قادیانیت
اسلام کے نام پر دھوکا
فتنہ قادیانیت کے کفریہ عقائد، استعماری عزائم، طاغوتی دجل و فریب، ابلیسی کذب و افترا، پس پردہ سازشوں، سنگین شر انگیزیوں، مضحکہ خیز تضاد بیانیوں اور مذہبی ملمع کاریوں سے پردہ اٹھاتی ایک اہم دستاویز جو حیرت انگیز معلومات، ہوش رُبا انکشافات اور ناقابل تردید حقائق و واقعات پر مبنی علمی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کا مطالعہ آپ کو بے شمار کتابوں کی ورق گردانی سے بے نیاز کردے گا۔
محمد متین خالد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وفوق كل ذى علم عليم (یوسف: 76)
اور ہر علم والے سے بڑھ کر ایک علم والا ہوتا ہے۔
قادیانیت
اِسْلام کے نَام پَر دَھوکا
”ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسی یکسر منفرد کتاب تیار کی جائے جس میں اسلام کے بارے قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے شکوک وشبہات اور من گھڑت تاویلات کا مفصل و مدلل جواب اور عالمانہ رد ہو۔ چنانچہ میں نے اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دستاویز تیار کی ہے۔ یہ تالیف گذشتہ 26 سالوں میں قادیانیوں سے ہونے والے مناظروں اور مباحثوں سے حاصل ہونے والے مشاہدات و تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مجموعہ اوراق قادیانی کتب کے حوالوں سے پوری طرح موثق ہے۔ قادیانیوں کو ایکدم لاجواب کر دینے والے دلائل کو مدنگاہ رکھتے ہوئے میں نے عمداً ایسا جداگانہ اسلوب اختیار کیا ہے کہ ایک بار پڑھنے کے بعد کوئی اس نسخے کے مندرجات کو بھول نہیں پائے گا۔ اس میں بیان کردہ حقائق اور چونکا دینے والے واقعات کو قاری کسی طور نظر انداز نہیں کر پائے گا۔ یہی اس تصنیف کا حاصل ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ عقل سلیم کے حامل، حق کے متلاشی قادیانی حضرات اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر اور انتہائی غیر جانبدار ہو کر اس تحقیقی کاوش کا مطالعہ کریں۔ یہ صفحات ان کی اصلاح و ہدایت اور ذہن و فکر کے بند دریچے کھول کر انہیں اپنے مذہب پر نظرثانی کرنے کی دعوت دیتے ہوئے واپس اسلام کی آغوش میں آنے پر مجبور کر دیں گے۔ ان شاء اللہ!“
قادیانیت
اسلام کے نام پر دھوکا
فتنہ قادیانیت کے کفریہ عقائد، استعماری عزائم، طاغوتی دجل وفریب، ابلیسی کذب وافترا، پس پردہ سازشوں، سنگین شرانگیزیوں، مضحکہ خیز تضاد بیانیوں اور مذہبی ملمع کاریوں سے پردہ اٹھاتی ایک اہم دستاویز جو حیرت انگیز معلومات، ہوش رُبا انکشافات اور ناقابل تردید حقائق و واقعات پر مبنی علمی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کا مطالعہ آپ کو بے شمار کتابوں کی ورق گردانی سے بے نیاز کر دے گا۔
محمد متین خالد
ILM-O-IRFAN PUBLISHERS
Al-Hamd Market 40-Urdu Bazar Lahore. 37223584 '37232336' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers1@gmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers
95-Y Block Commercial, Basement Phase-3 DHA Lahore 0333-4067757 | 0333-4359445 7thskybooks@gmail.com 7thskybooks
جملہ حقوق محفوظ
نام کتاب قادیانیت اسلام کے نام پر دھوکا مصنف محمد متین خالد ناشر ILM-O-IRFAN PUBLISHERS مطبع آر۔آر پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق محمد طاہر حجازی کمپوزنگ طاہر علی، ظفر اقبال سن اشاعت 2023ء قیمت 2000/- روپے
ILM-O-IRFAN PUBLISHERS
Al-Hamd Market 40-Urdu Bazar Lahore. 37223584 ' 37232336 ' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers1@gmail.com www.facebook.com/ilmoirfanpublishers
95-Y Block Commercial, Basement Phase-3 DHA Lahore 0333-4067757 | 0333-4359445 7thskybooks@gmail.com 7thskybooks
انتساب
تحفظ ختم نبوت ایسے عظیم الشان محاذ پر بعض حضرات کا کام بڑے بڑے اداروں اور تحریکوں سے بڑھ کر ہے۔ مگر وہ شہرت سے کوسوں دور بھاگتے اور پس پردہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں جڑانوالہ کے جناب اسد اللہ ساقی ہیں جو انتہائی مخلص، بے لوث، انتھک، فعال اور عبقری شخصیت کے مالک ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے لیے ان کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ ان کے بڑے بڑے کارناموں میں ایک کارِ نمایاں علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی کی طرز پر فہم ختم نبوت خط و کتابت کورس کا اجرا ہے جس کی تکمیل کے بعد ہر شخص اس اہم موضوع پر مکمل دسترس حاصل کر لیتا ہے۔ میں اس کتاب کا انتساب بصد فخر و انبساط اس مجاہد ختم نبوت کے نام کرتا ہوں جو علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا مصداق ہے۔
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
فہرست
- انتساب! 5
- دل کی بات محمد متین خالد 9
- حرفِ سپاس 11
- چند ضروری گزارشات 13
- عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت 19
- قادیانی عقائد 49
- قادیانی غیر مسلم ...... پارلیمنٹ کا تاریخ ساز فیصلہ 124
- قادیانیت، اعلیٰ عدالتیں کیا کہتی ہیں؟ 139
- سانحہ ربوہ کی عدالتی رپورٹ کیوں شائع نہیں ہوتی؟ 154
- قادیانی چھلاوا 164
- مرزا قادیانی ............ دولت کا پجاری 178
- مرزا قادیانی کی علمی حیثیت 204
- مرزا قادیانی کی ایک شرمناک تحریر 214
- قادیانی سفید جھوٹ 220
- قادیانی پیش گوئیاں 232
- محمدی بیگم 246
- یہ ہے قادیانی اخلاق ............. 276
- ایک مظلوم بیٹی کی دردناک داستاں 308
- ایسے بھی ہوتے ہیں خوش نصیب! 314
- ایک قادیانی کے خط کے جواب میں 325
- تذکرہ، قادیانیوں کا اصل قرآن 330
- اصل ”سیرت المہدی“ کیوں شائع نہیں ہوتی؟ 336
- مرزا قادیانی اور نصرت جہاں بیگم 340
- مرزا قادیانی، نیک سیرت اہلیہ اور الگ وضع کا بیٹا 351
- مرزا قادیانی اور مبارک احمد 354
- سر ظفر اللہ قادیانی...... زوال و پستی کی خوفناک داستان 356
- ڈاکٹر عبدالسلام...... تصویر کا دوسرا رخ 370
- قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کا عبرتناک انجام 384
- صدی کا سب سے بڑا جھوٹ 411
- قادیانیوں سے 30 انعامی سوالات 416
- حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ اور فتنہ قادیانیت 445
- قادیانی جماعت، قادیانی قیادت کی نظر میں 454
- مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ”فیض یافتہ“ مرید 467
- مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟ 475
- حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت 481
- مرزا قادیانی: کسی بھی انسان کے چاند پر جانے کا انکاری 511
- قادیانیت...... انگریز کا خودکاشتہ پودا 516
- پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں 546
- قادیانی فرقے 592
- ایک فیصلہ کن مباہلہ 634
- مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام 646
- قادیانی مدعیان نبوت 652
- قادیانیوں کی شرعی و آئینی حیثیت اور ان کا مکمل بائیکاٹ 686
- قادیانیوں سے مناظرہ کیسے کریں؟ 718
دل کی بات
تخلیق و اختراع وہ عمل ہے جو اصولی طور پر قوت متخیلہ کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس میں نئے خیالات، مثبت سوچ، نادر تصور اور عمیق غور و فکر بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے قادیانی مذہب کے پیروکار اس نعمت عظیمہ کی جملہ جہات سے محروم ہیں کہ ندرت اور تازہ کاری سے ان کا مذہب کلیتاً تہی ہے۔ جس طرح گیدڑ کا بزدل ہونا طے شدہ بات ہے، سانپ کا زہریلا ہونا ایک مسلمہ امر ہے، لومڑی کا مکار ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں، بھیڑیے کا خون خوار ہونا اٹل حقیقت ہے، خنزیر کا غلیظ ہونا ایک جانی پہچانی اصلیت ہے، اسی طرح قادیانیت کا وجود انسانیت کے لیے ایک ناسور سے کم نہیں۔
قادیانیت، صداقت کی ضد ہے، اس لیے بحث و مباحثہ میں قادیانیوں کو لاجواب کرنا ایک مشکل فن ہے۔ مشکل اس معنی میں کہ فریب کاری کے لنکا کا رہائشی ہر قادیانی اپنی مخصوص خباثت اور شرارت کے لحاظ سے پورے باون گز کا ہوتا ہے۔ لایعنی مناقشہ اور بے حاصل مناظرہ اور بالآخر مناقرہ اس کی سرشت میں ہوتا ہے۔ ہر بات کو تاویل در تاویل کے پھندوں میں الجھانا اور حقائق پر تلبیس کی چادر ڈالنا اس کی گھٹی میں داخل ہے۔ پھر ڈھٹائی، ضد، ہٹ دھرمی اور منفی طرز فکر اس پر مستزاد ہے۔ ایسے میں ان لوگوں سے کیا بات ہو سکتی ہے۔
قادیانیوں سے گفتگو کا ہنر تحقیق و جستجو، علمی شغف، انہماک، غیر معمولی تگ و تاز اور عرق ریزی چاہتا ہے بلکہ یوں کہیے قادیانی علم کلام سے آگہی ایک قطعی مختلف قسم کی ذہنی تیزی مانگتی ہے کیونکہ عمرو عیار کی اس زنبیل میں کیا کچھ غائب ہے، ایک لگا بندھا عالم اور متعین منطقی اپنے عملی و علمی اخلاص کے باوجود نہیں جانتا...... پینترے بازیوں کے مکر میں قادیانی مناظرین ایسے طاق ہیں کہ ہما شما کے ہاتھ نہیں لگتے۔ سو یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے، دلائل و ذہانت کو سنبھال سنبھال کر اور سینت سینت کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ذرا کمزور حوالہ یا بودی دلیل پیش ہوئی تو ساری محنت اکارت اور جگ ہنسائی علیحدہ!! لیکن قادیانی اس کلیہ و قانون
سے خود کو مبرا سمجھتے ہیں۔ انہیں ذلت میں عزت، شکست میں فتح اور ناکامی میں کامیابی نظر آتی ہے۔ جہاں لد سے مراد لدھیانہ، مکہ سے مراد قادیان، مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد، جہنم سے مراد طاعون، محدث سے مراد نبی، زرد کپڑے سے مراد بیماری، مریم سے مراد مرزا قادیانی، ام المومنین سے مراد مرزا قادیانی کی بیوی، صحابہ سے مراد مرزا قادیانی کے ساتھی، مرزا پر اترنے والی وحی سے مراد قرآنی آیات، مرزا قادیانی کی باتوں سے مراد احادیث ہوں، وہاں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسی یکسر منفرد کتاب تیار کی جائے جس میں اسلام کے بارے قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات اور من گھڑت تاویلات کا مفصل و مدلل جواب اور عالمانہ رد ہو۔ چنانچہ میں نے اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دستاویز تیار کی ہے۔ یہ تالیف گذشتہ 26 سالوں میں قادیانیوں سے ہونے والے مناظروں اور مباحثوں سے حاصل ہونے والے مشاہدات و تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مجموعہ اوراق قادیانی کتب کے حوالوں سے پوری طرح موثق ہے۔ قادیانیوں کو ایکدم لاجواب کر دینے والے دلائل کو مدنگاہ رکھتے ہوئے میں نے عمداً ایسا جداگانہ اسلوب اختیار کیا ہے کہ ایک بار پڑھنے کے بعد کوئی اس نسخے کے مندرجات کو بھول نہیں پائے گا۔ اس میں بیان کردہ حقائق اور چونکا دینے والے واقعات کو قاری کسی طور نظر انداز نہیں کر پائے گا۔ یہی اس تصنیف کا حاصل ہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ عقل سلیم کے حامل، حق کے متلاشی قادیانی حضرات اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر اور انتہائی غیر جانبدار ہو کر اس تحقیقی کاوش کا مطالعہ کریں۔ یہ صفحات ان کی اصلاح و ہدایت اور ذہن و فکر کے بند دریچے کھول کر انہیں اپنے مذہب پر نظر ثانی کرنے کی دعوت دیتے ہوئے واپس اسلام کی آغوش میں آنے پر مجبور کر دیں گے۔ ان شاء اللہ!
اب اہل علم ہی فیصلہ کریں گے کہ میں اپنی سعی میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں!؟!
محمد متین خالد
mateenkh@gmail.com
حرفِ سپاس
جناب صاحبزادہ خواجہ رشید احمد مدظلہ (مہتمم مرکز سراجیہ، گلبرگ لاہور)، جناب وقار احمد، جناب عامر خورشید، جناب جبار مرزا، جناب عبدالرؤف، جناب محمد احمد ترازی، جناب عقیل انجم، جناب پروفیسر محمد اقبال جاوید، جناب پروفیسر جمیل احمد عدیل، جناب محبوب الرحمٰن (نائب مدیر ماہنامہ ضیائے حرم، اسلام آباد)، جناب محمد فرقان، جناب جناب چودھری محمد بشیر زرگر (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب)، جناب میاں محمد ظفر عباس، جناب چودھری نصیب الٰہی گجر، جناب چودھری منظور احمد، جناب محمد شاہین پرواز، جناب ملک محمد سرور، جناب محمد عباس بٹ، جناب چودھری محمد نصر اللہ زرگر، جناب محمد افتخار احمد، جناب اللہ دتہ، جناب چودھری نذیر احمد، صاحبزادہ غلام جیلانی شاہ اور جناب محمد حسین علوی کا بے حد شکریہ جنہوں نے کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں بے حد تعاون کیا اور اسے خوب سے خوب تر بنانے کے لیے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ میں ان حضرات کی ہر مرحلہ زندگی میں کامیابی کے لیے دعا گو ہوں!
چند ضروری گزارشات
- اس کتاب کو تیار کرتے وقت بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔
اس لیے اس کی پروف ریڈنگ کو بہتر بنایا گیا ہے، اس کے باوجود غلطی کا امکان ہے۔ اُمید ہے کہ قارئین کرام کسی قسم کی کوتاہی کو بنظر عفو و اغماض دیکھیں گے۔ اگر کسی جگہ کسی قاری کو غلطی نظر آئے تو براہِ کرم مصنف کو ضرور مطلع کرے۔ ان شاء اللہ آئندہ کے ایڈیشن میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی حوالہ کے نقل و اخذ میں سہو ہو گیا ہو تو قارئین کرام ناصحانہ اور ہمدردانہ طور پر نشان دہی فرما دیں تاکہ اس کی تصحیح کر دی جائے۔ شکریہ!
- اس کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں کئی احباب نے اپنی بے پناہ محبتوں کا اظہار کیا،
کتاب کی اشاعت کے بارے بار بار استفسار کرتے رہے۔ میں ان سب دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
- قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں موجود قابل اعتراض، دل آزار
اور توہین آمیز قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!
- یہ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔ ہر مضمون اپنی جگہ پر خاص اور انفرادی
حیثیت رکھتا ہے۔ ممکن ہے کتاب کے بعض مقامات پر حوالہ جات اور تشریحات کی تکرار پڑھنے کو ملے۔ قارئین کرام اسے متعلقہ مضمون کا ضروری حصہ سمجھ کر مطالعہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر خدشہ تھا کہ مضمون ادھورا رہ جاتا۔
محمد متین خالد
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَائِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہے جو کسی مسلمان کے عیوب کو تلاش کرے اور اس کی نیکیوں کو فراموش کردے“۔
پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ صاحبانِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ اگر آپ راستے میں بھونکنے والے ہر کتے کو پتھر مارنا شروع کردیں گے تو آپ اپنی منزل پر کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ جاہل کے سامنے عقل کی بات نہ کرو کیونکہ پہلے وہ بحث کرے گا پھر اپنی ہار دیکھ کر دشمن بن جائے گا۔ ناکامی کے اسباب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں دوسروں میں تلاش کرتا ہے۔ شخصیت میں عاجزی نہ ہو تو معلومات میں اضافہ علم کو نہیں بلکہ تکبر کو جنم دیتا ہے۔ رشتوں کی رسی تب کمزور ہوتی ہے جب انسان غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات بھی خود ہی بنا لیتا ہے۔ درخت جتنا اونچا ہوگا، اُس کا سایہ اُتنا ہی چھوٹا ہوگا، اس لیے ”اونچا“ بننے کے بجائے ”بڑا“ بننے کی کوشش کرو۔ حضرت شیخ
سعدیؒ کا کہنا ہے: ”جاہلوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب ان کی دلیل مقابل کے آگے نہیں چلتی تو وہ لڑنا شروع کر دیتے ہیں“۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: ”اپنی آواز کے بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اگتے ہیں“۔ مزید فرمایا: ”میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا اور میں نے بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتا“۔ آنکھ دنیا کی ہر ایک چیز دیکھتی ہے مگر جب آنکھ کے اندر کچھ چلا جائے تو اُسے نہیں دیکھ پاتی، بالکل اسی طرح انسان دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے لیکن اپنے عیب اُسے نظر نہیں آتے۔ پہلے اپنے عیب دور کرو پھر دوسروں کے عیبوں پر نکتہ چینی کرو۔ نکتہ چینی بغیر ٹانگوں کا ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں کو دوڑ لگانے کے طریقے بتاتا ہے۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ حسد ایک زہر ہے، جسے انسان خود پیتا ہے اور توقع دوسرے کے مرنے کی کرتا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے: ”بارش کا قطرہ سیپ اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپ اس قطرے کو موتی بنا دیتا ہے جبکہ سانپ اسے زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کسی کا ظرف، ویسی اس کی تخلیق“۔ مزید ارشاد فرمایا: ”حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے“۔
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
❁.......۞.......❁
قادیانیت
اِسْلَامْ کے نَام پَرْ دھوکا
عقیدۂ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدۂ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔
ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سی بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔
پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ:
”دعویٰ النبوة بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع.“ ”یعنی ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ باجماع امت کفر ہے۔“
(شرح فقہ اکبر صفحہ 202 از ملا علی قاریؒ)
حضور نبی کریم ﷺ پر ہر قسم کی نبوتوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آپ ﷺ خاتم الانبیا بمعنی آخر الانبیا ہیں۔ آپ ﷺ کو تمام انبیا سابقین علیہم السلام کے بعد آخری نبی ماننا ضروریات دین اور عقائد اسلام میں سے ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر و ضلالت ہے اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مردود باجماع امت محمدیہ از روئے دلائل قطعیہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وسنت کی موجودگی میں کسی نبی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ رشد و ہدایت کے دو سرچشمے ہیں جو قیامت تک عالم اسلام کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی مدعی نبوت کا آنا گمراہی ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل ہے۔ اس کا انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔
ختم نبوت کا تحفظ بھی ہر مسلمان پر فرض اولین ہے۔ اس کی حفاظت میں کوتاہی بہت بڑا گناہ ہے۔ جس کی پاداش میں روز قیامت ہم سے سوال ہوگا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ تاویلات اور جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر دین اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت اپنی شپرہ چشمی کو آفتاب، کج فہمی کو دلیل، بکاین کو انگور، زہر کو امرت، ظلمت کو اُجالا اور پیتل کو زرِ خالص تسلیم کروانے پر مُصر رہے مگر امت مسلمہ نے دین اسلام میں ذرا سی بھی تبدیلی، تحریف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا۔ بلکہ ہر قسم کے مشکل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دل و جان سے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی اور منکرین ختم نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کیا۔ منکرین ختم نبوت ٹانک وائن کی بدمستی میں ختم نبوت کا چراغ پھونکوں سے بجھانے کی ناپاک سازشیں کرتے رہے مگر نور ایمان کے حامل مجاہدین ختم نبوت نے جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکاروں کے خلاف ناقابل فراموش سرفروشی اور جانثاری کے ایسے ایمان پرور مناظر پیش کیے جس سے نہ صرف حق کا سر بلند ہوا بلکہ منکرین ختم نبوت کو ان کے مکروہ عزائم سمیت ملیا میٹ کر دیا۔
موجودہ دور میں منکرین ختم نبوت کا گروہ فتنہ قادیانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس فتنہ کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریزوں کے اشارے پر قادیان (گورداسپور، بھارت) میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر سلطنت برطانیہ کی سرپرستی میں اپنی بھونڈی تاویلات اور تحریفات کے ذریعے امت محمدیہ کے مستحکم قلعہ میں شگاف ڈالنے اور ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازشیں کیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ نبی کریم ﷺ اور شعائر اسلامی کی توہین بھی شروع کر دی۔ اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف قادیانیوں کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی جانے والی بعض گستاخیاں ایسی ہیں جنھیں پڑھ کر کلیجا منہ کو آتا اور آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔
پوری ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہیں اور اس فتنہ کا استیصال اور قلع قمع کرنا ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“ قادیانیوں کے کفریہ عقائد وعزائم اور علامہ اقبالؒ کے مذکورہ قول کی روشنی میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس کے بعد 26 اپریل 1984ء کو قادیانیوں کو شعائرِ اسلامی کے استعمال اور اپنے مذہب (قادیانیت) کی تبلیغ سے روک دیا۔ بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کے ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے نہ صرف قادیانیوں کو اپنے کفریہ عقائد وعزائم کی تبلیغ وتشہیر سے منع کر دیا بلکہ اس کی خلاف ورزی پر سزا بھی مقرر کی۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298-B، 298-C اور 295-C خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
ختم نبوت اور قرآن مجید
قرآن مجید ایک سراپا اعجاز کتاب ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ علم وحکمت کا خزینہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر دور کے ہر خطہ کے ہر انسان کی مکمل راہنمائی کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ دشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام کی بیخ و بنیاد کو ہلا دینے والے خطرناک طوفانوں میں بھی اس کے عظمت و وقار میں رتی بھر فرق نہ آیا ، نہ قیامت تک آئے گا (ان شاء اللہ) کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہوا ہے۔ جس طرح قرآن مجید ہر مسئلہ میں انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے، اسی طرح وہ عقیدۂ ختم نبوت کو بھی بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیاتِ مبارکہ ختم نبوت کے ہر پہلو کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اور واشگاف الفاظ میں اعلان کر رہی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں۔ صفحات کی قلت کی وجہ سے صرف چند اہم آیات مبارکہ اور ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ اس کی تشریح کے لیے قارئین کرام تفاسیر سے رجوع فرمائیں۔
- (1) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.
(احزاب:40)
ترجمہ: ”نہیں ہیں محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن
آپ ﷺ اللہ کے رسول اور تمام انبیا کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“
عرب کی ایک قدیم رسم یہ بھی تھی کہ وہ اپنے متبنّٰی یعنی لے پالک بیٹے کو حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے۔ یہ لے پالک بیٹا وراثت میں بھی برابر کا شریک ہوتا۔ مزید برآں جس طرح ایک حقیقی بیٹا مر جاتا اور اس کی بیوی باپ کے لیے حرام ہوتی، اسی طرح لے پالک بیٹا جب مر جاتا یا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تو وہ عورت لے پالک بیٹے کے باپ کے لیے حرام ہوتی۔ حضرت زید بن حارثہؓ، نبی کریم ﷺ کے لے پالک بیٹے تھے۔ تمام لوگ انھیں ”زید بن محمد“ کہہ کر پکارتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اس قبیح رسم کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی دنیا میں انبیا کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔
- (2) اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ
لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا. (المائدہ: 3)
ترجمہ: ”آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمھارے لیے تمہارا دین اور پوری کر دی ہے تم پر اپنی نعمت، اور میں نے پسند کر لیا ہے تمھارے لیے اسلام کو بطور دین۔“
یہ آیت حضور نبی رحمت ﷺ کے آخری حج میں عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل ہوئی۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ آخری آیت تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس آیت کریمہ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا تھا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک اس میں ترمیم و اضافہ کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ اب یہ امت قیامت تک نہ کسی اور دین کی محتاج ہے، نہ کسی نبی کی، اور نہ کسی کتاب کی۔
اس آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ دینِ اسلام قیامت تک رہنے والا ہے۔ یہ کبھی ختم نہ ہوگا (ان شاء اللہ)۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت آیاتِ احکام میں سے آخری
آیت ہے اور آئندہ کے لیے وحی ونبوت کے بند ہونے کی خبر دے رہی ہے۔
- (3) وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ
جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ط
(آل عمران:81)
ترجمہ: ”اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیا سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے۔ پھر تشریف لائے تمھارے پاس وہ رسول (یعنی محمدﷺ) جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمھارے پاس ہیں تو تم ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی۔“
خلاصہ تفسیر آیت کا یہ ہے کہ ازل میں جس وقت حق تعالیٰ نے تمام مخلوق کی ارواح پیدا فرما کر ان سے اپنے رب ہونے کا عہد واقرار لیا، تمام انبیا علیہم السلام سے اس عہد عام کے علاوہ ایک عہد خاص بھی لیا گیا، جو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا کہ اگر آپ میں سے کسی کی حیات میں محمدﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئیں تو آپ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔
اور اس جگہ ہمارا مطمح نظر ثُمَّ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ الخ کے الفاظ ہیں جن میں نبی کریمﷺ کے تمام انبیا کے بعد تشریف لانے کو لفظ ثُمَّ کے ساتھ ادا کیا گیا ہے جو لغت عرب میں تراخی یعنی مہلت کے لیے آتا ہے، جب کہا جاتا ہے جَآءَ نِی الْقَوْمُ ثُمَّ عُمَرُ تو لغت عرب میں اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ پہلے تمام قوم آگئی اور پھر کچھ مہلت کے بعد سب سے آخر میں عمر آیا۔
اس لیے النَّبِيّٖنَ کے بعد ثُمَّ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام انبیا علیہم السلام کے آنے کے بعد سب سے آخر میں حضور نبی کریمﷺ تشریف لائیں گے اور جبکہ اخذ میثاق میں سے کوئی نبی ورسول مستثنیٰ نہیں تو آپﷺ کا تمام انبیا علیہم السلام سے آخری نبی ہونا متعین ہوگیا، اور یہ واضح ہوگیا کہ آپﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی پیدا نہ ہوگا، تشریعی و غیر تشریعی یا ظلی و بروزی کی خود ساختہ قسموں میں سے کوئی بھی اب باقی نہیں ہے۔
- (4) قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (اعراف:158)
ترجمہ: ”(اے محمدﷺ) آپ فرمائیے ۔ اے لوگو! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف۔“
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی رحمت ﷺ پوری دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول بن کر تشریف لائے خواہ وہ آپ کے زمانہ میں موجود ہوں یا آپ ﷺ کے بعد قیامت تک پیدا ہوں۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ ہے: ”میں ان لوگوں کے لیے بھی رسول ہوں جن کو اپنی زندگی میں پاؤں اور ان کے لیے بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔“ لہٰذا یہ آیت بھی حضور سرور کائنات ﷺ کے آخری نبی ہونے کی بین دلیل ہے۔
- (5) وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ. (انبیاء:107)
ترجمہ: ”اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔“
اس آیت سے واضح ہوا کہ حضور نبی رحمت ﷺ تمام اہل عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ صرف اس دنیا کے لیے نہیں بلکہ آپ کا وجود ہر عالم کے لیے سراپا رحمت ہے۔ پس آپ ﷺ پر ایمان لانا دنیوی واخروی نجات کے لیے کافی ہے۔
- (6) يٰاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا وَّدَاعِيًا
اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (احزاب:46,45)
ترجمہ: ”اے نبی (مکرم) ہم نے بھیجا ہے آپ کو (سب سچائیوں کا) گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا اور بروقت ڈرانے والا اور دعوت دینے والا اللہ کی طرف اس کے اذن سے اور آفتاب روشن کر دینے والا۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو ”سراجاً منیراً“ کے دلنواز لقب سے نوازا ہے۔ یعنی جس طرح دنیاوی سورج بذات خود روشنیوں کا منتہا اور دوسرے سیاروں کو خود روشنی بخشتا ہے۔ یعنی سب ستارے اپنی روشنی میں سورج کے محتاج ہیں، اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ صرف نبی ہی نہیں بلکہ ”نبی الانبیاء“ ہیں۔ سب انبیا آپ ﷺ ہی کے فیض سے نبی ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ آفتاب نبوت ہیں۔ آپ ﷺ کی نبوت کی روشنی قیامت تک کے لیے ہے۔ یہ وصف صرف اور صرف حضور نبی کریم ﷺ ہی کو حاصل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔
ختم نبوت اور احادیث مبارکہ
قرآن مجید کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عقیدہ ختم نبوت نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ تقریباً دوسو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اب قیامت تک کسی بھی مسئلہ میں جس شخص نے بھی ہدایت و رہنمائی حاصل کرنا ہے، اسے نبی کریم علیہ التحیۃ والثناء کی غلامی اختیار کرنا ہوگی۔ ذیل میں عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر چند اہم احادیث مبارکہ کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔
- (1) ”حضرت ابوہریرہؓ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے
فرمایا کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیا کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی، پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ سے ہی قصرِ نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیے گئے۔“
(بخاری ومسلم شریف)
- (2) ”حضرت جبیر بن مطعمؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں محمد
ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا، اور میں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہوگا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔“
(بخاری ومسلم شریف)
- (3) ”حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریب
ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“
(مسلم شریف)
- (4) ”حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیا پر
چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ اوّل یہ کہ مجھے جوامع الکلم دیے گئے اور دوسرے یہ کہ رُعب سے میری مدد کی گئی (یعنی مخالفین پر میرا رُعب پڑ کر ان کو مغلوب کر دیتا ہے) تیسرے میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا (بخلاف انبیا سابقین کے کہ مال غنیمت ان کے لیے حلال نہ تھا، بلکہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی تھی جو تمام مال غنیمت کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتی تھی، اور یہی جہاد کی مقبولیت کی علامت سمجھی جاتی تھی) اور چوتھے میرے لیے تمام زمین نماز پڑھنے کی جگہ بنا دی گئی (بخلاف امم سابقہ کے کہ ان کی نماز صرف مسجدوں ہی میں ہو سکتی تھی) اور زمین کی مٹی میرے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی (یعنی بوقت ضرورت تیمم جائز کیا گیا جو کہ پہلی امتوں کے لیے جائز نہ تھا) پانچویں میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں (بخلاف انبیا سابقین کے کہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف کسی خاص اقلیم میں ایک محدود زمانہ تک کے لیے مبعوث ہوتے تھے) چھٹے یہ کہ مجھ پر انبیا ختم کر دیے گئے۔‘‘ (مسلم شریف)
- (5) حضرت امی عائشہؓ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میں خاتم الانبیا ہوں اور میری مسجد، مساجد انبیا کی خاتم اور آخر ہے۔‘‘
(کنز العمال)
- (6) حضرت انس بن مالکؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔‘‘
(ترمذی شریف)
- (7) حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے۔ (ترمذی شریف)
ختم نبوت اور صحابہ کرامؓ
حضور خاتم النبیین ﷺ کے دور مبارک میں اسود عنسی نامی ایک بدبخت نے دعویٰ نبوت کیا تو آپ ﷺ کے حکم اور خواہش پر آپ ﷺ کے ایک صحابی حضرت فیروز دیلمیؓ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسے جہنم واصل کیا۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بہت سارے لوگ اس
کے پیروکار بن گئے۔ آقائے نامدار ﷺ کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کے لیے جید صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔ یہ تحفظ ختم نبوت اور اس کے منکرین کے مرتد اور واجب القتل ہونے پر صحابہ کرامؓ و تابعین کا پہلا اجماع تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”لن تجتمع امتی علی الضلالۃ“ میری امت گمراہی پر کبھی متفق نہیں ہوسکتی۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کے خلاف وہی معاملہ کیا گیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے حالانکہ مسیلمہ کذاب (قادیانیوں کی طرح) نماز، روزہ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں برابر ”اشھد ان محمد رسول اللہ“ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی اس کی تصدیق کرتا تھا۔ اس کے باوجود صحابہ کرامؓ نے بغیر مطالبہ معجزات متفقہ طور پر مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کا اعلان کیا کیونکہ اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا اعلان کیا تھا جو صحابہ کرامؓ کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت تھا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک نے بھی مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد پر انکار نہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، حج اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ان کو کیسے کافر سمجھ لیا (جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں قادیانیوں کو سمجھا جاتا ہے) بلکہ صحابہ کرامؓ نے بہ اجماع مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کو دعویٰ نبوت کی وجہ سے کافر اور مرتد سمجھا۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دس ہزار صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جہاد کے لیے یمامہ روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں بعض بدری صحابہ کرامؓ بھی شریک ہوئے حالانکہ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے مگر تحفظ ختم نبوت کی خاطر وہ اس عظیم جہاد میں شریک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف اس جہاد میں تقریباً بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں تقریباً 9 سو کے قریب حفاظ قرآن تھے۔ مسیلمہ کذاب کا لشکر چالیس ہزار مسلح جوانوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے 28 ہزار کے قریب ہلاک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے اپنے نیزے سے واصل جہنم کیا۔ مسیلمہ کی فوج کے باقی لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کی کتنی بڑی جماعت جھوٹے مدعی
نبوت سے مقابلہ کے لیے میدان میں آئی۔ صحابہ کرام نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا، نہ مسلمانوں کی بے سروسامانی کا، اور نہ اس جماعت کے نماز، روزہ، حج، تلاوت یا دیگر احکام اسلامی کے ادا کرنے کا۔ انھوں نے محض اس بات پر جہاد کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا ہر مدعی کذاب، مرتد اور سزائے موت کا مستوجب ہے اور اس کی سرکوبی ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا دعویٰ نبوت خواہ کسی بھی تاویل سے ہو، اس کی کتنی ہی بڑی جماعت کیوں نہ ہو، وہ ظاہری شکل و صورت سے کتنے ہی اسلامی کیوں نہ ہوں، خواہ وہ زبان سے کلمہ پڑھتے ہوں، تمام اسلامی شعائر کی پابندی کرتے ہوں، وہ سب لوگ بااتفاق قرآن وسنت و اجماع صحابہ کرامؓ، مرتد اور سزائے موت کے مستوجب ہیں۔
ختم نبوت اور اکابرین امت
حضور نبی کریم ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا اختتام قرآن وحدیث و اجماع صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں حضرات محدثین، مفسرین اور فقہاء کی چند ایک آراء پیش خدمت ہیں۔
قاضی عیاضؒ
- 1- ”آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد
کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیا کے ختم کرنے والے ہیں، اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے، اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے، وہ ہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے جو اس کا انکار کریں، اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔“
(کتاب الشفاء از قاضی عیاضؒ صفحہ 62)
- 2- ”اور خلیفہ عبدالملکؒ بن مروانؒ نے حارث مدعی نبوت کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا،
اور ایسا ہی معاملہ بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے اس جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ کیا ہے اور اس زمانہ کے علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ان کا یہ فعل صحیح و
درست تھا اور جو ان کے کافر کہنے کا مخالف ہے وہ خود کافر ہے۔‘‘
(ایضاً)
- 3- ”اور ایسے ہی ہم اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کے بعد کسی کی
نبوت کا دعویٰ کرے یعنی آپ ﷺ کے زمانہ مبارک میں دعویٰ کرے جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی نے کیا، یا آپ ﷺ کے بعد کرے، اس لیے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، بتصریح قرآن وحدیث۔ پس دعویٰ نبوت اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے مثل عیسائیوں کے۔‘‘
(ایضاً)
علامہ سید محمود آلوسیؒ
”اور حضور نبی کریم ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں، اور احادیث نبویہ ﷺ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے، پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے، اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔‘‘
(تفسیر روح المعانی صفحہ 65 جلد اول از مفتی بغداد علامہ سید محمود آلوسیؒ)
علامہ ابن حجر مکیؒ
”اور جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ بہ اجماع مسلمین کافر ہے۔‘‘
(فتاویٰ ابن حجر مکیؒ)
ملا علی قاریؒ
”اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔‘‘
(شرح فقہ اکبر صفحہ 202 از ملا علی قاریؒ)
ابن حبانؒ
”اور جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبوت کسب کر کے حاصل کی جا سکتی ہے اور وہ منقطع نہیں ہوئی، یا یہ عقیدہ رکھے کہ ولی نبی سے افضل ہے تو یہ شخص زندیق ہے اور وہ سزائے موت کا مستوجب ہے۔‘‘
(زرقانی صفحہ 188 جلد 6)
حضرت امام ابو حنیفہؒ
سراج الامت حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور ایک شخص (الہلونیؒ) نے کہا کہ میں جا کر اس سے کوئی
نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں تاکہ اس کا صدق و کذب عیاں ہو۔ اس پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ:
مَنْ طَلَبَ مِنْهُ عَلَامَةً فَقَدْ كَفَرَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ لَا نَبِيَّ بَعْدِي. ترجمہ: ”جو شخص اس سے علامت طلب کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرمان ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔“
(مناقب صدر الائمہ المکیؒ جلد اول صفحہ 161 طبع دائر المعارف، حیدر آباد دکن)
الغرض ختم نبوت کا مسئلہ اس طرح واضح اور بے غبار ہے کہ اس میں کسی قدر تامل کرنا بھی خالص کفر ہے۔
علامہ ابن نجیمؒ
ترجمہ: ”اگر کوئی کلمۂ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر انبیاء کا فرمان صحیح اور سچ ہو تو کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔“
(بحرالرائق شرح کنز الدقائق از علامہ ابن نجیمؒ)
حافظ ابن حزمؒ اندلسی
ترجمہ: ”پس ان تمام امور کا اقرار واجب ہے اور یہ بات صحیح طور پر ثابت ہوگئی کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کا وجود باطل ہے اور ہرگز نہیں ہوسکتا۔“
(ملل و نحل از حافظ ابن حزمؒ اندلسی)
فتاویٰ عالمگیری
”جب کوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، اور اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں، تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔“ (فتاویٰ عالمگیری صفحہ 263 جلد 3)
صاحب الاشباہ والنظائر، کتاب السیر والردۃ میں لکھتے ہیں:
”اور جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ محمد ﷺ تمام انبیاء میں سے آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، اس لیے کہ آپ کا آخری نبی ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔“
نہ ہو قائل جو اس کا وہ مسلماں ہو نہیں سکتا
نہیں یہ جزوِ ایماں بلکہ ہے بنیادِ ایماں کی
نہ ہو جس کا یہ ایماں اہلِ ایماں ہو نہیں سکتا
اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:
”حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے، جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرما دی ہے، جس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے، اور جسے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے بابِ نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے، بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب، حریم نبوت میں داخل بھی ہو گئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔
اس سلسلے میں تین باتیں قابل غور ہیں:
پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے اُن بنیادی عقائد میں سے ہے، جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایسے نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجہ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلا کھلا اعلان
کراتا اور حضور ﷺ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے، جب تک اپنی اُمت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمھیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا، جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے، مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول، دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتا چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں، جن میں انبیا مبعوث ہوئے ہیں:
اوّل: یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اُس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
دوم: یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلا دی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہو گئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔
سوم: یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لیے مزید انبیا کی ضرورت ہو۔
چہارم: یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی حاجت ہو۔
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی حضور نبی کریم ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔ قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضور ﷺ کو تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیا آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ جو کتاب آپ ﷺ لائے تھے، اس میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ جو ہدایت آپ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے دی، اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ ﷺ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لیے دوسری ضرورت بھی ختم ہو گئی۔
پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضور ﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت، تو اگر اس کے لیے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضور ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا
گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہوگئی۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے، جس کے لیے آپ ﷺ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے، اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے، تو ہم اُس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لیے، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے۔ قرآن اور سنت محمدیہ ﷺ کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیا کی۔
تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا، فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اُٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے، وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیں گے، وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا، جو انھیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑ دے۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیونکہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اُس پر یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ ختم نبوت اُمت مسلمہ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے، جس کی بدولت ہی اُس اُمت کا ایک دائمی اور عالمگیر برادری بننا ممکن ہوا ہے۔ اس چیز نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے، جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہو، اب جو شخص بھی محمد ﷺ کو اپنا ہادی و راہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو، وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہر وقت ہو سکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی، اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا کیونکہ ہر نبی کے آنے پر
یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔
آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کر دی جائے، تو نبوت کا دروازہ بند ہوجانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلاضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ”ظلی“ ہو یا ”بروزی“ امتی ہو یا صاحب شریعت یا صاحب کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا ، اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے، جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے تو خدا کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انھیں کبھی ایک امت نہ بننے دے، لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے، عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہیے۔“
(تفہیم القرآن جلد چہارم از مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)
ختم نبوت پر قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات
- قادیانی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر ہے۔ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت
عطا کرتے تھے لیکن اب حضور نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے نبوت ملے گی۔ یعنی جو شخص آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کرے گا، آپ ﷺ اس پر مہر لگا دیں گے اور وہ نبی بن جائے گا۔
قادیانیوں کا یہ موقف سراسر غلط، باطل، تحریف اور جعل سازی پر مبنی ہے۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر قرآن مجید کی کسی ایک آیت، احادیث نبویہ میں سے کسی ایک حدیث (خواہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو)، کسی ایک صحابی رسولؐ کا قول، کسی ایک تابعی کا قول یا کسی بھی عربی لغت سے صرف ایک مثال پیش کر دیں تو انھیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ میں پورے چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ تمام قادیانی الٹے لٹک جائیں تب بھی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے۔ ”هَاتوا بُرْهَانکم اِن کنتم صٰدقین ........... فان لم تفعلوا ولن
تفعلوا فاتقوا النار۔“
خود مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کا ترجمہ ”ختم کرنے والا نبیوں کا“ کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں مختلف مقامات پر لفظ خاتم کو جمع کی طرف مضاف کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے اس کی ایک مثال۔
”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب صفحہ 379 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
اگر خاتم الاولاد کا یہ ترجمہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ولد تھا اور مرزا قادیانی کے بعد اس کے ماں باپ کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا، صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، ظلی یا بروزی کسی قسم کا پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی ظلی بروزی مستقل غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزائیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کی مہر سے مرزا قادیانی کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں مرزا کے بعد مرزا کا باپ فارغ۔ اب مرزا قادیانی مہر لگاتا جائے گا اور مرزا قادیانی کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ قادیانیوں میں ہمت ہے تو وہ خاتم کا یہی ترجمہ کیا کریں۔
- ❑ قادیانی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے سے پہلوں کے لیے آخری ہیں۔ آئندہ
آنے والے نبیوں کے لیے نہیں۔
اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر خاتم النبیین کا وصف آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں رہتا۔ کیونکہ اس طرح تو ہر نبی (حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ) اپنے سے پہلے نبی کا خاتم اور آخر ہے۔
- ❑ قادیانی کہتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے اکابرین کے لیے لفظ خاتم المحدثین یا خاتم المفسرین
استعمال کرتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے لفظ خاتم النبیین استعمال کیا۔
خاتم المحدثین، خاتم المفسرین یا خاتم المحققین وغیرہ انسان کا کلام ہے۔ اس میں مبالغہ آمیزی شامل ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام میں مبالغہ نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت پر مبنی
کلام ہے۔ ایسے الفاظ کوئی شخص اپنے حسن ظن یا اپنے محدود علم کی بنا پر کہتا ہے اور درحقیقت وہ اسے ایسا ہی سمجھتا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ وحی یا الہام نہیں اور کہنے والا نہ رسول یا خدا ہے۔ بس اس میں یہی فرق ہے۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی سورۃ النساء کی آیت 69 کا مفہوم ہے کہ جو اللہ
اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، وہ نبی ہوں گے، صدیق ہوں گے، شہید ہوں گے، صالح ہوں گے۔ اس آیت میں چار درجات کے ملنے کا ذکر ہے۔ اگر انسان صدیق، شہید یا صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟
اس آیت مبارکہ میں نبوت ملنے کا ذکر نہیں بلکہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت کرے گا، وہ آخرت میں انبیاء، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ یعنی اسے جنت کی رفاقت نصیب ہوگی۔ یہاں لفظ مع ہے جس کا معنی ہے ”کے ساتھ“ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”سچا تاجر (امانت دار) (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔“ (ترمذی جلد اوّل ص 145) کیا قادیانی بتائیں گے کہ اس زمانہ میں کتنے دیانت دار تاجر نبی ہوئے ہیں۔
- قادیانی کہتے ہیں: ”نبوت کسبی ہے وہبی نہیں۔“
اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہے۔ کوئی انسان اپنی محنت و کوشش، ریاضت و مجاہدات سے نبی نہیں بن سکتا۔ بعض فقہاء نے نبوت کو کسبی کہنے والوں کو کافر کہا ہے۔ نبوت ہر لحاظ سے وہبی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔
نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا قادیانی کا اعتراف ملاحظہ کیجیے۔
(ترجمہ) ”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے، کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی۔“ (حمامة البشریٰ صفحہ 135 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 301 از مرزا قادیانی)
- قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت بھی ایک نعمت ہے، امت محمدیہ اس سے کیوں محروم ہوگئی ہے؟
قادیانیوں کے اس بھونڈے سوال کا یہ جواب دینا چاہیے کہ کیا قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں۔ جب اس میں اضافہ و ترمیم نہیں ہو سکتا تو آپ کو نبوت کے بند ہونے پر کیوں
اعتراض ہے۔ جس طرح سورج کے نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ اگر نبوت نعمت ہے اور یہ جاری رہنی چاہیے تو قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے بعد کون نبی ہے؟ مرزا قادیانی کے بعد یہ نعمت کیوں بند ہو گئی؟ اور نبوت کا دروازہ چودہویں صدی میں صرف مرزا قادیانی پر کھل کر کیوں بند ہو گیا؟ مرزا قادیانی سے پہلے نہ کسی مدعی نبوت کا پتا چلتا ہے اور نہ اس کے بعد قادیانی جماعت میں کوئی نبی تسلیم کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیروی میں مولوی یار محمد قادیانی، احمد نور کابلی قادیانی، عبدالطیف گناپور قادیانی، الہی بخش ملتانی قادیانی، محمد بخش قادیانی، چراغ دین جموی قادیانی اور عبداللہ تیماپوری قادیانی وغیرہ نے نبوت کے دعوے کیے اور کہا کہ ہم بھی نبوت کی کھڑکی سے گزر کر آئے ہیں۔ اس سے زیادہ منصب نبوت کی تذلیل اور کیا ہو گی؟ مرزا قادیانی نے اگرچہ چھوٹی بڑی 100 کے قریب کتب چھوڑی ہیں۔ اگر وہ اس بات کا قائل نہ ہوتا کہ وہ آخری نبی ہے تو وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتا اور اپنی اُمت کو اس کی نشانیاں بتاتا تاکہ وہ اسے پہچان سکے لیکن اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ قادیانی گروہ بھی کسی نئے نبی کا منتظر نہیں ہے اور مرزا قادیانی کو ہی آخری نبی سمجھتا ہے۔
- قادیانی کہتے ہیں: ”قرآنی آیت ”مبشر برسول یاتی من بعدی اسمه
احمد“ (الصف: 6) میں لفظ احمد سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔“
قادیانیوں کی یہ بات توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتی ہے۔ چودہ سو سال سے آپ ﷺ کی امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بشارت ”من بعدی“ کے الفاظ کے ساتھ دی تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو اس کا مصداق آپ ﷺ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں ”انا بشارۃ عیسیٰ“۔ یعنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا۔ اس کا نام احمد نہیں تھا۔ اس لیے وہ اسمه احمد کا مصداق کیسے بن گیا؟
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ قولوا خاتم النبیین ولا
تقولوا لا نبی بعدہ۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری تھی۔“
مستند احادیث کی موجودگی میں حضرت عائشہؓ کا قول پیش کرنا درست نہیں ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے بارے میں خود حضرت امی عائشہؓ سے کئی احادیث مبارکہ منقول ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں خاتم الانبیا ہوں اور میری مسجد مساجد الانبیا کی خاتم اور آخر ہے (کنز العمال) حضرت عائشہؓ نے جو یہ فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں (آئے گا) دراصل ان کا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور شریعت محمدی کے متبع ہوں گے۔ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ آخری ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے آگئے۔ یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”مسجدی آخر
المساجد۔“ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم کی مسجد کے بعد بھی دنیا میں روزانہ مسجدیں بن رہی ہیں، اس طرح نبی بھی بن سکتے ہیں۔“
یہ بات قادیانی دجل و تلبیس کا شاہکار ہے۔ جہاں ”مسجدی آخر المساجد“ کے الفاظ احادیث میں آتے ہیں وہاں روایات میں ”آخر المساجد الانبیاء“ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ انبیا کی مساجد میں سے آخری مسجد ”مسجد نبویؐ“ ہے۔ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آیا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی مسجد ہے۔ لہٰذا یہ ختم نبوت کی دلیل ہے۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ جو امت محمدیہ
میں باقی ہے۔ اس جز کے اعتبار سے نبوت باقی ہے اور ایسے نبی آ سکتے ہیں۔“
اچھا اور نیک خواب مبشرات میں سے ہے جسے حدیث پاک میں نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہا گیا ہے۔ کہاں مکمل نبوت اور کہاں نبوت کا چھیالیسواں حصہ۔ جس طرح آپ ایک اینٹ کو مکان، نمک کو پلاؤ ایک دھاگے کو کپڑا اور ایک ٹائر کو گاڑی نہیں کہہ سکتے، اس طرح نبوت کے 1/46 حصہ کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ کے بعد تیس جھوٹے دجال آئیں گے۔ باقی سچے
آئیں گے۔“
قادیانیوں کی یہ دلیل نہایت احمقانہ اور تلبیس پر مبنی ہے۔ حالانکہ اس حدیث مبارکہ کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
آپ ﷺ کے بعد بے شمار مدعیان نبوت پیدا ہوئے مگر جن جھوٹے مدعیان نبوت کی وجہ سے اسلام کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا یا جن جھوٹے مدعیان نبوت کی حکومتیں قائم ہوئیں ، یا جن کا مذہب پھلا پھولا ، ان کی تعداد تیس ہو گی ۔ امت مسلمہ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق مرزا قادیانی ان تیس جھوٹے دجالوں کذابوں میں شامل ہے۔
حق اور باطل کو اس طرح ملایا جائے کہ حق لوگوں کے سامنے باطل کے ساتھ ملوث ہو کر رہ جائے ، اسے دجل کہتے ہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا شمار کذابین کے ساتھ ساتھ دجالین میں سے بھی ہے ۔ وہ اپنے تمام دعاوی میں ایسی چال چلا ہے کہ اپنے ہر غلط موقف کے ساتھ اس نے کسی سچائی کو جوڑا اور پھر سچ کو ملتبس کر دیا۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں
گے تو اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی ۔ حضور کی ختم نبوت کے بعد حضرت عیسیٰ کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ نزول اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت و رسالت آپ ﷺ سے پہلے کی مل چکی ہے۔ اس کے باوجود جب وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو شریعت محمدی ﷺ کی مکمل پیروی کریں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی شخص نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ ”استخارہ کرنا سنت ہے ۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے بارے
میں بھی آپ استخارہ کر لیں ۔“
استخارہ بے شک سنت ہے مگر یہ ایسے کاموں میں ہوتا ہے جس کا کرنا یا نہ کرنا مباح ہوں ۔ کسی ایسے امر میں استخارہ کرنا جس کا حلال یا حرام شریعت نے واضح کر دیا ہو ، جائز نہیں ۔ جیسے ایک ماں نکاح کے لحاظ سے اپنے بیٹے پر حرام ہے ۔ لیکن کوئی بیٹا یہ استخارہ نہیں کر سکتا کہ میری ماں مجھ پر حلال ہے یا حرام ۔ ایسا کرنے والا حدود اللہ کو توڑنے والا کہلائے گا۔ مزید کوئی مسلمان نماز کی فرضیت یا عدم فرضیت پر استخارہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کوئی مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر استخارہ نہیں کر سکتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں ۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت کے لیے استخارہ کرے گا ، وہ فی
الفور دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ کیونکہ ایسے شخص کو نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر (نعوذ باللہ) شک ہے۔
اب آخر میں قادیانیوں سے ایک سوال ہے کہ بتایا جائے کہ خاتم النبیین کون ہے؟ میرے خیال میں قادیانیوں سے نبوت ختم یا نبوت جاری کی بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مسلمان اور قادیانی دونوں ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانیوں کے نزدیک آنجہانی مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔ فرق واضح ہو گیا کہ مسلمان نبی کریم ﷺ پر نبوت کو بند مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی پر۔ عجیب بات ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد ساڑھے چودہ سو سال کے عرصہ میں اگر کوئی نبی آیا تو مرزا قادیانی آیا۔ اور اس کے بعد اب کوئی نبی نہیں۔ یاد رہے کہ قادیانیوں نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لیے جو تحریفات کی ہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنا ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کے بعد وہ بھی نبوت بند تسلیم کرتے ہیں۔
اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی
اس زمانہ میں حکومتیں اور بڑے بڑے ادارے اپنا نظم و نسق چلانے کے لیے کلیدی عہدوں (سفارت و وزارت) پر ایسے افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو پوری اہلیت اور قابلیت کے مالک ہوں۔ مثلاً وہ عقل و فہم میں یگانہ روزگار ہوں، حکومت کے وفادار اور اطاعت شعار ہوں۔ صادق اور امانت دار ہوں۔ جھوٹے اور مکار نہ ہوں۔ زیرک اور دانا ہوں کہ حکومت کے احکامات کو سمجھنے میں غلطی نہ کریں۔ اگر ان میں یہ اوصاف نہ ہوں تو حکومت انھیں اہم عہدوں پر فائز نہیں کرے گی۔ جب دنیاوی حکومتوں اور اداروں کے سفیروں، وزیروں اور ڈائریکٹروں کے یہ اوصاف ہیں تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے اوصاف حمیدہ ان سے ہزار درجہ بڑھ کر ہوں گے۔ نبی اور رسول ایسی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی سیرت اور کردار کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد بے شمار لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے جن میں ایک قادیان کا مرزا قادیانی بھی ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ کیا اس میں اوصاف نبوت ہیں
سے کوئی چیز موجود تھی یا نہیں؟
- -1 سچا نبی کامل العقل بلکہ اکمل العقل ہوتا ہے تاکہ اسے وحی الہی سمجھنے میں غلطی نہ ہو۔
نبی اپنے دور میں عقل وفہم کے لحاظ سے اس قدر بلند درجے پر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ نبی اپنی تمام امت سے عقل سلیم اور دانائی وحکمت میں سب سے بالا اور برتر ہوتا ہے۔ کسی بڑے بڑے عاقل، فلاسفر اور دانشور کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہیں ہوتی۔
جبکہ
مرزا قادیانی نبی کے بجائے غبی تھا۔ وہ ایک ناقص العقل اور بیوقوف شخص تھا۔ وہ اپنے کردار کے لحاظ سے عجیب وغریب حماقتوں کا مجموعہ تھا۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنے باپ کے حالات زندگی پر ایک کتاب ”سیرت المہدی“ لکھی ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے مضحکہ خیز، مخبوط الحواس اور احمقانہ کردار کو خوب اجاگر کرتی ہے۔
- -2 سچے نبی کا حافظہ کامل بلکہ اکمل ہوتا ہے۔ اگر نبی کا حافظہ کمزور یا خراب ہو تو اسے
اللہ تعالیٰ کی وحی بھی صحیح طریقے سے یاد نہ رہے گی اور ایک لفظ کی کمی وبیشی سے اللہ کے حکم میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو جائے گا اور اس سے بجائے ہدایت کے گمراہی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ شان رسالت کی پہلی شرط یہ ہے کہ مدعی نبوت کو دماغی عارضہ نہ ہو اور جسمانی بیماریوں سے بھی اس کے جسمانی حالات مشتبہ نہ ہوں تاکہ تبلیغ رسالت کا کام اچھی طرح سرانجام دے سکے۔
جبکہ
مرزا قادیانی کا حافظہ بہت خراب تھا۔ بقول مرزا قادیانی ”حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں مالیخولیا، مراق اور خرابی حافظہ کا خود اقرار اور اعتراف کیا ہے۔ دنیا کے کسی شخص کے کلام اور تحریروں میں اتنا تضاد نہیں جتنا کہ مرزا قادیانی کے کلام اور تحریروں میں موجود ہے۔ اس کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلوں میں فرق نہ کر سکا۔
- -3 سچے نبی کا علم کامل اور اکمل ہوتا ہے۔ وہ دنیاوی استادوں سے علم حاصل نہیں کرتا
بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ اُسے علم لدنی سے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے
فضل سے دنیا و جہاں کے تمام علوم اور معارف پر مکمل دسترس رکھتا ہے۔
جبکہ
مرزا قادیانی کو صحیح اردو نہ آتی تھی۔ اس کی نثر میں مذکر مونث اور واحد جمع کی بے شمار اغلاط ہیں۔ یہی حال فارسی اور عربی کا ہے۔ انگریزی ایسی تھی کہ اگر کوئی انگریز سن لے تو مارے حیرت کے ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جائے۔ مرزا قادیانی کی تحریریں اس قدر بے ربط اور سب و شتم سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی شریف آدمی ان کتابوں کے دو صفحات نہیں پڑھ سکتا۔ مرزا قادیانی کی شاعری ایسی ہے کہ خود اسے قادیانی پڑھنے سے گھبراتے ہیں۔ مثلاً اس کا ایک شعر ہے:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(درثمین از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی اس کا ترجمہ اور تشریح کر سکتا ہے؟
- 4- سچا نبی اللہ تعالیٰ کا مکمل مطیع اور فرماں بردار ہوتا ہے اور اس کے دشمنوں سے بیزار
اور ناخوش رہتا ہے۔
جبکہ
مرزا قادیانی نے پوری زندگی اسلام کی مخالفت میں گزاری اور حکومت برطانیہ کی خوشامد کر کے جہاد کو حرام قرار دیا اور اس کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ مرزا قادیانی خود تو انگریزوں کا ”خود کاشتہ پودا“ تھا ہی مگر ساتھ ہی وہ مسلمانوں کو بھی یہ تعلیم دیتا تھا کہ وہ انگریزوں کی اطاعت کریں اور ہر قسم کا جہاد چھوڑ دیں۔
- 5- سچا نبی صادق اور امین ہوتا ہے۔ وہ کبھی جھوٹا اور خائن نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے اس کا کردار
اس قدر شفاف اور اُجلا ہوتا ہے کہ مخالفین بھی اس کی اس خوبی کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔
جبکہ
مرزا قادیانی پرلے درجہ کا جھوٹا، خائن اور کذاب تھا۔ اس کے جھوٹ پر علماء کرام نے مستقل کتابیں تحریر کی ہیں۔ اس کی تمام پیش گوئیاں جھوٹ اور غلط ثابت ہوئیں۔ انھوں نے اپنے جھوٹ کا نام پراپیگنڈا رکھ لیا تھا، اس لیے بعض بد نصیب
اس کے جال میں پھنس گئے۔ ورنہ مرزا قادیانی جس اعلیٰ درجے کا جھوٹ بولتا تھا، اس سے شیطان بھی شرماتا تھا۔
- 6- سچا نبی کسی کی زمین، جائیداد یا مال و دولت کا وارث ہوتا ہے اور نہ اس کے بعد اس
کا کوئی وارث ہوتا ہے۔ وہ کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”ہم گروہ انبیا نہ ہم کسی کے وارث اور نہ ہمارا کوئی وارث ۔ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں، وہ خدا کے لیے وقف ہوتا ہے۔“
جبکہ
مرزا قادیانی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اپنے باپ کی جائیداد اور مال و دولت کا وارث ہوا اور انگریزی عدالت سے باقاعدہ اس کی رجسٹری ہوئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کی تمام جائیداد اور مال و زر پر اس کی اولاد قابض ہوئی اور اس پر باقاعدہ جھگڑے بھی ہوئے۔
- 7- سچا نبی زاہد ہوتا ہے۔ اس کا زہد وتقویٰ سب سے اعلیٰ اور بڑھ کر ہوتا ہے۔ وہ دنیا
کی شہوات اور لذات سے بے تعلق ہوتا ہے کیونکہ شہوت پرستی اللہ کے بندوں کو خدا پرست نہیں بنا سکتی۔
جبکہ
مرزا قادیانی میں زہد نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی تصنیف ”سیرت المہدی“ میں موجود مرزا قادیانی کی خوراک پڑھ لی جائے تو آدمی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی اتنی خوراک کھانے کا مظاہرہ کسی سرکس میں کرتا تو اپنی جھوٹی نبوت سے زیادہ پیسہ کماتا۔ انبیا کی جسمانی طاقت اور دماغی قویٰ، مشک وعنبر کے مرکبات کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ روکھی سوکھی کھا کر فطرتی طور پر انوار شباب کو ساٹھ سال بلکہ سو سال تک نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی طرح مریل اور دائم المرض نہیں ہوتے کہ مذہبی فرائض ادا کرنے سے بھی معذور ہوں۔ مرزا قادیانی نے مختلف حیلے بہانوں سے اس قدر روپیہ جمع کیا کہ وہ آج کے دور کے اربوں روپے بنتے ہیں۔
- 8- سچا نبی حسب ونسب کے اعتبار سے اعلیٰ اور برتر ہوتا ہے۔ اس کا خاندان بہترین ہوتا ہے۔
جبکہ
مرزا قادیانی مغل برلاس قوم سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کا خاندان کئی نسلوں سے انگریز کا وفادار اور مسلمانوں کا مخبر چلا آ رہا ہے۔
- 9- سچا نبی اپنے قول و فعل میں صادق ہوتا ہے۔ اس کے اقوال وافعال اور سیرت کے
قریب بھی کذب پھٹک نہیں سکتا اور نہ ہی کذب کے شائبہ کا اس کی زندگی میں تصور ہو سکتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے نبی اپنی تصدیق کے لیے صدق کو معیار اور کسوٹی بناتا ہے۔
جبکہ
مرزا قادیانی اپنے قول و فعل اور سیرت کے اعتبار سے نہایت جھوٹا اور کذاب تھا۔ خود اس کا اپنی زبان سے اپنا تعارف، پیش گوئیاں اور اپنے دعوؤں میں صدق کی دھجیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں جنھیں سمجھنے کے لیے خاطر خواہ علم کی ضرورت نہیں ہے۔
- 10- سچے نبی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرد ہو کیونکہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔ نبی کا
دین اور عقل کا ناقص ہونا محال ہے۔ عورت کے لیے پردہ ضروری ہے۔ اگر عورت نبی ہو تو لوگ اسے کیسے دیکھیں گے، نبیہ کو دیکھے بغیر صحابی کیسے بنیں گے۔ اگر وہ پردہ نہیں کرے گی تو موجب فتنہ ہوگی۔ نبی کی آواز بھی حسین و جمیل اور خوش نوا ہوتی ہے۔ اگر وہ نبیہ ہوگی تو مختلف فتنوں کا دروازہ کھولے گی۔
جبکہ
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ میں مریم ہوں۔ خدا نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار کیا، جس کے نتیجہ میں، میں حاملہ ہوا اور دس مہینے کے بعد میرے میں سے، میں نکلا۔ ظاہر ہے مریم اور حاملہ تو صرف عورت ہی ہو سکتی ہے نہ کہ مرد۔ لہذا عورت ہونے کے ناطے مرزا قادیانی نبی نہ ہوا۔
- 11- سچا نبی اخلاق کاملہ اور کمالات فاضلہ سے موصوف ہوتا ہے۔ بد اخلاق اور بد زبان نہیں ہوتا۔
جبکہ
مرزا قادیانی بد گو اور بد کلام تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مخالفین کو گالیاں دیتا
تھا۔ وہ انھیں جہنمی، کافر، کنجریوں کی اولاد، کتے، سور، شیطان، بدذات، دجال، خبیث اور کذاب وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتا۔ لعنت بازی تو اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ حالانکہ خود اس کا کہنا ہے کہ گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے۔
(ست بچن صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)
- -12 سچا نبی صاحب کتاب ہوتا ہے جبکہ مرزا قادیانی پر کوئی الہامی کتاب نازل نہ
ہوئی تھی۔
- -13 سچا نبی شاعر نہیں ہوتا جبکہ مرزا قادیانی شاعر تھا۔
- -14 سچا نبی دین سکھانے کی اجرت نہیں مانگتا جبکہ مرزا قادیانی اپنی کتابوں کی طباعت و
اشاعت کے لیے ہمیشہ اجرت طلب کرتا رہا۔
- -15 سچے نبی پر اس کی اپنی زبان میں وحی کا نزول ہوتا ہے جبکہ مرزا قادیانی پر سنسکرت،
فارسی، اردو، عبرانی، عربی، انگریزی اور پنجابی میں وحی ہوتی تھی جن میں بعض کو وہ خود بھی نہ سمجھ سکتا۔
- -16 سچا نبی کسی کا ملازم یا نوکر نہیں ہوتا جبکہ مرزا قادیانی پندرہ روپے ماہوار تنخواہ پر
سیالکوٹ کچہری میں ملازم تھا۔
- -17 ہر سچے نبی کا نام مفرد یعنی واحد تھا جیسے آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد ﷺ
جبکہ مرزا قادیانی کا نام جمع یعنی دو ناموں غلام اور احمد کا مرکب ہے یعنی غلام ہو کر آقا کے تخت پر بیٹھنے کی ناپاک جسارت کی۔
- -18 سچے نبی کا کوئی انسان استاد نہیں ہوتا، اس کا علم لدنی اور وہبی ہوتا ہے، کسبی نہیں۔
وہ روح القدس سے تعلیم پاتا ہے جبکہ مرزا قادیانی کے اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے کئی استاد تھے۔ جن میں فضل الہی، فضل احمد، گل علی شاہ اور ڈاکٹر امیر شاہ مشہور ہیں۔
- -19 سچا نبی مصنف نہیں ہوتا جبکہ مرزا قادیانی تقریباً سو کتابوں کا مصنف ہے۔
- -20 سچے نبی کی تحریروں اور گفتگو میں تضاد نہیں ہوتا جبکہ مرزا قادیانی کی تمام کتب اور
خطبات و ملفوظات تضادات سے بھرے پڑے ہیں۔
- -21 سچا نبی جہاں فوت ہو، وہیں دفن ہوتا ہے جبکہ مرزا قادیانی لاہور میں مرا اور قادیان
(بھارت) میں دفن ہوا۔
- -22 سچے نبی کو اللہ تعالیٰ جو وحی کرتا ہے، وہ اس کو سمجھتا ہے جبکہ مرزا قادیانی اپنی وحی کے
مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہندو لڑکوں اور اپنے مریدوں کا محتاج تھا۔
- -23 سچے نبی کی کوئی پیش گوئی بھی غلط نہیں ہوتی جبکہ مرزا قادیانی کی لاتعداد پیش گوئیاں
غلط ثابت ہوئیں۔
- -24 سچا نبی مشرکین اور جابر حکومت کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے جبکہ مرزا قادیانی
تثلیث پرست انگریزوں کی حکومت کے استحکام کی خاطر جہاد فی سبیل اللہ کو منسوخ کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کے لیے تاحیات کوشاں رہا۔
- -25 سچا نبی ہجرت کرتا ہے جبکہ مرزا قادیانی نے زندگی بھر ہجرت نہیں کی۔
خود مرزا قادیانی کا اعتراف ہے: ”انبیا علیہم السلام کی نسبت یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ ذکر صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی تھی اور ہمارے نبی ﷺ نے بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص 350 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 ص 350 از مرزا قادیانی)
- -26 سچے نبی کی ذات اور اس پر نازل شدہ کتاب اس کے دعوے کی صداقت کے لیے
کافی ہوتی ہے جبکہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں ایک سو کتب تصنیف کیں مگر لوگ پھر بھی اسے کذاب ہی کہتے رہے۔
- -27 سچے نبی کو مراق کی بیماری نہیں ہوتی جبکہ مرزا قادیانی خود اعتراف کرتا ہے کہ اسے
مراق، ہسٹیریا، مالیخولیا اور کثرتِ بول کے امراض تھے۔
- -28 سچا نبی جھوٹ نہیں بولتا جبکہ مرزا قادیانی پرلے درجے کا جھوٹا اور مکار تھا۔ بلکہ اس
کے دعویٰ کی بنیاد ہی جھوٹ پر تھی۔
- -29 سچا نبی معصوم عن الخطا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ایک کو حکم ہے کہ وہ برائی کے پاس نہ
جائے جبکہ مرزا قادیانی خود برائی کے پاس چل کر جاتا تھا۔ مرزا قادیانی شراب پیتا تھا، زنا کرتا تھا اور سود کھاتا تھا۔ یہ تمام حوالے مستند قادیانی کتب میں موجود ہیں۔
- -30- سچا نبی اپنی پیدائش سے نبی ہوتا ہے اور اپنی عمر کے چالیس سال پورے کرنے کے
بعد اذنِ خداوندی سے مخلوق کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کر دیتا ہے۔ بتدریج، مرحلہ در مرحلہ اور آہستہ آہستہ اسے درجہ نبوت نہیں ملتا جبکہ مرزا قادیانی نے بتدریج آہستہ آہستہ اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ پہلے عالم، پھر مناظر، پھر محدث، پھر مہدی، پھر مسیح موعود اور آخر میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۔
- -31- سچا نبی انتہائی خوبصورت اور وجیہہ ہوتا ہے۔ اس کو ایسا حسن و جمال عطا ہوتا ہے جو
کسی کو نہ ملا ہو جبکہ مرزا قادیانی انتہائی بدصورت، مکروہ شکل اور کریہہ خدوخال کا مالک تھا۔ اکثر مائیں اپنے شرارتی بچوں کو مرزا قادیانی کی تصویر دکھا کر ڈراتی ہیں۔
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے
ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے
نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے
۞.......۞.......۞
قادیانی عقائد
ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اس میں شکوک وشبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ ایمان و ہدایت محض نبی کریم ﷺ کو سچا جاننے کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کو صادق و مصدوق سمجھنا اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو آخری تسلیم کرنا، ایمان و ہدایت کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دوسو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس سے انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔ صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہو سکتا ہے جو حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو کیونکہ اگر یہ شخص آپ ﷺ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ ﷺ نے خبر دی ہے، ان میں آپ ﷺ کو سچا سمجھتا۔ جن دلائل اور طریق تواتر سے آپ ﷺ کی رسالت، نبوت اور دعوت ہمارے لیے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہ ہوگا اور جس شخص کو ختم نبوت کے اس مفہوم میں شک ہو، اسے خود رسالت محمدی ﷺ میں بھی شک ہوگا۔
مسلمانان عالم کا حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدۂ جہاد 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور نبی کریم ﷺ کی محبت و عقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حکومت
برطانیہ کی سرپرستی اور ایماء پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ بدبخت گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا تھا۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کروایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امر و نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے ادعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا حتیٰ کہ اعلان کیا کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ) پھر اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ”محمد رسول اللہ ﷺ“ کو بھیجا۔ مزید کہا کہ مرزا قادیانی خود ”محمد رسول اللہ“ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں آیا۔ اس لیے ہمیں کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اب کلمہ طیبہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ یہ قادیانی عقیدہ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے اپنی ایک نظم میں بھی پیش کیا۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
قاضی اکمل نے مندرجہ بالا نظم لکھ کر ایک قطعہ کی صورت میں مرزا قادیانی کو پیش کی۔ مرزا قادیانی نے اس نظم کو پڑھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔
قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“، اس کی بیوی کو ”ام المومنین“، اس کی بیٹی کو ”سیدۃ النساء“، اس کے خاندان کو ”اہل بیت“، اس کے ساتھیوں کو ”صحابہ کرام“، اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ”قرآن مجید“، اس کی گفتگو کو ”احادیث رسول“، اس کے قادیان کو ”مکہ“، ربوہ کو ”مدینہ“ اور اس کے قبرستان کو ”جنت البقیع“ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بلکہ گنہگار سے گنہگار مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں اور اس کرۂ ارض پر کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی بدبخت سے ایسی گستاخانہ باتیں سننا گوارا کرے۔ نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ 1993ء میں قادیانی جماعت نے سپریم کورٹ
آف پاکستان میں اپیل دائر کی اور اس میں موقف اختیار کیا کہ انھیں خود کو مسلمان کہلوانے، اپنے مذہب کی تبلیغ وتشہیر کرنے، لٹریچر تقسیم کرنے اور سرعام جلسے وغیرہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔ دوران مقدمہ جب مسلمان وکلاء نے مرزا قادیانی، اس کے بیٹوں اور مریدوں کی کتب سے مذکورہ بالا گستاخانہ اور کفریہ عبارات پیش کیں تو فل بینچ کے جج صاحبان انھیں دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے روکتے ہوئے لکھا کہ ہر قادیانی شعائر اسلامی کی توہین اور اپنے کفریہ عقائد کی بناء پر ”سلمان رشدی“ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سلمان رشدی بدنام زمانہ گستاخ رسول اور سزائے موت کا مستوجب ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ اگر قادیانیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی تو انتظامیہ ان کی جان اور مال کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ کوئی مسلمان ایسی دل آزار تحریریں پڑھنے کے بعد اپنے غصہ پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اس کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز لاء اینڈ آرڈر کا موجب بن سکتی ہے جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہتے، شعائر اسلامی کی توہین کرتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے اور گستاخانہ لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کا قانونی اور مذہبی فریضہ ہے کہ وہ قادیانیوں کی ارتدادی اور شر انگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے اور اگر کوئی قادیانی ایسا کرتا نظر آئے تو معززین علاقہ کے ہمراہ متعلقہ تھانہ میں جاکر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C اور 298/C کے تحت قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کروائے ......... آئیے بوجھل دل کے ساتھ قادیانیوں کی گستاخانہ تحریروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی توہین
اللہ تعالیٰ تمام کائناتوں اور جہانوں کا واحد حقیقی خالق و مالک اور پروردگار ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ وہ زندگی، رزق اور موت بلکہ دنیا و آخرت کی ہر چیز پر قادر مطلق ہے۔ وہ روز قیامت کا واحد مالک ہے۔ وہ سب جہانوں کو پالنے والا ہے۔ سب تعریفیں صرف اُسی کے لیے ہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے۔ اس کی ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے۔ اس کا کوئی ہمسر یا برابری کرنے والا نہیں۔ وہ ازل سے ابد تک یکتا و یگانہ ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ اکیلا ہے جسے فنا نہیں۔ اسے کسی نے جنم نہیں دیا اور نہ ہی اُس نے کسی کو جنم دیا۔ وہ ہر ایک چیز سے بے نیاز ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے۔ کسی صفت میں اس کا کوئی
شریک نہیں۔ وہ بے نظیر و بے مثل ہے۔ وہ حی و قیوم ہے۔ اُسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ تھکتا بھی نہیں۔ وہ نہایت رحیم و کریم ہے۔ اس کا باب رحمت کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کا غضب محدود اور رحمت لامحدود ہے۔ ایک ماں کو اپنے بچے سے جس قدر محبت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ستر گنا زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے منکروں کو بھی مایوس نہیں کرتا۔ وہ ستار العیوب ہے۔ وہ ہمارا حقیقی محافظ و نگہبان ہے۔ اولاد، زندگی، موت، صحت، بیماری، عزت، ذلت، کامیابی، ناکامی، خوشی، غمی، امیری، غریبی سب اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنے بندوں کو بن مانگے عطا کرتا ہے۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہے۔ وہ ہر انسان کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ وہ دلوں کے راز جانتا ہے، وہ دعاؤں اور خواہشات کو پورا کرتا ہے۔ وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ کن کہتا ہے تو ہر چیز جو وہ چاہتا ہے، خود بخود وجود میں آ جاتی ہے۔ کائنات کے ذرے ذرے پر اس کی حکومت ہے۔ رات کی تاریکی ہو یا دن کا اجالا، وہ ہر چیز کے بارے میں علیم و خبیر اور سمیع و بصیر ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کی ذات، صفات اور کمالات لامحدود، بے پایاں اور لا انتہا ہیں۔ پوری کائنات میں صرف اُسی کی تجلیات کا ظہور ہے۔ وہی اوّل و آخر اور وہی ظاہر و باطن ہے۔ اس کی عظمت و رفعت انسانی عقل میں نہیں آ سکتی۔ صد شکر کہ اس نے بغیر کسی محنت و کوشش کے ہمیں ایمان و اسلام کی نعمت کے علاوہ دیگر بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ لیکن قادیان کے بدذات و کذّاب مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے جس دیدہ دلیری سے خالق ارض و سماء کے بارے میں ہرزہ سرائی کی اور اپنی خود ساختہ نبوت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالیٰ کے متعلق خرافات کا پلندہ گھڑا ہے، اسے پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے عقائد مرزائی جماعت کی نامرادی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ان خرافات کو پڑھیں اور زبان سے استغفار کریں۔
اللہ تعالیٰ کے بے شمار ہاتھ پیر
- ”قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر
ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا نتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔“
(توضیح مرام، صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 90 از مرزا قادیانی)
اللہ کی زبان پر مرض
- ”کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔
پھر بعد اس کے یہ سوال ہوا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا (اس کی) زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 312 از مرزا قادیانی)
اللہ اور چور
- ”وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ
فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔“
(تجلیات الہٰیہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
قادیان میں خدا
- ”ایک بار مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہوگا، اپنے وعدہ کے موافق۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 358، طبع چہارم از مرزا قادیانی)
سچا خدا
- ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سچے خدا کی نشانی صرف یہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو قادیان میں رسول بنا کر بھیجا ہے اور اگر مرزا قادیانی رسول نہیں ہے تو پھر خدا کی سچائی مشکوک ہے۔ (نعوذ باللہ)
اولاد کی طرح ہے
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا:
- ”انت منی بمنزلۃ اولادی“
”(اے مرزا) تو میرے نزدیک میری اولاد کی طرح ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم ص 345 از مرزا قادیانی)
میں خود خدا ہوں
- ”ورایتنی فی المنام عین الله وتیقنت اننی ھو“
ترجمہ ”میں (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 564، مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 564 از مرزا قادیانی)
- ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ صفحہ 85، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 از مرزا قادیانی)
اللہ مرد، مرزا قادیانی عورت؟
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ، خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ اور زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی کا مرید اس سانحہ پر اصرار کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ شیطان نے ایک انتہائی بارعب اور وجیہہ نورانی شخصیت کے روپ میں مرزا قادیانی کو ورغلا پھسلا کر رجولیت کی طاقت کا اظہار (یعنی جنسی بدفعلی) کیا ہو اور پھر مرزا قادیانی نے اسے اللہ تعالیٰ سے منسوب کر دیا ہو۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی ہی کو نصیب ہوئی، جس کا نقد معاوضہ اسے دنیا ہی میں (لیٹرین میں عبرتناک موت کی صورت میں) ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
حاملہ
- ”اُس (اللہ تعالیٰ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر
جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
- ’’خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ
الہام ہوا تھا۔ فاجاء ھا المخاض الیٰ جذع النخلۃ قالت یا لیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیا۔ یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی)
خدا سے نہانی تعلق
- ’’در حقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں
جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ کے دستخط
- ’’ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے
کئی پیش گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں۔ اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا، اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا، بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے۔ اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے
قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا، ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے، اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 255، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 267 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی، اللہ کے ساتھ ایک پلنگ پر
- ”میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفیٰ مکان ہے، اس میں ایک پلنگ
بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ احکم الحاکمین یعنی رب العٰلمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں، جیسے حاکم کا کوئی سررشتہ دار ہوتا ہے۔ میں نے کچھ احکام قضا و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔ جب میں پاس گیا تو انھوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔ اس وقت میری ایسی حالت ہوگئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قدرتاً اس کا دل بھر آتا ہے یا شاید فرمایا اس کو رقت آ جاتی ہے اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ احکم الحاکمین یا فرمایا رب العٰلمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انھوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے، دستخط کرانے کی غرض سے پیش کیے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 82 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کی تعزیت
- ”میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت
خدا تعالیٰ نے میری عزا پرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اس کی قسم کھاوے۔ مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق
ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزا پرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ........... پہلوان ؟
مرزا قادیانی کا ایک ساتھی پیر سراج الحق بیان کرتا ہے:
”حضرت اقدس (یعنی مرزا قادیانی) کی وفات سے تقریباً دو سال پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں قادیان شریف سے مشرق کی طرف زمین و آسمان کے درمیان کھڑا ہوں اور میرا منہ مغرب کی طرف ہے اور میرے دس بارہ قدم کے فاصلہ پر اللہ جل شانہ کھڑے ہیں۔ پنجابی روش کے کپڑے ہیں اور قوی پہلوان مضبوط بھاری جسم ہے اور آپ کا منہ قادیان کی طرف ہے۔ لیکن آپ مجھ سے کچھ اوپر کی طرف ہیں اور میرے دائیں طرف لیکن نیچے کی طرف پانچ سات قدم کے فاصلہ پر مولانا نورالدین وغیرہ ہیں اور مولوی محمد احسن اور مولوی محمد علی ایم اے بہت دور کھڑے ہیں اور بہت نیچی جگہ پر ہیں۔ مگر اللہ جل شانہ اس طرح کھڑے ہیں کہ جیسے کسی محبوب کے انتظار میں ہو اور جلد دوڑ کر اس کو چمٹ جاوے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ دیکھیے کون محبوب الٰہی آتا ہے۔ اتنے میں حضرت مسیح موعود دوڑتے ہوئے آئے اور جب میرے سامنے آئے تو اللہ جل شانہ چند قدم چل کر دوڑ کر لپٹ گئے اور حضرت مسیح موعود اللہ جل شانہ کو چمٹ گئے۔“
(الحکم قادیاں 21 اگست 1938ء صفحہ 4)
اللہ تعالیٰ...... خوبصورت عورت
- ”آخر ایک ایسی جگہ میں پہنچتا ہوں جہاں ایک میدان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں
ایک باغ ہے، جس میں میرا مکان ہے، میرے پیچھے پیچھے وہ عورت بھی وہاں پہنچ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے آئی ہے، وہ بہت ہی خوبصورت عورت ہے۔ میں اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر کہتا ہوں کہ کیا تم بھی جنت میں میرے ساتھ رہو گی، اس نے کہا: ہاں! میں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں گی۔ میں نے اسے کہا کہ تمہیں میری بیویوں کے ساتھ رہنا پڑے گا تو وہ کچھ حیرت ظاہر کرتی ہے کہ بیویوں کے ساتھ؟ اس وقت یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ خوبصورت عورت اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔“
(رویا و کشوف مرزا محمود صفحہ 377 از مرزا محمود قادیانی خلیفہ ابن مرزا قادیانی)
لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اللّٰھم اعدنا من ھذہ الخرافات
اعتراف
- ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور
پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 126 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 ص 292 از مرزا قادیانی)
حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سید الانبیا اور خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کا مقام بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔ آپ ﷺ پر قرآن جیسی حکیمانہ کتاب نازل ہوئی، آپ ﷺ کی شریعت گزشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کرتی ہے، قرآن گزشتہ تمام کتابوں کو منسوخ کرتا ہے، آپ ﷺ کی امت تمام امتوں میں افضل ہے، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے محشر میں مقام محمود، لواء الحمد، حوض کوثر اور جنت میں سب سے اعلیٰ و افضل مقام ’وسیلہ‘ عطا فرمایا ہے، انبیا و رسل میں آپ ﷺ ہی جنت کا دروازہ کھولیں گے اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آپ ﷺ کی امت تمام امتوں میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے خود آپ ﷺ کے بلند اخلاق کی شہادت دی ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام ملائکہ آپ ﷺ ہی پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اللہ نے آپ ﷺ کو آپ کی دنیوی زندگی ہی میں معراج سے سرفراز کیا، آپ ﷺ کی دیانت و امانت کی شہادت آپ ﷺ کے جانی و بدترین دشمن ابو جہل اور قریش بھی دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی صداقت کی شہادت مکہ کے شجر و حجر بھی دیتے تھے، آپ ﷺ کی شجاعت و بہادری پر غزوہ حنین اور مدینہ کی خوف ناک رات شاہد ہے، آپ ﷺ کی عفت و پاک دامنی کی شہادت آپ ﷺ کی ازواج مطہرات دیتی ہیں، آپ ﷺ کی عدالت کی شہادت اسامہ کے والد اور چچا دیتے ہیں، آپ ﷺ کے تحمل و بردباری کی گواہی عرب کے بدو، مدینہ کے یہودی اور ثمامہ بن اثال دیتے ہیں، آپ ﷺ کے افضل ترین میزبان ہونے کی شہادت وہ اعرابی دیتا ہے جس نے آپ کے بستر اور کمرہ کو پاخانہ کی غلاظت سے آلودہ کر دیا تھا، آپ ﷺ کے دینی استقامت کی شہادت اسامہ کی سفارش والا واقعہ دیتا ہے، آپ ﷺ کی شب بیداری و تہجد گزاری کی شہادت آپ کے سوجے ہوئے قدم
دیتے ہیں، آپ ﷺ کے حسن عبادت کی شہادت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت دیتی ہے، آپ کے حسن سلوک کے بارے دس سالہ انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کرو، آپ ﷺ کے حسن اخلاق کے بارے میں معلوم کرنا ہو تو قرآن کی سورہ القلم کا مطالعہ کرو، آپ ﷺ کے عفو و درگزر کی وسعتوں کا اندازہ کرنا ہو تو فتح مکہ کے وقت مکہ کے خون کے پیاسے باسیوں سے دریافت کرو، آپ ﷺ کا مقام و مرتبہ معلوم کرنا ہو تو آیت فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم کی تفسیر پڑھو، یہ داخلی شہادت مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہے ورنہ اہل علم نے آپ ﷺ کی سیرت پر کتابوں کے ڈھیر لگا دیے ہیں، غرض آپ ﷺ کی کس خوبی کا ذکر کریں اور کس کو ترک کریں۔
آپ ﷺ کی شانِ جامعیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات اقدس تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور تمام رسولان عظام کے اوصاف و محاسن اور فضائل و شمائل کا بھر پور مجموعہ اور حسین مرقع ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شخصیت میں آدم علیہ السلام کا خلق، شیث علیہ السلام کی معرفت، نوح علیہ السلام کا جوشِ تبلیغ، لوط علیہ السلام کی حکمت، صالح علیہ السلام کی فصاحت، ابراہیم علیہ السلام کا ولولۂ توحید، اسماعیل علیہ السلام کی جاں نثاری، اسحاق علیہ السلام کی رضا، یعقوب علیہ السلام کا گریہ و بکا، ایوب علیہ السلام کا صبر، لقمان علیہ السلام کا شکر، یونس علیہ السلام کی انابت، دانیال علیہ السلام کی محبت، یوسف علیہ السلام کا حسن، موسیٰ علیہ السلام کی کلیمی، یوشع علیہ السلام کی سالاری، داؤد علیہ السلام کا ترنم، سلیمان علیہ السلام کا اقتدار، الیاس علیہ السلام کا وقار، زکریا علیہ السلام کی مناجات، یحییٰ علیہ السلام کی پاکدامنی اور عیسیٰ علیہ السلام کا زہد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے بلکہ یوں کہیے کہ پوری کائنات کی ہمہ گیر سچائی اور ہر ہر خوبی آپ ﷺ کی ذات والا صفات میں سمائی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ کی صفات حمیدہ اتنی ہیں کہ شمار نہیں ہو سکتیں۔ ماحصل یہ ہے کہ:
آنچه خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری
اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ:
من وجهک المنیر لقد نور القمر
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
حضور خاتم النبیین علیہ التحیہ والثناء سے لامحدود اور غیر مشروط محبت و احترام ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے۔ وہ جب تک نبی کریم ﷺ کو اپنے والدین، اولاد، عزیز رشتہ دار، دولت و کاروبار حتیٰ کہ خود اپنی جان سے زیادہ عزیز ترین نہ جانے، مسلمان نہیں کہلوا سکتا۔ یہ قانون، قرونِ اولیٰ کے صحابہ کرامؓ سے لے کر قیامت کی ساعتِ اوّل کے آغاز تک اسلام قبول کرنے والے ہر شخص پر یکساں لاگو ہے۔ اس سے ذرہ برابر روگردانی، رتی بھر انحراف، معمولی لاپروائی اور ادنیٰ سی بے توجہی بھی ایک مسلمان کو احسن تقویم کی چوٹیوں سے اٹھا کر اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔
مسیلمہ کذاب کے جانشین اور ولید بن مغیرہ کی معنوی اولاد جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے ہمارے پیارے نبی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو بکواس کی، اُسے پڑھ کر کلیجا پھٹنے کو آتا ہے۔ اس کے بے لگام اور گستاخ قلم سے شافع محشر حضور نبی مکرم ﷺ کے متعلق وہ وہ دلخراش عبارتیں نکلیں کہ الامان والحفیظ۔ ایسی جسارت تو ابلیس اعظم علیہ ماعلیہ بھی نہ کر سکا۔ ہم ان کفریہ عبارات کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کر رہے ہیں۔ آپ بھی ہزار بار استغفار کرتے ہوئے ان لغو تحریرات کو دیکھ کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھائیے۔
مرزا قادیانی محمد رسول اللہ
- "پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- "خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا
ہے اور حضور نبی رحمت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔"
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 502 از مرزا قادیانی)
- "مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام
نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفےٰ ﷺ
ہے ۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا ۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی ۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی ۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 216 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی خاتم النبیین
- ❑ ’’میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منهم لما یلحقوابھم
بروزی طور پر وہی خاتم الانبیا ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں ، میرا نام محمد ﷺ اور احمد ﷺ رکھا ہے اور مجھے حضور نبی رحمت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے حضور نبی رحمت ﷺ کے خاتم الانبیا ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا ۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 10، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی)
- ❑ ’’مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ
ہوں ۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 56، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی تمام نبیوں کا مجموعہ
’’میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
قادیان میں محمد رسول اللہ
’’اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور نبی کریم ﷺ میں کوئی دُوئی (فرق) باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں
دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تا کہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منہم لما یلحقوا بہم میں فرمایا تھا۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں
’’ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت، کسی کو کم ۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 113، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
قادیانی کلمہ
’’ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و مارئی اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
افضلیت مرزا قادیانی
’’اُس (نبی کریم ﷺ) کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے
چاند اور سورج دونوں کا ، اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 71، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی پر دُرود
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا عقائد ونظریات، جن سے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے اور ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، کے بعد مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی طرح درود و سلام کا مستحق ہے۔ بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
- ”صلی اللہ علیک و علیٰ محمد“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 661، طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”اے محمدی ﷺ سلسلہ کے برگزیدہ مسیح تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ دُرود اور لاکھ لاکھ سلام
ہو۔“
(سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
- ”سلام علیکم طبتم. نحمدک و نصلی. صلوٰۃ العرش الی الفرش“
ترجمہ: (اے مرزا) تم پر سلام تم پاک ہو۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 553 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی پر دُرود و سلام
مہ بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی عہد و عیسیٰ موعود
احمد مجتبیٰ سلام علیک
مطلع قادیان پہ تو چمکا
ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیا سلام علیک
سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تیری رسالت کو
اے رسول خدا سلام علیک
ہے مصدق تیرا کلام خدا
اے میرے میرزا سلام علیک
تیرے یوسف کا تحفہ صبح و مسا
ہے درود و دعا سلام علیک
(قاضی محمد یوسف قادیانی کی نظم، روزنامہ الفضل قادیان جلد 7 شمارہ نمبر 100 مورخہ 30 جون 1920ء)
اعتراض کا قادیانی جواب
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر 2 میں مندرجہ ذیل دعویٰ کیا ہے۔ ”بعض بے خبر یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف، خود حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے، میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ و سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا، صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا، تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔“
(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 ص 349 از مرزا قادیانی)
نبی کریم ﷺ سورج، مرزا قادیانی چاند
”مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر 4، صفحہ 103، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 445، 446 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ
”اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا، در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔ اور یہی معنی آخرین منہم کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 171، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258، 259 از مرزا قادیانی)
پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر
”اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 182 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی)
نبی کریم ﷺ کے تین ہزار معجزات
”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے 10 لاکھ نشانات
”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں، وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)
نشان اور معجزہ ایک ہی ہے
”امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور
حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)
نبی کریم ﷺ کے معجزات پر سینکڑوں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں اور ہر ہر معجزہ کو علیحدہ علیحدہ سند متصل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کے چیلوں کو چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کے دس لاکھ معجزات پر کوئی کتاب لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں تا کہ دنیا کو علم ہو سکے کہ آخر وہ کیا معجزات تھے؟
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے
(از قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی)
غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“
(اخبار بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء)
جب اس دلخراش قصیدہ پر اعتراض ہوا تو قادیانی قیادت نے جلتی پر تیل کی طرح جو جواب دیا، وہ نہایت افسوسناک ہے، ملاحظہ کیجیے۔
”یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پھر یہ نظم اخبار بدر 25 اکتوبر 1906ء میں چھپی اور شائع ہوئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے
اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایماں وقلت عرفاں کا ثبوت دے۔‘‘
(اخبار روزنامہ ”الفضل“ 23 اگست 1944ء ص 4)
رسولِ قدنی
(از قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی)
تیرے صدقے، ترے قربان رسول قدنی
تو نے ایمان ثریا سے ہمیں لا کے دیا
نازش دودۂ سلمانؓ رسول قدنی
انت منی و انا منک خدا فرمائے
میں بتاؤں تری کیا شان رسول قدنی
عرش اعظم پہ تری حمد خدا کرتا ہے
ہم ہیں ناچیز سے انسان رسول قدنی
دستخط قادر مطلق تری مسلوں پہ کرے
اللہ اللہ ! یہ تری شان رسول قدنی
آسمان اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول قدنی
پہلی بعثت میں محمدﷺ ہے تو اب احمدﷺ ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی
سُرمۂ چشم تری خاک قدم بنواتے
غوث اعظم شہِ جیلان رسول قدنی
عرشِ بلقیس معانی ہے ترے قبضے میں
اس زمانہ کے سلیمانؑ رسول قدنی
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 شمارہ نمبر 30، 16 اکتوبر 1922ء)
مندرجہ بالا نظم بھی ملعون قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی کی ہے جس میں اس نے
نبی کریم ﷺ، جن کو تمام مسلمان ان ﷺ کے شہر مبارک ”مدینہ طیبہ“ کی نسبت سے ”رسول مدنی“ کہتے ہیں، کی نقل اتارتے ہوئے مرزا قادیانی کی شان میں اس کے شہر ”قادیان“ کی نسبت سے ”رسول قدنی“ کے عنوان سے نظم لکھی۔
محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)
حضور نبی کریم ﷺ سُور کی چربی استعمال کرتے تھے (نعوذ باللہ و لعنة الله على الكاذبين)
”حضور شفیع المذنبین ﷺ اور آپ کے اصحاب ...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور یہ تھا کہ سُور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“
(مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء)
روضۂ رسول ﷺ کی توہین
”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ حد و حساب نہیں، حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً حضور شفیع المذنبین ﷺ کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے حضور شفیع المذنبین ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے، بلا لیا۔ اب بتاؤ محبت کس سے زیادہ کی۔ عزت کس کی زیادہ کی۔ قرب کا مقام کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 112 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 205 از مرزا قادیانی)
وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟
”اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیا کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے۔............
وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کرلو۔ اس کی خیرخواہی اسی میں ہے کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 7، 8 مورخہ 19 اپریل 1929ء)
تکمیل اشاعت ہدایت
”چونکہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے، حضور شفیع المذنبین ﷺ کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا، اس لیے قرآن شریف کی آیت و آخرین منہم لما یلحقوا بھم میں حضور شفیع المذنبین ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی حضور شفیع المذنبین ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا، اس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا، سو اس فرض کو حضور شفیع المذنبین ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی، ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لیے وسائل پیدا ہوگئے تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ) صفحہ 177 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 263 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی تعلیم نوح کی کشتی
”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں، وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(اربعین نمبر 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی تمام انبیا کا لباس
”خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اپنی اس روایت میں ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ ان کا نوٹ بہت خوب ہے اور ایک لمبے اور ذاتی تجربہ پر مبنی ہے اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ہے۔ مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنا، انسانی طاقت کا کام نہیں۔ ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ، اس کوزے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جری اللہ فی حلل الانبیاء
یعنی خدا کا رسول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا ہے۔ اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی جامع تعریف نہیں ہوسکتی۔ آپ ہر نبی کے ظل اور بروز تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں۔ کسی نے حضور شفیع المذنبین ﷺ کے متعلق کہا اور کیا خوب کہا ہے:
آنکہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
یہی ورثہ آپ کے ظل کامل (مرزا قادیانی) نے بھی پایا۔ مگر لوگ صرف تین نبیوں کو گن کر رہ گئے۔ لیکن خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔“
(سیرت المہدی جلد سوّم صفحہ 308 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
اے مومنو! اپنی آواز مرزا قادیانی کی آواز سے بلند نہ کرو
”حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ 1903ء کا واقعہ ہے کہ میں ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تشریف لائے اور اندر سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آگئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود سے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے خلاف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب کو جوش آگیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہوگئیں اور آواز کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (یعنی اے مومنو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز کے سامنے بلند نہ کیا کرو) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبدالکریم صاحب تو فوراً خاموش ہوگئے اور مولوی محمد احسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپنا جوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے اٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔“
(سیرت المہدی جلد دوّم صفحہ 30 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
”احمد“ سے مراد مرزا قادیانی
”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے، وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمدﷺ جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ومبشراً برسول یأتی من بعد ی اسمہ احمد مگر ہمارے نبیﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمدﷺ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقتِ عیسویت رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 673، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 463 از مرزا قادیانی) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریمﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو
محمد ﷺ و احمد ﷺ کی پیش گوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 37 مندرجہ انوارالعلوم جلد سوم صفحہ 101 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو دیکھنے کے لیے نبیوں کی خواہش
’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘
(اربعین نمبر 14 صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے کئی نام
’’پھر ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے کئی نام رکھے ہیں۔ حالانکہ کسی اور نبی نے اپنے کئی نام نہیں رکھے۔ اس لیے یہ نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں کہ ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی یعنی حضور نبی رحمت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے پانچ نام ہیں۔ پس اگر حضرت مسیح موعود کے بھی خدا تعالیٰ نے کئی نام رکھ دیئے اور آپ کو مہدی اور کرشن بنا دیا۔ تو اس سے آپ کی نبوت کس طرح باطل ہو گئی۔ آپ نے اپنے آقا سے تو ایک نام کم ہی پایا ہے۔ پس حضور نبی رحمت ﷺ کی نبوت پانچ نام رکھنے کے باوجود ثابت ہو سکتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی نبوت چار نام رکھنے کی وجہ سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں، سوچیں اور بتائیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کیوں ثابت نہیں ہو سکتی۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 59 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 121 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی، احمد مجتبیٰ
منم محمد ﷺ و احمد ﷺ کہ مجتبیٰ باشد‘‘
ترجمہ: ”میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
اپنی وحی پر ایمان
”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 19، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی)
قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی وحی
- ”انا اعطینک الکوثر. فصل لربک وانحر. ان شانئک ھو الابتر.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73، طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”انا اعطینک الکوثر یعنی ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کریں گے اور ایک کثیر
جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گزر گئے اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہو گئی اور ان دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔“
(نزول المسیح صفحہ 133 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 ص 509 از مرزا قادیانی)
- ”ورفعنالک ذکرک“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 74 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 194 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”و داعیا الی اللہ وسراجاً منیرا“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”تبت یدا ابی لہب و تب“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 198 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- یٰسٓ والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 398 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 37 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”وَمَا ارسلنٰک اِلَّا رحمۃ للعالمین“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 64 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”انت منی بمنزلۃ عرشی—انت منی بمنزلۃ ولدی“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 442 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”انا انزلناہ قریباً من القادیان۔ وبالحق انزلناہ و بالحق نزل صدق اللہ ورسولہ۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
”آسمان سے کئی تخت اترے، پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 549 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”لولاک لما خلقت الا فلاک“
ترجمہ: اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 556 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
روضۂ آدم اور مرزا قادیانی
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار“
(درثمین اردو (مرزا قادیانی کا شاعرانہ کلام) صفحہ 143 از مرزا قادیانی)
آخری اینٹ کون؟
مرزا قادیانی نے نہ صرف رحمت عالم ﷺ کے مقابلہ میں نبوت کا اعلان کیا بلکہ حضور علیہ السلام کے مقابلہ میں اپنے عقائد باطلہ ونظریات فاسدہ کی بنیاد رکھی۔ مثلاً
حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نبوت بند ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ نبوت جاری ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جہاد جاری ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ جہاد بند ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مدار نجات میری ذات ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ مدار نجات میری ذات ہے۔ جو مجھے نہیں مانتا، وہ کافر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”نبوت کے محل کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں
ہی نبیوں کا (سلسلہ) ختم کرنے والا ہوں۔“
(بخاری، مسلم، مشکوٰۃ)
جبکہ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا:
”پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 178، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 178 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی بدبخت ہر بات میں حضور نبی کریم ﷺ کا مقابلہ کرتا ہے جب کہ آدم علیہ السلام کا مقابلہ شیطان نے کیا تھا۔
حضور نبی کریم ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار
- ”حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا، اور اتم
اور اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے، معراج ہوا۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 118 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس
خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 126 از مرزا قادیانی)
حضور نبی کریم ﷺ کا معراج یعنی حالت بیداری میں آسماں کی طرف جانا قرآن مجید، احادیث متواترہ، اقوال صحابہؓ اور جمہور علماء کرام سے ثابت ہے۔ جید فقہا و مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص حضور رحمت عالم ﷺ کی معراج جسمانی کا انکار کرے، وہ گمراہ اور پرلے درجے کا بدبخت ہے۔ یقیناً آنجہانی مرزا قادیانی ایسے ہی بدبختوں میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مردود اعتقاد سے ہر مسلمان کو اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ (آمین)
کثیف جسم
”اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے
ہے تو پھر حضور نبی رحمت ﷺ کا معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 126 از مرزا قادیانی)
حضور خاتم النبین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا جسم اطہر مظہر نور الانوار تھا۔ آپ ﷺ جس طرح آگے دیکھتے تھے، اسی طرح آپ ﷺ پیچھے بھی دیکھتے تھے۔ آپ کے جسم مبارک پر کبھی مکھی نہ بیٹھتی تھی۔ اس لیے آپ کے جسم مبارک کا سایہ نہ تھا۔ لیکن مرزا قادیانی بدبخت نے آپ کے جسم اطہر کو کثیف لکھا ہے جو شان رسالت ﷺ میں بدترین توہین کے زمرے میں آتا ہے۔
گستاخ رسول حرامی ہے
’’اس کے مقابلہ میں حضور نبی رحمت ﷺ کو دیکھو۔ آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ آپ کی زندگی میں موجود تھے۔ پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص حضور نبی رحمت ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 283 طبع جدید از مرزا قادیانی)
انبیا کرام علیہم السلام کی توہین
اللہ تعالیٰ کی رنگا رنگ مخلوقات میں انسان سب سے اعلیٰ واشرف ہے، جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر گروہ انسانیت میں وہ سعادت مند بڑی عظمتوں کے حامل ہیں، جنہیں وحی ربانی کی تسلیم و اطاعت کا شرف حاصل ہوا اور اس گروہ مسلمین میں سے لاتعداد عظمتوں کے امین و حامل وہ ہیں جنہیں نبوت و رسالت کا تاج پہنایا گیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی امانت کا امین قرار دیا اور سب سے بڑی نعمت سے نوازا۔ یہ گروہ پاک باز، انسان ہو کر بھی اتنا عظیم المرتبت ہے کہ معصومیت ان کے لوازم میں سے ہے۔ بچپن سے آخر تک ان کی تعلیم و تربیت اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی اور حفاظت میں ہوتی ہے کہ معمولی گناہ بھی ان کے گھر کا رخ نہیں کرسکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس وحی کے حامل اور اس کے مبلغ ہوتے ہیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس کی تبلیغ کرتے اور اف
تک نہیں کرتے، چاہے اس راستہ میں ان کا جسم آرے سے چیرا جائے۔ نبی اور رسول ایسی اعلیٰ ترین خوبیوں، صلاحیتوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی سیرت اور کردار کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم اپنے آقا حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لا کر مسلمان کہلوانے کے حقدار ہوئے ہیں، ایسے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے تمام انبیا و رسل پر ایمان لانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ہر لحاظ سے ان کا احترام لازم ہے۔ کسی رسول یا نبی کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی موجب کفر و ارتداد ہے۔ لیکن قادیان کے شیطان مجسم مرزا قادیانی نے اس گروہ پاک باز کو جس طرح یاد کیا، ان کی توہین و تحقیر کی اور اپنے ناپاک وجود کو ان سے برتر قرار دیا، وہ اس کے واضح کفر کا بین ثبوت ہے۔ اس کی شیطنت آمیز تحریرات کی نقل و مطالعہ کسی شریف انسان کے بس کا روگ نہیں لیکن ضرورت و مجبوری سے انہیں نقل کیا جارہا ہے۔
نبی کی تحقیر غضب الٰہی کا موجب
”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 390، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 390 از مرزا قادیانی)
تمام انبیا سے اجتہاد میں غلطی ہوئی
”میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔“
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 135، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 573 از مرزا قادیانی)
رسولوں کی وحی میں شیطانی کلمہ
”دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیا اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 629 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 439 از مرزا قادیانی)
چار سو نبیوں کی پیشگوئی جھوٹی نکلی
”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبیوں نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی
اور وہ جھوٹے نکلے۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوئم ص 629 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 439 از مرزا قادیانی)
تمام انبیا کا مجموعہ
- ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیا علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام
میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور حضور نبی رحمت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد ﷺ اور احمدؐ ہوں۔“
(حقیقت الوحی (حاشیہ) صفحہ 73، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 از مرزا قادیانی)
- ”میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
(درثمین صفحہ 123 از مرزا قادیانی)
حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مرزا قادیانی کے لیے سجدہ
”جیسا کہ آدم توام پیدا ہوا تھا میری پیدائش بھی توام ہے اور جس طرح آدم جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا میں بھی جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا تھا اور جس طرح آدم کی نسبت فرشتوں نے اعتراض کیا میری نسبت بھی وہ وحی الٰہی نازل ہوئی جو یہ ہے۔ قالوا اتجعل فیہا من یفسد فیہا۔ قال انی اعلم مالا تعلمون۔ اور جس طرح آدم کے لیے سجدہ کا حکم ہوا، میری نسبت بھی وحی الٰہی میں یہ پیشگوئی ہے۔ یخرون علی الاذقان سجداً ربنا اغفرلنا انا کنا خاطئین۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 260 از مرزا قادیانی)
حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت
”خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 137، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 575 از مرزا قادیانی)
حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت
’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 99 از مرزا قادیانی)
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت
’’اور یہ جو فرمایا کہ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم (مرزا قادیانی) جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ، اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔‘‘
(اربعین نمبر 3 صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 120، 421 از مرزا قادیانی)
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر
’’وہ نشان جو ظاہر ہونے والے ہیں وہ موسیٰ نبی کے نشانوں سے بڑھ کر ہوں گے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی تتمہ ص 83 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 519 از مرزا قادیانی)
پرلے درجہ کی بے غیرتی
’’پس اب کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم لا نفرق بین احد من رسلہ میں داؤدؑ اور سلیمانؑ ، زکریاؑ اور یحییٰؑ کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعود (مرزا قادیانی) جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 117، مؤلف مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آدمم نیز احمد مختار
در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بہ تمام
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین،،
ترجمہ
- 1- ”اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں، میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی
سے کم نہیں ہوں۔
- 2- میں آدم ہوں، نیز احمد مختار ہوں، میں تمام نیکوں کے لباس میں ہوں۔
- 3- خدا نے ہر نبی کو (کمالات و معجزات کا) جام دیا ہے مگر وہی جام مجھے لبالب بھر کر دیا ہے۔
- 4- میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا، ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے۔
- 5- مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں جو اسے
جھوٹ کہتا ہے وہ لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)
نبوت کا قادیانی تصور
”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ وہ وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے۔ اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
حضرات انبیا کرام علیہم السلام میں سے سیدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام والتسلیم اپنی بعض خصوصیات کے پیش نظر امتیازی مقام کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بن باپ پیدا ہونا، ایک خاص موقع پر زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ دنیا میں واپسی، ایسی امتیازی خصوصیات ہیں جن میں ان کا کوئی دوسرا مقابل نہیں۔ بقول شخصے: عیسائی اور قادیانی اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور بی بی مریم علیہ السلام سے ہمیشہ جو ولولہ انگیز محبت کا اظہار کرتے آئے ہیں، اس کا منبع قرآن حکیم ہی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ مسلمان مسیح علیہ السلام کا نام زبان پر لانے سے پہلے حضرت اور بعد میں علیہ السلام کا اضافہ کرتے ہیں۔ اور جو مسلمان بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا نام ان مؤدبانہ الفاظ کے بغیر ادا کرتا ہے، اسے گستاخ سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نام حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک سے پانچ گنا زیادہ مرتبہ مذکور ہے یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا نام (25) مرتبہ اور حضرت محمد ﷺ کا نام (5) مرتبہ۔" اگرچہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا (25) مرتبہ براہ راست نام مذکور ہے لیکن اس کے علاوہ بھی قرآن مجید میں انھیں کئی ایک مؤدبانہ القابات دیے گئے ہیں۔ مثلاً ابن مریم (بمعنی مریم کا بیٹا) مسیح علیہ السلام (عبرانی مسایا) جس کا انگریزی میں کرائسٹ ترجمہ کیا گیا۔ عبداللہ (اللہ کا بندہ یا خادم) رسول اللہ (اللہ کا پیغمبر)
اس کے علاوہ قرآن مجید میں ان کو کلمۃ اللہ، خدا کی رُوح اور خدا کی نشانی جیسے کئی اور پیارے القابات سے بھی یاد کیا گیا اور جن کا ذکر قرآن مجید کی پندرہ سورتوں کو محیط ہے۔ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کے اس جلیل القدر پیغمبر کا ذکر انتہائی مؤدبانہ انداز سے کیا ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان گزشتہ پندرہ سو سال سے ان کے اس بلند پایہ مقام کی قدر و منزلت کرتے چلے آئے ہیں۔ اور ان سے بھولے سے بھی اس میں کوئی کمی سرزد نہیں ہوئی ہے۔ سارے قرآن مجید میں کوئی ایک لفظ، جملہ یا مقام بھی ایسا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ کے اس جلیل القدر پیغمبر کی تحقیر ہوتی ہو اور جسے ایک حاسد ترین عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بدترین دشمن قادیانی بھی قابل اعتراض سمجھتا ہو۔
دنیا کی سب سے بڑی مغضوب و مردود قوم یہود نے سب سے بڑھ کر سیدنا مسیح علیہ
السلام اور ان کی پاک دامن و عفت ماب والدہ محترمہ سیدتنا مریم صدیقہ طاہرہ سلام اللہ تعالیٰ علیہا رضوانہ، پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔۔۔ انہیں اذیت پہنچائی۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے قتل کے منصوبے بنائے اور تکلیف واذیت کے حوالہ سے جو ہو سکا، انہوں نے کیا۔ صدیوں بعد اس روایت کو قادیانی دہقان مرزا قادیانی نے دُہرایا اور اپنے گستاخ و بے لگام قلم سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی عظیم المرتبت والدہ کے خلاف وہ بہتان طرازیاں کیں کہ یہود کی روح بھی یقیناً شرما اٹھی ہو۔ یہ بد زبانی اور دوں نہادی جس کا رویہ ہو، اسے شریف انسان کہنا بھی مشکل ہے۔
کئی سال بیشتر حکومت نے موجودہ شناختی کارڈوں کی جگہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کرنے کا پروگرام بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نئے کارڈ پر بلڈ گروپ اور مذہب کا خانہ بھی ہونا چاہیے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے؟ مجلس کے اس مطالبہ کی تمام دینی جماعتوں نے نہ صرف حمایت کی بلکہ بھر پور انداز میں تحریک کا ساتھ بھی دیا۔
مذہب کا اظہار فخر کی علامت ہے۔ اگر مذہب کا اظہار شرمندگی کا باعث بنتا ہے تو اس پر لعنت بھیج کر اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ یہودیوں کو اپنے یہودی ہونے پر فخر ہے، عیسائیوں کو اپنے عیسائی ہونے پر فخر ہے، مسلمانوں کو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ہر مسلمان لاکھوں کے مجمع میں ڈنکے کی چوٹ پر اپنے مذہب کا اظہار کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے، خواہ اس کے لیے اسے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ آئین اور تعزیرات پاکستان کی رُو سے نہ قادیانی خود کو مسلمان کہہ سکتے اور نہ اپنا مذہب اسلام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈھٹائی کی حد دیکھئے کہ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم کہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، اس لیے آئین اور قانون کی رُو سے قابلِ تعزیر ہیں۔ حکومت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس مطالبہ کو تسلیم کر لیا، جس پر پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس مطالبہ کی منظوری کو اپنی موت سمجھا، لہٰذا انہوں نے عیسائی اقلیت کو ورغلایا اور پورے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ پاکستان میں اسلام دشمن سیکولر لابیاں امریکی سفیر کی سرپرستی میں حسب سابق ان کی حمایت میں کھل کر میدان میں آگئیں، جس کے نتیجے میں حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم کر دیا۔ اس کامیابی پر عیسائی اور قادیانی
اقلیت نے خوب جشن منایا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں نے عیسائی اقلیت کو استعمال کر کے پاکستان اور بیرون ملک اپنے مذہب کی تبلیغ کی راہ ہموار کی۔ عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہے!
مسیحی برادری جو آج کل قادیانیوں کی سرپرستی کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، ذرا مرزا قادیانی کی ان تحریرات اور عقائد کو ملاحظہ کرے کہ کیا وہ ان کی حمایت کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوشنودی حاصل کر رہی ہے یا ناراضی؟ قادیانیت کے جال میں پھنسنے والے اور نرم گوشہ رکھنے والے مسلمان بھی ذرا مرزا قادیانی کی ان تحریرات کا مطالعہ کر کے فیصلہ کریں کہ کیا ایسا شخص مسلمان ہوسکتا ہے؟ قادیانیوں کی ان گستاخانہ عبارات پر کاش آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش ہوتی اور وہ نیست و نابود ہو جاتے! مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
اعتراف عظمت
”ہم اس بات کے لیے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شانِ بزرگ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“
(ایام الصلح [ٹائیٹل پیج] صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 228 از مرزا قادیانی)
خبیث لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمتیں لگاتے ہیں
”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔“
(نزول المسیح (ضمیمہ) صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
نعوذ باللہ
- ”وہ (حضرت عیسیٰ) ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون
حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا۔ اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔“ (ست بچن صفحہ 141 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 265 از مرزا قادیانی)
- ”عیسیٰ بن مریم، مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
- ”ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پا کر (بقول عیسائیوں کے) وہ ذلت اور
رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں۔ اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدر رو ہے، پیدا ہو کر ہر یک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کر لیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی، جس سے وہ بیٹا باپ کا بدنام کنندہ ملوث نہ ہو۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 368 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 440 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے
”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 289 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل چرا کر لکھی
”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ نہیں
”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔“
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی حقیقت
”سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قویٰ موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 154، 155 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 254، 255 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکر و فریب
- ”آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)
- ”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی
ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
- ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور
ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیڑے مکوڑے
”جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم
ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“ (چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 356 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں
”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“
(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 121 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے
”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے، اس کا سبب تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“ (کشتی نوح حاشیہ صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 71 از مرزا قادیانی)
بقول مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے، اس جگہ ”پیا کرتے تھے“ صیغہ ماضی استمراری کے ہیں اور ہمیشگی پر دال ہیں۔ یعنی (نعوذ باللہ) ہمیشہ پیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی چونکہ خود ٹانک وائن شراب پیتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنے لیے جو از پیدا کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا دیا۔
شراب اور افیون
”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت صفحہ 69 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی)
شراب اور خدائی کا دعویٰ
”یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“
(ست بچن حاشیہ صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی)
مسیح کا چال چلن
”مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(نور القرآن صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 387 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنجریاں
”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)
شراب اور فاحشہ عورتیں
- ”لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت
نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(مقدمہ دافع البلاء صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)
- ”مسیح تو خود کنجریوں سے تیل ملواتا رہا۔ اگر استغفار کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی......
مفتی محمد صادق صاحب جو کتاب سنایا کرتے ہیں جس میں مشیعہ عورت کا اور مشیع یہودی عاشق سلومی کا ذکر ہے کہ وہ عورت سلومی مشیع کو چھوڑ کر یسوع کے شاگردوں میں جا ملی۔
اس لیے اس مسیح نے یہ سارا منصوبہ صلیب کا بنایا۔ گویا ایک عورت کے واقعہ نے ان کی صلیب تک نوبت پہنچائی ......
ان کے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا گناہ ہے مگر ایک بازاری عورت عطر ملتی ہے، تیل بالوں کو لگاتی ہے، بالوں میں کنگھی کرتی ہے اور یہ مہنت کی طرح بیٹھے ہوئے مزے سے سب کرواتے جاتے ہیں ...... ان کو کنجریوں سے کیا تعلق تھا۔ اور اگر کہو کہ اس کنجری نے توبہ کی تھی تو کنجری کی توبہ کا اعتبار کیا۔ ایک طرف توبہ کرتی ہیں۔ ایک طرف پھر موڑھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں ...... پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑھ ہے۔ اس کی تخم ریزی مسیح نے کی۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 88 طبع جدید از مرزا قادیانی)
حرام کار عورتوں کے خمیر سے!
’’اور نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں ابنیت کا حصہ رکھتا تھا، خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چیچک، دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں، وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آ گئی مگر چونکہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں، اس لیے دعویٰ کے ساتھ ہی پکڑا گیا۔‘‘
(ست بچن صفحہ 173 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 297، 298 از مرزا قادیانی)
کاش ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا
’’یورپ جو زنا کاری سے بھر گیا، اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو
کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا۔‘‘
(نورالقرآن صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 417 از مرزا قادیانی)
کھاؤ پیو، شہوت پرست
- ’’تعجب کہ ایک شرابی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس
کی زندگی اور جس کا ہر یک فعل خدا کے لیے تھا، اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں۔ عجیب تاریکی کا زمانہ ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بدنظری کا پیش خیمہ ہے اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔ خوب یاد رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ماتقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہو گیا ہے۔ یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہو گئے ہیں۔ بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعاً نفرت رکھتا ہے اور اس سے دور رہنا چاہتا ہے۔ اس بات میں آپ کے ساتھ کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا کمال کے برخلاف ہے۔ اگر انبیا علیہم السلام تقویٰ کا نمونہ نہ دکھلاویں تو اور کون دکھلاوے جو خدا ترسی میں سب سے بڑھ کر ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر تقویٰ بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ بدی سے اپنے تئیں دور رکھتا ہے وہ ان راہوں کو چھوڑ دیتا ہے جس میں بدی کا احتمال ہوتا ہے۔ مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے، وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سُنا کرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں۔ مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ
شخص بیزار ہے تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے۔ ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی نہیں پایا گیا۔ سبحان اللہ! یہ کیا عمدہ جواب ہے۔ یسوع صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔ دعویٰ خدائی کا اور کام ایسے بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے میں بھی ایسا اول نمبر کا جو لوگوں میں یہ اس کا نام ہی پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے۔ ہمارے سید ومولیٰ افضل الانبیا خیر الاصفیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا تقویٰ دیکھیے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لیے آتی تھیں بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پرہیزگار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے، کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے، جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے، کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔‘‘
(نور القرآن صفحہ 72 تا 74 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 9، صفحہ 447 تا 449، از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سؤروں کا شکار
- ❑ ”میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود
(مرزا قادیانی) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور
لوگ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لیے گئے ہوئے ہیں پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی آمد سے تو سانسیوں اور گنڈیلوں کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 291، 292 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
جنگ کس طرح کریں گے؟
- □ ’’ہماری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ (مسلمان) اس عیسیٰ کو اتار کر کریں
گے کیا؟ آخر ان کے قوی تو وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔ پہلے کیا کیا تھا، جواب کریں گے۔ ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی، ان کی اصلاح بھی نہ ہوئی۔ لکھا ہے ایک دفعہ ان میں سے پانچ سو آدمی مرتد ہو گئے تھے۔ یہ لوگ اگر حضرت موسیٰ کے دوبارہ آنے کی امید رکھتے تو کچھ موزوں بھی تھا کیونکہ وہ صاحب عظمت اور جبروت تو تھے، ان میں شجاعت بھی تھی۔ اب یہ عیسیٰ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جانا محال ہے۔ ان کو مار کھانے اور بزدلی کی عادت ہو گئی تھی۔ وہ اگر دجال سے جنگ کریں گے تو کس طرح؟‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 210، 211 طبع جدید از مرزا قادیانی)
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی سُور بھی کھایا تھا؟
’’سچ ہے ’’عیسائی باش ہر چہ خواہی بکن۔‘‘ سور کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تاکیدیں تھیں، یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس سور کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا مگر کیا اس نے کبھی سُور بھی کھایا تھا۔‘‘
(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 373 از مرزا قادیانی)
اخلاقی تعلیم؟
’’پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر
کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا، اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بڑے بڑے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلا دے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انھوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟“
(چشمہ مسیحی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)
دماغ میں خلل
”آپ کی انھیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی)
دیوانہ
”یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(ست بچن صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شرمناک بہتان
”مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“
(نورالقرآن صفحہ 17، 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 392، 393 از مرزا قادیانی)
پہلے مسیح سے بڑھ کر
”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی)
پیٹ میں باتیں
”یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس (مرزا قادیانی کے) لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 157 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت
اس سے بہتر غلام احمد ہے“
(دافع البلاء صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
حضرت مریم علیہا السلام کی توہین
حضرت مریم علیہا السلام، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔ قرآن حکیم میں حضرت مریم کا بنت عمران (التحریم: 12) اور ”اخت ہارون“ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی ولادت اور ابتدائی حالات کا ذکر سورۂ آل عمران میں آیا ہے اور بعد کے حالات، بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا مفصل ذکر، سورۂ مریم میں آیا ہے، جو حضرت مریم ہی کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام ولیہ اور صدیقہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمانی جمال اور علمی و عملی کمال عطا فرمایا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ ”مرد تو بہت سارے کامل ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم صاحب کمال ہوئی ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے۔“ حضرت مریم علیہا السلام کو بھی انہی خصوصیات کی بناء پر اپنے زمانے کی عورتوں پر فضیلت حاصل تھی۔ جو لوگ اللہ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں وہ اتنے ہی زیادہ تابع فرمان اور عبادت گزار ہوتے ہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام نماز میں اتنا طویل قیام فرماتی تھیں کہ ان کے قدموں میں ورم آ جاتا تھا۔
قارئین کرام! آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت مریم علیہا السلام کی شان اور عظمت ملاحظہ فرمائی کہ وہ کس قدر اعلیٰ خوبیوں اور روشن سیرت سے آراستہ تھیں۔ مگر
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں اس عظیم روحانی شخصیت کا ذکر جس بازاری زبان میں کیا، اسے پڑھ کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آئیے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا ہرزہ سرائی کی؟
حضرت مریم علیہا السلام کی صدیقیت؟؟؟
”مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا: ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لیے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں ”بھرجائی کانیے سلام آکھاں واں“ جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔“
(سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 230 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
حضرت مریم کی اولاد
”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
حضرت مریم علیہا السلام کا دوسرا نکاح
”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگانِ قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
حضرت مریم صدیقہؓ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق
”پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلاتکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔“
(ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی)
نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ)
”مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نامی ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“
(چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 355، 356 از مرزا قادیانی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واہل بیتؓ کی توہین
حضرات انبیا علیہم الصلوۃ والسلام جیسے مبارک اور پاک طینت افراد کے بعد اس دھرتی پر انسانی آبادی میں جو طبقہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مورد بنا، وہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ہے۔ ان کی تربیت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ سے بذریعہ وحی کروائی۔ صحابہ کرامؓ کے دل نورِ ایمان سے روشن، پیشانیاں سجودِ عاجزانہ سے مزین، دل حبِ خدا اور حبِ رسولؐ سے سرشار، زبانیں ذکرِ الہی سے تروتازہ اور اعضاء اطاعتِ الہی سے مہکتے تھے۔ اسی لیے ہر مسلمان کے لیے اسوہ صحابہؓ کو اپنانا اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن عزیز اس پاک باز جماعت کو ”اللہ کی جماعت“ قرار دیتا ہے۔ ایسی جماعت کہ فلاح اور کامیابی اس کا مقدر ہے اور وہ ہر حال میں کامیاب ہو کر رہے
گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت راشدہ و صادقہ کو اپنی رضا کے اعزاز سے نوازا اور جنت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ حضور نبی مکرم، رسول رحمت، خاتم النبیین ﷺ نے اس جماعت راشدہ کو آسمانِ ہدایت کے ستارے قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میرے صحابہؓ ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی چاہے پیروی کر لو، ہدایت پا جاؤ گے ۔“ (مشکوٰۃ شریف) مزید ارشاد فرمایا ”خبردار ان کو اذیت پہنچانا، مجھے اذیت پہنچانا ہے، اور مجھے اذیت پہنچانا، اللہ رب العزت کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے صحابہؓ کو گالیاں نہ دو، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مٹھی بھر صدقہ کو نہیں پہنچ سکتا بلکہ مٹھی کے نصف کے نصف کو بھی نہیں پہنچ سکتا ۔“ ایک اور حدیث پاک میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں، تم کہو لعنت ہے تمہاری بد کلامی پر ۔“ (ترمذی شریف)
اہل بیتِ عظام کا نسب نہایت پاکیزہ و عالی ہے۔ وہ تمام لوگوں میں سے بہتر، برگزیدہ اور پاکباز ہیں۔ ان کے حق میں قرآن کریم کی کئی آیات نازل ہوئیں اور کئی احادیث نبویہ ان کی شان میں وارد ہوئیں۔ وہ طیب شجرِ نبوی کی مقدس شاخیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر آلائش کو دور کر دیا ہے اور انھیں صاف ستھرا کیا ہے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے ان کی خدمات، اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ سب مسلمانوں کے احترام، توقیر اور ان کی محبت کے لائق اور مستحق ہیں۔ ہر مسلمان اہل بیت سے محبت اپنے لیے سرمایۂ حیات سمجھتا ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس گروہِ صفا پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا۔ لیکن اس دنیا میں ایسے بدبختوں اور نامرادوں کی کمی نہیں جو درسگاہِ نبوت کے ان تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام کے خلاف اپنی گز بھر لمبی زبانیں کھولتے ہیں۔ ایسے ہی نامرادوں میں ایک آنجہانی مرزا قادیانی ہے جس کی سوقیانہ زبان اور بدبختی کے چند نمونے درج ذیل ہیں۔
نادان صحابی
”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 از مرزا قادیانی)
حضرت ابو ہریرہؓ کی توہین
- ’’جیسا کہ ابو ہریرہؓ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘
(اعجاز احمدی صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
- ’’جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک
ردی متاع کی طرح پھینک دے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 410 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)
- ’’بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابو ہریرہ)......
اکثر باتوں میں ابو ہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا...... ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)
حضرت ابو بکر صدیقؓ کی توہین
’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا، وہ تو بعض انبیا سے بہتر ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 278 از مرزا قادیانی)
حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کی توہین
’’ابوبکر وعمر کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق نہ تھے۔‘‘ (ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری 1915ء- 3/2 صفحہ 57 احمدیہ انجمن اشاعت اسلام)
قادیانی خلیفہ حکیم نورالدین ابوبکرؓ ہے
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا مجھے ایک کام درپیش ہے، دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لیے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں اور دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب
دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھتی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 37 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
خلیفہ راشد حضرت علیؓ کے بارے میں مرزا قادیانی زبان دراز کرتے ہوئے لکھتا ہے:
زندہ علی، مردہ علی
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی)
نواسہ رسول ﷺ اور شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
حضرت امام حسینؓ کی توہین
”اور انہوں نے کہا اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا، میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 164 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اور حضرت امام حسینؓ میں فرق
- ”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے، کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا
کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 181 از مرزا قادیانی)
- ”اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا
اور ظاہر ہے۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 193 از مرزا قادیانی)
حضرت امام حسینؓ کے عالی مقام کے بارے میں بے حد گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا:
- ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار
کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ (ذکر حسینؓ) کا ڈھیر ہے۔“ (اعجاز احمدی صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 از مرزا قادیانی)
کربلا کی سیر
صد حسین است در گریبانم“
ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“
(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین احمد، مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:
سو حسینؓ کی قربانی، مرزا قادیانی کی ایک گھڑی کے برابر
”شہادت کا یہی مفہوم ہے جس کو مدنظر رکھ کر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا:
صد حسین است در گریبانم
میرے گریبان میں سو حسین ہیں، لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے، میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کے فکروں میں گھلا جاتا ہے۔ جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا، اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ۔ حضرت امام حسین ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔ حضرت امام حسین اس وقت ہوئے جبکہ لاکھوں اولیاء موجود تھے۔ اسلام اپنی شان و شوکت میں تھا۔ ایسی حالت میں ان کو وہ غم کہاں ہو سکتا تھا جو اس شخص کو ہوا،
جو ایسے ہی حالات میں مبعوث ہوا جن حالات میں خود محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت رسول کریم ﷺ کی شہادت سے بڑی تھی۔ نہیں۔ اس لیے کہ جو غم اور تکلیف آپ کو اسلام کے لیے اٹھانی پڑی، وہ حضرت امام حسین کو نہیں اٹھانی پڑی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی شہادت بھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے گھر پر بیٹھے رہے۔ پھر کس طرح امام حسین سے بڑھ گئے۔ میں کہتا ہوں کیا محمد ﷺ اسی طرح فوت ہوئے، جس طرح امام حسین فوت ہوئے تھے؟ نہیں۔ مگر کوئی ہے جو کہے۔ محمد ﷺ کی قربانی حضرت امام حسین کی قربانی سے کم تھی۔ محمد ﷺ کی ایک ایک سیکنڈ کی قربانی حضرت امام حسین کی ساری عمر کی قربانی سے بڑھ کر تھی۔ پس جس طرح محمد ﷺ کی قربانی بڑی تھی، اسی طرح وہ شخص جو انہی حالات میں کھڑا ہوگا جن میں محمد ﷺ کھڑے ہوئے اس کی قربانی بھی بہت بڑھ کر ہوگی۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا ہے:
صد حسین است در گریبانم
کہ مجھ پر تو ہر لمحہ سو سو کربلا کی مصیبتیں گزرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں۔“
(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، ابن مرزا قادیانی روزنامہ الفضل قادیان شمارہ نمبر 80 جلد نمبر 13، 26 جنوری 1926ء)
حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر
”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔۔“
(دافع البلاء صفحہ 17، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی)
عبد اللطیف قادیانی کی فضیلت
”امام حسینؓ کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب (قادیانی) کی شہادت ہے جنھوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364 طبع جدید از مرزا قادیانی)
آبروئے کائنات، خاتون جنت، جگر گوشہ رسول، سیدہ طاہرہ، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی عظمت و شان سے کون واقف نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”بے شک
فاطمۃ الزہرہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسنؓ و حسینؓ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ (ترمذی) کتب صحاح میں حضرت بتولؓ کے بے شمار فضائل و محاسن موجود ہیں۔ آپ کی جلالت شان اور مقام معصومیت کے متعلق سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے روز وسط عرش سے منادی، ندا کرے گا کہ اے اہل محشر! اپنے سروں کو جھکا دو اور اپنی آنکھوں کو بند کر لو کہ فاطمہؓ بنت محمد ﷺ پل صراط سے گزر جائے۔ اس وقت ستر ہزار حوریں ان کے ہمراہ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گی۔‘‘ لیکن بدبخت ملعون مرزا قادیانی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں نہایت دل آزار اور گستاخانہ بکواس کرتے ہوئے لکھتا ہے:
سیدہ النساء حضرت بی بی فاطمہؓ کی شرمناک توہین
جگر گوشہ رسول ﷺ، سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی ذات پاک کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس کی ہے، ہمارا قلم اسے لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگر کسی نے یہ بکواس دیکھنی ہو تو ملعون مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ درج ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 11 از مرزا قادیانی)
پنج تنؓ کی توہین
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیّدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے‘‘
(دُرثمین اُردو صفحہ 45 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی بیوی...... ام المومنین؟
’’ام المومنین‘‘ کا لفظ جو مسیح موعود کی بیوی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سن کر فرمایا: ’’اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے اور اس قسم کے اعتراض صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ورنہ نبیوں یا ان کے ظلال کی بیویاں اگر امہات المومنین نہیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتی ہیں؟ خدا تعالیٰ کی سنت اور قانونِ قدرت
کے اس تعامل سے بھی پتا لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ ام المومنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آ کر نکاح بھی کرے گا۔ کیا اس کی بیوی کو تم ام المومنین کہو گے یا نہیں؟“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 555 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے 313 صحابی
”میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تین سو تیرہ اصحاب کی فہرست تیار کی تو بعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ حضور ہمارا نام بھی اس فہرست میں درج کیا جائے ۔ یہ دیکھ کر ہم کو بھی خیال پیدا ہوا کہ حضور علیہ السلام سے دریافت کریں کہ آیا ہمارا نام درج ہوگیا ہے یا کہ نہیں۔ تب ہم تینوں برادران مع منشی عبدالعزیز صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے آپ کے نام پہلے ہی درج کیے ہوئے ہیں۔ مگر ہمارے ناموں کے آگے ”مع اہل بیت“ کے الفاظ بھی زائد کیے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 97-1896ء میں تیار کی تھی اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کیا تھا۔ احادیث سے پتا لگتا ہے کہ حضور نبی رحمت صلعم نے بھی ایک دفعہ اسی طرح اپنے اصحاب کی ایک فہرست تیار کروائی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ تین سو تیرہ کا عدد اصحاب بدر کی نسبت سے چنا گیا تھا۔ کیونکہ ایک حدیث میں ذکر آیا ہے کہ مہدی کے ساتھ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق 313 اصحاب ہوں گے جن کے اسماء ایک مطبوعہ کتاب میں درج ہوں گے۔ دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 40 تا 45۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 128 از مرزا بشیر الدین ابن مرزا قادیانی)
سیّد کون؟
”اب جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی۔ اب وہی سید ہوگا جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“
(قول الحق صفحہ 32 مندرجہ انوار العلوم جلد 8 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
قرآن وسنت کی توہین
اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے جہاں سلسلہ نبوت قائم فرمایا اور اس کا اختتام حضرت محمد ﷺ پر کر دیا، وہاں مختلف اوقات میں آسمانی کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ اس سلسلہ کتب کی آخری کڑی قرآن مجید اور فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ کتاب مبین پوری انسانیت کے لیے قیامت تک رحمت، ہدایت اور شفاء ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ کی حفاظت و صیانت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے کیا جس کی آیات کے سامنے بڑے بڑے زبان آور، دم بخود رہ گئے اور اس کی کسی ایک آیت کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لا سکے۔
یہ عظیم کتاب صدیوں سے اپنی عظمت کا لوہا منوا رہی ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی کی سرپرست برطانوی سرکار نے اسے مٹانے کی عجیب احمقانہ تدابیر کیں لیکن منہ کی کھائی۔ ”عربی مبین“ میں نازل ہونے والی اس کتاب کے بالمقابل قادیانی گنوار نے وحی والہام کا جس طرح ڈھونگ رچایا اور اسے قرآن سے برتر و بالا قرار دیا اور جابجا فخریہ اس کا اظہار کیا، وہ ایسی ناروا جسارت ہے جس پر آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین پھٹ جائے تو عجب نہیں۔ قرآن کے بالمقابل خرافاتی الہام کے لیے مرزا کی تحریرات دیکھیں اور سوچیں کہ آیا یہ شخص صحیح الدماغ تھا یا اس کا ذہنی توازن خراب تھا؟
قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا
”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البيضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ مندرجہ بالا عبارت قرآن مجید کی آیت ہے اور قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن مجید میں قادیان کا نام درج ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ آیت قرآن مجید کے کس پارہ اور رکوع میں درج ہے۔ قادیانی قیامت تک ہمارے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے۔ قادیانیوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ
مرزا قادیانی نے اس عبارت کے ذریعے قرآن مجید میں تحریف کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور ایسا کرنے والا ملحد اور کافر ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا:
قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے
”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی)
لیجیے! مرزا قادیانی خود اپنے ہی عقیدہ اور الہامی تحریر سے جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہو گیا ہے۔ اب مزید کسی فتوے کی ضرورت نہیں رہی۔ مولانا محمد رفیق دلاوریؒ اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کی عظمتِ قرآن کے حوالہ سے ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں:
”مرزا قادیانی کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد نے سیرۃ المہدی، جلد اوّل کے دو مقامات (ص 236 و 252) پر مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی کا ذکر کیا ہے۔ مولوی صاحب مرحوم مرے کالج سیالکوٹ میں عربی، فارسی اور اردو کے پروفیسر اور علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے استاد تھے۔ یادرہے کہ علامہ مرحوم دراصل سیالکوٹ کے باشندہ تھے۔ لیکن عرصہ دراز سے لاہور میں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ سیرۃ المہدی کی جلد اوّل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی میر حسن صاحب مسیح قادیاں کے خاص سیالکوٹی احباب میں سے تھے۔ اسی بنا پر ایک مرتبہ بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کی تالیف کے وقت ان سے اپنے باپ کے وہ حالات دریافت کیے جو مرزا قادیانی کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں ان کے علم و مشاہدہ میں آئے تھے۔ چنانچہ اس استدعا کے بموجب انھوں نے مرزا قادیانی کے چشم دید حالات لکھ بھیجے۔ چونکہ مولوی صاحب خدانخواستہ مرزائی نہیں تھے، اس لیے قرینہ ہے کہ انھوں نے ہر قسم کے بھلے برے حالات بے کم و کاست لکھ بھیجے ہوں گے لیکن بشیر احمد صاحب نے ان میں سے صرف مفید مطلب چیزیں انتخاب کر لی ہوں گی۔ مثلاً مولوی میر حسن صاحب کا مندرجہ ذیل بیان جو ایک سیالکوٹی پروفیسر صاحب نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا ”سیرۃ المہدی“
میں درج نہیں ہے اور نہ اس قسم کے واقعات کے اندراج کی کوئی توقع ہو سکتی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مولوی میر حسن مرحوم کے سامنے مسیح قادیان کے سوانح حیات جو کسی مرزائی گم کردہ راہ نے ترتیب دیے ہوں گے پڑھے جارہے تھے، ان میں لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے دل میں قرآن پاک کی بڑی عظمت تھی۔ یہ سن کر مولوی میر حسن صاحب مرحوم نے فرمایا کہ ”ہاں عظمت قرآن کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تلاوت کا جو قرآن تھا، اس میں مرزا قادیانی نے خاتمہ قرآن پر یعنی سورۂ ناس کے اختتام پر قوت باہ کا ایک نسخہ لکھ رکھا تھا۔“
(رئیس قادیان صفحہ 55، 56 از مولانا محمد رفیق دلاوری)
قادیان کا نام قرآن مجید میں
مرزا قادیانی نے ایک کشف میں دیکھا کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ نبوت و رسالت کا دعویدار ہے، اس لیے اس کے کشف پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا کیجئے کہ مسلمانوں کے قرآن میں قادیان کا ذکر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا کشف ملاحظہ کیجیے:
”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی کس سورہ یا رکوع میں یہ آیت موجود ہے جس میں قادیان کا نام درج ہے؟ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کشف ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کا کشف اور خواب وحی ہوتا ہے۔
قرآن، مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا
”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 173 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
قرآن شریف، مرزا قادیانی کی باتیں
”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے الہامات، قرآن کی طرح
”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ اپنی نمازوں اور عبادات میں مرزا قادیانی کی وحیاں اور الہامات کیوں نہیں پڑھتے جبکہ مرزا قادیانی نے اسے قرآن کے مساوی قرار دیا ہے۔
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمینست ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد برو القاء
وان یقین ہائے سید سادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین“
ترجمہ: ”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے، جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے جو یقین عیسیٰ ؑ کو اپنی وحی پر، موسیٰ ؑ کو توریت پر اور حضور ﷺ کو قرآن مجید پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)
قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں (نعوذ باللہ)
- ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے، ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر اُن پر لعنت بھیجتا ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 26 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 115 از مرزا قادیانی)
- ”ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے۔ ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کیے ہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
تذکرہ
”تذکرہ“ مرزا غلام احمد قادیانی پر اترنے والی خود ساختہ وحیوں اور الہامات کا مجموعہ ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک اس کی حیثیت نعوذ باللہ قرآن مجید جیسی ہے، کیونکہ قادیانیوں
کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام وحیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں (نعوذ باللہ)! قرآن مجید کے بہت سے نام ہیں جن میں ایک نام ”تذکرہ“ بھی ہے۔ قادیانیوں نے دجل و تلبیس سے کام لیتے ہوئے اس کا نام ”تذکرہ“ رکھا۔
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحیاں اور الہام قرآن مجید کا درجہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان وحیوں اور الہامات کی تلاوت ہر قادیانی پر فرض ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر ایم اے ”تذکرہ کے بارے میں جماعت (احمدیہ) کو پیغام“ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے:
”آپ کو علم ہوگا کہ جہاں حضرت امیر المومنین (مرزا بشیر الدین محمود) نے تین سال گزرے جلسہ سالانہ پر احباب جماعت کو ان کے تزکیہ نفس کے لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات کے مجموعہ (تذکرہ) کی بالالتزام تلاوت کرنے کی تاکید فرمائی تھی اور اس سے جو فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں، ان کا ذکر فرمایا تھا۔“
(مضامین بشیر صفحہ 214 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
سیرت المہدی
”سیرت المہدی“ مرزا بشیر احمد ایم اے کی بدنام زمانہ تصنیف ہے۔ مرزا بشیر احمد، مرزا قادیانی کا منجھلا بیٹا ہے جسے مرزا نے ”قمر الانبیا“ قرار دیا تھا۔ اس کتاب میں مرزا بشیر احمد نے اپنے باپ مرزا قادیانی کے تمام حالات زندگی اور ذاتی کردار تفصیلاً بیان کیا ہے۔ اس لیے اس کی تمام روایات قادیانیوں کے نزدیک مستند ہیں جن سے وہ انکار نہیں کرسکتے۔ قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) یہ حدیث اور سنت کی کتاب ہے، کیونکہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی عمل کیا ہے، قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) حدیث وسنت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس طرح ہماری حدیث کی کتابوں (بخاری ومسلم وغیرہ) میں ہر حدیث مبارکہ کے شروع میں درج ہوتا ہے، مثلاً: ”روایت کیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں.......“
اس کی نقل اتارتے ہوئے مرزا بشیر احمد نے اس کتاب میں درج تمام روایات کے شروع میں لکھا: مثلاً، روایت کیا ہے ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) نے کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں........... (نعوذ باللہ)!
