہ حکومت کے تختہ الٹتے آتے ہیں۔ ہ قرآن مجید کے کسی مقام سے یہ اصول ث میں تصریح ہے کہ: ”كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ
میں مذکورہ درخواست میں لکھا ہے کہ: ”بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں بدامنی پیدا نہ ہو۔“
(اشتہار ملحقہ تریاق القلوب ص ٨، خزائن ج ١٥ص٤٩٠)
مقام عبرت
مرزا قادیانی نے واقعی حق نمک ادا کر دیا کہ مسلمانوں کے اسلامی جوش کو ٹھنڈا کرنے اور سرکار انگریزی کو خوش کرنے کے لئے پادریوں کے جواب میں کچھ سخت الفاظ میں کتابیں لکھ دیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے دل میں رحمت اللعالمین ﷺ کی اس صریح توہین کے خلاف کوئی جوش نہیں پیدا ہوا۔ جس گورنمنٹ عالیہ کے سایہ میں یہ ناپاک کتابیں پادریوں نے لکھیں اس کی وفاداری اور عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا اور قادیانی نبی ظاہرداری کے طور پر بھی یہ مطالبہ نہ کر سکا کہ ایسی ناپاک اور گندی کتابیں ضبط کی جائیں اور پادریوں کو سنگین سزا دی جائے۔ کاش کہ اگر اس وقت کوئی برائے نام بھی مسلم حکومت ہوتی تو پادریوں کو ایسی اشتعال انگیز کتابیں شائع کرنے کی جسارت نہ ہوتی اور اگر خدانخواستہ لکھنے کی جسارت کرتے تو جہنم رسید کئے جاتے۔ عبرت! عبرت!! عبرت!!!
سوال و جواب نمبر ٤
”انبیائے کرام اور کافر حکومت۔“
مرزائی سیکرٹری نے اس سلسلہ میں یہ لکھا ہے کہ چوتھے اعتراض کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ قرآن مجید میں انبیاء کے جو کام بیان ہوئے ہیں۔ ان میں کسی جگہ یہ کام نہیں بتایا گیا کہ وہ حکومت کے تختے الٹنے آتے ہیں۔ ہماری اس بات کی تغلیط و تردید کے لئے ضروری تھا کہ قرآن مجید کے کسی مقام سے یہ اصول نکال کر بتایا جاتا۔ اس کے برعکس یہ لکھا ہے کہ قرآن مجید میں تصریح ہے کہ: ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ لقوی عزیز“
٢٣
صحابہ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
- الف ...... اوّل تو اس جگہ جو دعویٰ کیا گیا تھا کہ نبی کافر حکومت کو ختم کر دیتے ہیں۔
اس کا کوئی ذکر نہیں۔
- ب ...... دوسرے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر اس جگہ ظاہری غلبہ ہی مراد ہے تو
معترض ان انبیاء کے متعلق کیا کہے گا جو قرآن مجید کی تصریح کے مطابق کافروں کے ہاتھوں سے شہید کر دیئے گئے۔
الجواب
- الف ...... حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب دام فیضہ نے یہ بطور کلیہ کبھی نہیں فرمایا
کہ انبیاء ضرور کافر حکومت کو ختم کر دیتے ہیں۔ یا یہ کہ انبیاء کے غالب ہونے کا یہ مطلب ہے کہ کوئی نبی شہید نہیں ہوتا۔ مرزائی سیکرٹری نے بطور تلبیس ان دعاوی کو مولانا موصوف کی طرف منسوب کر دیا۔ ہاں یہ مولانا موصوف نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے کافر حکومت کی اس طرح خوشامد، وفاداری، اطاعت اور جانثاری کو اپنا مذہب قرار دیا ہو۔ جو مرزا قادیانی نے اپنی مذکورہ درخواستوں میں ظاہر کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی ظاہر ہے کہ جو انبیاء شہید ہوئے وہ کفار کے تقابل اور ٹکراؤ میں شہید ہوئے۔ اگر بالفرض وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح کافر اقتدار کے کاسہ لیس بن جاتے تو ان کو شہید کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر وہ کافر اقتدار کی غلامی پر قناعت کرتے ہوئے مرزا قادیانی کی طرح جہاد کو منسوخ کر دیتے تو پھر کفار کو ان سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا؟
- ب ...... ”کشف التلبیس“ میں ”کتب الله لا غلبن انا ورسلی“ کی
آیت کے تحت ہم نے لکھا تھا کہ حق تعالیٰ نے عموماً انبیاء کرام کو اعدائے اسلام کے مقابلہ میں نصرت و غلبہ عطاء فرمایا اور کافر قوموں کو عذاب سے ہلاک کیا۔ اس میں ہم نے عموماً کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اگر ہم اس کے بجائے جمیع یا تمام وغیرہ کا لفظ لکھتے تو مرزائی سیکرٹری شہید انبیاء سے ہمارے خلاف استدلال کر سکتا تھا اور یہ امر قرآن سے ثابت ہے کہ عموماً انبیائے کرام کے مقابلہ میں کافر قوموں کو ہلاک کر دیا گیا۔ حضرت نوح ، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام وغیرہ کے یہ واقعات قرآن مجید میں متعدد بار ذکر کئے گئے ہیں اور جو انبیاء شہید ہوئے ان کے بعد مسلسل دوسرے انبیاء کو مبعوث کیا جاتا رہا۔ جنہوں نے دعوت دین کا فریضہ ادا کیا اور اس طرح دین کو انبیاء کے ذریعہ غالب رکھا گیا۔ لیکن برعکس اس کے یہ نہیں ہوا کہ ٢٤
ایک نبی شہید بھی نہ ہو اور وہ کافر حکومت کی شاخسانے سامنے کفار ہلاک ہوں نہ دین غالب ہو اور وہ اس کوئی نبی مبعوث بھی نہ ہو۔ یہ صرف انگریزی نبی نمونہ ہیں۔
- ٢ ...... مرزائی سیکرٹری نے یہ لکھا
دعویٰ بلا دلیل کر دیا گیا ہے کہ بادشاہ ریان بن الو چلتا ہے کہ بادشاہ کا قانون نافذ اور موثر تھا۔ فرما الا ان يشاء الله (يوسف) ”(اس طرح (ورنہ) وہ بادشاہ کے قانون کے اندر رہتے ہوئے تھا۔“
الجواب
- الف ...... بادشاہ کے رائج قانون
ہو) اور بات ہے اور خود بادشاہ کا ایسی موثر طاق نہ اٹھا سکیں اور بات ہے اگر ایسا ہوتا تو حضرت الٰہی اپنے بھائی کو اسی تدبیر سے کیوں روک لیتے
- ب ...... بادشاہ کا برائے نام ہو
مكنا ليوسف في الارض يتبوأ منها طاقت دی۔ حضرت یوسف کو ملک میں جہاں آ خازن میں ہے۔ ”ومن التمكين هو ان الاشارة بقوله يتبوأ منها حيث يشا میں کوئی شخص نزاع نہ کر سکے اور اسی طرح اس میں جگہ پکڑتے۔“
- ج ...... تفسیر خازن میں ہے
الملك وكان العزيز“ لقب ملک مصر یو تھا کہ اسے بادشاہ ...... اور اس وقت مصر کے حضرت یوسف خود بھی بادشاہ بن گئے تھے۔
ایک نبی شہید بھی نہ ہو اور وہ کافر حکومت کی ثنا خوانی اور وفاداری کا بھی دم بھرتا رہے۔ نہ اس کے سامنے کفار ہلاک ہوں نہ دین غالب ہو اور وہ اس جہاں سے رخصت ہو جائے اور اس کے بعد کوئی نبی مبعوث بھی نہ ہو۔ یہ صرف انگریزی نبی کی خصوصیت ہے۔ انبیاء صادقین اس سے بلند و برتر ہیں۔
- ٢....... مرزائی سیکرٹری نے یہ لکھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر میں یہ
دعویٰ بلادلیل کر دیا گیا ہے کہ بادشاہ ریان بن الولید برائے نام تھا۔ قرآن مجید سے تو بخوبی پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ کا قانون نافذ اور مؤثر تھا۔ فرمایا: ”ماكان ليأخذ اخاه فى دين الملك الا ان يشاء الله (یوسف) “ ﴿اس طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کے لئے ایک تدبیر کی (ورنہ) وہ بادشاہ کے قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے بھائی کو اللہ کی تدبیر کے بغیر روک نہیں سکتا تھا۔﴾
الجواب
- الف ...... بادشاہ کے رائج قانون کے مطابق فیصلہ کرنا (جو شریعت کے خلاف نہ
ہو) اور بات ہے اور خود بادشاہ کا ایسی مؤثر طاقت ہونا کہ اس کے بغیر یوسف علیہ السلام کوئی قدم نہ اٹھا سکیں اور بات ہے اگر ایسا ہوتا تو حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ کی اجازت کے بغیر بامر الٰہی اپنے بھائی کو اسی تدبیر سے کیوں روک لیتے۔
- ب ...... بادشاہ کا برائے نام ہونا ان الفاظ قرآنی سے ثابت ہے۔ فرمایا: ”وکذلک
مکنا ليوسف فى الارض يتبوّا منها حيث يشاء “ ﴿اور اس طرح ہم نے (تمکین) طاقت دی۔ حضرت یوسف کو ملک میں جہاں آپ چاہتے جگہ پکڑتے۔﴾ اس آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے: ”ومن التمكين هو ان لا ينازعه منازع فيما يراه ويختاره واليه الاشارة بقوله يتبوّا منها حيث يشاء “ ﴿اور تمکین کا یہ معنی ہے کہ آپ کی رائے اور فیصلہ میں کوئی شخص نزاع نہ کرسکے اور اسی طرح اس آیت میں اشارہ کیا ہے کہ جہاں چاہتے آپ ملک میں جگہ پکڑتے۔﴾
- ج ...... تفسیر خازن میں ہے: ”قالوا يا ايها العزيز ، يعنون يا ايها
الملک وكان العزيز “ لقب ملک مصر یومئذ (اور بھائیوں نے جو اے عزیز کہا تو اس سے مراد یہ تھا کہ اے بادشاہ ....... اور اس وقت مصر کے بادشاہ کا لقب عزیز تھا) اس سے ثابت ہوا کہ آخر میں حضرت یوسف خود بھی بادشاہ بن گئے تھے۔
٢٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک میں پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
...... تفسیر خازن لکھتے ہیں۔ ”قال ابن عباس ...... فوض الملك الاكبر اليه ملكه وعزل قطفير عما كان عليه وجعل يوسف مكانه “ ﴿اور بڑے بادشاہ نے اپنا ملک حضرت یوسف کے سپرد کر دیا اور قطفیر کو معزول کر دیا اور حضرت یوسف کو اس کی جگہ مقرر کیا۔﴾
”قال ابن اسحق قال ابن زيد وكان لملك مصر خزائن كثيرة فسلمها الى يوسف وسلم له سلطانه كله وجعل امره وقضاءه نافذا فى مملكته “ ﴿اور ابن اسحق کہتے ہیں کہ ابن زید نے فرمایا کہ بادشاہ مصر کے پاس بہت سے خزانے تھے جو اس نے حضرت یوسف کے سپرد کر دیئے اور اپنی ساری سلطنت ان کے حوالہ کر دی اور اپنی مملکت میں ان کے حکم اور فیصلے کو نافذ کر دیا۔﴾
س ...... ”قال مجاهد ولم يزل يوسف يدعوا الملك الى الاسلام ويتلطف به حتى اسلم الملك وكثير من الناس فذلك قوله سبحانه وتعالى وكذلك مكنا ليوسف فى الارض يتبوأ منها حيث يشاء (تفسیر خازن)“ ﴿حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے۔ حتیٰ کہ وہ مسلمان ہو گیا اور بہت سے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ پس یہی ہے قول اللہ تعالیٰ کا کہ ہم نے اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ملک میں طاقت دی۔ آپ جہاں چاہتے جگہ پکڑتے۔ تفسیر مدارک التنزیل میں بھی یہی لکھا ہے کہ بادشاہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام
فرعون کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عظیم غلبہ اور فرعونیوں کا آپ کے سامنے دریائے قلزم میں غرق ہونا ہر خاص و عام کو معلوم ہے۔ لیکن مرزائی سیکرٹری کی تلبیس اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ وہ اس کے جواب میں بھی نعوذ باللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عدم غلبہ ثابت کرنے کے لئے یہ لکھ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ارض موعودہ دلانے کے لئے مصر سے نکال کر لائے تھے۔ لیکن بنی اسرائیل کی کمزوریوں کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی تمام قوم چالیس سال بیابانوں میں رہی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں ہی فوت ہوئے۔
(اظہار الحق ص ١٣)
٢٦
بیابانوں میں تو حضرت موسیٰ علیہ نافرمانیوں کی سزا ملی تھی۔ اس کو کفار کے م سیکرٹری کوئی تو حق کی بات مان لیا کرو۔ والل
حیات حضرت مسیح علیہ السلام
ہم نے (کشف التلبیس ص٢٠) کہتے ہیں کہ: ”از روئے قرآن مجید حضر ہے۔ اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹر کرنے کے لئے قرآن مجید کی جو آیت پی قطعی کوئی ذکر نہیں ہے اور اس آیت کریم کہتے ہیں کہ آپ کو ایک بھی ایسی آیت ن زندگی اور آسمان پر خاکی جسم کے ساتھ زند پھر لکھا ہے کہ: ”ظاہر ہے کہ لٹکانا چاہتے تھے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے درست تسلیم کی جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکل پر لٹکانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے حق تع عقل سلیم اسے تسلیم کرے گی۔ دیدہ باید
الجواب
الف ...... مرزائی سیکرٹری کرتا ہے۔ ہم نے جو لکھا اسے عقل س ہے۔ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام استدلال کیا تھا۔ ”وَمَا قَتَلُوهُ وَ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ گئی اور انہوں نے آپ کو یقیناً قتل ن حکمت والا ہے۔﴾
صحابہ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
ابن عباس...... فوض الملك علیہ وجعل يوسف مكانه “ اور قطفیر کو معزول کر دیا اور حضرت یوسف کو
وكان لملك مصر خزائن كثيرة ملكه وجعل امره وقضاه نافذا فى کہ بادشاہ مصر کے پاس بہت سے خزانے ساری سلطنت ان کے حوالہ کر دی اور اپنی
يوسف يدعوا الملك الى الاسلام الناس فذلك قوله سبحانه وتعالى منها حيث يشاء (تفسير خازن)“ بادشاہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور سلمان ہو گیا اور بہت سے لوگ بھی مسلمان رح حضرت یوسف علیہ السلام کو ملک میں ف التنزیل میں بھی یہی لکھا ہے کہ بادشاہ
لام کا عظیم غلبہ اور فرعونیوں کا آپ کے ہے۔ لیکن مرزائی سیکرٹری کی تلبیس اور کہ اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عدم غلبہ سلام بنی اسرائیل کو ارض موعودہ دلانے کمزوریوں کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں ہی فوت
(اظہار الحق ص ١٣)
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ گزرے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک سے بھی بڑھ کر غنڈے اور سپاہی اپنے افسر
بیابانوں میں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت مسلمہ کے ساتھ رہے اور یہ قوم کو نافرمانیوں کی سزا ملی تھی۔ اس کو کفار کے مقابلہ میں غالب نہ آنے سے کیا تعلق ہے۔ مرزائی سیکرٹری کوئی تو حق کی بات مان لیا کرو۔ واللہ الهادی!
حیات حضرت مسیح علیہ السلام
ہم نے (کشف التلبیس ص ٢٠) پر یہ لکھا تھا کہ مرزائیوں کا یہ بہت بڑا فریب ہے جو وہ کہتے ہیں کہ : ”از روئے قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری لکھتا ہے۔ لیکن بزعم خود ہمارے فریب کا پردہ چاک کرنے کے لئے قرآن مجید کی جو آیت پیش کی گئی ہے اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کا قطعی کوئی ذکر نہیں ہے اور اس آیت کریمہ پر نہیں بلکہ ہم سارے قرآن مجید پر حصر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو ایک بھی ایسی آیت نہیں ملے گی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی زندگی اور آسمان پر خاکی جسم کے ساتھ زندہ ہونے کا ذکر ہو۔“
پھر لکھا ہے کہ : ”ظاہر ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو قتل کرنا اور سولی پر لٹکانا چاہتے تھے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے آپ کو جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا۔ اگر آپ کی یہ منطق درست تسلیم کی جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو قتل اور سولی پر لٹکانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے آپ کے جسم کو روح کے بغیر اپنی طرف اٹھا لیا۔ کیا عقل سلیم اسے تسلیم کرے گی۔ دیدہ باید“
(اظہار الحق ص ١٣)
الجواب
الف....... مرزائی سیکرٹری ہمارے دلائل سے حواس باختہ ہو کر ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ ہم نے جو لکھا اسے عقل سلیم تو تسلیم کرتی ہے۔ ہاں عقل سقیم کے ادراک سے وہ بالا ہے۔ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کے لئے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا تھا۔ ”وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْناً بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَيْهِ وَكَانَ اللهُ عَزِيْزاً حَكِيْماً (النساء)“ اور انہوں نے نہ آپ کو یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا بلکہ ان (یہود) کے لئے شبیہ بنا دی گئی اور انہوں نے آپ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔﴾
٢٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ حترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، شاگرد معلم، پیر ومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اس آیت میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کی نفی کی ہے۔ یعنی آپ یقیناً مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے جو ما قتلوہ فرمایا ہے۔ یہاں ضمیر ہو کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ ایک واضح بات ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو قتل کرنا چاہتے تھے نہ کہ روح کو۔ کیونکہ روح تو نظر ہی نہیں آتی اور پھر موت اور قتل کے بعد بھی روح زندہ ہی رہتی ہے۔ ہمیشہ قاتل جسم انسانی پر حملہ کرتا ہے نہ کہ روح پر۔ تو اللہ تعالیٰ نے جو آخر میں فرمایا کہ: ”بل رفعه اللہ الیہ“ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ تو اس کا مطلب صاف یہی نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جسم سمیت اٹھا لیا۔ یہاں مرزائی یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا درجہ بلند کر دیا۔ حالانکہ یہ مطلب بالکل غلط ہے۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ کے جسم کو اٹھا لیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو اٹھایا جس کو یہود قتل کرنا چاہتے تھے اور وہ جسم ہے نہ روح۔
باقی رہا مرزائی سیکرٹری کا یہ سوال کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو نہ اٹھایا ہوگا۔ کیونکہ یہود روح کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو یہ انتہائی لغو سوال ہے۔ کیونکہ مراد یہاں جسم مع الروح ہے نہ صرف جسم ۔ کیونکہ آپ زندہ تھے اور کسی زندہ انسان کے جسم کو اوپر اٹھانے کا یہی مطلب ہوا کرتا ہے کہ روح بھی ساتھ ہی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ مرزائی سیکرٹری نے فلاں روز جہلم سے لاہور کا سفر کیا تو بظاہر تو اس کے جسم کو ہی بس یا ریل میں دیکھا گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ جسم مع الروح زندہ ہی لاہور گیا ہے۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ہم نے کشف التلبیس میں یہ الفاظ لکھے تھے کہ: ”حق تعالیٰ نے آپ کو جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کی بجائے اگر ہم یہ لکھتے کہ آپ کے جسم کو اٹھا لیا تو کسی پہلو سے اعتراض ہو سکتا تھا۔ لیکن آپ کو جسم سمیت کے الفاظ کا یہی مفہوم تھا کہ آپ جسم سمیت زندہ اٹھائے گئے ۔“
- ب ...... مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایک آیت
بھی ایسی نہیں ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی زندگی ثابت ہوتی ہے۔
کیونکہ حق تعالیٰ نے یہاں ”بل“ کا لفظ استعمال کر کے منکرین حیاتِ جسمانی کے سارے بل نکال ڈالے ہیں۔ عربی میں اس ”بل“ کو ابطالیہ کہتے ہیں۔ عربی نحو کا یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ ”بل“ کے مابعد اور ماقبل کے مضمون ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر ”بل رفعه اللہ الیہ“ سے بقول مرزا قادیانی رفع روحانی اور درجہ کی بلندی مراد لی جائے تو اس میں اور قتل میں
٢٨
کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کرے۔ جیسا کہ وہ انبیاء جو شہید ہوئے برعکس اس جسمانی میں تضاد پایا جاتا ہے اور دونوں ایک جگہ جمع نہ کو قتل بھی کر دیا جائے اور اسی کو زندہ بھی اٹھا لیا جائے؟
بل کی نظائر
قرآن کریم میں اس کی نظیریں بہت ہیں م
- ١...... ”وقالوا اتخذ الرحمٰن
اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد پکڑی۔ بلکہ وہ یہاں بل کے استعمال کرنے سے یہ ثاب تضاد ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو اللہ کا بندہ ہو وہ بیٹا بھی ہ
- ٢...... ”ام يقولون به جنة ب
کہتے ہیں کہ آپ (ﷺ) کو جنون ہے بلکہ آپ ان یہاں بھی بل کے استعمال کرنے سے جو ہے۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو
ایک تلبیس کا ازالہ
یہاں مرزا قادیانی نے یہ جواب دیا ہے ک عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے صلیب پر چڑھایا تو ہے عربی زبان میں صلب کا معنی سولی پر چڑھانا ہے۔ ن صلب کا معنی بردار کردن لکھا ہے۔ یعنی سولی پر چڑھ یہی معنی کرتے ہیں کہ: ”نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر
مرزائی اعتراض
مرزائی سیکرٹری نے کشف التلبیس کی ایک کہ علاوہ ازیں حسب ذیل احادیث میں واضح ہے ہوں گے۔ لیکن اس کے بعد جو دو حدیثیں درج کی ہ ہونے کا ذکر تک نہیں ہے۔ آپ خود فیصلہ کیجئے کہ م
٢٩
کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی قتل ہو کر بھی روحانی درجات حاصل کرے۔ جیسا کہ وہ انبیاء جو شہید ہوئے برعکس اس کے اگر رفع جسمانی مراد ہو تو قتل اور رفع جسمانی میں تضاد پایا جاتا ہے اور دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک آدمی کو قتل بھی کر دیا جائے اور اسی کو زندہ بھی اٹھا لیا جائے۔
بل کی نظائر
قرآن کریم میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ مثلاً:
- ١....... ”وقالوا اتخذ الرحمٰن ولداً بل عباد مکرمون (الانبیاء)“
﴿اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد پکڑی۔ بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں۔﴾ یہاں بل کے استعمال کرنے سے یہ ثابت کیا کہ خدا کا بیٹا اور خدا کا بندہ ہونے میں تضاد ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو اللہ کا بندہ ہو وہ بیٹا بھی ہو۔ یا برعکس۔
- ٢....... ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق (مؤمنون)“ ﴿کیا وہ
کہتے ہیں کہ آپ (ﷺ) کو جنون ہے بلکہ آپ ان کے پاس حق لائے ہیں۔﴾ یہاں بھی بل کے استعمال کرنے سے یہی ثابت ہوا کہ حق لانے اور جنون میں تضاد ہے۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حق لائے اس کو جنون بھی ہو۔
ایک تلبیس کا ازالہ
یہاں مرزا قادیانی نے یہ جواب دیا ہے کہ: ”ما صلبوہ“ کا معنیٰ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے صلیب پر چڑھایا تو ہے لیکن مارا نہیں۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں صلب کا معنیٰ سولی پر چڑھانا ہے۔ نہ کہ مارنا۔ چنانچہ غیاث اللغات اور صراح میں صلب کا معنیٰ بردار کردن لکھا ہے۔ یعنی سولی پر چڑھانا اور شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ بھی یہی معنیٰ کرتے ہیں کہ: ”نہ اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا۔“
مرزائی اعتراض
مرزائی سیکرٹری نے کشف التلبیس کی ایک عبارت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ: نیز لکھا ہے کہ علاوہ ازیں حسب ذیل احادیث میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ لیکن اس کے بعد جو دو حدیثیں درج کی گئی ہیں۔ ان میں ہرگز ہرگز آسمان سے نازل ہونے کا ذکر تک نہیں ہے۔ آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ بہت بڑا فریب تو نہیں ہے؟ ہم آپ سے
٢٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا ..... یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ نہیں پایا جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں...... اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کجا ضعیف حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہے تسلی کر لیں ۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠٧ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٢٥)
الجواب
- الف...... ہم نے کشف التلبیس میں جو دو حدیثیں درج کی تھیں ان کے متعلق یہ نہیں
لکھا کہ ان میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ بلکہ ہم نے حدیث کے الفاظ کی مراد یہ بتلائی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ کیونکہ حدیث کے لفظ نزول کا مطلب ساری امت کے محدثین، مفسرین، محققین کے نزدیک آسمان سے ہی نازل ہونا ہے۔
- ب....... نقل حدیث سے پہلے ہم نے آیت ”ما قتلوه یقیناً بل رفعه الله
الیه “ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ (جسم سمیت) اٹھایا جانا ثابت کیا تھا۔ جس کا قیامت تک مرزائیوں کے پاس کوئی صحیح جواب نہیں ہے اور رفع کا مطلب خود مرزا قادیانی کے نزدیک اٹھانا ہی ہے۔ باقی رہا آسمان پر اٹھایا جانا تو یہ لفظ الیہ سے ثابت ہے اور خود مرزا قادیانی نے بھی اسی آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کا علیین کی طرح اٹھایا جانا تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٩، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)
نیز حضور ﷺ کے متعلق لکھا ہے کہ: ”ان کی روح مسیح کی روح کی طرح دوسرے آسمان میں نہیں اور نہ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح کی طرح چھٹے آسمان میں بلکہ سب سے بلند تر ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٤، خزائن ج ٣ ص ٢٧٦)
٣٠
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ تمھارے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے مکھی، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
کیا مرزائی سیکرٹری اپنے مرزا قادیا سکتے ہیں کہ الیہ سے مراد روح عیسیٰ کا علیین یا آ کہ رفع کا معنی موت ہے تو جیسا مرزا قادیانی نے اسی طرح ہم نے حدیث میں ینزل سے آسمان کیا دخل ہے؟
ج ....... قرآن مجید میں ہے ۔ بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے۔ ﴿مَنْ محیط ”پھر اس آیت میں یہ کیوں فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف) سے مراد آسمان کی طرف عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اترنا ہی ہوگا۔ خواہ وہاں آسمان کا لفظ نہ لکھا ہوا گیا ہوا ہے تو جب وہ واپس آئے گا تو لوگ سمجھ واپس آنا ہی ہوگا۔ کچھ تو سمجھ سے کام لیا کریں ۔
باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ح کہیں گے کہ حضرت مسیح بن مریم کا سفر کہاں س مطلب واضح ہو جائے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ الس لے آئیں گے۔
مرزا قادیانی کا چیلنج
مرزائی سیکرٹری نے کتاب البریہ س قادیانی آنجہانی نے تلبیس سے کام لیا ہے۔ کیو کہ کسی حدیث سے ایسا ثابت کر دو۔ حالانکہ چ نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیا کہ حدیث میں یہ الفاظ آسمان پر چلے گئے تھے۔ بلکہ علماء اسلام کا یہ دعو ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا تو قرآن سے ثابت ہے۔ یعنی پہلی بات جب قرآن سے ثابت ہ
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ ﷺ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تے تھے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل مسافر کے لئے آتا ہے اور نزول میں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کجا علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آئیں گے۔ اگر کوئی حدیث پیش اور توبہ کرنا اور تمام کتابوں کا جلا
(ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
درج کی تھیں ان کے متعلق یہ نہیں کے الفاظ کی مراد یہ بتلائی تھی کہ ت کے لفظ نزول کا مطلب ساری نزول ہونا ہے۔ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيناً بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اُٹھانا ثابت کیا تھا۔ جس کا قیامت اب خود مرزا قادیانی کے نزدیک ہے اور خود مرزا قادیانی نے بھی اٹھایا جانا تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ موت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین ہیں۔“
(ایام ص ١٤٩، خزائن ج ١٤ ص ٤٢٤)
مسیح کی روح کی طرح دوسرے نہیں اٹھتے آسمان میں بلکہ سب سے
(ایام ص ١٤٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٦)
کیا مرزائی سیکرٹری اپنے مرزا قادیانی کی اس بات کو قرآن کی آیت بالا سے ثابت کر سکتے ہیں کہ الیہ سے مراد روح عیسیٰ کا علیین یا آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے یا یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ رفع کا معنی موت ہے تو جیسا مرزا قادیانی رفع سے مراد موت اور الیہ سے مراد علیین لیتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے حدیث میں ینزل سے آسمان سے اترنا مراد لیا ہے۔ اس میں جھوٹ اور فریب کا کیا دخل ہے؟
ج ..... قرآن مجید میں ہے۔ ”ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَاءِ“ ”کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے۔“ بتلائیے ! اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ ہے۔ ”اَلَا اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىْءٍ مُّحِيْطٌ“ پھر اس آیت میں یہ کیوں فرمایا کہ اللہ آسمان میں ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ ”الیہ“ (اللہ تعالیٰ کی طرف) سے مراد آسمان کی طرف ہے۔ تو جب قرآن سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ تو حدیث میں نزول کے معنی آسمان سے اترنا ہی ہوگا۔ خواہ وہاں آسمان کا لفظ نہ لکھا ہوا ہو۔ مثلاً ایک شخص کے متعلق یقینی علم ہے کہ وہ حج پر گیا ہوا ہے تو جب وہ واپس آئے گا تو لوگ کہیں گے کہ فلاں صاحب واپس آگئے اور مراد حج سے واپس آنا ہی ہوگا۔ کچھ تو سمجھ سے کام لیا کریں۔
باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ نزول مسافروں کو کہتے ہیں تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ حضرت مسیح بن مریم کا سفر کہاں سے کہاں تک ہوگا۔ وہ آپ ہی بتا دیں تاکہ حدیث کا مطلب واضح ہو جائے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں کسی جگہ مقیم ہیں کہ وہاں سے تشریف لے آئیں گے۔
مرزا قادیانی کا چیلنج
مرزائی سیکرٹری نے کتاب البریہ سے جو مرزا قادیانی کا چیلنج نقل کیا ہے تو اس میں بھی قادیانی آنجہانی نے تلبیس سے کام لیا ہے۔ کیونکہ خود ہی ایک عبارت لکھ دی اور علماء کو چیلنج دے دیا کہ کسی حدیث سے ایسا ثابت کر دو۔ حالانکہ چیلنج مدعی کے اقرار کی بناء پر ہوا کرتا ہے اور یہاں علماء نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیا کہ حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے۔ بلکہ علماء اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا تو قرآن سے ثابت ہے اور آسمان سے نازل ہونا حدیث سے ثابت ہے۔ یعنی پہلی بات جب قرآن سے ثابت ہے تو پھر حدیث میں اس کے بیان کی ضرورت ہی
٣١
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ؕ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ١ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اسکے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے ، آپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک سامنے، شخص پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
نہیں تھی۔ حدیث نے صرف نزول کی تصریح کر دی۔ اگر مرزا قادیانی کے چیلنج کا تعلق اس بات سے ہے کہ یہ دونوں امر قرآن یا حدیث سے ثابت کرو تو چشم ما روشن دل ماشاد۔ ہم قرآن وحدیث سے مذکورہ دعوٰی ثابت کر سکتے ہیں۔ کیا مرزائی سیکرٹری اس بناء پر بیس ہزار کی رقم دینے کے لئے تیار ہے۔
مرزا قادیانی کی تضاد بیانی
یہ ایک عجیب لطیفہ ہے کہ مرزا قادیانی ادھر علمائے اسلام کو یہ چیلنج دے رہے ہیں کہ کسی حدیث میں آسمان سے نازل ہونا ثابت کرو اور ادھر خود ہی یہ اقرار کر رہے ہیں کہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔ ”مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں یہ جو لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص٨١، خزائن ج٣ ص ١٤٢)
کیا مرزا قادیانی کی اس تصریح کے بعد بھی مرزائی سیکرٹری ہم سے ایسی حدیث کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے۔ جس میں آسمان کا لفظ موجود ہو۔
ہمارا چیلنج
ہم مرزائیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کی کتاب میں مذکورہ عبارت ثابت نہ ہو تو ہم ان کو مبلغ ٢٥ ہزار روپیہ انعام دیں گے اور یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ مرزا قادیانی مسلم شریف کی حدیث کو صحیح مانتے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ: ”اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں اپنی تائید ودعویٰ میں کیوں بار بار ان کو پیش کرتا۔ چنانچہ اسی رسالہ ازالہ اوہام میں بہت سی حدیثیں صحیح مسلم کی اپنے تائید میں پیش کر چکا ہوں ۔“
(ازالہ اوہام ص٨٨٢، خزائن ج٣ ص ٥٨٢)
اب مرزائی سیکرٹری کو چاہئے کہ وہ اپنے مسیح موعود سے یہ دریافت کریں کہ حضرت ازالہ اوہام میں یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے۔ ذرا حدیث سے اس کا ثبوت تو پیش فرمائیے۔ اب سیکرٹری کے لئے دو ہی صورتیں ہیں۔ اگر اسی پر قائم رہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ نہیں ہیں تو مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے یہ مان لیا ہے اور اگر ان کو خواہ مخواہ نبی ماننا ہی ہے تو ان کی اس بات کو تسلیم کر لیں جو ازالہ اوہام میں لکھی ہے۔ ”واللہ الھادی“
حضرت مسیح کی عمر
ہم نے کشف التلبیس میں لکھا ہے کہ البتہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کی عمر حق تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت طویل کر دی ہے اور وہ دوبارہ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے۔ اس پر
٣٢
مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ: ”اس ایک حدیث میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کی حقیقت حضرت مسیح موعود (مرزا) کے الفا
الجواب
حدیث میں جو عمر بیان ہوئی ہے عمر کو شامل نہیں کیا گیا اور یہ اسی طرح ہے ج اس کو اس کی عمر میں نہیں گنا جاتا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر طویل ہے تو اس علیہ السلام نبی کریم خاتم النبیین ﷺ سے بھی سے آپ کا زندہ اٹھایا جانا ثابت ہو چکا ہے دی گئی ہے۔ تو کیا مرزائی سیکرٹری کے نزدیک
مرزا قادیانی کا دوسرا انعام
مرزائی سیکرٹری نے (اشتہار الحق حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انو قرآن مجید سے یا کسی حدیث رسول اللہ ﷺ یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خد نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح او یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا کہ ایسے شخص کو کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقر نزول اور توفی کے متعلق مندرجہ ہے۔ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسم مطلب قبض جسم ثابت کرنے سے بغیر کسی اش سکتے ہیں اور انعامی رقم بھی حاصل کر سکتے ہی
مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ: ”اس ایک فقرے میں دو غلط دعوے بغیر دلیل کے کئے گئے ہیں۔ حدیث میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال بتائی گئی ہے اور دوبارہ تشریف لانے کی حقیقت حضرت مسیح موعود (مرزا) کے انعامی اعلان سے بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ......الخ“
الجواب
حدیث میں جو عمر بیان ہوئی ہے وہ زمین پر قیام کے اعتبار سے ہے۔ اس میں آسمانی عمر کو شامل نہیں کیا گیا اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ میں بچہ جتنی مدت زندہ رہتا ہے اس کو اس کی عمر میں نہیں گنا جاتا۔ حالانکہ وہ زمین پر ہی زندہ ہوتا ہے۔ باقی رہا ہمارا یہ لکھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر طویل ہے تو اس سے کوئی بدفہم ہی انکار کر سکتا ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریم خاتم النبیین ﷺ سے بھی پانچ سو برس سے زیادہ پہلے پیدا ہوئے تھے اور قرآن سے آپ کا زندہ اٹھایا جانا ثابت ہو چکا ہے اور حدیث میں قیامت سے پہلے تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے۔ تو کیا مرزائی سیکرٹری کے نزدیک یہ زندگی طویل نہیں ہے؟
مرزا قادیانی کا دوسرا انعام
مرزائی سیکرٹری نے (اظہار الحق ص ١٤) پر لکھا ہے کہ: ”اور دوبارہ تشریف لانے کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انعامی اعلان سے بخوبی معلوم ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن مجید سے یا کسی حدیث رسول اللہ ﷺ سے یا اشعار وقصائد ونظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر اطلاق پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ، کی قسم کھا کر اقرار شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد انعام دوں گا اور آئندہ اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٩١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠٣)
نزول اور توفی کے متعلق مندرجہ بالا انعامی اعلانات کی روشنی میں بآسانی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ذکر احادیث سے یا توفی کا مطلب قبض جسم ثابت کرنے سے بغیر کسی اشتعال وفساد کے آرام وسکون سے ہماری غلطی واضح کر سکتے ہیں اور انعامی رقوم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
٣٤
صحابہ کو تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
الجواب
- الف........ آسمان سے نازل ہونے کے متعلق تو ہم خود مرزا قادیانی کے حوالہ مسلم
شریف کا پہلے لکھ کر اپنی طرف سے چیلنج دے چکے ہیں۔ باقی رہا حضرت مسیح کا دوبارہ تشریف لانا اور توفی کی بحث تو اس میں بھی مرزا قادیانی نے چیلنج کا وہی طریق اختیار کیا ہے جو پہلے چیلنج میں تھا۔ یعنی ایک عبارت خود لکھ کر اعلان کر دیا کہ ایسا کوئی ثابت کردے تو اتنا انعام دوں گا۔ ہم اس کے جواب میں بھی مرزا قادیانی کی ہی عبارت پیش کرتے ہیں۔
- .......١ ”جب تمیں دجال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لکل دجال عیسیٰ تمیں مسیح بھی
آنے چاہئیں۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے۔ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٢٠٠، خزائن ج٣ص١٩٧)
- .......٢ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین
الحق لیظھرہ علی الدین کلّٰہ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے۔ جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔ (حاشیہ در حاشیہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨، خزائن ج١ ص٥٩٣) یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ (براہین احمدیہ) کے متعلق خود مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ: ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“ (اشتہار مرزا غلام احمد ملحقہ آئینہ کمالات اسلام و مجموعہ اشتہارات ج١ص٢٣)
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ براہین احمدیہ خدا تعالیٰ کے الہام اور حکم سے لکھی گئی ہے۔ اس لئے اس کی بات صحیح ہوگی۔ لہٰذا مندرجہ عبارت میں مرزا قادیانی کا یہ اقرار کرنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ خود مرزا قادیانی اور ان کی امت مرزائیہ پر حجت ہوگا۔ تو اب مرزائی سیکرٹری ہم سے کس طرح یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ حضرت مسیح کا دوبارہ تشریف لانا ثابت کرو۔ علاوہ ازیں اب توفی کے لفظ کی بحث کی بھی ضرور نہ رہی۔ کیونکہ اگر قرآنی الفاظ ”انی متوفیک“ کا مطلب یہ ہوتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر موت آچکی ہے تو پھر مرزا قادیانی
٣٤
اپنے اساتذہ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کیسے کرتے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد نے اور سپاہی اپنے افسر
براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتے کہ: ”جس م ذریعہ ظہور میں آئے گا۔ جب حضرت مسیح عل
ہمارا چیلنج
ہم نے براہین احمدیہ کی جو عبار احمدیہ میں نہیں ہے تو ہم ان کو دس ہزار روپیہ
مثیل مریم
ہم نے (کشف الباس ص٢٢) ”جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود بننا چاہا تو تصریح ہے کہ آنے والے ابن مریم ہوں گے کو بھی حل کر دیا۔“ چنانچہ لکھتے ہیں: جیساکہ کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ ال میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔
اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری کرے۔ جہاں مؤمنوں کو حضرت مریم کے حضرت مولانا روم فرماتے ہیں ؎
حاملہ شد از
یعنی مریم صفت مؤمن کی جان ی گئی۔ اگر تعصب حائل نہ ہو اور تحقیق حق کا ہونے والا عام استعارہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں
الجواب
قارئین حضرات! مرزائی سیکرٹری دجل و فریب کی داد دیں۔ ہم دریافت کرتے
براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتے کہ: ”جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔“
ہمارا چیلنج
ہم نے براہین احمدیہ کی جو عبارت اوپر لکھی ہے اگر مرزائی یہ ثابت کر دیں کہ وہ براہین احمدیہ میں نہیں ہے تو ہم ان کو دس ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔
مثیل مریم
ہم نے (کشف التلبیس ص ٢٣) میں ”ایک مشکل کا حل“ کے عنوان سے لکھا تھا کہ: ”جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود بننا چاہا تو ان کی راہ میں مذکورہ احادیث حائل تھیں۔ جن میں تصریح ہے کہ آنے والے ابن مریم ہوں گے۔ لیکن مرزا قادیانی نے کمال ہوشیاری سے اس مشکل کو بھی حل کر دیا۔“ چنانچہ لکھتے ہیں۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٦) میں درج ہے۔ ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طرح سے میں عیسیٰ بن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری لکھتا ہے کہ معترض کو چاہئے کہ وہ سورۃ مریم پر غور کرے۔ جہاں مؤمنوں کو حضرت مریم کے مماثل قرار دیا گیا ہے تو کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ حضرت مولانا روم فرماتے ہیں۔
حاملہ شد از مسیح دل فریب
یعنی مریم صفت مؤمن کی جان پر جب سایہ حبیب پڑا تو وہ مسیح دلفریب سے حاملہ ہو گئی۔ اگر تعصب حائل نہ ہو اور تحقیق حق کا ارادہ ہو تو یہ قرآنی ارشاد اور صوفیا کے ہاں استعمال ہونے والا عام استعارہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔
(اظہار الحق ص ١٥)
الجواب
قارئین حضرات ! مرزائی سیکرٹری کے اس دلفریب جواب کو بار بار پڑھیں اور ان کے دجل وفریب کی داد دیں۔ ہم دریافت کرتے ہیں کہ قرآن کی کس آیت میں مؤمنوں کو مماثل مریم
٣٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا
اسکے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ تمام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مجلس، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
قرار دیا ہے۔ فریب کاری کی آخری حد بھی ہے۔ سورہ مریم کی آیت یہ ہے۔ ”وضرب اللہ مثلاً للذین آمنوا امراة فرعون ٠٠٠٠٠ ومريم بنت عمران التى احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا“ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے۔ ٠٠٠٠٠٠ اور عمران کی بیٹی مریم کی بھی جس نے اپنے گریبان کو محفوظ رکھا۔ پس ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی۔ ﴾
اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے بطور مثال دو مؤمن عورتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ نہ یہ کہ مومنوں کو مماثل مریم قرار دیا ہے۔ یہاں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ مومنین حضرت مریم کے مماثل ہیں۔ اسی لئے مرزائی سیکرٹری نے نہ آیت پیش کی اور نہ ترجمہ لکھا۔ تاکہ اس کے بے مثال جھوٹ کا یہ پردہ چاک نہ ہوجائے۔
یہ ہے مرزائی نبوت کا تانا بانا جو دجل وفریب سے بنا گیا ہے لعنت اللہ علی الکاذبین!
ب ٠٠٠٠٠٠٠ حضرت مولانا رومؒ کے شعر سے بھی استدلال صحیح نہیں۔ کیونکہ وہاں بچو کا لفظ موجود ہے۔ یعنی مثل مریم کے مرید کو پیر کامل سے فیض پہنچتا ہے۔ یہ استعارہ نہیں تشبیہ ہے۔ جیسے یہ کہا جائے کہ زید مثل شیر کے ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید ہر لحاظ سے شیر ہی ہے اور اس کی دم بھی ہے۔ لیکن احادیث میں جہاں بھی نزول مسیح کا ذکر ہے وہاں ابن مریم کے الفاظ ہیں۔ یعنی وہ مسیح نازل ہوگا جو مریم کا بیٹا ہے۔ یہ کسی حدیث میں نہیں ہے کہ وہ مسیح نازل ہوگا جو مثیل مسیح ہوگا۔ (یعنی مسیح کی طرح ہوگا) آنحضرتﷺ نے ابن مریم کے الفاظ ایسے دجالوں کی تلبیس کا پردہ چاک کرنے ہی کے لئے استعمال فرمائے ہیں۔ اب مرزائی سیکرٹری ہی بتائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی والدہ کا نام مریم ہے یا چراغ بی بی۔ ھاتوا برهانکم ان کنتم صادقین!
حیات مسیح اور امت مسلمہ
اس عقیدہ پر تمام امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قبل از قیامت تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی سے پہلے کسی مسلمان عالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ نہیں رکھا۔ یہاں مرزائی فرقہ یہ مغالطہ دیتا ہے کہ بخاری میں ہے۔ ”قال ابن عباس متوفيك مميتك“ یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ متوفیک کا معنی ممیتک (یعنی تجھ کو موت دینے والا ہوں) کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کا یہ ہرگز عقیدہ نہیں کہ
٣٦
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آچکی ہ دوں گا۔ گویا آیت ”یعیسی انی مت (آل عمران:٣) ”میں حضرت ابن مر رافعک الی کے بعد پورا ہونے والا ہے فرماتے ہیں: ”قالوا ان قوله ورافع الترتيب فلم يبق الا ان يقو ومطهرك من الذين كفروا و التقديم والتاخير كثير في القـ ورافعک الی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تقاضا نہیں کرتی۔ پس یہی بات باقی رہی کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں درمنثور میں امام جلال الدین سیوطیؒ نے الضحاك عن ابن عباس في متوفیک فی آخر الزمان حضرت ضحاک ورافعک الی“ کے متعلق روایت ک لوں گا۔ پھر آخری زمانہ میں فوت کروں ”وهو الصحيح عن اب ثابت ہے۔ یہ تقدیم و تاخیر بھی اسی وجہ لئے جائیں ورنہ متوفیک کا لغوی اور حقی ہے پورا کرنا۔ اگر توفی کا حقیقی معنی موت ”اذ يتوفى الذين كفروا الملائـ اگر توفی کا معنی موت ہو تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ چنانچہ خود مر کسی شخص کو موت وحیات ضرر اور نفع کا ما کیا مرزائی سیکرٹری توفی کا مع
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تنے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
للذين آمنوا امراة ت فرجها فنفخنا فيه من نبی کی مثال بیان کرتا ہے۔ ..... اور کہ پس ہم نے اس میں اپنی طرف
مثال دو مومن عورتوں کا ذکر فرمایا بھی ایسا نہیں جس سے یہ ثابت کیا سیکرٹری نے نہ آیت پیش کی اور نہ ہوئے۔
نبتهل فنجعل لعنت الله على الكاذبين! یہ استدلال صحیح نہیں۔ کیونکہ وہاں ہجو کا حاصل ہے۔ یہ استعارہ نہیں تشبیہ ہے۔ شیر ہے، زید ہر لحاظ سے شیر ہی ہے اور اس جگہ وہاں ابن مریم کے الفاظ ہیں۔ اٹھایا ہے کہ وہ مسیح نازل ہو گا جو مثیل مسیح کے الفاظ ایسے دجالوں کی تلبیس کا زائی سیکرٹری ہی بتائے کہ مرزا غلام ان كنتم صادقين!
علیہ السلام زندہ ہیں اور قبل از ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ندی میں ہے۔ ”قال ابن تک کا معنی ممیتک (یعنی تجھ کو موت ابن عباسؓ کا یہ ہرگز عقیدہ نہیں کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آچکی ہے۔ ممیتک کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ میں تجھے موت دوں گا۔ گویا آیت "یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا (آل عمران:٥٥) " میں حضرت ابن عباسؓ کے نزدیک تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی متوفیک کا مضمون رافعک الی کے بعد پورا ہونے والا ہے۔ کیونکہ واو ترتیب کے لئے نہیں آتی۔ چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں: "قالوا ان قوله ورافعك الى يقتضى انه رفعه حيا والواو لا يقتضى الترتيب فلم يبق الا ان يقول فيها تقديم وتاخير والمعنى انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالى اياك فى الدنيا ومثله من التقديم والتاخير كثير فى القرآن (تفسیر کبیر ج ٢) " کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قول ورافعک الی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اور واو ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی۔ پس یہی بات باقی رہی کہ یہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنی یہ ہے کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور قرآن میں اس قسم کی تقدیم و تاخیر بہت ہے اور تفسیر درمنثور میں امام جلال الدین سیوطیؒ نے حضرت ابن عباسؓ کی یہی روایت پیش کی ہے۔ "عن الضحاك عن ابن عباس فى قوله انى متوفيك ورافعك الى "یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان حضرت ضحاک، حضرت ابن عباسؓ سے قول خداوندی "انی متوفیک ورافعک الی" کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تجھے اٹھا لوں گا۔ پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔ تفسیر ابو السعود میں بھی یہی لکھا ہے۔
"وهو الصحيح عن ابن عباس" یہی مطلب حضرت ابن عباسؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔ یہ تقدیم و تاخیر بھی اسی وجہ سے مانی ہے۔ جب بالفرض متوفیک کا معنی موت دینے کے لئے جائیں ورنہ متوفیک کا لغوی اور حقیقی موت ہرگز نہیں۔ کیونکہ متوفی کا مادہ وفا ہے اور اس کا معنی ہے پورا کرنا۔ اگر توفی کا حقیقی معنی موت ہو تو بعض آیات قرآنی کا مطلب ہی صحیح نہیں بن سکتا۔ مثلاً "اذ يتوفى الذين كفروا الملائكة (انفال)" یہاں توفی کا فاعل فرشتوں کو قرار دیا گیا ہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہو تو لازم آئے گا کہ فرشتے موت دینے والے ہیں۔ حالانکہ موت وحیات محض اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: "خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت وحیات ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔" (ازالہ اوہام ص ٣١٤، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠) کیا مرزائی سیکرٹری توفی کا حقیقی معنی موت مان کر فرشتوں کو خدا بنانے کے لئے تیار ہے۔
٣٧
اسکے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ سلام کے لیے بھی ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک کتے ، مرید پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
معنی توفی
تفسیر بیضاوی میں آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ کے تحت لکھا ہے۔ ’’التوفی اخذ الشئ وافیاً والموت نوع منه‘‘ توفی کا معنی کسی چیز کو پورا پورا لینا ہے اور موت اس کی نوع ہے۔ البتہ اگر قرینہ ہو تو توفی بمعنی موت لیا جائے گا۔ ورنہ اس کا معنی پورا پورا لینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت ’’اللّٰه يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها (سوره زمر)‘‘ اللہ تعالیٰ پورا پورا لے لیتا ہے روحوں کو موت کے وقت اور جن کو موت نہیں آئی ان کو نیند میں ۔ دیکھیے یہاں سونے والوں کی ارواح کے لئے بھی توفی کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ وہ مردہ نہیں۔ اگر توفی (وفات) کا حقیقی معنی موت مراد لی جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ سونے والا بھی مردہ ہے۔ حقیقتاً اور روحیں بھی مردہ ہیں۔ حالانکہ ارواح کے لئے موت نہیں۔
اب ہم مزید اتمام حجت کے لئے امام رازیؒ کی تحقیق پیش کرتے ہیں۔
- ١......... ’’ان التوفی اخذ الشئ وافياً ولما علم الله ان من الناس
من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده (تفسیر کبیر ج ٢)‘‘
توفی کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کسی آدمی کے دل میں یہ بھی گزرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح کو اٹھایا تھا نہ کہ جسم کو اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ کلام ذکر فرمایا۔ یعنی انی متوفیک تاکہ اس پر دلالت کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بتمامہ روح اور جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔
تفسیر خازن میں بھی یہی لکھا ہے۔ گو اس آیت کے تحت طویل بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن اہل انصاف کے لئے ہم اس کو کافی سمجھتے ہیں اور اہل ضد کا کوئی علاج ہی نہیں۔ الا ماشاء اللہ۔
ایمانی شجاعت
ہم نے کشف تلبیس میں مرزا قادیانی کی ایمانی شجاعت کا نمونہ دکھانے کے لئے ان کی وہ تحریر پیش کی تھی جو انہوں نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے حضور میں لکھی۔ جس میں یہ الفاظ بھی تھے۔ ’’کہ آئندہ میں ایسی پیش گوئی جس سے کسی شخص کی تحقیر (ذلت) کی جائے یا نامناسب طور پر سے حقارت (ذلت) سمجھی جائے یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو شائع کرنے سے اجتناب کروں گا...... میں ایسے الہام کی اشاعت سے پرہیز کروں گا۔ جس سے کسی شخص کا حقیر (ذلیل)
٣٨
ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو۔‘‘
بجائے اس کے کہ مرزائی سیکرٹری کی مستقل پالیسی کا ہی اظہار ہے۔ چنانچہ آ میں نے کبھی کوئی انذاری پیش گوئی بغیر رضا مندی
الجواب
- الف ...... یہ بھی جھوٹ لکھا ہے
ہوتا تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ دھمکی دینے کی ک ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرا مزید کاروائی کرنی پڑے گی۔‘‘ (بحوالہ تازیانہ
- ب ...... اگر ایسا ہوتا تو مرزا قاد
ایسی پیش گوئی شائع نہیں کی۔
- ج ...... اگر انذاری پیش گوئی ال
کی رضا مندی پر اس کی اشاعت کا موقوف ہو درخواستوں کے جو اقتباسات ہم پیش کر چکے ہی حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ ہاں یہ جدا بات ہے کہ ہو تو وہ ان کو اپنے سے زیادہ شجاع مان لے۔
جو چاہے آپ کا حس
سوال و جواب نمبر ٥
مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ پانچ ہوتا۔ اس جگہ معترض کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسماعیل عبرا کہ آپ کا اعتراض غلط تھا۔ اسرائیل قرآن مجید م کے متعلق آپ کی معلومات میں اضافہ کے لئے گذ کو یعقوب نہ کہلائے گا۔ بلکہ تیرا نام اسرائیل ہوگا۔‘‘ ہم نے لکھا تھا کہ نیز قرآن مجید میں حض
٣٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک کے سامنے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
تحت لکھا ہے۔ ”التوفی اخذ پورا لینا ہے اور موت اس کی نوع کا معنی پورا پورا لینا ہوگا۔ یہی وجہ لم تمت فی منامها (سورہ اور جن کو موت نہیں آئی ان کو نیند کا لفظ استعمال فرمایا۔ حالانکہ وہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ سونے والا بھی موت نہیں۔ پیش کرتے ہیں۔ ولما علم الله ان من الناس فسده ذکر ھذا الکلام لیدل سماء بروحه وجسده (تفسیر اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کسی آدمی کے کی صرف روح کو اٹھایا تھا نہ کہ جسم لہٰذا اس پر دلالت کرے کہ حضرت کئے گئے ہیں۔ بحث طویل بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن گنجائش نہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ ثبوت کا نمونہ دکھانے کے لئے ان دلیل لکھی۔ جس میں یہ الفاظ بھی پیش گوئی) کی جائے یا نامناسب طور اور درندہ ہو شائع کرنے سے اجتناب جس سے کسی شخص کا تحقیر (ذلیل)
ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو۔“
(٢٤ فروری ١٨٩٩ء، دستخط ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر ڈوئی)
بجائے اس کے کہ مرزائی سیکرٹری کچھ شرماتا جواب میں لکھتا ہے کہ آپ کا یہ بیان آپ کی مستقل پالیسی کا ہی اظہار ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔ ”میرا ابتداء سے ہی یہ طریق ہے کہ میں نے کبھی کوئی انذاری پیش گوئی بغیر رضامندی مصداق پیش گوئی کے شائع نہیں کی۔“
(تبلیغ رسالت ج ٨)
الجواب
- الف...... یہ بھی جھوٹ لکھا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا ابتداء ہی سے اگر یہ طریق
ہوتا تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ دھمکی دینے کی کیا ضرورت تھی کہ: ”پس مرزا قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرات استعمال کریں۔ ورنہ بحیثیت مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کاروائی کرنی پڑے گی۔“ (بحوالہ تازیانہ عبرت مؤلفہ مناظر اسلام حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیر)
- ب...... اگر ایسا ہوتا تو مرزا قادیانی ڈپٹی کمشنر کو یہ جواب دیتے کہ میں نے تو کبھی
ایسی پیش گوئی شائع نہیں کی۔
- ج...... اگر انذاری پیش گوئی الہام الٰہی کی بناء پر ہے تو پھر جس کے خلاف ہے اس
کی رضامندی پر اس کی اشاعت کا موقوف ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کی درخواستوں کے جو اقتباسات ہم پیش کر چکے ہیں۔ اس کے بعد مرزائی سیکرٹری کی صفائی کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ ہاں یہ جوابات ہے کہ اگر کوئی شخص مرزا قادیانی سے بھی زیادہ کمزور دل ہو تو وہ ان کو اپنے سے زیادہ شجاع مان لے۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
سوال و جواب نمبر ٥
مرزائی سیکرٹری نے لکھا ہے کہ پانچواں اعتراض یہ تھا کہ کسی نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔ اس جگہ معترض کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسماعیل عبرانی میں گویا ترکیب رکھتا ہے۔ پس معلوم ہوا ہے کہ آپ کا اعتراض غلط تھا۔ اسرائیل قرآن مجید میں اسم کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔ اسرائیل کے متعلق آپ کی معلومات میں اضافہ کے لئے گزارش ہے کہ بائبل میں لکھا ہے: ”تیرا نام آگے کو یعقوب نہ کہلائے گا۔ بلکہ تیرا نام اسرائیل ہوگا۔“
ہم نے لکھا تھا کہ نیز قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام اسمہ المسیح عیسیٰ بن
٣٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ط يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
مریم بتایا گیا ہے۔ (پیدائش) اس پر معترض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ لکھنا کہ عیسیٰ بن مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مرکب نام ہے۔ یہ بھی اس کی محض جہالت ہے۔ معترض اس جگہ بلاوجہ ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم نے اپنی طرف سے تو یہ بات پیش نہیں کی تھی۔ قرآن مجید فرماتا ہے۔ اس کا نام (اسم) مسیح عیسیٰ بن مریم اگر آپ کے زعم ہمدانی کو ٹھیس نہ لگے تو عرض ہے کہ ذوالکفل بھی واضح طور پر مرکب نام ہے۔ اسی طرح ابراہیم بھی مرکب نام...... مسیح موعود کے نام میں غلام کا لفظ خاندانوں کے ناموں میں مشترک ہے۔ اس لئے علم کے طور پر احمد ہی استعمال ہوتا تھا اور اسی کے مطابق موصوف الہام میں آپ کو احمد کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔
(اظہار الحق ص ١٦، ١٧)
الجواب
- الف...... حضرت مولانا عبداللطیف صاحب نے جو فرمایا تھا کہ کسی نبی کا نام مرکب
نہیں ہوتا تو اس سے مراد علم تھا نہ کہ اسم۔ کیونکہ اسم عام ہے اور علم خاص۔ اسم کی پانچ قسمیں ہیں۔ علم، لقب، کنیت، تخلص، خطاب۔ ان سب پر اسم کا اطلاق ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن مجید میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے کہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم تو یہاں اسم کا لفظ ہے نہ علم کا۔ ابن مریم کنیت ہے اور مسیح لقب ہے اور عیسیٰ علم ہے۔ لہٰذا تینوں کے لئے اسم کا لفظ استعمال فرمایا۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب محدث پانی پتی قدس سرہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم کے تحت لکھتے ہیں۔ ہٰذا علمہ والمسیح لقبہ والاسم اعم منھما ومن الکنیۃ۔ یہ (یعنی عیسیٰ ) آپ کا علم ہے اور مسیح آپ کا لقب ہے اور اسم ان دونوں سے عام ہے اور کنیت سے بھی اب تو مرزائی سیکرٹری کی جہالت بے نقاب ہوگئی جو اسم اور علم میں فرق نہیں کر سکتا وہ سوال و جواب میں کیا فرق سمجھے گا۔
- ب...... اسی طرح ذوالکفل بھی علم نہیں بلکہ ایک نسبتی نام ہے۔ چنانچہ تفسیر خازن
میں ہے۔ ”فسمّی ذوالکفل لا نہ تکفل بامر فوض بہ واختلف فی نبوتہ فقیل کان نبیاً وھو الیاس وقیل ھو زکریا وقال ابو موسیٰ لم یکن نبیاً ولکن کان عبداً صالحاً“ (پس آپ کا نام ذوالکفل اس لئے ہوا کہ آپ نے ایک کام کی اچھی طرح کفالت کی جو آپ کے سپرد ہوا تھا اور آپ کی نبوت میں بھی اختلاف ہے۔ پس بعض نے کہا کہ آپ نبی تھے اور وہ الیاس بھی اور بعض نے کہا وہ زکریا ہیں اور ابوموسیٰ نے فرمایا کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح بندے تھے) بتلایئے اوّل تو آپ کی نبوت میں ہی اختلاف ہے اور جو ان کو نبی کہتے ہیں ان میں سے بعض کے نزدیک ان کا نام الیاس ہے اور بعض کے نزدیک زکریا اور ذوالکفل تو آپ کا نام ٤٠
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تھے، مجلسِ پیر ومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اس وقت پڑا جب آپ نے ایک کام کی ضما (نام) نہ تھا۔ یہاں بھی مرزائی سیکرٹری نے ا
- ج...... مرزائی سیکرٹری نے
علیہ السلام کا لقب ہے۔ لیکن یہ تاویل بھی غ استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تائید میں بائبل نہیں۔ کیونکہ اسم کا لفظ عام ہے جو لقب پر ب جو قرآن میں مذکور ہے اور اسرائیل لقب ہے
- د...... ہم نے کشف الغطاء
رکھتا ہے۔ لیکن وہ کلمہ مفرد ہی استعمال ہوتا ہے اس پر مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا تھا۔ کیونکہ لفظ اسماعیل ہر جگہ مفرد ہی استع چنانچہ لفظ اسماعیل یا ابراہیم کی پہلی جزو یعنی مرکب ہے۔ اس لئے اس کی ہی جزو غلام رایت غلام احمد مررت بغلام احمد نیز اسمعیل ہوتے۔ کیونکہ مرکب اسنادی بھی ہوتا ہے واسماعیل ان کو ایک ایک ہی کلمہ سمجھا جاتا ہ مرکب مانا جائے تو اسمع کا اعراب بدلنا چا اسمعیل اور ابراہیم مفرد ہی استعمال ہوئے غلام کا اعراب بدل جاتا ہے۔ مثلاً جاء غلا ہے اور دوسرے جملہ میں غلام پر زبر (نصب استعمال نہیں ہوتے۔ کیونکہ مرکب اسنادی
- ہ...... قرآن مجید کی نص
مرزا قادیانی محمد رسول اللہ سے اپنی ذات مقدسہ۔ جیسا کہ انہوں نے (ایک غلطی کا ا رسول اللہ والذین معہ اشداء ع رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰ مَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ حکام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ہے کہ یہ لکھنا کہ عیسیٰ بن مریم ہے ۔ معترض اس جگہ بلاوجہ ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے۔ اس لگے تو عرض ہے کہ ذو الکفل بھی مسیح موعود کے نام میں غلام کا لفظ ہی استعمال ہوتا تھا اور اسی کے
(اظہار الحق ص ١٦، ١٧)
فرمایا تھا کہ کسی نبی کا نام مرکب خاص۔ اسم کی پانچ قسمیں ہیں۔ ۔ لہٰذا قرآن مجید میں جو حضرت یہاں اسم کا لفظ ہے نہ علم کا۔ ابن لئے اسم کا لفظ استعمال فرمایا۔ نی قدس سرہ اسمہ مسیح عیسیٰ بن لقب۔ یہ (یعنی عیسیٰ) آپ کا علم سے بھی اب تو مرزائی سیکرٹری ں جواب میں کیا فرق سمجھے گا۔ لقبی نام ہے۔ چنانچہ تفسیر خازن واختلف فی نبوته فقیل ن لم يكن نبياً ولكن كان
ف کام کی اچھی طرح کفالت کی ں بعض نے کہا کہ آپ نبی تھے لیا کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ ایک ہے اور جوان کو نبی کہتے ہیں ان ذکریا اور ذو الکفل تو آپ کا نام
اس وقت پڑا جب آپ نے ایک کام کی خصوصی کفالت کی تو کیا اس سے پہلے آپ کا کوئی علم (نام) نہ تھا۔ یہاں بھی مرزائی سیکرٹری نے اپنی روایتی جہالت کا ثبوت دیا ہے۔
ج ...... مرزائی سیکرٹری نے ہماری یہ بات مان لی ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔ لیکن یہ تاویل بھی کر دی ہے کہ اسرائیل قرآن مجید میں اسم کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تائید میں بائبل کی عبارت پیش کی ہے۔ لیکن وہ بھی ہمارے خلاف نہیں۔ کیونکہ اسم کا لفظ عام ہے جو لقب پر بھی بولا جاتا ہے۔ لیکن علم خاص ہے اور وہ یعقوب ہے جو قرآن میں مذکور ہے اور اسرائیل لقب ہے وہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔
د ...... ہم نے کشف التلبیس میں لکھا ہے کہ اسماعیل عبرانی زبان میں گو ترکیب رکھتا ہے۔ لیکن وہ کالمفرد ہی استعمال ہوتا ہے۔
اس پر مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ پس معلوم ہوا کہ آپ کا اعتراض غلط تھا۔ کیونکہ لفظ اسماعیل ہر جگہ مفرد ہی استعمال ہوتا ہے نہ مرکب اور اسی طرح لفظ ابراہیم ہے۔ چنانچہ لفظ اسماعیل یا ابراہیم کی پہلی جز یعنی اس اور ابرا کا اعراب نہیں بدلتا۔ لیکن غلام احمد چونکہ مرکب ہے۔ اس لئے اس کی ہی جزء غلام کا اعراب بوجہ عوامل بدلتا رہتا ہے۔ مثلاً جاء غلام احمد، رایت غلام احمد مررت بغلام احمد نیز اسمعیل اور ابراہیم مرکب اسنادی کی طرح بھی استعمال نہیں ہوتے۔ کیونکہ مرکب اسنادی بھی ہوتا ہے اور یہ دونوں معرّب غیر منصرف ہیں۔ غرض ابراہیم واسماعیل ان کو ایک ایک ہی کلمہ سمجھا جاتا ہے اور پہلی جزو کا اعراب نہیں بدلتا۔ چنانچہ اسمع ایل کو اگر مرکب مانا جائے تو اسمع کا اعراب بدلنا چاہئے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسمعیل اور ابراہیم مفرد ہی استعمال ہوتے ہیں۔ بخلاف غلام احمد کہ اس کی پہلی جزو (مضاف) غلام کا اعراب بدل جاتا ہے۔ مثلاً جاء غلام احمد رَأَيْتُ غلام احمد پہلے جملہ میں غلام پر پیش (ضمہ) ہے اور دوسرے جملہ میں غلام پر زبر (نصب) ہے اور ابراہیم واسمعیل مرکب اسنادی کی طرح بھی استعمال نہیں ہوتے۔ کیونکہ مرکب اسنادی مبنی ہوتا ہے اور یہ ہر دونوں معرب غیر منصرف ہیں۔
ج ...... قرآن مجید کی بعض آیات جہاں آنحضور ﷺ کا اسم گرامی ذکر ہے وہاں مرزا قادیانی، محمد رسول اللہ سے اپنی ذات مراد لیتے ہیں۔ نہ کہ رسول عربی مکی مدنی ﷺ کی ذات مقدسہ۔ جیسا کہ انہوں نے (ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) پر لکھ دیا ہے کہ: ”محمد رسول اللہ والذین معه اشداء على الكفار رحماء بينهم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
٤١
صحابہ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مرید، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
باقی رہی مرزائی سیکرٹری کی تاویل کہ غلام احمد میں غلام کا لفظ خاندانوں کے ناموں میں مشترک ہے۔ اس لئے علم کے طور پر احمد ہی استعمال ہوتا تھا تو یہ لغو ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنی تصانیف میں غلام احمد لکھتے ہیں اور مذکورہ درخواستوں میں بھی غلام احمد ہی لکھا ہے۔ علم ان کا غلام احمد ہے نہ کہ احمد۔ باقی رہا یہ کہ مرزا قادیانی کو الہام میں احمد سے خطاب کیا گیا ہے تو ان کے الہامات کا پردہ کیا محمدی بیگم نے نہیں چاک کر دیا۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو کرشن بھی کہتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) کہاں تک ان کی بوالعجبیاں بیان کرتے رہیں گے۔
اور مرزائی سیکرٹری نے یہ بات بھی عجیب لکھی ہے کہ خواجہ میر درد پر بھی قرآن کی بعض آیتوں کا نزول ہوا ہے۔ سو یہ قادیانی شریعت کے مطابق ہوگا۔ کیا اس کا کوئی قطعی ثبوت موجود ہے؟ کہ ان پر آیات قرآنی کا نزول ہوا۔ کیا مرزائی سیکرٹری وحی قرآنی کے نزول کا مطلب بھی سمجھتا ہے؟
مسئلہ ختم نبوت اور مرزا قادیانی
قادیانی فرقہ ختم نبوت کے بنیادی عقیدہ کا منکر ہونے کی وجہ سے تمام امت مسلمہ کے نزدیک کافر ہے۔ لیکن اس موضوع پر مرزائی لوگ تحریر و تقریر میں اس قدر دجل و تلبیس سے کام لیتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔
ختم نبوت کا مفہوم
مرزائی فرقہ اپنے دعویٰ میں تو یہی کہتے ہیں کہ ہم خاتم النبیین کے قائل ہیں۔ لیکن اس سے جو ان کی مراد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی بھی نبی ہیں۔ چنانچہ مرزائی سیکرٹری نے خود مرزا قادیانی کی عبارت (اظہار الحق ص ١٩) میں لکھ دی ہے کہ: ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٠)
الجواب
- الف ....... ہم پوچھتے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنی نبی تراش کیا مرزا قادیانی سے پہلے
بھی کسی مفسر، محدث نے سمجھا ہے؟
٤٢
- ب ....... اگر رحمۃ للعالمین
صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو بالخصوص آنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہے اور جن کو یہ فیض چودہ سو سال کے بعد کیسے پہنچ گیا
- ج ....... ہم نے کشف ا
"انه سیکون فی امتی النبیین لا نبی بعدی" ”بیشک میر یہی گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ جب رسول خدا ﷺ نے فرما نہیں ہے تو اب مرزا قادیانی کے اس دوسری حدیث بھی ہم نے پیش کی تھی۔ کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک ای ہوتے اور یہ کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کی ہوں۔
یہ مثال بھی حضور ﷺ نے آخری اینٹ میں ہوں۔ میرے بعد اب تاویل کرتا ہے کہ : ”مسیح موعود کا مقام میں اس کی کوئی الگ اینٹ نہیں ۔ بلکہ اس جگہ مثل الانبیاء من قبلی ارشاد فرمایا تھے۔ بے شک مستقل نبی ہونے کے ہیں۔“
الجواب
- الف ....... یہ مستقل نبی اور
نے یہ کہاں سے نکال لیا؟
- ب ....... اگر آنحضرت
- ب...... اگر رحمۃ للعالمین ﷺ کی روحانی توجہ سے نبوت ملتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ
صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو بالخصوص خلفائے راشدین کو یہ فیض نہیں پہنچا جو سالہا سال آنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہے اور جنہوں نے ہر چیز نصرت حق میں قربان کر دی۔ مرزا قادیانی کو یہ فیض چودہ سو سال کے بعد کیسے پہنچ گیا؟
- ج...... ہم نے کشف الغمہ ص ٢٩ میں یہ حدیث پیش کی تھی۔
”انه سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ﴿بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہی گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾
جب رسول خدا ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی خود ہی متعین فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے تو اب مرزا قادیانی کے اس معنی کو کہ حضور نبی تراش ہیں۔ کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ دوسری حدیث بھی ہم نے پیش کی تھی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ پس لوگ اسے دیکھنے آتے اور خوش ہوتے اور یہ کہتے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھی گئی۔ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
(صحیح بخاری، مسلم، ترمذی)
یہ مثال بھی حضور ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی سمجھانے کے لئے دی تھی کہ قصر نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں۔ میرے بعد اب کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری یہ تاویل کرتا ہے کہ: ”مسیح موعود کا مقام آنحضرت ﷺ کے خادم و غلام کا ہے۔ اس لئے قصر نبوت میں اس کی کوئی الگ اینٹ نہیں۔ بلکہ وہ تجدید و خدمت کے رنگ میں قصر نبوت میں شامل ہے اور اس جگہ مثل الانبیاء من قبلی ارشاد فرمایا ہے۔ یعنی یہ پہلے انبیاء کی مثال ہے۔ پہلے تمام انبیاء مستقل تھے۔ بے شک مستقل نبی ہونے کے لحاظ سے ہمارے نزدیک بھی آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔“
(اظہار الحق ص ٢٠)
الجواب
- الف...... یہ مستقل نبی اور غیر مستقل نبی کا فرق نبی کریم ﷺ نے تو نہیں فرمایا۔ آپ
نے یہ کہاں سے نکال لیا؟
- ب...... اگر آنحضرت ﷺ کے بعد غیر مستقل نبی نے آنا ہوتا تو حضور ﷺ
٤٣
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
حدیث مذکور لا نبی بعدی میں اس کا استثناء فرما دیتے اور قصر نبوت کی مثال دیتے ہوئے بھی اس کی گنجائش رکھتے۔ حالانکہ ایسا نہیں فرمایا۔ چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت ختم ہوگئی تھی اور تیس کذابوں نے دعویٰ نبوت کرنا تھا۔ اس لئے آپ نے مطلقاً لا نبی بعدی فرما دیا۔ تا کہ حضور ﷺ کے بعد پیدا ہونے والا خواہ کوئی بھی ہو اگر نبوت کا دعویٰ کرے تو اس کو کذاب، دجال سمجھا جائے اور یہاں غیر مستقل نبی گنجائش نکالنا بھی تو ایک حیرت انگیز دجل وفریب ہے۔
ج....... مرزائی سیکرٹری کا یہ لکھنا کہ مسیح موعود کا مقام آنحضرت ﷺ کے خادم وغلام کا ہے۔ اس لئے قصر نبوت میں اس کی کوئی الگ اینٹ نہیں بلکہ وہ تجدید وخدمت دین کے رنگ میں قصر نبوت میں شامل ہے۔ ہمارے مفہوم کو مؤید ہے۔ کیونکہ آخری اینٹ سے مراد جب آنحضرت ﷺ کی ذات قدسہ ہوئی تو اور تو کسی کی وہاں گنجائش ہی نہ رہی تو مرزا قادیانی کی نبوت کی اینٹ کہاں رکھی جائے گی۔ جبکہ کسی اینٹ کی جگہ خالی نہیں رہی۔ باقی رہا یہ کہ مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے غلام و خادم ہیں تو اس طرح تو امت محمدیہ میں کروڑوں خادم وغلام ہیں اور سینکڑوں خدمت وتجدید دین کرنے والے ہیں تو کیا ان کو بھی نبی کہا جائے گا۔ بحث تو نبی اور غیر نبی ہونے میں ہے نہ کہ خادم و مجدد دین ہونے میں۔ ایسی اینٹ جو قصر نبوت میں نہیں لگ سکتی اس کا بیت الخلاء میں لگنا ہی مناسب ہے جو قصر نبوت سے جدا ہے۔ مبارک ہو!
تشریعی وغیر تشریعی نبوت
مرزائی سیکرٹری نے مرزا قادیانی کی یہ عبارت بھی پیش کی ہے کہ: ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)
الجواب
الف....... کتاب وسنت کی تصریحات کے خلاف ایسی من گھڑت باتیں کیسے قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ کیا قرآن وحدیث میں بھی کہیں یہ لکھا ہے کہ صاحب شریعت نبی تو نہیں آئیں گے۔ لیکن غیر صاحب شریعت آتے رہیں گے۔ ہرگز نہیں۔ نصوص میں تو ہر طرح کی نبوت کا ختم ہونا پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
٤٤
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مخلص پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ب....... مرزا قادیانی کی یہ تاو چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ختمیت نبوت یعنی یہ کہ موجود نہیں اور تمام سلاسل نبوت بنی اسرائیل نیا یا پرانا اسرائیلی بطور خلافت کے بھی نہیں آسکتا یہاں صاف مان لیا کہ آنحضر آسکتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔
ج....... مرزا قادیانی لکھتے ہی کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شر وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
اور چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے کہ ان کا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے نہ کہ غیر تشر کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا ا سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک
یہ ہے مرزا قادیانی کی تضاد بیا کہ خود مرزا قادیانی کے قول سے ہی اس کی
عقیدہ حیات مسیح اور ختم نبوت
قادیانی فرقے کے لوگ ناواق کے بعد تم بھی ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علی آنے کو مان رہے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہونے کی وجہ بھی ختم نبوت کے خلاف ہوکر کفر ہوگا۔ چنا ”ختم نبوت اور بعض دیگر مسائل کے بار
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
مثال دیتے ہوئے بھی اس کی عہد ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی تھی لا نبی بعدی فرما دیا۔ تاکہ گزرے تو اس کو کذاب، دجال یہ دجل و فریب ہے۔ مقام آنحضرت ﷺ کے خادم کہ وہ تجدید و خدمت دین کے آخری اینٹ سے مراد جب رہی تو مرزا قادیانی کی نبوت گئی۔ باقی رہا یہ کہ مرزا قادیانی کروڑوں خادم و غلام ہیں اور آجائے گا۔ بحث تو نبی اور غیر مہر نبوت میں نہیں لگ سکتی اس الگ ہو!
اتی ہے کہ: ”جس جس جگہ میں میں مستقل طور پر کوئی شریعت وحی سے کہ میں نے اپنے رسول کے واسطے سے خدا کی طرف گئے اس طور کا نبی کہلانے سے ٧٩، خزائن ج١٨ ص ٢١٠، ٢١١)
ایسی من گھڑت باتیں کیسے قابل صاحب شریعت نبی تو نہیں نصوص میں تو ہر طرح کی نبوت
ب ...... مرزا قادیانی کی یہ تاویل ان کے اپنے کلام سے بھی باطل ٹھہرتی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ختمیت نبوت یعنی یہ کہ سلسلہ خلافت محمدیہ میں اب کوئی بھی نیا یا پرانا زندہ موجود نہیں اور تمام سلاسل نبوت بنی اسرائیل کے ہمارے حضرت پر ختم ہو چکے ہیں۔ اب کوئی نبی نیا یا پرانا اسرائیل بطور خلافت کے بھی نہیں آ سکتا۔“
(دافع البلا ص ١٩)
یہاں صاف مان لیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بطور خلافت کے بھی کوئی نبی نہیں آسکتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔
ج ...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت ہونے کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
اور چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر بھی کہا ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ ان کا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے نہ کہ غیر تشریعی کا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا اور دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی کفر میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
یہ ہے مرزا قادیانی کی تضاد بیانی اور یہ ہے مرزائی سیکرٹری کی پیش کردہ تاویل کا انجام کہ خود مرزا قادیانی کے قول سے ہی اس کی دھجیاں فضائے آسمان میں بکھر گئیں۔
عقیدہ حیات مسیح اور ختم نبوت
قادیانی فرقے کے لوگ ناواقف مسلمانوں کو یہ فریب دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد تم بھی ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے قائل ہو اور ہم بھی ایک ہی نبی کے آنے کو مان رہے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی، تو اگر رسالت محمدیہ کے دور میں مرزا قادیانی کا بھی ماننا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہونے کی وجہ سے کفر ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا ماننا بھی ختم نبوت کے خلاف ہو کر کفر ہوگا۔ چنانچہ اس اعتراض کو مرزائی سیکرٹری نے اپنے پہلے ٹریکٹ ”ختم نبوت اور بعض دیگر مسائل کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر“ میں لکھا تھا اور اسی کو (اظہار الحق
٤٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
ص١٨) میں ان الفاظ سے پیش کیا ہے کہ: ”ایک اور بات جو بڑے تکرار سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ اصول ہمارے نزدیک بالکل درست اور صحیح ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے مبارک دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے معتقد اور ان کا انتظار کرنے والے ختم نبوت کے منکر اور اپنے مسلمہ عقیدہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ گنبد کی آواز کی طرح ان کے فتوٰی کی صدائے بازگشت ہی ہے۔ ہماری طرف سے کوئی فتویٰ نہیں ہے۔“
الجواب
الف ....... یہاں بھی مرزائی سیکرٹری نے اپنے موروثی دجل سے کام لیا ہے۔ کیونکہ ہمارا اور تمام امت مسلمہ کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آئے گا۔ ختم نبوت کا مفہوم تو یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہﷺ تک حق تعالیٰ کی طرف سے جتنے انبیاء ہو چکے ہیں وہی رہیں گے۔ نبوت کا عطا ہونا یا کسی نبی کا پیدا ہونا ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرتﷺ سے پہلے کے نبی ہیں۔ ان کا دوبارہ تشریف لانا ختم نبوت کے اس مفہوم کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ جو ہم نے لکھا ہے اور جو لا نبی بعدی میں خود نبی کریمﷺ نے سمجھا دیا ہے۔ اب بتلائیے کہ ہمارے عقیدہ کے تحت آپ کا یہ الزام کیسے درست ہو سکتا ہے؟
ب ....... مرزائی سیکرٹری نے جو یہ لکھا ہے کہ یہ اصول ہمارے نزدیک بالکل درست اور صحیح ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ یہ اصول اگر تمہارے نزدیک صحیح ہوتا تو مرزا قادیانی کو بجائے نبی ماننے کے اہل اسلام کی طرح کافر قرار دیتے۔
ج ....... ہم تو صرف حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کے قائل ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک تو ہزاروں مسیح آسکتے ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کا یہ کہنا بھی مغالطہ آمیز ہوا کہ ہم بھی ایک ہی کے قائل ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
”میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص١٩٩،خزائن ج٣ص١٩٧)
نیز لکھتے ہیں کہ: ”جب تیس دجال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لکل دجال عیسیٰ تیس مسیح بھی آنے چاہئیں۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی
٤٦
ایسے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لیے ہمیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک کے، مجلس، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا ہے۔ درویشی
اس آخری عبارت میں تو مرزا قادیانی میں جس مسیح کے آنے کا ذکر ہے وہ میں نہیں ہوں کے آنے کی خبر ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو مسیح مانا ہے۔ الفضل ماشهدت به الاعداء!
حضرت نانوتویؒ اور ختم نبوت
عموماً مرزائی یہ فریب دیتے ہیں کہ نانوتوی نے بھی مرزا قادیانی کی طرح لکھا ہے کہ:
- ١....... ”رسول اللہﷺ پر مراتب
مراتب حکومت ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بانی خاتم الکاملین اور خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔“ ( اس پر مرزائی سیکرٹری لکھتا ہے: ”یہ آنا خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ خود حضرت نانوتوی
- ٢....... ”بالفرض اگر بعد زمانہ
محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا۔“
الجواب
الف ....... ختم نبوت کے متعلق جو بانی دارالعلوم دیوبند کا عقیدہ بھی وہی ہے جو سلف میں ختم نبوت کی تینوں قسموں مرتبی، زمانی اور سیکرٹری نے اوپر جو عبارتیں لکھی ہیں وہ ختم نبوت کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لئے حضرت نانوتویؒ بالفرض اگر حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آئے تو فرماتے ہیں۔ ان میں فرق نہیں آئے گا۔ باقی رہا
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا عَلِيْمٌ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے بیٹھیں پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
جو بڑے تکرار سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اصول ہمارے نزدیک بالکل درست اور کے مبارک دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام گے مگر اور اپنے مسلمہ عقیدہ کے مطابق طرح ان کے فتوٰی کی صدائے بازگشت
نے موروثی دجل سے کام لیا ہے۔ کیونکہ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آئے گا۔ ختم کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد رسول باقی رہیں گے۔ نبوت کا عطا ہونا یا کسی ہم تو آنحضرتﷺ سے پہلے کے نبی کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ جو ہم نے لکھا ہے۔ اب بتلائیے کہ ہمارے عقیدہ کے
کہ یہ اصول ہمارے نزدیک بالکل ے نزدیک صحیح ہوتا تو مرزا قادیانی کو
علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کے سکتے ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کا یہ کہنا بھی ہیں۔
مرتبے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے کر بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس
(ازالۃ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
ہے تو بحکمِ کل دجال عیسیٰ نہیں مسیح بھی ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی
آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا ہے۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧، ١٩٨)
اس آخری عبارت میں تو مرزا قادیانی نے دبی زبان سے یہ اقرار کر لیا کہ احادیث میں جس مسیح کے آنے کا ذکر ہے وہ میں نہیں ہوں اور ظاہر ہے کہ احادیث میں ایک ہی مسیح بن مریم کے آنے کی خبر ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننا بالکل باطل ٹھہرا اور یہی امت محمدیہ کا فیصلہ ہے۔ الفضل ما شہدت بہ الاعداء!
حضرت نانوتویؒ اور ختم نبوت
عموماً مرزائی یہ فریب دیتے ہیں اور مرزائی سیکرٹری نے بھی یہی کیا ہے کہ حضرت نانوتوی نے بھی مرزا قادیانی کی طرح لکھا ہے۔ چنانچہ حضرت نانوتوی کی یہ دو عبارتیں پیش کی ہیں کہ:
- ١....... ”رسول اللہﷺ پر تمام مراتب کمال اس طرح ختم ہو گئے جیسے بادشاہ پر
مراتب حکومت ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بادشاہ کو خاتم الحکام کہہ سکتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کو خاتم الکاملین اور خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔“ (حجۃ الاسلام)
اس پر مرزائی سیکرٹری لکھتا ہے۔ ”گویا آنحضرتﷺ کی غلامی اور متابعت میں نبی کا آنا خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ خود حضرت نانوتویؒ فرماتے ہیں۔“
- ٢....... ”بالفرض اگر بعد زمانہ نبویﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت
محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا۔“
(تحذیر الناس ص ٢٨)
الجواب
- الف....... ختم نبوت کے متعلق حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ
بانی دارالعلوم دیوبند کا عقیدہ بھی وہی ہے جو ساری امت محمدیہ کا ہے۔ البتہ آپ نے تحذیرالناس میں ختم نبوت کی تینوں قسموں مرتبی، زمانی اور مکانی کی محققانہ تفصیل بیان فرمائی ہے اور مرزائی سیکرٹری نے اوپر جو عبارتیں لکھی ہیں وہ ختم نبوت مرتبی کی تشریح میں ہیں۔ ان سے ختم نبوت زمانی کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لئے حضرت نانوتویؒ نے اس کو بالفرض کے لفظ سے ادا کیا ہے۔ یعنی بالفرض اگر حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آئے تو اللہ تعالیٰ نے جو انتہائی کمالات نبوت آپ کو عطاء فرمائے ہیں۔ ان میں فرق نہیں آئے گا۔ باقی رہا یہ کہ کیا آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آئے گا
٤٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا عَلِيمٌ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا
آپ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک ،استاد سے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
تو حضرت نانوتویؒ نے اس کی نفی فرمائی ہے۔ ہرگز نہیں نہیں آئے گا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔“
(تحذیر الناس ص٩)
نیز فرماتے ہیں کہ تحذیر کو غور سے دیکھا ہوتا تو اس میں خود موجود ہے کہ لفظ خاتم تینوں معنوں پر بدلالت مطابق دلالت کرتا ہے اور اسی کو اپنا مختار قرار دیا ہے۔
(جواب محذورات ص٨٣)
اب مرزائی سیکرٹری بتلائے کہ کیا وہ ختم نبوت زمانی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ جس کی حضرت نانوتویؒ نے تصریح فرمادی ہے۔
ہمارا سوال
ہم نے کشف التلبیس میں لکھا تھا کہ تمام مرزائیوں سے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر کوئی شخص ان تمام عقائد کو مانے جو مرزا قادیانی نے یہاں لکھے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود نہ مانے تو کیا اس کو مومن اور مسلمان سمجھتے ہو؟
اس کے جواب میں مرزائی سیکرٹری لکھتا ہے کہ اس سوال میں جواب کے متعلق گذارش ہے کہ ہاں حضرت مرزا قادیانی کے ارشاد میں جن امور کا ذکر ہے ان کو ماننے والا یقیناً مسلمان ہے۔ وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا جس میں مسیح موعود علیہ السلام کا ماننا بھی ضروری سمجھا گیا ہے۔
الجواب
الف...... مرزائی سیکرٹری نے جواب میں دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ ہم نے کشف التلبیس میں علامہ آلوسی مصری کی تفسیر روح المعانی، امام غزالی اور فتاویٰ عالمگیری کی عبارتیں پیش کی تھیں۔ جن میں ختم نبوت کا مفہوم بیان کر کے اس کے منکر کو کافر قرار دیا گیا۔ ان کا جواب مرزائی سیکرٹری نے بالکل نہیں دیا۔ اسی طرح امت مسلمہ کا جس مسیح کی آمد ثانی پر اجماع ہے وہ حضرت عیسیٰ بن مریمؑ ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے بحیثیت نبی مبعوث ہوچکے ہیں نہ کہ چراغ بی بی کے فرزند مرزا غلام احمد قادیانی۔ تو کیا اس بارے میں مرزا قادیانی اور ان کی امت کا عقیدہ اجماع امت کے خلاف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ چنانچہ کشف التلبیس میں بھی ہم نے مرزا قادیانی کی یہ عبارت پیش کی تھی کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ کافر اور مردود اور اس کے اعمال حسنہ نا مقبول اور دنیا میں معذب اور آخرت میں ملعون ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص١٦٧، خزائن ج٢٢ ص٣٩٠)
٤٨ *
اور اس فتویٰ پر مرزائیوں کا عمل بھی کے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کا جنازہ اسی دھوکا دینے کی کوشش کرے گا۔
آہ محمدی بیگم
ہم نے مرزا قادیانی کی نبوت ذکر کیا تھا۔ اس پر مرزائی سیکرٹری سراسیمہ ہ دلیل سمجھتا ہے کہ اس کو اپنی کمزوری چھپا ہوئی۔“
اس کے جواب میں صرف اتنا تھا کہ: ”آخر میں قارئین کی ضیافت طبع کے اور اس میں انتہائی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں مرزا قادیانی کی نبوت کی دھجیاں بکھیر دی گوئی سے بھی واقف ہو جائیں اور یہ پیش سے صحیح نتیجہ نکال سکتا ہے۔ لیکن مرزائی میں بھی تاویلات باطلہ پیش کرنے سے پیش کی ہے کہ مرزا قادیانی نے معترض کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہا اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں ١٩٢١ء سے مرزا سلطان محمد خاوند محمدی بیگم مجھے حضرت مرزا قادیانی پر ہے۔ میرا عق
الجواب
الف...... محمدی بیگم سے تھی۔ لیکن مرزا احمد بیگ نے ایمانی جر ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع طرح مرزا سلطان محمد ان کے سینہ پر تکذیب کا اشتہار تو شائع کرے پھر دیکی
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰٓاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
ایسے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ نام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک تھے مجلس پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ئے گا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’سو اگر د تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت
(تحذیر الناس ص ٩)
میں خود موجود ہے کہ لفظ خاتم تینوں
(جواب محذورات ص ٨٣)
کرتا ہے۔ جس کی حضرت نانوتویؒ
یوں سے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر کوئی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح
ی سوال میں جواب کے متعلق گذارش کر ہے ان کو ماننے والا یقیناً مسلمان پر اجماع تھا جس میں مسیح موعود علیہ
دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ ہم نے ئی، امام غزالی اور فتاویٰ عالمگیری کی کے اس کے منکر کو کافر قرار دیا گیا۔ ان کا مسلمہ کا جس مسیح کی آمد ثانی پر اجماع پہلے بحیثیت نبی مبعوث ہو چکے ہیں نہ کہ ے میں مرزا قادیانی اور ان کی امت کا وہ ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو ہم نے مرزا قادیانی کی یہ عبارت پیش اعمال حسنہ نامقبول اور دنیا میں معذب
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٠)
اور اس فتویٰ پر مرزائیوں کا عمل بھی ہے۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے مسلم لیگ کے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کا جنازہ اسی بناء پر نہیں پڑھا تھا۔ مرزائی سیکرٹری کہاں تک عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کرے گا۔
آہ محمدی بیگم
ہم نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ابطال کے سلسلہ میں محمدی بیگم کی پیش گوئی کا بھی ذکر کیا تھا۔ اس پر مرزائی سیکرٹری سراسیمہ ہو کر لکھتا ہے کہ: ”خود معترض ہمارے جواب کو اتنا کافی ومکمل سمجھتا ہے کہ اس کو اپنی کمزوری چھپانے کے لئے ایک نئی بات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔“
(اظہار الحق ص ٢١)
اس کے جواب میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ہم نے اس عنوان کی ابتداء میں یہ لکھ دیا تھا کہ: ”آخر میں قارئین کی ضیافت طبع کے لئے ہم مرزا قادیانی کی ایک عجیب وغریب پیش گوئی اور اس میں انتہائی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں۔“ ضیافت طبع کے الفاظ سے ہم نے یہی بتایا تھا کہ گو مرزا قادیانی کی نبوت کی دھجیاں بکھیری جاچکی ہیں۔ لیکن ضیافت طبع کے لئے قارئین اس پیش گوئی سے بھی واقف ہو جائیں اور یہ پیش گوئی ایک ایسی حجت ہے کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس سے صحیح نتیجہ نکال سکتا ہے۔ لیکن مرزائی فرقہ کو تو اتباع حق مطلوب ہی نہیں ہے۔ اس لئے وہ اس میں بھی تاویلات باطلہ پیش کرنے سے نہیں جھجکتے اور مرزائی سیکرٹری نے بھی یہ تاویل جواب میں پیش کی ہے کہ مرزا قادیانی نے معترض کے جواب میں یہ لکھا تھا کہ فیصلہ تو آسمان ہے۔ احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے۔ اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں گا۔ پھر مرزائی سیکرٹری نے الفضل ٢٩؍ ارجون ١٩٢١ء سے مرزا سلطان محمد خاوند محمدی بیگم کا بیان نقل کیا ہے کہ میں قسمیہ کہتا ہوں جو ایمان واعتقاد مجھے حضرت مرزا قادیانی پر ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی جو بیعت کر چکے ہیں، اتنا نہیں ہوگا۔
الجواب
الف...... محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے ١٨٨٦ء سے شروع کی تھی۔ لیکن مرزا احمد بیگ نے ایمانی جرأت سے کام لے کر اپنی دختر محمدی بیگم کا نکاح ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور کے ساتھ کر دیا اور مرزا قادیانی کی زندگی میں اس طرح مرزا سلطان محمد ان کے سینہ پر مونگ پیستا رہا۔ لیکن مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بھلا میری تکذیب کا اشتہار تو شائع کرے پھر دیکھے کیسے عذاب آتا ہے۔ سبحان اللہ!
٤٩
مرزا سلطان محمد کا مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی سے نکاح کر لینا اس سے بڑھ کر مرزا قادیانی کی تکذیب کا کوئی اور اشتہار ہو سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی آنجہانی ہوگئے اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا۔ اب مرزائی سیکرٹری الفضل سے مرزا سلطان محمد کا ایک بیان نقل کرتا ہے۔ جو ١٩٢١ء میں شائع ہوا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کی موت کے ١٣ سال بعد وہ تائب ہوا۔ کون ان حواس باختہ لوگوں سے پوچھے کہ اگر وہ توبہ کرتا اور مرزا قادیانی کو نبی مان لیتا تو وہ محمدی بیگم کو طلاق کیوں نہ دے دیتا۔ تاکہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی ثابت ہو جائے اور پھر محمدی بیگم کیوں نہ مرزا قادیانی پر ایمان لے آتی جو ان کے بعد ٥٨ سال تک زندہ رہی۔ اگر بالفرض محمدی بیگم بھی تائب ہو جاتی تب بھی مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہونے کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ کیونکہ انہوں نے صاف لکھ دیا تھا کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں ۔
”خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کی باتوں کو ٹال سکے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، ٢٨٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً، کشف التلبیس ص ٣٨)
ہم پوچھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے یہ پختہ وعدہ کیا تھا کہ محمدی بیگم کو ضرور ان کے نکاح میں لائے گا اور ہر ایک روک کو دور کرے گا تو اس میں مرزا سلطان محمد کی توبہ یا عدم توبہ کا کیا دخل ہے۔ پیش گوئی کے مطابق محمدی بیگم نے مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آنا تھا۔ لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی تھی اور خود ساختہ تھی اور اگر مرزائی سیکرٹری اس پیش گوئی کو خدا کی طرف سے مانتا ہے تو پھر ثابت ہوا کہ مرزائیوں کا خدا وہ نہیں جو ”علیٰ کل شئ قدیر“ ہے بلکہ وہ تو نعوذ باللہ مرزا سلطان محمد اور محمدی بیگم کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کیا محمدی بیگم کا ١٩ نومبر ١٩٦٦ء تک زندہ رہنا مرزا قادیانی کی تردید کے لئے ایک عام فہم زبردست خدائی نشان نہیں ہے؟ وما علینا الا البلاغ !
حافظ محمد اسحاق قریشی جہلم شہر
٥٠
صحابہ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا عَلِيْمٌ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ حترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ہوتے، مجلس پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
نکاح کر لینا اس سے بڑھ کر ١٩ء میں مرزا قادیانی آنجہانی سے مرزا سلطان محمد کا ایک بیان کی موت کے ١٣ سال بعد وہ مرتا اور مرزا قادیانی کو نبی مان کہ پیش گوئی ثابت ہو جائے اور کہ ٥٨ سال تک زندہ رہی۔ اگر کوئی پوری ہونے کی کوئی دلیل تو میرے نکاح میں آئے گی۔
پھر دختر کلاں کو جس کی نسبت عاجز کے نکاح میں لائے گا اور اس کے لئے جو اس کام کو روک طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں
(٥ص ایضاً، کشف التلبیس ص ٣٨)
یہ پختہ وعدہ کیا تھا کہ محمدی بیگم کو جس میں مرزا سلطان محمد کی توبہ یا قادیانی کے نکاح میں ضرور آنا تھا۔ پیش گوئی جھوٹی تھی اور خود ساختہ تو پھر ثابت ہوا کہ مرزائیوں کا مرزا سلطان محمد اور محمدی بیگم کا بھی مرزا قادیانی کی تردید کے لئے
حافظ محمد اسحاق قریشی جہلم شہر
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
سودائے مرزا
حکیم ڈاکٹر محمد علی امرتسری
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا هَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
بسم الله الرحمن الرحیم!
وجہ تالیف
احمدی صاحبان کبھی تو مرزا قادیانی کو مسیح اور کبھی نبی ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا کرتے ہیں۔ حالانکہ نبی اور ملہم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ صحیح الدماغ ہو۔ اس کا حافظہ نہایت قوی ہو۔ اس کو کوئی دماغی بیماری نہ ہو۔ جیسا کہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ:
- ١...... ”ملہم کے دماغی قوی کا نہایت مضبوط اور اعلیٰ ہونا بھی ضروری ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز ماہ ستمبر ١٩٢٩ء ص ٤)
- ٢...... ”انبیاء کا حافظہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔“
(ریویو ماہ نومبر ١٩٢٩ء ص ٨)
- ٣...... ”ملہم کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔“
(ریویو ماہ جنوری ١٩٣٠ء ص ٢٦)
- ٤...... ”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ١٩، خزائن ج ١٥ ص ٢١)
اس لئے ضروری ہوا کہ طبی رو سے مرزا قادیانی کے دماغ کا معائنہ کیا جائے۔
- ١....... اگر ان کے دماغی قوی کمزور ہوں۔
- ٢....... حافظہ ایسا کمزور ہو کہ نسیان تک نوبت پہنچ چکی ہو۔
- ٣....... دماغ خراب ہو چکا ہو۔
- ٤....... ان کے کلام میں تناقض اور جھوٹ ہو۔
- ٥....... اور ان تمام عوارضات ردیہ کا باعث مالیخولیا ہو۔
تو اس صورت میں ان کے دعاوی کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسا کہ ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب احمدی اسسٹنٹ سرجن فرماتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“
(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص ٦، ٧)
اس واسطے میں نے طبی معلومات کو مدنظر رکھ کر مرزا قادیانی کے دماغ کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نہ ہی مسیح تھے نہ نبی اور نہ ہی مجدد تھے نہ ولی۔ بلکہ مرض مالیخولیا کے مریض تھے۔ اسی مالیخولیا کی وجہ سے ان کے کل دماغی قوی کمزور ہوچکے تھے۔
(ملاحظہ ہو شہادت ص ٧)
٢
ان کا حافظہ کمزور ہو کر نسیان کا دماغ خراب ہو چکا تھا۔ (شہادت نمبر ١) الخ نمبر ٢٠) ان کے کل الہامات اور دعاوی مر ہے ) اس تحقیق کے بعد میں نے اپنا فرض دھوکہ سے بچ جائیں اور مرزا قادیانی کو ما کے باعث اس جال میں پھنس چکے ہیں ۔
یہ مضمون میں نے حاجی عبدا اور ٢ نومبر ١٩٢٩ء کے جلسہ انجمن شباب ا گہرا اثر ہوا۔ ان کا اصرار تھا کہ اس کو عا الفرصتی کے باعث ایک عرصہ تک یہ مضمو
اب رہنمائے قوم جناب سہا فرمائش پر میں نے اس کو نہایت اہتمام صحیح الدماغ ثابت کرنے اور مالیخولیا وغیر کا جواب نہایت مدلل اور مہذب پیرایہ می خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا حکیم، اگر مرزائیت کے اس مضمون کو دیکھے گا تو یقیناً اسی وقت اپنی کر لے گا۔ اگر کسی مجبوری کے باعث اس ضرور کھٹک جائے گا کہ واقعی مرزا قادیانی
جن کتابوں سے امداد لی گئی
میں نے اس رسالہ کی تیاری ہیں۔ (١) شرح اسباب ۔ (٢) ترجمہ شرف (٥) اکسیر اعظم فارسی ۔ (٦) قانون (٩) مشکوۃ شریف ۔ (١٠) مسلم شریف ۔ (١٣) ست بچن ۔ (١٥) حقیقت الوحی ۔ (١٩) ریویو آف ریلیجنز ۔ (٢٠) سیرۃ الاذہان ۔ (٢٣) کتاب منظور الہی۔ (
ان کا حافظہ کمزور ہو کر نسیان تک نوبت پہنچ چکی تھی۔ (ملاحظہ ہو تعلیق علامات ص ١٦) ان کا دماغ خراب ہو چکا تھا۔ (شہادت نمبر ١) ان کے کلام میں سخت تناقض اور جھوٹ تھا۔ (تعلیق علامات نمبر ٢٠) ان کے کل الہامات اور دعاویٰ مرض مالیخولیا کی وجہ سے تھے۔ (تمام کتاب اس کا ثبوت ہے) اس تحقیق کے بعد میں نے اپنا فرض سمجھا کہ اس بات سے عوام الناس کو آگاہ کردوں۔ تاکہ وہ دھوکہ سے بچ جائیں اور مرزا قادیانی کو مالیخولیا کا بیمار سمجھ کر ان سے الگ رہیں اور جو عدم واقفیت کے باعث اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ وہ جلد از جلد توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں۔
یہ مضمون میں نے حاجی عبدالغنی صاحب ناظم انجمن شباب المسلمین بٹالہ کے ایماء پر لکھا اور ٢ نومبر ١٩٢٩ء کے جلسہ انجمن شباب المسلمین بٹالہ میں اس پر لیکچر دیا۔ جس سے سامعین پر ایک گہرا اثر ہوا۔ ان کا اصرار تھا کہ اس کو عام اخبارات اور رسائل میں شائع کیا جائے۔ لیکن عدیم الفرصتی کے باعث ایک عرصہ تک یہ مضمون معرض التواء میں پڑا رہا۔
اب رہنمائے قوم جناب سید محمد شریف صاحب گھڑیالوی امیر جماعت اہل حدیث کی فرمائش پر میں نے اس کو نہایت اہتمام کے ساتھ طبع کرایا اور اس سے قبل جو مضامین مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ ثابت کرنے اور مالیخولیا وغیرہ کی تردید میں احمدی اصحاب نے تحریر کئے تھے۔ ان تمام کا جواب نہایت مدلل اور مہذب پیرایہ میں اس رسالہ کے اخیر پر لکھا۔ میرا دعویٰ ہے کہ کوئی احمدی خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا حکیم، اگر مرزائیت کے تعصب کی پٹی کو آنکھوں سے ہٹا کر منصفانہ حیثیت سے اس مضمون کو دیکھے گا تو یقیناً اسی وقت اپنی زبان سے مرزا قادیانی کے ناقص الدماغ ہونے کا اقرار کر لے گا۔ اگر کسی مجبوری کے باعث اپنے منہ سے یہ الفاظ نہ کہے گا تو اس کے دل میں ایک دفعہ ضرور کھٹک جائے گا کہ واقعی مرزا قادیانی مالیخولیا کے مریض تھے۔ (حکیم محمد علی)
جن کتابوں سے امداد لی گئی
میں نے اس رسالہ کی تیاری میں جن کتابوں سے امداد لی ان کے نام حسب ذیل ہیں۔ (١) شرح اسباب۔ (٢) ترجمہ شرح اسباب۔ (٣) حدود الامراض۔ (٤) طب اکبر اردو۔ (٥) اکسیر اعظم فارسی۔ (٦) قانون شیخ۔ (٧) مخزن حکمت۔ (٨) بیاض نورالدین۔ (٩) مشکوۃ شریف۔ (١٠) مسلم شریف۔ (١١) مسند احمد۔ (١٢) اربعین۔ (١٣) ازالہ اوہام۔ (١٤) ست بچن۔ (١٥) حقیقت الوحی۔ (١٦) نزول مسیح۔ (١٧) درثمین۔ (١٨) البشریٰ۔ (١٩) ریویو آف ریلیجنز۔ (٢٠) سیرۃ المہدی۔ (٢١) اخبار بدر قادیان۔ (٢٢) رسالہ تشحیذ الاذہان۔ (٢٣) کتاب منظور الٰہی۔ (٢٤) اخبار الفضل۔ (٢٥) دافع البلاء۔ (٢٦) آئینہ
٣
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ سے کہتے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے شخص پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
کمالات اسلام۔ (٢٧) کتاب البریہ۔ (٢٨) نجم الہدیٰ۔ (٢٩) انجام آتھم۔ (٣٠) حقیقت النبوت۔ (٣١) ایک غلطی کا ازالہ۔ (٣٢) اشتہار انعامی پانسو۔ (٣٣) براہین احمدیہ۔ (٣٤) نسیم دعوت۔ (٣٥) اخبار الحکم۔ (٣٦) تبلیغ رسالت۔ (٣٧) اشتہار لنگر خانہ۔ (٣٨) راز حقیقت۔ (٣٩) مکتوبات احمدی۔ (٤٠) تحفہ گولڑویہ، کشتی نوح۔ (٤١) حمامۃ البشریٰ۔ (٤٢) تریاق القلوب۔ (٤٣) نصرۃ الحق۔ (٤٤) اتمام الحجۃ۔ (٤٥) لیکچر سیالکوٹ۔ (٤٦) تذکرۃ الشہادتین۔ (٤٧) وید اور قرآن کا مقابلہ۔ (٤٨) توضیح المرام۔ (٤٩) پیام صلح۔ (٥٠) کرامات الصادقین۔ (٥١) چشمہ معرفت۔ (٥٢) خطبہ الہامیہ۔ (٥٣) اشتہار معیار الاخیار۔ (٥٤) الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح۔
شکریہ
مولانا ثناء اللہ صاحب بابو حبیب اللہ کلرک۔ مولانا عبدالرحمن صاحب، مولانا نیک محمد صاحب کا میں بدل مشکور ہوں۔ جنہوں نے اس رسالہ کی تیاری میں میری امداد فرمائی۔
مرزا قادیانی کن کن امراض میں مبتلا تھے
مرزا قادیانی مالیخولیا مراق میں مبتلا ہونے کے علاوہ دائم المریض اور بہت سی ردی اور خطرناک امراض میں مبتلا تھا۔ جن کی مختصر فہرست حسب ذیل ہے۔
(١) درد سر۔ (٢) دوران سر۔ (٣) کمی خواب۔ (٤) تشنج اعصاب۔ (٥) ضعف دماغ۔ (٦) ضعف حافظہ۔ (٧) ضعف اعصاب۔ (٨) تشنج قلب۔ (٩) سوء ہضم۔ (١٠) اسہال۔ (١١) ذیابیطس۔ (١٢) ہسٹریا۔ (١٣) مالیخولیا مراقی۔ نسیان۔
اس وقت ہمیں آپ کی دیگر امراض سے کوئی بحث نہیں۔ ہمیں تو آپ کے دماغ میں مالیخولیا اور اس کی وجہ سے بعض عوارضات ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس لئے ہم مرزا قادیانی کی دوسری امراض کو چھوڑتے ہوئے اپنی تمام تر تحقیق اسی مرض کی تشخیص میں صرف کرتے ہیں اور زبردست شہادتوں کی بناء پر ثابت کرتے ہیں کہ آپ روز روشن کی طرح مرض مالیخولیا میں مبتلا تھے۔
شہادت نمبر ١
خود مرزا قادیانی اپنے مجموعہ امراض ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ میں ایک دائم المریض آدمی ہوں۔ ”ہمیشہ سر درد، دوران سر، کمی خواب، تشنج، دل کی بیماری دورے کے ساتھ آتی ہے اور
٤
دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں
شہادت نمبر ٢
خود مرزا قادیانی اپنے مرا بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی آسمان سے جب اترے گا تو دوزرد چا ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے
(اخبار بدر
شہادت نمبر ٣
مراق کے متعلق مرزا قادیانی اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے رات کو مکان کے دروازے بند کر کے زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کر اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو
شہادت نمبر ٤
مراق اور ہسٹریا کے متعلق م دوم لکھتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا اور پھر اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ایک ق آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صا کھنکھنایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گر صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہوگی۔ ی
دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصے بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سوسو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
شہادت نمبر ٢
خود مرزا قادیانی اپنے مراقی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(اخبار بدر قادیان ص ٥، مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٥)
شہادت نمبر ٣
مراق کے متعلق مرزا قادیانی کی اپنی شہادت ملاحظہ ہو۔ ”میرا تو حال یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں تاہم آج کل کی مصروفیات کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر اور دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔“
(کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٨)
شہادت نمبر ٤
مراق اور ہسٹریا کے متعلق مرزا قادیانی کی بیوی اور بیٹے کی شہادت۔ مرزا بشیر احمد پسر دوم لکھتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو غش آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں
٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا عَلِيمٌ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحب نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔ خاکسار نے پوچھا کہ اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا حضرت صاحب پہلے خود نماز پڑھاتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں۔ مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٣)
شہادت نمبر ٥
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے مراق کی بیماری ہے۔“
(ریویو ص ٢٥، اپریل ١٩٢٥ء)
شہادت نمبر ٦
مرزا قادیانی نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ: ”مجھ کو مراق ہے۔“
(ریویو، اگست ١٩٢٦ء)
شہادت نمبر ٧
مراق کا مرض مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوءہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔
(ریویو ص ١٠، اگست ١٩٢٦ء)
شہادت نمبر ٨
مرزا قادیانی کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔
(ریویو ص ٢٦، مئی ١٩٢٧ء)
٦
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ سلام کے لیے بھی ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک نے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
شہادت نمبر ٩
مرض مراق مرزا قادیانی کو ورثہ کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان م... دماغی محنت، تفکرات قوم کا غم، دوسرے ... شکایت۔
نوٹ: مرزا قادیانی کو مراق ک... مرزا قادیانی کی اپنی شہادتیں ہیں۔ جن س... شہادت نمبر ٤ مرزا قادیانی کی بیوی اور بی... باقی پانچ شہادتیں ایسے ثقہ راویوں کی ہی... ہو گیا کہ مرزا قادیانی علاوہ دیگر امراض ک... طب تحریر کرتے ہوئے ثابت کریں گے ک... خیالات فاسد اور فکر ناقص ہو جاتا ہے۔
مراق کی حقیقت از روئے طب
- ١...... ”نوع من ال...
وذالك يكون من خلط سوداو... بارداً أوفى الما اساريقه محدث... وترتقى منه بخارات الى الدما... ص ٧٤، مطبع نولکشور) ”یعنی مالخو... جو معدہ میں جمع ہو جاتا ہے پیدا ہوتا ہے... ہو کر اس میں سدہ اور ورم پیدا کرتا ہے... جس عضو میں یہ مادہ ہوتا ہے اس سے سا...
- ٢...... ”والاحسا...
اسباب ج ١ ص ٧٧) ”یعنی مال... چڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (ج...
- ٣...... ”قال س...
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا عَلِیْمٌ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
یسے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مرید پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
جد میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ نکالی کالی چیز میرے سامنے سے گی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا کہ ہاں۔ مگر پھر دوروں کے بعد
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٣)
(ریویو ص ٢٥، اپریل ١٩٢٥ء)
کہ مراق ہے۔“
(ریویو، اگست ١٩٢٦ء)
می اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا غہ (ریویو ص ١٠، اگست ١٩٢٦ء)
بھی خواب، تشنج دل، بدہضمی، علاوہ عصبی کمزوری تھا۔
(ریویو ص ٢٦، مئی ١٩٢٧ء)
شہادت نمبر ٩
مرض مراق مرزا قادیانی کو ورثہ میں نہیں ملا تھا۔ پس مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مراق علامات کے دو بڑے سبب تھے۔ اوّل کثرت دماغی محنت ، تفکرات قوم کا غم ، دوسرے غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء ہضم اور اسہال کی شکایت۔
(ریویو قادیان ص ٩، اگست ١٩٢٦ء)
نوٹ: مرزا قادیانی کو مراق ہونے کی نو شہادتیں لکھی گئی ہیں۔ جن میں سے ١، ٢، ٤ تو مرزا قادیانی کی اپنی شہادتیں ہیں۔ جن میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ باقی شہادت نمبر ٨ مرزا قادیانی کی بیوی اور بیٹے کی شہادت ہے جو قریباً قریباً نمبر ١، ٢، ٤ کے برابر ہے۔ باقی پانچ شہادتیں ایسے ثقہ راویوں کی ہیں۔ جن پر شک کرنا کفر کے مترادف ہے۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی علاوہ دیگر امراض کے مراق میں مبتلا تھے۔ اب ہم مراق کی حقیقت از روئے طب تحریر کرتے ہوئے ثابت کریں گے کہ مراق مالخولیا کی ایک قسم ہے۔ جس میں مریض کے خیالات فاسد اور فکر ناقص ہو جاتا ہے۔
مراق کی حقیقت از روئے طب
١...... ”نوع من المالیخولیا یسمی المراقی والعلة النافخة وذالك یكون من خلط سوداوی حار یجتمع فی المعدة ویحدث فیها ورماً بارداً اوفى الماساریقه محدث فیها سدداً او ورماً اوفى الطحال اوفى المراق وترتقى منه بخارات الى الدماغ فى اى عضو كان اجتماعه (شرح اسباب ج ١ ص ٧٤، مطبع نولکشور)“ یعنی مالخولیا کی ایک قسم ہے۔ جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہو جاتا ہے پیدا ہوتا ہے اور اس میں ورم بارد پیدا کر دیتا ہے۔ یا ماساریقا میں جمع ہو کر اس میں سدہ اور ورم پیدا کرتا ہے۔ یا تلی میں یا غشاء مراق میں جمع ہو کر ورم پیدا کرتا ہے۔ جس عضو میں یہ مادہ ہوتا ہے اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔
٢...... ”والاحساس بارتفاع بخارات شبیة بالدخان (شرح اسباب ج ١ ص ٧٧)“ یعنی مالخولیا مراقی کی یہ بھی علامت ہے کہ دھوویں جیسے سیاہ بخارات چڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (جیسا کہ شہادت نمبر ٤ میں مذکور ہے)
٣...... ”قال سرافیون لان ابتدائه یكون من المراق وهو
٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ....يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے بیٹھیں پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
بالتشديد الغشاء المستبطن للاحشاء من خارج وقال يوحنا لا نه ينفخ المراق وهذا اولى (شرح اسباب ج ١ ص ٧٤) ”سرافیون کی رائے ہے کہ چونکہ اس مرض کی ابتداء غشاء مراق سے ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا نام مراق رکھا گیا ہے اور مراق ایک جھلی ہے جو بیرونی جانب سے احشاء بطن کو استر لگاتی ہے۔ لیکن یوحنا کی رائے ہے کہ اس مرض میں مراق میں نفخ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اس کو مراقی کہتے ہیں اور یہ صحیح ہے۔
مالیخولیا کس کو کہتے ہیں
......١ ”قال الشيخ انما يقال ماليخوليا لما كان حدوثه عن سوداء غير محترقة تسمية له باسم السبب لان معناه باليونا نية الخط الاسود وقال يوحنا ابن سرافـيـون معناه الفزع فيكون تسمية باسم عرضه وهو تغير الظنون والفكر عن المجرى الطبعى الى الفساد والخوف لمزاج سوداوى تـوحـش الـروح ويفزعه ولا يؤذى احداً بخلاف الجنون السبعى ونوع منه يقال له المراقى وهو ان يكون بشركة المراق (حدود الامراض ص ٥١، مطبوعه مجتبائی) ”شیخ الرئیس کہتے ہیں۔ چونکہ مالیخولیا کے معنی سیاہ خلط کے ہیں اور یہ مرض سوداء غیر محترقہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے مرض کا نام اس کے سبب کے نام پر رکھا گیا۔ لیکن یوحنا ابن سرافینون کہتے ہیں کہ مالیخولیا کے معنی ڈر اور خوف کے ہیں جو اس کے عوارضات سے ہے۔ لہٰذا مرض کا نام اس کے عرض کے نام پر رکھا گیا اور اس کی ماہیت یہ ہے کہ ا س میں ظن اور فکر مجریٰ طبعی سے خوف اور فساد کی طرف بدل جاتے ہیں۔ جس کی وجہ مادہ سوداء ہے جو روح کو متوحش اور ڈرپوک بنا دیتا ہے اور یہ مریض کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں دیا کرتا۔ بخلاف جنون سبعی کے اور مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ جس کو مالیخولیا مراقی کہا جاتا ہے اور وہ مراق کی شرکت کے باعث ہوا کرتا ہے۔
اسباب مرض
اسباب واصلہ میں سے تو یہی ہے کہ خلط سوداوی حار معدہ ماساریقا اور مراق میں جمع ہوکر ورم بارد پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اسباب سابقہ حسب ذیل ہیں۔ ضعف دماغ، رنج و غم، کثرت مجامعت، جلق، کثرت محنت دماغی، زیادہ جاگنا، نہایت مشکل مسائل کے حل کرنے میں رات دن سوچتے رہنا۔ بواسیر کے خون کا بند ہو جانا، کبھی معدہ جگر اور تلی کے افعال کے فتور سے بھی یہ مرض ہوجاتا ہے۔ ٨
نوٹ: جب مراق کے سبب
اقسام مرض
مالیخولیا بحسب محل اور قسم را مالیخولیا دماغی گویند ۔ دوم آنکہ سبب ا بسُوئے دماغ مرتفع گردد و اِین را مالیخولیا دماغ باشند۔ پس اگر سبب در آلات غذا
خلیفہ اوّل حکیم نور دین صاحب
”مالیخولیا بحسب محل سبب اطباء اس کو شرالاصناف کہتے ہیں۔ دوم سے بخارات دماغ کی طرف چڑھیں فضلات سے یا معدہ کے سوداوی ورم عروق دقاق سے یا ماساریقا کے سودا غشاء مراق تک پہنچیں اور مراق سے اس اس کو مالیخولیا مراقی کہتے ہیں۔ چونکہ ہے اور مالیخولیا مراقی میں دماغ کو ایذ ہے۔“
علامات مالیخولیا
......١ علامات مالیخو کے موافق ہوا کرتا ہے۔ جو مریض آپ کو یہ خیال کرتا تھا کہ میں مٹی کا بـ آدمیوں اور دیواروں کے قریب بھی نہ جاتا تھا کہ مبادا ٹوٹ جاؤں۔ ایک چڑھتا اور پہلو پر اپنے بازو مرغوں کـ (سانپ والوں) کے حلقہ میں اکثر جـ
نوٹ: جب مراق کے سبب سے ہو تب اسے مانخولیا مراقی کہتے ہیں۔
(مخزن حکمت ص١٣٥١ ج ٢ طبع پنجم)
اقسام مرض
مانخولیا بحسب محل او سہ قسم است اوّل آنکہ بسیطش مخصوص بنفس دماغ باشد و این را مانخولیا دماغی گویند ۔ دوم آنکہ سبب او عام در جمیع بدن و عروق باشد غیر قلب و دماغ و ازاں بخار بسوی دماغ مرتفع گردد و این را مانخولیا عمومی گویند۔ سوم آنکہ سبب آں در عضوے خاص مشارک دماغ باشد ۔ پس اگر سبب در آلات غذا بود مانند معدہ و مراق ایں قسم را مراقی گویند۔
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٦، مطبع نولکشور)
خلیفہ اوّل حکیم نور دین صاحب کی رائے
” مانخولیا بحسب محل سبب تین قسم پر ہے۔ اوّل دماغی جس کا محل وقوع دماغ ہے۔ اطباء اس کو شرالاصناف کہتے ہیں۔ دوم قلب اور دماغ کے سوا جس کا محل تمام بدن ہو اور تمام بدن سے بخارات دماغ کی طرف چڑھیں یہ تمام اقسام مانخولیا سے اسلم ہے۔ سوم امعاء میں ردیہ فضلات سے یا معدہ کے سوداوی ورم سے یا باب الکبد کے ورم سے یا جگر اور امعاء دونوں سے یا عروق دقاق سے یا ماساریقا کے سوداوی بلا ورم سدہ سے یا ماساریقا کے ورم سے بخارات نکل کر غشاء مراق تک پہنچیں اور مراق سے اٹھ کر بخارات دماغ کی طرف جائیں اور مانخولیا پیدا کریں۔ اس کو مانخولیا مراقی کہتے ہیں۔ چونکہ مانخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مانخولیا کی ایک شان ہے اور مانخولیا مراقی میں دماغ کو ایذا پہنچتی ہے۔ اس لئے مراق کو سر کے امراض میں لکھا گیا ہے۔“
(بیاض نورالدین جزء اوّل ص٢١١، مطبع وزیر پریس، ١٧ دسمبر ١٩٢٨ء)
علامات مانخولیا
- ١...... علامات مانخولیا میں تغیر فکر و گمان علی العموم عادت اور ان وضعوں اور شکلوں
کے موافق ہوا کرتا ہے۔ جو مریض کے خیال میں بحالت صحت جمی ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک کمہار اپنے آپ کو یہ خیال کرتا تھا کہ میں مٹی کا برتن ہو گیا ہوں اور وہ اس خوف سے کہ کہیں ٹوٹ نہ جاؤں۔ آدمیوں اور دیواروں کے قریب بھی نہ جاتا تھا۔ دوسرے شخص کو جو مرغے خریدتا اور انہیں پال کر موٹا کرتا پھر انہیں بیچا کرتا تھا۔ یہ خیال ہو گیا تھا کہ میں مرغ ہو گیا ہوں۔ چنانچہ وہ بلندیوں پر چڑھتا اور پہلو پر اپنے بازو مرغوں کی مانند مارتا اور بانگ دیتا تھا۔ دوسرے مریض کو جو سپیروں (سانپ والوں) کے حلقہ میں اکثر جایا کرتا یہ خیال ہو گیا تھا کہ ایک سانپ ہمارے پیٹ میں گھس
٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
...کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ
...کلام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک
...کھڑے، جھکے، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
گیا ہے۔ اور کہا کرتا تھا کہ سانپ نے ہمارے جگر کو کھا لیا ہے۔
(اردو ترجمہ شرح اسباب ج ١ ص ١٤٦، مطبع سوم ترجمہ کبیر الدین)
- .......٢ مثلاً اگر مریض لشکری باشد دعویٰ بادشاہی کند بحق مملکت و تدبیر جنگ و قلعہ
کشائی، و مانند آن گوئید و اگر کسی دشمنی داشته باشد و ہم کند کہ قومے قصد گرفتن و کشتن او کرده اند و او را زہر خواہند داد و اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کند۔ وسخن از خدائی گوئید و خلق را دعوت کند۔
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
- .......٣ ’’وقد يبلغ الفساد في بعضهم الى حد يظن انه يعلم الغيب
وكثيراً ما يخبره بما سيكون قبل كونه (شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)‘‘ یعنی بعض مریضوں میں یہ فساد گاہے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بسا اوقات آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر پہلے سے ہی دے دیتا ہے۔
- .......٤ ’’وقد يبلغ الفساد فى بعضهم الى حد يظن انه صار ملكاً
وقد يبلغ فى بعضهم الى اعلىٰ من ذالك فيظن انه الحق وهو تعالىٰ عن ذالك (شرح اسباب ج ١ ص ٧٠)‘‘ یعنی بعض مریضان مالنخولیا میں یہ فساد اس حد تک ترقی کر جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فرشتہ سمجھنے لگ جاتے ہیں اور بعضوں میں اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ’’والتخيلات الردية لفساد الدماغ وتغيره عن المجرى الطبعی‘‘ یعنی دماغ کے فساد اور تغیر کے باعث تخیلات ردیہ ہوا کرتے ہیں۔
(شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)
- .......٥ مریض تنہائی کو پسند کرتا ہے۔ ’’وحب الوحدة (شرح اسباب ج ١
ص ٧٠)‘‘
- .......٦ بعض عالم اس مرض میں مبتلا ہو کر دعویٰ پیغمبری کرنے لگتے ہیں اور اپنے
بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دینے لگتے ہیں۔
(مخزن حکمت مطبع پنجم ج ٢ ص ١٣٥٢)
خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کی تحقیقات
- .......٧ مالنخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا
ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔ کوئی موت سے ڈرتا ہے۔ کوئی اس وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ مجھ کو کوئی زہر نہ دے دے۔
(بیاض نور الدین حصہ اوّل ص ٢١٢)
١٠
نوٹ: بعض مریضان مالنخولیا... ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ حکیم نور الدین صاحب...
- .......٨ اگرچہ ابتداء میں...
سلسلہ کلام اور بیان مرض کو لمبا کرنے سے ط...
- .......٩ مریض کو اپنے خیالا...
یہاں تک کہ بعض دفعہ مجنون لوگوں کی بات و...
- .......١٠ و ردیئت دخان و تار...
و صبر در امور مشروع و طیش و حفظ بطی و مکث و... احیاناً و دفع ریح کہنہ و تبہا متواتر و خفقان مع... مشارک مراق است۔ لیکن وجود استمہ در یک...
- .......١١ اگر مالنخولیا کی پیدا...
