احتساب قادیانیت جلد 58 · مولانا شوکت اللہ میرٹھی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 58 · Maulana Shaukatullah Meeruthi
PDF 1

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٨

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٨

● مولانا شوکت اللہ میرٹھیؒ

● جناب مظہر الدین ملتانی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اٹھاون (٥٨) مصنفین : مولانا شوکت اللہ میرٹھی جناب مظہر الدین ملتانی صفحات : ٦٣٠ قیمت : ٤٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر ٢٠١٤ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٨

تفصیلی فہرست شحنہ ہند ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١، ٢ ...... یکم و ٨؍ جنوری ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣ ...... ١٦؍ جنوری ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤ ...... ٢٤؍ جنوری ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٥ ...... یکم؍ فروری ١٩٠٤ء

صفحہ ٤

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٦ ...... ٨؍ فروری ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٧ ...... ١٦؍ فروری ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٨ ...... ٢٤؍ فروری ١٩٠٣ء

ضمیمہ

ضمیمہ

ضمیمہ

ضمیمہ

صفحہ ٥

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٩ ...... یکم/مارچ ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٠ ...... ٨/مارچ ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١١ ...... ١٦/مارچ ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٢ ...... ٢٣/مارچ ١٩٠٤ء

صفحہ ٦

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٣ ...... یکم اپریل ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٤، ١٥ ...... ٨ و ١٦ اپریل ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٦ ...... ٢٤؍ اپریل ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٧ ...... یکم مئی ١٩٠٤ء

صفحہ ٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ١٨ ....... ٨؍مئی ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ١٩ ....... ١٦؍مئی ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٢٠ ....... ٢٢؍مئی ١٩٠٢ء

صفحہ ٨

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢١ ...... یکم / جون ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٢ ...... ٨/ جون ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٣ ...... ١٦ / جون ١٩٠٤ء

ضمیمہ

ضمیمہ

ضمیمہ

ضمیمہ

صفحہ ٩

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٤ ...... ٢٤؍ جون ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٥ ...... یکم؍ جولائی ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٦ ...... ٨؍ جولائی ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٧ ...... ١٦؍ جولائی ١٩٠٤ء

صفحہ ١٠

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٨ ...... ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء ١...... سوال و جواب۔ ا ۔ د ۔ گجرات ٢٤١ ٢...... مرزا قادیانی کا خروج عظیم فتنہ ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٤٤ ٣...... آنحضرت ﷺ کا کسر شان۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٤٦ ٤...... آئینہ کمالات قادیانی۔ لدھیانوی کا رسالہ ٢٤٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٩ ...... یکم؍ اگست ١٩٠٢ء ١...... مرزا قادیانی انبیاء کی مجسم توہین ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٥١ ٢...... مرزائیوں کے کرتوت۔ عمر لکھوی کا خط ٢٥٥ ٣...... مرزائیت سے توبہ۔ پیسہ اخبار ٢٥٦ ٤...... وہی حیات مسیح۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٥٧ ٥...... مرزائیوں سے سوال۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٥٩

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٠ ...... ٨؍ اگست ١٩٠٢ء ١...... دس کا ایک رہ جانا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟ امام الدین ۔ لاہور ٢٦٠ ٢...... وہی حیات مسیح۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٦١ ٣...... تفسیر سورۃ جمعہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٦٤ ٤...... تیرہ سو برس میں کس قدر مجدد آئے؟ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٦٦

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣١ ...... ١٦؍ اگست ١٩٠٢ء ١...... مرزا قادیانی پر فرد جرم کی تکمیل۔ پیسہ اخبار ٢٦٩ ٢...... مرزا قادیانی کا انوکھا الہام۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٧٠ ٣...... نبی اور ولی کے الہام میں فرق۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٧٢

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٢ ...... ٢٤؍ اگست ١٩٠٢ء ١...... آئینہ کمالات قادیانی ص ٥٨ و دیگر۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٧٣ ٢...... وہی حیات مسیح۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٧٧ ٣...... حدیث شریف میں رجلِ فارس سے کیا مراد ہے؟ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ٢٧٩

صفحہ ١١

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٣ ...... یکم ستمبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٤ ...... ٨ ستمبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٥ ...... ١٦ ستمبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٦ ...... ٢٤ ستمبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٧ ...... یکم اکتوبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٨ ...... ٨ اکتوبر ١٩٠٤ء

صفحہ ١٢

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٩ ...... ١٦؍اکتوبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٠ ...... ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤١ ...... یکم؍نومبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٢ ...... ٨؍نومبر ١٩٠٣ء

صفحہ ١٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٣ ...... ١٦ نومبر ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٤ ...... ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٥ ...... یکم دسمبر ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٦ ...... ٨ دسمبر ١٩٠٢ء

صفحہ ١٤

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٧ ...... ١٦؍ دسمبر ١٩٠٤ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٨ ...... ٢٣؍ دسمبر ١٩٠٤ء

۞ ...... ☆ ...... ۞

صفحہ ١٥

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عرض مرتب

الحمدللہ و کفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی ، اما بعد!

محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد اٹھاون (٥٨) پیش خدمت ہے۔

حضرت مولانا شوکت اللہ میرٹھی (مولانا محمد احسن میرٹھی) تھے۔

مظہر الدین ملتانی تھے۔ ان کے والد فخر الدین ملتانی نے قادیانیت قبول کی اور ملتان سے قادیان منتقل ہوئے۔ ان پر جب قادیان کے دوسرے خلیفہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین مرزا محمود قادیانی کی بدکرداری عیاں ہوئی۔ انہوں نے آواز اٹھائی۔ مرزا محمود نے ان کو قتل کرا دیا۔ فخر الدین ملتانی کے بیٹے مظہر الدین ملتانی نے اپنی آنکھوں کے سامنے باپ کو قتل ہوتے دیکھا تو مرزا محمود کے خلاف ہو گئے۔ چنانچہ مرزا محمود کی بدکرداری پر یہ کتاب لکھی۔ مگر مرزا محمود کے مخالف ہونے کے باوجود آخر تک قادیانی رہے۔

صفحہ ١٦

انہوں نے خود یہ تعارف قلمبند کیا ہے۔ ”بد باطن دجال (مرزا محمود) کے دجل فریب کے چند اہم مگر پوشیدہ اوراق درج کئے گئے ہیں ۔“ اس کتاب نے بھی قادیانی مؤلف کے ہاتھوں مرزا محمود کو بے لباس کر دیا ہے۔

مرزا محمود ایسے ابن الوقت کے ناپاک سیاسی منصوبے، دینی سیاست کے پردے میں چیرہ دستیاں، حکومتی خاکے، فوجی نظام حکومت کے خواب، ربوہ سٹیٹ بینک وغیرہ، گشتی مراسلہ، ربوہ کے جاسوسوں کا کام، حکومت کی پالیسی کے راز چرانا، مرکزی حکومت نے اعلیٰ حکام کو خبر دار رہنے کی ہدایت کر دی، ایسے بیسیوں عنوانات قائم کر کے مرزا محمود کے کردار کو تار تار ہوتے دکھایا گیا ہے۔

غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا یعنی جلد اٹھاون میں دو حضرات کی چار کتب ورسائل موجود ہیں۔

گویا دو حضرات کی: ٤ کتب ورسائل

اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔ فالحمدللہ علیٰ ذالك!

محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا ٢٦ ستمبر ٢٠١٤ء

PDF 18

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

١٩٠٤ء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

صفحہ ١٨

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم و ٨/ جنوری کے شمارہ نمبر ١، ٢/ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... آسمانی نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہر شے ذرے سے لے کر صحرا تک اور قطرے سے لے کر دریا تک ضعیف پشتے سے لے کر قوی ہیکل ہاتھی تک اور تناور درخت سے لے کر پر کاہ تک سب آسمانی نشان یعنی صناع کون و مکان اور خالق انس و جان کی قدرت و صنعت کی مضبوط حجت و برہان ہیں مگر معلوم نہیں ناخلف لے پالک اور اس کے کھوسٹ باپ کی مراد آسمانی نشان سے کیا ہے۔ لے پالک کا ایمان یقیناً رب العالمین کی قدرت کے نشانوں اور اس کے معجزات باہرہ اور علامات قاہرہ پر نہیں کہ اپنے لئے چنڈول نامعقول شیطانی باپ کے نشانوں کے ظہور کا ہمیشہ منتظر رہتا ہے۔ لے پالک کا ایمان تو پروردگار عالم کی لم یزل وجود اور اس کی صفات کاملہ پر کیا ہوگا۔ خود باپ کا ایمان بھی نہیں۔

تو حال خاندانش را چہ پرسی
سگ و سگ زادگان کرسی بہ کرسی

معلوم نہیں آسمانی باپ کو اپنے لے پالک سے کیا ضد آ پڑی ہے کہ لے پالک کو ذلیل کرنے اور جھوٹا بنانے کے لئے غلط الہام کرتا رہتا ہے۔ ایک آسمانی نشان تو یہ تھا کہ ضمیمہ شحنہ ہند کی اشاعت بند ہو جائے گی اور اسی سال پر حصر نہیں سخرہ آسمانی باپ اپنے ناخلف لے پالک پر تین سال سے برابر الہام کرتا ہے کہ ضمیمہ اب بند ہوا۔ اور اب بند ہوا مگر کیا وہ کبھی بند ہوا ہے یا ہوگا ہاں مرے گا اس میں وہ ضرور ہو جائے گا۔ ضمیمے نے تو دجالوں کی ناک میں بعون اللہ القہار تیر ڈال رکھا ہے۔ بولتی بند کر رکھی ہے۔ سروں پر آرہ چلا رکھا ہے جب تک مجدد السنہ شرقیہ اور شحنہ توحید کے دم میں دم ہے اور خاصان الٰہی (مربیان و معاونان ضمیمہ شحنہ ہند) کا سایہ عاطفت اس کے سر پر ہے بند ہو نہیں سکتا۔ ہاں بروزیت و دجالیت کی ترکی جلد تمام ہوئے جاتی ہے۔ انشاء اللہ

٢

صفحہ ١٩

تعالیٰ ابھی ابھی امرتسر سے چند معتمد حضرات تشریف لاکر غریب خانہ پر فروکش ہوئے۔ ان کا بیان ہے کہ مرزائیت کی ہوا اکھڑ رہی ہے۔ وہ دم توڑ رہی ہے۔ اس کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں۔ مرزائیوں کا ایک معتد بہ حصہ منحرف ہو گیا ہے۔ ضمیمہ کو دیکھ دیکھ کر لوگ مرزائیت سے نفرت کرتے جاتے ہیں اور راہِ راست پر آتے جاتے ہیں۔ اور چونکہ مرزا قادیانی نے لوگوں کو دم جھانسے دے کر بہت سا زر مال جمع کرلیا ہے اور سادہ لوحوں کی گانٹھ کاٹ کر جائیدادیں اوروں کے نام سے خرید لی ہیں اور مستورات کو زیور مرصع بجواہرات سے سونے کی پتلیاں بنادیا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں پر طلسم کھلتا جاتا ہے۔.................................................................................................... ..........................................................................................................

(یہاں اس شمارہ کے دو صفحات نہیں ملے۔مرتب!)

ہی یقین کرتے ہیں اگر چہ ان کو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے انکار ہے لیکن منصف مزاج علماء وحکماء یورپ اور اکثر مصنفین ومورخین آنحضرت ﷺ کو سچا رفارمر اور ہادی سمجھتے ہیں اور اصول مذہب اسلام کو قانون فطرت کے موافق بتاتے ہیں۔ صرف ایک ناخلف لے پالک ہے جو دیگر انبیاء کو اپنی جعلی اور زوری بروزیت کے مقابلے میں نہیں دیکھ سکتا۔ نہ اس کے دل میں ان کی عظمت ہے۔ شوکت اللہ نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ مرزا قادیانی تو چینی الاصل اور پنجابی نژاد مغل ہیں۔ ان پر زبانِ عرب میں خلاف آیہ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ کیوں الہامات ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور اب ان پر علاوہ زبان عرب اردو اور فارسی زبان میں بھی الہام ہوتا ہے۔ آسمانی باپ نے جو پیر نابالغ ہے اردو اور فارسی زبان کا بھی آسمانی سکول سے ڈپلومہ لے لیا ہے۔

اور ان زبانوں میں بھی لے پالک پر الہام کرنا شروع کردیا ہے۔ لیکن اب یہ اعتراض ہے کہ ہندوستان تو مختلف اقوام ومذاہب کا مسکن ہے جن کی زبانیں بھی مختلف ہیں اور لے پالک ٹھہرا امام الزمان اور سب کا نبی۔ پس اب آسمانی باپ کو اس کی خاطر پشتو، کشمیری، سنسکرت، بھاشا، مرہٹی، گجراتی، سندھی، مارواڑی، میواڑی، انگریزی وغیرہ کی تعلیم بھی سکول میں پانی پڑے گی۔ الغرض چاہئے لے پالک کی خاطر غریب بوڑھا باپ سبھی جتن کرنے پر مجبور ہوگا۔ آپ جانئے لعل پیارا تو لعل کے خال بھی پیارے اور جب وہ امام الزمان ہے تو دنیا کی زبانوں، ترکی، فرنچ، لاطینی، جرمنی، چینی، جاپانی، زند وغیرہ زبانوں کا سیکھنا بھی آسمانی باپ کا فرض ہوگا۔ ورنہ لے پالک اپنی

٣

صفحہ ٢٠

تبنیت کی پوری تبلیغ نہ کر سکے گا۔ مگر اب اعتراض کا یہ پوچھے گا کہ کسی نبی پر دنیا کی مختلف زبانوں میں غضبناک اور تکلیف مالا یطاق الہامات نہیں ہوئے۔ لیکن دنیا نے ان کو نبی تسلیم کر لیا۔ ایک لے پالک ہے کہ جب تک ساری خدائی کی زبانوں میں اس پر الہام نہ ہو۔ کوئی اس کو بروزی نبی اور امام الزمان نہیں مان سکتا۔

وائے قسمت ہائے اندھیر۔ نکتہ رسی و لے پالک نوازی عالم بالا

معلوم شد ”لیکن یہ یاد رہے کہ آسمانی باپ سینگ کٹا کر کتنا ہی بچھڑوں میں ملے مگر کسی زبان میں صحیح الہام کرنے کا سلیقہ اس کو بھی نہ آئے گا اور وہی مثل ہوگی کہ گوسالہ ما پیر شد و گاؤ نشد ۔ ہاں مجدد السنہ شرقیہ کے بیت العلوم تجدید میں اگر آسمانی باپ تعلیم پائے تو کیا طاقت ہے ۔ کہ غلط الہام کر سکے۔ مرزائی اخبار الحکم میں وقت کی شہنائی (وحی الہامات) یوں بجائی گئی ہے۔ ”کُلکم ذاھب“ (تذکرہ ص ٥٠٠ طبع سوم) اس میں ظرف غائب ہے یعنی آسمانی باپ نے یہ کہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک جانے والا ہے اسے یہ بھی نہیں سوجھی کہ کہاں جانے والا ہے۔ ناقص الہام کو مجدد پورا کئے دیتا ہے۔ سب یوں پڑھو ”کلکم ذاھب الی دار البوار“ دوسرا الہام ”اکمل الله کل مقصدی“ (تذکرہ ص ٥٠٠ طبع سوم) یہاں مستثنیٰ محذوف ہے۔ پورا الہام یوں پڑھو ”اکمل الله کل مقصدی الاالایمان“ پھر بھی یہ خبط ہے کہ آسمانی باپ یوں کہہ رہا ہے کہ اللہ نے میرا ہر مقصد پورا کیا۔

لے پالک کا ذکر نہیں کہ اس کا ہر مقصد اللہ نے پورا کیا۔ مجدد کے الہام نے یہ ثابت کر دیا کہ آسمانی باپ کو بھی ایمان حاصل نہیں۔ تیسرا الہام ”انی مع الرسول اقوم واقصدک واروم انت معی وانا معك“ (تذکرہ ص ٥٠١ طبع سوم) یہ الہام پہلے بھی ہو چکا ہے پھر رسول اور ہے جو غائب ہے اور اقصدک میں مخاطب حاضر اور ہے پہلے یہ الہام ہوا تھا ”انت منی وانا منك“ (تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم) میں تجھ سے اور تو مجھ سے یعنی میں تیرا بیٹا تو میرا بیٹا۔ میں تیرا باپ تو میرا باپ۔ اس الہام کا یہ مطلب ہے کہ تو میرے ساتھ یعنی لے پالک باپ کے ساتھ اور باپ لے پالک کے ساتھ۔ دونوں کے لئے ایک معیت کافی نہیں۔ باپ کی معیت بیٹے کے ساتھ اور ہے اور بیٹے کی معیت باپ کے ساتھ اور آسمانی باپ گھاس کھا گیا ہے۔ اور لے پالک آلو۔

چوتھا الہام ”کبر عند الله موت ھذا الرجل“ (تذکرہ ص ٥٠١ طبع سوم) یعنی اس مرد کی موت بڑی ہے اور وہ اس کا مرنا نہیں چاہتا۔ مرنے کے واسطے تو عیسیٰ مسیح تھے۔ لے پالک تو منارے کی برجی پر ہمیشہ ہٹا کٹا بیٹھا رہے گا۔ پس ھذا الرجل سے مراد خود لے پالک ہے اور اگر

٤

صفحہ ٢١

مولوی کرم الدین صاحب یا کوئی اور صاحب مراد ہیں تو یہ تخویف ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی عدالت میں توبہ نامہ لکھ چکے ہیں۔

پانچواں الہام ”ان الله لا يضر“ (تذکرہ ص ٥٠١ طبع سوم ) اس کا یہ ایک ٹکڑا بھی آسمانی باپ بھول گیا یعنی ”الا المتكبرين الملحدين“ خدائے تعالیٰ بے شک کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ مگر متکبروں منکروں ، ملحدوں کو ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ کیونکہ وہ توحید ورسالت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ”ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون“ (تذکرہ ص ٥٠١ طبع سوم) تعجب ہے کہ اس قرآنی آیت میں کچھ دخل تصرف تغیر تبدل گھال میل نہیں کیا گیا۔ ”تری نصراً من عند الله وهم يعمهون“ (تذکرہ ص ٥٠١، ٥٠٢ طبع سوم) نصر من الله“ اور يعمهون قرآنی آیت کا پورا ٹکڑا ہے جو جعلی لفظ تری کے ساتھ یوں چمک رہا ہے جیسے ظلمت میں نور۔ اس جعل سازی پر خدا کی مار۔ اور تو کیا کہوں۔ چھٹا الہام ”فبشریٰ للمومنين“ (تذکرہ ص ٥٠٠ طبع سوم ) قرآن مجید میں ہے ”فبشر عبادی الذین یستمعون القول الآیہ“ آپ پر اس کی جگہ یہ الہام ہوا ”لعنت الله على الجاهد“ الہام ”...... مخرج ما کنتم تکتمون“ (تذکرہ ص ٤٩٩ طبع سوم ) حق بر زبان جاری ۔

یہ الہام تو آسمانی باپ نے حسب حال گھڑا ہے کیا معنی مقدمہ استغاثہ مولانا کرم الدین صاحب میں وکلاء نے جرح میں مرزا قادیانی سے سب کچھ اگلوا لیا۔ ہر چند چھپایا مگر توبہ ، توبہ۔ وکیل آپ جانتے ہیں بڑے ہی کائیاں۔ وہ کوئی بات لگی لپٹی کب چھوڑنے والے ہیں۔ یہاں تو ہم آسمانی باپ کو شاباش دیتے ہیں اور لے پالک کے ڈنڈ ملتے ہیں۔ اب خیر سے فارسی اور اردو زبان کے الہامات بھی سنئے۔ ساتواں الہام ”بستر عيش“ (تذکرہ ص ٤٩٩ طبع سوم) ”خوش باش که عاقبت نکو خواهد بود“ (تذکرہ ص ٤٩٩ طبع سوم ) یہ الہام تو واقعی بہت چوچوہاتا ہے۔ جو کستوری اور ریگ ماہی کی دم سے نکلا ہے اور زعفرانی حلوے میں تربتر ہو کر اور باہ کی قاب میں رکھ کر آسمانی باپ نے پیش کیا ہے کہ بچہ کچھ غم نہ کر۔ دنیا کے مزے تمہارے لئے ہیں۔

وفارق اباك اذا ما اباك
ومد شباك وصد من سبخ

یعنی عیش اور مستی کی حالت میں اگر باپ بھی روکے تو اس سے جدا ہو جا اور چار طرف اپنا جال پھیلا دے اور جو سامنے آئے اس کو شکار کر لے۔ آٹھواں الہام...... (اردو) ”ہماری فتح ۔ ہمارا غلبہ ۔“ (تذکرہ ص ٤٩٨ طبع سوم ) یہ الہام تو آسمانی باپ نے ایمان کو بالکل نگل کر گھڑا ہے کیونکہ

٥

صفحہ ٢٢

مجدد القادیانیہ پر اس کے خلاف الہام ہو چکا ہے کہ ”وردت المذلة ونزلت العزلة“ بہت جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ فتح و شکست کا کیا رنگ رہے گا۔

نواں الہام ...... (پھر عربی الہام آ کودا) ”ظفر من الله وفتح مبین۔ ظفر وفتح من الله“ (تذکرہ ص ٤٩٥ طبع سوم) الہام کے ان دونوں ٹکڑوں میں کیا فرق ہوا۔ پہلے تو آسمانی باپ نے ذرا جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ تیری فتح ہوگی۔ مگر جب آتھم والا قصہ یاد آیا۔ جس میں باپ اور لے پالک دونوں کو اپنا سر پیٹنا پڑا تھا۔ تو جھٹ سے کہہ دیا کہ فتح اور شکست خدا ہی کی طرف سے ہے تا کہ بعد خرابی بسیار بچاؤ کا پہلو باقی رہے۔ دسواں الہام ...... ”رسول پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں۔“ (تذکرہ ص ٤٨٥ طبع سوم) رسول خود بدولت ہیں۔ یہ منہ اور گرم مصالحہ۔ کیوں کیا مصیبت آئی۔ کیا ابھی سے دن یاد آگئے۔ جو پناہ کے لئے قلعہ جات کی فکر ہوئی۔ یہ تو انتہا درجہ کی بدفالی اور تشائم ہے۔ آسمانی باپ ہی بوکھلا گیا۔ سنسنا گیا۔ حواس یوں غائب ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ مناسب تھا کہ لے پالک کا دل بڑھاتا جس کا ننھا سا کلیجا ہے۔ اس کی دھڑکن دور کرتا۔

اسے سینے سے لگاتا، بڑھاوے دیتا کہ تو ایسا اور تیرا آسمانی باپ ایسا، نہ کہ خوفناک الہام سے پتہ اور بھی پانی کر دیتا۔ واہ جی واہ! یہ انیسویں صدی کے لے پالک اور یہ سنگدل باپ ہیں۔ خون سفید ہو گئے۔ گرمی محبت سرد پڑ گئی۔ قرب قیامت ہے نا۔ خوب یاد رکھو کہ خدائے تعالیٰ سرکشوں کو پناہ نہیں دیتا۔ فرعون کا قصہ یاد کرو۔ اس کی شان ذوالبطش الشدید ہے۔ (ایڈیٹر)

آغاز سال اور ساقی نامہ توحید

تیری ذات غنی ہے ساقی تو بخشش کا دھنی ہے ساقی
آئے ہیں رند پیاسے در پر دے دے جام طہور کوثر
رند ہیں کب سے پیاسے بھوکے پیتے ہیں کب سے گھونٹ لہو کے
ساغر عرفان پی کے لگائیں یامن ہو یا ہو کی صدائیں
نعرے لگائیں ہل چل ڈالیں ہند سے ہر ملحد کو نکالیں
دجالون عیاثون بھاگیں اپنے گدھوں کی اٹھائیں باگیں
لید ہر ایک پلید کے نکلے ہر مردود مرید کی نکلے
صفحہ ٢٣
حال ہوا ابتر اک اک بدکا بند ہو خبط ہر مرتد کا
آ کے منارے پر الو بولیں حق تو حق تو حق تو بولیں
بند ہو اس کا خطبہ رجعی چپ رہے دجال مسیحی
ہو خارج سب فتنہ طرازی جو ہے بروزی ہو وہ برازی
تحت ثریٰ میں پناہیں مانگیں سر ہو نیچے اوپر ہو ٹانگیں
رد ہو ساری نفس پرستی کچھ نہ ملے جز ذلت و پستی
بھیج دیا ابلیس نے فرمان یعنی نبی بننا ہے آسان
سہل ہے حلہ پہننا نبی کا گھر ہے نبوت خالہ جی کا
سمجھے بروزیت کو نہ نادان بیعت کرلی ہو کے شادان
مہدی مہدی عیسیٰ عیسیٰ سمجھے نہ شکل ہے یہ تلبیسی
منہ اسلام سے یکسر موڑا دیو لعین سے ناتا جوڑا
اینٹ کہیں کی کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبا جوڑا
ہیضے کا باپ پلیگ کا خالو میں ہوں وادی جیمن کا بھالو
ابن اللہ کی اوڑھ کے لوئی کرتا ہوں موت کی پیشین گوئی
لوگو جاگو جاگو جاگو ہوا آیا بھاگو بھاگو
آیا بروزی آؤخ آؤخ دجال آیا کرکے تاخ
دھیا سکھیا ہو کے اکٹھے ساتھ ہوئے اُلو کے پٹھے
گھر میں ہے پردے کی بوبو بیٹھی مادر بن کر ڈھڈو بیٹھی
بن ٹھن کر بی شادی بیٹھی مکر و ریا کی دادی بیٹھی
ساقی رندوں کو جلوہ دکھائے جام شراب طہور پلائے
توڑ دے جلد خمار ہستی ہم ہیں ازل کے مست الستی
ایک رسول ہے ایک خدا ہے وہ شیطان ہے جو ان سے جدا ہے
ختم رسل ہے محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
جان ہو رسول اللہ پر صدقے اس کے جلال و جاہ پہ صدقے

٧

صفحہ ٢٤
اس کا ہو جو کہ شریک رسالت حشر تک اس پہ ہے لعنت
ان پہ چلے تا روز قیامت ثمرۂ خامہ حضرت شوکت
دین محمد ﷺ جاگے جاگے کفر کی ظلمت بھاگے بھاگے
خوش رہیں سب یاران ضمیمہ سارے مدد گاران ضمیمہ
دونوں جہاں میں ان کی ہو عزت ان کو ملے دارین کی دولت
جیتے رہیں باحشمت وتمکین ملکر بولو آمین آمین

اے مربیان ومعاونان شحنہ ضمیمہ! ہمارے پاس کوئی تحفہ نہیں جو آغاز سال پر آپ کے حضور پیش کریں۔ ہاں ایک ٹپکتا ہوا تازہ بتازہ ساقی نامہ توحید صفحات ضمیمہ کی قاب میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ مسرور و مخمور ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ!

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ جنوری کے شمارہ نمبر ٣ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

قادیانی متنبئ کا اردو الہام براہین ص ٥٥٧ وخزائن ج ١ ص ٦٦٥ میں اپنی چمکار دکھاؤں گا

تجھ کو اردو میں یہ الہام ہوا ائے مکار لفظ ہیں جس کے 'میں دکھلاؤں گا اپنی چمکار'
قادیانی، نہیں چمکار چمک کو کہتے تیرا ملہم کوئی پنجاب کا دہقان ہے گنوار
میں چمک اپنی دکھاؤں گا اگر کہہ دیتا نہ تو خود بنتا وہ جاہل نہ تجھے کرتا خوار

متنبئ کی عربی دانی کتاب وساوس ص ٢٢ وخزائن ج ٥ ص ٢٢ رب ارحم علی الذین یلعنون علی

کادیانی تو نرا جاہل ہے عربی دانی کو اپنی کردے طے

٨

صفحہ ٢٥

ہے لعنت شوکت کے بھاگے ضمیر کی دولت آمین پر آپ کے ہار کھا کر پیش ! ! ! اچکاؤ گوار خوار طے

جب ہو رب ارحم الذین سمیع بیچ میں لایا تو علی کیا شے

متنبی کی فارسی شاعری ازالہ ص١٥٩،خزائن ج٣ ص ١٨١

چوں کا فراز ستم بپرسد مسیح را غیوری خدا بسرش کرد همسرم
تو نہیں جانتا کہ لفظ غیور ہے یہ تخفیف یا مشدد ہے
نام حق بھی زبان پہ ٹھیک نہیں چاہتا ہے تو شاعری کی قے

کتاب وساوس ص ٥٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً

مسیح ناصری را تا قیامت زندہ می فہمد مگر مدفون یثرب را ندادند این فضیلت را
ہمہ درہائے قرآن را چو خاشا کے بیفکندند ہمہ عیسائیان را از مقال خود مدد دادند
ز علم ناتمام شان کجا گم گشت ملت را دلیری ہا پدید آمد پرستاران میت را
را ہے بے شک علامت مفعول ہے یہ تکرار بے سری اک لے
ملت تو نشست با میت تف بہ نظم تو اے بریدہ پے

ازالہ قادیانی ایضاً

آں قبلہ رو نمود بکشتی بچارہ ہم بعد از ہزار وسہ کہ بت افگند درحرم
یہ سہ صدارا وہم شدہ ہم در حرم بت فگندہ از مے
ایں زباندانی تو دان الہام چیست کایس فخر میکنی باوے
قادیانی یہ دین فروشی ہے چھوڑ جاہل فریبیاں تا کے

اگر قادیانی صاحب ان اعتراضوں کا جواب باصواب دے دیں تو مبلغ پانچ روپیہ انعام ملیں گے اور اگر اپنی نالائقی کا اقرار کر کے تسلیم کرلیں تو بھی خالی نہ رہیں گے۔ وصول انعام کی یہ صورت ہے کہ آپ نے براہین کے دس روپیہ جو پیشگی لے کر کھالئے ہیں ان میں سے پانچ روپیہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ ٢٠٠۔ لودھیانہ۔

برعکس نهند نام زنگی کافور
اے جهل منتظر خوش باش کامد دلستان
آن مسیح دور آخر مهدی آخر زمان

قادیانی البدر عنوان سراپا کذب وہذیان سے بعض ناواقف ناظرین دور دراز کے رہنے والے دھوکا نہ کھائیں۔ ضرور حقیقت الحال سے واقف رہیں۔

٩

صفحہ ٢٦
اے جواں غافل آگه باش و باحق جو امان از مسیح کاذب ابن الوقت دجال زماں
جاہلانش دوستاں او را ملہمی خوانند واو فی الحقیقت در دستاں و جانستاں ایماں ستاں
نام زنگی گر نہی کافور کے زیبا بود یابہ نام حنظلہ خوانی چمن یا بوستاں
آنکہ میگوید رسول اللہ نبی اللہ منم نسل وی چنگیز خوانی مسکن او قادیاں
اولاً گوید رسولے نیستم صاحب کتاب باز میگوید کہ تیر رفتہ آید در کماں
خویشتن را او نه پندارد رسول اللہ چرا افضل از عیسیٰ رسول اللہ نہد خود را مکاں
شاہد دجالیش آمد ہمیں پندار وے حضرت ختم الرسل کردش معرف زین نشاں
شد مصرح در خبر نبود نبی بعد من ہر کہ گشت اکنوں نبی دجال باشد بیگماں
اہل ایمان را ہمیں یک نشان کافی بود ہیچ نتواند نمودن تا ابد تاویل آں
خواند از آیات قرآن و از احادیث نبی زین حدیث مصطفیٰ مہر سکوتش بر دہاں
اہل دین از ہر طرف پرسیده اندش بار بار در جواب ہیچکس یکبار نکشودہ زباں
منکر ختم نبوت شد چو وی خود نمود افضل و بالا تر از وی رسول اُمّی ہماں
کو نہ فہمیدن توانست اکثر از اسرار وحی بے نمونہ منکشف گردید ماہیت چناں
در نبوت باشد این راز دقیق از معرفت من بوقت خویش گردیدم بہ یک یک راز داں
زانکہ او عبد و رسول محض بود و من ولد عبد را مثل ولد باشد کجا اعزاز وشاں
گاہ میگوید نبی ہستم ولیکن ناقصے شد نبوت بہرہ من لیک جزوی زاسماں
صاحب الہام وحی است ہمچو دیگر مرسلیں در نبوت چست نقصانش نماید خود بیاں
در نبوت ہیچ ناقص زانبیاء نامد کسے جزئی و ناقص نموده مکر دجالی عیاں
در کلام پاک یزدان لا نفرق خوانده ایم ہم برین ایمان باشد بحق ہمکناں
آرے آرے فضل یک بر دیگرے فضل خداست در جہانے تحفہ دارند مردم ہمچناں
زور و مکر و خدعت دجال از حد در گذشت الامان سعدی زکید قادیانی الامان
از پریشانی دنیا و وبال آخرت حافظ و ناصر ترا باد آن خدائے دو جہاں
در رہ دین تا دم آخر روی ثابت قدم پس بفردوس برین باشی خدارا مہماں

دہلی روڈ لدھیانہ

صفحہ ٢٧

٢ ...... افغانی مینڈھا ملا عبدالطیف لے پالک کی بھینٹ میں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ناظرین! کو معلوم ہے کہ مندرجہ عنوان ”افغانی ملا“ حج حرمین شریفین کے ارادے سے ہندوستان آیا تھا بدقسمتی دھکا دیکر قادیان لے گئی اور مرزا قادیانی کے ہتھے چڑھ گیا۔ بروزیت جو اپنا افسون دم کرتی ہے تو کس کا حج اور کس کا طواف۔ خود قادیان کو مکے اور مدینے سے بڑھ کر یقین کر بیٹھا۔ مرزا قادیانی کو افغانستان میں اپنی بروزیت کے پھیلانے کا اچھا شکار مل گیا۔ وہ سمجھے کہ یہ شخص خود افغان اور افغانی طبائع افغانی خُو بو سے واقف ہے کابل میں اس کے ذریعے سے مرزائیت کا تخم خوب گڑ جائے گا اور کیا عجب ہے کہ رفتہ رفتہ امیر کابل بھی مجھ سے بیعت کر لے اور یوں پانچوں گھی میں اور سر چولہے میں ہو جائے۔ پس اس کو جھانسا دے کر بر جعت قہقہری پھر وہیں چلتا کر دیا جہاں سے آیا تھا۔ اس نے کابل پہنچ کر بروزی نبوت کی تبلیغ شروع کر دی آپ جانتے ہیں کہ افغانی علماء کٹر سنی اور راسخ الاعتقاد حنفی المذہب، جھٹ پٹ اس کے ارتداد و الحاد کا فتویٰ لگا دیا۔ افغانستان اسلامی حکومت ، غیر ممکن تھا کہ علماء کا فتویٰ اوپر اوپر جاتا۔ اور مشہور ہے کہ خود امیر حبیب اللہ خان بھی اچھے عالم دین ہیں۔

پس امیر صاحب نے افغانی ملا کو طلب کیا اور اظہار لیا اس نے وہی کہی جو شیطان نے اس کے کان میں پھونک دی تھی کیونکہ قرآن مجید خود ناطق ہے کہ ”ان الشياطين لیوحون الى اوليائهم “ امیر صاحب نے حسب فتویٰ جمہور علماء اور مذہب حضرت امام ابو حنیفہ تین روز کی مہلت دی کہ اس عرصہ میں تائب ہو۔ مگر کس کی توبہ؟ وہ تو پہلے ہی توبہ سے توبہ کر چکا تھا ناگزیر تین دن کے بعد قتل اور سنگسار کیا گیا۔ اب اس کی روح جہنم کی سیر کر رہی ہے اور مرزا قادیانی نفسانی دنیوی لذات کی بہشت میں بدستور چھکوتیاں اور مزے اڑا رہے ہیں تف ہے اس زندگی پر کہ اپنے چیلے اور آسمانی باپ کے پوتے کا ساتھ نہ دیا۔ اور ظالم افغان بچھڑے سے اس افغانی مینڈھے کو حلال نہیں حرام کروا دیا۔

ناظرین! کو غالباً یاد ہو گا کہ ہمارے نامہ نگار گزشتہ مرزائی نے ضمیمہ ١٩٠١ء میں اعلان دیا تھا کہ اگر مرزا قادیانی کابل جا کر اپنی بروزی نبوت کی تبلیغ کرے تو میں پچاس ہزار روپیہ دینے پر آمادہ ہوں۔ مرزا قادیانی نے اس اعلان کو اپنے دل میں نقش کالحجر کر رکھا تھا اور موقع کے منتظر تھے۔ بالآخر موقع ملا کہ ایک افغانی کو اپنا چیلا بنایا اور بہت کچھ خیالی پلاؤ پکایا مگر بجائے اس کے افغانی ملا افغانستان میں مرزائی نبوت کی منادی کرتا ملک عدم میں جا منادی کی؎ واحسرتا؎

١١

صفحہ ٢٨
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

ضمیمہ کی کرامت دیکھئے کہ اسنے جو پیشینگوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی نہ افغانستان جاسکیں گے نہ کسی ذریعہ سے وہ تبلیغ ضلالت میں کامیاب ہوسکیں گے۔ وہ پوری ہوئی۔ حوراں رقص کناں ساغر مستانہ زدند۔

مرزا قادیانی اپنے کو مثیل مسیح کہتے ہیں تو مناسب تھا کہ خود قتل ہو کر مرزائی امت کا کفارہ بنتے نہ یہ کہ ایک افغانی کو اپنی بھینٹ میں چڑھاتے۔ آسمانی باپ بڑا چترا پرزا ہے۔ لے پالک کو تو بال بال بچایا اور جی کے بدلے ایک جی دے دیا۔ لیکن کیا ایک مینڈھا ان لاکھوں بھیڑوں کا کفارہ ہو سکتا ہے۔ جن کو ظالم بھیڑیا چٹ کر گیا ہے۔

روان از خشم و شہوت در عذاب از بہرتن تلکے
دو گرگ میش پرور را جگر خائے شبان بینی

مرزا قادیانی نے اپنے چیلے کے قتل ہو جانے پر ایک کتاب تذکرۃ الشہادتین شائع کی ہے جس میں امیر کابل کو پانی پی پی کر کوسا ہے اور پیشینگوئی کی ہے کہ یہ خون ناحق ضرور رنگ لائے گا اور افغانستان کا تختہ الٹ جائے گا۔ کابل میں پچھلے دنوں ہیضے کی وبا بہت سخت پھیلی تھی اور ہزاروں آدمی ہلاک ہوئے تھے۔ مگر بدبختی افغانی مُلّا کا واقعہ اس وباء سے پہلے ہوا۔ ورنہ مرزا قادیانی کو یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ افغانوں کو افغانی مُلّا کے خون ناحق کا بدلہ ملا، کہ ایک خون کے عوض آسمانی باپ نے ہزاروں کا خون پیا۔ لیکن اگر ان کو کچھ عقل اور سوجھ بوجھ ہے تو اب بھی کہہ سکتے ہیں کہ آسمانی باپ کو چونکہ اس کا علم تھا کہ میرا پوتا قتل ہوگا لہٰذا افغانیوں کو پیشگی سزا دے گئی۔ ہاں آسمانی باپ چوک گیا کہ لے پالک پر یہ کہہ دینے کا الہام نہ کیا۔

آپ نے گورنمنٹ کے خوش کرنے کو جہاد کا پھر وہی راگ الاپا ہے کہ ”امیر کابل کو چونکہ اس امر کا اچھی طرح یہ یقین ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی جہاد کا مخالف ہے۔ اس لئے اس نے جھلا کر میرے چیلے کو قتل کرا دیا ۔“ جی بجا ہے نہ صرف امیر کابل بلکہ دنیا کے تیس کروڑ مسلمانوں کو آپ سے اس لئے مخالفت ہے کہ آپ جہاد کے مخالف ہیں۔ یہ عجیب امر ہے گورنمنٹ تو جہاد کے موافق اور آپ مخالف۔ وہ فساد اور بغاوت کے برپا ہونے پر خود جہاد کرتی ہے اور اب شمالی لینڈ میں جہاد کر رہی ہے۔ کیا آپ نے باوصف امام الزمان ہونے کے کبھی گورنمنٹ میں امتناعی میموریل بھیجا ہے کہ بوڑھوں کو ترنسوال میں کیوں قتل کیا اور اب صومالی مُلّا پر کیوں جہاد کر رہی ہے۔ یوں کہو کہ گنجے کو خدا ناخن نہ دے۔ اگر قابو ہوتا تو تمام علماء اسلام اور مشائخ عظام پر جنہوں

١٢

صفحہ ٢٩

نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے اور دے رہے ہیں۔ آپ ضرور جہاد کرتے اور کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے اور اب بھی ضرر رسانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔

مرزائی مقدمات شاہد ہیں۔ آپ کی تحریریں آپ کے ارادے کی شاہد ہیں کہ جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے وہ واجب القتل ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نہ صرف ٣٠ کروڑ مسلمان بلکہ تمام مذاہب والے جو آپ پر ایمان نہیں رکھتے واجب القتل ہیں یعنی اس قابل ہیں کہ ان پر جہاد کیا جائے۔ جہاد تو خود بدولت کی رگ و پے میں سمایا ہے اور مسلمانوں پر تہمت دھرتے ہیں کہ وہ جہاد پر تلے بیٹھے ہیں کیا گورنمنٹ منافقانہ پالیسی نہیں سمجھتی۔

برٹش عدالت میں ایک کیس بھی آپ کے خلاف ہوا تو ہم دکھا دیں گے کہ آپ برٹش گورنمنٹ کے کیسے ہوا خواہ اور وفادار ہیں۔ خود غرضی کی مسیحیت و بروزیت ہے جب کسی سے آپ کا مطلب نہیں نکلتا یا کوئی آپ کے دعویٰ کی مخالفت کرتا ہے اور کامیاب نہیں ہونے دیتا تو وہ واجب القتل ہے۔ اس میں کوئی ہو۔

ہم حیران ہیں کہ جب آپ کے پاس دو لاکھ والنٹیئر ہیں اور تمام افغانستان واجب القتل ہے تو کیوں کابل پر یورش نہیں کرتے۔ یہ ہم ذمہ کرتے ہیں کہ گورنمنٹ سے ہر طرح کی اجازت دلوا دیں گے اور اس سے توپ گولہ وغیرہ سامان جنگ اور حکم جہاد قرار واقعی عطا کرا دیں گے، مگر آپ کسی طرح مرد میدان بنیں اور جہاد کا ارادہ پورا کریں۔ گورنمنٹ کے حضور تو مرزا قادیانی اپنی بروزیت و مسیحیت کا دارو مدار جہاد کی مخالفت پر رکھتے ہیں۔ یعنی چونکہ میں جہاد کا مخالف ہوں۔ اس لئے مسیح موعود و امام الزمان ہوں اور مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح چونکہ دنیا میں وفات پا گئے لہٰذا میں مسیح موعود ہوں پس آپ کی مسیحیت و بروزیت کے مختلف وجوہ ہیں۔ حالانکہ انجیل کے سچے پیرو پادری وغیرہ بھی جہاد کے خلاف ہیں جن کا عمل عیسیٰ مسیح کے اس حکم پر ہے کہ جو شخص تمہارے بائیں گال پر تھپڑ مارے دایاں گال بھی اس کے سامنے کر دو۔ بھلا راسخ الاعتقاد مسیحی جہاد کے کیوں مخالف نہ ہوں گے۔ پس ایسے اعتقاد کا ہر مسیحی مسیح موعود ہے۔ علیٰ ہذا مسیح کی وفات کے جو لوگ قائل ہیں خصوصاً یہود وغیرہ۔ یہ سب مسیح موعود ہیں۔ اور اگر آپ اس لئے مسیح موعود ہیں کہ آپ نے بروز (تناسخ) کیا ہے تو ایک ایک ہندو جو تناسخ کا قائل ہے اور اسی ذریعے سے مکرر اور سہ کرر اور بار بار دنیا میں آتا ہے مسیح موعود ہے اور اگر آپ اس لئے مسیح موعود ہیں کہ آپ کے زمانہ میں طاعون آیا ہے تو جب کبھی طاعون آیا ہے یا آئندہ آئے گا اس زمانے کا ایک ایک انسان مسیح موعود ہے۔

١٣

صفحہ ٣٠

اور اگر آپ اس لئے مسیح موعود ہیں کہ ”اذا العشار عطلت“ کے موافق اونٹنیاں بے کار ہو گئی ہیں اور ان کو آپ کے دجالوں (ریلوں) نے بے کار کر دیا ہے تو جس ملک میں اونٹنیاں ہیں۔ وہاں کے آپ مسیح موعود نہیں حالانکہ آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ میں امام الزمان اور مسیح الزمان ہوں اور جس ملک میں ریلیں نہیں آپ وہاں کے بھی مسیح نہیں۔ الغرض آپ کی کس کس حماقت کا اظہار کیا جائے؟

(ایڈیٹر)

٣ ...... مسئلہ معراج پر امروہی صاحب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزائی اخبار الحکم میں امروہی صاحب نے ایک سوال دربارہ مسئلہ معراج قائم کر کے جواب دیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی جسمانی معراج سے انکار کیا ہے کیونکہ یہ مسئلہ جمہور علماء اسلام کے نزدیک معجزات و خوارق عادات سے ہے اور مرزائی مذہب میں لاز آف نیچر کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا یعنی نقض قانون نیچر محال ہے۔ ہاں مرزا قادیانی کے خوارق اور حرکات اور سکنات میں نقض فطرت جائز اور واقع ہے۔ عیسیٰ مسیح اور دیگر انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے ایک معجزہ بھی صادر نہیں ہوا نہ انہوں نے کسی مردے کو زندہ کیا۔ مرزا قادیانی نے کئی مردے زندہ کئے اور پیشینگوئیوں میں تو آپ عالم الغیب ہیں مگر صرف ہلاکت کی پیشینگوئیوں میں الغرض مرزا قادیانی معجزات کی مشین اور خوارق عادت کے پتلے ہیں۔

امروہی صاحب کی غزل کا مقطع یہ ہے کہ آیہ ”سبحان الذی اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى“ کے مورد ان کے بروزی صاحب ہیں اور مسجد اقصیٰ سے مراد مسجد قادیان ہے اور انیسویں صدی میں یہ معراج آپ ہی کو حاصل ہوئی ہے۔ ہم کو امروہی صاحب کی اس لغویات و ترہات اور خوشامد پر غصہ بھی آتا ہے اور ہنسی بھی۔ غصہ تو اس لئے کہ کلام مجید کے محمل و معانی کو مسخ کیا اور الحاد کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہنسی اس لئے کہ مسجد اقصیٰ سے تو مسجد قادیان مراد لی گئی مگر مسجد حرام سے کونسی مسجد مراد لی گئی۔ امروہی صاحب اس کا جواب دیں۔ دوم ...... امروہی صاحب نے اپنے آقا اور خداوند نعمت کی بروزیت کا مرتبہ بالکل گھٹا دیا بھلا مسجد قادیان کے مقابلے میں یہ مسجد الحرام اور مسجد الاقصیٰ کیا چیز ہیں اب تو بروزی صاحب پر یہی الہام ہوا ہے کہ دنیا کی مسجدوں کی عظمت قادیان کی مسجد کے مقابلہ میں منسوخ ہو گئی جس طرح تمام نبوتیں مرزائی نبوت کے مقابلے میں منسوخ ہو گئیں۔

١٤

صفحہ ٣١

ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ مرزا قادیانی اپنے چیلوں کو حج حرمین شریفین سے روکتے پس آیۃ بالا نے تو مرزا قادیانی کی شان کو بالکل گھن لگا دیا اور منارے کی تعمیر کو ڈھا دیا جو مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ کی شان و شکوہ کم کرنے کو قائم کیا جائے گا۔ لیکن یادرہے کہ یہ تعمیر خیالی ہے اور پوری ہو بھی گئی تو بروزی کی وفات کے بعد۔ سوم...... مرزا قادیانی جو تفسیر دانی اور علم و فضل کے مدعی ہیں ذرا فن بلاغت کے متعلق ہم کو اس سوال کا جواب دیں کہ ”سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً“ میں خود اسراء کے لغوی معنی شب رفتن ہیں پھر لیلاً کیوں فرمایا گیا۔

ہم کو یقین نہیں کہ آپ کو قاعدہ تجرید جاری کرنے کا سلیقہ ہو، اگر کسی سے پوچھ گچھ کو آپ نے بتایا بھی تو ہم یہ پوچھیں گے کہ اس مقام پر تجرید کی کیوں ضرورت ہوئی اور جب کہ آپ فرماتے ہیں کہ لیلاً کہا نہارا کیوں نہ کہا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو تجرید کا قاعدہ درحقیقت معلوم ہی نہیں۔ شاید حکیم الامت المرزائیہ کو معلوم ہو۔ اچھا انہیں سے پوچھ کر الحکم میں جواب دیجئے دو ہفتہ کی مہلت ہے۔

٤....... مرزائی جماعت

امروہی صاحب لکھتے ہیں کہ جس جماعت کی نسبت نصوص قطعیہ سے مظفر اور منصور ہونا ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہی جماعت احمدیہ (مرزائیہ محدثہ) ہے جس کے لئے حدیث نسائی باب غزوۃ الہند میں یہ بشارت موجود ہے۔ ”عصابتان حرر هما الله من النار عصابة تغزوا الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم“ (نسائی ج٢ ص٥٢) معلوم نہیں امروہی صاحب کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے ہاتھوں اپنی جڑ کھود رہے ہیں۔ اور بروزی کے حق میں کانٹے بو رہے ہیں۔ بروزی کو تو غزوۃ اور جہاد کے نام سے لرزہ چڑھتا ہے اور وہ اپنی بعثت و نبوت کی یہی علت غائی اور لم قرار دیتا ہے کہ میں مسلمانوں کو جہاد سے روکنے آیا ہوں اور آپ وہ حدیث پیش کرتے ہیں جس سے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت پر ہندوستان میں جہاد فرض ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کیا وجہ ہے دو لاکھ مرزائی مجاہدین تو موجود ہیں کیوں ہندوستان میں جہاد نہیں کیا جاتا تا کہ مرزا قادیانی کی نبوت جو ہندوستان میں جہاد کرانے پر موقوف ہے ثابت ہو۔ پھر حدیث میں دو گروہ بیان کئے گئے ہیں۔ یعنی ”عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم“ یہ دونوں گروہ جدا جدا ہیں۔

ایک کو دوسرے سے کوئی تعلق نہیں یعنی ایک وہ گروہ جو ہندوستان پر جہاد کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگا۔ اور یہ ہو نہیں سکتا کہ دونوں ایک گروہ ہوں۔ کیونکہ

١٥

صفحہ ٣٢

حدیث میں عصابۃ دو جگہ صاف موجود ہے۔ مگر امروہی صاحب نے دونوں کو ایک کر دیا ہے یہ آپ کی دیانت ہے۔ تعجب ہے کہ ہند میں جہاد کرنے والا گروہ تو ابھی تک پیدا نہیں ہوا اور مسیح آ کودا۔ پہلے آپ جہاد کریں پھر اپنے بروزی کو مسیح بنائیں۔ اور اگر آپ کا گروہ صرف جہاد کرنے والا ہے تو مسیح کو ابھی تک طاق نسیان پر رکھئے۔

دوم..... ذرا ایمان سے اپنے بروزی کی قسم کھا کر کہو کہ وہ مسیح بن مریم ہے۔ وہ تو مسیح بن مریم کو مارتا ہے یعنی اس کی وفات کا قائل ہے۔ ورنہ وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتا مگر آپ نے جو حدیث پیش کی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن مریم زندہ ہے جو دوبارہ آئے گا اور ایک گروہ اس کے ساتھ ہوگا۔ اب فرمائیے یہ حدیث آپ کے بروزی کے حق میں مفید ہے یا مضر۔ پھانسی سے کم ہے یا سوا؟ وہ تو عیسیٰ کی ذلت پر بڑے بڑے دلائل چھانٹتا ہے اور آپ کے عندیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم زندہ ہیں۔ آپ جیسے گھر کے بھیدی ہوں تو لنکا کیوں نہ ڈھئے اور اس کی اینٹ سے اینٹ کیوں نہ ماری جائے۔ حق نمک ادا کرنے والے حلال خور ایسے ہی ہوتے ہیں۔ واہ شاباش۔

آپ نے دوسری حدیث یہ پیش کی ہے ”کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا ولکن بین ذالک فیج اعوج لیسوا منی ولا انا منہم رواہ رزین کذا فی المشکوۃ ص ٥٨٣، باب ثواب ہذہ الامۃ“ اس حدیث پر بھی آپ کو تھپڑوں سے اپنے گال گلاب کی طرح لال کرنے پڑیں گے۔

ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ مخبر صادق نے تین زمانوں کی خبر دی ہے ایک آپ ﷺ کا زمانہ دوسرا حضرت مہدی کا، تیسرا مسیح علیہ السلام کا۔ یہ تینوں زمانے مختلف ہیں۔ لیکن افسوس ہے امروہی صاحب نے پھر ایسی حدیث پیش کی جو ان کے بروزی کی شان اور دعویٰ کے بالکل خلاف ہے۔ حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کا زمانہ اور ہے اور عیسیٰ کا اور۔ ورنہ تین طبقات ثابت نہ ہوں گے اور امت ہلاک ہو جائے گی کیونکہ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر کسی کل کا ایک جزو بھی منتفی ہو جاتا ہے تو کل من حیث الکل کا انتفاء لازم ہے۔ اب سنئے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں مہدی بھی ہوں اور عیسیٰ بھی اور حدیث بالا یہ کہتی ہے کہ عیسیٰ اور ہے مہدی اور۔ حدیث تو جھوٹی ہو نہیں سکتی کیونکہ آپ نے سنداً پیش کی ہے ہاں بروزی صاحب ہی جھوٹے ہوں گے اور وہ بھی ماشاء اللہ خود امروہی صاحب کے قول سے۔

اب مرزائیوں کو یہ کہنے کا ضرور موقع ملے گا کہ ناؤ کس نے ڈبوئی۔ خواجہ خضر نے جو

١٦

صفحہ ٣٣

کچھ ہم لکھ رہے ہیں اور آئندہ لکھیں گے خدا کرے آپ اس کو سمجھیں کیونکہ یہ ذرا دقیق اور پہلو دار باتیں ہیں جو معارضۃ القلب سے متعلق ہیں اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ آپ جس طرح دیگر علوم وقانون سے عاری ہیں اسی طرح فن مناظرہ اور اس کے اصول وقواعد سے بھی نابلد ہیں۔ ورنہ غیر ممکن تھا کہ آپ ایسی حدیثیں پیش کرتے جو خود بروزی نبی کے دعوے کا استیصال کرتیں۔

اور اگر آپ یہ کہیں کہ آنحضرت ﷺ سے ١٣ سو برس کے بعد مرزا قادیانی اولاً مہدی ہوئے اور آخر میں مسیح ہو گئے تو بین ذالک فج اعوج کو کیا کیجئے گا یعنی مہدی اور عیسیٰ کے مابین ایک گروہ شاطر کہ گمراہ ہو گا تو یہ ماشاء اللہ آپ ہی کا گروہ ہوا۔ مبارک ؎

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

مرزا قادیانی نے جو اپنے کو مہدی اور عیسیٰ دونوں کا بروز بنایا ہے تو لوگ اس کی لم سے بہت کم واقف ہوں گے۔ کیا معنی کہ آج تک مہدی تو بہت سے پیدا ہو چکے ہیں مگر مسیح ایک بھی پیدا نہیں ہوا اور نہ کسی مہدی کاذب نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مسیح بھی ہوں۔ پس مرزا قادیانی مسیح اور مہدی بن کر اپنے ہم پیشہ مہدیان کاذب کو جھٹلاتے ہیں۔ لیکن ان کی بدقسمتی سے ان دنوں دو مسیح بھی پیدا ہو گئے ایک انگلستان میں مسٹر پگٹ ۔ دوسرا فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی۔ یہ دونوں بھوت کی طرح مرزا قادیانی کو نظر آ رہے ہیں اور مرزا قادیانی بڑی حسرت سے مومن کا یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔

پہنچے وہ لوگ رتبہ کو کہ مجھے
شکوۂ بخت نارسا نہ رہا

مرزا قادیانی نے اپنے دعوے پر ایک موضوع حدیث پیش کی ہے کہ "لا مہدی الا عیسیٰ" یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی معارض ہے اور صحیح ہو بھی تو مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کر سکتے ہیں کہ مہدی کوئی نہ آئے گا۔ البتہ عیسیٰ آئے گا یعنی جس کو تم مہدی سمجھے ہوئے ہو وہ عیسیٰ ہے مہدی کا کوئی وجود نہیں۔ اس سے لازم آیا کہ جو شخص یہ کہے کہ میں مہدی بھی ہوں اور عیسیٰ بھی۔ وہ جھوٹا ہے مفتری ہے بدمعاش ہے جعل ساز ہے۔

جناب من! آپ خفا نہ ہوں تو کچھ عرض کروں۔ ابتداء سے لے کر اب تک جس قدر مہدی اور مسیح پیدا ہوئے یہ سب دجالون ، کذابون اور دجالون ثلاثون تھے اور ہیں جن کا انجام دنیا نے دیکھ لیا اور مرزا قادیانی کا انجام بھی دنیا دیکھ لے گی۔

١٧

صفحہ ٣٤

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء؍جنوری کے شمارہ نمبر ٤ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... مرزا قادیانی کے کابلی مرید کی حرام موت نہ کہ شہادت

منقول از رسالہ اشاعت القرآن!

مرزا قادیانی کی ایک کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ مطبوعہ ماہ اکتوبر ١٩٠٣ء ہمیں ٢٠؍نومبر ١٩٠٣ء کو ملی۔ اس میں آپ اپنے دو اشخاص مولوی عبداللطیف اور میاں عبدالرحمٰن ساکن خوست علاقہ حدود کابل کی موت کا حال لکھتے ہیں جو بقول آپ کے احمدی یعنی مرزا قادیانی موصوف کے مرید تھے۔ ان میں مولوی عبداللطیف کی موت کے متعلق آپ نے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ لہٰذا ہم بھی انہیں کے متعلق لکھنا چاہتے ہیں۔ اس مرید کے جو حالات مرزا قادیانی نے لکھے ہیں اور جس سے آپ نے ان کو زمرہ شہداء میں داخل ہونے کا گمان کیا ہے۔ ان کو فرضاً صحیح بھی تسلیم کر کے اگر قرآن شریف کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ صاف حکم دے گا کہ یہ شخص حرام موت سے مرا ہے اس نے اپنے خالق کے حکم کا خلاف کیا ہے۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

واضح ہو کہ کسی کی شہادت یا حرام موت سے ہمیں کوئی تعلق نہیں۔ ہماری بلا سے کوئی مرے یا جیئے۔ ہمارا مقصود صرف اشاعت و تبلیغ قرآن مجید ہے۔ مرزا قادیانی نے عبداللطیف کو شہید کہنے میں از روئے قرآن کریم غلطی اور ایک مسئلہ میں غلط بیانی کی ہے۔ آیات قرآن مجید پر ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اگر کسی مومن کو کوئی ظالم کافر مجبور کرے کہ تم اس ایمان و دین سے پھر جاؤ۔ ورنہ تم کو قتل کیا جائے گا۔ تو اس کو اپنے دل میں ایمان پر قائم رہنا چاہئے لیکن زبان سے ایمان کا انکار کر دینا چاہئے۔ تاکہ وہ قتل سے بچ جائے۔ کیونکہ انسانی وجود اللہ کی نعمت اور امانت ہے اور اللہ کا حکم ہے کہ ایسے جبر و ظلم کے موقع پر زبان سے ایمان کا انکار کر کے اس نعمت کو بچا لے۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مولوی عبداللطیف جب قادیان سے رخصت ہو کر اور حج کا ارادہ ملتوی رکھ کر جس کے واسطے ان کو امیر صاحب کابل نے علاوہ اجازت دینے

١٨

صفحہ ٣٥

کے روپے بھی دیا تھا۔ واپس کابل پہنچے اور امیر صاحب کو اس حال پر آگاہی ہوئی کہ آپ مرزا قادیانی کے مرید ہو گئے ہیں اور حج کو نہیں گئے تو مولوی عبداللطیف صاحب قید کئے گئے۔ اور چار ماہ تک سخت قید میں رہے۔ اس عرصہ دراز میں باوجود یہ کہ امیر صاحب نے ان کو قید و قتل سے بچانے کے وعدہ پر بار ہا کہا کہ تم قادیان سے توبہ کرو۔ مگر مولوی صاحب کا امیر صاحب کے سامنے یہی جواب تھا کہ میں اس شخص سے ہرگز توبہ نہ کروں گا۔ میں اپنے عقیدہ کے خلاف اظہار نہ کروں گا۔ اس لئے وہ قاضی صاحب کے حکم سے قتل کر دیا گیا اور آخری وقت میں بھی امیر صاحب نے اسے سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔

اس موت کو مرزا قادیانی بڑے فخر سے شہادت لکھتے ہیں اور مقتول کو زمرہ شہداء میں شمار کرتے ہیں۔ اور اپنی جماعت کے لئے ایک نمونہ بتلاتے ہیں۔ اگر یہ واقعات صحیح اور درست ہوں اور مرزا قادیانی بھی فرضاً مسیح موعود اور رسول اور نبی اور ملہم ہوں تاہم عبداللطیف حرام موت مرا ہے اور عبداللطیف نے اپنے ایمان پر اصرار کرنے میں قرآن مجید کا خلاف کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس حرام موت کو شہادت لکھا ہے اور اس شخص کو ان آیات کا مصداق تحریر کیا ہے جو شہداء کے حق میں وارد ہیں اور خدا پر افتراء کیا ہے۔ اور آئندہ کیلئے لوگوں کو اس حرام موت سے مرنے پر ترغیب دی ہے۔ حالانکہ ہرگز ایسی ملعون موت شہادت نہیں ہوتی۔

تمام قرآن مجید کا لب لباب و مقصود صرف فطرت اللہ کی محافظت و نگہبانی ہے یعنی جو وجود اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اس کو ہر حال میں برقرار رکھنا اور ”فطرت اللہ، خلق اللہ، نعمت اللہ، امانت اللہ“ سے تعبیر کر کے اس کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور اس کو خراب و برباد کرنے کی سخت ممانعت کی ہے۔ چنانچہ آیت ذیل میں وجود کو فطرت سے تعبیر کر کے اس کی حفاظت و رعایت کا امر کیا ہے۔

”فطرة الله التى فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم ولكن اكثر الناس لا يعلمون (الروم: ٣٠)“ ﴿اللہ کی اس فطرت یعنی پیدا کردہ حالت کی نگہبانی کیا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمام جن و انس کو پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خلقت یعنی فطرت کو خراب و ہلاک کرنا جائز نہیں۔ یہی پکا دین اسلام ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔﴾

خلاصہ اس آیت کا یہ ہے کہ فطرت اللہ وخلق اللہ یعنی اپنے وجود کو نگاہ رکھنا پکا دین ہے جو شخص اس حکم کی نافرمانی کرے وہ دین اسلام سے خارج ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ وجود کو خلق اللہ سے تعبیر کر کے اس کی محافظت کی تعلیم کرتا ہے۔

١٩

صفحہ ٣٦

"ولا ضلنهم ولا منينهم ولأمرنهم فليبتكن آذان الانعام ولا مرنهم فليغيرن خلق الله ومن يتخذ الشيطن وليا من دون الله فقد خسر خسراناً مبيناً (النساء:١١٩)" ﴿کہ شیطان بزبان حال کہتا رہتا ہے کہ میں ان کو ضرور ہی بہکاؤں گا۔ اور ان کو امیدیں بھی ضرور دلاؤں گا اور ان کو سمجھاؤں گا۔ تو وہ میری ہدایت کے مطابق غیر اللہ کی نیاز کے جانوروں کے کان بھی ضرور چیرا کریں گے اور ان کو سمجھاؤں گا تو ضرور فطرت اللہ کو برباد کردیں گے اور جو شخص خدا کے سوا شیطان کو دوست بنائے تو وہ صریح گھاٹے میں آگیا۔﴾

اس آیت میں خلق اللہ کی حفاظت نہ کرنے والے کو متبع شیطان اور بھاری خسارہ پانے والا فرمایا گیا ہے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے وجود کو امانت اللہ سے تعبیر کرکے اس کی حفاظت کی تاکید کی ہے۔

"انا عرضنا الا مانة على السموت والارض والجبال فابين ان يحملنها واشفقن منها وحملها الانسان انه كان ظلوما جهولاً ليعذب الله المنفقين والمنفقت والمشركين والمشركات (الاحزاب:٧٣،٧٢)" ﴿تحقیق ہم جنس سموات (یعنی جملہ مخلوقات علوی) اور جنس زمین (یعنی تمام مخلوقات سفلی کو) اور جنس پہاڑ (یعنی سب مخلوقات ملحقہ بزمین مثلاً اشجار ومدر وغیرہ کو اپنی امانت (یعنی ان کو وجود) عرض کرتے ہیں۔ پس ان تمام اشیاء نے ہماری دی ہوئی امانت کی نگہبانی کو قبول نہ کیا یعنی ان کی طبعی استعدادیں اور حالتیں اس نگہبانی کرنے کی قابلیت نہیں رکھتیں اور جنس انسان (یعنی ذوی العقول یعنی ملائکہ جن وانسان) نے اس نگہبانی کو قبول کیا۔ اس لئے تحقیق (وہ شخص امانت اللہ یعنی اللہ کے دیئے ہوئے وجود کی حفاظت ورعایت باوجود استطاعت کے نہیں کرتا) وہ ظلوم (یعنی اللہ کی امانت کی حق تلفی کرنے والا) ہو جاتا ہے اور (جو کتاب اللہ کی تعلیم سے بے خبر رہے) وہ جہول بن جاتا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ ایسے منافقوں اور مشرکوں کو عذاب جہنم میں ڈالے گا۔﴾

"الم تر الى الذين بدلوا نعمة الله كفراً واحلوا قومهم دار البوار جهنم يصلونها وبئس القرار (ابراہیم: ٢٩،٢٨)" ﴿کیا تو ان لوگوں کے حال کو نہیں دیکھ رہا کہ جو (خود بھی) شکر نعمت اللہ کے بجائے کفرانِ نعمت کرتے ہیں اور اپنی قوم کو (بھی) بھاری ہلاکت یعنی دوزخ کی جگہ ٹھکانا بناتے ہیں۔ اس میں وہ جھلستے رہیں گے اور وہ ان کے لئے برا ٹھکانا ہے۔﴾

٢٠

صفحہ ٣٧

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نعمت الہیہ یعنی اپنے دیئے ہوئے وجود کو ضائع و برباد کرنے والے کو کافر جہنمی فرماتا ہے۔ ”ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة (بقرہ:١٩٥)“ ﴿اور اپنی جان کو ہرگز ہرگز کسی طرح کی ہلاکت میں نہ ڈالو۔﴾ اس آیت میں اپنے وجود کو ہلاکت میں ڈالنے کی سخت نہی ہے۔ ان تمام آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے وجود کو محفوظ و سلامت رکھنا فرض ہے۔ اور اس کو ہلاک کرنا کفر و عصیان۔ اب ہم یہ ثابت کریں گے کہ اس وجود کو ہلاکت سے بچانے کے لئے پروردگار نے محرمات کو اضطرار کی حالت میں حلال کر دیا ہے ”غیر باغ ولا عاد“ ﴿اور ہر قسم کی حرام چیزوں کو بے اختیاری کی حالت میں کھانا ضروری بیان کیا ہے۔﴾ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل محرمات بیان کئے ہیں۔

اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ والدین پر احسان نہ کرنا۔ اپنی اولاد کو قتل کرنا۔ فواحش (یعنی زنا، لواطت، چوری، راہ زنی وغیرہ تمام متعدی گناہ) اور خون کرنا اور ناحق یتیم کا مال کھانا اور وزن و ماپ کو پورا نہ کرنا اور انصاف کی بات نہ کرنا اور اللہ کے وعدوں کا خلاف کرنا۔ دیکھو ”قل تعالوا اتل ما حرم ربكم عليكم ........... ذلكم وصكم به لعلكم تذكرون (الانعام:١٥١)“

دوسری جگہ رگوں کا لہو۔ اور گوشت خنزیر اور نیاز غیر اللہ اور جو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو اور جو چوٹ سے یا گر کر یا سینگ لگ کر مرا ہو اور جس کو درندوں نے کھا لیا ہو اور جو چڑھاوا کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے دیکھو ”حرمت عليكم الميتة ........... فسق (مائدہ:٣)“ اور ان کے علاوہ سود کی حرمت بھی بیان کی ہے دیکھو ”واحل الله البيع وحرم الربوا (پ٣، ع٦)“

ایسا ہی اکثر مقامات پر بہت سی چیزوں کی حرمت قرآن مجید میں آئی ہے۔ خوف طوالت سے صرف چند مقامات بطور مشت نمونہ خروار بیان کئے ہیں۔ الغرض قرآن مجید میں جس قدر محرمات بیان ہوئے ہیں شروع سے آخر تک ان تمام محرمات کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وقد فصل لكم ما حرم عليكم الا ما اضطررتم اليه وان كثيراً ليضلون بأهوائهم بغير علم ان ربك هو اعلم بالمعتدين (الانعام:١١٩)“ ﴿اور تحقیق اللہ نے جو چیزیں تم پر حرام کی ہیں وہ تمام کھول کر (قرآن مجید میں) تمہارے واسطے بیان کر دی ہیں (ان سے بچو) مگر جس حرام چیز کی طرف تم مضطر و مجبور کئے جاؤ وہ تمہارے لئے اس وقت حلال ہے لیکن تحقیق نادانی و جہالت کے باعث بہت لوگ اپنے نفسوں کو اور اپنی قوم کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اللہ ایسے حد سے گزرنے والوں کے حال خوب جانتا ہے۔﴾

٢١

صفحہ ٣٨

اے ہوش سے کام لینے والو! غور کرو اور سوچو کہ تمام محرمات قرآن مجید اضطراری حالت میں حلال ہو جاتے ہیں اور کیوں؟ صرف اس واسطے کہ انسان اپنے وجود کو ہلاک ہونے سے بچالے۔ کیونکہ انسان اپنے وجود کا خود مالک نہیں۔ بلکہ وہ خدا کی امانت ہے اور مالک کا حکم آپ نے سن لیا ہے کہ وہ حفاظت ہی کا حکم دیتا ہے۔ تمام محرمات مجبوری کی حالت میں حلال کردیئے ہیں کہ انسان اپنے وجود کو ہلاک نہ کرے اور جملہ محرمات کا مرتکب ضرور ہو جائے۔ پس اس حکم کا خلاف کرنے والا یعنی محرمات کو مضطری کی حالت میں بھی حرام جاننے والا اور اپنے وجود کو ہلاک کرنے والا آیت "ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة" کا نافرمان و باغی اور "و ان كثيرا ليضلون باهوائهم بغير علم" کا پورا پورا مصداق اور اللہ کی حدود کو توڑنے والا ہے۔

پس جب کہ محرمات ابدی سے بوقت اضطرار وجود کو سلامت رکھنے کے لئے پرہیز کرنا ناجائز ہے تو مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے سے بوقت مجبوری انکار ظاہر نہ کرنا اور آپ کی جھوٹی رسالت ونبوت ومحدثیت و امامت سے توبہ کا حرف زبان سے بھی اظہار نہ کرنا اور اپنی جان کو قتل کرا دینا آیت "ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة" کی مخالفت کرنا اور "الا ما اضطررتم" کو بالائے طاق رکھ دینا اور "ان ربك هو اعلم بالمعتدين" کو پس پشت ڈال دینا ہے۔ یہ کتاب اللہ سے سراسر ناواقفیت کا نتیجہ ہے اور ایسا شخص ہرگز شہید کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ بوجہ مخالفت کتاب اللہ حرام موت مرا ہے۔

اے حرام موت سے مرنے والے کو شہید لکھنے والے اور بندگان خدا کو ایسی موت پر ترغیب و تحریص دینے والے اپنے کئے اور کرائے سے باز آ اور توبہ کا اشتہار دے ورنہ عاقبت میں سزا پائے گا اور اس دن تیرا پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا۔ "من كفر بالله من بعد ايمانه الا من اكره وقلبه مطمئن بالايمان ولكن من شرح بالكفر صدرا فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظيم (النحل: ١٠٦)" ﴿جو شخص کتاب اللہ سے اس کو ماننے کے بعد انکار کرے سوائے اس شخص کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل مطمئن بالایمان ہو۔ لیکن جو شخص خوش دلی سے کفر کرے تو ایسے لوگوں پر خدا کا غضب اور ان کے لئے عذاب عظیم مقرر ہے۔﴾

اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ جو شخص خوش دلی سے کتاب اللہ سے انکار کرے اس کے لئے تو عذاب عظیم اور خدا کا غضب ہے مگر جو شخص مجبوری سے کرے تو اس کو کچھ بھی مواخذہ نہیں کیونکہ ایسی حالت میں ایسا کرنا فرض ہے پس جو شخص مجبوری کی حالت میں کلمہ کفر نہ کہے اور اپنی جان کو ہلاک کردے وہ خدا کا نافرمان ہے اور اس نے اللہ کی امانت میں خیانت کی اور آیت "ولا تلقوا

٢٢

صفحہ ٣٩

بايديكم الى التهلكة “ کا باغی و فاسق ہوا ۔ ” معاذ الله حاشا لله “ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیات سے انکار اور استہزاء کرنے والوں کے پاس بیٹھنے سے منع کیا ہے کہ ایسا کرنے سے تم بھی ان جیسے بن جاؤ گے۔ دیکھو” وقد نزل عليكم في الكتب ان اذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزأ بها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا فى حديث غيره انكم اذا مثلهم ان الله جامع المنفقين والكفرين في جهنم جميعاً (النساء:١٤٠)“

اور ایسا ہی کتاب اللہ کی تکذیب وتوہین کرنے والے کے ساتھ محبت کرنے سے سخت منع کیا ہے اور ایسا کرنے والے کو ایمان سے خارج بتایا ہے” کما قال لا تجد قوماً يؤمنون بالله واليوم الا خر يؤادون من حاد الله ورسوله (المجادلہ:٢٢)“ اور ”لا يتخذ المومنون الكفرين اولياء من دون المومنين۔ ومن يفعل ذلك فليس من الله فى شئ (آل عمران:٢٨)“

پھر باوجود ایسی سخت ممانعت کے فرمایا ” الا ان تتقوا منهم تقة ويحذركم الله نفسه والى الله المصير (آل عمران:٢٨)“ ﴿مگر کافروں (کے اکراہ وظلم) سے بچنے کے لئے ان سے بظاہر محبت رکھو۔ (تاکہ امانت اللہ محفوظ رہے ) اور (اس کا خلاف نہ کرو) اللہ تم کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔ اور تم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔﴾

ان آیات میں کافروں کے ظلم وایذاء سے بچنے کے لئے ان سے بظاہر محبت رکھنے کی اجازت دی گئی کیونکہ اس کی امانت یعنی وجود کو نگاہ رکھنا فرض ہے۔ پس جو شخص اس کا خلاف کرے گا۔ وہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالے گا۔ ایسے شخص کو زمرہ شہداء میں تصور کرنا سراسر غلطی ہے۔ اگر عمداً ہے تو کفر وشقاوت ہے میں اخیر میں مرزا قادیانی کی خدمت میں دوستانہ عرض کرتا ہوں کہاں ہے قرآن کی مخالفت کرنے والے اور لوگوں کو حرام موت پر برانگیختہ کرنے والے میں تجھے دوبارہ نصیحت دیتا ہوں اور ہمدردی انسانی سے تجھے کہتا ہوں کہ تو نے اس امر میں جو کچھ لکھا ہے۔ بہت برا لکھا ہے۔ اور اس سے تیرے جو مرید آئندہ حرام موت سے مریں گے نہ صرف ان پر عذاب ہوگا بلکہ اس کا تجھ پر بھی بوجھ ڈالا جائے گا اور مطابق آیہ کریمہ ”ليحملون اوزاراً واوزاراً مع اوزارهم“ تیرا بہت بڑا حشر ہوگا۔ اور بموجب ” ومن يشفع شفاعة سيئة يكن له كفل منها “ اس کرتوت سے تیرا بہت سا نامہ اعمال سیاہ ہو گیا ہے۔ میں مکرر کہتا ہوں کہ تو اس سے توبہ کر اور ”الا الذين تابوا “ ” واصلحوا وبينوا فاولئك الذين اتوب عليهم وانا التواب الرحيم “ کا مصداق بن جا ورنہ تیرا کیا تیرے کام آئے گا ”وما علينا الا البلاغ“

٢٣

صفحہ ٤٠

اخیر میں مرزا قادیانی کے مریدوں سے بھی نصحاً گزارش ہے کہ اے مرزا قادیانی کے معتقد دوستو! تم مرزا قادیانی کے اس قول کی ہرگز ہرگز اتباع نہ کرنا اور وہ ہزار دفعہ اس کی حرام موت کو تمہارے لئے نمونہ نیک پیش کرے مگر تم اسے خواب ترسمونہ یقین کرنا ورنہ یاد رکھو کہ خدا کی مخالفت کرنے سے مرزا قادیانی تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے اور آپ اکیلے خدا کے حضور مجرم ہو کر جائیں گے۔ ”ولقد جئتمونا فرادى كما خلقنكم اول مرة (پ٧، ع١٧)“ اور پھر ”انه من يات ربه مجرماً فان له جهنم لا يموت فيها ولا يحيى (پ١٦ ع١٢)“

٢ ...... مرہم عیسیٰ

ماخوذ از رسالہ ترقی لاہور!

مرزا قادیانی نے بڑے طمطراق سے لکھا تھا کہ تقریباً ہزار طبی کتابوں میں لکھا ہوا ہے جو مرہم عیسیٰ اور مرہم حوارین اور مرہم شلیخا کے نام سے مشہور ہے۔ ان کتابوں کے تمام فاضل مؤلف گواہی دیتے ہیں کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنایا گیا تھا۔ (ریویو ج ١ ص ٤٩) میں آپ کا پہلا قول سن کر ذرا بھی تعجب نہیں ہوگا کہ کوئی مرہم ایسے متبرک ناموں سے عوام و خواص میں مشہور ہو گیا کیونکہ مسیحائی لقب آج دو ہزار برس سے ضرب المثل جس نے کوڑھی کو چنگا، اندھے مادر زاد کو بینا کیا۔ ہر قسم کے بیماروں کو شفاء بخشی۔ اور روحانی دردوں کا مداوا کیا۔ حتیٰ کہ مردوں کو زندہ کیا۔ بلکہ خاک کے پتلے کو پھونک مار کر طائر پراں بنا دیا وہ سراپا شفا اور دوا تھا۔ اگر کسی دارو کو اس کے نام سے منسوب نہ کرتے تو کیا کسی سگ بچہ جذامی اور سقیم کے نام سے کرتے۔ دوائیوں میں معجون مسیح مشہور ہے۔ اور مفرح مسیح بھی (قرابادین جلالی نو لکشوری ص١٨٣،١٧٣) بلکہ طب کی کتابوں کے نام بھی ایسے ہیں جیسے عجالہ مسیح یہ تو بالکل معمولی بات ہے اگر کوئی بات تعجب کی ہو سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ جو شخص مرہم عیسیٰ پر ایسا گرویدہ ہو گیا ہو کہ ہر قرابادین کو آیت و حدیث ماننے لگے۔ وہ عیسیٰ سے سراسر منکر ہو جس کا خود قرآن شریف شاہد ہے۔

اگر مرزا قادیانی اس مرہم کے نام ہی کو اپنی غلط فہمی کی بنیاد بناتے تو ہم ان سے باز پرس نہ کرتے اور ان کو اپنے خیالی پلاؤ پکانے دیتے مگر ان کے دوسرے قول نے ہم کو مجبور کر دیا اور ہم کو کہنا پڑا ”ہو اکذب من قرابا دین اطباء“ یعنی وہ طبیبوں کے قرابادین سے بھی زیادہ جھوٹا ہے اور اس لئے ہم نے اس بہتان کا دروازہ بند کرنے کی نیت سے اپنے آرٹیکل مطبوعہ ترقی ماہ ستمبر ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی سے دو باتیں دریافت کی تھیں ایک یہ کہ کون لوگ تھے جو لکھ گئے کہ وہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنا تھا۔ دوسرے یہ کہ اگر بالفرض انہوں نے ایسا

٢٤

صفحہ ٤١

لکھا تو آپ کے ان فاضل مؤلفوں کے ذرائع معلومات کیا ہو سکتے ہیں۔

ہمارے انہیں سوالوں کے ٹالنے کی غرض سے مرزا قادیانی نے اپنا ریویو ماہ اکتوبر میں بعنوان طبی شہادت کچھ ایسا گول مول لکھ دیا کہ جواب تو مطلق نہ ہوا مگر عوام الناس کو دھوکا ضرور پڑ گیا ہوگا۔ اس لئے ہم کو یہ راز محققانہ طور سے فاش کرنا پڑا۔

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ”تقریباً ہزار پرانی طبی کتابوں کے تمام فاضل مؤلف گواہی دیتے ہیں کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنا تھا۔“ پس ہمارے سوال کے جواب میں مرزا قادیانی کو مناسب تھا کہ تقریباً ہزار فاضل مؤلفوں سے چند سب سے قدیم اور سب سے فاضل مؤلفوں کی شہادت پیش کرتے کہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنا تھا۔ مرزا قادیانی کی غرض چونکہ تحقیق نہیں۔ لہٰذا اور طریقہ اختیار کیا۔ آپ فرماتے ہیں۔

”پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ ہی میں کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابا دین تالیف ہوئی۔ جس میں یہ نسخہ تھا اور بیان کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے نسخہ بنایا گیا۔“ کیا اچھا ہوتا اگر مرزا قادیانی اس قرابادین سے عبارت نقل کر کے بتا دیتے کہ فلاں کتب خانہ میں یہ کتاب موجود ہے اور اس کی عمر کی نسبت بھی کوئی دلیل سناتے۔ حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ کی کوئی ایسی رومی زبان کی قرابادین نہیں جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے کسی مرہم یا آپ کے زخموں کا کوئی اشارہ ہو۔ ناظرین ایک لطف ملاحظہ کریں۔ پہلے تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ تمام فاضل مؤلف گواہی دیتے ہیں کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنا تھا۔“ انتہیٰ۔ اب آپ نے فرمایا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا۔“ اور اس کے معنے ہم یہ سمجھے کہ جناب والا نے چوٹوں اور زخموں کی نسبت تقریباً ایک ہزار اطباء پر بہتان باندھا۔ اب ان الفاظ کو عبارت سے حذف کر کے اُس قول سے توبہ کی۔ اور اقبال کر دیا کہ کسی فاضل یا ابو الفضول مؤلف نے ہرگز ہرگز یہ نہیں لکھا کہ کوئی مرہم عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنایا گیا تھا۔

مرزا قادیانی نے طب کی کچھ کتابوں کی فہرست دی ہے جس میں قرابادین رومی کو بھی داخل کیا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی کتاب ہر شہر میں مل سکتی ہے۔ جس کو دیکھ کر ناظرین اپنا اطمینان کر لیں۔ ”ہم تو مرزا قادیانی کے پہلے ہی قائل تھے۔ اور لکھ چکے ہیں کہ کتابوں کا نام صفحہ وسطر بتا کر آپ سینکڑوں جھوٹ بول سکتے ہیں۔“ مگر یہ تماشا نیا ہے کہ اس فہرست میں نمبر اول ”قانون شیخ الرئیس بوعلی سینا“ ہے۔ میں اس کی عبارت اردو ترجمہ نولکشوری جلد پنجم ص ٩٣ سے

٢٥

صفحہ ٤٢

نقل کر کے دکھاتا ہوں کہ مرزا قادیانی کیسے سچے آدمی ہیں۔ ”مرہم رسل اس کو مرہم ڈیسلیخا بھی کہتے ہیں یعنی مرہم حوارئین کا اور مرہم زہرہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ ایسا مرہم ہے کہ بآسانی نواصیر سخت اور خنازیر سخت کی اصلاح کرتا ہے۔ کوئی دوا مثل اس کے نہیں اور پھوڑوں کے مردار گوشت اور پیپ کو نکال ڈالتا ہے اور اندمال کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ بارہ دوائیں بارہ حواریوں کی طرف منسوب ہیں۔“

پس ناظرین دیکھ لیں

رد کیا کہ ”لوگ کہتے ہیں کہ یہ بارہ دوائیں بارہ حواریوں کی طرف سے منسوب ہیں۔“

اس کو شیخ کا کلام مان لینا محض سادہ لوحی ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے اس سخن کو کیا کہیں کہ تمام فاضل مؤلف گواہی دیتے ہیں کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنا تھا اور شیخ سے بڑھ کر ہم کونسا فاضل تلاش کریں جس پر مرزا قادیانی نے اتنا بڑا بہتان باندھا اور وہ بھی ایک بہتان نہیں بلکہ بہتانوں کا سبحۂ صد دانہ ہے۔

افسوس بسم اللہ ہی غلط۔ سچ بات شیخ الرئیس فرما چکے اور متاخرین میں سے کسی نے کچھ لکھا تو بلا سند و بلا تحقیق وہی غلط العام سجع فقرہ کہ اجزاء این نسخہ دوازدہ عدد است کہ حواریین جہت عیسیٰ علیہ السلام ترکیب کردہ (دیکھو قرابادین فارسی حکیم اکبر ارزانی نولکشوری ص ٥٠٨/ اور علاج الامراض حکیم محمد شریف خان دہلوی نولکشوری ص ٦٣٩/ اور بقیہ بر حاشیہ میزان الطب اردو نظامی ص ١٨٠/ غرض کہ کسی نے حضرت مسیح کے زخموں کا ذکر اور اس مرہم سے ان کو منسوب نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کے تمام حوالے محض لغو ہیں۔ خود شیخ بتلا چکا کہ یہ مرہم نواصیر اور خنازیر بار اور پھوڑوں کے مردار گوشت کا علاج ہے اور حکیم اعظم خاں اکسیر اعظم جلد رابع نظامی ص ٢٨٩/، ص ٣٠٠/ میں لکھتے ہیں کہ مرہم رسل منسوب بحوارئین است و در خنازیر قادحہ اثر عظیم یافتہ ایم۔ بھلا اس کو

٢٦

صفحہ ٤٣

ضربہ اور سقطہ سے کیا مناسبت اور یوں آپ کو اختیار ہے چاہے آپ دوران سر کے لئے اس کی مالش بدن کے اوپر حصہ میں کرائیں۔ نہ معلوم کیوں مرزا قادیانی قرابادین کبیر کا نام ترک کر گئے۔ حالانکہ اس میں مرہم رسل کا زیادہ ذکر آیا ہے اس کی عبارت یہ ہے ”مرہم حواری۔ این مرہم را مرہم رسل نیز نامند و ترجمہ کردہ شد در قرابادین رومی بہ مرہم سلیخا و معروف بمرہم زہرہ و گفتہ کہ ایں مرہم دوازدہ دوا ست از دوازدہ حواری حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا کہ ہر يك يك دوا را اختیار کردہ ترکیب نمودہ اند و بایں مرہم بہترین مرہم ہاست“ اس کے بعد یہ بھی لکھا ہے ”و گفتہ کہ ایں مرہم را مرہم بخار و اثناء عشری نیز نامند“ مطبوعہ ١٢٤٩ھ ج ٢ ص ٧٨، ٧٩ ایڈیٹر ...... مرزا قادیانی کا مطلب تو مرہم عیسیٰ سے یہ ہے کہ وہ صلیب پر قتل کئے گئے اور ان کے زخموں پر مرہم لگا پھر بھی زندہ نہ رہے۔ جب اس مرہم نے خود عیسیٰ مسیح کو نفع نہ بخشا تو آپ کا جعلی مرہم کیا فائدہ بخشے گا اور جب آپ معجزات مسیح کے قائل نہیں تو ان کے مرہم میں کیا خوبی ہے اور خوبی ہے کہ آپ انہیں کے نام سے بک رہے ہیں اور دنیا کما رہے ہیں۔ لعنت ہے ایسی نیکی پر۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم فروری کے شمارہ نمبر ٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... خاتم الانبیاء اور خاتم الخلفاء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور مرزا قادیانی خاتم الخلفاء وہ قادیانی اخباروں اور

٢٧

صفحہ ٤٤

مختلف تحریروں میں اپنے کو خاتم الخلفاء کہتے ہیں۔ اگر خلفاء کے معنی انبیاء کے لیتے ہیں جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت کلام مجید میں وارد ہوا ہے کہ ”انی جاعل فی الارض خلیفه“ تو وہ خاتم ہو نہیں سکتے۔ کیونکہ ختم ایک امر بسیط ہے جو متجزی اور منقسم نہیں ہوسکتا۔ قرآن تو یہ کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں خاتم ہوں یا شاخسانے در حقیقت یہ پرانے بھڑوے آسمانی باپ کے نکالے ہوئے ہیں۔ غریب لے پالک تو معصوم جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش نہ ابھی منہ کی رال جھڑی نہ دودھ کے دانت ٹوٹے۔ بالکل نرا نا بالغ۔ پس آسمانی باپ ہی کو طاعون ملعون یا افغانی بغدے کے حوالے کر دینا چاہئے۔ کیونکہ سارا فساد اسی کھوٹ کا ہے اور اگر خلیفہ کا مرتبہ نبی سے گرا ہوا ہے یا خلیفہ سے مراد مسلمانوں کو کھنڈے استرے سے مونڈنے والا اور پوچارا دے کر کھونٹی تک کو صاف کرنے والا ہے تو یہ صفت واقعی مرزا قادیانی پر صادق آتی ہے لیکن اس صورت میں آپ نبی نہیں رہتے اور بروزی رسالت و نبوت قادیان کے باڑے یا اصطبل سے کھونٹا اکھاڑ کر بھاگتی ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ تو چنگل میں بھی آیا ؎

وہ خلیفہ جی جو کل پھرتے تھے سب کو مونڈتے
آج ان کی بھی اجمیر میں حجامت ہوگئی

پھر آپ مثیل المسیح اور موعود مسیح ہونے کے مدعی ہیں مگر عیسیٰ مسیح نے کہاں کہا ہے کہ میں خاتم الخلفاء یا خاتم الانبیاء ہوں۔ اگر مرزا قادیانی کا ایمان فی الحقیقت قرآن پر ہے تو مسیح اپنے خاتم ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ پڑھو ”اذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ یعنی اے بنی اسرائیل میں تمہاری ہی طرف رسول ہوں تصدیق کرتا ہوں توراۃ کی جو میرے ہاتھ میں ہے اور بشارت دیتا ہوں۔ ایسے رسول کی جو میرے بعد آئے اس کا نام احمد ہوگا۔ یہی انجیل میں ہے کہ میرے بعد فارقلیط (تسلی دینے والا) آئے گا لیکن مرزا قادیانی کا ایمان توراۃ وانجیل پر کیوں ہونے لگا جبکہ قرآن پر بھی نہیں۔

اور یہ صاف ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ بنی اسماعیل میں سے ہیں نہ کہ بنی اسرائیل میں سے تعجب ہے کہ اصل مسیح تو خاتم الانبیاء نہ ہو اور مثیل مسیح خاتم الانبیاء ہو جائے اور اگر مرزا قادیانی یہ کہیں کہ میں انبیاء بنی اسرائیل کا خاتم ہوں تو اپنے مرزائیوں کو بنی اسرائیل ثابت کریں اور امام الزمان ہونے کا دم چھلا کاٹ کر پھینک دیں ورنہ خاتم الخلفاء بننے اور بنانے سے تائب

٢٨

صفحہ ٣٥

ہوں اور آئندہ کے لئے کان پکڑیں ورنہ ابھی ابھی سر میں کان اور کانوں میں سر اور دونوں میں منارے کا کلس کر دیا جائے گا۔

(ایڈیٹر)

١ ....... مرزائی اخبار الحکم کی کایا پلٹ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ماشاء الاب والابن اب تو الحکم مہاراج دھراج گنیش جی (ہاتھی) کے کانوں سے چوڑا اور سری مہاراج ہنومان جی کی دم سے لمبا یعنی بڑی تقطیع کے پیمانے پر شائع ہونا شروع ہوا ہے۔ ہم اکھاڑے کے پٹھوں بیچ اپنے ہمعصر کے بلند منارے کی مٹی سے ملتے ہیں اور پیٹھ ٹھونک کر کہتے ہیں کہ شاباش۔ اپنے حریف و رقیب البدر کو نیچا دکھانے کا یہی داؤ تھا ورنہ الحکم چاروں شانے چت ہو کر آسمان جھانکتا اور حکیم الامتہ کا افسون امام الزمان کے افسون پر چپ رہتا اگرچہ الحکم کا حجم البدر کے حجم سے دو چند بلکہ تقریبا سہ چند ہے مگر قیمت بھی تو دو چند ہے۔ یعنی البدر کی قیمت اڑھائی روپے اور الحکم کی عام قیمت پانچ روپے سالانہ ہے مگر آپ جانتے ہیں پیٹ پالنے والے تو ارزاں بعلت پر غش ہیں نہ کہ گراں بحکمت پر۔ لہذا اب خیر اسی میں ہے کہ قیمت بھی گھٹا دی جائے ورنہ ہم دکھا دیں گے کہ البدر چند روز میں اپنا حجم اسی قیمت اڑھائی روپے سالانہ پر دو چند کر دے گا اور پھر قسم ہے لے پالک کے منارے کی کہ بھٹا بیٹھ جانے میں کچھ بھی کسر نہ رہے گی۔ ہم تو الحکم کے یار و مددگار ہیں۔ اسی نے بروزیت کی نیو جمائی۔ اسی سے منارہ ٹھا کر دوارا بنا۔ اسی نے پچھلے دنوں اپنا گھر سیلاب کی نذر کیا۔ بروزیت کو شہرت کے بانس پر چڑھانے میں اسی نے کڑیاں جھیلیں۔ ہمیں تو الحکم ہی پیارا ہے کیا طاقت ہے کہ کوئی حریف اس کا مد مقابل بن سکے ورنہ ابھی ابھی راتب بند کر دیا جائے اور گھاس دانہ کی جگہ مرچوں کا توبرا چڑھا دیا جائے۔ کچھ غم نہ کرنا۔ مجدد المائتہ مشرقیہ تمہاری کمک پر ہے ایک البدر کیا ہزار البدر نکلیں مگر دسا سٹول یا دمدار ستارے کی طرح غائب نہ ہو جائیں تو جب ہی کہنا۔ کجا الحکم کجا البدر۔ یہ ڈھول کے اندر پول گوہ مخمیرہ۔ یہ جند بیدستری اور سقمونیا معجون وہ گڑ کے شیرے کا حریرہ۔ یہ منارے کی جریب وہ مٹی سنی صلیب۔ آئندہ یا قسمت یا نصیب۔

(ایڈیٹر)

٣ ....... تلوار کی جگہ قلم اور زبان کا جہاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائی اخبار الحکم کے صفحہ اول پر چند روز سے یہ فقرہ ثبت رہتا ہے۔ ” آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا ہے ۔“ وغیرہ!

٢٩

صفحہ ٤٦

خدا کا حکم تو ٹل نہیں سکتا ورنہ ساری خدائی سے جہاد اٹھ جاتا حالانکہ جہاد برابر جاری ہے۔ صومالی لینڈ میں برٹش گورنمنٹ جہاد کر رہی ہے۔ پچھلے دنوں مقدونیا کے باغیوں پر سلطان ترکی نے جہاد کیا اور عنقریب انشاء اللہ دنیا کے بعض حصوں میں نہایت سخت جہاد ہونے والا ہے اگر جہاد کا وجود دنیا میں نہ ہو تو کوئی سلطنت قائم نہیں رہ سکتی۔ چوروں اور ڈاکوؤں اور بدمعاشوں اور قاتلوں کو گرفتار کرنا اور سزا دینا بھی جہاد ہے جو تمام سلطنتوں کے خلاف نہیں۔ ہاں سخرے آسمانی باپ نے لے پالک کے نام ایسا نادر شاہی حکم بھیجا ہوگا۔

یہ عجیب بات ہے کہ تلوار کا جہاد تو بند ہو گیا ہے مگر قلم اور زبان کا جہاد بند نہیں ہوا جو تلوار کے جہاد سے سخت تر ہے۔

جراحات السنان لها التيام
ولا يلتام ما جرح اللسان

یعنی بھال کے زخم بھر جاتے ہیں مگر زبان کے زخم نہیں بھرتے۔ لے پالک جو سالہا سال سے دنیا کے تمام مذاہب پر قلم کا جہاد کر رہا ہے اور ہر مذہب کے بزرگوں کی مذمت کر کے اہل مذاہب کے دلوں کو نوک قلم سے چھلنی بنا رہا ہے تو آسمانی باپ نے یہ جہاد جائز کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں بت پرستوں کو برا کہنے سے بھی روکا گیا ہے۔ پڑھو ”لا تسبوا الذين يدعون من دون الله الآية“ مگر لے پالک کو پرانے قرآن سے کیا غرض اس کو تو نئے باپ کا نیا حکم چاہئے۔

میری بددعا سے فلاں مارا جائے گا کیا یہ گالیاں اور سیف زبانی کا یہ دعویٰ جہاد نہیں میرے ساتھ طاعون کا لشکر آیا ہے اور میں اپنے منکروں کو اس کے ہاتھوں ہلاک کر رہا ہوں کیا یہ دعویٰ جہاد نہیں اپنے نفس پر جہاد نہیں کیا جاتا۔ ہر دم یہی دھن سوار ہے کہ میری بات نیچی نہ ہو۔ میں ذلیل نہ ہوں جو کچھ میں چاہوں وہی ہو۔ میں بروزی ہوں میں خدا کا مظہر ہوں بلکہ ”انا ربکم الاعلیٰ“ مگر خدائے تعالیٰ ایسے متکبر اور مغرور کو ذلت پر ذلت دے رہا ہے۔ اس کی رعونت کا سر کچل رہا ہے جس طرح فرعون بے عون کا سر کچلا۔

آپ خود جہاد کر رہے ہیں اور برٹش گورنمنٹ کو خوشامد کے شیشے میں اتار رہے ہیں کہ میں جہاد کے خلاف ہوں اور میں نے جہاد بند کر دیا ہے۔ بھلا اس بکواس کو پوچھتا کون ہے جو جہاد آپ کے ذہن میں ہے نہ وہ ظالمانہ جہاد اسلام میں ہے نہ مسلمانوں کے خواب و خیال میں نہ خود گورنمنٹ کے قیاس و گمان میں۔ جو جہاد ظالموں پر کیا جاتا ہے وہ صورۃً جہاد ہے مگر معنیٰ عین

٣٠

صفحہ ٤٧

انصاف ہے جو خود غرض مفتری ایسے جہاد کو روکتا ہے جو بڑا مفسد اور تمام گورنمنٹوں کا بدخواہ اور عام امن میں خلل ڈالنے والا ہے کیونکہ ریاست بے سیاست ممکن نہیں۔ بروزی نبوت نے بھی اوائل میں قلم سے لوگوں کی موت ہی کی پیشنگوئیوں کا جہاد کیا۔ دھونس ڈال کر اپنی نبوت کو منوانا چاہا مگر اس ظالمانہ جہاد کا برٹش عدالت نے سر توڑ ڈالا اور تخویف الناس سے آئندہ کے لئے توبہ نامہ لکھوالیا۔ ورنہ خدا جانے ہلاکت کی پیشنگوئیوں کا جہاد کیا کر کے رہتا۔

بار بار جہاد یاد دلانا گویا مسلمانوں کو اشتعال اور گورنمنٹ کو ان کی جانب سے نفرت دلانا ہے اور اسلام اور پیغمبر اسلام پر تبرا بھیجنا ہے کہ ظالمانہ جہاد کو رواج دیا۔ آپ سے زیادہ اسلام کا کور نمک اور مسلمانوں کا دشمن کون ہوگا ؟ قابو نہیں چلتا ورنہ تمام مسلمان بلکہ اقوام مذاہب دنیا جو جعلی نبوت اور امام الزماں کو نہیں مانتے۔ آپ کے ہاتھوں قتل کر دیئے جائیں اور آپ ان کو کچا ہی بھنبھوڑ کر کھا جائیں۔ قرینہ یہ ہے کہ آپ کا جو مخالف اپنی قضا سے مر جاتا ہے۔ خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں اور مرزائی اخباروں میں مشتہر کیا جاتا ہے۔ اس سے آپ کا خبیث باطن اور بدخواہی مخلوق صاف عیاں ہے۔ جہاد کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں۔ قتل کا ارادہ اور اقدام بھی درحقیقت جہاد ہے۔ ”ان اللہ یعلم ما فی الصدور“ اور ”انما الاعمال بالنیات“

(ایڈیٹر)

٤ ....... ہندوستانی قینقاب بر سر دجال پنجاب

محمد فاروقی لاہوری

اے مردود بے ایمان مرزا یہ کیا برپا کیا طوفان مرزا
کبھی بنتا ہے عیسیٰ گاہ مہدی نہیں ہے یہ تجھے شایان مرزا
ابھی زندہ ہیں عیسیٰ آسمان پر نہ ان کو جان تو بے جان مرزا
مسیح ابن مریم آئیں گے پھر حبیب حق کا ہے فرمان مرزا
نصوص قطعیہ کا ہے تو منکر نہ کوسے کیوں تجھے قرآن مرزا
حدیثوں کے معانی مت غلط کر نہ کر فرقان کا بطلان مرزا
تو ہے بمرتبہ شداد ونمرود تو ہے قارون کا ہم شان مرزا
مسلمانوں کو لوٹا خوب تو نے تو ہے چنگیز خان کی جان مرزا
تو خاص ابلیس کا نور بصر ہے تیری آنکھیں ہوں بے لمعان مرزا

٣١

صفحہ ٤٨
بجا ہے گر کہوں دجال پنجاب لقب ہے یہ تیری شایان مرزا
ننگ انسانیت لکھوں میں تجھ کو کہ ہے تو بدتر از حیوان مرزا
غلام احمد کا تو ہرگز نہیں ہے اٹھ او بندہ شیطان مرزا
سکل پنجاب ہی میں تیری ذلت تو ہے بدنام تا ایران مرزا
نہ تیرا قادیان دارالامان ہے وہ ہے اک منبع الاحزان مرزا
مسلمانوں کے حق میں ہے تو افعی تو موذی ہے علی الطغیان مرزا
بھگا دوں ایک دم میں تجھ کو رن میں نہ ٹھہرے تو سر میدان مرزا
تیرے ٹکڑے کو کتا کھائے گا بے شوق اڑا ساتھ اس کے تو بھی جان مرزا
مرے گا کور کر کوڑھی تو ہو کر یہ کہتا ہوں علی الاعلان مرزا
نہیں تجھ پر کھلے اسرار عرفان نہیں حق کی تجھے پہچان مرزا
تیرے خادم کیا کرتے ہیں تجھ پر دل وجان مال وزر قربان مرزا
یہ پیشین گوئی میری یاد رکھنا عیاں ہوگا بہ شعبان مرزا
چھٹی تاریخ سہ شنبہ کا ہو دن اسی دن ہوگا تو بے جان مرزا
جو ناری ہیں بھنیں تو سگ ناری ترا دوزخ میں ہوا ایوان مرزا
ظریف اب ختم کر تو اس غزل کو نہ ہو جائے کہیں ہلکان مرزا
بدل کر قافیہ لکھوں غزل اور کہ جس کو سن کے ہو حیران مرزا

(باقی آئندہ)

٥ ...... مولوی محمد کرم الدین صاحب کی فتح

ایک معجزہ از گورداسپور!

١٤؍جنوری ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی کا وہ الہام کا مقدمہ فوجداری جو منجانب حکیم فضل دین مرزا قادیانی کے خاص حکم سے برخلاف مولوی صاحب موصوف دائر کیا گیا تھا اور جو ١٤؍ماہ سے چل رہا تھا اور جس کی نسبت مرزا قادیانی پر متواتر نصرت و فتح کے الہامات برس رہے تھے آخر کار خارج ہو گیا اور مولوی صاحب عزت سے بری ہو گئے۔ بہت سے احمدی دور دراز مسافت طے کر کے آخری حکم سننے کے منتظر تھے کہ مرزا قادیانی کا تازہ نشان (فتح مقدمہ) دیکھیں لیکن صاحب مجسٹریٹ کا یہ حکم سن کر سب کے رنگ فق ہو گئے اور وہ سب امیدیں جو مرشد جی نے ایک مدت

٣٢

صفحہ ٤٩

دراز سے فتح و ظفر کی دلا رکھی تھیں۔ خاک میں مل گئیں اور مرزا قادیانی کے الہام کی قلعی کھل گئی۔ ١٣؍جنوری ١٩٠٤ء کو اس مقدمہ میں جو مولوی صاحب کی طرف سے لائبل بنام مرزا قادیانی و حکیم فضل الدین دائر تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے سے قانونی بحث شروع ہوئی۔ جس کو مولوی صاحب کے وکیل نے نہایت متانت سے ادا کیا۔ پھر مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں الفاظ استغاثہ کی تشریح کتب لغت، عربی، فارسی، انگریزی، تفاسیر، حدیث کے حوالے اور خود مرزا قادیانی کی تصنیفات سے مدلل طور سے کی اور اپنی حیثیت کے دلائل اچھی طرح بیان کئے اور سندیں پیش کیں جن کے خاتمہ پر مرزائی جماعت کے چھکے چھوٹ گئے۔ رات کو مرزا قادیانی کو تپ چڑھ گیا۔

چنانچہ دوسرے روز ١٤؍تاریخ کو عدالت میں ان کی طرف سے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش ہوا کہ وہ بیماری کی وجہ سے ایک ماہ تک حاضر نہیں ہو سکتے۔ اور حکیم فضل الدین نے زیر دفعہ ٥٢٦ ضابطہ فوجداری مہلت مانگی کہ چیف کورٹ میں درخواست انتقال مقدمہ کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے استغاثہ جات ٤١١ و ٥٠٠ کی نسبت بھی درخواست گزاری۔ عدالت نے ١٤؍فروری تک مہلت دی اس کے بعد عدالت نے پہلے مقدمہ میں مولوی صاحب کی بریت کا حکم سنا کر اس فیصلہ کو حرف بحرف پڑھا جو ٩ اوراق کا انگریزی میں لکھا تھا۔

اب وہ الہام کہ ”جاءك الفتح ثم جاءك الفتح“ (تذکرہ ص٤٧٦ طبع سوم) کیا ہوا اور وہ مجموعہ فتوحات جسکا وعدہ کہاں اڑ گیا اور انجام مقدمات ٤ کی پیشینگوئی کیا ہوئی اور ان تازہ الہامات مشتہرہ الحکم ١٧؍٢٤؍ دسمبر ١٩٠٣ء ہماری فتح ہمارا غلبہ ”ظفر من الله وفتح مبین“ (تذکرہ ص٤٩٥ طبع سوم) وغیرہ کا کیا حشر ہوا؟ آپ کے حجۃ اللہ نے تو جیسا الحکم مذکور میں چھپا خواب میں اصحاب القبور (مردگان) کے سامنے بھی ہاتھ جوڑے اور دعائیں کرائیں لیکن افسوس کہ وہ سب محنت اکارت گئیں۔ سچ ہے ”وعنده مفاتح الغيب لا يعلمها الا ھو“ کیا مرزائی اس معاملہ پر غور نہ فرمائیں گے۔ یارو خدارا انصاف ۔ ”اليس منكم رجل رشيد“ ذرا مرزا قادیانی سے یہ تو پوچھئے گا کہ آپ نے خود انجام مقدمات کی پیشینگوئی اس آیت سے فرمائی تھی ”انّ الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون“ اب اہل تقویٰ آپ بنے یا آپ کے مخالف میدان تو مولوی صاحب جیت گئے خدا کی نصرت ان کی یاور ہوئی پھر یا تو آپ کو اپنے ملہم پر صاف بدظن ہو جانا چاہئے یا اس کا فیصلہ مان لیجئے کہ حق آپ کے خلاف ہے۔ ایک اور آیت بھی آپ نے الحکم میں اس مقدمہ کی پیشینگوئی میں شائع فرمائی تھی ”الم تر كيف فعل ربك باصحاب الفيل۔ الم يجعل كيدهم فى تضليل وارسل عليهم طيراً ابابيل۔

٣٣

صفحہ ٥٠

ترميهم ...... الخ “اب آپ ہی تشریح فرمائیے کہ اصحاب الفیل اس موقع پر کون ہیں اور ان کے مقابلہ میں مظفر و منصور کون؟ ہم تو گورداسپور میں جہاں تک دیکھتے رہے آپ کی ہی پارٹی بڑے کروفر کے رتھوں اور گاڑیوں پر سوار ہو کر آئی تھی پھر آپ کی نسبت طيراً أبابيل (حقیر جانور) کا خیال کرنا تو نہایت بے ادبی ہے۔ البتہ پہلی شق کی کوئی وجہ نکل سکتی تھی تو براہ مہربانی اس الہام کی پوری تفسیر کر دیجئے مرزائی صاحبان مانیں یا نہ مانیں۔ دنیا میں تو اب مولانا مولوی کرم الدین صاحب کی فتح و ظفر کا ڈنکا بج گیا اور مرزا قادیانی کا وہ طلسم اعجاز و دعویٰ الہام ٹوٹ گیا۔ ”الحق يعلوا ولا یعلی“ اب تو مرزائی صاحبان کو مرشد جی سے صاف کہہ دینا چاہئے کہ؎

بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے

افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کے جری سپاہی خواجہ کمال الدین صاحب وکیل کی یکسالہ محنت اکارت گئی اور ہم صدہا مبارکباد جناب مولانا مولوی محمد کرم الدین صاحب کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ آپ نے ایک زبردست فتح حاصل کی۔

آج جابجا جناب بابو چندو لال صاحب بی اے مجسٹریٹ گورداسپور کے اس بے لاگ انصاف کا چرچا ہو رہا ہے کیوں نہ ہو آپ نے واقعی نوشیروانی عدالت کا نمونہ دکھایا اور ان ہی وجوہ سے تو انگریزی عدالتوں کے میزان عدل کا قائل ہونا پڑا ہے کہ یہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔

راقم ایک میمبر از گورداسپور!

٦ ...... نظم ارمغانی بحضور دجال قادیانی

ارمغانی سیالکوٹ!

کیا تاب ہے مرزا قادیانی کی کرے چون میرے آگے زنہار نہ ٹھہرے گا وہ ملعون میرے آگے
وہ سامری زادہ ہے میں موسیٰ کا عصا ہوں کوئی بھی چلا اس کا نہ افسون میرے آگے
تقریر کو بھولے ابھی تحریر کو بھولے آوے سر میدان جو وہ دوں میرے آگے
نہ نثر کی نہ نظم کی ہے اس کو لیاقت دزدیدہ عبث پڑھتا ہے مضمون میرے آگے
ہیں جتنے کہ مرزائی خبر لوں گا میں سب کی سب بھاگیں گے کرتے ہوئے چوں چوں میرے آگے
خود مردہ ہیں وہ کہتے ہیں عیسیٰ کو جو مردہ ہیں کفر کے صحرا کے وہ مجنون میرے آگے
کاتک کے مہینے میں ہے مرزا کی ولادت پلے کی طرح کرتا ہے غوں غوں میرے آگے
مرغی کی طرح گھر میں وہ انڈوں پہ ہے بیٹھا ڈربے سے نکلتا نہیں ملعون میرے آگے

٣٤

صفحہ ٥١
مرزا قادیانی زمانے کے ہیں بے واؤ کے خسرو وہ لاکھ بنے گرچہ فریدوں میرے آگے
ہیں خانہ الحاد کے نمرود قادیانی کبوتر اس واسطے کرتے ہیں غٹرغوں میرے آگے
مرزائی جو سن پائیں کہیں میری غزل کو شرمندہ بہت ہوں نہ کریں چوں میرے آگے
مرزا کا میرے ڈر سے ہوا دھک سے کلیجہ ایک چٹکی سے مل دوں گا وہ ہے جوں میرے آگے
میں پڑھ کے غزل اپنی جو مرزا کو سناؤں آنکھوں سے بہا دے گا وہ جیحوں میرے آگے
کرتا ہے جو وصف اس کا ہے وہ ایک کلاونت سارنگی پہ کرتا ہے وہ روں روں میرے آگے
مرزا نہیں انسان ہے سگ چشم ہے کتا پنجاب کے لوگوں کی ہے وہ ملعون میرے آگے
آفاق میں جب دھوم مچے میری غزل کی مرزا کا ہو گا حال دگرگوں میرے آگے
دجال نہیں پر خردجال ہے مرزا ہو مجھ سے مقابل کرے ڈھینچوں میرے آگے
زنجیر پڑی کفر کی مرزا کے گلے میں ہے جن ضلالت کا وہ مجنوں میرے آگے
میں بدلے خلیفہ کے حمار اس پہ چڑھاؤں گا قسمت سے بزودی ہو جو مدفون میرے آگے
جو معتقد ان کے ہیں وہ مثل مداری مرزا قادیانی بنے صورت میمون میرے آگے
بے فے کا ہے وہ فخر تو بے دال کا بوم ہے سنگ ہلاون وہ ملعون میرے آگے
مرزا کے جو اقوال ہیں بے پے کے ہیں موتی بے رے کا ہے وہ گوہر مکنوں میرے آگے
مرزا قادیانی کی طبیعت کا ابھی حال ہو روشن ایک شعر کرے آکے جو موزوں میرے آگے
کرتا ہے جو وہ طعن بزرگان سلف پر خود ہو گیا خلقت میں وہ مطعون میرے آگے
تصنیف کو دیکھ اس کی یہ کہتا ہوں بہ انصاف چرکین سے نہیں رتبہ میں افزوں میرے آگے

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٨؍ فروری کے شمارہ نمبر ٦؍ کے مضامین

٣٥

صفحہ ٥٢

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... قادیانی شاعری

٢٠٠۔ لودھیانہ!

قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کی چاروں جلدوں کے عنوان پر ایک تاریخی رباعی لکھی ہے جس کے تیسرے مصرع کی دم بڑھی ہوئی ہے۔

کیا خوب ہے یہ کتاب سبحان اللہ
اک دم میں کرے ہے دین حق سے آگاہ
از بسکہ یہ مغفرت کا بتلاتی ہے راہ
تاریخ بھی یاغفور نکلی وہ واہ

الفاظ اور بندش سے قطع نظر ہم قادیانی سے صرف چاروں مصرعوں کا وزن پورا کر دینا چاہتے ہیں اگر پورے کر دے تو حضرت شوکت سے سفارش کر کے اس کا نام بھی شاگردوں میں درج کرا دیں گے۔ اگر چہ ایسا کودن اس لائق نہیں کہ اس کو ان کی شاگردی کا اعزاز بخشا جائے۔

پھر ”وہ واہ“ کیا خوب ہے۔

از بسکہ یہ مغفرت کا بتلاتی ہے

یہ بھی مصرع رباعی کا ایک پورا وزن ہے آگے قادیانی کی ”راہ“ حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ اس پر دو رباعیاں ہدیہ ناظرین ہیں۔

حد سے باہر ہے راہ تیری مرزا
کرتا ہے اسی پہ تو دلیری مرزا
سب مکر و دغا ہے یہ براہین تیری
بس کھل گئی تیری ہاتھ پھیری مرزا
کہنا تجھے مہتدی بجا ہے مرزا
ہر بات میں تجھ کو اعتلا ہے مرزا
الہام ہیں تیرے انبیاء سے بڑھ کر
بیٹا تو خدا بن چکا ہے مرزا

٢ ...... قادیانی کی خودستائی اور اس کے چیلوں کی ژاژ خائی

ایک قادیانی شہزادہ اپنے خانہ ساز رسول ونبی کا فارسی قصیدہ پڑھ کر کہتا ہے کہ اس کے

٣٦

صفحہ ٥٣

مقابلے میں کوئی نہیں لکھ سکتا، بڑھ کر تو کیا اس کے برابر بھی لکھنا محال ہے۔ اگر کوئی ارادہ بھی کرے تو اس کا نطق بند ہو جائے۔ وغیرہ چونکہ یہ کابلی شہزادہ فارسی سمجھتا ہے جیسا کہ اہل کابل بول سکتے ہیں اس لئے ہم نے اسی ردیف وقافیہ میں بعون اللہ تعالیٰ کچھ لکھا ہے وہ شائع کرتے ہیں۔ قادیانی شیخی نے بجز خود ستائی کوئی کمال نہیں دکھایا۔ ہم نے بھی قادیانی کے اصل حالات تحریر کئے ہیں۔ اگرچہ قادیانیوں میں اہل انصاف کم ہیں الا ماشاء اللہ پھر بھی خدا کی رحمت واسعہ پر نظر رکھ کر امید رکھتے ہیں کہ کوئی تو حق پسند غیرت مند ہوگا جو اس سے اس کے جواب کا مطالبہ کرے گا اور پھر اس کو لاجواب پا کر قبول حق سے مشرف ہو کر از سر نو مسلمان ہوگا۔ آئیں اگر مقابلہ میں دشنام دہی، بہتان دروغ گوئی، مغالطہ اور خدعت وغیرہ استعمال کی گئی جیسا کہ یک ہزاری، دو ہزاری اشتہاروں میں ولد الزناء اور حرام زادے کی گالیاں مستعمل ہوئی ہیں تو خیر یہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ !

دهن خویش بدشنام میالا صائب
کاین زر قلب بهر جا که دهی باز آید

خود بخود سب طرف سے حسب معمول پھٹکاریں پڑیں گی اگر قادیانی بزعم خود رسول نبی اس کی پروانہ کرے مگر اہل بصیرت پر اصلیت ظاہر ہو رہی ہے۔

٣ ...... قصیده

بنام آنکه نه مبداش ومنتها باشد بنام او سر مبدا به کار ما باشد
کسیکه هر دمش از خالق التجا باشد همو خودش بره راست رهنما باشد
گرت بجانب محبوب چشم وا باشد همه هر آنچه بجز وی بود فنا باشد
ترابه بحر محبت اگر شنا باشد نه هیچ آگهیت از غم وعنا باشد
نصیب نفس تو باحق اگر غنا باشد جهان واهل جهان لقمه وگدا باشد
غبار بر دل طالب زرنج ره نبود که خاک راه در دوست کیمیا باشد
غبار راه قدم چون بصدق بردارند به چشم اهل نظر هم چو توتیا باشد
بمال وزرچه بود راه دوست پیمودن به هرچه حکم کند جان ودل فدا باشد
منازل ره دارین سهل باشد اگر بدل بهر قدم الله ربنا باشد
مباش شاد وغمان از حصول وفقد جهان که ایں جهان فنا دار ابتلا باشد
کجابه علم وهدایت قدم نهد به ثبات هر آنکه در ره دین مرکبش هوا باشد

٣٧

صفحہ ٥٤
اگر قبول نہ امروز حق کنی...... فردا براه حق شدنت آرزو بسا باشد بسوئے انگش وآ
تنادشت نبود آن دم از مکان بعید هم آن عمل کہ زخود کرده هبا باشد برائے عالمیان
بمآل عذاب و گرفتاری ابد شغلت بہ لیتنی ودریغا وحسرتا باشد خدا زمکرو فری
بود معامله کار با غلاظ و شداد نہ هیچ فائدہ از زاری وبکا باشد بہ مجلسے زبخا
بہ قعر هاویہ سازند مقعدش ہر کو نبی نباشد وانباز انبیاء باشد پس از رسول ونب
بایں نبوت جزئی و ناقص دجال بشان ختم رسل قدح مدعا باشد مہین حضرت عی
محمد عربی کا بروئے مبارک او بيك اشاره زمشکل گره کشا باشد ببین کہ بر صلی
درود حق بروانش بہ پیر دانش باد سکون خاطرم این درد دائماً باشد بہ خاندانش کند
شہے کہ جنبش مژگان او بہ غمزدگان زراہ مرحمت از سینہ غمزدا باشد چو عجل سامری
خلاصه دو جہاں فخر انبیاء ورسل کہ روز محشرش آں عرش متکا باشد ہمیں بس ست ز
خدا چو ختم نبوت بذات پاکش کرد پئے علو بشر جاهش انتہا باشد منم مسیح زماں
اگرچہ از ہمہ آخر نبوتش آمد وليك خلقت نورش بابتدا باشد بہ ابن مریم ص
چنان رسول بریں پایہ کازوی امی بامتش شدنے ہر رسول را باشد زگوہرش چہ
منش بہ خلق خدا لاشريك له خوانم بلید طبع کسے کو ازین خفا باشد بہ ہزل وشتم نہ
نبوتش همه عالم گرفت تا محشر نبوتے نہ بہ فاروق و مرتضیٰ باشد حرام زادہ بگ
بود مماثل دجال اگر بزعم خودش کنون بدوش کس این حلہ وقبا كے باشد جز افتراء ب
نبوت ست زحق پایۂ بلند ترین نہ آنچناں کہ بوے دست کس رسا باشد بہ ضلع عرفت
نہ رزق و روزی دنیا باختیار کسے ست بہ کسب کس نہ ہدایت نہ انبیا باشد چرا سکوت زا
نبی نبی ست بوے نقص را گزر نبود فضیلت دگرے فضل کبریا باشد چو گفت برح
چو ماہ کامل برج سعادت اند ہمہ عجب مدار چو عو عوزاشقیا باشد بگوید انکہ
حقیقت اینکه بہ قرآن نباشدش ایمان کہ دینش رد احادیث مصطفی باشد چسان از ونش
ہوائے فتنہ وزیدن گرفت در عالم بہر چہار طرف فتنہ ھا بپا باشد نہ خوفش ا
قدم بہ منبر تجدید دین نہد هیهات کسے کہ نیچریش پیر پیشوا باشد ہر آنکہ زوج
بہ حسب گفتہ عیسیٰ بسے مسیح شوند زهر طرف بہ جہان چون مسیح زا باشد چہ خوش بود کا
جناب ختم رسل سی شمرد ایشان را چہ بیند آنکہ دلش درتہ عما باشد بہ پیریم ز

٣٨

صفحہ ٥٥
بسوئے انگلش و امریکن و فرنچ بہ بین ہم این مغل بچہ رابین کزانڈیا باشد
برائے عالمیان فتنہ اند دجالان علی الخصوص چو دجال مرزا باشد
خدا زمکرو فریبش امان دهد ہمہ را پگاه وشام شب و روزم ایں دعا باشد
بہ مجلسے زبخاری حدیث عرض آورد بکذب وجہل بیان دینش گوا باشد
پس از رسول ونبی گر کسے محدث خواند زیادتی ست بقرآن ودلگزا باشد
مہین حضرت عیسٰی ست قادیانی پیر مثیل وے شدنش خدعہ ودغا باشد
ببین کہ بر صلبوہ وما نفی حق فرمود ز قادیانی دجال نفی ما باشد
بہ خاندانش کند طعنہائے زشت وزبوں ز معجزات ویش نفرت وابا باشد
چو عجل سامری اعجاز عیسٰی انگارد بکور چشم یکے گوھر وحصٰی باشد
ہمیں بس ست ز توہین کہ در مقابلہ اش یکے مغل بچہ ذوالمجد والعلا باشد
منم مسیح زمان گفتنش چہ بوالعجبی ست بذات خود کہ بامراض مبتلا باشد
بہ ابن مریم صدیقہ اش چہ نسبت کو زنیم باشد و در مادرش خطا باشد
زگوھرش چہ ز من پرسی آنکہ جدہ او بہ بیوگی سہ پسر زٰا التقوا باشد
بہ ہزل وشتم نہ گفتم چنیں سخن ہرگز بصدق ماخذ من روضۃ الصفا باشد
حرام زادہ بگوید کسے کہ مردم را حرام زادگیش مدحت وثنا باشد
جوز افتراء بخدا کرد پیشگوئی ہا چرانہ لعنت ازاں سوش در قفا باشد
چرا سکوت ز الہامـ کرد وخائف شد چوکـار مرد خدا بر قضا رضا باشد
چو گفت در حق فرزند خود کان اللّہ بروئے ملت حقہ ز دین جدا باشد
بگوید انکہ خدارا منم بجائے ولد باو خطاب مسلمان کجا روا باشد
چساں ازو نشود صادر ایں دلیریھا کہ فارغ از خطر محشر وجزا باشد
نہ خوفش از سخط وقہر قاہر جبار نہ برعنایت وفضل حقش رجا باشد
ھر آنکہ زوجہ الھمیش ٨ بود با غیر چہ غیرتش نبود سخت بے حیا باشد
چہ خوش بود کہ کند عذر بے حیائی خویش کہ آہ من شدہ ام پیرو ان فتا باشد
بہ پیریم زن نو ملہم وہبچہ کنم حبالہ اش بہ جوانے زمن حبا باشد

٣٩

صفحہ ٥٧
چو خوف من بدلش جایگیر ھست پس او کند ھر آنچه کند از من اعتنا باشد
مشو مکدر از اشعار صافیم مرزا که کار اھل نظر اخذ ما صفا باشد
بخوانم از سر نو مطلع چو مطلع ماہ که شور در کالبد وحبذا باشد
رخت سیاه چو شب ظلمت آشنا باشد به مھر نیز ترا دعویٰ ضیا باشد
به پیشگوئی خود رو سیاه میگردی که کار تو بخدا دائم افترا باشد
چنین ذلیل شدی و نمردی از غیرت بحیرت اند همه کاین چه ماجرا باشد
بکوه سر زدنت ابلھی و بیباکیست چو طاقت تو نه ھم سنگ کھربا باشد
دلیر باشد و بی باک تر ز شیطان کو خدا پسرکه و گاھش پسر خدا باشد
نبی بشر بود و وحیش امتیاز آمد اگر ترا خبر از حصر انّما باشد ط
چو وحی تست منزہ ز دخل شیطانی نبوت تو چرا زیر التوا باشد
رسول نیستم آنجاکه گفته به فریب بروئی وصمت دجالی اختفا باشد
بچند سال شدی بعد ازاں رسول اللہ مراد و آخر کار آنچه در دعا باشد
ھمان رسول که او خاتم النبیین ست چه سفله مثلیت بارتقا باشد
گھی مجدد گاھی محدثی ونبی زبھراین خدا بودنت بنا باشد
بگو چو طبع ١١ براھین نمودی از الھام نباشد آنچه تو گفتی صحیح ـ یا باشد
اشارتت بنزول جلال عیسیٰ کرد بزعم وعود خدا کلیت عیسیٰ ١٢ باشد
خدا بکار برد قھر وعنف چون عیسیٰ دوباره سوئے زمین نازل از سما باشد
جلال عیسوی اتمام حجت افزاید منم جمالی و بار قھر ازاں ما باشد
نزول آنکه بیان کرد خامه اورا ببارد مرگ ھم از خامه ات روا باشد
الا چگونه بگیرید آن همه منسوخ بشرع نسخ باخبار کے روا باشد
ترا ھمان متوفی کمال اجر دھد ص ٥٥٧ دلی به حضرت عیسیٰ پے عزا باشد
فریب وجور که کردی تو با مسلمانان بجز خدای جھان یا که مشتکی باشد
نشسته بر سر شاخی چو از بنش ببری بسر فتادنت از دست خود سزا باشد
طفیل ١٣ نام گرامی آنکه شهره شدی چه خوش بعیب شماریش حق ادا باشد
شدند دابة الارض چون ھمیں علماء ١٤ خلاف فتویٰ شان نه از حجیٰ ١٥ باشد

٤٠

صفحہ ٥٧
کلام او بود اظہار کفر هر کافر مسلم این همه پیش اولی النھی باشد
ز نیچریه مپرس از چنین معاملها که کار شان بکتاب حق اعتدا باشد
بجان و دل چوکسی شرع را بود خادم مگو که غیر مزکی و بے وفا باشد
به قول ڈاکٹر سر منه فرو به زمین بارتداد که آن کرم این وبا باشد
بود چو کور عصائے کسے بدست تو کین ازان صلیب وازین کرم برملا باشد
مگر تو در پس آئینہ که چوں طوطی بگوشت آنچه در آمد همان صدا باشد
چساں امام زماں ومجددش خوانند چو طائر آنکه به اوستاد هم نوا باشد
مجال گفتش از خویشتن نباشد هیچ سوے فلاسفہ اش گوش بر ندا باشد
بزن کنی همه مرهون که وارثان نبرند آیا مسیح ہمیں زھد واتقا باشد
لیاقت تو بتازی و فارسی معلوم بنائے لفظ غیور خطا باشد
نه باشد از صله رحم و لعنتت هرگز به هر دو مہمل و بے معنیت هبا باشد
شنیدہ تو فقط را علامت مفعول برائے بیت به نظم تو جمع را باشد
نبی به شعر نه پیچد نه شاعریست نبی بسوق شعر کے از چوں توئے شَرا باشد
نه وزن شعر شناسی نه صحت الفاظ بزمرہ شعرا دخلت ابتغا باشد
گر ایں طریق بود اے گروہ مرزائی زمان نصیحت دین باز شما جفا باشد
عجب که زر ستد و استایش میخوانند غضب که خون خورد و نیز دلربا باشد
بود مثیل مسیح و مسیح صدهیهات کسیکه در طلب مال زو رسوا باشد
بشاعری سزد این لاف خود ستائیها که آن مبالغه باشد نه ادعا باشد
نبی که میکند اظہار واجب ست باو بدایت همه کس منصبش عطا باشد
التقوا پسری را مثیل او خوانید به ابن مریم صدیقہ ایں هجا باشد
کجا مسیح فلك پايۂ مفیض المال که جانب همه از دست او سخا باشد
کجا مجاور و شیدائے جیفۂ دنیا که پهن دست سوالش باغنیا باشد
خلاف طبع اگر بشنوید دم مزنید که ابتداش هم از جانب شما باشد
کلام من بود الحق مرهم ار بچشید بعلت همه مرزائیاں شفا باشد
شنو که بلبل شیراز خواند ز بستان ز نغمهاش بدل راحت بقا باشد

٤١

صفحہ ٥٨
دوائے تلخ بنوش از شفات می باید که دافع مرضست تلخی دوا باشد
وے ز دست طبيبيکه از غرض خالی ست همش به علم خدا و انتما باشد
چو قادیانی بدگوئی بد لگام رود بجا نباشد ازین جانب ارخا شد
چنانکه حق نبود خار بودنت بگل بخار گل شدنت نیز ناسزا باشد
زفیض خاص دم انتصار دین قلم هر پهلو خر دجال چون عصا باشد
جواب من بدرستی نداد وهم ندهد به قادیانی دون طاقتش کجا باشد
به گفتگویش پے برده ایم وتحریرش که در مقابله شتام و ژاژ خا باشد
همین قدر که زد جالیش بیان گردید باهل دانش وانصاف اکتفا باشد
زخواندن رد دجال بزمین به فلك مسیح را بلب احسنت ومرحبا باشد
دمد چو شحنه دم عیسوی باوراقش پے شرارت دجال انطفا باشد
سیاه ولال شد البدر والحكم زالم به هر دو طبع نه نطق ونه انجلا باشد
براه راست چساں بیند وچگونه رود کسیکه کجرو وکج بین به چشم وپا باشد
نه نور دین ست به مرزانه حسن احسن او جواب شحنه ازاینان بانتفا باشد
معاونان ضمیمه زحق جزا یابند هم آنکه مهتمش صاحب ذکا باشد
اعانتش به همه اهل دین بود واجب که بهر اهل جهان موجب هدا باشد
زبندگان ضعیف ست سعیست یارب دلے چه غم چوبه فضل تو اتکا باشد
بهر معامله چشمش به رحم وعفو تو بس که پاك از بد سمعت وریا باشد
عطا چو کردیش ایمان همش بدرگاهت ملاذ و مامن وملجای وملتجا باشد
به فضل ومرحمت خود موفقش گردان که بدردرت همه أوقات جبهه سا باشد
به مسجد صلحا با جماعت صلحا به فجر وظہر ودیگر مغرب وعشا باشد
زشام تا سحر اياك نعبدش شغلے به نستعينك از صبح تا مسا باشد
به فضل رزق تو عمرش چنان بسر گردد نه هیچ فکر غذائے غم عشا باشد
مشوشش نکند گاه گرم وسرد جهان ترددش نه زصيف ونه از شتا باشد
به بخش وجه معاش آنچنان وفکر معاد که دل بوی نبود متعلق زما سوا باشد
باحمدان عجم هیچگاه دل ندهم يك احمد عربی بس که مقتدا باشد

٤٢

طریق سنت وقرآ دم رحیل ازیں س تو شاد ازمن ومن حضور بارگہ زحشر جانب فر بنور وجهك يا به رب عالمی

(حاشیه جات گزشتہ اشع

٢ کہ بدترین نیر الا

٣ چنانچہ قادیانی خود

٤ نحن قسمنا بین

٥ گورداسپور ۔

٦ قید و جرمانہ ۔

٧ الہامات مندرجہ

٨ قادیانی الہام شد

٩ گاہے خدا یم بخدائ

١٠ قل انما انا بشر مثلکم

١١ آغاز اشتہار مطبوعہ

و مامور ہو کر بغرض اصلا

١٢ حسنِ حکم ان پر حکم

یہ حکم کہ ہر حکم کی اطعا

١٣ حضرت عیسیٰ کی

١٤ ازالہ قادیانی ص

سچائیوں کو استدلال

ان میں کامل تزکیہ اور

فلاں فلاں کافر ہے

١٥ حجی دانائی۔

صفحہ ٥٩
طریق سنت و قرآن رہ نجات منست بهر طریق دگر فتنہ و بلا باشد
دم رحیل ازیں سجن مومنم رحلت چنان بود که پرند از قفس رها باشد
تو شاد از من و من از تو شادمان باشم به این دلم بتپش و شوق آن بقا باشد
حضور بارگهت روز محشر آمدنم بتاج مغفرت و عفو ما مضٰی باشد
زحشر جانب فردوس شاد شاد روم ندائم از لب رضوان بیا بیا باشد
بنور وجهک یا ذوالجلال والاکرام نظر بوجه توام باشد و خوشا باشد
بہ رب عالمیان حمد اول و آخر سلام او بہ کسے کہ اھل اصطفا باشد

و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دیں تالیف کیا۔ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢

پر رحم کو مریم علیک ہی لکھا ہے۔ یہ قادیانی اصلاح ہے۔

سچائیوں کو استدلالی سے پھیلاتے ہیں۔ ص ٥٠٢ خزائن ج ٣ ص ٣٧٠ بجان و دل خدمت شرعیہ غرا بجالاتے ہیں لیکن ان میں کامل تزکیہ اور کامل وفاداری نہیں۔ قرآن شریف (دابۃ الارض کا کام یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ علانیہ کہہ دے گا کہ فلاں فلاں کافر ہے اس سے قادیانی ضرور کافر ہو گیا۔ کیونکہ اس کے دابۃ الارض نے گواہی دی۔

٤٣

صفحہ ٦٠

٤....... وہ آسمانی نشان ظاہر ہوا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

آسمانی باپ برس روز سے لے پالک پر الہام کے دوگڑے برسا رہا تھا کہ مقدمات کی قمار بازی میں چت بھی تیری اور پٹ بھی تیری مگر قسمت میں لکھے تھے تین کانے۔ ان کے پڑتے ہی خر دجال کان میں انگلیاں ٹھونس دُم دبا کر دم اٹھا کر لید کرتا ہوا جو بھاگتا ہے تو لے پالک اس کے حدث اور ضرط کی آواز کو اپنے حق میں فتح کے شادیانے سمجھا۔ ارے یہ کیا ہو گیا جی کچھ نہیں، مانگی تھی اوپر سے اور ملی نیچے سے۔ ہاتھ تیرے جھوٹے کے منہ میں وہ۔

ہم بھی کہتے ہیں بے شک آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ فراعنہ کا تکبر ڈھے گیا۔ غرور کے غرے ڈبے ٹوٹ گئے۔ بروزیت کے چھکے چھوٹ گئے۔ جھوٹی پیشینگوئیوں کے سر پھوٹ گئے۔ اب جعلی نبوت منارے سے اپنا سر پٹک رہی ہے۔ خود آسمانی باپ بسور رہا ہے اور لے پالک اس کو گھور رہا ہے۔ کھوسٹ کی ڈاڑھی کھسونٹے کو ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ قابو نہیں چلتا ورنہ جو کچھ کر گزرتا تھوڑا تھا۔

گورداسپور کی عدالت میں چیختے چلاتے ٹسوے بہاتے فریادی گئے کہ لوٹ لیا تباہ کر دیا۔ دغا دی فریب دیا۔ کوئی پوچھے کیا شے لوٹ لی۔ کیا کسی نے آسمانی باپ کا ترکہ لوٹ لیا۔ ورثہ ہڑپ کر لیا۔ ہزاروں کا زیور مرصع بجواہرات مرزائیوں کے صندوقوں میں نقب لگا کر چرا لیا۔ ڈاکہ ڈال کر دھرا ڈھکا سب چھین لیا۔ صرف لنگوٹی چھوڑ دی اور بس دنیا کو تو خود لے پالک دغا اور فریب دے رہا ہے۔ مسلمانوں کی گانٹھ کاٹ رہا ہے اور اسلامی علماء اور مشائخ پر دغا اور فریب کا الزام دھر رہا ہے۔

مولوی فیضی مرحوم نے آپ کی کتاب پر جو نوٹ لکھے تھے کیا وہ الہامی نوٹ تھے کہ ان کے سوا دوسرا شخص ویسے نہیں لکھ سکتا۔ آپ کے دعوے تو ایسے لچر اور لغو اور پادر ہوا اور متناقض ہیں کہ تھوڑی سی استعداد والا بھی انکو مکڑی کا جالا بنا کر اڑا سکتا ہے۔ چہ جائیکہ مولوی فیضی اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ۔ ان کی شان تو بہت اعلیٰ اور ارفع ہے مگر چونکہ سیف چشتیائی نے بروزیت کے منارے کی تعمیر ڈھا دی ہے اور جعلی نبوت کا قلع قمع کر دیا ہے۔ لہٰذا دہائی اور تہائی مچائی گئی۔ بفرض محال وہ نوٹ کسی کے تھے مگر مرزائیوں کے سر پر تو آرہ چلانے کو کافی تھے۔ آم کھانے یا پیڑ گننے۔ اپنے جھوٹے منہ پر خون لگا کر اور فریادی ہو کر عدالت میں گئے۔ اس سے صاف طور پر مرزا اور مرزائیوں کا عجز ظاہر ہو گیا کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچنے لگی۔ میرٹھ کے بعض منافق یہودی (مرزائی) جو

٤٤

ہمارے شاگرد بھی

نہیں (گویا ان کو

کریں، معافی چا

ظاہر ہوگا اور معافی

لائل کا چارج سر

......١

......٢

......٣

ایسہ

......١ (نعیم

پس اس نادان ا

کرنے سے اور

مانگتے ہیں ان کو

حرام کار اور بدم

سراسر یسوع کی

پہلی ہی رات م

اولاد بنے اور پ

ہاں صاحب ف

لئے کیسا داؤ کہ

صفحہ ٦١

ہمارے شاگرد بھی ہمیں پکارتے تھے کہ دعا کا کامل ثبوت گزر گیا۔ اب مولوی کرم الدین کو مفر ہی نہیں ( گویا ان کو مسیح موعود صلیب پر کھنچوا دے گا ) اور کیا اچھی بات ہو کہ مولوی صاحب معذرت کریں، معافی چاہیں اور حضرت اقدس کی دونوں طرح فتح ہے۔ سزا ہو گی جب بھی آسمانی نشان ظاہر ہوگا اور معافی چاہی جب بھی۔ مگر یہ خبر نہ تھی کہ پانسا الٹا پڑے گا اور دعوے خارج ہو کر الٹا لائیبل کا چارج سر پر دھرا جائے گا۔ باقی آئندہ۔ (ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍فروری کے شمارہ نمبر ٧ ؍کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... مرزا قادیانی کا تحریری اقبال

الحدیث!

.......١ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٩) کے حاشیہ میں آپ تحریر کرتے ہیں۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشینگوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں ان کو کوئی معجزہ نہ دکھایا جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے یہ تو وہی بات ہوئی جیسا ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایسا درود بتا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نظر آجائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک وظیفی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آگیا سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان جائیں۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا (ف) اس تحریر سے بقول مرزا قادیانی ثابت ہوا کہ یسوع

٤٥

صفحہ ٦٢

اسرائیلی تھا اور نادان تھا اور یسوع کی روح ایک شریر مکار میں تھی اور (تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی ۔“ اف سبحان اللہ یسوع کی روح بقول مرزا غلام احمد ایک شریر مکار میں تھی اور اب وہی یسوع کی روح ان میں یعنی خود مرزا قادیانی میں موجود ہے اور (اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٦) میں مرزا غلام احمد تحریر کرتے ہیں۔ ”خدا نے اپنے مسیح موعود (یعنی مجھ کو ) پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر باادب التماس کروں۔“

اور ( دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”اے عیسائی مشنریو! اب دجال مسیح مت کہو اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

اے مرزائیو! ایمان سے کہو کہ جس یسوع مسیح کے مرزا قادیانی ایلچی بنتے ہیں وہ کون ہے اور جس مسیح سے اب وہ افضل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ کون ہے ابن مریم یا کوئی اور؟

(س)

واہ آزادی تیری داد ہے جو ایلچی شاہوں سے زیاد ہے

(ج)

طمع بنایا ایلچی منہ بنا یا شاہ میرا کچھ نقصان نہ اوسد گیا وسماہ

(نور القرآن نمبر ٢ ص ٤٨، خزائن ج ٩ ص ٤٥٠، ٤٥١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”مگر تعجب ہے کہ عیسائی لوگ کیوں ختنہ کا ذکر کرتے ہیں ...... اور اپنے یسوع کی چال چلن کو کیوں نہیں دیکھتے۔ وہ ایسی جوان عورتوں پر نظر ڈالتا ہے ...... کیا جائز تھا کہ ایک کسبی کے ساتھ وہ ہم نشین ہوتا ۔ کاش وہ ختنہ کا پابند ہوتا ۔ تو ان حرکات سے بچ جاتا۔ یسوع کی بزرگ دادیوں ، نانیوں نے ختنہ کیا تھا یا صریح زنا کاری تھی۔“ نبی اللہ اور اس کی دادیوں اور نانیوں کا لحاظ ہو تو ایسا کہ شیطان کے خیال میں بھی نہ ہو۔

(س) اے مرزائیو! خداوند تعالیٰ سے ڈر کر سچ کہو کہ یہ یسوع جس کی مرزا قادیانی توہین کرتے وہی ابن مریم ہے جس کو خداوند تعالیٰ نے ”وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين (آل عمران: ٤٥)“ کے خطاب سے ممتاز فرمایا ہے۔ یا کوئی اور ہے مگر جواب دینے سے پہلے اپنے پیر و مرشد کا تحریری اقبال بھی دیکھ لینا۔

٤٦

صفحہ ٦٣

دیکھو ( توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں۔” بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرا مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ دونوں آسمان پر اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے۔“ (ف) اس عبارت سے بقول مرزا قادیانی صاف ظاہر ہے کہ یسوع حضرت مسیح بن مریم نبی اللہ کا ہی نام ہے۔ نہ کسی اور کا اور مرزا قادیانی نے دیدہ دانستہ حضرت مسیح بن مریم کی ہی سخت توہین کی ہے نہ کسی اور کی۔ دیکھو ( تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩)

(اہلحدیث)

کوئی سال شاید ایسا گزرتا ہو کہ مرزا قادیانی علماء اور مشائخ کو ”صلح خیر“ کا اعلان نہ دیتے ہوں۔ حال میں بھی آپ نے اعلان دیا ہے مگر واقعات اور تجربات برابر شہادت دیتے رہتے ہیں کہ ایسے اعلان محض فریب اور دھوکے کی ٹٹی ہوتے ہیں۔ یعنی بظاہر یہ ثابت کرتے ہیں کہ میں بڑا ملہم اور مرجع و مرنجان ہوں اور چونکہ آپ عرصہ تک خلق اللہ کو تخویف دلا چکے ہیں۔ یعنی لوگوں کی موت کی پیشینگوئیاں کر چکے ہیں اور مواخذے پر گورداسپور کی عدالت میں اقرار نامہ لکھ چکے ہیں۔ کہ آئندہ پبلک کی دل آزاری نہ کروں گا اور جرم تخویف کا مرتکب نہ ہوں گا پس گورنمنٹ اور اس کے حکام پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں تو غریب، گئو اور نمانی بھیڑ ہوں نہ کہ پھاڑنے والا بھیڑیا۔ مگر جب تک بھیڑیے کی جگہ چبانے والی کچلیاں موجود ہیں اور جب تک اس میں قدرت نے درندگی کی صفت پیدا کر رکھی ہے کون یقین کر سکتا ہے۔ کہ وہ اپنے نیچرل خواص سے باز آجائے گا۔ پس اہل اسلام کوئی بیوقوف نہیں نہ گورنمنٹ نادان ہے کہ آپ کی ظاہری صلح کے جھانسے میں آجائے۔

آپ مجسم صلح ہوتے تو ضرر رسانی کی نیت سے مسلمانوں کو عدالت میں نہ کھچواتے۔ مولوی کرم الدین صاحب پر نالش کرنے سے پہلے صلح خیر کا اعلان دیتے اور مجدد السنہ مشرقیہ نے بار بار سمجھایا کہ مونچھیں نیچی کر لو اور دعویٰ سے دست بردار ہو، مگر آسمانی باپ تو ٹھرے کا جام پلا کر کچے گھڑے کی چڑھانا اور اپنے لے پالک کا سر تڑوانا چاہتا تھا۔ ہماری ایک بھی نہ سنی گئی اور لے پالک کو کہیں کا بھی نہ رکھا۔ یہ باپ ہے یا لے پالک کے دشمنوں کا بھی قبلہ گاہ ۔ اب چونکہ مرزا قادیانی فرمائشی شکست کھا چکے اور غرور اور نخوت کے عالم

٤٧

صفحہ ٦٤

بالائے پارے کی طرح گرے کہ اٹھنا بلائے جان ہو گیا تو الصلح خیر کا اعلان دیتے ہیں۔ عصمت بی بی از بے چادری۔ پھر صلح کا تو اعلان اور مقدمہ برابر جاری۔

یعنی مرزائیوں کا دعویٰ خارج ہو کر جو مولوی کرم الدین صاحب کی جانب سے لائبل قائم ہو گیا ہے۔ تو ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ ہم کو اس عدالت سے انصاف کی امید نہیں ۔ لہٰذا مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ کدھر منتقل ہو سکتا ہے اور عدالت کیونکر نامنصف اور متہم قرار پاتی ہے ہم پھر صلاح دیتے ہیں کہ مولوی کرم الدین صاحب سے معافی چاہیں اور ہم ذمہ کرتے ہیں کہ وہ معاف کردیں گے کیونکہ وہ کریم النفس ہیں۔ اہل اسلام کو آپ سے کوئی ذاتی عداوت اور پرخاش نہیں۔ نہ وہ آپ کے جانی دشمن اور ضرر رساں ہیں اور شحنہ ہند تو جیسا آپ کا ہوا خواہ ہے شاید کسی اور کا ہو۔ البتہ تمام علماء و مشائخ عظام اور عام اہل اسلام آپ کے ملحدانہ عقائد اور بروزی نبی اور جعلی مسیح موعود بننے کے مخالف ہیں۔ آپ بجائے اعلان الصلح خیر کے اپنے فاسد اور مفسد عقائد سے باز آنے اور ان سے توبہ کرنے کا اعلان دیں تو پھر تو چار طرف سے صلح ہی صلح ہے اور اگر کوئی اس پر آپ کی جانب بری نگاہوں سے دیکھے تو شحنہ ہند اس کی آنکھ نکال ڈالے اور گدی کے پیچھے سے زبان کھینچ لے۔ آپ اسم بامسمیٰ یعنی غلام احمد بن جائیں نہ کہ بروزی احمد یعنی نبی، کیونکہ ایک غلام کے لئے کسی طرح شایان شان نہیں وہ آقا بن جائے یا آقا کے نام سے اپنے کو موسوم کرے۔ یہ تو سخت گستاخی اور اچھی خاصی بے وفائی بلکہ نمک حرامی ہے۔

(ایڈیٹر)

٣ ...... لاہور میں مرزائی مجلس

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب مولوی کرم الدین صاحب کے مقدمہ میں شکست پانے سے بروزی نبوت اور الہامی پیشینگوئیوں کی ہوا اکھڑ گئی تو مرزا قادیانی کو خوف ہوا کہ تمام چیلے فُرو ہو جائیں گے اور ان کی عقیدت کی گرم جوشی پر اوس پڑ جائے گی۔ اور جیسا کہ ہم کو معلوم ہوا کچھ مرزائی سرد مہر ہو کر کافور بھی ہو چکے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی ان کی فیلنگ کے انجن میں از سر نو حرارت پیدا کرنے کی دوسری چال چلے یعنی اعلان دیا گیا کہ: ”خود بدولت خاص لاہور کی مرزائی مجلس میں ایک تقریر کریں گے۔“ کیا لوگوں نے آپ کی ملحدانہ تقریریں اور مذاہب پر سب و شتم کرنے کے لیکچر اس سے پہلے نہیں سنے یا آپ کے رسالے جن میں کفریات بھری ہیں کسی نے نہیں دیکھے؟ جن کا لب لباب یہ ہے کہ میں بروزی نبی ہوں، مسیح موعود ہوں، امام الزمان ہوں اور مسیح، جو معاذ اللہ ایسے اور ویسے

٤٨

صفحہ ٦٥

تھے دنیا میں مر گئے۔ (وہ نہ مرتے تو مرزا قادیانی کیونکر موعود بنتے؟) اور میرا مرزائی گروہ ایسا ہے اور ویسا ہے اور وہی حق پر ہے۔ باقی تمام مذاہب والے ناحق پر ہیں وغیرہ۔ اگر ایسی لغو بے تکی تقریریں اور تحریریں نہ ہوں تو گیلے ایندھن میں آگ کیونکر لگے اور چندے کہاں سے جمع ہوں اور جند بے دستری اور سقنقوری معجون اور قوت رجولیت کے زعفرانی حلوے کہاں سے آئیں؟ مگر ہم امید کرتے ہیں کہ مسلمانان لاہور خصوصاً علماء اور مشائخ لاہور و پنجاب اس جلسے کی کچھ پرواہ نہ کریں گے نہ مناظرہ کا ارادہ کریں گے۔ کیونکہ باوصف متواتر اعلان دینے کے نہ مرزا قادیانی نے کبھی کسی اسلامی عالم سے مناظرہ اور مباہلہ کیا ہے نہ آئندہ کریں گے۔ نہ کرنے کی جرات ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کو تو ہمیشہ مرزائیوں میں اپنی گرم بازاری اور عوام میں شہرت مقصود رہی ہے۔ الغرض کچھ نہ کچھ شغل چاہئے۔ ایک بازی ہوگئی تو کیا ہوا، دوسرے داؤ میں پوبارہ ہو جائیں گے۔ سادہ لوحوں کی حماقت کا قمار خانہ سلامت رہے اگرچہ انجام میں جو جیتا سو ہارا اور جو ہارا سو مرا۔ قسمت کا نوشتہ ہے جواری لاکھ روپے بھی جیتے گا تو سب ہار جائے گا اور بالآخر غرق لنگوٹی باقی رہ جائے گی۔ پس یہ دنیوی عیش عشرت کی بہاریں چند روزہ ہیں۔

(ایڈیٹر)

معذرت ....... کاتب کی علالت کی وجہ سے اس تاریخ کا ضمیمہ ٤ صفحے پر شائع ہوا آئندہ اس کی کسر نکال دی جائے گی۔ معاونین اطمینان فرمائیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤ فروری کے شمارہ نمبر ٨ کے مضامین

٤٩

صفحہ ٦٦

٨....... ناکامی پر ناکامی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

ا ...... عیسیٰ مسیح صاحب شریعت نہ تھے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم ١٠؍فروری ١٩٠٤ء میں بحوالہ البدر ایک سوال کے جواب میں بزعم خود ثابت کیا ہے کہ ”عیسیٰ مسیح صاحب شریعت نہ تھے ۔“ جی ہاں درست ہے وہ تو مرزا قادیانی کے نزدیک ایک مہذب انسان بھی نہ تھے۔ بلکہ معاذ اللہ فاسق و فاجر تھے۔ صاحب شریعت ہونا تو کجا۔

اس کی وجہ ہم سے سنئے۔ مرزا قادیانی اپنے کو مسیح موعود اور مثیل مسیح قرار دیتے ہیں اور بظاہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں اگر عیسیٰ مسیح کو صاحب شریعت مانیں تو آپ موعود اور مثیل نہیں رہتے کیونکہ یہ بات خلاف عقل ہے کہ اصل تو صاحب شریعت نہ ہو اور مثیل صاحب شریعت ہو جائے۔ حالانکہ یہ محض کید ہے۔ آپ تو اپنے کو انبیاء اہل شریعت سے بھی بڑھ کر خیال کرتے ہیں۔ کسی نبی نے اپنے ماسبق نبی کی شریعت کو منسوخ نہیں کیا خود کلام مجید توراۃ وانجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ پڑھو ”مصدقا لما بین یدی من التوراۃ والانجیل “ اور یہ ظاہر ہے کہ جس کتاب کی قرآن تصدیق کرے۔ وہ کیونکر منسوخ ہوسکتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے آیات قرآنی کو منسوخ کیا۔ احادیث نبویہ کو منسوخ کیا۔ حج حرمین شریفین سے مسلمانوں کو روکا تصویر پرستی کو رواج دیا۔ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کیا۔ جو قرآن آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔ اس کی آیات کا نزول اپنی شان میں بتانا شریعت اسلامی کا منسوخ کرنا نہیں۔

مرزا قادیانی باوصف نبی مستقل بننے کے آنحضرت ﷺ کے اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے کو ہو بہو آنحضرت ﷺ کا بروزی بتاتے ہیں۔ مگر آنحضرت ﷺ پر یہ وحی کب اور کہاں نازل ہوئی کہ ”انت بمنزلۃ ولدی“ (تذکرہ ص ٢٥٦، طبع سوم) اور ”انت منی وانا منک “ (تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم) کلام مجید میں تو ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم...... الخ “ وارد ہوا ہے۔ مرزا قادیانی خدا کے بیٹے بھی بن گئے اور باپ بھی۔ پھر عیسائیوں پر اعتراض کہ وہ خدا کی ابوت اور عیسیٰ مسیح کی ابنیت کے قائل ہیں۔ آپ تو خدا کا بیٹا اور باپ بننے میں عیسائیوں سے بھی بڑھ گئے۔ کیونکہ وہ عیسیٰ مسیح کو صرف ابن اللہ بتاتے ہیں نہ کہ ابواللہ ۔ بھلا ان حماقتوں کا کوئی ٹھکانا بھی ہے۔ (ایڈیٹر)

٥٠

صفحہ ٦٧

٢ ....... مرزائی مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

آسمانی باپ نے جو لے پالک پر فریب کا مقدمہ دائر کرنے کا الہام کیا تو وہ دراصل فریب اور دغا کا مفہوم ہی نہیں سمجھا اور نہ اس کو یہ معلوم ہوا کہ برٹش قانون کی اصطلاح میں فریب اور دغا کس کو کہتے ہیں۔ اخبار میں کسی مضمون کے شائع کرنے کا نام فریب نہیں۔ البتہ لائیبل ہو سکتا ہے مگر مولوی کرم الدین صاحب نے لائیبل بھی نہیں کیا۔ فوجداری کیا معنی یہ مقدمہ تو دیوانی میں بھی نہیں چل سکتا۔ کیونکہ دیوانی میں حرجے کی نالش ہوتی ہے اور ہم نہیں سمجھ سکتے کہ مولوی فیضی صاحب کے نوٹوں کے متعلق جو مضامین سراج الاخبار میں شائع ہوئے ان سے کسی کا کیا حرج ہوا۔ مرزا قادیانی کو تو بہر نہج فائدہ ہی ہوا کیونکہ مقدمات کے نام سے چندہ بٹورا گیا۔ گرم بازاری ہوئی۔ شہرت ہوئی۔ ایسی چکھوتیوں کے اینٹھنے کا موقع تو خدا دے۔

ہم نے دغا اور فریب کے مقدمات کو بہت کم سرسبز ہوتے دیکھا ہے۔ اس میں بڑا پوائنٹ کسی شخص کو خلاف واقع یا خلاف صداقت امور کا باور کرا دینا ہے۔ اس مقدمہ میں دغا کی کونسی بات باور کرائی گئی۔ مرزائی ایسے نتھے نہ تھے کہ دغا اور فریب میں آجاتے۔ ان کا گرو تو فریب و دغا دے کر دنیا کے توڑے کر رہا ہے۔

دیکھو دغا اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص سے پانچ سو روپیہ اس لئے پھٹکارے کہ میں تم کو آسمانی باپ سے سانڈ جیسا پورا بیٹا دلوادوں گا۔ یہ ان نیچرل دغا اور فریب ہے۔ کیونکہ بیٹا دلوانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔ اگر اس ارتکاب دغا میں نالش دائر کی جاتی تو بروزی صاحب جیل خانے کی ہوا کھاتے نظر آتے۔ کسی بات کی پیشینگوئی کرنا صاف کانشنس گلٹ (خطاء ارادی) ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنے کانشنس میں خوب جانتے ہیں کہ میں غیب دان نہیں ہوں۔ علی ہذا جیسا کہ ہمارے فاضل نامہ نگار نے لکھا کہ لوگوں سے براہین احمدیہ کی قیمت لے کر ڈکار گئے اور کتاب ندارد۔ اگر دغا کے ایسے ہی مقدمات دائر ہوا کریں تو مرزا قادیانی کا مارے مقدمات کے پلاسٹر بگڑ جائے اور بروزیت اور موعودیت سب بھول جائیں مگر انسان کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا دوسروں کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے۔

(ایڈیٹر)

٣ ....... مرزائیوں کا مقدمہ سیالکوٹ میں

ابو عبداللہ رفیع اللہ !

ہمعصر اہلحدیث کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ ٩، ١٠؍ فروری ١٩٠٤ء کو مقدمہ مسجد سیالکوٹ کی تاریخ

٥١

صفحہ ٦٨

تھی۔ ٩؍ فروری کو سب سے پہلے مولوی برہان الدین جہلمی قادیانی پیش ہوئے جن پر جرح باقی تھی۔ جرح ہوئی، مگر کیا عرض کروں جرح کیا تھی۔ تمام مسائل کا تصفیہ تھا۔ چند جملے نقل کرتا ہوں۔

مولوی ثناء اللہ صاحب نے پوچھا کہ کسی سچے نبی کی توہین کرنے والا کون ہے؟

جواب ...... کافر ہے۔

سوال ...... مرزا قادیانی نے تحفہ قیصریہ میں کہا ہے کہ میں یسوع مسیح کی رنگت میں آیا ہوں۔

جواب ...... کہا ہے مگر اس لئے کہ وہ کتاب ملکہ معظمہ کے نام بھیجی گئی تھی۔ اور ملکہ معظمہ عیسیٰ علیہ السلام کا نام نہیں جانتی تھیں۔

سوال ...... مرزا قادیانی نے یسوع کے حق میں یہ الفاظ لکھے ہیں کہ ”وہ شریر، مکار، دغا باز، جھوٹا، حرام خوار وغیرہ تھا؟“

جواب ...... ہاں لکھے ہیں مگر عیسائیوں کو الزام کے طور پر۔

سوال ...... حضرت ہارون، زکریا، یحییٰ علیہم السلام نبی صاحب شریعت جدید تھے؟

جواب ...... صاحب شریعت جدیدہ نہ تھے۔

سوال ...... خاتم النبیین کا لفظ ایسے نبی ہونے کے لئے مانع ہے۔

جواب ...... بعثتِ نبی کے بعد ایسے نبیوں کو مانع نہیں (یعنی آنحضرت کے بعد حضرت زکریا جیسے نبی ہو سکتے ہیں)

سوال ...... مسلمانوں کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی بابت کیا ہے یعنی وہ کوئی نئی شریعت پر ہوں گے یا اسلامی شریعت پر عمل کریں گے؟

جواب ...... یہ ان مسلمانوں سے پوچھو۔

سوال ...... آپ کا عقیدہ مرزا قادیانی کے بیعت کرنے سے پہلے کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوئی نئی شریعت لائیں گے یا قرآن و حدیث کے پابند ہوں گے؟

جواب ...... مجمل ایمان تھا اس پر فرمائشی قہقہہ لگا۔

سوال ...... (براہین احمدیہ ص٤٩٩، خزائن ج١ ص٥٩٣) پر مسیح موعود کا کام سیاست (حکومت ملکی) بھی لکھا ہے؟

جواب ...... ہاں لکھا ہے۔

سوال ...... جو شخص کسی ایسی پیشینگوئی کو جو رسول خدا ﷺ کی شان میں ہو اپنے حق میں بتلائے تو وہ کافر ہے یا مسلمان؟

٥٢

صفحہ ٦٩

جواب ...... کافر ہے۔

سوال ...... مرزا قادیانی نے (ازالہ ص٦٧٣، خزائن ج٣ ص٤٦٣) پر لکھا ہے کہ میں مطابق پیشینگوئی مجرد احمد ہو کر آیا ہوں؟

جواب ...... (کتاب دیکھ کر) ہاں لکھا ہے حالانکہ یہی حضرت اپنے بیانوں میں لکھ چکے ہیں کہ احمد والی پیشینگوئی آنحضرت کے حق میں ہے) خیر اسی طرح کئی گھنٹے جرح ہوتی رہی۔ اخیر کے سوال لکھتا ہوں۔ مولوی برہان الدین جہلمی قادیانی نے اپنے بیانوں میں ایک حدیث لکھائی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (بخاری ج١ ص ٤٩٠، مسلم ج١ ص٨٧)“ یہ اس دعوے پر لائے تھے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ایک شخص ہوگا نہ کہ اسرائیلی نبی۔ اس پر سوال ہوا کہ جملہ اسمیہ کسی اسم معرفہ کی صفت ہو سکتا ہے؟

جواب ...... میں نہیں بتلا سکتا۔

سوال ...... ابن مریم معرفہ ہے یا نکرہ؟

جواب ...... آپ بار بار وہی پوچھتے ہیں۔

سوال ...... بغیر صرف و نحو جاننے کے لئے کوئی شخص علم حدیث سمجھ سکتا ہے؟

جواب ...... ہاں استاد سمجھائے تو سمجھ سکتا ہے۔

سوال ...... آپ نے بھی بغیر صرف نحو کے حدیث پڑھی تھی؟

جواب ...... نہیں میں نے تو بڑی بڑی کتابیں پڑھی تھیں۔ (جب ہی سوالات مذکورہ کو ایسے صفائی سے حل کر دیا)

سوال ...... آپ حدیث مذکور کی ترکیب جانتے ہیں؟

جواب ...... جانتا ہوں۔

سوال ...... اس میں واؤ کیسا ہے؟

جواب ...... واؤ عطف کا۔

سوال ...... یہ عطف کس پر ہے؟

جواب ...... نزل پر۔

سوال ...... نزل کیا ہے فعل یا اسم؟

جواب ...... فعل ہے۔

سوال ...... یہ معطوف اور معطوف علیہ مل کر کیا بنے؟

٥٣

صفحہ ٧٠

جواب...... اب میں تھک گیا ہوں مجھے رخصت ملے۔ حاکم نے پہلے تو سمجھایا کہ اس وقت تو اور چار پانچ منٹوں میں جان چھوٹ جائے گی۔ کل یہ پھر تازہ دم ہو کر آئیں گے اور تم کو بہت ستائیں گے۔ مگر بڑے میاں نے اس میں خیریت سمجھی کہ اس وقت تو جان بچ جائے کل کو دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد ایک دو گواہ معمولی واقعات کے گزرے۔ اخیر میں ایک گواہ منشی رحیم بخش عرضی نویس رعیہ ضلع سیالکوٹ آئے۔ طرز بیان کچھ ایسا تھا کہ حاکم نے مجبور ہو کر ان کو متنبہ کیا کہ ہوش سے شہادت دو۔ ان کے وکیل نے عذر کیا کہ سیدھے آدمی ہیں۔ حاکم نے فرمایا کہ میں اسے عقل دے دوں۔ آپ نے اپنے بیان میں لکھایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس سال حج ہو گا۔ تو نہ ہوا۔ دوسرے سال ہوا تھا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کا ثبوت مانگا تو کہا کل دوں گا۔

اس بیان کو سن کر بعض ہندوؤں نے مسلمانوں سے تعجب کے ساتھ کہا کیا تمہارا پیغمبر ایسا ہی تھا کہ اس سال کی خبر بتلائے تو دوسرے سال کو ہو؟ مگر خدا مولانا ثناء اللہ صاحب کو جزائے خیر دے جنہوں نے خود مخالف سے اس کی تکذیب کرائی۔ دوسرے روز بقیہ جرح کے لئے مولوی برہان الدین پھر آئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے زاد المعاد پیش کر کے حدیث کا ایک فقرہ پڑھوایا جس کا مضمون تھا کہ آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا کہ میں نے تم سے کہا تھا؟ کہ اسی سال تم حج کرو گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا تھا یہ دکھا کر مولوی صاحب نے سوال کیا کہ جو کوئی یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے فرمودہ کے موافق پیشگوئی نہیں ہوئی۔ وہ سچا ہے یا جھوٹا۔ مولوی برہان الدین نے خدا لگتی کہی کہ ایسا شخص جھوٹا ہے۔ اسی خبر کو سن کر رحیم بخش مذکور نے بھی اپنے موقع پر آکر اقرار کیا کہ آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا کہ اس سال حج ہو گا۔

سوال...... یسوع عیسائیوں کا مصنوعی معبود ہے؟ جواب...... ہاں۔ سوال...... قرآن کے صریح حکم کی مخالفت کرنے سے بھی کوئی شخص نبی یا ولی ہو سکتا ہے؟ جواب...... نہیں۔ سوال...... مرزا قادیانی نے یسوع کو جو عیسائیوں کا معبود ہے برے الفاظ سے یاد کیا ہے یعنی شریر، مکار، جھوٹا، حرامکار وغیرہ کہا ہے؟ جواب...... ہاں عیسائیوں کو الزامی طور پر کہا ہے۔ سوال...... قرآن شریف میں کوئی آیت اس مضمون کی ہے کہ مشرکوں کے معبودوں کو برا نہ کہو؟ جواب...... بعد تامل ہاں ہے۔ مولوی برہان الدین اور منشی رحیم بخش دونوں نے اس مضمون کا

٥٤

صفحہ ٧١

اقرار کیا اسی طرح اور گواہ بھی کم و بیش کہتے گئے۔ کسی سے صاف اور کسی سے پیچدار الفاظ میں مولوی صاحب نے کہلوا دیا۔ کہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے پیچھے نماز درست نہیں۔ ٣ روز پیشی ہو کر ٢٥؍ فروری ١٩٠٢ء مقرر ہوئی جس کی کیفیت سے پھر اطلاع دوں گا۔ راقم: عبداللہ، رفیع اللہ ولد قاضی عطاء اللہ قریشی امام مسجد صدر سیالکوٹ

٤ ...... مرزائیوں کی دوبارہ شکست

٢؍ فروری ١٩٠٢ء کو مرزائیوں کی طرف سے درخواست انتقال مقدمات بعدالت صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور گزری تھی۔ صاحب بہادر نے فریق ثانی کے نام نوٹس جاری کر کے مِسلیں طلب کر لیں تھیں اور تاریخ پیشی ١٢؍ فروری مقرر تھی۔ اس تاریخ کو مقدمہ بمقام علی وال صاحب موصوف کی عدالت میں پیش ہوا۔ مرزائیوں کی طرف مسٹر اورئیل صاحب بیرسٹر خواجہ کمال الدین بابو محمد علی وکلاء تھے اور مولوی محمد کرم الدین صاحب کی طرف سے بابو چندو لال وکیل گورداسپور تھے بحث وکلاء طرفین سنی گئی اور مسلوں کا ملاحظہ کیا گیا۔

مرزائیوں کے وجوہات انتقالات بے بنیاد ثابت ہوئے صاحب بہادر نے درخواست نامنظور کر کے مقدمہ واپس عدالت بابو چندو لال صاحب میں بھیجا۔ مرزائیوں کو یہ دوسری ہزیمت نمک بر ریش پاشیدن کا مصداق ہے۔ فرمائیے مرزائی صاحبان ”جاءک الفتح“ کا تو پہلے حشر ہو چکا تھا ”ثم جاءک الفتح“ (تذکرہ ص ٤٧٦ طبع سوم) کی مبارک باد قبول ہو۔ کیا اب بھی آپ غور نہ فرمائیں گے۔ خدا کے لئے اپنے بڈھے میاں والہامی صاحب سے پوچھئے کہ کیا اس کا ملہم کہیں سویا ہوا ہے۔ یا الہامی مشین کا کوئی پرزہ ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ عبرت، عبرت!

٥ ...... مجددانہ مشرقیہ کی پیشینگوئیاں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ناظرین کو یاد ہوگا کہ ہم نے پچھلے سال پیشینگوئیاں کی تھیں کہ امسال مرزا قادیانی سے کوئی آسمانی یا زمینی مواخذہ ضرور ہوگا چنانچہ ہوا، پھر ہم نے پیشینگوئی کی کہ مقدمات مرجوعہ میں کامیابی نہ ہوگی۔ چنانچہ دعویٰ فریب میں فرمائشی لاجواب ناکامی ہوئی۔ پھر ہم نے گزشتہ ضمیمہ میں پیشینگوئی کی تھی کہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ کے اجلاس سے مولوی کرم الدین صاحب کے استغاثہ اٹھوانے کی جو درخواست صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں (نہ کہ چیف کورٹ پنجاب کے اجلاس میں) دی گئی تھی ہم بھی تو دیکھیں مقدمہ کیونکر اٹھتا ہے؟ چنانچہ ١٢؍ فروری کو مرزا قادیانی کے بیرسٹر اور وکلاء نے حد درجہ زور لگایا مگر مقدمہ نہ اٹھا اور بدستور بابو چندو لال صاحب

٥٥

صفحہ ٧٢

کے ہی اجلاس میں رہا۔ وجہ یہ ہے کہ ہم پر خداوند کریم نے منکشف کیا تھا اور لے پالک پر آسمانی باپ نے، جو زمانے بھر کا جھوٹا اور فریبی اور مکار ہے کیا مرزائی اب بھی مجدد مائتہ حاضرہ پر ایمان نہ لائیں گے اور اپنے بروزی کی نبوت پر تبرا نہ بھیجیں گے؟

لائیبل کا جو چارج مرزا قادیانی پر دھرا گیا ہے جب تک ہم پر الہام نہ ہو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ الہام کے ہوتے ہی شائع کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین منتظر رہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی آزاد اور بے لاگ حاکم کے اجلاس سے مقدمہ کا اٹھوانا خالہ جی کا گھر نہیں۔ بغور دیکھئے تو حاکم کی نسبت یہ ایک قسم کا لائیبل ہے کہ وہ نامنصف ہے۔ ظالم ہے، جنبہ کرتا ہے، فریق ثانی سے گٹھ گیا ہے۔ متعصب ہے، پھر انتظام میں بھی فرق آتا ہے۔ ہر شخص جس کے خلاف ناانصافی ہوتی ہے یا اس کو غلط فہمی سے ناانصافی کا گمان گزرتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میرے حق میں چونکہ ناانصافی ہوئی ہے، ظلم ہوا ہے یا آئندہ ہوگا پس میرا مقدمہ اس اجلاس سے اٹھ جائے۔ مگر انصاف تو سب جگہ ایک ہی ہے۔

بہر کجا کہ رسیدیم آسمان پیداست

لہٰذا ہم نے تو ایسے لوگوں کو ناکام ہی ہوتے دیکھا ہے۔ گورنمنٹ اتنی عدالتیں کہاں سے لائے جو لوگوں کی طبیعت اور منشاء اور مطلب کے موافق فیصلے کریں اور عدالتوں کو ایسے لوگوں کا محکوم اور تابع بنائے۔ بھلا جب خود آسمانی باپ نے لے پالک کی فریاد اور اس کو اپنے بیکس بے بس معصوم مظلوم پر رحم نہ آیا تو برٹش عدالتوں کو کیوں رحم آنے لگا۔ افسوس حسرتیں زندہ در گور ہو گئیں۔

(ایڈیٹر)

٦ ...... مجدد کی صداقت کا آسمانی نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی بار بار آسمانی نشان کے ظاہر ہونے کی پیشینگوئی کرتے ہیں مگر آسمانی نشان تو کجا۔ ایک چمگادڑ بھی گھپ اندھیرے میں پر پھڑپھڑاتی ظاہر نہیں ہوئی۔ ہاں جن ساون کے اندھوں کی آنکھ پھوٹ گئی ہے۔ ان کو ہریالی ہی ہریالی سوجھتی ہے۔ اب مجدد کی صداقت کا آسمانی نشان دیکھئے۔ سید محمد اسماعیل صاحب متخلص بہ عیش ڈرامٹک پارٹی نمبر ٢٠ دہرہ دون خلف مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو بروزی نبی کے خلیفہ دوم ہیں مجدد کی تجدید پر ایمان لا کر شاگردوں میں داخل ہوئے۔

دیکھو صداقت کے ماننے والے خلف ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بزرگوار کی ایک بھی نہ سنی اور بجائے اس کے کہ جعلی نبی سے بیعت کرتے سچے مجدد سے بیعت کی۔ برخلاف بعض لکھے

٥٦

صفحہ ٧٣

پڑھے مرزائیوں مولوی امروہی وغیرہ کے کہ دل میں تو مجدد کے کمال تجدید پر ایمان لاچکے ہیں۔ مجدد کی قوت وسطوت اور شوکت اللہ کا جبروت دیکھ چکے ہیں اور دنگل کے بیچوں بیچ تھک چکے مگر اقرار کرتے ہوئے زبان مفلوج ہو کر شل ہو جاتی ہے۔ ہاں بعض مرزائی ہمارے شاگرد ایسے بھی ہیں کہ ہمارے سامنے تو تجدید کی تصدیق کرتے ہیں اور جب اپنے یاروں میں جاتے ہیں تو کچھ اور ہانکتے ہیں۔ یہ یہودی منافق ہیں۔

(ایڈیٹر)

٧ ....... وہی مرزا قادیانی کا جہاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٠ فروری ١٩٠٤ء کے الحکم میں اخبار پانیئر کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جاہل مولویوں نے جہاد کی حقیقی فلاسفی کو نہیں سمجھا اور عام لوٹ مار اور قتل انسان کا نام جہاد رکھ لیا۔ انہوں نے جہاد کا مفہوم غلط سمجھا وغیرہ اس سے اتنا تو ضرور ثابت ہو گیا کہ حقیقی اور اصلی جہاد ضرور موجود ہے اور اس کی فلاسفی بھی ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ مذہب اسلام میں کونسا جہاد ہے۔ اصلی اور حقیقی یا صرف لوٹ مار اگر اصلی اور حقیقی جہاد ہے تو مرزا قادیانی اس کی مخالفت کر کے مرتد بن رہے ہیں اور اگر لوٹ مار ہے تو مذہب اسلام اس کی ممانعت کرتا ہے اور لٹیروں اور قاتلوں اور قطاع الطریق کو سخت سے سخت سزا دیتا ہے اور نہ صرف قانون اسلام بلکہ ہر سوسائٹی کا قانون نہب اور قتل کے خلاف ہے پس آپ نے انیسویں صدی میں خروج کر کے کیا تیر مارا اور اپنی بعثت کا کیا کمال دکھایا۔ اس صورت میں تو ہر شخص جو لوٹ مار قتل ونہب کے خلاف ہو مسیح موعود اور امام الزمان اور خاتم الخلفاء اور آسمانی باپ کا لے پالک ہے۔

الحکم کی پیشانی پر یہ فقرہ ثبت رہتا ہے۔ ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“ ہم پوچھتے ہیں اگر خدا نے جائز جہاد بند کیا ہے جس کی فلاسفی کے آپ بھی قائل ہیں ۔ تو دنیا پر بڑا بھاری ظلم کیا۔ مگر دنیا کا خدا تو ظالم نہیں البتہ آسمانی باپ ظالم ہے جس نے اس مصلحت کو جس پر تمام گورنمنٹیں عامل ہیں اور جس کے موافق ہمیشہ جہاد کرتی رہتی ہیں نہ سمجھا اور بڑے بھاری فساد کی اصلاح کو روک دیا مگر افسوس ہے کہ کسی گورنمنٹ نے آسمانی باپ کے حکم پر کان نہ دھرے اور جہاد برابر دھڑا دھڑ جاری رکھا۔ اور اگر خدا نے لوٹ مار بند کی ہے تو یہ آج سے نہیں بلکہ ازل سے بند کی گئی ہے۔

مرزا قادیانی اپنی بروزی اصطلاح میں لفظ احمد کو جمالی اور لفظ محمد کو جلالی بتاتے ہیں۔ آپ نے جلال سے بیزاری ظاہر کی کیونکہ اس میں جہاد مضمر ہے اور جمال پر لٹو ہو گئے۔ یعنی آپ

٥٧

صفحہ ٧٤

احمد بنے نہ کہ محمد۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ جب آپ نے لفظ محمد پر تبرا کیا تو اس کی شان جلال میں کون سا جہاد مضمر تھا۔ جائز یا ناجائز؟ اگر جائز مضمر تھا تو تبرا کیوں کیا؟ اور ناجائز مضمر تھا تو آنحضرت ﷺ کو جابر اور ظالم اور قاتل قرار دیا معاذ اللہ۔ اور پھر اتباع سنت اور آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعویٰ؟ ہاتھ تیرے مرتد کی دم میں ہمارے منشی الہی بخش صاحب لاہوری کا عصائے موسیٰ (یہ ایک کتاب کا نام ہے جس نے بروزیت و مسیحیت کا ایسا استیصال کیا ہے کہ کہیں کا نہیں رکھا)

پھر آپ اپنے کو بروزی محمد بھی کہتے ہیں مگر صفت جلال سے عاری اور بروزی احمد بھی بتاتے ہیں۔ مگر صرف صفت جمال سے متصف۔ یہ عجیب بروزیت ہے کہ شخص واحد میں ایک صفت سلب ہو کر پائی جائے۔ پھر بروزیت و حلول کہاں رہا؟ یعنی آنحضرت ﷺ تو جلالی بھی اور جمالی بھی اور بروزی مرزا صرف جمالی۔ ہر بات میں تعارض ہر دعویٰ میں تناقض ہے مگر نپٹ اندھوں کو کون سمجھائے جو متضاد اور تناقض بروزیت پر ایمان لاچکے ہیں۔

میں جہاد کا مخالف ہوں۔ جہاد کرنے والوں کا دشمن ہوں۔ اپنے ذرا کانوں کی ٹھیٹھیاں نکال کر سن۔ ہندوستان تو ہنود کا ملک ہے۔ اگر مسلمان جہاد نہ کرتے تو یہاں چینی الاصل مغل کا وجود آج کیونکر نظر پڑتا اور وہ کیونکر بروزی بن کر گورنمنٹ کے خوش کرنے کو جہاد کا مخالف بنتا (جس ہانڈی کھائے اسی ہانڈی چھید کرے) اگر جہاد کا وجود نہ ہوتا تو برٹش گورنمنٹ ہندوستان پر کہاں قابض ہوتی۔ ساری خدائی میں تو جہاد جاری اور یہ مکار جعلساز جہاد کا مخالف اگر چوروں، بدمعاشوں، ڈاکوؤں پر جہاد نہ کیا جائے تو ہندوستان میں ابھی ابھی ١٨٥٧ء کا غدر قائم ہو جائے پس جو شخص جہاد کی مخالفت کر کے فساد کرانا اور اندرونی مفسدوں اور بیرونی باغیوں کو حوصلہ دلانا چاہتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ملک اور قوم اور گورنمنٹ کا کون بدخواہ ہوگا؟

(ایڈیٹر)

٨ ...... ناکامی پر ناکامی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے بابو چندو لال صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست کی تھی کہ میں علیل ہوں ایک ماہ کی مہلت مل جائے مگر منظور نہ ہوئی اور ٢٣؍فروری کو پیشی تھی ہم آئندہ ناظرین کو مطلع کریں گے۔ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جو انتقال مقدمہ نامنظور کیا ہے تو مرزا قادیانی چیف کورٹ میں بھی جائیں گے۔ لے پالک کی ننھی سی جان اور اتنے خلجان۔

٥٨

صفحہ ٧٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم مارچ کے شمارہ نمبر ٩ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... دین میں مداہنت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم کے ٧ فروری میں مرزا قادیانی نے سرسید کی نسبت یوں گلفشانی کی کہ دوسری قوم کے رعب میں آکر اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آخر نوبت سرسید کی یہاں تک پہنچی کہ اب آخری ایام میں تثلیث کے ماننے والوں کو نجات یافتہ قرار دیا گیا۔

قرآن شریف میں اسی لئے ہے ”لن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم“ دوسرے کو راضی کرنے کے لئے اس کے مذہب کو بھی اچھا کہنا پڑتا ہے۔ اس لئے مداہنت سے مومن کو پرہیز کرنا چاہئے۔

چیلوں کے حلقے میں لال بجھکڑ بن کر ادھر ادھر کی ہانکنا دوسری چیز ہے اور عمل کرنا دوسری چیز متعصب پادریوں کی ہاں میں ملانے اور اپنے نزدیک گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے اسلامی جہاد پر تبرا شروع کر دیا۔ متعصب عیسائی اور دوسری قومیں یہی کہتی ہیں کہ اسلام ایک جابرانہ مذہب ہے۔ جو تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔ یہی آپ کہتے ہیں کیا اس کا نام مداہنت نہیں؟ مداہنت کیا معنی یہ تو اچھی خاصی نمک حرامی اور اسلام سے ارتداد ہے۔ یہود کے خوش کرنے کے لئے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں گویا یہود کا اتباع کیا۔ یہ ”لن ترضى عنك اليهود والنصارى“ کی

٥٩

صفحہ ٧٦

مخالفت ہے؟ بروزی (تناسخی) بن کر ہنود کو راضی کرنا چاہا مگر کوئی راضی نہ ہوا۔

اگر مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ میں کرشن جی یا رام چندر جی کا اوتار ہوں تو ہنود جب بھی راضی نہ ہوتے اور یہی کہتے ؎

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسم

اسلامی جہاد وہ چیز ہے کہ آج کے روز تمام گورنمنٹیں اسی قانون پر چل رہی ہیں۔ ہم بارہا روشن دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ جہاد سے کوئی گورنمنٹ خالی نہیں بلکہ یورپین گورنمنٹیں تو اپنا مذہب جہاد ہی سے پھیلاتی ہیں۔ پادریوں کا مشن کسی ملک میں بھیج دیا اور جب کوئی پادری آسمانی برہ بن کر حسب اتباع عیسیٰ مسیح بھینٹ چڑھ گیا تو بحری اور بری فوج چڑھ دوڑی اور انجیل مقدس کا حکم پس پشت ڈال کر اسلامی قانون ”جزاء سيئة سيئة مثلها“ پر عمل کیا لیکن مرزا قادیانی اس کے خلاف ہیں گویا تمام گورنمنٹوں کے خلاف ہیں۔

لپٹ لپٹ کر منت کی مگر پھر خوش نہ خاوند
از ایں سو راندہ وازاں سو درماندہ

عیسیٰ مسیح فروتن تھے۔ میں بھی فروتن ہوں کیونکہ ان کا مثیل ہوں۔ مگر عیسیٰ برے تھے اور ایسے اور ویسے تھے میں ویسا نہیں ہوں پھر بھی مثیل مسیح ہوں۔ گویا پادریوں کے ساتھ متضاد کارروائی کی کہ ان کو راضی بھی کرنا چاہا اور ناراض بھی اور سچ پوچھو تو مداہنت کرنی بھی نہ آئی۔ عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے۔

(ایڈیٹر)

٢ ....... ایک نیا مہدی پھانسی دیا گیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کروزن علاقہ سوڈان میں ایک مخبطی محمد الامین نامی نے مہدویت کا جھنڈا کھڑا کیا۔ سوڈان کے ڈپٹی گورنر کرنل ماہون نے فوج بھیج کر اس کو گرفتار کیا اور پھانسی پر چڑھا دیا۔ اس پر الحکم بہت خوش ہورہا ہے بغلیں بجا رہا ہے کہ دیکھو بعض نادان یہ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ مفتری علی اللہ کو مہلت دیتا ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو محمد الامین ایسی جلدی پھانسی نہ دیا جاتا۔ واہ ایڈیٹر صاحب الحکم تانت باجی اور راگ بوجھا۔ اس کو آپ نے اپنے بھائی مُلّا عبداللطیف اور ڈاکٹر ڈوئی پر کیوں منطبق نہ کیا۔ ان کو بھی تو مہلت نہ ملی اور بہت جلد صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ خس کم جہاں پاک۔ اگر وہ مفتری علی اللہ نہ ہوتے تو آپ کی منطق کے موافق ایسی

٦٠

صفحہ ٧٧

شتاب روی سے ملک عدم میں نہ پہنچتے۔

پھر معلوم نہیں مہلت سے آپ کی کیا مراد ہے۔ مہلت سے مراد آزمائش ہے۔ یعنی خدائے تعالیٰ منصف ہے۔ ظالم نہیں وہ ہر طرح حجت قائم کرتا ہے اور سیدھی راہ بتاتا ہے جب کوئی گمراہ گمراہی سے باز نہیں آتا تو سزا لازم ہو جاتی ہے۔ مرزا قادیانی اپنی بعثت کی مدت ٣٠ سال بتاتے ہیں یہ خبر نہیں کہ دنیا میں کوئی مفتری ٣٠ ہزار سال بھی جیئے تو مہلت نہیں ۔

تا قیامت زندگی آخر فنا

بات یہ ہے کہ آپ اور آپ کے پیر و مرشد درحقیقت مہلت کے معنی ہی نہیں سمجھے۔ اس لئے مہدی کے پھانسی پانے پر تو مرزائیوں کو عبرت ہونی چاہئے تھی نہ کہ مسرت۔ کیا معنی کہ اگر ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ کی عملداری نہ ہوتی یا آپ کابل وغیرہ اسلامی سلطنت میں رہ کر مفتری علی اللہ بنتے تو یقیناً آپ کو اتنی مہلت بھی نہ ملتی جتنی عبداللطیف اور رحمت علی کو ملی۔ برٹش گورنمنٹ کو دعائیں دو جس کی بدولت الّلے تلّلے اڑ رہے ہیں وہ خوب جانتی ہے کہ مہدی صرف حمقاء ہیں۔ حشرات الارض کی طرح پیدا ہو رہے ہیں اور پیدا ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے اپنی مہدویت موعودیت کا دارمدار غالباً اس پر رکھا ہے کہ جو مفتری علی اللہ جلد مر جائے وہ جھوٹا ہے اور جو زیادہ مدت جئے وہ سچا ہے۔ مرزا قادیانی کو یقین ہے اور شاید آسمانی باپ نے الہام کر دیا کہ تمام مہدی مر جائیں گے اور لے پالک سب کے بعد مرے گا اب ہم مرزائیوں کو ہوشیار اور خبردار کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار بتاتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی لنڈنی مسیح مسٹر پگٹ اور فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی کی حیات میں مر گئے تو وہ دونوں مسیح سچے اور مرزا قادیانی جھوٹے اور اگر مرزا قادیانی زندہ رہے اور وہ دونوں ان کی زندگی میں مر گئے تو مرزا قادیانی سچ کھرے اور باون تولے پاؤ رتی سچے۔

اگر مرد میدان ہو تو مجددانہ طریقہ سے معاہدہ کرو تا کہ سال دو سال ہی میں صدق کذب کھل جائے اور خدا کی عنایت سے یہ ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی گور کنارے ہیں اور قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی اب تو مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دل رہے ہیں۔ ان کے مرنے کے بعد مرزائیوں کی چھاتی پر مونگ دلیں گے۔ امتیوں کی رسی دراز بھی ہوئی تو کیا ہوگا، وہی ہوگا جو عوام میں ضرب المثل ہے کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

(ایڈیٹر)

٦١

صفحہ ٧٨

٣ ...... مرزا کے الہامی مقدمات

بی اے شرف گورداسپوری

جب سے مرزا قادیانی نے مقدمے شروع کئے ہیں گورداسپور صدر کچہری میں مریدوں کا ایک گروہ بھی اس کمرہ میں جہاں مدعی یا مدعا علیہ کی حیثیت میں مرزا قادیانی حاضر ہوتے ہیں مرید بھی ہمراہ ہوتے ہیں۔ اس وقت کا نظارہ عجیب ہوتا ہے کوئی تو کان میں بات کہہ رہا ہے کوئی رومال لئے ہوئے ہے، کوئی پینے کے پانی کا لوٹا لئے بیٹھا ہے۔ کوئی دوڑا دوڑا بھاگا کتابیں لا رہا ہے۔ کوئی الہامات کی تصدیق، کوئی جرح قدح کی نقل کر رہا ہے۔ کوئی وکیل صاحب کے لئے کرسی کی فکر میں ہے۔ غرض مرید طرح طرح کے فرائض زور وشور سے بجا لا رہے ہیں۔ کیا مجال کہ تماشائیوں میں سے کوئی ذرا سی بات بھی مرزا قادیانی کے برخلاف پیش کرے اگر بھولے سے کرے تو مریدوں کا گروہ جھٹ سے گلے پڑے بے حرمتی کرنے۔

بھلا شریف اور بھلا مانس کس طرح مرزائی گروہ کی اشتعال آمیز سخت کلامی سن سکے اگر کسی نے سوال کیا تو سوال کچھ، جواب کچھ اور وہ بھی ایسی شیریں کلامی سے جو مرزا قادیانی کی کتب سے سب پر اظہر وعیاں ہے۔ خود بوڑھے میاں قادیانی کیسی رنگین عبارت سے بزرگان سلف کو یاد فرماتے ہیں۔ خصوصاً مسیحی مذہب کے بزرگوں اور عیسیٰ مسیح کو جس کے آپ مثیل ہونے کے مدعی ہیں۔

١٣ جنوری ١٩٠٤ء کو اس مقدمہ لائبل میں جو مولوی کرم الدین صاحب کی طرف سے بنام مرزا قادیانی وحکیم فضل الدین بھیروی دائر تھا۔ قریب ساڑھے ١١ بجے کے قانونی بحث شروع ہوئی۔ مولوی صاحب نے الفاظ استغاثہ کی کتب لغت، عربی، فارسی، انگریزی، تفاسیر، حدیث اور خود مرزا قادیانی کی تصنیفات سے مدلل تشریح کی اور اپنی حیثیت اور سندیں پیش کیں۔ پھر تو مرزائیوں کے ایسے چھکے چھوٹے کہ سنا گیا رات کو مرزا قادیانی بیمار ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب کے سرٹیفکیٹ سے معلوم ہوتا کہ وہ ایک ماہ تک عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتے اور پھر حکیم فضل الدین نے زیر دفعہ ٥٢٦ ضابطہ فوجداری مہلت مانگی کہ چیف کورٹ میں ہم انتقال مقدمہ کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے استغاثوں ٤١١ و ٥٠٠ کی نسبت بھی درخواست گزاری۔ عدالت نے ١٤ فروری ١٩٠٤ء تک مہلت دی۔ اس کے بعد پہلے مقدمہ میں مولوی صاحب کی بریت کا حکم سنا کر اس فیصلہ کو حرف بحرف پڑھا جو ٩ اوراق کا انگریزی میں لکھا ہوا تھا۔

١٣ جنوری ١٩٠٤ء کا دن مرزا کے گروہ کے لئے نہایت نحوست وشکست کا دن تھا

٦٢

صفحہ ٧٩

کیونکہ اس دن مرزائیوں کا وہ الہامی مقدمہ فوجداری جو منجانب حکیم فضل الدین بھیروی برخلاف مولوی کرم الدین دائر تھا۔ اور جو ایک سال دو ماہ سے چل رہا تھا اور جس کی نسبت مرزا قادیانی بہت سی فتح اور نصرت کے الہامات بارش کی طرح چھما چھم برسا چکے تھے اور قادیانی آرگن الحکم مطبوعہ ١٠ و ٣٠ جون و ١٧ اگست ١٩٠٣ء میں بڑے زور و شور سے وہ سب الہام درج ہو چکے تھے۔ جس میں فتح اور کامیابی کی تاویلیں چھپ چکی تھیں۔ تمام مرید شیخ چلی کے خیالات پیر جی سے سن کر بہت خوش ہورہے تھے اور دور دراز سے سفر طے کر کے فتح کی آواز سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اچانک بابو چندولال صاحب بی اے مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت سے خارج کیا گیا۔ پھر تو رنگ فق ہو گئے۔ چہروں پر مردنی سی چھا گئی اور سب امیدیں فتح و ظفر کی خاک میں مل گئی۔ الہام کی قلعی کھل گئی۔

انصاف مجسم مجسٹریٹ کا فیصلہ سن کر سب لوگ بہت خوش ہوئے کہ مجسٹریٹ صاحب نے واقعی اپنی دماغی اور الٰہی برکت سے (جو خدا کی طرف سے ان کو ملی ہے تا کہ وہ جھوٹ اور سچ کا فیصلہ دیں جس کے لئے خدا نے ان کو اس عہدے تک پہنچایا ہے۔) دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر کے دکھایا کہ دیسی حکام بھی ایسی باریک و دقیق پیچیدگیوں کو بہت آسانی سے دریافت کرلیتے ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ اپنی اہلی اور خداداد لیاقتوں کا ثبوت دیتے ہیں۔ یعنی رعایا کی بہتری کرنا اور حق داروں کا حق پہنچانا اور گورنمنٹ کے قوانین کے تابع ہونا کاش جس طرح اس دیسی حاکم نے اس مقدمہ کی پیچیدگی کو بخوبی سمجھا اور فیصلہ دیا۔ اسی طرح باقی حکام بھی کیا کریں۔ اب ہم مرزائیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیوں بھئی۔ فتح و نصرت کس کو ہوئی اور تاویلیں اور الحکم کے خشک الفاظ اور گیدڑ بھبکیاں کہاں گئیں؟

باقی مقدمات کا کیوں انتقال کرانا چاہتے ہو؟ کیوں مرزا قادیانی سے تاویل نہیں کراتے۔ للہ دوسرے مقدمات بھی گورداسپور ہی کرانا تاکہ ہم اپنے ناظرین کو الہامی مقدمات کا حال سناتے رہیں۔

(الراقم بی اے شرف گورداسپور پنجاب)

٤ ...... مقدمات گورداسپور

پنجاب سماچار!

نامہ نگار سراج الاخبار لکھتا ہے کہ مرزائیوں کی درخواست انتقال مقدمات بمحکمہ صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر سے نامنظور ہو کر جب مسلیں عدالت ماتحت میں واپس آئیں تو عدالت نے فریقین کو نوٹس حاضری ١٦ فروری بھیج دیئے مرزا قادیانی بھی تعمیل نوٹس کے باعث گورداسپور ٦٣

صفحہ ٨٠

میں معہ اپنی پارٹی کے تشریف لائے۔ لیکن نہایت افسوس ہے کہ گورداسپور کی زہریلی آب و ہوا نے پھر آپ کی نازک طبیعت پر اثر کیا، آتے ہی ایسے بیمار ہو گئے کہ ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ ایک ماہ تک حاضری عدالت سے معذور ہیں بیماری کا برا ہو جو مرزا قادیانی کا پیچھا نہیں چھوڑتی خدا خیر کرے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ قادیان سے گورداسپور تک سفر کرنے سے تو بیماری مانع نہیں ہوتی لیکن شہر سے عدالت تک جانے سے روک دیتی ہے۔ لوگ تو ان کی دعا سے صحت پاویں اور آپ بیمار ہو جائیں۔ اچھے مسیح ٹھہرے۔ مرزائیوں کے وکلاء نے یہ بھی عذر کیا کہ چیف کورٹ میں ان کی طرف سے مسٹر اور میل صاحب بیرسٹر نے درخواست انتقال دے دی ہے۔ عدالت نے ایک ہفتہ تک مہلت دی مولوی فقیر محمد صاحب مالک سراج الاخبار جہلم کو ان کی درخواست پر عدالت نے تا حکم ثانی عدالت کی حاضری سے معاف فرمایا۔

٥ ...... مرزائی مقدمات کا خاکہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

افسوس ایسا زمانہ آ گیا کہ باپ کو اولاد سے اصلاً محبت نہیں رہی۔ بھلا غضب ہے نا کہ خود باپ ہی کو نشیب فراز نہ سوجھے اور بیٹے کو اندھے کنوئیں میں دھکا دے دیا۔ آسمانی باپ نے لے پالک کو مصیبت میں ڈالنے کے لئے مقدمات ہی کے دائر کرنے کا الہام نہیں کیا۔ بلکہ فتح یابی کے پیشگی نقارے بھی مرزائیوں کے گھر بھجوا دیئے۔ دوران مقدمات میں ایک ایک مرزائی کی مارے خوشی کے کانوں تک باچھیں چری ہوئی (اے توبہ کھلی ہوئی) تھیں۔ قسم ہے ہجرت اقدس کی مولوی کرم الدین صاحب سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ فریب چوڑے دے وچ (میدان کے بیچ) ثابت ہو گیا۔ اب بھاگتے راہ نہ ملے گی۔

دوسرا! اور متواتر الہامات بھی تو ہو چکے ہیں۔ بھلا کوئی الہام بھی خالی گیا ہے جو یہ خالی جائے گا۔ مقدمہ کی روئیداد کچھ ہی ہو مگر ہوگا الہام کے موافق۔ اور میرا تو الہام پر ایمان ہے (ہر کہ شک آرد مہدی سومالی و ملا افغانی عبداللطیف گردد) تیسرا! اور خدا کی عنایت سے آثار بھی ہمارے ہی فتح کے نظر آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا بھی کہ جب ہمارے مخالف کے گواہ پیش ہوتے ہیں تو عدالت کے تیور بگڑ جاتے ہیں۔ آنکھوں سے خون برسنے لگتا ہے اور جب ہمارے گواہ پیش ہوتے ہیں تو عدالت کا کچھ اور ہی رنگ ہوتا ہے۔ قہر کی صورت مہر سے بدل جاتی ہے۔ چوتھا! ہاں ہاں یہ تو میں نے بھی اکثر دیکھا ہے وجہ یہ ہے کہ کام تو اور ہی ہاتھ کر رہا ہے۔ عدالت کی کیا طاقت ہے کہ ہیبت حق کے خلاف اپنے قلم کو ذرا بھی جنبش دے سکے۔ آتھم کی طرح عدالت کے دل پر بھی رعب غالب آ گیا ہے۔

٦٤

صفحہ ٨١

پانچواں! حضرت کی مخالفت جس کا جی چاہے کرے۔ عدالت ہو یا کوئی اور مگر چند روز میں حقیقت کھل جائے گی۔ ہندوستان میں ابھی تک طاعون موجود ہے وہ تو حضرت کے مخالفوں ہی کے لئے آیا ہے مگر افسوس ہے کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ اور کیونکر سمجھیں ”صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُم لَا يَرْجِعُونَ “ مرزا اور مرزائیوں کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ عدالتیں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھتی ہیں کہ فلاں مقدمے کے فیصلے کا پبلک پر کیا اثر پڑے گا۔

وہ صرف ملزم یا مدعا علیہ کی حیثیت اور صفائی مدنظر نہیں رکھتیں کیونکہ مصلحت بھی ایک چیز ہے جس کا ہر حالت میں ملحوظ رکھنا عدالتوں کا فرض ہے اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے کاروبار اور کارخانے کا جہاز دغا اور فریب کے دریا میں چل رہا ہے۔ اگر ایک مقدمہ میں بھی کامیاب ہو جائیں تو آسمان سر پر اٹھا لیں زمین کو روند ڈالیں اور وہ لوٹ کھسوٹ مچائیں کہ کچھ نہ پوچھئے۔ اسی مقدمہ میں دیکھئے کہ کس قدر الہامات کا مینہ برس رہا تھا اور اخباروں میں پیشینگوئیاں مشتہر ہورہی تھیں۔ کیا وہ حکام کی نظر سے نہیں گزرتی تھیں۔

پیشینگوئیاں اور الہامات کے شائع کرنے سے مرزا قادیانی اپنے مقدمات کا فیصلہ کر چکے تھے۔ گویا عدالت کو بتا چکے تھے کہ مقدمہ میرے حق میں فیصل ہو جانا چاہئے۔ یہ در حقیقت توہین عدالت تھی مگر اوچھا پن، کم ظرفی، حماقت کی نحوست تو قسمت میں لکھی تھی۔ وہ کیونکر ٹلتی حکام وقت نے دیکھا کہ مرزا دنیا کے ٹھگنے کے لئے خدائی کے دعوے کر رہا ہے۔ پس اس کے فرعونی دعوؤں کا سر ٹوٹنا چاہئے ورنہ پبلک کو نقصان پہنچے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا پس مجددالنہ مشرقیہ کی پیشینگوئی پر مرزا اور مرزائیوں کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ اپنے کسی دعوے میں عدالت سے کامیاب نہ ہوں گے۔ اور بجز رسوائی اور خفت اور نقصان کے کچھ حاصل نہ ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ۔

اور غور سے دیکھئے تو مرزا قادیانی کے حق میں ناکامی ہی مفید ہے ” وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِى الْاَرْضِ (الشوریٰ: ٢٧) “ اُس کا ترجمہ فارسی میں کسی شاعر نے یوں کیا ہے ۔

نامرادم دار داین افزونی خواهد بدهر
آب بر من بسته اند آرے ز استسقائے من

مجرم کو سزا ملنا اور اس کا ناکام رہنا در حقیقت اس کے حق میں سود مند ہے ورنہ عادی بننے پر مآل کی ہلاکت ہے۔ عدالتوں کے دماغ تو بڑے ہوتے ہیں تھوڑی سی عقل والا بھی مرزا قادیانی کے لغویات وخرافات اور متضاد و متناقض دعوؤں کو نہیں مان سکتا۔ اور آج کل تو دنیا پر فلسفے کا قبضہ ہے۔ کوئی بات بے دلیل مانی نہیں جاتی۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو ٹھوکر کھا کر بھی عقل نہیں

٦٥

صفحہ ٨٢

آئی۔ ان کو یاد نہیں رہا کہ اس عرصہ میں انہوں نے کیا کیا جھک مارا ہے جس کا خمیازہ آج کے روز بھگت رہے ہیں اور انشاء اللہ بھگتیں گے۔ دعویٰ تو نبوت اور بروزیت اور مہدویت و مسیحیت اور خاتمیت اور امام الزمان ہونے کا ہے اور عام مجرموں کی طرح عدالتوں میں گھسٹ رہے ہیں۔ مارے مارے پھرتے ہیں کیا یہ ڈوب مرنے کی بات نہیں؟ ہم سچ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی تائید سے ہماری پیشنگوئی اور رویاء صادقہ ہرگز اکارت نہیں جاتے۔ ناظرین! کو یاد ہوگا کہ ہم نے اپنا ایک خواب مشتہر کیا تھا کہ ہم قادیان میں ہیں اور سامنے سے مرزا قادیانی اس حیثیت میں آرہے ہیں کہ ان کا سر پاؤں سے لگا ہوا ہے اور کمان کی طرح دوہرے ہو رہے ہیں۔ یہ خواب بالکل اس آیہ کریمہ کا مصداق تھا ”يوم يعرف المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصي والاقدام“ یعنی جس روز کو مجرم پہچانے جائیں گے اپنی پیشانیوں سے پس وہ پکڑے جائیں گے ساتھ پیشانیوں اور قدموں کے۔ چنانچہ اس خواب کا ظہور ہوا۔ ”صدق الله العلی العظیم“ عبرت عبرت۔ یہ تو صرف زندگی کی سزا ہے۔ بہت بڑی عقوبت جو عقبیٰ میں ہوگی وہ ابھی باقی ہے پس اب وہ سمجھیں اور مفتری علی اللہ بننے سے تائب ہوں اور جھوٹے دعوؤں کو تہ کر کے سچے اور پکے مسلمانوں میں شامل ہو جائیں۔

٦....... حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب کی شہادت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم کو معلوم ہے کہ مرزائی تمام بڑے بڑے شہروں میں غل مچاتے پھرتے ہیں اور مرزائی اخباروں میں بھی زور و شور سے مشتہر ہو رہا ہے کہ ”پیر صاحب ممدوح نے کتمان شہادت کیا جو کبیرہ ہے۔“ ہم سے سنئے۔ یہ تہمت کتمان شہادت یا عدم ادائے شہادت کی نہیں بلکہ یہ جلن ہے کہ مرزا قادیانی پر تو سمن کی بھی تعمیل ہو اور وارنٹ جاری ہو، مچلکے اور ضمانتیں لی جائیں اور پیر صاحب خدا کی عنایت سے ہر طرح حاضری عدالت سے محفوظ رہیں لیکن یہ قصور تو لے پالک کے مسخرے آسمانی باپ کا ہے کہ کچھ بھی مدد نہ کر سکا۔ پس اسی ملعون کا جھونپڑا پھونکنا چاہئے۔

دوم....... مرزا قادیانی کا کونسا شرعی حق تلف ہوتا تھا جس کے لئے پیر صاحب کی ادائے شہادت کی ضرورت تھی۔ مرزائی مقدمے کی بنیاد تو سراسر فساد پر تھی۔ یعنی اپنا غلو اور ایک مسلمان بلکہ برگزیدہ معزز عالم وفاضل (مولوی کرم الدین صاحب) کی ذلت اور رسوائی مدنظر تھی جن کو خدائے تعالیٰ نے ہر طرح عزت دی اور مخالفوں کو ہر طرح ذلت۔ اور ابھی تو کچھ بھی ذلت نہیں ملی۔

کار کلی ہنوز در قدر ست

٦٦

کبیرہ گنا وربک لای حرجاً م گے یہاں نفسوں میں فیصلہ نہ چا ناموس شری کہو کہ سچے

وغیرہ پکار الحسین کہنے بنایا تو شیعہ انہی خرابیوں

صفحہ ٨٣

اہل اللہ کو بلاوجہ ستانا ہرگز خالی نہ جائے گا انشاء اللہ۔ سوم...... حضرت پیر صاحب پر تو کبیرہ گناہ کا الزام مگر خود بدولت قرآن کی مخالفت کر کے کھلے چھلائے کافر بن گئے۔ پڑھو فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما (النساء:٦٥) ”قسم ہے تیرے رب کی نہ مومن ہوں گے یہاں تک کہ حکم ٹھہرائیں تجھ کو ان معاملات میں جن میں وہ جھگڑ رہے ہیں پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں (تیرے فیصلے سے) کوئی حرج اور مان لیں مان لینا پس آپ نے حضرت ﷺ سے فیصلہ نہ چاہا بلکہ عدالت غیر سے چاہا اور چونکہ پیر صاحب عدالت غیر میں حاضر نہیں ہوئے اور ناموس شریعت اسلامی ملحوظ رکھا اور حکم قرآن پر دل و جان سے عامل ہوئے۔ لہٰذا تمہیں ایمان سے کہو کہ سچے مومن آیت بالا کے موافق وہ ہوئے یا آپ؟

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٢ء / مارچ کے شمارہ نمبر ١٠ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... شرکیہ وظائف

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم ٢٤؍ فروری ١٩٠٤ء میں یا حسین اور یا علی وغیرہ پکارنے والے شیعہ اور یا عبدالقادر وغیرہ پکارنے والے صوفیوں کی بہت کچھ تکفیر وتفسیق کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ربنا المسیح اور ربنا الحسین کہنے والوں میں کیا فرق ہے؟ یعنی عیسائیوں نے مسیح کے خون کو امت کے گناہوں کا کفارہ بنایا تو شیعہ نے حسین کے خون کو وغیرہ۔ اور اخیر میں اس غزل کا یہ مقطع لکھا ہے کہ ”حضرت اقدس انہی خرابیوں کو دور کرنے کو مبعوث ہوئے ہیں۔“ کیا کہنا ہے۔ گویا اسلام میں شرک وکفر کی

٦٧

صفحہ ٨٤

ممانعت ہی نہیں اور مذہب اسلام ایک ناقص مذہب ہے اور تیرہ سو برس تک ناقص رہا۔ اب مرزا قادیانی کو اس کی تکمیل کے لئے آسمانی باپ نے بھیجا۔ مرزا اور مرزائیوں کو ذرا شرم نہیں آتی کہ يقولون مالا يفعلون کے مصداق بن رہے ہیں۔ خدا کے لے پالک بن کر مشرک فی التوحید اور نبی بن کر مشرک فی الرسالۃ ہوئے اپنی تصویر کی اشاعت سے دنیا میں شرک پھیلایا۔ مسلمانوں کو حج حرمین شریفین سے روکا وغیرہ۔

فرمائیے شرک اور کفر اور الحاد کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں؟ پھر تاویلیں وہ لغو اور بے معنی جن کو تھوڑی سی عقل والا بھی تسلیم نہ کرے۔ میں نبی ناقص ہوں نہ کہ کامل۔ میں خدا کا صلبی بیٹا نہیں بلکہ پیارا (گود لیا) ہوں۔ میں بذریعہ تصاویر اپنی رسالت کی تبلیغ کرتا ہوں۔ تصویر کی پرستش نہیں کرتا، عیسیٰ مسیح دنیا میں مر گئے یہ میری موعودیت کی پکی دلیل ہے۔ شیعہ اور عیسائی تو آپ سے کہیں بڑھ کر اپنے عقائد کی تاویل کر سکتے ہیں۔ شیعہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اماموں کو خدا نہیں سمجھتے۔ عیسائی کہہ سکتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح خدا کے نطفے سے نہیں۔ ہنود کہہ سکتے ہیں کہ ہم جو اپنے دیوتاؤں کو پکارتے ہیں تو ان کو بھگوان نہیں سمجھتے ان کی دھات کی مورتیاں تو ہماری ہی بنائی ہوئی ہیں ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ بے حس وحرکت پتھر وغیرہ ہیں۔

مگر ہم ان کو سامنے رکھ کر نرانکار جوتی سروپ کا دھیان گیان کرتے ہیں جس طرح مسلمانوں میں تسبیح کا رواج ہے کہ جب تک ہاتھ میں تسبیح رہے گی خدا کا نام ضرور لیا جائے گا ورنہ اس کی یاد سے ذہول ہوگا وغیرہ۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے پاس ایسی ایک بھی دلیل نہیں جو عیسائیوں اور ہندوؤں کو شرما سکے اور آریا کو تو کیا شرمائیں گے جو اپنے کو محض عقل کا پیرو بتاتے ہیں۔ اور جنہوں نے مرزا قادیانی کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ وہ جب قدیمی اوتاروں کو نہیں مانتے تو بروزی اوتار کو کیا مانیں گے۔

گزشتہ الحکم میں کسی نے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے؟ خود مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ درست ہے اب ہم پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ اور یا حسین اور یا علی کہنے میں کیا فرق ہے؟ جس طرح الحکم میں بطور طنز لکھا ہے کہ ”ربنا المسیح اور ربنا الحسین“ میں کیا فرق ہے؟ یا رسول اللہ کہنا آپ نے اس لئے جائز کیا کہ آپ خود بھی تو معاذ اللہ رسول اللہ ہیں؟ مرزائی جس طرح زندگی میں آپ کو یا رسول اللہ علیک الصلوٰۃ والسلام کہہ کر پکارتے ہیں۔ آپ نے یا رسول اللہ کہنے کے جواز سے گویا ہدایت کر دی ہے کہ مرنے کے بعد بھی مجھے اسی طرح پکارو لعنت ہے اس دعوے توحید اور کھلے شرک پر جس کی دلدل میں سر سے قدم تک دھنسے ہوئے ہیں۔

٦٨

صفحہ ٨٥
یہ مسائل توحید یہ ترے عقائد شرک
تجھے ہم سمجھے مسلم جو نہ ایسا خوار ہوتا
من چاہے مگر منڈیا ہلائے

ایک صاحب نے (غالباً براہ تمسخر یا امتحاناً) مرزا قادیانی کو لکھا تھا کہ ”میں ایک شخص پر عاشق ہوں اگر وہ مل جائے تو مرزا قادیانی کا مرید ہو جاؤں گا۔“ اس کے جواب میں حکیم الامۃ المرزائیہ نے اپنے اخبار البدر میں ٹیپ ٹاپ کا مسالے دار خط کسی مرزائی سے لکھوایا جس کے اخیر میں جلی قلم سے یہ لکھا تھا کہ (مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں) ہم پوچھتے ہیں کیا درحقیقت ایسا ہی ہے؟ ضمیمہ میں ایسے واقعات درج ہوچکے ہیں کہ کسی شخص نے ادھر مرزا قادیانی کو خط لکھایا کوئی شخص قادیان میں پھٹک ایک پھٹک دو کا تماشا دیکھنے آیا ادھر اس کا نام مریدوں کے رجسٹر میں ٹانک دیا گیا اور جھٹ مرزائی اخباروں میں مشتہر کیا گیا مگر مرزا قادیانی کو سیدھے سادھے مسلمانوں کو مرزائی بنانے کا شوق نہ ہوتا تو قادیان میں یہ چہل پہل کہاں سے ہوتی؟ سقنقوری معجونیں کھا کھا کر مرزا قادیانی ساٹھے پاٹھے اور اپاہج مرزائی کیونکر سنڈھیاتے؟ چندے کہاں سے آتے؟ مرزائیں جڑاؤ زیور سے لدی ہوئی کیونکر نظر آتیں؟ جائیدادیں اوروں کے نام سے کیونکر رجسٹرڈ کرائی جاتیں؟ کماؤ پوت نہ ہوں تو باواجی کے پوپے منہ میں حلوے ملیدے کہاں سے آئیں؟ جتنی اولاد ہوگی اتنی ہی کمائی بڑھے گی۔ بیٹے ہوئے سیانے والد رہ گئے پرانے۔ اور اگر فی الواقع مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں تو رسول اور امام الزمان بننے کا بھی شوق نہیں۔ خدائے تعالیٰ تو آنحضرت ﷺ کے تڑپ پر جو آپ کو گمراہوں کے راہِ راست پر لانے کے لئے تھی یوں فرمائے ”لعلك باخع نفسك على آثارهم“ یعنی اے محمد ﷺ شاید تو ان کے پیچھے اپنے نفس کو ہلاک کرنے والا ہے اور بروزی نبی یوں کہے کہ مجھے مرید بنانے کا شوق نہیں۔ بس جی بس بروزی نبوت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ ہمت ہی ہار دی۔

اگر مرید بنانے کا شوق نہیں تو رسالے اور اخبارات کیوں شائع ہورہے ہیں۔ کیوں پہیے کی طرح خاک اڑائی جاتی ہے کیوں رات دن مرزا قادیانی کی بحث ہوتی ہے۔ کیوں پیشینگوئیاں کی جاتی ہیں اور جب کوئی پیشینگوئی پوری نہیں ہوتی تو کیوں تاویلوں سے جوڑ توڑ گانٹھے جاتے ہیں اور کیوں عذر گناہ بدتر از گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ رسول اور امام الزمان کی بیعت کرنا اور اس پر ایمان لانا ویسا ہی فرض ہے جیسے رسول پر اپنی رسالت کی تبلیغ فرض ہے۔ پڑھو ”يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك الآيہ“ مگر بروزی رسول کا عجیب برزخ ہے

٦٩

صفحہ ٨٦

کہ جانبین کے فرائض یعنی مرید بنانے اور مرشد بننے کے ساقط کر کے اپنے کو جھوٹا نبی قرار دے رہا ہے۔ یہ درحقیقت عصمت بی بی از بیچارگی کا مضمون ہے جب آپ باوصف فرمائشی رسول بننے کے کوئی معجزہ یا کرامت نہیں دکھا سکتے تو نبوت ورسالت وغیرہ کا چولا ہی اتار کر پھینک دیتے ہیں۔ بھلا جب آپ ایک عاشق شیدا اور مرد کو جورو بھی آسمانی باپ سے نہیں دلوا سکتے تو کیسے چہیتے لے پالک ہیں۔

آپ سے تو امرتسر اور لاہور وغیرہ کے کوٹھی وال قرمساق ہی اچھے جو بے گھروں کے گھر تو بسا دیتے ہیں اور ایسے ایسے نازنین پر پختہ معشوقوں سے سستے داموں بغل گیر کرا دیتے ہیں کہ بیگمات میں ایسی ایک بھی نہ ہوگی اگر مرزا قادیانی یہ عذر لنگ پیش کریں کہ میں نے اپنی رسالت کی تبلیغ کردی میں کسی پر جبر نہیں کرتا تو ہم کہیں گے کہ پھر آپ کو مرید بنانے کا کیوں شوق نہیں۔ اسی صورت میں تو تبلیغ بالکل فضول۔ اور نبوت ورسالت و بروزیت خاک دھول ٹھہری اور آپ مامور من اللہ بھی نہ رہے۔

کیونکہ جس شخص کو خدائے تعالیٰ اپنا کام لینے کو مامور کرتا ہے، ادائے فرض کا شوق وذوق اس کے دل میں بھر دیتا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جس میں انبیاء پروانہ کی طرح گرے طرح طرح کے ظلم سہے اور جان پر کھیل گئے۔ شوق تو ادنیٰ مرتبہ ہے حالانکہ آپ اس کا بھی انکار کرتے ہیں۔ کہ مجھے مرید بنانے کا شوق نہیں۔ دعوے تو لمبے لمبے بلند پروازیاں وہ کچھ اور پھر آپ ہی کٹی ہوئی گڈی اور بجھے ہوئے غبارے کی طرح آسمانی باپ کے جھونپڑے سے تحت الثریٰ میں آرہے۔ خبردار! جو پھر کبھی ایسا کلمہ زبان سے نکالا کہ مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں۔

البدر اور الحکم دونوں آئندہ کے لئے کان پکڑیں مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں ہاں دھمکانے کا شوق ہے کہ فلاں مارا جائے گا فلاں دھرا جائے گا اور میں غضب ناک نبی ہوں طاعون ملعون میرے قابو میں ہے، جس پر چاہوں مسلط کردوں، جس ملک میں چاہوں بھیج دوں، جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے اور میرے مرید نہیں ہوتے طاعون انہیں کے ہڑپ کرنے کو آیا ہے پھر بھی مرید بنانے کا شوق نہیں؟

ہاں جب سے چند پٹخنیاں ملی ہیں کیا معنی کہ ادھر تو آپ کی پیشینگوئیاں جو لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں تھیں پٹ پڑی، ادھر تخویف اور نقض امن کے الزام پر عدالت نے دھر گھسیٹا تو ہلاکت کی دھمکیاں براہِ اسفل نکل گئیں۔ خصوصاً مقدمہ فریب میں جب سے ناکامی ہوئی پیشینگوئیاں جاتی رہیں اور الہامات بھی گاؤ خورد ہوگئے کیونکہ وہ تو مقدمات یا واقعات کے پیش

٧٠

صفحہ ٨٧

آنے اور ایسے وقت میں بروزیت کی دکان چمکانے کے لئے نازل ہوتے ہیں اور جب گرم بازاری پر اوس پڑ جاتی ہے تو الہامات بھی گاؤ خورد ہو جاتے ہیں اور چونکہ پچھلے مقدمے میں نیچا دیکھ چکے ہیں لہٰذا ہم پیشینگوئی کرتے ہیں کہ اب کوئی الہام نہ ہوگا جب تک مقدمات موجودہ فیصل نہ ہولیں۔ ہاں فیصل ہونے پر جھوٹی پیشینگوئیوں کی تاویلیں ہوں گی کہ حضرت اقدس نے پہلے ہی یوں کہہ دیا تھا اور ووں کہہ دیا تھا اور ”وهم من بعد غلبهم سيغلبون“ الہام ہو چکا تھا الغرض جدھر کی ہوا دیکھیں گے ادھر ہی گڈّی اڑادیں گے۔ یہ کیوں وہی بگڑی کے بنانے پر مرید بنانے کا شوق۔

(ایڈیٹر)

٢ ...... تمام انبیاء ناکام رہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم ٢٤؍فروری میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں منقطع ہوئے کہ وہ حواری جو بڑی محنت سے تیار کئے تھے (جیسے آپ نے ٣٠ برس میں تیار کئے) وہ بھی پورے مخلص اور وفادار ثابت نہ ہوئے اور خود مسیح کو ان کے ایمان واخلاص میں پُرشک ہی رہا یہاں تک کہ آخری وقت جو مصیبت ومشکلات کا وقت تھا وہ حواری ان کو چھوڑ کر چلے گئے، ایک نے گرفتار کرادیا، دوسرے نے سامنے کھڑے ہوکر تین مرتبہ لعنت کی، اس سے بڑھ کر اور کیا ناکامی ہوگی۔ حضرت موسیٰ جیسے اولوالعزم بھی راستے ہی میں فوت ہوگئے۔ اور ارضِ مقدس کی کامیابی نہ دیکھ سکے۔ اور انکے بعد ان کا خلیفہ اور جانشین اس کا فاتح ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی پاک زندگی قابلِ فخر کامیابی کا نمونہ ہے اور وہ کامیابی کیسی عظیم الشان ہے جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔“

آنحضرت ﷺ کی کامیابی کا ذکر محض کینہ اور مسلمانوں کی رواداری کی وجہ سے دل سے نہیں۔ مرزا قادیانی کا مقصد یہی ہے کہ تمام انبیاء ناکام رہے صرف میں کامیاب ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر میں کسی معاملہ (مثلاً مرزائی مقدمات میں ناکام ہوں تو میری نبوت میں کچھ نقص نہیں پڑ گیا بڑے بڑے انبیاء ناکام ہوچکے ہیں۔ چہ خوش وخشکا۔ اگر حواری کا منحرف ہونا انبیاء کی ناکامی ہے تو (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ بھی ناکام ہیں۔ پڑھو ”و من اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم (التوبہ:١٠١)“ کوئی پوچھے اگر لوگ منافق بن کر منحرف ہوجائیں (جیسے مرزا قادیانی کہ بظاہر تو آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں مگر در حقیقت اپنے کو تمام انبیاء سے بڑھ کر خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) سمجھتے ہیں۔ اگر بڑھ کر نہ سمجھتے تو بعد ختم رسالت اپنے کو نبی کیوں بناتے؟) تو اس میں انبیاء کا کیا قصور؟ کیونکہ وہ عالم الغیب اور

٧١

صفحہ ٨٨

عالم مافی الصدور نہ تھے جیسے مرزا قادیانی اپنے کو عالم الغیب سمجھتے ہیں۔ یعنی پیشینگوئیاں کرتے ہیں ۔ پڑھو "انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء" لیکن ان کی نبوت ناکام نہیں رہی۔ کیونکہ ناکام رہنا نقص نبوت ہے اور خدائے تعالیٰ نے کسی نبی کو ناقص بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ تو صرف آسمانی باپ کا کام ہے جس نے اپنے لے پالک کو ناقص (ناخلف) بنا کر دنیا میں بھیجا۔ اگر کسی نبی کی نبوت ناکام اور کسی کی کامیاب ہوتی تو ہم کو "لا نفرق بین احد من رسلہ" کی تعلیم نہ دی جاتی اور آنحضرت ﷺ یہ ہرگز نہ فرماتے کہ "لا تخیروا فی انبیاء اللہ" اور "لا تفضلونی علی یونس ابن متی" بعض انبیاء سے اگر لغزش ہوئی ہے تو وہ ابتلاء (امتحان) ہے اور یہ ایک ناز و نیاز ہے۔ نبوت ایسے معاملات سے زیادہ کامل ہوتی ہے نہ کہ ناقص۔ لیکن یہ وہ سمجھے جو صاحب حال ہو اور پاک اور صاف کانشس (نور ایمان یا قوت ممیزہ) رکھتا ہو۔ نفس پرست شکم پرور کتے ان رموز کو کیا سمجھیں؟

وہ اولوالعزم عیسیٰ مسیح جو کلمۃ اللہ ہے اور وہ اولوالعزم موسٰی جو کلیم اللہ ہے تو ان کو ناکام (ناقص نبی) بتاتا ہے تیرا مشن مجسم توہین انبیاء علیہم السلام ہے اور تیرا وجود ان کے لئے مجسم لعنت اور تبرا ہے۔ اندھے جہلاء میں بیٹھ کر آنحضرت ﷺ کی فضیلت اور دوسرے انبیاء کی توہین کرنا سراسر الحاد ہے۔ ابے جس نے ایک نبی کی توہین کی اس نے تمام انبیاء کی توہین کی۔

اگر انبیاء تیرے زعم کے موافق اپنی بعثت ونبوت میں ناکام رہے تو جناب باری پر الزام آتا ہے کہ اس نے دنیا میں ناکام نبی بھیجے اور اس سے معاذ اللہ لغو اور عبث فعل سرزد ہوا۔ اس صورت میں خدائے تعالیٰ حکیم نہیں رہتا۔ اس کے انبیاء غلط ثابت ہوتے ہیں کہ انبیاء کو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا مگر اصلاح نہ ہوئی اور ان کی رسالت ناکام رہی۔ جو منہ میں آیا بک دیا خبردار زبان کو لگام دے اور ایسے خرافات منہ ہی میں رہنے دے۔ کیوں دنیا میں نجاست وخباثت پھیلاتا ہے۔ سامعین اور حاشیہ نشین تو گوہ کے کیڑے بن گئے ہیں۔ گوہ میں رہنا اور رینگنا ان کی زندگی کا نیچر بن گیا ہے۔ پس انہیں کون سمجھائے اور گندگی سے کون نکالے؟ وہ پورے مخدوم ہوگئے ہیں۔ اور قریب ہے کہ جسم پاش پاش ہو کر ہلاک ہو جائیں۔

(ایڈیٹر)

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کے مسیح موعود بننے کی یہی دلیل اخبار الحکم کی پیشانی پر ثبت رہتی ہے۔ لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ کیا دنیا میں آج کل تلوار کا جہاد ختم ہو گیا ہے۔ اگر بصارت نہیں جاتی رہی تو مشرق اقصیٰ کی

٧٢

صفحہ ٨٩

طرف دیکھیں اگر سماعت نہیں جاتی ہے تو جنگ روس و جاپان کے روزانہ حالات سنیں اور اگر یہ مراد ہے کہ صرف اسلام سے آجکل جہاد اٹھ گیا ہے تو ترکی اور مقدونیہ اور بلغاریا اور مراکو کا نظارہ کریں کہ کیسی تلواریں کھنچ رہی ہیں اور اگر یہ مراد ہے کہ ہم کو دوسرے ممالک سے کیا غرض۔ ہندوستان میں تو امن وامان ہے۔ جہاد کا کوئی نام بھی نہیں جانتا تو برٹش گورنمنٹ مسیح موعود ہے نہ کہ مرزا قادیانی۔

دوم ..... آپ ساری خدائی کے مسیح موعود اور امام الزمان نہیں ٹھہرتے کیونکہ گو ہندوستان میں جہاد نہ ہو مگر دیگر ممالک میں تو جاری ہے۔ سوم ..... ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں اور ٢٣ کروڑ ہندوؤں میں سے ہر شخص دعویٰ کر سکتا ہے کہ چونکہ اب جہاد نہیں رہا اور میں اس زمانے میں پیدا ہوا ہوں پس میں مسیح موعود ہوں۔ دیکھئے ٣٠ کروڑ مسیح موعود پیدا ہوگئے۔

چہارم ..... مرزا قادیانی نے جو چند سال قبل لوگوں کی موت کی پیشینگوئی کا طوفان برپا کیا اور آسمانی باپ سے التجا کر کے طاعون کو بلوایا تو کیا یہ جہاد نہ تھا؟ جہاد سے مراد تو قتل کر دینا ہے خواہ تلوار سے قتل کیا جائے خواہ دوسرے آلے یعنی تیغ زبان اور سیف دعاء سے۔ اب دیکھئے مرزا قادیانی نے اپنے مہلک اور ایذارساں جلاد طاعون کے ہاتھوں لاکھوں آدمیوں کو قتل کیا۔ کیا یہ جہاد نہیں؟

پنجم ..... آپ جیسے صلح کل ہیں دنیا پر ظاہر ہے۔ اگر قابو چلے تو اپنے ایک ایک مخالف کو اسی طرح ذبح کریں جس طرح امیر کابل نے آپ کے حواری افغانی یعنی (ملا عبد اللطیف) کو ذبح کیا اور سب سے پہلے کابل ہی پر یورش اور جہاد کریں اور در حقیقت تلوار سے نہیں تو زبان سے کر چکے ہیں۔ یعنی پانی پی پی کر امیر کابل کو کوس چکے ہیں اور پیشینگوئی کر چکے ہیں کہ افغانی حکومت کا جلد خاتمہ ہوا جاتا ہے۔ تلوار کا وار تو آپ کر ہی چکے اگرچہ اس سے افغانوں کا بال بھی ٹیڑھا نہ ہوا یہ جہاد نہیں تو کیا ہے؟ ہاں خدائے تعالیٰ نے گنجے کو ناخن نہ دیئے۔ آپ نے اب تک اپنا جہاد تو بند کیا ہے نہیں، اور دنیا سے جہاد بند کرا رہے ہیں۔ ششم ..... صورت حال اور عملی کارروائیوں سے صاف ظاہر ہے کہ آپ اپنے ایک ایک مخالف و منکر کے درپے آزار ہیں جب آپ کا کوئی مخالف قضاء الہی سے مرتا ہے تو منارے کے گنبد میں خوشی کے تان اڑاتے ہیں کہ میری مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ نے اس کو ہلاک کیا نہ کہ قضاء الہی نے۔ یہ جہاد نہیں تو کیا ہے اور غور کیجئے تو یہ گویا خدائی دعوے ہیں پس اپنے کو مسیح موعود نہیں بلکہ خدائے قادر مطلق مشتہر کیجئے۔

واقعات اور مشاہدات صاف بتا رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے ختم ہو جانے کی جو پیشینگوئی فرمائی ہے ابھی اس کا زمانہ نہیں آیا یا پھر مسیح موعود کے آنے کا زمانہ کیا؟ ہندوستان میں جہاد کو بند ہوئے دو سو برس ہو گئے اور اس عرصہ میں اگر کہیں خونریزیاں

٧٣

صفحہ ٩٠

ہوئیں تو وہ جہادات نہ تھے بلکہ فسادات تھے اور مرزا قادیانی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش کیا آسمانی باپ نے لے پالک کے حمل میں آنے سے بھی پہلے بطور پیشگی جہادات بند کر دیئے تھے۔ یوں کیوں نہیں کہتے کہ یہ سب گورنمنٹ کی خوشامد ہے اور میں گورنمنٹ کا خوشامدی مسیح موعود ہوں۔ تعجب ہے کہ ہندوستان میں امن وامان تو قائم کرے برٹش گورنمنٹ اور مسیح موعود بنیں مرزا قادیانی۔ کمائیں خانخاناں۔ اڑائیں فہیم۔ برٹش گورنمنٹ کی عملداری نہ ہوتی تو ہم دیکھتے کہ آپ کیونکر مسیح موعود اور بروزی نبی بن سکتے ہیں۔

کابل میں اپنا ایک مشنری بھیجا تو تھا دیکھ لو اس کا کیا حشر ہوا۔ قبل از حشر جہنمی بنا آپ کے پاس مسیح موعود بننے کی صرف تین دلیلیں ہیں۔ اول ...... عیسیٰ مسیح دنیا میں وفات پا گئے۔ کتنی معقول اور زبردست دلیل ہے۔ گنگواتیلی بھی کہہ سکتا ہے کہ جسونت پور کا راجہ مر گیا لہٰذا میں اس کا جانشین ہوں۔ دوم ...... میرے زمانہ میں طاعون آیا۔ گویا پہلے کبھی طاعون آیا ہی نہیں تواریخ غلط ہیں اور اگر آیا ہے تو طاعون کے زمانہ کا ہر متنفس مسیح موعود تھا۔ سوم ...... جہاد بند ہو گیا۔ آنکھوں کے اندھے اور نام نین سکھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ انگلستان، فرانس، جرمن میں آج کل جہاد نہیں ہر انگریز، فرانسیسی، جرمنی کہہ سکتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اگرچہ لندن میں مسٹر پگٹ اور فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی مسیح موجود ہیں مگر انہوں نے اپنے دعاوی پر یہ انوکھے دلائل اور شواہد قائم نہیں کئے جو قادیانی مسیح نے قائم کئے ہیں۔

گویا مسیح موعود بننے کے لئے مختلف وجوہ اور حیثیتیں ہیں اور جس طرح مرزا قادیانی کے دعوے کے موافق باوصف ختم نبوت کے قیامت تک نبی پیدا ہوتے رہیں گے۔ اسی طرح مسیح موعود بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ جب نبوت ہی ختم نہیں ہوئی تو مسیحیت ومہدیت کا ختم ہو جانا ہرگز عقل میں نہیں آتا۔ آخر سوڈان وغیرہ میں مہدیوں کے پیدا ہونے کا سلسلہ جاری ہے ہی۔ لیکن اس صورت میں مرزا قادیانی کی بعثت کی دم میں کونسا سرخاب کا پر رہا کہ آپ نہ صرف مہدی بلکہ خاتم الخلفاء (خاتم النبیین) بن گئے اور تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔

مرزا قادیانی نے دیکھ لیا کہ عقلاء ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے عیار اور چالاک چلتے پرزے تو مہدی اور مسیح بن جائیں اور میں نہ بنوں۔ ہاں مرزا قادیانی میں ترجیح کی یہ میخ ضرور ہے کہ گزشتہ مہدیوں نے جہاد کا اعلان دیا۔ مرزا قادیانی جہاد کے نام سے بھی چوہے کا بل ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے دعوے ہی تمام مذاہب سے جنگ اور کھلم کھلا جہاد کا اعلان ہیں کیونکہ توہین اور بدزبانی سے تمام مذاہب والوں کو مشتعل کر رہے ہیں۔ (ایڈیٹر)

٧٤

صفحہ ٩١

٤ ...... ہماری پیشنگوئیاں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہماری پیشنگوئی کے موافق مرزائی مقدمات کے انتقال کی درخواست چیف کورٹ میں بھی نامنظور ہوئی اب بھی تمام مرزائیوں اور خود مرزا قادیانی مجدد المائۃ حاضرہ کی مجددیت پر ایمان لاکر مجدد سے بیعت نہ کریں تو اس سے بڑھ کر کوئی ہٹ دھرمی، نا انصافی اور تعصب ہو نہیں سکتا۔ مرزا قادیانی پر ایمان تو پیشنگوئیوں ہی کی وجہ سے ہے اور جب وہ غلط ہو جائیں اور ان کے مقابلہ میں مجدد کی پیشنگوئیاں واقعات اور مشاہدات کے کانٹے میں بال باندی ہر طرح پوری اتریں تو مرزا قادیانی کو چھوڑ کر مجدد پر کیوں ایمان نہ لایا جائے؟ شک ہو تو آسمانی باپ سے پوچھ لیں وہ ضرور الہام کردے گا کہ لے پالک جھوٹا ہے اور مجدد سچا، پس اسی پر ایمان لاؤ۔

معلوم نہیں مجسٹریٹ گورداسپور مسٹر چندولال صاحب کی عدالت پر کیوں اعتماد نہیں کیا جاتا؟ گورنمنٹ تو اپنے افسروں پر اعتماد کرکے رعایا کے انصافی امور کا حل و عقد ان کو تفویض کرے اور مرزا قادیانی الجھنیں ڈالیں۔ یہ خوارق بہت ہی خوفناک ہیں۔ غالباً آسمانی باپ نے الہام کردیا ہے کہ لے پالک اس عدالت سے کامیاب نہ ہوگا۔ آسمانی باپ تو گھاس کھا گیا ہے یا اس کو لے پالک سے کچھ ضد آپڑی ہے کہ سچا الہام ایک بھی نہیں کرتا۔ وائے حسرت۔ وائے قسمت۔ وائے نیت۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ مونچھیں نیچی کرلو اور مصالحت و معافی کا پیام دو۔ جبکہ الحکم کی پیشانی پر یہ فقرہ درج ہے کہ ”ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔“

تو کیا وجہ ہے کہ عملی کارروائی سے اس کا ثبوت نہیں دیا جاتا۔ مصالحت اور معافی کی تحریک اور سبقت میں کچھ کسر شان نہیں۔ البتہ مقدمات کی پیروی میں سرگاڑی اور پاؤں پہیے رہنا سخت کسر شان ہے۔ یہ ہم مذاق یا بدنیتی سے نہیں لکھتے۔ اس میں فریقین کا فائدہ ہے اور اسٹیشن چھوڑ کمپٹیشن میں سراسر نقصان اور تکلیف ہے۔ اور مرزا قادیانی کی گرم بازاری کو زیادہ ضرر ہے۔ کیونکہ ان کی بہشت کا انحصار بالکل الہاموں اور پیشنگوئیوں پر ہے اور عدالت کا انصاف تیر کے منہ پر بھی ہے۔ جب پیشنگوئی پوری نہیں ہوتی تو راسخ الاعتقاد مرید بدظن ہو کر اور لمبی گردن اٹھا کر رسا توڑا کر کھونٹا اکھاڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور پھر جنون تک کے ٹوٹے ہوجاتے ہیں۔ دیکھ لو مقدمات نے مریدوں کی رجوعات بھیڑ بھاڑ کس قدر کم کردی ہے اور مرزا قادیانی کو کتنا نقصان

٧٥

صفحہ ٩٢

پہنچایا ہے۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ مطبع رات دن گرم رہے اور روغن بادام میں دم کئے ہوئے پلاؤ اور جند بیدستر کی مقوی معجونیں دم پخت ہوتی رہیں۔ مزے ہوں بہاریں ہوں اور بس۔ (ایڈیٹر)

٥ ...... مرزا قادیانی کی بعثت کی غرض

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی بار بار بلکہ روزانہ منبر پر یا شہ نشین میں بیٹھ کر ہنکارتے ہیں کہ میں دنیا کو اسلام کی خوبیاں دکھانے آیا ہوں۔ (لوگ) آنحضرت ﷺ کی عظمت و شان پر حملہ کرتے ہیں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور خود مسلمانوں کے گھروں میں رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرنے والے پیدا ہو گئے تھے۔ الحکم ٢٣ فروری ١٩٠٤ء ج نمبر ٧ یہ مسلمانوں پر مفتری علی اللہ کا افتراء ہے بلکہ خود ہتک کا مرتکب ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ نے نبوت ختم کر دی یہ جھٹلاتا ہے اور اپنے کو نبی بتاتا ہے۔ کیا یہ آنحضرت ﷺ اور قرآن اور اسلام اور خدائے اسلام کی ہتک نہیں۔ آیات قرآنی کو مسخ کر کے ان کا نزول اپنی شان میں بتاتا ہے کیا یہ آنحضرت کی ہتک نہیں؟

اپنی تصویر بنانے اور بنوانے اور شائع کرنے اور گھروں میں رکھنے کو مباح قرار دیتا ہے جس شخص نے شریعت کا ایک حکم بھی توڑا اس نے تمام شریعت کو توڑا اور اسلام اور پیغمبر اسلام اور خدائے تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی ہتک کی۔ مرزا قادیانی تو ہمیشہ احکام شریعت توڑتا رہتا ہے۔ اسلام کی خوبیاں خود ہی دنیا پر روشن ہیں۔ ”تركت فيكم البيضاء ليلها ونهارها سواء الحديث“ یعنی میں تم میں آفتاب (دین اسلام یا قرآن) چھوڑے جاتا ہوں جس کے رات دن برابر ہیں (وہ کبھی ماند یا غروب نہ ہوگا) کوئی شب پر چشم ہی آفتاب کو ماند اور بے روشن بتا سکتا ہے۔ یہ کہنا کہ میں اسلام کی روشنی دکھانے آیا ہوں اسلام کی ہتک کرنا ہے کیونکہ آفتاب خود روشن ہے۔ وہ روشنی پھیلانے میں کسی کا محتاج نہیں۔

قرآن مجید میں ہے ”هذا هدى للناس، هذا بيان للناس تبيانا لكل شئی“ بھلا کسی کی کیا طاقت ہے کہ اسلام اور قرآن کو اپنی صداقت میں دیگر وسائل کا محتاج بتائے۔ البتہ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم ہے کہ ”فذكر انما انت مذكر“ کا فرض ادا کرنا جس طرح آپ پر فرض ہے اسی طرح تمام علماء امت محمدیہ پر فرض ہے۔ تمام علماء تذکیر و تحذیر و تبشیر فرما رہے ہیں اور سب مجدد ہیں مگر آج تک اپنے کو نبی اور خاتم الخلفاء کسی نے نہیں بتایا نہ بعد ختم نبوت دعوے نبوت کیا۔ یہ تو ملحدوں اور مرتدوں کا کام ہے۔

(ایڈیٹر)

٧٦

صفحہ ٩٣

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦ / مارچ کے شمارہ نمبر ١١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... یارسول اللہ

عثمان میسوری

اخبار الحکم قادیانی مطبوعہ ١٠ فروری ١٩٠٤ء میں بذیل حل مسائل اس سوال کے جواب میں کہ ”یارسول اللہ“ کہنا کیسا ہے۔ حکیم نور الدین صاحب موحدین کی مخالفت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ یا رسول اللہ کہنا درست ہے۔ مگر جو دلائل اس کے لئے لائے ہیں وہ ویسے بھی بودے ہیں جیسے ایک گھوڑے کو بیل ثابت کرنے میں کھینچ تان کر پیش کئے جائیں۔ حیات مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو تو مسیح میں الوہیت اور ان کو حی القیوم و سمیع و بصیر ماننے والا ٹھہرا کر مشرک بنایا جاتا ہے اور یا رسول اللہ کہنے کی تائید میں خود حکیم صاحب رسول اللہ ﷺ کو ہر زمانہ میں موجود یعنی حی القیوم سمیع و بصیر قرار دیتے ہیں اور اس موجودگی کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی موجودگی پیش کرتے ہیں۔

اس سے ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی ہر زمانہ میں موجود یعنی حی القیوم سمیع و بصیر رہیں گے۔ اور ہر ایک مرزائی کو یا مرزا کہنا درست ہوگا کہ گویا رسول اللہ ﷺ کی پکار کے جواز سے مرزا قادیانی کو یا مرزا پکارنے کا رستہ صاف کیا گیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ اس انوکھے اجتہاد کو آنکھیں بند کر کے کچھ وہی بھولے بھالے لوگ تسلیم کریں گے جو حکیم الامت کو بھی روح القدس کا ہم زبان مانتے ہوں گے ورنہ ایک دانا جس وقت یا اللہ اور ایک نادان جس وقت یا رسول اللہ کہتا ہے دونوں کا مقصود استمداد و استعانت کے سوا کچھ نہیں ہوتا مگر یاد رہے کہ ایک دوسرے کے مفہوم میں حق و باطل کا فرق ہے ”ایاک نستعین“ کی

٧٧

صفحہ ٩٤

بنا پر خود رسول اللہ ﷺ اللہ ہی سے استمداد اور استعانت چاہا کرتے تھے۔ اور اپنے اس نمونہ سے امت کو گھیر گھار کر محض اسی نقطہ پر متفق فرمایا کرتے تھے اور ہر حال میں یہ کہنے پر مامور تھے ”قل لا املك لنفسی ضرا ولا نفعا الا ماشاء اللہ (یونس:٤٩) “ یا رسول اللہ کے جواز میں حکیم صاحب نے ایک نئی شاخ فرط محبت کے اظہار کی نکال کر دنیا کو ایک تازہ مفہوم کا سبق دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی ایک ناجائز کو جائز قرار دینے میں بہت سی ناجائز و بے ربط باتوں سے ان کو کام لینا پڑا۔ یہ تو بالبداہت ثابت ہے کہ ہر زندہ شخص کو خواہ وہ کافر ہے بالمقابلہ یا کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ غائب ہو تو اس حاضرانہ خطاب کا مستحق سوائے خدائے حی القیوم سمیع و بصیر کے کوئی نہیں ہوسکتا۔ خواہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔

حکیم صاحب اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ فرماتے ہیں ”کیا جب اللہ کو یا کہہ کر پکارا جاتا ہے تو وہ سامنے حاضر ہوتا ہے حتمی طور پر تو اس کا ثبوت نہیں......الخ“

سبحان اللہ یہاں تو حکیم صاحب نے غضب ہی ڈھا دیا اور اپنی ساری حکمت اور تبحر علمی کی قلعی کھول دی اس کے جواب کو طول نہ دے کر ہم صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کریں گے ؎

فقیر بے معرفت نہ آرامد
تا کارش بکفر نہ انجامد

افسوس ایک تعصب سو جہالتوں کی ماں بن جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات و حکیم صاحب کی تلقینات کا مقابلہ کرتے وقت ہم ششدر رہ جاتے ہیں کہ یا اللہ یہ چراغ تلے اندھیرا کیسا؟ چنانچہ الحکم کے اسی پرچہ کے ص٢ کالم٢ میں ناظرین ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی ایک دقیق مسئلہ کی حمایت کس درد کے ساتھ کر رہے ہیں جس سے حکیم صاحب کو حل مسائل کو بھاگتے رستہ نہیں ملتا۔ پیر یا استاذ تو خدائی رستہ طے کریں اور مرید یا شاگرد اس پر کانٹے بچھاتے رہیں ؎

ایں چنیں ارکان دولت خانہ ویرانی کنند

حکیم صاحب سے ہم مؤدبانہ التجا کرتے ہیں کہ جب کہ حکیم الامت کا خطاب ان کو مرزا قادیانی سے مل چکا ہے۔ تو ان کو چاہئے کہ اپنی حکمت کی گدی پر بیٹھے رہیں مگر مسند رسالت کا گلو نہ دبادیں کیونکہ ؎

ہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامی دارد

ایڈیٹر الحکم کو بھی چاہئے کہ اپنے اخبار کے کالموں میں جو صرف مرزا قادیانی کی مشن کا

٧٨

صفحہ ٩٥

کفیل ہے۔ حکیم صاحب کے مشن کا کفیل نہ بنے۔ حکیم صاحب کی بھرتیوں کا خاتمہ کر دے اور ان کے حل مسائل وارشادات سے مرزا قادیانی کی تعلیمات کو کھچڑی نہ بنادے۔

٢ ...... مراسلہ

مدنی شاہ وارثی!