قادیانی روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ 14 ستمبر 1929ء کے مطابق اس
کتاب میں کافی چھان بین اور غور وخوض کے بعد مرزا قادیانی کے خصائص و شمائل و سیرت کے متعلق نہایت ثقہ روایات درج کی گئی ہیں۔ 19 فروری 1924ء کے ”الفضل“ کے مطابق ”ہر روایت کتب حدیث کی طرز پر بیان کی گئی ہے۔ ہر روایت پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حدیث کی کتاب پڑھی جا رہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔“
خدا کی زمین پر اس سے بڑی توہین اور کیا ہوگی!
احادیث رسول ﷺ کی توہین
”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
حرمین شریفین کی توہین
امت مسلمہ اس حقیقت کو بہ دل و جان تسلیم کرتی ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ) کائنات ارضی کے سب سے محترم، مبارک اور مقدس مقامات ہیں۔ رب العزت کی تجلیات کا مرکز ارض حرم ہے تو اس کی رحمتوں کے نزول کی جگہ ارض مدینہ ہے۔ حدود حرم میں ایک نماز ادا کرنے پر ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ جبکہ مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گا جو مدینہ میں مرے گا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میں اس کا گواہ بنوں گا۔“ (ترمذی، ابن ماجہ)
حج بیت اللہ اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے جو عشق وجنون کا سفر ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کے بندے اپنی نیاز مندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے امتیوں کے لیے ارض مدینہ کی زیارت بھی گویا اس مبارک سفر کا ایک حصہ ہے۔ لیکن دیکھیں کہ مرزا قادیانی جیسے شاطر، فریبی اور یہود ونصاریٰ کے ایجنٹ نے کس
طرح ان پاک شہروں کی توہین کی۔ اپنی جنم بھومی قادیان کا ان سے کس طرح جوڑ جوڑا بلکہ اسے قرآن میں مندرج قرار دے کر اسے مکہ و مدینہ سے بھی بہتر وافضل قرار دیا اور قادیان ہی کی زیارت کو حج سے تعبیر کر کے بیت اللہ اور مناسک حج کی شرمناک توہین کی۔
قرآن شریف میں تین شہروں کے نام
”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام (حاشیہ) حصہ اول صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
مسجد اقصیٰ کی توہین
- ”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت
براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا، قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ “
(خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)
- ”والمسجد الاقصے المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان“
مسجد اقصیٰ سے مراد وہ مسجد ہے جسے قادیان میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بنایا۔
(خطبہ الہامیہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 25 از مرزا قادیانی)
- ”معراج میں جو حضور نبی رحمت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما
ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22 از مرزا قادیانی)
- قادیان کی مسجد کے بارے میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 82، 426 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
یہ قرآن مجید کی آیت ہے (آل عمران:97) جو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو اس میں داخل ہو گیا، اسے امن مل گیا۔
قادیان کی فضیلت
- ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان میں
آنا۔ناقل) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر، کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 352 از مرزا قادیانی)
- ”زمین قادیاں اب محترم ہے
(درثمین صفحہ 52 از مرزا قادیانی)
مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ
”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“
(حقیقۃ الرؤیاء صفحہ 46 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
حضرات اولیاء عظامؒ و علماء کرامؒ کی توہین
حضرات اولیاء عظام اور علماء کرام، اللہ تعالیٰ کی انسانی مخلوق کا نہایت بیش قیمت حصہ ہے۔ ایسا حصہ جسے اللہ رب العزت نے خود اپنا دوست قرار دیا۔ انہیں ایمان و تقویٰ کا
علمبردار بتلایا اور واضح فرمایا کہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کی بشارتیں ان کے لیے ہیں۔ اہل علم کے لیے قرآن وسنت میں جابجا تعریف آمیز کلمات ہیں اور کیوں نہ ہو کہ علم نور ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس سے کسی کو حصہ ملنا بڑی ہی سعادت ہے۔ علماء کرام کی توہین وتذلیل کو حضور نبی کریم ﷺ نے بدترین جرم قرار دیا اور ایسے لوگوں کے متعلق واضح کیا کہ ان لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن صد ہزار حیف مرزا قادیانی مردود پر کہ اس نے قریب العہد اور قریب العصر نامور علماء وصلحاء کا نام لے لے کر انہیں مغلظات سنائیں اور برا بھلا کہا۔ بھلا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے کوئی منہ لگائے۔ حیرت ہے ان لوگوں پر جو اس کمینے شخص کو نبی بنا کر بیٹھے ہیں۔
پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت
’’مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 92 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی، خاتم الاولیاء
’’اور وہ خاتم الانبیا ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی)
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی توہین
’’سلطان عبدالقادر، اس الہام میں میرا نام سلطان عبدالقادر رکھا گیا کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے، اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباریوں پر افسری عطا کی گئی ہے۔ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں۔ اور میری اطاعت کا جوآ اپنی گردن پر نہ اٹھائیں۔ یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ قدمی ھذه علی رقبة کل ولی الله یہ فقرہ سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کے معنی ہیں کہ ہر ایک ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 599 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
’’حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادرؒ صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ
نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرے کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر قد ناپیں۔ پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔“
(سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 16 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی توہین
پاسبان ختم نبوت، تاجدار گولڑہ شریف حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد کے رد میں ایک معرکۃ الآراء کتاب ”سیف چشتیائی“ لکھی اور اسے مرزا قادیانی کو بھجوایا۔ مرزا قادیانی اسے پڑھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور اول فول بکنے لگا۔ اس نے کہا:
”مجھے ایک کتاب کذاب (حضرت پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین، تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ذہنی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ قادیانی عقائد کے مخالفانہ کتاب ملنے پر اس نے نہ صرف مصنف کو برا بھلا کہا بلکہ اس پورے علاقے اور اس کے مکینوں کو بھی ملعون قرار دے ڈالا۔ جبکہ قادیانی جماعت کا نعرہ ہے: محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں۔
علماء کرام کی توہین
- مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو
”عورتوں کی عار کہا۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی)
- اہل حدیث راہنما مولانا محمد حسین بٹالوی کے متعلق لکھا:
”کذاب، متکبر، سربراہ گمراہان، جاہل، شیخ احمقان، عقل کا دشمن، بد بخت، طالع، منحوس، لاف زن، شیطان، گمراہ شیخ مفتری۔“
(انجام آتھم صفحہ 241، 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241، 242، 243 از مرزا قادیانی)
- مولانا رشید احمد گنگوہی کے متعلق لکھا ہے:
”اندھا شیطان، گمراہ دیو، شقی، ملعون“
(انجام آتھم صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
- مولانا سعد اللہ کے بارے میں لکھا:
”اور لئیموں میں ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے۔ سفیہوں کا نطفہ، بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا، منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 445 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
مسلمانوں کو گندی گالیاں اور کفر کا فتویٰ
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔ جس طرح آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس طرح آپ ﷺ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی امت کو ”خیر امۃ“ قرار دیا۔ اس امت کی فضیلت ملاحظہ کیجیے کہ بڑے بڑے انبیا و رسل نے اس امت میں شامل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور وہ قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان کی حیثیت نبی کی نہیں بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتی کی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیگر مسلمانوں کی طرح آپ ﷺ کی تعلیمات کی اتباع کریں گے۔
امت مسلمہ کا ہر فرد اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی امت میں سے ہے۔ آپ ﷺ کی سچی اطاعت اور اتباع سے دنیا و آخرت میں کامیابی ہے۔ اس کے برعکس جھوٹا مدعی نبوت مرزا قادیانی اپنی اطاعت اور فرماں برداری کو ہر شخص پر لازم قرار دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے نہ جنت مل سکتی ہے نہ جہنم سے نجات بلکہ جو شخص اسے نبی نہیں مانتا، وہ کافر، جہنمی، عیسائی، یہودی، مشرک، کنجریوں کی اولاد، خنزیر اور ولد الحرام ہے۔ آئیے! امت مسلمہ کے بارے میں مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ کیجیے۔
ولد الحرام
”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا
شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘
(انوار اسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
عیسائی، یہودی، مشرک
’’جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘
(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
کنجریوں کی اولاد
’’تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبة والمودة وینفع من معارفھا ویقبلنی و یصدق دعوتی. الا ذریة البغایا.‘‘
ترجمہ ’’یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان، محبت ومودت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
’’اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے ۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں الا ذریة البغایا. عربی کا لفظ البغایا جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا بغیة ہے جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے ...... خود مرزا قادیانی نے خطبہ الہامیہ صفحہ 49 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 16) میں لفظ بغایا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے ...... اور ایسے ہی انجام آتھم کے صفحہ 282 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 ص 282)...... نور الحق حصہ اول صفحہ 123 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163) میں لفظ بغایا کا ترجمہ نسل بدکاران، زنا کار، زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔
مسلمان مرد خنزیر، ان کی عورتیں کتیاں
’’دشمن ہمارے بیانوں کے خنزیر ہوگئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو نہ ماننے والا پکا کافر
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور
دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا انکار کفر
- ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا
چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعودؒ نے الذین کفروا غیر احمدی مسلمانوں
کو قرار دیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
خواہ نام بھی نہیں سنا
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 ص 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
جہنمی
- ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا
مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مسلمانوں سے نفرت اور معاشرتی بائیکاٹ
مرزائیوں کا عجب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں اپنا حصہ سمجھا جائے، انہیں برابر کے حقوق ملیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں۔ اس کو آپ حقیقت کا نام دیں گے یا منافقت کا کہ ان کی یہ جملہ خواہشیں اور جملہ تقاضے ان کے گرو اور ان کے پسماندگان کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ قادیانی تعلیمات میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک نہ پڑھیں۔ مرزا قادیانی کے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے پیروؤں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت بنانے میں کسی درجہ ساعی و کوشاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اس کی ”ذریۃ البغایا“ کی تعلیمات یہ ہیں تو پھر وہ مسلمانوں سے باہمی روابط کا کیوں مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں؟ ان دوغلے اور منافقانہ رول کا اندازہ کرنے کے لیے درج ذیل تحریرات سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ کیجیے:
مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف
- ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیاتِ مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔“
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا
اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
- ❑ ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام
اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد پنجم نمبر 15 ص 8)
- ❑ اسی شوق اختلاف میں قادیانی قیادت نے اسلامی تقویم کے مقابلہ میں قادیانی
تقویم پیش کی جو مندرجہ ذیل ہے۔
اسلامی تقویم: محرم۔ صفر۔ ربیع الاول۔ ربیع الثانی۔ جمادی الاول۔ جمادی الثانی۔ رجب۔ شعبان۔ رمضان۔ شوال۔ ذیقعد۔ ذوالحج
قادیانی تقویم: شہادت۔ ہجرت۔ احسان۔ وفا۔ ظہور۔ تبوک۔ اخاء۔ احسان۔ فتح۔ صلح۔ امان۔ تبلیغ
مسلمانوں سے تعلقات حرام
’’ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمؐ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام
”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 318 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مسلمانوں کے پیچھے نماز؟؟
”کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے؟ حضرت نے فرمایا: ”جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے، رد کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں، اس سے لا پرواہ پڑے ہیں، ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔ انما یتقبل اللہ من المتقین (المائدہ:28) خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔ اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 449 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی حکمت
”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر (مسلمانوں) کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے، وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ ہو، تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 525 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مسلمانوں کی نماز جنازہ
”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں
کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“
(انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوار العلوم، جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود)
مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے اور
انہیں قادیانی لڑکیوں کا رشتہ نہ دینے کے متعلق احکامات
- چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تمہیں میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کا ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“
دوسری ہدایت جو آپ نے اپنی جماعت کے لیے جاری فرمائی، وہ احمدیوں کے رشتہ ناطہ کے متعلق تھی۔ اس وقت تک جیسا کہ احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں کی نماز مشترک تھی یعنی احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے، اسی طرح باہمی رشتہ ناطہ کی بھی اجازت تھی یعنی احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی تھیں مگر 1898ء میں حضرت مسیح موعود نے اس کی بھی ممانعت فرما دی اور آئندہ کے لیے ارشاد فرمایا کہ کوئی احمدی لڑکی، غیر احمدی مرد کے ساتھ نہ بیاہی جائے۔ یہ اس حکم کی ایک ابتدائی صورت تھی جس کے بعد اس میں مزید وضاحت ہوتی گئی اور اس حکم میں حکمت یہ تھی کہ طبعاً اور قانوناً ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت پر انتظامی لحاظ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے پس اگر ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ بیاہی جائے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہو سکتا ہے کہ مرد، عورت کے دین کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا اور خواہ اسے، اس میں کامیابی نہ ہو لیکن بہر حال یہ ایک خطرہ کا پہلو ہے جس سے احمدی لڑکیوں کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ اولاد عموماً باپ کی تابع ہوتی ہے اس لیے اس قسم کے رشتوں کی اجازت دینے کے یہ معنی بھی بنتے ہیں کہ ایک
احمدی لڑکی کو اس غرض سے غیر احمدیوں کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ غیر احمدی اولاد پیدا کریں۔ اس قسم کی وجوہات کی بنا پر آپ نے آئندہ کے لیے یہ ہدایت جاری فرمائی کہ گو حسب ضرورت غیر احمدی لڑکی کا رشتہ لیا جاسکتا ہے مگر کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ نہ بیاہی جائے بلکہ احمدیوں کے رشتے صرف آپس میں ہوں۔“
(سلسلہ احمدیہ صفحہ 84، 85 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ
پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود)
مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا
”آپ (مرزا قادیانی) کا ایک بیٹا فوت ہوگیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا، جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے، آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی۔ بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آگیا، جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رورہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے، اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
(انوار خلافت صفحہ 91 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 149 از مرزا بشیر الدین محمود)
مرزا قادیانی کا بیٹا فضل احمد سمجھتا تھا کہ اس کے والد نے نبوت کا دعویٰ کر کے امت مسلمہ سے غداری کی ہے، اس لیے اس نے اپنے باپ کے ”دعوئی نبوت“ کو کبھی تسلیم نہیں کیا جس کی بناء پر مرزا قادیانی نے اپنے فرماں بردار بیٹے کا نماز جنازہ نہ پڑھا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو غیر مسلم سمجھتا تھا۔
مسلمانوں کو لڑکی دینا
”ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریاں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول (حکیم نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کردیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوار خلافت صفحہ 93، 94 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 151 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
پیارے مسلمان بھائیو!
آج کل قادیانی پوری قوت کے ساتھ ختم نبوت پر حملہ آور ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بے شمار گستاخیوں پرمشتمل لٹریچر باقاعدگی کے ساتھ شائع ہورہا ہے، اور پوری آزادی کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم ہورہا ہے۔ قادیانی اپنی مذموم کارروائیوں کے ساتھ ملت اسلامیہ کو ختم اور شمع اسلام کو بجھانا چاہتے ہیں...... جبکہ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں...... خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں...... سوچیے! شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ہم کب بیدار ہوں گے؟ اسلام کی غیرت اور لاج کے لیے کب متحرک ہوں گے؟ عقیدۂ ختم نبوت پر پے در پے حملوں سے بچاؤ کے لیے کب میدان کارزار میں اتریں گے؟ نبی کریم ﷺ، صحابہؓ کرام اور اہل بیت عظام کی بے حرمتی اور ان کی عزتوں کو پامال کرنے والے بدبختوں کے خلاف کب ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے؟ یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہورہی ہو، وہاں ختم نبوت کی حفاظت کرنا آپ کا فرض عین ہے، اس سے ذرا سا بھی اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
تحفظ ختم نبوت اور جنت الفردوس لازم وملزوم ہے۔ اس حقیقت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا ہر شخص جنتی ہے۔ دلیل اس کی یہ
ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار جہنم میں ہوں گے اور فرض کریں کہ وہاں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا کوئی شخص بھی موجود ہو تو مرزا قادیانی اس شخص کو طعنہ دے گا کہ ”میں تو جھوٹے دعویٰ نبوت کے جرم میں یہاں آیا ہوں۔ تم دنیا میں میرے دعویٰ کی تکذیب اور سرکوبی میں پیش پیش تھے ، تمھیں کیا ملا؟ میں دعویٰ نبوت کے جرم میں جہنمی اور تم تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے پر جہنمی ، تو پھر فرق کیا ہوا؟“ خدا کی قسم ! ایسا ممکن ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم ﷺ کو یہ گوارا ہی نہیں کہ کوئی شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرے اور وہ جہنم میں جائے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے ایک ارشاد پاک کا مفہوم ہے ”اگر کسی نے ہم پر کوئی احسان کیا ہے تو ہم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے سوائے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے کہ ان کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ دے گا۔“ یہ قاعدہ وقانون اب بھی موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ السلام اس کے اس فعل سے نہ صرف بے حد خوش ہوتے ہیں بلکہ آپ ﷺ ، اس شخص کے اس احسان کا بدلہ قیامت کے دن اپنی شفاعت کے ذریعے ادا فرمائیں گے...... ایک گنہگار امتی کو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام چاہیے ! آئیے تحفظ ختم نبوت کی روشنی کو پھیلائیے....... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے۔
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
قادیانی غیر مسلم ...... پارلیمنٹ کا تاریخ ساز فیصلہ
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدۂ ختمِ نبوت“ کہلاتا ہے۔ ختمِ نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دینِ اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سی بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاعِ ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیانِ نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ تاویلات اور جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر دینِ اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ منکرینِ ختمِ نبوت اپنی شپرہ چشمی کو آفتاب، کج فہمی کو دلیل، بکائن کو انگور، زہر کو امرت، ظلمت کو اُجالا اور پیتل کو زرِ خالص تسلیم کروانے پر مُصر رہے مگر امتِ مسلمہ نے دینِ اسلام میں ذرا سی بھی تبدیلی، تحریف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا۔ بلکہ ہر قسم کے مشکل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دل و جان سے عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کی اور منکرینِ ختمِ نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کیا۔ منکرینِ ختمِ نبوت ٹانک وائن کی بدمستی میں ختمِ نبوت کا چراغ پھونکوں سے بجھانے کی ناپاک سازشیں کرتے رہے مگر نورِ ایمان کے حامل مجاہدینِ ختمِ نبوت نے جھوٹے مدعیانِ نبوت اور ان کے پیروکاروں کے خلاف ناقابل فراموش سرفروشی اور جانثاری کے ایسے ایمان پرور مناظر پیش کیے جس سے نہ صرف حق کا سر بلند ہوا بلکہ منکرینِ ختمِ
نبوت کو ان کے مکروہ عزائم سمیت ملیا میٹ کر دیا۔
موجودہ دور میں منکرین ختم نبوت کا گروہ فتنہ قادیانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس فتنہ کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریزوں کے اشارے پر قادیان (گورداسپور، بھارت) میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر سلطنت برطانیہ کی سرپرستی میں اپنی بھونڈی تاویلات اور تحریفات کے ذریعے امت محمدیہ کے مستحکم قلعہ میں شگاف ڈالنے اور ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازشیں کیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ حضور نبی کریم ﷺ اور شعائر اسلامی کی توہین بھی شروع کر دی۔ اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف قادیانیوں کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی جانے والی بعض گستاخیاں ایسی ہیں جنھیں پڑھ کر کلیجا منہ کو آتا اور آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ ربوہ کے قادیانی قبرستان میں ہر قبر پر لکھا ہوا ہے کہ یہ مردہ اور اس کی ہڈیاں یہاں امانتاً دفن ہیں، حالات سازگار ہونے پر اکھنڈ بھارت کے قیام اور پاکستان کے انہدام کے بعد انھیں قادیان (بھارت) منتقل کیا جائے گا...... (نعوذ باللہ) جہاں علی الاعلان آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے...... تحریف شدہ قرآن مجید شائع کر کے پوری دنیا میں پھیلائے جاتے ہیں...... مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کو ”ام المومنین“ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ (نعوذ باللہ)...... ربوہ...... جہاں کوئی غیر قادیانی (مسلمان) حتیٰ کہ صدر مملکت بھی مطلق العنان ”خلیفہ“ کی اجازت حاصل کیے بغیر داخل نہ ہو سکتا تھا...... جہاں ”ریاست اندر ریاست“ قائم تھی، جس کا اپنا ایک سیاسی نظام ہے، جن کے اپنے اسٹام پیپرز، بینک، دارالقضاۃ (عدالتیں)، کیلنڈر (مہینوں کے نام وغیرہ) ہیں۔ جہاں خلافت کے نام پر ایک آمرانہ نظام وضع کیا گیا ہے، جس کی چیرہ دستیوں سے حق کا متلاشی کوئی قادیانی محفوظ نہ ہے۔...... ”مربیان“ کی اکثریت پیٹ کی مجبوریوں کی وجہ سے ذلت اور خواری پر مجبور ہے، جہاں مذہب کے نام پر تجارت ہوتی ہے...... جہاں جنت اور دوزخ کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے، ربوہ جسے ”ویٹیکن سٹی“ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی، جہاں سے ان کا اپنے مرکز حیفہ (اسرائیل) سے براہ راست رابطہ برقرار رہتا ہے، جہاں ریٹائرڈ قادیانی فوجی افسروں پر مشتمل ”فرقان فورس“ اور ”خدام الاحمدیہ“ ایسی تربیت یافتہ تنظیمیں پاکستان دشمن طاقتوں کے ایماء پر ملکی امن و امان غارت کرنے کے لیے ہر وقت تخریبی سازشوں کے جال بنتی رہتی
ہیں...... جہاں خلیفہ سے معمولی اختلاف کرنے والے ”گستاخ“ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے جہاں 1967ء میں سقوط بیت المقدس‘ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ‘ 1974ء میں شاہ فیصل کی شہادت‘ 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت‘ 1988ء میں جنرل ضیاء الحق اور پاک افواج کے دیگر اعلیٰ افسران کی اجتماعی شہادت‘ 1998ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں اور دسمبر 2001ء میں افغانستان پر امریکی قبضہ کی خوشی میں تمام قادیانیوں نے جشن منایا۔ جہاں قادیانی جلسوں میں (نعوذ باللہ) ”احمدیت زندہ باد“...... ”محمدیت مردہ باد“...... ”مرزا قادیانی کی جے“...... کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ جہاں پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری نے جہازوں کی ایک ٹولی کی قیادت کرتے ہوئے 1973ء میں قادیانی جلسہ میں اپنے ”خلیفہ“ مرزا ناصر کو سلامی دی تھی‘ اس موقع پر قادیانی خلیفہ نے اپنے پیروکاروں کو خوشخبری دی کہ ”پھل پک چکا ہے...... جلد ہی ہماری جھولی میں گرنے والا ہے“...... علی ہٰذا القیاس ربوہ میں اس اسلام اور پاکستان کے خلاف بہت زیادہ سازشیں تیار ہوتی ہیں۔
29 مئی 1974ء کو ربوہ (حال چناب نگر) میں جو سانحہ پیش آیا، اس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملک کے طول و عرض میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا عوامی مطالبہ گونجنے لگا۔ 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی قرارداد پیش کی جس پر مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، چوہدری ظہور الٰہی، شیر باز خان مزاری، مولانا محمد ظفر احمد انصاری، مولانا نعمت اللہ، سردار شوکت حیات، علی احمد تالپور اور رئیس عطاء محمد خاں مری سمیت چالیس کے قریب ممبران اسمبلی نے دستخط کیے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ قادیان کے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ قرآنی آیات کا تمسخر اڑایا۔ جہاد کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا ہے۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لہٰذا اسمبلی مرزا قادیانی کے پیروکار قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر آئین پاکستان میں ضروری ترمیم کرے۔
5 اگست 1974ء کو صبح دس بجے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں کی صدارت میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ جس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، وزیر قانون
عبدالحفیظ پیرزادہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سمیت پوری کابینہ نے شرکت کی۔ تلاوتِ قرآن مجید کے بعد قادیانی جماعت کے وفد کو جس کی سربراہی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کر رہا تھا، بلایا گیا۔ اسمبلی میں طے پایا گیا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی براہِ راست مرزا ناصر سے سوال نہ کرے بلکہ وہ اپنا سوال لکھ کر اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو دے دے جو خود مرزا ناصر سے اس بارے میں دریافت کریں گے۔ دنیا کی تاریخ میں جمہوری نظام حکومت کا یہ واحد واقعہ ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے قادیانی مذہب کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کے سربراہوں کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے بلایا گیا۔ تعارفی کلمات کے بعد اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے قادیانی عقائد پر بحث شروع کی تو مرزا ناصر نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طور پر آزادیٔ اظہار حاصل ہے۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک شخص خود کو مسلمان بھی کہتا ہے اور اسلام کے بنیادی ارکان اور قرآن مجید کی متعدد آیات کا بھی منکر ہے تو کیا اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ اس پر مرزا ناصر مختصر خاموشی کے بعد بولا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی قرار دیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہم کسی کو کافر قرار نہیں دیتے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے مرزا ناصر کو اس کے دادا (آنجہانی مرزا قادیانی) اس کے والد (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود) اور اس کے چچا (مرزا بشیر احمد ایم اے) کی مندرجہ ذیل تحریریں پڑھ کر سنائیں ۔
- ”اور (جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام
بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوارِ اسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- ”جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“
(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
- ”تلك کتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينفع من
معارفها ويقبلنى و يصدق دعوتى. الا ذرية البغايا.“
ترجمہ ”یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان، محبت وموّدت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر
وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
- ان العدا صاروا خنازیر الفلا و نساء ہم من دونہن الاکلب
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ
کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا
چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوارالعلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
- ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا
مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
ان حوالہ جات پر مرزا ناصر نہایت شرمندہ ہوا۔ پھر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ جب آپ کا نبی الگ، قرآن الگ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ الگ ہے تو پھر
آپ خود کو مسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر بضد کیوں ہیں؟ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ ہماری کوئی چیز الگ نہیں ہے، ہم مسلمانوں کا ہی ایک حصہ ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے مندرجہ ذیل حوالے پڑھ کر سنائے تو مرزا ناصر بے حد پریشان ہوا۔
- ’’کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔‘‘
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
- ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام
اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد پنجم نمبر 15 ص 8)
ایک موقع پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس مرزا قادیانی کی تمام کتب موجود ہیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہاں! ہمارے پاس مرزا صاحب کی تمام کتب موجود ہیں۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ ان کی تعداد کیا ہے؟ مرزا ناصر نے کہا کہ 80 کے قریب ہیں۔ یحییٰ بختیار نے کہا کہ آپ نے ان 80 کتب کو روحانی
خزائن کے نام سے شائع کیا۔ اس کے علاوہ ملفوظات دس جلدوں میں، مجموعہ اشتہارات تین جلدوں میں اور مکتوبات وغیرہ تین جلدوں میں شائع کیے۔ یہ ساری کتب ایک الماری کے دو شیلفوں میں آسکتی ہیں۔ مگر آپ کے مرزا صاحب نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا ہے:
- ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور
میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)
اٹارنی جنرل نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ باقی کتب کہاں اور ان کے نام کیا ہیں؟ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ اتنی تعداد میں شائع ہوئیں کہ 50 الماریاں بھر جائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپ صرف ایک کتاب کو ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کر دیں تو اس سے سینکڑوں الماریاں بھر جائیں گی۔ مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ 50 الماریاں بھر جائیں۔ اس پر مرزا ناصر کو کوئی جواب نہ آیا۔
ایک اور موقع پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ آپ مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب کو مہدی اور مسیح موعود مانتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ اس کے علاوہ آپ مرزا صاحب کو کیا مانتے ہیں؟ مرزا ناصر نے کہا کہ کچھ نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں صراحتاً دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ اور آپ جب کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ نہیں مانتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا آپ مرزا قادیانی کے دعویٰ محمد رسول اللہ کو جھوٹا مانتے ہیں؟ اس پر مرزا ناصر خاموش ہو گیا۔ پھر اٹارنی جنرل نے مندرجہ ذیل اقتباسات پیش کیے۔
- ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول الله
والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام
نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفےٰ ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمدؐ کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 216 از مرزا قادیانی)
- ”میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ
ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
- کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد
ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم
ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و ما رأیٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”اے محمدی ﷺ سلسلہ کے برگزیدہ مسیح تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور لاکھ لاکھ
سلام ہو۔“ (سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
- ”اللھم صلی علی محمد و علی عبدک المسیح الموعود.“
ترجمہ : اے اللہ محمد ﷺ اور اپنے بندے مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر درود و سلام بھیج۔
(روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2)
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(روزنامہ بدر قادیان، 25 اکتوبر 1906ء از مرزا قادیانی)
جب اٹارنی جنرل نے مرزا قادیانی کی کتب سے مذکورہ بالا حوالہ جات پیش کیے تو ممبران اسمبلی غم وغصہ میں ڈوب گئے۔ بہرحال 13 روز کی طویل بحث اور جرح کے بعد مرزا ناصر نے نہ صرف اپنے تمام کفریہ عقائد ونظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ لایعنی تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ 5 اور 6 ستمبر کو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے 13 روز کی بحث کو سمیٹتے ہوئے اراکین اسمبلی کو مفصل بریفنگ دی۔ ان کا بیان اس قدر مدلل، جامع اور ایمان افروز تھا کہ کئی آزاد خیال اور سیکولر ممبران اسمبلی بھی قادیانیوں کے عقائد وعزائم سن کر پریشان ہو گئے۔ چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو شام 4 بج کر 35 منٹ پر پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (3)160 اور (3)260 میں اس کا مستقل اندراج کر دیا۔
ایک موقع پر قومی اسمبلی میں یہ حیران کن منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ جب قادیانی خلیفہ مرزا ناصر اپنے کفریہ عقائد کے دفاع میں دلائل دے رہا تھا کہ اچانک ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا اور مرزا ناصر پر بیٹ کر دی جس سے وہ نہایت سٹپٹایا اور بڑبڑاتا ہوا تھوڑی دیر کے لیے اسمبلی سے باہر چلا گیا۔ جس نے بھی یہ منظر دیکھا، وہ ششدر رہ گیا کہ جدید عمارت کے بند کمرے میں اچانک پرندہ کہاں سے آ گیا؟ اور پھر پرندے کا صرف مرزا ناصر کو ٹارگٹ کرنا بھی باعث تعجب تھا۔
قادیانی 1974ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی اب اوپن ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس خبر سے قادیانیوں کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ”قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔“ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کر لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنا دی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہو گی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔
میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہوگئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔‘‘ (انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ”ماہنامہ آتش فشاں“ لاہور، مئی 1994ء) سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن، جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا، قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد وعزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا، بلکہ اعتراف جرم کروایا، وہ انہی کا حصہ ہے جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔ لیکن اس کے برعکس قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آؤٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس نہ صرف تمام ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پوری ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری سے بڑی خوشی سے قومی اسمبلی گیا۔ اس کے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا انداز بڑا فاتحانہ، متکبرانہ اور تمسخرانہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں تاویلات اور شکوک وشبہات کے ذریعے اسمبلی کو قائل کر لوں گا، مگر بری طرح ناکام رہا۔ قادیانی قیادت نے قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں 180 صفحات پر مشتمل کتاب ”محضر نامہ“ تقسیم کی جس میں اپنے عقائد کی بھرپور ترجمانی کی۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر ”دعا“ کے عنوان سے لکھا ہے: ”دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق وصداقت پر مبنی ان فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن وسنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔“ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانیوں کی دعا قبول ہوئی تو وہ قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو وہ جھوٹے ہیں۔
قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو ان کیمرہ، خفیہ کیوں رکھا گیا۔ یہ کارروائی اخبارات میں روزانہ کیوں شائع نہ ہوئی؟ اس سوال کا جواب قومی اسمبلی کے اس وقت کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا:
”بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر
منظر عام پر آئیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنماؤں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطۂ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے، مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ نازک اور حساس ہے۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے، لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورتحال سے بچنے کے لیے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے، اس کو زبان وقلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔‘‘ (قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری صاحب کا انٹرویو، روزنامہ ’جنگ‘ جمعہ میگزین 3 تا 9 ستمبر 1982ء)
قادیانی کہتے ہیں یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ قادیانیوں کی یہ بات لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد ونظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 13 دن کی طویل بحث وتمحیص کے بعد آئین میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا لیکن قادیانیوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں سرکاری مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص یا جماعت کو غیر مسلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قادیانیوں کا یہ اعتراض جاہلیت اور حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ آخر تمام دنیا ایمان کی دولت سے آراستہ تو نہیں ہے۔ کسی نہ کسی کو تو غیر مسلم کہنا پڑے گا۔ عیسائی، یہودی، پارسی، سکھ، ہندو، آخر غیر مسلم ہی تو ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے عقائد کی بنا پر مسلمانوں سے الگ امت ہیں اگر مذکورہ بالا بات تسلیم کر لی جائے تو دنیا میں کوئی بھی غیر مسلم نہ ہو۔
قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انھیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟ کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟ حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لیے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں، انھیں شریعت کا کیا علم؟ اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طور پر آزادی اظہار ہے۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں نئے حالات کے مطابق تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس میں سے کئی آیات خارج کر دی گئی ہیں اور کئی آیات شامل کر دی گئی ہیں اور پھر وہ اس نئے قرآن کی تبلیغ و تشہیر بھی کرے تو کیا اس شخص پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں؟ اگر وہ یہ کہے کہ مجھے آئین کے تحت آزادی اظہار ہے تو کیا اسے یہ اجازت دینی چاہیے؟ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہر شخص کو کاروبار کی مکمل آزادی ہے مگر ہیروئن اور منشیات وغیرہ فروخت کرنا سختی سے منع ہے۔ کیا یہ آزادی پر پابندی ہے؟ آزادی چند حدود و قیود کے تابع ہوا کرتی ہے۔ آپ اپنا ہاتھ ہلانے میں آزاد ہیں، جب اور جس طرح چاہیں، اسے ہلا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے ہاتھ ہلانے سے کسی دوسرے کا چہرہ زخمی ہوتا ہے تو پھر اس کی آزادی کہاں گئی؟ لہٰذا آزادی ایک حد تک ہے۔ آزادی بے لگام یا شتر بے مہار ہو جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔
ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ سرعام اور مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے مسلمانوں کے پُر زور مطالبہ پر امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور
298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا اور شعائر اسلامی وغیرہ استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھر پور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ (ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا: ”یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی
حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے اسے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا قادیانی اور اس کے خلیفوں) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ (قادیانیت) دھوکا دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پا سکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں، انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ ............. ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا قادیانی نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو
نہ رکھ سکے؟..........ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہوسکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرمؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہوسکتا ہے۔“ .............”ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُر امن طور پر مناتے ہیں ۔“ (ظہیر الدین بنام سرکار 1993ء SCMR 1718)
افسوس ہے کہ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے تا کہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔
۞.......۞.......۞
قادیانیت...... اعلیٰ عدالتیں کیا کہتی ہیں؟
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی ولاہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (3) 160 اور (3) 260 میں اس کا مستقل اندراج کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر اور شعائر اسلامی وغیرہ استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہو گا۔ قادیانیوں نے لندن میں بیٹھے اپنے خلیفہ کے حکم پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھر پور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے
چاہئیں ۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے ۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ (ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔
قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جہاں انکی رٹ درخواست خارج کرتے ہوئے جج صاحبان نے متفقہ طور پر اس آرڈیننس کو درست قرار دیا اور قادیانیوں کے بارے میں دو سو صفحات سے زائد اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا:
- ❑ ”قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں ۔ اس بات کو خود ان کا اپنا طرز عمل خوب واضح
کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں ۔ وہ ایک الگ امت ہیں ۔ یہ تناقض ہے کہ انھوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انھیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہو سکتے ۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بنا پر حل نہ ہو سکا‘ لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں اور اس لیے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے ............ قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین یہ کشمکش اور قطعی علیحدگی خود مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی تحریروں کا نتیجہ ہے ............ کلمۃ الفصل میں کہا گیا ہے:
’’ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
آئینہ صداقت میں مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کی ایک مزعومہ وحی کا ذکر کرتا ہے کہ ’’جو شخص مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا خیال کرے گا، وہ خدا کے دربار میں مردود ٹھہرے گا۔‘‘ پھر وہ قادیانیوں پر زور دیتا ہے کہ ’’وہ اپنے امتیازی نشانات کو نہ چھوڑیں کہ وہ ایک سچے نبی (مرزا قادیانی) کو مانتے ہیں اور ان کے مخالف اسے نہیں مانتے۔‘‘.................. ......برطانوی سامراج اور استعمار کی حکومت سے مرزا صاحب کی محبت اور وفاداری ایک بدیہی امر ہے۔ انہوں نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں کئی صفحات انگریز سرکار کی تعریف وتوصیف کے لیے مخصوص کیے ہیں ان کے جانشینوں کا طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے۔ ذیل میں ایسی تحریروں کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔................ ’’سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381 از مرزا قادیانی)
کتاب البریہ کے صفحہ 8 اور 9 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 8، 9 پر ان کتابوں کے نام، تاریخ طباعت اور صفحات کے نمبر درج کیے گئے ہیں، جن میں مرزا صاحب نے برطانوی حکومت کی مدح وستائش کی۔ انہوں نے اپنی 24 کتابوں اور رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں
سرکار برطانیہ کی تعریف و توصیف کے پل باندھے ہیں۔ ان کی وفات سے کم از کم گیارہ سال قبل ایسے صفحات کی تعداد کئی درجنوں تک پہنچتی ہے۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دِیں کا امام ہے
دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)
”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(کتاب البریہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)
(PLD 1985 FSC 8)
سپریم کورٹ کے فل بنچ نے قادیانیوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:
- □ ”اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمدیوں کے نام سے معروف
ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری، پارلیمانی نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران احمدیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرارداد میں (جس کے محرکین میں دوسروں کے علاوہ وہ واحد رکن بھی شامل تھا، جس نے بعد میں واک آؤٹ کیا تھا) یہ تصریح بھی موجود تھی کہ: ”احمدی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں“۔ اور یہ کہ: ”اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس نے جس میں دنیا بھر سے 140 وفود نے شرکت کی تھی، بالاتفاق قرار دیا تھا کہ ”قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔“ (مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ جلد 4، 1974ء)“ (PLD 1988 SC 167)
لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ (سابق صدر پاکستان) نے قادیانیوں کے خلاف اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:
- ”مرزا قادیانی نے بذات خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا اعلان کیا اور ان تمام لوگوں
کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی، جنھوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعویٰ کو مسترد کیا اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں، تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔“
(PLD 1987 Lahore 458)
لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے قادیانیوں کی توہین رسالت پر مبنی اسلام دشمن سرگرمیوں کے خلاف اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:
- ”اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار 298-B پی
پی سی کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہل بیت وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہ کلمات یا شعائرِ اسلام استعمال کریں جو عام طور پر عام مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے، جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔............ قادیانی ایک علیحدہ گروہ ہیں اور ان کا اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ مرزا قادیانی نے اسلام کی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے نبی ہونے کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا۔ اور اعلان کیا کہ اس کی ”نبوت“ پر یقین نہ رکھنے والے سب کافر ہیں۔ اس نے یہ دعویٰ کر کے تو انتہا کر دی کہ وہ آدمؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور حتیٰ کے محمدؐ ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک) ............ مرزا قادیانی نے نبی پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن مجید کی آیات کو اپنے آپ سے منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ مرزائی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے واضح طور پر لفظ ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح وہ مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ گویا جب یہ لوگ (قادیانی) کلمہ طیبہ اور درود پڑھتے ہیں تو ان کے قلب و ذہن پر مکمل طور پر مرزا قادیانی کا تصور ہوتا ہے اور اس طرح کرتے ہوئے وہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی تحقیر کر
رہے ہوتے ہیں.................. مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ”وہ احمد اور محمد ہے اور اس میں نبی اکرم حضرت محمد ﷺ اور دیگر تمام انبیا علیہم السلام کی خوبیاں موجود ہیں۔“ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت میرے دعویٰ نبوت سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ وہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ (ظلی اور بروزی شکل میں) وہ (مرزا قادیانی) ”محمد ﷺ ہے“ قادیانی، جو مرزا قادیانی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں، اس کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں جبکہ مسلمانوں کے مطابق یہ (درود و سلام) نبی پاک ﷺ کا استحقاق ہے۔ قادیانی حضرات مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کے برابر سمجھتے ہوئے اس پر درود بھیجتے ہیں اور اس طرح نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے رتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ فعل واضح طور پر نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے مبارک اور مقدس نام کی تحقیر کے مترادف ہے، جو زیر دفعہ C-295 پی پی سی قابل سزا ہے۔.................. قادیانی، مرزا قادیانی کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزا قادیانی کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے برابر گردانتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت اور فعل سے واضح طور پر حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس اور مبارک نام کی تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا کر مرزا قادیانی کے برابر کیا گیا۔ وہ (مرزا قادیانی)، جس نے اپنے آپ کو برطانوی حکومت کا خود کاشتہ پودا قرار دیا۔ جس نے برطانوی گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا اور جہاد کے حرام ہونے کا دعویٰ کیا، حضرت امام حسینؓ کی تذلیل و اہانت کی، جس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمام مسلمان جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان نہیں لاتے، کافر ہیں۔.................. مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“
صد حسین است در گریبانم“
ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“ (نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)
”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ (ذکر حسینؓ) کا
ڈھیر ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 از مرزا قادیانی)
(1992 PCR.LJ 2351)
کوئٹہ ہائی کورٹ کے جناب جسٹس امیر الملک مینگل نے قادیانیوں کی شعائرِ اسلامی کی توہین اور امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء کی خلاف ورزی پر اپنے ایک فیصلہ میں لکھا:
- ❑ ’’خواہ کچھ بھی ہو‘ موجودہ مقدمے میں تو یہ دیکھا جانا ہے کہ ان قادیانیوں کی نیت
کیا تھی جب وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں کے ہجوم میں گھومتے پھرے؟ اس کی صریح وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مذکورہ سائلان لوگوں سے یہ منوانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مسلم ہیں۔ یہی بات ان کی طرف سے مجرمانہ نیت یا مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا اس مقدمے کے تسلیم کردہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ اس موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی کہ سائلان کا یہ فعل کسی مجرمانہ ارادے یا مجرم ضمیر کے بغیر تھا کیونکہ سائلان اس بات کی کوئی دلیل بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے شہر کے پرہجوم بازاروں میں چلتے پھرتے وقت کلمہ طیبہ کے بیج کس وجہ سے لگا رکھے تھے‘ سوائے اس کے کہ وہ مسلم ہونے کا بہانہ کرتے تھے یا دوسروں سے خود کو مسلم منوانا چاہتے تھے۔‘‘
(PLD 1988 Quetta 22)
لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خان نے قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی لگاتے ہوئے اپنے ایک مفصل فیصلہ میں لکھا:
- ❑ ’’عام لوگ یعنی امتِ مسلمہ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی
مزاحمت ومخالفت کرتی ہے تاکہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے‘ نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے.................. مرزا صاحب نے جس قسم کے مذہب کی تلقین وتبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے پیروکار اور وفادار ہیں‘ رسول اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف گستاخانہ توہین آمیز‘ اشتعال انگیز‘ گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں۔ وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ وتعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں‘ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں
اور اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی یا غیر احمدی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں، یہ چیز خود ان کے طرز عمل اور عقائد سے ثابت ہے، وہ مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ قادیانی حضرات حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود کو مسلمان ظاہر کر سکتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی امت مسلمہ میں انتشار و تفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لیے کام کرتا رہا تھا ................... یہ بات قابل غور ہے کہ اس قول کے نتائج کہ مرزا صاحب بذات خود محمد اور احمد تھے (یہ دونوں رسول اکرم ﷺ کے نام ہیں) خاصے دُور رس نکلتے ہیں۔ مرزا صاحب کے خلفاء رسول اکرم کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں اس کے معنے ہیں۔ ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور حضرت محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں۔“ مرزا صاحب کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا، اس سے مراد مرزا صاحب ہی ہوں گے ................... مرزا صاحب کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی حضرات مرزا صاحب کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔ اس لیے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر احمدی کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ 295۔سی ت پ کے دائرہ میں آتا ہے۔“
(PLD 1992 Lahore-1)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے شعائرِ اسلامی استعمال کرنے پر قادیانیوں کے خلاف اپنے ایک تاریخ ساز فیصلہ میں لکھا:
- ”پس یہ بات واضح ہے کہ دستور نے اسلامی احکام کو، جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں
ہیں، منضبط حقیقی اور موثر قانون کے طور پر اپنا لیا ہے معاملہ کی اس صورت میں اسلامی احکام ہی، جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں درج ہیں، اب حقیقی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ آرٹیکل 2۔اے نے اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو موثر اور واجب التعمیل بنا دیا ہے۔ اسی آرٹیکل کی بدولت قرارداد مقاصد میں درج قانونی احکام اور قانون کے اصول موثر اور آئین کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ اس لیے انسان کا بنایا ہوا ہر قانون احکام اسلامی کے مطابق، جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں مذکور ہیں، ہونا چاہیے اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی اسلامی نظریات وتعلیمات
کے منافی نہیں ہونے چاہئیں ................. امر واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے باطنی طور پر اپنے بارے میں حقیقی مسلمان برادری ہونے کا اعلان کر رکھا ہے، انھوں نے خود کو اصل امت مسلمہ سے اس بنا پر الگ کر لیا ہے اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں کہ مسلمان، مرزا قادیانی، بانی جماعت احمدیہ کو پیغمبر اور مسیح موعود کیوں نہیں مانتے، یہ عقیدہ خود مرزا قادیانی کی ہدایات کے تحت اپنایا گیا ہے، جو برملا کہتا تھا کہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد (یعنی مسلمان) جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، وہ مجھے نہیں مانتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5، ص 547، 548)......
........... ایک ”نبی“ نے جو زبان استعمال کی ہے اور مخاطبوں پر اس کا جو اثر ہو سکتا ہے، وہ قابل غور ہے۔ ایسی لغو اور بے ہودہ زبان کے استعمال کی اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن ہم صرف ایک اور مثال دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ از مرزا قادیانی، صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14، صفحہ 53)
اسی طرح کی دیگر تحریریں ڈھیروں کی صورت میں موجود ہیں جو نہ صرف مرزا قادیانی کے اپنے قلم سے ہیں بلکہ اس کے نام نہاد خلفاء اور پیروکاروں نے بھی لکھی ہیں جو کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت کرتی ہیں کہ وہ مذہبی لحاظ سے اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے ایک الگ اور مختلف برادری ہیں۔ سر محمد ظفر اللہ خاں قادیانی نے پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بابائے قوم قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شامل ہونے اور انھیں آخری خراج عقیدت پیش کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اسے غیر مسلم ریاست کا مسلمان وزیر خارجہ یا مسلم ریاست کا غیر مسلم وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے۔ (روزنامہ ”زمیندار“ لاہور، مورخہ 8 فروری 1950ء)
مرزا قادیانی نے اپنے ماننے والوں کو غیر احمدیوں کے ساتھ اپنی بچیوں کے نکاح کرنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ اس کے بقول مسلمانوں کی بڑی جماعت کو زیادہ سے زیادہ عیسائیوں کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
کلمہ ایک اقرار نامہ ہے جسے پڑھ کر غیر مسلم اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے، یہ عربی زبان میں ہے اور مسلمانوں کے لیے خاص ہے جو اسے نہ صرف اپنے عقیدہ کے اظہار
کے لیے پڑھتے ہیں بلکہ روحانی ترقی کے لیے بھی اکثر اس کا ورد کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کے معنی ہیں ”خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدؐ اس کے رسول ہیں“ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ کا بروز ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھا ہے:
”سورۂ الفتح کی آیت نمبر 29 کے نزول میں محمدؐ کو اللہ کا رسول کہا گیا ہے۔۔۔۔۔ اللہ نے اس (مرزا قادیانی) کا نام محمد رکھا“ (مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207)
روزنامہ ”بدر“ (قادیان) کی اشاعت 25 اکتوبر 1906ء میں قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی سابق ایڈیٹر ”Review of Religions“ کی ایک نظم شائع ہوئی تھی، جس کے ایک بند کا مفہوم اس طرح ہے ”محمدؐ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ میں دوبارہ آ گئے ہیں، جو کوئی محمدؐ کو ان کی مکمل شان کے ساتھ دیکھنے کا متمنی ہو اسے چاہیے کہ وہ قادیان جائے۔“
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“
یہ نظم مرزا قادیانی کو سنائی گئی تو اس نے اس پر مسرت کا اظہار کیا۔
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 22 اگست 1944ء)
”اوپر جو کچھ کہا گیا اس کی روشنی میں مسلمانوں میں اس بات پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جب کوئی احمدی کلمہ طیبہ پڑھتا ہے یا اس کا اظہار کرتا ہے تو اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایسا نبی ہے، جس کی اطاعت واجب ہے اور جو ایسا نہیں کرتا، وہ بے دین ہے، بصورت دیگر وہ خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یا تو وہ مسلمانوں کی تضحیک کرتے ہیں یا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ کی تعلیمات، صورت حال کی راہنمائی کرتی ہیں۔ اس لیے جیسی بھی صورت حال ہو، ارتکاب جرم کو ایک نہ ایک طریقہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔“
مرزا قادیانی نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں میں رسول اکرم ﷺ کی عظمت و شان کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ بعض مواقع پر ان کا مذاق بھی اڑایا۔“
”پیغمبر اسلام اشاعت دین کو مکمل نہیں کر سکے‘ میں نے اس کی تکمیل کی۔“
(حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 165 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 263)
ایک اور کتاب میں کہتا ہے: ”رسول اکرم بعض نازل شدہ پیغامات کو نہیں سمجھ سکے اور ان سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں۔“ (دیکھیے ازالہ اوہام ص 346 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 472-473)
اس نے مزید دعویٰ کیا: ”رسول اکرم تین ہزار معجزے رکھتے تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 17، صفحہ 153)
”جب کہ میرے پاس دس لاکھ نشانیاں ہیں“
(براہین احمدیہ جلد 5، صفحہ 72 روحانی خزائن جلد 21، ص 72)
”نشان‘ معجزہ‘ کرامت ایک چیز ہے۔“
(براہین احمدیہ جلد 5، صفحہ 63 روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 63)
مزید یہ کہ: ”رسول اکرم نصاریٰ کا تیار کردہ پنیر کھاتے تھے جس میں وہ سور کی چربی ملاتے تھے۔“ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 22 فروری 1924ء)
اس طرح اور بہت سی تحریریں موجود ہیں لیکن ہم اس ریکارڈ کو مزید گراں بار نہیں کرنا چاہتے۔
”ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ ہر نبی کو مانتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ اس لیے اگر کسی نبی کی شان کے خلاف کچھ کہا جائے تو اس سے مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی‘ جس سے وہ قانون شکنی پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ اس کا انحصار جذبات پر ہونے والے حملے کی سنگینی پر ہے۔ ہائی کورٹ کے فاضل جج (جسٹس خلیل الرحمٰن خان) نے مرزائیوں کی کتابوں سے بہت سے حوالے نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے دوسرے انبیائے کرام خصوصاً حضرت عیسیٰؑ کی بھی بڑی توہین کی اور ان کی شان گھٹائی۔ (حضرت عیسیٰؑ کی جگہ وہ خود لینا چاہتا تھا۔ ہم اس سارے مواد کو نقل کرنا ضروری نہیں سمجھتے‘ صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک جگہ رقم طراز ہے:
”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ
سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے اور اسی لیے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 201 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے:
- ”حضرت مسیح کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں اور دادیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11، ص 291)
- ”اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن حکیم حضرت عیسیٰ ان کی والدہ اور
خاندان کی بڑائی بیان کرتی ہے۔ دیکھئے سورۂ آل عمران (3) کی آیات 33 تا 37, 45 تا 47 سورۂ مریم (19) کی آیت 16 تا 32۔ کیا کوئی مسلمان قرآن کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے اور جو ایسی حماقت کرے کیا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کار کیسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا قادیانی پر اسی کی مذکورہ بالا تحریروں کی بنا پر توہین مذہب ایکٹ مجریہ 1679ء کے تحت عیسائیت کی توہین کے جرم میں کسی انگریز عدالت میں ملزم قرار دے کر سزا دی جاسکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔................ یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا
قادیانی اور اس کے خلیفوں ) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے ، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین وتنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ (قادیانیت ) دھوکا دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر ،مخصوص نشانات ، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت ، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پاسکتا بلکہ اسے جعل سازی وفریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں ، انہوں نے مسلمانوں یا دوسروں لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا ، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ ............ ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں ، خاندان ، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری‘‘ ، ’’کتاب الایمان‘‘ ، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو موردالزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردّعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا
اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ اگر قادیانیوں کو سرعام جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا۔ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ .................... ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن وامان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُر امن طور پر مناتے ہیں۔ .................... بہر حال قادیانیوں پر لازم ہے کہ وہ آئین وقانون کا احترام کریں اور انہیں اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی یا توہین نہیں کرنی چاہیے نہ ہی ان کے مخصوص خطابات، القابات واصطلاحات استعمال کرنے چاہیے۔ نیز مخصوص نام مثلاً مسجد اور مذہبی عمل مثلاً اذان وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور لوگوں کو عقیدہ کے بارے میں گمراہ نہ کیا جائے یا دھوکا نہ دیا جائے۔“
جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری جناب جسٹس ولی محمد خاں جناب جسٹس محمد افضل لون جناب جسٹس سلیم اختر
(ظہیر الدین بنام سرکار 1718 SCMR 1993ء)
قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلوں کے مندرجہ بالا اقتباسات سے ایک بات صاف عیاں ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے نزدیک قانون امتناع قادیانیت نہ صرف آئین کے
مطابق ہے بلکہ یہ ملک میں امن وامان کے تحفظ کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے اتنے سارے فیصلوں کی موجودگی میں کسی ذی شعور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ حکومت سے اس قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کرے۔ ایسا مطالبہ کرنے کا مطلب قادیانیوں کو شعائر اسلامی کی بے حرمتی کی کھلی چھٹی دینا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنا ہے جو ملک عزیز میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ جو شخص اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہو اور بلاوجہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اکڑا رہے تو پھر اس کا وہی علاج ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ ایسے شخص کو کم از کم الفاظ میں احمق کہا جا سکتا ہے۔ قادیانی اور ان کے حواریوں کو جو آئین، قانون اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں، کان کھول کر سن لینا چاہیے بلکہ دل و دماغ میں بٹھا لینا چاہیے کہ یہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ماننے والوں کا ملک ہے یہ بے دین، سیکولر اور قانون شکنوں کی جاگیر نہیں۔ ہم آپ سے صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ آپ غلط جگہ پر آ گئے ہیں۔ مناسب رہے گا کہ آپ واپس اپنے آقاؤں کی گود میں چلے جائیں۔ یہاں نہ آپ کے مقاصد پورے ہوں گے اور نہ عزائم۔ یہاں ایسے کئی ہلاکو خاں اپنی پوری فرعونیت اور نمرودیت کے ساتھ آئے جنھوں نے قادیانیوں کو امت مسلمہ کا حصہ بنانے کے لیے پوری سعی کی مگر انھیں منہ کی کھانی پڑی، ذلت ورسوائی کے عمیق اندھیرے گڑھے میں جاگرے اور لعنت ان کا مقدر بن گئی۔
یہ بات معمولی پڑھا لکھا شخص بھی جانتا ہے کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا جماعت کے بارے میں ملک کے مفاد کے پیش نظر کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ بھی 1974ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا اور اس خصوصی اجلاس میں مرزا ناصر نے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کی جرح کے دوران تسلیم کیا کہ ملک کی پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے سکتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار کی جرح کے دوران مرزا ناصر نے اپنے ان تمام مذہبی عقائد کو تسلیم کیا جس پر پوری امت مسلمہ کو نہ صرف شدید اختلاف ہے بلکہ وہ اسے اپنے مذہب میں مداخلت بھی سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کی ان عقائد پر ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک عزیز میں کئی بار لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بھی پیدا ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قادیانیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ آئین اور قانون کا احترام کریں۔
سانحہ ربوہ کی عدالتی رپورٹ کیوں شائع نہیں ہوتی؟
پاکستان میں قادیانی جماعت کا مرکز ضلع چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے پار ”ربوہ“ (اب چناب نگر) کے نام سے آباد ہے۔ یہ جگہ فیصل آباد اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔ گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی واضح طور پر قادیانیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا۔ سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی سفارش پر ربوہ کی 1033 ایکڑ زمین (ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے) قادیانیوں کو 100 سالہ لیز پر دی گئی۔ یہ جگہ ان کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ قادیانی ریاست کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے تمام اہم ممکنہ پہلوؤں کو پوری طرح مدنگاہ رکھا تھا۔ 20 ستمبر 1948ء کو اس شہر کا افتتاح قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کیا۔ قادیانی قیادت نے حکومت سے لیز پر لی گئی اس اراضی کو ہزاروں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں میں تقسیم کر کے اربوں روپے کمائے۔ ربوہ میں 1974ء سے پہلے کوئی مسلمان داخل نہ ہوسکتا تھا۔ اب بھی اگر کوئی مسلمان ربوہ شہر میں داخل ہو تو اس کے پیچھے قادیانی سی آئی ڈی لگ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پوچھ گچھ ہوتی ہے بلکہ اس کی تمام حرکات وسکنات کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ربوہ ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں کوئی مسلمان اپنا مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں قادیانیوں کی اجازت کے بغیر رات قیام کرسکتا ہے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی قادیانی اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے کے بعد اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی حق حاصل نہیں کہ وہ پوری زندگی کی جمع پونجی سے بنائے گئے اپنے مکان کو فروخت کرسکے، کیونکہ وہاں کی ساری زمین قادیانی انجمن کے نام رجسٹرڈ ہے۔
سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 29 مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی قیادت کے ایما پر بے پناہ تشدد کیا گیا جب وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے بعد واپس ملتان جا رہے تھے۔ ان طلبہ کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے 22 مئی کو پشاور جاتے ہوئے ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی لٹریچر لینے
سے انکار کیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ اس کی پاداش میں، واپسی پر ان کی گاڑی خلاف ضابطہ روک کر طلبہ پر ظلم و تشدد کا ہر نیا طریقہ آزمایا گیا جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کا پورے ملک میں زبردست ردعمل ہوا۔ دینی جماعتوں کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں میں ہڑتالوں اور پُر جوش مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اُن کے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ چنانچہ 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک قرارداد پیش کی۔
31 مئی 1974ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی پر مشتمل ایک رکنی ٹربیونل کا اعلان کیا۔ حکومت پنجاب کے مقرر کردہ ٹربیونل کے دائرہ کار میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ اور اس سے متعلقہ دوسرے معاملات کی تحقیقات کے بعد یہ بتائے گا کہ اس سانحہ کی انفرادی اور اجتماعی طور پر ذمہ داری کن پر عائد ہوتی ہے۔ ٹربیونل مجرموں کے خلاف مناسب کاروائی کی سفارش بھی کرے گا اور اپنی رپورٹ جتنی جلدی ممکن ہوگا، پیش کرے گا۔ پنجاب حکومت کے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی معائنہ ٹیم کے رکن مسٹر خضر حیات، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مسٹر عبدالستار نجم اور جناب کمال مصطفیٰ بخاری اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تحقیقات کے سلسلہ میں ٹربیونل کی معاونت کریں گے۔
یکم جون 1974ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے امن و امان قائم رکھیں۔ تمام شہریوں کو صمدانی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ رپورٹ موصول ہونے پر شائع کر دی جائے گی۔ جسٹس کے ایم اے صمدانی نے تحقیقاتی ٹربیونل کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد فوری طور پر اس سانحہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اس سلسلہ میں وقوعہ کے روز ڈیوٹی پر متعین ریلوے اسٹیشن کے عملے اور میڈیکل کالج کے طلبہ اور سٹاف وغیرہ کو نوٹس بھیجے گئے کہ وہ آ کر اپنے بیان ریکارڈ کروائیں۔ اس کے علاوہ عام افراد سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنا بیان زبانی یا تحریری طور پر ٹربیونل کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔ عدالت میں ہائی کورٹ بار کے درج ذیل ارکان، مختلف تنظیموں کی وکالت کے لیے موجود تھے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے مسٹر ایم انور اور ایم اے رحمان ایڈووکیٹ،
مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، قادیانی محاسبہ کمیٹی اور پاکستان اتحاد پارٹی کی طرف رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن وکلا کی رابطہ کمیٹی کی طرف سے محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور چوہدری نذیر احمد خاں ایڈووکیٹ، حکومت پنجاب کی طرف سے مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور قادیانی جماعت کی طرف سے اعجاز حسین بٹالوی ایڈووکیٹ اور مسٹر بشیر احمد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
سب سے پہلے 8 جون کو چناب ایکسپریس کے گارڈ نذیر احمد خاں کا بیان ریکارڈ ہوا جس میں اس نے کہا کہ واقعہ کے روز ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کی تعداد 500 کے قریب تھی۔ وہ چمڑے کی پیٹیوں، آہنی پائپوں، ہنٹروں، لاٹھیوں اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ وہ نہتے طلبہ پر وحشیانہ تشدد کر رہے تھے اور انہیں کان پکڑنے اور معافی مانگنے پر مجبور کر رہے تھے جبکہ طلبہ بچاؤ بچاؤ کا شور کر رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر ہر طرف خون ہی خون تھا۔ فاضل عدالت کے استفسار پر گواہ نے بتایا کہ قادیانی شرپسندوں کی ایک کثیر تعداد احمدیت زندہ باد، محمدیت مردہ باد اور مرزا غلام احمد کی جے کے نعرے لگا رہی تھی جبکہ برقع پوش نوجوان لڑکیاں تالیاں بجا کر حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کر رہیں تھیں۔ گواہ نمبر 4 صدیق احمد اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر نے ٹربیونل کے روبرو اپنی شہادت قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ حملہ آور ایک طالب علم محمد حسن محمود پر شدید تشدد کر رہے تھے جس کے جسم پر سوائے قمیض کے کوئی کپڑا نہ تھا۔ وہ زخموں سے بری طرح چور ہو کر رو رہا تھا۔ اُس کے سر، کان اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ اُس کے دانت ٹوٹ چکے ہیں۔ ایک حملہ آور نے اسے کہا کہ کیا تم مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہو، طالب علم نے جواب دیا نہیں، اس پر اسے ہنٹروں سے مارا گیا جس پر وہ نیم بیہوش ہوگیا اُس نے پانی مانگا تو ان حملہ آوروں میں سے ایک نے کہا کہ اس کے منہ میں پیشاب کرو۔ ٹربیونل کے روبرو اس دلدوز اور غیر انسانی واقعہ کی کئی چشم دید گواہوں نے تصدیق کی۔ گواہ کے اس بیان پر عدالت میں موجود ہر شخص قادیانیوں کے اس غیر انسانی رویے پر رنج وغم میں ڈوب گیا۔ 16 جون کو سٹیشن ماسٹر ربوہ مرزا عبد السمیع قادیانی نے اپنے بیان پر جرح کے دوران اعتراف کیا کہ قادیانی جماعت کا ایک تبلیغی مشن اسرائیل کے شہر حیفہ میں بھی کام کر رہا ہے۔ ایک طالب علم ارباب عالم نے اپنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی لٹریچر نہ لینے پر شدید زدوکوب کیا۔ قادیانی
حملہ آور لاٹھیوں، ہاکیوں، ہنٹروں اور ریوالوروں سے مسلح تھے۔ ہماری علیحدہ بوگی تھی۔ ہر طالب علم کو آٹھ آٹھ، دس دس غنڈوں نے جی بھر کر مارا۔ ایک طالب علم، رفعت حیات بیمار تھا جو برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔ حملہ آوروں نے اسے گاڑی سے نیچے پھینکا اور اسے ننگا کرنے کی کوشش کی۔ تمام طالب علموں پر خوف طاری تھا۔ جب ہم لائل پور (فیصل آباد) اسٹیشن پہنچے تو ضلعی حکام سٹیشن پر موجود تھے۔ 30 طالب علم شدید زخمی تھے۔ انہیں سٹریچر پر ڈال کر برآمدہ میں لایا گیا۔ وہاں طالب علموں کو فرسٹ ایڈ دی گئی۔ پلیٹ فارم پر کئی ڈاکٹر طلبہ کے علاج و معالجہ کے لیے موجود تھے۔ جن میں ایک معروف قادیانی ڈاکٹر ولی بھی تھا، طلبہ نے اس سے علاج کروانے سے انکار کر دیا جس پر حکام نے انہیں واپس بھیج دیا۔
ایک سابق قادیانی صالح نور نے ٹریبونل کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے قادیانیوں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ربوہ میں جو شخص قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرتا ہے۔ اسے بیوی، بچوں اور مکان سے محروم کر کے ربوہ سے زبردستی نکال دیا جاتا ہے۔ سوشل بائیکاٹ کے ذریعے ان کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔ مخالفت پر اسے قتل کر دیا جاتا ہے جس کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوتا۔ ٹریبونل کے روبرو روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ تحریک ختم نبوت کو سبوتاژ کرنے کے لیے حکومت نے کئی منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں ایک فرضی تنظیم ”انجمن فدایان رسول“ کی طرف سے فرضی اور غیر اخلاقی اشتہار کی اشاعت بھی ہے، جسے میں نے اپنے روزنامہ میں شائع کرنے سے روک دیا۔ حالانکہ اس اشتہار کی اشاعت سے ادارے کو 4 ہزار روپے (آج کے لاکھوں روپے) ملتے۔ لیکن میں نے دینی غیرت و حمیت میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ہفت روزہ چٹان کے مدیر آغا شورش کاشمیری نے بھی ٹریبونل میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور نہایت اہم انکشافات کیے۔ 18 جون 1974ء کو ٹریبونل کے روبرو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر گواہ نمبر 48 کے طور پر پیش ہوا۔ اس نے جسٹس کے ایم اے صمدانی کے ایک سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ سانحہ ربوہ کے بارے میں پوچھے گئے کئی سوالوں کے جواب میں مرزا ناصر نے غلط بیانی سے کام لیا جس پر جسٹس صمدانی نے اپنی شدید حیرت کا اظہار کیا۔
20 جولائی 1974ء کو جسٹس صمدانی ربوہ (چناب نگر) گئے تاکہ جائے وقوعہ کا
معائنہ کر سکیں۔ فاضل تحقیقاتی جج کے ہمراہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری اور دوسرے وکلاء مسٹر اعجاز بٹالوی، مسٹر ایم اے رحمن، مسٹر عاصم جعفری، مسٹر خاقان بابر، مسٹر فرخ امین اور مسٹر ایم۔ ڈی طاہر تھے۔ جسٹس صمدانی نے صبح 7:55 پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے کے فوراً بعد سٹیشن کی جنوب مشرقی سمت میں پلیٹ فارم کے اس مقام کا معائنہ کیا جہاں محلہ دارالرحمت کی جانب سے حملہ آوروں نے نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کی بوگی پر حملہ کیا تھا، جو پلیٹ فارم سے کم و بیش 50 گز پیچھے روک لی گئی تھی۔ بعد ازاں تحقیقاتی جج نے ریلوے اسٹیشن سے قریباً ڈیڑھ فرلانگ دور چوہدری ظفر اللہ خاں کی کوٹھی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ٹربیونل کے روبرو بعض گواہوں نے بیان دیا تھا کہ اس کوٹھی میں موجود بعض افراد نے حملہ کی ترغیب دی تھی۔ بعد ازاں ٹربیونل نے جامع نصرت ڈگری کالج کے ریلوے اسٹیشن کی جانب کھلنے والے گیٹ کا معائنہ کیا جس کے بارے میں سماعت کے دوران ٹربیونل کو بتایا گیا تھا کہ اس گیٹ کے قریب مرزا منصور جیپ پر کھڑے حملہ آوروں کو نشتر کالج کے طلباء پر حملہ کے لیے اشتعال دلا رہے تھے۔ اس موقع پر جو خاص باتیں دیکھنے میں آئیں، وہ نہایت چشم کشا ہیں:
جسٹس صمدانی کی آمد پر ائیر مارشل ظفر چودھری قادیانی کی قیادت میں سرگودھا ائیر بیس سے اڑنے والے پاک فضائیہ کے 3 طیارے گھن گرج کے ساتھ فضا میں نمودار ہوئے، انہوں نے انتہائی نیچی پرواز کی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ نجانے وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ ربوہ شہر میں تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ البتہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کی تصویر کہیں بھی آویزاں نہ تھی۔ ربوہ میں کہیں بھی پاکستان کا پرچم نظر نہ آیا۔ اس کے برعکس قصر خلافت پر قادیانی جماعت کا اپنا مخصوص جھنڈا ”لوائے احمدیت“ لہرا رہا تھا۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) کے دفتر کے معائنہ کے دوران جب ریکارڈ اور فائلیں دیکھی گئیں تو بتلایا گیا کہ اختلافات وغیرہ کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔ ٹربیونل نے ربوہ کی پولیس چوکی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کسی جرم کی رپورٹ یا ایف آئی آر درج نہیں۔ اس موقعہ پر تھانہ ”لالیاں“ کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہمارا انتظام محکمہ ”ربوہ“ کا مرہون منت ہے۔ ہم بوجوہ اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔ ربوہ کی بیشتر عمارات پر قادیانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ربوہ شہر کی دیواروں پر ”غلام احمد کی جے“، احمدیت زندہ باد اور
God is coming by His army ایسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد جسٹس صمدانی نے قادیانیوں کی نام نہاد جنت اور دوزخ دیکھی۔ یہ دراصل دو قبرستان ہیں۔ عرف عام میں چار دیواری کے اندر واقع قبرستان کو جنت اور باہر عام قبرستان کو دوزخ کہا جاتا ہے۔ جو قادیانی اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا 20 فیصد قادیانی جماعت کو دینے کی وصیت کرے، وہ قادیانی ”جنت“ میں دفن ہوتا ہے اور جو قادیانی ایسی کوئی وصیت نہ کرے، وہ ”دوزخ“ میں دفن ہوتا ہے۔ جب جسٹس صمدانی قادیانی خلیفہ مرزا محمود اور نصرت بیگم کی قبروں پر گئے تو ان پر لگے ہوئے کتبہ پر لکھی ہوئی درج ذیل عبارت دیکھ کر بے حد حیران ہوئے:
”ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی مرزا بشیر الدین محمودؒ، ”جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے، حضرت ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے جا کر دفن کریں، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔“
صحافیوں نے جسٹس صمدانی سے کہا کہ مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی قادیانی اس کی لاش قادیان لے جاسکتے تھے۔ اس سلسلے میں قادیانی قیادت اگر درخواست کرتی تو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں بخوشی اس کی اجازت دے دیتیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قادیانی کسی ”موزوں وقت“ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جسٹس صاحب کو بتایا گیا کہ اس کی بنیاد مرزا محمود کے وہ بیانات ہیں جو قادیانی روزنامہ ”الفضل“ میں شائع ہوئے تھے: مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا: ”ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے، اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے قادیانیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے پتا لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں قادیانیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا قادیانیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے،
ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔‘‘ (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء صفحہ 3)
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے مزید کہا: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے، لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے، بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔‘‘ (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر، روزنامہ الفضل قادیان 16 مئی 1947ء صفحہ 2)
اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ”اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو تباہ کردے گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔‘‘ (ہفت روزہ چٹان 16 اگست 1984ء، جلد 39 شمارہ 31)
یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانی آزادی سے پہلے پاکستان کے کھلے دشمن تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی وہ اس کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی بھیانک سازشوں کے بین ثبوت ہیں۔ اس سے بڑی غداری اور بغاوت اور کیا ہو سکتی ہے۔ انھیں پڑھنے کے بعد ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ ہر قادیانی سب سے پہلے اپنی جماعت اور خلیفہ کا وفادار ہے، بعد میں کسی اور کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تاکہ یہ جلد ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے اور یوں ان کے خلیفہ کا خواب پورا ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے پاک فوج کو قادیانیوں سے پاک کیا جائے کیونکہ وہ جہاد کے منکر ہیں جبکہ جہاد ہماری فوج کا موٹو ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے
کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج میں شامل قادیانی کیا کردار ادا کریں گے؟ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں گے یا اپنے خلیفہ کا؟ قادیانی بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان سے غداری ہے یا حب الوطنی؟؟
ربوہ باقاعدہ ایک قادیانی سٹیٹ ہے۔ وہاں ایوان صدر کے مقابلہ میں ایوان محمود، وزارت کے مقابلہ میں نظارت اور وزیر کے مقابلہ میں ناظر ہے۔ قادیانی ریاست میں قائم چند نظارتوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)۔ ہر نظارت کے امور کی نگرانی متعلقہ ناظر کے ذمہ ہوتی ہے۔ ناظران کے اختیارات و فرائض اور ان کے تقرر اور برخاست کا آخری اختیار قادیانی خلیفہ کے پاس ہوتا ہے۔ ان سب نظارتوں میں تین بہت اہم نظارتیں ہیں جن کے سربراہوں (ناظر) کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ ناظر اعلیٰ جسے قادیانی ریاست کا وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کے پاس تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہوتی ہے اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ (کابینہ) کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ قادیانی خلیفہ عموماً، ناظر اعلیٰ اس شخص کو مقرر کرتا ہے جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور وہ خلیفہ کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔ ناظر امور عامہ کو عموماً وزیر داخلہ کہا جاتا ہے جس کے ذمہ امن و امان، فوجداری مقدمات، سزاؤں پر عملدرآمد، پولیس، حکومت اور پریس سے روابط قائم کرنا ہے۔ ناظر امور خارجہ کو عموماً وزیر خارجہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ اندرون ملک اور بیرون ممالک خلیفہ ربوہ کی تبلیغی، سیاسی اور جوڑ توڑ کی کارروائیوں کے معاملات طے کرنا ہے۔
قادیانیوں نے اپنے سیاسی غلبہ کے لیے جو منصوبہ تشکیل دیا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ جس طرح اپنے آپ کو منظم کیے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جس پیمانے پر کثیر سرمایہ خرچ کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس گروہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کر رکھی ہے جس سے حکومت کی رٹ بھی چیلنج ہوتی ہے۔ قادیانیوں کی یہ ریاست بظاہر غیر مرئی ہے مگر حقیقتاً بڑی طاقتور ہے۔ اس ریاست کی تنظیم اور اس کے کام کی ٹیکنیک یہودیوں کی عالمی تنظیم ”فری میسن“ سے ملتی جلتی
ہے۔ قادیانیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو سات بڑی تنظیموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ دراصل ربوہ کی غیر مرئی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔ (1) صدر انجمن احمدیہ ربوہ، (2) تحریک جدید، (3) وقف جدید، (4) انصار اللہ، (5) لجنۃ اماء اللہ، (6) اطفال الاحمدیہ و ناصرات الاحمدیہ، (7) خدام الاحمدیہ: یہ قادیانیوں کی سب سے اہم تنظیم ہے۔ جس کا دائرہ کار قصر ربوہ سے اعلیٰ حکومتی حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کمان براہ راست قادیانی خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو اپنے حکم پر ناظر امور عامہ کے ذریعے عمل کرواتا ہے۔ یہ تنظیم چناب نگر (ربوہ) میں دہشت کی علامت ہے۔ قادیان اور ربوہ میں خلافتی نظام کی کامیابی کے لیے یہ تنظیم طاقت کے استعمال سے کام لیتی ہے۔ اس تنظیم کے اراکین ہر وقت جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ روزانہ صبح باقاعدگی سے فوجی انداز میں پریڈ کر کے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں، کوڈ ورڈز (Code Words) میں اپنے خفیہ پیغامات ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں۔ اس تنظیم میں شامل نوجوانوں کو کمانڈوز کی طرز پر فائٹنگ، نشانہ بازی اور تشدد کے جدید گر سکھائے جاتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ دراصل فرقان بٹالین (قادیانی فوجیوں کی ایک جداگانہ تنظیم) کو توڑنے کے بعد قائم کی گئی اور بٹالین کے تمام فوجی خدام الاحمدیہ میں آگئے۔ اس کے علاوہ ربوہ سے قادیانیوں کے کئی ایک اخبارات و رسائل باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جن میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلا جاتا ہے۔ قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف ”امت کے اندر امت“ ہی کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کیے ہوئے ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین اور قومی اور ملکی وسائل کے بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال ایک ارب روپے سے زائد صرف کر رہا ہے۔
سانحہ ربوہ ٹریبونل نے 70 کے قریب اہم افراد کی شہادتیں قلمبند کیں۔ بعض لوگوں نے بذریعہ ڈاک اپنے تحریری بیانات ارسال کیے۔ 3 اگست 1974ء کو سانحہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل نے اپنی سماعت مکمل کر لی اور اعلان کیا کہ ٹریبونل 15 سے 20 اگست تک حکومت کو یہ رپورٹ پیش کر دے گا۔ چنانچہ 20 اگست 1974ء کو جسٹس صمدانی نے پنجاب سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے سے ملاقات کی اور انہیں سانحہ ربوہ
سے متعلق 112 صفحات پر مشتمل رپورٹ کی 3 مصدقہ کاپیاں پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے جسٹس صمدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹربیونل کی سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کرے گی اور یہ رپورٹ جلد شائع کی جائے گی۔ 23 اگست 1974ء کو وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے یہ رپورٹ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اسلام آباد میں پیش کی۔ افسوس یہ ہے کہ نہ صمدانی ٹربیونل رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا اور نہ ہی اس رپورٹ کو آج تک شائع کیا گیا، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مضمون کے آخر میں آغا شورش کاشمیری کے درج ذیل 38 سالہ پرانے مطالبے کے ساتھ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو جلد از جلد شائع کیا جائے۔
”ہمیں ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی رپورٹوں کے متعلق تلخ تجربہ ہے کہ جب ان کے مندرجات حکومتی مصلحتوں کے منافی ہوتے ہیں تو انہیں شائع نہیں کیا جاتا۔ یہ حوصلہ صرف انگریز ہی میں تھا کہ جب وہ کسی مسئلہ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن قائم کرتا تو اس کی رپورٹ ضرور شائع کی جاتی۔ ہماری قومی حکومتوں نے شروع سے اب تک اس بارے میں عمدہ روایت قائم نہیں کی۔ واقعہ ربوہ سے ظاہر ہے کہ اس میں حکومت ملوث نہیں۔ الف اور ب کی تکرار ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس رپورٹ کو من وعن شائع کر دے تاکہ لوگ جان سکیں کہ جس واقعہ نے سارے ملک میں اس عظیم مسئلہ کو اٹھا دیا ہے، اس کی روداد کیا ہے؟ چونکہ ہائی کورٹ کے فاضل جج پر ہر جماعت کو اعتماد ہے۔ اس سے سبھی حلقے اپنے متعلق اس سانحہ کی کتھا سننے کے لیے تیار ہیں۔ امید ہے کہ ہماری درخواست قبول کی جائے گی“۔ (ہفت روزہ چٹان لاہور 26 اگست 1974ء)
۞.......۞.......۞
قادیانی چھلاوا
بڑے بڑے مستند ڈاکٹروں اور حکیموں کا کہنا ہے کہ مراق یا ہسٹیریا ایسا موذی مرض ہے کہ یہ جسے لاحق ہو جائے وہ خود کو مافوق الفطرت چیز سمجھنے لگتا ہے۔ بھارت کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی مختلف دائمی بیماریوں کا ہسپتال تھا۔ ان میں مرگی، مراق اور ہسٹیریا سرفہرست تھے۔ ڈاکٹروں کے بقول مراق کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ورثہ میں ملا ہوا طبعی میلان ہے۔ جب کسی خاندان میں اس مرض کی ابتداء ہو جائے تو پھر یہ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ یہ مرض تیز سودا (جو معدہ میں جمع ہوتا ہے) سے پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے، اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے مریض میں احساس برتری کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ ہر ایک بات میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بعض میں یہ بیماری یہاں تک ترقی کر جاتی ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ فرشتہ ہے۔ پھر وہ نبوت اور معجزات کا دعویٰ کر دیتا ہے، خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
معروف قادیانی ڈاکٹر شاہنواز کا کہنا ہے:
”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لیے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز قادیان اگست 1926ء)
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ”میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح
موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیر ذالک۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم، صفحہ 55، روایت نمبر 369، از مرزا بشیر احمد ایم اے)
آنجہانی مرزا قادیانی ایک متلون مزاج اور مخبوط الحواس شخص تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں اتنے مضحکہ خیز دعوے کیے جن کی ضخیم کتاب تیار کی جاسکتی ہے۔ اس کے دعوؤں سے خود اس کے اپنے ماننے والے بھی پریشان و حیران ہیں۔ بقول شخصے مرزا قادیانی نے شاید بچپن میں اتنی چڈیاں نہ تبدیل کی ہوں جتنے اس نے دعوے کیے ہیں۔ جس طرح گرگٹ اپنا رنگ بدلتا اور چھلاوا اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہے، اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی ہر روز ایک نیا دعویٰ کر کے بڑی عیاری سے اپنا بہروپ بدلا۔ اس نے عالم سے مناظر، مناظر سے محدث، محدث سے نبی، نبی سے خدا اور خدا کے بعد نجانے کیا کیا سوانگ رچائے کہ
والا معاملہ ہے۔ مرزا قادیانی آج زندہ ہوتا تو ہالی وڈ کا معروف مزاحیہ اداکار Mr. Bean اُسے دیکھ کر اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا۔ آنجہانی مرزا قادیانی کے تقریباً 100 سے زائد مختلف دعوے ہیں۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر محض اہم دعوے پیش خدمت ہیں۔ پڑھیے اور اپنی حیرانگی میں اضافہ کیجیے کہ
میں بشر ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”قل انما انا بشر مثلکم.“
”کہو میں صرف تمھارے جیسا ایک آدمی ہوں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 70 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں غلام احمد قادیانی ہوں
- ’’مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ
دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے: غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں، بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 144 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں کرم خاکی، بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں
- ’’کِرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
(براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 127، از مرزا قادیانی)
میں سُور مار ہوں
- ’’ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہو گئے۔ اور ان کی وجہ سے شور و غل رہتا
تھا۔ پیر سراج الحق صاحب نے بہت سے کتوں کو زہر دے کر مار ڈالا۔ اس پر بعض لڑکوں نے پیر صاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا نام پیر کتے مار رکھ دیا۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں شاکی ہوئے کہ لوگ مجھے کتے مار کہتے ہیں۔ حضرت صاحب نے تبسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ دیکھئے حدیث شریف میں میرا نام ’’سور مار‘‘ لکھا ہے۔ کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ یقتل الخنزیر۔‘‘
(ذکر حبیب، صفحہ 162، از مفتی محمد صادق قادیانی)
میں امین الملک جے سنگھ بہادر ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ’’امین الملک جے سنگھ بہادر۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 568 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں کرشن ہوں
- ’’اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے
ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں۔ اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دُور کرنے کے لیے جن سے زمین پُر ہو گئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا، یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کے رُو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کو سن کر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام اپنے اوپر لے کر کفر کو صریح طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے بغیر میں رہ نہیں سکتا اور آج یہ پہلا دن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو میں پیش کرتا ہوں کیونکہ جو لوگ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ، صفحہ 24، 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228 از مرزا قادیانی)
- ’’خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم
میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے، وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا، اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ درحقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا، جو کرشن کے صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا۔ اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔ کرشن کی دو صفت ہیں۔ ایک رُودر یعنی درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا، یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار۔ اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 311 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں آریوں کا بادشاہ ہوں
- ”اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا
ہے جس کو رُدّر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں۔ اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“
(حقیقۃ الوحی، صفحہ 521، 522 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی)
میں کرشن جی رُودر گوپال ہوں
- ”شام کے وقت حضرت اقدس نے ذیل کی رؤیا بیان فرمائی کہ
ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا۔ جے ”کرشن جی رُودر گوپال“
(ملفوظات، جلد سوم صفحہ 444 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
میں سلطان القلم ہوں
- ”اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 58، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں غازی ہوں
- ”اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔“
(نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد چہارم صفحہ 375 از مرزا قادیانی)
میں گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویذ ہوں
- ”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا
ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا
نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی، اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔“
(نور الحق، صفحہ 33، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8، صفحہ 44، 45 از مرزا قادیانی)
میں محدث ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”انت محدث اللہ.“
تو محدث اللہ ہے۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 82، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں عبدالقادر ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”یاعبدالقادر انی معک۔ اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 296، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں ذوالقرنین ہوں
- ”سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی آئندہ پیشگوئی کے مطابق وہ
ذوالقرنین میں ہوں جس نے ہر ایک قوم کی صدی کو پایا۔“
(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 146 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 314 از مرزا قادیانی)
میں آدم ہوں، میں احمد ہوں، میں مریم ہوں
میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَامَرْيَمُ اسْكُنْ. مرزا قادیانی اس
الہام کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ”مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاءﷺ مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں
سے بھی وہ انبیا مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد نہیں بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لیے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یامریم اسکن کہا جائے...... اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور اقرباء مراد ہیں زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اس جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے۔“
(مکتوبات احمد، جلد اوّل صفحہ 599 طبع جدید مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب)
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 55، 56 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
میں خاتم الاولیاء ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”وانا خاتم الاولیاء۔“
اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 35، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی)
میں معجون مرکب ہوں
- ”میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان ہے اور
بنی فارس اور بنی فاطمہؓ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔“
(تریاق القلوب، صفحہ 159، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 287 از مرزا قادیانی)
میں خلیفہ اللہ ہوں
- ”میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح میرے لیے
آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفہ اللہ ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210 از مرزا قادیانی)
میں امام الزماں ہوں
- ”امام الزماں میں ہوں۔“
(ضرورۃ الامام صفحہ 24، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی)
میں مجدد ہوں ، میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں
- ”وَالْمُجَدِّدُ الْمَأْمُوْرُ وَالْعَبْدُ الْمَنْصُوْرُ. وَالْمَهْدِيُّ الْمَعْهُوْدُ.
وَالْمَسِيْحُ الْمَوْعُوْدُ.“
اور (میں) وہ مجدد ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا۔
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 51 از مرزا قادیانی)
میں حجر اسود ہوں
- ”یکے پائے من مے بوسید و من مے گفتم کہ حجر اسود منم۔“
(ترجمہ) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے (اسے) کہا کہ حجر اسود میں ہوں۔
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 29 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
میں بیت اللہ ہوں
- ”خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 28، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں قرآن ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”مَا اَنَا اِلَّا كَالْقُرْآنِ“.
ترجمہ: میں تو بس قرآن ہی طرح ہوں۔
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
میں میکائیل ہوں
- ”بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آ گیا ہے اور
دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔“
(اربعین 3 (حاشیہ) صفحہ 25، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 413، از مرزا قادیانی)
میں حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر ہوں
- ’’اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(دافع البلاء، صفحہ 17، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 233، از مرزا قادیانی)
میں زندہ علی ہوں
- ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل، صفحہ 400 طبع جدید از مرزا قادیانی)
میں مدینۃ العلم ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ’’انت مدینۃ العلم. تو علم کا شہر ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 320، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں مریم اور عیسیٰ ہوں
- ’’اور یہ الہام اصل میں آیاتِ قرآنی ہیں جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ ان آیتوں میں جس عیسیٰ کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے، اسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔‘‘
(کشتی نوح، صفحہ 54، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 52، از مرزا قادیانی)
میں مریم ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں ابن مریم ہوں
- ’’اس (اللہ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے، مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں
مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح، صفحہ 52، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 50، از مرزا قادیانی)
میں ابن مریم سے افضل ہوں
- ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
(دافع البلاء، صفحہ 20، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 240، از مرزا قادیانی)
میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں
- ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی
خبریں پانے والا بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 211، از مرزا قادیانی)
میں آدم اور احمد مختار ہوں
- ’’آدم نیز احمد مختار
(نزول المسیح، صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 477، از مرزا قادیانی)
میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں
- ’’منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
(ترجمہ) ’’میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمدؐ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔‘‘
(تریاق القلوب، صفحہ 6، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 15، صفحہ 134، از مرزا قادیانی)
میں تمام انبیا کا مجموعہ ہوں
- ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیا علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری
طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں
اسحٰق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور حضور نبی رحمت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی، (حاشیہ) صفحہ 73، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22، صفحہ 76، از مرزا قادیانی)
میں محمد ہوں
- ’’پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول الله والذین
معه اشدآء على الكفار رحماء بينهم. اسی وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 18، صفحہ 207، از مرزا قادیانی)
میں احمد ہوں
- ”وسمانی ربی احمد فاحمدونی.“
میرے رب نے میرا نام احمد رکھا ہے۔ پس میری تعریف کرو۔‘‘
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 21، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 16، صفحہ 56، از مرزا قادیانی)
میں رحمۃ للعالمین ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 64، 408 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں خاتم الانبیا ہوں
- ’’بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیا ہوں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 18، صفحہ 212، از مرزا قادیانی)
میں توحیدِ خدا اور تفریدِ خدا ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
”انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی. تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 53، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
میں عرشِ خدا ہوں
بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا :
- "انت منی بمنزلة عرشی.
تُو میرے نزدیک عرش کی مانند ہے۔"
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ، صفحہ 427 ، طبع چہارم ، از مرزا قادیانی)
میں مالکِ کن فیکون ہوں
بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا :
- "اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ لِشَيْءٍ اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.
(ترجمہ) تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ، صفحہ 443 ، طبع چہارم ، از مرزا قادیانی)
میں زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہوں
بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا :
- "واعطیت صفة الافناء والاحیاء.
اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔"
(خطبہ الہامیہ ، صفحہ 21 ، مندرجہ روحانی خزائن ، جلد 16 ، صفحہ 56 ، از مرزا قادیانی)
میں نطفۂ خدا ہوں
بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا :
- "انت من مآء نا وهم من فشل.
تُو ہمارے پانی سے ہے اور وہ بزدلی سے ہیں۔"
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ، صفحہ 164 ، طبع چہارم ، از مرزا قادیانی)
(نوٹ) عربی لغت میں ماء سے مراد اکثر جگہ نطفہ ہے۔ مثلاً ھو الذی خلق من الماء بشرا (الفرقان: 54) اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پانی (نطفہ) سے پیدا کیا۔ دوسری جگہ فلینظر الانسان مم خلق0 خلق من ماء دافق0 یخرج من بین الصلب والترائب. (الطارق: 5 تا 7) ترجمہ : پس انسان کو چاہیے کہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔
وہ اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا جو کہ باپ کی پیٹھ اور ماں کی چھاتیوں سے نکلتا ہے۔ اور بھی کئی آیات ہیں۔ جن میں ماء سے مراد نطفہ لیا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا الہام ”انت من ماء نا“ اس کے معنی ہوں گے۔ ”انت من نطفتنا“ تُو ہمارے نطفہ میں سے ہے اور لوگ بزدلی کے کیچڑ سے۔
میں خدا کا بیٹا ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”انت منی بمنزلة اولادی.
تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 325، 326 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
میں خدا کی بیوی ہوں
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 از قاضی یار محمد قادیانی مرید آنجہانی مرزا قادیانی)
حالانکہ قرآن مجید میں ہے:
وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ.
”اس (اللہ تعالیٰ) کے لیے کوئی بیوی نہیں ہے۔“ (الانعام: 101)
میں خدا کا باپ ہوں
بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:
- ”اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَّظْهَرِ الْحَقِّ وَالْعَلَا . كَانَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ.
ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 554 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
نوٹ: اس الہام میں مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کو خدا قرار دیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کا باپ ہوا۔ (نعوذ باللہ)
میں خود خدا ہوں
- ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 152، طبع چہارم از مرزا قادیانی)
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھئے
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جب کسی میں حیا ختم ہو جائے تو وہ جو چاہے کرتا پھرے۔“
بلاشبہ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی اس حدیث مبارکہ کا مصداق ہے۔ لیکن افسوس ان پڑھے لکھے قادیانیوں پر ہے جو ایسے مخبوط الحواس اور فاتر العقل شخص کے پیروکار ہیں۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف مہدی یا مسیح موعود مانتے ہیں جبکہ اس نے 100 سے زائد مختلف دعوے کیے ہیں۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے تعصب، ضد، لالچ اور خود غرضی سے علیحدہ ہو کر مرزا قادیانی کے ان مذکورہ دعوؤں کو دیکھیں، پڑھیں، سوچیں اور اپنے ضمیر کی آواز پر صدق نیت کے ساتھ قادیانی عقائد سے تائب ہو کر واپس اسلام کی آغوش میں آ جائیں کیونکہ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
۞......۞......۞
مرزا قادیانی......دولت کا پجاری
کہتے ہیں کہ روپے کی خواہش میں عمر گزارنے والا ایک شرابی سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ وہ نشے کی حالت میں تو سرور حاصل کر لیتا ہے اور اسے کسی وقت بھی آرام نہیں ملتا۔ لیکن دولت کی حرص اور مستی انسان کو کمینہ بنا دیتی ہے۔ خدا کا خوف اور بندوں کی شرم کوئی بھی چیز اس کو بدراہ روی سے نہیں روک سکتی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: ”دولت کی مستی سے خدا کی پناہ مانگو۔ کیونکہ یہ وہ لمبی مستی ہے کہ جس کے نشے کو سوائے موت کے کوئی دوسری چیز نہیں اتار سکتی۔“
قادیانیت ایک لمیٹڈ کمپنی کا نام ہے۔ جس کے پوری دنیا میں اربوں کے حصص ہیں۔ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی مال بٹورنے کا ماہر تھا۔ اسے اس فن میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ ھل من مزید اس کا وظیفہ حیات تھا۔ اس نے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے معاش کے تحفظ کے لیے بڑی زبردست پلاننگ کی، یوں سمجھئے کہ اس نے ساری عمر چندے کا دھندا کیا۔ قادیانی جماعت میں چندے کو جو اہمیت حاصل ہے، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ آج تک کسی قادیانی کو اس بناء پر جماعت سے خارج نہیں کیا گیا کہ وہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا منکر یا تارک ہے یا کسی اخلاقی برائی میں ملوث ہے۔ لیکن ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں کہ اگر کسی قادیانی نے کسی ناگزیر مجبوری یا نامساعد حالات کی بناء پر چندہ نہیں دیا تو اسے قادیانی جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ عام چندہ سے لے کر چندہ وصیت تک تقریباً 60 کے قریب مختلف چندوں کی اقسام ہیں۔ قادیانی قیادت عام قادیانیوں کے جذبات ابھار کر، انھیں مجبور کر کے، بلیک میل کر کے، مذہب کے نام پر ان کا خون تک نچوڑ رہی ہے اور حیرت ہے کہ قادیانی بھی اس کے خوگر ہو چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی دن کو جو دھندا کرتا تھا، رات کو بھی خواب میں اسے وہی نظر آتا تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں
مرزا قادیانی کی زر پرستی!
- ”خواب میں پیسے دیکھے گئے جو کسی جھگڑے یا غم پر دلالت کرتے ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 471 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”ایک کاغذ دکھایا گیا جیسا کہ منی آرڈر کا فارم ہوتا ہے، اور سامنے اس کے پاس
پندرہ رکھے ہوئے ہیں۔ (اس کشف کے تھوڑی دیر بعد پندرہ کا منی آرڈر آیا)“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 476 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا
ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا۔ جے ”کرشن جی رُودر گوپال“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 312 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”کچھ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ میں بیٹھا ہوں۔
ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہو گیا ہے۔ میں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔ آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لیے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھر ساتھ الہام ہوا کہ اِنِّیْ مُرْسِلٌ اِلَیْکُمْ ہَدِیَّةً کہ میں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل کیے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اور میں نے اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا۔ چنانچہ کل اس کی تصدیق ہو گئی۔ الحمد للہ یہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق فرمائی۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 225 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”حضرت اقدس کو رؤیا ہوئی کہ حامد علی آ کر کہتا ہے کہ باہر ایک ہندو کھڑا ہے اور
دعا کے لیے درخواست کرتا ہے۔ حضور اقدس اسے کہتے ہیں کہ بے نذر لیے ہم دعا کرنے کے نہیں۔ پھر حامد علی دوبارہ واپس آتا ہے تو ایک چھوٹا بیگ اور دو چادریں ہیں، ان میں روپیہ بھر کر لاتا ہے۔ فرمایا۔ ہندو سے مراد ایسا شخص ہوا کرتا ہے جو دنیا کے غم و ہم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی دُنیوی ابتلاؤں سے نجات ہو۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 661 از مرزا قادیانی)
- ”میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چُنا ہوا ہے۔“
فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 644، 645 از مرزا قادیانی)
- ”آج بوقت چار بجے صبح کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں حیرت میں ہوں کہ
اس کی کیا تعبیر ہے۔ میں نے آپ کی بیگم صاحبہ عزیزہ سعیدہ امۃ الحمید بیگم کو خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک اولیاء اللہ خدا سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں، اور ان کے ہاتھ میں دس روپیہ سفید اور صاف ہیں۔ یہ میرے دل میں گزرا ہے کہ دس روپیہ ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 384 از مرزا قادیانی)
- ”5 مارچ 1905ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا
میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔ ٹیچی، پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آ گیا۔ چنانچہ جو شخص اس کی تصدیق کے لیے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی 5 مارچ 1905ء سے اخیر سال تک دیکھے اس کو معلوم ہوگا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔
یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں، ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 333 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی ہے۔ جب قادیانیوں سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ لفظ ”پٹچ“ سے بنا ہے جس کا مطلب تیز رفتار ہے۔ یہ فرشتہ پٹچ کر کے مرزا قادیانی کا پیغام اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے اور پٹچ کر کے واپس آتا ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی کو از راہ مذاق ”ٹیچی ٹیچی“ کہتا ہے تو وہ غصہ سے آگ بگولا
ہو جاتا ہے۔ کئی قادیانی اساتذہ نے طلبہ کی طرف سے بلیک بورڈ پر ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ لکھنے یا کورس کے انداز میں با آواز بلند ٹیچی ٹیچی کہنے پر اپنے تبادلے کروا لیے ہیں۔ (آزمائش شرط ہے) جس کی وجہ بظاہر ہمیں نظر نہیں آتی۔ حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ مسلمان مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام لے رہے ہیں۔
- ’’رویا۔ ایک کاغذ دکھایا گیا، جس میں کچھ سطور فارسی خط میں ہیں، اور سب انگریزی
لکھا ہوا ہے۔ مطلب جن کا یہ سمجھ میں آیا کہ جس قدر روپیہ نکلتا ہے، سب دے دیا جائے گا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 443 از مرزا قادیانی)
- ’’مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک
مرتبہ حضرت مسیح موعود نے مجھے صبح کے قریب جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے؟ فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چُنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا، جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔ مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سنائی تو ملاوا مل اور شرن پت کو بھی بلا کر سنائی۔ جب منی آرڈر آیا تو ملاوا مل و شرن پت کو بلایا اور فرمایا کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے، جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والے کا پتا اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتا نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 102,101 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
- ’’اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس آدمی میرے دوست تھے اور آج ستر ہزار کے
قریب ان کی تعداد ہے اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپیہ سے بھی زیادہ اور ایک دنیا کو غلام کی طرح ارادت مند کر دیا اور زمین کے کناروں تک مجھے شہرت دے دی۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)
- ’’ہر ایک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جبکہ میں اپنے والد صاحب کے زیر
سایہ زندگی بسر کرتا تھا، وہ گواہی دے سکتا ہے کہ میرے اُس وقت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا، اُن کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طور سے میری دستگیری کی اور ایسا میرا متکفل ہوا کہ کسی شخص کے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ ہر ایک پہلو سے
وہ میرا ناصر اور معاون ہوا۔ مجھے صرف اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی، مگر اب تک اس نے کئی لاکھ آدمی کو میرے دسترخوان پر روٹی کھلائی۔ ڈاکخانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس قدر اس نے روپیہ بھیجا۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 118، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 496، از مرزا قادیانی)
- ’’یہ اس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد
صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اُٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے، اُسی نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی صفحہ 212 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220، 221 از مرزا قادیانی)
- ’’کسی نے کہا کرنسی نوٹ، پھر ایک کتاب دی گئی، گویا وہ کرنسی نوٹ تھے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 508 از مرزا قادیانی)
- ’’میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت
حضرت اقدس نے مینار کی بنیاد رکھوائی تو اس کے بعد کچھ عمارت بن کر کچھ عرصہ تک مینار بننا بند ہو گیا تھا۔ اس پر حضور نے ایک اشتہار دیا کہ اگر سو آدمی ایک ایک سو روپیہ دے دیں تو دس ہزار روپیہ جمع ہو جائے گا اور مینار تیار ہو جائے گا۔ اور ان دوستوں کے نام مینار پر درج کئے جائیں گے۔ ہم تینوں بھائیوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ہم مع والد یکصد روپیہ مل کر ادا کر سکتے ہیں، اگر حضور منظور فرمائیں۔ تو حضور نے بڑی خوشی سے منظور فرمایا اور ہم نے سو روپیہ ادا کر دیا۔‘‘ (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
کنچنی (بدکار عورت) کی رقم
- ’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری صاحب نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص
نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مر گئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 261، 262 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
(نوٹ) کنچنی پیشہ ور فاحشہ عورت کو کہتے ہیں۔
سود جائز ہے!
- ’’ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ
اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی کیونکہ حرمت اشیا کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔ پس سود اپنے نفس کے لیے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے لیے بالکل حرام ہے۔ لیکن اگر یہ روپیہ خالصتاً اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 368 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”ومن تفوه بكلمة ليس له اصل صحيح فى الشرع۔ ملهما كان او
مجتهدا۔ فبه الشياطين متلاعبة“
ترجمہ: ’’جو شخص ایسی بات کہے کہ جس کی شرع میں کوئی اصل نہ ہو، خواہ وہ شخص ملہم یا مجتہد ہی کیوں نہ ہو، سمجھ لینا چاہئے کہ شیاطین اس سے کھیلتے ہیں۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)
پانچ اور پچاس کا شہرت یافتہ قادیانی فرق
مرزا قادیانی نے شروع شروع میں ایک عالم کا روپ دھارا اور اعلان کیا کہ وہ عیسائیت، ہندومت اور آریہ سماج کے خلاف کتاب لکھے گا جس میں اسلام کی حقانیت اور ان مذکورہ مذاہب کا ابطال ہوگا اور یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی۔ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ تمام مسلمان مخیّر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کے لیے پیشگی رقوم ارسال کریں۔ مرزا
قادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی رقم پیشگی بھجوادی ۔ مرزا قادیانی نے ” براہین احمدیہ“ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ 5 جلدیں مکمل ہونے پر اعلان کر دیا کہ چونکہ 5 اور 50 میں صرف صفر کا فرق ہے ، اس لیے پانچویں جلد کے ساتھ ہی ان کا پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ پورا ہو گیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز دلیل !
- ” پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ
پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے ، اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا ۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی )
اسلامی شریعت میں خیانت بہت بڑا اور سنگین جرم ہے۔ خیانت میں جھوٹ ، بے ایمانی ، دھوکا ، فریب اور دغا بازی جیسی برائیاں شامل ہیں۔ سب سے پہلے خیانت کے معنی سمجھ لینے چاہئیں۔ ایک انسان کا جو حق دوسرے انسان کے ذمے واجب ہو، اس کے ادا کرنے میں ایمان داری نہ برتنا بد دیانتی اور خیانت ہے۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
- (ترجمہ ) : ”اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز
طریقے سے مت کھاؤ۔“ (النساء: 29)
یہ آیت ایک اصولی حیثیت رکھتی ہے ، جس میں ہر اس مال کو حرام بتایا گیا ہے ، جو کسی ناجائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”کوئی بندہ حرام مال کمائے ، پھر اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرے گا تو برکت سے خالی ہوگا ۔ اگر وہ اس کو چھوڑ کر مرا تو وہ اس کے جہنم کے سفر میں زادِ راہ بنے گا ۔“
حضور نبی کریم ﷺ جن بری باتوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے ، ان میں سے ایک خیانت بھی ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :
”الٰہی! مجھے خیانت سے بچائے رکھنا کہ یہ بہت برا اندرونی ساتھی ہے۔“ خیانت کی کراہیت کا اندازہ حضرت ابن مسعودؓ کی اس روایت سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: کہ اللہ کی راہ میں مارا جانا ہر گناہ کا کفارہ ہے لیکن خیانت کا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوا ہو اور کہا جائے گا: ”تم امانت لاؤ اور ادا کرو۔“ وہ کہے گا: ”اے اللہ! اب کیسے لاؤں؟“ کہا جائے گا کہ: ”اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔“
مولانا رفیق دلاوریؒ لکھتے ہیں: ”اس شاعرانہ خیال آفرینی کے متعلق التماس ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیاں اور مہمل نگاریاں مرزا قادیانی کے ماؤف الدماغ اور فریب خوردہ مرید تو قبول کر سکتے ہیں لیکن دنیا کا کوئی دوسرا صحیح العقل انسان ان سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اگر پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان کے تین روزے رکھ کر باقی روزے ترک کر دے اور کہنے لگے کہ 30 اور 3 کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے 30 روزوں کا فریضہ خداوندی ادا ہو گیا تو ارباب قادیاں اپنے مرزائی اصول کے بموجب اس کی تصدیق نہ کریں یا اگر مرزا قادیانی کے ذمہ کسی کے پچاس روپے قرض تھے تو وہ پانچ روپے دے کر قرض خواہ کو اس قسم کی حیلہ گرانہ منطق سے کبھی مطمئن نہیں کر سکتے تھے کہ پچاس اور پانچ میں ایک ہی نقطہ کا فرق ہے، اس لیے سارا قرضہ ادا ہو گیا۔“ بہرحال مرزا قادیانی صاحب مسلمانوں کا جو ہزارہا روپیہ کھا گئے، اس کے متعلق یوم الحساب کو ان سے یقیناً باز پرس ہو گی اور رب العالمین کی بارگاہ عالی میں پچاس کی جگہ پانچ حصوں سے وعدہ پورا کرنے کی جسارت کا جو انجام ہو سکتا ہے، وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔“
(رئیس قادیان از مولانا رفیق دلاوریؒ)
معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی بھی غبی ہیں، اپنے ”نبی“ پر گئے ہیں، وگرنہ اس مسئلے کا حل بڑا سادہ ہے کہ ”براہین احمدیہ“ کے پانچوں حصوں کے صفحات کو برابر تقسیم کر کے پچاس جلدیں بنوا لیں۔ یوں مرزا قادیانی کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا اور ”فقہ قادیانیہ“ میں ”باب الحیل“ کا مفید اضافہ بھی ہو جائے گا۔
کتاب فروش
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی ایک لالچی، زر پرست اور دنیاوی مفادات
سمیٹنے والا عیار شخص تھا جس نے محض حصول دولت کے لیے مہدی، مسیح موعود، نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے دولت حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے جن میں ایک کتب فروشی بھی تھا۔ مرزا قادیانی جھوٹے پروپیگنڈہ کا بادشاہ تھا۔ اس نے یہی فن اپنی کتابوں کی مارکیٹنگ کرنے میں اپنایا اور قدرے کامیاب رہا۔ وہ اکثر جھوٹ بولتے ہوئے اپنا خود ساختہ خواب سناتا کہ اسے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ ﷺ نے اس کی کتابوں کی تعریف وتحسین کی ہے۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات ابھارتا اور ان سے رقوم اینٹھتا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کئی کتابوں کی اشاعت کے سلسلہ میں مسلمانوں سے چندہ مانگا۔ جس پر لوگوں نے دل کھول کر اس کی اعانت کی۔ بعد ازاں مرزا قادیانی نے ان کتابوں کو بھاری قیمت پر فروخت کیا اور اس طرح اس دور میں اس نے کتب فروشی سے لاکھوں روپے کمائے۔ یہ گداگری کی ادنیٰ مثال ہے۔ عجیب تضاد ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں اپنے مخالفین کو 10 ہزار روپے نقد انعام کا چیلنج کرتا جبکہ کتابوں کی اشاعت کے سلسلہ میں لوگوں سے مالی امداد کی اپیلیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے قلمی جہاد کے نام پر انگریزوں سے پیسہ کمایا اور مسلمانوں میں فساد پھیلایا۔ اس کی کتابوں میں کیا ہے، مخالفین کو دھمکیاں، انگریز کی تعریف وتحسین، اس کے دائمی اقتدار کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات، انبیا کا تمسخر، مسلمانوں کی دل آزاری اور چندے کی اپیلیں۔
- ”اور کتاب ازالہ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ میں بلی ماروں کے بازار میں
کوٹھی لوہارو والی میں فروکش ہوں اور ازالہ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں۔ جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں۔ وہ خرید سکتے ہیں۔ والسلام (المشتہر خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد دھلی بازار بلیماراں کوٹھی نواب لوہارو۔ 2 اکتوبر، 1891ء)“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 218 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ”کتاب براہین احمدیہ کی قیمت جو بالفعل دس روپیہ قرار پائی ہے۔ وہ صرف
مسلمانوں کے لیے کمال درجہ کی تخفیف اور رعایت ہے کہ جن کو بشرط وسعت اور طاقت مالی کے اعانت دین متین میں کسی نوع کا دریغ نہیں۔ لیکن جو صاحب کسی اور مذہب یا ملت کے پابند ہو کر اس کتاب کو خریدنا چاہیں تو چونکہ اعانت کی ان سے کچھ توقع نہیں۔ لہٰذا ان سے وہ پوری پوری قیمت لی جائے گی جو حصہ اول کے اعلان میں شائع ہوچکی ہے۔ (المشتہر مؤلف براہین احمدیہ)“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 50 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ’’اس جگہ یہ بھی اطلاع دیتا ہوں کہ ’’کتاب البریہ‘‘ چھپ کر تیار ہوگئی ہے۔ قیمت
اس کی ایک روپیہ چار آنہ ہے۔ جو صاحب خریدنا چاہیں، بذریعہ ویلیو پے ایبل منگوا سکتے ہیں‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات صفحہ 182 جلد دوم طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں کی اشاعت کے لیے کئی مرتبہ لوگوں سے چندے کی اپیلیں کی، ان میں سے چند ایک ملاحظہ کیجیے:
- مئی 1879ء میں کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 16، 17 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- دسمبر 1879ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 18، 19 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ایک بار پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 24 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 31، 32 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 60، 61، 64 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 57، 58 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 64 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 74 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1880ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 34 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1905ء میں ایک مرتبہ پھر کتاب براہین احمدیہ کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 63 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب سراج منیر کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 118 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب فتح اسلام کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 170 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1891ء کتاب ازالہ اوہام کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 218 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- 1891ء ایک مرتبہ پھر کتاب ازالہ اوہام کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 239 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب ازالہ اوہام کی اشاعت کے لیے رقم میں کمی کی شکایت
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 208 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- لوگوں سے کتاب خریدنے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 249 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- لوگوں سے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 260 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- لوگوں سے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 265 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- لوگوں سے اپیل کہ یہ کتاب زکوٰۃ یا چندے سے خریدیں
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 267 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب آئینہ کمالات اسلام کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 276 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب براہین اور مستقبل میں قادیانی اخبار کے لیے چندے کی اپیل
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 300 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب آئینہ کمالات اسلام کی خریداری کے لیے جذباتی بلیک میلنگ
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 302 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
- کتاب آئینہ کمالات اسلام کی فروخت اور خصوصی رعایت کا اعلان
(مجموعہ اشتہارات، صفحہ 359 جلد اول طبع جدید از مرزا قادیانی)
”ماہواری“ چندہ
- ”ہر ایک شخص سوچ سمجھ کر اس قدر ماہواری چندہ کا اقرار کرے جس کو وہ دے سکتا
ہے، گو ایک پیسہ ماہواری ہو۔ مگر خدا کے ساتھ فضول گوئی اور دروغ گوئی کا برتاؤ نہ کرے۔ ہر ایک شخص جو مرید ہے، اس کو چاہئے جو اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کردے خواہ ایک پیسہ ہو اور خواہ ایک دھیلہ اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لیے کچھ بھی مدد دے سکتا ہے، وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں رہ نہیں سکے گا۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لیے قبول کرتا ہے۔ اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اُس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائے گا۔ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپرواہی کی، اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپروا جو انصار میں داخل نہیں، اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 556 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانی حضرات صرف اس ایک اشتہار پر غور کرلیں تو انہیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے ”نبوت“ کو بطور دھندے کے اختیار کیا تھا۔ چندے کے نام پر پیسے بٹورنا اس کا بنیادی مقصد تھا۔
جماعت مرغی کی آواز پر توجہ دے
- ”رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد
نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا:۔
ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا:۔
انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اگر تم مسلمان ہو۔
فرمایا کہ مُرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دو جماعت کی طرف تھے۔ دونو فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔ چونکہ آج کل روپیہ کی ضرورت ہے۔ لنگر میں بھی خرچ بہت ہے اور عمارت پر بھی بہت خرچ ہو رہا ہے۔ اس واسطے جماعت کو چاہئے کہ اس حکم پر توجہ کریں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 582، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
دعا برائے فروخت
- ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین
صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے جو کوم ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا ایک دوست تھا، جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائداد تھا اور لاکھوں روپے کا مالک تھا۔ مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا جو اس کا وارث ہوتا۔ اس نے مولوی عبدالعزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لیے دعا کرواؤ کہ میرے لڑکا ہو جاوے۔ مولوی عبدالعزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمھیں کرایہ دیتے ہیں۔ تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لیے کہو۔ چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لیے کہا۔ آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی، جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب آدمی کسی کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کے لیے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے، جو دعا کے لیے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لیے دعا نکلے۔ مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لیے ہمارا دل پگھلے۔ پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لیے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔ (یعنی مینوں نوٹ وکھا، میرا موڈ بنے۔ مرتب) پھر ہم اس کے لیے دعا کریں گے۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے دے گا۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دے دیا۔ مگر وہ خاموش ہو گئے اور آخر وہ شخص لاولد ہی مر گیا۔ اور اس کی
جائداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہوگئی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 257 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
بہشتی مقبرہ
بہشتی مقبرہ قادیانیوں کا ایک ایسا منافع بخش ادارہ ہے جو آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی نسل درنسل کے شاہانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قادیان میں قائم کیا۔ بعد میں پاکستان بننے کے بعد جب قادیانیوں نے چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب اپنا الگ شہر ’’ربوہ‘‘ بسایا تو بہشتی مقبرہ کی ایک برانچ یہاں بھی کھول دی گئی۔ معتبر ذرائع کے مطابق اب یورپ میں بھی اس کی برانچیں کھولنے پر غور ہو رہا ہے۔ نام نہاد بہشتی مقبرہ کی تقدیس کے متعلق مرزائیوں کے عقائد درج ذیل ہیں:۔
- ❑ ’’خدا نے مجھے میری وفات سے اطلاع دی ہے اور مجھے مخاطب کر کے میری زندگی
کی نسبت فرمایا کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اور فرمایا کہ تمام حوادث اور عجائباتِ قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا پر کچھ حوادث پڑیں اور کچھ عجائباتِ قدرت ظاہر ہوں تا دنیا ایک انقلاب کے لیے تیار ہو جائے اور اس انقلاب کے بعد میری وفات ہو اور مجھے ایک جگہ دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔ تب سے ہمیشہ مجھے یہ فکر رہی کہ جماعت کے لیے ایک قطعہ زمین قبرستان کی غرض سے خریدا جائے لیکن چونکہ موقع کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں۔ اس لیے یہ غرض مدت دراز تک معرض التوا میں رہی۔ اب اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد جب کہ میری وفات کی نسبت بھی متواتر وحی الٰہی ہوئی، میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے، اس لیے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لیے
تجویز کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنا دے۔‘‘
(الوصیت صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یہ انوسٹ منٹ بے حد کامیاب رہی ہے۔........... قادیانیو! ٹکٹ کٹاؤ! لین بناؤ........... کنے کنے جانا، بہشتی مقبرہ!!! انسانی کمزوریوں کو Exploit کرنے کی ایسی مثال مذہب کی تاریخ میں کہیں کم ہی ملے گی۔
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی وصیت نہ کرنے والا منافق
- ❑ ’’حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا، وہ منافق ہے اور وصیت کا کم
از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے جس میں عام چندہ جو وقتاً فوقتاً کرنا پڑے، شامل نہیں۔‘‘
(منہاج الطالبین صفحہ 16 مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 166 از مرزا بشیر الدین محمود)
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی شرط
- ❑ ’’ہر ایک صاحب جو شرائط رسالہ الوصیت کی پابندی کا اقرار کریں ضروری ہوگا کہ
وہ ایسا اقرار کم سے کم دو گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے زمانہ قائمئی ہوش و حواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح سے لکھیں کہ وہ اپنی کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ اشاعت اغراض سلسلہ احمدیہ کے لیے بطور وصیت یا وقف دیتے ہیں۔ اور ضروری ہوگا کہ وہ کم سے کم دو اخبار میں اس کو شائع کرادیں۔‘‘
(رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327 از مرزا قادیانی)
مرزا اور اس کے اہل وعیال کے لیے کوئی فیس نہیں
- ❑ ’’میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثنا رکھا ہے، باقی ہر ایک
مرد یا عورت ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔‘‘
(الوصیت صفحہ 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327 از مرزا قادیانی)
آپ مرزا قادیانی کی لالچی ذہنیت کا اندازہ کیجیے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے استثنا تراش لیا، مبادا اپنی جائیدادوں کا 1/10 مرکز کو نہ دینا پڑ جائے۔ گویا ذرا بھی حوصلہ نہیں ہے وگرنہ قادیانی خزانہ عامرہ ’’خاندان نبوت‘‘ کے ہی تصرف میں رہا ہے۔
بہشت سے اخراج، چندہ ضبط
- ❑ ”بموجب ارشاد حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کیا گیا
ہے کہ جو مومن وصیت کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ کے چھ ماہ بعد تک رقم وصیت ادا نہ کرے گا۔ نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت حاصل کرے گا۔ اس کی وصیت انجمن کار پردازان مصالح قبرستان کو منسوخ کرنے کا کامل اختیار ہے اور جس قدر روپیہ وہ وصیت میں ادا کر چکا ہے۔ اس کے واپس لینے کا موصی کو حق نہ ہوگا۔“ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)
(اخبار الفضل قادیان جلد 24 نمبر 62 مورخہ 11 ستمبر 1936ء)
قادیانی چندہ
محقق قادیانیت جناب اے کے شیخ اپنے مضمون ”چندہ یا جگا ٹیکس“ میں لکھتے ہیں: ”یہ صحیح ہے کہ کسی بھی تنظیم کو چلانے کے لیے چندہ ضروری ہے، اور قادیانی جماعت میں چندہ جات کو جو اہمیت ہے، وہ کسی سے بھی مخفی نہیں، مرزا قادیانی سے لے کر تمام خلفاء نے چندوں پر ہی زور دیا ہے۔ لیکن خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کے دور سے جماعت کو جس طرح جذبات کو ابھار کر مجبور کر کے، بلیک میل کر کے مذہب کے نام پر لوٹا جا رہا ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مرزا محمود کے دور میں ایک بار خواجہ حسن نظامی صاحب نے قادیان کو اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ خلیفہ ثانی کی دعوت پر وزٹ کیا۔ اس کے بعد اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں: ”ہم نے قادیان میں امور عامہ کا معائنہ کیا، نشر و اشاعت اور تحریک جدید کے دفاتر دیکھے، غرض بہشتی مقبرہ پہنچے تو اسے سبزہ و آرائش کے اعتبار سے واقعی جنت معنوی پایا، لیکن ایک بات بڑی حیران کن تھی کہ اس کے تمام درختوں اور پیڑوں پر قطار اندر قطار بیٹھے ہوئے پرندے ایک ہی راگ الاپ رہے تھے چندہ، چندہ، چندہ،“ اس بات کو لکھے ہوئے بھی ساٹھ ستر سال گزر چکے ہیں، اس کے بعد سے مرزا محمود اور ان کے بیٹوں کے ادوار میں تو اس سے کہیں زیادہ غریب قادیانیوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے اور اب تو ان کی ہڈیاں بھی نچوڑی جا رہی ہیں۔
اب جب سے خلیفہ خامس مرزا مسرور نے اقتدار سنبھالا ہے، ان کا بھی مطالبہ جماعت سے مزید قربانیوں کا ہے، اور سنا ہے کہ اب چندوں کے بقایا جات کی بڑی سختی سے پڑتال اور وصولی کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ دیکھیں اب مرزا مسرور کونسی نئی تحریک، جماعت کو
پیش کرتے ہیں۔ ویسے میں نے حتی الامکان موجودہ چندوں کی مکمل فہرست پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ کوئی کمی رہ گئی ہو تو توجہ دلانے والے کا مشکور ہوں گا۔
1- چندہ عام۔ ہر شخص کی آمد کا سولہواں حصہ (لازمی) ۔ 2 چندہ وصیت۔ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے خواہشمندوں کی آمد کا اور کل جائیداد کا دسواں حصہ ۔ 3۔ چندہ جلسہ سالانہ ۔ 4۔ چندہ تحریک جدید ۔ 5۔ چندہ وقف جدید ۔ 6۔ چندہ انصار اللہ ۔ آمد کا سوواں حصہ ۔ (لازمی) 7۔ چندہ اشاعت انصار اللہ (لازمی) ۔ 8۔ چندہ سالانہ اجتماع انصار اللہ ۔ (لازمی) 9۔ چندہ خدام الاحمدیہ (لازمی) 10۔ چندہ سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ (لازمی) 11۔ چندہ اشاعت خدام الاحمدیہ (لازمی) 12۔ چندہ اطفال الاحمدیہ (لازمی) 13۔ چندہ سالانہ اجتماع اطفال الاحمدیہ (لازمی) 14۔ چندہ اشاعت اطفال الاحمدیہ (لازمی) 15۔ چندہ لجنہ اما اللہ (لازمی) 16۔ چندہ سالانہ اجتماع لجنہ اما اللہ (لازمی) 17۔ چندہ اشاعت لجنہ اما اللہ (لازمی) 18۔ چندہ ناصرات الاحمدیہ (لازمی) 19۔ چندہ سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ (لازمی) 20۔ چندہ اشاعت ناصرات الاحمدیہ (لازمی) 21۔ چندہ مساجد بیرون ملک (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 22۔ چندہ مساجد اندرون ملک (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 23۔ ایم ٹی اے (نیم لازمی) 24۔ صدقہ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 25۔ زکوٰۃ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 26۔ بیوت الحمد (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 27۔ درویش قادیان فنڈ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 28۔ افریقہ فنڈ ۔ (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 29۔ یتامیٰ فنڈ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کرتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 30۔ غربا فنڈ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کرتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 31۔ نصرت جہاں فنڈ (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 32۔ فضل عمر فاؤنڈیشن فنڈ (پہلے تو وعدہ لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 33۔ مریم جہیز فنڈ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 24۔ طلبا فنڈ (سیکرٹری مال کا کام ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 25۔ بیوگان فنڈ (سیکرٹری مال کا کام
ہے کہ یاد دہانی کراتا رہے اور کچھ نہ کچھ وصولی کرے) 26- سو مساجد جرمنی فنڈ (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 27- سو مساجد افریقہ فنڈ (پہلے وعدہ تو لازمی لکھوائیں اور وعدہ کے بعد ادائیگی لازمی ہے) 28- عید فنڈ (یہ فطرانہ کے علاوہ ہے، جو عید کی نماز سے پہلے یا بعد وصول کیا جاتا ہے) 29- فطرانہ۔ 40- عطیہ جات برائے ہیومینٹی فرسٹ (اس کے لیے وقتاً فوقتاً اپیلیں ہوتی رہتی ہیں) (ہیومینٹی فرسٹ کی تنظیم بظاہر انسانی ہمدردی کی تنظیم ہے، لیکن حقیقت میں شعبہ تبلیغ کا ذیلی ادارہ ہے اور جہاں تبلیغ کے چانس ہوں، وہیں ان کی انسانی ہمدردی جاگتی ہے) 41- ہر دوسرے تیسرے سال نئی دیگوں کی تحریک، جیسے 3، 4 سال قبل پانچ سو دیگوں کی تحریک۔ 42- خاص تحریکات مثال کے طور پر لندن میں نئے مرکز کے لیے پانچ ملین کے بعد مزید چندہ کا مطالبہ، وغیرہ وغیرہ۔ 43- مساجد کے لیے مقامی جماعت سے پنکھوں، قالینوں وغیرہ وغیرہ کی تحریک۔ 44- بکروں کی قربانیاں خلیفہ وقت کی صحت وغیرہ کے لیے۔ 45- لجنہ کے مرکزی / ریجنل / مقامی مینا بازار کے لیے دستکاری و دیگر اشیاء کے عطیہ جات۔ 46- مقامی اخراجات کے لیے (مثال کے طور پر مقامی نماز سنٹر کا آدھا کرایہ مقامی جماعت ادا کرے۔ نیز مقامی تبلیغی میٹنگز کے لیے توقع کی جاتی ہے کہ مقامی جماعت بوجھ اٹھائے۔ اگر پورا نہیں تو کچھ حصہ دے) 47- مقامی / ریجنل / مرکزی طور پر جماعتی / انصار / خدام / اطفال / لجنہ / ناصرات کے اجلاس / اجتماعات / سالانہ جلسہ / شوریٰ / انٹرنیشنل جلسہ سالانہ کے علاوہ مختلف یوم، مثلاً سیرت النبی، یوم مسیح موعود، یوم مصلح موعود وغیرہ وغیرہ، جماعت / انصار / خدام اور لجنہ کے تحت تبلیغی میٹنگز، مقامی / ریجنل / مرکزی سطح پر منعقد ہوتی ہیں، میں شمولیت کے لیے اخراجات کا حساب لگائیں تو صرف یہ اخراجات ہی ایک ہوشربا رقم بن کر سامنے آئے گی۔ 48- وقار عمل (دراصل بیگار عمل) کے نام پر جو جسمانی، ٹیکنیکل، وقت کی بلا معاوضہ خدمات کا اجتماعی معاوضہ کا کوئی بھی حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ اگر ہم ویسٹرن سٹینڈرڈ کے مطابق کم از کم پانچ ڈالر فی گھنٹہ بھی لگائیں اور ہر قادیانی جب اپنا حساب خود لگائے کہ ایک سال میں کتنے گھنٹے اس نے وقار عمل کیا ہے اور کتنی دور اپنا پٹرول یا کرایہ خرچ کر کے گیا ہے، اور اگر اس نے اتنے گھنٹے کام کر کے پاکستان / انڈیا / افریقہ میں کسی غریب رشتہ دار کی مدد کی ہوتی تو کسی غریب کو سر چھپانے کو ایک کمرہ مل گیا ہوتا، یا کسی کا مناسب علاج ہو گیا ہوتا، یا کہیں ٹھیلا لگا کر بچوں کی روٹی کما کر دے سکتا، یا کسی غریب بیٹی کی
رخصتی کا خرچہ مہیا ہو جاتا، یا کسی اندھے ہوتے ہوئے کی بینائی واپس لوٹ آتی ۔
اوپر دی گئی فہرست سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اسلام جو کہ دین فطرت ہے اس کو قادیانیوں کی جیب سے دین کے نام پر آخری روپیہ تک کھینچنے کی ہوس میں نظام جماعت اور اس کے کرتوں دھرتوں نے اسلام کو قادیانیت کا نام دے کر دین فطرت کی بجائے ”دین چندہ“ بنا دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جتنا تجھے تکلیف میں نہ ڈالے اور میری طرح آپ بھی خوب جانتے ہیں کہ آپ تکلیف میں پڑے ہوئے ہیں یا نہیں!!!