ہوتا ہے۔ نیز اس قسم میں مریض کو حیرت... مریض کو بیداری قلت سکون اور کثرت غصہ...
- .......١٢ مالنخولیا صفراوی جو کہ...
بدحواس، حیران و پریشان، بدخلق و بکواس ہوتا...
- .......١٣ چونکہ دماغی قویٰ میں...
دوسرے کے مخالف ہوتی ہیں۔
- .......١٤ اقوال وافعال میں بھی...
علت ہے۔
- .......١٥ طرح طرح کے ایسے...
حقیقت نہیں ہوتی۔
- .......١٦ مریض بعض دفعہ ایسا...
ہیں۔
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک پڑھنے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
طب ج ١ ص ١٣٦، مطبع سوم ترجمہ کبیر الدین) شاہی کند، سخن مملکت و تدبیر جنگ و قلعہ قوہے قصد گرفتن و کشتن او کردہ اند و و معجزات و کرامات کند۔ و سخن از خدائی
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
هم الى حد يظن انه يعلم الغيب رح اسباب ج ١ ص ٦٩) ‘‘ یعنی بعض اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور دے دیتا ہے۔ هم الى حد يظن انه صار ملكاً انه الحق وهو تعالى عن ذالك میں یہ فساد اس حد تک ترقی کر جاتا ہے اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے اور وہ الروية لفساد الدماغ وتغيره تخیلات رویہ ہوا کرتے ہیں۔
(شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)
الوحدة (شرح اسباب ج ١ ی پیغمبری کرنے لگتے ہیں اور اپنے
(مخزن حکمت مطبع پنجم ج ٢ ص ١٣٥٢)
ش بادشاہ ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا کی موت سے ڈرتا ہے۔ کوئی اس
(بیاض نورالدین حصہ اول ص ٢١٢)
نوٹ: بعض مریضانِ مالیخولیا کے متعلق تشخیص مرض کا فیصلہ بجز طبیب حاذق کے دشوار ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ حکیم نور الدین صاحب لکھتے ہیں۔
- ٨...... اگرچہ ابتداء میں مالیخولیا کی تشخیص دشوار ہے۔ مگر اس کے طول طویل
سلسلۂ کلام اور بیانِ مرض کو لمبا کرنے سے طبیب حاذق سمجھ لیتا ہے کہ وہ مالیخولیا میں مبتلا ہے۔
(بیاض نور الدین حصہ اول ص ٢١٢)
- ٩...... مریض کو اپنے خیالات اور جذبات پر قابو نہیں رہتا اور تخیل بڑھ جاتا ہے۔
یہاں تک کہ بعض دفعہ مجنون لوگوں کی بات پیش گوئی کی طرح پوری بھی ہو جاتی ہے۔
(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص ٥)
- ١٠...... رؤیت دخان و تاریکی در خواب و استعجال در امور کہ لائق استعجال نباشد۔
و صبر در امور مشروع و طیش و مغص بطنی و مکث در امور سہل کہ دران مکث نشاید و صداع و نسیان و فواق احیاناً و دفع ریح کثیرہ و بکا متواتر و خفقان معدی و قلبی و گا ہے عظم طحال۔ ظاہر شدن از عوارض مرض مشارک مراق است۔ لیکن وجود اینہمہ در یک شخص ضرور نیست۔
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٩)
- ١١...... اگر مالیخولیا کی پیدائش صفرا کے جلنے سے ہو تو مالیخولیا کے ساتھ جنون بھی
ہوتا ہے۔ نیز اس قسم میں مریض کو حیرت بے عقلی ہذیان، چیخنا، چلانا اور بے قراری ہوتی ہے۔ مریض کو بیداری قلت سکون اور کثرت غصہ ہوتا ہے۔
(ترجمہ شرح اسباب ج ١ ص ١٤٢)
- ١٢...... مالیخولیا صفراوی جو کہ احتراق صفراء سے ہو اس کا مریض ہمیشہ غضبناک۔
بدحواس، حیران و پریشان، بدخلق و بکواسی ہوتا ہے اور زیادہ بیدار رہا کرتا ہے۔
(مخزن حکمت مطبع پنجم ج ٢ ص ١٣٥٢)
- ١٣...... چونکہ دماغی قویٰ میں فتور ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی اکثر باتیں ایک
دوسرے کے مخالف ہوتی ہیں۔
- ١٤...... اقوال و افعال میں بھی خرابی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ دماغ کے بطن اوسط میں
علت ہے۔
(بیاض نور الدین ص ٢١٢)
- ١٥...... طرح طرح کے ایسے خیال ان کے دل میں آتے ہیں۔ جن کی کوئی
حقیقت نہیں ہوتی۔
(ریویو ص ٢٢ مئی ١٩٢٧ء)
- ١٦...... مریض بعض دفعہ ایسا خیال کر لیتا ہے جس کی واقعات تردید کر دیتے
ہیں۔
(ریویو ص ٢٢ حاشیہ مئی ١٩٢٧ء)
١١
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ کھڑے رہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیرو مرشد کے اور سپاہی اپنے افسر
- ١٧...... اکثر بے خوابی کی شکایت کرتا ہے۔
(بیاض نورالدین جز اول ص ٢١٣)
- ١٨...... ہضم اچھا نہیں ہوتا۔
- ١٩...... تپ کا گمان رہتا ہے۔
- ٢٠...... کبھی ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔ کبھی ٹھنڈے رہتے ہیں۔
- ٢١...... مریض اپنے مرض کے بیان میں بس نہیں کرتا۔
- ٢٢...... ہر وقت سوچ میں رہتا ہے۔
- ٢٣...... کمرے کے کونوں تک درندے محسوس کرتا ہے۔
- ٢٤...... کانوں میں آوازیں آتی ہیں۔
- ٢٥...... جس بیماری کا بیان کیا جائے مریض کہتا ہے یہ مرض مجھ کو ہے۔
- ٢٦...... کبھی قبض کبھی دست آتے ہیں۔
(بیاض نورالدین جز اول ص ٢١٣)
تطبیق علامات مالخولیا بعلامات مرزا قادیانی
علامات مرزا قادیانی
علامات مالخولیا
- ١...... مرزا قادیانی گورنمنٹ کے خوف سے باوجود مدعی نبوت ہونے کے اعلان کرتے ہیں کہ ہر ایک ایسی پیش گوئی سے اجتناب ہوگا۔ جو امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے مخالف ہو۔
(اربعین نمبر ١ ص ١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٣)
- ١...... مالخولیا کے معنی ڈر اور خوف کے ہیں۔ جو اس کے عوارضات سے ہے۔ لہٰذا مرض کا نام اس کے عرض کے نام پر رکھا گیا اور اس کی ماہیت یہ ہے کہ اس میں ظن اور فکر مجری طبعی سے خوف اور فساد کی طرف بدل جاتے ہیں۔
(مالخولیا کس کو کہتے ہیں۔ علامت نمبر ١)
- ٢...... میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔
(شہادت نمبر ٢)
- ٢...... رویت دخان و تاریکی و خواب۔
(علامت نمبر ١٠)
- ٣...... رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا ہوں۔
(شہادت نمبر ٣)
- ٣...... مریض تنہائی کو پسند کرتا ہے۔
(علامت نمبر ٥)
- ٤...... اس کا باعث سخت محنت تفکرات غم اور سوء ہضم تھا۔
(شہادت نمبر ٧)
- ٤...... ہضم اچھا نہیں ہوتا۔
(علامت نمبر ١٨)
- ٥...... والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔
(شہادت نمبر ٤)
- ٥...... کبھی ہاتھ پاؤں جلتے کبھی ٹھنڈے رہتے ہیں۔
(علامت نمبر ٢٠)
- ٦...... تفکرات قوم کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر۔
(شہادت نمبر ٩)
- ٦...... مریض ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔
(علامت نمبر ٢٢)
١٢
- ٧...... کبھی قبض کبھی دست آتے ہیں۔
(علامت نمبر ٢٦)
- ٨...... اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کند۔
(نمبر ٢)
- ٩...... گاہے اپنے آپ کو فرشتہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔
(علامت نمبر ٤)
- ١٠...... بعضوں میں فساد دماغ اس سے بھی ترقی کر جاتا ہے۔
(علامت نمبر ٤)
- ١١...... بعض اوقات وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتا ہے۔
(علامت نمبر ٤)
١؎ لفظ خواب سے یہ الہام کمزور نہیں ہوتا وحی ہوتی ہے۔
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا عَلِيمٌ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ نام کے لیے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مجلس، پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
(بیاض نورالدین جز اول ص ٢١٣)
دے رہتے ہیں۔ میں کرتا۔ کرتا ہے۔ تا ہے یہ مرض مجھ کو ہے۔
(بیاض نورالدین جز اول ص ٢١٣)
مرزا قادیانی
علامات مرزا قادیانی
کی گورنمنٹ کے خوف سے باوجود مدعی کے اعلان کرتے ہیں کہ ہر ایک ایسی پیش خواب ہوگا۔ جو امن عامہ اور اغراض مخالف ہو۔ (اربعین نمبر ١ ص ١ حاشیہ، ص ٣٣٤) دیکھا کہ کوئی کالی چیز میرے سامنے ان تک چلی گئی۔ (شہادت نمبر ٤) مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی میں کام کو کرتا ہوں۔ (شہادت نمبر ٣) سخت محنت تفکرات غم اور سوء ہضم نمبر ٧) نے کہا کہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو ہادت نمبر ٤) کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر۔
- ٧..... کبھی قبض کبھی دست آتے ہیں۔ (علامت نمبر ٢٦)
- ٧..... سوء ہضم اور اسہال کی شکایت تھی۔ (شہادت نمبر ٩)
- ٨..... اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کند۔ (نمبر ٢)
- ٨..... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار بدر مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) ب ..... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) ج ..... سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دفع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) د ..... مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ دیا گیا ہے۔ یہ عاجز ہی ہے۔ (ازالہ اوہام طبع اوّل ص ٦٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)
- ٩..... گاہے اپنے آپ کو فرشتہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ (علامت نمبر ٤)
- ٩..... دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل لکھا ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- ١٠..... بعضوں میں فساد دماغ اس سے بھی ترقی کر جاتا ہے۔ (علامت نمبر ٤)
- ١٠..... ”انت منی وانا منک“ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) ب ..... ”انت منی بمنزلۃ اولادی“ اے مرزا تو میرے بیٹے کی طرح ہے۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) ج ..... ”اسمع ولدی“ میرے بیٹے سن۔ (البشریٰ جلد اوّل ص ٤٩)
- ١١..... بعض اوقات وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتا ہے۔ (علامت نمبر ٤)
- ١١..... ”رایتنی فی المنام عین اللہ فتیقنت اننی ھو فخلقت السموات والارض“ میں نے خواب١؎ میں دیکھا کہ میں ہو بہو خدا ہوں۔ پھر مجھے یقین ہو گیا کہ میں وہی ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور زمین پیدا کئے۔ ب ..... میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ تا اسی حال میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ پھر میں نے کہا کہ
١؎ لفظ خواب سے یہ الہام کمزور نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٢١١، خزائن ج ٣ ص ٢٠٤)
١٤
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا عَلِيْمٌ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک اپنے پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔
(کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
١٢....... بسا اوقات آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر پہلے سے ہی دے دیتا ہے۔ (علامت نمبر ٣)
١٢....... آپ کی بعض پیش گوئیاں جو اتفاقاً درست نکلیں ۔ وہ اسی بات کی علامت تھیں۔
١٣....... مریض ہمیشہ غضبناک ، بدحواس ، حیران وپریشان ، بدخلق وبکواسی ہوتا ہے۔ (علامت نمبر ٩)
١٣....... مرزا قادیانی کی بدخلقی اور اشتعال جذبات ملاحظہ ہو۔ پہلے آپ نے تمام مسلمانوں کو حرام زادہ کہا۔ ”یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا“ یعنی حرامزادہ اور ولدالزنا کے سوا ہر مسلمان مجھے قبول کرے گا اور میری دعوت کی تصدیق کرے گا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، مطبوعہ وزیر ہند پریس جولائی ١٨٩٣ء، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) (علمائے کرام کو گالیاں) الف..... ”اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس ہے کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“ (انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١) ب..... ”نالائق نذیر حسین اور اس کا ناسعادت مند شاگرد محمد حسین۔“ (انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٢٥)
نسائھم من دونھن الاکلب
ج..... میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) (حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں) الف..... ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) ب..... ”تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
١٤....... جن کاموں میں جلدی کی ضرورت مریض ان میں جلدی کرتا ہے۔ (علامت نمبر ١٠)
١٥....... مریض امور شرعیہ میں جو اس پر فرض یا ہوں دیر کرتا ہے۔ (نمبر ١٠)
١٦....... مریض خلقت خدا کو مذہبی تبلیغ کرتا ہے او ماننا ضروری بتاتا ہے۔ (علامت نمبر ٢)
١٧....... اپنی سب باتوں کو خدا کی طرف سے جانتا (علامت نمبر ٤)
١٤
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا عَلِيمٌ يَّأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا لا تَرْفَعُوا
بے ساختہ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مجسٹریٹ، پیر ومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
عثمان کمیٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ ریوں ص ٧٨، ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) پ کی بعض پیش گوئیاں جو اتفاقاً درست ہامی بات کی علامت تھیں۔ مرزا قادیانی کی بدخلقی اور اشتعال جذبات پہلے آپ نے تمام مسلمانوں کو حرام زادہ فيعلمني ويصدق دعوتى الا ذريۃ ”یعنی حرامزادہ اور ولدالزنا کے سوا ہر مسلمان کرے گا اور میری دعوت کی تصدیق کرے گا۔ شاعت اسلام ص ٥٤٧، مطبوعہ وزیر ہند پریس رسالہ، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) (علمائے کرام کو مخاطب....... ”اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کو بھی پلایا۔“ (انجام آتھم ص ٢١، خزائن ٢١) ب....... ”نالائق نذیر حسین اور اس کا عقلمند شاگرد محمد حسین۔“ (انجام آتھم ص ٢٥، ص ٢٥) مہدیٰ صار واخنازیر الفلا ہم من دونهن الا كلب سے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی سگ سے بڑھ کر ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص ١٠، ج ١٤ ص ٥٣) (حضرت مسیح علیہ السلام کو ف....... ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور دنوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔“ (ضمیمہ انجام حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) ب....... ”تین و خیال آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ ہی سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (ضمیمہ آتھم حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ج....... ”آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) (حضرت امام حسینؓ کی شان میں گستاخی) د....... ”کربلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم۔“ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) (حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی شان میں گستاخی) ر....... ”حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
١٤....... جن کاموں میں جلدی کی ضرورت نہ ہو۔ مریض ان میں جلدی کرتا ہے۔
(علامت نمبر ١٠)
١٤....... مرزا قادیانی ماہ رمضان المبارک ١٣٢٣ھ میں امرتسر آئے اور کھٹیالال کے منڈوہ میں لیکچر دیتے ہوئے لوگوں کے سامنے چائے پی اور اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا۔ اگر ذرا صبر کرتے اور جلسہ سے فارغ ہو کر کہیں الگ بیٹھ کر چائے پیتے تو عوام الناس کا ہدف ملامت نہ بنتے۔ مگر چونکہ اپنی بیماری سے مجبور تھے۔ اس لئے ایسا ہوا۔
١٥....... مریض امور شرعیہ میں جو اس پر فرض یا واجب ہوں دیر کرتا ہے۔ (نمبر ١٠)
١٥....... حج بیت اللہ مرزا قادیانی پر فرض تھا۔ لیکن اخیر عمر تک نصیب نہیں ہوا۔ حالانکہ مسیح موعود کے متعلق صحیح مسلم کتاب الحج اور مسند احمد میں حدیث ہے کہ وہ حج کرے گا۔ ب....... ایک دفعہ مرزا قادیانی سے کسی نے پوچھا کہ آپ حج کب کریں گے۔ آپ نے یہ جواب دیا کہ ابھی تو ہم سوروں کو مار رہے ہیں۔ ان سے فارغ ہوں گے تو حج کریں گے۔ (اخبار الفاروق ص ٦، یکم ستمبر ١٩٠٢ء)
١٦....... مریض خلقت خدا کو مذہبی تبلیغ کرتا ہے اور اپنا ماننا ضروری بتاتا ہے۔ (علامت نمبر ٢)
١٦....... خدا تعالیٰ نے میرے پر ایمان لانے کے واسطے تاکید کی ہے۔ میرا دشمن جہنمی ہے۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) ب....... جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا اور وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ (معیار الاختیار ص ٨)
١٧....... اپنی سب باتوں کو خدا کی طرف سے جانتا ہے۔
(علامت نمبر ٤)
١٧....... ”وما ینطق عن الھوی“ (اشتہار انعامی پانچ سو ص ٢٣) ”انما امرک اذا اردت شیاً ان تقول لہ کن فیکون“ یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے اور یہ خدا کا کلام ہے
١٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اسکے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ ..... کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ..... ہے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
جو میرے پر نازل ہوا۔ یہ میری طرف سے نہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٣)
- ب...... "وما رمیت اذ رمیت ولكن الله رمی"
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٧)
- ١٨..... مریض کو نسیان ہوتا ہے۔
(علامت نمبر ١٠)
- ١٨...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ مجھے صبح کو ایک الہام
ہوا تھا۔ میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں۔ پھر حافظہ پر بھروسہ کر کے نہ لکھا۔ آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا۔ مطلق یاد نہ آیا۔ (اخبار بدر ص ٥، مورخہ ٦؍ مارچ ١٩٠٣ء)
- ب...... آج صبح جب میں نماز کے بعد ذرا لیٹ گیا تو
الہام ہوا۔ مگر افسوس کہ ایک حصہ اس کا یاد نہیں رہا۔ (آگے آپ لکھتے ہیں) اس نسیان میں بھی کچھ منشاء الٰہی ہوتا ہے۔ (واہ! سبحان اللہ! نسیان اور منشاء الٰہی) (البشریٰ ج ٢ ص ٨٠) ج...... حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔ (نسیم دعوت ص ٧٤ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩،
ریویو ص ١٥٣ حاشیہ، اپریل ١٩٠٣ء)
- ١٩...... مریض میں خودی اور تعلی کے خیالات پیدا ہو
جاتے ہیں۔ (علامت نمبر ٧)
- ١٩...... آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے
اوپر بچھایا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) ب...... "لولاک لما خلقت الافلاک" اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
- ج...... قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی
باتیں ہیں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢) میں رسول ہوں، میں خدا ہوں، میں خدا کا بیٹا ہوں، کن فیکون میری شان میں ہے۔ یہ تمام باتیں تعلی کی علامت ہیں۔
- د...... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد
ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ر...... حضورﷺ پر ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج
اور دابۃ الارض کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی اور مجھ پر کھلے طور پر منکشف کر دی گئی۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
- ٢٠...... طرح طرح کے ایسے خیالات ان کے دل میں
آتے ہیں۔ جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
(علامت نمبر ١٥)
- ٢٠...... ”ربنا عاج“ ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی
اب تک معلوم نہیں ہوئے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣، البشریٰ ج ١ ص ٤٣)
١٦
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ..... یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ حکام کے لئے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ادنےٰ محکمہ کا چپڑاسی اور سپاہی اپنے افسر
- ..... میرے پر نازل ہوا۔ یہ میری طرف سے نہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٤)
- ..... ”وما رمیت اذ رمیت ولکن الله رمى“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
- ..... مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ مجھے صبح کو ایک الہام
ہوا۔ میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں۔ پھر حافظہ پر بھروسہ کر کے لکھا۔ آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا۔ مطلق یاد نہ آیا۔ (اخبار بدر ص ٥، مورخہ ٦؍ مارچ ١٩٠٣ء)
- ..... آج صبح جب میں نماز کے بعد ذرا لیٹ گیا تو
الہام ہوا۔ مگر افسوس کہ ایک حصہ اس کا یاد نہیں رہا۔ (پھر آپ لکھتے ہیں) اس نسیان میں بھی کچھ منشاء الٰہی ہوتا ہے۔ (واہ ! سبحان اللہ ! نسیان اور منشاء الٰہی) (البشریٰ ج ٢ ص ٨٠) ج..... حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہتا۔ (نسیم دعوت ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٩، بدر ص ١٥٢ حاشیہ، اپریل ١٩٠٣ء)
- ..... آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے
اونچا لگایا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) ب..... ”لولاک لما خلقت الافلاک“ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
- ..... قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی
باتیں ہیں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢) میں رسول ہوں، نبی ہوں، میں خدا کا بیٹا ہوں، کن فیکون میری مٹھی میں ہے۔ یہ تمام باتیں تعلّی کی علامت ہیں۔ اور ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ..... سو میں عیسیٰ، میں ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج
اور دابۃ الارض کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی اور مجھ پر یہ تمام اسرار منکشف کر دی گئی ۔ (ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
- ..... ”ویدنا عاج“ ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی
مجھے بھی معلوم نہیں ہوئے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٤، البشریٰ ج ١ ص ٤٤)
- ب..... مجھے پائے من بوسید من گفتم کہ سگِ اسود منم۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٨) ج..... خاکسار ہیچمدان۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) د..... بنکر اخادو۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠) ر..... پیٹ پھٹ گیا۔ معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٩) س..... ایسوسی ایشن۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢) ش..... دو شہتیر ٹوٹ گئے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٧) ص..... اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
- ض..... افسوس صد افسوس۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧١)
- ط..... بالکل نہیں۔ (البشریٰ ج ١ ص ١١) ظ..... وہ تین
کو چار کرنے والا ہوگا۔ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٥) ع..... دشمن کا بھی خوب وار نکلا۔ جس پر بھی وہ وار پڑا کٹا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٥) غ..... ”لا یموت احد من رجالکم“ تمہارے مردوں سے کوئی نہیں مرے گا۔ اس کے حقیقی معنی کہ تمہارے رجال میں سے کوئی نہیں مرے گا تو ہو نہیں سکتے۔ کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے۔ مگر اس کے مفہوم کا پتہ نہیں ہے۔ شاید کوئی اور معنی ہوں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٨) ف..... زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٩) ق..... آسمان سے دودھ اترا ہے۔ محفوظ رکھو۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٢)
- ک..... عالم کباب۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)
- گ..... کپتان کا بیڑا غرق ہوگیا۔ (البشریٰ ج ٢
ص ١٢١) ل..... واللہ واللہ سدھا ہو یا الٹا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٨) م..... غلام احمد کی جے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢) ن..... پوری ہوگئی۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٠)
- و..... تمہارے نام کی۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٥٩)
- ہ..... راز کھل گیا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩) ء..... ”کل
واحد منھم ثلج“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٧)
- ی..... تمہاری قسمت انخوار۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٢)
١٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
وا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے بیٹھیں پیرومرشد کے اور سپاہی اپنے افسر
- ٢١......مریض بعض دفعہ ایسا خیال کر لیتا ہے۔ جس کی
واقعات تردید کر دیتے ہیں۔ (علامت نمبر ١٦)
- آ......آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔ (البشریٰ ج ٢
ص ١٣٩) الف......’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ (البشریٰ ج ١ ص ٥٦) ب......خدا قادیان میں نازل ہوگا۔ (البشریٰ ج ١ ص ٥٦) ج......خدا وہ خدا جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ (البشریٰ ج ١ ص ٦٣) نوٹ: مسلمانوں کو اور علماء دین کو گالیاں اور حضرت مسیح کو یا وہ گوئی تہذیب اور اخلاق کا ہی نمونہ ہے۔ (مؤلف) د......رسول اللہ پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) ر......ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥) س......آسمان ٹوٹ پڑا سارا کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٤) ش......ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٤) ص......اب تو میں یقین کرتا ہوں کہ نذیر حسین ہماری جماعت میں داخل ہوا۔ کئی مرتبہ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی زندگی میں تو قائل نہیں ہوا۔ مگر جب فوت ہو گیا تو ہماری جماعت میں داخل ہو گیا۔ (اخبار بدر ص ٧، مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء)
- ٢٢......نسیان اور دماغی قوٰی میں فتور ہونے کی وجہ سے اس کی اکثر باتیں ایک
دوسرے کے مخالف اور متضاد ہوتی ہیں۔ (علامت نمبر ١٣، ١٠)
طاعون کے متعلق متضاد باتیں
تصویر کا ایک رخ
- ا......’’قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ
خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔ (آگے چل کر فرماتے ہیں) قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور رہا۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔‘‘ (دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥) ب......’’اگرچہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پر
تصویر کا دوسرا رخ
- ا......ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں
ہوئی۔ (حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤)
١٨
ہیبت اثر ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً یقیناً اِس سے محفوظ رہے گا۔‘‘ (اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل
- ج......’’انی احافظ کل من فی الدار
المرض الذی ہو ساری‘‘ یعنی میں تمہارے کو اس بیمار ے سے بچاؤں گا۔ ایسی بیماری ہے ۔(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠)
- د......چونکہ یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ
دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں۔ اس لئے جماعت کے ان تمام لوگوں کہ جو طاعون زدہ ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے نکل دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور وہیں روکیں اور اپنے مقامات سے نہ ہٹیں۔ (اشتہا کا انتظام حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧
حضرت مسیح علیہ
تصویر کا ایک رخ
- ٢......ایک طرف حضرت مسیح اور اس کی
نانیوں کو صرف اس وجہ سے گالیاں دی جائیں عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کو گالیاں دی ہیں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’ہمیں پادریوں کے اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ہمارے نبی صلعم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٣......ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست
کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار سکتے ۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
ہیبت اثر ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً اس کی دستبرد سے محفوظ رہے گا۔ (اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء)
ج......”اني احافظ كل من فى الدار من هذه المرض الذي هو ساري“ یعنی میں تمام گھر والوں کو اس بیماری سے بچاؤں گا۔ ایسی بیماری جو متعدی ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠)
ج...... طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٤، حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
د...... چونکہ یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کہ جو طاعون زدہ علاقہ میں ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے قادیان یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے نہ ٹلیں۔ (اشتہار لنگر خانہ کا انتظام حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٧)
د...... مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑائی لڑنے والے ٹھہریں گے۔ (ریویو ج ١ ص ٤٦٥)
حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق متضاد باتیں
تصویر کا ایک رخ
تصویر کا دوسرا رخ
٢...... ایک طرف حضرت مسیح اور اس کی دادیوں اور نانیوں کو صرف اس وجہ سے گالیاں دی جاتی ہیں کہ عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کو گالیاں دی ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلعم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)
٢...... بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔ (تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤) نوٹ: یسوع مسیح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ ابن مریم کے نام ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ”مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) حضرت عیسیٰ جو یسوع اور جیسس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ (راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)
٣...... ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
٣...... مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا۔ (البشریٰ ج ١ ص ٢٤) ب...... حضرت مسیح خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔ (براہین احمدیہ ص ١٠٤ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٩٤)
١٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا
يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَرْفَعُوٓا
اسکے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
- ٤...... مرزا قادیانی حضرت مسیح کے معجزے کے بارے
میں کہتے ہیں۔ ’’ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
- ٤...... حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر
ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨)
- ٥...... عیسائیوں نے بہت سے آپ کے (یسوع) کے
معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٥...... اور سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی
بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔ (ریویو ص ٣٢٦، ماہ ستمبر ١٩٠٢ء)
- ٦...... حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ
راست بغیر اتباع آنحضرتﷺ کے ان کو حاصل ہے۔ (اخبار بدر ص ٢٨، مورخہ ١٨؍ رمضان ١٣٢٠ھ)
- ٦...... حضرت مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابع داری
حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے ملی۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١٢)
- ٧...... خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٨)
- ٧...... حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے
ساتھ ٢٢ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) ب...... یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ آگے فرماتے ہیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔ (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
- ٧...... یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان
ہے کہ کروڑہا انسانوں کی یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کر دی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔ (ریویو ص ١٥٩، اپریل ١٩٠٢ء)
- ٧...... خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر
نہیں دی کہ وہ کون تھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- ٨...... میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس
کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)
- ٨...... اس عاجز نے جو مثل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے
جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ١٩٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
- ٩...... وہ ابن مریم جو آنے والا ہے۔ کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(ازالہ اوہام ص ٢٩٢، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)
- ٩...... جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا
ہے۔ اس کا انہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا۔ (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
- ١٠...... یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت
کے شمار میں آگئے ہیں۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)
- ١٠...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا ایک کفر
ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٤)
٢٠
- ١١...... ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ بن
لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔ (حمامتہ ص ٧٢، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)
- ١٢...... بائبل اور ہماری احادیث اور اخبـ
رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ (توضیـ خزائن ج ٣ ص ٥٢)
- ١٣...... آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور
کچھ نہیں تھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ص ٢٩١) ب...... یسوع بوجہ بیماری مرگی مـ تھا۔ (ست بچن ص ٧١ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص
- ١٤...... حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی حا
آسمان پر جا بیٹھے۔ (براہین احمدیہ ص ٤١١ ص ٤٣١)
- ١٥...... مسیح بھی بنی اسرائیل میں سے نہیں آ
کہ بنی اسرائیل میں سے کوئی اس کا باپ نـ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٦، خزائن ج ٢١ ص
- ١٦...... میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی
دجال نہیں ہوسکتا۔ (تریاق القلوب ص ١٣ ج ١٥ ص ٤٣٢)
- ١٧...... حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسـ
نہیں ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠١ حاشیہ، خزا ص ١٠٤)
- ١٨...... افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی
تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی او (مسیح ہندوستان میں ص ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ٧
- ١٩...... (مسیح) قریباً دو گھنٹے تک صلیب پر رہے
ہندوستان میں ص ٢٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٢، تحـ ص ١٣٣)
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا عَلِيْمٌ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
نبی مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر قرآن کریم سے ثابت ہے۔ (آئینہ کمالات خزائن ج ٥ ص ٦٨)
صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔ ٢٣، ماہ ستمبر ١٩٠٢ء)
مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابع داری کے ملی۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٣
ت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے س کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے (ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣
...... یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں کہ فرماتے ہیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر وہ کون تھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، ص ٢٩٣)
عاجز نے جو مثل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ (ازالہ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
انے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا انہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ یقۃ الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا ایک کفر براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٢، خزائن ج ٢١
٢٧٥
١١...... مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ (تحفۃ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء)
١١...... ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔ (حمامۃ البشریٰ مترجم ص ٧١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)
١٢...... حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر معہ جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت معہ جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٠، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٦)
١٢...... بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
١٣...... ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سچا نبی مانتے ہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠١، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٤)
١٣...... آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ب...... یسوع بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔ (ست بچن ص ٧١ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)
١٤...... حضرت عیسیٰ پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے۔ (نصرۃ الحق براہین احمدیہ ص ٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٥٨)
١٤...... حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔ (براہین احمدیہ ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٣٤١)
١٥...... بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ ہے۔ (خاتمۃ نصرۃ الحق ضمیمہ براہین احمدیہ ص ب، خزائن ج ٢١ ص ٤١٢)
١٥...... مسیح کبھی بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا تھا۔ وجہ یہ کہ بنی اسرائیل میں سے کوئی اس کا باپ نہ تھا۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٣)
١٦...... دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
١٦...... میرے دعوٰی کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔ (تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
١٧...... حضرت مریم صدیقہ کی قبر بیت المقدس کے بڑے گرجے میں ہے۔ (اتمام الحجۃ ص ١٩، ٢٠، ٢١ حاشیہ، خزائن ج ٨ ص ٢٩٧)
١٧...... حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٤)
١٨...... ظاہر ہے کہ دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی۔ (تریاق القلوب ص ٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)
١٨...... افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی اولاد ہو۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ٧٠)
١٩...... چند ہی منٹ گزرے تھے کہ مسیح کو صلیب سے اتار لیا گیا۔ (ازالہ اوہام ص ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)
١٩...... (مسیح) قریباً دو گھنٹے تک صلیب پر رہے۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٢٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٢، تحفہ گولڑویہ ص ٤٣٤)
٢١
جس کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک جسے مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
صحابہ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
ا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا يٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک نے ، جیسے پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
- ٢٠...... مسیح علیہ السلام کے چال چلن کے متعلق
مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”ایک کھاؤ پیؤ، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ (مکتوبات احمدیہ ج٣ص٢٣، ٢٤)
- ٢٠...... انہوں نے (مسیح نے) اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ
نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔ (لیکچر سیالکوٹ ص٤٣، خزائن ج٢٠ ص٢٣٦)
حضرت امام مہدی کے متعلق متضاد باتیں
تصویر کا ایک رخ
تصویر کا دوسرا رخ
- ٢١...... ”اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت
اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم ﷺ نے دی تھی۔ وہ میں ہی ہوں۔“ (تذکرۃ الشہادتین ص٢، خزائن ج٢٠ ص٤)
- ب...... میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس
میں سے ہوں اور بموجب اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص٩، خزائن ج١٨ص٢١٣)
- ٢١...... ”میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو
مصداق من ولد فاطمہ ومن عترتی وغیرہ ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٥، خزائن ج٢١ ص٣٥٦)
دعویٰ نبوت کے متعلق متضاد باتیں
تصویر کا ایک رخ
تصویر کا دوسرا رخ
- ٢٢...... ”وما كان لي ان ادعى النبوة
واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين“ اور یہ مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جاکر مل جاؤں۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا ادعا کروں۔ (حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
- ٢٢...... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار
بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء) ب...... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔ (حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)
٢٢
- ٢٣...... اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار مصطفی ﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا میں نبوت (حمامۃ البشریٰ ص٨٣، خزائن ج٧ ص
- ٢٤...... میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا
نہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لو کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٦)
- ٢٥...... ان پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے
بھیجتے ہیں اور کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد اللہ“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ ایمان رکھتے ہیں۔ (تبلیغ رسالت ج٦ اشتہارات ج٢ص٢٩٧)
تصویر کا ایک رخ
- ٢٦...... وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے
(ص٥٠)
- ٢٧...... اور خدا ہر ایک نقصان سے پاک
کبھی موت اور فنا طاری نہیں ہوتی بلکہ او نیند بھی جو فی الجملہ موت سے مشابہ ہے (وید اور قرآن کا مقابلہ ص٢٧)
- ٢٨...... میں اپنے رسول کے ساتھ
کروں گا۔ خطاء کروں گا اور بھلائی کروں ج٢ص٧٩)
- ٢٩...... پھر دجال ایک اور قوم کی طرف ن
الوہیت کی طرف ان کو دعوت دے گا ص٢١٨، خزائن ج٣ ص٢٠٨)
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ O يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
پ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ و احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ر ماتحت، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
(مسیح نے) اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔ ص ٣٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٦)
تضاد باتیں
تصویر کا دوسرا رخ
دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو فاطمہؓ و من عترتی وغیرہ ہے۔“ (ضمیمہ ص ٤٥، ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)
ضاد باتیں
تصویر کا دوسرا رخ
دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار مارچ ١٩٠٨ء) ب..... نبی کا نام پانے نہیں مخصوص کیا گیا ہوں۔ (حقیقت الوحی ج ٢٢ ص ٤٠٦)
٢٣...... اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا میں نبوت کا مدعی بنتا۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢)
٢٣...... سچا خادم ہی ہے۔ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
٢٤...... میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
٢٤...... ”هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله ان الله قد من علینا“ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور دینِ حق کے ساتھ تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب ثابت کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٠)
٢٥...... ان پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختمِ نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ (تبلیغِ رسالت ج ٦ ص ٢،٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
٢٥...... ”قل یا ایها الناس انی رسول الله الیکم جمیعاً ای مرسل من الله“ کہہ اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)
متفرق متضاد باتیں
تصویر کا ایک رخ
تصویر کا دوسرا رخ
٢٦...... وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔ (البشریٰ ج ١ ص ٥٠)
٢٦...... ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔ (پیغام صلح ص ٢٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)
٢٧...... اور خدا ہر ایک نقصان سے پاک ہے۔ جس پر کبھی موت اور فنا طاری نہیں ہوتی بلکہ اونگھ اور نیند سے بھی جو فی الجملہ موت سے مشابہ ہے۔ پاک ہے۔ (وید اور قرآن کا مقابلہ ص ٢٧)
٢٧...... مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے خدا فرماتا ہے۔ ”اسحر وانام“ یعنی میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
٢٨...... میں اپنے رسول کے ساتھ ہوں۔ قبول کروں گا۔ خطاء کروں گا اور بھلائی کروں گا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
٢٨...... خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨٧، حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
٢٩...... پھر دجال ایک اور قوم کی طرف جائے گا اور اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دے گا۔ (ازالہ اوہام ج ١ ص ٢١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٠٨)
٢٩...... دجال خدا نہیں کہلائے گا۔ بلکہ خدا تعالیٰ کا قائل ہوگا۔ بلکہ بعض انبیاء کا بھی۔ (ازالہ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
٢٣
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
- ٣٠....... حضرت موسیٰ کی اتباع سے ان کی امت میں
ہزاروں نبی ہوئے۔ (الحکم ص ٥، مورخہ ٢٣ نومبر ١٩٠٢ء)
- ٣٠....... بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے۔ مگر ان
کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
- ٣١....... خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا۔
(کرامات الصادقین ص ٨، خزائن ج ٧ ص ٥٠)
- ٣١....... خدا اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل
دیتا ہے۔ (چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٢)
- ٣٢....... خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی
شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔ (ازالہ اوہام ص ٣١٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠)
- ٣٢....... ”واعطيت صفة الافناء والاحياء من
الرب الفعال“ اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦)
- ٣٣....... بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے
ہیں۔ جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت عبرانی وغیرہ۔ (نزول مسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
- ٣٣....... یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی
اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔ (چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
- ٣٤....... ایک طرف تو مسیح اور علماء اسلام کو بے نقط
گالیاں۔ (تطبیق علامت ص ١١)
- ٣٤....... دوسری طرف یہ فرماتے ہیں:۔ ”گالیاں دینا
اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔“ (ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٥)
متضاد اور متناقض باتیں کہنے والوں کو خود مرزا پاگل اور مخبوط الحواس کہتے ہیں۔
- ١....... ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے
طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
- ٢....... اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا
تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
- ٣....... کوئی دانش مند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ
سکتا۔
(ازالہ اوہام ص ٢٣٩، خزائن ج ٣ ص ٢٢٠)
- ٤....... جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ٥....... ”قل لوكان الامر من عند غير الله لوجدتم فيه اختلافاً
كثيراً“ کہہ دو اے مرزا قادیانی اگر یہ کاروبار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٢٠)
٢٤
ان تمام علامات سے رو مالیخولیا کے مریض تھے۔ جس کی وجہ سے
آنحضرت ﷺ کے بعد
دجالی نبوت کا ثبوت
- ١....... "سیکون
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی عنقریب ہی تیس جھوٹے دجال پیدا ہو گا۔ چونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ اس
- ٢....... "لا تقو
ثلثين كلهم يزعم انه رسول قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تیس رسول ہونے کا گمان کرے گا۔
ان دونوں حدیثوں سے مدعی ہوگا وہ دجال ہوگا۔
مالیخولیائی نبوت کا ثبوت
اگر مریض دانشمند بودہ با
دجالی نبوت
دجالی نبی
اپنے دعویٰ پر اڑا رہتا ہے ہے۔ اپنے آپ کو پیغمبر منوانے میں
مالیخولیائی نبی
اپنے نقص دماغ کے باعث بات پر اس کو قرار نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ؕيٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے عین ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک کرتے ہیں تو اس کو محض پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
عمل میں اگرچہ بہت نبی آئے۔ مگر ان علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
میں بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل معرفت ص ٦٩، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٢)
يث صفة الافناء والاحياء من اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی اور صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ص ٢٢، خزائن ج ١٦ ص ٥٦)
غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ عقل سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق سے فائدہ کیا ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالا معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
طرف یہ فرماتے ہیں۔ ”گالیاں دینا طریق شرافت نہیں ہے۔“ (ضمیمہ
مخبط الحواس کہتے ہیں۔ میں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے بحث بچگانہ ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٣٤)
دماغ کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا الویٰ ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
یہ دو متضاد اعتقاد ہر گز نہیں رکھ الہام ص ٢٣٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٠)
ضمیمہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
لَوَجَدتُم فيهِ اختِلافاً سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت (البشریٰ ج ٢ ص ٢٠)
ان تمام علامات سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہو گئی کہ مرزا قادیانی دراصل مالیخولیا کے مریض تھے۔ جس کی وجہ سے مجبوراً یہ تمام باتیں ان کے منہ سے نکلتی تھیں۔
آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت یا دجال ہوگا یا مالیخولیا کا مریض
دجالی نبوت کا ثبوت
- ......١ "سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله
انا خاتم النبيين لا نبي بعدى (مشكوة شريف كتاب الفتن) "یعنی میری امت میں عنقریب ہی تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ چونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ اس لئے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
- ......٢ "لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من
ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (مشكوة شريف باب الملاحم)" یعنی اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال نہ پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے رسول ہونے کا گمان کرے گا۔
ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر وہ شخص جو نبوت کا مدعی ہو گا وہ دجال ہوگا۔
مالیخولیائی نبوت کا ثبوت
اگر مریض دانشمند بوده باشد دعویٰ پیغمبری و معجزات و کرامات کند۔
(اکسیر اعظم ج ١ اول ص ١٨٨)
دجالی نبوت اور مالیخولیائی نبی میں فرق
دجالی نبی اپنے دعویٰ پر اڑا رہتا ہے۔ اس کی تائید میں اپنے استدراج اور شعبدہ جات پیش کرتا ہے۔ اپنے آپ کو پیغمبر منوانے میں طرح طرح کی حیلہ سازیاں کرتا ہے۔
مالیخولیائی نبی اپنے نقص دماغ کے باعث دعویٰ نبوت کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے دعوے کرتا ہے۔ کسی بات پر اس کو قرار نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جس کی واقعات تردید کر دیتے ہیں۔
٢٥
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۖ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
مرزا قادیانی مالیخولیا ئی نبی تھے
چونکہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کے علاوہ کبھی فرشتہ، کبھی خدا، کبھی ابن اللہ، کبھی مہدی، کبھی ذوالقرنین، کبھی کرشن، کبھی موسیٰ، کبھی عیسیٰ بنے۔ اس لئے آپ مالیخولیائی نبی تھے۔ مثلاً:
- ......١ میں مہدی موعود ہوں اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔
(اشتہار معیار الاخیار ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٨)
- ......٢ مجھے محمد اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن
ردر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی۔
(لیکچر سیالکوٹ ص٣٣، خزائن ج٢٠ ص٢٢٩)
- ......٣
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص٣، خزائن ج١٥ ص١٣٢)
- ......٤
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(دُرّثمین ص١٠٠)
- ......٥ دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین
احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ہوں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
- ......٦ اس امت کے لئے ذوالقرنین میں ہوں اور قرآن شریف میں مثالی طور
پر میری نسبت پیش گوئی موجود ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص١١٨)
- ......٧ ”اسمع ولدی“ میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج١ ص٣٩)
- ......٨ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔
(کتاب البریہ ص٨٥، خزائن ج١٣ ص١٠٣)
مرزائیوں کی بعض تحریروں کا جواب
٢٦
سے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک سے مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
- ......١ حکیم عبیداللہ صاحب
بیاض نورالدین کو دیکھتے ہوئے جب مالیخولیا کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر کے دل میں کھٹک جاتی ہے کہ واقعی مرزا قادیانی اس پر حاشیہ لکھتے ہیں۔ الحمدللہ کہ ہم کو خدا نے عادات مـ عطاء فرمائی۔
جواب بالکل عطاء معرفت نہیں مزید غور کرتے طبی کتابوں کو دیکھتے۔ پھر مرزا کرتے۔ پھر یہ الفاظ لکھتے تو ہم سمجھتے کہ واقعی کی علی وجہ البصیرت معرفت عطاء فرمائی ہے ہیں تو خاک معرفت عطاء ہوئی۔ ہاں اگر حکیم مرزا قادیانی کو مالیخولیا کا مریض کہہ رہا ہوں
- ......٢ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب
پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش۔ ڈاکٹر صاحب تشریح کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ: مالیخولیا کی ہے اور تین اس لحاظ سے جو مریض خیال کر میں ان کو چھوڑ دیتا ہوں۔
سبحان اللہ ان کی تفصیل تو ایسی کے متعلق ایک فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچ سکتا تھا۔ پاش ہونا یقینی امر تھا۔ اس لئے اس کو چھوڑ مشترک ہوا کرتی ہیں اور تمام مریضوں میں سے لکھنے بیٹھ گئے۔ لیکن علامات خاصہ جو ا ان کا دعویٰ پیغمبری، خدائی، ابن اللہ، ملائکہ مطابق تھیں۔ بالکل قلم انداز کردیں۔ لیکن سے نکل ہی گئی۔ یعنی مریض بعض دفعہ ایسا
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۖ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے سامنے یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ کے احترام کے لیے بھی ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ماتحت، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
خدا، کبھی ابن اللہ، کبھی مہدی، مالنخولیائی نبی تھے۔ مثلاً: مغل ہوں۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٨)
مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن
(تحفہ ص ٣٢، خزائن ج٢٠ ص٢٢٩)
خدا باشند
(القلوب ص٣، خزائن ج١٥ ص١٣٢)
ہوں بے شمار
(درثمین ص١٠٠)
کر دیا گیا۔ سوجیسا کہ براہین ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، مریم ہوں، میں محمد ہوں۔
(وحی ص ٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
قرآن شریف میں مثالی طور
(پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص١١٨)
(البشریٰ ج اول ص٤٩)
(وحی ص ٨٥، خزائن ج١٣ ص١٠٣)
تھا
- .......١ حکیم عبیداللہ صاحب بسمل احمدی مؤلف حق الیقین کی حق پوشی۔ آپ
بیاض نورالدین کو دیکھتے ہوئے جب مالنخولیا کی اس علامت پر پہنچتے ہیں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں تو فوراً ان کے دل میں کھٹک جاتی ہے کہ واقعی مرزا قادیانی ان علامات مالنخولیا کے مصداق تھے تو آپ فوراً اس پر حاشیہ لکھتے ہیں۔
الحمدللہ کہ ہم کو خدا نے عادات مریض مالنخولیا اور شمائل انبیاء کی علیٰ وجہ البصیرۃ، معرفت عطاء فرمائی۔
(بیاض نورالدین ص ٢١٢ حاشیہ)
جواب بالکل عطاء معرفت نہیں ہے۔ ورنہ جس طرح آپ کے دل میں شبہ ہوا تھا۔ مزید غور کرتے طبی کتابوں کو دیکھتے۔ پھر مرزا قادیانی کو مالنخولیا کا مریض سمجھ کر مرزائیت سے توبہ کرتے۔ پھر یہ الفاظ لکھتے تو ہم سمجھتے کہ واقعی خدا نے آپ کو عادات مریض مالنخولیا اور شمائل انبیاء کی علیٰ وجہ البصیرت معرفت عطاء فرمائی ہے۔ لیکن اگر کولہو کے بیل کی طرح آپ جہاں تھے وہیں ہیں تو خاک معرفت عطاء ہوئی۔ ہاں اگر یہی الفاظ میں کہہ دوں تو بجا ہے۔ جو سچے نبیوں کو نبی اور مرزا قادیانی کو مالنخولیا کا مریض کہہ رہا ہوں۔ (مؤلف)
- .......٢ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کی پہلی چالاکی اور مرزا قادیانی کی علامات مالنخولیا
پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش۔ ڈاکٹر صاحب ریویو آف ریلیجنز مئی ١٩٢٧ء کے ص ١٩ پر مالنخولیا کی تشریح کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ: مالنخولیا کی چھ قسمیں ہیں۔ تین اس لحاظ سے جو مریض حرکات کرتا ہے اور تین اس لحاظ سے جو مریض خیال کرتا ہے۔ مگر ان کی تفصیل چونکہ عام فہم نہیں۔ اس لئے میں ان کو چھوڑ دیتا ہوں۔
سبحان اللہ ان کی تفصیل تو ایسی عام فہم تھی کہ معمولی سمجھ کا آدمی بھی ان سے مرزا قادیانی کے متعلق ایک فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچ سکتا تھا۔ مگر چونکہ اس سے پول کھلتا تھا اور نبوت کی عمارت کا پاش پاش ہونا یقینی امر تھا۔ اس لئے اس کو چھوڑ دیا اور مالنخولیا کی علامات عامہ جو اکثر امراض میں مشترک ہوا کرتی ہیں اور تمام مریضوں میں ان کا ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے۔ بڑے شدومد سے لکھنے بیٹھ گئے۔ لیکن علامات خاصہ جو ان کی حرکات اور خیالات سے تعلق رکھتی تھیں۔ جن سے ان کا دعوٰی پیغمبری، خدائی، ابن اللہ، ملائکہ ثابت ہوتا تھا اور جو مرزا قادیانی کے حالات کے عین مطابق تھیں۔ بالکل قلم انداز کر دیں۔ لیکن آگے چل کر مجبوراً ایک علامت خیالات کے متعلق قلم سے نکل ہی گئی۔ یعنی مریض بعض دفعہ ایسا خیال کر لیتا ہے جس کی واقعات تردید کر دیتے ہیں۔
٢٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوْا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کے لیے ہمیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک مرید اپنے مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
(ریویو مئی ١٩٢٧ء) جس پر ہم کچھ لکھ بھی چکے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کے عین مطابق حال ہے۔
نوٹ: علامات مرض دو قسم کی ہوا کرتی ہیں۔ ایک عامہ جو اکثر امراض میں پائی جاتی ہیں۔ جیسے بخاروں میں شدت پیاس، گھبراہٹ، بے چینی وغیرہ۔ دوسری خاصہ جو ہر مرض کے لئے مخصوص ہوا کرتی ہیں۔ جیسے کہ بخاروں کے لئے حرارت کا زیادہ ہونا اسی طرح مالنخولیا کی علامت خاصہ جن سے مرض مالنخولیا پہچانا جاتا ہے۔ مریض کے حرکات اور خیالات کے متعلق ہوا کرتی ہیں۔ جس کو ڈاکٹر صاحب نے بڑی ہوشیاری سے نظر انداز کیا۔ مگر ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ؎
- ٣...... ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کی دوسری چالاکی اور درد دل کا جواب دینے سے
گریز ۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے مئی ١٩٢٧ء کے ریویو آف ریلیجنز میں میرے معزز دوست اور قابل شاگرد حکیم سید عبدالعزیز صاحب چشتی پاکپٹنی کی مقبول عام تصنیف درد دل کا جواب لکھنے کے لئے قلم اٹھایا خیال تھا کہ جس طرح چشتی صاحب نے مرزا قادیانی کے حالات مرض کو مرض مالنخولیا کی علامات کے ساتھ تطبیق دے کر مرزا قادیانی کو مالنخولیا ثابت کیا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب بھی درد دل کا ترکی بترکی جواب دے کر مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ ثابت کریں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا مالنخولیا اظہر من الشمس تھا اور ترکی بترکی جواب دینے میں پول کھلتا تھا۔ اس لئے ڈاکٹر صاحب نے اس موقعہ پر عجب چالاکی کی۔ آپ لکھتے ہیں۔ ”میری غرض اس مضمون کے لکھنے سے ان کے رسالہ پر جرح یا ان کی کتاب کا ترکی بترکی جواب لکھنا نہیں۔ بلکہ عام پبلک کے سامنے ایک محقق ڈاکٹر کی حیثیت سے حضرت صاحب کے امراض کی اصل حقیقت کو واضح کرنا ہے ۔“
(ریویو آف ریلیجنز ص ٣، مئی ١٩٢٧ء)
- ٤...... ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کی تیسری چالاکی اور مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ
ثابت کرنے کی ناکام کوشش، ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اکثروں نے حضرت صاحب کی تحریرات سے مراق کے مفہوم کو غلط سمجھ کر ان کی طرف مرض مالنخولیا کو منسوب کر کے اپنی جلد بازی اور نادانی پر مہر کر دی۔ مگر یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ جو اعتراض آقا (آنحضرت ﷺ) پر کئے گئے تھے۔ وہی غلام (مرزا غلام احمد قادیانی) پر دہرائے جائیں۔ تا کہ ہر رنگ میں مسیح موعود حضرت نبی کریم ﷺ کا کامل بروز اور ظل ہو سکے۔ پس ہم طبقہ اطباء کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس مشابہت کو کامل کرنے میں پوری کوشش کی۔
(ریویو آف ریلیجنز ص ٢، مئی ١٩٢٧ء)
جواب ! اگر ملزم خود اپنے جرم کا اقبال کر لے تو اس میں مدعی کا کیا قصور۔ مرزا قادیانی
٢٨
تو خود مدعیان کے اہل بیت کے مالنخولیا کا اقر الزام کیسا۔ باقی رہا یہ کہ چونکہ آنحضرت ﷺ تھے۔ اگر مرزا قادیانی پر بھی لگائے گئے تو ک جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ دماغ میں خرابی ہے یا مجھے مالنخولیا اور مراق بشاعرا ولا مجنون “ مجنون کہنے والو کہنے کی تردید کرنا تو درکنار خود اپنی تصانیف پاگل ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ اس میں اور نادانی سے بڑھ کر ہے۔
- ٥...... حکیم نور احمد صاحب
نہ دلاسکے۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں۔ ان گر ہیں۔ یونانی کتب میں مالنخولیا مراقی جس کو اسی پر محمول کر دیا۔ لا حول ولا قوة! آگے چل کر آپ لکھتے ہیں۔ مر ہیں۔ اس مرض کو یونانی میں جمود۔ شخوص، ا جزئیا کلیتہً جاتی رہتی ہے۔
جواب۔ اس قسم کی بے سروپا اور کا موجب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب میزان الطب پڑھا ہوا شخص بھی یہ جانتا ہے ہیں۔ جن کی ماہیت، اسباب، علامات اور نورالدین کا ہی مطالعہ کر لیتے تو کبھی یہ لفظ نہ آگے چل کر حکیم صاحب حدود ا اس عبارت پر بہت زور دیتے ہیں۔ ”و قیل کان دقیقاً “ (حدود الامراض ص ٤٤) یعنی کو مراق کہتے ہیں۔ اس عبارت سے واضح مواضع کی بیماریاں بیسیوں ہیں۔ پھر یہ بزر
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ادب سے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
نی کے عین مطابق حال ہے۔ عامہ جو اکثر امراض میں پائی جاتی ہے۔ دوسری خاصہ جو ہر مرض کے لئے وہ ہونا اسی طرح مانخولیا کی علامت قت اور خیالات کے متعلق ہوا کرتی مگر ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ۔ رکھتے ہیں کی اور در دل کا جواب دینے سے علیگڑھ میں میرے معزز دوست اور عام تصنیف در دل کا جواب لکھنے زا قادیانی کے حالات مرض کو مرض ولیا ثابت کیا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر صحیح الدماغ ثابت کریں گے۔ لیکن س تھا اور ترکی بترکی جواب دینے ب چالاکی کی۔ آپ لکھتے ہیں۔ ان کی کتاب کا ترکی بترکی جواب سے حضرت صاحب کے امراض
(ریویو آف ریلیجنز ص٣، مئی ١٩٢٧ء)
ئی اور مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ انے حضرت صاحب کی تحریرات ب کرکے اپنی جلد بازی اور نادانی حضرتﷺ ) پر کئے گئے تھے۔ رنگ میں مسیح موعود حضرت نبی ر مشکور ہیں کہ انہوں نے اس
(ریویو آف ریلیجنز ص٢، مئی ١٩٢٧ء)
ن مدعی کا کیا قصور۔ مرزا قادیانی
تو خود ممدوح کے اہل بیت کے مانخولیا کا اقرار کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو نادانی اور جلد بازی کا الزام کیسا۔ باقی رہا یہ کہ چونکہ آنحضرتﷺ پر بھی مخالفین نے شاعر اور مجنون کے الزام لگائے تھے۔ اگر مرزا قادیانی پر بھی لگائے گئے تو کیا حرج بلکہ مشابہت تامہ ہوگئی۔
جواب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی ساری عمر میں کبھی یہ لفظ نہیں فرمایا کہ میرے دماغ میں خرابی ہے یا مجھے مانخولیا اور مراق ہے۔ بلکہ برخلاف ازیں بحکم خداوندی ”وما انت بشاعر ولا مجنون“ مجنون کہنے والوں کا منہ توڑ دیا۔ برخلاف اس کے مرزا قادیانی کسی کے کہنے کی تردید کرنا تو درکنار خود اپنی تصانیف میں متعدد جگہ اپنے مراق، مانخولیا، مخبوط الحواس اور پاگل ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ اس میں آقا اور غلام کی مشابہت کے خواب دیکھنا جلد بازی اور نادانی سے بڑھ کر ہے۔
- ٥...... حکیم نور احمد صاحب سکنہ لودی ننگل بھی مرزا قادیانی کو مانخولیا سے نجات
نہ دلا سکے۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں۔ ان گرو چیلوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ بیماری مراق کس کو کہتے ہیں۔ یونانی کتب میں مانخولیا مراقی جس کو طب فرنگی میں ہائپوکانڈراسیسس لکھا ہے۔ یاروں نے اسی پر محمول کر دیا۔ لا حول ولا قوة!
(ریویو ص٢٥، اپریل ١٩٢٥ء)
آگے چل کر آپ لکھتے ہیں۔ مراق کی بیماری وہ ہے۔ جس کو ڈاکٹری میں کیٹالپسی کہتے ہیں۔ اس مرض کو یونانی میں جمود۔ قتوحس، آخذہ اور قاطوس کہتے ہیں۔ اس میں حرکت اور ہوش جزئیا کلیتہً جاتی رہتی ہے۔
(ریویو ص٢٦، اپریل ١٩٢٥ء)
جواب۔ اس قسم کی بے سروپا اور عامیانہ تحریر ایک طبیب کے قلم سے نکلنا بے حد افسوس کا موجب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مرزائیت کی متعصب عینک کی مہربانی ہے۔ ورنہ میزان الطب پڑھا ہوا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ مانخولیا مراقی اور جمود الگ الگ دو مستقل بیماریاں ہیں۔ جن کی ماہیت، اسباب، علامات اور علاج بالکل جدا جدا ہیں۔ اگر حکیم صاحب بیاض نورالدین کا ہی مطالعہ کر لیتے تو کبھی یہ لفظ نہ لکھتے کہ مراق اور جمود ایک ہی چیز ہے۔
آگے چل کر حکیم صاحب حدودالامراض سے فتق کی تعریف کا آخری حصہ نقل کر کے اس عبارت پر بہت زور دیتے ہیں۔ ”وقيل المراق هو كل موضع من جلد البطن كان دقيقاً “ (حدودالامراض ص٤٤) یعنی بعض نے کہا کہ پیٹ کا چمڑا جہاں کہیں رقیق ہو۔ اس کو مراق کہتے ہیں۔ اس عبارت سے واضح ہے کہ شکم کے اکثر مواضع کا نام مراق ہے اور ان مواضع کی بیماریاں بیسیوں ہیں۔ پھر یہ بزرگ صرف ایک خاص بیماری کو اس کا محل اس طرح
٢٩
قرار دیتے ہیں۔
(ریویو ص ٣٦، اپریل ١٩٢٥ء)
جواب یہاں بحث غشاء مراق سے نہیں ہے۔ جس کی حکیم صاحب تعریف لکھ رہے ہیں۔ یہاں تو بحث مرض مراق سے ہے۔ جس کی تعریف حدود الامراض کے حوالہ سے میں نے اسی رسالہ کے ص ٨ پر درج کی ہے۔ جس میں لکھا ہے۔ ’’والمالیخولیا المراقی وهو ان یکون بشرکة المراق‘‘ یعنی مالیخولیا مراقی غشاء مراق کی شرکت کے باعث ہوتا ہے۔ ’’تسمية المرض باسم محلہ‘‘ مرض کا نام اس کی جائے وقوع کے نام پر رکھا گیا۔ جس طرح عام لوگ عظم طحال کو تلی کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ تلی اس عضو کا نام ہے۔ جس میں وہ مرض واقعہ ہوتا ہے۔
حکیم صاحب نے تو عوام کو مغالطہ میں ڈال کر مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ ثابت کرنے کی بہت کوشش کی۔ مگر بقول شخصے۔
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
حکیم صاحب نے تو بابو حبیب اللہ صاحب کلرک امرتسری اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو یہ کہہ کر کہ ان کو یونانی اور ڈاکٹری طب سے واقفیت نہیں ہے۔ ان کی تصنیف مراق مرزا کو اپنی طرف سے لایعنی ثابت کرنا چاہا تھا۔ لیکن حکیم صاحب کی اپنی واقفیت کا یہ حال ہے کہ مراق اور جمود کو ایک ہی مرض قرار دے رہے ہیں۔ جو سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ حکیم صاحب اگر کسی وقت اس معاملہ میں میرے ساتھ مکالمہ کریں یا کم از کم میرے طبیہ کالج کے کسی طالب علم کے ساتھ ہی تبادلۂ خیالات کریں تو قوانین طب کے مطابق مالیخولیا مراقی کی حقیقت اور پھر مرزا قادیانی کا اس میں مبتلا ہونا ان پر ظاہر ہو جائے۔
- ٦...... مولوی تاج الدین صاحب لائلپوری کی رسالہ مراق مرزا قادیانی کا
جواب دینے میں ناکامی۔ آپ فرماتے ہیں۔ مراق سے مراد جنون یا مالیخولیا مراقی نہیں۔ بلکہ محض دوران سر مراد ہے۔ جیسا کہ حضرت اقدس نے یہی بیماری اپنے بدن کے اوپر کے حصہ میں بیان فرمائی ہے۔
(اخبار الفضل ص ١١ مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء)
جواب مرزا قادیانی نے بے شک اپنے سر میں دوران سر تسلیم کیا ہے۔ لیکن یہ کہیں نہیں کہا کہ مراق سے مراد دوران سر ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے بدن میں دوران سر اور مراق دو الگ الگ بیماریاں تسلیم کی ہیں۔ (ملاحظہ ہو رسالہ ہذا شہادت نمبر ١٠) دنیا کا کوئی طبیب مراق کو دوران
٣٠
(ریویو ص ٣٦، اپریل ١٩٢٥ء)
جس کی حکیم صاحب تعریف لکھ رہے حدود الامراض کے حوالہ سے میں نے الماليخوليا المراقى وهو ان مراقی کی شرکت کے باعث ہوتا ہے۔ کیا جائے وقوع کے نام پر رکھا گیا۔ جس عضو کا نام ہے۔ جس میں وہ مرض واقعہ
مرزا قادیانی کو صحیح الدماغ ثابت کرنے
کے اصولوں سے کے پھولوں سے ت امرتسری اور مولوی ثناء اللہ صاحب ثابت نہیں ہے۔ ان کی تصنیف مراق مرزا کی اپنی واقفیت کا یہ حال ہے کہ مراق خلاف واقعہ ہے۔ حکیم صاحب اگر ام میرے طبیہ کالج کے کسی طالب علم لیق مالخولیا مراقی کی حقیقت اور پھر
مدعی کی رسالہ مراق مرزا قادیانی کا مجنون یا مالخولیا مراقی نہیں۔ بلکہ محض کے بدن کے اوپر کے حصہ میں بیان
(الفضل ص ١١، مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء)
کہ اس کو سر تسلیم کیا ہے۔ لیکن یہ کہیں نہیں اپنے بدن میں دوران سر اور مراق دو (١) دنیا کا کوئی طبیب مراق کو دوران
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک استاد سے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
سر سے تعبیر نہیں کر سکتا اور نہ ہی مرزا قادیانی نے مراق کہہ کر دوران سر مراد لیا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خاندانی حکیم تھے۔ بلکہ خود بھی طب سے واقف تھے۔ جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں۔ میں نے خود طب کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان کتابوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا۔ (راز حقیقت ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٥٨) اس لئے مرزا قادیانی کے فرمودہ لفظ مراق سے دوران سر مراد لینا مرزا قادیانی کی ہتک کرنا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر واقعات بھی مرزا قادیانی کو مالخولیا ہونے کی تائید کر رہے ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی ہمیشہ خلوت پسند تھے۔ رات دن کتب بینی اور مضامین نویسی آپ کا شغل تھا۔ دن رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھے اس قسم کے کام کیا کرتے تھے۔ (ملاحظہ ہو رسالہ ہذا شہادت نمبر ٣) تو ایسی حالت میں مالخولیا کا ہو جانا بالکل آسان اور یقینی امر ہے۔ چنانچہ اسی قسم کا مالخولیا حکیم فارابی کو بھی ہو گیا تھا۔ علامہ طبری لکھتے ہیں۔ میں نے بہت سے فاضلوں کو دیکھا کہ اکیلے رہنے لگے اور علوم کے سوا شغل چھوڑ دیئے اور آدمیوں سے تنہائی اختیار کی۔ پھر ان کے اخلاط جل گئے اور ان کو مالخولیا ہو گیا۔ چنانچہ ایک انہی میں سے فارابی ہے۔
(طب اکبر مطبع نولکشور مطبوعہ ١٩٠٣ء ص ٣٦)
آگے چل کر مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ اس بیماری کو لفظ مراق سے موسوم کرنے والوں نے بھی حضور (مرزا قادیانی) کے الہامات کو خدائی کلام تسلیم کیا ہے اور کبھی بھی وہ اس وہم میں نہیں پڑے۔ جن میں آپ (مولوی ثناء اللہ یا بابو حبیب اللہ ) مبتلا ہیں۔ جواب معاذ اللہ معاذ اللہ وہ کون بیوقوف ہو گا جو مرزا قادیانی کو مراقی مانتے ہوئے ان کے کلام کو خدائی کلام تسلیم کرتا ہوگا۔ مسلمان تو الگ رہے۔ احمدی حضرات بھی ایسا تسلیم نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ڈاکٹر شاہ نواز خان احمدی لکھتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔“
(ریویو ص ٦، ٧، اگست ١٩٢٦ء)
احمدی اصحاب کا ایک اعتراض اور اس کا زبردست جواب
مرزا قادیانی مالخولیا کے مریض ٹھہرے اور ان کا دماغ غیر صحیح ثابت ہوا تو ان کو کافر کاذب ملعون یا دجال کیوں کہا جاتا ہے۔ جب کہ مریض مالخولیا کا ہر فعل غیر اختیاری اور مرض کے نتیجہ کے طور پر ہوا کرتا ہے تو مرزا قادیانی کو مورد الزام ٹھہرانا کیا معنی رکھتا ہے۔ جواب کسی کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ مرزا قادیانی کو کافر، کاذب یا ملعون وغیرہ کہے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی خود بخود یہ سب کچھ بنتے پھریں تو کسی کے کہنے پر کیا اعتراض کریں گے۔ ٣١
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا يَا اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
١...... مرزا قادیانی کو کافر کہنا
مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”اور یہ مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں ۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا ادعاء کروں۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
دعویٰ نبوت
- ١....... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔
(اخبار بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٢....... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
- ٣....... سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں کو دیکھ کر انہی کے قول کے مطابق علماء نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دے دیا ہے۔
مرزا قادیانی کو کاذب کہنا
مرزا قادیانی کے کلام میں بے شمار تناقض ہے۔ جیسا کہ علامت نمبر ٢٠ میں دکھلایا گیا ہے۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) اس وجہ سے علماء نے مرزا قادیانی کو مفتری کاذب اور جھوٹا کہہ دیا۔
مرزا قادیانی کو ملعون کہنا
مرزا قادیانی جگہ جگہ اپنی تصانیف میں نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ ”ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“ (تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٣،٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧) اس تحریر کے مطابق علماء نے مرزا قادیانی کو ملعون کہہ دیا۔
مرزا قادیانی کو دجال کہنا
اس رسالہ میں مشکوٰۃ شریف کی دو حدیثیں نقل کی گئی ہیں۔ جن میں ثابت کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت دجال ہوگا۔ ان کے مطابق علماء نے مرزا قادیانی کو دجال کہہ دیا۔
٣٢
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک جیسے شخص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
مرزا قادیانی کو پاگل کہنا
مرزا قادیانی کے کلام میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق اس تحریر کے مطابق میں نے م کیا قصور ۔
باپ تو مراقی تھا ہی بیٹا بھی مراقی تھا
ڈاکٹر شاہ نواز لکھتے ہیں:
- ١....... جس پر خاندان سے
منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے
- ٢....... اگر حضرت خلیفہ
میں کہتا ہوں اگر خلیفہ صاحب کے مراق کا صاحب کو کیوں نہ مراق ہوا۔ حالانکہ خلیفہ معلوم ہوا کہ اس کے کوئی خاص اسباب تھے پائے جاتے تھے۔
مرزا قادیانی آنجہانی کی بیوی کو بھی
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ میری ب
خوب گزرے گی
خدا نے مرزا محمود کے منہ سے بھی کر مبائے
(براہین احمدیہ حصہ
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک شخص پیر و مرشد نے اور سپاہی اپنے افسر
ہے کہ میں ادعا نبوت کروں اور کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر مربی ص ٢٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
ارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) گیا ہوں۔ اش ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧) نارسول بھیجا۔ لابلاغ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) مطابق علماء نے مرزا قادیانی پر
علامت نمبر ٢٠ میں دکھلایا گیا ہوتا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ تری کاذب اور جھوٹا کہہ دیا۔
تے ہیں۔ پھر دوسری جگہ ن ج ٦ ص ٣١٢، مجموعہ اشتہارات
جن میں ثابت کیا گیا ہے علماء نے مرزا قادیانی کو
مرزا قادیانی کو پاگل کہنا
مرزا قادیانی کے کلام میں بے شمار تناقض ہے۔ جیسا کہ پہلے دکھایا گیا ہے۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
اس تحریر کے مطابق میں نے مرزا قادیانی کو سودائی کہہ دیا ہے۔ بتائیے اس میں کسی کا کیا قصور۔
باپ تو مراقی تھا ہی بیٹا بھی مراقی نکلا
ڈاکٹر شاہ نواز لکھتے ہیں:
- ١....... جس خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بیشک یہ مرض
منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔
(ریویو ص ١١، اگست ١٩٢٦ء)
- ٢....... اگر حضرت خلیفہ ثانی پر بوجھ نہ پڑتا تو مراق کی علامات ظاہر نہ ہوتیں۔
میں کہتا ہوں اگر خلیفہ صاحب کے مراق کا باعث دماغی بوجھ سمجھا جائے تو خلیفہ اوّل حکیم نورالدین صاحب کو کیوں نہ مراق ہوا۔ حالانکہ خلیفہ ثانی کی نسبت ان کے دماغ پر زیادہ بوجھ پڑتا تھا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اس کے کوئی خاص اسباب تھے جو مرزا قادیانی آنجہانی اور ان کے صاحبزادہ میں ہی پائے جاتے تھے۔
مرزا قادیانی آنجہانی کی بیوی کو بھی مراق تھا
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔
(اخبار الحکم ص ١٤، اگست ١٩٠١ء)
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
خدا نے مرزا محمود کے منہ سے بھی اپنے والد کو نادان کہلوا دیا۔ الہام مرزا:
تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٢، ٦٦٤)
٣٣
خلیفہ محمود صاحب کا اس الہام پر تبصرہ نادان ہے۔ ”وہ شخص جس نے کہا کہ مباہلے تو مارا کہو گستاخ کیونکہ خدا کے کرم انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔“
(الفضل ص ١٢، مورخہ ٢٣ جنوری ١٩٢٠ء)
مرزا قادیانی کے مالیخولیا کا فیصلہ اور اس کی تائید
ان تمام واقعات، اسباب، عوارضات اور علامات کو مدنظر رکھ کر ہر ذی شعور شخص اس بات کا فیصلہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جناب مرزا قادیانی مرض مالیخولیا کے مریض تھے۔ خصوصاً جب کہ خود مرزا قادیانی تو اس بات کا اقرار کریں اور ان کے حواریین اس کی تائید فرمائیں۔ تمام طبی کتابیں اس کا ثبوت دیں تو کسی کی کیا مجال ہے کہ اس کے برخلاف کہہ سکے۔
حکیم الامتہ حضرت مولانا اشرف علی شاہ صاحب تھانوی مجدد مائتہ حاضرہ مدظلہ العالی نے بھی مرزا قادیانی کو مالیخولیا تسلیم کیا ہے۔ آپ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت و مسیحیت کا رد فرماتے ہوئے اخیر میں فرماتے ہیں۔ ”احقر کے نزدیک منشاء ان کے خیالات کا فساد قوت متخیلہ ہے جو اسباب خاص میں ہو گیا ہے۔ جس کا سبب گاہے طول خلوت بھی ہو جاتا ہے اور گاہے اس میں کچھ کشف بھی ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ شرح اسباب وغیرہ میں مذکور ہے۔“
(الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح ص ٣١)
مالیخولیا کے ثبوت کے بعد ایک احمدی ڈاکٹر کا فتویٰ ہے کہ مالیخولیا کا مریض نبی نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب احمدی اسسٹنٹ سرجن لکھتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“
(ریویو ص ٧٦، اگست ١٩٢٦ء)
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعان کا
حکیم محمد علی امرتسری!
٭٭٭٭٭٭٭٭
٣٤
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا عَلِيْمٌ يٰٓأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا لَا تَرْفَعُوْا
ے: ”وہ شخص جس نے کہا کہ صحابہؓ تو ہمارا تے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔“
(الفضل ص ١٢، مورخہ ٢٣؍جنوری ١٩٢٠ء)
بات کو مدنظر رکھ کر ہر ذی شعور شخص اس س مالیخولیا کے مریض تھے۔ خصوصاً جب حواریین اس کی تائید فرمائیں۔ تمام طبی جہ خلاف کہہ سکے۔ ب تھانوی مجدد مائتہ حاضرہ مدظلہ العالی یانی کے دعوٰی مہدویت و مسیحیت کا رد شاون کے خیالات کا فساد قوت متخیلہ ل خلوت بھی ہو جاتا ہے اور گاہے اس وہ میں مذکور ہے۔“
(الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح ص ٣١)
تویٰ ہے کہ مالیخولیا کا مریض ہی نہیں لکھتے ہیں کہ: ”ایک مدعی الہام کے کا مرض تھا تو اس کے دعوٰی کی تردید مہلک چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی
(ریویو ص ٧٦، اگست ١٩٢٦ء)
نے حق میں متحان کا حکیم محمد علی امرتسری!
اپنے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک حاکم سے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مضمون چور
علامہ عبدالرشید طالوتؒ
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوْا عَلِیْمٌ یٰأَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
بسم الله الرحمن الرحیم!
پیش لفظ
لوگ اب تک مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف ”ہیرا پھیری“ (فن تاویل) کا استاد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ چوروں اور اچکوں کے ہاں یہ فن اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب چور، چوری چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی جو زمانہ موجودہ میں ہیرا پھیری (تاویل) کے امام مانے جاتے ہیں کچھ مدت تک چور بھی رہے ہوں۔
مرزا قادیانی کے بیٹے کی لکھی ہوئی سوانح عمری پر اعتماد کرتے ہوئے اب تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ اس ہیرا پھیری کے کمال تک پہنچنے کے لئے جو چوری زینہ بنی وہ بچپنے کی کھانڈ کے دھوکے میں نمک کی چوری یا گھر سے گڑ کی چوری ہی تھی۔ مگر اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ آپ خیر سے ”مضمون چور“ بھی رہے ہیں۔
یوں تو دنیا جانتی ہے کہ آپ ”ہم شحنہ و ہم دزد“ یعنی بلا کے چور و چتر تھے۔ مسلمانوں سے خطاب فرماتے تو بدذات، جنگلی سور اور کتیا سے ورے بات ہی نہ کرتے اور پھر اس قدر ڈھٹائی کے بعد خوش اخلاقی کے چور دروازے سے گزر کر الٹا کوتوال کو ڈانٹ دینا تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا۔ رنگین نے شاید آپ ہی کے متعلق کہا ہوگا۔
دیں گالیاں اور مجھ پہ ہوئے آپ ہی برہم
مولانا ظفر علی خان کی رائے ساری امت مرزائیہ کے متعلق یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
کتر کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے
مگر ان چوروں کی داڑھیوں میں جب سے ہندوستان کی وفاداری کا تنکا اٹکا ہے اور کشمیر میں یہ ہندوستان کے چیل زادوں کی ”چور کھڑکی“ بن کر پاکستان جنت نشان کی آزادی کے
٢
دروازے کا ”چور تالا“ بننا چاہتے ہیں پکڑی نہ جائے اور اگر چوروں پر مور ہاتھوں کو حنا کے آئینے میں قبل از وق دیا جائے کہ جسے خون سمجھا جا رہا ہے ”دزد حنا“ درجہ رکھتی ہے جسے بجائے خزاف صرافوں کو معلوم نہیں کہ انہوں جلدی مندمل ہونے والے نہیں۔
جانے کا
اور پھر جب چھوٹے مرز مرزائیوں کے دل کا چور صاف دکھائی پھیری، چوری کے بعد آنکھیں چرانے
کچھ نہ کچھ میر
خیر یہ چھوٹے میاں بجل آگئی۔ اصل بات تو بڑے میاں کے تک لوگ انہیں مرد سمجھتے رہے اور انکشاف فرمایا کہ میں حاملہ ہوں اور د میں کیا کیا کچھ کرتے رہے۔“
لیکن پھر کچھ دنوں بعد جد میں الاپنی شروع کی تو معلوم ہوا کہ آ
دروازے کا ”چور تالا“ بننا چاہتے ہیں تو برابر اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اوّل تو ان کی یہ چوری پکڑی نہ جائے اور اگر چوروں پر مور پڑ بھی جائیں اور مسلمانوں کے خون سے رنگین ہونے والے ہاتھوں کو فال کے آئینے میں قبل از وقت دیکھ لیا جائے تو پھر ”ہیرا پھیری“ کے زور سے یہ ثابت کر دیا جائے کہ جسے خون سمجھا جا رہا ہے یہ خون نہیں مہندی ہے اور سر ظفر اللہ کی ”ذات بابرکات“ تو ”دُزد حنا“ درجہ رکھتی ہے جسے بجائے برا سمجھنے کے محبوب جاننا چاہئے۔ مگر ”قادیانی چور ہٹیا“ کے خزاف صرافوں کو معلوم نہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں جو گھاؤ لگائے ہیں یہ زخم اتنی جلدی مندمل ہونے والے نہیں۔
جانے کا نہیں چور مرے زخم جگر کا
اور پھر جب چھوٹے مرزا قادیانی کا ”اکھنڈ ہندوستان“ کے متعلق رؤیا پڑھ لیا جائے تو مرزائیوں کے دل کا چور صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ مرزا محمود کی بامعنی خاموشی اور الفضل کی ہیرا پھیری، چوری کے بعد آنکھیں چرانے کے مترادف معلوم ہوتی ہے۔
کچھ نہ کچھ میری طرف سے اس کے دل میں چور ہے
خیر یہ چھوٹے میاں سبحان اللہ! کی بات تو خواہ مخواہ درمیان میں سخن گسترانہ طور پر آگئی۔ اصل بات تو بڑے میاں کے متعلق تھی کہ: ”وہ سدا کے چور بدن اور چور پیٹ تھے۔ مدت تک لوگ انہیں مرد سمجھتے رہے اور حمل تک بھی لوگوں کو دکھائی نہ دیا۔ مگر جب انہوں نے خود انکشاف فرمایا کہ میں حاملہ ہوں اور درد زہ شروع ہے تو پھر یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت ”چور خانہ“ میں کیا کیا کچھ کرتے رہے۔“
لیکن پھر کچھ دنوں بعد جب ”نعوذ بکلی جاتاہا“ کی داستان انہوں نے اونچے سروں میں الاپنی شروع کی تو معلوم ہوا کہ آپ مرد ہیں نہ عورت۔
٣
مگر حضرت مخنث ہیں نہ ہیوں میں شیوں میں
بھلا ایسے چوری چھپے کے رستموں کے متعلق جو کچھ بھی ثابت ہو جائے کم ہے۔ اسلامی اصطلاحات کی چوری، قرآن پاک سے الہامات کی چوری، ملاحدہ وقرامطہ سے اعتقادات کی چوری اور بہشتی مقبرے کے ذریعے عوام کے مال و دولت کی چوری تو خیر مرزا قادیانی کا پدری پیشہ ہے۔ عبدالکریم مباہلہ، عبدالرحمن مصری اور فخر الدین ملتانی کی روایات اگر صحیح ثابت ہو جائیں ”العہدۃ علی الرواۃ“ تو دلوں کی چوری اور عفتوں پر ڈاکے بھی ان کے اغراض ومقاصد میں شامل ہیں۔ بھلا ایسے سینہ زور چوروں کے لئے مضمون چرا لینا کون سا بھید ہے۔ میرے دوست ابوالفضل صاحب کا انکشاف اگرچہ ایک بہت بڑا انکشاف ہے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ جو لوگ خدا کے کلام کی چوری سے نہیں شرماتے وہ بندوں کے مضامین چرانے سے کیا شرمائیں گے۔
جنہیں خدا کے محبوب ختم المرسلین رحمۃ اللعالمین کے نام چراتے ہوئے شرم نہ آئی۔ انہیں مولوی چراغ علی کے مضامین چراتے ہوئے کیا شرم آئے گی؟ اور پھر جو ہیرا پھیری (تاویل) کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔ کیا ان کے ہاں مولوی چراغ علی کے مضامین ہضم کر لینے کے لئے کوئی بھی تاویلی چورن نہیں ہوگا؟ دوسروں کے مضامین بغیر حوالہ دیئے ڈکار جانا ابوالفضل صاحب اور دنیا کے نزدیک چوری ہی سہی۔ مگر جن کتابوں میں یہ مضامین ہیں وہ تو الہامی ہیں۔ اگر مرزائی کل کلاں کھڑے ہو کر یہ کہہ دیں کہ الہامی سے مراد یہی ہے کہ یہ مضامین مرزا قادیانی پر مولوی چراغ علی کی طرف سے الہام ہوئے تھے تو کیا ابوالفضل صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟
ملتان، ٢٣ فروری ١٩٥٠ء صخرۃ الوادی
٤
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله وكفىٰ وسلام علىٰ عباده الذين اصطفىٰ خصوصاً على خاتم الانبياء وعلىٰ آله واصحابه الاصفياء، اما بعد! مرزائی اٹھتے بیٹھتے اپنے متنبّی کی تصانیف اور علم کلام جدید کا ذکر کیا کرتے ہیں۔ مگر مغلظات (گالیوں) اور اشتہار بازی کے سوا جو کچھ مرزا قادیانی کی کتابوں میں ہے وہ اسرار درون پردہ جاننے والوں کے نزدیک مستعار اور دوسروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ جسے اس مضمون چور متنبّی نے دوسروں کا نام لئے بغیر اپنا مال ظاہر کیا اور مجددانہ دیانت وامانت کی انتہا یہ کہ کہیں اشارۃً یا کنایۃً بھی دوسروں کی محنت کی داد نہیں دی۔ اس بات کے ثبوت کے لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتابوں میں دوسروں کے مضامین شامل کیا کرتے تھے اور عموماً دوسروں سے مضمون مانگ کر ہی گزارا کرتے تھے۔ اردو نثر کی مشہور تاریخ ”سیر المصنفین“ جلد دوم مصنفہ مولوی محمد یحییٰ تنہا وکیل، کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ یہ کتاب جامعہ ملیہ پریس سے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور اردو ادب کی مشہور کتابوں میں سے ہے۔ اس کے صفحہ ١١٩ پر مرزا غلام احمد قادیانی کے خطوط کے ذیلی عنوان کے ساتھ مصنف کتاب، نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی صاحب کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں۔
”اس موقعہ پر یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مولوی صاحب (یعنی اعظم یار جنگ) کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد قادیانی کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور کتاب براہین احمدیہ (جسے بعد میں الہامی ظاہر کیا گیا۔ ابوالفضل) کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔“
سن لیا آپ نے؟ یہ قادیانی نبوت کی ابتداء ہورہی ہے اور سب سے بڑی معرکۃ الاراء کتاب لکھی جارہی ہے۔ جس پر قادیانی اشتہار بازی اور علم کلام کا دارو مدار ہے۔ کاش! ان دوسرے گمنام حضرات کی روحیں بھی آکر بتلاسکتیں کہ ان میں کس کس کتاب کو یہ ”جوع المضامین“ کا مریض متنبّی وحید ڈکار گیا ہے۔ خیر اس سے آگے مصنف کتاب لکھتے ہیں۔
”چنانچہ مرزا قادیانی اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ آپ کا افتخار نامہ محبت، آمود عزورود لایا۔ اگرچہ پہلے سے مجھ کو بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوت
٥
صحابہؓ کو تعلیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
درحقیقت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سرگرمی تھی۔ مگر جناب کا ارشاد موجبِ گرم جوشی و باعثِ اشتعال شعلۂ حمیتِ اسلام علیٰ صاحبہ السلام ہوا اور موجبِ ازدیادِ تقویت و توسیعِ حوصلہ خیال کیا گیا کہ جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی تہہ دل سے حامی اور تائید دینِ حق میں دل گرمی کا اظہار کرے تو بلاشائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے۔ جزاکم اللّٰہ نعم الجزاء! ماسویٰ اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبعِ عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں۔‘‘
آخری دو سوالوں کے الفاظ کو دوبارہ پڑھ لیجئے اور خوب سوچ سمجھ کر پڑھئے اور دیکھئے کہ مجدد وقت قمر الانبیاء سلطان القلم مرزا غلام احمد قادیانی بہادر کس لجاجت سے دوسروں کے نتائج طبع کو مانگ رہے ہیں اور کس طریقہ سے جدید الہامی علم کلام کو جمع فرمایا جا رہا ہے اور کس انوکھے طریقہ پر خط کے پہلے حصہ میں اپنا شغف ظاہر کر کے آخر میں پولے منہ سے نتائج طبع مرحمت ہوں۔ کہہ دیا گیا ابھی آگے چلئے۔ صاحب سیر المصنفین لکھتے ہیں۔
’’ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں۔ آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار ١؎ کی پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا۔ اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہِ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثباتِ حقانیت فرقانِ مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں اور میں نے ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علیٰ حقانیۃ القرآن والنبوۃ المحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے مختصر کلام کو ان سے زیب وزینت بخشوں۔ سواس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرمائیں۔‘‘
١؎ سیر المصنفین کے مصنف ادیب یکتا جناب تنہا اس الہامی زبان پر یہ حاشیہ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’اردو کا یہ صحیح محاورہ نہیں ہے۔ انتظار مذکر ہے۔ لہٰذا یہ جملہ یوں ہونا چاہیے۔ آپ کے مضمون اثبات نبوت کا اب تک میں نے انتظار کیا۔‘‘ مگر تنہا صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ الہامی زبان میں انتظار مؤنث ہے۔
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، اپ احترام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مجلس پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
ملاحظہ کر لیا آپ نے؟ کہ آ ہے۔ یہ عنایت بزرگانہ کے طالب آپ کے فوائد جرائد سے اپنے مخبر الہامی کلام وہی ہیں جن کو ’’وما ينطق عن الهوى جرم سمجھتے تھے۔ مگر اندرون خانہ مضمون حق مُحَقَّر گردانا جا رہا ہے اور انسانی کلام مانگ وائے گر
پھر کیا ہوا؟ وہ مولوی محمد یحییٰ شور و شغب اور عداوتِ اسلام کا کسی قدر ’’دوسری گذارش یہ ہے کہ اگر کیا ہے اور امید کہ عنقریب آ جائے گا اور ہیں اور ان کا ستیارتھ پرکاش بھی موجود ہے ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم اعتراضوں کو ضرور ہمراہ مضمون اپنے کے ت صرف وید اور منوسمرت ہے اور دوسری کتا کتابیں سمجھتے ہیں۔ میں اس جستجو میں بھی ہ کے وید اور ان کے دین پر سخت سے سخت اعتر جب تک اپنی کتاب کو ناچیز اور باطل اور غل خوبیاں اور دلائل حقانیت قرآن مجید کے ان نہیں آتے اور یہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے
سن لی آپ نے سلطان القلم کی وٹ وٹ‘‘ (یہ مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے کہ اس سے ’’بقلم خود مستفید‘‘ ہو کر الہامی ت
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سامنے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی اور موجب ازدیاد تقویت و توسیع حمایت دینی و دنیوی تہ دل سے حامی لاریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا
جن آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع
خوب سوچ سمجھ کر پڑھئے اور دیکھئے کہ کس لجاجت سے دوسروں کے نتائج کو جمع فرمایا جا رہا ہے اور کس انوکھے میں پولے منہ سے نتائج طبع مرحمت ہیں۔
کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک پہنچا۔ اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا فرقان مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علی کے فوائد جرائد بھی اس میں درج خاص امر میں آپ توقف نہ فرمائیں فرمائیں۔“
اس الہامی زبان پر یہ حاشیہ تحریر لہٰذا یہ جملہ یوں ہونا چاہئے ۔ آپ اچھا صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ
ملاحظہ کر لیا آپ نے؟ کہ قادیانی بھان متی نے کس طرح اپنی تصانیف کا کنبہ جوڑا ہے ۔ یہ عنایت بزرگانہ کے طالب آپ جانتے بھی ہیں کون بزرگ ہیں؟ اور یہ مولوی چراغ علی کے فوائد جرائد سے اپنے مختصر الہامی کلام کو زیب و زینت بخشنے والے کو آپ پہچانتے بھی ہیں؟ یہ وہی ہیں جن کو ”وما ینطق عن الھویٰ“ کے الہام ہوا کرتے تھے اور جو بغیر خدا کے بلوائے بولنا جرم سمجھتے تھے۔ مگر اندرون خانہ مضمون جمع کرنے کی خاطر کیا کیا لجاجتیں ہو رہی ہیں۔ الہامی کلام کو محقر گردانا جا رہا ہے اور انسانی کلام مانگ مانگ کر دس جلدوں کی تصنیف کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔
پھر کیا ہوا؟ وہ مولوی محمد یحییٰ کی زبانی سنئے ۔ اس کے بعد پنجاب میں آریوں کے شور و شغب اور عداوتِ اسلام کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے:
”دوسری گذارش یہ ہے کہ اگرچہ میں نے ایک جگہ سے وید کا انگریزی ترجمہ بھی طلب کیا ہے اور امید کہ عنقریب آجائے گا اور پنڈت دیانند کا وید بھاش کی کئی جلدیں بھی میرے پاس ہیں اور ان کا ستیارتھ پرکاش بھی موجود ہے۔ لیکن تاہم آپ کو بھی تکلیف دیتا ہوں کہ آپ کو جو اپنی ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم ہوئے ہوں یا جو وید پر اعتراض ہوتے ہوں ان اعتراضوں کو ضرور ہمراہ مضمون اپنے کے بھیج دیں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ کتب مسلمہ آریہ سماج کی صرف وید اور منوسمرت ہے اور دوسری کتابوں کو مستند نہیں سمجھتے ۔ بلکہ پرانوں وغیرہ کو محض جھوٹی کتابیں سمجھتے ہیں۔ میں اس جستجو میں بھی ہوں کہ علاوہ اثبات نبوت حضرت پیغمبرﷺ کے، ہنود کے وید اور ان کے دین پر سخت سے سخت اعتراض کئے جائیں۔ کیونکہ اکثر جاہل ایسے بھی ہیں کہ جب تک اپنی کتاب کا ناچیز اور باطل اور خلاف حق ہونا ان کے ذہن نشین نہ ہو تب تک گو کیسی ہی خوبیاں اور دلائل حقانیت قرآن مجید کے ان پر ثابت کئے جائیں اپنے دین کی طرفداری سے باز نہیں آتے اور یہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم اسی میں گزارہ کر لیں گے۔ سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔“
سن لی آپ نے سلطان القلم کی دوسری گذارش بھی؟ انگریزی جانتے تو ”آئی ایم وٹ وٹ“ (یہ مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے) تک ہیں۔ مگر وید کا انگریزی ترجمہ منگایا جا رہا ہے تا کہ اس سے ”بقلم خود مستفید“ ہو کر الہامی تصانیف کا پیٹ بھرا جائے اور اگر چہ حضرت خود بھی
٧
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا
اپنے کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک مانتے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
بہت کچھ کر رہے ہیں۔ لیکن تاہم (یہ الہامی زبان ہے) مولوی چراغ علی صاحب کو بھی تکلیف دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات بھی بھیجیں اور اعتراضات لکھیں۔ تاکہ ان تحقیقات واعتراضات کے ساتھ آپ اپنا عارفانہ بے نقط کلام فصاحت التیام شامل کر کے سرمہ چشم آریہ تیار کرسکیں۔ آہ ری بناوٹی نبوت تیری بے چارگی؟ اور آہ ثم آہ! ماننے والوں کی بے بصری و کم مائیگی پر کہ ایسے ایسے بقلم خود مضمون نویسوں کو بھی ملہم من اللہ، مجدد اور سلطان القلم سمجھتے اور مانتے ہیں۔ تنہا صاحب سے کچھ اور بھی سن لیجئے۔
”ایک اور خط مورخہ ١٩؍فروری ١٨٧٩ء میں تحریر فرماتے ہیں۔ فرقان مجید کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے۔ نہ موجب ناگواری میں نے بھی اس بارہ میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا۔ آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القاء ہوں میرے پاس بھیج دیں۔ تاکہ اسی رسالہ میں حسب موقعہ اندراج پا جائے۔ بہرصورت میں اس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی۔ آپ بمقتضا اس کے کہ ”الکریم اذا وعد وفیٰ“ مضمون تحریر فرمائیں۔ لیکن یہ کوشش کریں کہ ”کیف ما اتفق“ مجھ کو اس سے اطلاع ہوجائے۔“
براہین کے مضامین ڈکار لینے کے بعد اب ”ھل من مزید“ کا نعرہ لگایا ہے اور جب صداقت قرآن کے مضامین کے متعلق ملنے کی امید بندھ جاتی ہے تو آپ بھی چھوٹا سا رسالہ ”تالیف کرنا“ شروع کر دیتے ہیں تاکہ اس میں دوسروں کے ”القاء“ درج کر کے انہیں اپنا ”القاء“ ظاہر کیا جاسکے۔ ورنہ اگر ادھر تصنیف و تالیف شروع نہ ہو تو دوسروں کے مضامین حسب موقعہ کیسے اندراج پا جائیں گے اور اس دن سے بڑھ کر اور کون سا خوشی کا دن ہو سکتا ہے جب دوسروں کی کمائی ہتھیانے کا موقعہ میسر آ رہا ہو۔ پھر یہ اطلاع بھی ضروری ہے کہ مضمون لکھا جا رہا ہے۔ بھیجا جا رہا ہے یا نہ؟ تا کہ ”کیف ما اتفق“ جب اطلاع مل جائے گی تو وقت پر اشتہار بازی کی جاسکے گی۔ اب پنجابیوں کی کور ذوقی ملاحظہ فرمائیے کہ جو شخص ١٩؍فروری ١٨٧٩ء سے مضمون مانگ مانگ کر پچاس الماریاں بھر رہا ہے۔ ١٩؍فروری ١٨٩٩ء میں بھی نبی تو نبی مجدد ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ انہیں پتہ ہے کہ ہر صدی کے سرے پر نبی نہ سہی ایک مجدد تو آیا
٨
کرتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ بیس سال تک ماننے مانا جاتا۔ مگر خیر علیٰ سبیل التنزل یہ کور ذوق ل مضمون مانگنے کی قدر بھی ہو تو اور ماننے والے ما لوگ شریف انسان ماننے کے لئے بھی تیار نہیں آخری بات بھی سن لیجئے۔ شاید کام آجائے۔
”اس کے بعد ایک دوسرے خط م براہین احمدیہ ڈیڑھ سو جزو ہے۔ جس کی لاگت ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہوجائے گی۔“
نو سو چوہے کھا کر بھی بلی تو حج کو چلی سے کچھ زائد بھی ڈکار گئے اور پھر بھی حج پر نہ جا سلطان القلمی کی مرزائیوں میں دھوم ہے اور یہ سب سے آخر میں مصنف سیرا لیجئے۔ ص ١٢٢ پر فرماتے ہیں۔ ”خطوط مندرجہ ہے کہ مولوی صاحب نے (یعنی مولوی چراغ تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی اور یہ و حفاظت اسلام کا کس قدر خیال تھا۔ یعنی خود تو میں مدد دینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔“
اب فرمائیے مرزائیوں کا مجدد یا مسیح متاع محقر کو دوسروں کے فرسودہ جرائد سے زیب و مولوی کو جو حمایت وحفاظت اسلام میں اس قدر دوسروں سے بھی لکھواتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو خود کر کے خوش ہوں اور شاید اسی طرح کی تشویق و تر مرزائی دوستوں سے میری یہ درخواس بات پر غور فرمائیں کہ جس شخص کی علمی بضاعت
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
ایسے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ محترم کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک سے، مخلص پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
نا چراغ علی صاحب کو بھی تکلیف دی تا کہ ان تحقیقات و اعتراضات کے سرمہ چشم آریہ تیار کرسکیں۔ آہ ری دعویٰ و کم مائیگی پر کہ ایسے ایسے بقلم اور مانتے ہیں۔ تنہا صاحب سے کچھ
فرماتے ہیں۔ فرقان مجید کے الہامی نا ہے۔ نہ موجب ناگواری میں نے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ میں حسب موقعہ اندراج پا جائے۔ آپ کے مضمون پر پڑے گی۔ آپ سکیں۔ لیکن یہ کوشش کریں کہ ”کیف
مزید“ کا نعرہ لگایا ہے اور جب آتی ہے تو آپ بھی چھوٹا سا رسالہ کے ”القاء“ درج کر کے انہیں اپنا تو ہو تو دوسروں کے مضامین حسب ان سا خوشی کا دن ہو سکتا ہے جب بھی ضروری ہے کہ مضمون لکھا جا رہا طلاع مل جائے گی تو وقت پر اشتہار نہ جو شخص ١٩؍ فروری ١٨٧٩ء سے ١٨٩ء میں بھی نبی تو نبی مجدد ماننے مرے پر نبی نہ سہی ایک مجدد تو آیا
کرتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ بیس سال تک مانگے کے مضامین سے کتابیں تالیف کرنے والے کو نبی مانا جاتا۔ مگر خیر اعلےٰ سبیل التنزل یہ کور ذوق اسے مجدد تو مان لیتے۔ مگر ان لوگوں کو بیس سال تک مضمون مانگنے کی قدر بھی ہو تو اور اسے وائے ناقدری کہ آج ١٩؍ فروری ١٩٥٠ء کو اسے مجدد تو کجا یہ لوگ شریف انسان ماننے کے لئے بھی تیار نہیں اور الٹا ”مضمون چور“ بتلاتے ہیں۔ تنہا صاحب کی آخری بات بھی سن لیجئے۔ شاید کام آجائے۔
”اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ ١٠؍ مئی ١٨٧٩ء میں تحریر فرماتے ہیں۔ کتاب براہین احمدیہ ڈیڑھ سو جزو ہے۔ جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے اور آپ کی تحریر محققانہ ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی۔“
نو سو چوہے کھا کر بھی بلی تو حج کو چلی گئی تھی۔ مگر آپ نے نو سو چالیس کی تعداد بلکہ اس سے کچھ زائد بھی ڈکار گئے اور پھر بھی حج پر نہ جا سکے۔ یہ ہیں ہمارے مرزا غلام احمد قادیانی جن کی سلطان القلمی کی مرزائیوں میں دھوم ہے اور یہ ہے ان کی تصانیف کا تانا بانا۔
سب سے آخر میں مصنف سیر المصنفین نے ان خطوط سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ بھی سن لیجئے۔ ص ١٢٢ پر فرماتے ہیں۔ ”خطوط مندرجہ بالا کے اقتباسات سے یہ امر بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے (یعنی مولوی چراغ علی نے) مرزا قادیانی کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو حمایت و حفاظت اسلام کا کس قدر خیال تھا۔ یعنی خود تو وہ یہ کام کرتے ہی تھے۔ مگر دوسروں کو بھی اس میں مدد دینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔“
اب فرمائیے مرزائیوں کا مجدد یا مسیح موعود یا نبی اس مضمون چور کو ہونا چاہئے جو اپنی متاع محقر کو دوسروں کے فوائد جرائد سے زیب وزینت دیتا رہا ہو یا اس وسیع النظر اور وسیع القلب مولوی کو جو حمایت و حفاظت اسلام میں اس قدر انہماک و صمیمت رکھتا ہے کہ خود بھی لکھتا ہے۔ دوسروں سے بھی لکھواتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو خود لکھ لکھ کے دیتا ہے تاکہ وہ اپنے نام سے اسے شائع کر کے خوش ہوں اور شاید اسی طرح کی تشویق و ترغیب سے وہ حمایت اسلام پر آمادہ ہو جائیں۔
مرزائی دوستوں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ تعصب و تنگ نظری سے بالا ہو کر اس بات پر غور فرمائیں کہ جس شخص کی علمی بضاعت و دیانت یہ ہو۔ وہ مجدد و مسیح تو بجائے خود ماند کیا
٩
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا يٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تَرْفَعُوْا
کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہیں ادب وشائستگی کے ساتھ ، دیکھو ایک سے، مخلص پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
چھوٹے درجے کا صحیح الدماغ مصنف و مؤلف ثابت ہو سکتا ہے؟ اگر آپ کو مجدد و مسیح بنائے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا تو پھر مولوی چراغ علی صاحب حاضر ہیں۔ جو کچھ بھی بنانا یا ماننا ہو انہیں بنائیے اور مانئے۔ کیونکہ وہ بہر صورت مرزا قادیانی سے زیادہ بڑے عالم زیادہ دیانت دار اور زیادہ باوقار تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس گمراہی سے نکالے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز! ”اللهم أهد قومي فانهم لا يعلمون“ ملتان ١٩؍ فروری ١٩٥٠ء ابوالفضل جبروتی
توبہ
کوئے دجال سے محامد کی بھر کے لائے وہ بوریاں ١؎ توبہ
گائے تمغوں کے گیت گھر گھر میں دیں وہ بچوں کو لوریاں توبہ
خانہ ٢؎ پاک میں لگا کر آگ جھانکتے ہیں وہ موریاں توبہ
قصر تاویل مرزائی میں ہیں پچاسوں سٹوریاں توبہ
اب تو بے نمکیوں کا رونا ہے کل تھیں وہ شورا شوریاں توبہ
جزو ٣؎ اعظم افیم ڈلوا کر ان کی معجون خوریاں توبہ
حق سے یہ چشم پوشیاں ہے ہے حق سے یہ چشم کوریاں توبہ
ابوالفضل جبروتی!
١؎ مرزا محمود نے اپنی ایک تقریر میں انگریزوں (جنہیں وہ مسیح بننے کی خاطر دجال کہتے ہیں) کی طرف سے تعریفی خطوط کی کئی بوریاں اور ان کی طرف سے ملے ہوئے تمغوں کے ٹوکروں کا فخریہ ذکر کیا تھا۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے۔
٢؎ خانہ پاک سے مراد پاکستان ہے اور آگ لگانے سے مراد مرزا محمود کا وہ خواب جس میں وہ پاکستان کو عارضی اور اکھنڈ ہندوستان کو اپنا مطمح نظر مانتے ہیں۔ موریاں جھانکنے سے مراد تاویلیں کرنا ہے۔
٣؎ مرزا قادیانی کو الہامی طور پر ایک معجون بتلائی گئی تھی جس کا جزو اعظم افیون تھا۔
١٠
قادیانیت
اس کے
حضرت مولانا
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا عَلِيمٌ يٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کو مجدد ومسیح بنائے بغیر رہیں۔ جو کچھ بھی بنانا یا ماننا ہو انہیں بنائیے بڑے عالم زیادہ دیانت دار اور زیادہ باوقار عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيزٍ! لا يعلمون“ ملتان ١٩/ فروری ١٩٥٠ء ابوالفضل جبروتی
کے لائے وہ بوریاں ؎ تو بہ
وہ بچوں کو لوریاں تو بہ
کہتے ہیں وہ موریاں تو بہ
پچاسوں سٹوریاں تو بہ
تھیں وہ شورا شوریاں تو بہ
کی معجون خوریاں تو بہ
سے یہ چشم کوریاں تو بہ
ابوالفضل جبروتی!
جنہیں وہ مسیح بننے کی خاطر دجال کہتے کی طرف سے ملے ہوئے تحفوں کے
سے مراد مرزا محمود کا وہ خواب جس بناتے ہیں۔ موریاں جھانکنے سے مراد
گئی تھی جس کا جزو اعظم افیون تھا۔
آپ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ملازم، مخلص پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
اِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
خاتم النبیین
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیت
اور
اس کے مقتداء
حضرت مولانا نور الحق علویؒ
صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم
لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا
...کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ ...احترام کے لہجے میں ادب وشائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ...سامنے ، مجلس پیرومرشد سے اور سپاہی اپنے افسر
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد لله ذى الجلال وولى النعمة والصلوٰة والسلام على خاتم الرسل ونبى الرحمة وعلىٰ آله وصحبه دعاة الحق وهداة الامة ، اما بعد!
اہل علم کو معلوم ہے کہ مجلس مستشار العلماء پنجاب کا قیام نہایت اہم حالات کے تحت پیش آیا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مجلس کے شائع کردہ اغراض و مقاصد نہایت ہی مہتم بالشان اور وسیع وعالمگیر ہیں۔ مجلس اپنے فاضل کارکنوں کی ہمت اور خلوص سے روزانہ بیش قدمی میں مصروف ہے۔ چنانچہ مجلس کے عالیشان مقاصد میں سے دارالافتاء اور دار التدریس کا سلسلہ عرصہ سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔
حال میں مجلس نے بڑے غور وخوض کے بعد ضروری سمجھا کہ توکلا علی اللہ دارالتبلیغ والمناظرہ کا افتتاح بھی عمل میں لایا جائے۔ چنانچہ اس کے مختلف شعبوں میں سے شعبہ ختم نبوت وابطال مرزائیت کو ضرورت وقت کے پیش نظر ترجیح دی گئی۔
فتنہ قادیانیت کے متعدی جراثیم اور اس کے زہریلے اثرات سے اہل اسلام کے ایمان کو محفوظ و مصئون رکھنے کے لئے اس وقت تک علمائے کرام نے بہت کچھ مواد شائع کر کے امت مرحومہ کی پوری دستگیری کی ہے۔ ”شکر اللہ مساعیھم“ لیکن اس سلسلہ میں بعض اہم اور اصولی مباحث ابھی تک پردۂ اخفا میں مستور تھے۔ خدا تعالیٰ نے اس خدمت کی توفیق مجلس مستشار العلماء کے ناظم محترم مولانا محمد نور الحق علوی ہاشمی کو بخشی اور انہوں نے روزنامہ آزاد لاہور کے مدیران فاضل کی استدعا پر ایک معرکۃ الآراء فاضلانہ مضمون قلم بند کیا۔ جس کی ایک قسط روزنامہ مذکور کے نمبر اوّل میں شائع ہو چکی ہے۔ مضمون اپنی بے نظیر خوبیوں کے لحاظ سے نہایت مفید، دل چسپ اور کئی جدتوں کا حامل ہے۔ بنابریں مجلس مستشار العلماء نے مضمون کی عام اشاعت کو ضروری خیال کرتے ہوئے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ مولانا موصوف کا یہ مضمون ٹریکٹ کی صورت میں شائع کر کے مفت تقسیم کیا جائے۔ تاکہ طالبان حق معلوم کر سکیں کہ قادیانی نبوت اور اس کے شرائع واحکام کی کڑیاں کہاں کہاں جا کر ملتی ہیں۔ چنانچہ اسی فیصلہ کے تحت یہ ٹریکٹ ناظرین کی خدمت میں ہدیۃً پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین سے توقع ہے کہ وہ خود اس کو غور سے مطالعہ فرمائیں گے اور دوسرے احباب کو بھی اس کی تبلیغ کر کے ثواب دارین حاصل کریں گے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا ہے:”بَلِّغُوا عَنِّی وَلَوْ آيَةً“
٢
ناظرین! منتظر رہیں کہ اسی سلسلہ میں... پہنچنے کا شرف حاصل کرے گا اور انشاء اللہ یہ سلسلہ... بسم اللہ الرح... الحمد لله وسلام علیٰ...
قادیانی تحریک اور اس کے مقتداء...
ولا سراة اذا...
قادیان کی خانہ ساز ، نصرانیت میں... واحکام درحقیقت ایک ہوش ربا معجون ہے۔ جو... معجون کے اجزاء کی تحلیل وتجزیہ کے لئے کم از کم د... کی تمامتر اختراعی اور ہذیان آمیز تاریخ کا بغور م... مذکور کے اہم اجزاء میں:
- الف ...... اگر کہیں مسیلمہ، اسود عنسی...
رافضی، مغیرہ بن سعید عجلی رافضی، یزید بن ابی الح... متنبی اور ان کے کفریہ دعاوی کے مظہر خلاصے نظر آ...
- ب ...... دوسرے مواقع پر آپ ک...
تعلی آمیز دعوے اور لن ترانیاں بھی دیکھیں گے۔
- ج ...... پھر دوسرے مواقع پر آ...
اپنے مخالفین پر علی الخصوص صحابہ کرام اور ان کی... ملاحظہ کریں گے۔ غرض کوئی ایسا کذب وافتراء ... گزر کر اس ’کُلّ الکل‘ خانہ زاد نبوت میں مجتم...
بحث کی سہولت کے لئے ہم نے قا... ارتقاء کے پیش نظر مرزا قادیانی نے ہر حصہ میں ... نہیں کیا۔ حصے حسب ذیل ہیں۔
ناظرین! منتظر رہیں کہ اسی سلسلہ میں ٹریکٹ نمبر دوم بھی بہت جلد ان کی خدمت میں پہنچنے کا شرف حاصل کرے گا اور انشاء اللہ یہ سلسلہ برابر جاری رہے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ!
قادیانی تحریک اور اس کے مقتداء
ولا سراۃ اذا جہالہم سادوا
قادیان کی خانہ ساز، نصرانیت میں سموئی ہوئی نبوت اور اس کے خودساختہ الہامات واحکام درحقیقت ایک ہوش ربا معجون ہے۔ جو مختلف الاجناس اجزاء لا یتجزأیٰ سے مرکب ہے۔ اس معجون کے اجزاء کی تحلیل وتجزیہ کے لئے کم از کم دور اسلام کے ژولیدہ دماغ، ہرزہ بان یاوہ گو اشخاص کی تمام تر اختراعی اور ہذیان آمیز تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد آپ کو معجون مذکور کے اہم اجزاء میں:
- الف ...... اگر کہیں مسیلمہ، اسود عنسی، مختار بن ابی عبید ثقفی کذاب، بیان بن سمعان،
رافضی، مغیرہ بن سعید بجلی رافضی، یزید بن ابی انیسہ خارجی، بابک خرمی محمد علی باب، بہاء اللہ جیسے متنبّی اور ان کے کفریہ دعاوی کے مقطر خلاصے نظر آئیں گے تو
- ب ...... دوسرے مواقع پر آپ سلیمان بن حسن باطنی، مقنع، عور طولی مروزی کے
تعلی آمیز دعوے اور لن ترانیاں بھی دیکھیں گے۔
- ج ...... پھر دوسرے مواقع پر آپ ابن رواندی ملحد، اور نظام اور خیاط معتزلی کے
اپنے مخالفین پر علی الخصوص صحابہ کرام اور ان کی صحیح روایات وفتاویٰ واجماع پر جگر دوز چرکے بھی ملاحظہ کریں گے۔ غرض کوئی ایسا کذب وافتراء کوئی ایسی گالی اور پھبتی نہیں جو انفرادی حالت سے گزر کر اس ”کل الکل“ خانہ زاد نبوت میں مجتمع نہ ہو۔
بحث کی سہولت کے لئے ہم نے قادیانی تحریک کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اصول ارتقاء کے پیش نظر مرزا قادیانی نے ہر حصہ میں شان تاسیس پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ حصص حسب ذیل ہیں۔
٣
- ١...... ختم المرسلینﷺ کی نبوت کی طرح عام تام نبوت کا اعلان۔
- ٢...... اپنی نبوت منوانے کی خاطر اور پھر تسلیم کرا لینے کے بعد بے انتہاء شیخیاں
اور تعلیاں۔
- ٣...... اپنی نبوت کے مخالفین اور منکرین پر سب وشتم کی بوچھاڑ، تاکہ شرفاء عزت
کے خیال سے دبک جائیں اور معاملہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔ ظاہر ہے کہ اس مثلث آتشیں کی تکمیل سے اسلام و امت مسلمہ کے خلاف ایک مستقل مگر متضاد مرکز قائم ہو جائے گا۔
- ٤...... اس کے بعد یہ مرتبہ آتا ہے کہ اسلام کی سیزدہ صد سالہ روایات پر پانی
پھیر دیا جائے۔ یعنی اس کے تمام تر لٹریچر کو لغو اور فضول قرار دیا جائے۔ تاکہ مرزائی لٹریچر کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔ اس تمام تر بداندیشی کے لئے ضروری تھا کہ سب سے پہلے اصولی طور پر احادیث صحیحہ اور ان کے رواۃ علی الخصوص صحابہ کرامؓ پر بے اعتمادی کا کھلے لفظوں میں اظہار کیا جائے۔ اس ترجیح کے بعد مرزا قادیانی اور ان کے ظاہری اور خفیہ معتقد سمجھتے ہیں کہ کامیابی یقینی ہے اور قادیانی نبوت کا مہتاب خسوف سے محفوظ و مامون رہے گا۔ آئندہ ہماری خامہ فرسائی کا لب لباب ان حصص پر حسب اقتضائے وقت بحث کرنا اور ان میں مرزا قادیانی کی شان تاسیس دکھانا ہے۔ قال حسان بن ثابتؓ
وبحری لا تکدرہ الدلا
حصہ اول
دعویٰ نبوت اور شان تاسیس
نصاریٰ ملاعنہ کی قدیم و جدید خدمات کے حوصلے پر مرزا قادیانی نے اپنی خانہ زاد نبوت میں ایسی شان تاسیس پیدا کی کہ عالم اسلام کے تمام تر کذابوں کو مات کر دیا۔ گذشتہ کذاب اپنی کامیابی اسی میں سمجھتے تھے کہ چند خواجہ تاش ان کے دعویٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور بس۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حکومت اسلامی کے قیام کی صورت میں نبوت کا دعویٰ موت کا پیام ہے۔ بنا بریں عیش، کامرانی، زعامت وقیادت کی جتنی گھڑیاں میسر ہوں۔ اتنی غنیمت ہیں۔
٤
مگر مرزا قادیانی دیکھ رہے تھے کہ غلام آباد ہند میں حکومت نصاریٰ قائم ہے۔ افتراق امت مسلمہ اس کا غیر معمولی مشغلہ ہے۔ اس لئے آپ نے دعویٰ نبوت کیا تو اس شان سے کیا۔ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ میرا منکر کافر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
”میرے منکروں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔“
(فتاویٰ احمدیہ ص ١٨)
”الہامات میں میری نسبت بارہا بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ،خدا کا مامور، خدا کا امین، خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ، اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ص ٦٢)
”کفر دو قسم ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا اور دوسرے یہ کفر کہ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
شان تاسیس کی انتہاء
حقیقت الوحی کی مذکورہ بالا عبارت میں مرزا قادیانی ”مسیح موعود“ کے منکرین یعنی اپنے منکر کو صریح کافر کہہ چکے ہیں۔ اب اپنی شان مامور من اللہی کو واشگاف کرتے ہیں اور اپنی خانہ ساز نبوت کی نوعیت بھی کھلے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ آنے والی نسلوں کو ان کے متعلق فیصلہ کرنے میں سہولت ہو۔ لکھتے ہیں: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
اس عبارت کا مطلب کھلے الفاظ میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو مؤسس نبی مانتے ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت حقہ اسلامیہ کے علاوہ مستقل شریعت اور احکام
٥
جدیدہ لائے ہیں۔ اس نکتہ کے شائع ہونے پر یزید بن ابی انیسہ خارجی کی روح وجد میں آگئی ہوگی کہ اس کی پرانی تمنا اور قدیم پیشین گوئی ایک مغل زادے نے پوری کر دی۔
امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی تمیمی متوفی ٤٢٩ھ فرماتے ہیں۔ ”ثم انه خرج عن قول جميع الامة لدعواه ان الله عزوجل سيبعث رسولاً من العجم وينزل عليه كتابا من السماء وينسخ بشرعه شريعة محمد ﷺ وزعم ان اتباع ذلك النبى المنتظر هو الصائبون المذكورون فى القرآن “ ﴿ یزید بن ابی انیسہ خارجی
(كتاب الفرق ص ٢٦٣، کتاب اصول الدین ص١٦٢)
نے اجماع امت اسلامیہ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ آئندہ ایک پیغمبر عجم میں سے بھی مبعوث فرمائے گا۔ اس کو کتاب اور شریعت جدیدہ عطاء ہوگی۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی شریعت (کلاً یا بعضاً) منسوخ کر دی جائے گی۔ اس کے متبعین صابی ہوں گے۔ جن کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے۔ ﴾
بغدادی کی تصریح سے یہ راز سر بستہ بھی کھلا کہ جناب مسیح موعود عجمی کے مریدین در حقیقت صابی ہیں۔ جن کا ذکر ان کے زعم میں قرآن میں موجود اور ان کے احکام فقہ اسلامی میں مذکور ہیں۔
بغدادی یزید مذکور کی تردید میں لکھتے ہیں۔ ”كل من اقر بنبوة نبينا محمد ﷺ اقر بانه خاتم الانبياء والرسل واقر بتأبيد شريعته ومنع من نسخها وقال ان عيسى عليه السلام اذا انزل من السماء ينزل بنصرة شريعة الاسلام ويحيى ما احياه القرآن ويميت ما اماته القرآن والقرآن نص على انه ﷺ خاتم النبيين وقد تواترت الاخبار عنه بقوله لا نبى بعدى ومن رد حجة القرآن والسنة فهو الكافر
(اصول الدین
“ ﴿ سرور عالم کی نبوت پر ایمان لانے کی چند شرائط ہیں۔ جن کے بغیر
للبغدادی ص١٦٣)
ایمان منظور نہیں۔ آپؐ کے خاتم الانبیاء ورسل ہونے کا اقرار، آپؐ کی شریعت کے دوام کا اعتقاد، شریعت اسلامیہ کے عدم نسخ (کلاً یا بعضاً) کا عقیدہ، اور اس بات کا اعتراف کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور شریعت اسلامیہ کی نشرواشاعت کریں گے۔ قرآن مجید کے احکام کو جاری اور خلاف قرآن کو مردود قرار دیں گے۔ قرآن صاف اعلان کر رہا ہے کہ حضور خاتم
٦
انبیین ﷺ ہیں۔ پھر حضور ﷺ سے بہ تواتر مروی ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا (ظلی، بروزی، غیر تشریعی ، تجدیدی) نبی نہیں آسکتا۔ ان حالات میں جو شخص قرآن اور حدیث متواتر کا انکار کرے وہ کفر کا مرتکب ہے۔ (یزید بن ابی انیسہ ہو یا اس کی شہ پر کوئی اور اپنے آپ کو نبی پیش کرے) ﴿
بابک خرمی اور مرزا قادیانی
علی ہذا القیاس مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت سے یزید بن ابی انیسہ کی طرح بابک خرمی کو کچھ کم سرور حاصل نہ ہوا ہو گا۔ بابک فرقہ خرمیہ کا پیشوا ہے۔ اس فرقہ کو اصحاب مقالات اباحیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام ابو منصور بغدادی نے اس فرقہ کو مرتدین میں شمار کیا ہے۔ بابک مقام خرم (قریب اردبیل) کا باشندہ ہے۔ اس نے اپنی دعوت علاقہ آذربیجان میں شروع کی اور خالص عجمی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام محرمات حلال ہیں۔ تمام انسان زن و زر میں مساوی اور شریک ہیں۔ ”وزعم الخرمية ان الرسل تترى لا آخر لهم (الفرق ص٣٣٢، اصول الدين ص١٥٨) “ ﴿ اس کے ساتھ خرمیہ کا عقیدہ ہے کہ نبوت ہمیشہ جاری رہے گی۔ ﴾
خرمیہ اپنی تحریک کا اصل بانی شروین نامی شخص کو قرار دیتے ہیں۔ جو دور جاہلیت میں گزرا ہے۔ اس کی نسبت ان کا عقیدہ حسب ذیل ہے۔
”ويزعمون أن شروين افضل من محمد ومن سائر الانبياء “ ﴿ ان کا عقیدہ ہے کہ شروین تمام انبیاء حتی کہ ختم الرسل سے بھی افضل ہے۔ ﴾
اسی قسم کے خیالات مرزا قادیانی نے بھی ”له خسف القمر المنير “ میں ظاہر کئے ہیں۔ جس کی تفصیل آ رہی ہے۔
خلفائے عباسیہ نے بابک کے مقابلہ کے لئے بہت کوششیں کیں۔ آخر معتصم کے زمانہ میں افشین حاجب، ابو دلف عجلی، جیسے نامور سپہ سالاروں نے بیس سال کی پیہم سعی کے بعد اس کو شکست دی۔ بابک اور اس کا بھائی اسحاق بن ابراہیم گرفتار کر کے خلیفہ معتصم کے سامنے لائے گئے اور ”سر من رائے“ میں سولی پر لٹکا دیئے گئے۔
بغدادی بابک کی تحریک کے متعلق لکھتے ہیں۔
”وذكر اصحاب التواريخ ان دعوة الباطنية ظهرت اولاً فى زمان
٧
المامون وانتشرت فى زمان المعتصم وذكروا انه دخل في دعوتهم افشين صاحب جيش المعتصم وكان مراهناً لبابك الخرمى وكان الخرمى مستعصياً نباحية البدین وكان اهل جبله خرمية على طريقة المزدكية فصارت الخرمية مع الباطنية يدا واحدة واجتمع مع بابك من اهل البدین وممن انضم اليهم من الديلم مقدار ثلث مائة الف رجل واخرج الخليفة لقتالهم الافشين فظنه ناصحا للمسلمين وكان في سره مع بابك وتوانى في القتال معه ودله على عورات عساكر المسلمين وقتل الكثير منهم ثم لحقت الامداد بالافشين ولحق به محمد بن يوسف الثغرى وابودلف العجلي ولحق به بعد ذالك قواد عبدالله بن طاهر واشتدت شوكة البابكية والقرامطة على عسكر المسلمين...... ودامت الحرب بين الفريقين سنين كثيرة الى ان اظفر الله المسلمين بالبابكيه فاسر بابك وصلب بسر من رای ٢٢٣ھ ثم اخذ اخوه اسحاق وصلب ببغداد مع المازيار صاحب المحمرة بطبرستان وجرجان ولما قتل بابك وظهر للخليفه غدر الافشين وخيانته للمسلمين في حروبه مع بابك فامر بقتله وصلبه (الفرق ص٢٦٨)
“مؤرخین کا بیان ہے کہ تحریک باطنیہ ابتداء زمانہ مامون میں شروع ہوئی اور زمانہ معتصم میں پھلی پھولی۔ بقول مؤرخین خلیفہ معتصم کا سپہ سالار افشین حاجب بھی تحریک باطنی کا معتقد تھا اور بابک کے ساتھ اس کے بعض خفیہ معاہدے تھے۔ خرمی نے علاقہ بدین میں بغاوت شروع کی اور بابک کے کوہ (سیام) کے باشندے خرمی مذہب اور مزدک کے متبع تھے۔ پس خرمی اور باطنی باہم متحد ہوکر مسلمانوں کے مقابلہ میں ڈٹ گئے۔ علاقہ بدین اور دیلم سے ملا کر بابک کی جمعیت تقریباً تین لاکھ تھی۔ خلیفہ معتصم نے ان کے مقابلہ کے لئے افشین حاجب کو روانہ کیا۔ مگر وہ دل سے بابک کے ساتھ تھا۔ اس لئے اس نے مقابلہ میں سستی دکھائی۔ بلکہ مسلم فوج کے رخنون پر اس کو مطلع کیا۔ جس سے بابکیوں نے بہت سے مسلمان قتل کر دیئے۔ بعد ازاں افشین کو کمک پہنچی اور محمد بن یوسف ثغری، ابودلف قاسم بن عیسیٰ عجلی جیسے نامور سپہ سالار میدان میں جا پہنچے۔ ادھر عبداللہ بن طاہر (مشہور سپہ سالار) کے فوجی افسر بھی میدان میں آگئے۔ لیکن با ایں ہمہ بابکیہ اور قرامطہ کی جمعیت مسلمانوں کی عسکری طاقت پر غالب رہی۔ یہ جنگ سالہا سال تک جاری رہی۔ تا آنکہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بابکیہ پر فتح
٨
ونصرت عطاء کی۔ بابک ٢٢٣ اس کے بھائی اسحاق کو مازیار میں دار پر لٹکا دیا گیا۔ بابک س ہے۔ اس کی خیانت اور غدر قتل کر کے دار پر کھینچا۔ ﴿
بغدادی خرمیہ پر ب
”وقال اهل کزردشت وبوذ اسف العنسی وسائر من ک نے بالاتفاق ہر ایک متنبى کی مانی، مزدک یا بعد از اسلام ج ہوتے آئے ہیں۔ ﴿
عجمی نبوت اور اس کا فل
دنیاء رقابت کا کھا طرح اس جذبہ کا شکار ہوتا ہ طرح تھی۔ عرب، عجم، عرب رقابت سے صفحات تاریخ مملو صورت اختیار کر لی۔ شعوب (تفصیل کے لئے دیکھو بلو زعامت اور قیادت کی زما فرماتے ہیں۔ زردشت نے پھر دوبارہ ایران کے قبضہ می کے بعد پھر ایران اس پر ق لکھا کہ ظہور زردشت سے فرقہ باطنیہ کا ایک لیڈر ا
ونصرت عطاء کی۔ بابک ٢٢٣ھ میں گرفتار ہو کر ”سرمن رای“ میں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ بعد ازاں اس کے بھائی اسحاق کو مازیار (مقتدائے محمرہ در طبرستان وجرجان) کے ساتھ گرفتار کر کے بغداد میں دار پر لٹکا دیا گیا۔ بابک کے قتل کے بعد خلیفہ معتصم کو معلوم ہوا کہ افشین حاجب بابکی اور غدار ہے۔ اس کی خیانت اور غدر سے جنگ نے طول کھینچا۔ اس پر خلیفہ نے اس جرم میں افشین کو بھی قتل کر کے دار پر کھینچا۔
بغدادی خرمیہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”وقال اهل السنة بتكفير كل متنب سواء كان قبل الاسلام كزردشت ويوذ أسف ومانى ومزدك او بعده كمسيلمة وسجاح والاسود العنسى وسائر من كان بعدهم من المتنبئين (الفرق ص ٣٣٣)“ اہل سنت نے بالاتفاق ہر ایک متنبی کی تکفیر کی خواہ اسلام سے پیشتر گذرا ہو جیسے زردشت، یوذ آسف، مانی، مزدک یا بعد از اسلام ہو جیسے مسیلمہ کذاب، سجاح، اسود عنسی اور تمام وہ متنبی جو آج تک ہوتے آئے ہیں۔
عجمی نبوت اور اس کا فلسفہ
دنیا رقابت کا گہوارہ ہے۔ اجناس وانواع، اصناف وافراد میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طرح اس جذبہ کا شکار ہوتا ہے۔ بعثت ختم المرسلینﷺ کے وقت بخیال عرب عالم کی تقسیم اس طرح تھی۔ عرب، عجم، عرب پھر دو بڑے حصوں میں تقسیم تھا۔ ربیعہ ومضر ہر سہ حصص کی باہمی رقابت سے صفحات تاریخ مملو ہیں۔ حضورﷺ کی بعثت کے بعد عجم کی دیرینہ رقابت نے شعوبیہ کی صورت اختیار کر لی۔ شعوبیہ وہ جماعت ہے جو عجم کو عرب پر ہر حیثیت سے ترجیح دیتی ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھو بلوغ الارب للالوسی ج١ ص١٥٩) شعوبیہ دل سے چاہتے ہیں۔ کہ زعامت اور قیادت کی زمام عرب کے ہاتھ سے نکل کر پھر عجم کے ہاتھ میں آجائے۔ بغدادی فرماتے ہیں۔ زردشت نے گشاسب سے کہا کہ حکومت ایران سے ہٹ کر روم و یونان کو ملے گی۔ پھر دوبارہ ایران کے قبضہ میں آئے گی۔ بعد ازاں ایران سے عرب کے قبضہ میں جائے گی۔ اس کے بعد پھر ایران اس پر قبضہ کرلے گا۔ زردشت کی اس پیشین گوئی پر جاماسب منجم نے صاد کیا اور لکھا کہ ظہور زردشت سے ایک ہزار پانچ سو سال بعد سلطنت پھر ایران میں منتقل ہو جائے گی۔ فرقہ باطنیہ کا ایک لیڈر ابو عبداللہ عروی علم نجوم کا ماہر اور مجوسیت کا حامی گزرا ہے۔ اس نے اس
٩
مسئلہ پر مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت سے (١٨) صدی بعد ایک زعیم پیدا ہوگا۔ جو مجوسی حکومت کو از سر نو قائم کر کے تمام روئے عالم پر مستحکم مجوسی سلطنت کرے گا۔
(الفرق ص ٢٧١)
اسی قسم کی خرافات متناقضہ سے متاثر ہو کر اور اسی خبیث جذبہ کے ماتحت یزید بن ابی انیسہ خارجی عجمی (ساکن مرو) نے خالص عجمی نبوت کا پادر ہوا خیال گھڑا۔ جو نصوص قطعیہ کے سراسر خلاف، اور کفر و مجوسیت ہے۔ نیز یہی رقابت کا جذبہ ہے۔ جس کے تحت میں خوارج نے اپنے لیڈروں کو جو ربیعہ وغیرہ اقوام سے تعلق رکھتے تھے۔ امام وقت قرار دے کر ان کے مخالفین کی تکفیر کی۔ بغدادی لکھتے ہیں۔ ”خلاف قول الخوارج بامامة زعمائهم الذين كانوا من ربيعة وغيرهم كنافع بن الازرق الحنفى ونجدة بن عامر الحنفى وعبدالله بن وهب الراسبى وامثالهم عناداً منهم لقول النبى ﷺ الائمة من القريش (الفرق ص ٣٤٠، ٣٤١) ٭ خوارج نے حضور ﷺ کے ارشاد الائمۃ من قریش کا عناداً خلاف کرتے ہوئے اپنے خود ساختہ لیڈروں کو امام وقت قرار دیا۔ (ان کے تمام مخالفین کو جہنمی اور کافر قرار دیا) جو اکثر ربیعہ سے تھے۔ جیسے نافع بن ارزق، نجدہ بن عامر (از قوم حنفیہ) عبداللہ بن وہب راسبی وغیرہ۔ ٭ مرزا قادیانی چشم براہ تھے۔ آپ نے اس خیال کو لبیک کہا اور خود بدولت نے بے دھڑک اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔
رقابت عجم کے ہولناک نتائج
عجم گو عرب کے سیلاب سے بہہ نکلا۔ عرب نے ان کی سلطنتوں کو تہ و بالا کر کے عربی حکومت کی بنیادیں استوار کیں۔ پھر عجم مشرف باسلام بھی ہوئے۔ یہ سب کچھ ہوا۔ مگر آتش رقابت کا جذبہ بحالہا قائم رہا۔ عجم خواہ ایرانی تھے یا بربر۔ ہندی و ترک تھے یا خزر۔ ان تمام کے قلوب جوش رقابت سے کبھی خالی نہیں ہوئے۔ تاریخ اسلام کا ماہر اس اہم نکتے کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ حضرت شیخ مہاجر الحاج مولانا محمد عبیداللہ عفی عنہم اپنی کتاب ”التمجید فی ائمۃ التجدید“ میں لکھتے ہیں۔ ”رقابت مذکور نے نہ صرف سیاسی، اقتصادی، معاشرتی میدانوں میں تصادم پیدا کیا۔ بلکہ بعض خالص مذہبی، معرکۃ الاراء مسائل بھی اسی کے طفیل پیدا ہوئے۔ خلق قرآن کا مسئلہ بھی عجمی رقابت کی خبیث اختراع ہے۔“ ١٠
”عجم نے جب دیکھا کہ عرب کو قرآن حکیم کے اعجاز پر بڑا ناز ہے تو نظام معتزلی نے (جو دراصل ابن عطاء معتزلی کے بعد دوم نمبر کا لیڈر شمار ہوتا ہے) بے لگی لپٹی صاف لفظوں میں کہا
(الفرق ص ١٢٨، اصول الدین ص ١٠٨)
کہ ”نظم قرآن معجز نہیں۔“
”علیٰ ہذا القیاس راہب معتزلہ ابو موسیٰ عیسیٰ بن صبیح المعروف بہ مردار معتزلی نے
(الفرق ص ١٥١)
صاف لفظوں میں کہا کہ قرآن معجز نہیں بلکہ انسان اس سے بہتر لکھ سکتا ہے۔“
”اسی طرح اکثر معتزلہ اسی کے قائل ہیں کہ قرآن حکیم کی نظم معجز نہیں۔ بلکہ عرب کے
(الفرق ص ٢١٨، ٢٣٥)
علاوہ ترک، زنگی، خزر اس سے بہتر تالیف پیش کر سکتے ہیں۔“
لیکن ان شوریدہ سر جاہلوں کے علاوہ دوسرے بعض عجمیوں نے مصلحت وقت کا لحاظ کرتے ہوئے توڑ مروڑ کر یوں کہا۔ ”القرآن کلام اللہ مخلوق“ یعنی قرآن خود ساختہ ہے۔ اسی بناء پر ناصر سنت، مجدد دین حنیف امام احمد بن حنبلؒ نے نہایت سختی اور پامردی سے اس فتنہ ہائلہ کا مقابلہ کیا اور اس کو بیخ و بن سے اکھیڑ پھینکا۔ ائمہ حدیث وفقہ کی بکثرت تصریحات موجود ہیں کہ امام احمدؒ اگر اس وقت سینہ سپر نہ ہوتے تو اسلام صفحہ عالم سے مٹ جاتا۔ (دیکھو تاریخ خطیب بغدادی، مناقب امام احمد از ابن جوزی) امام ابو منصور عبد القاہر بغدادی نے اس تمام تر تفصیل کو ایک جامع و مانع جملہ میں یوں ادا کیا ہے۔ ”وما ظهرت البدع والضلالات فی الادیان الا من ابناء السبايا کما روی فی الخبر (الفرق ص ١٠١)“
رہے ربیعہ اور مضر، ختم نبوت کی سعادت جب مضر کے ہاتھ آئی تو ربیعہ بہت چراغ پا ہوئے۔ اسی بناء پر مسیلمہ کذاب نے (جو ربیعہ کا سربرآوردہ لیڈر تھا) حضورﷺ کو لکھا کہ میں نبوت میں آپ کا سہیم اور شریک ہوں۔ پھر بنو حنفیہ (از ربیعہ) نے سرور کونینؐ کے آخری دور حیات میں موقع غنیمت سمجھ کر مسیلمہ کی نبوت کا اعلان کر دیا۔ تاکہ مضر کی طرح ربیعہ بھی نعمت نبوت سے محروم نہ رہے۔ اسی لئے عبد اللہ بن خازم سلمی نے خراسان میں خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا۔ ربیعہ اس وقت سے پیچ و تاب میں ہے جب سے خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو مضر سے مبعوث فرمایا۔ یہ تمام واقعات (الفرق للبغدادی ص ٢٦٥ تا ٢٨٦) سے ماخوذ ہیں۔
بس یہ ہے حقیقت پنجابی نبوت اور عجمی پیغمبری کی۔ ایک مغل زادے عجمی سے یہی توقع ہو سکتی تھی کہ وہ اپنے پیشرو یزید بن ابی انیسہ خارجی یا بک خرمی کی عملاً و اعتقاداً تصدیق کر کے عربی مضری نبی (ﷺ) کی تمام تر تصریحات اور تعلیمات متعلقہ ختم نبوت کو ٹھکرا دے۔
١١
نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ جس جذبہ کے تحت ختم نبوت کا انکار کیا جاتا ہے۔ اس کا لب لباب عداوت عرب ومضر ہے۔ اس انکشاف کے بعد مرزا قادیانی کے ذیل کے تلبیسات کی قلعی خود بخود کھل جاتی ہے۔ لکھتے ہیں: ”اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ مگر محمدﷺ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔“ علیہ الصلوٰۃ والسلام!