مولانا شوکت! السلام علیکم ۔ میں بنظر افادۂ اہل اسلام آپ کا تھوڑا سا وقت ضائع کرنا چاہتا ہوں چونکہ حق میری جانب ہے پس امید ہے کہ آپ بنظر ہمدردی اہل اسلام سطور ذیل کو اپنے ضمیمہ میں جگہ دیں گے۔

میں حاجی وارث علی شاہ صاحب کا مرید ہوں بمقتضاء آب و دانہ شہر اٹاوہ میں آیا اور ایک روز شامت اعمال سے معہ چند رفقاء میر صادق حسین صاحب مختار کے مکان پر بھی پہنچ گیا۔ مختار صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید ہیں۔ ممدوح نے مجھ سے دریافت کیا کہ حاجی وارث علی شاہ صاحب مرزا قادیانی کو کیا کہتے ہیں میں نے کہا ملا عبدالقیوم پانی پتی نے مجھ سے کہا تھا کہ چند صاحبوں نے حاجی وارث علی شاہ صاحب سے دریافت کیا تھا کہ سید احمد خان مرحوم اور مرزا غلام احمد قادیانی کیسے ہیں تو حاجی صاحب نے فرمایا کہ ہمارے ہاں کسی کو برا نہیں کہتے۔ پھر کیا تھا اس قدر کہنا ان کو کافی ہوا۔ فوراً ٨؍ فروری ١٩٠٤ء کو ایک اشتہار جاری کر دیا کہ حاجی صاحب مرزا قادیانی کو مسیح علیہ السلام کے درجے پر پہنچا ہوا بتاتے ہیں۔

جمیع اہل اسلام عموماً اور مریدان حاجی صاحب خصوصاً مرزا قادیانی کی مخالفت سے باز آئیں۔ اس اشتہار سے مسلمانوں کو تشویش پیدا ہوئی اور مجھ سے استفسار کیا۔ میں نے جواب دیا کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین میں نے کوئی بات بروایت حاجی صاحب بجز اس کے کہ ملت فقراء میں کسی کو برا نہیں کہتے بیان نہیں کی۔ بعدہ مسجد پنجابیاں واقع کٹڑہ شہاب خان شہر نو اٹاوہ میں ایک خاص جلسہ منعقد ہوا اور قریب سو آدمیوں کے عمائد شہر جمع ہوئے۔ میں نے ان کے روبرو بھی بجواب ان کے سوالات کے ظاہر کر دیا کہ حاجی وارث علی شاہ صاحب نسبت مرزا غلام احمد کچھ نہیں کہتے۔ حاجی صاحب ایک فقیر آدمی ہیں مولوی لوگ جو کچھ نسبت مرزا قادیانی فرما رہے ہیں اس کو ان کتابوں میں جو بجواب مرزا قادیانی شائع ہوئی ہیں دیکھ لیجئے۔ علاوہ اس کے مرزا قادیانی کا دعویٰ پیغمبری ایسا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ عرش پر بیٹھا ہوں صبح کو یہ خواب ایک بزرگ سے ظاہر کیا۔ بزرگ نے کہا کہ اگر آج رات پھر وہ خواب دیکھو تو عرش کے کنگرے پکڑ لینا۔ چنانچہ دوسری رات بھی وہی خواب پھر دیکھا اس نے عرش کے کنگرے پکڑ لئے۔ اتنے میں جو آنکھ کھلتی

٧٩

صفحہ ٩٦

ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اپنے کان پکڑے ہوئے ہیں۔

یہ سن کر مختار صاحب کی طرف سے ١٦؍فروری ١٩٠٣ء کو دوسرا اشتہار شائع ہوا۔ جس میں میری نسبت غلط بیانی ظاہر کر کے چند گواہان کے نام زیر اشتہار درج کئے ہیں اور زبانی یہ بھی فرمایا کہ مسماۃ شاہ جہان طوائف کا سارا خاندان گواہ ہے۔ (سبحان اللہ تانت باجی اور راگ بوجھا کیسے ثقہ اور معتمد و مستند شرعی گواہ ہیں) یہ کلمات شاید مختار صاحب سے شیفتگی اور خود رفتگی کی حالت میں سرزد ہوئے ہیں۔ پھر جو گواہ مختار صاحب نے اشتہار میں درج کئے ہیں بجز بیدم شاہ کے جو بندی جان طوائف کا لڑکا ہے وہ لوگ انکار کرتے ہیں۔ اور جس وقت مجھ سے اور مختار صاحب سے گفتگو ہوئی یہ لوگ واقعی موجود نہ تھے۔

خدا ایسی جھوٹی باتوں سے بچائے جیسا وہ اپنے پاک کلام سورہ حجرات: ٦ میں فرماتا ہے ”يا ايها الذين امنوا ان جائكم فاسق بنباء فتبينوا ان تصيبوا قوماً بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين“ مورخہ ١٦؍ ذوالحجہ ١٣٢١ھ راقم مدنی شاہ وارثی بقلم خود۔

ایڈیٹر....... تعجب ہے کہ مختار صاحب نے مدنی شاہ اور حاجی وارث علی شاہ کو مرزا قادیانی کا راسخ الاعتقاد مرید مشتہر نہیں کیا اور ایک نوع سے تو درحقیقت دونوں کو مرزا قادیانی کا مرید بنا ہی دیا کیونکہ جب بقول مختار صاحب مدنی شاہ نے مرزا قادیانی کو مسیح علیہ السلام کے درجے پر پہنچا ہوا بتایا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کے درجے کی تصدیق کی ہے تو وہ اچھے خاصے مرزائی مومن بن گئے ہیں۔ اب الحکم یا البدر میں بزمرہ بیعت کنندگان مدنی شاہ اور حاجی وارث علی کا نام کیوں شائع نہ ہو۔ مدنی شاہ صاحب نے بقول ملا عبدالقیوم، مرزا اور سرسید احمد خان دونوں کی نسبت حاجی وارث علی شاہ صاحب سے استفسار کا ذکر کیا مگر مختار صاحب سرسید کا ذکر کھا گئے۔

کیونکہ اس صورت میں ان کو بھی مسیح علیہ السلام کے درجہ پر ماننا پڑتا۔ حالانکہ مرزا قادیانی سرسید کو گالیاں دے چکے ہیں۔ اور دیتے ہیں اگرچہ یہ کور نمکی ہے کیونکہ مرزائی مذہب سرسید ہی کی جوتیوں کا طفیل ہے اور انہیں کے اقاویل سے تراشا گیا ہے۔ پھر جب مرزا قادیانی براہ راست مامور من اللہ بلکہ آسمانی باپ کے لے پالک ہیں تو ان کو کسی شہادت کی کیا ضرورت اور اگر ضرورت ہے تو حاجی وارث علی شاہ صاحب مرزا قادیانی سے بہت بڑھے ہوئے بلکہ ان کے آسمانی باپ ہیں کیونکہ ان کی شہادت اور مہر کے بغیر لے پالک کا تبنیت نامہ جائز اور ثابت نہیں ہو سکتا۔ پس اب تمام مرزائی بلکہ خود مرزا قادیانی حاجی وارث علی شاہ صاحب پر ایمان لائیں۔

٨٠

صفحہ ٩٧

اٹاوہ کا ایسا ہی واقعہ پہلے بھی ضمیمہ میں چھپ چکا ہے مگر شرم کسے؟

٣....... مرزا قادیانی حضرت حسینؓ سے افضل؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا دعویٰ بہت زور وشور کے ساتھ ہے۔ امام حسینؓ سے آپ کیوں افضل نہ ہوں جبکہ عیسیٰ مسیح بلکہ انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ آپ بزعم خود خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) ہیں امام حسینؓ اور آپ کے والد ماجد امیر المومنین علیؓ نے نبی بننے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور مرزا قادیانی نے کیا تو کیوں آپ امام حسینؓ اور تمام صحابہؓ اور دوازدہ امام اور تمام اولیاء سے افضل نہ ہوں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ چونکہ موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں اسی طرح آنے والا محمدی مسیح موسوی مسیح سے افضل ہے۔

ہم بار ہا مضبوط دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ کسی نبی کو دوسرے نبی یا انبیاء پر فضیلت اور ترجیح دینے کا حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ ہم کو تو ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ کی تعلیم دی گئی ہے اور حدیث شریف میں بھی یہی ارشاد ہے کہ: ”لا تخيروا فى انبياء الله ولا تفضلونى على يونس ابن متى“ لیکن نوایجادی نبی مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث بلکہ تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب رہی آیت ”فضلنا بعضہم علی بعض“ یہ فضیلت علم الہی میں ہے۔ اور یہ جناب باری کا فعل ہے۔ ہم اس میں ہرگز شریک نہیں ہو سکتے۔ بلکہ اس کے خلاف ہم کو فضیلت دینے سے منع فرما دیا ہے جیسا کہ اوپر گزرا عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو محمدی مسیح بتاتے ہیں اور بظاہر اکثر شدومد سے کہتے ہیں کہ میں آنحضرتﷺ کا امتی ہوں مگر تعجب ہے کہ کسی نبی کا امتی دوسرے نبی سے بڑھ جائے۔ کجا نبی ، کجا امتی ۔

چہ نسبت خاك را با عالم پاك

مگر آپ کے وجود میں اجتماع ضدین ہے کہ آپ امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔ بات یہ ہے کہ نبی بننے کو آج کل مسالہ ہی کیا لگتا ہے ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ مجھ پر وحی ہوتی ہے کہ تو تمام انبیاء سے افضل ہے۔ اب رہی شہرت اور رجوعات افریقہ کے مہدیوں کے ساتھ جس قدر جم غفیر رہا ہے اور اب صومالی مُلّا کے ساتھ ہے اور ہندوستان میں دیانند سرستی کے جس قدر پیرو ہیں اور اس کی زندگی میں تھے لب گور تک بھی آپ کو اتنے پیرو میسر نہیں ہو سکتے مگر کیا وہ نبی تھے؟ معاذ اللہ !

(ایڈیٹر)

٨١

صفحہ ٩٨

٤ ....... موت کی پیشینگوئی اور طاعون

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے اپنی شروع بحث میں بزدلوں کے پیٹوں میں موت کی دھمکیاں دے دے کر خوب پانی کیا۔ اس زمانہ میں طاعون کا وجود ہندوستان میں نہ تھا مگر مرزا قادیانی کا غالباً یہ منشا تھا کہ لوگ بلا سبب اور بلا مرض اچانک کھاتے کھاتے مرجائیں گے، بکتے بکتے مرجائیں گے، سوتے سوتے مرجائیں گے۔ کچوری کھاتے کھاتے نیچے اتر جائیں گے، زعفرانی پلاؤ اور سقنقوری معجون کھاتے کھاتے گردن کے منکے ڈھل جائیں گے مگر پھک ایک پھک دو کا یہ چھو منتر نہ چلا۔ کیا معنی کہ ایک بھی نہ مرا نہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔

پھر جن کو آسمانی باپ کے ہاتھوں مارنا چاہا (آتھم وغیرہ) وہ بھی نہ مرے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کو اپنی موت نظر آگئی یعنی عدالت نے تخویف مجرمانہ میں دھرلپیٹا بیٹھے مصلے پر پبلک کو بہت دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگا۔ ادھر موت کی پیشینگوئیاں سن سن کر مولوی بٹالوی سہم گئے کہ یہ بجلیاں مجھی پر کوند رہی ہیں۔ عدالت میں درخواست دی کہ مجھے ہر وقت ہاتھ میں رکھنے کو ایک بغدا یا تلوار یا بندوق کا لائسنس ملے۔ پھر تو عدالت کے اور بھی تیور بدل گئے کہ یہ تو نقض امن کا اچھا خاصا مکسچر ہے۔ دونوں کو طلب کر لیا کہ کیوں حفظ امن کا مچلکہ اور ضمانتیں نہ لی جائیں پھر کیا تھا آسمانی باپ کی دہائی اور قبر کی تنہائی ہے جو میں آئندہ کسی پر جیتے جی موت کی دھونس ڈالوں خیر جان بچی لاکھوں پائے۔ اگرچہ بم کے دھواں دھار گولے تو ٹھنڈے ہوگئے مگر اپنے پینترے کیوں بدلنے لگا مرزائی اخباروں میں دبی زبان سے مفصلاً نہیں تو مجملاً موت کی دھمکیاں مخالفوں پر جاری رہیں۔ اتنے میں خوش قسمتی سے طاعون یوں آکودا جیسے روسی لشکر پر جاپانیوں کے گولے اور جیسے سومناتی مُلّا کی فوج پر برٹش میکسم توپوں کا گراب۔ مرزا قادیانی نے دیکھ کہا کہ طاعون تو آسمانی باپ کی خالہ کی نانی کے بھتیجے کا بھانجا ہے اور لے پالک کا ایڈیکانگ بن کر آیا ہے۔ مخالفوں کو یوں چٹ کر جائے گا جیسے میری مرزائی روغن بادام کی دم ہوئی بریانی اور جیسے آٹھ دن کا بھوکا بھیڑیا کیمپ کی دانہ خور بھیڑوں کو۔

اب مرزائی اخباروں میں ہمیشہ طاعون ہی کا ذکر خیر اور دنیا پر طاعون ہی کی دھونس ہے اور حوالہ دیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد صحابہ میں بھی طاعون پھیلا تھا اور چند صحابی طاعون سے وفات پا گئے تھے۔ مگر آپ تو بروزی نبی جب ٹھہرے کہ جیسے آنحضرت کے عہد مبارک میں طاعون نہیں آیا آپ کے زمانہ میں بھی نہ آتا۔ یہ خبر نہیں کہ مرزا قادیانی نے جو انبیاء کی توہین اور

٨٢

صفحہ ٩٩

شریعت اسلامی کی ترمیم کی ہے تو اس وبال میں طاعون نازل ہوا ہے اور ایک پاپی ساری ناؤ کو لے ڈوبا ہے۔ مرزا قادیانی ١٠/ مارچ کے الحکم میں فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کا کوئی مامور مرسل طاعون کا شکار نہیں ہوسکتا۔ نہ کسی اور خبیث مرض سے ہلاک ہوتا ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں بڑا نقص اور خلل پیدا ہوتا ہے۔“

جی بجا ہے طاعون سے نہیں تو ذیابیطس سے اختلاج قلب ہے۔ بواسیر وغیرہ امراض اسفل سے اکثر مفتری علی اللہ ہلاک ہوتے ہیں جیسا کہ جلد ظہور میں آئے گا۔ انشاء اللہ۔ جب غرض ہلاکت ہے تو کسی ذریعہ سے ہو۔ ایک قسم کی روٹی کیا پتلی کیا موٹی۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک بعض ہلاکتوں میں بھی سرخاب کا پر ہے۔ مفتری علی اللہ مہدی سوڈانی کس ذلت سے مرا کہ ہڈیاں تک اکھاڑ کر دریائے نیل میں پھینکی گئیں گویا مرنے کے بعد بھی چین نہ ملا۔ موجودہ مہدیوں اور مسیحوں کا جو کچھ حشر ہوگا دنیا دیکھے گی انشاء اللہ۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤/ مارچ کے شمارہ نمبر ١٢ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مردے پر قل اور فاتحہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

کسی مرزائی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا کہ مردے کے جو قل کئے جاتے ہیں یا مردے کو دفن کر کے بیٹھ کر جو فاتحہ پڑھتے ہیں یہ درست ہے یا نہیں؟ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ اس کی کوئی اصلیت نہیں یہ فضول باتیں ہیں۔

٨٣

صفحہ ١٠٠

ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی نے لالہ بھیکوں کے لال گرو یعنی اپنے بڑے بھائی کی لال کتاب سے فتوے نہیں دیا۔ حالانکہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے اور ایک ہی جھاڑو کی تیلیاں۔ ایک ہی زمین کی کہاوتیں ہیں۔ لال گرو کے چیلے تو مردے کی نماز اور قبر پر بیٹھ کر قل اور فاتحہ وغیرہ سب پڑھتے پڑھاتے ہیں، تیجا۔ دسواں، بیسواں، چہلم وغیرہ بھی مناتے ہیں۔ جیسے لال گرو کو چڑھاوے چڑھتے تھے اس سے زیادہ مرزا قادیانی کو چڑھتے ہیں۔ اب کیا کسر رہ گئی دونوں ٹوکرے وزن میں کیوں برابر نہ ہوں؟

(ایڈیٹر)

٢....... مرزائی مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم لکھتا ہے کہ ٨؍مارچ ١٩٠٣ء کو لالہ چندولال صاحب کی عدالت میں مقدمات پھر پیش ہوئے۔ پہلے مسٹر اڈگارمن صاحب بیرسٹر ایٹ لا۔ لاہور پیروکار منجانب حضرت اقدس (مرزا) کے تار کے متعلق جو صاحب ممدوح نے لاہور سے بھیجا تھا ذکر ہوا کہ صاحب ممدوح بوجہ بیمار ہونے کے حاضر نہیں ہو سکے۔ اس لئے مقدمہ کا التوا ہوا۔ مگر عدالت نے بایں وجہ کہ خواجہ صاحب بھی پیروکار ہیں مقدمہ کو شروع کیا۔ اور خواجہ صاحب کو تقریر متعلقہ مقدمہ کے لئے ارشاد فرمایا۔ تقریر شروع کرنے سے پہلے حضرت اقدس کے تحریری بیان کے متعلق عرض کیا گیا جو عدالت نے پچھلی پیشی پر پڑھنے کے لئے لیا تھا اور آج اس کا فیصلہ کرنا تھا کہ وہ شامل مثل کیا جائے یا نہ، عدالت نے اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ شامل مثل ہو۔ فریق مخالف نے اعتراض کیا مگر عدالت نے فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ شامل مثل ہو اس لئے شامل مثل کیا گیا۔

اس کے بعد خواجہ صاحب نے اپنی تقریر شروع کی ٤ گھنٹے تک خواجہ صاحب تقریر کرتے رہے جس میں انہوں نے قانونی طور پر مستغیث کے اپنے بیان اور گواہوں کے بیانات سے استنباط کر کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مقدمہ ہمارے خلاف چل نہیں سکتا۔ ٩؍ کو وہ اپنی اس تقریر کو ختم کر چکے اور آج شاید فریق مخالف جوابی تقریر ختم کرے۔ اس کے بعد مقدمہ ٤١١؍ بر خلاف کرم الدین کے متعلق تقریر شروع ہوئی اور ازاں بعد مجسٹریٹ نے ہر سہ مقدمات کا یکجائی فیصلہ سنانے کا وعدہ کیا ہے۔

ایڈیٹر....... نہ صرف ننھے منے لے پالک کا اتنا سا کلیجا بلکہ اس حکم سے تو ہمارا ہاتھ بھر کا کلیجا بھی دھڑکنے لگا کہ عدالت ایک ہی تاریخ کو تینوں مقدمات یکجا کر دے گی اور مثلیں لے پالک کے اپیل کرنے سے پہلے باآسانی ہائی کورٹ میں بھیج دے گی کہ کچہری بے مدعی فضل خدا۔ یہ فال

٨٤

صفحہ ١٠١

اچھی معلوم نہیں ہوتی۔ عدالت کا عندیہ تو بجز مجدد کے جس پر خدائے علام الغیوب کی جانب سے الہام ہوتا ہے کسی نامحرم کو معلوم ہونا مشکل ہے کیونکہ وہ عدالت ہی کیا جس کا راز فری میسن قبل از انفصال کسی پر کھل جائے اور ایک یورپین فلاسفر بھی کہہ گیا ہے کہ انصاف کے پاؤں اون یا روئی اور ریشم کے ہوتے ہیں جن کی آہٹ معلوم نہیں ہوتی مگر اس کے ہاتھ فولاد کے ہوتے ہیں جن کی مضبوط اور آہنی گرفت سے آسمانی باپ بھی نہیں بچا سکتا۔ ہاں اتنا ضرور کہہ گیا ہے کہ مقدمات میں کچھ اہمیت نہیں جبھی تو سب کے سب ایک لاٹھی ہانک دیئے جائیں پس یتیم اور معصوم لے پالک کو بھی چنداں خوف نہ کرنا چاہئے۔ ہمیں تو صرف یہ خیال ہے کہ گزشتہ الہامات توقع شکم کے بعد ریت کی طرح پھر ہو گئے۔ اخیر کا الہام ”وہم من بعد غلبہم سیغلبون“ (تذکرہ ص ٧٦٤، طبع سوم) تو پورا ہو۔ غضب ہے نا آسمانی باپ نے تو اندھیر نگری چوپٹ راجہ ہی والا معاملہ کر دیا کہ ایک الہام بھی صداقت کے گھاٹ نہ اترا۔ آسمانی باپ کی یہ سکھا شاہی تو دیکھی نہیں جاتی پس مجدد السنہ شرقیہ زور لگا رہا ہے کہ اور کچھ نہیں تو کسی طرح لے پالک کے آنسو ہی پونچھ جائیں۔

(ایڈیٹر)

٣ ...... اردو زبان میں تازہ چوپٹاتا الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مقدمات کا آخری الہام جو ١٠ مارچ کے الحکم میں شائع ہوا ہے یہ ہے ”میدان میں فتح خدا تجھے دے گا ۔“ (تذکرہ ص ٥٠٦، طبع سوم) معلوم نہیں وہ کونسا میدان ہے۔ عدالت کا میدان تو سامنے ہے جس میں بجز شکست کے اب تک کچھ نصیب نہ ہوا۔ آئندہ بھی دیکھا جائے گا اور اگر قیامت کا میدان مراد ہے تو وہاں کی شکست بھی مفتری علی اللہ کے کیریکٹر کے آئینے میں صاف نظر آرہی ہے۔ جس نے نہ صرف اپنے کو بروزی نبی بلکہ خدا کا لے پالک بھی بنا دیا۔ ”انہم یضا ھئون قول الذین کفروا من قبل قاتلہم اللہ الآیۃ“ تعجب ہے کہ لے پالک تو مجدد السنہ شرقیہ سے منحرف۔ مگر لے پالک کا باپ فوراً مجدد کے حکم کی تعمیل کرتا ہے کیا معنی کہ جب مجدد نے لے پالک کے ولی عہد کو ڈانٹا کہ عربی زبان میں کیوں الہام کرتا ہے جبکہ لے پالک کی مادری زبان اردو ہے۔ یہ تو تکلیف مالا یطاق ہے۔ بھلا لے پالک عربی زبان کون سے کالج میں پڑھتا پھرے گا مجدد کی اس لتاڑ کا یہ اثر ہوا کہ اب اردو زبان میں الہام ہونے لگا کچی آنچ کی کسر اب بھی رہ گئی کیا معنی کہ لے پالک جو اپنے کو ساری خدائی کا نبی اور امام الزمان بتاتا ہے۔ اس کو آسمانی ہائی سکول میں ایک ہی زبان کی تعلیم دی گئی

٨٥

صفحہ ١٠٢

ہے۔ بے رحم اور بے درد باپ نے تکلیف مالا یطاق کا پہاڑ ایک معصوم جان پر دھر دیا۔ ساری دنیا کی تبلیغ کا ڈپلومہ دے کر بھیج دیا اور یہ غریب صحیح اردو زبان بھی نہیں بول سکتا۔ انگریزی، فرنچ، لاطینی، چینی، روسی، ترکی وغیرہ زبانیں تو سات سمندر پار ہیں لے پالک تو خود ہندوستان کی زبانوں سنسکرت، گجراتی، مارواڑی، سندھی، مراٹھی، دکنی، پہاڑی، کشمیری، پشتو وغیرہ بیسیوں زبانوں سے نابلد ہے۔ بھلا وہ کس کس زبان میں اپنا فرض تبلیغ ادا کرے گا۔ آسمانی باپ نے تو جو منہ میں آیا بک دیا (الہام کر دیا) مگر وہی مثل ہوئی کہ اندھا گائے اور بہرہ بجائے۔

(ایڈیٹر)

٤ ...... نبی بھی اور امتی بھی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے تو بالکل امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ امت مرزائیہ کے تمام ارمان خاک میں ملا دیئے اور خود آسمانی باپ کا دل توڑ دیا۔ کیا معنی کہ وہ تو مرزا قادیانی کو لے پالک اور امام الزمان اور خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) قرار دے اور آسمانوں کی چھتوں پر اپنے چہیتے کی محبت میں یوں رنبھاتا پھرے جیسے رنبھاتی گائے اپنے بچھڑے کے پیچھے ۔ اور اکلوتا لے پالک اپنے کو محمدی مسیح (امتی) بتائے ۔ یا تو وہ اولوالعزمی کہ عرش کے تارے توڑنے کو ننھا منا ہاتھ بڑھائے یا یہ پست فطرتی کہ تحت الثریٰ کی حضیض میں گر جائے۔

وجہ یہ ہے کہ آسمانی باپ اور آسمانی پوتوں (مرزائیوں) نے تو لے پالک بھی مان لیا اور امام الزمان بھی اور مستقل رسول بھی۔ مگر نہ مسلمانوں نے مانا نہ ہنود نے ، نہ عیسائیوں نے نہ یہود نے۔ اور غضب تو یہ ہے کہ برٹش گورنمنٹ نے بھی نہ مانا جس کے سامنے بیٹھ بیٹھ کر ، لیٹ لیٹ کر، بسور بسور کر، دانت میں تنکے لے کر دسیوں مجرے اور خوشامدانہ ڈنڈوت کی گئی کہ میں غلام ابن غلام مستہام، رو کردہ خاص و عام، مردود علماء کرام و مشائخ عظام، اہل اسلام و قاطبۂ مذاہب عوام ہوں اور دنیا سے جہاد کے دور کرنے کو آیا ہوں اور مجھ میں یہ کرشمہ ہے کہ اگر برٹش گورنمنٹ پر روس یا کوئی اور غنیم حملہ کرے تو اپنی بدعاء بے درمان سے اس کی توپوں کے گولوں کو اولوں کی طرح ٹھنڈا کرسکتا ہوں۔ بندوقوں کو صندوقوں میں رکھے رکھے ہی گھن لگا سکتا ہوں۔ الغرض برٹش کے دشمنوں کو بے گھاس دانہ موت سے پہلے مار سکتا ہوں۔ اور اے ملکہ معظمہ اور اے ملک معظم ایڈورڈ ہفتم تمام علماء اسلام و مشائخ عظام میرے جانی دشمن ہو گئے ہیں۔ کیونکہ میں ان کی طبائع اور عقیدے اور کانسنس اور نیت کے خلاف جہاد کا مخالف ہوں اور تمام

٨٦

صفحہ ١٠٣

ہندوستان میں بجز میرے اور میری امت کے کوئی تیرا سچا دوست وفادار ہوا خواہ اور نمک حلال نہیں۔ میں حرام خور نہیں ہوں بلکہ حلال خور ہوں (مسلمان تو جہاد کی مخالفت کی وجہ سے مرزا قادیانی کے مخالف ہیں مگر عیسائی اور آریا وغیرہ کیوں مخالف ہیں؟) حالانکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا البتہ اپنے کو سوڈان کے بہت سے مہدیوں کی طرح مہدی ضرور بنایا اور یہ خوشخبری خود محمد ﷺ دے گئے ہیں کہ میرے بعد مہدی پیدا ہوگا اور ایسا اور ویسا ہوگا میرا تمام حلیہ مہدی کے حلیے فرمودہ محمد ﷺ سے ملتا ہے اور خود عیسیٰ مسیح بھی انجیل میں کہہ گئے ہیں کہ میرے بعد فارقلیط (تسلی دینے والا) آئے گا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ محمد صاحب ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ فارقلیط میں ہوں اور دو فارقلیط ہوں تو کیا برائی ہے عیسیٰ مسیح نے مطلق فارقلیط کے آنے کی پیشینگوئی کی ہے ایک یا دو یا تین دس یا بیس کی قید نہیں لگائی۔

محمد کی امت محمد ﷺ کو فارقلیط سمجھے میری امت مجھے فارقلیط سمجھے ایک سے دو بھلے دو دو اور چپڑی۔ اور مسلمانوں کی عقلوں پر تو ایسے پتھر پڑے ہیں کہ کوئی مہدی ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا۔ ہر مہدی کو جھوٹا بلکہ دجال قرار دیتے ہیں اس صورت میں تو قیامت تک کوئی مہدی نہ آئے گا۔ بد بخت مسلمانوں کی قسمت میں دجال ہی لکھے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ محمد ﷺ کی پیشینگوئی سچی ہو۔ شیعہ کہتے ہیں کہ ہمارا مہدی آچکا اب چھپا ہوا ہے۔ سنیوں سے شیعہ ہی اچھے۔ انہوں نے ایک مہدی آخر ڈھونڈ تو نکالا۔ میں اپنے دعوے میں اس لئے سچا ہوں کہ نہ صرف مہدی بلکہ مسیح موعود بھی ہوں۔ جتنے مہدی اب تک گزرے وہ سب مہدی ہی تھے۔ مسیح موعود بننے کا کسی کو بھی حوصلہ نہ ہوا۔ یہ میرا ہی جگر ہے کہ میں نے محمد ﷺ کی اس پیشینگوئی کو سچا کر دکھایا کہ لا مہدی الا عیسیٰ اور اگر لندن میں مسٹر پکٹ نے اور پیرس میں ڈاکٹر ڈوئی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ میری ہی تقلید ہے۔

دونوں بالکل جھوٹے ہیں کیونکہ وہ خالی خولی مسیح ہیں نہ کہ مہدی بھی۔ مجھ جیسا جامع صفات مہدی نہ تو اب تک پیدا ہوا نہ آئندہ قیامت تک پیدا ہوگا۔ اس لئے میں نے اپنے لئے خاتم الخلفاء کا لقب تراشا ہے جن کے سر میں آنکھیں ہیں وہ مجھ میں کچھ اور ہی جلوہ دیکھتے ہیں۔ میں نپٹ اندھوں اور چشم پوش والوں کو کیا دکھاؤں جنہیں موتے دھار بھی نہیں سوجھتی اور اگر میں نے عیسیٰ مسیح کے کیریکٹر پر حملہ کیا تو یہ بھی کوئی فطری جرم نہیں۔ یہودیوں نے مجھ سے کہیں بڑھ کر حملے کئے ہیں۔ اور ہر مذہب والے دوسرے مذہب کے پیشواؤں پر حملے کر رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔

٨٧

صفحہ ١٠٤

دیکھو آریا اور عیسائی ، محمد ﷺ صاحب کی نسبت کیا کہتے ہیں۔ میں نے ہی ایسا کونسا ناقابل معافی جرم کیا ہے۔ پس اے ہزمیجسٹی ملک معظم ایڈورڈ ہفتم اب تیری عدالتیں بھی مسلمانوں کا منہ کر کے جو جہاد پر تلے بیٹھے ہیں۔ دربارہ امتناع جہاد میری دشمن ہو گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں تعزیر کے اڑنگے میں دھرا جاؤں اور مکافات کے شکنجے میں کھینچا جاؤں۔ پس ابن اللہ عیسیٰ مسیح کے صدقے مجھے دشمنوں کے ظالم پنجوں سے بچا۔

تیرے ہاتھ بہت لمبے لمبے ہیں تیرے کان خدائی ٹیلیفون ہیں۔ میری یہ فریاد خورو روح القدس تیرے گوش ہوش میں ضرور پہنچا دے گا۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی کے باد ہوا دعاوی پر ایمان لانے والے کیسے بھلے آدمی ہیں کہ نہ ان کے سروں میں دماغ ہے نہ دماغ میں عقل ہے آپ اپنے کو نبی بھی بتاتے ہیں اور امتی بھی۔ آنحضرت ﷺ کو بظاہر کامل بتاتے ہیں اور اپنے کو ناقص۔ پھر یہ حماقت تو دیکھئے کہ اپنے کو بروزی بھی قرار دیتے ہیں بھلا کامل کا بروزی ناقص کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس صورت میں تو وہ بروزی ہی نہیں رہتا۔ ہاں اس کو شیطان کا برازی کہئے۔ آپ کہتے ہیں ناقص نبی قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ لغوی معنی کے اعتبار سے ہر شخص ناقص نبی یعنی کسی نہ کسی بات کی خبر دینے والا اور جملہ خبر یہ سے تکلم کرنے والا ہے۔ آسمانی باپ نے لے پالک میں کونسے سرخاب کی دم لگائی؟ پھر کیا کسی نبی نے کہا ہے کہ میں ناقص نبی ہوں اور فلاں فلاں کامل نبی ہیں؟ کیا قدرت الٰہی ناقص ہے کہ دنیا میں ناقص نبی بھیجتی اور ناقص دین پر لوگوں کو ایمان لانے کی تکلیف دیتی اور دنیا میں ناقص دین پھیلاتی ہے؟ دعویٰ تو بظاہر ناقص نبی ہونے کا ہے۔ مگر اپنے کو کامل انبیاء موسیٰ وعیسیٰ علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی اکمل بتایا جاتا ہے۔ مطلب یہی ہوا نا کہ تمام انبیاء ناقص ہیں اور میں کامل ہوں ہذاخلف۔

اب بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ گردن میں پلاسٹر لگایا جائے اور آپ کو پاگل خانے بھیجا جائے کیونکر طمع دنیوی اور خود غرضی انسان کو مجنون بنا دیتی ہے۔ اور آپ بھی اس میں مجبور ہیں۔ اطمینان فرمائیے کہ مجد دالنہ مشرقیہ کے عہد وتجدید مہد میں ایسے لغو اور لادائل دعوے چل نہیں سکتے۔ اب وہ بوند ولایت گئی۔ وحشت لد گئی جہالت گدھے کے سینگ کی طرح پزادے میں دفن ہوگئی۔

(ایڈیٹر)

٥ ...... مرزا قادیانی پر فروقرار داد جرم لگائی گئی

مولا نا شوکت اللہ میرٹھی !

مجدد کی پیشینگوئی نہ کبھی خالی گئی ہے نہ انشاء اللہ آئندہ خالی جائے گی۔ بار ہا سمجھایا کہ

٨٨

عدالت سے مقد علماء اور مشائخ ؟ الہامات ) کو کدا رہا ہے مگر مجدد کی الدین صاحب ب کی سٹی گم ہے۔ اخبار کہتے ہیں نہ سنے و بروزیت تو گئی جدا سر پیٹ رہا ہ کے ٹوٹے کا دھڑ سے فقرہ ہوگئے شکست ، شکست بکتا ہے۔ الغرض دکھا دیں۔ کہ کہ

نہیں ابھی زندہ ہیں ج بنا سکتا ہے جس حریف سے پہلے شائع ہو چکی ہے عدالت مظلوم اور دھکیل دے گی۔ نہیں آتا۔ تاہم کیونکہ دولاکھ چن پھر ق

صفحہ ١٠٥

عدالت سے مقدمات اٹھا لو۔ ضرر رسانی کی پالیسی تہہ کر رکھو۔ دھونس ڈال کر اپنے کو موعود نہ منواؤ۔ علماء اور مشائخ کو نہ ستاؤ۔ مونچھیں نیچی کرلو۔ اپنے خرف اور بدحواس آسمانی باپ (شیطان کے الہامات) کو گدھے کی لات خرافات واہیات سمجھو۔ وہ لے پالک کی مت مار رہا ہے دھوکے دے رہا ہے مگر مجدد کی ایک بھی نہ سنی۔ شیطان نے کان بہرے کر دئے تھے۔ انجام یہ ہوا کہ مولوی کرم الدین صاحب کے لائبل کے استغاثے پر عدالت نے فرد قرار داد جرم لگا دی۔ اب مرزا قادیانی کی سٹی گم ہے۔

اختلاج قلب ہے۔ ضعف اعضاء رئیسہ ہے۔ گپ چپ کے لڈو کھا گئے ہیں۔ نہ کچھ کہتے ہیں نہ سنتے ہیں۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ فرد جرم کا سنانا پیام موت نہ ہو جائے۔ مہدویت وبروزیت تو گئی چولہے میں۔ اب تو لے پالک کی جان ہی کے لالے پڑ رہے ہیں۔ آسمانی باپ جدا سر پیٹ رہا ہے پوتے جدا بے دانہ دنکا بلبلاتے ایڑیاں رگڑتے پھرتے ہیں۔ سب کو بھوجنوں کے ٹوٹنے کا دھڑکا ہے۔ یہ چھٹیاں اور اللے تللے پھر کہاں نصیب، کچھ پوتے تو مایوس ہو کر ابھی سے مفرور ہو گئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کیونکہ الہامات مغلوب ہو گئے۔ یعنی فتح کا الہام ہوا اور ملی شکست، شکست کا الہام ہوتا تو فتح نکلتی جبھی تو ہم نے کہا تھا کہ آسمانی باپ خرف ہو گیا ہے ہذیان بکتا ہے۔ الغرض مہدویت ومسیحیت کی سلامتی یا موت متذکرہ لائبل پر منحصر ہے۔ اس کے بعد ہم دکھا دیں گے کہ ؎

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا

نہیں نہیں لے پالک ابھی چند روز اور بھی دنیا کی ہوا کھائے گا۔ مسٹر پگٹ، ڈاکٹر ڈوئی ابھی زندہ ہیں جب تک وہ نہ مرلیں لے پالک نہیں مر سکتا۔ اور نہ آسمانی باپ لے پالک کو جھوٹا بنا سکتا ہے جس نے یہ کہنے کا الہام کر دیا تھا کہ ڈاکٹر ڈوئی مجھ سے مباہلہ کرے جو جھوٹا ہو وہ اپنے حریف سے پہلے مرجائے۔ چنانچہ کسی گزشتہ ضمیمے میں مرزا قادیانی کا یہ قول اور اس پر ہماری رائے شائع ہو چکی ہے۔ دیکھ لینا مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی کو مار کر بھی مرزا قادیانی ہی مریں گے۔ کیا عدالت مظلوم اور معصوم لے پالک پر مطلق رحم نہ کرے گی۔ کیا جرمانہ لے گی۔ کیا کال کوٹھری میں دھکیل دے گی۔ کیا اس کے کانسنس پر آتھم کی طرح رعب کا کچھ بھی اثر نہ ہوگا۔ ہم کو تو ہرگز یقین نہیں آتا۔ تاہم خوف کی کوئی وجہ نہیں جرمانہ تو مرزا قادیانی ایک لاکھ روپیہ تک داخل کر سکتے ہیں کیونکہ دو لاکھ چیلے ایک ایک روپیہ دیں تو وہ دو لاکھ روپیہ ہوتا ہے۔ پھر فنڈ بھی مختلف چندوں سے بھر پور ہے۔ نئی اور پرانی منقول جائیداد بھی ہے اور

٨٩

صفحہ ١٠٦

بالفرض کال کوٹھری ہی ہو گئی تو کیا ۔ یہ تو عیسیٰ مسیح کی سنت ہے۔ آپ چونکہ مثیل مسیح ہیں لہٰذا صلیب نہ ہو تو کم از کم جیل خانہ تو ہو ۔ پس مرزا قادیانی کو بڑی خوشی اور ثبات واستقلال سے سزا کو قبول و منظور کرنا چاہئے۔ بشرطیکہ عدالت سزا دے حالانکہ یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں اور جب کہ خود لے پالک اور آسمانی باپ دونوں نیچا کھا گئے تو دوسروں کو کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ عدالت کیا کرے گی لے پالک کو ذرا حوصلہ کرنا اور نیل کی دھار دیکھنی چاہئے۔ فرد قرار داد جرم لگ جانے سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ عدالت سزا ہی دے دے گی۔ مرزا اور مرزائیوں کو یوں اطمینان کرلینا چاہئے کہ عدالت ہر طرح ضابطہ بندی اور تکمیل مثل کی پابند ہے تا کہ کوئی سقم یا کمی نہ رہ جائے جس کی وجہ سے مجرم عدالت بالا سے صاف چھوٹ جائے اور بالفرض قید ہی ہو گئی۔ تب بھی لے پالک کے کھرے ہیں۔ مرزائیوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ یہ منجانب اللہ ابتلاء تھا بعض انبیاء بھی قید رہ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے لمبی کڑیاں جھیلیں پس مرزا قادیانی کسوٹی پر کس کر اور بھی کھرے ہو جائیں گے اور زیادہ قیمت کو بکیں گے۔

حیرت ہے کہ قرار داد جرم کا حکم سنتے ہی مرزا قادیانی کا ایسا پتلا حال کیوں ہو گیا کہ ہر طرح مایوس ہو کر بھی یقین کر بیٹھے کہ سزا ملے گی۔ کیا کوئی تازہ غضبناک الہام ہوا ہے جس نے پچھلے الہاموں کو جو فتح کا آرڈر لائے تھے۔ منسوخ کر دیا ہے کیا کانشنس نے ان کو شرمایا ہے کہ تو نے کیا جھک مارا تھا جس کی یہ سزا ملی اور اسی باعث ان کا جی چھوٹ گیا ہے ہمت ہار بیٹھے ہیں کیونکہ مجرم کو نوعیت جرائم پر نظر کر کے اپنا انجام ضرور معلوم ہو جاتا ہے ۔

وفا نمیکند امید مغفرت بلیاس
نه زانکه عفو الهی نساز دم مغفور

ہماری رائے میں تو مرزا قادیانی کے حق میں سزا ہی مفید ہے کیونکہ وہ متنبہ ہو کر آئندہ ایسے افعال سے باز رہیں گے اور سزا کا ملنا ہی گویا ان پر رحم ہے ورنہ کیریکٹر پر نظر کر کے ساری عمر قید خانہ ہی میں کٹ جائے گی کیونکہ بزرگان مذاہب پر سب وشتم کرنے سے ان کے دشمن رات دن بڑھتے چلے جائیں گے جس کا انجام سب کو معلوم ہے بشرطیکہ مرزا قادیانی ہماری بات سمجھیں سراسر نفع تو اس میں تھا کہ وہ اقراری مجرم بن جاتے اور عدالت کو زیادہ تکلیف نہ دیتے ہماری رائے میں قید یا جرمانہ کی سزا تو چنداں قابل لحاظ نہیں نہ اس کی پروا۔ البتہ عقیدہ ..... مرزا قادیانی کو تو صرف یہ رونا ہے کہ میرے گوزشتر ہو جانے سے علماء اسلام اور مشائخ تو بڑے خوش ہوں گے سکھوں کی مجتمع داڑھی کا ایک ایک بال مور کی دم کی طرح جب وہ ناچتا ہے کھل جائے گا۔ آریا

٩٠

صفحہ ١٠٧

چندے ہی دھوتیوں میں آنند ہو جائیں گے اور مہاراج دیانند سرستی کی جے کے بھجن گائیں گے۔ عیسائی کوٹ پتلون میں پھولے نہ سمائیں گے۔

ٹوپیاں اچھالیں گے کہ وہ مسیحیت ومہدویت کا خمیازہ نہیں خمیر اٹھ رہا ہے۔ انگریزی اخبارات پائینز وغیرہ خوش ہو ہو کر ریمارک کے لئے جدے قلم اٹھائیں گے کہ آج پنجابی نبی جس کے خروج کی یورپ وامریکہ میں دھوم تھی اپنی مرزائی امت کا کفارہ ہو گیا۔

فی الحقیقت یہ ایسی جگر گداز باتیں ہیں جس نے مرزا قادیانی کو اختلاج قلب وغیرہ کا جو کچھ صدمہ ہو بجا ہے لیکن یہ ہم پیشینگوئی کرتے ہیں کہ اصل خیر ہے۔ کستوری یاقوتیاں اور جندبے دستری مجونیں مرزا قادیانی کو ہرگز نہ مرنے دیں گی وہ آج ہی کے لئے معدے میں ریزہ در فتنہ کی طرح جمع ہو رہی تھیں۔

(ایڈیٹر)

٦...... ایک ایک حاکم دراصل گورنمنٹ ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

گورنمنٹ ایک شخص مجسم اور اس کے اعضاء آنکھ کان دل و دماغ وغیرہ ماتحت حکام ہیں جو تمام ملک میں مقرر ہیں۔ ان کا ایک ایک اجلاس حقیقت میں ہوم گورنمنٹ کا اجلاس ہے۔ دیکھ لو اگر کوئی ملزم کسی اجلاس کی اہانت کرتا ہے تو اس پر یہ کہہ کر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے کہ اس نے ہزمیجسٹی ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے اجلاس کی توہین کی۔ اور جس طرح اعلیٰ گورنمنٹ ملک کی کیفیت اور کروڑوں رعایا کی طبیعت وحیثیت اور عام پولیٹکل حالت کو زیر نظر رکھتی ہے۔ ماتحت حکام بھی اپنے فیصلوں میں اس کا لحاظ کرتے ہیں اور کیونکر نہ کریں کہ وہ انتظام اور امن وامان کے قیام واستحکام کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے پوری کونسل کے اجلاس سے لے کر آنریری مجسٹریٹوں کے اجلاس تک سب گورنمنٹ کے اجلاس ہیں اور سب اپنے درجے کے موافق اسی طرح حکم نافذ کرتے ہیں جس طرح گورنمنٹ اور جیسے شعاعیں آفتاب سے نکل کر آفتاب ہی کی جانب رجوع ہوتی اور اس میں چھپ جاتی ہیں۔

تمام فیصلوں اور انتظاموں کی رپورٹ گورنمنٹ میں ہوتی ہے اور گورنمنٹ ان سے نتیجہ نکال کر اپنا ریمارک مشتہر کرتی ہے اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ حکام ماتحت کے تمام فیصلے درحقیقت گورنمنٹ کے فیصلے ہوتے ہیں اور اگر گورنمنٹ کسی حاکم کا فیصلہ منسوخ کرتی ہے تو وہ گویا اپنے ہی فیصلہ پر نظر ثانی کرتی ہے۔

اگر کوئی حاکم کسی عادی چور یا ڈاکو یا قاتل یا جعلساز کو سزا دیتا ہے یا کسی بدمعاش اور

٩١

صفحہ ١٠٨

تھانیدار (رسہ گیر) سے مچلکہ ضامنی لیتا ہے تو اس کی وجہ یہی نہیں ہوتی کہ اس پر جرم ثابت ہے۔ بلکہ یہ امر ملحوظ رکھتی ہے کہ خلق اللہ کو امن ملے گا اور دوسرے بدمعاشوں اور ظالموں کو عبرت ہو گی۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کو اگر مولوی کرم الدین کے استغاثہ لائیبل پر سزا ملی تو یہ سزا محض اس لئے نہ ہو گی کہ انہوں نے مولوی صاحب کو لئیم لکھا تھا بلکہ اس قسم کے تمام مجرمانہ افعال پر نظر ہوگی۔ شہادت خود مرزائی کتابوں سے عدالت کے سامنے پیش کی گئی ہے گویا مرزا قادیانی کے ہاتھ کٹ گئے ہیں اور از ماست کہ بر ماست کی پوری مثل صادق ہو گئی ہے۔ مرزا قادیانی نے تو مسیحیت و بروزیت کی برانڈی کے نشے میں ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا نہ صرف زندہ علماء اور مشائخ بلکہ گزشتہ انبیاء اور اولیاء پر سب و شتم اور لعنت کا مینہ برسانا شروع کر دیا اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو تو کہیں کا بھی نہ رکھا جن کو قرآن مجید میں خدائے تعالیٰ اپنا کلمہ اور اپنی روح قرار دیتا ہے۔

وہ اولوالعزم مسیح علیہ السلام جن کی نسبت پیغمبر عرب و عجم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو بچہ شکم مادر سے زمین پر آتا ہے اس کو شیطان چھوتا ہے مگر عیسیٰ اور اس کی ماں مریم علیہا السلام کو شیطان نے نہیں چھوا۔ سبحان اللہ سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر عیسیٰ مسیح کی عظمت اور عصمت کا اور کیا ثبوت ہوگا؟ مگر معلوم نہیں مرزا نے باوصف دعویٰ مسلمانی اپنا کلیجا کیسا پتھر کا کر لیا اور اپنے کانشنس کو کیسا مسخ کر دیا کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو ایک مہذب انسان کے درجے سے بھی گرا دیا۔ وہ عیسیٰ مسیح جن کی پرستش تمام یورپ کرتا ہے اور خود برٹش گورنمنٹ بھی اس کو اپنا نجات دہندہ یقین کرتی ہے۔ کس قدر خیرگی اور نمک حرامی ہے کہ گورنمنٹ کے اسی نجات دہندہ اور خدا کو بے ساختہ گالیاں دی جائیں جس کی کروڑوں رعایا مسیحی ہے اور گورنمنٹ نے جو آزادی از راہ شفقت مادری عطا فرمائی اسی آزادی کے تیروں سے گورنمنٹ کا کلیجا چھیدا جائے۔ اور قانون سڈیشن کو پشت ڈال کر گورنمنٹ کی وفادار رعایا میں ناراضی پھیلائی جائے ۔

کس تیر ستم کا ہے نشانہ انصاف سے دیکھنا میرا دل

مرزا قادیانی کی جو تحریریں اور جو دعوے شائع ہوئے کیا وہ گورنمنٹ کی نظر سے نہیں گزرے کیا انگریزی اخباروں نے ان پر خوفناک ریمارک نہیں کئے مگر مرزا قادیانی متاثر نہ ہوئے پھر گورنمنٹ میں لگاتار دھواں دھار میموریل بھیجے کہ میرے ساتھ دولاکھ والنٹیر ہیں۔ میں بڑا صاحب وقعت وسطوت ہوں یہ گویا گورنمنٹ پر در پردہ دھمکی تھی۔ شامت جب آتی ہے تو ایسی ہی سوجھتی ہے مگر جس طرح خدائے حقیقی کی لاٹھی میں آواز نہیں اسی طرح گورنمنٹ مجازی کی لاٹھی میں بھی آواز نہیں بالآخر مرزا قادیانی نے جو دام اوروں کے پھانسنے کو تیار کیا تھا۔ آپ ہی اس میں

٩٢

صفحہ ١٠٩

پھنس گئے۔ مرزا قادیانی کے ساتھ دو لاکھ والنٹیروں کے ہونے کا اعلان بلائے جان ہو گیا۔ اگرچہ نہ تھی فوج کی بھیڑ بھاڑ کیا پدی کیا پدی کا شور با ہے لیکن پولیٹیکل نظر سے دیکھنے والے اس کو خوفناک سمجھتے ہیں کیونکہ مذہبی جمگھٹ بالآخر پولیٹیکل جمگھٹ ہوجاتے ہیں۔ آخر سوڈان میں مہدیوں نے کیا کیا اور اب صومالی مُلا کیا کر رہا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے آنکھ اٹھا کر دنیا کا نظارہ نہ کیا اور وہ دعوے کئے کہ آج تک کسی مہدی نے نہیں کئے۔

ہم مرزا قادیانی کے ہرگز دشمن نہیں ہیں۔ ہم ان کے بھلے کو سال بھر سے برابر فہمائش کر رہے ہیں کہ آپ کے حق میں یہ دعوے مضر ہیں اور ان کا انجام بہت برا ہے اور اب بھی ہم چاہتے ہیں کہ سارے دعوے واپس لیں اور سیدھے سادھے سچے مسلمان بن جائیں۔ اور آفات سے محفوظ رہیں۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم اپریل کے شمارہ نمبر ١٣ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی کے گلے میں استروں کی مالا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی نے مہدی اور مسیح بن کر سادہ لوحوں کو مونڈنا تو شروع کر دیا مگر یہ خبر نہ رہی کہ یہ دعویٰ ان کے گلے میں استروں کی مالا ہو جائے گا۔ آزادی کا زمانہ ہے مذاہب آزاد ہیں میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں جسے چاہوں گالیاں دوں۔ اہل مذاہب میں اشتعال پیدا کروں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ خبر نہیں کہ مزعومہ آزادی کا بال بال قانون تعزیر میں جکڑا ہوا ہے جب تک کوئی رعایا ایک گورنمنٹ کی محکوم ہے ہرگز آزاد نہیں ہو سکتی گورنمنٹ نے جب دیکھا کہ پریس کی آزادی

٩٣

صفحہ ١١٠

رعایا کو گریز پا بنا دے گی تو خاموش سیڈیشن کی ایک بیڑی اور بڑھا دی۔

قدم رکھنا سنبھل کر محفل رنداں میں اے زاہد
یہاں ساغر چھلکتا ہے یہاں پگڑی اچھلتی ہے

اگر مرزا قادیانی بروزی نبی اور موعود مسیح تھے تو صرف اپنے دعوے پر دلائل قائم کرتے اور سچے دینداروں کی طرح دشمنوں کو بھی حلم اور وقار سے دوست بنا کر مسخر کرتے۔ بھلا کسی آسمانی کتاب یا صحیفے میں دکھائیں تو سہی کہ ایک نبی نے دوسرے نبی کو برا کہا ہے؟ کلام مجید نے تو انبیاء میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں رکھا اور تمام انبیاء کو مساوی درجہ عطا فرمایا۔ بلکہ بت پرستوں کی نسبت بھی حکم دیا کہ ان کو برا نہ کہو۔ سبحان اللہ کیا تہذیب و متانت اور سلامت روی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی نسبت جناب باری نے فرمایا ”انك لعلى خلق عظيم“ اور خود آنحضرت نے اسی بناء پر فرمایا ”بعثت لاتمم مكارم الاخلاق “ کیا خلق عظیم اور مکارم اخلاق یہ اجازت دیں گے کہ مخلوق کا دل دکھاؤ ان کے بزرگوں اور معبودوں کو برا کہہ کر اشتعال دلاؤ۔ مرزا قادیانی نے تو اس خشونت اور تعصب سے کام لیا ہے اور اپنے طرز کلام میں جس کو وہ الہام بتاتے ہیں بدگوئی کا وہ ہنجار اختیار کیا کہ ایک فحش گو بھی اس کو عار سمجھے گا۔ پھر بھی آپ برگزیدہ نبی اور مامور من اللہ ہیں۔

کسی مذہب کو برا کہنے سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قائل کے دل میں اس کی جانب سے سخت عداوت اور نفرت بھری ہوئی ہے۔ اور اگر اس کا قابو چلے تو جدال و قتال سے ہرگز باز نہ رہے۔ مسیح علیہ السلام کو جو گالیاں دی گئیں تو تمام مسیحیوں نے جن میں گورنمنٹ بھی شامل ہے یقیناً یہی نتیجہ نکالا ہے کہ مرزا ہمارے مذہب سے سخت برافروختہ ہے اور بس چلے تو عام طور پر جہاد کرے اور سب کو تہ و تیغ کر ڈالے اور ظاہر ہے کہ جس شخص کے پاس دو لاکھ قلمی والنٹیر ہیں وہ تو جہاد اور جدال و قتال کا پورا مسالہ رکھتا ہے اور ایسے شخص کا وجود بہت خوفناک ہے۔ مذہبی خصومت و منافرت نے دنیا میں کیا کیا خون خرابے نہیں کئے؟

یورپ جو آج کل اعلیٰ درجے کی تہذیب پر پہنچا ہوا ہے تواریخ میں دیکھ جاؤ کہ ایک ہی مذہب کی شاخیں آپس میں رگڑ کھا کر درخت چنار کی طرح کیسی مشتعل ہوئیں کہ سارا بن جلا دیا اور گیلی سوکھی ایک بھاؤ جلنے لگی۔ نہ صرف انبیاء بلکہ تمام مذاہب پر سب و شتم کرنے سے کیا مرزا قادیانی کا یہی مقصد نہیں کہ میں سب سے بہتر ہوں۔ فلاں مذہب میں یہ عیب اور فلاں نبی اور رفارمر میں یہ نقص ہے۔ اصلی مہدی اور مسیح اور اصلی نبی میں ہوں۔ میرے سوا سب جھوٹے اور

٩٤

صفحہ ١١١

جعلی اور کم از کم ناقص تو ضرور تھے۔ میرا نیا احمدی (مرزائی) مذہب بھی سب مذاہب سے اچھا ہے۔ اس لئے اعلان عام ہے کہ کوئی احمدی کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔

یہ تعصب خشونت، عداوت اور مذہبی نفرت نہیں تو کیا ہے۔ خدائے تعالیٰ تو قرآن میں یہ حکم دے کہ ”وارکعوا مع الراکعین“ یعنی نماز پڑھنے والوں کے پیچھے نماز پڑھو۔ یہ عام حکم ہے کسی فرقہ کی تخصیص نہیں اور اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”صلوا خلف کل برو فاجر“ اور مرزا قادیانی اپنی محدثہ جماعت کو یہ حکم دیں کہ ڈیڑھ اینٹ کی جدی چنو اور ڈھائی چاول قادیانی دیگ دانی میں جدی ہی گلاؤ۔ بظاہر جہاد کا انکار اور صلح کاری کا اعلان۔ لیکن کسر صلیب اور قتل خنازیر کا دعویٰ، اور پادری لوگ دجال ،مرزا قادیانی کی کس کس ناعاقبت اندیشی کو رد کیا جائے۔ آپ اپنی الہامی کتاب (ازالہ اوہام حاشیہ ص٩٧، ٩٨،خزائن ج ٣ص ١٤٩) میں لکھتے ہیں کہ:”کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر ایک چھت کے قریب۔ جو شخص زمین پر بیٹھا ہے میں نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا۔ تب میں نے دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اس کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ بولا ایک لاکھ فوج نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب میں نے دل میں کہا کہ پانچ ہزار تھوڑے ہیں لیکن اگر خدا چاہے تو تھوڑے ہی بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی ”کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله“

مرزا قادیانی اپنے مذکورہ بالا کشف کی لاکھ تاویل کریں مگر ان کے مخالفین المعنی فی بطن الشاعر کو ہرگز نہ سمجھیں گے اور ظاہری معنی مراد لیں گے کہ آپ مذاہب غیر پر جہاد کرنے کو ایک لاکھ فوج چاہتے ہیں اور اس سے آپ کی نیت ظاہر ہے یہ چند سال قبل کا واقعہ ہے۔ پچھلے سال تو مرزا قادیانی نے اپنی فوج دو لاکھ کے قریب بتائی ہے اور ایک سال میں اس نے انڈے بچے بھی ٹڈی دل کی طرح ضرور دیئے ہوں گے۔ جس سے چار لاکھ والنٹیر ہوگئے ہوں گے۔ اب کیا تھا سیاں بھئے کوتوال جس کے چار بھائی اتارلیں پگڑی اور چھین لیں رضائی۔ ہم محکم دلائل سے متواتر ثابت کر چکے ہیں کہ مذہب اسلام میں ویسا ہی جہاد ہے جیسا یورپ میں ہے اور آج کل چین و جاپان کے مابین ہورہا ہے اور اکثر ہوتا ہے اور ہوچکا ہے مگر اسلام میں حاکم وقت پر جہاد (بغاوت) کرنا ممنوع ہے اور نہ مسلمانوں میں اب جہاد کا خیال ہے وہ تو جہاد کو بالکل بھول گئے

٩٥

صفحہ ١١٢

ہیں ۔ مگر مرزا قادیانی نے قتل خنازیر اور کسر صلیب کا اپنی نسبت اعلان دیکر برخلاف تمام مسلمانوں کے ثابت کر دیا ہے کہ مجھ میں جہاد کا مادہ ہے۔ بلکہ میں جہاد کرنے پر مستعد ہوں اور جب مقدس پادریوں کو جو گورنمنٹ کے پیشوا ہیں دجال قرار دیا ہے تو گورنمنٹ ضرور ہوشیار ہو گئی ہوگی اور اس کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ اگر اب ہندوستان میں جہاد ہوا تو مرزا قادیانی کی بدولت ہوگا۔ پس گھڑی کی چوتھائی میں اس کا قلع قمع ہونا چاہئے ۔ چنانچہ غالباً اب اس کا وقت آگیا اور یہ وقت مرزا قادیانی نے مولوی کرم الدین پر نالش کرکے خود پیدا کیا اور اپنی راہ میں کانٹے بوئے۔ واضح ہو کہ قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے اور مرزا قادیانی کی بدولت چند مرتبہ جھگڑے ہو کر عدالت تک نوبت پہنچ چکی ہے مگر عقل نہ آئی ۔ اب گورداسپور کے حکام کو خوف ہوا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے کارن ضرور کبھی نہ کبھی کوئی بڑا بھاری فساد ہوگا جس سے امن میں خلل آجائے گا اور پھر گورنمنٹ میں ہماری بدنامی ہوگی اگر یہ کشتن روز اول پر عمل نہ کیا اور خاردار زہریلے درخت کی شاخیں بڑھنے دیں اور حکام گورداسپور کا خیال ہے بھی بجا۔ جب مرزا قادیانی علی الاعلان نہایت سختی کے ساتھ تمام مذاہب کو اشتعال دلا رہے ہیں تو وہ بظاہر جہاد کے مخالف ہیں مگر عملاً جہاد کرنے پر ہر وقت مستعد ہیں پس عدالت کو خوف ہوا کہ ایسا نہ ہو کوئی سنگین واقعہ پیش آجائے اور کوئی بھاری جھگڑا کھڑا ہو جائے جس کے فرو یا فیصل کرنے میں عدالت کو تکلیف ہو لہذا اس کا حفظ ماتقدم ضروری سمجھا۔ ہم لکھ چکے ہیں اور پھر لکھتے ہیں کہ قبل از فیصلہ عدالت الہامات فتح کا شائع کرنا بے نظیر فرمائشی حماقت ہوئی ہے۔ گویا عدالت کو اشتعال دلایا ہے۔ آسمانی باپ اگر چند روز اپنے پوپلے منہ میں جو حرف بے تہدید کی طرح دانتوں سے خالی ہے۔ گھنگھنیاں بھر کر بیٹھا رہتا اور اگر وہ ہذیان میں خاموش نہ رہ سکتا تھا تو نرے بالک ہی چند بے ہودگی معجون کی طرح پیٹ میں پچا لیتا اور اس کی سرسراہٹ بھی نہ ہونے دیتا تو کیا مشکل تھی مگر افسوس ؎

نہالے را کہ پروردیم آخر نخل ماتم شد

٢ ...... مرزا قادیانی پر فرد جرم

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اخبار زمیندار لاہور بحوالہ روزانہ پیسہ اخبار لکھتا ہے کہ ”١٠ / مارچ ١٩٠٣ء کو بمقدمہ لائیبل جو مولوی کرم الدین صاحب ساکن ضلع جہلم نے برخلاف مرزا قادیانی اور ان کے مرید حکیم فضل الدین پر گورداسپور میں بعدالت رائے چندولال صاحب دائر کیا تھا۔ اس میں دونوں پر فرد قرار داد جرم لگ گئی۔ مرزا قادیانی جواب کے لئے ٤ / مارچ کو طلب ہوئے اور فضل دین صاحب کا

٩٦

جواب لیا گیا، نقل غلام احمد ملزم پر ح شائع کی جس میں کذاب استعمال ضلع جہلم میں شا ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ کے ذریعے حکم دیا ایڈیٹر ...... عدال لئیم ، بہتان عظیم باپ اپنے لے پ بلکہ اعلیٰ درجہ کی ب کے لئے کیا الہا اور اس سے مسیح میں اس سے چا صاحب اپنی در جرم کی سنگینی میں دیتا تو عدالت ح رائے پر غور کر مولوی کرم الدی

عدال مگر انجام پر نظر کر گی۔ عاقبت بخی چاہے گا۔ دیوانی اور اگر مقدمہ عد

صفحہ ١١٣

جواب لیا گیا۔ نقل فرد قرار داد جرم حسب ذیل ہے میں چندولال مجسٹریٹ اس تحریر کی رو سے تم مرزا غلام احمد ملزم پر حسب تفصیل ذیل الزام قائم کرتا ہوں کہ تم نے کتاب مواہب الرحمٰن تصنیف کر کے شائع کی جس میں (ص ١٢٩، خزائن ج١٩ص٣٥٠) میں مستغیث کی نسبت الفاظ، لئیم، بہتان عظیم اور کذاب استعمال کئے جو اس کی توہین کرتے ہیں اور تم نے ١٧؍جنوری ١٩٠٣ء کو یا اس کے قریب ضلع جہلم میں شائع کی لہٰذا تم اس جرم کے مرتکب ہوئے جس کی سزا مجموعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند میں مقرر ہے اور جو میری سماعت کے لائق ہے۔ اور میں اس تحریر کے ذریعے حکم دیتا ہوں کہ تمہاری تجویز بنا بر الزام مذکور عدالت موصوفہ کے روبرو عمل میں آئے۔‘‘

ایڈیٹر ...... عدالت کا عندیہ تو کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا کیا فیصلہ دے گی مگر پبلک یہی کہے گی کہ الفاظ لئیم، بہتان عظیم، کذاب در حقیقت گالیاں ہیں نہ کہ قادیان کی ٹکسالی گالیاں، ہاں اگر آسمانی باپ اپنے لے پالک پر الہام کر دے کہ یوں ڈیفنس کرو اور مذکور بالا الفاظ کو توہین اور ہتک نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی مدح فلاں فلاں دلیل سے ثابت کرو تو مضائقہ نہیں۔ پس ہم منتظر ہیں کہ ڈیفنس کے لئے کیا الہام ہوتا ہے اگرچہ معافی مانگنے کی حرکت الہامی فتح کے ناموس کے بظاہر خلاف ہوگی اور اس سے مسیحیت وموعودیت پر مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک حرف آئے گا لیکن موجودہ حالت میں اس سے چارہ نہیں۔ ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ اول تو مولوی کرم الدین صاحب اپنی دریا دلی سے ضرور معافی دیں گے اور معافی نہ بھی دی تو عدالت میں معافی مانگنے سے جرم کی سنگینی میں ضرور خفت آجائے گی کیونکہ جب مدعی باوصف معافی مانگنے کے ملزم کو معافی نہیں دیتا تو عدالت حسب اقتضاء حالت ضرور رحم کرتی ہے۔ امید کہ مرزائی پارٹی ہماری اس خیر خواہانہ رائے پر غور کرے گی۔ اور اگر مرزا قادیانی اپنے تمام دعوے واپس لے لیں تو ہم ذمہ کرتے ہیں کہ مولوی کرم الدین صاحب قطعی معافی منظور فرمائیں گے۔

(ایڈیٹر)

٣ ...... مسلسل فوجداری مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

عدالت فوجداری میں خون لگا کر جانا اور سادے کاغذ پر استغاثہ دھر دھانکنا آسان ہے مگر انجام پر نظر کرنا کہ اس بیج کے بونے سے کیسی کیسی شاخیں نکلیں گی اور وہ شاخیں کہاں تک پہنچیں گی۔ عاقبت بینوں کا کام ہے۔ اگر الزام ثابت ہو گیا تو مدعی، ملزم کو سزا دلوانے کے بعد اپنا خرچانہ چاہے گا۔ دیوانی میں جائے گا اور نہ صرف مدعا علیہ بلکہ مدعی کے پیچھے بھی پیروی کا جھاڑ لگ جائے گا اور اگر مقدمہ عدم ثبوت میں خارج ہو گیا تو مدعی پر دفعہ ٢١١ عائد ہوگی اور بسا اوقات گواہوں پر دفعہ

٩٧

صفحہ ١١٤

سزا اور اگر خلاف بیانی میں کوئی گواہ دھرا گیا تو کیا ہی کہنے ہیں۔ الغرض عدالت میں جانے اور اس کے مصائب جھیلنے کو بڑا کلیجا چاہئے۔ یک سر و ہزار سودا کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ پھر ملزم کی طرف سے بالا عدالتوں میں اپیلوں کا سلسلہ اور درصورت ناکامی مدعی کی جانب سے نگرانیاں ہوتی ہیں۔ کیا یہ کہ کھپ کھیڑ پن ناک میں نکیل ڈالنے اور روپیہ برباد ہونے کے لئے کچھ کم ہیں۔

اب خیال کرنا چاہئے کہ مولوی کرم الدین صاحب نے جو فریب کا دعویٰ کیا تھا کامل ١٤ ماہ تک مقدمے کا خمیر اٹھتا رہا اور طرفین کو تکلیفیں اور زیر باریاں ہوئیں جہلم اور گورداسپور میں مارے مارے پھرے اور زیادہ تکلیف مولوی کرم الدین صاحب کو ہوئی کہ انہوں نے صرف اپنی ذات سے مصارف کی زیر باری اٹھائی۔ مرزا قادیانی کے پاس تو مفت کا روپیہ تھا کیونکہ ان کے مرید بڑے بڑے مالدار اور لکھ پتی سیٹھ ساہوکار ہیں۔ معقول فنڈ ہر وقت جمع رہتا ہے پانی کی طرح جس قدر روپیہ بہائیں کم ہیں تو کیا اب مولوی کرم الدین اپنا ہرجانہ نہ چاہیں گے اور اب اگر ان کا دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ گیا تو کیا وہ ڈبل ہرجانہ وصول کرنے کے مستحق نہ ہوں گے اور پھر غیر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی خاموش ہورہیں اور اپیل نہ کریں اور وکیلوں بیرسٹروں کے کھرے نہ ہوں کیونکہ وہ تو ایسی ہی سونے کی چڑیا کے منتظر رہتے ہیں۔ الغرض ابھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ طرفین سے کہاں تک نوبت پہنچے گی اور کہاں تک مقدمات کا شیرہ بہے گا۔

آسمانی باپ نے الہام تو کر دیا کہ مقدمہ دائر کرو مگر یہ نہ سمجھایا کہ لے پالک کس حد تک اس بکھیڑ کا متحمل ہوگا اور باوصف مہدی اور مسیح بننے کے اس کو کہاں کہاں جانا اور کہاں کہاں کی ہوا کھانا ہوگا اور مسیحیت ومہدویت کی بھی ساتھ ہی خیر منانی پڑے گی یا نہیں۔ وہ بھی کیسی بری گھڑی تھی جب مرزا قادیانی پر مقدمات کے دائر کرنے کا الہام ہوا تھا۔ وہ ادبار کا ایک متراکم ابر تھا جو چار طرف سے اندھیری ڈال کر آیا تھا جس میں شکست کی چکا چوند لگانے والی بجلیاں چمک رہی تھیں اور ذلت کی ہولناک رعد گرج رہی تھی۔ "فيه ظلمات ورعد وبرق يجعلون اصابعهم في آذانهم من الصواعق حذر الموت الآیۃ" مگر مرزائی پارٹی نے منادی غیب کی یہ ندا نہ سنی اور "صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لا يرجعون" کی مصداق بن گئی۔ غرور کا نشہ دماغوں میں سمایا تھا پکے گھڑے کی چڑھی تھی کہ ہمارا کوئی کیا کر سکتا ہے۔ دولاکھ کی جمعیت، خزانہ معمور، متمول مریدوں کی جیبیں بھرپور، قانونی مشیروں کا دماغ فلک پر کہ ہم ابھی ابھی مخالفوں کو نیچا دکھا دیں گے۔ ان سے جیل خانے بھروائیں گے تاوان اور جرمانوں کی بھر مار سے سب کا پلیتھن نکال دیں گے۔ ایک ایک مرزائی آسمان پر تھوک رہا تھا کہ اب حضرت اقدس کی صداقت کے آفتاب

٩٨

صفحہ ١١٥

نصف النہار سے بھی زیادہ روشن ہونے کا زمانہ آ گیا لیکن قدرت الہی کچھ اور ہی کہہ رہی تھی بالآخر بڑے بول کا سر نیچا ہوا اور ابھی کیا ہے ذرا دیکھتے تو جائیے کیا کیا ہوتا ہے۔ اس خودسری اور خدائی دعویٰ کا کوئی ٹھکانہ بھی ہے کہ اپنی فتح یابی ڈنکے کی چوٹ مشتہر کر دی اور نہ صرف ایک، بلکہ متواتر صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو فتح کا کامل وثوق ہو گیا تھا اور تمام مرزائی امت نے اپنے نبی کے الہامات آمنا وصدقنا کہہ کر مان لیے تھے۔

مگر اپنے خوارق اور اعمال نامے پر نہ مرزا قادیانی کی نظر تھی نہ مرزائی پارٹی کی۔ اب عدالت میں وہ اعمال نامے پیش ہوئے تو تڑکا ہو گیا۔ اور آنکھیں کھل گئیں کہ کس خمار نخوت میں مبہوت تھے۔ مرزا قادیانی سمجھے کہ میں گورنمنٹ کے سر پر تو چنور پھیر ہی رہا ہوں کہ جہاد کا مخالف ہوں اور میرا مشن اسی لئے ہے۔ پس جس طرح چاہو خلق اللہ کی دل آزاری کرو اور انبیاء اور اولیاء اور تمام پیشوایان مذہب کو گالیاں دو گورنمنٹ میری حامی ہوگی۔ میں نے اس کے منہ کو خوشامد کی رشوت کی چاٹ لگا دی ہے۔ پس وہ مثل مشہور جس کا کھائیے اس کا گائیے پر عمل کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ طمع اور خود غرضی اور حب جاہ انسان کو حماقت اور ناعاقبت اندیشی کا پتلا بنا دیتی ہے۔ گورنمنٹ جو ٣٠ کروڑ انسانوں پر حکومت کر رہی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی دانائی (حماقت) سے اسے نادان سمجھا اور امتناع جہاد کا اعلان ہی بلائے جان ہو گیا۔ گورنمنٹ سمجھ گئی کہ مرزا بلطائف الحیل اپنے کو جہاد کا مخالف بتاتا ہے اور جب اس کی جمعیت دو لاکھ سے بڑھ کر دس پانچ لاکھ ہو جائے گی تو دوسرے مہدیوں کی طرح خود جہاد کرے گا پس مرزا اقراری مجرم ہے۔

(ایڈیٹر)

٤ ...... مرزائیت سے توبہ

از جانب مولوی قاری خلیل الرحمن انبالوی عفی عنہ !

حمد و نعت کے بعد تمام اہل اسلام کو بشارت تازہ کہ آج بدھ کے روز مغرب کے وقت بتاریخ ١٣؍ ماہ ذی الحجہ ١٣١٤ھ ایک عام مجمع کے سامنے تین آدمی جو مرزائی عقیدہ رکھتے تھے میرے ہاتھ پر توبہ کر کے زمرہ مسلمانان میں شامل اور گروہ مومنین میں داخل ہوئے اور توبہ کے وقت مولوی اکبر حسین صاحب لدھیانوی بھی موجود تھے۔ چنانچہ ان کی شہادت بھی اس پر درج ہے۔ مجھے امید کامل ہے کہ اور مرزائی بھی اس اشتہار کو دیکھ کر اپنے باطل عقیدوں سے توبہ کر کے مسلمان بن جائیں گے۔ خداوند کریم ان کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ضد اور تعصب کو ان کے دل سے نکال دے۔ آمین! خدا کا شکر ہے کہ کچے باغ کی تینوں مسجدوں بلکہ تمام شہر کے رائیوں نے اتفاق

٩٩

صفحہ ١١٦

کر لیا ہے کہ یہ اور چند مرزائی جب تک توبہ نہ کریں گے ہم ان کو کسی تقریب میں شریک نہ کریں گے۔ ان تینوں آدمیوں کے نام جنہوں نے توبہ کی یہ ہیں۔

العبد العبد العبد اللہ بندہ ولد فاضل غلام نبی ولد اللہ بندہ جانی ولد اللہ بندہ

گواہ شد گواہ شد منشی عبد الغنی (چودھری شہر) چودھری مکھن تالیہ ساکن انبالہ شہر

از جانب مولوی اکبر حسین لدھیانوی حنفی نقشبندی

خدا کا شکر ہے کہ آج بتاریخ ١٣ ذی الحجہ مطابق ٢ مارچ ١٩٠٣ء کو روبرو ایک مجمع کثیر مومنین کے اپنے عقائد فاسدہ مرزا قادیانی سے مسمی اللہ بندہ ولد فاضل قوم ارائیں بدست حضرت مولانا مولوی حافظ محمد خلیل الرحمٰن امام مسجد پختہ باغ نقشبندی مجددی توکلی ہمراہ اپنے دونوں فرزندوں جانی وغلام نبی کے تائب ہوکر داخل گروہ اہل اسلام ہوا، اور عقائد مرزائیوں سے بیزار ہو کر سچے دل سے توبہ کر کے شامل زمرہ مسلمانان ہوا۔ وہ مقرّ ہے کہ میں آئندہ مرزائیوں کے ساتھ میل جول اللہ کے واسطے ترک کرتا ہوں۔ میں خدا سے توفیق چاہتا ہوں کہ اہل سنت والجماعت کے زمرہ میں میرا خاتمہ ہو اور جب تک زندہ رہوں دین محمدی پر قائم ہوں۔ خداوند کریم اور مرزائیوں کو بھی یہی توفیق دے کہ وہ بھی تائب ہوکر مسلمانوں میں شامل ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔ سند کے واسطے ان کے انگوٹھے ومہر بھی لگوا دیئے ہیں۔

گواہ شد نیاز آگین اکبر حسین غوثی نقشبندی لدھیانوی عفی عنہ

المشتہر جمعدار چودھری رحمت اللہ و دیگر ارائیں انبالہ شہر محلہ پکا باغ۔

ایڈیٹر:....... ہم لکھ چکے ہیں کہ مسیحیت ومہدویت کا بالکل مدار مقدمات پر ہے۔ اب یکے بعد دیگرے رخصت ہوتی جاتی ہے۔ مرزائیوں کے فرو ہونے کا ٹپکا لگ گیا ہے۔ اب چند روز میں ٹاپا بالکل خالی ہو جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

٥ ....... اصلاح تمدن اور قرآن مجید کی تعلیم

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

نہ صرف ہمارا شہری صحیفہ عصر جدید بلکہ ہر ایک مسلم اور فرزند اسلام کے سچے فدائی کا اسپر ایمان ہے کہ تمام دینی اور دنیوی امور کی ہدایت و اصلاح بہتری وفلاح قرآن مجید ہی کے

١٠٠

صفحہ ١١٧

ذریعے سے ممکن ہے ورنہ نہ دین ہے نہ دنیا ہے ہر طرح خسارہ ہی خسارہ ہے۔

عصر جدید نے لکھا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیم اگر سچے طریقے سے ہو اور اوہام پرستی اور رسم پرستی اور باطل عقائد ازمنہ کی روشنی میں اس کو (قرآن کو) دیکھا جائے تو وہ بھی بجائے ایک حبل متین ہونے کے ایک مجموعہ الفاظ ہو جاتا ہے۔ جس کو ربڑ کی طرح ہر شخص اپنی طرف کھینچ کر اپنے خام اور غلط اور پژمردہ خیال کو تمدن کی تصویر بنا لیتا ہے۔ پس قرآن شریف کا مطالعہ عقل و علم کے نور سے ہونا چاہئے۔

بہت معقول ریمارک ہے مگر الحکم اس سے انکار کرتا ہے وہ نہیں چاہتا کہ قرآن مجید کا مطالعہ عقل و علم کے نور سے کیا جائے۔ اس کے نزدیک گویا قرآن مجید خلاف عقل و علم ہے اور قرآن کو عقل و علم سے کوئی واسطہ نہیں۔ ”نعوذ باللہ من ھذه السخافة والبلادة والكفر والطغيان والبهتان والهذيان“

قرآن مجید تو اپنے کو برہان مبین بتائے اور الحکم (قادیان) اس کو خلاف عقل قرار دے۔ الحکم کو یقیناً برہان کے لغوی معنی بھی معلوم نہیں۔ ہم سے سنو! برہان کے معنی دلیل روشن اور حجت قاطع کے ہیں کیا دلیل روشن اور حجت قاطع خلاف علم و عقل ہوتی ہے؟ دلیل روشن یعنی آفتاب کی طرح روشن جس کا کوئی ذی عقل اور ذی حس اور ذی بصر انکار نہیں کر سکتا۔ حجت قاطع یعنی منکر معاند کے ہر ایک دعوے اور دلیل کے کاٹنے والی پس ایسی شے کو وہی لوگ خلاف عقل کہیں گے جو مادر زاد اندھے ہیں اور دنیوی خود غرضی اور طمع نفسی کا جالا ان کی آنکھوں پر آگیا ہے جو بے عقل سادہ لوحوں کو قرآن سے پھیر کر اپنی بروزیت (استدراج یا تناسخ) پر لا رہے ہیں۔ اور قرآن کی غلط تاویلیں کر کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

استدراج اور تناسخ تو خلاف عقل نہیں نہ متنبی بن جانا خلاف عقل ہے۔ مگر قرآن معاذ اللہ خلاف عقل ہے۔ اندھوں پر فریب کا مسمریزم ڈالا جاتا ہے کہ جو کچھ میں کہوں وہ مانو۔ قرآن بھی میری عقل کا تابع ہے۔ اگر قرآن کو خلاف عقل نہ بتائیں تو لچر اور پوچ دعوے کیونکر چل سکیں؟ حج کو جانا خلاف عقل یعنی اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ ہاں قادیان کا طواف اور حج مطابق عقل ہے۔ زکوٰۃ وغیرہ کا ایک پیسہ کہیں نہ دو سب قادیان میں جھونک دو تا کہ زعفرانی حلوؤں اور مقوی معجونوں میں کام آئے۔ جائیدادیں خریدی جائیں۔ مرزائیوں کے لئے زیور مرصع بجواہر تیار ہوں جو عین عقل ہے؟ مسیح علیہ السلام کا زندہ رہنا جو قرآن سے ثابت ہے خلاف عقل ہے مگر اس کا دوبارہ دنیا میں ایک چیچی مغل کے قالب میں حلول کر جانا خلاف عقل نہیں۔

١٠١

صفحہ ١١٨

حدیثوں میں مہدی و مسیح کے آنے کی پیشینگوئی مطابق عقل ہے بہت سے دجال (مہدیان کذاب) اب تک آچکے اور یہ پیشینگوئی بڑے دھڑلے کے ساتھ واقع اور پوری ہو چکی مگر دجالوں کا آنا پھر بھی خلاف عقل ہے۔ مرزائی الہام ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ (تذکرہ ص ٧٩، طبع سوم) یعنی شخص واحد کا لاکھوں انبیاء کے حلوں (قالبوں) میں آنا خلاف عقل نہیں مگر انبیاء کا معصوم ہونا خصوصاً عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا۔ جن کو قرآن کلمتہ اللہ اور روح اللہ قرار دیتا ہے خلاف عقل ہے۔

ایڈیٹر الحکم نے اپنی راگ مالا کا تان اس پر توڑا ہے کہ علم اور عقل کی روشنی مسیح موعود (مرزا) کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جو اپنے کو نور و کتاب مبین کہتا ہے یہ غلط ہے وہ تو بالکل تاریک ہے۔ مرزا قادیانی ہی اس پر اپنے علم و عقل کی روشنی ڈالیں تو قرآن نور بن سکتا ہے۔ بس جناب معلوم شد تانت باجی اور راگ بوجھا۔ مرزا قادیانی میراثی طور پر بھی راگ مالا اپنے ساتھ لائے ہیں۔

(ایڈیٹر)

عدالت پر الزام

الحکم مطبوعہ ١٧؍ مارچ میں لکھا ہے کہ جب مرزا قادیانی کی طرف سے علالت کا ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا تو عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر صاحب شہادت کے لئے پیش ہوں اس پر ہر چند عذر کیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کی علالت کا جب سرٹیفکیٹ پیش ہوا تو عدالت نے ان کے ڈاکٹر کو شہادت کے لئے کیوں طلب نہ کیا مگر یہ عذر مسموع نہ ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گواہ تھے اور مرزا قادیانی ملزم ہیں ملزم اور گواہ کی حیثیت میں بڑا فرق ہے۔

دوم...... پیر صاحب ممدوح ایک گوشہ نشین درویش ہیں مہدی بن کر مختلف مذاہب میں فیلنگ پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔ نہ کسی مذہب کی دل آزاری کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی حالت ظاہر ہے۔ پس مرزا قادیانی کی علالت کا اعتبار نہ ہوا اور پیر صاحب کی علالت کا ان کی حیثیت اور چال چلن کے موافق اعتبار ہوا۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٢ء، ١٩٠٨ء اپریل کے شمارہ نمبر ١٤، ١٥؍ کے مضامین

١٠٢

صفحہ ١١٩

٢...... ماموریت و ہلاکت۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣...... ملہم کا اعتقاد پیر ملہم پر۔ اللہ دتہ۔ جھنگ! ٤...... انکار معجزات۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥...... آسمانی نشان کا ظہور۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٦...... مرزا قادیانی کے مشن کا پولیٹیکل پہلو۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... آخری الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم نے مرزا قادیانی کا آخری الہام یہ لکھا ہے ”ان شانئك هو الابتر (تذکرہ ص ٢٦٥)“ جیسے مجددانہ مشرقہ شوکت اللہ نے ڈانٹا ہے۔ مرزا قادیانی نے آیات قرآنی کا مسخ و سلخ کرنا یا ایک ٹکڑا کسی آیت سے اور دوسرا ٹکڑا کسی دوسری آیت سے لے کر کمپاؤنڈ الہام تیار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب پوری آیت لے لیتے ہیں مگر بالکل بے محل اور خلاف مورد۔ کیا معنی کہ کلام مجید حسب اقتضاء وقت نجماً نجماً نازل ہوا ہے جو آیات کے شان نزول کے مطالعہ سے ظاہر ہو سکتا ہے اب سنئے۔ سورۃ الکوثر اس وقت نازل ہوئی ہے جبکہ صاحبزادگان رسول مقبول ﷺ یعنی طیب و طاہر علیہما السلام نے متواتر وفات پائی۔

کفار خوش ہوئے کہ اب محمد ﷺ ابتر ہو گیا۔ (معاذ اللہ) ان کو خوف ہوا کہ نبی کی اولاد بھی ہم کو بت پرستی اور شرک سے روکے گی۔ ابتر بتر سے ماخوذ۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنی پیچھا کٹے کے ہیں یعنی مقطوع النسل۔ کفار کے اس طعن سے آنحضرت ﷺ کو اور بھی رنج ہوا۔ تب خدائے تعالیٰ نے اپنے حبیب کی تشفی کے لئے سورہ کوثر نازل فرمائی کہ ”انا اعطینك الكوثر“ یعنی طیب و طاہر کے بدلے ہم نے تجھ کو کوثر عطا فرمایا ہے کوثر کثرت سے ماخوذ ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے وہ شے جو بہتات اور کثرت رکھتی ہے۔ اس سے مراد حوض کوثر بھی ہو سکتی ہے جس میں بڑی کثرت سے مومنین کو دودھ اور شہد ملے گا اور قرآن بھی مراد ہو سکتا ہے جو دین اور دنیا کی نعمت ہے اور اُمت بھی مراد ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے ”من سلك على طريقتى فهو آلى“ یعنی جو شخص میرے بتائے ہوئے راہ پر چلتا ہے۔ وہی میری اولاد ہے اس حیثیت سے آپ کی اولاد شرق سے غرب تک کثرت کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے اور آج کے روز

١٠٣

صفحہ ١٢٠

دشمنان دین کفار و مشرکین عرب کا کہیں پتا بھی نہیں۔ جیسا کہ ”ان شانئك هو الابتر“ سے ظاہر ہے یہ خدائے تعالیٰ کی پیشینگوئی ہے جو روز روشن کی طرح دنیا پر آشکارا ہو رہی ہے کہ آپ کا دشمن ہی پیچھا کٹا ہے۔

اب مرزا قادیانی فرمائیں کیا وہ مقطوع النسل ہیں۔ کیا وہ صاحب اولاد نہیں کیا پچھلے دنوں ان کے دو فرزند وفات پاچکے ہیں؟ شاید آسمانی باپ نے الہام کر دیا ہو کہ میرا لے پالک اب نہیں تو آئندہ چند روز میں ضرور مقطوع النسل ہو جائے گا۔ ہمارا قابو چلے تو اس بدشگونی پر کھوسٹ گنجے آسمانی باپ کے منہ میں انگارے بھر دیں۔ کہ مردود اپنے لے پالک کو مقطوع النسل کرنا چاہتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کے دشمن تو ہندوستان کے ٣٠ کروڑ آدمی ہیں کیا وہ سب مقطوع النسل ہیں یا ہو جائیں گے ہرگز نہیں سب مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دلیں گے۔ انشاء اللہ ہمارے پیارے اور چہیتے الحکم کا فرض ہے کہ ایسے اندھا دھند الہامات شائع نہ کیا کرے جن کی بدشگونی خود مرزا قادیانی کی ناک پر استرا چلائے، دیکھو خبردار ہوشیار اگر یہ آخری الہام ہے تو الہی خیر۔ (ایڈیٹر)

٢ ...... ماموریت و ہلاکت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

دنیا میں خصوصاً عدالتوں میں لوگ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں مگر کوئی ہلاک نہیں ہوتا لیکن مرزا قادیانی الحکم مطبوعہ ١٧ مارچ میں بحروف جلی فرماتے ہیں کہ ”میرا دعویٰ جھوٹا نہیں خدائے تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور اس کی تائید میرے ساتھ ہے اگر میں اس کی طرف سے مامور نہ ہوتا تو وہ مجھے ہلاک کر دیتا ..... الخ“

(ملفوظات ج ٩ ص ٢٨٩)

واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ کسی کو قبل از وقت موعود جو اس نے مقرر کر دیا ہے ہلاک نہیں کرتا ”اذا جاء اجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون“ اور اپنے منکروں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ ہر طرح حجت قائم ہو اور قیامت روز پوچھا جائے ”ما سلككم في سقر “ کس شے نے تم کو دوزخ کی طرف چلایا؟ اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ”امهلهم رويدا“ پس مرزا قادیانی کو اپنی ہلاکت میں جلدی نہ کرنی چاہئے۔ خوب گل چھرے اڑائیں۔ دندنائیں، کستوری اور جند بیدستری معجونیں کھا کھا کر سنڈیائیں ، دن عید، رات شبرات منائیں۔

دیکھو ملک سوڈان وغیرہ میں کس قدر مہدی پیدا ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ سب نے انا ولا غیری کے نقارے بجائے اور یہی دعویٰ کیا کہ ہم مامور من اللہ ہیں مگر جب تک ان کی ذلت و رسوائی (جو منجانب اللہ مقدر تھی ) بخوبی نہ ہو چکی اور دنیا پر ان کے جھوٹے دعوؤں کے پاداش کی عبرت نہ

١٠٤

صفحہ ١٢١

پڑچکی۔ قبل از وقت ہلاک نہ ہوئے۔ شاید مرزا قادیانی ہلاکت سے جسمانی موت مراد لیتے ہیں۔ حقیقی ہلاکت کو بھولے ہوئے ہیں جو خدا پر افتراء کرتے ہی ان پر طاری ہوگئی ہے اور روح بالکل بے حس بلکہ مردہ بن گئی ہے جس کے مقابلے میں من مانی موت صرف ایک نقل مکانی ہے ۔

موت و ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

لندنی مسیح پکٹ اور فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور صومالی مہدی بھی یہی کہہ سکتے ہیں جو مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ مگر چاروں دل میں خوب جانتے ہیں کہ ہم سراسر جھوٹے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ ابھی ہماری ہلاکت کا زمانہ نہیں آیا۔ پس ایک مکار عورت کی طرح اپنے حمقاء و بلہاء کے سامنے مکر دلاسے کرتے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے سادھو بچوں کو کون سکھائے۔ ہلاکت، ہلاکت تو مرزا قادیانی کا تکیہ کلام بلکہ طبیعت ثانیہ بن گئی ہے۔ پچھلے دنوں پیشینگوئیوں سے اوروں کو ہلاک کرتے تھے اب اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بالکل اقدام خودکشی ہے۔ اور ہم ٹھہرے شحنہ، اگر ابھی ابھی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر مجسٹریٹ گورداسپور کے اجلاس میں چلتا کر دیں تو کیسی گت بنے۔ پس خبردار ایسی بات کبھی نہ کہو جو تمہارے نفس کے اندر نہیں اور جس کو تم خود جھوٹ سمجھ رہے ہو۔

٣ ...... ملہم کا اعتقاد پر ملہم پر

الحمدللہ ۔ حق!

مرزا قادیانی (توضیح مرام ص ٣١، خزائن ج ٣ ص ٦١) میں لکھتے ہیں: ”اُوپر کی طرف سے جو اعلیٰ درجہ کی محبت قوی کشش سے ملی ہوئی ہے جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر ربِ قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اور پھر ان محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہے ایک مستحکم رشتہ اور شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔“ اس عبارت سے چند امور ظاہر ہوتے ہیں۔

کی محبت مل جانے سے تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ نر اور مادہ وہاں بھی موجود ہے اور کیوں نہ ہو آپ خدا کے بمنزلہ ولد ہیں۔

١٠٥

صفحہ ١٢٢

اور (توضیح المرام ص ٤٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢) میں ہے: ”اور چونکہ روح القدس ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ سمجھ لیا۔“ اس عبارت سے بھی چند امور ثابت ہوئے۔

چیز ہے۔

ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ سمجھ لیا۔

اس جگہ مرزا قادیانی نے نصاریٰ کی تقلید کی اور ان کے ہم اعتقاد ہوئے دیکھو خط اول یوحنا باب ٥ آیت ٧ ”تین ہیں جو آسمانوں پر گواہی دیتے ہیں باپ اور کلام اور روح القدس یہ تینوں ایک ہیں۔“ مرزا قادیانی اور نصاریٰ کی تقریر میں فرق صرف چال بدلنے کا ہے۔ ورنہ دعویٰ دونوں کا ایک ہے۔ مرزائیو، دیکھو خدا کا فرمان ”ولا تقولوا ثلثة“ یعنی یہ نہ کہو کہ تین ہیں اور ”لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلثة وما من اله الا اله واحد وان لم ینتهوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منهم عذاب الیم (مائدہ:٧٣)“ یعنی قطعی کافر ہوئے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر ایک، اگر باز نہ رہیں گے اپنے قول سے، البتہ لگے گا ان کو عذاب درد ناک، مرزائیو تم بموجب آیات کس کو کافر کہو گے۔ خدا سے ڈرو ورنہ پچھتاؤ گے۔

دیکھو مرزا غلام احمد خدا سے برابر ہونے کے بھی مدعی ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) میں کہتے ہیں۔ براہین احمدیہ میں خدا نے مجھے کہا ہے ”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ یعنی تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید و تفرید۔

اس الہام سے ظاہر ہے کہ مرزا براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت توحید اور تفرید کا مرتبہ تو حاصل کر چکے تھے لیکن پورا خدا بننے میں کچھ کمی تھی جو عبارت ذیل سے پوری ہوگئی۔ دیکھو (اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣) ”اور دانیل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی زبان میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے ”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ مرزا قادیانی نے آپ ہی اپنے پہلے الہام کی تفسیر کر دی یعنی دانیل نبی کی کتاب سے تحریری ثبوت پیش کر کے اپنا خدا کی

١٠٦

صفحہ ١٢٣

مانند ہونا ثابت کیا۔ کیا اب بھی مرزائی جماعت انکار کرے گی کہ مرزا قادیانی خدا کی مانند ہونے کے مدعی نہیں، قرآن مجید میں تو ”لیس کمثلہ شئی اور قل ھو اللہ احد اللہ الصمد“ وارد ہوا اور براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ مرزا قادیانی کو ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ کہے۔ الحکم نمبر ٨؍ ج ٥ مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٠٤ء میں عبدالکریم صاحب مرزا قادیانی سے روایت کرتے ہیں کہ ”ایک روز کاسر الصلیب (مرزا قادیانی) فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ضرور جانتا ہے کہ کس قدر مجھے نصرانی مذہب کے استیصال کے لئے جوش ہے۔ پس میں اس کو ان لفظوں میں ادا کر سکتا ہوں کہ مجھے اس اعتقاد کی تباہی کے لئے اتنا جوش ہے کہ جتنا خود خدا کو۔“ خدا پر جھوٹ۔ ”ان اراد ان یھلک المسیح الآیۃ“

نصاریٰ کی بیخ کنی اور ان کے اعتقاد کی تباہی کے لئے مرزا قادیانی کے خدا کو بھی مرزا قادیانی کے مساوی جوش ہے۔ اس تحریر کو تقریباً چار سال کا عرصہ گزرا اور جوش تو دونوں کو اس سے پہلے کا ہوگا۔ لیکن اب تک دونوں سے کچھ نہ ہو سکا۔ اور مسلمانوں کا خدا تو اس بات سے پاک ہے کہ اس کو کسی چیز کی تباہی کے لئے عاجز انسان کی مانند جوش کھانا پڑے۔ بلکہ وہ تو ایسی طاقت رکھتا ہے کہ اگر چاہے تو تمام جہاں کو طرفۃ العین میں ہلاک کر دے۔ خود قرآن شریف گواہ ہے اور (تحفہ قیصریہ ص ٢٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦) میں لکھتے ہیں ”اے قیصرہ ملکہ معظمہ ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الہیٰ میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔“ کجا مرزا اور اس کے خدا کو عیسویت کی بیخ کنی اور تباہی کا جوش اور کجا عیسوی مذہب ملکہ کی اقبال مندی اور سلامتی کی دعا۔

اور رسالہ (دافع البلاء ص ٦،٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) میں لکھتے ہیں ”خدا نے مجھے کہا ہے ”انت منی وانا منک“ ہاں منک سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا مرزا قادیانی سے پیدا ہوا ہے۔ ”معاذ اللہ قرآن مجید میں لم یلد ولم یولد اور انت منی وانا منک مرزا قادیانی کا الہام۔

اے مرزائیو! تم خداوند قہار سے ڈر کر سچ کہو اگر کوئی اور شخص کہے کہ میں توحید اور تفرید کا مرتبہ رکھتا ہوں۔ یا یہ کہ وہ دانیال نبی کی کتاب میں مجھے خدا کی مانند لکھا ہے۔ یا یہ کہے کہ میں خدا سے ہوں اور خدا مجھ سے ہے تو تم اس کو کافر کہو گے یا نہیں؟ اگر دانستہ جھوٹ کہو گے تو کاذب کے واسطے خداوند قہار کی طرف سے لعنت کا خطاب موجود ہے۔

١٠٧

صفحہ ١٢٤

٤ ...... انکار معجزات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی بقول خود تو کم وبیش تین سو معجزات اب تک دکھا چکے ہیں۔ مگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ میں سے کسی نے معجزہ نہیں دکھایا۔ معجزہ خارق فطرت ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے لئے عین ہے۔ مردوں کو کسی نے خدا کے حکم سے زندہ نہیں کیا اور بے چارہ مسیح تو کیا زندہ کرتا جو مرزا قادیانی کے نزدیک مہذب انسان بھی نہ تھا۔ جس طرح زندہ کرنا صرف خدا کا کام ہے۔ اسی طرح مار ڈالنا بھی اسی کا کام ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے بذریعہ اپنے جلاد ایڈیکاگ (طاعون) کے لاکھوں آدمیوں کو مار ڈالا اور جو مخالف مرتا ہے اس کو مرزا قادیانی ہی مارتے ہیں۔ آتھم بھی پیشینگوئی کی میعاد کے اندر ہی مر گیا ہوتا مگر وہ دل میں مرزا قادیانی پر ایمان لے آیا اس لئے نہ مرا۔ اگرچہ اس نے ایمان لانے کا بظاہر اقرار نہ کیا۔ مرزا قادیانی نے بارہ ہزار کی تھیلیاں بھی جھکا دیں کہ اگر آتھم یوں کہہ دے کہ میرے دل پر خوف غالب نہیں ہوا یا میں دل میں ایمان نہیں لایا تو یہ تھیلیاں اس کی اور اس کے باپ دادا کی مگر آتھم کا فولادی دل بارہ سیر چاندی پر بھی نہ پگھلا۔

یہ عجیب نبی ہے کہ اپنی نبوت کا انکار کرنے والے کو انعام دیتا ہے اور جب دنیا میں انعام سبز دکھا کر مجبور کرتا ہے کہ میری نبوت کا انکار کر تو شاید اسی انکار کے باعث آخرت میں جنت کا مالک کر دے۔ کیوں بھئی مرزا جی! اب کیا صلاح ہے۔ جب دنیا میں دولت اور آخرت میں جنت آپ کے بروزی نبی نے منکروں پر لٹا دی تو آپ کے واسطے کیا رہا؟ ڈھاک کے تین پات وہی مثل ہوئی کہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔

خیر یہ تو انکار معجزات کا جملہ معترضہ تھا اب اصل حقیقت سنئے کہ میرٹھ میں چند مرزائی ہیں ہم سے اکثر ملاقات رہتی ہے اور معجزات پر بحث ہوتی ہے۔ ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزہ طلب کرنے پر بحث ہوئی۔ ” رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تؤمن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی قال فخذ اربعة من الطیر فصرهن الیک ثم اجعل علی کل جبل منہن جزءا ثم ادعہن یاتینک سعیا (بقرہ: ٢٦٠)“ مفسرینؒ نے جو کچھ اس آیہ کی تفسیر فرمائی ہے وہ تو علماء و ناظرین ضمیمہ پر بخوبی روشن ہے مگر ہم نے اس پر حسب ذیل مجددانہ بحث کی۔

ہم نے کہا بے شک محی اور ممیت خدائے تعالیٰ کی صفت ہے تم معجزات انبیاء کے منکر ہو مگر کیا قدرت الٰہی کے معجزات کے بھی منکر ہو جو ہمیشہ اور ہر وقت بطور سنت اللہ معجزات دکھاتی

١٠٨

صفحہ ١٢٥

رہتی ہے۔ آیت مذکورہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام معجزہ دکھانے کے مدعی نہیں بلکہ وہ تو جناب باری سے اس کی سنت کے موافق معجزہ طلب فرماتے ہیں کہ ”اے خدا تو فاطر السموت والارض ہے تو قادر مطلق ہے مجھے بھی دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرتا ہے۔“ اگر خدائے تعالیٰ احیاء اموات نہیں کر سکتا تو یہ سوال عبث ہوا حالانکہ نبی کا سوال عبث نہیں ہوتا۔ لہٰذا عبث کو خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے اور اس کو ضلالت کا سبب قرار دیتا ہے۔ اس پر مرزائیوں نے کہا وہ نبی ہی کیسا جو معجزہ دیکھ کر خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے۔ ہم نے کہا ”ارنی کیف تحی الموتی“ پر غور کرو آخر یہ کیسا سوال ہے اور کون سائل ہے۔ دوم..... کوئی نبی ماں کے پیٹ سے ہی نبی نہیں پیدا ہوا بلکہ یہ نعمت ہر نبی کو بعد میں ملی ہے۔ پڑھو ”ووجدك ضآلاً فهدیٰ (الضحیٰ:٧)“ آنحضرت ﷺ کی جانب خطاب ہے جس میں حالت قبل از وحی کو یاد دلا کر خدائے تعالیٰ اپنی تمام نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ہدایت فرماتا ہے کہ ”واما بنعمة ربك فحدث“۔

خدا کے فضل کا موسیٰ سے پوچھئے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

”ذالك فضل الله یوتیه من یشآء“ وحی اور الہام پر نبوت کا مدار نہیں۔ وحی اور الہام اچھا ہو یا برا ہو ہر شخص پر بلکہ ہر جاندار پر ہوتا ہے۔ ”اوحیٰ ربك الی النحل الآیہ“ اے محمد ﷺ تیرے رب نے شہد کی مکھی پر وحی بھیجی۔ ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم الآیہ“ تحقیق شیاطین اپنے چیلوں پر وحی بھیجتے ہیں۔ دیکھئے شیاطین بھی وحی کے مالک ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ آیت ”ماضل صاحبکم وما غویٰ“ آیت ”ووجدك ضآلاً فهدیٰ“ کے خلاف ہے تو جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں قبل از نزول وحی کی حالت کا بیان ہے اور دوسری آیت نبوت و نزول وحی کے بعد کی ہے۔ چنانچہ اس سے اگلی آیت ”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ اس کی شاہد ہے۔

آیت میں صرہن کے معنی پرزے یا اجزاء علیحدہ کر دینے کے ہیں۔ مگر مرزائیوں نے اپنے نبی کی نوایجاد تفسیر سے وہی معنی بیان کئے جو سیدالنیچر نے اپنی تفسیر میں لکھے یعنی جانوروں کو اپنی جانب رجوع کر اور پرچا وہ تیری جانب دوڑ کر چلے آئیں گے۔ ارے واہ رے نیچری مرزائیو! تمہاری تاویل کے کیا کہنے ہیں۔ جانداروں کا پرچانا بڑا بھاری معجزہ اور یہ آیت قدرت ہے گوالے بھینسوں کو چرواہے بکری بھیڑوں کو، چڑی مار وغیرہ طیور کو۔ حلال خور کتوں کو۔ پرچا لیتے ہیں کیا ایک اولوالعزم نبی جناب باری سے ایسے ہی آیات قدرت کے دیکھنے کی استدعا کرتا ہے۔

١٠٩

صفحہ ١٢٦

اور اپنا اطمینان چاہتا ہے۔ پھر سوال تو یہ ہے کہ اے خدا تو مردوں کو کیونکر زندہ کرتا ہے جواب یہ ہے کہ جانوروں کو پرچا۔ سوال از آسمان جواب از ریسمان۔ مرزائیوں نے کہا یہ تو قیامت کا ذکر ہے یعنی ابراہیم علیہ السلام نے سوال کیا ہے کہ یا الٰہی تو قیامت میں مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا اس کا جواب یہ ملا کہ جس طرح تو جانوروں کو پرچا لے گا۔ اسی طرح ہم بھی مردوں کو پرچالیں گے۔ ہم نے کہا یہ جانور تو دنیا میں تھے دعویٰ کی تطبیق کیونکر ہوئی۔ پھر کیا حشر اجساد معجزہ نہیں حالانکہ تم معجزات کے بالکل منکر ہو۔ جب تمہارے نزدیک دنیا میں مردہ زندہ نہیں ہو سکتا تو سالہا سال کے بعد جب ہڈیاں خاک ہو جائیں گی تو مردے کیونکر زندہ ہوں گے ”اذا متنا وكنا ترابا ذالك رجع بعید“ کیا تم ان منکروں سے کم ہو۔ یہ تو بالکل ”نؤمن ببعض ونكفر ببعض“ کا مصداق ہے۔ ہم نے ایک اور بات کہی کہ یاتینک سعیاً کیوں فرمایا یتینک طیراً کیوں نہ فرمایا جو طیور کے لئے موزوں تھا اس کا کچھ جواب نہ ملا۔ ہم نے کہا سعیاً اس لئے فرمایا کہ اگر وہ جانور اڑ کر آتے تو یہ احتمال ہوتا کہ شاید دوسرے جانور اُڑ کر آ گئے ہیں اور جب دوڑ کر سامنے سے آئیں گے تو یہ احتمال جاتا رہے گا۔

جب ہم نے موجہ بحث کرنی چاہی تو چونکہ مرزائیوں کی بات بات میں تناقض تھا۔ لہٰذا وہ سمجھ گیا کہ مجدد السنہ شرقیہ کے حضور ہماری کوئی بات چل نہ سکے گی۔ لہٰذا بحث کا خاتمہ ہو گیا یہ جاوہ جا۔

٥ ...... آسمانی نشان کا ظہور

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزائی اچھل کود رہے ہیں رنگ رلیاں منا رہے ہیں کہ لالہ چندولال صاحب مجسٹریٹ گورداسپور جنہوں نے ہمارے حضرت اقدس پر بلاوجہ ناکردہ گناہ خوردہ نہ بردہ ناحق درد گردہ خدا کی پناہ ایک نہ دو بلکہ تعزیرات ہند کی تین دفعات لگا دی تھیں۔ آخر کار قبل از فیصل کرنے مقدمہ کے عزل کے ساتھ گورداسپور سے بدل گئے۔ یعنی اب نرے منصف رہ گئے۔ بھلا آسمانی نشان کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں اب بھی دنیا ایمان نہ لائے تو جائے جہنم میں۔ اور اس شخص نے بھی عجیب اندھیر کھاتا مچایا تھا کہ مدعی کا بالکل جامہ ہی پہن لیا تھا۔ بات بات میں اسی کی طرفداری، اسی کا جثہ، اب دوسرا حاکم آتا ہے وہ خالہ کا بیٹا ہے۔ دیکھیں مولوی کرم الدین کیونکر کامیاب ہوتے ہیں۔ اور باگ تو درحقیقت آسمانی باپ کے ہاتھ میں ہے اگر چندولال اس کی مخالفت نہ کرتا تو یہ دن کیوں دیکھتا؟

١١٠

صفحہ ١٢٧

ہم بھی چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کسی طرح بچ جائیں کیونکہ وہ آسمانی باپ کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ کسی طرح نسل تو جاری رہے ورنہ آسمانی باپ کے خاندان کا ہی خاتمہ ہے۔ جتنے حکام آئے دن بدلتے رہتے ہیں اور گورنمنٹ گزٹ میں یہ تغیر و تبدل چھپ کر شائع ہوتا رہتا ہے یہ سب آسمانی نشان ہوتے ہیں کیونکہ وہ مستغیثوں کے ساتھ ناانصافی طرفداری اور تعصب مذہبی برتتے ہیں۔ لیکن اگر اس حاکم کے اجلاس میں بھی کامیابی نہ ہوئی تو کدھر جائے گا۔ کیا دوسرا آسمانی نشان ظاہر ہوگا اور وہ حاکم بھی اپنے درجے سے تنزل ہو کر بدلا جائے گا۔ ضرور بالضرور۔ آسمانی باپ نے الہام کر دیا ہے کہ ترکی پٹے اور تازی تھرائے۔ غیر ممکن ہے کہ مرزا جدید حاکم کے اجلاس سے کورے بری نہ ہوں۔ پہلا حاکم مولوی کرم الدین کا طرف دار تھا۔ نیا حاکم اس کے برعکس لے پالک کا طرفدار ہوگا۔ جب ہی تو آسمانی نشان ظاہر ہوگا۔ جس کا الہام ہو چکا ہے۔ پس مناسب ہے کہ الحکم میں گزشتہ متعدد الہامات کی طرح یہ الہام بھی شائع اور عدالت کی نظر سے گزر کر اس کو سابق مجسٹریٹ کی طرح تنبیہ ہو۔

٦ ...... مرزا قادیانی کے مشن کا پولیٹیکل پہلو

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ؒ

جس قدر مہدی آج تک گزرے اگر چہ سب نے دین کے نعرے بلند کئے مگر در حقیقت سب کا مشن پولیٹیکل تھا۔ کیونکہ وحشی بغیر اس لٹکے کے قابو میں نہیں آسکتے۔ انہوں نے کہا کفار اور منکرین کو ملک سے نکالو اگر وہ مہدویت تسلیم نہ کریں تو سخت اذیتوں اور برے برے عذابوں سے ان کو ہلاک کرو کیونکہ آج کے روز ہمارا قبضہ ہمارا سکہ ہمارا حکم ہے۔ بالآخر ملک گیری اور دنیوی جاہ وحشم کی ہوس میں زبردست قوموں کے ہاتھوں کتے کی موت مارے گئے۔ یہ ان ممالک کی کیفیت ہے۔ جہاں وہ آزاد اور مطلق العنان تھے۔ ہتھیار اور سامان حرب رکھنے کی ممانعت نہ تھی۔ انہوں نے یہ خیال خام پکایا کہ آسمانی تائید ہمارے ساتھ ہے۔ افواج ملائکہ ہماری کمک پر ہے۔ فوج بھی ہے خزانہ بھی ہے مگر چند روز میں چیونٹی کے پر ہی اس کو ملک عدم میں لے اڑے اور غبار آلود مطلع صاف ہو گیا۔

مگر ہندوستان جیسے ملک میں جو مختلف مذاہب و اقوام کا مسکن ہے کسی عیار کا مہدی یا مسیح بننا قابل مضحکہ ہے۔ خصوصاً موجودہ زمانہ میں جب کہ تمام اقوام و مذاہب امن وامان کے ساتھ ایک آزاد پر امن گورنمنٹ کی حکومت میں ہیں۔ ایسے ملک کو سوڈان پر قیاس کرنا حماقت یا مالیخولیا ہے۔ برٹش گورنمنٹ کا جیسا سطوت و جبروت اعلیٰ درجہ کا ہے وہ ویسی ہی حلیم و مستقل مزاج

١٩١

صفحہ ١٢٨

ہے ۔ اس کو آزادی مذاہب کا بڑا پاس ہے وہ حتی الوسع نہیں چاہتی کہ کسی کے مذہب میں خواہ نیا ہو یا پرانا مداخلت کرے۔ پس مرزا قادیانی کی خوش قسمتی ہے کہ باوصف دل آزاری تمام اہل مذاہب کے جو گورنمنٹ کی سچی وفادار رعایا ہے اب تک قانون سڈیشن میں نہیں لپیٹے گئے۔ میں امام الزمان ہوں میں مسیح موعود ہوں۔ مجھ پر ایمان لانا فرض ہے اور جو شخص امام الزمان پر ایمان نہ لائے وہ واجب القتل ہے۔

آخر اس کے کیا معنی ہیں۔ کیا مذہب اسلام میں ایسا حکم ہے ۔ اسلام میں تو ”لا اکراہ فی الدین“ اور ”لکم دینکم ولی دین“ وارد ہے اس سے مرزا قادیانی کی نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ اس حیلے سے ہفت اقلیم کا بادشاہ بننا چاہتے ہیں اور اگر قابو چلے تو خدا جانے اپنے منکروں کی کیسی گت بنائیں مگر مرزا قادیانی نے اپنی نیت پر یوں پردہ ڈالا کہ جہاد کی مخالفت کی اور جہاد بھی وہ جس کا پتا مہذب و مقدس اسلام میں تو کجا کسی وحشی سے وحشی مذہب میں بھی نہیں مل سکتا ۔ بساط تو یہ ہے کہ جہاد کے نام سے بظاہر لرزہ چڑھتا ہے اور نیت ایسی کھوٹی کہ ہفت اقلیم کو ہڑپ کر جائیں اور بجز ان لوگوں کے جو ان پر ایمان لائیں کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ چھوڑیں۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ ان کے پاس بقول خود دو لاکھ امتی فوج ہے اور اگر دس پانچ لاکھ مسلح فوج مل جائے تو یقیناً نمرود کی طرح خدائی کا دعویٰ کریں۔ آخر مرزا قادیانی آسمانی باپ کے لے پالک تو ہیں ہی ۔ بالغ ہو کر آسمانی بادشاہی کے پورے مالک بن جائیں گے کیونکہ لے پالک ہی اپنے باپ کی میراث کا مالک بنتا ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے مشن کا پولیٹیکل پہلو جس کو بجز مجدد السنہ مشرقیہ کے کوئی نہیں جان سکتا ۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤ اپریل کے شمارہ نمبر ١٦ کے مضامین

١١٢

صفحہ ١٢٩

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... آسمانی ہائی کورٹ اور پنجاب چیف کورٹ

قاسم علی خان سرہند!

عزیزیکہ از درگہش سر بتافت
بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت

عرصہ تک مرزا قادیانی اسی بات پر تلے رہے کہ جہاں کسی سے ذرا بھی چشمک ہوئی جھٹ آسمانی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اور بذریعہ سمن یعنی اشتہار مشتہر بھی کر دیا کہ فلاں شخص پر ہم نے مقدمہ دائر کیا ہے۔ اگر مدعا علیہ معافی مانگ لے تو ہم درخواست دعوٰی واپس لے لیں گے۔ ورنہ اس کی یہ ذلت ہوگی یہ تباہی آوے گی۔ بے چارہ کھنچا کھنچا پھرے گا۔ حتیٰ کہ اس کے متعلقین بھی لپیٹ میں آجائیں گے۔ ان پر بھی ادبار نازل ہوگا نقصان ہوگا۔ تا کہ یہ غریب خوف زدہ ہو کر تابع فرمان بن جائے اور جب دیکھا کہ رعب و داب اور پیشینگوئی کا اثر نہیں پڑا تو دلالوں کی معرفت خفیہ کارروائی، دھوکہ دہی شروع کردی، تا کہ کسی نہ کسی حیلہ سے دام تزویر میں پھنس جائے۔ بعض معاملات میں افشاء راز ہونے پر زیادہ قلعی کھلنے لگی تو مجبوراً آسمانی عدالت میں مقدمات دائر کرنے سے شاید بدین لحاظ اجتناب کرنے لگے کہ وہاں تاریخ پیشی بھی دو سال کبھی تین سال کے بعد پڑتی ہے۔ تاریخ معینہ پر مقدمہ پیش بھی ہوا تو پہلی کچی پیشی پر بوجہ بے بنیاد ہونے کے دعوٰی خارج حالانکہ مدعا علیہ کو خبر تک نہیں کہ کیا ہوا۔

مگر مدعی کو ضرور بذریعہ الہام خبر دی جاتی ہے کہ تمہارا مقدمہ خارج۔ اب تاویل کی ضرورت پڑی تو کہہ دیا کہ ہم نے رحم کھا کر مقدمہ واپس لے لیا۔ کیونکہ ہم اسم بامسمی جمالی ہیں۔ نہ کہ جلالی۔ جب ان چال بازیوں کا حال طشت از بام ہونے لگا اور رجسٹر آمدنی میں بھی کمی محسوس ہوئی اور مقدمات کا فوری اثر بھی ظہور میں نہ آیا اور مچلکہ بھی لکھ دیا کہ آسمانی ہائی کورٹ میں آئندہ کوئی مقدمہ دائر نہ کریں گے تو ناچار عدالت عالیہ میں مقدمات دائر کرنے چھوڑ دیئے اور برٹش گورنمنٹ کی طرف جھکے۔ اس میں چند فوائد دست بدست ملنے کی بڑی گنجائش سوجھی۔

اوّل......الہام قید اور جرمانہ مخالف کے لئے تیار ہے۔ دوم......نصف رقم جرمانہ آمدنی میں شمار۔ سوم......جو روپیہ بطور چندہ کسی کی ذلت کے لئے جمع کیا جائے گا۔ اس میں سے بھی نصف بیت المال کا مال اور کامیابی پر پانچوں گھی میں۔ مگر مثل مشہور سر منڈاتے ہی اولے پڑے جو مقدمہ لڑنا شروع کیا۔ اس میں سوائے الہام پر اعتبار ہونے کے وکلاء و بیرسٹروں سے صلاح

١١٣

صفحہ ١٣٠

مشورہ اور ان کی رائے پر کلی اعتماد، گویا خدا کا دروازہ چھوڑ کر اب پیر مڑوں کے پاس در در پھرنا شروع کیا۔ امام الزمان، خلیفۃ اللہ، حجت اللہ وغیرہ کے جس قدر ڈپلومے ملے تھے۔ سب بالائے طاق، مرزا قادیانی کے لئے خود اپنی تحریرات میں پردہ غیبی قدرتی حجاب حائل جس کی عبارت ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

”کیونکہ اس تموج کی حالت میں کچھ الٰہی صفات کا رنگ ظلی طور پر انسان میں آجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا رحم، خدا تعالیٰ کا رحم، اور اس کا غضب خدا تعالیٰ کا غضب ہو جاتا ہے۔ اور بسا اوقات وہ کسی دعا کے کہتا ہے فلاں چیز پیدا ہو جائے۔ تو پیدا ہو جاتا ہے۔ اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھے تو اس پر کوئی وبال نازل ہو جاتا ہے اور کسی کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک مورد رحم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خداوند تعالیٰ کا کن دائمی طور پر نتیجہ مقصود کو بلا تخلف پیدا کرتا ہے۔ ایسا ہی اس کا کن بھی اس تموج اور مد کی حالت میں خطا نہیں جاتا۔ جب یہ سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ معہ اپنی تمام برکتوں کے اس کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر ایک چیز جو اس سے مس کرتی ہے بغیر اس کے جو یہ دعا کرے برکت پاتی ہے۔“ مرزا قادیانی نے یہ تمام مدارج خاص اپنے حق میں مخصوص کئے ہیں اور ہر مرید کو اس کی تعلیم ہے۔

مگر اپنے لئے نسیاً منسیاً سچ ہے یہ حالت تموج اور مد کی تھی اب تو حالت جزر کی ہے۔ اسی لئے خداوند کریم کا بھروسہ بالکل چھوڑ دیا گیا۔ پھر کیا ؎

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

لیکن پھر بھی الہام کی عادت مستمرہ نہ چھوٹی۔ نفس امارہ نے ایسا چھکا دیا کہ تیس سالہ محنت و مشقت طرفۃ العین میں غارت گئی۔

طرفۃ العین جہاں برھم زند
کس نمی آرد کہ آنجا دم زند

حکیم الامت کی بھی حکمت عملی نہ چلی۔ ان پر تو سکتہ کا عالم طاری ہے۔ جس پر مقدمہ دائر کیا وہ تو بعون عنایت ایزدی سرخرو باعزاز تمام جرم سے بری۔ اور دعوٰی خارج۔ مگر حضرت کو معہ ان تمام مشاہیر کے جن کے بھروسہ پر خداوند تعالیٰ سے جو تمام عالم کا امید گاہ ہے روگرداں ہوئے یہ سزا ملی کہ تشہیر کئے گئے اور آفات آسمانی، جسمی، مالی کے علاوہ بے توقیری وغیرہ نفع میں رہی بے

١١٤

صفحہ ١٣١

عزتی کا ...... جانگزا جو لاحق حال دشمنان ہوا۔ اس نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ خر دجال سے اترتے ہی مرض مزمن عود کر آیا اور سوائے اس کے کہ ڈاکٹر صاحب بہادر سے بمنت التجا ہو کہ بچاؤ اب یہ ذلت پر ذلت کہ اسی دجالی قوم کی پناہ ڈھونڈی ورنہ کار از دست رفت کا معاملہ ہے۔ اس پر یہ طرہ کہ برٹش گورنمنٹ کے اعتبار پر اعتبار اور یہ التجا کہ خالص الخاص اسی قوم پر مجھے اعتبار ہے جس کے بھروسے میں نے اس قادر قدیر کے در سے سرتابی کی ہے۔ باوجود اس قدر منت و سماجت ولجاجت کے پاداش عمل کا وہی حکم رہا۔ چیف کورٹ تک دہائی مچائی مگر توبہ کہیں احکم الحاکمین کا حکم بھی ٹل سکتا ہے۔

اب شمار کر لو کتنی ذلتیں ایک ہی جون میں بھوگنی پڑیں اور ابھی تو پہلا ہی پیالہ ہے کہ مرزا قادیانی کا خود قول ہے کہ اسی دنیا میں بہشت اور دوزخ شروع ہو جاتی ہے۔ مولوی کرم الدین صاحب کے مقدمہ میں فرد جرم لگ گئی۔ گئے تھے روزے بخشوانے نماز گلے پڑی۔ جس کا نتیجہ نہیں معلوم کیا ہوگا۔ اس ضمیمہ سے یہ بات پائی جاتی تھی کہ دس بجے سے لے کر برابر پانچ بجے شام تک بلا وقفہ عدالت میں کھڑے رہنا اور سفید دودھ اور برف کھڑے کھڑے اڑا جانا جو شخص مرض ذیابیطس میں مبتلا ہو وہ سیروں دودھ اڑا جائے۔ پھر دس بجے سے پانچ بجے شام تک یعنی سات گھنٹہ تک برابر کھڑا رہے اور بول کی بھی حاجت نہ ہو۔ واہ رے معدے اور گردے کی قوت ماسکہ وجاذبہ۔ اگر ذیابیطس نہ ہوتا تو شاید دھڑیوں اور منوں دودھ اور برف پی جاتے۔ قبل از پیشی حکیم الامت صاحب کوئی کشتہ کھلا دیتے ہوں گے۔

یا خوف عدالت ہے کہ پیشاب تک نہیں آتا گورنمنٹ پر بصد منت یہ ثابت کرنا کہ میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں اور پھر پولیٹکل خدمات میں ٣٠ سال سے کر رہا ہوں جن کو سوائے گورنمنٹ کے کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ اسی پالیسی کے اصول پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ کو گالیاں دیتا ہوں اور اسلام بھی بگھارتا ہوں تاکہ مسلمان بدظن نہ ہو جائیں۔ مگر اس خفیہ خیر خواہی کا بظاہر تو کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ مقدمات کی ابتری شاہد حال ہے۔ شاید چیف کورٹ میں پہنچ کر نتیجہ حاصل ہو جس کی امید لگی ہوئی ہے۔ فی الحال ہمیں منتظر رہنا چاہئے۔ اگر زندگی ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ بذریعہ ضمیمہ ہذا رائے ظاہر کی جائے گی۔

مرزا قادیانی کی حالت تموج ، مدوجزر سے ہمیں ایک نہایت باریک نکتہ مفروضہ موہومہ مل گیا۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت ہر وقت اور ہر لحظہ مثل نقطہ مفروضہ کے جو اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ تموج اور مد کی حالت میں قائم رہتی تھی اور طرفۃ العین کے لئے بھی جیسا کہ

١١٥

صفحہ ١٣٢

مرزا قادیانی کا آج کل حال ہے۔ بحالت جزر کبھی نہ پلٹتی تھی۔ ثبوت یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمراہ شاگردوں کے راستہ میں جاتے تھے تو ایک عورت نے جس کا مرض بارہ سال سے جاری تھا اور ہزار ہا علاج کر چکی تھی پیچھے سے آپ کا دامن چھوا، کیونکہ اس نے اپنے کو اس لائق نہ سمجھا کہ سامنے سے آئے۔ معاً دامن کو چھوتے ہی مقناطیسی اثر ظاہر ہوا۔ حضرت مسیح نے پھر کر دیکھا کہ ایک بڑھیا ہے دعائے خیر دی کہ جیسا تیرا اعتقاد ہے۔ ویسا ہی ہو چنانچہ ویسا ہی وقوع میں آیا۔ مگر افسوس مرزا قادیانی کے حاشیہ نشین جو شب و روز خدمت میں موجود ہیں پوشاکیں بدلوادیں ہر وقت مصافحہ سے ہاتھ گرم کریں۔

پھر بھی وہ حرارت جو ایک عام آدمی میز یا تختہ میں ڈال کر اس کو حرکت دے سکتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی صحبت سے حاصل نہ ہو اور مسجد میں وہی غل غپاڑا، حقہ نوشی جس سے مرزا قادیانی نالاں ہیں جاری رہے۔ اب مرزا قادیانی انصاف کریں کہ یہ بھی عمل الترب ہے یا خدا کا ہاتھ یا وہ خود خدا ہے جو سفر میں معہ تمام اپنی برکتوں کے ہمراہ ہوتا تھا۔ افسوس ہے کہ مرزا کو اپنی تحریرات جادہ اعتدال سے فرسخوں دور پھینک رہی ہیں۔

راقم : قاسم علی خان ہیڈ کلرک محکمہ نہر سرہند

٢ ....... نبی اور مجدد میں فرق

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

حدیث شریف میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ ہر صدی پر مجدد پیدا ہوگا تو اس سے مراد حقانی علماء ہیں جو مسلمانوں کو توحید بھی اور اتباع طریقہ محمدیہ ﷺ یاد دلائیں گے۔ امور دین اور قواعد شرع متین کی تعلیم و تلقین کریں گے۔ مگر وہ نبی اور رسول نہ ہوں گے ورنہ حدیث میں نبیاً کا لفظ ضرور آتا حالانکہ صرف من یجدد لها دینها وارد ہوا ہے وجہ یہ ہے کہ نبی اور رسول صاحب شریعت ہوتا ہے جو علی الاعلان نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجدد فی الدین کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس کا دعویٰ کرے اور کہے کہ میری تجدید پر ایمان لاؤ کیونکہ وہ تو محض تلقین و تعلیم وتذکیر کرتا ہے جو حقانی علماء دین کا منصبی فرض ہے۔ دیکھ لو کسی مجدد نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور جھوٹے مہدیوں نے بھی نہیں کیا جو اپنے دل میں خوب جانتے تھے کہ ہم جھوٹے اور محض حب جاہ اور ہوس مال ومتاع کے لئے دنیا کو اپنی جانب رجوع کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ مکار اور فریبی تھے مگر حفظ ناموس شریعت اسلامیہ کو انہوں نے ملحوظ رکھا اور بے حیا اور ڈھیٹ نہیں بنے جیسے کہ مرزا قادیانی ہیں۔

کسی مجدد نے مامور من اللہ ہونے کا بھی دعویٰ نہیں کیا کیونکہ ہر شخص مامور من اللہ

١١٦

صفحہ ١٣٣

ہے ۔ ”لہ الخلق ولہ الامر الآیہ“ شاہد ہے مرزا قادیانی جو اپنے کو بار بار مامور من اللہ کہتے ہیں تو اپنے دعوے سے معزول ہو کر پستی میں گرتے ہیں کیونکہ ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول والوالامر منکم“ میں خدا اور رسول کے بعد اولوالامر تیسرے درجے پر ہے۔ یعنی وہ نبی یا رسول نہیں ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اولوالامر ہونے کے ساتھ نبوت و رسالت کے بھی مدعی ہیں۔ ہذا خلف ۔ کس کس تناقض کو رویا جائے۔

علی ہذا نبی کا مرتبہ مجدد کے مرتبہ سے بڑھا ہوا ہے کم از کم دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت تو ضرور ہی ہے یعنی ہر نبی مجدد ہے۔ مگر اس کا عکس صحیح نہیں۔ یعنی ہر مجدد نبی نہیں۔ انسان اور حیوان میں جو فرق ہے یہی فرق نبی اور مجدد میں ہے یعنی جس طرح انسان زید وغیرہ کو حیوان مطلق لکھنا لاطائل ہے۔ اسی طرح نبی کو مجدد کہنا باعث کسر شان ہے مگر مرزا قادیانی کے لئے کسر شان نہیں۔ وہ اپنے چیلے چانٹوں میں تو نبی ہیں اور مسلمانوں کے سامنے اپنے کو حسب فتوائے حدیث شریف مجدد بتاتے ہیں گویا گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں کہ کبھی نبی کبھی مجدد۔ کبھی لے پالک، کبھی اصلی نبی، نہیں بلکہ بروزی نبی۔ اور کبھی بعض انبیاء سے بھی بڑھ کر؎

عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

کبھی خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) یعنی قیامت تک تمام انبیاء سے بڑھ کر اور خاتم رسالت ایک لغویت ہو تو بیان کی جائے۔

مجدد تو صرف احکام الٰہی کو یاد دلاتا ہے مگر مرزا قادیانی نے مجدد بن کر یہ کیا کہ احکام الٰہی اور شریعت اسلامیہ ہی کی ترمیم و تنسیخ کر دی۔ تصویر پرستی کو رواج دیا حج کی ممانعت کی۔ بعض انبیاء کو نبی ہی نہ رکھا اور کلمۃ اللہ اور روح اللہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں اور ان کے جانشین بنے۔ کیونکہ عیسیٰ بھی نبی رہے تو مرزا قادیانی نبی کیونکر بنتے۔ معجزات کا انکار کیا کیونکہ خود کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے۔ نا کواے بعضی نا کواے ۔ آنحضرت ﷺ نے عیسائی مذہب (تثلیث) کی اصلاح کی تو آپ نے خدا کے بیٹے پاک بن کر توحید ہی کو جڑ پیر سے اڑا دیا۔ مذہب اسلام جو تمام مذاہب کا مصلح ہے۔ آپ نے باوصف دعویٰ مسلمانی اس کی اصلاح کا دعویٰ کیا۔ اصلاح کیا سادہ لوحوں کو مونڈ کر اور چند پر ہاتھ پھیر کر اسلام ہی سے مرتد و منحرف کر دیا۔ اس صورت میں آپ کو مجدد تو کیا البتہ موجد مذہب جدید مرزائی و ناسخ و ہادم دین الٰہی کہئے تو بجا ہے۔ نبی اور رسول ضرور صاحب معجزہ ہوتا ہے مگر جن اصول اسلامیہ مع حج اور حرمت تصاویر

١١٧

صفحہ ١٣٤

کی آپ نے ترمیم کی ہے۔ اس کی نسبت الہام ہونے کا کبھی کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اور نہ آسمانی صحیفہ مشتہر کیا۔ ہاں چند بے جوڑ اور بے معنی فقرے وہ بھی اپنی بھٹی میں ضرور مشتہر کئے کہ تو ایسا ہے اور تو ویسا ہے یا بعض قرآنی آیتیں توڑ موڑ کر اور الہام بنا کر مشتہر کیں۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مذہب کے اصول بھی مدون ہیں مگر مرزائی مذہب کے اصول وضوابط جو الہامی طور پر نازل ہوئے ہوں۔ ان کا کوئی مجموعہ اب تک منضبط اور مدون اور مطبوع و مشتہر نہیں ہوا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دل کی بات اور ماحصل کے ادا کرنے کی بھی لیاقت نہیں رکھتے۔ ورنہ غیر ممکن ہے کہ جو خرافاتی رسالے اردو زبان میں مشتہر ہورہے ہیں وہ عربی زبان میں مشتہر نہ ہوتے۔ کیونکہ وہ سب الہامات ہیں اور نبی جو کچھ کہتا ہے الہام ہی سے کہتا ہے۔ آیہ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحی“ اس کی شاہد ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کا مفتری علی اللہ ہونا صاف ثابت ہے اور مفتری علی الناس تو آپ ہیں ہی۔

کیا معنی کہ تمام اولیاء اللہ علیہ الرحمہ کو اپنے ساتھ ناقص نبی بنا دیا اور حکم لگا دیا کہ قیامت تک ناقص نبی پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کے زمانہ میں ناقص نبی کیا معنی کوئی ناقص ولی بھی نہیں۔ ناقص یا کامل جو کچھ ہیں خود بدولت ہی ہیں۔ کیونکہ آپ ناقص نبی بھی ہیں اور خاتم الخلفاء یعنی اکمل الانبیاء بھی۔ ایسی تناقض لغویات سے چیلوں چاپڑوں کو تو کیا شرم آئے گی جبکہ خود کو شرم نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد ہر صدی پر ایک مجدد آئے گا تو کیا یہ بھی فرما دیا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود بھی ہوگا تو تمام مجددوں کا جو آج تک آئے اور آئندہ تاقیامت آئیں گے۔ مہدی اور مسیح ہونا ضروری ہے اور کیا یہ بھی فرما دیا ہے کہ مجددوں میں سے کوئی اور تو مہدی اور مسیح نہ ہوگا ہاں تیرہویں صدی میں ایک چینی الاصل مغل ہندوستان کے موضع قادیان میں پیدا ہوگا جو مجدد بھی ہوگا اور مہدی اور مسیح بھی۔

اور باقی تاقیامت برائے نام مجدد ہوں گے۔ مہربانی فرما کر یہ لغویات گنے جائیے۔ کیا آنحضرت نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ قرآن مجید جو مجھ پر نازل ہوا ہے وہ مکرر اور سہ کرر اور دہ کرر اور صد کرر اور ہزار کرر ہر مجدد پر نازل ہوگا بلکہ ترمیم ہوکر۔ گویا جو واقعات میرے زمانہ میں گزرے ہیں اور جن کی بابت وقتاً فوقتاً وحی نازل ہوئی ہے وہی واقعات لوٹ کر دنیا میں پھر آئیں گے۔ خصوصاً قادیان میں کیونکہ وہ واقعات آسمانی باپ کی زنبیل میں محفوظ ہیں۔ یہ تو بالکل دعا دھر والوں کا عقیدہ ہوا جو یہ کہتے ہیں کہ طوفان نوح اور اصحاب کہف اور سکندر ذوالقرن وغیرہ کے واقعات اپنے اپنے ظرف میں موجود مگر ہماری آنکھ سے غائب ہیں۔

١١٨

صفحہ ١٣٥

مرزا قادیانی نے یہ عقیدہ اس لئے تراشا کہ اپنے کو بروزی نبی بنائے یعنی آنحضرت ﷺ کی روح ان کے جسد میں عود کر آئی ہے۔ (جیسا کہ تناسخ والوں کا عقیدہ ہے) پھر ضرور ہے کہ وہ تمام واقعات بھی عود کر آئیں جو آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں واقع ہوئے۔ اگرچہ اہل تناسخ کا یہ عقیدہ نہیں کہ دوسرے قالب میں روح کے حلول کر جانے پر اس کے تمام واقعات وافعال بھی لوٹ آئیں گے اور نہ دعاء دھر والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گزشتہ واقعات پھر ظاہر ہوں گے کیونکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ واقعات معدوم نہیں ہوئے بلکہ اپنے اپنے ظرف میں موجود ہیں مگر آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی نہ تناسخی ہیں نہ دعاء دھر والے دھریہ ہیں اور مسلمان تو خدا نہ کرے کیوں ہوتے۔

٣ ....... مرزائی جماعت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

عجیب لطف ہے کہ مرزا قادیانی کا تو کوئی مذہب ہی نہیں۔ وہ تو آسمانی باپ کے لے پالک بن کر یا بالکل مطلق العنان ہو گئے اور انت منی وانا منک کہہ کر خود خدا بن گئے۔ بھلا خدا کا کوئی مذہب کیوں ہونے لگا۔ وہ تو جس طرح تمام دنیا کا خلاق اور موجد ہے۔ اسی طرح مذاہب کا بھی خالق اور موجد ہے۔ مگر مرزائی جماعت بہت سے مذاہب سے مرکب ہے۔ اور مرزا قادیانی کبھی کسی کے مذہب سے تعرض نہیں کرتے۔ ہر پتلی کو اپنے رنگ پر نچا رہے ہیں۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیعت کرلو مذہب جو چاہو رکھو۔ مطلب سعدی دیگر است، مرزائیوں میں حنفی بھی ہیں۔ اہلحدیث بھی ہیں۔ صوفی بھی ہیں وغیرہ۔ خود حکیم صاحب اور امروہی صاحب اپنے کو گروہ اہلحدیث سے بتاتے ہیں۔ یہ ان کی تقلیدی چال ہے کیا معنی کہ نواب سید صدیق حسن خان مرحوم کے زمانے میں دونوں صاحب اہلحدیث تھے۔ مگر باوصف جدید بروزی نبی اور امام الزمان کے پیدا کر لینے کے اب بھی ان کا بدستور اہلحدیث رہنا قابل افسوس اور کورانہ تقلید اور اپنے خاتم الخلفاء کی کسر شان کا باعث ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بروزی نبی پر ابھی تک ان کا پورا پورا ایمان نہیں اور منافقانہ برتاؤ برت رہے ہیں ورنہ سچی محبت اور خالص عقیدہ تو شرک فی الاسم بھی گوارا نہیں کرسکتا۔

مولوی امروہی اپنا یا یوں کہئے کہ تمام مرزائی جماعت کا رشتہ شیخ بٹالوی سے ملانا چاہتے ہیں مگر حکیم صاحب وغیرہ بلکہ خود مرزا قادیانی بالکل خلاف ہیں۔ غالباً امروہی صاحب کا یہ خیال ہے کہ ہم نے شیخ بٹالوی کو جیت لیا تو ہندوستان کے دس لاکھ اہلحدیث کو جیت لیا اور پھر ایک نظیر مل

١١٩

صفحہ ١٣٦

گئی۔ شیخ موصوف کے منڈتے ہی قادیان میں اہلحدیث کی ٹپکا ٹپکی شروع ہو جائے گی پھر کیا تھا میں بھی چل اور تو بھی چل۔ تمام اہلحدیث مرزائی نہ ہو جائیں تو جبھی کہنا۔ اب تک تو امروہی صاحب کی اس خیالی کھچڑی کی ہانڈی میں ابال آیا نہیں نہ گیلی لکڑیوں نے آگ قبول کی تاکہ ہانڈی میں کھدبدی آئی آئندہ یا قسمت یا نصیب۔ بفرض محال شیخ بٹالوی چکنی چپڑی باتوں میں آ بھی گئے تو جماعت اہلحدیث پر کیا اثر ۔

امروہی صاحب ہیں تو مرزائی مگر اپنی حقانیت پر دلیل وہی لاتے ہیں جو عموماً علماء مقلدین اپنے مذہب کے حق ہونے پر لاتے ہیں یعنی ”اتبعوا السواد الاعظم“ اب وہ مرزائی جو حنفی بھی ہیں اور مرزائی بھی۔ جواب دیں کہ کونسا سواد اعظم حق پر ہے۔ مرزائی سواد اعظم یا حنفی سواد اعظم۔ اگر دونوں حق پر ہیں تو دو سواد اعظم ہو نہیں سکتے جیسا کہ افعل التفضیل کا خاصہ ہے۔ نہ نبی اور مجتہد کا سواد باہم جمع ہو سکتا ہے۔ کجا نبی معصوم اور آسمانی باپ کا لے پالک اور کجا ایک مجتہد جو غلطی بھی کرتا ہے۔ تعجب ہے کہ خود مرزا قادیانی نے باوصف نبی ہونے کی حنفی مذہب کو اس دلیل سے حق پر بتایا تھا کہ یہ بڑا گروہ ہے اور بڑے گروہ پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سے ان کی قلیل جماعت کا ناحق پر ہونا لازم آتا ہے مگر ان کو تو زمانہ سازی سے مطلب ہے۔ کس کو حق اور کس کا ناحق۔

بات یہ ہے کہ جھوٹ کی ناؤ چل نہیں سکتی۔ ایک جھوٹ کے ثابت کرنے کو بہت سے جھوٹ تلاش کرنے اور مسلسل دروغگوئیوں کا تانا بانا بننا پڑتا ہے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کوئی مذہب نہیں ہاں ان کے مطلب کے مذاہب بہت سے ہیں عیسیٰ مسیح کی وفات ثابت کرنے کو آپ اہل قرآن ہیں کسر صلیب اور قتل خنازیر کے لئے آپ اہلحدیث ہیں۔ اور ملعون دجالون والی حدیث پیش کی جاتی ہے۔ تو آپ اہلحدیث بھی نہیں۔ میٹھا ہڑپ اور کڑوا تھو تھو۔ بروزی نبی بننے کے لئے آپ اہل تناسخ ہیں اور معجزات سے انکار کرنے میں آریا اور نیچری اور آسمانی باپ کا لے پالک بننے اور تثلیث قائم کرنے میں جیسا کہ گزشتہ ضمیمہ میں بعض مرزائی کتابوں کے حوالے سے ثابت کیا گیا۔ آپ نصرانی ہیں، آپ کا مذہب ہزار داستان ہے ایسے پاک مذہب کے کیا کہنے ہیں؟

٤ ...... وہی مدنی شاہ والا معاملہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اٹاوہ کے مختار صاحب نے ایک لمبا چوڑا مضمون مدنی صاحب کے معاملہ میں مرزائی اخبار الحکم میں شائع کرایا ہے۔ معلوم نہیں یہ کس بات کی تردید ہے۔ مدنی صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ

١٢٠

صفحہ ١٣٧

میں نے ایسا نہیں کہا جیسا اٹاوہ کے مختار نے ایک اشتہار میں شائع کیا اور مختار صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں فلاں کے مواجہہ میں مدنی صاحب نے اپنے پیر وارث علی شاہ صاحب کا مقولہ مرزا قادیانی کی نسبت بیان کیا کہ وہ عیسیٰ مسیح کے مرتبہ پر پہنچے ہوئے ہیں حالانکہ عیسیٰ مسیح کے مرتبہ پر پہنچنا مرزا قادیانی کے لئے ننگ کا باعث ہے کیونکہ ان کے عقیدے اور مشتہرہ کتابوں کے موافق عیسیٰ مسیح تو معاذ اللہ مہذب انسان بھی نہ تھے چہ جائیکہ نبی اور کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہوتے مگر مختار صاحب وغیرہ کے نزدیک یہ بڑا بھاری فخر ہوا کہ وارث علی شاہ صاحب نے مرزا قادیانی کو مسیح کے درجے پر پہنچا دیا۔ خیر مرزا قادیانی اور مرزائی دونوں آپس میں نمٹ لیں۔

پھر مختار صاحب کی عقلمندی دیکھئے کہ انہوں نے وہ خط و کتابت بھی شائع کی ہے جو خود وارث علی شاہ صاحب اور سجادہ نشین کرنال سے ہوئی ہے۔ دونوں صاحبوں نے جواب دیا ہے کہ ہم مدنی شاہ اور بدعتی شاہ اور لوٹے شاہ اور چھوٹے شاہ اور لٹو شاہ اور چڑھتو شاہ کو جانتے بھی نہیں اور آپ ان کا حلیہ لکھیں اور ہم نے مرزا قادیانی کے معاملہ میں کچھ نہیں کہا۔ لیجئے جناب جتنی چنائی تعمیر ہی ڈھے گئی۔ یعنی مرزا قادیانی کو وارث علی شاہ نے مسیحیت کا جو تمغہ دیا تھا وہ غلط اور بالکل خیالی پلاؤ نکلا۔ وائے افسوس ہائے حرمان، ہم کو ادھر تو مختار صاحب کی دربدری پر افسوس ہوا ادھر مرزا قادیانی مسیح موعود نہ بنے، کورے مرزا قادیانی ہی رہے۔

اب مناسب ہے کہ جس طرح بن پڑے تمام مرزائی حاجی وارث علی شاہ صاحب کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑیں کہ وہ ان کو مسیح موعود بنا دیں۔ اور سرٹیفکیٹ دے دیں۔ مختار صاحب کا ایمان نہ الہام پر ہوا نہ وحی پر ہوا۔ ہاں حاجی صاحب کے سرٹیفکیٹ پر ہوا۔ مرزا قادیانی کے دس پانچ راسخ الاعتقاد مرید ایسے ہی ہوں تو مخالفوں کی کیا ضرورت۔ اگر مختار صاحب ثابت بھی کر دیں کہ مدنی شاہ وغیرہ نے ضرور ایسا کہا تھا تو کتنی رکعتوں کا ثواب ملے گا۔ جبکہ شاہ صاحب نے سارا ہوائی قلعہ ہی اڑا دیا۔ ڈیڑھ ایڈیٹر الحکم نے بھی نہ سوچا کہ میں اخبار میں کیا شائع کر رہا ہوں اور اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ دیکھو ہم کہے دیتے ہیں کہ ایسے معاملات میں مجدد السنہ شرقیہ سے صلاح لے لیا کرو ورنہ رسوائی ہوگی اور مجدد کو رنج پہنچے گا۔

٥ ....... گالیوں بھرے خطوط

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

بعض ڈام فول بگڑچو غالباً اپنے کو اپریل فول کا فرزند بتائیں گے جن کی مرزائیت کے اقتضاء سے فحش اور دشنام بھرے گمنام خطوط دفتر شحنہ ہند میں بھیجتے ہیں۔ یہ ان کے ہر طرح عاجز

١٢١

صفحہ ١٣٨

ہو جائیگی دلیل ہے۔

چو حجت نماند دنی خوی را
بدشنام درهم کشد روی را

وہ ضمیمہ کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے۔ ان کے دعوے بالکل لچر اور پوچ ان کے ہوائی قلعہ کی دیواریں بالکل ریت ہی کی ہیں جن کے اڑانے کو مجدد کی ہجو نفسی گویا صرصر عاد ہے۔ ابے نامردو گالیاں دینا کسے نہیں آتا۔ مرد میدان ہو تو بات کا جواب دو کہ ہم کو تو جواب کی جگہ ماں بہن کی مغلظات علانیہ دے رہے ہو۔ ہم اس میں بھی خوش ہیں کیونکہ تمہاری اتنی ہی توفیق ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم مئی کے شمارہ نمبر ١٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... قادیان میں طاعون

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

دارالامان قادیان جو آسمانی باپ اور اس کے لے پالک کا ہیڈ کوارٹر ہے اور جس کی نسبت الہام ہو چکا ہے کہ جو یہاں آئے گا امن میں رہے گا۔ اب خود لے پالک کے ایڈیٹا گک طاعون نے وہاں وہ ادھم مچا رکھی ہے کہ کچھ نہ پوچھئے روزانہ بھیڑیا بن کر ٢٥، ٣٠ بھیڑوں کو اٹھا لے جاتا ہے۔ آسمانی باپ کے سارے پوتے گدھے کے سینگ ہو کر اڑنچھو ہو گئے جہاں جس کے سینگ سمائے بھاگ کر وارد ہو گیا۔ خالی خولی مرزا قادیانی اور حکیم صاحب شتروں رہ گئے ہیں ٹاپا بالکل خالی۔ حکیم صاحب قادیان سے باہر خیمہ زن ہیں ان کے سالے کا لڑکا منظور الحق بھی بھینٹ

١٢٢

صفحہ ١٣٩

چڑھ گیا۔ مرزا قادیانی نے حکیم نورالدین و قطب الدین کو حکم دے دیا کہ کسی مریض کے مکان پر نہ جائیں۔ اور مرزا قادیانی کے گھر بھی کوئی نہ آنے پائے۔ قادیان کی نتھی سی آبادی کل ٣ ہزار ایک صفر اس میں سے بھی غائب یعنی خیر نال ٣٠٠ ہی رہ گئے۔ سکول بھی بند، بازار ویران اور سنسان، الہی توبہ۔ لے پالک کا ایڈیگا مگ ایسا منہ چڑھا کہ اپنا دیکھا نہ پرایا۔ سب پر متھا صاف پیشینگوئیوں کی کیسی درگت ہورہی ہے۔ مقدمات میں وہ ناکامی۔ طاعون سے یہ نوبت، پھر بھی حمقاء اور سفہاء کو ہوش نہیں آتا جہالت کا بھوت سر پر بدستور سوار، مرزائی اخبار البدر نے بھی طاعون کی دستبرد کو تسلیم کیا۔ آخر یہ کیا ہے مفتری علی اللہ کی شامت اعمال ہے۔ ایک پاپی ساری ناؤ (ہندوستان) کو لے ڈوبا۔ خدائے تعالیٰ افتراء کا بیڑا غرق کرے۔

٢ ....... وہی غلط الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مجدد السنہ مشرقیہ نے دنیا بھر کے جھوٹے فریبی اور مکار آسمانی باپ کو ڈانٹا کہ لے پالک پر لغو اور مصنوعی الہام کرنے سے باز رہے مگر باز نہ آیا۔ معلوم ہوا کہ جب تک تجدید کے کیروسین سے اس کا منہ جھلسا جائے گا اور جھونپڑا نہ پھونکا جائے گا ہرگز باز نہ آئے گا، اچھا تو لے اور مزہ دیکھ۔

فارسی الہام ۔ ”اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کردی“ (تذکرہ ص ٥٠٨ طبع ٣)۔ اپنے ایڈیگا مگ طاعون کی طرف خطاب ہے مگر اس نے تو اب لے پالک کے دوستوں کے گھر بھی ویران کر دیئے۔ عربی الہام ”اجرت من النار (تذکرہ ص ٥٠٨ طبع ٣)“ صیغہ معروف حاضر ہے تو یہ معنے نہ ہوئے کہ بچایا تو نے آگ سے مگر یہ معلوم نہ ہوا لے پالک نے آگ سے کیسے بچایا۔ اس نے تو اپنے چیلوں پر دوزخ کا دروازہ کھول دیا ہے اور صیغہ مجہول حاضر ہے تو یہ معنی ہوئے کہ بچایا گیا تو آگ سے، یہ بھی غلط۔ کیونکہ باطل کی آگ تو سلگ رہی ہے بلکہ اس پر تیل پڑ رہا ہے اور اگر آخرت کی آگ مراد ہے تو اس کے لئے بھی ایندھن تیار ہورہا ہے جلد روشن ہوا جاتا ہے اور اگر صیغہ متکلم معروف مراد ہے تب بھی غلط۔

کیونکہ آسمانی باپ بڈھا خود درماندہ ہے وہ کسی کو کیا بچائے گا ایک مقدمہ تو خارج کرا دیا۔ دوسرے میں لے پالک کے سر پر چارج دھروا دیا اور اگر مجہول متکلم مراد ہے تو وہ بھی غلط کیونکہ آسمانی باپ (شیطان) جو لے پالک کا طاغوت ہے پہلے ہی ناری ہے اور قیامت کے روز دوزخ میں (جس کی صفت وقودها الناس والحجارة ہے) ٹھونسا جائے گا انشاء اللہ۔ اردو الہام ۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ (تذکرہ ص ٥٠٨ طبع سوم) لیجئے جناب! آیات قرآنی کا

١٢٣

صفحہ ١٤٠

الہام تو ہوتا تھا اب اردو زبان کے بھنگڑ و تکبندوں کی رذلیات کا بھی الہام ہونے لگا۔ ہاتھ ترے چوڑے کی دم میں منارہ۔ یعنی آسمانی باپ اپنے لے پالک سے کہہ رہا ہے کہ سب جگہ تو ہی تو ہے۔

٣ ....... اصول مذہب سے بے پروائی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

انگریزی ہمعصر پائیر نے ایک شرار افشاں آرٹیکل چھاپا تھا جس میں یہ ثابت کیا تھا کہ مرزا قادیانی کا مشن ملک اور گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔ پائیر نے لکھا تھا کیا اچھا ہوتا اگر فرانس کی طرح ہندوستان کے لوگ بھی لاپروا ہوتے یہاں تو ذرا سی بات بھی ایسی ہو جاتی ہے جیسی پھوس میں چنگاری۔

مرزائی اخبار الحکم نے اس کا جواب دیا تھا، جواب کیا تھا نصیبوں پر ماتم تھا۔ ایک ایک بات کئی کئی دفعہ دہرائی گئی۔ ماحصل یہ تھا کہ ”حقیقی مذہب کی پابندی ہی سے ملک میں امن قائم ہوتا ہے۔“ ہم اس پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ الحکم کا خیالی پلاؤ اس وقت دم پخت ہوتا کہ تمام ہندوستان کا ایک مذہب ہوتا۔ یہاں تو سینکڑوں مذاہب ہیں اور سب اپنے اپنے مذہب کو حقیقی مذہب سمجھتے ہیں اور حتی الوسع اپنے مذہبی اصول پر چلتے ہیں گورنمنٹ کی جانب سے امور مذہبی میں کوئی مداخلت نہیں اور اسی آزادی کی وجہ سے علاوہ قدیم مذاہب کے جدید مذاہب بھی پیدا ہورہے ہیں۔ مرزائی مذہب بھی جن کی ایک شاخ ہے۔

گورنمنٹ تو کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتی مگر جو خود غرض دنیا پرست دوسروں کے مذاہب کی توہین کرتے اور ان کے رفارمروں کو گالیاں دیتے ہیں کہ ہم اچھے ہیں اور وہ برے تھے وہ ضرور مذہبی مداخلت کرتے اور مذاہب کی آزادی میں خلل ڈالتے اور فیلنگ پیدا کرتے ہیں پائیر کا اشارہ اسی جانب ہے اور ممکن ہے کہ مرزائی مشن کی جانب اشارہ ہو جس کی تعداد خود مرزا قادیانی کے قول کے موافق دولاکھ ہے جو اپنے نبی کے سر پر جان و مال فدا کرنے کو ہر دم تیار ہیں۔ ادھر انہوں نے کوئی حکم دیا ادھر ہر دیوانہ را ہوئے بس است کا عالم سب پر طاری ہو گیا۔ دولاکھ والنٹیر کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ پورا نیشن ہے اور چونکہ قادیانی نبی کا دعویٰ ہے کہ میں کسر صلیب اور قتل خنازیر کے لئے آیا ہوں لہٰذا نہ صرف غریب پائیر بلکہ تمام عیسائیوں کو جو کچھ خوف ہو، بجا ہے کیونکہ مذہبی محبت اور ساتھ ہی پرجوش تعصب ایسا برہنہ شمشیر ہے کہ دوسرے کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ جب باوصف دعویٰ مسلمانی مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تاکید و ہدایت کی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نماز نہ پڑھو تو دوسرے مذاہب کے ساتھ ان کو کس قدر تعصب و عناد ہے اس کا اندازہ ناظرین کر سکتے ہیں۔

١٢٤

صفحہ ١٤١

عیسوی مذہب تو کس شمار میں رہا جس کے استیصال کے لئے وہ مسیح بن کر مبعوث ہوئے ہیں۔ مریدوں کو شاید مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی اس لئے ممانعت ہے کہ مسلمان تو خدا کی نماز پڑھتے ہیں اور مرزا قادیانی ان سے اپنی نماز پڑھوانا چاہتے ہیں۔ چند روز میں پرانا قبلہ بھی بدل دیا جائے گا۔ آسمانی باپ الہام کرنے والا ہے کہ اب تمہارا قبلہ قادیان ہے۔ حج کرنے سے مرزائیوں کو منع کر ہی دیا ہے۔ فقراء اور مساکین کو جو زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں۔ محروم کر ہی دیا ہے اور مریدوں کے نام سکھا شاہی آرڈر بھیج ہی دیا ہے کہ نقیر سے لے کر قطمیر تک زندہ پیر کے گھر کے لئے بھیج دو۔ عیسیٰ مسیح کو مار ہی دیا ہے کہ وہ آسمانی باپ کا بیٹا نہ تھا بلکہ میں ہوں۔

مقدس مذہب اسلام غیر مذاہب کے ساتھ تعصب برتنے کو روکتا ہے مگر مرزا جیسے خود غرض دنیا پرستوں نے اسلام کو بدنام کر دیا ہے۔ یہ اسلام کے چہرے پر بدنما مسّے بلکہ بے رحم رسولیاں ہیں۔ غیبی سرجری سے آپریشن ہو کر مسّے اور رسولیاں نکالی جائیں تو اسلام کا نورانی چہرہ صاف ہو کر چمک اٹھے۔

پائیر نے جو فرانس کی نظیر پیش کی ہے کہ وہاں کے لوگ مذہب سے بے پرواہ ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہاں مذہبی امور میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ عیسیٰ بدین خود، موسیٰ بدین خود، یہ مطلب نہیں کہ تمام ملک فرانس دہریہ ہے۔ فرانس پر کیا حصر ہے۔ مذہب کے لحاظ سے کسی ملک کی حالت یکساں نہیں۔ کیا ہندوستان میں دہریے موجود نہیں۔ اگر تحقیق کی جائے تو لاکھوں دہریے نکلیں گے اور جو لوگ عقیدہ اصول مذاہب کو مانتے ہیں۔ وہ بھی عملاً اپنے فرائض سے بے پرواہ ہیں۔ لاکھوں مسلمان نماز روزہ حج زکوٰۃ سے بے پرواہ ہیں مگر ہیں مسلمان۔ وہ دہریہ نہیں۔ وہ اپنے کو ترک عمل کے لحاظ سے خاطی اور گنہگار سمجھتے ہیں اور جب خدا اور رسول کا نام آئے گا سر جھکائیں گے۔ اس کو مذہبی بے پروائی نہیں کہہ سکتے بلکہ عملی بے پروائی کہیں گے۔ وہ پورے راسخ الاعتقاد ہیں بھلا ایک راسخ الاعتقاد کیونکر مذہب سے بے پرواہ یعنی دہریہ ہو سکتا ہے۔

ہنود میں بھی (ناستک یا دہریے) ہیں مگر تمام ہنود ناستک نہیں۔ فرانس کے لوگ اگر کثرت سے عیاش اور فسق و فجور میں غرق ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مذہب سے بے پرواہ ہیں۔ فرانس والے مذہبی عقائد کے پابند اور اپنے پوپ (اٹلی کے اسقف اعظم) کے تابع ہیں۔ چنانچہ ناظرین نے تار برقیوں میں دیکھا ہو گا کہ جب پچھلے دنوں اٹلی کے پوپ نے گورنمنٹ فرانس کو ڈانٹا تو پریزیڈنٹ فرانس کے ہوش گم ہو گئے اور خود پوپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا تہیہ کیا۔ اگر مذہب کی جانب سے بے پروائی ہوتی تو پریزیڈنٹ فرانس پوپ کے حکم کی کچھ پرواہ

١٢٥

صفحہ ١٤٤

نہ کرتا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ فرانس کی پبلک مذہب سے بے پرواہ نہیں اور چونکہ یہ جمہوری سلطنت ہے۔ لہٰذا پریزیڈنٹ بھی جمہور کے مذہبی خیالات وعقائد کا تابع اور پابند ہے۔

مذہب سے غرض یورپ میں صرف نیشنلٹی (قومیت) ہے اس کی پرواہ نہیں کی جاتی کہ پروٹسٹنٹ مذہب کے کیا اصول ہیں اور رومن کیتھولک کے کیا اصول۔ اور یہ دونوں مختلف کیوں ہیں اور دونوں ایک ہی کیوں نہیں ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں سالہا سال سے مذہبی مناقشے نہیں ہوتے کیونکہ تمام ملک مہذب ہے انہوں نے مذہبی اصول کو دنیوی امور سے بالکل جدا کردیا ہے۔

پائینر کا مقصد ہے کہ ہندوستان میں چونکہ تعلیم و تربیت عام نہیں ہوئی اور یہاں کے باشندے بت پرست اور ضعیف الاعتقاد ہیں۔ لہٰذا جہاں کسی مداری نے پھٹک ایک پھٹک دو کہہ کر ڈگڈگی بجائی سینکڑوں بچے ہی ہی ہو ہو کرتے غل مچاتے چاروں طرف سے دوڑے۔ اور جہاں اس نے بندر اور بکرے اور بھورے رنگ کے جمہورے بھالو کے دو چار کرتب اور دوسرے شعبدے دکھائے پھر کیا تھا مداری کی جھولی میں روٹی کا ٹکڑا۔ دمڑی دھیلا گرنے لگا اور جب جھولی بھر گئی تو ادھر مداری رخصت اور بچے چپت۔ لیکن جب کوئی سادھو بچہ اپنے کو مذہبی مداری بتاتا اور بانسری بجاتا ہے تو اس کی حالت معمولی مداری سے مختلف ہوتی ہے۔ مداری یہ نہیں کہتا کہ میں جو تماشا دکھا رہا ہوں۔ وہ وحی ہے یا کرامت و معجزہ ہے۔ وہ اپنے میں خدائی اوصاف اور قدرت کے جذبات نہیں بتاتا وہ تو دامن پھیلا کر اور کاسہ ہاتھ میں لیکر تماشا دیکھنے والوں سے دھیلا دمڑی مانگتا ہے اور کھلم کھلا کہتا ہے کہ ہم لوگ یہ پاکھنڈ پیٹ کی خاطر کرتے ہیں۔

لیکن مذہبی مداری اور سادھو بچہ اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ وہ دنیا کو محض طمع نفسی سے فریب دے رہا ہے اور بظاہر اپنے کو خدارسیدہ ولی بلکہ نبی قرار دیتا ہے اور خدائی اوصاف سے متصف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ غیب کی باتیں بتاتا ہے پیشینگوئیاں کر کے لوگوں کو مارتا اور جلاتا ہے یہ معمولی مداریوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہے یہ اپنا جال مٹی میں چھپا دیتا ہے تا کہ آسانی سے چڑیاں پھنس جائیں جیسا کہ ہم مرزا قادیانی کے شعبدے دیکھ رہے ہیں۔

اگر ہندوستان کے لوگ احمق نہ ہوتے تو ایسے سادھو بچوں سے جیسا کہ پائینر نے لکھا ہے بے پرواہ ہوجاتے۔ آپ ہی حشرات الارض کی طرح چند روز میں ان کا نام ونشان تک مٹ جاتا اور اب کیا ہے دنیا چند روز میں دیکھ لے گی کہ کیا سے کیا ہوگیا۔ جب بڑے بڑے جاہ وحشم تیغ وعلم والے مہدیاں کذاب جنہوں نے جرار سلطنتوں سے جنگ کی، پامال ہو گئے تو مرزا کیا پدی کیا پدی کا شوربا ہے۔ جس کے وجود کا ثبات بالکل گورنمنٹ کی خوشامد پر ہے۔ مرزا کا کیریکٹر دیکھ

١٢٦

صفحہ ١٤٣

کہ گورنمنٹ ذرا بھی اپنے تیور بدل لے۔ بس آج ہی مہدویت و مسیحیت متنبیت کا خاتمہ ہے اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ مرزا کا کیریکٹر ہی اس کے گلے میں استروں کی مالا ہے۔ الحکم نے پائیونیر کو دھمکی دی ہے کہ جب ہندوستان کو فرانس کی طرح مذہب سے بے پرواہ ہونے کا سبق پڑھایا جاتا ہے تو ہندوستان میں جمہوری گورنمنٹ بھی ہونی چاہئے۔ جیسی فرانس میں ہے ”ہم کہتے ہیں اگر ہندوستان اس قابل ہو تو گورنمنٹ کو کیا عذر ہے۔ یہاں تو جہالت و وحشت کا بازار گرم ہے۔ نہ صرف ہندو مسلمانوں میں بلکہ خود باہم ہندوؤں اور باہم مسلمانوں میں عناد ہے ہر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہے یہ ملک تو اپنی شامت اعمال سے اس قابل ہے کہ برٹش جیسی آزاد قومی حکومت نہیں بلکہ روس جیسی جابر شخصی سلطنت اس پر قابض حکمران ہو اور پھر ہم دیکھیں کہ مرزا قادیانی کیونکر مہدی اور مسیح موعود بن سکیں اور کیونکر اعلان دے سکیں کہ میرے ساتھ دو لاکھ والنٹیئر ہیں۔ مسیح موعود (ڈاکٹر ڈوئی) تو فرانس میں بھی موجود ہے مگر وہ اپنی قوم اور مذہب کا دشمن نہیں جیسے مرزا قادیانی ہیں نہ اس نے مذہب کی ترمیم و تنسیخ کی ہے نہ دیگر مذاہب پر سب وشتم کیا ہے نہ ان کے بزرگوں کو گالیاں دے کر تمام ہندوستان میں فیلنگ پیدا کیا ہے۔ نہ اس نے اوروں پر نہ اوروں نے اس پر فوجداری مقدمات دائر کیے ہیں نہ گورنمنٹ فرانس اس سے بدظن ہے نہ اس نے کوئی نیا مذہب پیدا کر کے اپنا نیا مشن کھڑا کیا ہے۔ وہ ویسا ہی رومن کیتھولک عیسائی ہے جیسے تمام اہل فرانس ہیں۔ مرزا قادیانی کو اس سے سبق لینا چاہئے۔ علیٰ ہذا الندنی مسیح مسٹر پگٹ نے بھی کوئی نیا مذہب اور نیا مشن کھڑا نہیں کیا وہ ویسا ہی پروٹسٹنٹ ہے جیسے تمام اہل لندن ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا کیا منہ ہے کہ پائیونیر کی بات کا جواب دے سکیں۔

٤...... مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے مہلت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

قرآن مجید میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے ”ولو یواخذ الله الناس بظلمهم ما ترك عليها من دابة ولكن يؤخرهم (النحل: ٦١) “اور اگر خدا لوگوں کے ظلم کے باعث (جو وہ اوروں پر یا بداعمالیوں سے اپنے نفس پر کرتے ہیں) ان کو پکڑ لے تو زمین کی پشت پر کوئی چوپایہ چلتا ہوا نہ چھوڑے (یعنی ان کی بداعمالیوں کا وبال تمام حیوانوں پر پڑے) لیکن وہ ان کو نہیں پکڑتا۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ رحیم و حلیم ہے وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو ڈھیل دیتا ہے کہ اب بھی سمجھ لیں اور اب بھی سمجھ لیں مگر جب وہ نہیں سمجھتے تو پھر الامان من غضب الحلیم اس کا قہر جوش میں آتا ہے۔ آخرت کا عذاب تو الگ رہا دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے جس کے

١٤٧

صفحہ ١٤٤

ہزاروں نظائر موجود ہیں۔

اب چونکہ لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ گورداسپور کے بدل جانے سے مرزا قادیانی کو مقدمات میں مہلت مل گئی ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ اس مہلت کو غنیمت سمجھیں اور قدرت الٰہی کا ایک کرشمہ خیال کر کے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یعنی مولوی کرم الدین صاحب مدعی سے معافی مانگیں اور عقائد باطلہ اور افتراء علی اللہ سے تائب ہوں۔ انبیاء کی عظمت کریں۔ اپنے کو انبیاء کا ہمسر نہ بنائیں۔ کیونکہ یہ سارا وبال اسی گستاخی خیرگی ، بے ادبی کا ہے ۔

بے ادب خود را نه تنها داشت بد
بلکه آتش در همه آفاق زد

خود مرزا قادیانی انصاف اور غور سے دیکھیں کہ انہوں نے بزرگان مذاہب عامہ کو برا کہنے سے تمام ہندوستان میں عناد و فساد کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ کوئی مذہب والا ان سے خوش نہیں۔ آخر اس کا کیا انجام ہے۔ مرزا اور مرزائیوں کا کانشنس گندا اور بے حس نہیں ہو گیا تو وہ ہم سے زیادہ اپنے انجام کار سے واقف ہیں۔

مرزا اور مرزائی اگر چہ ہمیں دشمن سمجھتے ہیں۔ مگر در حقیقت ہم ان کے سچے دوست اور مصلح ہیں ہم نے کبھی نہیں چاہا کہ عدالت میں مقدمات جائیں۔ اور مسلمان مالی اور جسمانی اذیت اٹھائیں۔ ہم ١٨ ماہ سے برابر چیخ رہے ہیں کہ صلح کرو صلح کرو مگر ہماری چیخ و پکار نہیں سنی جاتی۔

مرزا قادیانی اگر چاہیں تو صلح کا ہو جانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ ان کی جیت ہر طرح صلح ہی میں ہے۔ آسمانی نشان کا ظہور بھی صلح ہی سے ہوگا۔ اور چونکہ اب مولوی کرم الدین صاحب کا پلہ بھاری ہے یعنی وہ مدعی کی حیثیت میں ہیں اور مرزا قادیانی ملزم کی حیثیت میں۔ تو خیر نال آپ ہی کو دبنا چاہئے اگر چہ عدالت کا عندیہ ابھی معلوم نہیں مگر قیافہ سے سب کچھ روشن ہو سکتا ہے۔

مونچھیں نیچی کر کے صلح کی التجا کرنے اور معافی مانگنے میں بمقابلہ اس کے کہ عدالت سے جرمانہ یا قید یا دونوں کی سزا مل جائے مرزا قادیانی کا کچھ بھی کسر شان نہ ہوگا۔ فرض کرو کم از کم جرمانہ ہی کی سزا مل گئی تب بھی مہدی مسعود اور مسیح موعود کے لئے کچھ شرم کی بات نہیں۔ وہ مثیل مسیح جو اوروں کی ہلاکت و تباہی ذلت و رسوائی کی آئے دن پیشینگوئی کرتا تھا۔ آج کے روز عدالت سے سزایاب ہو کر پبلک میں ذلیل ہو جائے اور پھر تمام چیلے اور حواری پھر ہو جائیں سچ ہے ۔

یہ سختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انسان سے

١٢٨

صفحہ ١٤٥

دنیا ہوا کو دیکھتی ہے اور جب ہوا بگڑ جاتی ہے تو سب ہوا ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو ابھی تجربہ نہیں ہوا۔ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اب مہدویت و مسیحیت صلح کے ہاتھ اور صلح مولوی کرم الدین کے ہاتھ ہے تو شکل اوّل سے حد اوسط دور کر کے یہ نتیجہ نکلا کہ مہدویت و مسیحیت مولوی کرم الدین کے ہاتھ ہے۔ ورنہ ہیہات کہہ کر ہاتھ ملنے پڑیں تو ہم ساتھ کے ساتھ اپنا نام مجدد نہ رکھیں تھوڑی سی سزا بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔ انسان ہمیشہ کو داغی ہو جاتا ہے آخر ماہ دو ماہ قید کی سزا بھی اسی عدالت کے اختیار سے ملتی ہے جس کو تین سال قید کی سزا دینے کا اختیار ہے پس سزا سزا سب برابر ہے۔

٥ ....... گورداسپور میں قادیانی مقدمہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پیسہ اخبار کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ ١١؍ اپریل کو مولوی کرم الدین صاحب کا استغاثہ جو مرزا قادیانی پر دائر ہے۔ لالہ آتما رام صاحب مجسٹریٹ درجہ اول کے اجلاس میں جو بجائے رائے چند ولال صاحب ہوشیار پور سے تبدیل ہو کر آئے ہیں پیش ہوا۔ مرزا قادیانی کی طرف سے مسٹر اوگارمن ایڈووکیٹ اور خواجہ کمال الدین صاحب ومولوی محمد علی صاحب وکلاء حاضر تھے۔ اور مولوی صاحب کی جانب سے شیخ نبی بخش صاحب وکیل گورداسپور۔ فضل دین ملزم اصالتاً حاضر تھا۔ مرزا قادیانی کی طرف سے بدستور سابق بیماری کا سرٹیفکیٹ پیش ہوا۔ وکیل استغاثہ نے اعتراض کیا کہ یہ سرٹیفکیٹ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے دیا ہے جو ملزم کے مرید خاص ہیں۔ وکیل ملزم نے ڈاکٹر صاحب کا مرید ہونا تسلیم کیا کہ اس تاریخ پر ہم کوئی کارروائی نہیں چاہتے۔ اس واسطے ملزم کی اصالتاً حاضری کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ وکلاء استغاثہ نے کارروائی از سر نو شروع کی اور حکم لکھا گیا کہ ملزم اس پیشی پر اصالتاً حاضر آئے اور گواہان استغاثہ حسب ذیل زیر دفعہ ٣٥٠ طلب ہوئے مولوی غلام محمد صاحب خاص تحصیل چکوال، مولوی محمد علی صاحب قاضی تحصیل جہلم مولوی ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے وکیل نے کامل امید دلائی کہ مرزا قادیانی عدالت میں تشریف لائیں گے۔ یعقوب علی والے مقدمہ میں بھی گواہان استغاثہ دوبارہ طلب ہوئے اور تاریخ ٦؍مئی مقرر ہوئی۔

ایڈیٹر ...... خدا نہ کرے مرزا قادیانی بیمار ہوں۔ آسمانی باپ کا لے دے کے اندھے کی سی لاٹھی ایک لے پالک، غضب ہے کہ وہ بھی بیمار ہو جائے۔ عدالت کو اگر شبہ ہے تو کسی یورپین ڈاکٹر سے ان کے جگر اور معدے اور پھیپھڑے وغیرہ کو اکزمین کرائے۔ خدا نے چاہا تو جوانوں سے بڑھ کر

١٤٩

صفحہ ١٤٦

ثابت ہوں گے۔ آخر یہ زعفرانی حلوے، یہ روغن بادام میں دم کئے ہوئے پلاؤ۔ یہ جند بے دستری اور سقنقوری معجونیں کیا یوں ہی جائیں گی؟ اجی جناب آپ کا خیال کدھر ہے مرزا قادیانی تو حرارت غریزی کی دھواں دھار مشین بنے ہوئے ہیں۔ کھٹا کھٹ بچے جنوارہے ہیں۔ مولی دے اور بندہ لے، اچھے خاصے ساٹھے پاٹھے بنے ہوئے ہیں۔ پس آپ کو نصیب دشمناں مریض کہنا بدفالی بدخواہی، بداندیشی، مریدوں کو انجام پر ذرا تو نظر ڈالنی چاہئے تھی۔

٦ ...... مرزائی مذہب اور منافقانہ کارروائی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کو اپنا نیا مذہب قائم کرنے اور مسیح بننے کے لئے بظاہر تو حضرت مسیح علیہ السلام سے نفرت ہے۔ لیکن درحقیقت تمام انبیاء سے نفرت ہے، اور یہ کھلی بات ہے کہ جس شخص نے اپنے کو بعد ختم نبوت نبی بنا رکھا ہے اس کو تو سارے ہی انبیاء سے رقابت ہو گی وہ ان کا نام لینا بھی گوارا نہ کرے گا۔ مرزا قادیانی کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ صرف مسیحی لوگ جنہوں نے عیسیٰ کو خدا بنالیا ہے۔ مردہ پرست ہیں بلکہ مسلمان بھی جو عیسیٰ کو زندہ سمجھتے ہیں عیسائیوں سے کچھ کم مردہ پرست نہیں ہیں۔ گویا خدائے تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو جو یکساں فضیلت وعظمت عطا کی ہے اگر مسلمان بھی ان کی عظمت بحکم خدا کے موافق کریں تو وہ مردہ پرست ہیں مشرک ہیں، کافر ہیں وغیرہ۔ اس میں آنحضرت ﷺ بھی آگئے کیونکہ وہ بھی وفات پاگئے۔

مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ سب مر کھپ گئے، خاک ہو گئے اب تو زندہ نبی میں ہوں ان کی جگہ پر مجھ پر ایمان لاؤ۔ ان کو بھول جاؤ۔ قرآن بھی جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا تھا بحیثیت نزول علی محمد وہ بھی مردہ ہو گیا تھا۔ اب میری نبوت نے اس کو ازسرنو زندہ کیا ہے کیا معنی کہ وہی قرآن مکرر وحی ہو کر مجھ پر نازل ہوتا ہے۔ اگر میں انیسویں صدی میں مبعوث نہ ہوتا تو قرآن کے ساتھ خود مذہب اسلام ہی مردہ ہو جاتا۔ پس نہ صرف قرآن واسلام پر بلکہ تمام مسلمانوں پر میرا بہت بڑا احسان ہے۔ قرآن اور خدائے قرآن نے تو میرا احسان مانا مگر مسلمانوں نے نہ مانا جو حد درجہ احسان فراموش اور کافر نعمت ہیں۔ نہ میرا مرتبہ پہچانا کیونکہ مسلمان نپٹ اندھے ہیں میں ہی خوب جانتا ہوں کہ میں کیا ہوں یا آسمانی باپ جانتا ہے جس نے مجھے لے پالک بنا کر بھیجا ہے ۔

میں نے خود خود میں جو دیکھا ہے نہیں کہہ سکتا
کہ مبادا کہیں سن پائیں مذاہب والے

١٤٥

صفحہ ١٤٧

اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا انیسویں صدی کا ایک خوفناک ڈاکو ہے جو مسلمان بن کر مسلمانوں کے ایمان کی دولت لوٹتا ہے۔ وہ مجسم شیطان ہے جو آئے دن طرح طرح کے روپ بدل کر مسلمانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ مکارہ اور قتالہ بیوہ عورتوں کی طرح خدا اور رسول کے ذکر پر زار و قطار روتا ہے۔ ایک صاحب نے جو آدھے مرزائی ہیں ہم سے بیان کیا کہ جب خدا اور رسول کا ذکر آتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا گل جائے گا پانی ہو کر بہہ جائے گا۔ ہم نے کہا سادھو بچے اس سے کہیں زیادہ پاکھنڈ پھیلاتے ہیں۔ اگر وہ درحقیقت ایسا ہی ہوتا تو خدا پر افتراء نہ باندھتا، رسول اللہ ﷺ سے اگر اس کو محبت ہوتی اور قرآن پر ایمان ہوتا تو نبی اور رسول نہ بنتا، تقویٰ اور خشیۃ اللہ پر شہ نشین میں بیٹھ کر لیکچر دیتا۔ مرزائی اخباروں میں توحید و اتباع سنت پر طویل و بسیط مضامین کا شائع کرنا اور بالجملہ اپنے کو نبی اور خاتم الخلفاء بتانا خدا اور اس کے رسول بلکہ تمام انبیاء کی کھلی توہین ہے۔ مرزائیوں نے تو بروزی نبوت تسلیم ہی کر لی ہے۔ ان کے سامنے توحید و سنت پکارنا بالکل فضول ہے۔ معلوم ہوا یہ اوروں کو پھانسنے کا جال ہے جب کوئی مرزائیوں سے متحیر ہوکر پوچھتا ہے کہ کیا مرزا قادیانی اپنے کو نبی کہتے ہیں تو جواب دیتے ہیں کہ قسم ہے وحدہ لاشریک کی یہ نرا بہتان ہے۔ وہ تو حدیث شریف کے موافق اپنے کو مجدد بتاتے ہیں لیکن یہی اجنبی جب چند روز صحبت میں رہتا ہے اور مرزائی افسون اس پر اچھی طرح دم ہو جاتا ہے تو اپنے پرانے عقیدہ کا جبہ اتار کر اور کان دبا کر خر دجال کی نئی جھول پہن لیتا ہے اور دم اٹھا کر اسی راہ چلنے لگتا ہے جس راہ تمام مرزائی چل رہے ہیں۔

ایک صاحب نے ہم سے کہا کہ مرزا قادیانی کو مسمریزم میں بھی بڑا کمال ہے جب کسی شخص سے آنکھ ملاتے ہیں تو وہ انہیں کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے۔ اس وقت ہمارے ایک شاگرد بھی بیٹھے تھے جو پچھلے دنوں اپنے مطلب کی خاطر بظاہر مرزائی بن گئے ہیں اور حکیم الامت وغیرہ میں بھی ان کی قدر و منزلت ہے کہنے لگے کہ مجھ پر تو مسمریزم کا کچھ بھی اثر نہیں ہوا ان کے چہرے سے تو صاف طور پر دنیا داری، عیاری، مکاری ، خود غرضی، شکم پرستی مترشح ہے۔

معذرت ...... میرٹھ میں طاعون کی وہ گرم بازاری ہے کہ قریباً گھر کے گھر صاف ہوگئے۔ قفل لگ گئے، لوگ بھاگ نکلے، موت کا خوف ہر دم غالب ہے۔ کاروبار بند ہیں، لوگوں کا دل کسی کام میں نہیں لگتا۔ لہٰذا اگر ایسے سخت دنوں میں شحنہ ہند اور ضمیمہ کی اشاعت میں وقفہ ہو جائے تو ناظرین معاف فرمائیں۔

١٣١

صفحہ ١٤٨

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء مئی شمارہ نمبر ١٨ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... انبیاء کے معجزات درحقیقت معجزات قدرت ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

کسی نبی نے اپنے اختیار سے معجزات دکھانے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا کیونکہ ایسا دعویٰ درحقیقت خدا بننے کا دعویٰ ہے۔ نمرود مردود نے جو انا احی و امیت کہا تو ظاہر ہے کہ وہ خدائی کا مدعی تھا۔ انا ربکم الاعلی مگر یہ دعویٰ توڑا گیا اور ایسی ذلیل موت مرا کہ اس کا نقش عبرت صفحات تاریخ پر ہمیشہ ثبت رہے گا۔ اور ہر مفتری علی اللہ کا یہی برا حال ہوا۔

ہر نبی نے باذن اللہ کہہ کر معجزات دکھائے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”ابره الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ“ اور دوسری جگہ ”فیکون طیراً باذن اللہ“ پس معجزات انبیاء درحقیقت معجزات قدرت ہیں۔ ان لوگوں کی عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں جو معجزات الٰہی کے منکر ہو کر گمراہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی حالت کو اپنی حالت پر قیاس کیا ہے۔ وہ اس سے غافل ہیں کہ؎

کار پاکان را قیاس از خود مگیر

یہ بھی فطرت کے خلاف وہ بھی فطرت کے خلاف۔ گویا وہ تمام قانون قدرت کے جامع اور حافظ ہیں اور جیسی ان کی ہستی محدود ہے ایسی ہی فطرت الٰہی بھی محدود ہے۔ فلسفے اور سائنس کا موجودہ زمانہ نئی نئی چیزوں کی تلاش اور تحقیقات میں زمین کا گز بن گیا۔ اور ہمیشہ ایسی جزئیات ملتی رہتی ہیں کہ ان کا اور ان کی فطرت کا اس سے پہلے کبھی علم نہیں ہوا۔ اور بڑے بڑے فلسفی ہزاروں اشیاء کی نسبت جو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کی فطرت یہی ہے وہ تحقیق و تدبر سے

١٣٢

صفحہ ١٤٩

بالکل غلط ثابت ہوئی اور ان کی فطرت کچھ اور ہی نکلی پھر بھی پورا اذعان نہیں ممکن ہے کہ یہ بھی نہ ہو بلکہ کوئی دوسری اور تیسری فطرت ہو ہلم جرا۔

ایک حماقت شعار دھریہ کہہ اٹھتا ہے کہ فلاں امر بالکل خلاف عقل ہے۔ کوئی پوچھے آپ کیا اور آپ کی ننھی عقل کیا اور خود انسان کی محدود ہستی ہی کیا کہ غیر محدود قدرت کا احاطہ کر سکے اور اس پر کوئی حکم لگا سکے جبکہ عقل ذرا سی دیر میں گندلی ہو جاتی ہے۔ ادھر کوئی خوف غالب ہوا۔ عقل رخصت ہوئی۔ ذرا سا بخار آیا اور عقل جاتی رہی۔ کوئی تکلیف پہنچی اور عقل غتربود۔ کوئی عجوبہ شے نظر پڑی اور عقل کو حیرت نے چکا چوند لگا کر سکتے میں ڈال دیا۔ اگر انسانی عقل قابل اعتبار مستقل شے ہوتی تو انسان ہرگز ڈانواں ڈول نہ ہوتا نہ اس سے غلطیاں سرزد ہوتیں۔ ایک وقت روٹی نہ ملے پھر دیکھو عقل کہاں جاتی ہے؟ جب پیٹ بھر گیا عقل سر سہلانے کو آموجود ہوئی۔ سارا فساد روٹیوں کا ہے۔ کبھی کسی غریب آدمی نے قدرت و فطرت الہی میں عقل کو دخل نہیں دیا۔ پیٹ بھروں ہی نے خدا کا انکار کیا ہے اور نبی کیا معنی خدا بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر اور طبیب جو مریضوں کو اجزا دیتے ہیں تو جس طرح ان کو مرض کا نیچر معلوم ہوتا ہے اسی طرح اجزاء کا نیچر بھی معلوم ہوتا ہے۔ تاہم سینکڑوں اور ہزاروں مریض مر جاتے ہیں اور ان کو کسی تدبیر سے شفا نہیں ہوتی۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ نیچر کے معلوم کرنے سے ان کی عقل بالکل قاصر ہوتی ہے۔

مرزا قادیانی جو جعلی نبی بنے ہیں تو تمام انبیاء کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں چونکہ انبیاء نے قدرت الہی کے آثار (معجزات) دکھائے اور مرزا قادیانی نہیں دکھا سکتے تو سرے سے معجزات ہی کا انکار کر دیا۔ لیکن جو پیشینگوئیاں دکھلا رہے ہیں غیب کی باتیں بتا رہے ہیں لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں طاعون پھیلا رہے ہیں لہذا نبی کیا معنی، مرزا قادیانی تو خدا ہیں۔ انبیاء کے معجزات کا انکار لیکن اپنے خدا بننے کا اقرار۔ یہ عقل کا فتور نہیں تو کیا ہے چند خوشامدی ، جہل کندہ ناتراش منڈ گئے۔ فارغ البالی ہو گئے۔ روٹیاں ملنے لگیں تر لقمے کھاتے کھاتے گردے پر جس قدر چربی چڑھی اسی قدر عقل اور ایمان کی آنکھوں پر چربی چھا گئی۔ اب خود بینی کے آئینے میں بجز اپنی یک بینی و دو گوش کے کچھ نظر نہیں آتا۔ نبی اور رسول کی شان ہی یہ ہے کہ وہ معجزہ دکھائے ورنہ اس میں اور عام انسانوں میں ما بہ الامتیاز نہیں۔

آخر کروڑوں انسان اس وقت تک کیوں انبیاء کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ نبی کے افعال، عادات، اخلاق سب معجزات ہیں جو عام انسانوں میں نہیں پائے جاتے۔ آنحضرت ﷺ کا ادنیٰ

١٣٣

صفحہ ١٥٠

معجزہ یہ تھا کہ لا تغضبه الدنيا دنیا آپ کو غصہ نہیں دلا سکتی تھی یعنی دنیوی امور میں کبھی آپ کو غصہ نہیں آیا مرزا قادیانی کو دیکھئے کوئی شخص ذرا بھی آپ کی شان میں کوئی سوئے ادب سے کام لے پھر کیا تھا غریب کا پیچھا چھوڑنا مشکل ہو جائے اور اگر بس چلے تو اس کو کچا ہی بھنبھوڑ کر کھا جائیں اور جب کوئی مخالف ہوتا ہے تو مرزا اور مرزائی بانسوں اچھلتے ہیں کہ فلاں شخص پر ہمارا وبال پڑا گویا ہم نے اس کو مارا۔

خود کفار مکہ اور ان کے سرداروں نے ہمیشہ اعتراف کیا کہ ”والله يكذب محمد قط“ یعنی قسم ہے خدا کی محمد ﷺ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ آپ ﷺ کا ادنیٰ معجزہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کو دیکھئے کہ سراسر جھوٹ اور فریب کے پتلے ہیں اور دن بھر میں خدا معلوم کتنے جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کا جہاز ہی جھوٹ اور فریب کے دریا میں چل رہا ہے۔ نبی اور رسول اور خدا کا بمنزلہ ولد بننا اور آیات قرآنی کا الہام ہونا بالکل فریب وافترا علی اللہ، پھر اینٹھ کر لوگوں کو اولاد دلوانے کا وعدہ ہمہ تن فریب اور دروغ ، تمام پیشینگوئیاں جھوٹی نکلیں ۔لعنة الله على الكاذبين

آنحضرت ﷺ کا خلق عظیم بالکل معجزہ تھا خدائے تعالیٰ نے شہادت دی ” انك لعلى خلق عظیم“ اور خود آپ ﷺ نے فرمایا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق غیر اقوام بھی اس معجزے کے قائل ہیں اور کروڑوں آدمی قیامت تک قائل رہیں گے۔ یہ ہیں معجزات قدرت۔ اب مرزا قادیانی کے اخلاق وخوارق کو دیکھئے کہ واجب التعظیم علماء اور مشائخ تو کیا چیز ہیں۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی ان کی بدزبانوں سے نہیں بچے اور ان کی ارواح طیبہ ومقدسہ بھی پناہ مانگ رہی ہیں۔ بھلا نبی اور رسول خدا کی طرف سے دنیا میں تالیف قلوب اور انسانی برگزیدہ اخلاق پھیلانے آتے ہیں یا مخلوق کو گالیاں دے کر اپنے سے منحرف کرنے کو، خدائے تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی شان میں فرماتا ہے ۔ ”لوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولك الآيہ“ یعنی اے محمد اگر تو بدخو اور سخت دل ہوتا تو لوگ تیرے گرد سے علیحدہ ہوجاتے۔ مرزا قادیانی کی بدخوئی اور غلیظ القلبی سب ولعن تحریروں سے عیاں ہے۔ اس کے موافق اگر ان کا کانشنس یوں ملامت کرتا ہو کہ ”انت فظ غلیظ القلب فقد انفضوا من حولك“ تو کچھ عجب نہیں۔

انبیاء سے اگر کوئی بات ان کے شان کے خلاف سرزد ہوئی ہے تو جناب باری نے بذریعہ الہام فوراً تنبیہ فرمائی ہے مگر مرزا قادیانی سینکڑوں حرکتیں خود اپنے کانشنس کے خلاف کررہے ہیں مگر کبھی یہ نہیں کہتے کہ مجھ کو آسمانی باپ نے فلاں الہام کی رو سے ڈانٹا ہے کہ مردود،

١٤٤

صفحہ ١٥١

مطرود، بے بہبود، نامسعود وغیر محمود، ثانی نمرود، ناخلف مولود تو نے یہ کیا جھک مارا۔ لٹکادوں، ملامت کی صلیب پر اور کردوں کانوں کے بیچوں بیچ سر۔ گویا آپ انبیاء سے بھی بڑھ کر معصوم ہیں۔ پیشینگوئیوں کے غلط اور جھوٹ ثابت ہونے پر کبھی اپنی غلطی کا اقرار نہیں کیا اور ہمیشہ باطل تاویلیں نئی گھڑیں جن کو سن کر خر دجال کو بھی پڑھنے پر عرق آجائے۔ اور طاعونی بخار چڑھ جائے۔ انبیاء کے معجزات غلط مگر مرزا قادیانی کے مذکور بالا خوارق صحیح اور معجزات سے بھی کہیں بڑھ کر۔ "فاعتبروا يا اولى الابصار“

٢ ....... وہی وفات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

کیا کسی نبی نے اپنی نبوت کی صداقت کا معیار اس بات پر رکھا ہے کہ چونکہ فلاں نبی وفات پاچکا ہے۔ اس لئے میں نبی ہوں۔ موجودہ زمانہ میں البتہ انگلینڈ میں مسٹر پگٹ نے اور فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی نے اور قادیان میں چینی مغل نے مسیح بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ پہلے بھی متعدد مدعیوں نے یہ کہا کہ ہم سب مسیح موعود ہیں۔

انجیل میں فارقلیط (تسلی دینے والے) کے آنے کا ذکر ہے اور قرآن مجید میں بھی خود عیسیٰ مسیح کا قول درج ہے۔ ”اذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ یعنی یاد کر اے محمد ﷺ جبکہ عیسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ بے شک میں تمہاری ہی طرف خدا کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں (نہ کہ بنی اسماعیل کی طرف کیونکہ آنحضرت ﷺ بنی اسماعیل سے ہیں اور اس لئے عیسیٰ کی نبوت بنی اسماعیل کی جانب متعدی نہیں ہوسکتی) اور ایک رسول کی (بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا) اس آیت پر لحاظ کر کے مناسب تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے کو مسیح موعود قرار دیتے مگر صداقت اور صفائی اس کے مانع ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے کو عیسیٰ موعود نہیں بتایا۔

گاڈفری ھگنس جس نے باوصف انگریز بلکہ پادری ہونے کے آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق اور مذہب اسلام کی حمایت کی ہے اپنی کتاب حمایۃ الاسلام میں لکھتے ہیں : ”اگر محمد ﷺ کو دنیوی مال و دولت اور نمود مدنظر ہوتی تو اپنے کو انجیل کی پیشینگوئی کا مصداق قرار دے کر مسیح موعود بتاتے تاکہ تمام بدبخت عیسائی آپ ﷺ کے قدموں پر جا گرتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ تثلیث کو توڑا اور توحید کو قائم کیا ۔“ اس انصاف پسند پادری نے وہ تمام الزامات

١٣٥

صفحہ ١٥٤

اٹھائے ہیں جو متعصب پادری آنحضرت ﷺ پر لگاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے کو عیسیٰ موعود اور مثل نصاریٰ حقیقی ابن نہیں تو بمنزلہ ابن بنایا، پھر بھی عیسائیوں نے دھتکار ہی ماری اور ان کے نام کا بلڈوگ بھی نہ پالا۔ تب جھلا کر عیسیٰ مسیح کو گالیاں دینی شروع کیں۔ بات ترے مرتد کی دم میں پادریوں کی تثلیث کا رول۔

جب کوئی سادہ لوح آپ کا چیلا بنتا ہے یا بننے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو وہ رسالے دکھائے جاتے ہیں جن میں مسیح کی وفات بزعم خود ثابت کی گئی ہے کہ ١٩ سو برس تک کوئی شخص کیونکر زندہ رہ سکتا ہے اور وہ بھی بے کھائے پیئے۔ اور آسمان پر کوئی کیونکر جا سکتا ہے۔ کیونکہ طبقہ زمہریر میں پہنچ کر کوئی شے زندہ نہیں رہ سکتی۔ وغیرہ۔

مگر ایک آریا اور ایک دہریہ بھی یہی کہتا ہے جو عیسیٰ کی وفات کا قائل نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہیں مانتا۔ مرزائی تو دہریوں اور آریوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان کو خوش ہو کر اور بغلیں بجا کر کہنا چاہئے کہ آریا اور دہریے بھی ہمارے بھائی مرزائی ہیں۔ اور انہوں نے جب وفات مسیح کو مان لیا تو عیسیٰ موعود کو بھی مان لیا۔ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ آتھم کے دل میں میرا خوف پیدا ہو گیا تھا گویا وہ مرزائی بن گیا تھا۔ پس مرزا قادیانی صرف عیسیٰ مسیح کے مارنے کو مسیح موعود بنے ہیں اور ان کے مشن کا یہی کام ہے کہ جابجا عیسیٰ مسیح کو مارتے پھریں لیکن اس صورت میں ایک ایک یہودی، ایک ایک آریا، ایک ایک دہریہ مسیح موعود ہوگا جس کو قرآن مجید سے بھی استدلال کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جیسی مرزا قادیانی کو ضرورت ہے اور پھر مرزا قادیانی کہہ سکیں گے کہ میں منکران وفات مسیح کے لئے مسیح موعود ہوں نہ کہ قائلین وفات کے لئے حالانکہ آپ دعوے سے امام الزمان اور مسیح الزمان اور نیز خاتم الخلفاء اور خدا جانے کیا کیا ہیں؟

پھر تاویلیں بالکل خلاف لغت، خلاف محاورہ، خلاف سیاق و سباق، خلاف جمہور مفسرین، وما قتلوہ وما صلبوہ کے یہ معنی اختراع کئے کہ عیسیٰ مسیح کو صلیب پر بھی کھینچا اور قتل بھی کیا لیکن نہ قتل کا نتیجہ واقع ہوا نہ صلب کا، ہر فعل کی نسبت یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا وقوع تو ہوا مگر نتیجہ ظاہر نہ ہوا۔ ذرا خیال کرنے کی بات ہے کہ وما قتلوہ و ما صلبوہ جواب ہے انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم کا۔ یعنی یہود نے کہا کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا۔ ان کا یہ مطلب نہ تھا کہ ہم نے صلیب پر بھی کھینچا اور قتل بھی کیا مگر نہ صلب کا نتیجہ ظاہر ہوا نہ قتل کا۔ ان کا مطلب تو یہی تھا کہ ہم نے واقعی قتل بھی کیا اور صلیب پر بھی کھینچا اور قتل اور صلب کا نتیجہ بھی ظاہر ہوا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ ان کا دعویٰ تو کچھ تھا اور خدائے تعالیٰ کی نفی قتل و صلب نے کیا فائدہ دیا یہ تو ان کے دعویٰ کا مطلق جواب نہ ہوا۔ یہ ایسی بات ہے

١٣٦

صفحہ ١٥٣

جس کو تھوڑی سی سمجھ والا بھی قبول کر سکتا ہے۔ مگر مرزا اور مرزائیوں سے امید نہیں کہ بلید الطبعی ان کو سمجھنے دے اور تعصب قبول کرنے دے۔ پھر دعویٰ تو آپ کا یہ ہے کہ کوئی بات نیچر کے خلاف نہیں ہوتی حالانکہ عیسیٰ کا صلیب پر چڑھانا اور قتل کرنا سب کچھ ہوا لیکن نہ وہ مصلوب ہوئے نہ مقتول تو کیا یہ نیچر کے خلاف نہ ہوا اور اگر کہو کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم کسی کے مار ڈالنے کا ارادہ کرتے ہیں مگر وہ نہیں مرتا اور اکثر ارادے پورے نہیں ہوتے۔ تو اس میں خدائے تعالیٰ کی قدرت کی عظمت کا کوئی نشان ایسے مہتم بالشان معاملے میں ظاہر نہ ہوا، جیسا کہ مسیح کا معاملہ ہے اور جس سے دنیا کی تواریخ گونج رہی ہے اور جس کے باعث کروڑوں آدمیوں نے آپ کو منجی بلکہ خدا قرار دے دیا کیونکہ یہ تو ایک معمولی بات ہوئی۔ بات تو آپ کے نزدیک اتنی ہے کہ جیسے مسیح کو یہود نے قتل کرنا چاہا مگر وہ کسی وجہ سے بچ نکلے۔ لیکن ایسی خفیف بات کے لئے خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ بل رفعہ اللہ محض فضول اور بے نتیجہ ہوا۔ مناسب تو اس مقام پر وقاہ اللہ یا نجاہ اللہ یا انجاہ اللہ تھا۔ مگر چونکہ جواب انا قتلنا المسیح کا ہے یعنی ہم نے عیسیٰ مسیح کو مار ڈالا، تو صاف ظاہر ہے کہ جب تک یہ معنی نہ لئے جائیں کہ خدائے تعالیٰ نے ان کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہود کے دعوے کا جواب اور استیصال نہیں ہو سکتا پھر مرزا قادیانی کو انبیاء کے معجزات سے ضد تھی اب معلوم ہوا کہ خدائی معجزات سے بھی ضد ہے کیونکہ رفعہ اللہ میں خدائی کرشمہ تھا کہ بندے کی کیا مجال تھی۔

١٤..... ایک لے پالک کے آنے کی ضرورت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزائی اخبار الحکم لکھتا ہے کہ پائنیر آج سے انیس سو تین برس پہلے دنیا میں ایک خدا کے آنے کی ضرورت تسلیم کرتا ہے جو نہ صرف خدا ہے بلکہ خدا کا بیٹا اور معاً ابن آدم بھی ہے اور پھر اس ضرورت کی تردید کرتا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی تو ابن اللہ یا اللہ کے متبنّی کی ضرورت کو موجودہ زمانے میں تسلیم کر کے خود آسمانی باپ کے لے پالک بنے ہیں۔ تعجب ہے کہ ایڈیٹر الحکم نے آئینے میں اپنی ناک نہیں دیکھی۔ ذرا خیال کرنا چاہئے کہ خدا کا لے پالک بن کر آنے کا اس شخص نے یہ دعویٰ کیا ہے جو اپنے کو مسلمان اور قرآن پر ایمان رکھنے والا بتاتا ہے جس میں آیت "لم یلد ولم یولد" موجود ہے۔ پھر معلوم نہیں الحکم پائنیر کی بتائی ہوئی ضرورت کا کس منہ سے رد کرتا ہے۔ خدائے تعالیٰ نے تو کامل حجت اور برہان ( قرآن مجید ) خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ پر

١٣٧

صفحہ ١٥٤

نازل کر کے مسلمانوں کی تمام ضرورتیں پوری کردیں۔ اب دینی اور دنیوی امور میں کسی شے کی ضرورت نہ رہی مگر مرزائیوں کو نبی کی بھی ضرورت۔ الہام اور وحی کی بھی ضرورت۔ امام الزمان کی بھی ضرورت۔ مہدی اور مسیح موعود کی بھی ضرورت۔ خدا کے لے پالک کی بھی ضرورت۔ گویا اسلام اور پیغمبر اسلام کی بعثت نے کچھ کیا ہی نہیں نہ مسلمانوں کی کوئی ضرورت پوری کی۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت اور نزول قرآن بالکل فضول تھا۔ معاذ اللہ۔ حالانکہ تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں ہاں مرزائیوں کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوئی۔ جس کا پورا ہونا تیرہ سو برس کے بعد نیچری مغل پر منحصر ہوا۔

مرزا قادیانی اپنے کلام اور خدا رسول کے کلام کی جو کچھ تاویلیں اپنے مطلب کے موافق کریں وہ سب درست۔ لیکن دوسرے مذہب والے جو کچھ اپنے مذہب کی نسبت کہیں وہ سب غلط۔ آپ کہتے ہیں میں ان کا ایسا لے پالک نہیں ہوں جیسے دنیا میں انسان کسی کو اپنا لے پالک بنالیتے ہیں مگر عیسائی اس سے بہتر تاویل کر سکتے ہیں کہ یسوع مسیح خدا کا ایسا بیٹا نہیں جیسے بندہ کا بیٹا ہے اور نہ عیسیٰ ؑ ان آلات و وسائل سے پیدا ہوا ہے جن سے تمام انسانوں اور حیوانوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے نئے عقائد واصول پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مذہب اسلام کو انہوں نے اقوام دنیا میں رسوا کر دیا ہے چونکہ وہ اپنے کو مسلمان بلکہ اسلامی نبی قرار دیتے ہیں اور اسلام کی اصلاح کے مدعی ہیں۔ لہٰذا غیر اقوام اور غیر مذاہب بھی خیال کرتے ہوں گے کہ اسلام میں نہ توحید ہے نہ بت پرستی کی ممانعت ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے تصاویر کو رواج دیا۔ اپنے کو خدا کا لے پالک بنالیا۔

وہ خیال کریں گے کہ محمد ﷺ خاتم النبیین (سب سے آخری پیغمبر) نہیں ہیں۔ بلکہ مرزا خاتم الخلفاء ہے اور قرآن میں جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ غلط ہے اور قرآن میں نہ حج کا حکم ہے نہ مستحقوں کو زکوٰۃ دینے کا۔ اور علماء اسلام اب تک نصاریٰ سے فضول جھگڑتے رہے مرزا خدا کا متبنیٰ ہے اور اسلام میں تناسخ بھی موجود ہے کیونکہ مرزا بروزی نبی ہے پس ہنود سے اسلام کا معارضہ کرنا فضول ہے۔ اب فرمائیے اسلام کس بات کا فخر کر سکتا ہے اس نے کونسی اصلاح کی ہے شرک اور بت پرستی اور رسوم قبیحہ کی جو حماقتیں دوسرے اقوام و مذاہب میں موجود ہیں۔ اسلام میں بھی موجود ہیں۔ نعوذ بالله من ذلك۔

بجلی مری فغان سے گری آسمان پر
جو حادثہ کبھی نہ ہوا تھا سو اب ہوا

١٣٨

صفحہ ١٥٥

اگر باوصف نزول آیہ ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ کے کسی نبی یا لے پالک کے آنے کی ضرورت ہے تو اسلام کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیا قرآن میں کسی کے آنے کی ضرورت بتائی گئی ہے اگر اب بھی کسی کے آنے کی ضرورت ہے تو اسلام اپنی اصلاحات عامہ اور ہدایات تامہ پر کچھ فخر نہیں کر سکتا اور منبر پر چڑھ کر مرزا کا اسلام کی خوبیوں پر لکچر دینا محض منافقانہ کارروائی ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دے کر الحاد کے شیشہ میں اتارنا ہے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں ہر صدی پر مجدد کے آنے کی ضرورت ہے ہم کہتے ہیں کہ لے پالک کے آنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیا ایسے مجدد کی ضرورت ہے جو دین اسلام کی ترمیم کرے۔ کیا ایسے مجدد کی ضرورت ہے جو خاتم الانبیاء بنے۔ کسی کی بھی ضرورت نہیں۔ البتہ اب تو ایسا دعویٰ کرنے والے کو پاگل خانے بھیجنے کی ضرورت ہے جتنے مہدی اب تک گزرے کسی نے یہ دعوے نہیں کیا کہ اسلام کے لئے کسی نبی اور امام کی ضرورت ہے نہ انہوں نے اپنی وقعت بڑھانے کے لئے کسی نبی کو برا کہا۔ حالانکہ وہ جھوٹے تھے اور اپنے دل میں بھی خوب جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں لیکن مرزا قادیانی مہدیان کذاب سے بھی کہیں بڑھ کر اکذب ہیں کہ انبیاء کو محض دنیا پرستی اور شکم پروری کے لئے برا کہتے ہیں اور جس صورت میں ان کو اس جاہ و جلال اور جبروت کا شمہ بھی نہیں ملا جو بعض دوسرے مہدیوں کو مل چکا ہے تو اگر وہ خدانخواستہ کسی قابل ہو جائیں اور دو لاکھ والنٹیروں سے بڑھ کر دو چار دس پانچ لاکھ والنٹیر نصیب ہو جائیں تو خدا جانے کیا کریں؟ کسی کو جینے بھی نہ دیں۔ اور ان کے خوارق سے کیا عجب ہے کہ خدائی کا دعویٰ کر بیٹھیں کیونکہ انبیاء کے سارے مدارج طے کر چکے ہیں۔ اب صرف خدا بننا باقی ہے۔

مرزائیوں کو موجودہ زمانے میں امام کی ضرورت ہے مگر ایسے امام کی کہ جو صفتیں اس میں ہوں وہ کسی نبی میں نہ پائی گئی ہوں وہ مسیح بھی ہو، مہدی بھی ہو، بروزی نبی بھی ہو، خاتم الخلفاء بھی ہو اور بالآخر خدائے وحدہ لاشریک کا لے پالک بھی ہو۔ ایسا عجیب الخلقت اور خلاف قانون فطرت نبی تو قادیان ہی میں پیدا ہو سکتا ہے دیگر ممالک میں تو آج تک پیدا ہوئے نہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پس بڑا معجزہ مرزا قادیانی کا یہی ہے کہ آپ ان نیچرل نبی ہیں۔ اب مرزائیوں کو کسی معجزے کے دیکھنے کی کیا ضرورت۔ مرزا قادیانی کا عنصر ہی خلاف فطرت خمیر سے گوندھا گیا ہے۔ ھٰذا شیئ عجاب، انبیاء کے تمام معجزات اور عیسیٰ مسیح کا ابن اللہ بننا خلاف فطرت ہے۔ مگر خدا کا لے پالک بننا مرزا کے لئے عین فطرت۔ مرزا کی عقل تو سوڈان کے جنگل میں چرنے گئی ہی تھی مرزائیوں کی عقل کے طوطے بھی عدم آباد اڑ گئے۔

١٣٩

صفحہ ١٥٦

٤ ...... مرزا قادیانی کے دو مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے چونکہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں اور ان پر اس سبّ وشتم کا وبال پڑا ہے کہ علماء ومشائخ نے ان کو اسلامی سوسائٹی سے خارج کر دیا ہے اور ویسے بھی مقدمات متدائرہ میں برابر ذلتیں اٹھا رہے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کے کسر شان کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ لہٰذا کانشنس کے شرم دلانے پر اب معذرت کرتے ہیں کہ میرا مخاطب عیسیٰ بن مریم نہیں بلکہ وہ یسوع ہے جس کے فسق وفجور کی لعنت اور تاریکی دنیا میں پھیلی جس نے خدائی کا دعویٰ کر کے لوگوں کو گمراہ کیا وغیرہ۔

یہ مرزا قادیانی کی محض مکاری اور دفع الوقتی ہے کیونکہ کسی آسمانی کتاب اور کسی تاریخی کتاب سے ثابت نہیں ہوتا کہ دنیا میں دو مسیح گزرے ہیں۔ بہر حال مسیح سے مرزا قادیانی کی مراد وہی یسوع مسیح ہے جس کو عیسائی ابن اللہ کہتے ہیں اور خدا سمجھ کر جس کی پرستش کرتے ہیں۔ اور استدلال لاتے ہیں کہ ہمارا یسوع مسیح وہی ہے جس کی نسبت قرآن میں کلمۃ اللہ اور روح منہ وارد ہوا ہے وہ پاک ہے، وہ معصوم ہے، صاف ثابت ہے کہ اس کے سوا کوئی اور یسوع نہیں گزرا ورنہ مرزا قادیانی بتا دیں کہ فلاں سن میں گزرا ہے اور فلاں کا بیٹا تھا اور فلاں جگہ پر پیدا ہوا اور فلاں جگہ پر مرا جہاں اس کی قبر موجود ہے اور کیا یہ وہی یسوع ہے جس کو آپ نے کشمیر میں مارا ہے اور وہیں اس کی قبر بتا دی ہے اور کیا یہ وہی یسوع ہے جو صلیب پر کھینچا گیا اور جس کی وفات ثابت کرنے کو ذہن تک کا زور لگایا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ گالیاں اسی یسوع کو دی جاتی ہیں اور یہی آپ کا رقیب ہے جس کے آپ مثیل ہیں اور اس کے سوا کوئی یسوع نہیں گزرا۔ اگر کشمیر میں جھوٹے یسوع کی قبر ہے تو بتاؤ سچا مسیح کہاں ہے؟ اور کہاں اس کی قبر ہے اگر تم نہ بتا سکو گے تو لازم آئے گا کہ سچا مسیح آسمان پر زندہ موجود ہے۔ جس کے زندہ رہنے کے تم منکر ہو ھذا خلف۔

کیا نصاریٰ ایسے نادان اور از خود رفتہ تھے کہ ایک فاسق فاجر شخص کو خدا کا بیٹا بنا دیتے اور بعض ہم صفت اور ہم پیشہ جھوٹے مہدیوں پر عیسیٰ مسیح کو قیاس کیا جو فی الحقیقت فریبی اور مکار اور دنیا کے ٹھگنے والے تھے اور چند روز میں کتے کی موت مارے گئے۔

پھر معلوم نہیں میرے پر سو ڈرے، اب یہ معذرت کیوں کی جاتی ہے اور کس کا خوف ہے کیا مرزا قادیانی کو اس جرم میں پھانسی لگتی ہے یا وہ سنگسار کئے جاتے ہیں جس طرح افغانی عبداللطیف سنگسار کیا گیا۔ کیا مولوی کرم الدین کی طرح کسی مسلمان یا عیسائی نے ان پر لائیل کا

١٤٠

صفحہ ١٥٧

دعویٰ دائر کیا ہے۔

عیسٰی مسیح علیہ السلام کو اس لئے گالیاں دی جاتی ہیں کہ دنیا ان کی عظمت کرتی ہے۔ نصاریٰ ان کو خدا مانتے ہیں اور مسلمان سچا نبی یقین کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب مرزا قادیانی اپنے کو مسیح اور امام الزمان مان چکے ہیں تو رقابت کے باعث عیسیٰ مسیح کی وقعت ان کی نظر میں کھٹک رہی ہے۔ اور جھلا جھلا کر ان کو اور ان کے ساتھ عیسائیوں اور مسلمانوں کو گالیاں دے رہے ہیں کہ میں آسمانی باپ کا زندہ لے پالک اور نبی دنیا میں موجود ، مجھے تو کوئی دمڑی کو بھی نہیں پوچھتا اور سب میرے نام پر پاپوش مارتے ہیں اور نصاریٰ مردہ ابن اللہ کی پرستش اور مسلمان مردہ نبی کی عظمت کرتے ہیں ۔ عظمت کیا معنی یہ بھی نصاریٰ کی طرح عیسیٰ مسیح کو پوجتے ہیں ۔

خدا کی شان عیسیٰ مسیح تو فاسق و فاجر ٹھہریں جن کی عصمت کی قرآن وحدیث شہادت دیں اور مرزا فاسق فاجر نہ ٹھہرے جو سینکڑوں جھوٹ بولے۔ جھوٹا مشن کھڑا کرے۔ فریب اور دغا کی دکان جمائے ۔ اصول اسلام کو توڑے ۔ اپنے کو لے پالک بنائے اور اپنی تصویر شائع کرنے سے دنیا میں شرک پھیلائے ۔

دیکھو اس قدر جھوٹے مہدی گزرے مگر مرزا نے کبھی کسی مہدی پر سب و لعن کا مینہ نہیں برسایا حالانکہ وہ مردود اسی قابل تھے وجہ یہ ہے کہ آپ بھی ان کے ساتھ ملعون ٹھہرتے ہیں اور آپ کے پاس کوئی دلیل اس امر کی نہیں کہ وہ تو جھوٹے تھے اور میں سچا ہوں ۔ پھر عیسیٰ مسیح جو آپ کے نزدیک مرگئے ان کو تو ہر طرح برا کہا جاتا ہے اور ان کا قطعاً انکار کیا جاتا ہے لیکن یورپ میں جو دو مسیح (مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی) اور سمالی لینڈ میں مہدی (ملا عبداللہ) آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور مرزا کی چھاتی پر مونگ دل رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ نہیں توڑا جاتا وجہ یہ ہے کہ تینوں خالہ کے بیٹے ہم پیشہ اور ہمعصر ہیں ۔ انہوں نے یورپ وافریقہ کا کونا دبایا تو مرزا قادیانی نے ہندوستان کا۔ نصف لی ونصف لکم ھذا قوم الوحوش وہ زندہ ہٹے کٹے ٹکریں لینے کو موجود ۔ انبیاء تو مر گل گئے وہ کیا کر سکتے ہیں جلن تو اس بات کی ہے کہ دنیا مردہ پرست ہے۔

اگر مرزا قادیانی کا یسوع فاسق وفاجر تھا تو اس سے تعرض ہی کیا ۔ دنیا میں لاکھوں فاسق وفاجر ہیں جو ٹکسال باہر ہیں اور وہ خود ملعون ہیں ان پر لعنت بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ نہ وہ کسی کا کچھ بگاڑتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کا مقابلہ تو انبیاء سے ہے جب تک ان میں عیب نہ نکالیں اور ان کو فاسق و فاجر نہ بنائیں خود معصوم نبی نہیں بن سکتے ۔ پس صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ بن مریم ہی کو فاسق وفاجر قرار دیتے ہیں نہ کہ کسی دوسرے یسوع کو جس کا درحقیقت وجود ہی نہیں ۔

١٤١

صفحہ ١٥٨

مرزا قادیانی کی نگاہ میں تو وہ مسیح کھٹک رہا ہے جس کی شان ’ابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ “ ہے۔ مرزا قادیانی ان معجزات کا انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ خود کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے۔ فاسق و فاجر کا ان کو کیا خوف جس کو کوئی بھی نہیں مانتا۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ مئی کے شمارہ نمبر ١٩ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزائی مذہب کی حقیقت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اور ان کے آرگن (مرزائی اخبارات) برابر حقیقی مذہب اور مذہب کی صداقت وغیرہ کا راگ الاپ رہے ہیں معلوم نہیں سچے مذہب اور حقیقی مذہب سے ان کی کیا مراد ہے۔ مذہب اسلام تو مراد ہو نہیں سکتا کیونکہ اس پاک مذہب کو وہ چھوڑ چکے ہیں۔ قرآن کی نصوص قطعیہ اور ادائے ارکان اسلام کا انکار، بلکہ ان کو رد کر چکے ہیں۔ پس حقیقی مذہب سے ان کی مراد جدید مرزائی مذہب ہے۔ حالانکہ اس کے اصول واحکام بھی ابھی تک مدون و مشتہر نہیں ہوئے بجز اس کے کہ عیسیٰ مسیح وفات پاگئے لہٰذا مرزا قادیانی مسیح موعود اور پیغمبر ہیں اور جو کوئی ان پر ایمان نہ لائے وہ ملحد مرتد واجب القتل ہے اور مردہ پیغمبروں کو ماننا اور ان کی وحی اور الہام بمقابلہ زندہ پیغمبر کے ایمان لانا حماقت ہے۔ زمانہ بدل گیا تم بھی پرانے مذہب کا میلا کچیلا چولا جسم سے اتار دو، مخترعہ مذہب کی نئی لنگوٹی پہنو۔

دنیا میں جس قدر مذاہب ہیں ان کے اصول کی کتابیں موجود ہیں اور نہ صرف اہل مذاہب بلکہ حکام گورنمنٹ بھی انہیں کے قواعد اور مروجہ اصول کے موافق مقدمات کا فیصلہ کرتی اور ان کو مانتی ہے۔ مگر کیا مرزا قادیانی نے بھی اپنے مذہبی اصول کی کتابیں لیجسلیٹو کونسل میں

١٤٢

صفحہ ١٥٩

بھیجتی ہیں کہ احمدی (مرزائی قوم) کے معاملات ومقدمات ان کے موافق فیصل ہوا کریں کیونکہ اصول شرع محمدی اور اصول دھرم شاسترہ وغیرہ اب کرم خوردہ اور ردی ہو گئے۔ اور چونکہ مرزا قادیانی امام الزمان ہیں لہٰذا تمام ممالک یورپ وافریقہ وایشیاء، چین اور روس وغیرہ کی گورنمنٹیں بھی پرانے مذہبی اصول منسوخ کر کے اپنی رعایا میں مرزائی مذہب کے اصول جاری کریں۔

حالانکہ ممالک مذاہب غیر کو تو جانے دیں ممالک اسلامیہ ترک، افغانستان، فارس وغیرہ ہی میں اپنی اصول کی کتابیں اور اپنا مشن بھیجیں پھر دیکھیں کیا مزہ آتا ہے۔ ایک چیلے ملا عبداللطیف کو افغانستان بھیجا تو تھا۔ دیکھو اس کا کیا حشر ہوا۔ گھر پر تو کتا بھی شیر ہوتا ہے۔ چونکہ برٹش گورنمنٹ کے مبارک پرامن عہد میں سب کو آزادی کی نعمت حاصل ہے۔ لہٰذا مرزائی بکر کود مچاتے اور منادی کرتے پھرتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح وفات پاگئے۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔

مرزائیوں نے سینکڑوں کتابیں اور رسالے مشتہر کئے ہیں لیکن ان میں وفات مسیح اور مرزا کی خودستائی اور انبیاء علیہم السلام اور موجودہ زمانے کے مشائخ اور علماء پر سبّ وشتم برسانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ حقیقی اور سچا مذہب ہے۔ جس پر مرزا اور مرزائیوں کو فخر ہے۔

مرزائی اخباروں میں تعلی کے ساتھ مشتہر ہوتا ہے کہ حضرت اقدس اور ان کے حواری کی تصانیف یورپ وامریکہ میں پہنچ گئیں اور مرزائی میگزین بھی برابر پہنچتا ہے اور وہاں کے لوگ عیسیٰ مسیح کی وفات کو تسلیم کرتے ہیں اور مرزائی اخبار میں ایک امریکن کا خط بھی شائع ہوا تھا کہ میں وفات مسیح کے باب میں آپ سے متفق ہوں مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ آپ مسیح متوفی کے قائم مقام اور امام الزمان ہیں اور ہم لوگ عیسیٰ مسیح کو چھوڑ کر آپ پر ایمان لائے ہیں اور چونکہ یورپ وامریکہ کو جدید فلسفے اور سائنس نے چر لیا ہے اور الحاد پھیلا دیا ہے اگر ان کا پہلا قہقہہ حیات مسیح پر ہوگا تو دوسرا قہقہہ مرزا کے مسیح موعود بننے پر ہوگا۔

ایسے بیوقوف نہیں کہ مرزا کی خود غرضانہ چال نہ سمجھیں کہ یہ شخص مسیح کو تو مارتا ہے اور خود اس کی جگہ لیتا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ مسیح نے وفات پائی ہو یا وہ زندہ ہو مگر ایک چینی مغل مسیح نہیں ہو سکتا اور وہ بھی مذہب اسلام میں جو مذہب عیسوی کا ناسخ یا یوں کہو کہ کٹا حریف ہے۔ مرزا قادیانی سے تو کہیں زیادہ مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی ان کے نزدیک مسیح بننے کے مستحق ہیں جو عیسوی مذہب رکھتے ہیں لیکن جب یورپ والے اپنے ہم مذہب جدید مسیحوں کو بھی پاگل قرار دیتے اور ٹھٹھے اڑاتے ہیں تو مرزا قادیانی کس کھیت کی مولی ہیں۔ اور جس طرح مرزا قادیانی حیات مسیح

١٤٣

صفحہ ١٦٠

کو نہیں مانتے اسی طرح لاکھوں عیسائی نہیں مانتے لیکن کیا وہ سچ ہیں اور ایک دوسرے کو سچ سمجھتے ہیں اس صورت میں تو یورپ وامریکہ میں لاکھوں مسیح ہوں گے۔ پاگل اپنے کو پاگل نہیں سمجھتا نہ اپنی حرکات کو مجنونانہ یقین کرتا ہے مگر ذی عقل اور ذی ہوش اس کو پاگل ہی سمجھتے ہیں اور معذور قرار دیتے ہیں جیسا کہ پائیر نے لکھا تھا کہ ہندوستان کے لوگ بھی مذہبی پاگلوں سے ایسے ہی بے پروا ہو جاتے جیسے فرانس والے ہیں تو مرزا کی مسیحیت ومہدویت ہانڈی کے ابال کی طرح جوش کھا کر خود ہی بیٹھ جاتی مگر ہندوستان میں تو نہ مرزا مذہبی پاگل ہیں نہ ان کے حواری۔ یہ تو دیوانہ بکار خویش ہشیار ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مرزا کا ایسا جنون طاعون اور ہیضے کی طرح متعدی ہو کر اوروں کو بھی پاگل بنا دیتا ہے۔ نہیں جناب نہ مرزا قادیانی پاگل تھا نہ ہرگز ۔ مر گیا تو اصحاب الفیل بن کر ہاتھی کے لوٹ میں سب اپنا اپنا حصہ بخرہ لگانے لگے۔ دو دو اور چپڑی اگر کوئی انہیں پاگل کہے تو مجددالسنہ شرقیہ ابھی ابھی اس کی جان کو آجائے اور منہ نوچ کر ڈاڑھی کھسوٹ لے۔

حواری اور مرزا قادیانی مارے خوشی کے پھول کر فرانس کا بیلون بنے ہوئے ہیں کہ ہمارا میگزین یورپ وامریکہ میں جاتا ہے اور وہاں کے لوگ وفات مسیح کے ساتھ مرزا قادیانی کی مسیحیت پر بھی ایمان لاتے جاتے ہیں مگر ان کی یہ خوشی اور خندہ روئی ایسی ہی ہے جیسے خس کے شعلہ کی کہ تھوڑی دیر کے بعد افسردگی کے سوا کچھ نہیں۔

یورپ وامریکہ والوں نے مرزا قادیانی کے وہ رسالے یقیناً نہیں دیکھے جن میں عیسیٰ مسیح کو فاسق وفاجر بتایا گیا ہے۔ اگر مرزا قادیانی اپنے دعوے میں (جس کو وہ سچا سمجھتے ہیں) بے لاگ اور بے باک ہیں تو وہ رسالے بھی انگریزی میں ترجمہ کرا کر یورپ وامریکہ میں بھیجیں پھر تو معلوم ہو جائے گا کہ یورپین اور امریکن مرزا کو کیا سمجھتے ہیں۔ خوب یاد رکھو کہ کوئی شخص اپنے مذہبی ادائے فرائض سے کیسا ہی بے پروا ہو ۔ اس کے عقائد کیسے ہی متزلزل ہو جائیں مگر اس کی فطرت اپنے مذہب و بانی مذہب کی توہین ہرگز نہ دیکھ سکے گی۔ جو نیشن اور نیشنلٹی اور قومیت کا قالب پکڑ گئی ہے۔ یورپ میں آج کے روز اتحاد واتفاق کی جو عالمگیر روشنی نظر آرہی ہے وہ صرف مذہب کی دولت ہے۔ اگر یورپ اپنے مذہب سے بے پروا یا بالکل لا مذہب ہوتا تو ترکی سلطنت کے ساتھ کبھی اس کا ویسا ہی اتحاد وخلوص ہوتا جیسا دوسری عیسائی سلطنتوں کے ساتھ ہے اور ترکی سلطنت ان کی آنکھوں میں ہرگز نہ کھٹکتی۔ اگر یورپ کو مذہبی پاس نہ ہوتا تو عیسائیوں پر ترک کا کان گرم ہوتے ہی سب کے سب مشتعل نہ ہو جاتے اور چین میں مذہبی مشنریوں کے قتل ہو جانے پر تمام یورپ

١٤٤

صفحہ ١٦١

خون بہانے کو نہ چڑھ دوڑتا۔ بعض یورپین گو اسلامی اصول کو پسند کرتے ہیں مگر وہ ہرگز نہ چاہیں گے کہ مذہب عیسوی کے مقابلہ میں اسلام کو فروغ ہو پس مرزا اور مرزائیوں کا یہ خیال کہ ہمارے رسالوں کو یورپ وامریکہ ٹھنڈی آنکھوں دیکھتا ہے۔ نرا خیالی پلاؤ اور نری ملٹن کی خیالی بہشت ہے جس صورت میں یورپ والے قدیمی عظیم الشان مقدس اسلام کو نہیں مانتے تو جدید بے اصل مرزائی مذہب کو کیا مانیں گے۔

یورپ اپنے مذہب کو حق سمجھتا ہے اور دل سے چاہتا ہے کہ پادری لوگ عیسویں مذہب دنیا میں پھیلائیں اگر وہ مذہب سے بے پرواہ ہوتا تو ممالک غیر میں پادریوں کے قتل ہو جانے کی ذرا پروا نہ کرتا اور نہ ان کے قتل کو خودکشی قرار دیتا کہ پادریوں نے مذاہب غیر کو ناحق مشتعل کیا تھا جس کی سزا ان کو مل گئی۔

حیات مسیح ، مذہب مسیح کا ایک رکن اعظم ہے یعنی عیسیٰ مسیح عیسائیوں کے نزدیک خدا ہے اور خدا کے لئے حی اور قائم ہونا ضروری ہے۔ پس ذرا سمجھنے کی بات ہے کہ جن فیلسوف عیسائیوں نے اپنے قدیمی خدا اور اسکی خدائی کے اعلیٰ وصف کو نہ مانا یعنی مسیح کو مردہ سمجھ لیا وہ مرزا جیسے بودے کو کیوں مسیح ماننے لگے اور خدا کو چھوڑ کر ایک ہندی وحشی (کالا لوگ) پر کیوں ایمان لانے لگے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنی حماقت کے کاموں میں بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ جس شخص نے مسیح کی وفات کو مان لیا اس نے مجھے مسیح موعود اور امام الزمان تسلیم کر لیا۔ مرزا کے گرد و پیش ایسے حمقاء ضرور موجود ہیں مگر یورپ وامریکہ میں اس قسم کے ہونق نہیں بونے گئے۔ اب سمجھ لینا چاہئے کہ ولایت میں مرزائی رسالے اور میگزین کونسا قلعہ فتح کرسکیں گے بجز اس کے کہ یہ کاغذات رفع حاجت کے لئے جائے ضرورت میں رکھے جائیں، کس مصرف کے ہیں؟

مرزائی اخباروں میں بیعت کرنے والوں کی فہرست شائع ہوتی ہے اور اکثر سفہاء خطوط ہی کے ذریعے سے مرید ہوتے ہیں مگر باوصف رسالوں کی مقدور دھوم دھام کی اشاعت کے کبھی کسی یورپین یا امریکن کا نام چٹھی کے ذریعہ بیعت کنندوں میں شائع نہ ہوا۔ یورپ کا تو کیا ذکر ہے ہندوستان کے حقیر اور بھوکے ننگے عیسائیوں نے بھی ڈام فول ہی کا خطاب دیا۔ ہاں حمقاء کا سر سہلا کر ان سے چندہ وصول کرنے کا لٹکا بہت خاصہ ہے کہ مرزائی مذہب رسالوں اور میگزین کے ذریعے سے یورپ وامریکہ میں بھی اشاعت پا رہا ہے اور اس دور دراز سرزمین میں بھی مرزائی لوگ برسات کے کینچوؤں اور خودرو گھاس کی طرح پیدا ہو رہے ہیں پس لاؤ چندے پر چندا اور کھلواؤ حلوہ اور ملیدا۔

١٤٥

صفحہ ١٦٢

پیشن گوئیاں پٹ پڑیں خصوصاً مقدمات کے فتح کی پیشینگوئیوں نے تو ڈربا ہی پھونک دیا۔ جھوٹے اور بے معنی الہام کی مٹی خراب ہو چکی۔ موت کی دھونس اور طاعون کا ڈراوا بھی جہاں سے نکلا تھا وہیں گھس گیا۔ اس نے بھی ڈائن بن کر پوتوں ہی کو کھایا۔ الغرض کسی نے ساتھ نہ دیا۔ ترکش خالی ہو گئے۔ ایک تیر بھی نشانے پر نہ لگا بلکہ الٹا جولاہے کا تیر ہو گیا۔ اب عقلاء کے پکڑنے کو بھی لٹکا باقی رہ گیا کہ عیسیٰ مسیح وفات پاگئے۔ لہٰذا میں مسیح ہوں۔ کوئی اس خر دجال سے پوچھے کہ جب عیسیٰ مسیح اس سبب سے وفات پاگئے ہیں اس قابل نہ رہے کہ ان کو کوئی نبی بھی کہہ سکے اور سینکڑوں برائیاں اور فسق و فجور معاذ اللہ ان میں پیدا ہو گئے تو دوسرے انبیاء عیوب سے کب بری رہ سکتے ہیں کیونکہ ظاہری وفات پاچکے ہیں۔