چندہ لینے کے لیے اور جو دے رہے ہیں ان سے اور زیادہ نکلوانے کے لیے ہر قسم کے ذاتی، جماعتی، سماجی اور نفسیاتی غرضیکہ ہر حربہ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ زکوۃ، عشر اور فطرانہ کے بعد کس کا حق ہے، وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ تو کہہ دے (کہ) جو اچھا مال بھی تم دو ۔ وہ (تمھارے) ماں باپ، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافر کا پہلا حق ہے اور جو نیک کام بھی تم کرو اللہ اسے یقیناً اچھی طرح جانتا ہے۔ (البقرہ: 226) قادیانیو! ذرا...... لگتی کہو کہ 48 چندوں اور مدات میں خرچ کرنے کے بعد تم ان لوگوں کا جن کا پہلا حق ہے، حق ادا کر سکتے ہو؟ یا کم از کم صحیح طور پر ادا کر سکتے ہو؟ نظام افضل ہے یا قرآن افضل ہے؟ کسی ضرورت مند کی دعائیں بہتر ہیں یا ان ناشکروں کی بد مزاجی ( تم نے چندہ دے کر مجھ پر یا خدا پر کوئی احسان نہیں کیا؟ سوچو اور اپنے عمل میں توازن پیدا کرو، ان کی لچھے دار تقریروں کے طلسم کو توڑ دو اور قرآن کے بتائے ہوئے حق داروں کو ان کا حق ادا کر کے روز قیامت حقیقی سرخروئی حاصل کرو۔ اللہ آپ کی صحیح فیصلہ میں مدد کرے۔ آمین۔ ویسے اگر ابھی بھی کوئی اس خاندان مغلیہ کے زرعی فارمولوں پر نظر ڈالے تو ان کے گدھے بھی گھاس کی بجائے چندہ چندہ کی ڈھینچوں کر رہے ہوں گے۔ قادیانیو! اٹھو اور جاگو کب تک اپنے خون پسینے کی کمائی ان کے اللوں تللوں کے لیے دو گے؟ کب تک اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ نکال کر ان کے مرغ پلاؤ کا بندوبست کرتے رہو گے اور کب تک اپنے بچوں کے تن سے کپڑے اتار کر، ان کے مخمل اور کمخواب مہیا کرتے رہو گے۔ کب تک اپنے اعزہ و اقربا کا جو حق ہے، غصب کر کے ان کے ہاتھوں کو دباؤ دھونس اور بلیک میلنگ کے لیے مضبوط بناتے رہو گے۔ کب تک اپنے غریب، معذور، بیوہ، بیمار، لاچار ہمسائے کے حقوق سے آنکھیں بند کر کے گزرو گے اور ان کے لچھے دار الفاظوں کے جال میں پھنس کر ان کے یورپین
بینک اکاؤنٹس کو بھرتے رہو گے۔
چندہ ہر اس رقم پر لیا جاتا ہے جو ایک قادیانی کی ہر قسم کی آمدن ہے، اس آمدن میں تنخواہ، بنیادی الاؤنس کرایہ مکان، سردی الاؤنس (بعض ملکوں میں برفانی علاقوں میں گھر کو گرم رکھنے کے لیے ملتا ہے) سفری الاؤنس (بعض ملکوں یا علاقوں میں گھر سے کام تک آنے جانے کا کرایہ ملتا ہے) بچوں کے الاؤنس (یورپین ملکوں میں بچوں کے لیے سرکار کی طرف سے الاؤنس ملتا ہے) وغیرہ وغیرہ ہے، چاہے وہ مرد یا عورت بیماری یا معذوری یا کسی اور وجہ سے بیشک نہ کما رہے ہوں، لیکن ان کی آمد صرف کسی کی مدد اور یورپین ملکوں میں حکومت کی طرف سے کم از کم زندہ رہنے کے لیے جو مالی مدد دی جاتی ہے، پر بھی لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک احمدی نے غیر قانونی کام کر کے پیسے کمائے ہیں تو جماعت اس میں بھی اپنا حصہ طلب کرتی ہے، بعض لوگ کم آمدن کی وجہ سے رات کو ہوٹلوں اور شراب خانوں میں پھول بیچتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی بعض ضروریات یا پیچھے وطن میں اپنے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کر سکیں، اس میں بھی جماعت کا جگا ٹیکس ہے، یہاں تک کہ اگر ایک یتیم بچے کے نام کوئی حکومت کی طرف سے امداد یا باپ کی پینشن یا جائداد سے آمدنی ہو تو اس پر بھی چندہ واجب ہے اور تو اور جماعت کہتی ہے کہ بینکوں سے سود لو اور جماعت کو دے دو، سود کی حرمت سے سب واقف ہیں، اس پر کیا کہنا؟ لیکن کئی جگہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اے ایماندارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں اور (نیز) اس میں سے جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ (البقرۃ: 268)
اب دیکھیں کہ جماعت اللہ کی راہ میں مال طلب کرتی ہے، باقی تو جو ظلم ہے، سو وہ تو ہے ہی، اوپر سے ترغیب دیتی ہے قرآنی حکم کے واضح طور پر خلاف (جتنی مرضی تاویلات کر لیں اور جتنے مرضی خوبصورت الفاظ استعمال کر لیے جائیں، حقیقت نہیں بدل سکتی) کہ سود لو، پہلے تو آدمی سے خدا کا قانون تڑواتے ہیں اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ سود اب ہمارے حوالے کر دو، اس طرح بقول جماعت کہ مال پاکیزہ ہو جاتا ہے اور پاکیزہ مال پر تو صرف پاکیزہ جماعت کا ہی حق ہو سکتا ہے۔ بھئی پاکیزہ کرنے کے بعد کچھ اس کے لیے بھی پاکیزہ مال چھوڑ دو، نہیں کوئی بڑا بدمعاش چھوٹے بدمعاش سے چوری، ڈاکا، جیب کتری کرواتا ہے تو وہ بھی اس میں چھوٹے کے لیے کچھ حصہ چھوڑتا ہے، لیکن جماعت ایک قادیانی سے سارا سود
لے کر (اور دوسرے چندے بھی) جزاء کم اللہ بھی نہیں کہتی، ایک رسید سیکرٹری مال ہاتھ میں جس انداز سے پکڑا دیتا / دیتی ہے (جس پر جزاء کم اللہ لکھا ہوتا ہے) اس انداز سے یہ تاثر ملتا ہے تو تیری قسمت ، ورنہ نہ تو جماعت پر اور نہ ہی کسی عہدیدار پر تیرا احسان ہے۔ کیا اس طرح جماعت نے اس غریب سے قادیانیت یعنی حقیقی اسلام کے نام پر قرآن کریم کے دو واضح حکموں کی خلاف ورزی نہیں کروائی؟؟؟ یعنی ایک تو سود لو اور اوپر سے اس گندے پیسے کو پاکیزہ نام پر یعنی اللہ کے نام دو۔ لیکن اگر کسی کے چندہ میں جماعت کے حساب سے کوئی بقایا رہ گیا ہے تو اس پر ہر ممکن طریقہ سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ بقایا ادا کرو، اس وقت بھی سیکرٹری مال سے لے کر ریجنل امیر اور مربی تک بھی آرام سے کیوں نہیں بیٹھ جاتے اور اللہ پر چھوڑ دیتے ، بلکہ اس غریب کو سینٹر میں بلا بلا کر ذلیل کرتے ہیں۔ پھر جب دیکھتے ہیں کہ ان تلوں میں زیادہ تیل نہیں تو اس کو جماعت اور اپنی نظر میں بھی ذلیل کرنے کا ایک اور طریقہ اختیار کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان عہدیداروں کا مقصد اس آدمی کو ذلیل کرنے والا نہ ہو، اور ان کا مقصد صرف اوپر والوں کے دباؤ کو اپنے اوپر سے پرے کرنا ہو۔ اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ حضور سے چندہ کا ایک حصہ معاف کروا لو، اب جو شخص حالات سے، ذمہ داریوں کی وجہ سے مجبور ہے، خلیفہ کی خدمت میں ایک انتہائی عاجز کی حیثیت سے اور لجاجت سے ایک درخواست لکھے گا، جو آپ کی جوتیوں کا غلام کے الفاظ پر ختم ہوگی۔ جس میں اپنی مجبوریوں کا ذکر کرے گا اور چندے کی معافی کی درخواست لکھے گا اور سیکرٹری مال کو دے گا، وہ صدر کو مشورہ کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کرے گا، صدر اپنی سفارش کے ساتھ اور اگر وہ نہیں چاہتا تو کم از کم زبانی مخالفانہ رپورٹ کے ساتھ ریجنل امیر کو دے گا اور وہ اپنی سفارش کے ساتھ آگے نیشنل امیر کو بھیجے گا، اور نیشنل امیر اس درخواست کو آگے حضور کی خدمت میں بھیجے گا۔ حضور تک درخواست پہنچتے پہنچتے پتا نہیں کہاں کہاں تک اس شخص کی مالی حالت کے چرچے پہنچ چکے ہوں گے، اور جس بات کو وہ چھپانا چاہتا تھا، وہ ساری دنیا میں نشر ہو جاتی ہے اور اب بعض غیر متعلق لوگ کس طرح اس کو جتلاتے ہیں کہ میں وہاں بیٹھا تھا تو پتا چلا، یا کسی دوست سے پتا چلا!!! کیا حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں، بس آپ دعاؤں پر زور دیں اور حضور کو باقاعدگی کے ساتھ لکھتے رہیں، میں بھی دعا کروں گا، اللہ فضل کرے گا۔
اور اس طرح بعض لوگوں کو ان کے حالات اس طرح نشر ہونے سے بے پناہ
نقصانات پہنچے ہیں اور بعض جگہ تو اس وجہ سے رشتے ہوتے ہوتے ختم ہو گئے کہ یہ تو کنگال ہو چکے ہیں تو چند مہینوں کے بعد از راہ شفقت حضور کا جواب آئے گا کہ چھ ماہ یا ایک سال کے لیے آپ کا تیسرا حصہ یا آدھا حصہ معاف کیا جاتا ہے، اور وہ مدت ختم ہونے کے بعد اگر حالات نہیں سنبھلے تو پھر وہی درخواست اور وہی چکر دوبارہ، پھر ہر موقعہ پر بار بار یہ دماغ میں ڈالنا کہ چندہ نہیں دو گے تو مالوں میں برکت نہیں رہے گی۔ نقصان اٹھاؤ گے۔ فلاں نے پورا چندہ نہیں دیا تو یہ نقصان ہو گیا، فلاں نے اپنی ضرورتوں کو پیچھے پھینکا اور پیسے حضور کی فلاں تحریک میں دیے تو راتوں رات اس کو پھل لگ گئے۔ (حالانکہ رات بھی نہیں پڑی، پھل تو حضور کی تحریک کو لگے) وہ لچھے دار تقریر سے جوش میں آ کر سب پونجی دے گیا، اب خوش فہمی ہی اس کا دکھ کچھ کم کر سکتی ہے۔ میں ایک رانا صاحب کو جانتا ہوں کہ کسی تحریک میں ان کا وعدہ سینکڑوں مارک کا تھا، مربی کے جوش اور غیرت دلانے سے ہزاروں میں کر دیا اور مربی صاحب نے ان کے اس اخلاص کی مثال کے ذریعہ باقی بہت سارے دوسرے حاضرین کی جیب ہلکی کی۔ اس کے بعد جلد ادائیگی کا مطالبہ پر پریشان ہو رہے تھے اور اس وقت کو کوس رہے تھے، جب وہ جوش میں آ گئے تھے۔ اس طرح کی باتیں تسلسل کے ساتھ کر کے آدمی کو نفسیاتی طور پر اتنا مرعوب کر دیتے ہیں کہ وہ غریب سوائے اس کے کہ جو نظام مانگتا ہے، دے دے، ورنہ احساس گناہ کا شکار رہے گا۔ ان کا نفسیاتی جال اتنا نفیس اور مضبوط ہے کہ اس میں پھنسا ہوا شخص، مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر جان تو دے سکتا ہے، لیکن اس جال کو (جماعت چھوڑنے یا نکالے جانے کے باوجود) ذہنی طور پر توڑنا آسان نہیں۔ اوپر سے ظلم کی انتہا ہے کہ پاکستانی، انڈین اور ایشیائی خاندانوں میں بالعموم کمانے والا فرد ایک ہوتا ہے۔ زیادہ تر فیملیز میں بچے بھی زیادہ ہیں، اگر ہم فی فیملی پانچ افراد بھی لگائیں جو کہ کم از کم حد ہے تو سوچیے کہ ایک کمانے والے پر کتنا بوجھ ہے، اس شخص کا اپنا چندہ عام یا وصیت، چندہ جلسہ سالانہ، تحریک جدید، وقف جدید، مساجد بیرون، مساجد اندرون ملک، ایم ٹی اے، چندہ انصار / خدام، اشاعت انصار / خدام، اجتماع اور بے شمار دوسرے چندے۔ بیوی نے اسی آدمی سے ہی پیسے لینے ہیں۔ اس کے چندے، چندہ عام اور جلسہ سالانہ کو چھوڑ کر باقی سارے چندے وہی، اگر اس نے وصیت کی ہے تو اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں۔ اسی طرح تین بچوں کے پہلے دو چندے چھوڑ کر باقی سارے، اور اگر بیوہ ماں ہے تو اس کے بھی اسی طرح سارے چندے اگر
کوئی جوان بہن ہے تو اس کے بھی اسی طرح سارے چندے اور اس کے علاوہ بے شمار تحریکیں ،پھر آنے جانے کے خرچے، یہ سب ایک شخص کی آمد سے پورا کرنا ہے۔ اگر ہم ایک شخص کی آمد 2000 ڈالر / یورو / روپیہ لگائیں!!! کرایہ مکان، بجلی، پانی، صفائی (کم از کم) 800+ (کام پر آنے جانے کا) پٹرول، بس وغیرہ (کم از کم) 150+ انشورنسز (کم و بیش) 100 (یورپ میں بہت سی انشورنس لازمی کروانی پڑتی ہیں) + ٹیلیفون (کم از کم) 50+ واشنگ آئٹمز (کم از کم) 100+ لباس وغیرہ (کم از کم) 100+ چندہ (کم و بیش) 200 (اگر وصیت کی ہے تو تقریباً 300 تک) = کل جمع 1500 یا 1600 ڈالر / یورو / روپیہ، اس طرح باقی بچا کل 500 یا 400 ڈالر / یورو / روپیہ اس میں سے آپ کھائیں گے کہاں سے اور ماں باپ اعزہ واقربا کا حق (جو کہ قرآن کریم نے سب سے پہلے رکھا ہے) کیا ادا کریں گے۔ کیونکہ وہ تو آپ سے جماعت لے گئی۔ جب آپ کے پاس کسی کو چائے پلانے کی ہمت بھی نہیں ہوگی، کسی کے پاس جانے کی گنجائش نہ ہوگی ، تو سوشل تعلقات کیا رہ جائیں گے، میں نے اس مثال میں اخراجات کی حد بہت کم رکھی ہے، حالانکہ حقیقی اخراجات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرے اجلاسات میں آنے جانے، مقامی جماعتی اخراجات اور دوسرے بہت سے ذاتی ضروری اخراجات شامل نہیں کیے۔ اس پر اگر کوئی مجبور ہو کر چندے کی درخواست دیتا ہے تو اس کے ساتھ از راہِ ترحم کیا سلوک ہوتا ہے، خلیفہ رابع کہتے ہیں کہ جہاں تک شرح سے کم دینے والوں کا تعلق ہے، ان کے ساتھ دو قسم کے سلوک ہوتے ہیں بلکہ تین قسم کے کہنا چاہیے۔ وہ لوگ جنھوں نے میری اس عام رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے لکھ کر مجھ سے اجازت حاصل کر لی ہو کہ ہمیں پورا چندہ دینے کی توفیق نہیں ہے، ہم اتنا دے سکتے ہیں تو ان کو ووٹ کا حق ہوگا، ووٹ دینے والی کمیٹی میں خود ووٹ دے سکتے ہیں، امیر کو ووٹ دے سکتے ہیں مگر خود منتخب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ جو ادنیٰ معیار چندے کا ہے، اس سے گرے ہوئے ہیں۔ ان کو میں نے یہ رعایت دی ہے۔ رعایت کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ تو کر سکتے ہیں کہ ووٹ دیں لیکن عہدے دار منتخب نہیں ہو سکتے۔ (خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء، منقول از احمدیہ بلیٹن جرمنی، شمارہ 8، 2000ء) لیکن اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ چندہ عام سوا چھ فیصد ہے، وصیت 10% ہے اور باقی ان گنت چندے اور اس کو بھی ابھی ادنیٰ معیار کہا جا رہا ہے۔ لوگ پیٹ کاٹ کر اپنی جائز ضروریات کا خون کر کے بھی ابھی بقول نظام جماعت اور
کرتوں دھرتوں کے ان کے ادنیٰ معیار پر ہی ہیں صرف زیادہ سے زیادہ چندہ عام میں 50% رعایت ایک محدود مدت کے لیے مل سکتی ہے، باقی کسی چندہ میں کوئی رعایت نہیں، اور جو چیز ایک بار بجٹ اور وعدہ میں آ گئی ہے، وہ ادا کرنی ہی پڑے گی ورنہ بقایا جات کی تلوار آپ کے سر پر لٹکتی ہی رہے گی۔ خدا تعالیٰ نے ، زکوٰۃ، عشر اور غالباً فطرانہ کا بھی خود ایک معیار مقرر کیا ہے، اس کے علاوہ اس کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی معیار نہیں ماسوائے کہ اتنا خرچ کرو جو تمھیں تکلیف میں نہ ڈالے اور وہ ہمارے دلوں کا حال بھی جانتا ہے اور کسی دوسری جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قبول وہی ہوگا، جو خوشی سے دو گے۔ (اے قادیانیو!!! اپنے دلوں کو ٹٹولو اور خود ہی فیصلہ کر لو کہ خوشی سے کیا دیتے ہو اور مجبوری سے کیا دینا پڑتا ہے، خدا تمھارے دلوں کو جانتا ہے) اور اس کے علاوہ یہاں لوگوں کی قربانیوں کو سراہنے اور تعریف کی بجائے، نفسیاتی طور پر اور مرعوب کیا جا رہا ہے کہ یہ کیا ہے ادنیٰ سی کوشش اور قربانی ...... خبردار جو دماغ میں کوئی ایسا کیڑا آنے دیا کہ تم نے کوئی قابل فخر کام کیا ہے یا کوئی بڑی نیکی کی ہے۔ جس طرح آپ کلب یا کسی فلم کا اشتہار، رنگ دار، قابل کشش اور رقاصہ کی طرحدار فوٹو وغیرہ کا اشتہار دیکھتے ہیں اور ان اشتہاروں کو دیکھ کر کچھ لوگ اندر داخل ہوتے ہیں، اسی طرح پہلے دنیا کو ہم کہتے ہیں (اخلاص اور محبت اور خدمت اسلام وقرآن کے دعوؤں اور مسکراہٹوں کے رنگ بھر کر) کہ ہمارے پاس آؤ، کہ صرف ہمارے پاس آنے سے ہی خدا کے ہاں تمہاری نجات لکھی ہے۔ اگر کوئی غریب ہماری لچھے دار باتوں میں آ جاتا ہے اور اپنی اور اپنے بچوں کی اُخروی نجات کے لیے سب کی مخالفت مول لیتا ہے، اور قادیانی بن جاتا ہے۔ اب ہم اس کے سامنے مذہبی سٹرپ ڈانس شروع کرتے ہیں۔ پہلا نقاب الٹتے ہیں کہ مالی قربانی کے بغیر قادیانی، قادیانی نہیں ہے، وہ جنت کے خوابوں میں خوشی سے قبول کرتا ہے کہ اللہ کا بھی حکم ہے کہ دین کی راہ میں خرچ کرو، اور وہ جیب سے نوٹ نکال کر ان کے مطالبات پر نچھاور کرتا ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ جماعت اپنے مطالبات کے کپڑے اتار کر اس کی عقل پر ڈالتی چلی جاتی ہے اور وہ ان کے مطالبات کو مانتا چلا جاتا ہے، کہ اس کو سوچنے اور دیکھنے اور سمجھنے کی فرصت ہی نہیں دیتے کیونکہ تقریباً ہر چھٹی کے دن کوئی نہ کوئی جماعتی پروگرام ہوتا ہے، اور اگر اس کے چھٹی والے دن میں گھر پر ٹھہرنے کا پروگرام ہے تو کوئی نہ کوئی عہدیدار کسی بہانے اس کے گھر میں پہنچا ہوگا (بظاہر) ملنے کے بہانے (کہ اس کا اخلاص اور مالی معیار بڑھوائیں) حتیٰ
کہ وہ ادنیٰ معیار پر (یعنی چندوں کے کم از کم ریٹ جو جماعت نے مقرر کیے ہیں) پہنچ جاتا ہے۔ جب تک وہ اس معیار پر نہیں پہنچتا، کم از کم اس وقت تک اس پر نظر رکھی جاتی ہے) اور وہ قابل اعتبار نہیں ہوتا اور جنھوں نے جماعت میں داخل ہوتے ہی کھلے دل سے پیسے ان کے آگے پھینکے تو (جس طرح رقاصہ بڑے نوٹ پھینکنے والے کو مرکز توجہ بنا لیتی ہے، جماعت بھی فوراً میرے عہدے بھی تمھارے لیے ہیں، کا راگ الاپنا شروع کر دیتی ہے) جماعت اس کو فوراً عہدے پیش کر دیتی ہے (ویسے تو اگر آپ پیسے دے رہے ہیں اور چھوٹے خلیفوں کی چمپی کرنا جانتے ہیں تو پینے پلانے اور ہر قسم کے کاموں کے باوجود عہدے دار بن سکتے ہیں) اس کی بہترین مثال، جرمنی میں شہر کولون کے محمد مالک ہیں کہ انھوں نے قادیانیت قبول کرتے ہی دس، گیارہ ہزار مارک چندہ دیا اور قادیانی ہونے کے دوسرے ہفتہ میں ساتھ کے شہر پل ہائم میں زعیم انصار اللہ بنا دیا گیا، دو ماہ بعد انھوں نے مزید دس، گیارہ ہزار مارک جماعت کو دیے، لیکن تیسرے مہینے ریجنل کھڑپینچ (بے احتیاطی کی، ذرا جلد بازی دکھا دی) ایک نئی تحریک لے کر پھر پہنچ گئے۔ وہ کھٹک گئے اور ان کے ہدیوں اور موعودہ جنت پر لات مار کر وہیں پر واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے۔ دوسری مثال سٹٹگارٹ شہر کی ہے، وہاں ایک شہزاد نام کے صاحب جن کا کپڑے کا کاروبار ہے، قادیانی ہوئے ہیں اور وہ قادیانی ہونے کے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ترقی پا کر قادیانی جماعت سٹٹگارٹ شہر کے سیکرٹری تعلیم بن چکے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ جی میں سنی احمدی ہوں۔
اب جب بندہ ادنیٰ معیار پر پہنچ گیا ہے تو اس پر اب دباؤ ہے کہ اپنے چندوں کو قربانی کے اعلیٰ معیار پر لے کر جاؤ۔ ساتھ ہی اس کے دماغ میں ڈالا جاتا ہے کہ نظام وصیت میں شامل ہو گئے تو تب ہی یقینی طور پر جنت میں جاؤ گے۔ شروع میں جنت کے لیے پہلے صرف قادیانی ہونا شرط تھا، پھر مالی قربانی شرط بنی، پھر معیاری چندے شرط بنی، اور یہ بھی کافی نہیں اب وصیت کرواؤ، تب کچھ بات بنے گی اور اس قسم کا تاثر دیا جاتا ہے کہ ویسے تو اللہ غفور الرحیم ہے اگر بخشنا چاہے گا تو علیحدہ بات ہے ورنہ جنت میں جانے والے لوگ بہشتی مقبرہ سے ہی لیے جائیں گے، اس کے بعد اگر اس کی مرضی ہوئی تو باقی جنتی بھی قادیانیوں سے ہی لیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ قادیانیوں کے علاوہ باقی ساری دنیا تو خیر سو فیصد جہنمی ہے، خلیفہ ثانی کا فتویٰ موجود ہے کہ جس نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ بھی سخت کافر ہے (جنت نہ ہوئی، سینما
ہو گیا کہ بڑے صاحب لوگوں کے بیٹھنے کے بعد کچھ سیٹیں بچ گئی ہیں تو ان کے سفارشیوں کو سینما کا مالک بٹھا دیتا ہے) اور قادیانی ہونے کے بعد اگر تم نے جنت یقینی نہ بنائی تو کیا فائدہ۔
اب ایک اخلاص کا مارا بلکہ کچلا ہوا قادیانی نظام وصیت میں شامل ہو جاتا ہے، اس نظام میں وہ دو گواہوں کے سامنے اقرار کرتا ہے کہ تاحیات وہ اپنی ہر قسم کی کل آمد کا ایک بٹا دس حصہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کرے گا (اور دوسرے چندے بھی معیاری دے گا) نیز اپنی موجودہ اور آئندہ بنائی جانے والی جائیداد کا ایک بٹا دس حصہ انجمن کے نام منتقل کرے گا یا انجمن کی مقرر کردہ قیمت جمع کروائے گا۔ اس اعلان کو اخباروں میں شائع کیا جاتا ہے اور قانونی حیثیت دی جاتی ہے، اس کے بعد اب وہ موصی کہلاتا ہے (اپنے ارد گرد والوں کے لیے وہ بیشک موذی ہو) اور اس کے ہاتھ میں ایک سرٹیفکیٹ پکڑا دیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم بہشتی مقبرہ کے امیدواروں کی لائن میں کھڑے ہونے کے حقدار ہو۔ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لیے ابھی مزید سات شرطیں پوری ہوں گی (جیسے ہم بچپن میں ایک شہزادے کی کہانی پڑھتے تھے کہ شہزادی حسن بانو کو حاصل کرنے کے لیے، شہزادہ منیر شامی کو سات شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں، بعینہ اسی طرح یہاں بھی) تو پھر بندہ وہاں دفن ہوگا۔ لیکن اگر ایک شرط بھی پوری نہ ہو سکی تو نعش کو تین دن گلانے اور سڑانے کے بعد، جہنمیوں کے قبرستان میں دفن کر آئیں، اور اپنا ایمان تازہ کریں کہ دیکھا اس کے گناہ ایسے تھے کہ یہاں پہنچ کر بھی دفن نہ ہو سکا۔ آخر بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا کوئی معمولی بات تو نہیں، اور خدا خود ایسے بندوں سے بہشتی مقبرہ کو بچاتا ہے، دفتر کار پرداز کے کلرکوں سے غلطیاں کروا کر یا حساب کا صحیح اندراج نہ کروا کر“۔
(ماخوذ از احمدی ڈاٹ آرگ)
مرزا قادیانی کی علمی حیثیت
اسلام میں علم کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث کی رُو سے علم اور اہل علم کا درجہ بہت بڑا ہے۔ علم ایک نور ہے اور جہالت تاریکی۔ جس طرح نور اور ظلمت یا روشنی اور تاریکی دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایک عالم اور جاہل دونوں ہمسر نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید کی رُو سے ایک اندھا اور ایک آنکھوں والا شخص دونوں مساوی نہیں ہو سکتے۔ قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت و رسالت مرزا غلام احمد قادیانی کو زعم تھا کہ وہ بہت بڑا عالم ہے اور اسے تمام علوم خود خدا نے سکھائے ہیں۔ وہ اپنی کتب میں بار بار کہتا ہے کہ میری معلومات خدائی ہیں اور میں نے علم براہ راست اللہ سے حاصل کیا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی وحی و الہام میں کہتا ہے:
- ”انک باعیننا سمّیتک المتوکل و علمنہ من لدنا علمًا“
ترجمہ: تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم نے تیرا نام متوکل رکھا، اپنی طرف سے علم سکھلایا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 698 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 476 از مرزا قادیانی)
- ”وھب لی علومًا مقدسة نقیة ومعارف صافیة جلیة و علّمنی ما لم
یعلم غیری من المعاصرین.“ ترجمہ: ”اللہ نے مجھے پاک مقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطا کیے۔ اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔“
(انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی)
- ”وَعَلَّمَنِیْ مِنْ لَّدُنْہُ وَاَکْرَمَ. اور مجھ کو اپنے پاس سے سکھایا اور عزت دی۔“
(خطبہ الہامیہ صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 249 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! آیئے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کو کون کون سے
صاف اور روشن معارف عطا کیے:
نبی کریم ﷺ کے والد محترم
- ”تاریخ کو دیکھو کہ حضور نبی رحمت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش
سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“
(پیغام صلح صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465 از مرزا قادیانی)
سیرت النبی ﷺ کا ہر طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہؓ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے چند ماہ پہلے ایک تجارتی سفر میں انتقال کر گئے تھے اور آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ کا سانحہ ارتحال آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کے 6 سال بعد ہوا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کو ان تاریخی حقائق کا علم نہیں۔ بقول ڈاکٹر غلام جیلانی برق: ”مت بھولیے کہ یہ مرزا صاحب کی آخری تحریر تھی جو انہتر برس کے علمی مطالعہ کا نچوڑ تھی۔ پھر تحریر بھی اس ہستی کے متعلق جن کا ذکر ہر زبان پر اور چرچا ہر گھر میں ہے۔ اور واقعہ بھی ایسا جسے ہمارے لاکھوں واعظین تیرہ سو برس سے گلی گلی سنا رہے ہیں اور جس سے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی آگاہ ہیں۔ حیرت ہے کہ مرزا صاحب تاریخ نبویؐ کے اس مشہور ترین واقعہ سے بھی بے خبر نکلے۔“ (حرفِ محرمانہ، از ڈاکٹر غلام جیلانی برق)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کے بارے میں ”مر گئی“ ایسے الفاظ استعمال کر کے بدترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے
- ”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے
تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 286 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299 از مرزا قادیانی)
مذکورہ بات مرزا قادیانی کی جہالت پر بیّن دلیل ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے صاحبزادوں کی تعداد 3 تھی۔ (1) حضرت قاسمؓ (2) حضرت عبداللہؓ (ان کا لقب طیب و طاہر بھی ہے) (3) حضرت ابراہیمؓ۔
نبی کریم ﷺ کی 12 لڑکیاں
- ’’دیکھو ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں 12 لڑکیاں ہوئیں۔ آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا
کیوں نہ ہوا۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 372 طبع جدید از مرزا قادیانی)
یہ عبارات مرزا قادیانی کے مراق اور مالیخولیا کا نتیجہ ہیں یا پھر ٹانک وائین کا اثر کہ کبھی کہتا ہے آپ ﷺ کے 11 بیٹے تھے اور کبھی کہتا ہے 12 لڑکیاں تھیں۔
مرزائی مربیوں کے پاس مرزا قادیانی کی اس جہالت کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے یہ کہا: ’’یہ مرزا کی اپنی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ملفوظات ہیں جو دوسرے لوگوں نے سن کر لکھے ہیں، چنانچہ ہوسکتا ہے لکھنے والے نے غلط سنا ہو، اس لیے مرزا کو جاہل کہنا ٹھیک نہیں‘‘۔ قادیانیوں کی اس بھونڈی تاویل کا یہ جواب ہے کہ 17 جولائی 1903ء کا اخبار ’’الحکم‘‘، جو قادیان سے مرزا قادیانی کی سرپرستی میں نکلتا تھا، اس میں بھی مرزا قادیانی کی یہی بات لکھی ہے، ہمارا مرزائی مربیوں سے سوال ہے کہ کیا مرزا قادیانی نے اپنی اس بات کی کوئی تردید شائع کی؟ اگر ہے تو پیش کرو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس کل نبیوں کی تصویریں
- ’’کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں، قیصر روم کے
پاس جب صحابہ گئے تھے تو اُنہوں نے آنحضرت صلعم کی تصویر اس کے پاس دیکھی تھی۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم طبع جدید، صفحہ 172 از مرزا قادیانی)
حضرت یوسف علیہ السلام پر مصائب کی وجہ
حضرت یوسف علیہ السلام پر جو مصائب آئے وہ منشا الٰہی کے مطابق نہیں آئے بلکہ بقول مرزا قادیانی۔
- ’’دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام پر جس قدر مصائب آئے، وہ سب بے وقت
خواب سُنانے کی وجہ سے آئے۔‘‘ (ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 166، از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ کیا وہ ان تحریروں سے اتفاق کرتے ہیں یا انہیں جھوٹ سمجھتے ہیں۔
صرف دو مسجدیں
آنجہانی مرزا قادیانی کہتا ہے:
- ”حضور نبی رحمت ﷺ کی وفات پر ہزاروں آدمی مرتد ہوگئے حالانکہ آپ ﷺ
کے زمانہ میں تکمیل شریعت ہوچکی تھی۔ یہاں تک اس ارتداد کی نوبت پہنچی کہ صرف دو مسجدیں رہ گئیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔ باقی کسی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی جاتی تھی“۔
(ملفوظات جلد چہارم طبع جدید صفحہ 579، از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا تاریخ اسلامی کی کسی مستند کتاب میں یہ حوالہ موجود ہے؟
امام بخاریؒ
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ
کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 110 مندرجہ روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 210 از مرزا قادیانی)
تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نامور محدث اور صاحب الجامع الصحیح بخاری شریف کا اصل نام امام ابو عبداللہ محمد ہے۔ ان کے والد گرامی کا نام محمد اسماعیل تھا جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ امام بخاری کا نام محمد اسماعیل بخاری تھا۔ یہ بات مرزا قادیانی کے جہل کا ایک اور ثبوت ہے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کتابت کی غلطی ہے۔ حالانکہ یہ کتابت کی غلطی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ اپنی کتابوں میں سات مختلف جگہوں پر امام بخاری کا نام محمد اسماعیل لکھا ہے۔
- 1- ازالہ اوہام صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 209، 210، از مرزا قادیانی
- 2- ازالہ اوہام صفحہ 273 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 238، 239، از مرزا قادیانی
- 3- ازالہ اوہام صفحہ 243 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 124، از مرزا قادیانی
- 4- ازالہ اوہام صفحہ 518 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 378، از مرزا قادیانی
- 5- مباحثہ لدھیانہ صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 4، صفحہ 101، از مرزا قادیانی
- 6- مباحثہ لدھیانہ صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 4، صفحہ 116، از مرزا قادیانی
- 7- توضیح مرام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 56، از مرزا قادیانی
چوتھا مہینہ صفر، چوتھا دن چہارشنبہ
مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے بارے میں لکھا:
- ’’اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں
میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چہارشنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 218 از مرزا قادیانی)
اسلامی سال محرم سے شروع ہوتا ہے جس کا دوسرا مہینہ صفر ہے لیکن مرزا قادیانی اسے چوتھا قرار دیتا ہے۔ پھر اسلامی ہفتہ شنبہ سے شروع ہو کر جمعہ پر ختم ہوتا ہے۔
7 6 5 4 3 2 1
شنبہ یک شنبہ دوشنبہ سہ شنبہ چہارشنبہ پنج شنبہ جمعہ
چہارشنبہ پانچواں دن ہے لیکن مرزا قادیانی اسے چوتھا کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی زبان اور قلم صدیقوں کی طرح خدا کی حفاظت میں نہ تھیں بلکہ شیطان کے زیر اثر تھیں۔ اس لیے وہ معمولی معمولی باتوں میں غلط گوئی کر جاتا تھا۔ اس کی ہم ایسی مثال پیش کرتے ہیں کہ جسے پڑھ کر معمولی علم رکھنے والا شخص بھی اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکے گا۔
قادیان؟
- ’’قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب
میں واقع ہے۔‘‘
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ صفحہ 22، 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22، 23 از مرزا قادیانی)
اس کے برعکس مرزا قادیانی کا خاص مرید اور قادیانی جماعت کا مبلغ مولوی شیر علی اپنے مضمون ’’مسیح کی آمد ثانی‘‘ میں لکھتا ہے:
’’قادیانی پنجاب کے دارالخلافہ لاہور سے قریباً پچاس کوس کے فاصلہ پر بجانب مشرق آباد ہے۔‘‘
(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل جلد 7 شمارہ 16 بتاریخ 21 اپریل 2000ء تا 27 اپریل 2000ء)
پنجاب کا ہر باشندہ جانتا ہے کہ قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے اور گورداسپور
لاہور سے شمال مشرق کو ہے مگر مرزا قادیانی اس کو مغرب میں لکھتا ہے۔ جب یہ حوالہ قادیانیوں کو سنایا جاتا ہے تو وہ بے حد شرمندہ ہوتے ہیں اور دل میں سوچتے ہیں ہمارے مرزا قادیانی کا کمال علمی کیسا تھا کہ اسے مشرق و مغرب کی بھی خبر نہ تھی۔
چائے
- ’’کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا جب
قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپؐ کے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ۔ (آل عمران: 135) یہ سن کر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظمت۔ غلام نے پھر کہا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ کظم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی۔ اس لیے عفو کی شرط لگا دی ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔ پھر پڑھا۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔ محبوب الٰہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ جا آزاد بھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گرا کر آزاد ہوا۔ اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا‘‘۔
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 115 طبع جدید از مرزا قادیانی)
یہ واقعہ بھی مرزا قادیانی کی جہالت کا بین ثبوت ہے۔ حضرت امام حسنؓ نے چائے کا استعمال کیا ہو، ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا۔
کروڑہا انسانوں کی موت
- ’’دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں
اور کروڑہا اس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں‘‘۔
(کشتی نوح صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
یہ تحریر بھی مرزا قادیانی کی نام نہاد علمیت کا پول کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ دنیا میں ایسا واقعہ کہیں رونما نہیں ہو رہا۔ جھوٹ پر مبنی ایسی مبالغہ آرائی قادیانیت ہی کا خاصہ ہے۔
مرزا قادیانی کی اعجازی عربی دانی کے ڈھول کا پول
- (1) مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اعجاز المسیح کے ٹائٹل پیج پر لکھا:
- ”فی سبعین یوما من شھر الصیام“
(اعجاز المسیح ٹائٹل پیج، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 1 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ رمضان المبارک 70 دنوں کا نہیں ہوتا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کتابت کی غلطی ہے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ اگر یہ کتابت کی غلطی ہے تو اسے آج تک درست کیوں نہیں کیا گیا؟
مثل مشہور ہے کہ ایک اندھا کسی گاؤں میں رہتا تھا اور گاؤں کے لوگ اس سے تاریخ دریافت کیا کرتے تھے۔ اس کا مبلغ علم یہ تھا کہ یکم تاریخ ہر ماہ کو ایک مینگنی کسی خاص برتن میں ڈال دیتا تھا اور ہر صبح کو ایک مینگنی اس میں بڑھاتا جاتا تھا۔ جب کوئی تاریخ دریافت کرنے آتا تو مینگنیوں کو گن کر تاریخ بتلا دیتا۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ بکری نے اس برتن میں اتنی مینگنیاں کیں کہ وہ برتن بھر گیا۔ ایک دفعہ سائل تاریخ دریافت کرنے آیا تو وہ گھبرا گیا اور چالیس تک گن کر کہا کہ آج چالیسویں تاریخ ہے۔ سائل نے عرض کیا: کہ مہینہ تو تیس دن کا ہوتا ہے۔ آج چالیسویں تاریخ کہاں سے ہوگئی؟ اندھے نے جواب دیا کہ میں نے تو چالیس ڈر کر کہا ہے، اگر ساری مینگنیاں گنتا تو شاید ستر سے زائد ہوتیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس کا شاگرد تھا۔
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی
اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی)
- (2) اسی طرح مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے سلسلہ میں دعویٰ کیا کہ اسے اللہ
تعالیٰ نے وحی کی ہے، ملاحظہ کیجیے:
- ”انھا سیجعل ثیبۃ ویموت بعلھا و ابوھا الی ثلث سنۃ من یوم النکاح“۔
ترجمہ: ”وہ بیوہ ہو جائے گی اس کا خاوند اور اس کا باپ روز نکاح سے تین سال کے اندر اندر مر جائیں گے“۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 127 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
یہاں لفظ ”سیجعل“ غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے چیلے جلال الدین شمس نے فٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ غالباً سہو کاتب ہے۔ اصل لفظ ستجعل ہونا چاہیے۔ قادیانی نبوت کے کیا کہنے، امتی اپنے نبی کی غلطیاں نکال رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا نام نہاد وحی مرزا قادیانی کی کتاب ”کرامات الصادقین“ میں بھی درج ہے اور یہاں بھی ”سیجعل“ درج ہے۔
(کرامات الصادقین صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 162 از مرزا قادیانی)
یہ کتاب مرزا قادیانی کی زندگی میں کئی مرتبہ شائع ہوئی مگر اس نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کیونکہ جو ٹیچی ٹیچی نے الفاظ بتائے، مرزا نے وہی لکھ دیئے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”وان الله لا يتركني على خطا طرفة عين و يعصمنى من كل میں و
يحفظنى من سبل الشياطين.“ ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے خطا پر قائم نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے اور شیاطین کے راستوں سے میری حفاظت کرتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)
(3) قرآن مجید کی مشہور سورۃ ”الاخلاص“ میں لم یلد کا ترجمہ ہے ”نہ اس (اللہ تعالیٰ) سے کوئی پیدا ہوا ہے“۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی نے ان الفاظ کا ترجمہ یوں کیا ہے۔
- ”لم یلد کا لفظ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں“۔
(ست بچن صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 264 از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ
- ”میں تو ایک حرف بھی نہیں لکھ سکتا۔ اگر خدا تعالیٰ کی طاقت میرے ساتھ نہ ہو۔
بارہا لکھتے لکھتے دیکھا ہے کہ ایک خدا کی رُوح ہے جو تیر رہی ہے۔ قلم تھک جایا کرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا۔ طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے نزدیک نمازیں کیسے فرض ہوئیں؟
- ”ایک شخص نے (مرزا قادیانی سے) سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں
انگشت سبابہ کیوں اٹھاتے ہیں؟ فرمایا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ انگلی اٹھایا
کرتے تھے، اس لیے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی ۔ خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹا کر فرمایا کہ خدا کو واحد لاشریک کہتے وقت یہ انگلی اٹھایا کرو تا اس سے وہ الزام اٹھ جاوے ۔ ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے اس کے عوض میں پانچ وقت نماز رکھی ۔“
(ملفوظات جلد سوم، صفحہ 142، طبع جدید از مرزا قادیانی)
بلا تبصرہ!
یہاں ایک اور بات کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ایام الصلح میں لکھا:
” فتاویٰ ابن حجر میں بھی لکھا گیا تھا جو حنفیوں کی ایک نہایت معتبر کتاب ہے۔“
(ایام الصلح ، صفحہ 80، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 14، صفحہ 315، از مرزا قادیانی)
حالانکہ سب جانتے ہیں کہ علامہ ابن حجر حنفی نہیں بلکہ شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”توضیح مرام“ میں حضرت ایلیا کا نام حضرت ادریس لکھا: (توضیح مرام صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 52، از مرزا قادیانی) اسی تحریر میں 3 سطروں کے بعد مرزا قادیانی نے دوبارہ حضرت ایلیا کا نام حضرت ادریس لکھا۔ (توضیح مرام صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 52، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت کے اہم رہنما اور مبلغ مولوی جلال الدین شمس نے مرزا قادیانی کی اس فاش غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے فٹ نوٹ کے طور پر نیچے لکھا کہ اسے حضرت ادریس کے بجائے حضرت الیاس پڑھا جائے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:
” مسیح موعود مجدد ہے اور مجدد غلطیوں کی اصلاح کے لیے ہی آیا کرتے ہیں ۔“
(براہین احمدیہ جلد پنجم ، صفحہ 44، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 21، صفحہ 56، از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ مجدد مرزا قادیانی ہے یا مولوی جلال الدین شمس ؟
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
” مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لیے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے ۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 155، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22، صفحہ 155، از مرزا قادیانی)
آسمانی روح
- ”میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے، اور میرے ہاتھ کی تقویت
کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے، جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی)
علمی قوت کی ضرورت
- ”امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت
نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کے رُو سے بھی، ہیئت کے رُو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی، جغرافیہ کے رُو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رُو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی اور نقلی بنا پر بھی۔“
(ضرورة الامام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 480 از مرزا قادیانی)
میں زمین کی باتیں نہیں کہتا
- ”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں
جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“
(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)
۞.......۞.......۞
مرزا قادیانی کی ایک شرمناک تحریر
ارشاد خداوندی ہے:
- ولا تقربوا الفواحش ما ظہر منہا وما بطن. (سورۃ الانعام:152)
”اور بے حیائیوں کے پاس بھی نہ جاؤ، چاہے ان میں سے پوشیدہ ہوں یا ظاہر۔“
فحاشی کو ناپسند کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ایک عمدہ معیار مقرر فرمایا: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس چیز میں فحاشی ہو، وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے اور جس چیز میں حیا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے۔“ اس حدیث سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ فحاشی کی ضد حیا ہے اور حیا ایمان کا ایک اساسی حصہ ہے اور انسانوں کو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ مسلمان حیا دار ہوتا ہے اور وہ اسلامی حدود و قیود میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے، جب کہ بے حیا انسان جو چاہے، کر گزرتا ہے۔ وہ اخلاقی، سماجی اور مذہبی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا۔
پنجاب کی نبوت خیز سر زمین ضلع گورداسپور کے ایک غیر معروف گاؤں قادیان میں غلام احمد نامی ایک شخص پیدا ہوا اور کچھ لکھ پڑھ کر سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر کلرک لگ گیا۔ اس کے بعد اس کا اپنے متعلق یہ یقین ہو گیا کہ میں ”مصلح اعظم“، ”مسیح موعود“ اور ”نبی و رسول“ ہوں بلکہ کامل اتباع و فنا فی الرسول کے باعث ”محمد ثانی“ ہوں۔ اس لیے لازم تھا کہ وہ بھی اعلیٰ اخلاق، بہترین تہذیب، حلم و عفو، شیریں کلامی، سنجیدگی و دیگر اخلاقی کمالات سے نہ صرف موصوف ہی ہوتا بلکہ اس میں یکتائے روزگار بھی ہوتا۔ لیکن افسوس کہ مصلح اعظم بننے والے اور نبوت و رسالت کے دعوے کرنے والے مرزا کے ”ظرف“ میں اخلاق حسنہ کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہ سراسر اخلاقی کمزوریوں نکتہ چینیوں، بدگویوں بدکلامیوں سے لبریز تھا۔ اور یہاں تک اس نے اس فن دشنام دہی میں وہ ترقی کی تھی کہ اس کو دیکھ کر اور سن کر بداخلاقی و بدتمیزی بھی شرم و ندامت سے سرنگوں ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر مرزا قادیانی کو اس فن کا ”بے تاج بادشاہ“ کہا جائے تو کچھ بے جا نہیں۔ نگاہ عبرت سے دیکھیے کہ
خدا تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ اس کے مقدس حبیب ﷺ کی نبوت کا روپ بدلنے والا دنیا میں مہذب و خلیق بن کر زندگی بسر کرے۔
فواحش سے لبریز تحریریں ہر معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں شرم و حیا ختم ہو جاتی بلکہ عفت و عصمت اپنی اصل قدر و قیمت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ انسانی جذبات و احساسات کو برانگیختہ کرنے والی، آنجہانی مرزا قادیانی کی کتابیں فحش لٹریچر کا نادر نمونہ ہیں۔ اس کی تحریروں میں بے شرمی و بے حیائی کی باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ بقول مرزا قادیانی ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے۔“ (چشمہ معرفت صفحہ 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس طرح ظاہری طور پر بدصورت تھا، اسی طرح باطنی طور پر بھی بدسیرت تھا۔ قادیانی امت اسے ”سلطان القلم“ کہتی نہیں تھکتی۔ اس پنجابی نبی کی تحریرات کو ملاحظہ کیا جائے تو جا بجا بدکلامی و بدگوئی کی نجاست و غلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ ذیل میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے نمونہ کے طور پر ”سلطان القلم“ کی تحریروں سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے، وگرنہ مرزا قادیانی کی ساری کتابیں ایسی ہی تحریروں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس کی فحش، مخرب اخلاق، حیا سوز، گندی اور بازاری تحریروں سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیا یہ کسی شریف انسان کی تحریر ہو سکتی ہے اور ہے کوئی قادیانی جو اپنے ”نبی“ کی ان تحریروں کو اپنی جوان اولاد کے سامنے بآواز بلند پڑھ سکے۔
- □ ”ایک معزز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی، دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی
رُو سے حرام ہے، آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے، یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرائیے، اولاد بہت ہو جائے گی۔ ایک بول اٹھتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے، اس کام کے بہت لائق ہے۔ لالہ بھاری لال نے اس سے نیوگ کرایا تھا، لڑکا پیدا ہوگیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں، میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے، رات کو آجائے گا۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی، وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز، اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس کو کیا چاہیے
تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت، شام ہوتے ہی آموجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھا پی لیں۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بد بخت عورت تمام رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا، نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کوٹھری سے باہر نکلا۔ لالہ تو منتظر ہی تھے، دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بد معاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گزری؟ اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا۔ لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بہاری لالہ کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے۔ کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب، سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی ہو جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ ان پر کچھ اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لیے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی پتر لینے کے لیے کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہو گی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی، یہاں تک کہ چیخیں نکل گئیں، اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر عورت کو کہا کہ ”ہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں، تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی۔ اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مرجاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہو گی، وہ خوشیاں بھی تو تو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی۔ اس نے ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ
پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی منائے۔ لالہ تیز ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا۔ یہ تو وید آ گیا ہے۔ عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی، بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے۔ یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی سکھلانے کے لیے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لیے۔ جب رام دئی سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو، اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے۔ ساری رات میرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے، تیری سہروں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر ایک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساوامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دائی کا سارا نقشہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا، سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک مجلس میں تیرا ناک کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعویٰ کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ بھی کہہ گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو، بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا، وہ تو ایشر نے دے ہی دیا۔ بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا، اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا، کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے یا لڑکی پیدا ہو۔ لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے، نیوگ کے لیے بلا لاؤں گا۔ عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کرے گا؟ لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں، اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیمل سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس
محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں۔ عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے، تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آسکتے ہیں، منہ کالا جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خُوبو، لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے، اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ سکھ تو ہے، یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے، اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی۔ کچھ کھسیانا سا ہو کر زبان دبا کر کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کے لیے آگیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کرایا تھا، مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لیے مہر سنگھ کو بلا لیا، پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے، وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع کروں گا۔ نہال چند بولا کہ در حقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساومل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لیے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا۔ سب کام سدھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی۔ اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سنا، یہ پردہ کی باتیں ہیں، سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا۔ ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور وغوغا ہوگا۔ لالہ دیوث بولا کہ در حقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی۔ اب کیا کروں؟ اس وقت شریر پنڈت نے جو بباعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے، نہایت بے حیائی کا جواب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک شکی بات ہے ۔ اب بہر حال یقینی ہو جائے گا۔ تب وساومل دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سن کر سخت گالیاں اس کو نکالیں۔ تب وساومل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج
اس کا یہی حال ہے، ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی۔ پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یاد کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا۔ اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھی جن کو آپ سن کر دوڑے آئے۔ تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوامل کی یہ بات سن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ وید آ گیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں۔ سو جیسے طلاق جیسے نیوگ۔ بات ایک ہی ہے۔‘‘
(آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ حاشیہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہے جو اُسے اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ کیجیے:
- ”وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ“
(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم، ص 309، 321 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مجھ سے وعدہ کیا:
- ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 260، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
پلید دل، پلید باتیں
”پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔‘‘
(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی اپنی جماعت کو نصیحت
”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
۞...... ......۞
قادیانی سفید جھوٹ
انسان میں جتنی اخلاقی برائیاں ہو سکتی ہیں ان میں سب سے زیادہ بری اور خطرناک برائی جھوٹ ہے کیونکہ یہ برائی ہر قسم کی قولی و عملی برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ صرف ایک اکیلی برائی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے جھوٹے شخص میں بیسیوں قسم کی دوسری برائیاں بھی لازمی طور سے پیدا ہو جاتی ہیں۔
ہمارا دین اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی اور سچائی اس کا بڑا جز ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ہر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔
جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس لیے اس کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے۔
جھوٹ بولنے والا آدمی بظاہر غلط بیانی کر کے اپنا کوئی وقتی فائدہ حاصل کر لیتا ہے، لیکن جب اس کے جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے تو اسے انتہائی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں اسے جھوٹا اور کذاب کا لقب مل جاتا ہے۔ آخرت میں ملنے والی شدید ترین سزا کے علاوہ جھوٹا آدمی دنیا میں خدائی نعمت ”صراط مستقیم“ پانے کا مستحق نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لعنت اللہ علی الکاذبین (آل عمران:61) (ترجمہ) جھوٹوں پر خدا کی لعنت!
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
- -1 واجتنبوا قول الزور. (الحج:30)
اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو۔
- -2 ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون. (یونس:69)
جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔
- -3 ان اللہ لا یہدی من ہو مسرف کذاب (مومن:28)
بے شک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اُسے جو حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔
- 4- ومن اظلم ممن افترى على الله الكذب. (الصّف:7)
اور اس شخص سے کون زیادہ ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (یعنی اس پر وحی تو آتی نہیں مگر وہ کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔)
- 5- ويوم القيمة ترى الذين كذبوا على الله وجوههم مسودة (زمر:60)
اور روز قیامت آپ دیکھیں گے انہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے، اس حال میں کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
- 1- من كذب على متعمداً فليتبوا مقعدہ من النار. (بخاری شریف)
(ترجمہ): جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے (یعنی میری حدیث نہ ہو اور وہ اسے حدیث بیان کرے) تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔
- 2- لا تكذبوا على فانه من كذب على فليلج النار. (صحیح بخاری)
(ترجمہ): مجھ پر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ بے شک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگا۔
- 3- من حدث عنى بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين. (صحیح مسلم)
(ترجمہ): جس نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس کا جھوٹ ہونا معلوم ہو، تو وہ شخص جھوٹوں میں سے ایک (یعنی جھوٹا) ہے۔
- 4- حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا مجھ میں چار بری
عادتیں ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمانے سے میں ان عادتوں میں سے ایک کو چھوڑ سکتا ہوں۔ چوری کرنا، شراب پینا، زنا کرنا اور جھوٹ بولنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا چھوڑ دے۔ (جھوٹ چھوڑنے سے وہ شخص سب بری عادتوں سے بچ گیا)۔
- 5- حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ (1)
جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (3) جب معاہدہ کرے تو بدعہدی کرے۔‘‘
جھوٹ صرف یہی نہیں ہوتا کہ آدمی اپنی طرف سے غلط بیانی کرے بلکہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ ہر سنی سنائی بات جس کا کوئی سر ہو نہ پیر، آگے بیان کر دے۔ انسان کو بلا تحقیق
بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ حضور سرور کائنات ﷺ نے اسے بھی جھوٹ شمار کیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔“ (صحیح مسلم) ایک دوسرے موقع پر آپ ﷺ نے جھوٹا خواب بیان کرنے کے بارے میں شدید وعید فرمائی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ”سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہیں۔“ (صحیح بخاری)
قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کذابوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے جھوٹ کو اپنی فطرت ثانیہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنی جھوٹی نبوت ثابت کرنے کے لیے ہر روز ایک نیا جھوٹ تراشتا اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے مزید کئی جھوٹ بولتا۔ قہر خدا کا کہ مرزا قادیانی انتہائی بے باکی سے خدا، رسول اور آسمانی کتابوں کے بارے میں بھی جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیتا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ اس کی سرشت میں سرایت کر گیا ہے۔ آئیے پہلے جھوٹ نہ بولنے کے بارے میں اس کے ”اقوال زریں“ پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور بعد ازاں اس کے ”سفید جھوٹ“ ملاحظہ کرتے ہیں:
دیتے ہیں دھوکا یہ بازیگر کھلا
جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے
- ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر
اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمۂ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
کتوں کا طریق
- ”جھوٹ کے مُردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا، یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔“
(انجام آتھم صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 43 از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنے سے بدتر
- ”جھوٹ بولنے سے بدتر دُنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 459 از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنے والا کتوں، سُوروں اور بندروں سے بدتر
- ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور
پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سُوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 126 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 292 از مرزا قادیانی)
جھوٹ کی نجاست
- ”محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتانے کے لیے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ
خواب آئی، اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے، وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنے والا مرتد
- ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنے والا کنجر اور ولد الزنا
- ”وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں، وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔“
(شحنۂ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)
لعنت ہے مفتری پر
- ”لعنت ہے مفتری پہ خدا کی کتاب میں
(نصرۃ الحق، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)
جھوٹ تمام گناہوں کی ماں
- ”جھوٹ اکبر الکبائر اور تمام گناہوں کی ماں ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جھوٹے پر قیامت تک لعنت
- ”خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لیے لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“
(اربعین نمبر 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 398 از مرزا قادیانی)
جھوٹے کی زندگی ...... لعنتی زندگی
- ”دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔“
(نزول المسیح صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنا، مردار خوروں کا کام
- ”فضولیاں اور جھوٹ بولنا مُردار خواروں کا کام ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 88 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر
- ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
اہم نکات
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے:
- 1- جب کوئی شخص کسی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی دوسری باتوں
پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔
- 2- جھوٹ کے مردار کو نہ چھوڑنا انسانوں کا نہیں بلکہ کتوں کا طریقہ ہے۔
- 3- جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں۔
- 4- ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا
ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سُوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔
- 5- جو شخص محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں میں اپنا رسوخ جتانے کے لیے دعویٰ کرتا ہے کہ
مجھے یہ خواب آئی، اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے، وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست
میں ہی مر جاتا ہے۔
- 6- جھوٹ بولنے والا مرتد ہوتا ہے۔
- 7- وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں، وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔
- 8- جھوٹ تمام گناہوں کی ماں ہے۔
- 9- جھوٹے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کچھ دیر کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے
ہوتی ہے۔
- 10- جھوٹے شخص کی زندگی ایک لعنتی کی زندگی ہوتی ہے۔
- 11- جھوٹ بولنا مردار خوروں کا کام ہے۔
- 12- جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر حیثیت رکھتا ہے۔
قارئین کرام: آئیے! مرزا قادیانی کے ان ”فرمودات عالیہ“ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے پر خود اس کا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟
قرآن مجید میں طاعون کا ذکر
- □ ”یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر
موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح ؑ نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی)
قرآن مجید میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے۔
قرآن مجید میں قادیان کا ذکر
- □ ”کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے
قریب بیٹھ کر بہ آواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔
تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 77 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
قرآن مجید میں قادیان کا ذکر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ صرف جھوٹ بولا ہے بلکہ تحریف قرآنی کا بھی مرتکب ہوا ہے جو صریحاً کفر ہے۔
نبیوں کی بشارت اور خواہش
- ’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص
کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘
(اربعین نمبر 4 صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی تو بتلا نہ سکا اور چل بسا۔ کیا مرزائی حضرات میں سے کوئی بتلا سکتا ہے کہ جن حضرات انبیاء کرام نے مرزا قادیانی کی بشارت دی اور جنھوں نے مرزا قادیانی کے دیکھنے کی تمنا ظاہر فرمائی۔ ان حضرات انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کیا ہیں؟ اور یہ تمنائیں اور بشارتیں کس صحیفہ اور کونسی کتاب میں درج ہیں؟ میرا چیلنج ہے کہ قادیانی قیامت تک بھی ایسا کوئی حوالہ پیش نہیں کر سکتے۔
قیامت کب آئے گی؟
- ’’ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ
ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 127 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 227 از مرزا قادیانی)
یہ رسول کریم ﷺ پر کھلا کھلا بہتان ہے کیونکہ کسی معتبر تو کجا کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ الفاظ سرے سے موجود نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو حوالہ پیش کیا جائے۔
سیاہ رنگ کا نبی
- ’’ایک مرتبہ حضور نبی رحمت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیا کی نسبت سوال کیا گیا
تو آپؐ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ کان فی
الهند نبيا اسود اللون اسمه كاهنا یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔ ”ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
یہ حضور نبی کریم ﷺ پر خالص افترا ہے۔ اس کا وجود احادیث صحیحہ تو درکنار روایات ضعیفہ میں بھی ثابت نہیں۔ گویا احادیث کے ذخیرہ میں اس کا کہیں نام ونشاں نہیں۔ حضور ﷺ کی جانب ایسی روایات کا منسوب کرنا بلاشبہ دوزخ جانے کی بھرپور تیاری ہے۔ اگر کسی مرزائی میں ہمت ہے تو اس کو حدیث صحیح سے ثابت کرے؟ اور حدیث کی کتاب کا حوالہ دے جس میں یہ روایت ان الفاظ میں مندرج ہے۔ ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ من کذب علی متعمدا فلیتبؤ مقعدہ من النار یعنی جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے!
قرآن میں مثیل ابن مریم
- ”قرآن کریم اور احادیث صحیحہ یہ امید و بشارت بتواتر دے رہی ہیں کہ مثیل ابن
مریم اور دوسرے مثیل بھی آئیں گے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 214 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 314 از مرزا قادیانی)
احادیث میں مثیل ابن مریم
- ”کیا حدیثوں میں یہ مذکور نہیں کہ مثیل ابن مریم وغیرہ اس امت میں پیدا ہوں
گے۔ تو پھر جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اور حدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا؟“
(ازالہ اوہام صفحہ 536 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 388 از مرزا قادیانی)
قرآن مجید اور احادیث میں کسی مثیل ابن مریم کا ذکر نہیں۔ مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ بولا ہے۔
مسیح موعود اور اس کی توہین
- ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں
لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘
(اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی)
قرآن وحدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں۔ یہ خالص جھوٹ ہے۔ ہے کوئی قادیانی جو ہمیں یہ بتا سکے کہ یہ پیشگوئیاں قرآن کریم کے کون سے پارہ، کونسی سورت اور کون سے رکوع میں لکھی ہیں یا حدیث کی کونسی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟
چودھویں صدی کا مجدد
- ’’احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا، اور وہ چودھویں
صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21
صفحہ 359 از مرزا قادیانی)
’’احادیث‘‘ عربی میں جمع کثرت کا وزن ہے اور جمع کثرت کم از کم دس سے شروع ہوتی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے دعویٰ کے مطابق کم از کم دس احادیث ایسی ہونی چاہئیں۔ حالانکہ دس احادیث تو کجا احادیث کے پورے ذخیرہ میں ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس میں حضور اکرم ﷺ نے چودھویں صدی کا ذکر کیا ہو اور کہا ہو کہ اس کے سر پر مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ مرزا قادیانی کا حضور سرور دو عالم ﷺ پر یہ سراسر افترا، جھوٹ اور بہتان ہے، مرزا قادیانی، حضور نبی رحمت ﷺ پر یہ افترا باندھ کر آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا چکا ہے۔
کرشن نبی، رُدّر گوپال، آریوں کا بادشاہ
- ’’ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا
ہے جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔‘‘
(حقیقت الوحی صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی)
اللہ رب العزت کی ذات پر ایک قبیح بہتان ہے اور ایسا رکیک حملہ ہے۔ جس کی نظیر ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔ یہ ایک ایسا خیال فاسد ہے جس کے تصور سے مسلمان کی روح لرزہ بر اندام ہوتی ہے اور ایمان اعوذ باللہ کی گود میں، استغفر اللہ کی پناہ میں اور سبحانک اللہ کی آغوش مرحمت میں منہ ڈھانپ لیتا ہے۔
خصوصاً آج کل کے ”انبیا“ سے
کتاب سوانح یوسف آز
- ”کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہوگیا ہے، اس میں
صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 100 از مرزا قادیانی)
اس مذکورہ کتاب کا کوئی وجود نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے فرضی نام لکھ کر جھوٹ بولا ہے۔
میرا کوئی استاد نہیں
- ”ہمارے نبی ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔
مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی استاد سے نہیں پڑھا، خدا آپ ہی استاد ہوا، اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اِقْرَء کہا یعنی پڑھ، اور کسی نے نہیں کہا۔ اس لیے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے
منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے۔“
(ایام الصلح صفحہ 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے یہ صریحاً جھوٹ بولا ہے۔ خود مرزا قادیانی کا اعتراف موجود ہے کہ اس نے عربی، فارسی، قواعد، صرف ونحو، حکمت اور منطق وغیرہ کی تعلیم فضل الٰہی، فضل احمد اور گل علی شاہ نامی استادوں سے حاصل کی۔ (کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 از مرزا قادیانی)
انبیائے کرام اور زرد چادر کی تعبیر
- ❑ ”مسیح موعود کے لیے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں
کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیا علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں۔ اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 307 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ کون کون سے انبیائے کرام ہیں جن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے، اور یہ کہاں لکھا ہے؟
ھٰذا خلیفۃ المہدی
- ❑ ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور
وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِیُّ. اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
صحیح بخاری میں یہ حدیث قطعاً موجود نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے حدیث کے حوالہ سے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے۔ جو شخص صحیح بخاری جیسی کتاب کے بارے میں کذب بیانی کر
سکتا ہے، وہ اپنے دعوئی نبوت کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ قادیانیوں کو اس پر غور وفکر کرنا چاہیے۔ اگر کوئی قادیانی بخاری شریف میں سے یہ الفاظ دکھا دے تو میں اسے ایک لاکھ روپے انعام دوں گا۔ بصورت دیگر اسے ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے اور جھوٹا آدمی مہدی ہوسکتا ہے اور نہ مسیح موعود۔
قارئین کرام! آپ نے مرزا قادیانی کے جھوٹ ملاحظہ کیے لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی کا دعوئی ہے:
میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا
- ”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں، بلکہ میں وہی کہتا
ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“
(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)
دروغ آدمی را کند بے وقار
۞.......۞.......۞
قادیانی پیش گوئیاں
(جو پوری نہ ہوسکیں)
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ. (ابراہیم: 47) ترجمہ: خدا تعالیٰ کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرنے والا گمان نہ کر، بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔
جس طرح آگ کا کیڑا آگ میں خوش اور زندہ رہتا ہے۔ اس طرح قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اپنے جھوٹ پر بہت خوش رہتا تھا۔ ”بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!“ کے مصداق اسے ہر روز نت نئی پیش گوئیاں کرنے کا بہت شوق تھا۔ خواہ وہ پوری ہوں یا نہ ہوں۔ حالانکہ پیش گوئیوں کے سچا ہونے کے بارے میں خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
صدق یا کذب جانچنے کا معیار
- ”واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور
کوئی محکِ امتحان نہیں ہوسکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)
اگر ایک بھی پیش گوئی جھوٹی نکلی
- ”اگر ثابت ہو کہ میری سو پیشگوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار
کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 119 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 461 از مرزا قادیانی)
تمام رسوائیوں سے بڑھ کر
- ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رُسوائیوں سے بڑھ کر رُسوائی ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 254 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
مدعی کاذب کی پیش گوئی
- ”مدعی کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی
توریت کی ۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 326 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 326 از مرزا قادیانی)
نبیوں کی پیشگوئیاں ٹلتی نہیں
- ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی)
توریت اور قرآن میں نبوت کا ثبوت
- ”توریت اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا ہے۔“
(استفتاء صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 111 از مرزا قادیانی)
اگر کوئی تلاش کرتا مر بھی جائے
- ”اور کوئی ایسی پیشگوئی میری نہیں ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی یا اس کے دو حصوں میں
سے ایک حصہ پورا نہیں ہو چکا۔ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو، اس کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔ مگر بے شرمی سے یا بیخبری سے جو چاہے کہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزارہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئیں۔“
(کشتی نوح صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6 از مرزا قادیانی)
- پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا
قدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 281 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 281 از مرزا قادیانی)
غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں
- ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بد
ذات آدمیوں کا کام ہے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا قادیانی)
کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی
- ❑ ”خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان الله لا يهدی من هو مسرف كذاب.
سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں، جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیشین گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 322، 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323 از مرزا قادیانی)
اہم نکات
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ ہوتا ہے:
- 1- مرزا قادیانی کا صدق یا کذب جانچنے کے لیے اس کی پیش گوئی سے بڑھ کر اور
کوئی پیمانہ نہیں۔
- 2- مرزا قادیانی کی 100 پیش گوئیوں میں سے اگر کوئی ایک پیش گوئی بھی جھوٹ
ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹا اور کاذب ہے۔
- 3- مرزا قادیانی کے نزدیک کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں
سے بڑھ کر رسوائی ہے۔
- 4- جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ قرآن
اور توریت کی یہی تعلیم ہے۔
- 5- نبیوں کی پیش گوئیاں ٹلتی نہیں بلکہ ہر حال میں پوری ہوتی ہیں۔
- 6- توریت اور قرآن نے نبوت کا سب سے بڑا ثبوت صرف پیش گوئی کے ہی ثابت
ہونے کو قرار دیا ہے۔
- 7- مرزا قادیانی کی کوئی ایسی پیشگوئی نہیں ہے جو پوری نہیں ہوئی یا اس کے دو حصوں
میں سے ایک حصہ پورا نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص اسے تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو اس کے منہ سے نکلی ہو، اس کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔
- 8- مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس کی ہزار ہا ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت
صفائی سے پوری ہوگئیں۔
قارئین کرام: آئیے دیکھتے ہیں، مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا ”فرمودات“ کی روشنی
میں اس کی چند اہم پیش گوئیوں کا انجام۔
پہلی پیش گوئی
خواتین مبارکہ
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے 1852ء میں ہوئی جس سے دو بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ جب مرزا قادیانی کا حرمت بی بی سے دل بھر گیا تو اس نے دہلی کی ایک آزاد خیال فیملی سے تعلق رکھنے والی نصرت جہاں سے 17 نومبر 1884ء کو دوسری شادی رچالی۔ قادیانی نصرت جہاں کو ”ام المومنین“ (نعوذ باللہ) کا درجہ دیتے ہیں جبکہ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی کو حقارت سے اس کے بیٹے فضل احمد کے حوالہ سے ”پھجے دی ماں“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ نصرت جہاں کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے (جسے مرزا قادیانی نے ”قمر الانبیا“ کا خطاب دیا) نے اپنے والد مرزا قادیانی کے حالات زندگی پر مشتمل ایک کتاب ”سیرت المہدی“ لکھی۔ قادیانیوں کے نزدیک یہ کتاب بڑی اہم اور مستند ہے۔ اس کتاب میں مرزا بشیر احمد اپنی والدہ نصرت جہاں کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ ایک دفعہ مجھے میری والدہ نے بتایا کہ تمھارے ابا (مرزا قادیانی) نے اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی سے مباشرت ترک کر دی تھی اور اسے کہا تھا کہ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اب تم طلاق لے لو یا مجھے وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے حقوق معاف کر دو۔ اس بے چاری نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ اب میں طلاق لے کر کیا کروں گی۔ البتہ میں آپ کو اپنے حقوق زوجیت معاف کرتی ہوں۔ مرزا بشیر احمد اپنی والدہ کے حوالہ سے مزید لکھتا ہے کہ پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ یعنی تمھارے ابا عمر بھر حرمت بی بی کے پاس مباشرت کے لیے نہیں گئے۔
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، از مرزا بشیر احمد)
قارئین کرام! ان ہوشربا اور شرمناک واقعات پر بحث پھر کبھی سہی۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ نصرت جہاں سے شادی کے بعد مرزا قادیانی نے مالک ارض و سما اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے مندرجہ ذیل الہام بیان کیا:
- ❑ ”پھر خدائے کریم جل شانہٗ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے
گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا، اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے
بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 111 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے مزید کہا:
- ’’اس عاجز نے 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف
سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 113 طبع جدید از مرزا قادیانی)
لیکن افسوس! مرزا قادیانی کے نکاح میں کوئی خواتین مبارکہ یا بابرکت عورتیں نہیں آئیں۔ قادیانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد محمدی بیگم ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیش گوئی 1886ء کی ہے جبکہ محمدی بیگم کا مسئلہ کئی سال بعد شروع ہوا تھا اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمدی بیگم آخر تک مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی؟ پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکیلی محمدی بیگم، خواتین مبارکہ ہو سکتی ہے؟ سو مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی میں واضح طور پر کہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے۔ آپ خود سوچیے! جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان لگائے، وہ کتنا بڑا جھوٹا، کذاب اور دجال ہوگا۔
مرزا قادیانی نے کہا تھا:
- ’’کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا، وہ پورا نہ ہوا۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311 از مرزا قادیانی)
دوسری پیش گوئی
موت مکہ میں ہوگی یا مدینہ میں
مرزا قادیانی نے اپنے ایک خدائی الہام میں اپنی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا:
- ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 503 از مرزا قادیانی)
ہر مسلمان اپنے دل میں یہ شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج یا عمرہ کی صورت میں مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ کی زیارت نصیب ہو جائے اور پھر اس سے بڑھ کر اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ان مقدس شہروں میں موت کی سعادت حاصل ہو
جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی یہ دعا بہت مشہور ہے کہ ”اے اللہ! مجھے اپنے راستہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت عطا فرما۔“ حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ ”جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گا جو مدینہ میں مرے گا۔“ دوسری حدیث میں ہے کہ ”میں اس کا گواہ بنوں گا۔“ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس شفاعت سے مراد خاص قسم کی شفاعت ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”قیامت میں سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں اس میں سے نکلوں گا پھر ابوبکرؓ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمرؓ۔ پھر میں جنت البقیع میں جاؤں گا اور وہاں جتنے مدفون ہیں، ان سب کو اپنے ساتھ لوں گا۔ پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا، وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان آکر مجھ سے ملیں گے۔“
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اے مرزا قادیانی تُو مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں۔ یعنی (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کے خدا کو بھی صحیح طرح معلوم نہ تھا کہ مرزا قادیانی مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں؟ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی سراسر غلط اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں 26 مئی 1908ء کو مرا اور لاش ریل گاڑی پر قادیان بھجوائی گئی۔ جب مرزا قادیانی کی لاش لاہور ریلوے اسٹیشن لے جانے کے لیے احمدیہ بلڈنگ سے باہر نکالی گئی تو زندہ دلانِ لاہور نے اس کا بڑا ”شاندار استقبال“ کیا۔ یعنی راستے بھر مرزا قادیانی کے جنازے پر اس قدر غلاظتیں اور پاخانے پھینکے گئے کہ اس کی لاش بڑی مشکل سے ریلوے سٹیشن تک پہنچ سکی۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موت تو درکنار مرزا قادیانی کو ساری زندگی ان مقدس مقامات میں قدم رکھنے کی توفیق تک نہ ہوئی۔ جب کبھی مرزا قادیانی سے پوچھا جاتا کہ آپ حج کرنے کیوں نہیں جاتے؟ تو مرزا قادیانی طرح طرح کی تاویلات کرتا۔ کبھی کہتا کہ صحت ٹھیک نہیں ہے (جبکہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کے لیے آخر عمر تک سر توڑ کوشش کرتا رہا) کبھی کہا گیا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے (جبکہ مخالفین کو 10، 10 ہزار روپے کا چیلنج دیتا) کبھی کہتا کہ میری جان کو خطرہ ہے (درآں حالیکہ اس کا کہنا تھا خدا کے مرسلین کسی سے نہیں ڈرا
کرتے) سچی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ کو منظور ہی نہ تھا کہ مرزا قادیانی حرمین شریفین کی حدود میں داخل ہو۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس شخص کے پاس اتنا خرچہ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت اللہ شریف جاسکے اور پھر حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے یا نصرانی ہو کر۔“ اب اس کا فیصلہ قادیانی خود کریں کہ باوجود وسائل ہونے کے مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا، لہٰذا وہ کس حیثیت سے مرا؟
قادیانیوں کا اس پیش گوئی کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے مراد مکی فتح یا مدنی فتح ہو گی، کائنات کا سب سے بڑا دجل اور جھوٹ ہے۔ دنیا کی کسی لغت میں موت کا معنی فتح نہیں ہے۔ اگر موت کا معنی فتح ہے تو سب قادیانی زہر کھا کر مر جائیں تاکہ سب کی فتح ہو جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے برعکس اس کی موت لاہور میں اور قبر قادیان میں...... اس کے جھوٹا ہونے کی ایک ایسی ناقابل تردید شہادت ہے جو ہمیشہ قادیانیوں کو ذلت ورسوائی سے دوچار کرتی رہے گی۔
تیسری پیش گوئی
مرزا قادیانی کی عمر
مرزا قادیانی کو اپنی عمر کے بارے میں الہام ہوا:
- ”تَرٰی نَسْلاً بَعِيْدًا وَّلَنُحْيِيَنَّكَ حَيٰوةً طَيِّبَةً. ثَمَانِيْنَ حَوْلاً اَوْ قَرِيْبًا مِّنْ
ذَالِكَ اَوْ تَزِيْدُ عَلَيْهِ سِنِيْنًا. وَكَانَ وَعْدُ اللّٰهِ مَفْعُوْلاً. ترجمہ: تو دور کی نسل بھی دیکھے گا اور ہم تجھے خوش زندگی عطا کریں گے۔ اَسّی سال یا اس کے قریب یا اس سے چند سال زیادہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 301 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے مزید کہا:
- ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اَسّی برس کی ہوگی
اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 258 از مرزا قادیانی)
- ”خدا نے مسیحؑ کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف تیرا رفع
کروں گا، جیسا کہ ابراہیمؑ اور دوسرے پاک نبیوں کا رفع ہوا۔ سو اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اَسّی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر
کروں گا تا لوگ کی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں ۔“
(تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 44 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اپنے خدائی الہام میں کہتا ہے:
- ”ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت کریں گے۔ اسیّ برس یا اس کے
قریب قریب یعنی دوچار برس کم یا زیادہ۔ اور تو ایک دُور کی نسل دیکھے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 33 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 69 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے:
- ”مشیر علی : کیا جناب کو یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہوگی؟
حضرت اقدس : ہاں عمر کے متعلق مجھے الہاماً یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اسیّ کے قریب ہوگی۔ اور حال میں ایک رؤیا کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ 15 سال اور بڑھانے کے واسطے دعا کی ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 537، 538 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو محمدی بیگم کا وصل نصیب ہوا نہ عمر میں Extension ہی عطا ہوئی۔ بس Tension ہی اس کا مقدر رہی۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لیے موجود
ہوتا ہے اور ایسے مریضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افترا پر جرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسیّ برس کی عمر ہوگی۔ حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مرجاتے ہیں یا کاربنکل یعنی سرطان سے ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی)
- ”اس جگہ یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ حضور نبی رحمت ﷺ کو قرآن کی تکمیل تک جو تئیس
برس کی مدت تھی، مہلت ملنا اور مخالفانہ کوششوں سے جو ہلاک کرنے کے لیے تھیں، محفوظ رہنا اور زندگی پوری کر کے خدا کے حکم کے ساتھ جانا جیسا کہ میرے لیے بھی اسیّ برس کی زندگی کی پیشگوئی ہے جب تک میں سب کچھ پورا کرلوں۔“
(تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 93 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا الہامات اور وحیوں سے واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا اور الہاماً بتایا تھا کہ اس کی عمر 80 سال یا دو تین سال کم یا زیادہ ہوگی ۔ اس بنا پر مرزا قادیانی نے پیش گوئی کر دی کہ اس کی عمر 80 سال کے قریب ہوگی ۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو سچا یا جھوٹا جانچنے کے لیے بڑا آسان فارمولا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات دیکھ لی جائے ۔ زیادہ لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو آنجہانی ہوا ۔ اب صرف یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی کس سال میں پیدا ہوا؟ اس کا فیصلہ خود مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے کرلیتے ہیں ۔ مرزا قادیانی اپنے سوانح میں لکھتا ہے:
- ”میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے
آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں 1857ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا ۔“
(کتاب البریہ صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)
یہ مرزا قادیانی کی اپنی واضح تحریر ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی ایسی مشکل بات نہیں جس کی تاویل کی جاسکے۔ مرزا قادیانی نے صریح اور صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اس کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ اس بات کی مزید تصدیق خود اس کے اپنے دوسرے بیان سے بھی ہوتی ہے کہ جب اس کا والد مرزا غلام مرتضیٰ فوت ہوا تو مرزا قادیانی کی عمر 34 ، 35 سال تھی۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا
انتقال ہوا ۔“
(کتاب البریہ صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال 1874ء میں ہوا ۔ اس کا اقرار مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”نزول المسیح“ کے صفحہ 116 پر کیا ہے۔
(نزول المسیح صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 494 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا سال ولادت 1839ء یا 1840ء تھا اور سال وفات 1908ء ۔
قارئین کرام! آپ خود حساب کرلیں کہ مرزا قادیانی نے کتنی عمر پائی تھی؟ اگر سال ولادت 1839ء تسلیم کیا جائے تو کل عمر 69 سال بنتی ہے اور اگر 1840ء مان لیا جائے تو کل
عمر 68 سال بنتی ہے۔ لہٰذا الہامی دعوؤں، خدائی وحیوں اور بشارتوں کے باوجود مرزا قادیانی کی عمر 80 سال کے قریب نہ ہوئی اور اس کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔
جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے اُسے الہام کیا ہے:
- ”بَارَکَ اللّٰہُ فِیْ اِلْھَامِکَ وَوَحْیِکَ وَرُؤْیَاکَ.
(ترجمہ) برکت دی اللہ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری رؤیا میں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی)
اسی سلسلہ میں ایک اور حوالہ ملاحظہ کیجیے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”یعنی اُس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک
زندگی کرے گا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لیے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے۔“
(نشان آسمانی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد چہارم صفحہ 374 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسے قدرت نے دعوتِ حق کے لیے خاص طور پر مامور کیا اور ایک خاص الہام کے ذریعے بشارت دی گئی کہ تیری عمر 80 سال یا اس کے قریب ہو گی۔ بقول مرزا قادیانی اس الہام سے 40 سال تک دعوتِ حق دینا بھی ثابت ہوتا ہے۔ دعوت کے 10 سال گزر گئے ہیں۔ باقی 30 سال رہ گئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے 1892ء میں یہ کتاب تحریر کی۔ اس وقت اس کی عمر 50 سال تھی۔ گویا دعوتِ حق کے لیے اُسے مزید 30 سال زندہ رہنا تھا۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کی وفات 1922ء کے قریب ہونی چاہیے تھی مگر وہ اپنی الہامی تحریر کے صرف 14 سال بعد ہی 1908ء میں جہنم واصل ہو گیا اور اس طرح اس کی عمر 80 سال پوری نہ ہوئی اور یہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔
چوتھی پیش گوئی
9 نام ولد لڑکا
جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا ایک نام نہاد ”صحابی“ میاں منظور محمد ، قادیان کی ایک مشہور و معروف شخصیت تھا۔ اس کی اہلیہ کا نام محمدی بیگم تھا۔ (یہ وہ محمدی بیگم نہیں تھی جس
کے عشق میں مرزا قادیانی گرفتار ہوا تھا) اس کی دولڑکیاں تھیں، حامدہ بیگم اور صالحہ بیگم۔ حامدہ بیگم کا نکاح سردار کرم دادخاں سے ہوا جبکہ صالحہ بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے سالے، مرزا بشیر الدین محمود کے ماموں اور نصرت بیگم کے بھائی میر محمد اسحاق سے ہوا۔ میاں منظور محمد کی اہلیہ محمدی بیگم اپنی پہلی بیٹی حامدہ بیگم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد 1906ء میں جب دوبارہ حاملہ ہوئی تو اس کی خبر مرزا قادیانی کو کسی طریقے سے ہوگئی۔ مرزا قادیانی کی یہ عادت تھی کہ خواہ اس کا اپنا گھر ہو یا کسی مرید کا، اگر اُسے یہ پتا چل جاتا کہ کوئی خاتون حاملہ ہے تو وہ فوراً لڑکا ہونے کی پیش گوئی داغ دیتا۔ مگر جب لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہو جاتی تو مختلف تاویلات کا سہارا لے کر اپنی شرمندگی مٹانے کی کوشش کرتا۔ اس قسم کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے اپنے مرید میاں منظور کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کے متعلق کی۔ مرزا قادیانی نے اپنا الہام بیان کرتے ہوئے کہا:
- 19 فروری 1906ء ”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے، اور
دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔ تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا:
”بشیر الدولہ“
فرمایا: کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہوگا، جس کا پیدا ہونا موجب خوشحالی اور دولتمندی ہو جائے۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبال مند اور صاحب دولت ہو۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہوگا۔ خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا۔ ممکن ہے کہ جلد ہو، یا خدا اس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 510، 511 از مرزا قادیانی)
ساڑھے تین ماہ بعد ”الہام“ لڑکے کے دو نام
تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد مرزا قادیانی نے منظور محمد اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم کا نام لے کر کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ پیدا ہونے والے لڑکے کا ایک نام نہیں بلکہ دو نام ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- 7 جون 1906ء ”بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر
میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا، جس کے دو نام ہوں گے۔
(1) بشیرالدولہ (2) عالم کباب‘‘
’’یہ ہر دو نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے اور ان کی تعبیر اور تفہیم یہ ہے:
- (1) بشیرالدولہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ہماری دولت اور اقبال کے لیے بشارت دینے والا
ہوگا۔ اس کے پیدا ہونے کے بعد یا اس کی ہوش سنبھالنے کے بعد زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئی اور دوسری پیشگوئیاں ظہور میں آئیں گی، اور گروہ کثیر مخلوقات کا ہماری طرف رجوع کرے گا۔ اور عظیم الشان فتح ظہور میں آئے گی۔
- (2) عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد چند ماہ تک یا جب تک
کہ وہ اپنی برائی بھلائی شناخت کرے، دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔ گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس وجہ سے اس لڑکے کا نام عالم کباب رکھا گیا۔ غرض وہ لڑکا اس لحاظ سے کہ ہماری دولت اور اقبال کی ترقی کے لیے ایک نشان ہوگا۔ بشیرالدولہ کہلائے گا اور اس لحاظ سے کہ مخالفوں کے لیے قیامت کا نمونہ ہوگا، عالم کباب کے نام سے موسوم ہوگا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 533، 534 از مرزا قادیانی)
اسی دن پھر ’’الہام‘‘ لڑکے کے چار نام
اسی دن اور اسی تاریخ کو مرزا قادیانی کو تازہ الہام ہوتا ہے کہ اس پیدا ہونے والے بچے کے دو نام نہیں بلکہ 4 نام ہوں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ جب تک ان چار ناموں والا لڑکا میاں منظور محمد کے نطفہ سے محمدی بیگم کے بطن سے حامدہ بیگم اور صالحہ بیگم کا بھائی پیدا نہیں ہوگا، اس وقت تک میاں منظور کی اہلیہ محمدی بیگم ضرور زندہ رہے گی۔
- 7 جون 1906ء ’’اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس لڑکے کے دو نام اور ہیں۔ (1)
ایک شادی خان کیونکہ وہ اس جماعت کے لیے شادی کا موجب ہوگا۔ (2) دوسرے کلمۃ اللہ خان کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔ جو ابتدا سے مقرر تھا، اس زمانہ میں پورا ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے، جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو اور گذشتہ الہام ’’اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز‘‘ اسی پیشگوئی کو بیان کرتا ہے جس کے معنی ہیں، ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔ کیونکہ میاں منظور محمد کی دو لڑکیاں ہیں اور جب کلمۃ اللہ پیدا ہوگا، تب یہ بات پوری ہو جائے گی۔ ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 534 از مرزا قادیانی)
گیارہ دن بعد پھر الہام کہ لڑکے کے 9 نام
صرف گیارہ دن بعد مرزا قادیانی پھر لکھتا ہے کہ اب الہام ہوا ہے کہ میاں منظور محمد کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکے کے چار نام نہیں بلکہ 9 نام ہوں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے:
- 19 جون 1906ء ”میاں منظور محمد صاحب کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہوگا،
بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے:۔
(1) کلمۃ العزیز (2) کلمۃ اللہ خاں (3) ورڈ (4) بشیر الدولہ (5) شادی خاں (6) عالم کباب (7) ناصر الدین (8) فاتح الدین (9) ھذا یَوْمٌ مُّبَارَکٌ“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 537 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے، کبھی ایسا لطف آپ کو کسی مزاحیہ تحریر سے بھی فراہم ہوا ہے؟
27 دن بعد لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوئی
- ”وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور
چونکہ زلزلہ نمونۂ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی، اس لیے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں 17 جولائی 1906ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی۔ مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونۂ قیامت زلزلہ سے رکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 557 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا یہ کہنا درست نہیں کہ اس نے لڑکی کی پیدائش سے چار ماہ پہلے بتا دیا تھا کہ لڑکے کا آنا موخر ہو گیا ہے۔ لڑکی کی پیدائش 17 جولائی 1906ء ہے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کو 17 مارچ 1906ء کو یہ بات بتانی چاہیے تھی۔ جبکہ اس نے 7 جون 1906ء کو کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اس لڑکے کے دو نام ہوں گے اور پھر 19 جون 1906ء کو اس لڑکے کے 9 نام بتائے۔ اس وقت کیوں نہ صاف صاف کہہ دیا کہ لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوگی؟ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکی صالحہ بیگم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد محمدی بیگم مر گئی۔ اور
اس طرح 9 نام والا لڑکا آنا تھا نہ آیا۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر
اعتبار نہیں رہتا۔“ (چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
۞......۞......۞
محمدی بیگم
تاریخ میں جھوٹے نبیوں کے حالاتِ زندگی پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ عیش و عشرت اور غایت درجہ بے لگام نفسانی خواہشات کے غلام تھے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری ان کی تعیش پسندی تھی۔ وہ اخلاقی قدروں کے سرے سے قائل نہ تھے۔ ان کے حلقۂ ارادت میں آنے والی خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں ایک ایک کر کے ان کی شیطانی ہوس کا نشانہ بنتی رہیں، لیکن ان کے پیرو کار یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ان کی اندھی محبت اور عقیدت میں ان کی مدح کے گیت الاپتے رہے۔
جھوٹا مدعیِ نبوت آنجہانی مرزا قادیانی بھی اپنے پیش روؤں کی طرح اسی کردار کا مالک تھا۔ وہ دن کو غیر محرم عورتوں کے جھرمٹ میں بیٹھا خوشی سے پھولا نہ سماتا تو رات کو خواب میں بھی ایسی ہی تصوراتی رنگ رلیوں میں مصروف رہتا۔ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا!
مرزا قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی لڑکی حرمت بی بی سے ہوئی جس سے دو لڑکے فضل احمد اور سلطان احمد پیدا ہوئے۔ بعدازاں انگریز کی حمایت اور جہاد کی مخالفت کے عوض انگریز سرکار اس پر بہت مہربان ہو گئی۔ اس کے حالات بدل گئے اور وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا۔ دولت کی فراوانی نے اسے شراب و کباب کا رسیا بنا دیا جس سے اس کی صحت خراب رہنے لگی۔ لیکن اس کے باوجود اس نے دہلی کے ایک آزاد خیال گھرانے کی ایک 16 سالہ الھڑ خاتون نصرت جہاں سے شادی رچائی۔ حالانکہ بقول مرزا قادیانی اُن دنوں اس کی حالت مردمی کالعدم تھی۔ حکیم نورالدین کے کُشتوں نے اسے ازسرنو عارضی طور پر جوان کر دیا۔ نصرت جہاں سے اس کے کئی بچے پیدا ہوئے۔ دوسری شادی کے تقریباً 2، 4 سال بعد اس کی نظر خاندان کی ایک نوخیز اور نہایت خوبصورت لڑکی ”محمدی بیگم“ پر پڑی تو وہ دل پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس کی جنسی ہوس کی رال ٹپکنے لگی۔ وہ اپنے خوابوں اور خیالات میں محمدی بیگم کا تصور لا کر تنہائی میں نجانے کیا کیا احمقانہ حرکات کرتا۔ انہی دنوں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
- ”بسترِ عیش۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 416 از مرزا قادیانی)
پھر اپنا ایک رنگین خواب اس طرح بیان کرتا ہے:
- "مطابق 30 ذی الحجہ روز شنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق چار بجے خواب میں
دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک گھڑے میں ڈال دیا ہے۔ میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی، یکا یک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے، پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے۔ شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لیے اشتہار دیے تھے۔ لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آ گئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آ جاوے۔ اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد لله علیٰ ذالک۔"
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 159 از مرزا قادیانی)
ایک اور خواب میں دیکھتا ہے:
- "دیکھا کہ میں ایک پیڑھی پر بیٹھا ہوں تو ایک عورت نوجوان عمدہ لباس پہنے ہوئے تیس
بتیس سال کی میرے سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا ارادہ اب اس گھر سے چلا جانے کا تھا۔ مگر تمھارے لیے رہ گئی ہوں۔"
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 535 از مرزا قادیانی)
پھر مرزا قادیانی، محمدی بیگم کے عشق میں گرفتار ہو کر عشقیہ اشعار کہنے لگا۔ ملاحظہ کیجیے:
- "عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے
تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
........................
سبب کوئی خداوندا بنا دے
کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی
بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا قادیانی)
انہی دنوں محمدی بیگم کی یاد میں مرزا قادیانی کو احتلام ہونے لگا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
احتلام
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد
علی کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔ جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیا کو احتلام نہیں ہوتا پھر بعد فکر کرنے کے اور طبی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے ایک فطرتی، دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 242 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
یادرہے کہ ”سیرت المہدی“ نامی کتاب میں مرزا بشیر احمد نے اپنے باپ مرزا قادیانی کے تمام حالات زندگی اور ذاتی کردار تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس لیے اس کی تمام روایات قادیانیوں کے نزدیک مستند ہیں جن سے وہ انکار نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) یہ حدیث اور سنت کی کتاب ہے کیونکہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی عمل کیا ہے، قادیانیوں کے نزدیک وہ (نعوذ باللہ) حدیث وسنت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس طرح ہماری حدیث کی کتابوں (بخاری ومسلم وغیرہ) میں ہر حدیث شریف کے شروع میں درج ہوتا ہے کہ مثلاً روایت کیا ہے حضرت ابوہریرہؓ نے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں.......اس کی نقل اتارتے ہوئے مرزا بشیر احمد نے اس کتاب میں درج تمام روایات کے شروع میں لکھا کہ مثلاً ”روایت کیا ہے ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) نے کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں.......“ (نعوذ باللہ)
روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ 14 ستمبر 1929ء کے مطابق ”اس کتاب میں کافی چھان بین اور غور وخوض کے بعد مرزا قادیانی کے خصائص وشمائل وسیرت کے متعلق نہایت ثقہ روایات درج کی گئی ہیں ۔“ 19 فروری 1924ء کے ”الفضل“ کے مطابق ”ہر روایت کتب حدیث کی طرز پر بیان کی گئی ہے۔ ہر روایت پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حدیث کی کتاب پڑھی جارہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔“
یہ کتاب قادیانی حلقے میں مستند اور معتبر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دلچسپ بھی ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد کے پہلے ایڈیشن (مطبوعہ دسمبر 1923ء) میں مرزا بشیر نے اپنی
والدہ نصرت جہاں بیگم سے روایت کرتے ہوئے سہاگ رات کی ”خلوتِ صحیحہ“ کی دلچسپ کارروائی تفصیلاً بیان کی ہے۔ اس نے لکھا کہ ”حضرت اماں جان“ نے فرمایا کہ سہاگ رات کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ مرزا صاحب میرے بستر پر آن لیٹے اور ہزار کوشش کے باوجود کچھ نہ ہونے پر شرمسار ہو کر ساری رات کروٹیں لیتے رہے۔“
اس ایڈیشن میں ایک اور اہم واقعہ جو نصرت جہاں بیگم ہی سے روایت کیا گیا کہ ”حضرت مسیح موعود، ایک نوخیز اور خوبصورت لڑکی محمدی بیگم کے عشق میں بری طرح مبتلا ہو گئے تھے۔ پریشانی کے عالم میں انھیں اک پل چین نہ آتا تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود، ایک ملازمہ کے ذریعے محمدی بیگم کے حیض والی سلوار منگوا کر اسے سونگھتے، چومتے اور آنکھوں سے لگاتے تو انھیں چین آتا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔“ (کتاب میں درج اصل روایت میں لفظ سلوار ہے، شلوار نہیں۔ (ناقل)
جب ان خرافات پر شور اٹھا تو فوری طور پر سیرت المہدی کی پہلی جلد حکماً واپس لے لی گئی۔ بعد ازاں اس کتاب میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن 23 دسمبر 1935ء کو شائع کیا گیا۔ پھر اس کے بعد یہ کتاب آج تک شائع نہیں ہوئی۔ سیرت المہدی کے اس متذکرہ ایڈیشن میں اس کے علاوہ بھی بہت سارے تلخ حقائق و واقعات ہیں جن سے قادیانی قیادت گھبراتی اور شرماتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر اس کتاب کا پہلا اصل ایڈیشن شائع ہو گیا تو مخالفین کے ہاتھ میں قادیانیت کو رسوا کرنے والا ایسا مواد آجائے گا جس سے انحراف ممکن نہیں۔
کچھ عرصہ بعد مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کو ”پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ“ کا خطاب دے کر درج ذیل خدائی الہام بیان کیا۔ مزید کہا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہو چکی ہے کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین،
کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمھیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمھیں عطا ہوگی۔ وہ صاحبِ اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیے گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں
تھا۔ اگر چہ ابھی یہ الہامی بات نہیں۔ مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے، وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیے گئے، جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 112، 113 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ معلوم کر لیا جائے کہ محمدی بیگم اور اس کے خاندان کی مرزا غلام احمد قادیانی سے کیا رشتے داری تھی؟
- 1- محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ، مرزا قادیانی کا ماموں زاد بھائی تھا۔
(قارئین خود غور فرما لیں کہ ماموں زاد بھائی کی بیٹی رشتے میں مرزا قادیانی کی کیا لگتی تھی؟)
- 2- محمدی بیگم کی والدہ عمر النساء، مرزا قادیانی کی چچا زاد بہن اور مرزا امام الدین کی حقیقی ہمشیرہ تھی۔
- 3- مرزا امام الدین، مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی اور محمدی بیگم کا حقیقی ماموں تھا۔
- 4- محمدی بیگم، مرزا قادیانی کی پہلی بیوی حرمت بی بی (پھجے دی ماں) کے چچا زاد بھائی کی بیٹی تھی۔
- 5- محمدی بیگم، مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی بیوی کی ماموں زاد بہن تھی۔
- 6- سلطان احمد اور فضل احمد، مرزا قادیانی کی پہلی بیوی حرمت بی بی کے بطن سے تھے۔
- 7- عزت بی بی، مرزا قادیانی کے بیٹے فضل احمد کی اہلیہ اور مرزا احمد بیگ کی سگی بھانجی تھی۔
- 8- مرزا علی شیر بیگ، عزت بی بی کے والد اور مرزا قادیانی کا سمدھی تھا۔
- 9- عزت بی بی کی والدہ، مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ اور مرزا غلام احمد کی سمدھن تھی۔
- 10- عزت بی بی کی والدہ یعنی فضل احمد کی ساس، محمدی بیگم کی پھوپھی تھی۔
معروف عالم دین حضرت مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’کسی آدمی کا شادی کے لیے کسی لڑکی کا انتخاب کرنا اور اس کے لیے پیغام دینا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن ایک پچاس سالہ بوڑھے کا ایک کم سن بچی پر نظر رکھنا اور اس کی طلب و ہوس میں دن رات تڑپنا اس کے شریف ہونے کا پتا نہیں دیتا۔ پھر یہ مسئلہ اس وقت اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب اس لڑکی کا والد اپنی کسی اور مجبوری میں اس شخص کے پاس آئے اور وہ اس شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس لڑکی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور طرح طرح کے لالچ اور انعام کے وعدے کرے اور پھر موت کی دھمکیوں پر اتر آئے۔ یہ پرلے
درجے کی بداخلاقی اور غنڈہ گردی ہے اور معاشرہ ایسے شخص کو بے حیا اور بدمعاش کہتا ہے۔ پھر یہ بات اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب اس قسم کی اوچھی حرکتیں کرنے والا شخص مامور من اللہ ہونے کا مدعی ہو اور اس لڑکی کو پانے کی خدا کے نام سے خبر دے۔
خدا تعالیٰ کے محبوبین اور مقبولین ، اخلاق و کردار کی اُس بلند دیوار پر کھڑے ہوتے ہیں جس پر خدا کے معصوم فرشتوں کو بھی رشک آتا ہے۔ مخالفین ان کے دعویٰ کی تکذیب تو کرتے ہیں لیکن کبھی ان کے اخلاق زیر بحث نہیں لاتے۔ شدید ترین مخالفین بھی اللہ کے ان محبوبین کے اعلیٰ اخلاق و کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور انھیں امین و صادق اور عفیف مانے بغیر انھیں چارہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابل جو لوگ خدا کے نام پر جھوٹی آواز لگاتے ہیں ، وہ افتراء علی اللہ اور افتراء علی الرسول کے مجرم ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے اس قدر گرے ہوتے ہیں کہ کوئی مہذب معاشرہ ایسے آدمیوں کو شریف کہنا گوارا نہیں کرتا۔ وہ اول مرحلے پر ہی اپنے آپ کو اس قدر ننگا کر دیتے ہیں کہ ذرا سی سمجھ رکھنے والا انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جو شخص اس قدر بداخلاق اور بدکردار ہے، وہ مامور من اللہ تو کجا ایک شریف انسان کہلانے کے بھی قابل نہیں۔ جب ایک دھوکا باز آدمی کو کوئی شخص صالح اور پرہیز گار نہیں کہہ سکتا تو ایسے بدکردار آدمی کو مامور من اللہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ مولانا روم نے ایسے ہی فراڈی قسم کے لوگوں کے بارے میں یہ کہا تھا ؎
گر ولی ایں است لعنت بر ایں ولی
قادیانی ، مرزا غلام احمد کو خدا کا نبی اور اس کا مامور مانتے ہیں اور مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ اس پر ایمان لاؤ گے تو جنت میں جاؤ گے اور اسے نہ ماننے والا حرام زادہ ہے۔ اہل اسلام تو سرے سے ہی اسے پرلے درجے کا جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کے دعویٰ نبوت کی بنا پر اسے اسلام سے خارج جانتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اُسے مانتے ہیں ، انھیں غور کرنا چاہیے کہ انھوں نے کس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے؟
ایک مرتبہ مرزا غلام احمد کی نظر ایک کمسن لڑکی پر پڑی جو اس کے دل کو بھا گئی۔ یہ اس کے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی بچی تھی۔ کچھ عرصہ بعد اس بچی کے والد کو اپنی زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا غلام احمد کے پاس آنا پڑا۔ مرزا غلام احمد نے مختلف بہانوں کے ذریعہ
اسے ٹالنے کا کھیل کھیلا مگر جب وہ کسی طرح بھی نہ ٹلا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ میں ایک شرط پر تمہارا یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو یہ الہام ہوا کہ تمہارا یہ کام اس شرط پر ہو سکتا ہے کہ تم اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔ یہ شخص احمد بیگ تھا اور یہ بچی محمدی بیگم تھی۔ احمد بیگ نے جب مرزا غلام احمد کی یہ بات سنی تو اُس کے ہوش اُڑ گئے کہ ایک ایسا شخص جو اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس عمر میں ایک معمولی کام کے لیے میری کم سن بچی مانگ رہا ہے۔ چنانچہ اس نے مرزا قادیانی کی یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور بغیر کام کرائے واپس چلا آیا۔ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو مختلف ذرائع سے سمجھانے اور منانے کی کوشش کی مگر غیرت مند باپ کسی طرح بھی اپنی بچی کا نکاح مرزا قادیانی سے کرنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ مرزا قادیانی نے اس بچی کو پانے کے لیے خدا کی وحی آنے کی خبر دی اور احمد بیگ کے خاندان کو رحمتوں اور برکتوں کے ملنے کی خوشخبری دی۔“ (اہم پیشگوئیاں اور ان کا جائزہ از حافظ محمد اقبال رنگونی)
مرزا قادیانی لکھتا ہے: (قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی یہ عبارت توجہ سے پڑھیں۔ شکریہ)!
- ❑ ”یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعوئیٰ الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے اور
اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے، نامبردہ (احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے، نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے، اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا، اس لیے مکتوب الیہ (احمد بیگ) نے بتمامتر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا، تا ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ اور قریب تھا کہ
دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔
اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمھارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار 20 فروری 1888ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی، وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 285 تا 287 مندرجہ روحانی خزائن جلد پنجم صفحہ 285 تا 287 از مرزا قادیانی)
مگر کس قدر افسوسناک بات ہے کہ مرزا قادیانی کے ”خدا“ نے اسے لکھ سے ہولا کر دیا۔ ایک رشتہ دار عورت سے نکاح ایسی ناممکن بات نہیں ہوتی مگر ہر طرح کے پاپڑ بیلنے کے باوجود مرزا قادیانی، محمدی بیگم کو حبالۂ عقد میں لانے سے قاصر رہا۔ جس ”خدا“ نے مرزا قادیانی کی ایسی جگ ہنسائی کرائی، اس پر بھروسا کرنا پرلے درجے کی نادانی ہے یا نہیں؟ اے کاش! مرزا قادیانی کا سچے خدا سے زندہ تعلق ہوتا تو وہ یوں عالم میں رسوا نہ ہوتا۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنے والد کے مَوقِف کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح کی حقیقی ہمشیرہ مراد بی بی، مرزا محمد بیگ
ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی تھیں۔ مگر مرزا محمد بیگ جلد فوت ہو گئے اور ہماری پھوپھی کو باقی ایام زندگی بیوگی کی حالت میں گزارنے پڑے۔ ہماری پھوپھی صاحب رویا و کشف تھیں۔ مرزا محمد بیگ مذکور کے چھوٹے بھائی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے چچیرے بھائیوں یعنی مرزا نظام الدین وغیرہ کی حقیقی بہن عمر النساء بیاہی گئی تھیں، ان کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئی۔ مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع
لوگ تھے اور مرزا احمد بیگ مذکور ان کے سخت زیر اثر تھا اور انھیں کے رنگ میں رنگین رہتا۔ یہ لوگ ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود سے نشان آسمانی کے طالب رہتے تھے کیونکہ اسلامی طریق سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور والد محمدی بیگم یعنی مرزا احمد بیگ ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔ اب واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک اور چچا زاد بھائی مرزا غلام حسین تھا جو عرصہ سے مفقود الخبر ہو چکا تھا، اور اس کی جائداد اس کی بیوی امام بی بی کے نام ہو چکی تھی۔ یہ امام بی بی مرزا احمد بیگ مذکور کی بہن تھی۔ اب مرزا احمد بیگ کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسمات امام بی بی اپنی جائداد اس کے لڑکے مرزا محمد بیگ برادر کلاں محمدی بیگم کے نام ہبہ کر دے۔ لیکن قانوناً امام بی بی اس جائداد کا ہبہ بنام محمد بیگ مذکور بلا رضا مندی حضرت مسیح موعود نہ کر سکتی تھی۔ اس لیے مرزا احمد بیگ بتمام عجز و انکساری حضرت مسیح موعود کی طرف ملتجی ہوا کہ آپ ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ چنانچہ حضرت صاحب قریباً تیار ہو گئے۔ لیکن پھر اس خیال سے رک گئے کہ دریں بارہ مسنون استخارہ کر لینا ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے مرزا احمد بیگ کو یہی جواب دیا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد، دستخط کرنے ہوں گے تو کر دوں گا۔ چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا، گویا آسمانی نشان کے دکھانے کا وقت آن پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ چنانچہ استخارہ کے جواب میں خداوند تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے یہ فرمایا کہ ”اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمھارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا، اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار 20 فروری 1886ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا، اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی، اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں
گے。“ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 114، 115 از مرزا بشیر احمد ایم اے، ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے نکاح کے سلسلہ میں ”اللہ تعالیٰ سے بشارت پا کر“ اپنے ایک اشتہار میں لکھا:
- ❑ ”پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر
برکت سے بھرے گا۔ اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا اُن پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔ ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا۔ [حاشیہ] یہ ایک پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو دہم جولائی 1888ء کے اشتہار میں شائع ہوچکی، جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے، اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روزِ نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا۔ اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ سو اس جگہ اجڑے ہوئے گھر سے وہ اُجڑا ہوا گھر مراد ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 96 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کو مرزا قادیانی کی باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ تذبذب کا شکار تھے کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو محمدی بیگم سے نکاح کے سلسلہ میں یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے کہا:
- ”یہ بھی الہام (ہوا) ہے ويستنبئونک احق هو قل ای وربی انه لحق وما انتم
بمعجزین. زوجنا کہا لا مبدل لکلماتی. وان يروا آیۃ يعرضوا و يقولوا سحر مستمر. اور (لوگ) تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا (محمدی بیگم سے نکاح والی) یہ بات سچ ہے؟ کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس (محمدی بیگم) سے تیرا عقدِ نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔“
(آسمانی فیصلہ صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 350 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے مزید کہا:
- ”خدائے تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد
مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمھارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 305 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
مرزا قادیانی اپنے الہام کے حوالہ سے مزید لکھتا ہے:
- ”اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیشگوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی
(جیسا کہ اب تک بھی جو 16 اپریل 1891ء ہے، پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تُو کیوں شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 306 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 306 از مرزا قادیانی)
اپنے نفس کو ”خدا“ بنا لیا جائے تو وہ اسی طرح فریب دیا کرتا ہے۔
مرزا قادیانی محمدی بیگم سے نکاح کے سلسلہ میں اپنی وحی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- (ترجمہ) ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح
کے لیے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمھیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمھارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا
ہے، جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کیے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمھارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لیے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمھارے لیے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے، جن کا نتیجہ موت ہوگا۔
پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا۔ یہ حکم اللہ ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کر دی ہے۔ پس وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 572، 573 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 572، 573 از مرزا قادیانی)
مرزا احمد بیگ کا بڑا لڑکا محمد بیگ (محمدی بیگم کا حقیقی بھائی) حکیم نور الدین کے پاس ایک بیماری کے سلسلہ میں زیر علاج تھا۔ اس لڑکے نے مرزا قادیانی کو کئی خطوط لکھے کہ آپ حکیم نور الدین کو میری سفارش کر دیں کہ وہ مجھے محکمہ پولیس میں نوکر کروا دیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے حکیم نورالدین کو حسب ذیل خط لکھا:
- ”مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب!
السلام علیکم! محمد بیگ لڑکا جو آپ کے پاس ہے۔ آنمکرم کو معلوم ہوگا کہ اس کا والد مرزا احمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت و کینہ رکھتا ہے اور ایسا ہی اس کی والدہ بھی، چونکہ خدا تعالیٰ نے بوجہ اپنے بعض مصالح کے اس لڑکے کی ہمشیرہ کی نسبت وہ الہام ظاہر فرمایا تھا کہ جو بذریعہ اشتہارات شائع ہو چکا ہے، اس وجہ سے ان لوگوں کے دلوں میں حد سے زیادہ جوش مخالفت ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ امر جس کی نسبت مجھے اس شخص کی ہمشیرہ کی نسبت اطلاع دی گئی ہے، کیونکر اور کس راہ سے وقوع میں آئے گا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نرمی کارگر نہ ہوگی، یفعل اللہ مایشاء کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے، لیکن تاہم کچھ مضائقہ نہیں کہ ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے ادفع بالتی ھی احسن کا ثواب حاصل کیا جائے اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خطوط اس مضمون کے پہنچے کہ مولوی صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نوکر کرادیں۔
آپ براہ مہربانی اس کو بلا کر نرمی سے سمجھائیں کہ تیری نسبت انھوں (غلام احمد قادیانی) نے بہت سفارش لکھی ہے اور تیرے لیے جہاں تک گنجائش اور مناسب وقت ہو، کچھ فرق نہ ہوگا۔ (یہاں حکیم نور دین کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مرتب) غرض آن مکرم میری طرف سے اس کے ذہن نشین کر دیں کہ وہ تیری نسبت بہت تاکید کرتے ہیں، اگر محمد بیگ آپ کے ساتھ آنا چاہے تو ساتھ لے آویں۔۔۔۔۔۔ زیادہ خیریت ہے۔‘‘ والسلام۔ خاکسار غلام احمد، لدھیانہ محلہ اقبال گنج 21 مارچ 1891ء
اس خط سے مرزا قادیانی کی ذہنیت کا اندازہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح محمدی بیگم کے بھائی کو ملازمت کا لالچ دے کر اس کی برین واشنگ کر رہا ہے کہ مناسب وقت یعنی محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے پہلے نکاح ہو جائے، پھر ملازمت کی کوشش کی جائے گی لہٰذا پہلے تم مرزا قادیانی کے نکاح کے سلسلہ میں کوشش کرو۔
مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے سلسلہ میں اپنے رشتہ داروں کو بھی خطوط لکھے اور انھیں مجبور کیا کہ لڑکی کے والد احمد بیگ کو اس نکاح کے لیے تیار کیا جائے اور خود احمد بیگ کو 20 فروری 1888ء کو ایک لالچ بھرا خط لکھا کہ اگر تم نے اپنی بچی کا نکاح میرے ساتھ کر دیا تو میں نہ صرف ان کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں بلکہ تمھیں جائیداد بھی ملے گی اور تمھارے لڑکے کو پولیس کی ملازمت بھی دلا دوں گا۔ مرزا قادیانی کا خط ملاحظہ کیجیے:
- ’’مکرمی مخدومی اخویم مرزا احمد بیگ! السلام علیکم!
ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کر دے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے، یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہوگا اور ہمارے انعام و اکرام بارش کی طرح اس پر نازل ہوں گے اور تنگی اور سختی اس سے دور کر دی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو موردِ عتاب ہوگا اور ہمارے قہر سے نہ بچ سکے گا۔ اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تا کہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب و لحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دین دار اور ایمان دار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لیے فخر سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ جب لکھو، حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے، اور میں نے
عزیز محمد بیگ کے لیے پولیس میں بھرتی کرانے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش وسفارش کر لی ہے تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے تقریباً کر دیا ہے فقط خاکسار غلام احمد لدھیانہ اقبال گنج ‘‘ 20 فروری 1888ء
مذکورہ بالا خط کا جواب نہ ملنے پر مرزا قادیانی نے درج ذیل دوسرا خط روانہ کیا۔ یاد رہے کہ بقول مرزا قادیانی انھوں نے یہ خط بھی اللہ تعالیٰ کے ایما اور اشارہ سے احمد بیگ کو لکھا:
- ❑ (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اے عزیز سنیے! آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ میری
سنجیدہ بات کو لغو سمجھتے ہیں اور میرے کھرے کو کھوٹا خیال کرتے ہیں۔ بخدا میرا یہ ارادہ نہیں کہ میں آپ کو تکلیف دوں۔ انشاء اللہ آپ مجھے احسان کرنے والوں میں سے پائیں گے اور میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری بات کو مان لیا تو میں اپنی زمین اور باغ میں آپ کو حصہ دوں گا اور اس رشتہ کی وجہ سے آپس کی نزاع اور اختلاف رفع ہو جائے گا اور خدا میرے کنبہ اور خاندان کے قلوب کی اصلاح کر دے گا...... اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی درازی عمر کے لیے ارحم الراحمین کے جناب میں دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے، میں آپ کو دوں گا۔ صلہ رحم عزیزوں سے محبت اور رشتہ کے حقوق کے بارے میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں اپنا دستگیر اور بار اٹھانے والا پائیں گے۔ اس لیے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجیے اور شک و شبہ میں نہ پڑیے۔
میں اپنا یہ خط اپنے پروردگار کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ اپنی رائے سے نہیں۔ آپ میرے اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھیے۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور جو کچھ میں نے وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے جو کہا ہے وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اپنے الہام سے کہلوایا ہے اور یہ مجھے میرے پروردگار کی وصیت تھی۔ اس لیے میں نے اسے پورا کیا۔ ورنہ مجھے آپ کی یا آپ
کی لڑکی کی کچھ حاجت نہیں تھی...... اگر میعاد گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر ڈالنا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ تمام دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔ یہ خط میں نے احمد بیگ کو 1304ھ میں لکھا تھا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 573، 574 روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 573، 574 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمدی بیگم سے شادی کے سلسلہ میں کس قدر بے تاب تھا۔ وہ لڑکی کے باپ کو ہرقسم کا لالچ اور دھمکی بھی دے رہا ہے کہ آپ کو اپنی زمین اور باغ میں سے حصہ دوں گا۔ آپ کی لڑکی کو جائیداد میں سے حصہ ملے گا۔ آپ کے لیے لمبی عمر کی دعا کروں گا۔ اگر یہ سچ نہ ہوا تو میرے گلے میں رسی ڈال کر ایسی سزا دینا جو کسی کو نہ دی گئی ہو۔ بس تم جلدی محمدی بیگم کی شادی مجھ سے کر دو۔ اگر ایسا نہ کیا تو لڑکی کا باپ مر جائے گا، لڑکی کا شوہر مر جائے گا۔ قارئین کرام! آپ خود بتائیں کیا یہ باتیں نبی تو کجا کسی شریف آدمی کو جس کے دل میں ذرا بھی شرم وحیا ہو، زیب دیتی ہیں؟
اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کو خط لکھا جو مرزا فضل احمد کی بیوی عزت بی بی کا والد تھا۔ اس خط میں بھی مرزا قادیانی نے رشتہ کے سلسلہ میں بے حد منت سماجتیں کی ہیں اور خود کو ذلت کی حد تک پستی میں گرایا۔ آئیے! مرزا قادیانی کا خط پڑھیے اور ان کی بے بسی کا اندازہ لگائیے!
مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب
- ❑ السلام علیکم! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے
فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسولؐ کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے، اور
اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، رُوسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں، اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا، جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض، کہیں جائے، مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو، وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا رُوسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے، صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے، ہم راضی ہیں۔ اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے، جو چاہے کرے۔ ہم اس کے لیے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا ابھی مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے، میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان
حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے، ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔
ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔
راقم خاکسار غلام احمد ۔ از لودھیانہ اقبال گنج 4 مئی 1891ء
اس خط کا جواب علی شیر بیگ صاحب نے دو روز بعد یوں لکھا اور اس میں جو ادبیت اور نہایت لطیف طنز ہے، وہ قابل ستائش ہے،
اخویم مرزا غلام احمد !
السلام علیکم ! گرامی نامہ پہنچا غریب طبع یا نیک جو کچھ بھی آپ تصور کریں آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں مسلمان ضرور ہوں، مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر کرے۔...... باقی رہا تعلق چھوڑنے کا مسئلہ تو بہترین تعلق خدا کا ہے، وہ نہ چھوٹے اور باقی اس عاجز مخلوق کا ہوا تو پھر کیا، نہ ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں، وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہے جو کچھ ہوا، آپ کی طرف ہی سے ہوا، نہ آپ فضول ایمان کو گنواتے اور الہام بانی کرتے اور نہ مرنے کی دھمکیاں دیتے اور نہ وہ کنارہ کش ہوتا...... یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر آپ کی جگہ احمد بیگ ہو اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں، تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ دو گے؟ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کتر چکا ہوتا تو آپ رشتہ دیتے؟ آپ کو خط لکھتے وقت یوں آپے
سے باہر نہیں ہونا چاہیے، لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہیں اور نظام عالم انہی باتوں سے قائم ہے، کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت دنیا پر قائم کر کے بدنامی کا سیاہ داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا تر نہ سہی خشک ، مگر خشک بہتر ہے جو پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ میں بھائی احمد بیگ کو لکھ رہا ہوں بلکہ آپ کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے، مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور بیوی کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو کس طرح لڑے...... ہاں اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے، آپ خود ان کو لکھیں مگر درشت اور سخت الفاظ آپ کا قلم گرانے کا عادی ہو چکا ہے، اس سے جہاں تک ہو سکے احتراز کریں اور منت سماجت سے کام لیں۔ خاکسار علی شیر بیگ از قادیان 4 مئی 1891ء۔
مرزا علی شیر کے اس خط میں مرزا قادیانی کے کردار کی صحیح تصویر کھینچی گئی ہے۔ اسے کہتے ہیں گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت خود ساختہ ہے اور وہ اپنے دعوٰی میں مسیلمہ کذاب سے بڑھ کر ہے۔ بلیک میلنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ جسمانی بیماریوں کا مجموعہ اور مراقی ہے۔
مرزا امام الدین، مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی اور محمدی بیگم کا ماموں تھا۔ مرزا بشیر احمد ایم اے کی ایک روایت کے مطابق احمد بیگ اس کے تابع تھا اور بالکل اس کے زیر اثر ہو کر اس کے اشارے پر چلتا تھا۔ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے بارے میں اس سے خط کتابت کی اور اسے لالچ دیا کہ اگر تم میرا یہ رشتہ کروا دو گے تو میں تمھیں دولت کی شکل میں انعام دوں گا۔ اس سلسلہ میں مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
- ❑ ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا
کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا، اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا۔ اور چونکہ
محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا، اس لیے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 192، 193 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
یہ گھر کی شہادت بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لیے مرزا قادیانی، محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لیے تیار تھا۔ مرزائیو! خدا کے لیے غور کرو کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی شائع کرنا، پھر انعام، رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا کسی راستباز انسان کا کام ہوسکتا ہے؟
خانہ بربادی
مرزا قادیانی کو شک تھا کہ ان کی پہلی بیوی کے دونوں بیٹے سلطان احمد اور فضل احمد محمدی بیگم سے نکاح کے بارے میں اپنے والد کی حمایت کرنے کے بجائے دوسرے فریق کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے 2 مئی 1891ء کو ایک خاص اشتہار کے ذریعے انھیں دھمکی دی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح کسی اور جگہ ہو گیا تو نہ صرف وہ ہر قسم کی جائیداد وغیرہ سے عاق ہوں گے بلکہ ان کی والدہ کو بھی طلاق ہو جائے گی۔ ملاحظہ کیجیے:
- ’’ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ
سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنھوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور
بہت تاکیدی خط لکھے کہ تُو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں، ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انھوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انھوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی، اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا، کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انھوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی 91ء ہے، عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انھوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے
گی۔ اور کسی نیکی ،بدی، رنج راحت شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انھوں نے آپ تعلق توڑ دیے اور توڑنے پر راضی ہو گئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 186، 187 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس ضمن میں مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی والدہ کے حوالہ سے لکھتا ہے:
- ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ
ہو گئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والدِ محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر اُن سے قطع تعلق کرنا ہو گا اور اگر اُن سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے، ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنتِ مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آ کر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا بشیر احمد ایم اے مزید لکھتا ہے:
- ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی مرزا
فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان
کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی، ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انھیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا، اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے، اس لیے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیے جاؤں گا۔ انھوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے 2 مئی 1891ء کو شائع کیا تھا اور جس کی سرخی تھی ’’اشتہار نصرتِ دین و قطع تعلق از اقارب مخالفِ دین۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کو ’’کنجریوں کی اولاد‘‘ کہا ہے:
- ترجمہ: ’’یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان، محبت ومودّت کی آنکھ سے دیکھتا ہے
اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
مذکورہ بالا عبارات سے پتا چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کے بیٹوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد نے نہ صرف مرزا قادیانی کی مخالفت کی بلکہ اس کے مخالفین کی بھرپور حمایت کی۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا مذکورہ بالا عبارت کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے بیٹوں کا شمار کنجریوں کی اولاد میں ہوتا ہے؟ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ’’14 اگست 1892ء مطابق 20 محرم 1309ھ ’’آج خواب میں مَیں نے دیکھا
کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیشگوئی ہے، باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اُس کا شاید مُنڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اس کو تین
مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر جائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اُتارے ہیں اور پھر خواب میں، میں نے یہی تعبیر کی ہے اور اسی رات والدۂ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے۔ اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 160 از مرزا قادیانی)
یہ خواب تو مرزا قادیانی نے سخت ردِّعمل میں جان بوجھ کر دیکھا ہے۔
مرزا قادیانی محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ❑ ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا
باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو 21 ستمبر 1893ء ہے، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لیے کافی ہیں۔“ (شہادۃ القرآن صفحہ 79 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 375 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی تمام تر کوششوں، دھمکیوں، ترغیبات، تحریصات اور جھوٹے الہامات کے باوجود احمد بیگ نے اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح مسمی سلطان محمد سے 7 اپریل 1892ء کو بڑی دھوم دھام سے کر دیا۔ اُدھر شہنائی بج رہی تھی، اِدھر مرزا قادیانی کے گھر میں ماتم برپا تھا۔ مرزا قادیانی کے قریبی دوست تو بخوبی جانتے تھے کہ مرزا قادیانی نے خدا کے نام پر جتنی باتیں کہی ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ سب مرزا قادیانی کی اپنی اختراع ہے جو وہ خدا کے نام پر پیش کر رہا ہے لیکن نادان قادیانیوں کو کس طرح سمجھایا جائے کہ ان کے نبی کی آسمانی منکوحہ کسی اور کے نکاح میں دی جا چکی ہے اور ”خدا“ کے فیصلے پر انسانی فیصلے غالب آ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اپنی آسمانی منکوحہ کو سلطان محمد سے چھین سکے اور نہ اس کے کسی مرید میں یہ جرأت تھی کہ وہ اپنے نبی کی آسمانی بیوی کو کسی غیر کی منکوحہ ہونے سے روک سکے۔ مرزا قادیانی ذلت وحسرت کی تصویر بنا اپنی آسمانی منکوحہ کی رخصتی پر آنسو بہاتا رہا اور دانت پیستا رہا اور اس کے مریدوں کے منہ پر اس کی بے بسی اور شرمندگی کی گہری چھاپ صاف دکھائی دے رہی تھی۔
مرزا قادیانی نے اس نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے اعلان کیا کہ اسے خدا نے وحی کی ہے کہ اس بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خدا نے اس کا
نکاح آسمان پر تمھارے ساتھ ہی پڑھایا ہے۔ وہ تمہاری ہی منکوحہ ہے۔ اب اس دنیا میں اگر کوئی اسے اپنی منکوحہ بنا چکا ہے تو یہ اس کی عارضی منکوحہ ہوگی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا اسے مرزا قادیانی کی منکوحہ بنائے اور کوئی دوسرا اسے لے اڑے۔ سو وقت آئے گا کہ اس آسمانی منکوحہ کا عارضی شوہر مرے گا اور خدا پھر اسے تمھارے پاس ہی لے آئے گا۔ مرزا قادیانی نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ اعلان کیا اور اشتہاروں پر اشتہار لکھے تا کہ اس کی جماعت سے نکلنے والے قادیانی واپس آ جائیں اور اسے اپنی آمدنی سے حصہ دیتے رہیں۔ مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے یہ اعلان کیا:
- ”نفس پیشگوئی یعنی اُس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو
کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ. یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔..... اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 399 طبع جدید از مرزا قادیانی)
ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی صاف گوئی ہو گی جو مرزا قادیانی نے اس عبارت میں کی ہے؟ بات بھی صحیح ہے کہ خدا جس امر کی بابت خبر دے، پھر اس کی تاکید کے لیے ”لا تبدیل“ فرمائے؟ پھر وہ تبدیل ہو جائے تو خدائی کلام کے جھوٹ ہونے میں کچھ شک رہتا ہے؟ اب سوال یہ ہے کیا یہ نکاح مرزا قادیانی سے ہو گیا؟ آہ! اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس کے ساتھ نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ 26 مئی 1908ء کے دن بے چارہ اس حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔
اب مرزا قادیانی نے محمدی بیگم اور اس کے خاندان کے لیے بد دعائیں کرنا شروع کر دیں۔ اس نے خدا کے نام پر کہا:
- (ترجمہ) میں نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان
(تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جاوے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال
تک فوت ہو جائیں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔‘‘
(مرزا قادیانی کا الہام، مندرجہ تالیف ’’کرامات الصادقین‘‘ صفحہ نمبر 1، مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 162)
جناب حافظ محمد اقبال رنگونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’مرزا قادیانی کی مذکورہ تصریحات اور پھر اس کی تشریحات سے یہ بات واضح ہے کہ محترمہ محمدی بیگم کی شادی ہو جانے کے باوجود مرزا قادیانی نے اس خاتون کی آبرو کا کوئی خیال نہیں کیا اور سالہا سال تک ایک غیر محرم خاتون کی عزت کو اچھالنے کا مشغلہ جاری رکھا۔ آپ ہی بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی کو اس کی اجازت تھی کہ وہ کسی دوسرے کی منکوحہ کے بارے میں بار بار یہ اشتہار شائع کرے کہ وہ میری بیوی بنے گی، میرے گھر آئے گی، اس کا شوہر مرے گا، وہ میری ہی منکوحہ ہے، کچھ ہی ہو جائے، اسے میرے ہی پاس آنا ہے۔ ہر شریف آدمی اس قسم کی باتیں کرنے والے شخص کو بڑا بے شرم آدمی کہتا ہے مگر افسوس کہ قادیانیوں نے اسے خدا کے نبی کا درجہ دے رکھا ہے۔ چہ نسبت ناپاک را بعالم پاک!
مرزا قادیانی کو اس بات کا تو حق تھا کہ وہ محمدی بیگم کے شوہر کے انتقال کر جانے کے بعد پھر سے اپنے رشتہ کی بات چلاتا اور وہ بھی عدت گزرنے کے بعد اور پھر اسے لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنی منکوحہ بناتا مگر اسے یہ حق ہرگز نہ تھا کہ وہ ایک شخص کی منکوحہ کے بارے میں مسلسل یہ دعویٰ کرے کہ یہ اسی کی بیوی ہے، اور اس کا شوہر مر جائے گا، یہ واپس میرے پاس آ جائے گی۔ یہ انداز گفتگو اور اشتہارات اس بات کے شاہد ہیں کہ مرزا قادیانی کو شریف آدمی کہنا بھی شرافت کے خلاف ہے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ قادیانیوں کے ہاں شرافت کا معیار مرزا قادیانی کا گھناؤنا کردار ہے، اور ایسے ہی لوگ ان کے ہاں سب سے بڑے شریف سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام میں تو خاوند کے فوت ہونے کے بعد بھی عدت گزرنے سے پہلے بیوہ کو نکاح کا پیغام نہیں دیا جا سکتا چہ جائیکہ خاوند زندہ ہو، مرا بھی نہ ہو اور یہاں اس کے نکاح ثانی کے پیغام دیے جا رہے ہوں۔
اُن دنوں محمد بخش جعفر زٹلی نے اپنے رسالہ میں یہ اعلان شائع کیا کہ وہ عنقریب نصرت جہاں بیگم (مرزا قادیانی کی بیوی) سے بیاہ رچانے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی موت کے بعد نصرت جہاں میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس نے اپنے اعلان کی تائید میں چند خواب بھی سنائے اور بشارتیں بھی نقل کیں۔ مرزا قادیانی نے جب یہ
اعلان پڑھا تو مارے غصہ کے سرخ ہو گیا اور اس نے لکھا:
- ’’میری بیوی کی نسبت شیخ محمد حسین کے دوست جعفر زٹلی نے محض شرارت سے
گندی خوابیں بنا کر سراسر بے حیائی کی راہ سے شائع کیں اور میری دشمنی سے اس میں وہ لحاظ و ادب بھی نہ رہا جو اہل بیت رسول کی پاک دامن خواتین سے رکھنا چاہیے۔ مولوی کہلانا اور یہ بے حیائی کی حرکات افسوس ہزار افسوس !! (تحفہ گولڑویہ صفحہ 56 حاشیہ جلد 17 صفحہ 199)
اگر جعفر زٹلی اس لیے بے حیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی بیوی کے بارے میں خواب سناتا ہے اور کسی وقت اس کے نکاح میں آنے کی خبر دیتا ہے تو مرزا قادیانی اس سے زیادہ بے حیا ہے کہ وہ مدعی نبوت ہو کر سلطان محمد کی بیوی محترمہ محمدی بیگم کے بارے میں الہامات سناتا ہے اور کسی دوسرے کی بیوی کو اپنے نکاح میں لانے کے بارے میں اشتہار شائع کرتا ہے۔ اگر جعفر زٹلی اس وجہ سے لائق نفرت ہیں تو مرزا قادیانی اس سے بدرجہ اولیٰ لائق نفرین ٹھہرے۔ ہے کوئی قادیانی جو انصاف کا دامن تھامے اور مرزا قادیانی کو برسرعام بے حیا مانے؟ مرزا قادیانی نے جب خدا کے نام سے احمد بیگ کو اپنی لڑکی کا رشتہ دینے کے لیے کہا تو اسے یقین تھا کہ احمد بیگ اپنی مجبوری کے پیش نظر اس کی بات مان لے گا لیکن احمد بیگ نے غیرت کا مظاہرہ کیا۔ مرزا قادیانی نے دیگر ذرائع سے لالچ اور دھمکیاں دیں۔ وہ بھی بے اثر ثابت ہوئیں اب جبکہ لڑکی کا نکاح کسی اور جگہ ہو چکا اور وہ لڑکی کسی کی بیوی بن چکی، پھر بھی بار بار یہ بات دہرانا کہ اس کا شوہر مر جائے گا، ہمیں کسی اور بات کی خبر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کے خیال میں محمدی بیگم کس طرح بیوہ ہو سکتی تھی، اس وقت ہم اس پر بحث نہیں کر رہے، ہم صرف مرزا قادیانی کی غیر شریفانہ ذہنیت کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ قادیانی عوام اس سے عبرت حاصل کریں اور وہ جان پائیں کہ مرزا قادیانی بداخلاقی کی کس سطح تک گر چکا تھا۔
مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کو نہ صرف خدائی پیغام بتایا بلکہ اسے اپنے صدق و کذب کا اہم عنوان بھی بنا دیا۔ اپنے اس عنوان صدق کی لاج رکھنے اور اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کہ یہ خدائی معاملہ ہے، مرزا قادیانی نے اوچھی حرکتوں کے اختیار تک سے اجتناب نہ کیا۔ ایک ظالم اور لالچی شخص کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے جتنا کچھ کر سکتا ہے، مرزا قادیانی نے وہ سب راہ عمل اپنائے تاکہ وہ کسی طرح یہ کہنے میں کامیاب ہو جائے کہ یہ خدائی معاملہ ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس رشتہ کو جو اہمیت
دی ہے، اسے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے اس طرح بیان کیا ہے:
- ”اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ الہامات (جن کا تعلق محمدی بیگم سے ہے) پیشگوئی کا
بنیادی پتھر ہیں۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 195)
آیئے دیکھیں کہ یہ بنیادی پتھر کس طرح ٹوٹتا ہے۔ اس کی بنیادیں کس طرح ہلتی ہیں اور مرزا قادیانی کس طرح اپنی بات میں جھوٹا نظر آتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کو ٹھہرایا اور کھلے طور پر اعلان کیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو وہ اپنے دعویٰ نبوت میں سچا ثابت ہوگا اور اگر محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئے تو وہ جھوٹا ہے اور اس کے گلے اور پاؤں میں رسی ڈال کر اسے ذلیل کیا جائے۔“
(اہم پیش گوئیاں اور ان کا جائزہ از حافظ محمد اقبال رنگونی)
مرزا قادیانی نے فروری 1888ء میں محمدی بیگم سے اپنے نکاح کی پیش گوئی کی تھی جبکہ احمد بیگ نے اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے 7 اپریل 1892ء کو کر دیا۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 280 مندرجہ روحانی خزائن جلد پنجم صفحہ 280 از مرزا قادیانی) اس حساب سے 6 اکتوبر 1894ء کا دن مرزا سلطان محمد کی زندگی کا آخری روز ہوتا مگر وہ زندہ رہا اور 1948ء میں فوت ہوا۔ حالانکہ اس عرصہ میں وہ فرانس کی جنگ عظیم میں شریک ہوا جس میں اس کے سر میں گولی بھی لگی مگر وہ زندہ رہا۔ اس طرح مرزا قادیانی اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح جھوٹا نکلا۔ محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا واضح اور کھلا نشان ثابت ہوا۔ اس پیش گوئی کے معاملے میں ایک اور حربہ جو مرزا قادیانی نے استعمال کیا، وہ یہ تھا کہ وہ ایک ایسے جھگڑے کو جس کا تعلق ذاتی خواہشات سے تھا، ایسے رنگ میں پیش کیا جیسے یہ ایک بڑا اہم دینی معاملہ ہے اور اصل مقابلہ مرزا قادیانی اور احمد بیگ میں نہیں بلکہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پر بے حد ذلیل و رسوا ہوئے، اور پریشانی کے عالم میں اس کی مختلف تاویلات کرتے رہے۔ اس پیش گوئی کے بارے میں مرزا قادیانی کا ایک بھی دعویٰ سچا ثابت نہ ہوا۔ مرزا سلطان محمد جس کو پیش گوئی کے مطابق اڑھائی سال کے اندر اندر مرنا تھا، وہ نکاح کے بعد 56 سال تک زندہ رہا اور 1948ء میں فوت ہوا اور محمدی بیگم جو مرزا قادیانی کے کذب کا کھلا نشان تھی، 19 نومبر
1966ء کو بحالتِ اسلام لاہور میں فوت ہوئیں۔ ان کی مرقد لاہور کے معروف اور تاریخی قبرستان میانی صاحب میں ہے۔ مرزا قادیانی کو خوش گمانی تھی کہ محمدی بیگم بیوہ ہو کر ان کے نکاح میں آجائے گی مگر اس کی یہ حسرت بھی پوری نہ ہوسکی۔ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو ہیضہ کے مرض سے آنجہانی ہوا جبکہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد تک سلطان محمد کے نکاح میں رہی۔ اس پیش گوئی کے بارے میں مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے یہ خبر دی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ نہ ہوا تو اس گھر میں تفرقہ اور مصیبتیں آئیں گی جبکہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہوا۔ اب دیکھتے ہیں کہ تفرقہ اور مصیبتیں کس گھر میں آئیں؟
- -1 مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا فضل احمد کا گھر برباد ہوا۔ یہاں تفرقہ پڑا۔ اس نے
اپنے باپ کے کہنے پر مجبوراً اپنی بیوی کو طلاق دی۔
- -2 مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے سلطان احمد کو محروم الارث کیا اور اسے عاق کیا۔
- -3 مرزا قادیانی نے فضل احمد اور سلطان احمد کی والدہ کو طلاق دی حالانکہ وہ پہلے سے
ہی بے گھر بیٹھی ہوئی تھی اور جس کے کوئی حقوق پورے نہ ہورہے تھے۔ یہ وہی خاتون ہے جسے مرزا بشیر احمد ایم اے ”پھجے دی ماں“ کہہ کر طنز کے تیر چلاتا ہے اور اس طرح اپنی سوتیلی والدہ کی توہین کرتا ہے۔
- -4 فضل احمد کی وفاداری مرزا قادیانی کی نگاہ میں مشکوک رہی۔ انھیں ہمیشہ یہ شک رہا
کہ فضل احمد کا تعلق مرزا احمد بیگ کے خاندان سے قائم ہے۔ اس ناراضی کی بنا پر مرزا قادیانی نے فضل احمد کو مرنے کے بعد بھی معاف نہ کیا بلکہ اس کی نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہوا۔
قادیانی کہتے ہیں کہ محمدی بیگم کے خاوند سلطان محمد نے توبہ کر لی تھی۔ ہم انھیں مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ توبہ کسے کہتے ہیں؟ مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ”مثلاً اگر کافر ہے تو سچا مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے تو سچ مچ اس جرم سے دست بردار ہو جائے ۔“
(اشتہار 6 ستمبر 1894ء، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 401 از مرزا قادیانی)
اس کی رو سے سلطان محمد کی توبہ یہ تھی کہ وہ نکاح کرنے کے بعد اور اپنے خسر کی موت سے متاثر ہو کر محمدی بیگم کو طلاق دے دیتا لیکن ایسا نہیں ہوا، کیونکہ نکاح سے پہلے نہ ڈرنا
تو مرزا قادیانی کی تحریر مذکورہ بالا سے بھی ثابت ہے اور نکاح کے بعد نہ ڈرنا محتاج دلیل نہیں۔ یوم نکاح 7 اپریل 1892ء سے 1948ء تک تقریباً 60 سال وہ اس عورت پر قابض ومتصرف رہا اور خدا نے اسے اسی محمدی بیگم کے بطن سے مرزا قادیانی کی تحریر کے خلاف ایک درجن کے قریب اولاد بھی بخشی۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ اس سے دوسرے شخص کا نکاح کرنا اس لڑکی کے لیے بابرکت نہ ہوگا۔ پس پیش گوئی کا یہ جزو بھی جھوٹا نکلا۔
محمدی بیگم کا خاوند ایک مرفہ الحال رئیس تھا۔ معقول پنشن لیتا تھا۔ اسے مرزا قادیانی کے خداوندان نعمت سے، باوجود ان کے رقیب ہونے کے، مربے بھی عطا ہوئے۔ بعض فرزند بھی معقول روزگار پر تھے۔ غرض یہ نکاح اس کے لیے بہت بابرکت ہوا ہے اور مرزا سلطان محمد، مرزا قادیانی کے الہام ”بستر عیش“ کو غلط ثابت کر رہا تھا۔ لیکن قادیانی نہایت بھولے بن کر یا دنیا بھر کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اور ان کو بے عقل جان کر یہی ہانکے جا رہے ہیں کہ مرزا سلطان محمد تائب ہو گیا۔ اس لیے وہ بچ گیا۔ جناب! اس کا گناہ کیا تھا اور اس کی توبہ کیا چاہیے تھی؟ کیا اس نے اس گناہ سے توبہ کی؟ اس کا قصور یہی تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے ”بستر عیش“ کی خواہش وتمنّا کے پورا ہونے میں حائل تھا۔ اگر مرزا قادیانی کی غایت تمنّا نکاح نہ تھی تو الہام ”بستر عیش“ کے کیا معنی اور اس کا شان نزول اور محل وقوع بتایا جائے کہ کیا ہے؟
مرزا قادیانی کو 1888ء سے محمدی بیگم کی چاہت پیدا ہوئی اور اس نے اس قدر تکلیف و محنت، رنج وغم اور صدمے اٹھائے جن کا سلسلہ 19 برس تک چلتا رہا۔ انتھک کوششیں اور لاتعداد الہامات، پیشگوئیاں، اشتہارات، خطوط، قاصد، ناصح، دھمکیاں، عنایات، ترغیبات، تحریصات، نوازشات، روانہ کرنے میں پیہم سعی کی اور چونکہ دل میں تسلی تھی اور اوائل میں یہ وہم و خیال بھی کبھی نہ گزرا تھا کہ یوں ناکامی ہوگی۔ اس لیے وہ قوت مردی کے لیے بیش قیمت مرکبات بھی استعمال کرتا رہا جس کے نتیجہ میں اس کی طاقت پورے پچاس مردوں سے بھی بڑھ گئی۔ مگر افسوس! جس کے ارمان میں مرا تھا، وہ محبوب ہاتھ نہ آیا اور قسمت میں بات تک کرنا بھی نصیب نہ ہوا۔ دل کی امنگ کہ ظالم موت نے آ دبوچا اور آنکھیں دیدار کو ترستی ہوئی کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ راہی ملک عدم ہوا۔
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا
مرزا قادیانی کے دیرینہ ساتھی اور لاہوری قادیانی جماعت کا امیر مولوی محمد علی لاہوری اس پیشگوئی کی نسبت جو رائے رکھتا ہے، وہ قابل دید وشنید ہے۔ وہ لکھتا ہے:
- ”یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور 21 جنوری 1912 صفحہ 5 کالم 3)
نامرادی میں ہوا تیرا آنا جانا
قادیانیوں سے ایک سوال؟؟؟
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ محمدی بیگم سے اس کا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پر کر دیا ہے۔ قادیانیوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہوا ہے تو اس طرح اس کی ”آسمانی منکوحہ“ تمام قادیانیوں کی ماں ہے۔ کیونکہ نبی کی بیوی اس کے امتیوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ تمام قادیانیوں کی ”ماں“ محمدی بیگم کو ایک ”غیر احمدی“ سلطان احمد بیاہ کر لے گیا۔ کسی قادیانی میں اتنی غیرت و ہمت پیدا نہ ہوئی کہ اسے روک سکتا۔ انگریزوں کی بھر پور سرپرستی ہونے کے باوجود کسی عدالت میں کیس دائر کیا گیا نہ کسی پولیس اسٹیشن میں رپٹ درج کروائی گئی کہ محمدی بیگم کا نکاح ہوچکا ہے اور دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس سوال پر قادیانی بڑی ڈھٹائی سے یہ جواب دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کی رخصتی قیامت کے روز ہوگی۔ یعنی اتنی لمبی تاریخ دو کہ کوئی مسلمان اس موضوع پر مزید بحث نہ کرے۔ اگر مرزا قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کی رخصتی قیامت کے دن ہوگی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی جنت میں ہوگا اور محمدی بیگم (مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے کے نتیجہ میں) جہنم میں ہوگی۔ قادیانی بتائیں کیا مرزا قادیانی کی برات جنت سے جہنم میں جائے گی؟ اور اگر محمدی بیگم کے والد احمد بیگ نے یہ مطالبہ کر دیا کہ رخصتی تب ہوگی اگر مرزا قادیانی ”گھر جوائی“ بننے پر راضی ہو............ تو پھر کیا ہوگا؟
۞.......۞.......۞
یہ ہے قادیانی اخلاق !