(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٩)
نیز لکھتے ہیں۔ ”پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب میں یہ وحی الہیہ ہے ۔ ” محمد رسول الله والذین معه اشداء على الكفار رحماء بينهم “ اس وحی الہیہ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦١، ٢٦٢)
نکتہ
دیکھا آپ نے! مریدوں کا مال ہتھیا نے والے کس طرح غیروں کے اسماء واعلام پر بے تکلف قبضہ کرتے ہیں اور اس میں ان کو خدا سے ذرہ بھر شرم وحیا دامنگیر نہیں ہوتی ۔ جہاں تک دجالوں اور کذابوں کی تاریخ کا تعلق ہے۔ مرزا قادیانی اس باب میں بھی فریدۂ دہر اور یکتائے زمان ہیں۔
تكلف اعلى الخلق ادنى الخلائق
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا دو عبارتوں سے ایک اور راز سربستہ بھی کھلتا ہے۔ وہ یہ کہ مرزائیوں کا فہیم طبقہ جہاں محمد رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھتا ہے۔ محمد رسول اللہ کہتا ہے وہاں اس کی مراد صرف مرزا قادیانی سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اپنے خود ساختہ نبی کی بعض اہم تصریحات کے مومن ومعتقد نہ ہوئے۔ جو ان کے ہاں صریح کفر ہے۔ اس نکتہ کو ذہن نشین کر لینے کے بعد یورپ میں اشاعت اسلام کے بلند بانگ دعاوی اور سیرت کے جلسوں کی تگ و دو کی حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے۔ ختم المرسلین ﷺ نے ایسے گروہ اور افراد کے متعلق صحیح فرمایا ہے۔
”المتشبع بما لم یعطہ کلا بس ثوبی زور “
گذشتہ تصریحات میں ہمارا موضوع سخن یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت میں
١٢
ایسی شان تاسیس پیدا کی کہ تمام متنبئوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ اب ہم یہ دکھاتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس دعویٰ میں حقیقی انبیاء حتیٰ کہ ختم الرسل (علیہم الصلوٰۃ والسلام) پر بھی اپنی برتری ثابت کرنے میں زور قلم صرف کر دیا ہے۔
لکھا ہے ۔ ”اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں۔ صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم ایسے نبی آئے جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنائے ہمارے نبیﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ یقینی اور قطعی طور پر محال ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
”خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“ (جیسے منکوحہ آسمانی، انجام آتھم، مولوی ثناء اللہ سے مباہلہ وغیرہ کی پیشین گوئیاں۔ مؤلف)
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں۔ وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زائد ہوں گے ۔ (دروغ گو را حافظہ نباشد) اور نشان بھی ایسے کھلے جو اول درجہ پر خرق عادت ہیں۔“ (متنبیانہ اردو پر قربان جائیے)
(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر جناب ختم المرسلین ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے اور (براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) پر اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ سے زائد بتلائی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی اپنے آپ کو ختم المرسلین پر فائق ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس تفوق کا فیصلہ بھی خود ہی صاف لفظوں میں کرتے ہیں۔ کہا ہے
١٣
غسا القمران المشرقان اتنكر
ترجمہ: اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا، اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج١٩ص١٨٣)
واضح رہے کہ شعر کا یہ غیر مہذب اور پھسپسہ ترجمہ بھی خود مرزا قادیانی علیہ ما علیہ نے کیا ہے۔ اس دجال کو بے ادبی کرتے اور پھر جھوٹ بولتے ذرہ بھی شرم نہیں آتی۔ آخر عجمی نبوت تو ہے۔
نتيجة المبحث
یہ نہایت اجمالی خاکہ ہے۔ اس نبوت کا جو یونین جیک کے ظل عاطفت میں ایک عجمی نژاد مغل نے رچائی۔ مسیلمہ اور اسود کو کہاں حوصلہ تھا کہ وہ اتنی صریح جھوٹی بڑیں ہانکتے۔ مغیرہ بن سعید مقتول رافضہ اور مختار بن ابی عبید ثقفی، قتیل مصعب بن زبیر کو کب یارا کہ وہ اتنی شیخی پر اتر آئیں۔ کیونکہ عرب جھوٹے بولنے کو دامن شرافت پر بدترین دھبہ خیال کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جھوٹ بولنے سے انسان سوسائٹی میں ذلیل شمار ہوتا ہے۔ اس کی وقعت خاک میں مل جاتی ہے۔ حتیٰ کہ سخت ترین دشمن کے حق میں بھی صدق و دیانت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے۔ قصہ ہرقل وابوسفیان اس کی زندہ شہادت موجود ہے۔ انتہا ہے کہ دور جاہلیت کا مشہور جنگجو، رئیس مہلہل بن ربیعہ کسی شعر میں اتفاقاً غلو آمیز مبالغہ کر بیٹھا۔ مگر آج تک کذاب لکھا جا رہا ہے۔ راعی نمیری (شاعر اسلامی) بذلہ سنجی کے رنگ میں کبھی کوئی ظریفانہ مضمون باندھ دیتا، مگر تذکرہ نویسوں میں کذاب مشہور ہے۔
رہا یزید بن ابی انیسہ اس کو دعوائے نبوت کی توفیق ہی نہیں ہوئی۔ وہ تو ایک عجمی نبی کے لئے پیشین گوئی کر کے دار البوار کو سدھار گیا۔ البتہ بیان بن سمعان تمیمی کو کسی قدر حوصلہ ہوا تھا۔ وہ تصریح کر گیا کہ :”علاوہ نبوت کے بطور تناسخ، خود روح الہی مجھ میں حلول کئے ہوئے ہے۔“
(الفرق ص ١٧٢)
گو قاضی یار محمد مرزائی کی تصریح کے مطابق مرزا قادیانی کے خدا کا معاملہ مرزا قادیانی کے ساتھ حلول روح سے بہت ارفع واعلیٰ ہے۔ نیز بیان بن سمعان نے اپنی سادہ لوح سے دعویٰ کیا کہ قرآن شریف کی آیت سے ایں جانب مراد میں ہوں۔ ”هذا بيان
١٤
للناس وهدى وموعظة للمتقين‘‘ لیکن مرزا قادیانی کی شان تاسیس پر قربان جائیے کہ آپ کو قادیان تک کا نام قرآن شریف میں صاف نظر آتا تھا۔ ”ولقد صدق من قال حبك الشي يعمى ويصم“
مرزا قادیانی کی طرفہ تر لن ترانیاں
تعلیٰ آمیز دعاوی میں بھی کوئی شخص مرزا قادیانی کی گرد کو نہیں پہنچا، اس سلطان القلم نے تکبر اور شیخی کے وہ بے پناہ مظاہرے کئے کہ ”انا خير منه“ کا دعویٰ ان کے سامنے ہیچ نظر آتا ہے۔ آپ ہی نے کہا ہے۔
پھر کہا:
ایک موقع پر کہا:
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(باشد کی بھی ایک ہی کہی)
مزید برآں کہا ہے۔
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام رامرا بہ تمام
(نزول المسیح از مرزا)
کہیں آپ نے آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم ومحمد (ﷺ) ہونے کا دعویٰ کیا اور تو اور کرشن اور نانک بھی بنے۔
ناظرین یقین کریں کہ مرزا قادیانی کے پیش روؤں میں ایک شخص بھی باوجود امتداد زمان اور تبدل احوال اس حوصلہ کا نہیں ہوا۔ کیونکہ سلیمان بن حسن باطنی سے فقط اتنا ہی بن پڑا کہ جب وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میدان جنگ میں بری طرح شکست کھا کر بحرین کی طرف بھاگا تو
١٥
اس نے فاتح مسلمانوں کے نام ایک قصیدہ لکھ کر بھیجا جس کے دو شعر حسب ذیل ہیں۔
الست انا المنعوت فى سورة الزمر
سأملك اهل الارض شرقا ومغرباً
الى قيروان الروم والترك والخزر
ترجمہ: کیا میں وہی نہیں جس کی پیشین گوئی تمام کتب مقدسہ میں موجود ہے۔ کیا میں ہی وہ ہستی نہیں کہ جس کی تعریف میں سورہ زمر شاد کام ہے۔ عنقریب میں تمام یورپ اور ایشاء پر قابض ہو جاؤں گا۔ قیروان سے لے کر ترک وخزر تک سب پر میرا قبضہ ہوگا۔
سلیمان بن حسن قرمطی
سلیمان بن حسن فرقہ باطنیہ کا خونخوار جنگجو، بحرین کا رہنے والا تھا۔ ٣١١ھ میں اس نے بصرہ کو لوٹا۔ ٣١٤ھ میں حاجیوں کو راستہ میں جالیا اور بیدریغ قتل کیا۔ ٣١٣ھ میں کوفہ کو پامال کیا۔ ٣١٧ھ میں عین حج کے موقع پر بیت الحرام پر حملہ آور ہوا۔ تمام طواف کرنے والوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں سے چاہ زمزم کو بھر دیا اور حجر اسود کو ”كـم تعبد في الارض من دون الله“ سے خطاب کر کے اکھاڑ پھینکا اور بحرین لے گیا۔ نیز مکہ معظمہ سے سات سو کنواری لڑکیاں گرفتار کر کے ساتھ لے لیں۔ ٣١٨ھ میں اس نے دارالسلطنت بغداد پر حملہ کرنے کے لئے کوچ کیا۔ جب مقام ہیت پہنچا تو چھت سے کسی عورت نے اس کے سر پر اینٹ ماری جس سے وہ وہیں ہلاک ہو گیا اور قرامطہ کی طاقت ٹوٹ گئی۔ ٣٢٩ھ میں حجر اسود ابراہیم بن محمد نیشاپوری کے ذریعہ پھر مکہ معظمہ پہنچا۔ سلیمان بن حسن کے مظالم اور اس کی عسکری قوت کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ اس فرعونی بل بوتے پر اگر وہ مذکورہ بالا کفریہ تعلی ہانکے تو چنداں تعجب نہیں۔ مگر مرزا قادیانی اور تعلیاں؟
مقنع اعور حلولی
رہا فرقہ مبیضہ کا مقتداء مقنع اعور، حلولی، عجمی ۔ وہ مرزا قادیانی کی طرح کہا کرتا تھا۔ میں خدا ہوں۔ کبھی آدم کی صورت میں تھا۔ پھر نوح وابراہیم ومحمد کی صورتوں میں نمودار ہوا۔ پھر علی مرتضیٰ اور اولاد علی کے روپ بدلتا ہوا ابو مسلم خراسانی ( صاحب دعوت عباسیہ ) میں ظاہر ہوا۔
١٦
بعد ازاں خود مقنع کی صورت میں اس ع رہتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ میرے جمال اس کو مقنع کہتے ہیں۔ کوہ سیام میں اس تھی۔ قلعہ کے گردا گرد نا قابل عبور خند مقنع کے مقابلہ کے لئے بھیجا۔ بعد ازا جاری رہی۔ سعید نے لوہے کی تین سو علاوہ ملتان سے بھینس کی دس ہزار کھا بڑے معرکوں کے بعد مقنع کی تیس ہزار مقنع نے قلعہ میں ایک تنور کے اندر تا جب اس کا کچھ پتہ نہ چلا تو اس کے مع طرف چلا گیا۔
اتنی زبردست طاقت و جمیع دولت و طاقت واقتدار کا نشہ کہا جا سک
مرزا قادیانی کے پاس بجز خشک مراق او سب وشتم میں مرزا قادیانی کی
ارشاد رسالت مآب: ”وَا خصوصی شان کے مالک ہیں۔ خود ہی فرم
جس دل میں
دوسرے موقع پر لکھا ہے: ”
لیکن با ایں ہمہ عام فرزندان
ونسائه
بعد ازاں خود مقنع کی صورت میں اس شخص کا نام ہشام بن حکیم ہے۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ برقعہ رہتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ میرے جمال جہانتاب کو دیکھنے سے جل جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی لئے اس کو مقنع کہتے ہیں۔ کوہ سیام میں اس کا زبردست مستحکم قلعہ تھا۔ جس کی دیوار تقریباً سو فٹ چوڑی تھی۔ قلعہ کے گردا گرد نا قابل عبور خندق تھی۔ خلیفہ مہدی نے معاذ بن مسلم کو ستر ہزار فوج دے کر مقنع کے مقابلہ کے لئے بھیجا۔ بعد ازاں سعید بن عمرو الجرشی کو بطور کمک روانہ کیا۔ جنگ کئی سال جاری رہی۔ سعید نے لوہے کی تین سو سیڑھیاں تیار کرائیں۔ تاکہ خندق کو عبور کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ملتان سے بھینس کی دس ہزار کھالیں منگوائیں۔ جن کو ریگ سے پر کر کے خندق کو پاٹا گیا۔ بڑے معرکوں کے بعد مقنع کی تیس ہزار فوج نے ہتھیار ڈال دیئے اور باقی ماندہ تہہ تیغ کر دی گئی۔ مقنع نے قلعہ میں ایک تنور کے اندر تانبا پگھلا رکھا تھا۔ شکست دیکھ کر تنور میں کود پڑا اور پگھل گیا۔ جب اس کا کچھ پتہ نہ چلا تو اس کے معتقدین نے کہنا شروع کیا کہ آخر خدا تو تھا ہی اپنے عرش کی طرف چلا گیا۔
اتنی زبردست طاقت و جمعیت کے ہوتے ہوئے اگر مقنع مذکورہ کفریات بکے تو ان کو دولت وطاقت واقتدار کا نشہ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن نصاریٰ کی ابدی غلامی کی تعلیم دینے والے مرزا قادیانی کے پاس بجز خشک مراق اور مرض ہسٹریا کے رکھا ہی کیا ہے۔
سب وشتم میں مرزا قادیانی کی برکت
ارشاد رسالت مآب: ”واذ خاصم فجر“ کے مطابق مرزا قادیانی اس فن میں بھی خصوصی شان کے مالک ہیں۔ خود ہی فرماتے ہیں۔
جس دل میں ہو نجاست بیت الخلاء وہی ہے
(درثمین اردو ص٨٢)
دوسرے موقع پر لکھا ہے۔ ”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر٤ ص٥، خزائن ج١٧ ص٤٧١)
لیکن بایں ہمہ عام فرزندان توحید کی نسبت مرزا قادیانی کے اقوال حسب ذیل ہیں۔
ونسائهم من دونهن الاكلب
١٧
ترجمہ: میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتوں سے بھی بدتر ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
”سب مسلمانوں نے مجھے مان لیا۔ مگر بدکار اور زانیہ عورتوں کی اولاد نے نہیں مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ ، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
”اے بدذات فرقہ مولویان۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
مولوی سعد اللہ مرحوم کے حق میں کہا ہے۔ ”من صادق نیستم اگر تو اے نسل بدکاران بذلت نہ میری۔“
(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)
مرزا قادیانی اور ابن راوندی
سب وشتم کے باب میں مرزا قادیانی کا پیش رو، مشہور ملحد، بدزبان، ابوالحسین احمد بن یحییٰ راوندی (المتوفی قرب ٢٥٠ھ) اور اس کے تمام پیرو کار اور متبعین ہیں۔ کتاب الانتصار ١٦٣ (مؤلفه ابوالحسین عبدالرحیم الخیاط المتوفى فى اوّل القرن الرابع) میں ان کی طرف سے مسئلہ امامت پر ذیل کی تصریحات نقل ہوئی ہیں۔
”وان من انکره وخالفه وجحد امامته فکافر مشرک ولد لغیر رشدۃ“ جو شخص ہمارے (خودساختہ) امام وقت کو نہ مانے اور اس کا خلاف وانکار کرے وہ کافر، مشرک، ولد الحرام ہے۔
لیکن اس ڈھٹائی کا کیا ٹھکانا کہ ایک مخبوط الحواس اٹھے اور کہے ”مجھے مانو جو شخص مجھے نہ مانے گا اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔“
اسلام کی سیزدہ صد سالہ مساعی علمیہ کا استخفاف
مرزائی دعوت کا یہ حصہ نہایت ہی پرخطر اور ہولناک نتائج کا پیش خیمہ ہے۔ مبتدعین نے ہر دور میں اس کی آڑ میں بیٹھ کر شکار کھیلا ہے۔ معتزلہ، خوارج، روافض وغیرہ اہل اہواء نے اپنی سلامتی اس میں دیکھی کہ روایات مذہب کا استخفاف یا انکار کریں۔ ظاہر ہے کہ اس سے احادیث صحیحہ کا تمام ذخیرہ (جو اسوۂ ختم الرسل کی زندہ شرح ہے) معرض خطر میں پڑ جائے گا۔ بعد
١٨
ازاں اجماع جس کی بنا ہی حدیث پر ہے اجماع صحابہ کو غلط قرار دیتے ہوئے صاف
حالانکہ حضور کا ارشاد ہے۔ ” سنت نے نظام کی تکفیر کی۔ علیٰ ہٰذا القیاس کتاب الٰہی رہ جائے گی۔ جس کو ہر زند ہے۔ اسی زبردست خطرہ کو محسوس کر کے تصنیف لکھی، تاکہ شرع کے اصول ار سے بچایا جاسکے۔
غرض ہر ایک دور میں مبتدعین بچائیں۔ کہیں روایات کا انکار کیا گیا، روایات کو مطعون ٹھہرایا۔
مرزائی دعوت کے مراتب
مرزا قادیانی نے بھی اس ظ صحیحہ کا انکار کرتے ہیں۔ کہیں مفسرین کا ہم بڑے غور وخوض کے ب دعوت کے لئے بھی علی الترتیب مدارج
- .......١ مرزائی دعوے
کی تفسیر میں ایسا طریق اختیار کیا جائے سے قطعاً بدظن ہوجائیں۔ اس کے بو خیال ہے جو کعبہ نجران کے بانیوں اصحاب فیل کو بھیجا۔ یہ طریق دعوت
- .......٢ اس کے بعد
برگزیدہ، تمام صفات کاملہ کا مالک
ازاں اجماع جس کی بنا ہی حدیث پر ہے۔ خود بخود بے حقیقت ہو کر رہ جائے گا۔’’نظام معتزلی نے اجماع صحابہ کو غلط قرار دیتے ہوئے صاف کہا ہے کہ امت محمدیہ گمراہی پر مجتمع ہو سکتی ہے۔‘‘
(الفرق ص ٣١٥)
حالانکہ حضور کا ارشاد ہے۔ ”لا تجمع امتی علی الضلالة“ بنابریں علماء اہل سنت نے نظام کی تکفیر کی، علیٰ ہذا القیاس انکار حدیث سے ابطال قیاس لازم آئے گا۔ اب صرف کتاب الہی رہ جائے گی۔ جس کو ہر زندیق ، ملحد ، مبتدع ، اپنی ہوائے نفس کے مطابق موڑ توڑ سکتا ہے۔ اسی زبردست خطرہ کو محسوس کر کے حافظ ابن القیم نے ”الجیوش المرسلۃ“ جیسی معرکۃ الآراء تصنیف لکھی، تاکہ شرع کے اصول اربعہ (کتاب و سنت و اجماع و قیاس) کو اہل ہوا کے حملوں سے بچایا جاسکے۔
غرض ہر ایک دور میں مبتدعین کی یہی سعی رہی ہے کہ سنن صحیحہ کی زد سے اپنے آپ کو بچائیں۔ کہیں روایات کا انکار کیا کہیں رواة علی الخصوص صحابہ کرامؓ پر آوازے کسے اور ان کی روایات کو مطعون ٹھہرایا۔
مرزائی دعوت کے مراتب
مرزا قادیانی نے بھی اس حقیقت کو پالیا۔ اس لئے وہ اور ان کی جماعت کہیں احادیث صحیحہ کا انکار کرتے ہیں۔ کہیں مفسرین کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ کہیں فقہ اسلامی پر طعن کرتے ہیں۔ ہم بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ باطنیہ کی دعوت کی طرح مرزائی دعوت کے لئے بھی علی الترتیب مدارج ہیں۔ باطنی دعوت کے مدارج کے لئے دیکھو کتاب
(الفرق للبغدادی ص ٢٨٢ ببعد)
- ١...... مرزائی دعوت کا سب سے پہلا زینہ یہ ہے کہ درس قرآن میں ، کلام الہی
کی تفسیر میں ایسا طریق اختیار کیا جائے۔ جس سے مسلمان اپنے اسلاف اور ان کے عملی کارناموں سے قطعاً بدظن ہو جائیں۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ وہ مرزائی لٹریچر کی طرف متوجہ ہوں گے۔ یہ وہی خیال ہے جو کعبہ نجران کے بانیوں کو پیش آیا تھا۔ پھر انہوں نے کعبہ حجاز پر حملہ کرنے کے لئے اصحاب فیل کو بھیجا۔ یہ طریق دعوت آج کل لاہور میں عالم شباب کو پہنچ چکا ہے۔
- ٢...... اس کے بعد دوسرا زینہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو ایک صادق راست باز ،
برگزیدہ ، تمام صفات کاملہ کا مالک انسان تسلیم کرایا جائے اور ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کی نبوت کا
١٩
انکار اس رنگ میں کیا جائے کہ بروزی تھی، ظلی تھی، غیر تشریعی تھی، تجدیدی تھی وغیرہ ذالک من تلبیسات۔ ظاہر ہے کہ جب ایک شخص مرزا قادیانی کو صداقت کا پتلا تسلیم کرے گا تو اس کو ان کے نبی ماننے میں کون سا عذر باقی رہ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ دعوائے نبوت بھی اس شخص کی زبان سے نکلا ہے۔ جس کو میں خطا سے مبرا انسان تسلیم کر چکا ہوں۔ بنابریں ہم اس زینہ کو ”باب مرزائیت“ کہتے ہیں۔ مذکورہ بالا ہر دو شعبے لاہوری مرزائی جماعت کے افراد سرانجام دے رہے ہیں۔ کوئی مردانہ وار ظاہر باہر ہو کر، کوئی بزدلانہ طور پر ہلکا سا پردہ اوڑھ کر۔ مگر دیدہ ور دونوں کو یکساں جانتے ہیں۔
٣....... ان دو درجوں کے بعد تیسرا مرتبہ ”قادیانیت“ ہے۔ ہمارے اعتقاد میں اس تثلیثی دعوت کے ان مراتب سہ گانہ میں نتائج کے رو سے، احکام اسلامیہ کے رو سے سرِ مو تفاوت نہیں۔ بلکہ پہلا دوسرے سے اور دوسرا تیسرے سے زیادہ خطرناک ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس تثلیث سے بھی محفوظ رکھے۔
احادیث صحیحہ کا انکار
مرزا قادیانی احادیث کے متعلق لکھتے ہیں۔
اخذنا من الحي الذي ليس مثله وانتم عن الموتى رويتم ففكروا
رأينا وانتم تذكرون رواتكم
ترجمہ: (١) خدا کی وحی کے بعد حدیث کی حقیقت ہی کیا ہے۔ پس ہم خدا تعالیٰ کی حدیث (قرآن) کے بعد کسی حدیث کو مان لیں۔ (٢) ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی قیوم اور وحدہ لا شریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔ (٣) ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔
(اعجاز احمدی ص ٥٦، ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨، ١٦٩، ترجمہ مذکور خود مرزا قادیانی کا ہے)
غرض خبر متواتر و مشہور ہو یا خبر واحد تمام تر مرزا قادیانی کی وحی کے سامنے ہیچ محض ہیں۔ حالانکہ ائمہ اصولِ حدیث واصولِ فقہ وعلمِ کلام نے قاطبۃً تصریح کی ہے کہ خبر متواتر کا منکر کافر ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ: ”انکار تواتر صرف برہمنوں کا مذہب ہے۔“
(دیکھو کتاب الفرق ص ٣١٢)
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص حکم ہو کر آتا ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥١)
٢٠
”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے۔ جو میرے اوپر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے تورات، انجیل، قرآن پر تو کیا انہیں مجھ سے توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٥)
اس فن میں مرزا قادیانی کا پیشوا ابوالحسین خیاط معتزلی (استاذ ابوالقاسم عبداللہ بن احمد کعبی متوفی ٣١٩ھ) وغیرہ ملاحدہ ہیں۔ بغدادی فرماتے ہیں: ”وكان الخياط مع ضلالته في القدر وفي المعدومات منكر الحجة في اخبار الاحاد وما اراد بانكاره الانكار اكثر احكام الشريعة فان اكثر فروض الفقه مبنية على اخبار الاحاد، وللكعبي عليه كتاب في حجة اخبار الاحاد وقد ضلل فيه من انكر الحجة فيها (الفرق ص ١٦٥) وقد ضللوا من اسقط وجوب العمل باخبار الاحاد في الجملة من الرافضة والخوارج وسائر اهل الاهواء (الفرق ص ٣١٣)“ خیاط معتزلی با آنکہ مسئلہ انکار تقدیر اور مسئلہ معدوم (یعنی جسم حالت عدم میں بھی جسم تھا۔ بالفاظ دیگر عالم قدیم ہے) میں بے دین تھا۔ اس نے خبر واحد کے حجت ہونے کا انکار کر کے اور گمراہی مول لی۔ اس کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ خیاط دراصل ان احکام شرعیہ کا منکر ہے۔ جن کا ثبوت خبر واحد سے وابستہ ہے۔ خبر واحد کے حجت ہونے پر کسی (معتزلی شاگرد خیاط) نے ایک مستقل کتاب لکھی۔ جس میں ثابت کیا کہ خبر واحد حجت ہے اور اس کے مقتضیٰ پر عمل واجب ہے اور کعبی نے خیاط کے گمراہ ہونے کی تصریح کی۔ تمام اہل سنت نے بالاتفاق روافض، خوارج اور دوسرے تمام مبتدعین کو اس لئے بیدین کہا کہ وہ ہر ایک خبر واحد پر وجوب عمل کے منکر تھے۔
خبر مشہور کے متعلق بغدادی لکھتے ہیں: ”ومنها اخبار مستفيضة بين ائمة الحديث والفقه وهم مجمعون على صحتها كالاخبار في الشفاعة والحوض ونصب الزكوة والحساب وغيرها وبهذا النوع من الاخبار علمنا معجزة النبی ﷺ فی انشقاق القمر وتسبيح الحصا في يده وحنين الجذع لما فارقه
٢١
الى غير ذالك وضللوا من خالف فيها من اهل الاهواء كالخوارج انكروا الرجم وحد الخمر وكفروا من انكر الرؤية والحوض والشفاعة وعذاب القبر (الفرق ص٣١٣) ”خبر مشہور کی صحت پر فقہاء ومحدثین کا اجماع ہے۔ جیسے احادیث شفاعت وحساب، وحوض کوثر، نصاب ہائے زکوٰۃ وغیرہ یہ سب خبر مشہور ہیں۔ یہی خبر مشہور تو ہے جس سے نبی کریم ﷺ کے تمام تر معجزات (باستثنائے معجزۂ قرآن) ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے معجزہ شق القمر آپ کے ہاتھوں میں سنگریزوں کی تسبیح کا معجزہ۔ معجزہ استن حنانہ وغیرہ۔ بنابریں باجماع اہل سنت خبر مشہور کا منکر بے دین ہے۔ جیسے خوارج منکرین رجم وحد شراب، علیٰ ہذا القیاس باجماع اہل سنت قیامت میں رویت باری کا منکر، حوض کوثر، وشفاعت وعذاب قبر کا منکر بھی کافر اور بیدین ہے۔
صحابہ کرام پر حملے
اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کو صحابہ کرام علی الخصوص حضرت عبداللہ بن مسعود (صاحب الوسادة والنعلین) اور حضرت ابوہریرہؓ سے خاص پرخاش ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان حضرات کی روایات مرزا قادیانی کے خود ساختہ اصولوں سے ٹکراتی ہیں۔ اس لئے ان کو نشانہ طعن وملامت بناتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کے حق میں لکھا ہے۔ ”ابوہریرہؓ غبی تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)
(دیکھا آپ نے مرزا قادیانی کیسے مہذب ہیں اور کس طرح شستہ اور صحیح اردو لکھتے ہیں) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں جن کے متعلق فاروق اعظم فرماتے ہیں۔ ”کنیف ملئ علما“ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعودؓ ایک معمولی انسان تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)
حالانکہ یہی عبداللہ بن مسعودؓ تھے۔ جن کو حضرت فاروق اعظم نے کوفہ یونیورسٹی کا افسر اعلیٰ بنا کر بھیجا تھا اور لکھا تھا۔ ”بعثت الیکم بعبد الله بن مسعود معلما“ یہ عبداللہ بن مسعودؓ کی علمیت تھی۔ جس نے علقمہ ابراہیم، حماد بن سلیمان، امام ابوحنیفہ، امام سفیان ثوری، امام ابو یوسف، امام محمد جیسے اکابر عالم پیدا کئے۔ ایک مرزا قادیانی ہیں کہ ہر امتحان میں ناکام نکلے۔ پاس ہوئے تو صرف نبوت کے امتحان میں۔ کیونکہ اس کے لئے کوئی نصاب ہی نہ تھا۔ نصاب ہوتا ہی کیونکر۔ جب حضور ﷺ پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر آپ کو حضرت ابن مسعودؓ کے منہ آتے حیا بھی دامنگیر نہیں ہوتی۔
٢٢
اہم نکتہ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ گستاخ قلم ہی کے لئے زیبا ہے۔ ورنہ ان کے علمی کمالات اور کمالات مذکورہ ہے۔ جیسے ہم کوفہ یونیورسٹی کے سلسلے م اہم نکتہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ تصریح سلف صالحین حصہ میں سے تھے جن کو تمام ابواب فقہ میں نے علوم اسلامیہ کی نشرواشاعت کا ا جس نے سالمؓ، نافعؓ، سعیدؓ، و زیدؓ کی یونیورسٹی کی تعمیر و آبیاری اپنے دست دریا بہائے جن کی ہوش ربا موجوں ک اسلام کے حاملین علوم اکثر عجمی نژاد ہ یہی وہ مقام ہے جس ک (مالکی، شافعی، حنبلی مذہب) اور فقہ سرچشمہ ایک اور صرف ایک ہے۔ نشین کرانے کے لئے حضرت امام الخفاء کا ایک اہم ترین باب ہے۔ سے امام شعرانی، شاہ ولی اللہ اور بس۔
حضرت عبداللہ بن واضح کرتے ہیں۔ ”اربعة من وزید وابن عباس وابن فبالامة فيها مجتمعة
الف فيها من اهل الاهواء كالخوارج انكروا نكر الرؤية والحوض والشفاعة وعذاب القبر ت پر فقہاء و محدثین کا اجماع ہے۔ جیسے احادیث شفاعت وغیرہ یہ سب خبر مشہور ہیں۔ یہی خبر مشہور تو ہے جس سے ئے معجزہ قرآن) ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے معجزہ شق القمر یرہ۔ معجزہ استن حنانہ وغیرہ۔ بنا بریں باجماع اہل سنت منکرین رجم وحد شراب علی ہذا القیاس باجماع اہل سنت شفاعت و عذاب قبر کا منکر بھی کافر اور بیدین ہے۔
یہ کہ اعلیٰ الخصوص حضرت عبداللہ بن مسعود (صاحب اص پر خاش ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان حضرات ں سے ٹکراتی ہیں۔ اس لئے ان کو نشانہ طعن وملامت ہے۔ ”ابوہریرہؓ غبی تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)
ہ مہذب ہیں اور کس طرح شستہ اور صحیح اردو لکھتے ن کے متعلق فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں ۔”کنیف یہ ہے کہ ابن مسعودؓ ایک معمولی انسان تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)
حضرت فاروق اعظم نے کوفہ یونیورسٹی کا افسر عبد الله بن مسعود معلماً“ یہ عبداللہ بن سلیمان، امام ابو حنیفہ، امام سفیان ثوری، امام قادیانی ہیں کہ ہر امتحان میں ناکام نکلے۔ کے لئے کوئی نصاب ہی نہ تھا۔ نصاب ہوتا ہے۔ پھر آپ کو حضرت ابن مسعودؓ کے منہ
اہم نکتہ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جیسے فقیہ وافقہ صحابی کی تنقیص و کسر شان کچھ مرزا قادیانی کے گستاخ قلم ہی کے لئے زیبا ہے۔ ورنہ ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں سے قطع نظر، فقط ان کے علمی کمالات اور کمالات مذکورہ کے حیرت انگیز ثمرات و نتائج پر مبسوط التصنیف لکھی جاسکتی ہے۔ جیسے ہم کوفہ یونیورسٹی کے سلسلے میں ادھر لطیف اشارہ کر چکے ہیں۔ سردست ہم صرف ایک اہم نکتہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
بہ تصریح سلف صالحین حضرت ابن مسعودؓ (صاحب الوساد والنعلین) ان فقہاء صحابہ میں سے تھے جن کو تمام ابواب فقہ میں کمال حاصل تھا۔ یہی راز ہے کہ جب حضرت فاروق اعظمؓ نے علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت کا ارادہ فرمایا تو مدینہ یونیورسٹی کی زمام اختیار اپنے ہاتھ میں لی۔ جس نے سالمؒ، نافعؒ، سعیدؒ، زہریؒ، مالکؒ، شافعیؒ، احمدؒ جیسے یکتائے عالم حضرات پیدا کئے اور کوفہ یونیورسٹی کی تعمیر و آبیاری اپنے دست پروردہ ابن مسعودؓ کے سپرد کی۔ جس نے علوم وفنون کے وہ دریا بہائے جن کی ہوش ربا موجوں کو دیکھ کر ابن خلدون جیسے فلسفی مؤرخ کو اعتراض کرنا پڑا کہ عہد اسلام کے حاملین علوم اکثر عجمی نژاد ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جس کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ فقہ حجاز (مالکی، شافعی، حنبلی مذہب) اور فقہ عراق ابوحنیفہؒ، ابو یوسفؒ، سفیانؒ ثوریؒ وغیرہ حضرات کی آراء کا سرچشمہ ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی حضرت فاروق اعظمؓ کی ذات بابرکات غالباً اسی نکتہ کو ذہن نشین کرانے کے لئے حضرت امام الہند شاہ ولی اللہ کو رسالہ ”مذہب فاروق“ لکھنا پڑا۔ جو ازالۃ الخفاء کا ایک اہم ترین باب ہے۔ یہی وہ فلسفہ الفقہ کا آخری مقام ہے جہاں حذاق امت میں سے امام شعرانیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مولانا الہمامؒ عبید اللہ السندھیؒ جیسے افراد کی رسائی ہوئی ہے اور بس۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی حیرت انگیز شخصیت وعلمیت کو بغدادی الفاظ ذیل سے واضح کرتے ہیں۔ ”اربعة من الصحابة تحكم في جميع ابواب الفقه وهم علي وزيد وابن عباس وابن مسعود وهؤلاء الاربعة اجمعوا في مسئلة على قول فالامة فيها مجتمعة على قولهم غير مبتدع لا يعتبر خلافه في الفقه وكل ٢٣
مسئلة اختلف فيها هولاء الاربعة فالامة فيها مختلفة ”چار صحابی ایسے ہیں جنہوں نے تمام ابواب فقہ میں زور بیان دکھا۔ علی المرتضیٰ، زید بن ثابت (کاتب وحی) عبداللہ ابن عباس (حبر امت)، ابن مسعود۔ یہ ہر چہار حضرات جب کسی فقہی مسئلہ میں متفق ہوں تو مسئلہ مذکور تمام امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ شمار ہوتا ہے۔ (ہاں اگر کوئی مبتدع انحراف کرے تو اس کا اختلاف قابل التفات نہیں) لیکن اگر کسی فقہی مسئلہ میں ان حضرات کا اختلاف رائے ہو تو پھر امت بھی اس مسئلہ میں مختلف ہوا کرتی ہے۔“
”وكل مسئلة انفرد فيها علىّ بقول عن سائر الصحابة تبعه فيه ابن ابی لیلی والشعبی وعبيدة السلمانی وكل مسئلة انفرد فيها زيد بقول اتبعه مالك والشافعي في اكثره ويتبعه خارجة بن زيد لا محالة وكل مسلة انفرد فيها ابن عباس بقول تبعه فيها عكرمة وطاؤس وسعيد ابن جبير وكل مسئلة انفرد فيها ابن مسعود بقول تبعه علقمه والاسود وابو ثور (اصول الدين ص ٣١١) ”اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے۔ جب مسئلہ میں علی مرتضیٰ کا دوسرے صحابہ سے اختلاف ہو تو ابن ابی لیلیٰ، شعبی عبیدہ سلمانی، انہیں کے متبع رہتے ہیں اور جہاں زید بن ثابت دوسروں سے منفرد ہوں۔ وہاں امام مالک و شافعی عام طور پر اور خارجہ بن زید (از فقہاء سبعہ) ہمیشہ ان کے موافق رہتے ہیں اور جس مسئلہ میں عبداللہ ابن عباس کا انفراد ہو وہاں عکرمہ، طاؤس، سعید بن جبیر ان کے ہم نوا رہتے ہیں۔ اگر کسی مسئلہ میں عبداللہ بن مسعود کا اختلاف ہو تو علقمہ، اسود، ابو ثور ان کے متبع رہتے ہیں۔
”وآلآن يكفي هذا القدر ولعل الله يحدث بعد ذالك امراً“
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
دراصل یہ نظام معتزلی ملحد اکبر کی روح ہے۔ جو مرزا قادیانی کے اندر بول رہی ہے۔ نظام نے جو باتفاق اہل سنت کئی وجہ سے کافر ہے۔ صحابہ کے حق میں زبردست گستاخیاں کی ہیں اور روافض و خوارج کی نیابت کا حق ادا کر دیا ہے۔ بغدادیؒ لکھتے ہیں۔ ”ذکر الجاحظ فی کتاب المعارف وفى كتاب الفتيا انه عاب اصحاب الحديث ورواياتهم
٢٤
احادیث ابی ھریرة وزعم ان اباھریرة كان اكذب الناس وطعن فی الفاروق وعاب عثمان ونقم علیاً وعاب ابن مسعود وكذبه فی روایة انشقاق القمر وفی رؤیة الجن لیلة الجن ھذا قوله فی خیار الصحابة واھل بیعة الرضوان الذین انزل الله فیھم لقد رضی الله عن المؤمنین اذ یبایعونك تحت الشجرة (الفرق ص١٣٣) ”عمرو بن عثمان حافظ و تلمیذ نظام نے کتاب المعارف و کتاب الفتیاء میں لکھا ہے کہ نظام محدثین پر اس لئے طعن کیا کرتا تھا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کی احادیث کو کیوں روایت کیا۔ حالانکہ ابو ہریرہؓ بقول نظام دنیا بھر کا جھوٹا ہے۔ نظام نے حضرت فاروقؓ و ذی النورینؓ و مرتضیٰؓ پر بھی حملے کئے۔ ابن مسعودؓ کو روایت مسئلہ تقدیر، معجزہ انشقاق قمر اور جنات کو لیلۃ الجن میں دیکھنے پر جھوٹا ٹھہرایا۔ نظام کا یہ خیال ان برگزیدہ صحابہ اور اہل بیعت رضوان کے بارے میں ہے جن کی تعریف میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لقد رضی الله!
”ونسب اباھریرة الی الكذب من اجل ان اكثر مرویاته علی خلاف القدریة ثم ابطل اجماع الصحابة ولم یره حجة واجاز اجماع الامة علی الضلالة (الفرق ص٣٠٥) ”دوسرے موقع پر ہے نظام نے ابو ہریرہ کو اس لئے کاذب ٹھہرایا کہ ان کی روایات سے معتزلہ پر زد پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ نظام اجماع صحابہ کے حجت ہونے کا بھی منکر ہے۔ بقول اس کے صحابہ اور تمام امت گمراہی پر مجتمع ہو سکتی ہے۔
”وزعم القدریة طعن فی اكثر الصحابة واسقط عدالة ابن مسعود ونسبه الی الضلال من اجل روایته السعید من سعد وروایة انشقاق القمر وما ذاك منه الا لانكاره معجزات النبی (الفرق ص٣٠٤) واكفره اھل السنة (الفرق ص٣١٥) ”نیز لکھا ہے معتزلہ کے پیشوا نظام نے اکثر صحابہ پر حملے کئے اور عبداللہ بن مسعودؓ کو نیک لوگوں کی صف سے نکال کر گمراہ قرار دیا۔ صرف اس جرم میں کہ انہوں نے مسئلہ تقدیر، معجزہ شق القمر، روایت کیا۔ کیونکہ نظام تمام تر معجزات کا منکر ہے۔ (حتی کہ نظم قرآن کو بھی معجز نہیں مانتا۔ جیسے تفصیلاً گزرا) ان اور اس قسم کی دوسری کفریات پر تمام اہل سنت نے اس کی تکفیر کی۔
لطیفہ
ان حالات میں باہمی یگانگت اور اتحاد کے باوجود نرالی شان اتحاد دیکھئے کہ نظام بھی مرزا قادیانی کی طرح دختر رز کا بڑا ہی دلدادہ تھا۔ بغدادی فرماتے ہیں۔ ”ثم ان النظام مع
٢٥
ما حكينا من ضلالاته كان افسق خلق الله واجراهم على الذنوب العظام وعلى ادمان شرب المسكر وقد ذكر ابن قتيبة في كتاب مختلف الحديث ان النظام كان يغدو على مسكر ويروح على مسكر (الفرق ص ١٣٠) ”نظام باوجود مذکورہ بالا بے اندازہ گمراہیوں کے دنیا بھر کا فاسق تھا۔ کبائر بے دھڑک کیا کرتا اور سدا مخمور رہتا تھا۔ ابن قتیبہ (خطیب اہل سنت ) نے کتاب مختلف الحدیث میں لکھا ہے کہ نظام صبح اور شام ہر وقت مخمور رہا کرتا تھا۔
رہی مرزا قادیانی کی بنت عنب سے وابستگی اور شیفتگی۔ چونکہ مسئلہ نہایت اہم اور بحث بڑی خوش آئند ہے۔ اس لئے ہم کوئی قیاسی دلیل یا غیر کی نقل پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کے ثبوت میں خود مرزا قادیانی کے خطوط اور الفاظ ذکر کریں گے۔ ”لیقضى الله امراً كان مفعولا“
حکیم محمد حسین قریشی لاہوری مرزا قادیانی کے مخلص مریدین سے ہیں۔ عام سامانِ تعیش ورفاہیت کے لئے اور مشک وعنبر، ٹنکچر لونڈر، ٹانک وائن کے لئے علی الخصوص مرزا قادیانی کی فرمائش حکیم صاحب کے نام آتیں اور آپ خلوص و تن دہی سے ان کی تعمیل کیا کرتے تھے۔ حکیم صاحب کو جو سوجھی تو آپ نے مرزائیوں میں اپنی دوکان چمکانے کے لئے وہ تمام خطوط طبع کروائے جو ادویہ وغیرہ اشیاء کی خرید کے متعلق مرزا قادیانی نے ان کو لکھے تھے۔ حکیم صاحب نے اس کتاب کا نام ”خطوط امام بنام غلام“ تجویز کیا ہے یہ تمام تر خطوط مرزا قادیانی کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔
کتاب مذکور خط نمبر ١٩ میں ایک فقرہ ہے اور اس (مشک مذکور ) کے ساتھ انگریزی دوکان سے ایک روپیہ کا ٹنکچر لونڈر جو ایک سرخ رنگ (آتش سیال در آب مجمد۔ مؤلف ) کا عرق ہے۔ بہت احتیاط سے بند کر کے بذریعہ ڈاک وی پی کر کے بھیج دیں۔ نیز کتاب مذکور خط نمبر ١٢ میں مرزا قادیانی کا ایک جملہ ہے۔ ”ایک بوتل ٹانک وائن کو پلومر کی دکان سے خریدیں مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔“ واضح رہے کہ ٹنکچر لونڈر ایک قسم کا عرق ہے۔ جس میں ننانوے فیصدی الکحل (روح شراب ) کی آمیزش ہوتی ہے اور اس کے پینے سے دل کو فرحت وسرور حاصل ہوتا
٢٦
ہے۔ ٹانک وائن کے لفظی معنی مق مقوی، وائن انگوری شراب۔ ان تمام حرکات کے ساتھ وبين المصطفى فما عرفني مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں فرق ن مصطفیٰ ﷺ میں کوئی فرق نہیں رہا ا انکار حدیث اور طعن صحابہ کی تمام اہل سنت کا تیرہ س دعوائے نبوت کی رو سے قطعاً مرتد پر یہاں بحث نہیں کریں گے۔ ہم وضلال ہے۔ اب ہمارا موضوع لئے ہم کوئی اپنی رائے پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ عالم اسلام کی دورِ سعادت کے دو واقعہ لکھیں خطیب بغداد (متوفی ٤٦٣ھ) ويحيى من حي عن بينة ا الف ...... خطیب ب موصوف کی زبانی ذیل کا واقعہ لک میرے سامنے ایک مقدمہ پیش ہ دوسرے فریق نے کہا۔ ”ابو ہر روایت پر اعتماد نہیں اور وہ جھوٹ نے چمک کر کہا۔ ”ابوهريرة صـ ابوہریرہؓ نبی کریم ﷺ کی احادی میری اس داد شجاعت نکل آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خلیفہ
ہے ۔ ٹانک وائن کے لفظی معنی سن لینے کے بعد اس کی اصلیت معلوم ہو جائے گی۔ ٹانک مقوی ، وائن انگوری شراب ۔
ان تمام حرکات کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی ہے۔ ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رأیٰ“ (خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩) جس نے مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں فرق جانا اس نے مجھے نہیں پہچانا اور نہیں دیکھا یعنی مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں کوئی فرق نہیں۔ بالفاظ دیگر میں عین محمد ہوں ۔
انکار حدیث اور طعن صحابہ کی سزا
تمام اہل سنت کا تیرہ سو سال سے متفقہ عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت دعواۓ نبوت کی رو سے قطعاً مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ یہ طے شدہ اصول ہے۔ ہم اس پر یہاں بحث نہیں کریں گے۔ ہم یہ لکھ رہے تھے کہ انکار حدیث کی سزا (فیما بینہ وبین اللہ ) کفر وضلال ہے۔ اب ہمارا موضوع بحث یہ ہے کہ انکار حدیث کی دنیاوی سزا کیا ہے؟ اس کے لئے ہم کوئی اپنی رائے پیش نہیں کریں گے اور نہ کسی متأخر محدث ومفتی وفقیہ کا قول وفتویٰ نقل کریں گے۔ بلکہ عالم اسلام کی عظیم ترین شخصیت حضرت خلیفہ ہارون رشید عباسیؒ اور ان کے دور سعادت کے دو واقعہ لکھیں گے اور وہ بھی کسی متأخر کی تصنیف کے حوالے سے نہیں بلکہ خطیب بغداد (متوفی ٤٦٣ھ) کی تاریخ سے لیں گے۔ ”لیہلک من ہلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ“
الف ...... خطیب نے قاضی القضاۃ عمر بن حبیب عدوی کے حالات میں خود قاضی موصوف کی زبانی ذیل کا واقعہ نقل کیا ہے۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں ۔ ”دربار ہارون رشید میں میرے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک فریق نے حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت بطور سند پیش کی ۔ دوسرے فریق نے کہا۔ ”ابو ہریرۃ متہم فی ما یرویہ وصرحوا بتکذیبہ“ ابو ہریرہؓ کی روایت پر اعتماد نہیں اور وہ جھوٹا ہے۔ خلیفہ ہارون رشید نے بھی بظاہر اس کی تائید کی ۔ اس پر میں نے چمک کر کہا۔
”ابو ہریرۃ صحیح النقل صدوق فی ما یرویہ عن النبیﷺ“ ابو ہریرہؓ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں راست باز ہیں اور صحیح طور پر حدیث کو بیان کرتے ہیں ۔
میری اس واشگاف حق گوئی پر خلیفہ برہم ہوئے اور میں واک آؤٹ کر کے دربار سے نکل آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خلیفہ کا قاصد میرے گھر پہنچا اور کہنے لگا۔ امیر المومنین بلاتے ہیں ۔ قتل
٢٧
ہونے کے لئے سر سے کفن باندھ کر گھر سے نکلو۔ میں نے جی میں کہا یا اللہ ! میں نے تیرے پیارے پیغمبر اور جان نثار صحابی کی اجلال و تعظیم کی خاطر ایسا کیا تھا۔ اب تو ہی محافظ و نگہبان ہے۔ جب میں دربار میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ خلیفہ آستین چڑھائے، خنجر ہاتھ میں لئے کرسی پر بیٹھے ہیں اور سامنے ذبح کرنے کے لئے ادھوڑی بچھی ہوئی ہے۔ خلیفہ نے مجھے کہا قاضی صاحب ! تم نے میرے قیصر شکن دربار کی وہ ہتک کی جس کی نظیر میں نے نہیں دیکھی۔ اس پر میں نے کہا: ”يا امير المؤمنين ان الذى قلته وجادلت عليه فيه ازراء على رسول اللہ ﷺ ما جاء به واذا كان اصحابه كذابين فالشريعة باطلة والفرائض والاحكام فى الصيام والصلوة والطلاق والنكاح والحدود كلها مردودة غير قبولة فرجع الى نفسه ثم قال احييتنى يا عمر بن حبيب احياك الله احييتنى يا عمر بن حبيب حياك الله وامرلى بعشرة آلاف درهم“ میں نے کہا آپ کے اس قول سے اور آپ کی اس حمایت بے جا سے خود حضور سرور کائنات ﷺ کی اور آپ ﷺ کی تعلیم کی تنقیص لازم آتی ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ کے صحابہ کذاب ہوئے تو تمام شریعت باطل ہو گئی۔ احکام شریعت مثلاً نماز، روزہ، طلاق و نکاح، اور حدود شرعیہ سب باطل ہو جائیں گی۔ اس پر ہارون کچھ سوچنے لگے۔ پھر فرمایا۔ عمر بن حبیب! خدا تجھے سلامت رکھے تو نے مجھے بچالیا۔ اے عمر بن حبیب! خدا تجھے سلامت رکھے تو مجھے بچا لیا! پھر مجھے دس ہزار روپیہ دے کر باعزت واپس کیا ۔“
ب....... خطیب بغداد ہارون رشید کے حالات میں لکھتے ہیں کہ: ”خلیفہ کے دربار میں مشہور محدث ابو معاویہ ضریر نے حدیث مناظرۂ آدم و موسیٰ (علیہما السلام) اپنی سند سے روایت کی۔ اس پر حاضرین میں سے ایک قریشی نے دریافت کی کہ یہ مناظرہ کہاں ہوا تھا ؟ خلیفہ نے اس سوال کو تعریض سمجھا۔ اس پر سخت برہم ہو کر کہا۔ ”النطع والسيف زنديق والله يطعن في حديث رسول اللہ ﷺ“ خنجر اور ادھوڑی لاؤ بخدا یہ تو زندیق ہے۔ حدیث رسول اللہ ﷺ پر اس شخص نے حملہ کیا ہے۔
ابو معاویہ کی متواتر صفائی اور قریشی کی نادمانہ توبہ سے کہیں جان بخشی ہوئی۔
خاتمہ سخن
ہم اپنے اس مقالے کو ان جملوں پر ختم کرتے ہیں جو بغدادی نے نظام کو طعن صحابہ پر ٹوکتے ہوئے لکھے ہیں۔
٢٨
”هل هو الا كما قيل فى المثل السائر من كان فى دينه زميما وفى اصله لئيماً لم يترك لنفسه عاراً الا نحله كريما واستباح به حريماً فهل يضر السحاب نباح الكلاب او الابرار ذم الاشرار“
ام بلت حيث تناطح البحران
محمد نور الحق العلوى الحنفى، كان الله له
مجلس مستشار العلماء پنجاب (لاہور) کا اہم اعلان
جامعہ انوریہ دارالتبلیغ اور دارالافتاء کا افتتاح
علمی طبقہ اور اخباری دنیا جانتی ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ لاہور جیسے مرکزی شہر میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس کے تمام دروازے مسدود ہو چکے ہیں۔ امت مسلمہ کی بہبود وفلاح کے لئے لاہور کے فرض شناس اور عاقبت اندیش علمائے کرام کی ایک جماعت نے بصدارت مولانا حافظ حکیم مفتی محمد خلیل صاحب ایک مجلس مستشار العلماء کے نام سے قائم کی جس کے اغراض ومقاصد اجمالاً وتفصیلاً اسلامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور خود مجلس بھی ان کو بذریعہ ٹریکٹ مفت تقسیم کر چکی ہیں۔
مجلس کے پیش نظر ایک نہایت ہی وسیع اور ہمہ گیر دستور العمل ہے۔ جس کی تکمیل خدا تعالیٰ کی امداد اعانت کے بعد اس کے کارکنوں کے خلوص وسعی پیہم اور امت مسلمہ کی قدر شناسی اور ہمت افزائی پر موقوف ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کا فضل وکرم شامل حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب مجلس اپنے تمام بڑے بڑے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر سعادت دارین کے حصول کی مستحق بن جائے گی۔ سر دست مجلس نے توکلاً علی اللہ اپنے دستور العمل میں سے دارالتدریس، دارالافتاء، دارالتبلیغ کے شعبہ ختم نبوت و ابطال مرزائیت کا افتتاح کر دیا ہے۔
دارالتدریس
بیادگار شیخ الاسلام، محدث اعظم مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ اس شعبہ کا نام جامعہ انوریہ قرار پایا۔ جامعہ انوریہ میں سر دست دو درجے ہیں۔ اولیٰ وثانیہ، درجہ اولیٰ مقامی خورد سال بچوں کو مذہبی تعلیم سے روشناس کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ درجہ ثانیہ میں عربی خواں
٢٩
طلبہ کو علوم عقلیہ و نقلیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم کو تبلیغی رنگ میں پیش کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ طلبہ تبلیغ و مناظرہ میں مہارت پیدا کر سکیں۔ جامعہ انوریہ میں اس وقت ذیل کے علمائے کرام بقیہ وقت حسبتہ للہ تعلیم دے رہے ہیں۔
- ١...... مولانا قاضی محمد صادق صاحب خطیب مسجد چوہلیاں لاہور۔
- ٢...... مولانا یار محمد صاحب خطیب مسجد چرم منڈی لاہور۔
- ٣...... مولانا غلام حیدر صاحب خطیب مسجد خراساں لاہور۔
جامعہ انوریہ میں فی الحال تقریباً پندرہ طلباء مختلف فنون کی تعلیم پا رہے ہیں۔
دار الافتاء
اس شعبہ کے صدر حضرت مولانا حافظ حکیم مفتی محمد خلیل صاحب صدر مجلس ہیں۔ آپ کے علاوہ حسب ضرورت دوسرے علماء کرام کی آراء کو بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
دارالتبلیغ والمناظرہ
اس حصہ کے مختلف شعبے ہیں۔ جن میں سے ضرورت وقت کے لحاظ سے شعبہ ختم نبوت کا استحکام اور اس پر حملوں کی مدافعت مقام صدیقین ہے۔ اسی لئے مجلس ہٰذا کی شاخ ، مستشار العلماء قصور ضلع لاہور نے حال میں ایک مفید رسالہ بنام ”مسلمانان عالم مرزائیوں کی نظر میں“ شائع کر کے مفت تقسیم کیا ہے اور مجلس مستشارالعلماء پنجاب بھی ایک معرکۃ الآراء اور بسیط مضمون بصورت رسالہ شائع کر رہی ہے۔ جس کا نام ”قادیانیت اور اس کے مقتداء“ ہے۔ رسالہ اپنی تمام خوبیوں کی رو سے بالکل نرالا اور نہایت اہم واصولی مباحث پر مشتمل ہے۔ مقامی حضرات مجلس کے دفتر سے اور بیرونی حضرات ناظم اعلیٰ مستشارالعلماء کے ڈاک کا خرچ بھیج کر مفت طلب فرما سکتے ہیں۔ اس رسالہ کے بعد مجلس ایک دوسرا رسالہ شائع کرے گی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ضروریات دین کے منکر کافر، مرتد بلکہ زندیق ہیں۔ کتاب تیار ہے۔ صرف کتابت وطباعت باقی ہے۔ علاوہ ازیں مجلس نے ایک تبلیغی وفد ریاست بھکلوہ کی طرف روانہ کیا ہے اور عنقریب ریاست امب کی طرف بھی تبلیغی وفد بھیجا جائے گا۔ اگر خدا تعالیٰ کی امداد شامل حال رہی تو انشاء اللہ بہت جلد تحریری و تقریری تبلیغ و مناظرہ کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔ ”ولقد صدق اللہ تعالیٰ والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین“
محمد نور الحق ناظم اعلیٰ مستشارالعلماء!
٣٠
کے علاوہ قرآن حکیم کو تبلیغی رنگ میں پیش کرنے میں مہارت پیدا کر سکیں۔ جامعہ انوریہ میں اس ام دے رہے ہیں۔ صاحب خطیب مسجد پھولیاں لاہور۔ ب مسجد چرم منڈی لاہور۔ خطیب مسجد خراسیاں لاہور۔ طلباء مختلف فنون کی تعلیم پا رہے ہیں۔
حکیم مفتی محمد خلیل صاحب صدر مجلس ہیں۔ آپ اد کو بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
سے ضرورت وقت کے لحاظ سے شعبہ ختم نبوت عین ہے۔ اسی لئے مجلس ہٰذا کی شاخ، مستشار لہ بنام ”مسلمانان عالم مرزائیوں کی نظر میں“ و پنجاب بھی ایک معرکۃ الآراء اور بسیط مضمون نیت اور اس کے مقتداء“ ہے۔ رسالہ اپنی تمام تر مباحث پر مشتمل ہے۔ مقامی حضرات مجلس العلماء نے ڈاک کا خرچ بھیج کر مفت طلب سالہ شائع کرے گی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ریق ہیں۔ کتاب تیار ہے۔ صرف کتابت ہو کر ریاست بھکرہ کی طرف روانہ کیا ہے اور ئے گا۔ اگر خدا تعالیٰ کی امداد شامل حال رہی منزل تک پہنچا دیا جائے گا۔ ”ولقد صدق وعدہ وان اللہ لمع المحسنین“ محمد نور الحق ناظم اعلیٰ مستشار العلماء!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ھوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
التعرف
یوز آسف
حضرت مولانا نور الحق علویؒ
بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله ذی الحجة البالغة ، والعزة القاهرة لا يعجل بالعقوبة ولا يعذب الا بعد ايضاح الحجة، والصلوة والسلام على عبده وخیر خلقه وخاتم رسله وامینه على وحيه ، بلغ عن ربه ودعا الی سبیله بالحكمة ، والموعظة الحسنة، دعانا الى الحجة الواضحة، والطريقة المستقيمة، والحنيفية البيضاء التي ليلها كنهارها وباطنها كظاهرها، ولم يدع امته في شبهة مضلة ، ولم يدخر عنهم نصيحة ولا هداية، لئلا یكون للناس على الله حجة بعد الرسل، وليهلك من هلك عن بينة ويحيى من حی عن بینة فصلى الله على الصفوة الصافیة ، وبالقدوة الهادية، واله خیار الورى، ومصابیح الظلمة واصحابه منار الهدی ومفاتيح الحكمة . اما بعد!
یوز آسف کی نبوت اور متنبی قادیان
خدا تعالیٰ اس سے سعید روحوں کو ہدایت وفلاح نصیب کرے۔
تمہید
الف ....... ذیل کے نہایت ہی اہم اور بے نظیر مقالہ علمیہ میں ہم نے عمداً ایسا طریق بحث اختیار کیا ہے جو قرآن حکیم کا طغرائے امتیاز ہے۔ یہ طریق بحث (بخلاف طریق متاخرین) ہے۔ چونکہ ادق اور طویل الاذیال ہوتا ہے۔ جس میں موضوع بحث کے تمام اطراف و جوانب زیر نظر رہتے ہیں۔ اس لئے بعض متاخرین مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو تعین موضع سور اور سلسلہ ربط آیات کے قیام میں بسا اوقات تکالیف کا سامنا ہوا ہے۔ جس کے پیش نظر رفتہ رفتہ موضوع سور اور ربط آیات کا انکار کر دیا گیا ہے۔ یا ان ہر دو کو غیر ضروری سمجھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم میں اور قرآن فہمی میں ایک مستحکم سد حائل ہے۔ قرآن حکیم کی طرز بیان اور طریق بحث کو سلف صالحین میں امام محمد بن جریر طبری خوب سمجھتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس فن (قرآن فہمی) کے ماہرین وحذاق اردو میں اس طریق بحث کی ترویج واشاعت کریں۔ تا کہ قرآن فہمی میں ممد ثابت ہو۔ جس طرح کہ فرانسیسی اور انگریزی طرز ادا کے خاکے اردو میں اڑائے جارہے ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب ”اللمعۃ فی تفسیر سورۃ الجمعۃ“ میں اسی طرز بحث کو ملحوظ رکھا ہے اور مقالہ ہذا میں ہم نے سورۂ اعراف کا تتبع کیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ تمام خیالات قارئین کرام کو مستحضر ہو جائیں۔ تا کہ ٢
وہ بآسانی دوسروں کو تبلیغ کر سکیں۔ وجہ جائے۔ پھر ابتداء سے انتہاء تک مضمون ہے کہ جتنا حصہ سامنے ہے۔ اگر فقط اس یہی حال قرآن حکیم کا ہے۔ اس کی ہر فلاح کا ضامن۔ دارفانی اور عقبیٰ کی بھ بحث ہورہی ہے وہ اسی وقت سمجھ آئے اطراف وجوانب پر ارشاد ’’ ورتل ال نے ”الناموس المفصل فی تفس فضل الله علینا وعلى الناس و ب ....... نیز یہ بھی عرض میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر تیار کر سے مغالطے تیار کئے ہیں۔ جن کی ت جوابات میاں پیر بخش صاحب مرحوم ( حضرات کی کتابوں میں تفصیلاً مذکور ابطال“ ہے۔ اس لئے ہم نے اسی قا واضح رہے کہ حضرات اہل تردید کی۔ ان میں سے کسی نے آج تک کی طرح خانہ ساز نبوت کا رچانے والا سربستہ سے پردہ اٹھانا ہے۔ جس کو ہم وكم ق
مقصد
بہ خدا کہ
قادیانی نبوت ، دجل و ف طلسم ہے۔ جہاں پہنچ کر دنیائے
وہ بآسانی دوسروں کو تبلیغ کر سکیں۔ وجہ یہ کہ اس طریق بحث میں جب تک مضمون کو مکرر نہ پڑھ لیا جائے۔ پھر ابتداء سے انتہاء تک مضمون مستحضر نہ ہو۔ انسان مغز سخن تک نہیں پہنچ سکتا۔ پھر لطف یہ ہے کہ جتنا حصہ سامنے ہے۔ اگر فقط اسی کو لیا جائے تو بھی جزوی طور پر مفید اور فائدہ رساں ہے۔ یہی حال قرآن حکیم کا ہے۔ اس کی ہر آیت اور ہر جملہ موجب رشد و ہدایت ہے۔ دین و دنیا کی فلاح کا ضامن۔ دار فانی اور عقبیٰ کی بہبود و سرفرازی کا کفیل ہے۔ مگر جس موضوع پر کسی سورت میں بحث ہو رہی ہے وہ اسی وقت سمجھ آئے گا۔ جب آپ نہایت غور اور تدبر سے تمام سورت کے اطراف و جوانب پر ارشاد ”ورتل القرآن ترتیلا“ کے تحت غور و خوض کریں گے۔ اس کو ہم نے ”الناموس المفصل فی تفسیر سورۃ المزمل“ میں خوب حل کیا ہے۔ ”وذلك من فضل الله علينا وعلى الناس ولكن اكثر الناس لا يعلمون“
- ب ...... نیز یہ بھی عرض کر دینا ضروری ہے کہ خلق خدا کو گمراہ کرنے کے لئے کشمیر
میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر تیار کرنے کے سلسلے میں مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں نے بہت سے مغالطے تیار کئے ہیں۔ جن کی تعداد دس سے زائد ہے۔ ان گمراہ کن مغالطوں کے تفصیلی جوابات میاں پیر بخش صاحب مرحوم (لاہور) اور مکرم مولوی حبیب اللہ صاحب (امرتسری) وغیرہ حضرات کی کتابوں میں تفصیلاً مذکور ہیں۔ ہمارا موضوع سخن چونکہ ”یوذ آسف متنبّی کی نبوت کا ابطال“ ہے۔ اس لئے ہم نے اسی قادیانی خبط عشواء کو لیا جو موضوع سے متعلق تھا۔
واضح رہے کہ حضرات اہل اسلام میں سے جن اہل علم نے قبر مسیح کے متعلق مرزا قادیانی کی تردید کی۔ ان میں سے کسی نے آج تک اس حقیقت کو الم نشرح نہیں کیا کہ یوذ آسف بھی مرزا قادیانی کی طرح خانہ ساز نبوت کا رچانے والا ”متنبّی“ گزرا ہے۔ ہمارے اس مقالے کا لب لباب اسی راز سربستہ سے پردہ اٹھانا ہے۔ جس کو ہم ایک نہایت اہم علمی انکشاف سے تعبیر کرتے ہیں۔
تو بہ خویشتن چہ کردی کہ بما کنی نظیرے
بہ خدا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن
قادیانی نبوت، دجل و زور، تلبیسات و مکائد، دسیسات و مغالطات کا کچھ ایسا ہوش ربا طلسم ہے۔ جہاں پہنچ کر دنیائے عقل و خرد کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ اس کے تمام تر دعاوی،
غلط بیہودہ اور دلائل یکسر بے سروپا تخمین جہل و نا واقعی کا بدترین مظاہرہ ہیں۔ جس حصہ کو دیکھئے عجیب و غریب خرافات کا مرقع پیش کرتا ہے۔ بات کا بتنگڑ بنانا یہاں بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ خیالات واہیہ پر ہوائی قلعے تعمیر کرنا یہاں شب و روز کا خوش کن مشغلہ ہے۔
باقی تمام مباحث کو چھوڑ کر فقط یوذآسف کو لیجئے اور انصاف سے کہئے کہ مرزا قادیانی نے یہاں کیا کیا گل کھلائے ہیں اور ایک خود ساختہ الہامات سے کام چلانے والے شخص کو اس تاریخی مسئلہ میں کیا کیا دقتیں اور ناکامیاں پیش آئی ہیں۔
مرزا قادیانی کو مسیح موعود بننے کا سودائے خام سر میں سمایا۔ یہ ایک پادر ہوا خیال تھا۔ اس پر آپ نے بے شمار خیالی اور وہمی قلعے استوار کئے۔
- الف ...... سب سے پہلے آپ نے حضرت مسیح ابن مریم صدیقہ علیہا السلام کی وفات
کا غیر اسلامی عقیدہ گھڑا اور اس کے متعلق تمام تر اسلامی تصریحات کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کی بارگاہ میں سوائے وحی قرآنی اور وحی قادیانی کے اسلامی تعلیمات علیٰ الخصوص احادیث صحیحہ کا ذخیرہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے قابل ہے۔
مگر یہ خیال نہ آیا کہ انکار حدیث درحقیقت تمام شرائع اسلامیہ کی صورت کذائیہ متواترہ کا انکار ہے۔ بلکہ خود ختم المرسلین ﷺ کی بعثت سے ہاتھ دھونا ہے۔
انکار حدیث در حقیقت ضرورت نبوت کا انکار ہے
حافظ ابنِ قیمؒ نے ”الجیوش المرسلۃ“ میں بسط سے لکھا ہے کہ اسلامی تعلیم کے حصہ عقائد (مسئلہ اسماء وصفات، توحید، بعث ونشور وغیرہ) پر کتاب مجید (اور سنت صحیحہ) نے اس قدر تفصیل اور وضاحت سے بحث کی ہے کہ خیر القرون کے افاضل نامدار (صحابہ کرامؓ) کو اس کے متعلق کبھی کوئی اشتباہ و استنکار نہیں ہوا۔ پھر لطف یہ ہے کہ اہل ہویٰ نے (مرزا قادیانی کی طرح) ہمیشہ اسی حصہ کو تختہ مشق بنایا۔ اسی حصہ میں خلاف و شقاق کی وجہ سے بے شمار مبتدع فرقے پیدا ہوئے۔ جن میں سے ہر ایک دوسرے کی تکفیر کرتا ہے۔ (امام ابو منصور عبدالقاہر تمیمی بغدادی کتاب الفرق ص٢٤٩) میں لکھتے ہیں۔ ”وأهل الاهواء الضالة من القدرية والخوارج والروافض والنجارية والجهمية والمجسمة والمشبهة ومن جرى مجرا، ومن فرق الضلال يكفر بعضهم بعضا واما الانواع التى اختلفت فيها ائمة الفقه واهل السنة من
٤
فریقی الرای والحدیث من فروع فی مابینهم تکفیر وتضلیل “ مشہد وغیرہ اہل ضلال میں سے ہر ایک دوس میں اہل سنت کے فقہاء (اہل حدیث اور ہے۔ مگر وہاں وہ فرقے ایک دوسرے کی تکف
البتہ تعلیم اسلام کا حصہ اعمال الہی میں مجمل ہے۔ جس کی تفصیل اسوہ حسنہ خود متواتر اور قطعی الثبوت ہے۔ اسی طرح وہ حصہ ہے جس کے متعلق صحابہ کرامؓ کے تعبیر ہوئے ہیں۔ یہی تفصیل و تفسیر ہے جس فرمایا۔ یعنی مجھے قرآن مجید کے ساتھ ایک میں قرآن حکیم کے ہمپایہ ہے۔ حضور سر احادیث صحیحہ سے کی جاتی ہے۔
بنابریں اگر احادیث صحیحہ کا ا رد کر چکے ہیں۔ پھر حصہ اعمال سے یہ ث کتاب مجید ) مبعوث ہوا ہی نہیں۔ بلکہ فقط اتنا کافی ہے کہ کوئی دستاویز (مثلاً ) حسب مرضی و منشاء خود اس پر عمل کرتے کتاب میں ادھر لطیف اشارے کئے ہیں
حضرت شیخ الاسلام مولانا اہم کتابیں لکھ کر امت محمدیہ پر احسان التصریح فی نزول المسیح ہے۔ من شاء ف
- ٢ ...... مذکورہ بالا عقید
حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی قبر ک کہیں قریب تاکہ عقل کے اندھے اور
فریقی الرأی والحدیث من فروع الاحکام فی ابواب الحلال والحرام فلیس فی مابینهم تکفیر وتضلیل “ گمراہ اہل ہواء جیسے معتزلہ، خوارج روافض، نجاریہ، جہمیہ، مشبهہ وغیرہ اہل ضلال میں سے ہر ایک دوسرے کی تکفیر کرتا ہے۔ گو فروعی احکام از قبیل حلال و حرام میں اہل سنت کے فقہاء (اہل حدیث اور اہل رائے یعنی فقہ حجاز وفقہ عراق) کا بھی اختلاف ہوا ہے، مگر وہاں وہ فرقے ایک دوسرے کی تکفیر و تضلیل نہیں کرتے۔
البتہ تعلیم اسلام کا حصہ اعمال (صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ، حج وغیرہ شرائع و احکام) کتاب الہی میں مجمل ہے۔ جس کی تفصیل اسوۂ ختم المرسلین ﷺ سے معلوم ہوئی۔ جس طرح یہ حصہ بذات خود متواتر اور قطعی الثبوت ہے۔ اسی طرح اس اجمال کی تفصیل و تفسیر بھی قطعی اور متواتر ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جس کے متعلق صحابہ کرامؓ کے استفسارات موجود ہیں اور قرآن حکیم میں یسئلونک سے تعبیر ہوئے ہیں۔ یہی تفصیل و تفسیر ہے جس کو حضور ختم المرسلین نے ”و مثله معه“ سے تعبیر فرمایا۔ یعنی مجھے قرآن مجید کے ساتھ ایک دوسری چیز بھی عطاء ہوئی جو قطعی اور واجب العمل ہونے میں قرآن حکیم کے ہمپایہ ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کا یہی اسوۂ حسنہ ہے جس کی دوسری تعبیر احادیث صحیحہ سے کی جاتی ہے۔
بنابریں اگر احادیث صحیحہ کا انکار کیا جائے (اور چونکہ مبتدعین ملاحدہ حصہ عقائد کو پہلے رد کر چکے ہیں۔ پھر حصہ اعمال سے یہ سلوک ہو) تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی شارح (شارح کتاب مجید) مبعوث ہوا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ نبوت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔ فقط اتنا کافی ہے کہ کوئی دستاویز (مثلاً) عرش مجید سے لٹکا دی جائے اور مکلفین خود بہ خود پڑھ کر حسب مرضی و منشاء خود اس پر عمل کرتے جائیں۔ ”امام ابو منصور بغدادی“ نے اپنی کتاب میں ادھر لطیف اشارے کئے ہیں۔ ”ولیس هذا موضع التفصيل “
حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ محمد انور قدس سرہ نے حیات اور نزول مسیح کے متعلق دو اہم کتابیں لکھ کر امت محمدیہ پر احسان عظیم کیا ہے۔ اول کا نام عقیدة الاسلام اور دوسری کا نام التصریح فی نزول المسیح ہے۔ من شاء فلیرجع الیهما!
٢...... مذکورہ بالا عقیدہ فاسدہ کی اختراع کے بعد مرزا قادیانی کو معاً خیال آیا کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی قبر بھی کہیں متعین کر لی جائے۔ تاکہ وفات یقینی ہو۔ پھر ہو بھی کہیں قریب تاکہ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے مریدوں سے علانیہ کہا جاسکے کہ یہ ہے۔
٥
اس مسیح کی قبر جس کی انتظار مدت سے ہو رہی ہے۔ معاملہ ذرا پیچدار تھا۔ تراشیدہ الہامات کے دائرہ سے نکل کر واقعات وحقائق، محسوسات وشواہد سے تعلق رکھتا تھا۔ بنابریں مرزا قادیانی کو اس کی سرانجام دہی کے لئے بہت کچھ جوڑ توڑ کرنا پڑا۔ جس کی دلچسپ داستان (مشتے از خروار) ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔
الف ...... مرزا قادیانی اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان“ میں لکھتے ہیں۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے۔ اس ارادے سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے۔ پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں تو قریباً اسی کوس یعنی (١٤٠) میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سوکوس کا فاصلہ ہے۔ لیکن حضرت مسیح نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا۔ (یہی قادیانی اردو ہے جس کے متعلق مرزا محمود کہتے ہیں۔ مرزائی نوجوانوں کو اردو نویسی مرزا قادیانی کی کتابوں سے سیکھنی چاہئے۔ مرزا قادیانی نے اردو کی بڑی خدمت کی ہے) تا اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں جو افغان تھے۔ فیضیاب ہو جائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے۔ اس لئے کشمیر میں آکر بہ آسانی تبت میں جاسکتے تھے اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں۔ ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔ سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں۔ یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا۔ پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے۔ اس لئے یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے۔ اخیر مارچ یا اپریل کی ابتداء میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلاد شام سے بالکل مشابہ ہے۔ اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کرلی ہوگی اور ساتھ ہی یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں رہے ہوں گے (قادیان فرمایا ہوتا) اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔“
(مسیح ہندوستان ص ٦٩، ٧٠ ، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)
٦
حضرات! یہ ہے وہ برہان قاطع اور حجت ساطع۔ جس کے بل بوتے پر مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں تیار کرنے والے ہیں۔ جناب والا کی جغرافیہ دانی کا صدق دل سے اعتراف مگر یہ تو بتایا ہوتا کہ بلاد شام سے بلاد ھند کی طرف حضرت مسیح کی ہجرت کا ذکر آپ نے کس ”پرانی تاریخ“ میں دیکھا؟ اس کا مصنف کون ہے۔ کب لکھی گئی؟ محل نزاع میں ضروری تھا کہ آپ ان تاریخوں کی عبارتیں بمعہ صفحات نقل کرتے تاکہ آپ کی صداقت واضح ہوتی۔
پھر جناب کے مذکورہ ذیل الفاظ بھی اپنے اندر حقانیت کی کچھ کم کشش نہیں رکھتے۔ جھوٹے ہمیشہ اسی قسم کے الفاظ کے مستحق ہیں۔ ”سفر کیا ہوگا، گئے ہوں گے، یقینی امر ہے، ٹھہرے ہوں گے، کوچ کیا ہوگا، یقینی ہے سکونت اختیار کی ہوگی، رہے ہوں گے۔“
اصل یہ ہے کہ وہمیات و وساوس کو وحی و الہام قرار دینے والے حضرات کا ہمیشہ یہی وتیرہ رہا ہے کہ وہ واقعات وحقائق کے میدان میں اسی طرح سپر انداز ہوا کرتے ہیں۔ پھر اگر کسی نے ان کو ان کی غلطی پر سرزنش کی تو وہ یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ محجوب ہماری حقیقت کو کیا سمجھیں۔
بہتر ہوتا کہ مرزا قادیانی بجائے تاریخی ثبوت کی کلفت بے جا کے اپنے قدیم شیوہ و انداز کے مطابق فقط اتنا کہہ دیتے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ مجھے مکرر وحی ہوئی ہے اور بار بار بذریعہ الہام اطلاع دی گئی ہے۔ (جس کی تسلیم مجھ پر اسی طرح لازم ہے۔ جیسے تورات وانجیل وقرآن کی تسلیم) کہ حضرت مسیح کی قبر سری نگر کشمیر محلہ خانیار میں ہے۔ بس قصہ ختم تھا۔ جب کسی ”ملہم“ کے پاس کار براری کے لئے تراشی تراشائی وحی موجود ہو تو اس کو علمی موشگافیوں کی کیا ضرورت ہے۔ رہی پبلک تو معتقدین اس کو بھی اسی طرح تسلیم کر لیتے۔ جیسے منکوحہ آسمانی، انجام آتھم، مولوی ثناء اللہ صاحب کی موت وغیرہ پیشین گوئیاں۔ منکرین ومکذبین ومشککین ایسی خیال آرائی وافسانہ سازی سے کب متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بھی آنے والے تمام متنبیوں کے لئے سرمہ چشم بصیرت رہے گا اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ (بلکہ ایک مشہور قصبہ کا نام بھی ہے) کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔
علیٰ ہذا القیاس افغانوں میں ایک قوم اور ایک قصبہ کا نام ”موسیٰ خیل“ ہے۔ بنابریں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی یقینی طور پر ادھر آئے ہوں گے۔ نیز افغانوں کا یوسف زئی قبیلہ حضرت یوسف صدیق علیہ السلام کی اولاد ہوگا۔ بقول آپ کے یقینی امر ہے کہ یوسف صدیق مصر سے صوبہ افغانستان
٧
میں آئے ہوں گے۔ جو شاید اس وقت حکومت مصر کا باج گزار ہوگا اور کچھ بعید نہیں کہ آپ نے یہاں شادی کی ہو اور یہ یوسف زئی یوسف کی ہی اولاد ہوں۔ پھر یہی افغان ہیں۔ جن میں سلیمان خیل محمد زئی (شاہ امان اللہ خان اور شاہ نادر خان کی قوم ) اور عمر زئی، عثمان خیل، علی خیل وغیرہ موجود ہیں۔
احادیث صحیحہ کی ظنیات بلکہ موضوعات قرار دینا اور خود سودائے نبوت میں اس قسم کی مضحکہ خیز اور بے سروپا باتیں کہنا۔
تناقض
مرزا قادیانی نے الہام کا دامن چھوڑ کر اس موقع پر بے شمار مصیبتیں اپنے سر لے لیں۔ خود مرزا قادیانی حضرت مسیح کی شادی اور اولاد کے متعلق بدیں الفاظ تصریح کر چکے ہیں اور کوئی اس کی ( مسیح کی ) بیوی بھی نہیں تھی۔ (ریویو جلد اول نمبر ٣ ص ١٢٢) اور ظاہر ہے کہ دنیاوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
(حاشیہ تریاق القلوب ص ٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)
حقیقت حال
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا فسانہ طرازی پر بحث کرنے کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اصل واقعہ بیان کر دیا جائے۔ حضرات ائمہ تفسیر نے آیت ”وجعلنا ابن مریم وامه آية وآويناهما الى ربوة ذات قرار ومعين“ کی تفسیر میں اور (طبری ج ٢ ص ٢٠، ٢١، ابن اثیر ج ١ ص ١٣٥، ابوالفداء ج ١ ص ٣٥، ابن خلدون ج ٢ ص ١٤٦، ابن سعد ج ١ ص ٤٦) نے تصریح کی ہے کہ شاہ ہیرودلیس کے مظالم سے تنگ آکر حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے ہمراہ ملک شام کو چھوڑ کر ملک مصر آگئیں۔ پھر بارہ سال کے بعد مصر سے واپس آکر شہر ناصرہ (از شام) میں اقامت اختیار کی۔ وہاں اٹھارہ سال تک رہے۔ پھر تیس سال کی عمر میں حضرت مسیح کو ان قوموں کی ہدایت کے لئے مامور کیا گیا۔ (پھر تینتیس سال کی عمر میں واقعہ صلیب اور رفع پیش آیا۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٤٥ وجلد نہم ص ٣٨٠) اسی لئے مسیح علیہ السلام کو ناصری بھی کہتے ہیں۔
مصر کے اس سفر ہجرت کے علاوہ حضرت مسیح کا کوئی دوسرا سفر بلاد ہند کی طرف تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ ”ومن ادعى فعليه البيان وليجلب على ذالك بخيله ورجله“
٨
ب ...... اتفاقات روزگار سے کہیں کتاب اکمال الدین (مصنفہ علامہ ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ رافضی القمی المتوفی س ٣٨١ مطبوعہ ایران ١٣٠١ھ) مرزا قادیانی کے ہاتھ لگی۔ بس کیا تھا۔ آپ نے وہ وہ کرشمے دکھائے کہ توبہ ہی بھلی۔ کتاب مذکور کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا کہ ہزار برس سے زیادہ کی تصنیف ہے۔ (ریویو ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٩ ج ٢ ش ٩ ، تحفہ گولڑویہ ص ٩٨، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠) حکیم خدا بخش مرزائی نے (عسل مصفیٰ ص ٥٨٥) میں ایک قدم آگے بڑھا کر کہا۔ کتاب اکمال الدین گیارہ سو سال کی تصنیف ہے۔ (نہ کم نہ زیادہ)
مرزا قادیانی کی غلط بیانی
علامہ ابو جعفر بن بابویہ کا ترجمہ شیعہ کے مشہور عالم ابو العباس احمد بن علی نجاشی (شاگرد ابو جعفر مذکور) نے اپنی کتاب (الرجال ص ٢٧٦) میں بسط سے ذکر کیا ہے۔ آخر میں لکھا ہے کہ علامہ کا انتقال ٣٨١ھ میں شہر رے میں ہوا۔ ناظرین! ستمبر ١٩٠٣ء کو گزرے آج تیس سال ہو چکے ہیں اور علامہ ابن بابویہ کے انتقال کو آج تقریباً نو سو اکہتر سال ہوتے ہیں۔ ان میں سے مذکورہ بالا
١؎ معلوم ہوا کہ لفظ رافضی کو پنجاب کے بعض اہل تشیع ناپسند کرتے ہیں۔ چنانچہ انجمن اصغریہ پنجاب (لاہور) کی طرف سے روزنامہ آزاد میں من جملہ اور باتوں کے یہ جملہ بھی شائع ہوا ہے۔ فرقہ شیعہ نے کبھی بھی رافضی کے نام کو اپنے لئے پسند نہیں کیا۔ (آزاد ٢٣ ستمبر ص٢) لیکن اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو یہ دعویٰ ناواقفیت کی دلیل ہے۔ روضہ کافی ص ١٦ کی روایت ذیل کی طرف اگر توجہ کی جائے تو یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ شیعہ مذہب میں کتاب کافی (اصول و فروع) کی حیثیت بہت ہی ارفع ہے۔ تصنیف کے بعد جب یہ کتاب حضرت امام غائب کے سامنے (بقول حضرات شیعہ) پیش کی گئی تو آپ نے اس پر لکھا۔ ”ھذا کاف لشیعتنا“ یہ کتاب ہمارے شیعہ کے لئے کافی ہے۔
روایت مذکورہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو بصیر فرماتے ہیں۔ میں نے حضرت امام جعفر صادقؓ سے عرض کی کہ غیر شیعہ لوگ ہمیں رافضی کہہ کر ستاتے ہیں۔ حضرت امام نے فرمایا لفظ رافضی ہمارے محبین کے لئے کوئی برا لقب نہیں۔ بلکہ یہ عطیہ الٰہی ہے جو سب سے پہلے بنی اسرائیل میں ان ستر اشخاص کو بخشا گیا۔ جو فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ چھوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آملے تھے۔ پھر خدا تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام نے ان اشخاص کا یہ لقب تورات میں درج کر دیا۔ بعد ازاں خدا تعالیٰ نے یہ اسم گرامی اتنی مدت کے بعد تمہیں عطاء کیا کہ تم نے شرک ورفض (ترک) کیا۔
(روضہ کافی ص ٢١٦ سطر ٢٤)
٩
تئیس سال تفریق کرنے کے بعد نوسو اکتالیس برس باقی رہیں گے۔ بالفاظ دیگر مرزا قادیانی نے جب کتاب اکمال الدین کے متعلق ہزار برس سے زیادہ کی تصریح کی تو اس وقت کتاب کے مصنف کو انتقال کئے ہوئے نوسو اکتالیس برس ہو چکے تھے۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید حکیم خدا بخش کے اقوال مذکورہ بالا میں کس قدر صداقت ہے۔ اس کے باوجود آپ دعوائے نبوت سے ذرا بھر شرم محسوس نہیں کرتے۔ سعدی نے سچ فرمایا ہے؎
چوں ندانی کہ در سرائے تو کیست
کتاب اکمال الدین کی حیثیت اور اس کا موضوع
اس کتاب کا پورا نام ”اکمال الدین واتمام النعمة في اثبات الغيبة وكشف الحيرة“ ہے۔ کتاب کا موضوع مسئلہ غیبت امام منتظر ہے۔ مسئلہ غیبت ورجعت امام حضرات اہل تشیع کا مشہور عقیدہ ہے۔ جس کا خلاصہ فرقہ اثناء عشریہ (قطعیہ) کے یہاں یہ ہے کہ امام ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری صحیح قول کے مطابق (بہ تصریح ابن خلکان) ٢٥٦ھ کو پیدا ہوئے اور نو سال کی عمر میں ٢٦٥ھ کو شہر سر من رأی کی ایک غار میں والدہ کے دیکھتے دیکھتے گھس گئے۔ پھر اب تک واپس نہیں آئے۔ اخیر زمان میں غار سے نکلیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔
چیستان غیبت میں اختلاف آراء
حضرات اہل تشیع کے تقریباً تمام فرقوں میں مسئلہ غیبت سے دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اکثر فرقے کسی نہ کسی امام کی غیبت ورجعت کے قائل ہیں۔ بقول ابن حزم (کتاب الملل ج ٤ ص ١٧٩) در اصل شیعہ کے تین فرقے ہیں۔ (١) زیدیہ۔ (٢) امامیہ۔ (٣) غالیہ۔
- ......١ زیدیہ میں سے فرقہ جارودیہ کا عقیدہ ہے کہ محمد بن عبداللہ حسنی (نفس
زکیہ ) زندہ ہیں۔ واپس تشریف لائیں گے۔ مقام ”احجار الزیت“ (مدینہ منورہ) میں شہید ہونے والا کوئی دوسرا شخص تھا۔ جس پر ان کی صورت ڈال دی گئی تھی۔ زیدیہ کا ایک دوسرا گروہ محمد بن قاسم حسینی طالقانی کا منتظر ہے۔ جو ایام معتصم باللہ میں قتل ہو چکے۔ ان کا ایک اور گروہ یحییٰ بن عمر حسینی (بغدادی نے کتاب الفرق میں ان کا نام محمد بن عمر دیا ہے) کا منتظر ہے۔ حالانکہ آپ مستعین کے عہد میں محمد بن عبداللہ بن طاہر کے ہاتھوں فوت ہو چکے ہیں۔
١٠
ن باقی رہیں گے۔ بالفاظ دیگر مرزا قادیانی نے سے زیادہ کی تصریح کی تو اس وقت کتاب کے ہو چکے تھے۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ال مذکورہ بالا میں کس قدر صداقت ہے۔ اس نہیں کرتے۔ سعدی نے صحیح فرمایا ہے۔
ورسرائے تو کیست
کا موضوع من واتمام النعمة في اثبات الغيبة امامت امام منتظر ہے۔ مسئلہ غیبت و رجعت امام فرقہ اثناء عشریہ (قطعیہ) کے یہاں یہ ہے کہ ں (بہ تصریح ابن خلکان ) ٢٥٦ھ کو پیدا ہوئے غار میں والدہ کے دیکھتے دیکھتے گھس گئے۔ پھر آئیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔
مسئلہ غیبت سے دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اکثر ہے۔ بقول ابن حزم (کتاب الملل ج ٤ ص ١٧٩) ہے۔ (٣) غالیہ۔ کا عقیدہ ہے کہ محمد بن عبداللہ حسنی (نفس زکیہ ) مدینہ منورہ میں شہید ہوئے تھی۔ زیدیہ کا ایک دوسرا گروہ محمد بن قاسم ہوچکے۔ ان کا ایک اور گروہ یحییٰ بن عمر حسینی ع) کا منتظر ہے۔ حالانکہ آپ متقین کے
- ٢....... امامیہ میں سے فرقہ محمدیہ جارودیہ کی طرح محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ ) کی
غیبت و رجعت کا معتقد ہے۔ باقریہ حضرت امام محمد باقر کی رجعت کے قائل ہیں۔ ناوسیہ امام جعفر صادق کو زندہ مانتے ہیں اور ان کی رجعت کے قائل ہیں۔ یہ خیال ان کے جو شخص جعفر کہلانا تھا۔ وہ درحقیقت جعفر نہ تھا۔ امام جعفر اخیر زمانہ میں تشریف لائیں گے۔ موسویہ امام موسیٰ بن جعفر کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ فوت نہیں ہوئے۔
واپس تشریف لائیں گے۔ اسماعیلیہ کا عقیدہ ہے کہ اسماعیل بن جعفر فوت نہیں ہوئے۔ حالانکہ اہل تاریخ کا اجماع ہے کہ اسماعیل اپنے والد کی حیات میں فوت ہوگئے۔ قطعیہ (ان کو اثنا عشریہ بھی کہتے ہیں) کا عقیدہ ہے کہ امام غائب بارہویں امام محمد بن حسن ہیں۔ امام مذکور کے متعلق پھر اختلاف ہے کہ آپ کب پیدا ہوئے۔ بقول بعض آپ ٢٦٠ھ میں پیدا ہوئے اور اسی سال آپ کے والد ماجد امام حسن عسکری کا انتقال ہوا۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ والد ماجد کی وفات سے ایک عرصہ بعد پیدا ہوئے۔ ایک گروہ کے نزدیک آپ والد مقدس کی حیات میں پیدا ہوئے۔
بعد ازاں جب آپ کا سن چار سال کو پہنچا آپ کے والد نے انتقال کیا اور بعض کے یہاں آٹھ سال کی عمر میں آپ کے والد فوت ہوئے اور نو سال کی روایت گزر چکی ہے۔
نیز اس میں بھی اختلاف ہوا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام آیا نرگس تھا یا صقیل ، یا سوسن ۔
امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم متوفی ٤٥٦ھ کتاب الفصل میں لکھتے ہیں۔ ”ولم يعقب الحسن المذكور لا ذكراً ولا انثى وان هذا المولود لم يخلق قط (ج٤ ص ١٨١)“ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ حضرت امام حسن العسکری امام یازدہم کی کوئی اولاد نہ تھی۔ نہ بیٹا نہ بیٹی اور نام ابوالقاسم محمد پیدا ہی نہیں ہوئے۔
- ٣....... کیسانیہ (اتباع کیسان، مختار بن ابی عبید ) حضرت امام محمد بن حنفیہ کی
غیبت و رجعت کے قائل ہیں۔ بخیال ان کے آپ کوہ رضویٰ (از مدینہ طیبہ ) میں غائب ہو کر مقیم ہیں اور واپس تشریف لائیں گے۔
(دیکھو کتاب الفرق از ص ٢٢ تا ص ٤٧)
امام محمد بن عبدالکریم شہرستانی متوفی ٥٤٨ھ کتاب (الملل ج ١ ص ٢٠٠) میں لکھتے ہیں۔ ”مختار پہلا شخص ہے جس نے مسئلہ غیبت و رجعت امام اختراع کیا۔ پھر (کثیر عزہ) اور سید بن
١١
محمد حمیری نے اپنے مطمع فاسد سے اس کی آب یاری کی۔ تا آنکہ رفتہ رفتہ یہ مسئلہ شیعہ کا مذہبی عقیدہ اور دینی رکن قرار پایا۔“
شہرستانی نے ج ٢ ص ٧ پر غیبت ورجعت کے متعلق شیعہ کے ان گیارہ فرقوں کے اقوال بھی لکھے ہیں۔ جو بجائے حضرت امام حسینؓ کے امام حسن مجتبیٰ اور آپ کی اولاد کی امامت کے قائل ہیں۔ پھر مسئلہ غیبت پر بعض ظریفانہ اخذ بھی کئے ہیں۔
گذشتہ تمام تفصیل سے مقصد یہ ہے کہ مسئلہ غیبت ورجعت ہر چند حضرات اہل تشیع کا مذہبی رکن ہے۔ مگر نہایت ہی دقیق وراء عقل و قیاس حیرت افزا اور بے انتہا نظری خفی، از حد غور و فکر کا محتاج ہے۔ اسی حیرت کے ازالہ کے لئے علامہ ابن بابویہ نے کتاب اکمال الدین فرقہ اثنا عشریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے تصنیف کی مذکورہ بالا حیرت کو مصنف نے خطبہ کتاب میں کھول کر بیان کیا ہے۔ کتاب مذکور میں باسٹھ باب اور تقریباً چار سو صفحات ہیں۔ کتاب کیا ہے۔ اہل تشیع کی عام کتب حدیث کی طرح بے سروپا، عجیب و غریب، روایات موضوعہ کا مجموعہ ہے۔ اس فسانہ ہوشرباء میں مصنف نے حضرت ادریس، حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت یوسف، حضرت مسیح وغیرہ علیہم السلام کی غیبت کے دعویٰ کئے ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ سفر موسیٰ اور ہجرت ابراہیم، جلاوطنی وقید یوسف علیہ السلام کو غیبت قرار دیا ہے اور اس پر غیبت امام منتظر کو قیاس کیا ہے۔ گویا امام منتظر بھی کہیں سفر پر تشریف لے گئے ہیں۔ فیا للعجب!