خود غرض انسان ضرور پاگل بھی ہوتا ہے کیونکہ اہل الغرض مجنون لہٰذا جو اعلیٰ انسانی صفات کسی میں پائی گئیں مرزا اس کا رقیب بن گیا۔ اور ان صفات کو اپنے گریبان کے اندر ٹھونسنے لگا۔ پھر طرہ یہ ہے کہ ان صفات کے موصوف کو گالیاں بھی دینے لگا کہ میں اچھا ہوں اور وہ برا تھا۔ مثیل المسیح بن کر عیسیٰ کو گالیاں دیں۔ بروزی محمد بن گیا مگر ان کے صفت خاتم النبیین سے انکار کیونکہ اس صورت میں خود نبی نہیں رہ سکتا۔ خود غرضی سے آنحضرت ﷺ کا وہ اصل درجہ گھٹا دیا جو خدائے تعالیٰ نے باستثناء دیگر انبیاء کے آپ ﷺ کو عطا فرمایا ہے اور پھر خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) اس شخص کی کیا کیا بد معاشی اور نمک حرامی بیان کی جائے۔

اصل بات یہ ہے کہ جن انسانوں کے باعث مہتم بالشان واقعات ظہور میں آئے ہیں اور اس لئے دنیا ان کی عظمت کرتی ہے۔ یہ مردود اس عظمت کو نہیں دیکھ سکتا اور یہ چاہتا ہے کہ لوگ مجھے اس عظمت کا مستحق سمجھیں ورنہ یا تو اس واقعے ہی کو سرے سے اڑا دے گا یا مکار عورتوں کی طرح اوصاف میں کیڑے ڈالے گا یا دونوں افعال کا مرتکب ہوگا تا کہ ان کی عظمت گھٹے اور میری عظمت بڑھے۔ عیسیٰ مسیح کا واقعہ صلب و قتل عجیب مہتم بالشان واقعہ ہے جس کے باعث دنیا آپ کی عظمت کرتی ہے۔ مگر یہ عظمت اس کو نہیں بھاتی۔ پس مسیح کے رفع جسمانی اور حیات جاودانی سے انکار اور ان پر فسق و فجور کا الزام۔ ایسا ہی عظیم الشان معرکہ حضرت امام حسین اور شہیدان دشت کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اس وقت تک نہ تو کسی نے ایسے ظلم و ستم سہے اور صبر و استقلال سے کام لیا نہ لاکھوں لعینوں کے مقابلہ میں ٧٢ تن نے ایسی داد شجاعت دی۔ اللہ اللہ یہ انہیں کا حوصلہ تھا کہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے عزیز اور لخت جگر نے بڑی امنگ اور جوش مسرت کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا اور رضا الٰہی کی

١٤٦

صفحہ ١٦٣

عروس سے ہم دوش ہوئے یہ جذبہ شوق وصال شاہد حقیقی تھا یہ قوت قدسیہ تھی۔ روحنا فداہ ہو الحق ۔

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ ست حسین
سرداد و نداد دست در دست یزید
حقا کہ بناء لا الہ است حسین

یورپ کے ایک انصاف منش مورخ نے لکھا ہے کہ ابتداء آفرینش سے لیکر دنیا میں صرف تین بہادر گزرے ہیں ایک حسینؓ، دوسرا جنرل مارشل برین، تیسرا نپولین۔ مگر حسینؓ کے ساتھ علاوہ شمر و یزید کے لاکھوں لشکر کے اور بھی دشمن تھے۔ بھوک دشمن تھی، پیاس دشمن تھی، بے کسی اور تنہائی دشمن تھی، استقلال اور پامردی کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا حسینؓ ہی کا کام تھا۔ ماحصل یہ ہے کہ حسینؓ کے برابر اپنے دین پر قائم رہنے والا کوئی شجاع اور جری دنیا میں نہیں گزرا۔ مگر مردود قسی القلب شمر سیرت، یزید سیرت مرزا کہتا ہے کہ میں حسینؓ سے افضل ہوں۔ یزید نے بھی تو حسینؓ سے یہی کہا تھا کہ میں تجھ سے افضل ہوں۔ پس میرے ہاتھ پر بیعت کر۔

اب فرمائیے ! مرزا اور یزید و شمر میں کیا فرق رہا ؟ مرزا مارے خوف کے کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتا چوہے کے بل میں سردیئے پڑا رہتا ہے۔ تاہم حسینؓ سے افضل ہے ؟ عدالت کی ذرا سی ڈانٹ میں توبہ نامہ لکھ دیا کہ آئندہ کسی کی ہلاکت کی پیشینگوئی نہیں کروں گا۔ اب اگر عدالت ذرا بھی دھونس ڈالے تو مسیحیت و بروزیت ہی کو استعفیٰ دے دے۔ عدالت کی حاضری سے جی چراتا ہے کہ میں مریض ہوں، ذیابیطس میں مبتلا ہوں، بواسیر نے گھیر رکھا ہے، اختلاج قلب نے خستہ کر ڈالا ہے۔ حالانکہ ہٹا کٹا ہر ہر طرح تنومند چاق و چوبند ہے۔ یہ چیزیں، یہ جبن، یہ دناءت پھر بھی حسینؓ سے افضل۔ اس کی شرارتوں اور بدمعاشوں کا چرچا کہاں تک اتارا جائے۔ خدا اس کو جلد جہنم واصل کرے۔

٢...... ایک خدا کے آنے کی ضرورت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ایک مامور کے آنے کی ضرورت تھی مگر افعال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک خدا کے آنے کی ضرورت تھی اور اب پوری ہوئی۔ دلیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی غیب دان ہیں، محی اور ممیت ہیں، کبھی غلطی نہیں کرتے، ان کی کوئی بات خالی نہیں جاتی، وہ فعال لما یرید ہیں، کسی طرح مجبور نہیں، جیسے جبریہ فرقہ مجبور ہے۔ قدریہ کے بھی قبلہ گاہ ہیں، بھلا جس

١٤٧

صفحہ ١٦٤

وجود میں مجددیت ، نبوت، رسالت، بروزیت، مسیحیت، مہدویت، امام الزمان، خدا کی تبنیت وغیرہ صفتیں مجتمع ہوں وہ خدا نہیں تو کیا ہے؟ یعنی مجدد ہو کر محمد ﷺ کا بروز اور مسیح موعود ہو کر جری اللہ فی حلل الانبیاء اور مختلف تشخصات اور مختلف شریعتوں کا معجون مرکب، گویا برزخ انسانی فطرت کے خلاف ہو مگر خدائی فطرت کے خلاف نہیں۔ خدا میں تو سب طرح کی طاقت ہے۔ وہ ان نیچرل اوصاف کا مجموعہ ہے جو بات انسانوں کے نزدیک محال ہے وہ خدا کے نزدیک ممکن۔ بلکہ واقع ہے۔ پس ان حمقاء کے پتلے جو بظاہر تو مامور ہیں مگر در حقیقت خدا ہیں۔ کیا مرزا اور مرزائی اب بھی قائلان وحدۃ الوجود کو گالیاں دیں گے اور ان کے اس شعر پر ایمان نہ لائیں گے۔

ہر لحظہ بشکل آن بت عیار برآمد
دل بــــــردو نہـــــــان شــــد
ہر دم بلباس دگر آن یار برآمد
گــــہ پیــــرو جــــوان شـــد

عیسائیوں کو عیسیٰ مسیح کے آنے سے پہلے ایک خدا کے آنے کی اور مسلمانوں کو ایک انسان کامل محمد ﷺ کے آنے کی ضرورت تھی۔ دونوں ضرورتیں انجیل مقدس اور قرآن مجید نے پوری کردیں۔ ہاں مرزائیوں کی ضرورت کی جائے ضرور معمور نہ ہوئی تھی کیونکہ انہیں ایک برازی نہیں بروزی خدا کے آنے کی ضرورت تھی۔ اب انیسویں صدی میں وہ بھی پوری ہوئی۔ پس مرزا قادیانی کو اسی کی ضد ہے کیا معنی۔ جب کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں تو مرزا کی شلوار میں پتنگے چھوٹ جائیں گے کیونکہ خاتم النبیین وہ خود ہیں، اور جب مرزا قادیانی یہ کہیں گے کہ عیسیٰ مسیح کو عیسائی خدا سمجھتے ہیں تو مارے حسرت کے پیٹوں میں انگارے دوڑنے لگیں گے کہ مجھے مسیح ابن اللہ (لے پالک خدا) کیوں نہیں مانتے جبکہ میں مسیح پر ہر طرح ترجیح رکھتا ہوں۔ پس مرزا قادیانی نے جو مختلف لقب لئے ہیں تو اس سے درحقیقت ان کی مراد یہ ہے کہ میں خدا ہوں پھر بھی عیسائیوں پر اعتراض کہ انہیں ایک خدا کے آنے کی ضرورت تھی۔

رنگون میں ایک مدراسی نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں طلاق دے دی جب غصہ فرو ہوا تو ایک مولوی سے چارہ جوئی کی ، مولوی نے روپیہ طلب کیا اور کہا کہ تیری طلاق ہرگز جائز نہیں اور نکاح نہیں ٹوٹا۔ طلاق دینے والا خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا تو ایک شخص نے مولوی سے पूछा کہ آپ کا یہ فتویٰ کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ مولوی نے کہا کہ طلاق دینے والا جاہل کندۂ ناتراش ہے جو (ط) اور (ت) سے واقف نہیں پس اس نے ضرور (ت) سے طلاق دی ہوگی نہ کہ (ط) سے۔

١٤٨

صفحہ ١٦٥

اس پر الحکم خوش ہو کر لکھتا ہے کہ کیا اب بھی کسی مامور کی ضرورت نہیں۔ سبحان اللہ کیا ضرورت ثابت کی ہے۔ غریب مولوی نے تو روپیہ لے کر طلاق ہی ناجائز بتائی مگر مامور من اللہ نے پانچ سو روپیہ اینٹھ کر ایک معزز فوجی افسر کو بیٹا دلوانا چاہا حالانکہ آسمانی باپ سے ایک چوہا بھی نہ دلوا سکا۔ بے شک مرزائیوں کے نزدیک ایسے ہی مامور من اللہ کی ضرورت ہے۔ ہات تیری ضروری ماموری کی دم میں خر دجال کی لنگوری۔

٣ ...... انت منی بمنزلۃ عرشی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

انت بمنزلۃ ولدی (تذکرہ ص ٥٢٦ طبع سوم) کا الہام تو ناظرین کو معلوم ہی ہے جو پرانا ہو گیا اور ضمیمہ میں بیسیوں مرتبہ اس الہام کی دھجیاں اڑ چکیں یعنی اس ملحدانہ الہام نے خدائے تعالیٰ کی صفت ”لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفو احد“ کو بالکل اڑا دیا۔ الحکم نے حال میں تازہ بتازہ یہ الہام شائع کیا ہے ”انت منی بمنزلۃ عرشی“ (تذکرہ ص ٥٢٦ طبع سوم) تعجب ہے کہ اب تک بمنزلۃ ولدی والے الہام کی تو کوئی تاویل نہ کی گئی نہ اس کو استعارہ بتایا گیا مگر بمنزلہ عرشی والے الہام کو خود مرزا قادیانی نے استعارہ بتایا اور عرشی مخلوق اس بارے میں سکوت اختیار کیا اور مرزائیوں کو سکوت کی ہدایت فرمائی۔

واضح ہو کہ کلام مجید میں جناب باری نے اکثر استعارات سے کام لیا ہے مگر استعارات تشابہات سے نہیں ہیں۔ مرزا اور مرزائیوں کو سمجھنا چاہئے کہ استعارہ تشبیہ کی قسم ہے صرف اتنا فرق ہے کہ وجہ شبہ اور علاقہ مذکور نہیں ہوتا۔ مثلاً زید شیر ہے اور معشوق آفتاب ہے۔ یہاں شجاعت اور حسن مذکور نہیں مگر فوراً سمجھ میں آجائے گا کہ شجاعت میں زید کو شیر سے اور حسن میں معشوق کو آفتاب سے تشبیہ دی ہے۔

کلام مجید تشابہات سے معمور نہیں ورنہ اس کا سمجھنا محال ہو جائے حالانکہ کلام مجید کی صفت ”تبیانا لکل شئے اور فصلناہ تفصیلا اور ہدی للناس اور ہدی للمتقین“ ہے اور ظاہر ہے کہ محض تشابہات سے ہدایت نامہ نہیں ہو سکتی۔ پس استعارہ لانا کو تشابہات قرار دینا خرف آسمانی باپ اور پیر نابالغ لے پالک کا اضغاث احلام ہے۔

خدائے تعالیٰ نے تشابہات کی یہ صفت فرمائی ہے ”وما یعلم تاویلہ الا اللہ“ ایک طبلوق مرزائی نے ہم سے کہا کہ اس آیت سے آگے ”والراسخون فی العلم“ بھی ہے۔

١٤٩

صفحہ ١٦٦

ہم نے کہا یہ عطف نہیں بلکہ وقف کے بعد ایک کلام مستانف ہے ورنہ لازم آئے گا کہ جیسا علم خدائے تعالیٰ کا ہے۔ ویسا ہی راسخون فی العلم کا ہے۔ یہ شرک فی صفات اللہ ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔ قرینہ صاف بتا رہا ہے کہ متشابہات کی تاویل خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور راسخون فی العلم یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم تاویل کے مجاز نہیں۔ اگر عطف مانا جائے گا تو یہ کلام مستانف پچھلے کلام کے خلاف پڑے گا۔ عیسیٰ مسیح کی نسبت رفعہ اللہ بھی متشابہات سے ہے۔

کیا معنی کہ یہ فعل الٰہی ہے ہم کو اس بات کا علم نہیں دیا گیا کہ عیسیٰ کیونکر زندہ اٹھائے گئے اور اب تک کیونکر زندہ ہیں۔ یہود نے ان کو قتل بھی نہیں کیا۔ صلیب پر بھی نہیں کھینچا مگر کیا بندوں کو اس کا علم ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ان کو کیونکر محفوظ رکھا مرزا قادیانی اپنے مطلب کے موافق بات بات میں آیات کی تاویل کرتے ہیں مگر جو الہام ان پر آسمانی باپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس کی تاویل نہیں کر سکتے۔ گویا آپ گونگوں کی محفل کے صدر نشین ہیں۔ یوں کیوں نہیں کہتے کہ آسمانی باپ مجھ پر بے معنی الہام کرتا ہے۔ مصیبت تو یہ ہے کہ کلام بے معنی یا بامعنی کی تمیز نہ تو مسخرے آسمانی باپ کو ہے نہ اس کے اکلوتے لے پالک کو جب کوئی کلام مجدد السنہ مشرقیہ کی ٹکسال میں آتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ کھرا ہے یا کھوٹا۔ بے معنی ہے یا بامعنی۔ اب سنئے ”انت منی بمنزلۃ عرشی“ (تذکرہ ص ٥٢٦ طبع سوم) بالکل بے معنی ہے عرش تو مکان کو کہتے ہیں جو رہنے، سہنے، بیٹھنے، اٹھنے کے لئے ہوتا ہے کیا مرزا قادیانی کوئی کوٹھڑی یا کوئی جھونپڑی ہیں جن میں خدائے تعالیٰ رہتا ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ جیسا میرے نزدیک عرش کا مرتبہ بلند ہے۔ ویسا ہی مرزا کا مرتبہ بلند ہے تو عرض یہ ہے کہ خدا کے نزدیک کسی کا مرتبہ بلند نہیں اس کے نزدیک جھونپڑا اور عرش دونوں برابر ہیں کیونکہ بلندی اور پستی محض اعتبارات واضافات ہیں۔ یعنی ایک شے بہ نسبت دوسری کے بلند اور پست ہے۔ تحت الثریٰ سے حسب مدارج طبقات زمین بلند۔ زمین سے جھونپڑی بلند۔ جھونپڑی سے حویلی بلند۔ حویلی سے ایوان بلند۔ ایوان سے قلعہ بلند۔ قلعہ سے آسمان بلند علیٰ ہذا۔ مگر خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب ہموار ہیں۔ پس لے پالک کی کوئی علو پایگی اور بلند مرتبہ نہ نکلی۔ ہاں اگر آسمانی باپ یوں الہام کرتا کہ انت منی بمنزلۃ حمار الدجال تو یہ الہام ”کمثل الحمار یحمل اسفارا الآیۃ“ کے مطابق ہو جاتا ہم نے بار ہا متنبہ کیا کہ جب تک کوئی الہام بغرض اصلاح و منظوری مجدد السنہ مشرقیہ کے حضور نہ بھیج لو ہرگز منہ سے نہ نکالو۔ کیونکہ سچے اور جھوٹے بے معنی اور بامعنی الہام کی پرکھ مجدد ہی کو ہے۔

١٥٠

صفحہ ١٦٧

٤ ....... مرزائی مقدمات کی نسبت طرح طرح کی افواہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ابھی تک مولوی کرم الدین صاحب کا استغاثہ فائل طے ہوا بھی نہیں کہ یاروں نے وہ وائر حال، و قریب از استقبال، و قبل از مآل پر ملال، سراپا حزن و نکال، یکسر اختلال، مجسم وبال کی افواہ پہلے ہی اڑا دیں کوئی کہتا ہے کہ مرزا انعام احمد بیگ صاحب کے نام مرزا ضرغام احمد کا خط آیا ہے کہ مرزا قادیانی کو سوا اٹھائیس سال قید کا آرڈر سنایا گیا۔ تو کوئی کہتا ہے کہ مرزا اکرام احمد بیگ صاحب کا کارڈ ابھی ابھی مرزا انعام احمد بیگ کے نام آیا ہے کہ مرزا قادیانی کو ١٤ سال قید اور سوا چار سال کی کال کوٹھری کا بھی نادری حکم سنایا گیا کوئی کہتا ہے کہ مرزا ابتسام احمد بیگ صاحب کے نام مرزا ارتسام احمد کی رجسٹری آئی ہے کہ مرزا قادیانی پر سوا تین ہزار روپیہ ماہوار اور سات برس کے لئے قلعہ چنار گڑھ میں رہ کر مزے سے پھولی پھولی کھانے کا حکم سنایا گیا اور اگر جرمانہ ادا نہ کریں (ضرور ادا کریں گے کیونکہ دولاکھ مریدوں کے پیر ہیں) تو سوانو برس قید اور ڈیڑھ سال کی لگا تار کال کوٹھری ۔ الٰہی توبہ ۔ ان افواہوں نے ناک میں دم کر دیا اور مجھ کو سخت صدمہ پہنچایا ۔ ارے یارو آخر غریب معصوم لے پالک نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ کہ اس کی جان کے لاگو بن گئے ہو۔ اگر اس نے اپنے کو مسیح قرار دیا ہے تو کیا انوکھی بات کی ہے لندن میں مسٹر پگٹ نے اور فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی نے مسیح بننے کا اور سامی لینڈ میں ملا عبداللہ نے مہدی بننے کا دعویٰ کیا ہے تم سب کے سب ان تینوں کے جان کے لیوا کیوں نہیں ہوئے؟ مرزا قادیانی ہی پیچھے کیوں پڑ گئے۔ یورپ کے عیسائیوں نے تو اپنے دونوں مسیحوں کی نسبت چوں بھی نہیں کی کہ تمہیں کیوں کھور دلائے اور کیوں سر پر زمین اٹھالی اور بداندیشی اور بدخواہی پر آمادہ ہو کر منہ سے کیوں بدشگونیاں اگلنے لگے۔ خیر ہمیں ان باتوں کا خیال نہیں البتہ یہ خوف ہے۔

بجا کہے جسے عالم اسے بجا کہو
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

مقدمے کا فیصل ہونا منہ کا نوالہ نہیں ابھی تو ١٨ ماہ ہی گزرے ہیں۔ کم از کم ١٨ ماہ تو اور گزرنے دو جب کہیں پوچھنا کہ چھڑا بچھڑوں میں یا قصائی کے کھونٹے۔ مرزا قادیانی تو ابھی مقدمہ کو کھلاتے اور کھٹائی میں ڈلواتے جائیں گے جب تک آسمانی باپ اپنا آسمانی نشان نہ دکھائے اس عرصہ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات نکل ہی آئے گی کہ غریب معصوم لے پالک پھانسی لگنے سے بچ جائے گا جیسے عیسیٰ مسیح بچ گئے اور پھر مرزائی گلے میں ڈھول

١٥١

صفحہ ١٦٨

ڈال کر منادی پیٹتے پھریں گے کہ وہ آسمانی نشان ظاہر ہوا اور وہ مماثلت مسیح پوری ہوگئی۔ اور چونکہ اب لالہ چندولال صاحب سابق مجسٹریٹ بدل گئے ہیں اور ان کی جگہ کوئی لالہ آتارام صاحب مجسٹریٹ آئے ہیں۔ لہٰذا ملزم کو قانوناً اختیار ہوگا کہ جدید حاکم کے اجلاس میں تمام گزشتہ کارروائی کو کالعدم کرادے اور از سرنو کارروائی کرائے چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ اور چونکہ مرزا قادیانی کے پاس مفت کا روپیہ ہے اور مولوی کرم الدین صاحب صرف اپنی جیب خاص سے مصارف جھیل رہے ہیں۔ لہٰذا حیل حوالہ کی تہ پر تہ چڑھاتے چلے جائیں گے تا کہ مولوی صاحب دق ہوکر راضی نامہ داخل کردیں۔ لیکن ہم کو مرزا قادیانی کا یہ منصوبہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ مولوی صاحب بھی استقلال اور پامردی کے ساتھ کفر کا مقابلہ اسلام سے کر رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ خود مدد کرے گا۔

مولوی صاحب کے وکلاء کا کام ہے کہ مقدمے کے جلد فیصل ہو جانے پر عدالت میں زور دیں۔ مگر یہ اطمینان رہے کہ دیر ہو سویر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ الفاظ لئیم، کذاب، متکبر عظیم جو مرزا قادیانی نے مولوی کرم الدین کی نسبت استعمال کئے ہیں وہ ویسے ہی معزز خطابات ہیں جیسے گورنمنٹ اپنے افسروں اور وفادار رئیسوں کے لئے استعمال کرتی ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء/مئی شمارہ نمبر ٢٠ / کے مضامین

١...... ہمارا رویاء صادقہ ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٢...... مرزائی اخبار الحکم کی فریاد۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٣...... بے معنی الہام فاری۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٤...... آیت قرآن کا صرف عن الظاہر۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٥...... مرزا اور مرزائیوں کو دو سو روپیہ انعام۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٦...... گروہ اہلحدیث پر نزلہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٧...... جنگ کا نام صلح۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٨...... زندگی کے فیشن سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٩...... نبی ناقص اور دجال۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

١٥٢

صفحہ ١٦٩

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... ہمارا رویاء صادقہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مشہور واعظ مولانا ابو یعقوب محمد صدیق صاحب غریب خانہ پر فروکش تھے۔ بعد نماز عشاء مرزائی مقدمات کا ذکر چھڑا۔ کہ فرقہ ارتداد مہر لگ چکی ہے دیکھئے کیا انجام ہو۔ طویل بحث کے بعد سوگئے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت سرسبز مرغزار ہے۔ چار طرف سبزہ پھیلا ہوا ہے جیسا بارش کے موسم میں ہوتا ہے۔ ایک بزرگ ریش سفید مقطع صورت نمودار ہوئے اور فرمایا کہ یہاں ایک بڑا خاردار درخت تھا مگر اب نہیں۔ میری آنکھ کھلی تو صبح کی آذان ہو رہی تھی۔ ہمارے صلحاء ناظرین اس خواب کی تعبیر ضرور سمجھ گئے ہوں گے اور ہم آئندہ مفصلاً و مشرحاً عرض کریں گے جب کہ تعبیر کا ظہور ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہاں اتنا اب بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ وہ سرسبز مرغزار مقدس اسلام ہے۔

٢ ...... مرزائی اخبار الحکم کی فریاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اخبار الحکم جو مرزا اور مرزائیوں کا سب سے پہلا ”رفیق فی النار البروزیہ حریص فی لجۃ عشق المتنبئ حریص لانھدام بروج الدين مثل المنجنيق فی اشاعۃ المسيحيۃ کالبرق البريق۔ فی ادارۃ الزندقۃ حدقۃ عين کل زنديق“ ہے۔ اب محض بغلی گھونسے اس کا دیوالا نکالنے کی فکر میں ہیں۔ ہمارا یار غار تو الحکم ہی ہے اور ہمارا استاد بھی اس سے ملا ہوا ہے۔ مرزائیت کی ترازو میں کوئی دوسرا حریف و رقیب اس کا پاسنگ بھی نہیں ہو سکتا۔ الحکم کی بات ہی اور ہے۔ چسکا ہی دوسرا ہے۔ غمزہ ہی نرالا ہے۔ یہ آسمانی باپ کے لے پالک کا چہیتا انت بمنزلۃ ولدی کا ڈھنڈوریا، کسر صلیب اور قتل خنزیر کا تمغہ چمکانے والا منارہ کا پھریرا فلک الافلاک کی چوٹی تک اڑانے والا۔ بھلا یہ خلاع رقاع دوسرے رقیبوں کو کہاں نصیب؟ یہ مسالا ہی اور ہے چاشنی ہی نرالی ہے۔ قسم ہے منارے شریف دی جو اس کا حریف و بدخواہ ہے وہ روسیاہ، راندہ درگاہ، دین و دنیا میں تباہ ہے۔ کوئی کیسی ہی چمک دمک دکھائے مگر کالے کے آگے چراغ نہیں جلتا۔

یہ پرانا خرانٹ، اس کا حریف درخور ڈانٹ، لائق کاٹ چھانٹ، جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش کے اندھے دعوے پیر شدی کا مصداق۔ ہمارا بس چلے تو الحکم کے بداندیشوں کو زمیندوڑ اور

١٥٣

صفحہ ١٧٠

سنگسار کر دیں جس طرح افغانیوں نے افغانی ملا کو کابل میں سنگسار کر دیا۔ اب غضب تو یہ ہو گیا کہ خود مرزائی لوگ اخبار الحکم کے شاکی ہیں کہ وقت پر نہیں نکلتا اور ہمیشہ فرمائش کرتا ہے کہ میری مدد کرو۔ اشاعت بڑھاؤ، الحکم مطبوعہ ٣٠؍اپریل میں ایک بڑا دردناک مضمون شائع ہوا ہے جس کو پڑھ کر کلیجا دہل جاتا ہے۔ وہ خریداروں سے التجا کرتا ہے کہ آپ پانچ روپے سالانہ کے بدلے سالانہ دس روپے اور دس خریدار پیدا کریں خواہ وہ پانچ پانچ روپے ہی کے ہوں اور ہر سال ایک ایک خریدار تو ضرور ہی پیدا کرتے رہیں۔ اور یہاں یہ کیفیت ہے ۔

نیاز بر آن کن که خریدار تست

ہم سے ایک مرزائی نے بیان کیا کہ الحکم کے ایڈیٹر میں خلوص نہیں رہا۔ لہذا فلاں فلاں مقام کی احمدی جماعت نے الحکم کی خریداری بند کر دی اور البدر منگوانے لگے جس کی قیمت بجائے اڑھائی روپے کے اب دو روپے ہو گئی۔ فرمائیے غریب ایڈیٹر الحکم بروں کی جان کو رو کر یہ نہ کہتے تو کیا ہے؟ کہ؎

بامن آنچه کرد آن آشنا کرد

افسوس صد افسوس خون سفید ہو گئے دنیا میں ہمدردی نہ رہی۔ اپنے ہی بدن کا خون فاسد ہو گیا اپنے ہی اعضاء دشمن بن گئے ۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے

کیا اندھیر ہے کہ البدر تو حکیم الامت کا لے پالک اور الحکم آسمانی باپ کے لے پالک کا لے پالک۔ مگر اس کی حمایت تو نہ کی جائے اور اس کی کی جائے۔

تیری چتوں کیا پھری سارا زمانہ پھر گیا

ہم الحکم کی ڈھارس باندھتے ہیں کہ گھبرائے نہیں مجدد السنتہ شرقیہ تمہاری کمک پر ہے کسی کی کیا طاقت ہے کہ بال ہی ٹیڑھا کر سکے۔

٣ ...... بے معنی الہام فارسی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٣٠ راپریل کے الحکم میں فارسی الہام یہ شائع ہوا ہے ۔

امن است در مکان محبت سرائے ما

(تذکرہ ص ٥١٢، طبع سوم)

١٥٤

صفحہ ١٧١

ہم متنبہ کر چکے ہیں کہ جب تک مجدد السنہ مشرقیہ سے اصلاح نہ لے تو کوئی الہام شائع نہ کرو۔ ذرا ملاحظہ ہو کہ مکان بھی اور سرائے بھی۔ شاید مکان کچھ اور ہے اور سرائے منارے کے کلس کی نوک کا نام ہے۔ لے پالک کا ایڈوانس طاعون تو امن بلکہ خود دارالامان کی بربادی اور دھڑا دھڑی لگا کر اس کو خاک کا تودا بنا رہا ہے اور آسمانی باپ پھر بھی الہام کرتا ہے کہ بیٹا گھبراؤ نہیں ہر طرح امن ہے۔ سولی پر چڑھ جاؤ مولیٰ بھلی کرے گا۔ یہ الہام ہے یا دارالامان کا انہدام، کشتوں کے پشتے اور مردوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ پھر بھی محبت سرائے میں امن ہے تو بے امنی اور بربادی کے شاید ویسے ہی سینگ ہوں گے جیسے خر دجال کے سر ہیں۔ سنو الہام مذکورہ میں یا تو سرائے حشو ہے یا مکان خوگیر کی بھرتی ہے۔ لہٰذا اصلاح دی جاتی ہے ؎

امن است اندرون محبت سرائے ماب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کے ایک حواری جو زندہ پیر کے مجاور بنے بیٹھے ہیں۔ فرماتے ہیں

”حضرت خلیفۃ اللہ فی الارض کبھی پسند نہیں کرتے کہ قرآن مجید کی کسی آیت کا صرف عن الظاہر کریں جب تک اس صرف کے لئے قرائن قویہ نہ ہوں ورنہ باب الحاد کا وا کرنا ہے وغیرہ۔“

اجی جناب صرف عن الظاہر کیا معنی یہاں تو آیات قرآنی کی ترمیم و تنسیخ ہی کر دی یا یوں کہو کہ بالکل اڑا ہی دیا ؎

دہن کا ذکر کیا یاں سر ہی غائب ہے گریبان سے

مجاور صاحب تو زندہ پیر کی چوکھٹ پر بیٹھے چراغیاں اور دونے چٹ کر رہے ہیں انہیں باب الحاد کے وا ہونے کی کیا خبر اس کی خبر مجدد السنہ مشرقیہ کو ہے۔

کیا کہنا ہے آپ نے قرائن قویہ کی قید بہت خاصی لگائی۔ یہ مرزائی ہتھکنڈا ہے۔ ہر شخص ہر آیت کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ فلاں قرائن سے اس کے معنی یوں نہیں یوں ہیں اور قرینہ عام ہے لفظی نہیں۔ تو ذہنی اختراعی ہی سہی۔ حالانکہ کلام مجید بالکل صاف ہے اس کی شان تبیاناً لکل شے ہے اس کو کسی قسم کے قرینے کی ضرورت نہیں۔ وہ مرزائی قرائن کے خبث سے بالکل پاک ہے۔ تیرہ سو برس کے بعد اب قرآن کریم مرزائی ملحدانہ قرائن کا محتاج ہو معاذ اللہ۔ حج حرمین شریفین کو نہ جاؤ۔ لا تلقوا بايديكم الى تهلكة ۔ خارجی قرینہ یہ موجود ہے کہ طاعون پھیلا ہوا ہے۔ طوفان سے جہازات غرق اور تباہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرا قرینہ شہر قادیان ہے جہاں ایک

١٥٥

صفحہ ١٧٢

انسانی صورت مگر شیطان کی مورت موجود ہے جس میں اسود عنسی کی روح نے حلول کیا ہے۔ پس یہاں آؤ۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ“ اسی کی شان میں مگر تیرہ سو برس بعد نازل ہوئی ہے۔ ایسے ہی قرائن سے تو دنیا میں بہت سے دجال پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔

قرینہ کیا شے ہے جو بات قرین عقل یا قرین قیاس یا قرین ذہن معلوم ہوئی اس کو اپنے مطلب کے موافق چسپاں کر لیا۔ ایسی باتوں کے لئے شیطان قرین رہتا ہے۔ پس ان کو قرائن شیطانیہ کہنا چاہئے نہ کہ قرائن قرآنیہ۔

اسی مجاور نے بارہا لکھا کہ آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ“ مرزا کی شان میں ہے اور جب مجدد نے پچھاڑ کی تو اب انکار کرتا ہے۔ تعجب ہے کہ زندہ پیر نے اسے پھر ہی اپنا مردود بارگاہ نہیں بنایا کیونکہ وہ اس کی رسالت کا منکر ہے۔ اس کو تو ہزار رسول کہنا بھی توہین کا باعث ہے کیونکہ وہ خاتم الانبیاء ہے۔

مجاور صاحب کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا کام تکمیل دین و تکمیل اشاعت دین۔ ہم کہتے ہیں کہ جب ہر طرح تکمیل ہو چکی تو اب رسول کے آنے کی کیا ضرورت اور اب تحصیل حاصل کی کیا حاجت؟ مرزا قادیانی تو تنقیص دین کر رہے ہیں۔ اگر آپ صلیب کے توڑنے اور سوروں کے حلال کرنے کو آئے ہیں تو فرمائیے کہ اپنی تیس برس کی بعثت میں کونسی صلیب توڑی کتنی گرجائیں ڈھائیں؟ کتنے سور ذبح کئے۔ کتنے مندر مسمار کئے؟ کتنے ہندوؤں اور عیسائیوں کو مرزائی بنایا؟ ہاں چند مسلمانوں کو توحید الٰہی اور رسالت محمدی سے پھیر کر ملحد و مرتد ضرور بنا ڈالا۔

قرآن سے تو آپ کا مطلب صرف عیسیٰ مسیح کو مار ڈالنا ہے نہ کہ مکرر عیسیٰ مسیح کا آنا کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر ہی نہیں۔ حدیث میں ہاں عیسیٰ بن مریم کے آنے کا بالتصریح ذکر ہے۔ کیا آپ مریم کے بیٹے ہیں؟ ایک ہی حدیث کے ایک جزء کا اقرار اور دوسرے جزء کا انکار کیا۔ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ جب خود عیسیٰ بن مریم تشریف لائیں گے تو وہ زندہ ہیں مگر مرزا قادیانی کے نزدیک انیس سو برس تک کسی کے زندہ رکھنے پر خدا تعالیٰ قادر نہیں۔ ہاں تیرہ سو برس کے بعد تمام انبیاء اور خود آنحضرت ﷺ کی روح پاک کے ایک ناپاک جسد میں حلول کرنے پر قادر ہے۔

مجاور صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت غلام احمد نے ازل سے احمد کی غلامی کی مہر اپنے حال اور قال کے سر پر لگا رکھی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا رسول کا غلام بھی رسول ہو سکتا ہے۔ اس

١٥٦

صفحہ ١٧٣

کے تو یہ معنی ہوئے کہ غلام آقا بن سکتا ہے۔ مجاور صاحب کا مضمون عجیب اوٹ پٹانگ ہے۔ جا بجا اپنی تردید کرتا ہے۔ پس ہم کو تردید کی زیادہ ضرورت نہیں۔

٥ ...... مرزا اور مرزائیوں کو دو سو روپیہ انعام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مجدد مائتہ مشرقیہ نے بار ہا ترغیب دلائی مگر کسی مرزائی بلکہ خود مرزا قادیانی کو انعام کے لینے کا حوصلہ نہ ہوا یہ بدقسمتی نہیں تو فرمائیے کیا ہے؟ اب ہم ذیل میں دو سوال کرتے ہیں۔ اگر خود مرزا قادیانی یا حکیم الامت المرزائیہ دونوں سوالوں کا مسکت اور شافی جواب دے سکیں گے۔ تو بے تامل دو سو روپیہ پھٹکاریں۔ حکیم صاحب کو تو حدیث و تفسیر کے سمجھنے کا بڑا دعویٰ ہے۔ جس کی تصدیق مرزا قادیانی بھی کر چکے ہیں۔ پس میدان میں آئیں اور تحسین و آفرین کے علاوہ سفید سفید نقدی و تحفہ بھی حلق میں ڈالیں۔ وہ دونوں سوال یہ ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب نمرود سے کہا ربی الذی یحیی ویمیت تو اس نے کہا انا احی وامیت یعنی میں بھی تیرے خدا کی طرح مارتا اور زندہ کرتا ہوں۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ کیا نمرود کا حی و ممیت ہونا تسلیم کر لیا۔ پھر دوسری دلیل لانے کی کیا ضرورت ہوئی۔ ”فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب“ یعنی میرا خدا وہ ہے کہ آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے۔ بھلا تو آفتاب کو مغرب سے تو نکال۔ اس میں سوال یہ ہے کہ کیا خدائے تعالیٰ مغرب سے آفتاب کو نکال سکتا ہے؟ اگر نکال سکتا ہے تو مرزا اور مرزائیوں کا جس نیچر پر ایمان ہے وہ ٹوٹ گیا اور سنت اللہ کے خلاف ہوا اور اگر خدائے تعالیٰ ایسا نہیں کر سکتا تو نمرود اور خدا دونوں برابر ہو گئے۔ اور دلیل کا لانا فضول ٹھہرا۔ اس کا جواب دو ہفتے کے اندر البدر اور الحکم میں شائع کیا جائے۔

٦ ...... گروہ اہلحدیث پر نزلہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جمعیت اہلحدیث امرتسر کے نامہ نگار نے قادیان کی اس افراتفری کی تفصیل لکھی تھی اور ضمیمہ شحنہ ہند میں کچھ حالات شائع ہوئے تھے اس پر الحکم میں اپنے رسول کے اتباع پر تمام اہلحدیث کو برا بھلا کہا گیا ہے کہ فرقہ اہلحدیث ایسا ہے اور ویسا ہے۔ یہ بزرگوں اور اماموں کو برا کہتا ہے اور اس نے حدیث کا درجہ قرآن سے بڑھا دیا ہے اور چونکہ اس فرقہ کی اصلاح کی ضرورت تھی۔ لہٰذا ایک مجدد (نبی آخر الزمان مرزا) کے پیدا ہونے کی ضرورت ہوئی۔ بیشک اس

١٥٧

صفحہ ١٧٤

غزل کا مقطع بھی موزوں تھا۔

اگر الحکم کا نام سچا ہے تو بتا دے کہ اہلحدیث نے ائمہ اور بزرگان دین کو کب برا کہا ہے؟ البتہ انہوں نے بعد ختم رسالت کسی مغل کے نبی بننے کی تردید کی ہے اور اس کے الحاد و ارتداد کا فتویٰ دیا ہے لیکن یہ فتویٰ تو تمام علماء مقلدین و مشائخ نے بھی دیا ہے۔ ہاں اہلحدیث نے اس میں سبقت کی ہے اور پھر تمام علماء و مشائخ ہند ان سے متفق ہوئے ہیں۔ پس مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک تو سبھی قابل لعنت و نفرین بلکہ سزاوار تدارک ہیں نہ کہ فقط اہلحدیث۔

کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ اہلحدیث جس شخص کی تقلید نہ کریں اس کو برا کہیں۔ اہلحدیث تو ائمہ اربعہ کیا معنی، خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام صحابہ کے بھی مقلد نہیں ہیں۔ مگر کیا وہ کسی کو برا کہتے ہیں اور کیا یہ بات کسی صحیح العقل کی فہم میں آسکتی ہے اور کوئی ذی عقل اس کو باور کر سکتا ہے؟

الحکم کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ قادیان سے کوئی باہر نہیں گیا۔ تمام مرید موجود ہیں اور حکیم صاحب کا خیمہ بھی قادیان سے باہر نہیں گیا وہ بیماروں کے علاج میں بدستور سرگرم ہیں اور طلبہ کو پڑھاتے ہیں وغیرہ۔

اچھا صاحب یہ سب کچھ سہی اور اس سے بھی بڑھ کر مسلم، گفتگو تو اس میں ہے کہ قادیان میں طاعون زور و شور سے موجود ہے جس کی نسبت الہام ہوا تھا کہ یہاں طاعون نہ آئے گا اور آئے گا تو افراتفری نہ ہوگی۔ اس کی تردید نہیں کی گئی۔ کافی اور شافی جواب تو جب ہوتا کہ الحکم قادیان میں سرے سے طاعون ہی کے آنے کی تردید کرتا۔ معلوم نہیں یہ فروگذاشت کیوں کی گئی، قلم کو ذرا جنبش ہوتی اور بس۔

یہ الزام کہ اہلحدیث قرآن سے حدیث کا مرتبہ بڑھاتے ہیں اس جواب کا مستوجب ہے کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ مرزا اور مرزائیوں نے تو اپنے نبی کے وحی اور الہام کے مقابلے میں قرآن وحدیث دونوں کا مرتبہ گھٹا دیا بلکہ دونوں کو اڑا دیا۔ قرآن کا مرتبہ اس لئے گھٹایا کہ اس میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر ہی نہیں۔ اور مرزا قادیانی قرآن کے خلاف مسیح موعود بن گئے۔ حدیث کا مرتبہ اس لئے گھٹایا کہ دجالون کذابون والی حدیث کو رد کر دیا۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ دنیا میں دجال کوئی نہ آئے گا۔ ہاں ایک مسیح جو خاتم الخلفاء ہوگا ضرور آئے گا۔ پس مرزا اور مرزائی کس منہ سے کہتے ہیں کہ فلاں گروہ نے حدیث کا مرتبہ بڑھا دیا اور اسی پر کیا حصر ہے۔ مرزائی مذہب جس شے سے عبارت ہے۔ وہ قرآن و حدیث کی مخالفتوں کا طومار ہے کہاں تک کوئی تفصیل کر سکتا ہے۔

١٥٨

صفحہ ١٧٥

٧...... جنگ کا نام صلح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزائی اخبار بار بار لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی سے صلح کرلو اور اخبار الحکم میں تو امن اور صلح کا سفید جھنڈا ہفتہ وار بلند ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کون جنگ کرتا ہے کس نے توپ لگا رکھی ہے۔ خود آسمانی باپ نے اپنے لے پالک کو دنیا سے جنگ کرنے کا ٹھیکہ دے دیا ہے۔ وہ قادیان کے کمین گاہ میں بیٹھا دنیا کے مذہب پر سب وشتم کے گولے برسا رہا ہے اور نہ صرف زندہ مشائخ وعلماء پر بلکہ اپنی بہادری سے مردوں کی قبروں کو بھی لعن وطعن کے تیروں کا خاک تودہ بنا رہا ہے پھر بھی صلح کا سفید جھنڈا قادیان کے بام پر اڑا رہا ہے کہ لوگو مجھ سے صلح کرلو جس طرح ترکی کے باغی صوبے اور ان کے حمایتی چیخ وپکار مچارہے ہیں کہ ہم تو امن اور صلح چاہتے ہیں مگر اندر ہی اندر ترکی کی نیو کھود رہے ہیں۔

آزادی پسند برٹش گورنمنٹ کے عہد میں تمام مذاہب امن وامان کے گہوارۂ راحت میں تھے کہ مرزا کے مفسدانہ غلغلوں نے نفخ صور کا عالم کر دیا کہ یہ بھی مردود وہ بھی مردود۔ بعض انبیاء بھی مطرود، میں سب سے اچھا، مجھ پر ایمان لاؤ۔ قدیمی مذاہب کو حرف غلط کی طرح دل سے مٹاؤ رات دن اپنی ہی بڑائی اپنی ہی تعلی ۔ کوئی معاملہ ہو کوئی بھبکت ہو مرزا کی ٹانگ اڑی ہوئی دیکھ لو۔ طاعون مرزا کی وجہ سے، کسوف خسوف مرزا کی وجہ سے ریلوں کا رواج مرزا قادیانی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ یہ مرزا کے دجال کے گدھے ہیں۔ پہاڑ جو سڑکوں سے حسب ضرورت اڑائے جاتے ہیں مرزا کی وجہ سے الغرض دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے سب مرزا کے خروج کی وجہ سے ہے۔ مرزا تو دیوانہ بکار خویش ہشیار تھا ہی چیلوں پر اس سے کہیں بڑھ کر حماقت یا خود غرضی کا مسمریزم دم ہوگیا ہے۔

علماء اور مشائخ کو جنگ کا اعلان کہ مجھ سے مناظرہ کرو، مباہلہ کرو، میدان میں آؤ اور جب کوئی میدان میں آئے تو مرزا چوہے کے بل کی راہ لے۔ ٹائیں ٹائیں فش۔

مذہبی جنگیں برابر جاری ہیں ہی۔ اب تقریباً ڈیڑھ سال سے قانونی اور عدالتی جنگیں بھی شروع ہو گئیں۔ جن کے سلسلے کا رشتہ شیطان کی آنت سے ملا ہوا ہے اور جب تک مذہبی جنگیں جاری ہیں یہ سلسلہ بھی آسمانی باپ نے چاہا تو برابر جاری رہے گا کیونکہ لے پالک کو لڑوانا اسی خراٹ مکار مفتری علی اللہ کا کام ہے۔ مگر ہم بھی تو دیکھیں قانونی جنگ میں لے پالک کیونکر فتحیاب ہوتا ہے۔ ایک شکست مل چکی جو پہلی بسم اللہ تھی اب انشاء اللہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے

١٥٩

صفحہ ١٧٦

ورنہ تیری متواتر شکست ملتی نہ چلی جائے تو ہم اپنا نام مجدد نہ رکھوائیں۔ ہم متواتر فہمائش کر چکے ہیں کہ زبانی صلح کے اعلان سے کچھ کام نہ نکلے گا۔ صفائی قلب اور خلوص ارادت سے صلح کرو۔ اور صلح یہی ہے کہ ملحدانہ دعاوی واپس لو اور ان سے تائب ہو کر سچے مسلمان بن جاؤ۔ پھر تو مرزا قادیانی اور مرزائی بھائیوں کے بھائی اور یاروں کے یار اور ”یدخلون فی دین الله افواجا“ کے مصداق ہیں اور پھر علماء اور مشائخ کی کیا مجال ہے کہ تمہیں بجز میٹھی نگاہوں کے تیز تیز نگاہوں سے گھوریں۔ یہ مجدد کا ذمہ ہے دیکھو اب بھی کچھ نہیں بگڑا اپنا کیریکٹر بدلو اور جس طرح بن پڑے مولوی کرم الدین صاحب اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب سے معافی مانگو جن کو تم نے بلاوجہ ستایا اور یہ سب اسی کا وبال ہے اور اب تو قادیان کے فنڈ میں روپیہ بھی نہیں رہا۔ ہم کو خوب معلوم ہے کہ رات دن چیلوں چاپڑوں کے نام چندہ بھیجنے کے آرڈر جاری ہورہے ہیں اور روپیہ ہو بھی تو کیا ہے۔ بڑی عزت جیسی شے ہے روپیہ سے اس کا معاوضہ نہیں ہو سکتا۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

یہ بھی بھبکے میں کھنچا ہوا اور آبکاری سے نکلا ہوا نو بنو الہام ہے جو الحکم میں شائع ہوا ہے۔ اس میں دو لفظ فارسی کے ایک انگریزی کا اور باقی اردو ہے۔ گویا یورشین (مخلوط النسل) الہام ہے ارے واہ رے آسمانی باپ تیری ہفت رنگی قابل دید ہے مختلف رنگوں کا کیا کیا کمپونڈ تماشا دکھا رہا ہے۔ مگر یہ سب ہے شوکت اللہ کی بدولت۔ غنیمت ہے کہ اس مجددانہ اصلاح قبول تو کی جاتی ہے کیونکہ اس سے پہلے صرف عربی فقروں کا الہام ہوتا تھا جب مجدد نے ڈانٹا کہ این ایہ کیا حرکت ہے قرآن میں تو ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه الآیة“ وارد ہوا اور چینی مغل پر بجائے چینی زبان میں الہام کرنے کے آسمانی باپ زبان عرب میں الہام کرے تو اس ڈانٹ پر باپ بیٹا دونوں سہم گئے۔ اور فارسی اردو میں الہام ہونے لگا۔ لیکن اب بھی بڑی بھاری کسر رہ گئی کیا معنی کہ لے پالک کی مادری اور فطری چینی زبان میں الہام نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی سن رکھئے کہ الہام بامعنی ہو بے معنی نہ ہو جیسا کہ بار ہا تنبیہ کر چکے ہیں ورنہ یاد رکھنا کہ مجدد سے برا کوئی نہیں۔

معلوم نہیں زندگی کے فیشن سے کون لوگ دور جا پڑے ہیں کیا مرزا اور مرزائی؟ اس سے تو بہت خوف پیدا ہوا آسمانی باپ نے خواجہ خضر بنکر اپنے ہی بیٹے اور پوتوں کی ناؤ ڈبوئی چاہی

١٦٠

صفحہ ١٧٧

اور اس کے کچھ آثار بھی پائے جاتے ہیں اور اگر مخالفین مراد ہیں تو وہ زندگی کے فیشن سے ہرگز دور نہیں توانا اور تندرست نوک پلک سے چست سامنے موجود ہیں اور مرزائی مشین کے کیل پرزے بست کر رہے ہیں اور اگر یہ مراد ہے کہ خود مرزا قادیانی زندگی کے فیشن سے دور جاپڑے ہیں تو وہ اطمینان رکھیں کہ اس کا بھی وقت نہیں آیا۔ مقوی معجونوں کے مرتبان معمور اور روغن بادام میں دم ہونے والے پلاؤ کے مسالوں سے کوٹھے کھلے بھر پور ہیں اور اگر زندگی سے مراد روحانی زندگی ہے تو وہ پہلے ہی مردہ ہوچکی ہے۔ کیونکہ روحانی زندگی درحقیقت دین اسلام ہے بے شک اس کے فیشن سے مرزائی اور مرزا قادیانی بہت عرصے سے دور جاپڑے ہیں۔ اب اس سے قربت کا حاصل کرنا محال ہے۔ پھر فیشن کوئی ایسی شے نہیں جس سے انسان دور یا نزدیک ہو سکے۔ البتہ فیشن انسان سے دور یا نزدیک ہوسکتا ہے کیونکہ انگریزی میں فیشن کے معنی وضع کے ہیں۔ وضع انسان کے پاس آتی ہے۔ انسان وضع کے پاس دوڑ کر نہیں جاتا۔ پھر زندگی سے روحانی زندگی مراد ہے تو تصریح ہونی چاہئے کہ فلاں زندگی روحانی ہے۔ مرزا قادیانی کی روحانی زندگی تو موت سے بدتر ہے۔ جیسا کہ ان کے خوارق سے ظاہر ہے۔

ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ مرزائی الہام کسی زبان میں ہو مگر اس کا بے معنی ہونا ضروری ہے بامعنی کلام موزوں کرنے کا نہ آسمانی باپ کو سلیقہ ہے نہ لے پالک کو ۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ میپوش
من انداز قدت را خوب می شناسم

٩ ...... نبی ناقص اور دجال

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اپنے کو بے شک نبی کامل سمجھتے ہیں مگر چونکہ ان کو یہ خوف ہے کہ اگر میں زبان سے ایسا اقرار کروں گا تو خود میرے ہی مرید مجھ سے منحرف ہو جائیں گے۔ کیونکہ نبی کامل صرف آنحضرت ﷺ ہیں تو اپنے کو نبی ناقص بتاتے ہیں۔ گویا ناقص نبی بننے ہی نے ان کی قلعی چڑھا رکھی ہے کامل نبی بنتے تو خود دجال ہوجاتے اور حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد دنیا میں ٣٠ دجال آئیں گے اور ہر دجال یہی دعوے کرے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں پس مرزا قادیانی کا اپنے کو ناقص نبی بتانا ہی دجال بننے کا معترف ہونا ہے۔ کیونکہ یہ بات حکمت و قدرت الٰہی کے خلاف ہے کہ وہ کامل کے بعد ناقص بھیجے اور ایک نور نازل کرنے کے بعد دنیا

١٦١

صفحہ ١٧٨

کو پھر تاریکی میں ڈال دے پس ناقص نبی بننے والے سب کے سب خود دجال بن گئے ۔ صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ الکریم ۔

مرزا قادیانی کے دعوے کے موافق اگر حدیث لا نبی بعدی ۔ کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کامل نبی کوئی نہ آئے گا ہاں ناقص آئے گا تو دجالوں کا ذکر اس کے منافی ہے کیونکہ ناقص نبی کے آنے کو گویا آنحضرت ﷺ نے جائز اور پسند فرمایا ۔ اس سے ناقص نبی کی مدح نکلی نہ کہ ذم جو دجال کے لئے ہے گویا صاحب ما ینطق عن الھویٰ کا کلام متناقض ہو گیا۔

اگر حدیث کا مطلب مرزا قادیانی کے مطلب کے موافق ہوتا تو آنحضرت ﷺ یوں فرماتے ہیں کہ میرے بعد ٣٠ دجال آئیں گے مگر اکتیسواں دجال نہ ہوگا بلکہ نبی ناقص ہے۔ اگر ایسا الہام کیا ہے تو مرزا قادیانی اس کا حوالہ دیں ۔ مرزا قادیانی بار بار مسلمانوں کو زجر و توبیخ کرتے ہیں کہ ارے بدبختو کیا تمہاری قسمت میں دجال ہی لکھے ہیں نہ کہ مہدی اور مسیح ، آخر مسیح کبھی آئے گا بھی ۔ اس میں یہ گزارش ہے کہ مسلمانوں کی قسمت میں نبی ناقص تو ہزاروں اور لاکھوں لکھے ہیں مگر خوش قسمتی سے دجال ایک بھی نہیں لکھا ۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی جس قدر دجال اب تک گزرے سب ناقص نبی تھے مگر آپ سب کے قبلہ گاہ ہیں کیونکہ انہوں نے مسیح موعود بننے کا دعویٰ نہیں کیا اور آپ سب گنوں پورے ہیں ۔

پھر مرزا قادیانی ناقص نبی ہیں تو ان کی تمام امت بھی ناقص ہی ہوگی اور اگر مرزائی امت چاروں چول برابر اور آٹھوں گانٹھ کمیت ( کامل ) ہے تو اپنے نبی سے بڑھ گئی ہذا خلف ۔ لیکن اگر ہم مرزائیوں سے کہیں کہ تم امت ناقصہ ہو تو ابھی ابھی منہ پھاڑ کر اور لمبی لمبی کچلیاں نکال کر کاٹ کھانے کو دوڑیں پس مرزائی مذہب منافقانہ اور متضاد کارروائیوں کا مکسچر ہے۔ جس طرح ایک قول دوسرے قول کے مخالف ہے۔ اسی طرح ایک عمل دوسرے عمل کے خلاف ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم جون شمارہ نمبر ٢١ / کے مضامین

١٦٢

صفحہ ١٧٩

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی حقہ نوشوں کا سلفہ کر گئے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٧ مئی کے الحکم میں (مسیح موعود کی تعلیم) کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرزا قادیانی نے حقہ نوشوں وغیرہم کو نکال دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقہ نوشی بڑا بھاری جرم ہے۔ حالانکہ سینکڑوں مرزائی حقہ پیتے ہیں اور حقہ نوشی ان کی گھٹی میں پڑی ہے یہ سب آسمانی باپ اور اس کے لے پالک کے مجرم ہیں اور کسی طرح مقدس مرزائی گروہ میں رہنے کے قابل نہیں۔ کیونکہ بدکار ہیں۔ لیکن بدکاروں کے نکال دینے کا حکم تو نہ آسمانی باپ نے دیا نہ اس کے سگے بیٹے نے جو لے پالک کا بڑا بھائی ہے۔ آسمانی باپ کو یہ راز اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بدکاروں کو نکال دیا جائے گا تو نیک کار کیونکر پیدا ہوں گے اور ان کا نمونہ کون دیکھے گا۔ مگر افسوس ہے کہ لے پالک کو معلوم نہیں۔ ذرا خیال کیجئے کہ جو لوگ مرزائی بنے ہیں۔ وہ اس سے قبل بدکار ہی تھے اور کروڑوں آدمی جو مرزائی نہیں وہ بھی ضرور بدکار ہیں۔ اگر ان سب پر مرزائیت کا دروازہ بند کر دیا جائے گا تو مرزائی گروہ کیونکر بڑھے گا بڑے بھائی مرزا امام الدین ہی اچھے رہے جنہوں نے حلال خوروں کو مرزائی بنایا اور کسی کے منہ پر مرزا قادیانی کی طرح جھاڑو نہیں ماری۔ مرزا قادیانی کے دل میں حقہ نوشوں کی طرف سے کیوں غبار پیدا ہوا اور بیٹھے بٹھائے ان کی آنکھوں میں کیوں خاک جھونکنے لگے۔ یہ صفائی کہاں ہوئی یہ تو کدورت ہوئی جس کے انبار مرزا قادیانی کے دل میں لگے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی جو دنیا بھر کے امام ہیں اپنے بڑے بھائی سے سبق لیتے جنہوں نے خاکساری اختیار کی اور صرف حلال خوروں کے امام بن کر خاک سے لاکھ پیدا کی۔ مرزا قادیانی نے ٹوکرا تو سر پر اتنا بھاری رکھ لیا مگر اس کے اٹھانے میں کچے لگے یعنی دنیا کمانے کو امام الزمان تو بن گئے مگر متحمل نہ ہوا۔ برازی (بروزی) نبی کی تو یہ شان تھی کہ بدکاروں کو نیک کار بنانے کے لئے ان میں یوں گھل مل جاتا جیسے بول میں براز اور جیسے کھیت میں کھاد اور جیسے کوڑے میں کرکٹ۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی حلال خوروں اور بدکاروں سے اسی طرح دور جا پڑے جیسے بڑے بڑے مکانوں سے جائے ضرور۔ پھر دنیا میں تو زیادہ تر بدکار ہی ہیں۔ ”وقليل من عبادى

١٦٣

صفحہ ١٨٠

الشکور “ مرزا قادیانی ان سے بھاگ کر جائیں گے کہاں اور انہیں چھوڑیں گے تو رہیں گے کہاں پھر اپنا مشن کیونکر پورا کریں گے کیونکہ تمام انبیاء بدکاروں ہی کو نیک بناتے ہیں نیک تو خود ہی نیک ہیں انہیں نیک بنانا تحصیل حاصل ہے۔

(ایڈیٹر)

٢ ...... کیا مرزا قادیانی سچ مچ دین عیسوی کے دور کرنے کو آئے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٧ مئی کے الحکم میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں یہ میرے ہاتھ پر مقدر ہے کہ ”میں دنیا کو اس عقیدے (دین عیسوی) سے رہائی دوں۔“

(ملفوظات ج ٦ ص ٤٤٧)

اسلام تو دنیا سے دین عیسوی کے دور کرنے کو نہیں آیا مگر مرزا قادیانی آئے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اس مرکب توصیفی (دین عیسوی) کے معنی بھی اب تک نہیں سمجھے۔ دین عیسوی یعنی وہ دین جس پر عیسیٰ علیہ السلام تھے اور جس میں مقدس انجیل نازل ہوئی اور جس کی قرآن نے تصدیق کی کیا مرزا قادیانی اس کے دور کرنے کو آئے ہیں تو یہ سمجھے کہ دنیا سے مذہب اسلام کے دور کرنے کو آئے ہیں۔ کیونکہ نہ صرف عیسیٰ مسیح بلکہ تمام انبیاء کا مذہب بھی اسلام تھا۔ کیا عیسیٰ مسیح جن کو خدائے تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنا کلمہ اور روح قرار دیا ہے۔ وہ بجز اسلام کے کسی اور مذہب پر تھے معاذ اللہ ۔ اب رہی تثلیث ۔ یہ خود انجیل میں نہیں اگر انجیل میں تثلیث ہوتی تو قرآن کریم ہرگز اس کی تصدیق نہ کرتا تثلیث کو تو مذہب اسلام تیرہ سو برس سے دور کر رہا ہے اور علماء اسلام برابر اس کے دور کرنے میں ساعی ہیں اور خود اسلام اپنے جذبہ صادقہ اور قوت بارقہ سے اہل تثلیث کو اہل اسلام میں داخل کر رہا ہے۔

اور اب تک ہزاروں بلکہ لاکھوں اہل تثلیث اسلام قبول کر چکے ہیں اور قبول کر رہے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی بتائیں کہ انہوں نے کتنے کرسچنوں کو مسلمان بنایا اور کونسے خطہ سے دین تثلیث کو دور کیا۔ ہاں سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام سے پھیر کر مرزائی دین میں ضرور ملایا جو تثلیثی دین سے بھی بدتر ہے کیونکہ وہاں خدا کا بیٹا ہے تو یہاں خدا کا لے پالک ہے۔

مرزا قادیانی کے دعویٰ سے مترشح ہے کہ وہ دین موسوی (یہودیت) دین ہنود (بت پرستی) دین آریا (نیچر اور تناسخ پرستی) کے دور کرنے کو نہیں آئے نہ ان کو تمام مذاہب سے جو دین اسلام کے خلاف ہیں کچھ سروکار ہے۔ وہ تو دین عیسوی ہی کے دور کرنے کو آئے ہیں۔ اس لئے کہ یہ دین آپ کے رقیب (عیسیٰ مسیح) کی جانب منسوب ہے جس کے آپ سخت دشمن ہیں یہ عجیب خرقِ نیچر ہے کہ کوئی مثیل اپنے اصل کا یا کوئی ظل اپنی اصل کی دشمن ہو۔ ایسے عقل کے دشمن تو

١٦٤

صفحہ ١٨١

صرف مرزا ہیں۔

قرآن مجید تو آنحضرت ﷺ سے یوں خطاب کرے ”انک لا تھدی من احببت ولکن الله یھدی من یشاء“ اور مرزا قادیانی دعوے سے کہیں کہ میں دین عیسوی کے دور کرنے کو آیا ہوں اور اصلی مسیح اور ان کے معجزات اور صفات کو ماننا مردہ پرستی ہے۔ میرا مشن تو دین عیسوی ہی کے دور کرنے کو آیا ہے کیونکہ میرا لقب ہی مسیح موعود ہے۔ گویا آسمانی باپ نے ایک مسیح کو دوسرے مسیح سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا ہے اور گویا تمام انبیاء آپس میں جنگ ہی کرتے رہے ہیں۔ آپ کی بعثت تو صرف دین عیسوی کے دور کرنے کے لئے ہے مگر ہیں امام الزمان پھر یہ بھی کس برتے پر۔ لے پالک بھی بن گئے۔

شیطان کی آنت سے بڑا اور عوج بن عنق کا قبلہ گاہ (خیالی اور کاغذی منارہ) بھی کھڑا کر لیا۔ گنیش جی (ہاتھی) کے کان سے چوڑے اشتہارات بھی شائع کرلئے۔ مرزائیوں کے گلے میں ڈھول ڈال کر مسیحیت و بروزیت و تثلیث کی ڈونڈی بھی پٹوادی مگر ایک عیسائی کو بھی اپنے مرکز سے جنبش نہ دے سکے۔ نہ کسی آریہ کو مرزائی بنا سکے۔ ہمارے علماء اسلام کا جذبہ اور خلوص دیکھئے کہ آریوں کو برابر مسلمان بنا رہے ہیں۔ اور جہاں کہیں مناظرہ ہوتا ہے کوئی نہ کوئی ہندو یا آریہ ضرور ہی مشرف بہ اسلام ہوتا ہے پچھلے دنوں ایک عبدالغفور کی جگہ خدا نے نو عبد الغفور پیدا کر دیئے۔ فالحمد للہ۔ اس کے خلاف مرزائی کون کون بنے۔ نتھو اور بدھو، بھجو اور دینو، نخوا اور خنوا۔ نیاور بیگ، بہادر بیگ، چمگادڑ بیگ، سکندر بیگ، مچھندر بیگ، بھکڑ شاہ، جھکڑ شاہ، میران دین، الہ دین، بخش دین، غلام سدہ، عبدالسالار، عبدالمدار، عبدالمنار، عبداللہ، ٹھاکر دوار بی، خیر النساء بی، جمیعۃ النساء بی قطمیر النساء، بہار بی بی، نثار بی بی، پیار بی بی، سنسار بی بی، سوار بی بی، نسوار بی بی، بیزار بی بی، بم ٹھس بی بی، کرگس بی بی، مخمساٹھس بی بی، جنگل بی بی، منگل بی بی وغیرہ۔

ارے واہ رے لے پالک دین عیسوی کو ہندوستان سے خوب دیس نکالا دیا۔ ہم تو جب جانتے کہ کسی عبد المسیح کو عبدالمرزا بناتے کیونکہ آپ مسیح بن مریم علیہ السلام ہی کے مقابلے میں مسیح موعود بنے ہیں۔ اگر آپ واقعی مسیح موعود ہوتے تو عیسائیوں کی کیا شامت تھی کہ آپ کو نہ مانتے مگر آپ کے عجیب خوارق ہیں کہ مسیح موعود بننے کا تو ارمان بلکہ فخر اور اصلی مسیح پر سب و لعن جس کا یہ مطلب ہوا کہ مسیح سے نفرت کا اظہار بھی اور مسیح موعود بننے کا اقرار بلکہ افتخار بھی۔ جولوگ مسیح علیہ السلام کے درجے سے ناواقف ہیں اور مرزائی کتابوں میں ان پر لعن طعن دیکھتے ہیں ان کو تو انجیل اور مثیل دونوں سے یکساں نفرت ہوگی وہ کہیں گے

١٦٥

صفحہ ١٨٢
اگر نقوش مصور همه ازین جنس اند
مخواه دیدہ بینا خنک تن اعمی

دیکھئے آپ شامت اعمال سے مسیح علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ لے مرے۔ اب تو آپ کو ضرور ہی شرم آنی چاہئے کہ اپنا لقب مسیح موعود کیوں رکھا۔ پس اس کو واپس لیجئے اور آئندہ دین عیسوی کی توہین نہ کیجئے۔

٣ ....... وہی مسیح علیہ السلام کا قتل و صلب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ناظرین کو معلوم ہے کہ ہم متواتر طور پر ایک جدید طرز سے حیات مسیح کو کلام مجید سے ثابت اور بجائے مسیح کے منکروں کے دعویٰ وفات کو زندہ درگور کر چکے ہیں۔ اب مجددانہ رنگ پھر ملاحظہ ہو۔ واضح ہو کہ ماقتلوہ وماصلبوہ (الآیہ سے) یہودیوں کے دعویٰ انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم کا استیصال کیا گیا ہے۔ یعنی خود قتل اور صلب کی نفی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو نہ کسی نے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ایک اور شخص ان کے مشابہ ہو گیا اور خدائے تعالیٰ نے عیسیٰ مسیح کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ورنہ قول انا قتلنا المسیح کی کامل تردید نہیں ہوسکتی۔ اور نہ یہ ایسا مہتم بالشان معرکہ ثابت ہو سکتا ہے جس کی صدا سے دنیا گونج رہی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح قتل بھی کئے گئے اور سولی بھی دیئے گئے مگر نتیجہ قتل وصلب ظاہر نہ ہوا بلکہ وہ مشبہ بالمصلوب ہو گئے۔ بھلا مشبہ بالمصلوب ہونا کونسا بڑا معرکہ ہے۔ ہم کسی جانور کے گولی مارتے ہیں وہ گر کر مرنے کے قریب ہو جاتا ہے مگر پھر بھاگ جاتا یا اڑ جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں اور ہزاروں مریض امراض مزمنہ میں مبتلا ہو کر مشبہ بالموتٰی ہو جاتے ہیں مگر معالجہ سے اچھے ہو جاتے ہیں لیکن یہ معرکے مہتم بالشان نہیں ہیں۔ جن کا ذکر خدائے تعالیٰ قرآن میں کرے اور فرمائے۔ ” وما قتلوہ المرض یقینا بل رفعہ اللہ الیہ “

مرزا قادیانی نے خدا کے کاموں کو بھی اپنے کاموں پر محمول کیا ہے جو قادیان کے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر رات دن کرتے رہتے ہیں۔ پھر طرح طرح کے خلاف فطرت دعوے کہ میری وجہ سے یہ ہوا اور میری وجہ سے وہ ہوا گویا خدائے تعالیٰ نے اپنی سنت فطرت کو بدل کر مرزا قادیانی کی سنت وفطرت کے مطابق کر دیا۔ بظاہر تو ”لن تجد لسنة الله تبديلا“ پر ایمان مگر اپنے خوارق سے اس کا صاف انکار۔ ذرا غور کرنے کی بات ہے کیا یہودی اندھے تھے کہ ان کو عیسیٰ مسیح کے مشبہ بالمصلوب ہونے کا علم نہ ہوا۔ عیسیٰ مسیح تو بے کس اور بے بس تھے

١٦٦

صفحہ ١٨٣

اگر وہ مشبہ بالمصلوب ہو کر بچ نکلتے تو یہود ان کو ضرور ڈھونڈ نکالتے اور پکڑ کر مکرر صلیب پر چڑھاتے اور ہرگز زندہ نہ چھوڑتے۔ اور اگر باوصف ہر طرح کی طاقت کے وہ اندھے ہو گئے تھے اور ان کی عقلوں پر خدا تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا تھا تو یہ بھی فی حد ذاتہ قدرت الٰہی کا ویسا ہی معجزہ تھا جیسا عیسیٰ کی حیات کا۔ جس کے مرزا قادیانی منکر ہیں اور یہ معجزہ ان پر ایسا ناگوار ہے کہ اس کو اپنی موت سمجھتے ہیں۔

ایک مرزائی صاحب کہنے لگے کہ ١٩٠٠ء برس سے قومیں عیسیٰ مسیح کے مشبہ بالمصلوب ہونے کی قائل ہیں۔ مسلمان ١٣ سو برس سے دنیا میں آئے ہیں۔ کیا حق رکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کے باب میں دیگر اقوام کے خلاف کچھ منہ کھول سکیں۔ ہم کہتے ہیں کہ قومیں تو نہ صرف ١٩ سو برس سے بلکہ دس ہزار برس آغاز بعثت آدم علیہ السلام سے یہی کچھ کہتی ہیں۔ کیا ان کی سب باتیں مان لینے کے قابل ہیں۔ دنیا کچھ ہی کہے مسلمانوں کو تو وہ بات ماننی چاہئے جو قرآن کہے۔ مگر یہ مسلمانوں کے لئے ہے نہ کہ مقدس مذہب اسلام اور اس کے احکام کا رد کرنے والوں کے لئے۔ کروڑوں عیسائی عیسیٰ مسیح کو ابن اللہ مانتے ہیں۔

٢٤ کروڑ ہنود پتھر کے تراشے ہوئے بتوں کو معبود سمجھتے ہیں۔ مرزائی ان سب کی نسبت یہی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کا کیا منہ ہے کہ ان کے خلاف منہ کھول سکیں۔ ہندوستان میں ہی دیکھو کہ ٢٤ کروڑ ہنود کے مقابلہ میں ٦ کروڑ مسلمان ہیں گویا کہ چھٹا حصہ ہیں اور مسلمانوں کو یہاں آئے جمعہ جمعہ ٨ دن ہوئے ہیں اور ہنود قدیم سے ہیں اور ان کی بت پرستی بھی قدیم ہے۔ مگر حسب قول مرزائی مسلمانوں کا کیا منہ ہے کہ بت پرستی پر طعن کریں اور توحید کو اچھا سمجھیں۔

تیرہ سو برس سے تمام علماء اسلام و مفسرین کرام تو آیات قرآن سے عیسیٰ مسیح کی حیات ثابت کریں۔ مگر مرزا قادیانی سب کو رد کردیں اور ان کے مقابلہ میں اقوام مخالفان اسلام کے اقوال کو معتبر سمجھیں اور ان کی سند لائیں پھر اچھے خاصے اسلامی مجدد اور بروزی نبی۔

٤ ...... اہل اسلام کو کسی آسمانی نشان کی ضرورت نہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جو سچے مومن خدا تعالیٰ کی آیات بینات اور نور اور کتاب مبین اور آفتاب اسلام کی روشن اور چمکتی ہوئی عالمگیر شعاعیں چشم ظاہر و باطن سے دیکھتے ہیں۔ اب ان کو کسی آسمانی نشان کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ”وتمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته الآیة“ پر ان کا ایمان ہے اور جو لوگ حسب قول مرزا قادیانی (مطبوعہ الحکم ١٧؍ مئی ١٩٠٣ء، ملفوظات

١٦٧

صفحہ ١٨٤

ج ٦ ص ٤٥١) یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کوئی نشان دکھاؤ وہ سچے مسلمان نہیں ہیں بلکہ ”مذبذبين بين ذالك لا الى هؤلاء ولا الى هؤلاء“ اور ”كالشاة العائرة بين الغنمين الحديث اور من كان في هذه اعمى فهو في الآخرة اعمى (الآيه)“ کے مصداق ہیں یا مداری سے چھنک ایک چھنک دو کا تماشا دیکھنے کی فرمائش کرتے ہیں یا انکا مرزا قادیانی سے نشان طلب کرنا ایک قسم کا استہزاء یا تعجیز ہے کیونکہ مرزا قادیانی نہ کوئی نشان دکھا سکتے ہیں نہ ایسی قدرت رکھتے ہیں۔ ان کا ہر نشان دین اسلام کے خلاف ہے۔

مرزا قادیانی نشان طلب کرنے والے کی مذمت کرتے ہیں اور عیسیٰ مسیح کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ حرام کار لوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں۔ حالانکہ آپ (اپنے منہ میاں مٹھو) سینکڑوں نشان دکھا چکے ہیں۔ بہت سی پیشینگوئیاں کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔ مگر کوئی پوری نہیں ہوئی اور پھر آگے چل کر (دروغ گورا حافظہ نباشد) آپ ہی کہتے ہیں (اگر کوئی نشان نہیں دکھایا گیا تو مانگو بے شک مانگو ...... الخ)

(ملفوظات ج ٦ ص ٤٥١)

مرزا قادیانی کا پہلا نشان تو یہ ہے کہ دیکھو عیسیٰ بن مریم ١٩ سو برس کے بعد اب میرے زمانہ میں وفات پاگئے اور میں نے کشمیر میں ان کو دفن بھی کردیا۔ وہ دیکھو ان کی قبر بھی موجود ہے مگر یہ عجیب روشن نشان ہے کہ مرزائیوں کے سوا کسی کو نظر نہیں آیا نہ اُن کے سوا کوئی اس سے واقف ہوا۔ گویا یہ گروہ فری میسن کا گروہ ہے جن کے راز سے غیر آدمی واقف نہیں ہوسکتا۔ دوسرا نشان طاعون ملعون کا خروج ہے۔ اول تو یہ پہلے کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں اور آیا ہے تو شاید اس زمانے میں بھی کوئی مسیح پیدا ہوا ہوگا۔ حالانکہ لندن میں طاعون نہیں اور ایک مسیح مسٹر پگٹ موجود اور پیرس میں طاعون نہیں مگر ایک مسیح ڈاکٹر ڈوئی موجود۔

ان دونوں مسیحوں نے دعویٰ نہیں کیا کہ ہماری بعثت پر طاعون کا خروج ہوگا گویا ہر مسیح کا نشان اور خاصہ ہر جگہ جدا جدا ہے۔ اگر مرزا قادیانی سے دونوں مسیح معارضہ کرنے لگیں اور قادیان میں آکر بہم گتھم گتھا ہوں اور جنگ ڈوئل لڑنے لگیں کہ عیسیٰ مسیح تو منجی ہے جو دنیا کو ہر طرح نجات دلوانے آیا ہے وہ تو بیماریوں اور وباؤں کو دفع کرتا تھا کوڑھیوں تک کو اچھا کرتا تھا۔ مردوں تک کو زندہ کرتا تھا۔ پس اس کا موعود بھی ایسا ہی ہوگا۔ تو کیسا موعود ہے کہ طاعون کو اپنا ایڈی کیمپ بنا کر دنیا کو ہلاک کر رہا ہے پھر عیسیٰ مسیح کی میراث کے شفیع و خلیط تو ہم ہیں جو عیسائی ہیں تو عیسیٰ مسیح کا کھلا دشمن اور رقیب ہے پس کیونکر ان کی جگہ اور ان کا منصب لے سکتا ہے؟ تو فرمائیے مرزا قادیانی کے پاس اس کا کیا جواب ہے۔

١٦٨

صفحہ ١٨٥

پھر دنیا میں آتش زدگیاں ہو رہی ہیں طوفان اور زلزلے آ رہے ہیں۔ خونریزیاں ہو رہی ہیں۔ مرزا قادیانی ان کو اپنا نشان کیوں نہیں بتاتے کیا یہ کسی اور خونی مسیح کا ادبار ہے۔

آگے چل کر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”تم نے جو اسلام کو قبول کیا ہے تو کونسا معجزہ دیکھا تھا جس قدر معجزات اسلامیہ کے تم بیان کرو گے۔ وہ سماعی ہوں گے تمہارے چشم دید نہیں......الخ ۔ لیجئے جناب اسلام اور اس کے معجزات اور قرآن مجید کا نزول سب سماعی اور عمر و زید کے قصص اور سنی سنائی داستان ہو گئے۔ حالانکہ قرآن مجید اور اس کا معجز نظم اور اس کی ہدایات تامہ جو روز روشن کی طرح دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ ہر مومن کے سامنے موجود ہیں۔ تمام منکران اسلام بھی کہتے ہیں جو مرزائی کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے حق ہونے اور قرآن کے منزل من اللہ ہونے اور آنحضرت ﷺ کے نبی برحق اور خاتم النبیین ہونے کا بجز سماعی باتوں کے کیا ثبوت ہے۔ اب مرزا قادیانی کو دہریوں اور ملحدوں کا گرو گھنٹال نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟

مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہوا کہ دین اسلام کی کل باتیں تو سماعی ہیں لیکن جو کچھ میں دکھا رہا ہوں۔ وہ سب محسوس اور یقینی ہیں پس اسلام اور پیغمبر اسلام کو چھوڑو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔

پھر اسلام کے اچھے خاصے مجدد۔ ”لـعـنـۃ الله عـلـی الـکـذابـیـن والـمـفـتـریـن الـی یـوم الـدیـن“ اسلام میں کونسا نشان نہیں۔ جو مرزا قادیانی دکھا رہے ہیں کونسی ہدایت نہیں جو مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا بالکل مکاری ہے کہ ”اس ظلم صریح کو دیکھ کر جو ایک عاجز انسان (عیسیٰ مسیح) کو خدا بنایا گیا ہے۔ میرے دل میں درد اور جوش پیدا ہوتا ہے۔....الخ ۔ یوں کہئے کہ رشک و حسد پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں عیسائیوں نے تو عیسیٰ مسیح کو خدا مان لیا اور باوصف مسیح موعود بننے کے میرے نام کا کسی نے کتا بھی نہ پالا۔ اگر حسد اور رشک نہ ہوتا تو خشونت اور خبث باطن سے کلمۃ اللہ اور روح اللہ کو گالیاں نہ دی جاتیں۔ نہ بیہودہ تاویلوں کے ساتھ قرآن وحدیث کے خلاف ان کی وفات ثابت کی جاتی۔

چونکہ آپ نے اپنے کو مسیح موعود بنالیا ہے۔ لہٰذا اصلی مسیح کو نہیں دیکھ سکتے۔ آپ کا یہ کمینہ خیال ہے کہ جب تک عیسیٰ مسیح کی وقعت دنیا کے دل میں ہے۔ میری وقعت نہیں ہو سکتی۔ چہ خوش و شگافہ منہ اور سخنوری مجنون۔ ایک مکھی کہہ سکتی ہے کہ جب تک سیمرغ کا نام دنیا میں ہے میری بھنبھناہٹ کوئی نہیں سن سکتا۔ اور ایک چیونٹی کہہ سکتی ہے کہ جب تک ہاتھی کی ہیبت لوگوں پر چھائی ہوئی ہے مجھے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔

اصل یہ ہے کہ شرارت اور خود غرضی کی حماقت انسان کو پاگل بنائے بغیر نہیں رہتی۔ کونسے

١٦٩

صفحہ ١٨٦

سچے مسلمان کے دل میں درد اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔ جب وہ یہ دیکھتا اور سنتا ہے کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنالیا ہے۔ اس صورت میں تو ہر مسلمان مسیح موعود ہے۔ مرزا قادیانی کی کیا تخصیص، انسانوں کو خدا بنانے کی مذمت میں قرآن وحدیث بھرے ہوئے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے لئے یہ ایک آسمانی نشان ہے کہ وہ عیسیٰ مسیح کو خدا نہیں سمجھتے، علاوہ مسلمانوں کے بہت سے اہل مذاہب بلکہ خود بعض حکماء وعقلاء یورپ عیسیٰ مسیح کو خدا نہیں مانتے۔ لیکن کیا وہ سب مسیح موعود ہیں۔ ہاں مرزا کی طرح عیسیٰ مسیح کو کوئی گالیاں نہیں دیتا۔ مرزا قادیانی کے لئے گالیاں دینا آسمانی نشان ہے ۔

دشنام بمذہبیکہ عبادت باشد
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم

"فاعتبروا یا اولی الابصار"

٥ ...... منارۃ المسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مسیح موعود کی بعثت کو ٣٠ سال گزر گئے مگر منارہ ابھی تک بطن مادر میں ہیں۔ کیا مسیح موعود بر جعت قہقری آسمان پر جائے گا اور اپنے خیالی منارے کے ذریعے سے پھر زمین پر اترے گا۔ کیونکہ ابھی تک تو الحکم کے صفحہ لوح پر خیالی منارے کی مورتی استھاپن ہو کر براج رہی ہے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں تو یہ مزعوم منارہ عدم سے وجود میں نہیں آسکتا اور بعد میں آیا بھی تو کس کام کا؟ ہاں مرزا قادیانی چونکہ بروزی یعنی تناسخی ہیں۔ لہٰذا کچھ عجب نہیں کہ بعد وفات ان کی روح چغد کے قالب میں حلول کر کے منارہ کے کلس پر آبیٹھے ۔

چو میرد مبتلا میرد چو خیزد مبتلا خیزد

لیکن یہ عجیب حسرت بھرا سماں ہوگا جس کے خیال میں لانے سے بھی عبرت کی تصویر آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتی ہے ۔

پاسبانی میکند ہر قصر قیصر عنکبوت
جغد نوبت میزند بر گنبد افراسیاب

اور اب تو منارۃ المسیح ہی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس کی تعمیر میں روڑے اٹک گئے۔ یعنی مجسٹریٹ گورداسپور نے ہندو مسلمانوں کی عذرداری پر تعمیر روک دی اور حکم دے دیا کہ دعویٰ ہو تو دیوانی میں جاؤ۔ مرزا قادیانی دیوانی میں ضرور جاتے مگر مقدمات فوجداری نے ان کی عقل دیوانی کردی۔

١٧٠

صفحہ ١٨٧

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ سال ١٩٠٤ء / ٨ /جون شمارہ نمبر ٢٢ / کے مضامین

......١ مرزا کا اعتقاد قرآن مجید کی نسبت۔ اخبار اہلحدیث! ......٢ تصویر پرستی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٣ اصلاح تمدن۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٤ مرزائی الہامات اور مقدمات۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٥ مرزا قادیانی کو بہشت کی ضرورت نہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٦ طاعون کو سب وشتم کرنا۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٧ مرزائی مقدمہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٨ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا اعلان۔ مولانا عبدالکریم ٹھیکری! ......٩ دعا بے شک حق ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......١٠ عجیب فقرہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا کا اعتقاد قرآن مجید کی نسبت

اخبار اہلحدیث!

اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف کی تعریف میں احسن الحدیث فرمائے۔ احسن کے معنے سب سے بڑھ کر خوبصورت کے ہیں اور مرزا کہے کہ قرآن سخت زبان اور گندی گالیاں دینے والا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جب مرزا نے اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت گندے اور سخت الفاظ لکھے تو لوگوں نے اعتراضات کئے۔

الزام رفع کرنے کو اپنے (رسالہ ازالہ ص١١، خزائن ج٣ ص١١٦ حاشیہ) میں لکھ دیا کہ:

”قرآن میں بھی تو ایسے الفاظ ہیں جو نہایت سخت اور گندی گالیاں ہیں۔“

چہ نسبت خاك را با عالم پاك

بیشک مرزا قادیانی اپنی بدزبانی کے باعث علاوہ عندالناس کے عنداللہ بھی ملزم ہیں۔

١٧١

صفحہ ١٨٨

چند سال قبل حکام وقت نے بھی آپ کو بدزبانی سے حکما روکا تھا لیکن عادت کہاں جائے۔ خداوند تعالیٰ کا معاملہ مخلوق کے ساتھ واقعی اور ٹھیک طور پر ہے کیونکہ وہ تمام اشیاء کا خالق و مالک ہے اور اسکو ہر طرح کرنے اور کہنے کا حق ہے۔ کسی کی کیا مجال جو یہ پوچھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ یا ایسا کیوں کہا؟ ”لا یسئل عما یفعل وهم یسئلون“

مرزائیو، خداوند قہار سے ڈر کر اور ضد اور تعصب کو چھوڑ کر ایماناً کہو۔ اول...... اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ قرآن اکثر استعارت سے بھرا ہوا ہے۔ دوم...... یا یہ کہے کہ قرآن ایسا سخت زبان اور گالیاں دینے والا ہے جس سے غائت درجہ کا غبی اور جاہل بھی بے خبر نہیں۔ سوئم...... یہ کہے کہ قرآن میں ایسے الفاظ موجود ہیں جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں تو ایسے شخص کو تم مسلمان کہو گے یا کچھ اور ورنہ ”لعنت الله على الكاذبين“ کہو آمین!

٢ ...... تصویر پرستی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے ایک مرزائی مصور کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر نیک نیتی سے تصویر کھینچی جائے تو جائز ہے۔ ہم کہتے ہیں شریعت نے کہاں حکم دیا ہے کہ تمام ممنوعات و محرمات کا ارتکاب نیک نیتی سے جائز ہے۔ شریعت میں اس قسم کے قیاسات کو تو شیطانی وسوسات قرار دیا گیا ہے۔ ”ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم“ شیطان نے بھی تو سب سے پہلے یہی قیاس کھڑا تھا کہ ”خلقتنى من نار و خلقته من طين“ آدم علیہ السلام کو اسی بناء پر سجدہ نہ کیا اور مردود ہو گیا۔ اس نے قیاس کیا کہ خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا کفر ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک وہ غالباً نیک نیت تھا۔

آپ فرماتے ہیں: ”اہل یورپ چونکہ تصویر کو دیکھ کر قیافہ کی مدد سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔ لہٰذا میں نے تبلیغ کے لئے اپنی تصویر کی اشاعت کی۔“ (ملفوظات ج٢ ص٢٣) گویا آپ مجدد بلکہ موجد دین جدید بن کر یورپ کے مقلد ہوئے۔ یوں کیوں نہیں کہتے کہ آسمانی باپ نے مجھ پر تصویر فروشی کا الہام کر دیا ہے۔

تصویر یورپ کے لئے کھنچوائی گئی ہے تو ہر مرزائی کے گھر میں آپ کی ایک ایک تصویر کیوں موجود ہے۔ کیا ان کا مذاق بھی ہندوستان میں رہ کر یورپ کے مذاق سے بدل گیا ہے۔ جو مرزائی آپ کو ہر وقت دیکھتے ہیں اور جو کبھی کبھی مسافت قریب و بعید طے کر کے زیارت سے مشرف ہوتے ہیں کیا وہ بھی اب تک یورپ ہی میں ہیں اور یورپین ہیں کہ ان کی گھروں میں آپ

١٧٢

صفحہ ١٨٩

کی ایک ایک تصویر موجود ہے۔ یوں فرمائیے کہ وہ بت پرست ہیں یعنی جس طرح بت پرستوں کے گھر میں دیوتاؤں کی مورتیاں موجود رہتی ہیں اور وہ صبح شام ان کی پوجا اور ڈنڈوت کرتے ہیں۔ یہی حال مرزائیوں کا ہے۔

نیک نیتی کا حیلہ ہر فعل میں ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص نامحرم عورت سے زنا کرے اور یہ نیت رکھے کہ میں تو اپنی اور اس کی نفسانی خواہش مٹانے کو زنا کرتا ہوں۔ یا کوئی شخص جلق لگائے یا لواطت کرے کہ میں اس ذریعہ سے زناء سے بچوں گا یا کوئی شخص سود لے اور یہ نیت کرے کہ میں اس سے مسجد تعمیر کراؤں گا یا دینی مدرسہ کھولوں گا یا محتاجوں کی مدد کروں گا تو ایسی نیت اسلامی شریعت میں کیونکر جائز ہو سکتی ہے؟ پھر جو امور خلاف شریعت ہیں ان کے ارتکاب میں نیک نیتی کا کیا ثبوت ہے؟ جو شخص کھلم کھلا تصویر بنواتا اور لوگوں کو دیتا ہے کہ اس کو دیکھو اور اپنے پاس رکھو ہر سچا مسلمان اس کو ملعون سمجھے گا۔ اس کے دل میں ہرگز خیال نہ گزرے گا کہ اس کی نیت کیسی ہے کیونکہ دل چیر کر کوئی شخص اپنی نیت نہیں دکھا سکتا۔ نہ ارتکاب امور خلاف شریعت میں نیک نیتی ملحوظ و ماخوذ ہے۔

ذرا خیال کرنا چاہئے کہ جس نبی امی ﷺ کی بعثت صرف اس لئے تھی کہ شرک اور بت پرستی اور اس کے لوازم کو دنیا سے مٹائے اور توحید قائم کرے۔ مرزا باوصف اس دعوے کے کہ میں اس کا متبع اور امتی بلکہ اس کا بروزی ہوں اپنی تصویریں بنائے اور ان کو شائع کرے اور دنیا کو شرک و کفر کی ظلمت میں برجعت قہقری ڈالے۔

تصویر کا بنوانا محض اس غرض سے ہوتا ہے کہ لوگ اس کو محبت مفرط اور عظمت سے اپنے پاس رکھیں۔ خود مرزا کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپ والے میری تصویر دیکھ کر قیافے سے کام لیں اور مجھے مسیح موعود اور امام الزمان سمجھیں اور ان کے دلوں میں میری عظمت قائم ہو فرمائیے اب بدنیتی میں کیا شبہ رہا مرزا اپنے ہی منہ اور اپنے ہی دعوے سے ملعون ثابت ہو گیا۔

نیک نیتی شعائر اسلام کے قائم کرنے اور ناموس شریعت کی حفاظت میں ہے نہ کہ شرک اور کفر کے دعائم ولوازم کے پھیلانے میں۔ اسلام میں توحید کی یہ شان ہے کہ بجز خدائے وحدہ لاشریک کے کسی کی ذرہ بھر عظمت بھی دل میں نہ رہے اور جب پتھر وغیرہ دھاتوں کی مورتیوں اور کاغذ کی تصویروں کی عظمت کی گئی تو اسلام اور کفر میں کیا فرق رہا؟

بت پرست بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم مورتیوں کو خدا نہیں سمجھتے بلکہ نہایت نیک نیتی کے ساتھ اس ذریعہ سے نرانکار جوتی سروپ کا دھیان گیان لگاتے ہیں۔ کوئی بتائے کہ بت پرستوں

١٧٣

صفحہ ١٩٠

کی نیک نیتی اور مرزا کی نیک نیتی میں کیا فرق ہے؟ کوئی سچا مسلمان ہرگز نہ پوچھے گا کہ مصور اور مصورلہ کی کیا نیت ہے وہ تو فوراً دونوں کو ملعون قرار دے گا۔ کیا مرزا اور مرزائی اپنے دل چیر کر نیت کی محسوس منحوس شکل دکھا سکتے ہیں۔

٣ ...... اصلاح تمدن

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ان کی اصلاح تمدن و معاشرت کے لئے عصر جدید وغیرہ رسالے شائع ہورہے ہیں جو مسلمانوں کو ٹھیک اسلامی اصول کے موافق مہذب مسلمان بنانا چاہتے ہیں مگر مرزائی اخباروں کو یہ امر ناگوار ہے۔ وہ اس قسم کے رسالوں کو رقابت کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو اسراف اور تہذیب کی بلا اور خسر الدنیا والآخرۃ سے بچانا چاہتے ہیں۔ مرزا اور مرزائی تو اپنے بھوجنوں اور دکشنوں اور سقنقوری مجونوں کی خاطر یہی چاہتے ہیں۔ کہ مسلمان بدستور احمق بنے رہیں اور جو کچھ کمائیں قادیان میں جھونک دیں۔

چو احمق در جہاں باقی است کس مفلس نمی ماند

مرزائی اخبار تو ہر معاملہ میں اپنے بروزی کی ٹانگ اڑاتے ہیں کہ اس کے چیلے بن جاؤ اس کے منڈسرے ہو جاؤ۔ خود بخود دین و دنیا کی اصلاح ہو جائے گی۔ اور وہ اپنی شفقت کا ایسا پوچارا پھیرے گا۔ کہ کھوٹی تک نہ رہے گی، چنانچہ مرزائی اخبار الحکم لکھتا ہے ”اس سے پہلے کہ تم ان کو (مسلمانوں کو) کفایت شعار بنانے کی فکر کرو بہتر ہے کہ پہلے مسلمانوں کو مسلمان بنالو......الخ“ پھر ابے تو یہیں سے صاف کیوں نہیں کہتے۔ کہ اسلام سے خارج کر کے سچے مسلمانوں کو ملحد (مرزائی) بنالو۔

مرزائی اخباروں کے نزدیک تو بیٹھنے، اٹھنے، چلنے، پھرنے، جاگنے، سونے، ہگنے، موتنے الغرض سب کاموں میں امام الزمان کی ضرورت ہے امام الزمان کیا ہوئے بھانڈوں کی بانگی ہوئے یا اسٹیٹ پاگلخانے بھجوانے کی کس کے لئے ابھی ضرورت نہیں۔ آگے چل کر الحکم لکھتا ہے کہ: ”خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک مامور بھیج دیا ہے جو قوم میں وہی صلاحیت اور تقویٰ پیدا کرنا چاہتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی زندگی کا خاص منشاء تھا۔“ گویا آنحضرت ﷺ کا منشاء جو در حقیقت خدائے تعالیٰ کا منشاء تھا نزول قرآن مجید سے پورا نہیں ہوا، اور آیت ”اکملت لکم دینکم“ بالکل غلط اور آنحضرت ﷺ کی بعثت بالکل فضول ٹھہری۔ معاذ اللہ۔ بھلا اس خرافات اور ماتخولیا پر کوئی سچا مسلمان کان دھر سکتا ہے ہرگز نہیں آگے چل کر لکھتا ہے تمہارا ہمعصر عصر جدید

١٧٤

صفحہ ١٧٥

مسلمانوں میں جس قوت اور روح کے نفخ ہونے کی آرزو کرتا ہے وہ ان میں پیدا ہو جائے گی لیکن بغیر اس کے (مرزا کے) دامن سے وابستہ ہوئے۔ اگر کوئی شخص قومی اصلاح اور فلاح کا مدعی ہو تو ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ وہ کامیاب نہیں ہو سکتا...... الخ۔

عصر جدید بے شک مسلمانوں میں اسلامی تہذیب کی روح خدا اور رسول کے منشاء کے موافق پھونکنا چاہتا ہے۔ وہ بے شک رفارمر اور رفارم کر رہا ہے اور خدا اور رسول کا منشاء اپنے کامل خلوص اور جذبے سے پورا کر رہا ہے اور کسی قدر کامیاب ہو گیا ہے اور کامیابی کے بقیہ آثار خدا کے فضل سے نمایاں ہورہے ہیں۔ ہاں وہ مرزا قادیانی کا منشاء ہرگز پورا نہیں کر سکتا۔ اس کا ایڈیٹر سچا مسلمان اور قوم کا سچا فدائی ہے۔ اس نے کوئی مذہبی مشن خلاف اسلام کھڑا نہیں کیا نہ نبی بننے کا اعلان دیا۔ یہ کھانے کے دانت اور دکھانے کے اور، تو مرزائیوں ہی کے گنیش جی کو زیبا ہیں۔

مرزا قادیانی تو بجز اپنی زبردستی کی نبوت منوانے کے دوسرا سبق ہی نہیں پڑھے۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت کے دیکھنے کی آنکھیں ہی قدرت نے ان کو نہیں دیں۔ ان کے سر پر تو صرف وفات مسیح کا بھوت سوار ہے۔ اخباروں اور رسالوں میں اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کوئی بتائے تو سہی کہ مسلمانوں کے تمدن اور طرز معاشرت کی اصلاح میں انہوں نے کونسا پارٹ لیا۔ اگر کسی شہر یا قصبہ میں کوئی مرزائی ہے تو اس کا بس یہی فرض ہے کہ جیسے عیسیٰ مسیح وفات پا گئے۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔ بس ان کے دین و دنیا کی یہی کائنات ہے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے "انتم اعلم بامور دنیاکم" یعنی اپنے دنیا کے کاموں کو تم بہتر جاننے والے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان قوم اپنی رائے اور تجاویز سے بھی قوم کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ مسلمانوں کو کس اصلاح کی ضرورت ہے اور دعوے وہ کہ دھرے جائیں نہ اٹھائے جائیں۔

٤ ...... مرزائی الہامات اور مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! جب مقدمات نہ تھے تو الہامات کی ٹپکا ٹپکی کبھی کبھی بلکہ شاذ و نادر ہی ہوتی تھی۔ مقدمات کے شروع ہوتے ہی الہامات کی بم پھوٹ گئی۔ گویا پہلے قبض رہتا تھا اب دست بخیر ہاتھوں ہاتھ بسط ہونے لگا۔ مگر الہامات کا رنگ مختلف ہے کبھی تو مقدمات میں فتحیاب ہو جانے کا الہام ہوتا ہے اور کبھی جب عدالت کے تیور دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے تو اپنے اور اپنے مریدوں کے

صفحہ ١٩٢

پیشگی آنسو پونچھے جاتے ہیں کہ مردوار اڑے رہو۔ میں بھی ثابت قدم ہوں تو بھی ثابت قدم رہو۔

نامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد

اگر مریدوں کے دل نہ بڑھائے جائیں اور ان کو ہمت نہ دلائی جائے تو مقدمات وغیرہ کے لئے روپیہ کہاں سے آئے۔ ”نصر من اللہ و فتح قریب اور فتح اللہ ونصر قریب“ کا انوکھا تازہ نوبنو الہام ہو ہی چکا ہے۔ اگر یہ الہام مولوی کرم الدین کے مقدمے کے فیصل ہونے اور اس میں ناکام رہنے سے پہلے کا تھا جو بالکل برعکس پڑا اور لے پالک کے ساتھ خود آسمانی باپ کی کمر بھی ٹوٹ گئی۔ لیکن ہم کو باپ بیٹے کے اس ہمت ہارنے پر بہت ہی غصہ آتا ہے کیا معنی کہ یہ الہام مطلق فتح کا تھا۔ الہام کا یہ مطلب نہ تھا کہ اس مقدمے میں فتح نصیب ہوگی۔ کیونکہ مقدمات تو بہت سے باقی ہیں۔

ابھی تو سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ایسا اندھیر کھاتا تو آسمانی ہائی کورٹ میں ہی نہیں کہ لے پالک کسی مقدمے میں بھی فتح یاب ہو۔ گیلے سوکھے ایک ہی بھاڑ جلیں اور ایک بھی آسمانی نشان چمکتا ہوا نظر نہ آئے۔ پس مرزا قادیانی ذرا تیل دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں۔ یہ ہمارا ذمہ کہ آخری مقدمے میں مرزا قادیانی ضرور فتحیاب ہوں گے اور آسمانی نشان کا ضرور ظہور ہوگا۔ آسمانی باپ نے یہ الہام نہیں کیا کہ چت بھی لے پالک کی اور پٹ بھی لے پالک کی۔ ایسا الہام ہوتا تو بالکل فطرت کے خلاف ہے۔ دنیا کے معاملات قمار خانہ ہیں جیتا سو ہار اور ہارا سو مرا۔

فلک است مقامر زمانہ
بگریز ازین قمار خانہ

٥ ...... مرزا قادیانی کو بہشت کی ضرورت نہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم میں آپ فرماتے ہیں ”ہماری خواہش ہے کہ الہی تجلیات ظاہر ہوں جیسے موسیٰ نے ”رب ارنی“ کہا تھا ورنہ ہمیں تو نہ بہشت کی ضرورت ہے نہ کسی اور شے کی۔“

جی بجا ہے مگر موسیٰ علیہ السلام نے دنیا میں رب ارنی کہا تھا یا مرنے کے بعد۔ قرآن میں تو مرنے کے بعد مومنین اور متقین کے لئے جناب باری نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے مگر چونکہ آپ کو دنیا ہی میں حسب فحوائے حدیث شریف جنت کے مزے اور بہاریں ہیں عیش وعشرت ہے۔ الدنیا سجن المومن وجنت الکافر لہٰذا مرنے کے بعد جنت کیوں نصیب ہونے لگی؟ آپ تو یقیناً مرتے دم بھی یہی ترانہ گائیں گے ؎

صفحہ ١٩٣
خاک میرا دل ملے گا حوریان عدن سے
باغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر

پھر الٰہی تجلیات کے ظاہر ہونے کے کونسے اسباب ہیں۔ موسیٰ نے تو کوہ طور پر رب ارنی کہا تھا آپ کے پاس تو ابھی تک منارہ بھی نہیں جس پر چڑھ کر آسمانی باپ کا نظارہ ہو۔ اور بات یہ ہے کہ آپ بہشت و دوزخ کے درحقیقت قائل ہی نہیں جبھی تو عدم ضرورت ظاہر کی گئی یہ نصوص قطعیہ کا انکار اور کفر و الحاد نہیں تو کیا ہے۔

٦ ...... طاعون کو سب و شتم نہ کرنا چاہئے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ طاعون آسمانی باپ کا مامور ہے۔ لہذا اس کو سب و شتم نہ کرنا چاہئے۔ کیا معنی وہ تو ایڈی کا سگ ہے۔ لہذا آسمانی باپ اور لے پالک دونوں کا پیارا ہے۔ اسے برا کہنا باپ بیٹے دونوں کو برا کہنا ہے۔ لال پیارا تو لال کے خال بھی پیارے، لیکن جبکہ وہ لے پالک کے منکروں کے لئے آیا ہے تو ضرور پیارا ہے اور جبکہ آسمانی باپ کے پوتوں کے لئے آیا ہے تو پیارا کیوں ہے اس صورت میں تو اس سے بڑھ کر کوئی ملعون نہیں۔ بات یہ ہے کہ وہ آزاد اور خودسر ہو گیا ہے یا بوکھلا گیا ہے کہ دوست دشمن کی تمیز نہیں کرتا یا بھوکا ہے کہ جہاں کوئی نرم چارہ دیکھا چگ گیا۔ اپنا ہو یا پرایا مسلمان ملعون ہیں۔ عیسائی ملعون ہیں۔ آریا ملعون ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کے دعاوی کے جو لوگ مخالف ہیں اور ان پر ایمان نہیں لاتے سب ملعون ہیں۔ مگر طاعون ہرگز ملعون نہیں ۔ جو نہ صرف دشمنوں بلکہ مرزا قادیانی کے دوستوں کو بھی بھنبھوڑ رہا ہے۔ دنیا میں کوئی شے ملعون اور بری نہیں صرف مرزا قادیانی کے مخالفین ہی ملعون ہیں۔

٧ ...... مرزائی مقدمہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

یہ مقدمہ گورداسپور میں ہر روز ہوتا ہے صرف ٢٨، ٢٩ کی تعطیل کی وجہ سے ناغہ رہا۔ مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ کی شہادت ہفتہ عشرہ میں بصد مشکل ختم ہوئی۔ مرزائی وکیل کو مولوی صاحب اور انجمن نصرت السنۃ امرتسر کی تحریروں سے ثابت کرنا تھا کہ مولوی صاحب موصوف ہمارے قدیمی سخت مخالف ہیں۔ انجام کیا ہوا ۔ ”والحکم عند الله“ حافظ عبدالقدوس صاحب سہارنپوری جو مرزائیوں کی طرف سے گواہ تھے۔ ٢٣ مئی کو حاضر نہ ہوئے ان کے نام وارنٹ ضمانتی مبلغ پانچ سو روپے کا حکم ہوا۔

١٧٧

صفحہ ١٩٤

٨ ...... مرزا قادیانی کے دعوؤں کا اعلان

مولانا عبدالکریم بھکری!

مرزا قادیانی بخیال خود ملہم ہیں۔ منجملہ دوسرے الہاموں کے اس وقت قابل غور مفصلہ ذیل الہام ہے۔ ”وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم انه اوى القرية ...... الخ (رسالہ دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)“

مرزا قادیانی اس الہام کی تفسیر یوں فرماتے ہیں۔ اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں۔ اول ...... یہ کہ طاعون اس لئے دنیا میں آئی کہ خدا کے مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا ...... الخ (رسالہ دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)۔ دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی۔ وہ یہ ہے کہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی کہ جب لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں گے۔ (یعنی مرزا قادیانی کو اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذا اور بدزبانی سے باز آئیں ...... الخ (رسالہ دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) طاعون کا سبب اگر صرف آپ کی مسیحیت کا انکار ہے اور فرو ہونا طاعون کا آپ کے دعوے مسیحیت پر موقوف ہے تو بہتر ہے کہ گورنمنٹ کو اطلاع دیں کہ ٹیکہ وغیرہ جو انسداد طاعون کے لئے ہے اس پر روپیہ ضائع نہ کرے۔ تیسری بات! جو اس سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک دنیا میں رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے ...... الخ۔ (رسالہ دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

یہ مرزا قادیانی کا ایسا صاف دعویٰ ہے جس کی ذرہ بھی تاویل نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ قادیان طاعون سے ایسا تباہ ہوا جو بمقابلہ گردونواح کے بہت بڑھ کر ہے ہم ایک فہرست خاص باشندگان قادیان کی طرف سے ذیل میں درج کرتے اور جو انہوں نے طاعون کی حالت میں ہمارے پاس ارسال کی تھی مگر وہ صاحب یہی تحریر کرتے ہیں کہ ان کی تعداد اموات اس لئے کم ہے کہ شروع ہی میں سب مرزائی بھاگ گئے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا سکول ویران ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی اموات ہوئی ہوں وہ فہرست یہ ہے۔ ہندو ١٠٠، مسلمان ١٥، مرزائی ٥، چوہڑے ٢٥، ابھی تو دو سال کامل بھی نہیں گزرے کہ قادیان جس کو حضور دارالامان سے مشہور کرتے تھے۔ طاعون سے تباہ ہو گیا۔ کیا اب آپ کے الہامات سچے مانے جائیں؟ کیا آپ کو مسیح موعود مانا جائے؟ کیا قادیان اب دارالامان ہے؟ کیا آپ سچے شفیع ہیں؟ کیا آپ بروزی طور پر رسول ہیں؟ ہرگز نہیں۔ باوجود مشاہدہ کوئی مرزائی ان کے دعاوی کا معتقد ہو تو ایسے اعتقاد پر افسوس

١٧٨

صفحہ ١٩٥

صد افسوس۔ (راقم عبدالکریم مدرس عربی ہائی سکول بھنگری)

٩ ....... دعا بے شک حق ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی بھی دعا کے قائل ہیں مگر صرف اپنی دعاء کے، انبیاء کی دعاء کے بھی منکر ہیں جنہوں نے دعا مانگی کہ اے خدا ہمارے ہاتھ معجزات دکھا۔ مگر مرزا قادیانی خود معجزات ہی کو نہیں مانتے گویا انبیاء کی دعائیں بھی بے اثر ہیں ورنہ معجزات ضرور پورے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں انبیاء نے ظہور معجزات کے لئے جس قدر دعائیں مانگیں وہ بالکل فضول اور عبث تھیں۔ حالانکہ فعل عبث لہو ولعب میں داخل ہے جو حرام ہے اور انبیاء ارتکاب حرام سے فطرتاً پاک ہیں۔

مرزا قادیانی کے سوا نہ آج تک کسی کی دعا قبول ہوئی نہ آئندہ قبول ہوگی۔ وہ اپنی دعاء سے ان لوگوں کو بھی انڈے بچے دلوا سکتے ہیں جن کے کبھی چوہا کا بچہ تک پیدا نہیں ہوا اور اولاد بھی پسری نہ کہ دختری وہ اپنی دعا سے دنیا کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ ہیضہ اور طاعون کو بلوا سکتے ہیں۔ اور بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ جب سبھی کی دعا قبول ہوگی تو لے پالک کو کون پوچھے گا۔ خود مرزا قادیانی ایمان سے کہیں کیا ان کے مخالفوں اور منکروں کی بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اگر قبول ہوتی ہیں تو کفار کی دعائیں بھی قبول ہوئیں کیونکہ جو شخص نبی اور امام الزمان پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور اگر قبول نہیں ہوتیں تو خدائے تعالیٰ رب العالمین نہیں بلکہ رب المرزائیاں ہے اور رحمٰن رحیم اس کی عام صفت نہیں بلکہ اس صفت کا ظہور صرف مرزائیوں کے لئے ہے۔ پھر دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی وجہ اور ان کی ہی دعاء بدعا سے ہو رہا ہے۔ مگر افسوس کہ مولوی کرم الدین صاحب پر جو فریب کا دعویٰ دائر کیا گیا اس میں کامیاب ہونے کے لئے کہاں تک کا زور نہیں لگایا گیا۔ کیا کیا الہامات نہیں ہوئے لیکن سب بے سود۔ ہاں کفار کی دعا قبول ہو گئی اور مرزا قادیانی کو شکست نصیب ہوئی۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کا خدا بھی دعا کے قبول کرنے بلکہ خود اپنے ایفاء وعدہ پر قادر نہیں۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی دعا کی حقیقت جس پر مرزائی غش ہیں اور اپنے دین و دنیا کے کاموں کا دارومدار بلکہ دین و دنیا کی بہبودی انہیں کی دعا پر منحصر رکھتے ہیں۔ قدرت الٰہی ضعیف الاعتقادوں اور کمزور کانشنس والوں کی ایسی ہی درگت کرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ پیشنگوئیاں غلط ہوتی ہیں۔ الہامات گوز شتر ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ وہ بد نیتی سے محض مخلوق کی دل آزاری اور ہوا و ہوس اور سائر دنیوی اغراض اور حصول

١٧٩

صفحہ ١٩٦

عز وجاہ کے لئے ہوتی ہیں۔

خدائے تعالیٰ خود فرماتا ہے "وما دعاء الکافرین الا فی ضلال" مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے "ادعونی استجب لکم" سے کن لوگوں کو مخاطب کیا ہے۔ نبیوں کو متقیوں کو خدا اور اس کے رسول پر یہ صفات ایمان رکھنے والوں کو صادقوں کو نہ کہ خدا پر افتراء باندھنے والے کذابوں کو جو خود رسول بن گئے اور آیات قرآنی کا مہبط و مورد اپنے کو بنایا۔ خدائے تعالیٰ عادل ہے دلوں کی باتوں، نیتوں اور ارادوں کو دیکھتا اور جانتا ہے پس وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کی دعا ہرگز قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ دوسری مخلوق پر ظلم ہوگا۔ وہ بجائے اس کے کہ ایسے مکاروں کی دعا قبول کرے۔ ان کو زیادہ ذلیل اور رسوا کرتا ہے ورنہ دنیا میں اندھیر نگری مچ جائے۔ مولوی کرم الدین صاحب پر مرزا نے کیا کیا ظلم نہیں کئے۔ ان کو کیا کیا اذیتیں نہیں پہنچائیں مگر انجام کیا ہوا۔ مرزا کا وار تو خالی گیا بلکہ ہاتھ سے تلوار گر پڑی اب مظلوم مولوی صاحب کا حملہ ہورہا ہے دیکھیں مرزا قادیانی اس حملے سے کیونکر اپنے کو بچاتے ہیں۔ خاقانی لکھتا ہے ؎

بترس از تیر باران ضعیفاں در کمین شب
کہ ہر گز ضعف نالاں تر قوی تر زخم پیکانش

١٠ ...... عجیب فقرہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائی اخبار الحکم کی پیشانی پر تحت تصویر منارہ یہ فقرہ ثبت رہتا ہے۔ "بخرام کہ وقت تو نزدیك رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد"

(تذکرہ ص٣٩٨ طبع سوم)

یہ فقرہ ضرور الہامی ہے مگر مرزا قادیانی کے لئے فقط (محمدیاں) بدشگونی اور سخت مضر ہے غالباً ملہم (آسمانی باپ) کو سہو ہوا ہے۔ اس کی جگہ مرزائیان نہیں تو احمدیان ہونا چاہئے تھا کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک لفظ محمد میں صفت جلال اور لفظ احمد میں صفت جمال ہے اور جلال کا مقتضی جہاد ہے جس سے مرزا قادیانی کو مارے خوف کے کپکپی لگتی ہے۔ اس صورت میں مذکورہ بالا الہامی فقرے کے یہ معنی ہوئے کہ جلد چل یا اٹھ کہ تیرے جہاد کا وقت قریب پہنچا اور مجاہدین خونی مسیح کے بلند منارے پر جم گئے۔ دیکھو یہ فقرہ کتنا خوفناک ہے مجدد تو ایسی خطرناک غلطیوں کی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ بہتری اسی میں ہے کہ جس طرح مجدد کی شبیہ پر "يكسر الصليب ويقتل الخنازير" والی حدیث الحکم کی لوح سے حک کی گئی یہ فقرہ بھی گھڑی کی چوتھائی میں حک

١٨٠

صفحہ ١٩٧

کیا جائے ورنہ یاد رکھے کہ خیر نہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء و ١٦؍ جون شمارہ نمبر ٢٣ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... الزامات واتہامات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی بار بار کہتے ہیں کہ مجھ پر اگر الزامات واتہامات سچے لگائے جاتے ہیں تو کیا تعجب ہے کونسا نبی ہے جو ایسے الزامات سے بچا ہو افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو الزام اور اتہام کے لغوی معنی بھی معلوم نہیں۔ الزام کے لغوی معنی لازم کرنا یعنی چمٹانا اور کسی شے کا کسی کی گردن پر ڈالنا ہیں۔ الزام کے لئے مطاوعت لازم نہیں یعنی وہ شے درحقیقت چمٹ بھی گئی ہو اور گردن پر پڑ بھی گئی ہو۔ اس لئے ملزم اس شخص کو کہتے ہیں جس پر کسی جرم کا الزام لگایا جائے۔ اور تحقیقات جاری ہو اور جب ثابت ہو جائے تو وہ مجرم ہے نہ کہ ملزم۔ علیٰ ہذا اتہام کے معنی سخت گرمی میں جانا اور ہوا کا ناموافق سمجھنا اور کسی پر تہمت دھرنا یعنی گمان پر لے جانا ہے۔ اس کو بھی مطاوعت لازم نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ وہ گمان ہی سچ ہو بلکہ ”ان بعض الظن اثم“ قرآن میں وارد ہے یعنی بدگمانی گناہ ہے۔

اب خیال فرمانا چاہئے کہ انبیاء پر جس قدر الزامات اور اتہامات دھرے گئے تواریخ شاہد ہے کہ ان میں سے ایک بھی ثابت نہ ہوا بلکہ خود جناب باری نے وحی کے ذریعے سے ان کو اٹھا دیا اور انبیاء علیہم السلام خدائے تعالیٰ کی کسوٹی پر کامل المعیار ثابت ہوئے۔ مثلاً یہودیوں نے حضرت مریم علیہا السلام پر اور زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام پر تہمت دھری مگر خدائے تعالیٰ

١٨١

صفحہ ١٩٨

نے دونوں کو بری فرمایا۔ لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام تہمتوں سے بری نہیں اور فاسق وفاجر ہیں۔ معاذ اللہ

اب ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے افعال پر جو کچھ الزام لگائے گئے کیا وہ غلط نکلے یا خداے تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے ان کو اٹھا دیا جب پیشینگوئیاں غلط نکلیں اور مرزا قادیانی پر کذب کا الزام لگایا گیا تو کیا انہوں نے اس الزام سے اپنے کو بری کیا یا مرزا قادیانی نے جب اپنے کو خداے تعالیٰ کا بمنزلہ ولد بذریعہ الہام بتایا تو وہ اس جرم افتراء علیٰ اللہ سے بری ہوسکے۔ یا انہوں نے کسی فوجی شخص سے جو بیٹا دلوانے کی اجرت پانچ سو روپیہ پھنکارا تو کیا یہ الزام غلط تھا اور مرزا قادیانی اس کو بیٹا دلوا سکے؟

نبی سے گناہ سرزد نہیں ہو سکتا۔ اس میں قوت قدسیہ ہوتی ہے۔ گناہ کا ارتکاب شیطان کے القاء سے ہوتا ہے لیکن ”فینسخ الله ما يلقى الشيطان الآیۃ“ کے مطابق انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو خداے تعالیٰ القاء الشیطان سے محفوظ رکھتا ہے ورنہ عام انسانوں اور نبیوں میں کچھ فرق نہ ہوگا۔

مرزا قادیانی پر تو اب تک آسمانی باپ نے کوئی الہام بھی نہیں کیا کہ جو الزامات تجھ پر دنیا لگاتی ہے وہ بالکل غلط ہیں۔ ہاں اب ہمارے اس مضمون کے بعد الہامات ہونے لگیں تو تعجب نہیں۔ ہاں یہ الہامات تو ضرور ہوتے ہیں کہ ’انت منی وانا منك اور انت منی بمنزلة ولدی (تذکرہ ص ٤٣٢، ٤٢٦ طبع ٣)“ اس لحاظ سے اگر مرزا قادیانی اپنے کو معصوم اور تمام عیوب ونقصانات سے پاک وصاف بتائیں تو مضائقہ نہیں کیونکہ خدا کی طرح خدا کے بیٹے کا بھی عیوب ونقصانات سے پاک ہونا ضروری ہے جیسا عیسائیوں کا عقیدہ ہے تو اب یوں سمجھنا چاہئے کہ تمام مرزائی عیسائی ہیں اور یہ واقعی ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنے دعوے کے موافق عیسیٰ ہیں۔ پس مرزائی کیوں عیسائی نہ ہوں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح مرزا قادیانی کے بدن میں عیسائیوں کے نام سے پتلے لگتے ہیں اسی طرح کسی مرزائی کو اگر عیسائی کہا جائے تو منہ کھسوٹنے پر تل پڑے۔ پھر بوالعجبی تو دیکھئے کہ مرزا قادیانی تمام عیوب ونقصانات سے پاک ہیں پھر بھی اپنے کو ناقص نبی بتاتے ہیں گویا نقص ان کے نیچر میں داخل ہے۔

اس صورت میں آپ کامل بھی ہیں اور ناقص بھی۔ ہذا خلف۔ نہیں جناب حقیقت میں تو آپ کامل ہی ہیں مگر چونکہ دنیا کے ٣٦ کروڑ مسلمان آنحضرت ﷺ کے کامل انسان اور کامل نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا آپ ان کے پھسلانے کے لئے اپنے کو ناقص بتاتے ہیں۔ لہٰذا

١٨٢

صفحہ ١٩٩

آپ اچھے خاصے منافق ہیں حالانکہ نبی منافق نہیں ہو سکتا بلکہ منافقین کے لئے کلام مجید میں وعید موجود ہے کہ ”ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار“

کیا مرزا یا مرزائی ایماناً کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی سے سی سالہ بعثت میں کذب وغیرہ کا کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ تمام پیشینگوئیاں بالکل جھوٹی نکلیں۔ الہامات دروغ ثابت ہوئے اور انشاء اللہ ثابت ہونے والے ہیں۔ خود اپنے اظہاروں میں مرزا قادیانی نے جو کچھ جھوٹ بولا ہے اور اپنی تحریروں کی جو کچھ جھوٹی تاویلیں کی ہیں اور تقیہ کر کے بیمار بنے ہیں وہ عدالت کی مثلوں میں موجود ہے اور کیا عجب ہے کہ ناظرین پر بالتفصیل واضح ہو جائے۔ مرزا قادیانی کی دروغ بیانیوں کی تفصیل کو دفتر درکار ہے۔

ماحصل یہ ہے کہ الزام اتہام لگانا دوسری شے ہے اور ان کا ثابت ہو جانا دوسرا امر ہے۔ مرزا اور مرزائیوں کے سوا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط اور جھوٹ ہیں۔

٢ ....... جہاد قرآنی و مرزائے قادیانی

اشعۃ القرآن!

چند ہفتوں سے جب کہ مرزا قادیانی موصوف پر مقدمات کی بوچھاڑ ہونے لگی اور آپ پر فرد قرار داد جرم بھی لگ گئی تو آپ کے اخبار الحکم قادیانی کی پیشانی پر آپ کا یہ مضمون شائع ہونے لگا۔ ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم سے بند کیا گیا ہے۔ پس اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)

ہمیں اس امر سے کوئی بحث نہیں جیسا کہ بعض اخباروں میں دیکھا جاتا ہے کہ یہ الفاظ گورنمنٹ کو دھوکہ یا ان کی چاپلوسی کے لئے ہیں۔ ہمیں اس امر سے بھی واسطہ نہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا غیر صحیح کیونکہ دنیا میں جب تک انسان آباد ہیں لڑائی جھگڑے، قتل و قتال قیامت اور موعودہ ساعت کے آنے تک ہوتے رہیں گے۔ اس لئے یقین ہے کہ مرزا قادیانی کی مراد اس سے یہی ہے کہ از روئے اسلام مسیح موعود کے آنے پر جہاد منع ہوگا۔ لہٰذا ہماری بحث یہاں صرف جہاد کے جواز و ممانعت پر ہے۔

پہلے کئی دفعہ میرے دل میں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا تھا اور اس سوال کو کئی اصحاب معتقد

١٨٣

صفحہ ٢٠٠

مرزا قادیانی کی خدمت میں پیش بھی کر چکا ہوں کہ وہ یہ تھا کہ مرزا قادیانی قرآن، حدیث، اجتہاد، علمائے حنفیہ یعنی چار چیزوں کو دین اسلام میں مستند ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلمان تو ہیں پہلے ہی مسلم ہیں۔ پھر مرزا قادیانی رسول کیسے ہوئے۔ انہوں نے کیا رسالت کی جس ہدایت پر لوگ قائم تھے۔ مرزا قادیانی بھی اسی پر رہے۔ وہی اختلاف رہا مگر مرزا قادیانی کا مضمون بالا دیکھنے سے معلوم ہوا کہ آپ بعض قرآنی احکام کو منسوخ کرنے آئے ہیں۔ جو بغیر کسی نبی کے آئے نہ ہو سکتا تھا۔ شرم!

کیا فی الواقع جس جہاد کا پہلے حکم تھا وہ اب خدا کے حکم سے بند ہو گیا ہے۔ کیا خدا اپنے قوانین کو جو فطرت انسانی کے لئے اس نے اپنی کتاب میں باندھے ہیں۔ کبھی بدل بھی دیتا ہے۔ اگر ایسا ہے اور آپ کے نزدیک تو یقینا ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے تو قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کا کیا جواب؟ ”واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک لا مبدل لکلمتہ (الکہف: ٢٧) ﴿پڑھ اے محمد جو تیری طرف وحی کیا جاتا ہے یعنی اپنے رب کی کتاب جس کے حکموں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔﴾

ایسی ہی دیگر آیات ہیں جن سے صاف واضح ہے کہ خدا کے حکم بدلتے نہیں۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے خدا کے ایسے بھاری حکم پر قلم تنسیخ کھینچا۔ جس سے قرآن مجید بھرا پڑا ہے۔ کیا سچ مچ آپ کے خدا نے ان تمام آیات کو منسوخ کر دیا ہے جس میں حکم ہے کہ کفار سے جنگ کرو ان سے لڑو۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دماغ میں بھی یہ غلط بات سما گئی ہے کہ اسلام میں یوں ہی کافروں کو قتل کرنے کا حکم ہے اور تلوار سے ان کو مسلمان بنانے اور اسی طرح اپنا نام غازی رکھنے کی تعلیم ہے جو گورنمنٹ عالیہ کے قانون آزادی کے خلاف ہے مگر آپ کی سب جماعت اور گورنمنٹ عالیہ کو واضح رہے کہ قرآن ایسا نہیں جو آزادی کا خون کرتا ہو وہ تو آزادی کی تعلیم کرتا ہے۔

قرآن کی صرف یہ تعلیم ہے کہ جو لوگ تم سے لڑیں اگر تم کو قدرت ہو تو ان سے بچنے کے لئے اور ان سے بدلہ لینے تک تم بھی لڑو کسی کو ناحق نہ ستاؤ۔

کیا قرآنی جہاد بالکل منع ہو چکا ہے۔ اگر باوصف طاقت مدافعت رکھنے کے ایمان والوں کو کفار قتل کرنے لگے تو کیا مسلمان قتل ہو جائیں اور ان سے نہ لڑیں۔ اس اعتقاد میں تو آپ قوانین گورنمنٹ سے بھی گئے گزرے۔ کیونکہ از روے قانون (حفاظت خود اختیاری) بھی قاتل سے اپنے کو جس طرح ہو سکے بچانا ضروری ہے۔ اور ایسی حالت میں قتل کرنے والے کو الٹا وہ شخص

١٨٤

جس کو وہ قتل کر بچاؤ کے لئے ل یہ قر خود گورنمنٹ عا سے بڑھ جائے ان کے قتل کر کیا ایسے قاتل ہی کا نہ کریں ۔ کو عقل کا خونی کے بعض احکام اس کی ذلت اخروی عذاب لئے عقلمندوں او

عدالت نے پ قادیانی نے ق موقع غالباً مر باعث عدالت کوئی عدالت برف اور شر قادیانی اور ا کا محل ہے کیا قول مرزا قاد (یہودی) کتا

صفحہ ٢٠١

جس کو وہ قتل کرنے پر زور لگاتا ہو قتل کردے تو کوئی گرفت نہیں۔ بس یہی قرآنی جہاد ہے جو اپنے بچاؤ کے لئے ہے نہ کہ فساد ہے بلکہ فساد کا انسداد ہے۔ فتدبر! یہ قرآنی جہاد ایسا ہے جس کی بندش مرزا قادیانی کے خدا کے بغیر کوئی عقلمند نہیں کر سکتا۔ خود گورنمنٹ عالیہ باغیوں اور مفسدوں سے جنگ کرتی ہے۔ ورنہ مفسدوں اور ظالموں کا فساد حد سے بڑھ جائے اور لوگوں کی ناک میں جان آجائے۔ فرض کرو کوئی شخص مرزا قادیانی کو کافر سمجھ کر ان کے قتل کرنے کا قصد کرے اور جو شخص ان کے آگے حائل ہو۔ اس کا بھی صفایا کرتا چلا جائے تو کیا ایسے قاتل کو مرزا قادیانی یا ان کے مرید اس کے فساد سے بچنے کے لئے آخری حیلہ اس کے قتل ہی کا نہ کریں گے اور کیا وہ اس صورت میں مجرم ٹھہریں گے۔ افسوس ہے نادانوں نے قرآن کریم کو عقل کا خونی آزادی کا دشمن سمجھ لیا ہے اور پھر اپنے کو نیک نام کرنے اور عقلمند بننے کے لئے اس کے بعض احکام کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ ان کی بلا سے اس طرح قرآن کلام رحمن رہے یا نہ رہے اس کی ذلت ہو اس پر اعتراض ہوں ایسی بدنگاہیوں سے دنیا میں کیسا ہی بڑا انعام مل جائے مگر اخروی عذاب کے وقت کچھ کام نہ آئے گا چند روزہ عیش و عشرت کے لئے عقبیٰ کا وبال اپنی جان پر لینا عقلمندوں اور خدا کے بندوں کا کام نہیں۔

٣ ...... عدالت کی شکایت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہمعصر اہلحدیث نے لکھا کہ مرزا قادیانی کو دوران مقدمہ میں باوصف شدت تشنگی کے عدالت نے پانی پینے کی اجازت نہیں دی۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی شاید ایسا ہوا ہو کہ مرزا قادیانی نے پیشی مقدمہ کی حالت میں یہ اجازت مانگی ہو کہ عدالت سے باہر جاکر پانی پیئیں اور وہ موقع غالباً مرزا قادیانی کے حاضر رہنے کا ہوگا۔ جرح ہو رہی ہو گی یا کوئی اور امر ہوگا جس کے باعث عدالت نے ایسے ضروری موقع پر ان کی غیر حاضری مناسب نہ سمجھی ہو گی ورنہ پانی پینے سے کوئی عدالت منع نہیں کر سکتی چنانچہ گزشتہ پیشیوں میں مرزا قادیانی برابر عین اجلاس میں سیروں برف اور شربت وغیرہ غٹغٹاتے رہے ہیں۔ اگر واقعی عدالت نے پانی پینے سے منع کیا ہے تو مرزا قادیانی اور ان کے حواری کی جانب سے اب تک کوئی شکایت ہمارے سننے میں نہیں آئی نہ شکایت کا محل ہے کیونکہ وہ عیسیٰ موعود ہیں جو نہایت جبر اور ظلم کے ساتھ صلیب پر چڑھائے گئے اور حسب قول مرزا قادیانی شبہ بالمصلوب ہو گئے اور اف تک نہ کی اور یہی کہا اے باپ معاف کر کیونکہ وہ (یہودی) نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔

١٨٥

صفحہ ٢٠٢

پھر مرزا قادیانی اپنے کو حسینؓ سے افضل جانتے ہیں جن کو شمریوں اور یزیدیوں نے لاثانی ظلم اور ستم سے شہید کیا۔ تمام اہلبیت اور ننھے بچوں پر پانی بند کر دیا۔ کیا مرزا قادیانی باوصف حسینؓ سے افضل ہونے کے گھنٹہ دو گھنٹے کے لئے بھی تشنگی کی برداشت نہ کرسکے تھے۔ لہٰذا کامل یقین ہے کہ انہوں نے بجائے شکایت کے عدالت کا شکریہ ادا کیا ہوگا۔ ان کا ظرف عیسیٰ مسیح اور حسین سے بہت اعلیٰ ہے جس طرح مرتبہ اعلیٰ ہے گو مرزا قادیانی اپنے ظرف اور شان پر نظر کر کے ایسے حوادث و مصائب کے نزول پر رضامند اور صابر و شاکر ہوئے ہوں۔ مگر آسمانی باپ کب دیکھ سکتا ہے کہ اس کے لے پالک کا کان بھی گرم ہو۔ لہٰذا ہم کو بہت خوف ہے کہ آسمانی باپ کا جبروت ایسے اہم معاملہ کا کیا تدارک کرتا ہے۔ آخر لالہ چندو مل صاحب تنزل کے ساتھ گورداسپور سے بدل ہی گئے جنہوں نے فرد قرار داد جرم لگائی تھی۔ پس لے پالک کا صبر اور آسمانی باپ کی وہ محبت جو اپنے اکلوتے کے ساتھ ہے ہرگز رائیگاں نہ جائے گی اور مجدد السنہ مشرقیہ کا فرض ہے کہ مرزا قادیانی کے آنسو پونچھے۔

٤....... مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کی دلیل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم متواتر ثابت کر چکے ہیں کہ وفات مسیح سے مرزا قادیانی کی مسیحیت کو کوئی تعلق نہیں کیونکہ تمام یہودی اور دہریے اور اکثر اہل یورپ و امریکا حیات مسیح کے قائل نہیں اور بزعم خود ایسے مضبوط دلائل سے وفات مسیح ثابت کرتے ہیں جن کے مقابلے میں مرزا قادیانی کے دلائل لغو و لچر ہیں مگر کوئی ان میں سے مسیح موعود بننے کا مدعی نہیں حالانکہ مرزا قادیانی کے دعوے سے یہ لازم آتا ہے کہ ہر منکر حیات مسیح اور مثبت وفات مسیح عیسیٰ موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ حیات مسیح قدرت الہٰی کا ایک معجزہ ہے جس طرح دوسرے معجزات ہیں مگر مرزا قادیانی ہاتھ دھو کر اسی معجزے کے پیچھے پڑے ہیں۔ مرزا قادیانی زور و شور کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی آسمانی معراج کے کیوں منکر نہیں ہوتے اور کیوں یہ دعوے نہیں کرتے کہ کرۂ زمہریر تک چونکہ کوئی نہیں جاسکتا اور آسمان کا خرق والتیام محال ہے اور وہ ایک خلا بسیط اور انتہائے نظر ہے۔ لہٰذا میں مسیح موعود ہوں۔ علیٰ ہٰذا شق قمر اور عصاء موسیٰ کا اژدھا بن جانا وغیرہ معجزات خلاف فطرت اور خلاف عقل ہیں جس طرح عیسیٰ مسیح کا احیاء اموات خلاف فطرت ہے۔ لہٰذا میں مسیح موعود ہوں۔ اگرچہ دل میں مرزا قادیانی کا یہی عقیدہ ہے مگر معلوم نہیں کس ظاہری دباؤ نے ان کے منہ پر مہر سکوت لگا دی ہے۔ غالباً ذرا شرم و حیا کا پاس ہے بے حیائی کا پورا پاس ابھی تک آسمانی ہائی کورٹ سے نہیں ملا۔ گو علماء اسلام نے الحاد

١٨٦

صفحہ ٢٠٣

وارتداد کا فتویٰ دے دیا ہے۔ الحاد و ارتداد کے فتوے سالہا سال قبل منجانب علماء و مشائخ اسلام شائع ہو چکے ہیں جبکہ مرزا قادیانی ایسے بے باک نہ تھے نہ یوں کھلم کھلا دین اسلام کو اس زمانہ میں فارغ خطی دی تھی۔ مگر ہمارے علماء اپنے اشراق اور الہام سے تاڑ گئے تھے اور ان کے خوارق دیکھ کر سمجھ گئے کہ زقوم کے اس درخت نے اگرچہ ابھی تک چنداں نشو و نما نہیں پایا مگر چند روز میں خاردار ہو کر اپنا زہریلا اثر پھیلائے گا لہٰذا انہوں نے پہلے ہی الحاد اور ارتداد کے تیشے سے اس کی جڑ کاٹ دی۔ مرزائی فخر کرتے ہیں کہ ہمارے حضرت نے مسیح کو مار کر اپنی مسیحیت کا قلعہ فتح کر لیا۔ وہ شہروں اور قصبوں میں بھی اعلان دیں گے کہ وفات و حیات مسیح پر بحث کرلو۔ مگر چونکہ ضمیمہ دیکھ کر لوگ کید سے واقف ہو گئے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی جواب دیتے ہیں کہ جب تم قرآن مجید سے مسیح علیہ السلام کو مارتے ہو تو قرآن ہی کی رو سے پہلے یہ ثابت کرو کہ مسیح دوبارہ دنیا میں آئیں گے پھر یہ ثابت کرو کہ وہ ہندوستان کے گم نام قصبہ قادیان میں ایک مغل کے جسم میں حلول کریں گے۔ اب رہی حدیث، حدیثوں میں تو تیس دجالوں کا آنا بھی لکھا ہے۔ کیا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی مثل اپنے دوسرے ہمعصروں مسٹر پکٹ اور ڈاکٹر ڈوئی اور دوسرے گزشتہ دجالوں کے دجال نہیں۔ ان کو تو یہ جلن اور مرن ہے کہ عیسیٰ بن مریم تو جو ایسا اور ویسا تھا زندہ رہے اور میں چند روز میں مر جاؤں۔ مردہ مسیح کو تو لوگ مانیں اور میں زندہ مسیح جو سب کی آنکھوں کے روبرو موجود ہوں مجھے کوئی ٹکے کو بھی نہ پوچھے ۔

کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا رسالہ میگزین یورپ و امریکا میں بھی جاتا ہے اگر میگزین میں یہی آپ کی مسیحیت کی بھی دلیل ہوتی ہے کہ یسوع مسیح وفات پا گئے۔ اس لئے میں مسیح موعود ہوں تو یقیناً اہل یورپ ہنستے ہنستے زعفرانی مجنون بن جاتے ہوں گے اور یہی کہتے ہوں گے کہ مرزا پاگل ہو گیا ہے گردن میں پلاسٹر کا آپریشن کر کے ہم اس کو پاگل خانے بھجوانا مانگتا ہے کیا ایسا ہو نہیں سکتا کہ یہ سکس (شخص) چند روز جیل خانے کی ہوا کھا کے سکنیس سے چین ہو جائے اور پبلک کو دیک (دق) نہ کرے۔ وہ ہمارے خداوند یسوع (خداوند مسیح) کو گالی دیتا ہے اس کو مارنا مانگتا ہے جو آسمانی باپ کے داہنے ہاتھ بیٹھا دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔ ہم اپنے ہائی (بھائی) مسٹر پکٹ اور ڈاکٹر ڈوئی کو کیوں یسوع نہ مانیں جو یسوع مسیح کو مارتا نہیں۔ اور جیسا ہم آسمانی باپ کا بیٹا ہے ایسا ہی وہ بھی ہے۔ یسوع مسیح ہم لوگوں میں (یورپ میں) آئے گا نہ کہ ایشیاء کے وحشی کالا لوگوں (انڈیا) میں اور جب کہ مرزا قادیانی کو خود انڈیا کے لوگ نہیں مانتے تو ہم لوگ کب ماننا سکتا ہے۔

١٨٧

صفحہ ٢٠٤

وہ شریر آدمی جھوٹا ہے۔

٥ ...... رویت اور آسمانی و قدرتی نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے ٣١ مئی کے الحکم میں رویت (دیدار خدا) پر بحث کی ہے لیکن اس عنوان کو چھوڑ کر خدائے تعالیٰ کے نشانوں پر جا کودے ہیں۔ دعوے کچھ ہے دلیل کچھ ہے۔ یعنی گفتگو میں دعوے تو خدائے تعالیٰ کی رویت کا تھا جس کا جلوہ برخلاف تمام انبیاء کے مرزا قادیانی اپنے سادہ لوح مریدوں کو دکھانے میں فرد ہیں۔ اور بحث کی قدرت الٰہی کے نشانوں پر جن کا کوئی فرد بشر منکر نہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ رویت کا تعلق ذات سے ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی ذات محسوس اور مرئی ہو اور آثار کا تعلق صفات سے ہے یعنی کسی شے کی علامت بعینہ وہ شے نہیں ہوتی واضح ہو کہ دنیا میں حسب فحوائے آیت ”لا تدرکہ الابصار وهو يدرك الابصار“ چشم ظاہر میں سے خدائے تعالیٰ کی رویت محال ہے ورنہ غیر محدود کا محدود ظرف (سمت وغیرہ) میں اور مستغنی کا محتاج الی السمت اور لامکانی کا مکانی ہونا لازم آئے گا۔

دیکھو منکروں نے موسیٰ علیہ السلام سے بھی تو کہا تھا کہ ”لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة“ یعنی اے موسیٰ ہم تجھ پر اس وقت ایمان لائیں گے جب آمنے سامنے بالمواجہ اور کھلم کھلا خدا کو دیکھ لیں گے مگر موسیٰ جیسے کلیم اللہ اور اولوالعزم نے خدائے تعالیٰ کو قوم کی استدعاء کے موافق نہ دکھا سکے اور رب ارنی کا جواب لن ترانی ہی ملا۔

بھلا کیا ہے بساط آئینہ ہائے دیدہ و دل کی
وہ جلوہ پار ہوجائے اگر سد سکندر ہو

اور ارشاد ہوا ”ولكن انظر الى الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترانی فلما تجلى ربہ للجبل جعلہ دکا وخر موسیٰ صعقا“ لیکن اے موسیٰ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر پہاڑ (تجلی سے) اپنی جگہ ٹھہر گیا تو تو بھی دیکھ سکے گا جب خدا نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو کر دیا ٹکڑے ٹکڑے اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ ؎ شوکت ؎

بار احسان کیوں اٹھایا جبکہ دل تھا جلوہ گاہ
سل رہی موسیٰ کی چھاتی پر یہ کوہ طور کی

اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب موسیٰ کو معلوم تھا کہ چشم ظاہر میں سے خدائے تعالیٰ کی رویت نہیں ہو سکتی تو انہوں نے کیوں عبث استدعاء کی اور فعل عبث کے ارتکاب سے انبیاء بری اور

١٨٨

صفحہ ٢٠٥

معصوم ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ قوم پر حجت قائم کرنے کے لئے موسیٰ علیہ السلام نے ایسی استدعاء کی اور دکھا دیا کہ خدائے تعالیٰ کی رؤیت نہیں ہو سکتی نہ کوئی اس کی تجلی کی تاب لا سکتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے دعوے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیالی کوہ طور (منارہ) پر چڑھ کر ہمیشہ خدائے تعالیٰ کا دیدار دیکھتے ہیں اور آسمانی باپ اپنے لے پالک کو تجلی کا تماشا دکھاتا ہے جس طرح شب برات میں ۔ والدین اپنے بچوں کو آتشبازی کا گھر پھونک تماشا دکھاتے ہیں ۔ اور مرزا قادیانی جب اپنے کو عیسیٰ مسیح سے افضل بتاتے ہیں تو موسیٰ سے کیوں افضل نہ بنائیں گے ۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام رؤیت سے محروم رہے مگر میں ہر وقت منارے کی بدولت خدائے تعالیٰ کا چمتکارا دیکھتا ہوں۔

اب رہے آسمانی قدرتی نشان ۔ یہ ہر شخص ہر وقت دیکھتا ہے اور ”ربنا ما خلقت هذا باطلا“ پر ایمان رکھتا ہے اور ہر ذی روح اور غیر ذی روح قادر مطلق اور فاطر برحق کے وجود اور قدرت وصنعت کاملہ کا مقر ہے۔ ”يسبح له من في السمٰوٰت ومن في الارض“ مرزا قادیانی اس سے بڑھ کر کیا دکھا سکیں گے ۔ اور نہ ان کے دکھانے کی کوئی ضرورت ہے اور دکھائیں گے بھی تو دیکھی ہوئی شے کو جو محض فضول اور عبث اور تحصیل حاصل ہے۔ البتہ جن کی آنکھیں بوالہوسی اور اعجوبہ پرستی سے چوپٹ ہیں اور دن دہاڑے آنکھیں مانگتے پھرتے ہیں اور جن کو حق وباطل نور وظلمت کچھ نظر نہیں آتا ان کو دکھائیں۔

مرزا قادیانی تو پورے مداری بھی نہیں۔ پھٹک ایک پھٹک دو کا تماشا دکھانے میں بھی پٹھے ہیں ۔ مداریوں کی شعبدہ بازیوں کا راز کھل نہیں سکتا ۔ مگر مرزا قادیانی کے کید کا راز طشت از بام ہو گیا اور دنیا طلبی اور حب جاہ کا پا کھنڈ سب پر کھل گیا۔

البتہ مقدمات کے دو نشان بڑے بھاری ہیں جن میں سے ایک تو دنیا نے دیکھ لیا دوسرے کے دیکھنے کی باری ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک تو نشان قدرت وہی ہے جو ان کی کامیابی دکھائے اور جو ناکامی دکھائے وہ قدرت کا نشان نہیں بلکہ دجالی یا شیطانی نشان ہے آتھم کے نہ مرنے اور آسمانی منکوحہ کے وصل سے محروم رہنے کا نشان قدرتی نشان نہ تھا۔ لے پالک کے نزدیک تو وہ نشان معتمد اور مستند ہے جو آسمانی باپ دکھائے اور آسمانی باپ کبھی اپنے لے پالک کی ناکامی کا نشان نہیں دکھاتا ۔ پس ان کو قدرت الٰہی کے نشان سے کیا مطلب ۔

خواہ کیسی ہی متواتر ناکامیاں ہوں مگر مرزا ہرگز ان کا اقرار نہ کریں گے کیونکہ ایسے اقرار سے بروزیت ومسیحیت باطل ہوتی ہے۔ پس مرزا قادیانی کا خدا تو وہی ہے جو کامیاب کرتا ہے۔ ناکامیاب کرنے والا ہرگز ان کا خدا نہیں ورنہ وہ ناکامی کا اقرار کرتے نادم ہوتے ۔ فرعونی

١٨٩

صفحہ ٢٠٦

دعوؤں سے توبہ کرتے۔ اب غور کرنا چاہئے کہ شرک اور الحاد کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں۔ خوب یاد رہے کہ قدرت الہی اپنے منکروں، مشرکوں اور ملحدوں کو ہرگز کامیابی کا نشان نہیں دکھاتی۔ ”وما دعاء الکافرین الا فی ضلال“

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤/ جون شمارہ نمبر ٢٤ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مجدد پر الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٧/ جون ١٩٠٣ء کی شب کو بعد نماز عشاء مرزا قادیانی کے مقدمے میں ہم پر جو الہام ہوا۔ ناظرین اس کو مذاق تصور نہ فرمائیں بلکہ واللہ ثم باللہ واقعی ہے وہ الہام یہ ہے ”ويقطع الجناح“ یعنی بازو کاٹا جائے گا۔ جب تک مقدمہ فیصل نہ ہو جائے یا کوئی اور حادثہ یا واقعہ علاوہ مقدمہ کے واقع نہ ہو اس الہام کا انکشاف نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ مقدمہ میں کسی دوسرے شخص پر آفت آئے اور مرزا قادیانی محفوظ رہیں اور ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے خلاف مقدمہ فیصل ہونے سے مرزائی مشن کو نقصان پہنچے یعنی ان کے الہامات کا برعکس ظہور میں آنا بہت سے مریدوں کی بد اعتقادی اور برگشتگی کا باعث ہو وغیرہ۔ بہرحال ناظرین کو اس الہام کے عملی طور پر ظاہر ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔

در پس آئینہ طوطی صفتم داشته اند
آنچه استاد ازل گفت همان میگویم

ہم کو اپنے الہام پر وثوق اور گھمنڈ نہیں ہاں یہ یقین ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے کسی عاجز

١٩٠

صفحہ ٢٠٧

بندے سے اکثر ایسے کام لے لیتا ہے جن کا وہم وگمان تک نہیں ہوتا ۔ ”ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء“، فضل ہمیشہ بے عادت اور بے سبب ملتا ہے ورنہ فضل نہ ہوگا بلکہ اجرت اور مزدوری ہوگی۔

٢ ....... وہی مسیح کا صلب اور قتل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ایک مرزائی رسالے میں جس کی تالیف مرزائیوں کے لئے فخر کا باعث ہے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کو خدا کے فضل سے اس واقعہ (قتل وصلب مسیح) کے باب میں سچا علم عطا کیا گیا ہے اور اسی سبب سے ان میں کوئی اختلاف نہیں اور جیسا کہ نصوص قرآنیہ سے ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بلا اختلاف اس امر کو مان لیا ہے کہ واقعی حضرت مسیح صلیب پر چڑھائے گئے لیکن صلیب پر موت واقع نہیں ہوئی بلکہ خدا نے انہیں بعافیت اتار لیا اور طبعی موت سے مار کر اپنی طرف اٹھا لیا پس یہی وہ سچا علم ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ اور ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله“ میں ظاہر فرما دیا ہے۔

کوئی پوچھے اس واقعہ کی نسبت کس کو اختلاف ہے کیا جمہور امت محمدیہ، صحابہ کرام اور مجتہدین عظام اور علماء فخام کو اختلاف ہے ہرگز نہیں حسبِ فتوائے ”لا يجتمع امتي على الضلالة“ سب حیات مسیح پر متفق ہیں۔ صرف جماعت احمدیہ برخلاف اجماع متفق نہیں اور مَن شذّ شذّ فی النار کی مصداق ہے۔ ایسا کہنا تو بالکل اپنے منہ میاں مٹھو ہے۔ جماعت مرزائیہ کو اگر حیات مسیح میں اختلاف ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ وہ حق پر ہے بلکہ وہ بھی ”ان الذین اختلفوا فیه لفی شك منه (النساء: ١٥٧)“ کے ذیل میں داخل ہے پھر ”اختلفوا“ ماضی کا صیغہ ہے یعنی وہ لوگ (یہود وغیرہ) جو حیات مسیح میں اختلاف کرتے تھے ان کو بجز ظن کی پیروی کے کوئی علم نہیں دیا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن اختلاف کا قاطع ہے یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے کسی کو اختلاف نہیں۔ اب تیرہ سو برس کے بعد امت محمدیہ سے خارج ہو کر جس کا جی چاہے اتباع ظن اور ہوائے نفس کا بندہ بن کر اختلاف کرے اور ازمنہ ماضیہ کے یہودیوں کی جماعت میں مل جائے۔ دنیا کے ٤٦ کروڑ مسلمانوں کے مقابلے میں اگر چند سو یا چند ہزار مرزائی اجماع امت محمدیہ کے خلاف ہو جائیں تو اسلام کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ جبکہ مخالف مذاہب کے کروڑوں آدمی بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

خود مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک بھی یہ مسئلہ چنداں مہتم بالشان نہیں بلکہ اس کی تہہ میں

١٩١

صفحہ ٢٠٨

ایک فریب چھپا ہوا ہے جو درحقیقت سادہ لوحوں کے پھانسنے کا لاسا ہے۔ وہ یہ کہ مسیح جس کو دنیا مردہ سمجھتی ہے مر گئے ہیں اور میں انیس سو برس کے بعد ان کا جانشین بن کر آیا ہوں کیونکہ مسیح بن مریم زندہ ہیں تو وہی مسیح موعود بن کر آئیں گے نہ کہ مرزا قادیانی جو اپنے کو عیسیٰ مثل بتاتے ہیں۔

اگر مرزا قادیانی اپنے کو محض نبی یا خدا کا نائب بتاتے ہیں اور اسی ایک لٹکے میں کامیاب ہو جاتے اور مسیح موعود نہ بنتے تو ان کو عیسیٰ مسیح کے مارنے کی مطلق ضرورت نہ ہوتی اور جب مسیح موعود بنے ہیں تو ضرور ہے کہ عیسیٰ بن مریم کو ماریں کیونکہ اپنے رقیب کا کوئی زندہ رہنا نہیں چاہتا۔

یہ ہے خالی تو وہ خالی یہ بھرے تو وہ بھرے
کاسۂ عمر عدد حلقۂ آغوش ہوا

مندرجہ بالا شعر بالکل مرزا قادیانی کی حالت کا فوٹو ہے۔ مگر اس کا مطلب نہ مرزا قادیانی سمجھیں گے نہ کوئی مرزائی۔ انشاء اللہ مجدد ہی سمجھائے تو سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی پوچھے گا تو ہم بتادیں گے۔

مرزا کو اپنی شہرت اور حب جاہ و منصب اور مال و زر جمع کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہ ملا کہ اپنے کو مسیح موعود بنائیں اور مسیح ہی کے نام سے کھیلیں مگر وائے ناانصافی اور کفران نعمت کہ جس مسیح نے ان کو اس درجہ پر پہنچایا اور جس کے نام لیوا ہو کر مرزا قادیانی گھر بیٹھے پنپنے لگے۔ اسی کو بے دردی کے بغدے سے مار رہے ہیں اور اس میں طرح طرح کے عیوب نکال رہے ہیں۔ یہ تو بالکل یہودائے اسقریوطی کا اتباع اور اسی کی شاگردی ہے۔ پھر عیسیٰ مسیح کے مار ڈالنے اور صفحہ دنیا سے ان کا نام مٹا دینے میں کیا کیا جتن نہیں کئے۔ ہو نہ ہو عیسائیوں نے تو عیسیٰ مسیح کو ابن اللہ بنا دیا مجھے بمنزلہ ولد (آسمانی باپ کا لے پالک) بھی کوئی نہ سمجھے۔ حالانکہ مجھ پر پھڑکتا ہوا اور بھڑکتا ہوا اور کڑکتا ہوا اور دھڑکتا ہوا الہام ہوا مگر الہام کو بھی کوئی نہ مانے۔ اچھا نہ مانو میں بھی عیسیٰ مسیح پر وہ تبرے جھاڑوں کہ عیسائیوں کے ساتھ روح القدس بھی پناہ مانگے اور دنیا کے مسلمانوں کو جنہوں نے عیسیٰ مسیح کو زندہ رکھ چھوڑا ہے وہ ناچ نچاؤں کہ سب میں زلزلہ ڈال دوں قیامت برپا کردوں گا۔ ابے بدبختو ناہنجارو، خدائی خوار و لعنت کے مارو تم نے عیسیٰ مسیح کو زندہ رکھ چھوڑا ہے اور محمد ﷺ کو زمین کا پیوند کر دیا ہے حالانکہ دونوں مردہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں زندہ مسیح اور زندہ نبی ، زندہ امام الزمان ہوں۔ مجھے کیوں نہیں مانتے۔ بولاؤں اپنے ایڈیاٹک طاعون کو اور پکاروں اپنی خالہ کے بیٹے ہیضہ کو کہ تمہارا صفایا کر دے۔

١٩٢

صفحہ ٢٠٩

مرزا اور مرزائیوں کا خدا کی صفت محیی اور ممیت پر ایمان نہیں خدا جسے چاہے زندہ رکھے جسے چاہے مارے جس طرح حسب فحوائے آیہ ”انک میت وانہم میتون“ آنحضرت ﷺ کا کچھ کسر شان نہیں اسی طرح حسب آیت بیّن ”رفعہ اللہ“ زندہ رکھنے سے مسیح علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ پر کچھ ترجیح اور فضیلت نہیں کیونکہ نبی نبی سب برابر ہیں۔ وہ جس کے ساتھ جو معاملہ چاہے کرے اور جس کو جو صفت چاہے عطا فرمائے وہ قادر مطلق اور فاطر برحق ہے اسکی صفت ”ان اللہ علی کل شئ قدیر“ ہے اور ظاہر ہے کہ احیاء اور اماتت اور حیات و ممات بھی شئ ”من الاشیاء ہیں۔ مرزائیوں کے نزدیک خدائے تعالیٰ بعثت پر تو قادر ہے مگر احیاء پر قادر نہیں گویا خدائے تعالیٰ میں یہ صفت ہی موجود نہیں اور اگر ہے تو برائے نام ہے۔ یا محض فضول اور معطل ہے۔ ذرا عقل کے ناخن لو اور سمجھ کہ احیاء اور اموات اضداد میں سے ہیں اور ہر شے اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ پس اگر خدائے تعالیٰ محیی نہیں تو ممیت بھی نہیں۔ حالانکہ نص قرآنی اس کے خلاف ہے مرزائیوں کا اس پر بھی ایمان نہیں کہ ”لا یخلف اللہ وعدہ“۔

اب اہل نیچر کے مزخرف عقائد کے موافق مرزا اور مرزائیوں کا یہ کہنا کہ نیچر نہیں بدل سکتا اور سنت الٰہی ایسی ہی جاری ہے کہ وہ مردوں کو زندہ نہیں کر سکتا یعنی مسیح کو مار تو سکتا ہے مگر زندہ نہیں کر سکتا۔ اول تو تم غیر محدود قدرت و فطرت اور سنت الٰہی کو محدود بتا رہے ہو اور ”وان من شئ الا عندنا خزائنہ“ کا صریح انکار کر رہے ہو اگر تم کو فطرت و سنت الٰہی کا علم ہو گیا ہے تو احاطہ کھینچ کر بتاؤ۔ دوم....... سنت الٰہی تو یہی ہے کہ وہ ازل سے لے کر ابد تک ہر شے پر قادر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ”لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون“ انسانی ارادے غلط ہو جاتے ہیں ہم چاہتے کچھ ہیں اور ہوتا کچھ ہے۔ خود مرزائیوں نے مولوی کرم الدین صاحب پر جو فریب کا دعویٰ دائر کیا تو اس میں کونسی تدبیر اٹھا رکھی کیا کیا الہام ہوئے مگر ہوا وہی جو خدا نے چاہا۔ بس یہی سنت اللہ و فطرت اللہ ہے جو ٹل نہیں سکتی اور ہمیشہ جاری رہے گی۔

خدائے تعالیٰ تو احیاء پر قادر نہیں مگر مرزا قادیانی احیاء و اماتت دونوں پر قادر ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان نہ لائیں ان کو طاعون کے ذریعے سے ہلاک کر سکتے ہیں اور جو ایمان لائیں ان کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ یہاں سنت اللہ نیست و نابود ہو گئی اور خدا میں جس صفت کے ہونے کا انکار کیا وہ اپنے وجود میں ثابت کی۔

مرزا قادیانی تو دنیا کے مارنے ہی کے واسطے مبعوث ہوئے ہیں جب ساری خدائی کو

١٩٣

صفحہ ٢١٠

مارتے ہیں تو عیسیٰ مسیح کو کیوں نہ ماریں جن کا زندہ رہنا ان کی نبوت و موعودیت کے حق میں موت ہے ۔ مرزا قادیانی جب حدیث میں عیسیٰ بن مریم کا زندہ رہنا دیکھتے ہیں تو آتش غضب کے شعلے ان کے دماغ سے نکلنے لگتے ہیں اور جب قرآن مجید میں عیسیٰ مسیح کی نسبت رفعہ اللہ دیکھتے ہیں تو دانت پیستے ہیں اور جھلاتے ہیں کہ قرآن میں رفعہ اللہ کی جگہ اماتہ اللہ کیوں نہیں نازل ہوا ۔ معلوم نہیں خدائے تعالیٰ اس وقت کس خیال میں تھا کہ بھول گیا ۔ یا شاید یہ خیال کیا کہ انیسویں صدی میں آسمانی باپ کا لے پالک پیدا ہوگا جو میری لفظی غلطی کی معنوی اصلاح کرے گا یا اس سے غلطی ہوئی جس کا تدارک اب آسمانی باپ نے کیا ۔

مرزائی کہتے ہیں کہ وما قتلوہ وما صلبوہ کے بعد جو ”ولکن شبہ لھم “وارد ہوا ہے اگر عیسیٰ مسیح مشبہ بالمصلوب نہیں ہوئے تو لکن کیوں وارد ہوا جو استدراک کے لئے آتا ہے ہم کہتے ہیں کہ ”وما قتلوه يقيناً “ کے بعد ”بل رفعه الله “ کیوں وارد ہوا حرف بل تو محض اضراب کے لئے آتا ہے جب وما قتلوہ کے بعد لفظ یقینا موجود ہے تو اضراب کیسا ۔ پھر رفعہ اللہ کے معنی جو مرزائی (اپنی طبعی موت سے عیسیٰ مسیح کا مرنا ) بتاتے ہیں تو اس کو لغت سے ثابت کریں کہ رفع کے معنی طبعی موت سے مرنے کے ہیں اور جب ہر شے اپنی طبعی موت سے مرتی اور فنا ہو جاتی ہے تو اس کا ذکر ہی کیسا یہ تو محض فضول اور لغو و حشو ہوا ۔ نہ عیسیٰ مسیح کی کوئی تخصیص نکلی کیونکہ ایسا تو ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ دنیا نے اس کو مہتم بالشان کیوں سمجھا کیوں مذاہب میں جنگ ہوئی ۔ کیوں غلغلہ مچا جو قیامت تک مچتا رہے گا ۔

پھر جب خدائے تعالیٰ نے عیسیٰ کو مشبہ بالمصلوب کر کے اٹھا لیا اور چند روز زندہ رکھ کر اور عمر طبعی پر پہنچا کر مارا تو سیاق کلام یوں ہونا چاہئے تھا ”بل رفعه الله واماته الله بعد العمر الطبعی “ بھلا کلام الٰہی میں انسانی تاویلیں چل سکتی ہیں یہ صرف کلام الٰہی کی شان ہے کہ ذرا سی تاویل کرنے پر سارا نظام نظم منقلب اور درہم و برہم ہو جاتا ہے ۔ تاویل کرنا گویا کلام الٰہی پر ظلم کرنا ہے ۔

٣ ...... مرزا قادیانی کا کوئی سچا مرید طاعون سے نہیں مرا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم مطبوعہ ١٠؍ جون ١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی نے طاعون کے متعلق اپنے بعض مریدوں کو گورداسپور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ”میں جانتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ابھی تک کوئی ایسا آدمی طاعون سے نہیں مرا جس کو میں پہچانتا ہوں یا وہ مجھے پہچانتا ہو جو شناخت کا حق

١٩٤

صفحہ ٢١١

ہو۔"

(ملفوظات ج٧ ص٩)

واہ کیا کہنا ہے۔ اس دوغلی تقریر پر قربان جائیے جو بروزی حکمت عملی سے لبریز ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ جن لوگوں نے مجھے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے نہیں پہچانا یعنی جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے وہی طعمۂ طاعون ہوئے۔ اس کی دو شقیں ہیں۔ اول درجہ پر وہ لوگ ہیں جو جانتے ہی نہیں کہ مرزا قادیانی کس کھیت کی دساور ہیں نہ ان کو خبر ہے کہ قادیان ملک پنجاب میں کس نبی اور مسیح نے بروز اور خروج کیا ہے۔ دوسرے درجہ پر وہ مرزائی ہیں جنہوں نے بظاہر بیعت کی مگر جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔ مرزا قادیانی کو نہیں پہچانا۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ نپٹ اندھے (جاہل اور سادہ لوح) تھے کہ نبی اور غیر نبی میں تمیز نہ کر سکتے تھے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی منڈ گئے تھے۔ وہ درحقیقت سر میں دماغ، دماغ میں حس اور ادراک، سینے میں دل اور دل میں کانشنس نہ رکھتے تھے اور یقین کیا جاتا ہے کہ خوش قسمتی سے ایسے ہی مریدوں کی بھیڑ بھاڑ نے مرزا قادیانی کا رجسٹر معمور کر رکھا ہے اور بڑی بات ہے کہ انہوں نے کسی چندے میں کبھی کوڑی تک نہ دی ہوگی۔

گویا قارون کے سگوں میں سے تھے۔ خوب ہوا کہ طاعون ایسے لئیموں، گھامڑوں، عطائیوں کا صفایا کر گیا کیونکہ وہ کسی مرض کی دارو نہ تھے۔ یا خود غرض تھے جو محض پیٹ کی خاطر مرزائی بنے تھے اور خلوص عقیدت نہ رکھتے تھے۔ ایسے لوگ دراصل منافق تھے اچھا ہوا کہ طاعون نے ان کو بھی دوسرے بھائیوں میں ملا دیا خس کم جہان پاک۔

مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ طاعون سے جس قدر مرزائی مرے وہ حقیقی مرزائی نہ تھے اور جس قدر بچ رہے خواہ وہ خود غرض اور منافق ہی کیوں نہ ہوں سچے راسخ الاعتقاد مرزائی ہیں۔ تو گویا طاعون کچے اور جھوٹے مریدوں کو چٹ کرنے آیا تھا کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ قید لگائی ہے کہ مجھے انہوں نے ایسا نہیں پہچانا جو شناخت کا حق ہے۔ اب رہے وہ لوگ جو مرزا قادیانی سے آشنا ہی نہیں نہ ان کے نام تک سے واقف ہیں۔ وہ خارج اور مطلق العنان رہے نہ طاعون ان کے لئے آیا۔ طاعون تو ڈائن بن کر پیاروں ہی کا صفایا کرنے آیا ہے اور یہ چونکہ نرے جاہل، خود غرض، منافق تھے لہٰذا سب جہنمی ہوئے ”ان المنافقين في الدرك الاسفل من النار“ لو صاحبو مرزائی بنو اور یہ شعر پڑھتے ہوئے سیدھے جہنم کی راہ لو۔

تو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
جو ظلم ہے ہم پر وہ کسی پر نہ ہوا تھا

١٩٥

صفحہ ٢١٢

اور ابھی کیا معلوم ہے مرزائیوں میں کتنے جاہل ، خود غرض ، منافق بھرے پڑے ہیں۔ ان کا تجربہ آئندہ سال انہیں ایام میں ہوگا کیونکہ طاعون تو لے پالک کے ساتھ ہے ہی جب تک لے پالک زندہ ہے طاعون کا دورہ بند نہیں ہو سکتا۔

پھر لاکھوں آدمی مرزا قادیانی کو جیسے کچھ وہ بروز اور موعود ہیں ایسا پہچانتے جیسا پہچاننے کا حق ہے۔ وہ خود مرزا قادیانی کے قول کے موافق طاعون سے محفوظ رہے اور آئندہ رہیں گے۔ انشاء اللہ! حق پر زبان جاری۔ طاعون تو صرف مرزائیوں کے لئے آیا ہے جنہوں نے مرزا قادیانی کو نہیں پہچانا کہ کتنے پانی میں ہیں اور ان کی کیا پالیسی ہے اور کھانے کے دانت کتنے چھوٹے چھوٹے اور دکھانے کے دانت کتنے لمبے لمبے ہیں۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”جب قادیان میں طاعون پڑی ہوئی تھی ، خدائے تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ رہے تھے۔ ہمارے گھر کے ادھر ادھر چیخیں آرہی تھیں۔ اور ہمارا گھر درمیان میں اس طرح تھا جیسے سمندر میں کشتی ہوتی ہے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے محفوظ رکھا ...... الخ“

(ملفوظات ج٧ ص١٧٧)

شہروں اور قصبوں میں ایسا واقعہ بہت سے گھروں میں ہوا ہے کہ اردگرد کے لوگ طاعون سے ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ گھر بالکل محفوظ رہے ہیں مگر کیا ان گھروں میں بھی ایک ایک مسیح موعود موجود تھا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے ہم خود اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ میرٹھ شہر میں ہمارے گھر کے اطراف و جوانب قریب و بعید میں طاعون سے اموات کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ ایک مردہ اٹھایا گیا اور دو تین مردوں کے اٹھانے کا تہیہ تھا۔ مگر ہمارے گھر جس میں بیس / پچیس آدمی تھے سب محفوظ رہے اور کسی کا بال تک بیکا نہ ہوا۔ کیا ہم بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ استغفر اللہ! مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر ہم مفتری علی اللہ ہوتے تو سب سے پہلے ہم ہی پر طاعون آتا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر طاعون مرزا قادیانی کے منکروں کی وجہ سے آیا ہے تو ہندوستان کے ٣٠ کروڑ آدمیوں میں سے ایک بھی زندہ نہ رہتا اور کوئی مرزائی جو مرزا قادیانی پر ایمان لا چکا ہے نہ مرتا۔ حالانکہ جس طرح اور لوگ مرے اسی طرح مرزائی بھی مرے۔ طاعون نے نہ تو اپنا دیکھا نہ پرایا سب پر جھاڑو پھیر دی۔ ایسی لغو باتیں بچوں کے پھسلانے کے لئے ہیں۔

٤ ...... مرزائی مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم میں ان مقدمات کی نسبت مختصر سا نوٹ شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ

١٩٦

صفحہ ٢١٣

ابھی انفصال میں دیر ہے مقدمہ میزان تحقیقات میں تل رہا ہے دونوں پلے برابر ہیں۔ فریقین مدعی بھی ہیں اور مدعا علیہ بھی۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ مقدمات کا طول پکڑنا اور مہلت کا ملنا قدرت الہی کا کرشمہ بلکہ چشمک ہے کہ فریقین اب بھی سمجھیں اور اب بھی سمجھیں۔ یعنی با اصلاح ذات البین اور باہمی مصالحت اور عفو کو ترجیح دیں۔ اس صورت میں منازعت کا بالکل انقطاع ہو جائے گا اور آئندہ سلسلہ نہ بڑھے گا۔ اور اگر تقریبا دو سال تک کھکھیڑ اٹھانے زیر بار ہونے تفکرات میں مبتلا رہنے پر کسی فریق کو فتح بھی ملی تو شکست کے بھاڑ پڑے گی اور شاید عمر بھر بھی مخمصوں سے نجات نصیب نہ ہو کیونکہ اپیل پر اپیل اور ہرجانے پر ہرجانے کے دعوؤں کا سلسلہ فوجداری اور دیوانی دونوں میں شروع ہوگا۔ دین اور دنیا کے کاموں میں خلل آئے گا۔ کچہریوں کی خاک اور بھی زیادہ چھاننی پڑے گی اور خواہش انتقام اپنا رنگ لائے گی۔ پس جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں یہی مناسب ہے کہ مصالحت ہو کر عدالت میں راضی نامے داخل ہوں اور طرفین سے ضرر رسانی کی پالیسی کو طلاق دی جائے۔ تا کہ ہر وقت کی خلش اور جان کا ہی سے نجات ملے۔

٥ ...... مہلک مسیح اور طاعونی نبی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کے پاس بجز اس دلیل کے کہ عیسیٰ سچ مچ وفات پاگئے کوئی دلیل اپنے مسیح موجود ہونے کی نہیں جس کی ہم بیسیوں مرتبے چتھاڑ کر چکے ہیں۔ اب صرف طاعون ملعون رہ گیا جو مرزا قادیانی کے خروج کی بڑی بھاری علامت اور آسمانی باپ کا معجز نشان ہے اور اس لئے اگر مرزا قادیانی کو طاعونی نبی یا طاعونی مسیح کہا جائے تو بے جا نہیں۔ لوگوں کی ہلاکت کی دھمکیاں تو خیر نال مرزا قادیانی پہلے ہی دیا کرتے تھے مگر وفات مسیح کا قصہ پرانا ہو گیا اور خود مرزائی اس سے اکتا گئے تو طاعون ہی کا ذکر خیر مرزا قادیانی کی تقریروں اور مرزائی اخباروں کی تحریروں میں رہتا ہے کیونکہ یہ تازہ بتازہ ہے اور کل جدید لذیذ کی چاشنی میں خمیر کیا گیا ہے۔

چونکہ ہر نبی کے زمانے میں طاعون آیا ہے اور خود عیسیٰ مسیح کے زمانہ میں بھی طاعون سے لاکھوں آدمی ہلاک ہوئے ہیں اور کسی نبی کی برکت اور دعا اس کا انسداد نہیں کر سکی۔ لہذا بروزی نبی کے زمانہ میں کیوں طاعون نہ آئے۔ اور جو تمغہ ہر نبی کو ملا ہے بروزی نبی اس سے کیوں محروم رہتے۔ مگر جس صفت میں تمام انبیاء نے بھی دنیا کو ہلاک ہی کیا اور مرزا قادیانی بھی ہلاک ہی کر رہے ہیں تو ان میں اور دیگر انبیاء میں کونسا مابہ الامتیاز رہا حالانکہ مرزا قادیانی خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) اور دوسرے لفظوں میں افضل الانبیاء ہیں۔ دنیا کے لئے تو مرزا قادیانی کا وجود باعث

١٩٧

صفحہ ٢١٤

ہلاکت ہے مگر وہ خود اپنے لئے آسمانی نشان ہیں۔ ان کا بال تک بیکا نہ ہوگا اور نہ ہو سکتا ہے آسمانی باپ نے صرف انہی کی حفاظت کا ٹھیکہ لیا ہے۔ کیونکہ وہ خلف ہیں اور دوسرے بیٹے ناخلف۔

مرزا قادیانی سے جب کوئی سوال کرے گا کہ طاعون کب دفع ہوگا تو وہ بھی جواب دیں گے کہ جب تک دنیا مجھ پر ایمان نہ لائے گی۔ حالانکہ یہ غیر ممکن ہے کہ ساری خدائی ان پر ایمان لائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف مرزا قادیانی کی زندگی میں بلکہ ان کے مرنے کے بعد بھی طاعون موجود رہے گا اور جب تک ساری دنیا کا صفایا نہ ہو جائے گا طاعون بھی نہ ہٹے گا۔ نہ ہیضہ جائے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ دنیا بد اعمالیوں میں مبتلا ہے خدا کو بھول گئی ہے مگر ان کی خوارق یہ کہہ رہے ہیں کہ تم کیسی ہی بد اعمالیوں کے مرتکب ہو۔ کیسے ہی خدا کو بھول جاؤ مگر مجھ پر ایمان لاؤ میں طاعون سے بھی بچالوں گا اور آسمانی باپ سے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی پارٹی میں ہر گروہ کے مسلمان بھرتی ہو جاتے ہیں۔

مداری، قلندری، مچھندری، مقلد، غیر مقلد، خود بروزی نبی اور امام الزمان مگر کسی کے مذہب سے کوئی تعرض نہیں۔ بلکہ سب کی پیٹھ ٹھونکتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ پیٹ کے اندر کیسا ہی مذہب رکھیں مگر ان کو نبی اور امام الزمان مان لیں۔

حضرت امام اعظم کے مذہب کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر بقیہ تین اماموں اور ان کے مذاہب اور ان کے مقلدوں کا ذکر تک نہیں کرتے گویا وہ ناحق پر تھے۔ وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کثرت سے حضرت امام ابو حنیفہؒ ہی کے مقلد ہیں پس بڑی دولت انہی میں ہے۔ اگرچہ بروزی نبوت پر ایمان لانے والے شاذ و نادر ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی زمانہ میں اہلحدیث تھے اور با وصف جدید نبی پر ایمان لانے کے وہ اب بھی اپنے کو اہلحدیث ہی بتاتے ہیں مگر حدیث ”اتبعوا السواد الاعظم“ کو جو حنفی مقلدین کی شان میں ہے۔ اب اس کا نزول احمدی (مرزائی) جماعت کی شان میں بتایا جاتا ہے پس مرزا قادیانی خوش ہوتے ہیں۔ کسی کے منہ پر تھپڑ نہیں مارتے کہ تم تو اچھے خاصے مشرک فی الرسالۃ ہو کہ بروزی نبی کی امت میں ہو کر اب تک امام ابو حنیفہ کا کلمہ پڑھتے ہو مجتہد کی صفت ”قد یخطی“ ہے اور نبی فطری طور پر معصوم ہوتا ہے۔

یہ عجیب معجون مرکب ہے کہ ایک خاطی کے مقلد بھی اور ایک معصوم نبی کے امتی بھی۔

خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ہمارے مضمون کا عنوان تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی مہلک نبی اور طاعونی مسیح ہیں اور یہ خطاب ان کے لئے باعث فخر ہے اور یہ ایسی صفت ہے جس نے انکے تمام اوصاف کو

١٩٨

صفحہ ٢١٥

ڈھانپ لیا ہے اور سب اوصاف پر غالب آگئی ہے۔ یعنی اب ان کو خاتم الخلفاء اور بروزی نبی اور امام الزمان وغیرہ کہنا نہ صرف فضول بلکہ ان کی توہین کا باعث ہے۔ اب جولوگ مرزا قادیانی پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ غالباً یہی تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان کرتے ہوں گے کہ ہم کو آپ کی بروزیت اور خاتمیت اور امام الزمانی سے کچھ واسطہ نہیں ہم تو آپ کی مہلک نبوت اور طاعونی مسیحیت پر ایمان لائے ہیں کیونکہ یہی آپ کا آسمانی نشان ہے اور یہی آپ کی ذاتیات میں داخل ہیں۔ اس کے سوا جتنی صفات ہیں سب عرضیات ہیں۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ بروزیت اور مسیحیت کا وجود خارج میں نہیں پایا جاتا ہاں طاعون اور ہلاکت خارج میں موجود ہے۔ پس ایک مفہوم ذہنی پر ایمان لانا اچھا ہے یا موجود فی الخارج پر۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم جولائی کے شمارہ نمبر ٢٥؍ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... الہام کی حقیقت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الہام میں لکھا ہے کہ (زندہ پیر کے مجاور نے) فرمایا ”مجھے یاد ہے کہ کسی نے ذکر کیا کہ منشی الہی بخش (مؤلف کتاب عصاء موسیٰ) اور اس کے ترجمان (صوفی منشی محمد عبدالحق صاحب) کہتا ہے کہ الہام وہ ہے جو پورا ہو جائے۔ اور جو پورا نہ ہو وہ شیطانی کام ہے۔“ حضرت نے (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ ”مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا کی قسم دی جائے تو میں کہوں گا کہ میرے الہامات خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن جس شخص نے خیالی طور پر دعویٰ کیا ہو وہ ہرگز جرأت نہیں کر سکتا کیا وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہے اور وہ شخص جو مشکوک ہے برابر ہو سکتے ہیں۔“

(ملفوظات ج٧ ص٢٦)

١٩٩

صفحہ ٢١٦

سوال.....از آسمان۔ جواب.....از ریسمان منشی صاحب اور صوفی صاحب نے ایک ٹکسالی اور اصولی بات کہی تھی جس سے کوئی ذی عقل انکار نہیں کر سکتا کہ جو الہام پورا نہ ہو اسے الہام کہنا ملہم (خدائے تعالیٰ) پر افتراء کرنا ہے۔ مگر چونکہ اس سے مرزا قادیانی کا کونا دبتا تھا۔ کیونکہ ان کا کوئی الہام کبھی پورا نہیں ہوا۔ لہٰذا اوڑان گھائی بتائے۔ اور اپنے الہامات کے پورا نہ ہونے کی وجہ نہ بتائی۔ آپ نے مکہ معظمہ کا ذکر کیوں کیا یہ کہنا تھا کہ اگر مجھے قادیان شریف میں خیالی منارے کے نیچے آسمانی باپ کی قسم دی جائے۔ کیونکہ آپ مکہ معظمہ اور کعبہ مکرمہ سے منحرف ہوچکے ہیں۔ باوصف استطاعت رکھنے کے حج کو نہیں جاتے بلکہ اپنے چیلوں کو بھی منع کرتے ہیں کہ سمندر میں ناکے ہیں جہاز غرق ہوتے ہیں اور خشکی میں شیر لگتا ہے۔ طاعون اور ہیضہ کے جابجا قرینے ہیں پس اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا شہید ہونا ہے کوئی سچا الہام خیالی طور پر نہیں ہوتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی جانب سے القاء ہوتا ہے جس کا پورا ہونا قطعی اور یقینی ہے۔ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اوروں کے الہامات تو خیالی اور آپ کے الہامات یقینی ہوں جو سرسراہٹ بن کر پھر ہوا ہو جائیں اور وقوع میں نہ آئیں اور جس طرح آپ کے الہامات محض افتراء علی اللہ ہیں۔ اسی طرح آپ کی قسم کا بھی کسی ایسے تیسے ہی کو یقین ہوگا۔ ”جو لا تطع کل حلاف مہین الآیہ“ پر ایمان نہ رکھتا ہوگا۔

پھر الہام کسی واقعہ کے متعلق ہوتا ہے جس کا ظہور الہام کے لئے کسوٹی بن جاتا ہے۔ آپ کے الہامات انت بمنزلۃ ولدی وغیرہ کونسے واقعہ کے متعلق ہیں۔ آپ کو آسمانی باپ کا لے پالک کس نے مانا۔ الہام تو ہو گیا لیکن اگر ہم خود مرزائیوں سے پوچھیں کہ کیا در حقیقت مرزا خدا کے لے پالک ہیں تو وہ اس کا جواب متحیر ہو کر نفی ہی میں دیں گے۔ فرمائیے جب خاص الخاص مریدین بھی الہام کے منکر ہیں تو غیر کیوں منکر نہ ہوں؟

مرزا قادیانی کے الہامات جو واقعات کے متعلق اور واقعات کے پورا کرنے والے تو کیا ہوں گے اگر ان کو غور سے دیکھا جائے اور جمع کیا جائے تو ایک بے معنی غیر منضبط بے سروپا لغویات وخرافات ہوگی۔ نبی بھی بن گئے۔ مسیح موعود بھی بن گئے مگر آسمانی باپ نے جدید نبی کی بغل میں کوئی پٹارا (صحیفہ) دے کر نہ بھیجا جس میں امت کے لئے حالات وقوانین ہوتے۔ امام الزمان بن گئے مگر الہام کے گھڑنے تک کا سلیقہ نہ ہوا۔

عیب کرنے کو بھی ہنر چاہئے

مجدد السنہ شرقیہ پر ایمان لاتے تو وہ اچھوتے الہامات کا گھڑنا بتا دیتا کہ ہرگز ٹکسال

٢٠٠

صفحہ ٢١٧

باہر نہ ہوتے اور پھر ہر طرح چاندی ہی چاندی تھی۔ مریدوں پر الہام نہیں ہوتا بلکہ وہ ابھی عالم رویاء کے سبز باغ دیکھ رہے ہیں جن کا الحکم میں مسلسل چھپنا اور پھر ان کی تعبیروں کا ملنا شروع ہوگا۔ ایک مرزائی کا خواب مشتہر ہوا ہے کہ کسی شخص نے پانچ سو پونڈ کی رقم کا فارم بھیجا ہے جب رقم کو ضرب دی تو چھتیس ہزار روپیہ حاصل ضرب ہوا (بلی کے خواب میں چھیچھڑے)

٢ ...... موت کی دھمکی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

تمام انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی صفت بشیر و نذیر اور خود آنحضرت ﷺ کی صفت ”وما ارسلنك الا رحمۃ للعالمین “ وجہ یہ ہے کہ انبیاء جناب باری کی شان جلال اور رحمت کے مظہر ہیں۔ یہ دونوں صفتیں بالتقابل لازم وملزوم ہیں جن کا ظہور اپنے اپنے موقع پر ضروری ہے ورنہ دنیا یا تو شیر ہو جائے یا دلیر ہو جائے اور پھر ضرور ہے کہ دین و دنیا کا نظام درہم و برہم ہو کیونکہ خدائے تعالیٰ عین رحم ہے عین محبت ہے اور خلقت عالم اور بعثت آدم کا منشاء بھی رحمت و شفقت ہے۔ شان رحمت ہی سے کائنات و مکونات ظہور میں آئے ہیں۔ اسی شان رحیمی کے اقتضاء سے کسی نے ذات باری کو باپ قرار دیا۔ کسی نے رب اور پروردگار۔

اس میں بالکل شک نہیں کہ قدرت الٰہی کا بازار ازل سے ابد تک گرم ہے جس میں صرف رحمت کو رواج ہے۔ قہر و غضب نام کو نہیں۔ ان کے پیدا کرنے والے وہ انسان ہیں جو اس کی عظمت سے ناواقف اور اس کی رضا کے مطابق کام کرنے سے غافل اور اپنی فانی ہستی کے مقابلے میں اس کی ہستی کو بھولے ہوئے ہیں۔ بلکہ انا ولاغیری کے نقارے بجا رہے ہیں۔

مرزا قادیانی نے جو لوگوں کو موت کی دھمکیاں دیں اور طاعون کے خروج و نزول کو اپنی نبوت اور بروزیت کا باعث بلکہ تابع بتایا تو کیا اس کے یہی معنی نہیں کہ موت میرے اختیار میں ہے اور اگر تم مجھ پر ایمان لاؤ گے تو زندہ رہو گے ورنہ ہلاک ہو گے مگر مرزا قادیانی نے کبھی یہ بشارت نہیں دی کہ آسمانی باپ تم کو ورثہ میں فلاں فلاں جائیداد یا میراث یا نعمتیں دے گا باپ بیٹے کے پاس موت کے سوا کچھ نہیں طاعون تو مرزا قادیانی کی خوش قسمتی سے چند ہی سال سے آیا ہے۔

لیکن جبکہ آپ اپنی نبوت و رسالت ٣٠ سال بتاتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس وقت طاعون نہیں آیا اور قبل از طاعون جو دھمکیاں عبداللہ آتھم وغیرہ کو دی گئیں وہ سب خالی گئیں۔ موت کی گیدڑ بھبکیاں ہی رہیں۔

بھلا موت کا کسی سچے مسلمان کو جس کا ایمان ”اذا جاء اجلھم لا یستاخرون

٢٠١

صفحہ ٢١٨

ساعة ولا يستقدمون " پر بے خوف ہی کیا۔ موت تو ان کے لئے ایک نقل مکانی ہے جو لوگ خدا کو بھولے ہوئے ہیں ان کی زندگی موت بلکہ موت سے بدتر ہے اور جو لوگ ہر دم خدا میں جیتے ہیں ان کی موت بھی زندگی ہے بلکہ وہ کبھی مرتے ہی نہیں موت کی دھمکی صرف بزدلوں پر پڑتی ہے۔ جب بچے اپنے بڑوں سے سنتے ہیں کہ شامت آئی بھئی شامت آئی بچاؤ بھئی بچاؤ تو وہ ڈر جاتے ہیں یہی حال ان پیران نابالغ کا ہے جو موت سے ڈرتے ہیں۔

موت و ہلاکت سے ڈر کر مرزا قادیانی پر ایمان لانے والے سب بچوں کی سی طبیعت رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ڈیوٹی ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔

مرزا قادیانی بجز اپنے نفس اور اپنے مریدوں کے کسی کو زندہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ عیسیٰ مسیح مر گئے تمام انبیاء اور اولیاء اور شہداء خلاف قول "لا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا" مر گئے۔ ان کے تمام مخالفین اور منکرین موجودہ زمانے میں ان کے سامنے بذریعہ طاعون مر گئے اور مرنے کا لگا لگ رہا ہے اور ابھی کیا ہے ساری دنیا مرے گی مرزا قادیانی اور ان کے مرید ہی زندہ رہیں گے۔

مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے وہ مخالفین جو جعلی بروزیت ومہدویت ومسیحیت کا دھڑ توڑ رہے ہیں۔ مثلاً حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب مؤلف کتاب سیف چشتیائی وغیرہ۔ اور حضرت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنہ جو مرزا قادیانی کے عناں در عناں ہیں۔ حریف ہیں اور حضرت منشی الٰہی بخش صاحب و حاجی صوفی محمد عبدالحق صاحب مؤلف کتاب عصاء موسیٰ وغیرہ اور حضرت مولوی کرم الدین صاحب جنہوں نے مقدمہ فریب میں الہامات کی جڑ کاٹ دی اور حضرت مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر مالک اخبار اہلحدیث امرتسر جو مرزا قادیانی کے بغلی گھونسے ہیں اور ہر طرح ان کو ناچ نچا رہے ہیں اور حضرت مولوی سید ابو محمد ڈاکٹر جمال الدین مالک نیومیڈیکل ہال صدر بازار پشاور جنہوں نے بروزیت کے ہوائی قلعہ کو اپنی فہم کی اعانت سے بذریعہ ضمیمہ اڑا دیا اور حضرت مولوی امام الدین صاحب مدرس بورڈ سکول گجرات اور تمام حضرات نامہ نگاران ومعاونان وناظرین شحنہ ہند جن کی تعداد بے شمار ہے۔ اور جن کی اعانت اور سرپرستی سے ضمیمہ جاری ہے۔

ان میں سے کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوا اور نہ انشاء اللہ مرزا قادیانی کی زندگی تک بیکا ہوگا نہ کسی پر موت کی دھمکی پڑی خدا نے چاہا تو سب کے سب مرزا قادیانی کو مار کر بھی نہ مریں گے۔

مجدد الف ثانی کی یہ پیشینگوئی جلی حرفوں سے لکھ کر مرزا قادیانی اور تمام مرزائی اپنی اپنی پاکٹ میں

٢٠٢

صفحہ ٢١٩

رکھ لیں اور پھر قدرت الہی کا چشم عبرت سے نظارہ کریں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ضرور ہوگا۔ آمین! اور ہم حضرت مجدد مائۃ مشرقہ شوکت اللہ القہار کا ذکر خیر تو بھول ہی گئے۔ انہوں نے تو مرزا قادیانی کی وہ خدمت گزاری کی ہے کہ کوئی کہہ نہیں سکتا۔ ہر علم ہر فن پر جھپٹتے ہیں۔ گویا گپ چپ کے لڈو کھلا دیئے۔ گھنٹوں گھنٹوں مزہ چکھا دیا۔ مرزا قادیانی کے کان میں ہر سال آسمانی باپ کہہ جاتا ہے کہ ضمیمہ اب بند ہوا اور اب بند ہوا۔ مگر آسمانی باپ ایسا جھوٹا اور فریبی ہے کہ جو کہتا ہے لے پالک کے حق میں الٹی ہی پڑتی ہے۔ اب دیکھئے جاؤ منافقوں اور ملحدوں کی بولتی بند ہوتی ہے یا ضمیمہ بند ہوتا ہے۔

ہم حلفا کہتے ہیں کہ مجدد اپنے حاسدوں اور بدخواہوں کو جو نہ صرف قادیان میں بلکہ بعض شہروں اور قصبوں میں عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مارتے پھرتے ہیں۔ جاہل مطلق اور طفل مکتب سمجھتا ہے۔ اکثر مرزائی ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ خلق سے پیش آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پوچھو کیا پوچھتے ہو؟ مگر توبہ توبہ زبان کھولتے ہوئے۔ بروزیت و مسیحیت کی قلعی کھل گئی ہے۔ ہاں بعض سیدھے سادے علماء سے چھیڑ خانی کرتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کی حیات ثابت کرو جب ہم ان کو بھی مبہوت کرنے کا لٹکا اور حیوان ناطق سے بہائم بنا دینے کی صنعت بتاتے ہیں تو پھر میدان میں پاؤں ہی نہیں جمتے۔

جن لوگوں نے انبیاء سے سرکشی کی ہے ان کی تمام قوم کی قوم ہلاک ہوگئی ہے۔ جیسے طوفان نوح اور صرصر عاد مگر کیا وجہ ہے کہ بروزی نبی کی مخالفت کرکے نہ صرف ہندوستان کے ٣٠ کروڑ بلکہ دنیا کے ایک ارب کئی کروڑ آدمی ہلاک نہ ہوئے۔ اور خود ایمان لانے والوں کی جماعت کثیر ہلاک ہوگئی۔ کیا انبیاء کا معجزہ صرف ہلاکت ہے۔ زندہ کرنا ان کا معجزہ نہیں۔ ہاں صاحب انبیاء کیا معنی خدائے قادر مطلق بھی اماتت ہی پر قادر ہے احیاء پر قادر نہیں اور انبیاء نے تو در حقیقت کوئی معجزہ ہی نہیں دکھایا چہ جائیکہ احیاء اموات مناسب تو یہ تھا کہ جس طرح احیاء خلاف فطرت ہے اسی طرح اماتت بھی خلاف فطرت ہوتی لیکن مرزا قادیانی کا ایمان ایک لائف نیچر پر ہے دوسرے پر نہیں۔

احیاء اس لئے خلاف فطرت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے رقیب عیسیٰ مسیح مردوں کو زندہ کرتے تھے اور پھر غضب یہ ہوا کہ وہ خود بھی زندہ ہیں اور دوبارہ آئیں گے پس آسمانی باپ نے اپنے لے پالک کے سچا کرنے کے لئے عیسیٰ مسیح کو مار کر لائف نیچر کی تصدیق کر دی اور احیاء کا نیچر منسوخ کر دیا کیونکہ اس سے خود لے پالک منسوخ ہوتا تھا۔

٢٠٣

صفحہ ٢٢٠

٣ ...... اخبار الحکم کی فریاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

وفا نمیکند امید مغفرت با یاس
نہ زانکہ عفو الہی نسازدم مغفور

اے برادران احمدیہ! ”بعد الحمد والثنا الادب الاکبر السماوی والارضی والصلوٰۃ والسلام علی المتبنی ہو امام الزمان والنبی المبروز والمسیح الموعود والمہدی المسعود ادام اللہ ظلہ علی الشر ذمتہ الاحمدی المحمود “ میں اس سے پہلے آپ کے حضور ایک اپیل اپنی ناکامی اور دردناک حالت کی نسبت پیش کر چکا ہوں۔ مگر جیسی کہ امید تھی اور جیسی پھوٹی قسمت میرے گوش دل سے سرگوشی کر رہی تھی بجائے اس کے کہ میری مدد کی جاتی اور ہمت اور ڈھارس باندھی جاتی چار طرف سے یاس کے بادل اُمُنڈ رہے ہیں اور ناکامی کی بجلیاں خرمن دل پر کوند رہی ہیں۔ آخر میری جانب سے آپ کی یہ غفلت اور بے پروائی اور طوطا چشمی اور بے اعتنائی کیوں ہے اگر کوئی قصور مجھ سے سرزد ہوا ہے اور معقولیت کے ساتھ آپ کی دی پبلک (جمہوری گورنمنٹ کا اجلاس) وہ قصور مجھ پر ثابت کر دے اور میرے سر پر اسی طرح الزام کا چارج دھر دے جس طرح حضرت امام العوام علیہ الصلوٰۃ والسلام پر لالہ چندو لعل صاحب مجسٹریٹ کی عدالت نے دھر دیا ہے تو میں اپنے قصور پر نادم ہوں اور گڑ گڑا کر اور ٹسوے بہا کر دانتوں میں تنکے لیکر آپ سے عفو کا خواستگار ہوں۔

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اخبار کی معمولی اور مستحکم اشاعت میں روڑے اٹکے ہوئے ہیں مگر اس میں میرا کیا قصور ہے۔ ہاں اتنا قصور ضرور ہے کہ میں نے اپنے تمام فرائض کو حضرت مسیح علیہ السلام کے سر پر تصدق کر دیا اور میں ان کی خدمت اور کاروبار میں اسی طرح ساتھ ساتھ رہا جیسے انسان کے ساتھ سایہ اور روس کے ساتھ جاپان اور سومالی مُلّا کے ساتھ برٹش اور ہندوستان کے ساتھ طاعون اور ملک جاپان کے ساتھ زرد بخار جس کے پھیل جانے کا تمام یورپ کو خطرہ ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ میں مسیح موعود علیہ السلام کے ہم رکاب ہو کر آسمانی نشان کے ظاہر ہونے کی سعی کر رہا ہوں۔ اور پرکار کی طرح میرا ایک قدم دارالامان کے اندر اور ایک باہر ہے اور کیا معلوم ہے کہ یہ گردش کب تک رہے۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

٢٠٤

صفحہ ٢٢١

تو مناسب یہ تھا کہ میری اور بھی قدر کی جاتی اور میری عرق ریزی کی داد دی جاتی۔ راتب اور مسالے بڑھائے جاتے۔ میری پاکٹیں میرا کوٹھی کٹھلہ جھنا جھن کلدار علیہ السلام اور مبلغاں علیہ الرحمۃ سے بھرا جاتا اور مجھ کو غلہ ما یحتاج سے سبکدوش کیا جاتا یہ تو سب چولہے میں گیا الٹا مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ الحکم ہر ایک احمدی بھائی کے ہاتھ میں ہوتا اور اس کی سرتوڑ اور منہ پھوڑ اور دھکا پیل اور ریلم ریل اشاعت کی جاتی۔ بدبختی سے اب یہ ہو رہا ہے کہ الحکم کی اعانت اور اشاعت کی راہیں بند کی جاتی ہیں اور ایک ایک احمدی مجھ سے منہ پھلائے بیٹھا ہے میرے پیارے بھائیو ذرا تو انصاف کرو کہ میرے سوا حضرت مسیح علیہ السلام کی رفاقت کس نے کی ہے۔ قادیان میں سب پردے کے بولو بنے بیٹھے ہیں۔ اندر میں باہر میں ۔کوٹ کچہری میں میں اخبار کے آفس میں میں جہاں دیکھو میں ہی میں۔ اس سے تو میرے گلے پر چھری ہی پھر جاتی تو بہتر ہوتا ۔

یک جان و ہزار برق اندوہ
کاہے چہ کند بہ آتشین کوہ

اگرچہ میں اس عرصہ میں نہ صرف حضرت اقدس کے جبروت کا ناموس قائم کرنے بلکہ دنیا پر تمام جماعت احمدیہ کے شان وشکوہ کا سکہ بٹھانے کے لئے سرگاڑی اور پاؤں پہیئے بنا پھرتا رہا ہوں لیکن آپ کے آرگن (الحکم) کی اشاعت کو بھی دانتوں سے پکڑے رہا ہوں۔ اگر دوسرے شخص پر اتنی ذمہ داریوں کا بار پڑتا تو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ اگر آپ الحکم کی اشاعت میں کبھی کبھی وقفہ ہو جا نے سے غضبناک ہیں تو میں معقول عذر پیش کر چکا یہ عذر ایسا نہیں کہ کوئی سامع قابل اس کے سننے سے اپنے کانوں میں ٹھیٹھیاں دے لے اور اگر آپ پر میری بعض معروضات ناگوار گزری ہیں مثلاً ہر معاون دس خریدار پیدا کرے یا استطاعت رکھنے والے بھائی دس روپے سالانہ دیں تو بجائے اس کے آپ غضبناک ہوتے ایسی گزارش کا بڑی خوشی سے خیر مقدم کرنا آپ پر فرض تھا کیونکہ حضرت اقدس کی رضامندی اس میں ہے۔ بھلا آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا میں کوئی تحریک حضرت اقدس کی مرضی اور منشاء کے خلاف کر سکتا ہوں توبہ توبہ ۔

بشکند دستے کہ خم در گردن یارے نشد

اور اگر شک ہو تو حضرت کی خدمت میں عریضہ بھیج کر تصدیق کرا لیجئے۔

اور میں تو میں دارالامان میں جس قدر صحابہ اور حواریین اور خاندان رسالت کے اراکین ہیں کوئی بھی امام الزمان کے منشاء کے بغیر نہ چوں کر سکتا ہے نہ پوں۔

٢٠٥

صفحہ ٢٢٢

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو تقرب بارگاہ امام الزمان میں مجھے ہے وہ دوسرے کو نہیں ہو سکتا اور صاحب اللہ بن کر جو کڑیاں میں نے جھیلی ہیں۔ دوسرا نہیں جھیل سکتا۔ مجھ میں اور میرے نوزاد رقیب میں وہی نسبت ہے۔ جو ہاتھی میں اور بھیڑ میں۔ کجا صاحب الفیل کجا ابابیل ۔ بھیڑ بکری کا اتنا تن توش بھی نہیں جتنی ہاتھی لید کر دیتا ہے۔ آپ کا الحکم حضرت اقدس کے جسم مبارک پر گویا عربی قبا اور عبا ہے اور نوزاد رقیب صرف ستر ڈھانکنے کی غرق لنگوٹی ہے۔ دعویٰ اور تبحر بھی تو نہیں جس سے جرأتمندانہ طنازی ادا ہو جائے۔

صاحبو! ارزاں بعلت گراں بحکمت۔ میرے ننھے رقیب کے دامن میں کوڑیوں کے سوا کچھ نہیں اور گرائنڈیل الحکم کی جیب میں گراں قیمت جواہرات بھرے ہیں جن کو جو ہری ہی پرکھ سکتے ہیں۔ افسوس میرے کمسن رقیب کی تو بے پوچھے آؤ بھگت ہورہی ہے۔ دھڑا دھڑ درخواستیں اور منی آرڈر گزر رہے ہیں اور میں جو سب سے پہلے قتل خنازیر اور کسر صلیب کی منادی کرنے والا یعنی ڈھنڈورا اور مسیح موعود کے نشانوں اور تحفوں کا چمکانے والا اور منارۃ المسیح کی عمارت کو اپنے صفحات کے ذریعے سے فلک الافلاک کی چوٹی پر پہنچانے والا ہوں۔ مجھے سب نے نظروں سے گرا دیا کہ انصاف اسی کا نام ہے۔ افسوس اپنے ہی جسد کا خون فاسد ہو گیا۔ اپنے ہی بدن کے اعضاء دشمن بن گئے۔

میرے پیارے بھائیو! اگر میری اس فریاد پر بھی آپ کا دل نہ پسیجا اور آپ کو میری بے کسی اور یاس پر رحم نہ آیا تو خوب یاد رکھو کہ آسمانی ہائی کورٹ میں اپیل کروں گا اور پھر آپ کو عالم بالا کی کٹھن ججی نکتہ رسی انصاف پسندی دقیقہ شناسی خود معلوم ہو جائے گی اور کچہری بھی مدعیہ بلکہ روح القدس بن کر آسمانی ہائی کورٹ کے اجلاس کا انصاف سب کے دلوں پر القاء والہام کر دے گی۔ میں اپنا فرض تبلیغ حسب ارشاد حضرت امام الزمان ادا کر چکا اب آپ کو اختیار ہے فقط ۔

٥ ...... مرزائی مذہب اور آریا مذہب میں کیا فرق ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جس طرح مرزا قادیانی کا یہ منہ نہیں کہ عیسوی مذہب کی تردید کر سکیں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی حوصلہ نہیں کہ آریا مذہب کی تردید کر سکیں۔ عیسائیوں نے عیسیٰ مسیح کو ابن اللہ (خدا کا بیٹا ) قرار دیا تو مرزا قادیانی نے اپنے کو جیتے اللہ بمنزلہ ولد (لے پالک ) بنایا آریا معجزات کے منکر ۔ مرزا قادیانی بھی منکر ۔ وہ تناسخ کے قائل۔ مرزا قادیانی بھی اپنے بروزی نبی ہونے کے قائل۔ آریا کے نزدیک کوئی شے نیچر کے خلاف نہیں ہو سکتی ۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی لازاف نیچر کا نقض محال

٢٠٦

صفحہ ٢٢٣

ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی بعض عقائد میں آریا سے بڑھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ مسیح دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتے۔ نہ وہ زندہ ہیں۔ آریا حشر اجساد کے قائل نہیں مرزا قادیانی بھی قائل نہیں۔ آریا عموماً معجزات کے منکر ہیں۔ مرزا قادیانی بھی معجزات انبیاء بلکہ معجزات قدرت کے منکر ہیں۔ مگر اپنے ذاتی معجزات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قانون فطرت صرف ہلاکت پر قادر ہے زندہ کرنے پر قادر نہیں مگر مرزا قادیانی احیاء اور اماتت دونوں پر قادر ہیں۔ امریکہ کا ایک ڈاکٹر دعوے سے کہتا ہے کہ میں نے طاعون کے کیڑے ایک بکس میں جمع کر لیے ہیں جب چاہوں ان کو کھول کر دنیا کو ہلاک کردوں۔ اس کا یہ کہنا تو صحیح ہے اور یورپ و امریکہ کے ڈاکٹر اور علماء اور حکماء تصدیق کرتے ہیں مگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ میری وجہ سے دنیا میں طاعون آیا ہے اور اگر وہ سچے ہیں تو بتائیں کہ ہندوستان میں طاعون کب تک رہے گا اور کب تک ان کو ٣٠ کروڑ آدمی نبی اور مسیح مان لیں گے کیونکہ طاعون تو مرزا قادیانی کو نہ ماننے ہی کی وجہ سے آیا ہے۔ پس عیسائیوں اور آریا سے مرزا قادیانی کا معارضہ مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء / جولائی شمارہ نمبر ٢٦ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... قادیانی کا الہامی ڈھکوسلا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

قادیانی مرزا قادیانی نے ایک نئی گپ یہ ہانکی تھی کہ ام المومنین کے بطن سے لڑکا پیدا

٢٠٧

صفحہ ٢٢٤

ہوگا۔ چنانچہ (اخبار الحکم ٧؍مئی ١٩٠٤ء، تذکرہ ص ٣١٥ طبع ٣) میں جلی حروف میں یہ الہام شائع کیا گیا کہ ”شوخ و شنگ لڑکا پیدا ہو گا ۔“ اور اس الہام پر تمام مرزائیوں کی خاص نظر تھی۔ لیکن خدا کی شان ٢٣؍جون ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی کے ہاں لڑکے کے لڑکی پیدا ہو گئی۔ خیر مضائقہ ندارد لڑکا نہ سہی لڑکی سہی آخر اولاد میں تو داخل ہے۔ لیکن اندیشہ یہ ہے کہ وہ شوخ و شنگ والا آسمانی لقب (جو اولاد ذکور کے لئے کسی قدر موزوں بھی ہو سکتا ہے) کہیں دختر نیک اختر سے وابستہ نہ ہو جائے۔ جو ہر طرح ناموزوں ہوگا۔ اس الہام کے متعلق زید و عمر کا ایک مختصر مگر دلچسپ مکالمہ درج ذیل ہے۔

زید...... بھائی جان آج مرزائیوں میں کچھ عجیب اداسی چھائی ہوئی ہے خیر تو ہے۔ عمرو ...... کیا آپ نہیں جانتے کہ وہ شوخ و شنگ لڑکے والا الہام جو ابھی تازہ تازہ شائع ہوا تھا غلط ہو گیا۔

زید ...... ہیں الہام اور غلط ہو ہم نہیں مانتے۔ اس خبر پر کیونکر وثوق ہو سکتا ہے۔ عمرو ...... بھائی مرزائی بے چارے اپنے منہ سے تصدیق کر رہے ہیں۔ کہ ام المرزائین علیہا ماعلیہا کے ہاں لڑکی پیدا ہو گئی۔

زید ...... اس وقت مرزا قادیانی کی حالت کیسی تھی۔ عمرو ...... وہی جو خدا نے قرآن میں بتا دیا ہے ”اذا بشر احد هم بالانثى ظل وجهه مسود اوهو كظيم “ جب انہیں لڑکی کی خبر ملی پس غصے کے مارے منہ کالا ہو گیا۔

زید ...... مرزا قادیانی کو پہلے سوچ کر الہام کرنا تھا یہ تو منجم رمال اور قیافہ شناس طبیب بھی بتا دیتے ہیں۔ کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی بلکہ تجربہ کار عورتیں بھی کہہ سکتی ہیں۔ عمرو ...... اجی یہ تو سب کچھ سوچ بچار کر کے ہی الہام کیا گیا تھا کیونکہ ٧؍مئی کو الہام ہوا اور ٢٣؍جون کو تولد ہوا۔ اور عین وضع حمل کے دنوں میں اسی لئے الہام کیا بھی گیا تھا کہ سارے تجربے کر لئے تھے مگر عجیب قدرت ہے کہ خدا نے لڑکے سے لڑکی بنادی۔

زید ...... تو کیا ام المرزائین نے بوڑھے میاں کو نہ ڈانٹا ہو گا کہ کمبخت تو نے مجھے دنیا میں بدنام بھی کیا اور بات بھی پوری نہ ہوئی۔ کون ہے جو دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتا پھرتا ہے کہ میری عورت کچھ جننے والی ہے اور اس کے لڑکا ہو گا۔ عمرو ...... نہیں ام المرزائین خود چاہتی ہے کہ جب آپ کا شوہر ماشاء اللہ دعوے نبوت سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکا ہے تو کیا زوجہ محترمہ کا حق نہیں کہ دنیا میں اس کی شہرت کا بھی ڈنکا بجے خواہ کسی طرح سہی ۔

بدنام بھی گر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

٢٠٨

صفحہ ٢٢٥

زید...... اب تو مرزائیوں کو خصوصاً قادیان کے رہنے والوں کو مارے شرم کے ڈوب مرنا چاہئے۔ عمرو...... نہیں نہیں شرم چه کتی است که پیش سگانان دارالامان بیاید۔ ایسی باتیں روزمرہ پیش آتی رہتی ہیں یہ تو بات ہی کیا ہے۔

زید...... مقدمہ کی کچھ سنائیے کیا ہو رہا ہے۔ عمرو...... بس زور سے چل رہا ہے مرزا قادیانی دارالامان سے بدر، گورداسپور میں فروکش ہیں۔ پیشی روزانہ ہوتی ہے اور گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔

زید...... دن بھر کہاں بسر ہوتی ہے۔ عمرو...... ریلوے سٹیشن سے اتر کر کچہری کو جاؤ۔ راستے میں کچہری سے ڈبل فاصلہ پر مین سڑک کے متصل جامن کے درختوں کے نیچے پگڑی اتارے مع زنان بیٹھا ہے۔ اور گردا گرد ....... نشسته میگویند۔ سبحان اللہ۔ سڑک پر چلنے والوں کی جوتیوں کی ساری خاک مسیح زمان کی نذر ہوتی ہے ( خاکساری کے طفیل بسر و چشم )

زید...... کیا مرزا قادیانی کو عدالت میں کرسی نہیں ملتی۔ عمرو...... کرسی تو کرسی بے چارے کو پانی پینا ہی نصیب نہیں۔ کیا اخباروں میں پڑھ نہیں چکے۔

زید...... اوہ ایسا کیوں؟ عمرو...... بس سزائے اعمال۔ یہ سب کچھ اللہ میاں سے اپنی کرتوتوں کی سزا مل رہی ہے۔

زید...... مگر اب بھی تو وہ فتح فتح پکارے جاتے ہیں۔ عمرو...... جی ہاں پہلے جو لکھ چکا ہوں کہ شرم چه کتی است۔

زید...... تازه الهام "النّا لك الحديد" (تذکرہ ص ٥١٤ طبع سوم) کا کیا مطلب؟ عمرو...... یہی کہ لوہا نرم کر دیا۔ یعنی مجسٹریٹ صاحب کے دل کو موم کر دیا اس کا یہی نتیجہ ہے کہ پانی نہ ملے لوہا ہی موم ہو گیا۔

زید...... یہ کون صاحب ہیں جنہوں نے ایک موٹی مرغی کو ایسا پھنسا دیا کہ قفس سے نکلنا محال ہو گیا۔ عمرو...... واہ صاحب آپ نہیں جانتے یہ ایک مولوی صاحب ہیں اخباروں میں آپ نے سنا ہوگا۔ ابوالفضل مولوی محمد کرم الدین صاحب رئیس بھیں ضلع جہلم ۔ اور یہ اس قابلیت کے شخص ہیں کہ جس وقت عدالت میں ان کی تقریر کا وقت ہوتا ہے تو وکیل منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ عجیب ذہین ہیں اور طباع شخص ہیں۔ میں نے تو اپنی عمر میں ایسا قابل شخص نہیں دیکھا اور استقلال کا یہ حال ہے کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو چکا ہے کہ غیر ملک میں جھگڑ رہے ہیں۔ اور کبھی آپ کے چہرہ پر ملال نہیں دیکھا گیا۔

٢٠٩

صفحہ ٢٢٦

زید...... بیشک معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو خاص تائید ایزدی ہے ورنہ ایسی طاقت ور جماعت کا مقابلہ ہر شخص کا کام نہیں۔ ہاں یہ تو بتاؤ کہ اب مقدمہ کونسے مرحلہ پر ہے۔ عمرو...... مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولوی محمد علی گواہان استغاثہ کی شہادتیں ہو چکی ہیں۔ اور مولوی محمد حسن صاحب قاضی تحصیل جہلم کی شہادت شروع ہے۔ اس کے بعد مولوی غلام محمد صاحب قاضی تحصیل چکوال کی گواہی ہوگی۔ اس کے بعد ڈیفنس کی باری آئے گی۔ زید...... اچھا آئندہ حال کہتے رہنا۔ السلام علیکم! عمرو...... بہت اچھا وعلیکم السلام۔

٢ ...... جواب سوالات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہم نے جو مرزا اور مرزائیوں کی علمی لیاقت کی نبض دیکھنے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے معارضہ کے متعلق دو سوال کئے تھے اور در صورت معقول جواب ملنے کے دو سو روپیہ انعام دینے کا وعدہ کیا تھا جب اس کے متعلق (جیسی کہ امید تھی) منارے کے گرد اڑیل اور عریض وطویل مندر یا گنبد سے کوئی آواز نہ آئی۔ تو اب ہم مجبور ہو کر خود ہی جواب دیتے ہیں کیونکہ یہ سوالات ایسے نہیں ہیں جن کا جواب نہ دیا جائے۔ اگرچہ ان کا جواب دینا مرزائیوں کے امکان سے باہر ہے۔ مگر مجدد السنہ مشرقیہ خدا کی عنایت سے ہر لا یحل عقدے کے کھولنے اور ہر سوال کا جواب دینے پر قادر ہے بحولہ وقوتہ۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ربی الذی یحیی ویمیت‘‘ تو نمرود نے جواب دیا ’’انا احیی وامیت‘‘ یعنی تیرا خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے تو میں بھی زندہ کرتا ہوں۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش ہو گئے تو کیا انہوں نے تسلیم کرلیا کہ نمرود بھی ویسا ہی محی و ممیت ہے جیسا خدائے واجب الوجود۔ کیونکہ ’’السکوت فی معرض البیان بیان‘‘ جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حقیقت سے سوال کیا تھا اور نمرود نے اس کا جواب مجاز سے دیا کیونکہ کسی بے گناہ کو قتل کر ڈالنا اور کسی واجب القتل کو چھوڑ دینا حقیقی احیاء واماتت نہیں۔ احیاء اور اماتت کے وقوع کی بہت سی قسمیں ہیں۔ مثلاً زمین کا زندہ کرنا یعنی پانی برسانا، رحم میں نطفہ سے جاندار انسان یا حیوان پیدا کرنا وغیرہ قدرتی معجزات پر بجز فاطر برحق اور قادر مطلق کے کون قادر ہو سکتا ہے۔ مگر نمرود اس کو نہ سمجھا کیونکہ اس کی عقل اور اس کے مغرورانہ خیالات محدود تھے۔

پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حقیقت اور مجاز کی بحث سے ہٹ کر اس کے سامنے

٢١٠

صفحہ ٢٢٧

وہی بات پیش کی جو مشاہدے میں آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور آسانی سے اس کی سمجھ میں آسکتی تھی۔ پس فرمایا ”فان الله يأتى بالشمس من المشرق فات بها من المغرب“ چنانچہ یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی اور ساکت محض ہو گیا۔ اس پر یہ سوال تھا کہ خدائے تعالیٰ بھی مغرب سے مشرق میں آفتاب کے نکالنے پر قادر ہے یا نہیں اگر قدرت ہے تو مرزا اور مرزائیوں کا نیچر ٹوٹ گیا۔ کیونکہ ان کے مذہب میں نقض قانون فطرت محال ہے اور اگر خدائے تعالیٰ مغرب سے مشرق میں آفتاب کے نکالنے پر قادر نہیں تو نمرود اور خدا دونوں عدم قدرت میں برابر ہو گئے اور معارضہ ساقط ہو گیا کیونکہ نمرود کہہ سکتا تھا کہ مجھ سے ابراہیم علیہ السلام وہ بات چاہتا ہے جس پر خود اس کا خدا قادر نہیں۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو یہ دکھانا منظور تھا کہ میرا خدا وہ ہے جس کا بنایا ہوا قانون ٹوٹ نہیں سکتا۔ ”ولن تجد لسنة الله تبديلا“ اور نہ اس کا وعدہ کبھی خلاف ہو سکتا ہے ”ولن يخلف الله وعده“ اگر تجھ میں قدرت ہے تو بھلا اس کا قانون تو ڑ تو دے اور آفتاب کو بجائے مشرق سے طلوع ہونے کے مغرب سے طلوع تو کر دے۔ دیکھو قانون قدرت کا ثبوت ایسا ہوتا ہے جیسا مجدد نے ثابت کر دکھایا۔ نہ کہ مرزا اور مرزائیوں کی طرح کہ خدائے تعالیٰ احیاء پر قادر نہیں۔ جس سے خدائے تعالیٰ کی تمام قدرتیں زمیں معاذ اللہ سلب ہو گئیں۔ کیونکہ اس کی مقدورات کی ایک جزئی احیاء بھی ہے جب وہ احیاء پر قادر نہیں تو کسی جزئی پر قادر نہیں۔ حالانکہ اس کی صفت ”علیٰ کل شیئ قدیر“ ہے۔ مرزا قادیانی نے تو خدا کو خدا ہی نہ رکھا ”لاحول ولا قوة الا بالله“

٣ ....... مرزا قادیانی کی دھونس

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کوئی فرد بشر ایسا نہیں جس کو دنیا میں خوشی غمی و تکلیف و راحت کے واقعات پیش نہ آتے ہوں۔ اتنا فرق ہے کہ جن لوگوں کا ایمان خدائے برحق پر نہیں وہ تمام واقعات کو ظاہری اسباب اور توہمات کے حوالے کرتے ہیں اور جو لوگ راسخ الاعتقاد ہیں وہ ایک ذرے کی چمک اور ایک قطرے کی سیرابی اور ایک پتے کی حرکت کو بھی خدا ہی کی جانب سے یقین کرتے ہیں۔ مگر ایک ہمارے مرزا قادیانی ہیں کہ انسانوں خصوصاً ان کے مخالفوں کو جو اذیتیں پیش آتی ہیں ان کو اپنی جانب سے بتاتے ہیں اور جو راحتیں اور کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ان کا ذکر تک نہیں کرتے کہ اللہ کی جانب سے ہیں یا غیر اللہ کی جانب سے۔ ان کی کامیابیاں اپنی جانب تو کیوں منسوب

٢١١

صفحہ ٢٢٨

کرنے لگے؟ اصلی مسیح نے تو یہ فرمایا کہ جو شخص تیرے بائیں گال پر تھپڑ مارے تو اپنا دایاں گال بھی اس کے سامنے پیش کر دے مگر نقلی مسیح زبان حال و مقال سے یہ وصیت کرتا ہے کہ جو شخص تیرے سامنے چوں بھی کرے تو اس کو تحت الثریٰ میں پہنچادے۔

اگر مرزا قادیانی کا کوئی مخالف مر گیا تو مارے خوشی کے باچھیں چر کر کانوں تک آگئیں۔ مریدوں میں بیٹھ کر کرامت بگھارنے لگے اور مرزائی اخباروں میں اشتہار دینے لگے کہ میرا فلاں مخالف اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ طاعون کو ادھر مرزا قادیانی نے انگلی دکھائی ادھر اس نے لوگوں کا ٹینٹوا دبایا۔ لیکن جب طاعون کسی جگہ سے رخصت ہو گیا تو یوں سمجھئے کہ اس نے مرزا قادیانی کی عدول حکمی کی۔ نہیں جناب یہ دھونس ہے کہ اگر تم مرزا پر ایمان نہ لاؤ گے تو اگلے سال لنگوٹی لوں گا۔ اب تو چھوڑے جاتا ہوں۔ جاؤ بچہ کیا یاد کرو گے۔ ٣٦٠ دن ہیں کیا چیز۔ ڈھلتی چھاؤں کی طرح گزر جاتے ہیں۔

لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ گورداسپور نے مرزا قادیانی کو تعزیرات کے ارگڑے میں دھر لیا اور فرد جرم سنادی تو آسمانی باپ نے ان کو یہ سزا دی ہے کہ تنزل کے ساتھ فوراً بدل دیا۔ اب بابو آتما رام مجسٹریٹ نے اگر چہ کوئی کارروائی ایسی نہیں کی جو مرزا قادیانی کے خلاف ہو پھر بھی آسمانی باپ نے پیشگی ایک تھپڑ رسید کر دیا یعنی ان کے بیٹے کو بیمار کر دیا یہ درحقیقت ایک دھونس ہے کہ خبردار جو میرے لے پالک کے خلاف مقدمہ فیصل کیا ورنہ تیرا بھی یہی حال ہو گا بلکہ اس سے بھی بدتر۔ الغرض دھونس کے دم خم بدستور ہیں۔

باایں ہمہ مولوی کرم الدین صاحب کو چیتے کی طرح پھاڑا۔ سو جتن کئے کہ کسی طرح مقدمات کے شکنجے سے رہائی ملے مگر میرے شیر نے نہ ماننا تھا نہ مانا۔ دھونس بھی ڈالی مگر کارگر نہ ہوئی۔ ظاہر ہے کہ آج کے روز مولوی صاحب سے بڑھ کر مرزا قادیانی کا کوئی دشمن ہے نہ مرزا قادیانی سے بڑھ کر مولوی صاحب کا کوئی دشمن۔ مگر ان کے پاس بھٹکتے ہوئے طاعون کی روح بھی خشک ہوتی ہے بلکہ جب انہوں نے طاعون کو ڈانٹا اور اس پر اپنی عزیمت کی دھونس ڈالی تو قادیان شریف آکر لے پالک کے لگوں سگوں کو بھنبھوڑنا شروع کر دیا۔ قدرت کے تماشے دیکھئے کہ طاعون جو لے پالک کا ایجنٹ تک تھا مولوی صاحب کا حلقہ بگوش سرہنگ بن گیا۔ انقلاب قسمت اسی کا نام ہے۔

صرف ایک گورنمنٹ ہے جس پر دھونس نہیں پڑتی۔ اس کے سامنے تو دم ہی ہلاتی جاتی ہے اور پاؤں ہی چاٹے جاتے ہیں۔ باقی کوئی شخص ایسا نہیں جو دھونس سے محفوظ رہ سکے۔ کیونکہ طاعون تمام ہندوستان میں ہے اور یہی مرزا قادیانی کی دھونس ہے۔ ہاں گورنمنٹ کے جبروت کی

٢١٢

صفحہ ٢٢٩

دھونس خود مرزا قادیانی پر پڑی ہوئی ہے۔

٤....... مرزا اور مرزائی پچھلا خواب دیکھ رہے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ایک مرزائی نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کے کچھ کلمات الحکم میں شائع کئے ہیں جو انہوں نے مرزا قادیانی کی نسبت فرمائے تھے یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب مرزا قادیانی مسیح موعود اور بروزی نبی اور آسمانی باپ کے لے پالک نہ بنے تھے۔ صرف آریا سے مناظرہ تھا اور کتاب براہین احمدیہ وغیرہ لکھ کر اعلان دیا تھا کہ اگر آریا اس کا جواب لکھیں تو میں اپنی بارہ ہزار کی جائیداد دے دوں گا۔ اس زمانے میں نہ صرف حضرت موصوف کو بلکہ بہت سے سیدھے سادھے لوگوں کو آپ سے حسن ظن ہو گیا تھا لیکن یہ لاسا تھا جو مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے پھانسنے کو تیار کیا تھا۔ فی الحقیقت بعض بڑے بڑے ذی علم اور مشائخ کو دھوکا ہو گیا تھا مگر جس قدر طلسم کا تار و پود کھلتا گیا اسی قدر لوگ علیحدہ ہوتے گئے ۔ اگر مرزا قادیانی اسی حالت پر رہتے اور ان میں خلوص ہوتا تو اچھے رہتے وہ برانڈی کی پوری بوتل کے متحمل نہ ہو سکے اور بہک گئے۔

قدم رکھنا سنبھل کر محفل رندان میں اے زاہد
یہاں پگڑی اچھلتی ہے یہاں پیمانہ چلتا ہے

بروزیت اور مسیحیت کی آڑ میں مرزا قادیانی کا دست طمع تو دراز رہتا ہی ہے ۔ بقول

چیزے بدہ درویش را چیزے مگو درویش را

پس ذی حس لوگ تاڑ گئے گانٹھ جس قدر کھلتی گئی وہ تو کٹ گئی مگر آئندہ ہوشیار ہو گئے اور تبرا بھیج کر پلہ پاک کیا۔

خود مرزا قادیانی جواب دیں کہ سابق میں جن لوگوں کو آپ سے حسن ظن تھا اب وہ بدظن کیوں ہو گئے اور کیوں دشمن بن گئے کیا وہ دشمن بننے کو آپ کی جانب رجوع ہوئے تھے۔ ایک پیر مہر علی شاہ صاحب کیا ، ایسا تو ہمیشہ تانتا بندھا رہتا ہے کہ ناواقف لوگ علیک الصلوٰۃ والسلام کہتے ہوئے آتے ہیں ۔ اور لاحول پڑھتے ہوئے جاتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ کاٹھ کی ہانڈی ایک ہی دفعہ چڑھتی ہے ۔ الحکم میں تو فخریہ الزامی طور پر ایسے خطوط چھپتے ہیں مگر در حقیقت رسوائی ہوتی ہے کیونکہ باخبر لوگ یہی نتیجہ نکالتے ہیں جو ہم اوپر نکال چکے ہیں کہ حسن ظن والے اخیر میں بدظن کیوں ہو جاتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے خطوط کثرت سے شائع ہوں ۔

عدو شود سبب خیر گر خدا خواهد

٢١٣

صفحہ ٢٣٠

پیر صاحب موصوف اور دوسرے سچے اور خدا دوست مسلمانوں کا مرزا قادیانی کے کیریکٹر کو خطرناک دیکھ کر علی الاعلان علیحدہ ہو جانا عین اقتضاء تدین و حق پرستی ہے۔ بہت سے مرزائی ایسے ہیں جو مرزا قادیانی کے خوارق سے واقف ہو گئے ہیں۔ مگر اب ان سے علیحدہ ہو جانے کو ناک کٹی سمجھتے ہیں کہ لوگ ہم کو مطعون کریں گے کہ کیا سمجھ کر پہلے منڈے تھے اور کیا سمجھ کر اب مرزائیت کی رسی گلے سے نکالتے ہو۔ ایسے سچے مسلمان نہیں بلکہ منافق ہیں کیونکہ انسان پر باطل کا جب انکشاف ہو جائے تو حق کی جانب رجوع ہونا اور کھلم کھلا حق کی پیروی کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ یہاں ان شکم پرستوں کا ذکر نہیں جو روٹی کی خاطر ہاتھی کے پاؤں میں اپنا پاؤں اڑائے ہوئے ہیں اور دیدہ و دانستہ اسلام کو دور سے سلام کر چکے ہیں۔ اور ایمان کو استعفیٰ دے چکے ہیں۔

٥ ....... اخبار پانیر اور مرزا قادیانی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ؒ

مرزا قادیانی لیٹ لیٹ کر گورنمنٹ کے آگے ناک رگڑتے ہیں اور چیخ چیخ کر گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ میں برائے نام غلام احمد ہوں مگر درحقیقت غلام گورنمنٹ ہوں مگر پانیر نے جو نیم سرکاری اخبار ہے۔ مرزا قادیانی کی خیر خواہی اور وفاداری کو جس کا اظہار گورنمنٹ کی نسبت کیا جاتا ہے۔ کبھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس دعوے کا مخالف رہا۔ مرزا قادیانی کا مسیح موعود بننا اور نہ صرف مذہب عیسوی بلکہ جمہور اسلام کے خلاف عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مارنا ہی پانیر کے نزدیک پبلک اور گورنمنٹ کا بدخواہ بننا ہے کیونکہ گورنمنٹ بالکل آزاد ہے۔ وہ کسی مذہب سے کچھ تعرض نہیں کرتی اس کے یہ معنی ہیں کہ تمام مذاہب کو اچھا سمجھتی ہے لیکن مرزا قادیانی گورنمنٹ کے اصول کے خلاف یہ منادی کرتے ہیں کہ تمام مذاہب باطل ہیں اور جدید مرزائی مذہب ہی حق پر ہے۔ میں امام الزمان ہوں جو شخص مجھے نہیں مانتا اور میرے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتا وہ سرزنش اور مکافات کا مستوجب ہے۔ اس عموم میں گورنمنٹ بھی آگئی۔ فرمائیے خیر خواہی کہاں رہی؟

پانیر نے لکھا تھا کہ ”غلام احمد نے اپنے مختصر رسالوں اور لاف زنی اور جڑی بوٹی ادویہ کے ذریعہ سے وباء کے زمانے میں بہت کچھ کر ڈالا۔ آخر کار گورنمنٹ نے دست اندازی کر کے اس کارروائی کو بند کیا۔“ دوا فروشی اور عطاری کی دکان کھولنا اور گورنمنٹ کا دست اندازی کرنا تو ہم کو معلوم نہیں۔ البتہ کسی مرزائی نے مرہم عیسیٰ تو ضرور تیار کیا تھا اور اس کے اشتہارات دھوم دھام سے مرزائی اخباروں میں اور بطور خود شائع ہوئے تھے۔ چونکہ مرزا قادیانی بھی عیسیٰ ہیں پس یہ پرانا مرہم جو بعض اطباء یونانی نے تیار کیا تھا اب اس میں مرزا قادیانی کا لقب ٹھونس کر یاروں نے

٢١٤

صفحہ ٢٣١

پنسار ہٹا کھول دیا۔ اور بعض مقامات پر ایجنٹ بھی مقرر کر دیئے۔ اب مرزائیوں میں فروخت ہو رہا ہے اور خوب الو سیدھے ہورہے ہیں۔ سنا ہے کہ عیسائیوں سے کچھ قرض بھی لیا تھا شاید پانیز نے اسی بنا پر مندرجہ بالا نوٹ کیا ہے۔

اس کے جواب میں ایڈیٹر الحکم نے بجائے اس کے کہ پانیز کو برا بھلا کہتا، عیسیٰ مسیح پر عہد نامہ جدید کے حوالے سے خوب اپنی جبلی مرزائیت کا نزلہ جھاڑا ہے۔

کیا قہر طعن بوالہوں بے ادب ہوا
جرم رقیب قتل کا میرے سبب ہوا

آگے چل کر الحکم نے مرزا قادیانی کو گورنمنٹ کا سچا خیر خواہ ثابت کرنے کے لئے ان جلسوں کا ذکر کیا ہے جو قادیان میں دربارہ انسداد طاعون ہوئے تھے اور گورنمنٹ پنجاب نے ان کا اعتراف کیا تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ ایسے جلسے بہت سے مقامات پر ہوئے ہیں مگر کیا وہ سب مسیح موعود اور نبی الزمان ہیں۔ پھر جب آپ طاعون کا انسداد چاہتے ہیں تو اپنے ایڈیٹر انک کو جو آسمانی باپ نے بھیجا ہے دھکے دیتے ہیں بھلا آسمانی باپ خفا نہ ہو تو کیا ہو۔ مرزا قادیانی کے دلائل بھی عجیب وغریب ہیں میرے زمانے میں طاعون آیا پس میں مسیح موعود ہوں۔ میں جہاد کا مخالف ہوں اس لئے مسیح موعود ہوں۔ میں نے طاعون کو خود ہی بلایا اور خود ہی جلسے کر کے اس کی دم میں نمدا کرنا چاہا۔ اس لئے مسیح موعود ہوں۔ عیسیٰ مسیح مر گئے میں اس لئے مسیح موعود ہوں۔

دنیا میں بدکاریاں ہورہی ہیں یہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں میں اس لئے مسیح موعود ہوں۔ لوگوں کی ہلاکت کی پیشنگوئیاں کرتا ہوں اگرچہ کوئی پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی۔ مگر میں ضرور مسیح موعود ہوں۔ میں نے کشمیر میں عیسیٰ کی قبر ڈھونڈ لی اس لئے موعود ہوں۔ ماشاء اللہ مرزا قادیانی کیا ہیں مرہم عیسیٰ سے بھی بڑھ کر بوالعجبیوں کے معجون مرکب ہیں۔ اللہ سلامت رکھے یاروں کے لئے دل لگی کا مشغلہ تو ہے۔

دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یاں ہر بیوقوفی سوز چراغ کشتہ ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی سے کسی نے سوال کیا تھا کہ تسبیح ہاتھ میں لے کر بعد نماز ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا کیسا ہے۔ مرزا قادیانی نے بڑے پیچ پیچ سے اس کا جواب گول مٹول دیا اور بالآخر کہہ دیا کہ

٢١٥

صفحہ ٢٣٢

یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط ہے غالبا سائل کا مقصود یہ تھا کہ تسبیح کے ذریعے سے خدا کا ذکر کرنا ریاء میں تو داخل نہیں۔ مرزا قادیانی کے جواب سے یہ معلوم ہوا کہ ریاء میں داخل ہے۔ مرزا قادیانی ٩٩ کے اس پھیر میں تو آئے مگر یہ نہ بتایا کہ عقد انامل مسنون ہے سائل اس پر عمل کرے۔

ریاء بے شک بری چیز ہے اور شرک میں داخل ہے اسی واسطے ریاء کبھی مرزا قادیانی کے پاس بھی نہیں پھٹکی۔ تسبیح کا ہاتھ میں رکھنا تو ریاء ہے لیکن شیطان کی آنت سے لمبا منارہ تعمیر کرانا جو کوسوں سے زائرین (مرزائین) کو نظر آئے ریاء نہیں؟ اپنی تصویریں چھپوا کر شائع اور فروخت کرانا اور مرزائیوں کو کہنا کہ اپنے گھروں میں رکھیں اور مرد اور عورتیں ہر وقت درشن اور ڈنڈوت کیا کریں، ریاء نہیں؟ پیشینگوئیوں کے لمبے چوڑے اشتہارات شائع کرنا ریاء نہیں؟ آپ خیر نال جواب دیں گے کہ میں مامور من اللہ ہوں یہ ریاء نہیں بلکہ تبلیغ ہے اور آسمانی باپ نے الہام کر دیا ہے کہ تصویروں اور اشتہاروں وغیرہ کے ذریعے سے اپنی بروزیت کو بانس پر چڑھاتے ہیں لیکن سینکڑوں حماقتیں اور غلطیاں جو آپ سے سرزد ہوتی ہیں ان کی تبلیغ نہیں کی جاتی۔ انبیاء کو بعض اوقات بذریعہ وحی تنبیہ ہوتی ہے مگر آپ انبیاء سے بھی بڑھ کر معصوم ہیں۔ بھلا مرزا قادیانی سے غلطیوں اور لغزشوں کا کوئی اقرار تو کرالے۔ مرزائی اخبارات اور تمام مرزائی جان کو آجائیں اور قابو چلے تو تنبیہ کرنے والے کو پھانسی پر لٹکا دیں ۔ باقی حضرت مرزا کا جہاز تو ہواء ہی کی بادبانی سے فریب کے سمندر میں چل رہا ہے ورنہ

کسے پرسد کہ بھیا کوں ہو

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ جولائی کے شمارہ نمبر ٢٧ کے مضامین

٢١٦

صفحہ ٢٣٣

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... نیچریوں پر مرزا قادیانی کا سب ولعن

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم ٢٤ جون گزشتہ میں بذیل (مسیح موعود کی تعلیم ) مرزا قادیانی اپنے مریدوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ” جب تم دعا کرو تو ان جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں۔ انکی دعائیں ہرگز قبول نہ ہوں گی وہ اندھے ہیں، مردے ہیں خدا کے سامنے اپنا تراشیدہ مضمون پیش کرتے ہیں اور اس کی بے انتہا قدرتوں کی حدبست ٹھہراتے ہیں اور اس کو کمزور سمجھتے ہیں اور خدا کو ہر چیز پر قادر نہیں جانتے وغیرہ۔“

اس کے جواب میں نیچری کہیں گے کہ ہم تو کس قابل ہیں یہ سب کچھ حضور ہی اپنی تعریف فرمارہے ہیں۔ ہم نے قانون قدرت کو کبھی محدود نہیں کیا۔ حضور نے محدود کردیا۔ آپ ہمارے ہی بتائے ہوئے نیچر کی نقل اتار رہے ہیں مگر بھونڈی۔ آپ ہمارے بعض خیالات کا خاکہ اڑا رہے ہیں مگر غلط، جس سے اوروں کی آنکھوں میں نہیں بلکہ اپنی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ہم ادرک کی ایک گرہ لائے آپ نے بندر بن کر منارے کے مندر کے اندر پنساری کی دکان کھول دی اور دنیا کے چھلنی بندروں پر روڑی دساور کی کھیپ بھجوا دی۔ آپ کے پاس جو کچھ ہے ہمارا ہی اوجھ اور فضلہ ہے جو توشہ شریف یکساں فی الربیع والخریف نہیں نہیں پچا۔ اور بدہضمی ہو گئی اور بدہضمی تخمہ اور تخمہ کالرہ بن کر تعدیہ کر گیا۔ الہی توبہ۔

آپ بخوبی اپنا اطمینان فرمائیے کہ ہم لوگ قانون فطرت و قدرت کو ہرگز محدود نہیں بتاتے۔ خدائے تعالیٰ فاطر السمٰوات والارض ہے۔ وہ فطرت کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور صاف ظاہر ہے کہ جب وہ ہر شے پر قادر ہے تو فطرت پر بھی قادر ہے۔ جس طرح حکمت و قدرت وغیرہ اس کی غیر محدود صفات ہیں۔ اسی طرح فطرت بھی اس کی ایک لامتناہی صفت ہے۔ ہاں حضور نے اپنی محدود عقل کے موافق فطرت کو حدبست کر دیا ہے۔ کیا معنی کہ معجزات انبیاء احیاء اموات وغیرہ کے آپ منکر ہیں۔

حالانکہ وہ درحقیقت معجزات قدرت یعنی سب خدا کی طرف سے ہیں۔ کیونکہ کسی نبی نے اپنے اختیار سے معجزات دکھانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہر معجزہ میں لفظ اذن اللہ موجود اور ماخوذ ہے۔ بھلا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ایسا شرک کب گوارا کر سکتے تھے۔ جس کا ارتکاب خود بدولت

٢١٧

صفحہ ٢٣٤

فرما رہے ہیں کہ طاعون میں نے پیدا کیا ہے اور وہ سایہ کی طرح میرے ساتھ رہتا ہے۔ میں اپنے منکروں کو ہلاک کرتا ہوں اور جو لوگ مجھ پر ایمان لاتے ہیں ان کو زندہ چھوڑتا ہوں۔ میں اس صورت میں محی بھی ہوں اور ممیت بھی۔ قانون قدرت تو محدود ہے جو احیاء اموات نہیں کر سکتا۔ مگر میری بروزی قدرت کا قانون غیر محدود ہے۔ اس نے عیسیٰ مسیح تک کو مار ڈالا اور مرزائیوں کو زندہ کر دیا۔ یعنی جو لوگ مجھ پر ایمان لائے ان کو طاعون نہ مار سکا۔ ہم کو قانون قدرت کا عطیہ عطا کیا گیا ہے۔ نہ کہ اس کی تمام جزئیات کا علم جن کا احاطہ کوئی انسانی طاقت نہیں کر سکتی اور جو غیر متناہی اور غیر محدود ہیں ہم اس قانون کو جزئیات پر قیاس کر کے منطبق کرتے ہیں۔

یہ ہمارا قیاس استقرائی ہے جو مفید یقین نہیں مگر حضور پیشینگوئیاں فرماتے ہیں۔ اور بڑے وثوق کے ساتھ تحریروں اور تقریروں میں ہنکارتے ہیں کہ اسی طرح ہوگا اور میری پیشینگوئی غلط نہ ہوگی اور چونکہ یہ پیشینگوئیاں قانون فطرت کے خلاف ہوتی ہیں۔ لہذا بدقسمتی سے ایک بھی پوری نہیں ہوتی۔ ہم شریعت اسلام کے موافق نجومیوں اور رمالوں کو مردود سمجھتے ہیں مگر نجوم اور جفر اور رمل پر حضور کا ایمان ہے کہ بروزی بیت الخلاء میں بیٹھ کر نصرت الدخل اور نصرت الخارج وغیرہ اشکال رمل کی لکیریں کھینچ دیں اور ان کو پیشانی کی لکیریں سمجھ لیا۔ یہ قانون قدرت کا بالکل خلاف اور اس سے صاف انحراف ہے۔ کیونکہ انسان ہرگز غیب دان نہیں ہو سکتا نہ کسی نبی اور ولی نے غیب دانی کا کبھی دعویٰ کیا اور اگر آپ اپنی ساختہ اور پرداختہ نیچر کے اقتضاء سے یہ کہیں کہ میں فرمائشی رسول ہوں اور قرآن میں وارد ہوا ہے ”لا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول“ تو یہ فعل جناب باری کا ہوا۔ پس اسی پر معجزات انبیاء علیہ السلام کو قیاس فرما لیجئے۔

جس میں احیاء اموات بھی شامل ہے اور ہم اوپر گزارش کر چکے ہیں کہ تمام معجزات انبیاء در حقیقت معجزات قدرت ہیں۔ اللہ سلامت رکھے حضور کی ذات بھی قابل نمائش مہمات سے ہے کہ انبیاء کے جن معجزات کو قانون فطرت کے خلاف بتایا ان کو اپنی بروزی انکرنیشن کی سٹیج پر نمایاں کیا۔ اس صورت میں آپ خاتم الخلفاء کیا معنی خاتم الانبیاء بلکہ افضل الرسل ٹھہرے۔ انبیاء تو نقض قانون قدرت کے مرتکب نہ ہوئے اور حضور ہوئے۔ اب ہم بجائے اس کے کہ آیہ ”هذا شئ عجاب فی البداہۃ“ پڑھیں مناسب ہے کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھیں۔

ہم لوگوں سے آپ نے قانون قدرت، قانون قدرت رٹنا ہی سیکھ لیا ہے۔ قصور معاف۔ حضور کو تو نہ قانون کا علم ہے نہ قدرت کا۔ نہ اس لفظ کی ترکیب اضافی کا۔ ہاں یا تو عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے مرنے کا علم ہے یا طاعون کے آنے کا۔ جس کی نسبت آپ فرماتے ہیں کہ آسمانی

٢١٨

صفحہ ٢٣٥

باپ نے چند سال قبل اس کے آنے کا علم عطا کر دیا تھا۔

٢ ....... مسلمان وہی ہے جو عیسیٰ مسیح کی موت کا قائل ہو

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی الحکم ٢٤؍ جون میں اپنے مریدوں کو تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”تم نہ اہل سنت ہو نہ اہل قرآن جب تک عیسیٰ کی موت کے قائل نہ ہو۔“

لیجئے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی موت جزو ایمان بن گئی۔ گویا کروڑوں مسلمان جو موت مسیح کے قائل نہیں کافر ہیں اور جس طرح توحید ورسالت تمام مسلمانوں کا جزو ایمان ہے۔ تیسرا جزو موت مسیح ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ حیثیت نصاریٰ کی تثلیث کے مقابلے میں گھڑی ہے۔ آپ کی مجددیت کے کیا کہنے ہیں۔

یہ آسمانی باپ کا الہام ہے ورنہ کتاب وسنت میں تو کہیں یہ حکم نہیں کہ جو شخص موت مسیح کا قائل نہ ہو وہ کافر ہے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم کو صرف حیات کا علم دیا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیونکر زندہ ہیں اور ان کی حیات کیسی ہے؟ یہ حیات ایسی ہی ہے جیسی شہداء کی حیات ”بل احیاء ولکن لا تشعرون“ پس حیات مسیح کے باب میں یہی قول فیصل ہے اس کا قائل نہ ہونا کتاب وسنت کا منکر ہونا ہے ملحد بننا ہے۔ کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں کہ عیسیٰ مسیح اسی طرح زندہ ہیں جس طرح روغن بادام میں دم کئے پلاؤ اور سقنقوری اور جند بیدستری معجونیں کھا کھا کر مرزا قادیانی ساٹھے پاٹھے زندہ ہیں۔

حدیث شریف آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آنے کی جو شہادت دی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کا ماخذ ”ما قتلوه يقيناً بل رفعه الله“ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی یہ شان ہرگز نہیں کہ قرآن مجید کے خلاف کوئی حکم دے سکیں اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام تو اسی صورت میں آئیں گے جبکہ وہ زندہ ہیں۔ مگر آپ اس کے منکر ہیں اور آنحضرت ﷺ کو معاذ اللہ کذاب یقین کرتے ہیں۔ پس آپ کے اہل سنت اور اہل قرآن نہ ہونے اور ملحد بننے میں کیا شک رہا؟

ہاں یوں کہئے کہ جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے وہ کافر ہیں کیونکہ جب عیسیٰ مسیح زندہ ہیں تو وہی آئیں گے آپ پر کون ایمان لائے گا۔ اس لئے مرزائیوں کے لئے وفات مسیح جزو ایمان ہے۔ پھر مداری کا تماشا تو دیکھئے کہ قرآن سے جب آپ مسیح موعود کا آنا ثابت نہیں کر سکتے تو حدیث کی جانب رجوع لائے اور بجائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے جو حدیث میں صراحتاً موجود

٢١٩

صفحہ ٢٣٦

ہے ۔ خود مسیح بن گئے۔ گویا مسیح کے واسطے حدیث کا انکار ہے اور اپنے واسطے اقرار۔ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی موت تو قرآن سے لی اور ان کا آنا ( نہیں اپنا آنا ) حدیث سے لیا اور دجالوں کا آنا جو حدیث میں ہے اس پر ناک بھون چڑھائی ۔ کیونکہ اس سے آپ بھی خیر نال دجال بنتے تھے۔ تعجب ہے کہ دجال تو اب تک ایک بھی نہ آیا اور مسیح موعود طرہ کر کے آکودا۔ دجالوں کے آنے اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے تشریف لانے کی حدیث غلط اور پسرالتقویٰ اور خدا کے بمنزلہ ولد (لے پالک ) کا آنا اور اپنی اردلی میں طاعون کا لانا صحیح ہے۔ کہ ہر شک آرد بروزی گردد۔

٣ ...... مرزائے قادیانی کی رسالت

پیسہ اخبار گورداسپور !

جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے

اب مرزائے قادیانی نے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کھلے طور پر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اپنے بیان تحریری میں جو بمقدمہ مولوی کرم الدین صاحب بنام مرزا قادیانی داخل عدالت کیا ہے۔ یہ بھی لکھایا ہے کہ میں نبی ہوں۔ اس لئے میں اپنے مخالفین کو کذاب کہہ سکتا ہوں۔ ایسا ہی مولوی محمد علی گواہ نے اپنی شہادت میں لکھایا ہے یہ امر کہ مرزا قادیانی کی سابقہ تصانیف میں اس کی تردید خود موجود ہے اور فی زماننا دعویٰ نبوت کو آپ اپنے قلم سے کفر لکھ چکے ہیں۔ اس کی تشریح کسی دوسرے موقع پر لکھوں گا۔ فی الحال یہ لطیفہ ناظرین کو سناتا ہوں کہ ١٥؍جون کو حافظ عبد القدوس قدسی ( جو مرزائیوں کا گواہ بمقدمہ یعقوب علی ہے ) شہادت دے رہا تھا تو مولوی کرم الدین صاحب کے ایک سوال پر اس نے اپنا الہام یہ سنایا کہ ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ خدایا مجھے مرزا قادیانی کے بارے میں اطلاع بخش کہ وہ نبی ہیں کہ نہیں ۔ مجھے الہام ہوا کہ ”لست مرسلاً “ ( تو رسول نہیں ) حاکم نے پوچھا کہ کیا یہ خطاب آپ سے تھا۔ گواہ نے کہا کہ حضور میں نے دعویٰ رسالت کیا ہی نہیں تھا۔ اور نیز دریافت بھی مرزا کی نبوت کے بارے میں تھی ۔ یہ الہام مرزا قادیانی کی نسبت میں نے سمجھا کہ وہ رسول نہیں ہیں ۔

خوب ولی را ولی مے شناسد

مرزا قادیانی بھی الہامی تھے۔ قدسی صاحب کا الہام ان کی ہی قلعی کھولنے لگا۔ یہ بس عجیب امر ہے کہ مرزا قادیانی کو بجائے آیات قرآنی کے شعرائے جاہلیت ( کفار کے ) کلاموں کے الہام ہونے شروع ہوئے ہیں۔ چنانچہ تازہ الہام جو اخبار الحکم میں چھپا ہے۔ ”عفت الدیار محلھا ومقامھا “ ( تذکرہ ص ٥١٥ بطبع سوم ) یہ مشہور شاعر جاہلیت ( کافر ) لبید کا

٢٢٠

صفحہ ٢٣٧

شعر ہے جو سبعہ معلقہ میں ہے۔ معاذ اللہ پھر تو کلام رحمانی (الہام) اور کلام شیطانی۔ (جاہلیت کے اشعار) میں کچھ تمیز ہی نہ رہی۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنے ان الہاموں کو وحی محفوظ قرار دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ!

٤ ...... مرزائے قادیانی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پندے و ہمت اگر بمن داری گوش
از بهر خدا جامۂ تزویر مپوش
عقبیٰ ہمہ روز است و دنیا یک دم
از بہر دمے ملک عدم را مفروش

ہم عرصہ تک بذریعہ اخبارات و ضمیمہ شحنہ ہند وغیرہ مندرجہ عنوان مرزا اور اس کے وزیروں اور مشیروں کی خدمت میں عرض کرتے رہے کہ پاک لوگوں کو گالیاں دینا انبیاء علیہ السلام کی شان میں کفر بکنا۔ قرآن مجید کی آیات توڑ پھوڑ کر ان سے نئے الہامات گھڑنا اور تمام مسلمانوں کی دل آزاری وغیرہ کرنا۔ بھلے آدمیوں کا کام نہیں۔ مگر حق بات کو تسلیم کرنا اور اپنے مشفق ناصح کا شکر گزار ہونا تو بجائے خود۔ الٹا ہم کو یہ جواب ملتا رہا کہ معاذ اللہ قرآن مجید میں بھی گالیاں موجود ہیں اس پر بھی ہم خاموش نہیں رہے اور برابر لکھتے رہے اور اگر بالفرض والمحال تمہارا کہنا مان بھی لیا جائے تو خداوند تعالیٰ کو جو حق اور اختیار اپنے بندوں پر ہے وہ ایک بندہ کو دوسرے بندہ پر کیونکر ہوسکتا ہے۔ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو برا کہے یا مارے پیٹے تو غیر آدمی کو کیا حق ہے کہ کسی دیگر شخص کے بیٹے کو برا کہے۔

خداوند تعالیٰ کے ہاتھ میں تو ہر انسان کی موت وحیات ہے مگر مرزا قادیانی نے تو باوجود بڑے بڑے دعوؤں کے کسی اخلاص مند مرید کے ضعف بصر ۔ ضعف دماغ، ٹانگ کی کمزوری کا بھی علاج نہیں کیا۔ زنگی صفت، کالے کلوٹے، اخلاص مندوں نے خلاف حکم خدا اور رسول مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھا۔ مگر جو نور کالی گھٹائیں باندھ کر ان کے مبارک چہروں پر آیا ہوا ہے اس میں ذرہ بھر بھی کمی نہ ہوئی بلکہ ترقی روز افزوں ہے۔ (اللّٰہم زد فزد) خیر ہمیں ان باتوں سے کیا تعلق ہمیں تو صرف یہ افسوس ہے کہ باوجود کہنے سننے کے بھی گالی گلوچ اور ناحق کوسنے کو جناب موصوف نے جاری ہی رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طول طویل زمانہ سے آپ کو عدالتوں کی کارروائیوں سے فراغت ہی نہیں ملتی۔ کبھی وکلاء کے محنتانوں کی فکر۔ کبھی میڈیکل سرٹیفکیٹوں کے حاصل کرنے کے

٢٢١

صفحہ ٢٣٨

لئے سول سرجنوں کی فیس کا غم ۔ کبھی معتبر گواہوں کے بہم پہنچانے کا اندیشہ وغیرہ۔ دغا کا مقدمہ جو مولوی کرم الدین پر دائر تھا ڈسمس اور دس بارہ الہاموں کا ناحق خون ہو گیا۔ مولوی صاحب والے مقدمہ میں جناب موصوف پر فرد قرار داد جرم لگ چکی تھی۔ مگر لالہ چندو لعل صاحب کی تبدیلی پر از سر نو تحقیقات شروع ہوئی اور نئی تحقیقات میں مرزا قادیانی کی نازک حالت سے صاف پایا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے ادعائے رسالت سے رجوع بحق کر لیا ہے۔ گو بظاہر زبان سے اقرار نہ کریں۔ کیونکہ تقریر اور تاویل کا میدان تو بہت وسیع ہے۔ اگر عبداللہ آتھم کا رجوع بحق سمجھا جائے تو مرزا قادیانی بھی اس رجوع بحق سے بچ نہیں سکتے۔ اگر مقدر سے بچ گئے تو بہت اچھلے کودیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے اپنا الہام ظاہر کر دیا تھا کہ آخر الامر ہماری ہی جیت ہو گی۔ اگر کچھ حرج مرج ہو گیا اور جرمانہ یا قید کی سزا مل گئی تو مریدان مخلص یہ تاویل کر کے اپنے دل کی تسلی کر لیں گے کہ کیا پہلے پیغمبروں کو تکلیفات پیش نہیں آئیں؟ اور بالخصوص کیا حضرت یوسف علیہ السلام اتنی مدت قید خانہ میں نہیں رہے گو ایک ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ارتکاب فعل سے بچنے کے لئے ”رب السجن احب الیّ ممّا ید عوننی الیہ“ قید خانہ کو اپنی ذات پر لازم کیا تھا۔

مگر مرزا قادیانی نے عمداً ایک خدا کے ماننے والوں قرآن شریف پر ایمان رکھنے والوں آنحضرت ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں کو صریح گالیاں دیں۔ حضرت مولانا نذیر حسین صاحب دہلوی حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے پاک لوگوں کے حق میں جو جو جگر خراش سخت کلمات مرزا قادیانی کے قلم و زبان سے نکلے ان کا اعادہ کرتے وقت بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کاش مسلمان جیتے جاگتے ہوتے اور مرزا قادیانی کی تصانیف پڑھ کے دیکھتے کہ اس میں کس قدر قرآن شریف کی ہتک کی گئی ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ان جرموں کی پاداش میں جس قدر سزائیں بھگتیں عین حق اور انصاف ہے اور خداوند تعالیٰ جو دیر گیر اور سخت گیر ہے۔ مرزا قادیانی کو ان بے ادبیوں کا مزا ضرور چکھا دے گا چنانچہ حال ہی میں اس ایک خط خاص قادیان سے ہمارے ایک دوست کے نام آیا ہے جس میں مرزا قادیانی کی نازک حالت بیان کی گئی ہے۔ اس پر ہم بغیر افسوس کیا کہہ سکتے ہیں وہ خط یہ ہے۔

٢٢٢

صفحہ ٢٣٩

نقل خط

از قادیان مغلان یکم جون ١٩٠٢ء پیارے بھائی صاحب......السلام علیکم ! خدا آپ کو خوش رکھے۔ آج عنایت نامہ آیا بہت خوشی ہوئی۔ حسب الحکم جناب کے مرزا قادیانی کے حالات درج عریضہ کرتا ہوں۔

وہ تو آج کل گورداسپور کی عدالت میں صبح سے شام تک پیش رہتے ہیں۔ عدالت برخاست ہونے پر تاریخ ڈال دی جاتی ہے (پھر کل صبح) سبحان اللہ بیچارے پیغمبر نہ ہوئے....... ہوئے۔ جس کا دل چاہا عدالت میں لے گئے اور جناب مرزا قادیانی کی اچھی طرح سے.......کی۔

مقدمہ صرف اس بات کا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں شاید کسی کے بارے میں سخت سست لکھا تھا۔ آج کل زنانوں کو باغ و بہار کی سیر تو درکنار دو وقت کا کھانا بھی نہیں سوجھتا کیونکہ مرزا قادیانی کے لئے رات دن دعا مانگی جاتی ہے کہ خداوند کریم ان کو بخیریت سے لائے۔

سیر و تماشے تو جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے۔ سنا گیا ہے کہ عدالت میں منٹ منٹ کے بعد مرزا قادیانی پانی مانگتے ہیں اور زبان خشک ہوتی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہاں تک سچ ہے۔ کیونکہ مجھ کو دیکھنے کا اتفاق پیش نہیں آیا اور نہ خدا کبھی ایسا کرے یہاں گاؤں (قادیان) میں تو کچھ دنوں پلیگ خوب زوروں پر تھا۔ بلکہ شہر میں ٣٥٠ کے قریب کیس ہو گئے ہیں۔

سنا گیا ہے کہ کئی مرید مریض یہاں سے روانہ کئے گئے ہیں۔ خفیہ طور پر جن کو پلیگ ہو گیا تھا۔ مرزا قادیانی کے دولت خانہ میں ڈس ان فلکٹ کرنے کی انگیٹھیاں موجود ہیں اور فنائل کی بوتلیں اور مشک کافور کے بکس ہمارے بہت احتیاط کی جاتی ہے۔

حیرانی کی بات ہے کہ خدا اپنے پیغمبروں کو بھی خطرہ میں رکھتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو مرزا قادیانی ہم لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔ مرزا قادیانی کا فرمان ہے کہ قادیان دارالامان ہے۔ اگر واقعی یہ بات ہے پھر اتنی تکلیفیں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جہاں تک معلوم تھا عرض کر دیا۔ فقط راقم۔

٥....... مرزا قادیانی کی تعلیم

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم میں مرزا قادیانی کی تعلیم کا جو سلسلہ چھڑ رہا ہے وہی پرانی دہرائی، باسی، عباسی،

٢٣٣

صفحہ ٢٤٠

دقیانوسی باتیں ہیں کہ زنا، چوری، جعلسازی، دغابازی وغیرہ کے مرتکب نہ ہو وغیرہ۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مذہب والے جن مذکورہ بالا افعال کو قبیح اور مذموم سمجھتے ہیں۔ آپ نے خاتم الخلفاء اور بروزی اور امام الزمان بن کر کونسا تیر مارا، عیسیٰ مسیح کو مارا تو کیا کمال کیا۔ یہودی آپ سے پہلے ان کو مار چکے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی جسمانی معراج اور انبیاء کے دیگر معجزات کا انکار کیا تو کونسا نیا کام کیا۔ دہریہ وغیرہ ملحدین آپ سے بہت زیادہ اور زبردست دلائل کے ساتھ انکار کر چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ نماز، روزہ، وغیرہ مذکورہ باتیں ہیں۔ ہر نبی نے ان کا حکم دیا ہے۔ البتہ یہ جدت ضرور دکھائی ہے کہ حج کو جانا اور بجز قادیان میں جھونکنے کے زکوٰۃ کا روپیہ مستحقین کو دینا اپنی مرزائی امت پر حرام کر دیا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ بھی کوئی بڑی جدت نہیں لاکھوں نئی تعلیم یافتہ مسلمان حج اور زکوٰۃ دینے کے خلاف ہیں۔

آپ نے زکوٰۃ کو حرام نہیں کیا مگر یہ حکم دیا ہے کہ مجھے دو۔ حج کے لئے تو نہیں منع کیا۔ بلکہ یہ حکم دیا کہ قادیان کا حج کرو سو یہ بھی کوئی بڑی جدت نہیں رہی تو اسی پرانے ڈھرے پر لاکھوں مسلمان ایسے ہیں جو حج کرنے اور زکوٰۃ دینے کو موت جانتے ہیں۔ یہ قارون کے سگے آپ سے کہیں بڑھ کر آج موجود ہیں۔

اگر آپ نے اپنے کو آسمانی باپ کا لے پالک بنایا تو اپنی مجددیت اور بروزیت کی لٹیا ڈبودی۔ عیسائی تو عیسیٰ مسیح کو حقیقی ابن اللہ بنا چکے ہیں۔ آخر حقیقی بیٹا تو لے پالک سے افضل ہی ہوتا ہے۔ لے پالک بنانا تو مجبوری کی حالت میں ہوتا ہے کہ کسی طرح دنیا میں نام تو قائم رہے۔ ہاں آسمانی باپ پر احسان رکھنے کی یہ جدت ضرور دکھائی کہ اس کا نام باقی رکھا اور مقطوع النسل ہونے سے بچایا۔ ورنہ وہی مثل صادق آتی کہ مر گئے مردود فاتحہ نہ درود۔ عیسیٰ مسیح معاذ اللہ ناخلف تھے کہ مر گئے آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آسمانی باپ کی بادشاہی کو ابدالآباد تک چلائیں گے۔

مرزا قادیانی کو ذرا حیا اور شرم نہیں کہ کتاب وسنت کو لغو اور فضول قرار دے کر دنیا میں اپنی جدید اور ملحدانہ تعلیم پھیلاتے ہیں۔ کلام مجید میں وارد ہے۔ ”الرحمن علم القرآن “ کیا قرآنی تعلیم سے بڑھ کر انسانی تعلیم ہو سکتی ہے۔ خصوصاً وہ تعلیم جو قرآن کے خلاف ہو۔ کتاب وسنت میں کونسی بات موجود نہیں۔ ”لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ “ سنت قرآن مجید کی شرح ہے۔ اس سے بڑھ کر ہرگز کوئی شرح نہیں ہو سکتی۔ جس کے متعلق محدثین اور مجتہدین فرما گئے ہیں اور ہر زمانے کے علماء قیامت تک فرماتے رہیں گے۔ اور کسی جعلی نبی کی تعلیم کی مطلق ضرورت نہ ہوگی۔

٢٤٢

صفحہ ٢٤١

لفظ تعلیم سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم کوئی جدید تعلیم ہے جو مذہب اسلام کی تعلیم کے علاوہ ہے اور حقیقت میں بھی یہی بات ہے ورنہ بجائے تعلیم کے لفظ تذکیر یا تفہیم یا تصیح ہوتا۔ علماء دین برابر وعظ فرماتے ہیں مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ مولوی صاحب دین اسلام کی تعلیم فرما رہے ہیں۔ کیونکہ تعلیم کا لفظ بمقابلہ جہل کے بولا جاتا ہے اور جہل سے زمانہ جاہلیت اور زمانہ کفر مراد ہے خدائے تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے مگر مرزا قادیانی یہی سمجھتے ہیں کہ مسلمان اب بھی زمانہ جاہلیت میں ہیں۔ معاذ اللہ!

اصول اسلام سے ہر مسلمان واقف ہے وہ خوب جانتا ہے کہ زنا، چوری، دغا بازی، سود خواری، شراب خوری وغیرہ افعال ممنوع اور درخور مکافات ہیں بلکہ جو لوگ شیطان کے اغواء سے افعال مذکورہ بالا کے مرتکب ہوتے ہیں وہ بھی ان کو برا سمجھتے ہیں۔ پس علماء ہمیشہ اپنے وعظ میں افعال بد پر متنبہ کرتے اور مسلمانوں کو ان سے بچاتے اور ان کی برائیاں اور وعید یاد دلاتے رہتے ہیں نہ یہ کہ وہ اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤؍ جولائی کے شمارہ نمبر ٢٨؍ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... سوال و جواب

ا۔د۔ گجرات!

ہمارے ایک قدیمی دوست ہم سے پوچھتے ہیں کہ مدت سے آپ نے ضمیمہ شحنہ ہند میں لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ کیا آپ طاعون سے ڈر گئے یا مرزا کے مشن کو درست سمجھنے لگے یا قادیانی کے مریدوں کی کثرت سے ڈر گئے۔ وغیرہ۔

جواب ....... جناب من سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ جواب تو اس قدر طول و طویل ہے کہ احاطہ تحریر

٢٢٥

صفحہ ٢٤٤

میں نہیں آ سکتا۔ مگر کم فرصتی کے باعث مختصر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے اس بارے میں مفصل پوچھنا چاہا تو کسی خاص وقت میں گجرات تشریف لائیں اور اپنی تسلی کرجائیں۔

مولانا شوکت قلم کے ایسے زبردست ہیں کہ اکیلے بس ہیں بقول سعدیؒ ۔

چو کارے بے فضول من برآید
مرا دروے سخن گفتن نشاید

علاوہ ازیں میں ایک محنت مزدوری کرنے والا آدمی ہوں۔ روزی کے دھندے سے کم فرصت ملتی ہے میں لوگوں کی جیبیں خالی کرا کر تر لقمے سے اتنی محنت مزدوری کی خشک روٹی کو ہزار گنا ترجیح دیتا ہوں۔

اجلہم الآیۃ“ پر میرا پورا پورا ایمان اور یقین ہے۔ اس پر بھی خداوند تعالیٰ کا ہزار احسان اور لاکھ کرم ہے کہ باوجود اس عالمگیر بیماری کے یہ عاجز اب تک صحیح وسالم ہے اور میرے تمام رشتہ دار بھی بفضل خدا سے محفوظ ہیں اور جس موضع کا میں باشندہ ہوں۔ اس کا ہر ایک بشر آج تک بال بال بچا ہوا ہے۔ الحق۔ ”ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم“ چونکہ موت ایک حکم ربی ہے اس کے حضور سر تسلیم خم ہوں۔ طاعون کا خوف سب سے زیادہ مرزا قادیانی کو ہے جو ڈس انفکٹ کرنے کی انگیٹھیوں، فنائل کی بوتلوں وغیرہ سے کام لے رہے ہیں۔

کیا ہے اس سے مجھے سخت صدمہ پہنچا بھلا خداوند تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے پر جس کا ایمان ہے وہ کیونکر کسی ادعائی رسول اور جعلی نبی کے مشن سے ڈر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے مشن کو ابتداء سے لے کر آج تک میں نے دیکھا ہے۔ مرزا قادیانی اور اگنی ہوتری (دیو دھرم کے بانی) ایک ہی پڑاوے کی مٹی ہیں۔ اس کے ثبوت میں رسالہ ہندو میں مرزا قادیانی کے مضامین اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی نے چند صوفیوں کے اقوال کو چھوڑ دیا اور قرآن کی آیات کو توڑ کر ایسے الہاموں کے نام سے نامزد کیا جو پبلک کے سامنے پیش ہوتے رہتے ہیں اور حضرت مولانا روم کے اشعار جن کے حسب الحال ہیں ؎

٢٢٦

صفحہ ٢٤٤
چند دزدی عشر ازام الکتب
تا شود رویت تلوں ہم چو سیب
چند دزدی حرف مردان خدا
تا فروشی دستانی مرحبا
رنگ بر بستہ ترا گلگوں نہ کرد
شاخ بر بستہ ترا عرجوں نہ کرد
عاقبت چوں چادر مرگت رسد
از رخت ایں عشرھا اندر فتد

میں نے عرصہ دراز تک اس نرالے اور انوکھے مشن کی کتابوں کا مطالعہ اور ان کے حال وجال اور اقوال کا موازنہ کیا تو مجھے مولانا روم کے اس مقولہ کی تصدیق کرنا پڑا ؎

ایں نہ مردانند ایں ھا صورت اند
مردہ ناں اند کشتہ شہوت اند

پس میں اس ”لم یلد ولم یولد“ خدا کو چھوڑ اور اس پاک کتاب کے احکام سے جس کی شان میں’لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلف تنزیل من حکیم حمید (فصلت:٤٢)“ ہے منہ موڑ اور اس پاک اور معصوم رسول فداہ ابی وامی سے جس کے شان میں ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ محبت توڑ کر اگر کسی اور جگہ کا رخ کروں تو کیونکر دونوں جہاں کی روسیاہی خرید کروں۔ پس میں خداوند تعالیٰ کی درگاہ میں نہایت عجز ونیازی کے ساتھ دعا مانگتا ہوں کہ جو عقیدہ اپنا اوپر ذکر کر آیا ہوں اسی پر میرا حشر ہو۔

کہ جس جس نے اس عاجز سے مکالمہ کیا ہر ایک پر حق پیش کر دیا مگر بعض کو اس قسم کا ضدی اور ہٹیلا پایا کہ باوجود ان کے لنگڑے عذرات توڑ دینے کے کبھی انہوں نے اپنی رٹ کو نہیں چھوڑا۔ ان پر خداوند تعالیٰ اپنا رحم کرے۔ پس ایسے لوگوں سے ڈرنا سراسر نامردی ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے نہ اس قسم کی صداقت۔ محض مولوی حکیم نور الدین کے چند عارضی فصیح الفاظ ہوتے ہیں۔ جب وہ ختم ہو جاتے ہیں تو دم دبا کر بھاگتے ہیں۔ اور میں آپ کو بھی یہی نصیحت کرتا ہوں ؎

ہان تا سپر نیفگنی از جملۂ فصیح
کور اجزایں مبالغہ مستمسکے نیست

٢٢٧

صفحہ ٢٤٤
دیں لرزد و معرفت کہ سخنہاست سجع گو
بر در سلاح دارد و کس در حصار نیست

٢ ...... مرزا قادیانی کا خروج عظیم فتنہ ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اگر خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسیلمۃ الکذاب نبوت کا دعویٰ نہ کرتا اور ٣٧٨ھ میں حمدان بن قرمط نے اپنے کو حجة اللہ الموعود نہ بنایا ہوتا اور کعبۃ اللہ پر حملہ کر کے کعبہ کا دروازہ نہ ڈھایا ہوتا اور چھیاسی سال تک اپنا فتنہ قائم رکھ کر بالآخر خلیفہ جوہر القائد کے ہاتھ سے فی النار نہ ہوا ہوتا۔ اور اگر شیخ محمد خراسانی نے دسویں صدی میں عیسیٰ موعود کا دعویٰ نہ کیا ہوتا اور حاکم سندھ کے ہاتھ سے قتل نہ ہوا ہوتا۔ اگر المنصور کے زمانہ خلافت میں ابی عیسیٰ اصفہانی مسیح موعود نہ بنا ہوتا اور پھر وہ اور اس کے تمام اصحاب شہر رے میں جدال و قتال کر کے قتل نہ ہوئے ہوتے اور اگر خود ہمارے زمانے میں مہدی سوڈانی پیدا نہ ہوا ہوتا اور انگریزی فوج کے ہاتھوں قتل ہو کر اور پھر مزار اکھڑ کر اس کی ہڈیاں تک رود نیل میں نہ بہائی جاتی تو شاید بعض لوگ یقین کرتے کہ مرزا قادیانی جو اپنے دعوؤں میں منفرد ہے سچا ہے ورنہ کیا معیار ہے کہ گزشتہ دجال تو جھوٹے تھے اور مرزا قادیانی سچے ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ بھی سچے دجال تھے اور مرزا قادیانی بھی ان سے کم نہیں۔

تمام مذکورہ بالا دجالوں نے یہی دعوے کئے ہیں جو مرزا قادیانی نے کئے۔ پس موجودہ زمانہ کا دجال گزشتہ دجالوں کا مقلد اور کاسہ لیس ہے۔ اس میں ذرا بھی جدت نہیں۔ ہاں۔ جدت تو ضرور ہے کہ گزشتہ دجال سوڈان اور عرب میں پیدا ہوئے اور مرزا قادیانی ہندوستان میں، تو جہاں مختلف مذاہب ہیں مرزا قادیانی عیسائیوں کے واسطے آسمانی باپ کے لے پالک بنے اور ہنود کے واسطے بروزی (تناسخی) کلنک اوتار یا کرشن کنہیا کی مورتی بنے۔ مگر وائے حسرت کہ کسی نے ان کے نام کا کتا بھی نہیں پالا۔ گزشتہ دجالوں کی تقلید تو کی مگر یہ نہ دیکھا کہ سوڈان اور عرب کے لوگ ایک ہی قوم اور مذہب کے تھے وہاں دجالوں کی دال گل گئی۔ ہندوستان تو مختلف مذاہب کا سنگم ہے۔ یہاں لوہے کے چنے چبانے معدے کو خرابی میں ڈالنا ہے۔

مرزا قادیانی اپنے مورثوں کی تقلید پر دعوے تو بڑے بڑے کر بیٹھے مگر وہ جذبہ وہ ضبط وہ حوصلہ کہاں سے لائیں مورثوں نے اپنی عیاری سے نقل کو اصل کر دکھایا۔ انہوں نے عام جوش پھیلا دیا۔ اس زمانہ کی گورنمنٹ کو ہلا دیا۔ ہر طرح کا جلالی کرشمہ دکھایا۔ مرزا قادیانی کو جلال کے نام سے جھرلی لگتی ہے۔ گزشتہ دجالوں نے ہر طرح کے سامان سے لیس اور چست اور کیل کانٹے سے

٢٢٨

صفحہ ٢٤٥

ڈریس اور درست ہو کر گورنمنٹ کو بھی ڈانٹ بتائی اور کھلم کھلا جہاد و جدال و قتال کیا مگر مرزا قادیانی کا ضعف اور بزدلی دیکھئے کہ جہاد کے نام سے انہیں لرزہ چڑھتا ہے۔ گورنمنٹ کی غلامی کا بار بار اعلان ان کے مسیح موعود ہونے کی منادی اور نوٹس بلکہ دستاویز ہے۔ گزشتہ دجالوں نے کسی گورنمنٹ کو جوتی کی نوک کے برابر بھی نہ سمجھا اور برٹش گورنمنٹ کی جوتی آپکا تاج ہے۔

جب آپ خدا کی طرف سے امام الزمان اور حجتہ اللہ ہیں اور خدا کا ہاتھ آپ کے سر پر ہے تو کسی کا کیا خوف اور کیا غم۔ ایسی ہی کمزوریوں نے تو مسیحیت اور مہدویت کو خاک میں ملا رکھا ہے۔ آپ خوش قسمتی سے برٹش جیسی آزاد اور آزادی بخش گورنمنٹ کے عہد میں مہدی بنے ہیں۔ کوئی دوسری متعصب گورنمنٹ ہوتی تو مزہ آتا۔

ہم نے جو فتنہ عظیم کا لفظ عنوان میں لکھا ہے تو مراد بالفعل دین اسلام میں فتنہ پیدا کرنا ہے نہ کہ سلطنت کے انتظام یا دنیا کے امن میں خلل ڈالنا۔ کیونکہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ ہاں خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ رفتہ رفتہ ایسا بھی ہو جائے تو کیا عجیب ہے۔ چھوٹی سی چنگاری یا دیا بکس کی تیلی اوائل میں بالکل بے حقیقت ہوتی ہے جس کو جوتی سے رگڑ سکتے ہیں۔ لیکن تھوڑی غفلت میں عالمگیر آگ ہو جاتی ہے۔ جس کا بجھانا انسانی طاقت سے باہر ہو جاتا ہے۔

میرے پاس دولاکھ قلمبند والنٹیر ہیں۔ ہم کہتے ہیں دولاکھ نہیں دس لاکھ ہیں۔ مگر یہ کٹ پتلیاں کس مرض کی دارو ہیں۔ جب کہ اپنے جبروت سے مثل فوج مہدیاں گزشتہ دنیا پر سکہ نہیں جما سکتیں۔ اور بزور تیغ امام الزمان کی مہدویت اور مسیحیت نہیں منوا سکتیں۔ کوئی کیونکر سمجھے کہ آپ مہدی ہیں۔ جب کہ قوت کا کوئی کرشمہ آپ میں نہیں۔ گزشتہ مہدیوں کی پر جلال لائف سے تواریخ بھری ہوئی ہے۔ کوئی مہدی ایسا نہیں گزرا جس نے گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ایک تہلکہ اور انقلاب عظیم پیدا نہ کر دیا ہو۔ اور فرماں روا کو مشکلات اور مہمات میں نہ ڈال دیا ہو۔ اب تواریخ میں قادیانی مہدی کی لائف اور اس کے کارنامے آنے والی نسلوں کے دل میں کیا وقعت پیدا کریں گی کہ قادیانی مسیح گورنمنٹ کا غلام تھا۔ جہاد کے نام سے کانپتا تھا۔ مرزا قادیانی کے کانشنس میں مطلق حرارت نہیں بلکہ جبن نے مہدویت کے انجن کو سرد کر دیا ہے اگر ان کے مورث مہدیاں سابق بھی ایسے ہی ہوتے تو تواریخ میں جلی حرفوں سے ان کی شان میں یہ شعر کیونکر موزوں ہوتا ؎

رستم رہا زمین پہ نہ سام رہ گیا
مردوں کا آسمان کے تلے نام رہ گیا

کسی نبی نے آج تک اپنے کانشنس کے خلاف نہیں کیا کیونکہ ایسا کرنے والا منافق

٢٢٩

صفحہ ٢٤٦

سے حیلہ گر ہے۔ وہ باطن سے دنیا ساز ہے نہ کہ نبی۔ لیکن مرزا قادیانی برابر اپنے کانشنس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ پیشینگوئیاں پوری نہیں ہوئیں مگر اقرار نہیں کرتے اور برابر تاویلیں چھانٹتے رہتے ہیں۔ گورنمنٹ میں بار بار اپنی غلامی کا میموریل بھیجنا اور اپنی خیر خواہی وفاداری مشتہر کرنا ظاہری خوشامد اور زمانہ سازی اور بالکل کانشنس کے خلاف ہے کیونکہ جب آپ مسیح موعود ہیں اور کسر صلیب اور قتل خنازیر کے لئے دنیا میں آئے ہیں تو صلیبی اور خنازیری گورنمنٹ کو کیوں اچھا سمجھنے لگے مگر عصمت بی بی از بے چادری ہے۔ اس میں بالکل شک نہیں کہ اگر آپ کا قابو چلے تو اپنے تمام مخالفوں کو چن چن کر تہ تیغ کر ڈالیں۔

٣ ...... آنحضرت ﷺ کا کسر شان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اپنے جہلاء اور حمقاء میں بیٹھ کر یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ کے زندہ رہنے سے آنحضرت ﷺ کی توہین تھی کہ آپ تو وفات پا جائیں اور عیسیٰ مسیح زندہ رہیں۔ لہٰذا آپ نے ان کو مار ڈالا گویا تمام صحابہ اور محدثین اور مفسرین آج تک آنحضرت ﷺ کی توہین کرتے رہے۔

جاننا چاہئے کہ تمام انبیاء کے خصوصیات ایک دوسرے سے جداگانہ ہیں۔ کسی کو کوئی معجزہ دیا گیا ہے کسی کو کوئی۔ مگر یہ آج ہی سنا کہ خصوصیات کے اعتبار سے ایک نبی کے مقابلے میں دوسرے نبی کی توہین ہوتی ہے۔ اگر تمام انبیاء کو ایک ہی معجزہ دیا جاتا تو بہت سے انبیاء کے بھیجنے کی خدائے تعالیٰ کو کیا ضرورت ہوتی۔ معجزہ جس شے سے عبارت ہے وہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی شان جمال و جلال کا ظہور ہے۔ گویا انبیاء جناب باری کی صفات کمال کے مظہر ہیں۔ مگر اندھوں کو بجز خیالی منارے کے کیا سوجھے۔

جب دنیا میں شرک و کفر ریاء اور انانیت خود سری اور تکبر گمراہی اور الحاد وغیرہ پھیلتا ہے تو یہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی شان جلال و جبروت کا مظہر ہوتا ہے۔ آخر دوزخ کے شکم بھرنے کا بھی تو اس نے وعدہ کیا ہے ”یوم نقول لجہنم ھل امتلئت فتقول ھل من مزید“ چونکہ انبیاء کی صفت انذار اور تبشیر دونوں ہیں تو ان صفات کا وقوع یکے بعد دیگرے ضروری ہے۔ پہلے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے۔ افق پر گھپ اندھیرا چھاتا ہے کانوں کے پردے پھاڑنے والی اور دلوں میں زلزلے ڈالنے والی رعد کڑکتی ہے۔ آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی سی بجلی چمکتی ہے اور پھر باران رحمت کا نزول ہو کر مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ یہی کیفیت انبیاء علیہ السلام کے نازل ہونے کی ہے۔

ظاہر ہے کہ موجودہ زمانہ شرک اور کفر کے طغیان کا ہے اور رفتہ رفتہ اس حد تک پہنچا ہے

٢٣٠

صفحہ ٢٤٧

یعنی ایک دجال کیساتھ بہت سے دجال پیدا ہو گئے ہیں اور ہو رہے ہیں اور اہل اللہ جناب باری میں رات دن الغیاث کر رہے ہیں رورہے ہیں۔ گڑ گڑا رہے ہیں اور یہ شعر پڑھ رہے ہیں ۔

بر خیز کہ شور کفر برخاست
اے فتنہ نشان آفرینش
مگذار کہ پائمال گردیم
زاسیمہ سران آفرینش

پس اب وقت آ پہنچا ہے کہ مہدی آخرالزمان پیدا ہو کر دجالوں کو واصل جہنم کرے۔ اور یہ جلد ہونے والا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کیونکہ نہ صرف انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کسر شان ہو رہا ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی صفات اور آیات کا انکار اور اس کی قدرت کاملہ کی بھی توہین ہو رہی ہے۔ عیسیٰ مسیح کی حیات سے آنحضرت ﷺ کی توہین نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی کے نبی اور خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بننے سے نہ صرف آنحضرت ﷺ بلکہ قرآن کریم اور خود خدائے تعالیٰ کی توہین ہے۔ بے باک بننے سے خدائے وحدہ لاشریک ”لم یلد ولم یولد“ کی توہین ہے۔ تصویروں کے رواج دینے سے توحید الہی کی توہین ہے۔ بروزی بننے اور تناسخ کا قائل ہونے سے مذہب ہنود کی تائید اور مذہب اسلام کی توہین ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ذات اسلام خدائے اسلام کی مجسم توہین ہے۔

آنحضرت ﷺ نے جو عیسیٰ بن مریم کے زندہ ہونے (دوبارہ دنیا میں آنے) کی بشارت دی تو مرزا قادیانی کے نزدیک گویا آپ اپنی توہین کی معاذ اللہ اور مرزا کا یہ دعویٰ کہ عیسیٰ مسیح تو مر گئے ہیں۔ میں مسیح موعود ہوں کیا یہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب وتوہین نہیں۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

٤ ....... آئینہ کمالات قادیانی (ص ٢٨،خزائن ج ٥ ص ٢٨)

لدھیانوی ۔ مطبوعہ بٹالہ!

یاد کن وقتی کہ در کشفم نمودی شکل خویش یا بکن ھم وقت دیگر کامدی مشتاق وار
آنچہ مارا از دو شیخ شوخ آزارے رسید یا رسول اللہ بہ پرس از عالم ذوالاقتدار
نام من دجال و ضال و کافرے بنہادہ اند نیست اندر زعم شان چوں من پلید و زشت و خوار
ہیچکس را بر من مظلوم و غمگین دل نسوخت جز تو کاندر خواب ھا رحمت نمودی بار بار
یاد کن وقتی چو بنمودی بہ بیداری مرا آں جمالے آں رخے آں صورتے رشك بھار

٢٣١

صفحہ ٢٤٨

اس پر ندائے غیب

مرسل یزداں وعیسیٰ نبی اللہ شدی باز خواہی ضال ودجالے نخوانندے حمار
ناصر مرتد چنیں الفاظ دارد برزباں اپنے مرسل کے مدد کرائے خدا لیل ونہار
هیچ ظالم تر نباشد از تو زیر آسمان افترا بندی بذات ایزد ذوالاقتدار
اهل دین بعد از نصیحت کیف آسی خوانده اند مومنی باشد چگونه کافری را غمگسار
عیسیٰ مریم شود آلت قوا زانی چناں مهدی آل محمد چوں شود کس از تتار
گاہ خود را فارسی الاصل نیمودی وگاہ حارثی گشتی ونسبت بھر خود کردی نثار
آنکہ آور دست اخبار از حقیقت بے خبر وآن حقیقت بر تو اے دجال گردید آشکار
شعبدات ولہو وعجل سامری شد معجزات برتراز عیسیٰ نہی خود را زراہ افتخار
امتیاز انبیاء بادیگران ز الہام ووحی وحی خود را خواندہ ہمتاے وحی آن کبار
صاف ثابت شد کہ دعوائے رسالت میکنی نیست ایں پوشیدہ پیش مومنان ہوشیار
من رسولے نیستم کاں جائے دیگر گفتہ ہست رنگ آمیزی دجالی تو برعذار
اے مسیلمہ در رسالت چوں شراکت خواستی چوں منافق ایں شہادت ماترا آید چہ کار
دعویٰ تجدید دیں کردی وگردیدی نبی واں نبوت را بہ لفظ جزء پوشانی خمار
ایں نبوت ناحق خود از کجا آوردۂ چوں نبوت ختم شد بر احمد از پروردگار
بعد ازوے کیست کو یابد نبوت از خدا یافتند ایں منصب ازوے بیشتر صد ہزار
گر محدث ہوئے آں فاروق بودی زیں گروہ بعد ختم الانبیاء حاجت نماند بس زینہار
بعض شاں رفتند وبعض آیندہ آیند ایں ہمہ برخردجالی خود ہم تو یک گشتی سوار
رشتہ انانیت خود باخدا پیوستہ از عبودیت بدل میداری اے ابلیس عار
از غلامی منحرف گشتی وخود احمد شدی تخم احداث تو پسندی برگ کفر آورد بار
گفت روح اللہ بعد از من بود احمد رسول آں رسول احمد منم کردی بعالم اشتہار
اے ستمگر از جلال او از جمال او چہ کاست تاکنندت بھر تبلیغ رسالت اختیار
مصطفی در خواب وبیداریت ننمودست رو کذب میگوئی بلافش جائے خود خواہی نیار
آنکہ تطہیرش نماند حق ز دست کافراں برسر دارش کشی از دست ایشاں دزد وار
برخي از ترسا وقدری آوری از نفس خویش اہل ایماں را یہودی گوئی اے مردار خوار

٢٣٢

صفحہ ٢٤٩
مے ستائی چوں سگ کاف و نون خویش را مید ہی اشراک خلق طیر عیسیٰ را قرار
مصطفیٰ نفی صلیبش کرد و ہم اثبات رفع شاہد تبلیغ وے قرآن بود در ہر دیار
اِنَّ عیسیٰ لم یمت گفت والیکم راجع چوں امام عادلی باجاہ وسلطان ووقار
قول او مطلق مجاز و استعارہ بساختی ایں قدر مغرور گشتی بر حیات مستعار
یا بدل بنہا و کشفت موجب ذلت شدت کردند پیر تو در عالم برآوردت مار
حسب قول ایزدی نزد عباد مخلصین گشتنت عیسیٰ بہ عیسیٰ کشتنت باور مدار
يك گروہ از امت احمد بود انصار دیں تا قیامت منع شاں چیزی ...... انتصار
مرگ عزرائیل و آنہم زیست سلطان ببیں چوں کشیدت روسیاہ وخوار وزار اندر حصار
وہ چہ شوخ و شنگ آمد دخترت جائے پسر میوۂ نورس خوشا با شد بہ کہنہ شاخسار
وائے اے رمال بر رمالی و خرافیت چوں پسر کاری برآمد دخترے زاں کشت زار
ایں قدر خوار و خجل باشی و نازاں ہمچناں بے حیائی تو بیروں باشد از حد شمار
قادیانی ایمن از کید متین حق مباش جانب املیٰ لہم اے ہیچ گوش دل گمار
قادیانی را ز غیب آمد نداہا بارہا سعد با ایں بے سعادت ہیچ نگرفت اعتبار

ازالہ قادیانی ص ٢٩٤

قادیانی تجھے اس بات کا جب ہے اقبال ہے یہ ممکن کہ مسیح آئے پہ اقبال دجال
یہ بھی ممکن ہے کہ ہو جائے نزول اس جا دمشق پھر مسلماں تجھے کیوں نہ کہیں اب دجال
وہ تو موعود نہ ہو اور بنے تو موعود تو معرا ہو سب اوصاف ہوں اس میں موجود
پھر تو مہدی بھی ہو حارث بھی ہو وہ کچھ بھی نہ ہو اس کو تسلیم بھلا کون کرے گا مردود
تجھ کو دعویٰ نبوت بھی ہے جزوی ہی سہی وحی والہام میں پھر کسر نہیں کچھ بھی رہی
میں پیغمبر نہیں اور لایا نہیں کوئی کتاب پردہ داری کے لئے تو نے کہی یہ بات
دخل شیطان سے تری وحی منزہ اور پاک انبیاء سے کہیں بڑھ کر تیرا کشف و ادراک
جو قوم تجھ کو ملے ختم رسل کو نہ ملیں کیوں خدا سے نہیں ڈرتا ارے ملحد بیباک
وحی و الہام سے انجام کے صفحات ہیں پُر کیا کتاب اس کو نہیں کہتے ارے احمق نَر
قادح ختم نبوت ہے اگر وحی مسیح قادیانی ہے تیری وحی مگر گوز شتر

لودیانوی حال وارد پٹیالہ۔ ١٦؍ جولائی ١٩٠٤ء

٢٣٣

صفحہ ٢٥٠

قطعہ تاریخ ولادت دختر قادیانی ملقب بشوخ و شنگ لڑکا

تیئس جون آئی یہ موسم کا حال ہے
راتیں تو بڑھ رہی ہیں دنوں کو زوال ہے
جنگلی ہیں راہ چلتوں کو تکلیف کا سبب
پرنالے خصی اچھے ہیں اب برشکال ہے
مرزا قادیانی ایک بھائی مخنث ہے بن چکا
اب لڑکا لڑکی بن گیا یہ کیا محال ہے
بیٹی نہیں یہ بیٹا ہے دھوکا نہ کھائیے
الہام آپ کا ہو غلط کیا مجال ہے
دھند لا گیا مکاشفہ شاید جناب کا
پے کو الف سمجھ گئے اتنا خیال ہے
کیوں ایسا غم ہے منہ پہ سیاہی ہے چھارہی
بے چین ہورہے ہو طبیعت نڈھال ہے
لڑکا اگر نہ اب کے ہوا لڑکی ہی سہی
بارش سے پہلے آندھی بھی ایک نیک فال ہے
جھنجھلائیے نہ گھر میں عبث جاکے بار بار
رمل آپ ہی کا آپ کی جان کا وبال ہے
پہلے ہی رو رہے تھے ہوا اس پہ اور لگ
کیسی سیاہ روئی علی الاتصال ہے
ہر سال زخم تازہ لگیں دینے لڑکیاں
اور زخم پہلا آپ کا بے اندمال ہے
آیا ہے گھر میں صورت دختر اگر پسر
ہے چونکہ شوخ و شنگ یہ شوخی کی چال ہے
ارحام میں جو کچھ ہے وہ خالق ہے جانتا
قرآن سے قادیانیوں کیوں اعتزال ہے
سعدی ہے لایا قطعۂ تاریخ ماہ سال
یہ لیجئے داد دیجئے اگر کچھ کمال ہے
اعداد جمع کیجئے چوبیس ١٩٠٤ء جون اور
دختر نما پسر کے یہ جننے کا سال ہے

ایضاً دیگر

لڑکی کو حیف مرزا تو کرسکا نہ لڑکا
رمل و نجوم حیلہ کیا کچھ نہیں کیا ہے
بک دیجئے پیشینگوئی پوری ہوئی ہماری
کیوں منہ میں گھنگھنیاں ہیں ہونٹوں کو کیوں سیا ہے
ہے گرچہ روسیاہی جیتی رہے خدایا
لڑکا بشیر بھی تو آیا تھا کیا جیا ہے
معجونیں اور مربے حلوائے ریگ ماہی
پھر نو مہینے کیسا خون جگر پیا ہے
سال ولادت اس کا گر آپ چاہتے ہیں
وہ نوٹ بک میں ہم نے تحریر کرلیا ہے
سعدی یہی ہے معلم اس کی سنو ادب سے
اک شوخ و شنگ لڑکا لڑکی بنا دیا ہے
دختر نما پسر اور چوبیس جون ١٩٠٤ء اس میں
تاریخ و سال و خوبی سب کچھ دکھا دیا ہے

ایڈیٹر....... واہ مولانا سعدی کیا کہنا ہے آپ پر فیضان روح القدس کا نزول ہے چشم بد دور۔

٢٣٤٢

صفحہ ٢٥١

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم اگست کے شمارہ نمبر ٢٩ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی انبیاء کی مجسم توہین ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

آریا کیوں برے ہیں اس لئے کہ بے ادب گستاخ اور انبیاء کی توہین کرتے ہیں۔ دھریے کیوں برے ہیں۔ اس لئے کہ نہ صرف انبیاء اور ان کے معجزات بلکہ ذات الٰہی کے بھی منکر ہیں۔ عیسائی اہل اسلام کے نزدیک کیوں برے ہیں۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کو برا کہتے ہیں اور قرآن کو کلام خدا نہیں سمجھتے۔ وہ تعصب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام ان کا سچا محسن اور شفیق مصلح ہے جو انسان پرستی اور تین خداؤں کے ماننے سے روکتا ہے اور ایک ہی خدا کی عبادت سکھاتا ہے جس نے عیسیٰ کو کلمۃ اللہ بنایا اور عصمت مریم کی شہادت دی جس کے یہود منکر تھے۔ آنحضرت ﷺ نے تمام انبیاء کی عموماً اور مسیح علیہ السلام کی خصوصاً جو عظمت کی ہے اور دنیا کو ان کی عظمت کرنے کی تعلیم دی ہے کوئی عیسائی کوئی چپلین، کوئی قسیس کوئی اسقف ایسی تعظیم نہیں کر سکتا نہ ایسی تعظیم اپنے حواریوں اور معتقدوں کو سکھا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے انصاف سے چشم پوشی کی اور تعصب کی راہ لی۔ مرزا قادیانی نے یہودی بن کر عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو برا بھلا کہا۔ عیسائیوں نے اس کے جواب میں اسلام اور پیغمبر اسلام اور خدائے اسلام کو گالیاں دیں۔

فرمائیے یہودیوں اور مرزائیوں میں کیا فرق رہا؟ گویا مرزا قادیانی ہی بالواسطہ آنحضرت ﷺ کی توہین کرنے والے ٹھہرے۔ مرزا قادیانی تو اپنے ہم پیشہ اور ملعون مورثوں (گزشتہ مکار مہدیوں) کی تقلید سے بھی منحرف اور مرتد ہو گئے۔ کیونکہ ان میں سے کسی نے انبیاء کو

٢٣٥

صفحہ ٢٥٢

گالیاں نہیں دیں وہ ایسے احمق نہ تھے کہ اپنے ہاتھوں اپنی جڑ کاٹتے کیونکہ وہ بھی انبیاء کی مثیل بنے تھے۔ مرزا قادیانی کو شامت جو دھکا دیتی ہے تو مثیل مسیح نے پھر کور نمکی اختیار کر کے مسیح ہی کو گالیاں دیں۔ کھوسٹ آسمانی باپ نے لایعنی اور مغز سر گوشیاں اور برباد کرنے والے الہامات کر کے حسرتوں کا خون کر دیا۔

بت پرست ہنود بھی انبیاء کی توہین نہیں کرتے بلکہ ان کو مانتے ہیں یہاں تک کہ اکثر مشائخ کے پاس آتے ہیں۔ بیماروں کے لئے تعویذ وغیرہ لے جاتے ہیں۔ ان کا دم کیا ہوا جھوٹا پانی اپنے مریضوں کو پلاتے ہیں۔ ان کی اس خوش عقیدتی کو دیکھئے کہ چھوت چھات کی پابندی کو بھی جو مذہب ہنود کا جزو اعظم ہے طاق پر رکھ دیتے ہیں۔ بیشتر شہروں کی مساجد کے دروازوں پر ہنود اپنے برتنوں میں پانی لئے مغرب کے وقت کھڑے رہتے ہیں اور جو نمازی مسجد سے نکلتا ہے اس سے پانی پر دم کرا کر اپنے مریضوں کو پلاتے ہیں۔ علیٰ ہذا جن امور کو اکثر مسلمان معظم سمجھتے ہیں ہنود بھی ان کو معظم سمجھتے بلکہ ان میں شامل ہوتے ہیں۔ ہنود تمام انبیاء کو ضرور اوتار سمجھتے ہیں۔

ایک مرزا قادیانی ہیں کہ باوصف دعویٰ مسلمانی بعض انبیاء علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتے ہیں اور جو صفات ان کو خدائے تعالیٰ نے عطا کیں ان کا انکار کرتے ہیں۔

مذاہب غیر والے جو مذہب اسلام کے اصول اور اس کی خوبیوں سے ناواقف ہیں۔ جب مرزا قادیانی کے خوارق اور پاکھنڈ دیکھتے ہیں تو یہی یقین کرتے ہیں کہ تمام انبیاء کے بھی ایسے خوارق ہوں گے جو مرزا قادیانی کے ہیں اور جس طرح چند خود غرض دنیا پرست چیلے یا حمقاء مرزا قادیانی کے ساتھ ہوئے ہیں اور لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونکتے پھرتے ہیں۔ انبیاء اور ان کے حواری کے بھی یہی افعال ہوں گے۔ معاذ اللہ۔ حاشا للہ ہم نے اس لئے عنوان میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء علیہم السلام کی مجسم توہین ہیں۔

مرزا قادیانی نے دنیا کے ٹھگنے کو بھی کچھ جتن کئے۔ تمام نبیوں اور تمام اوتاروں کے نقال بنے۔ مسیح موعود بھی ہیں مہدی بھی ہیں۔ کلجگ اوتار (بروزی) بھی ہیں۔ امام حسینؓ سے بھی افضل ہیں۔ اولیاء اللہ کی تو حقیقت ہی نہیں۔ الغرض تمام برگزیدہ انسانوں کی وقعت مٹانی چاہی۔ مگر خود اپنی ہی وقعت کو بے گور و کفن ذلت کے گڑھے میں ڈال دیا۔ یہ وہی ادبار ہے کہ مارے مارے پھرتے ہیں۔ وکیلوں اور اہلکاروں کے سامنے ماتھا رگڑتے ہیں ناک اور ایڑیاں رگڑتے ہیں۔ عدالت بھی خوب جنتری میں سے آپ کے بل نکال رہی ہے۔ عدالت کو آپ کے خدائی دعوے اچھی طرح معلوم ہیں۔ اب ہر فرعونے را موسے کا کرشمہ نظر آ رہا ہے۔ بروزیت اور مسیحیت کے

٢٤٦

صفحہ ٢٥٣

پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔ نوگرفتار پنجرے کی ٹوٹی ہوئی تیلیوں سے باہر ہو رہے ہیں۔ چندہ بھی کوئی نہیں دیتا۔ لوگوں کی چندیا پہلے ہی گنجی ہو گئی ہے۔ اب تو ام المرزائیں وغیرہا کا زیور مرصع بجواہرات اور سادہ لوحوں سے لوٹ کھسوٹ کا جمع کیا ہوا گڑا دبا خزانہ ضرور ہی نکالنا اور مقوی اور جند بیدستر کی معجونیں اگلنی پڑیں گی۔ بہت پھولی پھولی کھا رہے تھے۔ اب عدالت کے اڑگڑے میں آئے دال کا بھاؤ معلوم ہوگا۔ ہم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ حالت دیکھ کر اکثر گاڑھے اور پکے چیلوں کی ارادت و عقیدت کا لنگوٹا کھل گیا ہے اور ان پر مسیحیت و بروزیت کی حقیقت آشکارا ہو گئی ہے۔ مگر چونکہ قول نہیں بلکہ ایمان تک ہار چکے ہیں۔ لہٰذا مجبور ہوکر سر دست قادیان میں دھرنا دیئے پڑے ہیں اور منتظر ہیں کہ کوئی دم میں مرلیا باجے گی۔

مرزا قادیانی کا برزخ اس وقت قابل دید ہوتا ہے جب پیشی کے وقت چپڑاسی آواز دیتا ہے کہ غلام احمد قادیانی ہاجر (حاضر) اور مرزا قادیانی کو سن کر دھڑکن پیدا ہوتی ہے۔ بھاگم بھاگ پشتم پشتم جاتے ہیں۔ توند ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ ازار بند کھسک پڑتا ہے۔ سانس پھول جاتی ہے اور پھر ملزموں کے کٹہرے میں پہنچ کر کمان کی طرح دوہرے ہوکر سر جھکا کر ایڑیاں مل کر عدالت کو دوہتا سلام اور زمین دوز مجرے بجالاتے ہیں اور عدالت بھی جواب میں ایک مکھی سی اڑا دیتی ہے۔ عبرت عبرت ۔ یہ کیا ہے وہی توہین انبیاء و اولیاء و کبراء و علماء و مشائخ کا ادبار ہے اور ابھی کیا ہے ذرا دیکھئے بروزیت اور مسیحیت کی پھوٹی قسمت میں کیا کیا لکھا ہے۔ مقربانِ الٰہی اور برگزیدگان خدا کی توہین کھیل نہیں۔

لے پالک تو اپنے چیلوں کو یہ جھانسا دے رہا ہے کہ جلدی نہ کرو۔ آسمانی باپ کا نشان ظاہر ہوگا اور اندر مصالحت کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ لیٹ لیٹ کر اور زمین پر گھٹنے ٹیک کر معافی مانگنے کا تہیہ کیا جاتا ہے، نوٹسیں شائع ہوتی ہیں کہ کسی طرح آسمانی باپ کا نشان ظاہر ہو اور اس عرصہ میں جو گہرا گھاؤ پڑ گیا ہے اور پلاستر بگڑ گیا ہے۔ کسی طرح ان کا اندمال ہو۔ مگر میرا شیر کرم الدین ایک بھی نہیں مانتا۔ وہ یہ کہتا ہے کہ ایک مرتبہ یہیں اور دوسری مرتبہ گولڑہ جا کر مسیحیت و مہدویت سے توبہ کرو۔ اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر کے تجدید ایمان کرو اور افتراء علی اللہ سے باز آؤ اور شوکت اللہ القہار کو سجدہ مانو اور سب سے معافی مانگو۔ مگر یہ کیونکر ممکن ہے ناک کٹتی ہے اور تر لقمے ہاتھ سے جاتے ہیں۔ مسیحیت و مہدویت رخصت ہوتی ہے اور قمار خانے میں تین کانے رہے جاتے ہیں اور عدالت زبانِ حال سے یہ کہتی ہے کہ بچہ جی آسمانی بادشاہی کے وارث

٢٣٧

صفحہ ٢٥٢

بن کر لوگوں کو بہت دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب آئے ہو لپیٹے پر۔ بھگتنے بھگتنے پلیتھن نہ نکل جائے اور بروزیت کا براز نکل نہ پڑے تو کبھی کہنا۔ ذرا تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو۔ جان جوکھوں تو ہے نہیں ہاں کایا کشٹ ضرور ہے اس لئے مقدمات کا شیوہ رہا ہے جب تک خوب توہین اور ذلت نہ ہو چکے گی اور انبیاء اور اہل اللہ کی توہین کی قرار واقعی سزا نہ مل لے گی۔ اور خود مرزائیوں کی نظر میں مرزا قادیانی ذلیل نہ ہولیں گے اور وہ ان کو چھوڑ کر اپنی راہ نہ لیں گے۔ اس وقت تک مصائب کی کالی گھٹاؤں کا سر سے ٹلنا اور مقدمات سے رہائی پانا غیر ممکن۔ مجدد اعظم قدس سرہ کی پیشینگوئی آب زر سے لکھ لیجئے یہ ضرور پوری ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ (من اهان الانبیاء والاولیاء اهانه الله ) عدالتوں کو خدائے تعالیٰ سب سے زیادہ عقل دیتا ہے ان کو قدرت الٰہی حدس اور کشف عطا کرتی ہے انصاف کے لئے ۔ ان پر الہام ہو جاتا ہے وہ سوسائٹی کی موجودہ حالت اور طبائع سے خوب واقف ہوتی ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ کوئی عدالت جب کسی ملزم کو سزا دیتی ہے تو صرف ثبوت الزام ہی کو اپنا نصب العین نہیں بناتی بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ فلاں کیس کے فیصل ہونے سے سوسائٹی پر کیا اثر پڑے گا۔

اب خیال کرنا چاہئے کہ نہ صرف برٹش حکام جن کو خدائے تعالیٰ نے بڑی عقل اور دماغ عطا کیا ہے۔ بلکہ ہر شخص جس کو کچھ بھی عقل ہے یہی کہے گا کہ مرزا قادیانی نے محض دنیا طلبی کے لئے مکر اور زور کی دکان کھول رکھی ہے۔ اور نری شیخی اور تعلی جتا کر اپنے کو نبی بنا رکھا ہے۔ کبھی بندگان خدا پر موت کی دھونسیں ۔ کبھی کرامت اور معجزات کا دعویٰ کبھی اپنے کو بڑا بنانے کے لئے تمام مذاہب کے بزرگوں پر سب ولعن کیا حکام وقت اور خود گورنمنٹ یہ باتیں نہیں سمجھتی کہ یہ کھلی طمع نفسی اور ٹھگی ہی نہیں بلکہ تخویف بھی ہے جس کے ساتھ مذاہب میں اشتعال پیدا ہو کر فساد کا بھی اندیشہ ہے پس اس کی روک تھام ضروری ہے اور پہلا انسداد یہ ہے کہ اس مکار اور عیار کو جہاں تک ممکن ہو ذلیل کیا جائے اور دنیا کو دکھا دیا جائے کہ یہ جھوٹا ہے۔ اس کی پیشین گوئیاں غلط ہیں۔ یہ ویسا ہی نجومی اور رمال ہے اور ساحر بچہ ہے۔ جیسے پنجاب میں بہت سے رمال قلمدان اور قرعہ ہاتھ میں لئے اور دھوکے دے دے کر سادہ لوحوں سے پیسے اور ٹکے سیدھے کرتے پھرتے ہیں ورنہ لائیبل کیس کیا ہوا طومار یا شیطان کی آنت ہوا جس کو تقریباً دو سال ہو گئے کہ فیصل ہونے میں ہی نہیں آتا۔ نہ صرف ماتحت عدالتوں بلکہ چیف کورٹ کے دیوانی مقدمات بھی مات ہوگئے۔ دو دو برس تک وہاں بھی مقدمات کا غبار نہیں اٹھتا۔ پس اس حکمت عملی سے صاف ظاہر ہے کہ مقدمات کے تصفیہ میں جس قدر دیر ہوگی۔ اسی قدر مرزا قادیانی کے شعبدات یا بدنفسی کا اثر کم ہوگا۔ خود ٢٣٨

صفحہ ٢٥٥

مریدوں کے دلوں سے ان کی وقعت جاتی رہے گی۔ پس ہم خدا سے چاہتے ہیں کہ اور دیر ہو اور جو ذلت مقدر ہے وہ پوری ہو جائے۔

عدالت کا عندیہ کسی کو معلوم نہیں کیونکہ انصاف کے پاؤں روئی یا ربڑ کے ہوتے ہیں جن کی آہٹ معلوم نہیں مگر انصاف کا پنجہ گویا فولاد کا ہوتا ہے جس کی گرفت سے بچنا محال ہے۔ اگر مرزا قادیانی بری بھی ہو گئے تاہم جو سزا ان کو اس وقت مل رہی ہے عبرت کے لئے کافی ہے۔ اور اس سے بھی بندگان خدا کو فائدہ ہی پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ عدالت کی نیت پر کوئی حملہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ کر رہی ہے انصاف ہے۔ اور جو کچھ کرے گی وہ انصاف ہی ہوگا۔

٢ ....... مرزائیوں کے کرتوت

محمد لکھنوی کوئٹہ!

مولوی محمد صاحب اہلحدیث لکھنوی جو ایک عالم باخدا ہیں اور عرصہ دراز تک گجرات پنجاب کے مسلمانوں کو اپنے علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے مستفیض کرتے رہے ہیں۔ اب چند مدت سے کوئٹہ میں اقامت پذیر ہیں۔ جب اول اول قادیانی صاحب نے موعود مسیح کا دعویٰ کیا اور الہاموں وغیرہ کی سوجھی تو مولوی صاحب نے اس مشن کی حقیقت سے مسلمانوں کو خوب واقف کر دیا اور گجرات میں بھی تین چار دفعہ ایسے پراثر وعظ کئے کہ گجرات کے لوگ اس مشن کی لگی لپٹی سے پورے پورے آگاہ ہو گئے۔ یہی باعث ہے کہ تاحال گجرات کا کوئی سمجھ دار آدمی اس ادعائی مشن کو اچھا نہیں سمجھتا۔ آج کل قادیانی کے دو تین مریدوں نے گجرات میں یہ بہتان اڑانا شروع کیا کہ مولوی محمد صاحب موصوف بھی مرزائی ہو گئے ہیں۔ چنانچہ الٰہی بخش کتب فروش مرزائی نے اس بارے میں ان کو ایک دل آزار خط بھی تحریر کیا۔

کسی راست باز عالم باعمل مسلمان کو جس کا ایمان اور یقین اللہ جل شانہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے پر ہے۔ یہ کہنا کہ تم مرزائی ہو گئے دوسرے الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ گویا تم آنحضرت ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی اور شخص کی نبوت پر ایمان لائے۔

اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسے الفاظ اس مسلمان کی دل آزاری کا موجب نہ ہوں گے مگر یہ مرزائی خدا کے بندے ان الفاظ کو معمولی بلکہ اپنے مشن کے فرض کا ادا کرنا جانتے ہیں۔

مولوی صاحب نے اس خط کا جو جواب دیا قابل دید ہے۔ اس لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔

٢٣٩

صفحہ ٢٥٦

(نقل جواب جو ان کو لکھا گیا وہ جوابی کارڈ تھا تاکہ تحقیق کریں کہ کچھ اور کا کچھ اور مشہور نہ کریں)

مکرم مولوی الٰہی بخش صاحب ...... مزاج شریف۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جناب نے مسیح موعود قادیانی کو قبول فرما لیا۔ مسیح موعود قادیانی تو کوئی شخص نہیں جس کو شرعاً ہم کو ماننا پڑے۔ ہاں مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ زمیندار قادیان مدعی ہیں کہ میں مسیح موعود یا مثیل موعود ہوں۔ مگر یہ دعویٰ بلا دلیل ہے کیونکہ مسیح موعود دو شخص ہیں مسیح الدجال ۔ مسیح عیسیٰ بن مریم اول تو نہیں ہے۔ اس واسطے کہ اعور نہیں ...... الخ۔ اور نہ ک ف ر کا سکہ مابین آنکھوں کے رکھتا ہے۔ تاکہ دلیل بین ہو کہ یہ وہی ہے۔ رہا دوسرا تو وہ بھی نہیں ہے کیونکہ مثیل دو قسم کا ہوتا ہے۔ اسمی اور وصفی۔ اسمی تو اس واسطے نہیں کہ مدعی کا نام عیسیٰ نہیں ہے اور نہ اس کی والدہ مرحومہ کا نام مریم تھا اور نہ بے باپ پیدا ہوا ہے بلکہ والد ماجد ان کے مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم معزز زمینداران قادیان سے گزرے ہیں۔

اور وصفی اس واسطے نہیں ہے کہ وصف خلق طیر، ابراء اکمہ وابرص۔ احیاء موتے۔ انبا بماتدخرون۔ حسب منطوق آیہ ”انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم الی اخرھا“ سے بے نصیب ہے۔ میرے نزدیک مرزا قادیانی حسب ارشاد نبوی منجملہ دجاجلہ کذابین موعودین سے ہیں۔ دیکھو حدیث صحیح ”قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى ينبعث كذابون دجالون قريباً من ثلاثين ( ترمذی ص ٤٥ ج ٢)“ (ربنا لا تجعلنا منهم ولا ممن تبعہم آمین)

خادم الاسلام محمد لکھنوی از کوئٹہ بلوچستان محلہ غریب آباد۔ ١٤؍ جمادی الاول ١٣٢٢ھ

٣ ...... مرزائیت سے توبہ

پیسہ اخبار لکھتا ہے کہ شیخ محمد عظیم کلرک پوسٹل ڈیپارٹمنٹ مرزائی دین سے دست بردار ہو کر از سر نو دین اسلام میں داخل ہوئے مرزا قادیانی کی مسیحیت ومہدیت کے بارہ میں شیخ محمد عظیم صاحب کے خیالات حسب ذیل ہیں۔

مرزا قادیانی مسیح ہیں مگر مرض کو بڑھائے ہوئے ہیں۔ مجدد ہیں مگر مقدمہ باز ، جھگڑالو۔ مہدی ہیں مگر نور ہدایت سے پس افتادہ، ملہم ہیں مگر اشاعت الہامات سے معاش حاصل کرنے والے اس پر اردو اخبار حاشیہ چڑھاتا ہے۔ واہ شیخ صاحب واہ آپ نے ہمارے مقدس مآب مرزا قادیانی پر خوب زہر اگلا ہے۔ جب آپ حضور انور کے زمرہ مریدان میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت تو جو

٢٤٠

صفحہ ٢٥٧

سمجھتے تھے آپ کے خیال میں مرزا قادیانی ہی تھے۔ یہ بے وفائی اور طوطا چشمی اچھی نہیں۔ ہم کو افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو ایک مرید کی کمی سے رنج ہوا ہوگا۔ لیکن کیا پرواہ عنقریب بہت سے مرید اور ہو جائیں گے۔ تعجب تو یہ ہے کہ بعض متعصب ایڈیٹران اخبار مرزا صاحب کو مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے۔

جب تک دنیا میں جہالت ہے نئی رسالت اور نبوت کے مدعی پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور جدید سے جدید مذاہب کا دور دورہ رہے گا۔ البتہ جہالت کے اختتام پر ہادی برحق ہوگا اس کے بعد کسی پیغمبر کی ضرورت نہ رہے گی۔

ایڈیٹر..... علیٰ ہذا غازی پور میں وہاں کے بعض علماء کی تلقین سے مرزائیوں کی جماعت کی جماعت تائب ہو کر ازسرنو مشرف بہ اسلام ہوئی۔ جیسا کہ کرزن گزٹ سے معلوم ہوا۔ اگر شہروں اور قصبوں کے علماء چاہیں تو تمام گردباد کا یہ طلسم دم کے دم میں اپنی مسیحائی سے توڑ پھوڑ کر سرد کر سکتے ہیں۔

٤....... وہی حیات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

حیات مسیح علیہ السلام بڑے بڑے دلائل باہرہ و براہین ظاہرہ یعنی قرآن وحدیث کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور ہم اپنے بیسیوں مضامین میں مختلف پیرایوں سے ثابت کر چکے ہیں مگر مرزا اور مرزائی کب ماننے والے ہیں وہ تو حیات مسیح کے ثبوت کو بھی اپنی موت سمجھتے ہیں۔ یعنی ادھر مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت ہوئی ادھر بروزیت وموعودیت فی النار ہوگئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ مسیح کو مردہ سمجھنا ہی مجھے زندہ مسیح یقین کر لینا ہے اور مجھ پر ایمان لانا ہے۔ حالانکہ جس طرح ممات مسیح اور موعودیت میں کوئی لزوم نہیں۔ اسی طرح ممات مسیح کے قائل ہونے اور مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لینے میں بھی کوئی لزوم نہیں۔ کیونکہ لاکھوں آدمی جو حیات مسیح کو نہیں مانتے کیا وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں؟ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ اپنا دل خوش کرو اور فقط گھر میں ام المرزائین کا نام بہو بیگم رکھ لو۔

آیہ ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله......الخ (النساء:١٥٧، ١٥٨)“ کے بعد ہی جناب باری فرماتا ہے ”و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (ایضاً: ١٥٩)“ یعنی ہر ایک اہل کتاب عیسیٰ مسیح پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ اس سے یہی ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور جب دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو تمام اہل کتاب ان پر

٢٤١

صفحہ ٢٥٨

ایمان لائیں گے۔ حیات مسیح تو جناب باری نے بل رفعہ اللہ سے ثابت کر دی۔ اب اس آیت سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ اہل کتاب جو شک میں پڑے ہیں۔ اور اختلاف کر رہے ہیں جب مسیح دنیا میں دوبارہ آئیں گے تو خود اختلاف کرنے والے ان پر ایمان لائیں گے اور اختلاف مٹ جائیں گے۔ سبحان اللہ مسیح کی حیات اور ان کے دوبارہ آنے کا کس قدر صاف اور صریح ثبوت ہے مگر مرزا قادیانی جعلی مسیح بننے کے لئے محض خود غرضی سے کتاب وسنت کا انکار کر کے مذہب اسلام سے مرتد ہو رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ نون ثقیلہ استقبال کے لئے آتا ہے جو لیؤمنن میں موجود ہے۔ آپ اس کے معنی حال کے لیتے ہیں جب ایجاد بندہ ہی ٹھہرا تو ماضی کے معنی کیوں نہیں لیتے تاکہ دعوے کی کل پوری پوری بیٹھ جائے۔ آپ کہتے ہیں کہ لیؤمنن بہ میں بہ کی ضمیر قتل اور صلب کی جانب ہے جو وما قتلوہ وما صلبوہ میں موجود ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس صورت میں بہما ہونا چاہئے۔ کیونکہ قتل اور شے ہے اور صلب اور شے اور خدائے تعالیٰ نے بھی دونوں کا جدا جدا ذکر فرمایا ہے۔ پھر قتل اور صلب کیا ایسی چیزیں ہیں جن پر ایمان لایا جائے اگر کہو کہ عیسیٰ کے مصلوب ہونے اور نیز صلیب پر عیسائی ایمان رکھتے ہیں تو اولاً یہود اس سے خارج ہو گئے۔ جن کے لئے مسیح کا قتل جزو ایمان نہیں اگرچہ وہ قاتل ہوں۔

دوم....... مسلمان خارج ہو گئے جو عیسیٰ مسیح کی حیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ حالانکہ آیت میں صرف اہل کتاب وارد ہوا ہے اور جو معنی جمہور مفسرین بیان کرتے ہیں ان میں کوئی خرابی اور غبار نہیں۔ پھر مرزا قادیانی اپنا مطلوب بٹھانے کے لئے موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی جانب پھیرتے ہیں کہ تمام اہل کتاب مسیح کی موت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس پر یہ شبہ وارد ہوگا کہ امت محمدیہ کیوں ایمان نہیں رکھتی اور قتل وصلب مسیح مسلمانوں کے لئے کیوں جزو ایمان نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ امت محمدیہ کے لئے بھی ضرور جزو ایمان ہونا چاہئے تو یہود اور نصاریٰ میں اہل اسلام بھی داخل ہوں گے۔ جس طرح مرزا اور مرزائی قتل اور صلب پر ایمان لا کر عیسائی اور یہودی بن گئے ہیں۔ اتنا فرق ہے کہ یہودیوں کو جس طرح عیسیٰ مسیح سے ضد ہے۔ اسی طرح مرزائیوں کو ضد ہے۔ مگر عیسائی جس طرح عیسیٰ مسیح پر ایمان رکھتے ہیں۔ مرزا اور مرزائی نہیں رکھتے۔ کیونکہ اس سے ان کی اپنی بنیاد اکھڑتی ہے۔ اگر کہو کہ محض قتل اور صلیب پر ہمارا ایمان نہیں بلکہ مشبہ بالمصلوب ہونے اور پھر طبعی موت سے عیسیٰ مسیح کے مرنے پر ایمان ہے تو یہ بتاؤ کیا خدائے تعالیٰ نے کہیں حکم دیا ہے کہ عیسیٰ کے مشبہ بالمصلوب ہونے اور پھر طبعی موت سے مرنے پر ایمان لانا ضرور ہے۔

٢٣٢

صفحہ ٢٥٩

مرزا قادیانی تو ہر دم موت ہی موت پکارتے ہیں۔ مکھی اور مچھر کتے اور سور کی موت پر بھی ان کا ایمان ہے گویا موت ان کی معبود ہے۔ موت ہی نے ان کو آسمانی باپ کا لے پالک بنایا ہے۔ طاعون بھی موت ہی ہے اگر طاعون نہ آتا تو مرزا قادیانی کا موعود بننا محال تھا۔ ہاں حیات پر ایمان نہیں۔ خواہ کسی کی حیات ہو گویا خدائے تعالیٰ کے حی ہونے پر تو ایمان نہیں ممیت ہونے پر ایمان ہے۔ ”یؤمن ببعض یکفر ببعض“ پھر بہ کی ضمیر خواہ قتل اور صلب کی جانب پھیری جائے خواہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی جانب دونوں صورتوں میں قبل موتہ محل حشو اور بے کار ٹھہرتا ہے۔ ”تعالیٰ الله عن ذالك علواً کبیراً“ کیونکہ مرزا قادیانی کے مفید مطلب تو صرف اتنی بات ہے کہ اہل کتاب مسیح کے قتل وصلب پر ایمان رکھتے ہیں۔ قبل موتہ نے مرزا اور مرزائیوں کے خرمن امید پر برق اجل گرا دی۔ اب طرح طرح کی تاویلیں ہیں رنگ برنگ کے حیلے بہانے ہیں مگر ایک پیش نہیں جاتی۔ موت بہر نہج قسمت میں لکھی ہے۔ اس کے آثار عیاں ہیں ماشاء اللہ اور یہی مرزا قادیانی کی محبوب اور مطلوب بلکہ معبود ہے۔ بیٹھے اٹھتے ، سوتے جاگتے ، بکتے موتے موت ہی نظر آتی ہے۔ چشم ما روشن دل ما شاد۔

واضح ہو کہ قتل اور صلب کوئی ایسا امر اہم نہیں جس پر ایمان لایا جائے کیونکہ دنیا میں ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ عیسیٰ مسیح کا زندہ رہنا اہم واقعہ اور قدرت الہی کے معجزات سے ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء: ١٥٩)“ کی شان نظم و سیاق وسباق ملاحظہ کیجئے۔ جملہ استثنائیہ پھر لام تاکید با نون تاکید ثقیلہ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ قتل اور صلب کی جانب ضمیر نہیں بلکہ مہتم بالشان مشار الیہ یعنی عیسیٰ مسیح کی جانب ہے جو زندہ ہیں۔ خدا کرے مرزا اور مرزائی ہمارا مدلل اور نازک مضمون سمجھ سکیں جس کی ہم کو امید نہیں۔

٥ ...... مرزائیوں سے سوال

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ؒ

آیہ ”ولن تجد لسنة الله تبدیلا“ دنیا ہی کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے اگر ہمیشہ کے لئے ہے تو احیاء اموات وغیرہ معجزات انبیاء کیوں خلاف سنت اللہ ہیں اور اگر دنیا ہی کے لئے ہے تو کیا وجہ ہے کہ دنیا میں تو خدائے تعالیٰ احیاء اموات پر قادر نہیں اور قیامت میں قادر ہو جائے گا۔ یہ ہم نے اس لئے لکھا کہ مرزا قادیانی اور ان کے ہم خیال نئی روشنی والے حضرت

٢٣٣

صفحہ ٢٦٠

ابراہیم علیہ السلام کے سوال کیف تحیی الموتیٰ کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ سوال قیامت میں مردوں کے زندہ کرنے کی نسبت ہے نہ کہ دنیا میں۔ جو سنت اللہ کے خلاف ہے۔ اس سوال کا جواب دو اور دس روپے انعام پھٹکارو۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٨؍ اگست کے شمارہ نمبر ٣٠ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... دس کا ایک رہ جانا معجزہ نہیں تو کیا ہے؟

امام الدین۔ لاہور!

روزنامہ پیسہ اخبار مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٠٤ء ص ٤ کالم دوئم میں مراسلہ نویس نے مرزا قادیانی کے بیانات اور عدالت پر ایک لطیفہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے عدالت میں اس وقت اپنی عمر ٦٥ برس کی لکھائی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود اپنی کتاب (اعجاز احمدی کے ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩) میں لکھتے ہیں کہ: ”عبداللہ آتھم کے مباحثہ کے وقت آپ کی عمر ٦٤ سال کی تھی۔“ جس کو اب پورے دس برس گزر چکے ہیں۔ پس آپ کی تحریر مندرجہ اعجاز احمدی اور عدالت کے بیان کے مطابق دس برس کے بعد آپ کی عمر فقط ایک سال بڑھی۔ پیسہ اخبار میں اس لطیفہ کے پڑھنے سے مرزا قادیانی کی نسبت چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔

ہمارے کرم فرما میاں علی محمد روغن فروش محلہ سادھواں کی دکان پر دو تین مرزائیوں نے اخبار پڑھا، زبان سے تو کچھ نہ کہا مگر ان کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے اس بیان سے واقعی نادم ہیں۔ الغرض کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ سمجھتا ہے مگر امر واقعی اور حق یہی ہے کہ پبلک میں اس وقت ایسی روشنی کے زمانہ میں کوئی بھی سمجھنے والا نہیں رہا۔ یہی باعث ہے کہ مرزا قادیانی صاحب کی بات کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ افسوس ہم کریں تو کیا کریں کس کو سمجھائیں۔ کس کا سر

٢٣٣

صفحہ ٢٦١

پاؤں میں دے ماریں۔ خود مرزائی بھی مرزا قادیانی کی بات کو نہیں سمجھتے۔ ناحق ندامت اٹھاتے اور رسوا ہوتے ہیں امر لاچاری دیکھتے بارہ اور بارہ چوبیس ٢٤ برس گزر گئے کہ مرزا قادیانی پبلک کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے مگر پبلک میں سے کوئی نہ سمجھا۔

تاویلات کا سلسلہ مرزا قادیانی سے ہی شروع ہوا ہے اور آپ ہی اس علم کے موجد ہیں کوئی قدردان ہوتا تو قدر کرتا فرمایئے پبلک نے کیا قدر کی یہی نہ کہ عدالت میں چار چار گھنٹہ لگا تار کھڑے ہونا پڑا اور روپیہ کی زیر باری علیحدہ، عبداللہ آتھم کے وقت آپ نے کیا جھوٹ بولا تھا۔ پیشین گوئی گو پوری نہ ہوئی تھی مگر تاویل نے پوری کردی۔ پبلک نے ہی غلطی کھائی کہ اصل بات اس کی سمجھ میں نہ آئی ناحق دہائی مچائی۔ اس میں آنجناب کا کیا قصور اور اب بھی عقل کا قصور ہے۔ اور اسی میں سراسر فتور ہے چونکہ بہ باعث مقدمات مرزا قادیانی کو ان دنوں چنداں فرصت نہیں لہٰذا ہم بھی سردست علم تاویلات کے مطابق دس برس کے اختلافات کا جواب عرض کردیتے ہیں۔ امید ہے کہ جناب مرزا قادیانی اس کو ضرور پسند فرمائیں گے۔ پبلک کو عموماً اور روزنامہ پیسہ اخبار کے مراسلہ نویس کو خصوصاً ہمہ تن گوش و ہوش بن کر سننا چاہئے۔

مرزا قادیانی عبداللہ آتھم کے مباحثہ کے وقت (جس کو اب پورے دس سال گزر چکے ہیں) واقعی ٦٤؍ سال کے تھے جیسا کہ انہوں نے اپنی (کتاب اعجاز احمدی کے ص ٢٤ خزائن ج ١٩ ص ١٠٩) میں لکھا ہے اور اب جو دس برس کے بعد ١٩٠٤ء میں عدالت میں لکھایا ہے کہ ٦٥ برس کے ہیں یہ بھی عین سچ ہے۔ دیکھو دس کے عدد کے ساتھ جو صفر ہے علم حساب میں صفر کی بذاتہ کچھ ہستی نہیں اس لئے جناب مرزا قادیانی نے اس کو قلم انداز کر دیا۔ پس دس کے بجائے ایک رہ گیا اور علم حساب کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر عبداللہ آتھم کے مباحثہ کے وقت سے لے کر ١٩٠٤ء تک بجائے دس سال کے فقط ایک سال بڑھی دیکھو اس کو کہتے ہیں علم تاویلات اگر کسی کو سمجھ نہ ہو تو مرزا قادیانی کا کیا قصور۔ جناب من یہ تو کچھ بات ہی نہ تھی۔ اگر ہزار سال کا فرق ہوتا تو انشاء اللہ تعالیٰ علم تاویلات کے ذریعہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں نکالا جاتا۔ واہ رے جھوٹ تیرا ہی آسرا ہے۔ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن“

٢....... وہی حیات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا اور مرزائی جو آیہ لَیُؤْمِنَنَّ بہ کی ضمیر قتل اور صلب کی جانب پھیرتے ہیں تو یہ اس صورت میں ممکن ہے جبکہ عیسیٰ مسیح پر قتل اور صلب واقع ہو۔ حالانکہ کلام مجید میں دونوں کی نفی ہے کہ

٢٤٥

صفحہ ٢٦٢

”ما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم“ یعنی نہ عیسیٰ مسیح کو یہودیوں نے قتل کیا نہ ہی صلیب پر کھینچا بلکہ ان پر صلب اور قتل مشتبہ ہو گیا کیونکہ شبہ کا مفعول مالم یسم فاعلہ قتل اور صلب ہے۔ پس جب عیسیٰ مسیح درحقیقت مصلوب و مقتول ہی نہیں ہوئے تو قتل اور صلب پر ایمان لانا چہ معنی دارد۔ اب یہ کہنا کہ مسیح کو قتل بھی کیا اور صلیب پر بھی چڑھایا لیکن قتل اور صلب کا نتیجہ ظاہر نہ ہوا بالکل ایسی ہی خانہ ساز بات ہے جیسے بروزیت اور مسیحیت اور جیسے خیالی منارہ کی خیالی تعمیر اور جیسے آسمانی منکوحہ سے خیالی ہمبستری۔

ورنہ مرزا قادیانی کی گھڑی ہوئی تاویل کے موافق نظم قرآن یوں ہونا چاہئے تھا کہ ”اراد وقتلہ وصلبہ لکنہ لم یقتل ولم یصلب“ یا یوں ہوتا ”لکنھم لم یقدروا علی قتلہ وصلبہ“ یعنی یہود نے ہر چند ارادہ کیا مگر مسیح کے قتل اور صلب پر قادر نہ ہوئے۔ کیا خوبی اسمیں ہے کہ مسیح کو صلیب پر چڑھایا مگر وہ سخت جان تھے نہ مرے یا خوبی اس میں ہے کہ وہ درحقیقت صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے اور ایک دوسرا شخص ان کے مشابہ ہو گیا جیسا کہ لفظ شبہ سے واضح ہے اور خدائے تعالٰی نے مسیح علیہ السلام کو محفوظ اٹھا لیا۔

مرزا اور مرزائیوں کی تو اس کچی تاویل سے یہی بہتر تھا کہ وہ یہود کی طرح قتل اور صلب کے قائل ہو جاتے اور کہتے انا قتلنا المسیح کیونکہ جب مقصود مسیح کی موت ہے تو قتل اور صلب کی موت سے ان کو مرزا قادیانی کیوں نہیں مارتے۔ یہ تو سہل القا ہے اور مشبہ بالمصلوب کر کے زندہ رکھنا اور پھر عمر طبعی سے مارنا تاویل بعید ہے۔ کیونکہ عمر طبعی سے مسیح کے مرنے کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں۔ آیات کی تاویل کر کے یہودی بننا بالکل فضول ہے کہ کھلم کھلا کیوں یہودی نہیں بنتے؟ پھر مشبہ بالمصلوب ہونے اور عمر طبعی سے عیسیٰ مسیح کے مرنے میں کونسی اہمیت اور عظیم الشان ہے۔ جس غلغلہ سے تمام دنیا گونج رہی ہے وہ تو یہی ہے کہ یہودیوں نے مسیح کے قتل کرنے میں ایڑی چوٹی تک کا زور لگایا مگر خدائے تعالٰی نے ان کو محفوظ اور زندہ رکھا اور اٹھا لیا اور اب تک زندہ ہیں اور دوبارہ پھر دنیا میں آئیں گے۔ اور مدعی مسیحیت و نبوت (دجال) کو قتل کریں گے۔ مرزا قادیانی کو یہی تو خوف ہے وہ دنیا کے دل سے مسیح موعود کا آنا بھلاتے ہیں اور ان کو دھڑکا ہے کہ میرا بھی کہیں وہی حال نہ ہو جو دوسرے دجالوں کا ہوا۔

”وان من اھل الکتاب الّا“ میں جناب باری کی سچی پیشینگوئی ہے جو یقینا وایمانا قرب قیامت پر ظاہر اور واقع ہوگی جیسا کہ رفع مسیح مہتم بالشان ہے ایسی ہی یہ پیشینگوئی ہے۔

٢٤٦

صفحہ ٢٦٣

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی ١٩ سو برس سے مسیح کے قتل اور صلب کے قائل ہیں۔ مسلمان کون ہیں کہ تیرہ سو برس سے مسیح کے عدم قتل اور زندہ رہنے کے قائل ہوں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ اپنے دعویٰ کے موافق ”لیؤمنن“ کو خلاف قواعد و محاورہ عرب بمعنی حال بتاتے ہیں۔ یعنی اہل کتاب قتل اور صلب پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ ایمان رکھنا صرف اسی زمانہ حال تک محدود رہا نہ کہ آئندہ کے لئے بھی اور چونکہ آپ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھیرتے ہیں تو قتل اور صلب پر ایمان رکھنے والے وہی لوگ ہوئے جو اس زمانہ تک زندہ رہے اور جب وہ مر گئے تو پھر کوئی قتل وصلب پر ایمان لانے والا نہ رہا۔ حالانکہ یہ بداہت کے خلاف ہے کیونکہ خود آپ کے قول کے موافق ہر زمانہ کے یہود اور عیسائیوں کا ایمان قتل وصلب پر ہے۔ ذرا غور سے سمجھئے پھر ہر اہل کتاب اپنے نبی پر ایمان لاتا ہے نہ کہ ان حوادث یا ابتلاءات قتل وصلب وغیرہ پر جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔

انبیاء پر طرح طرح کے مظالم ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا اور آپ کو کفار کے ہاتھ سے طرح طرح کی اذیتیں پہنچیں مگر ان حوادث پر ایمان لانے کا نہ قرآن میں ذکر ہے نہ حدیث میں۔ پس چونکہ ایمان انبیاء پر لایا جاتا ہے نہ کہ ان کے زمانہ کے حوادث پر لہٰذا لیؤمنن بہ میں ضمیر عیسیٰ مسیح کی جانب ہے جن پر اہل کتاب ایمان لائیں گے۔

آپ زیادہ تر چراغ پا اس لئے ہوئے کہ ایں! عیسیٰ مسیح پر تو جو ایسا ویسا تھا تمام اہل کتاب ایمان لائیں اور میرے نام پر کوئی پاپوش بھی نہ مارے۔ پس آپ کو ایسی تاویل کرنی پڑی جس کے چھکڑے کی کوئی چول ٹھیک نہیں۔

مرزا قادیانی پر تین مصیبتیں پڑگئیں۔ ایک تو مسیح کا زندہ رہنا۔ دوم…… ان کا دنیا میں مکرر آنا۔ سوم…… تمام اہل کتاب کا ان پر ایمان لانا۔ پس ضد تو درحقیقت عیسیٰ مسیح علیہ السلام سے ہے۔ آپ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی مخالفت بلکہ دنیا سے ان کا نام تک مٹانے کو مسیح موعود بنے ہیں۔ حالانکہ چند روز میں خود بدولت ہی مٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جو عظمت انبیاء علیہ السلام کو دی ہے وہ ابدالآباد تک مٹنے والی نہیں بلکہ تمام انبیاء سے بروزی صاحب کو ضد ہے۔ بعد ختم رسالت اپنے کو نبی بتانا آنحضرت ﷺ کا نام مٹانا ہے۔ پس منبر پر چڑھ کر آنحضرت ﷺ کا نام لینا حمقاء کو دام میں پھانسنے کے لئے نری مکاری اور عیاری ہے۔ آپ نبی بنے ہیں تو ظاہر ہے کہ نبی سب برابر ہیں۔ بدمعاشی تو دیکھئے کہ اپنے کو نبی بھی بتاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کا امتی بھی۔ بھلا کوئی امتی بھی آج تک نبی ہوا ہے اور علی العکس۔

٢٤٧

صفحہ ٢٦٤

٣ ...... تفسیر سورۃ جمعہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہماری نظر سے مندرجہ عنوان تفسیر گزری جو حکیم الامت المرزائیہ کے اختراعات سے ہے۔ پس جس قدر نور علی نور ہو بجا ہے کیونکہ حکیم صاحب مرزا قادیانی کے خلیفہ اول ہیں۔

حکیم جی کی نصب العین سورہ جمعہ کی صرف یہ آیت ہے۔ "هو الذي بعث في الامين رسولا منهم يتلوا عليهم اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين " مطلب سعدی یہ ہے کہ اس آیہ کے مصداق مرزا قادیانی ہیں جو رسول ہیں اور یہ انہیں کی شان میں سے ہے۔ قائل میں بڑی رنگ آمیزی کی ہے خدائے تعالیٰ کی صفت قدوسیت پر بحث چلائی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بظاہر بہت کچھ صفت بیان کی ہے اور اسی میں اپنی بروزی کی بروزیت کا ابراز کیا ہے۔ گویا براز پر مشک وعنبر کا عطر ملا ہے کہ تعفن سے لوگوں کو اذیت نہ پہنچے۔ پھر پھرا کر لاگ لپیٹ کر کے مرزا قادیانی کو رسول اور خاتم الخلفاء بتایا ہے۔ "بعث فی الامین رسولا منهم " یعنی بھیجا امیوں (اہل عرب) میں ایک رسول انہیں میں سے۔

فرمائیے کیا مرزا قادیانی اہل عرب میں سے ہیں وہ تو چینی مغل ہیں۔ کیا ہندوستان عرب میں ہے۔ پھر "يتلوا عليهم يزكيهم يعلمهم " تمام صیغے حال کے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی نسبت ہیں۔ آپ یہ جواب دیں گے۔ استقبال کے صیغے ہیں۔ اس صورت میں گویا آپ اس آیہ کے مصداق ہوں گے نہ کہ آنحضرت ﷺ حالانکہ دونوں پر ایک ہی وحی نازل ہو نہیں سکتی۔ خدا کو کیا ضرورت ہے کہ فضول اور بے کار انبیاء بھیجے۔ ہاں آسمانی باپ کے خوارق سے بعید نہیں کہ اپنے لے پالک کو فضول اور مجہول نامعقول سمجھ کر مرزائیوں کے ماتھے مارے۔

عرب تو بے شک گمراہ تھے مگر کیا بعد نزول قرآن اور بعثت نبی امی اور بعد فرمائے ارشاد "اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی " کے بھی امت محمدیہ گمراہ ہی رہی کہ مرزا قادیانی کو آسمانی باپ نے اس گمراہی کے دور کرنے کو بھیجا ہے فنعوذ بالله من هذه الهفوات ۔ پھر بھی آنحضرت ﷺ کو اپنا سید اور مولیٰ بتانا اور آپ کی ثناء اور صفت بیان کرنا کس قدر شرم کی بات ہے۔

پھر بلاوجہ اور بے محل سیدنا مسیح علیہ السلام پر اس طرح تبرا جھاڑا گیا " ہم مانتے ہیں کہ

٢٤٨

صفحہ ٢٦٥

جب مسیح آئے اس وقت یہودیوں کی ایمانی اور اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی تھی۔“ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کیا تبدیلی کی جب کہ وہ اپنے حواریوں کا بھی کامل طور پر تزکیہ نہ کر سکے تو اوروں کو کیا فیض پہنچتا۔

مسیح علیہ السلام نے جو کچھ کیا انجیل مقدس کے موافق کیا۔ کیونکہ وہ اسی وحی کی تبلیغ پر مامور تھے اور وحی بھی وہ جس کی خود قرآن تصدیق کرتا ہے۔ ”مصدق لما بین یدی من التوراۃ والانجیل“ مگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک انجیل بالکل ناقص تھی اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام پر بے سود نازل کی گئی۔ مذہب اسلام کے ٹھیٹھ اور صاف عقیدے کے موافق نہ کوئی نبی ناقص ہے نہ کوئی آسمانی کتاب۔ ہر نبی اور ہر کتاب کا نزول قوم کی حالت کے موافق ہوا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہودیوں کی اصلاح عیسیٰ مسیح علیہ السلام سے نہ ہوسکی۔ خوب یادرکھو کہ کوئی نبی فاعل مختار نہیں۔ ”انك لا تهدی من احببت ولكن الله یهدی من یشاء“ اور ”ماعلینا الا البلاغ المبین“ اور ”یایھا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك“ آیات کے موافق ساری خدائی کو کوئی نبی پوری پوری ہدایت نہیں کر سکا۔ ورنہ سب سے پہلے ابو جہل اور ابوطالب آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے۔ حالانکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بڑی سعی وکوشش پر بھی ہدایت سے محروم رہے اور جناب باری نے یہ ارشاد فرمایا۔ ”لعلك باخع نفسك على آثارہم“ یعنی اے محمد ﷺ تو شاید ان کے پیچھے اپنی جان کا ہلاک کرنے والا ہے۔ اللہ اللہ یہ معاملہ کس قدر نازک ہے۔ مگر آپ کے نزدیک اگر کوئی نبی بلکہ خود آنحضرت ﷺ بعض انسانوں کو راہِ راست پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تو وہ ناقص تھے اور جو وحی ان پر نازل ہوئی وہ بھی ناقص تھی۔ معلوم نہیں آپ کے بروزی نبی کیا تیر مار رہے ہیں۔ گزشتہ انبیاء کے تو کروڑوں امتی موجود ہیں۔ آپ باوصف امام الزمان اور خاتم الخلفاء اور بروزی ہونے کے ایک عیسائی، ایک آریا، ایک سکھ کو بھی اپنی تیس برس کی جدوجہد میں مرزائی نہ بنا سکے۔

مرزائیوں کا گویا یہ نیچر ہو گیا ہے کہ ہر رسالہ ہر باب، ہر کتاب، ہر مبحث میں اپنی بروزی کو بڑھاتے اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کو گھٹاتے اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔

اکثر مرزائی رسالوں میں مرزا قادیانی کے نبی ہونے پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ ”لیستخلفنہم ولیمکنن لہم دینہم“ یعنی خدائے تعالیٰ ان کو (انبیاء کو) خلیفہ بنائے گا اور ان کا دین ان کے واسطے ٹھکانے لگائے گا۔ اول تو آیہ میں دینہم کا لفظ موجود ہے۔ مرزا

٢٣٩

صفحہ ٢٦٦

قادیانی اگرچہ نیا مرزائی دین لیکر آئے ہیں۔ مگر وہ اپنے کو بظاہر آنحضرت کا امتی بتاتے ہیں۔ نہ کہ صاحب مذہب و بانی دین جدید۔ دوم ...... لیستخلفنہم کا وعدہ قیامت تک ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنے کو خاتم الخلفاء بتاتے ہیں۔ پس استخلاف ختم ہو گیا۔ آنحضرت ﷺ تو خاتم الخلفاء نہ ہوں اور مرزا قادیانی ہوں۔ پھر آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبیوں کے آنے کا سلسلہ ختم نہ ہو گا وہ قیامت تک آتے رہیں گے مگر یہ ناقص نبی ہوں گے نہ کہ کامل۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ کامل خلافت کا خاتمہ کس پر ہوا خود مرزا اور مرزائیوں کے قول کے موافق آنحضرت ﷺ پر خلافت کاملہ کا خاتمہ ہوا ہے اور مرزا قادیانی پر خلافت ناقصہ کا تو یہ عجیب حماقت ہے کہ خلافت کاملہ کے ہوتے خلافت ناقصہ قائم رہ سکے گویا خلافت (نبوت) میں کمال اور نقص دونوں موجود رہے۔ اور اجتماع ضدین ہو گیا اور خدائے تعالیٰ نے تو نہیں بلکہ آسمانی باپ نے انسانوں کو دو متضاد نبوتوں کی شریعتوں کا مکلف بنایا۔

کس کس کی حماقت و تناقض کا رونا رویا جائے۔ عقل سلیم اور ذہن مستقیم تو مرزائی طلسم کو طرفۃ العین میں توڑ سکتا ہے۔ گھامڑوں اور بلید الطبعوں اور ہاتھی کے روٹ میں حصہ لگانے والوں کی ہم کنہہ نہیں بندہ سمجھ سکتے ہیں ان سے تو خدا ہی سمجھے۔

٤ ....... تیرہ سو برس میں کس قدر مجدد آئے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کتاب عسل مصفی جو مرزا قادیانی کے ایک مرید کے خیالات وافکار کا نتیجہ ہے۔ ایک بسیط کتاب اور بائبل کی طرح ایک مجموعہ ہے جس میں الم غلم بجز صداقت کے سب کچھ بھرا ہوا ہے مگر جس طرح ٹپے اور ٹھمری اور خیال اور دھرپد وغیرہ ایک ہی سم اور سر پر ختم ہوتے ہیں اگرچہ بیچ میں بہت سے ٹھیکے اور گتیں بناتے ہیں اور طرح طرح کے تان اڑاتے ہیں۔ اسی طرح اس کتاب کے تمام ابواب و مباحث مرزا قادیانی کی مجددیت اور نبوت وغیرہ کے ثبوت پر ختم ہوئے ہیں۔

اس کتاب میں نام بنام بتایا ہے کہ ہر صدی میں کتنے مجدد آئے۔ یعنی پہلی صدی میں ٤، دوسری میں ١١، تیسری میں ١٠، چوتھی میں ١١، پانچویں میں ٦، چھٹی میں ٧، ساتویں میں ٧، آٹھویں میں ٤، نویں میں ٣، دسویں میں ٣، گیارہویں میں ٣، بارہویں میں ٧، تیرہویں میں ٥، یہ سب ٨١ مجدد ہوئے ان میں بعض ایسے بھی ہیں جن کو صاحب عسل مصفی نے مجدد بنایا ہے۔ مثلاً شاہ عبدالعزیز صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب، شاہ عبدالقادر صاحب جن کو کسی نے مجدد نہیں مانا۔ ہم

٢٥٠

صفحہ ٢٦٧

کہتے ہیں علاوہ ٨١ مجددوں کے ہزاروں مجدد گزرے۔ وہ کون ہیں علماء وفضلاء، وہ حقانی علماء جو محض خلوص سے حسبۃ للہ لوگوں کو کتاب وسنت کے موافق وعظ وتلقین کرتے ہیں اور بھولی ہوئی توحید وسنت یاد دلاتے ہیں۔ یعنی عقائد عامہ کی تجدید کرتے ہیں۔ شرک و بدعت سے روکتے ہیں۔

ذرا یہ تو بتائیے کیا مذکورہ بالا مجددوں میں سے کسی نے قرآن وحدیث کی ترمیم کی ہے۔ کسی نے آیات قرآنی کا مورد مصداق بجائے آنحضرت ﷺ کے اپنے کو بتایا ہے۔ کیا کسی نے تصویر پرستی کو رواج دیا ہے۔ کیا کسی نے فرائض حج وغیرہ کو ساقط کیا ہے۔ کیا کسی نے نبوت ومہدویت ومسیحیت اور غیب دانی کا دعویٰ کیا ہے اور لوگوں کی موت کی پیشینگوئیاں کی ہیں جن میں سے ایک بھی پوری نہیں ہوئی۔ جب آپ اپنے دعوے کے ثبوت میں اور مجددوں کو پیش کرتے ہیں تو یہ ثابت کرنا بھی آپ کا فرض ہے کہ تمام مجددوں نے یہی دعوے کئے ہیں جو میں نے کئے۔ پھر حماقت تو دیکھئے کہ مرزا قادیانی اپنے کو عیسیٰ مسیح سے افضل بتاتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کو کوئی چیز ہی نہیں۔ ان سے تو آپ ہر طرح افضل ہیں۔ (یہ منہ اور گرم مصالحہ) اور مجددوں کو اپنی تصدیق کے لئے پیش کرتے ہیں۔ انبیاء تو بہر حال مجددوں سے افضل ہی ہوتے ہیں۔

کیونکہ مجدد ان کے امتی ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام مجدد آنحضرت ﷺ کے امتی تھے حالانکہ خود بدولت نبی ہیں۔ گویا اپنے کو ترقی سے تنزل میں گرا رہے ہیں۔ نبی اور مجدد میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے یعنی ہر نبی مجدد ہے۔ اور ہر مجدد نبی نہیں اور نہ کسی مجدد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ برخلاف مجددین کے، جن مکاروں دجالوں نے نبوت اور مہدویت اور موعودیت کا دعویٰ کیا اور فی النار ہوئے۔ مثلاً مسیلمۃ الکذاب، اسود عنسی اور مہدیان کذاب عرب وسوڈان وغیرہ۔ آپ نے ان کا مطلق ذکر نہیں کیا نہ کسی مرزائی کتاب میں ان ملحدین مرتدین کا ذکر ہوتا ہے۔ منصب مرزائی تو اس امر کا متقضی تھا کہ آپ اپنے ہم پیشہ دجالوں کا ذکر کرتے۔ مگر کیوں کرتے پانی مرتا ہے۔ اگر مرزا اور مرزائی دجالوں اور جھوٹے مہدیوں کی تفصیل بھی کسی کتاب میں اسی طرح لکھیں جس طرح مجددوں کی تفصیل لکھی ہے تو ہم ایک سو روپیہ انعام دینے کو تیار ہیں۔ ”ولن تفعلوا۔ انشاء اللہ“

خوف یہ ہے کہ جب آپ گزشتہ دجالوں کی لائف شائع کریں گے تو خود مریدین ان کے کیریکٹر کو آپ کے کیریکٹر سے ملائیں گے اور سر مو فرق نہ پائیں گے۔ پس بروزیت کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اور اس وقت جس قدر پنجرے میں کبوتر ہیں پھر ہو جائیں گے۔

انبیاء بھی برے، اولیاء بھی برے، ائمہ بھی برے، مگر جھوٹے مہدی اور دجال اچھے اور

٢٥١

صفحہ ٢٦٨

یہ مرزا قادیانی کے جد امجد اور مورث، جبھی تو ان کے نام لینے سے بھی زبان مفلوج ہوتی ہے۔ گویا وہ مرزائیوں کے یقینی اور روحانی مسلم مہدی اور موعود تھے۔ اگر مذکورہ مجددوں کو اسلامی جمہور نے مان لیا ہے تو دجالوں کو بھی ایک جم غفیر نے مہدی اور موعود مان لیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ایک جمہور کے مسلم مہدیوں کو تو نہ مانیں۔ اور دوسرے جمہور کے مسلم مجددوں کو مانیں۔ ذرا غور سے سمجھو مجددانہ معجزہ کیا سمجھا رہا ہے۔

عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو معاذ اللہ کوئی مجدد فی الدین تو کیا مارتا آپ کے اعلیٰ مورثوں (دجالوں) نے بھی نہیں مارا۔ مجدد بن کر یہ تجدید آپ نے ضرور کی۔ بھلا دجالوں کی روحیں کیا خوش ہوں گی کہ آپ ان کے نقش قدم پر نہیں چلے۔ وہ تو ضرور آپ پر لعنت بھیجتے ہوں گے اور افسوس کرتے ہوں گے کہ کیسا اکلوتا فرزند ہمارے صلب سے پیدا ہوا جس نے ہم کو بدنامی کے گڑھے میں بے گور و کفن ٹھونس دیا۔ مر گئے مردود فاتحہ نہ درود۔

مجدد ایک انسان ہوتا ہے جو مثل انبیاء علیہ السلام خطا اور غلطی سے محفوظ نہیں ہوتا۔ اس کا مرتبہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا مجتہد کا۔ پس اس کا قول شریعت میں قطعی اور یقینی واجب العمل نہیں ہوتا۔ جب تک کتاب وسنت کی کسوٹی پر نہ کسا جائے اور نہ کسی مجدد نے ایسا دعویٰ کیا ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ واجب العمل ہے۔ اور جو شخص میرے قول پر نہ چلے گا وہ گمراہ اور ناری ہوگا۔ صرف آپ ہی ایسے مجدد ہیں کہ اپنے اقوال کو باعتبار واجب العمل ہونے کی قرآن وحدیث سے بڑھ کر بتاتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نبی ہوں۔ امام الزمان ہوں جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا وہ دنیا میں واجب القتل اور عاقبت میں جہنمی ہے۔

بتاؤ ان مجددوں میں سے کس کے قول پر علماء اور فضلاء فتویٰ دیتے ہیں۔ اہل اسلام زیادہ سے زیادہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ حالت جذب یا سلوک میں فرما گئے ہیں وہ ان کے حالات تھے جن کی تعبیر ہم عملاً نہیں کر سکتے اور ناموس شریعت کو دھبہ نہیں لگا سکتے۔ ہاں ان کے جو افعال واقوال مطابق کتاب وسنت ہیں وہ واقعی واجب العمل ہیں۔

مرزا قادیانی نبی بن کر مجدد کیوں بنتے ہیں اور اپنے کو عالم بالا سے کیوں گراتے ہیں۔ اپنے کو انبیاء پر کیوں نہیں منطبق کرتے۔ وجہ یہ ہے کہ انبیاء نے معجزات دکھائے اور آپ کو معجزات کے نام سے جاڑا چڑھتا ہے۔ نیچر آڑے آتا ہے۔ عیسیٰ مسیح علیہ السلام اس لئے برے ہیں کہ ان کی صفت ”ابری الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ“ اور آپ اپنی تقریر میں فرما بھی چکے ہیں کہ اگر میں بھی چاہوں تو عیسیٰ مسیح کی طرح (مسمریزم وغیرہ) کے بہت سے

٢٥٢

صفحہ ٢٦٩

شعبدات دکھا سکتا ہوں مگر آپ نے اب تک خیر سے مداری کا پھٹک ایک پھٹک بھی نہ دکھایا پس معجزے کا نام آتا ہے تو آپ نبوت کے چولے کی چھٹی کر کے اپنی چھتر یا پیر مسیلمۃ الکذاب یا مہدی سوڈانی کی قبر پر چڑھا دیتے ہیں اور مجدد بن جاتے ہیں اور جب آپ کے کیریکٹر کے مقابلہ میں مجددوں کے افعال واقوال پیش کئے جاتے ہیں تو آپ نبی بن جاتے ہیں کہ مجھے سب کچھ جائز اور روا ہے اور تمام مجددین، مفسرین، محدثین غلطی پر ہیں تو آپ کا حال بالکل مولانا روم کے اس شعر کے موافق ہے۔

گر نهی بارش بگوید طائرم
ور بپر گوئیش گوید اشترم

یعنی شتر مرغ پر اگر تو بوجھ لادے گا تو وہ بازو پھڑپھڑا کر یہ عذر کرے گا کہ میں طائر ہوں اور طائر پر کوئی بوجھ نہیں لادتا۔ اور اگر یہ کہے گا کہ اڑ تو وہ بلبلا کر اور ہنڈا سا منہ کھول کر کہے گا کہ میں اونٹ ہوں اور اونٹ اڑ نہیں سکتا۔ پس آپ ہی کے قول سے ثابت ہو گیا کہ نہ آپ نبی ہیں نہ مجدد ہیں۔ بلکہ ایک حیلہ گر دین بد نیا فروش ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ اگست کے شمارہ نمبر ٣١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی پر فرد جرم کی تکمیل

پیسہ اخبار!

یوں تو مرزا قادیانی پر مقدمہ اپیل میں رائے چندو لال صاحب مجسٹریٹ نے مرزا قادیانی پر فرد جرم عائد کر دی تھی لیکن مرزائی صاحبان اس کے قائل نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی غیر حاضری میں فرد جرم لگی تھی۔ آخر مرزا قادیانی کی دعوات سحری نے مجسٹریٹ موصوف کو (بقول ان کے مریدوں کے) تبدیل کرا دیا۔ اور ان کی جگہ بابو آتما رام صاحب

٢٥٣

صفحہ ٢٧٠

تشریف لائے۔ مرزا قادیانی نے دفعہ (٣٥٠) ضابطہ فوجداری کی آڑ میں دوبارہ تحقیقات ہونے کی درخواست کی اور خیال کیا کہ اس لمبی دوڑ میں ممکن ہے کہ فریق مقابل تھک جائے اور یوں مقدمات سے نجات ملے۔ لیکن بہادر حریف نے پھر بھی حوصلہ نہ ہارا اور مردانہ وار مقابلہ کرتا رہا۔ آخر شہادت استغاثہ دوبارہ ختم ہوئی اور وہ مرحلہ پہنچا۔ جہاں مرزا قادیانی مارے ڈر کے مرض شدید میں مبتلا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ٢٩؍ جولائی کو مولوی غلام محمد صاحب آخری گواہ استغاثہ کی شہادت ختم ہوگئی اور فرد جرم کی نوبت پہنچ گئی۔ جوں ہی شہادت ختم ہوئی تو مرزا قادیانی کے وکلاء نے دہائی مچا دی کہ ملزمان کو اسی مرحلہ پر بری کیا جائے اور صفائی طلب نہ ہو۔

اس بارے میں ملزمان کی طرف سے ایک درخواست بھی گزری۔ اور ایک لمبا چوڑا تحریری بیان بھی داخل کیا گیا۔ اور علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے خود بھی اس روز زبان کھولی۔ اور کچھ معذرت ظاہر کی کہ میں نے جو کچھ لکھا نیک نیتی سے لکھا۔ اور اپنے بچاؤ کے لئے لکھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن صاحب مجسٹریٹ فرد قرار داد جرم مرتبہ مجسٹریٹ سابق مرزا قادیانی کو سنا دی۔ اور جواب بھی لے لیا۔ اور وکلاء ملزمان کو کہا کہ میں آپ کو بحث کا موقع دوں گا۔ چنانچہ بحث کے لئے ٣؍ اگست مقرر ہوئی۔ ٤؍ کو بحث وکلاء فریقین سنی گئی۔ اور حکم ہوا کہ ٦؍ اگست کو مناسب حکم ہوگا۔

اس تاریخ کو دور دراز مواضع سے بہت سے مرزائی صاحبان جمع ہوگئے تھے۔ کیونکہ مرزائیوں میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ آج مرزا قادیانی کو بری ہو جانا ہے۔ (شاید کوئی الہام ہوا ہوگا) لیکن برعکس اس کے اس تاریخ کو صاحب مجسٹریٹ نے فرد قرار داد کی تعمیل کر کے ملزمان کا بیان لے لیا۔ کہ وہ صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ زیر دفعہ ٣٥٦ ضابطہ فوجداری گواہان ذیل مکرر جرح کے لئے طلب ہوئے۔ مولوی برکت علی صاحب بی اے مصنف اخبار۔ مولوی غلام محمد صاحب قاضی چکوال۔ مولوی محمد جی صاحب قاضی جہلم، تاریخ پیشی مقدمہ ١٥، ١٨؍ اگست مقرر ہوئی۔ اس کے بعد گواہان صفائی کے لئے تاریخ ہوگی۔

٢ ...... مرزا قادیانی کا انوکھا الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

حضرت جبرائیل علیہ السلام کا زمین پر آنا اور تمام ملائکہ کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔ ”فغطنی فبلغ منی الجھد“ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے سینے سے لگا کر ایسا نچوڑا کہ میں پسینے پسینے ہوگیا اور پوری طاقت صرف ہوگئی اور حدیث حنظلہؓ میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ”والذی نفسی بیدہ لو تدومون علی ما تکونون عندی

٢٥٤

صفحہ ٢٧١

لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفى طرقكم ولكن يا حنظلة ساعة وساعة ثلاث مرات فاشار الى ان لاحوال لا تدوم“ ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم اس حالت میں رہو جس میں میرے حضور رہتے ہو تو ملائکہ تمہارے بچھونوں ، تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ (آپ نے تین بار ساعۃ وساعۃ وساعۃ فرمایا) پھر اشارہ فرمایا کہ حالات ( تجلیات ) کو دوام نہیں“ لیکن مرزا قادیانی زمین پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ اپنے اوپر الہام اور وحی کے ٹوکرے برسنے کے مدعی ہیں۔ جی بجا ہے۔ آسمانی باپ نے فلک الافلاک سے ٹیلی فون لگا رکھا ہے جس کے ذریعہ سے بذات خاص لے پالک کے ساتھ کانا پھوسی کرتا رہتا ہے۔

چنانچہ اپنی آسمانی کتاب (توضیح المرام ص ٣٩ تا ٤٣، ٦٨ تا ٧٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧ ، ٦٨، ٨٦ تا ٨٨ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ: ”جبریل اپنے ہیڈ کوارٹر اور روشن نقطہ سے کبھی جدا نہیں ہوتا اور خدا اور بندے کی محبت کے تزاوج سے جو تیسری چیز پیدا ہوتی ہے اسی کا نام روح القدس ہے اور وہی روح امین ہے۔ اسی کا نام شدید القویٰ اور ذوالافق الاعلیٰ اور دنی فتدلی ہے اور جبریل نور آفتاب کی طرح ہر انسان پر اس کے حسب استعداد اپنا اثر ڈالتا ہے۔ اور کوئی نفسِ بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو حتیٰ کہ مجانین پر بھی جبریل کا اثر فی الواقع ہے اور جس سے کوئی فاسق اور پرلے درجہ کا بدکار باہر نہیں۔ حتیٰ کہ مکھیاں بھی بس ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبے کے ولی پر بھی جبریل ہی وحی کی تاثیر ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء کے دل پر ہی وحی ڈالتا رہتا ہے اور فرق صرف آرسی کے شیشے اور بڑے آئینے کا ہے۔“

وہی بات ہے کہ بلی کے خواب میں چھیچھڑے ۔ الہام اور وحی میں نر اور مادہ اور رنڈیوں کا ذکر آپ کی فطرت کا اظہار کر رہا ہے۔ آپ آسمانی باپ کے لے پالک ہیں نا ۔ پھر نر اور مادہ کا ذکر کیوں نہ ہو۔ بے شک آسمانی باپ جو لے پالک پر الہام کرتا ہے اور شیطان جو ایک بھنگی پر الہام کرتا ہے ان دونوں الہاموں میں کچھ فرق نہیں لیکن اولیاء اور انبیاء کے الہام کو ایسا کہنا خبط الحواس ہے اور مرزا قادیانی نے درحقیقت اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ جو آسمانی باپ رنڈیوں پر الہام کرتا ہے وہی اپنے لے پالک پر کرتا ہے۔ خدا اور بندے کی محبت کے (معاذ اللہ ) جفتی کھانے سے تیسری چیز (روح القدس) پیدا ہوتی ہے۔ آپ نے یہ حقیقت اپنی امت کے لئے گھڑی۔ فرمائیے عیسائیوں کے لئے کیا باقی چھوڑا۔ لاحول ولا قوۃ کس قدر لغو اور گندے اور فحش خیالات ہیں۔ شرم چہ سگی است۔

٢٥٥

صفحہ ٢٧٢

٣ ...... نبی اور ولی کے الہام میں فرق

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی اپنی کتاب براہین کے ص ٢٤٣، ٢٤٩ خزائن ج ١ ص ٢٥٤، ٢٥٩، میں لکھتے ہیں کہ ”جیسے ایک نبی کا الہام دوسرے نبی کے الہام سے مخالف نہیں ہوتا اسی طرح اولیاء کا الہام شریعت حقہ محمدیہ سے مخالف نہیں ہو سکتا۔ اور اس کو موجب علم قطعی نہ جاننا وسوسہ ہے۔“ اس سے مرزا قادیانی کی یہ مراد ہے کہ نبی اور ولی کے الہام میں کچھ فرق نہیں۔ افسوس ہے کہ اس ادعاء سے مرزا قادیانی مرتبہ نبوت پست کر رہے ہیں یعنی اپنے کو بجائے نبی کے ولی بنا رہے ہیں اور تمام اولیاء کا مرتبہ بڑھا رہے ہیں۔ یعنی ان کو انبیاء قرار دے رہے ہیں۔ اول تو یہ اولیاء پر اتہام اور تفسیر قول مالا یرضی بہ القائل ہے کیونکہ کسی نبی خصوصاً خلفاء اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنے کو نبی قرار نہیں دیا اور کیونکر ممکن تھا کہ وہ باوصف امتی ہونے کے نبی بن جاتے اور اپنے کو انبیاء خصوصاً خاتم النبیین ﷺ کا ہمسر بناتے۔

دوم ..... کلام مجید میں ہے ”ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم “ اس سے یہ بات مستنبط ہوئی کہ اولیاء پر شیاطین وحی کر سکتے ہیں نہ کہ معاذ اللہ، انبیاء پر۔ کیونکہ انبیاء کا یہاں ذکر نہیں بلکہ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی نسبت ”فينسخ الله ما يلقى الشيطان “ وارد ہوا ہے یعنی انبیاء پر شیطان القاء کرے تو خدائے تعالیٰ اس کو رد کر دیتا ہے۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ مسیح سے تو اپنے کو افضل بتائیں بلکہ ان کی مذمت وتوہین کریں اور حضرت امام حسینؓ پر بھی اپنے کو فضیلت دیں اور بدبختی سے اولیاء کی صف میں بیٹھیں۔ اولیاء اللہ تو لاکھوں گزرے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی انہیں میں رہے تو کیا کمال کیا۔

ان کا منصبی فرض تھا کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں۔ اسی طرح تمام اولیاء اللہ کو اس سرے سے لیکر اس سرے تک توہین کی ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے تاکہ مرزائیوں کے دل میں ان کی وقعت بڑھتی کیونکہ ان کی نبوت اور مسیحیت اور بروزیت کا اقنوم اعظم سبّ وشتم ہے اور اسی سے دنیا میں ان کی شہرت ہو رہی ہے اور فرض تبلیغ ادا ہو رہا ہے۔

انبیاء کی تو توہین کی جاتی ہے اور اولیاء کی تعظیم۔ عیسیٰ مسیح تو جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں نبی کیا معنی ولی بھی نہ ٹھہرائے جائیں۔ اور اولیاء اللہ کو نبی بنا دیا جائے۔ اس کی لِم یہ ہے کہ چند روز میں جس قدر مرزائی ہیں ولی کیسے نبی بن جائیں گے اور مرزا قادیانی جو بالفعل اپنے کو خاتم الخلفاء کہتے ہیں، خاتم الانبیاء ہوں گے۔ اور ان کے اس قول کا ظہور ہوگا کہ انبیاء تا کہاں قیامت تک پیدا

٢٥٦

صفحہ ٢٧٣

ہوتے رہیں گے۔ مگر نبی کامل بجز مرزا قادیانی کے کوئی نہیں ہوگا۔ سنو سنو نبوت ختم ہوگئی ہے مگر اولیاء اللہ کے وجود باجود سے کوئی زمانہ خالی نہ ہوگا۔ یعنی آفتاب نبوت کی روشنی سے ذرے اکتساب نور کرتے رہیں گے لیکن مرزا قادیانی سے کوئی اقرار تو کرائے کہ ان کے زمانہ میں کسی ولی کا وجود پایا جاتا ہے۔ یا تو خود بدولت ولی ہیں یا شاید اپنے کسی مرزائی کو کامل ولی اور ناقص نبی بنا دیا ہو۔ سینکڑوں مرزائی اس الہام کے منتظر ہیں کہ کب آسمانی باپ ہم کو کامل ولی اور ناقص نبی بناتا ہے۔ ہم کو کامل یقین ہے کہ سب سے پہلے کامل ولی اور ناقص نبی ہونے کا الہام حکیم الامۃ المرزائیہ کے حق میں ہوگا۔ اولیاء اللہ کو سب مسلمان مانتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے بزعم خود ان کے خوش کرنے کے لئے تمام اولیاء اللہ کو انبیاء بنا دیا ہے۔ لیکن جب عیسیٰ مسیح کو گالیاں دینی شروع کیں تو مرزا کو ملعون سمجھنا مسلمانوں کا فرض ہوا اور ان کو یقین ہو گیا کہ انبیاء کو جو مردود گالیاں دیتا ہے وہ اولیاء کو کیوں گالیاں نہ دے گا۔

معلوم نہیں اولیاء اللہ کا ذکر بار بار کیوں کیا جاتا ہے اور کیوں ان کو نبی بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ محض دعوے سے نہ کوئی نبی بن سکتا ہے نہ ولی۔ جب تک بارقہ توفیق و تصدیق الٰہی اس کے ساتھ نہ ہو میں نبی ہوں میں مثیل مسیح ہوں اور ایں ہمہ میں ویسا ہی ولی ہوں جیسے اور اولیاء گزرے ہیں محض ایک خبط اور مالیخولیا اور تناقض دعوے ہیں۔ خوب یاد رکھو ولی کو نبی بنانا غلام کو آقا بنانا ہے اور باعتبار امتی ہونے کے عام مسلمانوں اور اولیاء اللہ میں مطلق فرق نہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٢ء ٢٢؍ اگست کے شمارہ نمبر ٣٢؍ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الا اے قادیانی یاد کن روز قیامت را چگونہ ترک کردی راہ اسلام و سلامت را

٢٥٧

صفحہ ٢٧٤
نفاق از دل فگن بگزار شوخی و شرارت را بده در سینه جا اخلاص و تقویٰ و طهارت را
بدر کن از دماغ خویشتن زعم نبوت را مبر در سر چو ترسا ره خیالات نبوت را
دگر کورانه می پنداری این اجماع امت را ز جهل خود نداری باور اخبار شریعت را
مگستر دام دعوائے مسلمانی پے خوردن مکن شائع چو تجار فرنگ اعلان بیعت را
به صدق دل مریدان مرسل یزدانیت خوانند عبث منهفت اے دجال دعوائے رسالت را
به جزوی و بروزی ملتبس دعوائے خود سازی باین مکروحیل خدمت کنی اهل بلادت را
ز دجالان موعود آمدی دجالے اے مردك بلا و امتحان اهل ایمان و صداقت را
نزول وحی بر خود مثل وحی انبیاء گوئی صداها بهر خود داری ”منم مامور دعوت را“
وزان الهام و وحی خود سیه اوراق گردانی ”رسولے نیستم“ میگوئی اے دجال خدعت را
نیاوردم کتابے حسب عادت هم غلط گفتی بلے تبدیل کردن سخت دشوار ست عادت را
گزینی جائے ابنیت کنی ترك عبودیت که این نخوت کند ابلیس هر اهل عبادت را
یهودی باشد آن بر صلیب آرد مسیحا را پے عیسیٰ شدن گشتی مخالف دین و ملت را
ز پیر نیچری مرگ وصلیب عیسیٰ آوردی نهادی چون علم بر دوش تجدید امامت را
خداوندا پناهت زین یهودی کیش عیسیٰ کُش که بر روح ورسولت تهمتے بندد اذیت را
چو عجل سامری لهو و لعب گوید با مجازش به حق آن مکرم مے پسندد این مذلت را
بخواند ”انما الاعمال بالنيات باز از کیں همی بد ذات گوید عالمان نيك نيت را
چو چشم حق شناسی نور عرفانش نه بخشیدند به گفت اعمیٰ ومشرك از خباثت خیر امت را
اگر عمر تو هشتادست پنج و نود سندمی ز درگاه خدا کید متین پندار مهلت را
منه دل در نعم هائے دنیا گر خدا خواهی مخور بادام روغن جائے روغن عيش و عشرت را
به مال مردمان خوردن پر افسون وعدها کردن فرامش کرده اے ابو الفضول آن یوم عسرت را
براهين تو يك از ده سر لجست همچنان مرده بده واپس زر خورده بکن توشه قناعت را
اگر مهدی و ماموری نه بهر عشرت دنیا بروں آ۔اندرون خانه ماموری چه خدمت را
برائے نفس خود عزت هم خواهی بهرکارے ولے حق میفر ستد دمبدم سوئے تو ذلت را
نگاه رحمت جانان بود بر عاشق صادق ولیکن چون توئی کے یابد ایں رشد و سعادت را

٢٥٨

صفحہ ٢٧٥

وطهارت را ت نبوت را شریعت را ان بیعت را رسالت را بلادت را صداقت را ر دعوت را ن خدعت را ت عادت را عبادت را ن وملت را ید امامت را دو اذیت را ن مذلت را يك نيت را خیر امت را و مهلت را وعشرت را یم عسرت را ه قناعت را ه خدمت را تو ذلت را وسعادت را

بسریخ خودی خود روی آنگو نه بنهادی زهر شاخش همی یابی بر نفرین ولعنت را
مسلمانان پے دارین امن وعافیت خوانند به حرص کمال وجاه ایدون تو میخواهی مصیبت را
اگر ممکن بود از سینۀ ات برداشتن پرده به بیند اندران هر کس نفاق وخبث طینت را
زرمــالی خــود بگزر زروز حشر یـاد آور بترس از حق بنه از سرغرور وكبر ونخوت را
زخوف حکم ضالع آنچنان در باختی زهره که گفتی الوداع دائمی رمل وکهانت را
نخواهم درحق کس هیچگاه الهام اندازی نخواهم برکسی گاهی دعای بد اجابت را
سیه رویش هر کس گشتی اے کذاب نتواں شست بجز آب توبۀ صدق این سیاهی ندامت را
غلط اخبارسوی بست دربست ٤٠٠ انبیاء بندی که فتح انـگـاشـتـند ایشان به سلطانی هزیمت را
معاذ الله یعنی انبیاء از حق نبی باشند کـنی نسبت بذات پاك خالق كذب وتهمت را
بعیسیٰ درده تعلیم دیـن نـاکـام شـد گـوئـی بذات بے تهی صد عیب تحصیل فضیلت را
حقیقت هائے دجال وخرے بر تو روشن شد زفهم مصطفی برتر گـمـاری آن حقیقت را
چه کامديا چه افزاید به قصر وطول عمر از جاه که بهر نوح الف وشصت وسه خیر البریت را
شدی دور از عبادت باو جود قرب عبدالله چه سود از رهبر کامل تهید ستان قسمت را
عــلــم افــراشتی ابــنـیت حق راز بهر خود جری الله گردیدی همین پندار وجرأت را
باین ابنیت نه تصویر هائے خویش گوناگوں به عـالـم می کنی ظـلـم اشاعت شـرك وبدعت را
مسیح ومهدی وحارث نبی گشتی ولد گشتی شکم سیرت نمیگردد به هیچ ای چوبۀ مترا
بشیر نـاتـوان كـانـرا تـو عـمـوائیل می گفتی کان الله نـازل زا آسمان شد داغ فرقت را
به پیشین گوئی ایں بچه ونیز آنهم وبسلطان سیاهی ها زرمالی بـه رخ مـالـیـدۀ تـتـرا
بشیرت دختری آمد زبـار اولیـش پـیـدا پسـر از بـار ثـانـی آمد آبادی تـربـت را
پسر گـفتـی ویـے درپے دو دخـتـر بـاز زائیدی به بخت واژ گونت دائما راه است نکبت را
بـر آمـد هـفـت بـر نـه سـال وعموائیل نامد باز بـگـواکـنون چه دادی حیله آن نه ساله عدت را
تـو شـیـر نیسـتـان بے حیـائی آمـدی زاول به مکر شیدو خوشابت نمودی این اضافت را
چه مـی سـوزی زبـهـر زوجه الهامیت نادان بدل گر غیرتی داری بگیر آن وصل وقربت را
زن الهـامیـت در خـانـه سـلـطـانست بـار آور چه می باشد لقب همچون تو دون بے حمیت را

٢٥٩

صفحہ ٢٧٦
بہیمت١؎ ہم ردیف آمد چسانت لعنت ونصرت بہ نیت٢؎ قافیہ کردی چو ملت راو نصرت را
مصفاك٥؎ فطرةً باید کہ تا گوہر شود پیدا نمود ایں جمع کاف و تا سبکی اصحاب ملت را
تنبی دیدنی دارد بایں مصراع الہامی چنیں مصراع زیبد ہمچنیں باب نبوت را
الا اے صاحب دانش کہ فہم فارسی داری توانی کر بزیں اندازہ اش تادی لیاقت را
زھائے مختفی ملفوظ نتواند جدا کردن نظر کن بر زبان او فصاحت را طلاقت را
چناں آبلہ کہ نکند ہیچ فرق از ابل تا ابلہ بگفت اے ابلہ بگریزیم اظہار جہالت را
بہ بیں آئینہ و دريك قصیدہ خواں کمالاتش چہ خوش بستۂ مہر مفعول از روئے فصاحت را
غیور اسم خدا دایم ہم صحیحش بر زبان ناید نظر کن دعوائے الہام ایں نااھل غیرت را
چگونہ ابن مریم گشت سندھی بیگ٣؎ رابنگر کشادہ القاء در بیوگی باب ولادت را
زشرّ فتنہ دجالی سوئے حق پناہ آور دعاکن سعیاکہ وعدہ فرمودہ استجابت را

(حاشیہ جات گزشتہ اشعار)

عبادت چھوڑ کر بہیمت اختیار کی ہے۔ فلعنة الله على الظالمين والمتكبرين۔

دجالیاں دیکھ کر ملامت کرتے ہیں تو ان کی نیت کا خیال نہیں کرتا ہے۔

ہمہ در دور ایں عالم امان وعافیت خواهند
چہ افتاد ایں سرما را کہ میخواهد مصیبت را

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦، خزائن ج ٥ ص ٥٦)

تو حرف تا چاہئے اور یا کاف بمعنی تا۔

حور را کہ بازم داد جنت را اورمگر مدفوں یثرب راند اند ایں فضیلت را۔ (ایضاً ص ٥٥، ٥٦) وغیرہ۔

صفحہ ٢٧٧

مناجات

الهی دور دار از بنده هر آفت را پناه خود بده از کس کہ سویش مخالفت را
شرف دادی به اسلام زھے احمد مرسل به فضلت باخود آرم در قیامت ایں شرافت را
عملہائے مرا در دین وهم در دیں مبارک کن بده توفیق نیکی پاک سازم خوئے وخصلت را
بضاعت هر چه در بارم همه مزجاة ناکاره امید بخشش از فضل تو بس ایں بے بضاعت را
ازیں دنیائے فانی چوں بمن وقت رحیل آید ادا سازم بتوحید از زبان ودل شهادت را
به نفس مطمئنه از ملائک ارجعی شنوم چنانم کن که پندارم خلاص از سجن رحلت را
چو در گورم نهند احباب سوئے خانہ رو آرند دراں وحشت کده کن مونسی من رحم ورافت را
پل دوزخ کہ تیز از تیغ وراهے بس دراز آمد مدد فرما کہ طے چوں برق سازم آں مسافت را
محمد را مقا مے ده که محمودش لقب کردی چوسر در سجدہ پیش تو نهد اذن شفاعت را
به فضل خویشتن اور افضیلت ده وسیلت ده که حکمت شد به هر کس ابتغائے آں وسیلت را
تحیات وسلام از من بروح و آل واصحابش به آں نوعی که ماموریم تسلیم وتحیت را
یکے از امّتش واز بندگانت آمده سعدی کشاده دارد ابواب اذن ده رضوان جنت را
به فردوس بریں با بندگانت میهمان باشم به دیدارت نظر بالاکنم اکمال نعمت را

٢....... مدعی حیات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم مطبوعہ ١٧ جولائی میں حکیم الامت المرزائیہ نے کسی شخص کے سوال کے جواب میں آیہ ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیھم شہیدا“ کے وہی معنی کئے جو تمام مرزائی کرتے ہیں۔ کیونکہ بروزیت کا سارا پجاوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ جدھر بروزی کا منہ ادھر ہی سب کا منہ۔ کیا معنی کہ جب خود بروزی کو حیات مسیح میں اپنی موت نظر آتی ہے تو بروزیوں کو کیوں نظر نہ آئے۔

ہم گزشتہ ضمیمہ میں وہ خرابیاں لکھ چکے ہیں جو مرزائیوں کے گھڑے ہوئے معنی لینے سے پیدا ہوتی ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ کے قتل پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان رکھتے ہیں۔ اگر بہ کی ضمیر قتل کی جانب اور موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی جانب ہے تو یکون علیھم شہیدا کی ضمیر کس کی جانب ہوگی؟ مرزائی بھی بجز اس کے چارہ نہیں دیکھتے کہ یکون کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی جانب

٢٦١

صفحہ ٢٧٨

پھر یہ کہ قیامت کے روز عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب کے ایمان لانے پر گواہ ہوں گے اور اگر اب بہ کی ضمیر قتل کی جانب ہوگی۔ تو علیہم کی جگہ علیہ ہونا چاہئے۔ ورنہ آیہ کے کچھ معنی نہ ہوں گے کیونکہ عیسیٰ مسیح کس بات کے گواہ ہوں گے۔ اگر کہو قتل وصلب کے گواہ ہوں گے تو قرآن مجید اس کی نفی کر چکا ہے ”وما قتلوہ وما صلبوہ اور وما قتلوہ یقیناً“ اور اگر کہو یکون کی ضمیر قتل کی جانب ہے تو قتل کا گواہ ہونا چہ معنی دارد۔

کیا قتل بھی کوئی وجود مشخص ہو جائے گا۔ پھر ”لیؤمنن“ کے معنی حال کے اور یکون کے معنی استقبال کے لینے سے کلام باری میں نقص پیدا ہوتا ہے۔ معنی یہی ہوں گے کہ کل اہل کتاب قتل اور صلب پر ایمان رکھتے ہیں اور عیسیٰ مسیح یا قتل وصلب قیامت میں گواہ ہوں گے۔ قتل وصلب تو یہ کہیں گے کہ ہاں ہم نے قتل کیا اور عیسیٰ مسیح کہیں گے کہ میں مقتول ومصلوب ہوا۔ کس قدر لغو معنی ہیں کیونکہ جب حسب آیہ ”وما قتلوہ یقیناً“ عیسیٰ مسیح قتل ہی نہیں کئے گئے تو شہادت کیسی؟ یہ عجیب بات ہے کہ اہل کتاب تو قتل وصلب پر ایمان رکھتے ہیں نہ کہ مسیح پر اور ان کے ایمان لانے کی شہادت دیں گے عیسیٰ مسیح۔ ماریئے گھٹنا پھوٹے آنکھ اور ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایمان انبیاء پر لایا جاتا ہے نہ کہ ان کے زمانہ کے حوادث پر۔

حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح جب دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جو اہل کتاب مر گئے ہیں کیا وہ بھی دوبارہ زندہ ہوں گے۔ کتنا لغو اعتراض ہے۔ مقصود اس زمانہ کے اہل کتاب کا ایمان لانا ہے جو مسیح موعود کے وقت ہوں گے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح کے باب میں اہل کتاب کے مابین اختلاف رہا ہے جیسا کہ ”وان الذین اختلفوا فیہ“ سے ثابت ہے۔ اب مسیح کے دوبارہ آنے پر وہ اختلاف مٹ جائے گا اور تمام اہل کتاب جو اس وقت موجود ہوں گے یکساں بلا نکیر ایمان لائیں گے۔

ہم لکھ چکے ہیں کہ مرزا اور مرزائیوں پر دوسری مصیبت یہ آ پڑی کہ عیسیٰ مسیح زندہ بھی ہیں اور تمام اہل کتاب ان پر ایمان بھی لائیں گے اور ان کے مقابلہ میں بروزی صاحب چند روز میں مر بھی جائیں گے۔ اور کوئی اہل کتاب ان کے نام پر اٹھارواں ولایتی بوٹ بھی نہ مارے گا۔ بروزی صاحب جو عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مارتے ہیں تو اب اپنی توہین کرتے ہیں ان کا فخر اس میں تھا کہ خود قیامت تک زندہ رہتے اور جب عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پا گئے اور مرزا قادیانی کے لئے بھی یہی دن دھرا ہے تو بروزیت کا کونسا تیر مارا اور کس منہ سے ہنکارتے ہیں کہ میں عیسیٰ مسیح علیہ

٢٦٢

صفحہ ٢٧٩

السلام سے افضل ہوں۔ پس لے پالک کا کام ہے کہ آسمانی باپ سے ایسا لٹکا سیکھے کہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہ کر عاقبت کے بورئیے سمیٹے۔

حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اہل کتاب کی نسبت ”والقینا بینهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة“ وارد ہے تو تمام اہل کتاب عیسیٰ مسیح علیہ السلام پر کیونکر بااتفاق ایمان لاسکتے ہیں۔ یہودی تو مسیح کی نبوت کے بھی قائل نہیں بلکہ ان کو معاذ اللہ ملعون ٹھہراتے ہیں اور عیسائی ان کو خدا بناتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی مسیح علیہ السلام کے مکرر آنے کا اعجاز ہو گا کہ تمام اہل کتاب متفق ہو جائیں گے اور وہ اختلاف جو اوپر کی آیہ میں جناب باری نے بیان فرمایا ہے مٹ جائے گا۔ جیسا کہ ہم ابھی ابھی لکھ چکے۔

دوم ...... کسی قوم کا ایک نبی پر بالاتفاق ایمان لانا فروعی اختلاف کا مانع نہیں۔ تمام یورپ و امریکا مسیح پر ایمان رکھتا ہے مگر ان کے آپس میں اختلاف ہے۔ کوئی پروٹسٹنٹ کوئی رومن کیتھولک کوئی گریک خود مسلمانوں میں ٧٢ فرقہ ہیں مگر خدا و رسول پر ایمان لانے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ مرزائیوں میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ ہمارا تجربہ ہے کہ بعض تو مرزا قادیانی کو نہ صرف رسول بلکہ خاتم الرسل یقین کرتے ہیں اور بعض ان کے منکر ہیں۔ دیکھو گھری میں پھوٹ ہے۔ ”والقینا بینهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة“ کے مصداق ہیں اور اگر وہ ہمارے سامنے تقیہ کرتے ہیں تو شیعہ ہیں نہ کہ مرزائی۔ مرزا قادیانی کا کام ہے کہ ایسے منافقوں کو پکے مرزائی بنائیں۔ یہ جواب ہم نے الزامی طور پر دیا ہے ورنہ درحقیقت حقیقی مسیح موعود کے آنے پر تمام اختلافات مٹ جائیں گے اور سچے دین کی روشنی ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس وقت جو شب کوران تیرہ سیرت موجود ہوں گے سب کونوں کھدروں میں گھس جائیں گے بلکہ کافور ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ۔

٣ ...... حدیث شریف میں رجل فارس سے کیا مراد ہے؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

حدیث شریف میں وارد ہوا ہے ”لو کان الایمان معلقاً بالثریا لناله رجل من فارس“ (ایمان اگر ثریا کے ساتھ بھی لٹکا ہوا ہو گا تو اس کو فارس کا ایک رجل حاصل کر لے گا۔) مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٢ اور ازالۃ الاوہام ص ٧٣١، ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥، ٤٥٦، ٤٩٣ حاشیہ ملخص) میں دعوے کرتے ہیں کہ اس حدیث کے موافق رجل فارس سے مراد میں ہوں حالانکہ آپ ہندی نژاد ہیں اور اپنے کو چینی الاصل مغل بتاتے ہیں۔ باوجودیکہ

٢٦٣

صفحہ ٢٨٠

محدثین کبار۔ بخاری مسلم، ترمذی، ابوداؤد و نسائی، ابن ماجہ، دارقطنی، حاکم، بیہقی سب کے سب رجل فارس تھے۔ تعجب ہے حدیث شریف کے مصداق وہ تو نہ ہوں اور مرزا قادیانی ہوں۔

اب ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ حدیث شریف میں جو دجالون کذابون بطور پیشینگوئی وارد ہوا ہے تو اس کے مصداق کون لوگ ہیں۔ کیا وہی نہیں ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی کی طرح مہدی اور مسیح بننے کے دعوے کئے اور حمقاء اور سفہاء کا جم غفیر ان کے ساتھ ہولیا اور بالآخر چند روز میں فی النار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے کو مہدی بتایا مگر دجال نکلے۔ پس کیا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی دجال نہیں ہیں۔ اگر وہ مہدی تھے تو مرزا قادیانی بھی مہدی ہیں۔ خود مرزا قادیانی ایمان سے کہیں کہ وہ دجال نہ تھے۔ ١٣ سو برس میں جس قدر دجال گزرے کسی نے اپنے کو دجال نہیں کہا۔ حالانکہ وہ حدیث شریف کی پیشینگوئی کے مصداق تھے۔ پھر مرزا قادیانی جو ان کی سنت اور نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ اپنی دجالیت کا اقرار کب کرنے والے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کی پیشینگوئی کے مصداق تو بہت سے ہوئے مگر دجالوں ملعون کا مصداق ١٣ سو برس میں ایک بھی نہ ہوا۔ مطلب کی حدیث پر تو ایمان اور جو حدیث مطلب کے مخالف ہو اس کا انکار "یومن ببعض و یکفر ببعض"

کیا موجودہ زمانہ ایمان کے معلق بالثریا ہونے کا زمانہ ہے۔ ایمان بعد اسلام تو دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ علماء اور مشائخ ہر جگہ موجود ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام کا آفتاب بعض ان ممالک کو بھی روشن کر رہا ہے جہاں کفر اور شرک کی ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ پس ظاہر ہے کہ موجودہ زمانہ حدیث شریف کا مصداق نہیں بلکہ وہ زمانہ قرب قیامت پر ہوگا جبکہ تمام دجالوں کا پیرو مرشد اور گروگھنٹال یعنی دجال اکبر آئے گا۔ جسقدر دجال آج تک آچکے اور آئندہ آئیں گے یہ سب بڑے دجال کی لینڈوریاں اور ذریات ہیں اور جس طرح یکے بعد دیگرے یہ سب فنا ہورہے ہیں۔ اسی طرح ان کا مورث اعلیٰ خود حضرت مسیح موعود کے ہاتھوں تیغ قہر الٰہی کا طعمہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کیسا ہی زور لگائیں۔ مگر یہ ہمارا ذمہ ہے کہ وہ دجال اکبر نہیں ہیں اور مجدد کی یہ پیشینگوئی خدا کی عنایت سے جلد پوری ہونے والی ہے۔ انشاء اللہ۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٣ کے مضامین

| ١....... | مرزائی مقدمات۔ | نامہ نگار اخبار اہلحدیث! |

٢٦٤

......٢ ......٣ ......٤ ......٥ نوٹ....... اور شمارہ نمبر

کے مکر نے

مولوی قا حاکم نے موصوف

صاحب معنی جواب ہوگئی۔ اگر زور سے فر گے ہم پر ولادت فر نہایت حم

صفحہ ٢٨١

نوٹ...... شمارہ نمبر ٣٣ میں شمارہ نمبر ٣٤ کا حصہ ”بقیہ مولوی محمد حسن صاحب امروہی میرٹھ میں“ اور شمارہ نمبر ٣٥ کا حصہ ”بقیہ خط بابت دعاوی مرزا“ شامل ہے۔ اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... مرزائی مقدمات

نامہ نگار اخبار اہلحدیث!

اخبار اہلحدیث کا نامہ نگار لکھتا ہے:

خوش قسمتی سے خاکسار ١٥؍اگست ١٩٠٤ء کو گورداسپور پہنچا اور زہے قسمت کہ عدالت کے کمرے میں بینچ پر بیٹھ کر مرزا قادیانی کی زیارت سے بہرہ ور ہوا۔

مرزا قادیانی بحیثیت ملزم ایک خاص ممتاز جگہ کھڑے تھے اور ان کے مقابل ان کے مخالف مستغیث، اتنے میں تیسرے حریف مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری بلائے گئے۔ مولوی صاحب موصوف پر مکرر جرح جو بعد فرد جرم کٹنے کے ملزم کا حق ہوتا ہے باقی تھی اس لئے حاکم نے ان کو پہلی دفعہ کہا تھا کہ ایک دفعہ آپ کو پھر آنا ہوگا۔ چنانچہ ١٥؍اگست کو مولوی صاحب موصوف بذریعہ سمن حاضر عدالت ہوئے۔

حاکم نے خوش اخلاقی سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں کا ارادہ کر کے آئے ہیں۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ جب آپ اجازت دیں گے جاؤں گا یہ کہہ کر یہ لطیفہ (مگر نہایت ہی پر معنی جو اپنے اندر ایک نہایت غامض راز رکھتا ہے) کہا کہ میرا آنا تو آپ کی پیشینگوئی تھی جو سچی ہو گئی۔ اگر بیٹے کی پیشینگوئی ہوتی تو پوری نہ ہوتی۔ یہ کہنا تھا کہ خواجہ کمال الدین وکیل نے بڑے زور سے فریاد کی کہ حضور دیکھئے عدالت میں کھڑا ہو کر ہم پر طنز کرتا ہے۔ ہم یہ کریں گے ہم وہ کریں گے ہم پر ذاتی حملہ کرتا ہے۔ خواجہ صاحب نے یہ سمجھا کہ مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی ولادت فرزند کی پیشینگوئی کی طرف اشارہ کیا جو آخر کار بیٹی سے متبدل ہو گئی۔ جب وکیل صاحب نہایت جھلائے تو عدالت نے کمال انصاف مگر بڑی سختی کے ساتھ خواجہ صاحب کو ڈانٹ پلائی کہ

٢٦٥

صفحہ ٢٨٢

انہوں نے میرے سوال کا جواب دیا۔ تمہیں اس سے کیا نہ تمہارا نام لیا نہ تمہارا ذکر کیا۔ اس لطیفہ کے علاوہ ایک اور لطیفہ یہ ہوا کہ خواجہ کمال الدین نے کہا کہ اربعین غزنویہ پیش ہونی چاہئے۔ مستغیث نے عذر کیا کہ اس کو مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ بعد کسی قدر بحث کے حاکم نے فیصلہ دیا کہ وہ نہیں پیش ہوسکتی غرض میرے سامنے مرزا قادیانی اور مرزائی پارٹی کو کئی پے در پے فاش ذلتیں ہوئیں۔ آخر کار اس کا سبب سوچا تو معلوم ہوا کہ ”انی مهین من اراد اهانتك “ (تذکرہ ص ٤٣ طبع سوم ) یعنی مرزا قادیانی کا الہام مولوی صاحب کے حق میں سچا ثابت ہوا کہ جو تیری اہانت کرے گا خدا اس کی اہانت کرے گا۔ مرزائیو گنتے جاؤ۔

اربعین پیش نہ ہوئی۔ ایک ذلت ..... بیٹے کی پیشینگوئی کا ذکر عدالت میں ہوا دوسری ذلت ...... تمہارے وکیل نے شور مچایا۔ تیسری ذلت ..... حاکم نے اس پر ڈانٹ پلائی چوتھی ذلت ...... اب تمہیں کہو کہ ”انی مهین “ والا الہام مرزا قادیانی کے حق میں ہے یا ان کے مخالفوں کے حق میں؟ پیسہ اخبار کا نامہ نگار لکھتا ہے ١٥؍ اگست کو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، مولوی برکت علی صاحب منصف بٹالہ پر جرح ملزمان ختم ہوگئی۔ ١٧؍ اگست کو مستغیث پر جرح ہوئی۔ یعقوب علی کے مقدمہ میں مولوی فضل الدین صاحب مالک اخبار وفادار لاہور کی شہادت ہوئی اور مرزائیوں کی طرف سے جرح بھی ہوئی۔

فریق ثانی کے مکرر سوالات بھی ١٥؍ اگست کو ختم ہو گئے۔ مولوی محمد حفیظ صاحب گواہ صفائی کو عدالت نے اپنے اختیار سے چھوڑ دیا۔ باوجودیکہ ملزمان کی استدعا تھی کہ یہ گواہ ضرور طلب ہونا چاہئے۔ ٢٣؍ اگست کو بحث ہوئی۔

مرزائی صاحبہ بھی معہ متعلقات ١٣؍ اگست کو رونق افروز گورداسپور ہو گئیں اور ١٤؍ کو جھونپڑی کی سیر کو تشریف لے گئیں۔ اور جناب مسیح الزمان بھی ہمراہ تھے۔ اور مکمنی صاحبہ کے جلوس میں بہت سی دیگر مستورات بھی تھیں۔ جن سے دو گاڑیاں پر تھیں۔ بعد سیر و سیاحت پھر شام کے قریب جلوس واپس آگیا۔

٢ ....... مرزا قادیانی اپنے کاذب ہونے کے مقر ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی انبیاء کے تمام معجزات اور خوارق عادات کا انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ خود کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے مگر اپنے کذب کے ساتھ تمام انبیاء کے کاذب ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں ہی اپنے دعوؤں میں ایک جھوٹا نہیں بلکہ معاذ اللہ تمام انبیاء علیہم السلام جھوٹے

٢٦٦

صفحہ ٢٨٣

ہیں ۔ اس سے دو باتیں نکلیں۔ اول ..... انبیاء میں صفات ناقصہ بھی ہوتے ہیں۔ دوم ..... ایک نبی دوسرے نبی کی صفات کاملہ کا تو اتباع نہیں کرتا ہاں صفات ناقصہ کا اتباع کرتا ہے۔ آپ آتھم وغیرہ کی پیشینگوئیوں کے پورا نہ ہونے کی نسبت کتاب انجام آتھم ص ٢٨ ، ٢٩ ، ٣١ ، خزائن ج ١١ ص ایضا میں لکھتے ہیں کہ: ”انبیاء کے وعدے میں تخلف کا ہونا سنت اللہ ہے۔“ یعنی خدا خود اپنے نبیوں کو جھوٹا کرتا ہے تو اس سے تمام روحیں جھوٹی اور تمام آسمانی کتابیں باطل ہوگئیں اور خدا بھی جھوٹا ہو گیا۔ خاک در دہانت۔

ذرا خیال کرنا چاہئے کہ کوئی شخص تمام عمر سچ بولتا رہا۔ صرف ایک دفعہ جھوٹ بولا تو وہ در حقیقت جھوٹا ہی رہا۔ کیونکہ نجاست کے ایک قطرہ سے کسی ظرف کا سارا پانی نجس ہو جاتا ہے اور کسب حلال کی ساری کمائی میں اگر ایک حبہ بھی کسب حرام کا مل جاتا ہے تو ساری کمائی حرام ہو جاتی ہے اور زہر کا ایک قطرہ جسد انسانی کو فاسد اور تباہ بلکہ ہلاک کر دیتا ہے۔ راویان حدیث کو دیکھو کہ کسی راوی نے تمام عمر میں ایک جھوٹ بولا بس اس کی روایت ساقط ہو گئی۔

عبرت کا مقام ہے کہ کذب اور قول الزور بلاء بد ہے۔ خدائے تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے۔ یعنی فرمایا ہے لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِینَ ۔ مگر مرزا قادیانی کذب کو انبیاء کی صفت اور سنت اللہ قرار دیتے ہیں۔ کلام مجید میں ہے ”وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللہِ تَبْدِیْلاً “ جس کے معنی آپ کے مزعوم کے موافق یہ ہوئے کہ انبیاء کا صادق ہونا محال ہے۔ کیونکہ کذب سنت اللہ ہے۔ شکل اول یوں مرتب ہوئی ۔ کذب انبیاء سنت اللہ ہے اور سنت اللہ کا بدلنا محال ہے۔ حد اوسط دور کر کے یہ نتیجہ نکلا کہ کذب انبیاء کا بدلنا محال ہے۔ دوسری عبارت میں مرزا قادیانی کے دعوے کے یہ معنی ہوئے کہ کذب انبیاء کی فطرت میں داخل ہے۔ اب کوئی نبی سچا نہ رہا سب جھوٹے ہو گئے۔ نعوذ باللہ من ھذا الالحاد والارتداد ۔ پھر جب کذب انبیاء کی فطرت ٹھہری جو اشرف الناس ہیں تو کذب کی ضد یعنی صدق کس کی فطرت ہے۔ یہ محض ایک ایسا کلی مفہوم ٹھہرا جس کے لئے کوئی جزئی نہیں یوں سمجھئے کہ صدق دنیا سے اٹھ گیا یا اس کا وجود نہیں۔ اور یہ حدیث شریف بھی غلط ہو گئی کہ الصدق ینجی والکذب یھلک ۔ کیونکہ صدق تو کوئی چیز ہی نہیں۔ پس نجات محال ہو گئی اور چار طرف ہلاکت ہی کی عملداری ہوئی۔

بے شک مکاروں، عیاروں، دجالوں کے لئے سنت اللہ یہی ہے کہ ان کے وعدے میں تخلف ہو اور وہ حسب فحوائے حدیث مذکورہ بالا ہلاکت کے غار میں دھکیلے جائیں ۔ اور کذب ان کا نیچر بن جائے۔ مرزائیو! کیا اب تم بھی اپنے کاذب نبی کے ساتھ ہلاکت کے دوزخ میں

٢٦٧

صفحہ ٢٨٣

چھوٹے جاؤ گے نجات تم سے بھی رخصت ہو گئی۔ الحمد للہ۔ جتنے مسیح اور مہدی آج تک گزرے وہ سب کذاب ہیں۔ جن پر شیاطین القاء کرتے ہیں اور سنت اللہ اسی پر جاری ہے کہ ان کے وعدوں میں تخلف ہو چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”هل انبئكم على من تنزل الشياطين تنزل على كل افاك اثيم يلقون السمع واكثرهم كاذبون“ ترجمہ: ہاں میں تم کو آگاہ کروں۔ ان لوگوں پر جن پر شیاطین اترتے ہیں۔ وہ اترتے ہیں ہر ایک جھوٹے گنہگار پر جو کانوں میں ڈالتے ہیں۔ سنی سنائی بات اور ان میں کے اکثر جھوٹے ہیں۔ اس کی تفسیر بیضاوی میں لکھتے ہیں۔”ای الا فاكين يلقون السمع الى الشياطين فيتلقون منهم ظنونا وامارات لنقصان علمهم كما فى الحديث الكلمة يخطفها الجنى فيقرقها فى اذن وليه فيزيد فيها اكثر من مائة كذبة “ یعنی وہ جھوٹے جو کان لگاتے ہیں۔ شیطانوں کی باتوں پر پس ان سے لیتے ہیں گمانوں اور علامات کو کیونکہ شیاطین کو بھی پورا علم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ فرشتوں سے جنات کوئی کلمہ اچک لیتے ہیں۔ پس اس کو اپنے دوست کے کانوں میں ڈال دیتے ہیں۔ پس وہ اس میں ایک سو سے زیادہ جھوٹ بڑھا دیتا ہے۔ اصل یہ ہے کچھ لوگ اپنے کو کاہن بتاتے تھے وہ شیطانوں کی نذر و نیاز دے کر اور ان میں مل کر فرشتوں کے پاس جاتے اور ان کی ایک آدھ بات سن لیتے تھے۔ فرشتے ان پر انگارے مارتے تھے جس کو شہاب ثاقب کہتے ہیں تاہم جو ایک آدھ بات سنتے وہ لوگوں میں لا ڈالتے اور لوگ ان کے قائل ہو جاتے حالانکہ آئندہ کی باتیں شیاطین کو بھی معلوم نہیں۔ پس فرشتوں سے ایک بات اڑتی ہوئی سنتے اور اس میں اپنی طرف سے بیس اور ملا دیتے تھے۔ مرزا قادیانی کی رسائی شیطانوں تک تو نہیں نہ ان کو شیطانوں کا تقرب حاصل ہے۔ ورنہ پورے کاہن ہی نہ بن جاتے۔ ہاں رمل اور نجوم میں جو ان کا شاید آبائی پیشہ ہے کچھ دخل ہے پس اٹکل کے بہت سے تیر لگائے ایک آدھ بھولے سے نشانے پر جالگا باقی ہوا میں اڑ گئے۔ پس یہی ان کے الہام اور وحی کی کائنات ہے اور ادرک کی اسی سڑی گلی تھوتھی گرہ پر پنسار ہٹا کھولے بیٹھے ہیں۔

٣ ...... سیدنا المسیح علیہ السلام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود باجود معجزات قدرت الہی کا عجیب مجسم نمونہ تھا۔ ایسا نمونہ دوسرے جسد میں نہیں پایا گیا۔ اگر پایا جاتا آئندہ تا قیامت پایا جائے تو صفات مسیح علیہ

٢٦٨

صفحہ ٢٨٥

السلام پر معجزے کا اطلاق غلط ہوگا۔ بلکہ معمولی اور عادتی امکان اور تکوین میں داخل ہو جائے گا۔ پس عیسیٰ مسیح علیہ السلام سے ہمسری کا دعویٰ کرنے والوں اور اپنے کو مثیل مسیح بنانے والوں کو اس کے سوا کچھ نہ سوجھا کہ آپ کے معجزات اور صفات کا انکار کریں اور اس میں نیچر کا اڑنگا لگائیں۔ ان لوگوں کی عقلوں پر پتھر پڑ گئے۔ جنہوں نے اپنے کو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بتایا اور ان کی صفات و معجزات کا انکار کیا۔ ظاہر ہے کہ ہر شے اپنے مشخصات اور صفات سے ممتاز نہ ہوتی ہے۔ جب مسیح بننے والے اپنے میں وہ صفات ہی نہیں بتاتے تو اپنے دعوے میں کیونکر سچے ہو سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خوارق تو دیکھئے کہ عیسیٰ مسیح میں بہت سے نقص اور برائیاں بتاتے ہیں اور ہا ایں ہمہ اچھے خاصے مثیل مسیح اور موعود ہیں۔ دنیا نے تمام انبیاء کو ان کی صفات اور کمالات اور معجزات کے باعث مانا ہے مرزا قادیانی کو یہی تو جلن ہے کہ میں فرمائشی مسیح ہوں۔ مجھے دنیا کیوں نہیں مانتی؟

پس معجزات کا انکار کرتے ہیں بلکہ خودغرضی کی مجسم عقل سے مسیح علیہ السلام کو صفات ذمیمہ کا مورد بتاتے ہیں۔ اور جس طرح دوسرے منکرین نے نیچر کی آڑ پکڑ کر عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے روح اللہ ہونے اور بغیر باپ کے پیدا ہونے سے انکار کیا۔ مرزا قادیانی بھی اس انکار سے بڑھ کر اپنی بساط میں کچھ نہیں کر سکے۔ مگر خود خدائے تعالیٰ نے مسکت جواب دے کر ان کی گردن توڑ ڈالی کہ ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب " یعنی بے باپ کے پیدا ہوئے عیسیٰ مسیح اگر صرف ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تو تعجب کی کونسی بات ہوئی اور وہ بھی مٹی سے جس میں انسانی تولید کی صلاحیت بھی نہیں۔ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ! اگر نہ صرف یہود بلکہ ساری خدائی متفق ہو کر زور لگائے تو جناب باری کا یہ استدلال توڑ نہیں سکتی۔

پھر مرزا قادیانی اپنا گھڑا ہوا نیچر عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے کس کس معجزات و صفات میں ٹھونسیں گے اور کہاں تک آیات قرآنی کو توڑیں ، مروڑیں گے کہ بے باپ کے پیدا ہونا نیچر کے خلاف ہے اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا باپ یوسف نجار تھا اور احیاء اموات سے مراد احیاء قلوب (ہدایت) ہے۔ اب ذرا کلام مجید سے وہ معجزات سنتے جاؤ جن کا دعویٰ خود عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے سامنے کیا۔ "انی جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابریء الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین (ال عمران: ٤٩)" میں تمہارے پاس تمہارے رب کی

ت را و نصرت را اصحاب ملت را ین باب نبوت را تادی لیاقت را ت را طلاقت را اظہار جہالت را ز روئے مصلحت را نااھل غیرت را ی باب ولادت را وبہ استجابت را

لئے قادیانی نے ین۔ جب علماء اس کی

(خزائن ج ٥ ص ٥٦)

کچھ حاصل نہیں یا

دبنازم بلبر ایں فضیلت

٢٦٩

صفحہ ٢٨٦

طرف سے نشانیاں (یعنی معجزات) لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے جانور بناتا ہوں پھر اس میں جان ڈالتا ہوں پھر وہ خدا کے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا ہے اور میں خدا کے حکم سے مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کرتا ہوں۔ مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور تم جو کچھ کھاتے اور گھروں میں ذخیرہ رکھتے ہو اس کو بتاتا ہوں۔ کہ اب مرزا قادیانی مٹی کے پتلے میں جان ڈالنے اور کھائی ہوئی اور گھروں میں دھری ڈھکی چیزوں کے بتانے کی کیا تاویل کریں گے۔ اس کے مطابق خدائے تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبانی اطلاع دی۔

”يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انك انت علام الغيوب (مائدہ:١٠٩)“ کہ قیامت کے روز جب خدائے تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور امتوں کی سرگزشت ان سے پوچھے گا اور وہ اس کا علم خدائے تعالیٰ کی طرف تفویض کریں گے تو خدائے تعالیٰ ان نعمتوں کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ پر اس نے نازل کیں۔ کہ یوں یاد دلائے گا ”اذ قال الله يا عيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى وتبرىء الاكمه والابرص باذنى واذا كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبین (مائدہ:١١٠)“ کہ اے عیسیٰ بن مریم میرے احسانات یاد کر جو تجھ پر اور تیری ماں پر کئے گئے جب میں نے روح القدس سے تجھ کو مدد دی اور تو لوگوں سے ماں کی گود اور بڑی عمر میں یکساں باتیں کرتا تھا اور جب کہ تجھے کتاب اور حکمت اور توریت وانجیل سکھائی اور جب کہ تو میرے حکم سے جانور کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اور تو میرے ہی اذن سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا تھا اور میرے ہی اذن سے مردوں کو قبروں سے زندہ نکالتا تھا اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تیرے قتل سے روکا تو ان کی طرف معجزات لے کر گیا لیکن جب تو یہ تمام معجزات لے کر ان کے پاس آیا تو جو لوگ ان میں سے کافر ہو گئے وہ بول اٹھے کہ یہ تو جادو کے سوا کچھ نہیں۔ کہ اب فرمائیے اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا اور مردوں کو زندہ کرنا اور کوڑھیوں کو اچھا اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنا نیچر کے خلاف ہے تو خدائے تعالیٰ کس بات کے احسانات مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ پر جتلائے گا وہ تو نیچر کے خلاف کچھ کر ہی نہیں سکتا کیا خدائے تعالیٰ کا یہ احسان جتانا بھی نیچر کے خلاف ہوگا۔ ”لاحول ولاقوة الا بالله“

٢٧٠

صفحہ ٢٨٧

٤...... مولوی محمد احسن صاحب امروہی قادیانی میرٹھ میں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

عرصہ سے مرزائیوں میں کھچڑیاں پک رہی تھیں۔ سب اچھل کود رہے تھے کہ ہمارے مولانا واولا نا رونق افروز ہونے والے ہیں۔ اپنے بروزی کی بروزیت کا ابراز کریں گے۔ اور سارے میرٹھ کو مرزائی بنا کر چھوڑیں گے۔ بالآخر ٢٦؍ اگست کو آپ نے آبکاری کے ایک ملازم کے مکان پر تشریف شریف کا بقچہ کھول ہی دیا۔ ٢٨؍ اگست کو ایک فہرست مشتہر ہوئی کہ مولوی صاحب بعد نماز مغرب مرزا قادیانی کے دعوؤں پر تقریر کریں گے۔ سب صاحب آئیں اور سنیں بعض اکابر اہل اسلام بھی رونق افروز ہوئے۔ تقریر شروع ہوئی مگر ذرا بھی دلچسپ نہ تھی۔ بلکہ بالکل لغو اور پریشان و پچر تھی۔ کہیں وفات مسیح کا ذکر کبھی آیۂ استخلاف پر کبھی آیۂ سبعاً من المثانی پر بحث کہ قرآن قیامت تک لوٹ لوٹ کر نازل ہوتا رہے گا۔ جس طرح جمعہ اور عیدین لوٹ لوٹ کر آتے ہیں (یا جس طرح روحیں تناسخ کر کے آتی ہیں کہ انسان کبھی سور بن کر کبھی دجال بن کر اور سور کبھی کتا بن کر کیونکہ مرزا قادیانی بروزی ہیں اور بروزیت کا یہی حصہ ہے ۔ ) دو اڑھائی گھنٹے تک مغز پچی رہی۔ سامعین کا وقت ضائع کیا۔

ایک ہی بات بار بار بیان کرتے تھے۔ اخیر میں بیان کیا کہ میں میرٹھ میں اسی غرض سے آیا ہوں کہ مرزا قادیانی کے مامور من اللہ وغیرہ ہونے میں اگر کسی صاحب کو شک ہو تو میں اس کو رفع کروں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ادھر سے مولوی حکیم محمد میاں صاحب آپ کی نبض دیکھنے کو جھپٹے۔ ادھر سے خواجہ غلام الثقلین صاحب ایڈیٹر عصر جدید و وکیل ہائیکورٹ مزاج پرسی کو بڑھے اور شرائط مناظرہ کی تنقیح ہونے لگی۔ امروہی صاحب نے وہی وفات مسیح کا پرانا گانا چاہا۔ ہم نے کہا کہ جب تم قرآن کی رو سے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مارتے ہو تو پہلے قرآن کی رو سے ان کا آنا ثابت کرو۔ پھر قرآن ہی سے یہ ثابت کرو کہ وہ مسیح موعود مرزا قادیانی ہیں۔ امروہی صاحب نے جواب دیا کہ جس طرح تم خلفاء اربعہ کی خلافت ثابت کرو گے۔ اسی طرح ہم مرزا قادیانی کی خلافت ثابت کریں گے ہم نے کہا خلفاء اربعہ میں سے کسی نے نبوت اور مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس پر امروہی صاحب مبہوت ہوگئے۔

خواجہ صاحب نے فرمایا کہ نبوت ختم ہو چکی امروہی صاحب نے فرمایا ”لم یبق من النبوة الا المبشرات“ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ رویاء وغیرہ دوسروں کے واسطے حجت نہیں۔ ہم نے کہا کہ المبشرات صفت ہے اس کا موصوف بیان کرو۔ اس پر بھی امروہی صاحب دم بخود

١٧١

صفحہ ٢٨٨

ہو گئے۔ آخر کار امروہی صاحب پر ایسا رعب پڑا کہ حواس غائب ہو گئے۔ بعینہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پنجرے میں کوئی نو گرفتار ہے پھر تو چیخ اٹھے کہ دوہائی تہائی ہے۔ مجھ کو غریب مسافر سمجھ کر سب دباتے ہیں۔ میزبان صاحب نے فرمایا وقت تنگ ہو گیا۔ حکیم صاحب نے فرمایا احقاق حق کے لئے اگر صبح بھی ہو جائے تو ہم حاضر ہیں۔ میزبان نے کہا مولوی صاحب ضعیف ہیں ان کی آواز بیٹھ جائے گی۔ الغرض خدا خدا کر کے جان بچی اور لاکھوں پائے۔ مناظرہ کی شرطیں طے نہ ہوئیں۔ دوسری شام کو پھر حکیم صاحب اور خواجہ صاحب نے جا لیا۔ مگر وہی آرے بلے۔ مولوی احمد علی صاحب پروفیسر مدرسہ اسلامیہ میرٹھ نے خط بھیجا کہ آپ جن شرائط پر رضا مند ہوں میں تحریری یا تقریری مناظرہ کے لئے حاضر ہوں مگر صاف انکار۔ الغرض بجز خفت وذلت کے امروہی صاحب کو کچھ حاصل نہ ہوا۔ خوبی یہ ہے کہ ایک شخص رحیم الدین نام جو مرزائی ہو گیا تھا۔ امروہی صاحب کا ہر طرح عجز دیکھ کر ٣٠؍ اگست کو بعد نماز مغرب مولوی حاجی احمد علی کے ہاتھ پر تائب اور از سر نو مشرف باسلام ہوا اور سنا ہے کہ چند اور مرزائی بھی مرزائی عقیدہ سے مذبذب اور متزلزل ہو گئے ہیں۔ الحمد للہ ! ہم مفصل کیفیت آئندہ لکھیں گے۔ اس ضمیمہ میں گنجائش نہیں رہی۔

سب لوگ سمجھ رہے تھے کہ امروہی صاحب کوئی ذی علم اور بالیاقت اور ذہین وفطین عالم وفاضل اور قابل ہیں۔ مگر ہم سچ کہتے ہیں کہ وہ تجربہ سے اس قابل بھی ثابت نہ ہوئے کہ خود اپنا منشاء اور ماحصل واضح طور پر بیان کر سکیں۔ تقریر میں انتشار اور الجھن۔ ایک ہی بات کا بار بار دوہرانا۔ پھر بھی کسی کی سمجھ میں نہ آنا۔ اظہار مدعا کے لئے طول طویل تمہید اٹھانا اور پھر تھکے اونٹ کی طرح کیچڑ میں پھسل کر بھساک سے بیٹھ جانا۔ کسی بات کے کہنے کا ارادہ کرنا اور منہ سے کچھ اور نکلنا ۔

یہ حالت ہے تو کیا حاصل بیاں سے
کہے کچھ اور کچھ نکلے زباں سے

یہی وجہ ہے کہ علماء میرٹھ نے ہر چند سرمارا کہ آپ تقریری مناظرہ کریں مگر کسی طرح رضا مند نہ ہوئے کیونکہ آپ کو اپنی قوت ناطقہ اور لیاقت کی بساط معلوم تھی۔ میرٹھ آکر آپ نے نہ صرف اپنی وقعت ہی برباد کر دی بلکہ بروزی کی بروزیت اور نبوت اور موعودیت کے تمام دعوے خاک میں ملا دیئے۔ بڑا غضب یہ ہوا کہ ایک شخص چھ سال سے پکا مرزائی ہو گیا تھا مگر امروہی صاحب کو علماء سے کچی کھاتے ہوئے دیکھ کر مرزائیت سے تائب ہو گیا اور چند اور مرزائی بھی اپنے عقیدہ سے ڈانواں ڈول اور گول مٹول نظر آتے ہیں۔ خدائے تعالٰی ان کو پوری ہدایت دے۔ الحمد للہ کہ میرٹھ میں امروہی صاحب کا آنا اسلام اور اہل اسلام کے حق میں مفید ہوا۔

٢٧٢

صفحہ ٢٨٩
عدو شود سبب خیر گرخدا خواهد

آپ پھر تشریف کا گٹھا میرٹھ میں کھولیں اور مرزائیت کا بالکل صفایا ہو جاوے۔ خس کم جہان پاک۔

بيك آمدن ربودی همه آبروئے مرزا
چه شود اگر بدینساں دوسه بار خواهی آمد

امروہی صاحب نے اپنے دعوے میں ”ولقد آتيناك سبعاً من المثانى الآية“ پر بہت زور دیا یعنی یہ ثابت کرنا چاہا کہ قرآن قیامت تک لوٹ لوٹ کر نازل ہوتا رہے گا۔ امروہی صاحب نے ”آتيناك“ میں جو کاف خطاب جانب آنحضرت ﷺ ہے۔ اس کو نظر انداز کردیا۔ دوم...... ”آتينا“ ماضی کا صیغہ ہے نہ کہ مستقبل کا۔ پس قیامت تک لوٹ لوٹ کر قرآن مجید کا نازل ہونا کہاں ثابت ہوا۔ ”سبعاً من المثانى“ کا اتیان آنحضرت ﷺ پر زمانہ ماضی میں ہوچکا۔ سوم...... بالفرض اولیاء اللہ اور مشائخ اور علماء اور صلحاء پر بعض آیات کا کبھی کبھی الہام ہو مگر اس سے وہ نبی نہیں بن سکتے۔ نہ کسی صاحب الہام نے ایسا دعویٰ کیا۔ چہارم...... جب الہام کے لئے صرف قرآن مجید ہے تو آسمانی باپ اپنے لے پالک یعنی آپ کے بروزی پر دوسرے بے معنی فقرے کیوں الہام کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ پر تو یہی قرآن مجید الہام ہوا تھا۔ اور سب کچھ اسی میں ہے۔ معلوم ہوا کہ بروزی کے لئے قرآن مجید کافی نہیں بلکہ آسمانی باپ کے شیطانی الہام کی بھی ضرورت ہے۔ پنجم...... اگر جناب باری کو قیامت تک بار بار قرآن کا الہام کرنا منظور ہوتا اور آنحضرت ﷺ کی تخصیص نہ ہوتی تو بجائے آتیناک (الھمناھا من المثانی) فرماتا۔

ششم...... الہام کے مختلف درجات ہیں جیسے انبیاء اور اولیاء اور صلحاء کے مختلف طبقات میں اور جب قرآن ہی سب پر بار بار الہام ہونے لگا تو امتیاز اور تفریق اٹھ گئی اور سب کے سب انبیاء بن گئے۔ آنحضرت ﷺ اور دوسرے انسانوں میں کچھ فرق نہ رہا تمام تابع متبوع اور تمام امتی نبی صاحب کتاب ہو گئے۔ اب تو لنگوٹے چھتر پر پھر گیا کہ میں بھی نبی تو بھی نبی۔ پھر یہ بالکل مدعی سست اور گواہ چست کا معاملہ ہے۔ اولیاء اللہ میں کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ البتہ چند دجالوں (جھوٹے مسیحوں اور مہدیوں) نے کیا اور چند روز میں فی النار ہوگئے۔ ان میں کونسا سرخاب کا پر تھا کہ مرزا قادیانی میں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی تو ہر طرح آٹھوں گانٹھ کمیت ہیں بلکہ تمام گزشتہ دجالوں سے بڑھ کر طرح طرح کے روپ بدل رہے ہیں۔ کبھی مجدد، کبھی مستقل نبی، کبھی ناقص نبی، کبھی مثیل مسیح، کبھی اصیل مسیح، کبھی خاتم الخلفاء وغیرہ۔

٢٧٣

صفحہ ٢٩٠

ایسے رنگ کسی دجال نے نہیں بدلے۔ پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ مرزا قادیانی دجال اکبر نہیں ہیں ان میں وہ کرشمے اور طاقتیں کہاں جو دجال اکبر میں ہوں گی۔ دجال اکبر تو ابھی تک کمین گاہ کے غار میں بیٹھا ہوا اپنے بیٹوں، پوتوں، پڑپوتوں کی پکڑ دھکڑ کا تماشا دیکھ رہا ہے اور وقت کا منتظر ہے ادھر وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر نکلا ادھر تمام خچر دم دباتے لید کرتے بھاگے۔

ہفتم ..... جب قرآن بار بار الہام ہوتا رہے گا تو امروہی صاحب نے اس دعوے سے اپنی بروزی کی ناک پر استرا چلایا۔ بروزی کس منہ سے کہتا ہے کہ میں مسیح علیہ السلام سے افضل ہوں۔ حضرت حسینؓ سے افضل ہوں کیونکہ اب تو سب بروزیت کی ایک ہی لاٹھی ہانکے گئے۔

ہشتم ..... اتیان کے معنی الہام آسمانی باپ کی کونسی لال کتاب میں لکھے ہیں۔ اتیان کے معنی لانا اور الہام کے معنی کسی کے دل میں کچھ ڈالنا ہے۔ الہام فسق و فجور کی باتوں کو بھی شامل ہے۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے محمدﷺ ہم نے تو تجھ کو سات آیتیں (الحمد) عطاء کی ہیں۔ اول تو الہام خیر و شر دونوں کے لئے ہے۔ دوم ..... محض الہام دوسروں کے لئے قطعی اور یقینی نہیں۔ یہاں اتیان کی قطعیت جو ”آتیناک“ میں اچھی طرح ثابت ہے۔ الغرض ایسی ہی لغویات و خرافات سے آپ کی تقریر معمور تھی۔

٢٩ اگست کو مولوی حکیم محمد میاں صاحب اور خواجہ غلام الثقلین صاحب نے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کو پھر جالیا۔ اور حکیم صاحب نے فرمایا کہ جن شرائط پر آپ رضامند ہوں ہم ان کو بجالائیں گے اور جس قدر روپیہ آپ فرمائیں ہم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ مگر وہاں تو ان تلوں تیل ہی نہ تھا۔ شب گزشتہ کے جلسہ میں سب کھل چکا تھا۔ پس امروہی صاحب کے منہ سے جو نہیں کا کلمہ نکل گیا تھا غیر ممکن تھا کہ وہ ہاں میں بدلا جاتا۔ مشتاقان مناظرہ یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

جھڑکی سہی ادا سہی چین جبیں سہی
یہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی

اثناء گفتگو میں امروہی صاحب نے بوکھلا کر یہ بھی فرمایا کہ میں مرزا قادیانی کا مقلد نہیں ہوں امر حق کو ضرور تسلیم کروں گا۔ مگر ان کا یہ کہنا کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور کا مصداق تھا اور اگر انہوں نے واقعی صدق اور یقین سے ایسا کہا ہے تو اپنے بروزی نبی سے منحرف ہو کر اچھے خاصے مرتد اور باغی بن گئے۔ یعنی مرزائی نہ رہے۔ ہم مرزا قادیانی سے کہتے ہیں کہ یہ آپ کے مار آستیں ہیں۔ ان کو نکالئے ورنہ گھر کے بھیدی بن کر ایک نہ ایک دن بالضرور لنکا ڈھائیں گے۔

٢٧٤

صفحہ ٢٩١

کیوں امروہی صاحب یا تو آپکا یہ دعویٰ تھا کہ میں اپنے نبی کے تمام دعوے ثابت کرنے کو موجود ہوں جس کا جی چاہے آئے اور مرزا قادیانی ایسے ہیں اور ویسے ہیں نبی ہیں۔ خلیفۃ اللہ فی الارض ہیں وغیرہ۔ یا اب آپ ان کے مقلد بھی نہ رہے۔ یا بایں شور شوری یا بایں بے نمکی۔ دیکھئے ہیبت حق اور سطوت علماء حقانی اس کو کہتے ہیں ؎

جادو وہ کہ سر پر چڑھ کر بولے

اتمام حجت

کھلی چٹھی از جانب مولانا حاجی احمد علی صاحب پروفیسر مدرسہ اسلامیہ میرٹھ (بنام جناب مرزا غلام احمد بیگ صاحب قادیانی و مولوی حکیم نور الدین صاحب وامروہی)

جناب من!...... السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی میرٹھ میں تشریف لائے تو میں اور تمام مسلمانان میرٹھ بہت خوش ہوئے کہ اب احقاق حق اور ابطال باطل کا وقت آگیا اور مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں ٢٨؍ اگست کو اعلان عام بھی دیا کہ اگر کسی صاحب کو مرزا قادیانی کے دعوؤں میں کلام ہو تو آئیں اور بذریعہ مناظرہ کے اپنا ارمان نکالیں۔ خاکسار نے دوسرے روز مولوی صاحب کی خدمت میں عریضہ بھیجا کہ آپ جس طرح اور جن شرائط پر رضا مند ہوں میں احقاق حق کے لئے حاضر ہوں۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ عریضہ پر اپنی مہر ثبت کر کے بھیجو۔ میں نے مہر بھی ثبت کردی۔ مگر بالآخر یہی جواب ملا کہ مجھے مناظرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

حالانکہ خاکسار نے سبقت نہ کی تھی۔ مولوی صاحب نے مقابلہ پر آنے سے غالباً سمجھ لیا ہوگا کہ چند روز پیشتر جو کیفیت دیرہ دون میں ہوئی وہی میرٹھ میں بھی ہوگی۔ جس سے دیرہ دون کے ہزاروں مسلمان خصوصاً مسلمانان افغانستان ہمراہیان واراکین سردار محمد یعقوب خان صاحب سابق امیر کابل اچھی طرح واقف ہیں۔ پس وہ میرٹھ میں مناظرہ کرنے سے گریز نہ کرتے تو تعجب ہوتا۔ اب میں جناب والا کو اعلان دیتا ہوں کہ آپ بذات خود یا مولوی نور الدین صاحب میرٹھ میں رونق افروز ہو کر حیات و ممات مسیح پر یا جس معاملہ میں چاہیں خاکسار سے اتمام حجت کریں اگر مجھے قائل کردیں تو پانچ سو روپیہ لیں اور اگر خود قائل ہو جائیں تو ایک حبہ کا مطالبہ بھی میری جانب سے نہ ہوگا۔ انشاء اللہ۔

امید ہے کہ آپ میری کھلی چٹھی کے مطالبہ سے اعراض نہ فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ مدعی نبوت ہیں اور نبی کا یہ منصب اور فرض ہے کہ تحدی سے اغماض نہ کرے اور اپنا معجزہ یا آسمانی

٢٧٥

صفحہ ٢٩٢

نشان خاص و عام کو دکھائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے اخبار الحکم اور البدر میں مناظرہ کے لئے کوئی تاریخ مقرر کر کے جواب باصواب مشتہر فرمائیں گے۔

خاکسار احمد علی پروفیسر مدرسہ اسلامیہ میرٹھ۔ معروضہ ٦؍ ستمبر ١٩٠٤ء

٥ ...... خط بابت دعاوی مرزا

منور عقل عصر جدید!

بخدمت جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی۔ قادیانی

جناب مولانا صاحب تسلیم۔ اس عاجز نے ٢٨؍ اگست ١٩٠٤ء کی شام کو نہایت شوق سے جناب کا وعظ سنا بلحاظ عبور بر آیات قرآنی وطلاقت بیان و تسلسل تاویلات کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو اس وعظ سے محظوظ یا جناب کی لیاقت کا قائل نہ ہوا ہوگا۔

مگر جو دلائل آپ نے مرزا قادیانی کو مسیح ثابت کرنے کے لئے پیش کئے۔ وہ مذہبی یا منطقی اصول سے لائق تشفی نہیں میں نہایت اختصار کے ساتھ چند وجوہ عرض کرتا ہوں۔

کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی وفات وحیات پر بحث ہو جائے۔ ایک غیر متعلق سی بات ہے کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ کی حیات کو مان لیا جائے (اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ تمام شہداء زندہ ہیں ۔) تو آپ کے لئے کچھ مضر نہیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ میں مثل عیسیٰ ابن مریم ایک شخص ہوں مشبہ کے وجود کے لئے یہ لازم نہیں کہ مشبہ بہ معدوم ہو جائے۔

انسان زندہ ہو اور دوسرا انسان اس قسم کی صفتوں والا موجود ہو۔ یہ ظاہر ہے کہ آپ بھی مماثلت کاملہ اور کلمہ تامہ کے قائل و مدعی نہیں ہیں کیونکہ اس صورت میں آپ کو بنی اسرائیل اور مرزا قادیانی کو ابن مریم ثابت کرنا پڑے گا اور یہ خود آپ مان لیں گے کہ محال ہے۔

تہذیب الاخلاق میں لکھ چکے ہیں اور بعض قدیم معتزلہ کی بھی یہی رائے ہوئی ہے تو یہ لازم نہیں آتا کہ محض دعوے کرنے سے کہ میں عیسیٰ ہوں کوئی شخص عیسیٰ ہو جائے گا۔ کیونکہ اصلی عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو گئے ہیں اور تمثیلی عیسیٰ جو کوئی آئے گا اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا کہ میں تمثیلی یا موعود عیسیٰ ہوں۔ ایک شخص کے مرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا جو اپنے کو مثیل ظاہر کرے یا

٢٧٦

صفحہ ٢٩٣

اپنے تئیں موعود بتائے وہ محض اس دعوے سے کامیاب ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ سکندر اعظم مر گیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں سکندر اعظم یا سکندر ثانی ہوں تو صرف اس بات کا ظاہر کرنا کافی نہیں کہ پہلا سکندر مر چکا ہے۔

رائے ہم رکھیں آپ کے عقیدہ پر اس کا اثر مطلق نہیں پڑ سکتا۔ اور اس مسئلہ پر بحث کرنا محض وقت کا ضائع کرنا ہے۔ عوام الناس سمجھیں گے کہ کسی ضروری مسئلہ پر بحث ہے مگر بحث بالکل غیر متعلق ہوگی۔ اس سے بہتر ہے کہ یہ بحث کی جاوے کہ مثلث کے دو اضلاع تیسرے سے بڑے ہوتے ہیں یا نہیں کیونکہ اس سے بھی آپ کے دعویٰ پر اثر نہیں پڑ سکتا اور اقلیدس کا ایک مسئلہ ذہن نشین ہو جائے گا۔

جو امام مہدی علیہ السلام کے متعلق ہیں۔ علاوہ اس کے محققین نے اس کو موضوع لکھا ہے۔ تعجب ہے کہ ملہم مسیح ، ایک موضوع حدیث کی بنیاد پر اپنے تئیں علاوہ مسیح کے مہدی موعود بھی قرار دے۔

مسیحیت کا ذکر نہیں نہ مرزا قادیانی کا حسن ابن صباح، مہدی سوڈانی، محمد علی باب، الحاکم بامر اللہ، اور ہر مسلمان مدعی ملک اس آیت کو اپنے لئے پیش کر سکتا ہے پھر اسی آیت میں یہ ہے کہ دین کو مضبوط اور خوف کو امن سے بدل دینے کے واسطے استخلاف ہوگا۔ اسلام کا خوف مرزا قادیانی کی وجہ سے کم نہیں ہوا۔ بلکہ امور باعث خوف جو آپ نے بتائے ہیں ان میں ایک معنی سے مسلمانوں کا عیسائی ہو جانا علماء کی کوشش سے مرزا قادیانی کے دعوؤں سے قبل ہی جاتا رہا تھا۔ بہت کم ہو گیا تھا۔ آریا سماج ہونا، یہ خوف مرزا قادیانی کے زمانہ میں اور ان کے متبعین کے بعد ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے دعوے سے اسلام میں تفرقہ اور خوف اور بھی بڑھ گیا ہے زائل نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں آیت عام ہے اور تخصیص نہیں۔ اس لئے آپ کے لئے مفید نہیں۔

آنحضرت ﷺ موسیٰ سے چودھویں صدی میں آئے تھے۔ تشبیہ بالکل غلط ہے۔ موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام دونوں صاحبانِ شریعت نبی اولوالعزم تھے۔ کیا آپ آنحضرت کے مقابل اپنے حضرت عیسیٰ کو بھی صاحب کتاب نبی سمجھتے ہیں؟

٢٧٧

صفحہ ٢٩٤

علاوہ اس کے قرآن وحدیث میں کہیں چودہ سو برس کی شرط نہیں۔ اسلام کے انحطاط وبداخلاقی کے شیوع کو جو آپ نے فرمایا ہے سو کئی سو برس سے حالت خراب ہے۔ نئی بات نہیں جیسا کہ ماہران تاریخ جانتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی ثابت نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام ٹھیک چودہ سو برس بعد آئے۔ قیاس آپ کے خلاف ہے کیونکہ حضرت داؤد علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ٢٨ نسلیں ہیں اور حضرت داؤد علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام تک ١٤، کل ٤٢ نسلیں اور بحساب اوسط عمر ٣/١ صدی فی نسل جیسا عام طور پر انسانی دستور ہے۔ ١٤٠٠ سال کی مدت ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک کم سے کم ٤٠٠ برس کا زمانہ لینا چاہئے۔ کیونکہ اسحاق، یعقوب، یوسف علیہم السلام یہ تین نسلیں ہوئیں اور پھر ان کی تعداد سے بڑھ کر ہزار ہا بنی اسرائیل مصر میں ہو گئے۔

اس حساب سے موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام سے ایک ہزار برس قبل ہوئے۔ ایک ہزار کا قرن مانا جائے تو اکبر کا دعویٰ کہ اب میں (ایک ہزار ہجری میں) خلیفۃ اللہ ہوں۔ بموجب آیہ استخلاف درست ہوگا یہ حساب عقلی ہے۔ نقلی حساب یہ ہے کہ بموجب تاریخ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ١٦٣٥ سال قبل بموجب مسیحی سال حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو قمری حساب سے ١٦٨٤ سال ہوتے ہیں۔ آپ اپنے مسیح کا آنا مثیل موسیٰ سے ١٤٠٠ سو برس بعد بتاتے ہیں (اگرچہ دراصل سترہ سو برس ہوئے) اس ٢٨٤ یا ٢٨٤ کا فرق کس طرح نکلا۔

د....... آپ کی یہ دلیل کہ مجدد ہر صدی کے شروع میں آئے گا۔ سو صدی اگر بعد بعثت سے مراد ہے اور یہ تسلسل ثبوت سے ہے تو اس کی ابتداء ١٢٨٨ھ کے قریب ہوئی جب کہ تہذیب الاخلاق شائع ہوا۔ چنانچہ اس پر بھی ١٣٠١ھ درج ہے علاوہ ازیں مجدد کا درجہ ایک مسیح سے بہت کم ہے۔ عیسیٰ بقول آپ کے موعود ہے اور صرف ایک ہے اور مجدد سینکڑوں آئیں گے۔ دعویٰ خاص اور دلیل عام۔ اور ڈاکٹر ڈوئی وغیرہ کی نسبت بھی آسانی سے یہی پیشینگوئی صادق آسکتی ہے اگر اسلام کی شرط ہو تو صبح ازل بابیوں کا امام زندہ ہے اور سید بھی ہے اور مدعی مہدویت بھی ہے۔ اس کو کس واسطے مہدی نہ سمجھا جائے؟ اس سے بھی تخصیص نہیں ہوتی۔ کیونکہ قاعدہ کلیہ کے موافق اس شرط کا دورہ بھی ہوا کرتا ہے۔

آخر میں ادب کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ آپ نے مفصلہ ذیل امور جو زبانی فرمائے تھے۔ جب ان پر غور کیا جائے یعنی۔

٢٧٨

صفحہ ٢٩٥

شرع لا سکتے ہیں نہ شرع میں فرق کر سکتے ہیں (حالانکہ جہاد کے بارے میں یہ حکم بند کر دیا گیا ہے)

تو نتیجہ لازمی یہ نکلے گا کہ ان کا دعویٰ اور ان کی دلیل بعینہ ایک ہے اور ان کو جمہور اسلام سے کوئی علاقہ نہیں اور ان کا حکم ملت پر نافذ نہیں۔ مامور من اللہ کے معنی اگر صاحب شریعت کے ہیں تو بقول آپ کے وہ صاحب شریعت نہیں ہیں۔ اگر اس کے معنی ایسے شخص کے ہیں جس کو خدا سے خاص علاقہ ہو تو اپنے اپنے درجہ کے موافق ہر شخص بلکہ ہر مخلوق ذی روح یا غیر ذی روح اس ذات سے علاقہ رکھتا ہے۔ اس صورت میں بھی مرزا قادیانی کی نہ تخصیص رہی نہ ضرورت رہی۔

ہاں اگر وہ ایسی تعلیم دیں جو فی نفسہ ضرورت زمانہ کے لائق ماننے کے قابل ہو مگر قرآن شریف میں نہ ہو اور وہ پرانے ادیان کو منسوخ کر سکیں کہ مسلمانوں کو یا کل عالم کی ہدایت یا نجات کے لئے ان کا ماننا لازم ہے۔ صرف تفسیر کر دینا یا نئے یا اچھے معنی بتانے کے کسی ناقص نبی کی حاجت نہیں۔ علماء کافی ہیں تو ان کو علم نبوت یا خلافت بلند کرنے کا حق ہو سکتا ہے۔ ورنہ نبوت کا دعویٰ تو محدود گروہ میں کرنا اور خلافت سے بوجہ پولیٹیکل کمزوری کے روحانی نصیحت مراد لینی کبھی صوفیوں کے انکشافات میں پناہ گزین ہونا اور کبھی موضوع احادیث سے مدد لینا یا بچوں کی سی تاویلات کرنا اور غیر واقعی پیشینگوئیوں کو امر واقعی قرار دینا کبھی اپنے کو مثیل مسیح اور کبھی خود مسیح کبھی عیسیٰ، کبھی مہدی، کبھی خاتم الخلفاء (جس کے یہ معنی ہوئے کہ تکمیل دین کا دروازہ آئندہ کو بند ہو گیا) کہیں باوجود حنفی اور مقلد امام ابو حنیفہ قرار دیئے جانے کے امام حسینؓ سے اپنے تئیں افضل قرار دینا۔ (حالانکہ ان کی روحانی برکت کا ایک شمہ بھی میسر ہو جائے تو انسان انسان بن جائے) کبھی مجازی طور پر اپنے کو ابن اللہ اور ابو اللہ قرار دینا کبھی خلاف جمہور آیت ”مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کو اپنے واسطے قرار دینا کبھی اپنے تئیں مثل نبی بنی اسرائیل جتانے کی کوشش کرنا اپنی غلط پیشینگوئیوں کو بزور مجادلہ یا مناظرہ صحیح کرنا یہ باتیں جماعت مسلمین میں پریشانی اور گھبراہٹ ڈالتی ہیں۔

کیا مسلمانوں میں ہزاروں تمدنی برائیاں ایسی نہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ضرور ہیں پھر کیا صرف اس بات سے اصلاح ممکن ہے کہ ایک شخص کی تعریف کے بے اندازہ پل باندھے جائیں اور اسی کا نام دین رکھا جائے۔ نبی بھی دین کا خادم ہوتا ہے۔ آپ کو ثابت کرنا چاہئے کہ علاوہ مذاہب دیگر کے جو ایک جزوی اور بعض لحاظ سے غیر ضروری کام ہے۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے لئے کیا کام کیا ہے۔ ہم اس وقت ان کے دعاوی پر لحاظ کرنے کو تیار ہیں۔ فقط

٢٧٩

صفحہ ٢٩٦

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٨ ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٤ کے مضامین

١...... ان دونوں میں کون سچا مسیح ہے؟ پیسہ اخبار! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... ان دونوں میں کون سچا مسیح ہے؟

پیسہ اخبار!

خوش بود تا محک تجربه آید بمیان
تاسیه روی شود هر که درو غش باشد

پیسہ اخبار لکھتا ہے اگر چہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے معتقدین اس وقت مہذب و غیر مہذب دنیا کے ہر حصہ میں کروڑوں روپیہ کے صرف اور ہزاروں جانوں کے نقصان سے دین عیسوی کے عقائد کی اشاعت کر رہے ہیں اور اپنے پاک مقصد تبلیغ کی پیروی میں لاکھوں مربع میل رقبہ اور کروڑوں نفوس آبادی یورپین سلطنتوں کو دلا چکے ہیں۔ مگر مشرقی حصہ عالم میں حضرت ممدوح کو جو شہرت ایشیائی شعراء نے دی ہے اور جس طرح آپ کے نام مبارک کو اپنی انشا پردازی کا جزو لاینفک بنا لیا ہے۔ اس کی مثال پادریوں، اور راہبوں کی کوششوں میں نہیں ملتی۔

حضرت آدم صفی اللہ علیہ السلام سے لے کر رسول کریم ﷺ تک صدہا نبی ہوئے ہیں اور ان میں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحبان شریعت یا خاص ذریعہ شہرت بھی گزرے مگر السنہ مشرقیہ میں کسی کا نام اتنا کثیر الاستعمال نظر نہیں آتا۔ نہ کوئی رسول ایسا ہر دلعزیز پایا جاتا ہے۔ اردو، فارسی، عربی میں نظم کے ٹکڑے ایسے بمشکل ملیں گے۔

جن میں حضرت ممدوح کا اسم گرامی کسی نہ کسی طرح وارد نہ ہوا ہو۔ اور آپ کے اعجاز نمائی کی طرف اشارہ نہ کیا گیا ہو۔ لوگ مسیحا، مسیح، عیسیٰ روح اللہ، اعجاز عیسوی، دم عیسیٰ، شفائے مسیحا وغیرہ الفاظ سے اس قدر گوش آشنا ہیں۔ اور حضرت موصوف کو اتنا مظہر قدرت الٰہی ومصدر فیوض غیر متناہی جانتے اور لائق توقیر واحترام مانتے ہیں۔ کہ اگر کوئی شخص خود کو آپ کے نام سے نسبت دیتا ہے تو اس کی ذات میں بھی ایک نوع کی دلچسپی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ لوگ بخیال

٢٨٠

صفحہ ٢٩٧

تعظیم وتکریم اور کچھ بغرض تحقیر وتذلیل اس کے درپے رہتے ہیں۔ جس سے بمصداق شعر۔

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام بھی گر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچا ہے جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی آج کل اسی مسیحی نسبت سے مدنظر خلائق بنے ہوئے ہیں اور تقریباً ملک کے ہر حصے میں کسی نہ کسی خیال سے یاد کئے جاتے ہیں۔ لفظ مسیح کا اسلامی لٹریچر پر اتنا اثر ہے کہ گو آپ نے ایک ساتھ مسیح موعود ومہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور خود کو مہدی اصلی ہونے کے ساتھ مسیح کا صرف مثیل قرار دیا ہے۔ مگر لوگ آپ کے ادعائے مہدویت پر اتنی توجہ نہیں کرتے۔ جتنی مسیحیت پر کر رہے ہیں۔ دران حالیکہ علماء کے نزدیک مہدی آخرالزمان کی فضیلت مسیح موعود پر ثابت ہے۔ جو لوگ حروف مقطعات میں عجیب عجیب معنی پیدا کرتے ہیں اور لفظوں کی تاثیروں کے قائل ہیں۔ انہیں شاید اس کے تسلیم کرنے میں کچھ تامل نہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ کی دم معجز نما کی کچھ تاثیر اس لفظ میں بھی آگئی ہے اور اس نے کم از کم اردو، فارسی، عربی، لٹریچر میں حیات جاوید پائی ہے کیونکہ ایران میں بھی جو فرقہ بابیہ تقریباً ٣/٤ صدی سے پیدا ہوا ہے۔ اس نے اپنے بانی مدعی مہدویت محمد علی عرف باب کے زمانہ میں اتنی ترقی نہیں کی جتنی ان کے جانشین شاہ بہاء اللہ کے عہد میں اسے نصیب ہوئی۔ شاہ بہاء اللہ مسیحیت کے مدعی تھے اور اپنی فصاحت و بلاغت سے مردہ دلوں کو زندہ کرتے تھے۔ ان کا مقولہ تھا ۔

اعجاز جان وحی ہے ہمارے کلام کو
زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

سننے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے سنگ دل ان کی تقریر کی تاب نہ لا سکتے تھے اور ہر مجلس میں سینکڑوں آدمی یک لخت ان کے مسیح و لقائے رب ہونے کی گواہی دیتے تھے۔ انہوں نے مسیح کی نسبت سے فرقہ بابیہ میں جان ڈال دی اور لوگوں کو ایسا قوی الاعتقاد بنایا کہ سلطنت کی مخالفت اور کشت و خون کے باوجود وہ اپنے عقیدے سے نہ پھرے اور اسے دین حق کہتے رہے حتیٰ کہ اس وقت ایران، ترکستان، ایشیائے کوچک اور روس وغیرہ بلاد عالم میں کئی لاکھ بابی موجود ہیں۔ ان لوگوں نے ہر قسم کے شدائد وعقاب کا مقابلہ بڑی مردانی سے کیا۔ اور ہر موقع پر ثابت قدمی کا سخت سے سخت امتحان رہا۔ اس لئے اگر وہ اپنے مقتداء شاہ بہاء اللہ کو سچا مثیل مسیح کہیں اور کسی ایسے شخص کا دعویٰ اس کے مقابلہ میں جھوٹا سمجھیں جس نے یہ کرشمے دکھائے ہوں تو کسی قدر حق بجانب کہے جا سکتے ہیں۔ فرقہ بابیہ کے لاکھوں مریدان زبان حال سے بآواز بلند جناب مرزا غلام احمد

٢٨١

صفحہ ٢٩٨

قادیانی کی طرف مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ؎

اشارہ اس نگہ کا روح افزاء ہو نہیں سکتا
کہ جادو گر سے اعجاز مسیحا ہو نہیں سکتا

اور حقیقت بھی یہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی اور ان کے مریدان با اختصاص کو آزمائش کے وہ صعب و خطرناک موقع بھی پیش نہیں آئے جو باب والوں کو آچکے ہیں۔ اور فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے بھی ادھر وہ بات پیدا نہیں ہوئی جو ان کے ہاں سنی جاتی ہے۔ پس ضروری ہے کہ انہیں جناب مرزا قادیانی کے دعاوی کی صداقت میں کلام ہو۔ حسن اتفاق سے جیسا کہ پیسہ اخبار میں پہلے لکھا جا چکا ہے۔ ان دنوں لاہور میں ایک صاحب حکیم مرزا محمود نامی ایرانی تشریف لائے ہوئے ہیں جو فرقہ بابیہ کے ایک مقتدر عالم اور مشنری ہیں۔ آپ نے اسی غرض سے سفر دور دراز کی صعوبت اور صرف گوارا کیا ہے کہ ہندوستان میں اپنے عقائد کو رواج دیں۔ قبل ازیں وہ جملہ ادیان کے پیروؤں کو بحث کا صلائے عام بھی دے چکے ہیں اور چونکہ آج کل جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مدعی مسیحیت و مہدویت بھی اتفاقاً یہاں رونق افروز ہوئے ہیں۔ اس لئے لوگوں کو ایرانی مدعی مسیحیت اور ہندوستانی مدعی مسیحیت میں حق و باطل کا فیصلہ کرنے کا اچھا موقع حاصل ہے۔

حکیم مرزا محمود صاحب ایرانی نے خود پہل کی ہے اور اپنی یہ خواہش بذریعہ اخبار ظاہر کرنے پر زور دیا ہے کہ وہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی سے ان کے ادعائے مسیحیت و مہدویت میں بحث کرنے کو آمادہ ہیں۔ حکیم صاحب موصوف چاہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے قیام گاہ یا کسی دوسرے مکان یا مسجد وغیرہ میں ایک مجلس عام منعقد فرمائیں اور اس میں اپنے مریدوں کے علاوہ عام لوگوں کو شرکت کی اجازت دیں۔ تو میں ان کے اعتراضات کے جواب دوں گا اور ان کے دعاوی کی نسبت اپنے شبہات رفع کروں گا۔ یہ نہیں تو ایک ایسی مجلس خاص مقرر کریں۔ جس میں طرفین کے علاوہ چند غیر اصحاب بھی بطور حکم بلائے جائیں اور جانبین کے دلائل سنیں۔ یہ درخواست سراسر معقول ہے اس لئے میں اپنی رائے پیسہ اخبار میں درج کر کے متوقع ہوں کہ مرزا صاحب بھی اسے منظور فرمائیں گے اور خواہ دفتر اخبار ہذا کی معرفت یا براہ راست حکیم مرزا محمود صاحب سے گفتگو کا وقت مقرر کریں گے۔

ایڈیٹر:...... مرزا قادیانی سے یہ امید نہ رکھنی چاہئے کہ وہ کسی سے مناظرہ کریں گے۔ بہاء اللہ ومحمد علی باب تو دنیا سے رخصت ہوگئے اب تو لندن میں مسٹر پگٹ اور امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی

٢٨٢

صفحہ ٢٩٩

مسیح موعود اور شالی لینڈ میں ملا عبداللہ مہدی ہے۔ پس مرزا قادیانی کی ان تینوں سے دو دو چونچیں ہونی چاہئیں کہ کون سچا ہے۔ حالانکہ چاروں دجالوں اور کذابوں میں داخل ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... لاہور میں مرزا قادیانی کا لیکچر

اخبار اہلحدیث!

اہلحدیث لکھتا ہے ٣؍ستمبر ١٩٠٤ء کو لاہور میں مرزا قادیانی کا لیکچر پڑھا گیا جس کا کئی دنوں سے شور و غوغا تھا۔ لیکچر کا عنوان تھا ”اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب“ اس لیکچر کے دو حصے تھے۔ ایک حصے میں عیسائی مذہب اور آریہ مت کی تحقیق کی کہ ان مذاہب میں کسی طالب حق کو تسلی نہیں ہو سکتی۔ عیسائیوں میں تو یہ عیب ہے کہ وہ گناہوں کا علاج کفارہ بتاتے ہیں جو بجائے خود گناہ ہے۔ آریوں میں یہ خرابی ہے کہ ویدوں کے بعد تمام دنیا کو مکالمہ الہیہ کی نعمت سے محروم جانتے ہیں۔ نیز اس میں ایک اخلاق کا بیخ کن مسئلہ ہے یعنی نیوگ۔ دوسرے حصے میں لیکچرار نے اپنے دعوے کا ثبوت دیا کہ میں مسیح موعود کیوں ہوں۔ باقی دلائل جو ہیں وہ عام طور پر سب کو معلوم ہیں۔ مگر ایک دلیل نئی یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیت ”ونفخ فی الصور فجمعناھم جمعاً“ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مذاہب ایک دوسرے پر حملہ کریں گے تو مسیح موعود آئے گا۔ چونکہ اس وقت دنیا بھر کے مذاہب ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔

اس لئے میں مسیح موعود ہوں۔ یہ ہے مسیحائی لیکچر کا خلاصہ جو چون صفحوں پر چھپ کر قیمتاً تقسیم ہوا اس دلیل بازی سے بچوں کو بھی ہنسی آتی ہے بعینہ وہی مشہور دلیل ہے جو کسی آپ جیسے فلاسفر نے بیان کی ہے کہ زمین اس لئے گول ہے کہ چاول سفید ہیں۔ چلو چھٹی شد۔ ٣؍ کو لیکچر دے

٢٨٣

صفحہ ٣٠٠

کہ ٢٤ /کو گورداسپور پہنچے ٥/ کو دو گواہ استغاثہ کی مکرر جرح کے لئے طلب تھے۔ باقی ٦، ٧، ٨، ٩، ١٠، ١١ کو گواہان صفائی گزریں گے پھر بعد غور حکم سنایا جائے گا۔ غالباً اکتوبر کے وسط میں فیصلہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ العلم عند اللہ۔

٢ ...... مرزا غلام احمد قادیانی

پبلک میگزین امرتسر !

پبلک میگزین امرتسر لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ٣ ستمبر کو ایک لیکچر لاہور تھیٹر اسیمبل ہال میں اپنے مرید خاص مولوی عبدالکریم سیالکوٹی سے پڑھوایا۔ اس کے ابتدائی حصے میں اسلامی فضیلت اور باقی حصوں میں عیسائی اصول اور آرین سدھانتوں کی نسبت دریدہ دہنی سے کام لیا۔ لیکن اس تحریری لیکچر میں جس کا مضمون ”ہندوستان کے دیگر مذاہب اور اسلام“ تھا زیادہ تر اور جا بجا مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت منوانے پر زور دیا اور اعتراضات اور دلائل کی تردید کی کوشش کی جو مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے خلاف انکے مسلمان بھائی پیش کرتے ہیں۔

اس تقریر میں خواہ تصنع ہو لیکن سنجیدگی موجود تھی۔ اپنی اصلاح کی ضرورت اور عظمت بتلاتے ہوئے آریا کے بزرگوں کے طریقہ کی تعریف کی کہ وہ بنوں اور جنگلوں میں جا کر اپنی اصلاح کرتے تھے۔ خود عامل بن کر دوسروں سے عمل کراتے تھے۔ مرزا قادیانی نے یہ خدا کی طرف سے ظاہر کیا جانا بیان کیا کہ راجہ رام چندر اور کرشن بھی خدا کے راست باز بندے تھے اور اس سے سچا تعلق رکھتے تھے جو شخص ان کی توہین کرے مرزا قادیانی اس سے بیزار ہیں۔ اس کو کنویں کا مینڈک سمجھتے ہیں۔ جو سمندر کی وسعت سے ناواقف ہو۔ شاید خدا سے ظاہر ہونے کی سند کافی خیال نہ کی کہ مرزا قادیانی نے ان آرین بزرگوں کے واقعات زندگی پر استدلال کر کے فرمایا کہ جہاں تک ان لوگوں کے صحیح سوانح معلوم ہوتے ہیں ان سے پایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی راہ میں مجاہدات کئے اور کوشش کی کہ اسی راہ کو پائیں جو خدائے تعالیٰ تک پہنچنے کی حقیقی راہ ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنے خیالات کی تائید میں اس آیت قرآنی کا حوالہ دیا جس میں ہر ایک قوم اور امت میں پیغمبر بھیجنے کی خبر درج ہے، آیت مذکورہ سے رام اور کرشن کو آریا قوم کی پیغمبری کے دعویٰ کا بقول مرزا قادیانی استحقاق ہے جو اس کے خلاف مانے وہ قرآن کے خلاف کہتا ہے لیکن جب یہ آرین پیغمبر ہادی یا نذیر خدائے تعالیٰ کی یاد سے اتر گئے تھے اور صرف عرب کے ہمسایہ علاقوں کے نبیوں اور پیغمبروں، ہادیوں اور پیشواؤں کی فہرست میں ان کا نام درج ہونے سے رہ گیا تھا اور خدائے قرآن میں لاعلمی ، فروگذاشت یا کسی اور نامعلوم وجہ سے ان کی پیغمبری اور

٢٨٤

صفحہ ٣٠١

ان کے نذیر ہونے کی تصدیق نہ کی تھی۔ تو آج تیرہ سو سال بعد یقین نہیں کہ مرزا قادیانی اس کی تلافی کرسکیں اور دوسرے رام چندر جی اور سری کرشن چندر جی کا نام مسلمان پیغمبروں کی ضمیمہ فہرست میں داخل کرنے پر رضامند ہوں۔

مرزا قادیانی نے مہاتما نانک دیو کی نسبت فرمایا کہ آپ ان کو خدا پرست سمجھتے ہیں۔ اور ان کی برائی آپ کو پسند نہیں۔ مرزا قادیانی گرو نانک کو ان انسانوں سے سمجھتے ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ اپنی محبت آپ پیدا کر دیتا ہے۔ خاتمہ پر مرزا قادیانی نے ان مبارک روحوں کی پیروی سے دلوں کو روشن کر کے دوسروں کی اصلاح کی ہدایت کی۔

ایڈیٹر....... مرزا قادیانی کو دریائے راوی سے چلو بھر پانی لیکر اور کچھ نہیں تو ناک کی نوک ہی ڈبو دینی تھی کہ ایک ہندو اخبار مذہب اسلام کی نسبت کیا لکھ رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام مذاہب کے بزرگوں کو جو مرزا قادیانی نے گالیاں دی ہیں اور زبان کی درانتی سے سب کو گھاس پھوس کی طرح کاٹا ہے۔ اور اس کا مزہ چکھا ہے تو اب ان کا کانسنس ملامت کر رہا ہے کہ نامعقول خر دجال کی جھول تو نے کیا جھک مارا۔ رام چندر کرشن ، گرو نانک سب اچھے مگر عیسیٰ مسیح برے؟ وجہ یہ ہے کہ آپ ٹھگ اوتار ہیں اور مذکورہ بالا دیوتاؤں کی روح نے آپ میں حلول کیا ہے۔ آپ مسیح موعود بھی ہیں مگر مسیح موعود کی روح نے آپ کی ذات میں حلول نہیں کیا۔ خدا نہ کرے کہ مقدس روح ناپاک جسم میں حلول کرے ایسے لیکچر سے صرف بے دال کے بودم ہی خوش ہوتے ہوں گے۔ یہ صلح کل لیکچر آپ سے مقدمات مرجوعہ نے دلوایا لیکن یادرہے کہ ارتداد اور الحاد کے جو سخت ترین گناہ آپ سے سرزد ہوئے ہیں۔ یہ لیکچر کسی طرح ان کا کفارہ نہیں ہو سکتا۔

عدالتیں ان چالوں کو خوب سمجھتی ہیں۔ ایسے لیکچروں سے پبلک کی مخالفت بھی دور نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے زخموں پر اور بھی نمک چھڑکا جاتا ہے۔

٣ ...... نظم قرآن کے متغیر کرنے میں مرزا قادیانی کا کفر

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جس معجز سیاق و سباق اور نظم سے قرآن مجید منزل من اللہ ہے۔ جمہور امت محمدیہ ﷺ کا اس پر اتفاق ہے کہ اس میں تغیر و تبدل کرنا خواہ کسی طرح سے ہو مثلاً کسی آیت میں کمی بیشی کرنا یا ایک لفظ یا جملہ کہیں سے اور دوسرا کہیں سے چن کر اپنی جانب سے دونوں کو کلام مربوط قرار دینا بالکل کفر ہے۔ اگر اسلامی عملداری میں کوئی مرتد ایسا کرے تو وہ واجب القتل ہے۔ مگر مرزا قادیانی آزاد برٹش گورنمنٹ کو دعا دیں۔ جس کی عملداری میں قرآن مجید بلکہ تمام اسلامی شریعت

٢٨٥

صفحہ ٣٠٢

کی ترمیم کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی ترمیم کرنے والا اپنے کو خدا اور رسول سے بڑھ کر سمجھتا ہے کیونکہ متکلم سے مصلح اور مترجم کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔

پھر یہی نہیں بلکہ ترمیم شدہ اور متغیر شدہ جملوں کو الہام اور وحی خاص بتایا جاتا ہے گویا خدائے تعالیٰ نے پہلے کچھ الہام کیا اور اب کچھ۔ آنحضرت ﷺ نے تو اہل کتاب کی اصلاح فرمائی۔ مرزا قادیانی خود مقدس اسلام کی اصلاح کر رہے ہیں۔ گردن میں پلاسٹر لگا کر اس شخص کو پاگل خانے کیوں نہیں بھیجا جاتا۔ ہماری رائے میں ابھی تک تو اس کا دماغ اصلاح پذیر ہے۔ چند روز میں جب مادہ پک گیا اور موجودہ مالیخولیا پورا قطرب ہو گیا تو اصلاح قطعاً محال ہو جائے گی۔ ایسا بہت جلد ہونے والا ہے۔ انشاء اللہ!

براہین کے ص ٥٥٨، خزائن ج ١ ص ٦٦٦ میں آپ پر یہ الہام ہوا ”الم نشرح لك صدرك الم نجعل لك سهولة فى كل امر بيت الفكر وبيت الذكر ومن دخله كان آمناً“ اپنی مزخرفات ٹھونس کر کلام الٰہی کی کیسی توہین کی ہے؟ ذرا خبط تو ملاحظہ فرمائیے کہ بیت الفکر اور بیت الذکر آپ کے دو گھر ہیں۔ اور آپ خود لکھتے ہیں کہ بیت الفکر سے مراد وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف میں مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی۔ تعجب ہے کہ مرزا کا خدا واحد اور تثنیہ میں بھی تمیز نہیں کر سکتا ورنہ ”ومن دخلهما كان آمنا“ کہتا۔ کیونکہ بیت الفکر اور بیت الذکر دو مکان جدا جدا ہیں۔ آپ کہتے ہیں: ”من دخله كان آمنا“ صرف مسجد کی صفت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صفت اور موصوف کے گھڑنے کا بھی لے پالک کے آسمانی باپ کو شعور نہیں ورنہ عبارت یوں ہوتی۔ ”وبيت الذكر الذى من دخله كان آمنا“ کیا وجہ ہے کہ آپ کا بیت الذکر تو دارالامن ہو اور بیت الفکر دارالامن نہ ہو بلکہ دارالحزن و دارالکفر ہو۔ جناب باری نے تو تمام مکہ کو دارالامن قرار دیا ہے۔ مگر وہ تو تیرہ سو برس کے بعد دارالامن نہ رہے اور لے پالک کا جھونپڑا دارالامن بن جائے پھر فی کل امر بيت الفكر بيت الذكر کتنا فصیح جملہ ہے؟

ارے بوم! تنافر اضافات مخل فصاحت ہے۔ ”الم نشرح لك صدرك“ کے ساتھ اس خانگی عبارت کو ملانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی خبیث سندس واستبرق کے بہشتی حلے میں ناپاک ٹاٹ کا پیوند لگا دے۔

پھر بدمعاشی اور بے ایمانی اور بدنیتی دیکھئے کہ جناب باری نے ”الم نشرح لك

٢٨٦

صفحہ ٣٠٣

صدرك . ووضعنا عنك وزرك الذى انقض ظهرك. ورفعنا لك ذكرك “ میں آنحضرت ﷺ پر اپنے احسانات جتائے ہیں یعنی کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا اور کیا ہم نے تیرا وہ بوجھ نہیں اٹھایا جس نے تیری کمر توڑ ڈالی تھی (تکلیف دے رکھی تھی) اور کیا ہم نے تیرا ذکر (آسمانوں اور زمینوں میں) بلند نہیں کیا۔

یہ مربوط اور مضبوط معجز کلام ملاحظہ فرمائیے اور مرزا کی خانگی لغویات دیکھئے۔ مردود کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مدارج نبوت تکلیفوں اور محنتوں کے جھیلنے کے بعد ملے اور مجھے نہایت سہولت کے ساتھ گھر بیٹھے چھپر پھاڑ کر مل گئے۔ میں آسمانی باپ کا ایسا چہیتا لے پالک ہوں اور مجھے آنحضرت ﷺ پر ترجیح اور تفضیل ہے۔

آنحضرت ﷺ کا رفع ذکر تو اس طرح ہوا کہ ساری خدائی میں اسلام پھیل گیا۔ آج کے روز بھی جبکہ دہریت اور الحاد کا زور ہے۔ یورپ، ایشیا، امریکہ، افریقہ میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں آپ کی رسالت کا جھنڈا بلند نہ ہوا ہو۔ لاکھوں عیسائیوں کو مسلمان کیا اور ہو رہے ہیں۔ لے پالک نے اگر ایک عیسائی کو بھی اپنی سی سالہ بعثت میں مسلمان بنایا ہو تو اس کا حوالہ دے۔

اور حماقت دیکھئے کلام مجید میں ہے ”يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة “ آپ اس پر یوں اضافہ کرتے ہیں ”يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة “ (براہین احمدیہ ص٤٩٧، خزائن ج١ ص٥٩٠) میں خود بدولت نے آدم اور مریم اور احمد سے اپنے کو مراد لیا اور زوج سے اپنے رفیق اور جنت سے مراد جنت کے وسائل۔ لیکن آسمانی باپ بھول گیا کہ یعنی کہ جب مرزا قادیانی کے رفقاء مراد تھے تو ”يا احمد اسكن انت وازواجك الجنة“ ہونا چاہئے تھا آیت ”يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة“ میں زوج سے مراد حضرت حوا علیہ السلام ہیں۔

پس تقابل پر لحاظ کر کے یہی لازم آتا ہے کہ تمام مرزائی مسخ ماہیت ہو کر یعنی مرد سے عورت بن کر آپ کی حوریں بن گئے ہیں جس طرح مرزا قادیانی الہام میں مریم بن گئے ہیں۔ پھر حضرت مریم علیہ السلام کا کوئی زوج نہ تھا (گو آپ یہودی بن کر یوسف نجار کو ان کا زوج بتاتے ہیں) مریم تو حضرت عیسیٰ کی ماں تھیں یہاں آپ کی زوج مریم ہے اور چونکہ آپ مسیح موعود ہیں تو اپنی زوجہ (مریم) کے شکم سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے ناظرین تھوڑی دیر کے فرمائشی قہقہہ تو اڑائیں۔ قہ قہ قہ، قہقہا قہا، تہی تہی تہی۔ یہ آپ کا الہام ہے جس کو سن کر خر دجال مارے خوشی کے کھونٹا اکھاڑ کر دولتیاں جھاڑنے لگتے ہیں۔

٢٨٧

صفحہ ٣٠٤

٤ ...... مرزا قادیانی کے نزدیک انبیاء معصوم نہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

چونکہ مرزا قادیانی کی کوئی پیشینگوئی سچی نہیں ہوئی اور رمالوں اور نجومیوں سے بھی نیچے نکلے۔ لہٰذا ازالہ اوہام کے ص ٦٨٨ خزائن ج ٣ ص ٤٧١ میں اپنی طرح تمام انبیاء کو کذاب اور خاطی بتاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ: ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی نہ دجال کے گدھے کی حقیقت کھلی نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ کے طرز بیان میں اجمالی طور سے سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور اگر وقت ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جائیں تو نشان نبوت پر کچھ حرف نہیں۔“

اب ہم کہتے ہیں کہ جب آپ کی پیشینگوئیاں پوری نہ ہوئیں اور آتھم میعاد کے مابین نہ مرا اور آسمانی منکوحہ سے پیشینگوئی کے خلاف بغل گرم نہ ہوئی تو لا طائل تاویلات کیوں کی گئیں کہ آتھم کے دل میں خوف طاری ہو گیا تھا یعنی وہ دل میں مرزائی بن گیا تھا اور آسمانی منکوحہ کبھی نہ کبھی ہتھے چڑھے گی اور ام المرزائین کے شکم سے اب اگر خلاف پیشینگوئی لڑکی ہوئی تو آئندہ لڑکے کے آنے کا سدباب نہیں ہو گیا۔ نہ دروازہ پر قفل ٹھکا نہ تیغہ ہو گیا۔ آئندہ کبھی نہ کبھی سانپ کا ساپورا ضرور نکلے گا۔ گویا پیشینگوئیوں کے پورا ہونے کا اقرار بھی ہے اور انکار بھی اصرار ہے۔ دنیا سے جنگ وجدل ہے۔ رسالے شائع ہوتے ہیں کہ ان معنوں سے پیشینگوئی ضرور پوری ہوئی۔

ان جھوٹی تاویلوں پر اڑتے رہنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی تو اپنی پیشینگوئیوں میں جھوٹے نہیں ہاں انبیاء جھوٹے ہیں۔ ہر پیشینگوئی کے جھوٹے ہونے پر تاویلات کا دریا بہایا گیا ہے۔ کبھی اقرار نہیں کیا گیا کہ فلاں پیشینگوئی درحقیقت غلط نکلی اور آسمانی باپ نے لے پالک کو دھوکا دیا۔ کسی پیشینگوئی کے غلط ہونے پر مرزا قادیانی کے پھوٹے منہ سے یہ کلمہ نہیں نکلا کہ انبیاء نے بھی اپنے اجتہاد میں خطا کی ہے۔

میں نے کی تو کیا بھس میں خر دجال نے منہ مارا۔ ہاں بعد میں جھوٹے کا خدا نے منہ کالا کر دیا اور جھک مار کر اپنے منہ پر تھپڑ مارنا اور اقرار کرنا پڑا کہ میری پیشینگوئیاں اس لئے غلط ہوئیں کہ انبیاء کی پیشینگوئیاں بھی غلط ہو چکی ہیں۔ جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ کیا اجماع امت میں سے کسی کو آنحضرت ﷺ کی پیشینگوئی میں کبھی شک واقع ہوا ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی اور آپ کی نبوت پر معاذ اللہ کسی نے حرف گیری کی ہے۔ حالانکہ دنیا کو مرزائی پیشینگوئیوں کے غلط ہو جانیکا

٢٨٨

صفحہ ٣٠٥

کامل یقین ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جھوٹا ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ ساری دنیا مجھ جیسی جھوٹی ہو جائے۔ پس اگر مرزا اپنے ساتھ انبیاء کو جھوٹا بنائے تو کسی مسلمان کو برا نہ ماننا چاہئے۔ اگر انبیاء کی پیشینگوئیاں اور معجزات غلط ہونے لگیں تو ان میں اور عام انسانوں میں کیا فرق ہے اور دنیا کیوں ان کا کلمہ پڑھے؟

دجال اور اس کے گدھے اور یاجوج ماجوج وغیرہ کی حقیقت آنحضرت ﷺ پر تو منکشف نہ ہوئی مگر اب تیرہ سو برس بعد چغتی مغل پر منکشف ہو گئی۔ یہ آنحضرت ﷺ پر تہمت نہیں تو کیا ہے۔ نہ کہ آنحضرت ﷺ کے الہام و اجتہاد تو غلط اور مرزا قادیانی کا اجتہاد صحیح اور واقعی یہ اپنا مرتبہ بڑھانا اور آنحضرت ﷺ کا مرتبہ گھٹانا نہیں تو کیا ہے پھر بھی منبر پر چڑھ کر آنحضرت ﷺ کی ثناء اور صفت بیان کرنا منافقانہ نہیں تو کیا ہے۔ چند روز میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کھلم کھلا انکار کیا جائے گا اور حمقاء کے پھانسنے کا جو پردہ ذرا پڑا ہوا ہے وہ بھی جلد اٹھنے والا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ بے حیائی تیرا آسرا۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤ ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٦ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... نظم بر دجال قادیانی

٢٠٠ رلدھیانہ!

آن شاہ کہ لا نبی بعدی فرمود یزدانش خاتم النبیین بستود
دجال بود هر آنکه امروز نبی ست دجل ست همین که لفظ جزئی وافزود
هر کسے کہ امروز شد پیغمبرے الحق آن دجال گشت و کافرے
کرد بر ذات مهیمن افتراء ظالمے دونے مہینے خودسرے

٢٨٩

صفحہ ٣٠٦
بے شمار وحی والہام خودش طاہر و برتر ز دخل ہر شرے
قادیانش حسب قول او دمشق شد یزیدی خصلتاں را مصدرے
پس یزید آمد رئیسش لاجرم آنکہ شد کرسی نشین ومہترے
از ہمیں جوید فضیلت بر حسینؓ کاحمد مرسل جدش آب حیدرے
مرگ عیسیٰ خواند پیشہ نیچری بر پئش گردش غرض کور و کرے
بر سر خلق خدا جلے ہما بفگند تا سایہ بوم و شرے
حق بہ قرآں از صلیبش پاک کرد زیں دو بے باکاں صلیبش معبرے
کادیانی! گوہر خود را بہ بیں بہر ہلکاں ایں نباشد مظہرے
شرم دار از ابن مریم گشتنت ایکہ بودا لغوایت مادِرے
مہدی آل محمد چوں شوی توکہ میداری پدر بونیجرے
فارسی الاصل خود اب تو نیست چوں تو از تاتار داری گوہرے
بن کے یہ سب کچھ ھے پھر حارث بھی تو الغرض ہیں تیرے طرفہ ماجرے
اینچنیں بیہودگی ہارا یقیں خارج از امکانست از دانشورے
گشتنت عیسیٰ بہ عیسیٰ کشتنت ہیچ اہل دیں ندارد باورے
گوہر خود بر بر گوہر شناس کے شوی عیسیٰ بہ تصدیق خرے
بود چوں گوسالہ اعجاز مسیح دانیش چوں سامری افسونگرے
قابل نفرت ھوں ان کے معجزے وضع ھو بے باک رحمت سے پرے
کس زباں سے تو بنا ان کا مثیل نام جب ھر کام پر ان کی دھرے
کے مثیل عیسیٰ مریم شوی زوجہ ات غرق لباس وزیورے
خانہ عیسیٰ نبود اندر جہاں تو ہمہ مشغول دیوار و درے
یاد داری بود چوں باریک تر امتیازت خود بہ کشفی منظرے
اتحادت بود چنداں با مسیحؑ تو و او در پارہ یک جوہرے
فطرتت باوے تشابہ داشت بس کز درخت او تو ہم بودی برے
شد مبدل فطرتت اکنوں چناں بے پری بالاش بے بال و پرے
ان سے افضل اب تو کیسے بن گیا کیوں نہیں خوف خدا تجھ کو ارے

٢٩٠

صفحہ ٣٠٧
پائے عیسیٰ ہم نے بالاش رسد اینچنیں آوردی اعلیٰ منبرے
انبیاء تو نے بنائے مزمرے بے ادب تجھ کو خدا غارت کرے
کے تو مے کردی بایشان اتہام گر تو بودی نیک و نیکو محضرے
جس نے دیکھیں تیری پیشینگوئیاں اب وہ گیدڑ بھبکیوں سے کیا ڈرے
تو جسے مارے جئے وہ دیر تک جس کو زندہ چاہے تو جلد مرے
اور جسے شاداب چاہے خشك هو جس کو سوکھیں تو کہے وہ هوں هرے
چون پسرزائی بمیرد زود تر گر پسر خوانی برآید دخترے
مابہت گفت آں یکے را شوخ و شنگ زاید ازوے فتنہ و شور و شرے
شد بسر سی ماہ دمے بینی ہنود زوجة الهامیت با شوہرے
آتھم ترسا دراں مدت نہ مرد بر رگ جانت ازاں صد نشترے
وان نشان هم لیکهرام از توجه دید قتل و مرگش هست امر آخری
بالکوں کو اپنے ہے اس کے سوا کیا سبق تو نے پڑھایا مسخرے
ابن مریم چڑھ کے سولی مر چکا میں ھی عیسیٰ ھوں قیامت سے ورے
قائلی با ایں ہمہ کاید مسیح باجلال ظاهر و کروفرے
يك جه باشد ده هزار آمد تواں در ازالہ صد و درے
انتظار آں مسیح از آسمان دارد اندر سینه هر نيك اخترے
ملحف و مدبر ہے تو کیسا مسیح مال مردم سے جو اپنا گھر بھرے
از سہ صد أجزاء تو دادی سی و پنج ٣٥ شد براہین حیلہ جمع آرے
اے دغا باز آنچه گفتی یاد کن لاجرم شد ختم بر پیغمبرے
تو کدامی قسم پیغمبر شدی درد هاں گنده ات خاکسترے
آه با اسلامیاں کردی فریب داشتی با خود نبوت مضمرے
هر رسولے آفتاب صدق بود هر رسولے بود مهر انورے
ما همه پیغمبران را چاکر یم هم چو خاکے کافتد بر هر درے
در براهین بود ایمانت چنیں بر همه کس حجتے روشن ترے
اے کہ عیسیٰ را تو باشی خاک در ہالے مرتد نہ گشتی ہمسرے

٢٩١

صفحہ ٣٠٨
ہمسرے نہ بلکہ ازرے بہترے اے منافق بودی اورا چاکرے
ایں فضیلت ہا بہ عیسیٰ جستنت وایں رسالت شد بد نیت صرصرے
خالی از ایمان ودین بگذاشتت پر عفونت مردہ بیجان پیکرے
دعوے تجدید دیں بودت نخست خویشتن را کردی آخر ابترے
گشتی از ابنیت وتصویر خویش بت ستاؤ بت فروش وبت گرے
موجب گستاخی وہتک مسیح درکف از شرب الیہودت ساغرے
زلزلت خواندی وظاہر کردہ نیچریا نہ خیالی محشرے
می کنی تغلیط تفسیر سلف ناخلف رفتی براہ دیگرے
چوں صبیغ اسلمی باشد ترا قادیانی حاجت یک عمرے
کز تو سازد دور الحاد و کجی درہ اش باشد بہ پشتت مسطرے
قابل ایمان حدیث مصطفیٰ نیست نزد توبہ قرآن اکثرے
وحی عیسیٰ قادح ختم الرسل داری از الہام ووحیت دفترے
بہر دجال شقی ایں زماں خامۂ سعدی ست گویا خنجرے
گرچہ یارب بندہ بے توشہ ام نیست غم باچوں تو بندہ پرورے
جز تو پیش کس فرو ناید سرم عبد خود را اے تو کافی یاورے
آگہ از اعلان واخفائے منی ایکہ در علم تو ہر خشک وترے
چشم بر عفو تو دارم چوں توئی مستعانے مہربانے داورے
خائف از قہر تو ام دائم ولے رحمت تست از غضب زور آورے
قابل التوبی وغفار الذنوب مغفرت گردان بہ فرقم مغفرے
زینہار تو ز دجال زماں سیما زاں کافر آید اعورے
حرز جاں دارم براہ مصطفیٰ در برے قرآن حدیثش دربرے
التجا دارم دراں تاپ وتپش جامے از دستش کنار کوثرے
جنت خلدت بود مہمانیم ہم زر ضوانت تبارک افسرے
احمد مرسل بہ نفع ما حریص بہر ما از رحم درافت غم خورے
آن شہ دنیا ودین کز مقدمش شد زمیں رابر فلک صد مفخرے

٢٩٢

صفحہ ٣٠٩
سائل ومحتاج وے شاہنشہاں صاحب تخت و نگین و قیصرے
دست کس نرسید و ہم نرسد بآں دادہ زیر نگینش کشورے
از من بیدل سلامش مے رساں آنکہ سالار ست و مارا سرورے
ہم بہ ہر یک یک از آدم تا مسیح در نبوت برگزیدہ معشرے
نیز اصحاب و آل آں تمام رحمت حق بہ ہر یکے دیں گسترے
کار ایشاں بود در راہ خدا امر معروفے و نہی منکرے

٢ ...... مرزا قادیانی کے نزدیک تمام مذاہب حق پر ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

لاہور کے لیکچر نے تو مرزائیت کی کایا ہی پلٹ دی۔ بروزی رنگ برنگ کے روپ آج تک بدلتا رہا۔ اب سب کو چھوڑ کر ان سے کچھ اور ہی نیرنگ دکھایا۔ یوں کہو امام الزمان کے حقیقی معنی اب سمجھا، ٣٠ سال تک تو صرف مرزائیوں کا امام رہا اب دولاکھ دانوں کی تسبیح سے نکل کر مالاؤں اور زناروں میں منسلک ہو کر تمام ہندوؤں اور سکھوں اور لال بیگوں کا امام (لال گرو) بن گیا ۔

زاہد شرک خفی کی بھی خبر ہے کہ نہیں
زیر دانہ تسبیح کے زنار بھی ہے

لعنت ہے اس خود غرضی اور بدعت پر کہ ہر قوم کی مورتی کے مندر میں ماتھا ٹیکا تمام اوتاروں کو سجدہ کیا۔ پھر بھی کسی آریا کسی سناتن دھرمی۔ کسی سکھ، کسی لال بیگی کو دس ہزار آدمیوں کے مجمع میں مرزائی نہ بنا سکا۔ اب تو تمام مرزائیوں پر مرزا قادیانی کی حقیقت کھل جانی چاہئے کہ وہ کتنے پانی میں ہے اور اس کے کیا پاکھنڈ ہیں۔ کوئی پوچھے جب تمام مذاہب حق پر ہیں تو آسمانی باپ نے لے پالک کو کس کی اصلاح کے لئے بھیجا پھر بھی آپ نہ صرف مسلمان بلکہ اسلامی مجدد اور نبی وغیرہ۔ کلام مجید تو یوں ناطق ہو ومَن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منہ اور یہ مکار تمام مذاہب کو حق پر بتائے۔ کیا یہ مختلف مذاہب در حقیقت خدا نے پیدا کئے ہیں۔ کیا خدائے تعالیٰ عرش پر بیٹھا دنیا کو لڑوا رہا ہے خون خرابے کرا رہا ہے۔ خدا کا تو یہ کام نہیں اس نے تو ایک سیدھی راہ صراطا سویا ء بتادی ہے اور سیدھی راہ ایک ہی ہوتی ہے۔ البتہ آسمانی باپ چودھویں صدی

(حاشیہ گزشتہ اشعار) لے (ازالہ ص ٧٢، خزائن ج ٣ ص ١٤٨) قادیان میں یزیدی لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ قادیانی وہاں کا کرسی نشین رئیس ہے تو یزید کیوں نہ ہو۔ اسی لئے حسین سے افضل بنتا ہے؟

٢٩٣

صفحہ ٣١٠

میں اپنے لے پالک مسیح کو ساری خدائی سے جنگ کرا رہا ہے۔ آپ کے قول کے موافق آریا کے رشی اور منی حق پر تھے مگر نیوگ کا مسئلہ خراب ہے۔ عیسائی حق پر ہیں مگر کفارہ برا ہے پھر حق پر کہاں رہے؟ بات یہ ہے جھوٹے کو بھاگتے راہ نہیں ملتی اور قدرت الہی اس کا حافظہ بھی سلب کر لیتی ہے۔ مرزا کو یہ خبر نہیں کہ مختلف رسالوں میں آریا اور عیسائیوں اور ان کے بزرگوں اور خود عیسیٰ مسیح کی نسبت کیا جھک مار چکا ہے اور اب اس کے خلاف کیا ابراز کر رہا ہے۔ قصور درحقیقت کھوسٹ آسمانی باپ کا ہے کہ لے پالک پر متناقض الہام کرتا رہتا ہے۔ آپ نے دیگر مذاہب کے اوتاروں کو خدا پرست اور راست باز بندگان خدا ہی نہیں قرار دیا بلکہ ان کو نبی بھی بنادیا اور سند میں یہ آیت پیش کی ”وان من امة الا خلا فيها نذیر“ یعنی کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا (نبی) نہ آیا ہو۔ اس دلیل سے ہنود اور سکھوں کے اوتار ہی نہیں بلکہ حلال خوروں، چماروں وغیرہ ذلیل اور کمینہ اقوام میں بھی نبی گزرے ہیں اور قیامت تک گزریں گے۔ حالانکہ اس آیت میں گزشتہ امتوں اور انبیاء کا ذکر ہے۔ کیونکہ خلا ماضی کا صیغہ ہے۔ آنحضرت خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نذیر (نبی) نہ آئے گا۔ یہ اپنے بڑے بھائی امام الدین کا اتباع ہے جو حلال خوروں کا گرو بنا تھا۔ کیوں نہ ہو آخر ہیں تو دونوں ایک ہی جھاڑو کی تیلیاں۔ معلوم نہیں اب لے پالک نے کیوں جھول جھال دیر دار لگا رکھی ہے۔ کھلم کھلا امرتسر کے دربار میں جا کر کیوں گرنتھ جی کو سجدہ نہیں کرتا۔ کیونکہ عملی طور پر مندروں میں جا کر ہنود کے اوتاروں کی مورتی کو ڈنڈوت بجا نہیں لاتا۔

پہلے تو یہ پالیسی رہی کہ میں عیسیٰ اور موسیٰ اور تمام انبیاء اور اوتاروں سے اچھا ہوں اور سب برے ہیں۔ جب چار طرف سے منہ پر تھپڑ لگنے لگے۔ تو اب کیدانی نے کید کی یہ پالیسی ٹھہرائی کہ میں اچھا اور میرے ساتھ سب اچھے۔ جیسے اور لوگ نبی اور اوتار ہیں ۔ میں بھی ایسا ہی ہوں۔ اسکے یہ معنی ہوئے کہ جیسا میں مکار اور دنیا پرست مرغ باد نما ہوں تمام انبیاء اور اوتار بھی ایسے ہی تھے اور میری طرح سب ہاتھی کے روٹ میں حصہ لگاتے تھے۔

لاہور میں آپ کا لیکچر سننے کو لوگ اسی طرح جمع ہوئے جس طرح کسی مداری کا تماشا یا کسی کمپنی کا ناٹک دیکھنے یا اس کا راگ سننے کو جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ محض اس لئے گئے کہ دیکھیں اب گنبد سے کیا صدا نکلتی ہے اور چونکہ آپ دو سال تک مقدمات کے اکھاڑے میں جت چکے ہیں۔ لہذا دیکھیں اب بھی وہی نرے ڈبے ہیں یا کچھ معقول ہو گئے ہیں۔ مگر خوشی کی بات ہے کہ لوگوں کا عندیہ صحیح نکلا اور ایک گرگ باران دیدہ عین موسم بارش میں بھیگی بلی بن کر نظر آیا۔

٢٩٤

صفحہ ٣١١

مرزائی اخبار لکھتے ہیں کہ اس مجمع میں مرزا قادیانی سے کئی سو آدمیوں نے بیعت کی۔ ارے واہ رے مرزائیو! تمہاری چال کے کیا کہنے ہیں۔ ناظرین نے لاہور، امرتسر، دہلی وغیرہ بڑے بڑے شہروں میں چند ٹھگوں کو اپنی چیزوں کا نیلام کرتے دیکھا ہوگا کہ وہ بڑھا کر آپس میں نیلام کی بولی بولتے ہیں ناواقف لوگ اس دام میں آجاتے ہیں اور بولی بڑھ کر نیلام کی چیزیں خرید لیتے ہیں۔ پس چند مرزائیوں نے لوگوں کے پھانسنے کو دس قدم بڑھ کر بیعت دہرائی ممکن ہے کہ دیکھا دیکھی چند الو اور بھی پھنس گئے ہوں۔ پس یوں سینکڑوں کی تعداد پوری ہو گئی۔ گھر کے صوفی گھر کے قوال۔

٣ ...... مرزائی مقدمات

نامہ نگار پیسہ اخبار!