Love for all, Hatred for none
روزمرہ زندگی میں شائستہ گفتگو ہر شخص کے اخلاق عالیہ میں شامل ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
- ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبو الله عدو بغير علم. (الانعام:108)
ترجمہ: اور تم نہ گالیاں دو انھیں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا (کہیں ایسا نہ ہو) کہ وہ بھی گالیاں دینے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔
اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے:
- وقولو للناس حسنا. (البقرہ:83)
لوگوں سے نیکی اور بھلائی کی بات کہو۔
حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو گالی دینا بڑے گناہ کی بات ہے (بخاری ومسلم) مزید ارشاد فرمایا: گالی بکنے اور بے حیائی کی بات کرنے والے کے پاس اسلام کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ (امام احمد)
مگر افسوس صد افسوس نہایت! ”سلطان القلم“ کہلوانے والے آنجہانی مرزا قادیانی کے سینہ بے گنجینہ اور زبان بے عنان سے ایسی ایسی فحش گالیاں نکلیں جنھیں سن کر بڑی سے بڑی بھٹیارن بھی پناہ مانگے۔ ان نہایت دل آزار گالیوں کی وجہ سے مرزا قادیانی کے عذاب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ ، انبیائے کرام بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام، صحابہ کرامؓ اور دیگر مقدس شخصیات کی نسبت ایسے ایسے الفاظ تحریر کیے ہیں کہ جنھیں پڑھ کر ایک مسلمان کا دل زخم زخم اور جگر پاش پاش ہوتا ہے۔ کیا یہ حکم خداوندی کی تعمیل ہے؟ کیا مسیح موعود کی تہذیب اور خواص ایسے ہی ہونے چاہئیں؟
الفاظ اور جملے، نعروں کا پیراہن پہننے کے بعد بہت ہی خوبصورت اور خوشنما نظر
آتے ہیں۔ وہ انسانی نفسیات اور جذبات کو جلدی متاثر کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی اور سیدھا سادا شخص ان نعروں کی حقیقت و معقولیت کو سمجھنے اور ان کی صداقت کو جانچنے کے بجائے ان نعروں سے مرعوب ہو جاتا ہے، جیسے انتخابات کے موقع پر سیاستدانوں کے نعرے ہوتے ہیں ...... ان نعروں سے بھولی بھالی عوام کو بے وقوف بنا کر لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔
ایسے خوش کن، دل ربا اور پُر فریب نعرے صرف دنیا داری اور دنیا کے کاروبار کی حد تک محدود نہیں ہے، متاع ایمان کے سوداگر بھی عقیدہ و مذہب کی خرید و فروخت میں ان خوشنما اور خوبصورت و جاذب نظر نعروں کا خوب استعمال کرتے ہیں، تاکہ مذہبی معاملات اور معلومات میں کورے اور بھولے افراد کا استحصال کیا جاسکے۔
قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں
کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔“
(اربعین نمبر 1 صفحہ نمبر 2 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 17 صفحہ 344، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی مزید لکھتا ہے:
- ”یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا
ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 455 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں کی روشنی میں ہم قادیانی جماعت کا دلفریب نعرہ "Love for all, hatred for none" یعنی ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“ کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ پُرکشش نعرہ قادیانیوں کا مرکزی مونوگرام ہے۔ قادیانی جماعت نے اپنی ویب سائٹ کے پہلے صفحہ پر سب سے اوپر نمایاں طور پر اسے چسپاں کر رکھا ہے۔ قادیانی اسے اپنے ذاتی لیٹر پیڈ، ای میلز وغیرہ میں ایک تحریکی و دعوتی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہر قادیانی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اپنی تقریر و تحریر میں اسے بکثرت استعمال کرتا ہے۔
17 مئی 2005ء کو قادیانی جماعت کا موجودہ خلیفہ مرزا مسرور دورہ افریقہ کے
دوران جب یوگنڈا پہنچا تو اس نے وہاں کے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ میرا پیغام ہے:
"Love, love and love peace, peace and peace"
مزید کہا:
” Love for all hatred for none ہمارا سلوگن ہے۔“
مزید کہا:
”ہم امن کا ہی پیغام دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ محبت و پیار سے رہیں۔“
(الفضل انٹرنیشنل لندن 24 تا 30 جون 2005ء)
ظاہری طور پر دلوں کو موہ لینے والا یہ انتہائی خوبصورت نعرہ درحقیقت منافقت پر مبنی اور حقائق کے بالکل خلاف ہے۔ قادیانیوں کی عملی زندگی میں یہ چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ خود قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کی تحریریں اقوام عالم بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہائی گندی گالیوں اور بے پناہ نفرت و حقارت سے بھری ہوئی ہیں۔ عیسائیوں کے بارے میں مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل بیان پڑھیں اور آپ خود فیصلہ کریں کہ قادیانی جماعت اپنے نعرہ ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“ میں کسی قدر مخلص ہے۔
- ”میں عیسائیوں کے خود ساختہ خدا کی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ کراہت اور
نفرت رکھتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر کل مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلہ میں رکھ دی جائے اور میری نفرت ایک طرف تو میرا پلہ اس سے بھاری ہوگا۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 251 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اسی سلسلہ میں ایک دوسرا حوالہ ملاحظہ کیجیے:
- ”شکر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ خود مجھے بھی ایسی حالت پیش آئی۔ سردی کا موسم
تھا۔ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی۔ پانی گرم کرنے کے لیے کوئی سامان اس جگہ نہ تھا۔ ایک پادری کی لکھی ہوئی کتاب ”میزان الحق“ میرے پاس تھی، اس وقت وہ کام آئی۔ میں نے اس کو جلا کر پانی گرم کر لیا اور خدا تعالیٰ کا شکر کیا۔ اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ بعض وقت شیطان بھی کام آ جاتا ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 608 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یہ تحریر نفرت و حقارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ اندازہ لگائیں
کہ ایک رات اُسے غسل کی حاجت ہوئی اور اس نے پانی گرم کرنے کے لیے ایک پادری کی کتاب ”میزان الحق“ کو چولہے میں رکھ کر آگ لگا کر پانی گرم کیا۔ حالانکہ یہ قوی امکان ہے کہ کتاب میزان الحق میں حوالہ کے طور پر قرآن مجید کی آیات بھی ہوں گی۔ احادیث مبارکہ بھی درج ہوں گی۔ لیکن مرزا قادیانی نے کمال گستاخی کرتے ہوئے اسے نذر آتش کر دیا اور وہ بھی کس مقصد کے لیے؟ بجائے اس پر شرمندہ ہونے کے مرزا قادیانی اپنے اس کارنامے پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ قادیانی بتائیں کہ کیا یہ محبت والا کام ہے یا نفرت والا؟ کیا قادیانی کس شخص کو اجازت دیں گے کہ وہ غسل کے لیے مرزا قادیانی کی کتابیں جلا کر اس سے پانی گرم کرے اور بعد میں یہ کہے: ”محبت سب کے لیے،نفرت کسی سے نہیں ۔“
قارئین کرام! مرزا قادیانی نے قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اپنی تمام تحریروں و الہامات کو سراسر فراموش کرتے ہوئے انھیں ملیا میٹ کر دیا۔ اس نے نہ قرآنی آیات کی تعمیل کی، نہ احکام رسول خدا ﷺ پر عمل کیا اور نہ اپنی تبلیغی تحریروں کی پروا کی۔ نجانے کن خیالات کی بنا پر وہ خود کو مسیح موعود منوانا چاہتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ سجادہ نشین حضرات اور علمائے کرام نے مرزا قادیانی کے کفر کا فتویٰ دیا تھا، اسے دجال، کذاب اور کافر لکھا تھا، اس لیے مرزا قادیانی نے ردّعمل میں انھیں سب وشتم سے نوازا تو افسوس! مرزا قادیانی نے یہاں بھی حکم خداوندی کی تعمیل نہ کی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
- والكظمين الغيظ والعافين عن الناس والله يحب المحسنين o
(آل عمران: 134)
ترجمہ: اور ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔
مرزا قادیانی نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا، کیا نبی اور رسول اس طرح کے ہوتے ہیں کہ غصے میں آ کر لوگوں کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ آئیے! جھوٹے مسیح موعود کے ”ارشادات عالیہ“ ملاحظہ کیجیے:۔
لوگوں پر لطف اور رحم
مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:
- ”تلطف بالناس و ترحم علیہم.
لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور ان پر رحم کر!“
(انجام آتھم صفحہ 55 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی ایک دوسرے الہام میں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے داؤد کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا:
نہایت قابل شرم بات
- ”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ
پڑتا ہے، اس لیے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے اُن میں طیشِ نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاقِ رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرّہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے، آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں، وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے۔“
(ضرورت الامام صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 478 از مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ کا حکم
- ”اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لا تنابزوا بالالقاب یعنی لوگوں کے
ایسے نام مت رکھو جو ان کو برے معلوم ہوں تو پھر برخلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے؟“
(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 541 از مرزا قادیانی)
تلخ بات
- ”میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔“
(آسمانی فیصلہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)
پرلے درجے کا شریرالنفس
- ”اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار کرنا خبثِ عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب
ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 90، 91 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 90، 91 از مرزا قادیانی)
سفلوں اور کمینوں کا کام
- ”ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“
(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)
کبھی گالی کا جواب نہیں دیا
- ”وقد سبّونی بکل سبّ فمارددت علیھم جوابھم. ترجمہ: مجھ کو گالی دی
گئی، میں نے جواب نہیں دیا۔“
(مواہب الرحمٰن صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 از مرزا قادیانی)
کبھی دشنام دہی نہیں کی
- ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا
استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109 از مرزا قادیانی)
گالی مت دو
- ”کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔“
(کشتی نوح صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11 از مرزا قادیانی)
مجھے تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا گیا ہے
- ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق......
اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر 3 صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی)
بدزبانی طریق شرافت نہیں
- ”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471 از مرزا قادیانی)
گالیاں سن کے دعا دو
- ❑ ”گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی)
سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے
- ❑ ”مخالف جو گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں، ہم کو
ان کا جواب گالیوں سے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 161 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اہم نکات
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل باتیں اخذ ہوتی ہیں:۔
- 1- لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور ان پر رحم کرنا چاہیے۔
- 2- اماموں میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔
- 3- اگر کوئی آدمی ایسی کچی طبیعت کا ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات سے اس کے منہ میں جھاگ آ
جائے، اُس کی آنکھیں نیلی پیلی ہو جائیں، وہ کسی طرح امام الزماں نہیں ہوسکتا۔
- 4- لوگوں کے ایسے نام نہ رکھو جو ان کو برے معلوم ہوں۔
- 5- مرزا قادیانی کی فطرت ایسی نہیں ہے کہ کوئی تلخ بات اس کے منہ پر آئے۔
- 6- کسی شخص کے لیے غیر اخلاقی الفاظ استعمال کرنا خبث عظیم ہے اور ایسا شخص شریرالنفس ہے۔
- 7- گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔
- 8- مرزا قادیانی نے کبھی کسی کو گالی کا جواب نہیں دیا۔
- 9- کسی کو گالی نہیں دینی چاہیے، چاہے وہ گالی دے۔
- 10- مرزا قادیانی نے کبھی کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا جسے گالی کہا جائے۔
- 11- مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ خدا نے مجھے ہدایت اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔
- 12- گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا شریف آدمی کا کام نہیں۔
- 13- گالیاں سن کے دعا دینی چاہیے۔
- 14- سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے۔
آئیے! اب مرزا قادیانی کا حیران کن ”تضاد“ دیکھتے ہیں۔
بندروں اور سوروں کی طرح
- ”جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی، تو کیا اُس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(انجام آتھم صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
خنزیر سے زیادہ پلید لوگ
- ”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! تم پر افسوس! کہ تم نے میری عداوت کے لیے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو!“
(انجام آتھم صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے
- ”منشی الٰہی بخش صاحب نے جھوٹے الزاموں اور بہتان اور خلاف واقعہ کی نجاست سے اپنی کتاب ”عصائے موسیٰ“ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔“
(اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 457 از مرزا قادیانی)
خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے
- ”خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ عَلَيْهِمْ نِعَالُ لَعْنِ اللّٰهِ اَلْفَ اَلْفِ مَرَّةٍ (ترجمہ: ان پر خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے برسیں!) اے پلید دجال!
پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 45، 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330 از مرزا قادیانی)
مرد خنزیر، عورتیں کتیاں
- ”انّ العدا صاروا خنازیر الفلا۔ ونسائہم من دونہن الا کلب۔ دشمن
ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)
ولد الحرام
- ”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا
شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘
(انوارِ اسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
عیسائی، یہودی، مشرک
- ”جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘
(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے
- ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح
جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘
(انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی)
خراب عورتیں اور دجال کی نسل
- ”اور جاننا چاہیے کہ ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی
نسل میں سے نہیں ہے، وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی اور افترا سے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا۔‘‘
(نور الحق صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163 از مرزا قادیانی)
پرمیشر کی جگہ
- ’’پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں)۔‘‘
(چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
پرمیشر ہندوؤں کے خدا کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ہندوؤں کے خدا کو اپنی ناف سے دس انگل نیچے قرار دے کر انہیں بہت بڑی گالی دی۔ اس کے ردعمل میں ہندوؤں نے نہ صرف اپنے جلوسوں میں دین اسلام اور ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ نامی کتاب بھی لکھی جس کے پہلے ایڈیشن میں صرف 13 ابواب تھے جبکہ مرزا قادیانی کی طرف سے ہندوؤں کی مذہبی شخصیات کو گالیاں دینے کے بعد چودھویں باب کا اضافہ کیا گیا جس میں انھوں نے حضور نبی کریم ﷺ کو ناقابل بیان گالیاں دیں۔ پھر ایک عرصہ بعد رسوائے زمانہ کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ بھی لکھی گئی جس سے برصغیر کے مسلمانوں میں کہرام برپا ہوگیا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مرزا قادیانی اور ان کی ذریت پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوؤں کو اشتعال دلایا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جھوٹے خداؤں کو بھی گالی نہ دو مبادا یہ کہ وہ تمھارے سچے خدا کو گالی دیں۔
پیٹ سے چوہا؟
- ’’اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا؟
کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی)
رحم پر مُہر
- ’’خدا تعالیٰ نے اس (عبدالحق غزنوی) کی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی‘‘
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)
عضو تناسل کاٹ دیتا......
- ’’حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان
کے والد کا جس وقت نکاح ہوا، اگر ان کو حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔‘‘
(مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح ۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35)
جہاں سے نکلے تھے ......
- ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی
دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)
کنجریوں کی اولاد
- ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبة والمودة و ینتفع من
معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی. الا ذریة البغایا الذین ختم اللہ علیٰ قلوبھم فھم لا یقبلون.“
ترجمہ: ”یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان، محبت ومودت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
سوچنا چاہیے کہ دنیا کی سوا ارب آبادی میں سے کتنے لوگ مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت ومودت کی نظر سے دیکھتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں؟
خود مرزا قادیانی کے پہلے دونوں بیٹوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد نے ہمیشہ اپنے باپ کی مخالفت کی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا باپ نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی کے شرعی حقوق پورے نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کو اپنی تمام جائیداد سے عاق کیا۔ (باوجود یہ کہ عاق کرنے والے پر حضور نبی کریم ﷺ نے لعنت بھیجی ہے) اور ان کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات نیکی، بدی، خوشی، غمی وغیرہ میں شرکت ختم کر
دی۔ مرزا قادیانی نے اپنے پہلے دونوں بیٹوں کے بارے میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا:
- ”سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی
کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 187 طبع جدید از مرزا قادیانی)
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا فضل احمد، مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا تھا (اسی لیے مرزا قادیانی نے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ (انوار خلافت صفحہ 91 مندرجہ انوار العلوم جلد سوم صفحہ 149 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) وہ مرزا قادیانی کی کتابوں کو محبت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا اور اس کی دعوت کی تصدیق بھی نہیں کرتا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فضل احمد اور اس کی والدہ (مرزا قادیانی کی بیوی) اس فتویٰ ”ذریۃ البغایا“ کی زد میں آتے ہیں؟ قادیانیوں کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
قادیانیوں کا موقف ہے کہ ”ذریۃ البغایا“ گالی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ مرزا قادیانی پر ایمان لائے، وہ سب ”ذریۃ البغایا“ ہیں؟ کیا اس پر انھیں کوئی اعتراض اور تکلیف تو نہیں؟
یاد رہے کہ ذریۃ البغایا عربی زبان میں ایک سخت اور غلیظ قسم کی گالی ہے۔ یعنی ”بدکار عورتوں کی اولاد“۔ بغایا کے معنی اس درجہ مشہور و معروف، واضح اور مسلم ہیں کہ اس میں تاویل بازی اور سخن سازی کے سوا اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ ذریۃ البغایا یا بغایا مرزا قادیانی کے مخصوص الفاظ ہیں جن کو اس نے اپنی تصانیف میں بکثرت اور تکرار سے استعمال کیا ہے اور اس کے معنی بھی خود ہی کیے ہیں۔ لغت کی رو سے، قرآن مجید کی جہت سے اور خود آنجہانی مرزا قادیانی کی تصانیف کے لحاظ سے بغایا کے معنی ملاحظہ کیجیے:
امام راغب اصفہانی اپنی مشہور و معروف لغت قرآن ”مفردات“ میں لکھتے ہیں کہ بغت المرأۃ بغا اس وقت بولتے ہیں جب عورت بدچلن ہو جائے۔ یہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اس حد سے جو اس کے لیے ہے، نکل جاتی ہے۔
مرزا قادیانی کی اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں الا ذریۃ البغایا۔ عربی کا لفظ البغایا جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا بغیۃ ہے جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔
- خود مرزا نے خطبہ الہامیہ صفحہ 49 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 49) پر لفظ
بغایا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے۔
- اور ایسے ہی انجام آتھم کے صفحہ 282 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 282)
- لجۃ النور صفحہ 31، 85، 86، 89 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 371، 426،
428، 431) پر لفظ بغایا کا ترجمہ زانیہ، زنان فاسقہ، زنان بازاری اور زنان فاحشہ کیا ہے۔
نیز قرآن پاک میں ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مریمؑ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کہا تھا:
- وما کانت امک بغیا (سورۃ مریم: 28)
ترجمہ: تری ماں زنا کار اور بدکار نہ تھی۔
- ولم اک بغیا (سورۃ مریم: 20)
ترجمہ: اور نہ میں بدکار ہوں۔
ان آیات کے تحت مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے لفظ بغیا کا ترجمہ ”بدکار“ کیا ہے۔ (تفسیر صغیر صفحہ 386، 385 از مرزا بشیر الدین محمود) اسی طرح مولوی محمد علی لاہوری قادیانی نے بھی اپنی تفسیر بیان القرآن میں انہی آیات کے تحت بغیا کا ترجمہ بدکار کیا ہے۔
تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو گالیاں
مشہور روحانی بزرگ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”مجھے ایک کتاب کذاب (پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب
اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
عجیب بات ہے کہ مخالفت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے کی اور لعنت گولڑہ کے تمام رہنے والوں پر کی اور وہ بھی قیامت تک۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گولڑہ کی سرزمین پر کوئی قادیانی آباد ہو گیا تو کیا وہ بھی اس ابدی لعنت کا مستحق ہوگا؟
- اس کے علاوہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو ”عورتوں کی عار“ کہا۔
(اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی)
مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے متعلق لکھا:
- ”کذاب‘ متکبر‘ سربراہ گمراہان‘ جاہل‘ شیخ احمقان‘ عقل کا دشمن۔
(انجام آتھم صفحہ 242,241 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241, 242 از مرزا قادیانی)
مولانا نذیر حسین دہلویؒ کے متعلق لکھا:
- ”وہ گمراہ اور کذاب ہے۔“
(انجام آتھم صفحہ 251 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے متعلق لکھا:
- ”اندھا شیطان‘ گمراہ دیو‘ شقی‘ ملعون۔“
(انجام آتھم صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
مولانا عبدالحق غزنوی کے بارے میں لکھا:
- ”اے عبدالحق غزنوی! اے گمراہ عبدالجبار! اور تم نے دیکھ لیا کہ تمہیں طاقت نہیں
ہوئی کہ میری کلام جیسی کلام بنالاؤ۔ اور عبدالجبار کی جماعت میں سے ایک موذی نے کہا کہ یہ شخص دجال اور اکفرالکفار ہے اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اسنے گالیاں دیں اور پشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور ایک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجفی ہے اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھا۔ بلکہ اسنے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا۔ اور کسی گالی کو نہ چھوڑا جسکو کمینہ رذیلوں کی طرح نہ لکھا۔ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں۔ اور ہم گالی کی طرح رجوع نہیں کرتے جیسا کہ اس نے عناد سے کیا۔ مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔ اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبدالحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے۔ اور ہم نے فحش گوئی سے پرہیز کیا ہے اور ہر ایک درخت پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آجائیں گے اور بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بد بخت اور محروم ہیں اپنے تئیں تو بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بدبختوں کے طریق پر چلتا ہے۔ فاسقوں
کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے۔ تیری باطنی پلیدی نے تیری صورت کو متغیر کر دیا تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور خبث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھالیں اور موت آجائے اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا تجھے تباہ کرے اور جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ کلب العناد، پس اے مسخ شدہ اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔
تجھ پر لعنت، اے غزنی کے بندر، تو کتوں کی طرح تھا، بک بک کرنے والا، کم معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا
پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔
ہم نے تنبیہہ کے لیے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔
پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔
اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا۔
اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔
اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا۔
اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔
اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔
اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔
اے شیخ شقی سوچ!
اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔
پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا۔
تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا۔
(حجۃ اللہ ص 12 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر 12، ص 172 تا 236 از مرزا قادیانی)
ہم اس صورتحال پر کچھ تبصرہ نہیں کرتے، اگر کسی ”قادیانی“ میں سلیم الفطرتی کے عناصر متحرک و فعال ہیں تو وہ خود اپنے ”پیر و مرشد“ کی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کا موازنہ کر لے۔
بدتر ہر ایک بد سے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے“
(قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 61 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 20 صفحہ 458، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اس شعر کا خود مصداق ہے۔ اس نے اپنی کتابوں میں مختلف لوگوں کو جو گالیاں دی ہیں، ان کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
- اے مردار خور مولویو (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- اندھیرے کے کیڑو (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21، حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- اے بد ذات (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)
- اے خبیث (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)
- اے پلید دجال (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)
- اسلام کے عار مولویو (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 48، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)
- اے نابکار (بدکردار) (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 50، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 334 از مرزا قادیانی)
- اے بدذات فرقہ مولویاں (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- اُلو (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)
- امام الفتن (اتمام الحجہ صفحہ 24، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 303 از مرزا قادیانی)
- انسانوں سے بدتر اور پلیدتر (ایام الصلح صفحہ 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
- اے بد بخت مفتریو (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- اے شیخ احمقان (انجام آتھم صفحہ 241، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 از مرزا قادیانی)
- ایہا الشیخ الضال (انجام آتھم صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
- اول درجہ کے کاذب (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 601، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 601 از مرزا قادیانی)
- ننگ اسلام مولویو (آئینہ کمالات اسلام صفحہ (د)، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 608 از مرزا قادیانی)
- اے کوتاہ نظر مولوی (آئینہ کمالات اسلام صفحہ (د)، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 608 از مرزا قادیانی)
- اے نفسانی مولویو (ازالہ اوہام صفحہ 105، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 105 از مرزا قادیانی)
- اے غبی (کم عقل)
(مواہب الرحمٰن صفحہ 131، روحانی خزائن صفحہ 352 جلد 19 از مرزا قادیانی)
- اے بے ایمانو
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)
- بے ایمان اور اندھے
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 22/ حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 306 از مرزا قادیانی)
- بدذات
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)
- بندروں
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
- باطل پرست بطالوی
(انجام آتھم صفحہ 59، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 59 از مرزا قادیانی)
- بدکار آدمی
(شہادت القرآن صفحہ 84، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
- برہنہ
(نور الحق صفحہ 3 حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 5 از مرزا قادیانی)
- بھیڑیے
(اعجاز احمدی صفحہ 39، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 150 از مرزا قادیانی)
- بچھو
(اعجاز احمدی صفحہ 75، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
- بے حیاء
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 38، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
- بڑا خبیث
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 107، روحانی خزائن ج 22 صفحہ 543 از مرزا قادیانی)
- پلید ملاؤں
(ایام الصلح صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
- پلید جاہلوں
(ایام الصلح صفحہ 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 414 از مرزا قادیانی)
- پلید تر
(ایام الصلح صفحہ 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
- پلید دل
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 4، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)
- پلید دجال
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)
- جاہل سجادہ نشین
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 18/ حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 302 از مرزا قادیانی)
- جنگل کے وحشی
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 49، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 333 از مرزا قادیانی)
- جانور
(نزول المسیح صفحہ 8، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)
- جنگلوں کے غول
(اعجاز احمدی صفحہ 81، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 193 از مرزا قادیانی)
- جھوٹ کا گوہ کھایا
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 50، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 334 از مرزا قادیانی)
- جھوٹ بولنے کا سرغنہ
(نزول المسیح صفحہ 9، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 387 از مرزا قادیانی)
- چارپائے ہیں نہ آدمی
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 10، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 294 از مرزا قادیانی)
- حرامی
(شہادۃ القرآن صفحہ 3 جلد، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
- حرام زادہ
(انوار اسلام صفحہ 30، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 32 از مرزا قادیانی)
- حرص کے جنگل کے شیطان
(نورالحق صفحہ 89 حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 120 از مرزا قادیانی)
- حلال زادہ نہیں
(انوار اسلام صفحہ 30، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- حاطب اللیل
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 600، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 600 از مرزا قادیانی)
- خبیث طبع
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- خنزیر سے زیادہ پلید
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- خالی گدھے
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 47، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 331 از مرزا قادیانی)
- خبیث نفس
(شہادۃ القرآن صفحہ 5، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
- خبیث طینت
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 8، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292 از مرزا قادیانی)
- خبیث فرقہ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 9 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 293 از مرزا قادیانی)
- خناسوں
(انجام آتھم صفحہ 17 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 17 از مرزا قادیانی)
- خسیس ابن خسیس
(نورالحق صفحہ 64 حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 87 از مرزا قادیانی)
- خبیث النفس
(ضیاء الحق صفحہ 9، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 259 از مرزا قادیانی)
- خبیث القلب
(انوار اسلام صفحہ 21، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23 از مرزا قادیانی)
- خشک دماغ
(ست بچن صفحہ 9، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 121 از مرزا قادیانی)
- دل کے مجذوم
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- دجال
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)
- دنیا کے کیڑے
(براہین پنجم صفحہ 143، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 311 از مرزا قادیانی)
- دابۃ الارض
(ازالہ اوہام صفحہ 510، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی)
- دنیا کے کتے
(استفتاء صفحہ 20، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 128 از مرزا قادیانی)
- دجال اکبر
(انجام آتھم صفحہ 47، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 47 از مرزا قادیانی)
- دیوثوں
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 125 از مرزا قادیانی)
- دیوانے درندوں
(ضیاء الحق صفحہ 35، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 296 از مرزا قادیانی)
- دجال کمینہ
(انجام آتھم صفحہ 206، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)
- دجال کے ہمراہیو
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)
- ذلیل
(ایام الصلح صفحہ 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
- ذلت کے سیاہ داغ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
- ذریت شیطان
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)
- رئیس الدجالین
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)
- راس الغاوین
(انجام آتھم صفحہ 241، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 از مرزا قادیانی)
- رئیس المتصلفین
(انجام آتھم صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
- رنڈیوں کی اولاد
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 548، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 548 از مرزا قادیانی)
- رئیس المتکبرین
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 599، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 599 از مرزا قادیانی)
- سوروں
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
- سیاہ داغ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
- سگان قبیلہ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 229، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 229 از مرزا قادیانی)
- سلطان المتکبرین
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
- سفیہوں کا نطفہ
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
- سانپوں
(نور الحق صفحہ 23 حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 32 از مرزا قادیانی)
- سڑے گلے مردہ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 62، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)
- شیطان
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 4، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)
- شیاطین الانس
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 18 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 302 از مرزا قادیانی)
- شیخ احمقان
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 241، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 از مرزا قادیانی)
- شیخ الضال
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
- شقی
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 252، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
- شغال
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 604، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)
- شیطنت کی بدبو
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 301، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 301 از مرزا قادیانی)
- شیخ نامہ سیاہ
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 306، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 306 از مرزا قادیانی)
- شیخ مضل
(کرامات الصادقین صفحہ 27، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 69 از مرزا قادیانی)
- شریر بھیڑیئے
(انجام آتھم صفحہ 9، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
- شیخ ضال بٹالوی (انجام آتھم صفحہ 241، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 از مرزا قادیانی)
- شیخ الضالہ (اعجاز احمدی صفحہ 76، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
- شیخ چالباز (کرامات الصادقین صفحہ 22، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 65 از مرزا قادیانی)
- شیاطین (نزول المسیح صفحہ 11، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 389 از مرزا قادیانی)
- شریر النفس (آریہ دھرم صفحہ 31، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- ضلالت پیشہ (حقیقۃ الوحی صفحہ 311، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 324 از مرزا قادیانی)
- طوائف (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 23 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 307 از مرزا قادیانی)
- علیہم نعال لعن اللہ (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)
الف الف مرۃ
- عبدالشیطان (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- عورتوں کے عار (اعجاز احمدی صفحہ 83، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی)
- عبدالحق کا منہ کالا (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- غاوین (انجام آتھم صفحہ 254، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 254 از مرزا قادیانی)
- غول (انجام آتھم صفحہ 252، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
- غبی (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 33، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 317 از مرزا قادیانی)
- غدار زمانہ (اعجاز احمدی صفحہ 77، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 190 از مرزا قادیانی)
- غول البراری (کرامات الصادقین صفحہ (د)، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 152 از مرزا قادیانی)
- فرعون سے مراد شیخ (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 56، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 340 از مرزا قادیانی)
محمد حسین بٹالوی
- قمت یا عبدالشیطان (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- فاسق آدمی (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
- قوم کے خناسوں (انجام آتھم صفحہ 17 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 17 از مرزا قادیانی)
- کتے (استفتاء صفحہ 20، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 128 از مرزا قادیانی)
- کج طبع (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 301، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 301 از مرزا قادیانی)
- کوڑ مغزی (نزول المسیح صفحہ 66، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)
- کذاب
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 128 / ح، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 565 از مرزا قادیانی)
- کیڑا
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)
- کینہ ور
(چشمہ معرفت صفحہ 131 ج 2، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 336 از مرزا قادیانی)
- کمینگی
(مواہب الرحمن صفحہ 13، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 352 از مرزا قادیانی)
- کرگس
(اعجاز احمدی صفحہ 43، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 155 از مرزا قادیانی)
- کجدل
(کرامات الصادقین صفحہ 6، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 48 از مرزا قادیانی)
- کمینوں
(الہدی صفحہ 18، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 262 از مرزا قادیانی)
- کمینہ
(انجام آتھم صفحہ 206، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)
- کتوں
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 25، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی)
- کلانعام
(انجام آتھم صفحہ 265، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 265 از مرزا قادیانی)
- گندی روحو
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- گدھے
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 47، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 331 از مرزا قادیانی)
- گرگ
(مواہب الرحمن صفحہ 13، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 352 از مرزا قادیانی)
- لاف و گزاف کے بیٹے
(براہین احمدیہ پنجم صفحہ 149، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 317 از مرزا قادیانی)
- مردار خور
(انجام آتھم ضمیمہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- منحوس چہروں
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
- مفتریو
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- ملعونین
(انجام آتھم صفحہ 252، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
- مخنثوں
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 402، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 402 از مرزا قادیانی)
- مردار
(نزول المسیح صفحہ 224، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 602 از مرزا قادیانی)
- ملعون
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 14-15 ح، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
- مفسد
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 14-15 ح، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
- مگس طینت مولویوں
(آسمانی فیصلہ صفحہ 32، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)
- مخبط الحواس
(استفتاء صفحہ 20، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 128 از مرزا قادیانی)
- مولویوں کی ذلت
(انجام آتھم صفحہ 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 24 از مرزا قادیانی)
- مولوی سخت ذلیل
(انجام آتھم صفحہ 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 24 از مرزا قادیانی)
- مکذبوں
(انجام آتھم صفحہ 224، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 224 از مرزا قادیانی)
- منحوس
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی)
- مغرور
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 115، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 551 از مرزا قادیانی)
- مجنون درندہ
(آسمانی فیصلہ صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 324 از مرزا قادیانی)
- ناپاک طبع
(ایام الصلح صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
- نادان بطالوی
(انجام آتھم صفحہ 20 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 20 از مرزا قادیانی)
- نفاق زدہ
(انجام آتھم صفحہ 24 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 24 از مرزا قادیانی)
- نیم عیسائیو
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)
- نالائق نذیر حسین
(انجام آتھم صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 45 از مرزا قادیانی)
- نجاست خور جانور
(نزول المسیح صفحہ 8، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)
- نابکاروں
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 24 (حاشیہ)، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)
- نالائق چیلوں
(ضیاء الحق صفحہ 27، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 285 از مرزا قادیانی)
- ناپاک فرقہ
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 23 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)
- وہ گدھا ہے نہ انسان
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 47، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 331 از مرزا قادیانی)
- جنگل کے وحشی
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 49، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 333 از مرزا قادیانی)
- ولدالحرام
(انوار الاسلام صفحہ 30، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- ولد الحلال نہیں
(انوار الاسلام صفحہ 29، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- والدجال البطال
(انجام آتھم صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
- ہامان
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 56، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 340 از مرزا قادیانی)
- ہندوزادہ
(انجام آتھم صفحہ 59 حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 59 از مرزا قادیانی)
- ہوا و ہوس کا بیٹا
(اعجاز احمدی صفحہ 43، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)
- ہزار لعنت کا رسہ
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 77 از مرزا قادیانی)
- ہیچو گرگ
(مواہب الرحمن صفحہ 131، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 352 از مرزا قادیانی)
- ہیچو جنین
(مواہب الرحمن صفحہ 138، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 359 از مرزا قادیانی)
- یہودی صفت (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 3، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 287 از مرزا قادیانی)
- یاوہ گوہ (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 19 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 303 از مرزا قادیانی)
- یہودی (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)
- یا شیخ الضلالۃ (اعجاز احمدی صفحہ 76، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
- یک چشم (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 308 از مرزا قادیانی)
- یہودیت کا خمیر (انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / ح، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)
- یہ غول البراری (کرامات الصادقین صفحہ د(4)، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 152 از مرزا قادیانی)
گالیاں دینے کی وجہ
- ’’جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے۔ تو گالیاں دینی شروع کر
دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 20 مندرجہ انوار العلوم جلد سوم صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
لعنت بازی
لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کے ہوتے ہیں۔ لعنت جس قدر بری چیز ہے، اس قدر اس کے کرنے پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ کسی مسلمان پر لعنت کرنا حرام ہے۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’نہیں ہے مسلمان طعنہ کرنے والا نہ لعنت کرنے والا اور نہ بدگو۔‘‘ (ترمذی)
حضرت ابو درداؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، جس پر آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں (یعنی زمین اس لعنت کو قبول نہیں کرتی) پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، جب کہیں اس کو راستہ نہیں ملتا تو جس پر لعنت کی گئی ہے، اس کے پاس پہنچتی ہے۔ اگر وہ واقعی لعنت کا مستحق ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ پھر کہنے والے پر پڑجاتی ہے۔‘‘ (ابو داؤد)
ایک اور موقع پر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو لعنت کرنا
قتل کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ (اور قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے بلکہ قرآن مجید کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے)۔
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اپنے مخالفین کی تنقید پر فوراً طیش میں آ جاتا، آنکھیں سرخ اور منہ میں جھاگ آ جاتی اور پھر وہ اپنے مخالفین کو دل بھر کر ٹکسالی زبان میں گالیاں دیتا اور اندھا دھند لعنت بازی کی کلاشنکوف چلا دیتا۔ جبکہ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے:
میں امام الزماں ہوں
- ’’اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں
اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں۔‘‘
(ضرورة الامام صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی)
مومن لعان نہیں ہوتا
- ’’لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مومن لعان نہیں ہوتا۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 660 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام: آیئے دیکھتے ہیں ’’سلطان القلم‘‘ کی ’’گل افشانیاں!‘‘
لعنت، لعنت، لعنت...... 1 تا 1000
- مرزا قادیانی کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نے کسی پر لعنت
ڈالی تو بجائے یہ کہنے کے کہ تجھ پر ہزار لعنت ہو یا تحریری طور پر اسے اس طرح لکھ دیتا مگر اس نے باقاعدہ لعنت نمبر 1، لعنت نمبر 2، لعنت نمبر 3 ........... لعنت نمبر 1000 تک لکھ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قادیانی ذریة البغایا اسے سلطان القلم کہتی ہے۔ براہ کرم اس حوالہ کا عکس ضرور ملاحظہ کیجیے۔
(نورالحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی)
جب دل بگڑتا ہے
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے۔“
(آسمانی فیصلہ صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)
یہ خدا کا کلام ہے
اپنی بیہودہ گفتگو کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر
خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔“
(تحفۃ الندوہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 95 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی اپنی ”بکواسیات“ اور ”لغویات“ کو کیا درجہ دے رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں:
”جب نٹنی بانس پر چڑھے تو گھونگھٹ کیا۔“
۞......۞......۞
رُوحانی خزائن
تصنیفات
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی
مسیح مَوعُود و مَہدی مَعہُود علیہ السّلام
جلد ٨
نُورُ الحقّ ہر دو حصّہ ۔ اتمام الحجّۃ
سِرّ الخلافۃ
ٹائٹل پیج پارٹ اول
يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ
الحمد لله الموفق اني كتبت هذه الرسالة والصحيفة العجالة لعلاج مرض المتنصرين الذى امتد مداه وعرقتهم مُدَاه واكلتهم نار انكار الفرقان. والصول على كتاب الله القرآن. فاردنا ان ننجيهم من مخلب الحمام. ونريهم سوء داءهم ونهديهم الى دواء السقام. فالفت هذا الكتاب مع انعام كثير لمن اجاب. وهو خمسة الاف من الدراهم لكل من اتى بمثله وارى العجائب. وهو بفضل الله حسن وطيب والطف وادق. وسميته الحصة الاولى من
نور الحق
"عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا ان هذا القرآن يهدي للتي هي اقوم ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا كبيرا"
قد طبع فى المطبع المصطفائى پريس فى لاهور سنه ١٣١١ هجرى
١
بار اول تعداد ۱۲۰۰
۱۵۸
المهلة منّا ثلثة اشهر للمعارضين فان لم يبارزوا ولن يبارزوا فاعلموا تین مہینے مہلت ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہرگز نہ آوینگے پس یقیناً جانو انهم كانوا من الكاذبين۔ کہ وہ جھوٹے ہیں۔ واعلموا ان هذا الانعام فى صورة اذا اتوا برسالة كمثل رسالتنا وعجالة اور یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ انعام اس صورت میں ہے کہ جب بالمقابل رسالہ بعینہ ہمارے اس رسالہ کے كمثل عجالتنا واثبتوا انفسهم كمما ثلين ومشابهين۔ واما اذا ابوا وولوا مشابہ ہو اور مماثلت اور مشابہت کو ثابت کریں۔ لیکن اگر بتانے سے انکار کریں الدبر كالثعالب ما استطاعوا على هذه المطالب وما تركوا عادة توهين القرآن اور لومڑیوں کی طرح پیٹھیں دکھلاویں اور ان مطالب پر قدرت نہ پاسکیں اور نہ توہین قرآن شریف کی وما امتنعوا من قدح كتاب الله الفرقان وما تابوا من ان يسموا انفسهم مولويين عادت کو چھوڑیں اور کتاب اللہ کی جرح و قدح سے باز نہ آویں وما ازدجروا من سبّ رسول الله صلّى الله عليه وسلّم خاتم النبيين ما ازدجروا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشنام دہی سے رکیں اور نہ اس بیہودگی سے اپنے تئیں من قولهم ان القرآن ليس بفصيح وماتركوا سبيل التحقير والتوهين فعليهم روکیں کہ قرآن فصیح نہیں ہے اور نہ توہین اور تحقیر کے طریق کو چھوڑیں پس ان پر خدا تعالیٰ من الله الف لعنة فليقل القوم كلّهم امين۔ کی طرف سے ہزار لعنت ہے پس چاہیئے کہ تمام قوم کہے کہ آمین۔ ١ لعنت ٢ لعنت ٣ لعنت ۴ لعنت ۵ لعنت ۶ لعنت ٧ لعنت ٨ لعنت ٩ لعنت ١٠ لعنت ١١ لعنت ١٢ لعنت ١٣ لعنت ١۴ لعنت ١۵ لعنت ١۶ لعنت ١٧ لعنت ١٨ لعنت ١٩ لعنت ٢٠ لعنت ٢١ لعنت ٢٢ لعنت ٢٣ لعنت ٢۴ لعنت
۱۵۸
۱۵۹
١١٩ ٢٥ لعنت ٢٦ لعنت ٢٧ لعنت ٢٨ لعنت ٢٩ لعنت ٣٠ لعنت ٣١ لعنت ٣٢ لعنت ٣٣ لعنت ٣٤ لعنت ٣٥ لعنت ٣٦ لعنت ٣٧ لعنت ٣٨ لعنت ٣٩ لعنت ٤٠ لعنت ٤١ لعنت ٤٢ لعنت ٤٣ لعنت ٤٤ لعنت ٤٥ لعنت ٤٦ لعنت ٤٧ لعنت ٤٨ لعنت ٤٩ لعنت ٥٠ لعنت ٥١ لعنت ٥٢ لعنت ٥٣ لعنت ٥٤ لعنت ٥٥ لعنت ٥٦ لعنت ٥٧ لعنت ٥٨ لعنت ٥٩ لعنت ٦٠ لعنت ٦١ لعنت ٦٢ لعنت ٦٣ لعنت ٦٤ لعنت ٦٥ لعنت ٦٦ لعنت ٦٧ لعنت ٦٨ لعنت ٦٩ لعنت ٧٠ لعنت ٧١ لعنت ٧٢ لعنت ٧٣ لعنت ٧٤ لعنت ٧٥ لعنت ٧٦ لعنت ٧٧ لعنت ٧٨ لعنت ٧٩ لعنت ٨٠ لعنت ٨١ لعنت ٨٢ لعنت ٨٣ لعنت ٨٤ لعنت ٨٥ لعنت ٨٦ لعنت ٨٧ لعنت ٨٨ لعنت ٨٩ لعنت ٩٠ لعنت ٩١ لعنت ٩٢ لعنت ٩٣ لعنت ٩٤ لعنت ٩٥ لعنت ٩٦ لعنت ٩٧ لعنت ٩٨ لعنت ٩٩ لعنت ١٠٠ لعنت ١٠١ لعنت ١٠٢ لعنت ١٠٣ لعنت ١٠٤ لعنت ١٠٥ لعنت ١٠٦ لعنت ١٠٧ لعنت ١٠٨ لعنت ١٠٩ لعنت ١١٠ لعنت ١١١ لعنت ١١٢ لعنت ١١٣ لعنت ١١٤ لعنت ١١٥ لعنت ١١٦ لعنت ١١٧ لعنت ١١٨ لعنت ١١٩ لعنت ١٢٠ لعنت ١٢١ لعنت ١٢٢ لعنت ١٢٣ لعنت ١٢٤ لعنت ١٢٥ لعنت ١٢٦ لعنت ١٢٧ لعنت ١٢٨ لعنت ١٢٩ لعنت ١٣٠ لعنت ١٣١ لعنت ١٣٢ لعنت ١٣٣ لعنت ١٣٤ لعنت ١٣٥ لعنت ١٣٦ لعنت ١٣٧ لعنت ١٣٨ لعنت ١٣٩ لعنت ١٤٠ لعنت ١٤١ لعنت ١٤٢ لعنت ١٤٣ لعنت ١٤٤ لعنت ١٤٥ لعنت ١٤٦ لعنت ١٤٧ لعنت ١٤٨ لعنت ١٤٩ لعنت ١٥٠ لعنت ١٥١ لعنت ١٥٢ لعنت ١٥٣ لعنت ١٥٤ لعنت ١٥٥ لعنت ١٥٦ لعنت ١٥٧ لعنت ١٥٨ لعنت ١٥٩ لعنت ١٦٠ لعنت ١٦١ لعنت ١٦٢ لعنت ١٦٣ لعنت ١٦٤ لعنت ١٦٥ لعنت ١٦٦ لعنت ١٦٧ لعنت ١٦٨ لعنت ١٦٩ لعنت ١٧٠ لعنت ١٧١ لعنت ١٧٢ لعنت ١٧٣ لعنت ١٧٤ لعنت ١٧٥ لعنت ١٧٦ لعنت ١٧٧ لعنت ١٧٨ لعنت ١٧٩ لعنت ١٨٠ لعنت ١٨١ لعنت ١٨٢ لعنت ١٨٣ لعنت ١٨٤ لعنت ١٨٥ لعنت ١٨٦ لعنت ١٨٧ لعنت ١٨٨ لعنت ١٨٩ لعنت ١٩٠ لعنت ١٩١ لعنت ١٩٢ لعنت ١٩٣ لعنت ١٩٤ لعنت ١٩٥ لعنت ١٩٦ لعنت ١٩٧ لعنت ١٩٨ لعنت ١٩٩ لعنت ٢٠٠ لعنت ٢٠١ لعنت ٢٠٢ لعنت ٢٠٣ لعنت ٢٠٤ لعنت ٢٠٥ لعنت ٢٠٦ لعنت ٢٠٧ لعنت ٢٠٨ لعنت ٢٠٩ لعنت ٢١٠ لعنت ٢١١ لعنت ٢١٢ لعنت ٢١٣ لعنت ٢١٤ لعنت ٢١٥ لعنت ٢١٦ لعنت ٢١٧ لعنت ٢١٨ لعنت ٢١٩ لعنت ٢٢٠ لعنت ٢٢١ لعنت ٢٢٢ لعنت ٢٢٣ لعنت ٢٢٤ لعنت ٢٢٥ لعنت ٢٢٦ لعنت ٢٢٧ لعنت ٢٢٨ لعنت ٢٢٩ لعنت ٢٣٠ لعنت ٢٣١ لعنت ٢٣٢ لعنت ٢٣٣ لعنت ٢٣٤ لعنت ٢٣٥ لعنت ٢٣٦ لعنت ٢٣٧ لعنت ٢٣٨ لعنت ٢٣٩ لعنت ٢٤٠ لعنت ٢٤١ لعنت ٢٤٢ لعنت ٢٤٣ لعنت ٢٤٤ لعنت ٢٤٥ لعنت ٢٤٦ لعنت ٢٤٧ لعنت ٢٤٨ لعنت ٢٤٩ لعنت ٢٥٠ لعنت ٢٥١ لعنت ٢٥٢ لعنت ٢٥٣ لعنت ٢٥٤ لعنت ٢٥٥ لعنت ٢٥٦ لعنت ٢٥٧ لعنت ٢٥٨ لعنت ٢٥٩ لعنت ٢٦٠ لعنت ٢٦١ لعنت ٢٦٢ لعنت
۱۵۹
۱۶۰
۱۶۰ ۲۷۳ لعنت ۲۷۴ لعنت ۲۷۵ لعنت ۲۷۶ لعنت ۲۷۷ لعنت ۲۷۸ لعنت ۲۷۹ لعنت ۲۸۰ لعنت ۲۸۱ لعنت ۲۸۲ لعنت ۲۸۳ لعنت ۲۸۴ لعنت ۲۸۵ لعنت ۲۸۶ لعنت ۲۸۷ لعنت ۲۸۸ لعنت ۲۸۹ لعنت ۲۹۰ لعنت ۲۹۱ لعنت ۲۹۲ لعنت ۲۹۳ لعنت ۲۹۴ لعنت ۲۹۵ لعنت ۲۹۶ لعنت ۲۹۷ لعنت ۲۹۸ لعنت ۲۹۹ لعنت ۳۰۰ لعنت ۳۰۱ لعنت ۳۰۲ لعنت ۳۰۳ لعنت ۳۰۴ لعنت ۳۰۵ اللعنة ۳۰۶ اللعنة ۳۰۷ اللعنة ۳۰۸ اللعنة ۳۰۹ اللعنة ۳۱۰ اللعنة ۳۱۱ اللعنة ۳۱۲ اللعنة ۳۱۳ اللعنة ۳۱۴ اللعنة ۳۱۵ اللعنة ۳۱۶ اللعنة ۳۱۷ اللعنة ۳۱۸ اللعنة ۳۱۹ اللعنة ۳۲۰ اللعنة ۳۲۱ اللعنة ۳۲۲ اللعنة ۳۲۳ اللعنة ۳۲۴ اللعنة ۳۲۵ اللعنة ۳۲۶ اللعنة ۳۲۷ اللعنة ۳۲۸ اللعنة ۳۲۹ اللعنة ۳۳۰ اللعنة ۳۳۱ اللعنة ۳۳۲ اللعنة ۳۳۳ اللعنة ۳۳۴ اللعنة ۳۳۵ اللعنة ۳۳۶ اللعنة ۳۳۷ اللعنة ۳۳۸ اللعنة ۳۳۹ اللعنة ۳۴۰ اللعنة ۳۴۱ اللعنة ۳۴۲ اللعنة ۳۴۳ اللعنة ۳۴۴ اللعنة ۳۴۵ اللعنة ۳۴۶ اللعنة ۳۴۷ اللعنة ۳۴۸ اللعنة ۳۴۹ اللعنة ۳۵۰ اللعنة ۳۵۱ اللعنة ۳۵۲ اللعنة ۳۵۳ اللعنة ۳۵۴ اللعنة ۳۵۵ اللعنة ۳۵۶ اللعنة ۳۵۷ اللعنة ۳۵۸ اللعنة ۳۵۹ اللعنة ۳۶۰ اللعنة ۳۶۱ اللعنة ۳۶۲ اللعنة ۳۶۳ اللعنة ۳۶۴ اللعنة ۳۶۵ اللعنة ۳۶۶ اللعنة ۳۶۷ اللعنة ۳۶۸ اللعنة ۳۶۹ اللعنة ۳۷۰ اللعنة ۳۷۱ اللعنة ۳۷۲ اللعنة ۳۷۳ اللعنة ۳۷۴ اللعنة ۳۷۵ اللعنة ۳۷۶ اللعنة ۳۷۷ اللعنة ۳۷۸ اللعنة ۳۷۹ اللعنة ۳۸۰ اللعنة ۳۸۱ اللعنة ۳۸۲ اللعنة ۳۸۳ اللعنة ۳۸۴ اللعنة ۳۸۵ اللعنة ۳۸۶ اللعنة ۳۸۷ اللعنة ۳۸۸ اللعنة ۳۸۹ اللعنة ۳۹۰ اللعنة ۳۹۱ اللعنة ۳۹۲ اللعنة ۳۹۳ اللعنة ۳۹۴ اللعنة ۳۹۵ اللعنة ۳۹۶ اللعنة ۳۹۷ اللعنة ۳۹۸ اللعنة ۳۹۹ اللعنة ۴۰۰ اللعنة ۴۰۱ اللعنة ۴۰۲ اللعنة ۴۰۳ اللعنة ۴۰۴ اللعنة ۴۰۵ اللعنة ۴۰۶ اللعنة ۴۰۷ اللعنة ۴۰۸ اللعنة ۴۰۹ اللعنة ۴۱۰ اللعنة ۴۱۱ اللعنة ۴۱۲ اللعنة ۴۱۳ اللعنة ۴۱۴ اللعنة ۴۱۵ اللعنة ۴۱۶ اللعنة ۴۱۷ اللعنة ۴۱۸ اللعنة ۴۱۹ اللعنة ۴۲۰ اللعنة ۴۲۱ اللعنة ۴۲۲ اللعنة ۴۲۳ اللعنة ۴۲۴ اللعنة ۴۲۵ اللعنة ۴۲۶ اللعنة ۴۲۷ اللعنة ۴۲۸ اللعنة ۴۲۹ اللعنة ۴۳۰ اللعنة ۴۳۱ اللعنة ۴۳۲ اللعنة ۴۳۳ اللعنة ۴۳۴ اللعنة ۴۳۵ اللعنة ۴۳۶ اللعنة ۴۳۷ اللعنة ۴۳۸ اللعنة ۴۳۹ اللعنة ۴۴۰ اللعنة ۴۴۱ اللعنة ۴۴۲ اللعنة ۴۴۳ اللعنة ۴۴۴ اللعنة ۴۴۵ اللعنة ۴۴۶ اللعنة ۴۴۷ اللعنة ۴۴۸ اللعنة ۴۴۹ اللعنة ۴۵۰ اللعنة ۴۵۱ اللعنة ۴۵۲ اللعنة ۴۵۳ اللعنة ۴۵۴ اللعنة ۴۵۵ اللعنة ۴۵۶ اللعنة ۴۵۷ اللعنة ۴۵۸ اللعنة ۴۵۹ اللعنة ۴۶۰ اللعنة ۴۶۱ اللعنة ۴۶۲ اللعنة ۴۶۳ اللعنة ۴۶۴ اللعنة ۴۶۵ اللعنة ۴۶۶ اللعنة ۴۶۷ اللعنة ۴۶۸ اللعنة ۴۶۹ اللعنة ۴۷۰ اللعنة ۴۷۱ اللعنة ۴۷۲ اللعنة ۴۷۳ اللعنة ۴۷۴ اللعنة ۴۷۵ اللعنة ۴۷۶ اللعنة ۴۷۷ اللعنة ۴۷۸ اللعنة ۴۷۹ اللعنة ۴۸۰ اللعنة ۴۸۱ اللعنة ۴۸۲ اللعنة ۴۸۳ اللعنة ۴۸۴ اللعنة ۴۸۵ اللعنة ۴۸۶ اللعنة ۴۸۷ اللعنة ۴۸۸ اللعنة ۴۸۹ اللعنة ۴۹۰ اللعنة ۴۹۱ اللعنة ۴۹۲ اللعنة ۴۹۳ اللعنة ۴۹۴ اللعنة ۴۹۵ اللعنة ۴۹۶ اللعنة
۱۶۰
١٤١
١٢١ اللعنة ٥٠١ اللعنة ٥٠٢ اللعنة ٥٠٣ اللعنة ٥٠٤ اللعنة ٥٠٥ اللعنة ٥٠٦ اللعنة ٥٠٧ اللعنة ٥٠٨ اللعنة ٥٠٩ اللعنة ٥١٠ اللعنة ٥١١ اللعنة ٥١٢ اللعنة ٥١٣ اللعنة ٥١٤ اللعنة ٥١٥ اللعنة ٥١٦ اللعنة ٥١٧ اللعنة ٥١٨ اللعنة ٥١٩ اللعنة ٥٢٠ اللعنة ٥٢١ اللعنة ٥٢٢ اللعنة ٥٢٣ اللعنة ٥٢٤ اللعنة ٥٢٥ اللعنة ٥٢٦ اللعنة ٥٢٧ اللعنة ٥٢٨ اللعنة ٥٢٩ اللعنة ٥٣٠ اللعنة ٥٣١ اللعنة ٥٣٢ اللعنة ٥٣٣ اللعنة ٥٣٤ اللعنة ٥٣٥ اللعنة ٥٣٦ اللعنة ٥٣٧ اللعنة ٥٣٨ اللعنة ٥٣٩ اللعنة ٥٤٠ اللعنة ٥٤١ اللعنة ٥٤٢ اللعنة ٥٤٣ اللعنة ٥٤٤ اللعنة ٥٤٥ اللعنة ٥٤٦ اللعنة ٥٤٧ اللعنة ٥٤٨ اللعنة ٥٤٩ اللعنة ٥٥٠ اللعنة ٥٥١ اللعنة ٥٥٢ اللعنة ٥٥٣ اللعنة ٥٥٤ اللعنة ٥٥٥ اللعنة ٥٥٦ اللعنة ٥٥٧ اللعنة ٥٥٨ اللعنة ٥٥٩ اللعنة ٥٦٠ اللعنة ٥٦١ اللعنة ٥٦٢ اللعنة ٥٦٣ اللعنة ٥٦٤ اللعنة ٥٦٥ اللعنة ٥٦٦ اللعنة ٥٦٧ اللعنة ٥٦٨ اللعنة ٥٦٩ اللعنة ٥٧٠ اللعنة ٥٧١ اللعنة ٥٧٢ اللعنة ٥٧٣ اللعنة ٥٧٤ اللعنة ٥٧٥ اللعنة ٥٧٦ اللعنة ٥٧٧ اللعنة ٥٧٨ اللعنة ٥٧٩ اللعنة ٥٨٠ اللعنة ٥٨١ اللعنة ٥٨٢ اللعنة ٥٨٣ اللعنة ٥٨٤ اللعنة ٥٨٥ اللعنة ٥٨٦ اللعنة ٥٨٧ اللعنة ٥٨٨ اللعنة ٥٨٩ اللعنة ٥٩٠ اللعنة ٥٩١ اللعنة ٥٩٢ اللعنة ٥٩٣ اللعنة ٥٩٤ اللعنة ٥٩٥ اللعنة ٥٩٦ اللعنة ٥٩٧ اللعنة ٥٩٨ اللعنة ٥٩٩ اللعنة ٦٠٠ اللعنة ٦٠١ اللعنة ٦٠٢ اللعنة ٦٠٣ اللعنة ٦٠٤ اللعنة ٦٠٥ اللعنة ٦٠٦ اللعنة ٦٠٧ اللعنة ٦٠٨ اللعنة ٦٠٩ اللعنة ٦١٠ اللعنة ٦١١ اللعنة ٦١٢ اللعنة ٦١٣ اللعنة ٦١٤ اللعنة ٦١٥ اللعنة ٦١٦ اللعنة ٦١٧ اللعنة ٦١٨ اللعنة ٦١٩ اللعنة ٦٢٠ اللعنة ٦٢١ اللعنة ٦٢٢ اللعنة ٦٢٣ اللعنة ٦٢٤ اللعنة ٦٢٥ اللعنة ٦٢٦ اللعنة ٦٢٧ اللعنة ٦٢٨ اللعنة ٦٢٩ اللعنة ٦٣٠ اللعنة ٦٣١ اللعنة ٦٣٢ اللعنة ٦٣٣ اللعنة ٦٣٤ اللعنة ٦٣٥ اللعنة ٦٣٦ اللعنة ٦٣٧ اللعنة ٦٣٨ اللعنة ٦٣٩ اللعنة ٦٤٠ اللعنة ٦٤١ اللعنة ٦٤٢ اللعنة ٦٤٣ اللعنة ٦٤٤ اللعنة ٦٤٥ اللعنة ٦٤٦ اللعنة ٦٤٧ اللعنة ٦٤٨ اللعنة ٦٤٩ اللعنة ٦٥٠ اللعنة ٦٥١ اللعنة ٦٥٢ اللعنة ٦٥٣ اللعنة ٦٥٤ اللعنة ٦٥٥ اللعنة ٦٥٦ اللعنة ٦٥٧ اللعنة ٦٥٨ اللعنة ٦٥٩ اللعنة ٦٦٠ اللعنة ٦٦١ اللعنة ٦٦٢ اللعنة ٦٦٣ اللعنة ٦٦٤ اللعنة ٦٦٥ اللعنة ٦٦٦ اللعنة ٦٦٧ اللعنة ٦٦٨ اللعنة ٦٦٩ اللعنة ٦٧٠ اللعنة ٦٧١ اللعنة ٦٧٢ اللعنة ٦٧٣ اللعنة ٦٧٤ اللعنة ٦٧٥ اللعنة ٦٧٦ اللعنة ٦٧٧ اللعنة ٦٧٨ اللعنة ٦٧٩ اللعنة ٦٨٠ اللعنة ٦٨١ اللعنة ٦٨٢ اللعنة ٦٨٣ اللعنة ٦٨٤ اللعنة ٦٨٥ اللعنة ٦٨٦ اللعنة ٦٨٧ اللعنة ٦٨٨ اللعنة ٦٨٩ اللعنة ٦٩٠ اللعنة ٦٩١ اللعنة ٦٩٢ اللعنة ٦٩٣ اللعنة ٦٩٤ اللعنة ٦٩٥ اللعنة ٦٩٦ اللعنة ٦٩٧ اللعنة ٦٩٨ اللعنة ٦٩٩ اللعنة ٧٠٠ اللعنة ٧٠١ اللعنة ٧٠٢ اللعنة ٧٠٣ اللعنة ٧٠٤ اللعنة ٧٠٥ اللعنة ٧٠٦ اللعنة ٧٠٧ اللعنة ٧٠٨ اللعنة ٧٠٩ اللعنة ٧١٠ اللعنة ٧١١ اللعنة ٧١٢ اللعنة ٧١٣ اللعنة ٧١٤ اللعنة ٧١٥ اللعنة ٧١٦ اللعنة ٧١٧ اللعنة ٧١٨ اللعنة ٧١٩ اللعنة ٧٢٠ اللعنة ٧٢١ اللعنة ٧٢٢ اللعنة ٧٢٣ اللعنة ٧٢٤ ١٢٢ اللعنة ٧٢٥ اللعنة ٧٢٦ اللعنة ٧٢٧ اللعنة ٧٢٨ اللعنة ٧٢٩ اللعنة ٧٣٠ اللعنة ٧٣١ اللعنة ٧٣٢ اللعنة ٧٣٣ اللعنة ٧٣٤ اللعنة ٧٣٥ اللعنة ٧٣٦ اللعنة ٧٣٧ اللعنة ٧٣٨
١٤١
١٦٢
اللّٰه ٧٢٦ اللّٰه ٧٢٧ اللّٰه ٧٢٨ اللّٰه ٧٢٩ اللّٰه ٧٣٠ اللّٰه ٧٣١ اللّٰه ٧٣٢ اللّٰه ٧٣٣ اللّٰه ٧٣٤ اللّٰه ٧٣٥ اللّٰه ٧٣٦ اللّٰه ٧٣٧ اللّٰه ٧٣٨ اللّٰه ٧٣٩ اللّٰه ٧٤٠ اللّٰه ٧٤١ اللّٰه ٧٤٢ اللّٰه ٧٤٣ اللّٰه ٧٤٤ اللّٰه ٧٤٥ اللّٰه ٧٤٦ اللّٰه ٧٤٧ اللّٰه ٧٤٨ اللّٰه ٧٤٩ اللّٰه ٧٥٠ اللّٰه ٧٥١ اللّٰه ٧٥٢ اللّٰه ٧٥٣ اللّٰه ٧٥٤ اللّٰه ٧٥٥ اللّٰه ٧٥٦ اللّٰه ٧٥٧ اللّٰه ٧٥٨ اللّٰه ٧٥٩ اللّٰه ٧٦٠ اللّٰه ٧٦١ اللّٰه ٧٦٢ اللّٰه ٧٦٣ اللّٰه ٧٦٤ اللّٰه ٧٦٥ اللّٰه ٧٦٦ اللّٰه ٧٦٧ اللّٰه ٧٦٨ اللّٰه ٧٦٩ اللّٰه ٧٧٠ اللّٰه ٧٧١ اللّٰه ٧٧٢ اللّٰه ٧٧٣ اللّٰه ٧٧٤ اللّٰه ٧٧٥ اللّٰه ٧٧٦ اللّٰه ٧٧٧ اللّٰه ٧٧٨ اللّٰه ٧٧٩ اللّٰه ٧٨٠ اللّٰه ٧٨١ اللّٰه ٧٨٢ اللّٰه ٧٨٣ اللّٰه ٧٨٤ اللّٰه ٧٨٥ اللّٰه ٧٨٦ اللّٰه ٧٨٧ اللّٰه ٧٨٨ اللّٰه ٧٨٩ اللّٰه ٧٩٠ اللّٰه ٧٩١ اللّٰه ٧٩٢ اللّٰه ٧٩٣ اللّٰه ٧٩٤ اللّٰه ٧٩٥ اللّٰه ٧٩٦ اللّٰه ٧٩٧ اللّٰه ٧٩٨ اللّٰه ٧٩٩ اللّٰه ٨٠٠ اللّٰه ٨٠١ اللّٰه ٨٠٢ اللّٰه ٨٠٣ اللّٰه ٨٠٤ اللّٰه ٨٠٥ اللّٰه ٨٠٦ اللّٰه ٨٠٧ اللّٰه ٨٠٨ اللّٰه ٨٠٩ اللّٰه ٨١٠ اللّٰه ٨١١ اللّٰه ٨١٢ اللّٰه ٨١٣ اللّٰه ٨١٤ اللّٰه ٨١٥ اللّٰه ٨١٦ اللّٰه ٨١٧ اللّٰه ٨١٨ اللّٰه ٨١٩ اللّٰه ٨٢٠ اللّٰه ٨٢١ اللّٰه ٨٢٢ اللّٰه ٨٢٣ اللّٰه ٨٢٤ اللّٰه ٨٢٥ اللّٰه ٨٢٦ اللّٰه ٨٢٧ اللّٰه ٨٢٨ اللّٰه ٨٢٩ اللّٰه ٨٣٠ اللّٰه ٨٣١ اللّٰه ٨٣٢ اللّٰه ٨٣٣ اللّٰه ٨٣٤ اللّٰه ٨٣٥ اللّٰه ٨٣٦ اللّٰه ٨٣٧ اللّٰه ٨٣٨ اللّٰه ٨٣٩ اللّٰه ٨٤٠ اللّٰه ٨٤١ اللّٰه ٨٤٢ اللّٰه ٨٤٣ اللّٰه ٨٤٤ اللّٰه ٨٤٥ اللّٰه ٨٤٦ اللّٰه ٨٤٧ اللّٰه ٨٤٨ اللّٰه ٨٤٩ اللّٰه ٨٥٠ اللّٰه ٨٥١ اللّٰه ٨٥٢ اللّٰه ٨٥٣ اللّٰه ٨٥٤ اللّٰه ٨٥٥ اللّٰه ٨٥٦ اللّٰه ٨٥٧ اللّٰه ٨٥٨ اللّٰه ٨٥٩ اللّٰه ٨٦٠ اللّٰه ٨٦١ اللّٰه ٨٦٢ اللّٰه ٨٦٣ اللّٰه ٨٦٤ اللّٰه ٨٦٥ اللّٰه ٨٦٦ اللّٰه ٨٦٧ اللّٰه ٨٦٨ اللّٰه ٨٦٩ اللّٰه ٨٧٠ اللّٰه ٨٧١ اللّٰه ٨٧٢ اللّٰه ٨٧٣ اللّٰه ٨٧٤ اللّٰه ٨٧٥ اللّٰه ٨٧٦ اللّٰه ٨٧٧ اللّٰه ٨٧٨ اللّٰه ٨٧٩ اللّٰه ٨٨٠ اللّٰه ٨٨١ اللّٰه ٨٨٢ اللّٰه ٨٨٣ اللّٰه ٨٨٤ اللّٰه ٨٨٥ اللّٰه ٨٨٦ اللّٰه ٨٨٧ اللّٰه ٨٨٨ اللّٰه ٨٨٩ اللّٰه ٨٩٠ اللّٰه ٨٩١ اللّٰه ٨٩٢ اللّٰه ٨٩٣ اللّٰه ٨٩٤ اللّٰه ٨٩٥ اللّٰه ٨٩٦ اللّٰه ٨٩٧ اللّٰه ٨٩٨ اللّٰه ٨٩٩ اللّٰه ٩٠٠ اللّٰه ٩٠١ اللّٰه ٩٠٢ اللّٰه ٩٠٣ اللّٰه ٩٠٤ اللّٰه ٩٠٥ اللّٰه ٩٠٦ اللّٰه ٩٠٧ اللّٰه ٩٠٨ اللّٰه ٩٠٩ اللّٰه ٩١٠ اللّٰه ٩١١ اللّٰه ٩١٢ اللّٰه ٩١٣ اللّٰه ٩١٤ اللّٰه ٩١٥ اللّٰه ٩١٦ اللّٰه ٩١٧ اللّٰه ٩١٨ اللّٰه ٩١٩ اللّٰه ٩٢٠ اللّٰه ٩٢١ اللّٰه ٩٢٢ اللّٰه ٩٢٣ اللّٰه ٩٢٤ اللّٰه ٩٢٥ اللّٰه ٩٢٦ اللّٰه ٩٢٧ اللّٰه ٩٢٨ اللّٰه ٩٢٩ اللّٰه ٩٣٠ اللّٰه ٩٣١ اللّٰه ٩٣٢ اللّٰه ٩٣٣ اللّٰه ٩٣٤ اللّٰه ٩٣٥ اللّٰه ٩٣٦ اللّٰه ٩٣٧ اللّٰه ٩٣٨ اللّٰه ٩٣٩ اللّٰه ٩٤٠ اللّٰه ٩٤١ اللّٰه ٩٤٢ اللّٰه ٩٤٣ اللّٰه ٩٤٤ اللّٰه ٩٤٥ اللّٰه ٩٤٦ اللّٰه ٩٤٧ اللّٰه ٩٤٨ اللّٰه ٩٤٩ اللّٰه ٩٥٠ اللّٰه ٩٥١ اللّٰه ٩٥٢ اللّٰه ٩٥٣ اللّٰه ٩٥٤ اللّٰه ٩٥٥ اللّٰه ٩٥٦ اللّٰه ٩٥٧ اللّٰه ٩٥٨ اللّٰه ٩٥٩ اللّٰه ٩٦٠ اللّٰه ٩٦١ اللّٰه ٩٦٢ اللّٰه ٩٦٣ اللّٰه ٩٦٤ اللّٰه ٩٦٥ اللّٰه ٩٦٦ اللّٰه ٩٦٧ اللّٰه ٩٦٨ اللّٰه ٩٦٩ اللّٰه ٩٧٠ اللّٰه ٩٧١ اللّٰه ٩٧٢ اللّٰه ٩٧٣ اللّٰه ٩٧٤ اللّٰه ٩٧٥ اللّٰه ٩٧٦ اللّٰه ٩٧٧ اللّٰه ٩٧٨ اللّٰه ٩٧٩ اللّٰه ٩٨٠ اللّٰه ٩٨١ اللّٰه ٩٨٢ اللّٰه ٩٨٣ اللّٰه ٩٨٤ اللّٰه ٩٨٥ اللّٰه ٩٨٦ اللّٰه ٩٨٧ اللّٰه ٩٨٨ اللّٰه ٩٨٩ اللّٰه ٩٩٠ اللّٰه ٩٩١ اللّٰه ٩٩٢ اللّٰه ٩٩٣ اللّٰه ٩٩٤ اللّٰه ٩٩٥ اللّٰه ٩٩٦ اللّٰه ٩٩٧ اللّٰه ٩٩٨ اللّٰه ٩٩٩ اللّٰه ١٠٠٠
١٦٢
ایک مظلوم بیٹی کی دردناک داستاں
یہ صرف ثوبیہ کی ہی کہانی نہیں بلکہ آپ کو اس معاشرہ میں ثوبیہ ایسی بے شمار مظلوم لڑکیاں اس سے ملتی جلتی المناک کہانیاں سناتی نظر آئیں گی۔ یہ بے چاریاں آئے دن قادیانیوں کے ہمرنگ زمیں دام میں پھنس کر ان کے اذیت ناک مظالم کا نشانہ بن رہی ہیں۔ دھوکا دہی ایک ایسا قبیح جرم ہے جو دنیا کے تمام مذاہب اور معاشروں میں ممنوع اور قابل نفریں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوسر باز کو ہر مہذب معاشرے میں ناپسندیدہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں فتنہ قادیانیت، فریب کاری کا دوسرا نام ہے۔ قادیانیوں کا مقصد حیات ہی اسلام کے نام پر بھولے بھالے لوگوں کو بھٹکا کر ان کے ایمان کی شمع کو گل کرنا اور انھیں مرتد کر کے اپنے حلقہ میں شامل کرنا ہے۔ اس مذموم نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے قادیانی کئی ذرائع اختیار کرتے ہیں جن میں سرفہرست مسلمان لڑکیوں سے شادی کرنے کے بعد انھیں بلیک میل کر کے قادیانی بنانا ہے۔ بعض بدقسمت لڑکیاں قادیانیوں کے اس سنہری جال میں پھنس کر ارتداد اختیار کر لیتی ہیں جبکہ بعض خوش نصیب لڑکیاں ہر قسم کے لالچ اور تحریص و ترغیب کو ٹھکرا کر اپنے متاع ایمان کو بچا لیتی ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے اس اقدام سے انھیں مستقبل میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ثوبیہ ایسی ہی نیک بخت مگر مظلوم مسلمان لڑکیوں میں سے ایک ہے۔ آئیے ثوبیہ کی کہانی خود ثوبیہ کی اپنی زبانی سنتے ہیں:
”میرا نام ثوبیہ عمر ہے۔ اب میری عمر 27 سال ہے۔ میں اس وقت اپنے والدین کے ہمراہ گلشن راوی لاہور (پاکستان) میں مقیم ہوں۔ میں نے 2001ء میں مقامی کالج سے بی۔ اے کیا۔ یہاں میری چند لڑکیوں سے دوستی ہو گئی۔ ان میں سے ایک لڑکی حمیرا کے ساتھ چند ہی دنوں میں میری بے تکلفی ہو گئی اور آہستہ آہستہ یہ بے تکلفی گہری دوستی میں بدل گئی۔ اس نے ہمارے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ ٹیلی فون بھی باقاعدگی سے ہونے لگے۔ عید اور دیگر تہواروں پر تحائف کا تبادلہ ہوتا اور اکٹھے کھانا کھایا جاتا۔ چند سالوں بعد حمیرا نے اچانک اپنی
خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”ہم آپ کو اپنی بھابھی بنانا چاہتے ہیں ۔“ میں نے جواباً اسے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی اور خواہش کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اس سلسلہ میں آپ میرے والدین سے رابطہ کریں۔ چند دنوں بعد حمیرا کے والدین ہمارے گھر آ گئے اور اپنے بیٹے عمران احمد کے لیے میرے والدین سے میرا رشتہ مانگا۔ میرے والدین نہایت شریف النفس اور سادہ مزاج ہیں۔ بالخصوص دنیا داری کے معاملات سے تو وہ قطعی نابلد ہیں۔ میرے والدین نے اس خاندان کے گزشتہ ایک سال کے معاملات اور رویوں کے پیش نظر ان پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے چھان بین اور کسی سے مشورہ کیے بغیر ہاں کر دی۔ اس طرح 22 فروری 2003ء کو میری شادی عمران احمد سے ہو گئی۔ قیمتی جہیز کے علاوہ شادی اس دھوم دھام سے ہوئی کہ خود سسرال والوں کے رشتے دار حیران رہ گئے۔
2004ء میں میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ سوائے عمران کے ان کے گھر کا کوئی فرد اس بچی کو دیکھنے کے لیے نہ آیا۔ ڈیڑھ ماہ بعد میں اپنے سسرال آ گئی۔ عمران کے گھر میں جہاں میری ساس اور دیور بھی رہتے تھے، ہر جمعہ کو باقاعدگی سے قادیانی ٹی وی چینل MTA بڑے اہتمام سے دیکھا جاتا۔ قادیانی جماعت کا خلیفہ تقریریں کرتا اور اپنے پیروکاروں کو مختلف ہدایات دیتا۔ اس وقت تک مجھے قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے بارے کچھ علم نہ تھا، بہرطور میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوتی بلکہ اپنے کمرے میں علیحدہ نماز پڑھتی اور قرآن مجید کی تلاوت کرتی۔ میری اس حرکت کا میری ساس نے بے حد برا مانا۔ اس کا رویہ مجھ سے نہایت ظالمانہ اور وحشیانہ ہو گیا۔ بات بات پر ٹوکنا، کھانوں میں بلاوجہ نقص نکالنا، عمران کے سامنے میری جھوٹی شکایات لگانا، میرے ماں باپ کو برا بھلا کہنا، غلیظ اور گھٹیا طعنے دینا اور کھانے کی کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانے دینا اس کا روزمرہ کا معمول بن گیا۔ ایک دفعہ میری بیٹی دودھ کے لیے بلک رہی تھی۔ میں فریج سے دودھ نکالنے گئی تو ساس نے میرا ہاتھ روک لیا اور کہا کہ دودھ کے لیے اپنے باپ سے پیسے لاؤ۔ میں نے عمران کو فون کرنے کی کوشش کی تو اس نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا اور کہا کہ باہر جا کر PCO سے فون کرو۔ رات دیر گئے عمران گھر واپس آیا تو میری ساس نے ڈراما کرتے ہوئے رو رو کر میرے خلاف بالکل فرضی اور من گھڑت شکایات کا انبار لگا دیا جس پر عمران طیش میں آ گیا اور میری بات سنے بغیر مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اگلے دن صبح عمران اپنے کام پر چلا گیا۔ میں کچن میں سب گھر والوں کے لیے ناشتہ بنا رہی
تھی۔ اچانک میری ساس دبے قدموں کچن میں داخل ہوئی اور پیچھے سے میرے کپڑوں کو آگ لگا دی جس سے میں گھبرا گئی اور بڑی مشکل سے آگ بجھائی۔ میری گھبراہٹ اور پریشانی پر سب گھر والے شیطانی قہقہے لگانے لگے۔ اس پر میں نے فوری طور پر عمران کو کام سے واپس بلایا اور سارا معاملہ اس کے سامنے رکھا۔ میری ساس نے جھوٹی قسمیں کھا کر کہا کہ ایسا کسی نے نہیں کیا بلکہ یہ محض غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس دن کے بعد میں اس گھر میں خوف زدہ رہنے لگی۔ مجھے رات کو بھی نیند نہ آتی۔ محسوس ہوتا جیسے میری ساس مجھے سوتے میں قتل کر دے گی۔ اس نفسیاتی خوف اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے میں بے خوابی کا شکار رہنے لگی۔
عمران کا کاروبار تسلی بخش نہ تھا۔ وہ اپنے کاروبار کے سلسلہ میں پریشان رہتا۔ ایک دن میں نے اس کے رویہ میں بے حد تبدیلی دیکھی۔ وہ گھنٹوں میرے پاس بیٹھا رہا۔ شام کو باہر سیر کے لیے پارک میں لے گیا اور رات کا کھانا ایک ہوٹل میں کھلایا۔ دوسرے دن وہ میرے لیے ایک قیمتی سوٹ لے کر آیا۔ میں اس کے رویہ پر بے حد حیران ہوئی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ مجھ سے بے حد پیار کرتا ہے اور جو بھی غلط فہمیاں تھیں، وہ سب دور ہو گئی ہیں۔ میں اس کی ان باتوں پر بے حد خوش ہوئی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے نئی زندگی مل گئی ہے۔ چند روز بعد عمران نے مجھے کہا کہ وہ اپنے بزنس کے حوالے سے بہت سی الجھنوں کا شکار ہے، لہذا میں اس کی مدد کروں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ میں اس کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟ اس نے فوراً کہا کہ تم اپنے والد سے فوری طور پر 10 لاکھ روپے لے کر آؤ تاکہ میں کاروبار کر سکوں۔ میں نے اسے کہا کہ میرے والد مجھے اتنی زیادہ رقم نہ دے سکیں گے۔ کیونکہ ایک تو ان کی اتنی مالی حیثیت نہیں اور دوسرے ابھی میری دو بہنیں اور ہیں جن کی شادی ہونا باقی ہے۔ لہذا اتنے پیسے لانا میرے لیے ناممکن ہے۔ میری بات سن کر عمران غصے سے پاگل ہو گیا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں امید سے ہوں، گھر میں پڑے پلاسٹک کے سخت پائپ کے ساتھ زدوکوب کرنے لگا۔ میں کمزور اور نازک اندام لڑکی ہوں۔ اس وحشیانہ پٹائی سے میں نیم بے ہوش ہو گئی۔ اتفاق سے رات کو میرے والد کا فون آیا تو انھوں نے میری کراہتی آواز سے اندازہ لگایا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ فوری طور پر آئے اور میرے سسرال والوں کو کچھ کہے بغیر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ گھر میں آ کر میں نے انھیں سارا ماجرا سنایا اور تخلیہ میں اپنی والدہ کو اپنے جسم پر زخموں کے تازہ نشانات دکھائے۔ میرے پورے جسم پر نیل پڑ
چکے تھے۔ اور جسم کا ہر حصہ شدید درد کر رہا تھا۔ ہمارے قریبی رشتے داروں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے ہمیں ہسپتال سے تشدد کا سرٹیفکیٹ لا کر تھانے جا کر مقدمہ درج کروانے کا مشورہ دیا۔ مگر میرے والد صاحب نے اس مشورہ پر عمل نہ کیا اور معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔ 2 ماہ تک عمران اور ان کے گھر والوں نے مجھ سے مکمل قطع تعلق کیے رکھا۔ ایک دن صبح کے وقت انھوں نے مجھے فون کیا اور اپنے رویہ پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ آئندہ ایسا واقعہ کبھی نہ ہوگا۔ تم فوراً گھر واپس آ جاؤ۔ شام کو عمران موٹر سائیکل پر مجھے لینے گھر آ گیا۔ میرے والدین کی وسیع الظرفی اور کشادہ دلی دیکھیے کہ انھوں نے میرا مستقبل بچانے کے لیے عمران سے کوئی شکایت کی اور نہ شکوہ، بلکہ اسے بڑا پُرتکلف کھانا کھلایا اور کہا کہ یہ تمہاری امانت ہے، تم اسے لے جاسکتے ہو۔ میں دوبارہ اپنے سسرال آ گئی چند ہفتے عمران کا رویہ میرے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ پھر رفتہ رفتہ ان کے رویہ میں حسب معمول تبدیلی آ گئی اور ایک دن غصے سے کہنے لگا کہ اگر تم اپنے والد سے 10 لاکھ روپے نہ لائی تو میں تمھیں طلاق دے دوں گا۔ میں یہ سن کر لرز گئی۔ میرا دل ڈوب ڈوب گیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو دیر تک سمجھ نہ پائی کہ کیا کروں۔ طلاق کی دھمکی کے الفاظ، کانوں میں مسلسل گونج رہے تھے۔ اسی دوران عمران نے ہمارے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے ایک چال چلی کہ اپنا نیا شناختی کارڈ بنوایا اور ہمارے علم میں لائے بغیر اپنا مستقل پتا میرے والدین کے گھر کا دے دیا۔
میرے والد صاحب کو عمران کی یہ حرکت بہت بری لگی لیکن وہ مصلحت کے تحت خاموش رہے۔
چند دنوں بعد عمران نے مجھے کہا کہ میرا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور اگر تمھیں میرے ساتھ رہنا ہے تو تمھیں قادیانیت اختیار کرنا پڑے گی۔ یہ سن کر ایک دفعہ پھر میرے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سر پر ہتھوڑا مار دیا ہو۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے حواس پر قابو پایا اور فیصلہ کیا کہ اب میں عمران کے ساتھ کبھی نہ رہوں گی۔ اس نے مجھے دھوکا دے کر میرے ساتھ شادی کی۔ قادیانی مذہب جھوٹا اور اسلام کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے۔ میں نے عمران سے کہا کہ تم نے میرے ساتھ دھوکا کیا اور اب میری مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر میرے ایمان پر ڈاکا ڈالنا چاہتے ہو۔ میں کسی قیمت پر اپنے ایمان کا سودا نہیں کروں گی۔ میری اس جرأت پر عمران نے مجھے نہایت گندی گالیاں دینا شروع کر دیں اور تھپڑوں اور گھونسوں سے مجھ پر تشدد شروع کر دیا۔ میں روتی اور چلاتی رہی مگر
وہاں موجود کوئی شخص میری مدد کو نہ آیا۔ اس نے مار مار کر مجھے ادھ موا کر دیا۔ کچھ دیر بعد مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ مجھے فوری طور پر یہاں سے لے جائیں ورنہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔ میرے والد فوراً آ گئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ اب حالات اس رخ پر تھے کہ کسی مصالحت کی گنجائش نہ تھی۔ یہ ایمان و کفر کا معاملہ تھا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو ساری روداد سنائی اور کہا کہ ایک مشرقی لڑکی ہونے کے ناتے میں اپنے خاوند کی ہر جائز و ناجائز بات اور زیادتی برداشت کر سکتی ہوں مگر اپنے قیمتی ایمان کا سودا نہیں کر سکتی۔ اب میں عمران کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا میں اس سے خلع لینا چاہتی ہوں۔
میرے والد ختم نبوت کے حوالہ سے بڑے حساس ہیں۔ انھوں نے نہ صرف میرے اس فیصلہ کی تائید کی بلکہ ہر مشکل میں میرا بھرپور ساتھ دینے کا عزم کیا۔ میں نے 8 ستمبر 2004ء کو عدالت میں خلع کے لیے درخواست دائر کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کیا کہ عمران احمد نے مجھے ذہنی، روحانی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا، یوں عدالت نے 23 نومبر 2004ء کو خلع کی ڈگری میرے حق میں جاری کر کے مجھے عمران کے چنگل سے آزاد کر دیا۔
آج کل میں اپنے والدین کے گھر ایک مطلقہ کی حیثیت سے رہ رہی ہوں۔ عدالت سے خلع کا فیصلہ ہو جانے کے باوجود عمران آئے روز گھر فون کر کے جان سے مار دینے، بچیاں اغوا کر لینے، چہرے پر تیزاب پھینک دینے اور گھر کو آگ لگا دینے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے تو ہم سب گھر والے سہم جاتے ہیں۔ ہم گھر سے باہر سودا سلف لاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ میں گھر میں مقید ہو کر رہ گئی ہوں۔ اغوا کے خوف سے گھر سے باہر قدم نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ خوف اور پریشانی کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ میرے والد صاحب اعصابی طور پر بے حد کمزور ہو گئے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ میرا مستقبل تباہ ہو گیا ہے۔ میں نفسیاتی مریضہ بنتی جا رہی ہوں۔ اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو شاید میں یہ قدم بہت پہلے اٹھا چکی ہوتی۔ (ثوبیہ روتے ہوئے کہتی ہے) خدارا ہماری مدد کیجیے! ورنہ میں روز قیامت پیارے آقا و مولا حضور خاتم النبیین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ہر صاحب اختیار مسلمان کی شکایت کروں گی کہ انھوں نے مجھے ایک قادیانی کے ظلم و ستم سے بچانے کی کوئی کوشش نہ کی۔“
قارئین محترم! یہ تھی ثوبیہ کی اذیت ناک اور درد بھری کہانی، جس کا ایک ایک لفظ
حکمرانوں کی روشن خیالی اور مسلمانوں کی بے حسی پر ہتھوڑے برسا کر ان کی غیرت وحمیت کو جگا رہا ہے۔ ٹھہریئے ! ایک لمحہ کے لیے سوچیئے ...... غور کیجیے! اگر ثوبیہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی تو ہمارا ردعمل کیا ہوتا؟ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیا ثوبیہ ہماری اخلاقی مدد کی بھی مستحق نہیں ہے؟ ثوبیہ عمر خدانخواستہ اگر عیسائی ، ہندو یا قادیانی ہوتی اور اس پر اتنا ظلم وتشدد اور زیادتی ہوتی تو ہماری فارن فنڈڈ این جی اوز آسمان سر پر اٹھا لیتیں لیکن ان کے نزدیک ثوبیہ کا جرم محض یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان لڑکی ہے۔ کاش آج کے دور میں محمد بن قاسم یا غازی علم الدین شہید زندہ ہوتے تو ایک مسلمان بچی کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سوا ارب مسلمانوں میں سے، کوئی ہے جو ثوبیہ کو خودکشی کا مرتکب ہونے سے روک سکے۔ اس کے آنسو پونچھ سکے، اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکے!
نوٹ: اگر کوئی صاحب ثوبیہ کی اخلاقی مدد کرنا چاہیں تو وہ میرے ای میل ایڈریس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ mateenkh@gmail.com
ایسے بھی ہوتے ہیں خوش نصیب!
انٹرنیٹ کی حیرت انگیز ایجاد نے دنیا کو گاؤں بنا دیا ہے۔ آپ کسی بھی موضوع سے متعلق اپنے گھر بیٹھے دنیا بھر کی معلومات پلک جھپکتے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں مختلف مذاہب عالم کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ وتشہیر بھی کرتے ہیں۔ ان میں قادیانی سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ اپنے مذہب کو اسلام اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس طرح وہ حق کے متلاشی غیر مسلموں کو اور بعض اوقات مسلمانوں کو شکوک وشبہات اور باطل تاویلات کے ذریعے گمراہ کر کے پھانس لیتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر قدرت حق بعض افراد کا انتخاب خود کرتی ہے۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں جناب پروفیسر سمیر ملک صاحب ہیں جو اپنی مخلص ٹیم کے ساتھ انٹرنیٹ پر قادیانیوں سے مناظرے کرتے ہیں۔ اس ٹیم میں جناب عامر خورشید صاحب، جناب عبداللہ صاحب، جناب عمر شاہ صاحب اور جناب سید محمد اسامہ گیلانی صاحب نمایاں طور پر پیش پیش ہیں۔ رد قادیانیت کے ماہر یہ نوجوان حضرات نہ صرف قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے زہریلے اور باطل شکوک و شبہات کا مکمل دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہیں بلکہ برجستہ متنازعہ قادیانی عبارات پیش کر کے انھیں میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس ٹیم کے ایک دبلے پتلے لیکن ایمانی طور پر نہایت مضبوط اور متحرک نوجوان جناب سید محمد اسامہ گیلانی کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ وہ تحریک ختم نبوت کے نامور اور بے باک مجاہد بزرگ جناب سیّد محمد امین گیلانیؒ کے پوتے اور منفرد طرز کے معروف شاعر اسلام جناب سید سلمان گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ اسامہ گیلانی دن بھر اپنے دفتر میں کام کرتے اور رات کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ انٹرنیٹ پر تحفظ ختم نبوت کے محاذ کو سنبھالتے ہیں۔ ایک رات وہ قادیانیوں کے شکوک و شبہات کا جواب دے رہے تھے کہ اچانک ایک قادیانی نوجوان نے اسامہ گیلانی کو سوال کیا ’’آپ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد (قادیانی)، اللہ تعالیٰ
کے گستاخ تھے۔ یہ بات آپ کے مولویوں کا پروپیگنڈا ہے۔ مرزا صاحب، اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ اس کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟“ یادرہے کہ جب اس قادیانی نوجوان نے جناب اسامہ کو یہ سوال کیا تو اس وقت انٹرنیٹ پر 100 سے زیادہ قادیانی اس بحث کو براہ راست ملاحظہ کر رہے تھے۔ بہرحال اسامہ گیلانی نے بڑی توجہ سے اس سوال کو پڑھا اور اس قادیانی نوجوان سے کہا کہ میں آپ کے سامنے مرزا صاحب کی کتاب کشتی نوح کا صفحہ نمبر 47 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50) کا عکس پیش کرتا ہوں۔ آپ اور باقی قادیانی حضرات سے میری گزارش ہے کہ اسے بغیر تعصب کے غیر جانبدار ہو کر غور سے پڑھیں اور دیکھیں مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی شان میں کس قدر بھیانک گستاخی کا ارتکاب کیا۔ یہ اقتباس مندرجہ ذیل تھا۔
- ”اُس (اللہ تعالیٰ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر
جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
پھر اسی سے متعلقہ مرزا قادیانی کے ایک مرید کی کتاب سے دوسرا حوالہ پیش کیا:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے
کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ، خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ
ڈھیٹ اور زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اسے دنیا میں لیٹرین میں عبرتناک موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب سے پیش کردہ عکس دیکھا، پڑھا تو وہ حیرت اور پریشانی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ اس نے نہایت پریشانی اور منت سماجت کے لہجہ میں اسامہ سے کہا: بھائی! خدارا اپنا فون نمبر دے دو۔ میں اس حوالہ کی تحقیق کے بعد آپ سے رابطہ کروں گا۔ اسامہ نے اسے اپنا موبائل نمبر دے دیا۔ تیر ٹھیک نشانے پر لگ چکا تھا۔ رات کے 2 بج رہے تھے، قادیانی نوجوان سونے کے لیے اپنے کمرے میں آگیا مگر نیند کوسوں دور تھی۔ پریشانی کے عالم میں تمام رات بستر پر کروٹیں لیتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے اپنے جاننے والے قریبی قادیانی مبلغین سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ”مجھے اپنے مذہب پر شک ہے۔ میرے کچھ سوالات ہیں، مجھے ان کا جواب چاہیے۔ میں اپنی آخرت برباد نہیں کر سکتا“۔ قادیانی مبلغین فوری طور پر اُس کے گھر پہنچے اور کہا: بتاؤ تمہارا کون سا سوال ہے؟ اس پر قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب کشتی نوح کا مذکورہ حوالہ پیش کیا اور کہا، کیا کوئی صحیح العقل آدمی ایسی باتیں کر سکتا ہے؟ قادیانی مبلغین نے حوالہ دیکھا تو سکتے میں آگئے اور اس کی مختلف تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ نوجوان نے کہا کہ وہ کوئی تاویل سننے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اب وہ اپنے مذہب کا غیر جانبدار ہو کر مزید مطالعہ کرے گا۔ اس پر قادیانی مبلغین بڑبڑاتے ہوئے غصے کے عالم میں چلے گئے۔ چند دنوں بعد نوجوان نے اسامہ گیلانی کو فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسامہ نے بخوشی اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس کی خوب آؤ بھگت کی، اس کے سوالات کے جواب دیے، شبہات دور کیے اور چند کتابیں ثبوت حاضر ہیں، احمدی دوستو! تمھیں اسلام بلاتا ہے، چھوٹا منہ بڑی بات، رد قادیانیت کے زریں اصول اور قادیانی شبہات کے جوابات وغیرہ پیش کیں اور درخواست کی کہ وہ ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرے۔ نوجوان نے وعدہ کرتے ہوئے اجازت چاہی۔ چنانچہ اُس نے مذکورہ کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور جہاں شک ہوا، وہاں متنازعہ حوالہ جات کا مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اصل قادیانی کتب سے موازنہ کیا۔ ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر سمیر ملک اور اُسامہ
گیلانی کے قادیانیوں سے مناظروں کو بھی بغور ملاحظہ کرتا رہا اور یہاں سے اہم حوالہ جات نوٹ کرتا رہا۔ تقریباً ایک ہفتہ بعد اس کا فون آ گیا۔ اس نے بھرائی ہوئی رقت آمیز آواز میں کہا: ہیلو، اسامہ! مبارک ہو! میں نے حق کو پا لیا۔ میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ اسامہ نے نہایت خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا: ’مرحبا مرحبا، مصطفیٰ احمد صدیقی! مرحبا، اب تم میرے بھائی ہو۔ میں تمھیں لینے کے لیے خود تمھارے گھر آ رہا ہوں۔ اسامہ بجلی کی تیزی سے مصطفیٰ احمد صدیقی کے گھر پہنچا۔ اسے گلے لگایا، ہاتھ چومے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک ٹیم کے ساتھ اسے حضرت نفیس شاہ الحسینیؒ کے ہاں لے گیا۔ جہاں حضرت کو تمام داستان سنائی۔ علالت کے باوجود حضرت نے نہایت خندہ پیشانی سے کھڑے ہو کر اس نوجوان کو گلے لگایا۔ اسے اسلام قبول کروایا اور ایمان کی اہمیت و فضیلت کے بارے میں تفصیلاً بتایا۔ اس موقع پر حضرت نے مصطفیٰ احمد صدیقی کے اعزاز میں ایک پر تکلف چائے کا اہتمام کیا اور آخر میں ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ اسے اپنی خانقاہ سے رخصت کیا۔
ایک دفعہ مصطفیٰ احمد صدیقی نے اپنے قریبی دوستوں کی محفل میں اپنا ایک ایمان افروز خواب بیان کرتے ہوئے کہا ”میرے والد محترم رفیق احمد صدیقی قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکے تھے۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ ایک رات وہ میرے خواب میں تشریف لائے۔ نہایت سفید رنگ کا بہترین کرتہ شلوار پہنے، ہاتھ میں تسبیح لیے، درود شریف پڑھتے ہوئے مسجد کی طرف جاتے ہوئے مجھے گلے لگایا اور آسمان سے آتی ہوئی نور بھری روشنی کی طرف اشارہ کر کے مجھے اُسے حاصل کرنے کی تلقین کی۔ گویا میرے والد محترم مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دے رہے تھے“۔
اسلام قبول کرنے کے بعد مصطفیٰ احمد صدیقی کی کایا پلٹ چکی تھی۔ پہلے وہ قادیانیت کا دفاع کرتا تھا، اب وہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں رات بھر انٹرنیٹ پر بیٹھا رہتا اور قادیانیوں کو مناظرے اور مباحثے کی دعوت دیتا۔ انہیں قادیانی کتب سے متنازعہ عبارات پڑھنے کی ترغیب دیتا، آنجہانی مرزا قادیانی کے غلیظ کردار اور اس کے جھوٹے ہونے پر انھیں ناقابل تردید حوالے اور شواہد پیش کرتا، اس حوالے سے انہیں چیلنج کرتا اور پھر انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا۔ اس پر قادیانی اپنے جھوٹے نبی کی عادت پر عمل کرتے ہوئے اسے گندی گالیاں دیتے، سرکاری مسلمان کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے اور اسے عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیتے۔ لیکن وہ یہ سب کچھ
بڑے تحمل اور صبر سے سنتا اور انھیں کہتا خدا کی قسم! میں تمہارا سچے دل سے خیر خواہ ہوں۔ میں تمھیں جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروانا چاہتا ہوں۔ مصطفیٰ احمد صدیقی مسلسل 2 سال تک انٹرنیٹ پر یہ جانگسل فرائض سرانجام دیتا رہا۔ اس دوران وہ اکثر قادیانیوں سے پوچھتا کہ تمہاری محفلوں میں ہر وقت مرزا قادیانی کا ذکر ہوتا ہے، لیکن حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا ذکر مبارک نہیں ہوتا، آخر کیوں؟ قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتا اور وہ خاموش ہو جاتے۔ مصطفیٰ احمد صدیقی اپنے گھر والوں کو دعوت اسلام دیتا مگر گھر والے اس سے انتہائی متعصبانہ اور سوتیلے پن کا برتاؤ کرتے، اُسے اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے لیکن وہ پہاڑ ایسی استقامت لیے مضبوطی سے اس پر قائم رہا۔ قادیانی مبلغین نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اس نے ہمیشہ انہیں شکست فاش دی۔ وہ اکیلا اُن سے مناظرے کرتا اور انہیں لاجواب کر دیتا۔ ایک دفعہ اُس کے ماموں طاہر، کزن نعمان (انتہائی متعصب اور جنونی قادیانی) اور مبلغین نے مصطفیٰ احمد صدیقی سے کہا کہ بتاؤ تمہیں قادیانی مذہب کی کس چیز پر اعتراض ہے؟ اس پر مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُنہیں کہا کہ مرزا قادیانی جسے آپ نبی، رسول، مسیح موعود اور مہدی وغیرہ کہتے ہیں، اس کا کردار اس قابل نہیں کہ اُسے ایک شریف انسان بھی کہا جاسکے۔ اُس کی تمام پیش گوئیاں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ پھر اس نے مرزا قادیانی کی وحیوں پر مشتمل کتاب ”تذکرہ“ سے ایک نشان زدہ صفحہ نکال کر دکھانے کی کوشش کی تو اُس کے کزن نعمان نے اُس سے زبردستی کتاب چھین لی اور اُسے برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ بعض نبیوں کی پیش گوئیاں بھی پوری نہیں ہوئی تھیں (نعوذ باللہ) اس پر مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُنہیں چیلنج کیا کہ اگر آپ قرآن وسنت سے اس کی کوئی ایک بھی مثال پیش کردیں تو میں آپ کو منہ مانگا انعام دوں گا۔ اس پر سب کو سانپ سونگھ گیا اور وہ غصے کے عالم میں واپس چلے گئے۔
علامہ اقبال ٹاؤن میں قادیانی مبلغین کے ساتھ ایک اور مناظرے کے دوران میں جب مصطفیٰ احمد صدیقی نے مرزا قادیانی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے انہیں لاجواب کیا تو اس کے کزن نعمان نے بے اختیار اسے گندی گالیاں دینی شروع کردیں۔ اس کے ماموں طاہر نے کہا کہ تم مرتد ہو گئے ہو، قادیانی مبلغین نے کہا کہ مولویوں نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ نوجوان نے یہ سب کچھ بڑے تحمل سے سنا، برداشت کیا اور پھر اعتماد سے کہا آپ مجھے مطمئن کرنے آئے ہیں یا ذلیل۔ کیا یہی خوش اخلاقی ہے جس کا آپ ہر وقت پوری دنیا میں ڈھنڈورا
پیٹتے ہیں۔ آپ کا تو نعرہ ہے "Love for all hatred for none" یعنی ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“۔ لیکن آپ سب کچھ اس کے برعکس کر رہے ہیں۔ بہرحال آپ مجھے اس سے بھی زیادہ طعن و تشنیع کر لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ میرے عقیدے کا معاملہ ہے۔ آپ مجھے مطمئن کریں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔ لیکن وہ سب نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔
کچھ عرصہ پہلے مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُسامہ گیلانی کو فون پر بتایا کہ میرے ماموں طاہر نے مستقل طور پر ایک خطرناک قادیانی مربی میرے پیچھے لگا دیا ہے۔ وہ اکثر مجھے قادیانی عبادت گاہ میں بلاتا ہے لیکن میں اکیلے نہیں جانا چاہتا۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ اُسامہ گیلانی نے جناب سمیر ملک سے رابطہ کیا تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ کسی قریبی عزیز کی شادی کے سلسلہ میں شہر سے باہر جا رہے تھے، لیکن انہوں نے گاڑی واپس اپنے گھر کی طرف موڑ لی اور تھوڑی دیر کے بعد مناظرے کے لیے بتائے ہوئے ایڈریس پر قادیانی عبادت گاہ واقع گلشن راوی پہنچ گئے۔ جناب سمیر ملک نے قادیانی مبلغ کو مناظرے کے میدان میں چاروں شانے چت کر دیا۔ مربی نے فوراً مصطفیٰ احمد صدیقی کے ماموں طاہر احمد کو فون کیا اور کہا کہ یہ لڑکا ہمارے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکا ہے اور جماعت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اُسے باقاعدہ دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔
13 فروری 2009ء کی شام مصطفیٰ احمد صدیقی اپنے دفتر سے گھر جا رہا تھا کہ سڑک پر بارش کی پھسلن سے اس کا موٹر سائیکل ایک ریڑھے سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوراً جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ اپنے خاندان میں واحد مسلمان اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کا والد کئی سال پیشتر فوت ہو چکا تھا۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے ماں اپنے بیٹے کی میت اپنے بھائی (مصطفیٰ صدیقی کا ماموں طیب قادیانی) کے گھر مرغزار کالونی لے آئی۔ جہاں تمام قادیانی رشتہ دار اکٹھے ہو گئے۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کی بڑی ہمشیرہ کینیڈا رہتی ہیں۔ اس نے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کا آخری دیدار کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس کی تدفین ایک دن کے لیے ملتوی کر دی جائے۔ چنانچہ مصطفیٰ احمد صدیقی کی میت عادل ہسپتال مین بلیوارڈ ڈیفنس کے سرد خانے میں رکھ دی گئی۔ ہفتہ کی رات کارکنان ختم نبوت کو اس حادثہ
فاجعہ کا علم ہوا تو جناب عامر خورشید صاحب نے فوراً دوستوں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں ختم نبوت لائرز فورم کے عہدیداروں کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی۔ اجلاس میں سب سے پہلے اس بات پر غور وخوض کیا گیا کہ کہیں یہ قتل کی واردات تو نہیں؟ اس کی فوری تفتیش کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے جائے وقوعہ سے ٹھوس شہادتیں حاصل کرنے کے بعد ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جن کے پاس مصطفیٰ احمد صدیقی صاحب کو جناح ہسپتال لے جانے کا ریکارڈ تھا۔ پھر جناح ہسپتال کی ایمرجنسی سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصطفیٰ احمد صدیقی کے سینے اور چہرے پر زخموں کے نشان تھے اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ تھا۔
اس کے بعد قادیانیوں سے مسلمان میت کے حصول کا معاملہ پیش آیا۔ چنانچہ بزرگوں سے مشورہ کرنے کے بعد کارکنان ختم نبوت کی ایک ٹیم اہل محلہ کے ساتھ قادیانیوں کے گھر گئی اور انھیں بتایا کہ چونکہ مصطفیٰ احمد صدیقی قادیانی مذہب سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکا تھا۔ اس لیے اس کی تجہیز وتکفین کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ اس کی میت ہمارے حوالہ کر دیں، ہم اسے اسلامی طریقہ سے سپرد خاک کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں نے شروع میں کچھ لیت ولعل سے کام لیا مگر بعد میں کارکنان ختم نبوت کے جذبے اور تیور دیکھ کر میت، برادر گرامی جناب عامر خورشید صاحب کے حوالہ کر دی۔ کارکنان ختم نبوت فرط جذبات سے میت سے لپٹ گئے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ کوئی مصطفیٰ احمد صدیقی کی پیشانی چوم رہا تھا اور کوئی اس کے پاؤں کو بوسہ دے رہا تھا۔ قادیانی یہ منظر دیکھ کر حیران ہو رہے تھے...... انھیں واقعی حیران ہونا چاہیے تھا۔ میت کو مسنون طریقے سے غسل دے کر نہایت سفید اور اجلا کفن پہنایا گیا۔ میت کے ارد گرد گلاب کے ہزاروں پھول مصطفیٰ احمد صدیقی کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ کوئی یقین نہیں کر رہا تھا کہ میت پر 40 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ کیونکہ اس کے جسم سے معطر اور بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح نہایت خوبصورت اور تر و تازہ تھا۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ طاری تھی۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اچانک بیدار ہو کر ابھی سب کو حیران کر دیں گے۔ جنازہ اٹھانے سے پہلے مصطفیٰ احمد صدیقی صاحب کی والدہ اور بہنوں نے چہرہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بزرگوں سے مشورہ کے بعد اس امید پر کہ شاید اللہ تعالیٰ انھیں بھی
ہدایت نصیب فرما دے، اجازت دے دی گئی۔ ان کے ساتھ اور بھی رشتہ دار خواتین تھیں۔ وہ دیر تک مصطفیٰ احمد صدیقی کے چہرے کا آخری دیدار کرتی رہیں۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کی والدہ نے جانے سے پہلے وہاں پر موجود کارکنان ختم نبوت کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا: ”آفرین ہے آپ پر، آپ لوگوں نے میرے بیٹے کو دولہا بنا دیا ہے۔“ اس پر ایک کارکن نے جواباً کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اپنے بیٹے کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔“
ٹھیک دو بجے جب مصطفیٰ احمد صدیقی کا جنازہ تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ لوگ پرجوش جذبات میں نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ سینکڑوں روتی ہوئی آوازوں کا ایک تسلسل تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ یہ ایک ایسا ایمان افروز منظر تھا جسے کبھی نہ بھلایا جا سکے گا۔ قادیانیوں کا خیال تھا کہ اس نوجوان کے جنازہ میں محض گنتی کے چند لوگ شریک ہوں گے۔ ایسے موقع پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ یاد آتے ہیں جنہوں اپنے ایک مخالف کے جواب میں فرمایا تھا: ”حق و باطل کے درمیان ہمارے مقام کا تعین خود ہمارا جنازہ کرے گا“ مصطفیٰ احمد صدیقی کے جنازے نے فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ حق پر ہے اور اس کے مخالفین باطل۔ مجاہد ختم نبوت کی میت کو کندھا دینے کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ کئی عاشقانِ رسول ﷺ جنازہ کی چارپائی کو ہاتھ لگا کر اپنے جسم پر پھیرتے اور اس کو اپنے لیے باعث برکت کہتے۔ نمازِ جنازہ مجاہد ختم نبوت ممتاز عالم دین، حضرت مولانا عبدالرحمٰن مدظلہٗ نے پڑھائی۔ مرکز سراجیہ کے مہتمم جناب صاحبزادہ رشید احمد مدظلہٗ اور مولانا محبّ النبی سمیت علماء کرام کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت فرمائی۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کے قریبی دوستوں جناب میاں آصف جاوید صاحب اور جناب وقار الحسن صاحب کے علاوہ دنیا ٹی وی چینل کے درجنوں کارکنوں نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر احقر نے شرکاء جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے انھیں جناب مصطفیٰ احمد صدیقی کے قبول اسلام کی پوری روداد سنائی اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر اس کی گرانقدر خدمات بیان کیں۔ احقر نے عرض کیا کہ عموماً جنازے میت کی مغفرت کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ جنازہ خود شرکاء کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ یہ رتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا۔ میں نے عرض کیا کہ اس نوجوان کی عمر صرف 2 سال تھی کیونکہ اس نے 20 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور 22 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
مصطفیٰ احمد صدیقی کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا ایک بار پھر ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ کارکنان ختم نبوت دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور الوداع الوداع مصطفیٰ احمد صدیقی الوداع کے نعرے لگا رہے تھے۔ تب سے اب تک، وہ ایمان افروز منظر، روبرو ہے، یہ سطور لکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مصطفیٰ احمد صدیقی نے پہلے کلمہ شہادت پڑھ کر نبی پاک ﷺ کے آخری نبی ہونے کی گواہی دی اور دو سال بعد وہ حادثاتی موت کی شکل میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوا۔ اس وقت مجھے محترم نعیم صدیقی کی یہ نظم (ایک دو لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ) فضا میں تلاطم برپا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔
رسن کا حلقہ ادب سے کھولو!
دبے دبے پاؤں ، ہولے ہولے ، سبک سبک طرز سے چلو یاں!
ادب سے لو سانس دھیما دھیما، بلند آواز میں نہ بولو!
تمام دیوار و در سجاؤ ، تمام ماحول کو سنوارو!
درود پڑھ کر، سلام کہہ کر، یہاں پہ نذر وفا گزارو!
ادب سے اس نعش کو اتارو!
یہ نعش مصطفیٰ احمد صدیقی کی ہے!
مصطفیٰ احمد صدیقی! جس نے اذیتوں سے مئے تمنا کشید کی ہے!
مصطفیٰ احمد صدیقی! جس نے بدن کے بدلے حیات دائم خرید کی ہے!
یہ پاک میت ہے ایک سورج! ضیاء یہ صبح امید کی ہے!
مصطفیٰ کی نعش کے ادب میں!
تمام تاریخ رک گئی ہے!
زماں کی گردش ٹھہر گئی ہے!
ہیں علم و فن دست بستہ حاضر
مصطفیٰ کی نعش کے ادب میں تمام تہذیب جھک گئی ہے
وہ روح سقراط آ رہی ہے جلو میں شاگرد اپنے لے کر ادھر یہ دیکھو حسینؓ بسمل !!!
کسی کے ہاتھوں میں تیغ براں، کوئی لیے خامہ و صحیفہ !
سدا بہار اپنے زخم لے کر ، پرو کے زخموں کے ہار لائے !
مری نگاہیں یہ دیکھتی ہیں !
فلک سے قدسی اتر رہے ہیں !
پرے وہ باندھے ہوئے مسلسل
صلیب گہ سے گزر رہے ہیں
وہ حوریں آئیں اٹھائے پرچم
نئے مجاہد کا خیر مقدم
حکایتِ جہد آدمی کا یہ نقش عنوان بن گئی ہے
یہ جانِ ایمان بن گئی ہے! یہ حشمت سامان بن گئی ہے !
ادب سے اس نعش کو اتارو !
الوداع ! مصطفیٰ احمد صدیقی ، الوداع !!!
قارئین کرام ! رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی ہے ۔ میں اپنی لائبریری میں بیٹھا نہایت رنج و الم کے عالم میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں ۔ تصور میں اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ جناب مصطفیٰ احمد صدیقی میرے سامنے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں ۔ انکل متین ! آپ کا اور آپ کے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ ۔ میں نے کہا : بیٹا ! کس بات کا ؟ کہنے لگے : آپ لوگوں نے مجھے جہنم سے نکالا اور میری تجہیز و تکفین بڑے شایانِ شان طریقے سے کی ۔ میں نے عرض کیا : یہ تو ہمارا فرض تھا ۔ پھر نجانے کیوں میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا ۔ اس پر مصطفیٰ احمد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے انکل ۔ کیا آپ اللہ کی رضا پر خوش نہیں ؟ میں نے عرض کیا : یار صدیقی ! میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہزار بار خوش ہوں ۔ تم ایسا آفتاب ہو جس کی روشنی سے بے شمار تاریک دل منور ہوئے ، تم ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر ہو، تم لاکھوں میں ایک ہو، تم نے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کر کے ہمارے جذبوں کو از سرِ نو زندہ کیا ہے ۔ اس لیے ایک کمزور انسان ہونے کے ناتے تمہاری جدائی برداشت نہیں ہو رہی ۔ میں روتے ہوئے اسے کہتا ہوں ، صدیقی ! تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے دوست کس قدر غم سے
نڈھال ہیں، وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہیں، تمہاری جدائی میں وہ مسلسل آنسو بہا رہے ہیں، تمھارے بغیر انٹرنیٹ پر بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہو رہے اور ہاں! تمہارا جگری دوست اسامہ، ابھی تک تمہاری موت کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس پر مصطفیٰ صدیقی مجھے کہتے ہیں: ”انکل! آپ کو معلوم نہیں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کی کس قدر بارش ہو رہی ہے۔ فرشتے میری قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔ یہ محض تحفظ ختم نبوت کے کام کی برکت کا نتیجہ ہے۔ آپ سب دوستوں کو میرا پیغام دے دیں کہ آخرت میں کامیابی کا سب سے آسان راستہ صرف تحفظ ختم نبوت کا کام ہے۔ بے شمار قادیانیوں کو نہیں معلوم کہ وہ کس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؟ ان بھولے بھٹکے قادیانیوں کو دعوت اسلام دینا ہمارا اولین فریضہ ہے، اس سے ذرا سی بھی روگردانی یا کوتاہی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ ناراض ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس محاذ پر پہلے سے زیادہ محنت اور مستعدی سے کام کریں۔ آپ ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔“ میں سسکیوں اور ہچکیوں میں مصطفیٰ احمد صدیقی سے دست بستہ عرض کرتا ہوں ! یار مصطفیٰ! روز قیامت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہماری مغفرت کے لیے بھی درخواست کر دینا۔ اس پر مصطفیٰ کہنے لگا: انکل! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آپ سب دوستوں کی مغفرت و بخشش کی ضرور درخواست کروں گا۔ پھر وہ قریب آ کر میرے کان میں سرگوشی کے انداز میں مسکرا کر کہتا ہے: میں آپ دوستوں کے بغیر جنت میں نہیں جاؤں گا۔ پھر وہ سلام کہہ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسی اثناء میں قریبی مسجد سے تہجد کی اذان بلند ہوتی ہے۔ میں اسے قبولیت کی گھڑی تصور کرتا ہوں۔ اللهم صلی علیٰ محمد خاتم النبیین و خاتم المرسلین.
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
۞.......۞.......۞
ایک قادیانی کے خط کے جواب میں
معروف سکالر، محقق، دانشور اور منکرین ختم نبوت کے خلاف ہمہ وقت جہاد کرنے والے تحفظ ختم نبوت کے جانباز جرنیل جناب الیاس ستار صاحب نے 1999ء میں قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا طاہر احمد کے جاری کردہ مباہلہ کو قبول کرنے کا اعلان کیا تو قادیانیوں کے ہاں کھلبلی مچ گئی۔ پھر جناب الیاس ستار صاحب نے بڑی جاں گسل محنت اور دیدہ ریزی کے بعد مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس کی تضاد بیانیوں پر، پوری دنیا کے قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی کے ججوں پر مشتمل دنیا کی کسی بھی عدالت میں میرے سوالوں کا جواب دے دیں تو میں انھیں ایک کروڑ روپیہ نقد انعام دوں گا۔ ان کا چونکا دینے والا یہ چیلنج لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل چکا ہے جس سے مسلمانوں کے ایمان کو ایک نئی حرارت اور ولولہ تازہ ملا جبکہ قادیانیوں کے ہاں نہ صرف سوگ کا عالم بلکہ انھیں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس تاریخی چیلنج کے نتیجے میں کئی قادیانی، قادیانیت پر تین حرف بھیج کر اسلام کی آغوش میں آچکے ہیں۔ جناب الیاس ستار کا یہ چیلنج تاریخ میں ہمیشہ زندہ اور قادیانیوں کو رسوا کرتا رہے گا۔
جناب الیاس ستار صاحب کی انہی خدمات کے پیش نظر میں نے انھیں ایک خط لکھا جس میں قادیانیت کے خلاف ان کی گرانقدر خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کیا اور رضا کارانہ طور پر ہر ممکن تعاون کی بھی پیشکش کی۔ بعدازاں جناب الیاس ستار صاحب نے میرا یہ خط میرے تعارف کے ساتھ اپنے پرچہ ”ماہنامہ صوت الاسلام کراچی“ (دسمبر 2001ء) میں شائع کر دیا۔ اس خط کی اشاعت کے بعد کوٹلی افغاناں تحصیل و ضلع منڈی بہاؤالدین سے ایک قادیانی ریاض احمد کا مکتوب موصول ہوا جس میں انھوں نے نہ صرف جناب الیاس ستار صاحب پر اپنی روایتی طنز کے تیر چلائے بلکہ اس عاجز کو بھی طعن کیا۔ ریاض احمد قادیانی نے اپنے خط میں لکھا:
- ”آپ کا مکتوب ماہنامہ ”صوت الاسلام“ میں شائع شدہ پڑھا۔ میں
جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں آپ کا خط پڑھ کر بہت حیران ہوا کہ مکرم الیاس ستار صاحب کی علمیت سے ہماری نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ آپ کی شناخت کی بھی داد دینی پڑتی ہے۔ بہرحال آپ کے خط سے آپ کی اپنی تحقیق کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ آپ نے کیا کوئی نئی تحقیق کی ہے؟ یا وہی پرانی باتیں دہرا رہے ہیں جو سوا سو سال سے چل رہی ہیں اور اب بے اثر ہوچکی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ”نئی تحقیق“ سے مجھے بھی آگاہ فرمائیں گے۔ شکریہ! خاکسار ریاض احمد کوٹلی افغاناں ڈاک خانہ خاص۔ تحصیل وضلع بہاؤالدین۔
میں عرصہ 25 سال سے ایک طالب علم کی حیثیت سے قادیانیت پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 10 سال کی شب و روز آہن گداز محنت سے ایک کتاب ”ثبوت حاضر ہیں!“ تیار کی۔ میں نے اس کتاب کے شروع میں ”چیلنج“ کے عنوان سے لکھا ہے:
- ”یہ کتاب اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی، مرزا غلام احمد
قادیانی، اس کے بیٹوں، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر قادیانیوں کی مستند تصانیف اور اخبارات ورسائل کی قابل اعتراض اور کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے۔ قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ان عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہم اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کی صداقت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ) کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں موجود کوئی بھی عکس غیرحقیقی ہو یا ایک بھی حوالہ من گھڑت پایا جائے تو ہم اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہیں۔ بصورت دیگر انہیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آ جانا چاہئے۔ ہے کسی قادیانی میں جرأت
جو ہمارے اس چیلنج کو قبول کرے؟“ اب تک اس کتاب کے 15 سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں مگر آج تک کسی قادیانی نے بھی اس کتاب میں موجود کسی بھی عکسی ثبوت سے انکار نہیں کیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے نہ صرف کئی قادیانیوں نے اسلام کے دامن میں پناہ لی بلکہ بے شمار مسلمان، قادیانیوں کے بظاہر سنہرے لیکن خطرناک جال میں پھنسنے سے بچ گئے۔ میں اس ادنیٰ خدمت پر اظہار تشکر کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس محاذ پر ہمیشہ مجھ سے یہ مزدوی لیتا رہے۔
قادیانیت کے بارے میں میری کئی ایک تحقیقات ہیں جنھیں صفحات کی کمی کی وجہ سے یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بہرحال ان میں سے تین نئی تحقیقات حاضر ہیں۔
مجھے سیکڑوں قادیانیوں سے مناظرہ اور تبادلہ خیال کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان میں کئی پڑھے لکھے قادیانی اور تنخواہ دار مربی بھی شامل ہیں۔ مجھے ان میں سے آج تک کوئی ایک بھی قادیانی ایسا نہیں ملا جس نے اپنے نبی مرزا قادیانی کی تمام کتب کا مطالعہ کیا ہو۔ بہت کم قادیانی ہوں گے جنھوں نے مرزا کی زیادہ سے زیادہ 5 یا 10 کتابیں پڑھی ہوں گی۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے کہ جو قادیانی میری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا، اس کا مرزا قادیانی پر ایمان مشکوک ہے۔ اس سلسلہ میں مزا قادیانی کے بیٹے کی کتاب سے نہایت معتبر حوالہ ملاحظہ کیجیے:
- □ ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے
تھے کہ ہمارے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔“
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 78 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
ریاض احمد قادیانی کو میرا چیلنج ہے کہ اگر اس نے مرزا قادیانی کی تمام کتب تین دفعہ پڑھی ہوں تو وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر کسی بھی محفل میں آ کر اس کا اعلان کرے تو میں اسے منہ مانگا انعام دینے کو تیار ہوں اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو انھیں میری اس تحقیق کا اعتراف کرنا چاہئے:
میری دوسری تحقیق یہ ہے کہ قادیانیوں کی بنیادی کتابیں ایک عرصہ دراز سے ناپید ہیں اور ایک خاص مصلحت کے تحت انھیں شائع نہیں کیا جا رہا۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن میں
اسلام، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، صحابہ کرامؓ، اہل بیت، قرآن و حدیث، مقدس شخصیات اور اکابرین امت کا نہ صرف مذاق اور تمسخر اڑایا گیا ہے بلکہ طعن و تشنیع اور تضحیک و تحقیر کا کوئی پہلو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ان کتابوں میں ایسی دل آزار تحریریں ہیں جن کو پڑھنا اور سننا تو درکنار، صرف ان کے تصور سے ہی کلیجا منہ کو آتا ہے۔ ان کتابوں میں خصوصی طور پر ”ایک غلطی کا ازالہ“ مصنفہ مرزا قادیانی ”تذکرہ یعنی وحی مقدس و مجموعہ الہامات (قادیانیوں کا اصل قرآن)“ از مرزا قادیانی ”کلمۃ الفصل“ از مرزا بشیر احمد ایم۔اے (مرزا غلام احمد کا بیٹا)، ”سیرت المہدی“ (مرزا غلام احمد قادیانی کی سوانح اور حالات زندگی) از مرزا بشیر احمد ایم۔اے، ”انوار خلافت“ از مرزا بشیر الدین (مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ) ”حقیقۃ النبوۃ“ از مرزا بشیر الدین ”حقیقۃ الرؤیاء“ از مرزا بشیر الدین، ”آئینہ صداقت“ از مرزا بشیر الدین، ضمیمہ رسالہ درود شریف از محمد اسماعیل، ”اسلامی قربانی“ از مرزا یار محمد قادیانی، ”خطوط امام بنام غلام“ از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی ”ذکر حبیب“ از مفتی محمد صادق قادیانی اور ”تذکرۃ المہدی“ از پیر سراج الحق قادیانی شامل ہیں۔
قادیانیوں میں اگر ہمت ہے تو ذرا ان کتابوں کو اصل حالت میں شائع کر کے پبلک میں تقسیم کریں اور پھر دیکھیں کہ غیرت و حمیت سے سرشار مسلمان کس طرح ان کا حشر کرتے ہیں۔ انصاف اور اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ قادیانی ان اشتعال انگیز اور جذبات میں آگ لگا دینے والی کتابوں کا دفاع کرنے کی بجائے ان سے اپنی برأت کا اعلان کریں اور ان کتابوں کے مردود مصنفین پر لعنت بھیجیں جنھوں نے یہود و ہنود کے اشارے پر ختم نبوت پر حملہ آور ہو کر اسلام کو زمین بوس کرنے کی ناپاک اور ناکام جسارت کی۔ میرا دعویٰ ہے کہ اگر یہ کتب دوبارہ شائع ہو کر کم از کم قادیانیوں میں ہی تقسیم ہو جائیں تو آدھے سے زیادہ قادیانی اپنے مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیں گے اور مجھے پورا یقین ہے کہ قادیانی کسی بھی قیمت پر اپنی مذکورہ توہین آمیز کتب شائع نہیں کریں گے۔
قادیانیت کے بارے میں میری تیسری اور نہایت دلچسپ تحقیق یہ ہے کہ قادیانیوں کی نئی نسل بذات خود اپنے نام نہاد نبی ”مرزا غلام احمد قادیانی“ سے دلی طور پر متنفر ہے مگر ایک خطرناک تنظیمی نیٹ ورک کی وجہ سے کھلے عام اس کا اظہار نہیں کرتی۔ آپ کسی بھی قادیانی سے اس کے بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں وغیرہ کے نام پوچھ لیں، کسی کا نام ”غلام احمد“ نہیں ہوگا۔
بہت تلاش و بسیار کے بعد شاید آپ کو تقریباً ایک ہزار میں سے بمشکل ایک کا نام مرزا قادیانی کے نام پر ملے گا۔ جبکہ مسلمانوں کے ہاں ہر دوسرے شخص کا نام حضور نبی کریم ﷺ کے مبارک اسم گرامی ”محمد“ اور ”احمد“ سے شروع یا ختم ہوتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کو پوری دنیا میں شاید ایک بھی قادیانی ایسا نہ ملے جس کا نام ”غلام غلام احمد“ ہو یعنی مرزا قادیانی کا غلام۔ جبکہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی اکثریت اپنے نام نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ”غلام محمد“ اور ”غلام احمد“ رکھتی ہے۔ یہ ان کی حضور نبی کریم ﷺ سے لامحدود اور بے پناہ محبت کا نتیجہ ہے۔
چند دنوں تک میری نئی کتاب ”قادیانیت، اس بازار میں“ شائع ہو رہی ہے جس میں مرزا قادیانی سے لے کر قادیانی خلیفوں تک، تمام سرکردہ قادیانیوں کے شرم و حیا سے عاری بدترین اخلاق باختہ جنسی سکینڈلز عکسی ثبوتوں کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ میں یہ کتاب ریاض احمد قادیانی کے ساتھ ساتھ قادیانی جماعت کے سربراہ کو بھی بھجوا رہا ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ کہ وہ اس کتاب کو خالی الذہن ہو کر پڑھیں اور اس دعا کے ساتھ کہ وہ چند روزہ زندگی کی عارضی آسائشوں کو خیر باد کہتے ہوئے روز محشر اللہ تعالیٰ کے حضور سخت جواب دہی کی فکر کرتے ہوئے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آ جائیں اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں کہ ان کی وجہ سے اسلام کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت کے طفیل انہیں معاف کر دے، بے شک وہ نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے!!
تذکرہ، قادیانیوں کا اصل قرآن
قادیانیوں کی مقدس کتاب ”تذکرہ“ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی پر اترنے والی خود ساختہ وحیوں اور الہامات کا مجموعہ ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک اس کی حیثیت نعوذ باللہ قرآن مجید جیسی ہے، کیونکہ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام وحیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں (نعوذ باللہ)! یہی وجہ ہے کہ قادیانی اس کتاب میں موجود ہر وحی کو ”وحی مقدس“ کا درجہ دیتے ہیں۔ قرآن مجید کے بہت سے نام ہیں جن میں ایک نام ”تذکرہ“ بھی ہے۔ قادیانیوں نے دجل وتلبیس سے کام لیتے ہوئے اس کا نام ”تذکرہ“ رکھا۔
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 173 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ کیجیے:
- ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“
اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ مندرجہ بالا عبارت قرآن مجید کی آیت ہے اور قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن مجید میں قادیان کا نام درج ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ آیت قرآن مجید کے کس پارہ اور رکوع میں درج ہے۔
مرزا قادیانی نے ایک کشف میں دیکھا کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ نبوت ورسالت کا دعویدار ہے، اس لیے اس کے کشف پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا کیجئے کہ مسلمانوں کے قرآن میں قادیان کا ذکر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا کشف ملاحظہ کیجیے:
- ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر
میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی کس سورہ یا رکوع میں یہ آیت موجود ہے جس میں قادیان کا نام درج ہے؟ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کشف ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کا کشف اور خواب وحی ہوتا ہے۔
آنجہانی مرزا قادیانی قرآن مجید اور اپنی وحیوں کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا ہے؟ ملاحظہ کیجیے:
- ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مزید کہا:
- ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں
جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ اپنی نمازوں اور عبادات میں مرزا قادیانی کی وحیاں اور
الہامات کیوں نہیں پڑھتے جبکہ مرزا قادیانی نے اسے قرآن کے مساوی قرار دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
بخدا پاک دانمش زخطاء
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمینست ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہان خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القاء
وان یقین کلیم بر تورات
وان یقین ہائے سید سادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین“
ترجمہ: ”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے، جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے جو یقین عیسیٰؑ کو اپنی وحی پر، موسیٰؑ کو توریت پر اور حضور ﷺ کو قرآن مجید پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں ، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ
کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا ....... اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے، اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 103، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں ۔“ (حقیقة الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 19، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی)
قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی چند وحیاں ملاحظہ کیجیے:
- ”انا اعطیناک الکوثر. فصل لربک و انحر. ان شانئک ھو الا بتر“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 235 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”انا اعطیناک الکوثر یعنی ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کریں گے اور ایک کثیر
جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گزر گئے اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہو گئی اور ان دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔“
(نزول المسیح صفحہ 133 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 509 از مرزا قادیانی)
- ”ورفعناک لک ذکرک“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 236 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 538 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”وما ینطق عن الھوی. ان ھو الا وحی یوحٰی.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 321 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- وقل یایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 292 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”وداعیا الی الله و سراجا منیرا “
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 63، 543 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”تبت یدا ابی لھب وتب“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 546 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ” قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”یاایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 39 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
آنجہانی مرزا قادیانی کے نام نہاد صحابی قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا قادیانی کی موجودگی میں ایک محفل میں مندرجہ ذیل اشعار پڑھے اور مرزا قادیانی سے داد تحسین وصول کی۔
نازش دودۂ سلمانؓ رسول مدنی
آسمان اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول مدنی
پہلی بعثت میں محمدﷺ ہے تو اب احمدﷺ ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 10 شمارہ نمبر 30 مورخہ 16/اکتوبر 1922ء)
مرزا قادیانی کا اپنی خود ساختہ وحیوں کے بارے میں کہنا ہے:
- ”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو (سپارے)
سے کم نہیں ہوگا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی)
مزید کہا:
- ”ما انا الا کالقرآن و سیظھر علی یدی ماظھر من الفرقان.“
میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ❑ ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحیاں اور الہام قرآن مجید کا درجہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان وحیوں اور الہامات کی تلاوت ہر قادیانی پر فرض ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر ایم اے ”تذکرہ کے بارے میں جماعت (احمدیہ) کو پیغام“ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے:
- ❑ ”آپ کو علم ہوگا کہ جہاں حضرت امیر المومنین (مرزا بشیر الدین محمود) نے تین سال
گزرے جلسہ سالانہ پر احباب جماعت کو ان کے تزکیہ نفس کے لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات کے مجموعہ (تذکرہ) کی بالالتزام تلاوت کرنے کی تاکید فرمائی تھی اور اس سے جو فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں، ان کا ذکر فرمایا تھا۔“ (مضامین بشیر صفحہ 214 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
۞.......۞.......۞
اصل ”سیرت المہدی“ کیوں شائع نہیں ہوتی؟
”سیرت المہدی“ مرزا قادیانی کے حالاتِ زندگی اور قادیانیت کی بنیادی تاریخ پر مشتمل نہایت اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کا مصنف مرزا قادیانی کا منجھلا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے ہے جسے مرزا قادیانی نے ”قصر قادیانیت“ کی بنیاد اور ”قمر الانبیاء“ قرار دیا تھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔ 1916ء میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ بعدازاں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور استاد اور افسر مدرسہ مقرر ہوا۔ پھر ریویو آف ریلیجنز اور روزنامہ الفضل میں ادارت کے فرائض بھی کچھ عرصہ سرانجام دیے۔ یہ وہی بدبخت ہے جس نے اپنی کتاب ”کلمتہ الفصل“ میں اپنے باپ مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کا درجہ دیا اور حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں بے حد توہین آمیز کلمات کہے۔ (نعوذ باللہ)!