پھر پچیسویں باب سے اڑتیسویں باب تک وہ نصوص جمع کئے ہیں۔ جو بخیال مصنف، مسئلہ غیبت کے متعلق:
- الف...... قرآن حکیم میں۔
- ب...... اور احادیث مرفوعہ میں موجود ہیں۔
- ج...... بعد ازاں غیبت امام کے متعلق ائمہ اہل بیت ( تا امام حسن عسکری والد منتظر
متوفی ٢٦٠ھ ) کے اقوال جمع کئے ہیں۔ یہ ہر سہ مباحث مصنف کی جدت دماغی اور قوت اختراع کا حیرت افزاء ثبوت ہیں۔ اس اثناء میں مصنف نے بعض معمرین مثلاً ابوالدنیا وغیرہ کے قصے لکھے ہیں۔ لکھتے لکھتے ص ٣١٧ پر مصنف نے حسب ذیل خیالات کا اظہار کیا۔ ” زمانہ گذشتہ میں بھی اہل دین اور اصحاب ورع وزہد میں مخصوص اشخاص کی غیبتیں ثابت ہوئی ہیں۔ جنہوں نے بے بسی اور خوف کے وقت دین کو چھپانا ہی مناسب سمجھا۔ پھر جب امن اور استطاعت دیکھی تو اپنے خیالات کے اظہار میں بھی تامل نہیں کیا۔“
١٢
بس اس تقریب سے ان ملكا من ملوك الهند " عرض یہ تمام فسانہ ہ افراد ) ناقدین کی نگاہ میں مصنف نے یوذ آسف کے حالا سب سے پہلے یوذ اور اس کی بت پرستی کا شغف " وكان الدی الشيطان عداوة الدی وقرب اهل الاوثان و وسجد لاصنامهم، والاستخفاف باهل کے سریر آراء ہونے سے بڑھنے لگی تھی۔ شیطان نے بادشاہ نے زوال سلطنت قرار دیا۔ مگر بت پرستوں اور چاندی کے بت تیار کر رعایا بھی بت پرستی کی طرف اس کے بعد ساتھ ہی، حکیم بلوہر کی یوذ آ نگاہ خورد بین میں غیبت دولت کو وعظ کہنا۔ پھر آخر ص ٥٩ هذا الحديث ماش ووقوعها (اكمال
بس اس تقریب سے فسانہ یوذ آسف کو بدیں الفاظ شروع کیا۔ "قال وقد بلغنی ان ملكا من ملوك الهند" ﴿قال کا فاعل شاید سعید بن جبیر۔ جو ابتداء سند میں مذکور ہے۔﴾ عرض یہ تمام فسانہ محدث کی نظر میں کسی راوی کا بلاغ ہے اور بلاغات (بہ استثنائے چند افراد) ناقدین کی نگاہ میں ہیچ محض ہیں۔ پھر بلاغات رافضہ سے تو پناہ ہی بھلی۔ اسی انداز سے مصنف نے یوذ آسف کے حالات ص ٣٥٩ تک ذکر کئے ہیں۔
سب سے پہلے یوذ آسف کے والد کی سلطنت اور بادشاہ کا لذات دنیاوی میں انہماک اور اس کی بت پرستی کا شغف لکھا ہے۔
"وكان الدين قد نشاء فى ارضه قبل ملكه وكثر اهله فزين له الشيطان عداوة الدين واهله واضر باهل الدين واقصاهم مخافة على ملكه وقرب اهل الاوثان وضع لهم اصناماً من ذهب وفضة وشرفهم وفضلهم وسجد لاصنامهم، فلما رأى الناس ذلك منه سارعوا الى عبادة الاوثان والاستخفاف باهل الدين (اكمال الدين ص ٣١٨)" ﴿اس بادشاہ کی مملکت میں اس کے سریر آراء ہونے سے پیشتر ہی مذہب حق (توحید) کا پرچار ہو چلا تھا اور حق پرستوں کی تعداد بڑھنے لگی تھی۔ شیطان نے بادشاہ کے دل میں حق اور اس کے متبعین کی عداوت ڈال دی۔ چنانچہ بادشاہ نے زوال سلطنت کے خوف سے حق پرستوں کو اذیتیں دینی شروع کیں اور ان کو راندہ درگاہ قرار دیا۔ مگر بت پرستوں کو مقرب بارگاہ بنایا۔ ان کی تعظیم وتکریم شروع کی۔ ان کے لئے سونے اور چاندی کے بت تیار کرائے اور خود جا جا کر ان کے بتوں کے سامنے سجدے کیا کرتا تھا۔ اس پر رعایا بھی بت پرستی کی طرف راغب ہو کر اہل حق کو ذلیل شمار کرنے لگی۔﴾
اس کے بعد یوذ آسف کی ولادت، دنیا کے لذائذ سے اس کی کنارہ کشی اور جوگیوں کا ساتھ، حکیم بلوہر کی یوذ آسف سے ملاقات، شہزادی اور وطن کو چھوڑ کر سفر کرنا (جو مصنف اکمال کی نگاہ خرد بین میں غیبت ہے) پھر کئی سالوں کے بعد سفر سے واپس آ کر بادشاہ مذکور اور اراکین دولت کو وعظ کہنا۔ پھر کشمیر جانا اور لمبی عمر پا کر فوت ہونا اور وہیں مدفون ہونا مذکور ہے۔
آخر ص ٣٥٩ پر (جیسے کسی کی آنکھ کھل جاتی ہے) لکھا ہے۔ "قال المصنف ليس هذا الحديث ماشاء كله من اخبار المعمرين وغيرها مما اعتمد فى امر الغيبة ووقوعها (اكمال الدين ص ٣٥٩)" ﴿معمرین کے متعلق یہ افسانہ اور اسی قسم کے دوسرے
١٣
قصے وغیرہ (خرافات و وہمیات) اس قابل نہیں کہ میں مسئلہ غیبت یا اس کے وقوع کے اثبات میں ان پر اعتماد کر سکوں۔ ؎
مگر مرزا قادیانی ہیں کہ اس خرافات و اباطیل کی پوٹ پر ایمان لاکر یوذ آسف کی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ پھر از خود یوذ آسف کی کتاب کو بہ یک جنبش قلم انجیل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اکمال الدین میں اس کا نام تک نہیں۔ کہیں یوذ آسف اور مسیح کو ایک مانتے ہیں اسی کو کہتے ہیں۔ مدعی سست اور گواہ چست۔
حیرت تو یہ ہے کہ مصنف اکمال غیبت جیسے برخود غلط مسئلے میں اس قصے سے استناد کرنے کا روادار نہیں۔ کیونکہ مسئلہ غیبت و رجعت اہل تشیع کی نگاہ میں شرعی حیثیت رکھتا ہے اور شرعیات میں خرافات سے استناد جائز نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی اسی افسانہ کی بناء پر ایک اہم شرعی ذمہ داری اپنے سر لے کر یوذ آسف کو نبی اور اس کی پوٹھی کو انجیل قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے۔ مصنف اکمال اور مرزا قادیانی کے متعلق علی الترتیب یہی کہنا پڑتا ہے۔
انتہائی کذب یا مغالطہ
اس تمام داستان امیر حمزہ میں جو چیز باوجود کد و جستجو کے نہیں ملتی وہ یہ ہے کہ یوذ آسف مسیح کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل ہے۔ میں نے اس دھن میں کتاب کو الٹ ڈالا۔ ص ٣٧١ سے ٣٧٩ تک مکرر پڑھا۔ مگر بے سود۔ اس پر بھی مرزا قادیانی خوف خدا اور شرم خلق سے بے نیاز ہو کر لکھتے ہیں۔ ”کتاب اکمال الدین، کتاب سوانح یوذ آسف میں صاف لکھا ہے۔ (غالباً ایسا صاف جیسے قادیان کا نام کلام مجید میں) کہ ایک نبی یوذ آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)
یہ سراسر افتراء اور غلط بیانی ہے۔ مرزائیوں کو چاہئے کہ یہ عبارت اکمال الدین میں دکھا کر مرزا قادیانی کا دامن پاک کریں۔ ورنہ توبہ کریں۔
اسی طرح (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٤) کے یہ الفاظ بھی سفید جھوٹ ہیں۔ ”یوذ آسف کی کتاب (اکمال الدین) میں صریح لکھا ہے کہ یوذ آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔“ نیز فرماتے ہیں۔ ”یوذ آسف کے حالات بیان کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں میں بعض ہزار برس سے زیادہ زمانہ کی تصنیف ہیں۔ جیسے کتاب اکمال
١٤
الدین...... اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یوذ آسف نے جو شاہزادہ نبی تھا۔ اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔
(ریویو ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٩، ج ٣ ش ٩)
ناظرین! کتاب اکمال الدین کوئی عنقاء تو ہے نہیں جس تک رسائی ناممکن ہو۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور وغیرہ مقامات میں اس کے کئی نسخے موجود ہیں۔ خدارا کتاب کو دیکھ کر انصاف سے کہئے کہ اس میں یہ جملہ کہاں لکھا ہے کہ یوذ آسف نبی پر انجیل اتری تھی۔ یقین جانئے کہ مرزا قادیانی خدا کے بندوں کو برملا دھوکہ دے رہے ہیں۔
اکمال الدین کی جس عبارت کے پیش نظر یہ مغالطہ تیار کیا گیا۔ اس کا متن ص ٣٥٨ پر یہ الفاظ ذیل ہے۔ " فرجع الوزير وتقدم يوذ آسف امامه حتى بلغ فضاء واسعاً فرفع راسه فراى شجرة عظيمة على عين ماء احسن ما يكون من الشجر واكثرها فرعاً وغصناً واحلا ہا ثمراً وقد اجتمع اليه من الطير ما لا تعد كثرة فسر بذالك المنظر وفرح به وتقدم اليها حتى دنا منها وجعل يعبر فى نفسه ويفسر الشجرة بالبشرى التى دعا اليها وعين الماء بالحكمة والعلم والطير بالناس من الذين يجتمعون اليه ويقبلون منه الدين " (یہ قصہ یوذ آسف کے ترک وطن سے متعلق ہے) وزیر یوذ آسف کو الوداع کہہ کر واپس گیا اور یوذ آسف آگے بڑھا تا آنکہ ایک وسیع میدان میں پہنچا۔ پس اس نے اپنا سر اٹھایا تو سامنے پانی کے ایک چشمہ پر خوبصورت درخت دیکھا جو نہایت شاداب و سرسبز تھا۔ اس کے میوے بے حد شیریں تھے۔ اس درخت پر بے شمار پرندے مجتمع تھے۔ یوذ آسف اس منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور بڑھ کر درخت کے قریب گیا اور خود ہی اپنے دل میں اس منظر کی تعبیر و تفسیر کرنے لگا۔ (جیسے مرزا قادیانی اور چیچی ٹپی) کہ درخت مثال ہے۔ اس خوشخبری (ہدایت) کی جس کی طرف یوذ آسف نے دعوت دی (یا دے گا) اور پانی کا چشمہ علم وحکمت سے کنایہ ہے اور پرندے ان لوگوں سے عبارت ہیں۔ جو یوذ آسف کے پاس مجتمع ہوں گے اور اس سے دین قبول کریں گے۔
مذکورہ بالا عبارت کا لفظ بشریٰ مذکورہ افتراء وزور کا مبدء وحید ہے۔ مرزا قادیانی نے جب یہ سنا کہ لفظ انجیل کے معنی عربی میں بشریٰ کے ہیں تو آپ نے یہ بھی از خود تراش لیا کہ لفظ بشریٰ کے معنی بھی ہر جگہ انجیل کے ہیں۔ لہٰذا عبارت اکمال الدین میں بشریٰ سے مراد انجیل ہی ہے اور یہ نہ سوچا کہ انجیل کے معنی بشریٰ ہوں۔ علیحدہ حقیقت ہے اور بشریٰ کے معنی انجیل ہوں۔
١٥
جداگانہ مسئلہ ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس سے کیا بحث کہ موجبہ کلیہ کا عکس مستوی موجبہ کلیہ نہیں آتا اور موجبہ جزئیہ مفید نہیں اور نہ یہ سمجھا کہ قرآن حکیم باوجودیکہ عربی زبان میں ہے۔ اس نے جب کبھی حضرت مسیح علیہ السلام کی کتاب کا ذکر کیا تو بشریٰ سے نہیں بلکہ انجیل کے نام سے کیا۔ نیز بشریٰ کا لفظ جہاں کہیں کلام مجید میں بلکہ عربی زبان میں مستعمل ہوا ہے۔ اس سے کہیں بھی انجیل مراد نہیں۔ بلکہ خوشخبری (وما یلازمہ) مراد ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی کی قبلہ آمال کتاب اکمال الدین بھی (جس کو آپ نے خواہ مخواہ اپنے دجل و تلبیس کے لئے وحی آسمانی سمجھ رکھا ہے) عربی زبان کی تصنیف ہے۔ اس کی عبارت میں بھی لفظ بشریٰ کے وہی لغوی عربی معنی مراد ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ تمام دلائل اور براہین کو پس پشت ڈال کر حضرت مسیح کو مارنے کے درپے ہیں۔ مگر جس ہستی کی حیات کا اعلان ختم المرسلین فرما چکے ہیں۔ آپ ایسے دلائل سے اس کا ایک بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔
میں تمام مرزائی محرفین کو عام اس سے کہ قادیانی ہوں یا لاہوری۔ چیلنج کرتا ہوں کہ کسی مستند شاعر یا ناثر کا کوئی ایک قول پیش کریں۔ جس میں اس نے بشریٰ سے انجیل مراد لی ہو۔
الارواح جنود مجندة وانكار ختم نبوت
قادیانی نبوت بھی عجیب و غریب کھچڑی ہے۔ اس کی کڑیاں دور دور جا کر ملتی ہیں۔ پھر قدرت کا تماشا دیکھئے کہ ہم مشرب خود بہ خود ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے نظر آتے ہیں۔ انکار ختم نبوت کا مسئلہ مرزا قادیانی میں اور اس گروہ کے اکثر فرق میں قدر مشترک ہے۔ جس کی ترجمانی کتاب اکمال الدین میں ہوئی ہے۔ امام محمد بن عبدالکریم شہرستانی متوفی ٥٤٨ھ کتاب الملل طبع مصر ج ٢ ص ١٥ میں ابومنصور عجلی رافضی کا مذہب بالفاظ ذیل نقل کرتے ہیں۔ ”وزعم ان الرسل لا تنقطع ابداً والرسالة لا تنقطع“ ابومنصور رافضی کا مذہب ہے کہ رسول ہموارہ آتے رہیں گے اور نبوت اور رسالت جاری رہے گی۔
ابوالخطاب محمد بن ابی زینب اسدی، اجدع، رافضی (پیشوائے خطابیہ) کا مذہب ملاحظہ ہو۔ ”ان كل مؤمن يوحى اليه (شهرستاني ج ٢ ص ١٦)“ ہر ایک مومن کو وحی ہوتی ہے۔ نبی اور رسول کی تخصیص نہیں۔
روح ابوالخطاب اور قادیانی
میرے سامنے ایک دو ورقہ اشتہار بنام ”برگزیدہ نبی مسیح موعود“ ہے۔ جس کی پیشانی پر
١٦
احمدیہ فیلوشپ آف یوتھ لاہور کا ٹریکٹ شائع ہوا ہے۔ اشتہار مذکور کے اخیر میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ آپ کی تعلیم پر ہم مگر دل میں پیوست ہو جانے والی صدا
لیجئے ! پہلے فقط مرزا قادیانی قرار دے کر ختم نبوت کو توڑا۔ اب تو ہر ہر لونڈا خود خدا کی سریلی صدائیں لگا نہیں۔ ابوالخطاب کی روح کا اس سخت غلط فہمی ہوئی ہے۔ خود خدا تا الشياطين ليوحون الى ا (الانعام:١١٢) ”درحقیقت شیا .......کرتے ہیں۔ (جسے وہ خدا کا کلام
حضرت شیخ حسین ہندی ا تھے جو اس اشتہار میں درج ہے۔ سورۃ لهم ما بين ايديهم وما خلفهم دیئے ہیں جو انہیں ان کی پس و پیش ہیں۔ (کہ یہ کلام الہی ہے اور خدا کی س
خداوند تعالیٰ معیار نبوت ی يجعل رسالته“ (یعنی نبوت ہوئے کو وحی ہو رہی ہے۔ اس پر کلام ا سن رہا ہے۔ سورہ زخرف میں خدا تعا
”ومن يعش عن ذ شخص خدا تعالیٰ کے ذکر و کلام الہی سے اندھا بنے) ہم اس پر ایک شیطان مسل
علیٰ ہذا القیاس عمار بن
احمدیہ فیلوشپ آف یوتھ لاہور کا ٹریکٹ نمبر ١ لکھا ہوا ہے۔ اشتہار اللہ بخش سٹیم پریس قادیاں سے شائع ہوا ہے۔ اشتہار مذکور کے اخیر میں تحریر ہے۔ ”اگر مرزا قادیانی خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والوں پر خدا کا کلام نازل ہوتا اور خود خدا کی سریلی مگر دل میں پیوست ہو جانے والی صدا کو وہ اپنے کانوں سے سنتے۔“
لیجئے! پہلے فقط مرزا قادیانی کا رونا تھا کہ انہوں نے اپنے وساوس واوہام کو وحی والہام قرار دے کر ختم نبوت کو توڑا۔ اب تو ہر ایک قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھ پر کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اور ہر لونڈا خود خدا کی سریلی صدائیں اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ جبریل امین کی ضرورت ہی باقی نہیں۔ ابوالخطاب کی روح کا اس سے بڑھ کر تصرف کیا ہوسکتا ہے۔ قادیانیوں کو اس بارے میں سخت غلط فہمی ہوئی ہے۔ خود خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ان مقدس الفاظ میں کیا ہے۔ ”ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم (الانعام: ١٢١) ”زخرف القول غروراً (الانعام: ١١٢) ”درحقیقت شیطان اپنے دوستوں کو غلط (صحیح نما) اور دھوکہ دینے والی باتیں ..... کرتے ہیں۔ (جسے وہ خدا کا کلام اور اس کی سریلی صدائیں سمجھتے ہیں)﴿
حضرت شیخ حسین ہندی سے ہم نے سنا کہ آپ آیت ذیل کی تفسیر بعینہ یہی کرتے تھے جو اس اشتہار میں درج ہے۔ سورۃ حم السجدہ میں ارشاد ہے۔ ”وقيضنا لهم قرناء فزينوا لهم مابين ايديهم وما خلفهم “ ﴿ہم نے ان (کفار) پر چند ہم نشین (شیاطین) مسلط کر دیئے ہیں جو انہیں ان کی پس وپیش کی چیزیں (مثلاً خیالات ووساوس) آراستہ کر کے دکھاتے ہیں۔ (کہ یہ کلام الٰہی ہے اور خدا کی سریلی صدائیں ہیں)﴿
خداوند تعالیٰ معیار نبوت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”الله اعلم حيث يجعل رسالته“ (یعنی نبوت کسبی نہیں) مگر قادیان کی خانہ ساز نبوت کے سایہ میں ہر بھٹکے ہوئے کو وحی ہورہی ہے۔ اس پر کلام الٰہی نازل ہورہا ہے۔ وہ خدا کی سریلی صدا اپنے کانوں سے سن رہا ہے۔ سورۃ زخرف میں خدا تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔
”ومن يعش عن ذكر الرحمن نقيض له شيطاناً فهوله قرين “ ﴿جو شخص خدا تعالیٰ کے ذکر وکلام الٰہی کتاب مجید سے غافل ہوکر اعراض کرے (اور خود ساختہ نبوتوں کا پیرو بنے) ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو (ہموارہ) اس کا ہم نشین رہتا ہے۔﴿
علیٰ ہٰذا القیاس مختار بن ابی عبید رافضی مدعی نبوت برائے خود عبداللہ بن سبا رافضی
١٧
مدعی نبوت برائے ذات خود، بیان بن سمعان رافضی مدعی نبوت و نسخ شرع محمدی، مغیرہ بن سعید رافضی مدعی نبوت، غرابیہ (از رافضہ) مدعیان رسالت علی بھی اکمال الدین کے مصنف کے ہم مشرب ہیں۔
ان کے علاوہ ہشام بن عمرو فوطی معتزلی کہا کرتا تھا۔ ”النبوة جزاء على عمل وانها باقية ما بقيت الدنيا (شهرستانی ج ١ ص ٩٣) ” نبوت اعمال صالحہ کی جزاء ہے۔ بنابریں جب تک اعمال صالحہ رہیں گے۔ (تا قیام قیامت) نبوت بھی رہے گی۔ غرض نبوت کسبی چیز ہے۔
مزید براں یزید بن ابی انیسہ خارجی کا عقیدہ ہے۔ ” ان الله سيبعث رسولا من العجم وينزل عليه كتاباً قد كتب فى السماء وينزل عليه جملة واحدة ويترك شريعة محمد ﷺ ويكون على ملة الصابئة المذكورة فى القرآن وليست هي الصابئة الموجودة بحرّان وواسط (شهرستانی ج ١ ص ١٨٣) ”عنقریب خدا تعالیٰ ایک عجمی نژاد رسول مبعوث کرے گا۔ اس کو ایسی کتاب عطاء ہوگی جس کی کتابت (طباعت جلد بندی) آسمانوں پر ہوگی اور وہ ایک بارگی نازل ہوگی۔ (قرآن حکیم کی طرح حسب ضرورت نازل نہیں ہوگی) نبی مذکور، ختم المرسلین کی شریعت کو منسوخ قرار دے گا۔ وہ مذہبًا صابی فرقہ کا پیرو ہوگا۔ جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ نہ وہ صابی جو آج کل حران اور واسط میں موجود ہیں۔
رجع الحدیث
یہاں تک در حقیقت کتاب اکمال الدین کے موضوع اور اس کی حیثیت سے بحث تھی۔ اب اصل مقصد سے بحث آتی ہے جس کے لئے مرزا قادیانی نے اس کتاب کو آڑ بنایا۔
یوز آسف اور مرزا قادیانی
مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لئے ہم نے اس مبحث کو پانچ مرتبوں میں تقسیم کیا ہے۔
مرتبہ اوّل
مرزا قادیانی نے سب سے پہلے یوز آسف کو اپنی طرف سے منصب نبوت عطاء کیا۔ چنانچہ آپ تمام قیود سے آزاد ہو کر نہایت بے تکلفی سے ارشاد فرماتے ہیں۔ مسیح مختلف ملکوں کا سیر کرتا ہوا۔ آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمر وہاں سیر کر کے آخر سری نگر محلہ خانیار میں بعد وفات
١٨
مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوذ آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا اور وہ دور دراز کا سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا وہ باشندہ تھا۔“
(ریویو ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨ ج ٢ ش ٩)
نیز لکھا ہے۔ ”حال ہی میں مسلمانوں کی تالیف چند پرانی کتابیں ملی ہیں۔ جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوذ آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا۔ (اس تلبیس سے فائدہ؟ اکمال الدین ص ٣٥٩ میں تصریح ہے کہ یوذ آسف سولابط سے کشمیر گیا تھا) اور شہزادہ بھی تھا اور کشمیر میں اس نے انتقال کیا اور وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبی ﷺ سے گزرا ہے۔“
(حاشیہ کتاب راز حقیقت ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٦٤)
حالانکہ یہ صریح غلط بیانی یا لاعلمی ہے کہ مسلمان یوذ آسف کو نبی مانتے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کے خیال میں وہ بدھ مذہب کا بت پرست جوگی تھا۔ جس نے جوگ کی بناء پر دعوائے نبوت کیا۔ جیسے امام ابو منصور بغدادیؒ اور ابوریحان بیرونی کی تصریحات آ رہی ہیں اور نہ اکمال الدین میں اس کی نبوت ورسالت کے متعلق کوئی صاف اور صریح جملہ موجود ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے مغالطہ کی غرض سے لکھا اور اگر ہوتا بھی تو کتاب کی حقیقت معلوم۔ ایسے اہم امور کے متعلق اکابر فن کی تصریحات ضروری ہیں۔ نہ کہ داستان امیر حمزہ کے حوالے ۔ کیا یوذ آسف بھی اشتہاری نبی تھا؟ اور نہ یہ گپ موجود ہے کہ یوذ آسف کا عہد ختم المرسلین سے چھ سو سال پہلے ہے۔
مرتبہ دوم
یوذ آسف کو نبوت عطاء کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے ذیل کے دعوے کئے۔
- ١...... یوذ آسف کا زمانہ وہی ہے جو مسیح کا زمانہ ہے۔
- ٢...... جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اسی ملک کا یوذ آسف باشندہ تھا۔
(ریویو ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨ ج ٢ ش ٩)
یہ ہر دو دعوے بھی مرزا قادیانی کی دماغی پیداوار ہیں۔ آپ نے ان کو از خود اس لئے تراشا تا کہ یہ سہولت ثابت کیا جا سکے کہ سری نگر میں یوذ آسف کی قبر یسوع مسیح کی قبر ہے۔ ورنہ یوذ آسف مسیح کی پیدائش سے بہت پہلے گزرا ہے۔ کتاب یوذ آسف، بلوہر، مطبوعہ منشی پریس دہلی ص ٣ پر لکھا ہے۔ بچھون جب یوذ آسف پر ایمان لایا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔
١٩
تاریخ ہند مؤلفہ لتھبرج ص ٣٠ میں ہے۔ گوتم بدھ پانچ سو پچاس سال قبل مسیح پیدا ہوئے اور چار سو ستاسی سال قبل مسیح فوت ہوئے۔
اس سے ثابت ہوا کہ یوز آسف حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی سو سال پہلے گزرا ہے۔
مرتبہ سوم
اصول ارتقاء کے تحت نمبر سوم پر مرزا قادیانی نے کہا۔ یوز آسف کی کتاب اور انجیل کو اکثر مقامات سے ملایا تو دعویٰ ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی۔ (کتاب چشمہ مسیحی ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٠، تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠، ریویو ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨ ج ٢ ش ٩)
تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ یہاں گذارش صرف اس قدر ہے کہ بعض یا اکثر مضامین کے توارد سے دو کتابوں کا ایک ہونا کیوں کر لازم آتا ہے۔ ورنہ ختم المرسلین کی نبوت کی طرح (بہ سلسلہ انکار حدیث) قرآن حکیم سے بھی مرزا قادیانی کو ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ کیونکہ قرآن حکیم کتب سابقہ سماویہ کا مہیمن ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے محل نزاع میں اپنی رائے پیش کی۔ یہ مبحث کوئی قادیانی نبوت نہیں کہ سادہ لوح فریب میں آکر یوں ہی تسلیم کرلیں۔ یہ تاریخ ہے اس کا تعلق حقائق و واقعات سے ہے۔ اس کا ثبوت مرزا قادیانی کے ذمہ ہے۔ مگر آپ ہیں کہ:
مرتبہ چہارم
اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک اور نرالا دعویٰ کیا اور علم الالسنہ اور اس کے فلسفہ پر اپنی شان علمیت کی مہر لگا دی۔ فرماتے ہیں: ”یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا۔ جس کے معنی ہیں۔ یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھا کرنے والا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)
نیز لکھا ہے ”یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع یوز کا بگڑا ہوا ہے۔ (جیسے رینز سے میکڈانلڈ ، رانجی مکندامل سے۔ مؤلف) آسف قوم کو تلاش کرنے والا، چونکہ حضرت عیسیٰ یہودیوں کے گم شدہ فرقوں کو تلاش کرتے کرتے کشمیر پہنچے۔ اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٢٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)
٢٠
شان تناقض
مرزا قادیانی کتاب (تبلیغ رسالت حصہ چہارم ص ٨٧، مقدمہ کتاب البریہ ص٣٠٢، خزائن ج ١٣ص ٢٠، ٢١) پر لکھتے ہیں: ”دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے۔ یعنی یسوع غمگین ۔ آسف اندوہ وغم کو کہتے ہیں۔ چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہوکر اپنے وطن سے نکلے تھے۔ اس لئے اپنے نام کے ساتھ اسف ملا لیا تھا۔“
(نیز دیکھو! کتاب ست بچن حاشیہ ص و، خزائن ج١٠ ص ٣٠٦)
حضرات! ان بے تکی باتوں پر انگشت بدندان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جو خود ساختہ نبوت دوسروں کو بیک جنبش قلم نبوت عطاء کرسکتی ہے۔ اس سے کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح جیسے عالی پایہ نبی کو عربی دانی کی سند بھی دے کر یہ کہہ گزرے کہ نہایت غمگین ہونے کے باعث حضرت مسیح نے اپنا نام آسف رکھ لیا تھا۔ آپ ہی ہیں کہ عیسیٰ خیل افغانوں کو اولاد مسیح ہونے کا زرین تمغہ عطاء کرچکے ہیں۔ اگر حضرت مسیح کو عربی دان قرار دیا یا عربی نژاد قرار دے دیں تو کیا تعجب، غالباً اس زمانہ میں وادی کشمیر کی اصلی زبان عربی ہوگی جو بگڑتے بگڑتے کشمیری زبان بن گئی ۔ (بقول آپ کے) اب بھی کئی الفاظ میں توارد موجود ہے۔
لطیفہ
ناظرین! ان مرزائیوں کی بھی مت پوچھئے۔ ہزاروں میں سے فقط ایک مفتی محمد صادق مرزائی کا لطیفہ سن لیجئے اور سر دھنتے رہئے اور شان اجتہاد کی داد دیجئے۔ فرماتے ہیں ۔ ”پنجابی میں قدیم سے ایک ضرب المثل مشہور چلی آتی ہے ۔ ’ایس گول تے کچھ نہ پھول‘ غالباً مرور زمانہ سے اور اصلیت مثل کے بھولنے سے کول کا لفظ بدل کر گول بن گیا اور اصل یوں تھا ۔ ”ایسو کول“ یعنی یسوع ہمارے پاس ہی ہے۔ پنجاب کے متصل کشمیر میں مدفون ہے۔ لیکن کچھ اس کی بابت کھول کر دریافت نہ کرو۔ کیونکہ یہ امر پردے میں رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع اہل پنجاب کے پاس ہی ہے۔“
(اخبار فاروق ٢٥؍مئی ١٩١٦ء ص ١١)
یہ ہیں وہ براہین قاطعہ، جن پر قادیانی ”نبوت“ اور اس کے شرائع و احکام کی بنیاد ہے۔ مرزا قادیانی نے اگر ایک فسانہ کا سہارا لے کر یوز آسف کو نبی، اور عین مسیح کہا اور اس کی پوتھی اور قبر کو انجیل اور قبر مسیح قرار دیا تو مرید جی نے اپنی مادری زبان (مقدس بانی) سے استدلال کر کے جھٹ سے مسیح کی قبر کشمیر میں تیار کرلی۔
مرتبہ پنجم
اس تمام بے سروپا طومار کو اگل دینے کے بعد مرزا قادیانی حرف مطلب پر آئے اور
٢١
فرمایا۔ ”جوسری نگر میں محلہ خانیار میں یوذ آسف کے نام سے قبر موجود ہے۔ وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“ (راز حقیقت ص٢٠، خزائن ج١٤ ص١٧٢، حقیقت الوحی، مسیح ہندوستان میں، براہین احمدیہ حصہ پنجم، کشف الغطاء، تحفہ گولڑویہ، ست بچن، کشتی نوح، اعجاز احمدی، نور القرآن، ایام الصلح، کتاب البریہ وغیرہ)
دفع دخل مقدرا
اس تصریح کے بعد مرزا قادیانی کو خیال آیا کہ مبادا کسی کتاب میں ہم نے اس کے خلاف بھی کچھ لکھ دیا ہو۔ پھر ممکن ہے کہ کوئی مکذب، مکفر، مہلک، اس کو متعارض غلط بیانی قرار دے کر ہمارے خلاف نفرت پھیلانے لگے۔ اس لئے بطور پیش بندی آپ نے لکھ دی ۔ ”ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا۔ جس سے وہ نکل آئے۔“
(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧، تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٨٧ حاشیہ)
اہل علم سے ہماری استدعا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی اس تاویل کو ان کی عبارت ذیل سے ملا کر پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ خبط عشواء کا اس سے بڑھ کر نمونہ مل سکتا ہے؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا۔ پھر زندہ ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
تنقیح مبحث
گزشتہ تمام مباحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ:
- ١...... حضرت مسیح کشمیر آئے۔
- ٢...... یوذ آسف نبی تھا اور کشمیر گیا۔
- ٣...... اس کی تعلیم حضرت مسیح کی تعلیم سے ملتی جلتی ہے اور اس کی کتاب کا نام بھی انجیل ہے۔
- ٤...... یوذ آسف کا زمانہ اور ملک وہی ہے جو مسیح کا زمانہ اور ملک ہے۔
- ٥...... بنابریں یوذ آسف اور مسیح ایک حقیقت کے دوعنوان اور ایک شخصیت کے دو نام ہیں۔
- ٦...... لہٰذا سری نگر میں یوذ آسف کی قبر بلاشک وشبہ حضرت مسیح کی قبر ہے۔
- ٧...... جب حضرت مسیح کی وفات محقق ہو چکی تو ثابت ہوا کہ ہم ہیں مثیل مسیح موعود۔
٢٢
ناظرین معلوم کر چکے ہیں کہ یہ تمام تر دعاوی خواب ہائے پریشان اور یہ تمام مقدمات ژولیدہ دماغی کی خرافات واہیہ ہیں اور شرائط احتجاج سے یکسر خالی ہیں۔ لہٰذا ان مقدمات کا نتیجہ (مسیحیت مرزا) بھی لغو اور باطل ہے۔
عود الی موضوع البحث
مرزا قادیانی کے ان تمام دعاوی میں اگر کوئی حصہ قابل غور اور جاذب توجہ ہے تو
- (١) صرف یوذ آسف کا نبی ہونا۔ کیونکہ یہ شریعت اسلامیہ کی نظر میں اہم ترین مبحث ہے۔
- (٢) پھر یہ حصہ مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا خیالی تعمیر کے لئے اساس کا حکم رکھتا ہے۔ (٣) اس کے
ساتھ ہی خواجہ محمد اعظم کی تاریخ کشمیر اعظمی جس کو لکھے ہوئے ڈیڑھ سو سال گزر چکا ہے۔ مطبوعہ ١٣٠٣ محمدی پریس لاہور ص ٨٢ پر یوذ آسف کے متعلق لکھا ہے۔ بدر رسالت مردم کشمیر مبعوث شدہ او کشمیر در آمدہ بدعوت خلائق اشتعال نمود، و بعد رحلت در محلہ انزہ مرہ بیاسود۔
لیکن خواجہ محمد اعظم اتنی بڑی شرعی ذمہ داری (کسی کو نبی اور رسول ماننا) کی سند صرف اتنی لکھتے ہیں۔ ”در کتابے از تاریخ دیدہ شد“ یعنی کسی تاریخ کی کتاب میں نظر پڑا تھا کہ یوذ آسف کشمیر کا رسول تھا۔ (کتاب کا نام معلوم نہیں) واضح رہے کہ ایسی مجہول الحقیقت مجہول الاسم تاریخی کتاب سے حقیقی رسالتیں ثابت نہیں ہوا کرتیں۔ البتہ اشتہاری نبوت کے لئے ہر قسم کے راستے کھلے ہیں۔
بغدادی اور یوذ آسف
کتاب ”اکمال الدین“ مرزا قادیانی کے خیال میں ہزار سال سے زیادہ کی تصنیف ہے۔ جس کی حقیقت الم نشرح ہو چکی ہے اور امام ابو منصور عبدالقاہر تمیمی بغدادی شافعی متوفی ٤٢٩ھ کو گزرے ہوئے آج تقریباً نوسو تئیس سال گزرے کو ہیں۔ علامہ ابن بابویہ اور بغدادی میں صرف اڑتالیس سال کا تقدم و تاخر ہے۔ امام مذکور، فقیہ، اصولی، ادیب، علم کلام اور اختلاف المذاہب کا ماہر، استاذ امام ابو اسحاق اسفرائینی کا شاگرد اور ان کے بعد ان کا جانشین، بڑے بڑے ائمہ وقت کا شیخ، امام ابو الحسن اشعری متوفی ٣٢٤ھ کا متبع ہے۔ امام ابو منصور کے حالات تفصیلاً وفیات الاعیان از ابن خلکان، فوات الوفیات از صلاح الدین الکتبی طبقات الشافعیہ الکبریٰ از تاج الدین سبکی میں مذکور ہیں۔
امام ابو منصور کتاب الفرق بین الفرق ص ٣٣٣ پر (اہل السنت والجماعت کے متفقہ عقائد بیان کرتے ہوئے) لکھتے ہیں۔
٢٣
”وقالوا بتكفير كل متنب سواء كان قبل الاسلام كزردشت ويوذ آسف ومانی وديصان ومرقيون ومزدك اوبعده كمسيلمة وسجاح والاسود العنسي وسائر من كان بعد هم من المتنبين“ ﴿اہل سنت نے ہر ایک متنبی کی تکفیر کی۔ خواہ وہ عہد اسلام سے پیش تر گزرا ہو۔ جیسے زردشت، یوذ آسف مانی، دیصان، مرقیون مزدک، یا عہد اسلام کے بعد ہوا ہو۔ جیسے مسیلمہ، سجاح، اسود عنسی وغیرہ متنبیان کذاب۔﴾
نیز بغدادی اپنی کتاب اصول الدین مطبوعہ اسلامبول ص ٣٢٠ پر (ان کفار پر بحث کرتے ہوئے جن سے جزیہ لینا جائز نہیں بلکہ قتل واجب ہے) لکھتے ہیں۔
”والصنف العاشر منهم الذين عبدوا الملائكة وهم فرقتان احداهما قوم من الهند كانوافى زمان یوذ آسف الهندى ثم نقلهم يوذ آسف الى عبادة الاصنام “ ﴿مذکورہ بالا کفار کی قسم دہم وہ لوگ ہیں جو ملائکہ کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کے دو گروہ ہیں۔ اوّل ہندوستانیوں کا فرقہ ہے۔ جو یوذ آسف ہندی کے عہد میں تھا۔ بعد ازاں یوذ آسف نے ان کو ملائکہ پرستی سے ہٹا کر بت پرستی پر لگایا۔﴾
نتیجہ
بغدادی کی مذکورہ بالا دو عبارتیں اپنی شرح آپ ہیں۔ پہلی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ یوذ آسف نے بھی مرزا قادیانی کی طرح ناجائز اور بے جا طور پر نبوت کا دعویٰ کیا جو اہل اسلام کی نظر میں ہر ایک دور کے انداز موجب کفر و الحاد، زندقہ و ارتداد ہے۔ یوذ آسف ہزار مرتاض سہی جوگیوں کی طرح تارک الدنیا سہی۔ لیکن بے جا دعویٰ نبوت اسلام کی نگاہ میں ایسا نا قابل عفو جرم ہے۔ جس میں زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ لیجئے ! جس شخص کو مرزا قادیانی منصب نبوت پر سرفراز فرمارہے تھے۔ وہ ائمہ اسلام کی تصریح کے مطابق مسلم و موحد بھی ثابت نہ ہوا۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہندی متنبیوں کی جستجو میں مرزا قادیانی مہارت رکھتے ہیں۔ ”ولقد صدق صلے الله عليه وسلم الارواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف وما تناكر اختلف“
دوسری عبارت اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ اس میں تصریح ہے کہ ہندوستان میں بت پرستی کا مروج یوذ آسف ہندی (بھی) ہے۔ اس نے ملائکہ کی پرستش کرنے والوں کو بت پرستی کی تعلیم دے کر بت پرستی پر لگایا تھا۔
٢٤
نکتہ
یہ مبحث اصحاب الروحانیات الروحانیات کی ترقی اور عروج کا عہد، ا وزیر معارف (تعلیمات) تھے۔ آذر کی بت پرستی بقول مولانا محمد عبید اللہ سندھی مذہب ہے۔ ان کی مد مقابل حنیف کہلاتی ہے۔ تفصیل بمالا مزید علیہ شہرستانی نے کتاب الملل والنحل ج ٢ ص ٢٠٤، طبع مصر میں کر دی ہے۔ وہاں مزید براں بغدادی کی دوسر نژاد تھا۔ اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کی ط سے سفر کر کے ہندوستان آیا۔ گو مرزا قادی پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ صاحب کی طرف سے آیا تھا۔ کشمیر میں پہنچا۔ بڈھ نبی بھی اور یوذ آسف بھی۔“ مرزائیوں کو صلائے عام ہے سے ثابت کریں کہ یوذ آسف ہندی، بلا تفعلوا فاتقوا النار التي وقوده
البیرونی اور یوذ آسف
علامہ حکیم، ابوریحان، محمد بن آفاق کتاب ”الاثار الباقیہ عن القرون ال ”القول على تواريخ العلمين“ ﴿متنبیان کذاب اور ان کی خدا کی لعنت ہو۔﴾ البیرونی اس بات کی تمہید می طرح متنبیان کذاب بھی آتے رہے۔
نکتہ یہ مبحث اصحاب الروحانیات اور اصحاب الہیاکل کے نام سے مشہور ہے۔ اصحاب الروحانیات کی ترقی اور عروج کا عہد، ابراہیمی عہد ہے۔ جب کہ ان کے والد حکومت وقت کے وزیر معارف (تعلیمات) تھے۔ آذر کی بت گری، بت تراشی کے ہمارے ہاں یہی معنی ہیں۔ حضرت شیخ مہاجر مولانا محمد عبید اللہ سندھی سے بھی یہی معنی منقول ہیں۔ اوّل الذکر مشرب صابیہ کا ہے۔ ان کی مد مقابل حنیف کہلاتی ہے۔ اسی اوّل الذکر سے ہیکل پرستی کی بنیاد پڑی۔ اس بحث کی تفصیل بمالا مزید علیہ شہرستانی نے کتاب الملل والنحل ج ٢ ص ٧٠، ٩٤ ببعد اور البیرونی نے الاثار الباقیہ ص ٢٠٤ ببعد میں کر دی ہے۔ وہاں ملاحظہ ہو۔
مزید براں بغدادی کی دوسری عبارت سے یہ بھی صاف ہو گیا کہ یوذ آسف ہندی نژاد تھا۔ اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کی زاد و بوم (شام) سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں اور نہ وہ شام سے سفر کر کے ہندوستان آیا۔ گو مرزا قادیانی نے نہایت جسارت سے یہ جھوٹ تراشا کہ: ”کشمیر کی پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا۔۔۔۔۔۔ جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ کشمیر میں پہنچا، بڈھا ہو کر فوت ہوا۔ اس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں۔ شہزادہ نبی بھی اور یوذ آسف بھی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠١)
مرزائیوں کو صلائے عام ہے کہ وہ اپنی تمام طاقتیں فراہم کر کے کسی مستند، کشمیر کی تاریخ سے ثابت کریں کہ یوذ آسف ہندی، بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودها الناس والحجارة، اعدت للكافرين“
البیرونی اور یوذ آسف
علامہ حکیم، ابوریحان، محمد بن احمد البیرونی الخوارزمی متوفی ٢ رجب ٤٤٠ھ اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الاثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ میں لکھتے ہیں۔ ”القول على تواريخ المتنبين وامم المخدوعين عليهم لعنت رب العلمین“ (متنبیان کذاب اور ان کی فریب خوردہ امتوں کا بیان ان سب پر (تابع و متبوع پر) خدا کی لعنت ہو۔)
البیرونی اس بات کی تمہید میں لکھتے ہیں۔ جس طرح دنیا میں انبیاء مبعوث ہوئے۔ اسی طرح متنبیان کذاب بھی آتے رہے۔ مذکورہ بالا انبیاء کے ذکر کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ
٢٥
جھوٹے متنبئوں کا تذکرہ بھی کیا جائے۔ بعض تو ان میں سے ایسے بھی گزرے ہیں۔ جنہیں کوئی ماننے والا دستیاب نہیں ہوا۔ اس لئے ان کا ذکر صرف صفحات تاریخ میں باقی ہے اور بعض کو متبعین ملے جن کے طفیل ان کے نام اور ان کے مذہبی رسوم اب تک باقی ہیں۔
واضح رہے کہ ان کے اسماء کے اور تعداد اور حالات کی تفصیل سے ہماری کتاب قاصر ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ چند مشہور متنبئوں کا تذکرہ کر دیا جائے تاکہ عبرت لینے والے عبرت لے سکیں۔
”واول المذكورين منهم يوذ آسف وقد ظهر عند مضى سنة من ملك طهمورث بارض الهند واتى بالكتابة الفارسية ودعا الى ملة الصابئين، فاتبعه خلق كثير“ ﴿تاریخ عالم میں جن متنبئوں کا ذکر ہے۔ ان میں سب سے پہلا شخص یوذ آسف ہے۔ شاہ طہمورث کے سنہ جلوس کے سال دوم میں یہ شخص سرزمین ہند میں (مدعی نبوت ہوکر) نمودار ہوا۔ اس نے یہاں فارسی خط کی ترویج کی اور فرقہ صائبہ کے مذہب کی طرف (ہند میں) دعوت دی اور بہت سے لوگوں نے اس کی دعوت کو قبول کیا۔﴾
فرقہ صائبہ کو ستارہ پرست اور اصحاب روحانیات بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا مرکز دراصل ایران تھا۔ شاہان پیشدادی اور کیانی باشندگان بلخ سیارات کی تقدیس و تعظیم کے معتقد رہے۔ تا آنکہ گشتاسپ کے سنہ جلوس کے تیسویں سال زردشت پیدا ہوا۔ جس نے پرانی بساط لپیٹ کر آتش پرستی اور مجوسیت کی دعوت دی۔ البیرونی، مذہب صائبہ کی توضیح و تحقیق کرتے ہوئے ص ٢٠٥ پر لکھتے ہیں: ”ولهم انبياء كثيرة اكثرهم فلاسفة يونان كهرمس المصرى واغاذ يمون وواليس وفيثاغورس وامثالهم ومنهم من يزعم ان يوذ آسف هو هرمس وقديسمى هرمس بادريس الذى ذكر فى التوراة اخنوخ“ فرقہ صائبہ کے بھی بہت سے انبیاء ہیں۔ جن میں سے اکثر فلاسفہ یونان ہیں۔ جیسے ہرمس مصری، آغاذیمون والیس فیثاغورث، وغیرہ۔ عام طور پر ہرمس کو ادریس کہا جاتا ہے جو تورات میں حنوخ کے نام سے مذکور ہیں اور بقول بعض یوذ آسف اور ہرمس ایک ہیں۔
فرقہ صائبہ کے عقائد اور ان کے مذہبی اصول اور بعض شرائع و احکام بیان کرنے کے بعد البیرونی ص ٢٠٦ پر ہندوستان کی وہ سابقہ مذہبی حالت بدیں الفاظ بیان کرتے ہیں جو یوذ آسف کے ظہور سے پیشتر تھی۔
٢٦
"وكان الناس قبله سكان الجانب الشرقي من والصين والتغز غزو ليسيمو خراسان المتصلة بالهند سے قبل دنیائے (ہند) بت پرست تھے۔ ہندوستان، چین، تغزغز (اتر ان کو شمنان کہتے ہیں۔ خراسان کی مٹے ہوئے نشانات (اور بتوں کے کے بعض عقائد پر بحث کی۔ جس طر
نتیجہ
البیرونی کی تصریحات
- ١...... یوذ آسف دنیائے ہند
- ٢...... اس کے ظہور سے پیشت
- ٣...... اس نے ہندوستانیوں
- ٤...... یوذ آسف صائبہ کے
طرح یزید بن ابی امی مبعوث ہوگا۔ جو خود
تنبیہ
بغدادی اور البیرونی ہر دو یوذ آسف کی تکفیر اور اس کے لعین تھا۔ وبالله الثقة!
المحصول
ان حالات میں آپ مسیح بن مریم علیہ السلام کیوں محنت و سعی پر پانی پھیر دیا۔ جس
”وكان الناس قبل ظهور الشرائع وخروج يوذ آسف شمنيين سكان الجانب الشرقى من الارض وكانو عبدة اوثان وبقاياهم الآن بالهند والصين والتغزغز وليسميهم اهل خراسان شمنان وآثارهم ظاهرة في ثغور خراسان المتصلة بالهند“ احکام الہی کے ظہور سے پیشتر اور یوذآسف کے دعوٰی نبوت سے قبل دنیائے (ہند) بت پرست تھی اور یہ لوگ شمن (بت پرست، غیاث، برہان) کہلاتے تھے۔ ہندوستان، چین، تغزغز (اتروک) میں اب تک ان کے افراد پائے جاتے ہیں۔ خراسانی ان کو شمنان کہتے ہیں۔ خراسان کی ان سرحدوں پر جو ہندوستان سے متصل ہیں۔ اب تک ان کے مٹے ہوئے نشانات (اور بتوں کے مجسمے) ملتے ہیں۔ اس کے بعد البیرونی نے ان بت پرستوں کے بعض عقائد پر بحث کی۔ جس طرح اس سے پیشتر اس نے صائبہ کے عقائد و شرائع لکھے۔
نتیجہ
البیرونی کی تصریحات سے امور ذیل واضح ہوئے۔
- ١...... یوذآسف دنیائے ہند کا سب سے پہلا، متنبی ہے اور وہ ہندی الاصل ہے۔
- ٢...... اس کے ظہور سے پیشتر دنیائے ہند بت پرستی میں مبتلا تھی۔
- ٣...... اس نے ہندوستانیوں کو بت پرستی سے ہٹا کر کواکب پرستی پر لگایا۔
- ٤...... یوذآسف صائبہ کے عقائد کا پیرو تھا اور صابی مذہب کی طرف دعوت دیا کرتا تھا۔ جس
طرح یزید بن ابی انیسہ خارجی پیشین گوئی کر گیا ہے کہ میرے بعد ایک عجمی نژاد نبی مبعوث ہوگا۔ جو خود بھی فرقہ صائبہ کا پیرو ہوگا اور اس کی امت بھی صابی ہوگی۔
تنبیہ
بغدادی اور البیرونی کی تصریحات گو ایک حصہ میں جزوی طور پر بظاہر مختلف ہیں۔ مگر ہر دو یوذآسف کی تکفیر اور اس کے متنبی کذاب ہونے میں متفق ہیں۔ یہی ہمارا دعویٰ اور حقیقی نصب العین تھا۔ وباللّٰہ الثقۃ!
المحصول
ان حالات میں آپ خود فیصلہ کریں کہ یوذآسف، متنبی، ہندی، برگزیدہ بن کر حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کیوں کر ہوسکتا ہے؟ اس تاریخی اہم انکشاف نے مرزا قادیانی کی تمام محنت وسعی پر پانی پھیر دیا۔ جس محنت وتگ و دو کو انہوں نے ان گستاخ الفاظ میں ادا کیا۔
٢٧
”اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کیا کسر رہ گئی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٩، خزائن ج١٧ ص١٠١)
”كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذباً “ یقیناً آپ اس حربے سے حضرت مسیح علیہ السلام کو نہ ”مار“ سکے۔ رہے وفات مسیح کے لئے آپ کے دوسرے حربے۔ سو وہ اس وقت موضوع بحث سے خارج ہے۔
تکمیل
مرزا قادیانی بقول شخصے ”الغريق يتشبث بكل حشيش “ سرگرداں ہیں کہ کس طرح سے حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں تیار کی جائے۔ اس لئے وہ ہر صدا پر کان دھرتے اور ہر سنی سنائی پر ایمان لاتے ہیں۔ انہیں خود بھی معلوم ہے کہ الہام کا دامن چھوڑ کر میں نے ناحق مصیبت اپنے سر لی۔ معاملہ پیچدار ہے اور منزل کٹھن ہے۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ ہمت نہیں ہارتے۔ آپ نے بسلسلہ مسیح ہندوستان میں ایک اور انوکھی دلیل بھی ذکر کی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
”حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے۔ جیسا کہ وہ شائع بھی ہوچکی ہے۔ بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔“ (واہ اردوئے معلّیٰ۔ یہ تو جب ہو کہ انجیل فقط مسیح ہی کی کتاب کا نام ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں) ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو۔ جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔“
(ست بچن ص ز، خزائن ج١٠ ص٣٠٧ حاشیہ)
نیز لکھا ہے۔ ”حال میں جو تبت سے ایک انجیل کسی غار سے برآمد ہوئی ہے۔ جس کو ایک روسی فاضل نے کمال جدوجہد سے چھپوا کر شائع کر دیا ہے...... یہ واقعہ بھی کشمیر کی قبر کے واقعہ پر ایک گواہ ہے۔“
(ایام الصلح ص ١١٨ حاشیہ، خزائن ج١٤ ص٣٥٦)
فيخبطون مائة كذبة
دوسرے موقع پر کہتے ہیں۔ ”پھر دوسرا ماخذ اس تحقیق کا مختلف قوموں کی وہ تاریخی کتابیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی انگریز نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے۔ وہ کتاب میں نے بھی دیکھی ہے اور میرے پاس ہے۔ وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤید ہے۔“
(کشف الغطاء ص ٢٣، خزائن ج١٤ ص٢١١)
٢٨
مرزا قادیانی کی نمک ....... کسی سے انکار نہیں کہ سیاح مذکور کو ق یا بندہ، ماضی قریب میں کسی ل سے مختلف تھا۔ مگر دنیا نے دیک معلوم کس نے لکھی؟ مرزا قاد میں لکھی۔ جیسے پہلے وہ انجیل مومنوں کے ایمان کی حفاظت علامہ ابوریحان ا الفرس كانوا يدينون يختلفون، الى ارتق تفرقوا فى البلاد وق ممن استجاب وس طرفاً واستنبط كل وا واخرج كل واحد م ديصان ان نور الله واصحابهما من جـ الاسباب لانجيل الـ بعدهما مانی تلمیذ فلـ فتنباء وزعم ان الحكـ دون زمن فكان مـ البدالى بلاد الهند و هذا الوحى وجائـ رسول اله الحق الـ المسيح وانه خلـ لاحياء ومقالات كريـ
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا عبارات میں دو باتیں قابل غور ہیں۔
- ١...... کسی روسی سیاح کو تبت کی کسی غار سے کوئی انجیل دفن شدہ ملی۔ ہمیں اس
سے انکار نہیں کہ سیاح مذکور کو کوئی کتاب دفن شدہ ملی ہو گی اور اس نے اس کو انجیل سمجھا ہوگا۔ جویندہ یابندہ، ماضی قریب میں کسی لیڈی کو کہیں سے قرآن حکیم مدفون ملا تھا۔ جو بقول ملحدین اس قرآن سے مختلف تھا۔ مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ شرارت کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ سوال صرف یہ ہے کہ انجیل معلوم کس نے لکھی؟ مرزا قادیانی تو کہہ دیں گے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سفر ہندوستان میں لکھی۔ جیسے پہلے وہ انجیل یوز آسف کے متعلق کہہ چکے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کی واقفیت اور مومنوں کے ایمان کی حفاظت کے لئے ہم انکشافات ذیل پیش کرتے ہیں۔
علامہ ابوریحان البیرونی ”الآثار الباقیہ“ متنبیوں کے باب میں لکھتے ہیں۔ ”ان الفرس کانوا يدينون بما اورده زردشت من المجوسية لا يفترقون فيها ولا يختلفون، الى ارتفاع عيسى وتفرق تلامذته فى الاقطار للدعوة وانهم لما تفرقوا فى البلاد وقع بعضهم الى بلاد الفرس وكان ابن ديصان ومرقيون ممن استجاب وسمعا كلام عيسى واخذا منه طرفاً ومما سمعا من ذردشت طرفاً واستنبط كل واحد من كلا القولين مذهباً يتضمن القول بقدم الاصلين واخرج كل واحد منهما انجيلا نسبه الى المسيح وكذب ماعداه وزعم ابن ديصان ان نور الله قد حل قلبه ۔ ولكن الخلاف لم يبلغ بحيث يخرجهما واصحابهما من جملة النصارى ولم يكن انجيلاهما مبائنين فى جميع الاسباب لانجيل النصارى بل زيادات ونقصان وقع فيهما ثم جاء من بعدهما مانی تلميذ فادرون وكان عرف مذهب المجوس والنصارى والثنوية فتنباء وزعم ان الحكمة والاعمال هى التى لم يزل رسل الله تاتى بها من زمن دون زمن فكان مجيئهم فى بعض القرون على يدى الرسول الذى هو البد الى بلاد الهند وفى بعضها على يدى عيسى الى الارض المغرب ثم نزل هذا الوحى وجائت هذه النبوة فى هذا القرآن الاخير على يدى وانا مانی رسول اله الحق الى ارض بابل وذكر فى انجيله انه الفارقليط الذى بشربه المسيح وانه خاتم النبيين وصنف كتبا كثيرة كانجيله وشابوقان وكنزاً لاحياء ومقالات كثيرة زعم فيها انه بسط مارمز به المسيح وسمعت الاصبهبذ
٢٩
مرزبان بن رستم یحکی ان سابور اخرجه عن مملکته اخذا بما سنه له زرا دشت من نفی المتنبین عن الارض وشرط علیه ان لا یرجع فغاب الی الهند والصین والتبت ودعا هناك ثم رجع فحینئذ اخذ بهرام وقتله لانه نقض الشریطه واباح الدم (ص ١٠٨،١٠٧) تمام ایرانی زردشت کے مذہب (مجوسیت) کے معتقد تھے۔ جس میں ان کا کسی قسم کا اختلاف نہ تھا۔ یہ اتحاد واتفاق برابر رہا۔ تا آنکہ حضرت مسیح کا رفع ہوا اور آپ کے شاگرد تبلیغ کے لئے اطراف عالم میں پھیل گئے۔ اس سلسلہ میں شاگردان مسیح میں سے بعض ایران آئے۔ ابن دیصان اور مرقیون نے دعوت عیسوی کو (بذریعہ شاگردان مسیح) سن کر لبیک کہا اور دعوت مذکور کا کچھ حصہ یاد کر لیا۔ ادھر وہ زردشت کے اقوال سے بھی کچھ لے چکے تھے۔ اس پر انہوں نے زردشت اور مسیح کے اقوال سے ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ جس میں دو قدیم اصل (یزدان واہرمن) تسلیم کر لئے گئے۔ ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک انجیل پیش کی جس کو وہ مسیح کی انجیل بتاتے تھے اور اپنی انجیل کے علاوہ باقی تمام اناجیل کی تکذیب کرتے تھے۔ ابن دیصان کہتا تھا کہ خدا کا نور میرے دل میں گھس آیا ہے۔ ابن دیصان اور مرقیون کا گو نصاریٰ سے اختلاف تھا۔ مگر اتنا کہ وہ ہر دو اور ان کے متبعین نصاریٰ سے شمار نہ ہوں اور ان کی انجیلیں بھی از ہر وجہ نصاریٰ کی انجیلوں سے مختلف نہ تھیں۔ بلکہ ان میں کسی قدر کمی بیشی تھی جو دوسری انجیلوں سے مختلف تھی۔ ابن دیصان اور مرقیون کے بعد مانی شاگرد قادریوں کا عہد آیا۔ یہ شخص مجوس، نصاریٰ اور ثنویہ (دو اصل ماننے والے) کے عقائد سے واقف تھا۔ اس کذاب نے دعوائے نبوت کیا اور کہا کہ تعلیم حکمت واعمال صالحہ کے لئے ہموارہ نبی آتے رہے۔ ایک زمانہ تھا کہ حکمت واعمال صالحہ کی تعلیم سرزمین ہند میں بدھ لایا تھا۔ ایک زمانہ میں ایران میں زردشت نے یہ تعلیم پھیلائی اور اس کے بعد سرزمین مغرب میں حضرت مسیح اس کام کے لئے تشریف لائے۔ بعدہ اس دور آخر میں یہ وحی اور نبوت مجھ عاجز کو ملی اور سرزمین بابل میں میں خدا کا رسول ہوں۔ مانی نے اپنی انجیل میں لکھا کہ حضرت مسیح نے جس فارقلیط کے آنے کی بشارت دی وہ اس عاجز سے عبارت ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے کہا کہ مسیح کا مبشر احمد یہ بندہ ہیچمدان فدوی بارگاہ ہے۔ نیز مانی نے کہا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ مانی نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ جیسے انجیل شاپورگان، کنز الاحیاء ان کے علاوہ بہت سے مقالات لکھے۔ جن میں تصریح کی کہ میں حضرت مسیح کی رموز کا شارح ہوں۔ (تقریباً یہی دعویٰ مرزا قادیانی کا ہے)۔ ﴿
٣٠
البیرونی کہتے ہیں۔ میں ایران سے خارج البلد کر دیا تھا۔ یہ سرزمین میں نہ رہنے دو اور اس سے اور تبت میں مارا مارا پھرتا رہا اور وہاں ازاں وہ ایران آیا۔ اس پر شاہ بہرام
البیرونی کی تصریحات شاگرد دنیا میں پھیل گئے۔ تو ان کی دعو تصنیف ہوئیں۔ انجیل ابن دیصان زمانے میں تبت آیا اور اس نے اپنے کی غار سے برآمدہ مدفون انجیل کی شاگردان مسیح کی یادگار ہے۔ (*) کشف کشف الغطاء میں لکھا کہ رومی ہندوستان آنا ثابت کیا ہے۔ واقعی وہی طریقہ ہے کہ اس نے اصل کتاب اور ان جیسے دوسرے متنبیوں کی خو فرمایا۔ ’’فیخلطون مائۃ کذبۃ‘‘
تذییل
تکفیر بوذ آصف کے ب حضرت مسیح علیہ السلام سے کوئی وع تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں رہتی اور نہ مرشد کی تردید کے بعد مر ایم۔ اے (لاہوری) کی ایک جد جدت کلام الٰہی کی تفسیر میں کی گئی آیات ’’وآویناهما الی ربـ ہیں۔ جس کی داد نہ دینا۔ ایم۔ اے ابن مریم اور ان کی والدہ کو پناہ دی
البیرونی کہتے ہیں۔ میں نے موبذ مرزبان بن رستم کو کہتے سنا کہ شاپور نے مانی کو ایران سے خارج البلد کر دیا تھا۔ یہ اس لئے کہ زروشت نے ان کو حکم دیا تھا کہ کسی متنبّی کو اپنی سرزمین میں نہ رہنے دو اور اس سے عہد لیا کہ واپس نہیں آئے گا۔ چنانچہ مانی ہندوستان اور چین اور تبت میں مارا مارا پھرتا رہا اور وہاں اس نے اپنے خیالات کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دی۔ بعد ازاں وہ ایران آیا۔ اس پر شاہ بہرام نے نقض عہد کے جرم میں اس کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔
البیرونی کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کے رفع کے بعد جب آپ کے شاگرد دنیا میں پھیل گئے۔ تو ان کی دعوت کے بعد علاوہ اس کی اپنی انجیلوں کے کئی ایک اور انجیلیں تصنیف ہوئیں۔ انجیل ابن دیصان، انجیل مرقیون انجیل مانی، نیز واضح ہو کہ مانی جلاوطنی کے زمانے میں تبت آیا اور اس نے اپنے خیالات کی اشاعت کی۔ قرائن صاف بتلارہے ہیں کہ تبت کی غار سے برآمدہ مدفون انجیل کی اگر کوئی حقیقت ہے تو یا تو یہ مانی کی انجیل ہے اور بدرجہ آخر شاگردان مسیح کی یادگار ہے۔ (٢) رہا امر دوم وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے تعارض سے کام لیتے ہوئے کشف الغطاء میں لکھا کہ روسی سیاح نے بدھ مذہب کی کتابوں کی امداد سے حضرت مسیح کا ہندوستان آنا ثابت کیا ہے۔ واقعی اس سیاح نے ایک کتاب لکھی۔ جس کے چودہ باب ہیں۔ یہ وہی طریقہ ہے کہ اس نے اصل کتاب (مدفون شدہ) کے ساتھ لاکھوں جھوٹ اور ملا کر مرزا قادیانی اور ان جیسے دوسرے متبعین کی خدمت کردی۔ حضور خاتم النبیین نے ایسی ہستیوں کے متعلق فرمایا۔ ''فَیَخْلِطُوْنَ مِائَةَ کَذْبَةٍ''
تذییل
تکفیر یوز آسف کے سلسلے میں واضح ہو چکا کہ یوز آسف متنبّی کذاب کو، برگزیدہ نبی حضرت مسیح علیہ السلام سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں اور مرزا قادیانی کے دلائل اس بارے میں تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ اس تفصیل کے بعد انصاف سے کسی نئی کاوش کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ مرشد کی تردید کے بعد مریدان باصفا اہلیت خطاب رکھتے ہیں۔ لیکن مسٹر محمد علی صاحب ایم۔اے (لاہوری) کی ایک جدت رہ رہ کر اپنی طرف عنان توجہ کو کھینچ رہی ہے اور چونکہ مذکورہ جدت کلام الٰہی کی تفسیر میں کی گئی۔ اس لئے مذہبًا بھی اس کی تردید ضروری ہے۔ مسٹر موصوف آیات ”وَآوَیْنَاهُمَا إِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ“ کی تفسیر میں ایک اعجوبہ زمانہ نکتہ لکھتے ہیں۔ جس کی داد نہ دینا۔ ایم۔اے کی ڈگری کا خون کرنا ہے۔ لکھتے ہیں۔ ”یہ کون سی جگہ تھی جہاں ابن مریم اور ان کی والدہ کو پناہ ملی؟ مفسرین کا اس میں بہت اختلاف ہے۔ کوئی اسے فلسطین قرار
٣١
دیتا ہے۔ کوئی بیت المقدس، کوئی دمشق، کوئی مصر۔ مگر سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن شریف کے لفظ ربوہ ، ذات قرار، معین ان میں سے کسی پر بھی صادق نہیں آتے۔ ربوہ چاہتا ہے بلند زمین ہو۔ ( آپ کے دماغ میں ایک خاص قسم کی بلندی جاگزین ہے۔ لہٰذا وہ آپ کو مذکورہ بالا مقامات پر نظر نہیں آتی۔ یعنی چار ہزار فٹ۔ مؤلف) ذات قرار چاہتا ہے کہ ہموار ہو۔ پہاڑ نہ ہو۔ (کشمیر میں شاید آپ کے خیال میں پہاڑوں کا نام بھی نہیں۔ مؤلف) یا بہت پھلوں والی ہو (بہت کے لفظ کا سہارا لے کر آپ مقامات مذکورہ سے میوہ جات کی نفی کر سکتے ہیں۔ یہ چالاکی قابل داد ہے۔ بہت کی مقدار شاید چار ہزار من یا ٹن ہو۔ مؤلف ) ذات معین چاہتا ہے کہ اس سطح زمین پر چشمے اور نہریں بہہ رہی ہوں۔ (تو گویا شام میں نہروں کی وہ خاص مقدار جو آپ نے مقرر کر رکھی ہے موجود نہیں۔ غالباً چار ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔ مؤلف ) ان تمام صفات میں اگر کوئی یکتا قطعۂ زمین ہے تو وہ کشمیر ہے اور دمشق اور مصر تو بہرحال نہیں۔ (وہ کیوں؟ مؤلف) کشمیر کی بلندی چار ہزار فٹ یا اس سے اوپر ہے۔ (ربوہ کے مفہوم میں یہ جدت تحریف قرآن اور زبان عرب پر صریح دست درازی ہے۔ عرب جن کی لغت میں قرآن نازل ہوا۔ اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ پھر یہ بھی بتایا ہوتا کہ ربوہ کا عرض وطول کتنا چاہئے۔ چار ہزار مربع میل؟ مؤلف) پھر یہ ذات قرار ہموار میدان ہونے کے لحاظ سے بھی ہے اور پھلوں والی جگہ ہونے کے لحاظ سے بھی۔ پھر چشمے بھی اس میں اس کثرت سے بہتے ہیں کہ ان کی نظیر دوسری جگہ نہیں۔ (پھر قادیان کے قریب ہے۔ نیز روایتی پچاس الماریوں والی یا جبروت حکومت کے زیر نگین ہے۔ جس کو بقول کسے، اگر حکومت سفید فام لوگوں کے لئے نو آبادی بنانے کی فکر میں ہے تو آپ اور قادیانی اس کو ارض موعود بنانے کے در پے ہیں۔ مسٹر کالون اس نکتہ دقیقہ کو غالباً سمجھ چکے ہیں کہ ہر خود ساختہ نبی کے لئے بھی ارض موعود کا ہونا ضروری ہے۔ یادرہے کہ غلام جب تک آقا کے مقاصد میں اس کا ہاتھ بٹاتا رہے محبوب ہے۔ وفادار ہے۔ لیکن جب اس نے انباز ہونے کا سودائے خام دماغ میں لایا ، فنا ہوا۔ روسیاہ ہوا۔
ربوہ اور انجیل
مفسرین کرام کا آپ اور آپ کے خفیہ اور ظاہری معتقدین شوق سے مضحکہ اڑایا کریں۔ مگر حیرت ہے کہ انجیل کی تفصیلات ذیل آپ کے یہاں کیوں درخور اعتنا نہیں۔ گلیل کے علاقہ میں ایک شہر ناصرہ تھا۔ جو دراصل پہاڑی پر بستا تھا۔ (لوقا باب :٤، آیت:٢٩) اس جگہ کو مریم مقدسہ نے مصر سے واپس آکر اپنا جائے قرار بنایا۔ (یوحنا باب:١، آیت:٦٠) "وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین"
(محمد نورالحق العلوی، بازار حکیمان لاہور، ١٩؍ اگست ١٩٣٣ء)
٣٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
الشهاب
علی الرجیم الکاذب
یعنی اسلام اور مرزائیت کا تضاد
حضرت مولانا نور الحق علوی
بسم الله الرحمن الرحيم!
الحمد لله الذي من اتبع ما انزله ساد ونبل ومن خالف كتابه وسنة نبيه خاب وخذل والصلوة والسلام على خاتم رسله وصفوة خلقه محمد مخمد نار الضلالة وعلى أله واصحابه الذين اصبحوا ناسخين لظلام الجهالة، ومسترسلين ارسالا الى تصديق الرسالة، فصلى الله عليه وعلى اخوانه من النبيين وعلينا معهم. برحمتك يا ارحم الراحمين . اما بعد!
سلسلۂ ختم نبوت کے متعلق مجلس نثارالعلماء پنجاب کا یہ تیسرا رسالہ ہے۔ رسالہ مجلس کی طرف سے مفت تقسیم کیا جائے گا۔ مقامی حضرات مجلس کے دفتر سے یا مؤلف فقیر عفا اللہ عنہ کے مکان سے طلب کر سکتے ہیں اور بیرونی اصحاب ٹکٹ ارسال کر کے منگوا سکتے ہیں۔ کتاب ہذا کی حقیقی قیمت صرف یہ ہے کہ ہر موافق ومخالف تک اس کی آواز پہنچائی جائے اور گم گشتگان وادی ضلالت کو راہ راست پر لانے کی سعی پیہم کی جائے۔ کتاب کا اصلی نام ”الشہاب الثاقب علی الرجیم الکاذب“ تجویز ہوا۔ مگر عام مسلمانوں کی سہولت کے لئے ٹائٹل پیج (لوح) پر اس کا نام ”اسلام اور مرزائیت کا تضاد“ بھی لکھا گیا۔
خدا تعالیٰ میری ناچیز سعی کو قبولیت بخشے اور جن افراد کی فطرت مسخ نہیں ہوئی ان کو اس سے مستفید ہونے کے مواقع بہم پہنچائے۔ ” وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انیب“ ١؍ ستمبر ١٩٣٣ء، محمد نور الحق العلوی!
سرزمین ہند کی پرآشوب تاریخ کا ہر ورق اور اس کا ہر عنوان اپنے اندر لاکھوں حوصلہ شکن مصائب چھپائے ہوئے ہے۔ افق ہند سے شاید ہی کبھی یہ آفتاب عالمتاب نمودار ہوا ہو اور فرزندان توحید کے لئے لاکھوں لاعلاج تکالیف اپنے ساتھ نہ لایا ہو۔ دشمنان اسلام کے بے پناہ حملوں نے امت مسلمہ میں اتنی سکت نہیں چھوڑی کہ وہ اپنے داخلی معاملات کی اصلاح کی طرف ایک لحظہ بھی متوجہ ہو سکے۔ کہیں آرتی اور اذان پر قتل و قتال اور کفار کی فرائض خداوندی کی بجا آوری میں کھلی دست اندازی، کہیں پلول کے گدھے کے رنگ میں مسلمانوں کے نازک ترین جذبات سے تلعب کھیلیں۔ مسئلہ وزارت کی آڑ میں مسلمانوں کی رہی سہی ہستی کا کلی استیصال، اس سے بڑھ کر بربادیوں کے مشورے اور کیا ہو سکتے ہیں۔ ارکان اسلام کی ادائیگی میں دست اندازیاں۔ عقائد شرعیہ کی اصل الاصول یعنی ناموس رسول پر جگر دوز چرکے لگے۔ حقوق سیاسیہ کی یوں بیدریغ پامالی۔
٢
عجیب و غریب فتاویٰ
آخر الذکر مسئلہ اس وقت ا بنا ہوا ہے۔ مسلمانان ہند نے نہایت تعج السلطنت کشور ہند کے وزراء کی صف م اللہ خان صاحب مرزائی کو مسلمانان ہ انتخاب کے جواز میں جناب مسٹر محمد علی فرماتے ہیں۔ ”احمدی جماعت کے کفر و اور چاروں نے بالاتفاق احمدیوں کو مسل مسلمانوں کو بھی سمجھ آ جاتی۔ مگر افسوس اندازی کر رہے ہیں۔ چار ہائی کورٹوں ن کافر ہونے کا اعلان کرے۔ اگر کسی میں فیصلوں کو بدلوائیں اور پھر احمدیوں کی تکفی مسٹر موصوف کی تائید جناب نے اور نواب زادہ اللہ نواز خان رکن کو چوہدری ظفر اللہ خان کو نہیں جانتا اور نہ کے خلاف پاس ہونے والی قراردادوں پ اگر کسی کے مذہبی عقائد اسے کسی ذمہ دار م خیال میں کوئی سنی، کوئی شیعہ کوئی ہندو کو (٦ ستمبر ١٩٣٣ء) خان بہادر معاف فرمائی کی تفویض سے مانع نہیں ہوتے۔ البتہ محروم کر دیتے ہیں۔
نواب زادہ فرماتے ہیں۔ کہ تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ، قرآن کریم، رسول ا خیال میں اس لحاظ سے چوہدری ظفر اللہ خ (٤ ستمبر ١٩٣٣ء زمیندار) پکے مسلمان کی ہ جو فرضیت صوم کا یا فرضیت زکوٰۃ کا یا فرضیت
عجیب و غریب فتاویٰ
آخر الذکر مسئلہ اس وقت اسلامی ہند کی سطح میں خاص طور پر موجب شورش و اضطراب بنا ہوا ہے۔ مسلمانان ہند نے نہایت تعجب اور سراسیمگی سے اس خبر وحشت اثر کو سنا کہ جناب نائب السلطنت کشور ہند کے وزراء کی صف میں سر فضل حسین صاحب کی سبکدوشی کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب مرزائی کو مسلمانان ہند کا نمائندہ قرار دے کر شامل کیا جانے والا ہے۔ اس انتخاب کے جواز میں جناب مسٹر محمد علی صاحب لاہوری مرزائی (بحوالہ زمیندار ٧ ستمبر ١٩٣٢ء) فرماتے ہیں۔ ”احمدی جماعت کے کفر و اسلام کا سوال اس وقت تک چار ہائی کورٹوں میں آچکا ہے اور چاروں نے بالاتفاق احمدیوں کو مسلمان قرار دیا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس وقت تک خود مسلمانوں کو بھی سمجھ آجاتی۔ مگر افسوس ہے کہ بعض لوگ تعصب سے اندھے ہو کر اسلام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں۔ چار ہائی کورٹوں کے فیصلہ کے بعد کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ احمدیوں کے کافر ہونے کا اعلان کرے۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو انہیں چاہئے کہ پہلے ان چار ہائیکورٹوں کے فیصلوں کو بدلوائیں اور پھر احمدیوں کی تکفیر کا نام لیں۔“
مسٹر موصوف کی تائید جناب خان بہادر عبد العزیز ڈپٹی انسپکٹر جنرل محکمہ سی آئی ڈی نے اور نواب زادہ اللہ نواز خان رکن کونسل نے فرمائی۔ خان بہادر فرماتے ہیں میں ذاتی طور پر چوہدری ظفر اللہ خان کو نہیں جانتا اور نہ مجھے ان سے ملنے کا کبھی اتفاق ہوا ہے۔ چوہدری صاحب کے خلاف پاس ہونے والی قراردادوں کے اسباب و علل محض اسی پر ختم ہیں کہ آپ مرزائی ہیں۔ اگر کسی کے مذہبی عقائد اسے کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز ہونے کے لئے ناقابل بنا دیتے ہیں تو میرے خیال میں کوئی سنی، کوئی شیعہ کوئی ہندو کوئی سکھ بھی کسی عہدہ کا اہل نہیں ہو سکتا۔ (بحوالہ زمیندار ٦ ستمبر ١٩٣٢ء) خان بہادر معاف فرمائیں۔ یہ مغالطہ ہے۔ واقعی بات ہے کہ مذہبی عقائد کسی عہدہ کی تفویض سے مانع نہیں ہوتے۔ البتہ مذہبی عقائد جو صریح کفر ہوں نمائندگی کے حق سے قطعاً محروم کر دیتے ہیں۔
نواب زادہ فرماتے ہیں۔ کتاب مقدس کی رو سے مسلمان کی نہایت آسان اور واضح تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ، قرآن کریم، رسول اللہ کو مانتا ہو اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہو۔ میرے خیال میں اس لحاظ سے چوہدری ظفر اللہ خان اتنا ہی پکا مسلمان ہے جتنی اس سے توقع ہو سکتی ہے۔ (٤ ستمبر ١٩٣٢ء زمیندار) پکے مسلمان کی یہ تعریف بھی عجیب ہے کیا ارشاد ہے۔ اس شخص کے حق میں جو فرضیت صوم کا یا فرضیت زکوٰۃ کا یا فرضیت حج کا یا کسی قطعی نص کا منکر ہے آیا وہ بھی مسلمان ہے۔
٣
حضرت امیر ایدہ اللہ بنصرہ اور قاضی القضاۃ خان بہادر عبدالعزیز با القابہ اور مفتی اعظم جناب نواب زادہ اللہ نواز خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کی ان تصریحات کے بعد کس کافر کو شبہ ہو سکتا ہے کہ قلمدان وزارت کے اہل صرف جناب چوہدری صاحب ہی ہیں۔
محمدی مسلمان اور انگریزی مسلمان
آنے والے مباحث میں ہم بھی ایک ہائیکورٹ کا مفصل ترین ۔ مگر نا قابل اپیل فیصلہ درج کرنے والے ہیں۔ جس کے بارے میں ارشاد ہے۔ ”والله يحكم لا معقب لحکمہ“ (خدا تعالیٰ کا فیصلہ اپیل کی رو سے بالا تر ہے ) ہم بھی مرزائیوں کی ہر دو شاخوں کو انہیں کے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اگر ان میں ہمت ہے تو پہلے اس ہائیکورٹ کا فیصلہ بدلوائیں پھر مسلمانوں کی نمائندگی کے کیف آور خواب دیکھیں۔ اس فیصلہ کی توضیح سن لینے کے بعد امید ہے کہ خان بہادر عبدالعزیز سمجھ سکیں گے کہ بعض مذہبی عقائد ایسے بھی ہیں جو دائرہ اسلام سے قطعاً نکال دیتے ہیں اور مسلمانوں کی مزعومہ نمائندگی پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نیز واضح ہو جائے گا کہ جناب نوابزادہ اللہ نواز خان صاحب نے بھی ضروریات دین کی حقیقت اور ان میں دست اندازی کا حکم نہ سنا اور نہ سمجھا۔ ضروریات دین کے منکر کو علماء اسلام نے قاطبۃ کافر لکھا ہے۔ ہر چند کوئی خشک دعویٰ کرتا پھرے۔
اس فیصلہ کی پوری توضیح وتشریح کے بعد ہمیں مسٹر محمد علی صاحب اور ان کے ہم مشربوں سے استفسار کا حق ہوگا کہ ان کو کون سے ہائی کورٹ پر اعتماد ہے۔ محمدی ہائی کورٹ کے فیصلوں پر ایمان ہے تو آپ محمدی مسلمان کہلانے کے مستحق ہوں گے اور اگر محمدی ہائی کورٹوں کے فیصلوں میں گنجائش نہ دیکھ کر آپ انگریزی کورٹوں کے فیصلوں پر جمے ، تو سمجھئے کہ آپ انگریزی مسلمان ہیں۔ پھر محمدی مسلمانوں کے حقوق میں قطع و برید اور ان کی نمائندگی کا سودائے خام دل سے نکال باہر کیجئے۔
عبرت انگیز بے بسی
فیصلہ مذکورہ کو سپرد قلم کرنے سے پیشتر ہم چاہتے ہیں کہ مرزائیوں کی بے بسی کو ایک تمثیل سے واضح کریں۔ بے بسی مذکور ان کو اپنے مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے ورثہ میں ملی ہے۔ مرزا قادیانی کی ساری عمر مسلمانوں کی تکفیر، ان کو ذریۃ البغایا اور حرامزادے، سور کہتے ہوئے بسر ہوئی۔ آپ ہر مرزائی پر فرض کر گئے کہ وہ کسی مسلمان کے پیچھے ٤
نماز نہ پڑھے۔ ان کے معصوم بچوں تک کی نماز جنازہ نہ ادا کرے۔ غرض متارکۃ المسلمین کی تعلیم میں آپ نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیا۔ جس پر ہر ایک مرزائی عام اس سے کہ لاہوری ہو یا قادیانی پوری پابندی سے اب تک عامل ہے۔ اس وقت جب کہ اقوام کی مسابقت کا بازار گرم ہے اور ہر قوم اپنے حقوق کے تحفظ کے خیال سے شب و روز سعی پیہم میں منہمک ہے۔ فرقہ مرزائیہ کی حالت ایسے ہے جیسے ”از حرم راندہ، و از دیر ماندہ“
سیاسیات ہند کا مستقبل کچھ اس طرح ہوشربا واقع ہوا ہے کہ ہندو اپنی کثرت و دولت اور ادعائے علم کے باوجود مسلم کی اسلامیت اور اس کے شاندار تبلیغی مستقبل سے لرزہ براندام ہے۔ جس کی کڑیاں اور دشوار گرہیں خود بخود یکے بعد دیگرے کھلتی جا رہی ہیں۔ مسلمان جو ہندوستان میں گو آٹھ کروڑ ہے۔ مگر ہندو کا ١/٤ حصہ ہے۔ پھر سود در سود کے شکنجہ میں بری طرح کسا ہوا ہے۔ اپنے مستقبل کے مطالعہ میں الگ مستغرق و پریشان ہے۔ سکھ، جدا حیران ہے۔ گاندھی جی اس غم میں گھلے جا رہے ہیں کہ اگر اچھوت ہاتھ سے نکل گئے تو ہندو دھرم ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے گا۔ اسی پر دوسرے زعماء کو بھی قیاس کیجئے۔ ان حالات میں اگر مرزائی تصویر حیرت بنے لندن کے چوراہے کی خاک، شملہ کے خنک پانی میں حل کر کے سرمہ چشم بنائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
یہی سراسیمگی تھی۔ جس کے پیش نظر چوہدری ظفر اللہ خان نے گول میز کانفرنس کے تیسرے اجلاس (منعقدہ لندن دسمبر ١٩٣٢ء) میں لندن کے چوراہے میں اپنی قادیانیت نوازی اور مسلمانوں کی مزعومہ حمایت کا بھانڈا یوں پھوڑا اس اجلاس کی مطبوعہ روداد کے ص ٣٦ پر یہ تصریحات مندرج ہیں۔ ”وائسرائے کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا اختیار خاص حاصل ہوگا۔“ یعنی اگر ہندوؤں کے مقابلہ میں جو تین چوتھائی اکثریت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی کوئی حق تلفی ہو جو ہندوستان کی آبادی کا ایک چوتھائی ہیں تو وائسرائے اس حق تلفی کا ازالہ اپنے اختیارات خاص سے کر دیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کی رگ قادیانیت اس شق پر بحث کرتے ہوئے پھڑک اٹھی اور آپ نے فرمایا کہ شق مذکور کے الفاظ میں یہ ترمیم ہونی چاہئے کہ محض اقلیتوں کے تحفظ سے کام نہیں چلتا۔ بلکہ وائسرائے کو یہ اختیار از روئے آئین حاصل ہونا چاہئے کہ رعایا کے کسی طبقہ کے مفاد کو گزند پہنچے تو وائسرائے مداخلت کر کے اپنے اختیارات خصوصی سے اس کی روک تھام کر سکیں۔ یعنی قادیانیوں کے تحفظ خصوصی کے سامان بھی مہیا ہونے چاہئیں۔ تاکہ وہ علی الاعلان مسلمانوں کو ذریۃ البغایا کافر کہتے رہیں اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مغلظات سناتے رہیں۔
٥
مجھے یاد آ گیا وہ دو عملی عہد
- الف...... جناب فاروق اعظم کا دور خلافت ہے اور مسلمانوں کی شان کشور کشائی
و معدلت گستری کا آفتاب عالمتاب عین نصف النہار پر پہنچا ہوا ہے اور قریب ہے کہ اس کی کرنیں کفر زار ہند کو بھی منور کر دیں۔ اس وقت ١٥ھ سرحد ہند یعنی بحرین و عمان کے نائب السلطنت حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ اپنے برادر حکم کو اسلامی فوج کا سپہ سالار بنا کر دربار خلافت سے صریح اجازت لئے بغیر بحری راستہ سے ہندوستان کی بحری طاقت اور دوسرے ضروری معاملات کی دیکھ بھال کے لئے روانہ کرتے ہیں۔ حکم یلغار کرتا ہوا ”تھانہ“ (قریب بمبئی) تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ ہراول دستہ دیکھ بھال کے بعد جب بسلامت واپس آتا ہے تو نائب السلطنت نے اس تمام واقعہ کی روداد دربار خلافت میں ارسال کی۔ تا کہ خلیفہ حسن کارگزاری پر خوش ہوں اور شائد ہندوستان پر حملہ کی اجازت دیں۔ اس پر حضرت فاروق اعظمؓ نے لکھا: ”یا اخا ثقیف حملت دوداً علی عود ان رکب غرق وان نجا برق“ ”او ثقفی! تو نے ایک کیڑے کو تنکے پر سوار کر کے سمندر کی موجوں میں دھکیل دیا ہے۔ پس اگر وہ سوار رہا تو ڈوب مرے گا اور اگر بالفرض کہیں کنارے لگ کر بچ گیا تو ساحل پر مارے حیرت کے تلملاتا ہوا دم توڑ دے گا۔“
- ب...... یہی حالت بعینہ فرقہ مرزائی کی ہے۔ جو برطانیہ عظمیٰ کی امپیریل مصالح
کے پیش نظر روایتی پچاس الماریوں کے صدقے موجود ہوا۔ جس کا فرض علاوہ اور ”خدمات جلیلہ“ کے خود ان کے خود ساختہ پیمبر کے ارشاد کی تعمیل میں آنریری طور پر حکومت وقت کی جاسوسی کرنا بھی ہے۔ مرزا قادیانی کے ارشادات ملاحظہ ہوں۔ ”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں...... ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی...... ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ ونشان یہ ہیں۔ (اس کے بعد ان ناکردہ گناہ مسلمانوں کے ناموں کی فہرست ہے جن کے خلاف حکومت کے کان بھرے گئے)“
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
- ج...... خلافت راشدہ اور سلطنت عادلہ کے ماسوا کوئی حکومت بھی ہو۔ خواہ
حکومت جابرہ ہو یا حکومت ضالہ، یا حکومت کافرہ، تاریخ امم وملوک شاہد ہے کہ اس کی بقاء واستحکام کا راز حزب الاختلاف کی نشوونما اور سرپرستی میں مضمر ہے۔ فرعون کی حکومت جابرہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن حکیم نے فرمایا ہے: ”ان فرعون علا فی الارض وجعل اھلھا شیعاً
٦
يستضعف طائفة منهم (بجائے اس کے کہ وہ مشفق ہوتا الٹا اس نے) ان کو مختلف گ برباد کر کے ان کو کمزور و ناتواں
- د...... باب
الاختلاف کی آبیاری کے لئے مسلمانوں کی کثرت اور طاقت ان حالات ما فت سیاسی جماعت ہے۔ پس جس علیحدہ قوم تسلیم کر لیا ہے اور ہند طرح حکومت عالیہ کو اختیار ا قدر عطاء کرے کون ہے جو دم ما کے حقوق پر اس کو مسلط کرنا یا ال داغ ہے۔ یہ تو بعینہ ایسے ہے جی قرار دیا جائے۔ ”جریدہ خلافت“ قیمت دینا چاہتی ہے تو چوہدری ظ انہیں کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
یہ بھی عجیب سرد مہری سے قطع و برید کر کے دیا جانے کے میں شور برپا کر دیں تو بیچارے مرزا بھی عنایت نہ ہو۔ ابھی کل کی بات خان صاحب کے تقرر کی افواہ نے ہند کے وزراء کی صف میں جناب چ
- ھ...... اندریس حا
ابھی حضرت فاروق اعظمؓ سے نقل کر کر تیرنے والا کیڑا ظاہر ہے کہ کسی ط
خلافت ہے اور مسلمانوں کی شان کشور کشائی در پہ پہنچا ہوا ہے اور قریب ہے کہ اس کی کرنیں ہند یعنی بحرین وعمان کے نائب السلطنت اسلامی فوج کا سپہ سالار بنا کر دربار خلافت سے کی بحری طاقت اور دوسرے ضروری معاملات کرتا ہوا ”تھانہ“ (قریب بمبئی) تک پہنچ جاتا سلامت واپس آتا ہے تو نائب السلطنت نے تاکہ خلیفہ حسن کارگزاری پر خوش ہوں اور عمر فاروق اعظم نے لکھا : ”یا اخا ثقیف نجا غرق“ (او ثقفی ! تو نے ایک کیڑے کو پس اگر وہ سوار رہا تو ڈوب مرے گا اور اگر بچ نکلے تو تلملاتا ہوا دم توڑ دے گا۔ کی ہے۔ جو برطانیہ عظمیٰ کی امپیریل مصالح وہ ہوا۔ جس کا فرض علاوہ اور ”خدمات جلیلہ“ خفیہ طور پر حکومت وقت کی جاسوسی کرنا بھی یہ مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج محفوظ رکھے گی...... ایسے لوگوں کے نام معہ مسلمانوں کے ناموں کی فہرست ہے جن کے
(ج٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
معاملہ کے ماسوا کوئی حکومت بھی ہو۔ خواہ تاہم ملوک شاہد ہے کہ اس کی بقاء واستحکام ہے۔ فرعون کی حکومت جابرہ کا نقشہ کھینچتے فی الارض وجعل اهلها شيعاً
يستضعف طائفة منهم " ﴿ قطعی بات ہے کہ فرعون خدا کی سرزمین میں سرکش ہو گیا تھا اور (بجائے اس کے کہ وہ مشفق باپ کی طرح اپنے روحانی فرزندوں اور رعایا میں اتحاد یگانگت کا بیج بوتا الٹا اس نے ) ان کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا۔ جس سے اس کا مقصد رعایا کی وحدت ملیہ کو برباد کر کے ان کو کمزور و ناتواں بنانا تھا۔ ﴾
....... باب الہند (پنجاب) میں سکھوں اور مرزائیوں کی داغ بیل شجرہ حزب الاختلاف کی آبیاری کے لئے ڈالی گئی۔ پنجاب سیاسی حیثیت سے بہت ہی اہم ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کی کثرت اور طاقت کا جواب ان دو جماعتوں کی تشکیل سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا تھا۔
ان حالات ما نحن فیہ میں فیصلہ صاف، بدیہی اور قطعی ہے۔ کیونکہ مرزائی ایک سیاسی جماعت ہے۔ پس جس طرح حکومت عالیہ نے سکھوں کو مراحم خسروانہ سے نواز کر ان کو علیحدہ قوم تسلیم کر لیا ہے اور ہندوؤں، مسلمانوں سے جدا ان کے حقوق کا باب تصنیف ہوا ہے۔ اسی طرح حکومت عالیہ کو اختیارات کلی حاصل ہیں کہ وہ اپنے خصوصی خوان نوال سے مرزائیوں کو جس قدر عطا ء کرے کون ہے جو دم مار سکے۔ لیکن اس جماعت کو مسلمانوں کے سر منڈھنا اور مسلمانوں کے حقوق پر اس کو مسلط کرنا یا ان کی نمائندگی کے حقوق اس کے تفویض کرنا دامن معدلت پر بدنما داغ ہے۔ یہ تو بعینہ ایسے ہے جیسے ڈاکٹر مونجے بھائی پرمانند، سر شادی لال کو مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیا جائے۔ ”جریدہ خلافت “ بمبئی نے صحیح کہا ہے۔ اگر حکومت قادیانیوں کو ان کی وفاداری کی قیمت دینا چاہتی ہے تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا تقرر بھی صحیح ہے۔ لیکن جمہور مسلمین سے انہیں کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
(زمیندار ٢٤/ اگست ١٩٣٢ء)
یہ بھی عجیب سرد مہری ہے کہ فرقہ مرزائیہ کی خدمات کا صلہ جب مسلمانوں کے حقوق سے قطع و برید کر کے دیا جانے کے منصوبے باندھے جائیں اور مسلمان احتجاج سے چار دانگ ہند میں شور برپا کر دیں تو بیچارے مرزائی منہ دیکھتے رہ جائیں اور حکومت کی گرہ خاص سے پھوٹی کوڑی بھی عنایت نہ ہو۔ ابھی کل کی بات ہے کہ پنجاب میں چیف جسٹس کی اسامی پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے تقرر کی افواہ نے مسلمانان ہند کو وقف اضطراب کیا۔ آج پھر جناب نائب کشور ہند کے وزراء کی صف میں جناب چوہدری صاحب کا نام لیا جا رہا ہے۔
....... اندریں حالات قادیانیوں پر صحیح طور پر وہی مثل صادق آتی ہے۔ جو ہم ابھی حضرت فاروق اعظم سے نقل کر چکے ہیں۔ سمندر کی بے پناہ موجوں میں ایک تنکے کا سہارا لے کر تیرنے والا کیڑا ظاہر ہے کہ کسی صورت سے بچ نہیں سکتا۔
٧
"قال الله تعالى ام حسب الذين اجترحوا السيئات ان يسبقونا ساء ما يحكمون" ﴿کیا مجرموں کو یہ گھمنڈ ہے کہ وہ ہماری گرفت سے بچ نکلیں گے؟ (ہرگز نہیں) یہ ان کا نہایت ہی برا فیصلہ ہے۔﴾
باب دوم ...... منکرین ختم نبوت کے احکام میں
حامیان مرزائیت کے ارشادات کا خلاصہ
وقت آگیا ہے کہ آئندہ ہم اسلامی عدالت عالیہ کا قطعی اجماعی ، اور مفصل فیصلہ سپرد قلم کریں۔ لیکن اس مبحث میں کچھ لکھنے سے پیشتر ضروری ہے کہ حامیان فرقہ مرزائیہ کے مزعومہ شرعی دلائل کا خلاصہ ذکر کریں۔ تاکہ بحث میں سہولت ہو اور نظم سخن قائم رہے۔
تاریخ حال اور ماضی قریب کے نشیب وفراز کے مختلف ادوار میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حمایت مذکورہ کے فقط تین مبنی ہیں جن میں سے کسی نہ کسی پر حمایت مذکورہ کی تان آ کر ٹوٹتی ہے۔
ایک چوتھا ڈھکوسلا
رہے مسٹر محمد علی صاحب ایم۔اے اور ان کے "چار ہائیکورٹ" افسوس کہ یہ کوئی شرعی ثبوت نہیں اور بجائے مفید ہونے کے مضر ہے۔ جیسے ہم مختصراً لکھ آئے ہیں۔ جناب مسٹر محمد علی صاحب کی طبیعت میں جدت کا رنگ ہے۔ خدا ہی کو روشن ہے کہ آیا یہ جدت کنٹربری کے لاٹ پادری کے فاؤنٹین پین کا "اعجاز" ہے۔ جو مرزا قادیانی نے عالم رؤیا میں ان کو عطا فرمایا تھا۔ یا اس کا کوئی اور باعث ہے۔ لیکن اتنا تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ عموماً نئی بات کہنے کے عادی واقع ہوئے ہیں۔ مثلاً کشمیر کو "ربوہ" ثابت کرنا چاہا تو جھٹ آپ انجینئر بن کر سطح سمندر سے لگے ناپنے ، ارشاد ہوا کہ کشمیر کی بلندی سطح سمندر سے چونکہ تقریباً چار ہزار فٹ ہے اس لئے کشمیر "ربوہ" ہے اور قرآن کریم کی آیت "وآويناهما الى ربوة ذات قرار ومعين" سے مراد وہی کشمیر ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہ بتلایا کہ "ربوہ" کے معنوں میں آپ سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ بلندی لیں گے یا کم از کم بصورت اوّل کشمیر "ربوہ" نہیں۔ بلکہ سوئٹزرلینڈ کی کوئی چوٹی ہوگی اور بصورت ثانی کراچی کا محلہ کھڈہ بھی ربوہ ہے۔ بلکہ ربع مسکون میں کوئی ایسی جگہ نہ ہوگی جو ربوہ کا مصداق نہ ہو۔ ایک شخص کسی عمیق ترین گڑھے میں پڑا ہے۔ مگر حضرت امیر فرمائیں گے ربوہ پر بیٹھا ہے۔ کوئی کنوئیں میں گر کر اس کی تہ میں دم توڑ رہا ہے۔ مگر فاؤنٹین پین والے فرمائیں گے ربوہ پر بیٹھا ہے۔
٨
ایک صاحب دریا میں غوطہ لگائے تہ کی طرف جا رہے ہیں۔ لیکن مسٹر محمد علی صاحب کی انجینئری کا فیصلہ ہے وہ ربوہ پر متمکن ہے۔ ”وآفات الجھل يضيق عنها نطاق البيان“ یہی حال یہاں ہے۔ مابہ النزاع یہ تھا کہ شرعی حیثیت سے فرقہ مرزائیہ کا کیا حکم ہے۔ جب کہ مسلمان ان کو اور وہ مسلمانوں کو قطعی کافر قرار دیتے ہیں۔ مرزائیوں کے مستندات ان کے خود ساختہ نبی کے فرامین ہیں۔ جو ان کے ہاں قطعی ہیں اور مسلمانوں کے دلائل قرآن کریم، ختم الانبیاء ﷺ، صحابہ کرام اور علماء عظام کی ناقابل تاویل تصریحات میں جو بہر صورت قطعی ہیں۔
استاذ امام ابو اسحاق شیرازی شافعی نے اس موقع کے لئے فرمایا ہے۔ ”تكفر من يكفرنا ومن لا فلا (شرح فقه اكبر از قاری ص ١٤١)“ ”مدعیان اسلام میں سے جو شخص یا جماعت ہماری تکفیر کرے ہم بھی اس کو کافر سمجھیں گے اور جو جماعت یا شخص تکفیر سے باز رہے ہم بھی اس سے یہی معاملہ کریں گے۔“
ان حالات میں جناب مسٹر محمد علی صاحب کا چار ہائیکورٹوں سے استناد کرنا وہی ”لم یبق بھکڑ“ نہیں تو اور کیا ہے۔
مذکورہ بالا ہر سہ مبنی حسب ذیل ہیں:
- الف ....... یہ زمانہ باہمی اختلاف و فساد کا نہیں۔ بلکہ حالات کی تیرہ و تار گھٹائیں اتحاد
ویگانگت کی دعوت پورے زور سے دے رہی ہیں۔ جب ہندو، اچھوتوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں تو مسلمانوں کے لئے باہمی افتراق کی کسی طرح گنجائش نہیں۔
- ا ....... مگر حیرت ہے کہ یہ خرد باختہ بزرگ یہی ”نکتہ اتحاد“ مرزائیوں کو کیوں
تلقین نہیں فرماتے۔ تمام رواداریاں صرف ہمیں پر کیوں ختم کر دی جاتی ہیں۔ پہلے مرزا بشیر الدین سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ اپنے باوا کی کتاب افتراق سے وہ تمام مغلظات نکال دیں جو پانی پی پی کر مسلمانوں کو سنائی گئی ہیں۔ مثلاً حرامزادے، کافر، ملعون، جہنمی، کیا ان اتحادی بزرگوں نے مرزا بشیر کی کتاب آئینہ صداقت ص ٣٥ کا یہ مکفرانہ فتویٰ بھی پڑھا ہے۔ جس کی زد میں وہ خود بھی آئے ہوئے ہیں۔ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے ”حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام“ کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
ان تصریحات کے باوجود مرزائیوں سے یارانے گانٹھنا اور مسلمانوں کا ادھر دعوت دینا
٩
نہیں تو اور کیا ہے۔
- .......٢ پھر یہی نکتہ حضرت صدیق اکبرؓ کو کیوں نہ سوجھا، صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ
نے قیصر و کسریٰ کے مقابلہ کے لئے مرتدین عرب، منکرین ختم رسالت، سے اس نہایت ہی آڑے وقت میں کیوں سیاسی اتحاد نہ کیا۔ جب کہ سرور کونینﷺ کی وفات کے باعث داخلی شیرازہ بکھر چکا تھا اور حضرت عثمان ذی النورینؓ جیسے اکابر صحابہ ورطۂ حیرت میں پڑے ہوئے دریائے حیرانی اور گرداب سراسیمگی میں غوطے کھا رہے تھے۔
نصوص شاہد ہیں واقعات تاریخیہ گواہ ہیں کہ مسلمہ اور قادیانی کو کلمہ گو قرار دے کر سیاسی اتحاد کی دعوت دینا قرن اوّل کی مقدس ترین جماعت (صحابہ کرامؓ) کے خلاف ووٹ آف سنسر (قرارداد مذمت) پاس کرنا ہے۔ جیسے آئندہ چل کر واضح ہوگا۔
- ب ...... اہل قبلہ کی تکفیر ناجائز ہے۔ فتاویٰ ہندیہ اور (شرح فقہ اکبر از قاری ص ١٤٨)
میں ہے۔ ”اذا كان في المسئلة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنع فعلى المفتى ان يميل الى ذالك الوجه“ ﴿جب کوئی مسئلہ متعدد وجوہ سے کفر کا باعث ہو مگر ایک وجہ کفر کی مانع ہی ہو تو مفتی کو چاہئے کہ صرف اسی ایک وجہ کو لے۔﴾
لیکن اسی عبارت کے بعد یہ بھی مذکور ہے: ”الا اذا صرح بارادة توجب الكفر فلا ينفعه التاويل“ ﴿لیکن اگر کوئی شخص کھلم کھلا ایسے عقیدہ کا اعلان کرے جو کفر صریح کا موجب ہو تو پھر وہ کفر سے بچ نہیں سکتا۔﴾
- ج ...... تکفیر شخص معین لعن فرد خاص ناجائز ہے۔ حالانکہ مسایرہ اور (شرح فقہ اکبر
قاری ص ١٦٣) میں ہے۔ ”ان ابا حنيفة قال لجهم اخرج عنى ياكافر وفى التسعينية لا بن تيمية بالاسناد عن محمد وفى شرح القارى للفقه الاكبر ص ٣٥ قال قال ابوحنيفة لعن الله عمر وبن عبيد“ ﴿امام اعظم ابو حنیفہؒ نے جہم بن صفوان پیشوائے جہمیہ سے کہا او کافر میرے گھر سے چلے جاؤ۔ امام ابن تیمیہؒ رسالہ التسعینیہ میں اور قاریؒ شرح فقہ اکبر میں امام محمدؒ سے ناقل ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: ”خدا عمرو بن عبید پر لعنت کرے۔“﴾
ذیل میں ہم ان ہر سہ شبہات کا تفصیلی جواب لکھنا چاہتے ہیں اور یہی وہ فیصلہ ہے جس کو ہم مسٹر محمد علی صاحب کے ”چار ہائیکورٹوں“ کے مقابلہ میں پیش کرنا چاہتے ہیں اور یہی ہماری تمام خامہ فرسائی کا مقصد ہے۔ وبالله التوفيق!
١٠
جواب شبہ اول اور اسلام میں سب ختم نبوت اور شرک فی ال رنگ میں نمودار ہوا۔ اگر فراست ایمانی، خالد بن طوفان اور کروڑوں آندھ
اسود عنسی
فتنہ ادعا نبو حضورﷺ جب ١٠ھ میں دن طبیعت علیل ہوئی تو ا اعلان کر دیا۔ بلاذری کی ردة الاسود اول وكان قد تكهن و وقوم من غيرهم اليمامة غزا نجرا مفادة حضر موت ا کا ارتداد، دور نبوت کا اول کا ہن اور شعبدہ باز تھا۔ اقوام نے اس کی نبوت کا آپ کو رحمان یمامہ کہتا طائف، بحرین، احساء وع ختم الانبیاء کا اسود کے ”وجاءت (صلی اللہ) يامرهم بقتال
فصل اوّل
جواب شبہ اوّل اور فتنہ مرزائیت کی تاریخ
اسلام میں سب سے پہلا فتنہ اور اس کے مکمل دستور العمل پر سب سے پہلا وار، انکار ختم نبوت اور شرک فی الرسالۃ سے شروع ہوا اور اسود عنسی مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی، سجاح کے رنگ میں نمودار ہوا۔ اگر ختم المرسلین ﷺ کی تدبیر صائب اور حضور کی پیشین گوئیاں، صدیق اکبرؓ کی فراست ایمانی، خالدؓ بن ولید کی شمشیر خارا شگاف، بروئے کار نہ آتیں تو یہ فتنہ اپنے اندر لاکھوں طوفان اور کروڑوں آندھیاں پوشیدہ رکھتا تھا۔
اسود عنسی
فتنہ ادعا نبوت، حضور سرور کائنات ﷺ کے آخری دور حیات میں نمودار ہوا۔ چنانچہ حضور ﷺ جب ١٠ھ میں حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے اور سفر کی تکان کے باعث چند دن طبیعت علیل ہوئی تو اسود نے اس کی اطلاع پا کر ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ بلاذری کی فتوح البلدان اور تاریخ طبری، اور کامل ابن اثیر میں ہے۔ ”کانت ردة الاسود اوّل ردة فی الاسلام علی عهد رسول الله ﷺ فادعی النبوة وکان قد تکھن وکان مشعبذًا یریھم الاعاجیب فاتبعه عنس من مذحج وقوم من غیرهم ۔ وسمّی نفسه رحمن الیمن کما تسمّی مسیلمة رحمن الیمامة غزا نجران، ثم استطار امره کالحریق واستغلظ وتغلب ما بین مفازة حضر موت الی الطائف الی البحرین والاحساء الی عدن “ اسود عنسی کا ارتداد، دور نبوت کا اولین ارتداد تھا۔ وہ مرتد اس لئے تھا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ شخص کاہن اور شعبدہ باز تھا۔ عجیب و غریب کرشمے دکھاتا تھا۔ قوم عنس (از مذحج) اور بعض دوسری اقوام نے اس کی نبوت کا اعتراف کیا۔ اسود نے اپنا نام رحمان یمن تجویز کیا۔ جیسے مسیلمہ اپنے آپ کو رحمان یمامہ کہتا تھا۔ پہلے اسود نے نجران پر حملہ کیا۔ پھر اس کی تحریک آگ کی طرح طائف، بحرین، احساء وعدن تک پھیل گئی۔
ختم الانبیاء ﷺ کا اسود کے ساتھ سلوک
”وجاءت الی السکون والی من بالیمن من المسلمین کتاب النبی (ﷺ) یامرھم بقتال الاسود مصادمة او غیلة “ آنحضرت ﷺ نے قوم سکون اور
١١
مسلمانان یمن کو حکم نامہ لکھا کہ جس طرح بھی بن پڑے اسود کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ تعمیل ارشاد کے لئے فیروز اور داذویہ اور قیس نے رات کے وقت اسود کے گھر میں گھس کر اس کو قتل کر دیا۔ علی الصبح ہر سہ حضرات نے سر کاٹ کر، قلعہ کی دیوار کے نیچے اس کے لشکر میں پھینک دیا اور بآواز بلند اذان دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ ”اشهد ان محمد رسول الله وان عبهلة الاسود کذاب“ حضور علیہ السلام کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی شب کو ہو گئی تھی۔ مگر پیامبر کے ذریعہ اس کے قتل کی بشارت مدینہ منورہ میں حضور کے انتقال کے بعد ماہ ربیع الاول ١٠ھ کے آخر میں پہنچی۔ قتل اسود، صدیق اکبرؓ کے لئے پہلی بشارت تھی۔ ﴾
طلیحہ اسدی
تاریخ طبری اور کامل میں ہے۔ ”وكان طليحه قد تنباء فى حياته صلى الله عليه وسلم وكان يقول ان جبريل ياتينى وليسجع للناس الا كاذيب“
﴿حضورﷺ کی حیات ہی میں طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ طلیحہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام وحی لایا کرتے ہیں۔ اس نے لوگوں کے سامنے چند جھوٹی مسجع عبارتیں پیش کیں۔﴾
ختم المرسلین کا سلوک
”فوجه اليه النبىﷺ ضرار ابن الازور عاملاً على بنى اسد“
﴿حضورﷺ نے طلیحہ کی سرکوبی کے لئے ضرار بن ازور کو قوم اسد کا حاکم بنا کر بھیجا۔﴾
حضرت ضرار کی حسن تدبیر سے ابتداء میں طلیحہ کی قوت ٹوٹ گئی۔ طلیحہ گرفتار ہو کر ضرار کے سامنے لایا گیا۔ آپؓ نے اس کو قتل کرنا چاہا مگر تلوار نے کچھ اثر نہ کیا۔ بس کیا تھا لوگوں میں اس کی ”شانِ نبوت“ کا شور برپا ہو گیا۔ اس سے طلیحہ کی طاقت کو استحکام نصیب ہوا۔ اسی اثناء میں حضورﷺ کا انتقال ہو گیا۔
طلیحہ کی شریعت
تاریخ طبری اور کامل میں ہے۔ ”كان يامرهم بترك السجود فى الصلوة ويقول ان الله لا يصنع بتعفير وجوهكم وتقع ادباركم شيئاً اذكروا الله واعبدوه قياماً الى غير ذلك“ ﴿طلیحہ نے سجدہ نماز کو منسوخ قرار دیا تھا۔ (جیسے قادیانی کذاب نے آیاتِ جہاد پر خطِ تنسیخ کھینچا) اور طلیحہ کہا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ کو تمہاری پیشانیاں رگڑنے اور پیٹھیں کبڑی کرنے کی ضرورت نہیں۔ کھڑے کھڑے خدا کو یاد کر لیا کرو۔﴾
اس قسم کی اور بھی کئی حماقتیں اس سے سرزد ہوئیں۔
١٢
انکار زکوٰۃ
”ثم ارسلو ابو بكر والله لو منعون پیغام بھیجا کہ ہم نماز کی فرضی فرمایا کہ بخدا مال زکوٰۃ میں
صدیق اور طلیحہ
طاقت کے مضبو بہت ہی کم وقفہ کے بعد مر تھی۔ فتنہ طلیحہ کی اہمیت اس مقام ذوالقصہ تک مرتدین کا وعوده في اربعين مدینہ واپس تشریف لائے۔
خالدؓ و طلیحہ
صدیق اکبرؓ نے مقام بزاخہ پر طرفین میں خو طلیحہ سے بار ہا دریافت کیا جا کا اس طرح منتظر رہا۔ جیسے طرف بھاگ گیا۔ بعد میں عراق علی الخصوص نہاوند اور شان سے دکھائے۔
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب حضورﷺ سے کہنے لگا۔ ” فقال رسول اللهﷺ کی مزاحمت ترک کر کے آ
انکار زکوٰۃ
”ثم ارسلوا الی المدینة یبذلون الصلوٰة ویمنعون الزکوٰة فقال ابوبکر والله لو منعونی عقالاً لجاهدتهم علیه “ ﴿انہوں نے حضرت صدیق اکبرؓ کو پیغام بھیجا کہ ہم نماز کی فرضیت تسلیم کرتے ہیں۔ مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ اس پر صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ بخدا مال زکوٰۃ میں سے اگر اونٹ کا زانو بند بھی روکیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔﴾
صدیق اور طلیحہ
طاقت کے مضبوط ہو جانے کے بعد طلیحہ نے بمع فوج کے مدینہ طیبہ پر شبخون مارا۔ لیکن بہت ہی کم وقفہ کے بعد بری طرح پسپا کر دیئے گئے۔ سلسلہ ردت میں اسلامی فوج کی یہ پہلی فتح تھی۔ فتنہ طلیحہ کی اہمیت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس روز خود صدیق اکبرؓ نے بمع اسلامی لشکر کے مقام ذوالقصہ تک مرتدین کا تعاقب کیا۔ کامل ابن اثیر میں ہے۔ ”وکانت غزوۃ الصدیق وعوده فی اربعین یوماً “ ﴿حضرت صدیق اس مہم میں چالیس روز تک مصروف رہ کر مدینہ واپس تشریف لائے۔﴾
خالد و طلیحہ
صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو فوج دے کر طلیحہ کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا۔ مقام بزاخہ پر طرفین میں خونریز جنگ ہوئی۔ عیینہ بن حصن فزاری نے (جو طلیحہ کا کماندار اعظم تھا) طلیحہ سے بار بار دریافت کیا۔ کیا جبریل تمہارے پاس مژدۂ فتح نہیں لائے۔ طلیحہ عین جنگ میں وحی کا اس طرح منتظر رہا۔ جیسے قادیانی آسمانی منکوحہ کا۔ آخر مرتدین کو شکست فاش ہوئی۔ طلیحہ شام کی طرف بھاگ گیا۔ بعد میں تائب ہو کر دوبارہ ختم المرسلینﷺ کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہوا۔ فتوح عراق علی الخصوص نہاوند اور جلولاء وغیرہ معرکوں میں اس نے اپنی مردانگی کے اسلامی جوہر پوری شان سے دکھائے۔
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب ١٠ھ میں وفد بنی حنیفہ کے ساتھ دربار رسالت میں حاضر ہوا اور حضورﷺ سے کہنے لگا۔ ”ان شئت اخلنا لک الامر و بایعناک علی انه لنا بعدک فقال رسول اللهﷺ لا ولا نعمة عین ولکن الله قاتلک“ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کی مزاحمت ترک کر کے آپ سے اس شرط پر بیعت کر لیتے ہیں کہ آپ کے بعد مسند نبوت پر ہمارا
١٣
قبضہ ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ البتہ خدائی لشکر تم سے برسرپیکار ہوں گے۔
دعویٰ نبوت
وفد مذکور واپس گیا۔ حجۃ الوداع کے بعد حضورﷺ کی ناسازی طبیعت سن کر مسیلمہ نے موقع کو غنیمت سمجھا اور نبوت کا اعلان کر دیا۔ بلاذری، طبری، کامل میں ہے۔ ” فلما انتهى الى اليمامة ارتد عدو الله وتنباء وادعى انه شريك لرسول الله صلعم فى النبوة ، ثم كان يسمع السجعات فيما يقول مضاهاة للقرآن ووضع عنهم الصلوة واحل لهم الخمر والزنا ونحو ذلك وشهد لرسول الله صلعم انه نبی فصفقت بنو حنيفة على ذلك “ ﴿مسیلمہ جب سفر مدینہ سے یمامہ واپس آیا تو مرتد ہوکر اس نے نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں نبوت میں حضورﷺ کا شریک ہوں۔ قرآن کا معارضہ کرتے ہوئے اس نے چند سجع جملے بھی بطور وحی پیش کئے۔ اپنے متبعین سے فرضیت نماز ساقط کر دی۔ شراب اور زنا کو حلال قرار دیا۔ بایں ہمہ وہ حضورﷺ کی رسالت کا اعتراف کیا کرتا تھا۔ اس پر بنو حنیفہ نے خوشی کے مارے تالیاں بجائیں۔﴾
شیخ الاسلام ابن قیم زاد المعاد ج٢ ص٢٦ میں لکھتے ہیں۔ ” فلما قدموا اليمامة ارتد عدو الله وتنباء وقال انى اشركت فى الامر معه ثم جعل ليسجع السجعات مضاهاة للقرآن ووضع عنهم الصلوة واحل لهم الخمر والزنا وهو مع ذلك ليشهد لرسول الله صلعم أنه نبی “ ﴿جب وفد بنی حنیفہ یمامہ واپس آیا تو دشمن خدا مسیلمہ مرتد ہوکر نبی بن بیٹھا اور کہنے لگا میں حضورﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ اس نے قرآن کے رنگ میں کچھ سجع عبارتیں بھی کہیں اور اپنے متبعین سے نماز کی فرضیت ساقط قرار دی اور زنا و شراب کو حلال کر دیا۔ مگر با ایں ہمہ حضورﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔ ﴾
مسیلمہ کا دعوت نامہ
قادیانی کی طرح مسیلمہ کو بھی تبلیغی نامہ و پیام کی سوجھی۔ حوصلہ بڑا پایا تھا۔ اس لئے خود سرور کائناتﷺ کو ١٠ھ میں دعویٰ نبوت کے بعد ذیل کی چٹھی لکھی۔ ” من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله اما بعد فان لنا نصف الارض ولقريش نصفها ولكن قريشا قوم لا ينصفون والسلام عليكم “ ﴿”از مسیلمہ پیغمبر خدا‘ بسوئے محمد رسول اللہ۔ واضح رہے کہ عرب کی نصف مملکت ہماری ہے۔ (کیونکہ میں نبوت میں آپ کا شریک ہوں) اور نصف قریش کی۔ لیکن قریش بڑے بے انصاف ہیں۔ آخر میں تحفہ سلام قبول کیجئے۔﴾
١٤
ختم الانبیاءﷺ کا جواب
”فکتب الیہ رسول اللہ ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ الى مسیلمة الکذاب ، اما بعد فان الارض للہ یورثھا من عبادہ من یشاء والعاقبة للمتقین والسلام على من اتبع الھدی“ ﴿حضورﷺ نے اس کے جواب میں لکھا۔ از محمد رسول اللہﷺ بسوئے مسیلمہ کذاب۔ واضح ہو کہ مملکت درحقیقت خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ مگر آخری کامیابی صرف نیکوں کے لئے ہے۔ آخر میں تمام راہ راست پر چلنے والوں کو سلام۔﴾
دعویٰ اسلام اور مسیلمہ
مذکورہ بالا واقعات سے واضح ہوچکا ہے کہ مسیلمہ کذاب حضور رسالت مآبﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔ مگر ختم نبوت کا منکر ہو کر شرک فی النبوۃ کا مدعی تھا۔ ہر چند کہ وہ نماز کی فرضیت کا قائل نہ تھا۔ مگر اس کے ہاں برابر اذان واقامت کے ساتھ نماز ادا ہوا کرتی تھی۔ طبری اور کامل میں ہے۔ ”وکان الذی یؤذن لہ عبداللہ ابن النواحة والذی یقیم لہ حجیر بن عمیر“ ﴿مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا۔﴾
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور مذکورہ بالا دجاجلہ
(شیخ الاسلام ابن تیمیہ بغیۃ المرتاد ص ١٢١) میں لکھتے ہیں۔ ”معلوم ان اتباع مسیلمة الکذاب والاسود العنسی وطلیحة الاسدی وسجاح کانوا مرتدین وقد قاتلہم اصحاب النبی صلعم مع ان مسیلمة انما ادعى المشارکة فی النبوة ولم یدع الالوہیة ولا اتى بقرآن یناقض التوحید بل جاء بکلام یتضمن ما ادعاہ من المشارکة فی الرسالة واسجاع من الکلام الذی لا فائدة فیہ حتى کان مؤذنہ یقول اشھد ان محمداً ومسیلمة رسول اللہ “ ﴿قطعی بات ہے کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ، سجاح کے ہم خیال مرتد تھے۔ اسی بناء پر صحابہ کرامؓ نے ان سے جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ صرف ختم نبوت کا منکر اور شرک فی النبوۃ کا قائل تھا۔ ورنہ نہ تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ خلاف توحید کوئی کتاب تصنیف کی۔ بلکہ اس کے کلام میں (قادیانی کذاب کی طرح) یا خانہ ساز نبوت کا تذکرہ ہوتا تھا۔ یا چند فضول مگر مسجع فقرے تاآنکہ اس کا مؤذن کہتا تھا۔ اشہد ان محمداً و مسیلمة رسول اللہ۔﴾
١٥
قادیانی چونکہ زیادہ کائیاں واقع ہوا تھا۔ اس لئے اس نے نہایت سوچ بچار کے بعد کہا کہ میں تمام انبیاء کے کمالات کا مظہر ہوں۔ تا آنکہ مصداق صد رنگ نہاں بہ پیراہنم ہوا اور باایں ہمہ
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
بنابریں اس کو اذان واقامت میں اضافے کی ضرورت نہ ہوئی۔ یقین جانئے کہ اس شعر کے پیش نظر ہر قادیانی ”اشهد ان محمداً رسول الله“ سے محمد عربی ﷺ مراد نہیں لیتا۔ بلکہ مرزائے غلام احمد قادیانی مراد لیتا ہے۔
مسیلمہ کا انجام
باوجود ان حالات کے صحابہ کرامؓ نے اس کذاب سے جہاد فرض سمجھا اور بیشمار قربانیاں دینے کے بعد حضرت وحشیؓ کے حربہ (خورد نیزہ) اور ایک انصاری کی تلوار سے قتل ہوا۔ حضرت وحشیؓ عموماً کہا کرتے تھے کہ اگر حالت کفر میں میں نے بزرگ ترین ہستی (حضرت سید الشہداء حمزہؓ) کو شہید کیا تھا تو حالت اسلام میں میں نے دنیا کے بدترین شخص اور خبیث ہستی کو بھی اسی حربہ سے قتل کیا۔ امید ہے کہ کفارہ ہو جائے گا۔
ختم نبوت کا انکار ہر دور میں ارتداد ہے
مذکورہ بالا حقائق سے بداہتہ ثابت ہوتا ہے کہ صدر اوّل کے منکرین ختم نبوت اس لئے اور صرف اس لئے واجب القتل، مرتد، فریق محارب قرار دیئے گئے کہ وہ حضور خاتم المرسلین ﷺ کے ساتھ شریک فی النبوۃ ہونے کے مدعی تھے۔ ورنہ وہ عام طور پر احکام اسلامیہ کو تسلیم کرتے اور حسب استطاعت ان پر عمل درآمد رکھتے تھے۔ ختم نبوت کے انکار کی تحریک مختلف ادوار میں مختلف نام بدلتی رہی۔ کبھی اس کو اسود، مسیلمہ، طلیحہ کی قیادت نصیب ہوئی اور آج اس کی زمام قیادت مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ گو اس وقت صدیقؓ وفاروقؓ وخالدؓ نہیں اور پچاس الماریوں والی حکومت قائم ہے اور متنبّی قادیان اس کو ”ظل اللہ“ کہہ کر من مانی مرادیں حاصل کر رہا ہے۔ مگر احکام شرعیہ بدل نہیں سکتے۔ آج بھی یہ جماعت شرعاً اسی سلوک کی مستحق ہے جو اس سے دور صحابہ کرامؓ میں کیا گیا۔ ”فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولن تجد لسنۃ اللہ تحویلا“ ١٦
جواب شبہ ثانی اور مسئلہ تکفیر اہل
شبہ اوّل کے جواب میں جو اہل قبلہ کی تکفیر وعدم تکفیر کا مسئلہ خود بخود حل
مسئلہ مذکورہ کی اہمیت
علامہ محمود بن احمد حنفیؒ قونوی اہمیت بدیں الفاظ ظاہر فرماتے ہیں۔ ” التكفير باب عظمت الفتن الاهواء والاراء وتعارضت فیـ مسئلہ مسلمانوں کے لئے بہت سی مصیبت زندیق، دجال اس کی آڑ میں اپنی خر مذاہب اور خیالات مختلف اور دلائل بظا
مسئلہ کی تاریخ
”اہل قبلہ“ سے جہاد نہ کر وقت پیش کیا جب کہ حضرت صدیق اکبـ روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔ ” بعده وكفر من كفر من العـ الناس وقد قال رسول الله ﷺ الله، فمن قال لا اله الا الله عصـ فقال ابوبكر والله لا قاتلن المال . والله لو منعونى عناقـ على منعها . قال عمر فواللـ للقتال فعرفت انه الحق (مـ خلیفہ ہوئے اور عرب کے مرتدین سے
فصل دوم
جواب شبہ ثانی اور مسئلہ تکفیر اہل قبلہ
شبہ اوّل کے جواب میں جن صریح واقعات کا ذکر ہوا ہے۔ ان کے سمجھ لینے کے بعد اہل قبلہ کی تکفیر وعدم تکفیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔
مسئلہ مذکورہ کی اہمیت
علامہ محمود بن احمد حنفی قونوی متوفی ٧٧٠ھ شرح عقیدہ طحاویہ ص ٤٢٦ میں اس مسئلہ کی اہمیت بدیں الفاظ ظاہر فرماتے ہیں۔ ”واعلم رحمك الله وايانا ان باب التكفير وعدم التكفير باب عظمت الفتنة والمحنة فيه وكثر فيه الافتراق وتشتت فيه الاهواء والاراء وتعارضت فيه دلائلهم“ ﴿واضح رہے کہ (اہل قبلہ کی) تکفیر وعدم تکفیر کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے بہت سی مصیبتوں، کئی ایک فتنوں کا باعث بنا۔ (کیونکہ ہر بیدیں، ملحد، زندیق، دجال اس کی آڑ میں اپنی خرافات کی تبلیغ کرتا اور کراتا ہے) اس کے حل کرنے میں مذاہب اور خیالات مختلف اور دلائل بظاہر متعارض معلوم ہوتے ہیں۔﴾
مسئلہ کی تاریخ
”اہل قبلہ“ سے جہاد نہ کرنے کا مشورہ سب سے پہلے حضرت فاروق اعظمؓ نے اس وقت پیش کیا جب کہ حضرت صدیق اکبرؓ مرتدین سے برسرپیکار ہونے کو تیار ہو گئے تھے۔ صحیحین کی روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔ ”لما توفى رسول الله ﷺ واستخلف ابوبكر بعده وكفر من كفر من العرب قال عمر بن الخطاب لابى بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله ﷺ امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله، فمن قال لا اله الا الله عصم منى ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله فقال ابوبكر والله لا قاتلن من فرق بين الصلوة والزكوة فان الزكوة حق المال ٠ والله لو منعونى عناقاً كانوا يؤدونها الى رسول الله صلعم لقاتلتهم على منعها٠ قال عمر فوالله ما هو الا ان رأيت ان الله شرح صدر ابى بكر للقتال فعرفت انه الحق (مشكوة)“ ﴿حضورﷺ کے انتقال کے بعد جب صدیق اکبرؓ خلیفہ ہوئے اور عرب کے مرتدین سے جہاد کرنے کے لئے آپ تیار ہوئے تو فاروقؓ نے صدیقؓ
١٧
سے کہا کہ آپ ان سے کیونکر لڑ سکتے ہیں۔ جب حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ : ”لا اله الا الله “ کہنے والے کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کے باطن کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ ہاں حقوق اسلام کے متعلق اس سے گرفت کی جاسکتی ہے۔ یہ سن کر ابوبکرؓ نے فرمایا تو زکوٰۃ بھی حق مال ہے۔ پس جو شخص صلوٰۃ اور زکوٰۃ کی فرضیت میں فرق کرے گا میں اس سے ضرور جہاد کروں گا۔ بخدائے لایزال! اگر انہوں نے بکری کا ایک رسہ بھی روکا جو وہ حضورﷺ کے عہد میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ فاروقؓ فرماتے ہیں کہ بس میں نے سمجھ لیا کہ صدیقؓ کو اس مسئلہ میں شرح صدر حاصل ہو چکا ہے۔ پس ان کی تلقین سے میں بھی حقیقت کو سمجھ گیا۔ ﴿
نتیجہ
اس روایت سے صاف معلوم ہوا کہ اہل قبلہ کو ضروریات دین کا انکار، کفر و ارتداد اور اس کے انجام بد یعنی حکم قتل سے بچا نہیں سکتا۔
تکفیر اہل قبلہ کی اصل
اس مبحث میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ مسئلہ مذکورہ کے اصلی الفاظ جو سلف سے منقول ہوئے ہیں۔ سامنے رکھے جائیں تا کہ مرتد، زندیق، عاصی کے درمیان مابہ الامتیاز قائم کیا جاسکے۔ شرح تحریر ابن الہمام مصنفہ ابن امیر الحاج ج ٣ ص ٣١٨ میں ہے۔
- ١....... ”في منتقى الحاكم الشهيد عن ابراهيم بن رستم عن ابي
عصمة نوح ابن ابی مريم المروزى قال سالت ابا حنيفة من اهل الجماعة فقال من فضل ابابكر وعمر واحب عليا وعثمان ...... الى ان قال ولم يكفر احداً بذنبٍ ونص ابوحنيفة فى الفقه الاكبر فقال ولا نكفر احداً بذنب من الذنوب وان كانت كبيرة اذالم يستحلها “ ﴿ حاکم شہید نے منتقیٰ میں نوح جامع سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے اہل سنت و جماعت کا مصداق پوچھا تو آپ نے من جملہ اور باتوں کے فرمایا کہ سنی وہ ہے جو کسی گنہگار اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرے۔ اس کے علاوہ امام اعظمؒ نے فقہ اکبر میں تصریح کی ہے کہ ہم کسی شخص کی گناہ کی وجہ سے۔ گو گناہ کبیرہ کیوں نہ ہو۔ تکفیر نہیں کرتے۔ جب تک کہ کوئی گناہ کو حلال سمجھ کر نہ کرے۔ ورنہ کافر ہو جائے گا۔ ﴿
(فقہ اکبر ص ٢٧)
کتاب الانتقاء مصنفہ حافظ ابن عبدالبر ص ١٦٣ پر حافظ مذکور اپنی سند سے ذکر فرماتے ہیں ۔ ”عن نوح بن ابی مریم قال سالت ابا حنيفة من اهل الجماعة قال الذی
١٨
لا ينظر في الله عز وجل ولا يكفر ا سمعت حماد بن ابی حنیفة يقول وعمر ولا تكفر الناس بالذنوب“ سے اہل سنت و جماعت کے معنی پوچھے۔ آ کی تکفیر نہ کرے۔ نیز ابن عبدالبر نے امام ح امام اعظمؒ سے ”جماعت“ کے معنی پوچھے تو آ بندگان خدا کی تکفیر مت کرو۔ ﴿
- ٢ ...... على ہٰذا القیاس ”الم
مذکورہ بالا الفاظ میں منقول ہوا ہے اور محق تصریح کی ہے کہ امام شافعیؒ نے فقط گنہگار اہل ہر چند کہ وہ اہل قبلہ سے ہی کیوں نہ ہو کافر جان
- ٣ ...... حضرت امام ابوحنیفہؒ
- ١۔ (”عقیدہ“ طحاوی کی بیحد تعریف
لندن ص ٤٥، ١٠٧) میں لکھتے ہیں: الحمدللہ! کہ ہما شکار ہوئے) تمام کے تمام عقائد میں کلیۃً متحد و متفق پر عامل ہیں۔ جس کو تمام سلف وخلف نے شرف قبول امام اشعری کا عقیدہ و مسلک سو وہ، بعینہ عقیدہ طحاوی الاصول اور اس کے بعد کے تمام کتب ”عقیدہ“ فرم خواہ عقیدہ المرشدہ ہو۔ امام طحاویؒ امام اشعری سے تقریباً چالیس سال مقدم ہے۔ اثر رہ کر معتزلی رہے۔ ٣٠٠ھ میں تائب ہوئے۔ رہے۔ جبائی کی وفات ٣٠٣ھ میں ہوئی۔ ”کتاب الابانۃ“ امام اشعری کی سب آپ بغداد تشریف لائے۔ ضمیماً بتبعہ (طبع حیدر آباد بن موصلی (مؤلف کتاب الصواعق المرسلہ) نے کتا کے رو سے سبکی نے ”معید النعم“ میں عقیدہ طحاوی کو ذا
جب حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”لا اله الا الله“ جاتا ہے۔ اس کے باطن کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ جا سکتی ہے۔ یہ سن کر ابوبکرؓ نے فرمایا تو زکوٰۃ بھی حق میں فرق کرے گا میں اس سے ضرور جہاد بکری کا ایک رسہ بھی روکا جو وہ حضورﷺ کے عہد میں فاروقؓ فرماتے ہیں کہ بس میں نے سمجھ لیا کہ صدیقؓ کو میں ان کی تلقین سے میں بھی حقیقت کو سمجھ گیا۔ ﴿
کہ اہل قبلہ کو ضروریات دین کا انکار، کفر و ارتداد اور
ثابت یہ ہے کہ مسئلہ مذکورہ کے اصلی الفاظ جو سلف سے مرتد، زندیق، عاصی کے درمیان مابہ الامتیاز قائم کیا ج ٣ ص ٣١٨ میں ہے۔
الشهيد عن ابراهيم بن رستم عن ابى مقاتل سألت ابا حنيفة من اهل الجماعة عليا وعثمان ...... الى ان قال ولم يكفر الاكبر فقال ولا نكفر احداً بذنب من ھا ” حاکم شہید نے منتقی میں نوح جامع سے اہل قبلہ کا مصداق پوچھا تو آپ نے من جملہ اور تکفیر نہ کرے۔ اس کے علاوہ امام اعظمؒ نے فقہ ہے۔ گو گناہ کبیرہ کیوں نہ ہو۔ تکفیر نہیں کرتے۔ ہو جائے گا۔ ﴿ (فقہ اکبر ص ٢٧)
٤٤ پر حافظ مذکور اپنی سند سے ذکر فرماتے أبا حنيفة من أهل الجماعة قال الذى
لا ينظر في الله عز وجل ولا يكفر احداً بذنب وروى عن خلف بن يحيى قال سمعت حماد بن ابی حنيفة يقول سمعت اباحنيفة يقول الجماعة ان تفضل ابابكر وعمر ولا تكفر الناس بالذنوب ” ﴿ نوح جامع سے مروی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہ سے اہل سنت و جماعت کے معنی پوچھے۔ آپ نے من جملہ باتوں کے فرمایا کہ سنی وہ ہے جو عاصی کی تکفیر نہ کرے۔ نیز ابن عبدالبر نے امام حماد فرزند امام ابو حنیفہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام اعظمؒ سے ”جماعت“ کے معنی پوچھے تو آپ نے چند اور باتوں کے بعد فرمایا کہ گناہ کی وجہ سے بندگان خدا کی تکفیر مت کرو۔ ﴿
- ٢...... علیٰ ہذا القیاس ”الیواقیت والجواہر“ میں یہ مسئلہ حضرت امام شافعیؒ سے بھی
مذکورہ بالا الفاظ میں منقول ہوا ہے اور محقق ابن امیر الحاج نے بھی (شرح تحریر ج ٣ ص ٣١٨) میں تصریح کی ہے کہ امام شافعیؒ، فقط گنہگار اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔ لیکن ضروریات دین کے منکر کو ہر چند کہ وہ اہل قبلہ سے ہی کیوں نہ ہو کافر جانتے ہیں۔
- ٣...... حضرت امام ابو جعفر طحاوی حنفی متوفی ٣٢١ھ کتاب ”العقیدۃ“ میں فرماتے ہیں۔
١؎ ”عقیدۃ“ طحاوی کی بیحد تعریف) حافظ امام تاج الدین سبکی اپنی کتاب ”معید النعم“ (مطبوعہ لندن ص ٣٥، ١٠٧) میں لکھتے ہیں۔ الحمد للہ ! کہ مذاہب اربعہ (باستثنائے ان افراد کے جو اعتزال وتجسم وغیرہ کا شکار ہوئے) تمام کے تمام عقائد میں کلیتہ متحد ومتفق ہیں اور سب کے سب امام ابو جعفر طحاوی حنفی کی کتاب العقیدہ پر عامل ہیں۔ جس کو تمام سلف وخلف نے شرف قبولیت بخشا اور اپنے عقائد کی تصحیح کے لئے اس کو محک قرار دیا۔ رہا امام اشعری کا عقیدہ ومسلک سو وہ بجملہ عقیدہ طحاوی سے ماخوذ اور اسی کی تفصیل وتشریح ہے۔ لہٰذا عقیدہ طحاوی اصل الاصول اور اس کے بعد کے تمام کتب ”عقیدہ“ فروع ہیں۔ عقیدہ امام اشعری ہو، یا عقیدہ امام ابوالقاسم قشیری، خواہ عقیدہ المرشدہ ہو۔ امام طحاوی اور امام اشعری گو معاصر ہیں۔ جیسے سنہ وفات سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر طحاوی کی امامت اشعری سے تقریباً چالیس سال مقدم ہے۔ کیونکہ امام اشعری پورے چالیس سال تک ابو علی جبائی کے زیر اثر رہ کر معتزلی رہے۔ ٣٠٠ھ میں تائب ہوئے۔ بعد ازاں تقریباً تین سال تک جبائی سے ان کے مناظرے رہے۔ جبائی کی وفات ٣٠٣ھ میں ہوئی۔
(تبیین از حافظ ابن عساکر ص ٥٦، ٩١)
”کتاب الابانہ“ امام اشعری کی سب سے آخری تصنیف ہے۔ اس کی تالیف اس وقت ہوئی۔ جب آپ بغداد تشریف لائے۔ مقدمہ ابانہ (طبع حیدرآباد ص ١٠٩) میں ہے کتاب ابانہ اشعری کی آخری تصنیف ہے۔ محمد بن موصلی (مؤلف کتاب الصواعق المرسلہ) نے کتاب سیف السنۃ میں اس کی تصریح کی ہے۔ اسی تقدم امامت کے رو سے سبکی نے ”معید النعم“ میں عقیدہ طحاوی کو مذاہب اربعہ کا امام تسلیم کیا اور ہم نے ابانہ پر اس کو مقدم کیا۔
١٩
"ولا نكفر احداً من اهل القبلة بذنب مالم يستحله وقال العلامة القونوى فى شرح العقيدة المذكورة ص ٢٤٢ والمراد باهل القبلة من يدعى الاسلام وليستقبل الكعبة وان كان من اهل الاهواء اومن اهل المعاصى مالم يكذب بشئ مما جاء به الرسول ﷺ" ﴿محض گناہوں کی وجہ سے ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔ جب تک کوئی گناہ کو حلال سمجھ کر نہ کرے۔ علامہ محمود قونوی شرح عقیدہ طحاویہ ص ٢٤٢ میں لکھتے ہیں۔ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام کے مدعی اور کعبہ رخ ہو کر نماز ادا کریں۔ خواہ مبتدع ہوں۔ خواہ فاسق البتہ ضروری ہے کہ ضروریات دین کی تکذیب نہ کریں۔ ورنہ اہل قبلہ نہیں ۔﴾
(طبقات کبری از سبکی ج ١ ص ٤٨، ٤٧)
- .....٢ حضرت امام ابوالحسن اشعری متوفی ٣٢٤ھ امام الاشاعرہ کتاب (الابانہ
ص ١٠) میں لکھتے ہیں۔ "نرى ان لا نكفر احداً من اهل القبلة بذنب يرتكبه كالزناء والسرقة، وشرب الخمر كمادانت بذلك والخوارج وزعموا انهم بذلك كافرون" ﴿ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی گنہگار گناہ کی وجہ سے (مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی ) سے کافر نہیں ہوتا۔ ہمارا اس مسئلہ میں خوارج سے اختلاف ہے۔ جو عاصی کو گناہ کی وجہ سے قطعی کافر اور مخلد فی النار کہتے ہیں۔ ﴾
امام ابوالقاسم بن عساکر نے بھی کتاب (تبیین کذب المفتری ص ١٦٠) پر امام اشعری سے بعینہ یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔ غرض یہ مسئلہ سلف صالحین سے جہاں کہیں بھی منقول ہوا ہے لفظ "ذنب" سے مقید ہے۔
جملہ مذکورہ کا حل
جملہ مذکورہ کی ساخت اور وضع صاف صاف بتلا رہی ہے کہ یہ دراصل خوارج اور معتزلہ کی تردید میں کہا گیا۔ ضروریات دین کے منکر قطعاً اس سے مراد نہیں ۔ بلکہ عاصی مراد ہیں۔ خوارج گنہگار کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کے یہاں عاصی نہ مؤمن ہے اور نہ کافر۔ تاہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے۔
- .....١ امام الاشاعرہ ابوالحسن اشعری کی تصریح حال ہی میں گذر چکی ہے کہ اس
جملہ سے مقصد خوارج کی تردید ہے جو عاصی کو کافر قرار دیتے ہیں۔
- .....٢ ان کے علاوہ علامہ قونوی حنفی (شرح عقیدہ طحاویہ ص ٢٤٢) میں لکھتے ہیں۔
٢٠
"لا نكفرهم بكل ذنب مناقضة لقول او بكل ذنب كبير وكفر المعتزل بالكبيرة فلا يبقى معه شئ ومن بخروجه من الايمان اوجبوا له الـ تردید ہے جو ہر گناہ کے مرتکب کو (صغیرہ ہو یا ک کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ علی ہذا القیاس ہاں مرتکب گناہ ایمان سے قطعاً محروم ہو جاتا ہے گا۔ گو کفر میں بھی داخل نہیں ہوتا ۔ ﴾
- .....٣ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرما
متفقون على انه لا يكفر بالذنب فان (كتاب الايمان ص ١٢١) " ﴿ہم جب یہ ک ہماری مراد فقط عاصی ہوتا ہے۔ جیسے بدکار اور نہیں ہوتا ) ۔ ﴾
- .....٤ شرح فقہ اکبر بحث ایمان
بذنب اشارة الى تكفير بفساد اعتقـ ونحوهم لان ذلك لا يسمّى ذنباً والكف "ذنب" میں ادھر اشارہ ہے کہ بد عقیدہ مثلاً تجسیم وغیرہ عقائد رکھنے والا کافر ہے۔ کیونکہ بد عقیدگی کو
اہل قبلہ کا مصداق
جب مسئلہ مذکور کے اصلی الفاظ اور اس لفظ ”اہل قبلہ“ کا مصداق بھی سلف ہی کے کلام س "وليهلك من هلك عن بينة ويحيى من مصداق مذکور معین کرنے کے لئے ہ موجود ہے کہ اگر ہم اس تمام کو نقل کریں تو ایک مبـ اور ضروری حصص کو سپرد قلم کرتے ہیں۔ وباللہ
بذنب مالم ليستحله وقال العلامة القونوی ٢٤١ والمراد باهل القبلة من يدعى الاسلام اهل الاهواء اومن اهل المعاصى مالم يكذب ”محض گناہوں کی وجہ سے ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں نہ کرے۔ علامہ محمود قونوی شرح عقیدہ طحاویہ ص٢٤٢ میں جو اسلام کے مدعی اور کعبہ رخ ہو کر نماز ادا کریں۔ خواہ ہے کہ ضروریات دین کی تکذیب نہ کریں۔ ورنہ اہل قبلہ
(طبقات کبری از سبکی ج ١ص ٤٨،٤٧)
سن اشعری متوفی ٣٢٤ھ امام الاشاعرہ کتاب (الابانہ كفر احداً من اهل القبلة بذنب يرتكبه كالزنا، مادانت بذلك والخوارج وزعموا انهم بذلك گناہ کی وجہ سے (مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی) سے کافر نے اختلاف ہے۔ جو عاصی کو گناہ کی وجہ سے قطعی کافر اور
بھی کتاب ( تبیین کذب المفتری ص ١٦٠) پر امام اشعری مسئلہ سلف صالحین سے جہاں کہیں بھی منقول ہوا ہے لفظ
صاف صاف بتلا رہی ہے کہ یہ دراصل خوارج اور معتزلہ مگر قطعاً اس سے مراد نہیں۔ بلکہ عاصی مراد ہیں۔ خوارج یہاں عاصی نہ مومن ہے اور نہ کافر۔ تاہم ہمیشہ ہمیشہ
سن اشعری کی تصریح حال ہی میں گزر چکی ہے کہ اس لو کافر قرار دیتے ہیں۔
قونوی حنفی (شرح عقیدہ طحاویہ ص ٢٤٧) میں لکھتے ہیں۔
٢٠
”لا لكفرهم بكل ذنب مناقضة لقول الخوارج الذين يكفرون بكل ذنب اوبكل ذنب كبير وكفر المعتزلة الذين يقولون يحبط ايمانه كله بالكبيرة فلا يبقى معه شئ ومن الايمان ولا يدخل في الكفر وبقولهم بخروجه من الايمان اوجبوا له الخلود في النار “ ﴿اس جملہ میں خوارج کی تردید ہے جو ہر گناہ کے مرتکب کو (صغیرہ ہو یا کبیرہ) کافر کہتے ہیں اور بعض خوارج فقط کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اس جملہ میں معتزلہ کی بھی تردید ہے۔ جن کے ہاں مرتکب گناہ ایمان سے قطعاً محروم ہوجاتا ہے جس کی پاداش میں ابدالاباد تک جہنم میں رہے گا۔ گو کفر میں بھی داخل نہیں ہوتا۔﴾
٣...... شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ ”نحن اذا قلنا اهل السنة متفقون على انه لا يكفر بالذنب فانما نريد به المعاصى كالزنا والشرب (کتاب الایمان ص ١٢١) “ ﴿ہم جب یہ کہیں کہ اہل سنت گناہگار کو کافر نہیں کہتے تو اس سے ہماری مراد فقط عاصی ہوتا ہے۔ جیسے بدکار اور شراب خور، وغیرہ (ضروریات دین کا منکر مراد نہیں ہوتا)۔﴾
٤...... شرح فقہ اکبر بحث ایمان میں علامہ قونوی سے نقل ہے۔ ”وفی قوله بذنب اشارة الى تكفير بفساد اعتقاده كفساد اعتقاد المجسمة والمشبهة ونحوهم لان ذلك لا يسمّى ذنباً والكلام في الذنب (اكفار الملحدين) “ ﴿لفظ ”ذنب“ میں ادھر اشارہ ہے کہ بدعقیدہ مثلاً تجسیم باری کا قائل اس کو مخلوقات سے مشابہ ماننے والا، وغیرہ عقائد رکھنے والا کافر ہے۔ کیونکہ بدعقیدگی کو اصطلاحاً ”ذنب“ نہیں کہتے۔﴾
اہل قبلہ کا مصداق
جب مسئلہ مذکور کے اصلی الفاظ اور اس کا مقصد معین ہو گیا تو اب یہ بھی ضروری ہے کہ لفظ ”اہل قبلہ“ کا مصداق بھی سلف ہی کے کلام سے معین کیا جائے۔ تاکہ دوٹوک فیصلہ کیا جاسکے۔
”وليهلك من هلك عن بينة ويحيى من يحيى عن بينة“
مصداق مذکور معین کرنے کے لئے ہمارے سامنے سلف صالحین کے اقوال کا اتنا ذخیرہ موجود ہے کہ اگر ہم اس تمام کو نقل کریں تو ایک مبسوط کتاب تصنیف ہو۔ سردست ہم نہایت ہی اہم اور ضروری حصص کو سپرد قلم کرتے ہیں۔ وباللہ الثقة!