پیسہ اخبار کے نامہ نگار نے لکھا کہ ٦؍ ستمبر ١٩٠٤ء مولوی محمد صاحب کی شہادت ختم ہوئی ہے۔ ٧ کو شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپور کے بعد۔ ٨ کو منشی عزیز الدین صاحب تحصیلدار دینا نگر اور میاں حسین بخش صاحب پنشنر بٹالہ کی شہادتیں ہوئیں۔ ٩ کو مجسٹریٹ صاحب خزانہ کے کام میں مصروف رہے اور مقدمہ کی سماعت نہ ہوسکی۔ ١٠؍ ستمبر کو ڈاکٹر محمد الدین صاحب گواہ مستغیث میڈیکل پریکٹشنر لاہور حاضر عدالت ہوئے۔ اول خواجہ کمال الدین صاحب وکیل مدعاعلیہم نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو واقعات مقدمہ سے آگاہ کیا۔ مولوی کرم الدین صاحب کی طرف سے کوئی وکیل مقدمہ کی پیروی نہ کرتا تھا۔ وہ آپ ہی جرح کرتے رہے اور حق تو یہ ہے کہ کوئی وکیل اس سے بہتر جرح نہیں کر سکتا۔ پھر لفظ کذاب میں بحث ہوئی۔

ڈاکٹر صاحب نے کذاب کے معنی بسیار دروغگو بیان کئے۔ عادت اور استمرار کا اس سے کچھ تعلق نہیں ثابت کیا۔ مگر مولوی صاحب نے رائٹ صاحب کی گرامر میں کذاب کے معنی عادی دروغگو دکھایا۔ ڈاکٹر صاحب نے عادی دروغگو کی تشریح یوں کی کہ عادی دروغگو اس شخص کو کہتے ہیں جو مجبوراً جھوٹ نہ بولے بلکہ خوشی سے اور بغیر دباؤ کے اور مولوی صاحب فقط اتنی ہی بات میں کذاب ثابت ہوئے۔ جس قدر اس مقدمہ کے متعلق تھی اور عادی دروغگو نہ قرار دیئے گئے۔ پھر دروغ کے جواز پر بحث ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فوجی افسروں اور وزراء کے لئے جھوٹ مباح ہے کیونکہ اس کو مصلحت وقت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عالم جو صداقت کی تلقین کے لئے مامور ہو اور اس حرکت نازیبا کا مرتکب ہو تو نہایت شرم کی بات ہے۔ مولوی صاحب نے شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا جس میں سومنات کے مندر میں برہمن بن

٢٩٥

صفحہ ٣١٢

کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بیان کرنے سے آپ کا یہ مدعا تھا کہ جب سعدی جیسے علامہ نے بت کدے سومنات کے اسرار معلوم کرنے کی خاطر جھوٹ سے احتراز نہ کیا تو مجھے مرزا قادیانی کی ملہمیت کی حقیقت دریافت کرنے کے لئے جھوٹ بولنا ممنوع نہ تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سعدی ہو یا کوئی جھوٹ جھوٹ ہی ہے۔ مولوی صاحب کا ملہم ہونا ان کی حرکات تک محدود رہا۔ ذات سے کچھ تعلق ثابت نہ ہوا اور نہ یہ ثابت کرنے کا کسی کو موقع تھا۔ مہین یعنی اہانت کنندہ بھی ثابت ہو گیا۔ پھر مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کے دعوے نبوت ومسیحیت و خدائی کا حوالہ دے کر ڈاکٹر صاحب سے کہلوایا کہ مدعا علیہ با اعتبار مذہب کے کافر ہے گو ان کی فضیلت وعلمیت قابل ادب ہے جیسی کہ ہر ایک فاضل کی ہونی چاہئے۔ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی نے نہایت تحمل ظاہر کیا۔ پانچ چھ گھنٹے پاؤں پر کھڑے رہے مجسٹریٹ صاحب نے وکیل مدعا علیہم کو تنبیہ کی کہ اس طرح گفتگو نہ کریں جس سے گواہ کی شہادت پر اثر پیدا ہوا۔

مرزا قادیانی کے مقدمہ میں شہادت استغاثہ پر جرح مکرر بھی ختم ہوچکی۔ اب ان کے گواہان صفائی گزر رہے ہیں۔ چنانچہ ٧/ ستمبر کو شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپور کی شہادت ہوئی۔ آپ نے اپنی شہادت میں یہ بھی لکھایا کہ الفاظ استغاثہ مزیل حیثیت عرفی ہیں اور دشمنی کی حالت میں کسی کی نسبت یہ الفاظ شائع کرنا حرام ہے اور دشمنی کا اعتراف بھی تو لکھنے والا سخت سزا کے لائق ہے۔ دوسرے گواہ منشی عزیز الدین صاحب دینا نگری پینشنر تحصیلدار کی شہادت ٨/ کو گزری۔ انہوں نے بھی مانا کہ الفاظ استغاثہ کردہ بے شک ہتک کے الفاظ ہیں اور مضمون اخبار متنازعہ کی نسبت انہوں نے لکھا کہ کاتب مضمون نے جو کچھ کیا اپنے فرقہ کے مسلمانوں کو مرزائی فرقہ کی ضرر سے بچانے کے لئے کیا۔ اسی تاریخ کو میاں حسین بخش صاحب ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر پینشنر پٹیالہ کی شہادت ہوئی۔ انہوں نے یہی کہا کہ واقعی الفاظ استغاثہ کردہ مزیل حیثیت عرفی ہیں اور مستغیث کی ازالہ حیثیت عرفی ان سے ہوئی ہے۔

اخبار کے مضمون کے متعلق لکھایا کہ کاتب مضمون نے اپنے دل کی تسلی کے لئے یہ کارروائی کی ہے اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں اور یہ بھی لکھا کہ کتاب (مواہب الرحمن ص١٢٩، خزائن ج١٩ ص٣٥٠) پر جو مضمون لکھا ہے۔ اس میں سراج الاخبار یا خطوط کا کوئی ذکر نہیں۔ ان گواہان کی مفصل شہادتیں بمعہ مصدقہ نقول کے غالباً شائع ہوں گی۔ ٩/ کو مقدمہ پیش ہوکر تاریخ پڑ گئی۔ آج ١٠/ کو ڈاکٹر محمد الدین صاحب لاہوری چودھری نصر اللہ خان و مولوی فیروز الدین سیالکوٹی کی شہادتیں ہوں گی۔ آئندہ کی کارروائی سے پھر اطلاع دی جائے گی۔

٢٩٦

صفحہ ٣١٣

٤....... وہی وفات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب ایک نبی وفات پا گیا ہے تو دوسرا نبی مبعوث ہوا ہے اور سنت اللہ اسی طرح جاری رہی ہے۔ یہاں تک کہ انبیاء کا سلسلہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا۔ لیکن آج تک کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ چونکہ فلاں نبی مر گیا ہے اس لئے میں اس کی جگہ آیا ہوں۔ اور اے لوگو! فلاں نبی کو مردہ سمجھ لینا ہی مجھے نبی مان لینا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ چونکہ غفور و جلیس مر گئے ہیں۔ لہٰذا میں ان کا جانشین ہوں۔ اس سے لازم آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ لوٹ لوٹ کر ایک شخص اور صفات کے انبیاء کو بھیجتا ہے۔ اس کے پاس انبیاء کے ڈھالنے کا دوسرا سانچا ہی نہیں یا پہلے ایک ناقص نبی بھیجا اس کے بعد کامل۔ یا پہلے ایک کامل بھیجا اس کے بعد ناقص۔ خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ پہلے ناقص نبی بھیجے اور پھر کامل۔ اس سے حکیم علی الاطلاق کی قدرت وحکمت پر حرف آتا ہے۔ ناقص نبی ہو نہیں سکتا۔

پس مرزا کا یہ کہنا کہ میں مثیل مسیح ہوں خود اپنی توہین کرنا اور اپنے کو خاک عجز پر گرانا ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ کاٹھ کا الو اور بدھو بغیر اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا جب تک اپنے کو اوروں کا فضلہ خوار اور راتب خوار نہ بنائے یعنی دنیا چونکہ مسیح علیہ السلام کو مانتی ہے۔ لہٰذا میں مثیل مسیح بنوں کیونکہ انہیں اپنی حیثیت اور وجاہت اچھی طرح معلوم ہے لیکن کیا کوئی اپنے کو نبی بنانے سے نبی بن سکتا ہے۔

خر گر جلہ اطلس بپوشد خراست

توریت اور انجیل میں لکھا ہے کہ (تسلی دینے والا) آئے گا مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے کو مسیح موعود قرار نہیں دیا بلکہ محض رسول۔ کیونکہ اس میں وہی خرابی تھی جو ہم نے اوپر بیان کی کہ قرآن میں ہے۔ ”وان من امة الا خلا فیها نذیر (فاطر:٢٤)“ پس مسیح وموسیٰ بننے میں جس طرح آنحضرت ﷺ کی توہین تھی اسی طرح انبیاء بنی اسرائیل کی تھی۔ بلکہ خود مسیح نے بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر یوں فرمایا ”یابنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦)“ یعنی اے بنی اسرائیل میں تمہاری ہی طرف رسول ہوں نہ کہ بنی اسمعیل کی طرف کیونکہ آنحضرت ﷺ بنی اسماعیل میں سے ہیں۔ اب ذرا خیال کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ کو تو بنی اسرائیل میں بھی آنحضرت ﷺ کا مبعوث ہونا منظور نہ ہوا اور مرزا خود امت محمدیہ میں ہو کر اپنے کو

٢٩٧

صفحہ ٣١٤

نبی اور مسیح بنائیں۔ ماحصل یہ ہے کہ اگر مسیح بننے میں کوئی خوبی اور ترجیح ہوتی تو آنحضرت ﷺ اپنے کو مسیح موعود قرار دیتے۔ کاش مرزا اور مرزائی ہمارے اس مضمون کا محمل سمجھیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم اکتوبر کے شمارہ نمبر ١٤٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون لیکچر لاہور

مولوی ممتاز علی اخبار تالیف واشاعت

مولوی ممتاز علی صاحب ایڈیٹر اخبار تالیف واشاعت نے مرزا جی کے لاہور والے لیکچر کی کیفیت حسب ذیل لکھی ہے۔ جس میں کچھ آپ بیتی رام کہانی کی ہے۔ ہم مضمون کا انتخاب ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

ہرچند مرزا صاحب کی شہرت ہندوستان سے متجاوز ہو کر عرب و مصر و روم و شام تک پہنچی ہے۔ مگر خاکسار بدقسمتی سے اب تک شرف اندوز زیارت نہ ہوسکا اور اب پہلا موقع زیارت کا ملا۔

مرزا قادیانی نے اپنی تقریر پہلے سے قلم بند کر لی تھی اور شاید سامعین کی آسانی اور فائدہ کے لئے چھاپ کر شائع کرنا چاہتے تھے۔ افسوس ہے کہ بعض اہل مطابع نے کسی وہم و وسوسہ سے اس لیکچر کے طبع کرنے میں تامل کیا۔ آخر خاکسار کے مطبع نے اس خدمت کو جس سے پہلو تہی کرنا بالکل تنگ دلی اور کم حوصلگی تھا نہایت خوش دلی سے ادا کیا۔

مرزا قادیانی نے کسی وجہ سے لیکچر کو خود پڑھنا مناسب نہ سمجھا بلکہ ان کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب نے جو ان کے ارشد خلفاء سے ہیں۔ پڑھ کر حاضرین کو سنایا۔ جس مضطربانہ اشتیاق سے لوگ کشاں کشاں جلسہ میں شریک ہوئے تھے۔ لیکچر کے سننے سے ان کو بہت افسوس ناک دل شکنی اور مایوسی ہوئی۔ کچھ شک نہیں کہ لیکچر میں اول تو اقتضائے موقع ومحل کی مطلق رعایت نہ کی گئی۔ ثانیاً اسلام کی خوبیوں کے مقابلے میں دیگر مذاہب کی بابت جو کچھ کہا گیا چنداں مدلل اور محققانہ نہ تھا۔ علیٰ ہذا طول عبارات لاطائل تکرار نے سامعین کو بالکل تھکا دیا۔ مگر یہ اعتراض ان کے سارے لیکچر پر عائد نہیں ہوتا۔ آخری حصہ نے جو مرزا صاحب کی عجیب وغریب

٢٩٨

صفحہ ٣١٥

کرامتوں اور خوارق پر مشتمل تھا کسی قدر سامعین کی تفریح کا کام دیا۔ جب کرامات کے ذیل میں یہ فرمایا کہ مرزا قادیانی کی دعا سے فلاں شخص کے بدن پر بہت سی پھنسیاں نکل آئیں تو جو لوگ بہت دیر سے اونگھ رہے تھے۔ وہ بھی بہت ہنسے اور غنیمت سمجھا کہ آخر کا حصہ دل خوش کن تھا جس نے تھکان کی بخوبی تلافی کردی۔

اسی لیکچر کے بعد میرے پاس دوستوں کے بہت سے خطوط بغرض دریافت اس امر کے آئے کہ میرا عقیدہ مرزا صاحب کی نسبت کیا ہے اور میں ان کے دعاوی کو کیسا سمجھتا ہوں۔

میں اوائل عمر سے مرزا قادیانی کی کتابوں کو بہت غور اور شوق سے پڑھتا رہا اور مجھے ان کی تصانیف سے ہمیشہ ایسا لطف آیا ہے کہ میں ان کی بعض ایسی تحریروں کو بھی جن میں مطلق مغز و معنی نہ تھا پڑھ کر بہت حظ اٹھایا ہے۔ براہین احمدیہ کو میں نے بہت شوق و ذوق سے پڑھا اور اس کتاب کی محبت میرے دل میں بخل کی حد تک پہنچ گئی۔ میں چاہتا تھا کہ اور لوگ بھی میرے ہم خیال ہو جائیں۔ مگر اپنی کتاب کسی کو دینا نہ چاہتا تھا اور اس کو عزیز رکھتا تھا۔ جن زینوں کی راہ سے مرزا قادیانی فلک چہارم تک پہنچے وہ مرزا قادیانی کی کتابوں کے پڑھنے والوں پر بخوبی ظاہر ہیں۔ میں ہمیشہ ان کی نسبت ایسی عقیدت مندی رکھتا تھا کہ ان کے ہر کفر یا لغزش کو نہایت حسن ظن پر محمول کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ یاد الٰہی میں شب بیداریوں اور ریاضت روحانی کی مشقتوں سے مزاج میں ایسی کیفیتیں پیدا ہو جانا بالکل ممکن ہیں۔ مگر کبھی لحظہ بھر کے لئے بھی مرزا قادیانی کے خلاف اس گمان کی جرات نہ ہوئی کہ ان کا کوئی بڑا سا بڑا امر بھی کسی فساد نیت پر مبنی ہے۔

چھ سات سال کا عرصہ ہوا جبکہ مرزا قادیانی کے دعوے اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ جنہیں معقول سے معقول آدمی بھی لغویت سے تعبیر کرتا ہے۔ اور اہل شریعت ظاہرہ کفر سے۔ تب بھی مجھے خواب و بیداری کی حالت میں کوئی خیال برائی کا ان کی نسبت پیدا نہ ہوا۔ خواب بھی دیکھا تو بے انتہا حسن ظن کا چنانچہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا تھا بیداری میں یوں کہنا چاہئے کہ مجھے یوں دکھایا گیا کہ میں اور مرزا صاحب ایک کوٹھڑی کے اندر بیٹھے ہیں۔ وہ کوٹھڑی متوسط طول و عرض کی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں سے فرش و اسباب وغیرہ اٹھا لیا ہے۔ اس کوٹھڑی کے بیچوں بیچ خس و خاشاک کا ایک چھوٹا سا ڈھیر تھا۔ جس سے مرزا قادیانی کچھ چیزیں کرید کرید کر نکال رہے تھے اور مجھے دیتے جاتے تھے۔ جب میرا ہاتھ بھر جاتا تھا میں انہیں اپنی گود میں ڈال لیتا تھا اور پھر ہاتھ ان کے آگے پھیلا دیتا تھا۔

ایک اور خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ ایک عالی شان مکان میں جو فرش و فروش سے ہر

٢٩٩

صفحہ ٣١٦

طرح مرتب تھا۔ بہت سے آدمی بیٹھے تھے اور مرزا قادیانی سب کو قرآن شریف سناتے تھے۔ اور سنانے میں عجیب وغریب بات یہ تھی کہ آپ زمین سے قریب ڈیڑھ فٹ اونچے ہوا میں معلق سب سامعین کے روبرو ایک حرکت دوری تلاوت کے ساتھ کرتے نظر آتے تھے۔

ان خوابوں کی اطلاع میں نے اپنے نہایت مخدوم اور واجب التعظیم دوست بلکہ بزرگ مولوی نور الدین صاحب کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کو اسی وقت دی۔ یہ امور حقیقت میں خواہ کچھ ہی معنے رکھتے ہوں۔ لیکن جن قرائن سے عموماً خوابوں کی تعبیر کہی جاتی ہے۔ ان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ مجھے ضرور کوئی فیض روحانی خاص مرزا قادیانی سے پہنچنے والا ہے۔ کم از کم میرے دل کی یہ کیفیتیں مرے گہرے حسن ظن کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں۔

میں بار ہا سرسید مرحوم سے گھنٹوں مرزا قادیانی کی نسبت دریافت کرتا رہا اور اس بات پر اڑتا رہا ہوں کہ وہ صادق النیت ہیں۔ سرسید نے جب کبھی مجھ سے میرا عقیدہ مرزا قادیانی کی نسبت دریافت کیا تو میں نے یہ بیان کیا کہ جب امت محمدیہ کے علماء کے لئے انبیاء بنی اسرائیل کا مثیل ہونا احادیث سے ثابت ہے تو مرزا قادیانی کا مثیل مسیح ہونا فی الجملہ تصدیق حدیث ہے اور ہر عالم محمدی کے لئے یہ راہ بخوبی کھلی ہوئی ہے کہ وہ کسی نبی کی شریعت اور اس کی تعلیم پر غور وخوض کرتے کرتے اس قدر محو ومستغرق ہو جائے کہ اس کا مثیل بلکہ عین تک کہنا بجا ہو اور من تو شدم تو من شدی کا درجہ حاصل ہو جائے۔ جب ہمارے وہ علماء جن کے دل تعصب کے زنگ سے سیاہ ہورہے ہیں اور راہ حق سے گمراہ اور دنیا کے ظلمات نے ان کے دلوں کو اپنے میں جذب کر رکھا ہے۔ پھر بھی مماثلت انبیائے سابقین کے حق دار بنے ہوئے ہیں تو اگر ایک نیک بندہ بھی جو سراسر طالب حق اور رضائے الٰہی کا جویا ہے اور جس کی زندگی کا ایک ایک نفس خدمت اسلام میں گزرتا ہے۔ اپنے تئیں مثیل انبیاء رکھے تو کیا اشکال استبعاد ہے۔

سرسید میرے اس جواب پر ہنسنے لگتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم بھی کسی کے مثیل ہیں۔ میں کہتا تھا کہ آپ نماز پر مداومت رکھیں تو مثیل کیا آپ عین مثیل احمد ہیں۔

یہ میرا حسن ظن جناب مرزا قادیانی کے باب میں تھا جو میں نے بیان کیا۔ لیکن باوجود اس تمام فضیلت کے جو میں مرزا قادیانی کو دیتا تھا یا یوں کہو کہ خدا کی طرف سے دی ہوئی سمجھتا تھا۔ بالطبع ان زینوں کو نہیں بھول سکتا تھا جن کی راہ سے انہیں یہ عروج مسیحی حاصل ہوا تھا۔ جتنا ان کی بزرگی کا خیال میرے دل میں جمتا تھا اتنی ہی بزرگی میرے دل میں اس دوسرے عظیم الشان شخص کی تھی۔ جس کی نسبت مجھے یہ ظاہر ہوا تھا کہ وہ جنگل میں پکارنے والے کی آواز ہے۔ وہ خداوند کی

٣٠٠

صفحہ ٣١٧

راہ صاف کرنے والا تھا وہ اپنی فروتنی سے اپنے تئیں مسیح کے جوتے کا تسمہ کھولنے کے لائق بھی نہ سمجھتا تھا مگر مسیح اس سے مسح کرا کے مسیح اور اسی سے برکت پا کر مبارک بنا۔

ان دو برگزیدوں کی بزرگی اور محبت میرے دل کے کانٹے میں تل رہی تھی۔ جوش محبت اور اضطراب میں شوق میزان قلبی کو حرکت دے دیتے تھے تو کبھی ایک پلڑا جھک جاتا تھا کبھی دوسرا۔ مگر غور و انصاف اور سکون کے بعد وہ پلڑے اپنے اعتدال اصلی پر آجاتے تھے۔ جب تک کسی امر نے میرے اس دو خیالوں کو آپس میں نہیں ٹکرایا میرا ایمان اور ایقان ”کل یوم ہو فی شان“ کا مصداق بنا رہا۔ مگر افسوس یہ حالت زیادہ عرصہ قائم نہ رہی میں نے سنا کہ مرزا قادیانی نے دو پکارنے والی کی آواز سے کان بہرے کرلئے اس کی برکت سے انکار کر دیا۔ اسکی عظمت نہ صرف اپنے دل سے کھودی بلکہ اور عقیدت مندوں کے دلوں میں بھی اس کو سبک نما دینے کی کوشش کی۔ مدت تک اس بات کی طرف میرا خیال نہ گیا۔ لیکن ”طعنہ پاکان“ کا جواز عالم اسباب میں نوامیس الٰہی نے مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا ظہور بڑے زور وشور سے ہونے لگا تو میری توجہ بھی ادھر کھنچ گئی۔ قوم کے جو عالم باعمل وفاضل بے بدل مرزا قادیانی کی تحریروں کو الہامی نوشتوں کی برابر جانتے تھے۔ خدا نے انکے دل بدل دیئے وہ رات کو سوئے تو کچھ اور تھے۔ صبح کو اٹھے تو کچھ اور۔

جن دنوں اس تغییر حالات نے میرے دل کو مضطرب کر دیا تھا ایک سنسان رات میں جب خلق خدا سوتی تھی۔ میں آنحضرت کے ارشاد استفت قلبک پر عمل کر رہا تھا۔ اپنے دل سے سوال کرتا تھا اور دل جواب دیتا تھا۔ مگر نہ ایسا کہ صرف دل سنے بلکہ ایسا جسے کان سنتے تھے۔ کان سنتے تھے میرے ذہن میں اس وقت دس مسئلے آئے۔

١....... عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ ٢....... عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے مگر صلیب پر مرے نہیں۔ ٣....... عیسیٰ بن مریم نبی، بنی اسرائیل دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ ٤....... معجزات عیسوی میں احیاء موتی سے مراد احیاء قلوب ہے۔ ٥....... کوئی فاطمی مہدی آنے والا نہیں۔ ٦....... معراج میں آنحضرت ﷺ کا جسد کثیف آسمان پر نہیں گیا۔ ٧....... جبرائیل جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوتے تھے وہ ایک قوت تھی۔ ٨....... جنت اور دوزخ خود انسان کے اندر موجود ہے۔ ٩....... صحیحین کی احادیث قابل تنقید ہیں۔ ١٠....... جہاد سے مراد وہ جہاد نہیں جو عام مسلمانوں نے سمجھا ہے۔

میں نے پوچھا یہ عقیدے جو مرزا قادیانی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور جو فی الواقع مرزا قادیانی کے فرقہ احمدی کے تاروپود ہیں۔ وہ سب تو سرسید احمد خان کی تحقیق اور روشن

٣٠١

صفحہ ٣١٨

ضمیری کے نتائج ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کا مخالف سرسید سے کیسا؟ میرا سوال ختم ہی ہوا تھا کہ ایسے نعرہ کے ساتھ کہ شاید نفخ صور بھی اس سے بڑھ کر نہ ہوگا۔ میرے کان میں یہ الفاظ پہنچے ”ان الانسان لربہ لکنود“ یہ نعرہ ایسا سخت تھا کہ فقرہ ختم ہونے کے بعد بھی زمین و آسمان سے لکنود، لکنود کی گونج میرے کانوں میں آتی رہی۔ اس ہیبت ناک نظارہ سے میرے دل پر اور بھی رعب چھا گیا۔ میں جناب مرزا قادیانی کا بھی شیدائی تھا۔ اس لئے میرا دل اس فتویٰ پر بے قرار ہوا اور اب تک وہ بے قراری نہیں گئی۔

سرسید کے باب میں جو کچھ رطب و یابس تحریری و تقریری مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے اتباع میں شائع ہیں۔ اس کو سچ تصور نہیں کر سکتا تاوقتیکہ میں خود ان کی زبان سے نہ سن لوں۔ یا ان کے قلم کا لکھا ہوا اپنی آنکھوں سے نہ پڑھ لوں مجھے آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ ”لا تکلم بکلام تعذر منہ غدا“ ہروقت پیش نظر ہے۔

یہ ہیں میرے خیالات بالاختصار مرزا قادیانی کے باب میں اگر مکروہات سے فرصت ملی تو ہم دوسرے نمبر میں یہاں بیاں کریں گے۔ کہ مرزا قادیانی کی ذات سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا اور کیا نقصان؟ ھذا آخر کلامی وما ھذا الا ما الھمنی ربی۔

ایڈیٹر..... حدیث علماء امتی..... الخ صحیح نہیں اس سے انبیاء کی توہین لازم آتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ایسی ہی موضوع حدیثوں نے جھوٹے مہدی پیدا کئے اور خاص کر مرزا قادیانی کو خدا کا لیپالک اور نبی اور مہدی اور مسیح بنا دیا۔ غنیمت ہے تالیف واشاعت کے ایڈیٹر حسب آیہ ”ان الشیاطین لیوحون الیٰ اولیائھم“ کچھ القاء ہوا تھا وہ غٹ ربود ہو گیا۔ ہمارے خیال میں کشف اور رویاء میں ایڈیٹر صاحب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اب وہ نہیں کہہ سکتے کہ پیر من خس است و اعتقاد من بس است۔ فقط !

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء، اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٨ کے مضامین

٣٠٢

صفحہ ٣١٩

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... حامد قادیانی سیالکوٹ کے لئے تحفہ

٢٠٠۔ لدھیانہ!

یحییٰ سے یہ بات کاہنوں نے پوچھی سچ ہم کو بتا
الیاسؔ ہے یا مسیحؔ تو یا وہ نبیؔ ۔ انکار کیا
بولا نہیں یسعیاہ والی ہوں ندا آتا صاف ہوراہ
انجیل نے دیکھ قادیانی ڈھادی، یہ سب تیری بِنا
مرتے نہیں اولیاء رحمٰن کبھی
جب تک وہ ادا نہ کر چکیں فرض سبھی
عیسیٰ کا جو نمبر اس میں کم ہے ظالم
ناکام مگر انہیں تو جینے دے ابھی
رکھتا عیسیٰ سے کیوں حسودی ہے یہ
وہ عاقر ...... کو یہودی ہے یہ
انانیت میں ہے قادیانی ترسا
سولی پر چڑھانے میں یہودی ہے یہ
مسلمان یہ کہہ کر ستائے گئے ہیں
سردار عیسیٰؔ چڑھائے گئے ہیں
وہ سولی پہ چلاتے تھے ایلی ایلی
ہمارے دل اس سے دکھائے گئے ہیں
لٹکتے تھے چوروں کے ساتھ ابن مریم
یہ بر صدر عزت بٹھائے گئے ہیں
سچی رفعت جاہ ان کی تھی؟ مرزا
کہ مصلوب میخیں لگائے گئے ہیں
گلیل ان کا مدفن بنایا تھا تو نے
وہ کشمیر میں پھر دبائے گئے ہیں
وہ تطہیر اور کف کفار جن کو
مواعید و بشریٰ سنائے گئے ہیں
یہود ان کو سولی چڑھا نہ پائے
یہ قرآن میں ہم بتائے گئے ہیں
توفی بنوم ان کو یاں دی گئی ہے
الی اللہ اٹھا کر جگائے گئے ہیں
پرندوں کی پیدائش احیائے موتی
یہ احسان ہیں جو جتائے گئے ہیں
مگر حیف ایک نیچری کے ستم سے
یہ سب عہد و احسان مٹائے گئے ہیں
وہ اعجاز گوسالہ سامری ہے
ہم ان پھبتیوں سے جلائے گئے ہیں
علی گڑھ کے بڈھے کی تفسیر میں ہے
یہ مضمون اکثر چرائے گئے ہیں
ہوا کشف اسرار پہلے اسی پر
جو یہ موت کے غل مچائے گئے ہیں
جو لکھتے تھے خود ہو کے مامور و ملہم
ورق خاک میں وہ ملائے گئے ہیں
تجلی و قہر و نزول مسیحا
بہ اشک خوشامد ڈھلائے گئے ہیں
تاری نسب جن کی بیوہ تھی دادی
وہ اب ابن مریم بنائے گئے ہیں

٣٠٣

صفحہ ٣٢٠
وہ التوا حالت بیوگی میں نئے تین بیٹے جتائے گئے ہیں
وقد یصدق الکاذب آتا ہے صادق مسیحا فلک پر اٹھائے گئے ہیں
پے قتل دجال اعور یہودی وہ پھر بھیجنے کو بلائے گئے ہیں
وفات ان کو حق دے گا آئیں گے جب پھر ابھی موت سے وہ بچائے گئے ہیں
مدینے ہی میں آپ کا ہوگا مرقد جہاں شاہ خوباں سلائے گئے ہیں
وہ زندہ ہیں گو کافروں کی طرف سے بہت تیر تکے چلائے گئے ہیں
مصدق ہوں ان کے مبشر تھے جن کے مسلماں یہ نکتہ سکھائے گئے ہیں
وہ ہیں آخری اب نشان اس گھڑی کا دم زیست ان کے بڑھائے گئے ہیں
نہ پوچھ اس میں تو وجہ تخصیص ان کی کہ وہ خرق عادت دکھائے گئے ہیں
یہود ان پہ ایمان لاکر ہوں زندہ جو زہر عداوت کھلائے گئے ہیں
چلو موت مرزا بھی چکھ چکا گر مزے سب کو اس کے چکھائے گئے ہیں
ہو ذائقہ اور ذاقت برابر یہ کیا صرف پڑھ کر گنوائے گئے
کتابیں پڑھیں بوجھ سے ان کے لیکن یہ لادے عجب چار پائے گئے ہیں
خلت کو سمجھتے ہیں ماتت ہمیشہ لغت بھی نئی ہی سکھائے گئے ہیں
جو یوں سنت اللہ ماتت کہیں گے راہ راست سے کیا بہکائے گئے ہیں
ہمیں ان اماموں سے مالک بچائے جو داعی الی النار پائے گئے ہیں
امامت ہے کیا یاں بہ تخت نبوت عجب گاؤ تکیے جمائے گئے ہیں
نبی ہیں ازالے میں یزداں کے مرسل لقب یہ بعنوان لکھائے گئے ہیں
رسول و نبی کیا کہ ابن خدا کا سبق موٹیوں پر پڑھائے گئے ہیں
کھلے وہ حقائق وہ اسرار اس پر جو ختم الرسل سے چھپائے گئے ہیں
کبھی ازروئے مکر و خدعت یہ دعوے لباس تقیہ پہنائے گئے ہیں
سراج و براہین کا نام لے کر ٹکے پیٹ بھر بھر کمائے گئے ہیں
سقنقور کا حلوا، بادام روغن روپے یوں ہزاروں اڑائے گئے ہیں
کہاں غربت و انکسار و توکل منار و مکاں کیا چنائے گئے ہیں

٣٠٤

وہ آیات تکلف نہ ممکن کے سقنقور اور جو عیسیٰ نے مسیح اور میں اور اب کہتا بدیں وجہ غضب ہے ک پڑی شامت زمین اپنی ج کہ ورثہ نہ وہ ہشیار پور ہوئے متفق رقیباں جو ڈرے نہ نہ منت سے کہ ثابت ہو ؟ اڑھائی برس چنے تھے ب تیرے سر پر یہ ٹلے نہیں کئی کانے لنگڑے

صفحہ ٣٦١
وہ آیات و انوار و ایثار سب کچھ
بیاد صنم بجھائے گئے ہیں
تکلف ذرا دیکھنا مطبخوں کا
کہ واں کھانے کیا کیا پکائے گئے ہیں
کفن کے پھر وہ لباس اور زیور
کہ کیا کیا سلائے گڑائے گئے ہیں
سقنقور اور جند اور ریگ ماہی
پے قوت باہ لائے گئے ہیں
جو عیسیٰ نے ہرگز نہ دیکھے بھی ہوں گے
وہ حلوا و معجون کھائے گئے ہیں
مسیح اور میں اک شجر کے ہیں دو پھل
یہ گیت ایک مدت سے گائے گئے ہیں
اور اب کہنا ہے ان کے اعجاز بالکل
تھے مکر وہ مجھ سے چھڑائے گئے ہیں
بدیں وجہ عطر زن فاحشہ میں
مسیحا کے کپڑے بسائے گئے ہیں
غضب ہے کہ اس پر بھی عیسیٰ بنا کر
شرکا دیانی دکھائے گئے ہیں
پڑی شامت اعمال کی کس قدر ہے
کہ کعبے کے حج سے ہٹائے گئے ہیں
زمین اپنی جورو کے قبضے میں کردی
تمسک رجسٹر کرائے گئے ہیں
کہ ورثہ نہ کچھ پا سکیں رشتہ والے
جو رستے میں کانٹے بچھائے گئے ہیں
وہ ہشیار پور میں ہوئے کیوں نہ سامی
جہاں برسوں آنسو بہائے گئے ہیں
ہوئے متفق اہل پٹی سے کیوں یہ
بس اس کی سزا میں رلائے گئے ہیں
رقیباں پٹی بایام خجلت
بہت دھمکیوں سے ڈرائے گئے ہیں
جو ڈرے نہ کچھ کام نکلا تو آخر
بڑی منتوں سے منائے گئے ہیں
نہ منت سے بھی جبکہ وہ باز آئے
تو خطہائے جعلی منگائے گئے ہیں
کہ ثابت ہو جن سے وہ کچھ ڈر گئے تھے
کہوں کیا عجب گل کھلائے گئے ہیں
اڑھائی برس پر بھی دس اور گزرے
مے وصل شیطاں پلائے گئے ہیں
چنے تھے یہ لوہے کے ایام شقی
بڑی سختیوں سے چبائے گئے ہیں
تیرے سر پر برسوں سے او قادیانی
مصیبت کے پتھر ڈھائے گئے ہیں
یہ ٹلتے نہیں گو کئی بار پہلے
سیاہی سے مکھڑا رنگائے گئے ہیں
کئی کانے لنگڑے جو چیلے ہوئے ہیں
وہ دام طمع میں پھنسائے گئے ہیں

٣٠٥

صفحہ ٣٢٢
بہت شرم والے جو شرطیں لگا کر نصاریٰ سے داڑھی منڈائے گئے ہیں
کب اسلام پر ایسی رقابتوں نے مخالف بھلا کیوں ہنسائے گئے ہیں
خدا بھی بنے تھے نبی اور علی بھی بہت ایسے دجال آئے گئے ہیں
ثمود آل فرعون، عاد، اہل مدین ڈبوئے دھسائے کھپائے گئے ہیں
یہ ہے دورہ مہدی قادیانی مسلمان باہم لڑائے گئے ہیں
نیا کوئی فتنہ نہیں سعد یا یہ کہ بندے سدا آزمائے گئے ہیں
خداوند جبار کر جبر و نقصان وہ بھر دے جو کچھ ہم گھٹائے گئے ہیں
بچا دست دجال رہزن سے ہم کو جہاں اہل شقوت لٹائے گئے ہیں
یہ ہیں زلزلے کفرو بدعت کے یارب تیرے بندے عاجز ہلائے گئے ہیں
عنایت سے بھیج ان پر اک ابر رحمت جو سر سبز ہوکر سکھائے گئے ہیں
ملے موجب زندگی جام کوثر جب ایمان سے ہم جلائے گئے ہیں
ہو فردوس میں مرحمت ظل طوبیٰ بہت دور تک جس کے سائے گئے ہیں

(حاشیہ جات گزشتہ اشعار) ١؎ یوحنا ٣۔١٤۔

٣٠٦

صفحہ ٣٢٣

٢...... تیس ٣٠ دجالوں کا خروج

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

آن حضرت ﷺ نے جس طرح اپنے اشراق قلب اور پیشینگوئیوں سے جن کی مخبر غیب نے آپ کو خبر دی اکثر واقعات آئندہ کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح دجالوں کا بھی اظہار فرمایا۔ چنانچہ مشکوۃ شریف میں حضرت ابن عمرؓ سے متفق علیہ روایت ہے ”ثم ذکر الدجال فقال انی لانذر کموہ وما من نبی الا وقدا نذرہ قومہ. لقد انذر نوح قومہ ولکنی ساقول لکم فیہ قولا لم یقلہ نبی لقومہ. انہ اعور وان اللہ لیس باعور (بخاری ج٢ ص ١٠٥٥) “ ﴿پھر آپ نے فرمایا میں تم کو ڈراتا ہوں اور کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ چنانچہ نوح نے بھی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور میں تم کو اس کا ایک خاص نشان بتاتا ہوں جو کسی نبی نے نہیں بتایا۔ یعنی وہ کانا ہے۔ حالانکہ خدا کانا نہیں۔﴾

مطلب یہ ہے کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور خدا کی یہ شان نہیں کہ وہ کانا ہو۔ خدا تو جملہ عیوب سے پاک ہے۔ ابن صیاد جو دجال کا نمونہ تھا۔ بعض صحابہ نے شدت مشابہت سے یقین کرلیا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ یہاں تک کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ نے حلف اٹھایا اور بقول ان کے عمرؓ نے مگر آنحضرت ﷺ نے انکار فرمایا اور خود ابن صیاد نے جابرؓ اور عمرؓ کے زعم کی تردید ابوسعید خدریؓ کے سامنے کی اور کہا کہ اے ابوسعید کیا تو نے آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں سنا کہ دجال کے اولاد نہ ہوگی۔ حالانکہ میری اولاد موجود ہے اور کیا آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا۔ کہ وہ کافر ہے حالانکہ میں مسلمان ہوں۔

اور کیا آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوگا۔ حالانکہ میں مدینہ سے مکہ کو جا رہا ہوں اور وہ حدیث یہ ہے: ”عن ابی سعید الخدری قال صحبت ابن صیاد الی مکة فقال لی ما لقیت من الناس یزعمون انی الدجال الست سمعت رسول الله یقول انه لا یولد له وقد ولد لی (مشکوۃ ص ٤٧٨، باب قصة ابن صیاد) “ اور چونکہ (مشکوۃ ص ٤٧٦، باب ذکر دجال) میں عبیدۃ بن الجراح سے روایت ہے ”لعلہ سیدرکہ بعض من رانی او سمع کلامی “

یعنی قریب ہے کہ پائیں گے دجال کو بعض وہ لوگ جنہوں نے مجھے دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے۔ لہٰذا ان پیشینگوئیوں کا ظہور خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہو گیا۔ چنانچہ مشکوۃ میں

٣٠٧

صفحہ ٣٤٤

فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے ثابت ہے کہ تمیم الداریؓ نے دجال سے ملاقات کی اور اس کی زبانی اطلاع دی کہ وہ مسیح الدجال ہے جو مشرق سے نکلنے کے لئے مامور ہوگا اور مکہ مدینہ کے سوا چالیس شب میں تمام زمین کا گشت کر جائے گا چنانچہ خود نبی ﷺ نے صحابہ کو جمع کر کے یہ واقعہ سنایا اور اس کی تصدیق فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کے ساتھ ہوں گے۔

اور (مشکوٰۃ ص ٤٣١) کتاب الرقاق میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔ "فالدجال شر غائب ينتظر او الساعة والساعة ادهى وامر" یعنی پس دجال سب سے زیادہ شر والا (فسادی) غائب اور انتظار کردہ شدہ ہے یا قیامت جو نہایت تلخ غائب اشیاء سے شریر تر ہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے "حدثنا رسول الله ﷺ ان الدجال يخرج في ارض بالمشرق يقال له خراسان يتبعه اقوام كان وجوههم المجان" فرمایا رسول اللہ نے کہ دجال مشرق کی ایک زمین سے نکلے گا اور اس کے تابع ایک قوم ہوگی جس کے منہ ڈھال جیسے ہوں گے۔ یعنی ہیبت ناک چوڑے۔ (ازالۃ الخفاء)﴾

اور حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے "قال رسول الله ﷺ عمران بيت المقدس خراب يثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح القسطنطنيه وفتح القسطنطنيه خروج الدجال ثم ضرب على فخذ معاذ بن جبل او على منكبه ثم قال ان هذا لحق كما انك ههنا او كما انك قاعد" فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہے اور مدینہ کی ویرانی ایک بڑے فتنہ کی ظہور کی علامت ہے جو قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسططنیہ کی فتح خروج دجال کی علامت ہے۔ پھر آنحضرت نے میری ران یا کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ بات ایسی ہی حق ہے جیسے تو یہاں ہے یا جیسے تو بیٹھا ہے۔ (ازالۃ الخفاء)﴾

مرزا قادیانی نہ صرف اپنے دجال ہونے کی نفی کرتے ہیں بلکہ تمام دجالوں (جھوٹے مسیحوں اور مہدیوں) کے آنے کے منکر ہیں اور قیامت تک انبیاء کے آنے کے مقر ہیں اور احادیث رسول اللہ کو جھٹلاتے ہیں۔ صرف حدیث نزول مسیح کو مانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں منجملہ ٣٠ دجالوں کے دجال نہیں ہوں بلکہ مسیح موعود ہوں ۔ دجال سے مراد ریلیں ہیں گویا ریل بھی اعور ہوتی ہے؟ آنکھوں کی اندھی نام نین سکھ۔ مرزا قادیانی کی خود غرضی کے عجیب خوارق ہیں کہ اپنے مطلب کی ایک حدیث یا ایک آیہ مان لی باقی کا انکار۔

٣٠٨

صفحہ ٣٢٥

مرزا قادیانی کے دجال ہونے کی ایک اور دلیل پیش کی جاتی ہے۔ جس کو یقین ہے کہ تمام مرزائی بے چوں چرا دل سے مان لیں گے۔ گو بظاہر نہ مانیں۔ یعنی ابو ہریرہ سے ایک بڑی حدیث میں مروی ہے ”فیدق الصليب ويقتل الخنزير ويقاتل الناس على الاسلام حتى يهلك الله في زمانه الملل كلها غير الاسلام ويهلك الله في زمانه المسيح ...... الدجال وتقع الامنة في الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الغلمان الصبيان مع الحيات لايضرهم ثم يلبث في الارض اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ويد فنونه (تفسیر طبری ج ٦ ص ٢٢، ٢٣) ” ﴿ عیسیٰ مسیح صلیب کو ریزہ ریزہ اور سوروں کو قتل کریں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے اور خدائے تعالیٰ ان کے زمانہ میں بجز اسلام کے تمام ملتوں کو نیست و نابود کرے گا اور وہ اپنے زمانہ میں مسیح الدجال کو ہلاک کریں گے۔ پھر ایسا امن ہوگا کہ شیر اونٹ کے ساتھ چریں گے اور چیتے اور گائیں اور بھیڑیے اور بکریاں باہم مل کر رہیں گی اور چھوٹے بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ پس چالیس سال عیسیٰ مسیح زمین پر رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں اور ان کو دفن کریں گے۔ ﴾

اور دوسری حدیث میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ”قال رسول اللہ ﷺ ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت يدفن معى في قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم في قبر واحد بين ابي بكر وعمر (مشکوة ص ٤٨٠) ” ﴿ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے زمین پر عیسیٰ بن مريم علیہما السلام اتریں گے اور نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی اور ٤٥ سال زمین پر رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے ساتھ میری قبر (مقبرے) میں دفن ہوں گے۔ ﴾

اب ہم پوچھتے ہیں کہ احادیث مندرجہ بالا میں جو علامات فرمائی گئی ہیں کیا وہ سب پوری ہوگئیں اور کیا مرزا قادیانی، آنحضرت ﷺ کے مقبرے میں دفن ہوگئے۔ توبہ توبہ انہوں نے تو حرمین شریفین جانے سے اپنی امت کو بھی منع کردیا ہے۔ خود تو کیا جائیں گے۔ قادیان کو مکہ اور مدینہ بتا دیا ہے۔ کیوں بھئی مرزائیو! کیا صلاح ہے اگر مرزا قادیانی مرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کے مقبرے میں دفن ہوئے تو وہ مسیح موعود ہیں ورنہ وہ جھوٹے اور ان کا پیر اور لال گرو جھوٹا۔ کہو لعنة الله على الكاذبين

٣٠٩

صفحہ ٣٢٦

یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ احادیث کی پیشینگوئی کو تیرہ سو برس گزر گئے مگر اب تک دجال نہیں آیا۔ کیونکہ مراد دجال اکبر ہے جو قرب قیامت پر آئے گا اور اس کی ذریات (٣٠ دجالوں) کا آنا اپنے اپنے وقت پر حسب منطوق احادیث ضروری ہے جن کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ دجال اکبر کے خروج پر ختم ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ”خیر الناس قرنی ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم ثم یفشو الکذب (ترمذی ج ٢ ص ٥٦)“ یعنی بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں پھر جھوٹ پھیلے گا۔ دیکھ لیجئے! اب تک کتنے جھوٹے مہدی اور مسیح پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ پیشینگوئی بھی برابر پوری ہو رہی ہے۔ ماحاصل یہ ہے کہ دجالوں کے فتنہ کا آغاز خیرالقرون کے بعد ہوا اور ان کا کامل اختتام دجال اکبر پر ہوگا جس کو مسیح علیہ السلام قتل کریں گے۔ پس حدیثوں میں کچھ تعارض نہیں۔

٣ ...... آنحضرت ﷺ کی احادیث کا قادیانی مزخرفات سے موازنہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

سچا کلام خود کہہ دیتا ہے کہ میں کیسے جذبے والے قلب اور کیسی قوت قدسیہ والے کے زبان سے نکلا ہوں اور ہر جھوٹا اور مصنوعی کلام بھی خود کہہ دیتا ہے کہ میں کیسے دکاندار جعلساز مفتری کی من گھڑت ہوں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ”انی ارٰی مالا ترون وانی اسمع مالا تسمعون وانی لاعلم اخر اهل الجنة دخولاً واخر اهل النار خروجا مشکوٰة“ ﴿یعنی میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے﴾ اور دوسری جگہ اسی مشکوٰة میں ہے ”فعلمت مافی السمٰوت والارض“ ﴿میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔﴾ یہ حدیث آیت ”وعلمك مالم تكن تعلم“ کی شرح ہے۔ حضرت محی الدین عربیؒ اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل لکھتے ہیں ”ای العلم التفصیلی التام وعلم احکام التفاصيل وتجليات الصفات مع العمل به“ اور مسلم میں ثوبانؓ سے روایت ہے ”قال رسول الله ﷺ ان الله زوى لى الارض فرايت مشارقها ومغاربها وان امتى سيبلغ ملكها ما زوى لى منها واعطيت الكنزين الاحمر والابيض (مشکوٰة ص٥١٢، باب فضائل سید المرسلین)“ ﴿یعنی خدائے تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو اکٹھا کر دیا، پس میں نے زمین کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا اور ضرور میری امت وہاں تک عنقریب پہنچے گی۔ جہاں تک زمین اکٹھی کی گئی ہے اور مجھ کو سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے گئے ہیں۔﴾ سبحان اللہ! سبحان اللہ!

٣١٠

صفحہ ٣٢٧

اور بخاری میں ہے ”انا شہید علیکم وانی واللہ لا نظر الی حوضی الآن وانی اعطیت مفاتیح خزائن الارض“ (میں تم پر گواہ ہوں اور قسم ہے خدا کی میں اس وقت اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور میں زمین کے تمام خزانے عطا کیا گیا ہوں۔) اور مشکوٰۃ میں ہے ”انکم ترون انہ یخفی علی شئ مما تصنعون واللہ انی لاری من خلفی کما اری من بین یدی“ (کیا تمہارا خیال ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو مجھ پر کوئی شے مخفی رہ سکتی ہے۔ قسم ہے خدا کی کہ میں اپنے پیچھے بھی ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے دیکھتا ہوں۔)

اب ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی خرافات سنئے ”انت منی بمنزلة ولدی“ (تذکرہ ص ٥٢٦، طبع سوم) ”انت منی وانا منک“ (تذکرہ ص ٤٢٢، طبع سوم) ”انا انزلنہ قریب من لقادیان“ (تذکرہ ص ٧٤، طبع سوم) وغیرہ۔ ان جعلی فقروں کا حال ہی آپ کی نبوت اور مسیحیت کی قلعی کھول رہا ہے۔ بھلا جس بے ہنگم طریق سے مرزا قادیانی آیات کلام اللہ کو توڑ پھوڑ کر اپنے لئے الہام تراشتے ہیں۔ احادیث رسول اللہ میں بھی معاذ اللہ کہیں یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ احادیث کا رنگ کلام الٰہی سے بالکل جداگانہ ہے اور کتنا دلکش ہے کہ روحی فداہ۔ پھر جس طرح کلام الٰہی معجز ہے یعنی اس کی نظیر پیدا نہیں ہو سکتی نہ کوئی لفظ اٹھ یا بیٹھ سکتا ہے۔ یہی رنگ حدیث کا ہے ”الحق انی اوتیت بجوامع الکلم“ اب مرزا قادیانی کے الہامات دیکھئے کہ اونٹ کی طرح کوئی کل سیدھی ہی نہیں۔ بلاغت میں غلط عبارت غیر مربوط اور اکثر بے معنی۔ گویا سرقہ کرنے کا بھی سلیقہ نہیں۔ سارا پجاوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٩؍ کے مضامین

٣١١

صفحہ ٣٤٨

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا سزایاب ہو گیا

نامہ نگارا

آخر کار اس عظیم الشان جنگ میں جو مرزائی جماعت کی طرف سے عرصہ دو سال سے گورداسپور میں ہو رہی تھی۔ مرزائیوں کو خوب شکست ملی۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ یعنی مسیح قادیانی اور اس کا حواری حکیم فضل دین ١٨ اکتوبر ١٩٠٤ء کو سزایاب ہو گئے۔ اس روز خلقت خدا بے حد جمع ہو گئی تھی۔ اور سب لوگ پیغمبری کے مدعی کا حشر دیکھنا چاہتے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے بذریعہ مواتر الہامات اپنی فتح وظفر کے الہام ظاہر کر رکھے تھے۔ اور مریدوں کو اپنی بریت کا یقین دلا رکھا تھا۔

صاحب مجسٹریٹ نے انتظام کے لئے گارڈ پولیس منگوائی تھی۔ جو اپنی ہیبت ناک وردیاں پہنے ہتھکڑیاں ہاتھوں میں لئے کمرہ عدالت کے ارد گرد گھوم رہے تھے۔

٣ بجے کے بعد اردلی نے زور سے پکارا۔ مولوی کرم الدین اور مرزا غلام احمد و غیرا حاضر۔ مرزا قادیانی افتان و خیزاں کمرہ عدالت میں خود اپنے چیلے فضل دین کے پیچھے۔ رنگ فق تھا۔ چہرہ پر مردنی چھائی دم گھٹتا جاتا تھا۔ عدالت نے حکم سنایا کہ تم پر جرم ثابت ہے اور تمہارا بہتان تراشنا بہت غلط ہے۔ پانچ سو روپیہ جرمانہ کی تم کو سزا دی گئی ہے اور اگر جرمانہ ادا نہ کرو تو چھ ماہ قید رہو۔ اور فضل دین کو یہ حکم سنایا کہ دو سو روپیہ جرمانہ کی تم کو سزا دی گئی ہے اور بصورت عدم ادائے جرمانہ پانچ ماہ قید۔ اسی وقت جرمانہ وصول کیا گیا۔ اور مرزا قادیانی اپنا سا منہ لے کر کمرہ سے باہر نکلے۔ تمام فتح وظفر کے الہامات خاک میں مل گئے۔ اور جھوٹی نبوت کی ناک کٹ گئی۔ صاحب مجسٹریٹ نے ٤٨ ص کا فیصلہ انگریزی میں لکھا ہے۔

اور فیصلہ میں لکھ دیا ہے کہ مرزا اس جرم کا عادی ہے۔ پہلے بھی اس کو مسٹر ڈے ڈی صاحب ومسٹر ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنران نے ہدایت کی تھی کہ باز آجائے۔ لیکن باز نہیں آیا اور یہ اس قابل ہے کہ اس کو سزائے قید دی جائے۔ کیونکہ بجز اس کے انسداد جرم ہو نہیں سکتا۔ لیکن محض ضعیف العمری پر رحم کر کے اس سے نرم سلوک کیا جاتا ہے۔

کہئے مرزا قادیانی آئندہ بھی عبرت حاصل کرو گے یا نہیں؟

مرزائی کہتے ہیں۔ کیا ہوا جرمانہ ہوا۔ قید تو نہیں ہوئی۔ ہاں بے شک ! مثل مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک جولاہا بیکار میں پکڑا گیا اس نے کچھ شوخی دکھائی۔ افسر کے سامنے کہا گیا اس نے

٣١٢

صفحہ ٣٢٩

کہا کہ اس کے پانچ سو جوتی لگاؤ۔ فوراً تعمیل ہوئی۔ میاں جھلا سر جھکائے باہر نکلے، کہنے لگے کیا مضائقہ جوتے تو لگے لیکن کنگھہ تو نہیں ٹوٹا۔ خدا نے عزت رکھ لی۔

لیجئے! اچھا حضرات ہم بھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی قید سے بچے۔ لیکن یہ تو فرمائیے کہ الہاموں کی دھجیاں تو اڑ گئیں۔ خود ہی مقدمہ بازی کا سلسلہ مرزا قادیانی نے چھیڑا تھا۔ آخر لینے کے دینے پڑ گئے۔

یہ وہ مقدمہ ہے جس میں مرزا قادیانی تقریباً دو سال کشمکش میں مبتلا رہے۔ نہ دن کو آرام نہ رات کو نیند، تصانیف بند۔ الہامات منقطع۔

یہ وہ مقدمہ ہے جس میں روزمرہ آپ کو متواتر چھ چھ گھنٹے پاؤں پر کھڑا رہنا پڑا۔

اور یہ وہ مقدمہ ہے جس کے غم وخوف سے اثناء تحقیقات میں مرزا قادیانی پر طرح طرح کی بیماریوں نے سخت حملے کئے۔ اور مختلف پیشیوں پر ناگہانی غشی سکتہ وغیرہ طاری ہوتے رہے۔

ہاں یہ وہ مقدمہ ہے جس میں آپ نے شدت پیاس سے گھبرا کر پانی کا مطالبہ کیا تھا لیکن نصیب نہ ہوا۔

یہ وہ مقدمہ ہے جس نے مرزا قادیانی کو اپنی دارالامان قادیان سے مدتوں در بدر نکالا گیا۔ گورداسپور میں رلایا۔

یہ وہ مقدمہ ہے جس میں اپنی صفائی کے لئے مرزا قادیانی نے ١٨ معزز شہریوں کو گواہی کی تکلیف دی لیکن صفائی کے بدلے آپ کی مجرمیت ثابت ہوئی اور سزا یابی کا خلعت عطا ہوا۔

یہ وہ مقدمہ ہے جس میں آپ کے مخلص جاں نثار وکیل دو سال لڑے لیکن ناکامی اٹھائی۔ مرزا قادیانی اب ہزار دہائی مچائیں مسیحائی کوسوں بھاگ گئی۔ علمیت خاک میں مل گئی۔

ہاں آپ کے حریف بے نظیر پہلوان، بے مثل فاضل مولوی محمد کرم الدین صاحب کی فتح کا نقارہ دنیا میں بج گیا۔ اور دنیا قائل ہو گئی کہ اتنی بڑی جماعت کا تنہا مقابلہ کرنا اور آخر مخالف کو زک دینا شیر آدمی کا کام ہے۔

الغرض یہ مقدمہ کوئی معمولی مقدمہ نہیں بلکہ محض خداوند کریم کی قدرت کا کرشمہ ہے جس سے خلق خدا کو یہ دکھانا منظور تھا کہ ایک جھوٹے مدعی نبوت کو بڑی ذلت دی جاتی ہے۔ مرزائیوں کے لئے یہ عبرت کا مقام ہے اور ان کو چاہئے کہ غور کریں اور ایسے شخص سے قطع تعلق کرلیں۔ جس نے جھوٹے وعدے دے دے کر ان کا روپیہ مقدمہ بازی میں برباد کیا۔ اور خود ذلت اٹھائی۔ فقط

٣١٣

صفحہ ٣٣٠

٢ ....... آسمانی باپ نے لے پالک سے کیسا سلوک کیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

بظاہر تو کھوسٹ باپ لے پالک سے یہی کہتا رہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے دشمنوں کو یوں اور ووں کر ڈالوں گا۔ کسی کی کیا طاقت ہے کہ بری نظروں سے تجھے دیکھ سکے۔ میں نے تیرے دشمنوں ہی کے لئے طاعون بھیجا ہے۔ اور وہ سب کو یکے بعد دیگرے چٹ کر رہا ہے اور کرے گا لیکن درپردہ جڑ کھودتا رہا۔ اور آخر کار یہودی بن کر لے پالک کو سزا دلائے بغیر نہ چھوڑا۔ بھلا ایسے منافق جانی دشمن باپ کو کیا کوئی چولہے میں ڈالے یا دوزخ میں جھونکے۔ منجملہ دوسری علامتوں کے یہ بھی خروج دجال کی علامت اور نحوست ہے کہ باپ بیٹے کا دشمن بن جائے اور خون سفید ہو جائے۔ ڈھارس تو یہ کہ جہاں تیرا پسینہ گرے گا میں اپنا خون گرادوں گا اور خوارق یہ کہ تعزیرات ہند کی سولی پر لٹکا دیا۔ مجددانہ مشرقہ کو معصوم اور شیر خوار لے پالک کے ساتھ ہمدردی اور منافق آسمانی باپ کے ساتھ لاگ ڈانٹ ہے۔ بھلا یہ کیا انسانیت ہے کہ لے پالک کی مصیبت پر ساری دنیا خوش ہورہی ہے۔ مجدد کو تو اس وقت خوشی ہوتی جب لے پالک اپنے باپ سے عاق ہوکر اس کو چھوڑ بیٹھتا اور جنیت اور مسیحیت ومہدیت ونبوت کا تمغہ اتار کر آسمانی باپ کے منہ پر مارتا اور خدائے وحدہ لاشریک کا سچا بندہ بن جاتا ورنہ ہم کہے دیتے ہیں کہ یہی آسمانی باپ اور یہی ابوت اور نبوت ہے تو لے پالک کی خیر نہیں۔ ایک نہ ایک روز پھانسی دھری ہے۔

اہالی موالی بڑے خوش رہے ہیں کہ وہ سات سو روپیہ کی کیا اصل ہے اگر دھار مار دی جائے تو روپیوں بلکہ اشرفیوں کے توڑے بہنے لگیں۔ دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع تو جب تھا کہ خدا نخواستہ دور از جان ہمارا نبی اور بروزی قید ہوجاتا۔ لیکن اگر قید ہوجاتا تو شاید یہ کہتے کہ پھانسی تھوڑی ہی لگی ہے۔ اس سے تو بچ گئے۔ جی بجا ہے ناک کٹی مبارک۔ سرمنڈا سلامت۔ بے شک جب تک صلیب کی معراج نہ ملے مسیح سے پوری مماثلت ہو نہیں سکتی۔

خیر عدالت نے معصوم اور بے گناہ لے پالک کو سزا تو دی ہے مگر اسی کا صبر بھی ایسا پڑے جیسے آسمان سے بجلی۔ کم از کم اپنے ایڈیٹر مانند طاعون کو ذرا بھی انگلی دکھائی جائے تو چھٹی تک کا کھایا پیا لبوں پر آجائے۔ آج کے تھوپے آج نہیں جلتے۔ دیکھو سابق مجسٹریٹ گورداسپور سے کئی منزل دور پھینکا گیا۔ مجسٹریٹ حال بھی لے پالک کا جانی دشمن تھا۔ جیل خانے میں جھونکے بغیر نہ رہتا۔ یوں کہو اس کے دل پر ویسا ہی خوف طاری ہو گیا۔ جیسا آتھم کے دل پر ہو گیا تھا۔ جس کا جی چاہے کانشنس میں آپریشن کر کے دیکھ لے آتھم کے معاملے میں تو مرزا قادیانی نے دس ہزار روپیہ کی بازی

٣١٤

صفحہ ٣٣١

بدی تھی کہ اگر آتھم بحلف صالح اقرار باللسان و تصدیق بالقلب کرلے کہ میرے دل پر خوف غالب نہ ہوا تھا۔ تو دس ہزار لے۔ اب مرزا قادیانی یقیناً ایک لاکھ روپیہ کی بازی بدیں گے کہ مجسٹریٹ صاحب گورداسپور نے جو بجائے قید کرنے کے مجھے جرمانے کی سزا دی حلف کریں کہ میرے دل پر خوف طاری نہ ہوا تھا تو دولاکھ پھٹکاریں۔ ہمیں امید ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اس شرط کے باندھنے سے ہرگز نہ چوکیں گے کیونکہ یہ سب نشانوں سے بڑھ کر لاثانی آسمانی نشان ہوگا۔

٣ ...... مجدد کا الہام اور رویاء صادقہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ناظرین کو یاد ہوگا ہم نے خواب دیکھا تھا کہ ایک سبزہ زار وسیع میدان ہے اور ایک مقدس بزرگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے یہاں ایک بڑا خاردار درخت تھا مگر اب نہیں۔ ہم نے خواب کی یہ تعبیر بیان کی تھی کہ وہ سبزہ زار مذہب اسلام ہے اور خاردار درخت لے پالک کا وجود بے بہبود ہے۔ اس خواب کا کسی قدر حصہ پورا ہوا اور باقی پورا ہونے والا ہے۔ انشاء اللہ۔

الہام یہ ہوا تھا۔ یقطع الجناح۔ یعنی بازو کاٹا جائے گا یہ بالکل پورا ہوا کہ کیا معنی کہ مرزا قادیانی کے تمام فتح ونصرت کے الہامات پٹ پڑے اور جرمانہ کا روڑ سر پر دھرا گیا۔ اس سے ضرور کچھ معتقدین بددل ہو کر مرتد ہو جائیں گے اور زور گھٹ جائے گا۔ پس یہی بازو کا انقطاع ہے۔ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں اور اب پھر لکھتے ہیں کہ تمام مرزائیوں کو مجدد السنہ مشرقیہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہئے۔ کیونکہ انیسویں صدی میں تو حسب زعم مرزا اور مرزائیان مجدد وہی ہے جس کے الہامات اور پیشینگوئیاں پوری ہوں۔ اندھیر ہے نا کہ مرزا قادیانی تو باوصف پیشینگوئیوں اور الہامات کے پورا نہ ہونے کے مسیح اور مہدی اور بروزی اور امام الزمان بنے رہیں۔ اور شوکت اللہ باوصف اپنی پیشینگوئیوں اور الہام کے پورا ہونے کے مجدد بھی نہ بنے۔ مرزائیو ذرا تو انصاف کرو۔ کیا آسمانی باپ کے گھر میں اتنا بھی انصاف نہیں۔ کیا اس کا جھونپڑا بالکل ہی پھک گیا ہے۔ خدا نے تمہیں آنکھیں دی ہیں عقل دی ہے۔ لے پالک اور مجدد کے الہاموں کو تجربہ اور مشاہدے پر کس لو ۔

خود سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

٤ ...... دونوں فریق کو سزا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

صاحب مجسٹریٹ بہادر گورداسپور نے نہ صرف فریقین پر بلکہ تمام مسلمانوں پر اپنے کریمانہ انصاف سے احسان کیا ہے۔ یعنی فریقین کو سزا دے کر آئندہ کے لئے مقدمات اور

٣١٥

صفحہ ٣٣٢

نزاعات کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ اپیل کی بھی گنجائش نہیں چھوڑی۔ کیا معنی کہ مرزا قادیانی اور حکیم فضل دین صاحب کے ساتھ مولوی کرم الدین صاحب پر جرمانہ اور سراج الاخبار کے ایڈیٹر صاحب پر جرمانہ کیا ہے اب دفعہ ٢١١ فوجداری عدالت دیوانی میں جرح کے لئے جانا منقطع ہو گیا۔ کیونکہ آئندہ چارہ جوئی کے لئے جائیں گے تو فریقین ہی جائیں گے۔ جو مدعی بھی ہیں اور مدعا علیہ بھی اور یہ قاعدہ ہے کہ ایک خوف دو جانب ہوتا ہے۔ پس بظاہر تو غالباً کوئی ایسی جسارت نہ کر سکے گا اور اگر کوئی فریق بدستور اپنی ہٹ اور ضد پر قائم رہا تو بہت افسوس ہوگا اور بجز ضرر اور تفضیح کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

ایمان کی بات تو یہ ہے کہ ان مقدمات میں فتح کسی کو بھی نہیں ملی۔ فریقین کو شکست ہی ملی ہے۔ ہاں مرزا قادیانی اپنی فتح کے نقارے ضرور بجائیں گے اور الہامات کی تاویلات کا دریا بہائیں گے کہ میری ناک کٹی تو کیا ہوا۔ فریق مخالف کے بھی تو کان کٹ گئے۔ مرزا قادیانی اور ان کے حواری اس لئے قابل ملامت ہیں کہ مقدمات پہلے ان کی جانب سے دائر ہوئے۔ ”للبادی هو الاظلم“

مصلحت یہی ہے کہ فریقین اس انصاف کو مغتنم اور فوز عظیم سمجھیں اور دلوں سے ضرر رسانی اور انتقام اور کینہ توزی کے خیالات دور کر دیں اور اگر مرزا قادیانی سمجھیں تو مسیحیت اور موعودیت اور بروزیت کی استروں کی مالا گلے سے اتار ڈالیں اور خدائے تعالیٰ کے ادنیٰ بندے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی اور اسم با مسمی غلام بن جائیں اور بابو آتارام صاحب مجسٹریٹ کو دعا دیں۔

٥ ...... ہر ایک دجال دوسرے دجال کا منکر ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

آنحضرت ﷺ کی پیشینگوئی کے موافق متواتر طور پر دجال آ رہے ہیں اور قرب قیامت پر ٣٠ دجال کی تعداد پوری ہوگی جس شخص کا ایمان آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ہے۔ اس پیشینگوئی پر بھی ایمان ہے بھلا کوئی دجال یہ کیونکر کہہ سکتا ہے کہ میں دجال ہوں۔ پس دجال کے آنے کے منکر دجال ہی ہیں اور جب تک دجال اکبر نہ آئے گا۔ تمام چھوٹے چھوٹے دجال اس کے منکر رہیں گے۔

یہ عجیب بات ہے کہ دجال کی ذریات اپنے ولی نعمت اور مورث کے منکر ناخلف بن رہے ہیں۔ مرزا قادیانی صاحب کا یہ دعویٰ کہ میں خاتم الدجاجلہ ہوں ہرگز قابل سماعت نہیں۔ ہم

٣١٦

صفحہ ٣٣٣

اطمینان دلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی میں نہ وہ کرشمہ ہے نہ وہ جذبہ نہ وہ قوت جو دجال اکبر کو نصیب ہو گی۔ آنحضرت ﷺ کی پیشینگوئی تو ڈنکے کی چوٹ پوری ہورہی ہے کہ دجال برابر آ رہے ہیں اور آئیں گے۔ مرزا قادیانی کے پاس کیا مصالحہ ہے جس سے وہ اپنے کو خاتم الدجاجلہ یعنی دجال اکبر ثابت کرسکیں۔ ذرا منہ تو دھو کر رکھیں۔ دجال اکبر تو بڑا جبار اور قہار اور صاحب سطوت اور جبروت ہوگا اس کے پیشاب میں چراغ جلیں گے۔ اس کے مقابلہ میں ذرا سے خوف پر مرزا قادیانی کو چھلچھلی لگ جاتی ہے۔ جیسا کہ دوران مقدمہ میں مشاہدہ کیا گیا کہ حضور مجھے ذیابیطس ہے، اختلاج قلب ہے، ضعف مثانہ ہے، ضعف دل وجگر ہے۔ بھلا ایسا بزدل اور حیز کیونکر دجال اکبر ہو سکتا ہے۔ ایسے غریب اور مجبور مکھی کے پادو کو لوگ ناحق ٹھہراتے ہیں۔ خبردار جو کسی نے آئندہ مرزا قادیانی کو خاتم الدجاجلہ کہا۔ ورنہ مجددانہ مشرقیہ بری طرح پیش آئے گا۔

مرزا قادیانی خلیفۃ الدجال ضرور ہیں۔ ہاں خاتم الخلفاء الدجال نہیں ہیں اور جس کو شک ہو وہ سمالی لینڈ جاکر مثلاً عبداللہ کو اور لندن جاکر مسٹر پگٹ اور پیرس جاکر ڈاکٹر ڈوئی کو دیکھ لے۔ حال کو حجت نہیں اور یقین کامل ہے کہ موجودہ زمانے کے لوگ اپنی زندگی میں بہت سے خلفاء دجال کی زیارت سے مشرف ہوں گے۔

ہم نے عنوان میں لکھا ہے کہ دجال ہی دجالوں کے منکر ہوں گے۔ اس کا ثبوت ابن عباسؓ کی روایت سے ہے جو ازالۃ الخفاء ص ١٨١ میں درج ہے۔ یعنی ”قال خطبنا عمر فقال يا ايها الناس سيكون قوم من هذه الامة يكذبون بالرجم ويكذبون بالدجال ويكذبون بعذاب القبر ويكذبون بالشفاعة ويكذبون بقوم يخرجون من النار بعد ما امتحشوا“ (عمرؓ نے خطبہ پڑھا اور پیشینگوئی فرمائی کہ اے لوگو اس امت میں ایک قوم عنقریب پیدا ہوگی جو رجم کی تکذیب اور دجال معہود کا انکار کرے گی اور عذاب قبر کو جھٹلائے گی اور شفاعت کی منکر ہوگی اور اس قوم کا انکار کرے گی جو آگ میں جلنے کے بعد (آنحضرت ﷺ کی سفارش پر ) دوزخ سے نکالی جائے گی۔) صاف ظاہر ہے کہ اس پیشینگوئی کے مورد مرزا قادیانی اور ان کے دوسرے بھائی ہیں جو نقض قانون قدرت کو اٹھا لے دوڑتے ہیں۔

اور آنحضرت ﷺ نے حدیث فرمائی جو ثوبانؓ سے (ابوداؤد ج٢ ص ١٢٧، ترمذی ج٢ ص ٤٥، مشکوٰۃ) میں مروی ہے ”سيكون في امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله“ (عنقریب میری امت میں ٣٠ جھوٹے پیدا ہوں گے ان کا ہر شخص دعویٰ کرے گا کہ

٣١٧

صفحہ ٣٤٤

میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ پھر کیا یہ پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی؟ اور مرزا قادیانی نے اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا؟ انہوں نے تو یہ کمال کیا کہ قیامت تک انبیاء کے آنے کا تانتا باندھ دیا گویا یہ ظاہر کیا کہ نبی میں ہی نہیں ہوں۔ بلکہ قیامت تک ہزاروں لاکھوں نبی (بعد ختم رسالت) آئیں گے۔ حالانکہ کسی دجال نے یہ نہیں کہا کہ میرے بعد دوسرا دجال بھی آئے گا۔ یقیناً مرزا قادیانی کا وجود کا نیچر تمام دجالوں کے نیچر سے نرالا گھڑا گیا ہے۔

مرزا قادیانی کو ساری دنیا سے تو کیا مطلب اپنے دعوے سے صرف یہ دکھانا اور ثابت کرنا مقصود ہے کہ خاص مرزائی امت میں میرے بہت سے خلفاء نبی ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ مرزائیوں اور مرزا قادیانی کے سوا درحقیقت کوئی مسلمان ہی نہیں۔ چہ جائیکہ نبی ہو۔ جس شخص کے کانشئس میں کچھ بھی حس ہے۔ وہ ایسے طفلانہ دعوؤں اور لچر دلائل پر مضحکہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اور ابو ہریرہؓ سے متفق علیہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين (مسلم ج٢ ص٣٩٧، بخاری ج١ ص٥٠٩)“ کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب کہ تقریباً ٣٠ جھوٹے دجال آ چکیں گے۔ پھر مرزا قادیانی ہی فرمائیں کیا اب تک ٣٠ دجال آ چکے ہیں۔ آپ کے عقیدہ کے موافق تو ایک دجال بھی نہیں آیا۔ نہ قیامت تک آئے گا۔ ہاں نبی دھڑیوں اور ڈھیروں آئیں گے۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالۃ الاوہام ص ٢٨٦، خزائن ج٣ ص٣١٦، ٣١٧ ملخص) میں لکھتے ہیں: ”کہ دجال جس کا ذکر فاطمہ بنت قیس کی حدیث میں زندہ موجود ہونے کا ہے وہ فوت ہو چکا ہے وہ دجال اس کا مثیل ہے جو گرجا سے نکل کر مشارق ومغارب میں پھیل گیا یعنی گروہ پادریان۔“

کیا خوب تاویل ہے ہاں جناب جب عیسیٰ علیہ السلام مر گیا تو دجال کیوں نہ مرے؟ لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو تو آپ اس لئے مارتے ہیں کہ وہ آپ کا حریف و رقیب ہے۔ دجال کو کیوں مارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آپ عیسیٰ بھی ہیں اور دجال بھی۔ یہ عجیب ان نیچرل گورکھ دھندا ہے۔ شاید عیسیٰ اور دجال دونوں کے مرنے کا الہام آسمانی باپ نے کیا ہے۔ پھر مرنے والا دجال ایک تھا آپ کے یہ ہزاروں دجال کیوں نکل پڑے پھر یہ دجال تو انیس سو برس سے ہیں۔ نہ کہ ١٣ سو برس سے۔

پھر مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام کے ص ٦٧٣، ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣، ٤٦٤) میں آیہ ”هو الذی ارسل رسوله “اور آیہ ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “ کے تحت میں لکھتے ہیں کہ یہ درحقیقت اسی مسیح بن مریم (قادیانی) سے متعلق ہے اور آنے والے کا

٣١٨

صفحہ ٣٤٥

نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اسی مثیل (مرزا) کی طرف اشارہ ہے اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنی کی رو سے ایک ہیں اور آخری زمانہ میں برطبق پیشینگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسوی رکھتا ہے بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور کہا کہ: ’’کیا وہ حیّ قیوم ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت مثالی پر نہیں کر سکتا۔‘‘ ١٣ سو برس قبل اس آیت کا تعلق آنحضرت ﷺ سے نہ تھا۔ بلکہ یہ پیشینگوئی چینی مغل کی نسبت تھی۔

آیت کا تعلق آنحضرت ﷺ سے تھا بھی تو وہ منقطع ہو گیا کیونکہ وہ وفات پا گئے۔ جس طرح عیسیٰ ؑ وفات پا گئے میں زندہ نبی ہوں مجھ پر ایمان لاؤ۔ مردہ پرست نہ بنو۔ ہاں صاحب خدائے حیّ و قیوم کو یہ تو طاقت ہے کہ ایک انسان کا دوسرے انسان میں بطور تناسخ حلول کرے۔ لیکن اس میں یہ طاقت نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے وہ دجالوں کا سلسلہ منقطع کر سکتا ہے۔ مگر انبیاء کا سلسلہ منقطع کر دینا اس کے نزدیک بھی محال ہے جس طرح مسیح اور مہدی کے آنے کا ثبوت احادیث سے ہے اسی طرح دجالوں کے آنے کا ثبوت بھی ہے۔

لیکن مرزا قادیانی دجالوں کے آنے کا قطعاً انکار کرتے ہیں۔ مگر مسیح موعود اور مہدی موعود اور مہدی بن بیٹھے۔ مرزا قادیانی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ نہ مہدی ہیں۔ نہ مسیح وغیرہ ہیں۔ اگر ہیں تو ویسے ہی ہیں جیسے اسود عنسی اور مسیلمۃ الکذاب وغیرہ تھے مگر چونکہ چند حمقاء کو انہوں نے پھانس لیا ہے۔ لہٰذا ان کے حلقہ میں بن آئی ہے۔ مرزا قادیانی کا عمل آنحضرت ﷺ کی احادیث پر تو ہے نہیں۔ ہاں اپنے مورثوں دجالوں کی سنت پر ہے۔ یعنی جس طرح کسی دجال نے یہ نہیں کہا کہ میں دجال ہوں اسی طرح مرزا قادیانی بھی اپنے کو دجال نہیں کہتے۔ اور جس طرح وہ نبی بن بیٹھے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی نبی بن بیٹھے۔ کیسے صاف طور پر نبی کریم ﷺ کی وہ پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے کہ کلہم یزعم انہ نبی۔ جس شخص کو خدائے تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی نور بخشا ہے اس کے لئے یہ حدیث صدق و کذب دونوں کا آئینہ ہے۔

بھلا کسی نبی نے بھی طاعون کو اپنے نزول کی علامت اور آسمانی نشان بتایا ہے؟ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تو دنیا کی مجسم رحمت بن کر نازل ہوئے ہیں۔ نہ کہ زحمت بن کر۔ مرزا قادیانی طاعون ملعون کو دعا دیں جس کی بدولت وہ نبی بن گئے اور پیشینگوئیاں اور آسمانی نشان ظاہر ہونے لگے۔ لاہور والے لیکچر میں آپ نے فرمایا کہ طاعون عموماً پھیلنے والا ہے اور کیا معلوم ہے کہ فلاں ماہ تک دنیا کی کیا حالت ہوگی۔ ایک بچہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہر سال موسم سرما میں طاعون کا زور بڑھ جاتا ہے۔ آئندہ سرما میں بھی ضرور بڑھے گا۔ بھلا اس میں آسمانی باپ نے کیا تیر مارا کہ اپنے

٣١٩

صفحہ ٣٣٦

اکلوتے پر اس شے کا الہام کیا جو سب کے سامنے موجود ہے۔ منہ پر کی تو خوشامد ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ باپ بیٹے دونوں نرے بے دال کے بودھ اور نرے مکھیاں کے پادا ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤/ اکتوبر کے شمارہ نمبر ٤٠/ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی کی اپیل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم نے لکھا تھا کہ مصلحت یہی ہے کہ اب طرفین کان بند ہو کر اور سکوت کی ہلاس سونگھ کر بے حس و حرکت گھر بیٹھ رہیں کہ جان بچی لاکھوں پائے جرمانہ ہی پر ٹل گئی۔ سخی کے مال پر پڑے کنجوس کی جان پر۔ مگر مجددانہ مشرقیہ کی تنبیہ پر کان نہ دھرے گئے۔ چنانچہ اب بعض مرزائیوں کی زبانی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپیل کریں گے اور وکلاء نے مشورہ دیا ہے کہ مجسٹریٹ گورداسپور نے ناانصافی کی اور ساری شق بے ضابطگیوں کا تودہ ہے۔ فریق ثانی کے ارادے کی نسبت ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی نے اپیل کی ہے تو غیر ممکن ہے کہ وہ بھی اپیل نہ کریں ورنہ دفعہ ٢١١ اور دفعہ ١٩٣ تعزیرات ہند کے اڑنگے میں آجانے کا خوف ہے پھر وہی سلسلہ وہی سرگازی، پاؤں پھٹے ہیں۔

مرزا قادیانی کا اپیل کرنا تو آسمانی باپ کے الہام کے موافق فرض ہے کیونکہ لے پالک کی چگھوتیاں اور گرم بازاری اسی میں ہے کہ چار طرف سے چندے آئیں چنانچہ اس عرصہ

٣٢٠

صفحہ ٣٣٧

میں دو سال تک قادیان میں خوب خوب دھن برسا اور روپیہ کی خوب ریل پیل رہی۔ کچھ رقم مقدمہ میں خرچ ہوئی۔ باقی متفرقہ مدوں میں اور مستورات کے زیوروں میں کام آئیں۔ مگر خلق میں اور بڑی وجہ یہ ہے کہ اُلو کے پٹھوں کو آسمانی نشان کے ظاہر ہونے پر ایمان تھا۔ ”نصر من الله وفتح قريب اور فتح من الله ونصر قريب“ کے ڈنکے بج رہے تھے کہ حضرت اقدس مقدمے سے کورے اور اچھوتے ہی نکلیں گے اور آنچ تک بھی نہ آئے گی اور تمام مرزائیوں کے ایمان جو چھوئی موٹی ہو رہے تھے۔ بہت جلد تروتازہ ہو جائیں گے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ آسمانی باپ تو اپنے لے پالک سے بازی کھیل رہا ہے اور گردن توڑ ڈالنے کی فکر میں ہے۔ لہٰذا کہا تو کچھ اور کیا کچھ، پر اس نے رہا سہا بلغم نکالنے کو یہ بھی کانوں میں پھونک دیا کہ ”هم من بعد غلبهم سيغلبون“ پس اب اپیل کا ہونا ضروری ہے اور اگر جج نے بھی سوکھی ہی سنائی تو پھر چیف کورٹ کی باری ہے۔ الغرض یہ سلسلہ یوں ہی سالہا سال تک جاری رہے گا اور چندوں کی بدولت خوب کھرے ہوتے رہیں گے۔ مقدمات کی ایسی گوٹیاں کسے نصیب۔ بلکہ ہمارے خیال میں اب تو مرزائی پہلے سے کہیں بڑھ کر اپنی گانٹھ گنوائیں گے کہ کسی طرح آسمانی نشان ظاہر ہو ورنہ رہے سہے اُلو بھی پنجرے سے پھر ہو جائیں گے۔ حضرت مرزا محمد عبدالقادر بیدل نے اپنے نکات میں کیا خوب فرمایا ہے۔

بچنین زبونی دست و دل ز صنائع املم خجل
کہ سر خسے اگرش دہم بہزار خانہ ستوں كُند

یعنی باوصف دست و دل کے عاجز ہونے کے میں اپنی امید کی صنعتوں سے شرمندہ ہوں کہ اس کو ایک تنکا بھی دوں تو وہ اس تنکے کو ہزاروں گھروں کا ستون بناتی پھرے گی۔

٢ ...... تازیانہ عبرت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ایک ماہواری دوورقی والے نے مرزائیوں سے راتب اور گھاس دانہ مانگنے کو ڈھینچوں ڈھینچوں لگائی اور تھان پر بندھ کر مجدد پر اپنے خیال میں دولتی چلائی۔ مجدد کے مقابلے کی تاب مرزائیوں اور ان کے گروگھنٹال کو تو اب تک ہوئی نہیں یہ بچونگڑا سب کا پشتیبان بنے چلا ہے۔ چونکہ اس نے اپنی دو ورقی میں ایک اشتعال انگیز تصویر بھی دی ہے۔ لہٰذا ہم کو تازیانہ پھٹکارنے کی ضرورت ہوئی جو ضمیمہ کے کالموں میں آئندہ ناظرین کی نظر سے گزرے گی۔ یہ ”جزاء سيئة سيئة مثلها “ ہے۔ مرزائی مذہب کی اشاعت نے تو تصویر کشی اور تصویر فروشی بلکہ تصویر پرستی کو

٣٢١

صفحہ ٣٣٨

فرض کر دیا ہے۔ مگر ہم جواب میں محض ”الضرورات تبیح المحذورات“ پر عامل ہوں گے اور ضرورت کے وقت انسان پائخانے میں بھی چلا جاتا ہے۔ لہٰذا امید ہے کہ ناظرین معاف فرمائیں گے کیونکہ یہ ایک اضطراری فعل ہے اور چونکہ مرزا قادیانی نے تصویر کشی کو فرض جان کر اس کا ارتکاب کیا۔ لہٰذا یہ اسی کا وبال ہے جو اس پر پڑے گا۔

٣ ...... عجیب معمہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ایڈیٹر صاحب تالیف واشاعت عرصہ تک مرزا قادیانی کے معتقد رہے وہ خود لکھتے ہیں کہ سرسید مرحوم سے بھی مرزا قادیانی کے بارے میں اکثر میرا معارضہ رہا مگر بالآخر وہ طلسم ٹوٹ گیا چنانچہ ایڈیٹر صاحب نے مرزا قادیانی کے لاہور والے لیکچر پر اپنے قلم سے مضحکہ اڑایا اور جب ہم نے یہ لکھا کہ مرزا قادیانی کے باب میں جو کچھ آپ پر القاء یا الہام یا آپ کے کانشس میں کوئی خیال پیدا ہوا تھا۔ وہ شیطانی القاء تھا تو ایڈیٹر صاحب نے اس پر ناک بھوں کیوں چڑھائی۔ اچھا صاحب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر وہ شیطانی القاء نہ تھا بلکہ رحمانی الہام تھا تو آپ اپنے مرشد سے اب کیوں منحرف ہوگئے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ شیطانی اور رحمانی الہام دونوں انسانوں ہی پر ہوتے ہیں۔ پڑھو آیۂ ”ونفس وما سوّاھا فالھمھا فجورھا وتقوھا “ دیکھو تقویٰ اور پرہیزگاری دونوں کی نسبت الہام کا لفظ موجود ہے۔ ممکن ہے کہ انسان پر پہلے شیطانی القاء ہو اور پھر رحمانی القاء ہو جو خرابی اور غلطی میں پڑنے سے بچائے۔ یہ اچھے لوگوں کی صفت ہے نہ کہ ان لوگوں کی جن کا دل بالکل مسخ ہو گیا ہے۔ پھر آپ نے کیوں برا مانا؟

٤ ...... سچے اور جھوٹے مسیح کی پرکھ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جھوٹے مسیحوں یعنی دجالوں کی پرکھ حسب احادیث نبوی سب مسلمانوں کو ہو گئی مگر نہ ہوئی تو مرزا قادیانی کو کیونکہ ان کی پرکھ تو خود بدولت کو اس وقت ہو جب خود اپنی پرکھ کریں۔ خرابی تو یہی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو بھولے ہوئے ہیں اور سکتے میں ہیں۔ مجدد بار بار آئینہ دکھاتا ہے مگر روحانی حس وحرکت کا پتہ نہیں ہونٹوں سے بڑبڑانے کی صدا نکلتی ہے کہ ”انا المسيح انا المسيح “ وہ چیلے چانٹے جن کی قسمت پھوٹ گئی ہے۔ اقرار کرتے ہیں کہ ”آمنا وصدقنا انت المسيح بن المسيح بن المسيح“ اور آسمانی باپ کہتا ہے ”انت بمنزلة ولدى بل عین ولدی“ آسمانی باپ یہ نہیں کہتا کہ انت المسيح ۔ کیونکہ مسیح (معاذ اللہ ) ناخلف تھا اس

٣٢٢

صفحہ ٣٣٩

میں طرح طرح کے عیب تھے۔ پس وہ ناخلف کے نام سے بھی اپنے خلف لے پالک کو پکارنا عار سمجھتا ہے۔ حدیث شریف نے تو بڑی وضاحت سے جھوٹے مسیحوں اور دجالوں کی پرکھ بتادی کہ "كلهم يزعم انه نبى ولا نبى بعدى"

اب ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کیا آپ ختم نبوت کے بعد نبی نہیں بنے اور جس قدر دجال آج تک گزرے کیا انہوں نے یہی دعویٰ نہیں کیا۔ جو آپ نے دنیا میں کیا ہے اور کیا سب کے سب فی النار نہیں ہو گئے۔ ان کے ساتھ جو فرعونی اور نمرودی لشکر تھا۔ آپ کے فرشتوں کے خواب میں بھی قیامت تک نہ آئے گا اگر وہ سچے نبی ہوتے تو روئے زمین پر ان کا کوئی تو نام لیوا ہوتا۔ حالانکہ انبیاء صادقین کے لاکھوں اور کروڑوں امتی اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ ایک دانا بینا سچے مسلمان کے لئے یہ پرکھ کافی ہے اور پوری پرکھ ساری خدائی کو اس وقت ہوگی۔ جب قادیان میں منارے پر چیلیں اور کوے اور چغد اور خود مرزا قادیانی کی روح اُلو کے قالب میں حلول و بروز کر کے بولے گی کہ ”یا بدوح لعنت الله على بالمساء والصبوح انكرت من الروح والسبوح وشغلت فى القبوح“

مرزا بار بار بکتا رہتا ہے کہ میں وہی مسیح ہوں جس کا ذکر قرآن میں مجمل اور حدیث میں مفصل آیا ہے۔ کوئی پوچھے تیرے زعم کے موافق قرآن میں تو اس مسیح کا مفصل ذکر آیا جو مشبہ بالمصلوب ہوا یعنی سولی پر چڑھایا گیا مگر مرا نہیں اور جان بچا کر بھاگ گیا کیا تو بھی سولی پر لٹکایا گیا ہے۔ ہاں مقدمات کے شکنجے کو سولی قرار دے تو عجب نہیں جس میں دھر کر ایسا کھینچا گیا کہ بروزی کا بول و براز تک نکل پڑا۔ ضعف جگر اور ضعف گردہ ہو گیا اور ذیابیطس نے آلیا۔ حضور میں اختلاج قلب میں مبتلا ہوں۔ میں مور ضعیف ہوں۔ میں مچھیا کا بادا ہوں۔ میں آپ کی غریب اور مسکین گئو ہوں۔ یہ قصائی میرے خون کے پیاسے ہیں یہ تو مشبہ بالمصلوب ہونے سے بھی بڑھ کر ہے۔

حدیث میں پیشینگوئی ہے کہ ٣٠ دجال آئیں گے۔ جن میں کم و بیش ٢٠ آچکے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک ایک دجال بھی نہیں آیا۔ مسیح کا آنا تو حدیث میں بھی اور قرآن میں بھی مگر دجال کا ذکر نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔ ہاں انبیاء قیامت تک آئیں گے۔ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ اپنے گزشتہ مورثوں (دجالوں) کے دعوؤں کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ انہوں نے قیامت تک انبیاء کے آنے کا ہرگز دروازہ نہیں کھولا۔ مرزا قادیانی نے نامعاقبت اندیشی کے استرے سے آپ

٣٢٣

صفحہ ٣٤٠

اپنی ناک کاٹ ڈالی اور اپنی نبوت میں دوسرے انسانوں کو بھی شریک کرلیا۔ بروزی کی یہ حماقت اور سفاہت قابل دید ہے۔ ارے جب لاکھوں اور کروڑوں انبیاء قیامت تک آئیں گے تو کوئی پوچھے تو کس کھیت کی پیداوار ہیں۔ پھر جب بے شمار نبی آئیں گے تو بے شمار مسیح بھی آئیں گے۔ کیونکہ تو مسیحیت کا مدعی ہے۔ مجھ میں کیا سرخاب کا پر ہے۔ کہ تو مسیح بھی اور نبی بھی اور جو قیامت تک آئیں گے وہ صرف نبی۔ دعویٰ تو یہ ہے کہ میں مسیح ہوں اور دلیل یہ ہے کہ انبیاء قیامت تک آئیں گے نہ کہ مسیح۔ پس آپ نے اپنے دعوے کی ٹانگ توڑ دی۔ ہم حلفاً کہتے ہیں کہ کسی مرزائی کا تو کیا خود مرزا کو استدلال قائم کرنا کبھی نہیں آتا۔ دعویٰ کچھ ہے دلیل کچھ۔ دنیا میں مذاہب والے کوئی نہ کوئی دلیل رکھتے ہیں۔ صرف ایک مرزائی مذہب ہے جس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔

جس قدر دجال اب تک گزرے مناسب تھا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے کے موافق ان کو نبی مانتا کیونکہ وہ ہم جنس تھے۔ غضب تو یہ ہے کہ ان کو بالکل مسکوت عنہ قرار دے رکھا ہے۔ یعنی نہ ان کو نبی مانا جاتا ہے نہ دجال۔ آخر دال میں کچھ تو کالا ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو قیامت تک آنے والے لاکھوں انبیاء کی پرکھ تو ہو گئی مگر دجالوں کی پرکھ نہ ہوئی جو لے دے کر کل تیس ہیں۔ مطلب غالباً یہ ہے کہ جیسا میں نبی (دجال) ہوں۔ ایسے ہی قیامت تک لاکھوں نبی (دجال) آئیں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ وہ دجال نہ ہوں گے بلکہ دجال کے بیٹے پوتے پڑپوتے سڑپوتے وغیرہ ہم ہوں گے۔

٥ ...... وہی آسمانی نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ذرا بھی ریح کی سرسراہٹ ہوئی اور آسمانی نشان چمکتا ہوا ظاہر ہوا۔ پیٹ میں باؤ گولے دوڑے اور آسمانی فتح کی توپیں گرجنے لگیں۔ پھر ایسا بڑا نشان جس میں آسمانی باپ کی مدد سے لے پالک تعزیر کی چکی پیسنے سے بچا جرمانے ہی پر ٹلی۔ ایمان لانے اور ایمان کا ستارہ چمکانے کو کیا کم ہے۔ مرزا اور مرزائی کہیں گے کہ ہم تو ہر وقت آسمانی نشان دیکھ رہے ہیں۔ ضرورت تو منکروں اور مخالفوں کو نشان دکھانے کی تھی۔ بلا سے ہم پر جرمانہ ہوا۔ مخالفوں پر بھی تو ہو گیا۔ بس یہی مقصد تھا اور اسی کا نام آسمانی نشان ہے کہ سب پر عبرت پڑ گئی۔ لیکن باوصف مرزا قادیانی کے دعوے کے کہ طاعون میرے خروج کا آسمانی نشان ہے۔ جب مرزائی بھی اس کی بھینٹ چڑھتے ہیں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ ہم طاعون کی بھینٹ چڑھ گئے تو کیا ہوا، مخالفین بھی تو آگئے۔ بلکہ حتی الوسع

٣٤٤

صفحہ ٣٤١

اول تو طاعون سے مرزائیوں کی ہلاکت کا انکار ہی کیا جاتا ہے اور جب بھانڈا پھوٹ جاتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ طاعون کی ویسی افراط و تفریط نہیں ہوئی جیسی مخالفوں میں اور جب افراط و تفریط بھی ہوتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ جو مرزائی مرے وہ پکے مرزائی نہ تھے۔ وہ کٹر منافق تھے نہ کہ مؤمن ۔

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی تقریر میں بیان کیا کہ کوئی ایسا مرزائی طاعون سے ہلاک نہیں ہوا جس نے مجھے اچھی طرح پہچان لیا ہو۔ پس آسمانی نشان کا کوئی قصور نہیں۔ بلکہ اندھوں کی آنکھوں کا قصور ہے اور چونکہ منافق مرزائی جو طاعون کا شکار ہوئے۔ ان کا جہنمی ہونا ضروری ہے۔ لہذا اب سب مرزائیوں کو جہنم میں جانے کے لئے پر پھڑ پھڑا دینے چاہئیں۔ کیونکہ آسمانی باپ نے سچے مرزائیوں کے ماتھے پر ایمان کا ٹیکا نہیں لگایا کہ فلاں مومن ہے اور فلاں منافق ہے۔ اب تو آسمانی نشان یہی ہے کہ طاعون سے جو مرزائی مر گیا وہ منافق ہونے کے باعث جہنمی ہوا اور جو بچ رہا وہ اچھا خاصہ پھلا پھولا گھڑا گھڑایا مرزائی ہے۔ یہ ہے آسمانی نشان جس کے طوفانوں میں مرزائی جہاز چل رہا ہے۔

جس قدر دجال اب تک آئے انہوں نے یہی کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ہم پر ایمان لاؤ ورنہ ناری ہوگئے۔ اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ انبیاء قیامت تک آئیں گے۔ اس صورت میں سب پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ گزشتہ انبیاء اور ان کے صحیفے مسترد ہوں گے۔ بلکہ ہر آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کے صحیفے کو مسترد کرتا چلا جائے گا۔ کیونکہ ایمان لانے پر مجبور کرنے کے یہی معنی ہیں جو مرزا قادیانی کے خوارق سے ظاہر ہورہے ہیں کہ عیسیٰ مسیح مرگئے تمام انبیاء مر گئے اور ساتھ ہی ان کے صحیفے اور کتابیں بھی زمین میں دفن ہو گئیں۔ اور نبی بننے کو اس آزادی کے زمانے میں مصالحہ ہی کیا لگتا ہے ہر ایک مکار اور مفتری دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نبی ہوں۔ مجھ پر الہام اور وحی کا نزول ہوتا ہے۔ الہام اور وحی کوئی ایسی شے تو نہیں جو محسوس طور پر معلوم ہو سکے اور الہام و وحی بھی صرف اس قدر کافی ہے کہ میں مامور من اللہ ہوں، کلمتہ اللہ ہوں، خدا کا بمنزلہ ولد ہوں، خدائے تعالیٰ عرش پر بیٹھا بڑی محبت اور چاؤ اور تڑپ سے میری طرف دوڑتا ہے میں ایسا ہوں میں ویسا ہوں اپنے منہ میاں مٹھو ہوں وغیرہ۔

حالانکہ انبیاء کے صحیفے اور کتابیں دین و دنیا کے قوانین ہوتے ہیں جو وحشیوں کو انسان بناتے ہیں۔ کیا کوئی دجال انسانوں کی اصلاح کا پٹارا بغل میں لیکر آیا ہے اور اس کو دنیا میں پھیلایا ہے۔ بجز خالی خولی ابلہ فریب دعوؤں کے کوئی دجال کچھ بھی نہیں کرسکا۔

آنحضرت ﷺ نے تو کھلم کھلا ”علی رؤس الاشھاد“ فرمایا کہ ”لا نبی

٣٢٥

صفحہ ٣٤٢

بعدی“ اور قرآن ناطق ہوا۔ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ مگر دجالوں میں چونکہ کوئی جذبہ اور کرشمہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ میرے بعد دوسرا دجال نہ آئے گا اور گزشتہ دجال نبی نہ تھے میں ہی نبی ہوں۔ بھلا مرزا قادیانی سے تو کوئی اقرار کرائے کہ مسیلمۃ الکذاب اور اسود عنسی وغیرہ دجال تھے۔ جب انبیاء نے اپنے سے پہلے انبیاء کو مانا ہے تو دجال دجالوں کو کیوں نہ مانیں۔

لیکن اب دجالوں کا یہ قاعدہ اور یہ ناموس جاتا رہا کیا معنی کہ مرزا قادیانی لندنی مسیح مسٹر پگٹ اور فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور سومالی ملا کو نہیں مانتے نہ وہ مرزا قادیانی کو مانتے ہیں۔ بلکہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو نہیں مانتا۔ پس قدرتی طور پر چاروں دجالوں کی قلعی کھل رہی ہے۔ اور اسی طرح آئندہ بھی انشاء اللہ قیامت تک کھلتی رہے گی۔ کیا طاقت ہے کہ ایک دجال دوسرے دجال کی برائی کر سکے۔ اس کے منہ پر قدرت الٰہی مہر لگا دیتی ہے۔ کیونکہ دجال کا دجال کی برائی کرنا اور اس کا منکر ہونا آپ اپنی برائی کرنا اور اپنی دجالیت کا منکر ہونا ہے۔ دجال کبھی دوسرے دجال کی برائی نہ کرے گا۔ ہاں اس کے مقابلہ میں انبیاء کی برائی کرے گا۔ مرزا قادیانی کو دیکھ لیجئے کہ مسیلمۃ الکذاب اور اسود عنسی کی برائی بھولے سے بھی نہیں کرتے۔ ہاں مسیح کو ان کے مقابلہ میں برا بتائیں گے۔ دجال کی دجالیت کی بڑی بھاری علامت یہی ہے کہ انبیاء کو گالیاں دے۔ ہاں ہم یہ یقین دلا چکے ہیں اور پھر دلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی دوسرے دجالوں کی طرح ٹھیٹھ دجال ہیں۔ دجال اکبر نہیں ہیں۔ ان میں کسی قدر ترجیح کی یہ وجہ ضرور ہے کہ دوسرے دجالوں نے انبیاء کو گالیاں نہیں دی۔ اس میں تو مرزا قادیانی ہی فرد ہیں۔ لانا ذرا سقنقوری معجون اور روغن بادام میں دم کی ہوئی زعفرانی بریانی کا تھال۔

آنحضرت ﷺ نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ میرے بعد ٣٠ دجال آئیں گے۔ بھلا مرزا قادیانی سے تو کوئی اقرار کرالے کہ دنیا میں کوئی دجال آیا ہے یا آئندہ آئے گا۔ حالانکہ تین کلہ توڑ دجال ان کے سامنے موجود ہیں۔ کیوں ان کا مہر نہیں لیتے اور میدان میں نکل کر کیوں ان کی مشکیں نہیں کستے۔ اتنا بوتا بھی ہو۔ لندنی دجال اور فرانسیسی دجال مرزا قادیانی کے منہ پر ولایتی بوٹ مار کر کہہ سکتے ہیں کہ تم مسیح کیونکر ہے جبکہ ہمارے آسمانی باپ کے اکلوتے بیٹے کو گالی دیتا ہے۔ ڈام فول۔ بھلا کوئی مسیح بن کر بھی مسیح کو گالی دے سکتا ہے یہ تو تمہارا ان نیچرل رول ہے۔ نیچرل مسیح ہم ہے جو یسوع مسیح کو مانتا ہے۔

مرزا قادیانی بار بار یہ راگ الاپتے ہیں کہ اگر میں خدا کی طرف سے مامور ہو کر نہ آتا تو

٣٢٦

صفحہ ٣٤٤

میرے ساتھ اتنی جماعت نہ ہوتی۔ ہم کہتے ہیں اول تو دس بیس ہزار کی جماعت کوئی با وقعت جماعت نہیں۔ دوم ...... کسی بات پر جم غفیر کا متفق ہو جانا دلیل حقانیت نہیں۔ ہندوستان میں ٢٢ کروڑ ہنود ہیں۔ کیا بمقابلہ ٦ کروڑ مسلمانوں کے یہ حق پر ہیں؟ سانی ملا کے ساتھ لاکھوں کی بھیڑ بھاڑ ہے کیا وہ حق پر ہے اور سچا مہدی ہے؟ علی ہذا لندنی مسیح اور فرانسیسی مسیح کے ساتھ عقلاء کا کچھ کم ہجوم نہیں۔ آپ کی دلیل کے موافق سبھی کو حق ماننا پڑے گا۔ سوم ...... اگر آپ حق پر ہوتے تو سینکڑوں آدمی رسی تڑا کر نہ بھاگتے۔ آج کے روز لولے لنگڑے، اپاہج ہی اصطبل میں کیوں نظر آتے۔ اور کس کو معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ ذرا تیل دیکھئے۔ تیل کی دھار دیکھئے۔ سوڈانی مہدی تو پشے کی برابری بھی آپ کے دم خم نہیں جس کی قبر سے ہڈیاں تک اکھاڑ کر رودنیل میں بہا دی گئیں۔

٦ ...... مرزائی مذہب اور عیسائی مذہب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

احمق پادریوں اور ان کے ہم خیال انگریزوں پر ہنسی آتی ہے جو گورنمنٹ کو ترغیب دیتے ہیں کہ تمام ہندوستانیوں کو عیسائی بنایا جائے تا کہ ان کا باہمی اختلاف مٹ جائے۔ لیکن کیا مرزائی مشن یہ کوشش نہیں کرتا کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا مرزائی بن جائے مگر افسوس ہے کہ مرزائی مذہب منطمس ہو گیا ہے اور اس کے مقابلہ میں ۔ عیسائی مذہب بہت کامیاب ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ کیونکہ عیسائی مذہب میں ہر مذہب کے لوگ چوڑے چمار تک داخل ہورہے ہیں اور مرزائی مذہب میں یا تو جاہل عقلاء یا اپاہج مسلمان داخل ہوتے ہیں۔ چودھویں صدی نے مرزائی مذہب پر جھاڑو مار دی مگر خبیث طینت سفہاء اس مذہب میں یوں مل گئے جیسے گوہ میں موت اور کوڑے میں کرکٹ اور بول و براز میں لتھڑے کپڑے۔ اب تو کامیابی کی کسی طرح صورت نظر نہیں آتی۔

بہتر ہوتا کہ مرزا قادیانی اپنے بھائی امام الدین کی سنت پکڑتے اور مرزائیت کا ٹوکرا صرف بھنگیوں کے سر پر رکھتے تو ضرور مرزائیت کے فرائض سے سبک دوش ہوجاتے۔ افسوس ہے کہ ایک مامور دنیا میں آیا جسے ہندو، مسلمان، عیسائی آریا، بودھ وغیرہ تو کیا قبول کرتے۔ حلال خوروں تک کے دلوں میں اس کی جانب سے غبار اور کدورت بیٹھ گئی۔ جب مرزا قادیانی مسیح دوران اور امام الزمان ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حلال خوروں کی گرد بھی مرزائی جبے اور قبا اور عمامے پر نہ پڑنے دیں۔ کیا حلال خور انسان نہیں ہیں؟ کیا حلال خوروں کو اسلامی علماء نے مسلمان نہیں کیا۔

٣٤٧

صفحہ ٣٤٤

پھر اپنے بڑے بھائی امام الدین پر جو لعل بیگوں کا لال گرو تھا۔ کیوں کھورولاتے ہیں۔ غرض تو بھیڑ بھاڑ سے ہے کوئی ہو مرزا! امام الدین کی روح بحالت یاس یوں غنغنا رہی ہے ؎

خاکساران جہاں را بحقارت منگر
تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

٧....... بے معنی الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٣؍ اکتوبر ١٩٠٤ء کو قبل از فیصلہ مقدمات آپ پر یہ الہام ہوا تھا ”قد جاء الدین من النصرة ثم سیعود من النصرة (تذکرہ ص ٥٢٠ طبع ٣)“ واہ رے آسمانی باپ تیرے الہام کے کیا کہنے ہیں۔ کیسا صحیح اور فصیح الہام کیا ہے۔ یعنی دین فتح سے آیا ہے اور عنقریب فتح سے لوٹے گا۔ اتنی خبر نہیں کہ فتح سے لوٹنا شکست کھانا ہے۔ یعود کا صلہ تو الیٰ آتا ہے اگر الی النصرۃ ہوتا تو یہ معنی ہوتے کہ دین فتح کی طرف سے آیا ہے اور فتح سے پھرے گا یعنی شکست کھائے گا۔ دوسرا جملہ تو صحیح ہے مگر پہلا جملہ بالکل خلاف واقع اور غلط ہے کیونکہ آپ کو تو اول و آخر ہر طرح شکست ہی ہوئی۔ دغا کا دعویٰ جو آپ نے کیا تھا خارج ہوا۔ لائبل کا دعویٰ جو آپ پر ہوا اس سے سزا ملی۔ آسمانی باپ بالکل خرف ہو گیا ہے۔ بوکھلا گیا ہے۔ پھر کیا یہ عدالت سے دین کی جنگ تھی۔ یہ تو خود غرضی اور طلب شہرت اور نفسانیت کی جنگ تھی جس میں سر نیچا ہوا اور قدرتی طور پر ہمیشہ مغروروں اور متکبروں کا سر نیچا ہوتا چلا آیا ہے مگر عبرت کسے؟

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم نومبر کے شمارہ نمبر ٤١ کے مضامین

٣٢٨

صفحہ ٣٤٥

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... قطعہ تاریخ سزایابی مرزا غلام احمد قادیانی

مولانا ابو المنظور محمد عبد الحق سرہندی !

بنا مجرم غلام قادیانی ہوئی کذاب کی ظاہر نشانی
ستایا خلق کو ظالم نے کیا کیا چلائی تیغ قلمی و زبانی
کبھی طاعون کی دھمکی دکھائی کہ ہے طاعون میرا یار جانی
ملی انصاف سے حاکم کے اس کو سزائے واجب ذرب لسانی
تمام الہام کی ترکی ہوئی اب ہوئی مقطوع وحی آسمانی
سر الہام سے منظور لکھو ہوا داعی مسیح قادیانی

١٣٢٢ھ

٢ ...... پانچواں دجال

مولانا شوکت اللہ میرٹھیؒ

چار دجال تو اس وقت موجود تھے ہی یعنی ایک لندنی مسیح مسٹر پگٹ ، دوسرا فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی ، تیسرا مُلّا عبد اللہ سومالی ، چوتھا مرزا قادیانی ، اب مرزائی کہتے ہیں اور اپنے نزدیک بڑے مضبوط دلائل سے ایک کتاب چھاپ رہے ہیں اور ٹھیک حلیہ وغیرہ بتا رہے ہیں کہ اس صدی کا دجال مُلّا عبداللہ چکڑالوی ہے جو صرف قرآن کو مانتا ہے اور احادیث کو زید وعمر کی گھڑی ہوئی کہانی یقین کرتا ہے۔ لیکن مُلّا چکڑالوی سے تو پوچھو کہ وہ مرزا قادیانی کو کیا سمجھتا ہے؟ علی ہذا پانچوں ایک دوسرے کی نفی کر رہے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ مُلّا چکڑالوی نے مسیحیت یا نبوت کا ابھی تک دعویٰ نہیں کیا۔ ہاں حضرت ﷺ کو لغوی معنی سے رسول (قاصد یا چٹھی رساں) مانتا ہے۔ ایں ہم غنیمت است ۔ بس اب چار دجال رہ گئے ۔ اگر چہ ان میں سے تین تو عیسیٰ مسیح کے منکر نہیں مگر مرزا منکر ہے اور ان کی شریعتوں کا ناسخ ہے۔

تعجب ہے کہ آج تک کسی دجال نے دوسرے دجال کا انکار نہیں کیا ۔ خود مرزا قادیانی کو دیکھ لو کہ بعض انبیاء کا ذکر تو حقارت سے کرتے ہیں مگر مجملہ ٢٠ دجالوں کے کسی دجال کا نام بھولے سے بھی نہ لیں گے۔ کیونکہ پانی مرتا ہے مگر بیسویں صدی کا یہ عجیب خرقِ نیچر ہے کہ ہر دجال دوسرے دجال کا منکر ہے۔ افسوس ہے کہ دجالوں میں نہ تو باہمی اخوت ہے نہ قومی ہمدردی ہے

٣٢٩

صفحہ ٣٤٦

ایک دوسرے کو کاٹے کھاتا ہے اور قابو چلے تو ہر ایک اپنے حریف کو کچا ہی بھنبھوڑ کر کھا جائے۔ افسوس ہے کہ ان میں نیشنلٹی اور نیشن نہیں۔ کیا اچھی بات ہو کہ سب متفق ہو کر دنیا کی چاروں کھونٹ دبا لیں اور باہمی سمجھوتا کر لیں۔ کہ ”نصفی ونصف لکم ھذا قسم جاھلین“ اور فی الحقیقت باوصف دعوے تہذیب اور شائستگی کے دنیا حماقت و وحشت کی غلام بنی ہوئی ہے۔ ورنہ ایک ہی زمانہ میں اتنے دجالوں کا خروج غیرممکن تھا۔ تواریخ شاہد ہے کہ ہر زمانہ میں بلاشرکت غیرے ایک ہی دجال پیدا ہوا ہے مگر خود موجودہ دجالوں کے اقوال کے موافق بیسویں صدی میں پانچ دجال آکودے ہیں اور جب کہ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو دجال بتا رہے ہیں۔ تو دنیا کو ان کی تردید کی کیا ضرورت رہی۔ یہ بلائیں اس وقت دفع ہوں کہ سب کے سب آپ ہی اپنی آتش رشک وحسد میں جل کر فی النار ہو جائیں اور ”اذا تعارضا تساقطا“ کا جلوہ نظر آئے ورنہ وہ دن قریب ہے کہ آپس کی پھوٹ اور فساد خوں سے ان کا خمیر پھوٹ نکلے گا اور پھر تمام چیلے چاپڑ سر پکڑ کر پھوٹ پھوٹ روئیں گے۔

ہم کو مہذب یورپین گورنمنٹوں پر رہ رہ کر غصہ آتا ہے کہ ان کے عہد میں دجالی حشرات الارض کی طرح خروج کر رہے ہیں۔ گویا دجالوں کی نانی یورپ میں گورنمنٹوں کی عطا کی ہوئی آزادی ہے۔ اسی علامہ فہامہ نے دجال پیدا کئے ہیں اور ابھی تو تانتا لگا ہے۔ دیکھتے جائیے یہ حاملہ کتنے دجال جنتی ہے۔

برٹش گورنمنٹ سوڈانی مہدی اور سومالی ملا کا سر کچلنے کو اٹھی کیونکہ وہ بظاہر صرف مصری گورنمنٹ کا رقیب تھا۔ اگرچہ ریل روڈ کینال کے روٹ میں اپنا بھی حصہ تھا مگر کیا وجہ ہے کہ وہ دوسرے مسیحوں کا سر نہیں کچلتی۔ مسٹر پگٹ تو اپنے ہی بدن کا خون ہے۔ علی ہذا ڈاکٹر ڈوئی فرانسیسی گورنمنٹ کی دیگ کا باورچی ہے۔ پس کھچڑی ہر طرح پادریوں ہی کے کلیجے میں ہے۔ کیونکہ ان دونوں نے کوئی پولیٹیکل ایجیٹیشن قائم نہیں کیا۔ علی ہذا قادیانی مرزا بھی یہی لکھتا ہے کہ میرا مشن صرف مذہبی ہے۔ اور میں مذہب اسلام کی اشاعت کرتا ہوں۔ لیکن یہ ایک کھلا کید ہے۔ کیا دین عیسوی کی اشاعت کے لئے پادری اور دین اسلام کی اشاعت کے لئے علماء اسلام کچھ کم نہیں۔ موجودہ آزاد زمانے میں مذہبی اشاعت کا کوئی مزاحم نہیں۔ پھر مسیح یا دجال بننے اور گرم بازاری اور جھگڑے کی منادی کرنے اور اپنی طاقت کو فوق طاقت بشری بتانے کے یہی معنی ہیں کہ کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور۔

یوں کہو خدا نے گنجے کو ناخن نہیں دیئے ورنہ مذہبی ایجیٹیشن اور پولیٹیکل ایجیٹیشن

٣٣٠

صفحہ ٣٤٧

دونوں ایک تھے اور ایک دوسرے کو فیلنگ پہنچانے کا اچھا خاصہ پمپ تھا۔ مذہبی جماؤ ہی بالآخر پولیٹیکل جماؤ ہو گئے ہیں گزشتہ دجالوں نے اپنے کو اول اول مذہبی لیڈر اور مذہبی رفارمر قرار دیا مگر دیکھ لو انجام کیا ہوا۔ ادھر ہر چیونٹی کے پر لگے ادھر معدوم ہوئی۔ ہاں خلق اللہ کی تباہی اور خونریزی کے بعد۔

ہم گورنمنٹ کو ہوشیار کرتے ہیں کہ مذہبی رفارم کے مدعی (مسیح اور مہدی اور نبی) بالکل منافق ہیں۔ ان کی کارروائیاں ان کی نیت کا آئینہ ہیں۔ مذہبی ہادی اور پیشوا بننے میں کوئی خرابی نہیں نہ شک کا کوئی موقع ہے تمام علماء تمام مشائخ، تمام اسقف تمام قسیس مذہبی پیشوا ہیں۔ ہاں مہدی یا مسیح بننا ہر طرح خوفناک ہے کیا وجہ ہے کہ اسلام کے کسی عالم یا شیخ سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ حالانکہ بعض مشائخ اور علماء کے پیرو اور معتقد اس وقت لاکھوں موجود ہیں۔ مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی مرحوم ہندوستان کے دس لاکھ اہلحدیث کے شیخ الکل تھے۔ مرزا کو تو اتنے معتقدین خواب میں بھی تا قیامت نظر نہ آئیں گے۔ اور اس وقت میاں صاحب کے جانشین بڑے بڑے علماء موجود ہیں اور سب اپنے شیخ کی طرح سنت و توحید کی اشاعت میں سرگرم ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ ان پر نہ گورنمنٹ کو شک گزرتا ہے نہ پبلک کو۔

علیٰ ہذا کچھ کم آٹھ کروڑ مسلمان اپنے مشائخ اور صوفیاء کو مانتے ہیں اور ان کے تابع ہیں۔ اگرچہ ان کا سلسلہ خاندان جدا جدا ہے مگر سب کے سب عقائد کے اعتبار سے متفق ہیں اور جملہ مشائخ کو مانتے ہیں لیکن آج تک نبوت و مسیحیت و امام الزمان ہونے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا کہ میں بھی حق پر ہوں۔ مجھی پر ایمان لاؤ ورنہ دنیا میں واجب القتل اور عقبے میں دوزخ کی چٹھیاں ہوگے۔

اب ٢٤ کروڑ ہندو کو دیکھئے یہ بھی اپنے مہاتما گرو اور مہنتوں اور سناسیوں اور مندروں کے پروہتوں اور پجاریوں اور تیاگ اور تپسیا کرنے والوں کو مانتے ہیں مگر ان کے کسی گسائیں اور گرو نے یہ نہیں کہا کہ میں کل جگ اوتار ہوں۔ میری ہی مورتی کی پوجا کرو اور سب مورتیوں کو مندروں سے نکال کر گنگا یا جمنا میں ڈبو دو۔

لاکھوں دیانندی آریہ ہنود سے مختلف ہیں مگر یہ بھی نہیں کہتے کہ سرسوتی دیانند جی کلجگ اوتار ہیں اور ان میں ان نیچرل صفات تھیں جیسے مرزا قادیانی میں قادیان میں بیٹھے بیٹھے آسمانی باپ سے لے پالک نے مانگ منگا کر مخالفوں کے لئے طاعون کو بلوالیا اور اس نے سب کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ اور مرزا قادیانی صرف ہلاکت کی پیشینگوئیاں کرنے میں عالم

٣٣١

صفحہ ٣٤٨

الغیب ہیں اور ان کی بددعا تو ایسی تیر بہدف ہے جیسے جاپانی اوکو کی توپوں کے گولے روسیوں کے سفینوں پر۔ اور جنرل ینگ ہسبنڈ کے بم کے گولے تبت کے لاماؤں کے کلجوں پر۔

گورنمنٹ کی یہ پالیسی کہ وہ مذہبی امور میں مداخلت نہیں کرتی بہت برجستہ ہے لیکن مذہب کہاں ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں اسلامی نبی ہوں۔ لیکن وہ در حقیقت اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہے۔ پس گورنمنٹ کو علماء اسلام کے فتوؤں پر جو مرزا قادیانی کے حق میں ہیں نظر کرنا اور دعوے نبوت سے اس کو روکنا چاہئے کیونکہ اس قسم کے دعوے ہمیشہ مضر ثابت ہوئے ہیں اور کامل یقین ہے کہ گورنمنٹ کی ایک ہلکی سی ڈانٹ میں نبوت و مسیحیت کٹی ہوئی گڈی بن جائے گی۔

٣ ...... مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں یا آریا؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ لکھی تو اکثر حصے آریوں کے جواب اور رد میں تھی۔ سرمہ چشم آریا لکھا تو اسی گروہ کے جواب میں تھا تصدیق لکھوائی تو اسی فرقہ کے رد میں۔ نور الدین لکھا گیا تو اسی مذہب کے جواب میں نیوگ ناول بنا تو اسی گروہ کے شرمندہ کرنے اور ان کی حیا سوز مسئلہ نیوگ کے نتائج قبیحہ دکھانے کو نسیم دعوۃ وغیرہ کئی کتابیں لکھیں۔

مرزا نے اپنے لاہوری لیکچر میں کہتے کہتے بے ساختہ کسی جذبہ میں کہہ مارا کہ خدا چونکہ قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے۔ لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں۔

(لیکچر لاہور ص ٣٩، خزائن ج ٢٠ ص ١٨٤)

مطلب مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو قدیم نہیں لیکن اس سے پہلی دنیا اور اس سے پہلی دنیا علیٰ ہذا القیاس دنیا کا سلسلہ قدیم ہے جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے یا یوں کہئے کہ خدا کی قدامت اور دنیا کی نوع کی قدامت برابر چلی آئی ہے۔

اب اس مسئلہ کی بابت سوامی دیانند بانی آریہ سماج کی کتھا بھی سنئے جیسے دن کے پہلے رات اور رات کے پہلے دن اور دنوں کے پیچھے رات اور رات کے پیچھے دن برابر چلا آتا ہے۔ اسی طرح پیدائش کے بعد فنا اور فنا کے بعد پیدائش کا دور چلا آتا ہے۔ اس کا شروع یا انتہا نہیں۔ البتہ جیسے دن اور رات کا آغاز اور اختتام دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی طرح پیدائش اور فنا کا آغاز اور اختتام ہے۔

(ستیارتھ ص ٣٩٥)

ناظرین ! ان دونوں عبارتوں کو ملا کر پڑھیں۔ لفظ تو بے شک مختلف ہوں گے مگر مضمون بالکل ایک ہے۔ بعد غور کرنے کے ہمارے مضمون کی تصدیق کا ایک کارڈ ہم کو لکھیں کہ ہم نے کوئی

٣٤٢

صفحہ ٣٤٩

غلطی کی ہے یا مرزا قادیانی خود ہی دل سے آریوں کی حمایت میں ہیں۔ آریا اس موقع پر مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھیں تو بجا ہے۔

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

آریا اور مرزائیوں کے اس وحدت الوجود پر تو ہم ان کو مبارک باد دیتے ہیں لیکن مسئلہ کی غلطی اظہار کرنے کو مختصر اتنا کہتے ہیں کہ نیوگ کی سچائی کے بعد بھی ایک مسئلہ ہے جو آریا سماج کو اہل علم کے ماننے کے لائق نہیں رہنے دیتا۔ ایک مرزا قادیانی نہیں بیسیوں مرزا بھی مل کر اس مسئلہ میں حامی اور مددگار بن جائیں جو کچھ امداد کریں گے۔ اس سے زیادہ نہ ہوگی ؎

سگ چو تر شد پلید تر باشد

سنئے کچھ شک نہیں کہ دنیا اجسام کا نام ہے۔ (مادہ اگر آریوں کے خیال میں کوئی شے ہے تو اس کا نام دنیا نہیں وہ ایک مفرد حالت میں ہے) اور اجسام کتنے ہی ہوں۔ مگر سب مرکب ہیں اور مرکب کوئی بھی ہو حادث ہے کیونکہ اس کی ترکیب ہی بتلا رہی ہے کہ میرے اجزاء ایک وقت میں از ہم جدا تھے۔ نتیجہ صاف ہے کہ کوئی جسم قدیم نہیں کوئی دنیا قدیم نہیں۔ دنیا کا سلسلہ قدیم نہیں۔ علاوہ اس کے جب دنیا کا ہر فرد حادث ہے تو مرزا قادیانی کی یا آریا سماج کی کونسی منطقی دلیل ہے کہ اس کے نوع کو قدیم کہا جائے کیا کسی نوع کا وجود خارجی بغیر کسی فرد کے ہو سکتا ہے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ سلسلہ کے تمام افراد تو حادث ہوں مگر سلسلہ اس کا قدیم ہو۔

٤ ...... مرزائیت کی کشتی تاویلات کے طوفان میں ڈانواں ڈول ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

قرآن مجید آئینہ کی طرح بالکل صاف و شفاف ہے اگر کچھ بھی پیچیدگی یا اشکال ہوتا تو اس کی ہدایت کا آفتاب مشرق سے لے کر مغرب تک ہرگز تاباں نہ ہوتا کیونکہ مشکل اور مغلق کلام سے ہدایت تامہ کا ہونا غیر ممکن ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن پاک تاویلات کا محتاج ہے۔ یعنی مفصل اور مکمل نہیں اور تاویلات بھی وہ کہ نہ مسیلمہ کذاب کو سوجھی نہ اسود عنسی کو۔ نہ دجالوں کے کسی گروگھنٹال اور پڑ دادا کو۔

آپ مسیح بھی بنے اور نبی بھی اور امام الزمان بھی۔ لیکن نہ مسیحیوں کے لئے نہ یہود کے لئے نہ مسلمانوں کے لئے پھر کس کے لئے۔ چند خود غرض یا بوالہوس نام کے مسلمانوں کے لئے اور جب کہا جاتا ہے کہ مسیحیت کا کوئی کرشمہ اور نبوت کا کوئی معجزہ دکھاؤ تو فرماتے ہیں۔ کہ معجزہ کسی

٣٣٣

صفحہ ٣٥٠

نبی نے بھی نہیں دکھایا۔ کیونکہ مردوں کا زندہ کرنا نیچر کے خلاف ہے۔ اور آسمانی کتابوں میں کہیں بھی معجزات کا ذکر نہیں۔ کیونکہ ......... نیچر ٹوٹ نہیں سکتا۔ اور انبیاء کو معجزہ دکھانے کی ضرورت نہیں۔ مگر خود بدولت کو ضرورت ہے۔ آسمانی نشان (معجزہ) ہمیشہ دکھایا جاتا ہے مقدمات میں معجزہ طاعونی اموات میں معجزہ، گدھے کی لات میں معجزہ۔ الغرض آپ مجسم معجزہ ہیں اور دعوے سے کہتے ہیں کہ میں کوئی ساڑھے اڑھائی سو آسمانی نشان دکھا چکا ہوں اگر یہ نیچر کے خلاف ہیں تو جھوٹے کے منہ میں وہ اور اگر نیچر کے موافق ہیں تو کوئی جدت نہیں۔ یعنی معمولی باتیں ہیں۔ پھر آپ پر کوئی کیوں ایمان لائے۔ آخری مداری کے پاس کچھ تو مسالا ہو۔ تاویلیں بھی بے معنی اور قابل مضحکہ جب کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح کا ایک نشان ہے ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته الآیۃ“ یعنی عیسیٰ مسیح علیہ السلام پر تمام اہل کتاب ان کی وفات یا اپنی وفات سے پہلے ایمان لائیں گے۔ اور یہ ان کا باہمی اختلاف مٹ جائے گا۔ تو آپ اس صاف اور صریح آیت کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ لیؤمنن ماضی کا صیغہ ہے۔

یعنی اہل کتاب عیسیٰ مسیح کے واقعہ صلیب پر ایمان لا چکے ہیں۔ یہ وہ تاویل ہے جس کو سن کر خر دجال کو بھی مارے غیظ وغضب کے بخار چڑھ جائے اور ایک میزان و منشعب پڑھنے والا بچہ بھی لے پالک کے منہ پر تھپڑ رسید کرنے لگے کہ بڑا محقق کیا میں میں کرتا ہے؟ پھر مقصود مسیح پر ایمان لانا ہے۔ یا واقعہ صلیب پر۔ دوم ..... آیت میں قبل موتہ حشو ٹھہرتا ہے کیونکہ ایمان لانے کو موت وحیات سے کیا علاقہ۔ عیسائیوں کا ایمان بے شک صلیب پر ہے۔ مگر یہود کا ایمان صلیب اور کفارہ پر کہاں ہے۔ یہود اچھلے کودے ضرور کہ ”انا قتلنا المسیح“ مگر خوشی کی اچھل کود پر ان کا ایمان ایسا ہی ہے جیسا مرزا اور مرزائیوں کا وفات مسیح پر اور اس صورت میں یہودیوں اور مرزائیوں میں کیا فرق رہا؟

انہوں نے بھی مسیح کو مارا۔ انہوں نے بھی، دونوں پلڑے برابر ہوگئے۔ خدائے تعالیٰ تو یہود کے دعوے قتل وصلب کی تردید فرمائے کہ ”وما قتلوه وما صلبوه“ اور مرزا اور مرزائی یہود کے ہم زبان ہو کر کہیں کہ ”قتلنا، قتلنا، قتلنا“ یعنی ہم نے مارا! ہم نے! ہم نے! اور حقیقت میں مرزائیوں کی فتح بھی یہودیوں کی فتح سے کم نہیں اور جب خود لے پالک عدالت گورداسپور کی صلیب پر چڑھ کر اور مشبہ بالمصلوب ہو کر بچ گیا ہے اور اب اپنی موت مرے گا تو عیسیٰ مسیح کے مصلوب اور مشبہ بالمصلوب ہونے کی پوری تصدیق ہوگی اور مسیح سے مماثلت تامہ ظہور میں آئی۔ اس سے بڑھ کر فتح اور آسمانی نشان کا اور کیا ظہور ہوگا؟ اور ہم پیشینگوئی کرتے ہیں

٣٤٤

صفحہ ٣٥١

کہ مرزائی اخباروں اور رسالوں میں اس فتح کی بڑی دھوم دھام ہوگی اور مرزا قادیانی کی مسیحیت پر یہی دلیل قائم کی جائے گی۔ انشاء اللہ! اور اپیل میں کامیابی ہوگی۔ یعنی جرمانہ معاف ہو گیا پھر تو بچ نکلنے کی مسیح سے پوری مماثلت ہوگی۔

کیونکہ مرزائیوں کے نزدیک جرمانہ موت سے کم نہیں۔ یہ سات سو روپیہ جو عدالت کی جہنم میں کفارہ مسیح کی طرح جھونکا گیا ہے۔ مفتری مجنوں اور لے پالک کے پوپلے منہ کے زعفرانی اور جند بیدستری حلوؤں میں کام آئے گا۔ ورنہ ضعف اور اختلاج قلب عمر طبعی تک ابھی نہ پہنچنے دے گا۔

مرزا قادیانی جو آیت بالا کی بے معنی تاویل کرتے ہیں تو ان کو یہ رونا ہے کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام پر تو تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ اور مجھے کوئی عیسائی، کوئی یہودی دمڑی کو بھی نہیں پوچھتا۔ حلال خوروں تک نے کوڑے کرکٹ کے برابر نہ سمجھا۔ پس قرآن کریم کو لا طائل تاویلات سے مسخ کر کے اپنے حمقاء میں سرخرو ہونا اور سواد الوجہ فی الدارین کا سرمایہ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ اب بجائے آیت قرآنی کے یہ عبارت ان پر صادق آتی ہے ”أهل الكناسة أيضاً يؤمن بمنزلة الولد“ یعنی حلال خور بھی آسمانی باپ کے لے پالک پر ایمان نہ لائے۔ افسوس آرزوؤں پر جھاڑو پھر گئی اور امیدیں زمین میں دفن ہو کر گل سڑ کر کھاد ہوگئیں۔ فبئس النار والسقر۔

٥ ...... دجال کی علامت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی اپنی کتاب (توضیح المرام کے ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔ اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں تاہم وہ جزوی طور پر ایک نبی ہی ہے۔“ حالانکہ حدیث شریف میں اس امر کی نفی ہے کہ امت محمدیہ میں محدث (نبی) پیدا ہوں گے۔ چنانچہ (بخاری ج ١ ص ٥٣١) میں ہے ”لقد كان فيما كان قبلكم من الامم ناس محدثون من غير أن يكون انبياء فان يكن في امتى احد فانه عمر“ گزشتہ امتوں میں چند لوگ محدث ہوئے ہیں جو نبی نہ تھے اگر میری امت میں کوئی ایسا محدث ہو تو وہ عمر ہے۔ دیکھئے حدیث میں بطور شرط بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اگر محدث کوئی ہو تو عمر ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمر بن الخطابؓ محدث نہیں ہیں جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے۔ ”لو کان بعدی نبی لکان عمر

(ترمذی

٣٤٥

صفحہ ٣٥٢

ج ٢ ص ٢٠٩) ”یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ اس سے بھی صاف ثابت ہوا کہ عمرؓ نبی نہیں ہیں ہاں عمرؓ کی علوشان صاف ظاہر ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ عمرؓ تو نہ نبی ہوں نہ محدث اور مرزا قادیانی نبی بھی ہوں محدث بھی۔ پھر یہ دجالی علامت نہیں تو کیا ہے جس کو خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (بخاری ج ١ ص ٥٠٩، مسلم ج ٢ ص ٣٩٧) “ یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب کہ تیس کے قریب دجال مبعوث نہ ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں پھر حدیث شریف میں ”فیما کان قبلکم من الامم“ ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ جب ثابت ہوتا کہ ”فیما کان قبلکم منا الانبیاء“ ہوتا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ محدث یا نبی ہونا امتی کی حیثیت اور بساط سے بعید ہے مرزا قادیانی کی ہٹ دھرمی کو دیکھئے کہ حدیث کے احتمال مخالف کو اپنی سپر بناتے ہیں۔

حدیث کا یہی مطلب ہوا نا کہ پہلی امتوں میں خود امتی لوگوں میں سے محدث ہوتے تھے مگر میری امت میں نہ ہوں گے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہوں گے ہاں مرزا قادیانی احداث باب افعال سے محدث ہیں۔ ورنہ ان کی باتیں گوز شتر نہ ہوتیں۔

٦ ....... مرزائیت سے توبہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مجدد کا الہام یقطع الجناح خدا کی عنایت سے ضرور پورا ہوگا اور پورا ہو رہا ہے۔ چنانچہ پیسہ اخبار کا نامہ نگار قلعہ دیدار سنگھ سے لکھتا ہے کہ ہمارا ایک بھائی مسمی غلام مرتضیٰ ولد میاں فضل احمد صاحب حکیم مرزا قادیانی کے بڑے پکے مرید تھے۔ ١٣؍ اکتوبر کو انہوں نے مرزا قادیانی کو اس مضمون کا خط لکھا کہ اب مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کے جمیع دعوے جھوٹے ہیں۔ اس لئے میں ان اعتقادات سے توبہ کرتا ہوں۔ میرا نام فہرست مریداں سے نکال دیں۔

کیا معلوم ہے کہ مرزا قادیانی کی شکست پر کتنے مرزائی مرزائیت سے بددل ہو کر از سر نو مسلمان بنے ہیں۔ ناظرین شحنہ و ضمیمہ عمداً کھوج نکال کر ہم کو مطلع کریں۔ بعض مرزائی غالباً ایسے بھی ہیں جو مرزا قادیانی کی کید سے واقف ہو کر دل میں منحرف ہوگئے۔ مگر زبانی اقرار اس لئے نہیں کرتے کہ حماقت ظاہر ہوگی اور لوگ کہیں گے کہ کیا سمجھ کر مصنوعی نبی کے کلمہ گو بنے تھے اور کیا

٣٤٦

صفحہ ٣٥٣

سمجھ کر اب اس پر لعنت بھیجتے ہو۔ اگر ایسے لوگوں کو خوب یاد رکھنا چاہئے۔ شرع میں کیا شرم بڑے بڑے لوگوں کو مغالطے ہوئے ہیں اور وہ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں۔ مگر بالآخر جاذبہ توفیق الٰہی سے ہدایت پاگئے ہیں۔ پس ان کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ شیطان کے دام سے نکل گئے۔ ”واما بنعمة ربك فحدث“

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٨ نومبر کے شمارہ نمبر ٤٢/ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا اور مرزائیوں کا دجال

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائی جماعت مُلاّ چُکڑالوی کو دجال بتاتی ہے تو ان کی رہنمائی یقیناً مرزا قادیانی نے کی ہے اور مرزا قادیانی پر آسمانی باپ نے الہام کیا ہے۔ پس وہ دجال کو پہچان گئے ہیں۔ ولی را ولی می شناسد ۔ لیکن تعجب ہے کہ مرزا اور مرزائی اپنے رقیبوں مسٹر پگٹ ، ڈاکٹر ڈوئی، سوڈانی مہدی کو دجال نہیں بتاتے ۔ غالباً ان کو مسیح اور مہدی مانتے ہیں۔ ان کے عقیدے میں دجال تو متعدد ہو نہیں سکتے۔ نہ اس تعدد کا نیچرل طور پر کوئی ثبوت ۔ ہاں مہدی اور مسیح متعدد ہو سکتے ہیں اور متعدد کیا معنی ایک قالب میں جمع ہو سکتے ہیں۔ دیکھ لو مرزا قادیانی مجدد بھی ہیں ، محدث بھی ہیں، امام الزمان بھی ہیں ، خاتم الخلفاء بھی ہیں ، بروزی اور برازی (تناسخی نبی) اور رسول بھی ہیں، مامور بھی ہیں ، جند بیدستری اور سقنقوری بھی ہیں، برٹش عدالت کے مقہور بھی ہیں ، آسمانی باپ کے مظفر اور منصور بھی ہیں ، عسل زنبور بھی ہیں ، (عسل مصفّی ایک مرزائی کتاب کا نام ہے) ساٹھے پاٹھے ہو کر ذیابیطس سے سوکھ کر چور بھی ہیں۔ آسمانی باپ نے مرزا قادیانی میں یہ ساری صفتیں نیچرل

٣٣٧

صفحہ ٣٥٤

طور پر ٹھونسی ہیں اور جس طرح مرزا قادیانی کبھی اپنے مذکورہ بالا رقیبوں کا نام تک نہیں لیتے۔ اسی طرح ان کے رقیب بھی برازی مرزا قادیانی کو کسی کھیت کی کھاد نہیں سمجھتے۔ ورنہ اگر یہ سب ایک دوسرے کے اڑے پترے کھولنے لگے اور باہم پترے بازی کرنے لگیں تو رہیں کہاں؟ افسوس ہے کہ مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی کی مسیحیت اور ملا سومالی کی مہدویت تو مسلم ہو جائے گی۔ کیونکہ ان تینوں میں کوئی بھی ایک دوسرے کا باہمی منکر نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ کیونکہ وہ ملا چکڑالوی کو دجال بتاتے ہیں۔ یہ تو دجالی سنت کے بالکل خلاف ہوا۔ کیونکہ کسی مہدی اور مسیح یعنی (دجال) نے آج تک دوسرے مہدی اور مسیح (دجال) کو دجال نہیں کہا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی میں خود دجال بننے اور دوسروں کو دجال بنانے کی بھی قابلیت نہیں ورنہ دجالوں کے راز سر بستہ کی پردہ دری نہ کرتے جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے۔

تعجب ہے کہ جو شخص بعد ختم نبوت (حسب نوائے حدیث شریف) نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ دجال نہ ہو اور جس شخص نے لب پر مہر سکوت لگا رکھی ہو وہ دجال بن جائے۔ شاید آسمانی باپ نے پیشگی الہام کیا ہے کہ ملا چکڑالوی بھی کسی زمانہ میں نبوت اور تبنیت کا دعویٰ کرے گا جو لے پالک کی آسمانی بادشاہی کے لئے مضر ہوگا۔ پس غنچے ہی سے کاٹ دینا چاہئے۔ ورنہ یہ گھنڈی بھی آسمانی غبار بن جائے گی۔

سچ پوچھو تو مرزا قادیانی بھی ملا چکڑالوی سے کچھ کم نہیں بلکہ بہت بڑھے چڑھے ہیں۔ چکڑالوی نے صرف احادیث کا دفتر ہی دریا برد کر دیا ہے۔ مرزا قادیانی کی عیاری دیکھئے کہ مطلب کی تو قرآن وحدیث دونوں سے لے لیتے ہیں اور جو حدیث یا آیت مطلب کے خلاف ہوتی ہے یا تو اس سے انکار یا ایسی تاویل کہ دھری جائے نہ اٹھائی جائے اور بسا اوقات قرآن کی آیتوں کو مسخ کر کے اپنے لئے وحی تراشی جاتی ہے۔ ملا چکڑالوی میں ایسا کمال نہیں۔ زمانہ سازی اور دنیا طلبی کے منافقانہ دائو گھات میں تو مرزا قادیانی بھی لاجواب ہیں۔

مثلاً چکڑالوی کا تو جو کچھ عقیدہ ہے۔ اس نے چھاتی ٹھوک کر کھلے بندوں کہہ دیا اور کوئی بات نہیں چھپائی نہ کسی کے برا بھلا کہنے کی مطلق پرواہ کی وفات مسیح میں اس کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ "وما قتلوه وما صلبوه" یعنی نہ عیسیٰ مسیح کو کسی نے مصلوب کرنے کے لئے صلیب پر چڑھایا نہ قتل کیا۔ یہی عقیدہ اجماع اہل اسلام کا ہے۔ اس کا یہ عقیدہ نہیں کہ عیسیٰ مسیح مصلوب بھی کئے گئے اور قتل بھی۔ مگر سخت جاں تھے۔ اسی لئے بچ نکلے۔ یہود بھی عجیب الو کے پٹھے تھے کہ ان کو

٣٤٨

صفحہ ٣٥٥

اپنے تئیں ایسے خوفناک دشمن کے قتل کرنے اور پھانسی دینے سے بچانا بھی نہ آیا اور مسیح بھی وہ جو ہر طرح بیکس اور بے بس اور تنہا تھا۔ کوئی مجرم جب ایک دفعہ جیل خانے سے بھاگ نکلتا ہے تو پھر پکڑا نہیں جاتا۔ کیا یہودیوں میں یہ استطاعت نہ تھی کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو دوبارہ پکڑ کر صلیب پر چڑھاتے۔ یہودا تو موجود تھا۔ غالباً اسی عقیدہ کے باعث دجال اور اس کے توابع نے چکڑالوی کو دجال قرار دیا۔ ملا چکڑالوی کو دجال بنانے کی وجہ ہم سے سنئے۔ چونکہ مرزا قادیانی مسیح موعود بنے ہیں اور مسیح کے زمانہ میں دجال بھی آئے گا تو مرزا کو لگتے ہاتھ قادیان سے کوئی پچاس کوس کے فاصلے پر دجال مل گیا۔ فی الحقیقت نہایت پر چرب پہلو شکار ملا جس کو پکڑ کر اپنی مسیحیت کے ثبوت میں پبلک کے سامنے پیش کر دیا۔ لیکن مرزا قادیانی تو پورے مسیح اس وقت ہوں جب اپنے دجال کو قتل کریں۔ مگر افسوس ہے کہ وہ امن میں بیٹھے ہی رہے۔ گھر سے باہر نکل کر ایک چوہیا تک تو مار نہیں سکتے یہ ماریں گے دجال کو۔ ملا چکڑالوی صرف حدیث کا منکر ہے۔ مرزا قادیانی حدیث اور قرآن دونوں کا منکر۔ اب بتاؤ دونوں میں بڑا دجال کون ہوا؟

اچھا ہم مرزائیوں کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ ملا چکڑالوی دجال ہی سہی لیکن دو یورپی اور ایک سومالی دجال کی نسبت کیا کہئے گا؟ مسیح کے زمانہ میں تو ایک دجال اکبر کا آنا لکھا ہے نہ کہ چار کا۔ اب مرزا قادیانی کی مسیحیت کہاں چھپتی پھرے گی؟ ہات تیری کی ۔ آسمانی باپ کے کندھوں پر بہت بندر کود مچا رہا تھا۔ آخر دجالوں کے کھونٹے جا بندھا۔

مرزا قادیانی بار بار کہتے ہیں کہ کوئی نبی دنیا کی زبانوں سے نہیں بچا۔ مخالفوں نے سب پر الزام لگائے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ دنیا نے کسی سچے نبی کو بھی آج تک دجال بنایا۔ جھوٹے نبی ہی دجال بنتے رہے۔ کم و بیش ٣٠ دجال جو آج تک گزرے تواریخ شاہد ہے کہ وہ دجال ہی رہے۔ اوّل اوّل حمقاء کی بدولت خوب زور و شور۔ خوب اکڑ فوں رہی۔ مگر بالآخر حرف غلط کی طرح صفحہ دنیا سے مٹ گئے۔ بتاؤ اس وقت کونسے دجال کی امت موجود ہے۔ پھر مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی بھی یہی کہتے ہیں جو مرزا قادیانی کہتے ہیں کیا وجہ ہے کہ نہ مرزا قادیانی ان تینوں کو مانتے ہیں۔ نہ وہ مرزا قادیانی کو۔ جب امت محمدیہ میں مرزا قادیانی جیسے نبی پیدا ہو رہے ہیں اور حسب پیشینگوئی مخبر صادق قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا مقولہ ہے تو امت عیسویہ میں کیوں نبی پیدا نہ ہوں؟ اور کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی ان عیسائی مسیحوں پر ایمان نہ لائیں۔ مرزا قادیانی محمدی نبی مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی عیسائی نبی۔ ان مردودوں، کذابوں کو ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ کہ ایک جانب تو اپنے کو امتی بتاتے ہیں اور دوسری جانب نبی۔

صفحہ ٣٥٦

یورپ میں ڈاکٹر ڈوئی اور مسٹر پگٹ کا کچھ بھی اثر اور غل غپاڑہ نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کے فیلسوف ان کو پاگل سمجھتے ہیں۔ ان کے دعوؤں کی مطلق مخالفت نہیں کرتے۔ مگر مرزا قادیانی کو ہندوستان میں کوئی پاگل نہیں سمجھتا۔ بلکہ علاوہ علماء اور فضلاء اور مشائخ کے جو لوگ کچھ بھی لکھے پڑھے ہیں۔ اور ذرا بھی قوت ممیزہ رکھتے ہیں۔ سب کے سب مرزا قادیانی کو عیار، مکار، دکاندار، حریص اور طامع یقین کرتے ہیں اور یہی وجہ مخالفت کی ہے۔ اگر مرزا قادیانی بجائے نبی بننے کے پاگل اور دیوانے بن جاتے تو ان کے اچھے ہی دن ہوتے۔ ضعیف الاعتقاد لوگ ان کو غوث اور قطب اور ابدال سمجھنے لگتے۔

دیوانہ باش تاغم تو دیگران خورند

لیکن مرزا قادیانی کے چیلے سب پاگلوں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے قطبوں اور ابدالوں سے بھی کئی بانس بڑھا کر مرزا قادیانی کو مسیح اور نبی بنا دیا اور مرزا قادیانی ان خطابوں پر پھولے نہیں سماتے۔ اور کہتے ہیں

اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

مسلمان کیسے ہی ضعیف الاعتقاد یا سادہ لوح ہوں وہ پاگلوں کو مجذوب اور خدارسیدہ ولی بنا دیتے ہیں۔ مگر ممکن نہیں کہ کسی کو نبی بنا سکیں۔ نبوت کا ذکر جب آئے گا۔ سر جھکائیں گے اور جب یہ سنیں گے کہ بعد ختم نبوت کسی مکار نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو لاحول پڑھیں گے اور لعنت بھیجیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس قرآن مجید اور فرقان حمید موجود ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین کا خطاب دیا گیا ہے۔ آفرین ہے مرزا قادیانی کی قساوت قلبی اور بے حیائی پر کہ قرآن پر بظاہر ایمان رکھتا ہے اور اپنے کو بظاہر مسلمان اور امت محمدیہ میں سے بتاتا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور آفرین ہے مرزائیوں پر کہ انہوں نے باوصف مسلمان ہونے کے ایک بدمعاش کندہ ناتراش کو نبی بنادیا ہے اور اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ منبر پر چڑھ کر آنحضرت ﷺ کی نعت بیان کرنا بالکل دھوکے کی ٹٹی ہے۔ جس شخص نے کلمۃ اللہ اور روح اللہ سیدنا المسیح علیہ السلام کو برا کہا اس نے تمام انبیاء کو برا کہا اور جو شخص انبیاء کا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے۔ شیطان ہے، دجال ہے، اس کے قرب سے بھی پناہ مانگنی چاہئے۔ موجودہ زمانے کے دجال آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر دجال دوسرے دجال کو کہہ رہا ہے کہ تو دجال ہے۔ میں نبی ہوں۔ تو تو اور میں میں ہو رہی ہے۔ ان کے نزاع کا آخر محاکمہ کرنے والا کون ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ زمانہ ہے یعنی زمانہ نے جس طرح دوسرے دجالوں کو مٹا دیا

٣٤٠

صفحہ ٣٥٧

کہ ان کا کوئی نام لیوا بھی نہ رہا۔ چند روز میں یہی خیال ان کا بھی ہوگا۔ اس سے بڑھ کر کوئی معیار نہیں۔ بالفعل تو ہر دجال کے لئے ایک دجال ہے جس نے منطقی دور وتسلسل کا استحالہ جائز بلکہ واقع کر دکھایا ہے۔ مہدی ایک ہوگا، مسیح ایک ہوگا۔ ہاں دجال بہت سے ہوں گے۔ ان کا ثبوت مل رہا ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں ارے کم بختو! تمہاری قسمت میں کیا دجال ہی لکھے ہیں؟ مسیح اور مہدی نہیں لکھا؟ ہم کہتے ہیں کہ ہر دجال یہی کہتے کہتے فی النار ہو گیا ہے جو آپ کہہ رہے ہیں۔ ایمان سے کہو وہ دجال تھے یا نہیں۔ کہہ دو کہ نبی تھے بس ایسے ہی نبی آپ ہیں ۔

١ چہ دلاور ست دزدے کہ بکف چراغ دارد

مرزا قادیانی تو نبی اور مسیح اور ان کے دوسرے رقیب دجال۔ دوسرے کا دودھ کھٹا اور مرزا قادیانی کی چھاچھ میٹھی۔ آخر اس کا کوئی ثبوت بھی ہے؟ مخبر صادق ﷺ نے جس دجال اکبر کے آنے کی پیشینگوئی کی اس کا وقت ابھی نہیں آیا نہ ان کے آنے کے آثار ظاہر ہوئے۔ بس سچے نبی کی سچی پیشینگوئی کی یہی شناخت ہے۔

٣ ...... ججی میں مرزا قادیانی کی اپیل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جناب عالی! میں نے اپنے لاہور والے لیکچر میں کوئی دس لاکھ آدمیوں کے سامنے بیان کر دیا ہے کہ میں ہندو بھی ہوں، سکھ بھی ہوں، بودھ بھی ہوں، آریا بھی ہوں، لعل بھیکوں کا لعل بھکشو بھی ہوں۔ خدا جانے کیا کیا ہوں۔ الغرض جو کچھ ہوں صلح کل کا برزخ ہوں۔ میں نے کرم الدین کو کسی بدنیتی سے کذاب اور لئیم اور صاحب بہتان عظیم نہیں کہا بلکہ کمال شفقت اور دلسوزی سے کہا ہے اور میرا یہ حق تھا کیونکہ میں آسمانی باپ کا لے پالک ہوں۔ اس نے مجھے ریوڑ اور گلے کی چوکسی کے لئے بھیجا ہے۔ اگر کوئی بھیڑ کسی کے کھیت میں گھس کر درختوں پر منہ مارنے لگے تو گڈریے کا فرض ہے کہ اس کو ڈانٹے اور سوٹا رسید کرے۔ لیکن کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ گلہ بان ظالم ہے۔ قصائی ہے، بھیڑوں کو بلاوجہ ذبح کر رہا ہے۔ دوم...... کذاب اور لئیم کوئی گالی نہیں۔ کذاب مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جھوٹوں کا بادشاہ۔ کیا بادشاہ ہونا خواہ کسی قوم کا ہو عیب ہے؟ یہ تو بہت بڑی مدح ہے۔

خود مسلمانوں کی کتاب حدیث میں ہے کہ بادشاہوں کی اطاعت کرو۔ خواہ وہ کیسا ہی ہو اور کوئی ہو۔ دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ ہیں جھوٹے یا سچے۔ کیا وجہ ہے کہ سچوں کے لئے تو بادشاہ ہوں اور جھوٹوں کے لئے نہ ہوں۔ خدا تو سچوں کا بھی ہے اور جھوٹوں کا بھی۔ پس ہم کو خدا کی تقلید

٣٤١

صفحہ ٣٥٨

کرنا چاہئے "تخلقوا باخلاق الله تعالی حتی الامکان" اور انصاف تو یہ ہے کہ جھوٹوں پر جھوٹے بادشاہ حکومت کریں اور سچوں پر سچے بادشاہ، یہ نہیں کہ دونوں گڈمڈ کر دیئے جائیں۔ پس میں نے کرم الدین کی تعریف کی ہے۔ اسے بادشاہ بنایا ہے۔ نہ کہ توہین۔

سوم...... کذب کے لغوی معنی واجب کرنا اور درنگ کرنا بھی ہیں۔ پس کذاب کے معنی بہت بڑا واجب کرنے والا اور بہت بڑا درنگ کرنے والا ہوئے۔ یعنی کرم الدین لوگوں پر مجھے دجال کہنا واجب کرتا ہے اور میری نبوت اور مسیحیت پر ایمان لانے میں درنگ کرتا اور روڑے اٹکاتا ہے اور یہ واقعی ہے۔ پس اس میں دل آزاری اور توہین کہاں سے آگئی؟ اور توہین بھی ہے تو اپیلانٹ کی نہ کہ رسپانڈنٹ کی۔ پھر جب کذب کے دو معنی ہیں تو شک پیدا ہو گیا کہ متکلم کی مراد کونسے معنی ہیں اور شک ہمیشہ ملزم کے حق میں مفید ہوتا ہے نہ کہ مدعی کے حق میں۔ لہٰذا جرمانہ واپس ملنا چاہئے۔ عدالت ماتحت بالکل واقف ہی نہیں کہ لغت کسے کہتے ہیں اور اصطلاح کیا چیز ہے اور فقط مشترک المعنی کس جانور کا نام ہے؟

چہارم....... لالہ چندولعل صاحب کی عدالت لکھ چکی ہے کہ کرم الدین نے بہت سے جھوٹ بولے۔ بس اب اس کے کذاب ہونے میں کیا شک رہا۔ میں نے ہی کیا بھس ملا دیا۔ مسٹر آتمارام کی عدالت ہرگز مجاز نہ تھی کہ لالہ چندولعل کی عدالت کے عندیہ کو مسترد کر دیتی کیونکہ وہ عدالت اپیل نہ تھی۔

پنجم...... لئیم کے لغوی معنی نالائق اور بخیل کے ہیں۔ یہ صفت ہر انسان پر صادق آتی ہے۔ ایک عالم و فاضل بمقابلہ ایک طبیب کے یا شاعر کے نالائق ہے۔ یعنی وہ بیمار کے علاج کرنے اور شعر کہنے کی لیاقت نہیں رکھتا اور ہر شخص بخیل ہے کیونکہ کوئی سائل اگر کسی لکھ پتی سے ایک لاکھ روپیہ جو اس کا کل سرمایہ ہے مانگے تو وہ ہرگز نہ دے گا۔ پس یہ واقعی صفت ہے اس میں کونسا ازالہ حیثیت ہو گیا جبکہ ہر انسان کی یہی حیثیت ہے۔

ششم....... بہتان مشتق ہے بہت بالفتح و بالضم سے جس کے معنی کسی کو اچانک آ لینے اور حیران کرنے اور حیران ہونے کے بھی ہیں۔ اس کو ازالہ حیثیت سے کیا تعلق۔ اول تو شک کا وہی پوا یہاں بھی لگا ہے۔ دوم...... کرم الدین نے مجھے اچانک آلیا، حیران کیا اور خود بھی حیران ہوا۔ وہ اور میں اور میرے حواری عدالت میں سر گاڑی اور پاؤں پہیئے بنے۔ متواتر دو سال پھرے پھر کی بن گئے۔ چوکڑی بھول گئے۔ ہوش بگڑ گئے۔ حواس لٹو اور عقل چرغنو ہو گئی۔ الٰہی پناہ! یہ تو واقعی بات ہے اگر توہین اور دل آزاری ہوئی تو فریقین کی۔ کرم الدین ہی میں کونسا

٣٣٢

سرخاب کا ماتحت کو ف ہے۔ خدا کے لاگو

جاتی ہیں علم وخیار انبیا کیونکہ اپی آپ کے اور تعلیم قر

تفاوت تھے۔ ان دکھایا۔

ہے۔ مسیح قلوب ی عیسیٰ ع قدرت کو زندہ معجزات اولیاء کو اقوال

صفحہ ٣٥٩

سرخاب کا پر لگ گیا۔ پس مذکورہ بالا وجوہ پر کامل لحاظ فرما کر مبلغ سات سو روپیہ واپس اور عدالت ماتحت کو ڈانٹ ملنی چاہئے کہ آئندہ میرے معاملہ میں ناانصافی نہ کرے۔ کیونکہ ابھی تو پہل ہوئی ہے۔ خدا جانے مجھے عدالت میں کتنی بار آنا پڑے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں کرم الدین میرے جان کے لاگو موجود ہیں۔

٤ ...... ضعیف حدیثوں سے استدلال

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

صحیح احادیث جو مرزا قادیانی کے دعوؤں کے خلاف ہوتی ہے۔ بے تامل مسترد کر دی جاتی ہیں اور ضعیف حدیثیں جو مطلب کی ہوتی ہیں۔ دست آویز بنائی جاتی ہیں۔ مثلاً حدیث ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ بالکل موضوع ہے۔ آنحضرت ﷺ نے تو ترجیح و تخییر انبیاء سے ممانعت فرمائی ہے۔ بخاری میں ہے ”لا تخيروا فى انبیاء الله“ پھر آپ کیونکر اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل کے اولوالعزم انبیاء کا ہمسر قرار دیتے۔ کیا معنی کہ جب آپ کے امتی علماء انبیاء بنی اسرائیل کی مانند ہوئے تو آپ کا درجہ تمام انبیاء سے کیسا کچھ بڑھ گیا اور تعلیم قرآنی کے خلاف ہوا کہ ”لا نفرق بین احد من رسله“

آپ اپنے مختلف رسالوں میں لکھتے ہیں کہ علماء امت کے بعض افراد کو علی سبیل التوارث انبیاء بنی اسرائیل سے نسبت ہو جاتی ہے۔ جیسے حضرت بایزید بسطامیؒ عیسوی المشرب تھے۔ انہوں نے یہ معنی اس وقت سمجھے جب ایک چیونٹی کو مار کر اس میں پھونک مار دی اور زندہ کر دکھایا۔

کیوں جناب احیاء اموات پر تو خدائے تعالیٰ بھی قادر نہیں اور سنت اللہ کے خلاف ہے۔ عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے بھی کسی کو زندہ نہیں کیا۔ بلکہ قرآن میں زندہ کرنے سے مراد احیاء قلوب یعنی ہدایت ہے اور بایزید بسطامیؒ نے خلاف سنت اللہ موتی کو زندہ کر دیا۔ بایزید بسطامیؒ عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہی سے بڑھ کر نہیں رہے۔ بلکہ خدا سے بھی معاذ اللہ بڑھ گئے جس کا قانون قدرت مردوں کو زندہ نہیں کر سکتا۔ پھر بایزید بسطامیؒ نے تو صرف نسبت مسیحی کے فیض سے مردے کو زندہ کیا۔ آپ اپنے استدلال میں تو یہ واقعہ پیش کرتے ہیں مگر عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور ان کے معجزات کے منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص انبیاء کو نہیں مانتا بلکہ بعض پر سب و شتم کرتا ہے وہ اولیاء کو کیوں ماننے لگا۔ یہ ہذیان اور مالیخولیا نہیں بلکہ بد نفسی اور شرارت ہے پھر آپ کو صوفیہ کے اقوال سے کیا واسطہ۔ آپ کو تو آسمانی باپ کے الہام سے واسطہ رکھنا چاہئے۔ آپ نبی ہو کر ولی

٣٤٣

صفحہ ٣٦٠

کیوں بنتے ہیں۔ اور اپنے کو بلندی سے خاک مذلت پر کیوں گراتے ہیں۔

٥ ...... الخلافة بالمدينة والملك بالشام (مشكوة ص٥٨٣)

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مندرجہ عنوان حدیث بیہقی میں ہے جو تفسیر ہے: ”لیستخلفنهم الآیہ“ کی یعنی خلافت کا مستقر مدینہ ہے اور ملک وسلطنت کا مستقر شام ہے۔ اب مرزا قادیانی جو اپنے کو خلیفہ نہیں بلکہ خاتم الخلفاء قرار دیتے ہیں۔ تو وہ مدنی ہیں یا شامی وہ تو موضع قادیان کے جھونپڑے میں بیٹھے خلافت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ وہ مدینہ اور شام کی جانب منہ کر کے بھی سوئے اور مشکوٰۃ ص٤٧٠ میں ہے ”عن عبدالله بن حواله اذا رأيت الخلافة قد نزلت الارض المقدسه فقد دنت الزلازل والبلابل والا مور اعظام“ یعنی اے ابن حوالہ جب تو دیکھے گا کہ خلافت بیت المقدس کی زمین پر اتر آئی ہے تو اس کے ساتھ زلزلے اور غم اور امور اعظم وابستہ ہوں گے۔ پس اس حدیث نے خلافت کا خاتمہ کر دیا یعنی خلافت صرف مدینہ تک محدود ہوگی۔ اس کے بعد مصائب و آفات ہیں۔ اب قادیان میں خلافت کا قائم ہونا زیادہ تر نزول مصائب کا باعث ہورہا ہے اور جب تک خود بدولت زندہ ہیں اسلام کے لئے مصائب ہی کا سامنا رہے گا۔

٦ ...... مرزا قادیانی کا فریب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی اپنی پیشینگوئیوں کے غلط اور جھوٹ ہونے پر بڑی بڑی تاویلوں کے ساتھ اڑ جائیں گے اور حوالہ دیں گے کہ انبیاء کی پیشینگوئیاں بھی تو غلط ہوگئی ہیں۔ لیکن انبیاء کی سچی پیشینگوئیوں کا کبھی ذکر تک نہ کریں گے۔ وجہ یہ ہے کہ سچے سچوں کی باتوں کا ذکر کرتے ہیں اور جھوٹے جھوٹوں کی باتوں کا۔

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

مگر مذکورہ بالا تاویلیں بھی محض ظاہری ہیں ورنہ آتھم کی نسبت اور آسمانی منکوحہ سے عقد ہو جانے کی جو پیشینگوئی تھی۔ اس کو اب تک صحیح قرار دیتے ہیں۔ بھلا اس اندھے پن کا کیا جواب ہے۔ گویا ایک جانب اقرار اور دوسری جانب انکار۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ نبی سچے بھی ہوتے ہیں اور جھوٹے بھی۔ اور میں سچا نبی بھی ہوں اور جھوٹا بھی۔ کوئی پوچھے انبیاء علیہ السلام تو محض صدق سے پہچانے گئے ہیں۔ چودھویں صدی کا نبی اپنی فطرت میں لاجواب ہے کہ کذب

٣٤٤

صفحہ ٣٦١

سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ پھر خوبی یہ ہے کہ انبیاء کا تو صدق (معجزات وغیرہ) بھی فطرت کے خلاف اور مرزا قادیانی کا کذب بھی داخل فطرت بلکہ عین فطرت۔ ”لعنة الله على الكاذبين“

شکریہ ..... مولانا سعد اللہ صاحب نے تحریر فرما کر ہم کو ممنون کیا کہ اگر کسی ماہواری دو ورقی والے مرزائی نے تصویر بنا کر اپنا منہ کالا کیا تو شوکت اللہ کی یہ شان نہیں کہ تصویر کا جواب تصویر سے دے شوکت اللہ کی تحریریں کیا کم ہیں کہ ملحدوں کا منہ ہندوستان سے لیکر یورپ تک کالا کر رہی ہیں۔ پس ہم نے اپنا وہ خیال مسترد کر دیا۔ جزاکم اللہ۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍ نومبر کے شمارہ نمبر ٤٣ کے مضامین

١....... لات کا بھوت بات سے نہیں مانتا۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٢....... دو ورقی والے کا دجال اور دجالن۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣....... ہر دجال دوسرے کو دجال بتاتا ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤....... انبیاء سے ضد اور اولیاء سے ساز۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥....... ناخلف منافق مرزائی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... لات کا بھوت بات سے نہیں مانتا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جس طرح بعض دوسرے نوزاد مرزائی پرچے شحنہ ہند کا مد مقابل بنتے ہوئے جہنم رسید ہو گئے۔ یہی حال بہت جلد انشاء اللہ دو ورقی کا ہونیوالا ہے کہ گھسوں اور رگڑوں میں آکر پھٹ پھٹا کر چھتھریا پیر کے مزار پر چڑھ جائے گی۔ بھلا دو ورقی وہ بھی ماہوار اور ضمیمہ شحنہ ہند ہفتہ وار چار بار ہو دونالی فائر شروع ہویں تو چپتوں کی بوچھار ہو گی کہ لعل بیگیوں کے لال گرو کو پگڑ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا اور چندیا اچھی خاصی گلٹ بن جائے گی۔ یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ مجدد کو سر بازار ماں بہن کی فحش اور مغلظات دینے سے مرزائی فخر کریں گے۔ راتب چھکائیں گے مگر مآل کار سمجھنا مشکل ہے۔ یہ خیالی پلاؤ لوہے کے چنے ہو جائے گا اور لے پالک کا زعفرانی پلاؤ اور متنجن

٣٤٥

صفحہ ٣٦٢

دستمری معجونیں چھٹی کے دودھ کے ساتھ راہ اسفل سے نکل پڑیں گی۔ بھلا دو ورقی کی بساط اور وسعت ہی کیا ہے چلی ہے ہاتھی سے بیعانہ لینے۔

ناظرین! کو معلوم ہے کہ ہم نے عالمانہ، فاضلانہ، حکیمانہ، مجددانہ اور نیز مذاق کے پیرایہ میں دجال اور دجالیوں کی ہر طرح بدھیا بٹھا دی ہے۔ ہر رنگ میں استدلال سے کام لیا ہے اور سارے دعوؤں کی جڑ کھود کر پھینک دی ہے۔ غیرممکن ہے کہ کوئی بات لغو یا حشو یا پرکینہ قلم سے نکل سکے۔

ہم نے معقول انعامات بھی مشتہر کئے کہ جواب دیں اور انعام لیں۔ مگر کسی کا بوتا نہ ہوا اب بعض لنگوٹیا یار دھن کے پکے۔ فاتر عقلوں، لفاظیوں کا یہ ارادہ کہ وہ دجال کا کفارہ بن سکیں گے۔ خودکشی کے اقدام سے نہیں۔

سن بے او دو ورقی والے۔ ہم تو جب جانیں کہ تو پشتبان بن کر خر دجال کو مجدد کے میدان مناظرہ میں دو قدم بھی چلا سکے۔ اس کی کمر پہلے ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔ پشت میں گھاؤ پڑ گئے ہیں۔ دم جھڑ گئی ہے۔ سم گر گئے ہیں تو کب تک پچ پچ کرتا سہارا لگاتا سوٹے پھٹکارتا اس کے پیچھے لگے گا۔ تو کچھ ہی جتن کرے مگر کسی طرح خر دجال کی آنکھوں کی پتلی نہ بنے گا۔ بلکہ از ہر سو راندہ مور ماندہ ہوگا۔ انشاءاللہ!

ایک خدا نے پھوڑی دوسری مجدد نے۔ اب تو وہ اندھوں کا کانا سردار بھی نہیں رہا بلکہ چوپٹ اور پٹم ہو کر ’’کان من الکافرین‘‘ بن گیا۔ اندھا بے ایمان آگے آگے ہے اور تمام کور ان مادر زاد بلکہ فطری گونگے اور بہرے پیچھے پیچھے ہیں۔ اندھوں کی محفل گرم ہے اور اندھا ہی انکا سپیکر ۔ لیکچرار اور لیڈر ہے کانا دجال اب دجال نہیں رہا بلکہ بروز ( آواگون ) پا کر سور داس بن گیا ہے۔ سچ ہے: ’’مَنْ كَانَ فِىْ هٰذِهٖ اَعْمٰى فَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى‘‘

سن او دو ورقی والے۔ تیرا دجال تو دجال کا پورا نقال بھی نہیں جو نبوت کیسی خدائی کا دعوٰی کرے گا اور خود مخبر صادق ﷺ نے فرما دیا ہے کہ وہ کانا ہوگا۔ حالانکہ خدا کانا نہیں۔ نبوت کا دعوٰی تو دجال کی شان کے خلاف ہے اگر تمہارا پیر مغان خدائی کا دعوٰی کرے تو ہم سمجھیں کہ وہ دجال اکبر ہے۔ افسوس ہے کہ اسے تو دجال بننا بھی نہ آیا۔

خوب یاد رکھ کہ نبوت کا دعوٰی کرنے والے ہی دجال ہوئے ہیں اور ہوں گے۔ دیکھ دنیا تجھے دجال کہہ رہی ہے۔ مگر کون دیکھے اور کون کہے اور کون سنے ’’صُمٌّ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ‘‘ تیرا صغیرہ اصرار اسے ضرور کبیرہ بنا دے گا مگر سردست صغیرہ کی مکافات بھگت، کبیرہ

کی نوبت آئی تو ق دیکھے جو مجھ گر جائے گا جس دن سے کالا ہوا منہ مرزا کی رگ جورو کو مرزا ہوا و لادا مجھے ز جورو نے جم جم سے چلے پڑ سب لوٹے آنکھیں یہ کھول کے ایک ایک معمور عفو الٹی ہی مرزا کا ہے خوف پہنچے نہ لالوں کی ہر سال گر خا ٣٦٦

صفحہ ٣٦٣

کی نوبت آئی تو قیامت برپا ہو جائے گی۔

٢ ...... دو ورقی والے کا دجال اور دجالن

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

دیکھے جو مجدد کے قلم کے بھالے دجال کو جان کے پڑے ہیں لالے
گر جائے گا جب مینار ارارا کر کے تھامیں گے اسے خاک دو ورقی والے
جس دن سے مقدمہ کی بازی ہاری اسفل کی بڑھی ہے؛ اور بھی بیماری
کالا ہوا منہ۔ لال گرو کے منہ پر جھاڑو بھی نہ لال بیکیوں نے ماری
مرزا کی رگ و پے میں بھری مکاری طراری وجعلسازی وعیاری
جورو کو ملے جواہرات اور زیور جیتی ہوئی احمقوں نے بازی ہاری
مرزا ہوا دنیائے دنی کے صدقے جورو بھی ہوئی اپنے دنی کے صدقے
لادا مجھے زیور سے گدھی کے مانند کیونکر نہ ہوں میں اپنے نبی کے صدقے
جورو نے کہا لا مجھے سیم وزردے آمیری صدف کو موتیوں سے بھر دے
جم جم سے فدا ہوں اپنے لے پالک پر کھا کھا کے سقنقور جو لڑکا کردے
چیلے بڑے بلا کے ہیں مرزائی ابلیس سے مسند خلافت پائی
سب لوٹتے ہیں گٹھ کے مسلمانوں کو یہ چور ہیں گٹھ کٹے ہیں ان کے بھائی
گھامس ہے کہ تینی کا ہے قورم سالا ککڑوں کوں کر رہا ہے مرغی والا
یہ کھول کے سب کے سامنے رکھتا ہے کس درجہ ہے دیوث دو ورقی والا
ایک ایک جتن کو روبہ بازی کہئے ہر بات کو اس کی جعل سازی کہئے
معمور عفونت سے ہے از سر تا پا مرزا کو بروزی کہ برازی کہئے
الٹی ہی پڑی مقدمہ کی جو نکلی فال گھا مڑیہ نجومی ہے اناڑی رمال
مرزا کا سگا بنا دو ورقی والا وہ ہے سگ زردیہ برادر ہے شغال
ہے خوف جہاد سے لعین کو زلزال یہ شیر بنا مگر ہے روباہ خصال
پہنچے نہ حمار منزل مقصد پر لنگڑا ہے وزیر اور کانا دجال
لالوں کی بنی ہے زیوروں سے لالن بالی پتوں سے بن گئی ہے دلہن
ہر سال یہ دجال کو پھل دیتی ہے سو گھڑ ہے کھٹنو سے بہت دجالن
گر خامہ فکر کو ذرا چکردوں ہر دوں کو زمین میں دفن کردے گردوں

٣٤٧

صفحہ ٣٦٤
اعجاز دکھاؤں دشمن عیسیٰ کو کانا جو ہے دجال اسے اندھا کردوں
بھوکے مرزائیوں کو سیم و زر دوں خالی جو صدف ہو اس میں گوہر بھر دوں
پتلی نہیں جس آنکھ میں تیری دجال اس آنکھ میں نیل کی سلائی کردوں

دو ورقی والا کرشمہ تجدید دیکھئے

سن بے او، کانے ٹٹو کے بدخو فر۔ تو جو منہ پر خاکی توبرہ چڑھا کر راتب کے لالچ میں دجال کے اصطبل میں کفر کے کھونٹے جا بندھا ہے تو سچ بتا تو نے کیا ہریالی دیکھی ہے۔ پختہ دانہ بھرے توبرے کی جگہ مرچوں کا توبرہ تھوتھنی پر نہ چڑھا تو ہمیں کہتا۔ دولتیاں اور پشکلیں تو کیا پھینکے گا فقر اور فاقہ کے دنوں کی سوکھی لید تک پلید کی آنتوں سے نکل پڑے گی۔ خوید تو کہاں نصیب۔ مرزائیوں کے راتب کے لالچ پر بعض دوسرے مرزائی بھی بے گھاس دانے تھان پر بندھ کر ٹاپ چکے ہیں۔ مگر ان کو کیا ملا جو تجھے ملے گا۔ کان دبا کر اور دم اٹھا کر سیدھے عدم کو سدھارے۔ تجھ سے پیشتر بھی دو ورقیاں نکل چکی ہیں۔ مگر کسمپرسی کے تند جھونکوں نے ان میں تہلکہ ہی ڈالے۔ دو ورقیاں خر دجال کے سینگوں کی طرح غائب غلہ ہوگئیں۔ تمام مرزائی سر جوڑ کر مجدد کے برابر ایک فقرہ اور ایک مصرعہ تو موزوں کریں منہ نہ بگڑ جائیں تو سہی۔ پھوٹی آنکھوں سے رباعیات مجدد کی ذرا فصاحت و بلاغت دیکھ کر مرتدوں سے تجدید پر ایمان لانے کی امید کہاں یوں کاتا اور لے دوڑی تو تیری خالا ایک جولاہی بھی کر سکتی ہے۔ تو فصیح و بلیغ بلکہ معجزہ بیاں پڑھ چکا اب سطر پر (نہیں مصرعہ پر) انگلی رکھ کر اپنی علامہ قطامہ جورو کے سامنے ذیل کی نظم پڑھ۔ پھر دیکھ بہنا اپنے بھائی جان کی کیسی پیٹھ ٹھوکتی ہے۔

کہتے ہیں مرزائی جسے مرزا نطفہ ہے وہ رذالوں کا بیسواں خیمہ اس نے گاڑا آ کر یاں دجالوں کا
فرض جو تھا اسلام میں پردہ اس کو اٹھایا مرتد نے دارالامان میں جلوہ گری تھا یہ پری تماثیلوں کا
بھیک کی بھیک اور مائیوں کا نظارہ ہو حاصل گھر بیٹھے ساتھ کے ساتھ ستارہ چمکے دیوثوں دلالوں کا
کوئی تنبولن کوئی تیلن چومیں انگوٹھا آ آ کر ہو کے نہال کہے پھر لالن لال ہے مرزا لالوں کا
میرا مرزا میرا عیسیٰ میرا لے پالک جھوٹے جس نے اپنا سکہ بنا کر حربہ بنایا مالوں کا
مال و منال سے یاں مطلب ہے نال گڑا ہے حسینوں کا نالے نال چلیں سب پیچھے تانتا لگا ہے چنالوں کا
کھا کے قستوری مجنوں ہوگئے سانڈے پاٹھے پھولنا دیکھے آ کر کوئی سوکھے پچکے گالوں کا
مکر کا تانا بانا تھا یعنی مثیل عیسیٰ بننا پھر عیسیٰ کو گالی دینا۔ ہے یہ کام رذالوں کا
تم کو بنایا ہے احمدی اس نے ضد میں نام محمد سے پڑ گیا اے مرزائیو تم پر پھندا شرک کے جالوں کا

٣٤٨

صفحہ ٣٦٥
دیکھیے آئے دو ورقی والا بنتا ہے جو دجال کا سالا بول مجدد کا ہے بالا بند ہے دم جہالوں کا

٣ ....... ہر دجال دوسرے کو دجال بتاتا ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی ہمیشہ دجالوں کے منکر رہے اور یہی کہتے رہے کہ دنیا میں دجال کوئی آیا ہی نہیں نہ آئندہ آئے گا۔ ہاں نبی لاکھوں آچکے ہیں اور قیامت تک کروڑوں آئیں گے۔ مرزا قادیانی کے عقیدے اور زعم کو بعض ناخلف مرزائی جھٹلا رہے ہیں کہ حضرت اقدس تو دجال نہیں بلکہ ان کا فلاں فلاں مخالف دجال ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ بھلا مرزا قادیانی کے مخالفوں میں سے نبوت کا دعویٰ کسی نے کیا ہے پس جو شخص ایسا دعویٰ کرے وہ حدیث شریف کے موافق بے شک دجال ہے کسی مسلمان کو اس سے انکار نہیں۔

مرزا قادیانی کے دجال ہونے کا ثبوت خود ان کے مورثوں (دجالوں) کے خوارق ہیں۔ یعنی وہ بھی یہی کہتے رہے کہ ہم انبیاء ہیں کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہم دجال ہیں۔ مرزا قادیانی جواب دیں کہ آپ اپنے دجال نہ ہونے کا کیا ثبوت رکھتے ہیں؟ آسمانی باپ ہی کا کوئی وثیقہ پیش کریں۔ لے پالک دجال نہیں۔

ناخلف مرزائیوں پر افسوس ہے کہ اپنے پیر و مرشد کا خلاف کر کے جہنم میں جانا چاہتے ہیں۔ مرزا تو یوں کہے کہ انگریزی ریلیں دجال ہیں اور مرزائی کہیں کہ ہمارا مرشد جھوٹا ہے۔ بلکہ فلاں فلاں شخص دجال ہیں جب گھر ہی میں پھوٹ ہے اور وہ بھی دجال کے معاملے میں تو بروزیت و مسیحیت یا مہدویت کا تصفیہ معلوم جیسا ہم لکھ چکے ہیں۔ اس فیصلہ سے بڑھ کر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہی دجال ہے۔ اب مرزا اور مرزائی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اس آئینہ میں دیکھیں جو مجدد آٹھویں روز ان کو دکھاتا ہے۔ خود معلوم ہو جائے گا کہ دجال کون ہے؟

٤ ...... انبیاء سے ضد اور اولیاء سے ساز

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اولیاء اللہ کی کرامات کا تو اقرار کہ فلاں ولی کی روح فلاں ولی میں حلول اور بروز کر گئی تھی۔ میں اس لئے بروزی یعنی تناسخی نبی ہوں اور انبیاء کے تمام معجزات غلط۔ کیونکہ وہ لازاف نیچر کے خلاف ہیں۔ اس صورت میں اولیاء کا مرتبہ انبیاء سے بڑھا ہوا ہے۔ پس میں سب انبیاء پر فوقیت رکھتا ہوں۔ گویا اولیاء اللہ تو خرق نیچر کر سکتے ہیں مگر انبیاء نہیں کر سکتے۔ بھلا قرآن وحدیث

٣٤٩

صفحہ ٣٦٦

میں بروز اور تناسخ کہاں لکھا ہے۔ اور اب تو آپ کرشن جی کے اوتار بھی بن گئے ہیں جیسا کہ سیالکوٹ والے لیکچر میں بیان کیا۔ کوئی پوچھے کہ وہ ولی تھے یا نبی۔ اگر نبی تھے تو کسی نبی نے آج تک دوسرے نبی میں حلول نہیں کیا۔ نہ یہ توریت و انجیل سے ثابت ہے نہ قرآن سے۔

اور اگر ولی تھے تو آپ نے اپنی نبوت کو آسمانی باپ کے ایوان سے تحت الثریٰ میں کیوں گرایا۔ یہ شرارت آمیز مالیخولیا آپ کے دماغ میں کس نے ٹھونسا۔ با ایں ہمہ نبی ہو یا ولی آپ اپنے مقابلے میں کسی کی کچھ حیثیت نہیں سمجھتے۔ اول اول جب سب پر سب و شتم کہا تو چار طرف سے چندیا پر پرانے لتروں اور کھونسڑوں کا مینہ برسا۔ اب ہوش آیا تو سب کے بروزی بن گئے۔ مسیح بھی میں، نبی بھی میں، کرشن بھی میں، گرونانک بھی میں، کبیر پنتھی بھی میں، لعل بھیکوں کا لال گرو بھی میں، اور حسین علیہ السلام سے تو آپ بدرجہا افضل ہیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے نواسے اور آپ کسی چغتی مغل کے نطفے، اور قوم مغل بہ اعتبار حسب و نسب کے سیدوں سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔ خاک تیرے یزیدی سادھو بچے کے منہ میں دھول اور پیٹ میں جہنم کے انگارے۔ ہر نبی نے دوسرے نبی کی تصدیق کی ہے مگر مرزا ایسا غضبناک نبی ہے کہ دوسرے نبی کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ بعض میں علانیہ برائیاں نکالتا ہے اور باقی انبیاء کو اپنے دل میں ہیچ سمجھتا ہے۔ وجہ یہ کہ نہ صرف عیسیٰ بلکہ تمام انبیاء مر گئے ان کی کتابیں منسوخ اور مسترد ہو گئیں۔ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ اب پرانے قانون کی ضرورت نہیں۔ میں زندہ نبی ہوں۔ میرے گھڑے ہوئے وحی اور الہام زندہ ہیں وغیرہ۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے جو بروزیت کا دھوکہ دے کر نئی امت پیدا کی ہے تو کیا کوئی وثیقہ لکھ دیا ہے کہ میرے مرنے کے بعد نہ صرف نبوت بلکہ تمام الہامات منسوخ اور کالعدم ہو جائیں گے۔ جو لوگ زندہ پیر کے مجاور بنے بیٹھے ہیں ان کے خوارق سے صاف عیاں ہے کہ بروزی کے مرنے پر ایک نقارہ خاص منارے پر دھرا جائے گا اور ہر جمعرات کو نوبت بجے گی اور سالانہ عرس بھی دھوم دھام سے ہوا کرے گا۔ حالانکہ دنیا میں کسی نبی کا عرس نہیں ہوتا۔

٥ ...... ناخلف منافق مرزائی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

بعض مرزائی اپنے بھائی مرزائیوں کی جڑ کاٹ رہے ہیں تاکہ ان کی خود غرضی خوب پھلے پھولے۔ ایک بگلا بھگت مرزائی جب دیکھتا ہے کہ قادیان میں دوسرے مرزائی بروزی کی دکان پر بیٹھے مزے اڑا رہے ہیں تو اس کے منہ میں پانی بھر آتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ میں حضرت اقدس کی منادی کا ڈھول گلے میں ڈال کر، جا بجا پیٹتا پھرتا ہوں اور ساتھ ہی مارے فاقوں کے

صفحہ ٣٦٧

کے اپنا پیٹ پیٹتا اور رقیبوں کی جان کو روتا اور حضرت اقدس کی قدردانی اور مرتبہ سنجی کا ماتم کرتا ہوں۔ افسوس ہے کہ اس روسیاہ بدقسمت کو دین کھو کر بھی دنیا نہ ملی۔ ہمارے خیال میں اگر عیسائی ہوجاتا تو بہت مزے میں رہتا۔ اصطباغ پا کر عیسائیوں کا اولٹن بیف اور نان پاؤ اور برانڈی تو کبھی کبھی مل جایا کرتی۔

میں ایسا اور میں ویسا۔ مجھ میں وہ ملکہ اور تبحر اور علوم وفنون میں وہ لیاقت اور مہارت و طلاقت ہے کہ قادیان کے مرزائیوں کو پانچ پانچ برس پڑھاؤں۔ علیٰ ہٰذا یہ مردود ایڈیٹر الحکم کی اکثر مذمت کرتا ہے کہ اس کی حیثیت اور بساط ہی کیا ہے۔ الحکم میری ایڈیٹری میں نکلے تو دکھا دوں کہ بروزی مضامین ایسے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرانے خیال کا گھامڑ ہے اردو کی دو سطریں بھی صحیح نہیں لکھ سکتا۔ ایڈیٹر الحکم کے قلم کی جولانیوں کے کیا کہنے ہیں یہ اس کے سامنے ایسا بطی السیر ہے جیسے ریلوے ٹرین کے مقابلے میں کمہار کا لنگڑا گدھا۔ وہ کہتا ہے کہ فاضل امروہی دیکھ بھال کر سوچ سمجھ کر کچھ گڑھ لیتے ہیں مگر طلیق اللسان اور فصیح البیان ہونا تو کجا تقریر بھی صاف نہیں۔ جابجا یوں الجھتے ہیں۔ جیسے کٹی ہوئی کسی اناڑی کی گڈی۔ علیٰ ہٰذا البدر کا ایڈیٹر بھی واجبی ہی لیاقت رکھتا ہے۔ ہاں حکیم الامت کچھ چیز ہیں۔ مگر تقریر میں وہ بھی گھٹنوں چلتے ہیں۔

وہ کہتا ہے کہ ایڈیٹر الحکم طامع بہت ہے۔ دق کرتا ہے سال بھر میں دو دو دفعہ خریداروں سے قیمت وصول کرتا ہے۔ الحکم کی اشاعت تو زیادہ ہے مگر کم بتاتا ہے اور یہاں کے احمدیوں نے اسی وجہ سے الحکم کی خریداری بند کر دی اور البدر منگانا شروع کر دیا۔ اس کی قیمت بھی کم یعنی اڑھائی روپے الحکم کا ایڈیٹر تو کھاؤ گھپ اور مچلتی بطخ ہے۔ بے حساب الم غلم کھاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔ ہماری رائے میں تو ایسا بدخواہ اور حاسد ناک کان کاٹ کر مرزائی مشن سے نکال دینے اور گدھے پر سوار کر کے جلاوطن کر دینے یا پھانسی دینے کے لائق ہے۔ آئندہ اختیار۔

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٢ نومبر کے شمارہ نمبر ٤٤ کے مضامین

٣٥١

صفحہ ٣٦٨

٤....... "وإن من امة الا خلا فيها نذير" مولانا شوکت اللہ میرٹھی اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... مرزا قادیانی کا نیا سوانگ

پبلک میگزین!

پبلک میگزین لکھتا ہے لاہور کے لیکچر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف اتنا ظاہر کیا تھا کہ وہ مہاراج رام چندر جی اور سری کرشن چندر جی کو بھی کامل انسان اور نبی مانتے ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتہ میں بمقام سیالکوٹ مرزا صاحب نیا رنگ لائے۔ مسیح موعود عیسائیوں کے لئے اور مہدی آخر الزمان مسلمانوں کے لئے تو آپ بن ہی چکے تھے۔ اب ہندو باقی تھے۔ ان کے لئے کرشن چندر جی بن گئے۔ چنانچہ اپنی نسبت الہام سنایا کہ ”ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“ (تذکرہ ص ٣٨٠ طبع سوم) مرزا قادیانی نے خطرہ ظاہر کیا کہ ”جاہل مسلمان فی الفور یہ کہیں گے کہ مرزا قادیانی نے کافر کا نام قبول کر کے صریحاً کفر قبول کرلیا۔ لیکن یہ خدا کی طرف سے ہے جس کا اظہار کئے بغیر میں نہیں رہ سکتا اور سری کرشن چندر درحقیقت کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی یا اوتار میں نہیں پائی جاتی۔ وہ اپنے وقت کا نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور با اقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ اور میں کرشن سے محبت کرتا ہوں۔ کیونکہ میں اس کا مظہر ہوں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

مرزا قادیانی نے اپنی خیالی شہرت کی ایک اور منزل طے کی لیکن شاید انہیں خیال ہوگا کہ ہندوؤں کے کرشن کا مظہر بن کر انہوں نے کیسی عظیم ذمہ داری سر لی۔ کرشن اور اس کی تعلیم کو قبول کر کے مرزا قادیانی کو تقریباً سارے اسلامی عقائد سے انکار اور بجائے اس کے کہ وہ قرآن کو الہامی مانیں۔ انہیں کرشن کا مظہر ہونے کی غرض سے گیان کا جھنڈا، آریاؤں کی قدیمی الہامی کتب ویدوں کی ہدایتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ مرزا قادیانی کرشن کے مظہر تو بنے لیکن گیتا کی گوڑھ فلاسفی کی تشریح کرتے ہوئے ضرور چکرانا پڑے گا۔ جب انہیں جتلا یا جائے گا کہ کرشن کی تعلیم کیا ہے تو شاید پشیمان ہونا پڑے اور نئے ہندو مرید مونڈنے کی امید میں پرانے مسلمان مرید بھی ہرن ہوں۔ مرزا قادیانی نے کرشن کا سوانگ بھر کر اپنا سارا بھرم کھول دیا۔ اب کسی کو شک نہ کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی دماغی تبخیر سے رنگ برنگے دعوے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہندو مرزا قادیانی کو کرشن تو کیوں مانیں گے۔ البتہ مرزا کرشن بن کر اپنی مسیحیت اور مہدویت بھی کھو بیٹھیں

٣٥٢

صفحہ ٣٦٩

گے ۔ کرشن ازم کا ایک ہی مسئلہ مرزا قادیانی کو چپ کر دے گا اور مرزا قادیانی کرشن کا مظہر بننے سے کانوں کو ہاتھ لگا ئیں گے۔ کرشن کرم کانڈ کو موکش کا سادھن بناتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی عمر شفاعت کا ڈھکوسلا سناتے گزر گئی۔ کیا مرزا قادیانی اس کو رواج دیں گے اور کیا اعلان کریں گے۔ کہ کرشن کا مظہر ہونے کی حیثیت سے وید اور سارے ویدک کے مسائل ان کے مقبولہ ہیں؟ اگر یہ ہو تو ہندوؤں کو اپنے دھرم کی بزرگی اور دھارمک اصول کی عظمت اور راستی پر فخر کرنا چاہئے جس نے مرزا قادیانی کو آخری عمر میں اپنی صداقت کا قائل بنا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اہل اسلام مرزا قادیانی کے اس معیار کا کیا نام رکھتے ہیں؟

٢ ...... قادیانی سری کرشن سیالکوٹ میں

اخبار الحدیث!

اہلحدیث لکھتا ہے ہم قادیانی مسیح تو سنتے رہے ہیں۔ مگر قادیانی کرشن جی نہیں سنا۔ یہ وہی حضرت قادیانی مسیح ہیں۔ بقول استاد؎

قیامت کے مفتن ہو غضب کے دلربا تم ہو
خدا جانے پری ہو حور ہو انسان ہو کیا تم ہو

آپ کا نزول اجلال سیالکوٹ میں ٢٧ /اکتوبر بوقت ٦ بجے شام کے ہوا۔ چونکہ تشریف آوری کے پہلے چند روز علمائے کرام نے آپ کی تشریف آوری کی خبر عوام کے کانوں تک پہنچا دی تھی۔ گردو نواح سیالکوٹ کے علماء اپنا فرض منصبی پورا کرنے کو چند روز پہلے ہی رونق افروز تھے اور خوب زور و شور سے آپ کی آؤ بھگت مناسب الفاظ میں کر رہے تھے اور چشم براہ تھے کہ ناگاہ گاڑی قریب سٹیشن سیالکوٹ پہنچی پھر کیا تھا ؎

انگلیاں سب اٹھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں

دیکھتے ہی لعنت کا نعرہ بلند ہوا۔ تمام ریلوے سٹیشن اور باہر کا میدان جس میں تقریباً دو اڑھائی ہزار آدمی ہوں گے پر تھا۔ جدھر کو حضور کی گاڑی جاتی تھی لعنت کے چیرز اور نعرے بلند ہوتے تھے۔ خاک اڑائی جاتی تھی۔ خیر بعد شکرانہ آپ فرودگاہ تک تشریف لے گئے۔ اس واقعہ کو مرزا قادیانی کے لیکچر کے سرورق کے صفحہ ٢/ پر یوں لکھا گیا ہے کہ ”تقریباً پینتیس چالیس ہزار ہندو مسلمان استقبال کو آئے تھے اور بہت سے لوگوں نے اس خوشی میں روشنی کی تھی ۔“ حالانکہ تمام شہر سیالکوٹ کی مردم شماری تقریباً ٤٠/ ہزار ہے۔ جن میں ہندو، مسلمان، چوڑہے، چمار، زن و مرد، بوڑھے، جوان، بالغ و نابالغ سب شامل ہیں۔

٣٥٣

صفحہ ٣٧٠

روشنی کا یہ عالم تھا کہ خاک اور دھول کے اڑانے سے ایک اندھیرے کی صورت پیدا ہو رہی تھی۔ کاش اس روز بادل ہی چمکا ہوتا تو ہم سمجھتے کہ مرزا قادیانی کی خاطر آسمان پر روشنی ہوئی ہے۔ جیسا کہ خود ان کا خیال ہے۔ چنانچہ ١١ مئی ١٩٠٣ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ آج جو میں بیماری سے اٹھ باہر آیا ہوں اور بادل چمک رہا ہے۔ بارش بھی کسی قدر ہورہی ہے۔ یہ اسی طریق سے ہے۔ جو بادشاہوں کے آنے پر سڑکوں پر چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور آتشبازی چھوڑی جاتی ہے۔ اسی طرح ہماری (خود بدولت) باہر تشریف آوری کی وجہ سے آسمان پر چھڑکاؤ ہوا ہے۔ اور آتش بازی چھٹی ہے (حاضرین) سبحان اللہ جل جلالہ امام الزمان کی برکت ہے مگر شقی ازلی ایسے صریح معجزات بھی دیکھ کر بد نصیب رہے۔

خیر خدا خدا کر کے حضرت فرودگاہ تک پہنچے اور لیکچر لکھنے میں مشغول ہوئے۔ ٢؍نومبر کی تاریخ لیکچر کے لئے تھی کیا تھا وہی معمولی شاعروں کی طرح بطور تشبیب چند لفظوں میں اسلام کی تعریف اور آریوں سے دو چار ہو کر اپنی تعریف کہ میں ایسا ایسا ہوں میں یہ ہوں میں وہ ہوں۔

ہاں ایک بات نئی لیکچر میں کہی گئی جو اس سے پہلے نہ سنی گئی تھی۔ جس کا خود حضرت کو بھی اقرار ہے کہ آج سے پہلے میں نے یہ بات ظاہر نہیں کی تھی یعنی آپ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے تو میں مسیح موعود ہو کر آیا ہوں مگر ہندوؤں اور آریوں کے لئے خدا نے مجھے کرشن جی بنا کر بھیجا ہے۔

اس دعوے کو سن کر صاحب مجسٹریٹ کیمپ سیالکوٹ نے مسلمانوں سے کہا کہ اب تم جاؤ مرزا قادیانی جائیں اور ہندو جانیں مگر مسلمانوں کو اپنے پیدائشی مسلمانوں کی جدائی کہاں گوارہ تھی۔ جس حال میں کہ وہ بابو عبد الغفور نو آریہ کی جدائی کو ابھی تک نہیں بھولے تھے۔ حالانکہ بابو مذکور ایک کمسن بائیس تئیس سالہ عمر کا لڑکا اور مرزا قادیانی ایک معمر تجربہ کار مسن۔ پھر بھلا ایسے گرگ کہن کی جدائی مسلمانوں کو کہاں گوارہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ جہاں تک ہو سکا مرزا قادیانی کا ساتھ دیا۔

روانگی کے وقت بدستور ریلوے سٹیشن تک جیسا استقبال کیا تھا اس سے بڑھ کر استدبار کیا۔ بلکہ مزید بات یہ ہوئی کہ مسلمانوں نے قادیانی کرشن جی کی مہما میں اپنے اسلامی اخلاق کو بھی بالائے طاق رکھ دیا۔ چلتی گاڑی کے وقت سٹیشن سے ایک طرف پردہ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور مرزا قادیانی کی مستورات کے سامنے جوش جنوں میں ننگے ہو کر ناچتے رہے مگر ان کا بیان ہے کہ اس کی وجہ بھی مرزا قادیانی کی مستورات ہوتی ہیں۔ جنہوں نے ریل گاڑی پر بیٹھ کر اپنی مبارک پاپوش

٣٥٤

صفحہ ٣٧١

(جوتی) پر تھوک کر مسلمانوں کو دکھائی۔ پس پھر تو مجنونوں نے سمجھا کہ ہم پر کمال عنایت مبذول ہے۔

لیکن اسلامی غیرت ہمیں اس کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ گو مستورات مرزائیہ نے چھیڑ کی ہو۔ تاہم یہ حرکت اسلامی اخلاق سے بہت گری ہوئی ہے۔

٣ ...... مرزائیو کرشن جی مہاراج کو ڈنڈوت کرو

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہے آدمی بجائے خود اک معمہ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

سیالکوٹ والے لیکچر نے مرزا قادیانی کی کایا پلٹ دی۔ نہ اب آسمانی باپ کے لے پالک رہے نہ امام الزمان رہے نہ بروزی رہے۔ اب تو گھڑے گھڑائے اور چھلے چھلائے کرشن جی کی مورتی بن گئے۔ یا یوں کہو کہ آپ کی ذات طلسمات میں متضاد کمپونڈ مسالا جمع ہو گیا ہے۔ مگر اس معجون مرکب میں ابھی چند اجزاء کی کسر ہے۔ کیا معنی کہ نہ تو آپ ابھی آریا کے دیانند جی مہاراج بنے نہ بودھ کے گوتم نہ شنکر اچارج نہ آتش پرستوں کے زرتشت نہ سکھوں کے گرونانک۔ نہ لعل بھیکوں کے لعل گرو۔ مناسب تھا کہ سب سے پہلے اپنا ورثہ سنبھالتے کیونکہ آپ بھیکوں کے سگ ہیں اور آپ کے بڑے بھائی امام الدین لعل بھیکوں کے سرپرست بن بھی چکے ہیں۔ مگر آپ ایسے ناخلف ہیں کہ ان کی گدی پر اب تک لات مار رہے ہیں۔ تاہم گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ رفتہ رفتہ جب آپ سب کچھ ہو جائیں گے تب لعل گرو بنیں گے۔ کیا معنی کہ فضلہ سب کے بعد ہوتا ہے۔ ابھی دو ایک پیچ اور باقی ہیں۔ پھٹ پھٹا کر قبض کھلے گا تو بالکل صفائی ہو جائے گی سر دست تو ہوا گولے اٹھ رہے ہیں۔ ابراز ہو کر تمام مذاہب کے گرو گھنٹال میں بروز کر جائیں گے۔

سری کرشن جی اوتار اس لئے آپ نے دھارن کیا ہے کہ مرزائیوں کا پردہ اٹھا دینے کا جنرل آرڈر جاری کر چکے ہیں۔ پس آپ گوپیوں میں کنھیا جی بن کر بیٹھیں گے۔ اور ایک ہی وقت میں سب کے پلنگ میں فوراً پراپت ہوں گے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لے پالک نے جو اس عرصہ میں شرارتیں کیں یعنی نہ صرف آسمانی بھیڑوں کو بلکہ آسمانی برّے عیسیٰ مسیح کو سب و شتم کی ایک ہی لاٹھی ہانکا تو آسمانی باپ نے زناٹے دار چپت رسید کیا کہ مردود بدذات، شریر پاجی، میں نے تو تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ چرواہا بن کر بھیڑوں کی چوکسی کرے۔ اس لئے نہ بھیجا تھا کہ بھیڑیا بن کر سب کو پھاڑے۔ بس لے پالک ایک ہی تھپڑ

٣٥٥

صفحہ ٣٧٢

کھا کر سیدھا ہو گیا اور آئندہ کو کان پکڑے اور کرشن جی کی گئو یا نادیا بیل بن گیا۔

کیوں صاحب جب آپ امام الزمان ہیں تو آریا کیوں برے ہیں اور آپ دیانند جی کے اوتار کیوں نہیں بنے۔ حالانکہ ان سے آپ کا رشتہ بخوبی ملا ہوا ہے۔ کیا معنی کہ لازاف نیچر کے وہ بھی قائل اور آپ بھی۔ مادے کے قدیم ہونے کے وہ بھی معتقد اور آپ بھی۔ مگر چونکہ وہ نبوت و رسالت کو نہیں مانتے اور دیانند سرستی کو ایک معزز انسان کے رتبے سے زیادہ رتبہ نہیں دیتے اور خود بدولت ٹھہرے نبی۔ بس آپ سے ان کا ستارہ نہ ملا۔ اب آپ نے دیکھا ہندوستان میں بت پرست ہنود ٢٢ کروڑ ہیں۔ جن میں آریاؤں کی تعداد لاکھوں سے زیادہ نہیں اور بت پرستوں سے بڑھ کر کوئی قوم احمق اور سادہ لوح نہیں۔ لہٰذا کیا عجب ہے کہ ہنود آپ کی جانب رجوع لائیں۔ مگر یہ بھی سنتے کہ بعد از جنگ یاد آید کا مضمون ہے۔ وید اور شاستر کے اصول نیوگ وغیرہ کی جو آپ نے مذمت کی ہے تو یہ تمام ہنود پر یکساں ناگوار ہے۔ کیونکہ ہنود خواہ بت پرست ہوں خواہ آریان وید کو یکساں پوتر (مقدس) مانتے ہیں اور خود سری کرشن بھی مانتے تھے پس ہنود کہہ سکتے تھے کہ یہ کیسا کرشن ہے جو وید کا انکار کر کے گویا آپ اپنی جڑ کاٹتا ہے۔ انجام یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عیسائیوں نے پتلون سے دھار ماردی اسی طرح ہنود دھوتی سے چھلنی کی تکلی منہ پر ماردیں گے اور پھر بول بالا تو کیا ہوگا سر نیچا ہو جائے گا۔

پھر ہنود کنھیا جی کو انسان نہیں مانتے بلکہ کرشن یعنی خدا مانتے ہیں۔ پس جیسے اہل الراء کا عندیہ تھا کہ آپ بہت جلدی خدائی کا دعویٰ کریں گے۔ سیالکوٹ میں پورا ہو گیا۔

اب وقت آ پہنچا ہے کہ بجائے اس کے کہ قادیان میں منارۃ المسیح کھڑا کیا جائے۔ مناسب ہے کہ مندر بنایا جائے جس میں بالفعل کرشن جی کی مورتی رکھی جائے۔ اور جب قادیانی کرشن ارتھی پر لدے تو اس کی مورتی استھاپن کی جائے۔

اس عیاری اور دنیا طلبی کو دیکھئے کہ دنیا میں جس قدر با عظمت لوگ گزرے ہیں۔ ان سب کا جوہر اور ست آسمانی باپ کے بھبکے میں کھنچ کر آپ کے وجود بے بہبود میں آگیا ہے۔ پہلے ایک قوم کے نبی یا اوتار کا دامن پکڑا جب وہاں سے جھٹکا ملا تو دوسرے کا دامن جا پکڑا۔ علیٰ ہذا کسی نے نام کا کتا تک نہ پالا۔ اور سب طرف سے سگ دنیا پر دوت دوت ہی رہی۔ حضرت بے دل مرحوم نے مندرجہ ذیل شعر غایت مجبوری و ہمدردی اور انکسار کی حالت میں لکھا تھا مگر مرزا قادیانی کی واقعی حالت کے مطابق ہے ۔

٣٥٦

صفحہ ٣٧٤
نہ بدامنے ز حیا رسد نہ بدستگاہ دعا رسد
چو رسد بہ نسبت پا رسد کف دست آبلہ دار ما

یعنی میرے ہاتھ میں پائے آبلہ دار کی نسبت ہے نہ تو کسی کے دامن تک پہنچتا ہے کیونکہ سب لوگ حیا اور عار کرتے ہیں۔ دامن تک نہیں چھونے دیتے نہ دعا کے لئے اٹھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آبلہ دار پاؤں ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچتا۔ یہی حالت میرے ہاتھ کی ہے گویا وہ ہاتھ نہیں رہا بلکہ پائے آبلہ دار بن گیا ہے۔ طرح طرح کے رنگ بدلنے سے اس عیار کے دو مطلوب ہیں۔ ایک تو شہرت۔ دوم ...... الو کے پٹھوں کا امتحان کہ پنجرے سے نکلتے ہیں یا نہیں اور حافظ شیراز کا یہ شعر پکڑ کر اور یا بدوح کی ہانک لگا کر پھر ہو جاتے ہیں یا نہیں۔

ما مریدان رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں
رو بسوئے لعبتان چین دارد پیر ما

مگر مرزا قادیانی کا عندیہ پورا ہوتا جاتا ہے اور جتنے روپ اور سوانگ بدلے جاتے ہیں۔ تمام چیلے جان اور ایمان سے اس عشوہ کے نظارے کے بڑے بھاری فدائی تماشائی نظر آتے ہیں اور ہر مرید یہ شعر پڑھتا ہے۔

صنم تصوب عند روية خدها
آراء من عکفوا علی النیران

یعنی میرا معشوق ایسا صنم ہے کہ جب اس کا بھبوکا رخسار دیکھا جاتا ہے تو آتش پرستوں کی عقلیں صواب پر معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی ان کا آتش پرست ہو جانا بجا ہے۔ کیونکہ آگ میں اس صنم کے رخسارہ کی جھلک ہے۔

ہم کو گنیش جی کے روٹ میں حصہ لگانے والوں اور زندہ پیر کے چڑہاوے کا ملیدہ چکھنے والوں کا تو خیال نہیں جو دین بدنیا فروش ہیں۔ البتہ مولوی نور الدین جیسے صاحب سے ہمدردی ہے جو کسی زمانے میں اہلحدیث تھے۔ اگر وہ اب بھی بروزی کے ہتھکنڈوں سے عبرت حاصل نہ کریں تو سخت افسوس ہے۔ کیا کانشنس قوت ممیزہ بالکل ہی مسخ ہوگئی۔ کیا قرآن وحدیث کو بالکل ہی جواب دے دیا۔ تقلید شخصی تو بد دینی تھی۔ مگر ایک رنگ برنگ کے روپ بدلنے والے کی تقلید بلکہ غلامی اور عبدیت عین دین وایمان ہے انا للہ۔ اب رہی تاویل۔ یہ مذہب والا کر سکتا ہے اور زبردست دلیل پیش کر سکتا ہے۔ وہم

٣٥٧

صفحہ ٣٧٤

پرست اور بت پرست قومیں بھی فلسفہ رکھتی ہیں مگر واقعیت اور ہی چیز ہے ؎

پائے استدلالیان چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

نہ صرف بروزی صاحب بلکہ یقیناً حکیم صاحب بھی آیت قرآنی سے وہی دلیل پیش کریں گے جو کانگریس والوں نے اس وقت پیش کی تھی۔ جب سرسید نے مسلمانوں کو اس میں شامل ہونے سے روکا تھا کہ بت پرستوں کا ساتھ نہ دو وہ آیت ”منهم من قصصنا عليك ومنهم من لم نقصص“ ہے۔ یعنی اے محمد ﷺ! ہم نے بعض انبیاء کے قصے تجھ پر بیان کئے ہیں اور بعض کے قصے بیان نہیں کئے۔ اس پر کانگریس والے کہتے ہیں کہ ہمارے جو اوتار رام چندر جی اور کرشن جی گزرے ہیں۔ کیا عجب ہے وہ بھی نبی ہوں۔ ظاہر ہے کہ آیت بالا میں گزشتہ انبیاء مراد ہیں کیونکہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوچکی اور اگر ختم نہیں ہوئی۔ تو کیا وجہ ہے کہ قرآن کی اس آیت پر تو ایمان اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین“ کا انکار اب رہی ختم نبوت کی لا معنی تاویلیں۔ ہم بارہا ان کی چتھاڑ کرچکے ہیں۔

٤...... ”وان من امة الا خلا فیها نذیر“

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا اور مرزائی بروزی نبوت کے ثبوت میں مندرجہ عنوان آیت پیش کیا کرتے۔ یعنی کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی ڈرانے والا (نبی) نہ گزرا ہو۔ اول تو خلا کا صیغہ ماضی کا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں جس قدر امتیں گزری ہیں۔ ان میں ضرور کوئی نہ کوئی نبی گزرا ہے۔ یخلو فیها نذیر نہیں فرمایا گیا۔ جس کے یہ معنی ہوتے کہ جس قدر امتیں قیامت تک گزریں گی۔ ان میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آئے گا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ختم ہو چکی اور آنحضرت اور نیز امت محمدیہ کے لئے کوئی شرف و امتیاز باقی نہ رہے گا۔ اور دین کی تکمیل پوری ہوگی۔ حالانکہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ اور ظاہر ہے کہ دوسرا نبی اسی وقت مبعوث ہوتا ہے جب دین میں نقص ہوتا ہے۔

پھر امت سے مراد مختلف امتیں ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا مطلب مان لیا جائے تو ہر امت کے لئے ایک نیا نبی مبعوث ہونا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں بتائیے کہ نصاریٰ کا نیا نبی کون ہے۔ یہود کا کون ہے۔ ہنود کا کون ہے۔ علیٰ ہذا سینکڑوں امتیں اور مذاہب ہیں سب کے لئے مرزا قادیانی کو اپنی طرح ایک ایک نبی تراشنا پڑے گا۔ پھر خوبی یہ ہے کہ مرزا قادیانی تمام مسلمانوں کو

٣٥٨

صفحہ ٣٧٥

بلکہ اپنے کو امت محمدیہ میں سے بتاتے ہیں تو بتاؤ جداگانہ امت کہاں ہوئی۔ جس کے لئے نبی کی ضرورت ہوتی ہے۔

خط غلط، املا غلط، انشاء غلط

ہاں یہ صحیح ہے کہ اس وقت بعض امتوں میں نئے نبی اور عیسیٰ اور مہدی موجود ہیں۔ مثلاً لندن میں مسٹر پگٹ ، فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی ، سومالی لینڈ میں ملا عبداللہ، مرزا قادیانی ان تینوں کو کیوں نہیں مانتے۔ غالباً آپ کا یہ مطلب ہے کہ صرف امت محمدیہ میں دس بیس برس کے بعد ایک نبی پیدا ہوتا رہے گا۔ نہ کہ کسی دوسری امت میں۔ حالانکہ آیت مذکورہ اس معنی کا انکار کرتی ہے۔

اپنے نبی بننے کو تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔ مگر دوسرے بزرگوں اوتاروں یا معلموں کو نہیں مانا جاتا۔ دیانند سرستی کو کیوں نبی نہیں مانتے۔ ہاں عدالت کے تھپڑ کھا کر اب صرف سری کرشن جی نبی مانے گئے۔ ایک ایک تھپڑ لگتا جائے گا اور لے پالک ہر امت کے انبیاء کو مانتا چلا جائے گا۔ بلکہ ہر امت کے لئے نبی پیدا کرتا چلا جائے گا۔

پھر عیسیٰ مسیح مر گئے۔ تمام انبیاء اور اوتار مرگئے۔ لے پالک کو ان سے کیا سروکار رہا۔ رونا تو یہی ہے کہ لوگ مردہ انبیاء کو زندہ لے پالک کے ہوتے نبی مان رہے ہیں۔ لیکن سری کرشن زندہ نبی ہیں۔ جن کو لے پالک نے مانا ہے اور جن پر اوّلاً لا ہور میں اور پھر سیالکوٹ میں ایمان لایا ہے اور چیلوں چانٹوں نے یہ شعر وجد میں آ کر غنغنایا ہے ؎

دوش از مسجد سوئے بتخانہ آمد پیر ما
چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیر ما

ہم بھی کہتے ہیں جیسے موجودہ زمانے میں لندنی مسیح اور فرانسیسی مسیح ہیں۔ ایسے ہی نبی خود بدولت ہیں۔ مگر مزہ تو جب ہے کہ جس طرح آپ نے سری کرشن کی مورتی کو سجدہ کیا۔ اسی طرح لندنی اور پیرس کی گرجا میں جا کر مسٹر پگٹ اور ڈاکٹر ڈوئی کے آگے بھی سر جھکائیں اور گھٹنا ٹیکیں۔ جو آپ کے رقیب عیسیٰ مسیح کے بندے ہیں اور پھر یہ شعر صادق آئے۔

اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا کیا ذلیل
میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

کیوں جناب ہر امت میں ایک نبی گزرا ہے مگر آپ کے عندیہ کے موافق مذہب اسلام میں کوئی نبی نہیں گزرا۔ جبھی تو آپ کے مبعوث ہونے کی ضرورت ہوئی اور اگر واقعی کوئی نبی گزرا ہے تو آپ کی نبوت کی ضرورت نہ رہی۔ کیونکہ مسلمان کوئی نئی امت نہیں ہیں۔ آیت سے تو

٣٥٩

صفحہ ٣٧٦

یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر امت کے لئے ایک نبی ہے۔ مگر آپ کا دعویٰ یہ بتاتا ہے کہ ہر امت کے لئے بہت سے نبی ہوں گے۔ تمام اولیاء کو آپ انبیاء بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت تک انبیاء آتے رہیں گے۔ مگر آپ کی بعثت کے موجودہ زمانہ میں آپ کے سوا نہ تو کوئی ولی ہے نہ آئندہ کوئی ہو۔ کیونکہ آسمانی باپ نے آپ کو خاتم الخلفاء بنا دیا ہے۔ ناظرین خیال فرمائیں کہ بات بات میں تخالف اور ہر دعوے میں تناقض ہے۔

قیامت تک جو انبیاء آپ کے دعوے کے موافق آئیں گے۔ تو آخر ان کی کوئی شناخت بھی ہونی چاہئے۔ اگر یہی شناخت ہے جیسی حضور کی ۔ تو سخن فہمی آسمانی پدر معلوم شد ۔ اور اگر کوئی شناخت نہیں تو تمام راہب اور تمام قسیس اور تمام مہنت اور تمام گرو اور تمام اسلامی مشائخ جن کے لاکھ لاکھ مرید ہیں۔ انبیاء ہیں کیونکہ آپ انبیاء کی کوئی شناخت بتا نہیں سکتے۔ اور جبکہ آیت مندرجہ عنوان پر آپ کا ایمان ہے۔ تو جو انبیاء آپ کے عقیدے کے موافق اس آیت کے مصداق ہیں تو ان پر آپ کا ایمان کیوں نہ ہو۔

پھر جس طرح مرزائی آپ کو نبی مانتے ہیں۔ تمام مذاہب والے اپنے اپنے پیشواؤں کو کیا نبی نہ مانیں۔ پھر آپ پر کوئی کیوں ایمان لائے۔ لیجئے امام الزماں خردجال کی سینگ بن گئی اور آپ نے اپنے ساتھ بہت سے نبی پیدا کر لئے۔ مبارک!

پھر آپ کا نذیر (ڈرانے والا) ہونا تو دنیا ہی تک ہے کہ فلاں مارا جائے گا۔ فلاں دھرا جائے گا۔ اور میں طاعونی نبی ہوں۔ طاعون میرا خالو اور ماموں ہے۔ آخرت اور قیامت سے کچھ علاقہ نہیں۔ نہ آپ نے اپنے لیکچروں میں کبھی بہشت اور دوزخ کا ذکر کیا۔ بہشت آپ پر ایمان لانا اور دوزخ سے آپ کا منحرف یا منکر ہونا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نیچر پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور نیچر کی رو سے احیاء اموات محال ہے۔ پھر آپ حشر اجسام اور قیامت اور بہشت اور دوزخ کی راگ مالا کیوں جپنے لگے؟ آپ کے لئے جو کچھ ہے دنیا ہی میں ہے۔ پس آیت ”وان من امة الا خلا فيها نذير“ صرف آپ کے نبی بننے کے لئے ہے۔ نہ کہ اس پر عامل ہونے کے لئے۔ پھر آپ کا یہ انذار اور تنذیر کتنا بودا تھا کہ عدالت کی ایک ہی ڈانٹ میں آسمانی باپ کے جوتے میں جا گھسا۔ یعنی جہاں سے نکلا تھا الٹا سیدھا وہیں چلا گیا۔ خاک تیرے کذاب کے منہ میں زقوم کی لڈو! آپ کا کام ہے صرف موت سے ڈرانا ہے اور جو سادہ لوح ڈر پوک (مرزائی) دھونس میں آئے وہ طاعون سے مرے اور جو دھمکی میں نہ آئے۔ مثلاً آسمانی منکوحہ کا شوہر یعنی آپ کا رقیب اور مثلاً آتھم اس کا بال بھی ٹیڑھا نہ ہوا پھر آپ کے نذیر ہونے

٣٦٠

صفحہ ٣٧٧

نے کیا تیر مارا۔ خوب یاد رکھو دنیوی موت انسان کے حق میں کچھ نہیں بلکہ حقیقی سزا وہ ہے جو بعد موت ملے گی جس سے آپ غافل ہیں۔

تعارف مضامین: ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء یکم دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ....... اسلامی نبی ہو کر کرشن جی کی پرستش

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اپنے دعوؤں میں خوب خوب رنگ و روپ بدل رہے ہیں۔ اول اول تو آپ اسلامی ولی رہے پھر اسلامی مجدد بن گئے ۔ پھر مالیخولیا کا تھرما میٹر بڑھا تو مثل مسیح اور بروزی نبی بنے۔ پھر امام الزمان ہو گئے ۔ مگر چونکہ لفظ زمان میں تمام اقوام و مذاہب داخل ہیں۔ لہٰذا آپ نے کل مذاہب کے اوتار بننے کا ڈھنگ ڈالا اور باوصف اسلامی نبی ہونے کے کفار کے اوتار بھی بن گئے۔ اور کفر و اسلام کو یوں گڈ مڈ کر دیا۔ تمام انبیاء کا مذہب صرف اسلام ہے اور وہ اس لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ دنیا سے بت پرستی اور کفر کو مٹائیں اور توحید کا جھنڈا گاڑیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک بتوں کو ریزہ ریزہ نہ کیا جائے اور بت پرستوں اور ان کے راہبوں، شماسیوں اور آتش پرستوں پر نفرت اور لعنت کا دارالبوار اور جہنم نہ کھولا جائے اور ان کے ناپاک افعال و کردار یعنی بت پرستی اور شرک کی برائیوں سے دنیا کو متنبہ نہ کیا جائے ۔ اور انبیاء اس لئے مبعوث ہوئے تھے۔

پس انہوں نے اپنا فرض ادا کیا اور بت پرستی اور کفر کی جڑ کھود کر پھینک دی۔ کسی نبی نے یہ کہہ کر میں نبی و امام الزمان ہوں بت پرستوں کے اوتاروں کو نہیں مانا۔ کیونکہ یہ تو بعینہ بت

٣٦١

صفحہ ٣٧٨

پرستی کا مان لینا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ہمہ تن صدق تھے۔ دنیا پر لات مارتے تھے۔ مداہنت ان کی شان کے خلاف تھی۔ مذہب اسلام اور سنت رسول اللہ میں تو نہ صرف بت پرستوں سے بلکہ بدعتیوں سے بھی میل جول کی ممانعت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی عجیب اسلامی نبی ہیں کہ جب تک مشرکوں اور بت پرستوں کے اوتاروں کو نہ مانیں اور ان کی مورتیوں کے سامنے سر نہ جھکائیں اپنا فرض تبلیغ و فرض نبوت ادا نہیں کر سکتے۔ یہ دنیا کے منصب و جاہ کی چوکھٹ پر سجدہ نہیں تو کیا ہے۔

انبیاء کو کفار نے کیسے کیسے لالچ نہیں دیئے کہ سلطنت اور مال و دولت کے تمہیں مالک ہو مگر ہم سے بت پرستی نہ چھڑاؤ۔ مگر العظمۃ للہ کہ انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام نے مردار دنیا اور اس کے جاہ و حشم کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ہو۔

انبیاء نے بے شک انبیاء کی وقعت کی ہے اور ہمارے نبی امی فداہ ابی وامی نے تو انبیاء کا اعزاز از حد ملحوظ رکھا ہے۔ مگر جس طرح تمام انبیاء نے بت پرستوں کی ملامت کی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی لات عزی اور ہبل وغیرہ اصنام عرب اور ان کے راہبوں اور پجاریوں اور عبدۃ الاصنام کی وہ توہین اور بے وقعتی کی ہے کہ ان کی صداؤں سے دنیا گونج رہی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ سری کرشن جی بت پرست تھے اور ان کے اصول وہی ہیں جو بت پرستوں کے ہیں۔ اسلامی اصول سے ان کو کوئی علاقہ نہیں مگر مرزا قادیانی نے جو بت پرستوں کے سردار کو مانا ہے تو محض دنیوی طمع سے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے لئے حتی الوسع ہر طرح پاپڑ بیلے مگر جب کسی طرح عقدہ کشائی نہ ہوئی تو اب رنگ میں اور بھی بھنگ ملائی۔ مسلمان تو ہر طرح بھوکے اور ننگے تباہ ہیں۔ مال و دولت میں ہنود سے ہر طرح گرے ہوئے ان سے خاطر خواہ موہن بھوگ کی تمنا فضول۔ پس جو کچھ جتن کئے اب ان پر پچھتانا پڑا لہٰذا کفر کی پناہ میں آنا ضروری تھا۔

دولت بغلط ہنود از سعی پشیمان شو
کافر نتوانی شد ناچار مسلمان شو

پھر سری کرشن اور رام چندر جی نے کونسی کتاب میں اپنے کو نبی یا اوتار کہا ہے اور وید میں نبیوں کا آنا کہاں لکھا ہے۔ کیا آریاء ہنود نہیں۔ وہ رام چندر جی اور کرشن جی کو کیوں نبی نہیں مانتے۔ صرف آپ پر الہام ہوا ہے کہ ہنود کے تمام رشی اور منی نبی تھے۔ مدعی سست گواہ چست۔

٢ ...... مرزا قادیانی سے مباہلہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی پہلے تو مسیح تھے اب راجہ کرشن جی بھی ہیں۔ معلوم نہیں خلل دماغی کا تھرما

٣٦٢

صفحہ ٣٧٩

میٹر کس درجہ پر ہے۔ بادی النظر میں تو شاید انتہائی درجہ پر پہنچ گیا ہے۔ آپ اپنی کتاب میں علماء دین اور فقرائے صالحین کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”آپ لوگ مجھ سے آ کر مباہلہ کریں۔ اگر آپ لوگ اپنے دعویٰ میں سچے ہوں گے تو خدا آپ کی مدد کرے گا۔ اور اگر میں سچا ہوں گا تو خدا میری مدد کرے گا ۔ وغیرہ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ تا ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩ تا ٣٣٥)

میں مرزا قادیانی کے لاطائل دعویٰ کے مقابلہ کے لئے تیار اور بخوشی مباہلہ کے لئے مستعد ہوں۔ مرزا قادیانی کو واضح ہو کہ میرا نام پہلے محمد شفیع تھا۔ اب محمد شاہ ہے میں اپنے اللہ کی جناب میں سر بسجود ہوا کہ اے مالک کون ومکاں! اے قادر دوجہاں! اے میرے پروردگار! اے میرے خدا! جو بات حق ہو مجھ پر عیاں کردے۔ معبود برحق کی جناب سے جواباً میرے تیرہ وتاریک دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ تو مرزا قادیانی سے مباہلہ کو ہمہ تن تیار ہو جا۔ خدا تیری مدد کرے گا۔ یہ مبارک آواز ایسی تھی جس نے مجھے فوراً آمادہ کر دیا۔ کہ میں مرزا قادیانی کو مباہلہ کے لئے اطلاع دوں۔

چنانچہ وہی آواز آج میری قوت بازو بن کر لکھوا رہی ہے یہ مباہلہ اس طرح کرنا چاہتا ہوں کہ پانچ من بارود کے ڈھیر پر ایک تخت چوبی اتنا بڑا بچھا دیا جائے جس پر میں اور مرزا قادیانی دونوں بخوبی اور بآرام کھڑے ہوسکیں۔ بعدہ باجازت گورنمنٹ بارود میں دیا سلائی دکھلائی جائے۔ اگر میں حق پر ہوں تو خدا میری مدد کرے گا اور میں سوزش نار سے محفوظ رہوں گا اور اگر مرزا قادیانی حق پر ہیں تو خدا ان کی مدد کرے گا۔ میری اس قدر آرزو اور ہے کہ اس خدائی فیصلہ کے جلسہ میں ہر مذہب وملت والے شریک ہوں اور جس جگہ یہ مباہلہ ہو وہاں کے جناب مجسٹریٹ صاحب بہادر بھی تشریف فرما ہوں۔

امید ہے کہ مرزا قادیانی بعد ملاحظہ مضمون ہذا بقیہ تاریخ، دن، وقت و مقام سے ناچیز حقیر کو مطلع فرمائیں گے۔ خاکسار بلا کسی حیلہ وحجت کے حاضر ہوگا۔ بالفرض اگر مرزا قادیانی اس میں کوتاہی کریں تو ہر شخص اور ہر مذہب وملت والے کو لازم ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو ایک اعلیٰ نمبر کا کاذب اور نجومی سمجھ کر اپنے آپ کو دام تزویر سے بچائیں۔ سید محمد شاہ اٹاوا۔

ایڈیٹر ...... محمد شاہ صاحب وارثی ہیں ایک ایک وارثی لپٹ پڑا تو آسمانی باپ بھی سہم کر نوک دم بھاگے گا اور پھر ننھا منا لے پالک لاوارث یتیم مسکین رہ جائے گا۔ وارث علی شاہ صاحب کے مرید کئی لاکھ ہیں۔ ابھی تو تانتا لگنا شروع ہوا ہے۔ جب یہ قادیان پر ٹڈی دل کی

٣٦٣

صفحہ ٣٨٠

طرح پڑا تو بانس رہے گا نہ بانسری۔ مرزائیوں کا دعویٰ تھا کہ دوارہ ، منارہ بھی مباہلہ کی بارود سے بھک سے اڑ جائے گا اور پھر لق و دق چٹیل میدان ہو کر باپ بیٹے دونوں کا منہ فق ہو جائے گا جو اس سے پہلے شفق یا حنائی رنگ بنا ہوا تھا۔ مگر یہ عجیب بات ہوئی کہ وارث علی شاہ صاحب نے تو بقول مرزائیاں مرزا قادیانی کو عیسیٰ مسیح کے مرتبہ پر پہنچا ہوا بتایا تھا۔ اب ان کے مرید رشید مرزا قادیانی سے مباہلہ کے دو دو ہاتھ کرنے کو مستعد ہیں۔ یہ الٹی گومتی کیوں بہنے لگی۔

٣ ...... اپیل خارج

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مجدد السنۃ شرقیہ کی پیشینگوئی آسمانی باپ کے بروزی کی پیشینگوئی نہیں کہ اوپر اوپر جائے ۔ امرتسر سے بعض پشمینہ فروشان وارد میرٹھ نے بیان کیا کہ مرزا قادیانی کی اپیل دوبارہ معافی جرمانہ جو مئی میں کی گئی تھی خارج ہوگئی۔ قرینہ بتاتا ہے کہ ضرور ایسا ہی ہوا ہے۔ اور اگر نہیں ہوا تو ہو کر رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ! کیونکہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ عدالتیں عادی مجرموں کو سزا دینے میں یہ بات ضرور ملحوظ رکھتی ہیں کہ ملک پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ خصوصاً ایسا مجرم جس کے ساتھ خود اس کے قول کے موافق دولاکھ سے اوپر دامنگیر ہوں (چیلوں، چاپڑوں) کا جمگھٹ ہو۔

پہلے تو متواتر یہ الہامی پیشینگوئیاں ہوئیں کہ لے پالک اچھوتا بری ہوگا اور جب جرمانہ کا درا سر پر دھرا گیا تو یہ الہام ہوا کہ مغلوب ہو جانے کے بعد غلبہ حاصل ہوگا۔ تا کہ عقلاء متحیر رہیں دم دبا کر نہ بھاگیں۔ لیکن اب بھی قوتِ منتظرہ باقی ہے کیونکہ چیف کورٹ جانا ضروری ہے اور جب وہاں سے بھی ہمون آش در کاسہ رہی تو معلوم نہیں کیا تاویل کی جائے گی۔ اچھا صاحب یہ بھی کر دیکھو مگر انجام معلوم ہے۔

٤ ...... نبی بننا خالہ جی کا باڑہ نہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

قرآن مجید تیرہ سو برس سے دنیا میں موجود ہے اور نہ صرف دنیا کے ٤٠ کروڑ مسلمانوں میں بلکہ ہر طبقہ وملت میں پھیلا ہوا ہے۔ اور اکثر مخالفین بھی از روئے انصاف اقرار کرتے ہیں کہ یہ خدائے تعالیٰ کا کلام ہے اور محمد ﷺ پر اترا ہے اور دوسرا شخص اس کا مورد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کلام مجید بجمیعہا ان معاملات اور واقعات کے موافق نازل ہوتا رہا ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں واقع ہوئے ہیں۔

اب قرآن تو وہی بین دفتی المصحف ہے اور قیامت تک بین الانام متداول رہے گا

٣٦٤

صفحہ ٣٨١

مگر نہ وہ زمانہ ہے نہ وہ واقعات ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی کے خوارق سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح آپ بروزی (تناسخی) بنے ہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے زمانے کو بھی موجودہ زمانے کا بروزی مانتے ہوں۔ یعنی وہ زمانہ بھی عود کر کے موجودہ زمانے میں حلول اور بروز کر گیا ہو۔ آپ خرقِ نیچر کے تو قائل نہیں۔ مگر بروز اور حلول کے قائل ہیں۔ جیسے آریا کہ معجزات کو تو ان نیچرل بتاتے ہیں۔ مگر زندگی میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد جب انسان خاک یا راکھ ہو جاتا ہے تو گدھا اور کتا اور سور بن سکتا ہے یہی عقیدہ مرزا قادیانی کا ہے۔ دنیا میں بہت سے جھوٹے نبی اور دجال آئے مگر یہ کسی سے نہ ہو سکا کہ آیات کلام مجید کا نزول اپنے حق میں بتاتا اور دجالوں پر کیا حصر ہے ہر شخص دعویٰ کر سکتا ہے کہ فلاں آیات میرے حق میں ہیں۔ لیکن ایسا شخص پاگل خانے میں بھیجے جانے کا مستحق ہوگا۔

معلوم نہیں آپ اپنے کو محمد ﷺ کا امتی کیوں بتاتے ہیں؟ جب قرآن کی آیتیں آپ پر نازل ہوئی ہیں اور محض خیال میں وہ واقعات اور ان کا وقوع مسترد ہو کر آپ کے زمانہ میں حلول کر آیا ہے تو آپ جدا گانہ مستقل نبی آنحضرت ﷺ کے ہمسر اور رقیب ٹھہرے نہ کہ امتی۔ اور واقعی ہے بھی اسی طرح۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے تو آپ رقیب اور حریف ہیں ہی۔ پھر تمام انبیاء کے کیوں حریف اور رقیب نہ ہوں۔ ہندوستان میں تو زیادہ تر مسلمان اور عیسائی ہی ہیں۔ یہودی وغیرہ دیگر امتیں بہت کم ہیں۔ پس آپ نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رقیب ہیں۔ نہ عزیر علیہ السلام کے۔ اور چونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں بلکہ اہل مذاہب سے کئی حصہ زیادہ ہنود ہیں۔

پس اب آپ کرشن جی کے بروزی بن کر ان کی حریف بنے ہیں۔ یعنی جس طرح محمد ﷺ کے بروزی بن کر مذہب اسلام کی جڑ کاٹ رہے ہیں۔ اسی طرح اب ہندو مذہب کی جڑ کاٹیں گے۔ ابھی تو ہنود کا سر سہلایا ہے۔ ہاتھ پھیرا ہے ذرا دیکھتے جائیے۔ رفتہ رفتہ کیا ہوتا ہے۔ مسیح بننے پر کوئی عیسائی ایمان نہ لایا تو عیسیٰ مسیح کو مغلظات سنائیں۔ اب کرشن بننے پر کوئی ہندو آپ کے سامنے ڈنڈوت نہ کرے گا تو بھی گالیاں کرشن جی کے پرالبت میں لکھی ہیں۔ انشاء اللہ!