سیرت المہدی کی تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ پہلی جلد دسمبر 1923ء میں، دوسری جلد دسمبر 1927ء میں اور تیسری جلد اپریل 1939ء میں شائع ہوئی۔ چوتھی جلد مرزا بشیر احمد اپنی زندگی میں تیار کر گیا تھا مگر اندرونی وجوہات کی بناء پر ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔ بقول مورخ قادیانیت، دوست محمد شاہد: ”مرزا بشیر احمد کی شبانہ روز کوششوں کے نتیجہ میں ”سیرت المہدی“ کا قیمتی ذخیرہ شائع ہوکر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ سلسلہ کی بعض گمشدہ کڑیوں کا سراغ اسی سے ملتا ہے۔ اس کے چوتھے حصہ کا مواد بھی فراہم ہوچکا ہے مگر اس کی اشاعت کی نوبت ابھی نہیں آ سکی۔“ (تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 479 از دوست محمد شاہد قادیانی) ”سیرت المہدی“ کے عنوان سے دوست محمد شاہد اپنی کتاب تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 385 پر لکھتا ہے:
”سیرت المہدی“ کی تالیف
- ”حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک پر کئی سال گزر چکے تھے اور حضور کے قدیم
صحابہ کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔ اس لیے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ
حضرت مسیح موعود سے متعلق جتنی بھی روایات جمع ہوسکیں ان کو جلد از جلد محفوظ کر لیا جائے اور ترتیب استنباط و استدلال اور علم روایت و درایت کے نقطہ نگاہ سے واقعات کی تحقیق و تفتیش کا کام مستقبل پر چھوڑ دیا جائے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے اس اہم ترین ضرورت کے پیش نظر ”سیرت المہدی“ کے نام سے روایات کا ایک ایمان افروز مجموعہ مرتب کرنا شروع فرمایا۔ اور خاص طور پر یہ اہتمام فرمایا کہ ایسے صحابہ سے روایات جمع کر لی جائیں جنھوں نے ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعود کی صحبت اٹھائی اور سلسلۂ بیعت سے پہلے تعلق رکھنے والے تھے۔
”سیرت المہدی“ کا پہلا حصہ جس میں دوسرے اکابر صحابہ کے علاوہ خاص طور پر حضرت ام المومنین اور حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی روایات خاص طور پر درج کی گئی تھیں، اس سال دسمبر 1923ء میں شائع ہوا۔ دوسرا اور تیسرا حصہ بالترتیب دسمبر 1927ء اور اپریل 1939ء میں چھپ گیا۔ چوتھے حصے کا مواد آپ نے قادیان ہی میں جمع کر لیا تھا جس میں بعض قدیم صحابہ (خصوصاً حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی) کی نہایت ایمان پرور روایات شامل تھیں مگر اس کی اشاعت اب تک نہیں ہو سکی۔“
(تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 385، 386 از دوست محمد شاہد قادیانی)
”سیرت المہدی“ میں مرزا بشیر احمد نے اپنے باپ مرزا قادیانی کے تمام حالاتِ زندگی اور ذاتی کردار تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس لیے اس کی تمام روایات قادیانیوں کے نزدیک مستند ہیں جن سے وہ انکار نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) یہ حدیث اور سنت کی کتاب ہے کیونکہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی عمل کیا ہے، قادیانیوں کے نزدیک وہ (نعوذ باللہ) حدیث وسنت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس طرح ہماری حدیث کی کتابوں (بخاری ومسلم وغیرہ) میں ہر حدیث شریف کے شروع میں درج ہوتا ہے کہ مثلاً روایت کیا ہے حضرت ابو ہریرہؓ نے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں...... اس کی نقل اتارتے ہوئے مرزا بشیر احمد نے اس کتاب میں درج تمام روایات کے شروع میں لکھا کہ مثلاً ”روایت کیا ہے ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) نے کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود فرماتے ہیں......“
روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ 14 ستمبر 1929ء کے مطابق اس کتاب میں کافی چھان بین اور غور و خوض کے بعد مرزا قادیانی کے خصائص و شمائل وسیرت کے متعلق نہایت ثقہ
روایات درج کی گئی ہیں۔ ”19 فروری 1924ء کے ”الفضل“ کے مطابق ”ہر روایت کتب حدیث کی طرز پر بیان کی گئی ہیں۔ ہر روایت پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حدیث کی کتاب پڑھی جارہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا ہونا لازم ہے۔“
یہ کتاب قادیانی حلقے میں مستند اور معتبر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دلچسپ بھی ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد کے پہلے ایڈیشن (مطبوعہ دسمبر 1923ء) میں مرزا بشیر نے اپنی والدہ نصرت جہاں بیگم سے روایت کرتے ہوئے سہاگ رات کی ”خلوت صحیحہ“ کی دلچسپ کارروائی تفصیلاً بیان کی ہے۔ اس نے لکھا کہ ”حضرت اماں جان“ نے فرمایا کہ سہاگ رات کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ مرزا صاحب میرے بستر پر آن لیٹے اور ہزار کوشش کے باوجود کچھ نہ ہونے پر شرمسار ہو کر ساری رات کروٹیں لیتے رہے۔“
اس ایڈیشن میں ایک اور اہم واقعہ جو نصرت جہاں بیگم سے ہی روایت کیا گیا کہ ”حضرت مسیح موعود، ایک نوخیز اور خوبصورت لڑکی محمدی بیگم کے عشق میں بری طرح مبتلا ہو گئے تھے۔ پریشانی کے عالم میں انھیں اک پل چین نہ آتا تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود، ایک ملازمہ کے ذریعے محمدی بیگم کے حیض والی سلوار منگوا کر اسے سونگھتے، چومتے اور آنکھوں سے لگاتے تو انھیں چین آتا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔“ (کتاب میں درج اصل روایت میں لفظ سلوار ہے، شلوار نہیں۔ (ناقل)
دراصل مرزا قادیانی جنسی علامت پرستی (Fetichism) کی بیماری میں مبتلا تھا۔ اس بیماری کے شکار مریض کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے:
- ”جنسی علامت پرستی میں نفسانی خواہش اعضائے مخصوصہ سے منحرف ہو کر عورتوں
کے لباس یا اعضا پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یہ خاص مردانہ انحراف ہے جو عورتوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس نوع کے خبطی عورتوں کی زلفوں، زیر جاموں، چولیوں، جوتوں وغیرہ کو چرا کر انھیں سینت سینت کر رکھتے ہیں اور انھیں دیکھ دیکھ کر یا سونگھ سونگھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ انھیں جنسی ملاپ سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ ان کا خبط زلف، زیر جامے، سرین، چھاتیوں کے ابھار، پاؤں، ٹخنوں یا کلائی سے مستقلاً وابستہ ہو جاتا ہے۔ وہ چولی زیر جامے وغیرہ کو سینے سے لگاتے ہیں، چومتے ہیں اور اس طرح بسا اوقات منزل بھی ہو جاتے ہیں۔“
(جنسی مطالعے از علی عباس جلالپوری صفحہ 258)
جب ان خرافات پر شور اٹھا تو فوری طور پر سیرت المہدی کی پہلی جلد حکماً واپس لے لی گئی۔ بعد ازاں اس کتاب میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن 23 دسمبر 1935ء کو شائع کیا گیا۔ پھر اس کے بعد یہ کتاب (1923ء والا ایڈیشن) آج تک شائع نہیں ہوئی۔ سیرت المہدی کے اس متذکرہ ایڈیشن میں اس کے علاوہ بھی بہت سارے تلخ حقائق و واقعات ہیں جن سے قادیانی قیادت گھبراتی اور شرماتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ اصل کتاب شائع ہو گئی تو مخالفین کے ہاتھ میں قادیانیت کو رسوا کرنے والا ایسا مواد آ جائے گا جس سے انحراف ممکن نہیں۔
سیرت المہدی کے اس متذکرہ ایڈیشن کے چار نسخے ایسے بچ گئے تھے جنھیں ہزار کوشش اور تلاش کے باوجود قادیانی قیادت دوبارہ حاصل نہ کر سکی۔ ان میں ایک نسخہ ایک ایسے سابق قادیانی کے پاس ہے جو آج کل قادیانیت کے خلاف مصروف جہاد ہیں۔ میری ان سے اچھی علیک سلیک ہے مگر میری بے حد منت سماجت کے باوجود انھوں نے مجھے یہ ایڈیشن دکھانے سے انکار کر دیا۔ ان شاء اللہ مجھے یقین ہے کہ عنقریب میں انھیں اس بات پر راضی کر لوں گا کہ وہ مجھے اس کتاب کی فوٹوسٹیٹ کروا دیں۔ تب میں معزز قارئین کی خدمت میں مکمل ثبوت کے ساتھ وہ تمام مضحکہ خیز حوالہ جات پیش کروں گا جنھیں آج تک قادیانی قیادت نے جان بوجھ کر چھپا رکھا ہے۔
۞.......۞.......۞
مرزا قادیانی اور نصرت جہاں بیگم
مثل مشہور ہے ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“۔ اس کے مصداق مرزا قادیانی بچپن ہی سے ایک آوارہ مزاج، کھلنڈرا اور رنگین مزاج نوجوان تھا۔ اس کا بچپن بے شمار آلودگیوں سے لتھڑا پڑا تھا۔ شرارت، فساد، جھوٹ، گالی اور آوازے کسنا اس کے مشغلے تھے۔ اس کے بیٹے بشیر احمد ایم اے کے مطابق بچپن میں اسے سندھی کہا جاتا۔ وہ چڑیاں پکڑتا اور پھر بڑی بے رحمی سے سرکنڈے کے ساتھ ان کے گلے کاٹتا (یعنی جس طرح سکھ مذہب کے لوگ جانوروں کا جھٹکا کرتے ہیں) اور پھر ان کا گوشت پکا کر بڑے شوق سے کھاتا۔ اکثر بغیر پوچھے اپنے دادا کی پنشن (جو اس دور میں سات سو روپے تھی) چوری چھپے وصول کرکے رقم عیاشی میں ضائع کر دیتا۔ وہ بٹیر بازی اور مرغ بازی کا دلدادہ تھا۔ اسی طرح وہ چشم نیم باز اپنے گھر کی چھت اور کھڑکیوں کی اوٹ سے دوسرے گھروں میں جھانکتا، اس پر کئی دفعہ جھگڑا بھی ہوا۔ ایسے ہی شوق میں وہ ایک دن اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گرا اور دایاں بازو ٹوٹ گیا اور یہ ہاتھ آخر عمر تک ٹھیک نہ ہوا۔ اس کے بیٹے بشیر احمد ایم اے کی ایک روایت کے مطابق اس ہاتھ سے کھانے کا لقمہ تو منہ تک لے جاسکتا تھا مگر پانی کا گلاس یا چائے وغیرہ کا کپ منہ تک نہ اٹھا سکتا تھا۔ وہ گھر سے چینی چوری کرکے باہر دوستوں میں لے جاتا، خود بھی کھاتا اور انہیں بھی کھلاتا۔ ایک دفعہ چوری چھپے ایک برتن میں سے سفید چینی سمجھ کر اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی، اس کا دم رک گیا، بعد میں پتا چلا کہ جسے اس نے چینی سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا، وہ چینی نہ تھی بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔ وہ قادیان کے کچے اور گندے تالابوں میں تیراکی کرتا۔ وہ اکثر و بیشتر جھوٹے موٹھے منتر پڑھتا اور لوگوں کو پھونکیں مارتا جس سے لوگوں کو نفسیاتی طور پر مرعوب کرتا۔ رات کو ہاتھوں میں جگنو پکڑ کر اس کی روشنی سے لوگوں کو بے وقوف بناتا۔
مرزا قادیانی کی بدعملی اور آوارہ مزاجی کے نتیجہ میں اس کی شادی تقریباً 1850ء
میں کر دی گئی۔ مرزا قادیانی کا نکاح ان کے سگے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے ہوا، جس سے دو بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ یہ شادی بڑے دھوم دھڑکے اور پورے لوازمات کے ساتھ ہوئی۔ مرزا کا والد اور بھائی اس سے بے حد متنفر تھے کیونکہ وہ کوئی کام نہ کرتا تھا۔ وہ اس کے مستقبل کے بارے میں بھی پریشان رہتا۔ خود مرزا قادیانی کا اعتراف ہے کہ میرا والد اکثر اوقات افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا کہ ”میرا ایک بچہ تو لائق ہے مگر دوسرا نالائق ہے۔ کوئی کام نہ اسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے، مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے۔‘‘ (تاریخ احمدیت از دوست محمد شاہد جلد اوّل صفحہ 71)
1857ء میں جنگِ آزادی شروع ہوئی تو مرزا قادیانی کی قسمت بدل گئی۔ انگریز حکومت کو مسلمانوں کے خلاف مخبر اور غدار درکار تھے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے انہیں اپنی خدمات پیش کیں، اپنے خاندان کی پرانی خدمات کے نتیجے میں وہ انگریز حکومت کی سرپرستی میں آ گیا۔ انگریزوں نے اس پر اپنی نوازشات کی بارش کر دی۔ اسی دوران مرزا قادیانی نے انگریز کی حمایت میں کتابیں لکھنی شروع کیں۔ خود مرزا قادیانی کا اقبالی بیان ہے کہ اس نے 17 برس تک سرکار انگریز کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں مؤثر تقریریں کیں۔ اس جنگ میں مرزا قادیانی کے والد نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی۔ پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ جنگ کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے۔ مرزا قادیانی کا بیان ہے:
- ☐ ”میں نے اپنی عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزارا
اور ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 28,27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم دہلی کے ایک آزاد خیال گھرانے میں 1868ء میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ ناصر نواب پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھا۔ ناصر نواب ملازمت کے سلسلہ میں کئی سال تک مرزا قادیانی کے مکان پر رہ چکا تھا۔ یہاں پر مرزا قادیانی اور ناصر نواب کی بیوی کا ایک عرصہ تک معاشقہ چلتا رہا۔ بعد ازاں تکلفات بڑھتے چلے گئے، اور پھر اچانک مرزا قادیانی اپنی معشوقہ کی بیٹی نصرت جہاں بیگم پر لٹو ہو گیا۔
مولانا رفیق دلاوری اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کے سسرال بارے لکھتے ہیں:
- ❑ ”میر ناصر نواب دہلوی پنجاب کے محکمہ نہر میں نقشہ نویس یا سب اوورسیئر تھے۔
غالباً 1877ء کا واقعہ ہے جب کہ میر صاحب اُس نہر کی کسی خدمت پر مامور تھے جو قادیاں سے مغرب کی جانب دو ڈھائی میل کے فاصلہ سے گزرتی ہے اور موضع تتلہ میں، جو قادیاں سے چند میل کی مسافت پر ہے، اقامت گزین تھے۔ ان دنوں اتفاق سے مرزا صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر سے میر صاحب کا تعارف ہوگیا اور انہی دنوں ان کی اہلیہ کی طبیعت علیل ہوگئی۔ مرزا غلام قادر نے میر صاحب سے کہا کہ میرے والد (مرزا غلام مرتضیٰ) بڑے حاذق طبیب ہیں، آپ ان سے علاج کرائیں۔ میر صاحب اپنی بیوی کو ڈولی میں بٹھا کر قادیاں لے آئے۔ حکیم غلام مرتضیٰ نے نبض دیکھ کر نسخہ لکھ دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مرزا غلام قادر نے میر صاحب سے کہا کہ آپ لوگ تتلہ میں رہتے ہیں، یہ گاؤں بڑے بڑے بد معاشوں کا مسکن ہے، بہتر یہ ہے کہ آپ لوگ قادیاں چلے آئیں اور ہمارے مکان پر فروکش ہوں۔ میں آج کل گورداسپور رہتا ہوں اور غلام احمد بھی گھر میں بہت کم آتا جاتا ہے، اس لیے آپ کو پردہ وغیرہ کی تکلیف نہ ہوگی۔ چنانچہ میر صاحب اہل وعیال کو لے کر تتلہ سے قادیاں چلے آئے۔ اس وقت حکیم غلام مرتضیٰ کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان ایام میں جس روز بھی مرزا غلام قادر گورداسپور سے قادیاں آتے، میر صاحب کے لیے پان لایا کرتے تھے۔ اور میر صاحب کی بیوی مرزا غلام قادر کے لیے کوئی اچھا سا کھانا تیار کر کے اکثر بھجوا دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے لیے شامی کباب تیار کیے۔ جب بھیجنے لگیں تو معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور چلے گئے ہیں۔ اس لیے میر صاحب کی بیوی نے نائن سے کہا کہ یہ کباب ان کے چھوٹے بھائی (مرزا غلام احمد) کو دے آؤ۔ مرزا غلام احمد کباب کھا کر ان کے ممنون ہوئے۔ اس کے بعد میر صاحب کی بیوی دوسرے تیسرے دن مرزا غلام احمد کے پاس بھی کھانے کی کوئی چیز بھجوا دیا کرتی تھیں لیکن جب اس کی اطلاع ان کی بھاوج یعنی مرزا غلام قادر کی بیوی کو ہوئی تو انہوں نے بہت برا منایا کیونکہ وہ اپنے دیور کی سخت مخالف تھیں۔ (سیرۃ المہدی، جلد دوم، صفحہ 109-110)۔ میر صاحب کو قادیاں آئے چھ سات مہینے ہوئے تھے کہ ان کی تبدیلی کسی دوسری جگہ ہوگئی۔ میر صاحب مرزا غلام قادر سے بات کر کے اپنے اہل وعیال کو یہیں قادیاں میں چھوڑ گئے اور پھر ایک مہینہ کے بعد آ کر لے گئے۔ یہ 1877ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میر صاحب کی صاحبزادی
نصرت جہاں بیگم کی عمر نو دس سال کی ہوگی۔‘‘
(رئیس قادیان از مولانا محمد رفیق دلاوریؒ صفحہ 151)
ناصر نواب کی بیوی کی شدید خواہش تھی کہ اس کی بیٹی کا رشتہ مرزا قادیانی سے ہو جائے مگر ناصر نواب کو یہ رشتہ پسند نہ تھا۔ مرزا قادیانی نہایت چالاک اور عیار آدمی تھا۔ اس نے اس رشتہ کے لیے مولانا بٹالوی سے بھی سفارش کروائی۔ ان دنوں ناصر نواب، مولانا بٹالوی سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔ بعد ازاں مرزا قادیانی کی ساس کی ذاتی دلچسپی اور مداخلت سے 17 نومبر 1884ء کو اس کا نکاح نصرت سے ہوگیا۔
جناب حافظ محمد ابراہیم میرپوریؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’فسانہ قادیان‘‘ میں لکھتے ہیں:
- ❑ ’’مرزا قادیانی کے خسر کا نام ناصر نواب تھا۔ انہوں نے مشہور کر دیا تھا کہ میری
بارات نواب ناصر کے ہاں جائے گی جس سے ان کے دوست اور براتی بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید مرزا قادیانی کی شادی کسی بڑے ریاستی نواب کے ہاں ہو رہی ہے، اور ہم نوابوں کے گھر برات لے جا رہے ہیں۔ مگر انہیں وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ نہ کوئی ریاست ہے نہ ملک اور نہ فوج نہ پولیس اور ناصر صاحب نواب نہیں بلکہ پڑھے نہ لکھے نام محمد فاضل کی طرح صرف نام کے نواب ہیں۔ مرزا قادیانی کی برات میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ ہندو براتی بھی تھے۔ (سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ 111)
مرزا قادیانی نے اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کو جو زیورات پہنائے تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
کڑے کلاں طلائی قیمتی 750 روپے۔ یہ کڑے اندازاً چھ سات چھٹانک سے زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ سونا اس زمانہ میں 20، 22 روپے تولہ تھا۔
کڑے خورد طلائی قیمتی 250 روپے بندے طلائی قیمتی 500 روپے کنٹھا طلائی 225 روپے کنگن طلائی 220 روپے ڈنڈیاں طلائی 300 روپے بالے گھنگرو والے طلائی 300 روپے
حسیاں خورد طلائی 300 روپے پونچیاں طلائی 150 روپے مونگے وغیرہ طلائی 200 روپے چاند طلائی 50 روپے بالیاں جڑاؤ طلائی 150 روپے نتھ طلائی 40 روپے ٹیپ جڑاؤ طلائی 70 روپے کل 3505 روپے
مزید سنئے کہ مرزا قادیانی نے 25 جون 1898ء کو فرضی کارروائی کرتے ہوئے اپنی جائداد غیر منقولہ سے ایک باغ اور کچھ زمین انہیں زیورات کے عوض اپنی بیوی کے پاس اس شرط پر رہن (گروی) رکھی کہ 30 سال تک فک نہ کراؤں گا۔ اس کے بعد اگر ایک سال میں روپیہ ادا نہ کروں تو بیع تصور ہوگی۔ مقصد اس ساری کارروائی سے پہلے بیوی کی اولاد کو محروم کرنا تھا۔ غور کیجئے کہ زیورات کے عوض کبھی کسی عورت نے خاوند کی جائداد رہن رکھی ہو؟ پھر مرزا قادیانی کی بیگم کی بے اعتباری ملاحظہ ہو کہ گروی کو رجسٹری کرایا۔ اور لطف یہ کہ زیورات بھی بیوی صاحبہ کے پاس ہی رہے۔ ثبوت ملاحظہ کیجیے:
قادیان کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر 1945ء میں مفتی محمد صادق نے مرزا قادیانی کی ”گھریلو زندگی“ کے موضوع پر تقریر فرمائی جو الفضل 3 اپریل 1946ء میں شائع ہوئی تھی۔ مفتی صاحب مرزا قادیانی کی خانگی زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
- ”ایک دفعہ کسی نے خیر خواہی سے کہا کہ بیوی صاحبہ اپنے زیورات کو بار بار
توڑواتی ہے۔ اور نئی نئی شکل میں بنواتی رہتی ہیں۔ اس طرح تو بہت سا نقصان ہوتا ہے۔ اور بہت سا حصہ زرگر ہی کھا جاتے ہیں۔ بیوی صاحبہ کو روکنا چاہیے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان کا مال ہے جس طرح چاہیں کریں۔“
اور یہ کارروائی یعنی زیورات کا جوڑ توڑ خود بعض چوٹی کے مرزائیوں کی نظروں میں بھی کھٹکتا رہا۔ (کشف الاختلاف صفحہ 14)
حقیقت یہ ہے کہ نصرت جہاں نے بعض مخصوص حالات کی بنا پر مرزا قادیانی پر کچھ
ایسا رعب ڈال لیا تھا کہ مرزا قادیانی اپنے گھریلو معاملات میں بالکل عضو معطل ہو گیا اور ”کس کھے پر سد بھیا کون ہو“ والا معاملہ تھا۔ کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی کے نام جو باہر سے منی آرڈر آتے تھے وہ اشاعت سلسلہ اور تصنیفات کتب و اخبار اور لنگر خانہ وغیرہ کے متعلق ہی ہوتے تھے۔ اصولی لحاظ سے وہ مرزا قادیانی یا کسی اور کی ذاتی ملکیت نہ ہوتے تھے۔ آپ اس بات کو ذہن نشین رکھیے اور حوالہ ملاحظہ فرما لیجیے:
- ”ایک دفعہ چٹھی رساں منی آرڈر لے کر آیا اور دروازہ پر آواز دی تو حضرت ام
المومنین نے ایک خادمہ کو بھیج کر سارے فارم منگوا لیے۔ چٹھی رساں اس انتظار میں کھڑا رہا کہ حضرت صاحب دستخط کر کے فارم بھیج دیں گے، تو میں اندر روپیہ بھیج دوں گا۔ جب دیر ہو گئی اور فارم نہ آئے، تو حضرت صاحب خود باہر تشریف لائے۔ جب حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ فارم بیوی صاحبہ کے پاس ہیں تو آپ نے بیوی صاحبہ سے کہا کہ فارم ہمیں دے دو، چٹھی رساں انتظار کر رہا ہے۔ بیوی صاحبہ نے کہا ہم نہیں دیتے۔ تب آپ تھوڑی دیر خاموش رہے۔ اور پھر فرمایا کہ آپ ان فارموں کو کیا کریں گے؟ بیوی صاحبہ نے کہا کہ آپ ہر روز روپیہ منگواتے ہیں آج روپیہ ہم منگوائیں گے۔ حضرت صاحب اس پر کچھ ناراض نہ ہوئے۔ نہ غصہ کا اظہار کیا۔ بلکہ خندہ پیشانی سے فرمایا کہ وہ تو روپیہ ہمارے دستخطوں کے بغیر نہیں دے گا۔ لاؤ ہم دستخط کر دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی روپیہ منگوا لیں۔ اس پر بیوی صاحبہ نے فارم دے دیئے اور حضرت صاحب نے دستخط کر کے پھر فارم ان کو دے دیئے۔“
(پھر روپیہ بیوی نے منگوالیا۔ خیر بھی اسی میں تھی۔) (الفضل 13 اپریل 1946ء)
کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ یہ منی آرڈر کہاں سے آئے تھے، اور کس مقصد کے لیے تھے اور رقم کی تعداد کس قدر تھی۔ اور تمہاری روحانی والدہ کو روپیہ وصول کرنے کا کیا حق تھا؟ نیز بتائیے کہ تمہاری روحانی والدہ نے چٹھی رساں کو کیوں اتنی انتظار میں رکھا؟ اور اس بیچارے پر اس واقعہ کا کیا اثر ہوا ہوگا۔ مزید بتائیے کہ نصرت جہاں نے مرزا صاحب کو منی آرڈر کیوں نہ دیئے۔ اور کیوں نہ بتایا؟ اور مرزا قادیانی نے دستخط کیوں کر دیئے؟ کیا انبیا کی بیویوں کا یہی حال ہوتا ہے؟ اور مرزا قادیانی کی زن پرستی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے؟ ناظرین روایت کو دوبارہ پڑھیے اور ہمارے سوالات پر غور فرمائیے۔ یہی وجہ تھی کہ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی ایم اے جیسوں کو بھی لنگر خانہ اور باہر سے آنے والے روپیہ کی بابت
ہمیشہ یہ بدگمانی رہی کہ روپیہ صحیح مصرف پر خرچ ہونے کی بجائے بیوی صاحبہ کے کپڑوں اور خواہشات پر ہی خرچ ہو جاتا ہے۔‘‘ (کشف الاختلاف صفحہ 14)
نصرت جہاں مرزا قادیانی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور وغیرہ سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں۔ (کشف الظنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد لاہور صفحہ 88)
ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی اس شادی کا ایک ابتدائی واقعہ بھی درج کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی نانی اماں کی زبانی سیرۃ المہدی جلد دوم میں روایت کرتا ہے:
- ”جب تمہاری والدہ کا حضرت صاحب سے رشتہ کرنے کا ذکر ہو رہا تھا تو ہماری
برادری کے آدمی سخت ناراض ہوئے کہ اٹھارہ سال کی لڑکی کا رشتہ (50 سالہ) بوڑھے پنجابی سے کیوں کر رہے ہو؟ لیکن ہم نے برادری کی مخالفت کے باوجود رشتہ کر دیا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ جب تمہاری اماں (پہلی دفعہ) قادیاں آئیں تو یہاں سے ان کے خط گئے کہ میں سخت گھبرا گئی ہوں اور شاید میں اس غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔ چنانچہ ان خطوط کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگوں کو اور بھی اعتراض کا موقع مل گیا۔ پھر جب ایک ماہ بعد تمہاری والدہ قادیان سے دہلی گئیں تو ہم نے اس عورت کو پوچھا جسے دہلی سے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ اس عورت نے تمہارے ابا کی بہت تعریف کی اور کہا لڑکی یونہی گھبرا گئی تھی۔ ورنہ مرزا صاحب تو بہت اچھے آدمی ہیں۔ اور انہوں نے لڑکی کو بہت ہی اچھی طرح رکھا ہے۔ اور تمہاری اماں نے بھی کہا کہ انہوں نے تو مجھے بڑے آرام سے رکھا مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی۔
(سیرۃ المہدی صفحہ 111-112)
ناظرین! ہم نصرت جہاں کی (اس وقت کی) شرم و حیا کو داد دیتے ہیں کہ اس نے اپنی اس گھبراہٹ کا جس سے انہیں مرجانے کا خطرہ تھا، والدین کے سامنے ذکر تک نہیں کیا۔ اور اس کے بعد بھی کسی سے اظہار نہ کیا۔ ہم نے جب اس واقعہ کو پڑھا تو حیران ہوئے کہ آخر اتنی گھبراہٹ کیوں؟ بالآخر یہ راز ہمیں مرزا قادیانی کی زبانی معلوم ہو گیا۔ وہ راز آپ بھی ملاحظہ کیجیے:
پچاس مردوں کے برابر طاقت
- ”ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور
دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے جیسے اخویم مولوی نورالدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے۔‘‘ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رُقعہ ہے جو ابتک اتفاقاً میرے پاس محفوظ رہا ہے اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اس کو دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اس سے انکار کریں اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائے گی۔ غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے رفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی۔ اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کر لیا کہ وہ پرصحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔ اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لیے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی)
ہمیں افسوس ہے کہ جو راز نصرت جہاں نے اپنی والدہ کو بھی نہ بتلایا تھا، وہ مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت کو چمکانے کے لیے تمام دنیا میں نشر کر دیا۔ نصرت جہاں اس عبارت کو پڑھ کر ضرور کہہ اٹھی ہوگی کہ خدا نادان کی دوستی سے بچائے۔
قادیانی ویاگرا
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حافظ حامد علی صاحب خادم
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ’’زدجام عشق‘‘ کے نام سے مشہور ہے، بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفۂ اول بھی فرماتے تھے کہ میں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو کھلایا تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دیئے۔
نسخہ زدجام عشق یہ ہے جس میں ہر حرف سے دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے۔ زعفران، دار چینی، جائفل (جند بیدستر) افیون، مشک، عقر قرحا، شنگرف، قرنفل یعنی لونگ، ان سب کو ہم وزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم الفار میں چرب کر کے رکھتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔
الہامی ہونے کے متعلق دو باتیں سنی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نسخہ ہی الہام ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ کسی نے یہ نسخہ حضور کو بتایا، اور پھر الہام نے اسے استعمال کرنے کا حکم دیا۔ واللہ اعلم!‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 50، 51 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
واقعی یہ ایک عجیب نسخہ ہوگا اور عجب نہیں کہ حکیم نور الدین سے لے کر موجودہ قادیانی خلیفہ تک اس نسخہ سے نہ صرف خود مستفیض ہوئے ہوں گے بلکہ خاص خاص ’’قادیانیوں‘‘ کو بھی اس عجیب الفعل تریاق سے بہرہ مند فرماتے ہوں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے گھر میں چالیس پچاس زن مدخولہ ہوتیں تو پچاس مردوں کی طاقت قرین قیاس تھی لیکن ایک بیوی اور پچاس مردوں کی طاقت، ایک بعید از فہم اور بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے۔
حقیقی بیعت
- ”ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جائے اور آپ
کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہووے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا۔ ’’بیعت کے معنی ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ بیعت کے لیے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے۔ اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 506 طبع جدید از مرزا قادیانی)
نصرت جہاں بیگم نے بیعت نہیں کی
- ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود نے پہلی بیعت
لدھیانہ میں لی تھی۔ پہلے دن چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی، پھر جب آپ گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بیعت کی۔ سب سے پہلے مولوی صاحب (حضرت مولوی نور الدین صاحب) نے بیعت کی تھی۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ نے کب بیعت کی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ میرے متعلق مشہور ہے کہ میں نے بیعت سے توقف کیا اور کئی سال بعد بیعت کی۔ یہ غلط ہے بلکہ میں کبھی بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی۔ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور شروع سے ہی اپنے آپ کو بیعت میں سمجھا اور اپنے لیے باقاعدہ الگ بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 18، 19 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
بیعت نہ کرنے والا منافق
- ’’اب یہ ظاہر بات ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود کو واقعی سچا مسلمان جانتا ہے اور
آپ کے مکذبین کو کافر سمجھتا ہے اور آپ کے الہامات اور نشانات کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانتا ہے اور پھر آپ کی بیعت نہیں کرتا، ایسا شخص یقیناً منافق ہے اور صرف زبانی دعویٰ کرتا ہے ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت صاحب تو یہ کہیں کہ میری بیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک شخص پر ضروری ہے اور وہ باوجود آپ کو راستباز جاننے اور آپ کے نشانات اور الہامات پر ایمان لانے کے آپ کی بیعت میں داخل نہ ہو۔ اس لیے اگر کوئی شخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں حضرت صاحب کے مکفرین کو کافر لکھا گیا ہو اور یہ بھی اعلان کرے کہ میں حضرت مرزا قادیانی کو راستباز مسلمان سمجھتا ہوں اور آپ کے نشانات پر ایمان
لاتا ہوں لیکن بیعت نہ کرے تو تب بھی ہم اس کو مسلمان نہیں کہیں گے کیونکہ وہ منافق ہے اور صرف زبان سے دعویٰ کرتا ہے...... اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص آپ کو آپ کے تمام دعاوی میں صادق جانتا ہو اور پھر باقاعدہ سلسلہ میں داخل نہ ہو۔ خاص کر جب حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ میری بیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک شخص پر واجب قرار دی گئی ہے ایسے شخص کے منافق ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 162، 163، 165 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی، نیک سیرت اہلیہ اور الگ وضع کا بیٹا
مرزا غلام احمد قادیانی کی پہلی شادی اس کے سگے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے 1852ء میں ہوئی جس سے دو بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ حرمت بی بی ایک سادہ گھریلو خاتون تھی جو فیشن کی دلدادہ نہ تھی۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت اور انگریز کی حمایت میں کتب تحریر کرنے پر اس کے مالی حالات یکسر بدل گئے اور وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا۔ اس بدمستی میں اس نے 17 نومبر 1884ء کو دہلی کے ایک ”روشن خیال“ اور ”ترقی پسند“ گھرانے کی نصرت جہاں نامی ایک چنچل خاتون سے شادی کی۔ جس سے 5 لڑکے اور 5 لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
(1) مرزا محمود احمد (2) مرزا بشیر اوّل (3) مرزا شریف احمد (4) مبارک احمد (5) بشیر احمد ایم اے (6) شوکت (7) مبارکہ بیگم (8) امۃ الحفیظ بیگم (9) عصمت (10) امۃ النصیر
ان میں سے فضل احمد، بشیر اوّل، صاحبزادی شوکت، عصمت اور امۃ النصیر کا مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا جبکہ باقی اولاد مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی زندہ رہی۔ دوسری شادی کے کئی سال بعد مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ اسے عنقریب ایک اور نکاح کرنا پڑے گا۔ بارگاہِ خداوندی میں اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ مرزا قادیانی کو ملے گی۔ وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اور وہ قوی الطاقتین، کامل الظاہر و الباطن، صاحب صورت و صاحب سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے، وہ خوبصورت اور پارسا طبع عورت سے پیدا ہوگا۔
مرزا قادیانی کا الہام ملاحظہ کیجیے:
- ”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین،
کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے
ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمھیں کرنا پڑے گا اور جناب الہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارساطبع اور نیک سیرت اہلیہ تمھیں عطا ہوگی۔ وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا، تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیے گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ اگر چہ ابھی یہ الہامی بات نہیں۔ مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے۔ وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جبکہ ایک پارساطبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیے گئے، جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 112، 113 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا الہام سے واضح ہوتا ہے کہ وہ لڑکا جس کی بشارت دی گئی، وہ حرمت بی بی یا نصرت جہاں کے بطن سے نہیں بلکہ کسی نیک سیرت اور پارساطبع اہلیہ سے پیدا ہوگا اور اس کے لیے مرزا قادیانی کو تیسرا نکاح کرنا ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اپنی پوری زندگی میں تیسرا نکاح نہیں کیا۔ لہٰذا اس کا کوئی بیٹا ایسی بشارت کا مصداق نہیں اور نہ ہی کوئی ”مصلح موعود“ ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہے۔ مرزا قادیانی کے مذکورہ الہام سے 2 باتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں:۔
- -1 مرزا قادیانی کو الہام میں یہ نہیں کہا گیا کہ ایک اور نیک سیرت اور پارساطبع اہلیہ
تمھیں عطا ہوگی بلکہ کہا گیا کہ ایک پارساطبع اور نیک سیرت اہلیہ تمھیں عطا ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلی دونوں بیویاں نیک اور پارسا نہیں تھیں بلکہ اب جس تیسری بیوی سے نکاح ہوگا، صرف وہی نیک سیرت اور پارساطبع اہلیہ ہوگی۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی دونوں بیویوں حرمت بی بی اور نصرت جہاں نے مرزا قادیانی سے بیعت نہیں کی تھی۔
- -2 الہام میں کہا گیا کہ مرزا قادیانی کو کشفی طور پر چار پھل دیے گئے جن میں سے ایک
پھل الگ وضع کا ہے۔ مجھے کئی قادیانیوں سے مناظرہ ومباحثہ کا موقع ملا ہے۔ ایک مناظرہ میں، میں نے ایک قادیانی مبلغ سے ”الگ وضع والے پھل“ کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ اس سے مراد ”مرزا بشیر الدین
محمود“ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ وہ تو نصرت جہاں کے بطن سے ہیں جبکہ یہاں ایک ”نیک سیرت“ اور ”پارسا طبع اہلیہ“ کی بشارت دی جارہی ہے تو انھوں نے بڑی برہمی اور درشت لہجے میں کہا کہ اس سے مراد ”مرزا بشیر الدین محمود“ ہی ہیں جو اپنے تمام بہن بھائیوں میں سے بالکل الگ وضع رکھتے تھے۔ اس پر مجھے ایک سردار کا لطیفہ یاد آیا جو میں نے انھیں اسی محفل میں سنایا۔ اس پر وہ کھسیانے ہو کر ہنسنے لگے اور گفتگو کا موضوع بدل دیا۔ لیجیے آپ بھی وہ لطیفہ سماعت فرمائیں اور ”قادیانی سکھ“ مماثلت سے محظوظ ہوں۔
”پرنام سنگھ 75 سال کا ہوگیا۔ اس کی شادی کی پچاسویں سالگرہ تھی۔ اس کے 10 بچوں اور کئی پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں نے بڑے شاندار طریقے سے یہ سالگرہ منائی۔ فنکشن ہو گیا تو بابا پرنام سنگھ اپنی اہلیہ بلونت کور کے ساتھ اکیلا بیٹھا تھا۔ اچانک اس نے کہا: بلونت! ہماری شادی کو 50 سال ہو گئے ہیں۔ بلونت کور بھی ماضی میں کھو گئی اور کہا جی ہاں سردار جی! پرنام سنگھ بولا: ہمارے بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ بلونت آہستہ سے بولی۔ جی ہاں۔ گورو کی مہربانی سے سارے اپنے اپنے گھر بار والے ہو گئے ہیں۔ پرنام سنگھ بولا...... لیکن...... بلونت کور...... مگر مجھے ایک سوال بہت پریشان کرتا ہے۔ میں رات کو سکون سے سو نہیں سکتا۔ اگر میں یہ سوال تم سے پوچھوں تو اس کا جواب سچ سچ بتانا۔ بلونت کور نے پرنام سنگھ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کونسی بات ہے جس نے تمھارے سینے پر بوجھ ڈال رکھا ہے؟ آپ پوچھیں، میں سچ سچ بتاؤں گی۔ پرنام سنگھ کہنے لگا: مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے تمام بچوں کی شکلیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ صرف بشیرو کی شکل علیحدہ ہے۔ ہم دونوں مرنے والے ہیں۔ سچ سچ بتا کر میری پریشانی دور کر کہ سب سے الگ وضع والے بشیرو کا باپ کون ہے؟ بلونت نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا: بوجھ تو میرے سینے پر بھی بہت ہے۔ میں تمھیں گورو کی قسم اٹھا کر سچ سچ کہتی ہوں کہ الگ وضع والا صرف بشیرو ہی تمہارا ہے۔“
۞......۞......۞
مرزا قادیانی اور مبارک احمد
انگریزی کہاوت ہے: ”اپنی بنیان کسی کو نہ دکھاؤ!“ مطلب یہ کہ گھر کی بات باہر نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے کئی گھریلو عیوب اور خرابیوں پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ مگر اس لحاظ سے مرزا قادیانی کا ”مثانہ“ خاصا کمزور تھا۔ وہ اپنے گھر کی ہر بات کو پہلے الہامی بنا کر پورے علاقہ میں مشتہر کرتا اور پھر اسے پیش گوئی بنا کر دوسروں کے سامنے پیش کرتا۔ بعدازاں حسب معمول اس کے پورا نہ ہونے پر ذلت ورسوائی کا شکار ہو جاتا۔ ان کی دوسری بیگم نصرت جہاں بیگم کا پیٹ اگر کبھی گیس ٹربل کی وجہ سے بھی پھول جاتا تو مرزا قادیانی خوشی سے پھولے نہ سماتا اور بغیر سوچے سمجھے اسے حمل سمجھ کر جھٹ پٹ لڑکا یا لڑکی ہونے کی پیش گوئی کر دیتا۔ پھر تھوڑے عرصہ بعد کچھ نہ ہونے پر ایسی ایسی تاویلات پیش کرتا جنھیں سن کر ہر شخص سر پیٹ کر رہ جاتا۔ مقررہ میعاد میں مرزا قادیانی کے ہاں کچھ نہ ہوتا تو کہہ دیتا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ابھی اس کام میں کچھ تاخیر ہے۔ اگر لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہو جاتی تو کہہ دیتا، میں نے اس حمل کے متعلق نہیں بلکہ آئندہ والے حمل کی بات کی تھی اور اگر مقررہ میعاد سے پہلے بچہ پیدا ہو جاتا تو کہتا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹے سے کوئی اہم کام لینا چاہتا ہے، اس لیے اسے جلدی دنیا میں بھیج دیا۔ غرضیکہ مرزا قادیانی اپنے بچھائے ہوئے جال میں خود ہی گرفتار ہو جاتا، جبکہ اس کا اپنا اعتراف ہے:
- ”واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے۔“
(ضرورت الامام صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 483، 484 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اپنے بیٹے مبارک احمد کی پیدائش کے بارے میں لکھتا ہے:
- ”اسی لڑکے نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری 1897ء میں بطور الہام یہ
کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمھیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک
دن سے مراد دو برس تھے۔ اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی، اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے 14 جون 1899ء کو وہ پیدا ہوا، اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 217 از مرزا قادیانی)
یہ تحریر اپنے اندر تحیر کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے۔ عجیب بات ہے کہ مبارک احمد نے یکم جنوری 1897ء کو اپنی ماں کے پیٹ میں 2 دفعہ باتیں کیں۔ جن کی تفصیلات قادیانیوں نے آج تک جاری نہیں کیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آواز کہاں سے آتی تھی؟ اگر آواز ماں کے منہ سے آتی تھی تو احتمال ہے کہ یہ کہیں اس کی ماں کی ہی آواز نہ ہو۔ اگر یہ آواز......؟ لیکن یہ قادیانیوں پر فرض ہے کہ وہ بتائیں کہ آواز کہاں سے آتی تھی؟ ہمیں تو ساری تفصیلات بتانے سے حیا مانع ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مبارک احمد نے یکم جنوری 1897ء کو اپنی ماں کے پیٹ میں 2 دفعہ باتیں کیں، جبکہ 2 ماہ بعد 2 مارچ 1897ء کو مبارک کی بجائے مبارکہ پیدا ہو گئی۔ حالانکہ باتیں مبارک احمد کرتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے باطنی مصروفیات کی بنا پر اپنی جگہ اپنی بہن مبارکہ کو بھجوا دیا۔
کہاوت مشہور ہے کہ جس طرح بندر اپنے زخم کو کھجا کھجا کر گھاؤ بنا لیتا ہے، اسی طرح احمق اپنی حماقتوں سے خود کو تباہ کر لیتا ہے...... مرزا قادیانی کی طرح!
۞......۞......۞
سرظفر اللہ خاں قادیانی
زوال وپستی کی خوفناک داستان
سرظفر اللہ خاں معروف سیاست دان، قادیانیت کا ستون اور مثالی انگریز نواز تھا۔ وہ برٹش سامراج کی غلامانہ خدمات اور اس کے خودکاشتہ پودے (قادیانی مذہب) کا سرگرم رکن ہونے کے باعث دنیوی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کرتا چلا گیا۔ سرظفر اللہ چونکہ ساری زندگی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہا، اس لیے اکثر نادان اس کی زندگی بڑی خوشگوار اور مطمئن خیال کرتے تھے اور اب بھی اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر قادیانی حضرات تو اس کی بظاہر شاندار زندگی اور اونچے عہدوں پر تعیناتی کو قادیانی مذہب کی حقانیت پر دلیل قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سرظفر اللہ کی بظاہر تزک واحتشام سے بھر پور زندگی اندر سے بالکل کھوکھلی اور مرقع عبرت تھی۔ اس کو ساری عمر گھریلو سکون نصیب نہ ہوا۔ اُس نے تین شادیاں کیں۔ تینوں کا انجام حسرت ناک رہا۔ کوئی شادی کامیاب نہ رہی۔ کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ اس کا بھی اُسے ساری عمر قلق رہا۔ سرظفر اللہ کو اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہوتے ہوئے نیز حکومت اور اپنے مذہبی سربراہوں کی مکمل تائید و مدد کے باوجود ساری عمر جن جن محرومیوں، ناکامیوں اور نامرادیوں کا سامنا رہا، اور بالآخر نہایت ذلت آمیز موت سے ہم آغوش ہونا پڑا، اس کا مفصل حال قارئین درج ذیل سطور میں پڑھیں گے۔ ان حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف نوع کے عذاب اس پر وارد کیے گئے تاکہ اسے خبردار کیا جائے کہ قادیانیت سے توبہ کر لے مگر اس نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا۔ سرظفر اللہ 1893ء میں پیدا ہوا۔ اس کا والد جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی سے متاثر تھا اور قادیان آتا رہتا تھا۔ ظفر اللہ بھی کبھی کبھار اس کے ساتھ قادیان جانے لگا۔ حکیم نور الدین نے لڑکے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اس کے والد کو خط لکھا کہ بیٹے کی بیعت کرا دو۔ یہ 1907ء کی بات ہے۔ پوسٹ کارڈ ظفر اللہ نے بھی پڑھا۔ جب والد کے ساتھ قادیان گیا، تو اس کا خیال تھا کہ والد بیعت کے لیے کہے گا۔ مگر نہ جانے کیوں اس نے بیٹے سے سلسلے مگر نہ جانے کیوں اس نے بیٹے سے اس سلسلے
میں کچھ بھی نہ کہا، حتیٰ کہ واپس سیالکوٹ جانے لگا۔ لیکن ظفر اللہ پر چونکہ حکیم نور الدین کا اثر تھا، اس لیے اس کے خط کے پیش نظر ستمبر 1907ء میں مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ابتدائی تعلیم مشن سکول سیالکوٹ میں حاصل کر کے 1911ء میں گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کیا۔ 1911ء سے 1914ء تک کنگز کالج کیمبرج انگلینڈ میں پڑھا اور بیرسٹری پاس کی۔ نیز انگلستان، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کا سفر کیا۔ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظفر اللہ بچپن سے ہی مشن سکول، قادیانیت اور برٹش سامراج کے جال میں پھنس گیا۔ نو عمری میں ہی انگلینڈ میں اسے اپنی خاص نگرانی میں انگریزوں نے اعلیٰ تربیت دی اور پھر ساری عمر اس لڑکے کی عقل، علم، ہوشیاری اور صلاحیتوں کو جس طرح چاہا، استعمال کیا۔
یورپ سے واپسی کے بعد ظفر اللہ قدرے ماڈرن ہو گیا تھا۔ اس کا گھرانہ زمیندارانہ تھا۔ اس کا والد اپنے خاندان کی ایک سیدھی سادی لڑکی سے اس کی شادی کرنا چاہتا تھا، جبکہ ظفر اللہ کسی ماڈرن لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن والد کے سامنے پیش نہ چلی اور مجبوراً شادی ہو گئی لیکن ظفر اللہ نے عملی طور پر اس لڑکی کو کبھی بیوی کے طور پر قبول نہ کیا، نہ اس سے میل جول رکھا۔ حتیٰ کہ 1926ء میں والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد سر ظفر اللہ نے اپنی مرضی سے ایک ماڈرن، تعلیم یافتہ، اپنی پسند کی تیز طرار لڑکی ”بدر“ سے شادی کر لی، جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام امت الحئی ہے۔ اس کے بعد کوئی اور اولاد نہ ہوئی۔ سر ظفر اللہ کو نرینہ اولاد کی بہت خواہش تھی۔ اس کے لیے وہ ساری عمر بہت چلے، خیرات، صدقے اور سب حیلے کرتا رہا۔ مگر نصیب میں بیٹا نہ تھا اور یہ نعمت، قادیانی نبی اور برطانوی سامراج بھی دینے میں ناکام رہا۔ بعض لوگوں نے تو ظفر اللہ سے کہہ دیا تھا چونکہ تم نے پہلی بیوی سے اچھا سلوک نہیں کیا اور دوسری شادی والد کی مرضی کے خلاف کی، اس لیے قدرت تم سے سخت ناراض ہے اور تمہارے ہاں بیٹا نہیں ہوگا۔ اس ماڈرن بیوی نے ویسے بھی سر ظفر اللہ کو وہ تگنی کا ناچ نچایا کہ وہ اس سے زیادہ تر دور ہی رہنے لگا، اور اپنے اور اپنے گرو مرزا قادیانی کی فیملی میں دلچسپی لینے لگا۔ مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کا بیٹا جو کہ 1914ء میں قادیانیوں کا خلیفہ دوم بن چکا تھا۔ یہ سر ظفر اللہ کا قریباً ہم عمر تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود بہت ہوشیار چالاک، تیز فہم آدمی تھا۔ اس نے شروع سے ہی ظفر اللہ سے یاری گانٹھ لی۔ ظفر اللہ کا بھی گھریلو چپقلش کے باعث اپنے گھر دل نہ لگتا تھا۔ اس لیے اپنے گرو کے لڑکے لڑکیوں میں دلچسپی لینے لگ گیا۔ یہ دلچسپی اتنی بڑھی کہ بیرون ملک سے پاکستان واپسی پر اپنے گھر کے
بجائے مرزا محمود کے گھر ہی قیام کرتا۔ ادھر اس کی بیوی (والدہ امت الحئی) ان کی عدم توجہی سے شاکی رہنے لگی۔ غالباً 1962ء میں اس نے ظفر اللہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور مشہور قادیانی سرمایہ دار شاہنواز سے شادی کر لی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ظفر اللہ کا بشریٰ ربانی، ایک فلسطینی سے شادی کا سلسلہ بن رہا تھا جو اس کی بیوی پر گراں گزر رہا ہو۔ جب سابقہ بیوی نے شاہنواز سے شادی کر لی تو ظفر اللہ نے جو شاید اسی موقع کا منتظر تھا، فوراً فلسطینی خوبرو دوشیزہ بشریٰ ربانی سے شادی رچا لی۔ ظفر اللہ اس وقت ستر برس کے پیٹے میں تھا اور بشریٰ ربانی نو عمر تھی۔ اس شادی پر مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے قادیانی آرگن ”الفضل“ میں مضمون شائع کیا جس میں اس شادی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور سب قادیانیوں سے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعا کی درخواست کی اور خود بھی دعا کی کہ اللہ چودھری صاحب (سر ظفر اللہ) کو بیٹا عنایت کرے ! مگر صد افسوس! کسی قادیانی کی دعا اس بارے میں شرف قبولیت نہ پا سکی۔ یہ تیسری شادی بھی بے ثمر رہی۔ بڑھا گھوڑا لال لگام کے مصداق فلسطینی حسینہ کی ان سے نبھ نہ سکی۔ شنید ہے کہ بشریٰ ربانی کا نوجوان ناکام منگیتر اس سے ملنے کسی نہ کسی بہانے آتا رہتا تھا اور اس نے ظفر اللہ پر پستول بھی اٹھایا تھا۔ بالآخر اس قسم کے ناگفتنی حالات کی بنا پر یہ شادی بھی ناکام ہوئی اور علیحدگی ہوگئی۔ اور ظفر اللہ بھری دنیا میں اکیلا ، بے یارو مددگار رہ گیا۔ اس کی بیٹی بھی اپنی ماں کا ساتھ دیتی تھی۔ اس لیے ظفر اللہ پر بیٹی کا گھر بھی بند تھا۔ مرزا محمود جو اُن کا روحانی پیشوا اور یار تھا، کئی سال سے مفلوج پڑا تھا۔ دو بھائی تکلیف دہ اموات سے مر چکے تھے اور چھوٹا بھائی اسد اللہ خان بھی فالج سے معذور تھا۔ کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ کہنے کو ان دنوں ہالینڈ میں ہیگ کی انٹرنیشنل کورٹ میں جج تھا، بظاہر بڑی شان تھی لیکن اندرونی حالت یہ رہی کہ قریباً پندرہ سال ہالینڈ میں قادیانی مشن کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا رہا اور اس کے بعد 1973ء سے 1983ء تک انگلینڈ کے قادیانی مشن کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں گزارے۔ کوئی عزیز پرسان حال نہ تھا۔ قادیانی مشنریوں کی بیویوں اور لڑکیوں سے دل بہلاتا رہتا۔ اکثر جب وہ ہوائی جہاز سے اترتا تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی نو عمر لڑکا ہوتا۔ نو عمر لڑکوں سے اس کی دلچسپی مشہور عام تھی۔
ہم نے اوپر جو کچھ لکھا، وہ بلا ثبوت نہیں بلکہ اکثر باتیں قادیانیوں کی اپنی کتابوں، رسالوں، اخباروں میں ہی درج ہیں۔ مثال کے طور پر قادیانی ماہنامہ ”خالد“ کے ظفر اللہ خاں نمبر میں مرزا محمود کی سب سے چھوٹی بیوی ”مہر آپا“ چودھری ظفر اللہ سے اپنے تعلقات کا
اظہار یوں کرتی ہیں:
- ”اپنی کوٹھی تعمیر ہونے سے قبل جب کبھی آپ حضرت فضل عمر (مراد مرزا محمود) سے
ملاقات کے لیے آتے اور مرکز سلسلہ میں قیام فرماتے تو اپنے جس گھر میں حضور (مرزا محمود) کی باری ہوتی (مرزا محمود کی کئی بیویاں تھیں، ہر بیوی کے گھر باری باری جاتے) آپ بھی اسی گھر کے مہمان شمار ہوتے۔ جب کبھی مجھے آپ کی میزبانی کا موقع ملتا تو میں آپ کی بیماری کے پیش نظر مناسب غذا تیار کرواتی۔ ایک دفعہ آپ نے حضور سے کہا کہ مہر آپا میرے کھانے کا بہت تکلف سے اہتمام کرتی ہیں...... حضرت فضل عمر (مرزا محمود) کے سفر یورپ میں آپ تمام وقت حضور کے ساتھ ساتھ رہے۔ حضور کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے۔ آپ کا سامان خود اٹھاتے رہے کیونکہ وہاں ہمارے ہاں کی طرح سامان اٹھانے کے لیے قلی وغیرہ عام نہیں ہوتے...... دوران سفر وینس اٹلی پہنچے تو وہاں نہ کوئی قلی تھا نہ مزدور۔ چودھری صاحب نے تمام سامان اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر کار سے گنڈولے تک پہنچایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ اس قدر سامان نہ لے جائیں۔ خیر بیبیوں کو پتا تھا ظفر اللہ ساتھ ہے۔ خود ہی سامان اٹھاتا پھرے گا۔ وہ (چودھری ظفر اللہ) اپنے حبیب فضل عمر (مرزا محمود) کے عشق و محبت میں اپنی ذات سے بے نیاز ہو کر سب کام کر رہا تھا“۔
اس طرح کے واقعات رائل فیملی (خاندان مرزا) کے لوگ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے قادیانیوں کی غلامانہ خدمات کا اظہار ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ عام قادیانی جب یہ پڑھے گا کہ ظفر اللہ جیسا پائے کا قادیانی بزرگ ”رائل فیملی“ کا اتنا مطیع اور گر کر خدمت کرتا ہے تو وہ بھی ہر طرح غلامی اور تقلید میں ترقی کرے گا۔ نہ صرف خود بلکہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے بھی ”رائل فیملی“ کی اطاعت کروائے گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قادیانی اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو رائل فیملی کے افراد سے پردہ نہیں کرواتے اور ان کو مجبور کرتے ہیں کہ رائل فیملی کی ہر طرح تن من دھن سے سیوا کریں۔ ان کی پیروی ایسے کریں جیسے کوئی چیز بے حس و حرکت ہو اور اس سے کچھ بھی کر گزرا جائے، وہ چوں نہ کریں۔ چنانچہ اسی ماہنامہ ”خالد“ کے ص 129 پر ایک قادیانی مسمی عبد المالک، ظفر اللہ خاں کی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر سے ملاقات کا حال یوں بیان کرتا ہے:
- ”ملاقات کے دوران میں نے دیکھا کہ آپ حضور (مرزا ناصر) کے سامنے اس
طرح سے کھڑے ہیں گویا کوئی چیز بے حس و حرکت ہے۔ اس روز خاکسار نے اندازہ لگایا کہ ہم
میں اطاعت کی وہ روح تاحال موجود نہیں جو امام کی قدرومنزلت کے لحاظ سے ضروری ہے۔“ قارئین اندازہ لگائیں کہ ایک طرف تو قادیانی اپنے مذہب کو اصل اسلام کہتے ہیں اور اہل اسلام کو گمراہ اور کافر قرار دیتے ہیں اور اپنے تئیں اسلام کے اندر سے برائیاں دور کر کے صحیح اسلام پر کار بند قرار دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں منہ ڈال کر تو دیکھیں کہ یہ کہاں کا اصلی اسلام ہے کہ اپنے آپ اور اپنی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں غرضیکہ ہر چیز کو گدی نشینوں کے اس طرح قدموں میں ڈال دو کہ مکمل اطاعت ہو جس سے وہ جو چاہیں ، کر گزریں ۔ جائز ناجائز اور حلال وحرام کا فرق ہی نہ رہے ۔ انسان کو خدائے لم یزل بنالینا ، قادیانی مذہب کا شیوہ تو ہو سکتا ہے ، اسلام کا ہر گز نہیں ۔ جن قادیانیوں کی بیویاں رائل فیملی کی خدمت سے انکار کر دیتی ہیں ، ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ظفر اللہ کی بیویوں کا ہوا کہ خاوند نے اپنا ایمان مرزا پر ثابت کرنے کے لیے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ۔ قادیانی نبی اور ان کے خود ساختہ خلفا ہی نہیں ، دیگر بعض نام نہاد دنیا پرست پیروں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی دولت مند اُن کے چکر میں پھنس جائے یا کارآمد شخص مریدی کے جال میں آ جائے تو کوشش کر کے اس کو گھر بار سے بیزار کر کے اپنے ڈیرے کے لیے وقف کر لیتے ہیں تا کہ اس کی صلاحیتوں اور دولت سے اپنی ذات کے لیے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ یہی کچھ قادیانی ”خلیفہ“ مرزا محمود نے ظفر اللہ کے ساتھ کیا کہ اسے گھریلو ذمہ داریوں سے متنفر کر کے اپنی ذات کے لیے اس سے نوکر چاکر کی طرح کام لیا اور ذاتی فائدے کے لیے اپنی فیملی کی مستورات تک کو اس کے سپرد کر دیا اور ظفر اللہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ حاصل کیا اور اس سے قادیانی مذہب کے لیے عالمی مبلغ کا کام لیا اور دنیا میں کئی جگہ ظفر اللہ کے ذاتی خرچ سے مشن ہاؤس تعمیر کروائے ۔ اس سے ساری دولت وصیت نامے کے ذریعے قادیانی مشن (یعنی مرزا قادیانی کی آل اولاد جس کی وارث ہے ) کے نام لکھوا لی ۔
مہر آپا ، جو مرزا محمود کی ساتویں بیوی تھی ، مرزا محمود کی عمر 60 سال کے قریب تھی اور مہر آپا قریباً 19 برس کی تھی ۔ جب یہ شادی ہوئی ، سر ظفر اللہ اپنی سروس کے دوران زیادہ تر یورپ میں ہی رہا ۔ اپنی بیویوں ، بیٹی ، گھر بار کی تو کبھی خبر نہ لی لیکن مرزا محمود اور ان کی فیملی کو خوب سیر و سیاحت کراتا اور ”مہر آپا“ میں خصوصی دلچسپی لیتا تھا ۔
مرزا محمود نے بھی ظفر اللہ کو خوب پھانسے رکھا ۔ ایک دفعہ مرزا محمود نے میموں کا ڈانس
دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو ظفر اللہ اسے ایسی جگہ لے گیا جہاں میموں کا عریاں ڈانس ہو رہا تھا۔
مرزا محمود کا اپنا بیان ہے:
- ❑ ”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب
والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے، کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں۔ جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آ سکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے۔ اس لیے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا، کیا یہ ننگی ہیں۔ انھوں نے بتایا یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے، وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ تو یہ بھی ایک لباس ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں۔ نام تو اس کا بھی لباس ہے۔ مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 24 جنوری 1934ء)
طوالت کے خوف سے صرف مختصر اقتباسات ہی درج کیے ہیں۔ قادیانیوں کے اپنے لٹریچر سے ثابت ہے کہ ظفر اللہ خاں اپنے پیر اور ان کے کنبہ میں اس قدر مست تھا کہ اسے اپنے گھر بار تک کا ہوش نہ تھا۔ اپنی 93 سالہ عمر میں 90 سال تک اس نے گھر کا رخ نہ کیا تا آنکہ صحت نے بالکل جواب دے دیا اور موت سر پر منڈلاتی نظر آنے لگی تو 1983ء میں بیٹی کے پاس لاہور آ گیا۔ اسی بیٹی کے گھر ان کی سابقہ بیوی بھی رہتی تھی۔ ساری عمر بیٹی کے گھر نہ ٹھہرتا تھا کہ ماں کو وہاں سے نکالو۔ مگر بیٹی اس کے لیے تیار نہ ہوئی۔ آخر مرن کنارے ذلیل ہو کر اسی بیٹی اور سابقہ بیوی کے سامنے اسی کے گھر رہ کر چل بسا۔
بعض نامور شخصیات شروع میں قادیانی تحریک سے متاثر ہوئیں لیکن اپنی خداداد ذہانت اور بصیرت کے باعث وہ جلد ہی قادیانیت کے جال سے نکل گئے۔ اہل اسلام اور خاص کر ہندوستان کے نامور مسلمان لیڈروں کو سر ظفر اللہ سے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر
دوبارہ اہل اسلام میں واپس شامل ہو جائے گا مگر جیسا کہ اوپر کے حالات سے معلوم ہوتا ہے، مرزا محمود نے ان کے ارد گرد ایسا تانا بانا بُن دیا تھا کہ وہ اس سنہرے حصار میں سے نکل نہ سکا۔ مرزا محمود کو بھی دھڑکا تھا کہ سر ظفر اللہ ہاتھ سے نہ نکل جائے، اس لیے وہ ظفر اللہ پر ہر طرح کی نوازشات کرتا تھا۔ مثلاً یہ کہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں مثلاً لاہور اور کراچی کی امارت ہمیشہ کے لیے ظفر اللہ کے خاندان کے نام کر دی۔ یعنی لاہور اور کراچی کی قادیانی جماعتوں کا سربراہ (جسے امیر جماعت کہا جاتا ہے) ہمیشہ ظفر اللہ کے خاندان سے ہو۔ چنانچہ لاہور کا پہلا امیر جماعت ظفر اللہ کا چھوٹا بھائی چودھری اسد اللہ رہا۔ جب وہ مفلوج ہو گیا تب سے ظفر اللہ کا بھتیجا اور داماد حمید نصر اللہ لاہور کی قادیانی جماعت کا امیر ہے۔ اسی طرح کراچی کی جماعت کا امیر سر ظفر اللہ کا بھائی چودھری عبداللہ خان ساری عمر رہا۔ جب وہ بلڈ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو کر 1959ء میں مر گیا تو ان دنوں شیخ رحمت اللہ نائب امیر تھا۔ وہ چودھری عبداللہ کی موت کی وجہ سے امیر جماعت ہو گیا۔ اس پر ظفر اللہ خاندان نے احتجاج کیا۔ چنانچہ فوری طور پر ربوہ سے مرزا محمود نے ایک وفد، مولوی اللہ دتہ جالندھری، مولوی جلال الدین شمس اور مولوی غلام احمد فرخ (جو قادیانی مربی تھے) پر مشتمل، کراچی بھیجا جس نے سمجھا بجھا کر نیز کچھ لوگوں سے الزامات لگوا کر شیخ رحمت اللہ کو امارت سے علیحدہ کیا اور اس کی جگہ چودھری ظفر اللہ کے قریبی عزیز چودھری احمد مختار کو امیر جماعت کراچی نامزد کر دیا۔ جو تب سے امیر چلا آ رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ قادیانی قوانین کے مطابق کوئی امیر جماعت تین سال سے زائد نہیں رہ سکتا۔ تین سال بعد انتخابات کر کے دوسرا امیر بنانا ہوتا ہے لیکن چودھری احمد مختار 26 سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔
اسی طرح لاہور کا امیر جماعت چودھری ظفر اللہ کا بھتیجا ہے جو سالہا سال سے امیر جماعت چلا آ رہا ہے۔ اگر کسی جماعت کا امیر قادیانی خلیفہ کی مرضی کا نہ منتخب ہو تو وہ اس کا انتخاب کالعدم قرار دے کر اپنا کوئی پٹھو نامزد کر دیتا ہے۔ ان خاندانی مراعات کے علاوہ ظفر اللہ خان کو پوری دنیا میں قادیانی سرکاری ترجمان کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ جس ملک میں بھی جاتا، قادیانی مشن کا پورا عملہ ان کے استقبال اور مہمانداری کو حاضر رہتا۔ وہ مشن ہاؤس میں رہتا اور وہاں کے مشنری اور ان کے بیوی بچوں کا فریضہ ہوتا کہ وہ ان کی ہر خدمت کریں۔ چنانچہ ہیگ میں عالمی عدالت کے جج کی حیثیت سے وہ ہیگ کے قادیانی مشن ہاؤس
میں پندرہ سال 1958ء سے 1973ء تک قیام پذیر رہا۔ اس کے بعد لندن کے قادیانی مشن ہاؤس میں فروری 1973ء سے 1983ء تک قیام پذیر رہا۔ قادیانی مشنری بھی اپنے خلیفے کی خوشنودی کے لیے اپنی فیملی کو چودھری صاحب کی ٹہل سیوا کے لیے وقف کر دیتے۔
سو قارئین حضرات! یہ وہ حالات تھے جن میں مست ہو کر سر ظفر اللہ صاحب ساری عمر اپنا خاندان، بیوی بچے تج کر قادیانیت اور رائل مرزا فیملی کے بندۂ بے دام بنا رہا۔ کاش کہ وہ اپنی ساری صلاحیتیں اور دولتیں اور عقیدتیں اس چھوٹے سے قادیانی سازشی گروہ پر نچھاور کرنے کے بجائے حضور نبی رحمت ﷺ کی عقیدت و محبت اور پوری دنیائے اسلام اور امت محمدیہ کے لیے وقف کر دیتا! اس طرح وہ دین و دنیا اور آخرت سب میں سرخرو ہو جاتا۔ مگر اس نے سمندر کی وہیل بننے کے بجائے کنوئیں کا مینڈک بننے کو ترجیح دی اور ہمہ صلاحیت عقل و دانش گھریلو زندگی میں بھی نامرادی میسر آئی اور جس تحریک کے لیے تن من دھن حتیٰ کہ اپنا مذہب دین اسلام چھوڑ بیٹھا تھا، اس کا بھی مرنے سے پہلے حسرت ناک انجام دیکھ لیا اور موت ایسے عبرت ناک حالات میں ہوئی کہ غیر مسلم قرار پا چکا تھا اور ان کا پیرو مرشد فرار ہو کر اپنی ولی نعمت ملکہ کی آغوش میں لندن پناہ لے چکا تھا۔
سر ظفر اللہ نے لاکھوں کروڑوں کمائے مگر خود اچھا کھانا اور اچھا پہننا تک نصیب نہ ہوا اور یہ دولت کبھی کسی غریب قادیانی کی مصیبت دور کرنے کے کام نہ آئی بلکہ ساری دولت جائداد مرزا کے خاندان (رائل فیملی) کے لیے وقف ہو گئی۔ نیز اپنی آل اولاد پسماندگان کے نام بھی کچھ نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سر ظفر اللہ کو تقریباً ایک صدی کی طویل مہلت دی، (93 سال) کہ وہ قادیانی تحریک کا اندر اور باہر اچھی طرح چھان پھٹک کر پرکھ لے اور تائب ہو کر دین اسلام کی طرف پلٹ آئے۔ مگر اس نے ہمہ انواع کی استعدادوں کے، اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا اور طرح طرح کے عذاب جو مختلف ناکامیوں، نامرادیوں، عزیزوں کی بیماریوں اور قادیانیت کے زبردست زوال اور دیگر مصائب جھیل کر بالآخر ایک حسرت ناک اور المناک موت مرا۔ اس عذاب کی ایک جھلک درج ذیل ہے:
- 1- پہلی شادی کے موقع پر والد سے جھگڑا۔
- 2- خلاف مرضی والد سے دب کر شادی پر مجبور ہونا پڑا۔
- 3- پہلی بیوی سے نہ بنی۔ اس کی ساری عمر خبر نہ لی۔ کبھی میل جول نہ رکھا۔ اس بے گناہ
کی بددعائیں لیں۔
- -4 والد کے مرتے ہی اپنی مرضی کی ماڈرن دوشیزہ سے شادی کی مگر اس نے ظفر اللہ کا
ناک میں دم کر دیا کہ بیوی کے پاس رہنا مشکل ہو گیا۔ اس بیوی نے بے وفائی کر کے ایک دوسرے شخص شاہنواز سے شادی رچالی۔
- -5 بہت چلے کاٹے مگر نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ بیٹے کی تمنا ساری عمر تڑپاتی رہی۔
- -6 بیویوں سے ان بن رہنے سے مرزا محمود کی فیملی میں دلچسپی لینے لگا اور مرزا فیملی
نے ہر طرح کا لاسہ ڈال کر ساری دولت اور جائداد بٹور لی اور زندگی بھر اس دولت اور صلاحیت کو جس طرح چاہا، استعمال کیا۔ غلام اور ذلیل بنا کے رکھا۔ قلیوں تک کا کام لیا۔
- -7 ساری عمر اچھا کھانا نہ اچھا پہننا نصیب ہوا۔ دولت اور جائداد میں سے پسماندگان
کو کچھ نصیب نہ ہوا۔ یعنی ایک دیمک زدہ بے ثمر درخت اہل خانہ اور پسماندگان کے لیے ثابت ہوا۔
- -8 اوائل جوانی میں اپنے نوجوان بھائی شکر اللہ کی وفات کا صدمہ دیکھا۔
- -9 1959ء میں ظفر اللہ کا سب سے چہیتا بھائی عبداللہ خان بلڈ کینسر سے ایڑیاں رگڑ
رگڑ کر مرا۔
- -10 ظفر اللہ کا ہمدم ہمراز اور پیر و مرشد مرزا محمود پر سن 53ء میں قاتلانہ حملہ ہوا جس کو
لے کر یورپ میں جگہ جگہ علاج کے لیے مارا مارا پھرنا پڑا مگر معمولی افاقہ ہونے کے بعد فالج کا حملہ ہوا اور نو سال تک مفلوج ہو کے پھٹے پر پڑا رہنے کے بعد اذیت ناک موت مرا۔ (یاد رہے مرزا قادیانی نے فالج کو جھوٹوں اور لعنتیوں کی بیماری لکھا ہے)
- -11 باوجود مرزا محمود کے دست راست ہونے کے گدی نشینی کے وقت ظفر اللہ کو کسی نے
نہ پوچھا اور مرزا محمود وصیت کر گیا کہ آئندہ خلیفہ صرف اس کی اپنی اولاد میں سے ہوگا۔
- -12 چھوٹا بھائی اسد اللہ خاں 15 سال تک بعارضہ فالج معذور پڑا رہنے کے بعد
ظفر اللہ کی مرگ کے قریبی دنوں میں مرا۔
- -13 بڑھاپے میں تیسری شادی فلسطینی دوشیزہ سے کی۔ اس کے منگیتر اور ساری دنیا سے
جگ ہنسائی کروائی۔ قادیانی پیشواؤں کی دعائیں بیٹے کے لیے قبول نہ ہو سکیں۔
- -14 قادیانیت کا زوال دیکھا۔ 1914ء میں جماعت کے دو ٹکڑے ہوئے۔ بالآخر
پارلیمنٹ سے اقلیت قرار پائے۔ مرنے کے وقت صورت حال یہ تھی کہ پوری دنیائے اسلام کا اجماع ہو چکا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ کلمہ، نماز، مساجد اور شعائر اسلام کا استعمال ممنوع ہو چکا تھا۔ پیر و مرشد مرزا طاہر مفرور ہو چکا تھا۔
- -15 اکلوتی بیٹی امت الحی کی شادی ناکام ہو گئی۔ اس کی پہلی شادی ڈاکٹر اعجاز احمد
قادیانی سے ہوئی تھی مگر شادی کے بعد ہی ان بن رہنے لگی۔
معروف سکالر اور سابق قادیانی جناب منیر الدین احمد اپنی آپ بیتی ”ڈھلتے سائے“ میں رقم طراز ہیں:
”چوہدری ظفر اللہ خان کے بھائی چوہدری عبداللہ خان کے بیٹے حمید نصر اللہ کا رشتہ ”خاندانِ نبوت“ کی ایک لڑکی سے طے پایا تھا۔ نکاح خود مرزا بشیر الدین محمود احمد نے پڑھایا تھا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ جماعت کے دو سرکردہ خاندان اس رشتے کے سبب زیادہ قریب آجائیں گے۔ مگر رخصتی والے روز، جب مرزا فیملی کے سب لوگ ربوے میں جمع تھے، برات کراچی سے نہیں آئی تھی۔ حمید نصر اللہ خفیہ طور پر اپنی کزن امۃ الحی سے محبت کرتا تھا جو چوہدری ظفر اللہ خان کی بیٹی تھی۔ امۃ الحی اس زمانے میں ایک دوسرے شخص (ڈاکٹر اعجاز احمد) کے ساتھ بیاہی ہوئی تھی۔ بعد میں اس نے اپنے والد کی مرضی کے خلاف خاوند سے طلاق لے کر حمید نصر اللہ کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ اس کا پہلے خاوند سے، جو ہجرت کر کے آسٹریلیا چلا گیا تھا، ایک بیٹا تھا جو لاہور میں ماں کے پاس رہتا تھا۔ چند برس ادھر اس کو کسی نے ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ حمید نصر اللہ نے ”خاندانِ نبوت“ کی لڑکی کو جس طرح ٹھکرایا تھا، اس کی سزا سے وہ صاف بچ گیا تھا۔ اگر اس کی جگہ پر کوئی دوسرا ہوتا تو اس کو اور اس کے خاندان کو جماعت احمدیہ سے خارج کرنے کے علاوہ اس کا سوشل بائیکاٹ کر دیا جاتا۔ حمید نصر اللہ برسوں سے جماعت احمدیہ لاہور کا امیر ہے۔“
امتہ الحئی 5 نومبر 2004ء کو رات ساڑھے بارہ بجے مختلف موذی بیماریوں اور وحشت کی نشانی بن کر نہایت بھیانک موت سے ہمکنار ہوئی۔ گھریلو لڑائیوں اور باہمی چپقلش کی وجہ سے اس کی اولاد نے آخری رسومات میں شرکت نہ کی۔
- 16- عبرت ناک موت: جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے ظفر اللہ کی دوسری بیوی نے
1960ء میں علیحدگی حاصل کر کے شاہنواز قادیانی سے شادی کر لی تھی۔ مگر یہ شادی چند سال تک ہی نبھی اور اس عورت نے شاہنواز سے بھی طلاق حاصل کر لی اور اپنی بیٹی امت الحئی (جو ظفر اللہ سے تھی) کے ساتھ رہنے لگ گئی۔ سر ظفر اللہ اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے گھر جانا اپنی توہین سمجھتا تھا۔ اس لیے پاکستان آتا تو ربوہ میں مرزا فیملی کے مہمان بنتا اور مرزا محمود اور ان کے گدی نشینوں کے ہاں ہی رہائش رکھتا لیکن نومبر 1983ء میں لندن میں صحت بہت خراب رہنے لگی اور آخری وقت نظر آنے لگا تو قادیانی رائل فیملی کی شدید سردمہری کی وجہ سے مجبوراً اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کے پاس وطن واپس آنے کا ارادہ کیا۔ لندن میں اپنے دوستوں سے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔ دوست بھی حیران ہوئے کیونکہ سب سمجھتے تھے کہ ظفر اللہ کا گھر اور ٹھکانا تو لندن ہی ہے۔ اس لیے احباب نے کہا اب آخر وقت میں جا کر کیا کرو گے۔ یہیں رہ جاؤ۔ بقول شاعر ؎
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
چنانچہ جب ایک خاص محب منصور بی ٹی نے پوچھا کہ چودھری صاحب یہ کیا سن رہا ہوں تو سر ظفر اللہ نے جواب دیا "Mansoor I do not like to go in a box" میں تابوت میں بند ہو کر واپس جانا نہیں چاہتا۔ صحت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ Wheel Chair پہیوں والی کرسی سے جہاز میں لے جایا گیا اور لندن سے لاہور پہنچ کر اپنی سابقہ بیوی اور بیٹی کے ہاں قیام پذیر ہوا اور اپنی ساری عمر کی بے رخی پر بہت رویا دھویا۔ اپنی بیٹی اور اس کے بچوں سے التجا کی کہ اب ہر وقت اور کھانے کی میز پر سب ان کے ساتھ اکٹھے کھانا کھایا کریں اور اپنی سابقہ بیوی کی طرف دیکھ کر فرمایا ”اگر آپ بھی اس پروگرام میں شامل ہو جائیں تو یہ مجھ پر عنایت ہوگی۔‘‘ (صفحہ 47 ظفر اللہ نمبر) لیکن سابقہ بیوی نے اس کے کسی
پروگرام میں شرکت نہ کی بلکہ اس سے کلام تک نہ کیا اور یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ لندن سے نومبر 1983ء میں سخت جان کنی کی حالت میں لاہور آیا کہ بچوں کے سامنے آرام سے جان دے گا مگر جان بھی آسانی سے نہ نکلی۔ دو سال سخت تکلیف میں مبتلا رہا۔ آخری دو ماہ تقریباً مسلسل بے ہوشی کی حالت میں گزارے اور کبھی ہوش میں آتا تو سخت اضطراب اور گھبراہٹ میں ہوتا۔ ایک دم چلاتا اور کبھی شدید غصے میں برسنے لگ جاتا۔ کبھی شدت بیماری سے طبیعت بے چین ہو جاتی اور راتوں کو نیند نہ آتی۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ اس جہاں سے سب کو جلد یا بدیر جانا ہے مگر بعض لوگوں کی موت بھی تازیانہ عبرت ہوتی ہے، ایسی ہی تکلیف دہ موت سے آنجہانی سر ظفر اللہ خاں کو دوچار ہونا پڑا۔ بستر مرگ پر اس نے جس طرح تڑپ تڑپ کر وقت گزارا، اسے سپرد قلم کرنا مشکل ہے۔ اس کے سائے سے پرائے تو پرائے، اپنے بھی بھاگتے رہے۔ آخرت کی سزا یقیناً سخت ہے۔ لیکن دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اسے جو سزا دی ہے، وہ جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی ذریت اور اس کے پیروکاروں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ سر ظفر اللہ کی موت جن حالات میں واقع ہوئی اور جس طرح ذلت و رسوائی اس نے دیکھی، وہ اس کے پیشروں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ کیا یہ کم تعذیب ہے کہ ایک شخص مسلسل ڈیڑھ سال تک چارپائی پر ایڑیاں رگڑتا رہا۔ 1983ء میں وہ ڈسکہ میں شدید بیمار ہوا تو ربوہ کے امور عامہ کے محکمے نے ان کی قبر بھی کھود دی تھی کیونکہ اس کی شدید بیماری کو دیکھ کر قادیانیوں کو پتا چل گیا تھا کہ وہ پل دو پل کا مہمان ہے۔ لیکن یہ خدائی عذاب طویل ہوتا چلا گیا۔
آخری دنوں کی کیفیت ان کی بیٹی امت الحئی یوں بیان کرتی ہے ”ایک مہینہ اور 10 دن کی اس آخری بیماری میں پہلے پانچ دن تو آپ مکمل بے ہوش رہے۔ ان کی گرتی ہوئی صحت بلکہ ٹمٹماتی ہوئی زندگی نے ان کے کمرے کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کو برداشت کرنا میرے لیے ناممکن ہورہا تھا۔ (گویا بیٹی بھی اس انتظار میں تھی کہ باپ مرے تو سکھ کا سانس لیں)...... آنکھوں سے آنسوؤں کی مسلسل بارش جاری رہتی تھی...... مرض الموت کے آخری ہفتہ میں آپ بہت سنجیدہ ہوگئے اور چہرے پر ایسا اثر رہنے لگ گیا کہ بیہوش بھی ہوتے تھے تو کچھ کہنے سے پہلے یا کوئی دوا دینے سے پہلے ہم لوگوں کو گھبراہٹ ہوتی تھی کہ کہیں ہوش آ گیا تو طبیعت پر ناگوار نہ گزرے (یعنی ایسی دہشت ناک حالت تھی کہ لواحقین بے ہوشی میں بھی
قریب پھٹکتے ڈرتے تھے) اس عرصہ میں جب بھی ہوش میں آتے تو صرف حضور (مرزا طاہر) کے بارے میں پوچھا کرتے۔ (پیر و مرشد کی در بدری جانکنی میں کتنی تکلیف دیتی ہوگی العیاذ باللہ !) میری طرف دیکھتے رہتے۔ میں انھیں بوسہ دیتی مگر وہ کچھ نہ کہتے۔ عائشہ کی عادت بھی میری طرح تھی۔ ایک دن میں نے عرض کی کہ میں ترس گئی ہوں، خدا کے لیے کچھ تو کہیے تو فرمایا (صفحہ 46، ظفر اللہ نمبر) "Darling the century is over"
قانون قدرت کے مطابق ہر اوج کے لیے پستی اور ہر کمال کے لیے زوال مقدر ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ کے اوج کمال کے مقابل اس کے زوال و پستی کا منظر اس قدر دردناک ہے کہ اس کے زمانہ عروج کی خباثتیں دھندلی پڑ جاتی ہیں۔ جولائی 1985ء میں وہ شدید علیل ہو گیا۔ اس کی بھوک کی خواہش زائل ہو چکی تھی۔ میڈیکل رپورٹوں کے مطابق اس کے معدہ میں رسولی تھی جسے آپریشن کے ذریعے نکالنا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ کئی دنوں تک اس پر ہذیانی کیفیت طاری رہی۔ وہ گھنٹوں شدت درد سے کراہتا اور پھر لاش کی طرح بے جان ہو جاتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کسی نے اس کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ اگست 1985ء کے آخری عشرہ میں اس پر فالج کا بدترین حملہ ہوا۔ کوئی دوا اور دعا کارگر ثابت نہ ہوئی۔ اس کا جسم سوکھ گیا۔ رنگ سیاہ پڑ گیا اور آنکھیں باہر نکل آئیں۔ وحشت کے مارے کوئی اس کے قریب نہ جاتا۔ اسی عبرتناک اور وحشت انگیز کیفیت میں یکم ستمبر 1985ء کو پرلوک سدھار گیا۔
4 ستمبر کو حکومتی سرپرستی میں اس کی ارتھی لاہور سے ربوہ پہنچی اور وہ دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے ساتھ دفن ہوا۔ حال ہی میں مرزا بشیر الدین محمود کی قبر سے یہ کتبہ اتارا گیا ہے جو سالہا سال اس کے سرہانے لگا رہا۔ جس پر تحریر تھا کہ جب حالات سازگار ہو جائیں تو میری میت کو یہاں سے نکال کر قادیان میں دفن کیا جائے۔ تمام قادیانی جو ربوہ میں دفن ہیں، وہ امانتاً دفن کیے گئے ہیں۔ ظفر اللہ خاں کو بھی مرزا بشیر الدین کے پہلو میں امانتاً دفن کیا گیا۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قادیانی کس قدر محب وطن پاکستانی ہیں؟ جب وہ پاکستان میں مرنا اور دفن ہونا پسند نہیں کرتے تو انہیں یہاں جینا اور بسنا کیوں پسند ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ قادیانی وطن عزیز پاکستان کے غدار اور دشمن ہیں۔
مجموعی طور پر ظفر اللہ خاں کی زندگی پر اجمالی نظر ڈالیے تو وہ ناکامی، نحوست اور
حرمان نصیبی کی تصویر ہے۔ وہ اپنے والد اور بیوی بچوں یعنی اہل خانہ کے لیے منحوس وجود ثابت ہوا بلکہ وہ اپنی ذات کے لیے بھی منحوس ثابت ہوا کہ اس قدر کثیر مال و دولت میسر ہونے کے باوجود اسے اچھا کھانا، پہننا نصیب نہ ہوا۔ پیوند لگے سوراخوں والے کپڑے اور جوتے، کھانے میں پھپھوندی وغیرہ کھاتا تھا، جیسا کہ اس کے عزیزوں نے بیان کیا ہے۔ ملک وملت کے لیے بھی وہ منحوس وجود ثابت ہوا اور جس جگہ بھی اس نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہاں ناکامی اور نامرادی ہاتھ آئی۔ ظفر اللہ کا وجود قادیانیوں کے لیے بھی منحوس ثابت ہوا کیونکہ سر ظفر اللہ کی وجہ سے عامۃ المسلمین نے اس کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اس کے قائدِ اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کے باعث مسلمانوں میں قادیانیوں سے شدید نفرت کا آغاز ہوا اور بالآخر 1953ء میں عظیم تحریک قادیانیت کے خلاف چلی۔ وہ اس اعتبار سے بھی منحوس وجود تھا کہ جس تحریک کے لیے اس نے اپنی ساری صلاحیتیں، مال و دولت، عزت سب کچھ وقف کر دیا تھا، مرنے سے پہلے اس کی اینٹ سے اینٹ بجتے دیکھ لی۔ غیر مسلم اقلیت قرار پانے اور مساجد، نماز اور شعائر اسلام پر پابندی کے علاوہ مرنے سے پہلے اپنے پیر و مرشد کا ملک سے چوروں کی طرح فرار ہونا دیکھنا پڑا۔ اس صدمے سے تو ان پر جانکنی کی کیفیت بن گئی جو اس کے ساتھ ان کی ساری نحوستوں کو بھی سمیٹ گئی۔
قادیانی، ظفر اللہ خاں کو اپنے مذہب کے بانی کا صحابی قرار دیتے ہیں اور پھر اپنے صحابی کو رسول کریم ﷺ کے صحابہؓ کے ہم پلہ یا ان سے برتر قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ)۔ آپ نے مندرجہ بالا احوال پڑھے، آپ پر واضح ہے کہ یہ سب مشہور واقعات ظفر اللہ صاحب کے دوستوں، عزیزوں کے بیان کردہ ہی ہیں۔ آپ خود غیر جانبدارانہ ہو کر سوچیں کہ کیا ایسا ناکام، نامراد، منحوس اور سیاہ طالع شخص صحابہؓ رسول ﷺ کے مرتبہ کا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس قسم کے بے ہودہ وفرسودہ عقائد سے فوراً توبہ کر کے دامانِ محمدی ﷺ میں لوٹ آئیں اور اپنی عاقبت اور دنیا کو تباہی سے بچا لیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی...... تصویر کا دوسرا رخ
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبیل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ”الفضل“ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبیل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں کو کھینچ تان کر ڈاکٹر عبدالسلام پر چسپاں کیا گیا اور فخریہ انداز میں کہا گیا کہ ”یہ دنیا کا واحد موحد سائنس دان ہے جسے نوبیل پرائز ملا ہے“۔ حالانکہ اسلام کی رو سے رسالت مآب ﷺ کا منکر بڑے سے بڑا موحد بھی کافر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر تھے۔ وہ حضور ﷺ کے بعد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی (جن سے انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نبوت کا اعلان کروایا تھا) کو اللہ کا آخری نبی مانتے تھے اور اس طرح وہ اپنے عقائد کی رو سے دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر اور صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے تھے۔ چونکہ قادیانیت مخبروں اور غداروں کا سیاسی گروہ ہے، لہٰذا اس کی سرپرستی کرتے ہوئے سامراج نے ان کے ایک فرد کو نوبیل پرائز دیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک رشوت ہے جو یہودیوں نے قادیانیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے دی۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنی جماعت کی خدمات پر ”فرزندِ احمدیت“ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے وفات تک مجلس افتاء کے باقاعدہ ممبر رہے۔ ان کے ماموں حکیم فضل الرحمٰن 20 سال تک گھانا اور نائیجیریا میں قادیانیت کے مبلغ رہے۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعینات ہوئے۔ قادیانی جماعت کے دوسرے
خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے انھیں قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کیا جس میں تحصیل ملتان، وہاڑی، کبیر والہ، خانیوال، میلسی، شجاع آباد اور لودھراں کی تحصیلیں شامل تھیں۔ ایک دفعہ انھوں نے خانیوال میں سیرت النبی ﷺ کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ اور مرزا قادیانی کا (نعوذ باللہ) موازنہ شروع کیا تو اجتماع میں موجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انھوں نے اشتعال میں آ کر پورا جلسہ الٹ دیا۔ چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر جوتے بھی مارے۔ پولیس نے چوہدری محمد حسین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی اعلیٰ پولیس افسر کی مداخلت سے انھیں رہائی ملی۔
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک سائنس کانفرنس ہو رہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے کارڈ پر مندرجہ ذیل ریمارکس لکھ کر اسے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔
"I do not want to set foot on this accursed land untill the Constitutional amendement is withdrawn."
ترجمہ: ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“
جناب بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ عبدالسلام کو (وزیر اعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے) فی الفور برطرف کر دیا جائے اور بلاتاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کی بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ بہت عرصہ بعد پتا چلا کہ وقار احمد بھی قادیانی تھا۔“ (ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر از یونس خلش، صفحہ 80)
30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر قادیانی آرڈیننس مجریہ 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلا گیا۔ رات کو لندن میں اس نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ سے ملحقہ محمود ہال میں غصہ سے بھرپور
جوشیلی تقریر کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا طاہر کے سامنے صف اوّل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے خطاب میں امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ 1984ء (جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا تھا) پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ احمدیوں کی بددعا سے عنقریب پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ مزید برآں اس نے امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پاکستان کی تمام اقتصادی امداد بند کر دیں۔ اپنے خطاب کے آخر میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر عبدالسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ میرے دفتر میں ملاقات کے لیے تشریف لائیں۔ آپ سے چند ضروری باتیں کرنا ہیں ۔“ ”فرزند احمدیت“ ڈاکٹر عبدالسلام نے اسے اپنی سعادت سمجھا اور ملاقات کے لیے حاضر ہو گئے۔ اس ملاقات میں مرزا طاہر احمد نے ڈاکٹر عبدالسلام کو ہدایت کی کہ وہ صدر ضیاء الحق سے ملاقات کریں اور انھیں آرڈیننس واپس لینے کے لیے کہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر عبدالسلام نے جنرل محمد ضیاء الحق سے پریذیڈنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور انھیں جماعت احمدیہ کے جذبات سے آگاہ کیا۔ صدر ضیاء الحق نے بڑے تحمّل اور توجہ سے انھیں سنا۔ آخر میں صدر ضیاء الحق اٹھے اور الماری سے قادیانی قرآن ”تذکرہ“ مجموعہ وحی مقدس والہامات اٹھا لائے اور کہا کہ یہ آپ کا قرآن ہے اور دیکھیں اس میں کس طرح قرآن مجید کی آیات میں تحریف کی ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس صفحہ پر مندرجہ ذیل آیت درج تھی:
انا انزلنہ قریباً من القادیان ترجمہ: ”(اے مرزا قادیانی) یقیناً ہم نے قرآن کو قادیان (گورداسپور بھارت) کے قریب نازل کیا ۔“ (نعوذ باللہ )
(تذکرہ مجموعہ وحی مقدس والہامات طبع چہارم صفحہ 59 از مرزا قادیانی)
صدر ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبدالسلام کو اسی کتاب سے مرزا قادیانی کا ایک اور حوالہ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ : تمام قرآن مجید مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا ہے۔ ضیاء الحق نے کہا کہ یہ بات مج مجھ سمیت ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ بے حد شرمندہ ہوئے اور کھسیانے ہو کر بات کو ٹالتے ہوئے پھر حاضر ہونے کا کہہ کر اجازت لے کر رخصت ہو گئے۔
فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی
کہ ”آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔“
یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا ایٹم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے۔ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اس کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالسلام کے پاکستان دشمن بھارتی لیڈر نہرو کے ساتھ بڑے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دفعہ نہرو نے ڈاکٹر عبدالسلام کو آفر کی تھی کہ آپ انڈیا آ جائیں، ہم آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق ادارہ بنا کر دیں گے۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ”میں اس سلسلہ میں اٹلی کی حکومت سے وعدہ کر چکا ہوں۔ لہٰذا میں معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہاں کے سائنس دانوں سے تعاون کروں گا۔“ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی بھارتی ”خدمات“ کے عوض وہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ برائے بنیادی تحقیق بمبئی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نئی دہلی اور انڈیا اکیڈمی آف سائنس بنگلور کے منتخب رکن رہا۔ گورو نانک یونیورسٹی امرتسر (بھارت)، نہرو یونیورسٹی بنارس (بھارت)، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ (بھارت) نے اسے ”ڈاکٹر آف سائنس“ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ کلکتہ
یونیورسٹی نے اسے سر دیو پرشاد سر دادھیکاری گولڈ میڈل اور انڈین فزکس ایسوسی ایشن نے شری آر ڈی برلا ایوارڈ دیا۔
بھارتی صحافی جگجیت سنگھ کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام کے ذاتی تعلقات تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام جب بھی بھارت جاتے، جگجیت سنگھ ”ٹائمز آف انڈیا“ میں ان پر بھر پور فیچر شائع کرتے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام پر "Abdulsalam a Biography" (سن اشاعت 1992ء) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا ایک باب The" "Ahmaddiya Jammat ہے جس میں جگجیت سنگھ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والے 7 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ اور 1984ء کے صدارتی آرڈیننس جس کے تحت قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے، کی سخت مذمت کی اور قادیانیوں کو ”مظلوم“ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف اقدامات کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کے ایک اور بے تکلف دوست جے سی پولنگ ہارو (J.C.Polking Horue) جو کیمبرج میں سلام کے شاگرد تھے اور بعد میں کیتھولک بشپ بن گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی درخواست پر ہر سال قادیانی جماعت کے سالانہ جلسوں میں شرکت کرتے رہے۔ یاد رہے یہ وہی پولنگ ہارو ہیں جو پاکستان میں قانون توہین رسالت 295/C کے خلاف امریکہ میں عیسائی جلوسوں کی قیادت کرتے ہیں۔ جن میں قادیانیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہوتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے جولائی 1994ء میں بیت الفضل لندن میں توہین رسالت کی سزا کے خلاف تقریر کی تو مسٹر پولنگ ہارو اپنے کئی بشپ دوستوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔
ڈاکٹر عبدالسلام مسلمانوں کو کیا سمجھتے تھے؟ اس سلسلہ میں معروف صحافی وکالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ اپنی ذاتی ملاقات میں راقم کو بتایا۔ یہ واقعہ انہی کی زبانی سنئے اور قادیانی اخلاق پر غور کیجیے:
”ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سلام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و
جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑا جامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظروں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ”مفتوح“ سمجھتے ہوئے ”فاتح“ کے انداز میں ”حملہ آور“ ہوتے ہوئے کہا کہ ”نہیں...... آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی ۔“ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ”ہاں“ یا ”نہیں“ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ”ٹھیک ! بالکل ایسا ہی ہو گا ؟“ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریم ﷺ کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد آپ لوگ ( قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخص ) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ”میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔“ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب پر، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دسترخوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔“
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے
متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی ایمان دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریز کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔
’’گوبلز نے کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے‘‘ بالکل یہی فلسفہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق اپنایا گیا۔ ہمارے نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس ’’غدار پاکستان‘‘ کو ہیرو بنا کر پیش کیا جو انتہائی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والے ان عقل کے اندھوں سے پوچھنا چاہئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے تمام تر مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پوری زندگی کی ’’تحقیق‘‘ کے نتیجے میں عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو کیا تحفہ دیا؟ ان کی کون سی ایجاد یا دریافت ہے، جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا؟ ان کا کون سا کارنامہ ہے، جس سے پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا؟ ان کی کون سی خدمت ہے، جس سے اہل پاکستان کے مسائل میں ذرا سی بھی کمی واقع ہوئی؟ انہوں نے کون سا ایسا تیر مارا، جس پر انہیں نوبیل انعام سے نوازا گیا؟ یہ سوالات آج تک تشنہ جوابات ہیں!
ڈاکٹر عبدالسلام کی پرزور سفارش پر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی) کو صدر ایوب نے 1958ء میں اپنے دور حکومت میں ایٹمی توانائی کمیشن کا رکن بنایا اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس کا چیئرمین بنا دیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن کے ریکٹر سر پیٹرک لنسٹیڈ کی ملی بھگت سے 500 کے قریب نیوکلیئر فزکس، ریاضی، صحت و طب اور حیاتیات کے طلبہ اور ماہرین کو بیرونی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کے تحقیقی مرکز میں حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تحقیق و تعلیم کے لیے بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ ان طلبہ اور ماہرین کی اکثریت قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ڈاکٹر عثمانی سے اس منصوبہ کو منظور کروا کر ان لوگوں کو باہر بھجوا دیا جو واپس آ کر ملک کے حساس کلیدی عہدوں بالخصوص ایٹمی انرجی کمیشن میں فائز ہوگئے۔ اس کے برعکس امریکی تعلیمی اداروں کے نیوکلیئر فزکس کے شعبہ میں مسلمان بالخصوص عرب طلبہ پر پابندی ہے جو اب تک برقرار ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1974ء
تک جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے، ایٹمی قوت بننے کے سلسلہ میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا۔ حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط بنائی جائے لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہوئے تو پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی۔
اسلام دشمن قوتوں کو ہمیشہ ہی سے ایسے بدمعاش اور ننگ وطن آلہ کاروں کی ضرورت رہی ہے، جو ملت اسلامیہ کے حساس اور خفیہ معاملات کی مخبری کر کے ان کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ اس مقصد خبیثہ کے لیے انہیں اپنے پرانے نمک خواروں کا مکمل تعاون حاصل رہا ہے، جنہیں انہوں نے اپنے خزانہ عامرہ کا منہ کھول کر ہر قسم کی پرتعیش مراعات فراہم کیں۔ بلاشبہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایسے ہی ضمیر فروش لوگوں میں شامل تھا۔
دوسرے شعبوں کی طرح نوبیل انعام میں بھی یہودیوں کی اجارہ داری ہے۔ ان کا غرور، نخوت، اور تعصب کسی ایسے شخص کو خاطر میں نہیں لاتا، جو ان کی سازشوں اور مکروہ سرگرمیوں کا حامی اور آلہ کار نہ ہو۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، یہودیوں کے اس میرٹ پر سو فیصد پورے اترتے تھے، لہٰذا انہوں نے ایک سازش کے تحت ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبیل انعام سے نوازا اور اس کی آڑ میں اپنے خفیہ مقاصد حاصل کیے۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت تمام دوسرے محب وطن سائنس دانوں کو بے حوصلہ کرنے کے متعدد اقدامات کیے۔ پاکستان کے تمام ایٹمی راز ملک دشمن ممالک کو فراہم کیے۔ انہیں کہوٹہ ایٹمی سنٹر اور دوسرے حساس قومی معاملات کی ایک ایک خبر پہنچائی۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کبھی بھی دفاع کے معاملے میں خود کفیل نہ ہو سکے اور ہمیشہ بڑی طاقتوں کا دست نگر رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو ایسا زیرک انسان جانتا تھا کہ قادیانی جماعت غدار ہے ورنہ پوکھران (راجستھان) میں بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے جو تشویش ناک صورتحال پیدا کر دی تھی، اس کے پیش نظر ذوالفقار علی بھٹو ہالینڈ میں مقیم پاکستانی سفیر کے ذریعے ڈاکٹر قدیر کو فوراً پاکستان نہ بلاتے بلکہ عبدالسلام قادیانی کو اس سلسلہ میں کوشش کرنے کے لیے کہتے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں قادیانی سائنس دانوں پروفیسر شیخ عبداللطیف، مرزا منور احمد،
محمود احمد شاہ اور ڈاکٹر محمد افضل نے ہمیشہ سازشیں کیں۔
ڈاکٹر منیر احمد خان کے زمانہ میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قائم ہونے کے باوجود ایٹمی شعبہ میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا۔ ایوب خان کو جھوٹی رپورٹوں کے ذریعہ طفل تسلیاں دی جاتی رہیں۔ حالانکہ وہ 19 برس تک اس ادارے کا سربراہ رہا لیکن اس کے برعکس جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہوٹہ میں ایٹمی قوت بننے کے لیے کام شروع کیا تو ڈاکٹر منیر نے جو کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا شاگرد تھا، ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبردست مخالفت کی۔ حالانکہ وہ نہ تو نیوکلیئر انجینئر تھا اور نہ ہی ڈاکٹریٹ کی تھی، صرف ایم ایس سی تھا۔
ڈاکٹر منیر نے بھٹو دور میں حکومت سے جو مراعات بھی طلب کی تھیں، اسے فراہم کی گئیں مگر نتیجہ صفر۔ کیونکہ وہ قادیانیوں کی پاکستان دشمن لابی میں بری طرح گھرا ہوا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بنے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس نے پاکستان دشمن ممالک کو ایٹمی راز دیئے اور ایسے مواقع بھی آئے کہ اس لابی نے ڈاکٹر قدیر کو اتنا پریشان کیا کہ انہوں نے پاکستان چھوڑ کر ہالینڈ جانے کا ارادہ کرلیا۔ حالانکہ ڈاکٹر خان ہالینڈ میں تیس ہزار روپے ماہانہ لیتے تھے مگر پاکستان کی خاطر صرف تین ہزار روپے پر نوکری کرنے کے لیے راضی ہوگئے۔ مگر بھٹو کی درخواست پر انہیں اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔ بالآخر بھٹو کے علم میں آیا کہ یہ سب کارستانی ڈاکٹر منیر خان کی ہے۔ بھٹو نے اپنے ذرائع سے بریگیڈیئر زاہد علی اکبر (سابق چیئرمین واپڈا) سے اس کی تصدیق کروائی تو انہیں یقین آگیا کہ ڈاکٹر منیر اینڈ کمپنی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بلاوجہ تنگ کر رہی ہے۔ اور ان کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ منیر احمد خان کی پوری کوشش تھی کہ پاکستان نہ ہی ایٹمی دھماکہ کرسکے اور نہ کوئی اس کا کریڈٹ لے۔ اس لیے اس نے ڈاکٹر قدیر کے لیے کام کرنا ناممکن بنا دیا۔ بھٹو نے فوری طور پر کوئی وقت ضائع کیے بغیر 31 جولائی 1976ء کو کہوٹہ انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز (پراجیکٹ 706) کے نام سے اسے خود مختار ادارہ بنا دیا جس میں تمام تر عمل دخل صرف ڈاکٹر قدیر ہی کو حاصل تھا۔ جس کا سرکاری نام اب ”ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز“ ہے۔ یہی کچھ بھارتی مسلمان ایٹمی سائنس دان ابوالکلام کے ساتھ ہوا۔ جنہوں نے حال ہی میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں بعض طاقتور لابیوں کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں کام نہ کرسکا اور واپس ہندوستان چلا آیا۔
بھارت نے 11 مئی 98ء کو پوکھران میں 3 ایٹمی دھماکے کیے اور 13 مئی 1998ء
کو 2 اور دھماکے کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان) کے میدان میں 2 ایٹمی دھماکے کیے اور پھر 30 مئی کو 2 مزید ایٹمی دھماکے کیے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی رپورٹ کے مطابق:
”گزشتہ روز پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان سن کر ربوہ کے سرکردہ قادیانیوں کے خفیہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ربوہ میں ہو کا عالم تھا۔ قادیانیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔“
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، 29 مئی 1998ء)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے لندن کی مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ میں پاکستانی عوام کو ایٹمی دھماکوں کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کا حق عقل سے استعمال کرنا چاہیے تھا جو اس نے نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسلمان عوام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”ایٹمی دھماکے کر کے جشن منالو، پتا اس وقت چلے گا جب بھوک ناچے گی۔ جنونی دور ختم ہوگا تو ملک کا رہا سہا نظام بھوکے عوام اپنی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایٹمی دھماکوں سے پاکستان میں درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔“
(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 9 جون 1998ء)
پاکستان میں ایجنٹوں کا حصول اسرائیل کے لیے مشکل نہیں۔ پاکستانی قادیانیوں کا مرکز حیفا (اسرائیل) میں موجود ہے۔ یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہودیوں اور قادیانیوں کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلحہ اور بعض اہم آلات کی سمگلنگ میں بعض سابق افسر بھی شامل ہیں، جن کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماضی میں ایٹمی توانائی کمیشن میں 25 سے 30 تک قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کہا تھا کہ اُسے نوبیل پرائز یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا ہے۔ مصدقہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام نے کہوٹہ پلانٹ کے تمام نقشہ جات، ایٹم بم کا ماڈل اور اہم معلومات یہودی سائنس دانوں کو فراہم کیں۔
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم“ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے
ہوئے لکھتے ہیں:
”معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کٹھ پتلی بنے بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت رکھوا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔‘‘ یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
’’اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ’’نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتاؤں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں
داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ”یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟“ میں نے کہا میں فنی اور تکنیکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہوگا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کوریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے“۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں اور سازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ”خدمات“ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور نے ڈاکٹر عبدالسلام کی موت پر ”سلام میڈل“ کا اجراء کیا جو فزکس اور ریاضی کے شعبہ میں اول آنے والے طالب علموں کو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کالج کے اولڈ ہال کا نام ”سلام ہال“ رکھا اور مزید یہ کہ گورنمنٹ کالج میں اس کے نام کی ایک ”چیئر“ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ مزید براں 1998ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی کے موقعہ پر محکمہ ڈاک نے ان کی ”خدمات“ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 2 روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کا تھا
ڈاکٹر عبدالسلام 1992ء میں اٹلی میں مقیم تھا۔ اس وقت اس کی عمر 65 سال تھی۔ جولائی میں اسے ایک نامعلوم بیماری نے آگھیرا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قطعی طور پر معذور ہوگیا۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ وہ صرف وہیل چیئر کے ذریعے ہی حرکت کرسکتا تھا۔ بعد ازاں اس پر فالج کا ایک اور شدید حملہ ہوا جس سے وہ بے حد علیل ہوگیا۔ اسے اٹلی کے ایک بڑے ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج شروع ہوا۔ اس کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے جن سے پتا چلا کہ وہ ایک نہایت پیچیدہ بیماری Progressive Supranuclear Palsy (PSP) کا شکار ہوگیا ہے۔
’’پروگریسیو سپرانیوکلیر پالسی‘‘ ایک پُراسرار اور خطرناک فالج کی شکل ہے، جس میں مریض اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور پاگلوں جیسی حرکات کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ یہ ایک نئی بیماری متعارف ہوئی ہے، جس کا مستقبل قریب میں علاج ممکن نہیں ہے۔ بعض لوگ اسے خدائی عذاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس خطرناک بیماری کے باعث ڈاکٹر عبدالسلام کی یادداشت بالکل ختم ہوگئی۔ وہ جو کچھ کہتا، کچھ سمجھ نہ آتی۔ اس بیماری کی آخری وقت تک تشخیص نہ ہوسکی۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری کا شکار مریض تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے اور کسی دوائی سے افاقہ نہیں ہوتا۔
زندگی اور موت کی کشمکش بلکہ عذاب میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر ڈاکٹر عبدالسلام 21 نومبر 1996ء کو جہنم واصل ہوا۔ ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کی۔ اس کی گردن ایک طرف لڑھک گئی تھی۔ اس کی آنکھیں خوفناک حد تک باہر آگئی تھیں۔ اور زبان دانتوں کے درمیان لٹک رہی تھی۔ جس نے بھی اس کا چہرہ دیکھا، لرز کر رہ گیا اور توبہ توبہ کرتے پیچھے ہٹتا چلا گیا۔ ایلومینیم کے ایک مضبوط تابوت میں اس کی لاش محفوظ کر کے 25 نومبر 1996ء کو ربوہ لائی گئی۔
ربوہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کے جنازہ پر اس وقت شدید بدمزگی پیدا ہوئی جب ڈاکٹر عبدالسلام کی دوسری بیوی لوئس جانسن (عیسائی) جو لندن سے ڈاکٹر عبدالسلام کے تابوت کے ساتھ پاکستان آئی، کے ساتھ سلام کی پہلی بیوی امۃ الحفیظ اور اس کی بیٹیوں عزیزہ، آصفہ اور بشریٰ نے نہایت بدتمیزی کی بلکہ اسے گندی گالیاں بھی دیں۔ ڈاکٹر سلام کے بیٹے نے اپنی سوتیلی والدہ لوئس جانسن کو تھپڑ مارنے کی کوشش کی جس پر خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا اور اسے امورِ عامہ کے دفتر میں لے گئے اور دھمکی دی کہ اگر اس نے
سلام کی دوسری بیوی کے ساتھ مزید کوئی بدتمیزی کی تو اسے ربوہ سے نکال دیا جائے گا۔ بالکل یہی سلوک ڈاکٹر عبدالسلام کی سوتیلی ہمشیرہ مسعودہ بیگم (جو ڈاکٹر عبدالسلام کے والد چوہدری محمد حسین کی پہلی بیوی سعیدہ بیگم کی اکلوتی بیٹی تھی) کی زندگی میں ان کے ساتھ کیا گیا۔
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
۞.......۞.......۞
قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کا عبرتناک انجام
قادیانی جماعت کا چوتھا خلیفہ مرزا طاہر 18 دسمبر 1928ء کو مرزا محمود کے ہاں قادیان میں پیدا ہوا۔ 1944ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے تھرڈ ڈویژن میں ایف ایس سی اور بعد ازاں پرائیویٹ طور پر بی اے کیا۔ 1955ء میں سیر و سیاحت کے لیے لندن گیا تو وہاں کی رنگینیوں میں اس قدر کھو گیا کہ وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
معروف صحافی و کالم نگار جناب تنویر قیصر شاہد اپنے ایک مضمون ”برطانیہ میں مرزا طاہر احمد کا نیا اسلام آباد“ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
- ”ایشیا ویک جون 1990ء کے مطابق مرزا طاہر احمد جس نے 61 برس قبل مشرقی
پنجاب کے ایک متوسط زمیندار گھرانے میں جنم لیا تھا، آج قادیانیوں ہی میں نہیں، دنیا کے اُن اکتالیس امرا میں شمار ہوتا ہے جن کی دولت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ مرزا طاہر احمد نے جس گھر میں آنکھ کھولی، وہاں اس کے علاوہ اس کے 25 بہن بھائی بھی اس قلیل روٹی کو کھانے والے تھے جو سب کا پیٹ بھرنے سے قاصر تھی۔ اس کے باپ کی 7 عدد بیویاں تھیں، جنہوں نے اپنے شوہر کو 15 بیٹے اور 10 بیٹیاں دیں۔ مرزا طاہر احمد جو تعلیمی میدان میں درمیانے درجے کا طالب علم تھا، نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد لندن کے اورینٹل سکولز اینڈ افریقن سٹڈیز میں داخلہ لیا جہاں وہ کئی برس زیر تعلیم رہا لیکن مسلسل ناکام ہوتا رہا۔ بالآخر تنگ آ کر انتظامیہ نے اسے اپنے ادارے سے نکال دیا۔ اس کے ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس کی تعلیم پر کم اور عورت اور شراب پر زیادہ توجہ رہتی تھی۔ لندن میں سوہو کا علاقہ جہاں شراب اور عصمت فروش عورتوں کی بھرمار ہے، مرزا طاہر کا پسندیدہ مرکز تھا۔ کئی برس بعد اس کے ایک کلاس فیلو جو آج کل ”وال سٹریٹ“ اخبار سے وابستہ ہے، نے اس سے انٹرویو کے دوران جب یہ پوچھا کہ تم زمانہ طالب علمی میں اتنی کثرت سے شراب کا استعمال کیوں کرتے
تھے تو مرزا طاہر احمد نے ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس لیے کہ یہ ہمارے جدِ اعلیٰ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی سنت ہے اور میں اس سنت سے انحراف کیسے کرسکتا تھا! اکسٹھ سالہ مرزا طاہر احمد جس کی داڑھی اور سر کے بال سیاہ خضاب کے استعمال سے جامنی رنگ کے ہو رہے ہیں، دنیا کی ہر نعمت اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہے، سوائے دین حنیف پر ایمان لانے کے، کسی زمانے میں وہ سکوائش کا اچھا کھلاڑی تھا اور پولو وہ پرنس آف ایڈنبرا کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ ان دنوں اس کی صحت قابلِ رشک تھی مگر عورت اور شراب کی کثرت نے اس کا چہرہ ہی نہیں، جسم بھی بگاڑ کر رکھ دیا۔ مرزا طاہر احمد جس کا کہنا ہے کہ مجھے نماز کے مقابلے میں باورچی خانے میں بیوی کے لیے کھانا پکانے میں زیادہ سرور ملتا ہے، آج کل راتوں کو لندن کے مضافات ویمبلڈن کے ایک پُر شکوہ محل میں ٹہلتا نظر آتا ہے۔ اس نے کئی شادیاں کر رکھی ہیں جن کی اولادوں کی اولادیں بھی جوان ہو چکی ہیں لیکن ویمبلڈن کے محل میں رہائش پذیر آصفہ اس کی محبوب اہلیہ ہے جس کی تین بیٹیاں ہیں جن کی عمریں بارہ، اٹھارہ اور ستائیس سال کے درمیان ہیں، اس کی پوری زندگی کا سرمایہ ہیں۔‘‘ (ہفت روزہ زندگی لاہور 8 تا 14 جون 1990ء)
معروف صحافی، دانشور اور مصنف محترم جی آر اعوان اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’احمقوں کی جنت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مرزا طاہر کو جب میں نے دیکھا وہ ایک مکمل ’’پلے بوائے‘‘ تھے۔ منہ میں پان، جیب میں کیپسٹان ڈالے سرخ رنگ کی لیڈیز سائیکل پر پھرنے والا یہ شخص شہر بھر کی خواتین کے دل کی دھڑکن تھا۔ عمر کی قید سے قطع نظر ہر خاتون ان سے تعلق و واسطہ پر فخر کیا کرتی تھی۔ نوجوان خواتین تو بڑے ناز سے انہیں ’’میاں تاری‘‘ کہا کرتی تھیں۔
مرزا طاہر بھی اپنے بڑے بھائی مرزا ناصر کی طرح ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔ ان کا کلینک صبح اور شام کھلا کرتا جہاں ماہ رخاں شہر کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ کسی خاتون کو کوئی مرض ہو یا نہ ہو، وہاں جا کر دل پشوری کرلیا کرتی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی کے پیٹ میں ہلکا سا درد بھی اٹھتا، والدین اسے تریاق لینے میاں تاری کے پاس بھیج دیا کرتے۔
مرزا طاہر کے کلینک پر مرد و زن دونوں ہوا کرتے تھے۔ لیکن صنف نازک کی تعداد زیادہ ہوتی۔ خواتین کہتی تھیں ’’میاں تاری تو باتوں سے مرض دور کر دیتے ہیں۔‘‘ ایک بار موصوف نے ایک خاتون نور احمد عابد کی بیوی رشیدہ بیگم کو کہہ دیا ’’آپ کی جوانی تو برسوں
قائم رہنے والی ہے‘‘ جس پر موصوفہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ وہ کئی دنوں تک مرزا طاہر کے تاثرات اپنی سہیلیوں کو بتاتی پھری۔ مزے کی بات یہ تھی کہ وہ جب یہ بات کسی کو بتاتی تو ساتھ ہی شرم سے گلنار ہو جاتی تھی۔ مرزا طاہر کی نیلی شیشیوں میں سفید دانے دار گولیوں میں کوئی شفا تھی یا نہیں تھی، مگر اس کی ’’زبان اور ہاتھ‘‘ خواتین کے لیے بڑے شافی تھے۔
مرزا محمود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تخریب کارانہ ذہن کے مالک تھے۔ جماعت میں سے کہیں سے کوئی تنقید یا فتنہ سر اٹھاتا تو وہ بڑی چابکدستی کے ساتھ اسے دبا دیا کرتے تھے۔ اس کے لیے اعلیٰ درجے کے مخبر رکھے جاتے جو اوّل تو فتنہ اٹھنے ہی نہ دیتے اور کہیں کوئی ’’ابنارمیلٹی‘‘ نظر آتی، ان کے کارندے وہاں پہنچتے اور صورت حال پر قابو پالیا کرتے تھے۔ مرزا محمود احمد کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری بھی مرزا طاہر نے اپنے سر لے لی۔ ’’آل نبوت‘‘ کے کالے کرتوتوں پر اگر کسی شخص نے انگشت نمائی کرنے کی کوشش کی تو مرزا طاہر نے اس کی گردن وہیں مار دی۔ ربوہ میں ’’گردن مارنا اور جان مار دینا‘‘ کے الفاظ محاورہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور یہ جملے خاندانِ نبوت کے سپوت زیادہ تر استعمال کرتے تھے۔ مرزا طاہر کو دہشت گردی اور تخریب کاری کی علامت اور روحِ رواں سمجھا جاتا تھا۔ اپنی انہی خوبیوں اور سازشوں کی بنا پر انہیں ’’مسند خلافت‘‘ حاصل ہوئی۔‘‘
8 جون 1982ء کو اسلام آباد میں قادیانی جماعت کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر کی عبرتناک اور حسرتناک موت کے بعد مرزا طاہر قبضہ گروپ کے سرغنہ کی حیثیت سے قادیانی جماعت کا چوتھا خلیفہ بنا۔ 10 جون 1982ء کو صبح 9 بجے کے قریب نئے قادیانی خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر قادیانی مرکزی عبادت گاہ چناب نگر (ربوہ) کے باہر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔ خلافت کا دوسرا امیدوار مرزا رفیع (مرزا طاہر کا سوتیلا بھائی) جب مجلسِ مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتا باہر آیا تو مرزا طاہر کے غنڈوں نے اپنی ایک کار 300 AJK میں ڈال کر اسے زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی مگر مرزا رفیع کے حامیوں نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ پھر مرزا رفیع اپنے حامیوں کو لے کر اقصیٰ چوک میں آ گیا اور وہاں پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر اور اس کے حامیوں نے خلافت کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور مجھے انتخابِ خلافت سے خارج کر دیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ مرزا رفیع کی اس تقریر پر پھر ہنگامہ ہو گیا اور اسے زبردستی اس کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ بعدازاں اسے کسی نامعلوم جگہ پر
منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 3 بجے کے قریب طاقت اور دھونس کے بل بوتے پر مرزا طاہر کی نام نہاد خلافت کا اعلان کر دیا گیا۔ مرزا طاہر چونکہ سیاسی ذہن رکھتا تھا، اس لیے اس نے قادیانی جماعت کو پاکستان کی سیاست میں براہ راست ملوث کیا تاکہ کلیدی عہدوں پر قبضہ کیا جائے۔ مرزا طاہر کی احمقانہ سیاست گری اور بچگانہ فیصلوں کے نتیجہ میں قادیانیوں کو شرمندگی اور رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ 26 اپریل 1984ء کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا تھا۔ اس پر مرزا طاہر نے پوری قادیانی جماعت کو حکم دیا کہ وہ اسلامی شعائر کا بھر پور استعمال کر کے صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کریں۔ اس پر مرزا طاہر کے خلاف آئین و قانون کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ 28 اپریل 1984ء کو مرزا طاہر گرفتاری کے ڈر سے رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر سڑک کے راستے ربوہ سے کراچی اور وہاں سے KLM ائیرلائن کے ذریعے بیرون ملک فرار ہو گیا اور وہاں بیٹھ کر اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔ مرزا طاہر اپنے خطبات میں قادیانیوں کو فاتحانہ انداز میں جلد پاکستان آنے کی جھوٹی تسلیاں دینے لگا۔ انہی دنوں اس نے اپنی شاعری میں پاکستان واپسی کے بارے میں کہا تھا کہ ؎
تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، دید کے ترسوں کی
یہ بات نہیں وعدوں کے لیے لیکھوں کی، تم دیکھو گے
ہم آئیں گے، جھوٹی نکلے گی، لاف خدا ناترسوں کی
مرزا طاہر کی بے وزن شاعری یہ بات سچ ثابت کر گئی کہ خدا ناترسوں کی لاف گزاف واقعی جھوٹ نکلی۔ مرزا طاہر اپنی پاکستان واپسی کے ارمان دل میں لیے جہنم واصل ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ خود خدا بناتا ہے اور اس کی زبان میں خدا بولتا ہے۔
کہتے ہیں اللہ تعالیٰ جب کسی گستاخ کو سزا دیتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی عقل سلب کر لیتے ہیں (یعنی اس کی مت ماری جاتی ہے) قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ، مرزا طاہر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ مرزا طاہر کی موت سے متصل آخری چار سال نہایت عبرتناک تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خدائی گرفت میں آ چکا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیا بیطس، شدید کھانسی، سانس کی تکلیف، معدہ کی تکلیف، طبیعت میں بے چینی، پیٹ کی بیماری، اعصابی
کمزوری، خون میں شوگر، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہارٹ اٹیک جیسے مرض بری طرح اسے چمٹے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک آوارہ مزاج اور جنسی مریض بھی تھا۔ یہ مرض اسے اپنے والد سے وراثتاً بلکہ نسلاً منتقل ہوا تھا۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ اس کی جنسی عیاشیوں کے قصے، جب وہ ”میاں تاری“ کے نام سے مشہور تھا، ربوہ میں اب بھی زبان زد عام ہیں۔ وہ شراب و کباب کا رسیا تھا۔ لجنہ سے تعلق رکھنے والی شاید ہی کوئی ایسی لڑکی ہو، جس نے مرزا طاہر سے سلسلہ عالیہ کا ”جنسی فیض“ حاصل نہ کیا ہو۔ جماعت کے عہدیدار اور مربی بیرون ممالک بالخصوص یورپ میں اپنی تعیناتی کے لیے ہمیشہ بے چین رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کسی بارسوخ شخص کی سفارش کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ وہ لوگ اپنی حسین و جمیل بیویوں اور لڑکیوں کو مرزا طاہر کے پاس اس سفارش کے لیے استعمال کرتے، حالانکہ انہیں یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہوتی کہ اس کے بدلے میں وہ کیا قیمت ادا کر رہے ہیں؟
مرزا طاہر کے مجیدہ شاہ نواز سے بھی ”گہرے“ تعلقات تھے۔ یہ خاتون نہایت خوبصورت اور جاذب نظر تھی۔ وہ ایک عرصہ تک آزاد خیال اور آوارہ مزاج خواتین کی تنظیم اپوا (Apwa) کی مرکزی عہدیدار رہی۔ مرزا طاہر آخری عمر تک اس کی زلفوں کا اسیر رہا۔ 1984ء میں جب مرزا طاہر پاکستان سے بھاگ کر لندن چلا گیا تو اس نے مجیدہ شاہ نواز کو لجنہ کا صدر بنوایا تاکہ جماعتی کاموں کے بہانے ”ملاقاتوں“ کا سلسلہ جاری رہے۔ روزنامہ الفضل 15 دسمبر 2004ء کے مطابق ”حضرت مرزا طاہر صاحب مصروف ترین دنوں میں بھی وقت نکال کر مجیدہ شاہ نواز کے گھر تشریف لاتے اور اپنے قیمتی تحفوں سے نوازتے۔ ایک مرتبہ آپ ہسپتال داخل ہوئیں تو حضرت صاحب آپ کو پھولوں کا تحفہ بھیجتے رہے۔ ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ جب آپ لندن لجنہ کی صدارت سے فارغ ہوئیں اور کراچی آنے لگیں تو حضرت صاحب نے ایک الوداعی دعوت کا انتظام فرمایا جس میں نظم ”یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی“ کے الفاظ تھے۔ حضرت صاحب نے مسکرا کر اس نظم کو رکوا دیا اور فرمایا کہ یہ خوشی کے موقع کی نظم ہے، آج تو غمی کا دن ہے۔ چوہدری شاہ نواز صاحب کی وفات کے بعد آپ زیادہ وقت کراچی یا لاہور میں گزارتیں۔ جہاں حضرت صاحب آپ کو محبت بھرے خطوط لکھتے رہے۔“
بیرون ممالک جہاں مرزا محمود نے مشن ہاؤسز قائم کیے وہاں پر مبلغوں کے ساتھ یہ غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر معاشرتی سلوک روا رکھا تھا کہ وہ دوران تبلیغ اپنی بیوی سے جسمانی
رابطہ نہ رکھ سکتے تھے، یعنی ان کو اپنی بیوی ساتھ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ اور اس کا نتیجہ کیا ہوتا؟ اس کی مثال اس سے بہتر اور کیا ہوگی ! ہالینڈ کے سابق مبلغ حافظ قدرت اللہ جب وقف سے فارغ ہوئے اور اپنی بیوی سے سالوں بعد ملے تو انہیں تعارف کی ضرورت محسوس ہوئی! بقول شخصے قدرت اللہ نے جسمانی فاصلہ مرتے دم تک قائم رکھا کہ کہیں وقف نہ ٹوٹ جائے۔ آج قادیانیت جس مقام پر ہے اس کا سہرا مرزا محمود کے سر پر ہے۔ مرزا محمود صرف ذہین و فطین ہی نہ تھا بلکہ Evil Genius بھی تھا، کیونکہ ابھی تک اس کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوسکا گو مرزا لقمان پوری کوشش کر رہا ہے! بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے، اس پر مستند شواہد پر مبنی مضمون پھر کبھی سہی (ان شاء اللہ) ! ذکر ہورہا تھا مرزا طاہر کی بیماریوں کا۔ مرزا طاہر اپنے مرنے کے ایک سال پیشتر بے شمار بیماریوں کے سبب مخبوط الحواس ہو گیا تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہر جمعہ اپنے خطبہ میں کوئی نہ کوئی بونگی ضرور مارتا اور ایسی مضحکہ خیز حرکت کرتا جسے دنیا بھر کے قادیانی ایم ٹی اے پر دیکھتے اور پھر منہ چھپاتے پھرتے۔
5 جولائی 2002ء کو قادیانی عبادت گاہ بیت الفضل لندن میں مرزا طاہر خطبہ دیتے ہوئے، اپنے خدائی گرفت میں آنے کا نظارہ ایم ٹی اے کے ذریعے پوری دنیا کو دکھا گیا۔ خطبہ جمعہ معمول سے دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے شروع ہوا۔ مرزا طاہر احمد کی حالت تشہد پڑھنے سے ہی ظاہر ہورہی تھی۔ قرآت کے ساتھ تشہد پڑھنے کی قوت سلب کر لی گئی تو مرزا طاہر نے سورۃ فاتحہ بھی خطبہ کی ریڈنگ کی طرح پڑھنا شروع کر دی۔ ایسا اس کے خطبوں میں پہلی بار ہوا۔ پھر خطبے کی حالت خاصی خراب تھی۔ مرزا طاہر کی آواز سے کاغذ پلٹنے کی آواز زیادہ صاف تھی۔ لگ بھگ 25 منٹ کے خطبہ کے دوران مرزا طاہر کی حالت زار قابل رحم تھی۔ برطانوی ٹائم کے مطابق ایک بج کر تینتالیس منٹ پر اس وقت یہ حالت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب وہ ڈائس کو تھامنے کے لائق بھی نہ رہا۔ اسے گرتے ہوئے صاف دیکھا گیا۔ جماعت کے دو افراد نے فوراً لپک کر اسے سنبھالنے کی کوشش کی۔ اسی دوران ایم ٹی اے والوں نے اس عبرتناک نظارہ سے کیمرہ ہٹا لیا اور ایم ٹی اے کے چینل پر مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔ لگ بھگ چار منٹ کی خاموشی کے بعد کیمرہ عبادت گاہ سے منسلکہ بیت الخلا تک لایا گیا اور مرزا طاہر سے خطبہ ثانی سنوانے کی کوشش کی گئی لیکن پھر فوراً ہی آواز بند کر دی گئی اور ایم ٹی اے پر پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ کافی وقفہ کے بعد عطاء المجیب راشد امام مسجد فضل لندن نے اعلان کیا کہ
حضرت صاحب کو دوران خطبہ ضعف ہو گیا تھا، اب وہ بہتر ہیں۔ احباب دعا کریں۔ برطانوی وقت کے مطابق چار بج کر پانچ منٹ پر اس خطبہ کو دوبارہ دیا جانا تھا۔ چار بجے اناؤنسر نے اس خطبہ کو دکھانے کا اعلان کیا مگر اس کے ساتھ ہی پھر ایم ٹی اے پر جیسے اس اعلان کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ لمبی خاموشی کے بعد مولوی عطاء المجیب راشد کے اعلان کی ریکارڈنگ دوبارہ سنائی گئی اور پھر مرزا طاہر احمد کا 7 جون 2002ء کا خطبہ دوبارہ لگایا گیا جبکہ اصولاً 5 جولائی کا خطبہ لگانا چاہیے تھا۔ 5 جولائی کا خطبہ روک کر دراصل لندن کے قادیانی مالشیوں نے مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کا خود بھی اعتراف کیا۔
5 جولائی کے خطبہ جمعہ میں خدائی مار کے بعد مرزا طاہر کو جب تھوڑا سا ہوش آیا تو اس نے خود نماز پڑھانے کی ضد کی۔ عطاء المجیب راشد جو نماز پڑھانے کے لیے آگے آ چکا تھا، اسے واپس بھیجا گیا۔ مرزا طاہر نے نماز شروع کی اور ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ جمعہ نماز بھی خراب کی۔ اس سلسلے میں اندر کی مزید خبر یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد کو ان کے ”مالشیے“ ایک عرصہ سے کہہ رہے تھے کہ آپ خطبہ نہ دیں لیکن وہ ضد کر کے خود خطبہ دیتا تھا۔ شاید خدا نے اس کا عبرتناک انجام ایم ٹی اے کے ذریعے پوری دنیا کو دکھانا تھا۔ یہ مرزا طاہر کی ضد سے زیادہ خدائی تقدیر تھی جس نے اسے اس طرح عبرت کا نشان بنایا تھا۔ نماز جمعہ مرزا طاہر نے پڑھائی تو ایک رکعت کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر عطاء المجیب راشد نے باقی نماز پڑھانی شروع کی تو مرزا طاہر نے اپنی مخبوط الحواسی میں اسے ڈانٹ دیا کہ جب میں نے نماز کا سلام پھیر دیا ہے تو نماز مکمل ہو گئی ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ مرزا طاہر پہلی رکعت پڑھا کر کھڑا ہوا اور پھر کھڑے کھڑے ہی سلام پھیر دیا۔ شاید کوئی جنازہ پڑھا دیا ہو۔ جن لوگوں نے ایم ٹی اے پر یہ دلچسپ کامیڈی شو دیکھا ہو، وہ مدتوں اسے بھول نہ پائیں گے۔
مرزا طاہر کی عذاب ناک علالت اور 5 جولائی کو ایم ٹی اے پر سر عام اس کے گرنے کا منظر دیکھ کر پوری جماعت میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے نتیجہ میں فوری طور پر ربوہ میں سختی سے حکم دے دیا گیا ہے کہ مرزا طاہر کی بیماری اور ٹی وی پر گرتے ہوئے دیکھے جانے کے موضوع پر کوئی کسی سے کسی قسم کی بات نہ کرے! یہ پابندی اس حد تک عائد کی گئی کہ ربوہ کے کسی ریستوران یا چائے خانہ میں اگر اس موضوع پر کوئی بات کی جاتی تو ویٹر فوری طور پر کہتا: جی یہاں اس موضوع پر کوئی بات نہ کرے۔
12 جولائی 2002ء کو جب مرزا طاہر نے خطبہ جمعہ دیا تو اس کی حالت دیدنی تھی۔ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ خطبہ کی ریڈنگ، ہر وقت تنی رہنے والی گردن مجرموں کی گردنوں کی طرح جھکی ہوئی، فرعون کی طرح تنی ہوئی آنکھیں جو اب ایک لمحہ کے لیے بھی نہ اٹھ سکیں۔ 75 فیصد خطبہ کے الفاظ سمجھ ہی نہیں آتے تھے کہ مرزا طاہر کیا کہہ رہا ہے۔ بس منمناہٹ کا احساس ہوتا تھا۔ اس مرتبہ مرزا طاہر نے بمشکل 15 منٹ خطبہ دے کر کام نمٹا دیا۔ جب بھی مرزا طاہر کی حالت دیدنی ہوتی ، کیمرہ مین فوری طور پر اس سے کیمرہ ہٹا کر عبادت گاہ کے گنبد یا نئے بیت الخلا کی طرف کر دیتا۔ مرزا طاہر بعض اوقات دواؤں کی ڈبل خوراک کے نتیجہ میں وقفے وقفے کے لیے اپنے حواس میں آ جاتا۔ اور بعض اوقات نماز پڑھاتا۔ لیکن ہر نماز میں بھول جاتا۔ اس کی ایک نماز بھی قرأت یا رکعت کی خرابی کے بغیر مکمل نہ ہوتی۔ دوا کا اثر زائل ہوتے ہی مرزا طاہر پھر اپنی اصل حالت میں آ جاتا اور مخبوط الحواسیوں میں مبتلا ہو جاتا۔
19 جولائی 2002ء کو مرزا طاہر نے بیت الذکر فضل لندن میں جمعہ کا خطبہ دیا۔ بکری کی منمناہٹ کی طرح اس کی آواز سنائی دیتی تھی۔ پورے چہرہ پر سوجن کے اثرات تھے جس سے گمان کیا جاتا تھا کہ ان کی بیماریوں کی دوا کی خوراک ڈبل سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے۔ ٹی وی کیمرہ والوں نے نہ تو مرزا طاہر کو عبادت گاہ میں داخل ہوتے دکھایا نہ اٹھتے یا بیٹھتے دکھایا۔ جب ایسی نوبت آتی تو کیمرہ مسجد کے باہر چلا جاتا۔ اس بار تو احتیاط کا یہ عالم رہا کہ مرزا طاہر جب پانی پینے لگتا تو تب بھی کیمرہ اس کے چہرے سے ہٹا کر نئے تعمیر شدہ بیت الخلا دکھانے شروع کر دیئے جاتے۔
26 جولائی 2002ء کو جلسہ سالانہ کا افتتاح مرزا طاہر کے خطبہ جمعہ سے ہو گیا تھا۔ اس کے بعد برطانوی ٹائم کے مطابق پونے چار بجے جلسہ شروع ہوا۔ جلسہ کی ابتدا ”درِثمین“ (مرزا قادیانی کی شاعری کا مجموعہ) کی ایک نظم کے ایک حصہ سے کیا گیا۔ نظم کا ایک مصرعہ بہت حسب حال تھا:
بے شک قادیانی جماعت کے اندر جو ستم کی سب سے بڑی علامت شخصیت تھی، وہ اب مائل ملک عدم ہو رہی تھی۔ جس نے بھی نظم کا یہ اقتباس منتخب کیا، ذہانت کا ثبوت دیا۔ دوران تقریب وزیر اعظم برطانیہ ٹونی بلیئر کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ اس سے تھوڑا سا افسوس ہوا،
کیونکہ اسی لندن میں سکھوں کی اسی انداز کی تقریبات ہوتی ہیں تو ٹونی بلیئر خود ان میں شرکت کر کے تقریر کرتے ہیں جبکہ قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ کے لیے انہوں نے صرف لکھا ہوا پیغام بھیجا۔ امید ہے اگلے جلسہ پر انہیں لانے کے لیے کوشش کی جاسکے گی۔ اسی جلسہ میں ایک برطانوی ممبر پارلیمنٹ نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں جا کر توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ ایک انگریز اگر قادیانی جماعت کے پلیٹ فارم سے توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کی باتیں سناتا ہے تو اسلامی دنیا کو اس کا مطلب کیا لینا چاہیے؟
یہاں جماعت کے تاریخی ریکارڈ سے اتنی بات بتا دینا ضروری ہے کہ جب انگریزی دور میں ہندوستان میں حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کا کاروبار بہت چل نکلا تھا تب اہل اسلام نے انگریزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ توہین رسالت کا قانون بنایا جائے۔ ایسا قانون بننے جا رہا تھا۔ تب قادیانی جماعت ان دنوں میں مرزا محمود پر زنا کاری کے الزامات کا سامنا کرنے سے بھاگ رہی تھی۔ چنانچہ مرزا محمود نے اس قانون کے بننے میں یہ رکاوٹ ڈال دی کہ صرف توہین رسالت کا نہیں بلکہ تمام مذہبی پیشواؤں (جس میں مرزا قادیانی بھی شامل ہو) کی توہین کا بل بنایا جائے۔ یوں اس وقت میں ایسا قانون بنتے بنتے رہ گیا تھا۔
سالانہ جلسہ شروع ہوا تو مرزا طاہر کو ”لوائے احمدیت“ لہرانے کے لیے بڑے حفاظتی اور احتیاطی دائرے میں لایا گیا۔ آنے اور جانے کا منظر چند قدم کی حد تک دکھایا گیا اور اس میں بھی چاروں طرف سے اسے اس حد تک گھیر رکھا تھا کہ وہ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ پردہ تان کر اس کی چال کو بھی مخفی رکھا گیا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرزا طاہر کی دونوں آنکھوں کے زاویے الگ الگ ہو گئے تھے، دراصل جب کسی انسان کی دونوں آنکھیں کسی چیز کو دیکھنے کے لیے ایک زاویے پر آتی ہیں تو تب اس چیز کو ٹھیک سے دیکھ پاتا ہے۔ مرزا طاہر کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے زاویوں کا ربط ٹوٹ گیا تھا۔ وہ دیکھتا کسی اور طرف اور چیز کسی اور طرف ہوتی۔ وہ دیکھ کہیں اور طرف ہوتا، اس کے قدم کہیں اور پڑ رہے ہوتے۔ اسی لیے اسے چلتا ہوا بھی نہیں دکھایا گیا۔ کاغذ پر لکھا ہوا جو وہ پڑھتا، اس میں لکھی ہوئی دو تین لائنیں بھی گڈ مڈ کر دیتا۔ وجہ یہی ہے کہ اس کی آنکھیں ایک زاویے پر نہیں ٹھہرتی تھیں۔ اس کی یہ بیماری مزید بڑھی۔ وہ تلاوت کے لائق بھی نہ رہا۔ اسی لیے جلسہ کی اپنی چھ سات منٹ کی آخری تقریر کی ریڈنگ کے آغاز ہی میں اسے تشہد تعوذ والا صفحہ لکھا ہوا ہونے
کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ ان کی عبرتناک بیماریوں میں یہ ایک اور عبرتناک اضافہ تھا۔ معمولی سا اختلاف رائے رکھنے والوں کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والے مرزا طاہر کی آنکھیں خدا نے ہمیشہ کے لیے ٹیڑھی کر دی تھیں۔ اس کے فوراً بعد خطبہ جمعہ دیا گیا۔ مرزا طاہر احمد نے خطبہ بیٹھ کر دیا۔ خطبہ میں ان کی حالت اتنی پتلی تھی کہ جلد ہی کیمرے کو ان سے خاصا دور کر لیا گیا۔ ادھر جلسہ میں شریک قادیانی اچھے خاصے پریشان تھے۔ اس لیے ان کے حواس باختہ چہرے دکھانے سے بھی گریز کیا جا رہا تھا۔ خطبہ جمعہ کو جلسہ کی افتتاحی تقریر شمار کیا جانا چاہیے۔ مرزا طاہر کی آواز کی منمناہٹ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اور خطبہ کا دورانیہ مزید گھٹ گیا تھا۔ یہ افتتاحی خطبہ پندرہ منٹ تک رہا۔ اس میں بمشکل پانچ منٹ کے دورانیہ کے الفاظ سمجھ میں آئے، باقی خطبہ مرزا قادیانی کی اکثر وحیوں کی طرح ناقابل فہم تھا۔ اپنے بیٹھ کر خطبہ دینے کی افسوسناک حالت کا مرزا طاہر کو خود بھی اندازہ تھا۔ چنانچہ اس نے خطبہ میں کہا کہ حضور نبی رحمتﷺ کی وفات پر حضرت عمرؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا تھا۔ آج میں حضرت عمرؓ کی پیروی کرتے ہوئے بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہوں۔ اس پر قادیانیوں نے با آواز بلند سبحان اللہ کہا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضرت عمرؓ وفات رسولؐ کے صدمہ سے نڈھال تھے، جبکہ مرزا طاہر خدا کی طرف سے ملنے والی سزا کے نتیجہ میں اس حالت کو پہنچا۔ اگر عمرؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا بھی ہو تو ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضور نبی رحمتﷺ کی وفات کے صدمہ سے نڈھال تھے، جبکہ مرزا طاہر احمد تو خدائی گرفت میں آیا ہوا تھا۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضور نبی رحمتﷺ کی وفات پر حضرت عمرؓ نے کوئی خطبہ دیا ہی نہیں۔ تب صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ دیا تھا۔ لہٰذا مرزا طاہر کی عبرتناک حالت پر پردہ ڈالنے کے لیے ناجائز طور پر حضرت عمرؓ کی ایک سنت گھڑی گئی اور پھر اس کی پیروی کا ڈرامہ کیا گیا۔
ایم ٹی اے نے جلسہ سالانہ کے پروگرام Live دکھانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن خصوصی نشریات میں افتتاحی جلسہ سے پہلے زیادہ تر پرانی ریکارڈنگز دکھائی گئیں۔ کبھی کینیڈا اور کبھی انڈونیشیا کی تقریبات سے دل بہلائے جاتے رہے۔ ایک بار عطاء المجیب راشد سے بات کرائی گئی۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ اس بار جماعت نے بارہ زبانوں میں فی البدیہہ تراجم کا انتظام کیا ہے اور ساتھ یہ بتایا کہ اقوام متحدہ میں صرف چھ زبانوں کے تراجم ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں قادیانی جماعت بارہ زبانوں میں ترجمہ کرا رہی ہے۔ ترجمہ کی سرعت
کے بارے میں اس نے بتایا کہ کبھی حضور کوئی لطیفہ سناتے ہیں تو 8 سیکنڈ میں اس کا ترجمہ ہو جاتا ہے اور ان زبانوں کے جاننے والے لوگوں کے چہروں پر بھی اسی وقت مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا ...... برصغیر پر اپنی حکومت کے دوران ایک انگریز بہادر کسی گاؤں گئے۔ وہاں ایک نوجوان ان کی تقریر کا ترجمہ کرتا رہا۔ دوران گفتگو انگریز بہادر نے ایک طویل لطیفہ سنایا تو نوجوان نے اس کے ترجمہ کے طور پر ایک جملہ بولا اور سارے حاضرین ہنسنے لگ گئے۔ انگریز بہادر نے ترجمہ نگار سے پوچھا کہ لطیفہ طویل تھا تم نے اتنا مختصر ترجمہ کیسے کر دیا کہ بات ان کو سمجھ آ گئی اور وہ اس پر ہنسنے لگ گئے۔ ترجمہ نگار نے دست بستہ عرض کیا حضور میں نے تو صرف اتنا ہی عرض کیا تھا کہ حضور بہادر نے ایک لطیفہ سنایا ہے، آپ اس پر ہنسیے ۔
جلسہ کے دوسرے دن مرزا طاہر نے خواتین سے خطاب کیا۔ مقررہ وقت سے 25 منٹ تاخیر سے جلسہ گاہ پہنچا۔ اس خطاب کے لیے نہ آتے ہوئے دکھایا گیا نہ جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ جب فٹ کر کے بٹھا دیا گیا تب کیمرے نے ایک آدھ جھلک دکھائی ۔ یہ خطاب دعا سمیت بمشکل 9 منٹ رہا۔ لکھی ہوئی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں ۔ اس دوران حالت یہ تھی کہ کیمرہ زیادہ تر سامعین کی طرف رکھا گیا اور مرزا طاہر کی صرف آواز سنائی دیتی رہی۔ ایک دو بار کیمرہ مرزا طاہر کی طرف گیا لیکن جلد ہی وہاں سے ہٹا لیا گیا۔ اس سے پہلے کے کسی جلسہ سالانہ، کسی مجلس عرفان یا کسی پروگرام کے خطبہ کی کیسٹ دیکھ لیں ۔ ہرفلم میں کیمرہ مرزا طاہر کے چہرے پر مرکوز ہے۔ جلسہ سالانہ کی سابقہ تقریبات میں تو مرزا طاہر کی تقریر کے دوران حاضرین کی ہلکی سی جھلک قسمت سے دکھائی جاتی تھی ۔ اب ایسا سماں ہے کہ حاضرین کو دکھایا جا رہا ہے اور مرزا طاہر کے چہرے کو چھپایا جا رہا ہے۔ مرزا طاہر احمد کی عبرتناک اور عذاب ناک حالت دیکھ کر ڈوئی کی وہ تصویر یاد آتی ہے جو ”حقیقۃ الوحی“ میں شامل ہے۔
جماعت کے جلسہ کا آخری آئٹم مرزا طاہر کی تقریر تھی۔ یہ تقریر سات آٹھ منٹ تک رہی اور مرزا طاہر نے اتنا معمولی وقت بھی بیٹھ کر اپنا مخصوص منمنا تا ہوا خطاب کیا۔ مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت دیکھنے کے بعد دور دراز سے آئے ہوئے برصغیر سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں میں خوف اور مایوسی کی لہر پھیل گئی۔ اس منمناتی ہوئی تقریر میں مرزا طاہر نے جماعت کی تعداد میں دو کروڑ سے زائد اضافہ کا اعلان کیا لیکن اس اعلان پر حاضرین نے کسی معمولی سی گرمجوشی کا اظہار بھی نہیں کیا ، جیسے بزبان خاموشی کہہ رہے ہوں کہ اتنا عبرتناک حال
ہو جانے کے باوجود جھوٹ بولنے سے باز نہیں آرہے ہو۔ مرزا طاہر نے تعداد میں ڈبل اضافہ کا ڈرامہ ترک کر دیا تھا۔ اس کے باوجود اس پر خدائی گرفت شدید تر ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ مرزا طاہر نے ڈبل اضافہ کا اعلان نہ کر پانے کی وجہ گزشتہ سال کے بین الاقوامی حالات سے جوڑ دی۔ اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک شخص نے ایک بنک میں منافع سکیم کی تھوڑی سی انویسٹمینٹ کی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دونوں عمارتوں کے حادثہ کے بعد سے انہیں ہر چھ ماہ بعد ایک لیٹر آ جاتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حادثہ کے گہرے اثرات کے باعث اس بار زیادہ منافع نہیں ہوسکا۔ کچھ ایسا ہی مرزا طاہر احمد کی وضاحت تھی کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حادثہ کے بعد سے جو حالات ہیں، ان کی وجہ سے جماعت کی تعداد میں ڈبل اضافہ نہیں ہوسکا۔
28 جولائی 2002ء کو قادیانی سالانہ جلسہ اختتام پذیر ہوگیا۔ آخری سیشن سے پہلے عالمی بیعت کا ناٹک رچایا گیا۔ لیکن اس بار عالمی بیعت کا کھیل انتہائی بے جان رہا۔ مرزا طاہر کو جس طرح لایا گیا، اس سے اردن کے شاہ حسین کا وہ منظر یاد آ گیا جب اس کی کلینیکل موت کی خبر جاری کر دی گئی تھی لیکن اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھ کر امریکہ سے اس کے وطن لے جایا گیا تھا۔ مرزا طاہر کی زندہ درگور حالت اسی منظر کی یاد دلاتی رہی۔ عالمی بیعت کے ڈرامے میں پہلے جس طرح جوش وخروش دکھایا جاتا تھا یا یوں کہہ لیں کہ جذباتی ایکٹنگ کی جاتی تھی، وہ اس بار بالکل مفقود تھی۔ جلسہ کے آخری سیشن میں مرزا طاہر نے خطاب کیا۔ یہ خطاب بمشکل سات منٹ جاری رہ سکا۔ اس بار بھی خطبہ بیٹھ کر دیا گیا۔ مزید ستم یہ ہوا کہ تقریر کے آغاز میں تشہد، تعوذ پڑھنے کے بجائے مرزا طاہر احمد نے براہ راست تقریر شروع کر دی۔ ابھی انہوں نے ”گزشتہ چند سالوں سے“ ہی کہا تھا کہ ان کو سنبھالنے کی ڈیوٹی پر مامور ایک صاحب نے فوراً ان کی طرف جھک کر انہیں یاد دلایا کہ تشہد، تعوذ پڑھ لیں۔ چنانچہ مرزا طاہر نے تقریر روک کر اپنی غلطی کی درستی کی۔ کیمرہ حسب معمول ان سے خاصا دور رکھا گیا۔
عالمی بیعت کے ڈرامہ کے اختتام پر مرزا طاہر ایک سجدہ کرایا کرتا تھا۔ اس سجدہ کے بعد مرزا طاہر نے اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھا لیا لیکن اس کی آواز اتنی نحیف ونزار تھی کہ شرکائے سجدہ میں سے کسی نے بھی نہیں سنی۔ صرف ایم ٹی اے کے ہائی سپیکرز نے اسے نشر کیا اور پھر یہ تماشا ایم ٹی اے پر ہی دیکھا گیا کہ مرزا طاہر نے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ ختم کر دیا۔ اس کے باوجود ساری جماعت سجدہ میں پڑی ہوئی تھی۔ خاصے وقفہ کے بعد اس دوران ڈیوٹی پر موجود کسی فرد نے کسی
ذمہ دار کو توجہ دلائی تو کسی نے تکبیر کہہ کر اس بے امام سجدہ سے سب کو نجات دلائی۔ یہ سب قدرت کی طرف سے نشان ہیں۔ اس بار بعض مقررین کی تقاریر کے بعد با قاعدہ جلسہ گاہ سے تالیاں بجائی گئیں، جبکہ پہلے اس طرح تالیاں بجانے سے سختی سے روکا جاتا تھا۔ مرزا مظفر احمد (ایم ایم احمد) نہ صرف مرزا طاہر احمد کا سگا چچا زاد بھائی بلکہ جماعتی لحاظ سے بھی بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ جلسہ سے پہلے اس کی وفات ہوگئی تھی، اور جلسہ کے پہلے دن امریکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ لیکن مرزا طاہر نے اپنی کسی تقریر میں اس کی وفات کا کوئی ذکر نہ کیا۔ اس سے مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس بار مرزا طاہر احمد کی حالتِ زار کی وجہ سے عالمی مجلس شوریٰ کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں جو وجہ بہانہ کے طور پر بیان کی گئی، اس سے خود جماعت مذاق کا نشانہ بنتی ہے۔ دراصل یہ مجلس مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کے باعث منسوخ کی گئی۔
6 ستمبر 2002ء کو مرزا طاہر نے حسب معمول عبادت گاہ بیت الفضل لندن میں جمعہ کا خطبہ دیا۔ مخبوط الحواسی کی کیفیت معمول کے مطابق رہی۔ آتے ہی مرزا طاہر نے خطبہ کے لیے اذان کا کہنے کے بجائے نماز کے لیے تکبیر کا حکم دے دیا۔ اس مدہوشی پر اس کے دو باڈی گارڈز نے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ کر باقاعدہ ”اباؤٹ ٹرن“ کیا۔ اس کے بعد اذان کرائی گئی اور پھر خطبہ ہوا۔ اور اس کا دورانیہ دس منٹ کے اندر ہی رہا۔ یوں ایک اور خطبہ اس کے Friday the 10th کا عبرتناک نشان بن گیا۔ 13 ستمبر کا خطبہ بھی مرزا طاہر کی دلچسپ اور لایعنی حرکتوں پر مشتمل تھا۔ 20 ستمبر کا خطبہ سابقہ خطبوں سے زیادہ عبرتناک رہا۔ خطبہ بمشکل 7 منٹ کا رہا۔ آواز بکری کی منمناہٹ جیسی تھی۔ اس بار سورۃ فاتحہ ایک بار پڑھ کر پھر دوبارہ پڑھ دی۔ اس سے مرزا طاہر احمد کی غیر حاضر دماغی اور پاگل پن کی عمومی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا تھا۔ خطبہ ثانیہ ہر بار بھول جانا اب تو مرزا طاہر کا معمول بن گیا تھا۔ 27 ستمبر کا خطبہ بھی حسب سابق رہا۔ قابل ذکر بات اتنی ہے کہ Friday the 10th والی تفسیر کے مطابق دس منٹ کے اندر اندر ہونے والے خطبہ کا دورانیہ سات منٹ سے گھٹ کر چھ منٹ ہوگیا۔ مرزا طاہر کا مسلسل کم ہوتا ہوا خطبہ کا دورانیہ اس قرآنی فرمان کے مطابق تھا کہ ”ہم ان کو ان کے کناروں سے کم کرتے چلے آرہے ہیں۔“
14 اکتوبر 2002ء کو جب مرزا طاہر کی انجیو پلاسٹی ہوئی تو لندن کے مشہور
کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سٹیفن جینکنز (Dr. Stephen Jenkins) نے مرزا طاہر سے برملا اپنی رائے کا اظہار کیا کہ شراب نوشی اور زیادتی جماع کی وجہ سے آپ کے جسم کے پٹھے بے حد کمزور ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا دل بھی روز بروز کمزور ہو رہا ہے۔ میں نے اس طرح کی خطرناک رپورٹیں پہلے کبھی کسی مریض کی نہیں دیکھیں۔ لہٰذا اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو آپ کو اس فعلِ قبیح سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا۔ مرزا طاہر نے ڈاکٹروں کے بورڈ جن میں لندن کے ڈاکٹر سٹیفن جکنز (کارڈیالوجسٹ)، ڈاکٹر نکیوسیف (نیورو سرجن)، لیڈی ڈاکٹر وڈ، ڈاکٹر مسٹر پیٹر ٹیلر (ویسکولر سرجن) ڈاکٹر بشیر الدین خلیل (نیوروفزیشن)، ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ، ڈاکٹر عبدالسلام (ماہر امراض سینہ) ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر نعیم احمد (فزیشن)، ڈاکٹر مرزا مبشر احمد، ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، ڈاکٹر شکیل احمد اور ڈاکٹر مجیب الحق شامل تھے اور اپنے اہل خانہ کے سامنے کھسیانے ہو کر وعدہ کیا کہ وہ اس مشورہ پر عمل کرے گا۔ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ چور چوری سے باز آجاتا ہے، ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ اور رسی جل جاتی ہے لیکن بل نہیں جاتا۔ دو ہفتے بعد جب مرزا طاہر کے دل کی تکلیف مزید بڑھی تو ڈاکٹروں نے انجیوگرافی پر زور دیا جس پر 29 اکتوبر کو مرزا طاہر کو سینٹ تھامس ہسپتال (St.Thomas's Hospital) میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ لندن کا سب سے بہترین ہسپتال ہے اور سنٹرل لندن میں واقع ہے۔ وہاں مرزا طاہر کے علاج کا فیصلہ ہوا۔ اس ہسپتال کی بارہویں منزل ویسٹ منسٹر سویٹ Suite کہلاتی ہے۔ یہ Suite صرف برطانوی رائل فیملی یا امرا کے لیے مختص ہے۔ مگر قادیانیت کی برطانوی حکومت کے لیے ”اسلام دشمن خدمات“ کے پیش نظر اس Suite کا کمرہ نمبر 8 مرزا طاہر کے لیے حکومت کی خصوصی اجازت کے تحت بک ہوا۔ اس کمرے سے باہر کا منظر بہت خوبصورت ہے۔ نیچے ٹیمز دریا بہتا ہے۔ سامنے ہاؤسز آف پارلیمنٹ نظر آتا ہے اور BigBen کی گھنٹی ہر پندرہ منٹ کے بعد بجتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا رومانٹک ماحول ہے جو ایک دل پھینک اور خوف خدا سے عاری مریض کو دعوت گناہ دیتا ہے۔ مرزا طاہر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ مرزا طاہر کی بیماری کے دوران جو لوگ اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے، ان میں خاص طور پر ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، مرزا مبشر احمد، ڈاکٹر سلیم احمد اور ڈاکٹر شکیل احمد شامل تھے۔ مرزا لقمان ہسپتال میں تیمارداری کے بہانے (دراصل خلافت حاصل کرنے کے چکر میں جبکہ وہ اس میں بری طرح ناکام رہا) ہمہ وقت ساتھ تھا۔ مرزا طاہر کو پیشاب
وغیرہ کروانے، کپڑے بدلوانے اور مساج وغیرہ کے لیے ڈاکٹر ریحانہ بٹ (جس کی جنسی خیرات کے قصے فضل عمر ہسپتال ربوہ کی لیٹرینوں میں آج بھی لکھے ہوئے ہیں) کو مرزا طاہر کی ذاتی خواہش پر ہسپتال بلوایا گیا۔ جبکہ انیستھیزیا کی ڈاکٹر مس وڈ جو اپنے حسن و جمال اور دلربا اداؤں کے لیے مشہور ہے، بھی مرزا طاہر کی خدمت پر مامور تھی۔ مرزا طاہر کی چھوٹی بیٹی فائزہ لقمان کو یہ منظر شاید ساری زندگی نہ بھول پائے گا جب وہ ایک دن غیر متوقع طور پر اپنے والد کے کمرہ میں داخل ہوئی تو مرزا طاہر کو ڈاکٹر ریحانہ بٹ کے ساتھ نہایت قابل اعتراض حالت میں دیکھا اور پھر بغیر کچھ کہے صدمے کی حالت میں واپس گھر آ گئی۔ مرزا طاہر کا پرائیویٹ سیکرٹری منیر احمد جاوید اس واقعہ کا عینی شاہد ہے۔ اگر اس کا ضمیر زندہ اور موت یاد ہے تو وہ اس واقعہ سے کبھی انکار نہ کرسکے گا۔ مرزا طاہر کا اپنا ایک عشقیہ شعر ہے جس سے اس کے ناپاک ارادوں کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے اس موقع پر اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ہو ؎
میری روح بھی تمہاری، میرا جسم بھی تمہارا
(کلام طاہر)
اس واقعہ کے تین دن بعد مرزا طاہر کا ایک اور آپریشن ہوا۔ دراصل انجیو پلاسٹی کے نتیجے میں مرزا طاہر کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ گئی۔ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کی وجہ سے خون کی ایک بڑی نالی جو دماغ کی طرف جاتی ہے، اس میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ اس کی وجہ سے مرزا طاہر کی ٹانگیں سکڑ رہی تھیں۔ ڈاکٹروں کی رائے میں اس کی سرجری ضروری تھی۔ چنانچہ ایک اور آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ آپریشن London Bridge Hospital میں کیا گیا۔ اس ہسپتال کا کمرہ نمبر 203 مرزا طاہر کے لیے ریزرو کیا گیا۔ 29 اکتوبر 2002ء کو مرزا طاہر کو ICU میں لایا گیا اور پھر 30 اکتوبر 2002ء کو لندن وقت کے شام چھ بجے آپریشن ہوا۔ آپریشن کے دوران مرزا طاہر کو قے آئی جو سانس کی نالی کے راستے پھیپھڑوں میں چلی گئی جس سے سانس لینے میں نہایت دقت اور Aspiration نمونیہ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پھیپھڑوں نے ایک حد تک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے مرزا طاہر کو 3 دن تک Artificial Resperator استعمال کروایا گیا۔ آپریشن کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی یہ کیفیت Adult Resperatory Distress Syndrome (ARDS)
کہلاتی ہے جو عموماً جان لیوا ہوتی ہے خصوصاً جبکہ مریض شوگر اور بلڈ پریشر کے عوارض سے بھی دوچار ہو۔ چنانچہ مرزا طاہر کا ایک اور آپریشن ہوا۔ ڈاکٹر پیٹر ٹیلر جو لندن کے معروف ویسکولر سرجن ہیں، نے مرزا طاہر کا Carotid Endarterectomy کا آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں خون کی نالی میں جو Blood Cloting ہو جاتی تھی، اس کو کھولا گیا۔ اس کے بعد کئی دن مرزا طاہر کو مصنوعی سانس کی مشین پر رکھا گیا۔ اس دوران ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ خون کی نالی کو کھولنے کے لیے آپریشن ضروری ہے۔ چنانچہ 30 اکتوبر 2003ء کو لندن کے وقت کے مطابق شام چھ بجے مرزا طاہر کے پیٹ کا آپریشن ہوا۔ بعد ازاں مختلف ٹیسٹوں سے پتا چلا کہ فالج کے معمولی حملے سے مرزا طاہر کے دماغ پر اثر ہورہا ہے۔ لہٰذا فوری طور پر لندن بلکہ دنیا کے سب سے بڑے نیورو سرجن ڈاکٹر نکلیوسیف سے وقت لیا گیا جس نے مرزا طاہر کے دماغ کا آپریشن کیا۔ یہ آپریشن کامیاب نہ ہوسکا اور مرزا طاہر کی دماغی حالت پہلے سے زیادہ غیر ہوگئی۔ اس کے بعد مرزا طاہر کوئی خطبہ دینے کے لائق نہ رہا۔ اس کے جملہ عوارض کی یلغار نے اسے کیمرے سے دور کر دیا۔ اس دوران جہاں دنیا بھر میں جماعت کو دعاؤں اور صدقوں پر لگا دیا گیا، وہیں معروف فلمی گیتوں کی دھنوں میں ایم ٹی اے سے دعائیہ نظموں کو نشر کیا جاتا رہا۔ ان گیتوں میں سے بعض فلمی مجروں کی دھنیں بھی تھیں۔ شاید جماعت اس طرح تبلیغی مجروں کا کوئی سلسلہ متعارف کرانا چاہتی تھی۔
6 اور 7 نومبر 2002ء کی درمیانی رات کو مرزا طاہر کے پیٹ کا ایکسرے اور ٹیسٹ لیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ شوگر کی وجہ سے بڑی آنت کا عمل صحیح کام نہیں کر رہا جس کی وجہ سے بار بار پیٹ کی تکلیف بڑھ رہی ہے۔ کمزوری اور نقاہت عروج پر تھی۔ نومبر کا پورا مہینہ مرزا طاہر ایم ٹی اے کی سکرین پر درشن دینے نہیں آسکا۔ اس دوران جماعت کو جھوٹی سچی تسلیاں دینے کے لیے اعلان کیے جاتے رہے کہ آج ”حضور“ نے اپنے دفتر میں تشریف لاکر ڈاک ملاحظہ کی، آج چیدہ چیدہ احباب سے ملاقاتیں کیں۔ بہتر ہوتا کہ پانچ منٹ کی ریکارڈنگ کر کے ایم ٹی اے کے ناظرین کو بھی کرسی پر بیٹھے ہوئے ”حضور“ کا درشن کرا دیا جاتا اور اس کی آواز سنا دی جاتی، تاکہ آنکھوں دیکھی، کانوں سنی سے بہتر ہوتی۔ پھر 4 دسمبر 2002ء کو مرزا طاہر کو ایم ٹی اے پر درشن دینے کے لیے لایا گیا۔ یہ اس کا اپنے دفتر میں کام کرنے کا منظر تھا۔ بغور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دو تین بار ”حضرت صاحب“ نے
کاغذات میں سے بعض کاغذ دیکھ کر ایسے پھینکے جیسے کوئی شرارتی یا بدتمیز بچہ کاغذ پھینکتا ہے یا جیسے کوئی نیم دیوانہ شخص کرتا ہو۔
6 دسمبر 2002ء کو مرزا طاہر عید کی نماز پڑھانے آیا۔ اس موقع پر اس کی بہت ساری مخبوط الحواسیوں کے ساتھ اس کا یہ فرمان بھی سننے میں آیا کہ (نعوذ باللہ) حضور نبی رحمتؐ جمعہ اور عید ایک ساتھ آنے پر عید کی نماز اور جمعہ (ظہر) کی نماز جمع فرما لیا کرتے تھے۔ اس کے ایک دست راست نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کہا کہ جی ہاں ظہر اور عصر جمع کر لیا کرتے تھے۔ مگر مرزا طاہر اڑ گیا کہ نہیں عید کی نماز اور ظہر کی نماز جمع ہوتی تھی۔ اس سے مرزا طاہر کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔ 8 دسمبر کو مرزا طاہر کو لجنہ کے پروگرام ملاقات میں دکھایا گیا۔ دو گھنٹے کی ریکارڈنگ کر کے اس میں سے ساری احتیاطی کانٹ چھانٹ کر کے 20 منٹ کی ریکارڈنگ دکھائی گئی۔ اس میں بھی ذہنی حالت کا یہ عالم تھا کہ ایک خاتون سے کہنے لگے تم ہالینڈ سے کب آئی ہو؟ اس نے بتایا کہ حضور میں تو یہیں کی ہوں۔ پھر ایک خاتون سے کہنے لگے کہ تم کینیڈا سے واپس آگئی؟ اس غریب نے بتایا کہ نہیں جی ابھی میں نے کینیڈا جانا ہے۔ 9 دسمبر کو فرانسیسی دوستوں سے ملاقات کے پروگرام کی ریکارڈنگ پیش کی گئی۔ اس پروگرام کی ایک خصوصیت تو یہ تھی کہ بیشتر قادیانی پاکستانی تھے مگر فرانسیسی میں بات کر رہے تھے، پھر اس کا اردو ترجمہ کیا جاتا۔ جواب ملتا، جواب کا پھر اردو ترجمہ کیا جاتا۔ ایک سوال ہوا کہ کیا مغربی پریس جو مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے کیا ان کو خدا کی طرف سے سزا ملے گی؟ جواب ملا کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اس سے ایک یہ ثابت ہوا کہ جزا، سزا کا اختیار مرزا طاہر کے پاس ہے اور دوسرا یہ کہ ”حضور“ بڑی حد تک ذہنی انتشار کا شکار ہو چکے تھے۔ اسی مجلس کے دوران ”حضرت صاحب“ فرمانے لگے کہ یہاں بہت گرمی ہے۔ کیا باہر بھی گرمی ہے؟ اس پر اسے بتایا گیا کہ باہر بہت سردی ہے۔ ایک بار پھر اس نے کہا کہ مجھے بہت گرمی لگ رہی ہے۔ اس قسم کی کلاسوں میں مرزا طاہر کو پیش کیا جا رہا تھا لیکن کلاسوں میں ہونے والی ان کی بہت ساری اوٹ پٹانگ حرکتوں کو حذف کر دیا جاتا۔ اس کے باوجود کئی نمونے سکرین پر آ ہی جاتے۔ مثلاً 14 دسمبر کو بنگالی ملاقات پروگرام میں ایک بچے نے پوچھا کہ کیا انڈہ کھانے کا ذکر کسی حدیث یا آیت میں ملتا ہے؟ جواب ملا کہ قرآن میں بيض مکنون کا ذکر آیا ہے۔ جب تک اُس کے جواب کا ترجمہ سنایا جاتا رہا، اسی دوران آف دی سکرین رکھ کر مرزا طاہر کو بتایا گیا کہ یہ تو حوروں کے بارے میں آیات ہیں۔
بیماری کے دوران ایک خطبہ میں قادیانیوں کے خطوط کے جواب میں کہا کہ ”وہ میری بیماری کے بارے میں پریشان نہ ہوں۔ مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ مشورے نہ دیا کریں۔“ پھر اگلے خطبہ میں کہا:”میں بار بار جماعت کو سمجھاتا ہوں مگر بعض لوگ تو اس طرح گہری اترنے والی نگاہوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان نگاہوں سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کوئی علامت مل جائے جس پہ وہ اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکیں اور اگر وہ علامت نہ ملے تو پھر صحت کے متعلق لازماً ذکر شروع کر دیتے ہیں۔ بھئی اپنی ملاقات کرو۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ اپنی صحت کے متعلق دعا مانگنے کی درخواست بے شک کرو مگر میرے معاملے میں مہربانی فرما کر دخل نہ دیا کرو کیونکہ اس سے مجھے الجھن پیدا ہوتی ہے۔ میری بیماری کو مجھ پر اور میرے خدا پر چھوڑ دیں لیکن میں آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں۔“
”ڈاکٹر تو ڈاکٹر، اب عطائی ڈاکٹر جن کو انگریزی میں Quack کہا جاتا ہے وہ بھی مشورے بہت دینے لگ گئے ہیں اور جن میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہر عورت ایک نیا نسخہ بھیج رہی ہے، یعنی جو عورتیں بھی بھیجتی ہیں اور نئی بیماری تجویز کرتی ہیں ان کو دور بیٹھے نہ میرا حال پتا، نہ ان سے بات کی۔ ان کو نئی نئی بیماری سمجھ آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں آپ کو اصل بیماری یہ ہے، اس کا اصل علاج یہ ہونا چاہیے جو آپ کے ڈاکٹر صاحب کو سمجھ نہیں آئی۔ دلی میں کوئی مشہور شخص فوت ہوا تو اخبار نویسوں کا جمگھٹ لگ گیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ کس بیماری سے فوت ہوا ہے۔ اہل خانہ نے یہ بیان دیا کہ یہی تو مشکل ہے کہ آخری وقت تک بیماری کا پتا ہی نہیں چلا۔ جو بھی عیادت کے لیے جاتا تھا وہ نئی بیماری تشخیص کرتا تھا اور خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہر ایک کو ڈاکٹری علم تھا اور وہ ثابت کرتے تھے کہ علاج غلط ہو رہا ہے، اصل بیماری اور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہی حال میری بیماری کا ہے۔“
مرزا طاہر کی عبرتناک حالت کے بارے میں مرزا قادیانی کے چند الہامات کا تذکرہ ضروری ہے۔ ان الہامات کے بارے میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب انہیں برسوں سے تعلق رکھتے ہیں جن برسوں میں مرزا طاہر شدید خدائی گرفت میں آیا تھا۔ یعنی 1901ء اور 1902ء میں یہ الہامات ہوئے اور پورے ایک سو سال کے بعد ”پوری جلالی شان کے ساتھ“ 2001ء اور 2002ء میں مرزا طاہر پر پورے ہوئے۔ مرزا طاہر کی چار ذلت آمیز شکستوں کو ذہن میں رکھیں۔
- 1- کراچی کے جناب الیاس ستار سے مباہلہ میں شکست کے بعد اس
موضوع پر مرزا طاہر کی طرف سے مکمل خاموشی اور خود منہ مانگی موت میں گرفتار ہونا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا طاہر نے جولائی کی آخری تاریخوں میں لندن کے جلسہ سالانہ کے موقع پر علی الاعلان جناب الیاس ستار کے ساتھ مباہلہ قبول کیا تھا۔ اس مباہلہ میں بہت واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ جھوٹے کو خدا ایک سال کے اندر سزا دے۔ چنانچہ مرزا طاہر اسی سال دو مہینوں کے اندر ہی شدید خدائی گرفت میں آ گیا۔ یہ سال اس پر خدائی ذلتوں اور مار کا سال تھا۔ جناب الیاس ستار، اس مباہلہ کی فتح کا جشن مناتے رہے لیکن مرزا طاہر پر خدائی مار کی گرفت اتنی شدید تھی کہ وہ آتھم سے بڑھ کر خوفزدہ حالت میں اس مباہلہ کے انجام کے بارے میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالنے کی جرأت نہ کرسکا۔ مرزا طاہر کی مرتے دم تک اس مسئلے پر خاموشی خود اس کی ذلت آمیز شکست کا زندہ ثبوت ہے۔ مرزا طاہر نے جولائی میں مباہلہ قبول کیا۔ 20 اگست 1999ء کو باہمی طے شدہ عہد کے مطابق الفضل لندن میں مباہلہ کی دعوت قبول کرنے کا اعلان شائع کیا گیا۔ جمعہ کی صبح یہ اعلان الفضل لندن نے شائع کیا اور چند گھنٹوں کے بعد جمعہ کے خطبہ کے دوران ہی مرزا طاہر پر خدائی مار پڑ گئی۔ ایک سال کی مدت تو کیا چند گھنٹوں میں ہی مرزا طاہر خدائی گرفت میں آ گیا۔ اس پر فالج کا حملہ ہوا۔ پھر وہ ایم ٹی اے کی سکرین سے لمبے عرصہ کے لیے غائب ہو گیا۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور وہ قادیانی جو سچے خدا پر یقین رکھتے ہیں، مباہلے میں خدائی فیصلے سے خود ہی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ مرزا طاہر سرتا پا کاذب اور مفتری تھا۔ اس نے زندگی بھر مباہلے کا پر فریب چکر چلائے رکھا۔ اس کی اپنی کوشش یہی تھی کہ سچ مچ میں مباہلہ نہ ہونے پائے۔ لیکن آخر کار وہ اپنے مکروں کے جال میں خود ہی پھنس گیا۔ اور اس کے نتیجہ میں ذلت ناک انجام سے دوچار ہوا۔ جبکہ الیاس ستار صاحب آج کل کراچی میں ایمان و صحت کی بہترین کیفیات میں اپنی بھر پور خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ فللہ الحمد!