٢١
متکلمین کی رائے
١...... امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی شافعی متوفی ٤٢٩ھ اپنی مشہور کتاب (الفرق ص ٢٢٠،٨) میں لکھتے ہیں: ”اختلف المتکلمون فی من يعد من امة الاسلام وملته ٠ (١) فزعم ابوالقاسم الكعبي ان اسم ملة الاسلام واقع على كل مقر بنبـوة مـحـمـدﷺ وان كل ماجاء به حق ٠ كائنا قوله بعد ذلك ماكان ٠ (٢) وزعمت الكرامية مجسمة خراسان ان امة الاسلام جامعة على كل من قال لا اله الا الله مـحـمـد رسول الله سواء كان مخلصاً فيه او منافقاً مضمر الكفر والزندقة ولهذا زعموا ان المنافقين في عهده صلعم كانوا مؤمنين حقاً وكان ايمانهم كايمان جبريل وميكائيل والانبياء والملئكة وهذا القول مع قـول الـكـعـبـی ينقض بقول العيسوية من يهود اصبهان فانهم يقرون بنبـوة نبينا محمدﷺ وبان كل ماجاء به حق ولكنهم زعموا انه انما بعث الى العرب لا الى بنى اسرائيل وقالوا ايضاً محمد رسول الله ...... وماهم من المسلمين ٠ وكذا يلزم ادخال الشاركانية منهم فى المسلمين حيث قالوا ان محمداً رسـول الله وان الـقـرآن حـق وكـل مـن الاذان والصلوة الخمس وصيـام رمـضـان والـحـج حق الا انه انما يلزم المسلمين دون اليهود وربما اقر بعض الـشـاركـانـيـه بشهادتی ان لا اله الا الله وان محمداً رسول الله واقروا بـان ديـنـه حـق ٠ (٣) وقـال بـعـض فـقـهـاء اهل الحديث اسم امة الاسلام واقع على كل من اعتقد وجوب الصلوة الخمس الى الكعبة وهذا غير صحيح لان اكثر المرتدين الذين ارتدوا باسقاط الزكاة في عهد الصحابة كـانـوا يـرون وجوب الصلوة الى الكعبة وانما ارتدوا باسقاط وجوب الزكوة وهم المرتدون من بنى كندة وتميم فاما المرتدون من بنى حنيفة وبنى اسد فانهم كفروا من وجهين احدهما اسقاط وجوب الزكوة والثاني دعواهم بنوة مسليمة وطليحة ٠ واسقط بنو حنيفة وجوب صلوة
٢٢
الصبح وصلاة المغرب فازدادوا كفراً على كفر . (٤) والصحيح عندنا ان امة الاسلام تجمع المقرين بحدوث العالم وتوحيد صانعه وقدمه وانه عادل حكيم مع نفى التشبيه والتعطيل عنه واقر مع ذلك بنبوة الانبياء وبنبوة محمد ﷺ رسالته الى الكافة وتأبيد شريعته وبان كل ماجاء به حق وبان القرآن منبع احكام الشريعة وبوجوب الصلوة الخمس الى الكعبة وبوجوب الزكوة وصوم رمضان وحج البيت على الجملة فكل من اقر بذلك فهو داخل فى ملة الاسلام“ متکلمین کس کو کہتے ہیں؟ متکلمین کے مذاہب حسب ذیل ہیں۔ (١) بقول ابوالقاسم کعبی معتزلی مسلمان وہ ہے جو حضور ﷺ کی نبوت اور آپ کی شریعت کی حقانیت کا معترف ہو۔ اس اقرار کے بعد اس کے عقائد خواہ کچھ بھی ہوں وہ مسلمان شمار ہوگا۔ (٢) خراسان کے کرامیہ (متبعین محمد بن کرام کرامیہ اپنے معبود کو مجسم مانتے ہیں۔ کرامیہ مرجئہ کی شاخ ہیں۔ دیکھو مقالات اشعری ج١ ص ١٤١) کے مذہب میں مسلمان وہ ہے جو توحید ورسالت کا زبان سے اعتراف کرے۔ (کفر ان کے یہاں انکار اور جحود کا نام ہے۔ دیکھو مقالات ج١ ص ١٤١) خواہ اس کے دل میں زندقہ کفر والحاد ہی بھرا ہو۔ اسی لئے ان کے ہاں دورِ نبوت کے منافق پکے مسلمان تھے۔ ان کا ایمان (عیاذ باللہ) جبریل، میکائیل، انبیاء، ملائکہ کے ایمان سے مساوی تھا۔ یہ ہر دو مذہب سراسر غلط اور باطل ہیں۔ کیونکہ فرقہ عیسویہ (از یہود اصبہان) اور یہود کا فرقہ شارکانیہ (شارکان پیشوا کا نام ہے) ہر دو فرقے حضور ﷺ کی نبوت کے معترف، دین اسلام اور آپ کی شریعت کے مقر، قرآن کی حقانیت کے مصدق، اذان، نماز، روزہ، حج وغیرہ کی مشروعیت کے قائل ہیں۔ مگر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ آپ کی نبوت صرف عرب کے لئے ہے۔ بنی اسرائیل اس کے مکلف نہیں۔ بعض شارکانی تو ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ پڑھتے بھی ہیں۔ مذکورہ بالا ہر دو معیاروں کے رو سے ان ہر دو گروہوں کو مسلمان تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ وہ قطعاً کافر ہیں۔ (٣) بعض فقہاء اہل حدیث کے خیال میں مسلمان وہ ہے جو کعبہ مقدسہ کو اپنا قبلہ نماز تسلیم کرے۔ (غالباً ”اہل قبلہ“ کی اصطلاح کی ابتداء یہیں سے ہوئی) یہ مذہب بھی قطعاً غلط ہے۔ کیونکہ دورِ ردت میں ایک جماعت باوجود کعبۃ اللہ کو قبلہ مانتی تھی۔ وہ اس لئے مرتد قرار دی گئی کہ فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھی۔
٢٢٣
(تنبیہ) واضح رہے کہ دور ردت میں مرتدین کے کئی گروہ تھے۔ (الف) قوم کِندہ اور قوم تمیم صرف فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھی۔ اس لئے مرتد قرار دی گئی۔ (ب) قوم حنیفہ اور قوم اسد کا ارتداد دو وجہ سے تھا۔ فرضیت زکوٰۃ کا انکار، اور مسیلمہ، طلیحہ کی نبوت کا اعتراف۔ (ج) قوم حنیفہ اس لئے بھی مرتد تھی کہ وہ صبح اور مغرب کی نماز کی فرضیت کی منکر تھی۔ لہٰذا قوم حنیفہ سب سے بڑھ کر کافر تھی۔ (دور ردت میں مرتدین کے اصناف و انواع کی تحقیق و تفصیل جہاں تک مجھے علم ہے معالم السنن خطابی سے بڑھ کر کہیں نہیں۔ معالم شہر حلب میں زیر طبع ہے)۔ (٣) صحیح مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے تمام ضروریات اسلام کا اعتراف لازم ہے۔ مثلاً حدوث عالم، توحید باری تعالیٰ۔ اس کا قدم اس کا عدل اور اس کی حکمت، نفی تشبیہ و تعطیل، تمام انبیاء علیٰ الخصوص حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار آپ کی شریعت کے دوام کا عقیدہ (مرزا قادیانی نے جہاد کو منسوخ قرار دیا) اور یہ اعتراف کہ آپ کی تعلیم تمام تر صحیح ہے۔ قرآن تمام احکام شرعیہ کی اصل ہے۔ کعبہ رخ ہو کر نمازیں ادا کرنا فرض ہے۔ زکوٰۃ، صوم، حج، فرض ہیں۔ الغرض جو شخص تمام ضروریات دین کا معترف ہو وہ ہی مسلمان ہے۔ ؎
.......٢....... علامہ تفتازانی (شرح مقاصد ج٢ ص٢٦٨) میں لکھتے ہیں: ”ان الذین اتفقوا على ما هو من ضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الاجساد وما يشبه ذلك واختلفوا فى سواها كمسئلة الصفات وخلق الاعمال مما لا نزاع فيه ان الحق فيها واحد هل يكفر المخالف للحق ام لا والا فلا نزاع فى كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفى حشر الاجساد ونفى العلم بالجزئيات ونحو ذلك وكذا بصدور شئ من موجبات الكفر عنه“ ﴿اہل قبلہ کی تکفیر و عدم تکفیر کے متعلق اختلاف علماء صرف اسی صورت میں ہے کہ کوئی فرقہ یا فرد، حدوث عالم حشر اجساد وغیرہ ضروریات دین کا تو قائل ہو مگر بعض دوسرے عقائد میں عامہ مسلمین سے اس کا اختلاف ہو۔ مثلاً صفات الہیہ کا مسئلہ، خلق افعال کا نظریہ وغیرہ۔ مسائل اختلافیہ جن میں باتفاق فریقین حق متعدد نہیں بلکہ واحد ہے۔ فقط ایسے فرقہ کی تکفیر و عدم تکفیر میں علماء کا اختلاف منقول ہوا ہے۔ ورنہ جو فرقہ یا فرد ضروریات دین کا منکر ہو۔ جیسے قدم عالم کا معتقد ہو یا قیامت یا خدا تعالیٰ کے علمی احاطے کا منکر ہو یا اسی نوع کا کوئی اور کفر اس سے سرزد ہو تو وہ باتفاق علماء کافر ہے۔ خواہ ہمہ عمر عبادت الٰہی میں صرف کر دے۔ ؎
٢٤
.......٣....... شرح عقائد نسفی باهل القبلة الذين اتفقوا ع وحشر الاجساد وعلم الله ت المهمات . فمن واظب طو العالم ونفى الحشر اونفى وان المراد بعدم تكفير ا يوجد شئ من امارات الـ ﴿”اہل قبلہ“ سے مراد وہ لوگ ہیں احاطہ علمی اس نوع کے دوسرے ا میں صرف کر دے مگر اس کا عقیدہ کو نہیں جانتا۔ یہ شخص اہل سنت کے قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اس کے باو کفر (جیسے زنار باندھنا) سے ظاہـ
.......٤....... علامہ قونوی گزر چکی ہے۔
ضروریات دین کی حقیقت
.......٥....... (الفصل فـ لکھتے ہیں۔ ”اهل القبلة في اى الامور التى علم ثبـ الضروريات كحدوث العـ وفرضية الصلوة والـ بالطاعات وكذلك مـ والاهانة بامر شرعى تكفير اهل القبلة ان لا
- ٣...... شرح فقہ اکبر مؤلفہ ملا علی قاری ص ١٤١ میں ہے۔ ”اعلم ان المراد
باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله بالكليات والجزئيات وما اشبه ذلك من المسائل المهمات، فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفى الحشر او نفى علمه تعالى بالجزئيات لا يكون من اهل القبلة وان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شئ من امارات الكفر وعلاماته ولم يصدر عنه شئ من موجباته “ ”اہل قبلہ“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین مثلاً حدوث عالم، حشر اجساد، خدا تعالیٰ کے احاطہ علمی اس نوع کے دوسرے اہم مسائل کے معترف ہوں۔ بنابریں جو شخص ہمہ عمر عبادت الٰہی میں صرف کردے مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ عالم قدیم ہے۔ قیامت نہیں آئے گی۔ خدا تعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتا۔ یہ شخص اہل سنت کے نزدیک قطعاً اہل قبلہ سے نہیں۔ رہا اہل سنت کا یہ قول کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ افعال کفر (مثلاً سجدہ صنم) کا مرتکب نہ ہو اور علامات کفر (جیسے زنار باندھنا) سے ظاہر نہ ہوں۔
- ٤...... علامہ قونوی شارح عقیدہ طحاوی ص ٢٤٢ کی تصریح دربارہ اہل قبلہ پہلے
گزر چکی ہے۔
ضروریات دین کی حقیقت اور مفہوم
- ٥...... (الف) علامہ عبدالعزیز فرہاری نبراس (شرح عقائد نسفیہ ص ٥٧٢) میں
لکھتے ہیں۔ ”اهل القبلة فى اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين اى الامور التى علم ثبوتها فى الشرع واشتهر فمن انكر شيئًا من الضروريات كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه بالجزئيات وفرضية الصلوٰة والصوم لم يكن من اهل القبلة ولوكان مجاهدًا بالطاعات وكذلك من باشر شيئًا من امارات التكذيب كسجود الصنم والاهانة بامر شرعى والاستهزاء عليه فليس من اهل القبلة ومعنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصى ولا بانكار الامور الخفية
٢٥
الغير المشهورة هذا ما حققه المحققون “ ﴿اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین یعنی دین کے بدیہی اور مشہور مسائل کے مقر ہوں۔ بنابریں جو شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر ہوگا۔ جیسے حدوث عالم یا قیامت، یا خدا تعالیٰ کے احاطہ علمی، یا فرضیت صوم وصلوٰۃ کا منکر ہو تو وہ اہل قبلہ میں داخل نہیں۔ اگر چہ زاہد مرتاض کیوں نہ ہو۔ علیٰ ہذا القیاس جس شخص میں کفر کے علامات موجود ہوں مثلاً سجدہ صنم یا کسی شرعی مسئلہ کا استخفاف کرے وہ بھی اہل قبلہ سے نہیں۔ اہل سنت کا یہ مسئلہ کہ ”ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے“ اس سے مراد صرف یہی ہے کہ ہم عاصی کو اور دین کے غیر ضروری نظری مسائل کے منکر کو کافر نہیں کہتے۔ یہی محققین کا مذہب اور عقیدہ و تحقیق ہے۔﴾
علامہ قاری (شرح فقہ اکبر ص ٧٦) میں لکھتے ہیں۔ ”والمراد من المعلوم ضرورة كونه من الدين بحيث يعلم العامة من غير نظر والسندلال كوحدة الصانع ووجوب الصلوة وحرمة الخمر ونحوها، واما من يؤول النصوص الواردة في حشر الاجساد وحدوث العالم وغيرها فانه يكفر لما علم قطعاً من الدين انها على ظواهرها “ ﴿ضروریات دین کے یہ معنی ہیں کہ وہ مسئلہ اس قدر مشہور اور واضح ہو کہ ہر عامی آدمی بھی بغیر فکر اور دلیل کے اس کا معترف ہو۔ جیسے توحید، وجوب نماز، حرمت شراب اور واضح رہے کہ جو لوگ حشر اجساد، حدوث عالم وغیرہ کی نصوص کی خود ساختہ تاویلیں کرتے ہیں وہ یقیناً کافر ہیں۔ اس لئے کہ ان نصوص کو اپنے ظاہر پر چھوڑنا اور تسلیم کرنا جزو ایمان ہے۔﴾
- ......٦ (ب) جوہرۃ التوحید میں ہے۔ ”ومن المعلوم ضروري جحد من
ديننا يقتل كفراً ليس حد وفي شرحه ان هذا مجمع عليه، وذكر ان الماتريديه يكفرون بعد هذا بانكار القطعي وان لم يكن ضرورياً (اكفار الملحدين ص ١٣) “ ﴿جو شخص دین اسلام کے کسی بدیہی مسئلے کا انکار کرے اس کو سزائے ارتداد میں قتل کر دیا جائے۔ شارح جوہرہ نے اس شعر کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں۔ یہاں تک لکھا ہے کہ ائمہ ماتریدیہ جیسے ضروریات دین کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح ہر قطعی الثبوت مسئلہ کے منکر کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ضروری (بدیہی) نہ ہو۔﴾
- ......٧ عقائد عضدیہ میں ہے۔ ” لا نكفر احداً من اهل القبله الا بما
٢٦
فيه نفي الصانع المختار او بما فيه شرك وانكار النبوة وانكار ما علم من الدين بالضرورة او بانكار مجمع عليه قطعاً او استحلال محرم واما غير ذلك فالقائل به مبتدع وليس بكافر “ ﴿ہم اہل قبلہ میں سے صرف انہی لوگوں کو کافر سمجھتے ہیں جو خدا کے منکر ہوں۔ یا کسی شرکیہ عقیدے کے قائل ہوں۔ یا نبوت کے منکر ہوں۔ یا دین اسلام کے کسی بدیہی مسئلہ، یا اجماعی قطعی عقیدہ کا انکار کرتے ہوں یا کسی حرام کو حلال سمجھتے ہوں وغیرہ۔ لیکن اگر ضرورت دین کا انکار نہیں تو اس صورت میں وہ شخص مبتدع ہے کافر نہیں۔﴾
- ٨...... تمہید ابو شکور سالمی میں ہے۔ ”قالت الروافض ان العالم لا
يكون خالياً من النبي قط وهذا كفر لان الله تعالى قال وخاتم النبيين ومن ادعى النبوة في زماننا فانه يصير كافراً ومن طلب منه المعجزات فانه يصير كافراً ويجب الاعتقاد بانه ماكان لاحد شركة في النبوة لمحمد صلى الله بخلاف من قال ان علياً كان شريكاً لمحمد صلى الله وهذا كفر “ ﴿رافضیوں کا مذہب ہے کہ (نبوت رحمت ہے۔ اس لئے) دنیا نبی سے خالی نہیں رہ سکتی۔ مگر یہ عقیدہ سراسر کفر ہے۔ قرآن میں خدا تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ بنابریں ہمارے عہد میں جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہے اور اس سے معجزات طلب کرنے والا بھی کافر، نیز یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ شرک فی النبوۃ کفر ہے۔ بنابریں حضرت علیؓ کو حضور ﷺ سے نبوت میں شریک ماننا کفر ہے۔﴾
- ٩...... علامہ قاری (شرح فقہ اکبر ص١٥٠) میں لکھتے ہیں۔ ”دعوى النبوة
بعد نبينا صلى الله كفر بالاجماع “ ﴿آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت باتفاق تمام مسلمین کفر ہے۔﴾
- ١٠...... امام فضل اللہ تورپشتی حنفی متوفی ٦٦٠ھ (معاصر شیخ سعدی) کتاب المعتمد
فی المعتقد میں لکھتے ہیں۔ ”از احادیث بسیار درست شدہ کہ نبوت بہ آمدن آنحضرت ﷺ تمام شد بعد ازوے نبی دیگر نباشد، الیٰ ان قال۔ بحمداللہ ایں مسئلہ در میان اسلامیان روشن تر از آنست کہ آں را بہ کشف و بیان حاجت افتد، اما ایں قدر از ترس آں بیان کردیم کہ مبادا زندیقے، جاہلے را بدیں شبہ در چاہ اندازد و بسیار باشد کہ ظاہر نیارند کردن و بدیں طریق پا درنہند کہ خدا بر ہمہ چیز قادر
٢٧
است۔ کس قدرت او را منکر نیست۔ اما چوں خدا از چیزے خبر دہد کہ چنیں خواہد بودن یا نخواہد بودن خبر چناں نباشد کہ خدا زاں خبر دہد، و خدا خبر داد کہ بعد از وے نبی دیگر نباشد و ہر آںکس کہ گوید بعد از وے نبی دیگر بود یا ہست یا خواہد بود کافر است نیز آںکس کہ گوید امکان دارد کہ باشد، کافر است (نسخہ خطیہ باب دوم فصل سیم) ﴿ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ (اس کے بعد علامہ مذکور نے ختم نبوت کی روایات لائی ہیں۔ تا آنکہ کہا ہے کہ) بفضل خدا مسئلہ ختم نبوت مسلمانوں میں اتنا بدیہی ہے کہ اس کی تشریح اور بیان کی ضرورت نہیں۔ لیکن جو ذکر ہوا وہ صرف اس اندیشہ کے پیش نظر کہ مبادا کوئی زندیق کسی سادہ لوح مسلمان کو مذکورہ ذیل مغالطہ دے اور زندیق عام طور پر کھلم کھلا تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔ البتہ مغالطوں کے ذریعہ کام نکالتے ہیں۔ مغالطہ یہ ہے کہ بحکم ”ان اللّٰہ علیٰ کل شئ قدیر “ خدا کو ہر چیز پر قدرت ہے۔ لہٰذا نیا نبی بھی قدرت الٰہی میں داخل ہے۔ علامہ فرماتے ہیں۔ قدرت الٰہی (جس کو امکان ذاتی بھی کہا جاتا ہے) کا کوئی منکر نہیں۔ (لہٰذا اس سے زیادہ سے زیادہ امکان ذاتی ثابت ہوا) لیکن جب خدا تعالیٰ کسی چیز کی نسبت اطلاع دے کہ یوں ہوگی یا یوں نہ ہوگی تو وہ چیز اسی طرح ہوگی جس طرح خدا تعالیٰ نے اطلاع دی ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن میں اطلاع دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دوسرا نبی نہیں۔ بنابریں جو شخص یہ کہے کہ آپ کے بعد کوئی اور نبی بالفعل ہو چکا یا بالفعل ہے۔ یا بالفعل ہوگا۔ (ہر سہ صورتیں مطلقہ عامہ کی ہیں) وہ کافر ہے۔ نیز وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ کہے کہ آپ کے بعد دوسرا نبی ماضی حال استقبال میں گو بالفعل نہیں۔ لیکن اس کے آنے کا امکان شرعی ہے۔ کیونکہ امکان شرعی ”خاتم النبیین“ والی آیت کا مبطل ہے۔ (عدم امکان شرعی امتناع بالغیر کا ایک فرد ہے) ﴾
- ١١...... عارف باللّٰہ علامہ شیخ عبدالغنی نابلسی شرح فرائد میں لکھتے ہیں ۔ ”وفساد
مذهبهم غني عن البيان كيف وهو يؤدى الىٰ تجويز نبي مع نبيناﷺ اوبعده وذلك يستلزم تكذيب القرآن اذ قد نص على انه خاتم النبيين وآخر المرسلين وفي السنة انا العاقب لا نبي بعدي واجمعت الامة على ابقاء هذا الكلام علىٰ ظاهره وهذه احدى المسائل التي كفرنا بها الفلاسفه (اكفار ص٤٤) “ ﴿یہ مذہب (فلاسفہ) بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ کے
٢٨
زمانے میں اور آپ کے بعد دوسرا نبی آسکتا ہے۔ یہ قرآن کی صریح تکذیب ہے۔ کیونکہ قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔ نیز حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد نبی نہیں آسکتا۔ اس کے علاوہ اجماع امت ہے کہ ان نصوص کو اپنے اپنے ظاہر پر رکھا جائے گا۔ (مرزا محمود کا خود ساختہ معنی ختم نبوت کا اجماع قطعی کے خلاف اور زندقہ ہے) ﴾
محدثین کی رائے
- ١....... قاضی عیاض شفا میں لکھتے ہیں۔ ”وكذلك نكفر من ادعى نبوة
احد مع نبينا صلعم (كمسيلمة والاسود) اوادعى نبوة احد بعده (فانه خاتم النبيين بنص القرآن والحديث فهذا تكذيب لله ورسوله) اومن ادعى النبوة لنفسه (كالمختار بن ابي عبيد) وكل ذالك من ادعى انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي ﷺ لانه ﷺ اخبر انه خاتم النبيين وانه لا نبي بعدى ، واجمعت الامة على ان هذا الكلام على ظاهره دون تاویل (شرح شفا از خفاجی بالتقاط ج٤ ص ٥٤٣ ، شرح قاری ج٢ ص٥١٨) ” ہم ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جس نے حضور ﷺ کے عہد میں کسی دوسرے متنبی کو مانا یا آپ کے بعد کسی دوسرے کو نبی قرار دیا۔ کیونکہ آپ بنص قرآن اور حدیث ختم الانبیاء ہیں۔ پس ایسے عقیدے سے خدا اور رسول کی تکذیب لازم آتی ہے۔ علی ہذا القیاس مدعی نبوت بھی کافر ہے۔ اسی طرح وہ بھی کافر ہے جو گو دعویٰ نبوت نہ کرے۔ مگر وحی والہام کا مدعی ہو۔ (جیسے لاہوری مرزائیوں کا مرزا) یہ سب کافر ہیں۔ حضور ﷺ کے مکذب ہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنے آپ کو خاتم الانبیاء فرماتے ہیں۔ امۃ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ ان نصوص کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے۔ (کسی محمودی تاویل کی گنجائش نہیں) ﴾
- ٢....... حافظ ابو محمد بن حزم ظاہری کتاب الفصل میں لکھتے ہیں۔ ”من قال ان
بعد محمد ﷺ نبیاً بغير عيسى بن مريم فانه لا يختلف اثنان فى كفره هذا مع سماعهم قول الله ولكن رسول الله وخاتم النبيين وقوله ﷺ لا نبى بعدى فكيف يستجيز لمسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبياً فى الارض حاشا ما استثناه رسول الله ﷺ فى الاثار المسندة الثابتة فى نزول عيسىٰ
٢٩
بن مريم عليه السلام في آخر الزمان “ (کتاب الفصل ج٣ص٢٤٩، ج٤ص١٨٠) ”وقد قال في روح المعانى وهو من محققى المتأخرين ان من لم يقل بنزول عيسى عليه السلام فقد اكفره العلماء لا نكاره ماتواتر في الشرع “(اکفارص٨) ﴿آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص بھی (باستثنائے مسیح علیہ السلام) کسی نبی کے آنے کا اعتراف کرے اس کا کفر اس قدر متفق علیہ ہے کہ دو شخصوں کا اختلاف بھی منقول نہیں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا اور خود آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا ۔ پس کسی مدعی اسلام کے لئے کب یہ گنجائش رہتی ہے کہ وہ آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کو جائز قرار دے۔ باستثناء مسیح علیہ السلام کے کیونکہ ان کو خود حضورﷺ نے احادیث صحیحہ میں مستثنیٰ فرمایا ہے۔﴾
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ نزول مسیح علیہ السلام کے منکر کو علماء نے کافر قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ امر متواتر کا انکار ہے۔
فقہاء اور اصولیین کی رائے
- ١...... علامہ امام عبدالعزیز بخاری حنفی، تحقیق شرح حسامی اور کشف الاسرار (شرح
اصول بزدوی ج ٣ ص ٢٤٨) میں فرماتے ہیں ۔ ” وان خالف هواه حتى وجب اکفاره لا يعتبر خلافه ووفاقه ايضاً لعدم دخوله في مسمى الامة المشهود لها بالعصمة وان صلى الى القبلة واعتقد نفسه مسلماً لان الامة ليست عبارة عن المصلين الى القبلة بل عن المؤمنين وهو كافر وان كان لا يدرى انه كافر “
﴿اگر کسی مبتدع کا غلو کفر کے درجہ تک پہنچ جائے تو اجماع امت کے مسئلہ میں اس کا اتفاق واختلاف نظر انداز کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ اس امت میں داخل ہی نہیں ۔ جس کے لئے آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ گمراہی پر اتفاق نہیں کرے گی ۔ ہر چند وہ قبلہ رخ ہو کر نمازیں پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان شمار کرتا ہو۔ یہ اس لئے کہ امت محمدیہ کے یہ معنی نہیں کہ کوئی قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھ لے ۔ بلکہ امت مومنین کا نام ہے اور یہ شخص مومن نہیں بلکہ کافر ہے ۔ ﴾
تنبیہ
مذکورہ بالا حوالہ ہم نے خاص طور پر جناب نواب زادہ اللہ نواز خان صاحب کے لئے حوالہ قلم کیا ہے تا کہ وہ اپنے غلط افتاء سے باز آئیں۔ اسلام کی تعریف جو انہوں نے کی ہے وہ کسی
٣٠
نواب صاحب کی ٹکسال میں تیار اسلام سے اس کو کوئی تعلق نہیں
- ٢...... علامہ ابن
كفر المخالف في ضروريات عمره على الطاعات كفار ہے۔ اگر چہ اہل قبلہ ہو اور تمام عمر لکھا ہے۔ ﴿
- ٣...... صاحب
مذهب عدم تكفير اهل الدين ضرورة (اكفار جب تک کہ وہ ضروریات دین کا مزید تحقیق کے لئے (
- ٤...... خفاجی (
ہوئے لکھتے ہیں ۔ ”قال ابن اصبغ بن الفرج من زعم ان نبى اوقال ان بعد نبی والاقتل لانه مكذب للہ فرماتے ہیں کہ مدعی نبوت مرتد ہو حضورﷺ کے بعد کوئی دوسرا جائے ۔ اس لئے کہ اس نے جھوٹ
اہل قبلہ کی تکفیر پر بغداد امام ابو منصور عبد الرابع في بيان الفرق کا بیان جو بظاہر مسلمان ہو
نواب صاحب کی ٹکسال میں تیار ہوئی ہے۔ یا مسٹر محمد علی کے مزعومہ چار ہائی کورٹوں میں۔ ورنہ اسلام سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ امید ہے کہ نواب زادہ آئندہ محتاط رہیں گے۔
- ٢...... علامہ ابن عابدین (رد المحتار ج ١ ص ٣٧٧) میں لکھتے ہیں۔ ”لا خلاف فی
کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير“ ﴿ضروریات دین کا منکر بالاتفاق کافر ہے۔ اگرچہ اہل قبلہ ہو اور تمام عمر طاعات میں بسر کر دے۔ جیسے ابن امیر الحاج نے شرح تحریر میں لکھا ہے۔﴾
- ٣...... صاحب بحرالرائق سے ردالمحتار میں منقول ہے۔ ”والحاصل ان
مذهب عدم تكفير احد من المخالفين فيما ليس من الاصول المعلومة من الدین ضرورة (اکفار)“ ﴿ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم اپنے کسی مخالف فرقہ کو کافر نہیں کہتے۔ جب تک کہ وہ ضروریات دین کا منکر نہ ہو۔﴾
مزید تحقیق کے لئے (شرح قاری للفقہ الاکبر ص ١٣٩) ملاحظہ کیجئے۔
- ٤...... خفاجی (شرح شفا ج ٤ ص ٤٣٠ ، ٥٧٩) میں ائمہ مالکیہ کے اقوال نقل کرتے
ہوئے لکھتے ہیں۔ ”قال ابن القاسم وسحنون فی من تنباء انه كالمرتد وقال اصبغ بن الفرج من زعم انه نبی فهو كالمرتد وقال اشهب فی یهودی زعم انه نبی او قال ان بعد نبيكم نبى سياتى من الله بشريعة انه كالمرتد يستتاب والا قتل لانه مكذب للنبی ﷺ فی قوله لا نبی بعدی“ ﴿ابن قاسم ، سحنون، اصبغ فرماتے ہیں کہ مدعی نبوت مرتد ہے۔ اشہب نے کہا اگر کوئی یہودی نبوت کا دعویٰ کرے یا یہ کہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا ہے تو وہ مرتد ہے۔ اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے۔ اس لئے کہ اس نے حضور ﷺ کے ارشاد ’لا نبی بعدی‘ کی تکذیب کی ۔﴾
اہل قبلہ کی تعیین پر بغدادی کا سیر حاصل تبصرہ
امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی کتاب (الفرق فی الفرق ص ٢٢٠) میں لکھتے ہیں۔ ”الباب الرابع فى بيان الفرق التي انتسبت الى الاسلام وليست منها “ ﴿یعنی ان فرقوں کا بیان جو بظاہر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ مگر درحقیقت کافر ہیں۔﴾
٣١
پھر ان کی تعداد اکیس بتلائی ۔ تفصیل ذیل : (١) سبائیہ ۔ (٢) بیانیہ ۔ (٣) حربیہ ۔ (٤) مغیریہ ۔ (٥) منصوریہ ۔ (٦) جناحیہ ۔ (٧) خطابیہ ۔ (٨) غرابیہ ۔ (٩) مفوضیہ ۔ (١٠) حلولیہ ۔ (١١) اصحاب التناسخ ۔ (١٢) حائطیہ ۔ (١٣) حمادیہ ۔ (١٤) مقنعیہ ۔ (١٥) رزامیہ ۔ (١٦) یزیدیہ ۔ (١٧) میمونیہ ۔ (١٨) باطنیہ ۔ (١٩) حلاجیہ ۔ (٢٠) غدافریہ۔ (٢١) اصحاب اباحہ ۔ پھر ص ٢٩٩ تک ان فرقوں کے پوست کندہ حالات بیان کئے ۔ ذیل میں ہم موضوع بحث کے رو سے چند اقتباسات پیش کریں گے ۔
متنبیان کذاب اور ان کے اتباع
بغدادی فرماتے ہیں ۔ ”ثم ان المختار ابن ابي عبيد خدعة السبائية فقالوا له انت حجة هذا الزمان وحملوه على دعوى النبوة فادعاها عند خواصه وزعم ان الوحى ينزل عليه ﴿فرقہ سبائیہ نے مختار کو دھوکہ دے کر کہا کہ تو اس زمانے کا مہدی ہے اور اس کو ادعائے نبوت کی ترغیب دی۔ جس پر وہ نبی بن بیٹھا اور کہنے لگا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔﴾
”وقال عبدالقاهر كيف يكون من فرق الاسلام قوم (السبائية) يزعمون ان عليا كان الهاً او نبياً، لان جاز ادخال هولاء في جملة فرق الاسلام جاز ادخال الذين ادعوا نبوة مسيلمة الكذاب في فرق الاسلام“
﴿عبدالقاہر کہتے ہیں کہ سبائیہ کس طرح مسلمان کہلا سکتے ہیں ۔ جب کہ ان کا عقیدہ ہے کہ علی مرتضیٰ خدا تھے یا نبی ۔ اگر سبائیہ اسلامی فرقوں میں داخل ہیں تو مسیلمہ کے اتباع بھی مسلمان شمار ہونے چاہئیں ۔ (عیاذ باللہ )﴾
”واتباع بيان بن سمعان قالوا انه كان نبياً وانه نسخ بعض شريعة محمد ﷺ فهم خارجون عن فرق الاسلام (ص٢٢٧) ومن زعم ان بياناً كان نبياً كمن زعم ان مسيلمة كان نبياً وكلا الفريقين خارجان عن الاسلام (ص٢٢٨) مغيرة بن سعيد العجلى اظهر لاتباعه انواعاً من الكفر منها دعواه النبوة فالمغيرية خارجة عن فرق الاسلام (الفرق ص٢٢٩، وكتاب مقالات الاشعرى ج ١ ص ١٧) قال عبدالقاهر كيف يعد فى فرق الاسلام قوم ادعوا نبوة زعيمهم (ص٢٢٩،٢٣٤) واما الجناحية فهؤلاء اتباع
٣٢
عبدالله بن معاوية زعموا ان كل مؤمن يوحى اليه وهم خارجون عن فرق الاسلام (الفرق ص٢٣٦، مقالات ج١ ص٦) ”بیان بن سمعان تمیمی کے مرید اس کو نبی مانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نے (مرزا قادیانی کی طرح) شریعت محمدیہ کے بعض حصے منسوخ کر دیئے ہیں۔ بیان مذکور کو نبی ماننے والے اور مسیلمہ کے مرید ہر دو مساوی طور پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مغیرہ بن سعید عجلی نے کئی ایک کفر مریدین کے سامنے پیش کئے۔ من جملہ ان کے دعویٰ نبوت بھی ہے۔ اس لئے یہ جماعت بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ عبدالقاہر کہتے ہیں بھلا وہ قوم کس طرح دائرہ اسلام میں رہ سکتی ہے جو اپنے لیڈر کو نبی مانے۔ عبداللہ بن معاویہ کے اتباع کو جناحیہ کہتے ہیں۔ بخیال ان کے ہر ایک مؤمن کی طرف وحی ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا یہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
”اليزيدية من الخوارج هم اتباع يزيد بن ابي انيسة الخارجي خرج عن قول جميع الامة لدعواه ان الله عزوجل يبعث رسولاً من العجم وينزل عليه كتاباً من السماء وينسخ بشريعته شريعة محمدﷺ وكان مع هذه الضلالة يتولى من شهد لمحمدﷺ بالنبوة من اهل الكتاب وان لم يدخل في دينه وسماهم بذلك مؤمنين وليس بجائز ان يعد في فرق الاسلام من يعد اليهود من المسلمين وكيف يعد من فرق الاسلام من يقول بنسخ شريعة الاسلام (ص٢٦٣، راجع المقالات ج١ ص١٠٣) ”یزیدیہ یزید بن ابی انیسہ خارجی کے متبعین کو کہتے ہیں۔ اس نے تمام امت کا اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ خدا تعالیٰ عنقریب عجم میں سے ایک نبی بھیجے گا۔ (قادیان کا مغل زادہ) اس کے پاس آسمانی کتاب ہوگی۔ وہ شریعت محمدیہ کو بالکل منسوخ کر دے گا۔ ساتھ ہی وہ ان یہود کو مخلص مسلمان شمار کرتا ہے جو حضورﷺ کو نبی مانیں۔ مگر اسلام نہ لائیں۔ یہ جماعت بھی کافر ہے۔ بھلا اس جماعت کے کفر میں کیا شبہ جو شریعت اسلامیہ کے نسخ کی قائل ہو۔“
”واما الباطنية فهم ايضاً مقرون بنزول الوحي من السماء على الذين اقروا بنبوتهم ويزعمون ان الانبياء قوم احبوا الزعامة فساسوا الناس بالنواميس والحيل طلباً للزعامة بدعوى النبوة فهم خارجون عن فرق الاسلام (ص٢٧٩) ”باطنیہ بھی اپنے پیشوایان مذہب کو نبی مانتے ہیں۔ پھر اس
٣٣
خباثت کا کیا ٹھکانا کہ انبیاء لیڈری کے خواہشمند تھے۔ اس پر انہوں نے دعویٰ وحی اور دوسرے حیلوں سے لوگوں کو قابو کیا اور بظاہر نبوت کا دعویٰ کیا۔ (جیسے قادیانی دجال ، مسیح علیہ السلام کو مسمریزم جاننے والا کہتا ہے )
حضور خاتم الانبیاء والرسل ہیں اور اس کا منکر کافر ہے
امام ابو منصور عبدالقاہر بغدادی اپنی شہرۂ آفاق تصنیف اصول الدین مطبوعہ استنبول میں فرماتے ہیں۔ ”کل من اقر بنبوة نبينا محمدﷺ اقر بانه خاتم الانبیاء والرسل واقر بتأبيد شريعته ومنع من نسخها وقال ان عيسى عليه السلام اذا نزل من السماء ينزل بنصرة شريعة الاسلام ويحيى ما احياه القرآن ويميت ما اماته القرآن، خلاف فرقة من الخوارج تعرف باليزيدية المنتسبة الى يزيد بن ابى انيسة فانهم زعموا ان الله يبعث فى آخر الزمان نبيا من العجم وينزل عليه كتاباً من السماء وينسخ ذلك الشرع شرع القرآن وقد نص القرآن ان محمداًﷺ خاتم النبيين . وقد تواترت الاخبار عنه بقوله لا نبى بعدى ومن رد حجة القرآن والسنة فهو الكافر (ج ١ ص ١٦٢)“ ﴿ ہر ایک مؤمن جس طرح آنحضرتﷺ کی نبوت کا معترف ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کو ختم الانبیاء والرسل آپ کی شریعت کا دوام اور اس کا عدم نسخ بھی مانتا ہے۔ نیز یہ بھی عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو شریعت اسلامیہ کی تائید کریں گے۔ ان ہی احکام کی دوبارہ اشاعت کریں گے۔ جو قرآن نے پیش کئے اور انہی امور سے روکیں گے جو قرآن نے ممنوع قرار دیئے۔ برخلاف فرقہ یزیدیہ کے (اتباع یزید بن ابی انیسہ خارجی) ان کا عقیدہ ہے کہ آخر زمانے میں خدا تعالیٰ عجم سے ایک نبی مبعوث فرمائے گا۔ (مرزا قادیانی کے حق میں پیش گوئی ہو رہی ہے ) اس پر کتاب نازل ہوگی۔ اس کی شریعت، شریعت قرآنی کی ناسخ ہوگی۔ حالانکہ قرآن نے صاف اعلان کیا ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں۔ اس کے علاوہ ”لا نبی بعدی“ حضورﷺ سے بہ تواتر مروی ہے۔ جو شخص قرآن اور حدیث کی تردید کرے وہ پکا کافر ہے۔﴾
زندیق اور مرتد میں فرق
شہرستانی کے جواب میں ہم سلف سے نقل کر آئے ہیں کہ نصوص ختم نبوت کو اپنے ظاہر پر رکھنا لازم اور ضروری ہے۔ ان میں ہر تاویل باطل ہوگی۔ جو ماؤل کو کفر سے بچا نہیں سکتی۔
٣٦
مرزا قادیانی اور ان کی امت کی تمام ہے کہ یہ گروہ باب تاویل میں باطنیہ (باطنیہ کی تسویلات و تاویلات کا بطلان اور یہ تاویلات سراسر زندقہ ہیں۔ اس نقل کر دیا جائے تاکہ مرزائیہ کی حقیقت
- ١...... علامہ تفتازانی
الايمان خص باسم الم قال بالهين اواكثر خص اعترافه بنبوة النبی ﷺ بالاتفاق خص باسم الزند اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد ہے۔..... اور اگر حضورﷺ کی نبوت لیکن ضروریات دین کے خلاف عقید
- ٢....... حضرت
زندیق کی حقیقت بالفاظ ذیل واض ولم يذعن له لاظهاره الكفر فهو المنافق وان ا ضرورة بخلاف مافسر الزنديق كما اذاعترف بار المراد بالجنة الابتهاج بالنار هی الندامة التى جنة ولا نار فهو زنديق الكتاب والسنة واتفاق الـ فكل من قال ان النبى ﷺ يسمى بعده احد بالنبوة الله الى الخلق مفترض الـ
مرزا قادیانی اور ان کی امت کی تمام تر بنیاد تاویل پر ہے۔ مرزائی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ یہ گروہ باب تاویل میں باطنیہ جیسے باطل پرست فرقہ سے بھی دو قدم آگے بڑھا ہوا ہے۔ (باطنیہ کی تسویلات و تاویلات کا مطالعہ کرنا ہو تو کتاب الفرق کو ص ٢٦٥ سے ٢٩٩ تک دیکھئے ) اور یہ تاویلات سراسر زندقہ ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زندیق کا ترجمہ بھی سلف سے نقل کر دیا جائے تا کہ مرزائیہ کی حقیقت پورے طور پر سمجھ آسکے۔
- .......١ علامہ تفتازانی شرح مقاصد میں فرماتے ہیں۔ ” الكافر ان اظهر
الايمان خص باسم المنافق وان كفر بعد الاسلام خص باسم المرتد وان قال بالهين اواكثر خص باسم المشرك وان كان متدينا....... وان كان مع اعترافه بنبوة النبى ﷺ واظهاره شعائر الاسلام يبطن عقائد هى كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق “ ﴿کافر اگر بظاہر اسلام کا اقرار کرے تو وہ منافق ہے اور اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے تو مرتد ہے اور اگر تعدد معبود کا قائل ہو تو مشرک ہے ...... اور اگر حضور ﷺ کی نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے شعائر اسلام کی پابندی بھی دکھائے لیکن ضروریات دین کے خلاف عقائد رکھتا ہو تو یہ زندیق ہے۔﴾
- .......٢ حضرت حکیم الہند شاہ ولی اللہ دہلوی مسوی (شرح موطا ج٢ ص ١٠٩) میں
زندیق کی حقیقت بالفاظ ذیل واضح کرتے ہیں۔ ” المخالف للدين الحق ان لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهراً ولا باطناً فهو كافر وان اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق وان اعترف به ظاهراً لكنه يفسر بعض ماثبت من الدين ضرورة بخلاف مافسره الصحابة والتابعون واجمعت الامة عليه فهو الزنديق كما اذاعترف بان القرآن حق وما فيه من ذكر الجنة والنار حق لكن المراد بالجنة الابتهاج الذى يحصل بسبب الملكات المحمودة والمراد بالنار هى الندامة التى تحصل بسبب الملكات المذمومة وليس فى الخارج جنة ولا نار فهو زنديق . ثم التاويل تاويلان تاويل لا يخالف قاطعاً من الكتاب والسنة واتفاق الامة وتاويل يصادم ماثبت بالقاطع فذلك الزندقة . فكل من قال ان النبى ﷺ خاتم النبوة لكن معنى هذا الكلام انه لا يجوزان يسمى بعده احد بالنبى . واما معنى النبوة (وهو كون الانسان مبعوثاً من الله الى الخلق مفترض الطاعة معصوماً من الذنوب ومن البقاء على الخطاء
٣٥
فيما يرى) فهو موجود في الأئمة بعده فذلك الزنديق ، وقد اتفق جماهير المتأخرين من الحنفيه والشافعيه على قتل من يجرى مجرى هذالباب“ ﴿دین حق کا مخالف اگر سرے سے اس کا معتقد اور مقر ہی نہیں نہ ظاہر نہ باطناً تو وہ کافر ہے اور اگر زبان سے اعتراف کرے مگر دل میں کفر بھرا ہوا ہو تو یہ منافق ہے اور اگر بظاہر دین حق کا اعتراف کرے۔ مگر بعض ضروریات دین کی ایسی من مانی تاویل کرے جو صحابہ، تابعین، اجماع امت کے سراسر خلاف ہو۔ (جیسے مرزا محمود کا ترجمہ ختم نبوت) تو ایسا شخص شریعت میں زندیق ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ قرآن حق، جنت و جہنم حق۔ لیکن جنت کے معنی فقط اس قدر ہیں کہ انسان کو اچھے اخلاق سے اس عالم میں گونہ سرور حاصل ہوگا اور جہنم سے مراد یہ ہے کہ بداخلاق کو وہاں گونہ ندامت ہوگی۔ فی الواقع کوئی جنت جہنم نہیں۔ ایسا شخص زندیق ہے۔ غرض زندیق سب کچھ مان کر سب پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہ زندقہ اس میں دین کی صورت بحال رہتی ہے اور حقیقت مسخ ہو جاتی ہے۔ یہ مرتد سے کئی گنا بدتر ہے۔ واضح رہے کہ تاویل دو قسم ہے۔ (١) جو کسی نص قطعی اور حدیث صحیح اور اجماع امت کے مخالف نہ ہو۔ (٢) جو کسی نص سے ٹکرائے۔ ثانی الذکر زندقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ بیشک آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد نبی کہلانا منع ہے۔ رہا نبوت کا مفہوم (یہی ایسا انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خلق خدا کو ہدایت کرنے آئے۔ واجب الاطاعة ہو۔ گناہوں سے معصوم اور غلطیوں سے مبرا ہو) سو یہ آپ کے بعد ائمہ دین میں موجود ہے۔ پس ایسا شخص زندیق ہے۔ جمہور فقہاء حنفیہ اور شافعیہ کا اتفاق ہے کہ زندیق واجب القتل ہے۔﴾
توبہ زندیق
زندیق اور مرتد کی حقیقت میں فرق واضح ہو چکا ہے۔ اس کے بعد احکام کا درجہ ہے۔ مرتد اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ منظور کر لی جائے گی۔ لیکن زندیق کی توبہ کا اعتبار کریں تو کیونکر کریں۔ اس لئے کہ اس کے باطن میں خبث پوشیدہ ہے۔ توبہ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ امام ابوبکر جصاص رازی حنفی (احکام القرآن ج١ ص٥٣) میں اور حافظ امام بدر الدین عینی حنفی (عمدۃ القاری ج١ص٢١٣) میں لکھتے ہیں۔
١...... ”قال ابو یوسف قال ابو حنيفة اقتلوا الزنديق سراً فان توبته لا تعرف“ ﴿امام ابو حنیفہ نے فرمایا ہے کہ زندیق کو جس طرح بن پڑے قتل کر دو۔ اس لئے کہ اس کی توبہ کا پتہ لگانا دشوار ہے۔﴾
٣٦
٢...... ”فی تفسیر المسلم اذا تولى عمل السحر قتل تعرف توبته (ج ١ ص٥١) وقال م ﴿امام مالکؒ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی مسلما ضروری نہیں۔ کیونکہ باطنی مرتد کی توبہ اعتبا کہ زندیق کو بلا استتابت قتل کر دو۔﴾
٣...... خطیب ابوبکر (تاری کرتے ہیں۔ ”قال عثمان بن حكي رفع الی هارون زنديق فدعا وناظره، فقال له يا امير المؤ السلام فان اسلم والافاضرب ع ﴿عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ مجھے وثوق ہے دے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہارون کے سامنے ایک سے مناظرہ کرنے کے لئے دربار میں طلب امام ابو یوسف نے خلیفہ سے فرمایا کہ دیر نہ ک ہے مرتد نہیں کہ اس کو مناظرہ سے سمجھایا جائ خلاف مصلحت اسلامیہ ہے۔﴾
فصل
جواب شبہ ثالث اور تکفیر معین
گذشتہ تمام تر تفصیلات شبہ ثانی کے اوّل تو ہر دو شبہات کے جوابات کا مطالعہ کر لینے اس کے علاوہ ابتداء کتاب میں بعض جزئیات بھی یہاں ہم ایک جامع مانع قاعدہ اس ہیں۔ قاعدہ کو عبارات سابقہ سے صریحاً استنباط سلف صالحین کے مقدس الفاظ میں ادا کریں۔
٧
- ٢...... ”في تفسير الجصاص قال ابو مصعب عن مالك فی
المسلم اذا تولی عمل السحر قتل ولا یستتاب لان المسلم اذا ارتد باطناً لم تعرف توبته (ج ١ ص ٥١) وقال مالك لا تقبل توبته الزندیق (ج ١ ص ٥٤) “ امام مالکؒ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان جادوگر بن جائے تو اس کو قتل کر دو۔ توبہ پیش کرنا ضروری نہیں۔ کیونکہ باطنی مرتد کی توبہ اظہار اسلام سے معلوم نہیں ہو سکتی۔ نیز مالکؒ فرماتے ہیں کہ زندیق کو بلا استتابت قتل کر دو۔
- ٣...... خطیب ابوبکر (تاریخ بغداد ج ١٤ ص ٢٥٣) میں بہ سند خود ذیل کا واقعہ نقل
کرتے ہیں۔ ”قال عثمان بن حکیم انی لارجو لابي یوسف فی هذه المسئلة رفع الی هارون زندیق فدعا ابا یوسف لیکلمه . فقال له هارون کلمه وناظره . فقال له یا امیر المؤمنین ادع بالسیف والنطع واعرض عليه السلام فان اسلم والا فاضرب عنقه هذا لا یناظر وقد الحد فی الاسلام “ عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ مجھے وثوق ہے کہ خدا تعالیٰ امام ابو یوسف کو مسئلہ ذیل میں اجرِ عظیم دے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہارون کے سامنے ایک زندیق پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے امام ابو یوسف کو اس سے مناظرہ کرنے کے لئے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ آپ اس سے مکالمہ و مناظرہ کریں۔ امام ابو یوسف نے خلیفہ سے فرمایا کہ دیر نہ کیجئے۔ شمشیر منگوائیے اور اس کا سر قلم کیجئے۔ یہ زندیق ہے مرتد نہیں کہ اس کو مناظرہ سے سمجھایا جائے۔ یہ تو ملحد ہے اس کا گھڑی بھر زندہ رہنے دینا بھی خلاف مصلحت اسلامیہ ہے۔
فصل سوم
جواب شبہ ثالث اور تکفیر معین
گذشتہ تمام تر تفصیلات شبہ ثانی کے جواب سے متعلق تھیں۔ رہا شبہ سوم کا جواب۔ اوّل تو ہر دو شبہات کے جوابات کا مطالعہ کر لینے کے بعد اس کی لغویت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ابتداء کتاب میں بعض جزئیات بھی نقل کر دیئے گئے جو مابہ النزاع میں کافی ہیں۔ یہاں ہم ایک جامع مانع قاعدہ اس مسئلہ کے متعلق لکھ کر کتاب کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ قاعدہ گو عبارات سابقہ سے صریحاً استنباط کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مقصد کو سلف صالحین کے مقدس الفاظ میں ادا کریں۔
٣٧
علامہ محمود حنفی قونوی (شرح عقیدہ طحاویہ ص٢٤٨) میں لکھتے ہیں۔ ”واما الشخص المعين اذا قيل هل تشهدون انه من اهل الوعيد وانه كافر فهذا لا نشهد عليه الا بامر تجوز معه الشهادة فانه من اعظم البغى ان يشهد على معين ان الله لا يغفر له ولا يرحمه بل يخلده فى النار فان هذا حكم الكافر بعد الموت ولكن هذا التوقف فى امر الآخرة لا يمنعنا ان نعاقبه فى الدنيا لمنع بدعته وان نستبتيه فان تاب والا قتلناه ثم اذا كان القول في نفسه كفراً قيل انه كفر والقائل له يكفر بشروط وانتفاء مواقع ولا يكون ذلك الا اذ اصار منافقاً زنديقاً فلا يتصور ان يقر احد من اهل القبلة المظهرين للاسلام الا من يكون منافقاً زنديقاً“ ﴿کسی معین شخص کی نسبت اگر ہم سے دریافت کیا جائے کہ آیا وہ قیامت میں سزا یاب ہوگا؟ اور آیا وہ کافر ہے؟ تو اس کے متعلق واضح رہے کہ یہ بڑی بے انصافی ہے کہ کسی معین شخص کے متعلق ہم خم ٹھوک کر کہہ دیں کہ خدا تعالیٰ اس کو آخرت میں نہیں بخشے گا۔ اس پر رحم نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رکھے گا۔ کیونکہ اس قسم کا فیصلہ صرف اس شخص کے حق میں ہے جو کفر پر مر چکا ہو۔ (جیسے فرعون، ابو جہل، مسیلمہ ) لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ ہمارا یہ توقف صرف عالم آخرت کے متعلق ہے۔ رہا دنیاوی احتساب یقیناً ہم اس کو اشاعت بدعت سے روکنے کے لئے سزادیں گے اور اس سے صاف کہیں گے کہ ان خیالات سے باز آجا۔ اگر مان لے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔﴾
مزید براں یہ ہر دو شقیں بھی اسی درجہ تک ہیں جب تک کوئی عقیدہ کفر صریح کو مستلزم نہ ہو۔ ورنہ ہم ایسے خیالات کو کفر اور ان کے معتقد کو کافر قرار دیں گے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص زندیق منافق ہو جائے۔ بنابریں ہم اہل قبلہ میں سے زندیق منافق کو کافر کہیں گے۔ خواہ معین ہی کیوں نہ ہو۔
تلخیص البحث
جناب مسٹر محمد علی صاحب ایم۔اے لاہوری کے چار ہائیکورٹوں کے مزعومہ فیصلہ کے مقابلہ میں جس عالمگیر اسلامی فیصلہ کو ہم پیش کرنا چاہتے ہیں وہ تیرہ سو سال کی بس طویل الاذیال روداد ہے۔ جس کے سمیٹنے کے لئے عمر نوح چاہئے۔ لیکن ضرورت مقام کے پیش نظر ہم نے فیصلہ مذکور کے جستہ جستہ اقتباسات حوالہ قرطاس کئے ہیں۔ حق پسند طبائع اس سے اپنی پیاس بجھا سکتی ہیں۔
٣٨
اپنے منہ میاں مٹھو
مسٹر محمد علی جیسے گرم سرد فیصلہ‘‘ کو کوئی شرعی ثبوت سمجھیں گے مجسٹریٹ یا جج کے سامنے اعتراف ہے۔ ایک آوارہ عورت جا کر کہتی ہ عدالت کو اس کے تسلیم کرنے میں کو کے سامنے جا کر کہے کہ میں آج م لیتی ہے۔ اس کو انگریزی کتاب ”ا بناء علیہ جب فرقہ مرزا اور جج کو ( جو غیر مسلم حکومت کے نما لہٰذا اس ” چار ہائیکور منہ سے اسلام کے مدعی ہیں۔ مر کر سکتے۔
مسٹر محمد علی کی دھمکی
مجھے رہ رہ کر تعجب آ النزاع میں پیش کیوں کیا۔ یہ کہ ناواقف ہیں۔ جو غیر مسلم حکوم الاذیال ہے۔ جب تک جناب خارج از وقت ہے۔ اس لئے ہو نہ ہو یہ ض سے کیا ہے۔ عام مسلمانوں کو یہ رہنا چاہئے کہ یہ دھمکی حکومت ن مسلمانوں کے یہاں ( جو فطرتاً رکھتی۔ وهموا بما لم ينالو
اپنے منہ میاں مٹھو
مسٹر محمد علی جیسے گرم سرد آزمودہ سے یہ توقع نہیں ہو سکتی کہ وہ ”چار ہائیکورٹوں کے فیصلہ“ کو کوئی شرعی ثبوت سمجھیں گے۔ انگریزی کورٹوں کی حقیقت بس اس قدر ہے کہ ایک شخص مجسٹریٹ یا جج کے سامنے اعتراف کرتا ہے کہ میں چمار ہوں، عدالت اس کو چمار تسلیم کر لیتی ہے۔ ایک آوارہ عورت جا کر کہتی ہے کہ میں عیسائی یا سکھ یا ہندو ہونا چاہتی ہوں یا ہو چکی ہوں۔ عدالت کو اس کے تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوتا۔ بالفرض اگر دوسرے روز وہی عورت اسی حاکم کے سامنے جا کر کہے کہ میں آج پھر مسلمان ہوتی ہوں یا ہو چکی ہوں۔ عدالت اس کو بھی تسلیم کر لیتی ہے۔ اس کو انگریزی کتاب ”آئین و انصاف“ میں مذہبی آزادی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
بناءً علیہ جب فرقہ مرزائیہ عدالتوں میں جا جا کر کہتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ تو مجسٹریٹ اور جج کو (جو غیر مسلم حکومت کے نمائندہ ہیں) کیا پڑی کہ خواہ مخواہ دست اندازی کرتے پھریں۔
لہٰذا اس ”چار ہائیکورٹوں والے فیصلہ“ کا خلاصہ (بالفاظ دیگر) یہ ہوا کہ آپ اپنے منہ سے اسلام کے مدعی ہیں۔ جس کے ثبوت میں آپ کوئی شرعی دلیل تا قیام قیامت پیش نہیں کر سکتے۔
مسٹر محمد علی کی دھمکی
مجھے رہ رہ کر تعجب آتا ہے کہ جناب مسٹر محمد علی صاحب نے اس ”فیصلہ“ کو مابہ النزاع میں پیش کیوں کیا۔ یہ گمان تو نہیں ہو سکتا کہ آپ ”فیصلہ معلومہ“ کی شرعی حیثیت سے ناواقف ہیں۔ جو غیر مسلم حکومت کے کسی حاکم کا مرہون منت ہے۔ یہ مبحث بہت ہی طویل الاذیال ہے۔ جب تک جناب کی طرف سے کوئی صاف بات سامنے نہ آئے اس پر بحث کرنا خارج از وقت ہے۔
اس لئے ہو نہ ہو یہ خیال گزرتا ہے کہ آپ نے فیصلہ مذکورہ کا ذکر جس تحدی اور زور سے کیا ہے۔ عام مسلمانوں کو پچاس الماریوں والی حکومت کی دھمکی دی ہے۔ لیکن جناب کو واضح رہنا چاہئے کہ یہ دھمکی حکومت وقت کے یہاں (جو مذہبی آزادی کی پاسدار واقع ہوئی ہے اور مسلمانوں کے یہاں (جو فطرتاً غیر اللہ کے سامنے جھکنے کے عادی نہیں۔ پر کاہ جتنی وقعت نہیں رکھتی۔ وہمّوا بما لم ینالوا!
٣٩
تذییل
مجازی نبی
مذکورہ بالا تین شرعی مباحث ان کے علاوہ ”چار ہائیکورٹوں کا فیصلہ“ ہمارا کافی وقت لے چکے ہیں۔ حسب تقاضائے وقت اور فرصت ان امور چہار گانہ پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ اس کے بعد چند اور خود ساختہ دلائل ہیں جو اہل زیغ کا خصوصی حصہ ہیں۔ تاریخ مذہب شاہد ہے کہ اہل زیغ کے لئے اگر کوئی جائے پناہ ہو سکتی ہے تو وہ صرف متشابہات کی بھول بھلیاں اور بدیہیات و مسلمات کی من مانی تاویلیں ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی بقول آپ کے ”مجازی نبی“ تھے۔ در حقیقت وہ کچھ اس قسم کی تلون پسند طبیعت لے کر آئے تھے کہ کسی چیز پر آپ کو قرار نہ تھا۔ پھر آپ کے کلام کی شرح جو جناب کے قلم سے نکلی اس کے دیکھنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”نبی مجازی“ بایں معنی تھے کہ آپ کے کلام میں کوئی لفظ حقیقی معنوں سے آشنا نہیں۔ ہر جگہ مجاز، ہر مقام پر تاویل، تو گویا مرزا قادیانی دنیا میں مجازات کا بیج بونے آئے تھے تاکہ تمام تر زبان حقیقت سے مسخ ہو جائے اور باطنیہ سے اگر کچھ کسر رہ گئی ہو تو اس کی تکمیل کر دی جائے۔
”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب“
خاتمہ سخن
”الشہاب“ کی ترتیب و تالیف میں احقر نے حضرت شیخ الحدیث یگانہ دہر، فریدۂ عصر، نمونہ سلف، حجت خلف، مولانا السید محمد انور شاہ قدس سرہ العزیز کی تصنیف ”اکفار الملحدین“ کو شمع راہ بنایا۔ ”الشہاب“ کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ حضرت مرحوم کی کتاب کے علاوہ اس تالیف میں بعض اور مفید اور کارآمد اضافے بھی ہیں۔ لیکن عام حوالوں کی امداد حضرت اقدس کی کتاب سے لی گئی اور جہاں اصل کتاب تک رسائی مشکل تھی حضرت مرحوم کی کتاب کا حوالہ کافی سمجھا گیا۔
”الحمدلله الذى هدانا لهذا وماكنا لنهتدى لولا ان هدانا الله لقد جأت رسل ربنا بالحق“
محمد نور الحق، العلوی، بازار حکیماں لاہور مورخہ ٩؍ ستمبر ١٩٣٤ء
٤٠
مارے ہائیکورٹوں کا فیصلہ‘ ہمارا کافی وقت لے مانہ غائرانہ پر کافی بحث ہوچکی ہے۔ اس کے حصہ ہیں۔ تاریخ مذہب شاہد ہے کہ اہل زیغ متشابہات کی بھول بھلیاں اور بدیہیات قادیانی بقول آپ کے ”مجازی نبی“ تھے۔ تے تھے کہ کسی چیز پر آپ کو قرار نہ تھا۔ پھر کے دیکھنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”نبی قی معنوں سے آشنا نہیں۔ ہر جگہ مجاز، ہر مقام چلے آئے تھے تاکہ تمام تر زبان حقیقت سے تکمیل کردی جائے۔ ذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك
محترم نے حضرت شیخ الحدیث یگانہ دھر، فریدۂ سره العزیز کی تصنیف ”اکفار سے معلوم ہوگا کہ حضرت مرحوم کی کتاب تے بھی ہیں۔ لیکن عام حوالوں کی امداد اب تک رسائی مشکل تھی حضرت مرحوم کی
نا لنهتدى لولا ان هدانا الله لقد
محمد نور الحق، العلوی، بازار حکیماں لاہور مورخہ ٩ ستمبر ١٩٣٤ء
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مجلس مشاور العلماء
کا قیام
حضرت مولانا نور الحق علویؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين، خاتم النبيين وعلى اله وصحبه واتباعه اجمعين!
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صوبہ پنجاب اور بالخصوص لاہور جیسے مرکزی شہر میں جہاں مسلمانوں کی مذہبی جماعتیں اور انجمنیں بکثرت موجود ہیں۔ علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس اور عقائد صحیحہ کی ترویج واشاعت کا کوئی تسلی بخش نظام موجود نہیں۔ بناء علیہ بعض علماء کرام جو ایک عرصہ سے لاہور میں مقیم ہیں۔ مدت سے ایک ایسی انجمن کے قیام کی ضرورت محسوس کر رہے تھے، جو کم از کم صوبہ بھر کے علماء عظام کو ایک مرکز پر جمع کرے، تا کہ دعوت وتبلیغ وتدریس وتالیف وافتاء وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ علماء کرام کی ایک منظم اور متحدہ جماعت کی زیر نگرانی سر انجام پائیں اور فلسفہ تقسیم عمل کے ماتحت متفقہ فیصلہ اور مشورہ کے بعد علماء کرام کے مذاق کے موافق کام تقسیم کیا جائے۔ لیکن ایسی انجمن کی سر پرستی کے لئے ایسے مقتدر واجب الاحترام ہستی کی تلاش تھی کہ جس کی شخصیت مسلمہ ہو اور کہ جس کا علم وعمل مشعل راہ ہو۔ کافی غور وخوض کے بعد شیخ المحدثین امام المتقین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ کی ذات بابرکات کو انجمن کی سر پرستی کے لئے منتخب کیا گیا اور یہ طے پایا کہ شاہ صاحبؒ ممدوح کی خدمت عالیہ میں انجمن کے قواعد وضوابط اور اس کے اغراض ومقاصد بھیج کر استدعا کی جائے کہ جناب لاہور میں اقامت فرما کر اہلیان لاہور کو مشکور فرماتے ہوئے انجمن کو اپنی سر پرستی سے مشرف فرمائیں۔ چنانچہ درخواست جناب کی خدمت میں بھیجی گئی۔ مگر بدقسمتی سے کچھ ایسے حالات پیش آتے رہے کہ اس وقت تک حضرت ممدوح کا لاہور میں تشریف فرما ہونا تو متیقن نہیں ہوسکا۔ البتہ حضرت ممدوح نے درخواست کے جواب میں جو مکتوب ارسال فرمایا ہے وہ نہایت حوصلہ افزاء اور صد فخر ومباہات ہے۔ جناب ممدوح نے مرسلہ اغراض ومقاصد کے ساتھ پوری ہمدردی کا اظہار فرماتے ہوئے انجمن کو اپنی رکنیت کا شرف عطاء فرمایا۔ جسے آپ کے نیازمند عقیدت کیش سر پرستی سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔ حضرت ممدوح کی حوصلہ افزائی کی بناء پر خدائے کریم کے فضل وکرم پر اعتماد کرتے ہوئے انجمن کا قیام عمل میں لایا گیا
٢
اور اس کا نام مجلس مستشار العلماء تجویز ہوا۔ چونکہ اس مجلس کے اغراض ومقاصد میں کامیابی اہل اسلام کی عموماً اور علماء عظام کی خصوصاً توجہ پر موقوف ہے۔ اس لئے مجلس ہذا کے اغراض ومقاصد اور قواعد وضوابط اور مکتوب گرامی حضرت شاہ صاحب طبع کرا کر مشتہر کئے جاتے ہیں۔ اہل اسلام سے عموماً اور علمائے کرام سے خصوصاً توقع ہے کہ اپنے مذہبی فرض کا کماحقہ احساس فرماتے ہوئے جلد از جلد قرطاس رکنیت پر کر کے دفتر میں بھیج کر مشکور فرمائیں گے۔ اگر کسی صاحب کے خیال میں اغراض ومقاصد وغیرہ میں کچھ ترمیم یا کچھ اضافہ کرنا مناسب ہو تو دفتر میں اطلاع دیں۔
مجلس مستشار العلماء کے اغراض ومقاصد
مجلس مستشار العلماء انشاء اللہ تدریجاً صیغہائے ذیل قائم کرے گی۔ دار الکتب، دارالافتاء، دارالتبلیغ والمناظرہ، دارالتدریس، دارالاخوۃ۔ دارالکتب میں اسلامی اور غیر اسلامی مذاہب کی کتب کا کافی ذخیرہ جمع کیا جائے گا۔ تاکہ شائقین اور مبلغین و مناظرین اس سے مستفید ہو سکیں۔
دارالتبلیغ والمناظرہ
دارالتبلیغ والمناظرہ اسلام کے اندرونی اور بیرونی مخالفوں کی منظم جماعتوں کی تعداد کے مطابق شعبہائے ذیل پر مشتمل ہوگا۔ تا کہ ہر شعبہ پر امن طریق پر اپنے اپنے کام میں سرگرم عمل رہے۔ شعبہ توحید باری تعالیٰ، شعبہ ختم نبوت و ابطال عقائد مرزائیت، شعبہ ضرورت حدیث، شعبہ تائید حنفیت صحیحہ، شعبہ تفسیر و معجزات و کرامات، شعبہ شبہات فلسفیہ، شعبہ اشاعت محاسن اسلام، شعبہ وعظ، شعبہ تبلیغ نسواں، شعبہ تنقید و تبصرہ، شعبہ تجسس اعتراضہائے مخالفین، شعبہ فضائل صحابہؓ واہل بیتؓ۔
دارالافتاء کے فرائض
- ١...... اہل اسلام کے استفتاء کا جواب اصول شرعیہ فقہ حنفیہ کے مطابق دینا۔
نوٹ : جو حضرات جس شعبہ میں خدمت اسلام کرنا چاہیں۔ اس سے اطلاع دیں۔
- ٢...... اختلافی مسائل کے متعلق اجتماعی رائے پیش کرنا۔
٣
- ٣...... حوادثات یومیہ کے احکام سے اہل اسلام کو مطلع کرنا۔
- ٤...... طالبانِ اسلام کو اسلام کی تلقین کرنا اور سند قبولِ اسلام دینا۔
دارالتدریس کے فرائض
- ١...... دورِ حاضر کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قرآن شریف اور حدیثِ منیف اور
دیگر اسلامی علوم کی مکمل تعلیم دینا۔
- ٢...... ضروریاتِ زمانہ کے مطابق نصاب تعلیم تجویز کرنا۔
- ٣...... کالجوں اور سکولوں کے مسلم طلبہ کی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنا۔
- ٤...... مبلغ اور مناظر تیار کرنا۔
- ٥...... چھوٹے بچوں کو مختصر پیرایہ میں مذہبی تعلیم دینا۔
- ٦...... لڑکیوں کی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنا۔
دارالاخوت کے فرائض
- ١...... اختلافی مسائل حنفیہ کا فریقین کے منظور کردہ منصفوں کے ذریعہ فیصلہ کرانا۔
- ٢...... مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
- ٣...... اسلامی مدارس کے فارغ شدہ طلباء کے لئے حتی الوسع ذریعہ معاش تلاش کرنا۔
- ٤...... انجمن ہائے اسلامیہ اور مدارس اسلامیہ کی درخواست پر ان کی نگرانی کرنا، مفید مشورہ
دینا اور ان کی درخواست پر لائق مدرس مہیا کرنا۔
- ٥...... اہل مساجد کی درخواست پر ان کے لئے لائق امام بہم پہنچانا۔
- ٦...... تبادلہ خیالات کے لئے ایک ایسے انجمن کی بنیاد رکھنا کہ جس کے ارکان اسلامی
انجمنوں کے صدر اور سیکرٹری ہوں۔
مجلس مستشار العلماء کے قواعد وضوابط
- ١...... اس مجلس کا نام مجلس مستشار العلماء پنجاب ہوگا۔
- ٢...... یہ انجمن ہر ضلع میں اپنی شاخیں قائم کرے گی۔ اس وقت اس کا نام مرکزی انجمن
مستشار العلماء پنجاب ہوگا۔
٤
- ٣...... ہر اک مسلمان اس کا ممبر
- ٤...... مجلس کے عہدیدار حسب
- ٥...... صدر اعظم، نائب صدر
شعبہ۔
- ٦...... سر دست مندرجہ ذیل عہ
سر پرستی کے لئے حضرت منتخب ہوئے ہیں۔
صدارت کے لئے حض صاحب سابق مفتی ریاست مالیرکو نظامت کے فرائض حض گئے ہیں۔ نائب ناظم مولانا قمر علی صا
- ٧...... مجلس کے تمام عہد
بھی ہو سکتے ہیں۔
- ٨...... عہدوں کا انتخاب ہ
مدت انتخاب کی گئ
- ٩...... صدر اعظم، ناظم ا
ضروری ہوگی۔
- ١٠...... جو فتاویٰ دارالافت
کریں گے۔ لیکن اگر مستفتی ا ہوں گے۔
- ١١...... مصارف دارالا
ہوگا۔ لیکن تقسی
ے اہل اسلام کو مطلع کرنا۔ کرنا اور سند قبول اسلام دینا۔
نظر رکھتے ہوئے قرآن شریف اور حدیث ضعیف اور دینا۔ نصاب تعلیم تجویز کرنا۔ کی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنا۔
مذہبی تعلیم دینا۔ کرنا۔
کے منظور کردہ منصفوں کے ذریعہ فیصلہ کرانا۔ کرنے کی کوشش کرنا۔ علماء کے لئے حتی الوسع ذریعہ معاش تلاش کرنا۔ اسلامیہ کی درخواست پر ان کی نگرانی کرنا، مفید مشورہ مدرس مہیا کرنا۔ کے لئے لائق امام بہم پہنچانا۔ سے انجمن کی بنیاد رکھنا کہ جس کے ارکان اسلامی
یاب ہوگا۔ کرے گی۔ اس وقت اس کا نام مرکزی انجمن
- ......٣ ہر ایک مسلمان اس کا ممبر ہو سکتا ہے۔
- ......٤ مجلس کے عہدیدار حسب ذیل ہوں گے۔
- ......٥ صدر اعظم ، نائب صدر، ناظم اعلیٰ، نائب ناظم، مفتی، امین، محاسب، صدر شعبہ، ناظم
شعبہ۔
- ......٦ سر دست مندرجہ ذیل علماء منتخب ہوئے ہیں۔
سر پرستی کے لئے حضرت شیخ المحدثین اسوۃ الصالحین مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری مدظلہ منتخب ہوئے ہیں۔ صدارت کے لئے حضرت جامع المعقول والمنقول مولانا حافظ حکیم مفتی محمد خلیل صاحب سابق مفتی ریاست مالیر کوٹلہ تجویز ہوئے ہیں نظامت کے فرائض مولانا نور الحق صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور کے سپرد کئے گئے ہیں۔ نائب ناظم مولانا قمر علی صاحب سابق مدرس مدرسہ قاسم العلوم مقرر کئے گئے ہیں۔
- ......٧ مجلس کے تمام عہدے علماء کرام سے مخصوص ہوں گے۔ البتہ امین اور محاسب غیر عالم
بھی ہو سکتے ہیں۔
- ......٨ عہدوں کا انتخاب عام طور پر تین سال بعد بذریعہ ووٹ ہوا کرے گا۔ لیکن مجلس کو
مدت انتخاب کی کمی بیشی کرنے کا اختیار ہوگا۔
- ......٩ صدر اعظم ، ناظم اعظم، نائب ناظم، ناظم دارالافتاء، امین مجلس کی رہائش لاہور میں
ضروری ہوگی۔
- ......١٠ جو فتاویٰ دارالافتاء سے شائع ہوں گے۔ ان پر کم از کم دس علماء کے دستخط ہوا
کریں گے۔ لیکن اگر مستفتی اسقدر دستخطوں کی ضرورت نہ سمجھے تو صرف ایک ہی عالم کے دستخط ہوں گے۔
- ......١١ مصارف دارالافتاء کے لئے سائل کو کم از کم ایک روپیہ ہمراہ استفتاء بھیجنا ضروری
ہوگا۔ لیکن تقسیم حصص میراث کے لئے پانچ روپے داخل کرنے ہوں گے۔
٥
- ١٢...... مجلس کے تمام صیغوں اور شعبوں کی نگرانی اور مجلس کے متعلق خط و کتابت اور رقوم کی
وصولی اور خرچ بمشورہ صدر مجلس ناظم اعلیٰ اور نائب ناظم کے ذمہ ہوگی۔
- ١٣...... ناظم اور نائب ناظم علی الترتیب مبلغ دس روپے اور پانچ روپے بلا منظوری صرف کر
کے بعد میں منظوری لے سکتے ہیں اور اس سے زائد رقم بیس روپے تک صدر اپنے اختیار سے منظوری دے سکتا ہے۔ لیکن اس سے زائد رقم کی منظوری کے لئے پانچ اراکین کی منظوری ضروری ہوگی۔
- ١٤...... ناظم یا نائب ناظم انجمن صرف شدہ رقم کا حساب ہفتہ کے اندر امین کے سپرد
کریں گے۔
- ١٥...... شرح عطیہ علماء حسب ذیل ہوگی۔ تیس روپیہ کی آمد پر کم از کم ٤ آنہ پچاس تک کم از کم
٨ آنہ۔ اس سے زائد پر کم از کم ایک روپیہ دیگر اہل اسلام کا عطیہ کم از کم ٤ آنہ ہوگا۔ اس سے زائد جو مناسب خیال فرمائیں۔
- ١٦...... مجلس میں درخواست آنے پر بیرونیات میں مبلغ اور مناظر واعظ بھیجے جائیں گے۔
لیکن جب تک مجلس کے پاس کافی سرمایہ نہ ہوگا۔ اس وقت تک ان حضرات کا سفر خرچ بلانے والوں کے ذمہ ہوگا جو کہ بہر صورت پیشگی داخل کرنا ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب کا گرامی نامہ
معزز و محترم اراکین انجمن مستشار العلماء دامت معالیکم وعمت فیوضکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، گرامی نامہ مع ایک کاپی مشتمل بر مقاصد و اغراض انجمن مستشار العلماء بعالی خدمت حضرت شاہ صاحب مدظلہ، صادر ہوا۔ حضرت مدظلہ دیوبند سے بوجہ علالت طبع و کثرت ورود و صدور مہمانان وغیرہ جواب تحریر نہ فرما سکے۔ اب حضرت مدظلہ، پانچ چھ یوم سے بجنور تشریف فرما ہیں اور احقر کو جواب لکھنے کے لئے مامور فرمایا ہے۔ لہٰذا بہ تعمیل ارشاد جواب تحریر ہے۔ حضرت مدظلہ، بعد سلام مسنون ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”انجمن مستشار العلماء کی ضرورت اور اس کے اغراض و مقاصد کو پڑھا، جبکہ مقاصد عالیہ سے مجھ کو مسرت ہوئی اور مجھ کو تمام مقاصد سے دلی ہمدردی ہے کہ پیش نظر مقاصد و مہم کو آپ حضرات جامہ عمل پہنانے کی بھی پوری پوری سعی فرمائیں گے۔ میں دعاء کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ جل ذکرہ آپ حضرات کو کامیاب و بامراد
٦
انجمن کی نگرانی اور مجلس کے متعلق خط و کتابت اور رقوم کی رسید ناظم اعلیٰ اور نائب ناظم کے ذمہ ہو گی۔
جب مبلغ دس روپے اور پانچ روپے بلا منظوری صرف کر سکتے ہیں اور اس سے زائد رقم بیس روپے تک صدر اپنے پاس سے۔ لیکن اس سے زائد رقم کی منظوری کے لئے پانچ ارکان۔
صرف شدہ رقم کا حساب ہفتہ کے اندر امین کے سپرد کریں۔
آمدنی تیس روپیہ کی آمد پر کم از کم ٤ آنہ پچاس تک کم از کم رقم ایک روپیہ دیگر اہل اسلام کا عطیہ کم از کم ٤ آنہ ہو گا۔ فرمائیں۔
تبلیغ و دیہات میں مبلغ اور مناظر واعظ بھیجے جائیں گے۔ کافی سرمایہ نہ ہو گا۔ اس وقت تک ان حضرات کا سفر خرچ جو کہ بہرصورت پیشگی داخل کرنا ہو گا۔
صاحب کا گرامی نامہ
مستشار العلماء دامت معالیکم وعمت فیوضکم گرامی نامہ مع ایک کاپی مشتمل بر مقاصد واغراض انجمن صاحب مدظلہ، صادر ہوا۔ حضرت مدظلہ دیو بند سے بوجہ وہ جواب تحریر نہ فرما سکے۔ اب حضرت مدظلہ، پانچ چھ جواب لکھنے کے لئے مامور فرمایا ہے۔ لہذا بہ تعمیل ارشاد مخدومان ارشاد فرماتے ہیں کہ : ”انجمن مستشار العلماء کی جملہ مقاصد عالیہ سے مجھ کو مسرت ہوئی اور مجھ کو تمام مقاصد اہم کو آپ حضرات جامہ عمل پہنانے کی بھی پوری توفیق تعالیٰ جل ذکرہ آپ حضرات کو کامیاب و بامراد
٦
فرمائے اور انجمن مذکور اپنے محترم ارکان کی مساعی مخلصانہ سے روز افزوں ترقیات سے بہرہ اندوز ہو۔ وما ذالك على الله بعزيز!
انجمن مذکور میں بحیثیت ایک رکن کے میں اپنا نام بھی پیش کرتا ہوں اور جو قواعد وضوابط مرتب ہوں۔ نیز جو امدادی رقم ارکان سے سالانہ یا ماہوار تجویز ہو وغیرہ، ان سب امور سے مطلع فرمایا جائے۔ رہا سر پرستی کے لئے آپ حضرات کا ارشاد واصرار، سو اس کے لئے نہ مجھ میں اہلیت ہے اور نہ ہمت اور صحت اس لئے اس بارے میں مجھ کو معذور تصور فرمایا جائے۔ امید ہے کہ انجمن موصوف کے آئندہ عزائم جدید تجاویز اور لائحہ عمل وغیرہ سے مطلع فرماتے رہیں گے۔ پرسوں تک بجنور مقیم ہوں۔ اس کے بعد دیو بند پہنچ کر بغرض علاج امرتسر کا بھی ارادہ کر رہا ہوں۔ اگر امرتسر جانا ہوا اور موقع ملا۔ شاید لاہور بھی جانا ہو۔ باقی حالات بدستور ہیں۔“
٢٤ شوال المکرم ١٣٥١ھ بقلم سید احمد رضا خادم حضرت شاہ صاحب مدظلہ
ضروری نوٹ!
اراکین مجلس یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مجلس کا مقصد وحید محض خدمت دین متین ہے۔ جیسا کہ اس کے اغراض و مقاصد سے ظاہر ہے۔ کسی اسلامی انجمن سے تعارض وتصادم مقصود نہیں۔ بلکہ یہ مجلس اپنی وسعت کے مطابق ہر اسلامی انجمن کے جائز ومناسب اعانت سے دریغ نہ کرے گی۔
اسمائے گرامی اراکین ومعاونین مجلس مستشار العلماء پنجاب لاہور
- ١...... حضرت مولانا شیخ الحدیث سید محمد انور شاہ کشمیری سر پرست مجلس
- ٢...... مولانا حافظ حکیم مفتی محمد خلیل صاحب لاہور صدر مجلس
- ٣...... مولانا محمد نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نائب صدر مجلس
- ٤...... مولانا محمد نور الحق صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور ناظم اعلیٰ مجلس
- ٥...... مولانا محمد قمر علی صاحب سابق صدر مدرس قاسم العلوم لاہور نائب ناظم مجلس
- ٦...... مولانا عبدالحنان صاحب ناظم جمعیت علماء پنجاب
- ٧...... مولانا حافظ محمد صادق صاحب خطیب جامع پٹولیاں لاہور
٧
- ٨...... مولانا عبدالعزیز صاحب خطیب جامع صدر چھاؤنی لاہور
- ٩...... مولانا حکیم محمد عالم صاحب سند یافتہ طبی دارالشفاء لاہور
- ١٠...... مولانا بدرالدین صاحب
- ١١...... مولانا کریم بخش صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور
- ١٢...... مولانا عنایت اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
- ١٣...... مولانا محمد جمال الدین صاحب سابق صدر مدرس نعمانیہ لاہور
- ١٤...... مولانا خیر محمد صاحب صدر مدرسہ خیر المدارس جالندھر شہر
- ١٥...... مولانا بدرالدین صاحب
- ١٦...... مولانا یار محمد صاحب خطیب جامع دال والی لاہور
- ١٧...... قاضی عبدالرحمن صاحب لاہور
- ١٨...... مولانا نور الحق صاحب خطیب جامع اندرون موچی دروازہ لاہور
- ١٩...... مولانا عبدالقدیم صاحب سابق صدر مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور
- ٢٠...... مولانا فیض الرحمن صاحب صدر مدرس مدرسہ مسجد نیلہ گنبد لاہور
- ٢١...... مولانا ابوالناظر صاحب مدرس مدرسہ مسجد نیلہ گنبد لاہور
- ٢٢...... حکیم مولوی عبدالحمید صاحب پروفیسر طبیہ کالج لاہور
- ٢٣...... مولانا حکیم محمد اسماعیل صاحب لاہور
- ٢٤...... مولانا حکیم شیخ احمد صاحب خطیب میاں چنوں
- ٢٥...... مولانا حکیم عبدالغنی صاحب گوہیر جالندھر
- ٢٦...... مولانا حکیم محمد یعقوب صاحب بہادر گڑھ جالندھر
- ٢٧...... مولانا عبدالغنی صاحب خطیب جامع کھٹیکاں مالیرکوٹلہ
- ٢٨...... مولانا امام الدین صاحب مدرس دینیات مدرسہ اسلامیہ مالیرکوٹلہ
- ٢٩...... مولانا حافظ غوث محمد صاحب جیند
٨
جامع صدر چھاؤنی لاہور ہ الہی دارالشفاء لاہور
ینٹل کالج لاہور س مدرسہ نعمانیہ لاہور ق صدر مدرس نعمانیہ لاہور المدارس جالندھر شہر
والی لاہور
اندرون موچی دروازہ لاہور مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور س مدرسہ مسجد نیلہ گنبد لاہور مسجد نیلہ گنبد لاہور طبیہ کالج لاہور
چنوں لہر جالندھر مکان مالیرکوٹلہ ت مدرسہ اسلامیہ مالیرکوٹلہ
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں
میرے بعد کوئی نبی نہیں
تعبیر رویائے حقانی
رد ہفوات قادیانی
حضرت مولانا عبدالمجیدؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه! ”المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده“
ایک طرف تو نبی کریم (روحی فداہ ﷺ) کا ارشاد ہے کہ مسلمان وہ نفوس ہیں جن کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔ بلکہ وہ سالم رہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ مسلمان وہ اصحاب ہیں۔ جن کے قول اور فعل سے دوسرے مسلمان اذیت نہ پائیں۔ دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ ہماری گفتگو دل آزار ہوتی ہے اور ہماری تحریر اذیت دہ۔ ”فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لهم“
اس پر لطف یہ کہ اس طرح کی گندگی آپ انہیں حضرات کے رسالوں یا تحریروں یا تقریروں میں زیادہ ملاحظہ فرمائیں گے۔ جن کو آپ ایک طرف اقوام عالم کو ان بیہودگیوں پر نفرین کرتے ہوئے پائیں گے۔ ”أتأمرون الناس بالبر وتنسون انفسكم وانتم تتلون الكتاب افلا تعقلون“ یہ ایک عجیب حیرت کن امر ہے۔ خطبۃ الکتاب ملاحظہ فرمائیے تو بجز ادعاء رشد و ہدایت کسی چیز کا نام ونشان نہیں پائیں گے۔ مگر مضامین پر نظر کیجئے تو سوا طعن و تشنیع سب و شتم کے کسی دوسری چیز کی جھلک تک نظر نہ آئے گی۔ گویا فی زمانہ ایسے حضرات کی کتابیں حضرت انجم کے اس شعر کے حسب حال ہوتی ہیں۔
خوش خو جسے سمجھتے تھے وہ بدخو نظر آیا
یہ ایک دعویٰ صحیح ہے جن کے لئے واقعات عالم شاہد عادل ہیں اور آگے چل کر آپ ان ہی صفحوں میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ مدعیان تہذیب و شائستگی کس طرح برہنہ ہو کر اسٹیج تہذیب پر اس کی پردہ دری کے مجرم ہوتے ہیں اور بے حجابانہ اپنے جسم سے اس کے ایک ایک تار کو نوچ کر پھینک دیتے ہیں۔
یہ مختصر رسالہ جس کو آپ کی خدمت میں باریابی کا شرف حاصل ہے۔ ایک ایسی کتاب کے جواب میں ہے جس کے متعلق میں اپنے محدود معلومات کی بناء پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آج تک ایسی غیر مہذب اور مخرب اخلاق کتاب نہیں دیکھی ہے۔ جس کا ہر صفحہ سب و شتم طعن و تشنیع مخرب اخلاق الفاظ اور ناشائستہ و بیہودہ کلمات سے معمور ہے۔ انتہاء یہ کہ اس کے مصنف کو
٢
یہ بھی پسند نہیں کہ ان کی جماعت کا کوئی شخص مہذب تحریر لکھے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں۔ ”حضرت ١؎ مولانا عبد الماجد صاحب مدظلہ (قادیانی) سے ایک شکایت مجھ کو ضرور ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کے بالمقابل شستہ اور نرم اور ضرورت سے زیادہ مہذب الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن کا وہ کسی طرح بھی اہل نہیں ہے۔“
”ولهم اعمال من دون ذلك هم لها عاملون وهم الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا“
مصنف اسرار نہانی صاحب کی تہذیب کی تصویر
”کانپوری بددماغ، بے حیاء تھے اور تیز زبان تھے اور درندگی کا اظہار کرتے تھے اور جھوٹ کی غلاظت ان کی غذا تھی۔ خبیث فطرت، شورہ پشت، حیوان بہ شکل انسان، ابو محمد صاحب نے بوجہ قصداً وابتداً چند بے روز گاروں اور بد زبانوں کو ساتھ لے کر اور نام بدل کر جو طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہے۔ ناپاک فطرت، دنی الطبع کم ظرف غیر مہذب، مکاروں کذابوں جعل سازوں، روپوش مجہول الکیفیت نقابدار مولوی مؤلف کی ذلت ہوگی۔ مکر و فریب کو عمل میں لایا۔ ایک نفس باغیرت اور باحیا انسان ہی نہیں ہو سکتا۔ ابو احمد صاحب کے دماغ میں تکبر اور نخوت کے موٹے موٹے کیڑے بھرے ہوئے ہیں۔ جب تک وہ جھاڑ نہ دیئے جائیں گے۔ ان کے دماغ کی اصلاح ہر گز نہیں ہو سکتی۔ اپنے نفسانی جوش والتہاب میں عرق عرق ہو گئے اور اندرونی قلق و اضطراب سے ان کی زبان باہر نکل پڑی۔ اپنے حرص، اپنی آرزو اپنی تمنا وطمع کے لشکر کو آل فرعون کی طرح غرق ہوتے دیکھ کر سخت گھبرائے، کانپوری صاحب نے بھی وہی کیا جو ایسے چالاک اور ابن الوقت کیا کرتے ہیں۔ صریح جھوٹ ملا کر کانپوری صاحب آپ کی آنکھوں پر کسی طرح کا رمد چھا گیا ہے۔ آپ کی کھوپڑی پر خبیث روح کا سایہ پڑ گیا ہے۔ آپ جیسے فرعون کو بے نیل مرام غرق کرنے والا، یہود سیرت، یزید طبیعت، فرعون خصلت مولویو، اپنے انامل کو چبائیں۔
١؎ اس کتاب کا نام ”اسرار نہانی ابواحمد رحمانی“ ہے اور اس کے مصنف حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری قادیانی ہیں۔ اس کتاب کی حالت خود اس کے نام سے ظاہر ہے کہ مصنف کا مقصود اس کتاب کی تحریر سے حضرت مولانا ابو احمد سید محمد علی صاحب مدظلہ کی ذات شریف پر محض ذاتی حملہ کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ وہ اصحاب جن کی نظر سے یہ رسالہ گذرا ہوگا۔ وہ اس سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ مصنف نے بجز سب وشتم اور دشنام دہی کے کوئی معقول بات تحریر نہیں کی ہے۔
(ملاحظہ ہو حاشیہ اسرار نہانی ص٢٣)
٣
اپنی بوٹیاں آپ نوچ ڈالیں۔ تیرے حرص کا دانت روز تیز ہوتا گیا۔ تیری دنیا طلبی کا چنگل اور بھی نوکدار ہو گیا۔ تیری نفسانیت وانانیت دنیا کو تیری عبرت ناک وجود کا نظارہ ابھی بیش از پیش دیکھنا باقی ہے۔ وغیرہ وغیرہ“
معزز ناظرین! ہم حکیم ( خلیل قادیانی ) صاحب سے اس کی شکایت کر کے انصاف چاہتے۔ مگر مرزائیت کے بعد فضول ہے۔ کیونکہ:
بندگی محبت کا حاصل یہی ہے
”جزاء سیئۃ مثلہا“
تہذیب وشائستگی تو آپ ملاحظہ فرما چکے۔ لگے ہاتھوں اس کی وجہ بھی سن لیجئے۔ کہ ہمارے حکیم صاحب ( قادیانی ) کو کیا مجبوری لاحق ہوئی جو اس طرح کے فواحش پر اتر آئے اور ”سب المسلم فسوق“ کو نظر انداز فرما گئے۔ آپ بزعم خویش ”جزاء السیئۃ سیئۃ مثلہا“ یہ وجوہ تحریر فرماتے ہیں۔ امر واقعہ کا اظہار دفاعی رنگ میں مطلوب ہے۔ ان کی شرارتوں سے تنگ ہوکر پبلک کے فائدہ کے لئے بطور دفع ضرر کے ان کی مدافعت احمدیوں کو کرنی لازم ہو جاتی ہے اور شریروں کی اصلاح نہ کرنی بھی معصیت ہے۔ احمدیوں کا اصل کام تو تبلیغ اسلام اور اعلاء کلمتہ اللہ ہے۔ لیکن اگر کوئی خبیث فطرت اور شورہ پشت حیوان بہ شکل انسان بیجا مخل ہوتا ہے اور اپنی درندگی کا اظہار کرتا ہے تو ”يقتل الخنزير“ کا فرض بھی ”قاتل الخنزیر“ کے مریدوں کو زبان وقلم سے دفع ضرر کے لئے ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔
حاصل یہ کہ آپ قرآن شریف سے یہ تمسک فرما کر کہ ”برائی کا بدلہ اسی کے برابر برائی کرنی ہے۔“ یہ اجتہاد فرمایا کہ ”اگر کوئی تم کو گالی دے تو تم بھی گالی دو۔“ حالانکہ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ برائیوں کا بدلہ برائی ہے۔ کیونکہ گناہ کے بدلے میں جو سزا دی جاتی ہے وہ برائی ہو ہی نہیں سکتی۔ بلکہ وہ عین عدل وانصاف ہے۔ یہ محض مشاکلت لفظی ہے جو فصحاء اور بلغاء حسن کلام کے
١؎ اللہ اللہ یہ اعلاء کلمتہ اللہ کی شان ہے کہ بات بات پر گالیاں دی جاتی ہیں۔ ”یریدون ان یحمدوا بمالم یفعلوا“
خدانخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا ہوتا
٤
لئے استعمال کرتے ہیں اور آئیں گے۔ جس سے اربا کی ہے۔ ”ذلك فضل ا پھر تو عام طوفان بدتمیزی کا کشت وخون کے باعث سار زمین میں وحش وطیور ورنہ اس لئے کہ جو کرنی پڑے گی اور لوٹ کے بوتلوں کو کوئی شریر آکر توڑ تکلیف گوارا کرنا پڑے گی بے حیاء شریر النفس کسی مع دوست مثلاً کی کون سی صور کون سے ”سیئۃ مثلہا و آ الیٰ صلہ ”سیئہ غلط ہے اور محض حرارت ب سنت ہی کے خلاف نہیں وانصاف سے الگ خیال ک معنی بھی ہے کہ اگر زید کو ک مرزا قادیانی کو برا کہنے و
١؎ اگر یہ کہو کہ آ لیتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے اور مسلمانوں کے قلوب میں ج ہمارے دل دکھائے جائیں ا جائے۔ ان کی تحقیر کی جائے ا
لئے استعمال کرتے ہیں اور ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم گالیاں دو گے تو ہم بھی گالیوں پر اتر آئیں گے۔ جس سے ارباب بصیرت خوب واقف ہیں۔ جنہوں نے معانی، بلاغت، بدیع کی سیر کی ہے۔ ”ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء“ پس گالیوں کا بدلہ گالیاں نہیں ہو سکتیں۔ ورنہ پھر تو عام طوفان بدتمیزی مچ جائے گی اور دنیا کے سر سے امن و امان کا سایہ اٹھ جائے گا اور ہر طرف کشت و خون کے باعث ساری زمین کربلا کا خونی ٹکڑا بن جائے گی اور چند دنوں کے بعد آدم آباد زمین میں وحش وطیور درندے سکونت پذیر نظر آئیں گے۔
اس لئے کہ چوری کے بدلے ہمارے حکیم صاحب (قادیانی) کے اجتہاد پر چوری کرنی پڑے گی اور لوٹ کے پاداش میں لوٹنا پڑے گا۔ اگر حکیم صاحب کے مطب کے قرابوں اور بوتلوں کو کوئی شریر آ کر توڑ جائے تو ان کو بھی اس کے گھر سے بوتلوں اور قرابوں کو نکال کر توڑنے کی تکلیف گوارا کرنا پڑے گی اور بصورت عدم موجودگی چپ چاپ واپس چلا آنا پڑے گا۔ اگر کوئی بے حیاء شریر النفس کسی عفت مآب دیوی کی آبرو ریزی کرے تو اس کلیہ پر نہ معلوم میرے دوست مَثَلُهَا کی کون سی صورت تجویز فرما کر عدل گستری فرمائیں گے اور اس کے زخم آبرو ریزی پر کون سے ”سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا“ کا پھاہا رکھیں گے۔ ہم تو یہی کہیں گے ؎
آپ پھولے ہوئے بیٹھے ہیں مسیحا کس پر
الحاصل ”سیئة مثلھا“ کا جو معنی حکیم صاحب (قادیانی) نے سمجھا ہے وہ یقیناً غلط ہے اور محض حرارت انتقام ناروا کا ایک غلط ابال ہے جو عقل و اخلاق، اسلام وقرآن اور سنت ہی کے خلاف نہیں بلکہ دنیا کے سارے متمدن اقوام اور جمیع مذاہب عالم کے نقطۂ عدل وانصاف سے الگ خیال ہے اور اگر بفرض محال حکیم صاحب کا اجتہاد صحیح بھی ہو تو کیا اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اگر زید کو بکر گالی دے تو اس کے بدلے میں ایک غیر شخص خالد بکر کو برا بھلا کہے۔ مرزا قادیانی کو برا کہنے والے حضرات کو خود مرزا قادیانی کا حق تھا کہ جس قدر چاہتے گالیاں
١ اگر یہ کہو کہ آج جب مرزا قادیانی حیات نہیں ہیں پھر کیوں ان کی شان میں لوگ حرارت سے کام لیتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی مر گئے۔ مگر جو بیدینی کے کانٹے بو گئے ہیں وہ ہنوز باقی ہیں اور مسلمانوں کے تلووں میں چبھتے ہیں۔ پس تمہیں انصاف کرو، ہمارے پاؤں چھلنی ہو جائیں اور ہم فریاد نہ کریں۔ ہمارے دل دکھائے جائیں اور ہم آہ تک نہ کریں۔ ہم کو، ہمارے بزرگوں کو، صحابہ کرامؓ کو، انبیائے عظامؑ کو برا بتلایا جائے۔ ان کی تحقیر کی جائے اور ہم لب پر مہر خاموشی لگا کر انصاف بھی نہ چاہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٥
دیتے اور کوستے جس کو حتی المقدور مرزا قادیانی نے اپنے آخری دم تک ادا کیا۔ ہاں سعادتمند وارثوں کا فرض استغاثہ ہے۔
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) حتی کہ احادیث نبویہ کو اپنے الہام ناکام کے مقابلہ میں ردی سے بھی بدتر بتلایا جاوے اور ہم چپ چاپ ایمان کو خیر باد کہہ کر صم بکم ہو کر سنتے رہیں۔ اگر انصاف کی آنکھیں رکھتے ہو تو دیکھو اور پڑھو اور اپنے ضمیر سے انصاف چاہو۔ قصیدہ اعجازیہ میں مرزا قادیانی سید الشہداء امام حسینؓ جن کو حضورﷺ نے سید شباب اہل الجنۃ فرمایا ہے۔ جو خاندان رسالت کے لئے ایک سراج منیر ہیں۔ ان کی شان میں ایسی بے ادبی ہوتی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور حیرت ہو جاتی ہے کہ ایک مسلمان کے زبان و قلم سے کس طرح ایسے الفاظ ادا ہو سکتے ہیں۔ سنو!
فانی ائید کل آن وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذہ الایام تبکون فانظروا
واللہ لیست فیہ منی زیادہ
وعندی شہادات من اللہ فانظروا
وانی قتیل الحب لکن حسینکم
قتیل العدی فالفرق اجلی واظہر
ترجمہ: تمہارے حسینؓ اور ہمارے درمیان میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس لئے کہ مجھ کو ہر وقت خدا سے تائید و مدد ملتی ہے۔ مگر حسینؓ کی حالت کے لئے میدان کربلا یاد کرو۔ (یعنی ہماری طرح خدا کی تائید و مدد ان پر چونکہ نہیں تھی۔ بھوکے پیاسے دشمنوں نے قتل کر ڈالا) جس کے لئے تم آج تک روتے ہو اور قسم خدا کی حسینؓ میں کوئی بات مجھ سے زیادہ نہیں ہے۔ میرے پاس تو خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھو (مزید براں) میں تو محبت کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین تو دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق (درمیان ہمارے اور تمہارے حسین کے) کھلا اور ظاہر ہے۔
احادیث کی دھجیاں مرزا قادیانی نے ان لفظوں میں اڑالی ہیں۔ ”ھل النقل شئ بعد ایحاء ربنا فای حدیث بعدہ نتخیر و قد مزق الاخبار کل ممزق فکل بما ہو عندہ یتبشر اخذنا من الحی الذی لیس مثلہ وانتم عن الموتی ففکروا رأینا وانتم تذکرون حدیثکم وھل من یقول عند عین تبصر“ اس کا ترجمہ یہ ہوا کہ خدا کی وحی (جو ہم پر آتی ہے) اس کے بعد نقل (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے بعد ہم کس حدیث کو مان سکتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئی ہیں اور ہر شخص اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔ ہماری وحی تو حی و قیوم لا شریک لہ سے ہے اور تم تو مردوں سے (یعنی رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ اور رواۃ حدیث سے جو سب کے سب مر گئے ہیں) روایت کرتے ہو اس کے بعد کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے تو دیکھا اور تم راویوں کا ذکر کرتے پھرتے ہو۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٦
اسرار نہانی کیوں لکھی گئی
یہ تو حکیم صاحب کا اقرار کو دھوکا دینے کے لئے تحریر کیا ہے کہ مثلھا“ پر عمل کرنا مقصود ہے۔ کیو سے خوب واقف ہیں کہ حضرات مر کے عقائد کی اطلاع تھی نہ کسی کو ان مونگیر کے مسلمان ان سے اچھی طر مگر مشیت ایزدی محو ترویج کے لئے اشتہار دیں گے اور اشتہار شائع کر کے ان کو مجبور کر دنیا پر ثابت کر دیں کہ مرزا قادیا صالحین کے آراء کے بالکل خلا والے مونگیر پہنچے اور اپنے عقائ مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہوئے ن نبینا (علیہ الصلوۃ والتسلیم) کا د مرزا غلام احمد قادیانی ہی وہ مسیح جس پر ان کے الہامات نیز چ
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) (بھلا شعر تو مرزا قادیانی کا بہت مشہور ہے الخ اس پس انصاف ہم قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ ہرگز بلا وجہ برا نہ کہیں گے۔
اسرار نہانی کیوں لکھی گئی
یہ تو حکیم صاحب کا اقراری بیان تھا۔ جو وجہ تالیف اسرار نہانی میں انہوں نے محض عوام کو دھوکا دینے کے لئے تحریر کیا ہے کہ اس سے مقصود دفاع ضرر ہے اور ”جزاء سیئة سیئة مثلھا“ پر عمل کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے لوگ عموماً اور صوبہ بہار کے لوگ خصوصاً اس سے خوب واقف ہیں کہ حضرات مرزائی جب تک مونگیر نہیں آئے تھے۔ نہ کسی کو عام طریق پر ان کے عقائد کی اطلاع تھی نہ کسی کو ان سے کوئی مطلب تھا۔ یہ جہاں تھے خوش تھے۔ مونگیر واطراف مونگیر کے مسلمان ان سے اچھی طرح واقف بھی نہ تھے۔
مگر مشیت ایزدی میں مقدر ہو چکا تھا کہ یہ مونگیر آئیں گے اور اپنے عقائد باطلہ کی ترویج کے لئے اشتہار دیں گے اور علماء اور صلحاء اور صوفیائے کرام کی شان میں نہایت غیر مہذبانہ اشتہار شائع کر کے ان کو مجبور کریں گے کہ وہ مرزا قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کی تردید کر کے دنیا پر ثابت کر دیں کہ مرزا قادیانی کے دعاوی محض اوہام باطلہ ہیں۔ جو قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے آراء کے بالکل خلاف ہیں۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ جب مرزا قادیانی کے ماننے والے مونگیر پہنچے اور اپنے عقائد باطلہ کی ترویج بذریعہ تحریر و تقریر کرنے لگے اور مبلغین ہر طرف مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آنے لگے۔ عام طریق پر اعلان کیا جانے لگا کہ حضرت عیسیٰ وعلیٰ نبینا (علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) کا وصال ہو گیا۔ ان کا جسد عنصری آسمان پر موجود ہونا غلط خیال ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ہی وہ مسیح ومہدی ہیں۔ جن کی پیشین گوئی حدیثوں میں بالتصریح موجود ہے۔ جس پر ان کے الہامات نیز چاند و سورج میں گہن لگنا شاہد عادل اور ایسے پختہ دلائل ہیں۔ جن کی
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) (بھلا) کیا حدیثیں رویت بمعنی دیکھنے کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں اور دافع البلاء کا یہ شعر تو مرزا قادیانی کا بہت مشہور ہے کہ ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
پس انصاف ہم ناظرین پر چھوڑتے ہیں اور خدا کے حوالہ کرتے ہیں۔ مگر پھر ہم مسلمان ہیں اور قرآن شریف میں پڑھتے ہیں۔ ”واذا مروا باللغوا مروا کراماً“ لہٰذا ہم اس کتاب میں مرزا قادیانی کو ہرگز بلا وجہ برا نہ کہیں گے۔
٧
تردید نہیں ہو سکتی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی ہر ایک کو سنایا جانے لگا کہ جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر ہوئے کسی شخص کو بھی آج تک بجز میرے یہ نعمت نہ ملی۔ عیسیٰ بن مریم اگر آج ہوتے تو جس قدر کام میں کرتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتے۔ وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں ہرگز نہ دکھا سکتے۔ دنیا میں کم ہی ایسے نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزے دکھلائے ہوں۔ جس قدر ہم نے دکھائے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
حاصل یہ کہ انبیاء علیہم السلام کی تحقیر کی گئی۔ جھوٹے الہام شائع کئے گئے۔ عقائد باطلہ کی ترویج واشاعت میں ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا گیا۔ عام طور پر تحریر وتقریر میں علمائے کرام صوفیائے عظام کو بحث ومناظرہ کی دعوت دی جانے لگی۔ اشتہارات میں غیر مہذبانہ طریق پر علماء کرام، صوفیائے عظام کو مخاطب کیا جانے لگا کہ اگر کسی میں جرأت ہو تو مسجد اور گوشہ خانقاہ سے نکلیں اور حق کی طلب میں مناظرہ مباحثہ سے جان نہ چرائیں۔ اس طرف اگر جواب جاہلاں باشد خموش یا فضول ہنگامہ آرائی کو بے نتیجہ سمجھ کر، ناقابل تخاطب سمجھا گیا تو اس کو سکوت اور اقرار مسیحیت اور مہدویت مرزا پر محمول کر کے عوام میں بدظنی پھیلائی جانے لگی۔
اور وہ وقت بالکل قریب تھا کہ صوبہ بہار کے مسلمان عموماً اور مونگیر واطراف مونگیر کے جاہل مسلمان خصوصاً اگر ان کی خبر نہ لی جاتی اور بذریعہ تحریر وتقریر ان کے عقائد باطلہ کی تردید نہ کی جاتی تو عوام یک بیک بے پناہ ہوکر مرزائیت کے جال میں گرفتار ہوجاتے اور دین وایمان کھو بیٹھتے اور ہمیشہ کے لئے قعر ضلالت میں گرکر ”خسر الدنیا والآخرہ“ کے مصداق ہو جاتے۔ یکا یک رحمت الٰہی جوش میں آئی اور اپنے رسول کریم روحی فداہ ﷺ کی خیر الامۃ کو افراط وتفریط سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک برگزیدہ بندہ کو چن لیا اور سنن الٰہیہ مستمرہ ہے۔ عین وقت پر ان گمراہ شدگان سبیل ہدایت کے لئے ایک رہبر کامل، ہادی فاضل، مورد فضل رحمانی، نور دیدہ غوث جیلانی حضرت جناب مولانا مرشدنا سیدنا ابو احمد سید محمد علی صاحب افاض اللہ برکات فیوضہ علی رؤسنا کو عنایت فرمایا اور خدا نے جناب کے قلب مبارک میں یہ بات راسخ کر دی کہ ان دشمنان دین کے عقائد باطلہ کے اثر سے مسلمانوں کے دل ودماغ کو محفوظ رکھا جائے۔ ”فالحمد للہ علٰی ذالك“
٨
پس جس طرح ظلمت شب کی تاریکی انوار صبح کی سپیدی کے آگے کافور ہو جاتی ہے اور مغرور کرمک شب تاب کی جھوٹی روشنی آفتاب کی درخشندگی کے آگے مٹ جاتی ہے اور شبپر ضلالت آفتاب ہدایت سے اندھے ہو جاتے ہیں اور اولیاء الشیطان کی جماعت اولیاء اللہ کے اس گروہ کے آگے جن کے لئے خدائی وعدہ ”ان اولیاء اللہ ہم المفلحون“ ہو چکا ہے۔ ”ہم الخسرون“ کے مصداق ہو جاتے ہیں۔
بالکل اسی طرح دنیا نے دیکھ لیا کہ آفتاب ہدایت رحمانی کے آگے چراغ ضلالت مرزائیت ماند پڑ گئی اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ آفتاب کے ہوتے ہوئے چراغ کی طرف دوڑنا فعل عبث ہے۔
کیونکہ بذریعہ فیصلہ آسمانی شہادت آسمانی وغیرہ وغیرہ نہایت روشن طریق پر یہ ظاہر کر دیا گیا تھا کہ ایک تو نفس پیشین گوئی کو صداقت کے لئے معیار ٹھہرانا غلط ہے۔ کیونکہ رمل اور جفر کے جاننے والے بھی دن رات پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جن میں بعض
بغلط بر ہدف زند تیرے
کے اصول پر صحیح بھی ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے جس پیشین گوئی یا الہام کو اپنا نہایت عظیم الشان نشان بتلا کر دنیا کے سامنے پیش کیا تھا بالکل غلط ثابت کر دیا گیا اور اس کے صحیح ثابت کرنے میں جس قدر تاویلات رکیکہ سے کام لیا جاتا تھا۔ ان کے تار و پود کو ایک ایک کر کے الگ کر دیا گیا۔ تیسرے یہ کہ جس چاند و سورج کے اجتماعی گہن کو مرزا قادیانی اپنی مہدیت اور مسیحیت کے ثبوت میں نہایت موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر پیش کیا کرتے تھے۔ ایسی قلعی کھولی گئی کہ عالم مرزائیت میں لرزہ پڑ گیا۔ حتی کہ خود ان کے معتقدین کے ایمان میں تزلزل پڑ گیا اور آپس میں اطمینان قلب کے لئے مراسلات ہونے لگے اور ان سب مجموعی باتوں کا اتنا اثر ہوا کہ مونگیر و اطراف مونگیر میں ایک ایک بچہ پر مرزائیت کی بطالت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی اور جہاں کہیں مبلغ مرزائیت کے لئے مبلغین پہنچے۔ سب سے پہلے فیصلہ آسمانی کی شہادت سنا دی گئی کہ اگر اس کا جواب تمہارے پاس ہے تو خیر، ورنہ آپ فضول وعظ و پند کی تکلیف گوارا نہ فرمائیے۔
٩
جس کو سن کر ہاتھ پاؤں پھول گئے اور دربار خلافت حکیم مولوی نور الدین قادیانی سے لے کر اعوان انصار تک نے اس کے جواب میں خون تک پانی کر دیا ۔ مگر بقول ”لن یصلح العطار ما افسده الدهر“ کچھ جواب دیتے نہ بنا اور سراسر کامیابی ہوئی اور جو کچھ لکھا بھی گیا ان کی غلطیاں فوراً شائع کر دی گئیں۔ جس سے عوام بھی ان کو ناقابل مخاطب سمجھنے لگی اور ہر جانب سے ان کی حرکت مذبوحی پر ۔ ”الیس منکم رجل رشید“ کی صدا بلند ہونے لگی۔
جب ہمارے دوستوں کا یہ نقشہ ہو گیا تو ہمارے احباب نے ایک دوسری راہ اختیار کی۔ یعنی ذاتیات پر اتر آئے اور بجائے اس کے فیصلہ آسمانی اور شہادت آسمانی کا کوئی معقول جواب لکھتے۔ ہمارے مکرموں نے ”اسرار نہانی“ جیسی فحش کتاب لکھ کر اور گالیاں دے کر جلے دل کے آبلے توڑنے لگے اور چاہا کہ اس طریق سے عوام کو دوسری طرف متوجہ کر کے الجھا دیں اور اس کا موقع ہی نہ دیں کہ مرزا قادیانی کی تردید کے متعلق وہ کوئی تحریر و تقریر لکھیں یا دیکھیں یا کریں یا سنیں۔
مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے مرزا قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کا اثبات نہیں ہو سکتا۔ چاہے وہ اسرار نہانی کی طرح لاکھ کتابیں لکھ جائیں۔ تا وقتیکہ فیصلہ آسمانی، شہادت آسمانی کا معقول جواب نہ دیں۔ پس یہ اصل وجہ تالیف اسرار نہانی ہے۔ جس پر حکیم صاحب نے فواحشات کی دیوار چنی ہے اور اپنے خیال میں ایک چلتا ہوا منتر تصور کیا ۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے ۔
زمین کوے مرزا رنج دے گی آسماں ہو کر
اس کتب میں کیا ہوگا
اس مختصر رسالہ میں حکیم خلیل احمد قادیانی مصنف اسرار نہانی کے ان مزخرفات اور ہفوات کا منصفانہ جواب ہوگا جو مرشدنا مخدوم ، مجدد العصر حضرت مولانا ابو احمد سید محمد علی صاحب قبلہ مدظلہ دامت شموش افضالہ علی رؤسنا کی ذات اقدس کے متعلق تحریر کئے ہیں۔ مگر جواب کا وہ طریق نہیں اختیار کیا جائے گا جس کو حکیم صاحب نے عناداً اختیار کیا ہے اور بات بات پر گالیاں دینا اور فواحش پر اتر آنا اپنی تحریر کا امتیاز خاص ٹھہرایا ہے۔ بلکہ نہایت مہذب طریق پر ان کے ہر اعتراض کا جواب دیا جائے گا۔ کیونکہ ایک طرف تو قرآن مجید کا یہ ارشاد ہے کہ ”جادلہم بالتی
١٠
هي احسن“ دوسری طرف واقعات عالم یہ کہہ رہے ہیں ؎
سگ را نتواں عوض گزیدن
مگر ہاں بحیثیت منصفانہ تنقید کے ہم ان امور کے اظہار و تحریر پر مجبور محض ہوں گے جو صاف اور کھلے طور پر ان کے الفاظ سے ثابت ہوں گے۔ کیونکہ بغیر اس کے ہم اپنے فرض تنقید سے سبکدوش نہیں ہوسکیں گے۔
پس ہم خدا سے التجا کرتے ہیں۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا واهدنا الصراط المستقيم ، صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين ، واصلح لنا واخواننا الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعاً“
بسم الله الرحمن الرحیم! ”حامداً ومصلياً ومسلماً“
حضرت مولانا مدظلہ کی شان میں جو مزخرفات حکیم صاحب نے تحریر کئے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ ذیل کے نمبروں میں ہو جاتا ہے۔
- ١....... جناب کانپوری صاحب جس وقت جگانے والے نے آپ کو قلم کے
نیزے سے جگایا تھا اور جس وقت وہ خدا کا پہلوان رعد کی طرح کڑکتا تھا اور آپ جیسے مولوی کے عقائد باطلہ پر بھسم کر دینے والی صداقت کی بجلی گراتا تھا۔ اس وقت آپ کس خواب و خرگوش میں تھے۔
(اسرار نہانی ص ٣٥)
- ٢....... آپ پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے جلیل القدر علماء اور فضلا اور مشہور
اکابرین نے آپ کے رویہ اور عقائد پر نظر کر کے کفر کا فتویٰ دیا۔ مکہ معظمہ کے علمائے ناظم ندوہ کو خارجی معتزلی وغیرہ وغیرہ خطابات دیئے۔
(فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین ص ٣٨، ٣٩ ، اسرار نہانی ص ٢٣)
- ٣....... اس کے بعد آپ تحریر فرماتے ہیں۔ ندوہ سے علیحدگی کے بعد آپ مونگیر
١١
آئے اور مکانات بنوائے۔ زمین دوز تہ خانے کھدوائے۔ پھلواری آراستہ ہوئی اور گل بوٹے کھلنے لگے۔ ان دنوں آپ ایک دنیا دار انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔ چونکہ اپنے کو جناب شاہ فضل رحمن صاحب مرحوم کا خلیفہ مشہور کر رکھا ہے اور پیری مریدی کا چلتا روزگار شروع کر دیا۔
(اسرار نہانی ص ٢٥، ٢٦)
- ٤....... اس کے بعد حکیم صاحب نے حضرت مولانا مدظلہ کے خوابوں پر اعتراض
کیا ہے اور تعبیر طبعزاد تحریر کر کے اپنی پاکیزہ فطرت کا ثبوت دیا ہے۔ جس کو ہمارے ناظرین آگے چل کر بعد ملاحظہ خود فیصلہ کر لیں گے کہ کیا کوئی نیک فطرت دیندار مسلمان ایسی تحریر لکھ سکتا ہے اور کیا کسی تعلیم یافتہ انسان کا ضمیر ایسے لب ولہجہ کو پسند کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ خیر وہ اصحاب جن کی نظر سے حکیم صاحب کی اسرار نہانی گذری ہوگی ان پر تو ”ما فيه من الكدر والصفا“ منکشف ہی ہوگا۔ ہاں وہ حضرات جنہوں نے حکیم صاحب کے اسرار نہانی کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ان سے گذارش ہے کہ حکیم صاحب کے کل ہفوات کا حاصل اور خلاصہ وہی ہے جس کو ہم نے سب وشتم اور گالیوں سے الگ کر کے صدر کے نمبروں میں لکھ دیا ہے اور ذیل میں ہم ہر نمبر پر الگ الگ روشنی ڈالتے ہیں۔ ”وما توفيقى الا بالله“
پہلے نمبر کا جواب
حکیم صاحب کا یہ پوچھنا کہ مرزا قادیانی کی حیات میں آپ نے کیوں نہیں مرزا قادیانی کی طرف توجہ کی؟ ایک عجیب مہمل بات ہے جس کا دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہے کہ آج مرزا قادیانی کے متعلق جو کچھ ہم کہیں یا مرزا قادیانی کہہ گئے۔ بلا چون و چرا تسلیم کر لو اور استان مرزائیت پر جبیں عقیدت مسیحیت اور مہدیت غلام احمد قادیانی رگڑ رگڑ کر وفات مسیح کا اقرار کر لو اور اگر چہ قرآن وحدیث کے صریح خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ رفع عیسیٰ الی السماء کا انکار کرو۔ ہم پوچھتے ہیں کیا حکیم صاحب کسی آریہ کے اس قول کے اعتراف کو تیار ہیں۔ اگر وہ کہے کہ حضرت آپ اس وقت کہاں تھے جب ہمارے مہاتما دیانند جی مہاراج آپ کو وید کے ایشوری پستک پر بحث ومناظرہ کے لئے للکارتے تھے۔ پس آج آپ کو اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ وید کے الہامی ہونے سے انکار کر جائیں۔ ممکن ہے حکیم صاحب اقراری جرم کی وجہ سے گناہ انکار وید کے معترف
١٢
ہو جائیں۔ مگر ہمارے ایسا شخص تو فوراً یہ جواب دے کر اس کو ساکت کر دے گا کہ دیانند جی مہاراج جہاں مناظرہ کے لئے للکارتے تھے وہاں مناظرین اسلام نے ان کو دھتکار دیا اور ثابت کر دیا کہ وید نہ کبھی الہامی کتاب تھا نہ اب ہے نہ اس کی تعلیمات ایشوری تعلیمات ہونے کی سزاوار ہیں۔ اب جب تم ہم میں اس کی تبلیغ کرنے آئے ہو اور چاہتے ہو کہ اس غلط اور باطل مذہب کی اشاعت مسلمانوں میں کریں تو ہم اسکی تردید کو تیار ہیں اور ہم پر فرض ہے کہ اس کے زہریلے خیالات سے لوگوں کے دل و دماغ کو محفوظ رکھیں اور دنیا پر ثابت کر دیں کہ وید کا نام کس طرح الہامی کتاب کی فہرست میں درج نہیں ہو سکتا ہے۔
پس یہی جواب آپ کے بھی اس بے معنی سوال کا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی جب تک زندہ رہے اور جہاں کہیں وہ رعد کی طرح کڑکتے رہے۔ وہیں مقدس علماء نے خدائے ذوالجلال کے قہر کی طرح ان پر نازل ہو کر ان کو ساکت اور خاموش کر دیا۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مولانا ثناء اللہ (شیر پنجاب) امرتسری جن کے نام سے بھی آپ خواب میں چونک چونک اٹھتے ہوں گے۔ کس طرح قادیان پہنچ کر مرزا قادیانی کو دم بخود بنا دیا تھا کہ صورت دکھلانے کی جرات نہ کر سکے تھے۔ مناظرہ تو بڑی چیز ہے۔ ” ولله دره من قال “
فرعون کے لئے کوئی موسیٰ نہ آئے گا
اب جب آپ حضرات مونگیر میں (بعقائد اہل سنت والجماعت) اپنے فاسد خیالات کی اشاعت کرنے آئے اور چاہا کہ عوام کالانعام کے دماغ میں مرزا قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کا بیج بوئیں اور ان کے خزینہ دین اور ایمان کو تخت و تاراج کریں تو علمائے حقانی بنوائے حدیث نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ” من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذالك اضعف الايمان رواه مسلم “
تم میں سے جو شخص امر منکر یعنی خلاف دین وایمان امور کو دیکھے تو اس کو لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے دور کر دے اور اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ تو زبان سے بذریعہ وعظ و پند اس کو مٹا دے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل ہی دل میں برا سمجھے مگر یہ نہایت کمزوری ، ایمان کی علامت ہے۔ روایت کیا اس حدیث کو مسلم نے۔
١٣
اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریر اور تحریر سے اس باطل خیال کے بطلان کو عوام پر اچھی طرح سے ثابت کر دیا اور بذریعہ فیصلہ آسمانی، شہادت آسمانی، معیار الحق، حقیقۃ الحق کے وغیرہ وغیرہ کے اپنے مسلمان بھائیوں کو متنبہ کیا کہ ان اباطیل سے بچو۔ ورنہ تمہارے ایمان واسلام کو خطرہ ہے۔ بحمد اللہ کہ اس کا اتنا اثر ہوا کہ آج مونگیر واطراف مونگیر میں ہر ہر بچہ کو اس کی اطلاع ہے کہ ناقص اور سب سے باطل قرآن وحدیث کے خلاف اگر کوئی خیال ہو سکتا ہے تو وہ مرزائیوں کا ہے۔
ورنہ حضرت مولانا مدظلہ کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب اور حضرت مولانا مدظلہ کیوں ایسی باتوں کی طرف توجہ فرماتے۔ اولیاء اللہ، علمائے حقانی، صوفیائے کرام ایسے امور کی طرف اس وقت توجہ فرماتے ہیں جو دیکھتے ہیں کہ دشمنان دین زور پکڑ رہے ہیں اور بہت زیادہ احتمال ہے کہ اگر وہ اپنی حالت پر اب بھی چھوڑ دئیے گئے تو دنیا ضلالت آباد میں جائے گی اور خدا کے خاص بندے خیر الامۃ افراط و تفریط میں پڑ کر بدترین خلائق ہو جائیں گے تو پھر وہ تسبیح کی جگہ اپنی انگلیوں میں قلم کو زیب دیتے ہیں اور اوراد و وظائف معمولہ کی جگہ عقائد باطلہ کی تردید کرتے ہیں۔ کیونکہ:
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
باقی حکیم صاحب کا یہ فرمانا۔ اگر آپ چاہتے تو براہین احمدیہ کا جواب لکھ کر دس ہزار حاصل کر لیتے یا نور الحق کا جواب لکھ کر پانچ ہزار حاصل کر لیتے یا حیات عیسیٰ اسرائیلی علیہ السلام کے زندہ بجسدہ عنصری آسمان پر جانے کی کوئی آیت قرآنی یا حدیث پیش کر کے بیس ہزار حاصل کر لیتے وغیرہ وغیرہ۔
ان سب کی حقیقت دنیا پر واضح ہو چکی ہے اور یہ سب محض لایعنی باتیں ہیں اور دھینگا مشتی اور ہنگامہ آرائی ہے۔ ہم لوگ فدایان رحمانی جو کچھ کرتے ہیں محض خدا کے واسطے اور لوجہ اللہ اور اسلام اور دین مبین کی خدمت کے لئے کرتے ہیں۔ جس سے مقصود محض حفاظت دین ہے نہ کسی سے کوئی ذاتی مخاصمت مدنظر ہے نہ اپنی تعلی اور شہرت۔ یہ ان ہی لوگوں کو مبارک ہو جو بندہ زر ہیں۔
کہ عنقا را بلند است آشیانہ
حکیم صاحب کا ایک افتراء
”انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت الله“
١٤
ممکن ہے کہ ہما جامہ میں آ کر شکوہ سنج ہوں افعال کے متعلق فتویٰ چاہیں بیشک یہ بڑی تہمت ہے۔ جگہ پر ہے یا نہیں۔
حکیم صاحب ا کا نام نامی آتے ہی کانپنے ل خویش مشغول باش۔ یہ ا ان کے مریدوں سے حلفا یہ الہام سنایا ہے۔“ حکیم صاحب ک پہلے اپنے ناظرین کرام ہی آپ خدا کو حاضر ناظر سمجھ ک فرمائیے کہ یہ جھوٹ اور افتر
رہے خواص کہتا ہوں کہ مجھ کو اس افترا تک اس کی اطلاع بھی نہی سن رہا ہوں۔ ”والله
ہے اور اگر یہ شان ہے، آپ کے پیر طریقت کہہ کر رد کر دیا ہے۔ یہ الہام آپ یہی فرمائیں گے کہ یہ
ممکن ہے کہ ہمارے دوست ہماری سرخی سے کبیدہ خاطر ہو جائیں اور تہذیب کے جامہ میں آ کر شکوہ سنج ہوں۔ مگر میں سچ عرض کرتا ہوں۔ اگر آپ اپنے ضمیر سے بھی ایسے افعال کے متعلق فتویٰ چاہیں گے تو وہ بھی آپ کو یہی کہے گا۔ ”ان ھذا بھتان عظیم“ بیشک یہ بڑی تہمت ہے۔ جس کا فیصلہ ہم اس جگہ اپنے ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ یہ سرخی اپنی جگہ پر ہے یا نہیں۔
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
حکیم صاحب ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں۔ ”ایسے عظیم الشان انسان (یعنی مرزا قادیانی) کا نام نامی آتے ہی کانپوری صاحب کہہ دیا کرتے تھے کہ مجھ کو الہام ہوا ہے۔ این را بگذار و بکار خویش مشغول باش۔ یہ الہام کانپوری صاحب کا عام لوگوں میں مشہور ہے۔ چنانچہ اس وقت اگر ان کے مریدوں سے حلفاً دریافت کیا جائے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ پیر جی نے بارہا لوگوں کے سامنے یہ الہام سنایا ہے۔“
حکیم صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہ الہام عام لوگوں میں مشہور ہے۔ اب ہم سب سے پہلے اپنے ناظرین کرام ہی کو مخاطب کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آپ بھی عوام کے ایک فرد ہیں۔ آپ خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر فرمائیے کہ کیا آپ کو یہ الہام معلوم ہے؟ اگر آپ کو معلوم نہیں تو سچ فرمائیے کہ یہ جھوٹ اور اسی کا نام افتراء ہے یا نہیں؟
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
رہے خواص یعنی حضرت مولانا مدظلہ کے مریدین تو میں (جو یکے از خدام ہوں) حلفاً کہتا ہوں کہ مجھ کو اس الہام کا حضرت مولانا مدظلہ کی زبان مبارک سے سننا تو کیا معنی؟ مجھ کو آج تک اس کی اطلاع بھی نہ تھی۔ ہاں یہ پہلا موقع ہے کہ حکیم صاحب کے اسرار نہانی کی زبان سے سن رہا ہوں۔ ”واللہ علیٰ ما اقول شہید“
١؎ اور اگر صحیح ہو اور کسی وجہ سے مجھ کو نہیں دوسروں کو علم ہو تو اس پر حکیم صاحب ایسے شخص کا معترض ہونا خدا کی شان ہے۔ آپ کے پیر خلیفہ المسیح ثانی مرزا محمود قادیانی نے تو خود حقیقت النبوۃ میں مرزا قادیانی کے بہتیرے الہامات کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے۔ یہ الہام ابتداء اور بے سمجھی کے وقت کا ہے۔ اصل حقیقت کا انکشاف آپ کے بعد ہوا، تو کیا یہاں بھی آپ یہی فرمائیں گے کہ یہ دونوں الہام آپ کے سچے ہیں یا جھوٹے، شیطانی ہیں یا رحمانی۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٥
پس یہ دو دلیلیں تھیں جو غلط ثابت ہو گئیں اور حکیم صاحب کا افتراء نہایت روشن طریق پر ثابت ہو گیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکیم صاحب نہیں تو ہمارے ناظرین کو ہماری سرخی کی تصدیق ہو گئی ہوگی۔ کیونکہ افتراء کی نسبت حکیم صاحب کی طرف خود ان کی ناجائز کرتوت کی وجہ سے ہے۔
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث
اخیر میں ہم حکیم صاحب سے محض اس قدر کہنا چاہتے ہیں کہ آہ آپ نے ناجائز حمیت میں جھوٹ وافتراء سے بھی دریغ نہ فرمایا اور قرآن کی اس سخت وعید کو بھی آپ نے فراموش فرما دیا۔ مشغول رہو۔ اس سے مرزا قادیانی کی تعریف نکلی یا مذمت ہر جگہ الٹا سمجھنا آپ کا ہی حصہ ہے۔ ”انما يفتري الكذب الذين لا يؤمنون بايت الله “ جھوٹ وافتراء وہی باندھتے ہیں جو خدا کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔
دوسرے نمبر کا جواب
”وجوه يومئذ عليها غبرة ترهقها قترة“
معزز ناظرین! اس حقیقت کا انکشاف کہ واقعی حضرت مولانا مدظلہ پر علماء مکہ معظمہ نے تکفیر کی ہے اور وہ فتاویٰ الحرمین کے ص ٣٨، ٣٩ میں موجود ہے۔ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ آپ خود فتاویٰ مذکور ملاحظہ فرمالیں کہ پوری کتاب میں ایک جگہ بھی حضرت مولانا کا اسم گرامی ہے یا محض حکیم صاحب کا افتراء ہے۔ ہم نے کتاب مذکور بہتیرے مطبع اور ہندی مصری کتب خانوں میں
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) (اسرار نہانی ص ٣٣) ونیز اپنے ان دونوں سفید وسیاہ الہاموں کی تطبیق کر کے دکھائیے۔ یا اپنے الہام بھیجنے والے کے پاس درخواست کیجئے یا کیفیت طلب کیجئے۔ (اسرار نہانی ص ٣٤) کہ اولاد تو خود سراپا بطلان گفتہ بودی حالانکہ گونہ خلاف و عکس آن الہام کئے۔ (مصنف) علاوہ ازین (را بگذر) کا معنی یہ سمجھنا کہ مرزا قادیانی کی تردید نہ کرو۔ آپ ہی کا حصہ ہے۔ اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی جو جھوٹا مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس کا اعتراف نہ کرو اور بکار خویش مشغول باش۔ یعنی اپنے کام میں جس پر تم ہو اور تمہارا مسلک ومذہب ہے۔ اسی پر قائم اور اسی پر عامل اور اس میں مشغول رہو۔ اس سے مرزا قادیانی کی تعریف نکلی یا مذمت ہر جگہ الٹا سمجھنا آپ کا ہی حصہ ہے۔
تیرے پیچھے ہی پیچھے ہر جگہ پھرتی ہے رسوائی
١٦
تلاش کیا۔ مگر حسن اتفاق سے کہیں نہیں ملی۔ مجبوراً حکیم خلیل صاحب (مصنف اسرار نہانی) کی طرف رجوع کیا کہ آپ عنایت فرما کر فتاویٰ الحرمین ہمارے نام قیمتاً ارسال فرمائیں جواباً جو کچھ حکیم صاحب نے تحریر کیا ہے۔ بلفظہ نقل مطابق اصل کر دیا جاتا ہے۔ خلیل احمد معرفت قادر بخش انجینئر!