ایک کھلی بات ہے کہ جو شخص خود نبی بنا ہے اور اس نے اپنا نیا مذہب تراشا ہے تو وہ دوسرے انبیاء اور اوتاروں کو کیوں مانے گا۔ بلکہ صفحہ ہستی سے سب کا نام تک مٹانا چاہے گا۔ مگر یاد رہے کہ چند روز میں خود بدولت ہی مٹ جائیں گے اور یہ زمانہ سازی اور دنیا طلبی بہت جلد زمین میں دفن کر دے گی۔ کیا وجہ ہے کہ قرآن کی بعض آیتیں آپ پر نازل ہوئیں اور بعض واقعات بھی

٣٦٥

صفحہ ٣٨٢

عود کر آئے تمام قرآن کیوں نازل نہ ہوا نہ آنحضرت ﷺ کے تمام واقعات لوٹ کر آئے۔ انہی میں جنگ بدر، جنگ حنین، جنگ تبوک، جنگ خندق بھی ہیں اور سب میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو فتح دی۔ آپ بروزی محمد بن کر جہاد کے نام سے بھی تھرتھر کانپتے ہیں۔ گھر سے باہر نکل کر چوہیا تک نہیں ماری۔ بلکہ جہاد کو منسوخ کر دیا۔ بات تیرے جھوٹے برازی کے منہ میں ، دجال کا براز اور پلید کے منہ میں خردجال کی لید۔ آپ (براہین ص ٥٦١، خزائن ج١ ص ٦٧٠) میں جدا جدا آیتوں ”ففھمنا ھا سلیمان اور فاتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“ کو ایک جگہ گڈ مڈ کر کے اپنے لئے الہام بناتے ہیں۔ اور یہ معنی گھڑتے ہیں کہ وہ نشانی سلیمان کو سمجھائی یعنی اس عاجز (مرزا) کو۔

پس تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو یعنی (میری) پہلی آیت میں اپنے کو سلیمان اور دوسری آیت میں ابراہیم بنایا۔ یعنی خدائے تعالیٰ نے ساری خلقت کو میری اتباع کا حکم دیا۔ یہ منہ اور باسی ساگ۔ یہ لے پالک کے بھاگ اور آسمانی باپ کا یہ بے وقت کا راگ۔ با ایں ہمہ دعویٰ علم و فضل اتنا بھی سلیقہ نہ ہوا کہ اپنا مطلب دوسرے الفاظ میں گھڑ لیتا۔ آیات قرآن مجید ہی کو مسخ کرنے چلا۔ آخر مردود دجال کیونکر بنتا۔ ابے مجدد السنہ شرقیہ کی جانب رجوع کرتا اور اس کی تجدید پر ایمان لاتا تو ایسے اچھوتے الہام القاء ہو جاتے کہ آسمانی باپ کے فرشتوں کو خواب میں بھی نہ سوجھتے۔

جناب باری نے کلام مجید میں ہر نبی کا ذکر صراحۃً کیا ہے نہ کہ اشارۃً اور مجملاً۔ اور خدائے تعالیٰ کو اشارے اور تعمیہ سے کام لینے کی کیا ضرورت ہے۔ کہ نام تو کسی کا اور اس سے مراد ہو کوئی اور کیا ابہام اور اجمال اور اشارے اور کنائے اور تعمیہ سے ہدایت تامہ ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہماری طرف رجوع لاتا تو ہم سیدھا اور صاف الہام یوں دم کر دیتے۔ ”فعلمنا المرزا العلامات والبرہان۔ فعمرو المنارة فی قادیان من الایمان والایقان والاذعان“ دیکھ تو سہی کیسا پھڑکتا چوچوہاتا سجع الہام ہے۔

برائے نام تو آپ مسیح موعود یا بروزی محمد ہیں مگر درحقیقت سلیمان بھی ہیں ابراہیم بھی ہیں اور اب شو جی کی کرپا سے اس کلجگ میں دھارن کر کے سریکرشن بھی رام چندر بھی ہیں۔ لچھمن بھی ہیں ہنومان بھی ہیں، مطلب یہ کہ دنیا میں جس قدر با عظمت اکابر گزرے ہیں سب آپ ہیں اور خچر کے بھبکے میں سب کا عطر اور ست کھینچ کر توشہ شریف میں وارد ہو گیا ہے۔ ایسا اکذب مفتری نقلی دجال آج تک کوئی نہیں گزرا۔ سب کے کان کاٹ ڈالے۔ لیکن مرزا کیسے ہی جتن کرے ہم

٣٦٦

صفحہ ٣٨٣

پھر بھی کہیں گے کہ وہ دجال اکبر ہرگز نہیں۔

٥ ...... مرزا قادیانی اور عبداللہ چکڑالوی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ضمیمہ شحنہ ہند مطبوعہ ١٦ نومبر میں ایک مراسلہ حیرت انگیز نظر سے گزرا خلاصہ اس کا یہ ہے کہ چکڑالوی اور قادیانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قادیانی ہمہ وجوہ مذمت و جرح و قدح کے لائق اور چکڑالوی چند وجوہ سے مدح و ثناء کے قابل ہے۔ اس لئے کہ چکڑالوی نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ خود قرآن مجید پر چلتا ہے اور لوگوں کو چلانا چاہتا ہے وغیرہ۔

اس کی نسبت افسوس کے ساتھ گزارش ہے کہ اسلام کے سوا جس قدر فرقے دنیا میں موجود ہیں۔ اگر ان میں سے ایک کا دوسرے کے ساتھ موازنہ و مقابلہ کیا جائے تو صاف طور پر معلوم ہوگا کہ ایک فرقہ دوسرے کے مقابلہ میں اچھا ہے۔ لیکن اس اضافی خوبی اور برائے نام عمدگی سے وہ قابل مدح و ثناء اور اسلام کے مثل کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اس زمانہ میں اسلام کے مخالف زیادہ تر دو فرقے مشہور ہیں عیسائی و آریہ، جب ان دونوں میں موازنہ کیا جاتا ہے تو آریہ کسی قدر اچھا نظر آتا ہے۔ اس لئے کہ عیسائیہ خدا کے لئے بیٹا تجویز کرتا ہے اور تثلیث کو جزو ایمان قرار دیتا ہے اور کفارہ کا قائل ہے۔ آریہ نہ خدا کے لئے بیٹا قرار دیتے ہیں۔ نہ تثلیث سے واسطہ رکھتے ہیں۔ بلکہ خدا کے واحد ہو نیکا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن بالجملہ جس طرح عیسائیہ کافر و مشرک ہیں اسی طرح آریہ ہیں۔

یہود و نصاریٰ کی نسبت حق تعالیٰ نے سورہ مائدہ میں فرمایا ”لتجدن اشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين اشرکو...... الخ“ یعنی مسلمانوں کے سخت دشمن یہود اور بت پرست لوگ ہیں اور مسلمانوں سے دوستی کرنے والے نصاریٰ ہیں۔ لیکن با ایں ہمہ جس طرح یہود کافر و مشرک ہیں۔ اسی طرح نصاریٰ ہیں۔ ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثہ...... الخ وغیرھا من الآیات“

چکڑالوی نے بے شک نیا دعویٰ نہیں کیا اور قادیان کی طرح نیا روپ نہیں دکھایا۔ لیکن نیا نہ ہونا اور پرانا ہونا اسی قدر ہے کہ چند سال پیشتر سرسید احمد خان بھی یہی دعویٰ کر چکے ہیں۔ یعنی عمل و اعتقاد کے لئے صرف قرآن کافی ہے۔ احادیث سب کی سب لغو و بے اعتبار ہیں۔ اگر نیا نہ ہونے سے یہی مقصود ہے اور اسی لحاظ سے چکڑالوی کو قابل مدح و ثناء قرار دیا جاتا ہے تو ایسی فہم و فراست پہ حیف چکڑالوی نے تو یہاں تک لکھا کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ پر پچاس

٣٦٧

صفحہ ٣٨٤

نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں۔ بلکہ صرف پانچ ہوئی تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے غلطی سے ان کو پچاس سمجھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے بار بار جناب باری میں تخفیف کا سوال کیا۔ اس غلطی میں حق تعالیٰ کو بھی شامل کیا گیا۔

چکڑالوی نے دعویٰ تو بہت بڑا کیا یعنی تمام مسائل دینیہ قرآن مجید سے ثابت ہو سکتے ہیں حدیث کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن جب ان سے سوالات کئے گئے تو جواب میں حیلہ بہانہ محض ملمع سازی۔ نماز کے ارکان و فرائض کے متعلق دریافت کیا گیا کہ قرآن کی کس آیت سے ثابت ہے۔ لیکن جواب میں کوئی آیت پیش نہ کر سکا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم“ اور فرمایا ”انا علینا جمعہ وقرآنہ الیٰ قولہ ثم ان علینا بیانہ“ اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قرآن مجید کی شرح وتفسیر ہے چکڑالوی کو اس سے صاف انکار۔

اب وہ قادیانی کے مثل کیونکر نہیں۔ ہاں اس قدر فرق ہو سکتا ہے کہ قادیانی بڑا اور چکڑالوی چھوٹا بھائی ہے لیکن آیہ کریمہ ”ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدٰی“ کے تحت میں دونوں پورے طور پر داخل ہیں۔ اور دونوں میں یہ فرق کرنا کہ قادیانی محصنہ اور کنواری مستورات کو عقد میں لانے کے لئے نئے نئے الہامات بناتا ہے اور چکڑالوی کی یہ کیفیت ہے کہ ایک بی بی فوت ہو گئی تو کسی قسم کی ہوس دامن گیر نہیں ہوئی۔ اس کی نسبت گزارش ہے کہ چکڑالوی کی ہوس دامن گیر نہ ہونے کی جدوجہد ہے کہ عصمت بی بی از بے چادری زیادہ تفریح کی ضرورت نہیں۔ یہ باتیں بہت سے کفار و مشرکین میں بھی پائی جاتی ہیں۔ لیکن صرف یہ وجہ قابل تحسین نہیں ہو سکتی۔ دوم نکاح نہ کرنا آیہ قرآنی ”مثنیٰ وثلاث ورباع“ کا صریح انکار کرنا ہے۔ اب فرمائیے آپ عامل بالقرآن بلکہ قرآنی کیونکر ہوئے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٨/ دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٦/ کے مضامین

٣٦٨

صفحہ ٣٨٥

٤...... مرزا صاحب۔ اخبار زمیندار! ٥...... بروز اور تناسخ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٦...... مرزا اور مرزائیوں کو مبارک۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٧...... صورت مثالی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٨...... نام میں بھی خبط۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... قطعہ تاریخ سزایابی مرزا قادیانی

مولوی محمد صاحب ڈسکاوی!

سزا یاب جب سے ہوا قادیانی ہوئی محو مردک کی سب لنترانی
خفا ہوگیا باپ حیف آسمانی گیا بھول بیٹے کی گردن چھڑانی
رہائی کی تدبیر اپنی نہ جانی کہاں گم ہوئی تیری وہ غیب دانی
دریغا پدر نے پسر کو پھنسایا مگر قدر نا اہل کی کچھ نہ جانی
خیال اس کو افسوس یہ بھی نہ آیا کہ بیٹے کو ہے ضعف اور ناتوانی
نہ امت پھری اپنے جعلی نبی سے مریدوں نے کچھ بھی نہ کی آنا کانی
مگر چونکہ مردود سب بے بصر ہیں تو آئے نظر کیا کتاب آسمانی
سیہ رو ہوئے سب سزا مل گئی جب پھر اس کے چہروں پہ لعنت کا پانی
چھڑانے میں کیں کوششیں حد سے افزوں پھرے کوبکو در بدر خاک چھانی
بفضل خدا اہل اسلام جیتے عدو کے مقابلے ہوئی مہربانی

١٣٢٢ھ

مرزا قادیانی کے مرتد ہونے یعنی مکھیاجی بننے کی تاریخ

از مولانا ابوالمنظور محمد عبدالحق صاحب کوٹلوی السر ہندی!

مسیحا سے مرزا مکھیا بنا نیا تار مکڑی نے ہر سو تنا
بنا مکر کی تیلیوں کا قفس بہت سے پھنسیں تا کہ مچھر مگس
کھلا آخر شحنہ پر اس کا کید جو چوروں کو کرتا ہے زنداں میں قید
خفا ہوگیا آسمانی پدر کیا در سے بیٹے کو اپنے بدر

٣٦٩

صفحہ ٣٨٦
یہ تاریخ سن لیں خواص وعوام ہوا مسخ اب قادیانی غلام
١٩٦١ بکرمی

٢ ...... مرزا قادیانی کا گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

آپ جب ولی بنے تو خیال کیا کہ ولی تو بہت سے گزرے ہیں۔ میں نے ہی کیسا کمال کیا۔ پس ترقی کرنی چاہئے۔ جھٹ سے مثیل عیسیٰ بنے مگر اول تو مثل کے لئے مساوات ضروری نہیں۔ ادنیٰ امور میں بھی مماثلت ممکن ہے۔ دوم ..... آپ کے اس خیالی پلاؤ پر عیسائیوں نے منارے سے بھی کہیں زیادہ لمبے منہ بنائے۔ آپ کا مطلب تو یہ تھا کہ عیسائی میری آؤ بھگت کریں گے۔ بیف بسکٹ، جیلی، چاء، قہوہ وغیرہ لیکر دوڑیں گے۔ جیسے عشاء ربانی میں۔ مگر انہوں نے تو یہود سمجھ کر اٹھارہواں فل بوٹ کھوپڑی شریف کی چندیا پر دور ہی سے جڑ دیا۔ جس کی آواز گونج اٹھی کہ ٹھا کہیں۔

جب خر دجال کا بس عیسائیوں پر کچھ نہ چلا تو عیسیٰ مسیح علیہ السلام پر کنوتیاں دبا کر اور دم اٹھا کر دولتیوں کا ابراز شروع کر دیا۔ کہ عیسیٰ علیہ السلام ایسا تھا اور ویسا تھا۔ تاہم بجائے مثیل مسیح ہونے کے عین میں اور ہو بہو مسیح موعود بن گئے مگر عیسیٰ بن مریم نہیں بلکہ مسیح بن اُلھڑا۔ اب یہ مصیبت آپڑی کہ احادیث میں مہدی علیہ السلام کے ساتھ اصحاب کہف کا آنا مشروط ہے۔ چنانچہ امام قرطبی نے فرمایا ”وروت فرقة ان النبى قال ليحجن عيسى بن مريم ومعه اصحاب الكهف فانهم لم يحجو بعد ذكره ابن عينية. ومكتوب في التورة والانجيل ...... فعلى هذا هم نيام ولم يموتوا الى يوم القيامة قبيل يموتون قبل الساعة (الجامع لاحکام القرآن ج ١٠ ص ٣٣٨،٣٤٧)“ ﴿اور ایک بڑے گروہ نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ضرور حج کریں گے اور اصحاب کہف آپ کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اب تک حج نہیں کیا اور ایسا ہی توریت وانجیل میں ہے۔ اس صورت میں اصحاب کہف ابھی تک سوتے ہیں۔ مرے نہیں اور نہ قیامت تک مریں گے۔ بلکہ ساعت سے پہلے فوت ہوں گے۔﴾

علی ہذا دار قطنی میں محمد بن علی سے روایت ہے کہ ”ان المهدی یخرج مع عیسیٰ فیساعده على قتل الدجال بباب لد“ ﴿مہدی بالضرور عیسیٰ کے ساتھ خروج کریں گے اور دجال کے قتل میں باب لد پر عیسیٰ کی مدد کریں گے۔﴾ یہ ایسی مصیبت ہے کہ مرزا اور مرزائیوں

٣٧٠

صفحہ ٣٨٧

کے سروں سے ٹل نہیں سکتی۔ عیسیٰ مسیح کو تو جوں توں کر کے یہود بن کر مارا تھا اب غضب یہ ہوا کہ اصحاب کہف بھی زندہ ہیں۔ ایک کو مارا تو چھ اور پیدا ہو گئے۔ سب سے زیادہ غضب الہی یہ ٹوٹ پڑا کہ یہ سب مردود دجال کو قتل کریں گے۔ پس مرزا قادیانی کو اپنی موت نظر آگئی۔ تو جھٹ سے بول اٹھے کہ مہدی بھی میں، یہ نہ کہا کہ دجال بھی میں۔ عیسیٰ مسیح بھی آپ۔ مگر دجال کوئی اور۔ پھر مصالحہ معہ جملہ لوازم کہاں پورا ہوا۔ حدیث لامہدی الاعیسیٰ پر جو نہ صرف مجروح بلکہ موضوع ہے آپ کا ایمان اور صحیح احادیث جو آپ کے مطلب کے خلاف ہیں ان کا بالکل انکار چودھویں صدی میں عیسیٰ بھی آ رہا ہے اور مہدی بھی اور طرفہ یہ کہ ایک ہی برزخ اور تشخص میں۔ اور انبیاء بھی قیامت تک لاکھوں اور کروڑوں آئیں گے مگر دجال ایک بھی نہ آئے گا۔

ابھی ابھی ہمارے دیکھتے سوڈان میں کتنے مہدی گزرے کیا دلیل ہے کہ وہ تو جھوٹے تھے اور آپ سچے ہیں۔ آپ میں یہ طرہ لگا ہے کہ آپ مہدی بھی اور عیسیٰ بھی۔ مگر ہم ان دونوں مادوں کا جو عام خاص من وجہ ہیں افتراق بھی دکھائے دیتے ہیں۔ سومالی لینڈ میں ملا عبداللہ مہدی ہے مگر مسیح نہیں اور لندن میں مسٹر پگٹ اور پیرس میں ڈاکٹر ڈوئی مسیح ہیں مگر مہدی نہیں۔ فرمائیے لا مہدی الاعیسیٰ والی حدیث کیونکر صحیح ہوئی۔ پھر عیسیٰ اور مسیح کا ایک وجود میں جمع ہو کر آنا تو آپ قرآن وحدیث سے ثابت کرتے ہیں۔ مگر ان دونوں میں مہاراجہ کرشن جی کا دھارن کرنا کہاں سے ثابت کریں گے۔ کیا وید سے؟ اور ظاہر ہے کہ جب آپ کرشن جی ہیں اور صاحب الہام اور وحی اور صاحب روح القدس مان چکے ہیں تو ویدوں کو کیونکر وحی اور الہام نہ مانیں گے۔ اب آپ کو ثابت کرنا پڑے گا کہ کونسے وید میں کرشن جی کا نبی اور اوتار ہونا اور پھر دوبارہ ایک ملیچھ (مسلمان) کے سریر میں دھارن کرنا لکھا ہے۔

یہ گدھا پن تو ملاحظہ فرمائیے کہ آج تک لفظ موعود کے معنی بھی معلوم نہیں۔ اگر موعود سے وہی مسیح مراد ہے جو پہلے گزر چکا ہے تو یہ آپ کے دعوے کو مضر ہے کیونکہ وہ تو وفات پا گیا اور اگر کوئی اور مراد ہے جس میں وہ صفات پائی جائیں سو اس کا نام مسیح کیوں ہوا۔ اگر اشتراک اسمی ہے تو ہزاروں مسیح اور مہدی دنیا میں موجود ہیں۔ مثلاً محمد مہدی اور محمد مسیح یا ابوالمہدی اور ابوالمسیح وغیرہ۔ آپ میں سرخاب کی کونسی دم لگ گئی۔

علیٰ ہذا آپ اپنے کو آنحضرت ﷺ کا بروزی بتاتے ہیں اور جہاد سے ڈر کر یہ تاویل چھانٹتے ہیں کہ لفظ محمد جلال اور لفظ احمد میں جمال ہے۔ پس میں احمد ہوں یعنی غلام احمد۔ محمد نہیں ہوں۔ پھر جب ایک صفت سلب ہوگئی تو آپ گنجے بروزی ٹھہرے۔ پھر جلال اور جمال کسی شخص

٣٧١

صفحہ ٣٨٨

کے نام سے متعلق ہے یا ذات سے۔ ذات تو مجموعہ صفات و شخص کا نام ہے اور جب ایک مسلمہ صفت سلب ہوگئی تو ذات من حیث الذات کہاں رہی۔ یہ آپ کے ڈھکوسلے مجددانہ مرزائیہ شوکت اللہ کے حضور ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔ نہ مضحکہ طفلاں سے زیادہ ان کی وقعت ہو سکتی ہے۔

٣...... مرزا قادیانی اپنے عیوب انبیاء کے سر پر تھوپتے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب پیشینگوئیاں غلط ہو جاتی ہیں تو مرزا قادیانی لاطائل تاویلوں سے پبلک کی آنکھوں میں خاک جھونکنا چاہتے ہیں اور غلط ہو جانے کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ آتھم اور آسمانی منکوحہ والی اور مقدمات میں فتحیابی کی جو پیشینگوئی کی۔ ناظرین کے اب تک نصب العین ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اور مرزائی بھی کہتے ہیں کہ مولوی کرم الدین کو شکست ہوئی ہے اور ہم کو ہر طرح کی فتح ملی ہے۔ اس دروغ گویم بروئے تو کا کیا علاج سچ ہے ۔

بے حیا باش ہرچہ خواہی کن

پھر انکار بھی ہے اور اقرار بھی۔ یعنی پیشینگوئیاں غلط بھی ہیں اور صحیح بھی۔

دروغ گو را حافظہ نباشد

پھر یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میری پیشینگوئیاں غلط ہو گئیں تو کیا ہوا انبیاء کی پیشینگوئیاں بھی غلط ہوگئی ہیں۔ خود آنحضرت ﷺ کی فلاں پیشینگوئی اور فلاں خواب یا کشف و مشاہدہ غلط ہو گیا۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ میں ہی جھوٹا نہیں ہوں بلکہ انبیاء بھی معاذ اللہ جھوٹے تھے۔ حالانکہ کسی نبی کی کوئی پیشینگوئی کبھی غلط نہیں ہوئی۔ یہ انبیاء پر سراسر بہتان ہے۔

کسی نبی نے دوسرے نبی پر کذب وافتراء کا عیب نہیں لگایا۔ کیونکہ یہ تو گویا اپنے اوپر عیب لگانا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس کی کیا پروا۔ انبیاء پر تو عیب نہیں لگ سکتا۔ مرزا ہی اپنے کو عیوب کا پتلا بنا رہا ہے اگر انبیاء میں معاذ اللہ کچھ بھی عیب ہوتا تو خدائے تعالیٰ اپنی کتاب پاک میں ان کی نبوت صادقہ اور نوع انسان پر ان کی افضلیت کی ہرگز تصدیق نہ کرتا اور نہ ہم کو یہ تعلیم دیتا کہ" لا نفرق بين احد من رسله" اگر انبیاء میں کذب کا کچھ بھی شائبہ ہوتا تو تمام آسمانی کتابیں جو ان پر نازل ہوئیں اور تمام صحیفے اور تمام وحییں اور الہامات غلط اور جھوٹے ہو جاتے اور قیامت نازل ہو جاتی۔ کوئی ہزار دفعہ سچ بولے اور ایک دفعہ جھوٹ۔ تو وہ جھوٹا ہی کہلائے گا۔ تھوڑی سی نجاست بہت سے پانی کو ناپاک اور ایک گندہ مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔

٣٧٢

صفحہ ٣٨٩

یہ تو اخبث الخبائث مرزا ہی کا جگر ہے کہ اپنے ساتھ تمام انبیاء کو کاذب بتاتا ہے۔ بڑے بڑے بہادر کفار اور مشرکین کو بھی یہ کہنے کے سوا چارہ نہ ہوا کہ ”ما یکذب محمد قط“ یعنی محمد ﷺ کبھی جھوٹ نہیں بولتا مگر مرزا قادیانی نے کفار کے بھی کان کتر لئے۔ لعنت لعنت!

٤ ...... مرزا قادیانی

اخبار زمیندار!

اخبار زمیندار لکھتا ہے مرزا قادیانی نے سیالکوٹ کے لیکچر میں مسیح موعود کے علاوہ سری کرشن جی کا اوتار ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ صوفیائے کرام میں ”فنا فی الشیخ فنا فی الرسول فنا فی اللہ“ ہونے کے تو درجے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس شخص کے خیال میں محو اور مستغرق رہے اس کے دماغ میں اس چیز یا اس شخص کا عکس بھی اس درجہ تک منعکس ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے کو وہی چیز وہی شخص سمجھنے لگتا ہے۔ ایک زمیندار ایک بزرگ کی خدمت میں مرید بننے کے لئے حاضر ہوا۔ اس بزرگ نے پہلا سبق یہ دیا کہ جو چیز یا جو شخص تمہیں دنیا میں زیادہ محبوب اور عزیز ہو اس کا خیال اپنے دل میں باندھو مرید نے کہا کہ مجھے تو اپنی ایک بھینس بہت عزیز ہے۔ بزرگ نے کہا کہ اس کا خیال دل میں قائم کرو۔ اس ارشاد کی تعمیل میں زمیندار اپنے چوبارہ میں بیٹھ کر بھینس کا خیال پکانے لگا۔ اور ہفتہ دو ہفتہ کے عرصہ میں فنا فی البھینس ہو گیا۔ اور ایک بار مرشد صاحب اس گلی میں سے گزرے جہاں زمیندار کا چوبارہ تھا۔ زمیندار نے کھڑکی میں سے مرشد کو دیکھ لیا اور کہنے لگا کہ اگر میرے سینگ دریچہ میں نہ اٹکتے تو میں آپ کی پیشوائی کو حاضر ہوتا۔ منصور کا انا الحق کہنا اسی اصول پر مبنی تھا۔ پس مرزا قادیانی بھی جو عرصہ دراز سے مسیح کے حالات پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ اگر انا المسیح کہہ دیں تو مندرجہ بالا حالات کے رو سے ان کا ایسا کہنا بالکل جائز ہوگا۔

اور اگر وہ انا الکرشن کہہ اٹھیں تو غلط نہ مانا جائے گا۔ ذلک مسیح القادیان قول الحق الذی فیہ یمترون ممکن ہے کہ جس طرح بہت سے مسلمان مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں۔ بہت سے ہندو بھی ایمان لے آئیں۔ اور ممکن ہے کہ مقدس گرو نانک کی طرح مرزا قادیانی کی وفات پر مسلمانوں اور ہندؤوں میں ان کی لاش مبارک کی نسبت جھگڑا ہو۔ ایک فریق کہے کہ ہم مسلمانوں کے مذہب کے مطابق ان کا جنازہ پڑھیں گے اور ان کا جسد مقدس قبر میں رکھیں گے اور ہندو یہ دعویٰ کریں گے کہ آپ ہمارے کرشن جی کا روپ ہیں۔ ہم انہیں جلائیں گے۔ مرزا قادیانی کو چاہئے کہ اس بحث کا اپنی زندگی میں فیصلہ کر جائیں۔

٣٧٣

صفحہ ٣٩٠

٥ ...... بروز اور تناسخ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہم پہلے ان دونوں لفظوں کے معنی بتائیں پھر دونوں کے مصداق اور مورد پر بحث کریں گے۔ پس واضح ہو کہ بروز بالضم کے معنی باہر آنا اور ظاہر ہونا ہے اور براز بالکسر کے معنی جنگ کے لئے صف سے باہر آنا یعنی مبارزت اور بالفتح زمین فراخ اور غائط ، بروز کے معنی از روئے لغت روح کا ایک قالب سے نکل کر دوسرے قالب میں جانا ہرگز نہیں۔ اور چونکہ لغت اور اصطلاح میں مناسبت اور مشارکت فی المعنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا بروز کی مندرجہ بالا اصطلاح بھی یاروں کی گھڑت ہے ماحصل یہ ہے کہ بروز ہرگز تناسخ کا مرادف نہیں جس کے معنی ایک قالب سے دوسرے قالب میں روح کا جانا ہوسکیں۔ البتہ تناسخ کے لغوی معنی زائل ہونا اور ایک قرن کا دوسری قرن کے بعد آخر کو پہنچنا اور ایک زمانے کا دوسرے زمانے کے بعد آنا اور میراث کی تقسیم سے پہلے کسی مردہ کے وارثوں کا مر جانا یعنی مناسخت اور اصطلاحی معنی کسی روح کا ایک قالب سے نکل کر دوسرے قالب میں جانا۔

مرزا قادیانی کو اول اول یہ کہتے ہوئے تو شرم آئی کہ میں تناسخی نبی ہوں کیونکہ تناسخ کے معنی عرف عام میں آوا گون کے ہیں جو ہندو دھرم کے اصول میں داخل ہے۔ اس کی جگہ بروزی بنے مگر بات ایک ہی ہے گو نہیں بچی چھپی ۔ براز نہیں غائط ۔ اخیر میں اپنے منہ پر آپ تھپڑ مارا کہ میں نے آریا سے مناظرہ کرتے ہوئے تناسخ کی کیوں تردید کی تھی۔ کرشن جی کے بروزی بن گئے۔ اس مردود سے کوئی پوچھے کہ کرشن ہندو تھا یا مسلمان۔

پھر طرہ یہ ہے کہ ہندو دھرم آپ کے تناسخی اوتار ہونے کا بھی انکار کرتا ہے۔ کیونکہ آواگون کے معنی ایک ہی روح کا ایک ہی قالب میں جانا ہے۔ نہ کہ کئی روحوں کا ایک قالب میں جانا اور جمع ہونا۔ کیا معنی کہ پہلے تو آپ بروزی محمد بنے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی روح مقدسہ ومطہر نے آپ کے پلید جسم میں حلول کیا ہے اور اب کرشن جی کے اوتار بنے کہ ان کے جیو نے میرے سریر میں دھارن کیا ہے۔ دوسرا طرہ اور لیجئے۔ آسمانی باپ نے آپ پر الہام کیا ہے ”جری اللہ فی حلل الانبیاء (تذکرہ ص ٩٩ طبع ٣)“ یعنی خدا کا نبی انبیاء کے حلوں میں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء کے اجسام اب کہاں ہیں۔ دوم یہ کہ ایک روح بہت سے اجسام میں ہے۔ ایک خبط ہوتو اس کو رویا جائے آپ کو تو آسمانی باپ نے سینکڑوں خبطوں کا مرقع بنا کر بھیجا ہے۔

بھلا کوئی نبی دوسرے نبی کے قالب میں حلول کر کے دنیا میں آیا بھی ہے۔ ایسے

٣٧٢

صفحہ ٣٩١

انوکھے اور بوالعجب نبی تو آپ ہی ہیں کہ کبھی تو آپ کی روح ہانپتی کانپتی ( جہاد کے خوف سے ) دوسرے مردہ جسموں میں حلول کر کے پاتال کو پہنچ جاتی ہے اور کبھی آپ کا ناپاک جسم دوسری بہت سی روحوں میں پہنچ کر ان کو گندہ اور نجس کرتا ہے۔

آپ کو یا آپ کی روح کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں تو خدا کیوں لے جانے لگا بلکہ اپنے چیلوں کو بھی حج سے منع کر دیا ہے۔ ہاں اب گرو اور چیلے مہتر اور بھنگن ناتھ جی کی جاترا تیرتھ کے درشن کریں گے۔ اور خدا نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا بشرطیکہ کچھ ہندو منڈ جائیں۔

٦...... مرزا اور مرزائیوں کو مبارک

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

امریکہ میں بھی ایک مسیح پیدا ہوا ہے جو انگریزی نسل سے ہے یہ شخص ١٨٣٩ء میں بمقام اڈنبرگ پیدا ہوا۔ اور ٣٠ برس کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ آسٹریلیا پہنچا اور پھر اڈنبرگ آکر مدرسہ لاہوت میں داخل ہو گیا۔ اور جب تحصیل سے فارغ ہوا تو سڈنی واقع آسٹریلیا میں پادری مقرر ہو گیا۔ یہاں کچھ دن رہ کر شکاگو پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ملک عجائب پرست ہے۔ پس ایک ڈھکوسلا نکالا اور دعویٰ کیا کہ مسیح کی روح مجھ میں حلول ہو گئی ہے۔ بہت سے آدمی اس کے مدعی کاذب کے معتقد ہو گئے جن میں سے اکثر زردار اور مالدار بھی تھے۔ غرضیکہ شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچی کہ علاقہ ایلی لویس میں بہت سی زمین خرید کر خود صیہوں نامی ایک شہر آباد کیا ہے جس میں ١٢٠٠٠؍ ہزار آدمی آباد ہیں۔ اور سینکڑوں عالیشان عمارتیں وہاں بن گئی ہیں۔ اور خود مسیح نے بھی اپنی یادگار کے طور پر ایک عالیشان عمارت بنوائی ہے جس میں ٧٥٠٠ آدمی سما سکتے ہیں۔ اس شہر میں جب تک امریکن مسیح کا معتقد اور مطیع نہ ہو کوئی نہیں رہ سکتا۔ اور جو وہاں رہتے ہیں وہ خزانہ مسیح کے لئے خراج ادا کرتے ہیں۔ جب یہ مسیح اپنے شہر کی تعمیر سے فارغ ہو چکا تو ٤٠٠٠؍ ہزار آدمی اور ٥٠٠؍ مطرب اور ٥٠٠؍ باجے والے ساتھ لے کر ہدایت عام اور دعوت دین کی غرض سے باہر نکلا۔

ایڈیٹر ..... مرزا اور مرزائی ذرا پھوٹے دیدوں سے دیکھیں کہ نبی عرب و عجم ﷺ کی دجالون کذابون والی پیشینگوئی کیسی صادق ہو رہی ہے۔ گویا ہر ملک کی زمین دجالوں کو اگل رہی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کرشن کنھیا بنے ہیں۔ اور مذہب ہنود میں راگ اور بھجن عبادت الٰہی میں داخل تھے اور اب اپنی مریدنیوں سے پردہ بھی ساقط کر دیا ہے۔ لہٰذا ان گوپیوں کو معہ ساز و سامان طبلہ سارنگی پکھاوج ستار وغیرہ ساتھ لیں اور جا بجا بھجن اڑاتے پھریں۔ پھر دیکھیں چنیوں پر کتنے

٣٧٥

صفحہ ٣٩٢

لعل گرتے ہیں اور مرزائی مذہب کس قدر ترقی کرتا ہے۔ اب تو امریکن مسیح کی تقلید کے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ پھر جب آپ تاویلوں سے تصویر پرستی جائز کر دی ہے تو رقص وسرود کا جائز کر دینا کیا بڑی بات ہے۔ اس کی تاویل ہم بتائے دیتے ہیں۔ کلام مجید میں ہے ”ان انکر الا صوات لصوت الحمیر “ یعنی تمام بری آوازوں میں گدھے کی آواز بری ہے۔ دیکھئے اس سے اچھی آواز کی خوبی نکلی مگر ایسا نکتہ خر دجال کب سمجھ سکتا ہے؟

٧ ...... صورت مثالی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی اپنے آسمانی باپ کی الہامی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں کہتے ہیں کہ ”قرآن میں ”برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “سے مراد میں ہوں اور کیا خدائے حی قیوم ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت مثالی پر نہیں بنا سکتا......الخ “بے شک خدائے تعالیٰ میں سب طرح کی قدرت ہے مگر مرزا قادیانی کے نزدیک تو خدائے تعالیٰ صرف صورت مثالی بنانے پر قادر ہے کہ ایک ہی انسان کو کبھی آنحضرت ﷺ کی صورت مثالی پر بنائے کبھی کرشن جی کی صورت پر لیکن احیاء واموات اور انبیاء کے معجزات قدرت وفطرت وسنت الہی کے خلاف ہیں۔

ناظرین! آپ نے آج کل اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ ولایت میں ہو بہو دو شخص ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کی ہم شکل ہیں لیکن کیا وہ ملک معظم ہیں۔ اگر ان کے دماغ میں بھی ایسا ہی خبط ہو جیسا مرزا قادیانی کے دماغ میں ہے تو ملک معظم ہونے کا دعویٰ کریں۔ اور علی الاعلان نقارہ بجائیں کہ تاج برطانیہ کے مالک اور وارث ہم ہیں۔ عقلاء کا ایک جم غفیر ان کے ساتھ ہولے بہت سی مثالی صورتیں باہم مماثل ہیں مگر نری مماثلت سے کیا کام چل سکتا ہے۔

ہوتے سیرت سے ہیں مردان دلاور ممتاز
صورت میں تو کچھ کم نہیں شہباز سے چیل

صورت ہی پر تکیہ ہو تو فوٹو کی تمام تصویریں بالکل اصل کے مطابق ہوتی ہیں۔ مگر اصلی انسان نہیں ہوتیں۔ خدائے تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا ”قل انمـــا انـــا بشـر مثلکم “مگر کیا آنحضرت ﷺ صرف مماثلت بشریہ کی وجہ سے عام انسانوں کے مانند ہیں اور کیا کوئی مسلمان دعویٰ کرسکتا ہے کہ میری اور آنحضرت ﷺ کی صورت مثالی ایک ہے۔ معاذ اللہ۔

٣٧٦

صفحہ ٣٩٣
کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ ماند در نوشتن شیرو شیر

پھر بھی مرزا قادیانی کی صورت مثالی میں دو حیثیتیں ہیں۔ اس حیثیت سے کہ خود بدولت کے عندیہ اور اذعان کے موافق مسیح علیہ السلام (معاذ اللہ) فاسق و فاجر اور مداری کا تماشا دکھانے والے تھے۔ آپ مثل مسیح نہیں ہیں اور اس حیثیت سے کہ مسیح علیہ السلام نصاریٰ کے عقیدے کے موافق ابن اللہ تھے۔ آپ بھی متبنیٰ (لے پالک) ہیں گویا آپ مثیل مسیح ہیں بھی اور نہیں بھی۔ ماحصل یہ کہ آپ کے ہر ایک دعویٰ کے اجزاء آپ اپنی تردید کر رہے ہیں۔ تمام گزشتہ دجالوں اور جھوٹے مہدیوں نے اپنے لئے ایسی ہی مثالی صورتیں تجویز کیں مگر وہ خود بخود مٹ گئیں۔ اسی طرح بہت جلد آپ کی صورت بھی صورت غبار یا حباب بن کر ہوا ہو جائے گی۔

زندگی میں یہ خبط آپ کے دماغ میں ہمیشہ سے سمایا ہوا ہے کہ دعویٰ تو خاص ہوتا ہے اور دلیل عام، بلکہ دعویٰ تو فعلیت کا اور دلیل امکان کی۔ یعنی میں بالفعل بروزی ہوں اس کی دلیل یہ ہے کہ کیا خدائے تعالیٰ ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت مثالی پر نہیں بنا سکتا۔ یہ آپ کی منطق ہے۔

٨ ....... نام میں بھی خبط

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

حدیث میں پیشینگوئی ہے کہ خود عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آنے کی۔ پھر مرزا قادیانی مثیل کیونکر بن گئے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ عیسیٰ موعود نہیں ہیں۔ عیسیٰ موعود تو ایک ہی ہوگا نہ کہ متعدد البتہ دجال بہت سے ہوں گے اور ہو چکے ہیں۔ لہٰذا آپ کو مثیل الدجال کہنا صحیح اور موزوں اور حدیث شریف اور واقعات کے مطابق ہے جس قدر دجال اب تک آئے اور اس وقت موجود ہیں کسی نے اپنے کو عیسیٰ بتایا کسی نے مہدی۔ کیا یہ سب مہدی اور مسیح تھے اور ہیں پھر ساتھ ہی بروز کی دم لگی ہوئی ہے۔ حدیث میں کہاں ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بروزی آئے گا اور آج تک کوئی بروزی نبی آیا بھی ہے؟ پھر آپ امام الزمان بھی ہیں نبی تو امام الزمان ہوتا ہی ہے۔ یہ حشو اور لغو نہیں تو کیا ہے۔ چونکہ امام الزمان ایک بڑا لفظ ہے لہٰذا آپ نے وہ بھی اپنے لئے تراش لیا۔ پھر آپ مجدد بھی ہیں۔ مجدد بھی اگرچہ بڑا لفظ ہے مگر نبی سے بڑا نہیں خود مجدد کے معنی ہی شہادت دیتے ہیں کہ وہ امتی ہوتا ہے نہ کہ نبی۔

٣٧٧

صفحہ ٣٩٤

نبی پر ہرگز مجدد کا اطلاق نہیں ہوتا نہ لغۃ نہ شرعاً۔ نہ عرفاً۔ پس آپ کبھی تو پنکھ لگا کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں کبھی تحت الثریٰ میں گر جاتے ہیں۔ پھر آپ مریدوں کو حضرت امام ابوحنیفہ کی تقلید کا اکثر حکم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور مجدد تو کجا آپ مجتہد بھی نہیں ہیں۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ایک امتی کے امتی ہیں۔ کجا نبی کجا امتی الامتی۔ بالکل لٹیا ہی ڈبودی۔ عرش سے فرش پر آرہے۔ اب کسی مرزائی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ ان کا مرشد نبی ہے۔ بہر حال آپ مسیح ہیں۔ بروزی ہیں۔ امام الزمان ہیں۔ مہدی ہیں۔ خلیفہ ہیں۔ کرشن جی کے اوتار ہیں۔ اے سبحان اللہ کیا کیا صفتیں آپ کی ذات میں کمپاؤنڈ ہو کر اچھا خاصہ مکسچر بن گئی ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ١٦؍دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... گرو جی سے چیلوں کی مخالفت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

دنیا طلبی اور حب جاہ و ناموری کی ترنگ میں مرزا قادیانی جو کچھ ہانکتا ہے اپنے مطلب کے موافق ٹھیک ہانکتا ہے۔ مگر وہ چیلے جو درحقیقت چیلے نہیں رہے بلکہ گرو جی کے استھان سے راندے ہو گئے ہیں جب مسلمان ان کے منہ میں گوہ دیتے ہیں کہ تمہارے بروزی نے اب کرشن جی کے بروزی ہونے کا ابراز کیا ہے تو وہ گرو جی کے کلام کی تاویل مالا یرضی بہ القائل کرتے ہیں کہ انہوں نے یوں نہیں کہا بلکہ یوں کہا ہے۔ اور ان کا مطلب یہ نہیں بلکہ یہ ہے ہم کو ان نا خلفوں پر جو گھر کے بھیدی بن کر لنکا ڈھا رہے ہیں اس قدر غصہ آتا ہے کہ قابو چلے تو قادیان سے بلکہ

٣٧٨

صفحہ ٣٩٥

ہندوستان سے جلاوطن کر کے لندنی پادری یا امریکن مسیح کے اردل میں ان کو چلتا کر دیں یا سومالی مہدی کے ماتھے ماریں۔ گرو نے تو صاف کہہ دیا کہ میرے سریر میں اب کرشن نے دھارن کیا ہے اور اب مجھے اسلام اور اہل اسلام سے کچھ واسطہ نہیں رہا۔

چنانچہ جب سیالکوٹ میں بڑی بھاری سبھا کے سامنے اپدیش کیا تو وہاں کے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بھی یہی فرمایا کہ اب مسلمانوں کو اس اپدیش سے کچھ سابقہ نہ رہا۔ ہنود جانیں اور وہ جانیں۔ صاحب بہادر نے بجا فرمایا لیکن وہ یہ فرمانا بھول گئے کہ اب اس بہروپیے سے عیسائیوں کو بھی کچھ واسطہ نہ رہا کیونکہ وہ اس سے پہلے مسیح بھی بن چکا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح قطع تعلق ہوتا چلا جائے گا۔ اور اخیر میں آپ صرف چغتئی مغل رہ جائیں گے اور مسخرے آسمانی باپ نے وقتاً فوقتاً جو خطابات کے خلع فاخرہ اپنے لے پالک کو دیئے ہیں۔ سب سلب ہو جائیں گے اور عرفی لنگوٹی باقی رہ جائے گی۔ یا ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے دھرنے سے شاید ننگ و آبرو بچ جائے۔

نہیں عریانی سے بہتر کوئی دنیا میں لباس
یہ وہ جامہ ہے کہ جس کا نہیں سیدھا الٹا

جب کہا میں بروزی نبی ہوں تو سنی مسلمانوں نے لاحول کی پیزار سر پر جڑی جب کہا میں حسینؓ سے افضل ہوں تو شیعہ نے وہ تبرے کسے چھرے اور لعن کی کرپانین اور طعن کی قرابین اور نفرین کی کمانین رسید کیں کہ پتلے کا پلاستر بگڑ گیا اور کلیجے کا پلتھن نکل گیا۔ جب کہا میں عیسیٰ مسیح سے کئی بانس اونچا ہوں تو عیسائیوں نے ایسا نیچا دکھایا کہ زمین دوز کر دیا۔ اب کہا کہ میں کرشن جی کا اوتار ہوں تو دیکھیں ہنود کیا موہن بھوگ اور لڈو کچوری اور امرتی اور جلیبی لیکر دوڑتے ہیں۔ بھگوان نے چاہا تو اس گوبر گنیش کے منہ پر گئو متر بھی نہ ماریں گے کیونکہ گئو متر تو پوتر ہے جو ڈسٹوں اور مہا ملیچھوں کو بھی دیوتا بنا دیتا ہے۔ ہاں چلو میں مانس متر لے کر دوڑیں گے۔ اس کے بعد آپ لال گرو بن گئے جو آپ کے بڑے بھائی لال بھگو کی میراث اور گدی ہے مگر یقین کر لیجئے کہ لال بیگی بھی منہ پر بول و براز کی بھری جھاڑو ہی ماریں گے۔ گوہ کے ساتھ آپ کا موت بھی نکل پڑے گا۔ پھر جب چماروں کے بھگت بنیں گے تو وہ بھی اپنے بھائیوں لال بیگیوں سے کیوں پیچھے رہنے لگے۔ اٹھارہ بیس لیترے اور چوبیس بچکانوں کے کھونسرے ایسے ٹھائیں ٹھائیں جڑیں گے کہ کھوپڑی ادھڑی استر کی جوتی کا تلا بن جائے گی۔ اور آپ کی چمڑی دمڑی کو بھی نہ بکے گی۔ یہاں آ کر خدا نے چاہا تو خاتمہ ہو جائے گا۔ الخبیثات للخبیثین۔

٣٧٩

صفحہ ٣٩٦

٢ ...... بقیہ مرزا قادیانی اپنے عیوب انبیاء پر تھوپتے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الزامی جواب ہمیشہ خصم کو دیا جاتا ہے خصوصاً غیر مذہب والوں کو۔ مگر مرزا قادیانی عجیب مسلمان اور آنحضرت ﷺ کا امتی ہے کہ اپنے نبی پر تخلف پیشینگوئی (کذب) کا الزام لگاتا ہے۔ پہلے پہل جب عیسیٰ مسیح کو عیوب کا مرقع قرار دیا تھا تو بافراست اور مبصر اہل ایمان تاڑ گئے تھے کہ مرزا قادیانی کے دل میں انبیاء کی کوئی وقعت نہیں۔ حالانکہ نبی نبی سب ایک ہیں۔ ایک کی بے وقعتی سب کی بے وقعتی ہے اور اسی سے مرزا قادیانی کو مرتد اور جہنمی سمجھ گئے تھے اب تو ؎

جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے

مرزا خود بول اٹھا کہ فلاں فلاں معاملے میں آنحضرت ﷺ کا کشف اور رؤیا اور پیشینگوئی غلط (کاذب) ہوگئی اور چونکہ کذب بہت بڑا عیب ہے۔ خصوصاً انبیاء کے لئے اور خود بھی نبی بنا ہے۔ لہٰذا کہتا ہے کہ انبیاء کی پیشینگوئی کا غلط ہونا اور وعدہ الٰہی کا تخلف سنۃ اللہ ہے اس کا یہ مطلب ہوا کہ انبیاء ہی جھوٹے نہیں بلکہ خدا بھی جھوٹا ہے۔ ہاں تیرے جھوٹے خر دجال کے منہ میں نار دوزخ کا لگام اور دم میں سرخ انگارے کی طرح تپتے ہوئے پہنچے۔

سنۃ اللہ تو اس پر جاری رہی ہے کہ ہر نبی نے دوسرے نبی کی تصدیق کی ہے کہ تمام انبیاء سچے تھے اور میں بھی سچا ہوں مگر یہ مکار، عیار طرار یہ ثابت کرتا ہے کہ تمام انبیاء جھوٹے تھے۔ لہٰذا میں بھی جھوٹا ہوں اور واقعی جب خدا ہی تخلف وعدہ کر کے مرزا قادیانی کے نزدیک معاذ اللہ جھوٹا ہوگیا تو اس کے بھیجے ہوئے انبیاء اور رسل کیوں جھوٹے نہ ہوں۔ ایسی بیہودہ ملحدانہ بکواس پر اُلو کے پٹھوں کو ذرا شرم نہیں آتی اور اس بدمعاش کے منہ پر تھپڑ نہیں مارتے کہ جب تو بھی دوسرے انبیاء کی طرح جھوٹا ہے تو ہم کیوں ایمان لائیں اور جب انبیاء بھی صادق نہ رہے تو دنیا سے صدق اٹھ گیا اور راستبازی اور راست معاملگی کا خواہ دینی ہو خواہ دنیوی کوئی معیار نہ رہا۔ انبیاء کی نسبت یہ کہنا کہ ان کی پیشینگوئی غلط ہوگئی۔ سراسر توہین بلکہ ان پر سب ولعن ہے۔ چنانچہ شفاء قاضی عیاضؒ میں ہے ”من سب النبی ﷺ او الحق به نقصا فی ذاته وصفاته اویاتی بسفه من القول فی عبارة او قبیح من الکلام ولو باشارة وما فیه من قلة الادب فی جهة علیه السلام وان ظہرانہ لم یعمد ذمه فی مقاله لکن صدر عنه اما بجهالة بنعوت جلالہ نحو او قلة مراقبة فی شانه وضبط نہ قلة مبالاة فی بیانه

٣٨٠

صفحہ ٣٩٧

فحكم بالقتل اذا لا يعذر احدفى الكفر بالجهالة ولا بدعوى زلل اللسان...... اذ كان عقله فى فطرته (شفاء ص ١٨٨،١٨٩،٢٠٤،٢٠٧ ملخص) ”جس شخص نے نبی ﷺ کو برا کہا یا آپ کی ذات اور صفات میں کوئی نقص ملایا کوئی بے ادبی کی طرز بیان میں یا اشارہ میں خواہ نادانی سے یا عمداً یا طرز بیان میں بے پروائی اور جرات کی۔ اگرچہ ظاہر ہو جائے کہ اس نے عمداً اپنے کلام میں گستاخی نہیں کی بلکہ واقعی آپ کے نعوت جمال سے ناواقف ہے۔ یا اس نے آپ کی شان کی نسبت مراقبہ (غورو فکر) نہیں کیا۔ اور خبط اللسان اور بیان کی کم پرواہ کی تو ایسا شخص حکماً قتل کیا جائے گا کیونکہ کفر کے ارتکاب میں جہالت کا عذر اور زبان کی لغزش وغیرہ قبول نہیں جبکہ اس کی عقل فطرتاً صحیح اور سالم ہے یعنی وہ فاتر العقل مجنون نہیں۔“

علیٰ ہذا جس مسلمان کو کچھ بھی استعداد ہے وہ چھوٹی سی کتاب مالابد مولفہ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی کی مندرجہ ذیل عبارت پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔ ”ملعونی که در جناب پاك سرور کائنات ﷺ دشنام دهد یا اهانت کند در وصفی از اوصاف او یا در صورت مبارك او خواه آنکس مسلمان بود یا ذمی یا حربی۔ اگرچه از راه هزل کرده باشد واجب القتل کافر است توبه او مقبول نیست اجماع امت بر آنست که بی ادبی بهرکس از انبیاء کفرست خواه فاعل او حلال دانسته مرتکب شود یا حرام دانسته انتهیٰ“

مگر اب تو آزادی کا زمانہ ہے برٹش گورنمنٹ کے عہد میں کون کسی کو قتل کر سکتا ہے۔ ذرا مرزا قادیانی افغانستان، فارس، ترکی وغیرہ ممالک اسلامیہ میں جا کر کسی نبی کی شان میں لب کشائی کریں تو حقیقت معلوم ہو۔ افغانستان میں افغانی دنبہ لے پالک کی بھینٹ چڑھ ہی گیا۔ برٹش گورنمنٹ بھی کسی کی توہین جائز نہیں رکھتی اور قانوناً سزا دیتی ہے۔ مذہبی توہین تو سڈیشن میں داخل ہے جس کی بڑی سزا حبس دوام بعبور دریائے شور ہے مگر یہی غنیمت ہے کہ میاؤں کی آواز نہیں آتی۔ ورنہ بھاگنے کو چوہے کا بل بھی نہ ملے جیسا ابھی کابل میں ہو چکا۔

٣ ...... خرق اجماع نیشنلی کو برباد کرتا ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

تمام انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام جدی جدی امت کے لئے مبعوث ہوئے اور ہر امت میں اتفاق و اتحاد پیدا ہوا۔ ورنہ دنیا میں نیشنلی اور نیشن (قوم اور قومیت) کا وجود نہ پایا جاتا

٣٨١

صفحہ ٣٩٨

اور یہ درحقیقت قدرت و فطرت کا لایزال قانون ہے۔ تمام حیوانات بلکہ نباتات ومعدنیات و جمادات میں بھی یہ قانون جاری ہے۔ بھیڑوں بکریوں ، بندروں کوؤں، مرغابیوں وغیرہ جانوروں میں کیسا اتفاق ہے۔ ہر قسم کے نباتات و بقولات پھل پھول ایک ہی رنگ کے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے جواہرات کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے۔ یعنی تمام لعل و یاقوت سرخ ہی ہوں گے۔ تمام قسم کے زمرد سبز ہی ہوں گے۔ علیٰ ہذا۔ پس انسانوں کے قومی اتفاق کا مٹانا گویا قانون قدرت کا مٹانا ہے جو محال ہے۔

امت محمدیہ کا اجماع بھی دینی اور دنیوی امور میں محض نیشن اور نیشنلٹی کے قیام و دوام کے لئے ہے اور کتاب وسنت سے جو مسائل مستنبط ہو کر تیرہ سو برس سے معمول بہا رہے ہیں اور جو عقائد مسلمانوں کے دلوں میں مرتکز ہیں ان کی بنیاد بھی نیشنلٹی ہے۔ پس اجماع کا خرق کرنے والے بڑے ظالم ہیں کہ نیشن اور نیشنلٹی کے گلے پر چھری پھیر رہے ہیں۔ اسی کا ضمیمہ مسئلہ نبوت ہے جو تیرہ سو برس سے حسب تعمیل ارشاد الٰہی دائر سائر چلا آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ اب کسی مکار کا دعویٰ بالکل خرق اجماع اور محمدن نیشنلٹی کی تباہی اور عقد ثریا کو بنات النعش بنانا اور نئی امت اور نیا نیشن ایجاد کرنا قوم اور قومیت کے شیرازے کو بکھیر دینا ہے۔ لاکھوں سلف صالحین اور علماء محدثین و مجتہدین ومفسرین میں سے کسی کو آیت خاتم النبیین کے یہ معنے اور یہ تاویل نہ سوجھی جو برہم زن اسلام قادیانی کو سوجھی ہیں اور تاویلیں بھی وہ جن کو سن کر بچے تک قہقہے لگائیں اور اہل مذاہب واقوام غیر مضحکے اڑائیں۔ ہم قادیانی تاویلوں کا تار و پود اپنے سینکڑوں مضامین میں اڑا چکے ہیں۔ لہٰذا اعادے کی ضرورت نہیں۔

مردود کا مطلب یہی ہوا نا کہ اجماع کرنے والے نادان اور بے وقوف یا گمراہ تھے اور زیادہ سے زیادہ آنحضرت ﷺ اپنے زمانہ جاہلیت کے نبی تھے اور وہ بھی عرب کے لئے نہ کہ ہفت اقلیم کے لئے۔ میں موجودہ روشنی کے زمانہ کا نبی ہوں۔ اور ہندوستان میں تو کوئی نبی بجز رام چندر اور کرشن جی کے آیا ہی نہیں۔ اور محمد ﷺ نے بڑی غلطی کی کہ ان کی نبوت کو نہیں مانا۔ اگر چہ وہ بت پرست تھے یا کسی مذہب کے تھے مگر نبی تو تھے۔ اب میں اسلامی مجدد اور رفارمر بن کر رامچندر اور کرشن کی نبوت ماننے اور منوانے آیا ہوں اور دلیل یہ آیت قرآنی ہے ”منهم من قصصنا عليك و منهم من لم نقصص عليك“ سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے کہ یہ گزشتہ انبیاء کا

٣٨٢

صفحہ ٣٩٩

ذکر ہے نہ کہ آئندہ کا۔ کیونکہ آئندہ کے لئے تو نبوت ختم ہو گئی ۔ اگر کہو کہ رام چندر اور کرشن بھی مثل دیگر انبیاء کے آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ تو تعجب ہے کہ آنحضرت ﷺ پر تو خدائے تعالیٰ نے ان کی نبوت کا قصہ مجمل رکھا اور مرزا قادیانی کو مفصل بال کی کھال نکال کر دکھادی ۔ دوم ہم لکھ چکے ہیں کہ نبوت ختم ہو چکی ہے اور حکم الٰہی نازل ہو چکا کہ ”ومن يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه“

سوم...... مرزا قادیانی کو تو اپنا الو سیدھا کرنا اور یہ دکھانا ہے کہ ”منهم من لم نقصص عليك“ میں میں بھی شامل ہوں اور جس طرح لاکھوں اور کروڑوں بلکہ اربوں نبی مثل رام چندر و کرشن پہلے گزر چکے ہیں۔ ان سے بڑھ کر مجھ جیسے غیر متناہی نبی قیامت تک گزریں گے۔ بات یہ ہے کہ آپ اس وقت تک نبی نہ بن سکے جب تک کفار و مشرکین کو نبی نہ بنالیا۔

آپ کی نبوت کرشن جی کی نبوت کی محتاج تھی اور چونکہ آپ امام الزمان ہیں۔ لہٰذا ٣٣ کروڑ ہندو کا امام یا اوتار بننا بھی تو آسمانی باپ کے بتائے ہوئے فرائض میں سے تھا۔ اب ہم منتظر ہیں کہ آپ ہنود پر کیا ابلاغ و تبلیغ کرتے ہیں۔ کرشن جی تو ویدی تھے کیا آپ ان پر وید کا اوپدیش کریں گے۔ اگر قرآن کی تبلیغ کریں گے تو ہنود دھوتیاں گلے میں ڈال کر اور اینٹھ کر آپ کا گلا گھونٹ ڈالیں گے۔ یہ رانڈس اس دیش میں کہاں سے آ مرا۔ اگر آپ ویدی نبی ہیں تو وید ہی کے اشلوک آپ پر کیوں الہام نہ ہوئے۔ قرآن مجید کی آیتیں کیوں الہام ہوئیں اور وید و قرآن گڈ مڈ ہو نہیں سکتے کہ آپ کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے ہاتھ میں وید۔ یعنی ایک ہاتھ میں توحید اور دوسرے ہاتھ میں بت۔ مگر آپ سادھو پنے کے فن میں بھی پورے نہیں بلکہ ادھورے ہیں۔ ہندو تو کیا ڈھب پر چڑھیں گے۔ اس دورنگی میں تو نوگرفتار الو بھی ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔

درکفے جام بلورین درکفے سندان عشق
هر هوسناکے نداند جام وسندان باختن

آنحضرت ﷺ کو تو قرآن مجید میں یہ ارشاد ہوا کہ بعض انبیاء کے قصص ہم نے تجھ پر بیان کر دیئے اور بعض کے بیان نہیں کئے۔ اس کے خلاف آسمانی باپ نے لے پالک پر یہ وحی اتاری کہ ”قصصنا عليك الانبياء كلهم“ گویا انبیاء کا جو علم غیب اور شناخت آنحضرت ﷺ کو عطا نہیں ہوئی وہ کرشن کے اوتار کو عطا ہوئی۔ پھر یہ مردود تمام انبیاء کی کیوں شناخت نہیں کرتا۔

٣٨٣

صفحہ ٤٠٠

جن کے قصص جناب باری نے بیان نہیں فرمائے اور سب کا نام لے کر کیوں نہیں بتاتا کہ قرآن میں جناب باری نے جن کی تفصیل نہیں فرمائی وہ فلاں فلاں ہیں کیا مبہم میں صرف کرشن ہی داخل ہے اور آئندہ جس قدر لاکھوں اور کروڑوں نبی قیامت تک گزریں گے ان کے نام کیوں نہیں بتاتا۔ کیا وجہ ہے کہ تجھے گزشتہ انبیاء کا علم غیب تو ہو گیا اور انبیاء مستقبلہ کا علم نہ ہوا۔ جبھی تو ہم نے لکھا ہے کہ؎

جھوٹا یہ نجومی ہے اناڑی رمال

٤ ...... خدائے تعالیٰ مردوں کو زندہ نہیں کر سکتا؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب مرزا اور مرزائیوں کے سامنے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی جاتی ہے ”ابرء الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ“ تو نہ صرف عیسیٰ مسیح پر بلکہ قرآن اور خدائے قرآن پر بھی چین بجبیں اور غضبناک ہوتے ہیں کہ ایں! مردوں کا زندہ کرنا تو نیچر کے خلاف ہے اور خدائے تعالیٰ کی بھی طاقت نہیں کہ لازاف نیچر کا خلاف کر سکے۔ خدائے تعالیٰ نے جو اپنی صفت محیی تراشی ہے تو نیچر کا انحراف کیا ہے۔ ہاں اس کی صفت ممیت ضرور ہے وغیرہ۔ ہم کہتے ہیں ممیت تو بہت سی اشیاء کی صفت ہے۔ تمام درندے اور گزندے تمام سمیات ممیت ومہلک ہیں ہر انسان اپنے لئے اور اپنے دشمن کے لئے ممیت ومہلک ہے یعنی جب چاہے اپنے کو اور جب چاہے کسی دوسرے کو مار سکتا ہے۔ اس میں خدائے تعالیٰ کا کیا کمال اور قدرت ظاہر ہوئی۔ اس پر تو لے پالک اور اس کا آسمانی باپ بہت آسانی سے قدرت رکھتے ہیں۔ آتھم کو مار ڈالا۔ آسمانی منکوحہ کے شوہر کو مار ڈالا اور اب طاعون بھیج کر دشمنوں اور دوستوں دونوں کا خطا بے خطا وجہ بے وجہ صفایا کر رہے ہیں۔ اس میں لازاف نیچر کو بھی دخل نہیں۔ نہ اس کی منظوری کی ضرورت۔ ٹیڑھی کھیر تو زندہ کرنا ہے۔ اس پر چونکہ باپ بیٹا اور ان کا نیچر قادر نہیں۔ لہٰذا خدائے تعالیٰ بھی قادر نہیں۔ بے شک اندھوں کا یہی نیچر ہے کہ ان کے نزدیک سارا جہان اندھا ہے۔ ”ان اللہ علیٰ کل شئی قدیر“ پر ایمان مگر احیاء اموات شئی من الاشیاء نہیں اور جب خدائے تعالیٰ ایک جزئی پر قادر نہیں تو کل اشیاء پر قادر کیونکر ثابت ہوا۔ خدائے تعالیٰ مردہ زمین تک کو زندہ کر سکتا ہے۔ ”یحیی الارض بعد موتھا“ مگر مردہ انسانوں کو کہ وہ بھی زمین (خاک) ہی سے پیدا ہوئے ہیں زندہ نہیں کر سکتا۔

٣٨٤

صفحہ ٤٠١

آیت مذکورہ بالا میں سیدنا المسیح علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ میں خدا کے حکم سے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو تندرست، مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ اب ہم ان خران دجال سے پوچھتے ہیں کہ مردوں کا زندہ کرنا بھی سنت اللہ اور فطرت اللہ کے خلاف ہے یا اندھوں اور کوڑھیوں کا تندرست کرنا بھی سینکڑوں طبیب اور ڈاکٹر اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اپنے علاج سے تندرست کر دیتے ہیں۔ گو ایک عرصہ کے بعد سہی مگر مردوں کو بجز انبیاء کے بحکم الٰہی کوئی زندہ نہیں کر سکتا۔ اب مندرجہ بالا آیت میں عیسیٰ مسیح کا دعویٰ گویا دو متضاد اجزاء سے مرکب ہوا۔ ایک سنت اللہ وفطرت اللہ کے موافق ہے۔ یعنی اندھوں اور کوڑھیوں کا اچھا کرنا اور دوسرا دعویٰ سنت اللہ وفطرت اللہ کے خلاف یعنی مردوں کا زندہ کرنا اور خود تم بھی صرف احیاء اموات کو سنت اللہ کے خلاف بتاتے ہو نہ کہ اندھوں کے بینا کرنے اور کوڑھیوں کے اچھا کرنے کو بھی۔

تم نے تو ہمیشہ احیاء اموات ہی کی تاویل کی ہے کہ مراد احیاء قلوب یعنی ہدایت ہے نہ کہ ”ابراء الاکمہ والابرص“ کی بھی ورنہ تم کو ماننا پڑے گا کہ بیماروں کا تندرست کرنا بھی فطرت اللہ کے خلاف ہے۔ اور پھر حکیم الامۃ المرزائیہ کی بڑے طمطراق کی طبابت طاق میں دھری جائے گی۔ نبض دیکھنے سے ان کے ہاتھ شل ہو جائیں گے اور قارورہ دیکھنے سے پیشاب خطا ہو جائے گا۔ اس تاویل سے آپ ہی کا دعویٰ متناقض نہیں ہو گیا بلکہ کلام الملک العلام میں بھی اختلاف پیدا ہوا کہ ایک ہی آیت میں ایک دعویٰ تو فطرت اللہ کے مطابق ہے اور دوسرا مخالف۔ بہت کم امید ہے کہ مرزا اور مرزائی مجدد السنہ مشرقیہ کی لطیف اور نازک اور بایں ہمہ دقیق تحریریں سمجھیں گے اور ایمان لائیں گے۔

٥ ...... قادیانی کا کرشن بننا

آریہ گزٹ!

آریہ گزٹ لکھتا ہے۔ مرزا قادیانی جو مسیح موعود بنے تھے اب سری کرشن جی کے اوتار بن بیٹھے چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ اگر مرزا قادیانی مسیح ہی بنے رہتے تو شاید کچھ عذر چل سکتا لیکن کرشن مہاراج کا اوتار بننا اور یہ دعویٰ کرنا کہ میں ہندوؤں کی اصلاح کے لئے آیا ہوں۔ اپنے منہ کی کھانا ہے۔ کہاں کرشن کامل انسان اور کہاں مرزا قادیانی! ہم نہیں جانتے۔ یہ الہام آپ کو قادیان کے حجرہ میں آیا یا مجسٹریٹ کی عدالت میں۔ مرزا قادیانی ہندوؤں پر نظر شفقت رکھیں۔ ہندو ان کی انوکھی لیلاؤں سے پناہ مانگتے ہیں۔ عطائے تو بہ لقائے تو۔ ابھی بہت دن نہیں ہوئے۔ مرزا قادیانی جن لفظوں سے ہندوؤں کو یاد کیا کرتے تھے وہ شاید بہتوں کو بھولے نہ ہوں گے۔

٣٨٥

صفحہ ٤٠٢

مرزا قادیانی کے نئے سوانگ سے لوگ دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ مرزا قادیانی کی یہ موشگافیاں کیسی ہی سمجھی جائیں مگر ان کا اصلی مطلب ان سے سدھ نہ ہوگا۔ بہتر ہوتا کوئی اور چال چلتے ۔

ازیں موشگافی چہ اندوختی چرا موتراشی نیا موختی

اگر مرزا قادیانی مونڈ منڈا کر کسی سنیاسی کے چیلے بنے ہوتے تو شاید یہ داؤ چل جاتا۔ مگر ہندو تو ایسوں کی شدھی کرنے کو تیار نہیں۔ اکبر نے بیربل سے کہا کہ مجھ کو ہندو بنالو۔ بیربل نے کہا ایک ہفتہ کے بعد اس کا جواب دوں گا۔ جب ایک ہفتہ گزر گیا بیربل ایک گدھا لے کر شاہی محل کے نیچے نہر کے کنارے صابن لگا کر اس کو خوب مل مل کر دھونے لگے۔ بیربل کے رتبہ کے آدمی کو ایسا ذلیل کام کرتے ہوئے دیکھ کر لوگوں نے اکبر تک خبر پہنچائی۔ شہنشاہ اکبر خود آئے اور متحیر ہو کر پوچھنے لگے۔ بیربل یہ کیا ہو رہا ہے۔ بیربل نے سادگی سے جواب دیا خداوند گدھے کو دھو کر گھوڑا بناؤں گا اکبر نے ہنس کر جواب دیا۔ نادان! ایسا بھی کہیں ہوا؟ بیربل نے کہا خداوند اگر یہ امر غیرممکن ہوتا تو حضور کیسے حکم دیتے کہ آپ کو ہندو بنالوں؟

گویا یہ ایک مذاقیہ روایت ہے۔ لیکن اس کو مرزا قادیانی کے آخری اعلان سے کسی قدر نسبت ضرور ہے۔ مرزا قادیانی مسلمان کے گھر پیدا ہوئے۔ فرض کردم وہ مسلمان نہ بھی ہوں کیونکہ اکثر زمیندار بزرگ مسلمان ان کے محمدی طریقہ کے پیروکار ہونے میں شک کرتے ہیں۔ لیکن ان کی محمدی پیدائش ہندوؤں کی نگاہ میں ان کے حوصلہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جائے گی۔ مرزا قادیانی کو تو ہندو کبھی کشن بھگوان کا اوتار نہ سمجھیں گے۔ بلکہ ان کی یہ نئی الہامی اُپج حقارت اور تمسخر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ ہم نہیں جانتے مرزا قادیانی کے اللہ پاک کو کیا ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی تضحیک کے لئے آئے دن ایسی اٹکل پچو وحی نازل فرماتا رہتا ہے۔ اگر ہم سے ملاقات ہوتی تو ہم ضرور کہتے۔

افسوس چندیں مدت خدائی گردی گاو و خر را نہ شناختی

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٤ء ٢٤/ دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٨ کے مضامین

| ١....... | بروزی نیرنگی۔ | از رسالہ اتحاد! |

٣٨٦

صفحہ ٤٠٣

٢...... کیا ہندو اہل کتاب ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣...... احیاء اموات۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤...... تصدیق انبیاء علیہم السلام۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥...... ریویو۔ عصر جدید رسالہ! ٦...... قسمت کے دھکے۔ ہم عصر مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

ا ...... بروزی نیرنگی

از رسالہ اتحاد!

رسالہ اتحاد لکھتا ہے۔ مرزا قادیانی اس سے پہلے تو مسیح موعود ہی تھے جنکے منتظر یہود ونصاریٰ اور اہل اسلام ہیں۔ اب کرشن مہاراج ہونے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ہندوؤں کے بھی مطلوب و محبوب بن گئے۔ ہندو مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کا یہ نیا اور بہت اچھوتا پہلو ہے۔ شاید اب بھی پارسیوں اور بودھ وغیرہ کی طرح بعض فرقہ ان کے ماننے سے انحراف کرتے ہوں۔ جن کو نہ مسیح سے کچھ علاقہ ہے نہ سری کرشن جی سے میں سمجھتا ہوں کہ الوہیت کی شان دنیا کے تمام مذاہب میں مشترک ہے۔ لہٰذا اب کی روحانی عروج میں انہیں خدائی کا دعویٰ کرنا چاہئے۔ پھر کوئی گروہ ان کے ماننے سے مستثنیٰ نہ رہ جائے گا۔ اگرچہ سری کرشن مہاراج بننے میں بھی اس درجہ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ سری کرشن اپنے ماننے والوں میں پیمبر یا بندے نہیں بلکہ خدا کا مظہر اور خود خدا ہیں۔ غرض ہم اپنے روحانی بزرگ کو اس جدید ترقی پر مبارک باد دیتے ہیں۔

بمقامے کہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی

٢ ...... کیا ہندو اہل کتاب ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پہلے مرزا قادیانی محمد ﷺ کے بروز تھے اب کرشن کے بروز ہیں۔ یعنی اسلام کے بھی بروز اور کفر کے بھی بروز۔

بات یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور تمام انبیاء کی جو صفات قرآن وحدیث میں سنی ہیں۔ وہ سب مصنوعی طور پر اپنے پیکر میں ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ بھلا کہیں تصنع اور تکلف سے بھی کوئی نبی بنا ہے۔

٣٨٧

صفحہ ٤٠٤

جب آپ مسیح بنے ہیں تو ضرور ہے کہ آیت ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (النساء:١٥٩)“ کا بھی اپنے کو مصداق بنائیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ دوبارہ نزول فرمائیں گے تو اہل کتاب میں سے کوئی باقی نہ رہے گا کہ آپ پر ایمان نہ لائے حالانکہ آپ اس معنی کی جس پر جمہور مفسرین و مجتہدین علماء و فضلاء کا اتفاق ہے۔ تاویل و تحریف کرتے ہیں کہ لیؤمنن بہ میں بہ کا مرجع عیسیٰ مسیح کا قتل و صلب ہے۔ حالانکہ لیؤمنن صیغہ مستقبل ہے اور نون تاکید کی شان ہی یہ ہے کہ مضارع کو مستقبل بنائے۔ مگر آپ خلاف سیاق و سباق قواعد عرب مستقبل کو بمعنی ماضی لیتے ہیں اور یہ معنی گھڑتے ہیں کہ تمام اہل کتاب عیسیٰ مسیح کے قتل و صلب پر ایمان لا چکے ہیں ہم ان مزعوم معنی کی کسی گزشتہ ضمیمہ میں کامل تردید کر چکے ہیں۔ اور چونکہ جھوٹے کے پاؤں نہیں ہوتے لہٰذا اب مرزا قادیانی آپ اپنا منہ پیٹ کر کرشن کے بروز بنے ہیں کہ ہنود مجھ پر ایمان لائیں گے۔ اور میں ہندوستان کے ہندو مسلمان کو مرزائی بنا کر متحد کر دوں۔

اب ہم پوچھتے ہیں کیا ہنود اہل کتاب ہیں۔ ہاں ہاں کہہ دیجئے کہ وید بھی آسمانی کتاب ہے اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے قتل و صلب پر ہنود بھی ایمان رکھتے ہیں۔ حالانکہ مرزائی مقولہ بلکہ عقیدہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی نبی آیا ہی نہیں اور نبی آئے ہیں تو رام چندر اور کرشن وغیرہ رشی اور منی۔ تو ہم پوچھتے ہیں کہ انبیاء بنی اسرائیل سے ہنود کو کیا واسطہ رہا اور وہ کیونکر عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے قتل و صلب پر ایمان لائے کہ جب واقعات صلیب وغیرہ کی ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی اور اب بھی کروڑوں ہنود ایسے موجود ہیں جو انبیاء کے واقعات سے آگاہ نہیں۔ چہ جائیکہ ان پر ایمان ہو۔

آپ امام الزمان ہیں اور خیر سے دنیا کی تمام اقوام و مذاہب کو متحدہ کرنے آئے ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کیا عیسائیوں کے مختلف فرقے مذہب ہنود سے متفق ہو جائیں گے۔ اور بت پرستی اور صلیب پرستی اور تثلیث پرستی گڈمڈ ہو جائے گی۔ کیا اب تک کوئی سناتن دھرمی ہندو یا آریا آپ پر ایمان لایا ہے۔ کیا کسی عیسائی نے آپ کی سی سالہ بعثت میں بت اور صلیب کو توڑ کر آپ کا کلمہ پڑھا ہے۔ دنیا کے مذاہب تو اس وقت متحد ہوں کہ پہلے آپ پر ایمان لائیں یہ عجیب خیالی پلاؤ ہے جس سے خود بدولت ہی اپنا پیٹ بھر رہے ہیں ؎

دھن کا ذکر کیا یاں سری غائب ہے گریبان سے

آپ باوصف امام الزمان ہونے کے یورپ کو بھول گئے۔ چین کو بھول گئے۔ آتش ٢٨٨

صفحہ ٤٠٥

پرستوں کو بھول گئے۔ آپ کے نزدیک یہود میں تو انبیاء گزرے مگر دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں ایک بھی نبی نہیں گزرا۔ بدھ مذہب، پارسی مذہب میں کوئی نبی کیوں نہیں گزرا۔ ہاں سکھ مذہب کے نبی گورو نانک تک پر آپ ویسا ہی ایمان لائے جیسا کرشن پر۔ لیکن ان کے سوا اور بھی بہت سے مذاہب ہیں جن کے متحد ومتفق کرنے کا آپ نے اب تک بیڑا نہیں اٹھایا تاہم کچھ جلدی نہیں اگر یہی لیل ونہار ہیں تو آپ ہنود سے حلال خوروں تک کو یوں ملا دینا چاہیں گے جیسا کھیت میں کھاد۔ اس وقت سری کرشن کی روح کیا کہے گی۔ یہی کہے گی کہ ہے رام ہے رام اس کلجگ میں آکر کیسے راکھشس اور مہاملیچھ سے پالا پڑا جس نے ہندو دھرم کو نشت کر دیا۔

٣ ...... احیاء اموات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی احیاء اموات کو جو سنت اللہ وفطرت اللہ کے خلاف بتاتے ہیں تو اپنی عصمت بی بی از بے چارگی کی پردہ دری کرتے ہیں کیونکہ خود بدولت کوئی بروزی کرشمہ نہیں دکھا سکے۔ اب ہم کلام مجید کے کھلے لفظوں سے احیاء اموات ثابت کرتے ہیں جن میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں۔ گو مرزا قادیانی تو اس میں بھی لنگڑی اور بے معنی تاویل کی پچر لگائیں گے۔ پڑھو۔ ”الم تر الی الذین خرجوا من دیارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم (بقرہ:٢٤٣) “﴿اے محمد ﷺ! کیا تو نہیں دیکھتا ان لوگوں کی جانب (یعنی کیا تجھے معلوم نہیں) جو اپنے گھروں (مقام داوردان) سے موت کے ڈر سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے اور کہا ان کو اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ پس وہ مر گئے پھر ان کو زندہ کیا۔﴾ تفسیر جلالین میں اس آیت کے تحت میں یہ عبارت لکھی ہے ”بعد ثمانية ايام او اكثر بدعا نبيهم حزقيل فعاشوا دهرا عليهم اثر الموت لا يلبسون ثوباً الا عاد كالكفن واستمرت في اسباطهم “ ﴿یعنی یہ ہزاروں آدمی ایک مدت تک زندہ رہے مگر ان پر موت کا اثر باقی رہا۔ کیا معنی کہ جو کپڑا پہنتے کفن کی مانند ہو جاتا (تاکہ معجزہ کا اثر نمایاں رہے) اور ان کے تمام قبائل میں بھی حالت قائم رہی۔﴾

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی موت حقیقی موت اور ان کی دوبارہ زندگی حقیقی زندگی تھی اور وہ اسی حقیقی موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے بھاگتے تھے۔ نیز حضرت عمرؓ کے زمانے میں ذریب بن برشلا وصی عیسیٰ روح اللہ کا کوہ حلوان سے آواز دینا اور سعد بن ابی

٣٨٩

صفحہ ٤٠٦

وقاصؓ سے باتیں کرنا اور حضرت عمرؓ کا جواب سلام کہنا اور وصی عیسیٰ علیہ السلام کا تانزول عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہنا یہ سب کتاب ازالۃ الخفا میں مذکور ہے۔ پھر طرفہ یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں لکھ چکے ہیں کہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا۔ مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے چھو جانے سے زندہ نہ ہوسکیں۔ خود ہمارے نبی ﷺ نے کئی مردے زندہ کئے۔ اور ان سے تکلم فرمایا اور انہوں نے بھی آنحضرت ﷺ کی نبوت کی شہادت دی۔

چنانچہ بخاری میں قتادہؓ سے روایت ہے ”قال قتادة احيا هم الله حتى اسمعهم قوله تو بيخا وتصغيرا ونقمة وحسرة وندما“ یعنی قریش کے وہ چوبیس سردار جو بدر کے کنوؤں میں پھینک دیئے گئے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے بدعوت نبی ﷺ زندہ کردیا اور اپنا قول تو بیخا وحسرۃ سنا دیا اور نظم الدرر وغیرہ میں ہے ”روى الحسن قال النبى ﷺ يا فلانة احي باذن الله فخرجت الصبية وهى تقول لبيك وسعديك فقال لها ان ابويك قداساء فان احببت ان اردك عليهما فقالت لاحاجة لى فيهما وجدت ماء خير الى منهما وهذا نظير ما فعله عيسىٰ عليه السلام من احياء الموتیٰ“ حسن نے روایت کی ہے کہ (ایک مشرکہ دختر جو ایک وادی میں پھینک دی گئی تھی) اس کو آنحضرت ﷺ نے آواز دی کہ اے فلاں اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا وہ لڑکی وادی سے لبیک وسعدیک کہتی ہوئی نکلی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے تیرے ماں باپ کی جانب لوٹا دوں۔ اس نے عرض کی کہ میں نے تم کو ان سے بہتر پالیا۔ پس مجھے ماں باپ کے پاس جانے کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ نظیر ہے عیسیٰ علیہ السلام کے احیاء موتی کی۔

اور متاخرین کے نزدیک بالکل ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے والدین بدعوت آنحضرت زندہ کئے گئے اور حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے یہ مسئلہ بوجہ اتم لکھا اور مواہب لدنیہ اور نظم الدرر میں اس کی پوری تصریح کی گئی اور علامہ شامیؒ نے بھی فتاوی شامی کی جلد دوم باب المرتد علامہ قرطبیؒ اور ابن ناصر الدین حافظ الشام سے ان کی تصحیح کی ہے۔ دیکھو حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنے ہی دنوں زندہ رہے اور زندہ نکلے۔ پڑھوسورہ والصافات کی آیت ”فلولا انه كان من المسبحين للبث فى بطنه الى يوم يبعثون “ ﴿یعنی اگر یونس علیہ السلام خدائے تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتے تو مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک زندہ رہتے۔ ﴾سبحان اللہ سبحان اللہ! طرہ یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی ازالہ کے صفحہ ٩٢٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢٢ میں لکھتے ہیں۔

٣٩٠

صفحہ ٤٠٧

رویہ بالکل ممکن اور جائز ہے کہ خدائے تعالیٰ کسی حیوان یا انسان یا پرندہ کو ایسی حالت میں بھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ حقیقی موت سے بچائے ...... کیونکہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔‘ پھر معلوم نہیں عیسیٰ مسیح کی حیات سے اب کیوں انکار کیا جاتا ہے جبکہ سنت صحیحہ سے بہت سے نظائر جو ابھی ابھی مذکور ہوئے ہمارے سامنے موجود ہیں مگر مرزا قادیانی جب نصوص قرآنیہ در بارہ احیاء اموات کو نہیں مانتے تو احادیث کو کب مانیں گے۔

انبیاء پر مرزا قادیانی غضبناک ہوتے ہیں کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ سے معجزات کیوں طلب کئے اور کیوں خدائی معجزات دکھانے کا دعویٰ کیا۔ جھنجھل میں آکر مسیح علیہ السلام پر سب لعن کیا۔ توحید کے باپ ابراہیم علیہ السلام پر بروزی غصے کا ابراز کیا۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ”رب ارنی کیف تحی الموتی “ اور ”ولکن لیطمئن قلبی “ کیوں کہا؟ کیا ان کو خدائے تعالیٰ پر پورا ایمان نہ تھا۔ حالانکہ قوت مطمئنہ کا استحصال انبیاء کی شان اور اعلیٰ درجہ کی صفت ہے۔ پڑھ ”یا ایتها النفس المطمئنة ارجعی الیٰ ربک “ انبیاء پر غضبناک ہونا بعینہ خدائے تعالیٰ پر غضبناک ہونا ہے کہ انہیں تو معجزات دکھانے کی قوت عطا کر دی اور مجھے باوصف نیرنگیوں کے اس قدر پاپڑ بیلنے کے محروم رکھا۔

خدائے تعالیٰ کا قانون تو ”ذالك فضل الله يوتيه من يشاء “ ہے اور فضل کی شان ہی بے علت عطا ہونا ہے۔ ہاں لے پالک کا کام ہے کہ اپنے آسمانی باپ کا جھونپڑا پھونکے جس نے ایسے الہامات کئے جن سے چہیتے کی گردن ٹوٹے اور ہمیشہ کے لئے استروں کی مالا اس کے گلے میں ڈال دی۔ ہم بھی تو دیکھیں بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ہے۔ خدا نے چاہا تو ایک نہ ایک دن پھانسی دھری ہے۔ مسیح بننا خالہ جی کا گھر نہیں۔ جس طرح وہ اپنی امت کا کفارہ بن گئے۔ کیا وجہ ہے کہ مثیل المسیح اپنے مرزائیوں کا کفارہ نہ بنے۔

بروزی نیرنگی تو دیکھئے کہ عیسیٰ مسیح کو چونکہ کروڑوں آدمی مانتے ہیں اور تمام یورپ ان کو خدا سمجھتا ہے اور دنیا کے ٤٠ کروڑ مسلمان ان کے اولوالعزم نبی اور کلمتہ اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو آپ نے ان کو بڑا سمجھا اور ان کے نام سے بکنا چاہا اور چونکہ انہوں نے معجزات دکھائے اور احیاء موتی کیا۔ اس لحاظ سے وہ برے ہو گئے۔ انبیاء کو تو خدائے تعالیٰ نے اپنی صفت احیاء اور اماتت دونوں کا حصہ اور پرتو عطا فرمایا مگر آسمانی باپ نے اپنے لے پالک کو اماتت ہی کا تمغہ اور پوتلا بخشا کہ میں فلاں کو اتنے دنوں میں مار ڈالوں گا اور فلاں کو اتنے دنوں میں۔ اور

٣٩١

صفحہ ٤٠٨

اب میں نے ہی ساری دنیا پر طاعون کو مسلط کر دیا ہے جو میرے تمام منکروں کو کچا بھنبوڑ بھنبوڑ کر کھا رہا ہے۔ اور کھائے گا۔ یہ مثیل مسیح کی شان اور بے باک اور آسمانی باپ کے خوارق ہیں۔

٤ ...... تصدیق انبیاء علیہم السلام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

انجیل نے توریت کی اور قرآن نے توریت اور انجیل کی تصدیق کی۔ چنانچہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے فرمایا میں توریت کے ابطال کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ اس کی تکمیل کے لئے آیا ہوں۔ اور ’’مصدقاً لما بین یدی من التوراة والانجیل‘‘ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہر نبی نے دوسرے نبی کی تصدیق کی ہے بلکہ ہر نبی کو دوسرے انبیاء کے اتباع کا حکم ہے کیونکہ سب انبیاء کا مذہب بھی اسلام تھا پڑھو ’’قل بل ملة ابراهیم حنیفاً‘‘ اور پڑھو ’’ما کان ابراهیم یهودیاً ولا نصرانیاً ولکن کان حنیفاً مسلماً اور انا اول المسلمین‘‘

اب ظالم مرزا کو دیکھئے کہ وہ نبوت کا مدعی ہے مگر انبیاء کی توہین بلکہ ایک معنی سے آسمانی کتابوں کی توہین کرتا ہے کیونکہ کتابیں تو انبیاء ہی پر نازل ہوئی ہیں۔ اور انبیاء کی توہین بعینہ کتابوں کی توہین بلکہ خود خدا کی توہین ہے کہ اس نے ایسے نبی بھیجے جن میں عیوب ہیں اور ان پر ایسی کتابیں نازل کیں جو ناقص ہیں۔ کیونکہ ہر نبی نے اس الہامی کتاب پر عمل کیا ہے جو اس پر نازل ہوئی ہے۔ کسی نبی نے اپنی جانب سے کچھ نہیں کہا نہ کچھ کیا۔ پڑھو ’’وما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ‘‘ یعنی محمد ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ وہ وہی کہتا ہے جو اس پر وحی کی جاتی ہے۔

مذہب اسلام نے توریت اور انجیل اور قرآن کو ایک ہی پلے میں رکھا ہے۔ ’’لا نفرق بین احد من رسله‘‘ کے لازمی معنی یہی ہیں کہ ’’لا نفرق بین کتبه‘‘ کیونکہ نبی کی عظمت محض کتاب سے ہے اور ہم ہمیشہ ’’آمنت بالله وملائکته وکتبه ورسله‘‘ بطور تلقین ورد زبان رکھتے ہیں۔ دیکھو ایمان لانے کے لئے پہلے کتب ہیں اور اس کے بعد رسل ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انبیاء پر ان کے مدارج کے موافق ایمان ہو یعنی کسی پر تھوڑا ایمان اور کسی پر زیادہ ایمان یا کسی پر ناقص ایمان اور کسی پر کامل ایمان یہ تو جب ہو کہ کوئی نبی ناقص اور کوئی کامل ہو جیسا مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں ناقص نبی ہوں۔ خود رسول کے معنی پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا کہ وہ خدا کا پیام یا خدائی کتاب پہنچانے والا ہے۔ پس اس فرض و منصب کے لحاظ سے تمام انبیاء ایک ہیں۔ کسی میں

٣٩٢

صفحہ ٤٠٩

کوئی فرق اور مابہ الامتیاز نہیں۔ اب ایک نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت دینا مفضل علیہ کی توہین کرنا ہے اور انبیاء کی توہین بالاجماع کفر ہے۔

مرزا کہتا ہے کہ اگر میں بھی عیسیٰ مسیح کی طرح مسمریزم وغیرہ کے شعبدے دکھاتا تو مسیح سے کہیں زیادہ دکھا سکتا تھا۔ گویا اپنے کو عیسیٰ مسیح پر فضیلت اور ترجیح دی جو صریح الحاد اور کفر ہے۔

جب مرزا آیت من بعدی اسمہ احمد کو اپنے لئے تراشتا ہے تو ضرور ہے کہ ”فضلنا بعضہم علیٰ بعض“ کو بھی اپنے لئے تراشے۔ کیونکہ ایسی آیتوں کو وہ ہمیشہ ڈھونڈتا اور اپنے اوپر منطبق کرتا رہتا ہے اس صورت میں تو بعض پر نہیں بلکہ تمام انبیاء پر معاذ اللہ مرزا کو فضیلت ہوئی۔

آیت ”فضلنا بعضہم علیٰ بعض“ کی تفسیر (عمداً) لکھی ہے گویا یہ معنی ہوئے کہ ہم نے محمد ﷺ کو کل انبیاء پر فضیلت دی ہے لیکن یہ معنیٰ اس وقت ٹھیک بیٹھتے کہ آیت کا نظم یوں ہوتا کہ ”فضلنا بعضہم علیٰ الکل“ اب مجدد السنہ شرقیہ کا اجتہاد ذرا غور سے سنئے اور سمجھیے۔ آیت میں مراد انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت جزئی ہے نہ کہ کلی۔ چنانچہ پوری آیت یوں ہے ”تلک الرسل فضلنا بعضہم علیٰ بعض منہم من کلم اللّٰہ ورفع بعضہم درجت وآتینا عیسیٰ بن مریم البیّنت وایدناہ بروح القدس“ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء کی جزئی فضیلت کا بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدائے تعالیٰ ہم کلام ہوا اور عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے۔ اور روح القدس سے مدد دی۔ یعنی عیسیٰ مسیح کو بے باپ کے پیدا کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام خصوصیات کسی ایک نبی میں نہیں پائی جاتیں۔ تا کہ اس کو دیگر انبیاء پر فضیلت ہو اگر آنحضرت ﷺ کو فضیلت کلی دی جاتی تو آپ یہ ہرگز نہ فرماتے کہ ”لا تفضلونی علیٰ یونس بن متی اور لا تخیروا فی انبیاء اللّٰہ“ مردود مرزا قادیانی کو دیکھو کہ بعض انبیاء پر بعض کو نہیں بلکہ خود اپنے کو فضیلت دیتا ہے اور کہتا ہے ؎

عیسیٰ کجا است تا بنہد پابمنبرم

(درثمین فارسی ص٧٩)

٥ ....... ریویو

عصر جدید رسالہ!

عصر جدید لکھتا ہے کہ ایک ہفتہ وار اخبار ”الحکم“ قادیان سے نکلتا ہے وہ بھی معمولی رسالوں سے کم تر ذخیرہ مضامین کا نہیں رکھتا۔ یہ رسالہ خاص طور پر مرزا مسیح کے دائرے میں شائع

٣٩٣

صفحہ ٤١٠

ہوتا ہے۔ اور اپنی طرف سے دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام کی صداقت کو ہم ظاہر کرتے ہیں۔ ہم نے غور سے اس رسالے کے مضامین پڑھے۔ ایڈیٹر کے مضامین زیادہ تر اسی قسم کی ناگفتہ بہ خوشامد اور اپنے پیر کی نفرت انگیز مدح سے بھرے ہوتے ہیں۔ جن کو صحیح مذاق آدمی نہ بلحاظ عبارت کے اور نہ بلحاظ خیالات کے پسند کر سکتے ہیں جو وعظ یا لیکچر مرزا قادیانی کے چھپتے ہیں ان میں تکرار بے انتہا اور طول بلاضرور ہوتا ہے۔ اور کوئی نئی بات ایسی نہیں ہوتی جو اخلاق کی معمولی کتاب مثلاً گلستان، انوار سہیلی یا اخلاق محسنی میں بہتر نہ مل سکتی ہو جو ان کا ادعائے شخصی ہے۔ اس سے ہم کو کچھ تعلق نہیں۔ اس لئے کہ ایک اصلاحی رسالہ کے لئے اس بحث میں پڑنا فضول ہے۔ کہ زید کا بھتیجا برا ہے یا عمرو کا پتا۔ الغرض یہ اخبار بھی نہ مذہبی اصلاح کا کام دے سکتا ہے نہ قومی رفاہ کا۔

٦ ...... قسمت کے دھکے

ہم عصر مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ایک ہم عصر لکھتا ہے ہم مرزا قادیانی سے ان کی زار حالت پر سچی ہمدردی کرتے ہیں۔ ان کی پژمردگی اور مایوسی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ وہ بے چارے جہاں جاتے ہیں دھکے دے کے نکالے جاتے ہیں۔ واقعی حضور انور ﷺ کے دروازہ سے جس نے منہ موڑا جس دروازہ پر گیا اس کی عزت نہ ہوئی۔ پہلے آپ نے عیسائیوں کا آسرا ڈھونڈا اور کہا میں مثیل عیسیٰ ہوں۔ مجھے اپنے ہاں جگہ دو۔ انہوں نے نہایت درشتی اور سختی سے کہا کہ جدھر سے آپ تشریف لائے ہیں سیدھے چلے جائیے۔ بے چارہ مایوس و سرگرداں مسلمانوں کے دروازہ کی کھٹکھٹائی کہ میں مہدی ہوں اور تمہارا سہارا دیکھ کے آیا ہوں۔ میری مدد کرو۔ اس کا جواب مرزا قادیانی کو وہی ملا جو عراقی کو اہل حرم نے دیا تھا۔

بطواف کعبہ رفتم بحرم رہم ندادند
تو برون در چہ کردی کہ درون خانہ آئی

اب چاروں طرف نظر اٹھا اٹھا کے دیکھنے لگا کہ کہاں جاؤں؟ اور کس کا سہارا ڈھونڈوں؟ آخر بہزار پریشانی صنم خانہ میں پہنچے اور صنم خانہ والوں سے کہا میری مدد کرو اور مجھے کرشن کا اوتار سمجھو۔ مگر یہاں مرزا قادیانی کی قسمت عراقی سے بھی بدتر نکلی۔ عراقی کے لئے تو صنم خانہ کا دروازہ کھول دیا تھا اور صنم خانہ والوں نے غل مچادیا تھا کہ آؤ آؤ تم ہمارے خاصوں میں سے ہو۔ مگر یہاں بھی مرزا قادیانی کو دھکے ملے۔

٣٩٤

PDF 412

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

تاریخ محمودیت

جناب مظہر الدین ملتانی

صفحہ ٤١٤

کتاب ہذا

بطور نشان کے پیش کی جا رہی ہے کیونکہ اس خاص انسان نے مذہب کے نام پر طویل عرصہ نہ صرف بلیک میلنگ کی بلکہ سلسلہ کے بانی اور اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی۔ مذہب کے نام پر ناروا سکیمیں مرتب کر کے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے اور اپنی کرتوتوں کو چھپانے کے لئے قتل وغارت جھوٹ فریب اور دغا بازی سے کام لیا اور خود کو بھی مقدس ظاہر کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ خدا کے گھر میں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں۔ اس نے طویل مہلت کے بعد اس شخص کو اپنی خاص گرفت میں لے لیا۔ دماغ ماؤف اور فالج کا شکار ہے۔ کروٹ لینے کے لئے بھی دوسروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ٹٹی پیشاب بھی چارپائی پر کرتا ہے۔

یہ نشان اپنی آنکھوں سے دیکھئے اور اس ناپاک انسان سے نجات حاصل کیجئے۔ اس وقت اس کی وہی حالت ہے جو کسی زمانہ میں ”ڈاکٹر ڈوئی“ کی تھی۔ بہرحال مذہبی اور دنیاوی طریق سے تمام دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ تاکہ جماعت احمدیہ کا ہر فرد اس خاص انسان کا احتساب کر سکے۔ یہ کتاب محض خدمت اور بطور نشان کے اصولوں پر مرتب کی گئی ہے۔ تاکہ مذہب کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنانے والوں کی تاریخ دنیا کے سامنے آجائے اور ایسے ناپاک، نجس، مذہبی رہنما سے خلاصی حاصل کریں۔ پس ہر صداقت پسند انسان سے مخلصانہ اپیل ہے کہ اس کتاب کو اوّل سے آخر تک مطالعہ کریں۔ تاکہ حق و صداقت میں آپ خود بھی فیصلہ کر سکیں۔

١٠؍ اکتوبر ١٩٦٠ء خادم ملت: مظہر الدین ملتانی!

شہید احمدیت حضرت مولانا مولوی فخر الدین صاحب ملتانی آپ کو سکیم کے مطابق ٦؍اگست ١٩٣٧ء کو سر بازار ساڑھے چار بجے عصر کے وقت (قادیان میں) حملہ کروایا گیا۔ خلیفہ کا اشتعال انگیز خطبہ ڈی سی نے حکماً روک دیا۔ آپ کو گورداسپور ہسپتال لے جایا گیا۔ ١٣؍ اگست ١٩٣٧ء کو ساڑھے تین بجے وفات پا گئے۔ پوری سوانح عنقریب شائع کی جائے گی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آپ کا آخری پیغام آگے ملاحظہ فرماویں۔

٢

صفحہ ٤١٣

انڈکس

٣

صفحہ ٤١٤

حرف آغاز

ساقی! میرے خلوص کی شدت تو دیکھنا
پھر آ گیا ہوں۔ گردش دوراں کو ٹال کر

آج پھر تمام مصائب و آلام اور ہر قسم کی مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر خدمت کا عملی طور سے آغاز کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ میں ایک طویل عرصہ کیوں خاموش رہا؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ موقعہ نہیں اور میں اس وقت اختصاراً صرف یہی عرض کرنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ یہ خطوط جو احباب کرام کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ وہ یادگاری خطوط ہیں جو فاضل اجل حضرت شیخ عبدالرحمن مصری مولوی فاضل بی اے سابق امیر جماعت احمدیہ قادیان نے مرزا محمود احمد کو بحیثیت خلیفہ تحریر کئے تھے۔ مگر بعد میں پیش آمدہ حالات کی وجہ سے شائع کرنے کی غرض سے کاتب کے حوالے کئے گئے۔ اس کے چند گھنٹے بعد ہی مولانا مولوی فخر الدین صاحب ملتانی مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان کو سر بازار سوچی سمجھی سکیم کے مطابق سورج کی روشنی میں چار بجے قتل کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اس لئے ان کو ’یادگاری خطوط‘ سے موسوم کیا جا رہا ہے۔

بہر حال اپنے تئیں یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ خطوط شائع نہ کئے گئے تو مذہبی دنیا کی تاریخ نامکمل اور ادھوری رہے گی۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تاریخ کی بھی بے حرمتی ہوگی اور انسانیت بھی مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اندریں حالات اپنے فرض کا کماحقہ احساس کرتے ہوئے یادگاری خطوط منظر عام پر لائے جارہے ہیں۔ تاکہ تاریخ بے حرمتی سے محفوظ ہو جائے۔ بالآخر دنیا کے ہر عقلمند اور سعید الفطرت انسان سے مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ ان کی اشاعت کر کے ثواب دارین حاصل کریں اور جماعت احمدیہ ربوہ کے ہر فرد تک پہنچانے کی پوری پوری سعی کریں تاکہ وہ صحیح راستہ پر گامزن ہو۔

اے خدا تو ہی ہماری مدد فرما

خادم احمدیت: محمد مظہر الدین ملتانی

ناپسندیدہ بات دیکھ کر خاموش نہ رہو بلکہ اصلاح کی کوشش کرو

حضرت مرزا بشیر احمد ایم۔ اے فرماتے ہیں۔ ”اخوت اور جماعتی تربیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب ہم اپنے کسی بھائی میں کوئی ناپسندیدہ بات یا خلاف اخلاق یا خلاف شریعت بات

٤

صفحہ ٤١٥

دیکھیں تو یہ خیال کر کے کہ ہمیں اس سے کیا غرض ہے۔ خاموش نہ رہیں۔ بلکہ جس طرح بھی ممکن ہو اصلاح کی کوشش کریں۔ ہمارے آقاﷺ فرماتے ہیں۔

”من رأى منكم منكراً فليغيره بيده فان لم يستطيع فبلسانه فان لم يستطيع فبقلبه“

”یعنی جو شخص کسی ناپسندیدہ یا خلاف شریعت بات کو دیکھے۔ تو اسے چاہئے کہ اس بات کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ لیکن اگر ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو۔ تو زبان سے اس کے متعلق اصلاح کی کوشش کرے اور اگر اسے یہ طاقت بھی حاصل نہ ہو تو کم از کم اسے برا سمجھ کر اپنے دل میں ہی (دعا کے ذریعہ) اصلاح کی کوشش کرے۔“

اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرتﷺ نے گویا ہر مسلمان کو ہر دوسرے مسلمان پر ایک چوکس سنتری کے طور پر کھڑا کر دیا اور ہر شخص کو ہر دوسرے شخص کا نگران بنا دیا ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دی کہ کسی بدی کو دیکھ کر اپنے آپ کو لا تعلق سمجھتے ہوئے پاس سے گزر جاؤ۔ مگر افسوس ہے کہ آج کل اکثر لوگ خلاف شریعت باتوں کو دیکھتے اور منکرات کو سنتے ہیں اور پھر بے حس و حرکت ہو کر بیٹھے رہتے ہیں اور بدی ان کی آنکھوں کے سامنے جڑ پکڑتی اور پودے سے پیڑ اور پیڑ سے درخت بنتی چلی جاتی ہے اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

امام جماعت احمدیہ ربوہ کا اعلان

”بہر حال کسی کتاب کے پڑھنے سے دوسروں کو روکنا اتنی بڑی نادانی ہے کہ اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ پس اگر مصری صاحب نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ سچی ہیں تو ان کے پڑھنے سے لوگوں کو روکنا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر ہم روکیں تو قیامت کے دن یقیناً ہم ایسی حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ ہمارا منہ کالا ہوگا۔ ہم خدا کے حضور لعنتی قرار پائیں گے۔...... غیروں کا لٹریچر پڑھنا عیب کی بات نہیں۔ بلکہ میں ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتا ہوں جو ایسی کتابیں چھپ چھپ کر پڑھتے ہیں کیونکہ جو کسی دوسرے کو تحقیق سے روکتا ہے وہ اپنے جھوٹے ہونے کا آپ اقرار کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢ اگست ١٩٣٩ء)

دس شرائط بیعت

ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔

٥

صفحہ ٤١٦

سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا ۔ اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔

نماز تہجد کے پڑھنے اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو ہر روز اپنا ورد بنائے گا۔

ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔

وفاداری کرے گا اور ہر حالت راضی بقضاء ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ قدم آگے بڑھائے گا۔

بکلی اپنے پر قبول کرے گا اور قال اللہ وقال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا۔

مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔

اور اپنی اولاد اور اپنے ہر ایک عزیز سے عزیز تر سمجھے گا۔

اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔

قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام عام حالتوں میں پائی نہ جاتی۔

مباہلہ کا مطالبہ جائز ہے

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا فرمان

حضور فرماتے ہیں: ”وہ شخص بھی مباہلہ کر سکتا ہے جس کو کسی رویت پر یقین کامل ہو اور کسی

٦

صفحہ ٤١٧

شبہ کا شائبہ نہ ہو۔ جس پر الزام ہو اس کا فرض ہے کہ خود پوزیشن صاف کرے۔ نیز زنا وغیرہ کے الزامات کے موقع پر مباہلہ جائز ہے بلکہ ہر ملزم کا فرض ہے کہ اپنی پوزیشن صاف کرے۔ خواہ خدا کا مقرر کردہ خلیفہ ہی کیوں نہ ہو۔“ حضور فرماتے ہیں: ”سو واضح رہے کہ مباہلہ دو صورتوں میں جائز ہے۔“

جو کچھ غیر اللہ کی نسبت خدا کی صفتیں میں جانتا ہوں وہ یقینی امر ہے۔ یہ تمام خبر تحقیقات طلب ہے۔

مثلاً ایک مستورہ (عورت) کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خور ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو شراب پیتے دیکھا ہے۔ سو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ بلکہ ایک شخص اپنے یقین اور رؤیت پر بنا رکھ کر ایک مؤمن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔ جیسے مولوی اسماعیل صاحب نے کہا تھا کہ یہ میرے ایک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا غلام احمد یعنی یہ عاجز پوشیدہ طور پر آلات نجوم اپنے پاس رکھتا ہے اور انہیں کے ذریعے سے کچھ کچھ آئندہ کی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو کہہ دیتا ہے کہ

الہام ہوا ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب نے کسی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس عاجز کی دیانت اور صدق پر ایک تہمت لگائی تھی جس کی اپنے ایک دوست کی رؤیت پر بنا رکھی تھی۔ لیکن اگر بنا صرف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طور پر کوئی شخص کسی مؤمن کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تہمت نہیں بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور علم تھا اس کے موافق اس نے فتویٰ دیا ہے۔ غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

الحکم مورخہ ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء

کیا زنا کے الزام پر مباہلہ جائز ہے؟

سائل اللہ دتا جالندھری (المعروف مولوی ابوالعطاء جالندھری سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ)

عاجزی کا اقرار دیتا ہے اور ب سے مطالبہ حلف کرتا ہے۔ بلکہ اس کو مباہلہ کی دعوت دیتا ہے۔ ب مطالبہ حلف اور مباہلہ کو اپنی بات میں ناجائز قرار دیتا ہے۔ از روئے شریعت اسلامیہ حقیقت اور اصلیت کیا ہے؟ بینوا وتوجروا!

٧

صفحہ ٤١٨

جواب نمبر ٢٦٤...... الزام زنا کا ثبوت بے شک چار شاہدوں سے ہوتا ہے۔ اگر الزام لگانے والا شہادت پیش نہ کر سکے تو ملزم کا حق ہے کہ اس پر دعویٰ ہتک کر کے سزا دلائے۔ مگر یہ دونوں صورتیں عدالت کے متعلق ہیں۔ یعنی گواہوں کا لینا یا دعویٰ کا سننا قاضی (حاکم) کا کام ہے۔ اگر حکومت تک یہ معاملہ نہیں گیا تو ملزم کو چاہئے جو الزام لگانے سے اس کی نسبت لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوگئی یا ہونے کا احتمال ہے۔ اس کو بحکم حدیث

”اتقوا مواضع التھم“ حلف اٹھانے یا مباہلہ کرنے سے دور کریں۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اعتکاف میں تھے۔ آپ کی بیوی صفیہؓ ملنے آئیں۔ آپ اس کو رخصت کرنے کے لئے دروازہ مسجد تک تشریف لے گئے۔ دونوں میاں بیوی دروازہ پر کھڑے تھے۔ اتنے میں دو شخص پاس سے گزرے۔ حضور نے فرمایا علیٰ رسلکما (ٹھہرو) فرمایا۔ یہ صفیہ میری بیوی ہے۔ انہوں نے عرض کیا۔ حضور ہم میں سے کوئی بدگمان ہو سکتا تھا؟ فرمایا شیطان انسان کے خون میں جاری ہو کر اثر کر جائے۔ آج نہیں تو کل بدگمانی پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتداء لوگوں کو ہر ممکن طریق سے بدگمانی دور کرنی چاہئے۔ بلکہ ہونے کے راستے بھی بند کرنے چاہئیں۔“

(اہل حدیث مورخہ ١١؍اکتوبر ١٩٢٩ء)

کھلی چٹھی

خلیفہ صاحب قادیان کو بار بار ان کے مرید بھی اس طرف متوجہ کرتے رہے کہ وہ راہ خدا اپنی پوزیشن کو صاف کریں اور اپنی بریت کے لئے میدان میں آئیں۔ لیکن خلیفہ صاحب کے مجرم ضمیر نے کسی طرح بھی انہیں اس طرف نہ آنے دیا۔ ایک مخلص مرید کی تاریخی چٹھی بھی صفحہ قرطاس پر لائی جارہی ہے۔ اگر آپ نے اسی طرح حق پسندی کا ثبوت دیا تو یہ مسئلہ جو خلیفہ قادیان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ بہت جلد صاف ہو جائے گا۔ چٹھی درج ذیل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ...... نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! بادب گزارش ہے کہ ایک عرصہ سے بعض باتوں کے متعلق حضور کی خدمت عالیہ میں عرض کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بعض مصروفیتوں کی وجہ سے حضور سے عرض نہ کر سکا۔ اب مورخہ ١٩؍اکتوبر ١٩٣٨ء خاکسار کو تبلیغ کا موقعہ ملا۔ جب خاکسار نے بعض لوگوں کو تبلیغ کی تو انہوں نے میری گفتگو کو رد کر کے کہا۔ کیا تم لوگ ہم سیدھے سادھے مسلمانوں کو ورغلا کر ایسے شخص کا مرید بنانا چاہتے ہیں۔ جو کہ بدچلن اور زانی ہو۔ (نعوذ باللہ من ذلک) جس کی

٨

صفحہ ٤١٩

بدچلنی کے متعلق اس کے مرید بھی شور مچا رہے ہیں۔ جب تک تم اپنے خلیفہ کی پوزیشن صاف نہ کرو۔ اس وقت تک آپ لوگوں کو قطعاً حق حاصل نہیں کہ ہم مسلمانوں کو آ کر پھسلانے کی کوشش کرو۔ سیدی میں نے ان گندے الزامات کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے کی اپنی لیاقت کے مطابق از حد کوشش کی۔ لیکن وہ یہی اعتراض کرتے رہے کہ اگر یہ الزامات جھوٹے بھی ہیں تو آپ کے خلیفہ کو اپنی طرف سے پوری طرح پوزیشن صاف کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اب تمہیں تبلیغ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس قسم کے واقعات کئی بار سامنے ہوتے رہتے ہیں اور دشمن کے پاس تو اس وقت حربہ ہی یہی ہے۔

جو کہ تبلیغ کے لئے یقیناً رکاوٹوں کا موجب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فداہ روحی کے لائے ہوئے نور کو اس طریق سے مدھم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان حالات میں حضور پر نور جس طریق سے مناسب خیال فرماویں میرے نزدیک بھی ضروری ہے تا کوئی تسلی بخش علاج تجویز فرماویں کہ جس سے حضور والا کی پوزیشن ایسی صاف ہو کہ دشمن کے اس حربہ کا پورے طور پر انسداد ہو جاوے اور آئندہ حضور کی ذات والا صفات پر ایسے الزامات لگانے کی کسی حریف سلسلہ کو جرات نہ ہو۔ میرے پیارے آقا! اس قسم کے الزامات کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ چنانچہ عبدالعزیز نو مسلم کی لڑکی کا واقعہ مستریوں کی لڑکی اور لڑکے کا گند اچھالا جانا۔

پھر زینب اور حلیمہ کا واقعہ پھر والدہ عبدالسلام کا واقعہ۔ اس طرح محمودہ اور عائشہ کا واقعہ اور اسی قسم کے اور کئی ایک واقعات جو حضور سے پوشیدہ نہیں ہیں جو وقتاً فوقتاً حضور کو بدنام کرنے کے لئے الزام اڑائے جارہے ہیں۔ مگر اب اس قسم کے الزامات حد سے بھی تجاوز کر رہے ہیں۔ جس کے متعلق حضور نے مورخہ ٦ اگست ١٩٣٧ء کے خطبے میں ایک سلسلہ خط و کتابت کے دوران ذکر میں بھی کئی الزامات کا ذکر فرمایا تھا۔

تو بدیں حالات میرے پیارے آقا از حد ضروری ہے کہ حضور سنت نبوی کے مطابق کوئی ایسا طریق اختیار فرماویں کہ جس سے مخالف کا ہمیشہ کے لئے منہ بند ہو جائے یا ہمیں کم از کم وہ ہتھیار مل جاوے جس سے دشمن کو لا جواب کیا جاسکے۔

مثلاً حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتب سے معلوم ہوا ہے کہ حضور نے دشمن کے چھوٹے سے چھوٹے الزام کا بھی عقلی و نقلی غرضیکہ ہر طریق سے دندان شکن جواب دیا ہے اور پھر وہ جواب بھی ایسا کہ دشمن کے نسلوں تک اس جواب کا در جواب نہ بن سکا۔ باقی رہا یہ کہ ہمارے علماء چار

٩

صفحہ ٤٢٠

گواہوں کی شرط کو پیش کرتے ہیں۔ ہمارے مخالف کے پاس تو بیسیوں گواہ پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔ پس اس قسم کے دلائل عوام الناس کے لئے بجائے تسلی کے اور ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔ ان حالات کو پیش کر کے عاجز حضور والا سے قوی امید رکھتا ہے کہ حضور نہ صرف جماعت کی تسلی و تشفی کے لئے بلکہ دیگر بندگان خدا کی ہدایت کے لئے بھی جو کہ محض اس قسم کے وساوس کی وجہ سے احمدیت جیسی صداقت سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان الزامات سے اپنی ذات بابرکات کو پاک وصاف کر کے عنداللہ ماجور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ حضور کا حافظ ناصر ہو اور دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین ! والسلام ! فقط آداب! خاکسار : خادم عبدالرحیم مہاجر!

عرض حال

میرے احمدی بزرگو! بھائیو اور بہنوں!

آج سے ستر سال قبل حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ایک گمنام بستی قادیان میں مبعوث ہوئے۔ انہوں نے ہمیں ایک لائحہ عمل عطا کیا ہم نے اپنی نجات کے لئے یہ عہد کیا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنا فرض اولین سمجھیں گے اور حضور پر نور کے شرائط بیعت پر پوری طرح عمل کر کے ترقی کے راستہ پر گامزن ہوں گے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم بجائے ترقی کے تنزل کی طرف بدستور آ رہے ہیں۔ اب ہم نے پرسکون ماحول میں ٹھنڈے دل سے سوچنا ہے کہ تنزل کے اسباب کیا ہیں اور ہم میں کون سی غلطی ہے جس کی وجہ سے آج بے پیندے لوٹے کی طرح ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو آپ ١٩١٤ء تک کے زمانے پر طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم اس وقت تک کس شہرت کے مالک تھے۔ یعنی دشمن تک کو بھی ہماری دیانت اور امانت کا صحیح طور پر اعتراف تھا۔ عدالت میں بھی ایک احمدی کی گواہی کو بنظر استحسان دیکھا جاتا تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے اس کا کردار اور بلند کریکٹر پوری قوم کے لئے ایک نمونہ حیات تھا اور پھر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اپنے معترض کی ہر طریق سے تسلی کرواتے تھے۔ جہاں مباہلہ کی ضرورت پیش آتی۔ وہاں آپ اس چیلنج کو قبول فرما لیتے ۔ ہم نے ان مجاہدانہ زریں اصولوں کے تحت حق کو قبول کیا وطن چھوڑا حق کی خاطر پچھلے رشتوں ناطوں کو توڑا حق کی خاطر مگر ہمارا جذبہ ایمانی اور طاقت روحانی اس قدر گر چکے ہیں کہ حق گوئی اور راست گفتاری کے لئے اس لئے جرأت نہیں کرتے کہ ہمارے دنیوی اغراض ضائع ہوں گے یا سوشل تعلقات میں فرق پڑے گا اور اخراج یا بائیکاٹ کا بھوت سر پر سوار ہوگا تو پھر ہماری ترقی ایمانی

١٠

صفحہ ٤٢١

معلوم شد، فتنہ فساد کی خاطر نہیں۔ بلکہ حق کی خاطر ۔ اگر ان مشکلات کے لئے ”موتوا قبل انت تموتوا“ پر پورا پورا عمل کر کے اپنے دل و دماغ کو تیار کر لیا جائے تو پھر کوئی وجہ خوف کی نہیں۔ میں اس وقت اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ احمدیوں کے بائیکاٹ و مقاطعہ کو مہذب اور شریف دنیا میں کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام بائیکاٹ ومقاطعہ کو جائز قرار دیتا ہے یا نہیں۔ نیز خلیفہ صاحب بائیکاٹ و مقاطعہ کا حربہ کیوں استعمال کرتے ہیں۔

زنا کاری کا الزام بدستور

یہ امر واقعہ ہے کہ خلیفہ ربوہ پر، حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے زمانے میں بھی زنا کاری کا الزام لگا اور خصوصاً ١٩٢٧ء سے متواتر بدکرداری اور بدچلنی کا الزام لگ رہا ہے۔ لیکن خلیفہ صاحب اس کو ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ آپ کو فضل عمر ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ آپ بائیکاٹ اور مقاطعہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ میری بدچلنی کا اظہار کسی اور احمدی کے کانوں میں نہ پڑے اور وہ ڈر جائے اور میں تقدس کے بناوٹی پردے میں رنگ رلیاں مناتا رہوں۔ اس ضمن میں ان کا بیان درج ذیل ہے۔

”اس عرصہ دوران بائیکاٹ میں ماں باپ اور بیوی بچوں اور دوسرے تمام رشتہ دار کا فرض ہوگا کہ جس طرح ایک گندہ چھچھڑا اپنے گھر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے اس طرح وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیں۔ باپ بیٹے کو نکال دے۔“

(خواہ بچے گھر سے نکال کر آوارہ ہو جائیں یا اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب ہی کیوں نہ اختیار کر لیں۔ ناقل!)

خلیفہ صاحب کی دورنگی شریعت

خلیفہ صاحب ربوہ کا دستور ہے کہ وہ کام جس کو وہ خود کرتے ہیں اسے تو شریعت کے مطابق گردانتے ہیں۔ مگر جب وہی کام دوسرے لوگ کریں تو یہ شور برپا کر دیتے ہیں۔ یہ کام شریعت کے خلاف ہے جن افراد کو آپ سے اختلاف ہوا۔ آپ نے ان کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا اور ان کی جائیدادیں تک ضبط کر لی گئیں۔ مگر جب دوسرے لوگ بھی تبدیلی عقیدہ کی بناء پر ان کو مقاطعہ کا شکار بناتے ہیں تو ان کے سامنے قرآنی آیت ”لا اکراہ فی الدین“ پیش کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ ”بائیکاٹ کرنا تو یہودیوں اور کافروں کا شیوہ ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ جون ١٩٥٦ء)

ان سختیوں کے باوجود پھر اس کو کسی نہ کسی مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

١١

صفحہ ٤٢٢

اس کو منافق مرتد دشمن سلسلہ قرار دے کر اس کے قتل تک کو جائز بنایا جاتا ہے اور قاتل کی پوری پوری اعانت کی جاتی ہے۔ یہ تمام مظالم اور سختیاں اس لئے روا رکھی جاتی ہیں کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور کوئی مظلوم جس کو اللہ تعالیٰ نے بھی ظالم کے ظلم کی علی الاعلان اظہار کی اجازت دی ہے آواز نہ اٹھا سکے۔ احباب کرام خدا کے لئے بتائیں کہ کیا اس قسم کا حیا سوز سلوک کبھی کسی خدا کے پیارے نے بھی اپنے معترضین کے ساتھ روا رکھا؟

اسلام بائیکاٹ ومقاطعہ کی اجازت نہیں دیتا

اپنی بریت فرمائی تھی یا بادشاہ ہونے کے بعد ان عورتوں کو انسانیت سوز مظالم کا تختہ مشق بنایا تھا؟

آنحضرت ﷺ نے ان منافقوں کا بائیکاٹ کیا یا تحقیقات شروع کی؟ اور کبھی بھی خدا کے حکم کے بغیر کسی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔

کیا اس وقت ان کا بائیکاٹ کیا گیا تھا؟

مال محمد رسول اللہ اپنے رشتہ داروں کو بانٹ رہے ہیں۔ کیا اس قدر سخت اتہامات سن کر حضور نے ان کا بائیکاٹ ومقاطعہ کیا یا ان کی تسلی کرائی؟

قبیلہ سے لین دین نہ کرے۔ نہ کوئی چیز خریدے نہ ان کے ہاتھ فروخت کرے۔ نہ ان سے کسی قسم کی قرابت داری کرے وغیرہ۔ اس بائیکاٹ کی وجہ سے بعض اوقات صحابہ کو بھوک کے مارے پتے اور سوکھے چمڑے تک بھون کر کھانے پڑے۔ پھر کیا آنحضرت ﷺ نے بھی کبھی ان لوگوں کا بائیکاٹ ومقاطعہ کیا اور کیا بائیکاٹ کرنے والوں کا یہ فعل درست تھا؟

لڑکوں اور اوباشوں کو حضور پر جاسوس و پہرے دار مقرر کیا۔ باہر سے آنے والے مسافروں کو ملنے سے منع کیا۔ حضور پر کیچڑ اور کوڑا کرکٹ پھینکا۔ حضور کے بعض ساتھیوں کو گرم ریت پر لٹا کر سینہ پر گرم پتھر رکھے۔ بعض کی مشکیں باندھ کر کوڑوں سے پیٹا۔ بعض کی مار مار کر آنکھیں پھوڑ ڈالیں۔ بعض کے بچوں کو دو اونٹوں سے باندھ کر درمیان سے چیر ڈالا اور بعض عورتوں کی شرمگاہوں تک

١٢

صفحہ ٤٢٣

میں نیزے مارے۔ یہاں تک کہ حضور اور حضور کے خدام کو اپنے وطن عزیز مکہ کو ہی چھوڑنا پڑا۔ پھر کیا جب حضور اسی مکہ میں ہزاروں کے لشکر سمیت فاتح کی حیثیت سے دوبارہ داخل ہوئے تو کیا حضور نے اپنے دشمنوں سے ذاتی انتقام لیا؟ یا یہ فرمایا کہ میں دنیا کے لئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا۔

و پتھر مارے۔ حضور کی پنڈلیاں اور جسم مبارک لہولہان کر دیا۔ جوتیاں لہو سے بھر گئیں۔ حضور کا قول ہے کہ مجھے کچھ ہوش نہ تھا کہ کدھر سے آرہا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔ اس حالت میں بھی جب فرشتہ نازل ہوا کہ اگر اجازت ہو تو اسی بستی پر پہاڑ گرا دوں تو رحمت اللعالمین نے فرمایا۔ نہیں ان میں سے یا ان کی نسلوں میں سے بہت سے لوگ ایمان لائیں گے۔

پیشانی سے خون جاری ہوا۔ حضور کے دانت مبارک شہید کر دیئے گئے۔ دشمن نابکار حضور کے سر مبارک تک کو جسم اطہر سے جدا کرنا چاہتا تھا۔ اس نازک گھڑی میں رحمت اللعالمین کے دل میں جذبہ انتقام موجزن ہونے کی بجائے زبان مبارک پر یہ دعا جاری تھی ۔ رب اغفر قومی فانهم لا یعلمون! اے میرے رب میری قوم کو معاف فرمادے کہ یہ بے سمجھ ہے۔

جب ہزارہا کے مجمع میں خطبہ پڑھ رہے تھے تو ایک معترض نے اٹھ کر کہا کہ یمنی چادریں جو مال غنیمت میں آئی تھیں اور ہر ایک کے حصہ میں ایک ایک آئی۔ جس سے بمشکل چھوٹا سا کرتہ بنتا ہے۔ آپ کا اس قدر لمبا چغہ کہاں سے بن گیا (گویا خیانت کا الزام لگایا) اس پر امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے نہ اس کو برا بھلا کہا نہ اس کو منافق و مرتد قرار دے کر بائیکاٹ و مقاطعہ کیا۔ نہ یہ فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کا قائم کردہ برحق خلیفہ ہوں جو مجھ پر سچے اعتراض بھی کرے گا تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔ نہ یہ فرمایا کہ اگر میں نے خائن ہی ہونا تھا تو خدا نے مجھے خلیفہ کیوں بنایا۔ نہ یہ فرمایا کہ میرے متعلق آنحضرت ﷺ کی اتنی بشارات موجود ہیں میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ آپ کے خوشامدی مولویوں سے ہی کسی نے یہ کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ سے کوئی پوچھنے والا نہیں اس طرح خلیفہ سے بھی کوئی باز پرس نہیں ہو سکتی۔ بلکہ جب تک آپ نے معترض کی تسلی نہیں کر دی۔ اس وقت تک خطبہ شروع نہیں فرمایا۔ کیونکہ جس کا حساب صاف ہے اس کو کسی کے اعتراض کا کیا ڈر ہو سکتا ہے؟

١٣

صفحہ ٤٤٤

ہر دو بزرگوں نے اپنی بریت کی تھی۔ یا المعترضین کو ہی منافق و مرتد قرار دے کر پیچھا چھڑایا تھا؟

آپ کو دکھ و تکالیف دیتے رہے۔ آپ کے راستہ میں دیواریں کھینچ کر شارع عام پر گزرنے سے روکتے رہے۔ آپ کے ماننے والوں کا بائیکاٹ و مقاطعہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بعض احمدیوں کو سرزمین کابل میں بڑی بے رحمی سے سخت تکالیف کا تختہ مشق بنا کر سنگسار کیا گیا۔

راشدین کے نقش قدم پر چل کر اپنی بریت کرتے رہے؟

بائیکاٹ و مقاطعہ سے اللہ اس کے رسول کی نافرمانی لازم آتی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کے ماننے والے کفار اور باطل پرستوں کے حربہ بائیکاٹ و مقاطعہ کو اختیار نہیں کر سکتے۔

مباہلہ جائز ہے

حضرت مسیح موعود کے تین حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ اس میں زنا کے الزام پر مباہلہ کرنے کی پوری پوری وضاحت موجود ہے۔ اس سے یہ ثابت ہے کہ زنا کے الزام لگانے والے خواہ چار گواہ پیش نہ بھی کریں تو وہ میدان مباہلہ میں نکل آئیں تو ان سے مباہلہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ حضور کا حکم ملاحظہ فرمائیے۔

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔"

(الحکم مورخہ ٢٤/مارچ ١٩٠٢ء)

ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خور ہے۔ کیونکہ بچشم خود اسے شراب پیتے دیکھا ہے۔ تو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ کیونکہ ایک شخص اپنے یقین اور رؤیت پر بناء رکھ کر ایک مؤمن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔"

(الحکم مورخہ ٢٤/مارچ ١٩٠٢ء)

کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بنیاد افتراء کے لئے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔"

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤١٣)

١٤

صفحہ ٤٢٥

خلیفہ صاحب کی عیاری

خلیفہ صاحب ربوہ نے جب یہ دیکھا کہ میری بدچلنی کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ رہا ہے اور حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کی روشنی میں چار گواہوں کی بھی ضرورت نہیں اور کہیں احمدی جماعت کے افراد مجھے مباہلہ کیلئے تیاری شروع نہ کروا دیں فوراً کمال چابکدستی سے پینترا یوں بدلا کہ میں مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ مگر گمنام شخص دعوت مباہلہ دے رہا ہے۔ اس لئے اس سے مباہلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور مورخہ ٨؍ ستمبر ١٩٥٦ء کے الفضل میں گواہیوں کو رد کرتے ہوئے میاں زاہد کی گواہی کو سراہا اور یوں فرمایا: ”کہ مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ میرے لئے میاں زاہد کی گواہی اور اپنا حافظہ کافی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨ ستمبر ١٩٥٦ء)

الفضل ٣١؍ جولائی ١٩٥٦ء میں میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ نے یہ بھی شکوہ فرمایا ہے کہ: ”ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ گمنام شخص سے مباہلہ کون کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣١؍ جولائی ١٩٥٦ء)

میاں زاہد سے میری بیویاں پردہ نہیں کرتیں

چونکہ خلیفہ صاحب کو اپنے حافظہ پر ناز ہے۔ بھولنا بھی ان کے بس کی بات نہیں۔ حفظ ما تقدم کے طور پر یاد کروانا ضروری خیال کرتا ہوں۔ ہاں! یہ وہی میاں زاہد ہیں جن کے متعلق آپ نے الفضل میں فرمایا تھا کہ میری بیویاں میاں زاہد سے پردہ نہیں کرتیں۔ الفضل! میں عرض کر رہا تھا یہ دونوں صورتیں میاں زاہد نے پوری کر دیں جو ان کے بیان سے ظاہر ہے۔ اس لئے غور سے ملاحظہ کیجئے۔

”فتمنوا الموت ان کنتم صادقین“

شہادت نمبر:١

چیلنج مباہلہ

بنام میاں محمود احمد خلیفہ قادیان

صدق و کذب میں فیصلہ کا آسان طریق

اب میاں زاہد صاحب کا بیان مباہلہ بغیر تبصرہ کے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور میاں محمود احمد صاحب ان کی گواہی از خود تسلیم کر چکے ہیں۔ اس لئے آپ بغیر کسی تاویل کے حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کی روشنی میں اس مباہلہ کو قبول فرمائیے۔ (مباہلہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے

١٥

صفحہ ٤٢٦

جو اپنے قول کی قطع اور یقین کی بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔ اخبار الحکم !) "میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا نام نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ کیونکہ آپ عجیب وغریب تفرقہ انگیز فتویٰ مثلاً یہ کہ تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان کافر ہیں۔ ان کے پیچھے نماز قطعی حرام ہے۔ ان کے اور ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک پڑھنا نا جائز اور ان سے رشتہ و ناطہ حرام ہے۔ صادر فرمانے کی وجہ سے مسلمانوں میں خصوصاً اور باقی دنیا میں عموماً کافی شہرت رکھتے ہیں۔ آنجناب کا دعویٰ ہے کہ آپ خدا کے مقرر کردہ خلیفۃ المسلمین ہیں اور خدا نے ہی آپ کو دنیا کی ہدایت و اصلاح کے لئے مامور فرمایا ہے اور اگر فی زمانہ کوئی روحانیت کا مجسم نمونہ اور اسلام کا سچا حامی و علمبردار ہے تو وہ آپ کی ذات والا صفات ہے۔

خلافت مآب کے ان عظیم الشان دعاویٰ نے ایک دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ لیکن یہ کیونکر ممکن تھا کہ اس قادر مطلق خبیر و علیم جس سے کوئی نہاں در نہاں فعل پوشیدہ نہیں اور جس نے ابتدائے عالم سے مخلوق کو گمراہی سے بچانے کے سامان پیدا کئے اور بالآخر ہمارے مولیٰ و آقا سید الکونین حضرت محمد ﷺ کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ کسی ایسے شخص کو زیادہ مہلت دیتا جو اس کے اور اس کے پاک رسول کے نام کی آڑ میں بندگان خدا کو گمراہ کر رہا ہو۔ آج اس مسبب الاسباب کے پیدا کردہ یہ سامان ہیں کہ خود خلیفہ قادیان کے مخلص مرید آنجناب کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کر رہے ہیں اور عرصہ سے خلافت مآب کو (جو پیشتر ازیں ہر مخالف کو مباہلہ کے لئے بلایا کرتے تھے۔ ان کے مشتبہ چال چلن پر مباہلہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر آج تک اس روحانیت پاکیزگی اور تعلق باللہ کے مدعی کو میدان میں آنے کی جرات نہیں)

خاکسار اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے اور دنیا پر حقیقت کو بے نقاب اور جملہ برادران اسلام کی آگاہی کے لئے بذریعہ اشتہار ہذا اس امر کی اطلاع دیتا ہوں کہ یہ عاجز بھی عرصہ سے خلافت مآب کو یہی چیلنج دے رہا ہے کہ اگر ان کی ذات پر عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو وہ میدان مباہلہ میں آکر اپنی روحانیت صداقت کا ثبوت دیں۔ مگر خلافت مآب نے آج تک اس چیلنج کو قبول ہی نہیں کیا۔

آج پھر اتمام حجت بذریعہ اعلان ہذا میں خلیفہ قادیان کو چیلنج دیتا ہوں کہ ان کے دعاویٰ میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو اپنے چال چلن پر الزامات کے خلاف دعوائے مباہلہ کریں۔ تا کہ فریقین میں سے جو جھوٹا اور کاذب ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور دنیا اس مباہلہ کے نتیجے سے حق و باطل میں فیصلہ کر سکے۔

١٦

صفحہ ٤٢٧

کیا میں امید کروں کہ آنحضرت ﷺ کی مماثلت کا دعویٰ کر کے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کرنے والا اور تمام انبیاء کی پیش گوئیوں کا مصداق ہونے کا دعویدار اس دعوت مباہلہ کو قبول کر کے اپنی صداقت کا ثبوت دے گا؟

ذیل میں یہ عاجز اس ہستی کا فتویٰ درج کرتا ہے جس کے قائم مقام ہونے کا خلافت مآب کو دعویٰ ہے اور جس کو آپ بعد آنحضرت ﷺ حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں تا کہ خلیفہ صاحب یہ کہنے کی جرأت نہ کر سکیں کہ ایسا مباہلہ جائز نہیں۔

مباہلہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بناء رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔

(اخبار الحکم)

خاکسار خلیفہ قادیان کا ایک سابق مرید۔ محمد زاہد، اخبار مباہلہ قادیان!

شہادت نمبر : ٢

چونکہ شریعت نے عورتوں کو پردے کی اجازت دی ہے۔ اس لئے اس نام کو بے پرد نہیں کیا گیا۔ اس کی فی الحال ضرورت تو نہ تھی لیکن اس خوف سے کہ خلیفہ صاحب کو ٹال مٹول کا موقع نہ ملے کہ عورتوں کی گواہی کسی کی بھی نہیں۔ اس لئے مباہلہ نامی اخبار قادیان میں بیان شائع ہوا ہے وہ ایک احمدی قادیانی خاتون کا ہے وہ پیش خدمت ہے۔

ایک احمدی خاتون کا بیان

’’میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں؟ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگایا جاسکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے تھے اور بہت مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا۔ جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آگئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جونہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ

١٧

صفحہ ٤٢٨

مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے مل آؤں مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹخنیاں لگادیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر کا چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا۔ آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بو آرہی تھی کہ مجھ کو چکر آگیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں انہوں نے پی ہو۔ کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہو گی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔“

”حضرت مرزا غلام احمد (مسیح موعود) کی تحریر میں مرزا محمود احمد کی تصویر“ (نوٹ: یہ رسالہ احتساب ج ٥٦ میں چھپ گیا ہے۔ مرتب!)

شہادت نمبر:٣

”خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد و بشر مجھے خوب جانتا ہے۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامنگیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا۔ قادیان میں سکونت اختیار کی۔ خلیفہ قادیان کے محکمہ قضاء میں بھی کچھ عرصہ کام کیا۔ مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کر کے خدمت دین بجالاؤں۔ چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دواگھر کے نام۔ ایک دواخانہ کھولا۔ جس کے اشتہارات عموماً اخبار الفضل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش میری عقیدت کو زائل کرنے کا باعث ہوئی۔ ورنہ اگر میں اور قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمپنی کے ایکٹروں کے سربستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا۔ یا اگر میں خاص قادیان میں اپنا مکان بنالیتا یا خلیفہ قادیان کا ملازم ہو جاتا تو کبھی مجھے آج اس اعلان کی جرأت نہ ہوتی۔ خاکسار: شیخ مشتاق احمد، احمدیہ دواگھر قادیان“

شہادت نمبر:٤

”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، بدچلن اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا خواہ وہ مسجد ہو یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو میں حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔

١٨

صفحہ ٤٢٩

اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے نکلیں تو میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔

یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں تا کہ دوسروں کے لئے ان کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔ والسلام! خاکسار: ڈاکٹر محمد عبداللہ آنکھوں کا ہسپتال قادیان!“

شہادت نمبر: ٥ ....... حلفیہ شہادت

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر یہ تحریر کرتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، عیش پرست اور بدچلن انسان ہے۔ میں ہر وقت اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ مستری اللہ بخش احمدی قادیان!“

شہادت نمبر: ٦

”بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف صاحب مرحوم ہم زلف، خلیفہ ربوہ فرماتی ہیں: ”مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ بدچلن، زنا کار انسان ہیں۔ میں نے ان کو خود زنا کرتے دیکھا اور میں اپنے دونوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر مؤکد بعذاب حلف اٹھاتی ہوں۔“

بے خوف مجاہد

خان عبدالرب خان صاحب برہم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے اور سر محمد ظفر اللہ کی کوٹھی کے ایک حصہ میں رہائش پذیر تھے۔ آپ نے مرزا محمود کی ہمشیرہ کا دودھ بھی پیا ہوا ہے۔ اس سے آپ گہرے مراسم کا اندازہ لگائیے۔ باوجود اس قدر گہرے تعلقات کے جب حق کی بات کا قصہ آیا حق کو مقدم کر کے خدا کو خوش کر لیا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی آلودہ زندگی کے مخفی در مخفی حقائق سنائے۔ اس پر اس مخلص احمدی دوست نے مرزا محمود احمد صاحب کو لکھ بھیجا کہ خان صاحب موصوف نے آپ کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کر دیا ہے اور دلائل اس نے ایسے دیئے ہیں جو میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس شکایت کے چند گھنٹے بعد مرزا بشیر احمد ایم اے المعروف قمر الانبیاء نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ اگر حضور کچھ باتیں دریافت کریں تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دینا۔ آپ خاموش ہو گئے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے کے دل میں خیال آیا اب بس کام بن گیا۔

ان کے ایک آدھ گھنٹہ بعد برہم صاحب کو قصر خلافت میں مرزا محمود احمد صاحب نے بلایا۔ جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی موجود تھا اور خان صاحب موصوف کے

١٩

صفحہ ٤٣٠

والد محترم بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور سب کو اکٹھے کرنے کا مطلب یہ تھا۔ تاکہ رعب ڈال کر حق کو بدلا جاسکے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ خلیفہ صاحب نے جب خان صاحب موصوف سے دریافت کیا تو اس بے خوف مجاہد نے کہا جو کچھ میں نے آپ کے بدچلنی کے متعلق ان صاحب سے کہا وہ حرف بحرف درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے ہو کر خلیفہ صاحب نے احسان گننے شروع کر دیئے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ کا دودھ بھی پیا ہوا ہے۔ خان صاحب موصوف نے کہا یہ درست ہے۔ لیکن یہ حق کا معاملہ ہے۔ دنیا داری کے مقابلہ میں حق مقدم ہے اور اس حق کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو مانا ہے۔ اس لئے آپ نے قصر خلافت سے آکر ازخود بیعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ آپ نے ایک کتاب ”بلائے دمشق“ بھی لکھی ہے۔ جس میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ قادیان غیر صالح ہے۔ اس کا اشتہار اس کتاب کے صفحہ ٨٠ پر ملاحظہ کریں۔ خان صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے۔

شہادت نمبر: ٧ ...... حلفیہ شہادت

”میں شرعی طور پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے۔ اگر وہ مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کریں اور میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔ والسلام ! عبدالرب خان برہم !“

شہادت نمبر: ٨ ...... حلفیہ شہادت

”میری قادیانی جماعت سے علیحدگی کے وجوہات منجملہ دیگر دلائل کے براہین ایک وجہ اعظم جناب خلیفہ صاحب کی سیاہ کاریاں اور بدکاریاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ صاحب مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں ہے۔ بلکہ نہایت ہی سیاہ کار اور بدکار ہے۔ اگر خلیفہ صاحب اس امر کے تصفیہ کے لئے مباہلہ کرنا چاہیں تو میں بطیب خاطر میدان مباہلہ میں آنے کے لئے تیار ہوں۔ فقط ! خاکسار: عتیق الرحمٰن فاروق، سابق مبلغ جماعت احمدیہ (قادیان)“

شہادت نمبر: ٩ ...... حلفیہ شہادت

”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا

٢٠

صفحہ ٤٣١

کام ہے۔ مندرجہ ذیل شہادت لکھتا ہوں۔ بیان کیا مجھے میری والدہ نے کہا کہ میں حضرت خلیفہ مرزا محمود صاحب کے ہاں رہا کرتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جوان نامحرم لڑکیوں پر عمل مسمریزم کر کے انہیں سلا دیا کرتے تھے۔ پھر آپ ان کو کئی جگہ سے ہاتھ لگاتے۔ تب بھی انہیں ہوش نہ ہوتی تھی۔“

صاحب انہی سیڑھیوں پر اترتے آرہے تھے۔ جب میرے مقابل پہنچے تو انہوں نے میری چھاتی پکڑ لی۔ میں نے زور سے چھڑائی۔“ خاکسار: علی حسین!

شہادت نمبر : ١٠

جناب ملک عزیز الرحمٰن صاحب جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور، قادیانی جماعت کے مشہور و معروف سرگرم مبلغ ملک عبد الرحمٰن صاحب خادم گجراتی مصنفہ احمدیہ پاکٹ بک کے حقیقی برادر ہیں۔ آپ وقف زندگی ہو کر ربوہ میں عرصہ تک قیام پذیر رہے اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور آپ فارن مشن اکاؤنٹس کے انچارج بھی تھے۔ ان کی شہادت پیش خدمت ہے۔

حلفیہ شہادت

”میں اس قہار خدا کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، یہ بیان کرتا ہوں کہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض واقف زندگی ربوہ (حال راولپنڈی) نے میرے سامنے میرے مکان واقعہ لاہور پر کئی ایک ایسے واقعات بیان کئے جن سے خلیفہ صاحب ربوہ کے اوّل درجہ بدکار ہونے کا یقین کامل ہو جاتا ہے۔ اس نے میرے اور چند دوستوں کے سامنے بالوضاحت یہ بیان دیا کہ خلیفہ صاحب ربوہ مع اپنی بیویوں کے باقاعدہ پروگرام کے تحت بدکاری کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ میں نے اس تمام بدکاری کو بچشم خود دیکھا۔ اگر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض اس بیان مذکورہ بالا سے انحراف کریں تو میں ان سے حلف مؤکد بعذاب کا مطالبہ کروں گا۔ مزید برآں مجھے چونکہ خلیفہ صاحب کے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کام کرنے اور خلیفہ صاحب کو نزدیک سے دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔ میں بھی خلیفہ صاحب سے اس ضمن میں اور ان کے جھوٹے دعوٰی مصلح موعود کے بارہ میں مباہلہ کرنے کو ہر وقت تیار ہوں۔ فقط: ملک عزیز الرحمٰن جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور!“ ٢١

صفحہ ٤٣٢

شہادت نمبر: ١١ ...... حلفیہ شہادت

اگرچہ میں نے خلیفہ صاحب موجودہ کا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان تحریروں میں کسی نقص کا جواز نکال لیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ کہیں کہ میری زنا کاری کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لئے مباہلہ نہیں کر سکتا۔ وقت کی بچت کی خاطر محمد یوسف صاحب ناز کا بیان ہدیہ ناظرین ہے۔

محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان

”بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم“ ”اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمد عبده ورسوله“

میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو برحق سمجھتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد میں مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔

میں اپنے علم مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔

(دستخط محمد یوسف ناز معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے طولانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی)

”حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود کی تحریر میں مرزا محمود احمد کی تصویر“

(مطبوعہ احتساب ج ٥٦)

شہادت نمبر: ١٢

خلیفہ صاحب کے رفیق کار جن کو ١٩٢٤ء میں انگلستان ہمراہ لے گئے تھے۔ یعنی فاضل اجل حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب مصری مولوی فاضل بی۔ اے کا مکمل بیان آگے ملے گا۔ آپ کی خلیفہ صاحب سے بیعت کی علیحدگی کے اسباب کا بیان درج ہے۔

”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

(دور حاضر کا مذہبی آمر، مطبوعہ احتساب ج ٥٦)

٢٢

صفحہ ٤٣٣

جناب عبدالمجید صاحب ایک احمدی مخلص نوجوان ہیں۔ قادیان کی مقدس سرزمین میں آپ پیدا ہوئے اور مختلف طریق سے جماعت کی خدمت میں منہمک رہے۔ اس خدمت کی وجہ سے آپ اس قدر مقبول ہو گئے۔ آپ کو سیکرٹری خدام الاحمدیہ حلقہ اقصیٰ منتخب کر لیا گیا۔ آپ ہر کس و ناکس سے متانت اور سنجیدگی سے پیش آتے تھے۔ ان اوصاف حمیدہ کی وجہ سے مزید مقبولیت حاصل ہو گئی اور ممبر مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ لاہور کی رکنیت بھی خدمت کے اصول کے پیش نظر اعزازی طور پر قبول فرمائی ان کا حلفیہ بیان پیش خدمت ہے۔

شہادت نمبر : ١٣ ...... حلفیہ شہادت

”قسم ہے مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی، قسم ہے مجھ کو قرآن پاک کی سچائی کی، اور قسم ہے مجھ کو حبیب کبریا کی معصومیت کی ، کہ میں اپنے قطعی علم کی بناء پر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ کو ایک ناپاک انسان سمجھنے میں حق الیقین پر قائم ہوں۔ نیز مجھے اس بات پر بھی شرح صدر حاصل ہے کہ آپ جیسے شعلہ بیان یعنی (سلطان البیان) مقرر سے قوت بیان کا چھن جانا اور دیگر بہت سی امراض کا شکار ہونا مثلاً نسیان فالج وغیرہ یقیناً یقیناً خدائی عذاب ہیں جو کہ خدائے عزیز کی طرف سے اس کی قدیم سنت کے مطابق مفتریان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ علاوہ دیگر واسطوں کے آپ کے مخلص ترین مریدوں کی زبانی وقتاً فوقتاً آپ کے گھناؤنے کردار کے بارہ میں عجیب و غریب انکشافات اس عاجز پر ہوئے۔ مثال کے طور پر آپ کے ایک مخلص مرید جناب محمد صدیق صاحب شمس نے بارہا میرے سامنے جناب خلیفہ صاحب کے چال چلن اور غیر شرعی افعال کے مرتکب ہونے کے بارہ میں بہت سے دلائل و ثبوت اور خلیفہ صاحب کے پرائیویٹ خط پیش کئے۔ اس جگہ میں احتیاطاً یہ لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اگر محترم صدیق صاحب کو میرے بیان بالا کی صحت کے بارہ میں کوئی اعتراض ہو تو میں ہر دم ان کے ساتھ اپنے بیان کی صداقت پر مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ احقر العباد: عبدالمجید!“

شہادت نمبر : ١٤ ...... حلفیہ شہادت

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو جبار قہار ہے۔ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی اور مردود کا کام ہے۔ حسب ذیل شہادت دیتا ہوں۔ میں ١٩٤٢ء سے لے کر ١٩٤٦ء تک مرزا گل محمد صاحب رئیس قادیان کے گھر میں رہا۔ اس دوران میں کئی مرتبہ ایک عورت مسماۃ عزیزہ بیگم صاحبہ کے خطوط خفیہ طریقہ سے ان ہدایت پر محل

٢٣

صفحہ ٤٣٤

کرتے ہوئے کہ ”ان خطوں کا کسی سے بھی ذکر نہ کرنا۔ خلیفہ محمود کے پاس لے جاتا رہا۔ خلیفہ مذکور بھی اس طریقہ سے اور ’ہدایت بالا‘ کو دوہراتے ہوئے جواب دیتا رہا۔ (خطوط انگریزی میں تھے) اس کے علاوہ اس عورت کو رات کے دس بجے بیرونی راستہ سے لے جاتا رہا۔ جب کہ اس کا خاوند کہیں باہر ہوتا تھا۔ عورت غیر معمولی بناؤ سنگھار کر کے خلیفہ کے دفتر میں آتی تھی۔ میں بموجب ہدایت اسے گھنٹہ یا دو گھنٹہ بعد لے آتا تھا۔ ان واقعات کے علاوہ بعض اور واقعات سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خلیفہ صاحب کا چال چلن خراب ہے اور ہر وقت ان سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ حافظ عبدالسلام پسر حافظ سلطان حامد خان صاحب استاد میاں ناصر احمد!“

شہادت نمبر: ١٥ ....... حلفیہ شہادت

”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھ سے حضرت صاحب (یعنی مرزا محمود احمد) کو صادقہ کے ساتھ زنا کرتے دیکھا۔ اگر میں جھوٹ لکھ رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔ غلام حسین احمدی!“

شہادت نمبر: ١٦ ....... حلفیہ شہادت

”مجھے دلی یقین ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نہایت بدچلن، لوز کریکٹر انسان ہے۔ بے شمار عینی شہادتیں جو مجھ تک پہنچ چکی ہیں جن کی بناء پر میں یہ جاننے کے لئے تیار ہوں کہ واقعی خلیفہ صاحب قادیان زانی اور اغلام باز (فاعل مفعول) بھی ہیں۔ اس دلی یقین کا ثبوت میں یہاں تک دے سکتا ہوں۔ اگر خلیفہ صاحب قادیان اپنے کو کریکٹر چال چلن کی صفائی کے لئے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں تو ہر طرح اسے قبول کرنے کو تیار ہوں۔ مرزا منیر احمد نصیر!“

شہادت نمبر: ١٧ ....... حلفیہ شہادت

میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو بچشم خود زنا کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ شیخ بشیر احمد مصری!“

مرزا محمود کی اپنی گواہی

حکیم عبدالعزیز صاحب (سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان پنجاب) نے

٢٤

صفحہ ٤٣٥

خلیفہ صاحب کی بدچلنی کے پیش نظر مسجد اقصٰی میں جب خلیفہ صاحب مجمع عام کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ علیٰ الاعلان لکھ کر دیا کہ آپ زنا کار اور بدچلن ہیں۔ اس لئے میں آپ کی بیعت نہیں کرسکتا۔ آپ پر بھی ١٩٣٧ء میں حملہ کروایا گیا۔ پندرہ بیس دن ہسپتال میں رہے اور خلیفہ صاحب کو للکارتے رہے۔ آپ نے مرزا محمود احمد صاحب کو ایک خط لکھا۔ جس میں آپ نے تحریر کیا کہ: ”سنا ہے کہ آپ نے چار گواہوں کا ذکر لوگوں سے کیا ہے۔ اگر چہ ہم سے تو نہیں کیا اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اسی کے لئے تیاری فرمالیں۔ ہم صرف چار ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں علاوہ عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے خود جناب والا کی اپنی شہادت بھی پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت نہ دے سکے تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لئے بھی تیار ہیں۔“ حکیم صاحب موصوف کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے۔

شہادت نمبر: ١٨ ...... حلفیہ شہادت

”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں مرزا محمود احمد صاحب کی بیعت سے اس لئے علیحدہ ہوا تھا کہ میرے پاس ان کے خلاف احمدی لڑکوں، لڑکیوں اور عورتوں کے صحیح واقعات پہنچے تھے۔ جن کے ساتھ مرزا محمود احمد نے بدکاری کی تھی۔ اسی بناء پر میں نے مرزا محمود احمد صاحب کو لکھا تھا کہ آپ کے خلاف احمدی لڑکے لڑکیاں اور عورتیں اپنے واقعات بیان کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں آپ یا جماعتی کمیشن کے سامنے معاملہ پیش ہونے دیں۔

یا میدان مباہلہ کے لئے تیار ہوں یا حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں یا ہمیں موقعہ دیں کہ ہم تمام واقعات پیش کر کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام احمدیوں کی موجودگی میں آپ کے سامنے حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں۔ تا روز روز کا جھگڑا ختم ہو کر حق کا بول بالا ہو۔ لیکن مرزا محمود احمد صاحب کو کسی طریق پر بھی عمل پیرا ہونے کی جرأت نہیں ہوئی۔ سوائے کفار والا حربہ بائیکاٹ مقاطعہ استعمال کرنے کے۔

١٩٣٧ء سے لے کر آج تک میں اسی عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں کہ میاں محمود احمد صاحب ایک زانی اور بدچلن انسان ہے۔ جس کو خدا رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں۔ اگر میں اپنے اسی عقیدہ میں باطل پر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔ حکیم عبدالعزیز سابق پریذیڈنٹ، انجمن انصار احمدیہ (قادیان)“

٢٥

صفحہ ٤٣٦

شہادت نمبر: ١٩ ....... حلفیہ شہادت

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں نے مرزا محمود احمد قادیانی کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔ منیر احمد!“

شہادت نمبر: ٢٠ ....... حلفیہ شہادت

”مصری عبدالرحمٰن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے ہاتھ میں قرآن شریف لے کر یہ لفظ کہے۔ خدا تعالیٰ مجھے پارا پارا کردے۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔ بقلم خود محمد عبداللہ احمدی، سیمنٹ فرنیچر ہاؤس مسلم ٹاؤن“

شہادت نمبر: ٢١ ....... حلفیہ شہادت

”مرزا گل محمد صاحب مرحوم آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائیداد کے مالک تھے اور مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے رکن تھے۔ ان کی دوسری بیوہ (چھوٹی بیگم) نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی۔ حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن اور حدیث میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ (نعوذ بالله من ذلك!) میں خداوند تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان تحریر کر رہی ہوں۔ شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط: سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین سمن آباد لاہور“

شہادت نمبر: ٢٢ ....... حلفیہ شہادت

چوہدری علی محمد صاحب واقف زندگی اپنے خاندان میں صرف اکیلے ہی احمدی ہیں جنہوں نے سب کچھ قربان کر کے احمدیت جیسی نعمت کو پالیا۔ آپ ملٹری میں حوالدار تھے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتب کے مطالعہ کے بعد آپ نے احمدیت قبول کی۔ اللہ بخش صاحب تسنیم کے برادر میر محمد بخش، ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ کے ذریعہ مورخہ

٢٦

صفحہ ٤٣٤

٣٠/مارچ ١٩٤٥ء کو جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور کچھ دن بعد آپ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کر دیا۔ مئی ١٩٤٥ء میں قادیان سے بلاوا آیا تو آپ بلا حیل و حجت پورے اخلاص و عقیدت مندی کے ساتھ قادیان تشریف لے گئے اور خدمت کی ابتداء دفتر وکیل صنعت تحریک جدید سے ہوئی اور کچھ ماہ بعد مختلف شعبہ جات میں متعین کئے گئے۔ مثلاً:

سندھ جننگ فیکٹری کنڈری میں بطور اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا۔ پھر اس دوران میں نمائندہ خصوصی بنا کر دی۔ ایشیا افریقین لمیٹڈ کراچی سپیشل آڈٹ کرنے کی غرض سے بھیجا گیا اور پنڈی، گوجرہ میں بھی تحریک جدید کے حصوں کی نگرانی کے لئے نمائندہ خاص مقرر کیا گیا۔ لاہور میں انڈسٹریل کمرشل ڈویلپمنٹ کمپنی کے دفتر میں اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا۔ تجارت اور صنعت کے دفتر میں ہیڈ اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا اور دی بورڈ آف ڈائریکٹر کا سیکرٹری مرزا محمود احمد کی ذاتی منظوری سے کیا گیا۔ جس کا چیئر مین مرزا مبارک احمد ہے۔ بدستور سالہا سال سندھ کی زمینوں کے سلسلہ کے تجارتی کارخانوں میں اور فضل عمر انسٹیٹیوٹ کا حساب آڈٹ کرتے رہے۔ بسا اوقات قیام ربوہ میں اکثر مالی خیانتوں کے قصوں پر آپ کو بطور کمیشن مقرر کیا جاتا۔ بعض دفعہ دارالقضاء بھی فیصلوں کے لئے آپ کو ہی کمیشن مقرر کرتے۔ آپ بطور محاسب خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں بھی کام کرتے رہے اور خلیفہ صاحب چوہدری صاحب موصوف سے خاص ملاقاتیں بھی کیا کرتے تھے۔ حافظ عبدالسلام وکیل اعلیٰ نے جب کسی بات پر چوہدری صاحب کی شکایت خلیفہ صاحب سے کی۔ خلیفہ صاحب نے بالوضاحت جواب میں کہا جو درج ذیل ہے۔ ”میرے نزدیک تو یہ محنت اور دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔“

الغرض چوہدری صاحب موصوف نے مختلف شعبہ جات میں اکاؤنٹنٹ بطور نائب ڈائریکٹر کے کام کئے۔ ان کے علم اور یقین کے پیش نظر ان کو تمام مخفی راز از بر یاد ہیں کہ روپیہ کیسے اور کس طریق سے ہضم کیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے ایک کتاب میں حساب بنا کر پیش کیا ہے اور چیلنج بھی دیا ہے کہ یہاں مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کے رو سے میں عینی شاہد ہوں۔

بہر حال چوہدری صاحب موصوف کی خدمت جلیلہ قابل قدر ہیں۔ ضرورت پڑنے پر وقت کے تقاضوں کو ضرور پورا کریں گے۔ قیام ربوہ میں ان سے جو حالات پیش آئے اس کے ذریعہ سے ان کا حلفیہ بیان پیش خدمت ہے۔ ”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشن دین صاحب جو ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور مستری کام

٢٧

صفحہ ٤٣٨

کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات تھے اور خصوصاً مرزا حنیف احمد ابن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے اور اس قلبی عقیدت کی بناء پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کے پاس روزانہ ان کے گھر جاکر بیٹھتے اور بسا اوقات صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرۂ خاص میں بھی لے جاکر ان کی خاطر و مدارت کرتے۔ انہوں نے مجھ سے بارہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح موعود سمجھتے ہو وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم کوئی غیر سمجھے وہ دراصل تمہاری کوئی والدہ ہی تھیں۔ مبادا خدا کے قہر و غضب کے نیچے آجاؤ۔ تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی رؤیت عینی پر حلفاً مصر رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ شدت کے ساتھ پائی ہے کہ کسی طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہو جائے۔

اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکا دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ایسا عبرتناک عذاب نازل فرمائے جو مخلص اور ہر دیدہ بینا کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہو۔

ہاں اس نام نہاد خلیفہ کی مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کا ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں۔ کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاونٹنٹ اور نائب آڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ خاکسار: چوہدری علی محمد عفی عنہ واقف زندگی حال نمائندہ خصوصی کوہستان، لائل پور!‘‘

شہادت نمبر: ٢٣ ...... حلفیہ شہادت

جناب مولوی محمد صالح صاحب جو واقف زندگی سابق کارکن وکالت، تحریک جدید ربوہ مولانا محمد یامین صاحب تاجر کتب کے چشم چراغ ہیں۔ صحابی ہونے کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کا بے شمار لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ آپ قادیان کی مقدس سرزمین میں ١٩٢٩ء میں پیدا ہوئے اور مولوی فاضل تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مختلف شعبوں میں آپ نے نہایت خوش اسلوبی سے خدمت سر انجام دیتے رہے۔ مثلاً:

٢٨

صفحہ ٤٣٩

ان شعبہ جات کے علاوہ بھی جماعتی طور پر جس خدمت پر بھی مامور کیا گیا۔ آپ دیانت اور تقویٰ کی راہ پر چل کر صحیح معنوں میں خدمت کی۔ آپ عبدالرحیم احمد جو خلیفہ صاحب کے دامات ہیں۔ ان کے پرائیویٹ اسسٹنٹ وکیل التعلیم تحریک جدید ربوہ بھی تھے۔ آپ نے جس جانفشانی اور اخلاص محنت سے کام کرتے تھے۔ اسی کی وجہ سے آپ کے ذمہ کام سپرد کئے جاتے تھے۔ آٹھ دس شعبہ جات کی کارکردگی آپ کی مقبولیت کی شاہد ہے اور گہرے تعلقات کا اندازہ بھی اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس کا حلفیہ بیان ہدیہ ناظرین ہے۔

حلفیہ شہادت

”میں اللہ کی قسم کھا کر مندرجہ ذیل چند سطور محض اس لئے سپرد قلم کر رہا ہوں کہ جو لوگ اب بھی مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ کے تقدس کے قائل ہیں ان کے لئے راہنمائی کا باعث ہو۔ اگر میں درج ذیل بیان میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر اور میرے اہل وعیال پر نازل ہو ۔“

”میں پیدائشی احمدی ہوں اور ١٩٥٧ء تک میں مرزا محمود احمد کی خلافت سے وابستہ رہا۔ خلیفہ صاحب نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کر دیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آکر خلیفہ صاحب کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے حالات سننے میں آئے۔ اس پر میں نے خلیفہ صاحب کی صاحبزادی امت الرشید بیگم، بیگم میاں عبدالرحیم احمد سے ملاقات کی۔ انہوں نے خلیفہ صاحب کے بدچلن اور بدقماش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی۔ باتیں تو بہت ہوئیں۔ لیکن خاص بات قابل ذکر یہ تھی کہ جب میں نے امت الرشید بیگم سے کہا کہ آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے تو انہوں نے کہا کہ ”صالح نور صاحب!“ آپ کو کیا بتلاؤں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے اور اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلا دوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ اس واقعہ پر امت الرشید کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کر سکا

٢٩

صفحہ ٤٤٠

اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت میں ان واقعات کی بناء پر جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، راجہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں۔ حق الیقین کی بناء خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اسی کی بناء پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں ۔“ خاکسار: محمد صالح نور، واقف زندگی سابق کارکن وکالت تعلیم تحریک جدید ربوہ!“

شہادت نمبر :٢٤ ...... حضرت ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض کی شہادت

خلیفہ صاحب کا اصول

حضرت ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض، مولوی فاضل واقف زندگی خلیفہ ربوہ کے خاص ڈاکٹر تھے اور خلیفہ صاحب نے ازخود سلسلہ کے خرچ سے حکمت اور ڈاکٹری کی تعلیم دلوائی۔ ڈاکٹر صاحب موصوف علاج مخصوصہ میں کافی سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں اور عرصہ دراز تک خلافت مآب کے چرنوں میں رہے۔ آپ نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کی سوانح حیات مرتب کر کے شائع کی ہے جو تقریباً ٣٠٠ صد صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ جامعہ المبشرین میں پروفیسر بھی تھے۔ آپ اپنی خداداد دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے خلیفہ صاحب کی آلودہ زندگی سے ہی نہیں بلکہ اندرون خانہ کے ہر شعبہ سے پوری طرح واقف راز بھی ہیں ۔ یعنی بہت سے چشم دید راز دار خصوصی کے علاوہ آپ خلیفہ صاحب کے اصول کے متعلق فرماتے ہیں ۔

”آپ کو یاد ہوگا جب تک ہم ربوہ میں رہے ہماری آپس میں کچھ ایسی قلبی مجانست رہی کہ باہم مل کر طبیعت بے حد خوش ہوتی تھی۔ کبھی شعر و شاعری کے سلسلہ میں تو کبھی مخلص کے مصنوعی تقدس پر نکتہ چینی کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ دراصل خلیفہ صاحب کا اصول ہے کہ ؎

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں انہیں
اور پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں انہیں جوشؔ

اور خود خوب رنگ رلیاں مناؤ، عیش وعشرت میں بسر کرو۔ ہم نے تو بھائی خلوص دل سے وقف کیا تھا۔ خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ انہیں یہ خلوص پسند نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر حکم وعدل سے خود فیصلہ کردے گا کہ ٹھکرائے ہوئے ہیرے کتنے قیمتی اور کتنے عزیز تھے۔

شروع شروع میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ ہر وقت دل مختلف افکار کی اماجگاہ بنا رہتا تھا۔ ماں باپ کی یاد، عزیزوں کی جدائی کا احساس دوستوں کے بچھڑنے کا غم اور حاسدوں کے تیروں کی چبھن بھی ساتھ تھا۔ لیکن ؎

ہر داغ تھا اس دل میں بجز داغ ندامت

٤٠

صفحہ ٤٤١

سب سے بڑا معلم انسان کی فطرت صحیحہ ہے۔ جس کی روشنی میں انسان اپنے قدموں کو استوار رکھتا ہے اور ہر افتاد پر ڈگمگانے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ کلی طور پر مسخ ہو جائے تو پھر کیسی بے راہ روی کا احساس دل میں نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ آمین! آپ کا ریاض!“

شہادت نمبر : ٢٥ ...... حلفیہ شہادت

(اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر)

جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں۔ ”میں نے اپنی شہادت کے علاوہ حبیب احمد کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ مجھے قادیان میں لے گئے۔ میں نے ان سے قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے ...... قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب (مرزا محمود احمد) نے دو مرتبہ ان سے لواطت (یعنی منڈے بازی) کی ہے۔ ایک دفعہ قصر خلافت میں اور دوسری دفعہ ڈلہوزی میں، میں نے اس سے تحریری شہادت مانگی تو پوری تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔ حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق فرما رہے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم...... وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود......نحمدہ ونصلیٰ علیٰ رسولہ الکریم بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کے بعد التماس ہے کہ جو میں آپ کو ...... جو بات بتائی تھی میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہ بات بالکل صحیح ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر...... خاکسار: حبیب احمد اعجاز!“

شہادت نمبر : ٢٦ ...... راجہ بشیر احمد صاحب رازی

مکرمی محترمی راجہ علی محمد صاحب ریٹائرڈ افسر مال، امیر جماعت احمدیہ گجرات کے چشم چراغ ہیں۔ آپ نے خدمت دین کے لئے ١٩٢٥ء میں اپنے آپ کو وقف کیا اور پورے اخلاص کے ساتھ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا۔

اور خلیفہ ربوہ کے بلاوے پر آپ ربوہ تشریف لے آئے اور نائب ایڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ کے کام پر مامور کیا گیا۔ آپ نے اس کام کو یا جو کام بھی آپ کے سپرد کئے جاتے نہایت ہی استقلال اور دیانتداری سے سرانجام دیتے رہے۔ آپ ربوہ کے کچے کوارٹروں میں رہائش پذیر تھے اور دوستوں کے علاوہ آپ کے مراسم جناب شیخ نور الحق صاحب احمدیہ سنڈیکیٹ سے ہوئے تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی آلودہ زندگی کا ایسا بھیانک منظر پیش کیا۔ آپ ششدر رہ گئے۔ آپ کا

٣١

صفحہ ٤٤٢

ذہن اس آلودہ زندگی کو تسلیم نہیں کرتا تھا کہ ایسا مقدس انسان بدکار نہیں ہو سکتا۔ بالآخر رفتہ رفتہ آپ کے مراسم راز دار خصوصی ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض سے ہو گئے تو انہوں نے بھی اس ناپاک انسان کے عشرت کدہ کی رنگین مجالسوں کا ذکر فرمایا اور ان کو مزید پختگی کے لئے اس رنگین اور سنگین مجالس تک لے جانے کا وعدہ کر کے اس مجلس میں شامل کر لیا۔ رازی صاحب موصوف نے جب اس مجالس خاص میں عملاً رسائی حاصل کر لی اور اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھا تو آپ کو محو حیرت ہو گئے۔ بعدازیں آپ نے علی الاعلان پوری دیانتداری سے اس قصہ خصوصی کو جو علی وجہ البصیرت پورے اطمینان کے ساتھ دیکھ چکے تھے۔ اپنے دوستوں سے کھلم کھلا اظہار کرتے رہے۔ رازی صاحب موصوف کا جواب خط یہاں درج ذیل ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

”ارشاد گرامی پہنچا۔ خلیفہ صاحب سے عدم وابستگی کی اصل وجہ تو وہی ہے جو ہمارے مکرم بھائی مرزا محمد حسین صاحب بی۔کام فرمایا کرتے ہیں کہ: ”جو سفر ہم نے ماموریت سے شروع کیا اسے امریت پر ختم کرنا ہمیں گوارا نہیں۔“

مگر یہ اجمال شاید آپ کے لئے وجہ تسلی نہ بن سکے۔ لیجئے مختصراً ہماری روئیداد بھی سن لیجئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم ربوہ کے کچے کواٹروں میں خلیفہ صاحب ربوہ کے کچے قصر خلافت کے سامنے رہائش پذیر تھے۔ قرب مکان کے سبب۔

شیخ نور الحق احمد ”یہ سنڈیکیٹ“

سے راہ و رسم بڑھی تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی زندگی کے ایسے مشاغل کا تذکرہ کیا جن کی روشنی میں ہمارا وقف ........... نظر آنے لگا۔ اتنے بڑے دعوے کے لئے شیخ صاحب کی روایت کافی نہ تھی۔ خدا بھلا کرے۔

ڈاکٹر نذیر احمد ریاض

جن کی ہم رکابی میں مجھے خلیفہ صاحب کے ایک ذیلی عشرت کدہ میں چند ایسی ساعتیں گزارنے کا موقعہ ہاتھ آیا۔ جس کے بعد میرے لئے خلیفہ صاحب ربوہ کی پاک دامنی کی کوئی سی بھی تاویل و تعریف کافی نہ تھی اور میں اب بفضل ایزدی علی وجہ البصیرت خلیفہ صاحب ربوہ کی بداعمالیوں پر شاہد ناطق ہو گیا ہوں۔ میں صاحب تجربہ ہوں کہ یہ سب بداعمالیاں ایک سمجھی سوچی ہوئی سکیم کے ماتحت وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان میں اتفاق یا بھول کا کوئی دخل نہیں۔ جن دنوں ہم تھے۔

٣٢

صفحہ ٤٤٤

محاسب کا گھڑیال

ان رنگین مجالس کے لئے سٹینڈرڈ ٹائم کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب نہ جانے کون سا طریق رائج ہے۔ میرے اس بیان کو اگر کوئی صاحب مذکور چیلنج کرے تو میں حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کو تیار ہوں۔ والسلام! بشیر رازی بی۔ کام، سابق نائب ایڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ!“

نوٹ: محاسب کا گھڑیال سے مراد اگر ایک شخص کو رات کے نو بجے کا وقت عشرت کدہ کے دیا گیا ہے تو اس کی گھڑی میں بیشک نو بج چکے ہیں۔ جب تک محاسب کی گھنٹی نو نہ بجائے اس وقت تک وہ شخص اندر نہیں آسکتا۔

شہادت نمبر : ٢٧ ...... چوہدری صلاح الدین صاحب ناصر بنگالی

خان بہادر ابوالہاشم خان مرحوم چوہدری صاحب موصوف کے والد محترم نے بنگال میں جماعت احمدیہ کی قیادت کی اور آپ نے پورے اخلاص کے ساتھ مسیح موعود کی تعلیم کو اجاگر کیا اور آپ نے مرزا محمود کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ بطور خدمت کے کیا اور آپ جب ریٹائرڈ ہوئے تو آپ بمع اہل وعیال قادیان تشریف لے آئے اور محلہ دارالانوار میں ایک بہترین کوٹھی رہائش کے لئے تعمیر کی اور آپ کے خاندان کو خلیفہ صاحب کے خاندان سے والہانہ عقیدت تھی۔ اس قریبی تعلقات کی وجہ سے آپ خصوصیت سے واقف راز ہوگئے۔ چوہدری صاحب صدر انجمن کے شعبہ جات میں بھی کام کرتے رہے اور آپ کی انتھک مساعی محض دین کی خاطر شامل حال رہی۔ آپ بھی ربوہ میں کچے کوارٹروں میں عرصہ تک رہائش پذیر رہے۔ لیکن جب آپ کو مرزا محمود کی ناپاک سیرت کا بخوبی علم ہو گیا اور علی وجہ البصیرت حق الیقین تک پہنچ گئے تو آپ نے ربوہ کو خیر باد کرنے کا تہیہ کر لیا۔ موقع پا کر آپ خفیہ طور سے بمع ہمشیرگان اور والدہ محترمہ کو رات کی تاریکی میں لے کر لاہور روانہ ہو گئے اور پھر علی اعلان خلیفہ صاحب کی ناپاک سیرت پر اخباروں اور لیکچروں میں بلا خوف اظہار فرماتے رہے۔ چوہدری صاحب موصوف حقیقت پسند پارٹی کے پہلے جنرل سیکرٹری رہے۔ آپ نے اس کام کو بھی اپنی صلاحیتوں کے پیش نظر حسب دستور مستعدی اور جانفشانی سے کیا۔ اس بدکار اور بداعمال انسان کے خلاف آپ نے اپنے آپ کو وقف کیا اور اس کی ناپاک سیرت پر الارم دینا اپنا فرض اولین تصور کرتے ہیں۔ چوہدری صاحب گہرے راز داروں میں سے واقع ہوئے ہیں۔ لکھتے ہیں: ” قادیانی جماعت کے اندر فدائیان احمدیت کے نام کی خفیہ تنظیم کو بے نقاب کیا جائے جو ایک نقاب پوش خطرناک قسم کی نوجوانوں کی تنظیم ہے جو عملی طور پر تشدد کی حامی ہے اور اپنے کسی راز کو افشاء کرنے والے کا کام تمام کر دیتی ہے اور ذیل کے

صفحہ ٤٤٤

احمدی حضرات کو عدم آباد تک پہنچا چکی ہے۔“

(نوائے پاکستان مورخہ ٢١ اپریل ١٩٥٧ء)

چوہدری صاحب کی مجاہدانہ سرگرمیوں کا اندازہ بہت سے اخباروں کے علاوہ مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے۔ جس میں آپ نے طویل لسٹ مختلف لوگوں کی دی ہے۔ جن کو راز افشاء کرنے کے جرم میں ان کا کام تمام کر دیا گیا۔ طوالت کے خوف سے مثال کے طور پر صرف ایک نام پر اکتفا کرتا ہوں۔ چوہدری صاحب نے اپنی ہمشیرہ عابدہ بیگم بنت خاں بہادر ہاشم خاں صاحب آف بنگال کے اہم واقعہ کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ ان کو بھی بذریعہ بندوق مار کر اچانک موت سے منسوب کیا گیا۔ ان کے خیال کے مطابق کہ کہیں راز افشاء نہ کر دے۔

بہر حال چوہدری صاحب صحیح معنوں میں حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کا ہر کام دیانتدارانہ اور اخلاص پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کو مزید استقامت بخشے۔ علاوہ ازیں جب گجرات میں جلسہ ہوا تو آپ نے اس وقت بھی صداقت کو پورے طور سے روشن کیا کہ ہم نے تقدس کے پردے میں جو کچھ اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہی ہماری اس سے علیحدگی کا باعث ہوا۔ چنانچہ چوہدری صاحب فرماتے ہیں۔

”بعد ازاں چوہدری صلاح الدین صاحب نے جو مشرقی پاکستان کے رہنے والے ہیں۔ بنگالی میں تقریر کی اور بتایا کہ ہم نے تقدس کے پردے میں جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ہماری اس جماعت سے علیحدگی اس کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا میں مشرقی پاکستان کے ایک معزز خاندان کا نوجوان ہوں اور امام جماعت احمدیہ کی دھاندلیوں کی وجہ سے علیحدہ ہو گیا ہوں اور دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ ان کی خلافت آمریت کا ایک واضح نمونہ ہے۔“

(نوائے پاکستان مورخہ ٢٨ اپریل ١٩٥٧ء)

شہادت نمبر:٢٨ ...... امام جماعت احمدیہ (قادیان) ربوہ کے متعلق

حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسماعیل مرحوم سول سرجن کی شہادت

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب خلیفہ صاحب کے ماموں اور خسر بھی ہیں۔ آپ کی قطعی رائے ہے کہ خلیفہ عیاش ہو تو میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ عیاشی کی وجہ سے نہ دماغ کام کرتا ہے اور نہ عقل اور نہ ہی حرکات صحیح طور پر کر سکتا ہے۔ سب قوٰی برباد ہو جاتے ہیں جس کو انگریزی میں ...... کہتے ہیں۔ زنا انسان کو بنیاد سے ہلا دیتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف فرماتے ہیں: ”...... بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ عیاش ہے۔ اس کے متعلق میں کہتا ہوں۔ میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں وہ کیا ہو جاتے ہیں۔

٣٤

صفحہ ٤٤٥

جنہیں انگریزی میں (Wreck) کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دماغ کام کا رہتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے۔ نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے۔ غرض سب قویٰ اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے۔ اس لئے کہتے ہیں۔ الزنا یخرج البناء (کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے)“

(الفضل مورخہ ١٠ جولائی ١٩٢٧ء)

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

خلیفہ ربوہ بھی اسی امراض میں مبتلا ہیں۔۔۔۔۔ ان کا دماغ ماؤف ہو چکا ہے۔ نہ عقل کام کرتی ہے نہ حرکات صحیح طور پر کام کرتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔ من وعن یہی حالت طاری ہے۔ موذی امراض اور فالج کا شکار ہیں۔ خصوصاً آپ نے ان کی عقل و فہم کا اندازہ جلسہ سالانہ پر بخوبی لگایا ہو گا کہ کس طرح وہ اپنی عقل کو ٹھکانے لگاتے رہے اور حاشیہ بردار درمیان میں لقمہ دیتے رہے۔ مگر یہ لقمہ بے سود ثابت ہوا۔ لاکھ پیوند لگاؤ لیکن جس نے اپنے زعم میں حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی بے حرمتی کی ہو اور صحابہ کرام کی بے عزتی کی ہو اس کی یہ سزا خدا تعالیٰ نے مقدر کر دی ہے تا کہ جماعت کے تمام افراد اپنی آنکھوں سے اس نشانوں کو دیکھ سکیں۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اس وقت خلیفہ صاحب زندہ ہیں۔ ان کی حرکات وسکنات بچشم خود دیکھ لیں اور تسلی کر لیں۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت مسیح موعود کی مقدس تعلیم کو اس بدکردار بدچلن انسان نے اپنے اعمال سے ذلیل کرتا رہا۔ پھر بدکردار بدچلن مصلح موعود نہیں ہو سکتا۔ خلیفہ نے جھوٹا مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس تعلیم کی لاج رکھ لی۔ خلیفہ کو ایسے عذاب میں گرفتار کر لیا ہے اور اس دنیا میں اپنی بداعمالیوں کی سزا بھگت رہا ہے اور خود خلیفہ صاحب کا بیان بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے۔ ان کی اپنی عبارت درج ذیل ہے۔

”ان کی وجہ سے دماغ کو خوراک پہنچنی بند ہو گئی۔ ان ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دماغی حالت اپنے معمول پر آ جائے گی۔ لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی رفتار اتنی تیز نہیں۔“

آدمیوں کے سہارے سے ایک دو قدم چل سکتا ہوں۔ مگر وہ بھی مشکل سے...... دماغ اور زبان کی کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کاموں سے قطعی طور پر منع کر دیا ہے۔

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل کی مزید تصدیق کے لئے خلیفہ ربوہ کی زبانی سنئے کہ مجھ پر فالج کا

٣٥

صفحہ ٤٤٦

حملہ ہوا اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لئے بھی امداد کا محتاج ہوتا ہوں۔ دو قدم بھی چل نہیں سکتا۔

(الفضل مورخہ ١٢؍اپریل ١٩٥٥ء)

٢٦؍فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا اور تھوڑے وقت کے لئے میں ہاتھ پاؤں سے معذور ہو گیا...... دماغ کا عمل معطل ہو گیا اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ’’میں اس وقت بالکل بیکار ہوں اور ایک منٹ نہیں سوچ سکتا۔‘‘

(الفضل ٢٦؍اپریل ١٩٥٥ء)

حضرت مسیح موعود کا فرمان

’’جو اس مقدس تعلیم کو اپنی بدکرداری نمونہ سے ناپاک کرے گا اس کا حشر ڈاکٹر ڈوئی سے کم نہ ہوگا۔ نہایت سخت دکھ کی مار، قہر الٰہی، غضب الٰہی اور خبیث امراض یعنی فالج اور پاگل پن کا شکار ہوگا۔‘‘ خلیفہ صاحب خود کہتے ہیں میں اب ٦٨ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کا شکار ہوں۔

(الفضل اگست ١٩٥٩ء)

خلیفہ صاحب کی اپنی شریعت

خلیفہ صاحب قادیان کی اپنی شریعت میں سب کچھ جائز ہے۔ فرانس کے ناچ گھر میں ننگے ناچ دیکھنا شریعت محمودیہ کے عین مطابق ہے۔ پھر اطالوی حسینہ کو سسل ہوٹل لاہور سے اغوا کر کے لے جانا ان کے مقدس، پاکباز بننے کی ادنیٰ مثال ہے۔ مرزا محمود نے خود ہی تسلیم کیا۔ ’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے۔ مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا۔ کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ (الفضل مورخہ ٢٨؍جنوری ١٩٣٣ء)

حضرت مسیح موعود (کشتی نوح ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٦) میں فرماتے ہیں: ’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو ٹالتا ہو۔ وہ نجات کا

٣٦

صفحہ ٤٤٧

دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کر لیتا ہے۔“

خلیفہ صاحب کیا فرماتے ہیں: ”اگر روحانی خلیفہ بدکار ہو تو اسے فوراً چھوڑ دینا چاہئے۔“

(الفضل ٣٠؍ جون ١٩٣٨ء)

اطالوی حسینہ اور خلیفہ قادیان

انگریزی ہوٹلوں میں اکثر جوان لڑکیاں خدمت گار ہوتی ہیں جو معزز لوگ وہاں کھانے پینے جاتے ہیں۔ وہ جوان لڑکیاں ان کے سامنے ان کی خوشی کی اشیاء لا کر پیش کرتی ہیں۔ آج کل کی تہذیب کی رو سے ان مہذبوں کا بھی دستور ہے کہ کھانا لانے والی کی بھی تواضع کرتے ہیں اور وہ عموماً اس کھانا میں شریک ہو جاتی ہیں۔ اس اثناء میں تفریحی گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ دوران گفتگو میں ہی سب مراحل طے ہو جایا کرتے ہیں۔ خلیفہ قادیان لاہور سسل ہوٹل منٹگمری روڈ میں گئے۔ وہاں پر جو کچھ ہوا اخبار کی زبانی سنئے۔

”مرزا بشیر الدین محمود کی آمد اور سسل ہوٹل کی منتظمہ کی گمشدگی ، تلاش کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں مل سکا۔ یکم مارچ سسل ہوٹل کی طرف سے مشتہر ہوا تھا کہ جمعرات یکم مارچ پانچ سے ساڑھے نو بجے رات تک ناچ اور اکاونٹ ڈرائیو ہوگا۔ بڑے بڑے انعامات بدستور سابق تقسیم کئے جائیں گے۔ تماشائی چار بجے شام سے جمع ہونے شروع ہو گئے اور پانچ بجے اچھا خاصا مجمع ہو گیا۔ ہر ایک شخص کھیل شروع ہونے کا منتظر تھا۔ مگر خلاف توقع رسٹ ڈرائیو شروع ہوا نہ ناچ کا بینڈ بجنا شروع ہوا۔ آخر استفسار پر سسل ہوٹل کے ایک بیرے سے معلوم ہوا کہ رسٹ ڈرائیو کا تمام سامان منتظمہ کے کمرہ میں ہے اور منتظمہ کو مرزا بشیر الدین محمود موٹر میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔

نامہ نگار آزاد ٣؍ مارچ ١٩٣٤ء اس واقعہ کو زمیندار نے نظم کی صورت میں یوں شائع کیا۔

اطالوی حسینہ از نقاش

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تیری چلبلی اداء پروردگار عشق تیرا دلربا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تیری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو فتن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار اور وہ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلیں میخانہ سرور تیرا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی تیرا حسن اور حجاب جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو برہمن
جب قادیان پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشہ نبوت ظلی ہوا ہرن

٤٧

صفحہ ٤٤٨
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج اے قادیان شکن

اطالوی رقاصہ کا الفضل میں اعتراف

اس کے بعد مختلف اخباروں میں شور و غوغا ہونے لگا۔ خلیفہ صاحب قادیان کا خطبہ جمعہ کی تقریر شائع ہوئی۔ جس میں اس اطالوی لیڈی کے لے جانے کا اعتراف کیا۔ مگر اس کی وجہ یہ بتائی کہ میں اس لیڈی کو اپنی بیویوں اور لڑکیوں کی انگریزی لہجہ کے لئے لایا تھا۔

(الفضل ١٨/مارچ ١٩٣٤ء)

اس کا جواب اہل حدیث نے یوں لکھا: ”پس مطلع صاف ہو گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اطالوی عورت خاص کر ہوٹل کی خادمہ انگریزی کیا پڑھائے گی۔ اطالوی لوگ تو خود انگریزی صحیح نہیں بول سکتے۔ انگریزی زبان میں دو حروف ڈی (D) اور ٹی (T) بالخصوص ممتاز ہیں۔ دونوں حروف اطالوی لوگ عربوں کی طرح ادا نہیں کر سکتے۔ علاوہ اس کے ایسی معلمہ کا اثر معصومات لڑکیوں اور پردہ نشیں بیویوں پر کیا ہوگا؟“

(اہل حدیث امرتسر)

اطالوی حسینہ

سسل ہوٹل لاہور کی ایک اطالوی ملازمہ جو ہوٹل میں مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کے ایک روزہ قیام کے بعد اچانک غائب ہو گئی تھی دوسرے دن قادیان کی مقدس سرزمین میں دیکھی گئی۔

ہوٹل سسل کی رونق عریاں

عشاق شہر کا ہے زمیندار سے سوال
ہوٹل سسل کی رونق عریاں کہاں گئی
اس کے جلو میں جان گئی ایمان کے ساتھ ساتھ
کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون ومکاں گئی
بن کر عروس حلقہ رندان لم یزل
لے کر گئی وہ شر کا سامان جہاں گئی
روما سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی
اب کس حریم ناز میں وہ جان جاں گئی
یہ چیستان سنی تو زمیندار نے کہا
اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی

(زمیندار مورخہ ١٥/مارچ ١٩٤٧ء)

اطالوی حسینہ مس روفو

تمھیں مشی فی النوم کی بھی خبر ہے
زمانہ کے اے بے خبر فلیبوفو
ملے گا تمھیں جواب قادیاں سے
جہاں چل کے سوتے میں آئی مس روفو

٣٨

صفحہ ٤٤٩

حق پسند اصحاب کی توجہ کے لئے

اپنی طرف سے نہایت اختصار کے ساتھ کچھ حوالہ جات حضرت مسیح موعود پیش کر دیئے ہیں تاکہ فیصلہ میں آسانی رہے۔ اہل دانش اور طالبان حق کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ٹھنڈے دل سے ان تمام واقعات کو جو خلیفہ کے چال چلن پر سالہا سال سے بیان کئے جارہے ہیں اور وہ انہیں ٹال رہے ہیں۔ آپ نے دلائل کی روشنی میں موازنہ کر کے خلیفہ صاحب کا احتساب کرنا ہے۔ تاکہ حضرت مسیح موعود کا اصول جو بدچلن اور بدکار کے متعلق موجود ہے اس کی بے حرمتی نہ ہو۔ اگر آپ نے اس اصول کو جرأت مندانہ اقدام سے اجاگر کر دیا تو آنے والی نسلیں آپ کی اس جسارت کو جو اصول کے لئے برتی جائے گی قدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھیں گی۔

علاوہ ازیں انسان غلطی کا پتلا ہے۔ بھول جانا کوئی بات نہیں ہوتی۔ چونکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔ اے مصنفہ جواہر پارے، دیگر تنخواہ دار علماء اس امر کے لئے کوشاں رہتے ہیں کہ اس خلافت کو مضبوطی سے پکڑو اور بعض حوالے ان پر چسپاں کئے جاتے ہیں۔ لیکن حضرت اقدس نے زانی، بدکار، عیاش کے متعلق ایک قطعی فیصلہ دیا ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

(الحکم مورخہ ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء)

کرتے دیکھا یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا۔ اگر میں اس بے بنیاد افتراء کے لئے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٢)

تو اس کی طرف آنے میں ہچکچاہٹ کیوں ! جب آپ کا دعویٰ ہے کہ خلیفہ صاحب سے خدا خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے۔ اس عدالت میں حضرت اقدس کا حوالہ بھی یہی مطالبہ کرتا ہے۔ پھر ڈرتے کیوں ہو۔ ہاں میں عرض کر رہا تھا۔ حضرت اقدس کا قطعی فیصلہ ہے یا آپ کی نگاہ میں حضرت اقدس کی کتابوں میں ایسا حوالہ موجود ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ بدکار عیاش بھی مصلح موعود ہو سکتا ہے تو خدا کی قسم اگر یہ حوالہ میرے علم اور سمجھ میں آ گیا تو میں سر تسلیم خم کروں گا۔ ورنہ بصورت دیگر آپ کا فرض ہو گا کہ حضرت اقدس کے ان حوالوں کی موجودگی میں جو بدکار کے لئے آپ نے لکھا ہے عمل کرنا ہو گا اور جماعت کے ہر فرد کو احتساب کرنا پڑے گا۔

بدکردار مصلح موعود نہیں ہو سکتا

یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ خلیفہ صاحب بدکار، عیاش، بدچلن انسان ہیں۔

٣٩

صفحہ ٤٥٠

بدکردار مصلح موعود نہیں ہو سکتا اور اپنی اس بدمعاشی کو چھپانے کی خاطر مختلف بہانے اور حیل وحجت، قتل وغارت و بائیکاٹ اور صدر انجمن احمدیہ کا روپیہ مقدمے میں ضائع کیا جاتا ہے۔ پھر الفضل میں یوں کہا جاتا ہے کہ زنا کرنا جرم نہیں۔ اس کی تشہیر جرم ہے۔ زنا تو آپ عین شریعت کے مطابق کرتے ہیں۔ اس لئے اس کا تو جرم نہیں۔ مگر مباہلہ حضرت اقدس کے فرمان کے مطابق کیا جاتا ہے۔ وہ جرم ہے۔ خلیفہ صاحب نے حضرت اقدس کی تعلیم کو پس و پشت ڈال کر اپنا سکہ جمانے کی کوشش کی۔ مقدس اصطلاحوں سے اپنے آپ کو نوازا۔ کبھی صحابہ کرام کے متعلق بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا اور کبھی آنحضرت سے بھی آگے بڑھنے کا قدم اٹھایا۔ انشاء اللہ ایسے شخص کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کو اس دنیا میں جو سزا مل رہی ہے وہ ایک زندہ نشان ہے۔ چلنے پھرنے سے بھی عاری ہے۔ دماغ کسی قدر ماؤف ہو چکا ہے۔ ”فالج نے اس کو اپنا شکار بنالیا ہے ۔“

(الفضل مورخہ ٤؍اگست ١٩٥٦ء)

ایسے شخص کو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے قادیان کی مقدس سرزمین میں بھی جگہ نصیب نہیں ہوئی۔ دراصل اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک گندی مچھلی سب کو خراب کرتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ناپاک وجود کو وہاں سے نکال کر مقدس بستی کو محفوظ کرلیا۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اب حاشیہ بردار اس کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ کبھی ٹیکہ کے زور اس کو ہوش میں لایا جاتا ہے۔ کبھی ٹیپ ریکارڈ سنا کر جماعت کو تسلی دی جاتی ہے۔ بارہا طریق سے اس میں پیوند لگائے گئے۔ لیکن جب ایک عمارت بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ اس کے پیوند کہاں تک سہارا دے سکتے ہیں؟ بالآخر اس بوسیدہ عمارت کو تہس نہس کر کے ازسرنو بنانی پڑتی ہے۔ یہی حال خلیفہ کا ہے۔ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے قعر مذلت میں گر چکا ہے۔ اس وقت سہارا بے سود ہے۔ یہ غلط ملط سہارے دیکھنے والوں کے لئے اس شخص کی بدکرداری کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ ناپاک وجود ختم ہوکر رہے گا اور مرزا قادیانی کا اصول بڑی آب و تاب سے چمکے گا۔ خدا کے گھر میں دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔

میرے احمدی بزرگو! بھائیو! اور بہنوں! جماعت احمدیہ کا ہر فرد جو حضرت مسیح موعود کے اصولوں کو اپنانے کے لئے بے تاب ہے۔ ان سے استدعا ہے کہ خلیفہ صاحب اس وقت زندہ ہیں۔ ان کی موجودگی میں جس اسلامی شریعت کو آپ پسند فرماویں۔ فیصلہ کی راہ نکالیں۔ انسان کی سوجھ بوجھ کے مطابق تین ہی صورتیں قابل عمل ہیں۔

عدالت، کمیشن، مباہلہ

اظہار واقعہ کو بدزبانی نہیں کہا جاسکتا

حضرت اقدس ازالۃ الاوہام میں فرماتے ہیں: ”دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ اور

٤٠

صفحہ ٤٥١

گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے۔ ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچاوے۔ پھر اگر وہ سچ سنکر افروختہ ہو تو ہوا کرے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٣ ص ١١٢)

خلیفہ صاحب کی بداعمالیوں کے متعلق مختلف اقوال اور حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات اور شہادتیں درج ہیں۔

میں انصاف پسند اور فہمیدہ اصحاب سے درخواست کرتا ہوں۔ تینوں صورتیں پیش کر دی ہیں۔ جو صورت آپ کے لئے آسان ہو۔ اس پر عمل کریں۔ ورنہ بصورت دیگر اگر اس میں لیت و لعل کیا گیا تو وہ اپنے متعلق شکوک میں اضافہ کریں گے۔ لیکن یاد رکھیں۔ خلیفہ صاحب اپنی بدکرداری اور کرتوتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ کبھی بھی مباہلہ کے لئے میدان میں نہیں نکلیں گے۔

”ولا يتمنونه ابداً بما قدمت ايديهم والله عليم بالظلمين“

حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی مرزا محمود احمد پر کمشن مقرر کیا گیا اور سنا ہے کہ جرم ثابت تھا۔ مگر بدنامی کے خوف سے اس کو درگزر کیا گیا۔ اگر ہمارے بزرگان ملت اس وقت اس خوف کو بالائے طاق رکھ کر اس کو گندے چھچھڑے کی طرح نکال دیتے تو آج ہم اس بدنما داغ اور لعنت سے محفوظ رہتے۔

بس آپ اپنے فرضوں کو پہچانیں۔ اس بدنما دھبہ کو مباہلہ کی صورت میں خدا کی عدالت میں لائیں تاکہ تقدس اور پاکبازی الم نشرح ہو کر جماعت احمدیہ کیلئے خصوصاً ہدایت کا موجب ہو۔

انتباہ!

جس قدر شہادتیں اور حلفیہ بیان کتاب ہذا میں درج ہیں۔ ان کی اصل تحریرات موجود ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو اصل تحریرات کے عکس شائع کر دیئے جاویں گے۔ تاہم اگر کوئی صاحب کسی دباؤ کے ماتحت یا جماعت احمدیہ ربوہ کے سربراہ یا بالخصوص مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ”قمر الانبیاء“ ان کے کریکٹر کے متعلق بھی شہادتیں موجود ہیں۔ جو کسی وقت منظر عام پر لائی جاسکتی ہیں۔ اپنے حکیمانہ اور فلسفیانہ لاطائل انداز میں ان بیانات کی تردید کرنے کی جرات کریں تو اس موقع پر بھی انہیں قہار و جبار کی عدالت میں آنا ہوگا اور مؤکد بعذاب حلف اٹھانا ہوگا۔ جو صاحب تردید کریں۔ ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ بالمقابل کم از کم دوصد اشخاص کے سامنے مسجد میں کھڑے ہو کر بروئے شہادت مندرجہ ذیل مؤکد بعذاب حلف اٹھائیں۔

٤١

صفحہ ٤٥٢

”میں اس خدائے ذوالجلال حی و قیوم اور قہار و جبار کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور میں اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بیوی، بہنوں، ماں، باپ لکھتے وقت بھی جو رشتہ دار زندہ یا موجود نہ ہوں ان کا نام کاٹ دیا جائے۔ سر پر ہاتھ رکھ کر مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں کہ جناب مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ ربوہ نے کبھی زنا یا لواطت نہیں کی اور میری طرف جو یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ میں نے ان کے دامن کو ایسی بدکاری سے داغدار قرار دیا ہے بالکل غلط ہے۔ میں نے کبھی نہ انہیں بدکار اور زانی سمجھا اور نہ کہا اور نہ ہی کوئی ایسی بات ان کی طرف منسوب کی اور نہ ہی میں نے کوئی تحریر لکھ کر دی۔

اے میرے خدا میں تجھے حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ میرا یہ بیان بالکل سچ اور واقعات کے مطابق ہے اور میں نے کسی ترغیب یا ترہیب یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے ماتحت یہ بیان نہیں دیا۔ میں جانتا ہوں کہ تیرے ہاتھ کے برابر کوئی ہاتھ نہیں۔ تیری قوت سے بڑھ کر کسی کی قوت نہیں۔ تو ہی جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔

اے میرے خدا اگر اوپر کے سارے بیان میں جھوٹا ہوں اور فریب، دغا، مکاری، چالبازی لفظوں کے ہیر پھیر فقرہ بازی اور خیانت سے کام لے رہا ہوں تو تیرا قہر تلوار کی مانند مجھ پر پڑے۔ تیرا غضب مجھے بھسم کر دے۔ ذلت، تباہی، غربت، بیماری، عزیزوں، رشتہ داروں، بیوی بچوں کی موت اور مصائب و آلام کی مار، مجھ پر پڑے اور اپنے ہیبت ناک ہاتھ کے ساتھ مجھے تباہ وبرباد کر کے رکھ دے۔ میرے درودیوار پر آگ برسے۔ میرے دشمنوں کو خوش کر دے۔ میں ذلیل و رسوا ہو جاؤں اور میری اور میرے باپ کی نسل منقطع ہو جائے اور ابدالآباد کے لئے مجھ پر لعنتیں برستی رہیں اور تیرے عفو کی چادر مجھے کبھی نہ ڈھانپے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین!“

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ایک عظیم الشان الہام

بلائے دمشق

از قلم: جناب عبدالرب خان صاحب برہم!

”اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی پیش گوئی بلائے دمشق کس وضاحت اور عظمت کے ساتھ پوری ہوئی تو اس کے لئے کتاب بلائے دمشق کا مطالعہ کیجئے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے آپ یقیناً محسوس کریں گے کہ آپ میں ایسی بصیرت پیدا ہوگئی ہے جس سے آپ کلام الٰہی کو سمجھ سکتے ہیں اور آپ میں ایسا ملکہ پیدا ہو گیا ہے جس سے آپ

٤٢

صفحہ ٤٥٤

حضرت مسیح موعود کے بہت سے دوسرے الہامات کا صحیح مفہوم بھی آپ بڑی سہولت اور عمدگی سے سمجھ سکیں گے۔ کتاب تقریباً دو صد صفحات پر مشتمل ہے۔ پتہ ذیل سے طلب فرمادیں۔ پتہ۔ دفتر برہم کوارٹر نمبر ٣٦٤۔ اے بلاک پیپل کالونی لائل پور۔“

خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد کے دور خلافت

جھوٹ، بائیکاٹ، قتل و غارت، زنا کاری اور بدچلنی کا دور دورہ اور حضرت اقدس کے دلائل کو ٹھکرایا جاتا ہے۔ چند اہم واقعات۔

١٩٢٧ء

احمد کو حضرت اقدس کی تعلیم کے مطابق چیلنج دیا۔ کیونکہ آپ بدکار بدچلن ہیں۔ خلیفہ نہیں رہ سکتے۔ د عوت مباہلہ کو منظور کریں۔ اس کے جواب میں ان کا مکان نذر آتش کیا گیا اور انہیں قادیان تک سے نکال دیا گیا۔ قاتلانہ حملہ بھی کر دیا گیا۔ مگر خوش قسمتی سے وہ بچ گئے۔ اس کی جگہ دوسرا شخص مارا گیا۔ جب وہ پھانسی دیا گیا تو اس کو پھولوں سے لادا گیا اور بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ مرزا محمود احمد نے اس کا جنازہ از خود پڑھا اور اسے قومی ہیرو کا درجہ دیا گیا۔

١٩٣٧ء

عبدالرب برہم جماعت سے علیحدہ ہوئے۔ ان کا مطمع نظر یہی تھا کہ آپ مقدس انسان نہیں۔ بدکار، بدچلن ہیں۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کی روشنی میں مباہلہ کا چیلنج دیا۔ یا آزاد کمیشن کا مطالبہ۔ جماعت احمدیہ قادیان سے کیا۔ اس کے جواب میں بھی بدستور بائیکاٹ، قتل و غارت کا بازار گرم رہا اور مولانا مولوی فخرالدین ملتانی مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان پر حملہ کر کے حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔

١٩٥٦ء

کچھ تحریک جدید کے وقف شدہ مخلص احمدی نوجوان ربوہ میں رہ کر مرزا محمود کی بدچلنی سے واقف راز ہوچکے تھے۔ خلیفہ ربوہ سے اپنی عدم وابستگی کا اعلان کیا کہ آپ حد درجہ کے بدچلن اور بدکار ہیں اور مرزا قادیانی کی تعلیم کے مطابق بدچلن خلیفہ نہیں ہوسکتا اور کہا کہ یہ شخص بدکار اور زانی ہے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے اصول کے مطابق چیلنج دیا اور متفرق عنوان سے ٹریکٹ اور

٤٣

صفحہ ٤٥٤

کتابیں شائع کی ہیں۔ ان نوجوانوں کے نام حسب ذیل ہیں۔ ملک عزیز الرحمن سابق سپرنٹنڈنٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری انچارج فارن اکاؤنٹنٹ ربوہ، راجہ بشیر احمد رازی ایڈیٹر صدر انجمن احمدیہ، چوہدری غلام رسول ایم اے، عبدالحمید مولوی فاضل، چوہدری صلاح الدین ناصر بنگالی، خواجہ عبدالمجید اکبر ممبر مجلس عاملہ لاہور، ملک عطاء الرحمن راحت، محمد یوسف ناز، محمد حیات اثیر مولوی فاضل، محمد صالح نور مولوی فاضل، چوہدری علی محمد ایڈیٹر تحریک جدید، اللہ رکھا محمد یونس ملتانی ملک اللہ یار بلوچ، مولوی عبدالمنان عمر ایم اے، مولوی عبدالوہاب عمر، میاں عبدالواسع عمر (تینوں بمعہ خاندان)، عبداللطیف بیگم پوری قریشی، عبدالوحید رئیس ربوہ۔

ذلت

”پس ایک عقلمند انسان کے لئے یہ ذلت تھوڑی نہیں کہ اس کے خلاف تہذیب اور بے حیائی اور سفلہ پن کی عادات کے کاغذات عدالت میں پیش کئے جائیں اور پڑھے جائیں اور عام اجلاس میں سب پر بات کھلے اور ہزارہا لوگوں میں شہرت پاوے کہ ان لوگوں کی یہ تہذیب اور یہ شائستگی ہے۔“

کیا؟ وہ شخص جس کے چال چلن کے خلاف عدالتوں میں ریکارڈ بنے وہ مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا قرآن پاک اور حضرت اقدس کی تعلیم کے خلاف فرانس کے ننگے ناچ دیکھنے والا مصلح ہو؟ کیا اپنی بیویوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ایک بازاری رقاصہ کو لانے والا مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا نامحرم عورتوں سے پہرہ دلوانے والا مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا عدالت میں حلف اٹھا کر جھوٹ بولنے والا مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا حضرت اقدس کے ممبر پر کھڑا ہو کر غلط بیانی کرنے والا مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا حضرت اقدس کے دس شرائط بیعت کی خلاف ورزی کرنے والا مصلح موعود ہو سکتا ہے؟ کیا جس کے چال چلن کے خلاف احمدی لڑکے، لڑکیاں اور عورتیں گواہی دیں۔ وہ مصلح موعود ہو سکتا ہے؟

اگر آپ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کے کردار سے روشناس ہونا چاہیں تو اس کی بداعمالیوں کو اجاگر کرنے کے لئے بہت سی کتابیں جماعت احمدیہ کی توجہ کے لئے لکھی گئی ہیں۔ اختصاراً چند ایک کتب و ٹریکٹ درج ذیل ہیں۔ ان کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔

٤٢

صفحہ ٤٥٥

خلیفہ صاحب کا ظاہر اور باطن

خلیفہ کو اپنی عیاری کی وجہ سے اپنے نظام میں اقتدار حاصل ہے۔ عوام الناس کو تقریروں میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ ناظروں کا حکم میرا ہی حکم ہے۔ ان کے حکم کی تعمیل میرے حکم کی تعمیل ہے۔ عوام الناس میں کوئی فرد ان کا حکم بجا لائے تو اس کو ظاہری طور پر خلاف شریعت قرار دیتے ہیں۔ لیکن اندرون خانہ اس کی پوری پوری مدد کی جاتی ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ خلیفہ نے ٢٣ جولائی ١٩٣٧ء کو ایک اشتعال انگیز خطبہ دیا جو بعد میں یکم اگست کے اخبار الفضل میں شائع

٢٥

صفحہ ٤٥٦

کیا گیا۔ اس خطبہ میں خلیفہ نے جماعت سے علیحدہ ہونے والے شخصوں پر حملے کئے اور ایسے الفاظ تھے۔ ان کی نسبت عدالت یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ: ”منحوس اور افسوسناک تھے ۔“ اس کے جواب میں مولانا مولوی فخرالدین ملتانی مالک کتاب گھر قادیان نے بھی جو جواب لکھا۔ وہ ذیل میں درج ہے۔ ”اسی لئے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمیشن کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی و جلی حقائق و دقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہو جائے کہ کس کا خاندان فحش کا مرکز ہے یا بالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا۔“

اس کے چند دن بعد ہی سات اگست ١٩٣٧ء کو سر بازار حملہ کر دیا گیا اور ١٣؍ اگست ١٩٣٧ء کو گورداسپور ہسپتال میں اپنے حقیقی مولا سے جاملے۔ ان کا آخری پیغام دوسری جگہ ملاحظہ فرمائیں۔ میں عرض کر رہا تھا خلیفہ ظاہری طور پر کچھ سزا نہیں دیتے اور اندرونی طور پر کیفیت ملاحظہ فرمائیے۔ ”بعض لوگ اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بس خلیفہ کی بات ماننا ہی ضروری ہے اور کسی کی ضروری نہیں۔ خلیفہ کی طرف سے مقرر کردہ لوگوں کا حکم بھی اسی طرح ماننا ضروری ہوتا ہے جس طرح خلیفہ کا۔ کیونکہ خلیفہ تو براہ راست ہر ایک شخص تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا۔“

(الفضل ١٩٣٧ء)

پھر فرماتے ہیں: ”بیشک میاں عزیز احمد صاحب نے جو فعل کیا وہ خلاف شریعت تھا اور ہم اسے برا ہی قرار دیتے ہیں۔“

(الفضل ١٩٣٧ء)

جیسا کہ مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ نے عزیز احمد کے قاتلانہ فعل کو خلاف شریعت اور برا ہی قرار دیا ہے۔ لیکن اندرون خانہ اس کی امداد بھی جاری رکھی۔ ملاحظہ ہو چٹھی ناظر امور عامہ قادیان:

بسم الله الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

”وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود“

نظارت امور عامہ

صدر انجمن احمدیہ قادیان دارالامان ضلع گورداسپور

مکرمی مولوی فضل دین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عزیز احمد کے خلاف جو مقدمہ شروع ہوا ہے اس کی تیاری پورے طور پر آپ کے سپرد ہوگی۔ مرزا عبدالحق کو اس کی پیروی کے لئے کہہ دیا گیا ہے۔ کل غالباً چالان پیش ہوگا۔ آپ پورے طور پر تیاری شروع کر دیں تا کہ مقدمہ میں کسی قسم کا نقص نہ رہے۔ والسلام!

مورخہ ٨؍ اگست ١٩٣٧ء

٤٦

صفحہ ٤٥٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! ”لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون“

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں حق کے نام پر ۔ اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا۔

شہید احمدیت حضرت مولانا فخر الدین صاحب ملتانی کا آخری پیغام

جماعت احمدیہ کے نام

١٣؍ اگست ١٩٣٧ء کو حضرت مولانا فخر الدین ملتانی نے اپنے چھوٹے چھوٹے بے کس بچوں اور خون کے آنسو رونے والی معذور بیوہ کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے محض احمدیت کی خاطر جام شہادت نوش فرمایا، لیکن رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے ایک آخری پیغام جماعت احمدیہ کو دیا جسے قوم رہتی دنیا تک فراموش نہیں کر سکتی۔ شہید کے خون سے ہی قوم کو ثبات ہے۔ آج پھر ان ایمان کو تقویت دینے والے اور روحانیت کو زندہ کرنے والے الفاظ کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان کے دلوں میں یقین اور ایمان کی مشعل فروزاں رہے اور ابدالآباد تک ایک حق پر قربان ہونے والے مرد مجاہد کا آخری پیغام ہمارے اور ہماری نسلوں کے کانوں میں گونجتا رہے اور وہ باوجود مٹھی بھر ہونے کے باطل کی کثرت سے مرعوب نہ ہوں اور دنیا کی ظاہری ٹیپ ٹاپ اور شوکت ان کی آنکھوں میں نہ جچے۔ مرحوم نے دم توڑتے ہوئے فرمایا کہ میں احمدی ہوں ...... یا اللہ احمدیت! میں احمدی ہوں۔ میں احمدی ہوں۔ میں احمدی ہوں۔ میں شہید ہوں اور میرے سینے پر شہادت کا نشان ہے۔

میں شہید ہوں ...... قادیان والوں کو میرا سلام۔ قادیان والوں کو میرا محبت بھرا پیغام۔

انتقال کرنے سے صرف دو منٹ پیشتر آپ کے والد ماجد نے جو اس وقت موجود تھے۔ کہا: ”فخرالدین! اب بھی وقت ہے توبہ کرو اور مرزا قادیانی کو چھوڑ دو۔“ مگر شہید اعظم نے اپنی انگلی کو ہلایا اور نہایت جوش کے ساتھ فرمایا۔ نہیں، نہیں، ہرگز نہیں۔ اس کے بعد درود پڑھنے لگے۔ آواز کمزور ہونے لگی۔ ایک بے خوف مجاہد کی روح جسد عنصری سے نکلنے کے لئے آخری کش مکش کرنے لگی۔ زبان صرف ایک لمحہ کے لئے متحرک ہوئی۔ کچھ کہنا چاہا۔ مگر کہہ نہ سکے اور آپ کی آنکھیں دیکھتے دیکھتے بند ہوگئیں۔

میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نام پر کٹ مرنے والے مجاہد اعظم کے آخری پیغام کو ان لوگوں کے کانوں تک پہنچاتا ہوں جو اپنے پہلو میں ایمان، انصاف اور محبت سے بھرا ہوا دل رکھتے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم کرنا جن کا شیوہ ہے۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ!

٤٧

صفحہ ٤٥٨

مولوی فخر الدین ملتانی کی روح کی پکار

ہر اک احمدی کا بس اب بچہ بچہ شب و روز یہ گیت گاتا رہے گا
شہیدوں کا خون رنگ لاتا رہے گا ظالم کے چھکے چھڑاتا رہے گا
فریبانہ چالوں سے باطل کہاں تک صداقت کی گردن دباتا رہے گا
میرے خون ناحق کا ایک ایک قطرہ خدا کے غضب کو جگاتا رہے گا
صداقت، طہارت، حقیقت پہ کب تک کوئی تیر اپنے چلاتا رہے گا
میرے ننھے ننھے یتیموں کا نالہ زمین آسمان کو ہلاتا رہے گا
کوئی اپنی منطق کے پردوں میں کب تک حقیقت کا چہرہ چھپاتا رہے گا
مرے مرقد پاک کا ذرہ ذرہ میری داستان کو سناتا رہے گا
کہاں تک انہیں ڈھیل ملتی رہے گی کہاں تک خدا آزماتا رہے گا
کہاں تک، پرستار باطل، کہاں تک خدا تیری رسی بڑھاتا رہے گا
کوئی میری مرگ شہادت پہ کب تک چراغ اپنے گھر میں جلاتا رہے گا
جو فرعون بھی پیدا ہوتے رہیں گے تو ایک آدھ موسیٰ بھی آتا رہے گا
کسی کی زبردستیوں کے مقابل خدا فخر الدین کو اٹھاتا رہے گا
ہر اک احمدی کا بس اب بچہ بچہ شب و روز یہ گیت گاتا رہے گا

مقتدر ہستیوں اور ان کی علیحدگی کے اسباب

مکرمی محترمی جناب مرزا محمد حسین صاحب بی۔کام

جناب مرزا صاحب موصوف بہت ہی بلند پایہ ادیب ہیں۔ جن کی شہرت ادبی حلقہ میں نمایاں ہے اور جماعت احمدیہ کا ہر فرد بشر ان کی شخصیت سے متعارف ہے۔ آپ کے متعدد مضامین ریویو آف ریلیجنز اور سن رائز میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کو پڑھانے میں بھی قدرتی صلاحیت حاصل ہے۔ اس لئے خلیفہ قادیان (ربوہ) کے لڑکوں اور لڑکیوں اور بیویوں کے جلیل القدر استاد رہے ۔ اسی زمانہ میں انہیں خلیفہ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا اور انہیں اس کی ناپاک سیرت کا بخوبی علم ہوگیا اور اپنے قطعی علم اور حق الیقین کی بنا پر آپ نے خلیفہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور قادیان کو خیر باد کہہ کر لاہور میں قیام پذیر ہوگئے اور بدستور نہایت احسن طریق سے اپنی آنکھوں دیکھی بات کا تذکرہ محض عوام کی بہبودی کے لئے جرأت اور دلیری سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کو خدمت دین کے لئے مزید استقامت بخشے۔

٤٨

صفحہ ٣٥٩

جناب چوہدری محمد عبد اللہ بی۔اے، بی۔ٹی

سابق قائمقام ہیڈ ماسٹر سنٹرل ماڈل ہائی سکول لاہور و جنرل پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ ربوہ

جناب چوہدری صاحب موصوف نہایت دیانت دار اور مخلص احمدی ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی احمدیت کی تبلیغ میں بسر کی ہے اور ہر قسم کے چندہ میں بڑھ چڑھ کر نمایاں حصہ لیا اور متواتر چندہ باقاعدگی کے ساتھ خود ادا کرتے اور لوگوں سے وصولی کی سرتوڑ کوشش کرتے اور ہمیشہ اپنے مفوضہ کاموں کو محنت اور خلوص اور دیانت سے سرانجام دیا ہے اور ہزار ہا لوگ جنہیں آپ سے کسی رنگ میں بھی ملنے کا موقع ملا ہے۔ آپ کی صفات حسنہ سے متاثر ہوا ہے۔ جب چوہدری صاحب موصوف گورنمنٹ کے محکمہ تعلیم میں ایک لمبی ملازمت کے بعد عزت و افتخار کے ساتھ ریٹائرڈ ہوئے تو خلیفہ ربوہ نے خدمت سلسلہ کے لئے ربوہ بلوالیا۔ اس وقت چوہدری صاحب موصوف کو متعدد جگہوں سے کام کی پیش کش آچکی تھی۔ لیکن آپ نے دین کو دنیا پر مقدم کیا اور دنیا کو لات مار کر محض دین کی خاطر ربوہ تشریف لے گئے۔ وہاں انہیں ربوہ کی جماعت کا جنرل پریذیڈنٹ منتخب کیا گیا۔ نیز احمدیہ گرلز کالج (جامع نصرت) میں پروفیسر متعین کیا گیا۔ یادرہے کہ اس کالج کے ڈائریکٹریس خلیفہ ربوہ کی بیوی ام متین ہیں۔ اپنے ان فرائض سرانجام دہی کے سلسلہ میں انہوں نے خلیفہ کے خاندان اور بعض ان حالی موالی کی زندگی کے ایسے گھناؤنے اور ناگفتنی واقعات کا علم ہوا تو آخر انہیں سرزمین ربوہ کو خیر باد کہنا پڑا۔

عبدالمنان عمر

حضرت مولانا مولوی عبدالمنان عمر خلف حضرت حکیم الامت حاجی مولوی نورالدین خلیفہ اوّل، آپ جماعت احمدیہ کے مقتدر اور قابل قدر ہستی ہیں۔ آپ نے اپنی خداداد قابلیت سے جماعت احمدیہ کی مختلف طریق سے خدمت کی اور مختلف شعبہ جات میں کام کیا۔ آپ ١٩٥٦ء میں ہارڈورڈ یونیورسٹی کے بلاوے پر لیکچر کے لئے مدعو کئے گئے۔ جماعت احمدیہ کا ہر فرد بشر آپ سے بخوبی روشناس ہے۔ آپ کی مقبولیت اور قابلیت کے پیش نظر مرزا محمود احمد کو خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں خلافت ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ خلیفہ نے فوراً موقع پا کر سراپا الزام لگا کر ان کو الگ کر دیا گیا تاکہ اپنے لڑکے کے واسطے راستہ صاف ہو جائے۔ مولانا موصوف کو ربوہ کے مکان سے بھی جبراً نکال دیا گیا اور پوری طرح سوشل بائیکاٹ اور مقاطعہ کا شکار رہے۔ بالآخر آپ کو ربوہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ خلیفہ اوّل کا تمام خاندان ان سے الگ ہو کر لاہور میں قیام پذیر ہے۔ آپ مرزا محمود احمد کے برادر نسبتی بھی ہیں اور مرزا محمود احمد کی آلودہ زندگی کو بہتر طریق سے جانتے

٤٩

صفحہ ٤٦٠

اور بہتر طریق سے ادا کرتے ہیں۔ رنگین اور سنگین حالات سے بخوبی روشناس ہیں اور خلیفہ ربوہ کی بے اعتدالیوں پر بھی کافی سے زائد عبور حاصل ہے۔ آپ ربوہ گورنمنٹ کی مکمل ڈکشنری ہیں۔ بعض اوقات نہایت دلیری سے یہ بھی اظہار کرتے ہیں کہ خلیفہ مرتد نہیں متبدع ہیں۔ آپ کی پراسرار ڈپلومیسی کے واقعات آئندہ کسی وقت منظر عام پر لائے جائیں گے۔

جناب قریشی عبدالوحید

جناب قریشی عبدالوحید صاحب ربوہ کے ایک بہت بڑے رئیس اور نہایت ہی مخلص احمدی ہیں۔ ربوہ گول بازار میں آپ کی ایک شاندار بلڈنگ ہے۔ جس میں ازخود بھی رہائش پذیر ہیں۔ قصور میں آپ کا بھٹہ کا کاروبار ہے۔ آپ جفاکش اور نڈر مجاہدوں میں سے ہیں۔ جب آپ کے علم میں بعض حالات خصوصی آئے تو جس جذبہ ایمانی کے ساتھ آپ نے احمدیت قبول کی تھی اسی ایمانی قوت کے ساتھ کھلے بندوں اندرون خانہ کے راز افشا کئے تو ربوہ گورنمنٹ نے آپ کی کڑی نگرانی کی اور مکمل سوشل بائیکاٹ اور مقاطعہ کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہر لمحہ ان کو تختہ مشق بنا کر خوفزدہ کیا گیا۔ آپ نے بارہا دفعہ خلیفہ ربوہ کی صاحبزادی کی سنی گئی روایات بیان کئے اور خلیفہ ربوہ کے بدکار ہونے کے واقعات سنائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔

جناب مرزا محمد حیات صاحب تاثیر

مولوی فاضل واقف زندگی کھاریاں کے رہنے والے ہیں۔ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر کے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا۔ لیکن آپ کو مرزا محمود احمد کی ذاتی لائبریری کا انچارج مقرر کیا گیا۔ آپ نے لائبریری کے کام کو نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالا کہ کوئی کتاب بھی ہو فوراً آن واحد میں نکل آوے۔ تاثیر صاحب موصوف کو خلیفہ ربوہ کو قریب سے دیکھنے اور ملنے کے بار ہا مواقع میسر آئے۔ خلیفہ کے کردار کو دیکھ کر آپ حق الیقین تک پہنچ گئے اور علیحدہ ہو گئے۔

جناب مولوی علی محمد صاحب اجمیری مولوی فاضل

مولوی علی محمد اجمیری، مولوی فاضل آپ سے جماعت کا ہر فرد متعارف ہے۔ آپ سالہا سال جماعت احمدیہ قادیان کے بہترین اور کامیاب مبلغ رہے اور ہندوستان اور پنجاب میں آپ نے کامیاب لیکچر دیئے۔ جس کی وجہ سے بارہا سعید روحیں آپ کی دلائل سے متاثر ہو کر احمدیت کے بہت ہی قریب آگئیں۔ آپ نے ١٩٥٦ء میں خلیفہ ربوہ کو ایک مفصل خط لکھا جو کسی وقت شائع کیا جا سکتا ہے۔ جس میں آپ نے کمیشن کا مطالبہ کیا۔

٥٠

صفحہ ٤٦١

جناب حکیم عبدالوہاب عمر

خلف حضرت الامت مولانا نورالدین خلیفہ اول : آپ نہایت ہی پایا کے خاندانی حکیم ہیں۔ آپ کو مرزا محمود کو بہت ہی قریب سے دیکھنے کے مواقع میسر آئے۔ اس کی وجہ سے حکیم صاحب موصوف مرزا محمود احمد کی ناپاک سیرت پر بے انداز روایتیں حقیقت پسندانہ طریق سے ہر کس و ناکس سے بیان کرتے ہیں۔

تعارف...... حضرت مولانا شیخ عبدالرحمٰن مصری مولوی فاضل بی۔اے ہندو گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ ان کا پہلا نام لالہ شنکر داس تھا۔ آپ اپنے خاندان میں صرف اکیلے ہیں جنہوں نے سب کچھ حق کے لئے قربان کر کے اسلام کو قبول کیا اور مرزا قادیانی کی ١٩٠٥ء میں بیعت کی اور مرزا قادیانی کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل کیا۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد خلیفہ اول کی صحبت میں رہ کر قرآن مجید کے علوم حاصل کئے۔ آج بھی وہی صحیفہ آپ کی روح کی غذا ہے۔ ٢٦؍ جولائی ١٩١٣ء کو خلیفہ اول کے زمانہ میں فریضہ کی سرانجام دہی کے علاوہ مصر میں عربی کی تعلیم حاصل کی۔ جب آپ واپس تشریف فرما ہوئے تو خلیفہ اول بقضائے الٰہی فوت ہو چکے تھے۔ آپ کو خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد نے مدرسہ احمدیہ کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا۔ آپ نے اس ادارے کو نہایت دیانتداری اور خوش اسلوبی سے چلایا۔ سینکڑوں مبلغ تیار ہوئے۔ آپ کے حسن کارکردگی، علم وادب، تقویٰ طہارت کی شہرت جماعت میں پھیل گئی۔ آپ مختلف شعبہ جات کے ناظر بھی رہے۔ مثلاً:”امین صدر انجمن احمدیہ قادیان، جائنٹ بیت المال قادیان و ناظر دعوت تبلیغ قادیان وغیرہ۔ ان شعبہ جات کے علاوہ سلسلہ کے متعدد کام آپ کے سپرد تھے اور دن رات کی انتھک کوشش کے ساتھ آپ انہیں سرانجام دیتے رہے۔ جب خلیفہ قادیان کو کسی کے ساتھ عالمانہ گفتگو کا موقعہ پیش آتا تو شیخ موصوف کو ہی پیش کرتے۔ چنانچہ جب خلیفہ ١٩٢٤ء میں انگلستان گئے تو شیخ صاحب کو اسی غرض سے ہمراہ لے گئے اور اسی طرح جب بھی خلیفہ قادیان سے باہر جاتے تو بسا اوقات شیخ عبدالرحمٰن مصری کو امیر جماعت قادیان مقرر کرتے۔ آپ ٹاؤن کمیٹی کے نو سال ممبر بھی رہے۔ آپ کی بلند شخصیت کا اندازہ اسی امر سے ہو سکتا ہے کہ آپ مفسر قرآن بھی ہیں۔ رمضان المبارک کے ایام میں خلیفہ کے ارشاد پر مسجد اقصیٰ میں درس قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ شیخ صاحب موصوف کو مرزا قادیانی کی وجہ سے ان کی اولاد سے بھی والہانہ عقیدت تھی اور ؎

پیر من خس خس یقین من بس بس

کے ماتحت خلیفہ پر اندھا دھند تقلید اور پورا پورا اعتماد تھا اور اپنی اولاد کا ان سے ملنے کو

٥١

صفحہ ٤٦٢

باعث فخر تصور کرتے رہے۔ ایک دفعہ آپ کے صاحبزادہ حافظ بشیر احمد نے خلیفہ کی اندرونی زندگی کا اصل نقشہ بتایا تو صوفی منش اور پرہیزگاری کی وجہ سے آپ نے اس کی بات کو تسلیم نہ کیا اور سخت ناراض ہوئے اور اپنے بے گناہ لڑکے کو گھر سے نکالنے کا قطعی فیصلہ کرلیا۔

بالآخر متعدد دوسرے ذرائع سے شیخ صاحب موصوف کو خلیفہ کی بدکرداری اور عیاشی کے متعلق خبر ملی تو آپ نے متواتر تحقیقات کی تو صداقت سامنے آگئی اور حق الیقین تک پہنچ گئے تو ان کو شدید صدمہ ہوا۔ آپ نے اصلاح کی غرض سے تین دردمندانہ خطوط تحریر کئے جو ہدیہ ناظرین ہیں۔ آپ اس میں دیکھیں گے کہ کس سوز اور درد سے خط لکھے گئے ہیں تاکہ جماعت کو کسی وجہ سے نقصان نہ پہنچے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں حقیقت کو آشکارا کرنے کے لئے اپنے آقا مرزا قادیانی کی تعلیم کے پیش نظر ایسے دلائل اور براہین عطا کر رہا ہے۔ جس سے پوری پوری حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ ان کا وطیرہ اور علمی طرز عمل سے ثابت ہورہا ہے کہ روح القدس بھی ان کی تائید میں رطب اللسان ہے۔ بہرکیف اس کیفیت کا اندازہ اس وقت ہی لگے گا جب کہ آپ اس خط کو پوری سنجیدگی اور صبر وتحمل سے پڑھیں اور سنیں گے۔ میں عرض کر رہا تھا آپ نے تیسرے خط پر ٢٤ گھنٹے کا نوٹس دے کر از خود اس طاغوتی نظام سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاکہ آزادانہ طور پر جماعت کو خلیفہ کی آلودہ زندگی کے متعلق بتا سکیں۔ ان خطوط کے بعد جس ظلم و ستم آور مراحل سے شیخ صاحب کو گزرنا پڑا وہ ایک طویل داستان ہے جو کسی دوسرے وقت میں پیش کی جاوے گی۔ اس ظلم و ستم کا کسی قدر اندازہ چند تاریخی تحریرات پڑھنے کے بعد ہی لگایا جائے گا۔ طوالت کے خوف سے مختصر تعارفی نوٹ پیش کر دیا ہے۔ تاکہ پڑھنے سمجھنے میں آسانی رہے۔ اللہ تعالیٰ سے میری دلی دعا ہے کہ شیخ صاحب موصوف کو نیک کام کرنے کی عمر عطا فرماوے۔ تاکہ اپنے دلائل اور براہین سے اس بدکردار اور بداعمال کی سرکوبی کر کے مسیح موعود کی تعلیم کو اجاگر کر سکیں۔

خادم احمدیت: مظہر ملتانی!

نقل خط نمبر: ١

بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ من ایقضہا

سیدنا ٠ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں ذیل کے چند الفاظ محض آپ کی خیر خواہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مدنظر رکھتے

٥٢

صفحہ ٤٦٣

ہوئے لکھ رہا ہوں۔ مدت سے میں چاہتا تھا کہ آپ سے دو ٹوک بات کروں ۔ مگر جن باتوں کا درمیان میں ذکر آنا لازمی تھا وہ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ایسی تھیں کہ ان کے ذکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی اور جن کے نتیجہ میں آپ میرے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتے تھے اور ادھر چونکہ سلسلہ کے کاموں کی وجہ سے اکثر ہمیں آپس میں ملنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ میری فطری شرافت اس بات کو گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ آپ ہمیشہ کے لئے میرے سامنے شرمندگی کی حالت میں آئیں۔ اس لئے میں اس وقت تک آپ کے ساتھ فیصلہ کن بات کرنے سے رکا رہا ہوں ۔ لیکن اب حالات نے مجبور کر دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے آپ کی اصل (Situation) رکھ دوں اور آپ کو بتاؤں کہ جس طرف آپ جا رہے ہیں وہ راہ آپ کے لئے اور سلسلہ کے لئے کیسی پر از خطرات ہے۔ یہ سچ ہے کہ سلسلہ خدا کا ہے اور خدا خود اس کی حفاظت کرے گا اور خدا تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کے دلوں کو خود اس طرف کھینچ کر لائیں گے۔ لیکن آپ اپنی غلط پالیسی کے نتیجہ میں ہر طرح سے لوگوں کو اس سے دور لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اس سے اپنے لئے تباہی کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں نے تو مظلوم ہو کر بھی (جس کو شریعت نے بھی ظالم کے ظلم کے علی الاعلان اظہار کی اجازت دی ہے) اس بات میں شرم محسوس کرتا رہا کہ آپ کے سامنے بالمشافہ یا تحریر کے ذریعہ آپ کی ان خاص راز کی باتوں کو زبان پر لاؤں ۔ لیکن آپ جو ظالم تھے اور ایسے افعال شنیعہ کے مرتکب تھے جن کے سننے سے بھی ایک مومن چھوڑ معمولی شریف آدمی کی بھی روح کانپتی ہے اس آدمی کو جس کا قصور اور جرم صرف اسی قدر تھا کہ بدقسمتی سے اس کو آپ کے افعال شنیع کا علم ہو گیا اور آپ کو یہ علم ہو گیا کہ اسے علم ہو گیا ہے۔ دکھ دینے اور قسم قسم کے مصائب کا اسے نشانہ بنانے اور اس کو جماعت کی نظر میں گرانے کے لئے طرح طرح کے بہتان اس پر باندھنے اور ان بہتانوں کو ہاتھ میں لے کر اس کے خلاف جماعت میں جھوٹا پراپیگنڈا کرنے کی لگاتار ان تھک کوشش کرنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کی اور یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ آپ کا (Guilty Conscious) (مجرم ضمیر) ہر وقت آپ کو اس بے بس اور بے ضرر انسان کے متعلق اندر سے یہی آواز دیتا رہا کہ اگر اس شخص نے میری ان کارروائیوں کا جو میں اندر خانہ کر رہا ہوں ۔ جماعت کو علم دے دیا تو میرا سارا کاروبار بگڑ جائے گا اور میں آسمان شہرت سے گر کر قعر مذلت میں جا پڑوں گا ۔ کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے ۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے عذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کیا تھا یا ان کی لڑکی پر سوت لانے کا مشورہ دیا تھا ۔ مگر یہاں

٥٣

صفحہ ٤٦٤

اس قسم کا کوئی بھی عذر نہیں چل سکتا۔ اس کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح رد نہیں کرے گی۔ بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی۔ اس لئے آپ نے اسی میں اپنی خیر سمجھی کہ آہستہ آہستہ اندر ہی اندر اس شخص کو جھوٹے پراپیگنڈا کے ذریعہ جماعت کی نظر سے گرا دیا جائے اور اس کو اس مقام پر لے آیا جائے کہ اگر یہ میرے اس گندے راز کو فاش کرے تو جماعت توجہ نہ کرے اور اس کی بات کو بھی اس طرف منسوب کرنے لگ پڑے کہ اس شخص کو بھی کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات تھیں۔ جن کو چونکہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ بھی ایسا کہنے لگ پڑے ہیں اور ادھر سے آپ شور مچانا شروع کر دیں کہ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ یہ اندر سے مستریوں یا پیغامیوں یا احراریوں سے ملے ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے جن کو آپ کے ان گندے رازوں کا علم ہو جاتا ہے۔ آپ کے پاس زیادہ تر یہی ایک حربہ ہے۔ یہ آپ مت خیال کریں کہ جو کچھ آپ میرے خلاف کر رہے ہیں اس کا مجھے علم نہیں ہوتا۔ مجھے آپ کی ہر کارروائی کا علم ہوتا رہا ہے۔ اگر میں بھی آپ کے اس اشتعال انگیز طریق سے متاثر ہو کر جلد بازی سے کام لیتا اور ابتداء میں ہی اپنا مبنی بر حقیقت بیان شائع کر دیتا اور جو تقدس کا بناوٹی پردہ اپنے اوپر ڈالا ہوا ہے اس کو اٹھا کر آپ کی اصل شکل دنیا کے سامنے ظاہر کر دیتا تو آج نہ معلوم آپ کا کیا حشر ہوتا۔ میں نے محض اللہ تعالیٰ کے لئے صبر سے کام لیا۔ آپ کے ظلم پر ظلم دیکھے اور اف تک نہیں کی۔ میں نے سمجھا تھا کہ میری خاموشی سے آخر آپ سبق حاصل کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ شخص اس راز کو فاش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور کچھ عرصہ تک میرے رویہ کو دیکھ کر خود بخود اپنی غلطی محسوس کر کے نادم ہو کر اپنی ان ناجائز اور ظالمانہ کارروائیوں اور جھوٹے پراپیگنڈا سے باز آ جائیں گے لیکن آپ کا Guilty) (Conscience (برا ضمیر) آپ کو کب آرام سے بیٹھنے دے سکتا تھا اور آپ کا اضطراب اور گھبراہٹ سے بھرا ہوا دل اس وقت تک کب آپ کو چین کی نیند لینے دے سکتا تھا۔ جب تک آپ اس شخص کو اپنی راہ سے دور نہ کرلیں جس سے آپ کو ذرہ سا بھی خطرہ خواہ وہمی ہی کیوں نہ ہو محسوس ہو رہا ہو۔ آپ غالباً اس وقت تک اس غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں کہ یہ اس وقت تک جو خاموش رہا ہے اپنی ملازمت کے چلے جانے کے ڈر سے رہا ہے۔ اس غلط فہمی کو جتنی جلدی بھی ہو سکے۔ اپنے دل سے نکال دیں اور آپ کو دلیری بھی زیادہ تر اسی وجہ سے ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی روزی میرے قبضہ میں ہے۔ مگر میں خدا کے فضل سے مشرک نہیں ہوں کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس بات کا خیال کرنا تو کجا اس کو وہم میں بھی لاسکوں۔ پس یہ آپ کو یاد رہے کہ میں جو اس ٥٤

صفحہ ٤٦٥

وقت تک باوجود آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جانے اور اپنے خلاف غلط کاروائیوں کو دیکھنے کے خاموش چلا آ رہا ہوں۔ اس کی وجہ کسی قسم کے مالی جانی نقصان کا ڈر نہ تھا۔ کیونکہ علماء ربانی حق گوئی کے مقابلہ میں کسی نقصان سے خواہ وہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو نہیں ڈرا کرتے۔ لیکن وہ جہاں "لا يخافون لومة لائم" کا مصداق ہوتے ہیں۔ وہاں وہ حق گوئی کا محل اور موقعہ بھی دیکھتے ہیں اور اس کے اظہار اور عدم اظہار میں موازنہ بھی کرتے ہیں۔ اپنے ذاتی نفع نقصان کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام اور سلسلہ حقہ کے حق میں "ضره اكبر من نفعه یا نفعه اكبر من ضرره" ہے۔ پس میں اگر خاموش تھا اور ہوں تو محض اس لئے کہ میں اس کے اظہار کو سلسلہ کے لئے مضر یقین کرتا تھا۔ نہ صرف کرتا تھا بلکہ اب بھی کرتا ہوں۔

دوسری بات جو اس گند کے اظہار کے لئے میرے لئے مانع تھی اور ہے وہ مسیح موعود فداہ روحی و جسمی کے بے انتہاء احسانات تھے جن کے نیچے سے ہماری گردنیں کبھی نکل ہی نہیں سکتیں۔ پس ان احسانات کو دیکھتے ہوئے طبیعت اس بات کو قطعاً گوارا نہیں کر سکتی کہ حضور کی اولاد کا مقابلہ کیا جائے یا انہیں بدنام کیا جائے۔ تیسری بات جو میرے لئے مانع تھی وہ آپ سے دیرینہ تعلقات اور ایک حد تک آپ کے احسانات تھے۔ گو جو ظلم آپ نے مجھ پر، میری اولاد کو اپنے گندہ نمونہ کے ذریعہ سے اور سلسلہ حقہ سے منحرف کرنے اور ان کو دہریہ بنانے کی کوشش میں کیا۔ وہ اتنا بڑا ہے کہ وہ احسانات اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اور قطعاً قابل ذکر نہیں رہے۔ تعجب ہے مجھے تو ان دیرینہ تعلقات کا اس قدر پاس ہو کہ آپ کے گندے افعال کا ذکر آپ کے سامنے کرنے سے بھی شرم محسوس کروں اور محض اس خیال سے کہ میرے سامنے آنے سے آپ کو شرم محسوس ہوگی۔ آپ کے سامنے آنے سے حتی الوسع اجتناب کرتا رہا ہوں۔ لیکن ان تعلقات کا آپ کو اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک معمولی قماش کے بدچلن انسان کو ہوتا ہے۔ میں نے سنا ہوا ہے۔ بدچلن سے بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن افسوس آپ نے اتنا بھی نہ کیا اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہی ہاتھ صاف کرنا چاہا۔ جو آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے لئے جانیں تک قربان کر دینا بھی معمولی قربانی سمجھتے تھے۔ میرے اخلاص کا تو یہ عالم تھا کہ جس وقت فضل داد سے اجمالی علم ہوا اور پھر بشیر احمد نے اس کی تفصیلی تصدیق کی تو میرا یہی فیصلہ تھا کہ بشیر احمد کو گھر سے نکال دوں اور ہمیشہ کے لئے اس سے تعلقات منقطع کردوں۔ مگر میں نے اس سے نرمی اس لئے کی کہ اس کے ذریعہ سے اب میں اس سازش کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ جس کے متعلق میں پہلے یقین کئے بیٹھا تھا کہ آپ

٥٥

صفحہ ٤٦٦

کے چال چلن کو بدنام کرنے کے لئے اپنا کام کر رہی ہے۔ مجھے اس وقت یہی خیال غالب تھا کہ بشیر احمد بدقسمتی سے ان لوگوں کے ہاتھ پڑ گیا ہے جو اس سازش کے بانی مبانی ہیں۔ کیونکہ یہ مجھے اچھی طرح سے علم تھا کہ اس کو آپ کے اور آپ کے خاندان کے ساتھ بڑا اخلاص تھا اور اس اخلاص کی موجودگی میں وہ کبھی بھی جھوٹے الزام آپ پر نہیں لگا سکتا تھا۔ پس ایسی حالت میں میرے نزدیک دو ہی صورتیں ہو سکتی تھیں یا یہ الزامات سچے ہیں یا یہ کہ بشیر احمد بعض ایسے آدمیوں کے ہاتھ پڑ گیا ہے اور انہوں نے اس کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے کر اس سے یہ کہلوایا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ میں بشیر احمد سے اس سازش کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ چنانچہ اس بناء پر اوّل میں نے بشیر احمد کے ساتھ مختلف رنگوں میں انتہائی کوشش کی کہ وہ ان باتوں کے غلط ہونے کا اقرار کرے۔ مگر قطعاً کامیابی نہ ہوئی اور کامیابی ہو تو کس طرح اور کس سازش کا پتہ لگتا کس طرح جب کہ کسی سازش کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ بلکہ برخلاف اس کے اس نے بعض ایسے دلائل پیش کئے جو ایک حد تک قائل کرا دینے والے تھے۔ ان میں قطعاً بناوٹ نہ معلوم ہوتی تھی۔ دوسری طرف میں حیران تھا کہ وہ سب باتیں ان باتوں سے پوری مطابقت کھاتی ہیں جو سعیدہ اور زاہد کہہ چکے تھے۔ پس جب میں ادھر سے اپنے مقصد میں ناکام رہا تو میں نے اپنی تحقیق کا رخ دوسری طرف پھیرا اور میں نے لوگوں میں زیادہ ملنا جلنا شروع کیا اور اس وقت تک میری یہی نیت تھی کہ میں سازش کا سراغ لگاؤں۔ اس گہری اور لمبی تحقیق نے سازش کا سراغ تو کیا بتانا تھا الٹا چاروں طرف سے واقعات اور حقائق کا طومار میرے سامنے لا کھڑا کیا جو بشیر احمد کے بیان کے لفظ لفظ کی تصدیق کرنے والے تھے۔ پس اس وقت میں نے بشیر احمد کو معذور سمجھ کر اس کو سزا دہی کا خیال چھوڑا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیگناہ بچے کو اتنے بڑے ظلم سے جو میں اس پر آپ کے ساتھ اپنے فرط محبت اور فرط اخلاص کی وجہ سے کرنے لگا تھا یعنی ساری عمر کے لئے اس کو تباہ و برباد کرنے کا جو تہیہ کر لیا تھا اس سے بچانے کے لئے یہ سامان پیدا کر دیئے کہ کئی جگہوں سے اس کے بیان کی تصدیق ہوتی چلی گئی اور ایسی ایسی جگہوں سے ہوئی جن کے متعلق وہم بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی شرارت کریں یا کسی شریر کی سازش کا شکار ہوں یا خود سازش کے بانی ہوں۔ ایسے لوگوں کے نام ابھی میں نہیں بتا سکتا نہ کوئی ایسا اشارہ کر سکتا ہوں جو ان کا پتہ بتا دیوے۔ کیونکہ آپ تو اچھی طرح سے واقف ہیں کہ اشارہ آپ کو فوراً اصل مشار الیہ کا پتہ دے دے گا اور میں کسی مصلحت سے اپنی تحریر کو دلائل سے خالی رکھنا چاہتا ہوں۔

غرضیکہ میرے پاس ان باتوں کے اثبات کے لئے دلائل کا ایک ذخیرہ جمع ہو گیا ہے

٥٦

صفحہ ٤٦٧

جو اگر ضرورت پڑی تو پبلک میں ظاہر کیا جائے گا۔ خدا کرے کہ ان کے پیش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ بشیر احمد سچا ہے اور یہ سب افعال جو اس نے بیان کئے ہیں آپ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ مگر باوجود ان تمام باتوں کا علم ہو جانے کے جو میرے اور میری بیوی کے لئے سخت دکھ کا موجب تھیں اور جنہوں نے ہم دونوں کی صحت پر اتنا گہرا اثر کیا کہ آج تک بھی ہم اپنی صحت (Recover) نہیں کر سکے۔ کافی عرصہ تک ہم دونوں کمرہ میں اکیلے دروازہ بند کر کے روتے رہتے تھے۔ بچے بھی ہماری حالت دیکھ کر سخت پریشان تھے۔ مگر ان کو کوئی علم نہیں کہ کیا معاملہ ہے۔ وہ ہماری آنکھیں سرخ دیکھتے اور سہم جاتے۔ مگر ادب کی وجہ سے وجہ دریافت نہ کرتے۔ باوجود اس قدر شدید صدمہ کے پھر بھی میں نے اس قدر شرافت سے کام لیا اور اپنے نفس پر اس قدر قابو رکھا کہ کسی کے سامنے ان باتوں کا اظہار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں سے مجھے مختلف واقعات کا علم ہوتا رہا ان سے بھی صرف واقعات سنتا رہا اور یہاں تک احتیاط سے کام لیا کہ کسی ایک کو بھی کسی دوسرے کو بتائے ہوئے واقعات کا علم نہ ہونے دیا۔ اس کا علم صرف اس کے بتائے ہوئے واقعات تک ہی محدود رہنے دیا اور ادھر بشیر احمد کو یہ سمجھایا کہ ”ان الحسنٰت يذهبن السيئات“ کے ماتحت ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف کر دے اور اسے تاکید کی کہ کسی کے سامنے اب ان باتوں کو دہرانا نہیں حتیٰ کہ اگر کوئی پوچھے بھی تو صاف انکار کر دینا۔ کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے کہ مسیح موعود کی اولاد کی پردہ پوشی کریں۔ بشیر احمد نے جب دیکھا کہ آپ میرے خلاف پروپیگنڈا کر کے مجھے جماعت میں گرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ادھر اس کو بھی گرانے کے در پے ہیں تو اس نے کئی دفعہ مجھ پر زور دیا کہ میں اعلان کر دوں۔ لیکن میں نے اس کو ہمیشہ صبر ہی کی تلقین کی۔ آخر تنگ آکر اس نے خود اعلان کا فیصلہ کر لیا اور ایک اعلان لکھ کر میری طرف بھیج دیا۔ چنانچہ اسے بجنسہ اس خط کے ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اجازت کے بغیر شائع نہیں کر دیا۔ ورنہ سبق السیف العذل والی مثل صادق آ جاتی اور پھر چھٹا ہوا تیر واپس لانا مشکل ہو جاتا۔ لیکن میں اسے ہمیشہ روکتا رہا اور اس اعلان کو بھی روک لیا اور ہمیشہ اسے یہی تلقین کی کہ خواہ وہ کتنا ہی ہم کو بدنام کر لیں اور کتنی ہی کوشش ہمیں جماعت کی نظر میں گرانے کی کر لیں۔ ہم نے ابتداء نہیں کرنی اور ہماری طرف سے یہی کوشش رہے گی کہ ہم صبر سے برداشت کرتے چلے جائیں۔ حتیٰ کہ وقت آجائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک جوابی طور پر اپنا بیان شائع کرنے پر مجبور سمجھے جائیں تو جب کسی سے مقابلہ آپڑے تو مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو نقطہ نگاہ ہوتا ہے اس کے لحاظ سے ہمارا Defence بہت بعد از وقت ہوگا۔ لیکن

٧٥

صفحہ ٤٦٨

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اسی میں ہے۔ چنانچہ اس وقت تک میں اس پر کار بند رہا ہوں اور اب جو میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں وہ بھی اسی لئے کہ آپ پر آخری دفعہ حجت پوری کردوں اور آپ کو متنبہ کردوں کہ کہیں آپ مجھے اپنا Defence پیش کرنے پر مجبور نہ کردیں۔ چنانچہ اگر آپ نے اس قسم کا قدم اٹھانے کی غلطی کی تو میں مجبور ہوں گا کہ اصل واقعات کو روشنی میں لاؤں اور جو خفاء کا پردہ آج تک ان واقعات پر پڑا چلا آتا ہے اسے اٹھا دوں۔ کیونکہ یہ میں قطعاً برداشت نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کی مقدس جماعت میں میں دائمی طور پر بدنامی کے ساتھ یاد کیا جاؤں۔ پس اگر میں آپ کے افعال مذمومہ کے اظہار پر مجبور ہوا تو پھر اس کی ساری ذمہ داری آپ پر ہوگی اور سمجھ لیں کہ "الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ من ایقضھا" کا کون مصداق بنے گا۔ میں نے آپ کے ظلم پر ظلم دیکھے اور صبر سے کام لیا۔ لیکن آپ باز آنے میں ہی نہیں آتے اور اپنے مظالم میں حد سے بڑھے چلے جاتے ہیں۔ پس اب میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے اس لئے انجام کو آپ اچھی طرح سے سوچ لیں۔

اگر آپ اس تحریر کے بعد رک گئے تو میں بھی جس طرح خاموشی سے وقت گزار رہا ہوں گزارتا چلا جاؤں گا۔ کیونکہ ہر حق کا اظہار ضروری نہیں ہوتا۔ میں جانتا ہوں کہ اس حق کے اظہار کی وجہ سے چند عورتوں وغیرہ کی عصمتیں تو محفوظ ہو جائیں گی اور چند نوجوان دہریہ بننے سے بچ جائیں گے۔ لیکن ہزاروں روحیں جو اس کے عدم علم کی وجہ سے ہدایت کے قریب آرہی ہیں اور بہت سی ان میں سے حق پا چکی ہیں ہدایت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائیں گی اور یہ اتنا بڑا نقصان ہے جس کے خیال سے بھی میری روح کانپتی ہے اور یہ اتنا بھاری بوجھ ہے جس کے اٹھانے کے لئے میری پیٹھ بہت کمزور ہے۔ پس اگر یہ وقوع میں آگیا تو اس کی ذمہ داری آپ پر آئے گی۔ میں تو آپ یاد رکھیں اب تنگ آچکا ہوں اور اگر آپ نے مجبور ہی کیا تو میں اب مقابلہ کے لئے مصمم ارادہ کر لیا ہے اور جب تک میری جان میں جان ہے انشاء اللہ آپ کا مقابلہ کروں گا اور آپ کے تمام دجل اور فریب کو انشاء اللہ آشکارا کر کے چھوڑوں گا۔ وما توفیقی الا باللہ!

مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ اس مقابلہ میں میری جان جائے یا مجھے مالی نقصان ہو۔ میں خاموش ہوں تو خدا تعالیٰ کے لئے اور اگر اٹھوں گا تو محض خدا تعالیٰ کے لئے میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو انتہاء تک پہنچایا ہوا ہے جس لڑکی کو چاہا اپنی عجیب و غریب عیاری سے بلایا اور اس کی عصمت دری کر دی اور پھر ایک طرف سے اس کی طبعی شرم حیا سے ناجائز فائدہ اٹھا لیا اور دوسری طرف اسے دھمکی دے دی کہ اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کو کون مانے گا۔ تجھے ہی

٥٨

صفحہ ٤٦٩

لوگ پاگل اور منافق کہیں گے۔ میرے متعلق تو کوئی یقین نہ کرے گا اور اگر کسی نے جرات سے اظہار کر دیا تو مختلف بہانوں سے ان کے خاوندوں یا والدین کو ٹال دیا۔ مگر آپ یہ یاد رکھیں کہ آپ کا یہ طلسم صرف اس لئے ان پر چل جاتا ہے کہ وہ اپنے معاملہ کو انفرادی معاملہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جس وقت ان کے سامنے تمام واقعات مجموعی حیثیت سے آئے تو پھر ان کو بھی پتہ لگ جائے گا کہ یہ سب دھوکہ ہی تھا جو ہمیں دیا جارہا تھا۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے ایجنٹ مردوں اور ایجنٹ عورتوں کا بچھایا ہوا ہے۔ اس کا راز جب فاش کیا جائے گا تو لوگوں کو پتہ لگے گا کہ کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکہ پڑتا ہے۔ مخلص جو آپ کے ساتھ اور ان کے خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا اور دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جاتا ہے یا وہ کسی کے سامنے اظہار کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو اس کا علم ہو جائے تو پھر آپ اسے کچلنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور اس کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا اور پتھر سے بھی زیادہ سخت دل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں اصلاحی پہلو بالکل مفقود اور انتقامی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر سکینہ بیگم زوجہ مرزا عبد الحق صاحب کو ہی لو۔ کس قدر ظلم اس پر آپ کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن وہ بے چاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے۔ اس کی صحت تباہ ہو چکی ہے۔ اب تازہ مثال فخر الدین کی ہے اس کو بھی آپ نے اس وجہ سے سزا دی ہے کہ اس کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو چکا ہے اور آپ پر یہ خوف غالب تھا کہ یہ مجھے بدنام کرے گا۔ حالانکہ یہ آپ کا وہم ہی وہم تھا۔ وہ بھی سلسلہ کی بدنامی کے خوف سے ہمیشہ آپ کی پردہ پوشی ہی کرتا رہا۔ چنانچہ اس وہم کی ہی بناء پر آپ مدت سے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے کہ کبھی موقعہ ہاتھ آئے تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے تا کہ یہ روٹی سے تنگ آ کر ذلیل ہو کر معافی مانگے تا کہ پھر ساری عمر آپ کی سیاہ کاریوں کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکے اور آپ اطمینان سے اپنی عیاشیوں میں مشغول رہیں۔ جیسا کہ آپ پہلے اس طریق سے بعض ایسے آدمیوں کو چپ کرا چکے ہیں۔ قاضی اکمل پر جو ظلم کیا گیا اس کی تہ میں بھی یہی مقصد آپ کا کام کر رہا تھا۔ اس طرح اور بہت سی مثالیں ہیں جن کو وقت آنے پر پیش کیا جائے گا اور ان تمام مظالم کی داستانیں جو تقدس کے پردہ میں آپ کر رہے ہیں وقت آنے پر کھول کھول کر لوگوں کو بتائی جائیں گی۔ ان تمام مظالم کو ڈھانے میں آپ کو جرات ایک تو اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ آپ نے لمبے عرصہ تک مختلف رنگوں میں کوشش کر کے لوگوں کے یہ بات ذہن نشین کر دی ہے کہ آپ ایک مقدس

٥٩

صفحہ ٤٧٠

انسان ہیں۔ کہیں اپنے آپ کو مصلح موعود کی پیش گوئی کا مصداق بنایا ہے کہیں موعود خلیفہ۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ طلسم آپ کا بہت جلد ٹوٹ جائے گا۔ لوگ آپ کے اس طلسم کے نیچے صرف اس وقت تک ہی ہیں جب تک ان کو آپ کے چال چلن کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان کو پتہ نہیں لگتا کہ جس قدر دلائل آپ کو مصلح موعود بنانے کے لئے دیئے گئے ہیں اور سب غلط ہیں اور یہ کہ مصلح موعود کی پیش گوئی کے مصداق آپ ہو ہی نہیں سکتے۔

مسیح موعود کا ایک اور خواب ہے جس میں آپ کی اس گندی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس کے آپ مصداق ہیں۔ مصلح موعود کی پیش گوئی کا مصداق کوئی اور آنے والا ہے۔ یعنی خدا کے فضل سے اس پیش گوئی کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور یقینی دلائل سے یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ آپ مصلح موعود نہیں ہو سکتے۔ پس ایک طرف تو آپ کو اس وجہ سے جرات ہے کہ لوگوں کے دلوں میں غلط طور پر آپ کا تقدس بٹھلا دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ آپ کی بات کو خدائی بات سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کو اپنی طاقت اور اقتدار کا گھمنڈ ہے جو اول الذکر وجہ سے آپ نے حاصل کیا ہوا ہے۔ تیسرے اس وجہ سے آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک طرف سے ملنے نہ دیا جائے اور منافقوں سے بچو منافقوں سے بچو کے شور سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے اور ہر ایک کو دوسرے پر بدظن کر دیا ہوا ہے۔ اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب کہیں میری رپورٹ ہی نہ کر دے اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جائے گا اور یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ کاریوں کا لوگوں کو علم نہ ہو سکے۔ لیکن یہ آپ کا غلط خیال ہے۔ قادیان میں بھی اور باہر بھی ایک بڑی تعداد ہے جو آپ کی سیاہ کاریوں سے واقف ہے اور دن بدن یہ تعداد بڑھتی جاتی ہے انشاء اللہ عنقریب یہ مواد پھوٹے گا۔ بہت سے لوگ کسی جرات کرنے والے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ انسانی فطرت ہے کہ اکثر لوگ خود جرات نہیں کر سکتے۔ لیکن جرات کے ساتھ کسی کو اٹھتا دیکھ کر خود اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ آخری بات جو آپ کو ان تمام مظالم پر جرات دلا رہی ہے وہ بائیکاٹ کا حربہ ہے۔ آپ نے قادیان کے انتظام کو ایسے رنگ میں چلا دیا ہوا ہے کہ تمام کی روزی کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس سے انسان بے بس ہو جاتا ہے۔ بے شک ان باتوں کی وجہ سے جو اقتدار آپ کو حاصل ہو چکا ہے۔ آپ یقین رکھتے ہیں میں (آپ) اپنے مدمقابل کا سر ایک آن میں کچل سکتا ہوں اور اب تو آپ فدائیوں کا گروہ بھی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ میں جو آپ کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ ایک نہایت ہی کمزور بے بس بے کس بے

٦٠

صفحہ ٤٧١

مال، بے مددگار ہوں اور جہاں آپ کو اپنی طاقت پر ناز ہے وہاں مجھے اپنی کمزوری کا اقرار ہے۔ ہاں میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حق کی قوت میرے ساتھ ہے اور غلبہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کو ہوتا ہے جو حق کی تلوار لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں میری بات کی طرف توجہ نہ کی جائے اور میں اس مقابلہ میں کچلا جاؤں۔ لیکن حق کی تائید کے لئے اور باطل کا سر کچلنے کی غرض سے کھڑے ہونے والے علماء اس قسم کے انجاموں سے کبھی نہیں ڈرے۔ حضرت ابن زبیرؓ حق کی خاطر باطل کی فوجوں کے مقابل میں اکیلے ہی میدان جنگ میں نکلے اور جان دے دی۔ لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ حضرت امام حسینؓ چند آدمیوں کے ساتھ باطل کی فوجوں کے سامنے صف آراء ہو گئے اور ایک ایک کر کے جان دے دی۔ لیکن باطل کی اطاعت نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا جس بات کو وہ ثابت کرنا چاہتے تھے، آخر ثابت ہو کر رہی۔ پس اس مقابلہ میں مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ میرا انجام کیا ہوگا اور میری بات کوئی سنے گا یا نہیں؟ میری تقویت اور ہمت بڑھانے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ میں حق پر ہوں اور آپ باطل پر ہیں اور باطل کا سر کچلتے ہوئے اگر میں اور میرے اہل و عیال بھی شہید کر دیئے گئے جس کا اقدام بھی اگر کیا گیا تو سخت نا عاقبت اندیشانہ ہوگا اور خطرناک نتائج پیدا کرے گا۔ ہم کامیاب مریں گے۔ ناکام نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ ہمیں اس مقابلہ میں پیٹھ پھیرتے نہیں دیکھیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری تائید کرے گا اور اگر آج نہیں تو آئندہ لوگ حقیقت سے آگاہ ہو کر رہیں گے اور ان پر سچائی ظاہر ہو کر رہے گی۔ ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آپ کے چال چلن سے واقف ہو کر جماعت خلافت کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہوگی اور آئندہ اپنے انتظام کی بنیاد مستحکم اصولوں پر رکھے گی اور ان فریب کاریوں سے جن میں آپ نے قوم کو رکھا ہوا ہے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گی۔ کیونکہ دلائل اور حقائق کا مقابلہ آخر لوگ کب تک کریں گے۔ مجھے اس بات کی بھی بڑی خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک وحی میں جو اس نے مسیح موعود پر آج سے تیس سال قبل نازل کی مجھے منافقت جیسے گندے الزام سے پاک قرار دیا ہے اور آپ کو اور آپ کے خاندان کو اس ظلم سے روکا ہے اور بتایا ہے کہ اگر اس ظلم سے باز نہ آئے تو آسمانی تائید تم سے چھن جائے گی۔ آپ اگر چاہیں تو اس کے لئے تذکرہ کے صفحہ ٦٩٢ پر ٩؍ فروری ١٩٠٨ء کے دن کے سامنے جو ١٨ الہامات درج ہیں۔ ان پر غور کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے پانچویں الہام میں متقیوں اور محسنوں کے ساتھ معیت کا ذکر کیا ہے۔ اور پھر چھٹے الہام میں کس طرح منافقوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ کس طرح قتل ٦١

صفحہ ٤٧٤

کے مستحق ہیں۔ لیکن ساتویں الہام میں ”لا تقتلوا زینب“ کہہ کر بتایا ہے کہ دیکھنا کہیں زینب کو قتل نہ کر بیٹھنا۔ اس بات سے ڈرنا کہ کہیں اس کے متعلق بھی منافقت کا الزام تراش کر کے اس کے قتل کے بھی درپے ہو جاؤ اور پھر آٹھویں الہام میں بھی ان الفاظ ”آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا ۔“ میں متنبہ کیا گیا ہے۔ اگر ایسا کرو گے تو یاد رکھو کہ آسمانی تائید سکڑ کر مٹھی بھر رہ جائے گی۔ سبحان اللہ ! خدا کے نوشتے کس طرح پورے ہو کر رہتے ہیں۔ کس طرح آج ان الہامات کے تیس سال بعد ان میں بیان کردہ باتیں حرف بحرف پوری ہو رہی ہیں۔ کس طرح اب زینب کو قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کس طرح اس کے اور اس کے خاندان کے خلاف منافقت جیسا گندہ الزام تراشا جا رہا ہے۔ پہلے اس کی اولاد کے ساتھ جو سلوک کیا اس نے اسے موت کے دروازہ تک پہنچا دیا۔ جس سے بصد مشکل وہ بچ سکی اور پھر اب اس پر رزاق بن کر رزق کے دروازے بند کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میرے لئے تو یہ تمام واقعات ازدیاد ایمان کا موجب بن رہے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے۔ اسے بھی آج سے کئی سال قبل جب کہ ان باتوں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ اس نے ان الفاظ میں بشارت دی ہوئی ہے کہ ”فان خفتم عيلة فسوف يغنيكم الله من فضله “ پس میں خدا تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر مقابلہ کی صورت پیدا ہو گئی تو تائید الٰہی انشاء اللہ ہمارے ساتھ ہوگی اور آپ جو بے گناہ لوگوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ خصوصاً مجھ جیسے گائے کی مانند بے ضرر انسان (آپ مجھے ایک خطبہ میں گائے سے مشابہت دے چکے ہیں) کو دکھ دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ یقیناً یقیناً تائید الٰہی سے محروم رہیں گے۔ کس قدر ظلم ہے کہ جس شخص کے متعلق یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس کو آپ کی بدظنی کا علم ہو گیا ہے۔ اس کے پیچھے جاسوس لگوا دیئے جاتے ہیں اور مقرر کرنے سے قبل انھیں یقین دلایا جاتا ہے کہ فلاں شخص منافق ہے۔ اس کے نفاق کو روشنی میں لانا ہے۔ اب وہ یہ سمجھ کر کہ خلیفہ نے بتایا ہے کہ فلاں منافق ہے۔ اگر ہم ایسی رپورٹیں نہ دیں جو اس کے نفاق کی تائید کرتی ہوں۔ تو ہم نالائق سمجھے جائیں گے۔ فوراً اس کی ہر حرکت و فعل اس کے ہر لفظ و حرف کو اسی رنگ میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں اور رپورٹوں پر رپورٹیں بھیجتے چلے جاتے ہیں۔ جن سے ایک فائل تیار ہوتا رہتا ہے اور اس غریب کو علم بھی نہیں کہ اس کے پکڑنے کے لئے کس کس قسم کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور وہ اس میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ ایک ذرا سے بہانے پر اس کو پکڑ کر سزا دی جاتی ہے اور گزشتہ تمام رپورٹوں کو بھی دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنی ساری عمر میں تحقیق کی روشنی تک بھی نہیں دیکھی ہوتی۔ کیا آپ پر جو جماعت کے لئے بطور مصلح ہونے کے مدعی ہیں یہ ٦٢

صفحہ ٤٧٣

فرض نہیں کہ جس شخص کے متعلق پہلی ہی رپورٹ آئے یا آپ کے علم میں اس کے خلاف کوئی بات لائی جائے۔ جس میں اصلاح کی ضرورت ہو تو اسے بلا کر سمجھائیں اور اس کو غلطی سے نکال کر اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ ہے اور یقینا ہے لیکن یہ آپ کا ایسا نہ کرنا بتاتا ہے کہ آپ اس شخص کی جس کے خلاف آپ کو رپورٹیں ملتی ہیں اصلاح نہیں چاہتے بلکہ اس کو تباہی و ہلاکت کے گڑھے میں دھکیلنے کے خواہشمند ہیں اور فخر الدین کے کیس میں کیا یہی کچھ نہیں ہوا۔ کہ اس کے خلاف دو سال سے آپ رپورٹیں جمع کر رہے ہیں۔ لیکن کسی ایک رپورٹ کی بھی تحقیق نہیں کی اور اب انہیں موجودہ کیس میں دلیل بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ اگر ابتدائی رپورٹ کی ہی آپ تحقیق کر لیتے تو میرا غالب خیال ہے کہ صفائی ہو جاتی اور آپ کو اسی قدر لمبے عرصہ تک جو تگ و دو کرنی پڑی ہے نہ کرنی پڑتی۔ چنانچہ تفصیلی حالات شائع کرنے پڑ گئے تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ اس میں وہ قصور وار نہیں بلکہ قصور کسی اور کا ہے۔ جس کا ذکر میں ابھی مناسب نہیں سمجھتا۔

میں آپ کی خدمت میں خدا کا واسطہ ڈال کر اور سلسلہ کی عظمت اور مسیح موعود کی ساری عمر کی محنت کا واسطہ ڈال کر جو آپ نے اس پودہ کو لگانے اور اس کی پرورش کرنے میں صرف کی ہے عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے کہ سلسلہ کی عظمت اور اس کی نیک نامی پر کوئی دھبہ نہ لگے اور یہ کہ دشمنوں کو ہنسی کا موقعہ نہ ملے تو آپ جلد از جلد اپنی سیاہ کاریوں سے توبہ کریں اور یہ مظالم جو آئے دن آپ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں امید ہے ان کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ میں حیران ہوں کہ آپ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جب اس طرح آپ پرانے آدمیوں کو نکالتے چلے جائیں گے تو کیا کبھی بھی لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی اور کبھی بھی ان کو خیال نہیں پیدا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ اتنے پرانے اور مخلص دوست آپ کی ذات پر اتہام لگانے کے جرم میں جماعت سے الگ کئے جاتے ہیں اور ہر چند سالوں کے بعد کوئی نہ کوئی دوست آپ کی ذات پر اتہام لگانے لگ پڑتا ہے یاد رکھیں یہ بات ضرور ان کی توجہ کو تحقیق کی طرف پھیر دے گی اور پھر آپ کی خیر نہیں۔ اس لئے آپ فوراً ان باتوں سے توبہ کر کے اپنے اوپر بھی اور سلسلہ پر بھی رحم کریں اور اس لڑکے کا وہ قول کہ جو اس نے امام ابو حنیفہ کو کہا تھا کہ میں پھسلا تو اکیلا پھسلوں گا۔ لیکن آپ اپنے پھسلنے کی فکر کریں۔ اگر آپ پھسلے تو کئی آدمیوں کو اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔ ہمیشہ مدنظر رکھیں۔

میں آپ کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ فخر الدین کو نکالنے میں آپ نے سخت غلطی کی ہے اور جلد بازی سے کام لیا ہے۔ اس کو آپ کے چال چلن کے متعلق بہت سے واقعات معلوم ہیں اور اس نے ان کی اشاعت سے باز نہیں آنا۔ صرف واقعات ہی نہیں بلکہ ان تمام اشخاص کے نام بھی

٦٣

صفحہ ٤٧٤

شائع کرے گا جنہوں نے آپ کی بدچلنی کی نہ صرف شہادتیں دی ہوئی ہیں بلکہ کئی واقعات اپنی پوری تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ نہ صرف آپ کو حیران کر دینے والی ہوگی بلکہ دنیا کو بھی حیرت میں ڈال دے گی اور جماعت میں قیامت خیز زلزلہ پیدا کر دے گی۔ پھر ان میں سے ایسے لوگ ہیں جن کو جھٹلانا یا جن کو جماعت سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ آخر ان لوگوں کو سچی گواہی دینی پڑے گی۔ خصوصاً جب ان سے تریاق القلوب والی قسم کا مطالبہ کیا جائے گا اگر چپ رہیں تب مشکل۔ اگر جھوٹ بولیں تب مشکل۔ عجب مخمصہ میں ان کی جان پڑ جائے گی۔ آخر وہ مجبور ہوں گے کہ ان واقعات سے انکار نہیں کر سکیں گے اور اس کے نتیجہ میں جو مشکلات پیدا ہوں گی اس کا اندازہ آپ خود ہی لگا سکتے ہیں۔ ابھی تو گھر میں ہی بات ہے اندر ہی اندر بغیر کسی کو علم دیئے دبائی جا سکتی ہے۔ اگر ایک دفعہ ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اس کا دبانا ناممکن ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو عین وقت پر بتلا دیا ہے۔ ”فقد اعذر من انذر“ پس آپ وقت ہاتھ سے نکلنے سے قبل اصلاح کرلیں اور اپنی غلطی کو واپس لے لیں۔ ورنہ پھر پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کی مثل صادق آئے گی اور بجز کف افسوس ملنے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

ان تمام باتوں کو خدا کے لئے کسی دھمکی پر محمول نہ کریں۔ بلکہ اسے مخلصانہ نصیحت سمجھیں اور اس رنگ میں اسے پڑھیں۔ ننگے الفاظ میں یہ محض اس لئے بیان کی گئی ہیں کہ اس کے سوا چارہ نہیں۔ میری غرض محض اصلاح ہے اور سلسلہ کو بدنامی سے بچانا ہے۔ میں ہرگز اس بات کو نہیں چاہتا کہ سلسلہ کے نظام کو توڑ دیا جائے یا اس کے نقائص پبلک میں آئیں اور دشمنوں کو خوشی ہو۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ نئے نظام کے قائم کرنے میں کس قدر مشکلات ہوں گی اور اس کو توڑنے میں کس قدر خطرات پیش آئیں گے۔ گو آپ اپنی بدچلنی کی وجہ سے معزول ہونے کے قابل ہیں۔ لیکن چونکہ جماعت آپ کے ہاتھ میں اپنے نظام کی باگ ڈور دے چکی ہے اس لئے یہ آپ کے ہاتھ میں ہی رہے۔ پس آپ بہت جلد کسی مناسب طریق سے فخر الدین صاحب والے اعلان کو واپس لے لیں اور سلسلہ کو بدنامی سے بچالیں۔ آپ کی بدچلنی کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے متعلق ایک بات میرے دل میں کھٹکتی رہتی ہے۔ اس کا ذکر کر دینا بھی میں ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ممکن ہے جس چیز کو ہم زنا سمجھتے ہیں آپ اسے زنا ہی نہ سمجھتے ہوں اور آپ کو چونکہ قرآن شریف کے عارف ہونے کا دعویٰ ہے اس لئے ممکن ہے آپ کی باریک بین نظر نے شریعت سے ان افعال کے متعلق جن کے آپ مرتکب ہیں کوئی جواز کی صورت نکال لی ہو۔ پس اگر ایسا ہے تو مہربانی فرما کر مجھے سمجھا دیں۔ اگر میری سمجھ میں آگئی تو میں اپنے سارے اعتراضات واپس لے لوں گا۔

٦٤

صفحہ ٤٧٥

اسی طرح فخر الدین کے متعلق بھی اگر آپ مجھے یہ سمجھا دیں کہ وہ فی الحقیقت پیغامیوں اور احراریوں سے ملا ہوا ہے تو میں اس سے فوراً قطع تعلق کرلوں گا اور اس سے قطعاً کوئی ہمدردی مجھے نہیں رہے گی۔ کیونکہ سلسلہ مجھے سب تعلقات پر مقدم ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی اصلاح بھی نہ کریں اور مجھے بھی نہ سمجھائیں تو پھر میں مجبور ہوں کہ آپ کو ان معنوں میں خلیفہ نہ سمجھوں کہ اب حضرت مسیح موعود کے ان کی روحانیت میں نائب ہیں اور اس وقت تک کہ آپ کی اصلاح کا مجھے یقین ہو جائے۔ میں آپ کے ذاتی چال چلن کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے یہ سمجھوں گا کہ میں ایک ایسی ریاست میں رہ رہا ہوں۔ جس کا والی بدچلن ہے۔ لیکن اس کی بدچلنی سے ہمیں کیا تعلق۔ ریاست کے انتظام کے متعلق جو احکام والی کی طرف سے صادر ہوں گے ان کی تعمیل حسب استطاعت کرتے رہیں گے۔ پس ٹھیک اس طرح میں آپ کو جماعت کے نظام کا ہیڈ یعنی افسر بالا سمجھ کر سلسلہ کی خدمت جو میرے سپرد ہوگی کماحقہ بجالاؤں گا۔

بشرطیکہ آپ کی طرف سے اس میں بھی روکیں نہ ڈالی جائیں۔ جیسا کہ اب آپ ڈال رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے میرے سٹاف کے ممبروں اور میرے طلباء کو میرے اوپر جاسوس مقرر کیا ہوا ہے اور ایسے آدمیوں کو مجھ پر مسلط کیا ہوا ہے۔ جن کو انتظامی طور پر مجھ سے تکلیفیں پہنچی ہوئی ہیں اور جو دشمن اور انتقام کے جذبات اپنے دلوں میں میرے خلاف رکھتے ہیں اور آپ بھی ان کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ایسی حالت میں قطعاً میرا کوئی رعب سٹاف پر رہ سکتا ہے نہ طلباء پر۔ اس کام میں نقص لازمی امر ہے اور اس کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ مجھ پر۔ پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ سلسلہ کے اس کام میں جو میرے سپرد ہے۔ نقص پیدا نہ ہو تو جاسوس دور فرمائیں اور میرے Prestige کو دوبارہ قائم کریں۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ میرے کام کو آپ خود عمداً خراب کر کے مجھ پر انتظامی رنگ میں گرفت کرنا چاہتے ہیں اور سب کچھ اس لئے کہ اصل سبب لوگوں کی نظر سے اوجھل رہے اور اس پر پردہ پڑا رہے۔ یہ راہ بھی میں بطور تنزل اختیار کرنے پر راضی ہوں اور وہ بھی محض اس لئے کہ جماعت کو فتنہ سے بچانے کے لئے میری طرف سے کوئی کوتاہی نہ ہو۔ میں آپ سے آپ کی ان بدچلنیوں کی وجہ سے الگ ہوسکتا ہوں۔ لیکن جماعت سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جماعت سے علیحدگی ہلاکت کا موجب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے اور چونکہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو مسیح موعود کے لائے ہوئے صحیح عقائد و تعلیم پر قائم ہو۔ بجز اس جماعت کے جس نے آپ کو خلیفہ تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس لئے میں دو راہوں سے ایک کو ہی اختیار کر سکتا ہوں یا تو میں جماعت کو آپ کی صحیح حالت سے آگاہ کر کے آپ کو خلافت سے معزول کرا کے نئے خلیفہ

٦٥

صفحہ ٤٧٦

کا انتخاب کراؤں اور یہ راہ پر از خطرات ہے اور یا جماعت میں آپ کے ساتھ مل کر اس طرح رہوں جس طرح میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ اب یہ آپ کی مرضی پر موقوف ہے۔ آپ مجھ سے شق اوّل اختیار کروائیں یا دوسری، اگر آپ کی مرضی مجھ سے دوسری شق اختیار کروانے کی ہو تو اس صورت میں آپ پر یہ فرض ہوگا کہ مجھ پر جو حملے آپ نے کئے ہیں ان کا ازالہ بھی خود ہی کسی مناسب طریق سے کریں۔ میں اس جگہ اس بات کا اضافہ کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہو چکا ہے کہ آپ جنبی ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔ ہاں اگر کسی موقعہ پر پڑھنی پڑ جائے تو میں فتنہ نہیں ڈالوں گا۔ اس وقت پڑھ لوں گا۔ لیکن علیحدگی میں جاکر اسے دہرا لوں گا۔ میں اخلاقی مجرم ہوں گا۔ اگر اس تحریر کے ختم کرنے سے قبل سردار مصباح الدین کے متعلق آپ کی غلط فہمی دور نہ کردوں۔ میں سنتا ہوں کہ آپ ان سے بھی ناراض ہیں اور ان کے ساتھ بھی فخر الدین والا معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں دیانت داری کے ساتھ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ بالکل بے قصور ہیں۔ ان باتوں سے وہ کوسوں دور ہیں۔ وہ مخلص احمدی ہیں۔ سلسلہ کا درد ان کے دل میں ہے اور وہ کام کے آدمی ہیں۔ ان سے اگر آپ کام لیں تو وہ آپ کو اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ کام دے سکتے ہیں اور بہت مفید کام دے سکتے ہیں۔ اگر ان میں آپ کے نزدیک کوئی نقص ہے تو کون سا آدمی ہے جو نقصوں سے خالی ہوتا ہے۔ پس ایسے مفید اور مخلص انسانوں کی قدر کریں۔ یہی لوگ وقت پر آپ کے کام آئیں گے۔ جو لوگ آج کل آپ کے اردگرد ہیں اور جو بدقسمتی سے مخلص سمجھ لئے گئے ہیں۔ یہ سخت مفسد اور فتنہ ڈلوانے والے لوگ ہیں۔ یہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اخلاص کس بلا کا نام ہے اور جماعت کے اتحاد کی کیا قدر و قیمت ہے۔ ان کو اپنی ذاتی اغراض سے تعلق ہے۔ جب تک وہ پوری ہوتی رہیں گی وہ سلسلہ کے ساتھ ہیں اور اگر ان کے پورا ہونے میں ادنیٰ سا بھی فرق نظر آیا یا دوسری جگہ سے زیادہ دنیاوی فوائد مل جائیں تو وہ سلسلہ کو فروخت کر کے اپنی اغراض کو پورا کر لیں گے۔ اس قماش کے لوگ ہیں جو آج کل آپ کے معتمد علیہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے متعلق تو مجھے شبہ ہے۔ وہ دل میں پیغامی ہیں اور یہاں محض جماعت میں فتنہ ڈلوانے کے لئے رہتے ہیں اور اس مقصد میں وہ کامیاب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنا رحم کرے اور جماعت کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین!

اسی طرح فخر الدین کے متعلق میں پھر عرض کروں گا کہ اس کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ وہ بھی مخلص اور کام کا آدمی ہے۔ وہ سلسلہ کا اور آپ کا اور اہل بیت کا دیرینہ خادم ہے۔

٦٦

صفحہ ٤٧٧

ہر شخص اپنی طرز پر خدمت کرتا ہے۔ اس نے بھی اپنی طرز پر کبھی کسی خدمت سے منہ نہیں موڑا۔ اس پر بھی آپ کو غلط طور پر بدظن کیا گیا ہے۔ اس کے معاملہ میں عجیب بات یہ ہے کہ عبدالرحمان برادر احسان علی نے دوران مقدمہ میں کہا تھا میں فخرالدین کو جماعت سے نکلوا کر چھوڑوں گا اور آج وہ بات پوری ہو جاتی ہے۔ آپ حضرت علیؓ اور طلحہؓ و زبیرؓ کے واقعات کو یاد کریں کہ کس طرح ان کے اندر اتحاد کی سچی تڑپ تھی اور کس طرح انہوں نے عین میدان جنگ میں سمجھوتہ کر لیا تھا۔ لیکن جو لوگ ان کے اردگرد تھے اور جو اس وقت ان کے معتمد علیہ بنے ہوئے تھے اور بڑے اخلاص کا اظہار کر رہے تھے اور اپنے آپ کو اسلام کے سچے جانثار ظاہر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی خباثت فطرت کا ثبوت دیتے ہوئے دونوں کو آخر لڑوایا اور اسلامی اتحاد کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ پس اس وقت بھی بعینہ ایسی ہی حالت سامنے ہے۔ مہربانی فرما کر سوچ سمجھ کر قدم رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک غلط قدم اصل راستہ سے ہزاروں کوس جماعت کو دور لے جائے اور اس وقت ہوش آئے جب کہ واپس مڑنا سخت مشکل ہو چکا ہو۔ پس اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ التجاء ہے کہ وہ آپ کو ٹھنڈے دل سے اس تحریر پر غور کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ایسی راہ پر آپ کو گامزن کرے جس سے جماعت میں فتنوں کا دروازہ نہ کھلے۔ کیونکہ جو دروازہ ایک دفعہ کھلتا ہے وہ بند نہیں ہوا کرتا۔ اے اللہ تو ہمیں فتنوں سے بچا۔ کیونکہ تیرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ ”اللهم انت خیر حافظاً، اللهم انت خیر حافظاً، اللهم انت خیر حافظاً“

میں نے جو کچھ عرض کرنا تھا سچائی اور دیانت داری کے ساتھ سلسلہ کی اور آپ کی بہتری کو مدنظر رکھ کر عرض کر دیا ہے۔ اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی جو قضا ہوگی وہی جاری ہو کر رہے گی۔ ہم راضی ہیں۔ کیونکہ وہ جو کچھ کرے گا سلسلہ کے لئے بہتر کرے گا۔ ”وافوض امری الی الله والله بصیر بالعباد، وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین“ والسلام ! ١٠؍ جون ١٩٤٧ء عبدالرحمان مصری یہ خط ١٠؍ کو لکھا گیا اور گیارہ کو بھیجا گیا۔

نقل خط نمبر: ٢

بسم الله الرحمن الرحيم ، نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! سيدنا، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

٦٧

صفحہ ٤٧٨

میں ایک عریضہ پہلے ارسال خدمت کر چکا ہوں۔ ابھی تک جناب کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں Prestige (وقار) کا خیال اس مخلصانہ اور ہمدردی سے بھری ہوئی نصیحت کو قبول کرنے سے مانع نہ ہو۔ پھر آپ کی خدمت میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ آپ مجھ پر اعتماد کریں اور یہ یقین کرلیں کہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ سلسلہ اور آپ کی ذات دونوں کو بدنامی سے بچانے کے لئے عرض کیا ہے اور میں دل سے یہ چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ پبلک میں نہ آئے اور انشاء اللہ یہ بصیغہ راز ہی رہے گا۔ آپ یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ آپ کے Prestige یعنی وقار کو یا آپ کے مقام کو اس سے کوئی صدمہ پہنچے گا۔ اگر آپ ان باتوں سے توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو آپ ہمیں پہلے سے بھی بڑھ کر مخلص پائیں گے۔

یہ بات آپ سے مخفی نہیں رہ سکتی کہ جماعت کا فرض ہے کہ اپنے اس خلیفہ کے اعمال کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست مامور نہیں کیا جاتا۔ نگہداشت رکھے اور اگر اسے شریعت سے منحرف ہوتے دیکھے تو اس کو شریعت کی اطاعت کی طرف لائے۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے خطبہ کے مندرجہ ذیل الفاظ ملاحظہ فرمائیں: ”انما انا مثلکم انما انی متبع ولست بمبتدع فان استقمت فتابعونی وان زغت فقومونی الاوان لی شیطاناً یعترینی فاذا آتانی فاجتنبونی“

ترجمہ: ”میں صرف تمہاری مانند امت کا ایک فرد ہوں۔ میں تو مقررہ شریعت کی اتباع کرنے والا ہوں۔ میں اس شریعت میں کوئی نئی چیز داخل نہیں کر سکتا۔ اگر میں سیدھا رہوں تو میری تابعداری کرو۔ اگر میں شریعت کے احکام سے منحرف ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دو۔ یہ بھی سن لو کہ میرا بھی شیطان ہے جو مجھے آ چمٹتا ہے۔ پس جب وہ میرے پاس آئے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔“ (زائد عبارت) یہ ترجمہ خط میں نہیں لکھا گیا۔

الفاظ واضح ہیں مجھے آپ کے سامنے کسی قسم کا استدلال کر کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ خود اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ پس ایسی صورت میں ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آپ کے اعمال میں اگر کوئی خلاف شریعت جزو دیکھیں تو اس سے آپ کو روکنے کی اپنی پوری کوشش کریں۔ اب میرے علم میں جب وہ باتیں آچکی ہیں جن کا ذکر میں اپنے پہلے عریضہ میں کر چکا ہوں تو میرا فرض ہے کہ میں اس کی اصلاح کروں اور اس کے دو ہی طریق ہو سکتے ہیں۔

٦٨

صفحہ ٤٧٩

بالتفصیل رکھ کر ان سے مشورہ کروں اور جو تجویز آپ کو ان باتوں کے روکنے کی قرار پائے اس پر عمل کیا جائے اور اگر وہ بھی ڈریں اور توجہ نہ کریں تو پھر ساری جماعت کے سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کراؤں۔ لیکن میری انتہائی کوشش یہی ہوگی کہ دوسروں کو چھوڑ اپنی جماعت کے بھی کسی فرد کو اس کا علم نہ ہو۔ صرف میرے اور آپ کے درمیان ہی یہ بات رہے۔ دوسری دو صورتیں انتہائی مایوسی کی حالت میں عمل میں لائی جائیں تو لائی جائیں۔ ورنہ نہیں۔ لیکن میں نے جیسا کہ پہلے عریضہ میں بھی عرض کیا ہے ان واقعات کا علم صرف مجھ تک ہی محدود نہیں بلکہ بہت لوگوں کو اس کا علم ہے اور انہی میں سے فخر الدین بھی ہیں۔ ان کو جماعت سے الگ کیا گیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کو علیحدہ محض اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کا علم رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں اپنے آپ کو بدنامی سے بچانے کے لئے وہ بھی مجبور ہوں گے کہ پبلک میں کوئی بیان شائع کریں اور مجھے علم ہے کہ ان کا ارادہ تھا اور اسی بناء پر میں نے آپ کو لکھا تھا کہ پبلک میں بات آنے سے قبل آپ ان کی تلافی کر لیں اور کسی مناسب طریقہ سے اس اعلان کو منسوخ کردیں جس سے آپ کا وقار بھی قائم رہے اور وہ بھی مجبور ہو کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس کا واپس لینا پھر مشکل ہو جائے۔ پرسوں اتفاق سے میں بک ڈپو کی طرف گیا اور میں نے دیکھا کہ مظہر اور مولوی فضل دین وہاں بیٹھے ہیں۔ محمد یوسف بن مولوی قطب الدین نے مظہر سے پوچھا کہ تمہارے ابا کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا کہ معافی تو مانگ رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میں نے شکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو معافی کی طرف پھیر دیا ہے اور پہلے ارادہ سے وہ باز آ گیا ہے۔ اس کے لئے یہ ایک اچھا موقعہ ہے۔ اب اس سے فائدہ اٹھا لینا چاہئے۔ اب اس سے جناب کے وقار کو بھی صدمہ نہیں پہنچے گا اور معاملہ بھی نہایت عمدگی سے طے ہو جائے گا۔ پس میں پھر آپ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور سلسلہ حقہ کی عزت کا واسطہ ڈال کر عرض کرتا ہوں کہ آپ نزاکت وقت کو پہچانیں اور سلسلہ کو بدنامی سے بچالیں اور دشمنوں کو ہنسی کا موقعہ نہ دیں اور فوراً اس کی معافی کا اعلان فرمادیں۔ کیونکہ اب اس نے خود معافی مانگ لی ہے۔ ورنہ بات ہاتھ سے نکل جائے گی اور پھر کچھ نہیں بن سکے گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے پاس مواد بہت زیادہ ہے اور اس کو اگر اس نے استعمال کیا تو مشکلات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہمارے سامنے آجائے گا جس کی رو کو روکنا ناممکن ہوجائے گا۔

یہ ایک سچے ناصح کی نصیحت ہے۔ کاش آپ اس کی طرف پوری توجہ دیں اور اس کو قبول کر کے جماعت کو فتنہ سے بچالیں۔ اللہ تعالیٰ ہی آپ کے دل کو سیدھا راستہ کرنے کی توفیق

٦٩

صفحہ ٤٨٠

عطاء فرمائے۔

(الناصح المشفق عبدالرحمان مصری، مورخہ ١٤ / جون ١٩٣٧ء)

نقل خط نمبر : ٣

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم! سيدنا، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو عریضے میں جناب کی خدمت میں قبل ازیں ارسال کر چکا ہوں۔ ان کے بعد مزید غور کرنے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس معاملہ میں مجھے نرمی نہیں دکھانی چاہئے۔ کیونکہ اس معاملہ میں نرمی سلسلہ کے ساتھ اور مسیح موعود کی ذات اور حضور کی اولاد کے ساتھ خیانت ہے۔ مسیح موعود کے بے شمار احسانات کے نیچے ہم دبے ہوئے ہیں۔ میرا نفس مجھے بار بار ملامت کر رہا ہے کہ کیا ان احسانات کا یہی بدلہ ہے کہ ان کی اولاد کو ایک بدی میں مبتلا دیکھ کر اس میں سے انہیں نکالنے کے لئے کوئی کوشش نہ کی جائے۔ سلسلہ کے ساتھ بھی خیانت ہے اور وہ اس لئے کہ سلسلہ کے افراد اندر ہی اندر آپ کی یہ حالت دیکھ کر دہریہ ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہم اعلانیہ ان کو اس سے روک نہیں سکتے۔ یہ بدی ابھی اتنی سرعت کے ساتھ سرایت کر رہی ہے کہ دیکھ کر حیرت (ہوتی ہے ) اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس بدی کو بدی ہی نہیں سمجھا جاتا اس رو کو اس وقت نہ روکا جائے تو خدا جانے کتنی نسلوں تک یہ وبا اس طرح پھیلتی چلی جاوے گی اور کب اس کا خاتمہ ہوگا۔ اگر ہم علماء خاموش رہیں تو یقیناً خدا کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ ”أخذتہ العزۃ بالاثم“ کی حالت آپ پر نہ آئے۔ آپ ایک گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں اور گناہ سے توبہ کرنے میں عزت ہے۔ بے عزتی نہیں۔ پس اگر آپ توبہ کے لئے تیار ہوں تو توبہ کی جو اہم شرائط تمام صوفیاء نے لکھی ہیں اس پر عمل شروع ہو جانا چاہئے اور وہ یہ کہ اس بدی کا ماحول بدلا جائے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل ضروری ہے۔

شریعت کا حکم ہے، جس کی پیروی کو بالکل نظر انداز کیا ہوا ہے اور قطع نظر اس کے اس حالت کے ویسے بھی آپ پر بحیثیت خلیفہ ہونے کے یہ فرض ہے کہ آپ شریعت کے احکام کو نافذ کریں۔

٧٠

صفحہ ٤٨١

ہیں ۔ ان کو اب رخصت کیا جاوے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ فوراً ایسا کریں ۔ بے شک حکمت عملی سے کام لے کر کچھ عرصہ تک انہیں اپنے سے علیحدہ کردیں ۔

ہوئی ہیں ۔ ان کی تلافی کی جائے ۔ یہ میرے جائز اور واجبی چار مطالبات ہیں جو تقویٰ ، دیانت اور انصاف تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور دل کی خوشی کے ساتھ انہیں پورا کریں ۔ ہاں ! اگر انہیں یا ان کے پورا کرنے کی طرز اور حکمت میں کوئی ترمیم وغیرہ کرنا چاہیں تو مجھ سے زبانی گفتگو کر سکتے ہیں ۔

٢٣/ جون ١٩٢٧ء شیخ عبد الرحمٰن مصری

نمبر ٤....... چند تاریخی تحریرات

جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک دردمندانہ اپیل اور ایک غلط بیانی کی تردید

جب سے میں نے خلیفہ المسیح الثانی کو اطلاع دی ہے کہ میں آپ کے بعض ایسے نقائص کی وجہ سے جو خلافت کے منصب کے منافی ہیں جن کی بالتفصیل میں نے اپنی تین چٹھیوں میں بیان کر دی ہے۔ آپ کی بیعت سے الگ ہوتا ہوں ۔ ہاں اگر آپ اپنے نقائص کی اصلاح کر لیں اور مجھے یقین دلاویں کہ آئندہ پھر یہ نقائص پیدا نہیں ہوں گے تو میں اپنی فسخ بیعت کا اعلان نہیں کروں گا اور آپ کا خادم رہوں گا اور جس کو انہوں نے کسی خاص مصلحت کے ماتحت پبلک میں اس طرح ظاہر کیا ہے کہ گویا وہ مجھے خود جماعت سے خارج کر رہے ہیں۔ حالانکہ جماعت سے خارج کرنے کا انہیں کوئی اختیار ہی نہیں۔ ان باتوں کے متعلق انشاء اللہ المفصل بحث بعد میں کی جاوے گی۔ اس وقت سے جماعت میں سخت ہیجان اور اضطراب پھیلا ہوا ہے اور لوگ دریافت کر رہے ہیں کہ اس فسخ بیعت کی کیا وجہ ہے؟ خاکسار جسے حضرت صاحب سے اتنا اخلاص و محبت اور حضرت صاحب کو خاکسار سے اتنا تعلق و محبت اور خاکسار کے خاندان کو ان کے خاندان سے اور ان کے خاندان کو خاکسار کے خاندان سے گہرا تعلق رہا ہے اور جس نے اتنا لمبا عرصہ نہایت اخلاص کے ساتھ خدمت کی ہے۔ آج وہ ان کی بیعت سے الگ ہوا ہے اور اس علیحدگی میں اس نے اپنی تمام عزت جو اس کو جماعت میں حاصل تھی۔ اس کے ضائع ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اپنی ملازمت کو ایسی حالت میں جب کہ بظاہر اسے کوئی اور ذریعہ معاش میسر نہیں

٧١

صفحہ ٤٨٢

آسکتا۔ خطرہ میں ڈال دیا ہے اور یہ نقصان اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ جب کہ یہ دیکھا جاوے کہ پندرہ سولہ نفوس پر مشتمل کنبہ کی پرورش اس کے ذمہ ہے۔ دو بچے کالج میں بھی تعلیم پا رہے ہیں۔ پس مال وعزت کی اتنی بڑی قربانی کسی معمولی بات کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ اس کی تہ میں ضرور کوئی بڑی بات ہے۔ لوگوں کے اس استعجاب و حیرت کو دور کرنے کے لئے ایک نہایت ہی جھوٹا و مکروہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ گویا میں نے اپنی لڑکی حضرت صاحب کی خدمت میں بغرض شادی پیش کی تھی اور حضرت صاحب نے اس کو اپنے عقد میں لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر میں حضرت صاحب سے ناراض ہو گیا اور اس ناراضگی کے غصہ میں اس قسم کی حرکت کا مرتکب ہوا ہوں۔ میں اس پروپیگنڈہ کو دیر سے سن رہا ہوں۔ لیکن خاموشی اور صبر کے ساتھ اس کی تکلیف برداشت کرتا چلا آ رہا ہوں۔ لیکن اب جب کہ تمام قادیان میں اور باہر دونوں جگہ یہی وجہ ذہن نشین کرا دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور مجھے خیال پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو وجہ دریافت کرنے کی جو طبعی خواہش ہے وہ اس وجہ کے بیان کر دینے سے پوری ہو جائے اور وہ اس سے تسلی پا کر وہ امر جو اس علیحدگی کا حقیقی باعث ہے اسے دریافت کرنے سے رک جائیں۔ میں بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس غلط بیانی کی اب اعلانیہ تردید کروں۔ قادیان میں تو ہر ایک کی زبان پر یہی وجہ جاری ہے لیکن مجھے اطلاع ملی ہے کہ لاہور میں بھی مولوی غلام رسول راجیکی نے بیان کیا کہ شیخ صاحب نے خاندان نبوت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس لئے شیخ صاحب نے علیحدگی اختیار کر لی۔ گو مجھے یقین نہیں کہ مولوی غلام رسول راجیکی جیسے عالم آدمی نے اتنی بے احتیاطی سے کام لیا ہو کہ ایسی بے بنیاد بات بغیر تحقیق کے کہہ دی ہو۔ لیکن بہر حال چونکہ اس کا چرچا عام ہے۔ اس لئے میں اس کے متعلق اتنا عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیا دوستوں کا یہ فرض نہ تھا کہ ایسی بات منہ سے نکالنے سے قبل وہ ان سے بھی دریافت کر لیتے جن کا اس معاملہ کے ساتھ تعلق تھا۔ یعنی خود حضرت صاحب یا اس خاکسار سے۔ میرے نزدیک یقیناً ان کا مذہباً اور اخلاقاً دونوں لحاظ سے فرض تھا۔ پس انہوں نے ایک اہم فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کر کے اپنے ایک بھائی کے احساسات کو ناواجب طور پر مجروح کیا ہے اور اس کی طرف ایسی گندی اور کمینہ بات منسوب کی ہے کہ اس پر جتنی بھی نفرین کی جاوے کم ہے۔ یعنی ایک ادنیٰ سی دنیوی خواہش کے پورا نہ کئے جانے پر جماعت کے خلیفہ کے خلاف آواز اٹھا کر جماعت کے اتحاد کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ اس ذہنیت پر میں سوائے ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہنے کے اور کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جن دوستوں نے اس

٧٢

صفحہ ٤٨٣

قسم کی وجہ گھڑنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے وہ اپنی غلطی کی معافی اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے اور آئندہ سے اس کی اشاعت سے اپنی زبانوں کو روک لیں گے ......

میں اس تحریر کے ذریعہ تمام دوستوں کو خواہ وہ قادیان کے ہیں یا باہر کے اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں نے کبھی بھی حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی لڑکی کا رشتہ پیش نہیں کیا۔ نہ تحریراً نہ تقریراً نہ اشارۃً نہ کنایۃً نہ بالواسطہ نہ بلاواسطہ کسی کو میرے اس بیان میں شک ہو تو خود حضرت صاحب سے براہ راست دریافت کر لے۔ مجھے چند ماہ قبل ایک معزز دوست اور پھر چند دن قبل ایک دوسرے معزز دوست نے بتلایا کہ حضرت صاحب نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ صاحب نے بھی ایسا نہیں کہا مجھے بھی یہ افواہ پہنچی ہے۔ مگر نہ معلوم شخص نے اسے پھیلا دیا ہے۔ پس دوستو! یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وجہ بالکل غلط اور کسی شریر کی بنائی ہوئی ہے۔ اسی طرح پر اگر کوئی اور وجہ جس کا تعلق کسی نفسانی غرض یا دنیوی مفاد کے ساتھ ہو۔ میری طرف منسوب کی جاوے تو اس کو بھی اسی طرح غلط سمجھیں اور میرے مفصل بیان کا انتظار کریں۔ جس میں اس اقدام کی اصل وجہ بیان کروں گا۔ اس مفصل بیان کو شائع کرنے کے لئے سردست میں متردد ہوں۔ کیونکہ جماعت کے شیرازہ کے بکھر جانے کا غم میرے دل کو کھائے جا رہا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ معاملہ بغیر پبلک میں آئے۔ اندر ہی اندر طے ہو جائے۔ لیکن میری کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور اس کی بھی اصل وجہ میرے مفصل بیان میں آ جائے گی۔ اگر وہ شائع ہوا۔ لیکن اس کے شائع کرنے سے قبل میں جماعت کے تمام ذمہ دار دوستوں کی خدمت میں پرزور اور دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ بہتر صورت یہی ہے کہ اس نازک معاملہ کو باہمی طور پر سلجھا لیں۔ مجھ پر گالیوں اور گند اچھالنے اور کمینگی دکھانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کے سامنے اپنی تینوں چٹھیاں رکھ دوں گا اور تمام اپنے شکوے پیش کر دوں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو ان کے درست ہونے کے ثبوت بھی بتلا دوں گا۔ جن کی روشنی میں وہ خود دیکھ لیں گے کہ آیا میری تحریروں میں کسی قسم کی گالی ہے۔ میں نے جو قدم اٹھایا ہے محض خدا کے لئے اٹھایا ہے اور جماعت کے اندر ایک بہت بڑا بگاڑ مشاہدہ کر کے جو بہت سے لوگوں کو دہریت کی طرف لے جا چکا ہے اور بہتوں کو لے جانے والا ہے۔ اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس کر کے بلکہ اس کو ضروری جان کر اٹھایا ہے اور اس سے میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ ممکن ہے کہ میرے خلاف نفرت کے ریزولیوشن پاس کروائے جائیں یا جماعت کو اور رنگ میں ابھارا جاوے۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میری آواز آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں سنی جاوے گی اور ضرور سنی جاوے گی۔ انشاء اللہ

٧٣

صفحہ ٤٨٤

تعالیٰ! کیونکہ وہ آواز اپنے اندر حق رکھتی ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ مجھے ناکامی سے ڈرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی لوگ اٹھے اور ناکام رہے۔ ممکن ہے کہ پہلے اٹھنے والے کسی دنیوی غرض کے ماتحت یا انتقامی جذبہ کے ماتحت اٹھے ہوں ۔ اس لئے ناکام رہے ہوں ۔ لیکن مجھے اپنی کامیابی پر خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور تائید کے ساتھ پورا یقین ہے۔ کیونکہ میں اس کی ذات پر بھروسہ کر کے اسی کے پیارے مسیح موعود کی لائی ہوئی تعلیم اور اس کی بنائی ہوئی مقدس جماعت میں جو بگاڑ پیدا ہو کر اسے تباہی کی طرف لے جانے والا ہے اس کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ مجھے بعض دوستوں نے کہا ہے کہ ان کو جماعت پر بڑا اقتدار ہے۔ پھونک مار کر تمہیں اڑا دیں گے۔ میں نے کہا کہ ان کے اقتدار اور اپنی بے بسی کو میں بھی سمجھتا ہوں ۔ لیکن حق کی قوت بڑی زبردست قوت ہے جو باطل کی تمام قوتوں کو مٹا ڈالتی ہے۔ ممکن ہے کہ میں کچلا جاؤں اور جماعت میری طرف توجہ نہ کرے۔ لیکن جو بات میں جماعت کے اندر قائم کرنا چاہتا ہوں اور جس سچائی کی طرف لانا چاہتا ہوں وہ ضرور قائم ہو کر رہے گی اور وہ نقائص جو گھن کی طرح سلسلہ کی چھتوں کی لکڑی کو کھا رہے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ! اس کے ذریعہ دور ہو جائیں گے۔ ”وما علینا الا البلاغ “ پس میں دوستوں کی طرف سے اس دردمندانہ اپیل کے جواب کا چند دن تک انتظار کر کے اپنے مفصل بیان کو شائع کرنے کے متعلق فیصلہ کروں گا۔ والسلام على من اتبع الھدیٰ ! خاکسار : عبدالرحمٰن مصری، ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان، مورخہ ٢٩؍ جون ١٩٣٧ء

نمبر ٥...... جماعت کو خطاب

”ولا يجرمنكم شنآن قوم على ألا تعدلوا ط اعدلوا هو اقرب للتقوى“ ”(اے مومنو ) لوگوں کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف کو ہاتھ سے دے دو۔ انصاف کرو۔ کیونکہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“

اے مسیح موعود کی مقدس اور صحابہ کرام کی بروز جماعت! میں آپ کو ارشاد الہی ”ذكر فان الذكرى تنفع المؤمنین“ (الٰہی ارشادات یاد دلاتا ہوں کیونکہ یہ مومنوں کو نفع دیتا ہے ) کے ماتحت آپ کی ایک عظیم الشان غلطی کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ جس کا ارتکاب آپ سے نادانستہ اور بغیر سوچے سمجھے ہو گیا ہے اور یقین رکھتا ہوں کہ اس کا علم پانے پر آپ فوراً اس غلطی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے واپس لیں گے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں مومنوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے: ”والذين اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب الا الله ولم يصروا على ما

٧٤

صفحہ ٤٨٥

فعلوا وهم يعلمون“ یعنی مؤمن سے اگر کوئی غلطی ہو جائے۔ خواہ بڑی ہو یا چھوٹی وہ اللہ تعالیٰ سے فوراً اس کی معافی کا طالب ہوتا ہے اور علم پا کر اس پر کبھی اصرار نہیں کرتا اور پھر فرماتا ہے:”انما المؤمنون الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم واذا تليت عليهم آياته زادتهم ايماناً وعلى ربهم يتوكلون“ یعنی حقیقی مؤمن صرف وہی ہوتے ہیں جن کے سامنے جس وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام آجائے۔ ان کے دل فوراً ڈر جاتے ہیں اور جس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے احکام ان کو سنائے جاتے ہیں۔ ان پر عمل کرنے کی وجہ سے ان کے ایمانوں میں زیادتی شروع ہو جاتی ہے اور جس کے نتیجہ میں ان کو ماسوی اللہ کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ بلکہ محض اللہ تعالیٰ پر ہی توکل ہو جاتا ہے۔ میرے عزیزو! میرے بزرگو! آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی، ہاں اس بھائی کو جو محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظلم جس سے آپ میں سے اکثر بے خبر ہیں کے پنجہ سے چھڑانے کے لئے اپنی عزت، اپنا مال، اپنی سبیل معاش، اپنا آرام، اپنے اہل وعیال کا آرام، اپنے عزیز بچوں کی تعلیم سب کچھ قربان کر کے محض ابتغاء لمرضات اللہ آپ کی خدمت کے لئے نکلا ہے۔ (مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے میری اس قربانی کو ضائع نہیں کرے گا اور ضرور اس کے نیک نتائج پیدا کرے گا اور میری تمام ضروریات کا بھی وہ خود ہی متکفل ہوگا۔ انشاء اللہ!) دشمن قرار دے کر بغیر کسی قسم کی تحقیق کئے اس کے خلاف نفرت وحقارت کے ریزولیوشن پاس کرتے ہوئے بیشمار گالیوں کا اسے نشانہ بنایا ہے۔

عزیزو! بیشک اس سب وشتم سے آپ نے ایک انسان کو تو خوش کرنے کا سامان کر لیا ہے، لیکن یہ بھی تو سوچ لیتے کہ جزاء وسزا کے دن جس کی شان میں ”لا تزر وازرة وزر اخرى“ وارد ہوا ہے۔ کیا جواب تیار کیا ہے؟ میں نے تو دل سے یہ سب گالیاں آپ کو معاف کر دی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”فتبینوا“، یعنی تحقیق کر لیا کرو اور رسول کریم ﷺ کے فرمان ”المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده“ (مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کی ایذارسانی سے تمام مسلمان محفوظ رہیں) کو جو آپ نے توڑا ہے اس لئے مجھ کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں آپ گرفت کے نیچے نہ آجائیں۔ عزیزو! آپ خشیۃ اللہ کو دل میں رکھتے ہوئے غور تو کریں کہ کہیں آپ نے ایک مؤمن بھائی کو منافق بتاتے ہوئے منافق کے متعلق رسول کریم ﷺ کی بیان کردہ علامتوں میں سے اس علامت کے ماتحت ”اذا خاصم فجر“ یعنی منافق کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ جب اس کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو جائے تو گالیاں دیتا ہے۔ آپ نے اپنے اندر تو کوئی علامت نفاق پیدا نہیں کر لی؟

٧٥

صفحہ ٤٨٦

میرے پیارے بھائیو! آپ نے اپنے تمام ریزولیوشنوں کی بناء اس بات پر رکھی ہے کہ میں نے خلیفہ وقت کے مقابل جماعت میں اپنے اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ اس اثر و رسوخ سے کام لے کر میں خلیفہ کو گرا دینے کا مدعی ہوں۔ لیکن میں آپ سے نہایت ادب سے یہ دریافت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے ریزولیوشنز پاس کرنے سے قبل میرے اس دعویٰ کو میرے خطوط میں خود پڑھ لیا تھا یا میرے وہ الفاظ جن میں میرا یہ دعویٰ صراحۃً مذکور ہو سن لئے تھے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر آپ ہی خدا کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے بتلائیں کہ اپنے ایک بھائی کے خلاف اتنا خطرناک قدم اٹھانے میں اللہ تعالیٰ اور تمام منصف مزاج لوگوں کے نزدیک آپ کس طرح حق بجانب ہو سکتے ہیں؟ اگر آپ کہیں کہ خلیفہ وقت کے اعلان میں اس عاجز کی طرف یہ دعویٰ منسوب کیا گیا تھا۔ اس لئے آپ لوگوں نے اسے صحیح تسلیم کر لیا تو میں نہایت ادب سے عرض کروں گا کہ اپنے ایک بھائی کو منافق، مرتد، بد باطن، فتنہ پرداز، ابلیس، بے شرم وغیرہ کے خطابات عنایت کرنے میں یہ عذر قطعاً قابل سماعت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خلیفہ خدا نہیں آخر وہ بھی انسان ہے جس کی طرف گو عمداً غلط بیانی منسوب نہ کی جائے۔ لیکن اس سے غلطی نسیان وسہو وغیرہ کے وقوع میں آنے کا تو ہر وقت احتمال موجود ہے۔ پس مذہباً اور اخلاقاً یہ فرض تھا کہ آپ مکمل تحقیق کے ذریعہ علیٰ وجہ البصیرت ہونے سے قبل بالکل خاموش رہتے اور میرے اصل الفاظ کے شائع کرنے کا مطالبہ کرتے اور ساتھ ہی مجھ سے بھی حقیقت دریافت کرتے۔ اس کے بعد آپ کا حق تھا کہ اخلاق کی حدود کے اندر رہتے ہوئے جو قدم آپ چاہتے اٹھاتے۔

میرے مومن بھائیو! ایمان کے ثمرات میں سے ایک یہ بھی ثمرہ ہے کہ اس نعمت عظمیٰ کو حاصل کر لینے والا انسان حق گوئی، حق بینی، حق فہمی میں کسی شخصیت کے دباؤ کے نیچے نہیں آتا۔ خواہ وہ کتنی عظیم الشان ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ وہ ”لا یخافون لومة لائم“ کا مصداق ہوتا ہے۔ پس آج میں اپنے اس اشتہار کے ذریعہ آپ کی خدمت میں اس ایمان کا واسطہ دے کر جو خدا کے مرسل حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آپ لوگوں کو ملا ہے عرض کرتا ہوں کہ میرے اصل الفاظ کو دکھلانے کا مطالبہ کریں۔ جن میں میں نے اثر و رسوخ اور اس کی بناء پر خلیفہ کو گرانے کا دعویٰ کیا ہے اور اگر وہ نہ دکھا سکیں اور یقیناً نہیں دکھا سکیں گے تو آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ مجھ پر کس قدر ظلم کیا گیا ہے اور ان تمام گالیوں کی ذمہ داری کس پر آتی ہے جو تمام اکناف عالم سے مجھے دی گئی ہیں یا دی جائیں گی۔ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ انہیں علم بھی دے دیا گیا ہے کہ اس عاجز کے تینوں خطوط نہ صرف یہ کہ وہ اس دعویٰ سے خالی ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ان میں اس حقیقت کا کھلے الفاظ میں اظہار

٧٦

صفحہ ٤٨٧

ہے۔ ”آپ کے اقتدار کی وجہ سے شروع میں جماعت اس عاجز کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں کرے گی اور یہ کہ یہ عاجز بالکل بے بس اور بے کس ہے۔“ باوجود یہ علم پانے کے وہ اب تک خاموش ہیں اور اس کی تردید نہیں کرتے۔ اب میں ذیل میں دوستوں کے علم کے لئے بھی اپنے خط میں سے چند الفاظ نقل کر دیتا ہوں تا کہ احباب کو اصل حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

”بے شک ان باتوں کی وجہ سے کہ جو اقتدار آپ کو حاصل ہو چکا ہے اس پر آپ کو ناز ہے اور آپ یقین رکھتے ہیں کہ میں (آپ) اپنے مد مقابل کا سر ایک آن میں کچل سکتا ہوں اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں جو آپ کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا چاہتا ہوں ایک نہایت ہی کمزور، بے بس، بے مال ، بے مددگار ہوں اور جہاں آپ کو اپنی طاقت پر ناز ہے وہاں مجھے اپنی کمزوریوں کا اقرار ہے۔ ہاں ! میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حق کی قوت میرے ساتھ ہے اور غلبہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کو ہوتا ہے جو حق کی تلوار لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں میری بات کی طرف توجہ نہ کی جائے اور میں اس مقابلہ میں کچلا جاؤں لیکن حق کی تائید کے لئے اور باطل کا سر کچلنے کی غرض سے کھڑے ہونے والے علماء اس قسم کے انجاموں سے کبھی نہیں ڈرتے۔“

”پس اس مقابلہ میں مجھے اس بات کی قطعاً پروا نہیں کہ میرا انجام کیا ہو گا اور میری بات کوئی سنے گا یا نہیں۔ میری تقویت اور ہمت بڑھانے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ میں حق پر ہوں اور آپ باطل پر ہیں۔“

میری مندرجہ بالا عبارتیں اتنی واضح ہیں کہ ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے والا بھی بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان میں اثر ورسوخ کا دعویٰ تو کجا اثر ورسوخ کی صریح الفاظ میں نفی کی گئی ہے اور کھلے الفاظ میں اقرار کیا گیا ہے کہ ابتداء میں جماعت توجہ نہیں کرے گی اور میں کچلا جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو قدم میں نے اٹھایا ہے اس کے اٹھاتے وقت یہ سب کچھ میرے سامنے تھا جو اب وقوع میں آ رہا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے اشتہار دردمندانہ اپیل میں جو ٢٦؍ جون کو لکھا گیا تھا۔ صاف الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ ”ممکن ہے میرے خلاف نفرت کے ریزولیوشن پاس کرا دیئے جائیں یا جماعت کو اور رنگ میں ابھار دیا جائے۔ لیکن مجھے اس کی پروا نہیں۔ میری آواز آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں سنی جائے گی اور ضرور سنی جائے گی۔ انشاء اللہ ! کیونکہ وہ آواز اپنے اندر حق رکھتی ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔“

پس یہ ریزولیوشنز خدا کے فضل سے میرے دل میں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں پیدا کر سکتے اور نہ میری ہمت کو پست کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جب نا قابل تردید حقیقت سامنے آئے گی اس وقت

٧٧

صفحہ ٤٨٨

ان ریزولیوشنز کو کس نے پوچھنا ہے اور اظہار عقیدت کے ان دعوؤں کی کس نے پرواہ کرنی ہے جو روزنامہ الفضل میں چھپتے رہتے ہیں۔ یہ جماعت چونکہ مومنوں کی جماعت ہے اور اس کا تعلق خواہ کسی شخص کے ساتھ ہو محض خدا کے لئے ہے۔ اس لئے مجھے اطمینان ہے کہ جب وہ اس شخص کو خدا تعالیٰ کے احکام کے صریح خلاف چلتے دیکھے گی اور اس پر یہ بات دلائل سے ثابت ہو جائے گی تو وہ اس تعلق کو توڑنے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں لگائے گی۔

میری طرف جو دعویٰ اثر و رسوخ منسوب کیا گیا ہے میری طرف سے اس کے ثبوت کے مطالبہ پر میرے خط میں سے ایک عبارت الفضل میں شائع کی گئی ہے۔ گو اس عبارت کا اس دعویٰ کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں۔ لیکن یہ خیانت ہوگی۔ اگر میں اس جگہ کا بھی ذکر نہ کر دوں اور وہ عبارت یہ ہے۔

”کیونکہ آپ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے عذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا یا ان کی لڑکی پر سوت کے لانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر یہاں اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں چل سکتا۔ اس کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح رد نہیں کر دے گی۔ بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی۔“

اب قطع نظر اس کے کہ اس عبارت کو پیش کرتے وقت متشابہ کو محکم کے ماتحت کرنے کے مسلمہ اصول کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور قطع نظر اس کے کہ اس سے پہلی اور اس کے بعد کی عبارت کو کاٹ کر اسے پیش کیا گیا ہے۔ پھر بھی اس عبارت میں سے نہ ہی اثر و رسوخ کا لفظ دکھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ بتایا جا سکتا ہے جو اثر و رسوخ پر دلالت کرتا ہو۔

گو میری عبارت میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں۔ لیکن الفضل میں جن الفاظ سے غلط طور پر ایسا نتیجہ نکالا گیا ہے وہ یہ ہیں: ”بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی۔“

اب احباب خود ہی غور فرمائیں کہ میری عبارت میں کیا کان دھرنے کی وجہ اثر و رسوخ بتائی گئی ہے یا اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ میری طرف نہ تو کوئی دنیوی غرض منسوب کی جا سکتی ہے جیسی کہ مستریوں کی طرف کی گئی تھی اور نہ کوئی ایسی بات پیش کی جا سکتی ہے جو میرے اخلاق کو مشتبہ کر سکے۔ پس جب خود میری عبارت میں اصل وجہ موجود تھی تو اس کو چھوڑ کر کوئی دوسری وجہ نکالنے کی کوشش کرنا کیا حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کے مترادف نہیں؟ کیا تقویٰ اسی کا نام ہے؟

عزت کے لفظ سے بھی یہ استدلال کیا گیا ہے۔ مگر میں اس استدلال کو سمجھنے سے قاصر

٧٨

صفحہ ٤٨٩

ہوں۔ کیا جماعت میں بہت سے احباب عزت کی نظر سے نہیں دیکھے جاتے تو کیا عزت کرنے والے یا وہ جن کی عزت کی جاتی ہے ان میں سے کوئی ایک شخص بھی یہ خیال دل میں لاسکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفہ کے مقابل اسے جماعت میں اثر ورسوخ حاصل ہے۔ اگر نہیں تو پھر میرے اس لفظ کے استعمال سے یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ میں کسی اثر ورسوخ کا مدعی ہوں۔ میں اس جگہ اس امر کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ عبارت موجودہ وقت کے ساتھ تعلق ہی نہیں رکھتی۔ بلکہ اس کا تعلق دو سال قبل کے زمانہ کے ساتھ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس نقص کو دیکھ کر میں موجودہ خلیفہ کی بیعت سے علیحدہ ہوا ہوں۔ اس کا علم مجھے قریباً دو سال قبل ہوا تھا اور میں نے اسی وقت سے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ خلیفہ صاحب کو بھی علم ہو گیا کہ مجھے علم ہو گیا ہے اور میں اس کی تحقیق میں لگا ہوا ہوں تو اسی وقت اندر ہی اندر میرے خلاف جماعت میں ایسا پراپیگنڈا شروع کر دیا ہے جس کی غرض احباب کی نظر میں مجھے گرانا تھا تا کہ اگر یہ خاکسار کسی وقت اس نقص کو ظاہر کرے تو کہا جاسکے۔ جیسا کہ اب کہا جارہا ہے کہ فلاں دنیاوی غرض کا پورا نہ کرنا اس علیحدگی کا محرک ہوا ہے۔ پس میں نے اس عبارت کے قبل یہی بات لکھی ہے کہ میرے خلاف یہ پراپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔ ”کیونکہ آپ اچھی طرح سے جانتے تھے۔“ چنانچہ ”کیونکہ“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس سے قبل کوئی بات ہے جس کی علت اور وجہ اب بتائی جانے لگی ہے اور جانتے تھے کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ بات کسی گذشتہ زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ نہ کہ موجودہ وقت کے ساتھ اگر میں اس نقص کا اظہار اسی وقت کر دیتا۔ جس وقت مجھے اس کا علم ہوا تھا۔ یعنی دو سال قبل تو اس وقت چونکہ میرے خلاف آپ کے ہاتھ میں کوئی بات نہ تھی جس کو پیش کر کے آپ جماعت کو میری بات پر کان دھرنے سے روک سکتے۔ اس لئے جماعت ضرور میری بات پر کان دھرتی، چنانچہ نقل کردہ عبارت کے بعد کی عبارت اس مفہوم کو اچھی طرح سے واضح کر رہی ہے۔ اس لئے آپ نے اس میں اپنی خیر سمجھی کہ آہستہ آہستہ اندر ہی اندر اس شخص کو جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعہ جماعت سے گرایا جائے اور اس کو اس مقام پر لے آیا جائے کہ اگر یہ میرے اس (نقص) کو فاش کرے تو جماعت توجہ نہ کرے اور اس کی بات کو بھی اس طرف منسوب کرنے لگ پڑے کہ اس شخص کی بھی کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات تھیں جن کو چونکہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ بھی ایسا کہنے لگ پڑے ہیں اور ادھر سے آپ شور مچانا شروع کر دیں کہ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ یہ اندر سے مستریوں یا پیغامیوں یا احراریوں سے ملے ہوئے ہیں اور ایسے تمام لوگوں کے منہ بند کرنے کے لئے جن کو آپ کے ان (نقائص) کا علم ہو جاتا ہے آپ کے پاس زیادہ تر یہی ایک زبردست حربہ ہے۔ ٧٩

صفحہ ٤٩٠

میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے سامنے میں نے کھول کر اس امر کو رکھ دیا ہے کہ میری طرف جو اثر و رسوخ کا دعویٰ منسوب کیا گیا ہے اور جس موہوم اور فرضی دعویٰ کو میری طرف سے جماعت کو چیلنج قرار دے کر جماعت سے میرے خلاف ریزولیوشنز پاس کروائے گئے ہیں وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں اور اس بات کا فیصلہ کرنا کہ اس معاملہ میں کہاں تک تقویٰ اللہ اور دیانت داری سے کام لیا گیا ہے۔ جماعت کا کام ہے اور جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کے نتیجہ میں جو ظلم مجھ پر ہوا اس کی تلافی رسول کریم ﷺ کے ارشاد مبارک ”انصر اخاك ظالماً او مظلوماً“ کی تعمیل میں کرے اور اب یہ جماعت کا کام ہے کہ وہ اپنے فرض کو پہچانے یا نہ پہچانے میں نے اس کے سامنے حقیقت رکھ دی ہے۔

ایک اور غلط بات جو اعلان میں میری طرف منسوب کر کے جماعت کو بھڑکایا گیا ہے اور اس کو بھی جماعت نے میرے خلاف ریزولیوشنز کی بناء پر ٹھہرایا ہے کہ اعلان میں یہ لکھا گیا ہے۔ اس کے چند گھنٹہ بعد آپ کا تیسرا خط ملا کہ اگر چوبیس گھنٹہ تک آپ کی تسلی نہ کی گئی تو آپ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ حالانکہ میرے کسی خط میں بھی نہ صرف یہ کہ جماعت سے علیحدہ ہونے کا ذکر ہی نہیں بلکہ برعکس اس کے ان خطوط میں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کو ضروری قرار دیئے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ ذیل کی عبارتیں میرے اس بیان کی پوری طرح تصدیق کردیں گی۔

”میں آپ سے الگ ہو سکتا ہوں۔ لیکن جماعت سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جماعت سے علیحدگی ہلاکت کا موجب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے اور چونکہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو مسیح موعود کے لائے ہوئے صحیح عقائد و تعلیم پر قائم ہو۔ بجز اس جماعت کے جس نے آپ کو خلیفہ تسلیم کیا ہوا ہے اس لئے میں دوراہوں میں سے ایک کو ہی اختیار کر سکتا ہوں یا تو میں جماعت کو آپ کی صحیح حالت سے آگاہ کر کے آپ کو خلافت سے معزول کرا کر نئے خلیفہ کا انتخاب کراؤں اور یہ راہ پر از خطرات ہے اور یا جماعت میں آپ کے ساتھ مل کر اس طرح رہوں جس طرح میں نے اوپر بیان کیا ہے۔“

”پس اگر آپ توبہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو مجھے آپ اپنی بیعت سے علیحدہ سمجھ لیں۔ کیونکہ میں ایسے آدمی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا جو ایسے (نقائص) میں مبتلا ہو۔ ہاں! جیسا کہ میں پہلے بھی مفصل عرض کر چکا ہوں۔ میں جماعت کا باقاعدہ فرد ہوں۔ جماعت سے میں

٨٠

صفحہ ٤٩١

الگ نہیں ہوسکتا۔ آپ کی بیعت کا جوا اپنی گردن سے اتارنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ میں آزاد ہوکر جماعت کو دوسرے خلیفہ کے انتخاب کی طرف جلد توجہ دلا سکوں۔‘‘

”اگر آپ اس توبہ پر راضی ہوں تو میں آپ کا خادم ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ رہوں گا۔ ورنہ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ قطعاً نہیں رہ سکتا۔‘‘

مندرجہ بالا عبارتوں میں سے سات باتیں عیاں ہیں:

سکتا۔

انتخاب کی طرف توجہ دلا سکوں۔

مندرجہ بالا تحریر کو غور سے پڑھیں)

اس کی تائید میری مندرجہ ذیل عبارت سے بھی ہوتی ہے۔ ”میں ہرگز اس بات کو نہیں چاہتا کہ سلسلے کے موجودہ نظام کو توڑ دیا جائے اور اس وقت تک کہ آپ کی اصلاح ہو جائے۔ آپ کے (نقائص) کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوا یہ سمجھوں گا۔‘‘

اب ان واضح تحریروں کے ہوتے ہوئے یہ اعلان میں ظاہر کرنا کہ میں نے یہ لکھا کہ میں جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔ کس قدر جسارت اور جماعت کی عقول اور اس کے اخلاص کے ساتھ کھیلنا ہے۔

میں اس جگہ بعض دوستوں کے اس خیال کے متعلق بھی کہ خلیفہ سے علیحدگی جماعت سے علیحدگی کے ہی مترادف ہے۔ کچھ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا یا بیعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ دراصل سلسلہ سے بھی الگ ہو جاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکرؓ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی تو کیا کوئی ان

٨١

صفحہ ٤٩٢

کے متعلق یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اس وقت تک اسلام سے خارج تھے؟ حضرت علی کی بیعت مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ نے نہیں کی تھی تو کیا وہ سب اسلام سے خارج تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی تو کیا اسلام سے خارج سمجھتے ہو؟ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے؟

دوستو! یہ خیال کسی مصلحت کے ماتحت آج پیدا کیا جا رہا ہے۔ ورنہ قرآن کریم، احادیث نبوی، عمل صحابہ کرام میں اس کا نام ونشان نہیں تھا۔

امور مندرجہ اعلان سے میں اس وقت صرف انہی دو امروں کی وضاحت پر اکتفا کرتا ہوں۔ کیونکہ جماعت کو میرے خلاف مشتعل کرنے کے لئے یہی دو باتیں تراشی گئی ہیں۔ مفصل تنقید اس اعلان پر انشاء اللہ الگ ٹریکٹ میں کروں گا۔ اس وقت احباب کو اور بھی وضاحت سے معلوم ہو جائے گا کہ کس عجیب وغریب ڈھنگ سے جماعت کو اصل حقیقت سے تاریکی میں رکھا گیا ہے۔

میرے پیارے بھائیو! آپ خود ہی غور فرمائیں کہ ایک ایسے شخص کو جو خلافت جیسے عظیم الشان منصب پر سرفراز ہے اور جس کا توکل تمام تر محض اللہ تعالیٰ پر ہی ہے۔ مجھ جیسے ناچیز اور بے حیثیت انسان سے جماعت کو بدظن کرنے کے لئے ایسا طریق اختیار کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ (مجھے معاف فرمایا جائے اگر میں یہ کہوں) کہ یقیناً یہ تقویٰ سے کوسوں دور ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے خطوط میں سے اثر و رسوخ کا دعویٰ دکھلایا جائے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے خطوط میں سے جماعت سے علیحدہ ہونے کا ذکر دکھلایا جائے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر تمام وہ علماء جو میرے خلاف آج کل لکچر دینے اور منافرت پھیلانے میں مشغول ہیں۔ اکٹھے ہو کر بھی کوشش کریں۔ تب بھی وہ یہ دو باتیں نہیں دکھلاسکیں گے اور ہرگز نہیں دکھلاسکیں گے۔

ہاں! مجھے یاد آیا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے قادیان میں تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ یہ عاجز اپنے خطوط میں عہدہ کا طلبگار ہوا ہے۔ میں اس امر کو بھی اپنے چیلنج میں شامل کر لیتا ہوں۔

اب احباب ہی مجھے بتلائیں کہ ان کھلی کھلی تحریروں کے ہوتے ہوئے جن میں نہ صرف یہ کہ اثر و رسوخ کا ذکر تک نہیں بلکہ اس کے خلاف عدم اثر و عدم رسوخ کا پرزور الفاظ میں اقرار ہے اور جن میں نہ صرف یہ کہ جماعت سے علیحدگی کا اشارہ تک بھی نہیں۔ بلکہ برعکس اس کے جماعت کا

٨٢

صفحہ ٤٩٤

با قاعدہ فرد ہونے پر زور ہے۔ کیوں اعلان میں اس عاجز کی طرف غلط طور پر یہ دونوں باتیں منسوب کی گئی ہیں؟

مہربانی فرما کر مجھے بتلایا جائے کہ کیا یہ فعل خلیفہ کے شایان ہے اور مجھے یہ بھی جماعت بتلائے کہ اگر میں اس طریق کو خلاف تقویٰ طریق کے نام سے موسوم کروں تو میں حق بجانب ہوں یا نہیں؟ کیا خلیفہ کی طرف سے اس قسم کی صریح غلط بیانی کا ارتکاب حیرت میں ڈالنے والا نہیں؟ میرے نزدیک تو ایک غور کرنے والے شخص کے لئے میرے سچا ہونے پر ان کا یہ فعل ہی زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ یہ اظہر من الشمس ہے کہ اثر ورسوخ کے ادعا کے الفاظ زائد کرنے سے بغیر اس کے اور کوئی غرض نہیں ہوسکتی کہ جماعت یہ دیکھ کر کہ ایک شخص خلیفہ کے مقابل اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتا ہے۔ فوراً بھڑک اٹھے اور نفرت کا اظہار شروع کر دے۔ چنانچہ اشارہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس اعلان کے بعد الفضل میں یہ اعلان کر کے کہ عبدالرحمن مصری کا جماعتوں کو کھلا چیلنج ہے۔ اب دیکھیں جماعتیں اس چیلنج کا کیا جواب دیتی ہیں۔ اس غرض کی وضاحت کر دی گئی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ غیر مستحسن طریقہ کیوں اختیار کیا گیا اور کیوں جماعت میں منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سو یاد رہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کارروائی محض اس لئے کی گئی ہے کہ جماعت کی توجہ اس اصل وجہ کی تحقیق سے ہٹ جائے۔ جو میرے بیعت سے علیحدگی کا باعث ہوئی ہے۔ کیونکہ اس بات کو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کے خلاف دل نفرت کے جذبات سے بھر جائے اس کی بات خواہ کتنی ہی سچی کیوں نہ ہو اثر نہیں رکھتی۔ پس انہوں نے بھی انسانی فطرت کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت کو میرے خلاف مشتعل کر کے احباب کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا کر دیئے تاکہ جس وقت یہ عاجز ان مبنی بر حقیقت نقائص کو بیان کر دے تو جماعت کے دل اسے رد کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر وہ نقائص سچے نہ ہوتے تو انہیں اس پر فریب Crooked راستہ کو اختیار کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔ بلکہ مؤمنانہ سادگی، صاف گوئی اور تقویٰ سے کام لیتے ہوئے جرأت اور دلیری کے ساتھ یہ جواب دیتے کہ جو نقص تم نے میری طرف منسوب کئے ہیں وہ بالکل غلط ہیں۔ بیشک علانیہ ان کی تحقیق کرلو۔

چاہئے تو یہ تھا کہ فوراً ایک آزاد کمیشن بٹھانے کی رائے کا اظہار کرتے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے تسلی چاہنے والے کے متعلق جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

٨٣

صفحہ ٤٩٤

اے صحابہ کرامؓ کے بروز کہلانے والی جماعت! ایسے مواقع پر صحابہ کرامؓ کا جو طرز عمل ہوا کرتا تھا وہ آپ لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ یہ تھا کہ جب کسی مسلمان کو کوئی شکایت پیدا ہوئی اور خلیفہ وقت نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو وہ حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کو توجہ دلاتے تھے اور وہ فوراً خلیفہ وقت کے پاس جاتے اور ان شکایات کو پیش کرتے اور اگر انہیں درست پاتے تو خلیفہ وقت سے ان کی تلافی کراتے اور خلیفہ وقت بھی علی الاعلان اپنی غلطی کا اقرار کرتا اور اس سے رجوع کا اعلان کرتا۔ پس صحابہ کرامؓ کے اس طرز عمل کو پیش کر کے میں بھی اپنی جماعت سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ میری شکایت کو سننے کے لئے فوراً ایک آزاد کمیشن مقرر کرے۔ اگر وہ کمیشن میری شکایات کو سن کر میرے ساتھ متفق ہو جائے کہ ان شکایات کی موجودگی میں خلیفہ، خلیفہ نہیں رہ سکتا تو پھر وہ ان شکایات کی تحقیق کرے اور تحقیق میں اگر وہ شکایات صحیح ثابت ہو جائیں تو موجودہ اور آئندہ خلیفہ کے متعلق اپنا فیصلہ کرلے۔

میں جماعت کو یقین دلاتا ہوں کہ جن نقائص کی وجہ سے میں بیعت سے علیحدہ ہوا ہوں۔ وہ یقیناً خلیفہ میں موجود ہیں اور ان کے اثبات کے لئے میرے پاس کافی دلائل ہیں اور وہ ایسے نقائص ہیں کہ جن کی موجودگی میں کوئی شخص خلیفہ نہیں رہ سکتا۔

پس جماعت کا یہ فرض ہے کہ ان کی تحقیق کی طرف فوراً توجہ کرے۔ ورنہ وہ مجرمانہ خاموشی کی مرتکب ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اس غفلت کی جوابدہ ہوگی۔ جب تک انہیں علم نہیں تھا اس وقت تک وہ معذور تھے۔ لیکن اب جب کہ ان کے علم میں بات آگئی ہے تو اب خاموشی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انہیں قصور وار بنادے گی۔

پس دوستو اٹھو! اور خوف کی چادر اتار کر مؤمنانہ دلیری سے کام لیتے ہوئے تحقیق شروع کردو۔ خلیفہ کی اجازت کی اس میں قطعاً ضرورت نہیں۔ خلیفہ اور خاکسار کا مقدمہ جماعت کے سامنے پیش ہے جماعت کا فرض ہے کہ وہ فریقین کے بیانات سن کر انصاف کے ساتھ اپنا فیصلہ دے نہ کہ یک طرفہ بیان سن کر ہی ایک بھائی کے خلاف ڈگری دے دے۔ جیسا کہ اس وقت تک کیا گیا ہے۔ دوست یاد رکھیں کہ اگر انہوں نے اس وقت دلیری سے کام لے کر تحقیق نہ کی تو وہ خلیفہ کو ان نقائص میں مبتلا رکھنے میں ان کے ممد و معاون بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور خود مجرم قرار پائیں گے اور ان کے نقائص کی وجہ سے جو خطرناک نتائج جماعت میں پیدا ہورہے ہیں۔ ان کی تمام ذمہ داری خود جماعت پر ہوگی۔

٨٤

صفحہ ٤٩٥

اب خدا کو گواہ رکھ کر میں نے ”وما علینا الا البلاغ“ کے ماتحت اپنے فرض سے آگاہ کر دیا ہے اور اب اگر وہ اپنے فرض کو شناخت نہیں کرتی تو یہ اس کا قصور ہے۔ میں اب بری الذمہ ہوں۔ ہاں میں اللہ تعالیٰ کے دوسرے ارشاد ذَکِّر کی تعمیل میں حسب توفیق و حسب استطاعت پھر بھی یاد کراتا رہوں گا۔ ”وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب“

والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! ١٣؍ جولائی ١٩٣٧ء خاکسار: عبدالرحمان مصری!

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود!

نمبر ٦ ...... کیا تمام خلیفے خدا ہی بناتا ہے؟

خدا تعالیٰ کے حکم اور عدل کا فیصلہ

جب سے میں نے خلیفہ کی بیعت سے علیحدگی اختیار کی ہے اس وقت سے جماعت کے احباب نے تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ مجھ پر میری غلطی واضح کرنے کے لئے جو سب سے بڑی دلیل پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ خلیفہ خدا ہی مقرر کرتا ہے۔ اس کے بنانے میں انسانوں کا دخل نہیں اس لئے اس کے معزول کرنے کا بھی ہمیں اختیار نہیں اور اس کے ثبوت میں آیت استخلاف کو پیش کیا ہے۔ عزل خلفاء کے متعلق تو میں نے ایک دوسرے اشتہار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس اشتہار میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احباب کا یہ خیال کہ ہر قسم کے خلفاء خدا ہی مقرر کرتا ہے۔ میرے خیال میں مسیح موعود کی تحریروں کے بالکل خلاف ہے۔ گو اس خیال کی غلطی کو متعدد دلائل سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مگر اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اس اشتہار میں صرف مسیح موعود کی تحریروں سے ہی حجت پکڑوں گا اور ایک احمدی کہلانے والے شخص کی تسلی کے لئے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ حکم وعدل کے فیصلہ سے بڑھ کر اور کون سا فیصلہ ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک ان خلفاء میں سے جن کو قوم منتخب کرتی ہے۔ صرف پہلا خلیفہ ہی ایسا ہوتا ہے جس کے متعلق مسیح موعود کا عقیدہ ہے کہ وہ آیت استخلاف کے ماتحت منتخب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے خلفاء کے متعلق آپ کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ انتخاب میں اللہ تعالیٰ کا دخل ہوتا ہے۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں: ”صوفیاء نے لکھا ہے جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔ جب کوئی رسول و مشائخ وفات پاتے

٨٥

صفحہ ٤٩٦

ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے۔ مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعے اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح واستحکام ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا۔ اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو بھی خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرما دے گا۔ کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہیں کے دل میں ڈالا۔"

(الحکم ج ١٢ نمبر ٢٧، مورخہ ١٤؍ اپریل ١٩٠٨ء ص ٢)

اس حوالہ کی عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ نبی کی وفات کے بعد جس شخص نے خلیفہ ہونا ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے انتخاب سے ہوتا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان فرمادی کہ نبی کی وفات پر دنیا پر ایک زلزلہ آتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا۔ اس لئے خدا کے انتخاب کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دین کو جس طرح اس نے نبی کے ذریعہ سے مستحکم کیا تھا اسی طرح اس خلیفہ کے ذریعہ بھی کرے۔ لیکن اس کے بعد چونکہ وہ خطرناک وقت اور زلزلہ گزر جاتا ہے۔ اس لئے پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے انتخاب کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کا اپنے بعد کسی خلیفہ کو خود مقرر نہ کرنے کی آپ نے یہی وجہ بیان فرمائی ہے کہ آنحضرتﷺ کو اس قانون الٰہی کا خوب علم تھا۔ آنحضرتﷺ خوب جانتے تھے کہ میری وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو ہی کھڑا کرے گا جن کے دل میں وہ خود حق ڈالے گا اور جس کے ذریعہ سے وہ دین کو مستحکم کر دے گا۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کو بھی اس قانون الٰہی کا کہ صرف پہلے خلیفہ کا تقرر ہی خدا تعالیٰ پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ خوب علم تھا۔ اسی بناء پر انہوں نے صرف چند صحابہؓ کے مشورے سے حضرت عمرؓ کا تقرر خود فرما دیا۔ بعد میں باقی قوم سے رضامندی حاصل کر لی۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے بھی ایک رنگ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کا تقرر کر دیا) مسیح موعود کے اس عقیدے کی تصدیق حضور کی کتاب سرالخلافۃ سے بھی بڑے زور سے ہوتی ہے۔ چنانچہ (سرالخلافۃ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٣٣٦) پر صاف الفاظ میں مصرح ہے کہ: "اللہ تعالیٰ ایسے زمانے میں کسی مؤمن کو خلیفہ بنائے گا اور مؤمنوں کو ان کے خوف کے بعد امن دے گا اور عزوجل دین کو استحکام بخشے گا۔ (وہ دوست جو دِینہم سے مراد خلیفہ کی پالیسی لیتے ہیں۔ غور کریں کہ اس تحریر میں حضرت مسیح موعود نے دِینہم سے مراد اللہ تعالیٰ کا دین یعنی اسلام مراد لیا ہے۔ یا خلفاء کی پالیسی) اور مفسدوں کو ہلاک کرے گا ۔" سوائے ابو بکرؓ اور آپ کے زمانے کے اور کوئی نہیں۔ بلکہ آپ نے

٨٦

صفحہ ٤٩٧

یہاں تک فرما دیا کہ حضرت صدیق کی خلافت کے سوا آیات استخلاف کو کسی اور کی خلافت پر محمول نہیں کیا جاسکتا اور ممکن نہیں کہ دوسرے لوگوں میں سے اس کی نظیر پیش کی جاسکے۔ پھر اسی کتاب کے (ص ١٨، خزائن ج ٨ ص ٣٣٧، ٣٣٨) پر فرماتے ہیں: ”مجھے علم دیا گیا ہے کہ حضرت صدیق کی شان تمام صحابہ سے بڑھ کر اور آپ کا مقام تمام صحابہ سے بلند تھا اور آپ ہی بغیر کسی شک و شبہ کے پہلے خلیفہ تھے اور آپ ہی کے بارے میں خلافت کی آیات نازل ہوئی ہیں۔ اے عقل کے دشمنو! اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ آیت استخلاف کا مصداق حضرت ابوبکر کے زمانے کے بعد کوئی اور بھی ہے تو اس کے متعلق یقینی خبر پیش کرو۔ اگر تم سچے ہو اور اگر تم پیش نہ کرسکو اور تم ہرگز پیش نہیں کرسکو گے تو تم نیکوں کے دشمن مت بنو۔“

پھر اسی کتاب کے (ص ٢٩، خزائن ج ٨ ص ٣٥٢) پر فرماتے ہیں: ”آیت استخلاف کا مصداق ہونے کی اہل صرف حضرت صدیق کی ہی خلافت ہے۔ جیسا کہ اہل تحقیق پر مخفی نہیں۔“

اب احباب ان تینوں حوالوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کس صفائی کے ساتھ حضرت اقدس صرف حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کو ہی آیت استخلاف کا مصداق قرار دے رہے ہیں۔ نہ صرف مصداق قرار دے رہے ہیں بلکہ دوسروں سے اس بات کو منوانے کے لئے کس قدر زور دے رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کو چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر حضرت صدیق کے زمانے کے بعد کوئی اور اس آیت کا مصداق ہوا ہے تو اسے پیش کرو اور پھر اس پر بس نہیں بلکہ تحدی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انکار کرنے والو تم ہرگز پیش نہیں کرسکو گے۔

اول تو یہی حوالے جو اوپر پیش کئے جاچکے ہیں مسیح موعود پر ایمان لانے والوں کے لئے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہیں کہ نبی یا کسی شیخ کی وفات کے بعد تمام خلفاء خدا تعالیٰ ہی نہیں بنایا کرتا بلکہ صرف پہلے خلیفہ کے انتخاب میں ہی اللہ تعالیٰ کا دخل ہوتا ہے۔ دوسرے یا بعد کے خلفاء کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ کا ہرگز دخل نہیں ہوتا۔ لیکن مسیح موعود کی ایک اور تحریر ہے جو اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیتی ہے کہ تمام خلفاء خدا نہیں بنایا کرتا۔ بلکہ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے نزدیک خلیفہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو آیت استخلاف کے ماتحت ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو آیت استخلاف کے ماتحت نہیں ہوتے اور وہ تحریر حسب ذیل ہے۔ ”لیکن حضرت علیؓ کی خلافت اس امن کی مصداق نہیں ہے جس کی بشارت رحمان کی طرف سے آیت استخلاف میں دی گئی ہے۔ بلکہ حضرت علی مرتضیٰ کو ان کے زمانے کے لوگوں کی طرف

٨٧

صفحہ ٤٩٨

سے سخت تکلیف دی گئی اور آپ کی خلافت مختلف قسم کے فتنوں اور فسادوں کے نیچے روندی گئی۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل بڑا تھا۔ لیکن آپ کی زندگی غم اور الم میں گزری اور آپ اس بات پر قادر نہ ہوئے کہ دین کی اشاعت کر سکیں اور شیاطین کو شکست دے سکیں۔ جیسا کہ پہلے خلفاء کرتے رہے۔ پس یہ ممکن نہیں کہ ہم آپ کی خلافت کو آیت استخلاف کی بشارت کا مصداق قرار دے سکیں۔ پس آپ کی خلافت یقیناً فساد، بغاوت اور خسران کے زمانے میں تھی اور اس زمانے میں امن ظاہر نہیں ہوا۔ بلکہ امن کے بعد خوف ظاہر ہوا اور فتنے شروع ہو گئے اور تکالیف اور مصائب پے در پے آگئے اور اسلام کے نظام میں خلل ظہور پذیر ہو گئے۔ الا خیر الانام ﷺ کی امت میں اختلاف نمودار ہو گئے اور فتنوں کے دروازے کھل گئے اور کینے اور بغض نے سر نکال لیا اور ہر نئے دن میں نئی قوم کا جھگڑا شروع ہو جاتا تھا اور زمانے کے فتنے کثیر ہو گئے اور امن کے پرندے اڑ گئے۔ مفسد جوشوں پر تھے اور فتنے موجیں مار رہے تھے۔‘‘

(سر الخلافہ ص ٤٠، خزائن ج ٨ ص ٣٥٢)

اب یہ بات تو تمام اسلامی دنیا میں مسلم ہے کہ حضرت علیؓ خلیفہ برحق ہیں اور ہمارے احباب بھی انہیں خلیفہ برحق ہی تسلیم کرتے ہیں۔ پس وہ احباب جو خلفاء برحق کی یہ علامت قرار دیتے ہیں کہ ان کے زمانے میں ان کا دین روئے زمین پر مستحکم ہو جاتا ہے اور خوف امن سے بدل جاتا ہے وہ اس حوالے پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا مسیح موعود حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق بالکل اس کے برعکس نہیں فرما رہے۔ کیا حضرت اقدس نے صریح نہیں فرمایا کہ ان کے زمانے میں دین کی اشاعت نہ ہوئی۔ شیاطین کو نیچا نہ دکھایا جا سکا اور نہ صرف یہ کہ خوف امن سے نہیں بدلا بلکہ اس کے برعکس امن خوف سے متبدل ہو گیا۔ پس اس حوالہ کی روشنی میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اوّل یا تو حضرت علیؓ کی خلافت کا ہی انکار کر دیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ وہ خلیفہ برحق نہ تھے اور یہ بات مسلمات کے خلاف ہے اور خود حضرت اقدس بھی آپ کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ خلیفہ تو بے شک تھے۔ لیکن آیت استخلاف کے ماتحت نہ تھے اور یہی صورت صحیح ہے۔ اس حوالہ سے صاف ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کے نزدیک خلفاء دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ آیت استخلاف کے ماتحت ہوتے ہیں اور ایک وہ جو خلیفہ تو ہوتے ہیں لیکن آیت استخلاف کے ماتحت خلیفہ نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ کہنا کہ تمام خلفاء اللہ تعالیٰ ہی آیت استخلاف کے ماتحت مقرر کرتا ہے۔ مسیح موعود کی تحریروں سے غلط ثابت ہو گیا اور اس لئے جو نتیجہ عدم عزل خلفاء کا اس سے نکالا گیا تھا وہ خود بخود ہی باطل ہو گیا۔ بعض دوست یہ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کا یہ حوالہ شیعہ

٨٨

صفحہ ٨٩

حضرات کے جواب میں ہے۔ لیکن جہاں تک میں نے غور کیا ہے مجھے یہ جواب درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جن امور پر مسیح موعود نے اپنے استدلال کی بناء رکھی ہے وہ امور وہ ہیں جن کی تصدیق ہماری اپنی تاریخوں سے ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایسے دوستوں کو اپنے خیال کی صحت پر اصرار ہو تو وہ مسیح موعود کی تحریروں سے اگر دکھلا دیں کہ حضور نے کسی اور جگہ حضرت علیؓ کو آیت استخلاف کے ماتحت خلیفہ تسلیم کیا ہو تو پھر اس حوالہ پر غور ہو سکتا ہے۔ ورنہ اس نص کے مقابلہ میں کسی خیالی بات کی کوئی وقعت نہیں ہو سکتی۔ حضرت علیؓ تو کجا مسیح موعود تو صرف حضرت صدیقؓ کو ہی آیت استخلاف کے ماتحت خلیفہ تسلیم کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر متعدد حوالوں سے ثابت کیا جاچکا ہے اور ان کے سوا کسی اور خلیفہ کو آیت استخلاف کے ماتحت تسلیم نہیں کرتے۔ گو مجرد خلیفہ انہیں مانتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسیح موعود کی تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ انبیاء اور مشائخ کی وفات کے بعد صرف پہلا خلیفہ ہی خدائی انتخاب سے ہوتا ہے۔ باقی منتخب شدہ خلفاء آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتے اور متنازعہ فیہ خلافت پہلی خلافت نہیں ہے۔ بلکہ دوسری خلافت ہے اور اس لئے یہ آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آسکتی اور جب یہ خلافت آیت استخلاف کے ماتحت نہیں ہوئی تو اس کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا اور احباب کے مسلمات کی رو سے اس کے عزل کے ............. امکان کا جو نتیجہ اس بناء پر نکالا گیا وہ درست نہ رہا۔ پس یا تو عدم عزل کی کوئی اور نص پیش کرنی چاہئے اور یا امکان عزل کو تسلیم کر لینا چاہئے۔

پس میں جماعت سے امید نہیں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ اپنے آقا مسیح موعود کے مندرجہ ذیل ارشاد:

میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تو نخوت پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں کیونکہ وہ میری باتوں کا جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں“ پر عمل کرتے ہوئے حضور کے اس فیصلے کو ہی جو حضور اس مسئلہ میں اپنی کتب میں ایک مشعل ہدایت کے طور پر ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔ آخری فیصلہ سمجھے گی اور اس کے مقابل میں ہر اس قول کو جو اس کے مخالف ہو خواہ وہ کتنے ہی بڑے انسان کے منہ سے نکلا ہو ٹھکرا دے گی۔ اے ہمارے ہادی خدا! تو محض اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو مسیح موعود کے فیصلوں پر ایمان لانے اور

صفحہ ٥٠٠

انہیں دل سے قبول کرنے اور ان پر انشراح صدر سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرما۔ تاہم خود پسندی اور خود اختیاری سے پاک ہو کر تیرے حضور میں حقیقی عزت حاصل کرنے والے بنیں۔ آمین رب العالمین! والسلام! قوم کا سچا خادم: خاکسار: شیخ عبدالرحمان مصری

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم

نمبر ٧...... عزل خلفاء

موجودہ خلیفہ کے معزول کرنے کے سوال پر غور کرنے کے لئے جو کمیشن کا مطالبہ میں نے جماعت سے کیا اس کی طرف عدم التفات کی سب سے بڑی دو وجوہات احباب کی طرف سے پیش کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ خلیفہ صاحب مسیح موعود کی پیش گوئی دربارۂ مصلح موعود کے مصداق ہیں۔ دوئم یہ کہ خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا۔

وجہ اوّل کے متعلق تو میں کسی دوسرے اشتہار میں اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔ اس اشتہار میں میں صرف دوسری وجہ کے متعلق اپنے خیالات کو احباب کے سامنے رکھ کر ان سے اپنی تسلی چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ مجھے اپنے علم سے مستفید فرما کر ممنون فرمائیں گے۔

عزل خلیفہ کے عدم امکان پر جو سب سے بڑی دلیل احباب کی طرف سے اس وقت تک پیش کی گئی ہے۔ وہ یہی ہے کہ آیت استخلاف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خدا کی بنائی ہوئی چیز کو انسان گرانے کے مجاز نہیں ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی دلیل اس وقت تک میری نظر سے نہیں گزری۔ لیکن میں نے اپنے اشتہار ”کیا تمام خلیفے خدا ہی بناتا ہے۔“ میں ثابت کر دیا ہے کہ یہ خیال حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ پس جب اصل ہی سراسر غلط ثابت ہوگئی تو وہ مسئلہ جو بطور فرع اس میں سے نکالا گیا ہے کس طرح صحیح قرار دیا جاسکتا ہے؟ گو اس دلیل کے بعد میرے لئے کسی اور دلیل کے پیش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن محض اس لئے کہ اس مسئلہ پر مزید روشنی پڑ کر ہمیشہ کے لئے یہ مسئلہ صاف ہو جائے۔ ذیل میں چند معروضات برائے غور احباب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

ان معروضات کے پیش کرنے سے قبل میں یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میری غرض کوئی مناظرہ یا مباحثہ نہیں اور نہ ہی میں اپنی جماعت کے علماء کو اپنے مد مقابل سمجھتا ہوں۔

٩٠

صفحہ ٥٠١

میری غرض محض تحقیق حق اور ان سے استفادہ کرنا ہے۔ اس لئے میں ان کا نہایت ہی مشکور ہوں۔ اگر وہ اپنے علم سے مجھے استفادہ کا موقع دیں گے۔ میں ان سے خود مل کر بالمشافہ تبادلہ خیالات کر لیتا لیکن بائیکاٹ کی دیوار میرے راستے میں حائل ہے۔ اس لئے اشتہار کو ہی تبادلہ خیالات کا ذریعہ بنانے پر مجبور ہوا ہوں۔ بہر حال اس مسئلہ پر میری معروضات جو موقع کے مناسب حال نہایت اختصار کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں۔ حسب ذیل ہیں۔

خلیفہ کا عزل ایک ایسی بات ہے جس کے امکان پر قریباً قریباً تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کو یہ وہم بھی نہ تھا کہ خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا۔ حتیٰ کہ خود خلفائے اربعہ کو بھی یہ خیال نہ تھا کہ وہ معزول نہیں کئے جاسکتے۔ چنانچہ امت محمدیہ میں سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ نے کرسی خلافت پر متمکن ہوتے ہی جو سب سے پہلا خطبہ دیا اس میں وہ فرماتے ہیں۔ اے مسلمانو! میں صرف تمہارے جیسا امت کا ایک فرد ہوں۔ میں صرف شریعت کی پیروی کرنے والا ہوں۔ میں اس میں کوئی چیز نئی داخل نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس شریعت پر سیدھا چلتا رہوں تو تم میری اتباع کرنا اور اگر میں اس سے ادھر ادھر ہو جاؤں تو تم مجھے سیدھا کر دینا۔

پھر فرماتے ہیں: ”جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں۔ تم میری اطاعت کرتے رہو اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت نہیں۔“

اس خطبہ نے اصولی طور پر دو باتوں کا فیصلہ کر دیا۔

اول...... یہ کہ خلیفہ بالکل آزاد نہیں۔ شریعت کی اطاعت کا جوا اُس کی گردن پر ہے اور وہ شریعت سے سرمو ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔

دوم...... یہ کہ جس طرح امت کا فرض یہ ہے کہ وہ خلیفہ کی اطاعت کرے۔ اسی طرح اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ خلیفہ کے اعمال کی نگرانی کرے کہ کہیں وہ شریعت سے منحرف تو نہیں ہورہا اور اگر اسے شریعت سے منحرف ہوتا دیکھے تو اس کا فرض ہے کہ اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے اور اس وقت تک اس کی اطاعت نہ کرے جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کررہا ہے اور اگر وہ باز نہ آئے تو اسے اس کے عہدہ سے الگ کر دے۔ کیونکہ عہدہ پر قائم رکھنا یا اس سے اسے معزول کر دینا اسی جماعت کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس کے سامنے وہ جوابدہ ہے۔

٩١

صفحہ ٥٠٢

اس خطبہ نے خلیفہ اور امت کے درمیان جو باہمی تعلق شریعت نے قائم کیا ہے اس کو اچھی طرح سے واضح کر دیا ہے۔ یعنی یہ کہ جس طرح خلیفہ کا فرض ہے کہ افراد امت کے اعمال کی نگرانی کرے اور انتظام وانصرام قائم رکھے اور اسی طرح افراد امت کا بھی فرض ہے کہ وہ خلیفہ کے اعمال کی نگرانی کریں اور دیکھتے رہیں کہ وہ احکام شریعت کے خلاف تو نہیں چلتا۔

حضرت ابوبکرؓ کے بعد دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ ہوئے۔ انہوں نے بھی خلیفہ ہوتے ہی جو پہلا خطبہ پڑھا اس میں بھی یہی فرمایا: ”اے مسلمانو! تم میں سے جو کوئی بھی میرے اندر کسی قسم کی کوئی کجی دیکھے تو اس پر فرض ہے کہ اس کجی کو سیدھا کر دے۔“ ان الفاظ کے فرمانے پر ایک صحابی اٹھا اور اس نے کمال آزادی کے ساتھ حقیقی اسلامی روح سے کام لیتے ہوئے کہا: ”ہم اس کجی کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔“ یہ کسی منافق کے الفاظ نہ تھے۔ بلکہ اس شخص کے الفاظ تھے جو شریعت اسلامی کی صحیح روح کو سمجھنے والا اور تمام مسلمانوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی کرنے والا تھا۔ کیونکہ تمام مجمع میں سے کسی مسلمان نے اس کے خلاف نہ صرف یہ کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ فی الحقیقت ان کے خیالات کی صحیح ترجمانی ہے۔ گویا بالفاظ دیگر اس مسئلہ پر صحابہ کرام کا اس طرح اجماع ہو گیا۔ جس طرح وفات مسیح کے مسئلہ پر اجماع ہوا تھا۔

حضرت عمرؓ کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہوئے۔ انہوں نے بھی اپنے پہلے خطبہ میں یہی فرمایا: ”میں شریعت غرا کی پیروی کرنے والا ہوں اور اس میں کوئی نئی چیز داخل نہیں کر سکتا۔ اے مسلمانو ہوشیار ہو کر سن لو کہ تم مجھ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کے بعد تین چیزوں کا مطالبہ کر سکتے ہو۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان لوگوں کی اتباع جو مجھ سے پہلے ہوئے ہیں۔ ان امور میں جن میں تمہارا اجماع ہو چکا ہے۔“

ان الفاظ میں خلیفہ وقت نے کس وضاحت کے ساتھ اس بات کو ضروری قرار دیا ہے کہ صرف کتاب اللہ اور سنت نبی کریم ﷺ بلکہ مسلمانوں کے اجماع کی اطاعت بھی خلیفہ کے لئے لازمی اور واجب ہے۔ اس کے بعد چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہوئے ہیں۔ انہوں نے جب مصر پر قیس بن سعد کو گورنر بنا کر بھیجا تو اہل مصر کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں یہ الفاظ تھے: ”تم میری بیعت کرو اور اس بیعت کے بعد تمہارا حق ہے کہ تم دیکھو کہ آیا میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل کرتا ہوں یا نہیں اگر نہیں کرتا تو تم اس کا مجھ سے مطالبہ کرو۔“

پھر قیس بن سعد نے اہل مصر کے سامنے ایک خطبہ پڑھا اور حضرت علیؓ کی بیعت لی

٩٢

صفحہ ٥٠٣

طرف بلاتے ہوئے انہیں یہ الفاظ کہے: ”اے لوگو! اٹھو اور حضرت علیؓ کی بیعت اللہ تعالیٰ کی کتاب پر اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر کرو۔ اگر ہم اس پر عمل نہ کریں تو پھر تمہارے اوپر ہماری کوئی بیعت نہیں۔“

ان تمام حوالوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ تمام خلفاء کرامؓ اور صحابہ عظامؓ کا یہی عقیدہ تھا کہ اگر خلیفہ وقت شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کرے تو اوّل اسے پابندی احکام شریعت پر مجبور کرنا چاہئے۔ ورنہ اس کی بیعت فسخ کر دینی چاہئے۔ بعض احباب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ خلفاء راشدین میں سے (خلفاء راشدین سے غالباً دوستوں کی مراد ان چار پانچ خلفاء سے ہے جو آنحضرت ﷺ کے معاً بعد یکے بعد دیگرے ہوئے ہیں) کسی خلیفہ کی مثال پیش کروں جس کا عزل ہوا ہو۔ ایسے دوستوں کی خدمت میں میری طرف سے یہ گزارش ہے کہ اوّل تو میرے لئے یہ ضروری نہیں کہ میں کوئی ایسی مثال پیش کروں۔ جو چیز میرے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ میں امکان عزل ثابت کروں اور جس چیز کا امکان ثابت کرایا جائے۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی خاص زمانے میں وقوع میں بھی آئی ہو۔ اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ جس زمانے میں بھی اس کی ضرورت پیش آئے۔ وہ وقوع میں لائی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کی اتباع سے حصول نبوت کا امکان تو مذکور ہے۔ لیکن تیرہ سو برس میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن اس زمانہ میں جب اس کی ضرورت پیش آئی تو اس کی مثال مہیا ہو گئی۔ جو دوست مجھ سے مثال کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ان لوگوں کو کیا جواب دیں گے۔ جو احمدیوں کی طرف سے قرآن کریم سے امکان حصول نبوت کے ثابت ہونے پر ان سے مثال کا مطالبہ کیا کرتے ہیں جو جواب وہ ان کو دیتے ہیں وہی جواب میری طرف سے سمجھ لیں تو اس جواب کے بعد میرے لئے کسی اور جواب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن دوستوں کی تسلی اور اس مسئلے کی وضاحت کے لئے میں اس کے متعلق ذرا تفصیل سے عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

سو واضح ہو کہ سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ ہوئے ہیں۔ جنہوں نے خود اس امکان کو اپنے خطبہ میں واضح کر دیا اور مسلمانوں کو یہ فرض قرار دے دیا کہ وہ خلیفہ سے شریعت کی پابندی کرائیں اور خلیفہ کے نہ ماننے کی صورت میں اس کی اطاعت ترک کر دیں اور اس کا مقابلہ کریں۔ لیکن آپ کے تمام زمانہ خلافت میں آپ سے کوئی ایسی بات سرزد ہی نہیں ہوئی جو مسلمانوں کے نزدیک قابل اعتراض ہو۔ اس لئے اس اصل پر عمل کرنے کی ضرورت ہی آپ کے عہد مبارک میں پیش نہیں آئی۔

٩٣

صفحہ ٥٠٤

آپ کے بعد دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ ہوئے۔ ان کے خلیفہ ہوتے ہی صحابہؓ نے جو یہ کہا تھا کہ ہم آپ کی کجی کو تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔ اس پر ان کو ایک دفعہ عمل کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے محض الفاظ پر ہی اکتفاء نہیں کی بلکہ ان پر عمل کر کے بھی دکھا دیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ مال غنیمت تقسیم ہونے پر ہر مسلمان کے حصے میں ایک ایک چادر آئی۔ لیکن حضرت عمرؓ اس تقسیم کے بعد ایک دفعہ منبر پر تشریف لائے آپ ایک چغہ پہنے ہوئے تھے جو اس مال غنیمت کی دو چادروں کا بنا ہوا تھا۔ یہ دیکھتے ہی فوراً ایک صحابی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتا دیں کہ آپ کے حصہ میں تو ایک چادر آئی تھی۔ آپ نے یہ دوسری چادر کہاں سے حاصل کی کہ یہ چغہ تیار کروا لیا۔ حضرت عمرؓ یا صحابہؓ میں سے کسی نے اس صحابی کو یہ نہیں کہا کہ تم منافق ہو۔ خلیفہ پر کیوں اعتراض کرتے ہو۔ نہ ہی اس کو جھٹلا دینے کی کوشش کی گئی۔ بلکہ اس کی تسلی کے لئے فوراً حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہؓ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کا جواب دو۔ عبداللہؓ اٹھے اور کہا کہ ایک چادر میرے باپ کے حصہ میں آئی تھی اور ایک چادر میرے حصہ میں آئی تھی۔ میں نے اپنی چادر اپنے باپ کو دے دی اور انہوں نے ان دونوں چادروں سے اپنا چغہ تیار کروا لیا۔ اس پر اس صحابی نے کہا اب ہماری تسلی ہو گئی ہے اب فرمائیے ہم سننے کو تیار ہیں۔ حضرت عمرؓ کی زندگی میں یہی ایک واقعہ پیش آیا جس پر مسلمانوں کو گرفت کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اگر حضرت عمرؓ کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ دیا جاتا تو ممکن نہیں بلکہ ضروری تھا کہ عزل کا سوال پیش ہو جاتا اور اگر وہ معزول نہ ہوتے تو تلوار چل جاتی۔ لیکن چونکہ انہوں نے مسلمانوں کی تسلی کرا دی۔ اس لئے عزل کے سوال کے پیش آنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔ لیکن یہ واقعہ صاف بتاتا ہے کہ مسلمان اپنے خلفاء کے اعمال کی نگرانی کرتے تھے اور ان کو شریعت سے منحرف ہوتے دیکھ کر چھوڑ دینے کے لئے تیار تھے۔

حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب مسلمان رومیوں سے جنگ کر رہے تھے تو اس جنگ کے دوران میں ان کے ایک سردار باہان نامی سے حضرت خالد بن ولیدؓ کی ایک دفعہ گفتگو ہوئی۔ جس کے دوران میں باہان نے فخر سے کہا کہ ہمارا بادشاہ تمام بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔ مترجم ان الفاظ کا پورا ترجمہ نہیں کر چکا تھا کہ خالدؓ نے باہان کو روک دیا اور کہا تمہارا بادشاہ ایسا ہی ہوگا۔ لیکن ہم نے جس کو سردار بنا رکھا ہے اس کو اگر ایک لحظہ کے لئے بادشاہی کا خیال آئے تو ہم فوراً اسے معزول کر دیں۔ اگر عزل خلفاء کسی صورت میں جائز ہی نہیں تو خالد بن ولیدؓ جیسے جلیل القدر صحابی

٩٤

صفحہ ٥٠٥

کے منہ سے یہ الفاظ کیسے نکلے؟ کیا ان الفاظ سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام شریعت کی ظاہری خلاف ورزی پر ہی نہیں بلکہ اگر ان کو قرائن وغیرہ سے معلوم ہو جائے کہ خلیفہ وقت شریعت کے خلاف خیال رکھتا ہے تو اسی بناء پر ہی وہ خلیفہ کو معزول کرنے کے لئے ہر وقت تیار تھے۔ اسی طرح ایک موقعہ پر معاذ بن جبل نے جو ایک بہت بڑے عظیم الشان صحابی تھے رومیوں کے دربار میں رومیوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔

’’اے رومیو! تم کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال کا اختیار ہے۔ لیکن ہم نے جس کو اپنا بادشاہ بنا رکھا ہے وہ کسی بات میں بھی اپنے آپ کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اگر وہ زنا کرے تو اس کو درے لگائے جائیں۔ چوری کرے تو ہاتھ کاٹے جائیں۔ پردے میں نہیں بیٹھتا۔ اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا۔ مال و دولت میں اس کو ہم پر کوئی ترجیح نہیں۔‘‘

پس خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک ہی واقعہ ایسا پیش آیا جو ان کے عزل کے سوال کو پیدا کر سکتا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو تسلی دلا دی جس سے یہ سوال پیدا ہونے سے رک گیا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ پہلے دونوں خلفاء کے زمانے میں ان کے عزل کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی اور بغیر ضرورت عزل جائز نہیں۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہوئے۔ ان کے زمانہ میں مسلمانوں کو ان کے طرز عمل پر اعتراضات ہوئے اور انہوں نے اپنے حقوق کو حضرت عثمانؓ کے ہاتھوں محفوظ نہ سمجھا۔ اس پر انہوں نے مسلمانوں کو تسلی دلانے کے لئے کئی مرتبہ کوشش کی۔ چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے تمام گورنروں کی ایک میٹنگ طلب کی اور ان سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ ہر ایک گورنر نے اپنا اپنا مشورہ پیش کیا۔ لیکن حضرت عمرو بن عاص جیسے جلیل القدر صحابی نے اپنا مشورہ ان الفاظ میں دیا۔ ’’زغت وزاغوا فاعتدل او اعتزل‘‘ یعنی آپ سے بھی کجی سرزد ہوئی ہے اور آپ کے گورنروں سے بھی کجی سرزد ہوئی ہے۔ پس یا تو سیدھے ہو جائیے یا معزول ہو جائیے۔ حضرت عمرو بن العاص کے یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ صحابہ کے نزدیک خلیفہ کا عزل نہ صرف جائز بلکہ بوقت ضرورت لازمی تھا۔ پھر ایک وقت جب مسلمانوں کی شکایات زور پکڑ گئیں اور حضرت عثمانؓ کے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم مال پر مسلمانوں کے دلوں میں اعتراض پیدا ہوئے اور انہوں نے اس اعتراض کو بڑے زور سے پیش کیا تو حضرت عثمانؓ نے یہ کہا: ’’اگر تم اسے غلطی سمجھتے ہو تو اس مال کو واپس لے لو۔ میرا امر تمہارے امر کے تابع ہے۔‘‘

٩٥

صفحہ ٥٠٦

مسلمانوں نے کہا: ”آپ نے صحیح فرمایا ہے اور بہت اچھی بات کہی ہے۔“ چنانچہ انہوں نے وہ مال واپس لے لیا اور مطمئن ہو گئے اور یہ موقع بھی حضرت عثمانؓ کے مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم کر لینے کی وجہ سے ٹل گیا اور عزل کا سوال رک گیا۔ اسی طرح پھر ایک دفعہ مسلمانوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے حضرت عثمانؓ کے سامنے آکر اپنی شکایات پیش کیں اور کہا کہ آپ سے بہت بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جن کے نتیجہ میں آپ عزل کے مستحق ہو گئے ہیں۔ جب آپ سے ان کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو آپ ان سے رجوع کا یقین دلاتے ہیں۔ مگر پھر آپ سے انہیں باتوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس لئے اب ہم واپس نہیں جائیں گے۔ جب تک آپ کو معزول نہ کر لیں اور آپ کی جگہ رسول کریمﷺ کے صحابہ میں سے کسی اور کو خلیفہ نہ بنالیں۔ جس پر اس قسم کی تہمت نہیں لگی۔ جو آپ پر لگ رہی ہے ۔ یا اس سے وہ باتیں ظہور میں نہیں آئیں جو آپ سے ظہور میں آئی ہیں۔ پس ہماری خلافت کو واپس کر دیجئے اور ہمارے کام سے معزول ہو جائیے۔ یہ بات ہمارے لئے آپ سے سلامتی کا موجب ہے اور آپ کے لئے بھی ہم سے سلامتی کا موجب یہی بات ہے۔

حضرت عثمانؓ نے جواب دیا ۔ ”تمہاری یہ بات کہ میں خلافت کو چھوڑ دوں تو میں اس قمیص کو تو نہیں اتارتا جس کو مجھے اللہ نے پہنایا ہے اور جس کے ساتھ اس نے مجھے عزت دی ہے اور جس کے ساتھ مجھے غیروں پر خاص کیا ہے۔ لیکن میں اپنی غلطیوں سے رجوع کرتا ہوں اور ان کو ترک کر دیتا ہوں اور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ میں کوئی ایسی بات نہ کروں گا جس کو مسلمان ناپسند کرتے ہوں۔“

اس حوالہ سے بھی صاف واضح ہوتا ہے کہ مسلمان خلافت کو اپنی دی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور اگر ان کے خیال میں کوئی خلیفہ خلافت کے فرائض کو کما حقہ ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس سے وہ خلافت سے علیحدہ ہو جانے کا مطالبہ کرنا اپنا فرض یقین کرتے تھے۔ اس موقعہ پر بھی حضرت عثمانؓ نے اپنی اصلاح کا وعدہ دے کر عزل کے سوال کو رکوا دیا۔ لیکن آخری دفعہ جب مسلمانوں کو پھر سے شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے حضرت عثمانؓ کے پاس اپنی شکایات کو پیش کیا تو گو حضرت عثمانؓ نے اس شکایت کی تحقیق بذریعہ کمیشن کروانے کو کہا۔ مگر مسلمانوں نے اس دفعہ ان کے عذر کو تسلیم نہیں کیا اور ان سے یہی کہا یا تو آپ خود خلافت سے علیحدہ ہو جائیں یا ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ آخر جب انہوں نے عزل کو منظور نہ کیا تو وہ شہید کر دیئے گئے۔

٩٦

صفحہ ٥٠٧

ان تمام واقعات میں سب سے عجیب بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے مطالبہ عزل پر کسی ایک صحابی کا بھی یہ قول منقول نہیں کہ اس نے کہا ہو کہ اے مسلمانو! تم عزل کا مطالبہ کس طرح کر سکتے ہو۔ جب عزل شرعاً جائز ہی نہیں۔ حضرت عثمانؓ اعتراض کرنے والے مسلمانوں کو صحابہ کرامؓ دیگر دلائل سے تو سمجھاتے رہے۔ مگر عزل کے ممنوع ہونے کی دلیل جو سارے جھگڑے کو یک دم ختم کرنے والی تھی۔ کسی ایک صحابی نے بھی نہ دی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ عزل کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ پس تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں خلیفہ کے خلاف ایسی شکایات پیدا ہوئیں جس سے انہوں نے خلیفہ کے عزل کو ضروری سمجھا اور اس کے عزل پر اصرار کیا۔ یہ الگ امر ہے کہ خلیفہ نے معزول ہونے سے انکار کر دیا۔ گو انہوں نے بھی یہ دلیل نہیں دی کہ عزل کا مطالبہ شرعاً ناجائز ہے۔ صرف ایک حدیث کی بناء پر جو صرف انہی کی ذات سے تعلق رکھتی تھی۔ خلافت کی قمیص اتارنے سے انکار کر دیا۔ لیکن مسلمانوں نے تو بہر حال ایک رنگ میں معزول کر ہی دیا۔

اب ہم چوتھے خلیفہ کے زمانہ کو لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں بھی اوّل تو خود حضرت علیؓ نے ہی اپنے اس خط میں جو اہل مصر کو لکھا جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں کہ مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ خلیفہ سے شریعت کی اطاعت کا مطالبہ کریں اور پھر اس کے بعد قیس بن سعد جیسے جلیل القدر صحابی نے بھی صاف کہہ دیا کہ اگر خلیفہ شریعت کو چھوڑ دے تو اس کی کوئی بیعت نہیں۔ لیکن عزل خلیفہ کے متعلق اس سے بھی واضح تر ثبوت ان کے زمانہ کا مندرجہ ذیل واقعہ ہے۔ جب حضرت معاویہؓ کے ساتھ حضرت علیؓ کی جنگ ہو رہی تھی تو حضرت معاویہؓ کی فوج نے نیزوں پر قرآن بلند کر دیئے۔ جس پر حضرت علیؓ کی فوج نے حضرت علیؓ سے کہا کہ کیونکہ یہ لوگ اب ہمیں کتاب اللہ کی طرف بلا رہے ہیں اس لئے اب جنگ کرنا گناہ ہے۔ پس آپ جنگ بند کر دیں۔ حضرت علیؓ نے اپنی فوج کو بہت سمجھایا کہ یہ محض ایک چال اور فریب کاری ہے۔ اس کو تقویٰ اور ایمانداری سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن حضرت علیؓ کی تقریر کا مسلمانوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پس ادھر مسلمان اپنی بات پر مصر رہے اور ادھر حضرت علیؓ اپنی بات کو منوانے میں پوری کوشش کرتے رہے۔ لیکن آخر مسلمانوں نے حضرت علیؓ کو صاف کہہ دیا کہ اگر آپ جنگ کو بند نہیں کریں گے تو ہم آپ کو حضرت معاویہؓ کے حوالے کر دیں گے۔ یا آپ کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو حضرت عثمانؓ کے ساتھ کیا۔ اس پر حضرت علیؓ نے فوراً ان کے مطالبہ کو مان لیا اور جنگ کو بند کر دیا۔ انہوں نے یہ

٩٧

صفحہ ٥٠٨

نہیں کہا کہ میں خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ جاؤ تم سب بھی مجھے چھوڑ جاؤ تو میرا خدا مجھے نہیں چھوڑے گا۔ جاؤ میں اکیلا ہی دشمن کے مقابلہ میں لڑوں گا۔ اگر تم سب مجھے چھوڑ جاؤ گے تو خدا مجھے اور جماعت دے گا جو میرے ساتھ ہو کر حق کی خاطر دشمن کا مقابلہ کرے گی۔ نہیں انہوں نے ان میں سے ایک بات بھی نہیں کی بلکہ ایک سچے اسلامی خلیفہ کی طرف مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کو تسلیم کر لیا اور اپنے عمل سے بتا دیا کہ خلیفہ کو مسلمانوں کے فیصلہ کو توڑنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اب اگر حضرت علی مسلمانوں کے فیصلہ کے آگے سرتسلیم خم نہ کرتے تو ان کو عزل کی دھمکی مل ہی چکی تھی۔ پھر اس کے علاوہ ان کے زمانے میں آخر دو جلیل القدر صحابی یعنی ابوموسیٰ اشعری اور عمرو بن العاص بطور حکم مقرر ہوئے تاکہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان فیصلہ کریں اور ان دونوں صحابیوں کا متفقہ فیصلہ حضرت علی کے عزل کے متعلق صادر ہوا اور اس فیصلہ پر کسی صحابی نے بھی اعتراض نہیں کیا کہ کیا خلیفے کا عزل کسی صورت میں جائز ہی نہیں۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے وہم میں بھی کبھی یہ بات نہیں آئی کہ خلیفہ کا عزل شرعاً ممنوع ہے۔ پھر ان چار خلفاء کے بعد امام حسن پانچویں خلیفہ تسلیم کئے جاتے ہیں اور انہوں نے خود خلافت کو چھوڑ کر بتا دیا کہ خلافت ایسی چیز نہیں جس سے نہ آدمی خود معزول ہو سکتا ہے نہ معزول کیا جا سکتا ہے۔

پس ان پانچ خلیفوں کا زمانہ جو خلفاء راشدین کہلاتے ہیں ہمارے سامنے ہے۔ ان میں پہلے خلیفہ کے زمانہ میں بوجہ کسی قسم کی شکایت نہ پیدا ہونے کے عزل کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ دوسرے خلیفہ کے زمانے میں شکایت پیدا ہوئی مگر انہوں نے مسلمانوں کی تسلی کرا دی۔ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں شکایت پیدا ہوئی لیکن مسلمانوں کو تسلی نہ ہوئی۔ پس مسلمانوں نے خلیفہ کے عزل پر زور دیا اور جب انہوں نے ان کے مطالبہ عزل کو نہ مانا تو انہیں شہید کر دیا تھا۔ چوتھے خلیفہ کے زمانہ میں بھی ان کے عزل کا سوال پیدا ہوا لیکن انہوں نے مسلمانوں کے مطالبہ کو تسلیم کر کے خود کو عزل سے بچا لیا۔ پانچویں خلیفہ نے اپنے آپ کو خود معزول کر دیا۔

ان تمام واقعات سے صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خلفاء کو معزول کرنا جائز ہے اور یہ کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ جب وہ کسی خلیفہ سے خلاف شریعت افعال کے ارتکاب کو ملاحظہ کریں تو فوراً اس پر گرفت کریں اور اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں تو اسے خلافت سے علیحدہ کر دیں۔ چنانچہ بعض علماء نے تو خلیفہ کے متعلق صاف یہ الفاظ لکھے ہیں کہ: ”اذا جائر او فجرا تعزل عن الخلافة“ یعنی جب خلیفہ ظلم کرے یا فجور کا مرتکب ہو تو وہ فوراً خلافت سے معزول ہو جاتا ہے۔

٩٨

صفحہ ٥٠٩

آخر میں اس کی تائید میں خود اپنے خلیفہ صاحب کا ایک حوالہ دے کر مضمون کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کے سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین! اور وہ حوالہ یہ ہے کہ ہمارے موجودہ خلیفہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩١٥ء کے ص ٨ پر کسی شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خلیفہ جسمانی میں روحانی بدیاں پائی جاتی ہیں۔ ہاں اگر روحانی خلیفہ بدکار ہو تو اسے فوراً چھوڑ دینا چاہئے ۔ کیونکہ اس سے تعلق روحانیت کا ہے۔“

اب وہ دوست جو یہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ کا عزل کسی صورت میں ہی جائز نہیں مہربانی فرما کر اس حوالہ پر غور کریں اور خود ہی فیصلہ کر لیں کہ ان کا نظریہ کہاں تک درست ہے؟ جہاں تک میں سمجھتا ہوں خلیفہ کے عزل کے امکان کو گو اختصار کے ساتھ مگر واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ اب جو احباب عدم امکان کے قائل ہیں وہ بھی شریعت اسلامی سے صریح نصوص پیش کریں تاکہ اگر میں غلطی پر ہوں تو اس کی اصلاح کر سکوں۔ خلافت کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو ہماری جماعت میں محض اس لئے غلط طور پر پھیلی ہوئی ہیں کہ ہماری جماعت کے سامنے خلافت کے متعلق صرف ایک ہی پہلو بار بار لایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ امت پر خلیفہ کی اطاعت واجب ہے؟ لیکن اس سوال کا دوسرا پہلو کہ خلیفہ کہاں تک اپنے اعمال کے متعلق امت کے سامنے جوابدہ ہے۔ بلکہ تاریکی میں رکھا ہوا ہے۔ مگر طوالت کے خوف سے میں صرف اسی قدر ہی اکتفا کرتا ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں انشاء اللہ اس مسئلہ پر مفصل کتاب میں پوری روشنی ڈالنے اور اس کے تمام پہلو جماعت کے سامنے لانے کی پوری کوشش کروں گا۔ ”وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“

خاکسار: جماعت کا سچا خادم، شیخ عبدالرحمن مصری، مورخہ ٢١؍ دسمبر ١٩٣٧ء

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود!

نمبر ٨...... بڑا بول

”كبرت كلمة تخرج من افواههم“

اخی المکرم! جناب خلیفہ صاحب نے اپنے خطبہ فرمودہ جو ٢٠ نومبر کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔ ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے جو کسی لحاظ سے بھی ان کو زیب نہیں دیتا۔ وہ فرماتے ہیں : ”مجھے یقین ہے کہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود پر ایمان رکھتا ہے وہ نہیں مرے

٩٩

صفحہ ٥١٠

گا۔ جب تک میری بیعت میں داخل نہ ہولے۔“ بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے یہاں تک فرما دیا ہے کہ: ”مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ مسیح موعود کو چھوڑتا ہے جو مسیح موعود کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے اور جو رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔ پس جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کتنی بڑی تعلّی ہے۔ کتنا بڑا غلو ہے اور کتنا بڑا بول ہے جو سوائے اس کے کہ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم“ کا مصداق ہو اور کوئی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا۔“

نہ معلوم جناب خلیفہ نے یہ الفاظ کس حیثیت سے استعمال کئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی حیثیت ایک خلیفہ ہونے کے ہے اور خلیفہ بھی وہ خلیفہ جو مامور نہیں بلکہ لوگوں کے انتخاب سے خلیفہ بنا ہے اور وہ بھی پہلا خلیفہ نہیں بلکہ دوسرا خلیفہ جو مسیح موعود کے فیصلہ کی رو سے آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتا۔ پس کیا جناب خلیفہ بتا سکتے ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد قوم کی طرف سے منتخب کنندہ خلفاء میں سے کسی خلیفہ نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہو کہ جو شخص ان کی بیعت میں داخل نہ ہو وہ سچے دل سے نبی پر ایمان لانے والا نہیں اور جو شخص انہیں چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑنے والا ہوتا ہے۔ پس جب محمد رسول اللہ ﷺ یعنی آقا کے خلفاء کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ کسی صحابی کے متعلق محض ان کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے یہ فتویٰ دیں کہ اس صحابی کو رسول کریم ﷺ پر سچا ایمان نہیں تو مسیح موعود یعنی غلام کے خلیفہ کو یہ کس طرح حق پہنچ سکتا ہے کہ وہ مسیح موعود کے ایسے صحابی کے متعلق جسے مسیح موعود کے مبارک ہاتھ پر بیعت کرنے کا فخر حاصل ہو اور وہ خلیفہ کی بیعت کئے بغیر فوت ہو جائے۔ یہ فتوے دے کہ اسے مسیح موعود پر سچا ایمان نہیں تھا اور یا یہ کہ وہ ایسی حالت میں فوت ہو جائے کہ اس نے خدا کو چھوڑا تھا اور اسے خدا پر کوئی ایمان نہ تھا۔

میں حیران ہوں کہ خلیفہ کو اتنی بڑی تعلّی کی کس طرح جسارت ہوئی ہے۔ جب کہ وہ مانتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ میں ایک جماعت نے بعض خلفاء کی بیعت نہیں کی اور ان میں بعض بڑے بڑے جلیل القدر صحابی شامل ہیں۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہوا تھا اور جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔ یعنی جن کو نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک پر جنت کی بشارت مل چکی تھی اور جو خدا تعالیٰ کی جناب سے اس انعام کے وارث ہو چکے ہوئے تھے کہ ” اعملوا ما شئتم “ یعنی اب جو تم چاہو کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کا ہر قول و فعل اللہ کی رضا کے عین مطابق ہوتا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف کچھ نہ کر سکتے تھے اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو نہ صرف یہ کہ بیعت میں داخل نہیں ہوئے بلکہ خلیفہ کے ساتھ جنگ کرتے رہے اور

١٠٠

صفحہ ٥١١

بعض ایسے ہیں کہ جو مسلمانوں کے ایک گروہ کے نزدیک خلفاء راشدین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جیسے حضرت معاویہؓ (ہمارے موجودہ خلیفہ بھی حضرت معاویہؓ کو خلفاء راشدین میں ہی سمجھتے ہیں) پس ہمارے موجود خلیفہ صاحب خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تو شریعت اسلامی کی رو سے تو ایسا قول کہنے کے مجاز نہیں لیکن اگر ان کی کوئی اور حیثیت ہے جو انہیں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سے بڑھ کر رتبہ دے رہی ہے کہ اس کی بناء پر وہ خود کو اتنے بڑے ادّعا کا مجاز سمجھتے ہیں تو اسے پیش فرمائیں۔ اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔

دسمبر ١٩١٥ء میں تو ہمارے موجود خلیفہ کا بھی یہ اعتقاد نہ تھا کہ ان کے انکار سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ تشحیذ الاذہان کے پرچہ بابت دسمبر ١٩١٥ء میں ایک شخص کو اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’باقی میرے انکار کے متعلق جو آپ نے دریافت کیا ہے میں تو بارہا بتا چکا ہوں کہ خلیفہ کے انکار سے ایمان نہیں جاتا.....‘‘ اسی طرح دوسرے صحابی حضرت علیؓ یا حضرت عثمانؓ کے وقت میں منکر خلافت نہ تھے۔ بلکہ ایک خلیفہ کے بارے میں جھگڑا تھا یا اس سے چند مطالبات تھے۔ (خاکسار کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ خاکسار بھی تو منکر خلافت نہیں بلکہ ایک خلیفہ یعنی آپ سے جھگڑا ہے اور آپ سے چند مطالبات ہیں) لیکن نہ معلوم اب اکیس سال کے بعد ان کے مقام میں کون سی رفعت پیدا ہوئی ہے جس نے انہیں اپنے پہلے عقیدے کو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ امید ہے جناب خلیفہ اس مقام رفعت سے خاکسار کو بھی مطلع فرما کر مشکور فرمائیں گے۔

جناب خلیفہ کا یہ یقین ان کے اپنے دل کا یقین ہو تو ہو مگر حقیقت سے کوئی سروکار نہیں۔ شریعت اسلامی ایک ننگی تلوار لئے ہمیں اس عقیدے پر ایمان لانے سے روک رہی ہے۔ ان کا یہ یقین نہ صرف یہ کہ شریعت اسلامی کے سراسر خلاف ہے بلکہ واقعات کے بھی خلاف ہے۔ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ مسیح موعود کے کئی مخلص بغیر خلیفہ کی بیعت میں داخل ہوئے فوت ہوگئے۔ لیکن کسی کو یہ جرأت نہیں کہ ان کے متعلق یہ کہہ سکے کہ وہ دہریہ ہونے کی حالت میں فوت ہوئے یا ان کو مسیح موعود پر سچا ایمان نہ تھا۔

دوسروں کے ایمان اور ان کے اخلاص کے متعلق تو مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن میں اپنے ایمان کے متعلق خلیفہ کو اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یقین دلاتا ہوں کہ میں مسیح موعود پر سچے دل سے ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حضور کی صداقت پر اسی طرح یقین ہے جس طرح ایک اور ایک دو پر یقین ہے۔ حضور کی صداقت میرے لئے ایسی ہی یقینی بات

١٠١

صفحہ ٥١٢

ہے جس طرح نصف النہار کا چمکتا ہوا سورج اور کیوں نہ ہو۔ جب کہ میں نے حضور کے ذریعہ ہی زندہ خدا کو پایا اور اپنے وجود میں حضور پر نور کی صداقت کے نشانات ملاحظہ کئے۔ ہم نابینا تھے۔ حضور نے (مرزا قادیانی نے) ہی ہمیں بینا بنایا۔ ہم بہرے تھے۔ حضور نے ہی ہمیں شنوا بنایا۔ ہم گونگے تھے حضور نے ہی ہمیں گویا بنایا۔ ہم اندھیروں میں تھے حضور نے ہی ہمیں نور عطاء فرمایا۔ ہمارا رشتہ ہمارے مالک حقیقی سے ٹوٹا ہوا تھا۔ حضور نے ہی آکر اسے جوڑا۔ ہم اللہ کے راستہ سے دور پڑے ہوئے تھے حضور نے ہی ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں ہمارے محبوب حقیقی کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر لا ڈالا۔ الغرض ہم بالکل مردہ تھے۔ حضور نے ہی ہمیں آب حیات پلا کر زندگی کی روح ہم میں پھونکی۔ پس ان سب باتوں کو اپنے وجود میں مشاہدہ کرتے ہوئے میں کس طرح مسیح موعود کی صداقت پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی شبہ کر سکتا ہوں؟ پس یہ تو یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا ایمان مسیح موعود کی صداقت پر غیر متزلزل ایمان ہے اور رہے گا۔ ”الا ان یشآء الله“

میں خلیفہ کو یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ ان کی بیعت سے علیحدگی کے بعد میری روحانیت میں نہ صرف یہ کہ کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ پہلے سے ترقی ہوئی ہے۔ مجھے عبادت الہی اور دعاؤں میں پہلے سے زیادہ توفیق اور حظ حاصل ہو رہا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے احسانوں سے کامل یقین ہے کہ وہ آپ کے مقابلہ میں میری ضرور مدد فرمائے گا اور وہ دن ضرور لائے گا جس میں اس تمام جھوٹے پراپیگنڈے کے پردے چاک کردے گا۔ جو میرے خلاف کیا جارہا ہے اور جماعت پر روشن کردے گا کہ میں جو آپ کے خلاف اٹھا ہوں محض نیک نیتی اور محض خدا تعالیٰ کے لئے اٹھا ہوں نہ کہ کسی دنیوی غرض کے لئے ، مجھے بدنام کرنے کے لئے جو پراپیگنڈا احمدیت یا عقائد کو چھوڑ دینے کا جھوٹا الزام کی اشاعت یا دیگر غلط بہانوں سے جو کام لیا جارہا ہے ان کی حقیقت جماعت پر آشکارا کردے گا۔ میرے حق پر ہونے اور آپ کے باطل ہونے پر جو پردے ڈالے جارہے ہیں ان کو اٹھا کر اصلیت کو عریاں کر کے جماعت کے سامنے لے آئے گا اور جماعت دیکھ لے گی کہ اسے کس قدر دھوکے میں رکھا گیا ہے اور ان سے حقیقت کو چھپانے کے لئے کیا کیا پر فریب کاروائیاں کی گئی ہیں۔ یاد رکھیں کہ ”الحق یعلوا ولا یعلیٰ“ وہ دن آئے گا اور انشاء اللہ ضرور آئے گا جب جماعت ”جاء الحق وزهق الباطل“ کہتی ہوئی اس حقیقت پر قائم ہو جائے گی جو شریعت اسلامی نے خلفاء کے مقام اور ان کے اور امت کے اختیارات اور حقوق کے متعلق بتائی ہے اور یہ کہ آپ خلافت کے اہل نہیں اور جس حقیقت کو آشکارا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے کھڑا ہونے کی توفیق عطاء فرمائی ہے۔

١٠٢

صفحہ ٥١٣

قرآن کریم، احادیث صحیحہ اور مسیح موعود کی تعلیم کے مطالعہ سے مجھے پہلے بھی یقین تھا کہ انبیاء علیہم السلام کی وفات کے بعد جو خلفاء قوم کی طرف سے منتخب کئے جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان روحانیت کے حصول کا واسطہ نہیں ہوتے بلکہ اس وقت صرف انبیاء علیہم السلام کی روحانیت ہی واسطے کا کام دے رہی ہوتی ہے اور انہیں کا نور دلوں کو منور کر رہا ہوتا ہے۔ اس وقت خلفاء کے تقرر کی کچھ اور ہی غرض ہوتی ہے۔ جس کی تفصیلی بحث میں انشاء اللہ اس کتاب میں کروں گا جو میں خلافت کے متعلق لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور اب میں آپ کی بیعت سے علیحدگی کے بعد اس یقین پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہوں۔ کیونکہ میں نے اس حقیقت کا اپنے وجود میں مشاہدہ کر لیا ہے کہ میں اس جگہ یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جناب خلیفہ کا یہ یقین کہ انسان ان کو چھوڑنے سے خدا کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ محض ان لوگوں کے حق میں صحیح سمجھا جاسکتا ہے۔ جنہوں نے اپنے ایمان کا دارو مدار صرف خلیفہ کے وجود پر ہی رکھا ہوا ہے اور جن کے دل میں حقیقی اور مستقل ایمان ابھی پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا ایمان خلیفہ کے ایمان سے ہی مستعار لیا ہوا ہوتا ہے۔ پس ایسے لوگ خلیفہ کے وجود میں اپنے ایمان کی بنیاد کو گرتے دیکھ کر اگر اپنے ایمان کی عمارت کو بھی ساتھ ہی گرا لیں تو گرا لیں۔ لیکن ان لوگوں کے مقابل میں ان کے اس یقین کی کچھ حقیقت نہیں جو ایمان کے حقیقی نشے سے سرشار ہیں جن کا ایمان کسی کا مستعار ایمان نہیں کہ وہ اس کو ضائع ہوتا دیکھ کر اپنے ایمان کو بھی جواب دے بیٹھیں۔ ان کا تعلق خدا سے براہ راست پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو دہریہ ہوتے دیکھ کر بھی اپنے اس زندہ خدا کا انکار نہیں کر سکتے۔ جس کے زندہ نشانوں کو انہوں نے اپنے وجود میں بار ہا مشاہدہ کیا ہوا ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ کسی کی عملی کمزوریاں ان کے ایمان کو ضائع کر سکیں۔

میں خلیفہ کے اس دعویٰ کے ساتھ بھی کہ احیاء اسلام کا کام اور اس کی عظمت کا قیام اللہ تعالیٰ نے انہی کے ہاتھ پر مقدر کر رکھا ہے۔ اتفاق نہیں کر سکتا۔ احیاء اسلام کا کام مسیح موعود اور حضور کی جماعت اور حضور پرنور کے حقیقی جانشینوں کے ہاتھ پر مقدر ہے اور وہ انشاء اللہ ہو کر رہے گا۔ کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس منشاء پر پورا ہونے سے روک سکے جو بھی اس میں حائل ہوگا وہ پیس دیا جائے گا۔ لیکن خلیفہ مجھے معاف فرمائیں۔ اگر میں یہ عرض کروں کہ میں انہیں مسیح موعود کا حقیقی جانشین تسلیم نہیں کر سکتا اور اس کے لئے میرے پاس ایسے قوی دلائل ہیں جن کی تردید یا تغلیط ان کے لئے محال ہے۔ بلکہ اس کے برعکس میں اس بات پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہوں کہ جماعت کی بہتری اور ترقی اسی میں ہے کہ جماعت جتنی بھی جلدی ہو سکے۔ موجودہ خلیفہ کو خلافت

١٠ خلافت

١٠٣ ١٠٣ ١٠٣ خلیفہ کو خلافت

١٠٣

صفحہ ٥١٤

سے الگ کر دے۔ مجھے یقین ہے کہ جماعت کی ترقی بہت حد تک ان کے وجود کی وجہ سے رکی ہوئی ہے اور اگر یہ خلیفہ نہ ہوتے تو جماعت اس وقت تک ہزاروں گنا زیادہ ترقی کر چکی ہوتی اور اس ربع صدی میں جو ان کی خلافت کا زمانہ ہے احمدیت دنیا کے بیشتر حصہ کا مذہب بن چکی ہوتی۔

آخر میں میں پھر عرض کرتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسیح موعود پر تو سچا ایمان رکھتا ہوں لیکن میں خلیفہ کے اس دعویٰ کو قطعاً صحیح تسلیم نہیں کر سکتا ۔ کہ ہر وہ شخص جو مسیح موعود پر سچا ایمان رکھتا ہے۔ وہ آپ کی بیعت میں ضرور داخل ہوگا۔ واقعات جہاں اس بات کو ثابت کر رہے ہیں۔ مسیح موعود پر سچا ایمان رکھنے والوں میں سے ایک حصہ فوت ہو گیا اور آپ کی بیعت میں داخل نہیں ہوا وہاں آپ کے اپنے اقرار کی رو سے واقعات اس کے برعکس یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جو احمدی جن میں مسیح موعود کے صحابہ بھی شامل ہیں جن کو مسیح موعود کی صحبت کا کافی عرصہ تک شرف حاصل رہا اور جو براہ راست حضور کے چشمہ معرفت سے سیراب ہوئے اور جن کو حضور پر نور سچے مومن بنا کر اپنے بعد دنیا کے لئے نمونہ چھوڑ گئے۔ وہ آپ کی بیعت میں داخل رہنے کی وجہ سے آپ کے اپنے اقرار کے مطابق منافق بن چکے ہوئے ہیں اور آپ کے اپنے اقرار کے مطابق ان کی تعداد دن بدن زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

یہ ہے آپ کے اپنے اقرار کے مطابق آپ کی بیعت کی تاثیر۔ کاش! جماعت اس راز کی تحقیق کی طرف متوجہ ہو اور اس کی اصل وجہ دریافت کرنے کی سعی فرمائے۔ تا اس منافقت کے دریا کے بند میں جو سوراخ نمودار ہو چکا ہے۔ وہ جلد بند کر دیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ جماعت کی تھوڑی سی غفلت کے نتیجے میں یہ سوراخ اس قدر وسیع ہو جائے کہ منافقت کے دریا کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی بند کو توڑ کر جماعت کی طرف امنڈ آئے اور ساری جماعت کو اپنی آغوش میں لے لے۔

اے خدا تو اپنے فضل و کرم سے اپنی نصرت اور مدد کا ہاتھ ہم عاجزوں کی طرف بڑھا اور جماعت کو اس انجام سے بچائے۔ آمین یا رب العالمین!

جماعت کا سچا خادم : خاکسار، شیخ عبدالرحمن مصری!

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدہ المسیح الموعود!

نمبر ٨...... خلیفہ کے دونوں پیش کردہ طریق فیصلہ منظور

بعض دوستوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ خلیفہ نے ان نقائص کے متعلق جو اس

١٠٤

صفحہ ٥١٥

خاکسار نے اپنے ان تین خطوط میں ذکر کئے ہیں جو خلیفہ کی خدمت میں ١١؍جون و ١٤؍جون و ٢٣؍جون کو لکھے گئے تھے قسم کھائی ہے کہ وہ غلط ہیں۔ اس قسم کے بعد اب اس خاکسار کا کیا خیال ہے؟

سو ایسے تمام دوستوں پر جو خلیفہ کی اس تحریر سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ خلیفہ نے اس بارے میں کوئی قسم کھائی ہے۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں خلیفہ کی تحریر کو سمجھنے میں سخت غلطی لگی ہے۔ جس چیز کو انہوں نے قسم سمجھا ہے وہ قسم نہیں بلکہ درحقیقت ایک مسودہ ہے جو انہوں نے اخبار الفضل میں نقل کر دیا ہے اور چونکہ اس مسودے میں قسم کا ذکر آتا ہے۔ اس لئے بہت سے لوگوں کو یہ مغالطہ لگ گیا ہے کہ خلیفہ قسم کھا گئے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ اس تحریر میں یہ فرمارہے ہیں کہ جس وقت خاکسار کا تیسرا خط ٢٣؍جون کو انہیں ملا (پہلے ١١ اور ١٤؍جون والے دو خطوں پر تو خلیفہ بالکل خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا) تو اس کے دوسرے روز انہوں نے چند احباب کو بلایا تاکہ ان کے مشورے سے میرے خطوط کا جواب دیں۔ جب احباب جمع ہوئے تو خلیفہ ان سے مشورہ لینے سے قبل میرے خطوط کے جواب کے لئے ایک مسودہ اپنی طرف سے تیار کرکے احباب کی مجلس میں لے گئے اور انہیں وہ مسودہ سنایا اور کہا کہ میں یہ جواب دینا چاہتا ہوں۔ لیکن احباب نے وہ جواب بھیجنے کا مشورہ نہ دیا اور اس مشورے کو خلیفہ نے قبول کرلیا اور ایک دوسرا جواب ان کے مشورہ سے لکھا گیا اور اسے میری طرف بھیجا گیا اور پھر وہ اخبار الفضل میں بھی شائع کردیا گیا۔ پس خلیفہ ٢؍نومبر کے الفضل میں شائع شدہ تحریر میں اس مسودے کو نقل کرتے ہوئے یہ فرمارہے ہیں کہ میں اس مسودے کو احباب کی مجلس میں لے گیا تھا۔ مگر احباب نے مجھے یہ جواب بھیجنے نہیں دیا اور میں نے دوسرا جواب بھیجا جس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مسودہ کالعدم ہوگیا اور اس کی جگہ دوسرا مسودہ لکھ کر مجھے بھیجا گیا۔ گویا خلیفہ نے نہ تو ان احباب کے سامنے قسم کھائی جن کو مشورہ کے لئے بلایا تھا اور نہ اب ہی خط کو شائع کرتے وقت قسم کھائی دونوں دفعہ صرف مسودہ کو پیش کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ لیکن مسودہ کی نقل اس طرز سے الفضل میں شائع کی ہے جس سے بعض لوگ اس مغالطہ میں پڑگئے ہیں کہ فی الحقیقت خلیفہ نے قسم کھائی ہے۔ اگر خلیفہ کا منشاء قسم کھانے کا ہوتا تو وہ اس مضمون میں جو ٢٠؍نومبر کے الفضل میں شائع ہوا ہے مسودہ کے نقل کرنے پر اکتفاء کرتے۔ کیونکہ وہ مسودہ تو منسوخ ہوچکا تھا۔ بلکہ ازسرنو قسم کھا لیتے اور معاملہ صاف ہوجاتا۔ خلیفہ کا ٢٠؍نومبر والے مضمون میں اس معاملہ میں کسی قسم کی قسم نہ کھانا صاف بتا رہا ہے کہ وہ قسم کھانے

١٠٥

صفحہ ٥١٦

کے لئے ہرگز تیار نہیں اور اگر میں نے ان کے منشاء کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور وہ درحقیقت قسم کھانے پر آمادہ ہیں تو وہ اب قسم کھالیں ۔ کیونکہ میری طرف سے ان سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ ان کے لئے قسم کھانے میں روک پیدا ہوگئی ہو۔

میں اس جگہ یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قسم یا مباہلہ کا مطالبہ میری طرف سے ہرگز نہیں کیا گیا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ خلیفہ کا یہ مذہب ہے کہ اگر قسم یا مباہلہ کا مطالبہ دوسری طرف سے کیا جاوے تو پھر خلیفہ کے نزدیک قسم یا مباہلہ حرام ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس ٢٠ نومبر کے الفضل والی تحریر میں بھی اپنے اس عقیدے پر انہوں نے بڑے زور شور سے قسم کھائی ہے اور میرے نزدیک ان کی اپنے عقیدے پر یہ قسم بے محل اور بے ضرورت ہے۔ کیونکہ میں نے کب کہا ہے کہ ان کے دل میں یہ عقیدہ نہیں اور وہ صرف زبان سے اس کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کو میری تسلی کے لئے قسم کی ضرورت پیش آئی۔ میں تو مانتا ہوں کہ وہ اپنے اس بیان میں کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسے معاملہ میں قسم یا مباہلہ کا مطالبہ فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ سچ سے کام لے رہے ہیں۔ گو میرے نزدیک ان کا یہ عقیدہ درست نہیں اور وہ اس کی صحت کو دلائل سے ثابت نہیں کر سکتے۔ اس لئے وہ ہمیشہ قسم کی ہی پناہ لیا کرتے ہیں۔ لیکن بہر حال اس جگہ مجھے ان کے عقیدے کے صحیح یا غلط ہونے سے سروکار نہیں اور نہ میں اس وقت اس بحث میں پڑنا چاہتا ہوں۔

میں مان لیتا ہوں کہ فریق ثانی کی طرف سے قسم یا مباہلہ کے مطالبہ پر ان کے لئے جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں قسم یا مباہلہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو یہ بات ہی نہیں۔ فریق ثانی یعنی خاکسار نے ان سے قسم یا مباہلہ کا قطعاً کوئی مطالبہ ہی نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے اس مسودہ کو شائع کر کے یہ بتا دیا ہے کہ وہ خود خاکسار کے ساتھ مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ انہوں نے یہاں تک فرمایا ہے کہ میں یہ مضمون جس کا مسودہ انہوں نے اب شائع فرمایا ہے اسی لئے لکھ کر احباب کی مجلس میں لے گیا تھا کہ کہیں شیخ عبدالرحمان مصری مجھ سے مطالبہ کر کے یہ راہ بند نہ کردے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ خاکسار کو مباہلہ کا اہل تو سمجھتے ہیں اور اس پر آمادگی بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ بلکہ ایک رنگ میں خاکسار کو مباہلہ کا چیلنج بھی دے چکے ہیں۔ صرف اگر انتظار ہے تو میری منظوری کا انتظار ہے۔ سو میں اس تحریر کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے خلیفہ کا چیلنج مباہلہ منظور ہے۔ مگر چونکہ انہوں نے اپنے مسودے میں جو ٢٠ نومبر کے الفضل میں شائع ہوا ہے جو الفاظ قسم اپنے لئے اور میرے لئے تحریر کئے ہیں وہ اس قدر مجمل ہیں کہ اصل معاملہ پر بالکل کوئی

١٠٦

روشنی نہیں ڈالتے۔ سے الفاظ قسم میں تر قسم یا مباہلہ کا مطا دے چکے ہیں۔ اس اگر وہ اپنی آمادگی پ جن پر مباہلہ ہونا اعتراض نہیں ہو س طرف سے الفاظ پ اور اگر ان الفاظ کے دیئے جائیں گے او میں اس مطالبہ نہیں کیا گیا ک کی طرف سے ہوا الفاظ کی ترمیم مباہل اب ہا اگر وہ مباہلہ کے ل اسے منظور کرلیں تو جو میرے لئے خلیف اپنا حلفیہ بیان شائ مطالبہ کر دیں جو ایک اگر خلیفہ کو یہ صور اٹھانے والے شخص اسی وقت خلافت اور اگر کوئی ان کی ب فتنہ اور تفرقہ سے مجھ

صفحہ ٥١٧

روشنی نہیں ڈالتے۔ اس لئے میں ان الفاظ میں ترمیم پیش کرنی چاہتا ہوں اور غالباً میری طرف سے الفاظ قسم میں ترمیم کا پیش کیا جانا اس بات کا مترادف نہیں قرار دیا جائے گا کہ میری طرف سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ ہو گیا ہے۔ خلیفہ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں اور ایک رنگ میں مجھے چیلنج دے چکے ہیں۔ اس پر انہیں قائم رہنا چاہئے اور الفاظ کے متعلق مجھ سے فیصلہ کر لینا چاہئے۔ پس اگر وہ اپنی آمادگی پر قائم ہیں تو اس کا اعلان کر دیں۔ میں وہ الفاظ ان کی خدمت میں بھیج دوں گا۔ جن پر مباہلہ ہونا چاہئے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسے الفاظ ہوں گے جن پر انہیں قطعاً کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اگر انہیں میرے الفاظ سے اتفاق نہ ہو تو انہیں حق ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے الفاظ پیش کریں۔ اگر میں ان الفاظ سے اتفاق کرلوں تو انہیں الفاظ پر مباہلہ ہو جائے گا اور اگر ان الفاظ کے متعلق ہمارا باہم سمجھوتہ نہ ہو سکا تو فریقین کے الفاظ جماعت کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے اور جماعت جن الفاظ میں کہے گی ان الفاظ میں مباہلہ کر لیا جائے گا۔

میں اس امر کو پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میری طرف سے قطعاً خلیفہ سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ اب مباہلہ کرنے میں ان کے لئے کوئی روک ہو۔ مباہلہ پر آمادگی کا اظہار ان کی طرف سے ہوا ہے اور میں نے ان کے چیلنج کو منظور کر کے صرف الفاظ میں ترمیم چاہی ہے اور الفاظ کی ترمیم مباہلہ کا مطالبہ نہیں کہلا سکتی۔

اب باوجود اس کے کہ مباہلہ پر آمادگی کا اظہار خود خلیفہ کی طرف سے ہوا ہے۔ پھر بھی اگر وہ مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوں تو میں ان کی خدمت میں ایک اور طریق پیش کرتا ہوں جو اگر وہ اسے منظور کر لیں تو ہمیشہ کے لئے جھگڑے کا خاتمہ کر دے گا اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ کے ان نقائص کے جو میرے لئے خلیفہ سے علیحدگی کا باعث ہوئے ہیں چشم دید گواہ ان نقائص کو صاف الفاظ میں لکھ کر اپنا حلفیہ بیان شائع کر دیں اور اپنے جھوٹا ہونے کی صورت میں خدا تعالیٰ سے آسمانی عذاب کا مطالبہ کر دیں جو ایک سال کے اندر اندر ان پر نازل ہو اور جس عذاب میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو۔ اگر خلیفہ کو یہ صورت منظور ہو تو وہ ساتھ ہی اس بات کا بھی اقرار شائع کر دیں کہ اگر ایسی حلف اٹھانے والے شخص پر ایک سال کے اندر اندر کوئی آسمانی عذاب نازل نہ ہوا اور وہ محفوظ رہا تو خلیفہ اسی وقت خلافت سے برطرف ہو جائیں گے اور تمام جماعت کو اپنی بیعت سے آزاد کر دیں گے اور اگر کوئی ان کی بیعت میں رہنا بھی چاہے تب بھی رہنے نہیں دیں گے اور اس طرح جماعت کو فتنہ اور تفرقہ سے محفوظ رکھیں گے۔ پس اگر یہ طریق خلیفہ کو منظور ہو تو میں حلف کے الفاظ آپ کی

١٠٧

صفحہ ٥١٨

خدمت میں بھجوا دوں گا اور اگر کوئی معقول ترمیم آپ نے پیش کی تو وہ بھی منظور کر لی جائے گی اور اگر خلیفہ نہ اس آمادگی پر قائم رہیں جو مباہلہ کے متعلق انہوں نے ظاہر کی ہے اور نہ میرے اس پیش کردہ طریق فیصلہ کو منظور کریں تو پھر میں اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لئے تیار ہوں جو خود انہوں نے اپنی ٢٠؍نومبر والے الفضل میں شائع شدہ خطبہ میں پیش کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایسے امور کا فیصلہ گواہیوں سے ہوتا ہے۔ پس جماعت کمیشن بٹھلائے اور میں گواہیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں اور میرا مطالبہ تو شروع سے یہی ہے۔ ہاں چونکہ اب خلیفہ نے جماعت کے اندر میرے خلاف تعصب پیدا کر دیا ہے اور گواہوں کے حاصل کرنے میں میرے راستے میں بہت روکیں ڈال دی ہیں۔ اس لئے کمیشن کے تقرر کے لئے میں چند شرائط پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جن کی پابندی کمیشن کو لازمی کرنی ہوگی۔ پس اگر جماعت کمیشن کے تقرر پر اپنی منظوری دے دے تو میں ان شرائط کو شائع کردوں گا اور ان میں کسی معقول ترمیم کے قبول کرنے میں مجھے کوئی عذر نہ ہوگا۔

تقرر کمیشن کی منظوری سے قبل ان شرائط کا شائع کرنا میں کسی خاص مصلحت کی بناء پر مناسب نہیں سمجھتا۔ ہاں میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کمیشن جماعت کے افراد پر ہی مشتمل ہوگا۔ کسی غیر کو اگر جماعت خود ممبر بنانا چاہے تو اس کی مرضی ورنہ میری طرف سے غیر کو اس کمیشن کا ممبر بنانے کا قطعاً کوئی مطالبہ نہیں۔ ساتھ ہی اس مقام پر اس غلط فہمی کو دور کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو بعض احباب کو خلیفہ کے ١٢؍نومبر والے خطبہ میں میرے ایک کمیشن قبول کرنے سے انکار کے ذکر سے پیدا ہوئی ہے۔

احباب کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ وہ کمیشن اس خاص معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لئے نہیں مقرر کیا گیا تھا۔ بلکہ وہ کمیشن کسی دوسرے معاملہ کی تحقیق کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور وہ معاملہ یہ تھا کہ خاکسار پر جو مظالم کئے جارہے تھے ان کی تحقیق کے لئے میں نے جماعت سے ایک کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن چونکہ خلیفہ نے اس کمیشن کے تقرر سے قبل ان کے متعلق اپنا فیصلہ بھی ساتھ ہی سنا دیا تھا کہ جو کچھ خاکسار کی طرف سے بیان کیا گیا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے اور یہ کہ وہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے یہ کمیشن بٹھلا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے کمیشن کا تو انکار نہیں کیا تھا بلکہ ان ممبروں پر اعتراض کیا تھا اور ساتھ ہی یہ عرض کیا تھا کہ چونکہ خلیفہ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں اور اس فیصلہ کی موجودگی میں احمدی ممبران سے یہ توقع مشکل ہے کہ وہ خلیفہ کی تحقیق کو غلط قرار

١٠٨

صفحہ ٥١٩

دیتے ہوئے ان کے خلاف فیصلہ دیں۔ اس لئے احمدی ممبران کے ساتھ دیگر مذاہب کے بھی بعض ممبر شامل کئے جائیں اور میرے نزدیک اس قسم کے معاملات میں غیروں کی شمولیت خلاف شریعت نہیں ہو سکتی۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ خلیفہ کے پیش از وقت فیصلہ سے خالص احمدیوں کے فیصلہ پر اثر ہونے کا قوی احتمال موجود ہو۔

اب میں نے خلیفہ کے پیش کردہ دونوں طریقوں کو منظور کر لیا ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ خلیفہ اپنے پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے اس جھگڑے کا فیصلہ کروا دیں گے۔

”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“

٢٥؍ دسمبر ١٩٣٧ء جماعت کا سچا خادم، خاکسار: شیخ عبدالرحمٰن مصری!

نمبر ٩...... فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور

بنگرانی شیخ عبدالرحمٰن مصری قادیان

ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جو حکم شیخ عبدالرحمٰن مصری کی اپیل کے خلاف دیا ہے۔ اس پر نظر ثانی کے لئے موجودہ درخواست ہے۔ شیخ عبدالرحمٰن مصری سے مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے حکم کے ماتحت ١٤؍ مارچ ١٩٣٨ء کو ضمانت حفظ امن طلب کی گئی تھی اور اس حکم کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے ٢٤؍ مئی ١٩٣٨ء کو اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا اب وہ عدالت ہذا میں نظر ثانی کی درخواست دے رہا ہے۔ چنانچہ اس عدالت کے ایک فاضل جج نے حکومت کو حاضری کا نوٹس دیا۔

موجودہ کارروائی کی تحریک کا اصل باعث وہ اختلاف ہے جو جماعت احمدیہ قادیان کے اندر رونما ہوا ہے۔ درخواست کنندہ اس انجمن کا صدر ہے جو خلیفہ سے شدید اختلاف کے باعث علیحدہ ہو چکی ہے۔ درخواست کنندہ کے خلاف اصل الزام یہ ہے کہ اس نے دو پوسٹر شائع کئے۔ اوّلاً پی اے ایگزبٹ جو مورخہ ٢٩؍ جون ١٩٣٧ء کو شائع ہوا اور ثانیاً ایگزبٹ پی جی جو ١٣؍ جولائی ١٩٣٧ء کو شائع کیا گیا۔ ان پوسٹروں کے ذریعے درخواست کنندہ نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ پوسٹر بجائے خود قابل اعتراض نہیں ہیں۔

مدعی نے ایگزبٹ پی جی میں سے ایک پیرا کی بناء پر اپنا دعویٰ قائم کیا ہے جو اس طرح شروع ہوتا ہے۔ ”میرے عزیزو، میرے بزرگو! آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی، ہاں! اس بھائی کو جو محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظلم کے پنجہ سے چھڑانے کے لئے اپنی عزت اپنے مال اپنے ذریعہ معاش اور اپنے آرام کو قربان کر دیا ہے۔.....“

١٠٩

صفحہ ٥٢٠

مدعی کا دارو مدار ایک اور پیرا بھی ہے جس کا خلاصہ یوں دیا جا سکتا ہے۔ ”موجودہ خلیفہ میں ایسے سخت عیوب ہیں کہ اسے معزول کرنا ضروری ہے اور میں نے اپنے آپ کو جماعت سے اس لئے علیحدہ کیا ہے تاکہ میں ایک نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے جدوجہد کر سکوں۔“

میری رائے میں متذکرہ بالا قسم کے بیانات بجائے خود ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بناء پر کسی شخص کی حفظ امن کی ضمانت طلب کی جائے۔ مگر عدالت میں درخواست کنندہ نے ایک تحریری بیان دیا ہے جس کے دوران میں اس نے کہا ہے کہ: ”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

درخواست کنندہ نے آگے چل کر بیان کیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کو اس قسم کے گندے شخص سے آزاد کرائے۔ اب اگر پوسٹر کو جس کا خلاصہ میں نے اوپر بیان کیا ہے درخواست کنندہ کے اس بیان کی روشنی میں جو اس نے عدالت میں دیا ہے پڑھا جائے۔ جیسا کہ بہت سے پڑھنے والے ایسا کریں گے تو ان کا رنگ کچھ اور ہی ہو جائے گا اور میری رائے میں یہ امر قابل اعتراض ہو جاتا اور حفظ امن کی ضمانت طلبی کا متقاضی ہے۔

ایک اور امر بھی ہے۔ مورخہ ٢٣ جولائی کو خلیفہ نے ایک خطبہ دیا جو بعد میں یکم اگست کے اخبار الفضل میں جو کہ جماعت کا سرکاری پرچہ ہے چھپا۔

اس خطبہ میں خلیفہ نے جماعت سے علیحدہ ہونے والے شخصوں پر حملے کئے ہیں اور ایسے الفاظ ان کی نسبت استعمال کئے ہیں جن کی نسبت میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ منحوس Unfortunate اور افسوسناک تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فخر الدین نے جو اس انجمن کا سیکرٹری تھا۔ جس کے صدر شیخ عبدالرحمن مصری ہیں۔ ان کا جواب لکھا جس میں اس نے یہ کہا: ”اسی لئے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی در مخفی حقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہو جائے کہ کس کا خاندان فحش کا مرکز یا باالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا۔“

١١٠

صفحہ ٥٢١

اب اس بیان میں خلیفہ کے خطبہ کے بیان کی طرف اشارہ ہے جس میں اس نے اپنے دشمنوں اور مخالفین کے خاندانوں کے متعلق یہ کہا تھا کہ ان میں سے حیا اور پاکیزگی جاتی رہے گی اور وہ فحش کا اڈا بن جائیں گے۔ میری رائے میں فخر الدین کے اس پوسٹر کا مطلب صاف اور واضح ہے اور ایسا ہی قادیان میں اس کا مطلب سمجھا گیا۔ کیونکہ صرف دو دن بعد سات اگست کو ایک متعصب مذہبی مجنوں نے فخر الدین کو مہلک زخم لگایا۔

میاں محمد امین خان نے جو درخواست کنندہ کا وکیل ہے۔ اس امر پر زور دیا ہے کہ شیخ عبدالرحمن مصری اس آخری پوسٹر کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ واقعات یہ ہیں کہ انجمن ایک مختصر سی حیثیت رکھتی تھی جس کا صدر عبدالرحمن اور سیکرٹری فخر الدین تھے۔ اصل پوسٹر ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ جو اب دستیاب نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس کی نقل ایک کانسٹیبل نے کی تھی۔ جس کا یہ بیان ہے کہ اس کے پیچھے فخر الدین سیکرٹری مجلس احمدیہ کے دستخط تھے۔ مگر اس امر کے برخلاف فخر الدین کے لڑکے نے اصل مسودہ پیش کیا ہے جو اس کے باپ نے اس کی موجودگی میں لکھا تھا اور جس کے نیچے صرف اس قدر دستخط ہیں۔ فخر الدین ملتانی، میں کانسٹیبل کے بیان کو قابل قبول سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اسے جھوٹ کہنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی جو وجہ صفائی کے گواہ میں پائی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس کا مقصد اپنے لیڈر کو چھڑانا ہے۔

یہ امر کہ فخر الدین نے اصل مسودہ پر سیکرٹری کے الفاظ نہ لکھے تھے۔ ظاہر نہیں کرتا کہ صاف کردہ اور شائع کنندہ کاپی پر بھی یہ الفاظ نہیں لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں شیخ عبدالرحمن پر بھی اس پوسٹر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خصوصاً اس بیان کے سامنے جو انہوں نے عدالت میں دیا ہے۔ ان حالات میں مقامی حکام نے شیخ عبدالرحمن کے برخلاف جو کچھ کارروائی حفظ امن کی ضمانت کی کہ وہ مناسب تھی۔ ایک ہزار روپیہ کی ضمانت کچھ بھاری ضمانت نہیں ہے اور یہ ضمانت دی جاچکی ہے اور نصف سے زائد عرصہ گزر بھی چکا ہے۔ لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

دستخط: ایف ڈبلیو سکیمپ جج

مورخہ ٢٣؍ ستمبر ١٩٣٨ء

(عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور)

بالمقابل حلف مؤکد بعذاب قسم کھا کر خلیفہ کی نیک چلنی کی تردید کریں

جناب چوہدری غلام رسول صاحب ایم۔ اے

١١١

صفحہ ٥٢٢

غلام رسول ایم اے کا مطالبہ حق

چوہدری صاحب موصوف سرگودھا چک نمبر ٣٥ جنوبی کے رہنے والے ہیں۔ آپ مخلص احمدی ہیں۔ آپ کا بارہا ذکر خلیفہ نے اخبار الفضل میں کیا۔ آپ نے ربوہ میں بھی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے جب خلیفہ کی بدکرداری اور سیاہ کاری پر اصلاحی طور پر تنقید کی تو آپ کو ربوہ کالج چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ پھر آپ نے لاہور آکر تعلیم کو جاری رکھا۔ پنجاب یونیورسٹی سے نمایاں طور پر کامیابی حاصل کی اور ساتھ ہی ساتھ بدستور اخباروں اور لیکچروں میں بھی خلیفہ کی بداعمالیوں کے متعلق بانگ دہل للکارتے رہے۔ آپ کا بیان مندرجہ ذیل ہے:

”میرا خلیفہ کی بیعت سے علیحدگی کا سبب خلیفہ کی بدچلنی، بدکرداری، زنا کاری اور غیر فطرتی افعال کا ارتکاب ہے۔ یہ الزامات خلیفہ ربوہ کی ذات پر متواتر نصف صدی سے لگ رہے ہیں۔ اب خلیفہ اپنی بدکاریوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے جنون کے ابتدائی دور میں سے گذر رہے ہیں اور مفلوج اور پیری کا شکار ہونے کی وجہ سے مضمحل الاعضاء اور مخبوط الحواس ہیں۔ اس وجہ سے الزامات کی تردید کے لئے ان سے مخاطب نہیں ہوتا۔ بلکہ مرزا بشیر احمد ایم اے۔ مرزا شریف احمد (دونوں خلیفہ کے بھائی ہیں) نواب مبارکہ بیگم، امۃ الحفیظ (دونوں خلیفہ کی ہمشیرگان ہیں) مرزا ناصر احمد ایم اے، مرزا مبارک احمد بی اے، ڈاکٹر مرزا منور احمد ایم بی بی ایس اور دیگر خلیفہ کے صاحبزادگان وصاحبزادیاں اور خلیفہ کی ازواج اور خلیفہ کے مخلص مرید چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں جج عالمی عدالت سید فہیم احمد ابن سید عزیز اللہ شاہ (خلیفہ کے نسبتی بھائی ہیں) مولوی عبدالمنان عمر ایم اے سے کہتا ہوں۔ اگر وہ خلیفہ کو نیک چلن، خدا رسیدہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق سمجھتے ہیں تو خلیفہ پر عائد کردہ الزامات بالمقابل حلف مؤکد بعذاب قسم کھا کر تردید کریں۔

میں قارئین سے کہوں گا کہ یہ لوگ خلیفہ ربوہ کی سیاہ اعمالیوں سے خوب واقف ہیں۔ اس وجہ سے کبھی وہ الزامات کی حلفیہ مؤکد بعذاب قسم کھا کر تردید نہیں کریں گے۔ اگر وہ میرے اس بیان کو غلط اور بے بنیاد تصور کریں میں ان سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ والسلام! غلام رسول ایم۔اے

١١٢

PDF 524

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم

کمالات محمودیہ

جناب مظہر الدین ملتانی

صفحہ ٥٢٤

انتساب

ان معصوم روحوں کے نام جو مذہب کے نام پر قادیانی تشدد کا نشانہ بنیں اور جن کی آہوں اور سسکیوں سے بالآخر طوفان آیا۔ جس میں قادیانی نہنگوں کے نشیمن تہ و بالا ہوگئے۔ قومی اسمبلی نے ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کے تاریخ ساز فیصلہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر پاکستان کو ان کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ کر دیا۔

نیاز مند محمد مظہر الدین ملتانی!

٢

صفحہ ٥٢٥

کمالات محمودیہ

جس میں بد باطن دجال کے دجل وفریب کے چند اہم مگر پوشیدہ اوراق درج کئے گئے ہیں۔ اس کے پڑھنے کے بعد کئی سعید روحیں ہدایت کی نعمت سے فیضیاب ہو سکتی ہیں۔

سعید روحوں کی ہدایت کے لئے یہ کتاب بطور ایک نشان کے پیش کی جا رہی ہے۔ کیونکہ مرزا محمود احمد خلیفہ نے مذہب کے نام پر طویل عرصہ تک نہ صرف بلیک میلنگ کی بلکہ بانی سلسلہ اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کے اصولوں سے صریح انحراف کیا۔ مذہب کے نام پر ناروا سکیمیں مرتب کر کے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے۔ اپنی بدکرتوتوں کو چھپانے کے لئے قتل وغارت، جھوٹ، مکر و فریب اور دغا بازی سے کام لیا اور خود کو بھی مقدس ظاہر کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ لیکن خدا کے گھر میں دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔ اس نے طویل مہلت کے بعد اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ دماغ ماؤف ہوا اور فالج کا شکار رہا۔ کروٹ لینے کے لئے بھی دوسروں کا سہارا لیتا۔ حتیٰ کہ ٹٹی پیشاب بھی چار پائی پر کرتا رہا اور متواتر گیارہ سال بستر مرگ پر پڑا رہا۔ بالآخر سسک سسک کر دم نکلا اور آنجہانی ہو گیا۔ اس طرح اس کی ایک چہیتی بیوی مریم تھی اور یہ بھی اس کی بدکاریوں میں برابر کی شریک تھی۔ یہ بھی آتشک جیسی موذی مرض میں مبتلا ہو گئی۔ اس کا تمام بدن سر سے پیر تک گل سڑ گیا۔ تمام ظاہری کوششوں کے باوجود یہ بھی آنجہانی ہو گئی۔ (پوری تفصیل کے لئے کتاب ربوہ کا پوپ دیکھئے)

غرضیکہ اس کی وہی حالت ہو گئی جو کسی زمانہ میں امریکہ کے ڈاکٹر ڈوئی کی تھی۔ یہ نشان اپنی آنکھوں سے دیکھئے اور ایسے ناپاک انسان کی پیروی سے نجات حاصل کیجئے۔ اس کتاب میں مذہبی اور دنیاوی طریق سے تمام دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ تا کہ کم از کم جماعت ربوہ کا ہر فرد ایسے بدکردار کا احتساب کر سکے۔ یہ کتاب محض خدمت اور بطور نشان کے اصول پر مرتب کی گئی ہے تا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے والوں کی صحیح تاریخ دنیا کے سامنے آ جائے۔ اس ناپاک انسان نے مقدس دین کو بازیچہ اطفال بنایا۔ جعلی نبوت اور مصلح ہونے کا ڈھونگ رچا کر اسلامی اصطلاحوں سے اپنے آپ کو بریکٹ کیا۔ اب مرزا محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارکہ بیگم، امۃ الحفیظ (بھائی بہن) تمام کے تمام بدکرداری کے لحاظ سے بے مثل ہیں۔ پنجتن پاک سے مشابہت دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس نجس لعنتی رہنما نے

٣

صفحہ ٥٢٦

یہ بکواس بھی کی ہے کہ کوئی شخص آقائے دوجہاں سرور کائنات خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے تمام من گھڑت عقائد جو انگریز کے زیر سایہ جنم لیتے رہے اس کے اپنے بدکرداری کی وجہ سے نہ صرف باطل بلکہ ذلیل و رسوا ہو گئے۔

یہ کتاب اپنی افادیت اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے موجودہ مذہبی لٹریچر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عام شخص کو سمجھنے اور سمجھانے میں بہترین معاون و مددگار ہوگی۔ اس کی خصوصیت سے کئی سعید روحیں ہدایت کی نعمت سے فیضیاب ہو سکتی ہیں۔

پس ہر صداقت پسند انسان سے مخلصانہ اپیل ہے کہ اس کتاب کا اول سے آخر تک بغور مطالعہ کرے تاکہ حق و باطل میں خود بھی فیصلہ کر سکے۔ اس لئے اپنی پہلی فرصت میں منگوا کر فائدہ اٹھائیے؟ تبلیغی مقاصد کے لئے استعمال کیجئے اور ایسے ناپاک نجس رہنما سے خلاصی پا کر ابدی سکون حاصل کیجئے؟

میں اللہ تعالیٰ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھ جیسے عاجز انسان کو اس بد باطن دجال کا دجل و فریب آشکارا کرنے کے لئے توفیق دی اور ہر آنے والے خطرات کو حرف غلط کی طرح دل و دماغ سے نکال کر خدمت گزاری کی جرأت بخشی ہے۔ بالآخر قارئین سے امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔ اس کی اشاعت میں ہر ممکن تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں گے۔ خادم ملت: محمد مظہر الدین ملتانی!

(نوٹ ....... اس کتاب کا یہاں پر ”حرف آغاز“ تھا ۔ وہی ”تاریخ محمودیت“ میں بھی ہے جو پہلے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس لئے یہاں حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

چند قابل غور حقائق ....... جنسی انارکی

شفیق مرزا، بی اے!

(نوٹ ....... یہی مضمون ”شہر سدوم“ میں آ رہا ہے اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

امام جماعت احمدیہ کا اعلان ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں

”اسلام کے خلاف بھارت میں شائع شدہ ’مذہبی راہنما‘ کے جواب کا صحیح طریق یہ ہے کہ ہم اس کا مدلل رد لکھیں اور اس کی وسیع اشاعت کریں۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍نومبر ١٩٦١ء)

٤

صفحہ ٥٢٧

پھر مزید فرمایا: ”میں نے اس پر خطبہ پڑھا اور کہا کہ یہ ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں ۔ تب تو ان لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو گا کہ ہماری باتوں کا جواب کوئی نہیں۔ واقعہ میں محمد رسول اللہ ﷺ ایسے ہی ہوں گے ۔ تبھی کتاب ضبط کرتے ہیں۔ اس کا جواب نہیں دیتے ۔ اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب دیا جاتا اور امریکہ اور ہندوستان میں شائع کر دیا جاتا ۔“

(الفضل مورخہ ١٢/ مارچ ١٩٥٧ء)

ناپسندیدہ بات دیکھ کر خاموش نہ رہو بلکہ اصلاح کی کوشش کرو

(نوٹ ....... یہ مضمون پہلے ”تاریخ محمودیت“ میں گزر چکا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے ۔ مرتب!)

مرزا محمود کی طرف سے کھلی اجازت

(نوٹ ....... یہ مضمون بھی پہلی کتاب میں گزر چکا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے ۔ مرتب!)

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

لیکن اخبار الفضل میں بارہا ناظر امور عامہ کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے کہ مخالفین یعنی گھر کے بھیدی کا جو لٹریچر بھی احمدیوں کے پاس پہنچے اس کو مت پڑھیں ۔ بلکہ وہ مرکز (ربوہ) میں بھیج دیں۔

(الفضل مورخہ ٧/اپریل ١٩٥٧ء)

پھر اسی الفضل میں اپنے خلف الرشید کو تاکید کی جاتی ہے کہ ستیارتھ پرکاش جیسی گندی کتاب ضرور پڑھا کرو ۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میرے بچے جوان ہو گئے ہیں۔ میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے علاوہ ستیارتھ پرکاش اور انجیل وغیرہ بھی پڑھا کرو۔“

(الفضل مورخہ ٢/اگست ١٩٣٩ء)

دس شرائط بیعت

(نوٹ ....... یہ شرائط پہلی کتاب میں موجود ہیں۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دی ہیں ۔ مرتب !)

٥

صفحہ ٥٢٨

صدق و کذب میں فیصلہ کا آسان طریق

(یہ پندرہ عنوانات اور اس کا تمام مواد اور اس کے بعد ٢٨ قادیانی شہادتیں مرزا محمود کی بدکرداری پر پہلے کتاب تاریخ محمودیت میں گزر چکے ہیں۔ یہاں سے حذف کر دیئے ۔ مرتب!)

(یہ مضمون بھی کتاب میں موجود ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

روایت نمبر :١...... اب کہاں جائیں

بیان کیا مجھ سے مع تین گواہ کے ثریا بیگم، ناصرہ بیگم کی سہیلی ناصرہ بیگم کے پاس گئی ۔ رات کو وہ ایک چار پائی پر سو گئی۔ رات کو مرزا محمود احمد ان کے پاس گئے اور بیٹی کی موجودگی میں ہی اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور لڑکی نے باقاعدہ مقابلہ کیا۔ مرزا محمود احمد نے یہ بات بنائی کہ میں سمجھا میری بیوی ہے۔ ثریا نے اس کے جواب میں کہا کہ سہیلیاں تو اکٹھی سو جاتی ہیں۔ مگر بیوی جس کی باری چوتھے دن آتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی باری کے دن جا کر اپنی بیٹی کے پاس

٦

صفحہ ٥٢٩

سو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مان بھی لیا

صفحہ ٥٣٠

کے پستانوں کو نہ چھیڑا جائے مزہ کیا ہے۔ مرزا محمود احمد نے جواب دیا۔ اس عورت کو خیال ہے کہ اس کے پستان چھوٹے ہیں۔ اس لئے وہ اس کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ نوجوان نے کہا پستانوں کے چھیڑے بغیر اس کام کا مزہ کیا ہے۔ اس فعل سے پہلے مرزا محمود احمد نے فریقین کو تاکید کی تھی کہ ایک دوسرے سے بات نہ کریں۔

روایت نمبر : ٦...... مرزا محمود احمد کی بیوی اور سردار دیوان سنگھ مفتون

بیان کیا مجھ سے کہ ایک دفعہ آپ کی بیگم مریم نے اس نوجوان کو خط لکھا کہ فلاں وقت مسجد مبارک ( قادیان) کی چھت کے ملحقہ کمرہ ہے۔ فلاں وقت آجانا اور دروازہ کو کھٹکھٹانا اور میں تمہیں اندر بلالوں گی۔ چنانچہ وہ نوجوان گیا۔ بیگم صاحبہ نے اندر بلا لیا۔ اس کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ ریشم میں ملبوس سولہ سنگھار کئے کمرہ سجا ہوا موجود تھی۔ اس نوجوان نے کبھی عورت نہ دیکھی تھی۔ چہ جائیکہ سولہ سنگھار کئے ہوئے ایسی خوبصورت عورت وہ مبہوت ہو گیا۔ اس نوجوان نے کہا کہ حضور اجازت ہے۔ انہوں نے جواب دیا ایسی باتیں پوچھ کر کی جاتی ہیں۔ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کیا۔ کیونکہ اس کے جذبات مشتعل ہو چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ گرو جی کچہری میں ہی نہال ہو جائیں گے۔ اس لئے اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔ بیگم صاحبہ مذکور نے جو خط اس نوجوان کو لکھا تھا اس خط کو واپس مانگنے کا تقاضا کیا۔ اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے اس کو تلف کر دیا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد مرزا محمود احمد کا پرائیویٹ سیکرٹری میاں محمد یوسف اس نوجوان کے پاس آیا اور کہا میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس حضور (مرزا محمود احمد ) کی بیوی کے خطوط ہیں اور آپ اس کو چھاپنا چاہتے ہیں۔ اس نوجوان نے جواب دیا۔ بہت افسوس ہے کہ آپ کو بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہے۔ اگر کسی پر اعتماد نہیں تو وہ حضور کی بیویاں ہیں۔ اس نوجوان نے بیان کیا کہ حضور کی ایک بیوی نے سردار دیوان سنگھ مفتون کو مرزا محمود احمد کی حرکات شنیعہ سے باخبر رکھا۔ جس پر سردار دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر ریاست نے اخبار ریاست میں لکھا کہ مرزا محمود احمد کو گدی سے معزول کر دینا چاہئے۔ یہ نوجوان بفضل تعالیٰ بقید حیات ہے اور قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ گواہی دینے کو تیار ہے اور کہتے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب مجھ پر ہو۔

روایت نمبر : ٧...... مرزا بشیر احمد کے چال چلن کی داستان طویل کہانی

بیان کیا مجھ سے صوبہ سرحد کے ایک نوجوان جس کا نام غیور احمد ہے۔ خان محمد علی خان

٨

صفحہ ٥٣١

کے بیٹے ہیں۔ یہ نوجوان بے حد خوبصورت تھا۔ مرزا بشیر احمد اس کے ولی مقرر ہوئے۔ میاں صاحب نے اس کے لئے بورڈنگ ہاؤس میں Partition کروا کر الگ کمرہ بنوا دیا تھا۔ غیور احمد میٹرک کا امتحان دے کر بٹالہ سے قادیان آیا۔ رات کے بارہ بجے مرزا بشیر احمد کو معلوم ہوا کہ غیور آ گیا ہے۔ وہ بارش میں بھیگتے ہوئے بورڈنگ ہاؤس میں پہنچ گئے۔ بورڈنگ ہاؤس کا دروازہ بند تھا۔ اس لئے باہر کھڑکی میں کھڑے ہو کر غیور سے باتیں کرتے رہے۔ مرزا بشیر احمد کی خواہش تھی کہ غیور کی شادی حضور کی صاحبزادی ناصرہ بیگم سے ہو جائے اور معاملہ آسان بنانے کے لئے اپنے گھر میں ان دونوں کی ملاقاتوں کا انتظام کرتے رہے۔ مگر حضور (مرزا محمود احمد ) نے یہ رشتہ منظور نہ کیا۔ غیور کو منشیات کی عادت تھی۔ افیون اور شراب وغیرہ غیور نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ میں اس دیرینہ محبت کو جو مجھے ناصرہ جیسی بے وفا لڑکی سے تھی ہمیشہ کے لئے بھلا دینا چاہتا ہوں۔ خان دلاور خان ڈپٹی کمشنر صوبہ سرحد نے اپنے حالات میں لکھا ہے کہ مرزا بشیر احمد نے سفارش کی کہ غیور کو اپنی بیٹی کا رشتہ دے دو۔ انہیں ایام میں ڈاکٹر بشیر احمد ان کے پاس آئے۔ دلاور خان نے مرزا بشیر احمد کی سفارش کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس کو منشیات کی عادت ہے اور بعد میں انہی منشیات کی وجہ سے چل بسا۔ مرزا بشیر احمد کے چال چلن کی داستان ایک طویل کہانی ہے۔ جس کا مفصل ذکر پھر کبھی کیا جائے گا۔

روایت نمبر : ٨ ...... پان کا پتہ

بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر نذیر احمد ریاض نے بیان کیا کہ مجھے مہر آپا ( بشریٰ ) سے خلوت کا موقع ملا اور میں نے دیکھا ان کے زیر ناف بال نہیں ہیں فرجہ بالکل ایسے جیسے پان کا پتہ۔

روایت نمبر: ٩ ...... بیٹے کا والدہ کے نام عشقیہ خطوط

بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر نذیر احمد ریاض نے حضور (مرزا محمود احمد ) کے ایک صاحبزادے (رفیع احمد وغیرہ ) کی سوتیلی والدہ سے خط و کتابت تھی۔ سب پوسٹ ماسٹر ربوہ کبھی کبھی دلچسپی کی خاطر بعض خطوط کھول لیا کرتے تھے۔ حضرت صاحب کے صاحبزادے نے اپنی سوتیلی والدہ کو یہ شعر لکھا؎

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پتہ
اپنے وعدوں کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

سوتیلی والدہ نے لکھا۔ یہ خبیث بڈھا نہ مرتا نہ ہمارا پیچھا چھوڑتا ہے۔

٩

صفحہ ٥٣٢

روایت نمبر: ١٠..... لڑکی بے ہوش ہو گئی

بیان کیا مجھ سے مرزا محمود احمد نے اپنی صاحبزادی جو ابھی بالغ نہیں ہوئی تھی۔ پکڑ کر زبردستی اس کے ساتھ زنا کیا۔ (فعل شنیعہ کیا) وہ لڑکی بے ہوش ہو گئی۔ جس پر اس کی ماں نے کہا کہ اتنی جلدی کیا تھی ایک دو سال ٹھہر جاتے۔ یہ کہیں بھاگی جارہی تھی۔ تمہارے پاس اور کوئی عورت نہ تھی۔

روایت نمبر: ١١.....عبرتناک انجام

بیان کیا مجھ سے مریم بیگم اہلیہ مرزا محمود احمد بہت ہی خوبصورت عورت تھی اور مرزا محمود احمد کے افعال مذمومہ میں شاید ہی کسی اور عورت نے اتنا تعاون کیا ہو۔ مگر جیسا عبرتناک انجام اس عورت کا ہوا ہے شاید ہی کسی اور عورت کا ہوا ہو۔ اس کے رحم میں پیپ پڑ گئی تھی۔ اس کا سارا رحم گل سڑ گیا۔ بالآخر اسی سے اس کی موت ہوئی۔ اس کے جسم سے بو آتی تھی کہ چار دفعہ کفن بدلا گیا۔ پانچویں دفعہ ڈاکٹر حشمت اللہ کورے لٹھے کا کفن لے آئے۔ خادمہ نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ عورت تو ہمیشہ ریشم میں ملبوس رہی اور آپ اس کے لئے کورے لٹھے کا کفن لے آئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ چپ رہو۔ چار کفن لا چکا ہوں۔ نہ معلوم کتنے اور لانے پڑیں گے۔

روایت نمبر: ١٣..... ایڈووکیٹ نے مقدمہ واپس کر دیا

بیان کیا مجھ سے ایک دفعہ مرزا محمود احمد رقاصہ مس روفو (اٹالین) قادیان لے آئے۔ اس پر مولانا ظفر علی خان نے ایک نظم لکھی۔

ہوٹل سسل کی رونق عریاں کہاں گئی
اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی

اور دیگر اخباروں نے بھی اعتراض کیا جس کے جواب میں مرزا محمود احمد نے خطبہ پڑھا اور بتایا۔ مس روفو کو اپنے بچوں کو انگریزی پڑھانے کے لئے لایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد وہ رقاصہ ایڈووکیٹ کے پاس گئی اور کہا مرزا محمود احمد نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے وہ مجھ سے زنا بھی کرتے رہے اور ایک دفعہ زنا کے وقت ان کی بیٹی بھی کمرہ میں موجود تھی۔ اس ایڈووکیٹ نے کہا کہ مس صاحبہ اس بیان کو کون مانے گا میں آپ کا مقدمہ نہیں لے سکتا۔

١٠

صفحہ ٥٣٣

(یہ تمام عنوان اور اس کا مواد پہلی کتاب میں موجود ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

پنڈت چاند نرائن مجسٹریٹ بٹالہ

اس ضمن میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ١٩٣٧ء میں پنڈت چاند نرائن مجسٹریٹ بٹالہ کی عدالت میں شیخ عبدالرحمن مصری کی طرف سے مرزا محمود احمد کے خلاف زنا کاری کے الزام میں گواہ پیش ہونے تھے تو اس مقررہ تاریخ پر مخالف پارٹی نے سرتوڑ کوشش کی کہ ہر ممکن طریق سے اس کو تبدیل کر کے اس کی سماعت روک دی جائے۔ اس مقررہ تاریخ پر تمام گواہ بھی حاضر عدالت تھے۔ لیکن ان کی سرتوڑ کوشش بار آور ثابت ہوئی۔ تقریباً بارہ بجے ڈی سی گورداسپور کا تار پنڈت چاند نرائن مجسٹریٹ بٹالہ کے نام آگیا۔ جس کا مفہوم یہ تھا۔ یہ مقدمہ ڈی سی گورداسپور منتقل کر دیا جائے۔ اس طرح اس کی سماعت میں روک پیدا ہو گئی۔

اس مقدمہ کی مثل پر مجسٹریٹ صاحب بٹالہ نے یہ الفاظ تحریر کئے جس کا مفہوم بھی یہ تھا

١١

صفحہ ٥٣٤

کہ شیخ عبدالرحمن مصری کی طرف سے مرد اور عورتیں جو گواہ مطلوب تھے حاضر عدالت ہیں۔ چونکہ ڈی جی گورداسپور کی تار سماعت روکنے کی آگئی ہے۔ اس لئے بموجب ان کے حکم کی تعمیل میں یہ کیس ڈی جی گورداسپور منتقل کرتا ہوں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ مدعی کی انتہائی خواہش تھی کہ مرزا محمود کی بدچلنی کے گواہ بھگت جائیں۔ آخر اصرار پر پنڈت چاند نرائن مجسٹریٹ بٹالہ گواہیاں لینے پر آمادہ ہوگئے تو مرزا محمود کی پارٹی بڑی سٹ پٹائی۔ آخر وہ مقرر دن آپہنچا۔ عین بارہ بجے کے قریب ڈی جی گورداسپور کی تار مجسٹریٹ صاحب بٹالہ کے نام متعلق مقدمہ آگئی۔ جس کی وجہ سے سماعت کا مرحلہ ختم ہوگیا اور مخالف پارٹی کی جان میں جان آئی۔ اس مقدمہ کو تبدیل کرنے کا مقصد صرف گواہیوں کو روکنا تھا۔ اس طرح ان کی سرتوڑ کوشش کامیاب ہوگئی۔

بہرحال ہم نے ان کے ہر مطالبہ کو تسلیم کیا تاکہ ان کو فرار ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ فیصلہ کی آسان سے آسان راہ اختیار کی۔ تاکہ مرزا محمود کی پاکبازی منظر عام پر آجائے۔ اگر ان کے اپنے مکتب فکر سے دیکھا جائے ان کے لئے اپنے والد بزرگوار کی تحریر ہی کافی تھی اور ہے۔ یعنی زانی، بدکار، عیاش کے متعلق ایک قطعی فیصلہ دیا ہے جو درج ذیل ہے:

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔

(الحکم مورخہ ٢٤ مارچ ١٩٠٢ء)

کرتے دیکھا یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا۔ اگر میں اس بے بنیاد افتراء کے لئے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٣)

تو اس کی طرف آنے میں ہچکچاہٹ کیوں! جب آپ کا دعویٰ ہے کہ خلیفہ سے خدا خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے۔ اس عدالت میں حضرت اقدس کا حوالہ بھی یہی مطالبہ کرتا ہے۔ پھر ڈرتے کیوں ہو۔ ہاں میں عرض کر رہا تھا حضرت اقدس کا قطعی فیصلہ ہے یا آپ کی نگاہ میں حضرت اقدس کی کتابوں میں ایسا حوالہ موجود ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ بدکار عیاش بھی مصلح موعود ہوسکتا ہے تو خدا کی قسم اگر یہ حوالہ میرے علم اور سمجھ میں آگیا تو میں سرتسلیم خم کروں گا۔ ورنہ بصورت دیگر آپ کا فرض ہوگا کہ حضرت اقدس کے ان حوالوں کی موجودگی میں جو بدکار کے لئے آپ نے لکھا ہے عمل کرنا ہوگا اور جماعت کے ہر فرد کو احتساب کرنا پڑے گا۔

١٢

صفحہ ٥٣٥

آخری پیغام جماعت احمدیہ کے نام

(یہاں تک تمام عنوانات پہلی کتاب میں موجود ہیں۔ اس لئے یہاں سے حذف کئے ۔نوٹ:آگے عبدالرحمن مصری کی تحریرات مرزا محمود خط و کتابت بھی بوجہ پہلی کتاب میں ہونے کے یہاں سے حذف کر دی ہے۔ مرتب!)

(یہ مضمون بھی پہلے آ گیا ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا۔ مرتب!)

= (نوٹ...... یہ مستقل رسالہ ہے۔ آگے آ رہا ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ کا راستبازوں پر حملہ

میاں محمود احمد پر ان کے مریدین کے الزامات اور بریت کا نرالا طریق تمام راستبازوں پر حملہ مرزا محمود پر جب بھی ان کے مرید باصفا نے الزامات کی بوچھاڑ کی تو انہوں نے بجائے صفائی کے اپنی بریت کے لئے مقدس ہستیوں پر الزام لگانے شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جن مریدوں نے بھی اس پر بدکرداری اور بدچلنی کے الزام عائد کئے۔ انہوں نے ہر قسم کی سہولت اور تین آسان طریق فیصلہ بھی پیش کئے۔ مثلاً (١) آزاد کمیشن ۔ (٢) عدالت ۔ (٣) مباہلہ لیکن اس کو اس امر کی کبھی جرات نہیں ہوئی کہ مذکورہ بالا صحیح طریق سے اپنی بریت کر سکے۔ لیکن برعکس اس کے مقدس ہستیوں پر بہتان تراشی شروع کر دی۔ اس کے جواب میں مولانا محمد علی صاحب

١٣

صفحہ ٥٣٦

امیر جماعت احمدیہ لاہور نے ایک پمفلٹ لکھا تھا۔ جس میں مخفی در مخفی حقائق کو احسن طریق سے منظر عام پر لائے گئے۔ ہدیہ ناظرین ہے۔

٢؍ دسمبر ١٩٣٨ء کے خطبہ میں جو ٨؍ دسمبر کے ”الفضل“ میں چھپا ہے۔ جناب میاں صاحب نے حسب معمول سورہ فاتحہ کی تفسیر کی جس کا عنوان ہے ”شیخ عبدالرحمٰن مصری کی نہایت ہی گندی گالیاں اور مولوی محمد علی صاحب“ میرا قصور صرف اس قدر ہے کہ ہائیکورٹ کے ایک مطبوعہ فیصلہ کی بناء پر جس میں میاں صاحب کے خلاف ان کے ایک سابق مرید کے خطرناک الزامات درج تھے۔ خطبہ جمعہ میں میں نے یہ کہا تھا کہ وہ قادیان جس کی شہرت مرزا قادیانی کے زمانے میں راست بازی اور پاکیزگی کی وجہ سے تھی۔ آج اس کی دوسری قسم کی شہرت دنیا میں پھیل رہی ہے۔ جناب میاں صاحب نے اس پر بہت اظہار غیظ فرمایا ہے۔ مگر جو امر بہت قابل افسوس ہے۔ وہ یہ ہے کہ میاں صاحب کی یہ کوشش ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں بھی قادیان کی شہرت نیکی اور راست بازی کی وجہ سے نہ تھی اور اس زمانے میں دشمن تو ایک طرف رہے۔ مرزا قادیانی کے مرید بھی نعوذ باللہ من ذالک مرزا قادیانی پر ایسے ہی الزام لگایا کرتے تھے۔ جیسے آج میاں صاحب کے مرید ان پر لگا رہے ہیں۔ سبحانك هذا بهتان عظيم ! نہیں بلکہ وہ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کو بھی نعوذ بالله من ذلك ! ایسے ہی الزامات کا مورد ٹھہراتے ہیں۔

میاں صاحب کو اپنی بریت کا اب یہی ایک طریق نظر آتا ہے کہ وہ راست بازوں کو بدنام کریں۔ مجھے اس سے انکار نہیں کہ بعض بد باطن دشمن ایسے بھی ہوتے ہیں کہ بلاوجہ جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ لیکن پرانے زمانے کے احمدیوں اور غیر احمدیوں دونوں سے کوئی دریافت کر لے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ قادیان میں لوگ آتے تھے تو وہ مرزا قادیانی کے دشمنوں سے مل کر آپ کے حالات دریافت کرتے تھے اور تب بیعت کرتے تھے جب دشمنوں کو بھی آپ کی نیکی اور راست بازی کا قائل پاتے تھے۔ باوجود عقائد سے مخالفت کے مسلمان اور ہندو سب آپ کی نیکی اور راست بازی کے قائل تھے اور آپ کے کریکٹر پر کبھی کسی دشمن نے بھی حملہ نہیں کیا۔ چہ جائیکہ کوئی مرید ہو کر ایسا الزام لگائے جیسے میاں صاحب پر لگ رہے ہیں۔

مجھے افسوس ہے کہ اپنی بریت کے لئے میاں صاحب کو ان حقائق کا انکار کرنا پڑا اور وہ

١٤

صفحہ ٥٣٧

آج اپنے دور افتادہ مریدوں کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ حضرت صاحب کے زمانے میں حضرت صاحب کے چال چلن کے متعلق لوگوں کے ایسے ہی خیالات تھے جیسے ان کے متعلق آج ان کے دشمنوں کے ہی نہیں مریدوں کے ہیں۔ ”فانا للہ وانا الیہ راجعون“ میاں صاحب اپنے خطبوں کو جتنا چاہیں لمبا کریں اور الفاظ کی ہیرا پھیریوں میں اصل حقائق کو چھپاتے رہیں۔ لیکن کوئی تاریخ نویس ان دو موٹے واقعات کا انکار نہیں کرسکتا کہ قادیان کی آج سے چالیس سال پیشتر کی حالت اور آج کی حالت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ آج سے چالیس سال پیشتر قادیان کا کریکٹر وہ تھا جسے سر محمد اقبال نے بطور نمونہ پیش کیا اور جس کو دنیا نیکی اور راست بازی سے تعبیر کرتی تھی اور آج کا کریکٹر وہ ہے جس پر اپنے بھی رو کر خاموش ہورہے ہیں۔ کیونکہ اس میں پستی اور بدنامی کا پہلو انتہاء کو پہنچ چکا ہے اور دنیا کے کونے کونے میں یہ باتیں پہنچ رہی ہیں۔

جناب میاں صاحب نے مجھے دھمکی بھی دی ہے اور ”مولوی محمد علی صاحب اور ان کے خاندان“ کی سرخی قائم کر کے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ وہ بھی بدلہ لینے کے لئے ہمیں بدنام کر سکتے ہیں اور کریں گے۔ میری التماس ہے کہ اگر میری اور میرے خاندان کی بدنامی سے آپ کی بریت ہوسکتی ہے تو خوشی سے اس نسخہ کو استعمال فرمائیے۔ ہاں! بیشک مجھے جو چاہیں کہہ لیں ۔ مگر مسیح موعود کو بدنام کرنا چھوڑ دیں۔ اس خطبہ میں فرماتے ہیں: ”جو باتیں آج مصری صاحب میرے متعلق کہہ رہے ہیں ایسی ہی باتیں ان کی پارٹی کے بعض آدمی مسیح موعود کے متعلق کہا کرتے تھے۔“

استغفر اللہ! ہذا بہتان عظیم! جمعہ کا خطبہ اور مسجد میں کھڑے ہو کر اتنا بڑا جھوٹ اور صرف اپنے ............ چھپانے کے لئے مصری صاحب اور ان کی پارٹی کے تو آج اشتہارات مطبوعہ موجود ہیں۔ عدالتوں میں بیانات موجود ہیں اور ایک مصری صاحب پر کیا انحصار ہے۔ یہاں تو مولوی عبدالکریم مباہلہ والے سے شروع کر کے مریدوں کی ایک خاصی فوج ہے جو ایسے الزامات جناب میاں صاحب پر لگاتے ہیں۔ اگر میاں صاحب کے اس بیان میں کہ حضرت مسیح موعود پر بھی آپ کے مریدوں نے ایسے الزامات لگائے تھے ایک ذرہ بھر بھی صداقت موجود ہے تو وہ اٹھیں اور مرزا قادیانی کے اس مرید کا اعلان یا شہادت شائع کریں۔ جس نے مرزا قادیانی پر ایسا الزام لگایا تھا جیسا میاں صاحب پر لگا ہے۔ میں نے اس الزام کے الفاظ دہرانے سے پہلے ............ نہ کئے تھے۔ مگر اب نقل کر دیتا ہوں۔ کیونکہ یہ الفاظ میاں صاحب اپنے اخبار الفضل میں خود شائع کرا چکے ہیں اور وہ حضرت مسیح موعود کو ان ناپاک الزامات کا مورد ٹھہراتے ہیں۔

١٥

صفحہ ٥٣٨

”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

میاں صاحب! اپنے مریدوں کو جو چاہیں کہہ کر خوش کرلیں۔ مگر اس سیاہ جھوٹ میں ایک رائی کے لاکھوں، اور ............ حصہ کے برابر بھی صداقت نہیں کہ جماعت احمدیہ لاہور کے کسی آدمی نے مسیح موعود پر کبھی ............ ایسا الزام لگایا ہے۔ اگر میاں صاحب کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے مرد میدان بن کر پیش کریں۔

حضرت مسیح موعود کیا، جناب میاں صاحب نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ نعوذ باللہ تمام راست بازوں کا کریکٹر ایسا ہی گرا ہوا ہوتا ہے اور اسی لئے انہوں نے سرکار دو عالم کی ذات قدسی صفات کو بھی ایسے ہی الزامات کا ............ ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ اس خطبہ میں آپ فرماتے ہیں: ”شاید وہ سمجھتے ہیں کہ گالیاں ہم کو دی جاتی ہیں اور ہمارے متعلق ہی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں۔ کسی اور کے متعلق ایسی باتیں نہیں کہی جاتیں۔ حالانکہ کہنے والوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ایسی ہی باتیں کہیں اور وہ ان کے مرید تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کہیں اور وہ ان کے مرید تھے اور رسول کریم ﷺ کے متعلق بھی ایسی ہی باتیں کہیں اور کہنے والے آپ کے مرید کہلاتے تھے۔ پس جب اس قدر عظیم الشان ہستیوں پر ان کے مرید کہلانے والوں نے الزام لگائے تو میری یا اور کسی کی کیا ہستی ہے کہ ہم ایسے الزاموں سے بچ جائیں۔“

العیاذ باللہ! استغفراللہ! حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو تو رہنے دیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے تمام واقعات تاریخی رنگ میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ آپ کے کسی مرید نے ایسا ناپاک الزام لگایا تھا۔ جیسا آپ پر لگا ہے؟ آپ کا ہر ناپاک بات سے بلند ہونا تو ایسا بین امر ہے جس پر دشمنوں کو چیلنج دیا گیا۔ ”لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون“ یعنی تم مجھ پر کوئی الزام نہیں لگا سکتے تو کیا مرید لگا سکتے تھے اور میں پوچھتا ہوں کہ کیا راست بازوں پر حملہ کر کے ان کے مرید بھی ان کو نعوذ باللہ من ذالک! سخت بدچلن سمجھتے تھے۔ جیسے آپ کے مریدوں نے آپ کو سمجھا۔ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلنے والے سمجھتے تھے۔ جیسا آپ کو آپ کے مریدوں نے سمجھا۔ آپ کی بریت ہوگئی؟ اگر یہی طریق بریت ہے تو ہر بدکار اس عذر کو پیش کر کے بری ہوسکتا ہے۔

١٦

صفحہ ٥٣٩

میاں صاحب کو اپنی بریت کے یہ غلط طریق اس لئے استعمال کرنے پڑے ہیں کہ انہوں نے صحیح طریق کو چھوڑ دیا۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ کسی دوسرے کو ملزم ثابت کر دینے سے ایک شخص کی اپنی بریت ہو جاتی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔ مجھے خوشی نہیں بلکہ سخت افسوس ہے کہ میاں صاحب پر ایسے الزام لگے جن سے قادیان کا ضمناً مسیح موعود کا نام بدنام ہوا۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو جب مولوی عبد الکریم صاحب (مباہلہ والے) نے الزام لگایا تھا اور ان سے حلف کا مطالبہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے اس فعل کا ارتکاب نہیں کیا تو وہ قسم کھالیں۔ میں اپنی خاطر نہیں تو قادیان اور مسیح موعود کے نام کی خاطر الزام کو جھوٹا جاننے کی صورت میں فی الفور حلف اٹھا لیتا یہ بریت کا سیدھا طریق تھا۔ جسے میاں صاحب نے اختیار نہ کیا۔ مصری صاحب نے جب ایسا ہی الزام لگایا تو گو ان کا مطالبہ اس سے مشکل تھا۔ مگر اس تشہیر اور تذلیل کے مقابل میں جو ہو رہی ہے یہ بھی کوئی بڑا مطالبہ نہ تھا۔ آخر مطالبہ تو اسی قدر تھا کہ ایک آزاد کمیشن کے ذریعہ سے تحقیقات ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کمیشن میں میاں صاحب کے مرید ہی ہوتے اور ان پر یہ بدگمانی نہ ہو سکتی تھی کہ وہ بغیر کسی شہادت کے پیر کے خلاف غلط فیصلہ دے دیں گے۔ بلکہ ان کا فیصلہ وہی ہوتا جو اب بھی ہے کہ اگر ہم میاں صاحب کو کوئی برا کام کرتا دیکھیں تو اپنی آنکھوں کو جھوٹا سمجھیں گے۔ تو یہ سیدھا طریق بریت اختیار کرنے سے گھر کے اندر ایک فیصلہ ہو جاتا اور اس ساری ذلت سے ایک جماعت بچ جاتی۔

میاں صاحب کا یہ کہنا کہ یہ لوگ ان کے مرید نہیں۔ اس لئے کہ خلافت کے مسئلے میں انہیں اختلاف ہے صحیح نہیں۔ اوّل تو یہ اختلاف خلافت میں صرف اس وجہ سے ہوا کہ ان کو خلیفہ میں سخت نقائص نظر آئے۔ پہلے یہ اختلاف نہ تھا اور دوسرے میاں صاحب کا تو اعلان یہ ہے کہ مجھ سے اختلاف عقیدہ رکھ کر بھی کوئی بیعت کر سکتا ہے۔ ان کے تو وہ بھی مرید ہیں جو ان لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں جن کو میاں صاحب کافر کہتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ جنہیں میاں صاحب مسلمان سمجھتے ہیں۔ بہر حال یہ لوگ سالہا سال تک ان کے اندر رہے۔ ان کے خاص الخاص دوست رہے۔ آخر اس کی وجہ تو بتانی چاہئے کہ وہ ایسی باتیں کہنے لگے جو انسان ایک دشمن کے متعلق بھی نہیں کہتا۔

مجھے افسوس ہے کہ مجھے ان باتوں میں اپنا وقت ضائع کرنا پڑا۔ کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ آج مسلمانوں کی قوت کا بیشتر حصہ ایک دوسرے کی تخریب کے لئے اور نہایت ہی چھوٹے

١٧

صفحہ ٥٤٠

چھوٹے امور میں جھگڑوں پر ضائع ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان سے دشمن کے مقابلہ کی طاقت سلب ہورہی ہے۔ اسی لئے میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ہماری جماعت کی توجہ زیادہ تر اعدائے اسلام کے لئے وقف رہے اور اب بھی اگر میاں صاحب کی توجہ صرف مجھ تک محدود رہتی تو میں ان باتوں کا جواب کبھی نہ دیتا۔ مگر انہوں نے چونکہ اپنی بریت کے لئے مسیح موعود کو بدنام کرنا چاہا ہے۔ بلکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات والا صفات پر بھی حملہ کیا ہے۔ اس لئے مجھے مجبوراً قلم اٹھانا پڑا۔ مجھے وہ جو چاہیں کہہ لیں مجھے کوئی دعویٰ معصومیت کا نہیں۔ ایک گنہگار انسان ہوں اور خدا کے رحم کا امیدوار۔

مورخہ ٩؍دسمبر ١٩٣٨ء خاکسار: محمد علی، امیر جماعت احمدیہ لاہور

قادیانی خلیفہ کا مزید کمال

میاں امیر الدین صاحب کی نشاندہی

میاں امیر الدین قادیان میں سکونت رکھتے تھے۔ تقسیم ملک سے قبل آپ آسام بغرض کاروباری سلسلہ تشریف لے گئے۔ وہاں جا کر ان کا اچھا خاصا کاروبار رہا۔ جیسا کہ ٹیکس کی ادائیگی سے ظاہر ہے۔ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے تھا۔ ان کے اصولوں کے مطابق آپ با قاعدگی سے چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ ان چندوں کے علاوہ جماعت کی طرف سے کسی قسم کی اپیل کی جاتی آپ اس میں بڑھ چڑھ کر نمایاں حصہ لیتے۔ حال ہی میں جب مسجد چندہ لاہور اپیل کی تو آپ نے اس میں بھی ١٠٠ روپے کی کثیر رقم سے معاونت فرمائی۔ آپ نے وصیت بھی کی ہوئی ہے۔ بلکہ اپنی فرم کی کل ملکیت ایک لاکھ روپے کی وصیت بالمقطعہ کر ڈالی اور وصیت اخبار الفضل میں طبع شدہ ہے۔ آپ صاحب حیثیت آدمی تھے اور ہیں۔ آپ کی قادیان میں کافی جائیداد تھی۔ اغلباً چوہدری سر ظفر اللہ سے خرید کی تھی۔

اندریں حالات میاں صاحب موصوف قادیانی جماعت کی دھاندلیوں سے اچھی طرح روشناس ہیں۔ آپ نے صوبائی عدالت میں بھی اس جماعت کے بعض رازوں سے پردہ اٹھایا تھا۔ کافی عرصہ سے حکومت پاکستان کو بار بار نشاندہی کر کے توجہ دلا رہے ہیں کہ وہ ناجائز اور بوگس کلیموں کی تحقیقات کے لئے سپیشل ٹربیونل مقرر کرے اور میں اس سلسلہ میں حکومت کو دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بلکہ جعلی کلیم داخل کرنے والے قادیانیوں کے

١٨

صفحہ ٥٤١

نام اور کلیموں کے نمبر تک مہیا کروں گا۔ اس طرح وہ تمام دھاندلیاں منظر عام پر آجائیں گی جن کے ذریعہ کروڑوں روپیہ کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ لیکن باوجود بارہا درخواست کے حکومت پاکستان نے اس طرف سردست توجہ نہیں فرمائی۔ میرے خیال میں اگر حکومت پاکستان صمیم قلب سے اس نشاندہی پر غور فرمائے تو یقیناً کروڑہا روپیہ کی جائیداد نہ صرف واپس لے سکیں گے بلکہ ان کے نامناسب ہتھکنڈوں سے بخوبی روشناس ہو جائیں گے۔ میاں صاحب موصوف کا اشتہار مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمادیں۔

محترم صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان اور اراکین قومی اسمبلی کی خاص توجہ کے لئے

گزارش ہے کہ خاکسار امیر الدین تقسیم ملک سے قبل ایک صاحب حیثیت آدمی تھا اور تیرہ ہزار روپے کے قریب سالانہ انکم ٹیکس ادا کرتا تھا۔ تقسیم ملک سے قبل میرا کاروبار آسام میں تھا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو میں قادیان آ گیا اور دو سال تک وہاں بطور درویش رہا۔ پھر ١٩٤٩ء میں پاکستان آ گیا۔

جماعت احمدیہ کا ممبر ہونے کی حیثیت سے میں آپ کی توجہ ان دھاندلیوں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جن کے ذریعے کروڑوں روپیہ کی جائیداد پر جماعت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہ لوگ جو تقسیم ملک سے قبل آسودہ حال تھے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اور ان بیکسوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں میں تھی۔ تقسیم کے بعد ناصر آباد، محمود آباد، شریف آباد، کریم نگر، فارم تھر پار کر سندھ کی زمین پاکستان میں آ گئی۔ ہمارے خلیفہ صاحب نے پاکستان میں ایک نئی انجمن کی داغ بیل ڈالی اور اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر یہ زمین اپنے صاحبزادوں اور اس انجمن کے نام منتقل کروالی اور جو انجمن قادیان میں تھی اس نے وہاں کی تمام جائیداد بھارتی حکومت سے واگزار کروالی۔ موجودہ خلیفہ کے چھوٹے بھائی مرزا وسیم احمد اسی مقصد کے پیش نظر وہاں ٹھہرائے گئے تا کہ دونوں ملکوں کی جائیداد ہتھیائی جاسکے۔ خاکسار موجودہ خلیفہ کے چچا بشیر احمد ایم اے کے نوٹس میں یہ بات لایا کہ جماعت کے بعض افراد بوگس کلیم دے کر بڑی بڑی جائیدادیں قبضہ میں کر رہے ہیں۔ اس وقت تو وہ خاموش رہے۔ مگر جب حالات ٹھیک ہو گئے تو وہ میرے مخالف

١٩

صفحہ ٥٤٢

ہو گئے۔ خاکسار گورنمنٹ کو بھی اس سلسلہ میں باقاعدہ باخبر کرتا رہا مگر آج تک ہماری شنوائی نہیں ہوئی۔ خلیفہ وقت کے حکم سے جماعت نے ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیا ہے اور ہم موت کے دن پورے کر رہے ہیں۔

نام رجسٹر نہیں کروائی جاتی تھی۔ جیسا کہ ربوہ میں رجسٹر نہیں کروائی جاتی۔ سرکاری کاغذات میں یہ زمین اصل مالکان کے نام رہتی ہے۔ حالانکہ وہ اسے فروخت کر کے لاکھوں روپیہ وصول کر کے ہضم کر چکے ہوتے ہیں۔ اس ہوشیاری پر پردہ ڈالنے کے لئے خلیفہ نے مہاجرین قادیان سے کہا کہ آپ لوگ قادیان کی زمین کا کلیم نہ دیں۔ کیونکہ قادیان مقدس سرزمین ہے اور ہم جلد واپس جانے والے ہیں۔ اس طرح ان عقیدت کے ماروں کو دو دفعہ لوٹا گیا۔ ایک دفعہ تو پیسے لے لئے اور زمین ان کے نام نہ کروائی اور دوسری دفعہ جب وہ لٹ پٹ کر آئے تو کلیم دینے سے منع کر دیا اور جنہوں نے کلیم داخل کروا دیئے ان کا بائیکاٹ کیا گیا اور انسانیت سوز سزائیں دی گئیں اور خلیفہ کے گماشتوں نے کروڑوں روپے کے ناجائز اور بوگس کلیم داخل کروا کر بیکس مہاجرین کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔

میری حکومت سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ ناجائز اور بوگس کلیموں کی تحقیقات کے لئے سپیشل ٹربیونل مقرر کرے۔ میں اس سلسلہ میں حکومت کو دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لئے تیار ہوں اور کئی جعلی کلیم داخل کرنے والے احمدیوں کے نام اور ان کے کلیموں کے نمبر تک مہیا کرنے کا پابند ہوں اور اگر میں ان الزامات کو ثابت نہ کر سکوں تو ہر سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔

خاکسار نے صمدانی عدالت میں بھی اس فرقہ کے بعض رازوں سے پردہ اٹھایا تھا۔ جس کے بعد مجھے ہر طرح سے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔ آخر میں میں اپیل کرتا ہوں کہ جلد از جلد اس سلسلہ میں کارروائی کر کے بیکس مہاجرین کی آبادی کا سامان کیا جائے۔

نوٹ....... یہ حکومت کے اندر ایک ایسی حکومت ہے کہ جس کو گورنمنٹ چیلنج نہیں کر سکتی۔ خلیفہ ربوہ میں بیٹھ کر ہندوؤں کی جائیداد کی الاٹمنٹ کرتے رہے ہیں اور اس کا ثبوت میرے پاس موجود ہے۔

خاکسار: امیر الدین قادیانی سابق درویش سینٹ بلڈنگ تھارٹن روڈ لاہور

٢٠

PDF 544

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ربوہ کا پوپ

جناب مظہر الدین ملتانی

صفحہ ٥٤٤

ربوہ کا پوپ

جس میں:

مرکزی حکومت نے اعلیٰ حکام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی۔

سمجھنے کی باتیں

یہ کتاب جو پیش خدمت ہے خدمت کے بہترین اصولوں کے پیش نظر بار دوم کافی اضافہ کے ساتھ ہدیہ ناظرین کر رہا ہوں۔ ربوائی مظالم کا خونی روزنامچہ دیباچہ مرزا محمد شفیق کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دیباچہ کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انداز بیان شستہ اور استدلال بھی انتہائی مخلصانہ ہے۔ آپ نے نہایت عمدہ اور احسن طریق سے ربوہ کے مظالم کی موجودہ حالت کا حیرت انگیز نقشہ کھینچا اور جو کچھ بھی تحریر فرمایا ہے خوب سوچ سمجھ کر، نیز متانت کے ساتھ تمام ذمہ داریوں کا احساس کر کے مرزائی مظالم کے چہرے پر سے نقاب اٹھانے کی سعی فرمائی۔ یہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آئندہ بھی ان کو مظلوم کے حق میں لکھنے کی توفیق دے۔ جزاه الله واحسن الجزاء!

اس سے قبل بھی حکومت کو توجہ دلائی تھی۔ اب پھر ان سے درخواست ہے کہ ربوہ کی سرزمین میں سوشل بائیکاٹ، ضروریات زندگی کے تمام راستے مسدود کرنا، روز روشن میں قتل وغارت وغیرہ معمولی افعال ہیں اور اپنے مخالفین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھنا اس سرزمین میں مہذب فعل اور کار ثواب ہے۔ یہاں مذہب کی آڑ میں ان کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ آخر ان تمام مشکلات کا حل حکومت ہی کر سکتی ہے تاکہ بنی نوع انسان کو امن کی زندگی میسر ہو سکے۔ انگریز کے راج میں جو کچھ قادیان میں ہوتا تھا وہی اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے اندر حکومت در حکومت کی صورت میں ربوہ کے اندر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں نہ معلوم کب حکومت کو اپنے قانون کی عظمت کا احساس ہوگا۔ اگر اب بھی حکومت پاکستان نے تساہل اور غفلت سے کام لیا تو وہ دن دور نہیں کہ ربوہ کا پوپ جو حکومت پر قبضہ کرنے کی فکر میں ہے اپنی شاطرانہ چالوں میں

٢

صفحہ ٥٤٥

کامیاب ہو جائے اور ملک وقوم مزید پریشانیوں سے دوچار ہو جائے۔ بہرحال اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ اس کتابچہ میں حکومت کی آسانی کے لئے معلومات کا وہ تمام مواد مختلف ابواب کی صورت میں علی الترتیب پیش کیا گیا ہے اور یہ ربوائی پوپ کی ذہنیت کی پوری پوری عکسی تصویر ہے۔

ان تمام واقعات کی روشنی میں یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ربوہ کا پوپ مذہب کے پردے میں حکومت پر قبضہ کرنے کا شدت سے خواہشمند ہے۔ ربوہ کا سٹیٹ بینک ان تمام اداروں کو چلانے کے لئے خرچ اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ جیسا کہ اس کتاب میں نشاندہی کی گئی ہے۔ بینک کی مدد سے ملک میں افراتفری اور خون خرابہ کرنے کے لئے بے دریغ روپیہ مہیا کیا جاتا ہے۔ اس پر بس نہیں بلکہ دوسری حکومتوں سے گٹھ جوڑ، حکومت وقت کے خلاف پراپیگنڈہ، گورنمنٹ کے خلاف خفیہ مضامین، اخباروں کو روپیہ تقسیم کرنا وغیرہ وغیرہ! شہید گنج کے موقع پر کس طرح خون کی ہولی کھیلی گئی اور خصوصاً مسلمانوں میں آپس میں نفاق ڈالنا وغیرہ۔ یہ سب کچھ اس بینک کی مرہون منت ہے۔ اس بینک کے طفیل بے شمار کارہائے نمایاں اپنی بالا دستی کو قائم رکھنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان حالات میں ربوہ کے سٹیٹ بینک کو جو حکومت کے متوازی چل رہا ہے فی الفور اپنے قبضہ میں لے کر حسابات کی پڑتال کرے اور اس طرح تمام روپیہ حکومت کی تحویل میں رہے۔ اس سے یقیناً آئے دن کی مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

مزید برآں جیسا کہ حکومت کے گشتی مراسلہ سے ظاہر ہے کہ خفیہ راز تک چرائے جاتے ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ Security Press جہاں حکومت کی کرنسی چھپتی ہے اس منفعت بخش ادارہ پر ہاتھ صاف نہ کیا ہو۔ قصہ مختصر کہ اس مذہبی جماعت کے پوپ کے پاس کروڑوں روپیہ کا سرمایہ کہاں سے آیا اور بیشتر روپیہ بیرونی بینکوں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو اچھی طرح سے چھان پھٹک کرنی چاہئے اور پوری طرح چوکنا اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

حکومت پاکستان کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ربوہ کے پوپ نے اپنی حکمت عملی سے ربوہ کو ایک علیحدہ سٹیٹ کا درجہ دیا ہوا ہے تاکہ وہ ہر قسم کی سازشیں کر سکیں اور حکومت کلی طور پر ان کے حال سے بے خبر رہے۔ اسی طرح وہاں کے مکینوں کو قانونی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے تاکہ اگر ان کی من مانی کارروائیوں میں عوام مخل ہوئے تو ہم فوراً مکینوں سے بے

٣

صفحہ ٥٤٦

دخل کر سکیں۔ اسی خوف کی وجہ سے مظلوم باشندوں کی آواز دب جاتی ہے اور اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں جبراً پابند رہتے ہیں۔

ان حالات میں شہری حقوق کی حفاظت بھی حکومت کے فرائض میں داخل ہے۔ وہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر ربوہ کے مکینوں کے حقوق ملکیت کا مناسب انتظام کرے اور قطعی طور پر ان کو حقوق دیئے جائیں تا کہ وہ ربوہ کے ظالموں سے حقیقی نجات حاصل ہو اور وہاں کے لوگ حکومت پاکستان کے شہری کی حیثیت سے آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ ہم حکومت پاکستان سے پوری توقع رکھتے ہیں کہ ان تمام کو پیش نظر رکھ کر ٹھنڈے دل سے اس پر سوچ بچار کر کے مظلوم کی داد رسی کے لئے مناسب اقدام کر کے اور تمام مشکلات کو دور کرے۔ تا کہ ایسی فرعونیت کا خاتمہ ہو سکے۔ جو در پردہ حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔

پس اے خدا تو ہماری بے بسی اور بے یارو مددگاری کو خوب جانتا ہے۔ تو آپ ہی مظلوموں کی حفاظت کر۔ آمین!