- 2- جماعت کی تعداد میں کروڑوں کا اضافہ کے جھوٹ پر ایک قادیانی کے خط
پر خود ہی لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنا اور خود ہی اس کا مستحق ہو جانا۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ 8 ستمبر 2000ء کو ایک خطبہ جمعہ میں مرزا طاہر نے کہا: ”پہلے میں ایک صاحب کے جو راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں، ایک مفسدانہ خط کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں اور الفاظ میرے ہوں گے لیکن وہ لکھتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ آپ زبانی خطبے دیا کرتے تھے اور بڑا جلال اور جمال پایا جاتا تھا۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دماغ میں نقص پیدا ہو گیا ہے، اس لیے آپ کو تحریر سے پڑھنا پڑتا ہے اور ہر دفعہ نظر تحریر پر ہی رہتی ہے، زبانی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پہلے جلال بھی ہوتا تھا اور جمال بھی۔ اب نہ وہ جمال رہا نہ وہ جلال رہا۔ تو میں ان صاحب کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ کو جمال مطلوب ہے تو میری دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے جمال سے آپ کے سارے اندھیرے دور فرما دے اور دل کو روشن کر دے اور احمدیت کی صداقت پر کامل ایمان عطا فرمائے۔ اگر آپ جلال چاہتے ہیں تو میری دعا یہ ہے اور میری التجا آپ سے یہ ہے کہ آپ بھی مجھ پر لعنت اللہ علی الکاذبین کہیں، میں بھی آپ پر لعنت اللہ علی الکاذبین پڑھتا ہوں۔ آپ کو خیال ہے کہ یہ دو کروڑ اور چار کروڑ کی باتیں محض جھوٹ اور مفسدہ ہیں جو میں نے اپنے نفس سے بنالی ہیں اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ تمام تر باتیں سچی ہیں، ایک بھی ان میں جھوٹ نہیں ہے۔“ (خطبہ جمعہ مرزا طاہر 8 ستمبر 2000ء مطبوعہ ویکلی الفضل انٹرنیشنل، لندن، شمارہ 20 اکتوبر تا 26 اکتوبر 2000ء)
- 3- صدر بش نے صلیبی جنگوں کا اعلان کیا اور کسر صلیب جماعت کا خلیفہ ڈر کر
خاموش بیٹھا رہا، جوابی قلمی جہاد کا اعلان تک نہیں کیا۔
- 4- ایم ٹی اے نے مرزا طاہر کے گرنے کا منظر ساری دنیا کو دکھایا۔
یہ چار ذلتیں، چار شکستیں ذہن میں رکھیں اور اب اردو ”تذکرہ“ سے مرزا قادیانی کا یہ الہام پڑھیں۔ سیہزم فلا یری نبا من اللہ الذی یعلم السر واخفی یہ الہام جون 1902ء کا ہے۔ اس میں لفظ سیہزم کا ترجمہ اس کی گہرائی تک جاننے کے لیے ضروری ہے کہ مرزا محمود کی تفسیر صغیر کو دیکھ لیا جائے۔ مرزا محمود نے اپنی تفسیر صغیر میں سورۃ القمر کی آیت 46 کے الفاظ سیہزم الجمع کا ترجمہ یہ کیا ہے ”ان کی جماعت کو عنقریب شکست دی جائے گی“ ...... اس کے مطابق اس الہام کا ترجمہ یہ بنتا ہے ”عنقریب وہ شکست کھا کر بھاگ جائے گا اور پھر دکھائی نہیں دے گا۔ یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے، جو نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے۔“
اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ایک اور الہام دیکھیں اور مرزا طاہر کے خطبوں کی بدترین حالت سامنے رکھیں۔ دیکھیں مرزا قادیانی نے اس متکبر شخص کے انجام کا کیسا نقشہ کھینچا تھا جو پورے ایک سو سال کے بعد ”پوری شان کے ساتھ“ مرزا طاہر کی ابتر حالت پر فٹ بیٹھا۔ یہ الہام 25 فروری 1901ء کا ہے اور یہ مجموعہ الہامات ”تذکرہ“ انگریزی ترجمہ سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں سے من وعن پیش خدمت ہے۔ انگریزی ”تذکرہ“ صفحہ نمبر 422 پر یہ الہام یوں درج ہے:
Like a skinned goat at every pointless sermon, meaning that his emotions are not under control.
مرزا طاہر کی اپنی حالت کھال اتری ہوئی بکری کی ہو چکی تھی۔ اس کا ہر خطبہ (Sermon) بے معنی اور بے مقصد تھا۔ اس کی کنٹرول سے باہر حالت اس الہام کے الفاظ کی صداقت کا کھلا نشان بن گئی۔
مرزا طاہر اپنی عمر کے آخری مہینوں میں خدائی پکڑ کا نشان بنا رہا۔ اس کے کسی خطبہ کی سمجھ نہ آتی۔ اس کے خطبات سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہورہا تھا کہ مرزا طاہر قطعی طور پر اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا ہے۔ اس کی اقتدا میں پڑھی جانے والی ہر نماز باطل ہوئی مگر اندھے مریدوں نے ایسی نمازوں کو نہ صرف قبول کیا بلکہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ مرزا طاہر کبھی نماز میں دعائے قنوت پڑھ دیتا اور کبھی خطبہ میں اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلا جاتا....... ایم ٹی اے اسے عبادت گاہ میں نہ آتے ہوئے دکھاتا اور نہ جاتے ہوئے۔ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا کہ قادیانی جماعت کے موجودہ ارباب اختیار جان بوجھ کر مرزا طاہر کی رسوائی چاہتے تھے اور اسے ایسے خطبوں میں لے آتے یا پھر خدائی تقدیر تھی جو مرزا طاہر کی رسوائی کی صورت میں اس کے عبرتناک انجام کو ساری دنیا کے سامنے بیان کرتی رہی اور بتا رہی تھی و تذل من تشاء......
مرزا طاہر کو شاید وہم بھی نہ ہوگا کہ وہ یوں اچانک مرجائے گا۔ اس کی چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی فائزہ لقمان اس کے پاس تھی۔ دوسری بیٹی شوکت جہاں اپنے میاں سے لڑائی جھگڑے کے بعد مستقل پاکستان میں تھی۔ دوسری دو بیٹیاں کسی اور ملک کی سیر پر گئی ہوئی تھیں۔ ایک دن پہلے اس کی طبیعت قدرے بہتر تھی۔ 19 اپریل 2003ء کو ناشتہ کی میز پر اس کو دل کا دورہ پڑا اور ساتھ ہی جسم کے بائیں طرف فالج کا حملہ ہوگیا جو پہلے سے زیادہ شدید تھا۔ اس سے فوری طور پر مرزا طاہر کا منہ ٹیڑھا ہوگیا۔ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق یہ لقوہ
تھا۔ بائیں آنکھ، بازو، ٹانگ اور دیگر اعضا بری طرح ساکت ہو کر رہ گئے۔ مرزا طاہر کچھ بولنے کی کوشش کرتا مگر مرزا قادیانی کی وحیوں کی طرح کچھ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ میز پر پڑی ادویات کے ڈھیر کو دیکھتا تو چیخنے لگتا۔ اس دوران وہ دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی کو بری طرح کھینچتا اور یکدم چپ ہو جاتا پھر بے تحاشا ہنستا اور اچانک رونے لگتا۔ کمرے میں لٹکی مرزا قادیانی کی تصویر کو دیکھتا تو غصے سے اول فول بکنے لگتا۔ اسی اثنا میں ایک عجیب حادثہ یہ ہوا کہ مرزا طاہر کے جسم کے تمام بال گرنا شروع ہو گئے اور آناً فاناً پورا جسم بالوں سے حتیٰ کہ داڑھی اور بھنویں تک صاف ہو گئیں۔ مرزا طاہر کی شکل بگڑ کر اتنی کریہہ اور مکروہ ہوگئی کہ دیکھتے ہوئے متلی آتی تھی۔ اس کے کپڑے بول و براز سے لتھڑے پڑے تھے۔ جو شخص اس کے کپڑے تبدیل کرنے کے لیے آگے بڑھتا، مرزا طاہر غصے سے اس کے منہ پر تھوکتا اور چلاتا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جسم کو فالج کے مزید اثرات سے بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی مگر ناکام رہے۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ موت کا فرشتہ سر پر آن کھڑا ہے۔ ڈاکٹروں کے علاوہ موقع پر درجنوں قریبی عزیز اور جماعت کے اعلیٰ عہدیدار اس صورتحال کے عینی شاہد ہیں۔
بقول جناب شفیق مرزا ’’اللہ تعالیٰ نے قادیانی امت پر ایسا عذاب نازل کیا ہے کہ اب ان کا ہر قابل ذکر فرد ایسی رسوا کن بیماری سے مرتا ہے کہ اس میں ہر صاحب بصیرت کے لیے سامان موعظت موجود ہے۔ فالج کی بیماری کو خود مرزا قادیانی نے ’’دکھ کی مار‘‘ اور ’’سخت بلا‘‘ ایسے الفاظ سے یاد کیا ہے اور اب قادیانی امت کی گندی ذہنیت کی وجہ سے یہ بیماری اللہ تبارک و تعالیٰ نے سزا کے طور پر قادیانیوں کے لیے کچھ اس طرح مخصوص کر دی ہے کہ ایک واقف حال قادیانی کا کہنا ہے: ’’اب تو حال یہ ہے کہ جو شخص فالج سے نہ مرے، وہ قادیانی ہی نہیں‘‘ مرزا محمود احمد نے اپنے باوا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اکابر اور جید علمائے دین کے وصال پر جشن مسرت منایا اور ان کا یہ دھندا اب تک چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کے گوسالہ سامری مرزا محمود کو ’’فالج کا شکار‘‘ بنا کر دس سال تک رہین بستر و بالش کر دیا اور اس خوفناک رنگ میں اس کو اعضا و جوارح اور حافظہ سے محروم کر دیا کہ وہ مجنونوں کی طرح سر ہلاتا رہتا تھا اور اس کی ٹانگیں بید لرزاں کا نظارہ پیش کرتی تھیں، گویا وہ ”لايموت فيها ولايحيى“ کی تصویر تھا، مگر قادیانی مذہبی انڈسٹری کے مالکان اس حالت میں بھی الٹا ’’اخبار‘‘ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر ’’زیارت‘‘ کے نام پر مریدوں سے پیسہ بٹورتے
رہے اور پھر سات بجے شام مرجانے والے اس ”مصلح موعود“ کی دو بجے شب تک صفائی ہوتی رہی اور ”سرکاری اعلان“ میں اس کی موت کا وقت دو بج کر دس منٹ بتایا گیا اور اس عرصہ میں اس کی الجھی ہوئی ڈاڑھی کو ہائیڈروجن یا کسی اور چیز سے رنگ کر اسے طلائی کلر دیا گیا اور خط بنایا گیا اور غازہ لگا کر اس کے چہرے پر ”نور“ وارد کیا گیا، تاکہ مریدوں پر اس کی ”اولیائی“ ثابت کی جاسکے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی مسلمان دنیاوی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے تو قادیانی اس کی بیماری کو ”عذاب الٰہی“ قرار دیتے ہیں لیکن ان کے اپنے اکابر ذلیل موت کا شکار بنتے ہیں تو یہ ”ابتلاء“ بن جاتا ہے اور اس کے لیے دلائل دیتے ہوئے قادیانی تمام وہ روایات پیش کرتے ہیں جن کو وہ خود بھی تسلیم نہیں کرتے۔“
چند گھنٹوں بعد دل کا دوسرا اٹیک ہوا، جو پہلے کی نسبت زیادہ شدید تھا۔ راز دار درون خانہ کے مطابق یہ کسی ذہنی اذیت کا باعث تھا۔ ذہنی اذیت یقیناً مرزا لقمان کی مرزا طاہر کی چھوٹی بیٹی اور اپنی خوبرو سالی طوبیٰ کے ساتھ وہ اخلاق سوز حرکات تھیں جس کا مقصد مرزا طاہر کو ذہنی ٹارچر اور بلیک میلنگ کرنا تھا جیسا کہ مرزا لقمان وقتاً فوقتاً ایسا کرتا رہتا تھا۔ بہر حال یہ ظاہر ہو گیا کہ 6 اپریل 1902ء ”اپریل والے الہام“ کے مطابق اپریل کے مہینے میں اس کی لرزا دینے والی موت واقع ہوئی۔
لندن میں جہاں اپریل میں بھی سردی ہوتی ہے، مرزا طاہر کی لاش جس کمرہ میں رکھی گئی، وہاں برف اور ائیر کنڈیشنز کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ لاش مزید خراب نہ ہو۔ اس کے جسم سے شدید بدبو آ رہی تھی جس سے آس پاس کا سارا ماحول متعفن ہو گیا۔ فوری طور پر لاش کی Embalming کروائی گئی یعنی حنوط کیا گیا۔ تقریباً 5 گھنٹے میں یہ مرحلہ طے ہوا۔ اس پراسس میں خون کی نالی میں خاص دوا ڈالی جاتی ہے جس سے جسم محفوظ رہتا ہے اور گلتا سڑتا نہیں۔ مگر ہزار کوششوں کے باوجود لاش تیزی سے گل سڑ رہی تھی اور سیاہی مائل ہونے کی وجہ سے چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا۔ لہٰذا مشاورت ہوئی جس میں رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے، عطاء المجیب راشد، منیر احمد جاوید، ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، بشیر احمد، مرزا سفیر احمد، مرزا لقمان احمد، کریم اسد خاں اور سلطان ہارون خان شامل تھے۔ ڈاکٹر مسعود الحسن نوری کی ہدایت پر فوری طور پر رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے نے ایک تابوت تیار کروایا جس کے اوپر شیشہ لگا ہوا تھا تاکہ لوگ چہرہ دیکھ سکیں۔ مگر چہرہ متغیر ہونے بلکہ خدائی عذاب کی گرفت میں آنے کی
وجہ سے فیصلہ ہوا کہ لوگوں کو مرزا طاہر کا چہرہ نہ دکھایا جائے۔ چنانچہ ایک اور تابوت خریدا گیا۔ یہ تابوت ایلومینیم کا تھا جس میں لاش والا تابوت ڈال کر سیل کر دیا گیا۔ اس تابوت کے اندر تھرما پور چاروں طرف لگایا گیا۔ بیوقوفی یہ کی گئی کہ بند تابوت بھی دیدار اور زیارت کے لیے رکھا رہنے دیا گیا۔ اس پر چہرہ دیکھنے والے جب کہتے کہ چہرہ دیکھنا ہے تو ان کو کہا جاتا کہ بس تابوت کی زیارت کرتے جاؤ، اور آگے بڑھتے جاؤ۔ یہ منظر ایم ٹی اے چینل پر صاف دیکھا جا رہا تھا۔ چنانچہ انہیں اس حماقت کا احساس ہوا تو ایم ٹی اے پر مزید دیدار بند کر دیا گیا۔ تدفین سے پہلے تابوت کو قبر کے قریب رکھا گیا اور اس پر پلاسٹک شیٹ لپیٹی گئی اور پھر رسیوں کی مدد سے گڑھے میں اتارا گیا۔ اس سے پہلے جتنے بھی قادیانی خلیفے مرے، انہیں دفنانے کے بعد موقع پر موجود ہر قادیانی اظہار عقیدت کے طور پر تھوڑی سی مٹی قبر میں ڈال کر اپنے دل کی پیاس بجھا لیتا تھا، مگر اس دفعہ نیا تماشا یہ ہوا کہ کسی بھی قادیانی کو مرزا طاہر کی قبر پر مٹی ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ حق ”مغلیہ خاندان“ نے لیڈی ڈیانا کی تدفین کی نقل کرتے ہوئے صرف اپنے خاندان اور چند منظور نظر افراد کو ہی دیا اور دور دراز سے آئے ہوئے غلام بے چارے دیواروں کے اوپر سے ”وفادار کتے“ کی طرح حسرت بھری نگاہوں سے اپنے محبوب کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ یہ گویا نئے بادشاہ کا عام قادیانی کو اپنی اوقات میں رہنے کا پیغام تھا۔ قادیانی جماعت کے ٹی وی چینل ایم ٹی اے نے اس بات کا بہت پروپیگنڈا کیا کہ مرزا طاہر کے جنازے کو حکومت برطانیہ نے خصوصی اہمیت دی، مثلاً ہائی وے بند کر دی، پولیس مہیا کی، ہیلی کاپٹر کا سکواڈ دیا گیا وغیرہ وغیرہ، لیکن ان کو پتا ہونا چاہیے کہ حکومت برطانیہ تو بعض مجرموں کو بھی ایسی اہمیت اور اس سے بڑھ کر اعزاز دے چکی ہے۔ اس کے لیے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کر کے ہر شخص اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ جرائم کی دنیا کے تین بھائیوں کے جنازوں کے ساتھ مختلف اوقات میں حکومت برطانیہ نے کیسا سلوک کیا، آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ ان کے جنازہ کو پولیس، ہیلی کاپٹر سکواڈ اور 6 اضلاع کی پولیس منگوا کر اعزاز سے نوازا گیا، ایک بھائی کے جنازے کا جلوس 9 میل لمبا تھا جس کے لیے حکومت نے خصوصی انتظام کیے تھے، اگر حکومت جرائم کی دنیا کے لوگوں کو مرزا طاہر سے بڑھ کر اہمیت دے سکتی ہے، تو پھر مرزا طاہر کے جنازے کی کیا امتیازی وقعت رہ جاتی ہے۔ http://www.crimelibrary.com/gangsters_outlaws/ mob_bosses/kray/curtain_17.html?se
قادیانیوں کا خیال تھا کہ مرزا طاہر کے جنازہ پر کروڑوں کا اجتماع ہوگا اور پھر جنازہ کی تعداد کو دنیا بھر میں مشتہر کر کے قادیانیت کی نام نہاد صداقت کا گوئبلز ڈھنڈورا پیٹا جائے گا۔ لہٰذا انھوں نے جنازہ میں شرکت کرنے کی غرض سے برطانیہ آنے والے قادیانیوں کے، ویزہ کے حصول کے لیے شرائط نرم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ قادیانی جماعت UK کے امیر رفیق احمد حیات نے فوراً ممبر آف پارلیمنٹ ٹونی کولمین سے فون پر رابطہ کیا اور ویزہ کے اجرا کی راہ میں حائل مشکلات کا ذکر کر کے مدد کی درخواست کی۔ ٹونی کولمین کو برطانیہ میں قادیانی جماعت کا سب سے بڑا ہمدرد اور خیرخواہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ کئی دفعہ برطانوی پارلیمنٹ میں حکومت پاکستان پر زور دے چکے ہیں کہ قادیانیوں کو آئین میں غیرمسلم اقلیت قرار دی جانے والی ترمیم ختم کی جائے۔ ٹونی کولمین لانگ ویک اینڈ کی وجہ سے لندن سے باہر کہیں جا رہے تھے، وہ اپنے سارے پروگرام ختم کر کے واپس آئے ، اپنے دفتر کے عملہ کو بلایا اور دفتر خارجہ سے ہنگامی رابطہ کر کے مجاز افسران کے ساتھ متعلقہ امور کے حوالہ سے تفصیلات کو طے کیا اور یوں فارن آفس نے فوری طور پر دنیا بھر کے تمام برطانوی سفارت خانوں کو ہدایات روانہ کر دیں کہ قادیانیوں کے لیے ویزوں کا فوری اور آسان ترین اجرا ممکن بنایا جائے تاکہ وہ بروقت برطانیہ پہنچ کر مرزا طاہر کے جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ اگرچہ دنیا بھر میں قائم برطانوی سفارت خانے ایسٹر کی تعطیلات کی وجہ سے بند تھے مگر ٹونی کولمین کی بھرپور کاوش سے پوری دنیا سے ہر اس قادیانی کو ویزہ جاری کر دیا گیا جو جنازہ کی غرض سے برطانیہ آنا چاہتا تھا۔
ان ساری کوششوں کے باوجود مرزا طاہر کے جنازہ پر صرف 3 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ اس صورتحال پر قادیانیوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ نئے قادیانی امیر مرزا مسرور نے بیرونی ممالک کی ذیلی تنظیموں کے صدور اور جملہ مربی انچارجوں سے اپنی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں اس شرمندگی اور ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مرزا طاہر کے جنازہ کو برطانیہ کے مختلف ٹیلی ویژن نیٹ ورکس جن میں BBC.SKY, ARY اور ITV شامل ہیں، نے ٹیلی کاسٹ کیا۔ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ 1993ء سے 2003ء تک 16 کروڑ 57 لاکھ 68 ہزار 8 نئے افراد نے مرزا طاہر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اس صورتحال میں قادیانی قیادت کے لیے یہ بات زبردست ہزیمت اور جگ ہنسائی کا باعث تھی کہ جنازہ میں صرف 3 ہزار افراد شامل ہوئے۔
قادیانی جماعت کا اپنی تعداد کے حوالہ سے بولا جانے والا تاریخی جھوٹ جنازہ پر پکڑا گیا۔ جھوٹ اور مبالغہ آرائی قادیانی جماعت کے شعائر میں سے ہے۔ مبالغے اور جھوٹ کی کوئی حد ہوتی ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے بھی اپنے متعلق لکھا تھا کہ میں نے انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت میں اتنا لکھا کہ ان کتابوں سے پچاس الماریاں بھر جائیں یا پھر لکھا کہ میرے نشانوں کی تعداد 10 لاکھ ہے۔ یہ غلو کی انتہا ہے۔ قادیانی جماعت کے ذمہ داران نے بھی اپنی تعداد کے حوالہ سے شاید یہی راستہ اختیار کر لیا ہے۔
جنازہ کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ماہنامہ خالد کے ”طاہر نمبر“ مارچ اپریل 2004ء کے مطابق جنازہ میں نہ صرف عیسائی پادریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی بلکہ جنازہ میں شرکت کرنے والے قادیانی مہمانوں کی رہائش اور کھانے کا انتظام بیت الفضل لندن کے قریب Gressen Hall Road پر واقع مقامی چرچ میں کیا گیا۔
مرزا طاہر کی تدفین جماعتی طور پر کسی فخر کے بجائے انتہائی باعث عار ہے۔ اگر خلیفۂ وقت مرزا قادیانی کے بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکا تو اس سے رسالہ ”الوصیت“ میں کی گئی مرزا قادیانی کی وہ دعا پوری ہوئی جس میں اس نے لکھ رکھا ہے کہ جو اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لائق نہیں، قدرت اس کے لیے ایسے حالات بنا دے کہ وہ اس میں دفن ہونے سے محروم رہ جائے۔ مرزا طاہر ایک جاہ پرست اور نفس پرست شخص تھا۔ اس نے محض اپنی ذاتی شان و شوکت کے لیے ایک دھندہ چلا رکھا تھا اور ایسے ہی لوگوں کے لیے مرزا قادیانی نے بڑے واضح الفاظ میں رسالہ ”الوصیت“ میں دعا کی ہے کہ ”اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔ آمین، یا رب العالمین!“
(الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ نمبر 317,316)
خیال رہے کہ ”دنیا کی اغراض کی ملونی“ سے بھرے ہوئے مرزا طاہر کو بخوبی علم تھا کہ ربوہ کا ”بہشتی مقبرہ“ حقیقت میں ایک بزنس ہے۔ اسی لیے اُس نے خود وصیت کی تھی کہ اُسے ربوہ نہ لے جایا جائے۔ ان کی پہلی خواہش یہ تھی کہ ان کو قادیان لے جایا جائے اور دوسری یہ تھی کہ اسے قادیانی عبادت گاہ بیت الفضل لندن کے احاطہ میں دفن کیا جائے۔ اس کی یہ دونوں خواہشیں پوری نہیں ہوئیں۔ اسے لندن کے اسلام آباد میں ایسی جگہ دفن کیا گیا ہے،
جہاں بس وہ ہی وہ ہے۔ مرزا طاہر کا انجام دراصل مرزا قادیانی، حکیم نورالدین، مرزا محمود، مرزا ناصر، مریم بیگم، ظفر اللہ خاں اور ڈاکٹر عبدالسلام کو قدرت کی طرف سے ملنے والی خدائی مار اور سزا کا تسلسل ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار!
ورنہ ”وہ“ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
قادیانی شاعر ثاقب زیروی کے مندرجہ ذیل اشعار مرزا طاہر کی پُر ایذا موت پر بڑے موقع کی مناسبت سے منطبق ہوئے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے ؎
کیوں خواب طرب سب خاک ہوئے کیوں خون ہوا ارمانوں کا
تاریخ کے سینے میں اب تک ہیں دفن وہ سارے ہنگامے
انسان کے ہاتھوں دنیا میں کیا حال ہوا انسانوں کا
طاقت کے نشے میں چور تھے جو توفیق نظر جن کو نہ ملی
مفہوم نہ سمجھے جو ناداں قدرت کے لکھے فرمانوں کا
پستے ہیں بالآخر وہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں
انجام یہی ہوتا آیا فرعونوں کا ہامانوں کا!
صدی کا سب سے بڑا جھوٹ
جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر مذہب میں جھوٹ کو سب سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھا جاتا ہے لیکن قادیانیت ایک ایسا مذہب ہے جس کا خمیر ہی جھوٹ سے اٹھا ہے۔ قادیانیت اور جھوٹ لازم وملزوم بلکہ شیر وشکر ہیں۔ گوبلز نے کہا تھا: ’’اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔‘‘ بالکل یہی فلسفہ قادیانیت نے اپنایا۔ جس طرح مکھیاں پھوڑے پر بیٹھ بیٹھ کر اسے ناسور بنا دیتی ہیں، اسی طرح قادیانیوں نے اپنے مذہب کے بارے میں جھوٹ بول بول کر اسے ناسور بنا دیا ہے۔ بے شمار جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ، قادیانی جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ
مرزا محمود نے روزنامہ ”الفضل“ قادیان کی اشاعت 5 اگست 1934ء میں تسلیم کی ہے۔
1954ء میں جسٹس منیر، اپنی انکوائری رپورٹ میں قادیانیوں کی تعداد 2 لاکھ بتاتے ہیں، جبکہ 1981ء کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں قادیانی
- 2012ء میں 5 لاکھ 14 ہزار 3 سو باون افراد
- 2013ء میں 5 لاکھ 40 ہزار 7 سو بیاسی نئے افراد
- جبکہ 2014ء میں 5 لاکھ 55 ہزار 2 سو پینتیس نئے افراد
قادیانی مذہب میں شامل ہوئے۔ اس طرح گذشتہ بائیس سالوں میں 17 کروڑ 1 لاکھ 59 ہزار ایک سو چھپن (17,01,59,156) نئے افراد قادیانی مذہب میں داخل ہوئے۔
(روزنامہ الفضل ربوہ 3 اگست 2005ء، 2 اگست 2006، یکم اگست 2007ء، 29 جولائی 2008ء، 29 جولائی 2009ء، 3 اگست 2010ء، 27 جولائی، 2011ء، 11 ستمبر 2012ء، 3 ستمبر 2013ء، 4 ستمبر 2014ء)
قادیانی جماعت کے ذمہ داران اگر جماعت کی تعداد کے حوالے سے اسی طرح غلو سے کام لیتے رہے تو یہ تعداد آئندہ چند سالوں میں شاید دنیا کی اصل تعداد سے بڑھ جائے۔ قادیانی جماعت کا اپنی تعداد کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام
- ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا غلام احمد قادیانی)
- ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور
بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا غلام احمد قادیانی)
- ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر
اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا غلام احمد قادیانی)
ہر سال سالانہ جلسہ لندن کے موقع پر اپنے اخبارات و جرائد، اپنے ٹی وی چینل یا انٹرنیٹ ویب سائٹ پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قادیانی جماعت میں نئے داخل ہون
فراست، قادیانیت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر اسلام کی آغوش میں آ گئے ہیں اور اب بھر پور جذبے اور ولولے کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ ان خوش نصیبوں میں معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر منیر الدین احمد، جناب عبدالکریم شیخ، جناب شاہد احمد کمال، جناب اکبر چوہدری، جناب راجہ نعمان احمد خاں، جناب طاہر منصور، جناب شیخ راحیل احمد، جناب افتخار احمد، جناب محمد مالک، جناب مظفر احمد مظفر، جناب قریشی انور کریم، جناب سید منیر احمد شاہ، جناب سید ظہیر شاہ، جناب سید شہزاد عابد، جناب طاہر بشیر، جناب وحید احمد، جناب شمس الدین، جناب لیاقت علی، جناب نذیر احمد وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں استقامت نصیب فرمائے! (آمین)
قادیانیوں سے 30 انعامی سوالات
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس کی تمام وحیوں، الہامات، پیش گوئیوں، خوابوں، بشارتوں، کشفوں اور تحریروں کو تائید الٰہی حاصل ہے۔ وہ ان کی صداقت پر مسلسل اصرار کرتا اور مخالفین کو متواتر علی الاعلان چیلنج کرتا رہا کہ اگر وہ اس کی کسی ایک بات کو بھی غلط ثابت کر دیں تو انھیں بھاری انعام دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم مرزا قادیانی کی عبارتوں کو حق کے ترازو میں تولتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام وحیاں، الہامات، پیش گوئیاں، خواب اور تصنیفات سفید اور کالے جھوٹوں کا پلندہ ہیں۔ میں نے مختصر وقت میں مرزا قادیانی کی تحریروں سے صرف 30 انعامی سوالات تیار کیے ہیں۔ ہر سوال کے صحیح جواب پر مبلغ ایک ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ قادیانی، رہتی دنیا تک ان سوالات کے جوابات نہ دے سکیں گے۔ (ان شاء اللہ)! ؎
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
اللہ رب العزت نے توفیق اور ہمت دی تو اس طرز پر قادیانیوں سے 500 سوالات پر مشتمل ایک منفرد کتاب تیار کرنے کا پروگرام ہے جس کے مطالعہ سے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے کارکنان، کسی بھی قادیانی مبلغ سے مناظرہ میں اس کی بولتی بند کر دیں گے۔ (ان شاء اللہ)! قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں احقر کے لیے خصوصی دعا کریں! شکریہ
(1) پہلا سوال
قرآن نے میرا نام ابن مریم رکھا
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- □ ”اگر میں صاحبِ معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت
نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بٹھا دیا تو میں
جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے سورۂ نور میں نہیں کہا کہ اس امت کے خلیفے اسی امت میں سے ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
(تحفۃ الندوہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 97، 98 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے حالات زندگی پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس کی والدہ کا نام مریم نہیں بلکہ چراغ بی بی تھا۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی نشاندہی کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ابن مریم کہا ہو؟؟؟
مرزا قادیانی کا جھوٹ کے بارے میں کہنا ہے:
- ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر
اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
- ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)
- ”وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں، وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔“
(شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)
- ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
(2) دوسرا سوال
جہاد، خدا کے حکم سے بند
جہاد کی ممانعت کے بارے مرزا قادیانی نے کہا:
- ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ خدا کے اس حکم کی نشاندہی فرما دیں کہ جس سے وہ انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند ہوگیا؟؟؟
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
(3) تیسرا سوال
بیوہ کا نام
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ❑ ”تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد
حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بکرو ثیب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا۔ اور اس وقت بفضلہٖ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“
(تریاق القلوب صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201 از مرزا قادیانی)
پیش گوئی بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی اور اس سے وعدہ کیا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا، ایک کنواری اور دوسری بیوہ۔“ بقول مرزا قادیانی کنواری کا الہام نصرت جہاں بیگم سے پورا ہوگیا۔ بیوہ کے نکاح کا انتظار ہے۔“ لیکن مرزا قادیانی کا تاعمر کسی بیوہ سے نکاح نہیں ہوا اور وہ اس کی حسرت لیے دنیا سے کوچ کر گیا۔
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ اس بیوہ کا نام بتائیں جو مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی؟؟؟
(4) چوتھا سوال
پچاس الماریاں
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنتِ انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور
میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار
شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے
ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کیے ہیں، وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔‘‘
(اربعین 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 418 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی 40 نہیں بلکہ 100 کے قریب کتب ہیں اور اشتہارات ساٹھ ہزار کے قریب نہیں بلکہ تین سو (300) سے بھی کم ہیں۔ ان کتب اور اشتہارات میں اس نے اپنی ذات اور اپنے آباؤ اجداد کی تعریف میں کم وبیش نصف سے زیادہ صفحات سیاہ کردیے ہیں اور بقیہ حصہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی تعریف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بازاری جملے، توہین انبیائے کرام، دجال کے من گھڑت قصے، بزرگانِ دین کے اقوال میں تحریف، مخالفین کو گالیاں، غیر مذاہب پر اوباشانہ حملے اور اپنی نام نہاد وحی والہامات پر خرچ کیے۔ مرزا قادیانی کی ان تمام تصانیف کے لیے ایک عام الماری کا 1/4 حصہ کافی ہے۔ مگر ”سلطان القلم‘‘ کا دعویٰ ہے کہ اس نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اس سے 50 الماریاں بھر سکتی ہیں۔ ہمارا دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ ہمیں مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں پر مشتمل کتابوں کی فہرست فراہم کریں، ہم انہیں منہ بولا انعام دیں گے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی قادیانی ہمارا یہ چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنا کسی قادیانی کے بس میں نہیں۔ قادیانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے!
(5) پانچواں سوال
قرآن شریف میں قادیان کا ذکر
مرزا قادیانی بڑے وثوق کے ساتھ کہتا ہے:
- ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر
میرے قریب بیٹھ کر با آواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام [حاشیہ] حصہ اوّل صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریر سے قرآن مجید میں اس آیت کی نشاندہی کریں جس میں قادیان کا لفظ آیا ہے؟؟؟
(6) چھٹا سوال
بخاری شریف میں
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی
گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ هذا خليفة الله المهدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادت القرآن صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ مذکورہ بالا حدیث بخاری شریف کی کونسی جلد کے کس صفحہ پر درج ہے؟؟؟
(7) ساتواں سوال
کنجریوں کی اولاد
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”تلک کتب ینظر الیها کل مسلم بعین المحبة والمودة و ینتفع من معارفها
و یقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریة البغایا الذین ختم اللہ علیٰ قلوبهم فهم لا یقبلون۔“ ترجمہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے پہلے دونوں بیٹوں مرزا فضل احمد اور مرزا سلطان احمد نے ہمیشہ اپنے باپ کی مخالفت کی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا باپ جعلی نبوت کا دھندا کرتا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی کے شرعی حقوق پورے نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی اور ان کے بیٹوں کی مخالفت کے بارے میں مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی والدہ کے حوالہ سے لکھتا ہے:
- ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ
ہوگئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا۔ اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے، ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آ کر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر
اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ اُدھر جا ملا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28، 29 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
اب مرزا قادیانی کا اپنے پہلے دونوں بیٹوں کے بارے میں اشتہار ملاحظہ کیجیے:
’’اشتہار نصرتِ دین و قطع تعلق از اقاربِ مخالفِ دین
ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہامِ الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعثِ تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے، اور اس کی تائی صاحبہ جنھوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں، اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تُو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا، اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انھوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انھوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا، اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا، اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دینِ اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا
اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا، کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی، اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔ اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انھوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔ اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں مصیبت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی 91ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے۔ اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انھوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی، بدی، رنج راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انھوں نے آپ تعلق توڑ دیے اور توڑنے پر راضی ہوگئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔ المشتہر مرزا غلام احمد لودیانہ۔ 2 مئی 1891ء۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 186، 187 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیت کے معروف تجزیہ نگار جناب ابن فیض لکھتے ہیں: ’’اس اشتہار سے یہ باتیں اخذ ہوتی ہیں کہ مرزا سلطان احمد نے:۔
- (1) مرزا قادیانی کی مخالفت کی۔
- (2) بلکہ اس نکاح کے مدارالمہام بنے۔
- (3) سمجھانے اور تاکیدی خطوط کی پروا نہیں کی۔
- (4) مرزا قادیانی کی ذات سے بیزاری ظاہر کی۔
- (5) عمداً چاہا کہ مرزا قادیانی کی ذلت ہو۔
- (6) مرزا قادیانی کو سخت ناچیز قرار دیا۔
- (7) مرزا قادیانی نے ان کے ساتھ پیوند کو معصیت قرار دیا۔
- (8) مرزا قادیانی نے عاق اور محروم الارث کر دیا۔
- (9) مرزا قادیانی نے ہر قسم کے تعلقات ختم، نیکی، بدی، شادی، ماتم میں شراکت ختم کر دی۔
- (10) مرزا قادیانی نے آخر میں کہا کہ ”سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی
غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔“
اب آپ سوچیے کہ ایک عام آدمی بھی اگر اس قسم کا اعلان کرتا ہے تو اس کے بیٹے، اس کی موت کے بعد بھی اس اعلان کا احترام کرتے ہیں، اور جب ایک نبی نے اپنی زندگی میں ایک انتہائی دکھے ہوئے دل کے ساتھ اس قسم کا اعلان کیا ہے تو کیا اس نبی کے ماننے والوں پر اس اعلان کی حرمت قائم رکھنا فرض نہیں؟؟؟ اور اس شخص پر تو اس اعلان کی پاسداری، عمل اور حفاظت کی بے انتہا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو نہ صرف بیٹا ہے بلکہ اس نبی کے خلیفہ ہونے کا دعویدار بھی ہے اور ایسا خلیفہ جو کہ اسی نبی کی پیشگوئی کے تحت مصلح موعود ہونے کا دعویدار بھی ہے۔
میرے سوال یہ ہیں کہ مرزا محمود احمد نے مرزا سلطان احمد سے تعلق قائم کر کے:۔
- (1) کیا مرزا قادیانی کی مخالفت نہیں کی؟
- (2) کیا اس طرح مرزا قادیانی کی ذات سے بیزاری ظاہر نہیں کی؟
- (3) کیا ایسا کر کے عمداً نہیں چاہا کہ مرزا قادیانی کی ذلت ہو؟
- (4) کیا اس طرح مرزا قادیانی کو سخت ناچیز نہیں قرار دیا؟
- (5) کیا معصیت کا ارتکاب نہیں کیا؟
- (6) کیا عاق اور محروم الارث ہونے والا کام نہیں کیا؟
- (7) مرزا قادیانی نے جو پابندیاں اور قطع تعلق مرنے تک قائم رکھا اور واپس نہیں لیا اور
نہ اس تعلق کو موت کے بعد بھی جوڑنے ہی کی کسی قسم کی خواہش کی، کیا ان کو پس پشت نہیں ڈال دیا؟
- (8) کیا اس طرح مرزا محمود احمد نے بقول مرزا قادیانی کے قطعاً حرام اور ایمانی غیوری
کے برخلاف کام نہیں کیا؟
- (9) بقول مرزا قادیانی کیا دیوثی کا کام نہیں کیا؟
- (10) کیا وہ خلیفہ تو درکنار ایک عام مومن بھی رہ گیا ہے؟ کہ مرزا قادیانی کا قول ہے
”مومن دیوث نہیں ہوتا۔“
قادیانیوں سے سوال ہے کہ بتائیں، مذکورہ بالا معاملہ میں وہ کس کو صحیح سمجھتے ہیں؟ مرزا قادیانی یا مرزا محمود کو؟؟؟
(8) آٹھواں سوال
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودی استاد
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ❑ ”یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے ’سبقاً‘ توریت
پڑھی تھی اور تالمود کو بھی پڑھا تھا۔“
(نزول المسیح صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 438 از مرزا قادیانی)
مزید لکھا:
- ❑ ”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری
بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔“
(اربعین نمبر 2 صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 358 از مرزا قادیانی)
قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت پڑھنا اور لکھنا سیکھا تھا۔
قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث نبوی ﷺ سے ثابت کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توریت ایک یہودی استاد سے پڑھی تھی یا کسی سے لکھنا سیکھا تھا؟؟؟
مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری نے اپنی کتاب (تفہیمات ربانیہ، ص 671) پر لکھا ہے کہ یہود کی تاریخی روایت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک استاد سے سبقاً سبقاً تورات پڑھی تھی۔‘‘
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’جو بات دشمن کے منہ سے نکلے، وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی صفحہ 25، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 19 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
(9) نواں سوال
شوخ و شنگ لڑکا
مئی 1904ء میں مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی تو اس نے یہ پیشگوئی شائع کی:
- ’’شوخ و شنگ لڑکا پیدا ہوگا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 430 از مرزا قادیانی)
اس الہام کے ایک ماہ بعد 25 جون 1904ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کا نام اُمّۃ الحفیظ رکھا۔ (حقیقت الوحی صفحہ 218 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 228 از مرزا قادیانی) مگر وہ شوخ و شنگ لڑکا نہ اس حمل سے اور نہ اس کے بعد پیدا ہوا۔ کیا قادیانی حضرات بتلا سکتے ہیں کہ وہ ’’شوخ و شنگ‘‘ لڑکا کہاں گیا؟
(10) دسواں سوال
گستاخ رسول حرامی ہے
آنجہانی مرزا قادیانی نے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں توہین کرتے ہوئے اپنی کتاب میں خود کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہا۔ ملاحظہ کیجیے:۔
- ’’پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘ (نعوذ باللہ)!
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
شان رسالت ﷺ میں مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے لکھا:
- ’’حضور نبی رحمت ﷺ اور آپ کے اصحاب ...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے
تھے حالانکہ مشہور یہ تھا کہ سُور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘ (نعوذ باللہ)!
(مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء)
مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے پہلے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے شان رسالت ﷺ میں توہین کرتے ہوئے لکھا:
- ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے
حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (نعوذ باللہ)!
(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)
مرزا قادیانی کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کرتے ہوئے لکھا:
- ’’پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں
تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘ (نعوذ باللہ)! (کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید ملعون قاضی اکمل نے بھری محفل میں مرزا قادیانی کی موجودگی میں اُس کی شان میں ایک نظم پڑھی جس پر مرزا قادیانی سمیت تمام قادیانیوں نے اُسے داد دی اور پھر یہ نظم مرزا قادیانی اپنے ساتھ گھر لے گیا اور بعد ازاں قادیانی اخبار الفضل میں شائع ہوئی۔ اس نظم کے صرف دو اشعار ملاحظہ کیجیے:
- ’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں‘‘
(روزنامہ بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تحریروں سے شان رسالت مآب ﷺ میں توہین کا ارتکاب ہوتا ہے یا نہیں؟؟؟ اگر ہوتا ہے تو گستاخ رسول ﷺ کی حیثیت کے بارے میں خود مرزا قادیانی کا اعترافی بیان ملاحظہ کیجیے:۔
- ”اس کے مقابلہ میں حضور نبی رحمت ﷺ کو دیکھو۔ آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے
اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے۔ پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص حضور نبی رحمت ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟“
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 208 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی اس مذکورہ بالا تحریر کی روشنی میں خود مرزا قادیانی، اُس کے بیٹے اور اُس کے چیلے حرامی ہیں یا نہیں؟ خدارا انصاف کیجیے گا!
(11) گیار ہواں سوال
مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش
آنجہانی مرزا قادیانی پنجاب میں ضلع گورداسپور کے ایک قصبے ”قادیان“ میں پیدا ہوا۔ یہ قصبہ امرتسر سے شمال مشرق کی طرف ریلوے لائن پر ایک قدیم شہر بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کا تذکرہ کئی قادیانی کتابوں سے ملتا ہے، لیکن اُس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی پیدائش کے بارے میں لکھتا ہے:
- ”میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں
1857ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔“
(”کتاب البریہ“ (حاشیہ) صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)
- ”لیکن بعد میں اُس کے خاندان کے افراد میں اس کے سال ولادت کے بارے
میں اختلاف پیدا ہو گیا، اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد، جو اس کا سوانح نگار اور ”سیرت المہدی“ کا مصنف ہے، کے پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت 1836ء یا 1837ء ہو سکتا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ”پس 13 فروری 1835ء عیسوی بمطابق 14 شوال 1250 ہجری بروز جمعہ والی
تاریخ صحیح قرار پاتی ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 76 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ”ایک تخمینہ کے مطابق سال ولادت 1831ء ہو سکتا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 74 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ”معراج دین نے تاریخ ولادت 17 فروری 1832ء مقرر کی ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 302 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ”جبکہ دیگر 1833ء یا 1834ء کو سال ولادت قرار دیتے ہیں۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 194 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ”حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سنہ ولادت کے متعلق کوئی تحریری یادداشت تو
ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ اس لیے اس امر میں اختلاف ہونا لازمی امر تھا۔ مگر تحقیقات سے سنہ ولادت 1835ء صحیح معلوم ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آپ نے کتاب البریہ میں اپنی پیدائش کا سنہ 1839ء یا 1840ء لکھا ہے لیکن ظاہر ہے کہ آپ نے یہ کسی تحریری یادداشت کی بنا پر نہیں لکھا، محض تخمینہ یا اندازہ سے قیاس کر کے ایسا لکھ دیا۔ اسی لیے کوئی سنہ متعین نہیں کیا۔“
(مجددِ اعظم جلد اوّل صفحہ 16 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی اصل تاریخ پیدائش کے حوالہ سے یہ گورکھ دھندہ کیا ہے؟؟
(12) بارہواں سوال
چودھویں صدی کا مجدد
آنجہانی مرزا قادیانی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے، نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”احادیثِ صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں
صدی کا مجدد ہوگا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 359 از مرزا قادیانی)
”احادیث“ عربی میں جمع کثرت کا وزن ہے اور جمع کثرت کم از کم دس سے شروع ہوتی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے دعویٰ کے مطابق کم از کم دس احادیث ایسی ہونی چاہئیں۔ حالانکہ دس احادیث تو کجا احادیث کے پورے ذخیرہ میں ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس میں حضور اکرم ﷺ نے چودھویں صدی کا ذکر کیا ہو اور فرمایا ہو کہ اس کے سر پر مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ مرزا قادیانی کا حضور سرورِ دو عالم ﷺ پر یہ سراسر افترا، جھوٹ اور بہتان ہے۔ مرزا قادیانی، حضور نبی رحمت ﷺ پر یہ افترا باندھ کر آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا چکا ہے۔ قادیانیوں میں ہمت ہے تو وہ بتائیں کہ کن احادیث میں
چودھویں صدی کا ذکر آیا ہے؟
اسی طرح آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں مزید لکھا:
- ”بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود حضور نبی رحمت ﷺ نے ایک مہدی کے
ظہور کا زمانہ وہی زمانہ قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے ۔“
(نشان آسمانی صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 370 از مرزا قادیانی)
”نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔“
قادیانیو! خود فیصلہ کرو کہ مرزا کا ٹھکانا کہاں ہے؟
دنیا بھر کے قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی بیان کردہ مذکورہ بالا حدیث دکھا کر منہ بولا انعام حاصل کریں ۔ بصورت دیگر مرزا قادیانی کے حدیث کے نام پر جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس پر لعنت بھیج کر واپس اسلام کی آغوش میں آ جائیں ۔ ہے کوئی قادیانی جسے اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم دی ہو اور وہ اس پر غور و فکر کرے!
(13) تیرہواں سوال
دو زرد رنگ کی چادریں یا بیماریاں؟
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ کی چادروں میں اترے گا ۔ ایک چادر
بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں ۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے ۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری ۔“
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 46 از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں !
- نمبر 1: یہ لفظ ”اترے گا“ حدیث کے کس عربی لفظ کا ترجمہ ہے؟
- نمبر 2: مرزا قادیانی کو جو سر کی بیماری تھی، وہ کون سی تھی؟ نیز کیا مرزا قادیانی کو پوری
زندگی، ”کثرت پیشاب اور دستوں“ کی بیماری تھی؟ اس طرح تو انہیں ”پیشابی اور دستی مسیح“ کا خطاب ملنا چاہیے تھا۔ پھر سر کی بیماری، پیشاب کی بیماری اور دستوں کی بیماری تین ہیں یا دو؟
اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ نکتہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ چادریں دو اور بیماریاں تین؟ کیا یہاں بھی پانچ اور پچاس والا چکر تو نہیں؟
(14) چودھواں سوال
رسول اللہ ﷺ کے نام پر جھوٹ
مرزا قادیانی قرآنی آیت اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ. (الحجر:9) کی تشریح وتفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ. (الحجر:9) کس
وقت کے لیے کیا گیا تھا؟ کیا ابھی کوئی اور مصیبت بھی رہ گئی تھی جو اسلام پر آنی باقی ہو؟ یاد رکھو حفاظت سے اوراق کی حفاظت ہی مراد نہیں بلکہ اس کی تشریح ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ قرآن شریف دنیا سے اُٹھ جاوے گا۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ لوگ قرآن کو پڑھتے ہوں گے تو اٹھ کیسے جاوے گا؟ فرمایا کہ میں تو تمہیں عقلمند خیال کرتا تھا مگر تم بڑے بیوقوف ہو، کیا عیسائی انجیل نہیں پڑھتے؟ اور کیا یہودی توریت نہیں پڑھتے؟ قرآن شریف کے اُٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ قرآن شریف کا علم اُٹھ جاوے گا اور ہدایت دُنیا سے نابود ہو جاوے گی۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 552 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ کون سے صحابی ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نے (نعوذ باللہ) ”بے وقوف“ کہا؟ اور یہ کون سی حدیث ہے، اس کا حوالہ کہاں ہے؟
(15) پندرھواں سوال
حدیث میں کشمیر کا ذکر
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھا:
- ”اس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام
صلیب سے نجات پا کر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔“
(تحفہ غزنویہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 540 از مرزا قادیانی)
دنیا جہاں میں کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں حدیث کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب سے بھاگ کر کشمیر میں جانے کا تذکرہ ہو۔ یہ تو محض قادیان کے چنڈو خانے کی حیرت انگیز گپ ہے۔ مرزا قادیانی کی بے باکی دیکھیے کہ خود ہی کشمیر کے سری نگر میں مسیح کی خودساختہ قبر تیار کر لی۔ قادیانی بتائیں کس حدیث میں کشمیر کا ذکر ہے؟
(16) سولہواں سوال
قرآن کے نام پر جھوٹ
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”پس اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ 1857ء میں میرا کلام
آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 390 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 490 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی قرآن مجید سے مذکورہ بالا الفاظ دکھا سکتا ہے؟
(17) سترہواں سوال
آخری مجدد کون؟
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کرتا ہے:
- ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علیٰ
رأس کُلّ مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔ (رواہ ابوداؤد) یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے دین کو تازہ کرے گا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں اور چونکہ آخری زمانہ جس میں آخری مجدد کو آنا تھا، یہی صدی ہے، اس لیے میں مسیح موعود بھی ہوں۔ لیکن اب چودھویں صدی ختم ہو کر پندرہویں صدی شروع ہوگئی ہے۔ اس لیے ارشاد نبوی ﷺ
کے مطابق اس صدی میں بھی کسی مجدد کا آنا ضروری ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ چونکہ وہ چودھویں صدی کا مجدد ہے، اس لیے مسیح موعود بھی ہے، غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ مسیح موعود تو آخری مجدد ہوگا جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔
اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے مزید لکھا:
- ”یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو
آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 از مرزا قادیانی)
وہ تمام قادیانی جنہوں نے غلط فہمی سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیا ہے، وہ حضور نبی رحمت ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد کی روشنی میں بتائیں:
- (1) آیا نئی صدی کے لیے کوئی مجدد آئے گا یا نہیں؟
- (2) اگر آئے گا اور ضرور آئے گا تو مرزا قادیانی آخری مجدد نہ ہوا؟
اور جب زمانے نے ثابت کردیا کہ وہ آخری مجدد نہیں تو مسیح موعود بھی نہ ہوا۔
کیا قادیانیوں میں عقل سلیم کا حامل کوئی ایسا شخص ہے جو حضور نبی رحمت ﷺ کے اس فرمان پر غور کر کے اپنے عقیدے کی اصلاح کے لیے تیار ہو؟
(18) اٹھارہواں سوال
کمینے آدمی کی عادت
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”واللہ قد كنت اعلم من ایّام مديدة اننى جعلت المسيح ابن مريم
وانى نازل فى منزله ولكن اخفيته نظراً الى تاويله۔ بل ما بدلت عقيدتى و كنت عليها من المستمسكين وتوقفت فى الاظهار عشر سنين.“
ترجمہ: خدا کی قسم! میں بہت دنوں سے جانتا تھا کہ میں مسیح ابن مریم بنایا گیا ہوں اور میں ہی مسیح کی بجائے نازل ہونے والا شخص ہوں۔ لیکن میں نے اس کو چھپائے رکھا، اس کی تاویل کر کے، بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا۔ میں اس پر مضبوطی سے قائم رہا ہوں اور میں نے اس کے ظاہر کرنے میں دس (10) سال توقف کیا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی)
بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے اُسے ”مسیح ابن مریم“ کا منصب عطا کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے اُسے 10 سال تک چھپائے رکھا۔ اب قادیانی بتائیں کہ اللہ کے حکم کو چھپانے والا کون ہوتا ہے؟ خائن...... جھوٹا...... کمینہ...... یا مسیح موعود؟؟؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ترجمہ: ”اخفا کرنا میرے نزدیک گناہ ہے اور کمینے آدمی کی عادت ہے۔“
(ترجمہ: الاستفتاء صفحہ 36 ملحقہ حقیقۃ الوحی صفحہ 657 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 657 از مرزا قادیانی)
(19) انیسواں سوال
تھیٹر
آنجہانی مرزا قادیانی کا خاص مرید مفتی محمد صادق اپنی کتاب ”ذکر حبیب“ میں مرزا قادیانی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب
بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔“
(ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی)
تھیٹر اور سینما گھر ایک ہی برائی کے دو نام ہیں۔ سینما گھر میں پہلے سے تیار شدہ فلم دکھائی جاتی ہے جبکہ تھیٹر میں مختلف کردار سٹیج پر براہ راست اپنی پرفارمنس ادا کرتے ہیں۔ تھیٹر
میں جو خرافات، فحاشی، لچرپن، بے ہودہ باتیں اور ناچ وغیرہ ہوتا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ قدرت کی طرف سے ساری دنیا کو حکم ہے کہ وہ برائی کے پاس نہ جائے جبکہ برائی کو یہ حکم ہے کہ وہ نبی یا رسول کے پاس نہ جائے کیونکہ وہ معصوم عن الخطا ہوتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کا یہ اعتراف کہ ایک دفعہ وہ بھی تھیٹر دیکھنے گیا تھا، ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ اور لمحہ فکریہ ہے جو اسے نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی یا مجدد وغیرہ مانتے ہیں ۔ قادیانی بتائیں کہ نبوت و رسالت کے دعویدار مرزا قادیانی کا تھیٹر دیکھنا ایک قبیح حرکت ہے یا نہیں؟
(20) بیسواں سوال
پانچ اور پچاس کا قادیانی فرق
مرزا قادیانی نے شروع شروع میں ایک عالم کا روپ دھارا اور اعلان کیا کہ وہ عیسائیت، ہندومت اور آریہ سماج کے عقائد کے خلاف کتاب لکھے گا جس میں ان مذکورہ مذاہب کا ابطال اور صداقت اسلام پر 300 مضبوط اور محکم عقلی دلائل ہوں گے ۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 38 از مرزا قادیانی) اور یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی جس کے تقریباً 4800 صفحات ہوں گے ۔ (برکات الدعا صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 41 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ تمام مسلمان مخیّر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کے لیے پیشگی رقوم ارسال کریں ۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ اس کتاب کی فی جلد پر 25 روپے خرچ آیا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ کتاب پھیلانے کے لیے اس کی رعایتی قیمت صرف 5 روپے رکھی ہے ۔ (براہین احمدیہ حصہ اوّل صفحہ 2 از مرزا قادیانی) بعدازاں اس نے فی جلد 5 روپے کے بجائے 10 روپے رکھ دی ۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 19، طبع جدید از مرزا قادیانی) یادرہے کہ ان دنوں ایک روپے کا سولہ کلو گوشت ملتا تھا ۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) آج کل گوشت کی قیمت 700 روپے ہے ۔ اس طرح اس دور کے 10 روپے آج کے 112,000 روپے کے برابر ہیں ۔ مرزا قادیانی کے مسلسل اور بھر پور پروپیگنڈے کے نتیجہ میں مخیّر حضرات جن میں نواب شاہ جہاں بیگم والی ریاست بھوپال اور خلیفہ سیّد محمد حسن خاں بہادر وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ وغیرہ شامل ہیں، نے اس دور میں اسلام کی خاطر ہزاروں روپے کی اعانت کی جس کی موجودہ قیمت کروڑوں
روپے میں بنتی ہے۔
مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی اشاعت کی رقم پیشگی بھجوا دی ۔ مرزا قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ 5 جلدیں (1101 صفحات) مکمل ہونے پر اعلان کر دیا کہ چونکہ 5 اور 50 میں صرف صفر کا فرق ہے، اس لیے پانچویں جلد کے ساتھ ہی ان کا پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز دلیل !
- ❑ ’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس
اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا ۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
عجیب بات ہے کہ :
- 1- جس کتاب میں حقیقت اسلام ثابت کرنے کے لیے 300 دلائل ہونا تھے ، اس میں
صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ، اور وہ بھی نامکمل (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 111، 112 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- 2- پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر صرف 5 جلدیں تحریر کیں۔
- 3- 4800 صفحات لکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر صرف 1101 صفحات تحریر کیے ۔
- 4- بعض قادیانی اس فراڈ کی توجیہہ اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی
کریم ﷺ سے فرمایا تھا کہ میں آپ کی امت کو 5 نمازوں کا ثواب 50 نمازوں کے برابر دوں گا۔ لہٰذا یہ اللہ کی سنت ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے 5 کے بدلے 50 کا ثواب دینے کا وعدہ کیا لیکن مرزا قادیانی نے 50 جلدوں کی جگہ 5 دیں۔ اگر 5 جلدوں کی قیمت لے کر 50 جلدیں دی ہوتیں تو بات بھی بنتی یہاں تو اس نے صریح دھوکا کیا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ باقی جلدوں کی اشاعت خدا تعالیٰ کے حکم سے رُک گئی۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 111، 112 از مرزا قادیانی) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم لوگوں سے مال بٹورنے سے پہلے آنا چاہیے تھا ، بعد میں کیوں آیا ؟ قادیانی بتائیں کیا یہ فراڈ نہیں ہے؟ کیا یہ کاروبار اخلاقیات کے عین مطابق ہے؟
اگر یہ نوسربازی نہیں ہے تو کیا وہ یہ پسند کریں گے کہ وہ کسی کو 50 روپے دیں اور انھیں واپسی صرف 5 روپے کی ہو؟ اور جواباً کہا جائے کہ 5 اور 50 میں کوئی فرق نہیں۔
(21) اکیسواں سوال
نماز میں فارسی نظم
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب سیرت المہدی میں لکھتا ہے:
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد
مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔ حضور (مرزا قادیانی) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی ، جس کا یہ مصرعہ ہے:
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے۔“ (سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
نماز اسلام کی اہم ترین عبادت ہے۔ اس میں پڑھی جانے والی دعائیں وغیرہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ قادیانی اپنی نمازوں میں مرزا قادیانی کی نظمیں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔
قادیانی بتائیں کہ کیا نمازوں میں فارسی نظمیں پڑھنا قرآن وسنت سے ثابت ہے اور کیا اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟؟
(22) بائیسواں سوال
بلا عنوان
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی ذات کے متعلق ایک شعر ہے۔
- ”کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
(براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 127، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ خاک کا کیڑا مکوڑا ہے۔ وہ کسی انسان کی اولاد نہیں
بلکہ وہ آدمی کی باعث شرم اور نفرت والی جگہ ہے۔ انسان کی جائے نفرت دو تین قسم کی ہوتی ہیں، نجانے مرزا قادیانی کس کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟؟؟ ہمیں تو اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اس شعر میں مرزا قادیانی نے اپنے عجز و انکسار کا اظہار کیا ہے۔ بھلا یہ کہاں کا عجز و انکسار ہے کہ ایک شخص اپنے انسان ہونے سے ہی انکار کر دے اور انسان کی قابل نفرت جگہ ہونے کا اقرار کرے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا وہ اپنے مکانوں، دکانوں اور عبادت گاہوں پر یہ شعر جلی حروف میں لکھوا سکتے ہیں تاکہ ان کا عجز و انکسار بلکہ ان کا باطنی تذلل دوسروں پر واضح ہو جائے؟
(23) تئیسواں سوال
ہندو لڑکی سے نکاح
- ”قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین کا کہنا ہے:
اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔ اب اگر ایک مسلمان مرد ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرے تو اس پر دوسرے مسلمان کفر کا فتویٰ لگا دیں۔ مگر اسلام میں ایسے نکاح کی اجازت ہے اور اس سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان پوتا کہہ کر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو تو دوسری طرف ایک ہندو نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو۔ اس ذریعہ کو اختیار کرنے سے مذاہب کے اختلاف دور ہو جائیں گے، رنگوں اور زبانوں کے فرق دور ہو جائیں گے اور وہ سب روکیں جو تعلقات کی وسعت میں حائل ہیں، دور ہو جائیں گی۔ (خطبات محمود جلد سوم صفحہ 448 از مرزا محمود ابن مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ ان کی جماعت کے کسی فرد نے آج تک کسی ہندو لڑکی سے نکاح کیا۔ اگر نہیں تو کیوں؟
(24) چوبیسواں سوال
مسیح موعود اور اس کی توہین
- ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں
لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار
دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 404 از مرزا قادیانی)
قرآن وحدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں۔ یہ خالص جھوٹ ہے۔ ہے کوئی قادیانی جو ہمیں یہ بتا سکے کہ یہ پیشگوئیاں قرآن کریم کے کون سے پارہ، کون سی سورت اور کون سے رکوع میں لکھی ہیں یا حدیث کی کون سی کتاب کے کون سے باب میں درج ہیں؟؟
(25) پچیسواں سوال
اِدھر اُدھر
- ❑ ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے، باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے (بے شرمی کا کام نہ کرتے!) اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“................... ...................”والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکا مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری (”خدمت خاص“ کی) وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔“
(سیرت المہدی، جلد اوّل صفحہ 43، 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی امام الدین نہ صرف بے دین اور دہریہ طبع بلکہ بھنگی چرسی تھا۔ مرزا قادیانی ادھر اُدھر اس کے ساتھ پھرتا رہا تو اس سفر کی روشنی میں مرزا قادیانی کا کردار بھی واضح ہو گیا ہے۔
اس وقت مرزا قادیانی کی عمر 24، 25 سال تھی۔ پنشن کی رقم معمولی رقم نہ تھی بلکہ 700 روپے تھی۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 131) ان دنوں ایک آنہ کا ایک کلو گوشت ملتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 182) آج کل گوشت 700 روپے کلو ہے۔ گویا اس دور کا ایک روپیہ (700×16=11200) آج کے 11 ہزار 2 سو روپے کے برابر ہے۔ سات سو روپے پنشن آج کل کی 78 لاکھ 40 ہزار روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر اور پنشن کی رقم ذہن میں رکھ کر بتائیں:
- -1 اتنی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی؟
- -2 اِدھر اُدھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟
- -3 مرزا قادیانی نے کون سا بے شرمی کا کام کیا تھا کہ شرمندگی کا مارا گھر واپس نہ آیا؟
- -4 کیا اتنی بھاری رقم صرف کھانے پینے میں صرف ہوسکتی ہے؟
(26) چھبیسواں سوال
ٹیچی ٹیچی
- ❑ ”5 مارچ 1905ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا،
میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ (بلی کو چھیچھڑوں کے خواب) میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا، نام کچھ نہیں، میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔ تب میری آنکھ کھل گئی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 332، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ جب قادیانیوں سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ لفظ ”ٹِچ“ سے بنا ہے جس کا مطلب تیز رفتار ہے۔ یہ فرشتہ ٹچ کر کے مرزا قادیانی کا پیغام اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے اور ٹچ کر کے واپس آتا ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی کو ازراہ مذاق ”ٹیچی ٹیچی“ کہتا ہے تو وہ غصہ سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کئی قادیانی اساتذہ نے طلبہ کی طرف سے بلیک بورڈ پر ”ٹیچی ٹیچی“ لکھنے یا
کورس کے انداز میں با آواز بلند ٹیچی ٹیچی کہنے پر اپنے تبادلے کروا لیے ہیں۔ (آزمائش شرط ہے!) جس کی وجہ بظاہر ہمیں نظر نہیں آتی۔ حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ مسلمان ان کے فرشتے کا نام لے رہے ہیں۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ فرشتے کبھی جھوٹ نہیں بولتے جبکہ مرزا قادیانی کا فرشتہ ٹیچی ٹیچی جھوٹ بولتا ہے۔ پہلے اس نے کہا کہ میرا نام کچھ نہیں پھر کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔
قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا وہ مرزا قادیانی کے فرشتے ٹیچی ٹیچی پر ایمان رکھتے ہیں؟ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو پھر مسلمانوں کے ٹیچی ٹیچی کہنے پر وہ کیوں چڑتے ہیں؟؟
سچ کہا ہے کسی نے: جیسی روح ویسے فرشتے!
(27) ستائیسواں سوال
اسلام میں نیچی قومیں
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لیے مامور نہیں ہوتے بلکہ ان کا کاروبار اپنے
نفس تک ہی محدود ہوتا ہے اور ان کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقویٰ اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور حتی الوسع خدا تعالیٰ کی ادق سے ادق رضا مندی کی راہوں پر چلتے اور اُس کے باریک وصایا کے پابند رہتے ہیں اور ان کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علونسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو بلکہ حسب آیۃ کریمہ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم صرف ان کی تقویٰ دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے۔ یا مثلاً کوئی ان میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے توبہ کر لی ہو یا ان قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کے خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام، موچی، تیلی، ڈوم، میراسی، سقے، قصائی، جولاہے، کنجری، تنبولی، دھوبی، مچھوے، بھڑبھونجے، نانبائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا؟ یہ تمام لوگ توبہ نصوح سے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 149 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 277 از مرزا قادیانی)
اسلام اخوت اور مساوات کا دین ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے اپنے آخری
خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسلام میں بعض قومیں نیچی سمجھی جاتی ہیں جو قطعاً جھوٹ اور بہتان ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے کہ اسلام میں بعض قومیں نیچی سمجھی جاتی ہیں؟؟
(28) اٹھائیسواں سوال
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صلیب
- ”حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب پر
چڑھے۔ گو خدا کے رحم نے ان کو بچا لیا اور مرہم عیسیٰ نے ان کے زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں ان کو پہنچا دیا۔ سو انھوں نے سچائی کے لیے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے۔ سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لیے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 370، 371 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 498، 499 از مرزا قادیانی)
یہودیوں اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھے جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
وما قتلوہ وما صلبوہ (النساء: 157)
یعنی نہ انھیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قتل کیا گیا اور نہ انھیں صلیب دیا گیا۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھے۔ قادیانی بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا عقیدہ قرآن مجید کے خلاف ہے یا نہیں؟؟
(29) انتیسواں سوال
سفر معراج
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک کے لیے ہے۔ قرب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ وہ قرآن وسنت کی پیروی کریں گے۔ سفر معراج کے موقع پر سید المرسلین وخاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب مکہ سے مسجد اقصیٰ تشریف لائے تو یہاں آپ ﷺ نے نماز میں
تمام انبیائے کرام کی امامت فرمائی۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس موقع پر آنجہانی مرزا قادیانی کہاں تھا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ نبی اور رسول ہے؟ جس نے مزید کہا تھا:
- ’’میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ
ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
(30) تیسواں سوال
مرزا قادیانی مرد تھا یا عورت؟؟؟
مرزا قادیانی کی زندگی بھی ایک عجیب مسخرانہ اور مضحکہ خیز تھی۔ اس میں درجنوں ایسے نادر واقعات ملتے ہیں جن کے مطالعے سے بے اختیار ہنسی آتی ہے اور ضبط کرنے پر بھی ضبط نہیں ہوتی۔ پنجابی نبی کے حالات زندگی اور تحریرات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ حیرانی ہوتی ہے کہ کیا لکھیں اور کیا کہیں؟ قارئین کرام خود ملاحظہ کیجیے:
- ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔‘‘
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ مرزا قادیانی نے مزید لکھا:
حاملہ
- ’’اُس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ
براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دو برس تک صفت مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں
مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
درد زہ
- ”خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ رُوح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ
الہام ہوا تھا۔ فاجاء ھا المخاض الی جذع النخلۃ قالت یالیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیا. یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی)
درد زہ عورتوں کو ہوتی ہے۔ کیا کوئی قادیانی یہ بتانے کی زحمت گوارا کرے گا کہ کون سے زمانہ میں مرزا قادیانی پر نسوانیت غالب آئی اور وہ درد زہ سے کانکھتے رہے؟
۞.......۞.......۞
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ اور فتنہ قادیانیت
حضرات اولیائے عظام اور علمائے کرام، اللہ تعالیٰ کی انسانی مخلوق کا نہایت بیش قیمت حصہ ہے۔ ایسا حصہ جسے اللہ رب العزت نے خود اپنا دوست قرار دیا۔ انہیں ایمان و تقویٰ کا علمبردار بتلایا اور واضح فرمایا کہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کی بشارتیں ان کے لیے ہیں۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں پاسبان ختم نبوت، تاجدار گولڑہ شریف حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ شامل ہیں۔ آپ کا شمار ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جو احیائے اسلام اور تجدید دین کے باعث محی الدین تھے۔ آپ علم و عرفان اور شریعت و طریقت، دونوں میں جامع تھے۔
حضرت پیر مہر علی شاہؒ اپنے دور کے مشہور صوفی بزرگ ہیں جن کا شجرہ نسب 25 واسطوں سے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور 36 واسطوں سے سیدنا حضرت امام حسنؓ سے ملتا ہے۔ آپ کے اسلاف میں سے ایک بزرگ ضلع انبالہ (بھارت) سے نقل مکانی کرکے راولپنڈی سے چند میل دور بمقام گولڑہ شریف آباد ہوگئے۔ یہ ان کے بزرگوں کا روحانی فیض تھا کہ آپ بہت جلد گرد و نواح میں مقبول ہوکر مرجع خلائق بن گئے اور یہ سلسلہ فیوض و برکات اس چھوٹے سے گاؤں میں آج بھی جاری و ساری ہے۔
1890ء میں حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مستقل طور پر مدینہ طیبہ میں سکونت پذیر ہونے کا ارادہ کرلیا۔ لہٰذا اس غرض سے حج کا سفر کیا۔ مدینہ طیبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کے بعد بہت خوش ہوئے کہ اب زندگی کی باقی تمام بہاریں گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی چھاؤں تلے گزاریں گے۔ اسی روز حضور نبی کریم ﷺ پیر مہر علی شاہؒ کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: ’’مہر علی، ہندوستان میں مرزا قادیانی میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔ واپس جاؤ اور اس فتنہ کا سدباب کرو۔‘‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی اپنے امتی کو ہمیشہ اعلیٰ و ارفع کام کا حکم دیتا ہے۔ مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، جبکہ بیت
اللہ شریف میں ایک نماز ادا کرنے پر ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ لیکن یہاں حضور نبی کریم ﷺ اپنے ایک امتی کو حکم دے کر قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے واپس ہندوستان بھیج رہے ہیں۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کا کام جہاد عظیم ہے۔ اس کام سے بڑھ کر کوئی کام ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ جو کوئی شخص دنیا کے کسی خطے میں تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اسے بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھنے سے کروڑوں درجہ زائد ثواب ملتا رہے گا کیونکہ اس کی کوشش سے ایک مسلمان مرتد ہونے سے بچ جاتا ہے اور ایک گم کردہ راہ قادیانی واپس اسلام کی آغوش میں آ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے تو اس کو ثواب تو ہوگا ہی لیکن اس کی وجہ سے جتنے آدمی اس نیک کام کو شروع کریں گے یا اس فتنہ کے کفریہ عقائد سے آگاہ ہو کر اپنا ایمان بچائیں گے یا اس فتنہ میں مبتلا لوگ واپس حلقہ بگوش دین متین ہو جائیں گے تو ان سب لوگوں کی نیکیوں میں اس شخص کا بھی مستقل حصہ ہوگا۔ تحفظ ختم نبوت کا کام ایک ایسے سرمائے کی مثل ہے جو کسی فیض رساں تجارت میں لگا دیا جائے تو اس سے ہمیشہ اس کا منافع ملتا رہے۔ دوسری اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ تحفظ ختم نبوت کے کام کی سرپرستی اور نگرانی براہ راست حضور نبی کریم ﷺ خود فرماتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر راہنمائی بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ اس خواب کے بعد آپ واپس ہندوستان تشریف لے آئے جس کے ایک سال بعد یعنی 1891ء میں مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم فتنہ ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی نے دین اسلام سے کھلی بغاوت کی۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکا ڈالا۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو خدا کا نبی اور رسول بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل کہا، اپنی باتوں کو احادیث کا درجہ دیا، دین اسلام کو مردہ مذہب کہا، اپنے ماننے والے مرتدوں کو صحابہ رسول کے نام سے پکارا، اپنی کافرہ بیوی کو ام المومنین کے نام سے تعبیر کیا، اپنے گھر والوں کو اہل بیت کا نام دیا، تین سو تیرہ بدری صحابہ کرام کے مقابلہ میں اپنے تین سو تیرہ چیلوں کی فہرست تیار کی، حضور نبی کریم ﷺ کی نقل کرتے ہوئے اپنے ننانوے صفاتی نام رکھے، اپنے زانی بیٹے کو قمر الانبیاء کہا، اپنی فاحشہ بیٹی کو سید النساء کہا، قادیان آنے کو ظلی حج قرار دیا، جنت البقیع کے مقابلہ میں قادیان میں ایک بہشتی مقبرہ تیار کروایا، خود کو نبی نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہا، اپنی عبادت گاہ کو مسجد اقصیٰ کہا، اپنے جانشینوں کو خلفاء
راشدین کہا، قرآن پاک میں من گھڑت تحریفیں کیں، احادیث رسول ﷺ کو بگاڑا، اقوال صحابہؓ و بزرگان دینؒ کو مسخ کیا، جہاد کو حرام قرار دیا، انگریز کی اطاعت کو لازمی قرار دیا (نعوذ باللہ).......... مرزا قادیانی نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی بناسپتی اور انگریزی نبوت کو چلانے اور چمکانے کے لیے دین اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ اور مقدس ہستیوں پر انتہائی رکیک حملے کیے۔ مرزا قادیانی اور اس کے شیطانی چیلوں نے جس دریدہ دہنی اور زہر افشانی کا مظاہرہ کیا، اسے تحریر میں لاتے ہوئے قلم کانپتا ہے، جسم پر رعشہ طاری ہوتا ہے، قلب و جگر زخمی ہوتے ہیں، آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور روح تڑپتی ہے۔
قدرت نے حضرت پیر مہر علی شاہؒ کو تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے بطور خاص تیار کیا تھا۔ چنانچہ سیّدنا پیر مہر علی شاہؒ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے میدان میں نکل آئے اور مرزا قادیانی کا ہر میدان میں محاسبہ کیا۔ مسلمانوں کو اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کو چیلنج بھیجا کہ آؤ! لوگوں کے ایک جم غفیر کے سامنے، میں بھی سورۃ الفاتحہ کی تفسیر لکھتا ہوں اور آپ بھی سورۃ الفاتحہ کی تفسیر لکھیں، جس کی تفسیر بہترین ہو، وہ سچا اور جس کی ناقص ہو، وہ جھوٹا۔ پیر صاحبؒ نے مرزا قادیانی کے اس چیلنج کے جواب میں فرمایا کہ تمہارا چیلنج منظور ہے لیکن ایک شرط ہے کہ اس اجتماع میں تم بھی اپنے کاغذ پر قلم رکھ دو، میں بھی اپنے کاغذ پر قلم رکھ دوں گا۔ جس کا قلم خود بخود چلے اور تفسیر قرآن لکھ دے، وہ سچا اور جس کا قلم خود بخود نہ چلے وہ جھوٹا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں اس طرح چپ سادھی، گویا دنیا سے رخصت ہو گیا۔
(تحریک ختم نبوت از شورش کشمیریؒ)
بعد ازاں حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے مرزا قادیانی کو چیلنج بھیجا کہ حق و باطل کے فیصلہ کے لیے بادشاہی مسجد لاہور میں آجاؤ۔ ہم دونوں مسجد کے ایک مینار پر چڑھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چھلانگ لگاتے ہیں۔ جو سچا ہوگا، وہ بچ جائے گا اور جو کاذب ہوگا، وہ مرجائے گا۔ مرزا قادیانی یہ چیلنج سن کر یوں گم سم ہوگیا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔
(تحریک ختم نبوت از شورش کشمیریؒ)
مرزا قادیانی نے اپنی عادت خبیثہ کے مطابق پھر پیر صاحبؒ کو کسی بات کا چیلنج بھیجا تاکہ عوام میں شکوک وشبہات پیدا کیے جائیں۔ قدرت نے پیر صاحبؒ کو ایسا رعب اور جلال نصیب کیا تھا کہ مرزا قادیانی ان کا نام سن کر تھر تھر کانپنے لگ جاتا تھا۔ پیر صاحبؒ نے جواب میں چیلنج بھیجا کہ آؤ ہم دونوں ایک بہت بڑے جلتے ہوئے تنور میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ جو سچا
ہوگا، وہ بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا، وہ جل کر بھسم ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی اس مقابلہ میں بھی دم دبا کر بھاگ گیا۔ (سیارہ ڈائجسٹ، اولیائے کرام نمبر)
ایک عرصہ بعد قادیانی جماعت کا ایک وفد حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ایک اندھے اور ایک اپاہج یعنی لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں، دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے۔ جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں، وہ سچا ہے، اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔ پیر صاحب نے جواب میں کہا کہ یہ بھی منظور ہے لیکن مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دیں کہ اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آ جائے، ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس پر مرزا قادیانی کو پیر صاحب کے سامنے آنے کی ہمت نہ پڑی۔ اس موقع پر پیر مہر علی شاہؒ نے فرمایا: ”یہ دعویٰ میں نے از خود نہیں کیا تھا بلکہ عالم مکاشفہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے جمال باکمال سے میرا دل اس قدر قوی اور مضبوط ہو گیا تھا کہ مجھے یقین کامل تھا کہ اگر اس سے کوئی بڑا دعویٰ بھی کرتا تو اللہ تعالیٰ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف ضرور مجھے سچا ثابت کرتے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اس کی پشت پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔“ پیر صاحب کا یہ احساس تائید ربانی سے بہرہ ور تھا کیونکہ تحفظ ختم نبوت کی اس جدوجہد میں شروع ہی سے آپ کو حضور سید المرسلین ﷺ کے بے پایاں لطف وکرم کی تجلیاں اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھیں۔
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد وعزائم اور مرتدانہ سرگرمیوں کے جواب میں پیر مہر علی شاہؒ نے انتہائی عالمانہ اور معرکۃ الآرا تصانیف لکھیں جن میں شمس الہدایہ اور سیف چشتیائی شہرہ آفاق حیثیت رکھتی ہیں۔ پیر صاحبؒ نے ان کتابوں کا ایک ایک نسخہ مرزا قادیانی کو بھی بھیجا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی جانب سے ان دلائل اور عقائد جن کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پیر صاحب نے باطل اور کفریہ قرار دیا تھا، دفاع کیا جاتا اور علمی جواب دیا جاتا۔ لیکن اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی اسے پڑھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور پیر صاحبؒ کی شان میں بکواس شروع کر دی۔ (نقل کفر، کفر نہ شد)۔ مرزا قادیانی نے پیر صاحبؒ کو ملعون لومڑی، نادان، چور، کذاب، نجاست خور، جاہل، بے حیا اور گوہ کھانے والا کہا۔ (استغفر اللہ ۔ معاذ اللہ)
(نزول المسیح صفحہ 62 تا 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 440 تا 459 از مرزا قادیانی)
ایک اور کتاب میں اول فول بکتے ہوئے مزید لکھا:
- ”مجھے ایک کتاب کذاب (حضرت پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ
خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین، تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ذہنی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ قادیانی عقائد کے مخالفانہ کتاب ملنے پر اس نے نہ صرف پیر صاحب کو برا بھلا کہا بلکہ اس پورے علاقے اور اس کے مکینوں کو بھی ملعون قرار دے ڈالا۔ جبکہ قادیانی جماعت کا نعرہ ہے: ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں ۔“ عجیب بات ہے کہ مخالفت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے کی اور لعنت گولڑہ کے تمام رہنے والوں پر کی اور وہ بھی قیامت تک۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گولڑہ کی سرزمین پر کوئی قادیانی آباد ہو گیا تو کیا وہ بھی اس ابدی لعنت کا مستحق ہوگا؟
جولائی 1900ء میں مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو مناظرے کا چیلنج دیا تو پیر صاحب نے اس چیلنج کو مرزا قادیانی کی تمام شرائط پر قبول کر لیا۔ لیکن جب مرزا قادیانی کو پتا چلا کہ جناب پیر صاحب مناظرہ کے لیے لاہور تشریف لا رہے ہیں تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مقررہ تاریخ کو وہ اس مناظرہ میں نہ آیا اور پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے مندرجہ ذیل عذر کیا:
- ”اور میں بہرحال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی
پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 461 طبع جدید از مرزا قادیانی)
حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے، بلکہ سچے مومن بھی
بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ”اور میرے ساتھ تو خدا تعالیٰ کے پاسبان ہیں کہ وہ میری میرے دشمنوں سے
حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ (خطبہ الہامیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 110، 111 از مرزا قادیانی)
- ❑ ’’براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیش گوئی ہے کہ قتل وغیرہ کے
منصوبوں سے میں بچایا جاؤں گا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 234 از مرزا قادیانی)
تحفظ ختم نبوت کے لیے پیر صاحب کی گرانقدر کوششیں تیرہ سو سال کے اولیا و مشائخ کی روحانی قوتوں کا فیضان تھا اور نہ جانے کون کون سی ہستیاں آپ کی پشت پناہ تھیں۔ ایک بزرگ حضرت سید چانن شاہ جابہ شریف اس عرصے میں اپنے ایک خواب کی کیفیت یوں بیان کرتے تھے:
’’میں نے ایک فوج کو عَلَم لہراتے دریائے جہلم کے پل پر سے لاہور کی طرف جاتے دیکھا جس میں سے ایک صاحب نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ ہم بغداد شریف سے آ رہے ہیں اور پیر صاحب گولڑہ شریف کی نصرت کے لیے جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے مقابلے پر لاہور جا رہے ہیں۔‘‘
مناظرہ سے فرار کے باوجود مرزا قادیانی نے اپنی عادت سے مجبور ہوکر حضرت پیر مہر علی شاہؒ سے چھیڑ چھاڑ جاری رکھی۔ آخری قادیانی حربہ جو استعمال کیا گیا یہ تھا کہ 1907ء میں قادیانیوں نے عوام الناس میں یہ بات پھیلا دی کہ آنے والے جیٹھ کے مہینے میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا انتقال ہو جائے گا۔ پیر صاحبؒ کے عقیدت مند اس سے بڑے پریشان ہوئے کہ مبادا مرزا قادیانی تنگ آ کر پیر مہر علی شاہؒ کو قتل نہ کروا دے۔ چنانچہ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کے پیر بھائی جناب میاں محمد قریشیؒ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حفاظت کے لیے مناسب انتظام کے لیے کہا۔ لیکن پیر مہر علی شاہؒ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’میاں محمد موت تو برحق ہے اور سب کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ تسلی رکھو، اس سال کے جیٹھ میں مہر علی شاہؒ نہیں مرے گا۔‘‘ چنانچہ 1908ء کے جیٹھ کا مہینہ آیا تو مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور میں واقع احمدیہ بلڈنگ کے ٹٹی خانہ میں مرا اور جہنم واصل ہو گیا۔ یوں پیر صاحبؒ اپنی ولائت کی صداقت کا ایک اور نشان چھوڑ گئے۔ (تاریخ محاسبہ قادیانیت از پروفیسر خالد شبیر)
مجاہد ختم نبوت حضرت پیر مہر علی شاہؒ (جن کے نام سے ہی مرزا قادیانی کانپتا تھا) نے 1902ء میں ایک پیش گوئی کی تھی جو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر ہنس رہی
ہے...........آپ بھی ملاحظہ کیجیے:
- ”ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا میں حاضر ہو کر سلام
عرض کرنا اور جواب سے مشرف ہونا، یہ نعمت (مرزا) قادیانی کو کبھی نصیب نہ ہوگی“۔
(سیف چشتیائی، صفحہ 108، شائع شدہ 1902ء)
اس پیش گوئی کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی تقریباً چھ سال زندہ رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے مدینہ منورہ کی حاضری کی توفیق نہ دی۔
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ نے تحفظ ختم نبوت کے لیے بے حد علمی اور عملی جدوجہد کی جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمان قادیانیت کے ارتداد کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ آپ کی یہ خدمت تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ حضرت پیر صاحب اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسالک کے لوگ ان کا دلی احترام کرتے ہیں۔ مہر منیر (سوانح حیات حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ) میں لکھا ہے: ”اس معرکہ (مرزا قادیانی سے مناظرہ) میں تمام اسلامی مسالک کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ سنی، اہل حدیث اور اہل قرآن کے علاوہ لاہور اور سیالکوٹ کے شیعہ مجتہدین نے بھی قادیانیت کے محاذ پر حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف کو اپنا سربراہ و نمائندہ ہونے کا اعلان کیا۔ بالکل وہی صورت حال پیدا ہوئی جو پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت ہندو کفر کے مقابلے میں اسلامی سیاسی پلیٹ فارم پر پیدا ہوگئی تھی اور یہی صورت آج سے تیرہ سو سال قبل قیصر روم کے اسلامی ممالک پر حملہ کے خطرہ کے وقت بھی پیدا ہوئی تھی۔ جب حضرت امیر معاویہؓ نے رومی سلطنت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اندرونی اختلاف کے پیش نظر اسلامی سلطنت پر حملہ کیا گیا تو سب سے پہلا سپاہی جو حضرت علیؓ کے لشکر سے تمہارے مقابلہ کے لیے نکلے گا، وہ معاویہؓ بن ابوسفیانؓ ہوگا“۔
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیﷺ
چنانچہ پیر صاحب وعدہ کے مطابق 24 اگست 1900ء کو لاہور پہنچ گئے اور کئی دن مرزا قادیانی کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آیا۔ یوں چشم فلک نے ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ کا عظیم الشان نظارہ ملاحظہ کیا۔ 27 اگست کو بادشاہی مسجد لاہور میں حضرت پیر صاحبؒ کی صدارت میں مسلمانوں کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں تمام
مسالک کے علمائے کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی ۔ چنانچہ اس عظیم الشان فتح کی یاد میں گولڑہ شریف میں ہر سال باقاعدگی سے ”عالمی خاتم النبیین کانفرنس‘ منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے تمام مسالک کے جید علما و مشائخ اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو شرکت اور خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ اجتماع اتحاد بین المسلمین کا فقید المثال مظاہرہ ہوتا ہے۔ 114ویں سالانہ عالمی خاتم النبیین کانفرنس منعقدہ 25 اگست 2014ء بمقام گولڑہ شریف کے اعلامیہ میں کہا گیا: ”ہمیں تمام تر مسلکی فرقہ واریت، سیاسی اختلافات، گروہی و لسانی تعصبات کو ترک کر کے باطل قوتوں کے سامنے ملی وحدت کے ساتھ سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے“۔
بعض شرپسند فرقہ باز جن کا روزگار صرف فرقہ واریت کے فروغ سے ہی وابستہ ہے، ایک وفد کی صورت میں سجادہ نشینان گولڑہ شریف کی خدمت میں حاضر ہوا اور کانفرنس میں مخالف مسالک کے علما و مشائخ اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کے خطابات پر شدید اعتراض کیا۔ گولڑہ شریف کے بزرگوں نے نہایت تحمل اور برداشت سے اُن کی بات سنی اور فرمایا کہ ہمارے اور دوسرے مسالک کے درمیان فروعی اختلافات موجود ہیں اور شاید ہمیشہ موجود رہیں لیکن حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کی خاطر تمام فروعی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ختم نبوت کی حفاظت سب مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ معمولی اختلافات کی خاطر سب سے بڑے مقدس مشن کو نہیں چھوڑا جا سکتا ورنہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے کھلا میدان مل جائے گا اور گمراہی و ارتداد کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا۔ اس پر فرقہ باز گروہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور اب یہ لوگ اپنے جلسے جلوسوں میں گولڑہ شریف کے پیر صاحبان کے متعلق اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں:
مری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے!
پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق سب سے پہلے 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی جس کی قیادت حضرت مولانا سید ابو الحسنات شاہؒ نے کی جبکہ امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ وغیرہ نے اُن کی قیادت و صدارت میں بھرپور کام کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے فرزند ارجمند سید غلام محی الدین شاہؒ المعروف ”بابو جی“ 1953ء کی تحریک میں تمام مسالک کی یکجہتی کے
لیے مجلس مشاورت کے ایک اہم ترین اجلاس میں لاہور تشریف لائے۔ تمام مسالک کے علماء نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔ یہ حضرت بابوجیؒ ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر جو بعض فروعی جھمیلوں کے باعث کبھی اکٹھا نہ ہوتے تھے، اس تحریک میں اکٹھے ہوکر قادیانیت سے ٹکرا گئے۔ یہ دوسرا موقعہ تھا کہ اس تحریک میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث ایک ہوکر قادیانیت کے خلاف متحد العمل ہوئے۔
حضرت پیر مہر علی شاہؒ گولڑوی کے عقیدت مندوں سے پرزور درخواست ہے کہ وہ فتنہ قادیانیت کے خلاف جانی و مالی جہاد کر کے پیر صاحبؒ کی تحریک کو دوبارہ زندہ کریں۔ آپؒ کی روح اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ اگر تم میرے سچے مرید اور عقیدت مند ہو تو اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کر کے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردو۔ قادیانیوں کا مکمل طور پر معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ کرو۔ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھو۔ اپنے شہروں اور دیہاتوں میں تحفظ ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کرو۔ قادیانیوں کی طرف سے شعائر اسلامی استعمال کرنے پر معززین علاقہ کے ہمراہ متعلقہ تھانہ جا کر قادیانی ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرائیں۔ اپنے حلقہ احباب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اچھی طرح متعارف کرواؤ تا کہ کسی مسلمان کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!
۞.......۞.......۞
قادیانی جماعت، قادیانی قیادت کی نظر میں
فارسی مقولہ مشہور ہے: ’’ایں خانہ تمام آفتاب است‘‘! یعنی اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ ہر بات کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے اور تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ خرابی اور بگاڑ دونوں جانب سے ہوتا ہے۔ قادیانی قیادت اور ان کے پیروکار دونوں بدزبانی و بدعملی، فتنہ و فساد اور بدی و شرارت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ آئیے! ملاحظہ فرمائیں!
درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے
- ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ یہ ایک خدا کے صادق نبی کا قول ہے اور
درحقیقت ایک بہت سچی بات ہے۔ اگر ایک شخص خود راستی پر نہیں بلکہ وہ کذاب اور مفتری ہے، اور اس میں خود قوت قدسی نہیں، بلکہ وہ ایک گمراہ اور گندہ آدمی ہے، جو مکر و فریب سے لوگوں کا مال کھاتا ہے، اور خدا پر گندے افترا پر منہ مارتا ہے تو وہ دوسروں میں راستی کی روح کیونکر پھونک سکتا ہے؟ اور ان کو گندوں سے کیونکر پاک کرسکے گا؟ مرزا قادیانی کی صداقت یا غیر صداقت پرکھنے کے لیے آسان نسخہ یہی راہ ہے کہ جس جماعت کو وہ تیار کرکے چھوڑ گئے ہیں، اس جماعت کو دیکھ لو کہ اس کی کیا حالت ہے؟‘‘
(مسٹر محمد علی ایم اے، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان جون، جولائی 1908ء)
قادیان؟
- ’’قادیان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ
”اخرج منہ الیزیدیون“ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے ہیں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 141 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
بھیڑیوں کی جماعت
- ”بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد
توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
درندے، قادیانیوں سے اچھے
- ”خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر
بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔
مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لیے اکٹھے کروں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 2 (آخر) مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
قادیانی جلسہ، اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ
- ”اس اجتماع میں بعض دفعہ باعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمانداری ایسے
نالائق رنجش اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں
بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور اگر کوئی بیچارہ عین ریل چلنے کے قریب اپنی گٹھڑی کے سمیت مارے اندیشہ کے دوڑتا دوڑتا ان کے پاس پہنچ جاوے تو اس کو دھکے دیتے اور دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ ہم میں جگہ نہیں، حالانکہ گنجائش نکل سکتی ہے مگر سخت دلی ظاہر کرتے ہیں اور وہ ٹکٹ لیے اور بچہ اٹھائے ادھر ادھر پھرتا ہے اور کوئی اس پر رحم نہیں کرتا مگر آخر ریل کے ملازم جبراً اس کو جگہ دلاتے ہیں۔ سو ایسا ہی یہ اجتماع بھی بعض اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ ’’ر‘‘ مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
کج دل لوگوں کی جماعت
- ’’میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا
حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
تہذیب اور پرہیز گاری سے عاری جماعت
- ’’اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر
چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
مخنثوں کی جماعت
- ’’اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ
فرشتے بن جائیں اور اگر وہ اس گورنمنٹ کے سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انھیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہو جائے گی، اور جس طرح ایک انسان خوجہ (مخنث) ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اسی
طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی (گویا مرزا قادیانی کی تعلیم پر عمل کرنے والی قادیانی جماعت اب خوجوں یعنی مخنثوں پر مشتمل ہے۔ مرتب)
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو بہتر تھا
- ❑ ”میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور
غیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دُنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لیے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے۔“
(شہادت القرآن صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 397 از مرزا قادیانی)
جیسے کتا مردار کی طرف
- ❑ ”بیعت سے مراد وہ بیعت نہیں جو صرف زبان سے ہوتی ہے اور دل اس سے
غافل بلکہ روگرداں ہے۔ بیعت کے معنے بیچ دینے کے ہیں۔ پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کیے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کیے جائیں گے۔ پس مقام خوف ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
شوق پورا نہیں ہوا
- ❑ ”میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں
بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کرلیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے، بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔ مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔‘‘ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 364 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جلنے والی لکڑیاں
- ’’اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ
میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں، وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں ان کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کرسکوں۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خداوند جو میرا متولی ہے، مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی۔ بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ مُنہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہوگئے۔ اور نابکار دنیا نے اپنے دامِ تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔‘‘ (فتح اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
خصی جماعت
- ’’ہمیں تو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے خصی کر دیا ہے۔‘‘
(تقریر مرزا محمود سابق خلیفۂ قادیان مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد 22 نمبر 87، صفحہ 7، 20 جنوری 1935ء)
- ’’حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے: ”سچا مومن خصی ہو جاتا ہے۔“ پس حکومت کے
افسروں کو، پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ باوجود ان اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں، ہم بالکل پُر امن ہیں، کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہو جاتا ہے۔‘‘ (تقریر مرزا محمود سابق خلیفۂ قادیان مندرجہ ’’الفضل‘‘ قادیان جلد 22، نمبر 87، صفحہ 5، مورخہ 20 جنوری 1935ء)
سُوروں کی جماعت
- ”مجھے نہایت ہی افسوس سے معلوم ہوا کہ ”جامعہ احمدیہ“ میں جو طلبا تعلیم پاتے ہیں،
انھیں کنوؤں کے مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی۔ ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی۔ میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہو جانا چاہا۔ مگر مجھے چاروں طرف سے ان کے دماغ کا راستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انھیں کہا جاتا ہے۔ وفات مسیح کی یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو، انھیں اور کوئی بات نہیں سکھلائی جاتی .......... میں نے جس سے بھی سوال کیا، معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا، اور جب بھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے، اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے، تو یہ جواب دیا کہ: ”جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔“ یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے ۔ الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ وسعت خیال ہے۔ ”جس طرح ہوگا“ تو سُور کیا کرتا ہے۔ اگر سُور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تُو کس طرح حملہ کرے گا تو وہ یہی کہتا کہ: ”جس طرح ہو گا کروں گا۔ پس سور کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو نیزہ پر حملہ کر دے گا۔ بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔ پس یہ تو سوروں والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہیں کیا ۔“
(تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد 22 نمبر 89 صفحہ 8 مورخہ 24 جنوری 1935ء)
کیا خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، اپنے سادہ لوح مریدوں کو! ویسے خلیفہ صاحب اگر غور کرتے تو اسی نتیجے پر پہنچتے کہ اگر ان کے فدائیوں میں عقل و شعور نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ قادیانیت سے وابستہ ہی کیوں رہتے ...... چنانچہ ایسے ہی بے سمجھوں سے انہیں استفادہ کرنا چاہیے تھا جو خیر سے سوا صدی سے برابر ہو بھی رہا ہے۔ جس گاؤں میں بے وقوف نہیں ہوتے، اس کے ٹھگ بھوکے مر جاتے ہیں جناب !
جماعت میں بہت کمی ہے
- ”بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کام کے
متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا۔ میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی۔ مولوی محمد علی صاحب کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں کہ تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقعہ مل سکے۔ لیکن اگر حضور تک ہماری شکایتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں۔ ممکن ہے کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو تو اس صورت میں ہمیں بجائے قادیان آنے کا فائدہ ہونے کے الٹا نقصان ہو جائے گا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا۔ مگر میں اس وقت اپنی فکروں میں اتنا محو تھا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے۔ بس ہر وقت اٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے۔ میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص سمجھتا ہو گا کہ میں اس کی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں۔ جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی۔ وہ خیال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جائے جو سچی مومن ہو اور خدا پر حقیقی ایمان لائے اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر کار بند ہو اور اصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے تاکہ پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پائے اور خدا کا منشا پورا ہو پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پا لیا اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا تو پھر بھی ہماری کوئی فتح نہیں کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ دلائل و براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کرنے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے۔ اس کے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی
ضرورت ہے۔ پس یہ خیال ہے جو مجھے آج کل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 254 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
میں کسی کو حساب نہیں دوں گا
- ❑ ’’میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔ میں چاہتا
تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر باعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے، یہ ہے کہ میری نسبت...... کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ...... کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے، بہت صفائی اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم...... کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے، اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح، درست ہے یا غلط، میں اسی طرح کرتا ہوں۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کہ مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت نہیں۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے، وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کر دے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے ینصرک اللہ من عندہ۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۔ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں
ہم پر وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ انہیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 249 ، 250، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
بے حیا اور بزدل جماعت
- ❑ ”کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے
حضرت مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129 ، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
جہنم کی آگ کی حامل جماعت
- ❑ ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے برابر
آگ بھی ساری دنیا پر ڈالی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہو جائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ تمھارے اندر پیدا کروں جو پہاڑوں کے برابر ہو۔ اگر جہنم کی رائی بھر آگ ساری دنیا کو جلانے کے لیے کافی ہے تو جو آگ میں تمھارے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہوں، اگر پیدا ہو جائے تو ایک دنیا نہیں، ہزاروں دنیاؤں کو تم جلانے کے قابل ہو جاؤ گے (یہ آگ قادیانیوں کے اندر اسی وقت پیدا ہو گئی تھی جب انھوں نے محمد عربی ﷺ سے رشتہ توڑ کر مرزا غلام احمد قادیانی سے رشتہ جوڑ لیا تھا۔ یہ آگ انھیں دنیا میں بھی جلائے گی اور آخرت میں بھی وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔ مرتب)“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان مورخہ 12 دسمبر 1935ء جلد 23 نمبر 139 صفحہ 9)
بددیانت جماعت
- ”جیسا کہ سب کو معلوم ہے، یہاں (یعنی قادیان میں) ایک سٹور قائم کیا گیا تھا۔
جماعت کے کچھ افراد نے اس میں روپیہ دیا تھا۔ .............میرے نام ایک خط آیا ہے۔............. یہ بات کہ یہ کسی احمدی کہلانے والے کا ہے، اس سے معلوم ہوتی ہے کہ میرا نام خلیفۃ المسیح لکھا ہے۔ .............وہ یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کی دیانت کا حال ہے، جو دنیا میں بڑے بڑے دینداری کے دعویدار ہیں۔ اس کے بعد اس نے پہلے میری سٹور کے متعلق سفارش نقل کی ہے کہ ’جہاں تک میرا علم ہے، سٹور کے کارکن دیانت دار ہیں‘۔ اس کو نقل کر کے (خط میں) کہا ہے کہ یہ ایک پھندا تھا، جب روپیہ لوگوں نے دیا تو پھر روپیہ کھانا شروع کر دیا اور کھاتے کھاتے یہاں تک پہنچایا کہ (اس دور کے) ساٹھ ہزار میں سے صرف اٹھارہ ہزار باقی رہ گیا۔“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 نمبر 41، 42 صفحہ 6 مورخہ 23 تا 27 نومبر 1942ء)
گالیاں کھلوانے والی جماعت
- ”گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کے متعلق کہے جاتے
ہیں۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو، وہ تمہاری مدد کرے، گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے؟“
(مرزا محمود کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25، نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
کتے
- ”وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا
پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جائیں کہ صرف دنیا ہی دنیا ان کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے، نہ ان کا دل پاک ہے۔ اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لیے حرکت کرتے ہیں اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی
ہستی پر آجائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہوجائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہوجائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے۔ میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لیے ایک جماعت ہو۔“
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 78 از مرزا قادیانی)
”سلطان القلم“ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ تابع دار، تابع رکھنے والے کو کہتے ہیں، جیسے تھانے دار، جمع دار وغیرہ...... یہاں اسے تابع فرمان لکھنا چاہیے تھا۔
احمق جماعت
- ”میں نے دیکھا ہے، قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ (صدر یا امیر) چونکہ
بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے، ایک وقت جب ایک شخص پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آ کر کہتا ہے: دیکھیے کیا اندھیر نگری ہے، کوئی سننے والا ہی نہیں، ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے۔ لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو شکایت کرتا ہے: پبلک (یعنی قادیانی) بالکل جاہل اور احمق ہے، وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی، گویا جب خود پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو (قادیانی) پبلک کو احمق قرار دیتا ہے اور جب پبلک میں شامل ہو جاتا ہے تو (اپنے) پریذیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔“ (گویا پوری قادیانی جماعت ہی احمق ہے۔ اس حساب سے بہشتی مقبرے کا نام ”جنت الحمقا“ ہونا چاہیے تھا۔ مرتب)“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20، نمبر 143، صفحہ 7 مورخہ یکم جون 1933ء)
انگاروں والی جماعت
- ”میں چاہتا ہوں کہ جو جو مظالم تم پر کیے جاتے ہیں، وہ تمھارے دلوں میں
انگارے بن بن کر جمع ہوتے چلے جائیں لیکن ان کا دھواں باہر نہ نکلے، یہاں تک کہ تم ان انگاروں سے جل کر اندر ہی اندر راکھ ہو کر بھسم ہو جاؤ۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 23، نمبر 139، صفحہ 9 مورخہ 12 دسمبر 1935ء)
جھگڑالو جماعت
- ”مجھے ان (قادیانی) لوگوں کو ڈھیل دیتے دیتے ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے اور اب
بھی میں انھیں کچھ نہیں کہتا مگر میں انھیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سوچیں ان کا اپنا طریق عمل کیا ہے۔ ان کی اپنی تو یہ حالت ہے کہ وہ اس بات پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کہ ہمیں فلاں عہدہ کیوں نہیں دیا گیا؟ فلاں کیوں دیا گیا؟ فلاں کے ماتحت ہم رہنا نہیں چاہتے۔ کبھی تنخواہ پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں بتلاتی ہیں کہ ان کے دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو اگر برا بھلا کہا جائے تو انھیں غصہ نہیں آتا لیکن اپنی کوئی بات ہو تو جھگڑے بغیر رہ نہیں سکتے۔“
(اخبار الفضل قادیان جلد 22، نمبر 94، صفحہ 9 مورخہ 5 فروری 1935ء)
کسی ماہر نفسیات کے لیے یہ بہت بڑی Assignment ہے کہ وہ گہرائی میں جا کر مفصل علمی تجزیہ کرے، آخر مرزا قادیانی کے لیے قادیانیوں کے دلوں میں غیرت کا اس قدر فقدان کیوں ہے؟ مرزا قادیانی کو نبی کہتے ہوئے ان کا منہ سوکھتا ہے مگر جب موقع آتا ہے، اپنے اس ”مسیح موعود“ کی عزت کے لیے تو ان کی حمیت نہیں جاگتی۔ آخر اس کے اسباب کیا ہیں؟
غیر مہذب اور غیر شائستہ جماعت
- ”بعض دفعہ (میری) بغل کے نیچے سے کوئی ہاتھ نمودار ہو رہا ہوتا ہے اور بعض
دفعہ میں آگے ہوتا ہوں اور کوئی پیچھے سے میرے ہاتھ کو مروڑ رہا ہوتا ہے اور میں قیاس سے سمجھتا ہوں کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے، پھر میں نے کئی بار دیکھا ہے بعض لوگ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں............ پھر میری یہ حالت ہے کہ اگر میرے بدن پر ہاتھ رکھ دیا جائے تو میری حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے............ وہ تو برکت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں مگر مجھے ایسی گدگدی اور کھجلی ہوتی ہے کہ طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوتا ہے پھر کئی لوگ ہیں کہ وہ دبانے لگتے ہیں مگر دو چار بار دبا کر پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ یہ تو برابر کے دوست کے لیے بھی معیوب بات ہے، چہ جائیکہ امام جماعت کے لیے ہو۔ ہماری مجالس میں باہر سے غیر احمدی بلکہ غیر مسلم بھی آ کر بیٹھتے ہیں اور عام طور پر ہماری جماعت کو مہذب اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں پر کیا
اثر ہوتا ہوگا؟ (ظاہر ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مہذب اور غیر شائستہ ہی سمجھیں گے۔ مرتب)“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 21، نمبر 149، صفحہ 5 تا 7 مورخہ 14 جون 1934ء)
نفس پرور جماعت
- ”پس جولوگ دنیا میں نفسانفسی میں ہی پڑے رہتے ہیں، قیامت کے روز ان سے
بھی نفسی نفسی کا معاملہ ہوگا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی تازہ مثال ہم میں موجود ہے۔ ایک (قادیانی) شخص کی لڑکی فوت ہوگئی۔ وہ اکیلا اس کا جنازہ لے کر گیا اور راستہ میں دو ایک آدمی اور مل گئے۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لیے کہ میں بوجہ بیماری کے اس جنازے کے ساتھ نہ جاسکا۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 8، نمبر 10، صفحہ 8 مورخہ 12 اگست 1920ء)
ایک پیسے سے بھی کم حیثیت جماعت
- ”اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت بھی نہ
ہوگی، جتنی ایک کروڑ پتی کے لیے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔“
(خطبہ جمعہ از مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 22، نمبر 72، صفحہ 8 مورخہ 13 دسمبر 1934ء)
لومڑی، سؤر اور سانپ
مرزا قادیانی کا اپنی جماعت کے بارے میں ”ارشاد“ ہے:
- ”بن کے رہنے والو تم ہر گز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 138، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے قادیان کے رہنے والو! تم ہرگز انسان نہیں ہو۔ تم میں کوئی اپنی منافقت اور مکر وفریب کی وجہ سے لومڑی ہے۔ کوئی بے حیا اور پلید ہونے کی وجہ سے سور ہے اور کوئی اپنی زہرناکیوں کی وجہ سے سانپ ہے۔
ان القابات کے جواب میں قادیانی بھی اپنے ”حضرت صاحب“ کو کہہ سکتے ہیں کہ جناب اگر ہم لومڑی، سور اور سانپ ہیں تو آپ بھی انسان نہیں ہیں کیونکہ مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا کہ
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ”فیض یافتہ“ مرید
قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں لکھا ہے کہ جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت وہ ”صحابہؓ“ کی جماعت میں داخل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258 از مرزا قادیانی) ظاہر ہے جب کوئی آدمی کسی جماعت کا پیروکار بن جاتا ہے تو وہ اس سے اثر لیتا ہے۔ اردو کی ایک کہاوت ہے کہ گوہ کا کیڑا گوہ ہی میں خوش رہتا ہے۔ یعنی بری صحبت میں رہنے والا اس محفل کا ضرور اثر لیتا ہے اور اس میں خوش رہتا ہے۔ ایک اور مثل مشہور ہے: ”جیسا راجا ویسی پرجا۔“ جس طرح سونے کا کھوٹا اور کھرا پن کسوٹی پر پرکھنے سے معلوم ہوتا ہے، اس طرح ہم مرزا قادیانی کے نام نہاد ”صحابہؓ“ کو بھی اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے۔
گرو جنہاں دے ٹپنے۔ چیلے انہاں دے شڑپ۔ (یعنی جن کے گرو تیز رو ہوں، ان کے چیلے چانٹے اس سے بھی تیز چلنے والے ہوتے ہیں)۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند حوالے بطور نمونہ مشتے از خروارے پیش خدمت ہیں:۔
نماز میں نامناسب تکلیف
- ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ
میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر 1907ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے
جسم (خاص حصہ) کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 265 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
اللہ کا بچہ
- ”اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت
یہ الہام ہے...... یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 581، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی)
کم بخت بابو الہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا! مرزا قادیانی کا حیض و نفاس اور وہ بھی کن دنوں میں جبکہ مرزا قادیانی ایام ماہواری کی مصیبت میں دوچار تھا۔
بچہ معہ زچہ کے غائب
اللہ مرد، مرزا عورت؟
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
جسم پر نامناسب ہاتھ پھیرنا
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور
(مرزا قادیانی) نماز میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آج کل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔ یعنی بیت الفکر کی کوٹھڑی کے ساتھ ہی مغربی طرف۔ امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی۔ تو ہر سجدہ میں وہ صفیں
پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سر اٹھائے، وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔ اس تکلیف سے تنگ آ کر حضور (مرزا قادیانی) نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور ستایا کرتا تھا مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔ اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہو گئی۔ یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔ مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین کے موقع پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا، اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 268، 269 از مرزا بشیر احمد )
جناب افتخار احمد صاحب (جرمنی) اس حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’غور طلب بات یہ ہے کہ عرصہ دراز تک ایک شخص دوران نماز، نبوت کے دعویدار کے ساتھ انتہائی فحش اور نازیبا حرکات کرتا رہا اور جسم کے حصوں پر ہاتھ پھیرتا رہا اور پچھلی صف میں جگہ پانے کی صورت میں ہر سجدے کے دوران چھلانگیں لگا لگا کر یہ حرکتیں کرتا رہا اور نمازیوں کے آگے سے گزر کر ان کی نمازیں خراب کرتا رہا، مگر بجائے اس شخص کو مسجد میں آنے سے منع کرنے کے تحریر میں بھی اسے مخلص اور بھلا مانس لکھا گیا۔ دوران نماز ایسی حرکتیں جب بار بار ہو رہی ہوں تو یقیناً کوئی بھی شخص ایسی بے ہودہ حرکات دیکھ کر اپنی نماز توجہ سے ادا نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے کم اور تماشا دیکھنے زیادہ آتے ہوں۔ اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق کے حامل نبی کے دعویدار اور اس کے امتی کے اخلاق کا اندازہ مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔‘‘ (ہفت روزہ لولاک، ملتان ستمبر 2009ء)
قادیان اور سجدہ
- ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود نے
پسر موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی تو آپ کی زندگی میں ہی ایک شخص نور محمد نامی جو پٹیالہ کی ریاست میں کھیرو گاؤں کا رہنے والا تھا، پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے اپنے مرید کر لیے۔ سنا ہے یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا۔ انھوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا مگر حضرت
صاحب نے سختی سے منع فرمایا۔ وہ لوگ چند روز رہ کر واپس چلے گئے اور پھر نہیں دیکھے گئے۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
کفن چور
- ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں الہ دین فلاسفر اور پھر
اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہو گئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔ حضرت صاحب نے جب یہ سنا تو اس کام کو ناجائز فرمایا، تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 264 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
ظاہر ہے کفن چوری کی رقم ”اشاعت اسلام“ کے لیے مرزا قادیانی کی خدمت میں ہی پیش کی۔ گویا غریبوں کے کفنوں کی کمائی بھی نہ چھوڑی موصوف نے۔
تھیٹر
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب
بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔“
(ذکر حبیب صفحہ 18 از مفتی محمد صادق قادیانی)
ضرور بدکاری کرے گا
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم
صاحب ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سنانے لگے کہ وہ کسی عورت پر سخت عاشق ہو گیا اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا۔ آخر حضرت صاحب کے پاس آیا اور طالب دعا ہوا۔ حضرت صاحب نے مولوی صاحب نے فرمایا کہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اس عورت کے ضرور بدکاری کرے گا۔ مگر میں بھی پورے زور سے اس کے لیے دعا کروں گا۔ چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا اور حضور دعا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس نے ایک روز مولوی صاحب سے کہا کہ آج رات خواب میں میں نے اس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اس سے مباشرت کی اور میں نے اس دوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنم کے گڑھے کی طرح دیکھا۔ جس سے مجھے اس سے اس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتش عشق ٹھنڈی ہوگئی اور وہ محبت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی۔ بلکہ دل میں دوری پیدا ہوگئی۔ اور خدا کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت سے میں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا۔ اور حضور نے جو بات میری بابت کہی تھی وہ ظاہری رنگ سے بدل کر خدا نے خواب میں پوری کرا دی۔ یعنی میں نے اس سے تعلق بھی کر لیا اور ساتھ ہی مجھے گناہ سے بھی بچا لیا۔ غالباً یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا تھا اور متمول آدمی تھا اور اس نے حضرت صاحب کی بیعت بھی کی تھی۔ مگر تعلق کو آخر تک نہیں نبھایا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
قوت رجولیت بالکل معدوم
- ”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین
صاحب عمر کے ساتھ ایک نو مسلمہ چوہڑی لاہور سے آئی۔ اس کے نکاح کا ذکر ہوا۔ تو حافظ عظیم بخش صاحب مرحوم پٹیالوی نے عرض کی کہ مجھ سے کر دیا جائے۔ حضرت مسیح موعود نے اجازت دے دی اور نکاح ہو گیا۔ دوسرے روز اس مسماۃ نے حافظ صاحب کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اور خلع کی خواہش مند ہوئی۔ خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری نے حضرت صاحب کی خدمت میں مسجد مبارک میں یہ معاملہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اتنی جلدی نہیں۔
ابھی صبر کرے۔ پھر اگر کسی طرح گزارہ نہ ہو تو خلع ہوسکتا ہے۔ اس پر خلیفہ صاحب نے جو بہت بے تکلف آدمی تھے، حضرت صاحب کے سامنے ہاتھ کی ایک حرکت سے اشارہ کر کے کہا کہ حضور وہ کہتی ہے کہ حافظ صاحب کی یہ حالت ہے۔ (یعنی قوتِ رجولیت بالکل معدوم ہے) اس پر حضرت صاحب نے خلع کی اجازت دے دی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 227 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
عجیب بات ہے نا ’’زد جامِ عشق‘‘ کے ہوتے ہوئے خلع کی اجازت!