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نحمدہ ونصلیٰ علیٰ رسولہ الکریم!
مکرم بندہ! ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“
چونکہ آج کل میں دہلی میں چند روز کے لئے مقیم ہوں۔ اس لئے آپ کا مرسلہ کارڈ دیر میں مجھ کو ملا۔ پہلے مونگیر آیا۔ پھر مونگیر سے یہاں پہنچا۔ فتاویٰ الحرمین کی آپ کو ضرورت ہے۔ یہ کتاب بمبئی میں چھپی تھی۔ مولوی رضی احمد صاحب بریلوی نے طبع کرایا تھا۔ مگر اب یہ کتاب ان کے پاس بھی نہ رہی۔ آپ ان کے پتہ پر خط لکھ کر ان سے بھی دریافت کر لیں اور لکھیں کہ مولوی محمد علی کانپوری پر جو فتویٰ کفر آپ نے مکہ معظمہ سے منگوایا تھا وہ فتویٰ یعنی فتاویٰ الحرمین مجھے بھیج دیں۔ ممکن ہے کہ آپ کے نام بھیج دیں۔ مگر قرینہ یہ ہے کہ یہ کتاب ان کے پاس بھی نہیں رہی۔ مولوی رضا احمد صاحب ہمارے سلسلہ احمدیہ کے بھی مخالف ہیں۔ مگر کیا حرج آپ ان سے بھی دریافت کر سکتے ہیں۔ میرے پاس وہ کتاب تھی اور میں آپ کو دے سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج کل یہ کتاب عدالت میں داخل ہے۔ چونکہ مقدمہ ابھی ہائیکورٹ میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے عدالت سے ابھی نہیں ملی ہے۔ مقدمہ کے فیصل ہونے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ عدالت سے جب واپس ہوگی تو میں آپ کی خدمت میں بھیج سکتا ہوں۔ اگر اس کتاب کی سخت ضرورت ہو تو عدالت میں درخواست دے کر کتاب کو دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے جو اسرار نہانی میں حوالہ دیا ہے وہ حوالہ بہت صحیح اور درست ہے۔ مولوی محمد علی کانپوری کبھی اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ دہلی میں بالفعل ہمارا پتہ یہ ہے۔ حکیم خلیل احمد معرفت قادر بخش صاحب انجینئر اسلیٹن فیکٹری، کوڑیا پل، دہلی۔
جواباً حکیم صاحب کو لکھ دیا گیا تھا کہ جب آپ مونگیر تشریف لاویں مجھ کو مطلع
١٧
فرما دیں۔ میں بتوسط آپ کے درخواست دے کر ضرور اس کو دیکھوں گا۔ ہنوز کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
بہر کیف حکیم صاحب کے خط سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔
- ١....... فتاویٰ مذکور کو جناب مولانا احمد رضا خان صاحب نے طبع کرایا ہے۔
- ٢....... مولانا مذکور ہی نے مکہ معظمہ سے مرشدنا مولانا محمد علی صاحب قبلہ مدظلہ العالی کی شان
میں کفر کا فتویٰ منگوایا ہے۔
- ٣....... اسرار نہانی میں حضرت مولانا محمد علی صاحب قبلہ کی نسبت جو کفر کے فتویٰ کا حوالہ دیا
ہے۔ وہ درست ہے اور اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔
- ٤....... ان کی اس تحریر سے مگر اب کتاب ان کے پاس بھی نہ رہی۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ فتاویٰ
مذکور دوسروں کے پاس تو کیا مولانا احمد رضا خان صاحب کے پاس بھی (باوجودیکہ آپ ہی نے طبع کرایا ہے) نہیں ہے۔
اب ہر ہوشمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حالت میں کہ جب کتاب مذکور کے ملنے کی ہر طرح سے یاس ہوگئی ہو۔ کیا حکیم صاحب کے حوالہ کی تصدیق کی اس سے کوئی اور عمدہ صورت ہوسکتی ہے؟ کہ خود مولانا احمد رضا خان صاحب سے حسب تحریر حکیم صاحب کتاب مذکور طلب کی جاوے اور استفسار کیا جائے کہ آپ نے حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب قبلہ پر کفر کا فتویٰ مکہ معظمہ سے منگوایا ہے یا نہیں اور منگوایا ہے تو وہ فتاویٰ الحرمین یا کسی دوسرے رسالہ میں طبع کرایا ہے یا نہیں اور حکیم خلیل صاحب جس فتویٰ کو حضرت مولانا کی طرف منسوب کر رہے ہیں وہ اپنے اس بیان میں سچے ہیں یا نہیں اور جب حکیم صاحب کو خود اعتراف ہے کہ مولانا موصوف ہی نے اس فتوے کو مکہ معظمہ سے منگوایا اور طبع کرایا ہے۔ اس فتویٰ کے مضامین کے متعلق جو کچھ مولانا ممدوح کا ارشاد ہوگا وہ حکیم صاحب پر اقبالی ڈگری ہوگی یا نہیں؟
یوں تو ہر شخص کے منہ میں زبان ہے مگر ایک منصف طبیعت اور انصاف پسند تو یہی کہے گا کہ اس سے بہتر فیصلہ کی دوسری صورت متصور نہیں ہوسکتی اور بیشک جناب مولانا احمد رضا خان صاحب کا ہر بیان اس فتاویٰ کے متعلق حکیم صاحب پر ایک اقبالی ڈگری ہوگی۔
١٨
چنانچہ حسب تحریر حکیم صاحب مولانا موصوف کی خدمت میں جوابی کارڈ تحریر کیا گیا۔ اس کے جواب میں مولانا ممدوح کے مہتمم مطبع نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے ذیل میں بلفظ درج کیا جاتا ہے۔
مکرمی وعلیکم السلام! آپ کے دو خط آئے جواباً گزارش ہے۔ قادیانیوں کا محض دھوکا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب ناظم ندوہ کی نہ یہاں سے تکفیر ہوئی ہے، نہ عرب شریف سے، کفر کے فتوے آئے۔ ہاں ندوہ کا رد البتہ کیا گیا اور اس کے رد میں عرب شریف سے فتوے آئے جو فتاوی الحرمین میں شائع ہوئے۔ اس میں کہیں مولوی محمد علی صاحب کی تکفیر نہیں ہے۔ اب فتاوی الحرمین یہاں نہیں رہا۔ ورنہ ضرور بھیجا جاتا۔ بمبئی والوں نے چھاپا تھا۔ اسی زمانہ میں تقسیم کردیا۔ البتہ غلام احمد قادیانی کی تکفیر علمائے حرمین شریفین نے کی جو حسام الحرمین میں موجود ہے۔ مگر اب حسام الحرمین کی جلدیں بھی دو تین ماہ سے ختم ہوگئی ہیں۔ البتہ حسام الحرمین عربی بلا ترجمہ شاید دو ایک نسخہ مل جائے۔ اس کی ضرورت ہوگی تو بھیج دیا جائے گا۔ رسائل رد قادیانی جو دفتر میں موجود ہیں۔ روانہ کئے جاتے ہیں۔ امجد علی اعظمی مہتمم مطبع اہل سنت بریلی ، ١٨ رجب ١٣٣٤ھ
اب ہم اس کا انصاف معزز ناظرین ہی سے چاہتے ہیں کہ کیا اس سے بڑھ کر افتراء سازی کی کوئی دوسری مثال مل سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
خیال فرمائیے یہ کیسا سیاہ جھوٹ ہے کہ میرا حوالہ درست ہے۔ حالانکہ کہیں نام ونشان تک نہیں اور یہ کیسا صریح افتراء ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے ان کی تکفیر کا فتوی مکہ معظمہ سے منگوایا تھا۔ دراں حالانکہ نہ ان کے یہاں سے کوئی فتوی حضرت مولانا مدظلہ پر تکفیر کا دیا گیا اور نہ عرب شریف کے علماء نے کوئی فتوی اس طرح کا تحریر فرمایا اور نہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے منگوایا۔
مگر ہزار آفرین حکیم صاحب کے ایمان وتقویٰ پر کہ محض جھوٹ مع حوالہ صفحہ آپ نے لکھ مارا کہ فتاوی الحرمین کے ص ٣٨ ، ٣٩ میں مولوی محمد علی صاحب پر کفر کا فتوی موجود ہے۔ حالانکہ اس میں حضرت مولانا مدظلہ کا کہیں نام ونشان تک نہیں ہے۔
یہی راز تھا جس کی وجہ سے حکیم صاحب نے ناظم ندوہ کے بعد بریکٹ میں مولوی محمد علی لکھ کر اپنے اعمال نامہ کو سیاہ کیا اور افتراء و بہتان کی ناپاک غلاظت سے اپنی کتاب کو ملوث کیا اور اس کا
١٩
کھٹکا تک نہیں ہوا کہ جھوٹے طلسم کا راز ایک نہ ایک روز کھل ہی کر رہتا ہے۔ مگر نہیں ان کو ان کے مغرور نفس نے اس دھوکے میں رکھا کہ نہ کتاب ملے گی نہ ہمارے بہتان وافتراء کا طلسم ٹوٹے گا۔
اب حکیم صاحب کو غور کرنا چاہئے کہ آپ کے اس الزام کی کیا وقعت ہے کہ: ”جو جواب اس موقع پر آپ دے دیں گے وہی جواب میں بھی ان لوگوں کے بارے میں دوں گا۔ جنہوں نے احمدیوں پر یا احمدیوں کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ دیا ہے یا دلایا ہے۔“
حکیم صاحب مرزا قادیانی کی قسمت کو کہاں تک روئے گا۔ ان کے لئے تو فیصلہ ہو چکا۔ ”لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم“ بہانے نہ بناؤ بیشک ایمان کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ ہاں آپ اپنی قسمت پر البتہ روئیے۔ کیونکہ بلاوجہ شرعی محض افتراء وکذب وبہتان اور اختراع طبیعت سے کسی مسلمان کو کافر کہنا۔ دوسرے لفظوں میں اپنے کو کافر کہنا ہے پس ہم نہیں کہتے کہ آپ کیا ہیں۔ آپ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنے نوشتہ تقدیر کو پڑھئے۔
رفیق کہتے ہیں مغضوب قہر یار ہے خود
سچ ہے۔
کل دیکھا خرابات میں مست مے ولی تھے
پس حضرت مولانا مدظلہ کے متعلق تو ہم یہ کہتے ہیں کہ تکفیر کی نسبت حضرت مولانا مدظلہ کی ذات شریف کی طرف افتراء ہے بہتان ہے۔ مگر کیا مرزا قادیانی کے متعلق بھی آپ یہی کہیں گے۔ اگر خاطر ناشاد سے ان کی تکفیر ذہول کی گئی ہو تو تازہ کر لیجئے کہ حسام الحرمین کی عربی عبارت نقل کی جاتی ہے بغور پڑھئے۔
مرزا قادیانی پر عرب شریف، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے
علمائے کرام کا فتویٰ کفر وارتداد
”غلام احمد القادیانی دجال حدث فی ھذا الزمان ادعی مماثلۃ المسیح وقد صدق واللہ بانہ مثل المسیح الدجال ص٨“
٢٠
اکاذیب مولانا ابوا
ایک نہ ایک روز کھل ہی کر رہتا ہے۔ مگر نہیں ان کو ان کے نقاب الٹے گی نہ ہمارے بہتان وافتراء کا طلسم ٹوٹے گا۔ کہیے کہ آپ کے اس الزام کی کیا وقعت ہے کہ: ”جو جواب کتاب میں بھی ان لوگوں کے بارے میں دوں گا۔ جنہوں نے مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ دیا ہے یا دلایا ہے۔“ اپنی قسمت کو کہاں تک روئے گا۔ ان کے لئے تو فیصلہ بعد ايمانکم“ بہانے نہ بناؤ بیشک ایمان کے بعد کافر ہو چکے۔ کیونکہ بلاوجہ شرعی محض افتراء و کذب و بہتان اور ہونا۔ دوسرے لفظوں میں اپنے کو کافر کہنا ہے پس ہم نہیں گریبان میں منہ ڈال کر اپنے نوشتہ تقدیر کو پڑھئے۔
مغضوب قہر یار ہے خود
مات میں مست مے ولی تھے
مطلق تو ہم یہ کہتے ہیں کہ تکفیر کی نسبت حضرت مولانا مدظلہ پر بہتان ہے۔ مگر کیا مرزا قادیانی کے متعلق بھی آپ یہی تکفیر ذہول کی گئی ہو تو تازہ کر لیجئے کہ حسام الحرمین کی عربی
کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا شریف ، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے عام کا فتویٰ کفر وارتداد ثانی دجال حدث في هذا الزمان ادعى مماثلة للمسيح الدجال ص ٨“
٢٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ : مسند احمد بن حنبل
اکاذیب مرزا
مولانا ابوالخیر عبدالعزیز
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
هل انبئكم على من تنزل الشيطين تنزل على كل افاك اثيم!
ترجمہ: کیا میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے بدکار پر اترتے ہیں۔
"ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون"
ہر ایک شخص اس بات کا مقر اور قائل ہے کہ سچائی اور صداقت ہی ایک ایسا معیار ہے۔ جس پر صدق اور کذب کا انحصار ہے جو کوئی جھوٹ بولنے کا عادی ہو اس کی کوئی بات بھی قابل وثوق اور اعتبار نہیں ہو سکتی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ "ولا يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا (مشكوة) "یعنی جو کوئی جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ دوسری روایت میں ہے۔"قال رسول الله ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين فاحذروهم (مسلم) "یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے بڑے بڑے جھوٹے (مدعی نبوت) ہوں گے۔ اے مسلمانو! تم ان جھوٹوں سے دُور رہنا۔ آیات واحادیث بالا سے معلوم ہوا کہ جو شخص جھوٹ بولنے اور افتراء پردازی کا عادی ہو وہ نبی ہونا تو درکنار صحیح معنوں میں مسلمان بھی نہیں رہتا۔
مرزا قادیانی مدعی نبوت خود رقمطراز ہیں۔ "جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔" (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) نیز مرزا قادیانی اپنے رسالہ (آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٢) میں فرماتے ہیں۔ "غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔" (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٥٤) میں یہ بھی موجود ہے کہ: "خدا پر افتراء کرنا پلید طبع لوگوں کا کام ہے۔"
پس اسی معیار پیش کردہ پر جب ہم مرزا قادیانی مدعی نبوت کو پرکھتے ہیں تو جھوٹوں کی فہرست میں آپ کو نمبر اوّل پاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی موصوف کی تصنیفات میں بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے جھوٹ اور بہتانات ہیں جو انہوں نے خدا اور رسول اور امامان دین پر باندھے ہیں۔ جن کا قرآن وحدیث میں کہیں بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ ہم مشتے نمونہ از خروارے مرزا قادیانی ہی کی تصنیفات سے چند حوالہ جات متلاشیانِ حق کے سامنے پیش کرتے ہیں اور تابعداران مرزا کو چیلنج دیتے ہیں کہ حوالہ جات ذیل کو سچا ثابت کر کے انعام لینے کے مستحق ہوں۔
١
مرزا قادیانی کا جھو
.......١
بن مریم رسول اللہ و مرزا کے مریدو! اس جھوٹ کا اقرار کرو۔
.......٢
ہے کہ حضرت ابن عباس ص ٢٢٥) قادیانی دوستو! لو۔ ورنہ کہو یا دروغ گو
.......٣
حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کے مرید کے جھوٹ کا اقرار کر
.......٤
ہیں۔ "آپ کا خاندان کیسی عورتیں تھیں۔ جن
شاباش الزام لگاتے ہیں۔ جس بھی قابل داد ہے کہ حض اس بندہ خدا سے کوئی پو سچ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں وحدیث سے ثابت کرو
.......٥
ناپاک خیال ، متکبر اور جائیکہ اس کو نبی قرار دیا
مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ نبی اللہ کی نسبت عقیدہ
- ١...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ’’قرآن بضرب دہل فرما رہا ہے کہ عیسیٰ
بن مریم رسول اللہ زمین میں دفن کیا گیا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ طبع کلاں ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ١٦٥) مرزا کے مریدو! اس قسم کی آیت قرآن شریف سے دکھاؤ۔ مبلغ ١٠ روپے انعام پاؤ۔ ورنہ جھوٹ کا اقرار کرو۔
- ٢...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’تفسیر معالم التنزیل کے ص ١٦٢ میں لکھا
ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کا اعتقاد یہی تھا کہ مسیح فوت ہو چکے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٥) قادیانی دوستو! معالم التنزیل سے حضرت ابن عباسؓ کا یہ عقیدہ دکھاؤ۔ مبلغ ١١ روپے انعام لو۔ ورنہ کہو یا دروغ گوئی تیرا سہارا۔
- ٣...... مرزا قادیانی کہتے ہیں: ’’امام مالکؒ ، امام اعظمؒ ، امام احمدؒ ، امام شافعیؒ ،
حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر اتفاق رکھتے ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ٩٢) مرزا قادیانی کے مریدو! ائمہ اربعہ کا یہ متفقہ قول بتاؤ۔ مبلغ ١٢ روپے انعام پاؤ۔ ورنہ مرزا قادیانی کے جھوٹ کا اقرار کرو۔
- ٤...... مرزا قادیانی آنجہانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ کی نسبت فرماتے
ہیں۔ ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
شاباش یہود کا بھی ناک کاٹ دیا۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فقط والدہ مریم پر ایسا الزام لگاتے ہیں۔ جس کی تردید قرآن کریم نے اکمل طور سے کر دی۔ مگر مرزا قادیانی کی دلیری بھی قابل داد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں کو معاذ اللہ بدکار کہتے ہیں۔ اس بندۂ خدا سے کوئی پوچھے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ ہی نہیں تو دادیاں کیسے ہو گئیں۔ سچ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ مرزائیو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں قرآن و حدیث سے ثابت کرو۔ مبلغ تیرہ روپے انعام وصول کرو۔
- ٥...... مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہتے ہیں: ’’پس ہم ایسے
ناپاک خیال، متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
حضرات ناظرین! یہ ہے جناب مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ کی نسبت عقیدہ اور آیت ”انما المسیح عیسیٰ بن مریم رسول الله (سورة نساء) “ کا کیسی صفائی سے انکار کرتے ہیں۔ قادیانی دوستو! اب بھی مرزا قادیانی کو مسلمان کہو گے؟
.......٦ نیز فرماتے ہیں کہ: ”آپ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
جو کوئی جھوٹ بولنے کا عادی ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی ایسا سمجھتا ہے۔ چونکہ جھوٹ اور افتراء پردازی مرزا قادیانی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ لہٰذا حضرت روح اللہ نبی اللہ کی نسبت بھی اپنی بدعقیدگی کو ظاہر کیا۔
.......٧ مرزا قادیانی آنجہانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے بھی صاف انکاری ہیں فرماتے ہیں۔ ”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ، نبی اللہ، رسول اللہ، کلمتہ اللہ، ”وجیها فی الدنیا والآخرة ومن المقربین“ کہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات وضاحت سے بیان کرے۔ مگر مرزا قادیانی مدعی نبوت، روح اللہ کو جھوٹا، مکار اور فریبی، بدکردار، معاذ اللہ خاک بدہن ولد الزنا وغیرہ کہہ کر آپ کی نبوت و معجزات سے انکار کرتا ہے۔ یہ ہیں پنجابی نبی کے عقائد۔
مرزائی دوستو! ایمان سے بتاؤ کہ ایسے عقیدہ والے کو قرآن کریم کیا تمغہ عطاء کرتا ہے۔ ”الیس فی جهنم مثوى للكافرين“ کیا جہنم میں منکروں کی جگہ نہیں۔
آگے سنئے:
.......٨ مرزا قادیانی کہتے ہیں ۔ ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ عمل تراب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم سے تھا۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
ناظرین آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ کی توہین و ہتک کرنے میں کیسے جری اور بے باک ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا قرآن پاک پر ہرگز ایمان نہیں تھا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ قرآن شریف کی صریح آیات کے برخلاف ایسے ناپاک الفاظ کہنے کی جرأت کرتا۔ قرآن کی متعدد آیات میں حضرت روح اللہ کے معجزات کا ذکر بالصراحت موجود ہے اور ارشاد خداوندی برملا پکار رہا ہے کہ جو کوئی عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ مٹی کے پرند بنانے کو عمل ترب (جادو) کہے وہ کھلم کھلا کافر ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“
قادیانی دوستو! خدارا انصاف کرو کہ ایسا شخص بھی مسلمان کہلانے کا حق رکھتا ہے؟ جو حضرت روح اللہ کی نسبت ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور تم اس کو اپنا ہادی سمجھو۔ مرزا قادیانی کی اس بدعقیدگی کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر بعض مریدان مرزا عوام الناس کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے یہ یسوع کی نسبت لکھا ہے۔ نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق۔ مگر یہ ان کا عذر تار عنکبوت سے بھی اوہن تر ہے۔ کیونکہ درحقیقت یسوع اور مسیح سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ ہی ہیں۔ نیز یہ امر مرزا قادیانی کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ یسوع حضرت عیسیٰ ہی کو کہا جاتا ہے۔ (نور القرآن ص ٢٠، ٢١، توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢، تذکرۃ الشہادتین ص ٢٥، ٢٧، ٢٨، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٠، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٠)
مرزا قادیانی کے مریدو! مرزا ہی کی تحریرات سے ثابت کرو کہ یسوع اور عیسیٰ دو الگ الگ شخص ہیں۔ تو ایسی صورت میں مبلغ چودہ روپے نقد چہرہ شاہی بندہ سے انعام پاؤ۔ ورنہ کہو۔ یا دروغ گوئی تیرا آسرا۔
مرزا قادیانی کا قرآن پاک کے متعلق عقیدہ
٩....... فرماتے ہیں: ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤، خزائن ج ٣ ص ١١٥) کتنا بڑا الزام قرآن پر لگایا ہے۔ آج تک جس قدر ہی دشمنان اسلام گزرے ہیں۔ کسی نے بھی قرآن کریم کے متعلق ایسے ناشائستہ الفاظ استعمال نہیں کئے۔ قادیانی بھائیو! ایمان سے بتاؤ کہ ایسا شخص بھی مسلمان اور نبی ہو سکتا ہے؟
٥
مرزا قادیانی کا حضرت محمد رسول اللہﷺ کے مناقب پر ناجائز قبضہ
قرآن شریف میں حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی فضیلت میں جس قدر آیات قرآنیہ ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان کو اپنے لئے بتایا ہے۔
- ١٠...... ”انا اعطیناک الکوثر“ ﴿اے محمد ہم نے آپ کو حوض کوثر عطا کیا
ہے۔﴾ مرزا قادیانی کہتا ہے یہ میرے حق میں ہے۔
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
- ١١...... ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“ ﴿ہم نے آپ کو تمام
جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔﴾ مرزا قادیانی کہتے ہیں اس سے مراد میں ہوں۔
(حقیقت الوحی ص٨٢، خزائن ج٢٢ ص٨٥)
- ١٢...... ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ ﴿اے محمدؐ جو لوگ
آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔﴾ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ آیت بھی میرے لئے ہے۔
(حقیقت الوحی ص٨٠، خزائن ج٢٢ ص٨٣)
- ١٣...... ”وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما“
﴿اے نبیؐ ہم نے آپ کو بے انداز علم سکھایا ہے اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔﴾ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ آیت بھی میرے حق میں ہے۔
(حقیقت الوحی ص٩٥، خزائن ج٢٢ ص٩٩)
- ١٤...... ”سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلاً“ ﴿اللہ وہ پاک ذات ہے
جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) کو کچھ رات میں سیر کرائی۔﴾ یہ آیت حضرت کے معراج جسمانی کے ثبوت کے متعلق ہے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ بھی میرے حق میں ہے۔
(حقیقت الوحی ص٧٨، خزائن ج٢٢ ص٨١)
- ١٥...... ”لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر“ ﴿اے نبی اللہ
نے آپ کے سب گناہ بخش دیئے ہیں۔﴾ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ آیت میرے لئے ہے۔
(حقیقت الوحی ص٩٤، خزائن ج٢٢ ص٩٧)
- ١٦...... ”عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً“ ﴿اے محمد ہم آپ کو
مقام محمود عطا کریں گے۔﴾ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ آیت مجھ پر نازل ہوئی ہے۔
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
٦
ﷺ کے مناقب پر نا جائز قبضہ
الانبیاء محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی فضیلت میں جس قدر اپنے لئے بتایا ہے۔
الکوثر ”اے محمد ہم نے آپ کو حوض کوثر عطاء کیا میں ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
نك الا رحمۃ للعالمین ”ہم نے آپ کو تمام مرزا قادیانی کہتے ہیں اس سے مراد میں ہوں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
يبايعونك انما يبايعون الله ”اے محمد جو لوگ کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ آیت بھی
(حقیقۃ الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما “ سکھایا ہے اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ بھی میں ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
اسرى بعبده ليلا ”اللہ وہ پاک ذات ہے رات میں سیر کرائی۔ یہ آیت حضرت کے معراج قادیانی کہتے ہیں کہ یہ بھی میرے حق میں ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
ما تقدم من ذنبك وما تاخر ”اے نبی اللہ مرزا قادیانی کہتے ہیں یہ آیت میرے لئے ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
ربك مقاماً محموداً ”اے محمد ہم آپ کو ہیں کہ یہ آیت مجھ پر نازل ہوئی ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
یہ ہیں مرزا قادیانی کے فرمان بے لگام ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ درجات بالا ہم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ کو عطاء کئے ہیں۔ مگر پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ میرے حق میں ہے۔ قادیانی دوستو! اب خدا کو صادق کہو گے یا مرزا قادیانی کو۔ ان دونوں میں سے ایک ہی سچا ہوگا۔
مرزا قادیانی کا خدا کی نسبت عقیدہ
١٧...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”میرا خدا روزہ بھی رکھتا ہے اور افطار بھی کرتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
١٨...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”خدا گناہ بھی کرتا ہے اور نیکی بھی کرتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
قادیانی مترو! سنتے ہو۔ تمہارا نبی قادیانی کیا کہہ رہا ہے۔ اب تو خدا کو بھی نہیں چھوڑا۔ ہاں! ہاں! جو مرزا قادیانی کا خدا ہے وہ ضرور خطا کرتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ محمدی بیگم کا خاوند سلطان محمد میعاد مقرر کے اندر جو مرزا قادیانی نے معین کی تھی نہیں مرا اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ مرزا قادیانی کی آغوش میں نہیں آئی۔ کیونکہ جس وقت مرزا قادیانی کا خدا سلطان محمد کی موت کی تاریخ لکھ رہا تھا اس وقت وہ روزہ دار ہوگا۔ موسم گرما کی تھی یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ صائم کو خشکی ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی غصہ آ جاتا ہے اور غصہ میں غلطی ہو جاتی ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کے خدا کے حواس بوجہ خشکی شدید کے درست نہیں ہوں گے۔ بجائے سلطان محمد کی موت کے مرزا قادیانی کی موت لکھ ماری۔ بایں وجہ مرزا قادیانی محمدی بیگم کے وصال سے محروم گئے۔ یہ ہے قادیانی نبوت کی حقیقت مرزا قادیانی کے مریدو! اب بھی قادیان کی طرف منہ کرو گے؟
١٩...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”خدا مجھے کہتا ہے تو (اے مرزا قادیانی) مجھے میری اولاد کی مانند پیارا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
اب مرزا قادیانی خدا کا بیٹا ٹھہرا۔ جل جلالہ!
٢٠...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے مجھ کو کہا ہے کہ: ”تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے۔“
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
یعنی تو میرا بیٹا اور میں تیرا بیٹا۔
٧
قادیانی دوستو ! کس منہ سے تم کہتے ہو کہ مرزا قادیانی نے تثلیث کی تردید کی ہے۔ کیا عیسائیوں کے عقیدہ اور مرزا قادیانی کے عقیدہ میں کچھ فرق ہے؟ ہر گز نہیں۔
مرزا قادیانی کا دنیا کے تمام مسلمانوں کی نسبت عقیدہ
٢١...... فرماتے ہیں: ”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا“ یعنی جو میری نبوت کو مانتا ہے وہ مسلمان ہے اور جو کوئی نہیں مانتا وہ ولد الزنا حرام زادہ ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)
کتنا بڑا افتراء اور بہتان ہے کہ سب اہل اسلام وغیرہ کو قبیح صفت سے متصف کیا ہے۔ جن میں سادات و اولیاء کرام و علمائے عظام و صلحائے وغیرہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ سب داخل ہیں۔ یعنی معاذ اللہ ولد الزنا ہیں۔ یہ ہے قادیانی نبی کی تہذیب، ایسے لوگوں کے متعلق قرآن کریم کا صاف فیصلہ ہے کہ جو کوئی کسی کو زنا کی تہمت لگائے وہ ملعون ہے۔ اس کو اسی کوڑے لگانے چاہئیں۔ فرمایا: ”ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المؤمنت لعنوا فی الدنیا والآخرۃ (سورہ نور)“ مرزا قادیانی کے مریدو بتاؤ تمہارا پنجابی نبی قرآن مجید کی اس وعید سے کس طرح بچ سکتا ہے۔ اس کو فی آدمی کے حساب سے کیوں نہ اسی اسی ڈنڈے لگانے چاہئیں۔ کیا اب قادیان کی طرف منہ کرو گے یا کہو! بے انصافی تیرا سہارا۔
٢٢...... مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”اگر قرآن میرا نام ابن مریم نہیں رکھتا تو میں جھوٹا ہوں ۔“
(تحفہ ندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
مرزائی دوستو! بتلاؤ قرآن کی کس آیت میں مرزا قادیانی کا نام ابن مریم بتایا گیا ہے جو کوئی ایسی آیت دکھاوے مبلغ ١٥ روپے انعام پاوے۔ ورنہ مرزا قادیانی کو خیر باد۔
٢٣...... مرزا قادیانی نے کہا ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔ وہ میں ہی ہوں۔
(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦، نزول المسیح ص ٣)
بالکل غلط ہے۔ آپ قادیان میں پڑے ہیں۔ مرزا قادیانی کو تو حج ہی نصیب نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کے مریدو ! پنجابی نبی کا مدینہ رسول میں مدفون ہونا ثابت کرو۔ مبلغ ١٦ روپے انعام نقد وصول پاؤ۔ ورنہ کہو یا جھوٹ تیرا ستارا بلند۔
٢٤...... مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے۔ جو یہی زمانہ ہے۔“
(تحفہ ندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
٨
قادیانی سجنو! ایسی آیت قرآن سے دکھاؤ۔ مبلغ ١٧ روپے انعام پاؤ۔ ورنہ جھوٹے کو خیر باد کہو۔
- ٢٥...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“
(ازالہ اوہام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، حقیقت الوحی ص ٧٧)
مرزائیو ! عبارت مرقومہ قرآن سے دکھلاؤ۔ مبلغ ١٨ روپے نقد چہرہ شاہی وصول پاؤ۔ یا اقرار کرو کہ جھوٹ اور افتراء ہمارا ایمان ہے۔
- ٢٦...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”مسیح سور کا گوشت کھائے گا ۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
جو قادیانی ایسا ثابت کرے وہ ١٩ روپے انعام پاوے۔ ورنہ قادیانی نبوت کو خیر باد کہے۔
محمدی بیگم کا نکاح
- ٢٧...... محمدی بیگم کے متعلق مرزا قادیانی نے بڑے پر زور صاف اور صریح دعوے
کئے تھے کہ اگر وہ میرے نکاح میں نہ آئی تو میں جھوٹا ۔ ہر ایک بد سے بدتر وغیرہ ٹھہروں گا۔ فرماتے ہیں۔ ”اصل بات اپنے حال پر قائم ہے۔ (احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا پھر محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) کوئی شخص کسی تدبیر سے اسے مٹا نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تقدیر مبرم (ان ٹل) ہے۔ جو بغیر پوری ہوئے ٹل نہیں سکتی اور اس کے پورا ہونے کا وقت عنقریب ہے۔ خدا کی قسم یہ حق ہے۔ عنقریب تو اسے دیکھ لے گا کہ وہ (داماد احمد بیگ) میرے سامنے مرے گا اور میں اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی اسے ٹھہراتا ہوں۔ اگر وہ میرے سامنے مر گیا تو میں سچا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں۔ ایسا ہی خدا نے مجھے بتایا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
نیز شہادت القرآن میں فرماتے ہیں۔ ”پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشین گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔“
(شہادت القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
٩
یہ عبارت اپنے مطلب میں صاف ہے کہ مرزا قادیانی کی آسمانی فرضی منکوحہ کا خاوند اگست ١٨٩٤ء تک ضرور مر جاوے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ میں کاذب ٹھہروں گا۔ بہت خوب اور سنئے فرماتے ہیں۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز (آسمانی منکوحہ کے خاوند کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
مرزا قادیانی کا یہ فرمان بالکل ٹھیک ہے۔ خدا کی باتیں کبھی نہیں ٹلتیں اور جو ٹل جائیں وہ خدا کی نہیں ”امنا و صدقنا“ ایک اور جگہ پر رقمطراز ہیں۔ ”یہ خدا نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ”اور اس عورت کو خدا تیری طرف لائے گا۔ اس کا نکاح ہم نے تیرے ساتھ پڑھا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ ص ٦٠، ٦١)
مرزا قادیانی اس نکاح کو محکمہ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ مدینہ منورہ میں رجسٹری شدہ ثابت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ”جناب رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ وہ مسیح موعود بیوی کرے گا۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
مرزا قادیانی نے آسمانی منکوحہ کے لئے جان توڑ کوشش کی ہے۔ ایسے فدائی محمدی بیگم تھے کہ ان کو ہر ایک طرف سے سوائے اس نکاح کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مرزا قادیانی کی اس حالت کو کسی شاعر نے یوں سمجھایا ہے۔
١٠
ہوا نہ ضبط وہ چلا اٹھے کہ آ لیلیٰ
الغرض مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار ٹھہرایا ہے۔ پس یہی پیش گوئی ایسی فیصلہ کن ہے جس سے مرزائیوں کے آئے دن کے تمام جھگڑے مٹ جاتے ہیں۔ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے دو اہم اجزاء ہیں۔ (١) سلطان محمد آسمانی منکوحہ کے خاوند کا مرزا قادیانی کی موجودگی میں اگست ١٨٩٤ء تک مر جانا۔ (٢) پھر اس عورت محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا۔ اب مریدان مرزا سے ہمارا اتنا سوال ہے کہ دونوں باتیں پوری ہوئیں؟ یعنی سلطان محمد مرزا قادیانی کی موجودگی میں اگست ١٨٩٤ء تک فوت ہو گیا؟ اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی؟ یہ اظہر من الشمس ہے کہ سلطان محمد اندر میعاد فوت نہیں ہوا۔ بلکہ وہ آج تک بھی زندہ ہے اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی اور مرزا قادیانی یہ کہتے ہوئے ؎
دار دنیا سے دار عقبیٰ کی طرف چل بسے
پس ”بحکم یؤخذ المرء باقرارہ“ آدمی اپنے اقرار پر پکڑا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کے کاذب اور مفتری علی اللہ وعلیٰ الرسول ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہا۔ تمام تابعداران مرزا قادیانی کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اس نکاح والی پیش گوئی کو بتقرر منصف مسلم فریقین سچا ثابت کریں اور مبلغ ٢٠ روپے انعام پاویں۔ ورنہ خدا وند قہار سے خائف ہو کر قادیانی نبوت کو خیر باد کہہ کر حضرت محمد رسول اللہﷺ خاتم النبیین کے سچے تابعدار بن جائیں۔
- ٢٨....... مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام چار بھائی اور دو ہمشیرہ
حقیقی رکھتا تھا۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٥)
جھوٹ ہے جو مرزائی قرآن وحدیث صحیح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھائی بہنیں ثابت کرے۔ وہ ٢١ روپے انعام پاوے۔
- ٢٩....... مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”بموجب نص صریح قرآن کے کوئی شخص بغیر مسیح
موعود (مرزا قادیانی) کی اجازت کے حج کو نہیں جا سکتا۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٧٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤٩)
١١
ڈبل جھوٹ ہے جو قادیانی ایسی آیت قرآن سے دکھا دے ٢٢ روپے انعام حاصل کرے۔
- ٣٠...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”احادیث نبویہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرہویں
صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٠، خزائن ج ٥ ص ٣٤٠) بالکل غلط ہے۔ ایسی کوئی حدیث نہیں اگر سچے ہو تو پیش کرو۔ ورنہ جھوٹ سے توبہ کرو۔
- ٣١...... ”احادیث میں مہدی موعود کی یہ بھی نشانی ہے کہ پہلے اسے بڑے زور شور
سے کافر ٹھہرایا جاوے گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
جھوٹ ہے ایسا کسی حدیث میں نہیں ہے۔ یہ مرزا قادیانی کا رسول خدا پر افتراء ہے۔
- ٣٢...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرہ فہم قرآن میں
ناقص ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
ڈبل جھوٹ ہے مرزائیو! اگر مرزا قادیانی کی لاج رکھتے ہو تو تفسیر ثنائی سے یہ عبارت دکھلاؤ۔ ورنہ مرزا قادیانی کو ہزار بار کہو۔ لعنت!
- ٣٣...... مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”میں نور ہوں مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٨٨، خزائن ج ٢٠ ص ٩٠)
قادیانی دوستو! ایمان سے کہو مرزا قادیانی کا یہ مقولہ سچ ہے کیا تم نے مرزا قادیانی کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مولوی غلام رسول آف راجیکی ومولوی میر قاسم علی سہ صدی وغیرہ زائرین مرزا جواب دیں۔
- ٣٤...... مرزا قادیانی نے اپنی وفات کا وقت ١٣٣٥ھ لکھا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں۔
”دانیال نبی نے پیش گوئی کی تھی کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) ١٣٣٥ھ تک کام کرے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٤، ١١٦، حقیقت الوحی ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٧)
یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) ١٣٣٥ھ میں فوت ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں نو سال پیشتر محمدی بیگم کا داغ دل میں لے کر دنیا سے تشریف لے گئے۔ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے۔ ایک گپ باز انسان تھے۔
- ٣٥...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”میرے زمانہ میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح
بن جاویں گی اور ایک مذہب اسلام بن جاوے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٢، خزائن ج ٢٣ ص ٩٠)
١٢
مرزا قادیانی پر مرزا قادیانی کے مرید دو بار کہتے ہیں۔ یہ ہے مرزا قادیا
- ٣٦......
ہمارے الہام کے خلاف م ادھر تو مرزا قادیا اس قدر توہین؟ کیا ایسا شخص
- ٣٧......
(مرزا قادیانی) کے زمانہ م بالکل جھوٹ ۔ کی جرات کرو گے؟ دیدہ د مرزا قادیانی کا دعویٰ الوہی
- ٣٨......
وتیقنت اننی هو مح بمصابیح“ (آئینہ کمالات نیند میں عین خدا دیکھتا ہوں ا میں نے کہا کہ ہم نے آسمان ایسے لوگوں کی نسبت ارشاد ہ نجزيه جهنم (انبيا ہوں ۔ ہم اس کو جہنم میں جھون مگر مرزا قادیانی اپنے آپ ک فرعون سے بھی زیادہ کمال ہ
- ٣٩......
کے وقت طاعون پڑے بالکل جھوٹ ہ
مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بھی جھوٹا نکلا۔ آپ کی آمد سے فرقہ بندی بڑھ گئی۔ بلکہ مرزا قادیانی کے مرید دو پارٹیوں میں منقسم ہو گئے۔ (لاہوری اور قادیانی) جو ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے وجود کی برکت؟
٣٦...... مرزا قادیانی حدیث رسول کی بایں الفاظ توہین کرتے ہیں۔ ”جو حدیث ہمارے الہام کے خلاف ہو اسے ہم رد کر دیتے ہیں ۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٥١) ادھر تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں محمد کا بروز (سایہ) ہوں۔ ادھر حدیث رسول کی اس قدر توہین؟ کیا ایسا شخص بھی راست بازوں کی فہرست میں شمار کیا جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔
٣٧...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”قرآن شریف میں ہے۔ اس (مرزا قادیانی) کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی جو آگ سے چلے گی ۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٥)
بالکل جھوٹ ہے۔ قرآن میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ قادیانی دوستو! ایسی آیت دکھانے کی جرات کرو گے؟ دیدہ باید!
مرزا قادیانی کا دعویٰ الوہیت
٣٨...... مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”ورايتني في المنام عين الله وتيقنت اننى هو خلقت السموت والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥) یعنی میں اپنے آپ کو نیند میں عین خدا دیکھتا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور زمین بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں سے سجایا ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ افتراء بھی قابل قدر ہے۔ ایسے لوگوں کی نسبت ارشاد خداوندی موجود ہے۔ ”ومن يقل منهم انى اله من دونه فذالك نجزيه جهنم (انبياء) “ یعنی بندوں اور فرشتوں میں سے جو کہے کہ میں خدا کے سوا اللہ ہوں۔ ہم اس کو جہنم میں جھونکیں گے۔ فرعون اپنے آپ کو رب کہتا تھا۔ جو خدا کا صفتی نام ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو اللہ کہتا ہے۔ یہ خدا کا ذاتی نام ہے۔ عقیدہ الوہیت میں مرزا قادیانی فرعون سے بھی زیادہ کمال رکھتے ہیں۔ یہ ہے قادیانی نبوت کی شان؟
٣٩...... مرزا قادیانی کہتے ہیں ۔ ”قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
بالکل جھوٹ ہے جو قادیانی اس مضمون کی آیت قرآن سے دکھلاوے ٢٣ روپے انعام پائے۔
١٤
- ٤٠....... مرزا قادیانی کہتے ہیں ۔ ” ھذا خليفة الله المہدی صحیح بخاری میں
ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
ڈبل جھوٹ ہے۔ مرزائی دوستو۔ یہ حدیث صحیح بخاری سے دکھاؤ مبلغ ٢٤ روپے انعام پاؤ۔ ورنہ کہو یا دروغ گوئی تیرا سہارا ۔
- ٤١....... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”و رأیت فی المنام آخر کأنی صرت
علیا بن ابی طالب یعنی میں نیند میں دیکھتا ہوں کہ علی ابن ابی طالب بن گیا ہوں اور لوگ میری خلافت میں جھگڑا کر رہے ہیں۔ پس نبیﷺ نے میری طرف دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ میں رسول اللہﷺ کی اولاد سے ہوگیا ہوں۔ حضور نے مجھ کو فرمایا۔ اے علی ان کو چھوڑ دے۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٦٣، خزائن ج ٥ ص ٥٦٣)
عبارت مرقومہ سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی حضرت علی بن کر رسول کا داماد اور سادات میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ جھوٹ بھی قابل قدر ہے۔
- ٤٢....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”عین بیداری میں میں نے دیکھا کہ میرا سر
حضرت فاطمہؓ نے مادر مہربان کی طرح اپنی ران پر رکھا ہوا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٣، خزائن ج ١ ص ٥٠٤، تریاق القلوب ص ٣٥)
حضرت فاطمہؓ کی وہ شان ہے جس کے دیکھنے سے ملائکہ مقربین وانبیاء مرسلین بھی حیا کریں گے اور روز قیامت تمام حاضرین محشر کو ارشاد ہوگا کہ آنکھیں بند کرلو تا کہ میرے حبیب محمدﷺ کی دختر لخت جگر فردوس بریں میں قدم نہاد ہو جائیں۔ مگر مرزا قادیانی کا حیا و شرم بھی قابل ملاحظہ ہے کہ اپنے سر کو خاتون قیامت سیدۃ النساء کی ران پر رکھنا بتاتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی سے زیادہ بھی کوئی گستاخ اور بے ادب دنیا میں ہوا یا ہوگا۔ جس نے اہل بیت النبی کی شان میں ایسے ناشائستہ اور بے حیائی کے الفاظ استعمال کئے ہوں ۔ قادیانی دوستو ! یہ ہے تمہارے پنجابی نبی کی تہذیب اور شائستگی ۔
- ٤٣....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ” جناب پیغمبر خدا و حضرت علی وحسین وفاطمہؓ
میرے پاس سامنے آ گئے۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ بتلایا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔ جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی یہ تفسیر مجھ کو دیتا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٣، خزائن ج ١ ص ٥٠٤)
١٤
مرزا قادیانی کے دوستو! بتلا سکتے ہو کہ تفسیر مذکور تم دو جماعتوں (قادیانی اور لاہوری) کے کس کتب خانہ سے ملے گی اور اس کا وزن کس قدر ہے اور ہدیہ کتنے پیسے ہے؟ ورنہ کہو یا جھوٹ تیرے گلے میں پھولوں کے ہار۔
- ٤٤....... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہند میں ایک نبی گزرا
ہے۔ جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)
مرزائی سجنو! بتاؤ کہ اس کالے رنگ ہندی جوگی نبی کا کس حدیث میں ذکر ہے۔ ورنہ کہو یا دروغ گوئی تیرا بول بالا۔ قرآن وحدیث سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء صورت اور سیرت میں بنی نوع انسان سے ممتاز ہوتے ہیں۔ مگر قادیانی نبوت کا بیان ہے کہ نبی کالے بھوتو بھی ہوتے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کل انبیاء علیہم السلام کا اپنے آپ کو مثیل قرار دیتے ہیں اور کرشن بھی بنتے ہیں۔ لہٰذا کرشن کو نبی گو سیاہ رنگ کا بھی سہی بناتے ہیں۔ اب ہم جناب مرزا قادیانی کو کرشن جی مہاراج کے لقب سے یاد کریں گے۔ احباب قادیانی مطمئن رہیں۔
مرزا جی کرشن مہاراج کا حضرت حسینؓ کے متعلق عقیدہ
کرشن جی مہاراج فرماتے ہیں۔ ”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
نیز فرماتے ہیں۔
صد حسینؓ است در گریبانم
(نزول مسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول مسیح کے ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤) میں مرزا جی کرشن مہاراج فرماتے ہیں۔ ”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسنؓ اور حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔ نیز مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”بخدا اسے (حسینؓ کو) مجھ سے کچھ زیادتی نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر
١٥
ہے ۔ “ ( ضمیمہ نزول مسیح ص ٨١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣) اس سے آگے شیعہ کو مخاطب کر کے مرزا قادیانی کہتے ہیں ۔ ” تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا درد صرف حسینؓ ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے ۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے ۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے ۔ “
( ضمیمہ نزول مسیح ص ٨٢ ، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)
مرزائی دوستو ! سنتے ہو تمہارا نبی مرزا قادیانی ، امام حسینؓ فرزند رسول کریمﷺ جو قطعی جنتی اور اپنے ہم عمر جنتیوں کا سردار ہے، کی نسبت کیا عقیدہ ظاہر فرمارہے ہیں کہ ان کے نام مبارک کو گوہ کا ڈھیر قرار دیا ہے۔ کس منہ سے تم کہتے ہو کہ مرزا قادیانی حضرت محمدﷺ کا تابعدار اور غلام ہے۔ مسلمان بھائیو ! ایسے شخص سے کوسوں دور رہنا ، ایسا نہ ہو کہ اپنا ایمان و اسلام اکارت کر بیٹھو ۔
مرزا قادیانی کرشن مہاراج کا ڈپٹی آتھم عیسائی کے متعلق ارشاد
٤٦ ...... یہ بیان مرزا جی کرشن مہاراج نے ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ کے خاتمہ پر اپنے مد مقابل ڈپٹی آتھم کی نسبت شائع کیا۔ فرماتے ہیں ۔ ”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ (جہنم) میں گرایا جاوے گا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی ۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے ۔ روسیاہ ( یعنی منہ کالا ) کیا جاوے ۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے ۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے ۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعینوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو ۔ “
( جنگ مقدس ص ٢٩٢ ، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
( حقیقۃ الوحی ص ١٨٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣ حاشیہ ) میں فرماتے ہیں ۔ ” عبداللہ آتھم کی نسبت بھی موت کی پیش گوئی تھی ۔ “ نیز مرزا قادیانی کرشن مہاراج ( تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١١٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١ ) میں اقرار کرتے ہیں کہ : ” آتھم اپنی میعاد میں نہیں مرا۔ “ قادیانی دوستو ! ان الفاظ کو دیکھ کر آپ مرزا قادیانی کرشن مہاراج کو جھوٹا کہنے میں تامل کرو گے ۔ کہو مرزا قادیانی کرشن مہاراج کی جے۔
١٦
- ٤٧....... مرزا قادیانی کرشن مہاراج فرماتے ہیں۔ ”قرآن نے میرا نام
ذوالقرنین رکھا ہے۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ١٧، خزائن ج ٢٠ص ١٢٥)
مرزائی دوستو! ایسی آیت قرآن کریم میں دکھاؤ۔ منہ مانگا انعام پاؤ۔ ورنہ کہو یہ جھوٹ تیری ہے۔
- ٤٨....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”خدا نے مجھ کو آسمان سے اتارا ہے۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ١٧، خزائن ج ٢٠ص ١٢٥)
ڈبل جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی تو غلام مرتضیٰ کی پشت سے قادیان میں پیدا ہو کر بڑے ہوئے جو کوئی مرزا قادیانی کا آسمان سے اترنا ثابت کرے۔ مبلغ پچیس روپے انعام پاوے۔ مرزا قادیانی کے خیال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا محالات میں سے ہے۔ مگر خود بدولت اترتے ہیں۔ ”تلک اذا قسمۃ ضیزی“ یہ بہت بڑی تقسیم ہے۔
مرزائی دوستو! اب بھی عیسیٰ کے نزول من السماء کا انکار کرو گے؟
- ٤٩....... مرزا قادیانی کرشن مہاراج فرماتے ہیں کہ خدا مجھے کہتا ہے۔ ”لولاک لما
خلقت الافلاک“
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ص ١٠٢)
یہ حدیث حضرت رسول ﷺ کی شان میں بیان کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ میرے شان میں ہے اس کا معنی ہے خدا فرماتا ہے۔ اے مرزا اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ مرزا قادیانی خدا کے محبوب تو بڑے تھے۔ مگر محمدی بیگم کے وصال سے خدا نے انہیں محروم ہی رکھا۔ یہ ہے قادیانی نبوت کی شان۔
- ٥٠....... مرزا قادیانی کرشن مہاراج فرماتے ہیں۔ ”اب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مکہ
اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل تیار ہو رہی ہے اور اونٹوں کے بیکار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ص ٣٩)
مرزا قادیانی کا یہ فرمان بھی جھوٹا نکلا۔ آج بیالیس سال ہو گئے ہیں کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان کوئی ریل تیار نہیں ہوئی اور اونٹ بیکار نہیں ہوئے۔ بلکہ بہ نسبت پہلے کے اونٹوں کی دوگنا قیمت ہے۔ یہ ہے قادیانی نبوت کے برکات اور صداقت۔
- ٥١....... مرزا قادیانی کرشن مہاراج نے اپریل ١٩٠٧ء کو مولانا ثناء اللہ شیر پنجاب
فاضل امرتسری کی نسبت ایک پیش گوئی بطریق دعا شائع کی تھی۔ جس کی سرخی ہے۔
١٧
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
اس اشتہار میں مولانا ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کر کے اور ان کی تحریرات متعلق ابطال وتردید مرزائیت کا شکوہ و شکایت کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اگر میں ایسا کذاب، مفتری اور جھوٹا ہوں۔ جیسا کہ آپ ہر ایک پرچہ میں یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨) اشتہار مذکور کے اخیر میں لکھتے ہیں۔ ”یا اللہ میں تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔“ انتہیٰ ملخصاً!
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
یہ دعاء مرزا قادیانی کی قبول ہوگئی کہ مولانا ثناء اللہ متعہ اللہ المسلمین بطول حیاتہ کی زندگی میں مرکر نہ صرف اپنے کذب کا بلکہ اپنے مشن کے ہی کاذب ہونے کا فیصلہ کر گئے۔ پس مرزا قادیانی حسب اقرار خود مفسد، کذاب اور مفتری ثابت ہوئے اور دنیا کو مرزا قادیانی کی حقیقت معلوم ہوگئی۔
کذب میں سچا تھا پہلے مرگیا
برادران اسلام! یہ مرزا قادیانی کے بطور نمونہ چند کذبات وافترأت ہیں جو اس مختصر سے رسالے میں درج کئے گئے ہیں۔ اگر اس کے تصنیفات کو دیکھا جائے اور جملہ کذبات کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ پس ان چند ہی پیش گوئیوں سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں تھے۔ ان کے سب دعوے اور پیش گوئیاں محض دکانداری اور ابلہ فریبی کا ایک سلسلہ تھا۔ جو اس نے اپنی مطلب برآری کے لئے بافت کی ہیں۔ جو شخص اتنے کذبات تصنیف کرے نبی تو بجائے خود، صحیح معنوں میں مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔
قادیانی دوستو! اگر تم کو مرزا قادیانی کی کچھ بھی پاس خاطر ہے تو ان پچاس جھوٹوں کو جو اس رسالہ میں درج ہوئے ہیں، غلط ثابت کر دو۔ ورنہ حسب فرمان مرزا قادیانی ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) ان کو مرتدین کی فہرست میں کیوں نہ داخل کیا جاوے؟
وما علینا الا البلاغ
خادم الاسلام: ابوالحریر عبد العزیز ملتانی!
شعبان ١٣٤٩ھ
١٨
ری فیصلہ
ب کو مخاطب کر کے اور ان کی تحریرات متعلق ابطال رزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اگر میں ایسا کذاب ومفتری یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو مذکور کے اخیر میں لکھتے ہیں۔ ”یا اللہ میں تیری جناب ہے اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اِنْتَهَى مُلَخَّصاً!
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
کر مولانا ثناء اللہ متع اللہ المسلمین بطول حیاتہ کی زندگی شن کے ہی کاذب ہونے کا فیصلہ کر گئے۔ پس اور مفتری ثابت ہوئے اور دنیا کو مرزا قادیانی کی
تھا پہلے مرگیا
کے بطور نمونہ چند کذبات وافترات ہیں جو اس مختصر کے تصنیفات کو دیکھا جائے اور جملہ کذبات کو جمع کیا ن چند ہی پیش گوئیوں سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی یں گو ئیاں محض دکانداری اور ابلہ فریبی کا ایک سلسلہ یافت کی ہیں۔ جو شخص اتنے کذبات تصنیف کرے ان ہو سکتا۔
ی کی کچھ بھی پاس خاطر ہے تو ان پچاس جھوٹوں کو جو کر دو۔ ورنہ حسب فرمان مرزا قادیانی ”جھوٹ بولنا ، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) ان کو مرتدین کی فہرست میں
نَا الا البلاغ خادم الاسلام : ابو الحریر عبد العزیز ملتانی! شعبان ١٣٤٩ھ
١٨
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
پنجابی مسیح موعود
پر
ایک سرسری نظر
فصیح احمد بہاریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پہلے مجھے پڑھئے
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی تبلیغی ٹریکٹ تردید مرزائیت کے سلسلہ میں شائع ہوا تو مرزائی حضرات یہ اعتراض ضرور کرتے ہیں کہ ہمارے آقا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی شان میں مصنف نے بہت کچھ سخت وسست الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جیسے کذاب، دجال، دائرہ اسلام سے خارج، مراقی، مفتری علی اللہ، خبط الحواس وغیرہ وغیرہ۔ یوں تو ہر ایک الزام اور افتراء پر جو مرزائی حضرات کی جانب سے تراشے جاتے ہیں۔ الگ الگ بحث کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس ٹریکٹ میں ان کے افتراء اور بہتان کی طرف توجہ ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ایک مسلمان بالخصوص مبلغ کی طرف بدزبانی اور بیہودہ الفاظ کی نسبت کرنے سے زیادہ میں کسی اور چیز کو برا نہیں سمجھتا ہوں۔
حضرات! باادب گذارش ہے کہ بیشک مذکورہ بالا الفاظ کا استعمال بلا ضرورت اور بلادلیل برا ہے۔ مگر جب ان الفاظ کا محل استعمال صحیح ہو تو پھر یہ قابل اعتراض نہیں رہتے۔ میں دو ایک مثالیں دے کر اس عبارت کو اور بھی واضح کر دیتا ہوں۔ مثلاً حرامزادہ کو وقت ضرورت حرام زادہ کہنا یا لکھنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ ہاں حلال زادہ کو حرام زادہ کہنا یہ بد زبانی ہے۔ یا پاگل کو بوقت ضرورت پاگل کہنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔
جو شخص اپنے آپ کو مرض مراق جیسے موذی مرض میں مبتلا لکھے۔ اس کو مراقی کہنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ جو مرد خود لکھے کہ مجھے حیض آتا ہے۔ اس کے متعلق ایسا لکھنا گالی نہیں بلکہ واجب ہے۔ جو شخص دوسروں کو دھوکہ دے اس کو دجال (دھوکہ دینے والا) کہنا گالی نہیں بلکہ اظہار حق ہے۔ جو شخص سینکڑوں دفعہ جھوٹ بول چکا ہو اور لکھ چکا ہو جو اس صفحہ ہستی پر قیامت تک رہے گا۔ اس کو جھوٹا لکھنا یا کہنا بوقت ضرورت یا بلا ضرورت (عام مخلوق خدا کو بچانے کی خاطر) گالی نہیں بلکہ جائز اور واجب ہے۔
مرزائی دوستو! آپ کے نجات دہندہ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بدزبانی کی ایک مختصر فہرست درج ذیل ہے۔ اس کو پڑھئے اور سمجھ لیجئے۔ جو حق دوسروں کی توہین اور بدزبانی کا مرزا قادیانی کو تھا۔ بالکل وہی حق اب دوسروں کو مرزا قادیانی کی توہین اور ان بدزبانیوں کے جواب کا ہے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں لوگوں نے ان سے متعدد بار بدزبانی کا اعتراض کیا تھا۔
٢
الرحمن الرحیم!
مجھے پڑھئے
کوئی تبلیغی ٹریکٹ تردید مرزائیت کے سلسلہ میں شائع کرتے ہیں کہ ہمارے آقا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جیسے کذاب، دجال، دائرہ الحواس وغیرہ وغیرہ۔ یوں تو ہر ایک الزام اور افتراء کرتے ہیں۔ الگ الگ بحث کی ضرورت ہے۔ چنانچہ کی طرف توجہ ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ایک مسلمان اللہ کی نسبت کرنے سے زیادہ میں کسی اور چیز کو برا
جب تک مذکورہ بالا الفاظ کا استعمال بلاضرورت اور محض سچ ہو تو پھر یہ قابل اعتراض نہیں رہتے۔ میں دو مثال دیتا ہوں۔ مثلاً حرامزادہ کو وقت ضرورت حرام یہاں حلال زادہ کو حرام زادہ کہنا یہ بدزبانی ہے۔ یا واجب ہے۔
سے موذی مرض میں مبتلا لکھے۔ اس کو مراقی کہنا نہ میں حیض آتا ہے۔ اس کے متعلق ایسا لکھنا گالی نہیں شخص کو دجال (دھوکہ دینے والا) کہنا گالی نہیں بلکہ لکھا ہو اور لکھ چکا ہو جو اس صفحہ ہستی پر قیامت تک بلاضرورت (عام مخلوق خدا کو بچانے کی خاطر)
(مرزا غلام احمد قادیانی) کی بدزبانی کی ایک مختصر لیجئے۔ جو حق دوسروں کی توہین اور بدزبانی کا کہ مرزا قادیانی کی توہین اور ان بدزبانیوں کے نے ان سے متعدد بار بدزبانی کا اعتراض کیا تھا۔
اس پر مرزا قادیانی نے جواب شائع کرایا۔ اس کو بھی آپ کی خاطر درج ذیل کر رہا ہوں۔ چنانچہ اصل الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔
”میں سچ کہتا ہوں جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقع کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ ایسی ہر بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو۔ محض اس کی کسی قدر مرارت (تلخی) کی وجہ سے جو حق گوئی کے لئے لازم حال ہوا کرتی ہے۔ دشنام دہی تصور کر لیتے ہیں۔ حالانکہ دشنام اور سب وشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے۔ خلاف واقع اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ ہمارے علماء (جیسے مرزائی علماء) جو اس جگہ ”لا تسبوا الذین“ کی آیت پیش کیا کرتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔ اس آیت میں تو دشنام دہی سے منع کیا گیا ہے۔ نہ یہ کہ اظہار حق سے روکا گیا ہے اور اگر نادان مخالف حق کی مرارت اور تلخی کو دیکھ کر دشنام دہی کسی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کر دے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہئے۔ سو جاننا چاہئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے۔ گویا عام طور پر ہر ایک سخت کلامی (مثلاً خنزیر، کتا، حرامزادہ، قزاق، بدذات، سور، کنجریوں کی اولاد، بے ایمان، نیم عیسائی، دجال کے پجاری، ولد الحرام، رئیس الدجال وغیرہ یہ وہ الفاظ ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی نے مسلمانوں اور علمائے اسلام کو مخاطب کر کے استعمال کئے۔ اگر کوئی مرزائی سننے کو تیار ہو۔ فصیح احمد بہاری، ایکس پاکستان ائرفورس سے ملے اور یہ گوہرفشانی مرزا قادیانی کی کتابوں سے دیکھے) خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ یہ ان کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔ ورنہ تلخ الفاظ جو اظہار حق کے لئے ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سنا دینا جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے اور سخت الفاظ کے استعمال میں ایک یہ بھی حکمت کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص ١٤، خزائن ج ٣ ص ١١٥)
حضرات اب مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں کے حوالے پیش کرتا ہوں۔ جن میں مسلمان اور علماء اسلام کی تواضع کی ہے۔
- ١....... مولانا سعد اللہ خان لدھیانوی کے حق میں کنجری کا بیٹا، بدبخت، دین
فروش، شیطان فطرت، ملعون، خبیث، منحوس وغیرہ۔
٣
- ......٢ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے حق میں ابو جہل، کفن چور، کتا، ابن
جواد وغیرہ۔ (انجام آتھم، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)
- ......٣ مولانا محمد حسین بٹالوی کے حق میں۔ فرعون، بدبخت، دین فروش، پلید،
بے حیا، سفلہ وغیرہ۔
- ......٤ حضرت مولانا پیر طریقت قبلہ مہر علی شاہ صاحب مسند آرائے گولڑہ شریف
کے حق میں بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔ یہ گوہ کھاتا ہے۔ ابے جاہل، بے حیا، خبیث طبع، نجاست پیر کے منہ میں کھائی، کذاب، بچھو کی طرح نیش زن، اے گولڑہ کی زمین تجھ پر خدا کی لعنت۔ تو ملعون کے ساتھ ملعون ہو گئی۔ تحفہ گولڑویہ خزائن ج ١٧ مرزا قادیانی کو ملاحظہ کیجئے۔
ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں بزرگوں کے حق میں گالیوں کا ایک سمندر لہریں مار رہا ہے۔ ایسے شخص کے امتی کو کیا حق حاصل ہے کہ دوسروں کی طرف بدزبانی کی نسبت کرے۔ صفحات کے حوالے قصداً نہیں لکھے گئے ہیں۔ جب کوئی مرزائی انکار کرے گا تو ہم ہر ایک بدزبانی کا حوالہ مع صفحہ کے بتانے کے ذمہ دار ہیں۔ بشرطیکہ وہ مرزائی ایسے شخص پر سو بار لعنت بھیجے جو باوجود نبی کا دعویٰ کرنے کے ایسے گندے جرم کا مرتکب ہو۔
حرف آخر! ہم ماشاء اللہ اس سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی امت ہیں۔ جن کی زبان مبارک سے ساری عمر ایک بھی گندہ لفظ نہیں نکلا۔ لہذا ہم سے بدزبانی کی توقع ناممکن ہے۔ ہاں جو سخت الفاظ مرزائی حضرات کو گالیاں اور بدزبانی نظر آیا کرتے ہیں۔ وہ صرف ان کی فہم کا قصور ہے۔ اگر واقعی تلاش حق ہے تو میدان میں آؤ۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ اس کی جرأت تمہیں نہیں ہو سکتی۔
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
فصیح احمد بہاری! رائل پاکستان ائیر فورس پشاور
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تجھ کو گر ایمان ہے پیارا تو مرزائی نہ بن
مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اجماعی و جمہوری مسئلہ ہے۔ آج تک آئمہ نے اس میں شک کیا ۔ نہ مفسرین و محدثین نے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع سے اب تک اسلام کے ہر فرقہ کا اس ٤
مسئلہ پر اتفاق ہے۔ مگر صد نبیوں کی وفات ایک لاکھ صحابہ یہ اتنا بڑا کذب نہیں کر سکا۔ جو مرزا قادیانی کی مرزا قادیانی کے و موجود ہونے کا دعویٰ کرے تو جائے۔ ہاں ان دونوں میں فرق قادیانی حضرات ک اور الوہیت کا اور بحث کی جا اب سوال یہ رہ جا اس کے اختراع کی کون سی ضر آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مصالح سے بہت ہی گہرا تعل میں الجھ کر کذبات مرزا تک کذبات مرزا پر گفتگو ہونا اگر اس کسوٹی پر کھرے مرزا قادیانی کی ذات شریف مرزا غلام احمد ہوئے۔ لیکن اگر غور کیا جا تخت سب تختوں سے اوپ اور اعلیٰ ہے۔ چنانچہ خود مرزا کا تو ارادہ کرے گا اور ص
اور الہام مرزا یعنی تو جس بات کا ارادہ کر
مسئلہ پر اتفاق ہے۔ مگر صد آفرین مرزا قادیانی کی جسارت پر فرماتے ہیں۔ ”عیسیٰ وغیرہ تمام نبیوں کی وفات ایک لاکھ صحابہ نے مان لی۔“
(اربعین ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
یہ اتنا بڑا کذب اور افتراء ہے کہ لاکھ تو کیا دو صحابہ کے نام بھی سند کے ساتھ وہ پیش نہیں کر سکا۔ جو مرزا قادیانی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر قائل ہوں۔
مرزا قادیانی کے دعاوی کو تسلیم کر لینا بالکل ایسا ہی ہے۔ جیسا پنڈت رامچندر دہلوی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور وفات عیسیٰ کو استدلالاً پیش کرے اور اس کو خاموشی سے سن لیا جائے۔ ہاں ان دونوں میں فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ رامچندر کافر تھا اور مرزا قادیانی منافق۔
قادیانی حضرات کی روشن دماغی کا لطیفہ سنئے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تو نبوت و رسالت اور الوہیت کا اور بحث کی جائے حیات و ممات عیسیٰ علیہ السلام پر۔
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مسئلہ حیات مسیح سے مرزا قادیانی کے دعاوی کو کیا تعلق؟ آخر اس کے اختراع کی کون سی ضرورت لاحق ہوئی ہے؟ اس کا جواب چنداں دشوار نہیں اور نہایت ہی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس مسئلہ کو ان کے دعاوی سے گو زیادہ گہرا تعلق نہیں۔ مگر ان کے مصالح سے بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ کم از کم اس قدر تو ضرور اور یقینی مفاد ہے کہ اس غیر متعلق بحث میں الجھ کر کذبات مرزا تک نوبت نہیں پہنچتی۔ حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ سب سے پیشتر کذبات مرزا پر گفتگو ہونا چاہئے۔ تاکہ یہ معلوم ہو کہ وہ مخاطب کی بھی حیثیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر اس کسوٹی پر کھوٹے نکل گئے۔ جیسا کہ واقعہ ہے تو ہزار وفات عیسیٰ پر بحث کی جائے۔ مرزا قادیانی کی ذات شریف کو کچھ فائدہ نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی محدث، مسیح موعود، کرشن یسوع مسیح، محمد، احمد سب کچھ ہوئے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ دعاوی سب انسانی درجہ کے ہیں اور مرزا قادیانی کا مرتبہ ”میرا تخت سب تختوں سے اوپر بچھایا گیا ۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) ان دعاوی سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”اے غلام احمد! اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے گا اور صرف یہ کہہ دے کہ ہو جا، وہ چیز اسی وقت ہو جاتی ہے۔“
(اخبار بدر ٢٣؍ فروری ١٩٠٥ء)
اور الہام عربی یہ ہیں: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان يقول له كن فيكون“ یعنی تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ تیرے ارادہ سے فوراً ہو جاتی ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
٥
ناظرین! کیا یہ کم مرتبہ ہے؟ لیکن ایسے الہاموں سے مرزا قادیانی کو کب تسلی ہونے لگی۔ وہ اپنے خدا سے روٹھ گئے اور کہنے لگے جب تک کہ تو مجھے اپنی فرزندی میں نہ قبول کرے میں نہیں ماننے کا۔ چنانچہ الہام ہوا: ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ یعنی اے مرزا تو میرے بیٹے کی جگہ ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت من ماء ناوہم من فشل“ یعنی اے میرے بیٹے غلام احمد تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)
اب مرزا قادیانی کو روپیہ میں سے آٹھ آنے بھر تسلی ہے۔ لیکن چند روز بعد پھر اپنے خدا سے روٹھ گئے اور لگے منہ بگاڑ کر کہنے۔ ”میں نے تجھ پر تھوڑا احسان کیا ہے کہ ایک دفعہ میں عورت بن گیا اور تجھ سے ہمبستری بھی ہوئی اور تو نے فقط بیٹا بنا دیا۔ لہذا اب میں جب تک تیرا باپ نہ بنوں دم نہیں لینے کا۔“ (معاذ اللہ)
(دیکھو قادیانی رسالہ نمبر ٣٨ موسوم بہ اسلامی قربانی)
مرزا قادیانی کے خدا نے بھی سوچا کہ یہ فرعونی صفت اب تو باغی ہو رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ باغی کہیں ”کن فیکون“ والا حربہ استعمال کر بیٹھے اور میری خدائی ہی کو درہم برہم کر دے۔ اس لئے پہلے تو مرزا قادیانی کے خدا نے مرزا قادیانی کو ڈانٹ پلائی اور طرح طرح کی دھمکیوں سے کام نکالنا چاہا اور آتش و طاعون وغیرہ سے ڈرایا۔ مگر مرزا قادیانی ایسی گیدڑ بھبکیوں سے کب ڈرنے والے تھے۔ آپ نے بھی اپنے خدا کو چیلنج دیا کہ سن: ”آگ سے ہمیں مت ڈرا۔ آگ تو ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“
یہ نوٹس دیکھ کر مرزا قادیانی کے خدا کا بھی ماتھا ٹھنکا اور فوراً مرزا قادیانی سے صلح کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ جو شرط آپ پیش کریں ہمیں منظور ہے۔
مرزا قادیانی نے کہا صلح اس شرط پر ہو سکتی ہے کہ تو نے مجھے اپنے نطفہ سے پیدا کر کے دنیا میں بہت ہی ذلیل کیا۔ اس لئے جب تک تو بھی میرے نطفہ سے پیدا ہونے کا اقرار نہ کرے میں نہیں ماننے کا۔ مثل مشہور ہے کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ اس کے خدا نے یہ شرط قبول کر لی اور جناب ٹیچی ٹیچی صاحب بہادر قادیانی نے صلح نامہ پیش کر دیا۔ جس میں یہ الفاظ تھے ۔ ”انت منی وانا منك“ یعنی اے میرے بیٹے غلام احمد تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
مطلب صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے خدا کا باپ اور مرزا قادیانی کا خدا
٦
مرزا قادیانی کا باپ۔ اب مرزا قادیانی کو تسلی تو ہوئی۔ مگر سولہ آنے بھر نہیں۔ اب فکر یہ ہوئی کہ اپنے خدا کو بھی مرزائی بنا کر چھوڑوں۔ تب کہیں کام بنے۔ کہنے لگے مجھے تیرے وعدوں پر اعتبار نہیں آتا۔ کیونکہ منکوحہ آسمانی کا میرے نکاح میں آنا اور اس کے شوہر سلطان محمد کے مرنے کا وعدہ جو چوبیس سال سے کم از کم پچیس دفعہ تو نے کیا اور تیری بات پر لگ کر میں برابر اعلان پر اعلان کرتا رہا۔ جو ہماری رسوائی کا خاص باعث ہوا اور دنیا والوں نے میرا خوب جی بھر کر مذاق اڑایا۔ اس لئے جب تک تو مرزائی نہ بن جائے اور میری بیعت نہ کرلے مجھے تیری باتوں پر اعتبار نہیں۔ اس کے خدا نے بھی سوچا کہ مجھے ایسے کن فیکونی سے پالا پڑا ہے کہ ”نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن“ چنانچہ خدا مرزا قادیانی کی بیعت اور سلسلہ قادیانیت میں داخل ہو گیا اور مرزا قادیانی نے نہایت عجلت کے ساتھ اعلان کر دیا کہ: ”مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔“
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
بھلا مرزا قادیانی جب معاذ اللہ خدا کے باپ ٹھہرے تو بیٹے کی کیا شامت آئی تھی جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہوتا؟ یہ حساب تو اس طرح ہوا۔
ادھر قادیانی بھائی نے دیکھا کہ میدان صاف ہے اور بیوقوفوں کی دنیا میں کمی نہیں تو جناب والا کو خدا بننے کا شوق اٹھا۔ چنانچہ ١٨٩٣ء میں فقرہ فرعونی ”انا ربکم الاعلیٰ“ کا بھی اعلان کر دیا اور فرمانے لگے۔
”رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو“ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ ہو بہو اللہ ہوں اور یقین کر لیا کہ ہاں میں خدا ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
اب جب کہ مرزا قادیانی خدا بن گئے اور یقین بھی ہو گیا کہ ہاں واقعی خدا ہوں تو اس وقت مرزا قادیانی کو خیال آیا کہ ممکن ہے پہلے خدا نے قرآن مجید میں کچھ غلطی کی ہو تو اسے درست کر دینا چاہئے۔ چنانچہ قرآن شریف کے ہر ایک فقرے کا عمیق نظر سے مطالعہ کیا گیا۔ نتیجہ کے طور پر زیادہ تو نہیں صرف دو ایک غلطیاں قرآن پاک کی مرزا قادیانی نے پکڑ ہی ڈالیں۔ کیونکہ گلاب شاہ مجذوب نے بھی کہا تھا کہ: ”عیسیٰ (مرزا قادیانی) اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)
چنانچہ اس مجذوب کے کہنے کے بموجب مرزا قادیانی نے اللہ کی غلطی پکڑ لی کہ
٧
اللہ تعالیٰ انسانی گرائمر (قواعد) صرف ونحو سے بالکل ناواقف ہے۔ اصل الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔ ”یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض جگہ انسانی گرائمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن میں بہت پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ آیت ”ان هذان الساحران“ انسانی نحو کی رو سے ”ان هذین“ چاہئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٤٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٧)
دوستو! آپ تو مرزا قادیانی کو جو کچھ سمجھتے ہیں۔ سمجھئے! لیکن مجھ سے دریافت کرو تو میں ایسے ملعون کو ایک صحیح الحواس کافر بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ وہ کیوں؟ سنئے! اس لئے کہ جب مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کی غلطی پکڑی تو اپنا قرآن اس طرح تصنیف کرنا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ پر یوں افتراء کرتا ہے۔
”میرا آنا خدا کے جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کی آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھلائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ وہ (خدا تعالیٰ) فرماتا ہے۔ ”يوم یأتی ربك فی ظلل من الغمام“ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا اتر آئے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)
اے دجالِ اکبر کے مریدو! یہ آیت ”يوم یأتی ربك فی ظلل من الغمام“ قرآن مجید کے کس پارہ میں ہے۔ میں تو یہاں چیلنج دیتا ہوں کہ کم از کم کوئی مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی الہام سے ڈھونڈ کر بتلائے کہ یہ کون سا الہام ہے اور کب مرزا قادیانی پر نازل ہوا۔ میرے بہکے ہوئے دوستو یاد رکھو۔ قیامت تک یہ آیت مرزائی قرآن میں دکھلانے سے قاصر رہیں گے۔ تمہارے نبی نے خدا پر سراسر افتراء کیا۔ اس آیت کی حقیقت صرف اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ مرزا قادیانی کے نفس کی ایجاد ہے۔ اس لئے میں تو یہی کہوں گا جو کہ مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) پر کہا ہے۔ ”خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر ہے۔“
مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ پر افتراء
حضرات! اس خاک ہند سے صدہا علماء خاندان، ہزاروں صاحب فضل و کمال پیدا ہوئے۔ لیکن یاس کی آخری ساعت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت دہلی پر سایہ فگن ہوئی اور انتخاب قدرت نے حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحبؒ کے گھر میں استاذ الہند حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کو پیدا کیا۔ اس سے پہلے بھی علم کی گھٹائیں چھائیں، گرجیں برسیں۔ پھر آسمان کھل گیا۔ مگر خدا نے اس اسم بامسمیٰ ولی ذات کی معرفت علم کا ابر نازل فرمایا۔ وہ صرف ہند
٨
سے بالکل ناواقف ہے۔ اصل الفاظ مرزا قادیانی کے بعض جگہ انسانی گرائمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ آیت ”ان هذان الساحران“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٧)
کچھ سمجھتے ہیں۔ سمجھئے! لیکن مجھ سے دریافت کرو تو میں نے کو تیار نہیں ہوں۔ وہ کیوں؟ سنئے! اس لئے کہ جب اپنا قرآن اس طرح تصنیف کرنا شروع کر دیا اور اللہ
کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین بن دکھلائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا ) فرماتا ہے۔ ”یوم یأتی ربک فی ظلل من آئے گا“
(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)
”یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام“ چیلنج دیتا ہوں کہ کم از کم کوئی مرزائی مرزا غلام احمد یہ کون سا الہام ہے اور کب مرزا قادیانی پر نازل تک یہ آیت مرزائی قرآن میں دکھلانے سے قاصر گیا۔ اس آیت کی حقیقت صرف اس کے سوا کچھ اس لئے میں تو یہی کہوں گا جو کہ مرزا قادیانی نے ہے۔ ”خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے
قادیانی پر افتراء
علماء خاندان، ہزاروں صاحب فضل وکمال پیدا انی کی رحمت دہلی پر سایہ فگن ہوئی اور انتخاب کے گھر میں استاذ الہند حضرت مولانا شاہ ولی اللہ علم کی گھٹائیں چھائیں، گرجیں برسیں۔ پھر کی معرفت علم کا ابر نازل فرمایا۔ وہ صرف ہند
بلکہ بیرون ہند بھی عالم اسلام کو سیراب وشاداب اب تک کر رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک کرتا رہے گا۔
دوستو! یہ تو تھی ہماری کہانی۔ اب ذرا کذاب قادیانی کی لن ترانی بھی ملاحظہ ہو۔ دعویٰ مسیح موعود کے بعد مرزا قادیانی نے جھٹ ایک افتراء حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ پر بھی جڑ دیا۔ مقصد اس افتراء کا صرف اس قدر تھا کہ مخلوق خدا حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نام سن کر دھوکہ میں آئے اور مرزا قادیانی کی مسیحیت کے قائل ہو جائیں۔ چنانچہ کذاب مرزا لکھتا ہے۔ ”یہ وقت انجیل اور احادیث کے ارشادات کے مطابق وہی وقت ہے جس میں مسیح اترنا چاہئے۔ اسی وجہ سے سلف صالحین میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتا گئے ہیں۔ چنانچہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ کی بھی یہی رائے ہے کہ چودھویں صدی کے شروع سال ہی میں یعنی ١٣٠١ھ میں مسیح ابن مریم اتریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
اگر مرزا قادیانی زندہ ہوتے تو سن لیتے۔ ورنہ اے مرتدو تم بھی بتاؤ کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے کس کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودھویں صدی کے شروع سال میں اتریں گے۔ اگر کوئی مرزائی شاہ صاحبؒ کے یہ الفاظ ان کی کسی کتاب سے دکھلا دے تو میں آج کی تاریخ سے جو (١٢؍ نومبر ١٩٥٠ء ہے) تردید مرزائیت کا کام ترک کردوں گا۔ ورنہ اے میرے بھولے بھالے عزیزو! اپنے دیانتدار کا حال دیکھو اور اب بھی راہ راست پر آجاؤ۔ یہ خوب ذہن نشین کر لو کہ اگر تم جیسے باطل پرست لوگ دنیا میں نبی برحق پر پردہ ڈالنے والے زندہ ہیں تو اسلام میں اس پردہ کو پرزہ پرزہ کر کے مرزائی ایمان کی ننگی تصویر بھی پیش کرنے والے سرشکن گرز آہنی لئے موجود ہیں۔
واہ رے قادیانی! دنیا بھر کی مشینوں میں کبھی نہ کبھی تعطیل ہو جاتی ہے۔ مگر قربان جائیے تیری فن دروغ کی مشین پر کہ اس میں کبھی ناغہ نہیں۔
جناب شیر خدا مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ فرمایا حبیب خدا نبی الانبیاء خاتم الرسل سرور کل احمد مجتبیٰ ﷺ نے، قریب ہے کہ آئے گا لوگوں پر ایک زمانہ نہیں باقی رہے گا اسلام سے مگر نام اور باقی رہے گا قرآن مگر رسم اس کی۔
(مشکوٰۃ کتاب العلم)
٩
مراد باقی رہنے قرآن سے تجوید حروف اور پڑھنا لفظوں کا ہے۔ بغیر سمجھے معنی کے۔ یہ تو تھا آنحضرت ﷺ کا فرمان اب ذرا کرشن قادیانی کی بھی سن لیجئے !اپنی مایہ ناز تصنیف میں بڑے شدومد سے بکواس کرتے ہیں کہ: ”پس اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٩)
مرزائیو! خدا نے کہاں فرمایا ہے کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ ہے کوئی مرزائی جو مرزا قادیانی کو اس جھوٹ کی تہمت سے بچائے۔
میاں امت کے حال پر رحم کھاؤ اور وہ راہیں مت ایجاد کرو جس سے صادق اور کاذب کا رہا سہا فرق بھی اٹھ جائے۔ اگر ایسے کاذب اور مفتری علی اللہ بھی صادقوں کی فہرست میں آگئے تو پھر اے مرزائیو! تم ہی بتاؤ کہ اس کے بعد امت کے ہاتھ کون سا ذریعہ صادقین کی شناخت کا باقی رہ جائے گا۔ جس سے کہ صادق اور کاذب کا فرق معلوم ہوسکے گا؟
غلام احمد دعویٰ مجددیت ١٨٨٤ء میں کرتے ہیں اور ١٨٩٠ء تک مجدد ہی بنے رہتے ہیں اور اس دعویٰ کے بعد آٹھ دس سال تک مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی اعتقاد تھا کہ وہ زندہ موجود ہیں اور دوبارہ آسمان سے اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ اصل الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق ليظهره علی الدین کلہ“ ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ کا دین اسلام کو وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
دوستو! یہ عبارت مرزا قادیانی کی ہے اور اس سے تین باتیں صاف صاف ظاہر ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تیسرے یہ کہ ان کے آنے سے تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی مرزا قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ وہ
١٠
زندہ ہیں اور اب تک وفات مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں ”یہ وہی مرد خدا فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر من المیتین“ وہ مردوں میں
مرزائی دوستو! تم لوگ تو وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرو گے اور اگر وفات م ذلیل جھوٹے ثابت ہورہے ہیں
قصہ مختصر یہ کہ مرزا رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقول مرزا قادیانی، جیسے مرزائی اور مزہ یہ کہ مرزا قادیانی اپنے سے دس پندرہ سال پیشتر ہی خد یہ بتانا یا د نہ رہا ہو کہ حضرت عیسیٰ شرک ہے اور تم اس وقت مشر تک یعنی دعویٰ مجددیت کے اپنی تصنیف لطیف میں متعدد تھا۔ اس لئے میں بھی عرصہ دراز
دوستو! مذہب اسلا باوجود مجدد ہونے کے میں عرصہ سے مشرکانہ عقائد کو دور کرے کیوں؟ (بقول حالی) اس ل
ممکن ہے کہ مرزا
کذاب کے دعوؤں کی حقیقت
زندہ ہیں اور اب تک وفات نہیں پائی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات کے متعلق مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ ”یہ وہی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہے۔“ ولم یمت ولیس من المیتین ”وہ مردوں میں سے نہیں۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨)
مرزائی دوستو! دیکھئے یہ اپنے نبی کی بھول بھلیاں تم کو کیسے کیسے چکر میں ڈال رکھا ہے۔ تم لوگ تو وفات عیسیٰ علیہ السلام کو لئے پھرتے ہو۔ اب بتاؤ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کیسے ثابت کرو گے اور اگر وفات موسیٰ علیہ السلام ثابت بھی کر دو (جو درست ہے) تو ادھر مرزا قادیانی ڈبل جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں اور وہی مضمون یہاں صادق آتا ہے کہ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔
قصہ مختصر یہ کہ مرزا قادیانی لگا تار اٹھارہ برس کی طویل مدت تک اس عقیدہ پر ڈٹے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ اس دنیا میں آسمان سے تشریف لائیں گے اور بقول مرزا قادیانی، جیسے مرزائی ہمیں اس وقت کافر کہہ رہے ہیں۔ خود مرزا قادیانی ڈبل کافر تھے اور مزہ یہ کہ مرزا قادیانی اپنے مرزائی قرآن (حقیقت الوحی ص ١٩٩) پر فرماتے ہیں کہ دعویٰ مجددیت سے دس پندرہ سال پیشتر ہی خداوند تعالیٰ باتیں بھی کیا کرتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے خدا کو یہ بتانا یاد نہ رہا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور ان کی حیات کا عقیدہ رکھنا سراسر شرک ہے اور تم اس وقت مشرکوں کی زندگی بسر کر رہے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی عرصہ دراز تک یعنی دعویٰ مجددیت کے بعد بھی مشرک رہے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے اور اپنی تصنیف لطیف میں متعدد بار انہوں نے لکھا ہے۔ مسلمانوں میں ایک گروہ حیات مسیح کا قائل تھا۔ اس لئے میں بھی عرصہ دراز تک اس عقیدہ پر جما رہا۔
دوستو! مذہب اسلام کا یہ پہلا (بزعم خود) مجدد ہے جو اپنے آپ کو یہ کہہ رہا ہے کہ باوجود مجدد ہونے کے میں عرصہ تک مشرک رہا۔ حالانکہ مجدد کا کام ہے بلکہ فرض اولین ہے کہ دین سے مشرکانہ عقائد کو دور کرے اور صحیح عقائد لوگوں کو بتلائے۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی برعکس ہے اور یہ کیوں؟ (بقول حالی) اس لئے کہ ؎
ممکن ہے کہ مرزائی حضرات کو یہ خیال ہو کہ دعویٰ مجددیت سے پہلے مرزا قادیانی سے
١١
خدا نے بات نہیں کی ہو۔ اس لئے صرف ان کی خاطر اصل الفاظ مرزا قادیانی کے نقل کئے دیتا ہوں۔ ”ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز (مرزا قادیانی) شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)
مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت کا ١٣٠٨ھ میں کیا ہے۔ فرق صاف معلوم ہے۔
حضرات! اب مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کی دلیل میں ایک دلچسپ حدیث سن لیجئے اور وہ بھی مرزا قادیانی کے خود کے الفاظ ہیں۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھنا چاہتا۔
مرزا قادیانی اپنے مسیح موعود ہونے کی صداقت کے ثبوت میں ایک حدیث پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعویٰ کے بعد چالیس برس تک دنیا میں رہے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٦٥، خزائن ج ١٧ ص ٣١١)
مرزائی حضرات کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا اعلان اور اس دعویٰ کے سلسلے میں سب سے پہلے جو کتاب لکھی وہ ”فتح اسلام“ تھی اور ١٨٩١ء میں چھپی۔ جس کے سرورق سے یہ سن نقل کر رہا ہوں اور دوسری کتاب ”ازالہ اوہام“ طبع کرایا۔ اس پر بھی ١٣٠٨ھ مطابق ١٨٩١ء لکھا ہے۔ اگر کسی مرزائی کو شک ہو تو کتاب مذکورہ بالا کا سرورق دیکھ لے۔
حدیث کے مطابق مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ کے بعد چالیس سال تک زندہ رہنا چاہئے تھا۔ مگر افسوس صرف سترہ سال تک اس جہان فانی میں رہ کر خاک میں مل گئے اور وہ بھی ہیضہ جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر...... کیوں؟ اس لئے کہ جھوٹے مسیح تھے۔
مرزائیو! اگر مسلمان نہ بنو تو مت بنو۔ لیکن خدا کے واسطے اتنا تو کہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا، دجال تھا، مفتری تھا۔
یہ تو مرزا قادیانی کو مسلم ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی بابت قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کا نام عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی والدہ کا نام مریم صدیقہ، خاندان سادات، اس کا منصب نبوت سابقہ اور رنگ سرخ سفیدی ملا ہوا، کام کسر صلیب، قتل دجال، جائے نزول دمشق، اس کی اولاد ایک لڑکا، ازواج ایک بیوی۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اس کے دنیا میں رہنے کا زمانہ ٤٥ سال اور یہاں تک کہ جائے دفن مدینہ منورہ خود اپنے مقبرے کے ساتھ فرما دیا۔
١٢
اب ذرا مرزا غلام احمد قادیانی پر نظر ڈالئے کہ کون کہہ رہا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ نام پوچھو تو غلام احمد، عرف سندھی، باپ کا نام معلوم کرو تو غلام مرتضیٰ، ماں کا نام دریافت کرو تو چراغ بی بی۔ ذات کے مغل بھی ہیں۔ لطف یہ کہ آپ فرماتے ہیں میں فارسی الاصل ہوں۔ چینی الاصل ہوں اور سندھی بھی ہوں۔
ناظرین! آپ حضرات حیران ہوں گے کہ ایک شخص تین اقوام سے کس طرح وجود میں آیا؟ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ کوئی نرالی بات نہیں۔ یہ تو مرزا قادیانی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کیونکہ جو شخص باوجود انسان ہونے کے اپنے آپ کو خدا یقین کر سکتا ہے تو اس کے لئے بیک وقت تین اقوام کا فرد خیال کر لینا کون سی حیرت کی بات ہے۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ دیدہ دانستہ نسبت بدلنے والے کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ مگر مرزا قادیانی کو اس حدیث کی کیا پرواہ۔ ماشاء اللہ خدا سے کافی بے تکلفی تھی۔ سب سے بڑا اور زبردست طرفہ یہ کہ خدا کی بیوی ہونے کا شرف حاصل۔ اگر آپ دریافت کرنے کی جرأت کریں کہ جناب سید کیسے بن گئے؟ آپ نے تو اپنی کتابوں میں کئی جگہ لکھا ہے کہ میری ذات مغل ہے تو فوراً جواب موجود ہے کہ بھئی ”ہمارے خاندان کی بعض دادیاں اور نانیاں سید خاندان کی تھیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
منصب پوچھو تو پہلے سیالکوٹ کچہری کے محرر، پھر رئیس قادیان پھر مولوی، پھر مجدد، پھر محدث، پھر نبی بروزی، پھر تشریعی نبی، پھر اللہ کے بیٹے، پھر اللہ کے باوا، پھر ایک موقع پر اللہ کی بیوی، پھر خواب میں خود ہی خدا بن گئے۔ شکل وصورت پر نظر ڈالو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دور کی بھی مشابہت نہیں۔ فوٹو جناب کا دیکھیں تو ترچھی نگاہ سے ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی منکوحہ آسمانی کی تاک میں کھڑا ہے۔ رنگ ملاحظہ کرو تو زرد۔ (ازالہ اوہام ص ٤٤، خزائن ج ٣ ص ١٢٥)
اور افعال یہ ہیں کہ بجائے اسلام پھیلانے کے اسلام کی جڑ کاٹنے کی ہر ممکن کوشش، اقوال یہ ہیں کہ بہتان طرازی دشنام گوئی و مغالطہ دہی کا ایک سمندر لہریں مار رہا ہے۔ جائے نزول ہے تو قادیان، اولاد ہے تو کئی ایک، ازواج ہیں تو متعدد، دنیا میں رہنے کی مدت دیکھو تو ٦٩ سال باقی رہ گئی۔ جائے دفن تو مہربانی فرما کر تھوڑی تکلیف کریں اور دجال کے گدھے (بقول مرزا ریل) پر سوار ہو کر قادیان چلے جائیں۔ وہاں مشہور ”بہشتی مقبرہ“ کے سنگ مزار پر بقلم آہنی بصورت جلی ملے گا۔
١٣
کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں کہ میں بیکسوں کا مزار ہوں
الغرض اس فرقہ کا وجود جس طرح ہندوستان میں اسلام کی بیخ کنی کے لئے تھا۔ بالکل اسی طرح انگلستان وغیرہ میں اس کا اصل کام اسلام اور اہل اسلام کی جڑ کاٹنے کی کوشش کرنا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو سنئے:
”جھوٹے مرزا قادیانی یعنی مرزا غلام احمد کے فرزند دلبند مرزا محمود قادیانی کا (اخبار الفضل ج ٢ ش ٨٠ صفحہ اول، اپریل ١٩١٧ء) اٹھا کر دیکھئے۔ اس زمانہ میں جب کہ عراق اور بغداد شریف ترکوں کے ہاتھ سے نکلا ہے۔
یہ اخبار الدجل لکھتا ہے۔ ”ہر مسلمان کو ترکوں سے نفرت کرنی چاہئے۔ یہ محافظ اسلام نہیں بلکہ دشمن اسلام ہیں۔ آسمانی گورنمنٹ کے مطابق یہ کارروائی عمل میں آئی کہ سرکار برطانیہ ہم لوگوں کو جمع کر کے بصرہ کی طرف لے جارہی ہے جو لوگ اس خدمت میں شامل ہوں گے اس پیش گوئی کے موافق ان کو دین دنیا میں کامیاب سمجھو۔“
مرزائی دوستو! اسی کو اشاعت اسلام کہتے ہیں؟ اور سنئے : ٢٧ فروری ١٩٢٢ء میں شہزادہ ویلز لاہور تشریف لائے تو مرزائیوں نے ایک ایڈریس ان کی خدمت میں پیش کیا جس میں یہ لکھا تھا کہ: ”ہم جناب شہزادہ صاحب کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو بلا کسی عوض اور بدلے کے خیال کے ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے لئے دینے کو تیار ہیں۔“
دوستو! میں حیران ہوں کہ مرزائی وفد نے یہ منافقانہ طرز کیوں اختیار کیا؟ حالانکہ مرزا قادیانی نے انگریزوں کے متعلق جو اپنا اعتقاد لکھا ہے اس عقیدہ سے پہلے یہ بتا دینا مناسب ہے کہ اسلامی اصطلاح میں ”یاجوج ماجوج“ بڑی بد اخلاق ظالم و سفاک قومیں ہیں اور دجال تو ان سب سے بدترین ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی ان تینوں القاب کا مستحق کس قوم کو بتاتے ہیں۔ بغور پڑھئے: ”ان ياجوج وماجوج هم النصارى من الروس والاقوام البرطانيه“ یعنی یاجوج و ماجوج برطانیہ وغیرہ کے حق میں۔ اب دجال کی نسبت سنئے کہ مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں۔ ”بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے۔ جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے
١٤
اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہے۔ جیسے بادل ہوا کے زور سے حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی ﷺ نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (لعنۃ اللہ علی الکاذبین ) چونکہ یہ عیسائی قوم کی ایجاد ہے۔ جن کا امام اور مقتداء بھی یہی دجال گروہ ہے۔ (لیکن یہ تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ لیکن آپ نے کہیں یہ نہ فرمایا کہ یہ لوگ دجال ہیں ) اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔ (صرف مرزا قادیانی نے) اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص٤٩٢)
افسوس اور صد افسوس کہ مرزا قادیانی کی امت اسی دجال اور یاجوج ماجوج کی خدمت میں ایڈریس لکھ کر پیش کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ ہم مرزائی اپنی جان و مال دجال کے قدموں پر نچھاور کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔
مرزائیو! یہ الٹی گنگا کیسے بہے؟ جواب بذمہ تمہارے، حضرات! آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ اسی دجال کے مارنے یا بقول مرزا قادیانی مغلوب کرنے کے لئے ایک مغل زادہ کا مسیح موعود بن کر آنا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود مسیح موعود ہو کر ہم پر نازل ہوا اور عرصہ ہوا کہ مر کر مٹی بھی ہو گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا کوئی کام بھی کیا یا نہیں؟ سو جواباً عرض پڑھ لیجئے۔
- ١....... ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود
کے زمانہ میں سوائے اسلام کے کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔ اس حدیث کو خدا کا شکر ہے مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔
- الف....... ”تمام دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو کر وحدت قومی ہو جائے گی۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
- ب....... ”غیر معبود اور مسیح وغیرہ کی پوجا نہ رہے گی اور خدائے واحد کی عبادت
ہوگی۔“
(مرزائی اخبار الحکم مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٠٥ء)
- ٢....... مشکوٰۃ شریف کی حدیث میں سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ مسیح موعود آکر
عیسائیت کے زور کو توڑے گا۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو بھی بڑے شدومد سے اپنے حق میں لیتے ہیں اور یوں ارشاد فرماتے ہیں۔ ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں۔ یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں۔“
(اخبار بدر مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء)
١٥
لیکن غضب یہ کہ مرزائیوں کا اپنا اخبار پیغام الصلح مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب پر مہر تصدیق یوں ثبت کرتا ہے اور نہایت ہی مسرت کے ساتھ لکھتا ہے۔ ”عیسائیت دن بدن ترقی کر رہی ہے۔“
(پیغام الصلح مورخہ ٦؍ مارچ ١٩٢٨ء)
مرزائیو! یہ صدا کب کی ہے۔ جانتے ہو؟ مرزا قادیانی کی زندگی تو درکنار موت کے بیس سال بعد کی ہے۔ دور کیوں جائیں مردم شماری کی رپورٹ ہی دکھائے دیتا ہوں۔ مدینۃ المسیح یعنی قادیان کے اپنے ضلع گورداس پور کی عیسائی آبادی کا نقشہ دیکھئے اور بے ساختہ بول اٹھئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت؟
عیسائیوں کی مردم شماری سال ٢٣٠٠ ١٨٩١ء ٤٤٧١ ١٩٠١ء ٢٣٣٦٥ ١٩١١ء ٣٢٨٣٢ ١٩٢١ء ٤٤٢٤٣ ١٩٣١ء
جب سے یہ مرزائیت نے جنم لیا ہے۔ عیسائیت روز افزوں ترقی کیسے کر رہی ہے۔ اس قلیل عرصہ میں صرف قادیان کے ضلع گورداسپور کے عیسائی ١٨ گنا زیادہ بڑھ گئے۔ ساری دنیا کا حساب ابھی الگ باقی پڑا ہے۔ ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ بغور پڑھ کر خود فیصلہ کر لیں۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب گواہ رہیں میں جھوٹا مسیح ہوں۔“
(بدر ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء)
دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”پس اگر سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے (مرزا کے) ذریعہ ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے۔ جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر
١٦
مقام صلح مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب پر مہر کے ساتھ لکھتا ہے۔ ”عیسائیت دن بدن ترقی کر
(پیغام صلح مورخہ ٦؍ مارچ ١٩٢٨ء)
ہو؟ مرزا قادیانی کی زندگی تو درکنار موت کے ورث ہی دکھائی دیتا ہوں۔ اور اس پوری عیسائی آبادی کا نقشہ دیکھئے اور ت؟
عیسائیوں کی مردم شماری ٢٤٠٠ ٤٤٧١ ٢٤٣٦٥ ٣٢٨٣٢ ٤٣٢٤٣
عیسائیت روز افزوں ترقی کیسے کر رہی ہے۔ اس عیسائی ١٨ گنا زیادہ بڑھ گئے۔ ساری دنیا کا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ بغور پڑھ کر خود
لئے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح ہوا اور میں مرگیا تو سب گواہ رہیں میں جھوٹا
(بدر ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء)
سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا (خدا کے) ذریعہ ظہور میں نہ آوے۔ یعنی سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر
ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا اور خدا جانتا ہے کہ میں ہرگز کاذب نہیں۔ یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔ پس جب کہ میں سچے دل سے خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠، ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٤، ٣١٩)
مرزائیو! اس تحریر کو دو بار، سہ بار پڑھو اور خوب سوچ سمجھ کر مندرجہ ذیل سوالات کا جواب خدا وحدہ لاشریک لہ حاضر ناظر سے ڈر کر اپنے اپنے دل سے پوچھو۔ میرا خیال ہے بلکہ یوں کہوں کہ یقین ہے کہ تمہارا دل ضرور اس امر کی شہادت دیئے بغیر نہیں رہے گا کہ تمہارے آقا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔
- ١...... کیا عیسائی صفحہ ہستی سے ناپید ہوگئے؟
- ٢...... کیا عیسائیوں کا باطل خدا فنا ہو گیا؟
- ٣...... کیا دنیا کے جھوٹے دینوں پر مرزا کے ذریعہ موت ظہور میں آگئی اور آج
ہندو یہودی اور عیسائی وغیرہ جھوٹے دین والے موجود نہیں ہیں۔
- ٤...... کیا ابھی سات سال کا عرصہ نہیں گزرا۔
مرزائی دوستو! تمہیں معلوم ہے کہ مرزا قادیانی ہیضہ جیسے قبیح مرض میں مبتلا ہو کر انتہائی ذلت کے ساتھ بمقام لاہور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مر گئے۔ آپ لوگ غالباً ان کی قبر پر جا کر فاتحہ بھی پڑھتے ہوں گے اور آج اس کو مرے ہوئے قریب ٤٢ سال ہو گئے۔ کیوں کیا خیال ہے۔ آپ حضرات کا سات سال کا کچھ اور مطلب تو نہیں ہے۔ شاید میں نہ سمجھ سکا ہوں۔ اگر اس کا کوئی نیا استعارہ تجویز ہوا ہو تو براہ کرم مطلع فرما دیں۔ عین احسان ہوگا۔ ورنہ کوئی شکایت نہیں۔ قصہ کوتاہ یہ کہ ؎
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
(حدیث) صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ قسم
١٧
قادیانی
کے دھوکے میں نہ آئیں
مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور احرام باندھے گا اور لبیک پکارے گا۔ ابن مریم مقام فج الروحا (فج الروحا ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ شریف سے آتے وقت تیسری منزل ہے ) سے حج کے لئے یا عمرہ کے لئے۔
حضرات ! یہ حدیث صاف اور صریح طور پر بتلارہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حج ضرور کرنا ہے اور حج بھی اس طرح کہ مقام فج الروحاء سے احرام باندھیں گے اور لطف یہ کہ آنحضرت ﷺ اس قول کو قسم کھا کر فرما رہے ہیں ۔ اس لئے اس کلام میں کسی قسم کا کلام کرنے کی جرات کرنا گستاخی اور بیباکی کے سوا کچھ نہیں ۔ مرزا قادیانی بھی ایسے قول رسول کے متعلق یہی رائے ظاہر کرتے ہیں ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اصل الفاظ یہ ہیں ۔
"والقسم يدل على الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء والافابى فائده وكانت فى ذكر القسم " قسم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو خبر دی گئی ہے وہ اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور اس میں تاویل اور استثنیٰ کی قطعاً گنجائش نہیں ۔ ورنہ اگر تاویل وغیرہ کی ضرورت ہو تو پھر قسم کے ذکر کرنے کا کیا فائدہ ۔
(حمامۃ البشریٰ ص١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
یہ ہوا مرزا قادیانی کا قول ۔ چنانچہ اس شہادت مرزا سے یہ امر نصف النہار کی طرح عیاں ہے کہ حدیث مصطفی ﷺ کے الفاظ ۔ اسی طرح مسیح موعود کی ذات پر منطبق ہوں گے ۔ جس طرح بیان فرمایا ہے اور ان کی کوئی تاویل نہ ہو سکے گی ۔
اس قول پر بحث کرنے سے پہلے یہ بتلادینا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی بھی مدعی مسیحیت ہونے کی حقیقت سے اس حدیث کو مستند و معتبر اور صحیح قول رسول سمجھتے ہیں اور اسی حدیث پر عامل ہونے کی تصریح بڑے زور و شور سے کر چکے ہیں اور اس امر کے مصداق ہیں کہ فی الحقیقت یہ فرمودہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم بالکل صحیح ہے۔ اور مسیح موعود ضرور حج کرے گا۔ شاید مرزائی حضرات میں بعض ایسے ہوں جن کو یہ قول مرزا پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو اور صرف سنتے آئے ہوں ۔ اس لئے مرزا قادیانی کے اصل الفاظ درج ذیل کئے دیتا ہوں ۔
"في الحقیقت ما را وقت حج راست و زیبا آید کہ دجال از کفر و دجل دست باز داشته ایماناً داخل و طائف گرد کعبہ بگردد چنانچہ از قرار حدیث مسلم عیاں میشود که جناب نبوت انتساب ( صلوٰة الله علیہ وسلامه ) دیدند که دجال و مسیح موعود فی آن واحد طواف کعبہ میکنند ۔"
(ایام الصلح فارسی ص ١٣٧)
١٨
میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور احرام باندھے گا اور لبیک الروحاء ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ شریف سے آتے وقت کے لئے۔
یہ صریح طور پر بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حج مقام فج الروحاء سے احرام باندھیں گے اور لطف یہ کہ رہے ہیں۔ اس لئے اس کلام میں کسی قسم کا کلام کرنے کی نہیں۔ مرزا قادیانی بھی ایسے قول رسول کے متعلق یہی اس کے اصل الفاظ یہ ہیں۔
الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا في نكر القسم “قسم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو ظاہر ہے اور اس میں تاویل اور استثنیٰ کی قطعاً گنجائش نہیں۔ آگے ذکر کرنے کا کیا فائدہ۔
(حمامة البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
چنانچہ اس شہادت مرزا سے یہ امر نصف النہار کی طرح بالکل اسی طرح مسیح موعود کی ذات پر منطبق ہوں گے۔ جس ہو سکے گی۔
میں یہ بتلا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی بھی مدعی مسیحیت معتبر اور صحیح قول رسول سمجھتے ہیں اور اسی حدیث پر عامل ہیں اور اس امر کے مصداق ہیں کہ فی الحقیقت یہ فرمودہ خود مسیح موعود ضرور حج کرے گا۔ شاید مرزائی حضرات کا اتفاق نہ ہوا ہو اور صرف سنتے آئے ہوں۔ اس لئے بتاتا ہوں۔
روز بپا آید کہ دجال از کفر و دجل دست باز داشته ایمانا مسلم عیاں میشود کہ جناب نبوت انتساب (صلوٰۃ اللہ آمده طواف کعبہ میکند۔“ (ایام الصلح فارسی ص ١٣٧)
١٨
مرزائی دوستو! اس فارسی عبارت کا ترجمہ میں خود نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ تمہارے سے نجات دہندہ نبی کے قلم سے کراتا ہوں۔ تاکہ خدا تمہیں راہ راست پر آنے کی توفیق عطاء فرمائے اور مجھے اطمینان قلب ہو کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔
دوستو! مرزا قادیانی کا اب اردو ترجمہ پڑھو اور خدارا سوچو! آپ فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا (مرزا قادیانی) حج تو اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث مسلم کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔“
(ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦)
پس اس قدر تصریحات کو بیان کر دینے کے بعد مندرجہ ذیل چند امور ثابت ہوئے۔
- اوّل ...... یہ کہ حدیث میں حضرت نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح موعود کی
ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ حج ضرور کرے گا۔
- دوّم ...... یہ کہ مرزا قادیانی نے اس قول کی پرزور تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فی
الحقیقت مسیح موعود کا حج کرنا ضروری ہے اور اس حدیث میں تاویل واستثنیٰ کی قطعاً گنجائش نہیں۔
- سوّم ...... یہ کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ اس حدیث کے مطابق میں بھی ضرور حج
کروں گا۔
مرزائی دوستو! اور ناظرین باانصاف! کیا آپ اس امر کی سچی گواہی دیں گے کہ اس قدر مہتم بالشان اہم اور عظیم الشان نشان مرزا قادیانی کی ذات گرامی میں موجود ہے؟
انصاف شرط ہے۔ ناظرین اس احکم الحاکمین، عزیز ذوالانتقام قادر مطلق کا ڈر دل میں رکھ کر گواہی دیں۔ اس دن سے ڈر کر سچی شہادت دیں۔ جس کی شان یہ ہے۔ ”لا تجزی نفس شيئا ولا يقبل منها شفاعة ولا يؤخذ منها عدل“ کہ اس دن نہ کسی کو کوئی فائدہ دے سکے گا نہ کسی کی سفارش قبول ہوگی اور نہ بدلا لیا جائے گا۔
میرے دوستو! اس وقت سے خوف کھا کر کہو۔ جب کہ کہا جائے گا۔ ”اقـراء كتابك وكفى بنفسك اليوم عليك حسيباً“ کہ کیا واقعی مرزا قادیانی اس نشان کے حامل تھے؟ کیا
مرزا قادیانی اس حدیث کے مطابق مسیح موعود تھے؟ کیا مرزا قادیانی میں یہ نشان پایا گیا؟
اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے مسیح موعود نہ تھے۔ بلکہ ”فوسوس لهما الشیطن“ کا اثر کام کر رہا تھا۔ یا پھر ہم
١٩
(ریویو آف ریلیجنز ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١٠،٩، اور یویو آف ریلیجنز ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦، ج ٢٦ ش ٥، ریویو آف ریلیجنز ماہ اپریل ١٩٢٥ء ص ٢٥، ج ٢٤ ش ٤، اخبار بدر مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء ص ٥، منظور الٰہی ص ٣٤٨) کی شہادت پر صاد کریں کہ مرزا قادیانی مرض مراق کے مریض تھے۔ جو مالینخولیا کی ایک مشہور قسم ہے یا مرزا قادیانی کی بیوی کی شہادت مندرجہ (سیرت المہدی ج ١ ص ١٣) کو ہی قبول کریں کہ مرزا قادیانی کو ہسٹریا تھا۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
بعض احباب کو یہ شبہ ہوگا کہ مرض ہسٹریا تو صرف عورتوں کے لئے مخصوص ہے۔ مرزا قادیانی تو مرد تھے۔ وہ کیسے ناہنجار مرض کا شکار ہو سکتے تھے؟ لہٰذا ایسے موقع پر علم طب کی طرف ناظرین کرام کی توجہ مبذول کرانا مناسب سمجھتا ہوں۔
”یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔ اگرچہ شاذ و نادر مرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“
(مخزن حکمت جلد دوم ص ٩٦٩ طبع چہارم)
مرزائی دوستو! آپ حضرات صداقت اور حقانیت کو پاؤں تلے روند کر شواہد اور معقولیت کا خون کر کے واقعات اور اخبارات کو پس پشت ڈال کر بجائے اس امر کو تسلیم کر لینے کے، کہ مرزا قادیانی واقعی اپنے دعویٰ مسیح موعود میں جھوٹے تھے۔ الٹا جھگڑا کرتے ہیں اور چند عذرات خام ایسے پیش کرتے ہیں جو شرط رضا اور تقویٰ کے صریح خلاف ہوتے ہیں۔ کیوں اس امر پر غور نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی باوجود اقرار فریضہ حج ادا کرنے کے حج نہ کر سکے اور نہ دجال کو مسلمان کر کے کعبہ کے گرد لے جاسکے۔ (مرتے دم تک مرزا قادیانی دجال کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ شاید دجال کو مسلمان بنانے کا موقعہ نہ ملا ہو) خیر آپ لوگ یہی پہلو اختیار کرتے ہیں۔ جو حق و صداقت کے رستہ میں حائل ہونے کے علاوہ شرط ایمان کے خلاف ہے۔ تو لیجئے ہم ان عذرات کا جواب بھی عرض کئے دیتے ہیں۔
اگر آپ لوگوں نے ہمارے جوابات پر انصاف سے غور کیا اور بجائے رنجش و کراہت کے انصاف اور دیانت داری سے کام لے کر ان کا مرزا قادیانی کی حالت سے موازنہ کیا تو امید قوی ہے کہ آپ لوگ یقیناً احسن نتیجہ تک پہنچ جائیں گے۔ اعتراضات اور عذرات کا جواب عرض کرنے سے قبل میں ایک بار پھر ایک بات کہہ دوں اور آپ بہر خدا انصاف سے اس امر کو ذہن نشین کرلیں کہ مرزا قادیانی اس امر پر بضد تھے کہ میں ضرور حج کروں گا۔ ایک دفعہ آپ سے سوال ہوا تو آپ نے بڑے زور و شور فرمایا تھا کہ: ”ابھی تو ہم سؤروں کو مار رہے ہیں۔ ان سے فارغ
٢٠
ہوں گے تو حج کریں گے۔"
(اخبار القادیان یکم ستمبر ١٩٠٢ء ص ٦)
غور کیجئے مرزا قادیانی کس زور سے کہتے ہیں کہ ہم ضرور حج کریں گے اور آخر تک اس امر کی نسبت یقین دلاتے رہے اور نہ کبھی اس امر سے انکار کیا کہ ہم حج نہیں کریں گے۔ بلکہ ہمیشہ اس پر مستعدی دکھلائی۔ اگرچہ اکبر مرحوم الہ آبادی نے توجہ بھی دلائی تھی۔ چنانچہ اکبر مرحوم فرماتے ہیں۔
تردید حج میں ایک رسالہ رقم کریں
مگر نہیں مرزا قادیانی نے کبھی ادائے حج سے انکار نہیں کیا۔ اس امر کو ذہن نشین کر کے اب ان عذرات کے جوابات نمبر وار سنئے۔
مرزائی عذر نمبر ١
پہلا عذر میرے دوستوں کی طرف سے یہ پیش کیا جاتا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) کے پاس حج کے لئے زاد راہ نہ تھا۔ کیونکہ مالدار نہ تھے۔ اس لئے آپ کے واسطے فریضہ حج ادا کرنا ضروری نہ تھا۔ کیونکہ حج کے لئے مالداری شرط ہے۔
تردید عذر اول ...... میرے دوستو! آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ بھلا سوچو تو یہ عذر خام نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ بات کب قابل تسلیم ہے کہ مرزا قادیانی مفلس وقلاش اور پیسے پیسے کو ترستے تھے۔ آپ ہزار ہا روپے کی جائیداد کے مالک تھے۔ آپ نے اپنی کتابوں مثلاً (براہین احمدیہ، اعجاز احمدی وغیرہ) میں ہزار ہا روپے کے انعامات مقرر کئے۔ مولانا ابو الوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو (اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٨) میں چیلنج دیا کہ قادیان آکر کتاب نزول المسیح کی ڈیڑھ صد پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت کریں تو فی پیشین گوئی ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ پندرہ ہزار روپیہ تو یہی ہو گیا۔ پھر آگے چل کر (اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦) پر مولانا صاحب موصوف سے ایک لاکھ روپے کا وعدہ کرتے ہیں۔ پھر (اعجاز احمدی ص ٨٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٢) پر دس ہزار روپے کا ایک اشتہار الگ درج ہے۔ براہین احمدیہ کا دس ہزار روپیہ اس کے علاوہ ہے۔ صرف لفظ توفی کے فاعل خدا تعالیٰ اور مفعول ذی روح وغیرہ کی موجودگی میں موت کے علاوہ کوئی اور معنی ثابت کرنے والے کے لئے ہزار ہا روپے کا اشتہار موجود ہے تو ان حالات میں کون عقل کا اندھا کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی حج کے زاد راہ سے قطعا محروم تھے یا یہ کہ بالکل بے بضاعت واقع ہوئے تھے۔
٢١
خدا کے بندو! محمدی بیگم کے نکاح کی نسبت مرزا قادیانی نے اس کے ورثاء سے ہزار ہا روپے اور زمین وغیرہ کے وعدے کئے جو ان کے خطوط ١؎ سے عیاں ہے۔ روپیہ کا لالچ دیا۔ زمین کا وعدہ کیا اور ان تمام امور کی تصدیق مرزا قادیانی کی کتب مثلاً آئینہ کمالات اسلام، حقیقت الوحی، براہین احمدیہ، تبلیغ رسالت، انجام آتھم وغیرہ سے ہوتی ہے۔ نیز آپ نے اپنی کئی کتابوں پر اپنا نام مرزا غلام احمد رئیس قادیان تحریر کیا ہے۔ کیا امیروں اور رئیسوں کی یہی شان ہوا کرتی ہے کہ باوجود ریاست وامارت کے سرٹیفکیٹ رکھنے کے بھی حج کے زاد راہ سے محروم ہوں اور ان کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو؟ کیا آپ نے مرزا قادیانی کے انعامی اشتہارات نہیں دیکھے؟ کوئی تین ہزار کا ہے کوئی پانچ ہزار کا ہے۔ کسی کا کچھ انعام ہے۔ کسی پر کچھ انعام رکھا ہے۔ کیا یہ مفلسوں کی شان ہے۔
١؎ مشفق مرزا علی شیر بیگ صاحب باسمہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ آپ کو اس سے رنج گزرے گا۔ مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی (محمدی بیگم میری منکوحہ آسمانی) کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی (میری منکوحہ آسمانی) کا نکاح (کسی دوسرے) سے ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ ورسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پکا ارادہ کرلیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ (جو واقعی ہوا) یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ (چونکہ مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے۔ اس لئے خدا نے انہیں نہیں بچایا اور اچھی طرح سے ذلیل کیا ہے) اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی (میری منکوحہ آسمانی) کے لئے سب ایک ہوگئے۔ یوں تو مجھ کسی لڑکی سے کیا غرض (غرض نہ ہوتی تو اللہ پر افتراء کیوں کرتے کہ خدا نے مجھے الہاماً بتایا ہے کہ اس لڑکی کا نکاح میں نے تمہارے ساتھ آسمان پر پڑھا دیا ہے) کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو اور وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور روسیاہ ہو۔ (جو واقعی ہوا اور دنیا میں بری طرح ذلیل ہوئے) خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے (جیسا کہ مجھے کیا) مگر اب تو وہ مجھے (فرقت کی) آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٢
مرزا کی دوستنوا کہتے ہو کہ ان کے پاس فر قدم کیوں نہ رکھتے ہوں ۔ ا زائد روپیہ آچکا تھا۔ دیکھوا
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) میں آپ کی عمر ٦٠ سال تھی اور لڑک سے خوف کرو۔ کسی نے جواب ہے۔ (عورت کا حقیقی احسان عزت بی بی نام کے لئے لعنت شخص کیسا بلا ہے۔ (اس قدر شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر (جواب کیا آتا خاک) اور خویشوں سے اپنے بھائیوں ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں ہے۔ (اسی لئے آپ کو جب میں ایسا ذلیل ہوں خدمت میں خط لکھ دیا ہے جیسا کہ آپ کا خُود منشاء محمدی بیگم (میری منکوحہ گا۔ اگر نہیں نہ ارادہ اس کا تبدیل درست کر کے آ کہ اس وقت کو دیں کہ وہ اپنے نا ملے تو ڈروں گا جب آپ کی بچھ خطوط کی معرفت
مرزائی دوستو! تم لوگ بڑے نڈر ہو۔ مرزا قادیانی کی بڑی بے عزتی کرتے ہو۔ جو کہتے ہو کہ ان کے پاس فریضہ حج ادا کرنے کے لئے زادراہ نہ تھا۔ اگر چہ وہ رؤساء، امراء میں ہی قدم کیوں نہ رکھتے ہوں۔ اگر تمہیں درکار ہو تو سنو! مرزا قادیانی کو ١٩٠٦ء تک تین لاکھ روپیہ سے زائد روپیہ آچکا تھا۔ دیکھو ان کی کتاب
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ لڑکی کے والدین بیچارے مجبور تھے۔ لڑکے کیا آپ کی عمر ٦٠ سال تھی اور لڑکی کی عمر اس وقت بقول آپ یعنی مرزا قادیانی صرف آٹھ یا نو سال تھی) خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ (عورت کا حقیقی احساس ایک عورت ہی محسوس کر سکتی ہے۔ اس لئے بیچاری جوش میں آ گئی ہوگی) صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ شخص کیسا بلا ہے۔ (اس قدر گستاخی ایک نبی کی شان میں معاذ اللہ ) ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا۔ (جواب کیا آتا خاک) اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا۔ جو چاہے سو کرے۔ ہم اس کے لئے اپنی خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی مجھے پہنچی ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں، خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (اسی لئے آپ کو خوب ذلیل کیا اور مرتے دم تک منکوحہ آسمانی یعنی محمدی بیگم کا منہ تک نہ دیکھ سکے) اب جب میں ایسا ذلیل ہوں (جو واقعہ ہے) تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کا خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی بیگم (میری منکوحہ آسمانی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اسے عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مطالبہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا تبدیل کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد جو اب میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھالیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ اپنے بھائی کو لڑکی دے کر روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اس حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوط کی معرفت معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! راقم! خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٢ ؍ مئی ١٨٩١ء
٢٣
اعیان مرزائیت! اسی (حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦) کو کھول کر پڑھو۔ ٹچی فرشتہ نے آپ کو بغیر حساب کے بہت سا روپیہ دیا اور وہ اس قدر تھا کہ مرزا قادیانی اس کا شمار ہی نہیں بتلا سکتے۔ حیرت ہے کہ وہ فرشتہ لنگر خانہ کے لئے تو بیشمار روپیہ دے سکتا ہے۔ مگر حج کے لئے قطعا نہیں۔ کیا حج مسیح سے ٹچی کو بھی دشمنی تھی۔ یا غیر مسیح کو حج سے ہی ناکام رکھنا چاہتا تھا۔ آپ کے عندیہ سے تو اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ آپ بے شک بڑے بھولے بھالے ہیں۔ کیا سچ ہے؎
لگا پوچھنے کس کا تازہ لہو ہے
کسی نے کہا جس کا یہ سر پڑا ہے
کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے
اور سنو! شیر علی فرشتہ، خیراتی رام فرشتہ مرزا قادیانی کے پاس برابر آتے رہے اور بڑی کثرت سے آپ کو روپیہ دیتے رہے۔ کحل الجواہر میں آپ نے ایک اور اشتہار پانچ سو روپیہ کا شائع کیا۔ علاوہ ازیں ایک پادری کلارک کو دو صد روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی ایسے روپوں سے فریضہ حج ادا نہیں کر سکتے تھے؟ جو ان کے لئے نہایت ضروری تھا اور جس کی نسبت وہ خود مقر ہیں کہ میں ضرور حج کروں گا۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی نسبت ایسے واقعات اور حقائق کی روشنی اور موجودگی کے باوجود کیوں ایسا عذر پیش کرتے ہیں؟ جو خود اپنی تردید ہے۔
میرے دوستو! تعصب اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر کدورت اور کینہ کی عینک کو اتار کر اس معاملہ پر غور تو کرو کہ آیا مرزا قادیانی کے حج نہ کرنے پر کبھی یہ نامعقول عذر پیش ہو سکتا ہے؟ جو واقعات کے ہی خلاف ہے۔ کیا آپ اس عذر سے کبھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آہ؎
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
تصدیق حدیث مرزا قادیانی کے الفاظ میں نقل ہو چکی ہے کہ قسم والی حدیث میں کوئی عذر یا تاویل پیش نہیں ہو سکتی تو پھر سوائے اس کے اور کیا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی حدیث مذکور کے ماتحت مسیح موعود ہوتے تو ان کے پاس زاد راہ بھی ہوتا اور باقاعدہ حج بھی کرتے۔
٢٤
مگر چونکہ حدیث کے ماتحت مسیح بضاعت سے محروم رکھ کر اس حقیقت ہے۔ پس ؎
زلفوں
مرزائی عذر نمبر ٢
دوسرا عذر مرزائی خوف تھا اور عدم امن کے ب مخالف تھے۔ چونکہ امن بھی نہیں۔
تردید: یہ عذر ن جگہ کس طرح اکٹھی ہو سکتی راہ میں اپنی جان دے دی "اقتل فی سبیل زیادہ اور کوئی دوامی مر ضرور قتل ہو جاؤں۔ ہے شان نبوت۔ اس لئے قادیان دیکھئے۔ تو بہ ک العظيم" کتب الله کرتے۔ خدات
مگر چونکہ حدیث کے ماتحت مسیح نہیں تھے۔ اس لئے خدا کی حکمت نے بقول آپ کے زاد راہ اور بضاعت سے محروم رکھ کر اس امر پر مہر توثیق لگادی کہ فی الحقیقت مسیح موعود نہ تھے اور یہی عین حقیقت ہے۔ پس ؎
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا
مرزائی عذر نمبر ٢
دوسرا عذر مرزائی حضرات کی طرف سے یہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کو خوف تھا اور عدم امن کے باعث وہ فریضہ حج ادا نہ کر سکتے تھے۔ تمام لوگ بلکہ بادشاہ بھی آپ کے مخالف تھے۔ چونکہ امن بھی شرائط حج میں داخل ہے۔ اس واسطے عدم ادائے حج قابل اعتراض نہیں۔
تردید: یہ عذر بجائے خود آپ اپنا جواب ہے۔ بھلا نبوت اور ڈر، دو متضاد چیزیں ایک جگہ کس طرح اکٹھی ہو سکتی ہیں؟ اس سے زیادہ اور کیا خوشی ایک نبی کے لئے ہو سکتی ہے کہ وہ خدا کی راہ میں اپنی جان دے دے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور اکرم سید عالم ﷺ نے فرمایا۔ "اقتل فی سبیل اللہ ثم احی ثم اقتل ثم احی ثم اقتل" یعنی اے خدا میں اس سے زیادہ اور کوئی دوامی عزت نہیں سمجھتا کہ میں تیرے راستے میں قتل ہو جاؤں۔ بلکہ میری خواہش ہے ضرور قتل ہو جاؤں۔ پھر زندہ ہوں۔ پھر قتل ہوں۔ پھر زندہ ہوں پھر قتل کیا جاؤں۔ سبحان اللہ یہ ہے شان نبوت۔
حضرات! اب ذرا مرزائی عذر لنگ پر نظر ڈالئے کہ مرزا قادیانی کو جان کا خوف تھا۔ اس لئے قادیان میں دم دبا کر بیٹھ رہے اور مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ کا منہ نہ دیکھ سکے۔ آپ کا دعویٰ دیکھئے۔ تو یہ کہ میں آنحضرت ﷺ کا ظل (سایہ) ہوں۔ "ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"
مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ "انی لا یخاف لدی المرسلون کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی" میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
٢٥
نیز الہام ہوتا ہے۔ ”ان يطفؤا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون“ یعنی دشمن ارادہ کریں گے کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے خدا کے نور کو بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرے گا ۔ اگر چہ کافر کراہت کریں۔
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
بتاؤ! اگر مرزا قادیانی کے ذریعہ بھی خدا کے نور کا اتمام مقدر تھا تو آپ کو کس کا خوف ہو سکتا ہے۔
مرزائیو! کیا مرزا قادیانی نے اپنے باوا جان کی طرف سے یہ الہام درج نہیں کیا ہے کہ والله یعصمک من الناس “ یعنی اللہ مجھے (مرزا) لوگوں کی دشمنی اور عداوت سے بچالے گا۔
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)
”یعصمک من الاعداء “ (حقیقت الوحی ص ٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٩٤) یعنی اے مرزا خدا تجھے دشمنوں کے شر سے بچائے گا۔ سچ بتاؤ ”اليس الله بكاف عبده “(حقیقت الوحی ص ٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٩٣) یعنی اے مرزا، اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔
دوستو! بتاؤ باوجود اس قدر قوی اور محکم وعدوں کے مرزا قادیانی کیوں ڈرتے تھے۔ بھائیو! کیا خدا کا یہ وعدہ نہ تھا ”اني معك ومع اهلك“ (حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) یعنی اے مرزا میں تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ دوستو! انصاف سے کام لو۔ کیا مرزا قادیانی نے یہ نہیں کہا کہ خدا کے نبی اس کے راستے میں جان دینے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
(جنگ مقدس ص ٢٩)
اگر تمام امور سچ ہیں اور خدا نے مرزا قادیانی کی حفاظت کا ذمہ لے لیا تھا اور تسلی بارش کی طرح الہامات کر چکا تھا اور اگر واقعی خدا مرزا قادیانی کا قدردان تھا تو در حقیقت مرزا قادیانی کے لئے کافی تھا۔
اگر یہ سب باتیں تھیں تو پھر مرزا قادیانی کو خدا کی باتوں پر یقین کیوں نہ تھا اور آپ حج کو کیوں نہ تشریف لے گئے؟ آخر کون سی وجہ ایسی لاحق ہوگئی تھی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ عجیب وغریب خدا کے بندے جن پر حج فرض بھی نہیں۔ بڑی بڑی مشقتوں سے زاد راہ جمع کر کے اور ہزاروں میل پیدل سفر کر کے حج کر آتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی پر بقول ان کے حج فرض، سفر کے لئے
٢٦
دجال کا گدھا (ریل گاڑی) دروازہ پر موجود، ریل کے اختتام پر جہاز تیار، روپوں کے ہر طرف سے مفت منی آرڈر۔ اگر یقین نہ آئے تو کنہیا لال ماسٹر، مراری لال کلرک، ٹھا کر داس، ہیرا لال اور نہال ترکھان وغیرہ شہادت کے لئے موجود۔ راستہ میں حفاظت جان کے واسطے باوا جان کا الہام ”والله يعصمك من الناس“ موجود۔ بھلا غور تو کرو کہ یہ عذر خام کہاں تک قابل تسلیم ہے۔ کیا خدا کے وعدے باطل ہوتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ ”ان الله لا يخلف الميعاد“ اور کیا ”لا تبديل لكلمات الله“ خدا کا کلام نہیں اور کیا خدا تعالیٰ اپنے کلام حمید قرآن مجید میں نہیں فرماتا کہ ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام (پارہ ١٣)“ ﴿یعنی خدا کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلاف ہرگز نہ سمجھو۔ بلکہ خدا تعالیٰ بڑا غالب اور بدلہ لینے والا ہے۔﴾