سب طاقت اور توفیق اس قادر مقتدر خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس ایک ہی سہارے کا امید وار ہوں۔ میری دعا ہے کہ اس کتابچہ کو جس مقصد کے لئے پیش کیا گیا ہے اس کے مفید نتائج برآمد ہو کر ظلم وستم کا دور دورہ بند ہو اور صحیح معنوں میں ربوہ میں حکومت پاکستان کا قانون رائج ہو۔

پاکستان پائندہ باد!

گر قبول افتد زہے عز و شرف

خادم ملت: محمد مظہر الدین ملتانی

ربوائی مظالم کا خونی روز نامچہ

مذہب کی تاریخ خاک وخون سے لتھڑی پڑی ہے۔ اس وقت سے لے کر جب قابیل نے ھابیل کو قتل کیا اس قدر خون بہایا گیا ہے کہ اگر اسے جمع کیا جائے تو ساری دنیا کو گلرنگ کرنے کے لئے کافی ہے۔ گاہے ماہے اس کشت و خون، قتل وغارت اور معصوم جانوں کے اتلاف کو روکنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔ قلم جنبش میں آتے ہیں۔ بے کسوں کی آہیں مظلوموں کی چیخیں مہذب معاشرے کو بیدار کرتی ہیں۔ مگر وہ پھر کروٹ بدل کر سو جاتا ہے۔ گویا یہ بیداری بھی نیم خوابی بلکہ گراں خوابی کی ہی ایک شکل ہے۔ یورپین سوسائٹی میں اگر ”بلیک ہول ڈے“ کا نام لیا جائے تو ہر آدمی شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں ربوہ کی کوکھ سے ہر روز نت نئے

٤

صفحہ ٥٤٧

خونچکاں واقعات جنم لیتے ہیں۔ سینکڑوں آبگینے خلافت کے دین پھیرنے کی شکایت کرتے ہیں ہزاروں افراد کو معاشی و سماجی طور پر قتل کرنے کی داستانیں سامنے آتی ہیں۔ مگر ہمارے حکام بھی عوام کی طرح ایسے گراں گوش ثابت ہوئے ہیں کہ فخر الدین ملتانی، محمد امین پٹھان کا اس نام نہاد مذہب کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا جانا بھی انہیں بیدار نہیں کر سکا۔ یہ فتنہ قادیان میں پھولتا پھلتا رہا اور نظارت پولیس کی جاسوسی ہزاروں لوگوں کے بدترین منظم سوشل بائیکاٹ اور مزید قاتلانہ حملوں پر منتج ہوتی رہی۔ روم جلتا رہا اور پوپ بانسری بجاتا رہا۔ جب جور و جفا اور ظلم و ستم اپنی انتہاء کو جا پہنچا اور بزدل مرید اپنی اخلاص نما بے وقوفی میں مگن ہو کر مہر بلب ہو گئے تو خدا کا عذاب اس بستی پر نازل ہوا جس کے ایک مظلوم نے جناب باری سے یوں دعا کی تھی۔

اس زمین پر آگ اور پتھر برسنے چاہئیں۔ برق گرنی چاہئے اولے برسنے چاہئیں۔

(مباہلہ)

ملک تقسیم ہوا تو خیال تھا۔ شاید ظلم کا یہ باب بند ہو جائے گا۔ مگر فرعونی قوت کے نشے میں سرشار ”ٹولے“ نے ربوہ کی ملعون بستی کو آباد کر کے اپنے سنگین جرائم کو دو آتشہ بلکہ سہ آتشہ کر دیا اور حکومت کھلی آنکھوں سے اس سرزمین بے آئین میں اپنی بے بسی کا تماشا دیکھتی رہی اور خود ربوہ کے مکین یہ کہتے رہے کہ حکومت کا قانون یہاں بے بس اور بے کس ہی نہیں لاوارث اور یتیم ہے۔ آخر خدائی قہر کی دوسری تجلی نازل ہوئی اور آتش بیان سامری گیارہ سال تک ”لا يموت فيها ولا يحيى“ کی عبرتناک تصویر بنے ہوئے چارپائی پر ایڑیاں رگڑتا رہا۔ مگر خاندان نبوت کے گدا گر افراد جنہیں چندوں اور نذرانوں کی چاٹ پڑ چکی تھی اس حالت میں بھی اس کی ”نمائش“ سے باز نہ آئے اور حضور کی زیارت کے نام پر نذرانہ کے حصول کے لئے اس کی نا گفتہ بہ حالت لوگوں کو دکھاتے رہے۔

ڈوگی کی طرح کرسی پر بیٹھا کر ادھر ادھر رکھا جاتا تھا اور اس کی ٹانگیں بید لرزاں کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔ آخر اس ڈرامہ کا ڈراپ سین ہوا اور لوگوں کو نقلی بہشتی مقبرہ کے ٹکٹ جاری کرنے والا ابرہہ کا یہ ہاتھی جس نے لوگوں کے دلوں سے کعبہ کی عظمت کو گرانے کی کوشش کی تھی۔ ربوہ کی کلر اور شور زمین میں اپنی تمام حسرتوں کو سینے میں لئے دفن ہوا۔ تو باپ کے بعد بیٹا گدی نشین ہوا۔ جسے اس سٹیج پر لانے کے لئے کبھی ہوالناصر لکھنے کی تلقین کی گئی۔ کبھی اسے نااہل ہونے کے باوجود مختلف تنظیموں کا صدر بنایا گیا۔ شومی قسمت سے الیکشن کا سوانگ رچایا گیا تو پتا جی مہاراج چاروں شانے چت گرتے ہوئے نظر آئے تو الیکشن کے نتائج پر خط تنسیخ کھینچ کر اسے اپنے گلے

٥

صفحہ ٥٤٨

سے لگایا۔ تھپکی دی اور کہا کہ جب تک تمہارا گرو زندہ ہے فکر نہ کرو۔ خلافت کی لکشمی دیوی ضرور تمہارے نکاح میں آئے گی۔ بس پھر کیا تھا پالتو مولوی نغمہ سرائی و قصیدہ خوانی پر مامور ہوئے۔ شاطر سیاست نے اسلامی شوریٰ کو منسوخ کیا کہ اس سے فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔ اپنے آقایان ولی نعمت کے خود ساختہ پاپائی طریق انتخاب کو اپنایا۔ اپنے خاندان کے پیدائشی گداگروں وظیفہ خور صحابیوں اور بیرون ملک بھیجے جانے والے کمیشن ایجنٹوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ مگر ملک میں کام کرنے والے مبلغین ووٹ سے بھی محروم رہے۔ کیونکہ وہ واعظین منبر ومحراب کے ایرانی مزاج سے بخوبی واقف تھے۔ اس پر بھی چین نہ آیا تو سماجی و معاشی بائیکاٹ کا ہتھیار آزمایا گیا۔ پہلے ساری دنیا کو کافر کہہ کر اعزہ واقرباء سے مصاہرت و مناکحت کے رشتے توڑ کر انہیں مسلم معاشرہ سے الگ کیا گیا اور کلیتہً جماعتی بنادیا گیا۔ ان سے چندہ بھی لیا اور انہیں دھمکایا بھی اور اب بائیکاٹ کر کے انہیں اس مخصوص معاشرہ سے علیحدہ کیا تو ان کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو گیا۔ لیکن بائیں ہمہ وہ مقابل پر ڈٹ گئے۔ اب ”پتامی یکا دور نہ یرک جاؤ“ پر عمل کرتے ہوئے چپ سادھ بیٹھے اور ایک خواب بنائی کہ ایک نور میرے اندر سے نکل کر پہلے ناصر کے اندر پھر منور اور پھر ظفر اللہ خاں کے اندر گھس گیا ہے۔ ظفر اللہ کا ذکر تو برائے وزن بیت تھا کہ اس عرصہ میں راہی ملک عدم ہو جائے گا۔ اصل مقصد لڑکوں کی حفاظت تھی۔ کوہستان راولپنڈی نے اداریہ لکھا۔ ”بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔“ مگر الفضل نے حسب عادت تردید ضروری خیال کی۔ مگر دشمن کے اندازے درست اور مریدوں کی تاویلیں غلط ثابت ہوئیں اور مرزا ناصر احمد ٨/٩؍ نومبر کی درمیانی رات کو یکدم روحانی آدمی بن گیا اور سارے حرام کے بکرے اور فیروز دھوبی کی بددعائیں ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گئیں۔ اب پھر خوابوں کا دورہ جماعت کو پڑا اور بشارات ربانیہ کا نزول شروع ہو گیا۔ طالمود کے روایتی بیل کا کشف آکنسن خلیفہ پر صادق آگیا اور کسی مرید نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ یہود تو پہلے مسیح کو دار پر لٹکا چکے ہیں۔ وہ دوسرے کے پوتے کے بارہ میں کسی طرح پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ خلیفہ جی نے دیکھا کہ بیداری کی لہریں اٹھ رہی ہیں اور ان کے کار دگر کی داستانیں بھی منظر عام پر آرہی ہیں۔ کیا کریں۔ پرانی Conditioning کام آئی۔ جماعت کو سیاسی بالا دستی اور تسلط کی خوابیں سنا سنا کر ان سے پیسہ بٹورنا اور ان کا خون نچوڑنا شروع کیا۔ پی، پی، پی کی حمایت کی گئی۔ مگر جہاں خلیفہ نے اپنا مقدس ووٹ ڈالا تھا وہاں پیپلز پارٹی ہار گئی۔

٦

صفحہ ٥٤٩

ایک میلہ تو جلسہ کی شکل میں ہوتا ہی تھا۔ ڈربی ریس کے لئے گھوڑے پالنے کی سکیم کا آغاز ہوا اور بے چاری کمیٹی ہار گئی۔ نوجوانوں کو خصی کرنے کے لئے اور سائیکل کمپنی میں اپنے Share مضبوط کرنے کے لئے ایک لاکھ سائیکل خریدنے کی تلقین کی گئی اور بھارت کے ایٹمی دھماکہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جماعت کو غلیل بنانے کا وعظ شروع ہوا۔

محمد علی مرزا ناصر کے گھر میں خدمت کے جذبہ سے کام کر رہا تھا۔ جب اس نے اپنی آنکھوں سے اس دہکتی دوزخ کے اندرون خانہ میں جھانکا تو قلب ونظر پر وہ بجلیاں گریں کہ وہ ہزار تاویلوں کے باوجود اپنے آپ کو اس مقدس فضا میں Adjust نہ کر سکا۔ دل کی بات زبان پر آگئی تو اسے نو دو گیارہ کر دیا گیا۔ قوت لایموت کے لئے اسے سبزی فروش بننا پڑا۔ مگر کارِ خاص کے نمائندے اس کی تاک میں رہے۔ ایک دن دریا کے قریب اسے وحشیانہ طریق پر قتل کیا گیا۔ ناک کان کاٹے گئے۔ نعش کے ٹکڑے کئے گئے اور بوری میں بند کر کے چوہڑوں کی چھپڑی میں پھینک دیا گیا اور اس روحانی بستی سے ایک بھی گواہ نہ ملا اور معاملہ داخل دفتر ہو گیا۔

لطیف احمد محلہ دار یمن ربوہ اور بدر دین معلم وقف جدید مرزا ناصر احمد کی زیر ہدایت زیر صدارت ہونے والی گھڑ دوڑ کے نیچے آ کر کچلے گئے۔ مگر بارگاہِ خلافت سے اعلان ہوا کہ گھڑ دوڑ جاری رہے گی۔ موت وحیات کا سلسلہ تو جاری ہی ہے۔ اگر رائل پارک کے افراد میں سے کوئی آدمی مر جاتا تو آسمان سر پر اٹھایا جاتا۔ گویا کوئی بایزید واصل بحق ہو گیا۔ الفضل وحشیانہ قتل کے ان پراسرار واقعات کو شیر مادر سمجھ کر پی گیا۔ لیکن اس خیال میں مگن نہ رہو کہ تمہاری غنڈہ گردی، قتل وغارت ایسی چیز ہے جسے ربوہ کا آہنی پردہ، سدھائے ہوئے مرید اور کروڑوں روپے کے املاک اور بینک بیلنس چھپائے رکھیں گے۔ جس طرح تمہارا دین مرا ہے دنیا بھی مرے گی اور شہیدوں کا خون رنگ لائے بغیر نہ رہے گا۔

جو لوگ ربوہ کی انتظامیہ کے طریق کار سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں معمولی سے معمولی واقعہ بھی خلیفہ کے اشارے، ایماء یا حکم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ بعض خالصتاً نجی معاملات مثلاً نکاح و طلاق میں بھی خلافت پناہی ٹانگ اڑاتی پھرتی ہے۔ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر بلوائیوں نے اپنی روایات کے مطابق تشدد کا خونی ڈرامہ سٹیج کیا۔ چونکہ اس معاملہ میں تحقیقات معزز عدالت کر رہی ہے اس لئے فی الحال ہم اس کے محرکات اور پروگرام پر تبصرہ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ عقائد کی سزا تو انہیں آخرت میں ملے گی۔ لیکن ہم یاد دلاتے ہیں کہ

٧

صفحہ ٥٥٠

قتل وغارت، آتشزدگی، سوشل بائیکاٹ کا وہ سلسلہ جو قادیان سے لے کر ربوہ تک پھیلا ہوا ہے اس کا خاتمہ ضرور ہوگا۔ یہ تو زلزلے کا پہلا دھکہ ہے۔ ابھی اور بڑے زور آور حملے ہوں گے اور خدا تعالیٰ حق وصداقت کو آشکار کرے گا اور گوسفندان عالی جناب رہا ہو کر رہیں گی اور مکر وفریب کا جال ٹوٹ کر رہے گا اور یہ ریاست اندر ریاست عجمی اسرائیل اور امت مسلمہ کے سینے کا ناسور ختم ہو کر رہے گا۔

گندم از گندم بروید جو از جو
از مکافات عمل غافل مشو

شفیق مرزا!

ابن الوقت کے ناپاک سیاسی منصوبے

کسی جماعت کے لئے زیبا نہیں کہ وہ مذہب کی ردا اوڑھ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی سعی نامسعود کرے۔ کسی مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے وہ اسی حد تک ہوتی ہے جس حد تک وہ اپنے مشن کو چلا سکے۔ وہ سیاسی امور سے کوسوں دور رہتی ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف اور صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر مذہبی روح پھونکیں۔ لیکن یہ ایک اندوہناک اور تکلیف دہ امر ہے کہ خلیفہ ربوہ نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر حکومت کے خواب دیکھنے شروع کئے اور وہ پاکیزہ مقدس نظام جو اشاعت اسلام کے لئے قائم کیا گیا تھا جس کی غرض وغایت معاشرے کی اصلاح اور مردہ دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی محبت کی آگ سلگانا تھا۔ اس نظام کو اپنے ناپاک سیاسی عزائم کے نذر کر دیا اور جماعت کے دلوں سے یہ عہد دین کو دنیا پر مقدم کردوں گا۔ نسیاً منسیاً ہو گیا۔ اس نظام میں دفعتاً تبدیلی سفید فام آقاؤں کے عین منشاء کے مطابق تھی کہ خلیفہ اور جماعت کے عقول وقلوب کو اصل محور سے ہٹا کر غیر مذہبی امور میں الجھائے رکھے۔ ایک عرصہ سے یہی کیفیت رہی۔ لیکن رفتہ رفتہ قادیان میں خلیفہ ربوہ بے لگام ہو گیا اور ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ وہاں بھی برطانوی قانون کالعدم سمجھا جانے لگا۔ دن دھاڑے روز روشن میں قتل ہوتے۔ لیکن پولیس تحقیقات میں ناکام رہتی۔ اس سے انگریز حکومت کی غیرت پر ضرب کاری لگی۔ اس نے قادیان کی متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا اور اس کا پہلا سراغ مسٹر جی ڈی کھوسلہ کے فیصلہ سے ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فاضلانہ فیصلہ میں خلیفہ کی ان

٨

صفحہ ٥٥١

تشددانہ اور جارحانہ کاروائیوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے مولوی عبدالکریم مباہلہ کے خلاف کی تھیں۔ کس طرح ان کے اشتعال انگیزانہ خطبے کے نتیجے میں مولوی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کا مکان تک جلا دیا گیا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہو گیا۔ جب عدالت کے فیصلہ کے مطابق قاتل پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک واحتشام کے ساتھ قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ اس کا فوٹو شائع کیا گیا۔ اس کی موت کو شہادت کا درجہ دیا گیا۔ اس کو ولی اللہ ملہم بنایا گیا۔ اس کا چہرہ ہر احمدی کو دکھایا گیا اور اس کے مقدمہ میں جماعت کا ہزار ہا روپیہ بھی صرف کیا گیا۔

(الفضل ١٩٣٠ء)

محمد امین پٹھان کا قتل

اس فیصلہ میں محمد امین پٹھان کے قتل کا بھی ذکر ہے۔ جو فتح محمد سیال کے ہاتھوں قتل ہوا۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں تحریر ہے۔

مکان تک جلا دیا گیا

”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ کوئی سامنے آ کر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اس کو قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوسناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی۔ جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔“

”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کا شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا محمود احمد کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مسل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔“

مزید فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”مرزا (یعنی مرزا محمود احمد) نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا تھا۔“

(فیصلہ مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور)

٩

صفحہ ٥٥٢

قتل کے نتائج سے بچ نکلنا

عدالت کا یہ فیصلہ خلیفہ کے سیاسی عزائم کی عکاسی کرتا ہے کہ قادیان خلیفہ کے لئے قتل کرنا اور قتل کے نتائج سے بچ نکلنا ایک بالکل معمولی امر تھا۔ یہی معاملہ ربوہ میں بدرجہ اتم رونما ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ خالص احمدیوں کی بستی ہے۔ یہاں ملک کا قانون بھی بے بس اور بے کس ہے اگر حکومت دور بینی سے کام لیتی اور صدر انجمن احمدیہ کو یہ زمین اونے پونے نہ دیتی۔ بلکہ اس جماعت کو دوسری بستیوں اور شہروں میں آباد کرتی تو خلیفہ ایک خطہ میں اپنی من مانی نہ کر سکتے۔ بلکہ ایسا نہ ہوا۔ ان کو ایک ایسا وسیع رقبہ الگ تھلگ دے دیا جہاں خلیفہ کا سکہ رواں ہے۔ کسی کی کیا مجال جو ان کے سامنے دم مار سکے۔ اس مطلق العنانی کی کیفیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل رپورٹ میں مرقوم ہے۔

”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“

(رپورٹ منیر انکوائری کمیٹی ص ١٩٦)

سیاست کاری

اب ہم شاطر سیاست خلیفہ کی سیاست کاری اور سیاسی عزائم اور حکومت پر غلبہ حاصل کرنے کے بارہ میں خلیفہ کے خطبات وتقاریر سے اقتباسات ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ ”پس اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں پھل نہیں سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔ پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمہاری ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٤ء)

احمدیت کی حکومت قائم کرنا

”اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ تو انگریزی حکومت چاہتے ہیں، نہ ہندوؤں کی۔ ہم تو احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٤؍فروری ١٩٢٢ء)

”اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی، آمدنی زیادہ ہوگی، مال واموال کی کثرت ہوگی۔ جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔“

(الفضل مورخہ ٨؍جون ١٩٣٦ء)

١٠

صفحہ ٥٥٣

”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستہ سے یہ کانٹے ہر گز دور نہیں ہو سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ جولائی ١٩٣٠ء)

خلیفہ وقت سے بہتر

”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک دینی مقاصد میں شامل ہے۔ جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔۔۔۔۔۔ پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدابیر کرنا اور ملکی سیاست میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گذشتہ ١٥ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان پر صداقت کی مہر لگا رہے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍ ستمبر ١٩٣٢ء)

تمام دنیا پر عملی برتری

”ہم میں سے ہر ایک شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہرحال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہو گی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ اب یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ اس سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت ہی عجز و انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣٨ء)

احمدی حکومت قائم کرنا

”میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑ، دنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جب کہ میں اس بات کا قائل ہوں۔ بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں کہ دنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور ان کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں۔ کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢١؍ نومبر ١٩٣٩ء)

تیار رہنا چاہئے

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں

١١

صفحہ ٥٥٤

اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ٤؍جون ١٩٤٠ء)

قبضہ کرنا

’’انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے جب تک خزانہ کے مالک جوان نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانے پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اسی وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جمالیں گے۔‘‘

(الفضل مورخہ ٢٧؍فروری ١٩٤٢ء)

حکومت احمدیوں کو ملے گی

ان حوالہ جات سے یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ خلیفہ ربوہ حصول حکومت کی تمنائیں کس قدر ذوق کے ساتھ لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے عزائم اور راہیں حصول حکومت دوسرے مسلمانوں سے کس قدر مختلف ہیں۔ یہ اعلان واضح طور سے کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکومت ان کو نہیں بلکہ صرف اور صرف احمدیوں کو ملے گی۔

’’اور مسلمان جنہوں نے احمد (مرزا قادیانی) سے اپنا تعلق نہیں جوڑا وہ گرتے ہی جائیں گے اور گرتے گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہودی موسیٰ علیہ السلام کے نائب کا انکار کرنے کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے...... اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان بہت بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کی ذلت یہودیوں سے بڑھ کر ہوگی۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٤ء)

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے پروگرام کے مطابق حکومت ان کو میسر نہ ہوسکی اور انگریزی حکومت کی عمارت پیوست خاک ہوچکی ہے۔ جس کے نیچے خلیفہ کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خزانہ مدفون ہوچکا ہے۔ اب پاکستان معرض وجود میں آچکا ہے۔ اس کا قیام و استحکام اور اس کی سالمیت حفاظت انہیں کس طرح گوارا ہو سکتی ہے؟ خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی ہے جن کو خلیفہ صاحب یہودی قرار دے چکے ہیں۔ (نعوذ باللہ) جن کے متعلق خلیفہ یوں فرماتے ہیں:

اسلام کی ترقی احمدی سے وابستہ

’’اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی

١٢

صفحہ ٥٥٥

حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے تا کہ اس سلسلۂ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔"

(الفضل مورخہ ١٢/نومبر ١٩١٤ء)

خلیفہ صاحب اور اکھنڈ ہندوستان

خلیفہ ربوہ تقسیم ہند پر گریہ زاری کرتے ہوئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار یوں فرماتے ہیں: ”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوتے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٦/مئی ١٩٤٧ء)

پھر فرمایا: ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥/اپریل ١٩٤٧ء)

ان حوالہ جات سے خلیفہ ربوہ کے جذبات کی تصدیق اور ان کی نیت کی عکاسی ہوتی ہے اور وہ اکھنڈ ہندوستان کے حامی ہیں۔ اب جب کہ اپنی تمناؤں اور امیدوں کو پاش پاش ہوتے دیکھا تو پھر شاطر سیاست نے ایک سیاسی پینترا بدلا کہ وہ یہ کہ مسلمانوں میں تشتت و افتراق واختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے۔ پس میں حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دینا فرض اولین سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ ربوہ کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کرے اور اس کے نظام کو سمجھنے کی پوری کوشش کرے۔ خلیفہ نے اپنی جماعت کو دنیا کا چارج سنبھالنے اور حکومت پر قبضہ کرنے اور اپنی ذاتی اغراض پوری کرنے کے لئے جماعت کی باقاعدہ تربیت کی اور اس کو شعوری اور غیر شعوری طور پر ابھارتے رہے۔ چنانچہ خلیفہ فرماتے ہیں: ”اس وقت اسلام کی ترقی خداوند تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاست اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام حکومت کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٥/جنوری ١٩٤٧ء)

حکومت اور ملک فتح کرنا

”یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کو فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨/جنوری ١٩٤٧ء)

خلیفہ فیلڈ مارشل کے روپ میں

اسی طرح خلیفہ ربوہ کے ہاں جو بھی تنظیم مختلف ناموں سے معرض وجود میں آئی۔ خلیفہ

١٣

صفحہ ٥٥٦

ربوہ خود ہی اس کے سپہ سالار ہوتے ہیں اور آپ ہی کی زیر ہدایت وہ تنظیم چلتی ہے۔ خود خلیفہ فرماتے ہیں: ”مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، انتظامیہ ہو یا عدلیہ، فوج ہو یا غیر فوج، خلیفہ کا مقام ہر حال سرداری کا ہے۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٤ء)

”انتظامی لحاظ سے وہ صدر انجمن کے لئے رہنما بھی ہے اور آئین سازی و بحث کی تعین کے لحاظ سے وہ مجلس شوریٰ کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعت کی فوج کے اگر دو حصے تسلیم کر لئے تو وہ اس کا بھی سردار ہے اور اس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا وہ ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٨ء)

حکومتیں اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں

الغرض خلیفہ ربوہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ہر حکم جماعت کے ممبروں کے نزدیک آخری حرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ کے ادنیٰ اشارے پر اپنی جان و مال، عزت و آبرو قربان کر دینا عین سعادت سمجھتے ہیں اور ان کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ کی آتش حرص کو بجھانے کے کام آتا ہے۔ خلیفہ نے دنیا کے مختلف ممالک میں مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔ وہ خلیفہ کے بطور سفیر کے ہیں۔

خلیفہ کی C.I.D

خلیفہ ربوہ لاکھوں روپے گورنمنٹ کی منظوری سے حاصل کر کے بیرونی ممالک میں اپنی من مانی کارروائیوں کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کبھی مبلغوں کی تنخواہوں کا عذر تراشتے ہیں۔ کبھی عبادت گاہوں کی تعمیر کا ڈھنڈورہ پیٹ کر لاکھوں روپیہ فارن کرنسی سے لئے جاتے ہیں اور خرچ اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے۔ بالآخر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لئے وہ عبادت گاہیں تیار ہوتی ہیں ان کا چندہ کہاں جاتا ہے۔

خلیفہ ربوہ خود کہتے ہیں کہ حکومتیں ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنے کار خاص یعنی (C.I.D) کے ذریعہ مخفی راز معلوم کرتے ہیں۔ ان کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک ہے۔ پس حکومت پاکستان کا ریاست ربوہ سے سہل انگاری برتنا ملک وملت سے غداری کے مترادف ہے۔ ربوہ میں کسی احمدی کو اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اب جو بھی احمدی ربوہ میں آتا ہے وہ اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ یا امیر کی تصدیق لاتا ہے۔ یہ بات صرف ربوہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تقسیم ہند سے پہلے یہی حکم قادیان کے متعلق تھا کہ جو

١٤

صفحہ ٥٥٧

مضافات قادیان میں سکونت اختیار کرنا چاہیں ۔ وہ نظارت امور عامہ سے اجازت حاصل کریں ۔ چنانچہ خلیفہ ربوہ فرماتے ہیں: ”مضافات قادیان ننگل ، باغباناں، بھینی بانگر ، خورد کلاں کھار انواں پنڈ ، قائمدآباد اور احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہذا سے اجازت حاصل کریں ۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍جنوری ١٩٣٩ء)

پھر ربوہ میں آ کر ١٩٤٧ء میں خلیفہ اعلان فرماتے ہیں: ”حد تحصیل لالیاں میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید سکتا ۔“

ربوہ میں داخل ہونے کے بارہ میں خلیفہ کا حکم امتناعی یوں جاری ہوتا ہے۔ ”ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کہ جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں ۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمینوں میں آ کر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ۔“

(الفضل مورخہ ٤؍فروری ١٩٥٦ء)

مملکت در مملکت

اس اعلان کا ہر لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ افراد جن پر خلیفہ ناراض ہیں اور جنہوں نے انجمن سے زمین خریدی ہوئی ہے ان کو ربوہ میں جا کر سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ جب وہ ربوہ جائیں گے مقامی پولیس کی آڑ لے کر کوئی مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا ۔ گویا ان کی زمین ضبط کر لی گئی ہے۔ یہی مملکت در مملکت کا بین ثبوت ہے اور ریاست ربوہ میں کاروبار کرنے کے لئے ہر شخص کو حسب ذیل معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔

اقرار و معاہدہ

”میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور مدیر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلاچون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا اور اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا ادا کروں گا ۔“

”میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خریدا کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں بھی شریک نہ ہوں گا ۔“

اس حوالہ سے یہ امر واضح ہے کہ خلیفہ ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے معاہدہ لکھوایا

١٥

صفحہ ٥٥٨

جاتا ہے جو وہاں رہے۔ خلیفہ ربوہ کا تصرف اور تسلط نہ صرف لین دین پر بلکہ ہر شخص کی جائیداد پر ان کا تصرف تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان ملاحظہ ہو۔

اعلان

”قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ محلہ دارالعلوم کے مکان کے نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں اس قدر ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا سودا رہن و بیع نظامت ہذا کے توسط سے ہو سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٣٧ء)

قادیان میں جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا اس کے ساتھ لین دین، سلام کلام کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خلیفہ کا بتوسط ناظر امور عامہ کا حکم سنئے۔ ”شیخ عبدالرحمن مصری، منشی فخرالدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز جو جماعت سے علیحدہ ہیں ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔ جن دوستوں کا ان کے ساتھ لین دین ہو وہ نظارت ہذا کے توسط سے طے کروائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٤ جولائی ١٩٣٧ء)

”مولوی محمد منیر انصاری سکنہ محلہ دارالبرکات کو ان کی موجودہ فتنہ میں شرکت پائے جانے کی وجہ سے کچھ عرصہ ہوا جماعت احمدیہ سے خارج کیا جا چکا ہے۔ اب مزید فیصلہ ان کی نسبت یہ کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ مقاطعہ رکھا جائے۔ لہٰذا احباب ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات لین دین و سلام و کلام نہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠ اگست ١٩٣٧ء)

مرزا بشیر احمد کا دجل اور جزوی بائیکاٹ کی عملی تفسیر

مرزا بشیر احمد ایم۔ اے نے یہ عذر لنگ تراشا کہ سوشل بائیکاٹ سے مراد جزوی بائیکاٹ ہے۔ یہ سراسر فریب، جھوٹ، دجل، کذب وافتراء، عیاری اور مکاری ہے۔ سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں بلکہ معتوب سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ اس بارہ میں خلیفہ کا یہ اعلان ملاحظہ کریں۔

باستثناء باپ کے تعلق نہ رکھے

”جناب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ چونکہ فضل ...... بیوہ عبداللہ درزی مرحوم کے متعلق ثابت ہے کہ اس کے تعلقات شیخ مصری وغیرہ کے ساتھ ہیں۔ اس لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے ١٥ اگست ١٩٣٧ء کو جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو باستثناء اس کے والد میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر کے کسی قسم کا تعلق رکھنے کی اجازت نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٠ اگست ١٩٣٧ء)

١٦

صفحہ ٥٥٩

”عبدالرب پسر عبداللہ خاں کلرک نظارت بیت المال اور محمد صادق صاحب شبنم دونوں نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے اپنا عہد بیعت فسخ کر دیا ہے۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ احباب ان دونوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔ ان کے ساتھ ملنا جلنا اور بات کرنا اسی طرح منع ہے جس طرح مصری عبدالرحمن وغیرہ مجرمین کے ساتھ۔“

(الفضل مورخہ ٦ اگست ١٩٣٧ء)

”چونکہ مستری جمال الدین سکنہ سرگودھا نے ایک ایسے شخص کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی باوجود ممانعت کے کر دی ہے جو سلسلہ احمدیہ سے تعلقات منقطع کر چکا ہے۔ لہذا احباب جماعت کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ انہیں امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے دوست کلی مقاطعہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٧ء)

”میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کو تیار ہوں کہ آئندہ اس کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے۔۔۔۔ چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٥٦ء)

بہن کا بہن سے تعلق نہ رکھنا

اس کے بعد خلیفہ نے امۃ السلام اہلیہ ڈاکٹر علی اسلم کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو یہ دھمکی دی۔ ”اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے۔ الفضل میں یہ اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اس سے تعلق نہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢١ جون ١٩٥٧ء)

بعد ازاں تنویر السلام نے خلیفہ کی دھمکی سے خائف ہو کر بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل میں شائع کرا دیا۔ ”ڈاکٹر سید علی اسلم حال ساکن نیروبی، اور سیدہ امۃ السلام بیگم ڈاکٹر علی اسلم نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا تعلق نہیں ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ جون ١٩٥٧ء)

١٧

صفحہ ٥٦٠

بیعت فسخ کا اعلان

آغاز فتنہ میں جب محمد یونس خان ملتانی نے خلیفہ ربوہ کی خلافت سے بکمال انشراح صدر بیعت فسخ کا اعلان کیا تو خلیفہ نے اپنے خاص ایجنٹ کو صاحب موصوف کے گھر بھیج کر ان کے والدین اور خسر سے مکمل سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرا دیا۔ جس پر ملک کے مشہور و معروف جریدہ نوائے وقت نے مملکت در مملکت کے عنوان سے ادارتی نوٹ لکھا تھا۔

نظارت امور عامہ کی چٹھیاں

جس میں سوشل بائیکاٹ کی پوری تفصیل درج ذیل ہے:

عزیز و اقرباء سے ملنا بھی جرم

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

نظارت امور عامہ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان

مکرم صالح نور صاحب قصور ضلع لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

آپ نے اپنی چٹھی متعلقہ ٢٨؍مئی ١٩٥٧ء میں لکھا ہے کہ آپ کو حضور اقدس نے معاف فرما دیا ہے۔ باوجود حضور کی رضامندی اور خوشنودی کے آپ کو یہ منظور نہیں کہ میں اپنے عزیز واقرباء سے محض ملنے کی خاطر کسی تقریب وغیرہ پر ربوہ آسکوں گا۔

اس بارہ میں تحریر خدمت ہے کہ تمام جماعتی احکام نظارت ہذا کے ذریعہ جاتے ہیں اور نظارت ہذا کے ریکارڈ میں آپ کو اخراج از ربوہ کی سزا باقی ہے۔ اگر آپ صحیح رنگ میں کوشش کریں گے تو معافی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ربوہ آنا چاہتے ہیں تو پہلے درخواست بھیج کر اجازت حاصل کر لیں یا اپنی آمد کے متعلق نظارت ہذا کو اطلاع کرتے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

حسب ہدایت ناظر صاحب امور عامہ تحریر خدمت ہے۔ والسلام!

دستخط بحروف اردو برائے ناظر امور عامہ سلسلہ عالیہ احمدیہ

ربوہ بدر کی تین سزائیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، وعلی عبده المسیح الموعود

نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

نظارت مجلس کار پرداز مصالح قبرستان ربوہ جھنگ

١٨

صفحہ ٥٦١

بخدمت مکرم جناب محمد صالح نور صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

بجواب آپ کی چٹھی مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٥٧ء کے جواب میں عرض ہے کہ دفتر امور عامہ کی رپورٹ یہ ہے کہ آپ کو اخراج از ربوہ، اخراج از جماعت اور وقف سے فراغت تین سزائیں دی گئی تھیں اور معافی صرف ایک سزا یعنی اخراج از جماعت کی ہوئی ہے۔ باقی دونوں سزائیں قائم ہیں۔ اس لئے فی الحال وصیت کی بحالی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ والسلام!

دستخط بحروف اردو: سیکرٹری مجلس کارپرداز ربوہ

نقل بخدمت امیر جماعت احمدیہ قصور، بغرض اطلاع مرسل ہو

بغیر اجازت ربوہ جانا بھی جرم

بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

نظارت امور عامہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان

مکرم صالح نور صاحب قصور ضلع لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

آپ مورخہ ٢؍ مئی ١٩٥٧ء کو بغیر اجازت ربوہ تشریف لائے اور اپنے آنے کی اطلاع نظارت ہٰذا کو نہیں دی۔ مطلع فرماویں کہ آپ نے یہ خلاف ورزی کیوں کی۔ کہ کیوں نہ آپ کے خلاف اس خلاف ورزی کی بناء پر ایکشن لیا جائے۔

دستخط بحروف انگریزی: ناظر امور سلسلہ عالیہ احمدیہ

مصافحہ کرنا بھی جرم

بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

نظارت امور عامہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان

مکرمی محترم محمد صالح صاحب نور

پہلے جواب دیا جا چکا ہے کہ وہ محلہ جات میں کروا دیا گیا تھا اور امیر صاحب ضلع لاہور اور صدر صاحب قصور کی خدمت میں اطلاع کر دی تھی۔

١٩

صفحہ ٥٦٢

تھا کہ ربوہ آنے سے پہلے اجازت حاصل کرتے۔ دستخط: بحروف انگریزی، ناظر امور عامہ سلسلہ عالیہ احمدیہ

بیٹے کا باپ سے ملنا بھی جرم

بسم الله الرحمن الرحيم ۔ نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! نظارت امور عامہ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان مکرمی ومحترمی محمد یامین صاحب تاجر کتب ربوہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، محمد صالح نور صاحب کو ربوہ آنے کی اجازت نہیں۔ وہ مورخہ ٢ مئی ١٩٥٧ء کو بغیر اجازت ربوہ آ کر آپ کے پاس رہے ہیں۔ مطلع فرمائیں کہ اس کی خلاف ورزی پر آپ کے خلاف کیوں نہ ایکشن لیا جائے۔ دستخط: بحروف انگریزی، ناظر امور عامہ سلسلہ عالیہ احمدیہ

والدہ کے خلاف تعزیری کارروائی

بسم الله الرحمن الرحيم ۔ نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! نظارت امور عامہ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان قادیان دارالامان پنجاب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بخدمت مکرمہ حلیمہ بی بی صاحبہ بذریعہ عبدالمجید صاحب آپ کو چٹھی لکھی گئی تھی کہ عبدالمجید کی درخواست معافی پر اس وقت غور کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ پہلے نظارت کے حکم کی تعمیل کی جاوے۔ اگر آپ نظارت کے فیصلہ کی تعمیل اس سے نہ کروائیں گی تو آپ سب کے خلاف حکم عدولی کرنے کی وجہ سے کارروائی کی جائے گی۔ اس چٹھی کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔ اگر اسکا جواب مورخہ ٢٥ اگست ١٩٤٥ء تک نہ دیا گیا تو نظارت آپ کے خلاف تعزیری کارروائی کرنے پر مجبور ہوگی۔ اللہ بخش ناظر امور عامہ، مورخہ ٢٣ اگست ١٩٤٥ء

موت کی دھمکی

میں نے بحوالہ اخبار الفضل سوشل بائیکاٹ کے متعلق چند ایک مثالیں ہدیہ قارئین کی ہیں۔ جن کی بناء پر ملک کے تمام اخبار اور جرائد نے ادارتی نوٹ لکھے۔ مگر افسوس صد افسوس ان

صفحہ ٥٦٣

اخبار اور جرائد کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کیونکہ ابھی تک گورنمنٹ نے اس ریاست کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس سے یہ کھیل ختم ہو سکے۔ خلیفہ ربوہ صرف سوشل بائیکاٹ کا حربہ ہی اپنی ریاست میں استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ ملک کے قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لینے سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ملک اللہ یار خان بلوچ پر قاتلانہ حملہ اس بات پر بین ثبوت ہے کہ جو بھی سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

خلیفہ صاحب کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے اور ان کو موت کی دھمکی سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔“

(الفضل مورخہ ٦؍اگست ١٩٣٧ء)

اسی طرح مولانا فخر الدین ملتانی (مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان) شیخ عبدالرحمن مصری (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ)، حکیم عبدالعزیز دواخانہ رفیق زندگی، محمد صادق شبنم بی اے ، پریذیڈنٹ نیشنل لیگ اور محتسب جماعت احمدیہ مرزا منیر احمد صاحب، عبدالرب صاحب (کلرک نظارت بیت المال) خلیفہ صاحب کے مشتبہ چال چلن سے بدظن ہوئے تو انہوں نے ایک مجلس احمدیہ قائم کی، خلیفہ کی طرف سے مکمل سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ ان ممبروں کے گھر پہرے لگائے گئے۔ ضروریات زندگی سے محروم کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔ فخر الدین ملتانی مکان تمام کرایہ داروں سے خالی کرائے گئے۔ حتیٰ کہ شیر خوار بچے کا دودھ بند کیا گیا۔

خلیفہ صاحب نے فرمایا: ”کہ ہم ان سزاؤں سے بڑھ کر سزا اور ایذا دے سکتے ہیں جو با اختیار حکومت دے سکتی ہے۔“

یہ سزائیں کس قدر سنگین اور وحشت ناک ہوتی ہیں۔ اس کا اندازہ فخر الدین ملتانی کے ایک مضمون بعنوان ’پراسرار اخراج کے اعلان کی حقیقت اور صدائے مظلوم‘ سے کریں۔

صدائے مظلوم

”کہتے ہیں کہ اب زمانہ امن کا ہے، ہوگا۔ مگر ہم جو تازہ کشتہ مشق جور و ستم ہیں۔ اپنے تئیں چند صدیاں پیچھے کے زمانہ میں محسوس کر رہے ہیں۔ جب تک ہم قادیان کی مقدس سرزمین میں رہتے اور پھرتے ہیں۔ تب تک ہم یہی تصور کرتے ہیں کہ گویا ہم حضور سرور کائنات کی مکی زندگی کے ایام بسر کر رہے ہیں۔ جونہی ہم اسٹیشن قادیان پر جاتے اور گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو معاً ہم

٥١

صفحہ ٥٦٤

اپنے تئیں مدینہ منورہ میں با امن اور بسلامت زندگی کے دور میں پاتے ہیں۔ الٰہی یہ خواب ہے یا بیداری کہ وہ بستی جو ایک پاک وجود کے تشریف لانے سے دارالامن والامان قرار دی گئی اور ”من دخلہ کان آمنا “ کی مصداق ٹھہرائی گئی۔ آج وہی ہمارے لئے دارالحزن والمحن بنائی جارہی ہے۔ کیا ہم سے وہی قصور تو سرزد نہیں ہوا جو آج سے تیرہ صدیاں پہلے ایک بے کس، بے زر، بے گھر بے در اور معصوم انسان سے مکہ میں ہوا تھا۔ جس کی پاداش میں اسے بصد حسرت و یاس خیر باد کہہ کر مدینہ کی طرف جانا پڑا۔

خلیفہ المسیح ثانی کئی مرتبہ فرما چکے ہیں کہ ہم ان سزاؤں سے بھی بڑھ کر سزا اور ایذا دے سکتے ہیں جو با اختیار حکومت دے سکتی ہے یا جو پہلے حکومتیں دیا کرتی تھیں۔ بالکل سچ اور حق فرمایا۔ میں اس کے حرف حرف پر ایمان لایا۔ خواہ گورنمنٹ کے ہزار پہرے ہوں، ہزار پابندیاں ہوں، ہزار ہدایتیں اور تنبیہیں ہوں۔ مگر یہاں کئی ایسے وسائل اور ذرائع اور طریق ہیں جن سے ایک بے کس اور بے زبان انسان کو ایذا دی جاسکتی ہے۔ جو قتل اور پھانسی سے بدرجہا زیادہ ہے اور اس کا قانون حکومت میں کوئی علاج نہیں۔

بطور مثال کے تازہ نمونے دیکھیں

فخرالدین ملتانی سے سلام کلام پیام بند۔ بہت اچھا جناب ! مگر پھر اس پر عمل کس طرح کرایا گیا۔ وہ بھی ذرا اہل دل انسان اپنے سینوں پر پتھر رکھ کر ملاحظہ فرمادیں۔

سلام کلام پیام بند کے حلقہ میں میری اہلیہ اور معصوم بچوں کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص غلطی سے ہمارے شیر خوار بچہ کو کہیں راہ گلی میں پیار کرے یا پیار سے بولے تو بس اس کی بھی رپورٹ ہو رہی ہے اور دفاتر میں پیشیاں پہ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

بند نہیں کیا گیا۔ خدائی رضا کاروں نے دم نہیں لیا۔ پھر جب دوسرے گاؤں کی غیر احمدی عورت سے دودھ کی باندھ لگائی گئی تو اب اس غیر احمدی عورت کی دودھ کی باندھیں یہاں کے احمدی دکانداروں سے بند کرادیں۔ تا کہ وہ ہمارے شیر خوار بچہ کو دودھ مہیا کرنے سے باز آجائے۔

کہ خبر دار فخرالدین کی معذور بیوی کو ہرگز نہ نہلانا۔ کیونکہ وہ اس لئے مجرم ہے کہ وہ فخرالدین کی بیوی ہے۔

٢٢

صفحہ ٥٦٥

گھروں میں آنے سے قطعا روک دیا گیا ہے۔

کلام، پیام بند کی روحانی تفسیر یہ بھی ہے کہ کسی طرح سے فخر الدین کو کوئی پائی اپنے معصوم بچوں کی پرورش کے لئے میسر نہ ہوں۔

کہ اس کے خیال میں اس کے بیٹھنے سے میری دکان کی نگرانی ہوتی تھی۔

ہمیں اور ہمارے اہل عیال کو بے جا تخویف اور ہیبت کا تختہ مشق بنایا گیا۔

پر کھڑے ہو کر ان احکام جلالی کی یہ تشریح کی گئی کہ جو چیز آسانی سے غیر احمدی یا ہندو دکانداروں سے مل سکتی ہیں۔ احمدی دکاندار نہ دیں۔ لیکن باقی چیزیں ضرور دیں۔ مگر جب ہماری طرف سے انجمن کے اپنے ذمہ دار افسر کی اس تحریر کو پیش کیا گیا جس میں صاف لفظوں میں فرمایا گیا تھا کہ: احمدی دکانداروں کو خرید وفروخت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تو پھر دوسرے خطبہ میں اپنی پہلی تشریح پر قائم نہ رہتے ہوئے یہ ارشاد گرامی ہوا کہ احمدی دکانداروں کو اشیاء دینے کی اس لئے اجازت نہیں کی کہ کل کو ان کو کوئی تکلیف ہو تو یہ کہہ دیں گے کہ احمدی دکاندار نے کوئی زہر ملا دیا ہے۔ گویا دکانداروں کو یہ ایک سبق پڑھایا گیا ہے۔ اس لئے پبلک اندازہ لگا سکتی ہے کہ اگر خدانخواستہ قادیان میں غیر احمدی یا ہندو وغیرہ موجود نہ ہوتے تو پھر ان کے قہری احکام کی تعمیل سوائے اس کے کہ ہم بھوکوں مر کر جلد ختم ہو جاتے یا اپنے مال ومتاع چھوڑ کر کسی اور شہر میں جاکر آباد ہوتے اور ہم کیا کر سکتے تھے۔ کیونکہ اس نئے سبق کے تحت وہ گورنمنٹ برطانیہ کو بھی قائل کر سکتے تھے۔ بلکہ اس میں تو ایک قسم کا یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر ہم اپنے نزدیکی احمدی دکانداروں سے سودا سلف لینے پر مصر بھی ہوئے تو زہر خورانی سے بھی دریغ نہ ہوگا۔"

مفلوک الحال بنانے کی کوشش کی گئی۔

٢٣

صفحہ ٥٦٦

قصور والزام کے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اور ان کے تمام حقوق پراویڈنٹ فنڈ اور فرلو کے غصب کر لئے گئے۔ حالانکہ ان کی سینتالیس سالہ ملازمت میں ایک قصور یا الزام بھی ان کے ذمہ نہیں۔

سفید پوش سودیشی چوروں نے گھس کر میرے جان و مال پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر قسمت اچھی تھی ہم بال بال بچ گئے اور وہ تالا توڑنے تک محدود رہے۔ مگر اسی رات سے ہم سب کے سب رات بھر بے چین اور خوفزدہ اپنے کوٹھے پر جاگتے رہتے ہیں اور ہمارے سب دوست ، ہمسایہ وغیر ہمسایہ اس وقت آرام کی میٹھی نیند سوتے ہیں۔ تیرہ برس سے میرا مکان آباد ہے۔ مگر اب ان کی ناکہ بندی میں یہ فعل سرزد ہوا اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ اس ناکہ بندی کو ہمارے ستمگار مہربان مکان کے حفاظتی پہرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔

کے عوام احمدیوں کو ہمارے خلاف مشتعل اور مسموم کیا جارہا ہے۔ تاکہ ہمارے ڈیفنس اور ہمارے خیالات کی طرف وہ دھیان ہی نہ کریں۔

بچے ہیں۔

لڑکوں کو شیخ مصری پر نگران مقرر کر کے انتہائی طور پر بے عزت اور حقیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر خدا کے ہاں انصاف ہے۔ چاہ کن را چاہ در پیش، ہر فرعونے را موسیٰ کا نظارا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

کیا گیا۔ حالانکہ تحقیقات ہونے پر وہ صحیح شکوے ثابت ہوئے۔ اسی طرح مصری صاحب سے متعلق ادعائے اثر و رسوخ گند اور گالیاں اور تکبر وغیرہ کے الفاظ غلط طور پر منسوب کر کے جماعت کو اس بات پر ابھارا گیا کہ وہ جس قدر ممکن ہو ذلیل سے ذلیل الفاظ مصری صاحب کے خلاف ریزولیوشنوں میں لکھیں۔“

٢٤

صفحہ ٥٦٧

بچے بازار میں کوئی چیز لینے جاتے ہیں تو ساتھ ہی خدائی رضا کار جا کر دکاندار کو اشارہ کر دیتے ہیں کہ نہ دینا۔

میں سے بعض لڑکے رات کو ہمارے احتیاطی ٹارچ روشن کرنے پر سامنے الف ننگے کھڑے ہوگئے۔ اس وقت میری اہلیہ اور میری لڑکی بھی سامنے کھڑی تھیں۔

نے اس کا منہ چڑایا اور بھاگ گیا۔

دوربین کے ذریعہ جھانکا گیا اور اس طرح ان بیچاروں کو تمام دن پریشان رکھا گیا اور گھر کا کام کاج کرنے اور کھانا پکانے سے روکے رکھا۔

لاٹھیوں اور بعض کلہاڑیوں سے مسلح تھے شیخ مصری کے مکان کو گھیرے ہوئے دیکھے گئے۔

ہیں۔ پھر بھی وہ بدستور جسارت اور دیدہ دلیری سے اپنے طریق کار پر مصر ہیں۔ اسی رات کو کئی مرتبہ شیخ مصری صاحب کے مکان کے قریب کھیتوں دو، دو، چار، چار لڑکے معہ لاٹھیوں کے لیٹ کر چھپے ہوئے دیکھے اور دکھائے گئے۔

ہے۔

جھوٹ اور خلاف واقعہ رپورٹیں کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ایک رات نو بجے کے بعد پولیس میں یہاں کے جنرل پریذیڈنٹ کے ذریعہ رپورٹ کرائی گئی کہ فخر الدین ملتانی کی دکان کھلی ہے۔ اب خطرہ ہے کہ احراریوں کے ذریعہ اپنی دکان کا نقصان کرا کر جماعت احمدیہ کو بدنام کر دیں گے۔ مجھے پریذیڈنٹ صاحب کی لمبی داڑھی اور ان کی متقیانہ صورت دیکھ کر سخت رحم آیا کہ ایسے سیدھے سادھے بیچارے مؤمن کو آلہ کار بنا کر خواہ مخواہ نمبر ١٨٢ دفعہ کا ملزم بنانے کی جرأت کی گئی ہے۔

٢٥

صفحہ ٥٦٨

کیونکہ ایس آئی صاحب نے فوراً سپاہی بھیج کر تحقیقات کی تو رپورٹ غلط اور جھوٹی تھی۔ نہ معلوم پولیس نے اس غلط رپورٹ پر کوئی نوٹس کیوں نہ لیا جو کہ اس وقت تحقیقات کی رو سے ثابت ہو چکا تھا۔

اور مقدمات کرنے کے لئے اکسایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ادھر ہمارے ذرائع معاش بند کر دیئے گئے ہیں۔

رہی۔

غرض ہے کہ کسی طرح اپنا یہ ڈیفنس اور اصل حقیقت ان کے اندھے مریدوں پر آشکارا نہ کر دیں اور ان کے خاص راز و نیاز کا بھانڈا پھوڑ دیں۔ جن کے انکشاف کے خوف سے دیوانہ وار قلابازی کر کے قبل از مرگ واویلا کیا جا رہا ہے۔ اب اہل دل اصحاب خواہ وہ کسی مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے رشتہ انسانیت کے واسطہ سے غور فرمادیں کہ مذکورہ بالا مشکلات اور مصائب جو الگ الگ تو معمولی لگتے ہیں۔ مگر مجموعی طور پر یہ جس یکہ و تنہا انسان پر وارد ہورہے ہوں۔ اس کے لئے کس قدر تکلیف اور دکھ کا موجب ہوں گی ۔ خدا کی قسم مجھے تو گورنمنٹ برطانیہ پر رحم آتا ہے کہ وہ بے چاری قانون کی عملداری کس طرح ان ہتھکنڈوں کا علاج کر کے ہمیں آزادانہ زندگی دلا سکتی ہے۔ ہمارے لئے دارالامان گورستان سے بھی بدترین بن رہا ہے۔ پھر یہ کس قدر ستم ظریفی اور مقدس اسلام کی تضحیک و توہین ہے کہ ان ستم آرائیوں اور جفاکاریوں کو عین اسلام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ چنانچہ قادیان کے بڑے موٹے عالم قبلہ میر محمد اسحق فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ اور ماموں جان خلیفہ المسیح ثانی نے ١٧ جولائی کو مسجد دارالفضل کے بھرے مجمع میں فرمایا کہ: ”یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کا مقاطعہ کیا گیا ۔ ان کی ناکہ بندی کی گئی۔ ان کا دودھ بند کیا گیا اور ان کی بھنگن کو کام کرنے سے روکا گیا۔ یہ اعتراض اگر وہ قرآن کریم پر غور کرتے تو کبھی نہ کرتے۔ کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جب تین اصحاب ایک غزوہ میں شریک ہونے سے رہ گئے تو ان کا مقاطعہ کیا گیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ...... ضاقت علیہم الارض بما رحبت ۔ زمین باوجود فراخ ہونے کے ان پر تنگ ہو گئی ۔“ سچ ہے کہ ۔

٢٦

صفحہ ٥٦٩
گر ھمیں مکتب و ھمیں ملا
کار طفلان تمام خواہد شد

کہاں ایک رسول ﷺ کے حکم کی نافرمانی اور کہاں ایک خلیفہ کی ذاتی اور نفسانی حالت پر ناراضگی۔ پھر ظاہر پرست میر صاحب نے قرآن کریم کے لطیف پیراۓ کی کیسی ہتک کی ہے۔ حالانکہ وہاں صاف بات ہے کہ ان کو تو حضرت رسول کریم کی ناراضگی دیکھکر معلوم ہورہی تھی۔ نہ کہ ان کا مقاطعہ ایسا ظالمانہ نہ تھا کہ ان کے اہل و عیال کا دانہ پانی بھی روکا گیا ہو۔ صرف بول چال بند تھی۔ کھانا دانا سب مہیا کیا جاتا تھا۔ بہرحال میر صاحب موصوف نے ان مظالم کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ واقعی ہو رہے ہیں اور یہ ان کی قرآن دانی کی مدد سے جائز ہیں۔ پس خدا ہمارے اہل و عیال اور ننھے منے بچوں کے حال زار پر رحم فرما کر ان ستم پیشہ لوگوں کی ذلیل حرکات سے محفوظ فرما کہ تیرے سوا ہمارا کوئی واقف زار اور پرسان حال نہیں۔ آمین! خاکسار فخر الدین ملتانی ، مورخہ ١٢ جولائی ١٩٣٧ء

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على رسوله الكريم !

میرے پر اسرار اخراج کے اعلان کی حقیقت اور ربوہ پراپیگنڈا

دوستو! اک نظر خفا کے لئے سینکڑوں ستم سہے ہم نے

میرے اخراج کے اعلان میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تین روز تک تفصیلی بیان شائع کیا جاوے گا۔ اس لئے میں مطمئن تھا کہ تفصیلی بیان کے پڑھنے پر دوستوں کو میرے ان جرائم کا اندازہ ہو جائے گا جن کی پاداش میں میرے جیسے تیس سالہ خادم سلسلہ جماعت کو ایسی سنگین سزا دی گئی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے آج دو ہفتے سے زائد گزر جانے کسی خاص مصلحت کے تحت تفصیلی بیان شائع نہیں کیا جاسکا۔ مگر اس وقفہ خاموشی میں میرے متعلق طرح طرح کے جھوٹے اور ربوہ پراپیگنڈے کر کے میرے خلاف خواہ مخواہ منافرت اور حقارت عامہ پھیلائی جارہی ہے کہ گویا چھپا ہوا احراری یا پیغامی یا بابی وغیرہ تھا یا اب ہوں۔ یا ان سے کسی طرح کی سازش ، العیاذ باللہ پھر اسی سزا کے دوران جب کہ ٢٤ گھنٹہ میرے گھر کی چاروں طرف سے ناکہ بندی ہوئی ہے اور میری ہر حرکت و سکون پر کڑی نگرانی ہے۔ میرے گھر سفید پوش آدمی آتے ہیں اور میرے گھر کی تاکی توڑی گئی۔ بدقسمتی سے وہ سفید پوش سودیشی چور ہاتھ سے نکل گیا۔ مگر اس کے متعلق یہ مشہور کیا جا رہا

٧٤

صفحہ ٥٧٠

ہے کہ گویا ہم نے خود تاکی توڑ کر شور ڈال دیا۔ ان دونوں امور کے متعلق مکروہ پراپیگنڈہ کرنے والے احمدی دوستوں کو مسیح موعود کے اصول و معیار صداقت کے ماتحت

چیلنج کرتا ہوں

کہ ان میں سے ایک یا دو یا سب اپنے اپنے اہل وعیال لے کر میرے مقابل میدان میں نکلیں۔ میں بھی اپنے اہل وعیال لا کر اور اپنے شیر خوار بچہ کو گود میں لے کر خدا کے حضور میں تریاق القلوب کی قسم کھاتا ہوں اور وہ بھی قسم کھادیں۔ میں اپنے بیان کی تصدیق میں اور وہ اپنے بیان کی تصدیق میں۔ پھر اس کے نتیجہ کے لئے خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔ اس فیصلہ کن طریق سے جو مسیح موعود کا بیان فرمودہ ہے کسی احمدی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ میرا یہ بیان ہے کہ میں دم تحریر ہٰذا نہ احراریوں اور نہ پیغامیوں سے ملا اور نہ احراریوں سے بذریعہ تقریر و تحریر کسی قسم کی سازش کی۔ حالانکہ بعد اخراج مجھے ان سے ملنے میں کوئی روک نہ تھی۔ اس طرح تاکی توڑنے والے سودیشی سفید پوش آدمی کو میں نے اور میرے لڑکے نے اپنی آنکھوں سے صرف دو تین فٹ کے فاصلہ پر سے دیکھے۔ یعنی کھڑکی کے آر پار کا فاصلہ تھا اور ہم نے نہیں توڑی یا تڑوائی۔ اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں تو یا الٰہ العالمین مجھے ایک سال کے اندر اندر جھوٹوں کی سزا دے۔ اسی طرح مد مقابل بھی دعا کرے اور ہم سب مل کر آمین کہیں۔ اگر اس طریق فیصلہ پر آنے کے لئے کوئی تیار نہ ہو۔ تو پھر دوستو، ایسے مکروہ پراپیگنڈے سے ایمانوں کو ضائع مت کرو۔ کیونکہ اس طریق سے ممکن ہے کہ انسان کو چند روز کے لئے خوش کر لو۔ مگر خدا ناراض ہوگا۔

میرے اخراج کے اعلان میں سزا صرف یہ ظاہر کی گئی تھی کہ کلام، سلام پیام فخر الدین سے بند۔ مگر اس سزا کی جو عملاً تشریح کی جارہی ہے اور یہ ہے کہ:

ہیں۔

میں وہ میری دکان کی نگرانی کرتا تھا۔

٢٨

صفحہ ٥٧١

اہل وعیال کو اور مجھے بے جا تخویف اور ہیبت کا تختہ مشق بنایا گیا ہے۔

مفلوک الحال بنانے کی اسکیم بنائی گئی ہے۔

پوش سودیشی چوروں نے گھس کر میرے جان و مال پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر تالے توڑنے میں وہ یہ دیکھ کر کہ ہم ہوشیار ہیں بھاگ گئے۔ مگر اس دن سے ہم سب کے سب رات بھر بے چین اور خوفزدہ اونچے کوٹھے پر جاگتے رہتے ہیں اور ہمارے سب دوست ہمسایہ وغیرہ اس وقت آرام کی نیند سوتے ہیں۔ تیرہ برس سے میرا مکان آباد ہے۔ مگر اب ان کی ناکہ بندی میں یہ کل کیا گیا۔

ہے۔ جن میں سے بعض لڑکے رات کو ہمارے احتیاطی ٹارچ روشن کرنے پر سامنے الف ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت میری اہلیہ اور لڑکی بھی سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔

کے عوام کو مشتعل کیا جاتا ہے۔ حالانکہ میں خدا کے فضل سے احمدی تھا۔ احمدی ہوں اور انشاء اللہ احمدی مروں گا۔ خواہ مجھے اس سے بھی زیادہ تکلیفیں اور دکھ کیوں نہ پہنچائے جائیں۔

احمدیت میری خوراک، احمدیت میری پوشاک، میرا اوڑھنا اور بچھونا احمدیت اور انشاء اللہ احمدیت ہی میرا کفن بنے گی۔ احمدیت خدا کے فضل سے میرے رگ و ریشہ اور روح و جسم میں جزولاینفک بن چکی ہے۔ یہ جوہر میں نے براہ راست مسیح موعود کے ہاتھوں سے پایا ہے۔

میرے بچے ہیں۔

عزت اور حقیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نہ کر کے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ واقعی سنگین جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔ حالانکہ

٢٩

صفحہ ٥٧٢

در اصل نہایت معمولی بات ہے۔ اس میں ایمانیات یا اتہام کا کوئی دخل نہیں۔ یعنی اخویم ڈاکٹر فضل الدین صاحب آف کہالہ کے گھر چوری کے واقعہ کے متعلق چند ایک ذاتی شکوے تھے۔ جن کو بہ نیت صفائی قلب صاف صاف بیان کر دیا گیا۔ مگر اس صاف بیانی کو اتہام سے موسوم کر لیا گیا ہے اور اسے اتنی بڑی وسعت اور اہمیت دی گئی ہے۔

کو جماعت کے لوگوں سے مخفی رکھا گیا ہے اور اپنے یک طرفہ بیانات پر یقین کر لینے کے لئے جماعت کو مجبور کیا گیا ہے۔ اب دوست اور وہ دوست جو کبھی احمدیت کی وجہ سے غیر احمدیوں کے بائیکاٹ کے تختہ مشق رہ چکے ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ آیا اس بائیکاٹ کا اور اس بائیکاٹ میں کوئی فرق ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو دوستو فکر کرو کہ ان زیادتیوں کی وجہ سے جلد کوئی عذاب آنے والا نہ ہو۔ اگر مجھے صفائی سے یہ کہہ دیا جائے کہ ان حرکات سے ہمارا منشاء یہ ہے کہ تم قادیان سے نکل جاؤ تو خدا کی قسم ایک لمحہ بھی نہ ٹھہروں گا۔ چابیاں یہاں کے ذمہ دار کے سپرد کر کے فوراً چلا جاؤں گا۔

اس اعلان اخراج کے بعد میں نے حضرت اقدس کے فرمان کے ماتحت کہ سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔ ایک خواب کی بناء پر سچے دل سے معافی مانگی ہے۔ جس کا جواب تاحال خاموشی ہے۔

پیارے دوستو! قادیان کے ہوں یا باہر کے۔ آپ لوگ جانتے ہو کہ میں نے آج تک کسی سے برائی نہیں کی۔ جہاں تک ہو سکا خدمت کی۔ نیکی کی، اور وفا کی، دغا نہیں کی۔ بہ نیت ثواب اور خوشنودی خدا احسان و مروت کی۔ کیوں؟ محض اپنے پیارے مسیح کی تعلیم کے طفیل انہی کے ماتحت اب بھی ان تمام زیادتیوں کو برداشت کرتا رہا ہوں تو بھی محض اپنے پیارے مسیح موعود کی خاطر اس قادیان اور قادیان کے رہنے والوں کی عظمت و محبت میں، ورنہ آپ جانتے ہیں کہ مندرجہ بالا زیادتیوں میں سے ہر ایک کا جواب زبردست سے زبردست ہو سکتا ہے۔ عملی بھی اور علمی بھی ۔ مگر میں ابھی تک ان کے جواب کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ یہ بد نما ہولی فوراً ختم کر دی جائے اور سلسلہ احمدیہ کی امن پسندی اور سلامت روی روایت کی عظمت و عزت برقرار رکھی جائے۔ غیر لوگ یہ حالت دیکھ کر اور سن کر سلسلہ احمدیہ کی نیک نام روایت کو افسانہ سمجھنے

٣٠

صفحہ ٥٧٣

لگ گئے ہیں۔ پس سزا کو سزا کے الفاظ تک محدود رکھو۔ ان الله لا یحب المعتدین ! خدا سے ڈرو، ذاتی جوش اور کدورتوں اور انتقامی جذبہ سے بچو۔ ورنہ خدا کی پکڑ بہت سخت ہے۔ مرا دعا نصیحت بود و کردیم !

میں سمجھ لوں گا کہ دوسرے احمدیوں کو ابتدائے احمدیت میں بیگانوں کے جور و مظالم کا تختہ مشق بننا پڑا اور مجھے انتہائے احمدیت میں اپنوں کا جور و ستم کا شکار بننا پڑا۔ پس اے خدائے علیم و خبیر جو دلوں کے مخفی بھیدوں کو جاننے والا ہے تو خوب جانتا ہے کہ میں صدق و یقین سے اپنی طرف سے مخلص احمدی ہوں۔ گو میں بہت سی عصیان و کفران و نسیان کا مجموعہ ہوں۔ مگر میری بیعت اور سچی محبت مسیح موعود سے اور مسیح موعود کے طفیل اور واسطہ سے ان کے خاندان کے افراد سے ہے اور ان کی ہر جائز خدمت کا شوق اور تڑپ ہے اور احمدیت کے لئے تیرے ہی فضل سے میرے اندر خاص جوش اور حرارت بخشی گئی ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ ہر صورت میں صاف گوئی اور راست گفتاری کو مقدم رکھتا ہوں۔ خواہ دوسرا کتنا ہی برہم کیوں نہ ہو۔ اس راست گفتاری کے باعث میرا خواہ کتنا ہی یگانہ عزیز اور بزرگ ناراض اور کبیدہ خاطر کیوں نہ ہو۔ میرا دل ہرگز جنبش نہیں کرتا۔ پس اے میرے محافظ حقیقی خدا نے محض اپنے فضل سے اس عاصی پر معاصی بندہ کو ابتداء میں بیگانوں کے فتنہ و شر سے محفوظ رکھ کر دارالامن میں پناہ دی تھی۔ اس طرح اب بھی اپنوں کی تازہ کرم فرمائیوں سے جن کا مختصر سا خاکہ اوپر دے چکا ہوں۔ محفوظ و مامون رکھ کر دارالامن میں سکینت سکونت عطاء فرمایا۔ میرے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور میری معذور بیوی تن تنہا محض تجھ اکیلے ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ہمارے اوپر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ لاہور امرتسر یا دوسرا شہر نہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے دروازہ پر پناہ گزینی کی درخواست دی جائے۔ قادیان ہے جہاں صرف تیری آسمانی گورنمنٹ ہی ہم عاجزوں کی حفاظت کرسکتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا خاکہ مصائب سے ظاہر ہے۔ جماعت سے اخراج گویا انسانیت سے اخراج ہے۔ عام انسانیت کا سلوک بھی ہم عاجزوں اور بیکسوں سے روا نہیں رکھا جاسکتا۔ انسانیت چھوڑ حیوانیت کے دائرہ سے بھی نکالا جارہا ہے۔ بھلا شیر خوار بچہ کے لئے دودھ دینے سے روک دینا طوفان، آندھی سے ایک دیوار گر گئی۔ اس کے بنانے کے لئے راج کو منع کر دینا کس مذہب اور کس سوسائٹی میں جائز ہے۔ یا کس قانون اور آئین میں سزا کی قسم ہے؟

٣١

صفحہ ٥٧٤

اس حالت پر تین ہفتے گزرنے کو ہیں اور معلوم نہیں کہ عرصہ مصائب کتنا لمبا اور وسیع ہوگا۔ دارالامن و دارالامان میں یہ حالت پرندوں کے بسیرے کے لئے درخت موجود، جنگل کے درندوں کے لئے بھٹ موجود، مگر ابن آدم اور اس کے معصوم اور ننھے ننھے بیمار معذور بچوں کے لئے یہ بدامنی کی نہ رات چین سے گزرتی ہے اور نہ دن کو قرار ملتا ہے۔ ڈنڈا فوج کے ہر وقت کا مظاہرہ میری بیوی اور بچوں کے دلوں میں عجیب ہیبت طاری کر رہا ہے۔ اس جرم کی پاداش کہ میں نے چند ایک شکوے پیش کئے جن کو ناواجب اتہام سے موسوم کر کے تمام احمدی جماعت کو میرے خلاف ابھارا گیا ہے۔

کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ قادیان جیسے مقدس خطہ جو ایک صلح و آشتی و سلامتی کے شہزادہ کی تخت گاہ ہے۔ جہاں سے روحانی علوم کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ جہاں سے تمام دنیا کو سلامتی پہنچانے کا پیغام جاری ہوا ہے۔ وہاں ایسی پر جفا ستم زا کاروائیاں پھر اس پر روا رکھی جا رہی ہیں جو وفادار اور خدمت گذار احمدی ہے۔ اس کے اوپر یہ ظلم وستم الہی تیری پناہ۔

جماعت میری آواز سے متفق ہو یا نہ ہو اس کی پرواہ نہیں کیونکہ میں احمدی ہوں۔ محض اپنی نجات کے لئے میرے خدا تیری رضا جوئی کے لئے میں یہ بیان اس لئے نہیں شائع کر رہا کہ جماعت کے لوگ مجھ سے خوش ہو جائیں یا میرا رزق نہ روکیں۔ رزاق ذی القوۃ المتین تجھے وحدہ لاشریک کو سمجھتا ہوں۔ یہ مصائب اور ابتلا آتی ہیں۔ مجھے یہ تسکین قلب حاصل ہے کہ میں حق پر ہوں اور حق پر ہی مرنے کا آرزو مند ہوں۔ میں نے ایمانی جرات سے کام لے کر جو جو شکوے میرے دل میں تھے صاف صاف عرض کر دیئے تھے۔ اب اگر اس صاف گوئی کا کوئی بزرگ یا خود رو پسند نہیں کرتا تو پرواہ نہیں۔ تو خدا میرا والی میرا رب اس کو ضرور پسند کرتا ہے۔ مسیح موعود کی غلامی سے میں نے یہی ایک جوہر پایا ہے۔ کیا میں اسے ضائع کر کے خسر الدنیا والاخرۃ کا مصداق بنوں۔ العیاذ باللہ!

اے میرے خدا تو جانتا ہے کہ میں منافق نہیں ہوں۔ میرے سر پر کوئی تلوار نہیں لئے کھڑا کہ میں جھوٹ بول کر اپنے تئیں احمدی ظاہر کروں۔ لیکن میں درپردہ غیروں سے ملا ہوا ہوں۔ کیونکہ تیرے پاک کلام میں منافق کی یہی جامع و مانع تعریف ہے کہ ”اذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا واذا خلوا الی شیاطینہم قالوا انا معکم انما نحن مستہزؤن “ کہ جب مومنوں کو ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب غیروں کے پاس

٣٢

صفحہ ٥٧٥

جاتے ہیں تو انہیں کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ مگر اب تو منافقت کی تعریف کو اس قدر وسعت دی گئی ہے کہ بات بات پر اور معمولی سے معمولی ذاتیات پر اچھے بھلے مؤمن کو منافق کہہ کر ادنیٰ اور اعلیٰ کی نظروں سے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ہی ہمیں اس اندر کے پیدا شدہ فتنہ سے ہر طرح محفوظ رکھ۔ میرے خدا تو جانتا ہے کہ اس وقت بھی محض ذاتیات کی بناء پر مجھ پر اور میرے اہل وعیال پر ہر ممکن سے ممکن تکلیف اور مصیبت میں ڈالا جارہا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور سختی کیا ہو گی کہ ناراضگی مجھ پر ہے۔ مگر دودھ میرے شیر خوار بچہ کا بند کر دیا گیا ہے۔ بھلا اس معصوم بچہ نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ اس کا ایک بازو ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کی معذور ماں کے پستانوں میں اس کی قسمت کا دودھ نہیں ہے۔ اس کا اگر قصور ہے تو صرف یہ کہ وہ مجھ بدقسمت انسان کا بیٹا کہلاتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں یہ حکم نافذ فرمایا گیا کہ ان کو دودھ دینا بند کر دو۔ کیونکہ یہ ہمارے فلاں مجرم کا لخت جگر ہے۔ حضرت عثمان پر بھی جب باغیوں نے پانی بند کر دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ یہ فعل نہ کافروں کا ہے نہ مؤمنوں کا۔ مگر یہاں شیر خوار بچہ کا مدار زندگی بند کر دیا جاتا ہے۔ پدر مؤمن کہ مؤمن مگر وہ شیر خوار بچہ منافق زادہ ہے۔

ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا

میرے پیارے خدا تو جانتا ہے کہ میں نے وطن چھوڑا محض حق کی خاطر۔ عزیز واقارب سے منہ موڑا محض حق کی خاطر، قادیان میں کنبہ چھوڑا محض حق کی خاطر۔ پچھلے رشتے ناطوں کو توڑا محض حق کی خاطر، تو اب قادیان میں حق کی خاطر، کہ پھر اگر ہمارا جذبہ ایمانی اور طاقت روحانی اس قدر گر چکے ہیں کہ حق گوئی کے لئے محض ہم اس لئے جرأت نہیں کرتے کہ کہیں ہماری دنیوی اغراض ضائع نہ ہوں گی یا سوشل تعلقات میں فرق پڑے گا۔ یا بائیکاٹ اور اخراج کا بھوت سر پر سوار ہو جائے گا۔ تو بس پھر ہماری ایمانی ترقی معلوم شد۔ صحابہ کرام سے ہماری روحانی کیفیت نہیں بڑھ سکتی۔ وہ ہمارے لئے نظیر ہے۔ حق کی خاطر کہ فساد و فتنہ کی خاطر اگر ان تکالیف کے لئے ہو تو قبل ان تموتوا پر عمل کر کے طبیعت کو تیار کر لیا جاوے۔ تو پھر بس کوئی ڈر نہیں

پس اے خدا تو ہماری بے بسی اور بے یار و مددگاری کو خوب جانتا ہے۔ تو آپ ہی ہماری حفاظت کر۔ آمین!

”رب کل شیء …… خادمک رب فاحفظنی فانصرنی وارحمنی“ ایک مجبور و مقہور خاکسار : فخر الدین ملتانی قادیان !

٣٣

صفحہ ٥٧٦

خلیفہ قادیان کا بائیکاٹ و مقاطعہ

سیکرٹری انجمن انصار احمدیہ قادیان کی زبانی سنئے!

جو احمدی بھی خلیفہ یا ان کے ناظروں کے خلاف شریعت افعال یا مظالم کے خلاف آواز اٹھائے تو بجائے اس کی داد رسی کرنے یا تسلی کرانے کے لئے اس کا سختی سے بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ تمام احمدیوں کو حکم دیا جاتا کہ کوئی اس سے سلام کلام نہ کرے نہ اس کے سلام کا جواب دے۔ نہ اس سے کوئی خریدے نہ اس کے ہاتھ فروخت کرے۔ یہاں تک کہ دکانداروں کو ضروریات زندگی تک دینے سے منع کر دیا جاتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس کے قریب ترین رشتہ داروں کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بیمار کی بیمار پرسی کر سکیں۔ یا مردہ کے کفن دفن میں شریک ہوسکیں۔

موت کی کشمکش میں بھی اجازت نہیں

اگر کوئی عورت زندگی وموت کی کشمکش میں بوقت ولادت اکیلی تڑپ رہی ہو تو اس کی ماں بہن بھائی باپ تک کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بلکہ دایہ تک کو بھی آنے سے روک دیا جاتا ہے۔

معصوم بچوں کا دودھ بند کرنا

کرائے کے مکان سے اسے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے مکان ہوں تو کرایہ داروں سے حکماً خالی کرا دیئے جاتے ہیں۔ موقعہ لگے تو آگ تک بھی لگا دی جاتی ہے۔ شارع عام پر گزرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ مساجد میں جاکر نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ اس کے ہاں بھنگن مزدور تک کو کام کرنے سے باز رکھا جاتا ہے۔ اس کے بچوں کو سکول میں تعلیم دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس کے ننھے ننھے معصوم بچوں کا دودھ بند کرا دیا جاتا ہے۔ معمولی معمولی قماش کے لونڈے اس پر جاسوس مقرر کئے جاتے ہیں جو ہر وقت اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اس کے مکان کے گرد لٹھ بند پہرے دار بٹھا دیئے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ جب لوگ اسے دیکھیں تو لاحول پڑھا کریں۔ اس کے بیوی بچوں تک کو سلام وکلام کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

فرمان خلیفہ المفصل

’’اس عرصہ (دوران بائیکاٹ میں) میں ماں، باپ اور بیوی بچوں اور دوسرے تمام

٣٤

صفحہ ٥٧٧

رشتہ داروں کا فرض ہوگا کہ جس طرح ایک گندہ چیتھڑا اپنے گھر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیں۔ باپ بچے کو نکال دے۔ (خواہ بچے گھر سے نکل کر آوارہ ہو جائیں یا اسلام چھوڑ کر کوئی اور مذہب ہی کیوں نہ اختیار کر لیں) ان سختیوں کے باوجود پھر اس کو کسی نہ کسی مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کو منافق، مرتد، دشمن سلسلہ قرار دے کر اس کے قتل تک کو جائز بتایا جاتا ہے۔ یہ تمام مظالم اور سختیاں اس لئے روا رکھی جاتی ہیں تاکہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور کوئی مظلوم جس کو اللہ تعالیٰ بھی ظالم کے ظلم کے علی الاعلان اظہار کی اجازت دیتا ہے آواز نہ اٹھا سکے۔

اب اے جماعت احمدیہ خدا کے لئے بتا کہ کیا اس قسم کا حیا سوز سلوک کبھی کسی خدا کے پیارے نے بھی اپنے معترضین کے ساتھ روا رکھا۔“

پھر فرماتے ہیں: ”ان دنوں ان کی زندگیوں کی ایک ایک گھڑی میرے احسان کے نیچے ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍جولائی ١٩٣٧ء)

خلیفہ قادیان کا مریدوں کو ابھارنا اور اس کے نتائج

خلیفہ نے پھر ایک آخری خطبہ ٦؍اگست ١٩٣٧ء جمعہ کے دن دیا۔ جس میں مذکورہ بالا شخصیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مریدوں اور جانبازوں کو ابھارا گیا۔ اس کے دوسرے ہی دن پھر بروز ہفتہ ٧؍اگست تقریباً ساڑھے چار بجے عصر کے وقت مولانا فخر الدین ملتانی، حکیم عبدالعزیز، حافظ بشیر احمد (پسر شیخ عبدالرحمٰن) تینوں پولیس پوسٹ کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس پوسٹ سے کم و بیش سو گز کے فاصلے پر ایک تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا گیا۔ تیز دھار آلہ فخر الدین ملتانی کی پسلی کو چیرتا ہوا پھیپھڑے میں جا نکلا۔ بعد ازاں حکیم عبدالعزیز کو بھی اسی تیز دھار آلہ سے منہ اور گالوں پر شدید ضربات آئیں۔ گورداسپور ہسپتال میں فخر الدین ملتانی ١٣؍اگست ١٩٣٧ء پانچ بجے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

یاد رہے کہ فخر الدین ملتانی قریباً ٣٢ سال تک اس نام نہاد جماعت کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کرتے رہے۔ مگر جب ٧؍اگست ١٩٣٧ء کو ساڑھے چار بجے سر بازار انہیں خون میں نہلا دیا گیا تو ایک ہزار کی ملحقہ احمدی آبادی میں سے اس تشدد کے خلاف گواہی دینے والا ایک فرد بھی نہ مل سکا۔ حیف ہے صد حیف ہے اس روحانیت پر۔ ڈاکٹر گوربخش سنگھ، ایم. بی. بی. ایس کی دکان بھی اسی بازار میں تھی۔ انہیں بھی کھنکتے سکوں اور روپہلی چاندی کا لالچ دے کر سچی گواہی سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ مگر وہ مکر و فریب کے اس جال میں نہ آئے اور حق کی بات کہنے

٣٥

صفحہ ٥٧٨

سے گریز نہ کیا۔ اس وحشیانہ بربریت پر مستزاد یہ کہ جب آپ کی لاش گورداسپور سے قادیان لائی گئی تو پھر مہذب قادیانیوں کا سلوک دیدنی تھا۔ قبر کھودنے والے مزدوروں کو دھمکا کر قبر کھودنے سے روکا گیا۔ اینٹیں دینے سے منع کیا گیا اور نعش کا بکس بنانے والے مستریوں کو حکماً روک دیا گیا۔ کیا ایسے انسانیت سوز بائیکاٹ کی کوئی مثال دنیا پیش کرسکتی ہے۔ بالآخر احرار رضا کاروں نے مذہبی اختلافات کے باوجود تدفین کا فریضہ سرانجام دیا اور انسانیت قادیان کے اس شرمناک رویے پر سر پیٹتی رہ گئی۔

مٹا دو یا مٹ جاؤ

خلیفہ ربوہ کا آخری خطبہ جو جمعہ ٦ اگست ١٩٣٧ء کو دیا گیا تھا وہ اس قدر اشتعال انگیز تھا کہ ڈی سی گورداسپور نے حکماً روک دیا تھا جو آج تک شائع نہیں ہوا۔ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو کس طرح ابھارتے ہیں۔ ان کے مزید اقتباس ملاحظہ ہوں۔

”تم میں سے بعض تقریر کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہیں کریں گے۔ مگر جب کوئی ان پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں۔ بھائیو! کچھ روپے ہیں کہ جن سے مقدمہ کردیا جائے۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے۔ بھلا ایسے....... نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٥ جون ١٩٣٧ء)

دشمن کو سزا دینی چاہئے

اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا گالیاں دینے والوں کو مٹا دو۔ گر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا کہ: ”اے بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“

(الفضل مورخہ ٥ جون ١٩٣٧ء)

”جسمانی ذرائع دعاؤں کے ساتھ وہ تمام تدابیر اور تمام ذرائع کا خواہ وہ روحانی ہوں...... استعمال کریں۔“

(الفضل ٩ جولائی ١٩٣٧ء)

زندہ جماعت اور قربانی

اس پر بس نہیں...... پھر یوں فرماتے ہیں: ”تو احمدیوں کا خون اس کی (حکومت)

٣٦

صفحہ ٥٧٩

گردن پر ہوگا۔...... ہم دنیا میں نابود ہونا ...... منظور کر لیں گے...... احمدی جماعت ہے ...... وہ ہر قربانی پیش کرے گی۔ مظلومیت (قانون نقطہ ملاحظہ ہو) کے رنگ میں عمر قید چھوڑ پھانسی پر بھی لٹکایا جائے تو ہم اسے باعث عزت سمجھیں گے ۔“

(الفضل مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٣٧ء)

پھر رویا کشوف کے ذریعہ تشدد پر سدھائی ہوئی جماعت کو ابھارا جاتا ہے اور ظلم کا ایک نیا دور شروع ہو جاتا ہے۔

قتل کے لئے الہامی بنیادیں

یوں تو خلیفہ کے خطبے اشتعال انگیزی کا شاہکار ہیں اور انہی سے مشتعل ہو کر قتل و غارت ہو سکتی تھی۔ جیسا کہ مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ اور مسٹر بیک نے اپنے فیصلہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ٦؍ اگست کو ساڑھے چار بجے فخر الدین ملتانی پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے اور ایک دن قبل الفضل میں ایک مضمون شائع ہوتا ہے جس کا عنوان ہے: ”مصری اور ملتانی“، ”یہ دو گھر ہی مر گئے“ ملاحظہ فرماویں کہ کس چابکدستی اور عیاری کے ساتھ قتل و غارت کو الہامی بنیاد مہیا کی گئی ہے تاکہ جماعت اس بات پر مطمئن ہو جائے کہ اس قتل سے الہام پورا ہوا ہے۔ تشدد کی یہی بالواسطہ ترغیب آج تک الفضل کا پیشہ ہے۔ مگر عوام تو درکنار خواص بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

مصری اور ملتانی ”یہ دو گھر ہی مر گئے“

الہام مسیح موعود، تذکرہ ص ٧١٦، طبع سوم

”الہی سلسلہ اور منافقین

اللہ تعالیٰ کے پاک کلام مجید سے جو بنی نوع انسان کے لئے آخری اور مکمل ہدایت نامہ ہے یہ امر پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ثابت ہے کہ ہر الہی سلسلہ میں جہاں وہ سعید الفطرت اصحاب داخل ہوتے ہیں جو اپنے اخلاص اپنی محبت اپنی قربانیوں اور اپنی جان نثاریوں اور اپنی محیر العقول فدا کاریوں کے لحاظ سے دنیا کے لئے ایک نمونہ ہوتے ہیں وہاں ایسے بدبخت اور ننگ قوم افراد بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جو نفاق کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جو بظاہر جماعت مومنین سے تعلقات رکھتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ مگر درپردہ فتنہ انگیزی میں مشغول رہتے ہیں اور اپنی ناپاک ریشہ دوانیوں سے جماعت کے شیرازہ کو بکھیرنے اور اس کے اجزا کو منتشر کرنے کے منصوبے سوچتے رہتے ہیں۔ ایک مدت تک ایسا ہی ہوتا چلا جاتا ہے اور منافق اپنے نفاق میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔ مگر آخر ان کی ڈھیل کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے

٣٧

صفحہ ٥٨٠

اور آسمان سے خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا اور ان کے خرمن امن وسکون کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ تب وہی منافق جو تعجبک اجسامہم کے مطابق لوگوں کی نگاہوں میں معزز سمجھے جاتے ہیں ایسے ذلیل، ایسے رسوا اور ایسے بے حیثیت ہو جاتے ہیں کہ کوئی باعزت شخص انہیں منہ لگانا پسند نہیں کرتا بلکہ ان سے ایسی ہی کراہت کرتا ہے جیسے ایک سڑے گلے مردار سے نفرت کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتا ہے: ”وممن حولکم من الاعراب منافقون ومن اہل المدینۃ ومردوا علی النفاق لا تعلمہم نحن نعلمہم (توبہ)“

کہ تمہارے ارد گرد جو جماعتیں ہیں ان میں سے بعض منافق پائے جاتے ہیں۔ بلکہ خود مدینہ میں ایسے منافق موجود ہیں جو اپنی منافقت پر بشدت قائم ہیں اور گو تمہاری نگاہ سے وہ مخفی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے مخفی نہیں۔ وہ انہیں خوب جانتا ہے۔ اگر وہ اپنی ان منافقانہ حرکات سے باز نہ آئے تو خدا ان کے تمام پول کھول کر رکھ دے گا۔

پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”لئن لم ینتہ المنافقون والذين فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم ثم لا یجاورونک فیہا الا قلیلا (احزاب)“ کہ اگر منافق اور وہ لوگ جو منافق نہیں۔ مگر منافقوں کو اپنے دل کی بیماری کی وجہ سے اچھا سمجھتے اور ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں یا وہ جھوٹی اور بے بنیاد خبریں اڑا دیا کرتے ہیں اپنی حرکات سے باز نہ آئے تو ہم تجھے ان کے خلاف کھڑا کر دیں گے اور پھر وہ مرکز روحانیت میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں گے۔ بلکہ انہیں اس جگہ سے نکلنا پڑے گا۔

قرآن کریم کی یہ آیات جہاں اس امر پر قطعیہ الدلالت ہیں کہ مرکز سلسلہ اور بیرونی جماعتوں پختہ منافقین کا کوئی نہ کوئی حصہ موجود رہتا ہے۔ وہاں ان سے یہ امر بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منافقوں کا انجام تلخ اور عبرتناک ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ ایک وقت تک انہیں مہلت دیتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آتے ہیں یا نہیں۔ لیکن جب وہ دیکھے کہ اب ان کی گندگی ان کے سارے جسم میں سرایت کر چکی ہے تو وہ اپنی پاک جماعت کو ایسے اسباب مہیا کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں منافقین کی اندرونی سرشت بے نقاب ہو جاتی ہے اور مومن ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ پھر روحانی طور پر انہیں یہ سزا دی جاتی ہے کہ ان کا مرکز سلسلہ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ گویا جس طرح وہ مرکز وحدت یعنی نبی یا خلیفہ کے وجود سے منقطع ہوتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ انہیں کچھ عرصہ کے بعد مرکز سلسلہ سے بھی منقطع کر دیتا ہے۔

٣٨

صفحہ ٥٨١

جماعت احمدیہ اور منافقین

جب یہ سنت اللہ ہے اور اس کے نظائر و امثال بھی امم سابقہ میں موجود ہیں تو کس طرح ممکن تھا کہ جماعت احمدیہ جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے۔ اس قسم کی فتنہ پردازی اور منافقین کے وجود سے خالی ہوئی۔ سب سے بڑی اور سب سے مقدس جماعت رسول کریم ﷺ کی قائم کردہ جماعت تھی۔ مگر جب اس میں بھی ایسے بد بخت لوگ ہوئے جنہوں نے حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو شہید کر دیا اور اپنی ریشہ دوانیوں سے عالم اسلامی میں بہت بڑا تفرقہ اور انشقاق پیدا کر دیا تو کس طرح ممکن تھا کہ جماعت احمدیہ میں جو ظل ہے رسول کریم ﷺ کی جسمانی لحاظ سے فتنہ پرداز اور منافق نہ ہوتے۔

پس منافقین کا وجود کسی الٰہی سلسلہ کی تکذیب کی علامت نہیں بلکہ اس کی سچائی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اس طرح خداوند تعالیٰ اندرونی اور بیرونی دونوں دشمنوں سے حملہ کرا کر کہتا ہے کہ جاؤ اور مل کر اس جماعت کے استیصال کے لئے کوشش کر لو۔ مگر تم نامراد رہو گے اور یہ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہوگا کہ تم جھوٹے ہو اور سچا وہی ہے جس نے بیرونی اور اندرونی دشمنوں کی کھینچی ہوئی تلواروں میں اپنے گوہر مقصود کو حاصل کر لیا۔

خلافت سے علیحدگی کا مطالبہ

آؤ! اب اس حقیقت کی روشنی میں موجودہ فتنہ پر نظر ڈالیں کہ یہ فتنہ کیا اسی قسم کا فتنہ نہیں جس قسم کے فتنے پہلے خلفاء کے زمانوں میں اٹھتے رہے ہیں۔ شیخ عبدالرحمان مصری اور فخر الدین ملتانی وہ دو شخص ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصہ تک نفاق کا پردہ اوڑھ کر اپنے چہروں کی سیاہی چھپائے رکھی۔ لیکن اب آفتاب محمود کی تجلیات نے ان کی سیاہی ظاہر کر کے رکھ دی اور دونوں ”فاخرج منها فانك رجیم“ کے مصداق بن گئے۔ یہ دونوں آخر کیا مقصد لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ صرف یہ کہ موجودہ خلیفہ یعنی ہمارے جان و دل سے پیارے امام، خلیفہ ربوہ کو خلافت سے معزول کر دیں۔ مگر کیا اس قسم کا فتنہ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانہ میں نہیں اٹھا اور کیا باغیوں نے ان سے یہی مطالبہ نہیں کیا تھا کہ تم خلافت سے الگ ہو جاؤ۔ مگر حضرت عثمانؓ اس وقت خلافت سے الگ نہیں ہوئے تھے۔ اگر حضرت عثمانؓ کا اس وقت مقابلہ کرنے والے باغی اور طاغی تھے تو یقیناً آج کے وہ معاند جو خلیفہ ربوہ سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے ہیں باغی اور طاغی ہیں اور یقیناً وہ اس مطالبہ کے بعد اپنے آپ کو باغیوں کی صف اور خلیفہ ربوہ کو خلفاء کی صف میں اپنے عمل سے شامل کر چکے ہیں۔

٣٩

صفحہ ٥٨٢

معاندین ناکام رہیں گے

شاید اس مناسبت سے انہیں خیال پیدا ہو کہ جس طرح پہلے مفسد اور باغی خلفاء کو تکالیف پہنچاتے رہے کامیاب ہو گئے۔ اس طرح وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ سو انہیں کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ ان کی یہ امید بالکل موہوم ہے۔ چنانچہ خلیفہ ربوہ فرما چکے ہیں۔

اور اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا تھا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا ہے کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔ اسی طرح پہلے جو آدم آیا تھا وہ جنت سے نکلا تھا۔ مگر اب جو آدم آیا وہ اس لئے آیا کہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے۔ اسی طرح یوسف کو پہلے قید میں ڈالا گیا تھا۔ مگر دوسرا یوسف قید سے نکالنے کے لئے آیا ہے۔ پہلے خلفاء میں سے بعض جیسے حضرت عثمان اور حضرت علی کو دکھ دیا گیا۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اس کا بھی ازالہ کر دے گا اور ان کے خلفاء کے دشمن ناکام رہیں گے۔ کیونکہ یہ وقت بدلہ لینے کا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ اس کے پہلے بندے جن کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کے بدلے لئے جائیں۔‘‘

(عرفان الٰہی ص ٩٣، ٩٤)

’’پس انہیں یہ امید اپنے دل سے نکال دینی چاہئے کہ وہ خلافت کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اب خدا دشمنوں کو ناکام و نامراد رکھے گا اور ان کا عبرتناک انجام کرے گا۔

غرض موجودہ فتنہ خواہ کتنا بڑا ہو۔ انجام کے لحاظ سے ہمارے لئے ہرگز مضر نہیں۔ بلکہ یقیناً اس سے احمدیت کی ترقی ہو گی۔ یقیناً اس سے جماعت کے اخلاص میں اضافہ ہوا اور ہوگا اور یقیناً جماعت کا قدم پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ منازل و ارتقاء کو طے کرے گا۔ یہ وہ نوشتہ تقدیر ہے جسے کوئی انسان محو کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور یہی وہ امر مقدر ہے جس کی ہمارے خیال میں مرزا قادیانی کو ان الفاظ میں آج سے تیس سال قبل خبر دی گئی تھی کہ: ’’یہ دوگھر ہی مرگئے۔‘‘

(تذکرہ ص ٧١٦ طبع سوم)

ان دو گھروں کا اشارہ مصری، ملتانی کے گھروں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت یہی دو گھر نکلے جنہوں نے بحیثیت گھر اس فتنہ میں شمولیت اختیار کی۔ یعنی ان گھروں کے تمام افراد نے خلافت سے علیحدگی اختیار کر کے شرارت شروع کی۔ پس یہ دو گھر تھے جو جماعت احمدیہ میں شامل تھے۔ مگر افسوس ان دونوں پر روحانی موت وارد ہو گئی اور وہ خلیفہ وقت کی بیعت سے الگ ہو گئے۔ شاخ جو درخت سے کٹ کر سوکھ جاتی ہے اور جلانے کے کام آتی ہے۔

٤٠

صفحہ ٥٨٣

روحانی موت

قرآن کریم نے بھی روحانی حیات کے فقدان پر موت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ”ومن كان ميتاً فاحيينه وجعلنا له نوراً يمشي به في الناس كمن مثله في ظلمات ليس بخارج منها (انعام)“ یعنی غور تو کرو ایک شخص جو پہلے مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو ایک نور عطاء فرمایا۔ کیا وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔

یہاں میت کا لفظ روحانی مردہ یعنی ایسے انسان پر بولا گیا ہے جو کفر اور شرک اور بد اعمال کے لحاظ سے مردہ ہو۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: ”انك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين (نمل)“ اے نبی تو ان لوگوں سے اپنی باتیں نہیں منوا سکتا۔ جو روحانی لحاظ سے بالکل مر چکے ہیں اور ان لوگوں کو جو بہرے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کلام کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ غرض مردہ قرآنی اصطلاح میں یعنی بعض دفعہ روحانی مردوں کو بھی کہا جاتا ہے۔ اسی لئے مومنوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ ”يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول اذ دعاكم لما يحييكم (انفال)“

کہ اے مومنو خدا اور اس کے رسول کی بات سنو اور جب وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے اپنی طرف بلائے۔ پس حقیقی مردہ وہ ہے جو روحانیت کے لحاظ سے مر گیا۔ جس کی روح ابدی ہلاکت کے گڑھے میں گری اور فنا ہو گئی۔ ایسی مناسبت سے الہام الٰہی میں بتایا کہ ایک وقت دو گھر روحانی لحاظ سے مر جائیں گے۔ سو نوشتہ تقدیر مصری و ملتانی کے ذریعے پورا ہوا۔ ہمیں اس کا افسوس ہے۔ مگر ہمارے لئے سوائے اس کے کیا چارہ ہے کہ : ”انا لله وانا اليه راجعون“

(الفضل مورخہ ٦؍اگست ١٩٣٧ء)

اللہ کے گھر دیر ضرور ہے، اندھیر نہیں

خلیفہ بذات خود بہ نفس نفیس اس قدر بدکار اور بدچلن تھا جس کا چلن سوائے غلاظتوں کے ڈھیروں کے ڈھیر ہوں اور پھر مذہب کے مقدس لبادہ کی آڑ میں جن بھیانک بدکاریوں کا ارتکاب کرتا رہا اس نے انسانوں کے دماغ کو بھی مسخ کر دیا۔ یعنی الحفیظ والامان۔ جب اس پر فالج کا حملہ ہوا تو متواتر گیارہ سال تک بستر مرگ پر پڑا رہا اور بستر مرگ پر فحش کلمات اور غلیظ مغلظات کو نہایت ہی ارزانی سے بے دریغ استعمال کرتا رہا۔ اس تقدس مآب کی یہ کیفیت ہوگئی کہ سوکھ کر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا۔ بالآخر سسک سسک کر دم نکلا اور آنجہانی ہو گیا۔ اس کو ان ظلموں کی

٤١

صفحہ ٥٨٤

سزا کچھ تو اس جہاں میں مل گئی جو دیکھنے والوں کے لئے ایک زندہ نشان ہے۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ اس کی ایک چہیتی بیوی جس کا نام مریم تھا (ہمشیرہ ولی اللہ شاہ) اپنے وقت کے لحاظ سے حسین و جمیل تھی اور یہ بھی اس کی بدکاریوں میں مستعدی سے برابر کی شریک تھی۔ آتشک جیسی موذی مرض میں مبتلا ہو گئی۔ اس کا تمام بدن سر سے پیر تک گل سڑ گیا۔ تمام ظاہری کوششوں کے باوجود یہ بھی آنجہانی ہو گئی۔ لیکن یاد رہے کہ موت کے بعد بھی گندگی سیلاب کی طرح بہتی رہی اور تقریباً چار پانچ دفعہ گندگی کو روکنے کے لئے کفن پر کفن ڈالا گیا تا کہ گندگی کو روکا جاسکے۔ جنازے کے وقت بھی بدبو اور تعفن کی اس قدر فراوانی تھی کہ خدا کی پناہ۔ اس بدبو کو دور کرنے کے لئے قیمتی سے قیمتی عطر استعمال میں لایا گیا۔ لیکن یہ عطر بھی اس بدبودار تعفن کو مسخر نہ کر سکا۔ اس طرح اصل حقیقت جس کو پردہ اخفاء میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے چھپ نہ سکی۔ تمام ظاہری کوششوں کے باوجود منظر عام پر آگئی اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ جو اشخاص جنازے کے ہمراہ تھے۔ اس میں سے چند مخصوص لوگوں کے سوا باقی کو عمداً کافی سے زائد فاصلہ پر رکھا گیا۔ چند ہی منٹ بعد مدرسہ احمدیہ کا گیٹ بند کر کے تمام اشخاص کو روک دیا گیا۔ پھر وہی چند مخلص اشخاص کا کارواں دفن کرنے لے گیا، دفن کرنے کے بعد گیٹ کھول دیا گیا تا کہ دعا میں شریک ہو سکیں۔

مختصر کیفیت ان لوگوں کے لئے پیش کی گئی جو کہتے ہیں اگر خدا ہے تو ان کو سزا نہیں ملتی۔ اب خدا کے عذاب کا خود آپ ہی اندازہ لگائیے۔ خدا یقیناً ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے گھر دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔

یوں سمجھئے اس تقدس مآب کی موت ڈاکٹر ڈوئی سے بھی بدتر حالت میں واقع ہوئی اور میاں بیوی کی عبرتناک انجام سے ہر احمدی بخوبی واقف ہے۔”فاعتبروا یا اولی الابصار“

ایک علمی مضمون حضرت ملک عزیز الرحمٰن صاحب برادر خورد ملک عبدالرحمٰن صاحب خادم گجراتی مصنفہ احمدیہ پاکٹ بک ربوہ ہدیہ ناظرین ہے تا کہ علمی طور پر کلب یموت علیٰ کلب کے الہام کے سمجھنے میں آسانی رہے۔

خدا کی بات پھر پوری ہوئی

”کلب یموت علیٰ کلب“ ترجمہ: وہ کتا ہے اور کتے کی موت مرے گا۔

از : حضرت عزیز الرحمٰن جنرل سیکرٹری حقیقت پسند پارٹی ، لاہور!

٤٢

صفحہ ٥٨٥

برادران! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ کی اپنے حق گو ناقدوں کے خلاف کہاں یہ تعلی کہ وہ اس کی زندگی میں ناکام و نامراد مریں گے اور در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے۔ ان کی بیویاں پھٹے پرانے کپڑوں اور چیتھڑوں میں بھیک مانگتی پھریں گی اور کوئی انہیں بھیک نہ دے گا۔ میں دیکھوں گا کہ ایک سال کے بعد ٣٥ سال کہاں اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ آج جب کہ وہ (مرزا محمود) اس کے اعلان کے بعد گیارہ سالہ ناکام اور بے عملی کی زندگی جو نہایت سخت دکھ کے عارضہ میں گزار کر ٨ نومبر ١٩٦٥ء کو فوت ہو چکا ہے۔ اس کے مزعومہ منافقین مگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں حق گو پر انعامات خداوندی کی مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ ان میں جو بے اولاد تھے وہ صاحب اولاد ہو گئے جو بے روز گار تھے۔ برسر روزگار ہو گئے۔ جو غریب تھے اب غنی ہیں۔ جو ناتوان تھے وہ توانا ہوگئے۔ ان کی نظروں میں جو جاہل ان پڑھ تھے وہ پروفیسر بن گئے۔ جو بے نماز تھے وہ نمازی بن گئے۔ جو نمازی تھے وہ تہجد خواں بن گئے۔ جو کلرک تھے وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے مبلغ بن کر بلاد غیر میں جا رہے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ تمام زندہ اور خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ الحمد للہ فالحمد لله ! کسی کی آنکھ ہو تو دیکھے اور کسی کے کان ہوں تو وہ سنے کہ کیا کہیں ایسا ہوا ہے کہ کسی منافق پر رب العزت کی طرف سے یہ نوازشات ہوئی ہوں اور اس کے حریف مقابل اہل اللہ اور اہل حق کو ایسی فاش شکست اور ذلت و رسوائی پہنچی ہو۔ جیسا کہ ہمارے مقابلہ پر خلیفہ ربوہ کو پہنچی ہے۔

معیار صداقت

ایک طرف مرزا محمود احمد کا اپنی موذی مرض کا اقرار اور بے عملی کی زندگی پر اضطراب ملاحظہ ہو اور دوسری طرف مسیح موعود کا پیش کردہ معیار صداقت ملاحظہ ہو۔ ”صادقوں کی یہی نشانی ہے کہ نیک انجام انہیں کا ہوتا ہے۔“

مرزا محمود احمد کی اپنی زبانی خبیث اور موذی مرض میں مبتلا ہونے کا اقرار : ” اب میں اڑسٹھ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار ہوں۔“

(الفضل مورخہ ١٤ اگست ١٩٦٥ء)

اب فالج کی بیماری میں اضطرار اور بے عملی کی زندگی سے فرار بھی میاں صاحب کی اپنی زبانی ملاحظہ ہو: ”میں اس وقت بالکل بے کار ہوں ..... تمام دوستوں اور بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بے عملی کی زندگی سے بچائے۔ کیونکہ اگر یہ زندگی بہر حال لمبی ہونی ہے تو مجھے ایسی زندگی سے موت زیادہ بھلی معلوم ہوتی۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ اے

٤٣

صفحہ ٥٨٦

میرے خدا جب میرا وجود اس دنیا کے لئے بے کار ہے تو تو مجھے اپنے پاس جگہ دے۔ جہاں میں کام آسکوں۔“

(اشتہار مورخہ ١١؍ مارچ ١٩٥٥ء)

خبیث اور موذی مرض

یاد رہے کہ میاں صاحب اس گیارہ سالہ لمبی بیماری سے جو بطور ابتلاء ہی نہ تھی۔ بلکہ بطور عذاب الٰہی لاحق ہوئی تھی جانبر نہ ہو سکے اور اس بیماری کے سنگین صورت اختیار کرنے کے بعد ٨؍ نومبر ١٩٦٥ء کو فوت ہوئے۔

حضرات! اب مسیح موعود کی زبانی بھی سن لو کہ ان خبیث اور موذی امراض کے اصل عوامل کیا ہیں۔ نیز یہ بیماریاں خدا تعالیٰ کے محبوبوں کو ہرگز نہیں ہوسکتیں۔ چہ جائیکہ کوئی سچا مصلح موعود ان کا شکار ہو۔

”بسا اوقات انسان اپنی غلط کاریوں سے ایسی چیزوں میں اپنی خوشحالی کو طلب کرتا ہے کہ جن سے آخر کار تکلیف اور ناخوشی اور بھی بڑھتی ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ دنیا کو نفسانی عیاشیوں میں اس خوشحالی کو طلب کرتے ہیں اور دن رات میخواری اور شہوات نفسانیہ کا شغل رکھ کر انجام کار طرح طرح کی مہلک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آخر کار سکتہ، فالج، رعشہ اور کزاز اور ریاح انتڑیوں یا جگر کے پھوڑوں میں مبتلا ہو کر اور آتشک سوزاک کی قابل شرم مرض سے اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں۔“

(چشمہ مسیحی ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٩)

فالج اور جذام

معیار صداقت کے سلسلہ میں ایک ثبوت یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ کیا فالج اور جذام وغیرہ واقعی خبیث اور موذی امراض ہیں اور یہ کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کو یہ لاحق نہیں ہوتیں۔ چنانچہ حضرت مجدد وقت کا ارشاد ملاحظہ ہو:

”اے عبدالحکیم ! حضرت مسیح موعود کا الہامی نامہ ہے، خدا تعالیٰ تجھے ہر ایک ضرر سے بچائے۔ اندھا ہونے ، مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے!......خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت یہ نہیں چاہتی کہ ایسی بیماریاں میرے لاحق حال ہوں۔ کیونکہ اس میں شماتت اعداء ہے۔“

(تذکرہ ص ٢٧٦، ٢٧٧ طبع سوم)

”ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی خبیث مرض دامنگیر ہو جائے۔ جیسا کہ جذام اور جنون اور اندھا ہونا اور مرگی تو اس سے یہ لوگ نتیجہ نکالیں گے کہ اس پر غضب الٰہی ہو گیا۔ اس لئے پہلے سے اس نے مجھے براہین احمدیہ میں بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے

٤٤

صفحہ ٥٨٧

محفوظ رکھوں گا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کروں گا۔"

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٦٧ حاشیہ)

فالج کا حملہ

اس کے بعد مرزا محمود احمد صاحب کا مندرجہ ذیل بیان پھر پڑھئے: ”گذشتہ ٢٦؍فروری کو جابہ سے واپسی پر مجھ پر فالج کا حملہ ہوا۔"

(اشتہار مورخہ ١١؍مارچ ١٩٥٥ء)

امریکہ کے ڈاکٹر ڈوئی اور میاں محمود احمد میں بصیرت افروز مماثلت

ڈاکٹر ڈوئی نے امریکہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ میاں محمود احمد نے یہاں مصلح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ڈوئی اپنے شہر صیہون سے نکالا گیا۔ میاں محمود احمد اپنے شہر قادیان سے نکالے گئے۔ ڈاکٹر ڈوئی لاکھوں کی جائیداد سے بے دخل ہوا۔ ایسا ہی میاں صاحب بھی۔ جس طرح ڈاکٹر ڈوئی آف امریکہ دعویٰ نبوت کے بعد فالج کا شکار ہوا۔ اسی طرح میاں محمود احمد بھی اپنے جھوٹے دعویٰ مصلح موعود کی وجہ سے ٢٦؍فروری ١٩٥٥ء کو فالج کا شکار ہوئے۔ میاں صاحب اور ڈاکٹر ڈوئی کے نوکر ان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھتے اور لئے پھرتے تھے۔ جس طرح ڈاکٹر ڈوئی کو ان کے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹروں نے خلیفہ ربوہ کو لاعلاج قرار دے دیا تھا۔ جس طرح اس کے ہوش وحواس قائم نہ رہنے کے سبب اس نے اپنا کام نائبوں کے سپرد کر دیا تھا۔ اسی طرح میاں صاحب موصوف نے بھی اپنا کام اپنی زندگی میں ہی ایک نگران بورڈ کے سپرد کر دیا تھا۔ جس طرح ڈاکٹر ڈوئی زمین پر ایک قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ اسی طرح میاں محمود احمد صاحب بھی اپنا قدم زمین پر رکھنے کے قابل نہ رہے تھے۔

اب غور کا مقام ہے کہ اتنی واضح مماثلت قائم ہو جانے اور سچے مدعی کے لئے ٢٢ سالہ مقررہ مدت کو پورا کرنے سے قبل ہی وفات پا جانے کے بعد بھی میاں صاحب کے مفتری ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟

خاندانی ڈاکٹر

اگر میاں صاحب کی مذکورہ عبرتناک بیماری جس نے انہیں سالہا سال تک عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے مفتری ہونے کا ثبوت نہیں تو پھر مسیح موعود کی کتاب (حقیقت الوحی ص ٧٦) اور میاں صاحب کی اپنی کتاب ”دعوۃ الامیر“ میں قائم کردہ معیار کے مطابق ڈاکٹر ڈوئی کا فالج اور دیگر علامات اس کے مفتری ہونے کی دلیل کیوں کر بن سکتی ہیں؟ مقام حیرت ہے کہ جماعت ربوہ

٤٥

صفحہ ٥٨٨

ایک طرف تو دعویٰ کے بعد عذاب کا شکار ہونے والے ایک شخص کے مفتری ہونے کا اس بیماری سے استدلال پیش کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس قسم کے دوسرے مفتری کو جس کے متعلق ان کے اپنے لڑکے اور خاندانی ڈاکٹر کی یہ رائے ہے کہ:

’’ابا حضور ! زمین پر قدم نہیں رکھ سکتے اور یہ کہ اب دوائیوں سے آرام کی توقع فضول ہے۔‘‘

خدا کا قائم کردہ خلیفہ اور مصلح موعود سمجھ رہی ہے۔

کچھ تو خوف خدا کرو لوگو کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ
کب تک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ

اس جگہ صاحبزادہ مرزا منور احمد کی رائے کا درج کر دینا بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا تاکہ حق اپنی پوری شان کے ساتھ کھل جائے۔ ’’لیٹے رہنے کے باعث ٹانگوں میں کھچاوٹ اور اکڑاؤ بھی بدستور ہے۔ کوئی ممکن کوشش حضور کو چلانے کی کامیاب نہیں ہو رہی۔ سابقہ ڈاکٹروں کے علاوہ اس عرصہ میں جرمن کے مشہور ڈاکٹر پروفیسر پیٹے سے مشورہ کر کے بھی ان کا علاج کیا گیا۔ مگر اس سے بھی ابھی تک کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔ یہ حالت عرض کرتے ہوئے خاکسار احباب جماعت کی خدمت میں دردمندانہ دل سے درخواست کرتا ہے کہ حضور کی شفا اب دوائیوں سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور دست شفا سے ہی انشاء اللہ ہو گی۔‘‘

(رپورٹ مجلس مشاورت ١٩٦٣ء)

خدائی گرفت

خدائی گرفت کا یہ کتنا بین ثبوت ہے کہ ساری جماعت ربوہ کی دعائیں اور صدقات بھی میاں صاحب کو صحت یاب نہ کر سکے۔ درآنحالیکہ حقیقت پسند پارٹی ١٩٥٦ء میں ہی اسے خدائی قہر اور غضب قرار دے چکی تھی اور یہ لکھ چکی تھی کہ: ’’کوئی کشتی اب بچا نہیں سکتی اس سیل سے۔‘‘ اور یہ کہ جب تک خدائی عذاب کو لازمۂ بشری قرار دے کر حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جائے گی۔ آپ کی دعائیں بھی اس خدائی وعید کو روک نہیں سکتیں۔

(دیکھو میاں بشیر احمد صاحب کے نام کھلی چٹھی مورخہ ٢٨/ مارچ ١٩٦٤ء)

مرزا محمود کے بارے میں ایک حیرت انگیز خبر

’’ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد ابجد میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ کلْب یموت علیٰ کلْب۔ یعنی وہ کتا ہے اور کتے کی موت مرے گا۔ جو باون سال پر دلالت کر

٤٦

صفحہ ٥٨٩

رہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ جب وہ باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقاء ہوگا۔“

(تذکرہ ص ١٨٥، ١٨٦ طبع دوم)

نام نہاد خلافت

برادران! گو مرزا محمود احمد کی پیدائش ١٢ جنوری ١٨٨٩ء کو ہوئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں ان کی پبلک اور جماعتی زندگی کا آغاز ١٤ مارچ ١٩١٤ء کو ہوا۔ جب وہ نام نہاد خلافت کی گدی پر بیٹھے اور کھلے بندوں عامۃ المسلمین کو عموماً اور اپنی جماعت کو خصوصاً گمراہ کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مذکورہ بالا وحی میں اسی عمر کی طرف اشارہ کر کے یہ پیش کی گئی کہ ایک خاص شہرت کا آدمی جو اپنے اعمال و کردار کے لحاظ سے اس کا مصداق ہے (کوئی معمولی آدمی ہرگز ہرگز مراد نہیں لیا جاسکتا) وہ باون سال کے اندر قدم دھرنے کے بعد یعنی اس معینہ سال کے اندر اندر ہی راہی ملک بقاء ہوگا۔ چنانچہ دیکھ لو کہ مارچ ١٩١٤ء کے بعد مارچ ١٩٦٥ء میں اکاون سال ہوئے اور سال باون ختم ہونے میں ابھی چار ماہ اور چودہ دن باقی تھے کہ میاں صاحب فوت ہوگئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

پوپ ازم

چاہئے تو یہ تھا کہ احباب جماعت ربوہ عموماً اور ان کا خاندان خصوصاً اس سے عبرت حاصل کرتا اور تلافی مافات کے لئے بارگاہ ایزدی میں سر جھکا کر اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی کا طلبگار ہوتا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ یہ لوگ صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور پوپ ازم کے تحفظ اور نام نہاد خلیفہ ثالث کے لئے ایک دفعہ پھر حدیث النفس ”رؤیا کشوف“ کا سہارا تلاش کیا جارہا ہے۔ حالانکہ مرزا ناصر احمد کے خلیفہ بنائے جانے کی گذشتہ گیارہ سالہ مساعی بلکہ سازش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کیونکہ ہم نے ١٩٥٦ء میں ببانگ دہل یہ اعلان کردیا تھا کہ مرزا محمود احمد نے فتنہ منافقین کا سارا ڈھونگ اپنے بڑے لڑکے مرزا ناصر احمد کو اپنے بعد خلیفہ بنانے کے لئے رچایا ہے۔ ورنہ نہ ہم منافق تھے اور نہ ہی حقیقت میں کوئی فتنہ تھا۔ جب فراست مؤمنانہ کے ذریعہ ہم نے سالہا سال پہلے میاں ناصر احمد کے خلیفہ بنانے کی پیش گوئی کردی اور آپ نے پوری پیش بندی کر کے انہیں ”پیر صاحب“ بنادیا تو اب خوابوں کا سہارا چہ معنی دارد؟ اس ضمن میں ہمارے ٹریکٹ ”حقیقت کا اظہار“، ”جماعت احمدیہ ربوہ کے فہمیدہ اصحاب کے نام“، ”مرزا محمود احمد ہوش میں آؤ“ اور ”دور حاضر کا مذہبی آمر“ وغیرہ کے صفحات ملاحظہ فرمائیں۔ خاص طور پر ٹریکٹ ”جو جھوٹو جانیں“ پڑھنا ضروری ہے۔

٤٧

صفحہ ٥٩٠

ربوہ کی دینی حس اور غیرت

قصر خلافت کے اندر سنگینوں کے پہرہ میں ٣٨٢ افراد کے انتخابی ادارہ میں سے صرف ٢٠٥ افراد کی موجودگی میں جن میں ٤٥ ووٹروں نے اپنا حق ووٹ ہی استعمال نہیں کیا اور خلافت کے دوسرے امیدوار مرزا رفیع احمد صاحب کا نام جن کا نام تجویز کرنے والوں اور ان کے حمایتیوں کو قبل از وقت خاندان مسیح موعود کے ایک زندہ چیف جس نے کوئی دلچسپی جماعت کے کاموں میں نہیں لی تھی کہ جس کے وقار کا مدار محض عداوت، اس نے قبل از وقت انتباہ بھی کر دیا تھا کہ اگر مرزا ناصر احمد کے خلاف کوئی نام تجویز کیا گیا اور مرزا محمود احمد کے منشاء کے خلاف کوئی ایسا قدم اٹھایا گیا۔ جس سے فرزند کبیر کو وراثت خلافت سے محروم ہونے کا خفیف اندیشہ ہوا تو وہ خاندان کے چیف سارے نظام پر خود قبضہ کریں گے۔ ان حالات و واقعات کے باوجود اہل ربوہ کی دینی حس اور غیرت اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ نام نہاد خالد بن ولید بھی مرزا ناصر احمد کو خدا کا قائم کردہ خلیفہ کہنے پر مجبور ہیں اور جب انہیں سیدنا حضرت نبی کریم ﷺ اور مسیح موعود کے فرمودات میں کوئی تائیدی کلمہ میسر نہیں آیا تو یہودیوں کی روایات ایک کتاب طالمود کو اپنی تائید میں پیش کرنے کی ناکام جسارت پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘

مرزا ناصر کو چیلنج

ہم مرزا ناصر احمد کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر واقعی اپنے آپ کو نیک وصالح آیت استخلاف کے تحت خدا کا قائم کردہ خلیفہ سمجھتے ہیں تو حلف مؤکد بعذاب کے ذریعہ ایک معینہ مدت کے اندر خدا تعالیٰ سے حق و باطل کا فیصلہ طلب کریں۔ لیکن یہ لوگ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ میاں محمود احمد نے حلف مؤکد بعذاب کے تحت جھوٹا دعویٰ کیا اور اس کا عبرتناک انجام ہوا۔ میاں محمود احمد نے ان الفاظ میں خدائی عذاب کو دستک دی۔ لکھتے ہیں: ’’میں اس واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اس شہر لاہور میں ١٣ ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان پر یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود ہوں۔ جس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہوگی۔‘‘

(الفضل مورخہ یکم مارچ ١٩٤٤ء)

قادیان سے نکالے گئے

اس حلف مؤکد بعذاب کے کھانے اور جھوٹا دعویٰ کرنے کی دیر تھی کہ خدائی عذاب نے

٤٨

صفحہ ٥٩١

ان کو آ گھیرا۔ ان کی ایک چہیتی بیوی انہی دنوں فوت ہوئی۔ تین سال بعد بمثل ڈوئی اپنے شہر قادیان سے نکالے گئے اور مرزا قادیانی کی وہ پیش گوئی پوری ہونی شروع ہوئی جس میں خدا تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ ”ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انہم مغرقون وعد علینا حق“ اور جس کی تشریح کرتے ہوئے خود مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”میرے خیال میں یہ الہام ہماری جماعت کے بعض افراد کی نسبت ہے جو دنیا کے عموم میں حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور دین کی فکر سے لاپرواہ ہیں۔ گویا خدائے تعالیٰ مجھے ہدایت فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے دعا مت کر، ان کی شفاعت مت کر۔ جیسا کہ ان کا دین مرگیا۔ ان کی دنیا بھی مرے گی۔ ظاہر ہے کہ دعا اور شفاعت دوستوں کے لئے ہوتی ہے۔ نہ کہ دشمنوں کے لئے۔ پس اس قرینہ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ الہام خاص دوستوں کے لئے ہے اور ایک بڑے عذاب سے ان کو ڈرایا گیا ہے۔ ممکن ہے وہ عذاب دوسروں کے لئے بھی ہو (یعنی قادیان سے نکالے جانے کا واقعہ) مگر ایسے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہے جو بظاہر ایسی جماعت میں شامل ہیں۔ مگر ان کی حالت دنیا پرستی کی ہمارے اصول کے خلاف ہے۔“

(بدر مورخہ ١٥؍ مئی ١٩٠٥ء، ملفوظات متذکرہ)

گویا اس الہام کو پورا کرتے ہوئے وہ قادیان سے بھاگ آئے اور یہ عذاب دوسرے لوگوں پر بھی وارد ہوا۔ پھر ١٩٣٨ء میں ڈاکٹر عبد اللطیف جو میاں محمود احمد کے ہم زلف تھے۔ انہوں نے ان پر جنسی بے راہ روی کا الزام لگایا اور جماعت سے الگ ہو گئے۔ ١٩٥٤ء میں تحقیقاتی عدالت کے سامنے میاں صاحب اپنے سابقہ خود ساختہ عقائد سے منحرف ہو گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی بدولت خدائی وعدہ قطع وتین پورا ہو گیا اور اسی حملہ کے بعد میاں صاحب ٢٦؍ فروری ١٩٥٥ء کو فالج کا شکار ہوئے اور بقول مرزا قادیانی ایسے عذاب کا شکار ہو گئے۔ جس میں جانبری کے آثار تو کیا ان کی ہلاکت واقع ہو گئی اور ٧؍ نومبر ١٩٦٥ء کی درمیانی رات کو واصل جہنم ہو کر مرزا قادیانی کی اس تحریر کو ثابت کر گئے۔ مرزا قادیانی نے (اربعین ص ٣، ٤) پر لکھا ہے: ”لیکن میری مخالفت کے لئے وہ قرآن شریف کے اس اصول کو بھی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے کہ میں خدا کا نبی یا من اللہ ہوں جس سے خدا ہمکلام ہو کر بندوں کی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً حقیقتیں اس پر ظاہر کرتا ہے اور دعویٰ پر بائیس یا پچیس برس گزر جائیں یعنی وہ میعاد گزر جائے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی میعاد تھی اور وہ شخص اس مدت تک فوت نہ ہو اور نہ قتل کیا جائے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ شخص سچا نبی یا سچا رسول یا خدا کی طرف سے سچا مصلح اور مجدد ہے اور حقیقت میں خدا اس سے ہم کلام ہوتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ کلمۂ کفر ہے۔“

٤٩

صفحہ ٥٩٢

حقیقت سے اعراض

اس تحریر کی رو سے جھوٹا دعویٰ کرنے والے کا ٢٣ سال کے اندر اندر قتل یا فوت ہو جانا ضروری ہے۔ چنانچہ میاں صاحب نے یکم مارچ ١٩٤٤ء کو دعویٰ مصلح موعود کیا اور ٨ نومبر ١٩٦٥ء کو ٢٢ سال کی معینہ مدت پوری کرنے سے قبل ہی قاتلانہ حملہ کے نتیجہ میں قریباً ١١ سال فالج جس کو مرزا قادیانی نے قہر غضب الہیٰ نہایت سخت دکھ کی مار، نہایت سخت بلا اور آفات قرار دیا تھا۔

(حقیقت الوحی ص ٤٣٣، انجام آتھم ص ٦٦، ٦٧)

اس کا شکار ہونے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پس ان حقائق اور واقعات کے ہوتے ہوئے بھی اگر جماعت احمدیہ ربوہ حقیقت سے اغماض کرتی رہی اور میاں صاحب کی اذیت ناک مرض اور اس کے عبرتناک انجام سے توضیح المرام نہ ہو اور آپ کے وجود الناس بھی ازالہ اوہام نہ کر سکے اور آپ لوگوں نے اپنی حماقت غلطی کے ازالہ کی کوئی سعی نہ کی۔ خدا کے چونکا دینے والے نشان بھی آپ کے لئے تریاق القلوب ثابت نہ ہوئے اور آپ بدستور غشاوۃ بصر وقر اذان اور زیغ نظر کے عوارض میں مبتلا رہنے کو کشف غطاء پر ترجیح دیتے رہے تو آپ عاد اور ثمود کی طرح صفحہ تاریخ سے محو ہو جائیں گے۔

تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

(مورخہ ٧؍دسمبر ١٩٦٥ء)

اب اس کے بعد آپ کو ایک محرم راز سابق مخلص محمد یوسف ناز کی چٹھی تبرک کے طور پر پیش خدمت کر رہا ہوں۔ تاکہ مصلح موعود کے ہلکے سے کردار سے بھی روشناس ہو سکیں۔ ہدیہ ناظرین ہے۔

مرزا محمود کے ایک سابق مخلص مرید کی سیر روحانی نمبر ١

ایک مرتبہ جب کہ میاں صاحب چاقو لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے چند دن بعد مجھے ربوہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے دیکھا کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے سامنے مرزا صاحب کے مریدان باصفا ایک جم غفیر ہے۔ ہر شخص کے چہرے پر اضطراب کی جھلکیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنے پیر کے دیدار کی ایک معمولی سی جھلک ان کے دل کو اطمینان بخش دے گی۔

پرائیویٹ سیکرٹری کے حکم کے مطابق کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ یعنی ہر شخص کی الگ الگ چار جگہوں پر جامہ تلاشی لی جاتی تھی اور اس امر کی تاکید کی جاتی تھی کہ حضرت اقدس

٥٠

صفحہ ٥٩٣

کے قریب پہنچ کر نہایت آہستگی سے السلام علیکم کہا جائے اور پھر یہ کہ اس کے جواب کا منتظر نہ رہا جائے۔ بلکہ فوراً دوسرے دروازے سے نکل کر باہر آ جایا جائے۔ میں خود ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا تھا۔ مگر ان بندشوں نے کچھ آزردہ سا کر دیا اور میں واپس چلا گیا۔ چنانچہ پھر دو بجے بعد از دوپہر دوبارہ حاضر ہوا۔ شیخ عبدالحق جو ان کے ذاتی دفتر کا ایک رکن ہے اس سے اطلاع کے لئے کہا۔ حضرت اقدس نے خاکسار کو شرف باریابی بخشا۔ اس وقت گفتگو جو ایک مرید (میرے) اور ایک پیر (مرزا محمود) کے درمیان تھی۔ ہدیۃ ناظرین کرتا ہوں۔

میں نے نہایت بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے حضور سے دریافت کیا۔ آج کل تو آپ سے ملنا بھی کار دارد ہے۔ فرمایا! وہ کیسے؟

عرض کیا کہ چار چار جگہ جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ تب جا کر آپ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں میرے عضو مخصوص کو پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ جامہ تلاشی کہاں ہوئی کہ جس مخصوص ہتھیار سے تمہیں کام لینا ہے وہ تو تم ان احتیاطی تدابیر کے باوجود اپنے ساتھ اندر لے آئے ہو۔

اس حاضر جوابی کا بھلا میرے پاس کیا جواب ہو سکتا تھا۔ میں خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔۔ ایک بات جو میرے لئے معمّہ بن گئی وہ یہ تھی کہ سنا تو یہ گیا تھا کہ چارپائی سے ہل نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتے تھے۔ مگر وہ میرے سامنے اس طرح کھڑے تھے۔ جیسے انہیں قطعی کوئی تکلیف نہیں تھی۔ میں میاں صاحب کی خدمت میں التماس کروں گا کہ اگر وہ اس بات کو جھٹلانے کی ہمت رکھتے ہیں تو حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں اور میں بھی اٹھاتا ہوں۔ ایم یوسف ناز!

ربوہ کا نظام حکومت

اب میں خلیفہ صاحب کی تقاریر اور خطابات کے اقتباسات کی روشنی میں خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ بیان کرتا ہوں۔

حاکم اعلیٰ

ریاست میں حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔

(الفضل مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٣٦ء)

خلیفہ کا یہ مذہب ہے کہ کوئی آدمی بھی خواہ وہ حق پر ہو خلیفہ وقت پر سچا اعتراض بھی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اعتراض کرے تو وہ دوزخی اور ناری ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی عزت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ جون ١٩٤٦ء)

٥١

صفحہ ٥٩٤

”وہ مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے تباہ وبرباد کرے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ مئی ١٩٢٨ء)

مقننہ یعنی مجلس شوریٰ

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس مشاورت کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکموں کی طرح کلیتہ خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے۔ اس مجلس کے فیصلہ جات اس وقت تک جاری نہیں ہوتے جب تک خلیفہ منظوری نہ دے دے اور وہ صدر انجمن احمدیہ کے لئے واجب التعمیل نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ اپنی ریاست کے ہر محکمہ پر خلیفہ خود نگرانی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ فرماویں۔

”تمام محکموں پر خلیفہ کی نگرانی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٥ نومبر ١٩٣٠ء)

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشورہ لے کر رد کر دے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٧ء)

خلیفہ کا مجلس شوریٰ پر کلی اختیار

مجلس مشاورت کے ممبروں کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ اس میں دو قسم کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ نمائندے جن کو جماعتیں منتخب کرتی ہیں۔ لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ صاحب ہی دیتے ہیں۔ خلیفہ کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ جماعتوں کے چنے ہوئے نمائندے ہیں جن کو خلیفہ مجلس مشاورت کا ممبر بنا سکتا ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس نمائندہ پر کوئی اعتراض کر سکے۔ مجلس مشاورت کے اجلاس میں کوئی شخص بھی خلیفہ کی اجازت کے بغیر تقریر نہیں کر سکتا اور نہ وہ بغیر منظوری حاصل کئے مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو۔

”پارلیمنٹوں میں تو وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جن کی حد نہیں...... یہاں تو میں روکنے والا ہوں...... گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے۔ سخت تنقید کو نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٢٨ء)

خلیفہ صاحب کو یہ کلی اختیار ہے کہ جماعتوں کے منتخب شدہ ممبروں کو جسے چاہے بولنے کا موقعہ دیں اور جسے چاہیں ان کے حق سے بالکل محروم کر دیں۔ اس مجلس کا انعقاد سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے اور تمام آئندہ سال کی پالیسی کو زیر غور لایا جاتا ہے اور بجٹ کی منظوری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بجٹ منظور کئے بغیر ہی خلیفہ صاحب یہ فرما دیا کرتے ہیں کہ میں

٥٤

صفحہ ٥٩٥

خود ہی بحث پر غور کر کے منظوری دے دوں گا۔ ان امور سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مجلس شوریٰ کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ صرف دکھا دینے کے لئے ڈھانچہ ہے۔

انتظامیہ

اس کے بعد میں خلیفہ کی انتظامیہ کے متعلق کچھ عرض کروں گا اور یہاں یہی ہے کہ خلیفہ کے حوالہ ہی من وعن نقل کر دیئے جائیں۔ جس میں انتظامیہ کی ضرورت، کیفیت اور ماہیت کا تفصیلی نقشہ موجود ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے جس طرح کہ گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو۔ ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٢٥ء)

اس انتظامیہ کو نظارت کہا جاتا ہے اور ہر وزیر کو ناظر اور ان کی نامزدگی خلیفہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍اگست ١٩٣٧ء)

خلیفہ صاحب کا آخری سپریم کورٹ

یہ نظارت اپنے سارے کام خلیفہ کی نیابت میں سرانجام دیتی ہے۔ ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ سنتے ہیں اور انہیں کا آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد وضوابط خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتے۔ اس کے فیصلوں کی تمام ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ نظارت خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ خلیفہ خود ہی فرماتے ہیں: ”صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٤؍اپریل ١٩٣٨ء)

اس نظارت کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق کی ہے۔ خلیفہ خود ہی فرماتے ہیں: ”ناظر یعنی (وزراء) بعض دفعہ چِلا اُٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍اپریل ١٩٣٨ء)

صدر انجمن احمدیہ

ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن اضلاعی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمن پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔

(الفضل مورخہ ٦؍اگست ١٩٤٩ء)

٥٣

صفحہ ٥٩٦

اغراض

اس انجمن کے اغراض و مقاصد میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں یا آئندہ کئے جاویں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔ ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن احمدیہ

خلیفہ وقت کے حکم کے ماتحت ممبران صدر انجمن احمدیہ کا تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔

ربوہ اسٹیٹ کا اجمالی نقشہ

اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں قائم ہیں ان کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے:

١...... ناظر اعلیٰ

ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جس کے سپرد تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہو۔ وہ خلیفہ اور دیگر ناظروں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ عموماً ناظر اعلیٰ اس شخص کو مقرر کرتے ہیں جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور خلیفہ صاحب کے ہر جائز و ناجائز حکم پر سر خم تسلیم کرے اور جو قابلیت اور علمیت کے لحاظ سے بہت ہی کم ہو۔

نمونہ عکسی فارم

بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! از: دفتر امور عامہ (ہوم سیکرٹری) جماعت احمدیہ قادیان

٢...... ناظر امور عامہ (ہوم سیکرٹری)

(وزیر) داخلہ ان کے سپرد مقدمات فوجداری کی سماعت، سزاؤں کی تنفیذ، پولیس اور حکومت سے روابط قائم کرنے کا کام ہے۔

٥٤

صفحہ ٥٩٧

(وزیر خارجہ) کے ماتحت سیاسی گٹھ جوڑ کرنا اور اندرون ملک اور بیرون ملک کی کاروائیوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہے۔

ربوہ قادیان (انڈیا) کی حفاظت کا بندوبست

ہر فیصلہ پر خلیفہ کی منظوری، اختیارات وفرائض ناظران

ناظران کے اختیارات وفرائض خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہوتے ہیں اور ان کی تعداد بھی خلیفہ مقرر کرتے ہیں اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فرائض وہی ہیں جو خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ بجٹ خلیفہ کی منظوری سے طے اور ان کی منظوری سے ہی جاری ہوتا ہے اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فیصلہ جات خلیفہ کے دستخطوں کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے اور قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر وتبدل صرف خلیفہ کی منظوری سے ہو سکتا ہے اور خلیفہ کے تجویز کردہ قواعد وضوابط میں صدر انجمن احمدیہ تبدیلی نہیں کر سکتی۔ صدر انجمن احمدیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے جو خلیفہ کے کسی حکم کے خلاف ہو یا خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظروں کی تقرری وبرطرفی خلیفہ کے اختیار میں ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کو سلسلہ کی جائیداد غیر منقولہ کی فروخت، ہبہ، رہن، تبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ کو یہ اختیار نہیں اور خلیفہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے اور وہ تمام صیغوں کے کام کی ہفتہ واری رپورٹ خلیفہ کو پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ناظر اعلیٰ کا فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری و تقریری ہدایت کے علاوہ ان کے تمام خطبات وتقاریر وغیرہ

٥٥

صفحہ ٥٩٨

میں جو احکام صادر ہوں ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طریقے سے یہ خلیفہ کی طرف سے بیرونی جماعتوں کو ہدایت ہے کہ جب کوئی ناظر کسی جماعت میں جائے تو یہ جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔

مذکورہ بالا تمام کوائف قواعد صدر انجمن احمدیہ طبع شدہ سے لئے گئے ہیں۔

تقرر قاضیاں اور فیصلہ جات کی نقول عدلیہ

انتظامیہ کے علاوہ ریاست ربوہ میں عدلیہ بھی قائم ہے۔ خلیفہ خود آخری عدالت ہیں۔ وہی ناظم قضا مقرر کرتے ہیں جب چاہیں اس کو معزول کر سکتے ہیں۔ قضا کے جج، خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں۔

خلیفہ صاحب کا اپنا اعلان ملاحظہ ہو

”احباب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مولوی ظفر محمد صاحب کی جگہ مولوی ظہور حسن صاحب کو شیخ عبد الرحمان صاحب مصری کی جگہ صوفی غلام محمد سابق مبلغ ماریشس کو اور مزید بابو اکبر علی صاحب کو مرکزی دار القضاء کا قاضی مقرر فرمایا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٤؍جون ١٩٣٧ء)

خلیفہ جب چاہیں مقدمہ کی مسل اپنے ملاحظہ کے لئے طلب کر سکتے ہیں۔ جس قاضی کو چاہیں۔ مقدمہ سننے کا نااہل قرار دے کر برطرف کر سکتے ہیں۔ مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں۔ انہیں ناظم قضا باقاعدہ اجازت نامہ دیتا ہے۔ اس کے بغیر وہ قاضیوں کے سامنے مقدمہ کی وکالت کے لئے پیش نہیں ہو سکتے۔ فیصلوں کی نقول دی جاتی ہیں اور نقل کی اجرت لی جاتی ہے جس کی آمدنی بیت المال میں جمع کی جاتی ہے۔

ناظم قضا کا ایک خط بغرض حصول نقول مقدمہ ملاحظہ ہو۔

مکرم بابو عبد الرزاق صاحب ٹیلیفون آپریٹر

السلام علیکم! آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مقدمہ مقبول بیگم صاحب بنام بابو عبد الرزاق صاحب ٹیلیفون آپریٹر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ آپ نقل فیصلہ منگوالیں۔ نقول کے لئے موازی آٹھ آنے کے ٹکٹ ارسال کریں۔ دستخط: ناظم قضا سلسلہ احمدیہ قادیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم از: دفتر ناظم احمدیہ دار القضاء مکرمی مرزا مظفر احمد صاحب شفا میڈیکل بالمقابل میو ہسپتال نسبت روڈ، لاہور

٥٦

صفحہ ٥٩٩

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

بمطالبہ عبداللہ خان صاحب از آنمکرم ..... آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اس کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر ہدایت نمبر ٦٢ بوجہ عدم پیروی دعویٰ خارج کیا گیا ہے۔ مدعی ایک ماہ تک درخواست منسوخی فیصلہ یکطرفہ دے سکتا ہے۔ نوٹ:

دن شمار ہوں گے۔

مورخہ ٨ ستمبر ١٩٥١ء دستخط: ناظم احمدی دارالقضاء (ربوہ) ضلع جھنگ (پاکستان)

نوٹ

روانگی ڈاک دفتر قضا ١١٤٨، مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٥١ء

نوٹس اور ڈگریوں کا اجراء

محکمہ قضاء نوٹس بھی دیتا ہے۔ ڈگریوں کا اجراء بھی باقاعدہ کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خلیفہ صاحب اور خلیفہ کا خاندان قضا کے تمام فیصلوں سے بالاتر ہے۔ قضا کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان کے خلاف کوئی ڈگری دے کر اس کا اجراء بھی کروا سکیں۔ اگر کوئی بدنصیب احمدی قضا میں اس شاہی خاندان کے خلاف مقدمہ دائر بھی کردے تو مدعی کے تمام ثبوت بدرجہ اتم واکمل بہم پہنچانے کے باوجود قاضی کو یہ جرأت نہیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ کر سکے۔ اگر فیصلہ کر بھی دے تو قضا کا قانون فیصلہ کے اجراء کے لئے بے بس ہو جاتا ہے اور قاضی مدعی کے دل کو تسلی دینے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ صاحبزادگان کی مالی حالت بہت خراب ہے۔ اگر آپ پسند کریں تو یہ فیصلہ غیر معین عرصہ کے لئے التواء میں رکھ دیا جاوے۔ اگر مدعی زیادہ اصرار کرے تو قاضی صاحب یہ فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں کہ مدعا علیہ صاحبزادہ کی مالی حالت دگرگوں ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک روپیہ ماہوار مدعی کو دیں گے۔ خواہ مدعی نے ہزاروں روپیہ لینے ہوں۔

٥٧

صفحہ ٦٠٠

سمن جاری کرنا زیر آرڈر نمبر ٦٢

ریاست ربوہ کے ناظم قضاء سمن جاری کرنے کا مجاز ہے اور جو سمن جاری کئے جاتے ہیں اور غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر ٦٢ یکطرفہ سماعت کی جاسکتی ہے۔ حسب ذیل سمن جاری کردہ ملاحظہ ہو۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! وعلیٰ عبدہ، المسیح الموعود! از دفتر ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ

مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! نقل عرضی دعوٰی منجانب ...... دعوٰی بابت ...... آپ کو برائے جوابدہی بذریعہ رجسٹری ارسال ہے۔ آپ اس دعوٰی کا جواب دفتر ہذا میں ...... تک ارسال کریں۔ مقررہ تاریخ تک آپ کی طرف سے تحریری جواب موصول ہونا ضروری امر ہے اور ١٦؍اگست ١٩٣٩ء بوقت دس بجے صبح ربوہ براستہ چنیوٹ ضلع جھنگ تشریف لاویں۔ غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر ٦٢ یکطرفہ سماعت کی جاسکتی ہے۔ ناظم دارالقضاء!

٢٣؍جون ١٩٣٩ء ، دستخط ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ ربوہ!

محکمہ عدلیہ یکطرفہ اور ضابطہ کی کارروائیاں کرنے کا مجاز ہے۔ مثال ملاحظہ ہو۔ نوٹس بنام شیخ منظور احمد، مدعی مستری بدرالدین معمار ساکن قادیان۔ بنام شیخ منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم، دعوٰی اجراء ڈگری مبلغ پینسٹھ روپے دو آنے مقدمہ مندرجہ عنوان میں لوکل قضاء ١٤؍اگست ١٩٣٣ء کو آپ سے برخلاف یکطرفہ ڈگری ٦٥ روپے ٢ آنے کی دی ہے۔ مدعی نے امور عامہ میں اجرائے ڈگری کی درخواست ١٤؍اگست ١٩٣٣ء کو دی ...... لہٰذا آپ کو بذریعہ نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا ٢٤؍دسمبر ١٩٣٣ء تک دفتر امور عامہ میں جمع کرا دیں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جاوے گی۔

(الفضل مورخہ ١٩؍دسمبر ١٩٣٣ء مجھ)

اب مزید سمن کے بارہ میں سنئے۔ ملک عبدالحمید صاحب ولد غلام حسین صاحب محلہ دارالرحمت قادیان کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کئے گئے ہیں۔ مگر وہ تعمیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ مورخہ یکم نومبر ١٩٣٣ء کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لئے جاری کیا گیا اور اس پر ملک عبدالحمید نے عذر کیا کہ میں پندرہ یوم کے لئے باہر جا رہا ہوں۔ لہٰذا مجبور ہوں۔ اسی پر اسی وقت ان کو اطلاع

٥٨

صفحہ ٦٠١

بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں۔ بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کر کے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں۔ لہٰذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔

ناظر امور عامہ!

(الفضل مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

فیصلہ

فریقین مقررہ تاریخ پر حاضر نہیں ہوئے۔ اس لئے زیر دفعہ ٨ زیر ہدایت نمبر ٦٢ بوجہ عدم پیروی دعویٰ خارج کیا جاتا ہے مدعی ایک ماہ تک درخواست منسوخی فیصلہ یکطرفہ دے سکتا ہے۔

مورخہ ٦؍ ستمبر ١٩٥١ء، دستخط : محمد احمد!

تصدیق کیا جاتا ہے کہ نقل ہذا مطابق اصل ہے۔

نمبر ١٣٥٩ مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٥١ء، دستخط: اہلمد دیوانی مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٩٥١ء

خالص دینی کارنامے

الفضل لکھتا ہے: ”جماعت احمدیہ خالصتاً ایک غیر سیاسی جماعت ہے اور اس نے حکومت کے صوبائی یا مرکزی ردوبدل میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ کسی سیاسی معاملہ میں دخل دیا ہے۔ فاما بنعمة ربک فحدث کے ماتحت جماعت کا پختہ ایمان ہے کہ قانوناً قائم شدہ حکومت کے ساتھ نہ صرف وفاداری کی جائے۔ بلکہ ”تعاونوا علی البر والتقویٰ“ کے قرآنی اصول کے مطابق اس کی حمایت کی جائے۔ جماعت کے اس اصول سے تمام دنیا واقف ہے اور گواہ ہے کہ جماعت ہمیشہ اس کی پابند رہی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢؍ اکتوبر ١٩٥٩ء)

خالص دینی جماعت کے کارناموں کے متعلق مختلف سیاسی اغراض پر خرچ کی گئی رقموں، گورنمنٹ کے خلاف پراپیگنڈہ اور خفیہ مضامین وغیرہ ان کی تفصیل امور عامہ کے محتسب قریشی محمد صادق صاحب سابق پریذیڈنٹ نیشنل لیگ قادیان و سیکرٹری آل انڈیا نیشنل لیگ لاہور کی زبانی سنئے۔

قبرستان عیدگاہ

میں قبرستان عیدگاہ کے متعلق جھگڑنے لگے تھے۔ قاتلانہ حملے کی ترغیب دی جو کہ بالکل ایک

٥٩

صفحہ ٦٠٢

غیر شرعی فعل تھا۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ چوہدری صاحب موصوف نے ایسی ترغیب مجھے دی تھی۔ لیکن مجھے اس کے لئے آمادہ نہ پا کر مزید زور نہ دیا۔ اس وقت میں یہ اس کی ذاتی حماقت سمجھتا تھا۔ لیکن آپ کے باقی حالات اور خیالات کا اندازہ کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ ممکن نہیں کہ چوہدری صاحب آپ کے مشورہ یا ایما کے بغیر اس قدر دلیرانہ قدم اٹھاتے۔

دیئے تھے ان میں سے خاص کر ایک حکم قابل اظہار ہے۔ آپ نے ایک ہزار روپیہ خاص کام کے لئے دیا تھا کہ شیخ بشیر احمد کے حوالہ کر دو اور اس کو کہہ دو کہ اس میں سے مبلغ یکصد روپیہ فی الفور اختر علی آف زمیندار کے سپرد کردیں اور بعد میں ان کو جس قدر رقم کی ضرورت ہووے دیا کریں۔ اختر علی اور اس کا باپ سلسلہ اور مسیح موعود کے دشمن ہیں۔ حضور (مرزا قادیانی) کو نعوذ باللہ دجال، عیاش، شراب خور وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور آپ ان کے پراپیگنڈہ کے لئے مؤمنوں سے حاصل کردہ چندہ میں سے زر خطیر عنایت کرتے ہیں۔ یہ ہے آپ کی ایمانی غیرت اور مؤمنانہ شان؟ اللہ پناہ دے۔

گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں دروغ گوئی کی منافقت سے کام لیا ہے۔ حالانکہ آپ کا رویہ گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ ہے اور آپ ہمیشہ سے گورنمنٹ کو دغا کے پردے میں نقصان پہنچانے کے کوشاں رہے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں جو خود میرے مشاہدہ میں آئی ہیں۔

گورنمنٹ کے خلاف پراپیگنڈہ

کے خلاف پراپیگنڈہ مؤثر طریق سے کرسکیں۔ میں نے جب سب سے پہلے قادیان میں نیشنل لیگ کا چارج لیا تو گو آپ نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ نیشنل لیگ کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیں گے۔ لیکن سب سے پہلا جلسہ جو میں نے کیا اس میں ریزولیوشن پاس کرانے کے لئے آپ ہی نے یحییٰ خان کے ہاتھ بھجوائے جو کہ ہمیں نقل کروا کر اصلی کاپی آپ کی ہدایت کے مطابق واپس لے گئے۔ کیونکہ آپ کو خطرہ تھا کہ کسی طرح یہ راز افشاء نہ ہو جائے۔ اس کے بعد بھی نیشنل لیگ کی باگ ڈور آپ کے ہی ہاتھ میں رہی۔ نہ پریذیڈنٹ اور نہ سیکرٹری کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ آپ جملہ معاملات میں ڈپلومیسی سے کام لیتے رہے۔

٦٠

صفحہ ٦٠٣

گورنمنٹ کے خلاف اشتہاروں کا طریق

ب...... جب لاہور میں گولی چلی تو جماعت نے احراریوں کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف بھی سخت پراپیگنڈہ شروع کیا۔ چنانچہ بیسیوں اشتہارات لکھوائے گئے جن پر غیر احمدیوں کے دستخط کرا کر اور ان کو اس کا معاوضہ دے کر تمام ہندوستان میں شائع کیا جاتا رہا۔ یہ کام آپ گورنمنٹ کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے کروا رہے تھے۔ ورنہ جن لوگوں کی طرف سے اشتہار شائع کروائے جاتے رہے وہ سلسلہ کے جانی دشمن ہوتے تھے۔

خفیہ مضامین

ج...... سید ولی اللہ شاہ نے لاہور میں گولی چلنے کے متعلق کئی خلاف واقعہ خفیہ مضمون لکھ کر خفیہ طور پر میرے سامنے شائع کرائے جن میں گورنمنٹ کے خلاف اکسایا جاتا رہا اور ظاہر ہے کہ شاہ صاحب کو آپ ہی نے اس کام کے لئے لاہور میں مامور کیا ہوا تھا۔ یحییٰ خان خلیفہ کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔

اخبارات کو رقوم دینا

د...... سید ولی اللہ شاہ صاحب نے میرے سامنے سید حبیب آف سیاست، کے بھائی سید عنایت شاہ کو اخبار کی پالیسی خریدنے کے لئے مبلغ ایک سو روپے کا نوٹ پیشگی دیا تھا۔ حالانکہ تمام دنیا کو معلوم ہے کہ سیاست نے کئی بار احمدیت کے خلاف شرمناک طور پر قدم اٹھایا۔ سیاست کی پالیسی اسی غرض سے خریدی گئی تھی کہ وہ گورنمنٹ کے لئے شہید گنج کے واقعہ کے موقع پر مشکلات پیدا کرے۔ سید حبیب سیاسی قیدی تھا، گورنمنٹ کا مجرم تھا۔ آپ نے اس کی اعانت کر کے گویا گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ قدم اٹھایا۔

شہید گنج کے موقع پر گورنمنٹ کے خلاف

ہ...... شہید گنج کے موقع پر ایک طرف تو آپ کے نمائندے لاہور میں پبلک کو گورنمنٹ اور احراریوں کے خلاف جوش دلاتے رہے اور دوسری طرف شیخ بشیر احمد صاحب زر کثیر خرچ کر کے کانگریسی لیڈروں اور اخبار نویسوں کو اپنے مکان پر مدعو کر کے پراپیگنڈا میں شامل کرتے رہے۔ روپیہ غریب مؤمنوں اور مفلسوں کا خرچ ہوا اور فائدہ کانگریس کو ہوا۔ آپ نے کانگریس کے نمائندوں کو الو بنا کر جواہر لعل نہرو کا استقبال کرایا اور پھر انہوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ خدا نے آپ کو اس شرمناک فعل کا کیسا بدلہ دیا۔

٦١

صفحہ ٦٠٣

محتسبی مثلیں

گورنمنٹ سے دھوکہ

افغانستان جرگہ کے ساتھ الحاق

٦٢

صفحہ ٦٠٥

مالی بے اعتدالیاں

تقدس مآب خلیفہ ربوہ ایک پراسرار شخصیت ہے جس کے چلن کی آلودگی کے بارے میں اس کے اپنے مریدوں کی حلفیہ مؤکد بعذاب شہادتیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی مالی بے اعتدالیوں کے متعلق چند نمونہ جات پیش خدمت ہیں کہ خدمت اسلام کا روپیہ کس مقام پر خرچ کیا جاتا ہے۔ پھر خصوصیت سے زکوٰۃ کے روپیہ سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں۔ یہ پیش کش احمدیہ حقیقت پسند پارٹی مرکزیہ لاہور کی ہے۔ ان کی زبانی سنئے۔

ایک دفعہ ١٩٢٤ء میں مغرب کو فتح کرنے دوسری دفعہ ١٩٥٥ء میں اپنے فالج اور بعض دوسری پوشیدہ امراض کا علاج کروانے، ہر دفعہ اپنے ساتھ ہزاروں ہزار روپیہ کا سامان لائے اور کسٹم سے بچنے کے لئے بیسیوں حیلے کئے۔ اس سامان میں یورپ کے نوادرات، لندن سے نئے نئے ڈیزائن کے کپڑے، سوئٹزرلینڈ کے کلاک اور رسٹ واچیں، جرمنی کی استریاں اور سلائی کی مشینیں، ہالینڈ سے لیدر بیگ اور دیگر مختلف انواع کے چمڑے کے بکس، دمشق سے سونے کے زیورات اور مختلف جگہوں سے مختلف سامان بلکہ موٹریں تک بھی شامل ہیں۔ یہ اس شخص کا حال ہے جس کی متاہل زندگی کا آغاز ٦٠ روپے ماہوار کے وظیفہ سے ہوا۔

زکوٰۃ کا بے محل استعمال

یہ تو معلوم نہیں کہ خلیفہ صاحب نے خود بھی کبھی زکوٰۃ دی ہے یا نہیں۔ لیکن ایک چیز پر انہیں بڑا اصرار ہے۔ وہ یہ کہ زکوٰۃ کا تمام روپیہ براہ راست ان کی تحویل میں رہے اور وہ اسے جہاں پسند فرمادیں اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کیا کریں اور کوئی شخص حضور سے اس کا حساب نہ پوچھے ۔ یہ خاص حق خلافت ہے۔ ذیل کا اعلان پڑھئے۔

”خلیفہ مسیح کے ارشاد کے ماتحت یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ آئندہ زکوٰۃ کی رقوم محاسب صدر انجمن کے نام نہ بھیجی جایا کریں۔ زکوٰۃ براہ راست خلیفہ وقت کے حضور آنی چاہئے ۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ مئی ١٩٢٢ء)

یہ صریحاً خلاف شریعت اور خلاف قانون کام ہوا ہے۔ قطعاً خلیفہ صاحب کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ محاسب سے بالا بالا سلسلہ کی بعض رقوم کو وصول کریں۔ اس کے لئے قطعاً کوئی وجہ جواز نہیں۔ سلسلہ کے ایک ایک روپیہ کا حساب ہونا ضروری ہے۔ یہ بددیانتی کی انتہاء ہے کہ ایک شخص اعلان کر دیتا ہے کہ قومی بیت المال سے بالا بالا بعض رقوم جن کے صرف کے متعلق وہ قوم کو

٦٣

صفحہ ٦٠٦

مطمئن کرنے کو تیار بھی نہیں۔ بلکہ مختلف عذرات پیش کر کے ایسا راستہ کھولتا ہے جس میں بددیانتی، غبن اور بعض ناجائز و ناواجب اخراجات کے صریح اور واضح امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ صدر انجمن، محاسب، نظارتیں، وکالتیں، دفاتر سب کیا ہیں؟ ایک نظام کی مختلف کڑیاں اور خلیفہ صاحب کے دست و بازو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے بعض رقوم کو بالا بالا منگوانا اور بالا بالا صرف کر دینا ضروری سمجھا ہے۔ اس چیز نے غبن کا صریح دروازہ ہی نہیں کھولا ۔ بلکہ ہم اپنے قطعی اور یقینی علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کی بہت سی بدکاریوں کا موجب یہ طریق عمل ہوا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے روپیہ میں سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں اور اسی روپیہ کی وجہ سے وہ اپنے بہت سے جرائم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

مسیح موعود اور خلیفۃ المسیح اوّل کا طریق عمل سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے زکوٰۃ فنڈ کے متعلق وہ طریق نہیں ۔ اختیار کیا جو خلیفہ کر رہے ہیں پچیس سے تیس ہزار روپیہ سالانہ زکوٰۃ ہوتا ہے۔ یہ پوری کی پوری رقم خلیفہ سلسلہ بیت المال کے احتساب سے بالا بالا صرف کر دیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس میں معتد بہ رقم ان کی دھاندلیوں ، بے راہ رویوں اور بدکاریوں پر خرچ ہو جاتی ہے۔ غریب بے نوا، بے سہارا، چند پیسوں کی خاطر عصمتیں لٹوانے والے کہاں نہیں مل جاتے۔ یہ گروہ خلیفہ صاحب اس رقم کی امداد سے اپنے گرد مہیا رکھتے ہیں اور زکوٰۃ کی رقم کا کثیر حصہ ان داشتائوں کے معاشقہ پر صرف ہو جاتا ہے۔ ہم بڑے دردمند دل سے ان کی خدمت میں بھی گذارش کرتے ہیں کہ خدا کے لئے اس طریق کو چھوڑ دیں۔ تا مریض معاصی سنبھل جائے اور تا انہیں اپنی سیاہ کاریوں سے بچنے کے لئے یہ بہت بڑا سہارا مل جائے اور قوم سے بھی کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ صاحب کو اس طرز عمل کے بدلنے پر مجبور کرے اور دیکھے کہ اس کے زکوٰۃ کے روپیہ کا مصرف کیا ہے۔

خلیفہ ربوہ کی فوجی تنظیم

خلیفہ نے اپنی ریاست کے دفاع کے کام کو تکمیل دینے کے لئے فوجی نظام کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ایک جھوٹی رؤیا کا سہارا لے کر جماعتوں کو یہ حکم دیا کہ ٹیری ٹوریل فورس (Terri Torial Force) میں احمدیوں کو بھرتی ہونا چاہئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ کام فوجی نظام آئندہ جماعت کے لئے بہت برکتوں کا موجب ہوگا۔

(الفضل مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٩٣٩ء)

٦٤

صفحہ ٦٠٧

جماعت کے نوجوان طبقہ کو بار بار یہ تحریک کی جاتی ہے : ”احمدی نوجوانوں کو چاہئے کہ ان سے جو بھی شہری ٹیری ٹوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہیں ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی گئی۔ جیسا کہ پہلے بھی اعلان کیا جا چکا ہے کہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء سے قادیان میں فوجی سکھلائی کے لئے ایک کلاس کھولی جائے گی۔ جس میں بیرونی جماعتوں کے نوجوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔

”ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغیر پذیر ہورہے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ مسلمان جلد سے جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لئے بھی توقف نہ کرے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی سکھلائی کریں اور پھر اپنے اپنے مقام پر دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں۔ ان کی ایسی تنظیم کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہو سکیں۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اگست ١٩٣٢ء)

احمدیہ کور کی سرپرستی

”صدر انجمن نے فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء پریذیڈنٹ بحیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے۔ ہر مقام کی احمدی جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازمی ہوگی۔ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہوگا۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہوگا اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون سمجھی جائے گی۔ جس پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹون بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا جائے گا۔ جہاں چار پلٹونیں ہوں گی۔ وہاں پلٹونوں کے مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنا دیا جائے گا۔ حضرت امیر المومنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی کے فخر سے بھی سرفراز کرنا بھی منظور فرمالیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اگست ١٩٣٢ء)

”حضور کا منشاء اس ارشاد سے اس تحریک کو نہایت باقاعدگی اور عمدگی کے ساتھ چلانے کا تھا۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحبزادہ کیپٹن مرزا شریف صاحب ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٢؍ ستمبر ١٩٣٢ء)

٦٥

صفحہ ٦٠٨

سربراہ کی سلامی فوجی طریق سے

یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ خلیفہ قادیان یکم اکتوبر ١٩٣٢ء صبح ١٠ بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرما دارالامان ہوں گے۔ احمدیہ کور، کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کی گراؤنڈ میں جمع ہو گئے۔ جہاں سے مارچ کرا کر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے۔ خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔ ’’حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٧؍ ستمبر ١٩٣٣ء)

’’اس فوج کا اپنا خاص پرچم تھا جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا۔ اس پر منارۃ المسیح بنا، ایک طرف اللہ اکبر اور دوسری طرف عبداللہ لکھا ہوا تھا جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی وہ فوج ہے جو کیمپنگ کے لئے دریائے بیاس کے کنارے بھیجی گئی تھی۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍ ستمبر ١٩٣٣ء)

خلیفہ صاحب کی خاص محفل

دریائے بیاس کے کنارے کا ذکر آنے کے ساتھ ہی خلیفہ کی وہ تمام رنگین محفلوں کی یاد دل میں چٹکیاں لینا شروع کر دیتی ہیں جہاں نامحرم لڑکیوں کے جھرمٹ میں خلیفہ صاحب عیش و طرب کی آغوش میں جھولے جھولا کرتے تھے۔ اگر دریائے بیاس کے کنارے پر خلیفہ صاحب کی ایک منٹ کی خاص محفل کی ظلمت و تاریکی کو طور موسوی کے نور پر پھیلایا جائے تو تمام نور کافور ہو جائے گا۔

جبری بھرتی

خلیفہ صاحب نے اس فوج کے لئے جبری بھرتی کا اصول اختیار کیا تھا۔ ’’میں ایک دفعہ امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں ...... کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جاوے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٣٣ء)

کمانڈر انچیف اور وزارت

یہی وہ فوج ہے جس کے نوجوانوں نے سر ڈگلس ینگ کو جو اس وقت پنجاب

٦٦

صفحہ ٦٠٩

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے قادیان میں باوردی والنٹیر کور نے سلامی دی تھی۔

(الفضل مورخہ ١٦ اپریل ١٩٣٩ء)

اور اسی طرح لاہور جا کر پنڈت جواہر لال نہرو کو سلامی دی گئی۔ شروع میں ناظر صاحب امور عامہ اس فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ لیکن جلد ہی خلیفہ نے ان کو برطرف کرتے ہوئے کہا: ”کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی اکٹھا نہیں ہوا۔“ (الفضل مورخہ ٥ اپریل ١٩٣٣ء)

خلیفہ صاحب کو اپنی اس فوجی تنظیم پر اتنا ناز اور فخر تھا کہ ایک دفعہ الفضل نے یہ لکھا کہ ”حضور نے احمدیہ کور کی جو سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی۔ اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ رہیں۔ اس وقت بعض بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لئے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں کہ جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ اگست ١٩٣٩ء)

مطلق العنان بادشاہ کا ہلالی پرچم

اگر خلیفہ صاحب کا مطمح نظر اور مدعا محض اشاعت اسلام تھا تو اس مقدس و مطہر مقصد کے لئے اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ عسکری تربیت پر روپیہ خرچ کیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ صاحب کے ذہن میں مطلق العنان بادشاہ کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ اشاعت اسلام کا نعرہ محض ایک فریب اور دھوکہ تھا۔ یہ تو صرف عوام کالانعام سے روپیہ وصول کرنے کا طریق تھا۔ اسلام کے مقدس اور پیارے نام پر حاصل کیا ہوا روپیہ آتش ہوس کو بجھانے کے لئے صرف کیا جاتا ہے۔ یہ عسکری نظام خلیفہ صاحب کے سیاسی عزائم کی ہی عکاسی نہیں کرتا بلکہ ان کی نیت اور ناپاک ارادوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لئے خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔ اس کا ایک باقاعدہ ہلالی پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”خدام احمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧ اپریل ١٩٣٩ء)

یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میں نے انہی مقاصد کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں۔ نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس قدر احمدی بہادران کسی فوج میں ملازم ہیں خواہ وہ کسی حیثیت میں ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠ اپریل ١٩٣٨ء)

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ: ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہوں وہ

٦٧

صفحہ ٦١٠

لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٣٠ء)

انڈین یونین اور ہمارا مرکز

وہ اشاعت اسلام کی دعویدار جماعت جس نے قادیان میں بھی احمدیہ کور کی بنیاد ڈالی۔ جس کا ممبر پندرہ سال سے چالیس سال تک کا ہر احمدی ممبر تھا۔ ٹیری ٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت سیکھے۔ پھر ٨/١٥ پنجاب رجمنٹ میں خالص احمدی کمپنی کا ہونا یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ خلیفہ صاحب کے عقل و قلب میں بادشاہت کی آرزوئیں لہریں مار رہی تھیں۔ پھر تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں سرحد پر انہیں احمدیہ کمپنی کے ریلیز شدہ سپاہی منظم طور پر خلیفہ کے حکم کے مطابق پہنچ گئے۔ ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ میسر ہونے لگا۔ پھر فرقان فورس جو خالص احمدیوں کی فوج تھی کشمیر میں کھڑی کر دی گئی اور خلیفہ ربوہ نے خود محاذ جنگ پر جا کر اسی فوجی تنظیم کا جائزہ لیا اور سلامی لی۔ اس فوج کو استعمال کرنے کے لئے خلیفہ فرماتے ہیں: ’’انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز دے چاہے جنگ سے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے۔ تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٤٨ء)

فوجی تنظیم فرقان فورس

تقسیم ہند کے بعد دوبارہ اکھڑی ہوئی فوجی تنظیم فرقان فورس کی شکل میں جمع ہو گئی تو خلیفہ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک مرکز ہونا چاہئے جہاں اپنے نوجوانوں کو مزید فوجی تربیت دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی بے اعتدالیوں، عفونتوں، گندگیوں، ناپاکیوں اور برائیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ خلیفہ ربوہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا۔

بلوچستان کو احمدی سٹیٹ بنانا

”یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ تو اپنا کہہ سکیں۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔

٦٨

صفحہ ٦١١

یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٣ اگست ١٩٤٨ء)

ڈائنامائٹ سے مخالفت کا قلعہ اڑادو

یہ واقعہ اخبار میں آچکا ہے۔ یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ خلیفہ ربوہ کی فوجی نظام کی تجویز بہت پرانی ہے۔ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ ایک خاص علاقہ احمدیوں سے معمور ہوتا کہ خلیفہ کا حکم آسانی سے چل سکے۔ تقسیم ہند سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ’’گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے کہ اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں ہی فتح کر سکتے ہیں...... اس وقت ڈائنامائٹ رکھا جاچکا ہے اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی۔ قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے ۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍ مارچ ١٩٢٨ء)

پھر ارشاد فرماتے ہیں:

جبرأ کام لینا

’’مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبرأ لوگوں کو اس کام پر لگا سکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لئے پکڑ لیں۔ مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا۔ اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٢٢ء)

مرکز ایسا ہو جہاں غیر نہ ہوں

انہی مقاصد کے پیش نظر قادیان اور ماحول قادیان کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا۔

’’ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع گورداسپور کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو...... احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں ہے جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے ۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں ہوا ...... جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو۔ مگر اس میں غیر نہ ہوں جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام مشکل ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٢٢ء)

٦٩

صفحہ ٦١٢

چناب کے اسی پار آہنی پردہ

یہ وہ سیاسی عزم ہے کہ جو خلیفہ کے عقل و قلب پر بری طرح مسلط ہے۔ کیا دینی جماعتوں کو اشاعت اسلام کے لئے ایسے علاقے مطلوب ہیں جو کلیۃً ان کی ہی ملکیت ہوں اور وہاں کوئی اور نہ بستا ہو۔ کیا سید الکونین سردار دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کسی ایسے صدر مقام کی تلاش کی تھی۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کا کام جاری رکھ سکیں۔ بس ان کی یہ دیرینہ آرزو ربوہ میں پوری ہوگئی۔ یہ وہ ریاست ہے جو اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ چناب کے کنارے پر قائم ہو چکی ہے۔ وہاں سوائے محمودیوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک ہی حصہ ہے جس میں ایک ہی فرقہ کے لوگ بستے ہیں۔ یہ وہ آہنی پردہ ہے جہاں ملک کا قانون بے بس اور درماندہ ہے۔ اگر وہاں دن دہاڑے قتل بھی کر دیا جائے تو پولیس قاتلوں کے سراغ لگانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

مسلم لیگی ورکرز

چنانچہ ایک دو سال ہوئے کہ دو مسلمانوں کو سحری کے وقت پکڑ کر اتنا زدوکوب کیا گیا کہ ان میں سے ایک مشہور مسلم لیگی ورکرز مولوی غلام رسول صاحب لائل پور کا لڑکا جاں بحق ہو گیا۔ لیکن واقعہ یوں بتایا گیا، یہ لوگ مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔

ربوہ کی خانہ ساز پولیس

اس طریقہ سے نعمت اللہ خان ولد محمد عبداللہ خان صاحب جلد ساز کو جب کہ وہ اڑھائی بجے رات کی گاڑی سے اترا تو ربوہ کی خانہ ساز پولیس نے اتنا مارا کہ اس غریب بے چارے کی پنڈلیاں توڑ دی گئیں اور تمام زندگی کے لئے ناکارہ کر دیا اور بعد ازاں مقامی پولیس میں پرچہ چوری کا دے دیا۔

حبس بے جا

اس کے بعد چوہدری صدر الدین صاحب آف گجرات کے ساتھ ایک المناک واقعہ گزرا۔ چوہدری صاحب موصوف کی شہادت کا دکھ تھا ان کو عبدالعزیز بھامڑ بمعہ اپنی خانہ ساز پولیس کے دفتر بہشتی مقبرہ میں لے گئے۔ وہاں ان کی چھاتی پر پستول رکھ کر بعض تحریریں لکھوائیں۔ یہ کیس تادم تحریر پولیس جھنگ زیر تفتیش ہے۔

٧٠

صفحہ ٦١٣

اللہ یار بلوچ

ان اندوہناک واقعات سے ملک اللہ یار بلوچ کا واقعہ کوئی کم المناک اور تکلیف دہ نہیں۔ جب کہ ملک صاحب موصوف کو اس شک وشبہ کی بناء پر پکڑ لیا گیا کہ وہ خلیفہ ربوہ کے غیر مبہم حکم کے مطابق سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مولوی عبدالمنان صاحب عمر ایم۔اے خلف مولوی نورالدین خلیفہ اول کے گھر اشیاء خوردنی پہنچاتا ہے۔ ان کو اسی قدر زدوکوب کیا گیا کہ ابتدائی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق پسلیاں ٹوٹی ہوئی ثابت ہوئیں۔ ان کا کیس بھی عدالت میں پیش ہے۔

ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ یار بلوچ کو دن دہاڑے مارا گیا۔ لیکن الفضل میں حلفیہ شہادتیں درج ہوئیں کہ یہاں کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا۔ یہی وہ بات ہے جس کی طرف سے ملک کے اخبارات اور جرائد حکومت کو متواتر آگاہ کر رہے ہیں کہ ربوہ ایک ایسی بستی ہے اگر وہاں سورج کی روشنی میں کوئی آدمی قتل بھی کر دیا جائے تو شہادتیں میسر ہونی ناممکن ہیں۔ اس وجہ سے پریس ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یعنی اس میں دوسرے لوگ ایک عمرانی منصوبے کے ماتحت بسائے جائیں۔

ایک لمبے عرصہ کے بعد حکومت اب ربوہ کی ریاست اندر ریاست حیثیت ختم کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ لیکن ہم اس امر کا اظہار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب تک نظارت امور عامہ کو ختم کر کے اس کا ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں نہیں لیا جاتا اور وہاں کی تھانہ پولیس کو ختم کر کے اور عام مسلمان علی الخصوص بہاریوں کو آباد نہیں کیا جاتا۔ یہاں فیکٹریاں لگا کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کئے جاتے اور لیبر قوانین کے تحت ربوہ کی استحصالی فضا میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جاتا اور تمام سرکاری ملازمین، سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جاتا وہاں ہزار کوششوں کے باوجود اسی طرح غنڈہ گردی ہوتی رہے گی۔ جیسی قادیان میں کھلا شہر ہونے کے باوجود ہوتی رہی ہے۔

ربوہ کا سٹیٹ بینک

ربوہ میں ایک غیر منظور شدہ بینک خلیفہ کی زیر نگرانی چل رہا ہے جسے امانت فنڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس صیغہ کی طرف سے باقاعدہ چیک بک اور پاس بک جاری کی جاتی ہے

٧١

صفحہ ٦١٣

جس کا ڈیزائن منظور شدہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی شخص گمان نہیں کر سکتا کہ آیا یہ چیک بک یا پاس بک کسی منظور شدہ بینک کی ہے یا کسی جعلی غیر منظور شدہ بینک کی ۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات ملاحظہ ہوں۔

”چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو خلیفہ المسیح کی بابرکت سر پرستی کے علاوہ بفضل تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے انجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اب اس صیغہ نے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لئے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کروانا چاہئے ۔“

(الفضل مورخہ ١٩ مارچ ١٩٥٧ء)

”کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اسی طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے۔“

”جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ، شادی، تعمیر مکان، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لئے جمع ہو اس کو بجائے ڈاکخانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کروانا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٠ فروری ١٩٣٨ء)

مذکورہ بالا حوالہ واضح طور پر اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ احمدی لوگ ڈاکخانوں اور بینکوں میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ میرے خیال میں ملک کے کسی بڑے سے بڑے بینک نے یہ جرأت نہیں کی کہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ ڈاکخانہ میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ یہ بینک ریاست ربوہ کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح خلیفہ خود اور ان کے عزیز و اقارب اس بینک سے بھاری رقوم نکال کر اپنی تجارتیں چلا رہے ہیں۔ خلیفہ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اس بات کا غیر مبہم الفاظ میں اقرار کیا تھا کہ وہ بیت المال سے اوور ڈرافٹ کے ذریعہ روپیہ حاصل کیا تھا۔ اس وقت تک خلیفہ اور ان کا خاندان بینک سے قریباً سات لاکھ روپیہ کی ایک خطیر رقم لے چکے ہیں۔ یہ اسی بینک روپے سے سیاسی افادیت حاصل کی جاتی ہے۔ خلیفہ خود فرماتے ہیں:

٧٢

صفحہ ٦١٥

”اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ میں روپیہ جمع کراتے ہیں..... تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت پچانوے فیصد کم ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٣/ جنوری ١٩٣٧ء)

پس کس طرح قادیان اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت کے طوفان کم کرنے کے لئے اس بینک کے ذریعہ سکیمیں مرتب کی گئیں۔ پھر کس طرح احرار کے امنڈتے ہوئے سیلاب کی طاقت کو کم کیا گیا اور بقول خلیفہ احرار کو شکستیں دی گئیں۔ کیا خلیفہ کے سیاسی عزائم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس بینک کی طاقت سے کسی اور کو بھی شکست دی جائے۔ کیونکہ خلیفہ خود فرماتے ہیں: ”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧/ فروری ١٩٣٨ء)

اور پھر بالفاظ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میں اس مد (امانت تحریک) کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٣/ جنوری ١٩٣٧ء)

خلیفہ صاحب کی الہامی تحریک بھی سنئے : ”اور یہ بھی یاد رکھیئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨/ فروری ١٩٣٧ء)

صیغہ امانت

حکومت کے سٹیٹ بینک کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔ اس بینک کا نام خلیفہ نے امانت فنڈ اس وجہ سے رکھا ہے تاکہ ملک کے قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔ حالانکہ بینک (امانت فنڈ) وہی کام سرانجام دیتا ہے جیسا کہ منظور شدہ بینک۔

امانت کی شرائط ملاحظہ فرمائیں

روپیہ بطور ذاتی امانت جمع کرا سکتا ہے۔

ہوں گی ان کے بدلوانے پر جو اخراجات صیغہ کے ہوں گے وہ حساب دار سے کاٹے جائیں گے اور رقم بینک سے وصول ہونے پر جمع کی جائیں گی۔

جائیں گے۔

٧٣

صفحہ ٦١٦

قدر رقم امانت سے وصول کی ہے۔ یا افسر امانت کے نام رقعہ تحریر کرنا ہو گا کہ اس قدر رقم امانت سے فلاں شخص کو ادا کر دی جائے۔ یا فلاں مد میں ادا کر دی جائے یا بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کر دی جائے۔ جو حساب دار اپنے حساب سے کوئی رقم بذریعہ ڈاک باہر منگوائے یا کسی دوسری جگہ روانہ کرنے کی ہدایت کرے تو یہ خدمت صیغہ امانت حساب دار کی پوری ذمہ داری پر انجام دے گا اور اگر روپیہ ادا کرنے کے بعد راستہ میں کوئی نقصان ہو گا تو صیغہ امانت ذمہ دار نہ ہوگا۔

رقعہ پر عائد نہیں ہوگی۔ جس کے ذریعے حساب بند ہورہا ہو۔

ہندوستان سے باہر رہنے والے امانت داروں کے لئے یہ میعاد ١٥٠ دن ہوگی۔

حساب داروں کے لئے دفتر متعلقہ کو جلد سے جلد آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ اس کی ذمہ داری حساب دار پر ہوگی۔

کے ساتھ داخل کرنا ہوگا۔ جو دفتر میں محفوظ رہے گا۔

یعنی تاریخ رقم معہ نام حساب دار وغیرہ فوراً افسر صیغہ امانت کو بھیجی جائے۔ ورنہ ادائیگی کی ذمہ داری صیغہ امانت پر نہ ہوگی۔

تسلی کر لیا کریں۔

تا اعلان ثانی صیغہ امانت ادا کرے گا۔

دار اپنا اپنا حساب ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔

٧٤

صفحہ ٦١٧

اجرت چار آنہ فی سال کے حساب سے دفتر صیغہ امانت وصول کرے گا۔ زیادہ پرانے حساب کے لئے زیادہ اجرت لی جائے گی۔

ہو سکے گا اور واپس مل سکے گا۔

دار اس کی واپسی کا ذمہ دار ہوگا۔

ہو جائے تو اس پر اپنے تصدیقی دستخط کرے۔ کیونکہ کوئی مشکوک رسید یا رقعہ دفتر امانت سے ادا نہ کیا جائے گا۔

پھر بھی کسی وجہ سے خدانخواستہ نقصان ہو جائے تو حسب احکام شریعت اسلامی اس نقصان کا حصہ امانت دار کو بھی اٹھانا پڑے گا۔

افسر امانت صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ

بینکاری کا سنگین معاملہ

اس بینک میں سرکاری ملازمین کے کھاتے کھلے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بنظر عمیق اور سنجیدگی کے ساتھ اس امر کی چھان بین کرے۔ انہیں بڑی بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی۔ وہ تمام لوگ جو محض ٹیکس سے بچنے کے لئے منظور شدہ بینکوں کی بجائے صیغہ امانت میں روپیہ جمع کرواتے ہیں منظر عام پر آجائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بعض غیر متوقع حالات کی بناء پر دیوالیہ ہو جائے تو بہت سے لوگ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپل بینک دیوالیہ ہوا تھا تو ملک میں ایک شور برپا ہو گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا۔ لیکن ملک کی فضا میں بیواؤں، یتیموں اور بے بسوں کے رونے کی چیخ و پکار کی گونج اٹھی۔ ہزاروں لکھ پتی غربت و بے بسی کے اژدھا کا لقمہ بن گئے۔ جن لوگوں کا ربوہ کے جعلی بینک میں روپیہ پڑا ہوا ہے گورنمنٹ نے اس کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔ گورنمنٹ کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کے شہریوں کی اموال کی حفاظت کا بندوبست کرے۔

صفحہ ٦١٨

رقم خورد برد

ربوہ کے بینک کی مالی حالت اس قدر دگرگوں اور مخدوش ہے کہ یہ بینک عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ کل سرمایہ تقریباً ٣٣لاکھ روپیہ ہے۔ اٹھارہ لاکھ کی رقم خورد برد کی جا چکی ہے۔ خلیفہ اور جماعت کے بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات اس بات کے ضامن ہیں کہ یہ بینک بالکل دیوالیہ ہو جائے گا تو پھر امانت والوں کا کیا حال ہوگا۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ یا تو اس جعلی بینک کو ختم کر دے یا خلیفہ صاحب کو مجبور کرے کہ اسی بینک کو چلانے کے لئے حکومت سے منظوری حاصل کرے۔

مخفی اخراجات

جس طرح حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اسی طرح یہاں بھی مخفی اخراجات کے لئے مد موجود ہے۔ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں۔

”صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں۔ مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جاسکتے خرچ ہوئے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢١؍ جولائی ١٩٣٧ء)

مد سے خاطر مدارات

میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مخفی اخراجات کی حقیقت کو معزز قارئین کے سامنے ظاہر کر دوں۔ مخفی اخراجات وہ اخراجات ہیں جو الیکشنوں، رشوتوں اور سیاسی گٹھ جوڑ پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ قادیان میں اسی خاص مد سے چوہدری فتح محمد سیال کا الیکشن لڑا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ روپے سے زائد خرچ کیا گیا۔ گردونواح کے بدمعاشوں کو شراب اور روپیہ دے کر اپنے ساتھ ملایا گیا۔ یاد رہے کہ شراب پلانے کے لئے جگہ کا انتخاب لنگر خانہ اور مہمان خانہ میں کیا گیا اور ان کی ہر طریق سے خاطر و مدارات کر کے ان کی حمایت اور تائید حاصل کی گئی۔ باوجود اس قدر خرچ کرنے کے بھی پہلا الیکشن ہار گئے۔

اسی طرح خلیفہ ربوہ اپنے مخالف حریف کو قتل کرنے کے لئے اسی مد سے بے دریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ بعدازاں اس قاتل کو بچانے کے لئے پانی کی طرح روپیہ بہا دیتے ہیں

ریاست ربوہ سے در بدر کرنے کی سکیمیں

اسی طرح اس مد سے جس سے مخفی اخراجات چلائے جاتے ہیں کسی ہنگامی وقت میں

٧٦

صفحہ ٦١٩

اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے لوگوں سے جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ چنانچہ خلیفہ ربوہ نے خاندان خلیفہ اوّل مولوی نور الدین پر منافقت کا جھوٹا الزام لگایا اور انہیں ریزولیوشن کی بھر مار کی وجہ سے خلیفہ اوّل کے خاندان کو ریاست ربوہ سے نکالنے کے لئے مختلف سکیمیں مرتب ہونے لگیں۔ ریزولیوشن کے فوراً بعد ان کے ارد گرد سایہ کی طرح ان کی تمام نقل وحرکت پر کڑی نگرانی رہی اور اسی طرح ان کے گھروں پر بھی ٢٤ گھنٹے پہرے دار کھڑے کئے گئے۔ تاکہ دہشت پیدا کی جائے اور خوفزدہ ہو کر یہاں سے بھاگ جائیں اور ساتھ ہی ساتھ ضروریات زندگی کے راستے مسدود کئے گئے اور پھر ہر لمحہ تنگ کرنے کی تدبیریں سوچی گئیں۔ مولوی عبدالمنان صاحب عمر کی عدم موجودگی میں ان کی اہلیہ امت الرحمان بنت مولوی شیر علی کو اپنا ذاتی مکان نمبر ٦٠٢ کے ارد گرد کڑا پہرہ لگا کر (کرفیو) چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ آخر لاچار ہو کر وہ ستم زدہ عورت عبدالمجید کے مکان پر منتقل ہو گئی۔ مگر پہلے سے کرایہ پر لیا گیا تھا۔ مکان کی ذاتی ملکیت ملاحظہ ہو۔ انگریزی کا ترجمہ اردو حسب ذیل ہے۔

تصدیق کی جاتی ہے کہ مسٹر عبدالمنان عمر مکان نمبر ٦٠٢ کے مالک ہیں۔ دستخط : آنریری سیکرٹری میونسپل کمیٹی ربوہ

No. Certified that Mr. Abdul Mannan Umar is the owner of the House No.602

Sd. Honrary. Secretary. M,c, Rabwah

مخالفین کو مکان سے بے دخل کرنے کا طریق

عبدالمجید صاحب کے مکان پر منتقل ہونے کے بعد خلیفہ صاحب کے ایماء پر یہ عمارت کم و بیش ساڑھے بارہ ہزار روپیہ پر خرید لی گئی۔ جس کی ادائیگی اسی مد سے ہوئی۔ خادم حسین صاحب کپتان جو اس وقت ناظر امور تھے۔ ان کی چٹھی ملاحظہ ہو۔

ربوہ مکرمی و محترمی عبدالمجید صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ١٨ اکتوبر ١٩٧١ء آپ کی جو گفتگو مولوی عبدالعزیز صاحب آف بھامڑی سے ہوئی ہے اس کے مطابق آپ کے مکان واقعہ محلہ دارالرحمت غربی کا سودا مبلغ ساڑھے بارہ ہزار روپیہ پر

٧٧

صفحہ ٦٢٠

خاکسار کو منظور ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ فوری طور پر اس کو خالی کرا کر ہمارے حوالے کریں اور خالی کرانے میں جتنی مدت لگے اس کا کرایہ ہمیں ادا ہو۔ اسی خط کی رسیدگی سے مطلع فرماویں۔ والسلام!

خاکسار خادم حسین کپتان

اس مکان کی خریداری کے بعد ذاتی ضرورت کا بہانہ بنا کر نوٹس دیا گیا اور ان کو جبراً ریاست ربوہ اسی طرح چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

جائیداد کو اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا گیا

خلیفہ نے کس طرح جماعتی چندہ اور جائیداد کو اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا اس کا اندازہ احمدیہ حقیقت پسند پارٹی کے ان چودہ سوالات سے ہوتا ہے۔ جو خلیفہ محمود کی زندگی میں شائع کئے گئے۔

کیا ”دی سندھ ویجی ٹیبل آئل اینڈ الائیڈ پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ“ گوجرہ ہیڈ آفس ربوہ جس میں بڑے حصہ دار صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید انجمن احمدیہ ربوہ اور حضور خود بھی ہیں، نے گوجرہ سے مندرجہ ذیل تفصیل سے -/١٢١٥٩/٦ روپے کا ٩٠٠ بوری بنولہ جو سیلز ٹیکس کا حسب ذیل سرٹیفکیٹ دے کر خریدا گیا تھا۔ باقاعدہ کمپنی کے حسابات کی کتب میں خرید بنولہ کھاتہ میں درج کیا گیا ہے؟ کیا اس بنولہ کے تیل اور کھل کی فروخت باقاعدہ کتب حساب میں درج کر کے حکومت کا سیلز ٹیکس ادا کیا گیا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیوں؟ اب آپ ہی بتائیں کہ یہ روحانی جماعت ملک قوم کی مجرم ہے یا نہیں؟

تاریخ ریٹ تعداد بوری قیمت ٢٧ مارچ ١٩٥٥ء ١٣/٤ روپے ٢٠٠ ٢٦٥٠ ٥ اپریل ١٩٥٥ء ١٣/٢ روپے ١٥٠ ١٩٦٨-١٢ ٧ اپریل ١٩٥٥ء ١٣/٧ روپے ١٥٠ ٢٠١٥-١٠ ١٣ اپریل ١٩٥٥ء ١٣/١٣ روپے ٢٠٠ ٢٧٦٢-٨ ١٦ اپریل ١٩٥٥ء ١٣/١٣ روپے ١٠٠ ١٣٨١-٤ ١٧ اپریل ١٩٥٥ء ١٣/١٣ روپے ١٠٠ ١٣٨١-٤ میزان ٩٠٠ بوری ١٢١٥٩-٦ روپے

٧٨

صفحہ ٦٢١

٦٠٠ بوری بنولہ کی خرید اور اس کا تیل وکھل کی فروخت کمپنی کی اصل کتب حسابات میں درج کئے بغیر بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے حکومت وقت کا سیلز ٹیکس وانکم ٹیکس بچایا گیا ہے یا نہیں ۔ کیا یہ حکومت اور مذہب سے دھوکا ہے یا نہیں؟

کیا اس بلیک مارکیٹنگ کا علم چوہدری غلام مرتضیٰ بار ایٹ لاء میاں عبدالرحیم احمد جو حضور کا داماد ہے اور حافظ عبدالسلام وکیل اعلیٰ تحریک جدید کو ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ مندرجہ ذیل سیلز ٹیکس ایکٹ و سرٹیفکیٹ کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ کیا اسی طرح تقریباً ہر سال ہزارہا روپے کی خرید اور فروخت تیل وکھل بنولہ کو چھپایا گیا ہے یا نہیں؟ یہاں طوالت کے خوف سے مشت نمونہ از خروارے درج کیا گیا ہے۔

Certificate for the exemption from payment of the sale tax Rules of the SALES TAX ACT 1951

We M/s ---------------------------------- hereby certify that we hold Licence No ------------------- Date ----------------- issued by the Sales Tax Officer Lahore. Under section 8 of the Sales Tax Act 1951.

By virtue of the said Lisence, we calaim exemption under clause b/c of section 4 of the said Act in respect of the goods specified below.

Brought from M/s ------------------------ Through ------------ cotton seeds ----------------- Maunds or Bages ---------------- Rs. ----------------- per maund or per Bag.

We further certify that the afforesaid goods are to be used and brought into or attached to tax able goods for sale.

امپورٹ لائسنس

لاہور کے نام پر انڈیا سے چھوٹی الائچی، کالی مرچ اور کریانہ وغیرہ کا سامان منگوانے کے لئے

٧٩

صفحہ ٦٢٢

جولائی دسمبر ١٩٥٥ء اور جنوری، جون ١٩٥٦ء کے درآمدی عرصہ میں جو امپورٹ لائسنس ملے تھے۔ آپ نے ٢٠٠ اور ١٩٠٠ روپے کے اپنے ایک تجارتی ادارہ یعنی وکیل التجارت تحریک جدید جس کے انچارج قریشی عبدالرشید تھے۔ وکیل المال تحریک جدید کو فروخت کئے تھے یا نہیں؟ اگر کئے تھے تو کیوں؟ کیا یہ جرم ہے یا نہیں۔ اگر آپ کا یہ جواب ہو کہ آپ نے فروخت نہیں کئے تھے بلکہ بطور اپنے مختار و نمائندہ کے ان کے ذریعہ مال منگوایا تھا تو پھر ان دونوں پرمٹوں کے مال پر مجموعی طور پر جو ٧٠٠٠ روپے کے قریب نقصان ہوا تھا وہ آپ نے خود اپنی جیب خاص سے کیوں برداشت نہ کیا؟ اس کا بار جماعتی چندہ اور قومی امانت پر کیوں ڈالا گیا۔ کیا یہ مذہبی اور روحانی خلیفہ کے لئے جائز ہے۔ جب کہ آپ کا دعویٰ تو حضرت عمرؓ سے بڑھ کر فضل عمر ہونے کا ہے۔ حالانکہ اس عمرؓ نے تو اپنے لڑکے کو بیت المال کے چراغ سے سر پر تیل لگانے پر بھی سزا دی تھی۔ خرید وفروخت اور نقصان کے لئے یونیورسٹی ٹریڈنگ اینڈ مینوفیکچرنگ کمپنی ربوہ کی کتب حسابات اور نفع ونقصان کا گوشوارہ بابت ٥٦۔١٩٥٥ء اور ٥٧۔١٩٥٦ء ملاحظہ ہو۔

ٹیکس سے بچنے کے لئے علیحدہ کیا گیا تھا اور ١٩٥٦ء میں آپ کی خاص ملکیت اور ذاتی جائیداد کے طور پر پروموٹز کارپوریشن لمیٹڈ ربوہ کے پاس فروخت یا منتقل ہوا ہے کے ادا شدہ سرمایہ میں ٨٨٠٠٠ روپیہ قرض بیت المال سے حاصل کئے ہوئے قرضہ ١٢٨٠٩٠ میں سے منتقل ہوا تھا یا نہیں؟ کیا یہ ٨٨٠٠٠ روپے کا قرض آپ کی جیب خاص سے واپسی ادا ہوا ہے؟ یا محض کاغذی اور ہیرا پھیریوں کے ذریعہ جو آپ کے حکم اور ایماء سے ہوتی رہی ہیں۔ ادا شدہ ظاہر کر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کھڑی فیکٹری سے حکماً یہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ لیا گیا تھا کہ اب صدر انجمن اور تحریک جدید کا پریسنگ سیکشن میں کوئی دخل اور واسطہ نہیں۔ آئندہ یہ خالصتاً حضور کی ذاتی ملکیت ہوگا۔ کیا یہ قوم کے روپیہ کا ناجائز اور مجرمانہ مصرف نہیں؟ اور کیا اس قومی جائیداد کو اپنانے کی تفصیلات کبھی آپ نے جماعت کی نمائندہ مجلس مشاورت میں پیش کی ہیں یا پیش کرنے کی کبھی اجازت دی ہے اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ١٩٤٣ء میں جننگ اور پریس سیکشن کی تقسیم محکمہ انکم ٹیکس کی خاطر کی گئی تھی تاکہ جننگ سیکشن کو صدر انجمن اور تحریک جدید کی ملکیت ظاہر کر کے بوجہ خیراتی ادارہ ہونے کے ٹیکس سے بچایا جاسکے اور پریسنگ سیکشن کو فرضی شرکت نامہ سے بھاری ٹیکس سے محفوظ کیا جاسکے؟ پنجابی کی مشہور ضرب المثل:

٨٠

صفحہ ٦٢٣
”اگ لین آئی تے گھر دی بن بیٹھی“

کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ ٢٢٥٠٠ روپے حصہ داروں کا سرمایہ ظاہر کر کے چند سالوں میں لاکھوں روپیہ کی مشینری اور بلڈنگ پر قبضہ کر لیا۔ جس کا چودہ ہزار روپیہ سالانہ و اب شاید زیادہ ہو جبکہ حضور وصول کرتے رہے ہیں۔

پریس فیکٹری کنری کو دیا تھا۔ اس پر ہر سال ٦٤٠٤ روپے کا چیک حضور کے دستخطوں سے (کیونکہ کنری فیکٹری کا چیک اکاؤنٹ حضور اپریٹ کرتے تھے) بطور Rent on Loan یعنی سود صدر انجمن کو ملتا رہا ہے یا نہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ آمد اور اس قسم کی اور ہزار ہا روپیہ کی آمدنیوں کو کبھی محکمہ انکم ٹیکس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ نیز کیا اسلام میں سود لینا یا دینا جائز ہے؟ سود کی تعریف آپ اپنی کتاب ”اسلام کا اقتصادی نظام“ میں ملاحظہ فرما کر اس کا جواب عنایت فرمادیں۔

میں ربوہ کی زمین فروخت کرنے کا روپیہ جمع ہوتا تھا۔ صرف تین سال کے عرصہ میں یعنی ١٩٥٤ء تا ١٩٥٦ء ١٥٨٩٠٠ روپے اس مد میں فروخت زمین کا جمع ہوا۔ حالانکہ ربوہ کی ساری زمین صرف ١٢٠٠٠ روپے میں خریدی گئی تھی۔ لیکن پھر بھی خرید کنندگان کو حقوق ملکیت حاصل نہیں۔ اس سے بڑھ کر اور بلیک مارکیٹ اور کیا ہو سکتی ہے اس سے روپیہ حاصل کر کے تجارتی مقاصد کے لئے ربوہ میں ڈالمیا سیمنٹ کمپنی کی جو ایجنسی لی تھی اس کو ٤٣٣٧٦ بوری سیمنٹ فروخت کرنے پر ٣١؍ جنوری ١٩٥٥ء تک ١٨٩٣٠/٢/٦ روپے منافع ہوا تھا۔ کیا اس ایجنسی کا حساب محکمہ انکم ٹیکس کے روبرو پیش کیا گیا ہے۔

پوری تنخواہ اور سفر خرچ وغیرہ جماعت کے چندے سے ادا ہوتا تھا سے اپنا ذاتی کاروبار (مثلاً بارڈر ٹریڈ، چتا کا کاروبار، قاعدہ یسرنا القرآن اور پروفیومری وغیرہ) کرواتے رہے ہیں یا نہیں۔ جس کا باقاعدہ آپ کو منافع ملتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر یونیورسل ربوہ کے ووچر نمبر ٦٢ مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٩٥٥ء کے مطابق آپ کو ٣٦٩/١٥ روپے کا چیک بطور تجارتی منافع دیا گیا۔ اسی طرح ہزارہا روپیہ قریشی عبدالرشید نے جائز و ناجائز طریقہ سے آپ کی نذر کیا اور اسی طرح وہ خود قوم کے محاسبہ سے بچتا رہا۔ کیا یہی وہ تقویٰ کی باریک راہیں ہیں جن کا جماعت کو درس دیتے۔ حضور اور

٨١

صفحہ ٦٢٣

حضور کے تنخواہ دار علماء کے ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔

٧...... کیا یہ امر واقع ہے یا نہیں کہ پیر صلاح الدین صاحب اے ڈی ایم منٹگمری جو آپ کے رشتہ دار ہیں نے اپنے گیارہ حصص مالیتی ١١٠٠روپیہ جو ”دی سندھ ویجی ٹیبل آئل اینڈ الائیڈ پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ“ میں تھے فروخت کر کے اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس وقت کمپنی مذکور چونکہ شدید خسارہ میں تھی اس کے حصص کا کوئی بھی شخص رضا کارانہ طور پر خریدار نہ تھا۔ لیکن آپ نے بحیثیت خلیفہ کے حکم دیا کہ تحریک جدید انجمن احمدیہ یہ حصص خرید کرے اور فوری طور پر ١١٠٠ روپیہ کی رقم پیر صاحب کو ادا کی جائے۔ چنانچہ تحریک جدید نے فوراً بلا حیل و حجت ١١٠٠روپے کا ریزولیوشن پاس کر کے قومی خزانہ و چندہ سے یہ رقم ادا کر دی۔ یہی فیاضانہ سلوک ان سینکڑوں حصہ داروں سے کیوں نہ کیا گیا۔ جن کی رقوم کمپنی مذکور میں پیر صاحب کی رقم کی طرح ہی خطرہ میں تھیں اور ان میں سے اکثروں نے اپنے حصص فروخت کر کے پیر صاحب کی طرح اپنی رقوم کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہوا تھا۔ کیا یہ امتیازی سلوک ابن الوقتی اور کنبہ پروری نہیں؟ کیا اس قسم کی جانبداری کسی روحانی خلیفہ کے لئے جائز ہے۔

نوٹ ........ ١٩٥٦ء میں جب اس رقم کی ادائیگی ہوئی تھی اس وقت اس کمپنی کے حصے نصف قیمت پر بھی کوئی لینے کو تیار نہ تھا۔ پانچ لاکھ روپیہ قوم کا اس کمپنی نے اور لاکھوں روپیہ اسی طرح دوسری کمپنیوں نے ضائع کیا ہے۔ جن کے چیئر مین حضور کے فرزند ارجمند مرزا ناصر احمد، مرزا مبارک احمد، مرزا حفیظ احمد صاحب ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا اور محاسبہ کرنے والا نہیں۔ جس نے کبھی جرأت کی وہی جماعت اور مرکز سے باہر نکال پھینکا گیا۔

٨...... کیا آپ نے خود ملک عبدالرحمٰن صاحب مرحوم آف قصور منیجنگ ڈائریکٹر دی ایشو افریقین کمپنی لمیٹڈ کراچی (ہیڈ آفس دی مال لاہور ) کی جگہ کوئی اور آدمی تلاش کرنے کے لئے صوفی محمد رفیق صاحب نائب وکیل الصنعت ڈائریکٹر ایشو افریقین کمپنی کراچی بھیجا تھا یا نہیں؟ جب آپ کا راز ایک موقعہ پر بورڈ کی میٹنگ میں جو ربوہ میں ہوئی تھی طشت از بام ہوا تو آپ نے صاف انکار کر دیا کہ آپ نے ہرگز کوئی آدمی نہیں بھیجا۔ ملک صاحب نے کہا یہ صوفی محمد رفیق بیٹھا ہے اس سے پوچھئے یہ گیا تھا یا نہیں؟ صوفی صاحب کو ملک صاحب کے صداقت بھرے الفاظ کا انکار کرنے کی جرأت نہ ہوسکی اور منہ سے نکل گیا کہ ہاں گیا تھا۔ اس پر صوفی محمد رفیق کو سچ بولنے کی پاداش میں وہاں ہی سچ جس کے بولنے کی آپ ہمیشہ جماعت کو تلقین کرتے رہے ہیں سزا کے طور پر ڈی گریڈ کیا گیا۔ حالانکہ آپ کے انکار کے باوجود آپ کا اقرار حسب ذیل اقرار ہے جو

٨٢

صفحہ ٦٢٥

٢٦؍نومبر١٩٤٩ء کو صوفی محمد رفیق صاحب کو کراچی بھجوانے کے بعد دیا گیا تھا۔

CHINIOT-26-11-49 We have not stated if present Directer insists on resign no will run the firm. KHALIFAT-UL-MASEEH

ہوئے تھے آہستہ آہستہ آپ کے دنیاوی اور خود غرض سیاسی نظام کی بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں اور دھاندلیوں سے متنفر ہو کر گھروں کو واپس لوٹے ہیں اور بعض ان میں سے احمدیت اور اسلام کو ہی جواب دے چکے ہیں۔ ان میں سے بعض پر تعلیم دلوانے پر ہزارہا روپیہ جماعت کے چندہ سے خرچ ہوا۔ مجموعی طور پر اس سلسلہ میں ایک اندازہ کے مطابق صرف تحریک جدید کے ٢٣٨٦٩/٣/٤ روپے ضائع ہوئے۔ تفصیل کے لئے وکیل الدیوان تحریک جدید کے حسابات ملاحظہ ہوں۔ کیا اس قومی نقصان جو افراد اور روپیہ کے ضیاع سے ہوا کی تمام تر ذمہ داری آپ پر اور آپ کے مقررہ کردہ نااہل افسروں اور حاشیہ برداروں پر عائد نہیں ہوتی۔ جن کے عمل اور بانی سلسلہ احمدیہ کی تعبیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے؟

٦٣٨٧/٨ روپے دیکھ کر بتائیں کہ کیا آپ کا یہ محکمہ سٹہ کا کاروبار کرتا رہا ہے یا نہیں اور بقول الفضل اس جوئے کے کاروبار میں قومی امانت فنڈ تحریک جدید سے قرض لیا ہوا۔ ٢٥٠٠٠ روپیہ ضائع ہوا ہے یا نہیں؟ یہ پچیس ہزار اور اس طرح اور ہزار ہا روپیہ ضائع کرنے والا قریشی عبدالرشید اس وقت بھی بدستور تحریک جدید کا وکیل ہے یا نہیں؟ اور یہ انعام قوم کے اس مجرم کو آپ نے محض اس لئے نہیں دے رکھا کہ سلسلہ کے مال کو مختلف طریقوں اور راہوں سے آپ کی نذر کرتا رہتا ہے۔ اگر قریشی عبدالرشید کے جرم میں حضور یا جماعت کے سنجیدہ طبقہ کو کوئی شک ہو تو از راہ کرم تحریک جدید کے کم از کم مندرجہ ذیل دو ریزولیوشن ضرور پڑھ لئے جائیں تاکہ شک وشبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔

ارشاد حضور ریکارڈ ہوا

ریزولیوشن نمبر ٢٧، م ٢٠؍مئی ١٩٥٦ء تجارت کا ہر تین ماہ کے بعد بیلنس شیٹ وکالت میں (وکالت علیا) میں پیش ہونا چاہئے۔ اگر اس طرح ہو تو کوئی خطرہ کی بات نہیں رہ جاتی۔ اندھیر

٨٣

صفحہ ٦٢٦

تو یہ ہے کہ سارے اکاؤنٹس ان کے قریشی عبد الرشید وکیل التجارت حال وکیل المال قبضے میں رہنے دیتے ہیں اور لوگ اعتراض کر کے میرا دماغ چاٹتے ہیں۔

نوٹ ....... اس ریزولیوشن سے یہ بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ ربوہ والوں کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ نظام جماعت پر ہمیشہ اور صرف ایسے لوگ اعتراض کرتے ہیں جن کو جماعت سے نکال دیا جاتا ہے۔ حالانکہ بعض حق پرست جماعت کے اندر رہتے ہوئے بھی نعرۂ حق بلند کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کو فوراً کسی دوسرے فرضی کیس میں الجھا کر مرکز اور جماعت سے علیحدہ یا کم از کم دور کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ کسی وقت ایسے لوگ ڈائریکٹ خلافت مآب پر ہی انگشت نمائی شروع نہ کر دیں۔ اس لئے خلیفہ جب اپنے تحفظ کے لئے ہمیشہ اپنے حواریوں کا تحفظ ضروری خیال کرتے ہیں۔ خواہ وہ کتنے ہی مجرم نہ ہوں۔

ارشاد حضور ریکارڈ ہوا

ریزولیوشن نمبر ٦ ب ١٨/جون ١٩٥٦ء :

خلیفہ کے فرزند ارجمند مرزا حفیظ احمد ہیں جنہوں نے گذشتہ دنوں لاکھوں روپیہ سٹہ کے کاروبار میں کراچی میں ہارا ہے۔ لائل پور اور کراچی کی دکانیں بھی پرموٹرز کمپنی کے ماتحت کردی جائیں اور ان کے سرمایہ کے بارے میں بھی پرموٹرز کمپنی سکیم پیش کرے۔ قریشی عبد الرشید کو اس کے علاوہ اور کسی قسم کی تجارت کا اختیار نہ ہوگا۔ جب تک کمپنی کا بورڈ اس کا فیصلہ نہ کرے۔

Term چار پانچ ہزار کے سرمایہ سے مراد عارضی تجارت ہو۔ جیسا کہ میں نے (خلیفہ صاحب) چنا کی تجارت کے لئے رقم دی ہے۔ اس طرح اگر تحریک اور انجمن چاہے تو دو یا تین ماہ کے لئے سرمایہ دے سکتی ہے۔ یہ عرصہ گزرنے کے بعد محکمہ تجارت کو اصل رقم واپس کرنی ہوگی اور اس طرح نفع یا نقصان دیکھ کر آئندہ ایسی تجارت کے جاری رکھنے یا بند کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ ....... چونکہ ان ریزولیوشنز پر عمل نہ ہوا، نہ ہونا تھا۔ جماعت کا ہزار ہا روپیہ وکیل التجارت کے ذریعہ ضائع ہو گیا اور وکیل التجارت نے باوجود تحریک جدید کے خزانہ سے حضور کو چڑھاوے چڑھانے کے لئے جب اپنے قلمدان وزارت کو چھنتے دیکھا تو ڈرامائی انداز میں استعفیٰ پیش کر دیا کہ وہ ان حالات میں کام نہیں کر سکتے۔ لیکن خلیفہ کو ان کا استعفیٰ منظور کرنے کی جرات اس لئے نہ

٨٤

صفحہ ٦٢٧

ہوسکی کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بہت سے راز ہائے سربستہ کے وکیل التجارت صاحب شاہد ہیں۔ اس لئے حضور نے سابقہ خدمات خصوصی اور کار ہائے خفیہ کو ملحوظ رکھ کر انہیں وزارت مال کا قلمدان دوبارہ سپرد کر دیا۔

قارئین کو یاد رہے کہ یہ ریزولیوشن ان پیہم اور تابڑ توڑ حملوں کے جواب کے طور پر تھا۔ جن کا اشارہ جناب خلیفہ نے خود ریزولیوشن نمبر ٧ ع م مورخہ ٢٠ مئی ١٩٥٦ء میں کیا ہے۔ ورنہ خلیفہ ان تمام نتائج اور مبادیات سے خوب آگاہ تھے۔ مگر یہ سب کھیل ہیں جو قوم کی گاڑھے پسینے کی کمائی اور چندہ سے کھیلے جا رہے ہیں۔ کاش ہماری بھولی قوم کی آنکھیں اب بھی کھل جائیں۔

عبدالرشید صاحب بھی اپنی خدمات جلیلہ جن کا دھندلا سا خاکہ سوال نمبر ١٠ میں دیا گیا ہے کے عوض شامل تھے) کا ایک بھاری جتھہ ساتھ لے کر گئے۔ جس سے قوم کے خزانے پر لاکھوں روپے کا ناجائز بار پڑا اور واپس آ کر آپ کے ذمہ بطور قرض جو روپیہ نکلتا تھا اس کو صاف کروانے کے لئے بوگس ریزولیوشن صدر انجمن اور تحریک جدید سے پاس کروائے گئے۔ صرف تحریک جدید میں ہی تقریباً ٦١٠٠٠ روپے کا ایک ریزولیوشن ہوا تھا کہ یہ رقم حضور سے مل گئی ہے۔ حالانکہ حقیقتاً ایک پیسہ بھی نہ ملا تھا۔ کیا آپ اسی ایک سفر کے اخراجات کی تفصیل جماعت کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں۔

شیٹس سال دار جلسہ سالانہ پر قوم کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں تا کہ نقدی موجودہ تجارتی قرضوں اور اوور ڈرافٹ لی ہوئی رقوم کی تفصیل منظر عام پر آسکے؟

روپے ہوئی ہے۔ کیا آپ اس کے مقابل اخراجات کی تفصیل جماعت کے کھلے اجلاس میں بتانے کے لئے تیار ہیں؟

اخراج از ربوہ، اخراج از جماعت اور سوشل بائیکاٹ یعنی مقاطعہ کی سنگین سزائیں جو قرآن اور اسلام کی تعلیم اور بین الاقوامی انسانی حقوق شہریت کے چارٹرڈ کے خلاف ہیں یا نہیں؟ اور کیا بقول مکرم ایڈیٹر صاحب نوائے وقت آپ کو اپنے لئے یہی سلوک پسند اور گوارا ہے۔

آزادی رائے پر پابندی

ریاست ربوہ کا گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ وہاں کسی کو آزادی ضمیر حاصل نہیں۔ ہر کس

٨٥

صفحہ ٦٢٨

دماغوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اس نہج پر سوچے جو خلیفہ نے تجویز کیا ہے۔ یہ آمرانہ نظام بعینہ روسی نظام کے مشابہ ہے۔ جہاں تمام لوگوں کو ایک ہی راستہ پر سوچنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور ایک ہی قسم کا لٹریچر پیدا کیا جاتا ہے اور ایسے ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں کہ بیرونی دنیا کے خیالات کے اثرات اندر نہ آسکیں۔ ریاست ربوہ میں تمام قسم کے اخبارات نہیں آسکتے۔ ایک سنسر بورڈ قائم کیا ہوا ہے جو پہلے کتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتا ہے جس اخبار اور کتاب کو اپنی پالیسی کے خلاف نہ پائیں اس کے پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور جو اخبارات اور کتب ان کی پالیسی کے خلاف ہوتی ہیں ان کا داخلہ ربوہ میں کلیۃً ممنوع ہے۔

اخبار فروش کا واقعہ

چنانچہ حال میں ایک واقعہ ربوہ میں رونما ہوا کہ چنیوٹ کا ایک اخبار فروش مبارک علی نامی ربوہ میں اخبار بیچنے گیا تو وہاں کی خانہ ساز پولیس نے اس کو گھیر لیا اور دفتر ناظم امور عامہ (ہوم سیکرٹری) کے پاس لے گیا۔ بدقسمتی سے اس کے پاس نوائے پاکستان کے پرچے بھی تھے۔ وہ اس سے جبراً چھین لئے گئے اور اس کے سامنے ہی ان پرچوں کو پھاڑ کر جلا دیا گیا اور اس اخبار فروش کو مارکوٹ کر ربوہ سے باہر نکال دیا گیا۔

اسی طرح اخبار الفضل میں بارہا دفعہ ناظم امور عامہ کی طرف سے یہ اعلان ہو چکا ہے کہ مخالفین یعنی گھر کے بھیدی کا جو لٹریچر بھی احمدیوں کے پاس پہنچے اس کو مت پڑھیں۔ بلکہ وہ مرکز کو بھیج دیں۔

(الفضل مورخہ ٧؍اپریل ١٩٥٧ء)

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

مذکورہ بالا اعلان میں آپ کلی طور پر منع فرماتے ہیں کہ گھر کے بھیدی کا لٹریچر خواہ وہ مسیح موعود کا ہی لٹریچر پیش کریں۔ قطعاً نہ پڑھیں اور ستیارتھ پرکاش جیسی گندی کتاب اپنے خلف الرشید کو پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ فرماتے ہیں: ”میرے بچے جو جوان ہوگئے ہیں میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے علاوہ ستیارتھ پرکاش اور انجیل وغیرہ بھی پڑھا کرو۔“

(الفضل مورخہ ٢؍اگست ١٩٤٩ء)

خوف و ہراس

ربوہ میں ایک ایسا محکمہ ہے جو لوگوں کے افکار و نظریات کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اگر کسی احمدی کا نظریہ اور رائے خلیفہ کے نظریہ سے مختلف ہو تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات

٨٦

صفحہ ٦٢٩

وافکار کو خلیفہ کے نظریات وافکار کے مطابق ڈھالے۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو اس کو مختلف طریق سے گزند پہنچانے کی پوری پوری سرتوڑ کوشش کی جاتی ہے تا کہ وہ مجبور ہو کر مرکز کو چھوڑ جائے۔ ان تکالیف کے باوجود اگر ریاست ربوہ نہ چھوڑنے پر بضد ہو تو محکمہ امور عامہ مقامی پولیس سے مل کر اس پر جھوٹا مقدمہ بنا کر خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ چند سال ہوئے غلام رسول موسم گرما کی تعطیلات گزارنے ربوہ ریاست میں گئے تو ربوہ کی تھاٹ پولیس نے جب ان کو ڈھب کا نہ پایا تو ان پر ایک چوری کا مقدمہ بنا دیا۔ تھانیدار اور سپاہی نے مجھے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ نظارت امور عامہ آپ کے خلاف ہے۔ اس وجہ سے بہتر صورت یہی ہے کہ آپ ربوہ چھوڑ دیں۔

تھاٹ پولیس

جاپان میں بھی دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہی گاڈز کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو تھاٹ پولیس ...... کہتے ہیں۔ اس پولیس کا یہ فرض ہوتا تھا کہ ملک میں لوگوں کی گفتار اور افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال ربوی میکاڈو کا ہے جو اپنی ریاست میں کسی کو نہ سوچنے دیتا ہے۔ نہ کسی کو آزادی سے تالیف وتصنیف کرنے دیتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ فرماتے ہیں: "قاعدہ یہ ہے کہ تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف فرماویں (گو وہ کسی موضوع پر ہو) تو محکمہ تالیف واشاعت میں روانہ فرماویں اور محکمہ مذکور بعد ملاحظہ وتصحیح ضروریہ اسے اشاعت کے لئے منظور کرے اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکورہ کے پاس کرنے کے احمدیہ لٹریچر میں شائع نہیں ہوسکتا۔"

(الفضل مورخہ ١٨؍مئی ١٩٢٢ء)

ربوہ کا پولیس ایکٹ

"اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری خلیفہ مسیح بذریعہ ریزولیوشن نمبر ١، ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتاب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف واشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔"

(الفضل مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٣٣ء)

اجازت نہیں

چنانچہ ان تجاویز پر عملی جامہ پہنایا گیا اور المبشر نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا ہے۔ جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ خلیفہ کے نزدیک بعض نقائص اور عیوب ایسے

٨٧

صفحہ ٦٣٠

تھے کہ ان سے ہوتے ہوئے المبشر کو مرکز کے سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔

(الفضل مورخہ ٢٨ اگست ١٩٣٧ء)

”اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب بیان المجاہد (جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ و تعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں جب تک نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔“

(الفضل مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٣٣ء)

ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ: ”اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو وہ اسے فوراً تلف کر دیں اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں وہ سب تلف کر دی جائیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ دسمبر ١٩٣٣ء)

جب نظارت تالیف و تصنیف کو اسی ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا گیا۔

(الفضل مورخہ ٤ دسمبر ١٩٣٣ء)

غور کیجئے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟ خلیفہ فرماتے ہیں: ”اب تک تین رسالوں کو میں اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤ مارچ ١٩٣٢ء)

ربوہ کا روسی نظام

ریاست ربوہ میں کوئی ایسا لٹریچر داخل نہیں ہو سکتا جو اس ریاست کی پالیسی کے خلاف ہو۔ اس طرح ریاست میں روسی نظام کی طرح کوئی آدمی بھی جو ان کے خیال کا ہمنوا نہ ہو، اس کو آزادی سے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ وارد شدہ آدمی سے کسی قسم کی گفتگو کر سکے۔ چنانچہ غلام محمد صاحب جو خلیفہ کے نظریات اور عقائد کے خلاف ہیں۔ ایک نجی کام کے لئے ربوہ گئے۔ ربوہ کی تھاٹ پولیس نے ربوہ سے نکال دیا تاکہ وہ لوگوں میں اپنے خیالات وافکار کا اثر نہ چھوڑ سکے۔

رشتہ داروں سے ملنا ممنوع

اسی طرح محمد یوسف صاحب ناز (خلیفہ کا محرم راز) اور ان کے ہمراہ عبدالمجید صاحب اکبر جو ان کے ماموں ہیں، اپنے قریبی رشتہ داروں کو ملنے کے لئے ربوہ گئے تو ان کی خانہ ساز پولیس نے اپنی کڑی نگرانی میں گھیر کر ناظر امور عامہ کے سامنے پیش کر دیا تو ان کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ بلکہ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ریاست ربوہ کو فوراً سے پیشتر چھوڑ دیں۔

٨٨

صفحہ ٦٣١

ورنہ ان کی زندگی کے ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔

ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خلیفہ ربوہ کی طرف سے ایک ایسا آہنی نظام قائم ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگ نہ تو مخالفین کے خیالات سن سکتے ہیں اور نہ وہ دوسروں کا لٹریچر پڑھ سکتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان سے استدعا کرتا ہوں کہ ایک مذہبی، دینی اور تبلیغی جماعت جنہوں نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے ان کی طرف سے لامتناہی اور تعزیری اقدام ان کے لئے باعث فخر ہو سکتے ہیں۔ پس گورنمنٹ کا اولین فرض ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگوں کو آزادیٔ ضمیر دینے کے لئے مناسب اقدام کرے۔ تاکہ وہ اس مطلق العنان آمر کے آہنی چنگل سے نجات پاسکے۔

حکومت کے خواب

خلیفہ کے رگ و ریشہ میں سیاست رچی ہوئی ہے۔ اگر ان کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب کے پردہ میں سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں اور سیاست کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کی ابتلاء انگیزیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ خلیفہ اکثر کہا کرتے ہیں۔

تمام سرکاری احمدیوں کی فہرست تیار رکھو

"ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو کچل دیں گے۔ ایسے ہی مقاصد کے لئے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی آفیسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول، بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔"

(الفضل مورخہ ٨ نومبر ١٩٣٢ء)

ہماری سیاست گورنمنٹ سے زیادہ ہے

کبھی وہ واشگاف الفاظ میں کہہ دیتے ہیں۔

"پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔۔۔۔۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ دراصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔۔۔۔۔ پس اس سیاست سے مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ

٨٩

صفحہ ٦٣٣

خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔"

(الفضل مورخہ ١٣ اگست ١٩٢٦ء)

حکومت کے تعاون سے حکومت پر قبضہ

اس زعم میں برملا کہہ جاتے ہیں: ”میرا خیال یہ ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں۔ عدم تعاون سے نہیں...... اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے۔ تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بیشک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہوگی۔ مگر جب کہ یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے۔ ان کے دل یا ان کے ولی اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکتی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ جولائی ١٩٢٥ء)

مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات

جب کبھی خلیفہ ربوہ کے خفیہ اڈوں پر حکومت نے چھاپا مارا تو اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زمین دفن کر دیئے گئے۔ قادیان میں ایک موقع پر یکدم قصر خلافت پر چھاپا پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی فراست ان کے کام آئی تو فوراً خفیہ دستاویز کو اپنی مستورات کی چھاتیوں پر باندھ کر اوپر کوٹھی دارالسلام قادیان بھجوا دیں اور تمام اسلحہ فوراً زیر زمین دفن کر دیا۔ ١٩٥٣ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جو گورنمنٹ پاکستان نے ربوہ کے دفاتر اور قصر خلافت پر چھاپہ مارنے کا فیصلہ کیا تو یہ خبر دو دن پہلے ہی ربوہ پہنچ گئی۔ کچھ ریکارڈ نذر آتش کر دیا اور کچھ حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا۔ چنانچہ اس اسلحہ کے نشان اب قادیانی اسٹیٹوں میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا بشیر آباد سٹیٹ کے ملازم سے ایک تھری ناٹ تھری کی رائفل اور ایک گرینیڈ برآمد ہوا تھا اور وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ کے ماتحت سزا پا گیا۔

٩٠

صفحہ ٦٣٣

حکومت وقت سے بغاوت

اسی طرح حال ہی میں اسی اسٹیٹ میں ایک قادیانی ملازم سے تھری ناٹ تھری کی رائفل پولیس نے برآمد کی ہے۔ اگر حکومت ربوہ اور قادیان اسٹیجوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے تو بیشمار اور راز بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ خلیفہ ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے ہیں جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی نے خلیفہ سے دریافت کیا کہ جس ملک کے لوگوں کا مقابلہ کرتے رہیں تو ارشاد ہوا۔

”اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٩؍ ستمبر ١٩٣٢ء)

پھر فرماتے ہیں: ”اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ نومبر ١٩٥٢ء)

پھر فرمایا: ”شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد کرنا پڑ جائے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٤٤ء)

”جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بعض حکومتیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍ اپریل ١٩٤٨ء)

انتشار پیدا کر کے ملک پر قبضہ کرنا

ان اقتباسات اور حوالہ جات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ ربوہ اپنی جماعت کے ذہنوں میں ایسی سیاسی جنون کی پرورش کر رہے ہیں جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا ہے اور اس تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب پاکستان میں افتراق وانتشار کی آگ بھڑکے اور اس سے فائدہ اٹھا کر ملک کے حکمران بن جائیں۔

خلیفہ فرماتے ہیں: ”کہ قبولیت کی رو چلانے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٣٦ء)

ان کا اپنا ارشاد ہے کہ: ”پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے یہ معنی نہیں کہ ہمارے صوبے کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبے کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٩٣٦ء)

٩١

صفحہ ٦٣٤

بیرونی حکومتوں سے گٹھ جوڑ

خلیفہ غلامی کی حالت میں بھی بیرونی حکومتوں سے بھی گٹھ جوڑ کرنے کے متمنی ہیں اور اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ کہتے ہیں: ”کہ کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی۔ جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے۔ مگر دوست نہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی خودکشی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٤٦ء)

خلیفہ کی اندرونی تصویر

اس حوالہ سے خلیفہ کی اندرونی تصویر ظاہر ہو جاتی ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی وقت بھی اس کے دشمنوں کے حلیف بن سکتے ہیں۔ چاہے اس کی کوئی بھی صورت پیدا ہو جائے۔ مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے ایک کرنل کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ کرنل صاحب نے کہا ہے: ”حالات پھر خراب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“ اس حوالہ سے کئی امور منکشف ہوتے ہیں۔

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٥٧ء)

حکومت کی مخفی پالیسی کا راز

کہ فوج میں بعض ایسے افسر بھی ہیں جو حکومت کی پالیسی خلیفہ کو بتا دیتے ہیں۔ مثلاً کرنل کا یہ کہنا کہ حالات پھر خراب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ حالات احمدیوں کے لئے خراب ہو جائیں گے لیکن فوج آپ کی امداد نہیں کرے گی۔ اگر واقعی کرنل صاحب کا کہنا درست ہے تو یہ الفاظ حکومت کی کسی مخفی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دوم ...... اگر خلیفہ نے یہ بات کرنل صاحب کی طرف غلط طور پر منسوب کی ہے اور پاک آرمی کی ساکھ پر کاری ضرب ہے۔ کیونکہ خلیفہ کرنل صاحب کی زبانی یہ بتا رہے ہیں کہ حالات خراب ہونے پر بھی فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ یعنی اگر گورنمنٹ فوج کو حالات سدھارنے پر متعین کرے تو وہ انکار کرے گی۔ لیکن تعجب والی بات یہ ہے کہ جب خلیفہ نے خطبہ دیا تو اس وقت نوائے پاکستان کی وساطت سے حکومت کی خدمت میں یہ عرض کی تھی کہ وہ خلیفہ کو گرفتار کر کے اس سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون کرنل صاحب ہیں جس نے خلیفہ کو پاک فوج کے متعلق یہ کہا تھا۔ اگر خلیفہ، کرنل صاحب کا نام بتانے سے قاصر ہوں تو ان کو سزا دی جائے۔ لیکن افسوس! گورنمنٹ

٩٢

صفحہ ٦٣٥

نے نہ معلوم وجوہات کی بناء پر خلیفہ سے باز پرس نہ کی۔ دراصل یہی وہ امور ہیں جب خلیفہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ خطبات دیتے ہیں تو حکومت ان پر گرفت نہیں کرتی۔ جس سے وہ بے لگام ہو کر جرأت اور جسارت میں بڑھ جاتے ہیں۔ خلیفہ کی یہ عادت قدیمہ ہے کہ جب کبھی ان کی تقریر پر کوئی قانونی اعتراض پڑے تو اپنا کام نکل جانے کے بعد، تو وہ کچھ عرصہ کے بعد تقریر دوبارہ اصلاح کے ساتھ شائع کر دیتے ہیں۔ اس دوبارہ شائع کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی حکومت کی طرف سے گرفت ہو تو وہ دجل وفریب سے حقیقت پر پردہ ڈال کر دوسری اشاعت کو پیش کر سکیں اور قانون کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہاں بھی اس قسم کے مکر و فریب اور عیاری سے کام لیا گیا ہے۔ جب کہ خطبہ پہلی دفعہ شائع ہوا تو اس کے الفاظ اور تھے۔ جب وہی خطبہ دوسری بار شائع کیا گیا تو قابل اعتراض الفاظ کو حذف کر دیا گیا۔

گشتی مراسلہ

AHMADIS COLLECTING OFFICIAL INFORMATION Govt, asks Departmental Heads to be vigilant

The West Pakistan Government has circulated a letter to all the Secretaries, Heads of Departments and Commissioners of Divisions, bringing to their notice the activities Ahmadia, Rabwah, it is reliably learnt.

The letter which was circulated some time ago directed the officials concerned to take suitable

٩٣

صفحہ ٦٣٦

measures to prevent official infromation from other into the hands of tha Ahmadia intelligence staff in an unauthorised manner.

The letter points out that the Government has reliable information to the effect that the Jamaat-e- Ahmadia, Rabwa has empolyed special intelligence staff to collect infromation which may be of interest to the Ahmadia sect. The Government has also learnt that Government servants belonging to the Ahmaida coomunity are being used for securing official information. Another source through which the Ahmadia intelligence staff collects infromation are the retired Ahmdia Government servants who still havr influence with thier erstwhile colleagues or subordinates.

It has also come to the notice of the Government that some Ahmadies have apparently renounced their faith in order to allay sus picion and to mix freeely with the general body of Muslims with object of collection information.

The main topics on which the Ahmadia intelligence staffgathers infromation are, as the activities of the dissident Ahmadia group called the "Haqiqat Pasand Party" activities of the organisation like the "Majlis Tahaffuz-e-Khatm-e- Nabuwwat and Jama'at-e- Islami", matters arising in

٩٤

صفحہ ٦٣٧

Government Departments which effect the interests of the Ahmadia activities of the various political parties, any change in Government policy regarding the Ahmadia community and the Shia-Sunni relation.

The Circular letter also points out that the Ahmadia intelligence staff is stationed at Rabwa and Lahore. The Jama'at-e-Ahmadia proposed to set up branches of the Intelligence staff at Rawalpindi and Karachi as well. The operation of the intelligence staff are directed and supervised by Mirza Nasir Ahmad, son of the Head of the Ahmadia community.

(Pakistan Times, Dated: 6th December 1957)

گشتی مراسلہ

حال ہی میں گورنمنٹ پاکستان نے سیکرٹریوں اور حکومت کے سربراہوں کو ایک گشتی مراسلہ بھیجا ہے جس میں گورنمنٹ کے ذمہ دار افسران کو خلیفہ ربوہ کی خفیہ (C.I.D) سے ہوشیار رہنے کے لئے ہدایت دی ہے۔ اس مراسلہ کا تذکرہ اخبار آزاد، امروز اور پاکستان ٹائمز میں آچکا ہے۔

مرکزی حکومت نے اعلیٰ حکام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی

یہ مراسلہ کچھ عرصہ ہوا ان افسران کو بھیجا گیا ہے۔ اس میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے انتظامات کریں کہ سرکاری اطلاعات ناجائز طور پر احمدیہ خبر رساں عملے کے ہاتھوں نہ پڑنے پائیں۔ اس مراسلے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اس کی معتبر اطلاع ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت نے خبر رسانی کا ایک خصوصی عملہ ملازم رکھا ہے جو ایسی سرکاری اور غیر سرکاری اطلاعات فراہم کرے گا جو احمدیہ فرقہ کے مفاد میں ہوں گی۔ حکومت کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سرکاری ملازم جو احمدیہ فرقہ کے معتقد ہیں ان کے ذریعہ سرکاری اطلاعات مہیا کی جارہی ہیں۔ ایک اور ذریعہ سے کام لے کر احمدیہ جماعت کا خبر رسانی کا عملہ سرکاری اطلاعات جمع

٩٥

صفحہ ٦٣٨

کرتا ہے۔ وہ حکومت کے پنشن یافتہ احمدیہ ملازم ہیں۔ جن کا ابھی تک اپنے دور کے ساتھیوں اور ماتحتوں پر اثر ہے۔ حکومت کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بعض احمدیوں نے غیر احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاکہ ان کی طرف سے شک وشبہ جاتا رہے۔ وہ آزادی سے تمام مسلمانوں میں خلط ملط ہوسکیں اور معلومات حاصل کرسکیں۔ حکومت نے بتایا ہے کہ احمدی جماعت کا یہ عملہ عام طور پر جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے ان میں ربوہ کی احمدیہ جماعت کے باغیوں کی جن کا نام حقیقت پسند پارٹی ہے۔ سرگرمیاں مجلس تحفظ ختم نبوت اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا شروع ہے۔ نیز اس میں احمدیہ فرقہ اور شیعہ سنی تعلقات سے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی خبر رکھنا بھی شامل ہے۔ حکومت کے اس گشتی مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کا یہ خبر رسانی کا عمل فی الحال ربوہ اور لاہور میں تعینات ہے اور جماعت احمدیہ کی تجویز ہے کہ اس عملہ کی شاخیں راولپنڈی اور کراچی میں قائم کی جائیں۔ اس عملہ کو ہدایت دینا اور اس کی نگرانی کرنا احمدیہ فرقہ کے امام وخلیفہ کے بیٹے مرزا ناصر احمد کے سپرد ہے۔

(امروز مورخہ ٢٨ دسمبر ١٩٥٤ء)

اس پر ملک کے مشہور اخباروں نے ادارتی نوٹ بھی لکھے ہیں جس میں گورنمنٹ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی ہے کہ یہ محکمہ گورنمنٹ کے لئے اتنا ضرر رساں نہیں جتنا کہ ربوہ کا خلافی نظام ۔ چنانچہ روزنامہ آفاق لاہور کا ادارتی نوٹ ملاحظہ ہو۔

صوبائی حکومت کا راہ فرار

”کچھ عرصہ پہلے معاصر ”آزاد“ نے صوبائی حکومت کے ایک خفیہ سرکلر کے نمبر اور تاریخ کا حوالہ دے کر یہ انکشاف کیا تھا کہ حکومت نے اپنے محکموں کے سربراہوں کو اور سیکرٹریوں کو ربوہ کے جاسوسوں سے خبردار رہنے کے لئے کہا ہے۔ اب پاکستان ٹائمز نے اس خبر کو دہرایا ہے۔ اس خبر کے مطابق حکومت کے سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کے خلافی نظام نے جاسوسی کا ایک محکمہ قائم کر رکھا ہے۔ جو حکومت کے دفاتر سے اپنے مفید مطلب راز حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ محکموں کے سربراہوں اور سیکرٹریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی سرکاری راز جاسوسوں کے ہاتھوں میں نہ پڑیں۔

صوبائی حکومت کا یہ سرکلر ایک اہم مسئلے سے فرار کی مضحکہ خیز کوشش ہے۔ حکومت کو یہ چھوٹا سا تنکا نظر آگیا کہ ربوہ کی انجمن نے حکومت کے راز حاصل کرنے کے لئے ایک جاسوسی نظام قائم کر رکھا ہے۔ لیکن یہ بہت بڑا شہتیر نظر نہیں آتا کہ ربوہ کی انجمن نے مذہبی تقدس کی آڑ میں ایک خفیہ متوازی حکومت کی صورت اختیار کرلی ہے اور وہ ایسے تمام حربے استعمال کرنے پر

٩٦

صفحہ ٦٣٩

مجبور ہے جو سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں حربہ عام قانون کی مشینری کو ناکام بنانے کا ہے۔ حکومت کی پولیس کے سامنے اس بات کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ ربوہ میں تشدد اور جرائم کے ایسے واقعات پولیس کے نوٹس میں آچکے ہیں جن کی صداقت کے متعلق پولیس کے افسران اعلیٰ کو شک وشبہ باقی نہ رہا۔ لیکن ان افسروں کا بیان ہے کہ اخفائے جرم کی ایک لمبی چوڑی سازش نے ان کے لئے مجرم کو سزا دلوانا ،مظلوم کی دادرسی کرنا ناممکن بنادیا ہے۔ احیائے مذہب کے علم بردار سچ بات کہنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص آمادہ ہوتا ہے تو اس کو زر یا زور کے ذریعے سچی گواہی دینے سے روکتے ہیں۔ لہٰذا ملک کا قانون بے بس ہے۔ اگر اس ملک میں واقعی ایسے حالات پیدا ہو جائیں اور ایک جماعت اپنی تنظیم اور اپنے وسائل کے ذریعے قانون وانصاف کی مشینری کو جب چاہے شل کر دے تو حکومت کو طفلانہ سر ٹکر جاری کرنے کے بجائے ان حالات سے عہدہ براء ہونے کی مؤثر تدبیر سوچنی چاہئے یا بصورت دیگر اقتدار کے عہدہ سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اصل یا اہم سوال یہ نہیں ہے کہ نظام ربوہ کے جاسوس حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس راز ہی کون سے ہیں جنہیں وہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے خلافتی نظام کے کارکن اور بھی بہت کچھ کر رہے ہیں جو ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام کی سرگرمیوں کی ذیل میں آتا ہے۔ اس کا علاج کیا ہے۔“

(روزنامہ ”آفاق“ لاہور مورخہ ٧؍دسمبر ١٩٥٧ء)

روزنامہ ”تسنیم“ بھی ملاحظہ ہو:

ربوہ کا جاسوسی نظام

”اخباروں میں حکومت مغربی پاکستان میں ایک گشتی مراسلے کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ جس میں محکموں کے سربراہوں اور سیکرٹریوں کو ربوہ کے جاسوسوں سے خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ربوہ کے قادیانی خلافتی نظام نے جاسوسوں کا ایک محکمہ قائم کر رکھا ہے جو حکومت کے دفاتر سے قادیانی جماعت کے بارے میں حکومت کے فیصلوں کی اطلاعات قادیانی جاسوس قادیانی سرکاری ملازموں سے حاصل کرتے ہیں یا قادیانی پنشن خواروں سے جن کے تعلق اب بھی سرکاری دفاتر سے ہیں۔

ایک معاصر نے اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کے نزدیک کون سی شے اہم ہے۔ سرکاری راز معلوم کرنے کا جاسوسی نظام یا وہ خفیہ متوازی حکومت جو قادیانی نظام خلافت نے تقدس کی آڑ میں ربوہ میں قائم کر رکھی ہے۔ اگر پہلی بات ایک شاخ ہے تو دوسری بات شہتیر۔ جاسوسی کا

صفحہ ٦٤٠

نظام حقیقت میں اسی خفیہ متوازی حکومت کا ایک قدرتی اقتضاء ہے

اس کے بعد معاصر حکومت کو بتاتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کے اعتراف کے مطابق ربوہ میں قانون اور امن کی طاقتیں بے بس ہو جاتی ہیں۔ وہاں کے لوگوں کی زندگی تلخ کر دی جاتی ہے۔ مگر مجرموں کے خلاف شہادت دینے پر کوئی شخص آمادہ نہیں ہوتا۔ معاصر لکھتا ہے کہ:

”اصل یا اہم سوال یہ نہیں ہے کہ نظام ربوہ کے جاسوس حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔..... اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے حفاظتی نظام کے کارکن اور بہت کچھ کر رہے ہیں جو ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام کی سرگرمیوں کی ذیل میں آتا ہے ۔ اس کا علاج کیا ہے؟“

ہمیں معاصر کے اس تجزیے سے پورا اتفاق ہے۔ افسوس ہے کہ معاصر نے علاج تجویز کرنے کا مسئلہ حکومت پر چھوڑ کر سکوت اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ کچھ بھی پیچیدہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قادیانی جماعت کی اصل حیثیت کو مشخص کر دے اور پردہ فریب کو چاک کر دے۔ جو اس نے اپنے چہرے پر ڈال رکھا ہے۔ یہ جماعت بالکل اسی طرح ایک خفیہ سیاسی جماعت ہے۔ جس طرح کوئی خفیہ سیاسی جماعت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نے خود کو محض ایک مذہبی جماعت قرار دے رکھا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے افراد پر سرکاری دفاتر کے چوپٹ کھلے ہوئے ہیں اور بڑے سے بڑے عہدے پر وہ فائز ہیں۔

ان کی اصل وفاداریاں پاکستان کے نظام حکومت سے وابستہ نہیں ہیں۔ بلکہ ربوہ کے خلافتی نظام سے وہ خلافت ربوہ کے راز تو سینے میں چھپا سکتے ہیں۔ مگر سرکاری اطلاعات کو عقیدۃً چھپا نہیں سکتے۔ اگر چھپائیں تو انہیں نظام خلافت کا باغی قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر موصوف نے پولیس اور قانون کی جس بے بسی کا ذکر کیا ہے وہ اسی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ اس خرابی کا علاج یہ ہے کہ قادیانی جماعت کو خفیہ سیاسی جماعت قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو ایسی جماعتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر یہ دو عملی ختم ہو نہیں سکتی اور گشتی مراسلے کے اجراء کا کچھ حاصل نہیں۔ بجز اس کے کہ ”چور“ کو آگاہ کر دیا جائے کہ جاگ ہو گئی ہے اور وہ اپنا کام زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ جن افسروں کے نام یہ گشتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے ان میں کتنے ہی ہوں گے جو اس فہرست میں آتے ہوں گے۔ جن سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

(روزنامہ تسنیم لاہور مورخہ ٨ دسمبر ١٩٥٧ء)

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چوں بخلوت می روند آں کار دیگر می کنند

☆.....................☆

٩٨