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے اور یہ ممکن بھی کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرے۔ چنانچہ اس بناء پر خدا تعالیٰ کی نسبت وعدہ خلافی کا گمان کرنا بھی کفر ہے۔ پس مرزائی یہ بتائیں کہ جب اس قدر تواتر اور کثرت سے خدا تعالیٰ کے کلام نے مرزا قادیانی پر یہ واضح کر دیا کہ آپ کچھ فکر نہ کریں۔ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور میں ہر وقت اے مرزا تیرا نگہبان ہوں۔ تو پھر مرزا قادیانی کو کیا ڈر تھا۔
خدا کے بندو جب یہی وعدہ خداوند تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ رسول، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ سے کیا تھا تو نبی کریم رؤف والرحیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اس سے کیا سمجھا تھا؟ مرزائیو! دن دہاڑے اس قدر چوری چھپا سکتے ہو؟ بتاؤ آنحضرت ﷺ کب ڈرے اور کب دب کر رہے۔ ”والله يعصمك“ وعدہ ہونے کی دیر تھی۔ آپ کے مزاج گرامی میں ایک کیف آفرین انقلاب آ گیا اور دنیا کی کایا پلٹ دی۔ کیا آپ نے اس کے بعد جنگیں نہیں کیں۔ تلوار نہیں اٹھائی۔ کب تلوار کے سایہ میں نہ رہے۔ تمہیں معلوم ہے شعب ابی طالب میں متواتر تین سال تک قریش مکہ کے بائیکاٹ کو کس نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا؟ کس نے اہل طائف کے ہاتھ سے پتھر کھائے تھے؟ کس نے جہاد کئے تھے؟ کس نے دانت شہید کرائے تھے؟ کس نے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں میں اعلائے کلمۃ الحق کا فرض ادا کیا تھا؟ کس نے کافروں کے ظلم وستم سے ہجرت کی تھی؟ وہی نبی عربی فداہ ابی وامی کا اسم گرامی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تھا اور ہے۔ تم خود
٢/٧
ہی بتاؤ کہ یہ نبوت برطانی (نبوت مرزا) جو جہاد کی بجائے ترک جہاد کی تلقین کرتی ہے۔ اس نبوت ربانی کا بروز (سایہ) ہو سکتی ہے؟ اور تمہیں آنحضرت ﷺ سراپا رحمت و برکت ﷺ کا ایک واقعہ سنائیں۔ شاید کہ تمہیں عبرت ہو۔
ہجرت نبوی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
حضور اکرم ﷺ متواتر تیرہ برس تک کفار مکہ کو خدا کی طرف بلاتے رہے۔ انہیں توحید کا پیغام دیا۔ خوش اخلاقی کا درس دیا اور روحانی وانسانی ترقی کے راز بتائے۔ لیکن ان لوگوں کا ذہن اور دماغ اس درجہ تاریک تھا کہ حقانیت کی روشنی اثر نہ کرسکی۔ کفار نے آوازہ توحید کے مقابلہ میں طعن و تشنیع کا ہنگامہ برپا کیا۔ دعاء کے جواب میں سنگباری کی اور خوش خلقی کا جواب بدکرداری سے دیا۔ بایں ہمہ حضور اکرم ﷺ خدا کا پیغام سناتے رہے۔ لیکن جب ظلم حد کمال تک پہنچ گیا۔ صبر و تحمل کے پائے ثبات کے ڈگمگانے کا اندیشہ پیدا ہوا تو حضور ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم لوگ مدینہ چلے جاؤ۔ تاکہ اس ظلم و ستم سے نجات پاسکو۔ اس ارشاد نبویؐ کا خیر مقدم کیا گیا۔ فرزندان توحید اپنے گھروں کو، عزیز واقرباء کو چھوڑ کر ترک وطن کرنے لگے۔ کفار قریش نے جب یہ دیکھا کہ مکہ کی آبادی اب مدینہ کو آباد کرنے لگی تو ان کے اشتعال کا بھرا ہوا پیمانہ چھلکنے لگا۔ انہوں نے ہجرت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کیں۔ لیکن اس طرح بھی کامیابی نہ ہوسکی۔ اس کے بعد ہجرت پر آمادہ لوگوں پر مزید ظلم وستم کرنا شروع کیا اور اس سلسلہ میں جس ظلم و تشدد کا اظہار کیا گیا۔ اس کا تصور بھی قابل برداشت نہیں۔ چنانچہ حضرت ہشامؓ جو کہ ایک صحابی تھے۔ جب ہجرت کرنے لگے تو کفار نے انہیں پکڑ کر قید کر دیا اور قید خانہ میں قسم قسم کی اذیتیں پہنچائیں۔ حضرت ابو سلمہؓ جب ہجرت کے لئے اونٹنی پر سوار ہو گئے تو قریش نے ان کا محاصرہ کر لیا اور کہنے لگے کہ تمہاری بیوی ہماری لڑکی ہے۔ اسے جانے نہیں دیں گے۔ اسی طرح تمہارا لڑکا بھی چونکہ ہماری بیٹی کی گود میں ہے۔ اس لئے اُسے بھی ہجرت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ابو سلمہؓ نے انہیں بہت سمجھایا۔ لیکن ان کی معقول باتوں کا جواب بے پرواہی کے ساتھ ہنسی سے دیا گیا۔ آخر کار وہ بیوی بچے دونوں کو چھوڑ کر مدینہ پہنچ گئے۔ اس قسم کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔ لیکن ہجرت کا
٢٨
سیلاب کسی طرح سے رک نہ سکا۔ بالآخر مکہ مکرمہ میں آنحضرت ﷺ، حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سوا کوئی بھی مسلمان باقی نہ رہا۔ البتہ مسلمانوں کے خالی مکان پڑے تھے جو اپنے سابق مکینوں کے لئے چشم براہ تھے۔ آخر وہ دن بھی آ پہنچا جس کے متعلق اقبال مرحوم نے کہا ہے ؎
جبریل علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺ کو بھی ہجرت کا پیغام دیا۔ اس پیغام کا باعث کیا تھا۔ اس کی بھی ضروری تفصیل سناتا ہوں۔
جب کفار مکہ نے دیکھا کہ اسلام کی روشنی مدینہ منورہ میں پہنچ چکی ہے اور اگر اس روشنی پر جبر کا پردہ نہ ڈالا گیا تو سارے جزیرہ نما عرب میں آفتاب اسلام کی شعاعیں پھیل جائیں گی۔ وہ انتہائی سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسلام کا منبع محمد ﷺ ہی کی ذات ہے۔ اس لئے آپ ہی کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ لیکن بنی ہاشم کی تلواریں ان کے تصور میں چمک رہی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن ابو جہل کا دل انتقام و عناد کی آگ سے لبریز ہوچکا تھا۔ جس کے شعلے اس کے ہر سانس میں لپک رہے تھے اور یہی گرمی اسے آنحضرت ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہی تھی۔ اس نے تمام قبیلوں کے نمائندوں کی ایک کانفرنس منعقد کی۔ جس میں بنو ہاشم کے علاوہ تمام اکابر مکہ شریک ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت کے لئے ایک سن رسیدہ ”نجدی“ کو بلایا گیا۔ جو اس زمانہ میں سازش انگیزی کے فن کا ماہر تھا۔ اس جلسہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی کہ محمد ﷺ اور ان کے دین سے اہل عرب کو کسی طرح محفوظ رکھا جائے۔ کسی نے کہا محمد (ﷺ) کو زنجیروں میں جکڑ دیا جائے تاکہ ان کی راہ آزادی مسدود ہوجائے۔ کسی نے کہا کہ تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کیا جائے تاکہ کوئی شخص ان کی آواز کو ہی نہ سن سکے اور انہیں بھوکا و پیاس کی اذیتیں دے کر اس دنیا سے رخصت کردیا جائے۔
شیخ نجدی نے تمام باتیں غور سے سنیں اور کچھ سوچ کر کہنے لگا کہ یہ کام تو ہوسکتا ہے۔ لیکن جس وقت بنو ہاشم کے انتقامی ہاتھ اٹھے تو کیا کرو گے؟ وہ قید خانہ کو توڑ کر محمد (ﷺ) کو آزاد کرا لیں گے۔ اس پر ایک شخص بولا محمد (ﷺ) کو مکہ سے نکال دیا جائے۔ شیخ نجدی نے یہ مشورہ بھی پسند نہ کیا۔ آخر کار ابو جہل بولا بہتر یہی ہے کہ تمام قبیلوں سے ایک ایک بہادر منتخب کیا جائے
٢٩
اور یہ لوگ محمد (ﷺ) کو نرغہ میں لے کر شہید کردیں۔ اس طرح شہید کا خون مختلف قبیلوں میں تقسیم ہو جائے گا اور قصاص کسی پر بھی عائد نہ ہوگا اور بنو ہاشم خواہ کتنے ہی بہادر ہوں تمام قبائل کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔ یہ تجویز منظور کر لی گئی۔
کفار یہ منصوبے باندھ رہے تھے کہ حضور اکرم ﷺ پر ہجرت کا حکم نازل ہو گیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ لو کی شعلہ افشانیوں نے زمین کو جہنم زار بنا دیا تھا۔ لوگ گرمی سے بچنے کی خاطر تنگ و تاریک کوٹھریوں میں پناہ گزین تھے۔ شہر مکہ پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس چلچلاتی دھوپ میں حضور اکرم ﷺ گھر سے باہر نکلے اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کے قیام گاہ پر پہنچے۔ ان سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہجرت کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدیق اکبر کے لئے یہ بات خلاف توقع نہ تھی۔ وہ پہلے سے ہی یہ حکم سننے کے منتظر بیٹھے تھے۔ صدیق اکبر نے عرض کیا کہ حضور ﷺ کا رفیق سفر کون ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا آپ۔ یہ سنتے ہی حضرت صدیق اکبر کا پیمانہ مسرت لبریز ہوکر چھلکنے لگا اور آپ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہو گئے۔ حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے پہلے ہی سے دو اونٹنیاں خرید کر رکھی ہیں اور ان کی خوب پرورش کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک اونٹنی آپ کی نذر کرتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے یہ عطیہ تو منظور ہے۔ لیکن ایک شرط پر وہ یہ کہ جب تک اس کی قیمت نہ ادا کرلوں۔ حضور ﷺ کے اصرار پر مجبوراً حضرت صدیق اکبر کو اونٹنی کی قیمت وصول کرنی پڑی۔ اتنے میں حضرت صدیق اکبر کی دو صاحبزادیوں (حضرت اسماء اور حضرت عائشہ) نے ستو اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں مہیا کیں اور سفر کی تیاری مکمل ہوگئی اور قرار پایا کہ جب رات کی تاریکی فضائے مکہ پر چھا جائے گی تو مدینہ کو چل پڑیں گے۔ اسی رات کفار مکہ نے اپنی تجویز کو عملی جامہ پہنانا تجویز کیا تھا۔ انہوں نے سرشام ہی سے حضور اکرم ﷺ کے دولت خانہ نبوت کاشانہ کا محاصرہ کر لیا۔ ان کا خیال تھا کہ پچھلی رات کو جب آپ نماز و عبادت کے لئے باہر نکلیں گے تو قریشی تلواروں کی پیاس رسالت مآب ﷺ کے خون سے بجھائی جائے گی۔ وہ رات بھر تلواریں چمکاتے رہے۔ لیکن جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کا خدا اپنے محبوب کو ان تمام سازشوں سے آگاہ کر چکا تھا۔ حضور ﷺ آدھی رات کو اٹھے اور اپنے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سلا دیا۔ اہل مکہ کی جتنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس تھیں۔ وہ بھی ان کے سپرد کر دیں اور فرمایا کہ علی! تم میرے بستر پر سو رہو اور صبح ہوتے ہی امانتیں حقداروں تک پہنچا دینا اور اس کے بعد میرے نقش قدم پر عازم مدینہ ہو جانا۔
٣٠
حضور ﷺ جب مکان سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ کفار شمشیر بکف مکان کے گرد گھوم رہے ہیں۔ آپ نے ایک مشت خاک پر سورہ یٰسین کی پہلی آیتیں ”لا یبصرون“ تک پڑھیں اور اس خاک پر دم کر کے وہ خاک شاہت الوجوہ کہہ کر کفار کی طرف پھینک دی۔ کرشمہ قدرت دیکھئے کہ درجنوں آنکھیں چوپٹ کھلی ہونے کے باوجود حضور ﷺ کو دیکھ نہ سکیں۔ آپ حضرت صدیق اکبر کے مکان پر پہنچے اور انہیں ساتھ لے کر شہر سے باہر نکلے اور دونوں مسافر شہر سے چار میل کے فاصلہ پر کوہ ثور تک پہنچے۔ دونوں نے غار ثور میں قیام کیا۔
اب حضرت مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ کا حال سنئے! جب رات کا دامن تاریک چاک ہو گیا تو آپ نماز کے لئے اٹھے۔ دروازہ سے باہر ہی نکلے تھے کہ کفار نے آپ کو پکڑ لیا۔ انہیں حیرت ہوئی کہ رات کو جس سوئے ہوئے انسان کو محمد (ﷺ) سمجھتے رہے وہ صبح ہوتے ہی علی مرتضیٰ (کرم اللہ وجہہ) کی شکل میں نمودار ہوا۔ اس لئے ان کے غضب کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی۔ انہوں نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ محمد ﷺ کہاں گئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ پہرہ تو تم رات بھر دیتے رہے اور پوچھتے ہو مجھ سے۔ یہ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ محمد ﷺ کہاں گئے؟ یہ جواب سنتے ہی چند کافر مشتعل ہوئے اور انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طمانچے مارے اور آپ کو پکڑ کر بٹھا لیا۔ لیکن جب سورج پوری طرح چڑھ آیا تو انہیں خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں بنو ہاشم انتقام کی تلوار نیام سے نہ نکال لیں۔ اس لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو رہا کر دیا گیا۔ آپ نے تمام امانتیں حقداروں کو پہنچا دیں۔ حقیقتاً اسی کام کے لئے حضرت علیؓ کو مکہ میں چھوڑا گیا تھا۔
کفار یہاں سے مایوس ہو کر حضرت صدیق اکبر کے مکان پر پہنچے۔ دروازہ پر دستک دی۔ حضرت اسماء باہر نکلیں اور ابو جہل نے پوچھا لڑکی سچ بتا تیرا باپ کہاں گیا۔ لڑکی نے جواب دیا مجھے خبر نہیں۔
یہ سنتے ہی ابو جہل نے اس بیدردی سے طمانچہ مارا کہ اسماء کے کان کی بالی ٹوٹ کر گر پڑی۔ اس کے بعد کفار مکہ آندھی کی طرح پھیل گئے۔ مگر حضور ﷺ کا کہیں پتہ نہ چلا۔ آخر اعلان کیا گیا جو شخص محمد ﷺ کو پکڑ کر لائے گا اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ اس انعامی اعلان نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا اور وہ آنحضرت ﷺ کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے۔
اب اس مقدس قافلہ کا حال سنئے! جو غار ثور کے قریب ہے۔ غار میں سب سے پہلے
٣١
صدیق اکبرؓ داخل ہوئے۔ آپ نے غار کو صاف کیا۔ جہاں کہیں سوراخ نظر آیا۔ اسے اپنے کپڑوں کی دھجی سے بند کیا۔ جب غار قیام گاہ بننے کے قابل ہوگیا تو حضورﷺ کو بھی ساتھ لے گئے اور یہ آفتاب و ماہتاب متواتر تین شبانہ روز اس تاریک خلوت کدہ میں مقیم رہے۔
دوسری طرف کفار مکہ کو انعام کا لالچ تڑپا رہا تھا۔ وہ سراغ رسانی کے فن سے بھی واقف تھے۔ اس لئے نقش قدم کے نشانات پر غارِ ثور کے دہانہ تک پہنچ گئے۔ اب انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ کیونکہ یہاں سے آگے قدم کے نشان نہ تھے اور ان کی متجسس نظریں غار کے چاروں کناروں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آتی رہیں اور حضورﷺ کا کہیں پتہ نہ چلتا تھا۔ وہ حیرت و استعجاب کے بحر ذخار میں غوطے کھانے لگے اور حیرت کے ساتھ یہ کہنا شروع کیا۔ معلوم ہوتا ہے کوئی طلسم ہے اور محمدﷺ آسمان پر چلے گئے ہیں اتنے میں ایک نے کہا ذرا جھانک کر غار کے اندر تو دیکھو دوسرے نے مذاقیہ انداز میں کہا! ہوش میں آؤ اس اندھیرے غار میں کون جاسکتا ہے؟ تیسرا بولا وہ دیکھو غار کے منہ پر مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے۔ اگر کوئی اس میں داخل ہوتا تو جالا محفوظ رہ سکتا تھا؟ تیسرا بولا وہ دیکھو وہاں تو کبوتر اور اس کے انڈے بھی نظر آرہے ہیں۔
اب کفار کے سامنے مایوسی و نامرادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ حیرت و یاس کی دوگونہ مصیبت کا بار لے کر واپس لوٹے۔ جب کفار مکہ غار ثور کے دہانہ کے پاس کھڑے ہوکر یہ سب باتیں کر رہے تھے تو غار کے اس قدر قریب تھے کہ ان کے پاؤں حضور اکرمﷺ اور آپ کے رفیق سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو نظر آرہے تھے۔ اس وقت سیدنا صدیق اکبرؓ نے عرض کیا کہ حضورﷺ، کفار آگئے۔ آپ نے جواب دیا۔ ”لا تحزن ان الله معنا“ یعنی خوف نہ کرو۔ ہمارے ساتھ اللہ ہے۔ صدیق اکبرؓ نے پھر دوبارہ آنحضرتﷺ کی توجہ کفار کی طرف مبذول کرائی۔ آپ نے فرمایا تو نے ان دونوں کو کیا سمجھا ہے۔ جن کے ساتھ تیسرا خدا ہے۔
حضرت صدیق اکبرؓ بصیرت افروز طور پر فہیم، عقیل اور دور اندیش و تجربہ کار تھے۔ آپ نے ان مجبوریوں اور قیود کے باوجود ہر قسم کے انتظامات مکمل کررکھے تھے۔ چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق عامر بن فہیرہ جو آپ کا غلام تھا۔ دن بھر تو بکریوں کا ادھر ادھر چراتا رہتا اور رات ہوتے ہی ریوڑ کو غار ثور کے قریب لے آتا اور ان دونوں بزرگوں کی خدمت میں دودھ پیش کیا کرتا تھا۔ اسماء بنت ابوبکرؓ کھانا تیار کرکے رات کے وقت نہایت احتیاط اور رازداری کے ساتھ غارِ ثور میں پہنچا
٣٢
دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ حضورﷺ کے گوش گز اطلاع ملی کہ کفار مکہ کے اب سراقہ ا اریقط کو پیغام بھیجا کہ ا اس لئے حضرت صد اونٹ لے کر کوہ ثور کے تھیں۔ ایک پر حضورﷺ آپ کے خادم عامر بن روانگی سے پہلے حضو مجھے تمام راستوں کی نشا رات ہو دشت پیمائی کرتا ہ پر سوار تھے۔ اب پلانے کے لئے ج پینے کے بعد چل پڑ آتا ہوا دکھائی د حاصل کرنے حضورﷺ پر ہاتھ اس حادثہ کا سام لیجئے ۔“ حضورﷺ گرفتار کرنے آیا تھ معاف دو عالمﷺ نے یہ بات
دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن ابوبکر دن بھر کفار کی سرگرمیوں کا مطالعہ کرتے اور رات کو تمام حالات حضورﷺ کے گوش گزار کر کے چلے آتے۔ تیسرے دن عبداللہ بن ابوبکر کی معرفت حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ کفار مکہ کے جوش کا دریا رفتہ رفتہ اتر رہا ہے۔
اب ساکنان ثور نے سفر کی تیاری شروع کی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے عبداللہ بن اریقط کو پیغام بھیجا کہ اونٹنیاں لے آئے اور یہ شخص اگرچہ مسلمان نہ تھا لیکن بھروسے کے قابل تھا۔ اس لئے حضرت صدیق اکبرؓ نے اسے راز دار سفر بنا رکھا تھا۔ اب اریقط دونوں اونٹنیاں اور اپنا اونٹ لے کر کوہ ثور کے دامن میں پہنچ گیا۔ دونوں مسافر غار سے نکلے تو دونوں اونٹنیاں حاضر تھیں۔ ایک پر حضورﷺ سوار ہوئے۔ اس اونٹنی کا نام غضبا تھا اور دوسری پر حضرت صدیق اکبرؓ اور آپ کے خادم عامر بن فہیرہ بیٹھ گئے۔ حضرت اسماءؓ نے قافلہ کو خدا حافظ کہا اور یہ چل پڑے۔ روانگی سے پہلے حضورﷺ نے دور سے شہر مکہ پر نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ فرمایا کہ: ’’اے مکہ مجھے تمام شہروں کی نسبت تجھ سے زیادہ محبت ہے۔ مگر تیرے باشندوں نے مجھے رہنے نہ دیا۔‘‘
رات ہو چکی تھی۔ تاریکی کی وجہ سے کوئی چیز دکھائی نہ دیتی تھی۔ لیکن یہ سبک رفتار قافلہ دشت پیمائی کرتا ہوا بڑھتا گیا۔ دوسرے دن یعنی یکم ربیع الاول کو جب دوپہر کی دھوپ چنگاریاں برسا رہی تھی تو ام معبد کا خیمہ نظر پڑا۔ یہ بڑھیا بہت زیادہ رحم دل تھی۔ اس نے مسافروں کے پانی پلانے کے لئے جنگل میں سبیل لگا رکھی تھی۔ قافلہ والوں نے یہاں کچھ دیر آرام کیا اور بکری کا دودھ پینے کے بعد چل پڑے۔ ابھی چند ہی قدم چلے ہوں گے کہ پیچھے سے ایک شخص گھوڑے پر تیز رفتار آتا ہوا دکھائی دیا۔ یہ سراقہ بن مالک تھا جو عرب کا بہت بڑا بہادر نوجوان تھا۔ وہ مقررہ انعام حاصل کرنے کے لئے حضورﷺ کو گرفتار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن حسن اتفاق دیکھئے۔ جب وہ حضورﷺ پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کرتا تھا تو اس کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑتا تھا۔ جب اسے دو تین بار اس حادثہ کا سامنا ہوا تو ہوش ٹھکانے آگئے۔ چلا کر کہنے لگا۔ ’’محمد (ﷺ) میری بات تو سن لیجئے ۔‘‘ حضورﷺ نے اونٹنی ٹھہرالی اور فرمایا کہو سراقہ کیا کہتے ہو؟ اس نے عرض کیا میں آپ کو گرفتار کرنے آیا تھا۔ لیکن اس حرکت پر نادم و پشیمان ہوں۔
معاف کیجئے میں واپس جاتا ہوں۔ لیکن مجھے امان نامہ لکھ دیجئے۔ حضور سرور دو عالمﷺ نے یہ بات مان لی اور آپ کے ارشاد پر عامر ابن فہیرہ نے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے امان
٣٣
نامہ لکھ دیا۔ سراقہ یہ نامہ لے کر واپس چلا گیا اور راستہ میں جو لوگ اسے ملتے گئے۔ انہیں بھی واپس کرتا رہا۔ یہ سراقہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہو گیا۔ قافلہ عسفان سے ہوتا ہوا امج کی راہ سے قدید تک پہنچا۔ جب مقام العرج آیا تو ایک اونٹ تھک کر بیٹھ گیا اور چلنے کے قابل نہ رہا۔ اس لئے قبیلہ اسلم کے ایک رکن اوس بن حجر سے اونٹ لیا گیا۔ اوس نے حفاظت کے لئے ایک غلام بھی ساتھ کر دیا۔ ٨ روز کے بعد یعنی ١٢ ربیع الاول کو جب آفتاب نصف النہار پر تھا۔ تو یہ قابل احترام قافلہ قباء کے قریب پہنچا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے دو میل پر واقع ہے اور اسے شہر مدینہ کی آبادی سے ملحق سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ مدینہ میں آپ کی آمد آمد کا چرچا تھا۔ اس لئے انصار و مہاجرین صبح سے لے کر دوپہر تک قبا میں بیٹھے رہتے اور جب دھوپ ناقابل برداشت ہو جاتی تو اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آتے۔ آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ حضور اکرمﷺ کا قافلہ آ پہنچا۔ سب سے پہلے ایک یہودی نے دور سے تین شتر سواروں کو دیکھا۔ اس نے خیال کیا کہ یہ وہی قافلہ ہے۔ جس کے انتظار میں مسلمان چشم براہ تھے۔ اس نے کوٹھے پر چڑھ کر صدا دی۔ اے دوپہر کو آرام کرنے والو عربو تمہارا مطلوب اور خوش قسمتی کا باعث آ گیا ہے۔ اس آواز سے مدینہ طیبہ میں ہلچل پڑ گئی۔ مسلمان مسرت کے نعرے لگاتے ہوئے گھروں سے نکلے۔ حضرت صدیق اکبر نے دور سے دیکھا کہ ایک ہجوم آ رہا ہے۔ آپ کے دل میں خیال گزرا کہ کہیں لوگوں کو حضورﷺ سید الانبیاء کے پہچاننے میں دقت نہ ہو۔ اس لئے آپ نے اپنی چادر سے فرق رسالت پر سایہ کر دیا۔ تا کہ آقا اور غلام میں تمیز ہو سکے۔ جب حضورﷺ ہجوم کے قریب پہنچے تو چھوٹی چھوٹی لڑکیاں جوش مسرت میں گیت گانے لگیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے۔
جب تک کوئی دعا کرنے والا ہے ہم پر شکریہ واجب ہے
اے ہم میں مبعوث ہونے والے رسولؐ
آپ وہ حکم لے کر آئے ہیں جس کی تعمیل ہم پر ضروری ہے
حضور سید المرسلینﷺ اور آپ کے ساتھی دوشنبہ کو قباء میں داخل ہوئے اور جمعہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔ اسی اثناء میں حضرت علیؓ بھی آ پہنچے۔ حضور اکرمﷺ نے قباء میں ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔ جو اسلام کی سب سے پہلی مسجد
٣٤
ہے۔ جمعہ کو آپ مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش تھی کہ حضور ﷺ ہمارے یہاں جلوہ فرما ہوں۔ اس لئے مختلف قسم کی کوششیں ہوتی رہیں۔ لیکن آپ نے فرمایا ہماری اونٹنی اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ جہاں یہ ٹھہرے گی وہیں ہمارا قیام ہوگا۔ آخر کار اونٹنی ہر جگہ پھر کر حضرت ابوایوب خالد بن زید انصاریؓ کے مکان کے قریب بیٹھ گئی اور آپ یہیں تشریف فرما ہوئے۔ یہ تھا اس شعر کا مختصر مفہوم۔
ناظرین کرام! اب میں پھر اپنے اصل مضمون کی طرف آپ حضرات کی توجہ مبذول کراتا ہوں۔ چنانچہ اس امر سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ”واللہ یعصمک من الناس“ قرآن کریم کی آیت کا ٹکڑا نہیں اور پھر اس امر سے بھی انکار محال ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر میدان ہر معرکہ میں خدا کے اس وعدہ کے تحت دلیرانہ اور بیباکانہ مقابلہ کرتے رہے۔ قتل کی سازشیں ہوئیں۔ جیسا کہ اوپر کے مضمون ”ہجرت نبوی“ کے شروع میں بیان کیا گیا ہے۔ زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ غرض آپ کو ہر پہلو اور ہر صورت سے موت کے گھاٹ اتارنے کی سعی لاحاصل کی گئی۔ اس قدر جوش وخروش کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور ان کی ساری محنت اکارت گئی۔ تمام تدبیریں ناکام رہیں اور ان کے سب ارادے خاک میں مل گئے۔
اعیان مرزائیت! جانتے ہو اس کا باعث کیا ہے؟ ارے کیوں نہیں سمجھتے۔ اس کا باعث صرف اور صرف یہ تھا کہ آپ (محمد ﷺ) خدا کی حفاظت میں تھے۔ خدا آپ کا نگہبان تھا اور آپ کو خدا کے وعدہ پر یقین کامل تھا۔
اب آپ ہی لوگ انصاف کی رو سے بتائیں کہ جب مرزا قادیانی سے بھی یہی بلکہ اس سے بھی قوی وعدہ تھا اور جب مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ خدا کے نبی اس کے راستے میں جان دینے سے دریغ نہیں کرتے تو پھر حج نہ کرنے کا کیا باعث؟ کیا اس کا باعث یہی تو نہیں کہ آپ در حقیقت مسیح موعود نہ تھے ورنہ حدیث نبی کریم ﷺ کے مطابق مسیح موعود کو چاہئے تھا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اور یا ایسی فضا پیدا کرے کہ جس کے باعث کوئی خطرہ نہ رہے۔
دراصل سچی بات یہی ہے اور بقول مرزا قادیانی بھی حدیث مذکور تاویلات وغیرہ سے پاک ہے اور اس حدیث کے مطابق مسیح موعود کا حج کرنا ضروری ہے۔ اگر مرزا قادیانی
٣٥
واقعی مسیح موعود ہوتے تو ضرور حج کرتے۔ کیونکہ آپ (مرزا قادیانی) مسیح موعود نہ تھے۔ اس لئے قدرت کا تصرف آپ کو حج کرنے سے مانع رہا۔ پس مسیحیت مرزا قابل قبول نہیں اور یہ عذر سراسر مردود ہے۔
مرزائی عذر نمبر ٣
تیسرا عذر مرزائی دوستوں کی جانب سے یہ پیش کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی صحت درست نہیں تھی اور آپ ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ بیمار پر حج فرض نہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔
تردید : مرزا قادیانی سے خدا کا وعدہ تھا کہ میں تجھے تمام آفات سے بچاؤں گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں۔ ”براہین احمدیہ میں ایک یہ بھی پیشین گوئی ہے۔ ”یعصمک اللہ من عنده ولو لم يعصمك من الناس“ یعنی اے (مرزا قادیانی) خدا تجھے تمام آفات سے بچائے گا۔ اگرچہ لوگ نہیں چاہیں گے کہ تو آفات سے بچ جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٢)
پھر دوسری جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے۔ ”ایک دفعہ بباعث مرض ذیابیطس جو عرصہ بیس سال سے مجھے دامن گیر ہے۔ آنکھوں کی بصارت کی نسبت بہت اندیشہ ہوا۔ کیونکہ ایسے امراض میں نزول الماء موتیا بند کا سخت خطرہ ہوتا ہے۔ تب خدا نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنی اس وحی سے تسلی اور اطمینان اور سکینت بخشی اور وہ وحی یہ ہے۔ ’نزلت الرحمة على ثلث العين وعلى الآخرین“ یعنی تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی۔ ایک آنکھیں اور دو اور عضو۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩)
پھر جناب مرزا یوں رقمطراز ہیں۔ ”مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اب میری حالت بالکل تالیف وتصنیف کے قابل نہیں رہی اور ایسی کمزوری کہ گویا بدن میں روح نہیں تھی۔ اس حالت میں مجھے الہام ہوا۔ ’ترد اليك انوار الشباب“ یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کئے گئے۔“ (لطف یہ کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس الہام کے بعد میں نے دہلی میں بڑے دھوم دھام سے شادی کی اور کئی ایک اولاد بھی ہوئی۔ مؤلف)
(حقیقت الوحی ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩)
٣٦
حضرات! اور مرزائی دوستو! یہ الہامات اس قدر قوی اور مستقل نظر آئے ہیں کہ تاویل کی گنجائش تک نہیں۔ ان الہامات کے باوجود مرزا قادیانی کا ایک اور الہام ان الفاظ میں ہے۔
’’میں ہر ایک خبیث مرض سے تجھے (مرزا قادیانی) محفوظ رکھوں گا۔‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
مرزائی دوستو! دیکھتے ہو کس تواتر سے تمہارے آقا کی درستی صحت کی نسبت الہام نازل ہو رہے تھے۔ جب یہ صورت موجود ہے تو پھر اس قسم کے دلائل اور حقائق کو پس پشت ڈال کر یہ امر کب قابل تسلیم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی بیمار تھے اور بوجہ بیماری کے ادائے فریضہ حج سے قاصر نہیں بلکہ محروم رہے۔
دوستو! سوچو تو سہی کہ مرزا قادیانی کی صحت کا ذمہ خداوند کریم خود عرش بریں پر لے رہا ہے کہ میں کوئی خبیث مرض تیرے نزدیک نہ آنے دوں گا اور تجھے تمام آفات ارضی و سماوی سے محفوظ رکھوں گا۔ یہاں تک کہ خدا نے بعض عضو کا نام تک بتا دیا ہے کہ اس عضو کو ہر ایک آفات سے محفوظ رکھوں گا۔ صرف دو اعضاء ایسے تھے جن کا نام اللہ میاں نے نہ بتایا۔ (بقول مرزا قادیانی) یا اگر بتایا بھی ہو تو کسی خاص مصلحت یا باعث حیاء اسے مرزا قادیانی نے ظاہر نہ کیا ہو۔ واللہ اعلم!
مگر خیر لفظ (آخرین) سے ہی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وہ اعضاء وہی ہوں گے جن کا تعلق ذیابیطس جیسے خبیث و موذی مرض سے تھا۔ بہرصورت یہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مرزا قادیانی کی صحت کا ذمہ خداوند تعالیٰ نے بطور ٹھیکہ کے لیا ہوا تھا۔ مگر افسوس باوجود اس کے بھی مرزا قادیانی حج نہ کر سکے اور آج مرید یا امتی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مرزا قادیانی بیمار تھے۔ اس لئے حج نہ کر سکے۔
مرزائی دوستو! کیا خدا نے مرزا قادیانی سے غلط وعدہ کیا تھا۔ کم از کم وہ الہام ہی بتا دو جس میں خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات متعلقہ کو منسوخ قرار دیا ہو۔ ورنہ لوگ کہیں گے؎
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
جناب مرزا قادیانی در حقیقت بیمار تھے اور ان کو مندرجہ ذیل امراض بقول مرزا قادیانی
٣٧
اور ان کو امراض لاحق تھے۔ (١) مراق۔ (٢) ذیابیطس۔ (٣) اسہال۔ (٤) دوران سر۔ (٥) کثرت پیشاب۔ (٦) ہسٹریا۔ (٧) کمی خواب۔ (٨) تشنج قلب۔ (٩) بدہضمی۔ (١٠) درد سر۔ (١١) ضعف اعصاب۔ (١٢) حافظہ اچھا نہیں۔ (١٣) مرزا قادیانی دائم المریض تھے۔ (اخبار بدر مورخہ ٧/ جون ١٩٠٦ء ص ٥، حقیقت الوحی ص ٣٤٢، ٣٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨، ریویو آف ریلیجنز ماہ اگست ١٩٢٣ء ص ٦، ٩، ریویو ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦، ریویو ماہ اپریل ١٩٢٥ء، ج ٢٤ ش ٤ ص ٤٥، کتاب منظور الہی ص ٣٤٨، سیرت المہدی ج ١ ص ٣، نسیم دعوت ص ٧١ حاشیہ)
چونکہ مرزا قادیانی مذکورہ امراض کے مریض تھے۔ اس لئے مرزائی حضرات کو واقعی اچھا موقع مل گیا ہے کہ ان امراض کی وجہ سے مرزا قادیانی حج نہ کر سکے۔ اس بات کا کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کی صحت کا ذمہ دار خدا تھا تو مرزا قادیانی بقول خود ان موذی اور خبیث امراض کے شکار کیوں بنے؟ اس کا جواب ہمارے ذمہ ہے۔
باادب عرض ہے کہ جب رسول کریمﷺ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ مسیح موعود ضرور حج کرے گا اور مرزا قادیانی بھی اس حدیث کے مصداق ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں تاویل اور استثنیٰ کی قطعاً گنجائش نہیں۔ بلکہ یہ خبر اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور مسیح کو ضرور حج کرنا ہوگا۔
ناظرین کرام! مسیح موعود کی تو فی الحقیقت یہی شرط تھی۔ مگر آپ (مرزا قادیانی) چونکہ در حقیقت مسیح موعود نہ تھے اور نہ خدا نے آپ کو مسیح بنا کر بھیجا اور نہ مسیح کی بعثت کا یہ طریقہ تھا۔ نہ آپ اس حدیث کے مطابق تھے۔ اس واسطے خدا کی حکمت نے یہ تقاضا کیا کہ آپ کو بیمار کر کے مشہور نشان مسیح موعود (حج) سے روکا جائے۔ تاکہ دنیا آپ کے دھوکہ کا شکار نہ ہو۔ پس ثابت ہوا کہ آپ خالص پنجابی مسیح تھے اور خدا نے اپنی خاص حکمت کے ماتحت مرزا قادیانی رئیس قادیان کو حج جیسے عظیم الشان نشان سے محروم رکھا۔
مرزائی دوستو! سنبھل کر پاؤں رکھنا میکدہ میں شیخ جی صاحب۔
فصیح احمد بہاری!
٭٭٭٭٭٭٭٭
٤٨
خاتم کے فدائیان کراچی
ذیابیطس۔ (٣) اسہال۔ (٤) دوران سر۔ ب۔ (٨) تشنج قلب۔ (٩) بدہضمی۔ (١٠) درد (١٣) مرزا قادیانی دائم المرض تھے۔ (اخبار خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨، ریویو آف ریلیجنز ماہ اگست یل ١٩٢٥ء، ج ٢٤ ش ٤ ص ٤٥، کتاب منظور الہی
ض تھے۔ اس لئے مرزائی حضرات کو واقعی انی حج نہ کر سکے۔ اس بات کا کوئی مضائقہ لذمہ دار خدا تھا تو مرزا قادیانی بقول خود ان ب ہمارے ذمہ ہے۔ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ مسیح موعود ضرور حج ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ہری معنوں پر محمول ہے اور مسیح کو ضرور حج
کی شرط تھی۔ مگر آپ (مرزا قادیانی) چونکہ بجا اور نہ مسیح کی بعثت کا یہ طریقہ تھا۔ نہ ت نے یہ تقاضا کیا کہ آپ کو بیمار کر کے ب کے دھوکہ کا شکار نہ ہو۔ پس ثابت ہوا کے ماتحت مرزا قادیانی رئیس قادیان کو
قاسمی صاحب۔ مانہ کہتے ہیں فصیح احمد بہاری!
صلی اللہ علیہ وسلم
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سب سے آخری نبی
خدمات مرزا
سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تمہید!
انجمن اصلاح المسلمین عرصہ سے مرزائیت کے رد میں تبلیغی خدمات انجام دے رہی ہے اور عرصہ سے اشتہارات وغیرہ بھی شائع کرتی رہتی ہے۔ مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ مرزائیت کے رد میں امدادی حصہ لیں۔
اس رسالہ کی اشاعت کی غرض وغایت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہر ایک شخص بیک نگاہ دیکھ سکے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال والہامات وغیرہ آپس میں کس قدر متضاد ہیں اور اسے قادیانی لٹریچر کی چھان بین میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا پڑے۔ جس شخص کا کلام جسے وہ خدا کی طرف منسوب کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ آپس میں متضاد ہو۔ وہ قرآن حکیم کے فرمان کے مطابق صادق نہیں ٹھہر سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”افلا يتدبرون القرآن ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً“
پس ہم کو اسی اصول پر مرزا قادیانی کے اقوال کو پرکھنا چاہئے اور اس بحث میں نہ پڑنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے یا کھلا ہے اور انبیاء آسکتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہ سعی لاحاصل ہوگی اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ جس شخص کے اقوال کا کچھ اعتبار نہ ہو۔ آج ایک بات کہی، کل عین اس کے برخلاف کیا، وہ بھی خدا کا فرستادہ ہو سکتا ہے؟ یہ ایک ایسی سیدھی بات ہے جو ہر ایک کے فہم میں آسکتی ہے اور اس کے سمجھنے کے لئے کسی منطق یا فلسفہ کی ضرورت نہیں۔
اس رسالہ میں ہم نے مرزا قادیانی کے وہ اقوال بھی تھوڑے سے جمع کر دیئے ہیں۔ جہاں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ علانیہ جھوٹ بولا ہے۔ اپنے تئیں دوسرے انبیاء سے افضل قرار دیا ہے اور دیگر خلاف شریعت باتوں کا اظہار کیا ہے۔ خدا کرے یہ مختصر رسالہ گمراہوں کے لئے موجب ہدایت ہو۔
خاکسار: محمد ادریس، سیکرٹری انجمن اصلاح المسلمین بھوجلہ پہاڑی دہلی!
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی توہین کی
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) میں ہے: ”ہر ایک مسلمان نے مجھ کو قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی ہے۔ مگر زانیہ عورتوں کی اولاد نے مجھ کو قبول نہیں کیا۔“
٢
(انوار الاسلا
تصدیق کر کے ہماری ار اور وہ حلال زادہ نہیں
(نجم الہدی
بدتر ہیں۔ ہمارے دشم سرور کائنات اور
(انوار خلافت
احمد کے بعد ہے وہ آنحضرت ﷺ اور۔ (مسلمانو حضر شریف میں لکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی آنحضرت ﷺ
(الم
گوئیاں ہیں۔ ” حقیقی مفہوم کھلا
(ا
ابن مریم اور ستر باغ کے دابۃ الارض بیان میں کچھ تعجب کی
ظہور میں آم
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) میں ہے۔ ”جو شخص ہماری پیش گوئی آتھم کی
تصدیق کر کے ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) میں ہے۔ ”ہمارے دشمنوں کی عورتیں کتیوں سے
بدتر ہیں۔ ہمارے دشمن جنگل کے سور ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔“
سرور کائنات اور خلیفہ قادیان
(انوار خلافت ص ٣٤) میں ہے۔ ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه
احمد“ کے مصداق مرزا قادیانی ہیں، پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ اس پیش گوئی کے مصداق مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ کوئی اور۔ (مسلمانو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت ﷺ کی خبر دے رہے ہیں اور آگے اسی قرآن شریف میں لکھتا ہے کہ جب وہ آ گیا) تو کہا کافروں نے یہ صریح جادو ہے اس سے زیادہ اور توہین آنحضرت ﷺ کی کیا ہو سکتی ہے۔ مسلمانو! سوچ کر جواب دو ایسے لوگوں سے پرہیز کرو۔
آنحضرت ﷺ کی توہین
(الفضل مورخہ ٢٧؍ مئی ١٩٣٠ء، ج ١٧ ش ١٠٣ ص ٩) میں ہے۔ ”قرآن میں بعض ایسی پیش
گوئیاں ہیں۔ جن کا حقیقی مفہوم رسول اللہ ﷺ پر بھی نہیں کھلا۔ (مرزائیو! سچ بتاؤ مرزا قادیانی پر حقیقی مفہوم کھلا یا نہیں۔ اگر کھلا تو مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے افضل ہو گئے)“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٧٣، خزائن ج ٣ ص ٢٧٤) میں ہے۔ ”اگر آنحضرت ﷺ پر
ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی کیفیت کھلی اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہہ اور امور متأولہ کے طرز بیان میں جہاں غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے۔ اجمالی طور سے سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠) میں ہے۔ ”کیونکہ پیش گوئی کے سمجھنے میں قبل اس کے کہ پیش گوئی
ظہور میں آوے۔ بعض اوقات نبیوں نے بھی غلطی کھائی ہے۔ پھر اگر صحابی نے غلطی کھائی تو
٣
قادیانی کے دعوٰی کی آڑ کراچی
کون سے بڑے تعجب کی بات ہے۔ ہمارے رسول خدا ﷺ کی فراست اور فہم تمام امت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے۔ اگر ہمارے مسلمان بھائی جلدی سے جوش میں نہ آ جائیں تو میرا یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کی فراست کے برابر نہیں۔ مگر پھر بھی بعض پیشین گوئیوں کی نسبت آنحضرت ﷺ نے اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی۔“ (کیا کوئی قادیانی اتنی جرأت رکھتا ہے کہ وہ صحیح حدیث سے ثابت کرے جہاں آنحضرت ﷺ نے اقرار کیا ہو اور اگر نہیں دکھا سکتے تو یقیناً مسلمانو تم سمجھ لو کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کی تذلیل کی ہے ) اور مرزا غلام احمد قادیانی کاذب تھے۔
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں ہے۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ مجھے بتایا گیا ہے کہ تیری خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔
سردار دو جہاں کی توہین، مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے
(حقیقت الوحی ص ٤٦) میں ہے۔ ”قادیان تمام دنیا کی بستیوں کی ام (ماں) ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جاوے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا یا نہیں۔“
اب حج کا مقام صرف قادیان ہے
(ملخص از برکات خلافت ص ٥) میں ہے۔ ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) میں ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں
٤
بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو
( ضمیمہ انجام آتھم
دادیاں زنا کار اور کسی عورت وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ کشتی نوح
شراب نے نقصان پہنچایا۔ بیماری کی وجہ سے یا پرانی عاد
(ازالہ اوہام ص
(اخبار بدر ٩
کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں خواہش مند ہیں۔“
(مگر قرآ
بندوں میں سے ہے۔ تم تو مرزا قادیانی کی
(ضمیمہ
بولنے کی عادت تھی کہ آپ سے کوئی
(ضمیمہ
لئے حضرت مسیح کی عا
(اعجاز اح
نے کاملوں اور راست ب
بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہیں کرتا ۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧٦، خزائن ج ١١ص ٢٩١) میں ہے۔ ’’حضرت مسیح کی تین نانیاں اور دادیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ آپ کا خاندان بھی پاک اور مطہر تھا جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔‘‘
(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ص ٧١) میں ہے۔ ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ص ١٨٠) میں ہے۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(اخبار بدر ٩ مئی) میں ہے۔ ’’ایک دفعہ حضرت مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آکر دنیا میں کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘
(مگر قرآن میں خدا فرماتا ہے کہ مسیح دین و دنیا میں عزت والا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہے۔ اب قادیانیو تم کو اختیار ہے کہ قرآن کریم کی بات مانو یا مرزا قادیانی کی؟ مگر تم تو مرزا قادیانی ہی کی بات مانو گے) تم کو قرآن مجید سے کیا غرض ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ص ٢٨٩) میں ہے۔ ’’یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘ ’’عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ نمبر ٣ منسلک کتاب تریاق القلوب) میں ہے۔ ’’اور چونکہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس لئے حضرت مسیح کی عادت کا رنگ مجھ میں پایا جانا ضروری ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ص ١٤٩) میں ہے۔ ’’خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔‘‘
٥
مرزا! یہ مضمون کس پر صادق آتا ہے۔ سوچ کر جواب دینا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی توہین
(درثمین ص ١٧١)
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں ہے۔ ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
مرزا! یہ عبارتیں دونوں مرزا قادیانی کی ہیں۔ دوسری عبارت مرزا قادیانی پر کس خوبی سے چسپاں ہو رہی ہے۔ کیا اب بھی تم مرزا قادیانی کو نہ چھوڑو گے۔
مرزا قادیانی کا نبوت کا دعویٰ
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١١) میں ہے۔ ”میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ نبی اور رسول ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور سے نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہیں معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں ہے۔ ”اس امت میں بھی میں ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) میں ہے۔ ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف انہی معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) میں ہے۔ ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ حدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔“
٦
(مرزا قادیانی کا خط ایڈیٹر کے حکم کے موافق نبی ہوں اور جس انکار کر سکتا ہوں۔“
حضرت ابو بکر صدیق پر فضیلت
(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا نے جواب دیا کہ وہ بعض انبیاء سے
مرزا قادیانی کا نہ ماننے والا
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میر ہو سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩ شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ جسے ما پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں
(دافع البلاء ص ١١ حمایت الاسلام کتنی ہی وفادا دعائیں خدا کے ہاں مقبول
(مجموعہ اش تیری بیعت میں داخل جہنمی ہے۔“
غیر احمدی، ہندو اور (ملائکۃ اللہ ص
(مرزا قادیانی کا خط ایڈیٹر اخبار عام کے نام مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء) میں ہے۔ ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور جس حالت میں خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔“
حضرت ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت
(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) میں ہے۔ ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ بعض انبیاء سے بھی بہتر ہے۔“
مرزا قادیانی کا نہ ماننے والا کافر ہے
(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں ہے۔ ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میں ہے۔ ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ جسے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢) میں ہے۔ ”میاں شمس الدین سیکرٹری انجمن حمایت الاسلام کتنی ہی دعاء کرلیں۔ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اس لئے کہ وہ کافر ہیں اور کافروں کی دعائیں خدا کے ہاں مقبول نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥) میں ہے۔ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
غیر احمدی، ہندو اور عیسائیوں کی طرح کافر ہیں
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦) میں ہے۔ ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً حضرت مسیح
٧
موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے ۔ جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر تم سے اچھے کافر رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔ (اے مسلمانو! کیا اب بھی تم احمدیوں کے جلسوں میں شریک ہوا کرو گے سوچ کر جواب دینا)“
کسی مسلمان کا جنازہ مت پڑھو
(انوار خلافت ص٩٣) میں ہے ۔ ”قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے۔ لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں ۔ پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ (قادیانیو! ہمت کون سی ہے۔ ذرا دکھانا اور اگر نہ دکھا سکو تو شرمندہ ہو جانا)
غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ مت پڑھو
(انوار خلافت ص٩٣) میں ہے۔ ”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ یہی نہیں پڑھنا چاہئے ۔ (اے مسلمانو! تمہارے شیر خوار بچے بھی قادیانیوں کے نزدیک مسلمان نہیں) ۔“
مرزا قادیانی کا افتراء مجدد الف ثانیؒ پر
(حقیقت الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦) میں ہے۔ مرزا قادیانی حضرت مجدد الف ثانی کے مکتوبات میں سے ایک عبارت کا ترجمہ نقل کرتے ہیں ۔ جو بعینہ درج ہے۔ ”اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“
کیا کوئی قادیانی اتنی ہمت رکھتا ہے کہ اصل کتاب میں سے یہ لفظ دکھائے اور اگر نہ دکھا سکے اور قیامت تک نہیں دکھا سکتا تو کم از کم مرزا قادیانی کو جھوٹا تو مانے۔
اور ہم پبلک کے فائدے کے لئے اور قادیانیوں کے دھوکہ سے بچنے کے لئے اصل کتاب میں سے عبارت پیش کرتے ہیں۔
(مکتوبات امام ربانی جلد ثانی ص٩٩، مکتوبات ٥) میں ہے۔ ترجمہ: حق تعالیٰ سے کلام دو بدو
٨
ہونا مخصوص بانبیاء ہے۔ یہ نعمت بعض متبعین کو بطور وراثت میسر ہوتی ہے اور اگر بکثرت ہو تو محدثیت سے موسوم ہوتی ہے۔ جیسے کہ عمر فاروقؓ۔
مرزا قادیانی کا افتراء امام بخاریؒ پر
(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں ہے۔ ”صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخر زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدی“ اب سوچو کہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ (کیا کوئی قادیانی اس حدیث کو صحیح بخاری میں دکھا سکتا ہے) ہم چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی مرزائی قیامت تک مرزا قادیانی کے چہرے سے اس جھوٹ کو نہیں مٹا سکتا۔ اگر ہمت ہے تو میدان میں آئیے اور اپنے گرو کے چہرہ سے اس جھوٹ کے دھبہ کو مٹائیے۔
مرزا قادیانی کا جھوٹ
مرزا قادیانی کا تیسرا افتراء
”چونکہ عبداللہ آتھم ایک انسان کو خدا مانتا ہے اور رسول کریم ﷺ کو بدزبانی سے یاد کرتا ہے۔ اس لئے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ وہ پندرہ ماہ کی عرصہ میں مرجائے گا۔ اگر اس میعاد میں نہ مرے تو میں کاذب اور جھوٹا ہوں۔“ (خدا کی شان دیکھئے عبداللہ آتھم پندرہ ماہ کی میعاد میں نہ مرا)
(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ١٠٨) میں ہے۔ اب مرزا قادیانی نے ایک نئی تراشی ”میری پیش گوئی میں تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں مرجائے گا۔ کیا وہ میری زندگی میں نہیں مرا۔ اگر پیش گوئی سچی نہیں نکلی تو مجھے دکھاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔“ مرزائیو! کیا مسیح موعود کے لئے جھوٹ بولنا بھی ضروری ہے؟ ہے کوئی مرزائی جو اس عبارت کو اصل پیش گوئی میں سے دکھا کر اپنے گرو کی پیشانی سے جھوٹ کے داغ کو مٹائے۔
مرزا قادیانی کا چوتھا جھوٹ
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں ہے۔ ”قرآن شریف میں بلکہ بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔ پھر حاشیہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی کتابوں میں موجود ہے۔“ (زکریا ١٢، ١٤، انجیل متی ٢٤:٨، مکاشفات یوحنا ص ١٣)
٩
جھوٹ نمبر ١ کا جواب
یہ قرآن میں نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ مرزائیو! اگر ہمت ہے تو قرآن میں دکھاؤ اور مرزا کے چہرہ پر سے جھوٹ کا دھبہ مٹاؤ۔
جھوٹ نمبر ٢ کتاب زکریا نبی ١٤ آیت ١٢
کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ اگر مرزائیو! سچے ہو تو دکھاؤ۔
جھوٹ نمبر ٣، انجیل متی باب ٢٤ آیت ٨
کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ مسلمانو! تم قادیانیوں سے مطالبہ کرو کہ یہ حوالے دکھاؤ اور قرآن کریم پر جو اتہام لگایا ہے۔ اسے صاف کرو اور ان لوگوں سے بچو جو شخص قرآن مجید میں اتہام لگاوے۔ کیا وہ مجدد یا مسیح یا نبی ہو سکتا ہے۔ مسلمانو! خدارا ایسے لوگوں سے بچو اور لوگوں کو بچاؤ۔
مرزا قادیانی کا پانچواں جھوٹ
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں ہے۔ ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو یہ ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ وہ کاذب ہے، مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘
نمبر ٣: مولوی غلام دستگیر کی کتاب دور نہیں۔ مدت سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو کس دلیری سے لکھتا ہے۔ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے پہلے مرے گا۔
اے مسلمانو! کیا آپ مطالبہ کریں گے کہ ان دونوں مولوی صاحبان نے اپنی اپنی کتابوں میں کہاں لکھا ہے۔ دکھاؤ؟ قادیانی حضرات قیامت تک نہیں دکھا سکتے اور اگر انہوں نے دکھا دیا تو میں سو روپے انعام دینے کو تیار ہوں۔ ورنہ وہ ابھی کہہ دیں کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے اور انہوں نے اتہام لگایا ہے۔
مرزا قادیانی کا جھوٹ
(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) میں ہے۔ ’’اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ اگر پیش گوئی پورا ہونے کے گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں تو ساٹھ لاکھ
١٠
سے بھی زیادہ ہوں گے۔ میرے لئے ظاہر کئے گئے کھڑے کئے جائیں تو دنیا (تریاق القلوب ص انگریزی کی تائید اور حمایت بارے اس قدر کتابیں لکھی پچاس الماریاں ان سے بھر میں رکھ دیں گے) (الحکم مورخہ ٧ کے لئے یہ اصل تقویٰ اور نظر نہ آوے۔ دنیا اس کو باتیں مرزا قادیانی نے ا اشتہارات اور کتابیں ان دونوں قولوں میں سے (چشمہ معرفت کوئی جھوٹا ثابت ہو مرزا قادیانی عا
آپ نے معلوم پڑتی ، جیسا کہ ایسی مرزا خاتمہ
سے بھی زیادہ ہوں گے۔ مجھے قسم ہے خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے ہیں اور میری تائید میں ظہور میں آئے ہیں۔ اگر ان کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا کہ اس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو ۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) میں ہے۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں جمع کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“ (قادیانیو! وہ رسائل اور کتابیں بھیج دو ہم ان کو ایک الماری میں رکھ دیں گے )
(الحکم مورخہ ٧ جولائی ١٩٠٥ء) میں ہے۔ ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ اصل تقویٰ اور طہارت قائم ہو اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آوے۔ دنیا اس کو بھول جاوے۔ خدائے واحد کی عبادت ہو ۔“ ( قادیانیو! کیا یہ دونوں باتیں مرزا قادیانی نے پوری کیں، کیا کسر صلیب کی) بلکہ انہوں نے اور مضبوط کر دی یعنی اتنے اشتہارات اور کتابیں انگریزی اطاعت کے بارے میں لکھے کہ پچاس الماریاں بھی ناکافی ہیں تو ان دونوں قولوں میں سے کون سا قول سچا ہے اور کون سا غلط ہے۔
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) میں ہے۔ ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس کا اعتبار نہیں رہتا ۔“
مرزا قادیانی عالم الغیب تھے
”علم غیب پر مجھے اس طرح قابو حاصل ہے۔ جس طرح سوار کو گھوڑے پر ہوتا ہے۔“
(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)
مسلمانو! سچ بتاؤ۔ اب مرزا قادیانی میں اور خدا تعالیٰ میں کیا فرق رہا۔ تو کیوں نہ آپ نے معلوم کر لیا کہ آتھم پندرہ ماہ کے بعد مرے گا۔ آپ کو ٦ ستمبر کو تاریخی ذلت نہ اٹھانی پڑتی ، جیسا کہ شاعر کہتا ہے۔
سارے الہام بھول جاویں گے
خاتمہ ہوئے گا نبوت کا
پھر فرشتہ کبھی نہ آویں گے
(نقول الہامات مرزا)
١١
دیگر انبیاء پر فضیلت
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢) میں ہے۔ ”اور خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی اس سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“ وہ نشان غالباً محمدی بیگم کی پیش گوئی اور آتھم کی پیش گوئی وغیرہ وغیرہ ہوں گے۔
مرزا قادیانی کے الہامات
”ایک دانہ کس کس نے کھایا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢١)
”اس کتے کا آخری دم ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٠)
”وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٥)
”بُلا نازل یا حادث یا“
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٢)
”گیارہ دن یا گیارہ ہفتہ یا“
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٦)
”بہتر ہوگا اور شادی کر لیں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٢)
”میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٥)
”لاہور میں ایک بے شرم ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦)
”ایلی ایلی لما سبقنی ایلی ایلی اوس۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٣٦)
”ایک دم میں دم رخصت ہوا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)
”ہفتہ کی آمدنی ہونے والی ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٦)
”١٣، ٥، ٣٨، ٧، ٤٤، ١٧، ٣٤، ١١، ١١، ١٧، ١٧، ٧٤، ١٧، ١٥، ١٢، ٢١، ٢٨، ٧،“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٧)
”پیٹ پھٹ گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
”کبھی معدہ کے ورم سے بھی خلل ہو جاتی ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠)
کیا ایسے ہی الہام وغیرہ آپ کو خداوند تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی اصلاح کے لئے ہوتے ہیں۔ نہ معلوم ایسے الہامات سے مخلوق کو کیا فائدہ ہوگا۔ مرزائیو! یہی خصوصیات مرزا قادیانی کی ہیں۔ جن پر تم نے اپنے ایمان کو ختم کیا ہے۔ لعنت!
١٢
خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
آئینہ کمالات مرزا
سیکرٹری دارالاشاعت رحمانی مونگیر
بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”نحمد اللہ العلے العظیم ونصلی علی رسولہ الکریم“
یہ خاکسار دردمندان اسلام سے عرض کرتا ہے کہ اس وقت میں مذہب الٰہی اسلام پر ہر طرف سے یورشیں ہو رہی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرووں نے بظاہر دین اسلام کو مان کر بہت کچھ بیخ کنی کی اور کر رہے ہیں اور بہت سے عوام ناواقف اور بعض تعلیم یافتہ حضرات ان کے فریب میں آگئے اور بعض انہیں کلمہ گو خیال کر کے ان سے جھگڑا کرنا فضول سمجھتے ہیں۔ مگر یہ ناواقفی کا سبب ہے۔ اگر یہ حضرات مرزا قادیانی کی واقعی حالت کو معلوم کرتے تو ہرگز ایسا نہ کہتے۔ مرزا قادیانی کو دین اسلام سے یا کسی دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلام کا اقرار کرنا صرف اس غرض سے ہے کہ مسلمانوں کے سوا کسی مذہب کے لوگوں نے انہیں نہیں مانا۔ وہ تو اعلانیہ ایسی باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مخالفین اسلام ہمارے مذہب پر اعتراض کریں۔ اس کی تشریح پہلے فیصلہ آسمانی کے تینوں حصوں میں کی گئی ہے۔ دوسری شہادت آسمانی سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ایک رسالہ حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ چھپا ہے۔ اس میں صاف طور سے مرزا قادیانی کی اس حالت کو دکھایا ہے۔ اس کی تہ تک پہنچنے کے لئے تو زیادہ نظر اور غور کی ضرورت ہے۔ ہمیں تو یہ تعجب ہے کہ فیصلہ آسمانی حصہ اوّل و دوم کو مشتہر ہوئے عرصہ ہو گیا۔ اس میں کس کس طرح سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور نہایت دعویٰ سے کہا ہے کہ اس کا کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکتا اور ”بفحوائے الحق یعلو ولا یعلیٰ“ غلبہ حقانیت کا ایسا ظہور ہوا کہ تمام دنیا کے مرزائی اب تک جواب سے عاجز ہیں۔ مگر ارشاد خداوندی ”ختم اللہ علے قلوبھم“ کی صداقت بخوبی ثابت ہو رہی ہے کہ بعض ذی علم بھی اس اعلانیہ گمراہی سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ خیال کیا جائے کہ فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں ان کی اس الہام کا جھوٹا ہونا قطعی اور یقینی طور سے ثابت کیا گیا ہے۔ جس کے سچے ہونے پر مرزا قادیانی کو ایسا ہی ایمان تھا۔ جیسے خدا کی توحید اور حضرت سرور انبیاء علیہم السلام کی رسالت پر، اور پھر لطف یہ کہ اس کے کاذب ہونے پر جس قدر عذرات مرزا قادیانی نے اور ان کے پیروؤں نے پیش کئے تھے۔ ان سب کا نہایت معقول اور مدلل جواب دیا گیا۔
اب صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہیں۔ مگر اس اعلانیہ جھوٹ کو چھوڑتے نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ صرف ایک الہام ہی جھوٹا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی وجہ سے ٢٢ خبریں مرزا قادیانی کی جھوٹی ہوئیں۔
(فیصلہ ج١ ص٣٩)
٢
اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے ذلیل اور روسیاہ ہوئے۔
(فیصلہ ج ١ ص ٤٤)
مگر مہر بدہاں ہیں۔ کچھ جواب نہیں دیتے۔ آسمانی شہادت کا غل مچایا تھا اور اکثر رسالوں میں اس کا ذکر کیا اور ان کے مرید مولوی فخریہ کہتے پھرتے تھے کہ اب تو چاند گہن اور سورج گہن ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی کی صداقت میں کیا شبہ رہا۔ جب رسالہ شہادت آسمانی لکھ کر مرزا قادیانی کے کذب کا معائنہ کرا دیا گیا اور یہ معائنہ متعدد طریقے سے کرایا گیا۔
- ١...... پانچ طریقوں سے اس روایت کو غیر معتبر ثابت کیا۔ جس کی بنیاد پر مرزا قادیانی نے
اپنی آسمانی شہادت ثابت کرنا چاہی تھی۔
- ٢...... اگلے بزرگوں کے ایسے چھ رسالے پیش کئے گئے۔ جن میں امام مہدی کی علامات کی
حدیثیں لکھی ہیں۔ ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ بلکہ ان کے برعکس پایا گیا۔
- ٣...... حدیث کا مطلب بالکل غلط بیان کیا۔
- ٤...... حدیث میں اعلانیہ تحریف کی اور اپنی طرف سے ان میں قیدیں بڑھائیں۔
- ٥...... ان کی سب باتوں کو مان کر بھی انہیں جھوٹا ثابت کیا۔ مگر مرزائیوں کی عقل و فہم پر ایسا
پردہ پڑا ہے کہ صداقت کا آفتاب انہیں نہیں سوجھتا۔ افسوس ، اب راقم الحروف ان کی خیر خواہی دوسرے طریقے سے کرتا ہے اور مرزا قادیانی کی حالت کو مختصر طریقے سے دکھانا چاہتا ہے۔
خانقاہ رحمانیہ سے بغرض ہدایت دو ورقہ مضمون بھی نکلتا تھا۔ جس کا نام صحیفہ محمدیہ تھا۔ اس کے پانچ نمبروں کو کسی قدر بیشی و کمی کر کے اس رسالہ میں جمع کرتا ہوں۔ اس میں دراصل ٥ مضمون ہیں۔ پہلا یہ کہ مرزا قادیانی کے الہامات جھوٹے تھے اور ایسے معرکہ کے الہام جھوٹے ہوئے۔ جس سے ان کی بڑی ذلت ہوئی۔ دوسرا یہ کہ مرزا قادیانی کے کلام سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے قلب میں انبیاء علیہم السلام کی کچھ عظمت نہ تھی اور جناب رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی صرف مسلمانوں کے فریب دینے کی غرض سے تھی۔ کیونکہ ان کی بے انتہاء کوشش کے بعد بھی مسلمانوں کے سوا کسی دوسرے مذہب والے نے انہیں نہیں مانا۔ اب اگر حضرت سرور انبیاء علیہم السلام کی اس قدر مدح سرائی اور دعوٰیٰ پیروی کا نہ کرتے تو مسلمان بھی انہیں نہ مانتے۔ ان دونوں مضمون میں جھوٹے الہاموں کے علاوہ انکے فریب بھی ظاہر کئے ہیں۔ جن سے کمال حیرت ہوتی ہے کہ ایسا بڑا دعوٰیٰ اور یہ حالت افسوس !
٣
تیسرے مضمون میں چند طالبین حق کے وہ خواب ہیں۔ جنہوں نے طلب حق کی غرض سے مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے استخارہ کیا اور خواب میں ان کی حالت معلوم ہوئی۔ اس کے لکھنے کی ضرورت یہ ہوئی کہ مرزائی حضرات نے اکثر کہا کہ اگر مرزا قادیانی کی صداقت معلوم کرنا چاہتے ہو تو استخارہ کرو۔ بہت لوگوں نے ایسا کیا اور انہیں صداقت معلوم ہوئی۔ مگر صحیفہ محمدیہ نمبر ٣ سے اس بیان کی اصلی حالت بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ان خوابوں سے جو پہلے مرزا قادیانی کو مان چکے تھے اور پھر انہیں خیال ہوا اور خواب میں ان کی حالت دیکھی۔ وہ نہایت ہی اعتبار کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ راہِ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین! چوتھے مضمون میں قادیانی فرشتہ کے زبانِ قلم سے خلیفہ قادیان کی معزولی اور مرزا قادیانی کے دس جھوٹ بیان ہوئے ہیں۔ پانچویں مضمون میں مرزائیوں کے صدر انجمن کے مناظرہ میں نہایت فاش شکست کا ذکر ہے۔ صحیفہ محمدیہ کا پہلا مضمون!
مسیح قادیانی کے جھوٹے الہامات و غلط دعوے اور نامراد دعائیں
بہی خواہانِ امتِ محمدیہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوؤں اور غلط الہامات کے بیان میں بہت رسالے لکھے ہیں۔ جن کی فہرست بھی طبع ہو کر شائع ہو چکی ہے۔ میں چند رسالوں سے انتخاب کر کے ان کے جھوٹ، فریب اور غلطیوں کی تعداد ناظرین کے رو برو پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ کر کے ان کی حالت معلوم کریں۔
فیصلہ آسمانی حصہ اوّل بمع تتمہ
اس میں مرزا قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کا جھوٹ ہونا ثابت کیا ہے۔ ١٥٩ جھوٹ، فریب اور غلطیاں ان کی دکھائی ہیں۔
فیصلہ آسمانی حصہ دوم
اس میں ٦٩ جھوٹ، فریب اور غلطیاں مرزا قادیانی کی دکھائی ہیں اور ان کے متعدد اقراروں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔
فیصلہ آسمانی حصہ سوم
اس میں ٩٠ جھوٹ، فریب اور غلطیاں مرزا قادیانی کی لکھی گئی ہیں اور منکوحہ آسمانی
٤
والی پیشین گوئی کے جھوٹے ہو وجوہ سے نہایت لاجواب طری
دوسری شہادت آسمانی
اس میں مرزا قادی فریب اور غلطیاں ان کی دکھا
ہدیہ عثمانیہ
اس میں ١٧ جھو ہے۔ ایک ہمدرد اسلام مول یہ چھوٹے چھو کی دکھائی گئی ہے اور ایک جلدوں میں ہے اور مرزا اس میں کئی سو جھوٹ قیاس کر لیں۔
بھائیو!
نہیں رہتا اور جس کو کیا تامل ہو سکتا امام، بلکہ نبی مان سخت الزام لگا موجود مانتے ہو
جھوٹا کہنے جھوٹا ہونا تو ایسے جھوٹ کہ جواب نہیں دے
والی پیشین گوئی کے جھوٹے ہونے پر جو مرزا قادیانی نے باتیں بنائی ہیں۔ ان کا غلط ہونا متعدد وجوہ سے نہایت لاجواب طریقوں سے بیان کیا ہے۔
دوسری شہادت آسمانی
اس میں مرزا قادیانی کے آسمانی شہادت کا محض غلط ہونا ثابت کیا ہے۔ ٤٥ جھوٹ، فریب اور غلطیاں ان کی دکھائی ہیں۔
ہدیہ عثمانیہ
اس میں ٧ جھوٹ مرزا قادیانی کے لکھے ہیں اور خواجہ کمال کا اعلانیہ جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔ ایک ہمدرد اسلام مولوی عبدالغفار خان صاحب مرحوم نے اسے خوب مشتہر کیا ہے۔
یہ چھوٹے چھوٹے رسالے ہیں۔ جن میں اس قدر تعداد جھوٹوں، فریبوں اور غلطیوں کی دکھائی گئی ہے اور ایک جو بڑی کتاب ہے۔ جس کا نام ”افادۃ الافہام“ ہے۔ یہ کتاب بڑی دو جلدوں میں ہے اور مرزا قادیانی کی مایہ فخر کتاب ”ازالۃ الاوہام“ کا نہایت شافی جواب ہے۔ اس میں کئی سو جھوٹ دکھائے ہیں۔ اس کا شمار میں نے نہیں کیا۔ ناظرین ان چھوٹے رسالوں پر قیاس کرلیں۔
بھائیو! غور کرو کہ اگر کسی کا ایک جھوٹ ثابت ہو جائے تو پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جس کے اس قدر جھوٹ ثابت کر دیئے جائیں۔ اسے جھوٹوں کا سردار کہنے میں آپ کو کیا تامل ہو سکتا ہے۔ مگر مجھے ان پڑھے ہوئے لوگوں کی عقل پر افسوس ہے کہ ایسے شخص کو مجدد، امام، بلکہ نبی مانتے ہیں اور قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت پیش کر کے خدا اور رسول کے کلام پر سخت الزام لگاتے ہیں اور ایسی صریح بات کو نہیں سمجھتے اور خواجہ کمال اور ان کے پیرو ایسے شخص کو مسیح موجود مانتے ہیں اور لوگوں کے سامنے اپنے مرزائی ہونے سے صریح انکار کرتے ہیں۔
اے جماعت احمدیہ تم اس پر نظر نہیں کرتے اور اپنے بہی خواہوں کو ایسا ہی مکذب اور جھوٹا کہتے ہو۔ جیسا انبیائے صادقین کے مکذب گزرے ہیں۔ افسوس ہم نے تو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث سے ثابت کر دیا اور اس قدر کثیر التعداد ان کے علانیہ جھوٹ دکھائے اور ایسے جھوٹ کہ اگر تمام مرزائی جماعت مل کر زور لگائے تو ہم کامل تحدی کے ساتھ کہتے ہیں کہ جواب نہیں دے سکتی اور ہرگز نہیں دے سکتی اور ہم اپنی حقانیت اور صداقت ثابت کرنے کے لئے
٥
ہر طرح تیار ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم ہمارے سامنے ہرگز نہیں آسکتے اور اپنے مرشد کی صداقت ثابت نہیں کر سکتے۔ ”ولو کان بعضہم لبعض ظہیراً“ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا میں سچے نبی کا کوئی مکذب ایسا نہیں کر سکا جو ہم نے کر کے دکھا دیا۔ صرف زبانی جھوٹا اور ساحر کہتے رہے اور اگر کسی نے اپنی حماقت سے کوئی اعتراض کیا ہے تو اس کا کافی جواب دیا گیا ہے۔ اگر کسی کو ہمارے خلاف دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔ ہم تو علاوہ قرآن وحدیث کے مرزا کے اقراروں سے، ان کے اعلانیہ واقعات سے، زمانے کی تاریخ سے ان کا جھوٹا ہونا دکھا رہے ہیں۔ جن کی آنکھیں ہوں، وہ دیکھیں اور اپنی جانوں پر رحم کر کے اس جھوٹ اور فریب سے بچیں۔
اب میں اس اعلان میں مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں اور غلط اقوال کا نمونہ دکھاتا ہوں اور ان کے دو مخالفوں کو پیش کرتا ہوں۔ جنہوں نے انتہاء درجہ کی مخالفت کی اور انجام کار ان کے مخالف ہی کامیاب رہے اور مرزا قادیانی کف افسوس ملتے ہوئے اور اپنے مخالفوں کو کامیاب دیکھتے ہوئے دنیا سے نامراد گئے۔ سب سے زیادہ مشہور اور سخت مخالف دو صاحب ہیں۔ ایک ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اور دوسرے مولوی فاضل مولوی ثناء اللہ صاحب جن کا لقب فاتح قادیان ہے۔ یہ وہ مخالف ہیں۔ جن کی مخالفت سے مرزا قادیانی نے عاجز ہو کر آخری فیصلہ شائع کیا اور اسی فیصلہ نے ان کے کذب کا فیصلہ کر دیا اور ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے اور نہایت عاجزی کی دعاء ان کے مراد کے موافق دربار الہی میں سنی نہیں گئی اور وہ نامراد رہے اور ان کا الہام ”اجیب کل دعائک“ بھی محض غلط ثابت ہوا۔ اس کی تفصیل (ہدیہ عثمانیہ ص ٢٣ سے ٣٠) تک لائق دید ہے۔
پہلے مخالف ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ہیں جو بیس برس تک مرزا قادیانی کے بڑے مخلص مرید رہے اور جان و مال سے ہر طرح مرزا قادیانی کی مدد کرتے رہے۔ آخر میں ان کی حالت کا تجربہ اور مشاہدہ کر کے بمقتضائے حق پرستی ان کے مخالف ہوئے اور سخت مخالف ہوئے اور متعدد رسالے ان کی حالت کے بیان میں لکھ کر شائع کئے۔ ان کا ذکر (ہدیہ عثمانیہ ص ٣١) وغیرہ میں کیا گیا ہے۔ مگر یہاں مرزا قادیانی کے متعدد اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ جن سے ان کے جھوٹے ہونے کے علاوہ مخالف کے روبرو ان کی پریشانی اور عاجزی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ:
- ١...... ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٠٦ء کے آخر میں تمام جماعت احمدیہ
کے لئے اعلان دیا ہے۔ وہ ملاحظہ ہو۔
٦
’’چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا۔ نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور ان باتوں سے جو خدا نے ہم پر ظاہر کیں۔ منہ پھیر لیا۔ بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کئے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نکل نہیں سکتے۔ (اس کے بعد لکھا ہے) مجھے اس نے دغاباز، حرام خوار، مکار، فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے۔ (پھر لکھا ہے) لیکن یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں امید نہیں رکھتا کہ خدا ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑے گا۔ جو مرید ہو کر اور مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے۔ (آخر میں لکھا ہے) اب ان باتوں کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا اور خدا کی شہادت کا منتظر ہوں اور اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں اور اس اشارہ پر ختم کرتا ہوں۔ ”انما اشكوا بثي وحزنى الى الله واعلم من الله ما لا تعلمون“
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود از قادیان)
اس تحریر میں مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی کمال دشمنی اور نہایت سخت کلامی بیان کر کے بہت عاجزی سے کہتے ہیں کہ میں اپنے صدمہ اور غم کی شکایت اللہ ہی سے کرتا ہوں اور یہ امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اسے دنیا میں بغیر مواخذہ نہ چھوڑے گا۔ اب اس پر غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی اپنے سخت مخالف کے لئے کس عاجزی اور التجاء سے دربار الٰہی میں عرض کر رہے ہیں اور اس کے امیدوار ہیں کہ ہماری دشمنی اور ہماری تکلیف دہی کا مواخذہ ہمارے دشمن سے لیا جائے اور یہ بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ بدلہ لیا جائے گا۔ یہ تو ان کی خواہش اور تمنا تھی۔ دوسرے قول میں اس تمنا کے پورا ہونے کا الہام بیان کرتے ہیں اور رسالہ (چشمہ معرفت ص، خزائن ج٢٣ ص٣٣٧) میں لکھتے ہیں۔
- ٢...... ”آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور
وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی ہی میں ٤ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیشین گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔“
- ٣...... حقیقت الوحی میں حمد ونعت کے بعد عنوان قائم کیا ہے۔ ”خدا سچے کا حامی
٧
ہو۔ (اس کے نیچے لکھتے ہیں) ”اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہوکر سخت مخالف ہوگئے ہیں اور اپنے رسالہ میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے۔“ اس کے بعد مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی اور اپنی پیشین گوئی نقل کرتے ہیں۔
”میاں عبدالحکیم خاص صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشین گوئی۔ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہام ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی مسرف ہے، کذاب ہے اور عیار ہے، صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔ اس کے مقابل پر وہ پیشین گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔“ (یہ تو اصل کتاب کی عبارت ہے۔ اب اس کا حاشیہ بھی ملاحظہ ہو۔ جس میں اس مضمون کی توضیح ہے)
”یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرے کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر اور خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے۔ جو خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے۔“
اب حیدر آبادی مرزائی اور عموماً مسیحی جماعت فرمائے کہ اب سلامتی کا شہزادہ کون قرار پایا اور ذلت کی موت کسے نصیب ہوئی۔ آپ کے مسیح تو اپنے سخت دشمن کے سامنے اس کی پیشین گوئی کے مطابق ہلاک ہوگئے اور عالم برزخ پہنچے ہوئے۔ انہیں آٹھ برس ہوئے اور جس کے لئے وہ بددعا کرتے تھے۔ وہ تو اس وقت تک بخیر و خوبی بیٹھے ہوئے۔ تصانیف کر رہے ہیں اور آپ کے مرشد کے دجل و کذب کے اظہار میں کتابیں مشتہر کر رہے ہیں۔ پھر کیا اس مشاہدہ کے بعد بھی آپ کو اس میں کچھ عذر ہو سکتا ہے؟ کہ آپ کے مرزا قادیانی خدا کے خاص لوگوں میں نہیں تھے۔ خدا نے انہیں سلامتی کا شہزادہ ہرگز نہیں فرمایا۔ بلکہ مرزا قادیانی کے قول کے بموجب ان دونوں لقب کے مستحق ان کے دشمن ڈاکٹر صاحب ہیں۔ کیونکہ انہیں ذلت کی موت نہیں ہوئی اور
٨
اگر مرزا قادیانی خدا کے خاص بندے موت سے مرتے تو ان کے قول کے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نہ خدا کے جھوٹے اور مفتری تھے۔ محض جھوٹی
یہاں میں نے مرزا قادیانی اپنے مخالف کے متعدد اقوال نقل کئے تھے اور اپنی پیشین گوئی پر انہیں نہایت ذکر کر کے مخالف کو ڈراتے ہیں۔ مگر دیتے تھے۔ مگر الحمد للہ خدا نے اس
٣........ اب میں کے ص ٥٠٤ سے نقل کرتا ہوں
”١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء ہے اور عیار ہے، صادق کے سامنے الہام کیسا سچا ہوا)
مرزا قادیانی نے اشتہار شائع کر دیا اور اس اشتہار کمال دلیری کے ساتھ یہ بلکہ خود عبدالحکیم خان پر ذلت اور لعنت کی موت
یہ اور ان کی نہایت نہایت صفائی سے کی تفصیل رسالہ جماعت کے مرشد اپنے مخالف
اگر مرزا قادیانی خدا کے خاص بندوں میں ہوتے اور پھر وہ اپنے دشمن کے سامنے اس ذلت کی موت سے مرتے تو ان کے قول کے بموجب دنیا تباہ ہو جاتی۔ مگر دنیا تو تباہ نہیں ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نہ خدا کے خاص بندے تھے اور نہ سلامتی کے شہزادے، بلکہ بالیقین جھوٹے اور مفتری تھے۔ محض جھوٹی باتوں کو خدا کی طرف سے بتایا کرتے تھے۔
یہاں میں نے مرزا قادیانی کے متعدد اقوال نقل کئے۔ تاکہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی اپنے مخالف کے متعدد اقوال نقل کئے تاکہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی اپنے مخالف سے سخت پریشان تھے اور اپنی پیشین گوئی پر انہیں نہایت وثوق ہے۔ اس لئے بار بار اپنے متعدد رسالوں میں اس کا ذکر کر کے مخالف کو ڈراتے ہیں۔ مگر وہ ان کا وثوق محض خیالی تھا۔ یا افتراء کر کے مسلمانوں کو فریب دیتے تھے۔ مگر الحمد للہ خدا نے اس فریب کو دنیا پر ظاہر کر دیا۔
٤...... اب میں ایک قول ڈاکٹر صاحب کا اور مرزا قادیانی کا رسالہ اعلان الحق کے ص ٥٠٤ سے نقل کرتا ہوں وہ بھی ملاحظہ کیا جائے۔ لکھتے ہیں: ”١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً بتلایا۔ مرزا مسرف ہے، کذاب ہے اور عیار ہے، صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ۔“ (یہ الہام کیسا سچا ہوا)
مرزا قادیانی نے ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء کو کمال بے باکی کے ساتھ اس کے مقابل مباہلہ کا اشتہار شائع کر دیا اور اس اشتہار کو اپنے و نیز بہت سے اردو اخبارات میں شائع کرا دیا۔ اس میں کمال دلیری کے ساتھ یہ ظاہر کیا کہ: ”میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔ کوئی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔ بلکہ خود عبدالحکیم خان میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہو جائے گا۔ یہ کبھی نہ ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں کہ عبدالحکیم خان کی پیشین گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔“
یہاں مرزا قادیانی نے اپنے لئے فیصلہ کر دیا کہ وہ ذلت اور لعنت کی موت سے مرے اور ان کی نہایت پختہ پیشین گوئی کہ یہ کبھی نہ ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں، نہایت صفائی سے جھوٹی ہوئی۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی پیشین گوئی کی میعاد میں ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل رسالہ اعلان الحق میں اچھی طرح دیکھنا چاہئے۔
جماعت مرزائی خصوصاً مرزا محمود اور خواجہ کمال بھلا کچھ تو انصاف کر کے فرمائیں کہ ان کے مرشد اپنے مخالف کے مقابل میں کیسے ذلیل ہوئے اور کیسی لعنت کی موت سے ان کے سامنے
٩
ہلاک ہوئے اور کیسے صریح جھوٹے اور مفتری ثابت ہوئے۔ اب تمہیں ان کے جھوٹا ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ مدعی نبوت کی اگر ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہو جائے تو وہ مطلقاً جھوٹا ہے اور میں نے تو اس بیان میں پانچ پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت کر دیں۔ اب اگر مرزا قادیانی کا دجل اور کذب کچھ اور دیکھنا منظور ہے تو ملاحظہ کیجئے۔
مذکورہ پیشین گوئی تو خاص مخاطب کے مقابل میں تھی۔ اب ایک پیشین گوئی تمام مخالفوں کے مقابلے میں بھی مرزا قادیانی کی ہے۔ وہ پیش کی جاتی ہے۔
طاعون کی پیشین گوئی میں مرزا قادیانی کی کارروائی
(دافع البلاء ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں ہندو، عیسائی، مسلمان سب کو مخاطب کر کے پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ اس قول میں صاف طور سے تمام قادیان کے محفوظ رہنے کی پیشین گوئی ہے۔“ اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں سے شہر بنارس اور کلکتہ اور دہلی کے بچانے کو کہا ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ تمام قادیان کے محفوظ رہنے کو کہتے ہیں۔ یہ پیشین گوئی تو اپریل ١٩٠٢ء میں مشتہر کی۔ اب چونکہ یہ پیشین گوئی صاف تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی کو خیال ہوا کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی ہوئی تو بات بنانے کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔ اس لئے چھ مہینے کے بعد اس پیشین گوئی کو دوسرا لباس پہنا کر مختلف رنگ اس کے بدلے ہیں۔ چنانچہ (کشتی نوح ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٢) میں اس طرح تحریر کرتے ہیں۔ ”اس (یعنی خدا) نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کے چار دیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔“
اب ملاحظہ کیا جائے کہ پہلے قول میں تو پورے قادیان کی نسبت پیشین گوئی تھی۔ اب یہاں ان کے گھر کے چار دیواروں کے اندر محدود ہوگئی۔ مگر دوسری بات یہ اضافہ کی کہ جو کامل پیروی کرے گا اور سچا تقویٰ اختیار کرے گا۔ وہ بھی طاعون سے بچے گا۔ خاص وہ چار دیواری کے اندر ہو یا جہاں ہو۔ مگر اس میں کامل پیروی اور تقویٰ کی ایسی قید لگائی ہے کہ ان کے کسی مرید پر صادق ہی نہیں آسکتی۔ اس لئے جب کوئی ان کا پیرو مرے گا تو کہہ دیں گے یہ کامل پیرو نہ تھا۔ اس کے آٹھ سطر کے بعد لکھتے ہیں۔ ”اس نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھی فرمایا کہ عموماً قادیان میں سخت
١٠
بربادی افگن طاعون نہیں آئے گا۔ جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سرگردانی کے دیوانہ ہو جائیں۔“ (اب ذرا غور سے دیکھئے، پہلی پیشین گوئی کا کس طرح رنگ بدلا ہے) اور ایسی قیدیں لگائی ہیں کہ ان قیدوں کے ساتھ ہندوستان میں کہیں دیکھا اور سنا نہیں گیا۔ اب اگر اس طرح قادیان محفوظ رہا تو مرزا قادیانی کی کون سی کرامت ہوئی۔ اس کے بعد جو انہوں نے اپنی تمام جماعت کے لئے پیشین گوئی کی تھی۔ اس میں قیدیں لگاتے ہیں اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں۔ مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پورے طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو۔ ان پر طاعون وارد ہو سکتی ہے۔
ناظرین! ان شرطوں میں غور کریں۔ خصوصاً آخری جملہ میں جو لائق تماشا ہے۔ یعنی لکھتے ہیں۔ یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو۔ ان پر طاعون وارد ہو سکتی ہے۔ ناظرین اس فریب آمیز شرط کو دیکھیں۔ اگر ایسی شرط کے ساتھ پیشین گوئی قابل توجہ ہو سکتی ہے تو ہر ایک شخص پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ مثلاً میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ اگر ہمارے رسائل حقانیہ جماعت مرزائیہ بنظر انصاف دیکھے تو بالضرور مرزا قادیانی کو کاذب اور مفتری یقین کرلے۔ مگر جس کی نسبت خدا کے علم میں یہ قرار پا گیا ہے کہ یہ ایمان نہ لائے گا اور جہنم میں جائے گا۔ وہ راہ پر نہیں آسکتا۔ دوسری پیشین گوئی یہ کرتا ہوں کہ ہندوستان میں طاعون برابر آتا رہے گا۔ جب تک کہ گروہ مرزائی تائب نہ ہوگا۔ البتہ اگر کوئی وجہ مخفی اللہ کے علم میں ہو تو دفع ہو سکتا ہے۔
مگر اس دراز مدت تک تو ہندوستان میں طاعون کہیں نہیں رہا۔ یہ تو مرزا قادیانی کے دعوٰی ہی کی نحوست ہے۔ خواجہ کمال نے اس طاعون کو امام مہدی کی علامت بتایا ہے۔ مگر کہیں سے اس کا ثبوت نہیں دیا اور انہیں اس کا بھی علم نہیں کہ اس سے پہلے ہندوستان میں طاعون آیا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی کے عہد میں پنجاب سے اس کی ابتداء ہوئی تھی اور حضرت کے صاحبزادے شیخ محمد صادق علیہ الرحمہ نے اس میں انتقال فرمایا تھا۔ اب کیا وجہ ہے کہ خواجہ صاحب انہیں مہدی نہیں کہتے اور مرزا قادیانی کو کہتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اس کے بیان میں مرزا قادیانی نے بہت رنگ بدلے ہیں۔ سب کے بیان میں طول ہے۔ مگر حاصل یہ ہے کہ یہاں مرزا قادیانی نے تین پیشین گوئیاں کی ہیں۔ ایک یہ کہ تمام قادیان بلاشرط محفوظ رہے گا۔ دوسرے یہ کہ ان کے خاص گھر کی حفاظت ہوگی۔ اس بناء پر گھر
11
کے وسیع کرنے کے لئے چندہ کا اعلان (کشتی نوح ص، خزائن ج١٩ ص٨٦) کے آخر میں دیا ہے۔ تیسرے ان کے خاص مریدین محفوظ رہیں گے۔ مگر الحمدللہ! یہ تینوں پیشین گوئیاں بھی غلط ہوئیں اور مرزا قادیانی کذاب، مفتری ثابت ہوئے۔ کیونکہ مارچ و اپریل ١٩٠٤ء میں قادیان میں طاعون آیا اور ٣٨٠٠ کی آبادی میں ٣١٤ آدمی مرے اور ان کے گھر میں ان کے نہایت خاص مرید عبدالکریم سیالکوٹی جو ان میں بالکل فنا تھے۔ وہ بھی ہلاک ہوئے۔ باقی رہی ان کی مخفی وجہ۔ وہ تو ایسی ہوشیاری سے لگائی گئی ہے کہ اگر تمام قادیان طاعون سے صاف ہو جاتا اس وقت بھی مرزا قادیانی پر کوئی الزام نہ آتا۔ اب مسیحی جماعت سرگریباں ہو کر بتائے کہ ان کے مرشد کی صداقت کی دلیلیں ایسی ہی پیشین گوئیاں ہیں؟ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی جس قدر صاف پیشین گوئیاں ہیں۔ وہ سب غلط ہوئیں اور جو مبہم اور گول گول مضمون میں کیں۔ یا اس قسم کی شرطیں لگائیں جیسی بیان ہوئیں۔ وہ ہرگز اس لائق نہیں کہ کوئی فہمیدہ اس طرف توجہ کرے اور انہیں صداقت کا نشان ٹھہرائے۔
ہم پھر آخر میں زور سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کوئی صاف پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ فاتح قادیان مرزا قادیانی کے سامنے سے اعلان دے رہے ہیں۔ مگر اس کی پڑتال کے لئے نہ مرزا قادیانی سامنے آئے اور نہ ان کا مرید کوئی سامنے آتا ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنے تکبر کے جوش میں پیشین گوئی کردی تھی کہ مولوی ثناء اللہ پیشین گوئیاں کے پڑتال کے لئے قادیان نہیں آئیں گے۔ مگر مولوی صاحب خاص اسی غرض کے لئے قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی کو بلایا۔ مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ آئے۔ گھر میں بیہودہ گوئی اور غصہ سے کام لیتے رہے۔ غرضیکہ یہ پیشین گوئی بھی نہایت صاف طور سے جھوٹی ہوئی۔ الہامات مرزا میں اس کی تفصیل دیکھنا چاہئے۔
چونکہ اس کا ذکر آ گیا کہ مرزا قادیانی نے طاعون کی پیشین گوئی کو اپنے مکان کی وسعت کا ذریعہ بنایا تھا اس لئے چندہ کا اشتہار دیا تھا۔ اس لئے اس کی حالت کو صاف طور سے ظاہر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کی درخواست چندہ (برائے توسیع مکان)
”چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں
١٢
سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ چار دیواری کے اندر ہوں گے تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے۔ اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے ہوسکتی ہے۔ دو ہزار تک تیار ہو کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان کے وعدے سے حصہ ملے گا۔ اس رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھ کشتی کے تو ہے۔ مگر آئندہ اس ضرورت پڑی۔“ والسلام
مرزا قادیانی کے بڑے
”برخوردار مرزا نظا تمہارے دعویٰ ہمیشہ سنتا ہوں ہیں۔ مگر افسوس ہے میں تمہارا جو تمہاری نالائقی کا ثبوت ہے ذاتی عیوب سے قطع نظر تمہارا امرتسری کو فی پیشین گوئی سو فی پیشین گوئی ہزار روپیہ سچی کردو تو فی پیشین گوئی ہزا دعوت دیتا ہوں۔ پس ایک قرآن مجید میں اپنے نبی حقوق ادا کرو۔ غریبوں کا بھلا یہ کیا ان
نوح ص، خزائن ج ١٩ص٨٦) کے آخر میں دیا ہے۔ مگر الحمد للہ! یہ تینوں پیشین گوئیاں بھی غلط ہوئیں گئے۔ کیونکہ مارچ واپریل ١٩٠٢ء میں قادیان میں مرے اور ان کے گھر میں ان کے نہایت خاص مرید بھی ہلاک ہوئے۔ باقی رہی ان کی مخفی وجہ۔ وہ تو طوفان طاعون سے صاف ہو جاتا اس وقت بھی جماعت سر بگریباں ہو کر بتائے کہ ان کے مرشد کی اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی جس قدر صاف مبہم اور گول گول مضمون میں کیں۔ یا اس قسم کی شرطیں لکھیں کہ کوئی فہمیدہ اس طرف توجہ کرے اور انہیں
مرزا قادیانی کی کوئی صاف پیشین گوئی پوری نہیں کھلے اعلان دے رہے ہیں۔ مگر اس کی پڑتال کے کوئی سامنے آتا ہے۔
میں پیشین گوئی کر دی تھی کہ مولوی ثناء اللہ پیشین مانگے۔ مگر مولوی صاحب خاص اسی غرض کے لئے قادیانی گھر سے باہر نہ آئے۔ گھر میں بیہودہ گوئی اور بھی نہایت صاف طور سے جھوٹی ہوئی۔ الہامات
قادیانی نے طاعون کی پیشین گوئی کو اپنے مکان کی دیا تھا۔ اس لئے اس کی حالت کو صاف طور سے
لئے توسیع مکان) اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور کی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں
سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے۔ اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہمارے مکان کا ایک جزو ہو سکتی ہے۔ دو ہزار تک تیار ہو سکتی۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا، نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدے سے حصہ ملے گا۔ اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہئے میں نے بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے۔ مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی۔ اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔ ”والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ“ المشتہیر: مرزا غلام احمد قادیانی!
(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ص ٨٦)
مرزا قادیانی کے بڑے بھائی کی طرف سے جواب درخواست چندہ
”برخوردار مرزا غلام احمد قادیانی طال عمرہ، بعد دعاء درازی عمر کے واضح ہو کہ میں تمہارے دعوٰی ہمیشہ سنتا ہوں اور دور دراز تک تمہاری خبر پہنچی ہوئی ہے اور لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ مگر افسوس ہے میں تمہارا بڑا بھائی اور بزرگ ہوں۔ میری طرف تم نے کوئی خاص توجہ نہ کی۔ جو تمہاری نالائقی کا ثبوت ہے۔ آخر میں بھرے دل سے از خود تم کو اطلاع کرتا ہوں کہ میں تمہارے ذاتی عیوب سے قطع نظر تمہاری پیشین گوئیوں کو ایک گوز شتر سمجھتا ہوں۔ تم نے تو مولوی ثناء اللہ امرتسری کو فی پیشین گوئی سو روپیہ دینا کہا تھا۔ جو ان کے آنے پر تم گھر سے بھی نہ نکلے۔ مگر میں تم کو فی پیشین گوئی ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ اگر تم میری پیش کردہ پانچ پیشین گوئیاں بھی مجھے سچی کر دو تو فی پیشین گوئی ہزار روپیہ تم کو دوں گا اور اگر نہ ثابت کر سکو تو صرف تم کو مسلمان ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ پس ایک ہفتہ تک اس دعوت کو جواب بذریعہ اشتہار دینا۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی ﷺ کو بھی حکم فرمایا ہے۔ ”وات ذا القربٰی حقہ“ یعنی قریبوں کے حقوق ادا کرو۔ قریبیوں کا حق دوسروں سے زیادہ ہے۔ بھلا یہ کیا انصاف ہے کہ کشتی نوح کے آخر صفحہ پر تو ہم کو اپنا شریک اور قریبی بتاؤ اور یہ ١٣
کاذب خاتم النبیین کے دعوے دار
ظاہر کرو کہ ہمارے شرکاء مکان دینے کو راضی ہیں۔ دو ہزار روپیہ چندہ جمع کر لیا ہے۔ حالانکہ ہمیں اس کی کوئی خبر بھی نہیں اور نہ ہم دینا چاہتے ہیں۔ ایسے جھوٹ کا بھی کوئی علاج ہے۔ خیر ان باتوں کے ذکر کو تو ایک دفتر چاہئے ۔ جو میں الگ کسی وقت تفصیل سے بیان کروں گا۔ سر دست میں اس اشتہار کے جواب کا منتظر ہوں۔“
(بقیہ مولوی مرزا امام الدین برادر کلاں مرزا غلام احمد از قادیان، مورخہ ١٠/ مارچ ١٩٠٣ء)
ناظرین! اس پیشین گوئی کے متعلق جھوٹا دعویٰ اور صریح فریب تو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ یہاں ان کے مکرم بھائی کی شہادت سے ان کا جھوٹ بھی ثابت ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے بھائی کی راست گفتاری سے ایسے شرمندہ ہوئے کہ ان کے جواب میں اشتہار نہ دے سکے اور اپنی پیشین گوئیوں کو بھی ثابت نہ کر سکے۔ پھر ان کے مرید جھوٹے مبلغ ان کی نبوت ثابت کریں گے۔ جسے خود پیر جی ثابت نہ کر سکے۔
بھائیو! انہیں مرزا قادیانی کے مرید مسلمانوں کو اپنے الہاموں سے ڈرانا چاہتے ہیں اور مرزا قادیانی کے دعوؤں کو ناممکن التردید بتاتے ہیں؟ کیا انہیں اس مختصر مضمون کو دیکھ کر شرم نہ آئے گی؟
اب تمام طالبین حق اور خصوصاً وہ جو غلطی سے فریب میں آکر مرزا قادیانی کو مان گئے تھے اور اب فضل خداوندی نے انہیں اس ہلاکت سے نجات دی ہے۔ وہ اس تحریر کو مرزائیوں کے سرگروہوں پر عموماً اور بھاگلپور اور حیدرآبادی پروفیسر عبد الماجد اور محمد سعید صاحب ان کو خصوصاً پیش کر کے کہیں کہ ان باتوں کا جواب دیجئے ۔ ورنہ اپنے انجام پر نظر کر کے اعلانیہ ہلاکت سے اپنے آپ کو بچائیے۔ یہ کیا غضب ہے کہ اہل حق کی طرف سے تنبیہ پر تنبیہ ہو رہی ہے۔ مگر آپ مہر بدہاں ہیں۔ ابھی مولانا محمد عبد الشکور صاحب و مولانا مرتضی حسن صاحب کی طرف سے مناظرہ کا چیلنج مشتہر ہوا اور محمد سعید وغیرہ دس حیدرآبادیوں کے نام خاص کر بھیجا گیا۔ بھاگلپور میں جابجا مشتہر کیا گیا۔ مگر کوئی منہ سامنے نہیں کرتا۔ مگر اس بے شرمی کو خیال کیجئے کہ میاں خلیل مرزائی کے بیان کا اشتہار دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی ذات پر بحث نہ ہوگی تو پھر دعویٰ کیوں کیا تھا؟
بھائیو! ایسے جھوٹے کی صداقت ثابت کریں گے ۔ جس کا کذب وفریب نہایت
١٤
روشن کر کے دکھایا گیا ہے۔ م طریقہ سے ان کا کاذب ہونا متعدد طریقوں سے ان کے ک موت ان کے سخت مخالفوں کی کا ثبوت تو بیان ہو لیا۔ اب ان میرے اس کلام سے بعض جا کہیں گے کلمہ گو کو خواہ مخواہ دہر یا تعصب کی نہیں ہے۔ تسلی ت معلوم کر کے آپ سے بالیقین نبوت محمدیہ پر ان کے لکچرس کرتے تو یہ خوشحالی انہیں میسر کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔
مسیح قادیان اور
آپ یہ بھی معلو مسلمانوں کے سامنے اعلا نہایت معرکہ کی پیشین گو رکھا ہے۔ فیصلہ آسمانی المرسلین کی مذمت کی ہے سمجھے۔ حقیقت رسائل ا علاوہ سخت مخالف کے مقا ثابت ہوا۔ اس مضمون ملاحظہ کیجئے۔
انبیائے کرام
روشن کر کے دکھایا گیا ہے۔ جس کا معائنہ ناظرین نے ابھی کیا ہوگا۔ پھر یہ بھی تو نہیں کہ ایک دو طریقہ سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا گیا ہو۔ بلکہ اجمالاً اور تفصیلاً ہر طرح سے بہت رسالوں میں متعدد طریقوں سے ان کے کذب کو دکھایا گیا ہے۔ ان کی جھوٹی پیشین گوئیاں ان کی ذلت کی موت ان کے سخت مخالفوں کی کامیابی اور ان کے مقابلہ میں ان کا اقراری کذاب ومفتری ہونے کا ثبوت تو بیان ہولیا۔ اب ان کے لامذہب اور دہریہ ہونے کا بھی اعلانیہ طور سے ملاحظہ کیجئے۔ میرے اس کلام سے بعض برادر اسلام تو متعجب ہوں گے اور بعض تو ناخوش ہو جائیں گے اور کہیں گے کلمہ گو کو خواہ مخواہ دہریہ کہتے ہیں۔ اے بزرگو! اور اے عزیزو! اس عاجز کو کوئی وجہ دشمنی یا تعصب کی نہیں ہے۔ کسی قسم کا اس میں میرا نفع نہیں ہے۔ مگر میں مرزا قادیانی کی واقعی حالت معلوم کر کے آپ سے بالیقین کہتا ہوں کہ ان کا کلمہ پڑھنا ان کی مدح سرائی ان کے نعتیہ اشعار، نبوت محمدیہؐ پر ان کے لیکچر سب مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور تحصیل زر کے لئے ہیں۔ اگر یہ نہ کرتے تو یہ خوشحالی انہیں میسر نہ ہوتی۔ انہیں کوئی مسلمان چندہ نہ دیتا۔ آپ ٹھنڈے دل سے ان کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔
صحیفہ محمدیہ کا دوسرا نمبر
مسیح قادیان اور توہین انبیاء اور ان کے بعض جھوٹ وفریب کا بیان
آپ یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزا قادیانی کچھ ایسے بھولے اور نادان شخص نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے اعلانیہ اپنے دہریہ ہونے کا اقرار کر لیں۔ نہایت روشن طریقے سے ان کی نہایت معرکہ کی پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئی ہیں۔ مگر تمام عمر بیہودہ باتیں بنا کر مریدوں کو راضی رکھا ہے۔ فیصلہ آسمانی کے تینوں حصہ دیکھنا چاہئے۔ اسی طرح مذہب اسلام اور حضرت سید المرسلینؐ کی مذمت کی ہے۔ مگر ایسے پیرایہ سے کہ ان کے مریدین اور ناواقف مسلمان نہیں سمجھے۔ حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ دیکھئے۔ پہلے مضمون میں پیش گوئی کے جھوٹے ہونے کے علاوہ سخت مخالف کے مقابلے میں نہایت ذلیل وخوار ہونا اور پیشین گوئی میں اعلانیہ فریب کرنا ثابت ہوا۔ اس مضمون میں ان کی اندرونی حالت ارشاد خداوندی اور سیرت نبوی کے خلاف ملاحظہ کیجئے۔
انبیاء کرام کو خدائے تعالیٰ مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے اور ان کے اقوال اور
١٥
افعال کی پیروی ١ کی ہدایت کرتا ہے اور ان کے ہدایات اور معجزات ان کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں۔ شریعت محمدیہ میں تمام انبیاء کرام کا ماننا اور ان کی عظمت کرنا اسلامی فرض ہے۔ کوئی سچا مسلمان ان کی توہین کسی طرح نہیں کر سکتا۔ اب جو شخص علانیہ جھوٹ بولے۔ فریب دے، انبیاء کی توہین کرے وہ خدا کا رسول اور مقبول بندہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ فاسق و فاجر ہونے کے علاوہ توہین انبیاء کی وجہ سے اسے مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے۔ مسیح قادیانی نے بہت جھوٹ بولے ہیں۔ انبیاء کی سخت توہین کی ہے۔ اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ نہایت صحیح حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو تاکید فرمایا ہے کہ تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ یونس بن متی سے میں افضل ہوں۔ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ باوجود سرور انبیاء ہونے کے ارشاد فرماتے ہیں کہ یونس علیہ السلام پر بھی مجھ کو فضیلت نہ دو۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ آپ سب انبیاء سے افضل ہیں۔ مگر خاص کسی نبی کا نام لے کر ان پر فضیلت بیان کرنا ایک قسم سے ان کی اہانت ہوتی ہے۔ اس لئے آپ نے ممانعت فرمائی۔ یہ مضمون صحیح بخاری، مسلم میں آیا ہے۔ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگرچہ آپ سرور انبیاء ہیں اور حدیث میں یہ مضمون واقعی حالت بیان کرنے کے لئے آیا ہے۔ مگر خاص نام لے کر فضیلت بیان کرنے میں شائبہ توہین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی خاص نبی کا نام لے کر فضیلت بیان کی جائے تو ممکن ہے کہ کوئی لفظ اس نبی کی شان کے خلاف اس کی زبان سے نکل جائے۔ اس لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے سد باب فرما دیا اور نہایت تاکید سے منع فرمایا کہ میری فضیلت کسی خاص نبی کا نام لے کر بیان نہ کرو۔ مگر مرزا غلام احمد
١ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا“ یعنی خدا کا رسول جو حکم الٰہی تمہیں پہنچائے۔ اسے مانو اور اس پر عمل کرو اور جس بات سے منع کرے اس سے باز رہو۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے کہ: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ“ یعنی اللہ تعالیٰ امت محمدؐ سے فرماتا ہے کہ تمہیں رسول اللہ کے چال چلن اختیار کرنا چاہئے۔ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ نبی جھوٹ نہیں بولتا۔ اگر نبی جھوٹ بولتا تو اس کی پیروی کا حکم نہ ہوتا۔ جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ انسانی عقل بھی اسے نہایت برا سمجھتی ہے اور ایک جھوٹ کے ثابت ہونے سے اس کی تمام باتیں غیر معتبر ہو جاتی ہیں اور شریعت محمدیہؐ نے اس گندہ صفت کو اسلام سے خارج بتایا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو جھوٹ بولے گویا وہ مسلمان نہیں۔
١٦
قادیانی کو چونکہ درحقیقت خدا و جوش کیا تو اس ارشاد نبوی کے صر عیسیٰ
اب حدیث نبوی کے کہ ایک نبی عظیم المرتبت پر اپنی رسول کی نہایت توہین ہوتی ہے جو ہمارے حضور انور کی تعلیم کے م اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک ی حضرت موسیٰ کو سب انبیاء پر فضیلت صحابی کو غصہ آیا اور اس کے طمانچہ پھر دونوں حضور ﷺ کے پاس حا فضیلت موسیٰ کی بیان کر دی۔ ح نبی کی توہین کرنا جائز نہیں ہے بیان نہیں کی۔ بلکہ انتہاء درجہ ک بھلے آدمی کو نہیں دیتا۔ میں ان خ
پادری آتھم سے ب رہے ہیں۔ انہوں نے اس کی اس میں وہ نہ مرا تو پادریوں مددگاروں نے حضرت سرور انبی باعث مرزا قادیانی ہی ہوئ مچاتے نہ ان کی توہین کی نوب علیہ السلام کی نسبت میموں ......ا دیکھا جا
کے ہدایات اور معجزات ان کی صداقت کی دلیل ماننا اور ان کی عظمت کرنا اسلامی فرض ہے۔ کوئی اب جو شخص علانیہ جھوٹ بولے۔ فریب دے، بندہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ فاسق وفاجر ہونے بھی نہیں کہہ سکتے ۔ مسیح قادیانی نے بہت جھوٹ نمونہ ملاحظہ ہو، نہایت صحیح حدیثوں سے ثابت کیا تاکید فرمایا ہے کہ تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ یونس بن کے باوجود سرور انبیاء ہونے کے ارشاد فرماتے مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ آپ سب انبیاء نبی پر فضیلت بیان کرنا ایک قسم سے ان کی اہانت یہ مضمون صحیح بخاری، مسلم میں آیا ہے۔ یہ سمجھ لینا میں یہ مضمون واقعی حالت بیان کرنے کے لئے لانے میں شائبہ توہین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی ممکن ہے کہ کوئی لفظ اس نبی کی شان کے خلاف رسول اللہ ﷺ نے سدباب فرما دیا اور نہایت ہی کا نام لے کر بیان نہ کرو۔ مگر مرزا غلام احمد
م الرسول فخذوه وما نهاكم عنه جائے۔ اسے مانو اور اس پر عمل کرو اور جس بات ارشاد ہے کہ :’لقد كان لكم في رسول الله تا ہے کہ تمہیں رسول اللہ کے چال چلن اختیار کرنا جھوٹ نہیں بولتا۔ اگر نبی جھوٹ بولتا تو اس کی انسانی عقل بھی اسے نہایت برا سمجھتی ہے اور ایک معتبر ہو جاتی ہیں اور شریعت محمدیہؐ نے اس گندہ نے فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ اس نہیں ۔
قادیانی کو چونکہ درحقیقت خدا اور رسول سے واسطہ نہیں ہے۔ اس لئے جب ان کی شان تکبر ہی نے جوش کیا تو اس ارشاد نبوی کے صریح خلاف کہہ دیا۔
اب حدیث نبوی کے حکم کو ملاحظہ کیجئے اور مرزا قادیانی کے اس غیر مہذب کلام کو دیکھئے کہ ایک نبی عظیم المرتبت پر اپنی فضیلت اس متکبرانہ طریقہ سے کرتے ہیں۔ جس سے اس محترم رسول کی نہایت توہین ہوتی ہے۔ مرزائیوں کو اپنے مرشد کی تعلیم پر فخر ہے۔ وہ اسی قسم کی تعلیم ہے جو ہمارے حضور انور کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ مشکوٰۃ میں یہ حدیث موجود ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک یہودی اور صحابی سے اس بات پر لڑائی ہوگئی کہ اس یہودی نے حضرت موسیٰ کو سب انبیاء پر فضیلت دی۔ اس میں ہمارے رسول کریم ﷺ بھی شامل ہو گئے۔ صحابی کو غصہ آیا اور اس کے طمانچہ مارا اور حضرت سید المرسلینؐ کی فضیلت حضرت موسیٰ پر بیان کی۔ پھر دونوں حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور حالت بیان کی۔ حضور ﷺ نے صحابی کو روکا اور ایک فضیلت موسیٰ کی بیان کر دی۔ اس سے نہایت صاف طور سے ظاہر ہوا کہ تحقیقاً اور الزاماً کسی طرح نبی کی توہین کرنا جائز نہیں ہے۔ مگر اس کے بالکل خلاف مرزا قادیانی نے صرف اپنی فضیلت ہی بیان نہیں کی۔ بلکہ انتہاء درجہ کی توہین کی ہے اور ایسی گالیاں دی ہیں کہ کوئی نیک وصالح شخص کسی بھلے آدمی کو نہیں دیتا۔ میں ان کے چند اقوال نقل کرتا ہوں۔ ناظرین ملاحظہ کریں،
پادری آتھم سے چونکہ مرزا قادیانی کا مقابلہ رہا ہے اور اس سے سخت کلامی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کی موت کی پیشین گوئی کی اور جو مدت اس کے مرنے کی بیان کی تھی۔ اس میں وہ نہ مرا تو پادریوں نے مرزا قادیانی کو بہت فضیحت کیا۔ اس میں آتھم کے بعض مددگاروں نے حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں بھی سخت کلمات کہے۔ مگر اس کے باعث مرزا قادیانی ہی ہوئے نہ آتھم کے مقابلہ میں۔ محض غلط اور جھوٹی باتوں کا اس قدر شور و غل مچاتے نہ ان کی توہین کی یہ نوبت پہنچتی۔ اب مرزا قادیانی ان کے مقابلہ میں حضرت یسوع عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتے ہیں۔
- ١...... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
دیکھا جائے کہ کیسا سخت الزام دیتے ہیں اور کسی کتاب اور کسی کے قول کا حوالہ نہیں
١٧
دیتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اپنے خیال کے بموجب تحقق شدہ امر بیان کرتے ہیں اور ایک نبی عظیم المرتبت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہیں جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ یعنی یہ نہیں کہ اتفاقیہ ایک دو جھوٹ بولے ہوں۔ بلکہ جھوٹ بولنے کی انہیں عادت بیان کرتے ہیں۔ خدا جانے اپنی عمر میں کتنے جھوٹ بولے ہوں گے اور پھر اس سے خدائے تعالیٰ پر یہ الزام کہ اس نے ایسے جھوٹے کو اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا۔ یہ وہ الزام ہے کہ جس کی وجہ سے خدا اور رسول کی تمام باتوں سے اعتبار جاتا رہتا ہے اور شریعت الٰہی لائق توجہ نہیں رہتی۔
حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ بدگمانی اس مشہور قول کی بنیاد پر ہے۔ یعنی ”المرء یقیس علیٰ نفسہ“ انسان دوسرے کی حالت کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے۔ یعنی جیسا یہ خود ہے دوسرے کو بھی ویسا ہی سمجھتا ہے۔ مرزا قادیانی کو دعوائے نبوت وامامت ہے اور بالعموم جھوٹ بولنے میں نہایت مشاقی ہے اور بے تأمل اعلانیہ جھوٹ کا انبار لگا دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے بیشمار جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ یہ ان کے لا مذہب ہونے کی پہلی دلیل ہے۔
دوسرا قول اسی (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں۔
- ٢...... ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ بھائیو! مرزا قادیانی کے اس جملہ نے نہایت صفائی سے بتا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ انہوں نے لکھا ہے۔ وہ ان کے نزدیک حق بات ہے۔ صرف الزام ہی نہیں جیسا کہ مرزائی حضرات کہہ رہے ہیں۔ (یہ خوب یاد رہے) یہاں یہ بات بھی لائق یاد رکھنے کے ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ حق بات قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ”واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات“ یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے۔
پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں لکھتے ہیں۔
- ٣...... ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا
ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔“ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزے سے کوئی مریض کسی قسم کا اچھا نہیں ہوا۔ اگر ہوا تو تدبیر اور علاج سے ہوا۔ حق بات یہی ہے۔ یہ قول قرآن مجید کی دوسری آیت کے صریح خلاف ہے۔ پھر صفحہ مذکور میں لکھتے ہیں۔
١٨
- ٤....... ”آپ کے (یعنی حضرت مسیح کے) ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ
نہیں تھا۔“ یہ بھی اسی حق بات کے ذکر میں ہے۔ یعنی پہلے کہہ چکے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اب کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا اور جسے معجزہ کہا گیا وہ حضرت عیسیٰ کا مکرو فریب تھا۔ (نعوذ باللہ) یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جھوٹی اور ناملائم صفات ذمیمہ بیان کئے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کی مہذب گالیاں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں:
- ٥...... آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر
ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی پلید کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی یہ گالیاں اور بدگمانیاں ایک عظیم المرتبت نبی کی نسبت لائق ملاحظہ ہیں اور ان گالیوں کے بعد آخری جملہ میں اپنی دانشمندی اور ذاتی خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ظاہر کر کے مخاطبین کو متنبہ کرتے ہیں کہ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان جو کسبیوں سے اس طرح میل جول رکھے وہ کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔
اب حق پسند حضرات اسے بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ جس طرح نمبر ٤ کے جملہ سے نہایت صاف طور سے معلوم ہوا تھا کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح کی نسبت جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق بات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی طرح اس آخری جملہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ جو کچھ مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں۔ وہ ان کا ذاتی خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسبیوں سے ناجائز میل جول رکھتے تھے اور ان کا حسب و نسب دونوں خراب و نا گفتہ بہ تھا۔ (استغفر اللہ) یہ ان کے دہریہ ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ کوئی مسلمان ایسا خیال نہیں کر سکتا۔
اب ذرا غور کیجئے کہ یہاں مرزا قادیانی نے ایک عظیم المرتبت نبی کو چھ الزام دیئے ہیں۔
- ١...... مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔
- ٢....... حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
١٩
- ٣....... کسی بیمار کو شان نبوت کے فیض سے آپ نے اچھا نہیں کیا۔ بلکہ اگر کوئی اچھا ہوا تو
تدبیر و علاج سے اچھا ہوا۔ ان الزاموں سے بہت بڑھ کر یہ الزام ہے۔
- ٤....... حضرت مسیح مکار و فریبی تھے اور کسی قسم کی خوبی ان میں نہ تھی۔
- ٥....... ان کا خاندان نہایت شرمناک تھا۔
- ٦....... آپ بدچلن اور عیاش تھے۔ (استغفر اللہ)
مرزا قادیانی کا یہ کمال مناظرہ تھا کہ انبیائے کرام کی ایسی بے حرمتی کرنی جانتے تھے۔ (واہ رے جدت) اب ان کے مریدین کہتے ہیں کہ الزاماً ایسا کہا ہے۔ مگر ہم دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی شریعت محمدیہ کے پیرو تھے یا نہ تھے اور اگر تھے تو انہوں نے یہ کبیرہ گناہ کیا۔ کیونکہ شریعت محمدیہ میں یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ بیان ہوا اور اگر کہو کہ مرزا قادیانی جدید شریعت لائے تھے تو وہ شیطانی شریعت ہوگی۔ خدا کی طرف سے ایسی ناپاک شریعت نہیں ہو سکتی۔ ہم مرزائیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ اس بیہودگی کو الزاماً جواب کہتے ہیں۔ اب اگر پادری اس کے جواب میں یہ کہیں کہ اگر یہ الزامات صحیح ہیں تو قرآن مجید جھوٹا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید تو حضرت مسیح علیہ السلام کو ان الزامات سے بری ثابت کر کے انہیں برگزیدہ خدا اور صاحب معجزات بیان کرتا ہے۔ اس لئے اس الزام کا نتیجہ بھی قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کا انکار ہوگا اور اس طریقہ سے بھی مرزا قادیانی کا دلی راز ظاہر ہو جائے گا۔ یعنی مرزا قادیانی درحقیقت کلام خدا اور کلام رسول کو نہیں مانتے۔ بلکہ خدا اور رسول ہی کو نہیں مانتے۔ مگر ظاہر میں بہت سی باتیں بنا کر کسی وقت ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے ان کی دلی حالت ظاہر ہوتی ہے۔ اب قابل تماشہ یہ بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اس قدر گالیاں دے کر (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) میں لکھتے ہیں: ”اور مفسد و مفتری ہے۔ وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ (اس کے بعد مرزا قادیانی کی جدید تحقیق قابل دید ہے) بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ یسوع کے چار بھائی اور بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہن تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
بھائیو! یہ کیسا حضرت مریم پر افتراء اور آیت قرآنی ”لم یمسسنی بشر“ کا انکار ہے۔ باایں ہمہ قرآن شریف پر ایمان کا دعویٰ ہے۔ یہ فریب نہیں تو کیا ہے؟ اس کی شرح دوسرے وقت کی جائے گی۔ اگر کسی مرزائی نے کچھ لکھا۔ اب یہ کہتا ہوں کہ شاید مرزائی شریعت میں نبی
٢٠
قادیانی
ماسبق کو گالیاں دینا اور پھر کسی وقت اس سے انکار کرنا بھی نبوت کے لئے ایک شرط ہوگی۔ الغرض اس بیان سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت جو کچھ مرزا قادیانی نے لکھا ہے وہ انہوں نے اپنے نزدیک حق بات لکھی ہے اور اپنا ذاتی خیال ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ اس کے ضمن میں الزام بھی ہو جائے۔ اس بیان کی پوری تائید رسالہ دافع البلاء کی عبارت سے اچھی طرح ہوتی ہے۔ کیونکہ اس رسالہ کے آخر میں جو مرزا قادیانی نے قرآن مجید سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو حصور ثابت کر کے انہیں عالی مرتبہ ٹھہرایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی الزام لگا کر انہیں کم مرتبہ قرار دیا ہے۔ اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا پادریوں کے الزام کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ اپنی تحقیق اور اپنا دلی خیال بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف سے مدعا ثابت کر رہے ہیں۔ پادریوں کے الزام میں تو قرآن مجید کا حوالہ بیکار ہے۔ ان کی بعینہ عبارت اور اس کا نتیجہ حاشیہ پر دیکھنا چاہئے اور اگر مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی یہ الزامات الزاماً دیتے ہیں تو ان پر یہ الزام ضرور آئے گا کہ وہ نصوص قرآنیہ کے منکر ہیں۔ اس بیان کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ جیسا انہوں نے اپنے بیان سے ظاہر کیا ہے۔ اب اس خیال کے ساتھ انہیں نبی کہنا اور کہیں ان کے نام پر حضرت کا لفظ زیادہ کر دینا صرف عوام کو فریب دینے کی غرض سے ہے اور قرآن مجید کو کلام الٰہی کہنا بھی اسی غرض سے ہے۔
بھائیو! ذرا غور کرو۔ جس کے ہاتھ میں مکر و فریب کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ جس کے چال چلن ایسے ہوں۔ جیسے حضرت مسیح کے مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ وہ نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ نبی کی بڑی شان ہے۔ وہ خلق کے ہادی، گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ اگر وہ خود اعلانیہ گناہوں میں مبتلا ہوں تو ان سے ہدایت نہیں ہو سکتی اور وہ ذات مقدس ایسے فساق کو اپنا برگزیدہ رسول ہرگز نہیں بناتا۔ ایسے بدچال و چلن بیان کر کے انہیں نبی کہنا دہریوں کو مذہب پر مضحکہ کا
١؎ (دافع البلاء ص، خزائن ج١٨ ص٢٢٠) کی عبارت یہ ہے۔ ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔“
٢١
پورا موقع دیتا ہے۔ وہ علانیہ کہیں گے کہ دیکھو ان کا خدا ایسے بدچلن لوگوں کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے۔ اس قسم کی باتیں مرزا قادیانی کی بہت ہیں۔ جو فیصلہ آسمانی وغیرہ میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ باتیں کامل یقین دلاتی ہیں کہ دراصل مرزا قادیانی کا کوئی مذہب نہ تھا اور در پردہ دہریوں کے مؤید تھے۔ مگر مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے بہت کچھ اس کے خلاف اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے اور اپنے اقوال سے انکار کر کے علمائے دین کو مفتری کہا ہے۔ چنانچہ اوپر گذرا۔ اسی طرح حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثناء کی بہت تعریف کی ہے اور کہیں توہین کی ہے۔
اس کے بعد مرزا قادیانی اپنی گالیاں دینے کی وجہ سے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج١١ ص٢٩٢) میں بیان کرتے ہیں کہ: ”پادریوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“ یہ طرز بیان بھی اس کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت جو بیہودہ بیان اور شرمناک حالات بیان کئے ہیں۔ وہ حضرت مسیح کا واقعی حال ہے۔ مگر اس کا بیان واظہار اس وجہ سے ہوا کہ پادری نے ہمارے پیغمبر برحق کو برا کہا۔ اس کا جواب اوپر دیا گیا اور دوسرا جواب یہ ہے۔ وہ تو کافر ہیں۔ حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کو نہیں مانتے۔ اس لئے انہوں نے گالیاں دے کر اسفل السافلین میں اپنی جگہ بنائی۔ مگر ہم تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا سچا رسول مانتے ہیں۔ ہم انہیں گالیاں کیونکر دے سکتے ہیں۔ اسلام تو ہمیں یہ تعلیم کرتا ہے کہ جو انہیں برا کہے۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ یہ صریح چالبازی ہے کہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام کو گالیاں دلوائیں اور پھر دوسرے پیغمبر کے گالیاں دینے کا حیلہ نکالیں۔
اس کے سوا ایک فریب اور ملاحظہ کیجئے۔ جب انہیں خیال ہوا کہ فہمیدہ مسلمان یہ کہیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم پیغمبر مانتے ہیں۔ ان کی تعریف قرآن مجید میں بہت آئی ہے۔ انہیں مرزا قادیانی گالی دیتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے۔ اس کا جواب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٩٣) میں اس طرح دیتے ہیں۔
”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدائے تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا۔ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔“ یعنی ہم نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ وہ پیغمبر نہیں تھے۔ ان کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے۔ مگر یہاں تو وہ مثال صادق آ گئی کہ دروغگو را حافظہ نباشد! کیونکہ یہاں تو لکھتے ہیں کہ یسوع
٢٢
کی خبر قرآن میں نہیں ہے اور انہیں خدا کا رسول کہا ہے ج٣ ص٥٢) میں لکھتے ہیں ”دوسرے مسیح بن مریم اور یسوع ایک السلام اور مسیح ایک ہی بزرگ صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ السلام اور مسیح کا ذکر ہوتا ہے السلام کو گالیاں دینا اور ایسا ناظرین ! اس اس الزام سے بچنے کے جھوٹ ہے جس کا ثبوت بیان کی صداقت پر ایمان پیروی نہ چھوڑیں گے بھائیو ! مرزا انبیاء کی بھی کی ہے۔ ح ص٢١، خزائن ج٩ ص٣٩ ... ......١ ......٢ ......٣ ......٤ ......٥ ......٦
ے بدچلن لوگوں کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا سمانی وغیرہ میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ مذہب نہ تھا اور در پردہ دہریوں کے اس کے خلاف اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے ہے۔ چنانچہ اوپر گزرا۔ اسی طرح ہوگئی توہین کی ہے۔ سے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ نے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں نا۔‘‘ یہ طرز بیان بھی اس کو ظاہر کرتا ت بیان کئے ہیں۔ وہ حضرت مسیح کا لگانے ہمارے پیغمبر برحق کو برا کہا۔ ہیں۔ حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کو لعالمین میں اپنی جگہ بنائی۔ مگر ہم تو گالیاں کیونکر دے سکتے ہیں۔ اسلام انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینا کسی علیہ السلام کو گالیاں دلوائیں اور پھر
یں خیال ہوا کہ فہمیدہ مسلمان یہ کی تعریف قرآن مجید میں بہت آئی جواب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ،
کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں ش تھا۔ جس نے خدائی کا دعویٰ ن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ونکہ یہاں تو لکھتے ہیں کہ یسوع
کی خبر قرآن میں نہیں ہے۔ یعنی قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے اور انہیں خدا کا رسول کہا ہے۔ یسوع کا ذکر نہیں ہے۔ مگر خود ہی اپنے رسالہ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں:۔
”دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ اس کا حاصل یہی ہوا کہ مسیح بن مریم اور یسوع ایک ہی شخص ہے۔ اب مرزائی جماعت بتائے کہ جب یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح ایک ہی بزرگ کا نام ہے تو یہ کہنا کہ یسوع کی خبر قرآن شریف میں نہیں ہے۔ کیسا صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ جب یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح کا ذکر ہونا بعینہ یسوع کا ذکر ہے اور حضرت یسوع کو گالیاں دینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینا اور ایمان کو تباہ کرنا ہے۔
ناظرین! اس کو ملاحظہ کریں کہ پہلے حضرت مسیح کو گالیاں دیں اور بہت کچھ کہا۔ اب اس الزام سے بچنے کے لئے ایک صریح جھوٹ بولتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں۔ یہ وہ جھوٹ ہے جس کا ثبوت ان ہی کے کلام سے ہم نے دکھا دیا۔ کیا اب بھی حضرات مرزائی ہمارے بیان کی صداقت پر ایمان نہ لائیں گے اور ایک صریح جھوٹے اور انبیاء علیہم السلام کے دشمن کی پیروی نہ چھوڑیں گے۔
بھائیو! مرزا قادیانی نے صرف حضرت مسیح علیہ السلام ہی کی بے حرمتی نہیں کی۔ بلکہ اور انبیاء کی بھی کی ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت ان کا قول ملاحظہ کر لیجئے۔ (معیار المذہب ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٤٧٩) میں لکھتے ہیں:۔ یسوع (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے دادا صاحب داؤد نے:
- ١...... تو سارے برے کام کئے۔
- ٢...... ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا۔
- ٣...... اور دلالہ عورت بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا۔
- ٤...... اور اس کو شراب پلائی۔
- ٥...... اور اس سے زنا کیا۔
- ٦...... اور بہت سا مال زنا کاری میں ضائع کیا۔ یہاں مرزا قادیانی حضرت داؤد علیہ السلام
پر نہایت شرمناک چھ الزام قائم کرتے ہیں اور خدا سے نہیں شرماتے۔
٢٣
برادران اسلام! مرزا قادیانی کی اس بے تہذیبی اور زبان درازی اور رسول برحق کی بے حرمتی کو دیکھیں اور خدا کے سچے رسول کی بے حرمتی پر نظر کریں اور خوب دل میں غور کریں کہ جس شخص کے قلم سے نہایت بیباکانہ طور سے ایسی فحش گالیاں اور اس طرح کے شرمناک الزامات ایک رسول خدا کی نسبت نکلیں۔ وہ کس خیال اور کیسے چلن کا آدمی ہو سکتا ہے اور اس کو پیش نظر رکھ کر محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھیں اور اس سے نتیجہ نکالیں کہ اس کی بنیاد کیا ہوئی ہوگی۔ مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
بعض پکے مرزائی یعنی پورے دہریہ قرآن مجید پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضرت داؤد پر یہ الزامات قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ مگر در حقیقت خدا اور رسول پر یہ الزام ہے اور اہل مذہب کو خدا اور رسول سے بدگمان کرنا ہے۔ جب نبی ایسے شنیع افعال کرے جس کو ہر کہہ و مہہ برا کہیں اور کرنے والے کو نہایت برا جانیں تو مخلوق کا ہادی کون ہوگا اور انبیاء کی صداقت پر یقین کیونکر ہو سکے گا۔ جو شخص ایسے شنیع افعال کرے جیسے اوپر مذکور ہوئے۔ پھر اسے جھوٹ بولنے میں کیا تامل ہوگا۔ اپنی عزت و آبرو بڑھانے کے لئے، غرضیکہ قرآن مجید میں ہرگز یہ مضمون نہیں ہے۔ سورہ ص میں حضرت داؤد کا ذکر دیکھو اور تفسیر کبیر میں اس کی شرح ملاحظہ کرو۔
توہین کا نمونہ کچھ اور ملاحظہ کیجئے۔ تحریر سابق سے معلوم کیا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت بیان کی ہے۔ مگر (ازالہ اوہام ص ١٦، خزائن ج ٣ ص ١١٠) میں انہی کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ”حضرت یحییٰ نے یہودیوں کے بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان شرارتوں اور کارستانیوں سے اپنا سر کٹوایا۔“ حضرت یحییٰ علیہ السلام ایک عظیم المرتبت خدا کے رسول ہیں اور ایسے عالی مرتبہ رسول ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خاص طور سے سورہ مریم کے پہلے رکوع میں نو خوبیاں بیان کی ہیں۔ جن کی تفصیل تفسیر کبیر میں اچھی طرح کی ہے۔ ان کی نسبت اوّل تو یہ الزام دیا کہ انہوں نے یہود سے بدزبانی کی۔ دوسرے یہ کہ آپ کی شہادت کو نہایت حقارت اور بے ادبی سے یہ کہا کہ : ”اپنا سر کٹوایا۔“ نہایت معمولی شخص جو کسی بد چلنی کی وجہ سے مارا جائے۔ اس کی نسبت یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی ایک نہایت عالی مرتبہ نبی کی نسبت وہ جملہ لکھ رہے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ صاف شہادت دیتے ہیں کہ ان کے قلب میں انبیاء کی عظمت بالکل نہیں ہے اور اگر کسی مقام پر کوئی تعظیمی لفظ کہا ہے۔ وہ محض مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے کہا ہے۔ اس بیان سے تین انبیاء کی توہین ثابت ہوئی۔ حضرت
٢٤
عیسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یحییٰ علیہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہے۔ خصوصاً حضور سرور انبیاء علیہ بیان کرتے ہیں۔ ”لولاک لما خـ قرآن مجید کے یقینی کہتے ہیں) یہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان انبیاء، صلحاء عام انسان سب تیرے نبوت ولایت ملے۔ اگر تو نہ ہوتا مغل زادہ تمام انبیاء کرام اور خصـ کیسے غضب کی بات ہے کہ ایک ترانی کے بعد اس کے چیلے مسلمـ کمال پیروی اور ان میں فنا ہو جاـ تعالیٰ سب کو نیک توفیق دے اور اـ
مسیح قادیان کا عالم برزخ
ناظرین! گذشتہ مضـ کے کاذب ہونے کی چار دلیلیں
- ١...... سخت
ناکامی اور ذلت کی موت سے وہ نص یہ ہے۔ ”لا تحسبن ہے کہ ایسا گمان ہرگز نہ کر کہ کی پیشین گوئی سے وعدہ خلاـ جھوٹے تھے۔
- ٢......
عیسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یحییٰ علیہم السلام۔ اب میں ان کا ایک الہام بیان کرتا ہوں۔ جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سرور انبیاء علیہم السلام تک تمام انبیاء کی کمال توہین کی ہے۔ خصوصاً حضور سرور انبیاء علیہ السلام کی (حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) میں وہ اپنا الہام بیان کرتے ہیں۔ ”لولاک لما خلقت الافلاک“ یعنی مرزا قادیانی اپنی قطعی وحی (جسے وہ مثل قرآن مجید کے یقینی کہتے ہیں) یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین پیدا نہ کرتا۔ اس کا حال یہ ہوا کہ تمام جہان یعنی اولیاء، انبیاء، صلحاء عام انسان سب تیرے طفیلی ہیں۔ تیری وجہ سے انبیاء، اولیاء کا وجود ہوا اور ان کو کمالات نبوت ولایت ملے۔ اگر تو نہ ہوتا تو نہ کوئی ولی ہوتا نہ نبی ہوتا۔ اب اس توہین کی انتہاء ہے کہ ایک مغل زادہ تمام انبیاء کرام اور خصوصاً سرور دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنا طفیلی کہے۔ مسلمانو! کیسے غضب کی بات ہے کہ ایک چمار بھیک مانگنے والا شہنشاہ کو اپنا طفیلی بتائے اور اس دعویٰ اور لن ترانی کے بعد اس کے چیلے مسلمانوں کو یہ فریب دیں کہ مرزا قادیانی کو یہ کمالات رسول اللہ ﷺ کی کمال پیروی اور ان میں فنا ہو جانے کی وجہ سے ملے ہیں۔ مسلمانو! ایسے دہریہ فریبی سے بچو۔ اللہ تعالیٰ سب کو نیک توفیق دے اور اس اعلانیہ فریب سے بچائے۔
صحیفہ محمدیہ کا تیسرا مضمون
مسیح قادیان کا عالم برزخ میں واویلا
ناظرین! گذشتہ مضامین میں اگر غور کیا ہوگا تو بالضرور معلوم فرمایا ہوگا کہ مسیح قادیان کے کاذب ہونے کی چار دلیلیں اس میں بیان ہوئی ہیں۔
- ١...... سخت دشمن کے مقابلہ کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اور مرزا قادیانی نہایت
ناکامی اور ذلت کی موت سے مرے اور قرآن مجید کے نص قطعی کے بموجب جھوٹی ثابت ہوئے۔
وہ نص یہ ہے۔ ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ایسا گمان ہرگز نہ کر کہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے وعدہ خلافی ثابت ہوئی تو یقینی طور سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔
- ٢...... بعض پیشین گوئیوں میں فریب آمیز شرطیں لگائی ہیں۔
٢٥
- ٣....... تمام انبیاء کی سخت توہین کی۔ جو اسلام کے بالکل خلاف ہے۔
- ٤....... اس کے بیان میں جھوٹ بولا ، صریح فریب دیا۔ ان تمام نمبروں کو اچھی
طرح پھر دیکھئے جو میں کہہ رہا ہوں۔ یہ بالکل صحیح ہے اور یہ ایسی محکم باتیں ہیں کہ کوئی مرزائی ان کا جواب ہرگز نہیں دے سکتا۔ اگر کسی کو دعویٰ ہو تو سامنے آئے۔
اب میں ان دلائل اور براہین کے علاوہ جو لکھے جاچکے ہیں۔ ایک جدید بات پیش کرتا ہوں۔ جس سے مرزا قادیانی کی حالت کو گویا معائنہ ہو جائے گا اور قادیانیوں کو اس پر ایمان لانا ہوگا۔ کیونکہ مرزائی حضرات اپنے احباب سے پہلے بہت کہا کرتے تھے کہ مرزا قادیانی کے باب میں استخارہ کرو۔ خواب میں مرزا قادیانی کی صداقت معلوم ہو جائے گی۔ اس لئے میں بعض نیک حضرات کے چند خواب نقل کرتا ہوں۔ جس سے مسیح قادیانی کی پوری حالت معلوم ہوتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جنہیں راستی اور طلب حق سے کچھ بھی واسطہ ہے وہ اس حالت کو معلوم کر کے مرزائی جماعت سے ضرور علیحدہ ہوں گے اور ان کو امام اور مجدد ماننے سے توبہ کریں گے۔ وہ عبرتناک خواب حسب ذیل ہیں۔ جن کو میں محض خیر خواہی کی غرض سے مشتہر کرتا ہوں۔
پہلا خواب
شہر مونگیر میں ماسٹر خدا بخش ایک نہایت ذاکر اور شاغل شخص ہیں۔ معمولی کسب حلال کے بعد وہ اکثر یاد خدا میں مشغول رہتے ہیں اور ہر قسم کے جھگڑوں سے علیحدہ ہیں۔ ان سے اور مونگیر کے حکیم خلیل احمد (قادیانی) سے بڑا ربط تھا۔ ان کے قادیانی ہونے کے بعد کا واقعہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ ایک روز کا واقعہ یہ ہے کہ ہم ان کے مطب میں گئے۔ ہم سے ان کی کچھ مذہبی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ممات کا مسئلہ چھیڑ دیا۔ کچھ دیر تک اس پر گفتگو رہی۔ آخر میں ہمارے ان کے اس بات پر فیصلہ ٹھہرا کہ تم بھی استخارہ کرو اور ہم بھی استخارہ کریں۔ معلوم نہیں انہوں نے استخارہ کیا یا نہیں۔ لیکن ہم نے جو استخارہ کیا تو خواب میں یہ دیکھا کہ حکیم خلیل سؤر چرا رہے ہیں۔ پہلے اس خواب کو ہم نے ان کے بڑے بھائی حکیم سلطان سے کہا اس کے بعد حکیم خلیل سے گذارش کیا اور یہ کہا کہ ہم بلا تعصب حقاً اور ایماناً گذارش کرتے ہیں۔ آپ اس کو مانئے یا نہ مانئے۔ لیکن ہم ایمان سے کہتے ہیں کہ ہم نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ آپ سور چرا رہے ہیں۔ اس پر حکیم خلیل نے کہا کہ ہاں ہم کو بھائی صاحب سے بھی معلوم ہوا تھا۔ یہ کہہ کر چپ ہو گئے۔ ہم نے دیکھا کہ اس وقت اب زیادہ چھیڑ چھاڑ کرنا مصلحت نہیں ہے۔
٢٦
ہم بھی گھر چلے آئے۔ یہ خواب کیسا قادیانی جمع رہتے ہیں اور حکیم صاحب
دوسرا خواب
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ واپسی میں بانکی پور بضرورت ٹھہر ہاتھ میں گوشت کا لوتھڑا لئے کھڑی سور کا ہے۔ ہم نے کہا کہ کیا کر نے کہا کیوں؟ اس نے کہا کہ مرزا پورینی کے بعض لوگوں سے کر دی مرزا قادیانی کی طرف نہ رجحان بھی ملاحظہ کئے جائیں۔
تیسرا خواب
یہ خواب بھی ایک ثقہ نے بفضلہ تعالیٰ چار حج کئے اور رہے۔ ان کا بیان ہے کہ جس زما کر چکے تھے اور ہم اس مسودہ اپنے والد ماجدؒ کی زیارت سے فرمانے لگے کہ تو نے تصویر بنائی نہیں ہے اور میں جانتا ہو دکھانا شروع کئے تو واقعی جو بشکل سور بلا تکلف نمایاں تھی ظاہر ہوتا جاتا ہے۔ مجھ کو میں مشغول ہو گیا اور دوس سے بیان کر دیا۔
ہم بھی گھر چلے آئے۔ یہ خواب کیسا سچا ہوا۔ کیونکہ برابر دیکھا جاتا ہے کہ حکیم خلیل کے پاس اکثر قادیانی جمع رہتے ہیں اور حکیم صاحب گمراہی سے ان کا خوب پیٹ بھرا کرتے ہیں۔
دوسرا خواب
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ہم عبدالعزیز کے نکاح میں الہ آباد گئے تھے۔ وہاں سے واپسی میں بانکی پور بضرورت ٹھہر گئے۔ رات کے وقت خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک عورت ہاتھ میں گوشت کا لوتھڑا لئے کھڑی ہے۔ ہم نے پوچھا کہ یہ گوشت کس چیز کا ہے۔ اس نے کہا سور کا ہے۔ ہم نے کہا کہ کیا کرے گی۔ کہا کہ عبد الماجد (قادیانی) کے منہ پر ماریں گے۔ ہم نے کہا کیوں؟ اس نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کہتا ہے۔ اس خواب کا تذکرہ ہم نے پورنیے کے بعض لوگوں سے کر دیا تھا۔ یہ دونوں خواب تو ایک صالح شخص کے تھے۔ جس کو مرزا قادیانی کی طرف نہ رجحان تھا اور نہ کوئی تعصب اور عناد۔ اب اور بھی چند خواب ہیں وہ بھی ملاحظہ کئے جائیں۔
تیسرا خواب
یہ خواب بھی ایک ثقہ شخص کا ہے۔ یعنی جناب حاجی سید عبدالرحمن صاحب کا جنہوں نے بفضلہ تعالیٰ چار حج کئے اور زمانہ دراز تک مجاورت سے مدینہ طیبہ زاد اللہ شرفہا کے مشرف رہے۔ ان کا بیان ہے کہ جس زمانہ میں مولوی نظیر احسن صاحب رسالہ مسیح کاذب کی تالیف شروع کرچکے تھے اور ہم اس مسودہ کے اجزاء کو صاف کرتے جاتے تھے۔ انہیں دنوں ایک رات کو ہم اپنے والد ماجد کی زیارت سے مشرف ہوئے تو ان کو اپنی جانب سے نہایت برافروختہ پایا اور وہ فرمانے لگے کہ تو نے تصویر بنانا کس سے سیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو کبھی تصویر کسی جاندار کی بنائی نہیں ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ گناہ ہے۔ اس پر انہوں نے اجزائے مسیح کاذب کو کھول کر دکھانا شروع کئے تو واقعی جہاں جہاں مرزا غلام احمد کا نام تھا وہ بالکل نصف صورت گردن تک کی بشکل سور بلا تکلف نمایاں تھی۔ اب جہاں تک ہم ورق الٹتے جاتے ہیں مرزا قادیانی کا نام بشکل سور ظاہر ہوتا جاتا ہے۔ مجھ کو سخت حیرت اور تعجب ہوا اور گھبرا کر آنکھ کھول دی اور جاگ اٹھا اور استغفار میں مشغول ہو گیا اور دوسرے روز صبح کو ہم نے یہ خواب حضرت اقدس عم فیضہم اور دوسرے احباب سے بیان کر دیا۔
٢٧
قادیانی کے نزدیک گمراہ
چوتھا خواب
جس میں حکیم محمد حسین صاحب بہاری اور ان کا خواب ہے۔ اما بعد خدائے وعدہ لاشریک کو واحد اور ہر قلیل و کثیر کا دانا و بینا جان کر محض مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے اپنا واقعہ بیان کرتا ہوں۔ جھوٹ بولنے والے کے لئے جو مواعید ہیں۔ ان کے علاوہ خاص جھوٹے خواب بنانے والے کے لئے جو جو وعیدیں احادیث نبویہ میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی پیش نظر ہیں۔
مجھ کو اپنے خواب پر بفضلہ تعالیٰ اس قدر وثوق ہے کہ اگر کوئی اسے غلط ثابت کر دے تو پانچ سو روپیہ دینے کے علاوہ مرزا قادیانی کی سچائی کا معتقد ہو جاؤں گا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کروں گا۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے۔ ”او کما قال ﷺ“ اس بنا پر گو عذاب وثواب قبر کا حال تو معلوم نہیں ہو سکتا۔ مگر قبر کھولنے سے نعش کا صحیح وسالم رہنا۔ کفن کا بوسیدہ نہ ہونا ، چہرہ پر انوار و برکات کا ہونا۔ یہ تو وہ امور ہیں جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ اگر قبر کھولنے پر مرزا قادیانی ایسے نکلیں تو مشتہر کیا لاکھوں آدمی مرزا قادیانی کو نبی مان کر ان کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ ورنہ اگر صورت دوسری ہے تو پھر مرزائیوں کو بھی توبہ کرنی چاہئے۔ ایک تاریخ مقرر کر کے مرزا محمود قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر کو کھلوا کر مرزا قادیانی کے سچے جھوٹے ہونے کو دکھلائیں اور اگر مرزائی ایسا نہ کریں تو سمجھنے والے سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی کس قدر سچے ہیں اور ان کے ماننے والے ان کو کس قدر مانتے ہیں۔ میں پھر خدائے ذوالجلال کی قسم شرعی کھا کر کہتا ہوں کہ میں سچا ہوں اور جو خواب ذیل میں درج ہے واقعی اسے میں نے دیکھا ہے۔ اس میں کوئی کمی زیادتی نہیں ہے۔
جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود، نبی اللہ، رسول اللہ وغیرہ کے دعوے کر کے خلقت کو اپنی طرف دعوت دی اور نہ ماننے والے کو بے دین، جہنمی، معذب، قابل مواخذہ وغیرہ کہا اور علمائے اسلام نے ان کا نہایت زور سے خلاف کیا میں نے مرزا قادیانی کے اقوال اور تحریری پیشین گوئیاں دیکھیں اور سخت تشویش اور تردد میں رہا کہ الٰہی میں بھی تیرا ایک بندہ ادنیٰ ہوں تو مجھ پر حقیقت حال منکشف فرمادے۔ تا کہ میں صحیح اعتقاد پر قائم رہوں۔ مگر مرزا قادیانی کی حیات تک میری وہی حالت رہی۔ ان کی وفات کے بعد میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ مرزا قادیانی جب قبر میں چھپائے گئے تو نکیرین نے آن کر سوال اسلام پیش کیا۔ مرزا قادیانی نے نکیرین کو بھی فلسفیانہ
٢٨
جواب دیا کہ انبیاء ؑ پر سوال قب سوال قبر جائز نہیں اور مجھ کو یہ مع و ہدایت کے واسطے جاؤں گا۔ ا و بشر اور جملہ مخلوقات کا ہے۔ میر ہیں۔ مطابق اپنے اعمال کے جو جواب کے ہم سے مباحثہ کر کے ا فوراً ملائکہ عذاب مع ہے۔ شیطان کا بندہ ہے جو مجدد کاذبہ سے دنیا میں لوگوں کو گمراہ ودل و دماغ داہنے ہاتھ کو بجز مرزا قادیانی گھبرا کے دائیں با بہت ممنون ہیں اور اپنی دریافت رہے ہم بہت عافیت و چین وا ہماری طرف سے عمدہ کام کر لی ہمارے اختیار سے باہر ہے ہمارے شامل کئے جائیں گے کے ساتھ آپ کو رکھیں گے برادران اسلام کی اطلاع کے حال مقام بیلن بازار مونگیر ا حکیم صا
لے قرآن مجی خدائے قہار کے روبرو کے لئے شہادت طلب نے سوال سے برأت انہوں نے اپنا کام کیا
جواب دیا کہ انبیاء ١؎ پر سوال قبر نہیں اور میں بھی نبی موعود اور مہدی ہوں۔ اس وجہ سے ہم سے سوال قبر جائز نہیں اور مجھ کو یہ موت حقیقی نہیں ہے۔ صرف مجازاً نقل مکانی ہے جو پھر دنیا پر رشد و ہدایت کے واسطے جاؤں گا۔ اس پر نکیرین نے بارگاہ احدیت میں عرض کیا کہ الٰہی تو خالق جن و بشر اور جملہ مخلوقات کا ہے۔ تیرے جس قدر بندے فرمانبردار اور نافرمان دنیا سے مر کر آتے ہیں۔ مطابق اپنے اعمال کے جواب حق یا غلط دیتے ہیں۔ مگر یہ تیرا کون سا بندہ ہے کہ بجائے جواب کے ہم سے مباحثہ کر کے اپنے کو نبی کہتا ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔
فوراً ملائکہ عذاب معہ اسباب عذاب کے تشریف لائے اور حکم ہوا کہ یہ میرا بندہ نہیں ہے۔ شیطان کا بندہ ہے جو مجدد فلسفہ عبارت نص میں حدیث میں تحریف و اجتہاد کر کے دعویٰ نبوت کاذبہ سے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کر کے آیا ہے۔ اس کو بزنجیر عذاب مسلسل جکڑ کے اس کی زبان و دل و دماغ و داہنے ہاتھ کو بجرم تقریر و اجتہاد و تحریر و تحریف کے زیادہ معذب کرو۔ اس وقت مرزا قادیانی گھبرا کے دائیں بائیں دیکھنے لگے۔ تو شیطان نے آواز دی کہ اے مرزا ہم تمہارے بہت ممنون ہیں اور اپنی ذریات کی طرف سے بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جب تک آپ دنیا میں رہے ہم بہت عافیت و چین واطمینان سے سوتے رہے اور ہماری ذریات کو بھی آرام تھا۔ آپ ہماری طرف سے عمدہ کام گمراہی کا دیتے رہے اور جہلاء اور علماء دونوں کو پھانسا، مگر افسوس کہ یہ جگہ ہمارے اختیار سے باہر ہے۔ ہم سے یہاں مدد نہیں ہو سکتی۔ البتہ قیامت کے دن جب آپ ہمارے شامل کئے جائیں گے تو اپنی ذریات کے جلوس کے ساتھ اپنے سے اونچی جگہ پر تعظیم و توقیر کے ساتھ آپ کو رکھیں گے۔ اس کے بعد نیند ٹوٹ گئی اور بفضلہ تعالیٰ اب قلب کو اطمینان ہے۔ برادران اسلام کی اطلاع کے لئے اس کو مشتہر کیا گیا۔ راقم حال رویا عاصی محمد حسین خادم الاطباء حال مقام بیلن بازار مونگیر!
حکیم صاحب کا یہ خواب خوشخبری اس لئے ہے کہ آپ گورستان مرزا قادیانی کی طرف
١؎ قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن خدائے قہار کے روبرو کفار اور نافرمان اپنی برأت کی وجہ پیش کریں گے اور ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے شہادت طلب ہوگی۔ اس شہادت کے بعد ان پر عذاب کا حکم ہوگا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے سوال سے برأت کے لئے عذر پیش کیا اور فرشتے حکم الٰہی کے منتظر ہوئے۔ حکم آنے کے بعد انہوں نے اپنا کام کیا۔
٢٩
ہو گیا تھا۔ مگر خدا کے فضل نے ان کی دستگیری کی اور اس ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور یہ بھی امید ہے کہ جو ناواقف طالب حق ان کے دام میں گرفتار ہوگئے ہیں وہ اس خواب کو معلوم کر کے اپنی غلطی پر متنبہ ہوں گے اور باطل پرستی سے توبہ کریں گے۔ خصوصاً وہ حضرات جو اب تک کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے بارہ میں استخارہ کیا جائے۔ اس سے حالت معلوم ہو جائے گی۔ اس پر بھی خوب نظر کریں کہ یہ خواب کسی معاند کا نہیں ہے۔ اس ذی علم کا ہے جس کا رجحان ان کی طرف ہو گیا تھا۔ اب چند نام ان سچے مسلمانوں کے لکھے جاتے ہیں۔ جنہوں نے بیجا غیرت وحمیت کا خیال نہیں کیا اور عرصہ تک مرزا قادیانی کو سچا مان کر ان کے معتقد رہے اور اب حقیقت حال معلوم کر کے مذہب قادیانی سے توبہ کی اور سچے مسلمان ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قوت ایمانی کو زیادہ کرے۔
پانچواں و چھٹا خواب (جو نہایت عبرتناک ہے)
میرا نام سید عبدالغفار ہے۔ میں نے قبل اس کے قادیانی مذہب اختیار کیا تھا۔ باغوائے حکیم خلیل وغیرہ کے اور انہیں کے یہاں رہتا تھا اور ان کے مطب میں سوتا تھا۔ مگر ہمارے ہم جنس لوگ ہم کو گمراہ خیال کر کے برابر یہ کہتے تھے کہ یہ قادیانی ہو گئے ہیں۔ اس پر ہم کو بہت ندامت اور شرم معلوم ہوتی تھی۔ ہم نے خداوند کریم کی درگاہ میں التجا کیا کہ اے خداوند تعالیٰ اگر مذہب قادیانی ٹھیک اور درست ہے تو تو ایسا مجھ کو خواب دکھا اور اگر غلط ہے اور قدیم دین محمدی صحیح اور درست ہے تو ویسا خواب دکھا۔ یہی دعاء کر کے اور درود شریف پڑھتا ہوا سو گیا۔ قریب تین بجے رات کے خواب میں ایک بزرگ بشکل نورانی غضبناک عصا ہاتھ میں لئے ہوئے میری طرف آتے ہوئے نظر آئے۔ میں نے ان کو بغور دیکھا۔ دیکھتے ہی میرے قلب مضطر کو ایک قسم کی فرحت ہوئی۔ مگر ساتھ ہی اس سے خوف زدہ ہوا۔ بعد ایک منٹ کے میرے بہت قریب آگئے۔ میں نے ان کو سلام علیک کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جواب دیا اور فرمایا کہ تم اس مذہب قادیانی کو اختیار کئے ہو۔ یہ مذہب تم اور تمہارے گروہ کو جہنم کی راہ دکھائے گا اور یہ مذہب بالکل باطل اور خراب ہے۔ میں تم کو بغرض بہی خواہی سمجھانے آیا ہوں کہ تم اس مذہب سے تائب ہو کر مذہب اسلام حقہ میں چلے آؤ۔ اگر میرے کہنے پر عمل نہیں کرو گے تو یاد رکھو کہ یقینی جہنمی ہو گے۔ میں تمہارے پاس نہیں آتا۔ مگر تمہاری التجا درگاہ باری میں ایسی ہوئی کہ حضور انور ﷺ نے اجازت دی کہ اس غریب کو سمجھا کر راہ برحق کی طرف متوجہ کر دو۔ اب مجھ کو زیادہ فرصت تم سے گفتگو کی نہیں ہے۔ یہ فرما کر وہ نظر سے غائب ہو گئے۔ اس کے بعد میں جاگ گیا اور صبح کی نماز پڑھ کر میں نے اپنے چند آدمیوں
٣٠
سے خواب بیان کیا۔ ان س کی صداقت بتلا رہا ہے یہ ایک ایسا مذہب صادق ہ ہونے لگی۔ ہم کو ان کی راس مذہب کاذب پر قائم رہے آئی تھی کہ تو نے میرے کہنے تذبذب میں میرا جانا کسی ط ہے۔ مگر ہر وقت ہی میرا ن میں دوبارہ تائب ہو کر مذہب قا جگہ ملی۔ بعد فارغ ہونے م درود شریف پڑھتا ہوا سو گ طرف چلے آرہے ہیں۔ ی شخص ہے کہ اس کے لباس کے کپڑے ایسے میلے ک کے دست و پا زنجیر س پہنچاتے ہوئے آرہ گلے میں طوق پڑ گ کے پاس گیا اور سلام کہ یہ شخص جو مقید ہ
بزرگ مرزا قادی دیتے ہیں اور ا خواب دیکھنے و کے بموجب اُنہ گمراہوں کی ص
بیماری کی اور اس ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور یہ بھی امید ہے میں گرفتار ہوگئے ہیں وہ اس خواب کو معلوم کر کے اپنی غلطی پر کریں گے۔ خصوصاً وہ حضرات جو اب تک کہتے ہیں کہ گئے۔ اس سے حالت معلوم ہو جائے گی۔ اس پر بھی خوب ہے۔ اس ذی علم کا ہے جس کا رجحان ان کی طرف ہو گیا لکھے جاتے ہیں۔ جنہوں نے بیجا غیرت وحمیت کا خیال مگر ان کے معتقد رہے اور اب حقیقت حال معلوم کر کے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قوت ایمانی کو زیادہ کرے۔
عبرت ناک ہے )
میں نے قبل اس کے قادیانی مذہب اختیار کیا تھا۔ بانواحِ رہتا تھا اور ان کے مطب میں سوتا تھا۔ مگر ہمارے ہم جنس کہ یہ قادیانی ہو گئے ہیں۔ اس پر ہم کو بہت ندامت اور اس کی درگاہ میں التجا کیا کہ اے خداوند تعالیٰ اگر مذہب کو خواب دکھا اور اگر غلط ہے اور قدیم دین محمدی صحیح اور کرکے اور درود شریف پڑھتا ہوا سو گیا۔ قریب تین بجے نورانی غضبناک عصا ہاتھ میں لئے ہوئے میری طرف تو دیکھا۔ دیکھتے ہی میرے قلب مضطر کو ایک قسم کی فرحت بعد ایک منٹ کے میرے بہت قریب آ گئے۔ میں نے نے جواب دیا اور فرمایا کہ تم اس مذہب قادیانی کو اختیار کی راہ دکھائے گا اور یہ مذہب بالکل باطل اور خراب کہ تم اس مذہب سے تائب ہو کر مذہب اسلام حقہ گے تو یاد رکھو کہ یقینی جہنمی ہو گئے۔ میں تمہارے پاس ہوئی کہ حضور انور ﷺ نے اجازت دی کہ اس غریب مجھ کو زیادہ فرصت تم سے گفتگو کی نہیں ہے۔ یہ فرما کر وہ اٹھ گیا اور صبح کی نماز پڑھ کر میں نے اپنے چند آدمیوں
٣٠
سے خواب بیان کیا۔ ان سب نے تعبیر اس کی یہ کی کہ یہ خواب صاف طور سے مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت اسے بتلا رہا ہے۔ یعنی تم نے اپنی زندگی بھر میں کسی بزرگ کو خواب میں نہیں دیکھا۔ لیکن یہ ایک ایسا مذہب صادق ہے کہ اس میں آتے ہی بعد تھوڑے دنوں کے بزرگوں سے بشارت ہونے لگی۔ ہم کو ان کی رائے اور کلام فریب آمیز پسند آیا اور خواب کا کچھ خیال نہیں کیا اور اسی مذہب کاذب پر قائم رہے۔ جس طرح میں جاتا تھا۔ اس طرف سے یہی صدا میرے کانوں تک آئی تھی کہ تو نے میرے کہنے پر عمل کیوں نہ کیا۔ اس پر بھی اپنے رنگ کاذب میں رنگا رہا۔ اسی زمانہ تذبذب میں میرا جانا کسی ضرورت سے موضع آصف پور گڑہرا کا ہوا۔ چونکہ میرا وہاں نانیہال ہے۔ گڑہرا پہنچتے ہی میرا یہ خیال ہوا کہ اگر یہاں شب کے لئے کہیں جگہ تخلیہ کی ملتی تو پھر درگاہ باری میں دوبارہ ملتجی ہو کر مذہب کی صداقت کا التجا کرتا۔ خدا کی شان ایسی ہوئی کہ مجھ کو تنہا ایک کمرہ میں جگہ ملی۔ بعد فارغ ہونے حوائج ضروری سے عشاء کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد دعاء مانگتا ہوا اور درود شریف پڑھتا ہوا سو گیا۔ شب کو قریب ڈھائی بجے کے میں نے دیکھا کہ چند اشخاص میری طرف چلے آ رہے ہیں۔ منجملہ ان اشخاص کے وہ بزرگ بشکل نورانی بھی ہیں اور ان کے شامل ایک شخص ہے کہ اس کے لباس پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا تھا کہ ایک ملیچھ کے لباس میں ہے۔ یعنی اس کے کپڑے ایسے میلے تھے اور جسم سے ایسی بدبو آتی تھی کہ طبیعت اس سے متنفر ہوتی تھی۔ علاوہ اس کے دست و پا زنجیر سے جکڑے ہوئے۔ دو شخص دائیں بائیں تکلیف دیتے ہوئے اور اذیت پہنچاتے ہوئے آ رہے ہیں اور بغور دیکھنے سے پیشانی پر اس مقید کے پھٹکار برستی ہوئی نظر آئی اور گلے میں طوق برنگ سرخ نظر آتا اور وہ بزرگ جو بشکل نورانی تھے مؤدب ہو کر میں تھر تھراتا ہوا ان کے پاس گیا اور سلام علیک کیا۔ انہوں نے اس کے جواب سے سرفراز کیا اور ساتھ ہی اس کے یہ کہا کہ یہ شخص جو مقید ہو کر تمہارے پاس آیا ہے اس کو پہچانتے ہو یا نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ کسی
اے مسلمان مرزائیوں کے اس کھلے ہوئے فریب کو دیکھیں کہ خواب میں صراحۃً وہ بزرگ مرزا قادیانی کے مذہب کو صریح جھوٹا بتا رہے ہیں۔ مگر یہ کاذب پرست اسے اعلانیہ فریب دیتے ہیں اور اس خواب سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ یہاں حیرت یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا بھی جھوٹوں کی بدصحبت میں ان بزرگ کے سچے قول پر نظر نہ کرتا اور ان کے بہکانے کے بموجب انہیں سچا خیال کرتا ہے۔ اسی طرح ان کے بہکانے سے لوگ بہکتے ہیں اور ان گمراہوں کی صحبت کا اثر اور ظلمت اسے اندھا کر دیتی ہے اور جو وہ کہتے ہیں اسے یہ مان لیتا ہے۔
٣١
قدر یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے فوٹو سے ملتا ہے۔ اس پر ان بزرگ نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی شخص ہے جس کو تم اور تمہاری جماعت مسیح موعود اور مہدی آخرالزمان مانتی ہے۔ دیکھو جھوٹے مسیح کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے۔ تم اور تمہاری جماعت کی یہی حالت ہوگی۔ اگر توبہ نہ کرو گے۔
ایسی حالت میں تم اور تمہاری جماعت کو لازم ہے کہ اس مذہب باطل سے تائب ہو کر مذہب حقانی کو اختیار کرے۔ میں تم کو پھر بہ نظر شفقت و ہمدردی کے سمجھانے آیا ہوں۔ میں تم سے اس وقت زیادہ خوش ہوں گا جس وقت تم کو مشرف باسلام پاؤں گا۔ اب میں جاتا ہوں۔ مجھ کو زیادہ فرصت نہیں ہے۔ پھر سلام علیک وغیرہ ہوا اور وہ بزرگ فی امان اللہ ارشاد فرماتے ہوئے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد میں ڈرا تھا نیند جاتی رہی۔ اٹھتے ہی میں نے توبہ استغفار کی اور وہاں کے چند اپنے اقرباء سے دونوں خواب کو بیان کیا۔ ان لوگوں کی یہی رائے ٹھہری کہ کسی ایسے بزرگ کے سامنے توبہ کرنا چاہئے کہ جو مذہب حقانی کا خلیفہ ہو اور انہیں سے بیعت بھی حاصل کرنا چاہئے۔ دو تین روز اور وہاں رہ کر میں اپنے مکاں موضع بہا پور آیا اور اپنے والدین اور اقرباء کو خواب کی حالت سے مطلع کیا۔ ان لوگوں کی بھی یہی صلاح ٹھہری کہ بیعت ہو جانا چاہئے اور اس مذہب کو چھوڑنا مناسب ہے۔ میں اسی تلاش میں رہا کہ جیسے بزرگ کو خواب میں دیکھا ہے۔ اگر ویسے ہی رہبر مل جائیں تو مجھ کو بیعت حاصل کر لینے میں عذر نہیں ہے۔ یہ سب امور خیال کر کے مونگیر آیا۔ یہاں میرے بدانست سوائے حضرت مولانا و مرشدنا مولوی سید محمد علی صاحب دام فیضہم کے دوسرا نظر نہیں آیا۔ اس واسطے میں ان کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ میں نے بعینہ قریب قریب ان ہی بزرگ کی سی پیشانی منور پائی اور بیعت حاصل کیا اور مذہب باطل سے تائب ہوا۔ اس واسطے برادران اسلام کو میں اپنی حالت سے آگاہ کرتا ہوں تاکہ وہ ان موذیوں کے دام فریب سے محفوظ رہیں اور جو دام میں آگئے ہیں وہ اس فریب سے نکلیں۔
بھائیو! اس خواب کو عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور غور کرو۔ یہ خواب بھی اس شخص کا ہے جس کو مرزا قادیانی سے عداوت نہیں تھی۔ بلکہ انہیں سچا مان چکا تھا۔ مگر صداقت کی طلب تھی۔ ان کو دیکھو اور خدا سے ڈر کر کہو کہ ان خوابوں سے مرزا قادیانی کی کیسی حالت معلوم ہوتی ہے اور جو حضرات نادانستی سے یا فریب دہی سے انہیں مان گئے ہیں۔ وہ اپنی جانوں پر رحم کر کے اس باطل مذہب سے توبہ کریں۔
ساتواں خواب (ہدایت مآب)
”بسم الله الرحمن الرحيم ونصلی علیٰ رسوله الكريم“ سرچشمہ
٣٢
مکرمت منبع فضیلت سلمہ السلام کے ساتھ ان پریشان سطور کو پیش سے آخر تک دیکھا گیا۔ نہایت صاحب کے کذاب الناس ہونے اندیش اس کو دیکھ کر ہرگز ہرگز نے اس کی اشاعت میں خاص گزار ہونا میری سعادت ہے بزرگ نے ترک مرزائیت پر مرزائیت ایک خاصہ ٹائم نیا تریاق القلوب اور ازالۃ کے دے۔ آمین! ہاں اتنا عرض متضاد اور متبائن اقوال ترک مر اللہ تعالیٰ استقامت بخشے ان معرکۃ الاراء تحریروں کے
ولا تكتموا الحق
- ......١
اپنے ارادے میں ناکام افتاد ہو جاتا ہوں۔
- ......٢
رو بقبلہ دیکھتا ہوں ہونے کے رونما
فاتحہ میں مرز تھا۔ (یعنی میں مختلف قسم
ہے۔ اس پر ان بزرگ نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی شخص ہے جسے تم مہدی آخرالزمان مانتے ہو۔ دیکھو جھوٹے مسیح کی ایسی ہی حالت ہوگی۔ اگر توبہ نہ کروگے۔ تم کو لازم ہے کہ اس مذہب باطل سے تائب ہو میں محض شفقت و ہمدردی سے سمجھانے آیا ہوں۔ میں تم سے رخصت ہوتا ہوں۔ اب میں جاتا ہوں۔ مجھ کو دعا دو۔ وہ بزرگ فی امان اللہ ارشاد فرماتے ہوئے غائب ہوگئے۔ اٹھتے ہی میں نے توبہ استغفار کی اور سب سے اپنا خواب بیان کیا۔ ان لوگوں کی یہی رائے ٹھہری کہ کسی ایسے بزرگ کے ہاتھ پر جو کسی حقانی کا خلیفہ ہو بیعت ہونا چاہئے۔ چنانچہ میں اپنے مکان موضع بہاولپور آیا اور اپنے والدین اور اقرباء کو یہ خواب سنایا۔ سب کی یہی صلاح ٹھہری کہ بیعت ہو جانا چاہئے اور اس میں اسی تلاش میں رہا کہ جیسے بزرگ کو خواب میں دیکھا ہے۔ اگر مل جائیں تو بیعت کرلینے میں عذر نہیں ہے۔ یہ سب امور خیال کرکے آخر حضرت مولانا و مرشدنا مولوی سید محمد علی صاحب دام برکاتہم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ میں نے بعینہ وہی صورت پائی اور بیعت حاصل کی اور مذہب باطل سے تائب ہوا۔ پس میں اپنے دوستوں کو اپنی بیعت سے آگاہ کرتا ہوں تا کہ وہ ان موذیوں کے دام تزویر سے بچیں اور اس فریب سے نکلیں۔
اے دوستو! دیکھو اور غور کرو۔ یہ خواب بھی اس شخص کا ہے جو ان کو سچا مان چکا تھا۔ مگر صداقت کی طلب تھی۔ ان کو خواب میں مرزا قادیانی کی کیسی حالت معلوم ہوتی ہے اور جو لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی جانوں پر رحم کر کے اس باطل مذہب سے الگ ہو جائیں۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مکرمی منبع فضیلت سلمہ، السلام علیکم وعلی من لدیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، نہایت ہی مسرت اور ابتہاج کے ساتھ ان پریشان سطور کو پیش کرنے کی عزت حاصل کرتا ہوں۔ آپ کا رسالہ ہدیہ عثمانیہ اوّل سے آخر تک دیکھا گیا۔ نہایت ہی جامع رسالہ ہے جو مرزا قادیانی اور ان کے مرید رشید خواجہ صاحب کے اکذب الناس ہونے پر دلیل واضح ہے اور یہ کہنا ہرگز بیجا نہ ہوگا کہ ایک منصف عاقبت اندیش اس کو دیکھ کر ہرگز ہرگز مرزا قادیانی کا معتقد نہیں رہ سکتا اور قابل فخر ہے وہ بزرگ جس نے اس کی اشاعت میں خاص طریق پر حصہ لیا اور بموجب ”لئن شکرتم لا زیدنکم“ شکر گزار ہونا میری سعادت ہے۔ ”فجزاھم اللہ احسن الجزاء“ اس وقت ہمارے محترم بزرگ نے ترک مرزائیت پر کچھ عرض کرنے کی اجازت بخشی ہے۔ مگر افسوس مجبور ہوں، ترک مرزائیت ایک خاصہ ٹائم چاہتا ہے اور قریب قریب اسی مضمون کا ایک رسالہ زیر تصنیف ہے۔ جو تریاق القلوب اور ازالہ کے فراہم ہونے پر طبع ہوگا۔ دعاء فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ توفیق نیک دے۔ آمین! ہاں اتنا عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند ایک خواب جو مرزا قادیانی کے متضاد اور متبائن اقوال ترک مرزائیت کا باعث ہوئے۔ ”من یھد اللہ فلا مضل لہ“ اللہ تعالیٰ استقامت بخشے۔ آمین! زمانہ مرزائیت میں جبکہ خادم بغرض تکمیل تعلیم لاہور گیا اور علاوہ ان معرکۃ الاراء تجربوں کے حسب ذیل خوابات سے بھی مشرف ہوا۔ وھو ھذا!
ولا تکتموا الحق
- ١...... جمہور کو بلند مینار پر چڑھتے اور اترتے دیکھتا ہوں۔ مگر آہ! ایک میں ہوں جو
اپنے ارادے میں ناکام ہوں اور مفلوج کی طرح سسک رہا ہوں اور جوں توں تقدم کرتا ہوں۔ افتاد ہو جاتا ہوں۔
- ٢...... حاجی صاحب ترکی کیمپ مرچنٹ جو ایک پکے حنفی ہیں۔ بحالت نماز
روبقبلہ دیکھتا ہوں اور میں بحالت نماز رو بہ جنوب ہوں، فوری تردد ہوا کہ باوجود میرے احمدی ہونے کے رو بہ جنوب ہوں اور حاجی صاحب روبقبلہ۔
- ٣...... مقبرہ بہشتی جو مرزا قادیانی کا بنا کردہ ہے۔ بغرض فاتحہ خوانی گیا اور دوران
فاتحہ میں مرزا قادیانی کے سرہانے ایک کتبہ پایا جس پر ”فی نار جہنم خالدین فیھا ابدا“ تھا۔ (یعنی صاحب قبر مرزا قادیانی جہنم میں اور اس کے پیرو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔) اس اثناء میں مختلف قسم کے پرند چمگادڑ اور گدھ کی شکل میں تھے نظر آنے لگے۔ ترساں ولرزاں باہر ہو نکلا اور مسجد
٣٣
اقصیٰ جو مرزا قادیانی کے والد کی بنا کردہ ابھی اس کے قریب آیا نہ تھا کہ حاجی صاحب ترکی کیپ مرچنٹ کو مدفون پایا اور ان کے سرہانے ایک کتبہ سائن بورڈ کی شکل پایا۔ جس پر جلی حرفوں سے ”رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ“ لکھا تھا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ صاحب قبر اور اس کے پیرو اور ہمہ خیالوں سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ سے خوش ہوئے ۔ ) یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ حاجی صاحب یہاں کیسے دفن ہیں اور وہ بھی ایسا شخص جو مرزا قادیانی کا مخالف ہو۔ وہ اور اس پر رضی اللہ عنہ اور مسیح موعود پر فی نار جہنم! خیال ہوا کہ یہ خواب ہیں۔ بیدار ہوگیا۔
٢....... سیدنا امام حسین علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :”ان اللہ یحب التوابین“ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ جب میں نے اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا ۔ ”فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً“ فرماتے ہیں۔ بوجوہ طوالت مفصل بیان نہ کر سکا۔ رسالہ زیر تصنیف میں موقع ملنے پر واضح کروں گا ۔ ”وما توفیقی الا بااللہ“
اب میں ان سطور کو ختم کرتا ہوں اور ادباً حارج الوقت ہونے کی معافی چاہتا ہوں ۔ دعاء فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ کامیابی دے ۔ گذارش آخر یہ ہے کہ ایک خط میرے دوست محمد جمال الدین صاحب کے یہاں لاہور سے آیا۔ جس میں ان کے ایک مرزائی دوست تحریر کرتے ہیں کہ ہدیہ عثمانیہ جو ایک حیدرآبادی مولوی صاحب نے لکھی ہے۔ اس سے سخت جھٹکے پڑتے ہیں اور سخت متزلزل ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقدس خدمت کی جزائے خیر دے۔ میرے اپنے ناقص خیال سے یہ وہ کام ہے جو مجددین کا ہوتا ہے ۔ فقط (آپ کا مخلص خادم خاکپائے سید المرسلین سید سراج الدین کفر توڑ از حیدرآباد دکن)
ناظرین! ان دو تحریروں پر غور فرمائیں۔ جن میں یہ تین خواب بیان ہوئے ہیں۔ اس میں اوّل یہ ملاحظہ کیجئے کہ یہ دونوں تحریریں سید آل رسول کی ہیں۔ کسی اور معمولی شخص کی نہیں دوسرے یہ کہ دونوں صاحب وہ ہیں جو مسیح قادیانی کو سچا مسیح موعود مان چکے تھے۔ کسی مخالف اور متردد کے نہیں ہیں۔ جن میں اس کے خیال کو دخل ہو سکے۔ اس پر خوب نظر رہے۔ تیسرے اس پر نظر کیجئے کہ پہلے خواب میں وہ بزرگ نہایت صاف طور سے قادیانی گروہ کو جہنمی فرمارہے ہیں اور یقینی جہنمی کہتے ہیں۔ دوسرے خواب میں مرزا قادیانی کی کیسی بری حالت دکھائی گئی ہے کہ اللہ اس سے پناہ دے۔ اس خواب میں اس مضمون کے عنوان کو کیسا سچا ثابت کردیا ۔ چوتھے یہ بات بھی
٣٤
قابل لحاظ ہے کہ ایک بزرگ کہ مرزا قادیانی اور ان کی اور ان کی جماعت کا نوم جماعت احمدی ان باتوں ڈرنے والا ان پر غور کرے
آٹھواں خواب
مضمون نگار ہے اور تلونڈی موسیٰ مرزا قادیانی کی بیعت گیا تو چارپائی پر بیٹھے ایک چارپائی پر بیٹھ کر پاس آیا ہے۔ تو دکھا میں ایک صاحب بـ پھر وہی صاحب ـ ناظرین غور سے دـ کہ جیون خان کو ـ ہوئے۔ منجملہ ان ٹلیں جس وقت ـ کر رہا ہوں ـ مارنے ہو ہو۔ میں نے کہ مکہ شـ وہ بے حـ طرف پـ کرنے ـ
ہی اس کے قریب آیا نہ تھا کہ حاجی صاحب ترکی کیپ ایک کتبہ سین بورڈ کی شکل پایا۔ جس پر جلی حرفوں سے لکھا تھا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ صاحب قبر اور اس کے پیرو اور سے خوش ہوئے۔) یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ حاجی اس جو مرزا قادیانی کا مخالف ہو۔ وہ اور اس پر رضی اللہ خواب میں۔ بیدار ہو گیا۔
علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:”ان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ جب میں نے اپنی یسرا ان مع العسر يسرا‘‘ فرماتے ہیں۔ بوجوہ میں موقع ملنے پر واضح کروں گا۔ ”وما توفیقی
اور ادبا ہارج الوقت ہونے کی معافی چاہتا ہوں۔ دعاء فخریہ ہے کہ ایک خط میرے دوست محمد جمال الدین ان کے ایک مرزائی دوست تحریر کرتے ہیں کہ ہدیہ لکھی ہے۔ اس سے سخت جھکولے پڑتے ہیں اور سخت امت کی جزائے خیر دے۔ میرے اپنے ناقص خیال (آپ کا مخلص خادم خاکپائے سید المرسلین سید سراج
تائیں۔ جن میں یہ تین خواب بیان ہوئے ہیں۔ اس سید آل رسول کی ہیں۔ کسی اور معمولی شخص کی نہیں قادیانی کو سچا مسیح موعود مان چکے تھے۔ کسی مخالف اور دخل ہو سکے۔ اس پر خوب نظر رہے۔ تیسرے اس پر انصاف طور سے قادیانی گروہ کو جہنمی فرمارہے ہیں اور قادیانی کی کیسی بری حالت دکھائی گئی ہے کہ اللہ اس کے عنوان کو کیسا سچا ثابت کر دیا۔ چوتھے یہ بات بھی ٣٤
قابل لحاظ ہے کہ ایک بزرگ جن کو حضرت سرور عالم ﷺ نے بھیجا تھا۔ ان کی زبان نے فیصلہ کر دیا کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت جہنمی ہے اور سید سراج الدین کے خواب میں تو گویا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا نوشتہ تقدیر دکھایا گیا اور ان کے مخالف کا مرتبہ عالی ہونا ظاہر کر دیا۔ کیا جماعت احمدی ان باتوں پر غور نہ کرے گی؟ یہ ایسے عبرتناک خواب ہیں کہ کوئی راست باز خدا سے ڈرنے والا ان پر غور کر کے مرزائی جماعت میں شامل نہیں رہ سکتا۔
آٹھواں خواب
مضمون نگار اخبار اہلحدیث اپنے ایک عزیز کا واقعہ لکھتے ہیں۔ جن کا نام جیون خان ہے اور تلونڈی موسیٰ خان ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں۔ یہ صاحب چند سال تک مرزا قادیانی کی بیعت میں شامل رہے۔ مگر اتفاق سے دسمبر ١٩١٤ء میں ایک دن ان کے موضع میں گیا تو چار پائی پر بیٹھے نظر آئے۔ بہت لوگ ادھر ادھر بیٹھے ہوئے تھے۔ السلام علیکم کے بعد بندہ ایک چارپائی پر بیٹھ گیا۔ بات چیت ہونے لگی۔ میں نے کہا کہ کوئی اخبار قادیان سے آپ کے پاس آیا ہے۔ تو دکھاؤ حیران ہو کر چپ ہورہے ۔ میں نے کہا کیا بات ہے۔ جواب ندارد، اتنے میں ایک صاحب بولے کہ جی کیا قادیان اور کیا مرزا۔ سب چھوڑ دیئے ہیں۔ میں نے کہا الحمدللہ ! پھر وہی صاحب ماجرا سنانے لگے اور مرید صاحب (یعنی جیون خان) تصدیق فرمانے لگے۔ ناظرین غور سے دیکھیں کہنے لگے کہ چند یوم گذرے یہ سب بمعہ بال بچہ اپنے گھر میں سوئے تھے کہ جیون خان کو خواب آیا کہ بہت لوگ مکہ شریف جارہے ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ہوں۔ منجملہ ان کے جناب مولانا ثناء امرتسری فاتح قادیان، ومولانا میر محمد ابراہیم سیالکوٹی بھی ہیں جس وقت خاص مکہ شریف پہنچے ہیں تو سب لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں اور میں بھی نماز کا ارادہ کر رہا ہوں کہ اتنے میں ایک زبردست قوی ہیکل انسان نے میری گردن آ دبوچی اور لگا بے تحاشا مارنے اور جانب چپ و راست کی پسلیاں بھی توڑ ڈالیں اور میں کہتا ہوں کہ مجھے کیوں مارتے ہو۔ میں تو نماز پڑھنے لگا ہوں۔ وہ اور بھی نیزے سے مارنے لگا اور کہنے لگا دیکھ وہ کون ہے۔ گویا کہ مکہ شریف کے مشرق کی طرف نگاہ کر کے دیکھ میں نے کہا مرزا قادیانی ہیں۔ کہنے لگا بس تیرا نبی وہ ہے۔ اس کا کعبہ اپنا گھر ہے تو ادھر کو منہ کر کے نماز پڑھ۔ میں نے کہا نہیں میں تو خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں خواب ہی میں بآواز بلند توبہ توبہ کرنے لگ گیا اور شور و غل مچا دیا کہ تمام گھر کے آدمیوں کو فکر ہو گیا کہ کیا ہوا۔ سب مجھ کو جگانے لگے ٣٥
جھوٹے دعویدار نبوت کذاب قادیان کے خلاف کراچی کا تاریخی فیصلہ
مجھے ہوش نہیں۔ بالآخر اس مرد قوی ہیکل نے مجھ سے کہا کہ توبہ کرو۔ اس کاذب کے پیچھے نہ جانا ورنہ اتنی سزا ہے کہ تم برداشت نہ کر سکو گے۔ میں نے ان کے روبرو توبہ کی اور ادھر سے میرے گھر والوں نے حال پکار کی کہ دیکھو جیون خان کو کیا ہو گیا۔ تمام محلہ میرے گھر کے اندر آ جمع ہوا۔ میری نیند کھلی تو سب نے حال دریافت کیا۔ میں نے کہا کہ پہلے مجھے سارے آدمی دباؤ میرا جوڑ جوڑ ڈھیلا ہو گیا ہے۔ بعدہ ان کو مذکورہ واردات سنائی اور سب کے سامنے توبہ کی۔ اب پھر وہ اپنی مسجد کے امام ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو براہ راست ان سے دریافت کر لیں۔ خدائے تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ فقط: ابوالرشید!
اب تو حرم محترم بیت اللہ میں جا کر مرزا قادیانی کے کذب کا فیصلہ ہو گیا۔ اب کیا عذر رہا۔ مرزائی حضرات جب خود فرماتے تھے کہ خواب میں مرزا قادیانی کی صداقت معلوم ہو جائے گی۔ اسی معیار پر مرزا قادیانی کو جانچا گیا۔ الحمد للہ قدرتی آٹھ شہادتوں نے مرزا قادیانی کی واقعی حالت کو اظہر من الشمس کر دیا۔ جس طرح منکوحہ آسمانی کے نکاح میں نہ آنے سے ان کے کذب پر آسمانی فیصلہ ہو گیا تھا۔ ان آٹھ خوابوں نے ان کے بدترین حال پر قدرتی شہادتیں دے دیں۔ اب جن حضرات کو عالم برزخ میں واویلا کرنا ہو اور عذاب قبر میں اس طرح رہنا ہو وہ مرزائے آنجہانی کا پیرو رہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا اور خدا نے ان کے حال کا معائنہ کرا دیا۔ اب قادیانی فرشتہ کے ذریعہ سے ان کے خلیفہ کی معزولی ملاحظہ ہو۔
صحیفہ محمدیہ کا چوتھا مضمون
معزولی خلیفہ مرزائیاں تجویز فرشتہ قادیان، خلیفہ قادیان معزول
اخیر دسمبر کے جس طرح لکھنؤ اور علی گڑھ میں کانگرسوں اور کانفرنسوں کے جلسے ہوئے۔ اسی طرح قادیان اور لاہور میں بھی قادیانی مشن کے دونوں پارٹیوں کے جلسے ہوئے۔ جس میں مختلف قسم کے ریزولیوشن پاس ہوئے جو وقتاً فوقتاً قوم کی فلاح کے لئے دونوں فریق شائع کریں گے۔ ایک اہم اور ضروری تجویز وہ ہے جو لاہور میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی (یہ وہی بزرگ ہیں جن کو مرزا قادیانی آنجہانی اپنا فرشتہ آسمانی کہتے تھے۔ ان پر بہت بھروسہ رکھتے تھے۔ ان کا ساختہ و پرداختہ منظور کرتے تھے۔ اس لئے ایسے عالم کے قول پر فیصلہ ہونا چاہئے۔ (ایڈیٹر اہلحدیث پرچہ ٥ ج ١٣ ص ٢ کالم دو) نے بطور اشتہار شائع کی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: ”میں نے
٣٦
بیعت ہی میں میاں محمود احمد لئے میں اس کو خلافت صاحبزادہ بشیر الدین محمد اب اس بات کے اہل ہوں اور اس لئے میں ان سے عزل کر کے عنداللہ ”لاطاعة للمخلوق لا ينال عهدى الظ ہوں کہ صاحبزادہ صا ......١ ......٢ ......٣ اللہ کے واسط خطرناک فتنہ کے یہ اختلاف عقائد بھی ترک کر حضرت مسیح مقرر کر اور باقی اظہار اپنے وعلما وجود خیال
سے کہا کہ توبہ کرو۔ اس کا ذب کے پیچھے نہ جانا نے ان کے روبرو توبہ کی اور ادھر سے میرے گھر لیا۔ تمام محلہ میرے گھر کے اندر آجمع ہوا۔ میری کہا کہ پہلے مجھے سارے آدمی بلاؤ میرا جوڑ آئی اور سب کے سامنے توبہ کی۔ اب پھر وہ اپنی ان سے دریافت کرلیں ۔ خدائے تعالیٰ سب کو
قادیانی کے کذب کا فیصلہ ہوگیا۔ اب کیا ساب میں مرزا قادیانی کی صداقت معلوم ہو آٹھ قدرتی آٹھ شہادتوں نے مرزا قادیانی کی کہ آسمانی کے نکاح میں نہ آنے سے ان کے ان کے بدترین حال پر قدرتی شہادتیں دے تا ہو اور عذاب قبر میں اس طرح رہتا ہو وہ کر دیا اور خدا نے ان کے حال کا معائنہ کرا جولی ملاحظہ ہو۔
امضمون
خلیفہ قادیان معزول
کانگرسوں اور کانفرنسوں کے جلسے ہوئے۔ نوں پارٹیوں کے جلسے ہوئے۔ جس میں اطلاع کے لئے دونوں فریق شائع کریں مولوی محمد احسن صاحب امروہی (یہ وہی تھے۔ ان پر بہت بھروسہ رکھتے تھے۔ کے قول پر فیصلہ ہونا چاہئے۔ (ایڈیٹر ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: ”میں نے
بیعت میں میاں محمود احمد کو خلیفہ بنایا تھا۔ مگر اب اس کے عقائد بہت غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے میں اس کو خلافت سے معزول کرتا ہوں۔ چنانچہ اس اشتہار کے ضروری الفاظ یہ ہیں:“ صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود مرزا قادیانی کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اس لئے میں اس خلیفہ سے جو محض اداری ہے سیاسی نہیں۔ صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کر عنداللہ وعندالناس اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں۔ جو میرے سر پر تھی۔ اور بحکم ”لاطاعة للمخلوق في معصية الخالق“ اور حسب ارشاد الٰہی ”قال ومن ذريتى قال لا ينال عهدی الظلمين “ اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو یہ اطلاع پہنچاتا ہوں کہ صاحبزادہ صاحب کے یہ عقائد:
- ......١ سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج اسلام ہیں۔
- ......٢ حضرت مسیح موعود کامل حقیقی نبی ہیں۔ جزوی نبی یعنی محدث نہیں۔
- ......٣ اسمہ احمد کی پیشین گوئی جناب مرزا قادیانی کے لئے ہے اور محمد رسول
اللہ ﷺ کے واسطے نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا ایسے عقائد اسلام میں موجب ایک خطرناک فتنہ کے ہیں۔ جس کے دور کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا ہر ایک احمدی کا فرض اولین ہے۔
یہ اختلاف عقائد معمولی اختلاف نہیں۔ بلکہ اسلام کے پاک اصول پر حملہ ہے اور مسیح موعود کی تعلیم کو بھی ترک کر دینا ہے۔ میں یہ بھی اپنے احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان عقائد کے باطل ہونے پر حضرت مسیح موعود کے مقرر کردہ معتمدین کی بھی کثرت رائے ہے۔ یعنی اب جو بارہ ممبر حضرت کے مقرر کردہ زندہ ہیں۔ ان میں سے سات ممبر علی الاعلان ان عقائد سے بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں اور باقی پانچ میں بھی اغلب ہے کہ ایک صاحب ان عقائد میں صاحبزادہ کے شامل نہیں۔ (اس پر اظہار مسرت کر کے راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ جب خلیفہ کو معزول اپنی بے خبری کی وجہ سے کیا تو اب امید ہوتی ہے کہ بوجوہ ذیل مسیح موعود کو بھی اپنے عہدہ سے معزول کریں گے)
- ......١ کیا مولوی صاحب اس پر غور نہ کریں گے کہ مسیح موعود کے جو برکات
وعلامات حدیثوں میں آئے اور مرزا قادیانی نے خود بیان کئے ہیں۔ ان کا ظہور مرزا قادیانی کے وجود سے ہوا؟ ہرگز ہرگز نہیں ہوا۔ ان حدیثوں میں غور کیجئے اور الفاظ کے معنی میں ایسی تحریف کا خیال نہ رہے۔ جس سے الفاظ سے امن اٹھ جائے اور ہر بیدین دہریہ سیرت کو قرآن وحدیث
٣٧
کے الفاظ کے معنی اپنے حسب خواہ بنا کر دین کو برہم کرنے کا موقع ملے۔ ذرا حقیقت المسیح اور (انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤٦ ، ایام صلح ص ٣١، خزائن ج ١٤ ص ٢٦١) ملاحظہ کر لیجئے گا۔
- ٢....... کیا کسی پر یہ پوشیدہ ہے کہ ان کی تمام صاف پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔
فیصلہ آسمانی، انجم الثاقب، الہامات مرزا اور اس رسالہ کے پہلے نمبر کو ملاحظہ کیجئے کہ آپ کے مسیح موعود کے سخت مخالف نے ان کی نسبت پیشین گوئی کی وہ پوری ہوئی اور آپ کے مسیح کی الہامی پیشین گوئی اس مخالف کے لئے پوری نہ ہوئی اور نہ ان کے سامنے وہ ہلاک ہوا اور نہ اس پر کوئی عذاب آیا۔ کیا یہ ان کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی نہیں ہے؟ مولوی صاحب! کیا آپ پر اور ساری دنیا پر پوشیدہ ہے کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کو آپ کے مسیح نے اپنی صداقت کا کیسا عظیم الشان ثبوت قرار دیا تھا اور تمام مسلمان اور عیسائی اور ہنود کو مخاطب کر کے اس کے ظہور کا منتظر بنایا تھا اور پھر تمام عمر اس کے انتظار میں باتیں بناتے رہے اور اس کے ظہور کا قطعی وعدہ الٰہی بتاتے رہے اور کہتے رہے کہ سب موانعات دور ہوں گے اور وہ عورت میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ مگر اب مولوی صاحب اور ان کی جماعت بتائے کہ وہ حتمی وعدہ الٰہی کہاں گیا؟ بھائیو! آپ کو بالضرور کہنا پڑے گا کہ وہ وعدہ الٰہی پورا نہ ہوا اور جھوٹ کا اور وعدہ خلافی کا الزام ضرور آیا۔ مگر یہ بتائیے کہ یہ الزام آپ کے نزدیک خدائے قدوس پر ہے یا آپ کے مسیح پر؟ یعنی خدا تعالیٰ نے یہ جھوٹا وعدہ کیا تھا اور مرزا قادیانی کو فریب دیا تھا۔ یا مرزا قادیانی نے خدا پر افتراء کیا، یا شیطانی الہام کو وہ رحمانی سمجھے۔ ان تینوں صورتوں میں ان کے تمام الہامات غیر معتبر ہو گئے اور کوئی الہامی بات ان کی لائق توجہ نہ رہی۔ پھر ان کو مسیح موعود اور جزئی نبی ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اس واقعہ نے انہیں بالیقین کاذب ثابت کر دیا۔ خوب سوچ کر اس کا جواب دیجئے گا ۔ مگر میں یقینی طور سے کہتا ہوں کہ آپ اس کا کچھ جواب نہیں دے سکتے۔
مرزا قادیانی کے کذب کا نمونہ
- ٣....... مولوی صاحب! آپ نے صحیح حدیثوں میں ملاحظہ کیا ہو گا کہ بانی اسلام
علیہ الصلوٰۃ والسلام نے راست بازی کو لازمہ ایمان اور جزو اسلام قرار دیا ہے اور صاف فرمایا ہے کہ مسلمان سے اور گناہ ہو سکتے ہیں۔ مگر مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ پھر کیا اس ارشاد نبوی کے بموجب مرزا قادیانی آپ کے مسیح اور ان کی جماعت مسلمان ہو سکتی ہے؟ خدا سے ڈر کر اس کا جواب دیجئے گا۔ مگر ہم یہاں بھی کہتے ہیں کہ آپ کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے۔ تا ہم آپ
٣٨
کے مسیح کی اور ان کے خاص اصحاب کی دروغ گوئیوں کا نمونہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
ملاحظہ کیجئے:
مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشین گوئی کی تھی کہ ڈھائی برس کے اندر مرجائے گا۔ مگر وہ اس میعاد میں نہ مرا اور لوگوں نے الزام دیا کہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ اپنے خسر کے مرجانے سے بہت خوف زدہ ہو گیا تھا۔ لہذا سنت اللہ کے بموجب اس وعید کی میعاد میں تخلف ہو گیا۔
(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)
اس قول میں مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ خوف کی وجہ سے وعید کا ٹل جانا عادت الہی میں داخل ہے۔ یعنی ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ مگر مولوی صاحب اگر آپ خدا تعالیٰ کو جامع صفات کمالیہ اور تمام عیوب سے پاک جانتے ہیں تو مرزا قادیانی کے اس قول کو کبھی سچا نہیں سمجھ سکتے اور آپ کا یہ اعتقاد ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اور وعید ہرگز نہیں ٹلتی۔
(انجام آتھم ص ٣١، ٣٢ ، خزائن ج ١١ ص ٣٠، ٣١) میں اس جھوٹ کی تائید میں لکھتے ہیں۔
”جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔“
اس قول میں مرزا قادیانی کے چار دعوے ہیں۔
- ١...... کلام خدا یعنی قرآن شریف میں موجود ہے کہ وعید کی پیشین گوئی میں خوف کی وجہ سے
تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔
- ٢...... کلام رسول یعنی حدیث میں بھی ایسا ہی آیا ہے۔
- ٣...... انبیائے سابقین کی کتابوں میں بھی یہ مضمون ہے۔
- ٤...... اجماعی عقیدہ بھی ایسا ہی ہے۔
اب میں کہتا ہوں کہ ہر ایک ذی علم جانتا ہے اور جان سکتا ہے کہ یہ چاروں دعوے محض غلط ہیں۔ کلام خدا اور کلام رسول میں یہ بیان ہرگز نہیں ہے کہ وعید الہی کسی وجہ سے ٹل جاتی ہے۔ اگر کہیں ہو تو مولوی احسن صاحب دکھائیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دکھا سکتے۔ فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں متعدد آیات نے قطعاً ثابت کر دیا ہے کہ وعید الہی ہرگز نہیں ٹلتی اور ایسے غلط مسئلہ پر اجماع تو کیا ہوتا کسی ایک معتبر عالم کا بھی یہ قول نہیں ہے اور یقینی طور سے مرزا قادیانی کے یہ چار جھوٹ ہیں اور
٣٩
چھ جھوٹ اور بھی ملاحظہ کر لیجئے۔ (انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص٢٢٣) میں احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی نسبت لکھتے ہیں: ”بلکہ اصل امر بر حال خود قائم ست و ہیچکس با حیلہ خود او را رد نتواں کرد۔ و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است، و عنقریب وقت آں خواہد آمد۔ پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ را برحق مبعوث فرمود و او را بہترین مخلوقات گردانید۔ کہ ایں حق است۔ عنقریب خواہی دید، و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گردانم و من نہ گفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شد۔“ اس قول میں چھ جھوٹ ہیں۔
- ١...... اصل امر بر حال خود قائم ست۔ محض غلط اپنے حال پر ہرگز قائم نہیں ہے۔ بلکہ جھوٹ
ثابت ہوا۔
- ٢...... ہیچکس با حیلہ خود او را رد نتواں کرد۔ یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت کو روک نہیں سکتا۔
محض غلط مسلمانوں نے اس کی درازی عمر کی دعاء کی۔ اللہ نے قبول کی۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ جملہ غلط ہو گیا۔
- ٣...... خدا کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے۔ اس کا جھوٹ ہونا اظہر من الشمس ہو گیا۔ اگر
تقدیر مبرم ہوتی تو احمد بیگ کا داماد ضرور مرزا قادیانی کے سامنے مرتا۔ حالانکہ مرزا قادیانی پہلے مر گئے اور وہ ہنوز زندہ ہے۔
- ٤...... اس کا وقت عنقریب آنے والا ہے۔ محض غلط، عنقریب کیا مرزا قادیانی کی موت تک
اس کا وقت نہ آیا۔ افسوس۔
- ٥...... خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے سامنے مرنا حق ہے۔ عنقریب
تو دیکھ لے گا۔ یہ بھی جھوٹ نکلا اور مرزا قادیانی کی قسم جھوٹی ثابت ہوئی۔
- ٦...... میں نے وہی کہا ہے جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ جب اس پیشین گوئی کا
جھوٹا ہونا یقیناً ثابت ہو گیا تو معلوم ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہ شیطانی وسوسہ تھا۔ خدا کی طرف سے ہرگز نہ تھا۔
الغرض چھ جھوٹ یہ ہوئے اور چار پہلے ملکر دس جھوٹ ہو گئے۔ اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی تہذیب اور تقدس بھی ملاحظہ کیا جائے کہ حقانی، اور راست باز حضرات کو بدذات اور بے ایمان کہتے ہیں۔ کیا اس میں کچھ شک ہے کہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ اور اس کی وعید ہرگز نہیں ٹلتی اور توریت میں نہایت صاف طور سے مرقوم ہے کہ اگر کسی مدعی نبوت کی پیشین گوئی پوری نہ ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید
٤٠
اور توریت مقدس دونوں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر شہادت دیتے ہیں۔ اب بدذات اور بے ایمان کون ہوا؟
مولوی صاحب انصاف سے فرمائیں۔ اس کے سوا مرزا قادیانی کی کذب بیانی آئندہ کسی نمبر میں ملاحظہ کیجئے گا۔ آپ کے ہم مشرب مرزا قادیانی کے صحابی خواجہ کمال صاحب کی صدق بیانی کا نمونہ (ہدیہ عثمانیہ ص ٢١) وغیرہ میں ملاحظہ کیجئے۔ اس میں ان کے کذب کا معائنہ کرا دیا ہے اور اس کے دوسرے حصہ میں اور زیادہ آپ دیکھیں گے۔ اگر آپ نے خواجہ صاحب کا رسالہ (صحیفہ آصفیہ ص ٣٠، ٣١) دیکھا ہوگا تو معلوم کیا ہوگا کہ خواجہ صاحب اپنے مرشد کے رسول ہونے کو قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں اور ان کے منکر کو جہنمی ٹھہراتے ہیں اور اب ناواقفوں کے روبرو اس سے انکار کر رہے ہیں۔ کیا صداقت کا مقتضا یہی ہے؟
صحیفہ محمدیہ کا پانچواں مضمون
پروفیسر عبدالماجد مرزائی کی کمال رسوائی اور فاش شکست
حضرات ناظرین نے ملاحظہ کیا کہ اس مختصر رسالہ میں مسیح قادیان کا جھوٹا ہونا کئی طریقوں سے ثابت کر دیا گیا۔ غضب ہے کہ مرزا قادیانی کے اعلانیہ جھوٹ دکھائے گئے اور ایک دو نہیں بلکہ مرزائی جھوٹوں کا انبار ہے۔ تعلیم یافتہ حضرات اس پر غور نہیں کرتے کہ دانشمندان یورپ نے قانون پاس کر دیا ہے کہ جس گواہ کا ایک جھوٹ بھی ثابت ہو جائے۔ پھر اس کا کوئی بیان قابل اعتبار نہیں اور یہ وہ امر ہے کہ کبھی منسوخ نہیں ہوتا۔ مگر مرزائی حضرات ایسے جھوٹ کے فریفتہ ہیں کہ سینکڑوں جھوٹ بولنے کے بعد بھی سچا ہی جانتے ہیں۔ مگر کسی سچے اور اہل حق کے سامنے آنے کی مجال نہیں ہے۔ یہاں سے قادیان اور حیدرآباد تک کوئی مرزائی سامنے نہیں آیا۔ عنقریب مناظرہ کا چیلنج بھی تمام مرزائیوں کو دیا گیا اور تمام مشتہر کیا گیا۔ مگر صدائے برنخاست، البتہ موضع پوربی ضلع بھاگلپور میں ایک بڑے قادیانی اور مولانا عبدالشکور صاحب سے اتفاقیہ مناظرہ ہو گیا۔ اس کی مختصر کیفیت درج ذیل ہے۔
یہ مناظرہ عبرت کا بہترین سبق ہے۔ اگر اب بھی کسی کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ناحق ہونے میں شبہ ہو تو سوا ”ختم اللہ علیٰ قلوبھم“ کے کیا کہا جائے۔
برادران من! خدا کے لئے انصاف کرو۔ روز جزاء سے کچھ تو ڈرو۔ اگر فی الواقعی تم نے مرزا کو برحق سمجھ کر قبول کیا تھا تو اب حق ظاہر ہو جانے کے بعد جبکہ تم نے اپنی آنکھوں سے اپنے
٤١
ایک مستند عالم کو مناظرہ میں مغلوب ومبہوت ہوتا دیکھا تو لازم ہے کہ توبہ کرو اور اس دام فریب سے نکل کر حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ظل رحمت میں آجاؤ۔ ورنہ قیامت کے روز پچھتاؤ گے۔ ”قال اللہ تعالیٰ ویوم یعض الظالم علیٰ یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا ، یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا ، لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جاء نی“ جس دن کہ ظالم اپنے ہاتھ (افسوس میں ) کاٹے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں نے رسول کی پیروی کی ہوتی۔ اے کاش میں نے فلاں شخص سے دوستی نہ کی ہوتی۔ اس نے مجھے ذکر سے بعد اس کے کہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا گمراہ کردیا۔
اگر تم کو یہ خیال ہو کہ جن باتوں کا جواب دینے سے پروفیسر عبد الماجد قادیانی جو تمہارے مانے ہوئے اور مستند پیشوا ہیں، عاجز رہے۔ شاید ان باتوں کا جواب کوئی دوسرا شخص دے سکے تو تم کو قسم ہے اس کی جس کو تم سب سے زیادہ مانتے ہو کہ اس دوسرے شخص کو ہمارے سامنے لاؤ اور صرف اس قدر ثابت کرا دو کہ جو حالات تمہارے مرزا کے ہیں ان حالات کا شخص شرعاً یا عقلاً اچھا آدمی کہا جا سکتا ہے اور بزرگی اور مرتبہ نبوت تو بڑی بات ہے۔ ”ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین“ ان کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی۔
اس مناظرہ کی مفصل روئیداد آئندہ انشاء اللہ ہدیہ ناظرین ہوگی۔ جس میں مولوی عبد الماجد قادیانی اور جناب مولانا محمد عبد الشکور کی پر لطف تحریریں اور پھر طرفین کی بالمشافہ تقریریں جو تقریباً چار گھنٹہ مجمع عام میں بمقام پورینی ضلع بھاگلپور خود مولوی عبد الماجد قادیانی کے مکان پر ہوئیں۔ بتفصیل آپ دیکھیں گے اس وقت خلاصہ کارروائی اطلاع شائقین کے لئے شائع کی جاتی ہے۔
یہ تو غالباً آپ کو معلوم ہے کہ سال بھر سے جناب مولانا محمد عبد الشکور کوشش کر رہے تھے کہ مولوی عبد الماجد قادیانی سامنے آ کر حق و باطل کا فیصلہ کر لیں اور وہ اب تک ٹالتے رہے۔ طرح طرح کے بہانہ نکالتے رہے۔ لیکن آخر تقدیر الہی سے نہ بھاگ سکے اور مورخہ ١٠؍ مارچ ١٩١٧ء کو ان پر وہ وقت آ گیا جس سے وہ بچنا چاہتے تھے۔
واقعہ یہ ہے کہ ہم مسلمانان پورینی نے اپنے یہاں ایک مذہبی جلسہ کیا اور اس کا اعلان دیا۔ مولوی عبد الماجد قادیانی ایسے موقعہ پر چھیڑنے سے کب باز رہ سکتے تھے۔ فوراً انہوں نے بھی اپنے یہاں ایک جلسہ کا اشتہار دے دیا اور اس میں ہمارے جلسہ اور ہمارے اعلان پر ناروا
٤٢
تحریفات کیں۔ حق پوشی کی نیت سے انہوں نے اپنے جلسہ کا وقت ظاہر نہیں کیا۔ مگر ہم لوگوں نے بہ نیت اظہار حق مولوی صاحب موصوف کو اطلاع دی کہ نہ آپ خود ہمارے یہاں تشریف لاتے ہیں۔ نہ ہم کو بلاتے ہیں۔ لہٰذا اب ہم لوگ آپ کے جلسہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ بحث کے لئے تیار ہو جائیے۔ اس اطلاع کے بعد ہم لوگ ان کے جلسہ میں پہنچ گئے۔ حاضرین جلسہ کی تعداد معقول تھی اور دونوں طرف کے لوگ تھے۔ مولوی عبد الماجد قادیانی سے گفتگو ہوئی۔ شرائط مناظرہ اور تجویز حَکَم کی بحث میں مولوی عبد الماجد قادیانی کسی پہلو پر قائم نہیں ہوئے۔ ہر فریق کے لوگوں نے مولوی صاحب کی باطل پرستی کا اچھی طرح احساس کیا۔ بالآخر جناب مولانا عبد الشکور صاحب نے کہا کہ میں بغیر کسی شرط کے جس طرح آپ چاہیں اور جہاں فرمائیں آپ سے بحث کرنے کے لئے آمادہ ہوں۔ مولوی عبد الماجد قادیانی کی پریشانی اس وقت قابل دید تھی۔ ہر طرف سے راہ فرار مسدود پا کر بادل ناخواستہ ان کو منظور کرنا پڑا اور دوسرے دن بتاریخ ١٠/ مارچ ١٩١٧ء بعد مغرب انہیں کے مکان پر بحث طے پاگئی۔
اب سنئے کہ حق کے سامنے باطل کس طرح سرنگوں ہوا
وقت مقررہ پر ہم اور ہمارے علماء مولوی عبد الماجد قادیانی کے مکان پر پہنچے، مجمع معقول تھا۔ نہ صرف پورینی بلکہ بھاگلپور، چمپا نگر اور برہ پورہ وغیرہ کے مسلمان بھی تھے۔ مرزائی صاحبان میں بھی شاید ہی کوئی شریک جلسہ نہ ہو۔ جناب مولوی علاء الدین صاحب وکیل جو مسلمان ہیں۔ لیکن مولوی عبد الماجد قادیانی سے بھی ان کے تعلقات ہیں۔ وہ مولوی عبد الماجد قادیانی کے شاگرد بھی ہیں۔ صدر مجلس مقرر ہوئے۔ مولوی عبد الماجد قادیانی کا سب سے پہلا اصرار ١؎ یہ ہوا کہ جناب مولوی محمد عبد الشکور صاحب کو دوسرے علماء زبانی یا تحریری کسی قسم کا مشورہ نہ دیں۔ حتیٰ کہ کتابوں کی عبارات حوالہ کے نکالنے میں بھی کوئی ان کی مدد نہ کرے۔ قطع عذر کے لئے ان کی یہ ضد بھی مان لی گئی اور بحث شروع ہوگئی۔
- ١...... جناب مولانا محمد عبد الشکور صاحب نے ایک مختصر خطبہ حمد و صلوٰۃ پڑھ کر دس
منٹ میں اپنی تقریر ختم کردی۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی و رسول ہونے کا بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض انبیاء پر تو صراحۃً اپنی فضیلت بیان کی ہے
١؎ یہ اصرار نہایت روشن کرتا ہے کہ مولوی صاحب کو اظہار حق منظور نہیں ہے۔ بلکہ اپنا راز کھل جانے سے ڈرتے ہیں۔
٤٣
اور بعض پر اشارہ۔ لیکن مرزا قادیان کے حالات واوصاف پر نظر ڈالنے سے ہر ذی عقل سمجھ سکتا ہے کہ یہ حالات جس شخص کے ہوں شریعت اسلامیہ اس کو اچھا آدمی سمجھنے اور کہنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ نبوت و رسالت تو بڑی چیز ہے۔ منجملہ ان حالات واوصاف کے نمونہ کے طور پر اس وقت دو صفتیں مرزا قادیانی کی بیان کی جاتی ہیں۔
اول ...... یہ کہ مرزا قادیانی نے خدا کے پیغمبروں کی بے حد توہین کی ہے۔
دوم ...... یہ کہ مرزا قادیانی جھوٹ بہت بولتے تھے۔
یہ دونوں صفتیں مرزا قادیانی کی خود انہیں کی تصانیف سے پڑھ کر سنائی گئیں اور مولوی عبدالماجد قادیانی کو دیکھنے کے لئے اور حوالہ کی تصدیق کرنے کے لئے وہ کتابیں دے دی گئیں۔
٢ ...... بجواب اس کے مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر ایک گھنٹہ دس منٹ تقریر کی جس میں بہت سی باتیں خارج از بحث شامل تھیں۔ اصل مبحث کے متعلق صرف اس قدر فرمایا کہ مرزا قادیانی کی نیت توہین انبیاء کی نہ تھی اور ان توہینی الفاظ کا استعمال انہوں نے الزامی طور پر کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے جھوٹ بولنے کا جواب دیا کہ اور انبیاء کا جھوٹ بھی ثابت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ایک حدیث کا حوالہ دیا اور حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق دعویٰ کیا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ان کی پیشین گوئی ٹل گئی۔ بڑی پر لطف بات یہ کہی کہ خدا خود اپنی بات ٹال دیتا ہے اور اپنے کلام میں جو شرطیں بر وقت نہیں ذکر کرتا بعد میں بڑھا دیتا ہے۔ اس کو ہم کیا کریں۔ بھائیو! جس مذہب میں خدا پر ایسے الزام ہوں وہ سچا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
٣ ...... جناب مولوی محمد عبدالشکور نے بجواب اس کے پچیس منٹ تقریر کی اور یہ دکھلایا کہ مولوی عبدالماجد قادیانی نے بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کی برأت کرنے سے ان کا جرم اور زیادہ سنگین کر دیا۔ کیونکہ مولوی عبدالماجد قادیانی نے مرزا قادیانی کی ایک عبارت پڑھی جس میں یہ مضمون تھا کہ مسیح علیہ السلام نے قابل نفرت اور مکروہ افعال کا ارتکاب خدا کے حکم سے کیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے خدا کی بھی توہین کی اور خدا کو قابل نفرت اور مکروہ کاموں کا حکم دینے والا کہا۔ معاذ اللہ!
توہینی الفاظ کا الزامی نہ ہونا بھی خود مرزا قادیانی کے کلام سے ثابت کر دیا۔ توہین کی نیت نہ ہونے کا بھی شافی جواب دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کا تو ایسا جواب دیا کہ مولوی عبدالماجد قادیانی گھبرا گئے۔ جس وقت ان سے مطالبہ کیا گیا کہ
٤٤
حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق ق قائل جانا دکھا دیجئے۔ اس وقت م نہیں پڑھی گئی۔ حاضرین سے پو مولانا محمد عبدالشکور نے یہ آیت پڑ قادیانی فرماتے ہیں کہ ذوالنون م ہوں۔ جناب مولانا نے فرمایا کہ ا مجید میں نہ دکھا سکے اور ان کی اس ت نہ کیا۔ تمام جلسہ نے اس کا اعتراف ک
٤ ...... اس کے ب تقریر کی۔ تقریر کیا تھی۔ دفع الو
٥ ...... اس کے ب وہی تقریر تھی جس نے مولوی عب صاف الفاظ میں بے ساختہ ک ”طفل مکتب نیم رود ولے ج دیا۔ میں پہلے ہی جانتا تھا کہ ی قادیان سے عالم ہلا کر تاریخ م
صاحبو! سمجھو کہ وقت وہ توبہ کر لیتے، مگر مستقیم“ (خدا مولوی عبدالماجد قادی ہے۔ اب حضر مرزا قادیانی کو کوئی ج اس سے مرزا قادیان
حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق قرآن کا حوالہ آپ نے دیا ہے۔ قرآن میں ان کی پیشین گوئی کا ٹل جانا دکھا دیجئے۔ اس وقت عجب حالت تھی۔ مولوی عبد الماجد قادیانی سے قرآن کی آیت تک نہیں پڑھی گئی۔ حاضرین سے پوچھتے تھے کہ تذکرہ یونس کی آیت کسی کو یاد ہو تو بتلا دے۔ جناب مولانا محمد عبد الشکور نے یہ آیت پڑھی۔ ”و ذا النون اذ ذهب مغاضباً“ تو مولوی عبد الماجد قادیانی فرماتے ہیں کہ ذوالنون کے تذکرہ کی نہیں۔ حضرت یونس کے تذکرہ کی آیت میں چاہتا ہوں۔ جناب مولانا نے فرمایا کہ ذوالنون حضرت یونس علیہ السلام ہی کا لقب ہے۔ غرض قرآن مجید میں نہ دکھا سکے اور ان کی اس دلیری کا کہ قرآن کا غلط حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کچھ باک نہ کیا۔ تمام جلسہ نے اس کا اعتراف کیا۔
- ٤....... اس کے بعد مولوی عبد الماجد قادیانی نے کھڑے ہو کر ایک گھنٹہ بارہ منٹ
تقریر کی۔ تقریر کیا تھی۔ دفع الوقتی تھی۔ مگر بد حواسی کے ساتھ ۔
- ٥....... اس کے بعد جناب مولانا محمد عبد الشکور صاحب نے تیس منٹ تقریر کی۔ یہ
وہی تقریر تھی جس نے مولوی عبد الماجد قادیانی سے مکابرہ کی طاقت بھی سلب کر لی اور انہوں نے صاف الفاظ میں بے ساختہ کہہ دیا کہ میں مناظرہ کے لئے تیار نہ تھا۔ میری تو یہ حالت ہوئی کہ: ”طفل مکتب نمیرود ولے برندش“ جناب مولوی محمد عبد الشکور نے اپنی تقریر کا اثر لوگوں پر ڈال دیا۔ میں پہلے ہی جانتا تھا کہ میری تقریر کا اثر کسی پر نہ پڑے گا۔ اب میں مناظرہ نہ کروں گا۔ قادیان سے عالم بلا کر تاریخ مقرر کر کے مناظرہ کروں گا۔ اسی گفتگو پر جلسہ برخاست ہوا۔
صاحبو! سمجھو کہ مولوی عبد الماجد قادیانی کو حق پرستی سے کچھ بھی لگاؤ ہوتا تو ضرور اس وقت وہ توبہ کر لیتے۔ مگر یہ بڑے لوگوں کا کام ہے۔ ”والله يهدي من يشاء الى صراط مستقیم“ (خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے) خدا کی حجت پورا کرنے کے لئے دوسرے روز مولوی عبد الماجد قادیانی کو یہ پیام بھی بھیجا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق تو کافی بحث ہو چکی ہے۔ اب حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات وممات پر بحث کر لیجئے۔ اگرچہ اس بحث سے مرزا قادیانی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات مان بھی لی جائے تو اس سے مرزا قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا۔ نہ وہ ان کو مل سکتا ہے۔
ور ہما از جہاں شود معدوم
٤٥
بہت کچھ ان سے کہا گیا کہ مسئلہ تو آپ لوگوں کا مشق کیا ہوا ہے اور آپ جاہلوں کے سامنے تو بڑے بڑے دعویٰ کیا کرتے ہیں۔ آؤ اس پر بحث کرلو۔ مگر مولوی عبد الماجد قادیانی نے سامنے آنے کی جرأت نہ کی۔
علمائے اسلام نے اپنا کام پورا کر دیا اور پورینی و بھاگلپور وغیرہ کے مرزائیوں کو اچھی طرح مرزا قادیانی کی حقیقت معلوم ہو گئی۔ آئندہ انہیں اختیار ہے۔
”والسلام علی من اتبع الہدیٰ“ اس تحریر میں جو کچھ لکھا گیا وہ نہایت صحیح ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ان باتوں کا مشاہدہ کیا ہے اور پروفیسر عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری پر جو ”فبهت الذی“ کفر کی حالت دوران گفتگو میں طاری ہوئی تھی اس کو حاضرین جلسہ کے ہر خاص و عام نے مشاہدہ کر لیا ہے۔ کتبہ محمدن المدعو بسہول غفر اللہ لہ عثمانی حنفی ساکن پورینی وغیرہ حاضرین جلسہ جن کے نام مشتہر ہو چکے ہیں۔
مرزائی احمدی آگاہ ہو جائیں
آپ کی خیر خواہی کے لئے خانقاہ رحمانی مونگیر سے مرزا قادیانی کی حالت کے بیان میں پچاس سے زیادہ رسائل نکل چکے اور نکل رہے ہیں۔ آپ کے بڑے ان کے جواب سے عاجز ہیں مگر آپ کو دام فریب میں رکھنے کے لئے ان رسالوں کے دیکھنے سے روکتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ واہی تباہی اعتراض ہیں۔ لائق توجہ نہیں۔ کبھی کہہ دیتے ہیں کہ محض جھوٹ بولا ہے۔ افتراء کیا ہے۔ کسی وقت محض غلط اور بیہودہ طور سے اعتراض کا جواب دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس رسالہ میں امور ذیل لکھے گئے ہیں۔ فاتح قادیانی سلمہ اللہ المنان کے مقابلہ سے مرزا قادیانی کا عاجز اور جھوٹا ہونا ڈاکٹر عبد الحکیم کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کا ذلیل و جھوٹا ہونا، اپنے بڑے بھائی کے جواب سے عاجز رہنا اور جھوٹا ثابت ہونا، حضرت مسیح کے چار بھائی بہن حقیقی بتانا اور انہیں یوسف نجار اور مریم کی اولاد کہنا، انبیاء کی سخت توہین حقیقی طور سے، مرزا قادیانی کی نسبت عبرتناک خواب فرشتہ قادیان کا خلیفہ قادیان کو معزول کرنا، مرزا قادیانی کے کذب کا نمونہ۔ اب میں تمام جماعت احمدیہ سے کہتا ہوں کہ ان مضامین میں سے اگر ایک مضمون کو بھی جھوٹا اور غلط مجمع عام میں ثابت کر دو تو میں پانچ سو روپیہ اسے دوں گا اور اگر ایسا نہ کر سکے تو میں اسے گمراہی سے توبہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ناظم دارالاشاعت رحمانی مونگیر!
٤٦
کہ آپ لوگوں کا مشق کیا ہوا ہے اور آپ جاہلوں کے سامنے اس پر بحث کرلو۔ مگر مولوی عبد الماجد قادیانی نے لاجواب کر دیا اور پورنی و بھاگلپور وغیرہ کے مرزائیوں کو اچھی طرح شکست دی کہ انہیں فرار اختیار کرنا پڑا۔ الحمد للہ” اس تحریر میں جو کچھ لکھا گیا وہ نہایت صحیح ہے۔ مشاہدہ کیا ہے اور پروفیسر عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری پر جو کیفیت طاری ہوئی تھی اس کو حاضرین جلسہ کے ہر خاص و عام نے بچشم خود دیکھا۔ فقط عبد اللہ غفر اللہ لہ عثمانی حنفی ساکن پورینی و دیگر حاضرین
رسالہ رحمانی مونگیر میں مرزا قادیانی کی حالت کے بیان جو چھپ رہے ہیں۔ آپ کے بڑے ان کے جواب سے عاجز ہیں، وہ ان رسالوں کے دیکھنے سے روکتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں۔ کبھی کہہ دیتے ہیں کہ محض جھوٹ بولا ہے۔ افتراء باندھا ہے۔ کیا اعتراض کا جواب دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس مرد ربانی سلمہ اللہ المنان کے مقابلہ سے مرزا قادیانی کا فرار، مرزا قادیانی کا ذلیل و جھوٹا ہونا، اپنے بڑے بھائی کو گالی دینا، حضرت مسیح کے چار بھائی بہن حقیقی بتانا اور انہیں کی توہین صریح طور سے، مرزا قادیانی کی نسبت عبرتناک موت مرنا، مرزا قادیانی کے کذب کا نمونہ۔ اب میں تمام بھائیوں سے کہتا ہوں کہ ان مضامین میں سے کسی ایک مضمون کو بھی جھوٹا اور غلط مجمع عام میں ثابت کر دے۔ اور اگر ایسا نہ کرسکے تو میں اسے گمراہی سے توبہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ناظم دارالاشاعت رحمانی مونگیر !
٤٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں“
حقیقت مرزا
مولانا سید محمد ادریس دہلویؒ
کیا کسی نبی کو ناجائز خوشامد کی ضرورت پڑسکتی ہے؟
پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی ٹوڈیٹ کا ثبوت
مرزا غلام احمد قادیانی ماہ جون ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔ آپ نے ١٨٦٤ء میں سیالکوٹ میں بطور اہلمد ملازمت اختیار کی۔ ترقی کے خیال سے ١٨٦٨ء میں مختاری کا امتحان دیا۔ لیکن فیل ہوگئے۔ اس ناکامی سے بددل ہو کر اور ملازمت چھوڑ کر اپنے وطن قادیان میں چلے آئے۔ شہرت طلبی کی تدابیر سوچنے لگے۔ اتفاق یا مرزا قادیانی کی خوش قسمتی سے یہ وقت تھا کہ عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے اسلام پر اعتراضات اور حملے ہورہے تھے۔ مرزا قادیانی لکھے پڑھے تو تھے ہی موقع کو غنیمت سمجھ کر قلم ہاتھ میں لیا اور ١٨٨٠ء میں براہین احمدیہ نامی کتاب کی تالیف و ترتیب شروع کی۔ جس کے لئے اسلام کے نام پر چندے کی اپیلیں شائع کی گئیں۔ ان اپیلوں کے جواب میں مسلمانوں نے فراخ دلی سے روپیہ دیا۔ اس کتاب کی تالیف کا سلسلہ ١٨٨٤ء میں ختم ہوا۔ اس دوران میں مرزا قادیانی نے پروپیگنڈا کے فن میں مہارت تامہ پیدا کرنے کے علاوہ کافی شہرت بھی حاصل کر لی۔
مختلف دعاوی
آپ نے اس اثناء میں ایران کے مدعی مہدویت علی محمد باب اور مدعی نبوت اور مسیحیت بہاء اللہ کی تالیفات اور ان کے دعاوی ودلائل کا مطالعہ شروع کیا۔ جن سے مرزا قادیانی کو اپنے عزائم ومقاصد میں بڑی مدد ملی۔ چنانچہ آپ نے ١٨٩١ء میں مسیح اور مہدی ہونے کا اعلان کر دیا اور اس کو کافی نہ سمجھ کر ١٩٠١ء میں صریح الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ عیسائیوں کا مسیح اور مسلمانوں کا مہدی اور نبی بننے کے بعد آپ نے ہندوؤں پر بھی کرم فرمائی ضروری سمجھی۔ چنانچہ ١٩٠٤ء میں کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد اس قدر گوناگوں دعاوی کئے کہ بس وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔
حکومت کی چوکھٹ پر جانے کی ضرورت
نبوت ورسالت کا عظیم الشان دعویٰ (جس کے مدعی کو محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد امت مرحومہ کے تمام اکابر واصاغر اور اولین و آخرین کافر سمجھتے رہے ہیں) ایسا نہ تھا کہ مسلمان اس کو تسلیم کر لیتے۔ دوسری طرف کرشن اوتار اور مسیحیت کا دعویٰ بھی ہندوؤں اور عیسائیوں کے نزدیک مضحکہ خیز تھا۔ اس لئے سب قوموں نے مرزا قادیانی کی مخالفت کی اور ان کے من گھڑت دعاوی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مرزا قادیانی اپنے ان دعاوی میں سچے اور مامور من اللہ ہوتے تو
٢
تمام مخلوق سے بے نیاز ہو کر اپنا کام تھی۔ اس لئے آپ کو ایک ایسے مشن کو جاری رکھ سکتے۔ چنانچہ اس کے لقب سے ملقب کر چکے تھے) اس قدر غلو کیا کہ جہاد جیسے اسلام انکار کر دیا اور عمر بھر میں جس قدر ت حصہ یہی تعلیم دینے میں صرف کر ہے اور جہاد حرام ہے۔ چنانچہ آ ہے۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت ہیں کہ اگر وہ کتابیں اور رسائل اک ایسی کتابوں کو تمام ملک عرب ا کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس بے اصل روایتیں اور جہاد کے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم
ایک قابل غور نکتہ
ہندوستانی مسلمانو نظر کر کے سوال یہ ہے کہ اسلا کی آپ کو کیا ضرورت پیش اطاعت کا سبق پڑھانا تکمیل پھر اس پروپیگنڈا کا بجز ا مسلمانوں کی روح جہاد کو زیر نگین دیکھنے کے لئے
بیعت کا واحد مقصد
اس نہایت اور عملی طور پر بتا دیا کہ مر
تمام مخلوق سے بے نیاز ہوکر اپنا کام کئے جاتے۔ لیکن چونکہ ان دعاوی کی بنیاد نفسانیت پر قائم تھی۔ اس لئے آپ کو ایک ایسے مادی سہارے کی تلاش ہوئی جس کے بل بوتے پر آپ اپنے مشن کو جاری رکھ سکتے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ نے حکومت وقت (جس کو آپ دجال کے لقب سے ملقب کرچکے تھے) کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد کا پیشہ اختیار کیا اور اس معاملہ میں اس قدر غلو کیا کہ جہاد جیسے اسلام کے قطعی مسئلہ کا (جس کو اسلامی مسائل کی روح کہنا چاہئے) انکار کر دیا اور عمر بھر میں جس قدر کتابیں، رسالے، اشتہار اور اخبار شائع کئے۔ ان کا اکثر و بیشتر حصہ یہی تعلیم دینے میں صرف کر دیا کہ گورنمنٹ کی ہر حال میں اطاعت وفرمانبرداری جزو ایمان ہے اور جہاد حرام ہے۔ چنانچہ آپ نے (تریاق القلوب ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) میں لکھا ہے۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ کتابیں اور رسائل اکٹھی کی جاویں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ملک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
ایک قابل غور نکتہ
ہندوستانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے انگریزی اطاعت کا جو درس دیا ہے۔ اسے قطع نظر کر کے سوال یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انگریزی اطاعت اور مخالفت جہاد کا پروپیگنڈا کرنے کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا وہاں کے مسلمان بھی انگریزی رعایا میں داخل تھے کہ ان کو اطاعت کا سبق پڑھانا تکمیل ایمان کے لئے لازمی سمجھا گیا۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس پروپیگنڈا کا بجز اس کے اور کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی اسلامی ممالک کے مسلمانوں کی روح جہاد کو بھی کچلنے کا تہیہ کر چکے تھے اور آپ اسلامی ممالک کو بھی برطانیہ کے زیر نگین دیکھنے کے لئے بے تاب و بے قرار تھے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“
بیعت کا واحد مقصد
اس نہایت ہی ناپاک مقصد کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تیار کیا اور عملی طور پر بتا دیا کہ مرزائی مذہب کے عالم وجود میں آنے کی غرض وغایت کیا ہے۔ چنانچہ آپ ٣
اپنی پچاس الماری والی کتابوں میں لکھتے ہیں۔
- ......١ ”وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت ومریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک سچی
مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہری و باطن برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)
- ......٢ ”اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا
خیر خواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“
(ضمیمہ نمبر ٣ منسلکہ کتاب تریاق القلوب ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
کیا آج تک کسی نبی کو اس قسم کا الہام ہوا ہے؟ مرزائی صاحبان جواب دیں۔
- ......٣ ”اس لئے خدا تعالیٰ نے اس خبیثہ کی صورت کو مسلمانوں کے سر پر سے
بہت جلد اٹھا لیا اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا اور وہ تلخی اور حرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم سب بھول گئے اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٦)
مرزا قادیانی نے اپنی ذریت کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی یہ فرض قرار دے دیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے سچے خیر خواہ اور دلی جانثار ہو جائیں۔ اگر وہ اس سے انکار کریں تو خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہیں۔ چنانچہ آپ (ضمیمہ نمبر ٣ منسلکہ کتاب تریاق القلوب ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٨) پر لکھتے ہیں ۔ ”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے۔ جس کے انکار کرنے سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جانثار ہو جائیں۔“
- ......٤ جمہور اہل اسلام کے نزدیک ”اولی الامر منکم“ سے اسلامی حکومت
مراد ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے گھر کی منطق پر استدلال کرتے ہوئے اس میں انگریزوں کو شامل کر رہے ہیں۔ (ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣) پر لکھتے ہیں۔ ”جسمانی طور پر اولی الامر سے مراد بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف
٤
نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے۔ وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“
- ٥...... اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک
کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں۔ جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس میں میری نظیر اور مثیل نہیں۔
(نور الحق حصہ اول ص ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٤٥)
- ٦...... ”اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے
اور اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہتے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ ان خدمات کو بھلا دے گی۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٦)
- ٧...... ”میرا باپ اور بھائی مفسدہ ١٨٥٧ء میں گورنمنٹ کی خدمت اور
گورنمنٹ کے باغیوں کا مقابلہ کر چکے ہیں اور میں بذات خود سترہ برس سے گورنمنٹ کی یہ خدمت کر رہا ہوں کہ بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں یہ مسئلہ شائع کر چکا ہوں کہ گورنمنٹ سے مسلمانوں کو جہاد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور میں گورنمنٹ کی پولیٹکل خدمت اور حمایت کے لئے ایسی جماعت تیار کر رہا ہوں۔ جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلہ میں نکلے گی اور گورنمنٹ کے متعلق مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ ”وما کان اللّٰہ لیعذبہم وانت فیہم واینما تولوا فثم وجہ اللّٰہ “ یعنی جب تک تو گورنمنٹ کی عملداری میں ہے۔ خدا گورنمنٹ کو کچھ تکلیف نہیں پہنچائے گا اور جدھر تیرا منہ ہوگا۔ اسی طرف خدا کا منہ ہوگا اور چونکہ میرا منہ گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف ہے اور اس کے اقبال و شوکت کے لئے دعاء میں مصروف ہے۔“
(البدر قادیان ص ٥)
- ٨...... (١) ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت
٥
انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٩ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)
- (٢)”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی
گورنمنٹ نہیں جس نے زمانہ میں ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- (٣)”میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے۔ خدا اس کو سلامت
رکھے۔ رومیوں کی نسبت قوانین معدلت بہت صاف اور اس کے احکام پیلاطوس سے زیادہ تر زیر کی اور فہم اور عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل کا شکر ہے کہ اس نے ایسی سلطنت کے ظل حمایت کے نیچے مجھے رکھا۔ جس کی تحقیق کا پلہ شہاب کے پلے سے بڑھ کر ہے۔“
(کشف الغطاء ص ١١، خزائن ج ١٤ ص ١٩٢)
- (٤)”ہمیں سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور
اطاعت دکھانی چاہئے۔ اس سلطنت کے ہمارے پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے۔ ہرگز نہیں ہو سکتے۔“
(کشف الغطاء ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٢)
- ٩...... ”جب ہم ١٨٥٧ء کے غدر کو دیکھتے ہیں اور زمانہ کے مولویوں کے فتنوں
پر نظر ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے عام طور پر مہریں لگادی تھیں کہ انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتور تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“
(ازالۃ اوہام ج ٢ ص ٤٩٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)
- ١٠...... مرزا قادیانی اپنے والد صاحب کا واسطہ دے کر لکھتے ہیں۔ ”میرا باپ
مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پر زور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو
٦
ڑے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس رہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں
(ازالہ اوہام ص ٥٠٩ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)
تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ
(ازالہ اوہام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
میری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے۔ خدا اس کو سلامت بہت صاف اور اس کے احکام پیلاطوس سے زیادہ تر زیر ت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل کا شکر کے نیچے مجھے رکھا۔ جس کی تحقیق کا پلہ شہاب کے پلے
(کشف الغطاء ص ١١، خزائن ج ١٤ ص ١٩٢)
نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور ہمارے پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے۔ ہرگز
(کشف الغطاء ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٢)
م کے سوا کو دیکھتے ہیں اور زمانہ کے مولویوں کے فتووں رس لگادی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے تو ہم مولوی تھے اور کیسے ان کے فتور تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ تے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن جہاد رکھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٢٩٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)
والد صاحب کا واسطہ دے کر لکھتے ہیں۔ ”میرا باپ ہم رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پرزور کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو
٦
دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے۔ کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے۔ چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں اور میرا بھائی مرزا غلام قادر تریموں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔ غرض اس طرح میرے بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا۔ سو انہیں خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی۔ جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔
(رسالہ کشف الغطاء ص ٤ بحوالہ سیرۃ المہدی ص ١١١، خزائن ج ١٤ ص ١٨٠)
طائفہ مرزائیہ پنجابی نبی کے نقش قدم پر
ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں مرزائیوں کا ایڈریس
یہ اس ایڈریس کی نقل ہے جو مرزائیوں نے ٢٧ فروری ١٩٢٢ء کو بوساطت گورنمنٹ پنجاب پیش کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امت مرزائیہ بھی اپنے سرکاری نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت کے مطابق حکومت برطانیہ کی فرمانبرداری میں اپنا مال و جان قربان کرنا فخر ہی نہیں بلکہ جزو ایمان سمجھتی ہے۔
جناب شہزادہ ویلز ! ہم نمائندگان جماعت احمدیہ جناب کی خدمت میں جناب کے ورود ہندوستان پر تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور اگرچہ ہم وہ الفاظ نہیں پاتے جن میں جناب کے خاندان سے دلی وابستگی کا اظہار کر سکیں۔ لیکن مختصر لفظوں میں ہم جناب کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو بلا کسی عوض اور بدلہ کے خیال کے ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے لئے دینے کے لئے تیار ہیں۔
حضور عالی! چونکہ ہماری جماعت نئی ہے اور تعداد میں بھی دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ جناب کو پوری طرح ہماری جماعت کا علم نہ ہو۔ اس لئے ہم مختصراً
٧
اپنے متعلق جناب کو کچھ علم دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وسیع ملک کی حکومت کی باگ آپ کے ہاتھ میں آنے والی ہے اور بادشاہ کی حکومت کے استحکام میں جو امر بہت ہی ممد ہوتے ہیں۔ ان میں سے اپنی رعایا کے مختلف طبقوں کا علم بھی ہے۔ حضور عالی! ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور ہمیں دوسری جماعتوں سے امتیاز اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ہے۔ ہم لوگ مسلمان ہیں اور ہمیں اس نام پر فخر ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں ایک عظیم الشان خندق حائل ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس سو سال پہلے خدا کے ایک برگزیدہ کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ اس وقت کے مامور حضرت مرزا غلام احمد ساکن قادیان کے ماننے والے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے دوسرے بھائی ان لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت مسیح کا انکار کر دیا تھا۔ اس کے منکر ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ آنے والا مسیح مسیح کے رنگ میں آنے والا تھا۔ نہ کہ خود مسیح نے آنا تھا۔
ہمارے سلسلہ کی بنیاد اکتیس سال سے پڑی ہے اور باوجود سخت سے سخت مظالم کے جو ہمیں برداشت کرنے پڑے ہیں۔ اس وقت ہندوستان کے ہی ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت نہیں۔ بلکہ سیلون، افغانستان، ایران، عراق، عرب، روس، ماریشس، نیپال، ایسٹ افریقہ، مصر، سیرالیون، گولڈکوسٹ نائیجریا، یونائیٹڈ سٹیٹس، خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ دنیا میں نصف ملین کے قریب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ مختلف ممالک کے ہندوستانی ساکنین ہی اس جماعت میں شامل ہیں۔ بلکہ خود ان ممالک کے رہنے والے اس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ لنڈن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور ایک مسجد بھی ہے اور انگلستان کے قریباً دو سو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہو چکے ہیں اور اسی طرح یونائیٹڈ اسٹیٹس کے لوگوں میں یہ سلسلہ پھیل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ سلسلہ سب جہاں میں پھیل جائے گا۔
حضور عالی! ان مختصر حالات بتانے کے بعد ہم جناب کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ہماری وفاداری جناب کے والد مکرم سے کسی دنیوی اصل پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیاوی طمع اس کا موجب ہے۔ جو خدمات گورنمنٹ کی بحیثیت جماعت ہم کرتے ہیں۔ اس کے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے طالب نہیں ہوئے۔ ہماری وفاداری کا موجب ایک اسلامی حکم ہے۔ جس کے متعلق بانی سلسلہ نے ہمیں سخت تاکید کی ہے کہ کبھی اسے نظر انداز نہ ہونے دیں اور وہ حکم یہ ہے کہ جو حکومت ہمیں آزادی دے۔ اس کی ہمیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور کوئی حکومت ہمارے مذہبی
٨
قادیانی
کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں
کراچی
یہی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے باگ آپ کے ہاتھ میں آنے والی ہے اور بادشاہ کی حکومت ہوتے ہیں۔ ان میں سے اپنی رعایا کے مختلف طبقوں کا علم بھی تے ہیں اور ہمیں دوسری جماعتوں سے امتیاز اپنے مذہبی عقائد اور ہمیں اس نام پر فخر ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم میں اور تعلق حائل ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ اس وقت کے مامور حضرت والے ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور کی طرح جنہوں نے حضرت مسیح کا انکار کر دیا تھا۔ اس کے منکر کے رنگ میں آنے والا تھا۔ نہ کہ خود مسیح نے آنا تھا۔ سال سے پڑی ہے اور باوجود سخت سے سخت مظالم کے جو اس وقت ہندوستان کے ہی ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت عراق، عرب، روس، ماریشس، نیپال، ایسٹ افریقہ، مصر، میں، خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ مختلف جماعت میں شامل ہیں۔ بلکہ خود ان ممالک کے رہنے تا۔ چنانچہ لندن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور دو سو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہوچکے ہیں اور اسی طرح چل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ
بتانے کے بعد ہم جناب کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ہماری ی اصل پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیاوی طمع اس کا موجب طاعت ہم کرتے ہیں۔ اس کے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے جب ایک اسلامی حکم ہے۔ جس کے متعلق بانی سلسلہ نداز نہ ہونے دیں اور وہ حکم یہ ہے کہ جو حکومت ہمیں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور کوئی حکومت ہمارے مذہبی
٨
فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے کہ ملک میں فساد ڈلوانے کے اس کے ملک سے ہمیں نکل جانا چاہئے۔ ہمارے تجربہ نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیرسایہ ہمیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔ حتیٰ کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے، تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اس قدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیرجانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو حضور عالی ہماری فرمانبرداری امور مذہبی پر ہے۔ اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کسی قدر بھی خلاف کریں۔ کبھی اس کے برخلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کے رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔
حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے۔ جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ہم نے بار بار سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزارہا دفعہ پھر ایسا موقعہ پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دعویٰ کے ثابت کرنے کی اس سے زیادہ توفیق دے گا۔ جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے۔ ہم اس امر کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے۔ ہمارا مذہب تو ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر مذہبی ظلم بھی ہو۔ تب بھی اس ملک کا امن برباد نہ کرو۔ بلکہ اسے چھوڑ کر چلے جاؤ۔ لوگ ہمارے ان خیالات پر قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ کا خوشامدی سمجھتے ہیں اور بعض بیوقوف یا موقعہ کا متلاشی قرار دیتے ہیں۔ مگر اے شہزادہ مکرم ! ہم لوگوں کی باتوں سے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دنیا ہمیں کچھ کہے جبکہ ہمارے خدا نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم امن کو برباد نہ ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر مقدم کریں اور تمام بنی نوع انسان میں محبت پیدا کر کے انہیں باہم ملائیں۔ تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم بہر حال اپنے بادشاہ کے وفادار رہیں گے اور اس کے احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔
حضور عالی! آپ نے اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے جو ان لوگوں کے حالات
٩
سے آگاہی حاصل کرنی چاہی ہے۔ جن پر کسی آئندہ زمانہ میں حکومت کرنا آپ کے لئے مقدر ہے۔ اس قربانی و ایثار کو ہم لوگ شکر اور امتنان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی شخص جو ذرہ بھر بھی حق اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے۔ آپ کے سفر کو کسی اور نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پس ہم لوگ آپ کی اس ہمدردی اور ہمارے حالات سے دلچسپی رکھنے پر آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اپنے باپ کی رعایا کی طرف محبت کی نظر ڈالی ہے وہ بھی آپ کی طرف محبت کی نظر ڈالے۔
حضور عالی! ہماری جماعت نے جناب کے ورودِ ہندوستان کی خوشی میں جناب کے لئے ایک علمی تحفہ تیار کیا ہے۔ یعنی اس سلسلہ کی تعلیم اور اس کے قیام کی غرض اور دوسرے سلسلوں سے اس کا امتیاز اور باقی سلسلہ کے مختصر حالات اس رسالہ میں اور اس میں جناب ہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سلسلہ کے موجودہ امام نے اسے لکھا ہے اور بتیس ہزار آدمیوں نے اس کی چھپوائی میں حصہ لیا ہے۔ تاکہ ان کے خلوص کے اظہار کی یہ علامت ہو اور ابھی وقت کی قلت مانع رہی ہے۔ ورنہ اس سے بہت زیادہ لوگ حصہ لیتے۔
حضور شہزادہ والا تبار ہم یہ تحفہ بوساطت گورنمنٹ پنجاب حضور میں پیش کرتے ہیں اور ادب و احترام کے ساتھ ملتجی ہیں کہ کچھ وقت، اس کے ملاحظہ کے لئے وقف فرمایا جاوے۔
آخر میں پھر ہم جناب کو تہ دل سے ورودِ ہندوستان اور پھر ورودِ پنجاب پر جو مرکز سلسلہ احمدیہ ہے، خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے والد مکرم سے ہماری طرف سے عرض کر دیں کہ ہماری جماعت باوجود اپنی کمزوری ناطاقتی اور قلت تعداد کے ہر وقت جناب کے لئے اپنا مال و جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر حالت میں آپ اس جماعت کی وفاداری پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے قدم کو اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلائے اور ہر ایک آفتِ زمانہ سے آپ کو محفوظ رکھے۔ بلکہ اپنی مدد اور نصرت کا دامن آپ کے سر پر پھیلائے۔
(قائمقام جماعت احمدیہ ٢٧ فروری ١٩٢٢ء)
حق و باطل کی پہچان
انصاف کی کسوٹی پر اس چیز کو پرکھا جائے کہ غیر اللہ کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد جس خانہ ساز نبوت کا فرضِ اولین اور جزوِ ایمان ہو کیا اسلام جیسے پاکیزہ دین اور خدا تعالیٰ جیسی بلند ترین ہستی کے ساتھ اس کو دور کا تعلق بھی ہو سکتا ہے۔ ”وما علینا الا البلاغ“
(ماخوذ از تائید الاسلام)
١٠
علماء کرام و خطباء حضرات سے اپیل
ہر ماہ کا ایک جمعہ ختم نبوت کیلئے وقف کریں
- ...... عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس ہے۔ چنانچہ امام ابن نجیمؒ نے الاشباہ والنظائر ص ١٠٢ پر لکھا ہے کہ: ”اذا
لم یعرف ان محمدﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات“ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔
- ...... آئین پاکستان کی رو سے قادیانی کافر ہیں۔ جبکہ وہ خود کو مسلمان اور امت محمدیہ کو کافر کہہ کر آئین سے
بغاوت کر رہے ہیں۔
- ...... تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے بعد تحریک نظام مصطفیٰﷺ، تحریک ایم، آر، ڈی، شیعہ سنی تنازعہ، لسانی
قضیہ، عراق، ایران۔ کویت، عراق جنگیں، افغانستان میں روسی پھر امریکی یلغار، سقوط عراق سے سانحہ لال مسجد تک ہوشربا اور سنگین مسائل اور مجبوریوں کی وجہ سے ختم نبوت کے تحفظ کا کام اور قادیانیت کے احتساب کے عمل کی خطابت میں ثانوی حیثیت ہوگئی۔ حالانکہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تبلیغ اور جہاد جیسے فرائض کا تعلق حضورﷺ کے اعمال سے ہے اور ختم نبوت کا تعلق حضورﷺ کی ذات مبارک سے ہے۔
- ...... ختم نبوت کی پاسبانی براہ راست ذات اقدس کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔
- ...... لہٰذا: تمام خطیب حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ کم از کم ہر ماہ کا ایک جمعہ مسئلہ ختم نبوت کے بیان
کے لئے وقف کر کے شفاعت نبویؐ کے مستحق بنیں۔ قادیانیت سے خود بچنا اور امت کو بچانا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
والسلام! فقیر خان محمد عفی عنہ (مولانا خواجہ خواجگان) خواجہ خان محمد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122