قادیان میں بڑے بڑے خبیث، شریر،
ناپاک طبع، کذاب اور مفتری رہتے ہیں
- ’’جیسا کہ اُس نے فرمایا کہ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمَقَامُ یعنی اگر مجھے
تمہاری عزت ظاہر کرنا ملحوظ نہ ہوتا تو میں اس مقام کو یعنی قادیان کو طاعون سے فنا کر دیتا یعنی اس گاؤں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الٰہی سب کو ہلاک کر دیوے۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی بیعت کا ’’فیض‘‘
- ’’منجملہ ان نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے۔ وہ پیشگوئی ہے جو
میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس جگہ خود ان کے خط کی عبارت نقل کر دوں جو اس پیشگوئی کے بارے میں انھوں نے میری طرف بھیجا ہے اور وہ یہ ہے:
’’مجھے یقینی یاد ہے کہ حضور (مرزا قادیانی) نے بماہ مارچ 1888ء جبکہ اس عاجز نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی تو ایک لمبی دعا کے بعد اسی وقت آپ نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلا پیش آنے والا ہے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد اس عاجز نے کئی اپنے عزیز دوستوں کو اس سے اطلاع بھی دے دی کہ حضور نے میری نسبت اور میرے حق میں ایک ابتلائی حالت کی خبر دی تھی۔ اب اس کے بعد جس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوئی وہ وقوعہ بعینہٖ عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت اقدس سے روانہ ہو کر ابھی راستہ میں ہی
تھا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اہلیہ بعارضۂ درد گردہ وقولنج و قے مفرط سخت بیمار ہے۔ جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقع میں ایک نازک حالت طاری تھی اور عجیب تر یہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی، جس کی شام کو حضور نے اس ابتلاء سے اطلاع دی تھی۔ شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر دم ڈوبتی جاتی تھی اور بے تابی ایسی تھی کہ باوجود کثیر الحیاء ہونے کے، مارے درد کے بے اختیار ان کی چیخیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی۔ اور ایسی نازک اور درد ناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔ شدت مرض تخمیناً تین ماہ تک رہی۔ اس قدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا۔ صرف پانی پیتیں اور قے کر دیتیں۔ دن رات میں پچاس ساٹھ دفعہ متواتر قے ہوتی۔ پھر درد قدرے کم ہوا۔ مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامنگیر ہوگئی۔ ہر وقت جان بلب رہتیں۔ دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچ کر بچوں اور عزیز اقربا کو پورے طور پر الوداعی غم والم سے رُلایا۔ غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دکھوں کی تختۂ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بہوش تمام کلمہ شریف پڑھ کر 28 برس کی عمر میں سفر جاودانی اختیار کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور اس حادثۂ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا راہی ملک بقا ہوا۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبدالرحیم و فیض رحیم تپ محرقہ سے صاحب فراش ہوئے۔ فیض رحیم کو تو ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اس کا پیالہ عمر کا پورا گیا۔ اور سات سالہ عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جا ملا، اور عبدالرحیم تپ محرقہ اور سرسام سے برابر دو ڈھائی مہینے بیہوش میت کی طرح پڑا رہا۔ سب طبیب لاعلاج سمجھ چکے۔ کوئی نہ کہتا تھا کہ یہ بچے گا۔ لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے، بوڑھے باپ کی مضطربانہ دعائیں خدا نے سن لیں اور محض اس کے فضل سے صحیح سلامت بچ نکلا۔ اگر چہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے۔ یہ حوادثِ جانکاہ تو ایک طرف ادھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔ آبرو ریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔ اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ عاجزِ راقم کس قدر بلیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا۔‘‘
راقم مسکین ضیاء الدین عفی عنہ قاضی کوٹ، ضلع گوجرانوالہ
(تریاق القلوب صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 472 تا 475 از مرزا قادیانی)
کثرت قبولیت دعا کا نشان
”میں کثرت قبولیت دعا کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں تیس ہزار کے قریب قبول ہوچکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔“
(ضرورۃ الامام صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 497 از مرزا قادیانی)
- ”پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک
قدم میں حمایت اور نصرت الٰہی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 378 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 378 از مرزا قادیانی)
قادیانیو! آپ کبھی تنہائی میں غور کرنا کہ آخر مرزا قادیانی کے خدا نے اسے اس قدر رسوا کر کے کیوں رکھ دیا؟ کیا اتنی سی بات بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا قادیانی جو کچھ کہتا تھا، نتیجہ ہمیشہ الٹ نکلا، ایک بار بھی تائید خداوندی اس کے شامل حال نہیں ہوئی، مطلب کتنا واضح ہے کہ سچے خدا نے مرزا قادیانی سے حق عداوت ادا کر کے مرزا قادیانی کے کذب کو دو اور دو چار کی طرح دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کے دعویٰ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ خدا کا سچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا کرتا۔
مسیلمہ پنجاب اور مسیلمہ کذاب میں کئی باتوں میں مماثلت ہے۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ دونوں کی کرامات الٹ ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب کے بعض پیروکاروں نے اس سے کہا کہ فلاں کنویں میں تھوک دیجیے تاکہ پانی تبرک بن جائے چنانچہ اس نے کنویں میں تھوک دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی نجاست سے سارے کنویں کا پانی خراب اور نمکین ہو گیا۔ اسی طرح ایک بار اس کے کسی چیلے چانٹے نے مسیلمہ سے اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھوا دیا۔ نتیجہ میں وہ بچہ ایسا گنجا ہوا کہ عمر بھر اس کی کھوپڑی پر ایک بال بھی نہیں نکلا (اور اس کے ہاتھ کی ناپاکی اسے ہمیشہ لیے لے ڈوبی) اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے دو بچوں کے لیے اس سے برکت کی دعا کرائی مگر مسیلمہ سے دعا کرا کے جب وہ شخص اپنے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ دونوں بچوں میں سے ایک کنویں میں گر کر ہلاک ہو چکا ہے اور دوسرے کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا۔ ایک بار اس کے ایک پیروکار کی آنکھوں میں کچھ تکلیف ہوئی اس غریب نے شفا کی امید میں مسیلمہ کا ہاتھ اپنی دونوں آنکھوں پر پھیر لیا مگر اس کا انجام یہ ہوا کہ اس کی دونوں آنکھیں بالکل سفید اور بے رونق و بے نور ہو گئیں۔
مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟
مرزا قادیانی کی زندگی بھی عجیب مسخرانہ اور مضحکہ خیز تھی۔ اس میں درجنوں ایسے نادر واقعات ملتے ہیں جن کے مطالعے سے بے اختیار ہنسی آتی ہے اور ضبط کرنے پر بھی ضبط نہیں ہوتی۔ پنجابی نبی کے حالات زندگی اور تحریرات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ حیرانی ہوتی ہے کہ کیا لکھیں اور کیا کہیں؟ قارئین کرام! خود ملاحظہ کیجیے:
اللہ کا بچہ
- ”اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت
یہ الہام ہے....... یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 581، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی)
کم بخت بابو الہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا! مرزا قادیانی کا حیض و نفاس اور وہ بھی کن دنوں میں جبکہ مرزا قادیانی ایام ماہواری کی مصیبت میں دوچار تھا۔
بچہ معہ زچہ کے غائب
اللہ مرد، مرزا عورت؟
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
ویسے اس قدر غیر معمولی وضاحت میں اشارت والی کون سی بات ہے؟ اللہ تعالیٰ کی
ذات اقدس پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہوسکتا ہے۔ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اُسے دنیا میں لیٹرین میں موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
خدا سے نہانی تعلق
- ”درحقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں
جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
یہ نہانی تعلق کہیں وہ تو نہیں جس کی پردہ دری مرزا قادیانی کے مرید قاضی یار محمد کے ہاتھوں ہوئی؟ (استغفر اللہ)!
حاملہ
- ”اُس نے ”براہین احمدیہ“ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ
براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دو برس تک صفت مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو درد زہ
- ”خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ رُوح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ
الہام ہوا تھا۔ فاجاء ھا المخاض الی جذع النخلۃ قالت یالیتنی مت قبل ھذا وکنت
نسیا منسیا. یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردِ زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی)
دردِ زہ عورتوں کو ہوتا ہے۔ کیا کوئی قادیانی یہ بتانے کی زحمت گوارا کرے گا کہ کون سے زمانہ میں مرزا قادیانی پر نسوانیت غالب آئی اور وہ دردِ زہ سے کانپتا رہا؟
مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟
- □ ’’سورۂ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم
رکھا گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا کیونکہ ایک زمانہ میرے پر صرف مریمی حالت کا گزرا۔ اور پھر جب وہ مریمی حالت خدا تعالیٰ کو پسند آ گئی تو پھر مجھ میں اُس کی طرف سے ایک روح پھونکی گئی۔ اس روح پھونکنے کے بعد میں مریمی حالت سے ترقی کر کے عیسیٰ بن گیا، جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ حصص سابقہ میں مفصل اس بات کا تذکرہ موجود ہے کیونکہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں اول میرا نام مریم رکھا گیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: یا مریم اسکن انت و زوجک الجنۃ یعنی اے مریم! تو اور وہ جو تیرا رفیق ہے، دونوں بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اور پھر اسی براہین احمدیہ میں مجھے مریم کا خطاب دے کر فرمایا ہے: نفخت فیک من روح الصدق یعنی اے مریم! میں نے تجھ میں صدق کی روح پھونک دی۔ پس استعارہ کے رنگ میں روح کا پھونکنا اس حمل سے مشابہ تھا جو مریم صدیقہ کو ہوا تھا۔ اور پھر اس حمل کے بعد آخر کتاب میں میرا نام عیسیٰ رکھ دیا، جیسا کہ فرمایا کہ یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الیٰ. یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور مومنوں کی طرح میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور اس طرح پر میں خدا کی کتاب میں عیسیٰ بن مریم کہلایا۔ چونکہ مریم ایک امتی فرد ہے اور عیسیٰ ایک نبی ہے۔ پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ مگر وہ نبی جو اتباع کی برکت سے ظلی طور پر خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی ہے اور میرا نام عیسیٰ بن مریم ہونا وہی امر ہے جس پر نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حدیثوں میں تو آنے والے عیسیٰ کا نام عیسیٰ بن مریم رکھا گیا ہے۔ مگر یہ شخص تو ابن مریم نہیں ہے اور اس کی والدہ کا نام مریم نہ تھا اور نہیں جانتے کہ جیسا کہ سورۂ تحریم میں وعدہ تھا میرا نام پہلے مریم
رکھا گیا اور پھر خدا کے فضل نے مجھ میں نفخ روح کیا۔ یعنی اپنی ایک خاص تجلی سے اس مریمی حالت سے ایک دوسری حالت پیدا کی اور اس کا نام عیسیٰ رکھا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 189 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 361 از مرزا قادیانی)
بغیر باپ کے
- سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ بن مریم کی طرح
اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی۔ تب وہ وجود روحانی پا کر خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اُٹھا لیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا۔ سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی، اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا۔ پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے؟ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمھارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟
(ازالہ اوہام صفحہ 659 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)
عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ............. جو قریش میں سے ہو
- ’’خلاصہ کلام یہ کہ اسماعیلی سلسلہ کی عمارت بالکل اسرائیلی سلسلہ کے مطابق بنائی گئی
ہے۔ یہی حکمت ہے کہ اس سلسلہ کا عیسیٰ بھی خاندان بنی اسماعیل میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ مسیح بھی بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا تھا۔ وجہ یہ کہ بنی اسرائیل میں سے کوئی اُس کا باپ نہ تھا، صرف ماں اسرائیلی تھی۔ یہی مشابہت اس جگہ موجود ہے۔ میں بیان کر چکا ہوں کہ میری بعض اُمہات سادات میں سے تھیں اور خدا کی وحی نے بھی یہی مجھ پر ظاہر کیا اور جس طرح حضرت عیسیٰ نے باپ کے ذریعہ سے رُوح حاصل نہیں کی تھی اسی طرح میں نے بھی علم اور معرفت کی رُوح کسی روحانی باپ سے یعنی اُستاد سے حاصل نہیں کی۔ پس ان تمام باتوں میں مجھ میں اور
حضرت عیسیٰ میں شدید مشابہت ہے۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے اسرائیلی سلسلہ کے مقابل پر اسماعیلی سلسلہ قائم کر کے عیسیٰ بننے کے لئے مجھے چُن لیا۔ صدر سلسلۂ اسلام میں حضرت سیدنا محمد ﷺ ہیں جن کا نام موسیٰ رکھا گیا جن کے ماں باپ دونوں قریش تھے۔ اور آخر سلسلہ میں یہ عاجز ہے جو فقط ماں کے لحاظ سے قریش ہے جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 137، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 21 صفحہ 303، 304 از مرزا قادیانی)
المسیح الدجال کی حقیقت
- ’’اصل بات یہ ہے کہ دجال بھی مسیح موعود کی طرح ایک موعود ہے۔ اس کا نام المسیح
الدجال ہے۔ سورۃ تحریم میں جیسے مسیح موعود کے لیے بشارت اور نص موجود ہے۔ اسی نص سے بطور اشارۃ النص کے دجال کے وجود پر ایک دلیل لطیف قائم ہوتی ہے یعنی جیسے مریمؑ میں نفخ روح سے ایک مسیح پیدا ہوا۔ اسی طرح اس کے بالمقابل ایک خبیث وجود کا ہونا ضروری ہے جس میں روح القدس کی بجائے خبیث روح کا نفخ ہوا اس کی مثال ایسی ہے جیسے بعض عورتوں کو رجا کی بیماری ہوتی ہے اور وہ خیالی طور پر اس کو حمل ہی سمجھتی ہیں۔ یہاں تک کہ حاملہ عورتوں کی طرح سارے لوازم اُن کو پیش آتے ہیں اور چوتھے مہینے حرکت بھی محسوس ہوتی ہے مگر آخر کو کچھ بھی نہیں نکلتا۔ اسی طرح پر المسیح الدجال کے متعلق خیالات کا ایک بت بنایا گیا ہے اور قوت واہمہ نے اس کا ایک وجود خلق کر لیا جو آخر کار ان لوگوں کے اعتقاد میں ایک خارجی وجود کی صورت میں نظر آیا۔ المسیح الدجال کی حقیقت تو یہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 571 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
ہندوؤں کا اصول
- ’’بعض کاملین اسی طرح پر دوبارہ دنیا میں آ جاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور
پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں میں بھی ایسا ہی اصول ہے اور ایسے آدمی کا نام وہ اوتار رکھتے ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 125 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
قارئین کرام! مرزا قادیانی نے اپنے ”عیسیٰ“ بننے کی کہانی جس مضحکہ خیز انداز میں پیش کی، اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ ملاحظہ کیجیے:
ڈاکٹر نے پاگل خانے میں آنے والے نئے مریض کا معائنہ کیا۔ وہ مریض ڈاکٹر صاحب کو صحت مند دکھائی دیا۔
ڈاکٹر ”کیوں میاں کیسے پہنچے؟“
مریض: دراصل کچھ عرصہ قبل میں نے ایک بیوہ سے شادی کر لی۔ عورت کی ایک جواں سال بیٹی بھی تھی۔ اتفاق سے وہ لڑکی میرے باپ کو پسند آ گئی۔ میرے باپ نے اس سے نکاح کر لیا۔ یوں میری بیوی میرے باپ کی ساس بن گئی۔ کچھ عرصہ بعد میرے باپ کے گھر ایک بچی پیدا ہوئی۔ یہ رشتے میں میری بہن لگتی تھی کیونکہ میں اس کے باپ کا بیٹا تھا۔ دوسری طرف وہ میری نواسی بھی لگتی تھی، کیونکہ میں اس کی نانی کا خاوند تھا۔ گویا میں اپنی بہن کا نانا بن گیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد میرے گھر بیٹا پیدا ہوا، ایک طرف وہ لڑکی میرے بیٹے کی سوتیلی بہن لگتی تھی کیونکہ وہ بچہ اس کی ماں کا بیٹا تھا۔ دوسری طرف وہ اس کی دادی بھی لگتی تھی، کیونکہ وہ میری سوتیلی ماں تھی، چنانچہ میرا بیٹا اپنی دادی کا بھائی بن گیا۔
مریض ”ڈاکٹر صاحب، ذرا سوچیے میرا باپ میرا داماد ہے اور میں باپ کا سسر ہوں۔ میری سوتیلی ماں میرے بیٹے کی بہن ہے اور یوں میرا بیٹا میرا ماموں بن گیا اور میں اپنے بیٹے کا بھانجا۔
ڈاکٹر صاحب نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور چیخ کر کہا ”خاموش ہو جاؤ، ورنہ میں بھی پاگل ہو جاؤں گا۔“
حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہیلیوں سے منع فرمایا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: نہی عن الاغلوطات۔ اور یہاں یہ حال ہے کہ مرزا قادیانی کی دعوت کی بنیاد ہی معموں اور لفظی گورکھ دھندوں پر ہے۔ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھیے
۞.......۞.......۞
حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت
امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی وغیرہ کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔ قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ حضرت امام مہدی اس امت میں حضور نبی کریمؐ کی اولاد سے پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ موجود ہوں گے۔
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع اور نزول کا عقیدہ ایک اسلامی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عقیدہ کی بنیاد قرآن مجید اور حضور خاتم الانبیا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وہ بے شمار ارشادات ہیں جو مجموعی اور معنوی حیثیت سے حد تواتر کو پہنچ گئے ہیں۔ اس بنیاد پر تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظام، تبع تابعین، آئمہ مجتہدین، مفسرین، محدثین، فقہا، متکلمین، صوفیا کرام اور جملہ اہل اسلام اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کاملہ سے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی آسمانوں پر اٹھا لیا ہے اور قرب قیامت آپ ہی کا نزول ہوگا۔ اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے۔ اکابرین اسلام نے اس کو عقائد میں جگہ دی ہے۔ سو اس عقیدہ کا انکار کفر ہے۔
اہل اسلام، قرآن کریم، حدیث نبوی ﷺ اور اجماع امت کی بنا پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں، جبکہ خود مرزا قادیانی کو اعتراف ہے:
- ’’مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اول درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب
نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشین گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 557 مندرجہ خزائن جلد 3 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)
ظاہر ہے کہ جس عقیدہ کو تواتر کا درجہ حاصل ہو، کوئی ذی شعور مسلمان اس کا انکار
نہیں کر سکتا۔ صحابہ کرامؓ سمیت گذشتہ تمام صدیوں کے تابعین، تبع تابعین، آئمہ اربعہ، مجددین، محدثین، اولیاء کرام اور اکابرین امت اس عقیدہ کو تواتر اور تسلسل کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں۔ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ وہ چودھویں صدی کا ”مجدد“ ہے۔ اگر مرزا قادیانی واقعی مجدد ہے تو حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں، اس کا عقیدہ گذشتہ تمام صدیوں کے مجددین اسلام (جن کے ناموں کی فہرست پر مرزا قادیانی کو بھی مکمل اتفاق ہے۔) کے عقیدہ سے بالکل الٹ اور مختلف ہے اور اگر بالفرض مرزا قادیانی کا عقیدہ (وفات مسیح) درست مان لیا جائے تو پھر گذشتہ تمام صدیوں کے مجددین کا عقیدہ (حیات مسیح) غلط اور باطل قرار پائے گا۔ اب یہ فیصلہ کرنا بالکل آسان ہے کہ اس معاملہ میں مرزا قادیانی کا مؤقف درست ہے یا گذشتہ صدیوں کے تمام مجددین وغیرہ کا نکتہ نظر۔ (دیکھئے عسل مصفّٰی از
مرزا خدا بخش قادیانی صفحہ 117 تا 120)
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے، اور اس کے ادعا کی اصل بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات کا مسئلہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط ہے اور اگر وفات عیسیٰ کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا قادیانی کا دعویٰ زیر بحث آ سکتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
قرآن وحدیث کے مخالف اعتقاد رکھنے والا
- ”ایسے شخص کی نسبت، جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے، ولایت کا
گمان ہرگز نہیں کر سکتے، بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے، اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھا دے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا، بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔...... اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن وحدیث اس دعوے کے مخالف ہیں، اور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے، کیونکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر درحقیقت قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھا دے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے کیونکہ قرآن ان کی مخالف شہادت دیتا ہے۔ غایت کار وہ استدراج سمجھے جائیں گے، لہٰذا سب سے اول بحث جو ضروری ہے، مسیح بن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے، جس کا
طے ہو جانا ضروری ہے، کیونکہ مخالف قرآن وحدیث کے نشانوں کا ماننا مومن کا کام نہیں، ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن وحدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 220، 221 طبع جدید از مرزا قادیانی)
صدق و کذب آزمانے کے لیے...... قرآن
- ❑ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
”ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے صدق و کذب آزمانے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کے رُو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان میں ہے، اس کو سوچو۔“
(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ) صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 264 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یہ دونوں عبارتیں مزید کسی حاشیہ و تشریح کی محتاج نہیں، ان کا صاف صاف مدعا یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو تو مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت سرے سے غلط ہے اور اس صورت میں مرزا قادیانی کو ولی یا مجدد تو کجا؟ مسلمان بھی تصور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا، اور اگر وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں لاکھ نشان بھی دکھائے تو اسے مکر و فریب اور استدراج ہی سمجھا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
- 1- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو کیا
تعلق ہے؟
- 2- اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت ہو جائے تو کیا مرزا قادیانی کا دعویٰ
مسیحیت و مہدویت ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟
بہر حال اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مرزا قادیانی اپنے اس دعویٰ میں کہاں تک کامیاب ہوا، اس کا فیصلہ قارئین کرام خود کریں۔ یاد رہے کہ ابتدا میں جب مرزا قادیانی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا تھا، اس کے وہی عقائد تھے جو عام مسلمانوں کے ہیں۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
ہمارا مذہب
- ”وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو
اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“
(ایام الصلح صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323 از مرزا قادیانی)
تمام امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں اور آخر زمانے (قرب قیامت) میں دوبارہ نازل ہوں گے۔ 52 سال تک مرزا قادیانی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور آسمان سے دوبارہ زمین پر تشریف آوری کا قائل تھا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے
- ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین
کلہ. (الصف: 9) یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے، اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبۂ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 449 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 593 از مرزا قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے
- ”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم و ان عدتم عدنا وجعلنا جہنم
للکافرین حصیراً. (بنی اسرائیل: 8) خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے، اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف و احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیاتِ بیّنہ سے کھل گیا ہے، اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت
اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا۔ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔“
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 505، 506 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 601، 602 از مرزا قادیانی)
حضرت مسیح آسمانوں پر جا بیٹھے
- ”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 381 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 431 از مرزا قادیانی)
نزول مسیح کی پیش گوئی ، قرآن مجید میں
- ”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن
شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 675 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 464 از مرزا قادیانی)
نزول مسیح کی پیش گوئی، انجیل میں
- ”مسیح کے صلیب سے بچ جانے کے لیے یہ آیت جو متی 16 باب میں پائی جاتی
ہے، بڑا ثبوت ہے۔
اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں، انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے:
”اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔“ دیکھو متی باب 24 آیت 30۔“
(مسیح ہندوستان میں صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 38 از مرزا قادیانی)
مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے
- ”مسیح ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی
پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل
ہے ۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو، اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)
مسیح موعود کے آنے کی خبر تواتر سے ہے
- ”یہ خبر مسیح موعود (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر
ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے۔ صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 298 از مرزا قادیانی)
حضرت مسیح کے آنے سے متعلقہ احادیث کا جھوٹ ہونا ناممکن ہے
- ”اگر یہ کہو کہ کیوں جائز نہیں کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہوں اور آنے والا کوئی بھی نہ
ہو۔ تو میں کہتا ہوں کہ ایسا خیال بھی سراسر ظلم ہے کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عندالعقل ان کا کذب محال ہے اور ایسے متواترات بدیہیات کے رنگ میں ہو جاتے ہیں۔“
(ایام الصلح صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 279 از مرزا قادیانی)
- ”والنزول ایضا حق نظرا علی تواتر الآثار. وقد ثبت من طرق فی الاخبار.“
ترجمہ: اور نازل ہونا عیسیٰ ابن مریم کا بسبب متواتر احادیث صحیحہ کے بالکل حق ہے۔ اور یہ امر احادیث میں مختلف طریقوں سے ثابت ہو چکا ہے۔“
(انجام آتھم صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 158 از مرزا قادیانی)
تواتر کیا ہے؟
- ”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے رُو سے بھی پایا جائے تو
تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 556 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 399 از مرزا قادیانی)
متواترات سے انکار گویا اسلام کا انکار ہے
- ’’یہ پیشگوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے مگر احادیث
کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے۔ اگر تواتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو حضور شفیع المذنبین ﷺ کے منہ سے نکلیں۔ کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو اس درجہ تواتر پر ہو جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے۔ جس شخص کو اسلامی تاریخ سے خبر ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو تواتر کے رو سے اس پیشگوئی سے بڑھ کر ہو۔ یہاں تک کہ علما نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشگوئی کا انکار کرے، اس کے کفر کا اندیشہ ہے کیونکہ متواترات سے انکار کرنا گویا اسلام کا انکار ہے۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)
دو نبی آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے
- ’’اب پہلے ہم صفائی بیان کے لیے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائیبل اور ہماری احادیث
اور اخبار کی کتابوں کے رُو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے، وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘‘
(توضیح مرام صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 52 از مرزا قادیانی)
مسیح موعود کے بارے میں پیش گوئی ابتدا سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل ہے
- ’’مسیح موعود (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری) کے بارے میں جو
احادیث میں پیشگوئی ہے، وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو و بس۔ بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتدا سے مسلمانوں کے رگ
ورثہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اُس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے، اُسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔“
(شہادت القرآن صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 304 از مرزا قادیانی)
تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آنے والا شخص عیسیٰ بن مریم ہو گا
- ”سو واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود
کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لیے کافی ہے۔“
(شہادت القرآن صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 298 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر تمام صدیوں کے بزرگوں کا عقیدہ تھا
- ”پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان
رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے...... حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے...... حضرت مسیح موعود کے دعویٰ سے پہلے جس قدر اولیا صلحا گزرے ہیں، ان میں سے ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتا تھا۔“
(حقیقۃ النبوۃ صفحہ 142، 143 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 463، 464 از مرزا بشیر الدین محمود)
قادیانی حضرات کے لیے مقامِ تفکر ہے کہ مرزا قادیانی اگر ایک زمانہ، حیاتِ مسیح کا بڑی ہی تحدی سے دعویدار رہا اور اپنی کتابوں میں غیر مبہم الفاظ میں لکھتا رہا کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے، اب وہی بجسد عنصری نزول فرمائیں گے...... تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا خوار کرنا چاہتا تھا تا کہ جب وہ اعتقادی قلابازی لگائے تو ایک دنیا اس پر ہنسے...... زمینی مفکر کے موقف میں تبدیلی، موجب تعجب نہیں۔ آسمانی مامور اگر اپنے قول کی تردید کرتا ہے تو یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تائید ربانی ہرگز ہرگز حاصل نہیں۔ بندے اور خدا میں یہی تو فرق ہے کہ بندہ اپنے نظریے میں لازماً تبدیلی کرتا ہے جبکہ خدا کبھی اپنی تردید نہیں کرتا۔ نہ وہ اپنے مامورین کو تضاد بیانی کی تہمت سے متہم ہونے دیتا ہے۔
مرزا قادیانی نے حیات ونزول حضرت مسیح علیہ السلام کا جو عقیدہ ”براہین احمدیہ“ میں بیان کیا ہے، اس کے بارے میں مرزا قادیانی کے دعوٰی جات مندرجہ ذیل ہیں:۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے ٹائٹل پر یہ عبارت لکھی ہے:
کمال تحقیق اور تدقیق
- ”بفضل عظیم حضرت ہادیٔ عالم و عالمیان و رحمت عمیم رہنمائے گمگشتگان کتاب
لاجواب موسوم بہ براہین احمدیہ ملقب بہ البراهين الاحمديه على حقيقت كتاب الله القرآن والنبوة المحمديه جس کو فخرِ اہل اسلام پنجاب جناب میرزا غلام احمد صاحب رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب دام اقبالہم نے کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے منکرین اسلام پر حجت اسلام پوری کرنے کے لیے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا۔“
(براہین احمدیہ ٹائٹل، مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل ٹائٹل پیج، از مرزا قادیانی)
منکرین اسلام کو لاجواب کرنے والی کتاب
- ”سب طالبانِ حق پر واضح ہو جو مقصود اس کتاب کی تالیف سے جو موسوم
البراهين الاحمديه على حقيقت كتاب الله القرآن والنبوة المحمديه ہے، یہ ہے جو دین اسلام کی سچائی کے دلائل اور قرآن مجید کی حقیقت کے براہین اور حضرت خاتم الانبیا ﷺ کی صدق رسالت کے وجوہات سب لوگوں پر بوضاحت تمام ظاہر کیے جائیں۔ اور نیز ان سب کو جو اس دین متین اور مقدس کتاب اور برگزیدہ نبی سے منکر ہیں، ایسے کامل اور معقول طریق سے ملزم اور لاجواب کیا جائے جو آئندہ ان کو بمقابلہ اسلام کے دم مارنے کی جگہ باقی نہ رہے۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 16، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 23، 24، از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ: اثبات حقانیت قرآن وصداقت دین اسلام
- ”اس خاکسار نے ایک کتاب (براہین احمدیہ) متضمن اثبات حقانیت قرآن و
صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ بن نہ پڑے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 16 طبع جدید از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر لکھا
جو شخص براہین احمدیہ میں درج دلائل کو توڑے، اسے دس ہزار روپے انعام
- ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم اور مامور ہوکر
بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے (1) اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان وشوکت وقدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے۔ اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لیے عدالت میں رجسٹری بھی کرا لے۔۔۔۔۔۔ اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے جس کا خدا تعالیٰ کے روبرو اُس کو جواب دینا پڑے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 27، 28 طبع جدید از مرزا قادیانی)
یہ تھی مرزا قادیانی کی چالبازی کہ پہلے مرحلے میں خود کو بطور مجدد پیش کیا۔ ساتھ ہی روحانی کمالات میں مسیح ابن مریم کی غیر محسوس مشابہت کا پہلو تراش لیا۔ اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے تحت موصوف اپنے دعوٰی میں ترقی کرتے کرتے بالآخر مستقل صاحب شریعت نبی بن بیٹھا۔
اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے
- ”ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی، اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔
پھر بعد اس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسٰیؑ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔ یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے۔ اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کیے ہیں، یہ بھی اتمام حجت کے لیے کافی ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 77 طبع جدید از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ: حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی
- ”اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم
میں مشغول تھا، جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ حضور شفیع المذنبین ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تُو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے، جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔ غرض حضور شفیع المذنبین ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب ﷺ کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔ حضور شفیع المذنبین ﷺ نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لیے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب ﷺ کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔ تب ایک مُردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا، حضور شفیع المذنبین ﷺ کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور یہ عاجز حضور شفیع المذنبین ﷺ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور حضور شفیع المذنبین ﷺ بڑے جاہ وجلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔ پھر خلاصۂ کلام یہ کہ ایک قاش حضور شفیع المذنبین ﷺ نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اُس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہو گئی۔ اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں، ایسا ہی حضور شفیع المذنبین ﷺ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔ تب اُسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذَالِکَ۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 249 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 275، 276 از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ: حضور نبی کریم ﷺ کا اظہار پسندیدگی
- ’’اور اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے (رؤیا میں) دیکھا کہ میں ایک
عالیشان مکان میں ہوں، جو نہایت پاک اور صاف ہے۔ اور اس میں حضور شفیع المذنبین ﷺ کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کہاں تشریف فرما ہیں؟ انھوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا۔ اور جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے، اور آپ ﷺ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔ آپ ﷺ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ ﷺ کی پُر شفقت و پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے، اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔ آپ ﷺ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا اور آپ ﷺ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اُس وقت آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اے احمد ! تمھارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے، اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔ میں نے عرض کیا: حضور ﷺ! یہ میری ایک تصنیف ہے...... پھر میں نے دیکھا کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کی کرسی اونچی ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے، اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑ رہی ہیں۔ اور میں ذوق اور وجد کے ساتھ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر میں بیدار ہو گیا اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مُردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 1 تا 3 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ’’اس احقر نے 1864ء یا 1865ء عیسوی میں، یعنی اسی زمانہ کے قریب کہ جب
یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا، جناب خاتم الانبیاءﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ حضور شفیع المذنبین ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں
پوچھا کہ تُو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کتاب کا نام میں نے قطبی رکھا ہے، جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کے تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے، جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپے کا اشتہار دیا گیا ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 3 طبع چہارم ، براہین احمدیہ صفحہ 248 مندرجہ روحانی خزائن
جلد اوّل صفحہ 274 ، 275 ، از مرزا قادیانی)
- ’’غرض حضور شفیع المذنبین ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی۔ اور جب وہ کتاب
حضرت مقدس نبویؐ کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب ﷺ کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔ حضور شفیع المذنبین ﷺ نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لیے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب ﷺ کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔ تب ایک مردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا، حضور شفیع المذنبین ﷺ کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ اور یہ عاجز حضور شفیع المذنبین ﷺ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اور حضور شفیع المذنبین ﷺ بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔
پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش حضور شفیع المذنبین ﷺ نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں۔ اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوتی ہیں۔ ایسا ہی حضور شفیع المذنبین ﷺ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔ تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔ والحمد للہ علی ذالک۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 3، 4 طبع چہارم ، براہین احمدیہ صفحہ 249 مندرجہ روحانی خزائن
جلد اوّل صفحہ 275 ، 276 ، از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ: تفسیر قرآن جسے حضرت علیؓ نے تالیف کیا
- "اور نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف
سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی، جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ و حضرت علیؓ و حسنینؓ و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادرِ مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی، جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علیؓ نے تالیف کیا ہے اور اب علیؓ وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذَالِکَ۔"
(براہین احمدیہ صفحہ 504 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 599 از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ میں درج تمام دلائل قرآن مجید سے لیے گئے ہیں
- "پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف
کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے۔ اور حکمت اور معرفت اس کتاب مقدس کی کہ جس کے نور روح افروز سے اسلام کی روشنی ہے سب پر منکشف ہو جائے گی کیونکہ تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں، وہ سب آیاتِ بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں اور ہر ایک دلیل عقلی وہی پیش کی گئی ہے جو خدا نے اپنی کلام میں آپ پیش کی ہے اور اسی التزام کے باعث سے تقریباً باراں سیپارہ قرآن شریف کے اس کتاب میں اندراج پائے ہیں۔ پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لیے ایک عالی بیان تفسیر ہے کہ جس کے مطالعہ سے ہر ایک طالب صادق پر اپنے مولیٰ کریم کی بے مثل و مانند کتاب کا عالی مرتبہ مثل آفتاب عالمتاب کے روشن ہوگا۔"
(براہین احمدیہ صفحہ 137 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 130، 131 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب "براہین احمدیہ" میں حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن مجید کی روشنی میں بیان کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے براہِ
راست قرآن مجید، اس کے صحیح معنی اور اس کے حقائق و معارف سکھائے ہیں۔ ایک جگہ پر بڑے وثوق کے ساتھ لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ”براہین احمدیہ“ میں فرماتا ہے۔ یعنی قرآن مجید نہیں بلکہ ”براہین احمدیہ“ میں ۔ ملاحظہ کیجیے:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے صحیح معنی مجھ پر ظاہر کیے
- ”يَا اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰهُ فِیْکَ مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ رَمٰی، اَلرَّحْمٰنُ
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ. ترجمہ: اے احمد! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے جو کچھ تُو نے چلایا، وہ تُو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا، خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔ یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کیے۔“ (ترجمہ از مرزا قادیانی، حقیقت الوحی صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 73 از مرزا قادیانی)
(براہین احمدیہ صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 265 از مرزا قادیانی)
اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے
- ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ.“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 485 از مرزا قادیانی)
اس قسم کے فقرے مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں بہت جگہ لکھے ہیں۔ مسلمان کہا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن شریف کلام اللہ ہے۔ اسی طرح بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ ”براہین احمدیہ“ میں فرماتا ہے۔ گویا براہین احمدیہ کلام اللہ ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی یہ وحی الرحمن علم القرآن...... یعنی وہ اللہ، الرحمن ہے جس نے تجھے (مرزا قادیانی کو) قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا۔
ہم نے اس کتاب میں اپنے قیاس سے کوئی دلیل نہیں لکھی
- ”یہ امر بھی ہر ایک صاحب پر روشن رہے کہ ہم نے اس کتاب میں جس قدر دلائل
حقیقت قرآن مجید اور براہین صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاءﷺ لکھی ہیں یا جو جو فضائل اور محاسن قرآن شریف کے اور آیاتِ بینات منجانب اللہ ہونے کے اس کتاب ہٰذا میں درج کیے ہیں یا جس طور کا اس کی نسبت کوئی دعویٰ کیا ہے۔ وہ سب دلائل وغیرہ اسی مقدس کتاب سے ماخوذ اور مستنبط ہیں یعنی دعویٰ بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اسی پاک کتاب نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نہ ہم نے فقط
اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 88 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 88 از مرزا قادیانی)
تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلائل پر مشتمل کتاب
- ”ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور
کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 53 طبع جدید از مرزا قادیانی)
براہین احمدیہ کے فوائد
- ”اوّل اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں
ناقص البیان نہیں بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہو جاوے گا اور کسی مُغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے بلکہ دوسرے کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے کے لیے ایک کامل استاد اور ایک عیار راہبر بن جائیں گے۔
دوسرا یہ فائدہ کہ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے کہ جن کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالبِ حق پر ظاہر ہوگی بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔“
(براہین احمدیہ صفحہ 129 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 129 از مرزا قادیانی)
مجھے اللہ تعالیٰ ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے
- ”وان الله لا يتركنى على خطا طرفة عين و يعصمنى من كل مين و
يحفظنى من سبل الشياطين.“
ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے خطا پر قائم نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے اور شیاطین کے راستوں سے میری حفاظت کرتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)
کبھی کسی کتاب میں قرآن وحدیث کے خلاف نہیں لکھا
- ”انا ماكتبنا فى كتاب شيئا يخالف النصوص القرانيه او الحديثيه وما
تفوهنا به يوما من الدهر.“
ترجمہ: ”میں نے کسی کتاب میں کبھی کوئی چیز قرآن وحدیث کی تصریحات کے خلاف نہیں لکھی۔“ (حمامة البشریٰ صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 285، از مرزا قادیانی)
میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے
- ”والله يعلم انى ماقلت الا ما قال الله تعالى ولم اقل كلمة قط مخالفه
وما مسها قلمى فى عمرى.“
ترجمہ: ”خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور میں نے کوئی کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خداوند تعالیٰ ہو اور مخالفت خداوندی میرے قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوئی۔“
(حمامة البشریٰ صفحہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 186، از مرزا قادیانی)
ملہم کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے
- ”اور باعث نہایت درجہ فنا فی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان
ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے، وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 18، از مرزا قادیانی)
خدا کی قسم مجھے قرآن کے حقائق ومعارف ہر ایک شخص سے بڑھ کر سمجھائے گئے ہیں
- ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے
حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔“
(سراج منیر صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
خدا تعالیٰ سے الہام پانے والے بغیر بلائے نہیں بولتے
- ”جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر
سمجھائے نہیں سمجھتے، اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔ اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری
نہیں کر سکتے ۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 197 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197، از مرزا قادیانی)
روح القدس کی قدسیت ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی ہے
- ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت
اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93، از مرزا قادیانی)
میں علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدد ہوں
- ”یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہو رہی ہے مگر حدیث کا تو یہ منشا ہے کہ وہ مجدد خدائے تعالیٰ
کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ۔ اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 179 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)
مجدد ان نعمتوں کا وارث ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں
- ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں، وہ نرے استخوان
فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب ﷺ کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انھیں اُن تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔‘‘
(فتح اسلام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7 از مرزا قادیانی)
میں از خود کوئی کام نہیں کرتا
- ”انی امر یکلمنی ربی...... و یعلمنی من لدنہ و یحسن ادبی و یوحی
الی رحمۃ منہ فاتبع ما یوحی...... وما کان لی ان اترک سبیلہ و اختار طرقا شتی. وکلما قلت قلت من امرہ. وما فعلت شیئاً عن امری. وما افتریت علی ربی الاعلیٰ وقد خاب من افتری.“
(ترجمہ) ”میں وہ مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور خزانہ خاص سے تعلیم دیتا ہے۔ اپنے ادب سے مجھ کو ادب سکھاتا ہے۔ اپنی رحمت سے مجھ پر وحی بھیجتا ہے۔ پس میں اس وحی کی پیروی کرتا ہوں اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی راہ کو چھوڑ دوں اور دوسرے راستے کو اختیار کروں اور جو میں نے کہا ہے اس کے حکم سے کہا ہے۔ میں از خود کوئی کام نہیں
کرتا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔ ہلاک ہو وہ جس نے افترا کیا۔‘‘
(مواہب الرحمٰن صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
مجھے اندر سے تعلیم ملتی ہے
- ’’جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ
کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی)
مجھ سے لغزش ہو جائے تو رحمت الٰہی جلد اس کا تدارک کر لیتی ہے
- ’’ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے جس کو حفظ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ
عصمت بھی فرقانِ مجید کے کامل تابعین کو بطور خارقِ عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں۔ اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمتِ الٰہی جلد تر اُن کا تدارک کر لیتی ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ صفحہ 514 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 536 از مرزا قادیانی)
اہم نکات
اس باب میں مرزا قادیانی کی جو تحریریں پیش کی گئی ہیں، ان سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:۔
- 1- اگر کوئی شخص قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے مخالف کوئی عقیدہ رکھتا ہے تو وہ دائرہ
اسلام سے خارج ہے۔ اس کی سچائی کا کوئی نشان کرامت نہیں بلکہ استدراج ہوگا۔
- 2- مسلمانوں اور قادیانیوں میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ اس کا فیصلہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کی حیات یا وفات کے عقیدہ پر منحصر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن و حدیث کی روشنی میں اگر زندہ ہیں تو مسلمان حق اور قادیانی باطل پر ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن وحدیث کی رو سے فوت ہو گئے ہیں تو قادیانی حق پر اور مسلمان باطل پر ہیں۔
- 3- وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو
اہل سنت کی اجماعی رائے سے احکام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔
- 4- قرآن مجید کی آیت هو الذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق لیظھره
علی الدین کله (الصف:9) کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔
- 5- قرآن مجید کی آیت عسٰی ربکم ان یرحمکم و ان عدتم عدنا و جعلنا
جھنم للکافرین حصیراً (بنی اسرائیل: 8) کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور پوری دنیا سے گمراہی کو ختم کر دیں گے۔
- 6- حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمان پر چلے گئے ہیں۔
- 7- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر آنے کی پیش گوئی قرآن مجید
میں موجود ہے۔
- 8- انجیل متی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ دوبارہ
زمین پر نازل ہوں گے۔
- 9- آنے والا مسیح بن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہے، اسی کی پیش گوئی کی گئی۔
- 10- یہ پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے۔
- 11- صحاح ستہ کی کوئی پیش گوئی، اس پیش گوئی کے برابر نہیں۔
- 12- اس پیش گوئی کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔
- 13- جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول سے متعلقہ احادیث کو کمزور یا ضعیف
کہتے ہیں۔ انھیں نہ تو بصیرت دینی حاصل ہے اور نہ حق شناسی سے ہی کچھ حصہ ملا ہے۔
- 14- جو لوگ اسے ناممکن اور انسانی عقل سے بالاتر سمجھتے ہیں، ان کے دلوں میں اللہ اور
اس کے رسول ﷺ کی کوئی عظمت اور عقیدت نہیں۔
- 15- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی پیش گوئی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ
میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔
- 16- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر اتنی اسلامی کتابوں میں شائع ہوئی ہے کہ
اگر اکٹھی کی جائیں تو ان کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں۔
- 17- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں نازل ہونے سے متعلقہ احادیث ایسے
تواتر کی حد تک پہنچ گئیں ہیں کہ ان کا غلط یا جھوٹا ہونا ناممکن ہے۔
- 18- تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تاریخ کے رُو سے بھی پایا جائے تو تب
بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔
- 19- جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دنیا
میں نزول فرمائیں گے، کا انکار کرے، اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔
- 20- تواتر احادیث سے انکار، اسلام کا انکار ہے۔
- 21- حضرت مسیح ابن مریمؑ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور قرب قیامت زمین پر
تشریف لائیں گے۔
- 22- مسیح موعود کے بارے میں پیش گوئی ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ
میں داخل ہے۔
- 23- تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے آنے والا شخص عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔
- 24- پچھلی صدیوں میں تقریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا
جاتا تھا اور بڑے بڑے جید بزرگ اکابرین امت اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔
- 25- ”براہین احمدیہ“ کو کمال تحقیق اور تدقیق سے تالیف کر کے منکرین اسلام پر حجت
اسلام پوری کرنے کے لیے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ شائع کیا۔
- 26- ”براہین احمدیہ“ کی تالیف کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی سچائی کے دلائل، قرآن
مجید کی فضیلت کے براہین اور حضور خاتم الانبیا ﷺ کی صدق رسالت کے وجوہات، منکرین پر ظاہر کیے جائیں تاکہ آئندہ ان کو اسلام کے مقابلہ میں دم مارنے کی جرأت نہ ہو۔
- 27- کتاب ”براہین احمدیہ“ جس میں مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی روشنی میں حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ بیان کیا ہے، کے بارے میں لکھا کہ وہ حقانیت قرآن اور صداقت اسلام پر مشتمل ہے۔
- 28- کتاب ”براہین احمدیہ“ کو مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور اور مجدد
ہو کر تصنیف کیا۔
- 29- ”براہین احمدیہ“ میں صداقت اسلام کے تین سو مضبوط دلائل موجود ہیں۔ اگر کوئی
شخص ان دلائل کا رد کرے گا تو اسے دس ہزار روپے انعام ملے گا۔
- 30- ”براہین احمدیہ“ کا مہتمم اور متولی اللہ تعالیٰ ہے۔
- 31- مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں
پیش کی۔ نبی کریم ﷺ نے مرزا قادیانی سے اس کتاب کا نام پوچھا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ اس کتاب کا نام قطبی ہے۔ یعنی قطب ستارہ کی مانند غیر متزلزل اور مستحکم۔ آپ ﷺ نے اس کتاب پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا عقیدہ بیان کیا گیا تھا)۔
- 32- مرزا قادیانی کے خواب میں اہل بیتؓ تشریف لائے۔ اور مرزا قادیانی کو کتاب
”براہین احمدیہ“ پیش کی گئی اور کہا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جسے حضرت علیؓ نے تصنیف کیا۔ اب یہ کتاب تجھے دی جا رہی ہے۔
- 33- ”براہین احمدیہ“ میں درج تمام دلائل، براہین اور صداقتیں قرآن مجید سے لی گئی ہیں۔
- 34- اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو قرآن سکھایا۔ اس کے معنی اور حقائق و معارف بھی سکھائے۔
- 35- ”براہین احمدیہ“ اس قدر اہمیت کی کتاب ہے کہ اللہ تعالیٰ ”براہین احمدیہ“ میں فرماتا
ہے۔ الرحمن علم القرآن
- 36- مرزا قادیانی نے اس کتاب میں اپنے قیاس سے کوئی دلیل نہیں لکھی بلکہ سب کچھ
قرآن مجید سے لیا ہے۔
- 37- مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے۔
- 38- مرزا قادیانی نے کسی کتاب میں کبھی کوئی چیز قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف نہیں لکھی۔
- 39- مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ سے بغیر الہام پائے اپنی زبان سے کچھ نہیں بولتا اور نہ لکھتا ہے۔
- 40- مرزا قادیانی مجدد ہے اور مجدد ان نعمتوں کا وارث ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو
دی جاتی ہیں۔
- 41- مرزا قادیانی از خود کوئی کام نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔
- 42- مرزا قادیانی وہی کہتا ہے جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ مخالفت خداوندی اس کے قلم سے
کبھی سرزد نہیں ہوتی۔
- -42 اگر مرزا قادیانی سے کبھی کوئی زبانی یا تحریری لغزش ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کا
تدارک کر دیتے ہیں۔
- -44 مرزا قادیانی ملہم ہے اور ملہم کے تمام قویٰ میں روح القدسیت ہر وقت کام کرتی ہے۔
- -45 مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسے قرآن کے حقائق اور معارف ہر ایک شخص سے بڑھ
کر سمجھائے گئے ہیں۔
- -46 مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو
میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔
مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں اور ان سے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی 52 سال تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے آسمان سے زمین پر نزول کا قائل رہا۔ مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا عقیدہ کے بارے میں قادیانی یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ واقعتاً شروع میں مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کا عقیدہ رکھتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی کتاب اعجاز احمدی (صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 7) میں اعتراف کیا ہے کہ یہ رسمی عقیدہ تھا۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کی آیات پیش کی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں بلکہ قرآنی طور پر بیان کیا ہے۔ پھر یہ رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ کتاب بقول مرزا قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور اس کا نام قطبی بتایا گیا ہے یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ اگر اس عقیدہ کو رسمی عقیدہ یا اجتہادی غلطی کہہ کر غلط قرار دے دیا جائے تو یہ کتاب قطبی نہیں رہے گی اور اس کے دلائل مستحکم اور غیر متزلزل نہیں ہوں گے۔ پھر یہ اجتہادی غلطی اس لیے بھی نہیں بن سکتی کہ مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی دعویٰ اور کوئی دلیل اپنے قیاس سے نہیں لکھی بلکہ وہی کچھ لکھا جو خدا نے لکھوایا۔ مزید اس کتاب کے کامل استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے دس ہزار روپے انعام کا اشتہار دیا گیا۔ اب اگر اس میں درج شدہ عقیدہ کو غلط قرار دیا جائے تو یہ کتاب انعامی نہیں رہ سکتی۔
پھر ایک اہم بات یہ کہ جب یہ کتاب حضور نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں آ
چکی اور آپ کی مبارک نظر سے گزر چکی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر اس کتاب میں کوئی عقیدہ خلاف اسلام بیان ہوتا تو آپ اس کی نشاندہی نہ فرماتے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا جو عقیدہ بیان کیا ہے، وہ قرآن و حدیث اور اجماع امت کی رو سے بالکل درست اور عین اسلام ہے۔ اس کا انکار تواتر کا انکار ہے اور ایسے لوگ بصیرت دینی سے محروم ہیں۔ غور فرمائیے! اس قدر وضاحت کے بعد بھی اس عقیدہ کو فاسدانہ و مشرکانہ و مرتدانہ قرار دینا ظلم و ستم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے بارے میں یہ بھی لکھا کہ میں نے یہ کتاب سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کر کے لکھی۔ (براہین احمدیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 64) پھر مزید تحریر کیا:
براہین احمدیہ: بڑی تحقیقات کے بعد تالیف کی گئی
- ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کتاب کی تالیف سے پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی
اور ہر ایک مذہب کی کتاب دیانت اور امانت اور خوض اور تدبر سے دیکھی گئی اور فرقان مجید اور ان کتابوں کا باہم مقابلہ بھی کیا گیا اور زبانی مباحثات بھی اکثر قوموں کے بزرگ علما سے ہوتے رہے۔ غرض جہاں تک طاقت بشری ہے، ہر ایک طور کی کوشش اور جاں فشانی اظہار حق کے لیے کی گئی۔“ (براہین احمدیہ صفحہ 91 روحانی خزائن، جلد اوّل صفحہ 81,80,79، از مرزا قادیانی)
قادیانی مبلغین، مرزا قادیانی کے ”براہین احمدیہ“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور قرب قیامت زمین پر نزول فرمانے کے عقیدہ سے خاصے پریشان ہیں۔ اپنی اس پریشانی کا حل وہ اس طرح تراشتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ تالیف دعویٰ نبوت سے پہلے کی ہے۔ اس لیے اس عقیدہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ اصل عقیدہ وحی کی بنا پر بعد میں وجود میں آیا اور یہی اصل عقیدہ تھا۔
قادیانی مبلغین کا یہ اعتراض بہت ہی کمزور اور بودا ہے۔ قادیانیوں کی یہ تاویل مرزا قادیانی کی کتابوں سے جہالت اور ناواقفیت کی دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نے جب ”براہین احمدیہ“ تالیف کی تو اس وقت بھی اس کا دعویٰ یہی تھا کہ وہ مامور من اللہ، ملہم بلکہ نبی اور رسول ہے۔ مرزا قادیانی کی اپنی تحریر ہے:
خدا کا رسول
- ”پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ جری اللہ فی
حلل الانبیا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 504) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ 557 براہین میں درج ہے۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔“ اس کی دوسری قرات یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح ”براہین احمدیہ“ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
اس عبارت سے واضح ہوا کہ ”براہین احمدیہ“ کی تالیف کے وقت مرزا قادیانی پر رسول اور نبی ہونے کی برابر وحی اترتی رہی اور رسول ہونا واضح کیا گیا۔
اب مرزائی بتائیں کہ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے حیات مسیح کا انکار کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ مرزا قادیانی نے عقیدہ بدل لیا تھا یا اس لیے کہ یہ تحقیق اسلامی تصریحات کے خلاف تھی؟ نہیں بلکہ اس لیے کہ مرزا قادیانی نے اسلام چھوڑ دیا تھا اور اپنے آپ کو فلاسفہ ملاحدہ میں شامل کر کے ایک نئے ”اسلام“ کی بنیاد ڈالی تھی جو کسی طرح بھی اہل اسلام کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔
قادیانی علم کلام کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جب انہیں مرزا قادیانی کا ”عہد رسالت“ 23 برس سے زائد ثابت کرنا مقصود ہو تو وہ فوراً ”براہین احمدیہ“ (1882ء) سے عبارت نکال کر پیش کر دیں گے، جی! دیکھیے اللہ نے انہیں ”رسول“ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ لیکن جب یہ کہا جائے مرزا قادیانی اس دور میں حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا تو یہ دلیل لے آتے ہیں کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب اس نے دعویٰ رسالت نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ حیف ہے ایسی ”نبوت“ پہ جو اس قدر متلون مزاج ہے!!!
- قادیانی کہتے ہیں کہ شروع شروع میں نبی کریم ﷺ بیت المقدس کی
طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی تو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ لہٰذا مرزا صاحب نے اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام
کا عقیدہ تبدیل کر لیا تو کیا حرج ہے؟
قادیانی جاہلوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سلسلہ میں بیت المقدس کی مثال پیش کرنا بالکل غلط ہے۔ بیت المقدس کو قبلہ بنانا حسب ہدایت آیت فبہدھم اقتدہ (الانعام:90) انبیائے سابقین کی سنت پر عمل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ عقائد میں سے ہے اور عقائد میں تنسیخ و تبدیلی نہیں ہو سکتی جبکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے جن میں تبدیلی وتنسیخ ہو سکتی ہے، مثلاً پہلے پیغمبروں پر نمازیں فرض ہوئی تھیں تو اس کا طریقہ کیا تھا؟ روزے کی فرضیت آئی تو اس کا کیا طریقہ تھا؟ شریعت محمّدیہ علی صاحبہا السلام میں کیا طریقہ ہے؟ یہ اور مسئلہ ہے مگر جہاں تک عقائد کا تعلق ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ کوئی اور ہو، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں عقیدہ اور ہو اور حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کا عقیدہ اور ہو۔ یہ غلط ہے، ایسا ہرگز نہیں۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے جو نمازیں حضور نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کی تھیں، وہ سب کی سب بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں اور بعد میں کسی نے ان نمازوں کو نہیں لوٹایا۔ لہٰذا قادیانیوں کو مغالطہ آرائی سے اجتناب کر کے ’’براہین احمدیہ‘‘ والا صحیح عقیدہ اختیار کر لینا چاہیے۔
- قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھائے جانے
اور پھر زمین پر دوبارہ نزول میں کیا حکمت ہے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علمائے کرام نے یہ بیان کی ہے کہ یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ قولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ (النساء: 157) اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی قوم یہود سے ہوگا اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لیے حقّ تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے تاکہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا، وہ سب غلط ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمھارے قتل اور بربادی کے لیے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے، ان کو قتل نہیں
کر سکے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے قتل کے لیے نازل کیا اور یہ حکمت فتح الباری کے باب نزول عیسیٰ صفحہ 357 جلد 10 پر مذکور ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں نزول ہوگا تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لیے تشریف لائے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور وفات سے کچھ عرصہ پہلے شام کو فتح کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے اور نازل ہونے کے بعد صلیب کا توڑنا بھی اسی طرف اشارہ ہوگا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے، بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اس لیے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام و نشان بھی نہ چھوڑیں گے۔
اور بعض علمائے کرام نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیا سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم ﷺ کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ لتومنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران:81) اور انبیائے بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لیے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی امت کی مدد کریں۔
کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا وہ وقت امت محمدیہ ﷺ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تاکہ امت محمدیہ ﷺ کی نصرت و امانت کا جو وعدہ تمام انبیا کر چکے ہیں وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیا کی طرف سے وکالۃً ایفا کریں۔
اور بعض علما نے یہ حکمت بیان کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب انجیل میں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور آپ ﷺ کی امت کے اوصاف دیکھے تو حق تعالیٰ سے یہ دعا کی:
- ”اے رب بخشش والے، اے رحمت میں غنی! تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے
رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“ (انجیل برنباس باب: 212 فقرہ: 14)
انجیل برنباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں پیش گوئیاں ایک بار نہیں بلکہ بار بار دی تھیں۔ انجیل برنباس کا باب 17 کا ایک حوالہ ملاحظہ کیجیے:
”میرے بعد وہ ہستی تشریف لائے گی جو تمام نبیوں اور نفوس قدسیہ کے لیے آب و تاب ہے اور پہلے انبیا نے جو باتیں کی ہیں، ان پر روشنی ڈالے گی کیونکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔...... میں تو اس لائق بھی نہیں کہ اللہ کے اس رسول ﷺ کی جوتیوں کے تسمے جھک کر کھولوں۔ (سبحان اللہ!) اس کی تخلیق مجھ سے پہلے ہوئی اور تشریف میرے بعد لے آئے گا۔ وہ سچائی کے الفاظ لائے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔“
(انجیل برنباس باب 17 فقرہ 22، 23، باب 42 فقرہ 13 تا 15)
- قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور پھر
ان کا آسمان سے نزول، اس بات کو عقل نہیں مانتی۔
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید کی آیات، احادیث مبارکہ، آثار صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رضی اللہ عنہم اور اجماع امت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور اصالتاً نزول فرمائیں گے۔ اگر یہ بات قادیانیوں کی عقل میں نہیں سماتی تو اس کے جواب میں ہم مرزا قادیانی کا یہ حکم سنا دیتے ہیں کہ ...... ”اگر قرآن وحدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 835 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 552) مزید کہا کہ ”سلف خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 374 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 293) مزید کہا کہ ”عقل انسان کو خدا سے نہیں ملاتی بلکہ خدا سے انکار کراتی ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 592 طبع جدید)
قادیانی بتائیں کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کا سرد ہو جانا عقل میں آتا ہے؟؟؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے ”ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لیے ہر ایک ابتلا کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا۔“ (حقیقتہ الوحی صفحہ 50 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 52) کیا حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا عقل میں آتا ہے؟؟؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ”جیسے یونس (علیہ السلام) نبی 3 دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور مرا نہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 393 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 303)
قادیانی بتائیں کہ کیا حیات موسیٰ علیہ السلام ان کی عقل میں آتا ہے۔ جیسا کہ مرزا
قادیانی موسیٰ علیہ السلام کی حیات کا قائل ہے۔
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور
ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مُردوں میں سے نہیں۔‘‘ (نور الحق صفحہ 68،69 روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 68،69)
- مرزا قادیانی مزید کہتا ہے:
’’بل حياة كليم الله ثابت بنص القرآن الكريم الاتقره فى القرآن ماقال الله تعالىٰ عزوجل فلا تكن فى مرية من لقائه؟ وانت تعلم ان هذه الاية نزلت فى موسى فهى دليل صريح على حياة موسى عليه السلام لانه لقى رسو الله صلى الله عليه وآله وسلم والاموات لا يلاقون الاحياء ولا تجد مثل هذه الايات فى شان عيسىٰ عليه السلام نعم جاء ذكر وفاته فى مقامات شتى.‘‘
(حمامة البشریٰ صفحہ 55،56 روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 221،222)
ترجمہ: بلکہ حیات کلیم اللہ (موسیٰ علیہ السلام) نص قرآن کریم سے ثابت ہے کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ آپ ﷺ شک نہ کریں ان کی ملاقات سے یہ آیت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ آیت دلیل صریح ہے موسیٰ علیہ السلام کی حیات پر اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی موسیٰ علیہ السلام سے (معراج میں) ملاقات ہوئی اور (اگر موسیٰ علیہ السلام فوت شدہ ہوتے تو) مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے۔ ایسی آیات تو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں بلکہ مختلف مقامات پر ان کی وفات کا ذکر ہے۔‘‘
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ ہی ان کے آسمان پر جانے کا گواہ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر جا کر صدیوں زندہ رہنا کوئی شخص اس لیے نہیں مانتا کہ یہ بات قانون فطرت کے خلاف ہے تو پھر اسے حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا بھی انکار کر دینا چاہئے کیونکہ ان کی پیدائش بھی تو قانون فطرت کے خلاف ہوئی ہے۔ قانون فطرت تو یہ ہے کہ ’’اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (الدھر:2) تحقیق ہم نے انسان کو (عورت مرد کے) ملے جلے نطفے سے پیدا کیا ہے۔‘‘ جبکہ حضرت عیسیٰؑ بغیر باپ کے پیدا کیے گئے ہیں، دوسرے جب حضرت مریمؑ حضرت عیسیٰؑ کو گود میں لے کر بستی میں گئیں تو
لوگوں نے کہا: ”اے مریم! یہ تو نے کیا کر دیا! نہ تو تیرا والد برا آدمی تھا اور نہ تیری والدہ ہی بدچلن تھی۔“ حضرت مریمؑ نے اللہ کے حکم کے مطابق بچے کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لو تو کہنے لگے: كيف نكلم من كان فى المهد صبيا (مریم: 29) یعنی گہوارے کے بچے سے بھلا کیسے کلام ہو سکتا ہے؟ ایسا انہوں نے اس لیے کہا کہ یہ بات قانون فطرت کے خلاف تھی اور ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی باتیں کرنے لگے۔ مگر اس بچے نے اللہ کی قدرت سے قانون فطرت کو توڑتے ہوئے کہا: انى عبد الله اتنى الكتب و جعلنى نبيا (مریم: 30) یعنی میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے صاحب کتاب نبی بنایا ہے۔ جب آپ کی بغیر باپ کے پیدائش، پیدا ہوتے ہی کلام کرنا اور نبوت کا اعلان کرنا جیسی (قانون فطرت کے خلاف) باتوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ماننے میں بھی تامل نہیں کرنا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب آپ کی پیدائش عام انسانی قاعدہ سے ہٹ کر بغیر باپ کے ہوئی تھی تو اس کا تقاضا تھا کہ آپ کا انجام بھی عام انسانی دستور کے مطابق نہ ہوتا تاکہ آپ کی ابتدا و انتہا میں گہری مناسبت اور یگانگت ہوتی۔ شیطان اور فرشتے دونوں ابتدا سے زندہ ہیں اور جب تک خدا چاہے گا، زندہ رہیں گے۔ ان کے ساتھ اگر ایک انسان (حضرت عیسیٰؑ) کو بھی خدا زندہ رکھے تو یہ خلاف فطرت اور خلاف عقل کیسے ہوا؟
۞.......۞.......۞
مرزا قادیانی
کسی بھی انسان کے چاند پر جانے کا انکاری
20 جولائی 1969ء کا دن اس لحاظ سے بے حد یادگار ہے کہ اس روز انسان نے چاند پر قدم رکھا اور اپنی کامیابی کا ایک ایسا سنگ میل طے کیا کہ جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے انمٹ ہو گیا۔ 1969ء میں تین امریکی خلاباز، نیل آرم سٹرانگ، ایڈون ایلڈرن اور مائیکل کولنز نے اپنا یہ تاریخی سفر ”Apollo 11“ نامی خلائی جہاز میں طے کیا جس کو ”Saturn“ نامی راکٹ کے ذریعے خلا میں چھوڑا گیا۔ راکٹ کی لمبائی 363 فٹ بلند تھی۔ اس میں پانچ انجن اور پانچ لاکھ پرزے استعمال کیے گئے تھے اور اس کا وزن 3000 ٹن تھا۔ چاند زمین سے تقریباً ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے، اس لیے اس طویل سفر کو طے کرنے کے لیے تقریباً 34000 کلوگرام ایندھن کی قوت درکار تھی۔ یہ پورا سفر تین مرحلوں میں طے کیا گیا۔ جس کا آغاز 16 جولائی 1969ء کو کیا گیا۔ آغاز سے قبل راکٹ اور خلائی جہاز کی مشینوں کو اچھی طرح چیک کیا گیا۔ زمینی سائنسی مرکز امریکا کے شہر ہیوسٹن میں تھا۔ جہاں سائنس داں خلانوردوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ بلند و بالا راکٹ نے جب سرخ اور نارنجی رنگ کی تیز چمک دار گیس کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا تو پوری دنیا کی نظریں اس نظارے کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔ روانگی سے قبل الٹی گنتی شروع ہوئی یعنی تھری، ٹو، ون، زیرو اور اگنیشن کے الفاظ کے ساتھ راکٹ زمین سے بلند ہونا شروع ہوا، اس کے انجن 34000 کلو گرام کی قوت سے اس کو اوپر کی جانب دھکیل رہے تھے۔
پہلے مرحلے میں یہ راکٹ صرف ڈھائی منٹ بعد ہی بحر اوقیانوس کے اوپر پہنچ گیا۔ صرف 38 میل کی بلندی پر 2200 ٹن ایندھن خرچ ہو چکا تھا۔ اس بلندی پر راکٹ کا نچلا حصہ جو 38 فٹ لمبا تھا۔ الگ ہو کر سمندر میں گر گیا۔
دوسرے مرحلے میں راکٹ کے انجنوں کی مجموعی طاقت پانچ لاکھ کلوگرام اور انجن کی رفتار سترہ ہزار میل فی گھنٹہ پہنچ گئی اور یہ زمین سے 163 میل بلندی پر پہنچ گیا۔ یہاں اس کے راکٹ کا دوسرا حصہ بھی سسٹم سے الگ ہوکر گر گیا۔ اس طرح راکٹ کا وزن پہلے مرحلے کے مقابلے میں ایک تہائی اور کل وزن کا ساتواں حصہ (1/7) رہ گیا۔ اس بلندی پر راکٹ نے ہر 90 منٹ کے بعد زمین کا چکر لگانا شروع کیا۔ یہاں پر زمینی مرکز نے راکٹ کو تیسرے مرحلے کی روانگی کی طرف Ok کا سگنل دیا۔ اس مرحلے پر راکٹ 25000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کو چھوڑتا ہوا چاند کی جانب روانہ ہوا۔ اس وقت راکٹ براعظم آسٹریلیا کے اوپر سے گزر رہا تھا اور اس کو ابھی تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار میل کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ جب چاند سے 39000 میل کا فاصلہ رہ گیا تو مذکورہ راکٹ زمین کی کشش سے نکل کر چاند کی کشش میں داخل ہو گیا۔ یہاں اس کی رفتار 4000 میل فی گھنٹہ تھی اس وقت رفتار کو کنٹرول کرنے کے لیے اس پر ایک راکٹ فائر کیا گیا جو ”اپالو 11“ کی کمان گاڑی ”کولمبیا“ میں نصب کیا گیا تھا۔ ”اپالو 11“ نے صرف 63 میل کے فاصلے سے اپنا قمری دوار (Lunar Orbit) قائم کیا۔ اس وقت خلائی جہاز کا وہ حصہ ”ایگل“ جس میں نیل آرم اسٹرانگ، ایڈن ایلڈرون اور مائیکل کولنز سوار تھے، علیحدہ ہو گیا اس کی رفتار 242 میل فی گھنٹہ تھی اور چوں کہ اس رفتار سے اس کی چاند پر لینڈنگ اس کے تباہ ہو جانے کا باعث بن سکتی تھی اس لیے اس کو ایک ہیلی کاپٹر کی طرح چاند پر لینڈ کرنا پڑا یا اس طرح جیسے سی ہیریر طیارہ لینڈ کرتا ہے۔ مذکورہ خلائی گاڑی جب چاند سے 7600 فٹ کی بلندی پر تھی تو چند سیکنڈ کے لیے خلا بازوں کا رابطہ زمینی مرکز سے ٹوٹ گیا تھا لیکن چند ہی لمحے بعد ہیوسٹن کے مرکز پر خلا باز نیل آرم اسٹرانگ کی آواز میں یہ تاریخی جملہ سنائی دیا ”Eagle has landed“ ۔ نیل آرم سٹرانگ نے چاند کی سطح پر پہلا قدم رکھا تو زمین کے مرکز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت دوسرے دونوں خلا بازوں نے چاند گاڑی کی کھڑکی سے ماہتاب کا جائزہ لیا پھر کچھ گھنٹے آرام کر کے زمینی مرکز کی ہدایت کے مطابق گاڑی سے باہر قدم نکالا (اس وقت امریکا میں رات کے دس بج کر 50 منٹ ہوئے تھے) اور ساتھ ہی یہ تاریخی الفاظ ادا کیے گئے۔
”ایک انسان کا یہ ایک چھوٹا سا قدم نسل انسان کے لیے ایک دیو قامت قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔“
اس دوران ایڈون ایلڈرون گاڑی میں سے نیل آرم سٹرانگ کی چہل قدمی کی تصاویر بناتے رہے۔ پھر وہ بھی چاند کی سطح پر اترے اور سطح ماہتاب پر انہوں نے ایک تاریخی تختی جس پر دنیا کا نقشہ، تینوں خلا بازوں کے اور اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دستخط تھے، ماہتاب پر نصب کیے۔ تینوں خلا بازوں نے وائٹ ہاؤس میں موجود صدر نکسن سے سیٹلائٹ فون پر بات کی۔ یہ فاصلے کے لحاظ سے دنیا کی طویل ترین یعنی 2 لاکھ 40 ہزار میل لمبی کال تھی۔ تینوں خلا بازوں نے 250 فٹ تک چہل قدمی کی اور تقریباً 69 پونڈ مٹی اور پتھر کے نمونے لے کر واپس زمین کا رخ کیا۔ ان کے مطابق چاند کا بالائی حصہ پاؤڈر کی طرح کی مٹی سے بنا ہے اور چاند کا اپنا رنگ بھورا اور سرمئی ہے۔ اس طرح یہ خلا باز اپنے نہ مٹنے والے انسانی قدم کے نقوش چھوڑ کر آگئے۔ تسخیر ماہتاب نے جہاں انسانی سوچ کے نئے دور وا کیے، وہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کاش چاند کی بلندی پر اپنے خلا باز بھیجنے والا امریکا زمین پر بھی امن وسکون قائم کرے اور امن و دہشت گردی کی آڑ میں پوری دنیا اور خاص کر مسلم دنیا میں جو تباہی پھیلا رہا ہے اس سے باز رہے۔ بلاشبہ 20 جولائی کا تاریخی دن انسانی عظمت کا وہ یادگار دن ہے، جو رہتی دنیا تک انسانی عظمت کی یاد دلاتا رہے گا اور نوع انسانی بلاشبہ اس تسخیر ماہتاب پر، اپنے عزم وحوصلے پر فخر کرتی رہے گی۔
(محترمہ نگہت شفیع کے مضمون ”تسخیر ماہتاب“ مطبوعہ روزنامہ جنگ سے ماخوذ)
اس کے برعکس قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی قیامت تک کسی بھی انسان کے چاند پر جانے سے انکاری ہے۔ وہ لکھتا ہے:
- ”نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس
خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوئی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 126 از مرزا قادیانی)
حالانکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ
- (1) وہ نبی اور رسول ہے۔
- (2) اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔
- (3) وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔
- (4) خدا اس کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور خزانہ خاص سے تعلیم دیتا ہے۔
- (5) اگر اس سے لغزش ہو جائے تو رحمت الٰہی اس کا تدارک کر لیتی ہے۔
- (6) اس کے اندر ایک آسمانی روح بولتی ہے جو اس کے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی
بخشتی ہے۔
- (7) اللہ تعالیٰ اسے ایک لمحہ بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا اور ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے برعکس قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے ”اطفال الاحمدیہ کی مجلس سوال و جواب“ (منعقدہ 26 جنوری 2000ء) میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:
سوال: ”یہ جو آج کل سائنسدان دوسرے سیاروں پر جانے کی کوششیں کر رہے ہیں، کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ لوگ دوسرے سیاروں پر آنے جانے لگیں؟
جواب: ہاں ہو سکتا ہے۔ سیاروں پر جا سکتے ہیں، کوشش کر رہے ہیں، کیوں نہیں جا سکتے۔ ابھی کئی لوگ جا بھی رہے ہیں۔ وہاں پہنچتے بھی ہیں، مشینوں اور موٹروں میں بیٹھ کر وہاں پھرتے ہیں، دیکھتے ہیں۔ اب دنیا بہت ترقی کر گئی ہے اور یہ ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ کبھی دوسری دنیا میں زندگی بھی دریافت ہو جائے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وہاں بھی زندہ چلنے والے جانور موجود ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو پیغام رسانی کے ذریعے یا کسی طریقے سے ان کو اکٹھا بھی کر سکتا ہے بلکہ کرے گا، یہ وعدہ ہے“۔
(روزنامہ الفضل انٹرنیشنل 21 اپریل 2000ء تا 27 اپریل 2000ء)
قادیانی جماعت کے پڑھے لکھے حضرات بالخصوص پروفیسرز، انجینئرز، وکلاء، سائنس دانوں، بیورو کریٹس، سرکاری ملازمین، صحافیوں اور طالب علموں سے میری درخواست ہے کہ وہ انتہائی غیر جانبداری، خالی ذہن اور ٹھنڈے دل کے ساتھ مرزا قادیانی کی تعلیمات اور عقائد پر از سر نو غور کریں اور بغیر کسی دباؤ، لالچ، ترغیب اور خوف کے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق صراط مستقیم اختیار کریں۔ قادیانی جماعت کے عقائد سے صدق نیت کے ساتھ کنارہ کش ہو کر حضور رحمۃ اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن شفاعت میں پناہ کے طلبگار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ شان کریمی آپ کے آنسو موتی سمجھ
کر چن لے گی۔ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ آپ مسلمانوں کی متاع گم شدہ ہیں۔ صبح کا بھولا ہوا اگر شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ آپ بدقسمتی سے بھٹک گئے۔ آپ احمدیت کو ”اسلام“ سمجھ کر اس کے دام فریب میں آ گئے۔ لیکن ابھی مہلت ہے اور رحمت خداوندی کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ دیکھئے! یہ دنیاوی زندگی نہایت مختصر اور فانی ہے۔ نجانے زندگی کا سفینہ کب ڈوب جائے، موت کا فرشتہ پروانہ لے کر آ جائے اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے۔ آخرت میں اعمال کی کمی بیشی پر شاید معافی ہو سکتی ہو لیکن غلط عقیدہ کی معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بقول شخصے جو شخص سچائی کی حفاظت کے لیے قدم نہیں اٹھاتا، وہ سچائی کا انکار کرتا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ صدق دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر اپنی ہدایت کی دعا مانگیں۔ اس کے عفو و کرم کا سمندر غیر محدود ہے۔ ان شاء اللہ اس کی رحمت آپ کو اپنی آغوش میں لے لے گی۔ بشرطیکہ آپ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔ ورنہ آپ قرآن کی اس آیت کا مصداق قرار پائیں گے۔
- ❑ ”اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں ان کے دل
ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں۔ اور ان کے کان ہیں، پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“
(اعراف: 179)
۞......۞......۞
قادیانیت، انگریز کا خودکاشتہ پودا
اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین اسلام کی بقا کے لیے اپنی جسمانی طاقت و توانائی کو راہ خدا میں بے دریغ صرف کرنا شریعت کی اصطلاح میں جہاد کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر لڑائی میں مال و زر کا حصول، قوت و شوکت کی نمود، سامان حرب کی نمائش، شجاعت و مردانگی کا اظہار، سلطنت و حکومت کی توسیع، شہرت و ناموری کا شوق، لشکر کشی کا غلغلہ یا دوسروں کو زیر کرنے کا جنون پیش نظر ہو، تو پھر یہ جہاد نہیں ہوگا بلکہ جنگ ہو گی جو دینی نقطہ نگاہ سے بے مقصد ہے۔ اسلام میں وہ لڑائی معرکہ حق و باطل اور جنگ و قتال، جہاد ہے جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی خوشنودی کے لیے لڑی جائے۔ مدعا اور مقصد فقط دین اسلام کی سربلندی ہو۔ ایسی لڑائی دنیاوی، نفسانی اور شیطانی خواہشات و اغراض سے یکسر پاک ہو۔ اس راہ میں لڑنے والے کا صرف ایک ہی نصب العین، ایک ہی جذبہ، ایک ہی شوق اور ایک ہی ولولہ ہو کہ اس کا مالک حقیقی اس سے راضی ہو جائے۔ بقول علامہ اقبالؒ
؎ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
ایمان کے بعد اہم ترین فرض، دشمنان اسلام کے خلاف جہاد ہے۔ جہاد، بنیادی قانون خداوندی، دین اسلام کا اہم ستون اور عبادت ہے۔ عقیدہ جہاد کو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ جہاد کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں تمیز کرتا ہے۔ جہاد ہی ایسا عمل ہے جو دین کی ترویج و ترقی اور سربلندی کا باعث بنتا ہے۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جہاد تمام عبادتوں سے افضل عبادت ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر جہاد کی یہ عظیم عبادت مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے۔
- □ ’’(مسلمانو!) تم پر قتال فرض کر دیا گیا ہے۔ وہ تمہیں (طبعاً) ناگوار تو ہوگا، مگر عجب
نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو۔ اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو
بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو۔ اور (ان باتوں کو) اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔‘‘
(البقرہ: 216)
- ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ کا قرب ڈھونڈو اور اللہ کی راہ میں جہاد
کیا کرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘
(المائدہ: 35)
- ’’پس جو لوگ آخرت کو خریدنا اور اس کے بدل میں دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے
ہیں، ان کو چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر شہید ہو جائے یا غلبہ پائے، ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے۔‘‘
(النساء: 74)
- ’’اور ان کافروں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اسلام)
پورے کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
(الانفال: 39)
- ’’نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی
جانوں سے، اگر تم جانتے ہو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘
(التوبہ: 41)
جہاد کی فرضیت اور اہمیت کے بارے میں حضور نبی الملاحم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی چند احادیث مبارکہ پیش ہیں:
- ’’جو شخص فقط اس لیے لڑے تا کہ اللہ کے نام کا بول بالا رہے بس وہی جہاد ہے۔‘‘
(مسلم)
- ’’میری امت کا ایک گروہ اللہ کے حکم کے مطابق قتال کرتا رہے گا، یہ لوگ اپنے
دشمنوں پر چھائے رہیں گے، جس کسی نے ان کی مخالفت کی۔ وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی راہ پر قائم ہوں گے۔‘‘
(صحیح مسلم)
- ’’ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے افضل
ہجرت کون سی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین ہجرت جہاد کی ہجرت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا کہ جہاد کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد یہ ہے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑو اور اس راستے میں نہ خیانت کرو اور نہ بزدلی دکھاؤ۔‘‘
(کنزالعمال)
- ’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں دوست رکھتا ہوں اس بات کو کہ اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔‘‘
(بخاری و مسلم)
- ”حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: یہ دین قائم رہے گا۔ اس حالت میں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے لیے جنگ کرتی رہے گی حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (مسلم)
- ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو
شخص مر جائے اور اس نے کبھی جہاد نہیں کیا اور نہ اس سلسلہ میں کبھی خواہش کا اظہار کیا تو وہ نفاق (منافقت) کے ایک پہلو پر مرتا ہے۔“ (مسلم)
- ”حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت
کے دروازے تلوار کے سائے کے تلے ہیں۔“ (مسلم)
1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزی استعمار اپنے تمام مظالم، جبر و استبداد کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے جذبہ جہاد کے سامنے سپر انداز ہو گیا تھا۔ انگریزوں کی پریشانی کا اندازہ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W.W.Hunter) کی کتاب ”ہندوستانی مسلمان“ (THE INDIAN MUSALMANS) سے لگایا جا سکتا ہے۔
30 مئی 1871ء کو وائسرائے لارڈ میو نے جو کہ ڈزرائیلی حکومت کا آئرش سیکرٹری تھا، ایک مقامی سول ملازم ڈبلیو۔ ڈبلیو۔ ہنٹر کو اس سلگتے مسئلہ پر ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہا: ”کیا مسلمان برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے اپنے ایمان کی وجہ سے مجبور ہیں؟“ ہنٹر کو حقیقت حال تک رسائی کے لیے تمام خفیہ سرکاری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی اجازت دے دی گئی۔ ہنٹر نے 1871ء میں ”ہندوستانی مسلمان۔ کیا وہ اپنے ایمان کی وجہ سے شعوری طور پر ملکہ کے خلاف بغاوت کے لیے مجبور ہیں؟“ کے عنوان سے اپنی رپورٹ شائع کی۔ اس نے اسلامی تعلیمات خصوصاً جہادی تصور، نزول مسیح و مہدی کے نظریات وغیرہ پر بحث کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا:
”مسلمانوں کی موجودہ نسل اپنے معتقدات کی رو سے موجودہ صورتحال (جیسی کہ ہے) کو قبول کرنے کی پابند ہے، مگر قانون (قرآن) اور پیغمبروں (کے تصورات) کو دونوں طریقوں سے یعنی وفاداری اور بغاوت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان ہندوستان میں برطانوی راج کے لیے پہلے بھی خطرہ رہے ہیں اور آج بھی ہیں اور اس دعویٰ کی کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہ باغی اڈہ (شمال مغربی سرحد) جس کی پشت پناہی مغربی اطراف
کے مسلمانوں کے جتھے کر رہے ہیں، کسی کی رہنمائی میں وہ قوت حاصل کرے گا جو ایشیائی قوموں کو اکٹھا اور قابو کر کے ایک وسیع محاربہ Crescentado کی شکل دے دے۔“
(The Indian Musalmans by W.W.Hunter)
اس کے علاوہ وہ مزید لکھتا ہے:
”ہماری مسلمان رعایا سے کسی بھی پُر جوش وفاداری کی توقع رکھنا عبث ہے۔ تمام قرآن مسلمانوں کے بطور فاتح نہ کہ مفتوح کے طور پر تصورات سے لبریز ہے۔ مسلمانانِ ہند ہندوستان میں برطانوی راج کے لیے ہمیشہ کا خطرہ ہو سکتے ہیں۔“
(The Indian Musalmans by W.W.Hunter)
سابق برطانوی وزیر اعظم ولیم ایورٹ گلیڈ سٹون William Ewart) (Gladstone نے اپنے ہاتھ میں قرآن مجید لہرا کر برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
”جب تک یہ قرآن مسلمانوں کے ہاتھوں یا ان کے قلوب و اذہان میں موجود رہے گا، اس کے تصور جہاد کی وجہ سے یورپ، اسلامی مشرق پر اولاً تو اپنا غلبہ و تسلط قائم نہیں کر سکتا اور اگر قائم کر لے تو وہ اسے برقرار رکھنے میں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ خود یورپ کا اپنا وجود بھی اسلام کی جانب سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔“
(اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپی سازشیں از علامہ جلال العالم)
اس سے پہلے انگلستان گورنمنٹ نے 1869ء کے اوائل میں برٹش پارلیمنٹ کے ممبروں، برطانوی اخبارات کے ایڈیٹروں اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد سر ولیم کی زیر قیادت ہندوستان میں بھیجا تا کہ اس بات کا کھوج لگایا جا سکے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو کس طرح رام کیا جا سکتا ہے؟ ہندوستانی عوام اور بالخصوص مسلمانوں میں، وفاداری کیونکر پیدا کی جا سکتی ہے؟ برطانوی وفد ایک سال ہندوستان میں رہا اور حالات کا جائزہ لیا۔ اسی سال وائٹ ہال لندن میں اس وفد کا اجلاس ہوا، جس میں ہندوستانی مشنریز کے اہم پادری بھی تھے۔ کمیشن کے سربراہ سر ولیم نے بتایا:
- ❏ ”مذہبی نقطہ نظر سے مسلمان کسی دوسری قوم کی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے۔
ایسے حالات میں وہ جہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ جوش کسی وقت بھی انھیں ہمارے
خلاف ابھار سکتا ہے۔‘‘
اس وفد نے "The Arrival of British Empire in India" (ہندوستان میں برطانوی سلطنت کی آمد) کے عنوان سے دو رپورٹیں لکھیں، جس میں انھوں نے لکھا: ’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو الہامی سند پیش کرے تو ایسے شخص کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر اس سے برطانوی مفادات کے لیے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔‘‘
انگلستانی وفد کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
REPORT OF MISSIONARY FATHERS
"Majority of the population of the country blindly follow their "Peers" their spiritual leaders. If at this stage, we succeed in finding out some who would be ready to declare himself a Zilli Nabi (apostolic prophet) then the large number of people shall rally round him. But for this purpose, it is very difficult to persuade some one from the Muslim masses. If this problem is solved, the prophethood of such a person can flourish under the patronage of the Government. We have already overpowered the native governments mainly pursuing a policy of seeking help from the traitors. That was a different stage, for at that time, the traitors were from the military point of view. But now when we have sway over every nook of the country and there is peace and order every where we ought to undertake measures which might create internal unrest among the country."
(Extract from the Printed Report. India Office Library, London)
ترجمہ: ’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے پیروں اور روحانی رہنماؤں کی اندھی تقلید کرتی ہے۔ اگر اس موقع پر ہمیں کوئی ایسا شخص مل جائے، جو ظلی نبوت (حواری نبی) کا اعلان کر کے، اپنے گرد پیروکاروں کو اکٹھا کر لے لیکن اس مقصد کے لیے اس کو عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی حکومت کے لیے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ ہم نے مقامی حکومتوں کو پہلے ہی ایسی ہدایات دی ہوئی ہیں کہ غداروں سے معاونت حاصل کی جائے، اس وقت مسلح غداری ہوئی تھی اور صورت حال اور تھی، اب جبکہ ہم نے ملک کے طول و عرض پر کنٹرول حاصل کر لیا
ہے اور ملک میں ہر جگہ امن و امان ہے، ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو ملک میں اندرونی شورش پیدا کریں۔“
(مطبوعہ رپورٹ سے ایک اقتباس : انڈیا آفس لائبریری، لندن)
رپورٹ کو مدنظر رکھ کر تاج برطانیہ کے حکم پر ایسے موزوں اور باعتبار شخص کی تلاش شروع ہوئی، جو برطانوی حکومت کے استحکام اور عملداری کے تحفظات میں الہامات کا ڈھونگ رچا سکے، جس کے نزدیک تاج برطانیہ کے مراسلات، وحی کا درجہ رکھتے ہوں، جو ملکہ معظمہ کے لیے رطب اللسان ہو، برطانوی حکومت کی قصیدہ گوئی اور مدح سرائی جس کی نبوت کا دیباچہ ہو۔ برطانوی شہ دماغوں نے ہندوستان میں ایسے شخص کے انتخاب کے لیے ہدایات جاری کیں۔ پنجاب کے گورنر نے اس کام کی ڈیوٹی ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے ذمہ لگائی۔ چنانچہ ”برطانوی معیار“ کے مطابق نبی کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ آخر کار قرعہ فال قادیان ضلع گورداسپور کے رہائشی مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نکلا۔
- ”برطانوی ہند کی سنٹرل انٹیلی جنس کی روایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے
چار اشخاص کو انٹرویو کے لیے طلب کیا۔ ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے لیے نامزد کیے گئے۔“
(تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیریؒ)
مرزا قادیانی، منیمی سے نبوت تک کیسے پہنچا؟ اس مختصر مگر دلچسپ کہانی کو جناب ابو مدثر اپنے الفاظ میں یوں لکھتے ہیں:
”مرزا غلام احمد کی ابتدائی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے معمولی سی دینی تعلیم حاصل کی۔ اس کے والد نے سکھوں کے عہد میں چھن جانے والی جاگیروں کی بازیابی کے لیے مقدمات قائم کر رکھے تھے اور انگریز کے تعاون سے ان پر دوبارہ قابض ہونے کی فکر میں 1864ء میں اس نے انگریز سے مل ملا کر مرزا قادیانی کو سیالکوٹ کی کچہری میں اہلمد (منشی) کی ملازمت دلوا دی۔ اس دوران اس نے یورپی مشنریوں اور بعض انگریز افسران سے تعلقات پیدا کیے اور مذہبی مباحث کی آڑ میں باہمی میل جول کو بڑھایا۔
1868ء کے لگ بھگ سیالکوٹ میں ایک عرب محمد صالح وارد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس حرمین شریفین کے بعض مفتیان کرام کا ایک فتویٰ تھا، جس میں ہندوستان کو دارالحرب ثابت کیا گیا تھا۔ انگریز کے مخبروں نے آپ کو اعتماد میں لے کر گرفتار کرا دیا۔ آپ پر
دو الزامات عائد کیے گئے۔ ایک امیگریشن ایکٹ کی خلاف ورزی اور دوسرے برطانوی حکومت کے خلاف جاسوسی کرنا تھا۔ سیالکوٹ کچہری کے یہودی ڈپٹی کمشنر پارکنسن (Parkinson) نے تفتیش کا آغاز کیا۔ وہ ان تمام لوگوں کو گرفتار کرنا چاہتا تھا، جن سے نو وارد عرب کا رابطہ تھا۔ دوران تفتیش ایک ایسے آدمی کی ضرورت پڑی، جو عربی کے مترجم کے طور پر کام کر سکے۔ (مجدد اعظم صفحہ 42 از ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری قادیانی) یہ خدمت مرزا غلام احمد قادیانی نے ادا کی اور عرب دشمن اور برطانیہ نوازی کی وہ مثال پیش کی کہ پارکنسن آپ کا گرویدہ ہو گیا۔
ایک اور واقعہ جسے مرزا قادیانی کی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے، وہ پادری بٹلر ایم۔ اے کی لندن واپسی ہے۔ یہ پادری برطانوی انٹیلی جنس کا ایک اہم رکن تھا اور مبلغ کے روپ میں کام کر رہا تھا۔ مرزا صاحب نے مذہبی بحث کی آڑ میں ان سے طویل ملاقاتیں کیں اور برطانوی راج کے قیام کے لیے اپنی ہر قسم کی خدمات پیش کیں۔ 1868ء میں بٹلر ولایت جانے سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ خفیہ بات چیت ہوئی اور معاملات کو حتمی صورت دی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا محمود اپنی تصنیف ”سیرت مسیح موعود“ میں لکھتے ہیں:
- ”ریورنڈ بٹلر ایم۔ اے، جو سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت
مرزا صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے، جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لیے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا، کس طرح تشریف لائے تو ریورنڈ مذکور نے کہا، صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لیے! اور جہاں آپ بیٹھے تھے، وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔“
(سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین محمود صفحہ 12)
ایک خطبے میں مرزا محمود نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
- ”اس وقت پادریوں کا بہت رعب تھا لیکن جب سیالکوٹ کا انچارج مشنری
ولایت جانے لگا تو حضرت صاحب کو ملنے کے لیے خود کچہری آیا۔ ڈپٹی کمشنر اسے دیکھ کر اس کے استقبال کے لیے آیا اور دریافت کیا کہ آپ کس طرح تشریف لائے۔ کوئی کام ہو تو ارشاد فرمائیں مگر اس نے کہا، میں صرف آپ کے اس منشی سے ملنے آیا ہوں۔ یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو قابل قدر ہے۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان، 24 اپریل 1934ء)
اسی سال 1868ء میں مرزا قادیانی بغیر کسی معقول ظاہری وجہ کے اہلمد کی نوکری سے استعفیٰ دے کر قادیان چلا گیا اور تصنیف و تالیف کے کام میں لگ گیا۔‘‘
(قادیان سے اسرائیل تک از ابو مدرشہ)
عالمی تحریک صہیونیت، برطانوی سیاست میں یہودیوں کا دخل، خصوصاً ان کا وزرائے اعظم کے عہدے تک پہنچنا، اسلامیان عالم کی سیاسی و معاشی زبوں حالی، ہندوستانی مسلمانوں کی حصولِ آزادی کے لیے جدوجہد اور انگریز کے سیاسی اور مذہبی تخریب کاری کے لیے خطرناک عزائم، جو علیٰ الترتیب ہنٹر رپورٹ اور مشنری فادرز رپورٹ سے عیاں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک غدار خاندان کے فرد مرزا غلام احمد قادیانی کا یہودی افسروں اور جاسوس مشنری اداروں کے سربراہوں سے روابط اور ان کا پارکنسن کی شہ اور بٹلر کی اشیرباد پر نوکری چھوڑ کر نام نہاد اصلاحی تحریک کا آغاز کرنا ...... یہ سب واقعات اس عظیم سیاسی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو مذہبی روپ دھار کر ”احمدیت“ کی صورت میں منظر عام پر آئی۔
قادیانیت ایک ایسی جارحیت پسند سیاسی تحریک ہے جس نے اپنے مخصوص سیاسی عزائم پر مذہبیت کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ اسلام اور پاکستان کے خلاف جتنی تحریکیں کام کر رہی ہیں، ان میں قادیانی تحریک سب سے زیادہ منظم اور فعال ہے۔ مجددیت، محدثیت، ظلی، بروزی، تشریعی اور غیر تشریعی نبوت، وفات مسیح، الہامات، پیش گوئیاں وغیرہ پر مشتمل ایک پرپیچ اور پراسرار نظام کی آڑ میں اس تحریک کا خدوخال نمایاں نہیں ہوتا۔ اس تحریک کے مذہبی بہروپ کے پس پردہ دراصل وہی روح کام کر رہی ہے جو بالعموم زیر زمین کام کرنے والی خطرناک تحریکوں میں ہوتی ہے۔
بقول آغا شورش کاشمیری ”قادیانی“ مذہب کی پناہ لیتے لیکن سیاست کا ناٹک کھیلتے ہیں۔ جب کوئی ان کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کرتا ہے تو وہ مذہب کے حصار میں بیٹھ کر ”ہم اقلیت ہیں“ کا ناد بجا دیتے اور عالمی ضمیر کو معاونت کے لیے پکارتے ہیں جس سے حقائق نا آشنا دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان کے ”جنونی مسلمان“ گویا اپنی ایک چھوٹی سی اقلیت کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ مرزائی امت کے شاطرین حد درجہ عیار ہیں، کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا کہ جب قادیانی ایک مذہبی اُمت بن کر اپنے سیاسی اقتدار کے لیے سعی و سازش کرتے ہیں تو وہ انہی بنیادوں پر اُس امت کے افراد کو اپنے محاسبہ کا حق کیوں نہیں دیتے جس امت میں نقب لگا کر انہوں نے اپنی جماعت بنائی ہے؟ عجیب بات ہے کہ قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو
وہ سیاسی پناہ تلاش کرتے ہیں، سیاسی محاسبہ کریں تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ مذاق ناروا ہے کہ ایک ایسی جماعت جو اس کے وجود کو قطع کر کے تیار ہوئی ہے، وہ اصل وجود کو اپنے اعضاء و جوارح کی حفاظت کا حق دینا نہیں چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی سرطان کی شکل میں مار دینا چاہتا ہے، اس کے علاج سے روکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے اپنے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے خود قادیانیوں نے کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر قرار دیئے گئے۔ اُن کے بچوں، عورتوں، معصوموں اور بوڑھوں کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہیں زانیہ عورتوں کی اولاد، کتیوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا گیا۔ مسلمانوں نے تو اس سے بہت دیر بعد محاسبہ شروع کیا اور انہیں اپنے سے خارج قرار دیا...... جب مرزائی خود مسلمانوں سے الگ اُمت کہلاتے ہیں تو پھر انہیں مسلمانوں میں شامل رہنے پر اس وقت اصرار کیوں ہوتا ہے جب مسلمان ان کے الگ کر دینے کا مطالبہ کرتے اور انہیں اقلیت قرار دیتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ قادیانی مذہبی اور معاشرتی طور پر عقیدۃً مسلمانوں سے الگ رہتے لیکن سیاسۃً ان کا پنڈ نہیں چھوڑتے۔ اس کی واحد وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے حقوق و مناصب پر ہاتھ صاف کرتے اور ان کی ریاست پر حکمران ہونا چاہتے ہیں یا پھر انہیں مٹا کر اپنا سیاسی نقشہ مرتب کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔‘‘
جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی برٹش حکومت کا خود کاشتہ پودا تھا۔ انگریز نے اپنے نظریہ ضرورت کے تحت قادیانی تحریک کو پروان چڑھایا۔ جناب مرتضیٰ احمد میکش رقمطراز ہیں:
’’قادیانیت، برطانیہ کی استعماری سیاست کا ایک خود کاشتہ پودا ہے یعنی ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جو انگریزوں کے مقبوضہ ہندوستان میں ایک ایسی مذہبی جماعت پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی جو سرکار برطانیہ کی وفاداری کو اپنا جزو ایمان سمجھے، غیر اسلامی حکومت یا غیر مسلم حکمرانوں کے استیلا کو جائز قرار دے اور ایک ایسے ملک کو شرعی اصطلاح میں دارالحرب سمجھنے سے عقیدہ کا بطلان کرے جس پر کوئی غیر مسلم قوم اپنی طاقت وقوت کے بل پر قابض ہو گئی ہو۔ انگریز حکمرانوں کی قہاریت اور جباریت کو مسلمان از روئے عقیدۂ دینی، اپنے حق میں اللہ کا بھیجا ہوا عذاب سمجھتے تھے اور ان کی رضا کارانہ اطاعت کو گناہ متصور کرتے تھے۔ انگریز حکمران، مسلمانوں کے اس جذبے اور عقیدے سے پوری طرح آگاہ تھے۔ لہٰذا انھوں نے اس سرزمین میں ایک ایسا ’’پیغمبر‘‘ کھڑا کر دیا جو انگریزوں کو اولی الامر منکم کے تحت
میں لا کر ان کی اطاعت کو مذہباً فرض قرار دینے لگا اور ان کے پاس ہندوستان کو دارالحرب سمجھنے والے مسلمانوں کی مخبری کرنے لگا۔ جس طرح باغبان اپنے خود کشتہ پودے کی حفاظت و آبیاری میں بڑے اہتمام سے کام لیتا ہے، اسی طرح سرکار انگریزی نے مرزائیت کو فروغ دینے کے لیے مرزائی جماعت کی پرورش کرنا اپنی سیاسی مصلحتوں کے لیے ضروری سمجھا اور اس فرقہ کے پیروؤں سے مخبری ، جاسوسی اور حکومت کے ساتھ جذبہ وفاداری کی نشر و اشاعت کا کام لیتی رہی۔" (پاکستان میں مرزائیت از مرتضیٰ خاں میکش)
مرزا قادیانی کا انگریزوں کا ٹاؤٹ ہونا اور جہاد کی مخالفت کرنا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ قادیانی مذہب میں انگریزوں کی اطاعت جزوایمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنہ کی پرورش اور حفاظت، انگریز نے خود کی اور انہیں ہر طرح کی مراعات سے نوازا اور انہیں مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچایا۔ آج بھی اس مذہب کے ماننے والوں کی ہمدردیاں یہودونصاریٰ کے ساتھ ہیں اور ان کی ہمدردیاں قادیانیوں کے ساتھ ہیں۔ دونوں کا مقصد اسلامی تعلیم اور یک جہتی کو تار تار کرنا ہے۔ یہودونصاریٰ اور قادیانیوں کا باہمی گٹھ جوڑ ”الکفر ملۃ واحدہ“ کی بہترین مثال ہے۔
اسلامی عقائد میں یہ عقیدہ تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ قرآن وحدیث میں ان کی کئی ایک نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ ان نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی شخص کافر نہ رہے گا اور جہاد ختم ہوجائے گا۔
حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے:
- حدثنا اسحق قال اخبرنا یعقوب بن ابراھیم قال حدثنا ابی صالح عن
ابی شھاب ان سعید بن المسیب سمع ابوھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیكسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتٰی تكون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیھا۔ ثم یقول ابو ھریرۃ فاقرؤا ان شئتم و ان من اھل الكتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔ (بخاری و مسلم)
(ترجمہ) حضرت ابو ہریرہؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً ابن
مریم تمہارے درمیان حاکم عادل ہو کر اتریں گے، پس صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جنگ ختم کر دیں گے، مال کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال و متاع سے ایک سجدہ (قدر و قیمت کے لحاظ سے) اچھا معلوم ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے تھے کہ اگر تم نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل اس ارشاد نبوی کے ساتھ قرآن سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”ان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کیونکہ اس میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جتنے اہل کتاب ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
اس حدیث کا سہارا لیتے ہوئے آنجہانی مرزا قادیانی نے انگریز کی شہ پر اپنے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میرے آنے سے جہاد کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔ حالانکہ حدیث مبارکہ میں ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کا ذکر ہے جبکہ مرزا قادیانی ابن چراغ بی بی ہے۔ ابن مریم سے چراغ بی بی مراد لینا قادیانی تاویلات کی ادنیٰ مثال ہے۔
مرزا قادیانی نے کہا:
- ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام
پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)
- ”میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا
نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے۔“
(دافع البلاء صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 238 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام
ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 526 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ”اب سے زمینی جہاد بند ہوگیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا جیسا کہ حدیثوں میں
پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسولؐ کا، نافرمان ہے۔ صحیح بخاری
کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی مستند تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہیں امت مسلمہ کے ماضی سے کوئی عقیدت ہے نہ اس کے حال سے کوئی دلچسپی۔ مستقبل کی تو بات ہی نہ کیجیے۔ ہماری اور ان کی امنگوں میں کوئی یکسانیت ہے نہ یکجہتی۔ ملت اسلامیہ کے دشمنوں کو وہ اپنا مربی اور سرپرست سمجھتے رہے۔ جس انگریز نے برصغیر میں اسلامی اقتدار کا چراغ گل کیا، ہماری تہذیبی قدروں کو روندا، لاکھوں بے گناہ مسلمانوں اور علمائے کرام کو قتل کیا، کیا کسی مسلمان کے دل میں ان دشمنان اسلام کے لیے خیر سگالی کے جذبات پائے جاسکتے ہیں؟ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی ان کے تملق، مدح سرائی، دعائیں، خیر سگالی کے جذبات اور ان کے پنجہ استبداد کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل تقریری اور تحریری کاوشیں کرتا رہا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
- يايها الذين امنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم
اولياء بعض ط ومن يتولهم منكم فانه منهم ط ان الله لا يهدى القوم الظلمين o (المائدہ:51)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو شخص انہیں اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
اس قرآنی تعلیم کے برعکس یہود ونصاریٰ سے دوستی، ان کی پرجوش حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کی بے شمار تحریروں میں سے صرف چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے اور غور کریں کہ وہ اسلام دشمنی میں کس طرح اپنے جذبات اور خدمات کے لیے ان کی ایک نگاہ التفات کے لیے بے تاب تھا۔
وہاں قرآن اترا ہے، یہاں انگریز اترے ہیں
خاندانی خدمات
- ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا
والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے، اور 1857ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6 از مرزا قادیانی)
میرا باپ، بھائی اور میں
- ’’اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا، یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ
گیا اور سفر آخرت کا وقت آ گیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عندالضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا، یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 37، 38 از مرزا قادیانی)
بزرگوں سے زیادہ خدمات
- ’’میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول
ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 66، 67 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
خودکاشتہ پودا
- ”سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے
ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں، اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 198 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
سترہ سال سے یہ غم ہی مرا ناشتہ ہے
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت
یہ وہ پودا ہے جو سرکار کا خود کاشتہ ہے
ہم اور ہماری اولاد پر فرض
- ”ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے
ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 166 از مرزا قادیانی)
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
ممانعت جہاد کی کتابیں، بے نظیر کارگزاری
- ”پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم
سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد و تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں، ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت موثر تقریریں لکھیں۔ اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔
(کتاب البریہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 ، صفحہ 6 ، از مرزا قادیانی)
خدا تعالیٰ سے عہد
- ”میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا بلکہ میں ان کی وفات کے بعد اللہ جلشانہ
کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنھوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کیے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اُٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔“
(نور الحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38 ، 39 از مرزا قادیانی)
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں
پچاس الماریاں
- ❑ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے
اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155، 156 از مرزا قادیانی)
تا نہ بخشد ”انگریز“ بخشندہ
مرزا قادیانی کی تقریباً 100 کے قریب کتب ہیں جس میں اپنی ذات اور اپنے آبا و اجداد کی تعریف میں تقریباً نصف سے زیادہ صفحات سیاہ کر دیے ہیں اور بقیہ 1/4 حصہ میں گورنمنٹ برطانیہ کی تعریف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بازاری آوازے، توہین انبیائے کرام، شعائر اسلامی کی اہانت، بزرگانِ دین کے اقوال میں تحریف، مخالفین کو گالیاں، غیر مذاہب پر غیر شریفانہ جملے اور اپنی نام نہاد وحی و الہامات پر خرچ کیے۔ مرزا قادیانی کی ان تمام تصانیف کے لیے ایک عام الماری کا 1/4 حصہ کافی ہے۔ مگر ”سلطان القلم“ کا دعویٰ ہے کہ اس نے انگریز کی اطاعت اور ممانعت جہاد کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اس سے 50 الماریاں بھر سکتی ہیں۔ ہمارا دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ ہمیں مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں پر مشتمل کتابوں کی فہرست فراہم کریں، ہم انہیں منہ بولا انعام دیں گے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی قادیانی ہمارا یہ چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو ثابت کرنا کسی قادیانی کے بس میں نہیں۔ قادیانیوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے!
اور گواہ اس پر ہیں مرزا کی پچاس الماریاں
مجھے فخر ہے!
- ”یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اُردو فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام
کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، اشاعت کر دی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے۔ اس لیے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی! اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہ کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114، از مرزا قادیانی)
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
سلطنت برطانیہ...... نعمت الٰہی، نعمت عظمیٰ
- ”بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام
ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے، اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے، اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے، نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔“
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
اور غور کیجیے کہ چودہ سو سال سے جس مسیح کی آمد کی خوش خبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی ہے، معاذ اللہ، کیا وہ ایسا ہی مسیح ہے کہ جو صلیب پرستوں اور اسلامی حکومتوں کے دشمنوں کا مداح و ثنا خواں ہو، ان کے شکر اور دعا میں مع اپنی تمام امت کے رطب اللسان ہو، اسلامی حکومتوں کے زوال پر چراغاں کرنے والا ہو، اور مسلمانوں کے قاتلوں کو مبارک باد کے تار دینے والا ہو۔ مسیح کا کام تو کفر کی حکومت کو ختم کرنا ہے، نہ کہ دشمنان اسلام کی تائید اور حمایت کرنا اور ان کی بقا اور ترقی کے لیے دل وجان سے دعا کرنا اور ان کے سایہ کو سایہ رحمت سمجھنا۔
1857ء میں مرزا قادیانی کوئی ناسمجھ طفل نہیں تھا بلکہ بھر پور جوان تھا اور 1857ء میں انگریزوں نے اپنی کامیابی کے بعد مسلمانوں سے کیا سلوک کیا؟ اس سے وہ ناواقف نہیں ہوسکتا تھا۔ خاص کر جب ہر طرف ایک ایک درخت کے ساتھ کئی کئی مسلمانوں کی لاشیں لٹکی ہوتی تھیں۔ اب جس حکومت کو مرزا قادیانی ”خدا کی رحمت“ قرار دیتا تھا، اس کے ماتحت مسلمانوں کی حالت زار بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔
1857ء کی جنگ آزادی میں برصغیر کے عوام کی ناکامی کے بعد تہذیب و تمدن کے علمبرداروں نے تہذیب کو برہنہ کر دیا۔ شرافت کا منہ نوچ لیا۔ حیا کے نقاب کو تار تار کر دیا۔ پردہ پوش خواتین کو گھروں سے نکال کر بالوں سے پکڑ کر عریاں گھسیٹے ہوئے گورے ٹامیوں کے کیمپوں میں پہنچا دیا گیا۔ جس مسلمان کو دیکھا اس کو غدار سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا یا توپ دم کر دیا۔ ان نظاروں کو دیکھ کر ظہیر دہلوی نے کہا تھا:
1857ء کی جدوجہد آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے جو مظالم کیے، وہ اتنے شدید تھے کہ پورے ہندوستان پر خوف و ہراس طاری ہوگیا۔ انبالہ سے دہلی تک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس پر کسی مسلمان کی لاش نہ لٹکتی ہو۔
نعرہ حق کی کوئی اور سزا دیجیے!
ہزاروں بے قصور مسلمانوں کو انگریزوں نے مار ڈالا۔ ان کے بدنوں کو سنگینوں سے چھیدا جاتا تھا۔ مسلمانوں کو ننگا کر کے اور زمین سے باندھ کر سر سے پاؤں تک جلتے ہوئے تانبہ کے ٹکڑوں سے بری طرح داغ دیا جاتا اور انہیں سور کی کھالوں میں سی دیا جاتا۔ ہزاروں
مسلمان عورتوں نے فوج کے خوف سے کنوؤں میں چھلانگ لگا دی۔ یہاں تک کہ پانی میں ڈوب گئیں۔ جب زندہ عورتوں کو کنوؤں سے نکالنا چاہا تو انہوں نے کہا ہمیں گولیوں سے مار ڈالو، نکالو نہیں، ہم شریف گھروں کی بہو بیٹیاں ہیں۔ ہماری عزت خراب نہ کرو۔ بعض مسلمانوں نے اپنی عورتوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔
بقول حضرت مولانا محمد اقبال رنگونی: ”سقوط دہلی کے بعد مسلمانوں پر جو گزری ہے وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دور دیکھا ہے۔ وہ اس وقت بچہ نہ تھا کہ اسے کچھ بھی معلوم نہ ہو اور اس کے بعد گزرنے والا ہر دن ہندوستان کے باشندوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے قیامت کا منظر بنا ہوا تھا اور قدم قدم پر ہوش ربا اور روح فرسا واقعات رونما ہو رہے تھے اور یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اسی غلامی اور جبر و تسلط کے دور سے تعلق ہے۔ یہ زیادتی اور ناانصافی کا زمانہ ہے مگر ایک مدعی نبوت اس دورِ غلامی کو رحمت و برکت کا زمانہ بتاتا ہے اور ظالموں و جابروں کے قصیدے اور نغمے گا گا کر ملتِ اسلامیہ کو ان کا غلام رہنے کی تعلیم و تاکید کرتا ہے۔“
13 اپریل 1919ء کو بیساکھی کے روز جلیانوالہ باغ کے احتجاجی جلسہ میں جنرل ڈائر نے نہتے لوگوں پر انگریز سپاہیوں کے کئی دستوں کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ جلیانوالہ باغ کو فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور بغیر کسی انتباہ کے پُر امن عوام پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ نوجوان گولیاں کھا کھا کر گرتے تھے اور ان کی جگہ اور نوجوان آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلیانوالہ باغ میں خون انسانی کی ندیاں بہنے لگیں۔ زخمی تڑپتے اور کراہتے ہوئے نظر آنے لگے، جو لوگ اس آتش بازی سے جاں بچانے کے لیے بھاگے، وہ جلیانوالہ باغ کے کنوئیں میں گر کر جاں بحق ہو گئے۔ جلیانوالہ باغ میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑیں تھیں اور کنواں لاشوں سے اَٹ گیا تھا۔ ڈائر نے جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا، اس نے 1857ء کے میجر ہڈسن اور کرنل نیل کے ظلم وستم کی داستان خونچکاں کی یاد تازہ کر دی۔ میجر ہڈسن وہ خونخوار بھیڑیا تھا جس نے مغل شہزادوں کے سر کاٹ کر ان کا چلو بھر خون پیا تھا اور ان شہزادوں کے سروں کو ایک طشت میں لگا کر ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی خدمت میں پیش کیا تھا اور کرنل نیل وہ شیطان صفت بدطینت وحشی درندہ تھا جس نے 1857ء میں مسلم خواتین کو بے لباس کر کے ان کے لواحقین کو
ان سے برا بھلا کرنے پر مجبور کیا تھا اور جب ان مجاہدوں نے انکار کیا تو انھیں بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان شریف زادیوں کو وحشی ٹامیوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر جو ہوا سو ہوا حتیٰ کہ وہ ہمیشہ کی نیند سو گئیں۔
اگر مرزا قادیانی ان ستم رانیوں اور وحشت و بربریت کے باوجود انگریزی سلطنت کو ”رحمت خداوندی“ سمجھتا تھا تو پھر بیچارے چنگیز اور ہلاکو تو خواہ مخواہ میں بدنام ہیں۔ وہ تو انگریز کے مقابلے میں رحمت کے بہت بڑے فرشتے تھے کیونکہ انھوں نے کبھی شریف زادیوں کو ننگا کر کے ان کے لواحقین کو ان سے بدکاری کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا حالانکہ وہ کورے وحشی تھے اور ”مہذب“ انگریز کے مقابلے میں تہذیب و تمدن جیسی کوئی چیز ان کے پاس سے نہ گزری تھی۔ کٹے ہوئے سروں کے مینار، انسانی خون کی بہتی ہوئی ندیاں، کراہتے ہوئے زخمیوں کا تڑپنا، بے بس عورتوں کی چیخ و پکار اور جلے ہوئے شہروں کی اڑتی ہوئی راکھ، چنگیز اور ہلاکو کی فوجوں کے دل پسند مناظر تھے لیکن ان کی قتل و غارت کی ساری تاریخ میں ایک واقعہ بھی نہیں جہاں انھوں نے بے بس عورتوں کو برہنہ کر کے ان کے لواحقین کو ان سے فعل بد کرنے پر مجبور کیا ہو لیکن یہ ننگ انسانیت، طغرائے امتیاز صرف اس سلطنت کو حاصل ہوا جو مرزا قادیانی کی نگاہ میں ”رحمت خداوندی“ تھی اور جس کے وہ عمر بھر قصیدے پڑھتا رہا۔ اگر یہ رحمت تھی تو پتا نہیں لعنت کس کو کہتے ہیں؟
دنیا کی سب سے بڑی مکار، ظالم، اسلام دشمن، حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر ہر روز نئی یورش کرنے والی اور مسلمانوں کے خون سے صدیوں ہولی کھیلنے والی انگریز حکومت کو، ٹھیک اس وقت جب اس کے ہاتھ ہندوستان کے ہزاروں علما اور مجاہدین حریت کے خون سے رنگین تھے اور اس لمحے جب یہ حکومت اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود اور ملت اسلامیہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری مسلم دنیا پر حملہ آور تھی، مرزا قادیانی یہ یقین دلاتا ہے:
سخت جاہل، نادان اور نالائق مسلمان
- ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہیے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔
کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام
پایا اور پارہے ہیں، وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے ، ہرگز نہیں پاسکتے ۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 510 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 373 از مرزا قادیانی)
سکون ، نہ مکہ میں نہ مدینہ میں
- ”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا، اور اپنے
مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا، تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے، نہ مدینہ میں، اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
(تریاق القلوب صفحہ 28، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156 از مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت کے لیے ضروری نصیحت
- ”چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں
سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں، جن سے بغاوت کی بو آتی ہے، بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا، اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو، جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں، جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں، جو قریباً سولہ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں، یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں، کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانی حکمت عملی؟؟؟
- ”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جُرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ
بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں
کر سکتا ۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے، ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں مَیں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مَیں نیک نیتی سے دُوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں ۔ اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں ۔ اور مَیں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حدِ اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں......... تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب مَیں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لیے حکمتِ عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور مُلک میں کوئی بے امنی پید نہ ہو۔ تب مَیں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں، ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی ۔ اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آ چکے تھے، یکدفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے ۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اُس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اُس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ با ایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی ۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اُس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دُودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو حضور شفیع المذنبین ﷺ سے پہلے ہوچکے ہیں، ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں۔ جس کی تفصیل کے لیے اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 361 تا 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 489 تا 491 از مرزا قادیانی)
1927ء میں لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے دنیا کی عظیم ترین، پاکیزہ ترین ہستی، محبوب خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف ایک نہایت دلآزار کتاب شائع کی جس میں آپ ﷺ کی ذات گرامی کی بے حد توہین کی گئی تھی۔ اس کتاب کی اشاعت پر پورے عالم اسلام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس گستاخی کو برداشت نہ کرتے ہوئے ایک محبّ رسول غازی علم الدین شہیدؒ نے 16 اپریل 1929ء کو ملعون راجپال کو قتل کردیا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کے اس کارنامے کو پوری ملت اسلامیہ نے سراہا۔ لیکن قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے اس واقعہ کی ناصرف مذمت کی بلکہ راجپال کے خاندان کے ساتھ تعزیت بھی کی۔ مرزا بشیر الدین نے اپنی ایک تقریر میں کہا:
وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟
- ’’اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیا کی توہین کی وجہ
سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے۔......
وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی
ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 8، 9 مورخہ 19 اپریل 1929ء)
ابلیس کو ٹھہراتا ہے کیا مورد الزام
غرض کہ یہ قادیانی اصول قرار پایا کہ رسول اللہ ﷺ یا اہل بیتؓ کی شان میں خواہ کتنی ہی بے ادبی اور گستاخی کی جائے، ضبط و تحمل سے کام لیا جائے، اُف تک نہ کی جائے اور اگر کوئی اس سلسلہ میں غیرت ایمانی میں اپنی جان پر کھیل جائے تو اس کو اور اس کے ہمدردوں کو مجرم گردان کر مطعون کیا جائے.......... لیکن مرزا قادیانی اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ اصول بالکل الٹ گیا اور قرار پایا کہ قانونی چارہ جوئی کی جائے اور اگر جان بھی لی جائے تو اس کی تائید وتحسین کی جائے۔
قادیانی عہد
- ”جماعت احمدیہ کو اس کے مخالفین خواہ کتنا ہی غلطی خوردہ سمجھیں، گمراہ قرار دیں،
لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو خدا کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے اور اس کا ہر ایک فرد سب سے اوّل دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے احکام کے مقابلے میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ آپ کی حرمت اور آپ کی تقدیس کے لیے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 17 نمبر 80 صفحہ 3 مورخہ 15 اپریل 1930ء)
خون کا آخری قطرہ
- ”سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ
تک بہا دینے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور سلسلہ (قادیانیت) کی ہتک ہے۔“
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43 صفحہ
5 مورخہ 20 اگست 1935ء)
حرامی اور بدکار آدمی
- ’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست
ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 84، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
بندوق کا جہاد؟
- ’’جنگ سے مراد تلوار، بندوق کا جنگ نہیں۔ کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف
ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لیے جنگ کیا جائے، اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کیے جائیں۔ ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کیے جاتے ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 2، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 130 از مرزا قادیانی)
تو حرب وضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے
دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ
- ’’اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد‘‘
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)
نامور ادیب اور دانشور جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں: ”اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے تلوار چلانا‘ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ممنوع تھا (”لا اکراہ فی الدین“) اور آج بھی ممنوع ہے اور اسلام کی حمایت اور حفاظت کے لیے تلوار اٹھانا، ابتدائے اسلام میں بھی جائز تھا، آج بھی جائز ہے اور قیامت تک جائز رہے گا۔ مرزا قادیانی سے جو غلطی دانستہ یا نادانستہ طور پر سرزد ہوئی، وہ یہ تھی کہ اس نے اسلامی جہاد کے غلط معنی دنیا کے سامنے پیش کیے۔
دِیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
ان دونوں مصرعوں میں جو لفظ ”اب“ آیا ہے اگرچہ ادبی زاویۂ نگاہ سے اس کی تکرار بہت مذموم ہے لیکن مرزا قادیانی کی، اسلام سے ناواقفیت کا ثبوت دینے کے لیے بہت کافی ہے یعنی ان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے جنگ وقتال پہلے جائز تھا‘ اب جائز نہیں ہے۔ کس قدر عظیم الشان مغالطہ ہے جو اس نے دنیا کو دیا! کاش اسے تاریخ وفلسفۂ اسلام سے واقفیت ہوتی! دین کی اشاعت کے لیے جہاد کرنا پہلے کب جائز تھا؟ جو تم آج ناجائز قرار دے رہے ہو؟ اسلام پہلے کب بزورِ شمشیر پھیلایا گیا جو آج تم ناصح مشفق بن کر اس کی ممانعت کر رہے ہو؟ اگر جوع الارض کو تسکین دینے کے لیے یا ملوکیت اور شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے یا بے گناہ اقوام کو غلام بنانے کے لیے جہاد کیا جائے تو وہ جہاد ہی کب ہے؟ وہ تو غارت گری ہے۔ خود علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
جنگِ مومن سنتِ پیغمبری است
تعجب ہوتا ہے تعلیم یافتہ قادیانی حضرات پر کہ یہ لوگ کیونکر اس سفسطہ کا شکار ہو سکتے ہیں؟ کیا قادیانیوں میں کوئی ایسا روشن خیال انسان نہیں جو اسلامی فلسفہ وتاریخ کا مطالعہ کر کے اس مغالطہ کی دلدل سے باہر نکل سکے؟ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوسکتی ہے کہ اسلام میں جہاد کا معنی اور مفہوم کیا ہے؟ جنگ اور قتال اگر اس کا محرک ہوسِ ملک گیری اور استعماری حکمتِ عملی ہو تو یہ بات اسلام میں کبھی بھی جائز نہ تھی۔ پھر مرزا قادیانی اپنے اس ”الہامی شعر“ میں کس چیز کو حرام قرار دے رہا ہے؟ اسی بات کو نا‘ جو پہلے ہی سے حرام ہے تو حرام کو حرام قرار دینا یہ کون سی دانشمندی ہے؟ اور اگر ان کا
مطلب یہ ہے کہ خطرہ کے وقت بھی مسلمانوں کا اپنے مذہب کی حمایت میں تلوار اٹھانا حرام ہے تو وہ مذہب اسلام سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے قادیانی حضرات جو صورت پسند کریں اختیار فرمالیں، مرزا قادیانی کی علمی اور مذہبی پوزیشن بہر حال متزلزل ہو جائے گی۔ اگر پہلی صورت صحیح ہے تو مرزا قادیانی مغالطہ کا مرتکب ثابت ہوا اور دوسری صورت کو تسلیم کیا جائے تو اسلام کے اصولوں سے کورا نظر آتا ہے۔
اسی لیے حکیم الامت علامہ اقبال نے مسلمانوں کو مرزا قادیانی اور مرزائیت دونوں کی غلط تعلیمات سے محفوظ کر لینے کے لیے اسرار خودی میں اس حقیقت کو آشکار فرما دیا ہے کہ اسلام میں جہاد کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد وحید اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اگر کوئی طاقت مسلمان کو اس کے اس مذہبی فریضہ کی تکمیل سے باز رکھنا چاہے یا اس میں مزاحمت کرے تو وہ حق و صداقت کی حمایت میں تلوار اٹھا سکتا ہے۔ لیکن وہ جہاد جس کا مقصد جوع الارض ہو تسخیر ممالک ہو یا قتل وغارت گری ہو اسلام میں بالکل حرام ہے۔ چنانچہ علامہ فرماتے ہیں:
تیغ اُو در سینۂ او آرمید
اب جو شخص بھی مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا شعر کو پڑھے گا وہ لامحالہ یہی سمجھے گا کہ دین کی اشاعت کے لیے پہلے اسلام میں جنگ و قتال جائز تھا یعنی نعوذ باللہ قرون اولیٰ میں اسلام کی اشاعت اس کے پاکیزہ اصولوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے ہوئی اور تیرہ سو سال کے بعد جا کر مرزا قادیانی نے اس بات کو حرام قرار دیا ہے۔
معلوم نہیں مرزا قادیانی نے جہاد کے متعلق یہ غلط خیال کیوں پھیلایا۔ شاید حکومت برطانیہ کی نظروں میں عزت حاصل کرنے کے لیے، ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے تلوار چلانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی جائز نہ تھا اور نہ قرآن مجید کی اس صریح آیت کی موجودگی میں (لا اکراہ فی الدین) کسی کو بزور شمشیر مسلمان کرنا جائز ہوسکتا ہے اور اسلام تو سرتاپا معقولیت پسند مذہب ہے۔ وہ کب اس بات کو روا رکھ سکتا ہے کہ لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جائے۔
اگر دین کے لیے جنگ و قتال، مرزا قادیانی سے پہلے حلال ہوتا تو ڈاکٹر آرنلڈ جو ایک سچا مسیحی تھا اور یقیناً مسلم نہ تھا کس طرح اپنی مشہور کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ مرتب کر
سکتا تھا؟ اس کتاب میں اس منصف مزاج عیسائی نے اسلامی تاریخ کی بناء پر یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ اسلام اپنی ابتداء سے آج تک تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔‘‘ (علامہ اقبال اور فتنہ قادیانیت از محمد متین خالد)
دین کے لیے لڑنا حرام ہے
- ”اب سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا جیسا کہ حدیثوں میں
پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسول کا، نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 401 طبع جدید از مرزا قادیانی)
حالانکہ ارشادِ خداوندی ہے۔
وَقٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ۔ (البقرہ:193)
ترجمہ: ”اور ان (کافروں) سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اللہ ہی کے تابع ہو جائے۔‘‘
حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا:
- لن يبرح هذا الدين قائما يقاتل عليه عصابة من المسلمين
حتى تقوم الساعة. (صحیح مسلم)
”دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔‘‘
خدا تعالیٰ کا الہام؟
- ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ
گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔ (1) اول والد مرحوم کے اثر نے (2) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (3) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 491 از مرزا قادیانی)
جہاد، خدا کے حکم سے بند
جہاد کی ممانعت کے بارے مرزا قادیانی نے کہا:
- ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ خدا کے اس حکم کی نشاندہی فرمادیں کہ جس سے وہ انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند ہوگیا؟؟؟
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
اسلام کے دو حصے
- ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔
ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔..... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381 از مرزا قادیانی)
یہاں مرزا قادیانی نے ”ظالموں“ کا لفظ مسلمانوں کے لئے استعمال کیا حالانکہ مسلمان برطانوی سامراج کے پنجۂ استبداد میں بے بسی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اس حقیقت کا علم مرزا قادیانی کو بخوبی تھا۔
برٹش گورنمنٹ کا وفادار اور جانثار فرقہ
- ”میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ
باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جان نثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لیے خطرناک نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 193 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
مبارک ہو
- ”تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام
(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 141 از مرزا قادیانی)
شجاعت
- ”سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ
لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم، صفحہ 361 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
کوئی اندر سے تعلیم دیتا ہے
- ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی
اعجاز نمائی کو انشا پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“
(نزول المسیح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 از مرزا قادیانی)
۞.......۞.......۞
پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں
قادیانیت، مذہب کے لبادے میں اسلام دشمن طاقتوں کی آلہ کار سیاسی تحریک ہے، جس کا مقصد اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو منہدم کرنا ہے۔ یہ فتنہ، انگریز کا جاسوس اور ملت اسلامیہ کے لیے ناسور ہے۔ بقول آغا شورش کاشمیری، ”قادیانیت، عجمی اسرائیل ہے“۔ اس کا ہر قدم اسلام کے خلاف، اس کا ہر فیصلہ ملت اسلامیہ کے برعکس اور اس کی ہر تدبیر پاکستان سے بغاوت ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک جماعت ہے جو اپنے بیرونی آقاؤں کے مخصوص مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ قادیانیت کی تاریخ، عالم اسلام سے غداری، مسلمان ممالک کے خلاف سازشوں اور ملت اسلامیہ کی مصیبتوں پر جشن منانے سے عبارت ہے۔ 7 ستمبر 1974ء بلاشبہ عالم اسلام بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے لیے ایک یادگار دن کی حیثیت رکھتا ہے، جب پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل مکہ مکرمہ میں 6 تا 10 اپریل 1974ء کو رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام ایک اہم کانفرنس ہوئی تھی جس میں دنیا بھر سے 140 تنظیموں اور ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں یہ متفقہ قرار داد منظور ہوئی تھی کہ: ”قادیانیت، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے، جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ چنانچہ اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے“۔ یہ ایک اہم کام تھا جسے نیک جذبے سے مکمل کیا گیا، لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد عالم اسلام نے اپنے آپ کو ان کی ظاہری اور پس پردہ خطرناک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے فرض سے سبکدوش قرار دے لیا۔ حالانکہ 1974ء کے اس تاریخی فیصلہ کے بعد مسلم تنظیموں خصوصاً اسلامی ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ قادیانیوں کی زیرِ زمین سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا اور اسلامی ملکوں کے خلاف ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کا کام جاری رہنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور اس کے سنگین نتائج اب سامنے آ رہے
ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے بالواسطہ طریقوں سے کام لے کر پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس کی خارجہ پالیسی کو ایسی شکل دی جو ان کی اور ان کے سامراجی آقاؤں کی مرضی و منشا کے عین مطابق تھی۔ قادیانی اپنے خلیفہ کے حکم پر پاکستان کو ختم کرنے اور یہاں قادیانی ریاست قائم کرنے کے لیے برابر کوشاں ہیں۔ قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان کے خلاف اس قدر سازشیں ہیں کہ ”سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے۔“ بہر حال صفحات کی کمی کے پیش نظر زیر نظر کتابچہ میں قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف بھیانک سازشوں کا مختصراً احاطہ کیا گیا ہے جو محبان پاکستان کے لیے چشم کشا بھی ہیں اور دعوت فکر و عمل بھی۔ آئیے ملاحظہ کریں:
علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت
ترجمان حقیقت حضرت علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کے شہرہ آفاق دانشور، عظیم اسلامی اور روحانی شاعر، اعلیٰ درجہ کے مفکر اور بلند پایہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد ساز انسان بھی تھے۔ ایسی زندہ جاوید ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا دل ملت اسلامیہ کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ وہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کے وارث تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انحطاط اور تنزل کی گھاٹی کی طرف تیزی سے گرتے عالم اسلام کے مضمحل بدن میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے انقلاب کی راہ دکھائی۔
حضرت علامہ اقبالؒ نے نہ صرف قادیانیت سے اپنی سخت بیزاری کا اعلان کیا بلکہ اس فتنہ کے محاسبہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا۔ انہیں اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ملت اسلامیہ کو جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، ان میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت کا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کی ملت اسلامیہ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خطبات، مضامین، توضیحات اور خطوط کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی اور اس تحریک کے عالم اسلام پر دینی، معاشی اور تمدنی اثرات اور ان کے منفی نتائج سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ علامہ اقبالؒ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حکومت کو سب سے پہلے یہ مطالبہ پیش کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے اندر رہ کر ایک نئی امت تشکیل دے رہے ہیں۔
حضرت علامہ اقبالؒ نے 1936ء میں پنجاب مسلم لیگ کی کونسل میں قادیانیوں کو
غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز بھی پاس کرائی اور صوبائی اور مرکزی اسمبلی کے لیگی امیدواروں سے حلفیہ تحریری اقرار نامہ لکھوایا کہ وہ کامیاب ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے لیے آئینی اداروں میں مہم چلائیں گے۔
علامہ اقبال کا قادیانیت سے تنفر کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے نام اپنے 21 جون 1936 کے مکتوب میں قادیانیوں کو اسلام اور ہندوستان دونوں کا غدار قرار دیا۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے لکھا:
"I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors both to Islam and to India."
”میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی‘ اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔“
مزید فرمایا:
- ”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت‘ بانی اسلام
کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی‘ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے حضور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“ (حرفِ اقبال از لطیف احمد خاں شروانی صفحہ 112)
- ”ہمیں قادیانیوں کی حکمتِ عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو
فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک نے ملتِ اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ اور اپنے مقلدین کو ملتِ اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار‘ جماعت کا نیا نام (احمدی)‘ مسلمانوں کے قیامِ نماز سے قطع تعلق‘ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے‘ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔“
(اخبار سٹیٹسمین دہلی کے نام خط مطبوعہ 10 جون، 1935ء)
- ”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا
جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“ (اخبار سٹیٹسمین دہلی کے نام خط مطبوعہ 10 جون، 1935ء)
قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور قادیانی
قائد اعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ 1948ء میں کشمیر سے واپسی پر قائد اعظمؒ سے سوال کیا گیا: ”قادیانیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟“ تو آپ نے فرمایا ”میری رائے وہی ہے جو علمائے کرام اور پوری اُمت کی ہے۔“ آپ کے ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ پوری اُمت کی طرح قادیانیوں کو کافر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے آپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا اور آپ کی حکومت کو کافر حکومت کہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء میں راجہ صاحب آف محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ ”قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی پاکستان سے وفاداریاں مشکوک ہیں۔ میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔“ (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل صفحہ 4 تا 6، 12 فروری 1987ء)
بدقسمتی سے کچھ ہی عرصہ بعد قائد اعظمؒ رحلت فرما گئے۔ اُن کے انتقال پر ملال سے ساری قوم کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کے داغ مفارقت سے ہر شخص یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ یتیم ہوگیا ہو لیکن اس جانکاہ صدمہ پر بھی قادیانیوں کے رویہ میں کوئی فرق نہ آیا۔ پاکستان کے باشعور شہری جانتے ہیں کہ اس وقت کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے بانی پاکستان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی اور وہ ایک طرف الگ بیٹھا رہا۔ جب اخبارات اس معاملہ کو منظر عام پر لائے تو قادیانیوں کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ ”چودھری ظفر اللہ خاں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظمؒ کا نماز جنازہ نہیں پڑھا۔ حالانکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظمؒ احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔“ (ٹریکٹ 22 بعنوان احراری علما کی راست گوئی کا نمونہ، ناشر، مہتمم نشر و اشاعت نظارت دعوت و تبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ، ضلع جھنگ)
ایک اور موقع پر چودھری ظفر اللہ خاں سے سوال ہوا کہ آپ قائد اعظمؒ کے جنازہ کے وقت غیر مسلم سفیروں کے ساتھ گراؤنڈ میں ایک طرف بیٹھے رہے۔ جنازے میں شامل نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟ اس نے جواب دیا: ”آپ مجھے مسلمان حکومت کا ایک کافر وزیر یا ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر خیال کر لیں۔“ (زمیندار لاہور 8 فروری 1950ء)
ایک مفصل انٹرویو میں سر ظفر اللہ خاں سے پوچھا گیا ”آپ پر ایک اعتراض اکثر ہوتا ہے کہ آپ نے قائداعظمؒ کا جنازہ موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا۔“ جواب دیا۔ ”ہاں یہ ٹھیک بات ہے، میں نے نہیں پڑھا۔ یعنی قائداعظمؒ کا جنازہ پڑھتا تو ایک اعتراض پیدا ہوتا کہ یہ شخص منافق ہے۔ یہ غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور اس نے پڑھ لیا۔ تب تو میرے کریکٹر کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ منافق ہے۔ اس کا عقیدہ کچھ ہے، عمل کچھ کہتا ہے۔ اس نے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی خاطر قائداعظمؒ کا جنازہ پڑھا۔ میرے عقیدے کو وہ جانتے ہیں۔ میرے عقیدے کو انہوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے، تو اگر میں آئینی اور قانونی اعتبار سے ناٹ مسلم ہوں تو ایک ناٹ مسلم پر کیسے واجب ہے کہ مسلمان کا جنازہ پڑھے؟ ان کی اپنی کرتوت تو سامنے ہونی چاہیے نہ پڑھنے پر کیا اعتراض ہے۔ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے غیر احمدی کا جنازہ۔“ (سیاسی اتار چڑھاؤ از منیر احمد منیر صفحہ 99)
قادیانی جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ایک موقع پر سر ظفر اللہ خاں کو اپنا بیٹا کہا تھا۔ گو اس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ بیٹے نے باپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ سر ظفر اللہ خاں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ نہ پڑھنے کی جو توضیح پیش کی، وہ بالکل درست ہے۔ قادیانی عقائد کے مطابق تمام مسلمان غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا کہنا ہے:
- ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ
پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود)
- ”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لیے
ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“ (انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود)
باؤنڈری کمیشن میں قادیانیوں کا موقف
صاحبزادہ طارق محمود اپنی شہرہ آفاق کتاب ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ میں لکھتے ہیں:
- ”قادیانی جماعت کی بھرپور مخالفت کے باوجود جب ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہوگئی
اور پاکستان کا قیام ممکن نظر آنے لگا تو قادیانیوں نے پاکستان کی جغرافیائی صورت کو نقصان پہنچانے کی بھیانک کوشش کی۔ کشمیر اپنی تاریخی ہیئت اور جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ چونکہ پاکستان میں بہنے والے سارے دریاؤں کا منبع اور سرچشمہ کشمیر ہے، بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر کے ہمارے سرسبز کھیتوں اور لہلہاتی فصلوں کو تباہ کرسکتا تھا۔ کشمیر اور پاکستان مذہبی، سیاسی اور ثقافتی نقطۂ نظر سے بھی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔ اس لیے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کررہا تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنا اپنا موقف بیان کررہے تھے۔ مسلم لیگ کی طرف سے سرظفراللہ خان قادیانی وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ باؤنڈری کمیشن اس وقت ورطۂ حیرت میں پڑ گیا، جب جماعت احمدیہ کی طرف سے الگ میمورنڈم (محضر نامہ) پیش کیا گیا، جس میں قادیانی جماعت نے اپنے بانی کے مولد و مرکز قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vatican City) قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
قادیانی جماعت کے میمورنڈم میں علیحدہ مذہب، سول وفوجی ملازمین کی مبالغہ آمیز تعداد، کیفیت اور آبادی کی تفصیلات درج ہیں۔ گزشتہ چند برس پہلے حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب (Partition of the Punjab) جلد اوّل، صفحہ 428 تا 469 میں قادیانی عرضداشت اور اس کی جملہ تفصیلات موجود ہیں۔
قادیانی جماعت نے ریڈکلف کمیشن کو اپنا نقشہ بھی پیش کیا، جس میں قادیانیوں کی آبادی کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا گیا۔ قادیانی جماعت نے یہ نقشہ 1940ء میں تیار کیا تھا۔ حد بندی کمیشن کو الگ میمورنڈم پیش کرنے کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ قادیانی جماعت کا مقتدر ظفراللہ خان ایک طرف تو کمیشن کے سامنے پاکستان کیس کی وکالت کررہا تھا، جبکہ دوسری طرف اس کی جماعت کی طرف سے الگ میمورنڈم پیش کیا جارہا تھا۔ ............. قادیانیوں کا (Vatican City) مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا، البتہ باؤنڈری کمیشن نے قادیانیوں
کے محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم علاقے بھارت میں شامل کر دیے۔ اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ میسر آ گئی۔ نتیجتاً کشمیر پاکستان سے کٹ گیا ۔“
ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے ۔ اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان، جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے، خود ہی ایک افسوسناک حرکت کر چکے تھے ۔ انہوں نے قادیانی جماعت کا نقطۂ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جدا گانہ حیثیت میں پیش کیا۔ قادیانی جماعت کا نقطۂ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرے گی، لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا۔ اگر قادیانی جماعت یہ حرکت نہ کرتی تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا، لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی ۔“
(روزنامہ ”مشرق“ لاہور 3 فروری 1964ء)
اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ کیجیے:
- ”اب ضلع گورداسپور کی طرف آیئے ۔ کیا یہ مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں تھا۔ اس میں
کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی، لیکن پٹھانکوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔
مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکرگڑھ کو تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی ۔ اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا، بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا، جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لیے بھارت میں شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم و ارادہ تھا۔
اس ضمن میں، میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ قادیانیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر قادیانیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی
ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آ سکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے۔ اس طرح قادیانیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بسنتر کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور اسی دعویٰ کے لیے دلیل میسر کر دی کہ اگر نالہ اجھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آ جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصے میں آ گیا ہے، لیکن گورداسپور کے متعلق قادیانیوں نے اس وقت ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔‘‘
(روزنامہ ”نوائے وقت“ 7 جولائی 1964ء)
1953ء کی تحریک ختم نبوت کے متعلق حالات و واقعات کی تحقیقات کرنے والی عدالت میں باؤنڈری کمیشن کے روبرو قادیانی جماعت کی دوغلی پالیسی کا کردار سامنے آیا تھا۔ قادیانیوں نے اس الزام کے جواب میں واقعات کا سرے سے انکار کیا تھا۔ حد یہ کہ تحقیقاتی عدالت کے ایک رکن چیف جسٹس منیر نے قادیانیوں کی صفائی میں قادیانیوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور بڑے تند و تیز لہجے میں الزام عائد کرنے والوں کا استخفاف کیا تھا لیکن دس گیارہ برس کے بعد منیر صاحب کو ہوش آیا یا شاید حالات نے ثابت کر دکھایا کہ قادیانی جماعت پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد نہ تھے، بلکہ وہ حقائق پر مبنی تھے۔
ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے تقسیم کے عمل میں کس قدر گھناؤنا کردار ادا کیا۔ روزنامہ ”مشرق“ کے ایک اداریہ سے قادیانی جماعت کے راہنما چوہدری ظفر اللہ خان کے منافقانہ کردار اور خبث باطن کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
- □ ”بھارت کے مشہور اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ میں بھارت کے سابق کمشنر سری
پرکاش کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر ظفر اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ 1947ء میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ”مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ ”کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اللہ خان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ اب قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا ”میرا جواب اب
بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔‘‘ (روزنامہ مشرق لاہور 15 فروری 1964ء)
تقسیم ہند کے وقت مسلمان 51 فیصد تھے، ہندو 49 فیصد قادیانی 2 فیصد جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تو مسلمان 51 کی بجائے 49 فیصد ہوگئے۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔
معروف مسلم لیگی رہنما جناب میاں امیر الدین نے اپنے ایک انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کیا کہ ”باؤنڈری کمیشن کے مرحلہ پر سر ظفر اللہ خاں کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ پٹھان کوٹ کا علاقہ قادیانی سازش کی بناء پر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا۔‘‘ (ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، جلد 37 شمارہ نمبر 32/31، 6 تا 13 اگست 1984ء)
اقتدار حاصل کرنے کے قادیانی ارادے
قادیانیت مذہب کے لبادے میں ایک سیاسی تحریک ہے جو بیرونی طاقتوں کی مدد سے پاکستان میں اپنے غلبہ واقتدار کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہی ہے۔ اس کا مقصد اہم ترین محکموں مثلاً دفاع، خزانہ اور امور خارجہ پر دسترس حاصل کر کے مسلمانوں کے تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق غصب کرنا ہے۔ اس حیثیت سے قادیانی گروہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے خلاف بھی اس کے جذبات سخت معاندانہ ہیں۔ عالمی سطح پر اس گروہ کا ان تمام عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اندرون ملک بھی یہ ان عناصر کی تائید کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ملّی وجود کے مخالف ہیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے درج ذیل بیانات قادیانی عزائم کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں:
- ”اصل تو یہ ہے ہم نہ تو انگریز کی حکومت چاہتے ہیں اور نہ ہندوؤں کی۔ ہم تو
احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان 14 فروری 1922ء)
- ”پس نہیں معلوم، ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں
اپنی طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان 2 مارچ 1922ء)
- ”ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کرے (اس طرح کہ) جو اصحاب
بندوق کا لائسنس حاصل کرسکتے ہیں، وہ بندوق کا لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہاں تلوار رکھیں لیکن جہاں اس کی بھی اجازت نہ ہو، وہاں لاٹھی ضرور
رکھنی چاہیے۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان 2 مئی 1935ء)
قادیانی جماعت پاکستان میں اپنے اقتدار کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی رہی۔ 22 جولائی 1948ء کو قادیانی خلیفہ مرزا محمود ایک سیاسی مقصد کی تکمیل کے لیے بلوچستان گیا جہاں اس نے صوبہ بلوچستان کو ایک قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا تاکہ اس کی بنیاد پر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں قادیانیت کو پھیلایا جاسکے۔ مرزا محمود نے کہا:
- ’’بلوچستان کی آبادی پانچ چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے
آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ ......... یاد رکھو! تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری (Base) مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی (Base) مضبوط کرلو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی (Base) بنا لو، کسی ملک میں ہی بنا لو...... اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل ربوہ 13 اگست 1948ء)
مزید کہا:
- ’’میں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ کبھی بھی ہمارے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا، یہ ہمارا
شکار ضرور ہوگا۔ اگر دنیا کی تمام قومیں بھی متحد ہوجائیں تو اس خطے کو ہم سے نہیں چھین سکتیں۔‘‘
(روزنامہ الفضل ربوہ 22 اکتوبر 1948ء)
امریکہ میں جو مقام یہودیوں کو حاصل ہے وہی قادیانیوں نے پاکستان میں حاصل کرنا چاہا۔ اپنے غلبہ و اقتدار کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قادیانی قیادت نے اپنے کارکنوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا اور پھر اپنے اس سرکاری اثر و رسوخ کو قادیانیت کے فروغ اور استحکام کے لیے استعمال کیا۔ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی اپنی سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدے اٹھانے میں اس حد تک بدنام ہوا کہ 1953ء میں اس کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا اور عوامی سطح پر اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس تحریک کے دوران معلوم ہوا کہ سر ظفر اللہ خاں کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے تقرر لیگی قیادت کی آزاد مرضی سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا یہ تقرر برطانوی سامراج کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور اس کے عرصۂ وزارت میں اسے اسلام دشمن طاقتوں کا مکمل تحفظ حاصل رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ
ہے کہ سر ظفر اللہ خاں کے دور وزارت میں بیرون ممالک تمام پاکستانی سفارت خانوں میں ان کی سفارش پر یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا جس سے اسلامی ممالک میں پاکستان کی بہت جگ ہنسائی ہوئی۔ اس وجہ سے بعض عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے۔ علاوہ ازیں بیرونی دنیا میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے اس قدر قادیانی لٹریچر تقسیم کیا گیا کہ قادیانیت کو ہی پاکستان کا سرکاری مذہب سمجھا جاتا تھا۔ سرظفر اللہ خاں نے اپنے خلیفہ مرزا محمود کے حکم پر بیرون ممالک تمام سفارتخانوں میں چن چن کر قادیانیوں کو بھرتی کیا جو قادیانیت کی تبلیغ کے لیے دن رات کام کرتے تھے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کے بانی جناب حمید نظامی مرحوم نے کہا تھا کہ غیر ممالک میں پاکستان کے ”سفارت خانے“ تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔ سرظفر اللہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جب جزائر شرق الہند کا دورہ کیا تو اس نے مختلف تقریبات میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا آخر الزمان نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔ سرظفر اللہ خاں کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1950ء میں تقریباً 40 ممالک میں قادیانیوں کے 126 مشن کام کر رہے تھے، ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔
ریاست کے اندر ریاست
پاکستان میں قادیانی جماعت کا مرکز ضلع جھنگ میں چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے پار ”ربوہ“ (اب چناب نگر) کے نام سے آباد ہے۔ ربوہ کے معنی بلند مقام یا پہاڑی کے ہیں۔ چنیوٹ سے جانے والی لائن اس زمین میں سے گزرتی ہے۔ یہ جگہ فیصل آباد اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔ گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی واضح طور پر قادیانیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا۔ سرظفر اللہ خاں کی سفارش پر ربوہ کی 1033 ایکڑ زمین (ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے) قادیانیوں کو 100 سالہ لیز پر دی گئی۔ یہ جگہ ان کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے۔ قادیانی ریاست کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے تمام اہم ممکنہ پہلوؤں کو پوری طرح مدنگاہ رکھا تھا۔ 20 ستمبر 1948ء کو اس شہر کا افتتاح قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کیا۔ قادیانی قیادت نے حکومت سے لیز پر لی گئی اس اراضی کو ہزاروں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں میں تقسیم کر کے اربوں روپے کمائے۔
چناب نگر، ربوہ، قادیانی ریاست کا ہیڈ کوارٹر ہے جس میں 1974ء سے پہلے کوئی
مسلمان داخل نہ ہوسکتا تھا۔ اب بھی اگر کوئی مسلمان ربوہ شہر میں داخل ہو تو اس کے پیچھے قادیانی سی آئی ڈی لگ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پوچھ گچھ ہوتی ہے بلکہ اس کی تمام حرکات و سکنات کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ربوہ ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں کوئی مسلمان نہ اپنا مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں قادیانیوں کی اجازت کے بغیر رات قیام کر سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی قادیانی اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے کے بعد اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی حق حاصل نہیں کہ وہ پوری زندگی کی جمع پونجی سے بنائے گئے اپنے مکان کو فروخت کر سکے، کیونکہ وہاں کی ساری زمین قادیانی انجمن کے نام رجسٹرڈ ہے۔
29 مئی 1974ء کے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس کے ایم صمدانی پر مشتمل یک رکنی ٹربیونل قائم کیا۔ جسٹس صمدانی 20 جولائی 1974ء کو ربوہ گئے تاکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کر سکیں۔ گواہوں کے بیانات اور موقع پر ملنے والی شہادتوں کی روشنی میں دوسری معلومات حاصل کر سکیں۔ جسٹس صمدانی وہاں ساڑھے پانچ گھنٹے کے قریب ٹھہرے۔ ان کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، وکلا اور صحافی حضرات بھی تھے۔ اس موقع پر جو خاص باتیں دیکھنے میں آئیں، وہ نہایت چشم کشا ہیں:
جسٹس صمدانی کی آمد پر ائیر مارشل ظفر چودھری قادیانی کی قیادت میں سرگودھا ائیر بیس سے اڑنے والے پاک فضائیہ کے 3 طیارے گھن گرج کے ساتھ فضا میں نمودار ہوئے، انہوں نے انتہائی نیچی پرواز کی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ نجانے وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟ ربوہ شہر میں تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ البتہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کی تصویر کہیں بھی آویزاں نہ تھی۔ ربوہ میں کہیں بھی پاکستان کا پرچم نظر نہ آیا۔ اس کے برعکس قصر خلافت پر قادیانی جماعت کا اپنا مخصوص جھنڈا ”لوائے احمدیت“ لہرا رہا تھا۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) کے دفتر کے معائنہ کے دوران جب ریکارڈ اور فائلیں دیکھی گئیں تو بتلایا گیا کہ اختلافات وغیرہ کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔
ٹربیونل نے ربوہ کی پولیس چوکی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کسی جرم کی رپورٹ یا ایف آئی آر درج نہیں۔ اس موقعہ پر تھانہ ”لالیاں“ کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہمارا نظام محکمہ ”ربوہ“ کا مرہون منت ہے۔ ہم بوجوہ اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔ ربوہ
کی بیشتر عمارات پر قادیانی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ربوہ شہر کی دیواروں پر ”غلام احمد کی جے“، احمدیت زندہ باد اور God is coming by His army ایسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد جسٹس صمدانی نے قادیانیوں کی نام نہاد جنت اور دوزخ دیکھی۔ یہ دراصل دو قبرستان ہیں۔ عرف عام میں چاردیواری کے اندر واقع قبرستان کو جنت اور باہر عام قبرستان کو دوزخ کہا جاتا ہے۔ جو قادیانی اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا 20 فیصد قادیانی جماعت کو دینے کی وصیت کرے، وہ قادیانی ”جنت“ میں دفن ہوتا ہے اور جو قادیانی ایسی کوئی وصیت نہ کرے، وہ ”دوزخ“ میں دفن ہوتا ہے۔ جب جسٹس صمدانی قادیانی خلیفہ مرزا محمود اور نصرت بیگم کی قبروں پر گئے تو ان پر لگے ہوئے کتبہ پر لکھی ہوئی درج ذیل عبارت دیکھ کر بے حد پریشان ہوئے:
”ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی مرزا بشیر الدین محمود“
- ”جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے، حضرت ام المومنین (مرزا
قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے کر جا کر دفن کریں، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔“
صحافیوں نے جسٹس صمدانی سے کہا کہ مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی قادیانی اس کی لاش قادیان لے جاسکتے تھے۔ اس سلسلے میں قادیانی قیادت اگر درخواست کرتی تو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں بخوشی اس کی اجازت دے دیتیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قادیانی کسی ”موزوں وقت“ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جسٹس صاحب کو بتایا گیا کہ اس کی بنیاد مرزا محمود کے وہ بیانات ہیں جو قادیانی روزنامہ ”الفضل“ میں شائع ہوئے تھے: مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا:
- ”ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے، اس کی کامیابی میں کوئی شک
نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے پتا لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہوکر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل
ہے ۔مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے،ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو ، اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہوجائے ۔‘‘
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر،روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ءصفحہ 3)
- □ ’’میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی
ہے ،لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے، بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اور اگر پھر یہ معلوم ہوجائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے ۔‘‘
(قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر ، روزنامہ الفضل قادیان 16مئی 1947ءصفحہ 2)
اسی طرح قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو تباہ کر دے گا۔ آپ بے فکر رہیں ۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے ۔‘‘(ہفت روزہ چٹان 16اگست 1984ء، جلد 39 شمارہ 31)
یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانی آزادی سے پہلے پاکستان کے کھلے دشمن تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی وہ اس کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے ۔مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی بھیانک سازشوں کے بین ثبوت ہیں۔اس سے بڑی غداری اور بغاوت اور کیا ہو سکتی ہے ۔انھیں پڑھنے کے بعد ہر محبّ وطن پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ہر قادیانی سب سے پہلے اپنی جماعت اور خلیفہ کا وفادار ہے، بعد میں کسی اور کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں تا کہ یہ جلد ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بن جائے یوں ان کے خلیفہ کا خواب پورا ہو سکے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے پاک فوج کو قادیانیوں سے
پاک کیا جائے کیونکہ وہ جہاد کے منکر ہیں جبکہ جہاد ہماری فوج کا موٹو ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج میں شامل قادیانی کیا کردار ادا کریں گے؟ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں گے یا اپنے خلیفہ کا؟ قادیانی بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا اقتباسات پاکستان سے غداری ہے یا حب الوطنی؟؟
ربوہ باقاعدہ ایک قادیانی سٹیٹ ہے۔ وہاں ایوان صدر کے مقابلہ میں ایوان محمود، وزارت کے مقابلہ میں نظارت اور وزیر کے مقابلہ میں ناظر ہے۔ قادیانی ریاست میں قائم چند نظارتوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)۔
ہر نظارت کے امور کی نگرانی متعلقہ ناظر کے ذمہ ہوتی ہے۔ ناظران کے اختیارات و فرائض اور ان کے تقرر اور برخاست کا آخری اختیار قادیانی خلیفہ کے پاس ہوتا ہے۔ ان سب نظارتوں میں تین بہت اہم نظارتیں ہیں جن کے سربراہوں (ناظر) کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ ناظر اعلیٰ جسے قادیانی ریاست کا وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے، کے پاس تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہوتی ہے اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ (کابینہ) کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ قادیانی خلیفہ عموماً، ناظر اعلیٰ اس شخص کو مقرر کرتا ہے جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو اور وہ خلیفہ کے ہر جائز اور ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔ ناظر امور عامہ کو عموماً وزیر داخلہ کہا جاتا ہے جس کے ذمہ امن و امان، فوجداری مقدمات، سزاؤں پر عملدرآمد، پولیس، حکومت اور پریس سے روابط قائم کرنا ہے۔ ناظر امور خارجہ کو عموماً وزیر خارجہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ اندرون ملک اور بیرون ممالک خلیفہ ربوہ کی تبلیغی، سیاسی اور جوڑ توڑ کی کارروائیوں کے معاملات طے کرنا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ مشرقی پنجاب (بھارت) کے قصبے قادیان میں بھارتی حکومت نے ایک کیمپ قائم کیا ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ (را) کی زیر نگرانی چلنے والے اس کیمپ میں پاکستان سے آنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو جماعت احمدیہ کے توسط سے قادیان بھیجا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کو قادیان جانے سے پہلے اور واپسی پر انہی سرحدی علاقوں میں قادیانیوں کے گھروں میں پناہ دی جاتی ہے اور بنیادی نوعیت کی معلومات اور تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد جرائم کرنے کے بعد انہی علاقوں میں پناہ بھی لیتے ہیں۔ (ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، 12 جولائی 2000ء)
قادیانیوں نے اپنے سیاسی غلبہ کے لیے جو منصوبہ تشکیل دیا ہے، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ جس طرح اپنے آپ کو منظم کیے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جس پیمانے پر کثیر سرمایہ خرچ کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس گروہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کر رکھی ہے۔ قادیانیوں کی یہ ریاست بظاہر غیر مرئی ہے مگر حقیقتاً بڑی طاقتور ہے۔ اس ریاست کی تنظیم اور اس کے کام کی ٹیکنیک یہودیوں کی عالمی تنظیم ”فری میسن“ سے ملتی جلتی ہے۔ قادیانیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو سات بڑی تنظیموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ دراصل ربوہ کی غیر مرئی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔ ان محکموں کا مختصر سا جائزہ حسب ذیل ہے:۔
صدر انجمن احمدیہ ربوہ: یہ مرکزی انجمن ہے اس کے زیر انتظام دس شعبے ہیں جو یہ ہیں:۔ نظارت علیا یعنی امور اعلیٰ، نظارت امور عامہ، نظارت امور خارجہ، نظارت اصلاح و ارشاد، نظارت دیوان، نظارت بیت المال، نظارت تعلیم، نظارت ضیافت، نظارت صنعت و تجارت، نظارت زراعت، نظارت حفاظت مرکز، محکمہ قضا (عدالت)۔
تحریک جدید: یہ تحریک 1934ء میں شروع کی گئی۔ اس کے 35 مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے قیام کا مقصد تبلیغ، ترغیب اور لالچ کے ذریعے قادیانی گروہ کی عددی حیثیت کو ترقی دینا ہے۔
وقف جدید: یہ قادیانی محکمہ 1958ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ وقف ایسے افراد تیار کرے گا، جو مختلف محکموں میں بھرتی ہوں گے اور قادیانی تبلیغ کا کام کریں گے۔
انصار اللہ: اس تنظیم کا مقصد ”خلافت“ کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ نیم عسکری تنظیم ہے۔ اس کے محکموں اور ان کے قائدین کی تقسیم کچھ اس طرح کی ہے:۔
قائد عمومی، قائد مال، قائد تعلیم، قائد حریت، قائد خدمت خلق اور قائد صحت و صفائی۔
خدام الاحمدیہ: یہ قادیانیوں کی سب سے اہم تنظیم ہے۔ جس کا دائرہ کار قصر ربوہ
سے اعلیٰ حکومتی حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کمان براہ راست قادیانی خلیفہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو اپنے حکم پر ناظر امور عامہ کے ذریعے عمل کرواتا ہے۔ یہ تنظیم چناب نگر (ربوہ) میں دہشت کی علامت ہے۔ قادیان اور ربوہ میں خلافتی نظام کی کامیابی کے لیے یہ تنظیم طاقت کے استعمال سے کام لیتی ہے۔ اس تنظیم کے اراکین ہر وقت جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ روزانہ صبح باقاعدگی سے فوجی انداز میں پریڈ کر کے اپنے آپ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں، کوڈ ورڈز (Code Words) میں اپنے خفیہ پیغامات ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں۔ اس تنظیم میں شامل نوجوانوں کو کمانڈوز کی طرز پر فائٹنگ، نشانہ بازی اور تشدد کے جدید گر سکھائے جاتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ دراصل فرقان بٹالین (قادیانی فوجیوں کی ایک جداگانہ تنظیم) کو توڑنے کے بعد قائم کی گئی اور بٹالین کے تمام فوجی خدام الاحمدیہ میں آگئے۔ لجنۃ اماء اللہ: یہ قادیانی خواتین کی انجمن کا نام ہے۔ اطفال الاحمدیہ و ناصرات الاحمدیہ: یہ دونوں تنظیمیں قادیانی بچوں پر مشتمل ہیں۔
اس کے علاوہ ربوہ سے قادیانیوں کے کئی ایک اخبارات و رسائل باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جن میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلا جاتا ہے۔
قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف ”امت کے اندر امت“ ہی کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کیے ہوئے ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین اور قومی اور ملکی وسائل کے بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال ایک ارب روپے سے زائد صرف کر رہا ہے۔
”چناب نگر سے ناجائز اسلحہ کی برآمدگی“ کے عنوان سے ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت ملتان“ نے اپنے اداریہ میں لکھا:
”قادیانیت کی پوری تاریخ دہشت گردی، قتل و غارت گری اور شر انگیزی سے بھری پڑی ہے۔ شاید اسی لیے (Love for all) اور (Humanity First) جیسے سلوگن استعمال کر کے اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی قادیانی کوششیں بین الاقوامی سطح پر جاری ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چناب نگر (سابق ربوہ) سے پولیس نے بڑے پیمانے پر ناجائز اسلحہ، منشیات، ڈی سی اسلام آباد کی بجائے ڈی سی او اسلام آباد کی مہریں اور کئی دیگر
حساس دستاویزات برآمد کر کے 6 قادیانی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ملزمان قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گرفت میں آئے جو کہ قابل تحسین کارروائی ہے۔ پولیس نے کثیر مقدار میں منشیات، جعلی شناختی کارڈ، مہریں، اسلحہ اور دیگر جعلی دستاویزات برآمد کر کے 6 افراد کو موقع پر گرفتار کر کے تھانہ چناب نگر میں ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 9B / CNSA, 20/65, A013 420, 468, 471 مقدمہ نمبر 365 درج کر کے ضابطے کی کارروائی اور تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ عمل قابل ذکر ہے کہ پولیس تھانہ چناب نگر نے جب چھاپہ مارا تو اس وقت قادیانی ملزم عطاء المجیب ولد عبدالرحیم کی جامہ تلاشی لی گئی تو اس سے 540 گرام چرس 5 عدد فرضی لائسنس نمبر 35432، 35438، 35431، 35439، 35435 ناجائز اسلحہ اور جعلی نمبر لگانے والے جدید آلات اور مشین برآمد کر لیے گئے۔ ایک دوسرے قادیانی ملزم عزیز الرحمٰن نے دوران تفتیش اقرار کیا کہ ”ہمارا گروہ جعلی لائسنس بنانے کے لیے صوبہ خیبر پختونخواہ سے منشیات و اسلحہ لاتا ہے اور رائفلوں، پسٹلز اور دیگر اسلحہ پر ان کے پرانے نمبر رگڑ کر نئے نمبر لگا کر جعلی لائسنس تیار کرتے ہیں“۔ یہ وقوعہ رسوائے زمانہ ضیاء الاسلام پریس میں ہوا اور برآمدگی قادیانی گروہ کے اہم ترین ارکان سے ہوئی۔ چناب نگر پولیس نے بھاری رقم لے کر تین قادیانی ملزمان کو چھوڑ دیا ہے اور ذرائع کے مطابق قادیانی جماعت نے کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے پولیس اور بعض سرکاری افسران کو بھاری رقوم دی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی اور انکشاف بھی ہوا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ قادیانی ناکوں اور چیک پوسٹوں پر موجود سیکیورٹی اہل کار اسی قسم کے اسلحہ سے لیس ہیں جو خطرناک حد تک جعل سازی کے ذریعے ربوہ میں لایا جاتا ہے۔ ہمیں جرائم کے خفیہ قادیانی اڈے ضیاء الاسلام پریس سے ناجائز اسلحے اور منشیات کی برآمدگی پر ہرگز کوئی حیرت نہیں بلکہ اس سے دینی حلقوں کے خدشات کو تقویت ملی ہے کہ ربوہ میں قادیانی جماعت کے ہیڈ کوارٹر اور ذیلی دفاتر میں اسلحہ کے ڈپو قائم ہیں اور ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے ربوہ میں ملتے ہیں۔ اتنی بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، منشیات کی برآمدگی، فرضی شناختی کارڈز، سرکاری مہریں اور بعض اہم ترین حساس دستاویزات کی برآمدگی حکومتی رٹ پر خطرناک سوالیہ نشان ہے؟
پاکستان بننے کے بعد قادیانی جماعت کو 1033 ایکڑ رقبہ کوڑیوں کے بھاؤ لیز پر دیا گیا تھا لیکن اب قادیانی جماعت اصل رقبے سے تین گنا زائد رقبے پر ناجائز قابض ہے۔
مقامی، ضلعی، ڈویژنل انتظامیہ اور پولیس قادیانی قبضوں کی مکمل سرپرستی کرکے لاقانونیت اور قادیانیت نوازی کا بدترین مظاہرہ کر رہی ہے۔ صوبائی و مرکزی حکومتوں نے چناب نگر میں سرکاری رٹ قائم نہ کی، اپنی غیر جانبداری کو یقینی نہ بنایا تو ایک لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے جو پھٹ گیا تو ہولناک کشیدگی جنم لے گی۔ سندھ میں سیکرٹری وزارت داخلہ سکہ بند قادیانی کو بٹھا دیا گیا ہے جو کراچی کے حالات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ تمام دینی حلقوں اور محب وطن جماعتوں کی پختہ رائے ہے کہ ربوہ میں غیر جانبدار آپریشن کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کی ضرورت پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حالات و واقعات ہمارے خدشات کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ارباب اختیار کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان، اکتوبر 2011ء)
معروف صحافی جناب سیف اللہ خالد قادیانیوں کی زیر زمین سرگرمیوں کے بارے میں اپنی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”چناب نگر کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں صرف قادیانی مسلح ہی نہیں بلکہ انہوں نے غیر قانونی طور پر اپنے چار گروپوں کو بھاری ہتھیاروں سے بھی لیس کر رکھا ہے اور یہ چار گروپ پورے شہر پر قابض ہیں جن کی وجہ سے ریاست کے اندر ریاست کا معاملہ قائم ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ قادیانیوں نے چناب نگر میں غیر قانونی عبادت گاہوں کا ایک جال پھیلا رکھا ہے۔ یہاں 54 محلے ہیں اور ان میں 120 سے زائد عبادت گاہیں قائم ہیں جن کی اجازت نہیں لی گئی۔ طریقہ واردات اس طرح سے ہے کہ قادیانی تعلیمات پر عملدرآمد کی ذمہ دار ”لجنی مصلیٰ“ کے نام سے ہر گلی کے دونوں نکڑوں پر لجنی ہال تعمیر کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد گلی کو سکیورٹی کے بہانے بند کرنے کا جواز، وہاں اپنے مسلح افراد کی تعیناتی اور اسلحہ رکھنے کی جگہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
چناب نگر شہر اس وقت عملی طور پر قادیانیوں کی چار مسلح تنظیموں اور ان سے متعلق انٹیلی جنس یونٹس کے زیر تسلط ہے۔ ان میں ”خدام الاحمدیہ“ کے نام سے ایک تنظیم چناب نگر میں گلی محلے کی سطح کی سکیورٹی اور ابتدائی نوعیت کی پکڑ دھکڑ کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس تنظیم کے استعمال کے لیے لجنی ہال دستیاب ہوتے ہیں اور گلی محلے اور گھروں کے اندر کی جاسوسی کے لیے اس تنظیم کا اپنا جاسوس نیٹ ورک بھی ہے، جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کے ذریعے قادیانی جماعت لوگوں کے گھروں کی خبریں بھی رکھتی ہے۔ یہی سبب ہے قادیانی غیر قانونی عدلیہ جب کسی شخص
کے بائیکاٹ کا حکم دیتی ہے تو اس کا مقاطعہ اس قدر بھر پور ہوتا ہے کہ گھر کے افراد بھی جماعت کے خوف کے سبب اس سے اپنے روابط منقطع کر لیتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں غیر قانونی عدالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سارے عمل کی نگرانی فورم احمدیہ کے ذمہ ہے۔
دوسری تنظیم ”حفاظت مرکز فورس“ کے نام سے کام کرتی ہے جس کے پاس گاڑیاں، بھاری اسلحہ اور جدید مواصلاتی نظام بھی ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی اور شہر میں مسلح گشت اس کے فرائض میں شامل ہے۔ یہ تنظیم اپنا انٹیلی جنس سسٹم بھی رکھتی ہے۔ اسے کسی بھی سڑک کو بند کرنے یا کھولنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ کسی بھی وقت شہر میں کسی بھی شخص کی تلاشی لینے اور اسے حراست میں لینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کا درجہ فورم احمدیہ سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔
تیسری فورس کا نام ”صدر عمومی فورس“ ہے۔ یعنی چناب نگر کی قادیانی جماعت کے سربراہ کا ذاتی دہشت گرد دستہ جو خصوصی احکامات پر خصوصی کام سرانجام دیتا ہے۔ دستہ میں شارپ شوٹر اور اسی طرح کے دیگر لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اہم قادیانی شخصیات کی حفاظت اور صدر عمومی کے خصوصی آپریشنز اس فورس کی ذمہ داری ہے۔ اس کا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک نہیں ہے بلکہ یہ اپنے کسی بھی کام کے لیے فورم احمدیہ اور حفاظت مرکز فورس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے مدد لیتی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے مکمل نظم ونسق کو کنٹرول کرنے کی خاطر امور عامہ فورس قائم کی گئی ہے جو شہر کے اندر اور باہر ہر طرح کے اختیارات رکھتی ہے۔“
(روزنامہ ”امت“ کراچی، 17 مارچ ، 2011ء)
قادیانی عدالتی نظام
قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے اپنی جماعت میں ایک عدالتی نظام قائم کیا تھا جس کا نام محکمہ ”دارالقضا“ ہے۔ محکمہ قضا کے تمام جج (قاضی) خلیفہ خود مقرر کرتا ہے۔ کسی بھی جج کو نا اہل قرار دے کر برطرف کرنے کا اختیار بھی خلیفہ ہی کے پاس ہے۔ خلیفہ کسی بھی مقدمہ کی فائل ملاحظہ کرنے کے لیے طلب کر سکتا ہے۔
پاکستان میں ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں قائم شدہ دارالقضاء نامی یہ عدالت کسی بھی قادیانی کو طلب کرنے ، اُس سے کسی بھی متعلقہ معاملہ پر پوچھ گچھ کرنے اور فریقین مقدمہ کے درمیان اپنا فیصلہ صادر کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ قادیانی Comunity
کا Collective Pressure اس عدالت کے فیصلے کے لیے قوت نافذہ کا کام سرانجام دیتا ہے جو کہ قادیانیوں کے لیے بہت سخت سزا کے طور پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے ہر ممکن انسانی و غیر انسانی حربہ اور طریقہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اس عدالت دارالقضاء ربوہ کے اپنے جج ہوتے ہیں جنہیں قاضی کے نام سے پکارا جاتا ہے، اپنے وکیل ہوتے ہیں، وکیلوں کی فیس ہوتی ہے، باقاعدہ اور منظم عدالتی طریقہ کار ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی طرح بنچ بھی تشکیل پاتے ہیں۔ اپنے Personal Laws کے طور پر فقہ احمدیہ نامی ایک کتاب کو Follow کیا جاتا ہے اور ان تمام معاملات کا منتظم اعلیٰ قادیانی جماعت کا موجودہ سربراہ ہوتا ہے۔ اس کی بات کو ہر لحاظ سے حرف آخر تصور کیا جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق درست بھی ہے یا نہیں۔
جناب سیف اللہ خالد ایک دوسری رپورٹ میں مزید انکشافات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”قادیانیوں کی قائم شدہ خود ساختہ عدالتیں ”دار القضاء“ پاکستان کی آئینی عدلیہ کے متوازی قائم کیا گیا غیر قانونی عدالتی نظام ہے۔ اس کے لیے خود ساختہ قوانین بنائے گئے ہیں جو حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کے لیے کھلا چیلنج اور آئین پاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ ان عدالتوں ”دار القضاء“ میں نہ صرف فوجداری نوعیت کے کیسز بلکہ جائیداد کے جھگڑے ”سول کیس“ اور فیملی کیسز کی بھی باقاعدہ سماعت کی جاتی ہے جس کے باعث کورٹ فیس کی مد میں حکومتی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ چناب نگر سمیت پورے ملک اور دنیا میں جہاں جہاں قادیانی بستے ہیں، اپنے کیسز ان غیر قانونی عدالتوں دار القضاء“ میں سماعت کرانے کے پابند ہیں۔ ان نام نہاد عدالتوں ”دار القضاء“ کا انتظامی ڈھانچہ کچھ یوں ہے۔ ”دارالقضاء“ سلسلہ احمدیہ ربوہ کا سب سے اہم عہدہ صدر بورڈ ”دار القضاء“ ہے۔ اس کی اجازت اور این اوسی سے ”دار القضاء“ میں پیش ہونے والے وکیلوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ دیگر اہم عہدوں میں ناظم دارالقضاء اور نائب ناظم دارالقضاء شامل ہیں۔ ان عہدیداران کے علاوہ تقریباً 30 کے قریب قاضی (جج) مقرر ہیں جو روزانہ درجنوں کیسوں کی سماعت کرتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے ہر ضلع میں قاضی (جج) مقرر کیے جاتے ہیں اور پوری دنیا میں جہاں بھی قادیانی آباد ہیں، قاضی (جج) مقرر ہیں لیکن ان تمام ”دارالقضائوں“ عدالتوں کا ہیڈ کوارٹر چناب نگر اور انچارج صدر بورڈ
”دارالقضاء“ ہے۔ جس طرح پاکستان کی آئینی عدالتوں میں ابتدائی سماعت سیشن جج یا سول جج کرتے ہیں، اسی طرح قادیانی ”دارالقضاء“ میں ”قاضی اوّل“ ان کیسوں کی سماعت کرکے فیصلہ سناتا ہے اور اگر کسی فریق کو اس فیصلہ پر اعتراض ہو تو اس کی اپیل 30 یوم میں صدر بورڈ دارالقضاء کو کی جاتی ہے جو کہ بعد از اپیل ”مرافعہ اوّل“ یعنی دو قاضیوں (ججوں) پر مبنی عدالت کے سامنے اس کیس کو سننے کی اجازت دیتا ہے اور دو قاضیوں کی سماعت کے بعد جو فیصلہ ہوتا ہے، اگر اس فیصلے پر بھی کسی کو کوئی اعتراض ہو تو پھر دوبارہ اپیل کی جاتی ہے اور اس کے بعد یہ معاملہ کیس بورڈ مرافعہ ثانیہ یعنی کہ تین قاضیوں (ججوں) کے سامنے سماعت ہوتا ہے اور بعد از سماعت اس فیصلہ پر بھی اگر کسی فریق کو کوئی اعتراض ہو تو پھر صدر بورڈ دارالقضاء، مرافعہ عالیہ یعنی پانچ ججوں پر مشتمل فل کورٹ بورڈ قائم کرتا ہے اور اس سماعت کے بعد ہونے والا فیصلہ بھی حتمی نہیں ہوتا، پھر بھی اگر کسی فریق کو کوئی اعتراض ہو تو وہ حتمی اپیل قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کے سامنے کرسکتا ہے جس کا حکم اور فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ فیملی کیسز میں بی اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ پیش نہیں ہوسکتے بلکہ صدر بورڈ دارالقضاء کی اجازت سے لائسنس یافتہ قادیانی جماعت کے مربی پیش ہوتے ہیں جن کی فیس دارالقضاء میں پیش ہونے والے دیگر وکلاء کی طرح 2500 روپے، چناب نگر دارالقضاء اور دوسرے اضلاع میں پیش ہونے کے لیے 5000 روپے فی مرحلہ متعین ہے۔ وہ آن دی ریکارڈ اس سے زیادہ فیس نہیں لے سکتے لیکن آف دی ریکارڈ سب چلتا ہے۔ غرض کہ قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹس کی اکثریت ان عدالتوں میں پریکٹس کرتی ہے اور قادیانی دارالقضاء میں مقرر کردہ قاضیوں میں چند آنریری طور پر اور باقی اکثر تنخواہیں لے کر ان غیر قانونی عدالتوں میں کام کرتے ہیں اور ان کی تنخواہیں صدر انجمن احمدیہ کے خزانے سے دی جاتی ہیں۔ باقاعدہ طور پر دارالقضاء کے لیے ہر سال بجٹ میں ایک خاص رقم مختص کی جاتی ہے۔ چناب نگر کی ان غیر قانونی عدالتوں میں روزانہ کیسوں کی سماعت ہوتی ہے اور عموماً بروز اتوار بورڈز تشکیل دیے جاتے ہیں اور سماعت ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز چھٹی ہوتی ہے۔ آئینی عدالتوں کی طرح ان غیر قانونی عدالتوں میں بھی باقاعدہ وکیل، وکالت نامے پیش کرتے ہیں بلکہ وکیل بطور مختار بھی پیش ہوتے ہیں اور زیر سماعت مقدمات کی باقاعدہ مثل بنائی جاتی ہے جن کی نقول کے حصول کے لیے باقاعدہ نقل برانچ بنائی گئی ہے جو سائل سے فی صفحہ 2 روپے نقل فیس وصول کرکے اور کاغذات پر باقاعدہ
مہریں اور قاضیوں سے تصدیق کر کے دیتا ہے۔ فوجداری نوعیت کے مقدمات میں دونوں اطراف کے وکیلوں کے دلائل سننے کے علاوہ قاضی، قادیانیوں کے ذیلی محکمہ دفتر صدر عمومی اور نظارت امور عامہ دونوں کے عہدیداران سے رپورٹ بھی طلب کرتے ہیں جو کہ آئینی عدالتوں میں پیش ہونے والے پولیس رپورٹ یا چالان کی طرح اس کیس کے متعلقہ فریقین کے متعلق باقاعدہ رپورٹ یا چالان پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی کیس جائیداد کے جھگڑے کا ہو تو اس کی رپورٹ قادیانیوں کے دفتر نظام جائیداد کا عملہ اور قادیانیوں کے خود ساختہ پٹواری کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ قادیانی عہدیداران جس کسی قادیانی فرد کو حکم عدولی یا نافرمانی پر سزا دینا چاہیں، ان کے ایک حکم پر نام نہاد دارالقضاء کے قاضی مثل مقدمہ کے ریکارڈ میں ردو بدل بھی کر دیتے ہیں اور شعبہ دفتر صدر عمومی اور نظارت امور عامہ کے عہدیداران کی رپورٹ بھی اس کے خلاف دی جاتی ہے۔ ان جعلسازیوں اور ناانصافیوں کے خلاف کئی قادیانیوں نے اپیلیں اور احتجاج بھی ریکارڈ کرائے ہیں۔ ان نام نہاد عدالتوں کے کیے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے قادیانی جماعت کے شعبہ احتساب، دفتر نظارت امور عامہ، دفتر صدر عمومی، صدوران محلہ جات اور ہر محلہ میں موجود خداموں کی فورس موجود ہے۔ قادیانی فورسز جو کہ نظارت امور عامہ کے ماتحت کام کرتی ہیں اور ان عدالتوں میں سنائی جانے والی سزائیں، مثلاً اخراج شہر، شہر بدر چناب نگر غیر معینہ یا معین کردہ مدت کے لیے، کاروبار کو سیل کر دینا، بند کرا دینا، گھروں کو تالے لگوا دینا بلکہ بعض دفعہ تو گھروں کا سامان اٹھا کر شہر کی حدود سے باہر پھینک آنا، پر عمل کراتی ہیں۔ مقاطع کی سزا یعنی قطع تعلق بھی کرایا جاتا ہے جبکہ کوڑوں کی سزا قادیانی جماعت کے دفاتر میں متعین کردہ علاقے میں دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ تشدد کرتے وقت پولیس کے چھتر سے مشابہہ چھتر سے برہنہ کر کے چھترول کرنے کے علاوہ قادیانی ٹارچر سیل میں بند کرنے کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ یہ عقوبت خانے ہر محلے میں موجود ہیں جن کی خبریں متعدد دفعہ قومی اخبارات میں آ چکی ہیں اور ان ٹارچر سیلوں میں خدام الاحمدیہ کے اسرائیلی فوج سے تربیت یافتہ عملے کے علاوہ ہر محلے میں موجود زعیم محلہ بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ سزاؤں پر سو فیصد عملدرآمد کروانے کے لیے جائیدادیں اور مالی اثاثے بھی ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ قادیانیوں کے ”دارالقضاء“ کے قوانین قادیانی مذہب کی خود ساختہ شریعت کے تحت بنائے گئے ہیں۔ لیکن جہاں انہیں ملکی قوانین کا سہارا لینا پڑے تو اس کا سہارا بھی لے
لیتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور چند قادیانیوں کی طرف سے قادیانی دارالقضاء کے فیصلوں کی حیثیت کو ملکی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کے خوف کے باعث دارالقضاء کے عملے نے قادیانیوں کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے 15 دسمبر 2010ء کے بعد اقرارنامہ ثالثی کے نام سے ایک فارم پرنٹ کیا ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ میں تنازعہ بعنوان بالا کے حوالے سے ہوش و حواس میں بلا جبر و اکراہ درخواست کرتا ہوں/کرتی ہوں، کہ دارالقضاء کے علاوہ کسی اور عدالت میں اپیل نہ کرسکوں گا/گی۔ اس فارم کی اشاعت پر قادیانی معاشرے میں بے چینی میں اضافہ ہوا اور قادیانیوں کی اکثریت اس اقرارنامہ ثالثی کو پر کرنے کی مخالف ہے جس کا مطلب ہے متاثرہ فریقین کے ہاتھ پیر باندھ دینا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک میں ہر مذہب نے اپنی علیحدہ عدالتیں بنانی شروع کردیں تو پھر ملک میں آئینی عدلیہ اور عدالتی نظام کی کیا حیثیت رہ جائے گی اور ان خودساختہ عدالتوں کے سنائے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے جو قانون شکنی اور قتل و غارت ہوگی، اس کا کیا حل ہوگا؟ جبکہ 1973ء کے آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ ملکی عدالتی نظام کے علاوہ کوئی بھی متوازی عدالتی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا اور ایسا کرنے والے آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کریں گے جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ (روزنامہ ”امت“ کراچی 19 مارچ 2011ء)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
- (1) کیا آئین پاکستان اپنی عدالتوں کے موجود ہوتے ہوئے کسی اور Private
عدالت کی اجازت دیتا ہے؟
- (2) کیا قادیانی جماعت کی عدالت دارالقضاء حکومت پاکستان سے منظور شدہ ہے؟
- (3) کیا قادیانی جماعت کی عدالت، حکومت پاکستان کی ذیلی یا حکومت پاکستان کی کسی
عدالت کی ذیلی عدالت ہے؟
اگر ان تمام سوالات کے جوابات ”نہ“ میں ہیں تو یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں چناب نگر (ربوہ) صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں قائم شدہ دارالقضاء نامی یہ عدالت نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ مزید یہ کہ
- (1) دارالقضاء ربوہ Paraller Private Court کے زُمرے میں آتی ہے۔
- (2) Paraller Court System حکومت کی عدالتوں کی موجودگی میں نہیں
چلایا جاسکتا۔
- (3) Paraller Court System رٹ آف گورنمنٹ کو ازخود Challange
کر دیتا ہے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جناب چیف جسٹس آف پاکستان
- (1) سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے قادیانی عدالتوں کو Nul and Wide کردیں یعنی
غیر موثر قرار دیتے ہوئے بند کردیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریت رکھنے والے قادیانیوں کے لیے غیر ممالک کی قادیانی کورٹس کے فیصلے غیر موثر قرار دیے جائیں، تاکہ کسی بھی شکل میں قادیانی عدالتیں کام نہ کرسکیں۔
- (2) اس کے ساتھ ساتھ قادیانی عدالتوں کے فیصلوں کو Impliment کرنے والے
قادیانی ادارے اُمورِ عامہ کو بھی بند کرایا جائے۔
- (3) قادیانیوں کو آئینِ پاکستان اور قانونِ پاکستان کا پابند بنایا جائے تاکہ
Qadiani State with in a Government State ختم ہوسکے۔
- (4) قادیانیوں کی شادیاں Special mariage Act 1872 کے تحت حکومت
پاکستان کے نامزد رجسٹرار صاحبان کے پاس رجسٹر کروائی جائیں۔
- (5) ہر وہ معاملہ جو چناب نگر (ربوہ) کی عدالتوں میں زیر سماعت ہے اسے حکومت
پاکستان کی عدالتوں میں چلایا جائے تاکہ Rit of the Government کا احساس قادیانیوں میں بھی پیدا ہوسکے اور وہ اپنے آپ کو آئین اور قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔
فرقہ ورانہ فسادات
قادیانیت ایک خطرناک سازشی سیاسی گروہ اور ملت اسلامیہ کا بدترین دشمن ہے۔ قادیانیوں کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے براہِ راست رابطہ ہے۔ وہاں ان کے مشن قائم ہیں جہاں سے وہ باقاعدہ ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ عرصہ ہوا قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے دھمکی دی تھی کہ ”عنقریب پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور یہاں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔“ قادیانیوں نے اپنے سربراہ کی ”پیش گوئی“ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی
کا زور لگایا اور پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار بنائے رکھنے کی مذموم کوششیں کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں وہ پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے فرقہ ورانہ فسادات پیدا کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ کے حکم پر ہر سال قادیانی بجٹ میں کروڑوں روپے کی رقم مختص کی جاتی ہے۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور اور ملتان ان کے خاص ٹارگٹ ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی وجہ سے یہ منصوبے آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
محرم الحرام اور ربیع الاوّل کے مقدس مہینوں میں قادیانی وسیع پیمانے پر شیعہ سنی اور بریلوی، دیوبندی فساد کا خطرناک منصوبہ بناتے ہیں۔ گذشتہ سال انہی مواقع پر ”کافر کافر شیعہ کافر“، ”بریلوی مشرک اور کافر ہیں“، ”دیوبندی گستاخ رسولؐ ہیں“ نامی پمفلٹ کثیر تعداد میں شائع کروا کر تقسیم کیے گئے جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور اشتعال پیدا کرنا تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش تھی کہ اس کی آڑ میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی فساد ہو جائے تاکہ یہ مسالک تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر الگ الگ ہو جائیں۔ علمائے کرام کو قادیانیوں کی بھیانک سازش کا نہ صرف بروقت علم ہو گیا بلکہ ان کی دور اندیشی اور نور بصیرت سے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر فساد پھیلنے سے رک گیا۔ 1989ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں QSF کے صدر انس احمد قادیانی طالب علم کے کمرے سے ایسے ہزاروں پمفلٹ برآمد ہوئے۔ پولیس تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ سارا لٹریچر ربوہ سے لاہور میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دارالذکر واقع گڑھی شاہو میں آیا جو شہر میں تقسیم کرنے کے لیے سرگرم قادیانی نوجوانوں کو دیا گیا۔
فروری 1997ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑا تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کا نہ صرف بھاری مالی نقصان ہوا بلکہ پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ حکومت پنجاب نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس تنویر احمد خاں کی سربراہی میں یک رکنی تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا جس نے ستمبر 1997ء میں پنجاب حکومت کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار قادیانی جماعت خانیوال کا صدر نور احمد ہے جس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم عیسائی تصادم کروایا۔ افسوس! حکومت نے اس سانحہ کے ذمہ دار قادیانی شرپسند کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کا راز
قومی اخبارات اور کراچی سے شائع ہونے والے ایک معروف جریدہ ہفت روزہ ”تکبیر“ (مارچ 1986ء) میں پاکستان کے مشہور سراغرساں جیمز سالومن ونسنٹ کی یادوں کے حوالوں سے ایک چونکا دینے والا انکشاف شائع ہوا۔ اس انکشاف سے ملک بھر کے سیاسی حلقے حیرت زدہ رہ گئے۔ جیمز سالومن نے بتایا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی جیمز کنزے نے قتل کیا تھا۔ جرمن نژاد کینزے نے سر ظفر اللہ خاں کی تبلیغ اور ترغیب سے قادیانیت قبول کی۔ اس کا نیا نام عبدالشکور رکھا گیا۔ وہ کچھ عرصہ کوئٹہ میں رہا۔ اس کی شادی ربوہ میں ہوئی جہاں وہ ایک عرصہ تک قیام پذیر رہا۔ وہ سر ظفر اللہ کا لے پالک تھا۔ لیاقت علی خان کو قتل کرنے کی سازش سر ظفر اللہ کے تخریبی ذہن کی پیداوار تھی۔ جیمز سالومن نے بتایا کہ سید اکبر جو کہ لیاقت علی خاں کا مبینہ قاتل سمجھا جاتا ہے، وہ تو محض ایک دھوکا تھا۔ (روزنامہ جنگ لاہور 9 مارچ، 1986ء) لیاقت علی خان کے قتل سے متعلق یہ رپورٹ آج بھی سنٹرل انٹیلی جنس کراچی کے دفتر میں موجود ہے۔
وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کشمیر اور بلوچستان میں قادیانی ریاست کے قیام کے بارے قادیانی پیش گوئیوں اور بیانات کا علم ہو گیا تھا۔ اکھنڈ بھارت یا متحدہ ہندوستان کے بارے میں ان کی حکمت عملی اور خواہشات کے متعلق شناسائی کے بعد انہوں نے ایک خصوصی انٹیلی جنس سیل قائم کرنے کا حکم دیا تا کہ حساس عہدوں پر فائز قادیانیوں کی ایک فہرست تیار کی جاسکے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ (امپیکٹ انٹرنیشنل، برطانیہ 27 ستمبر 1974ء) اسی سال فوجی افسران کی سازش (پنڈی سازش کیس) پکڑی گئی جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ 9 مارچ 1951ء کی نصف شب چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل اکبر خان، بریگیڈئیر ایم لطیف اور کچھ دیگر لوگوں کو ملک میں پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے افراتفری پھیلانے اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ ظفر اللہ خاں کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد قادیانی کو جو اس وقت امپیریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کرلیا گیا۔
بعد ازاں ایک میٹنگ میں لیاقت علی خان نے ظفر اللہ خاں کو مخاطب کر کے کہا تھا ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت (قادیانی جماعت) کی نمائندگی کرتے ہیں۔“
معتبر ذرائع کے مطابق لیاقت علی خان قادیانیوں کو سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دینے اور سر ظفر اللہ خاں کو وزیر خارجہ کے عہدے سے الگ کرنے کا پکا فیصلہ کر چکے تھے اور وہ 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس کا اعلان کرنے والے تھے۔ ادھر قادیانی سازشی قوتیں بھی تیار بیٹھی تھیں۔ جیمز سالومن کے بقول کنزے جلسہ عام میں سٹیج کے بالکل قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ جونہی شہید ملت لیاقت علی خان سٹیج پر آئے، کنزے نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شور و غل میں سید اکبر کو قاتل مشہور کر دیا۔ کنزے راولپنڈی سے فرار ہو کر ربوہ پہنچا جہاں کئی ماہ روپوش رہنے کے بعد وہ جرمنی فرار ہو گیا۔ جیمز کنزے آج بھی مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ
یہ حقیقت تسلیم کی جاچکی ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران قادیانی جماعت نے ہر میدان میں نہایت گھناؤنا، تباہ کن اور بھیانک کردار ادا کیا۔ پاک فضائیہ کے ہیرو اور قوم کے مایہ ناز سپوت ایم ایم عالم بھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔ دراصل یہ لڑائی قادیانیوں کی گہری سازش کا نتیجہ تھی۔ اس جماعت کے سرغنوں نے جنگ چھیڑنے کے لیے نجانے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ آغا شورش کاشمیری نے نواب کالا باغ کے حوالہ سے اس بارے میں بعض مستند تفصیلات قلم بند کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”نوائے وقت“ کے ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب اور جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اس روایت کے مصدق ہیں۔ نواب موصوف نے مجید نظامی کے ساتھ بھی اس موضوع پر گفتگو کی تھی۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب کو سر ظفر اللہ خاں نے استعمال کرنا چاہا۔ منصوبہ یہ تھا کہ کسی طرح مغربی پاکستان میں پنجاب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ شکست ہو تو پاکستان کا عسکری بازو ٹوٹ جائے گا اور مشرقی حصہ نتیجتاً الگ ہو جائے گا۔ پنجاب کی پسپائی کے بعد سرحد، بلوچستان اور سندھ، عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جائیں گی۔ اس طرح ایک تو بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے پرانے خواب کی تعبیر ممکن تھی۔ دوسرا یہ خیال کہ مسلمان سیاسی طور پر ناکارہ ہو کر مجبوراً ہماری مذہبی قیادت تسلیم کر لیں گے۔ لیکن رحمت ایزدی سے حالات کا رخ یکسر پلٹ گیا اور سازشوں کے سوداگر منہ کی کھا کر رہ گئے۔
(تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیریؒ صفحہ 205)
1965ء کی جنگ کے دران سارے ملک میں بحکم سرکار بلیک آؤٹ کا سخت آرڈر تھا۔ مگر پورے پاکستان میں ”ربوہ“ ایک ایسی جگہ تھی جہاں بوجوہ اس اہم حکم نامے کی صریحاً خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔ بعض خفیہ رپورتاژ کے مطابق ربوہ کی یہ روشنیاں بھارتی طیاروں کو سرگودھا ہوائی اڈے کا محل وقوع بتانے کے لیے تھیں۔ یہ بات اور بھی تعجب انگیز ہے کہ سرگودھا کئی مرتبہ اندھیرے میں دشمن کے نشانوں کا شکار ہوا جبکہ فضا میں بکھرتی ہوئی روشنیوں کے باوجود اہل ربوہ دشمن کے حملوں سے کلیتہً محفوظ رہے۔ بالآخر ائیر فورس کی شکایت پر واپڈا کو ربوہ کا بجلی کا کنکشن کاٹنا پڑا۔ آفس ریکارڈ میں اس کا اندراج چٹھی نمبری 1135 مجریہ 14 ستمبر 1965ء ہے۔ کہتے ہیں بعد ازاں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران نے واپڈا کے دفتر سے اس تاریخی دستاویز کو غائب کروا دیا۔ تاہم اس کا ثبوت کئی اور جگہوں پر بھی موجود ہے۔
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود صفحہ 32)
ان دنوں مرزائیوں کے ”پیش گوئی مصلح موعود“ نامی ایک اشتہار کا بہت چرچا ہوا جو آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ اس میں لکھا تھا ”ریاست جموں و کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گی اور اس کی فتح ونصرت احمدیوں کے ہاتھ سے مقدر ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ کشمیر کے محاذوں کی جنگ میں قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان ہمیشہ مرزائی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی۔ 1965ء کے معرکہ میں چھمب جوڑیاں کے بارڈر پر ابتداً قادیانی جرنیل اختر ملک اور بریگیڈئیر عبدالعلی مقرر تھے۔ (عجمی اسرائیل از شورش کاشمیریؒ)
مشرقی پاکستان کی علیحدگی
مشرقی پاکستان کیوں الگ ہوا؟ اس کے ایک دو نہیں بیسیوں محرکات ہیں۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اس میں قادیانی امت کا بھی نمایاں کردار رہا ہے۔ انہوں نے اولاً مشرقی پاکستان کے لیے شکایات پیدا کیں پھر تلخی کا رنگ ابھرا۔ ازاں بعد نفرت کو حقارت میں بدل دیا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ تعصب و بغاوت کے شعلے بھڑکانے میں یہ گروہ سب سے آگے رہا۔ گو علیحدگی کا بیج پہلے سے بویا جا چکا تھا مگر اسے پروان چڑھانے کا فریضہ ان لوگوں نے انجام دیا۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک بنگالیوں کی ناراضی کا سب سے بڑا سبب معیشت اور محکمہ مالیات کی غلط منصوبہ بندیاں تھیں۔ اسکندر مرزا کے زمانے میں یہ لوگ ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت محکمہ دفاع پر چھا گئے۔ ایوب خاں کے دور میں مرزائیت نے عسکری طاقت کے
علاوہ سیاسی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ کی ہدایت پر مرزا قادیانی کے پوتے مسٹر ایم ایم احمد کو سیکرٹری مالیات کا عہدہ سونپا گیا۔ اسی کی شہ پر وہ اقتصادی منصوبہ بندی کا مختار کل بن بیٹھا اور اپنے ہم مذہبوں کے لیے معاشی استحکام کے وسائل پیدا کیے۔ اس نے مالی مشیر، سیکرٹری فنانس اور منصوبہ بندی کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا۔ ہر موقع پر ان کا حصہ دبانے کی کوشش کی۔ ہر سال بجٹ میں معاشی کشمکش پیدا ہوتی رہی۔ مشرقی بازو کے لیے مختص سرمایہ، ربوہ کے خلافتی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی پلاننگ پر برباد کیا۔ بنگالی بے بس اور بیزار تو تھے ہی، اس بلائے ناگہانی پر وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئے۔
ایم ایم احمد (آنجہانی مرزا قادیانی کا پوتا) صدر ایوب سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت کے ابتدائی دنوں تک ملک کے پالیسی ساز اداروں کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔ اب یہ بات ملک کا ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ملک کو توڑنے کی جو سازش کی گئی تھی، اس کا ماسٹر پلان ایم ایم احمد کے ذہن کی پیداوار تھا۔ راؤ فرمان علی جو مشرقی پاکستان میں گورنر کے مشیر بھی تھے، انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بڑی وجہ ”عظیم قادیانی ریاست“ کے قیام کا نظریہ تھا۔ بنگالیوں کی علیحدگی کے کئی عوامل تھے جن میں غربت، محرومی، عدم مساوات، ناخواندگی، پسماندگی اور ذرائع مواصلات کا فقدان شامل تھے۔ ان تمام عوامل کو پیدا کرنے میں قادیانی امت کے فرزند ایم ایم احمد (یحییٰ خان کا مشیر) کے کمالات کا نتیجہ تھا۔“
عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمن نے 1970ء میں اپنی انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں برسر اقتدار آ گیا تو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ ایم ایم احمد قادیانی کو مشرقی پاکستان کے ساتھ معاشی ناانصافیوں کے الزام میں سرنگا پٹم کے سٹیڈیم میں الٹا لٹکا کر پھانسی دوں گا۔
(ماہنامہ ”ترجمان اہل سنت“ کراچی، ختم نبوت نمبر، اگست، ستمبر 1972ء)
پروفیسر فرید احمد کے صاحبزادے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مرزائی، بھارت کے ایجنٹ اور آلہ کار ہیں۔ انہی کی سازشوں سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی معرض وجود میں آئی۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ نامعلوم وجوہ کی بنا پر ابھی تک نظروں سے اوجھل ہے۔ شاید اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں کہ اتنا کاری زخم کھا چکنے کے بعد بھی نشانہ باز کے متعلق مطلقاً نہیں بتایا گیا۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان میں قادیانیوں کا
ہاتھ ہے اور حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں قادیانیوں کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور حکومت کسی غیر ملکی دباؤ یا مصلحت کے تحت اصل رپورٹ کو منظر عام پر آنے نہیں دیتی۔
جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو ہر پاکستانی خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لیکن قادیانی فخر سے گردن اکڑا کر چلتے تھے۔ ابھی تک ہزاروں گواہ موجود ہیں جنہوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش بن گیا، تو ربوہ اور لاہور میں مرزائیوں نے خوشی کا اظہار کیا، مٹھائی تقسیم کی، اپنے مکانوں پر چراغاں کیا اور شب بھر سڑکوں پر جشن مناتے اور رقص کرتے رہے۔
(تحریک ختم نبوت از شورش کاشمیری صفحہ 172)
کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی باغیانہ سرگرمیاں
اپریل 1973ء میں قادیانیوں اور حکومت کے تعلقات میں اس وقت سرد مہری آئی جب حکومت نے تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں تین قادیانی فوجی افسران کو گرفتار کرلیا۔ ان میں میجر فاروق آدم خاں، سکواڈرن لیڈر محمد غوث اور میجر سعید اختر ملک ملوث تھے۔ سازش میں تین قادیانیوں کے ملوث ہونے نے ربوہ کی اعلیٰ قیادت کو حکومت سے بدظن کردیا جن کی اقتدار میں آنے کی خواہش تھی اور جو بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں کر رہے تھے۔ انہوں نے نوکر شاہی کے چند اہلکاروں اور دفتر خارجہ کے چند ملازمین جو کہ فری میسنری کے زیر اثر تھے، سے ساز باز کر رکھی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے آنے والے مستقل آئین سے خائف تھے۔
تقریباً دو ماہ بعد حکومت کو ایک اور سازش کی اطلاع ملی جس میں فوج کے چودہ افسران ملوث تھے۔ ان افسران کے خلاف بڈبیر، اٹک میں 2 جولائی 1973ء کو مقدمہ شروع کیا گیا۔ ایک ملزم گروپ کیپٹن عبدالستار نے یہ انکشاف کیا کہ اسے اس مقدمہ میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ قادیانی افسران بھٹو حکومت کو ختم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں اور اس میں ائیر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی) پیش پیش ہیں۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ ائیر مارشل ظفر چوہدری کے ایما پر اس کی انتہائی تذلیل کی گئی تھی اور اس پر ذہنی و جسمانی تشدد بھی ہوا۔ اس کے بعد اقتدار کے حصول اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کو کھوکھلا کرنے کی مزید سازشیں منظر عام پر آئیں جو قادیانیوں نے ائیر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی) کے ذریعے کی تھیں۔
پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب اور سخت گیر
طبیعت کے مالک تھے۔ وہ رشتہ کے لحاظ سے سر ظفر اللہ خاں کا حقیقی بھتیجا اور میجر جنرل نذیر احمد ان کا ہم زلف ہے۔ انہوں نے ائیر فورس پر مرزائیوں کو قابض کروانے کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا۔ جب کبھی بھرتی کا مرحلہ آیا، ہم عقیدہ افراد کو فوقیت دی گئی۔ امریکہ وغیرہ میں کسی نوجوان کو بغرض کوئی کورس یا ٹریننگ بھیجنے کا سوال اٹھا تو صرف قادیانی افسر کا چناؤ ہوتا۔ اس طرح فضائیہ میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔ اسی لیے تا حال وہ محکمہ دفاع کے بعض اہم اور نازک عہدوں پر براجمان ہیں۔ ایک بار ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلمان فضائی افسر نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تک رسائی حاصل کی اور انہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت اور اس کے اغراض مذمومہ سے آگاہ کیا۔ یہ تمام حقائق سن کر بھٹو صاحب بے حد پریشان ہوئے اور کہتے ہیں کہ اس روز بھٹو مرحوم بے حد پریشان تھے۔ ان کے ماتھے پر ایک معنی خیز شکن ابھری اور کہا ”اچھا یہ ہے ان کا اصل روپ!“ (موید قومی ہیرو ایم ایم عالم صفحہ 183، 184)
شاید بھٹو صاحب اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے مگر ایک واقعہ نے ان کو عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا اور وہ درگزر نہ کر سکے۔ ہوا یوں کہ 25 جولائی 1974ء کو جسٹس صمدانی کی عدالت میں ایک فوری نوعیت کا بیان سماعت کیا گیا۔ فاضل عدالت نے 31 اگست کو اس کے بعض اجزا خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیے جو آئندہ روز اشاعت پذیر ہوئے۔ بیان ہوا کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی صدارت میں بعض سرکردہ قادیانیوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو راستہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروگرام یہ طے ہوا کہ ایک تقریب میں انہیں قتل کر دیا جائے۔ (رپورٹ جسٹس صمدانی ٹربیونل) (از نوائے وقت لاہور یکم اکتوبر 1974ء)
دسمبر 1973ء کو قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ربوہ (چناب نگر) میں ہورہا تھا۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر تقریر کرنے کے لیے سٹیج پر آیا۔ مائیک کے سامنے پہنچ کر وہ خاموش کھڑا ہو گیا اور تقریر شروع نہیں کر رہا تھا جیسا کہ اسے کسی چیز کا انتظار ہو۔ اتنے میں پاکستان ائیر فورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا۔ اس نے عین جلسہ گاہ کے اوپر فضا میں غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو عسکری انداز میں سلامی دی۔ دوسرا آیا، اس نے بھی یہی عمل دہرایا۔ تیسرے نے بھی یہی فعل قبیح کیا۔ یہ سارے قادیانی پائلٹ تھے جنہوں نے ائیر فورس کے سربراہ ائیر مارشل ظفر چوہدری کے حکم پر ایسا کیا۔ تھوڑی دیر بعد ائیر مارشل ظفر چوہدری کی قیادت میں انہی جہازوں نے قادیانی جلسہ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس پر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر خوشی سے پھولے نہ
سمایا۔ اس نے اپنا دامن پھیلایا اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین سے مخاطب ہوا ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت (قادیانیت) کا پھل پک چکا ہے اور جلد ہی میری جھولی میں گرنے والا ہے۔‘‘ اس پر جلسہ گاہ میں ’’احمدیت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ یہ رپورٹ تمام اخبارات اور رسائل میں پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی۔ خفیہ ذرائع سے مسٹر بھٹو بھی اس کی تصدیق کر چکے تھے۔ ان حقائق کے پیش نظر حکومت نے ظفر چودھری کو رخصت کر دیا۔ یوں پاکستان کئی سانحات کا شکار ہونے سے بچ گیا۔
غدار پاکستان
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبیل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبیل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر اظہار تشکر کیا۔
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک سائنس کانفرنس ہو رہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے کارڈ پر مندرجہ ذیل ریمارکس لکھ کر اسے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔
"I do not want to set foot on this accursed land untill the Constitutional amendement is withdrawn."
ترجمہ: ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“
جناب بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ عبدالسلام کو فی الفور برطرف کر دیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل
کرنے کی بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ بہت عرصہ بعد پتا چلا کہ وقار احمد بھی قادیانی تھا۔‘‘ (ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر از یونس خلش، صفحہ 80) فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ”آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔“
یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا ایٹم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے۔ دنیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی یہود دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و خرافات اور کشف و کرامات کے
سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریز کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی پرزور سفارش پر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی) کو صدر ایوب نے 1958ء میں اپنے دور حکومت میں ایٹمی توانائی کمیشن کا رکن بنایا اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس کا چیئرمین بنا دیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن کے ریکٹر سر پیٹرک لنسٹیڈ کی ملی بھگت سے 500 کے قریب نیوکلیئر فزکس، ریاضی، صحت و طب اور حیاتیات کے طلبہ اور ماہرین کو بیرونی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کے تحقیقی مرکز میں حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تحقیق و تعلیم کے لیے بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ ان طلبہ اور ماہرین کی اکثریت قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ڈاکٹر عثمانی سے اس منصوبہ کو منظور کروا کر ان لوگوں کو باہر بھجوا دیا جو واپس آ کر ملک کے حساس کلیدی عہدوں بالخصوص ایٹمی انرجی کمیشن میں فائز ہو گئے۔ اس کے برعکس امریکی تعلیمی اداروں کے نیوکلیئر فزکس کے شعبہ میں مسلمان بالخصوص عرب طلبہ پر پابندی ہے جو اب تک برقرار ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1974ء میں جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے، ایٹمی قوت بننے کے سلسلہ میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا۔ حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط بنائی جائے لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہوئے تو پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت تمام دوسرے محب وطن سائنس دانوں کو بے حوصلہ کرنے کے متعدد اقدامات کیے۔ پاکستان کے تمام ایٹمی راز ملک دشمن ممالک کو فراہم کیے۔ انہیں کہوٹہ ایٹمی سنٹر اور دوسرے حساس قومی معاملات کی ایک ایک خبر پہنچائی۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کبھی بھی دفاع کے معاملے میں خودکفیل نہ ہوسکے اور ہمیشہ بڑی طاقتوں کا دست نگر رہے۔ بھارت نے 11 مئی 98ء کو پوکھران میں 3 ایٹمی دھماکے کیے اور 13 مئی 1998ء کو 2 اور دھماکے کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان) میں 2 ایٹمی دھماکے کیے اور پھر 30 مئی کو 2 مزید ایٹمی دھماکے کیے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی رپورٹ کے مطابق:
”پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان ہوتے ہی ربوہ کے سرکردہ قادیانیوں کے خفیہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ربوہ میں ہو کا عالم تھا۔ قادیانیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔“ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، 29 مئی 1998ء)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے لندن کی مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ میں پاکستانی عوام کو ایٹمی دھماکوں کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کا حق عقل سے استعمال کرنا چاہیے تھا جو اس نے نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسلمان عوام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”ایٹمی دھماکے کر کے جشن منا لو، پتا اس وقت چلے گا جب بھوک ناچے گی۔ جنونی دور ختم ہوگا تو ملک کا رہا سہا نظام بھوکے عوام اپنی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایٹمی دھماکوں سے پاکستان میں درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔“
(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 9 جون 1998ء)
پاکستان میں ایجنٹوں کا حصول اسرائیل کے لیے مشکل نہیں۔ پاکستانی قادیانیوں کا مرکز حیفا (اسرائیل) میں موجود ہے۔ یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہودیوں اور قادیانیوں کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلحہ اور بعض اہم آلات کی سمگلنگ میں بعض سابق افسر بھی شامل ہیں، جن کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کمیشن میں 25 سے 30 تک قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کہا تھا کہ اُسے نوبیل پرائز یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا۔ مصدقہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام نے کہوٹہ پلانٹ کے تمام نقشہ جات، ایٹم بم کا ماڈل اور اہم معلومات یہودی سائنس دانوں کو فراہم کیں۔
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم“ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک
قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔“ یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
”اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ”نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتاؤں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ”یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟“ میں نے
کہا میں فنی اور تکنیکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہوگا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کوریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘‘۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں اور سازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ’’خدمات‘‘ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور نے ڈاکٹر عبدالسلام کی موت پر ’’سلام میڈل‘‘ کا اجرا کیا جو فزکس اور ریاضی کے شعبہ میں اول آنے والے طالب علموں کو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کالج کے اولڈ ہال کا نام ’’سلام ہال‘‘ رکھا اور مزید یہ کہ گورنمنٹ کالج میں اس کے نام کی ایک ’’چیئر‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ مزید براں 1998ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی کے موقعہ پر محکمہ ڈاک نے ان کی ’’خدمات‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 2 روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
منصور اعجاز
حال ہی میں میمو سکینڈل کیس نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار منصور اعجاز ہے جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ 1961ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز تھا جس کا تعلق قادیانی جماعت سے تھا۔ وہ مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا کزن تھا۔ اس کا دادا اسماعیل اعجاز اور نانا نذیر حسین قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے ابتدائی 313 ساتھیوں میں شامل تھے۔ منصور اعجاز کا والد ایٹمی سائنسدان کی حیثیت سے پاکستان کے
جوہری توانائی کمیشن میں خدمات سرانجام دے رہا تھا لیکن 1974ء میں جب قادیانیوں کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو وہ امریکہ فرار ہو گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایٹمی پروگرام کی اہم دستاویزات بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کر لی۔ چونکہ مجدد اعجاز پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں رہا اور اس کی ایٹمی سائنسدانوں سے دوستیاں تھیں لہذا اس نے کلنٹن انتظامیہ کو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ منصور اعجاز کا والد امریکہ کی مشہور ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا جس نے امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1992ء میں کثرت شراب نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور دماغ کے کینسر سے 55 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ منصور اعجاز پچھلی دو دہائیوں سے امریکی سی آئی اے کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سی آئی اے کا سابق ڈائریکٹر جیمز وولسی اس کا انتہائی قریبی رفیق کار ہے۔ اپنے ٹی وی تبصروں اور اخباری مضامین میں اس کا خاص نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور آئی ایس آئی ہے جن کے خلاف وہ پچھلے 15 سال سے لکھ رہا ہے۔ منصور اعجاز کے مبینہ طور پر یہودی میڈیا سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ 7 جنوری 2004ء کو منصور اعجاز نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس کینسر کی طرح ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق اکتوبر 1995ء میں منصور اعجاز نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی اور امریکی سینیٹ میں براؤن ترمیم کی منظوری کے لیے ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم لابنگ کے لیے مانگی اور مطالبہ کیا کہ یہ رقم اس کی ملکیت ڈیفنس ڈویلپمنٹ انٹر نیشنل نامی لابنگ فرم کو بطور فیس ادا کر دی جائے۔ بے نظیر بھٹو نے اتنی خطیر رقم دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر منصور اعجاز نے بے نظیر بھٹو سے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو حکومت پاکستان براؤن ترمیم کی منظوری کے لیے امریکی سینیٹروں کو راضی کرنے کے لیے ان کے تین مطالبات منظور کر لے۔ (1) اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ (2) 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والی ترمیم ختم کی جائے۔ (3) قانون توہین رسالت ختم کیا جائے۔ بے نظیر بھٹو نے ان مطالبات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ملاقات ختم کر دی۔ واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے کے مطابق منصور اعجاز نے ایف سولہ طیاروں کے لیے کانگریس میں لابنگ کے لیے 15 ملین ڈالر
مانگے اور یہ پیشکش بھی بے نظیر بھٹو کو کی کہ اگر حکومت پاکستان مذکورہ بالا مطالبات تسلیم کرلے تو پاکستان کو ایف سولہ طیارے بطور تحفہ مل سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے دور میں منصور اعجاز کو مشیر سرمایہ کاری بنانے کی کوشش ہوئی تاہم حساس ادارے آڑے آگئے اور وہ حکومتی مشیر نہ بن سکا۔
شاہ فیصلؒ کی شہادت پر قادیانیوں کا ردّعمل
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہیدؒ عالم اسلام کے محسن اور ملت اسلامیہ کے دل کی دھڑکن تھے۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ جب ایک خطرناک یہودی سازش کے تحت انہیں شہید کیا گیا تو روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی تھیں اور ہر مسلمان کا دل زخموں سے چور چور تھا لیکن اس وقت قادیان اور ربوہ میں قادیانیوں نے خوشی کے ترانے بجائے کیونکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں شاہ فیصلؒ کا بڑا کردار تھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے سابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو خصوصی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سفارش کی تھی، چونکہ شاہ فیصلؒ یہود کے ازلی دشمن تھے اور قادیانی، یہودیوں کے دوست ہیں۔ چنانچہ ان کی موت پر قادیانیوں نے ربوہ میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔
امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت
امریکہ کے سینٹ کی 17 رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط شامل کی ہیں، ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ...... ’’امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آرہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی ’’آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔‘‘
(بحوالہ مضمون ارشاد احمد حقانی۔ ادارتی صفحہ 3 روز نامہ جنگ 5 مئی 1987ء)
قادیانیوں کی مکمل مذہبی اور شہری آزادیوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ قادیانی، ملت اسلامیہ سے قطعی طور پر الگ ایک نئی امت ہوتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر اسلامی استعمال کر کے دھوکا اور اشتباہ کی جو فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ بدستور قائم رہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ملت اسلامیہ کے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے قادیانیوں
کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا وہ ختم ہو جائے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسجد، کلمہ طیبہ اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے جو روکا گیا ہے، اسے غیر موثر بنایا جائے۔ پاکستان کے دینی اور عوامی حلقے مسلمانوں سے قادیانیوں کی الگ حیثیت کو عملاً متعین کرانے کے لیے جن جائز قانونی اقدامات کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا راستہ روک دیا جائے۔
امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی معتقدات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ ہے۔ سابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں قادیانیوں کے سیاسی عزائم اور ملک دشمن عناصر سے خفیہ تعلقات کے بعض گوشوں سے نقاب اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ برسر اقتدار آنے کے بعد جب میں سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکہ کے دورہ پر گیا تو امریکی صدر نے مجھے ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا سیکٹ (Sect) ہے۔ ان کا آپ ہر لحاظ سے خیال رکھیں۔ دوسری مرتبہ جب امریکہ کا سرکاری دورہ ہوا، تب بھی یہی بات دہرائی گئی۔ یہ بات میرے پاس امانت تھی۔ ریکارڈ کی خاطر میں پہلی مرتبہ انکشاف کر رہا ہوں۔“
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود)
اسرائیل میں قادیانی
حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔“
اس حقیقت میں ذرا سا بھی شک و شبہ نہیں کہ اسرائیل اور قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی تخلیق اور سازش کا نتیجہ ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بقول چودھری افضل حق ”قادیانی فرقہ ضالہ کے فریب و قدح اور دجل و تلبیس سے بچنا ہر مسلمان کا قدرتی حق ہے۔ قادیانی برٹش امپیریلزم کے کھلے ایجنٹ اور مسلمانوں میں ففتھ کالم کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا وجود مسلمانوں کی داخلی زندگی کے لیے اسرائیل سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔“
اسرائیل نے مسلمانان عرب پر جو ظلم و ستم توڑے ہیں، انہیں پڑھ کر ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم بھی شرما جاتے ہیں۔ خصوصاً اسرائیل نے فلسطین میں خون ناحق کے جو دریا بہائے ہیں، صرف وہی داستان مظالم پڑھ کر جسم پر رعشہ طاری اور شریانوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ پڑھ کر حیران ہو جائیں گے کہ 1972ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد
انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ”جہاں ننگ انسانیت یہودی درندے فلسطین و دیگر عرب ممالک کے مسلمانوں کے قیمتی خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، وہاں 600 قادیانی فوجی بھی اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور اس چنگیزی فعل میں یہودی درندوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔“
اسرائیل میں کوئی بھی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کو اسرائیل میں کام کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ کچھ عرصہ قبل روزنامہ ”نوائے وقت“ کے صفحہ اوّل پر ایک چونکا دینے والی تصویر شائع ہوئی جس میں اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہونے والے قادیانی مشن کا سربراہ دوسرے نئے آنے والے قادیانی مشن کے سربراہ کا تعارف اسرائیلی صدر سے کروا رہا ہے۔ اخبار میں یہ راز فاش ہونے پر دارالکفر ربوہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھل گئیں۔
اسرائیل میں قادیانی جماعت کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قادیانی مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی جماعت ہے۔ یہودی دوسرا بنیا ہے جو کبھی خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ اسرائیل نے قادیانیوں کو اپنے نظریاتی ملک میں جو مذہبی آزادی دے رکھی ہے، وہ اس کے اصول اور قواعد و ضوابط کے صریحاً خلاف ہے۔ قادیانی جماعت یہودی ٹکڑوں پر پلنے والا استعماری پٹھو ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج میں کئی سو قادیانی شامل ہیں جو فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور روابط کا اندازہ قومی اخبارات میں 22 فروری 1985ء کے ”یروشلم پوسٹ“ کے حوالے سے چھپنے والی اس تصویر سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں دو قادیانی مبلغوں کو اسرائیلی صدر کے ساتھ نہایت مودب انداز میں ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے قادیانی سربراہ شیخ شریف امینی نئے سربراہ شیخ محمد حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کروا رہے ہیں۔ اس موقع پر شیخ شریف نے قادیانیوں کو اسرائیل میں مکمل مذہبی آزادی دینے پر اسرائیلی حکومت کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تصویر قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور یہود دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
”یروشلم پوسٹ“ کے حوالہ سے شائع ہونے والی تصویر میں اصل عبارت سے قادیانیوں کے اسرائیل کے ساتھ باہمی روابط کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بٹالہ
کے نزدیک واقع قادیان اور پاکستان میں ربوہ کے بعد ان کا سب سے منظم مرکز اسرائیل کے شہر ”حیفہ“ میں ہے۔ اس وقت بھی جب اسرائیل میں مسلمانوں کا رہنا دوبھر ہے، قادیانیوں کو اسرائیل میں کام کرنے کی پوری آزادی ہے۔ فلسطینی عرب مسلمان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور قادیانی اسرائیلی وزیر اعظم ، صدر اور میئر وغیرہ سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اسرائیل کا مسلمانوں پر ظلم وستم اور قادیانیوں پر اتنی عنایات ! آخر کس صیہونی منصوبے کا حصہ ہیں؟
لندن سے شائع ہونے والی کتاب ”اسرائیل اے پروفائیل“ ISRAEL A) (PROFILE میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل نے اپنی فوج میں پاکستانی قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کتاب پولیٹکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی ۔ آئی ۔ نومائی نے لکھی ہے اور اسے ادارہ پال مال ، لندن نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ”1972ء تک اسرائیلی فوج میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہو چکے ہیں ۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور صفحہ 5، 29 دسمبر 1975ء)
اسرائیلی مشن کے بارے میں قادیانیوں کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مشن قادیان (بھارت) کے ماتحت ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ربوہ (پاکستان) قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے اور قادیانی جماعت کی تمام تنظیمیں اسی مرکز سے وابستہ ہیں اور اسی کے زیرانتظام چلتی ہیں۔ قادیانی اپنے نام نہاد اور جعلی نبی کی طرح جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی اور قادیانیوں کے اسرائیل کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات اور روابط کی قلعی تاریخی دستاویزات اور حقائق سے کھل جاتی ہے۔
اسرائیلی صدر شیمون پیریز (Shimon Peres) نے ستمبر 2007ء میں اسرائیل کے شہر کبابیر (Kababir) میں واقع قادیانی عبادت گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی صدر نے قادیانی جماعت کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی طور پر ہر ممکن امداد اور تعاون کا یقین دلایا۔
اسرائیل میں قادیانیوں سے جو کام لیے جا رہے ہیں اور جو خدمات وہ انجام دیں گے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ ایک دردناک اور درد رساں لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے؟ سچ تو یہی ہے کہ اگر دوست کا دشمن دوست نہیں تو دشمن کا دوست کس طرح دوست ہو سکتا ہے؟
ریکارڈ کے مطابق تمام قادیانی مبلغین جو 1928ء سے اسرائیل میں تعینات تھے
مثلاً جلال دین قمر، اللہ دتہ جالندھری، رشید احمد چغتائی، نور احمد اور چوہدری شریف، اسرائیل میں کام کرنے کے بعد ربوہ میں مقیم رہے۔ جب وہ بیرون ملک تھے تو ان کے خاندانوں کے ان سے پراسرار ذرائع سے باقاعدہ روابط موجود تھے۔ قادیانی جماعت کے مجموعی تبلیغی ڈھانچے کا ایک حصہ اسرائیل میں احمدیہ مشن کی صورت میں موجود تھا۔ قادیانی خلیفہ اس جماعت کا سب سے بڑا سرخیل تھا۔ تمام مشنوں کے معاملات جن میں اسرائیلی مشن بھی شامل ہے، خلیفہ کے تحت تھے اور وہ ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اسرائیل میں قادیانی امیر ان کی ہدایات اور احکامات کے تحت کام کرتا تھا۔
قادیانی اسرائیلی گٹھ جوڑ کا مسئلہ پاکستانی پریس میں فروری 1977ء میں ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ جب ہفت روزہ ”اسلامی جمہوریہ“ لاہور نے اپنی اشاعت 2 تا 8 جنوری 1977ء کی اشاعت میں 19 اکتوبر 1976ء کے یروشلم پوسٹ کے شمارے میں چھپی ہوئی ایک تصویر شائع کردی جو کہ ایک اسرائیلی تقریب کے دوران لی گئی تھی۔ ایک قادیانی وفد نے اسرائیلی صدر سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ تصویر میں اسرائیلی صدر کے علاوہ مشیر اقلیتی امور منصور کمال اور ایک فلسطینی احمدی منصور عود اور اسرائیل میں قادیانی مبلغ جلال الدین قمر نمایاں تھے۔ پاکستان اور اسلام کے بارے میں قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی ہمدردیاں اس وقت شدید تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے اپنے نصب العین کی حمایت میں صہیونی امداد کے حصول کے لیے ایک خصوصی وفد اسرائیل بھیجا۔ احمدیہ مشن اسرائیل کے نئے انچارج شیخ شریف احمد امینی نے اسرائیلی صدر کی قادیانی رہنماؤں سے ملاقات کی تصویر دیتے ہوئے اس کے نیچے لکھا:
”شیخ شریف احمد امینی جو کہ احمدیہ، ہندوستانی مسلمان فرقے کا اسرائیل چھوڑ کر جانے والا انچارج ہے اور آج کل حیفہ میں مقیم ہے وہ اپنے جانشین شیخ محمد حمید کا تعارف اسرائیل کے قائم مقام صدر ہرزوگ سے بیت حناسی میں (21 نومبر 1985ء) کروا رہا ہے۔ فرقے کے نئے سربراہ نے جس کے اسرائیل میں بارہ سو پیروکار ہیں، پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے مظالم کی تائید میں کئی دستاویزات صدر کو پیش کیں۔ رخصت ہونے والے شیخ امینی نے جو انڈیا واپس جا رہا ہے، اپنے فرقے کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کرنے پر اسرائیل کی تعریف کی۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور، 12 جنوری 1986ء)
اپریل 1973ء میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ راز افشا کیا کہ اسرائیل نے پاکستان توڑنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے شورش
کاشمیری نے بھٹو کو کھلا خط لکھا جس میں قادیانی اسرائیلی اتحاد اجاگر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر روشنی ڈالی گئی:۔
- (1) قادیانی پاکستان میں بالکل وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو یہودی، امریکہ اور برطانیہ
میں کر رہے ہیں۔
- (2) قادیانی، اسرائیلی تعلقات کی نوعیت جاننے کے لیے ان خطوط پر تحقیقات ہونی
چاہئیں۔ کیسے اور کس طرح سے اسرائیل نے پاکستانی سیاست میں مداخلت کی؟ اسرائیل کے آلہ کار کون تھے اور ان کے مذموم منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے کونسی سیاسی جماعت استعمال ہوئی؟
- (3) پاکستانی انٹیلی جنس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کرنے والے
قادیانی مشن کی کارروائیوں کی تفصیلات مہیا کرے جو مذہبی مرکز کے لبادے میں ایک سیاسی شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے؟ قادیانی کن کو تبلیغ کرتے ہیں؟ اسرائیل، عیسائی مبلغین کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتا، اس نے قادیانیوں کو کھلے عام اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ کتنے یہودیوں نے قادیانیت قبول کی ہے؟ کیا یہ واضح نہیں ہے کہ قادیانی سامراجی قوتوں کے آلہ کار ہیں اور عالم اسلام کے استحکام کے درپے ہیں۔
حقیقت میں قادیانی امت ایک مستبد اور ظالم اقتدار کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ سامراج نے اسے جنم دیا اور بیوروکریسی نے اسے تحفظ دے کر نشوونما کے مراحل طے کرائے، اب بھی اسی کے سہارے قائم ہے اور اپنے اقتدار کے حصول کے لیے درپردہ سازشوں کا جال بچھائے ہوئے ہے۔ اس کے اثر ونفوذ اور اس کی قوت و طاقت کا اصل منبع اندرون ملک بیوروکریسی اور بیرون ملک برطانوی سامراج ہے۔ جب تک اس کے یہ دو سہارے قائم ہیں۔ اس وقت تک اس کا وجود بھی قائم ہے اور جب اس کے یہ سہارے ختم ہو جائیں گے، اسی لمحے یہ فتنہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا۔
اے محبان پاکستان! یہ پیارا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ اس کے حصول کے لیے بے شمار جانی و مالی قربانیاں دی گئیں۔ قادیانی اپنے خلیفہ کے حکم پر پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔ لہٰذا اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہر محبّ وطن کا اوّلین فریضہ ہے۔ قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان مخالف سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا وقت کی ضرورت
ہے۔ اس میں ذرا سی غفلت یا لاپروائی بہت بڑے نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے دشمن قادیانیوں کو پہچاننا، ان کے عزائم کو ناکام بنانا، ان کی زہریلی سازشوں اور تخریبی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھنا ہر محبّ وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ کیا آپ اس ذمہ داری کے لیے تیار ہیں؟؟؟
۞.......۞.......۞
پوسٹ مارٹم
- ✡ قادیان ............ قبلہ
- ✡ ربوہ ............ اعصابی مرکز
- ✡ تل ابیب ............ تربیتی کیمپ
- ✡ لندن ............ آماجگاہ
- ✡ بھارت ............ استاد
- ✡ جرمنی ............ پناہ گاہ
اور
- ✡ واشنگٹن ............ اس کا بینک ہے
قادیانی فرقے
قادیانی مذہب کے مختلف فرقوں کا مختصر تعارف
قادیانی اکثر و بیشتر مسلمانوں پر یہ پھبتی کستے ہیں کہ وہ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی بریلوی ہے، کوئی دیوبندی ہے، کوئی اہل حدیث ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کے خلاف ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کے ہاں فرقے نہیں بلکہ مسالک ہیں۔ تمام مسالک کے مسلمان اللہ تعالیٰ، حضور نبی کریم ﷺ، قرآن مجید، ختم نبوت، قیامت، فرشتوں، گذشتہ انبیا و رسل، حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر ضروریات دین پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور اس پر پوری طرح متفق اور متحد ہیں۔ ان میں بعض فروعی اختلافات ضرور ہیں لیکن ان کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضور سرور دو عالم ﷺ نے اختلاف امت کو رحمت قرار دیا ہے جبکہ فرقوں سے مراد مکاتب فکر یا مسالک نہیں بلکہ وہ گروہ ہیں جنہوں نے دین اسلام میں تفریق کی، امت مسلمہ کے عقائد سے ہٹ کر اپنا نیا فرقہ بنایا اور سواد اعظم سے روگردانی کی۔ ایسا کرنے والے فرقے اور گروہ بلاشبہ دوزخ میں جائیں گے۔ چنانچہ فرقہ اور مسلک میں فرق ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔
پاکستان کی پہلی تحریک ختم نبوت 1953ء میں تمام مسالک نے حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات شاہ قادریؒ اور دوسری تحریک ختم نبوت 1974ء میں حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کو اپنا قائد چنا تھا۔ ان مسالک کے بعض علمائے کرام کے درمیان تقریروں اور تحریروں میں خوب گرما گرمی ہوتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان مسالک کے مابین آج تک کوئی نکاح، اختلاف عقیدہ کی وجہ سے کسی عدالت میں فسخ نہیں ہوا۔ نماز جنازہ، تعزیت اور ایصال ثواب میں تمام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان بنیادی عقائد کے اختلافات کوہ ہمالیہ سے بھی بڑے ہیں۔ قادیانیوں سے نکاح نہ صرف پاکستان کی عدالتوں میں فسخ ہوئے بلکہ متحدہ ہندوستان میں بھی
جبکہ وہاں انگریزوں کی حکومت تھی (جو قادیانیوں کے مربی اور سرپرست تھے) ایسے نکاح فسخ ہوتے رہے کیونکہ اسلام اور قادیانیت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
جہاں تک قادیانی مذہب کا تعلق ہے، اس میں کئی ایک فرقے ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف نہایت غیر اخلاقی اور قابل شرم الزامات بھی لگاتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ فرقوں کا باعث وہ لوگ بنیں گے جو ہوس وافتراق سے اس طرح پاگل ہوں گے جس طرح باؤلے کتے کا کاٹا پاگل ہوتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں باؤلے کتے کے کاٹنے کی تمثیل یقیناً قادیانیوں کے بارے میں ہے جو ملت اسلامیہ میں افتراق و انتشار کا باعث بنے۔ قادیانیوں کے بارے میں معمولی سا علم رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ قادیانی اس تشبیہ کے سو فیصد مصداق ہیں جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے۔
قادیانیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک بنی اسرائیل میں بہتر (72) فرقے ہوئے تھے، پس میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹے گی اور ماسوائے ایک کے سب کے سب جہنمی ہوں گے۔ لہٰذا جو جنتی فرقہ ہے وہ ہم ہیں۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ قادیانی دجل وتلبیس سے کام لیتے ہوئے صرف آدھی حدیث بیان کرتے ہیں۔ آخر جو فرقہ جنتی ہے، آپ ﷺ نے اس کی کوئی نشانی بھی تو بیان کی ہوگی۔ اس حدیث کا آخری حصہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے پوچھا۔ یارسول ﷺ! وہ (جنتی) فرقہ کون سا ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ (ترمذی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ) یعنی وہ جنتی فرقہ ”جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو“۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”غنیۃ الطالبین“ میں اس مذکورہ حدیث پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ حضرت شیخ نے اپنی کتاب میں اس حدیث کی تشریح میں 73 فرقوں کے نام اور ان کا مختصر تعارف بھی بیان کیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا کہ اس حدیث مبارکہ میں جس جنتی فرقہ کا تذکرہ ہے، وہ اہلسنّت والجماعت ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، فرمان ہے کہ قیامت کے دن روشن چہروں والے اہل سنت والجماعت ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 82) سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا فرمان ہے کہ محض اہلسنت والجماعت نام رکھنا کافی نہیں بلکہ سنت رسول ﷺ اور جماعت صحابہ کرامؓ کے مطابق عقائد ونظریات بھی ہونے نہایت ضروری ہیں۔ (غنیۃ الطالبین)
اس وقت دنیا میں کئی امتیں موجود ہیں جو اپنا تعلق آسمانی کتابوں اور جن انبیا پر وہ نازل ہوئیں، ان سے بتاتی ہیں۔ ہر ایک امت کی اپنی الگ پہچان ہے۔ یہودیت ایک امت ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی ورسول مانتی ہے، عیسائیوں کی الگ پہچان ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی برحق مانتے ہیں مگر ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نبی مانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننے سے نئی امت عیسائیت کہلائی، ان کا یہودیت سے کوئی تعلق نہ رہا۔ ایسے ہی ایک اور امت ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا نبی مانتے ہیں مگر ان کے بعد ایک اور ذات اقدس کو اللہ کا نبی ورسول مانتے ہیں اور اس ذات اقدس کا نام نامی اسم گرامی حضرت محمد ﷺ ہے، جن افراد نے حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کے بعد حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا نبی ورسول مان لیا، وہ نہ یہودی رہے اور نہ عیسائی، وہ ان سابقہ دونوں امتوں سے کٹ کر الگ امت کہلائی جسے امت مسلمہ یا مسلمان کہا جاتا ہے۔
نبی جدا تو امت جدا، جیسے امت بنتی ہے نبی سے، ایسے ہی امت بدلتی بھی نبی سے ہی ہے۔ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک امت بنائے جو اس کو نبی سمجھے“۔ (خزائن جلد 5 صفحہ 344)، اور اس بات سے کوئی مرزائی قادیانی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے خود کہا ہے:
- ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں ۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
لہٰذا جب قادیانیوں نے حضرت محمد ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مان لیا ہے تو نبی کے بدلنے سے امت بھی خود بخود بدل گئی۔ وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں، اس بنا پر وہ امت محمدیہ سے خارج ہو گئے، پھر وہ امت محمدیہ کا 73 واں فرقہ کیسے ہوئے؟ مرزائی مربیوں کی کمال ہوشیاری ہے، کمال دھوکا دہی ہے کہ وہ قادیانیوں کو امت مسلمہ کا 73 واں فرقہ قرار دے رہے ہیں۔
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آنجہانی مرزا قادیانی بھی شروع میں (جب اس
نے نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا تھا) خود کو اہلسنّت والجماعت میں شمار کرتا تھا جیسا کہ اس کی تحریروں سے واضح ہے۔
- ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر،
بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنّت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی...... اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 214، 215 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو
اہلسنّت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں۔ اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313 از مرزا قادیانی)
- ”دوسرے الزامات جو میرے پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلۃ القدر کا منکر ہے
اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے، یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو اعتراض نکالے گئے ہیں، یہ نکتہ چینیوں کی سراسر غلطی ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانۂ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیا ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 232 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ
امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“
(ایام الصلح صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323 از مرزا قادیانی)
حضرات صحابہ کرامؓ کی پیروی میں اہلسنت و جماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی وغیرہ کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔ قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ حضرت امام مہدی اس امت میں حضور نبی کریمؐ کی اولاد سے پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ موجود ہوں گے۔
قادیانی گروہ تو سرے سے ہی اسلام میں شامل نہیں کیونکہ مذکورہ حدیث میں واضح طور پر حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کا ذکر فرمایا ہے نہ کہ کافروں کا۔ قادیانی تو امت مسلمہ کا حصہ ہی نہیں کیونکہ وہ ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی)
- ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب
اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“ (اربعین نمبر 3 صفحہ 36، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی)
- ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
- ”جس طرح فرعون کے پاس رسول بھیجا گیا تھا وہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے
ہیں کہ تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 17، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب
تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔“
(دافع البلاء صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 230 از مرزا قادیانی)
- ”وقل یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً۔“
اور کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔
(تذکرہ مجموعہ وحی مقدس والہامات صفحہ 292، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
- ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔“
”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“ (حقیقة الوحی صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 105 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود کا کہنا ہے:
- ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم
یہ کہو کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا، تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں۔ اور ضرور آسکتے ہیں۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 65 مندرجہ انوار العلوم جلد 3، صفحہ 127، از مرزا بشیر الدین محمود)
اس کے علاوہ قادیانی حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کی معراج جسمانی کے منکر ہیں، مرزا قادیانی کی وحی پر قرآن کی طرح ایمان رکھتے ہیں، حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنے والے کو مجدد اور مسیح کہتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ وہ فرقہ جنتی ہے جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو۔ قادیانی کون سے صحابہ کے طریقے پر ہیں جبکہ مرزا قادیانی صحابہ کرامؓ کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 از مرزا قادیانی)
- ”جیسا کہ ابو ہریرہؓ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
- ”جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے، اس کو چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک
ردی متاع کی طرح پھینک دے“۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 410 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)
- ”بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابو ہریرہ)“۔
(حقیقة الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)
- ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت
ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا، وہ تو بعض انبیا سے بہتر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 278، مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص 396 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ”ابوبکر و عمر کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے
لائق نہ تھے۔“ (ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری 1915ء - 3/2 صفحہ 57 احمدیہ انجمن اشاعت اسلام)
- ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود
ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 400 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ”میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تین سو تیرہ اصحاب کی فہرست تیار کی تو بعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ حضور ہمارا نام بھی اس فہرست میں درج کیا جائے۔ یہ دیکھ کر ہم کو بھی خیال پیدا ہوا کہ حضور سے دریافت کریں کہ آیا ہمارا نام درج ہو گیا ہے یا کہ نہیں۔ تب ہم تینوں برادران مع منشی عبدالعزیز صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے آپ کے نام پہلے ہی درج کیے ہوئے ہیں۔ مگر ہمارے ناموں کے آگے ”مع اہل بیت“ کے الفاظ بھی زائد کیے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فہرست حضرت مسیح موعود نے 1896-97ء میں تیار کی تھی اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کیا تھا۔ احادیث سے پتا لگتا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلعم نے بھی ایک دفعہ اسی طرح اپنے اصحاب کی ایک فہرست تیار کروائی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ تین سو تیرہ کا عدد اصحاب بدر کی نسبت سے چنا گیا تھا۔ کیونکہ ایک حدیث میں ذکر آیا ہے کہ مہدی کے ساتھ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق 313 اصحاب ہوں گے جن کے اسماء ایک مطبوعہ کتاب میں درج ہوں گے۔ (دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 40 تا 45)“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 128 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کو بڑی جماعت کی پیروی اور اطاعت کی ہدایت کی گئی ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
- ”اتبعو السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار.“ (مشکوٰۃ)
ترجمہ: ”بڑی جماعت کی پیروی کرو! اس لیے کہ جو جماعت سے الگ ہوا، وہ تنہا آگ میں ڈالا جائے گا۔“
- ”عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يجمع
الله هذه الأمة على الضلالة ابدا. وقال يد الله على الجماعة. فاذا شذ الشاذ منهم اختطفته الشياطين. فاذا رأيتم اختلافا. فاتبعوا السواد الأعظم، فانه من شذ، شذ في النار.“
(مستدرک، کتاب العلم)
ترجمہ: ”ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ میری امت کو کبھی ضلالت پر جمع نہیں کرے گا اور آپ ﷺ نے فرمایا: جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ تو جو اس سے الگ ہوا، شیاطین اسے اچک لے جائیں گے۔ چنانچہ، جب تم (اس میں) اختلاف پاؤ تو (اس کے ساتھ وابستہ رہنے کے لیے) سوادِ اعظم کی رائے کی پیروی کرو، اس لیے کہ جو الجماعۃ سے الگ ہوا، وہ دوزخ میں پڑا۔“
- ”فاذا رأيتم اختلافا، فعليكم بالسواد الأعظم.“
(ابن ماجہ، کتاب الفتن)
ترجمہ: ”جب تم اختلاف پاؤ تو اس صورت میں اکثریت کی رائے کی پیروی تم پر لازم کی گئی ہے۔“
- ”يد الله على الجماعة.“
(مستدرک، کتاب العلم)
ترجمہ: ”الجماعۃ کے قائم رہنے میں اللہ کی تائید ونصرت ہے۔“
- ”الجماعة رحمة والفرقة عذاب.“
(مسند احمد)
ترجمہ: ”الجماعۃ کا قائم رہنا اللہ کی رحمت ہے اور علیحدہ فرقہ عذابِ الہی ہے۔“
- ”ان أمتى ستفترق على ثنتين وسبعين فرقة، كلها فى النار، الا واحدة
وهى الجماعة.“
(ابن ماجہ، کتاب الفتن)
ترجمہ: ”بلاشبہ، میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں جائیں گے اور وہ ’الجماعۃ‘ ہے۔“
- ”من فارق الجماعة شبرا فكانما خلع ربقة الاسلام من عنقه.“
(احمد بن
حنبل عن حارث الاشعری)
ترجمہ: ”جو جماعت سے الگ ہوا تو گویا اس نے اسلام کا قلادہ گردن سے اتار پھینکا۔“
ان احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کا ذکر ہے اور مسلمانوں ہی میں بڑی جماعت اور سواد اعظم کے اتباع کا حکم ہے۔ معلوم ہوا کہ بڑی جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ آج بھی چودہ سو سال گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں میں صحابہ کرامؓ کا اتباع کرنے والوں کی کثرت ہے۔ یہی اہلسنّت والجماعت ہیں۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ حدیث میں جن تہتر (73) فرقوں کا ذکر ہے، وہ امت مسلمہ میں سے ہوں گے یعنی جو فرقہ جنتی ہے، وہ مسلمان ہوگا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ قادیانی تمام مسلمانوں کو کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ مسلمان آنجہانی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول نہیں مانتے، اس لیے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس سلسلہ میں چند حوالہ جات ملاحظہ کیجیے!
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا
مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ
کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا
چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
مزید کہا:
- ”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا
اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد 5 نمبر 15 صفحہ 8)
- ”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک
جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔
غیر احمدیوں (مسلمانوں) سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمؐ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ’’اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس
لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود)
- ’’کیونکہ غیر احمدی جب بلا استثناء کافر ہیں تو ان کے چھ ماہ کے بچے بھی کافر ہوئے
اور جب وہ کافر ہوئے تو احمدی قبرستان میں ان کو کیسے دفن کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح جلد 24 نمبر 49، 3 اگست، 1936ء)
- ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ
پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود)
- ’’ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح
موعود (مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریاں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفۂ اول (حکیم نور الدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔‘‘
(انوار خلافت صفحہ 93، 94 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 151 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
- ’’کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟ کیا وہ انبیا جن
کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا؟ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر حضرت
مرزا صاحب نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں، اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کردیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی بات ہے۔‘‘ (روزنامہ الفضل جلد 5 شمارہ 69، 70)
- ’’مگر جس دن سے تم احمدی ہوئے، تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی، شناخت اور امتیاز
کے لیے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو ورنہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟‘‘
(ملائکۃ اللہ صفحہ 46، 47 از مرزا محمود)
- ’’میں نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ
پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کیے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کیے گئے ہیں، اس طرح ہمارے بھی کیے جائیں، تم ایک پارسی پیش کردو، اس کے مقابلہ دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔‘‘ (مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان، 13 نومبر 1946ء)
The Ahmaddiya movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Judaism.
- ’’تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے
ساتھ ہے۔‘‘۔ (The Review of Religions جلد 5 شمارہ 5 مئی 1906ء، قادیان)
قادیانی عقیدہ کے مطابق جب مسلمان کافر، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو ظاہر ہے قادیانیوں کے نزدیک جنتی فرقہ مسلمانوں میں سے نہ ہوگا۔ اور اگر بالفرض محال ایک لمحہ کے لیے یہ مان لیا جائے کہ قادیانی مذہب ہی اصل اسلام ہے تو پہلے وہ اپنے 73 فرقے بتائیں اور بعد میں اپنے کسی جنتی فرقے کا ذکر کریں۔
قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حدیث میں بیان کردہ 73 واں فرقہ ہے جسے جنتی قرار دیا گیا ہے۔ بالفرض اگر چند لمحوں کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ قادیانیت تہترواں فرقہ ہے تو مندرجہ ذیل ضروری نکات سامنے آتے ہیں۔
- (1) قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں اور کسی کلمہ گو کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
- (2) قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود تھا جو پوری دنیا کو اکٹھا
کرنے کے لیے آیا۔
- (3) قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ صرف وہی متحد ہیں باقی سب انتشار کا شکار ہیں۔
قادیانیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں اور کسی کلمہ گو کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، دراصل منافقت اور دجل پر مبنی ہے۔ قادیانی منافق، زبان سے کلمہ پڑھتے اور قسمیں کھا کھا کر حضور ﷺ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید نے ایسے لوگوں کو جھوٹا بتایا اور ان کا اقرار کرنا، قسمیں کھانا تسلیم نہ کیا۔ قرآن مجید میں منافقوں کے بارے میں ارشادِ خداوندی ہے جس کا اطلاق قادیانیوں پر بھی ہوتا ہے۔
”(اے نبی مکرم) جب منافق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے، اسی طرح روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔ بے شک یہ لوگ بہت برے کرتوت (والے) ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔ (ان کا) یہ (طریق کار) اس لیے ہے کہ وہ (پہلے) ایمان لائے پھر وہ کافر بن گئے۔ پس مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر تو (اب) وہ کچھ سمجھتے نہیں۔“
(المنافقون: 1 تا 3)
اس سے معلوم ہوا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا اور اپنے ایمان و اسلام کا اقرار کرنا خواہ قسمیں کھا کر کیوں نہ ہو، وہ ایمان کے لیے کافی نہیں۔ جب تک دل سے نہ مانے، مسلمان نہیں ہو سکتا۔ دل سے ماننا تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اقرار کے ساتھ اس میں کوئی وجہ کفر کی نہ پائی جائے۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی خود ”محمد رسول اللہ“ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں آیا۔ قادیانی جب کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں چند ضروری حوالہ جات ملاحظہ کیجیے!
- ❑ ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ
ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں
محمد ﷺ ہوں ۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
- ’’اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور نبی کریم ﷺ
میں کوئی دُوئى (فرق) باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ’’ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی
کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و مارأیٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ’’امام اپنا عزیزو اس زماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں‘
(روزنامہ بدر قادیان، 25 اکتوبر 1906ء از مرزا قادیانی)
- □ ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے
حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘
(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مسیلمہ کذاب نے حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی نبوت کا اعلان کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے اور اس کے تمام پیروکاروں کو کافر قرار دیا۔ حالانکہ وہ کلمہ طیبہ پڑھتے تھے۔ قبلہ رخ ہو کر پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے، روزے رکھتے تھے اور اعلان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان سب کے باوجود انہیں محض اس لیے کافر قرار دیا گیا کہ وہ مسیلمہ کذاب کو نبی مانتے تھے۔ اس قانون کا اطلاق قادیانیوں پر ہوتا ہے جو مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا دعویٰ نبوت ...... خواہ کسی بھی تاویل سے ہو، ...... اس کی کتنی ہی بڑی جماعت کیوں نہ ہو، ...... اس کے پیروکار ظاہری شکل وصورت سے کتنے ہی ’’اسلامی‘‘ کیوں نہ ہوں، ...... خواہ وہ زبان سے کلمہ پڑھتے ہوں، ...... تمام اسلامی شعائر کی پابندی کرتے ہوں، ...... ان سب کو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جانا، قرآن و سنت اور اجماع صحابہؓ کرام کے سبب عین درست اور نہایت ضروری ہے۔
چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی
مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اس سلسلہ میں چند حوالہ جات ملاحظہ کیجیے۔
- ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام
پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)
- ”میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا
نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے۔“
(دافع البلاء صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 238 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام
ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 526 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مسیح موعود کی خصوصیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”اب حدیثوں پر نظر غور کرنے سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن
مریم اترنے والا ہے جس کی تعریفیں لکھی ہیں کہ وہ گندم گون ہوگا اور بال اس کے سیدھے ہوں گے اور مسلمان کہلائے گا اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات دور کرنے کے لئے آئے گا اور مغز شریعت جس کو وہ بھول گئے ہوں گے انہیں یاد دلائے گا اور ضرور ہے کہ وہ اس وقت نازل ہو جس وقت انتہاء تک شر اور فتن پہنچ جائیں اور مسلمانوں پر تنزل کا زمانہ ہو جو یہودیوں پر اُن کے آخری دنوں میں آیا تھا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 460,459 از مرزا قادیانی)
اس عبارت میں مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم (ابن غلام مرتضیٰ نہیں) اترنے والا ہے۔ وہ یہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ ابن مریم نازل ہوں گے اور ان کی ایک بڑی خوبی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آنے والا مسیح ”مسلمانوں کے باہمی اختلافات دور کرنے کے لئے آئے گا۔“ قادیانیوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہے تو کیا وہ ابن مریم ہے؟ کیا وہ آسمان سے اترا یا نازل ہوا؟ کیا اس کی آمد سے ”مسلمانوں کے باہمی اختلافات“ دور ہوگئے؟ یہ ایک آسان سی بات ہے جس پر غور کرنے سے حق کے متلاشی قادیانی اپنی کھوئی ہوئی منزل پاسکتے ہیں۔
مرزا قادیانی مزید اعتراف کرتا ہے:
- ’’اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر بکثرت پھیل
جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی۔‘‘
(ایام الصلح صفحہ 136 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 381 از مرزا قادیانی)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نزول مسیح کی 3 علامتیں بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان پر اتفاق ہو گیا ہے۔ لہٰذا صرف پہلی علامت کو ہی لے لیں۔ دنیا بھر میں جس قدر اسلام پھیلا تھا، مرزا قادیانی کے آنے سے وہ نیست و نابود ہو گیا۔ سیاست ملکی کے عالمگیر غلبہ کا تو نشان بھی نہیں پایا گیا۔ کوئی باطل دین ہلاک نہیں ہوا۔ الٹا اسلام مٹ گیا۔ مرزا قادیانی کے آنے سے سابقہ مسلمان یعنی پوری دنیا کے کروڑوں مسلمان بجز چند لاکھ کے، کافر ہو گئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے:
- ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور
اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 519 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کو غور کرنا چاہیے کہ کون سی نئی دنیا ہے جہاں مرزا قادیانی نے اسلام پھیلایا؟ کون سے باطل دین کو مرزا قادیانی نے ہلاک کیا؟ مرزا قادیانی، مسیح موعود کی حیثیت سے جو علامت اور جو کام خود بیان کر رہا ہے، وہ اس میں بالکل نہیں پائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی آمد پر قوموں کا اتحاد و اتفاق کیا ہوتا، خود قادیانی جماعت میں ایسا اختلاف ہوا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی وہ 10 فرقوں میں بٹ کر رہ گئے اور سب ایک دوسرے کو کافر اور دوزخی کہتے ہیں۔ منافرت اور عداوت علیحدہ ہے۔ لہٰذا اب قادیانی خود کو 73 واں فرقہ نہیں کہلوا سکتے کیونکہ اب (نئے قادیانی فرقوں کو شامل کر کے) فرقوں کی تعداد 82 ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اب یا تو (نعوذ باللہ) حدیث مبارکہ کو جھٹلانا ہو گا جو کہ ناممکن ہے یا یہ ماننا پڑے گا کہ قادیانیوں کے دیگر تمام فرقے کافر ہیں کیونکہ دیگر فرقے بھی کلمہ گو ہیں اور قادیانیوں کے نزدیک کسی کلمہ گو کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ قادیانیت 100 سال قبل وجود میں آئی تو کیا اس سے پہلے کی امت مسلمہ جہنمی ہے؟ حالانکہ جو ناجی (جنتی) فرقہ ہو گا، وہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے ہی چلا آئے گا اور امت مسلمہ کی کثیر تعداد اسی پر قائم
رہے گی۔ بعد میں کچھ لوگ گمراہ ہو کر دین اسلام سے خارج ہو جائیں گے اور یوں سواد اعظم یا اہلسنت والجماعت سے نکل جائیں گے۔ بہر حال جس طرح عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں، (مثلاً کیتھولک، پروٹسٹنٹ، مورمن، آرتھوڈکس وغیرہ)، اسی طرح قادیانیوں میں بھی کئی فرقے ہیں۔ ذیل میں ان کا مختصراً تعارف پیش خدمت ہے۔
قادیانی ربوی فرقہ
مسلمانان عالم کا حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدۂ جہاد 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور نبی کریم ﷺ کی محبت وعقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حکومت برطانیہ کی سرپرستی اور لالچ پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ بدبخت گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا تھا۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کرایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر بتدریج مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امر ونہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے ادعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی ورسول ہونے کا دعویٰ کیا، حتیٰ کہ اعلان کیا کہ وہ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔ (نعوذ باللہ) پھر اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ’’محمد رسول اللہ ﷺ‘‘ کو بھیجا۔ مزید کہا کہ مرزا قادیانی خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں آیا۔ اس لیے ہمیں کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اب کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ یہ قادیانی عقیدہ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے اپنی ایک نظم میں پیش کیا۔
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
قاضی اکمل نے مندرجہ بالا نظم لکھ کر ایک قطعہ کی صورت میں مرزا قادیانی کو پیش کی۔ مرزا قادیانی نے اس نظم کو پڑھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔ قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘، اس کی بدقماش بیوی کو ’’ام المومنین‘‘، اس کی عیاش بیٹی کو ’’سیدۃ النساء‘‘، اس کے گھٹیا خاندان کو ’’اہل بیت‘‘، اس کے گماشتوں کو ’’صحابہ کرام‘‘، اس کی نام نہاد وحی والہامات کو ’’قرآن مجید‘‘، اس کی بیہودہ گفتگو کو ’’احادیث رسول‘‘، اس کے ناپاک شہر قادیان کو ’’مکہ‘‘، ربوہ کو ’’مدینہ‘‘ اور اس کے مرگھٹ کو ’’جنت البقیع‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بلکہ فاسق و فاجر مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں اور اس کرۂ ارض پر کوئی بے حمیت مسلمان ایسا نہیں جو کسی بد بخت سے ایسی گستاخانہ باتیں سننا گوارا کرے۔
مرزا قادیانی نے انگریزوں کے اشارہ پر دعویٰ نبوت کرنے کے بعد اپنا الگ اور نیا فرقہ بنایا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی کتب سے درج ذیل حوالے قابل ذکر ہیں:
- ’’میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر
مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں، گورنمنٹ کے لیے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی۔ جو ہدایتیں اس فرقہ کے لیے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستور العمل رکھے۔ وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو 12 جنوری 1889ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت ہے۔...... میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص 18، 19، مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص 195، 196 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ’’میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا
ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جان نثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول
گورنمنٹ کے لیے خطرناک نہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص 15، مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص 193 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ”یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو مَیں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی رُوح ان میں پیدا ہو جائے گی۔ اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی اے اور ایم اے، اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے جو اس ملک میں روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ اس لیے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں، حضور لفٹینٹ گورنر بہادر کو آگاہ کروں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 188 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
فرقہ واریت دین کے لئے زہر قاتل ہے۔ اسلام اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ حیرانی ہے کہ مرزا قادیانی ”فرقہ احمدیہ“ کے نام سے ایک نیا فرقہ بنا کر کس قدر اِترا رہا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ جو شخص اسلام میں کوئی فرقہ بناتا ہے، قرآن مجید اُسے مشرک گردانتا ہے جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
- مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ O مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ط كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ O (الروم: 31، 32)
ترجمہ: ”(اے غلامانِ مصطفیٰﷺ تم بھی اپنا رُخ اسلام کی طرف کرلو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور قائم کرو نماز کو اور نہ ہو جاؤ (ان) مشرکوں میں سے، جنہوں نے پارہ پارہ کر دیا اپنے دین کو اور خود فرقہ فرقہ ہو گئے۔ ہر گروہ جو اس کے پاس ہے، وہ اسی پر خوش ہے۔“
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو فرقہ واریت پھیلانے والوں سے لاتعلق رہنے کا ارشاد فرماتے ہیں:
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ ط اِنَّمَا اَمْرُهُمْ اِلَی اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ (الانعام: 159)
ترجمہ: ”بے شک وہ جنہوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہو گئے کئی کئی فرقے (اے محبوب!) نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی تعلق۔ ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ بتائے گا انہیں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔“
قادیانیوں کا نبی الگ، قرآن الگ، شریعت الگ اور کلمہ الگ ہے۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کے شعائر استعمال کرتے ہیں۔ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیاتِ مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔“
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفاتِ مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں
ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
مزید کہا:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام
اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد پنجم نمبر 15 ص 8)
- اسی شوقِ اختلاف میں قادیانی قیادت نے اسلامی تقویم کے مقابلہ میں قادیانی
تقویم پیش کی جو مندرجہ ذیل ہے۔
اسلامی تقویم: محرم ۔ صفر ۔ ربیع الاول ۔ ربیع الثانی ۔ جمادی الاول ۔ جمادی الثانی ۔ رجب ۔ شعبان ۔ رمضان ۔ شوال ۔ ذیقعد ۔ ذوالحج
قادیانی تقویم: شہادت ۔ ہجرت ۔ احسان ۔ وفا ۔ ظہور ۔ تبوک ۔ اخاء ۔ نبوت ۔ فتح ۔ صلح ۔ امان ۔ تبلیغ
پوری ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی اپنے عقائد کے لحاظ سے کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور اس فتنہ کا استیصال اور قلع قمع کرنا ہر مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ۔“ قادیانیوں کے کفریہ عقائد وعزائم اور علامہ اقبالؒ کے مذکورہ قول کی روشنی میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس کے بعد ایک صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے 26 اپریل 1984ء کو قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال اور اپنے مذہب (قادیانیت) کی تبلیغ سے روک دیا گیا۔ اس حوالے سے تعزیرات پاکستان کی دفعات 298-B، 298-C اور 295-C خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ 1993ء میں قادیانی جماعت نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی اور اس میں موقف اختیار کیا کہ انھیں خود کو مسلمان کہلانے، اپنے مذہب کی تبلیغ وتشہیر کرنے، لٹریچر تقسیم کرنے اور سر عام جلسے وغیرہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔ دوران مقدمہ جب مسلمان وکلا نے مرزا قادیانی، اس کے بیٹوں اور مریدوں کی کتب سے گستاخانہ اور کفریہ عبارات پیش کیں تو فل بنچ کے جج صاحبان انھیں دیکھ کر سر پکڑ کر
بیٹھ گئے۔ انھوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے روکتے ہوئے لکھا کہ ہر قادیانی شعائر اسلامی کی توہین اور اپنے کفریہ عقائد کی بنا پر ”سلمان رشدی“ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سلمان رشدی بدنام زمانہ گستاخ رسول اور سزائے موت کا مستوجب ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ اگر قادیانیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی تو انتظامیہ ان کی جان اور مال کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ کوئی مسلمان ایسی دل آزار تحریریں پڑھنے کے بعد اپنے غصہ پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اس کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز لاء اینڈ آرڈر کا موجب بن سکتی ہے جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہتے، شعائر اسلامی کی توہین کرتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے اور گستاخانہ لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کا قانونی اور مذہبی فریضہ ہے کہ وہ قادیانیوں کی ارتدادی اور شرانگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے اور اگر کوئی قادیانی ایسا کرتا نظر آئے تو معززین علاقہ کے ہمراہ متعلقہ تھانہ میں جا کر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C اور 298/C کے تحت قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کرائے۔ مرزا قادیانی اور اس کے رفقا کی کتب میں بعض ایسی روح فرسا تحریریں ہیں جو عقائد کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان تحریروں کو پڑھ کر کلیجا پھٹنے کو آتا، دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا، آنکھیں خون کے آنسو روتیں، سینہ چھلنی ہوتا، روح میں زہر آلود نشتر چبھتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ قادیانی فرقوں کے مختصر تعارف سے پہلے ملاحظہ کریں کہ آنجہانی مرزا قادیانی اپنے پیروکاروں کے بارے میں کیا کہتا ہے:
- ”بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد
توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بگریباں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
- ’’خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔
مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لیے اکٹھے کروں۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 2 (آخر) مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
- ’’میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔‘‘
(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
قادیانی لاہوری فرقہ
’’قادیانی لاہوری فرقہ‘‘ قادیانیوں کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ قادیانی لاہوری فرقے کا بانی آنجہانی مولوی محمد علی لاہوری دسمبر 1874ء کو ریاست کپور تھلہ کے موضع مرار میں پیدا ہوا۔ میٹرک تک تعلیم وہیں حاصل کی۔ 1896ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ کچھ عرصہ اورینٹل کالج لاہور میں جو ٹکسالی دروازہ کے باہر تھا، ملازمت کی۔ 1897ء میں وہ خواجہ کمال الدین کے ساتھ پہلی مرتبہ قادیان گیا اور مرزا قادیانی کی بیعت کی۔ 1899ء میں اس نے وکالت کا آخری امتحان پاس کیا اور ملازمت چھوڑ کر پریکٹس شروع کر دی۔ انہی دنوں مرزا قادیانی اپنی بعض تحریرات اور میموریل وغیرہ مولوی محمد علی کو بھیجتا، جس کا وہ انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع ہونے کے لیے واپس قادیان بھجوا دیتا۔ انہی دنوں وہ مستقل طور پر قادیان چلا گیا جہاں اس نے مرزا قادیانی کے گھر کی تیسری منزل پر رہائش اختیار کی۔ مولوی محمد علی نے یہاں
سے رسالہ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی میں) نکالنا شروع کیا جو انگریزی دان طبقہ کو خصوصی طور پر بھجوایا جاتا۔ یہ رسالہ قادیانی عقائد ونظریات کا زبردست ترجمان تھا۔
1908ء میں مرزا قادیانی جہنم واصل ہوا۔ اس کے بعد حکیم نورالدین خلیفہ بنا۔ 1914ء میں اس کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت میں جھگڑا پیدا ہو گیا۔ مولوی محمد علی لاہوری سمجھتا تھا کہ وہ خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے خاندان والے چاہتے تھے کہ ”خلافت“ خاندان سے باہر نہ جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود، قادیانی گدھی پر سوار ہو گیا۔ اس کے ردعمل میں محمد علی لاہوری اپنے ساتھیوں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ، خواجہ کمال الدین، ڈاکٹر محمد حسین شاہ، شیخ رحمت اللہ، حکیم محمد حسین مرہم عیسیٰ، شیخ نیاز احمد وزیر آبادی، مولوی غلام حسن پشاوری اور حامد شاہ وغیرہ کے ساتھ قادیان چھوڑ کر لاہور آ گیا اور یہاں اپریل 1914ء میں ”قادیانی لاہوری“ کے نام سے نیا فرقہ بنا کر کام شروع کر دیا۔ اس پر مرزا محمود نے لاہوری فرقہ پر شدید تنقید شروع کر دی۔ لاہوری فرقہ کے معروف رہنما ممتاز احمد فاروقی کا کہنا ہے:
”اختلاف کے فوراً بعد ہی میاں محمود احمد نے لاہور کے احباب پر انتہائی غیظ و غضب کا اظہار کرنا شروع کیا۔ اور یہ ہمیشہ ان کی طرز رہی۔ چنانچہ مولانا محمد علی اور ان احباب کو ”ڈھائی بوٹیاں تے فتو باغبان“ کا خطاب دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ”جہنم کی چلتی پھرتی آگ“ ہیں اور ”گوبھی شلغم کے گلے سڑے چھلکے ہیں“ اور یہ کہ ”ان سے بدترین قوم آج تک صفحہ زمین پر پیدا ہی نہیں ہوئی۔“ (مجاہد کبیر از ممتاز احمد فاروقی)
قادیانی مذہب کے ربوی فرقہ اور لاہوری فرقہ میں نہ صرف بنیادی اور اعتقادی اختلافات ہیں بلکہ وہ ”نظریۂ ضرورت“ کے تحت ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ دونوں فرقوں نے ایک دوسرے پر (جو سب کے سب مرزا قادیانی کے پرانے ساتھی اور صحبت یافتہ تھے) سنگین الزامات کی جو بوچھاڑ کی، وہ نہایت چشم کشا اور ہوش ربا ہے۔ ان میں اخلاقی اعتبار سے زنا، لواطت، چوری، بدکاری، قتل و غارت، تعلّی و تکبر، حرام خوری، خود غرضی، فریب کاری، مغالطہ اندازی اور بد دیانتی کے الزامات اور دینی لحاظ سے کفر و شرک، ارتداد و نفاق اور تحریف و تلبیس وغیرہ کے الزامات سرفہرست ہیں۔ اس سلسلہ میں ”مباحثہ راولپنڈی“ کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ اس دستاویز میں دونوں فرقوں کے بنیادی اختلافات پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
لاہوری فرقے کا عقیدہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ محمد علی لاہوری، مرزا قادیانی کے تمام کفریہ عقائد و نظریات کو نہ صرف مانتا تھا بلکہ پورے زور و شور کے ساتھ اس کی تبلیغ و تشہیر بھی کرتا تھا۔
- ”آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا
کی اصلاح کے لیے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے، وہ بھی شہرت پسند نہیں بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں، آپ کو کسی سے کچھ سروکار نہ تھا اور سالہا سال تک گوشۂ خلوت سے باہر نہیں نکلے۔ یہی سنتِ قدیم سے انبیا کی چلی آئی ہے“۔
(ریویو آف ریلیجنز یعنی دنیا کے مذاہب پر نظر، ایڈیٹر محمد علی لاہوری جلد 5 شمارہ نمبر 4، اپریل 1906ء)
- ”خدا اب بھی نبی بنا سکتا ہے...................... ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا
(یعنی مرزا قادیانی) وہ صادق تھا، خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا“۔
(جون 1908ء میں مولوی محمد علی لاہوری کی لاہور میں تقریر۔ مطبوعہ الحکم قادیان، جولائی 1908ء)
اس نے نہایت جوشیلے انداز میں اپنے پرچہ ”پیغام صلح“ میں تحریر کیا:
- ”معلوم ہوا کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہٰذا کے
ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار ”پیغام صلح“ سے تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں“ (اخبار پیغام صلح جلد اوّل صفحہ 42، 16 اکتوبر 1913ء)
- ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ مسیح موعود یعنی (مرزا
قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لیے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے“۔
(اخبار پیغام صلح جلد اوّل صفحہ 35، 7 ستمبر 1913ء)
جناب بابو پیر بخش صاحب، لاہوری مرزائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”آپ اپنا عقیدہ بتائیں کہ آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر قرآن کی
آیات دوبارہ نازل ہوئی تھیں جو کہ اس نے خواب میں سنیں یا دوسرے مسلمانوں کی طرح عالم خواب میں توارد کے طور پر اس کی زبان پر جاری ہوتی تھیں؟ اخیر میں ایک عبارت مرزا قادیانی کی نقل کی جاتی ہے اس کی نسبت آپ کا کیا اعتقاد ہے؟ ”غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں۔ جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص 391 خزائن ج 22 ص 406)
دوم: مرزا قادیانی کہتا ہے ۔
داد آں جام را مرا بہ تمام
(نزول المسیح صفحہ 99 خزائن جلد 18 صفحہ 477)
یعنی جو کچھ ہر ایک نبی کو نعمت دی گئی ہے ان تمام نعمتوں کا مجموعہ مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں سے افضل ہونے کا مدعی تھا کیونکہ کل نبیوں کے کمالات وفضائل تمام جمع کر کے جب خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو دے دیے اور دوسرے کسی نبی کو مجموعہ کمالات انبیا نہ بنایا تو اب مرزا قادیانی کے دعویٰ افضل الرسل میں کیا شک ہے؟ آپ صاحبان جب مرزا قادیانی کے مرید ہیں اور اس کو مسیح موعود بھی یقین کرتے ہیں تو پھر اس کو نبی نہ ماننا اور مرزا قادیانی کے عقائد اور الہامات کے برخلاف صرف بلا دلیل یہ کہہ دینا کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف ایک مجدد مانتے ہیں کس طرح درست ہے؟ کیا دوسرے مجددوں نے بھی نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا تھا اور یہ کہتے تھے کہ ہم مجموعہ کمالات تمام انبیا ہیں جو آدم سے لے کر اب تک ہو گزرے ہیں؟
(اظہار صداقت (کھلی چٹھی بنام محمد علی لاہوری و خواجہ کمال الدین لاہوری از بابو پیر الہی بخش)
بقول شخصے: ” قادیانیوں کے ان دونوں فرقوں میں درحقیقت کوئی فرق نہیں بلکہ یہ اختلاف اور نزاع صرف اقتدار کا ہے اگر مولوی محمد علی کو مرزا محمود کی جگہ خلافت مل جاتی تو وہ بھی وہی کہتا جو عام قادیانی کہتے ہیں۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے کسی نے پوچھا
تھا کہ ”قادیانی اور لاہوری فرقوں میں کیا فرق ہے؟ شاہ جی نے برجستہ جواب دیا: سور، سور ہی ہوتا ہے خواہ کالے رنگ کا ہو یا سفید رنگ کا“۔
قادیانی لاہوری فرقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مرزا قادیانی کی کئی ایک پیش گوئیاں جو قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے متعلق تھیں، پوری طرح سچی ثابت ہوئیں۔ مثلاً ایک دفعہ مرزا قادیانی نے کہا:
”ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ كَلْبٌ يَمُوْتُ عَلٰی كَلْبٍ یعنی وہ کتا ہے۔ اور کتے کے عدد پر مرے گا۔ جو باون سال پر دلالت کر رہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا۔ تب اسی کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوگا ۔“
(ازالۃ اوہام صفحہ 187، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 190، تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 145 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
گو مرزا محمود کی پیدائش 12 جنوری 1889ء کو ہوئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس کی پبلک اور جماعتی زندگی کا آغاز 14 مارچ 1914ء کو ہوا جب وہ نام نہاد خلافت کی گدھی پر سوار ہوا اور کھلے بندوں عامۃ المسلمین کو عموماً اور اپنی جماعت کو خصوصاً گمراہ کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مذکورہ بالا وحی میں اسی عمر کی طرف اشارہ کر کے یہ پیش گوئی کی گئی کہ ایک خاص شہرت کا آدمی جو اپنے اعمال و کردار کے لحاظ سے اس کا مصداق ہے (کوئی معمولی آدمی ہرگز ہرگز مراد نہیں لیا جاسکتا) وہ باون سال کے اندر قدم دھرنے کے بعد یعنی اس معینہ سال کے اندر اندر ہی راہی ملک بقا ہوگا۔ چنانچہ دیکھ لو کہ مارچ 1914ء کے بعد مارچ 65ء میں اکاون سال ہوئے اور سال باون ختم ہونے میں ابھی چار ماہ اور چھ دن باقی تھے کہ مرزا محمود عبرتناک موت سے دوچار ہوا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ لاہوری قادیانیوں کا کہنا ہے کہ مرزا محمود میں ظاہری کتے کی مماثلت تو شاید پوری نہ ہو، لیکن مال دنیا کی حرص میں اس کی روحانی حالت کتے کی ضرب المثل ہے۔ قادیانی خلیفہ مال دنیا کی بے انتہا حرص اور نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصلح موعود بن کر قادیانی جماعت کی چوکھٹ پر بیٹھا ہر وقت دوسروں کو غراتا رہتا تھا۔
مرزا قادیانی کا ایک کشف جو اس نے 16 اپریل 1902ء کو دیکھا، تذکرہ میں درج ہے۔ ”رات میں نے کشف دیکھا کہ کوئی بیمار کتا ہے۔ میں اسے دوا دینے لگا ہوں تو میری زبان پر جاری ہوا۔ ”اس کتے کا آخری دم ہے ۔“ (تذکرہ طبع چہارم ص 341، از مرزا قادیانی)
لاہوری قادیانی فرقے کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرزا محمود کی بیماری کے دوران مختلف رجسٹری خطوط، پمفلٹوں، اشتہارات اور کتابچوں کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ وہ اس بیماری سے عبرت حاصل کرے لیکن اس نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ ہماری یہ تمام کوششیں دوائی کے طور پر تھیں۔
معروف لاہوری قادیانی عبدالکریم مباہلہ نے 1927ء میں مرزا محمود پر بدکاری کا الزام لگایا، اس نے بار بار مباہلہ کا چیلنج کیا جس کی پاداش میں اس پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا، اس کے ساتھی کو قتل کیا گیا، اس کا گھر جلایا گیا، اس پر مقدمے قائم کئے گئے، اسے قادیان بدر کر دیا گیا۔ لیکن مرزا محمود کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ ان کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرے۔ نہ آج تک مرزا محمود کی ذریت میں سے کسی کو توفیق ہوئی کہ حلف مؤکد بعذاب اٹھا کر اپنے باپ کی پاکدامنی کی شہادت دے۔
1936ء میں مرزا محمود پر یہی الزام لاہوری فرقہ کے سرگرم رہنما عبدالرحمن مصری نے لگایا۔ اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا، اس کے خلاف نقص امن کا مقدمہ دائر کیا گیا اور اس کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ حلفیہ بیان دینا پڑا:
”موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے معصوم لڑکوں ...... اور لڑکیوں کو قابو کرتے ہیں۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“ (فتح حق از ممتاز احمد فاروقی، صفحہ 41)
لیکن مرزا محمود کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ عبدالرحمن مصری کے چیلنج کو قبول کر لیتا اور اس کی تحقیق کے لیے اپنے فرقہ ہی کے چند افراد کا کمیشن مقرر کر دیتا۔ نہ آج تک کسی قادیانی خلیفہ نے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ مرزا محمود کی پاکدامنی پر شہادت دی۔ مرزا محمود نے مصری کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے اسے منافقوں (لاہوری مرزائیوں) کی شرارت قرار دیا اور اپنے خطبہ جمعہ میں ایسے ہی ایک منافق کا خط پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں یہ خط قادیانی اخبار روزنامہ ”الفضل“ میں شائع بھی ہوا۔ خط میں لکھا تھا:
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا، تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے۔ ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں، کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان مورخہ 31 اگست 1938ء)
مرزا محمود نے یہ خط خطبہ جمعہ میں منبر پر سنایا اور حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ اس منافق کی تردید کرنے کے بجائے صرف یہ ”بے ضرر تبصرہ“ کافی سمجھا کہ:
”اس اعتراض سے پتا لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع (یعنی لاہوری مرزائی) ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان مورخہ 31 اگست 1938ء)
دیندار انجمن قادیانی فرقہ
قادیانی مذہب کا تیسرا فرقہ ”دیندار انجمن“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فرقہ دیندار انجمن کا بانی صدیق دیندار تھا جو اپنے نام کے ساتھ ”چن بسویشور“ لکھا کرتا تھا۔ وہ آصف آباد حیدر آباد دکن بھارت کا رہنے والا تھا۔ وہ چند سال حیدر آباد کی ریاستی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل رہا۔ بعد ازاں رشوت کے الزام میں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ دوران ملازمت گلبرگہ دکن میں وہ ایک عورت سے غیر اخلاقی حرکات کے الزام میں عرصہ 3 ماہ روپوش رہا۔ چن بسویشور قادیانی آنجہانی مرزا قادیانی کے تمام عقائد اور دعاوی پر مکمل یقین رکھتا تھا۔ اس نے خلیفہ قادیان مرزا محمود کے ہاتھ پر قادیانیت قبول کی اور قادیان میں ہی مقیم رہا۔ وہ 8 سال تک قادیانیت کا پرجوش مبلغ رہا۔ معروف قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کے ذریعے اس نے مرزا محمود کو پیغام بھجوایا کہ اسے اپنا داماد بنا کر شرف بخشا جائے۔ چن بسویشور کی اس حرکت کا مرزا محمود نے سخت نوٹس لیا جس پر وہ 1922ء میں واپس حیدر آباد دکن آگیا۔ یہاں آ کر اس نے ہندوؤں اور مرزا قادیانی کی کتابوں سے مختلف پیش گوئیوں کو کھینچ تان کر اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے خود کو ہندوؤں کا اوتار چن بسویشور ہونے کا دعویٰ کردیا۔ اس نے مامور وقت، یوسف موعود، مثیل موسیٰ، مصلح موعود، شنکر، پرماتما، امام الغیب، مہدی آخرالزماں، مظہر خدا کے دعوٰی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ آصف نگر حیدر آباد دکن میں حضرت محمد مصطفیٰﷺ
کی دوبارہ بعثت ہوئی ہے۔ نیز اس نے خود کو قیامت کا مالک اور شافع محشر بھی کہا۔ (نعوذ باللہ) یہ سب خرافات اسکی کتابوں مہر نبوت، خادم خاتم النبیین، جامع البحرین، معراج المومنین اور دعوت الی اللہ میں موجود ہیں۔
صدیق دیندار چن بسویشور کا کہنا تھا کہ مرزا قادیانی کے بعد اس کا اصل خلیفہ، امام اور جانشین صرف وہی ہے۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود غاصب ہے کیونکہ کوئی شخص زبردستی اپنی جماعت کا خلیفہ نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے اسے امتحانات میں سے گزرنا پڑتا ہے۔
صدیق دیندار چن بسویشور قادیانی نے اپنی کتب میں کئی ایک دعوے کیے۔ مثلاً ایک جگہ لکھا:
- ”دکن کے اولیاء کرام (ہندو سادھو وغیرہ) کی کتب پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ایک شخص
شمال میں ویر بسنت نامی پیدا ہوگا۔ وہ وشنو (مرزا قادیانی) کی گدی پر بیٹھے گا۔ اس کا نام چن بسویشور ہوگا۔“ (خادم خاتم النبیین از صدیق دیندار چن بسویشور)
- ”مرزا محمود کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور کرے گا۔“ (خادم خاتم النبیین از
صدیق دیندار چن بسویشور)
اس کے بعد اسی کتاب کے صفحہ 58 پر رات کے دو بجے ایک حسین نوجوان لڑکی کا اس کے بستر پر آ کر لیٹ جانے کا واقعہ ذکر کیا ہے اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام پر اپنی فضیلت کی 6 وجوہات بیان کی ہیں۔
- ”حضور نبی کریم ﷺ نے میری طرف انگلی سے اشارہ کر کے عوام کو مخاطب کر کے
فرمایا کہ جب تک کوئی شخص اس میں فنا نہ ہوگا، وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔“ (خادم خاتم النبیین از صدیق دیندار چن بسویشور)
چن بسویشور قادیانی کے عقائد و نظریات سے متاثر ہو کر کئی قادیانیوں نے اس سے بیعت کی جن میں مرزا قادیانی کا خاص مرید مرزا خدا بخش مصنف عسل مصفیٰ بھی شامل ہے۔
پاکستان میں قادیانیوں کے اس فرقہ کا مرکزی دفتر کورنگی کراچی میں ہے جس کا صدر سعید بن وحید بی اے (علیگ) ہے۔
قادیانی اروپی فرقہ
قادیانی مذہب کا چوتھا فرقہ ”قادیانی اروپی“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فرقہ کا
بانی جھوٹا مدعی نبوت ظہیر الدین، اروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔ وہ لاہوری جماعت کے آرگن اخبار ”پیغام صلح لاہور“ کا مدیر بھی رہ چکا تھا۔ اس کے نزدیک مرزا قادیانی ایک صاحب شریعت نبی تھا۔ وہ مسجد قادیان کو بیت اللہ شریف کہتا تھا۔ لہٰذا اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا تھا۔ اس کا کلمہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ تھا جس کی وہ تقریری اور تحریری تبلیغ کرتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس پر وحی اترتی ہے۔ وہ بذریعہ الہام یوسف (علیہ السلام) بنا اور بعض قادیانی سربرآوردہ افراد کی ہلاکت کی پیشگوئی بھی کی۔ یہ فرقہ قادیانی فرقے کی طرح مرزا غلام احمد کے لایعنی اور بے سروپا دعاوی کی کوئی تاویل نہیں کرتا بلکہ اسے ببانگ دہل صاحب شریعت نبی سمجھتا ہے۔ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے عقائد ونظریات کی چھان پھٹک کے دوران اس فرقہ کے دوسرے سربراہ (جھوٹے مدعی نبوت ظہیر الدین اروپی کے بیٹے) رحمت اللہ اروپی نے ایک درخواست بھی دی تھی کہ انہیں بھی اپنا موقف قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ فرقہ غیر منظم اور مالی مشکلات کا شکار ہونے کے سبب پنپ نہ سکا۔ اس فرقہ کے پیروکاروں کی تعداد بہت کم ہے۔
قادیانی فرقہ حقیقت پسند
قادیانی مذہب کا پانچواں فرقہ ”حقیقت پسند“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ فرقہ 1956ء میں قائم ہوا۔ اس فرقہ کا بانی ملک عزیز الرحمن تھا جس نے اپنے اہم قادیانی دوستوں راجہ بشیر احمد رازی، مرزا عین الملک یلدرم، چوہدری عبدالمجید، پروفیسر غلام رسول چیمہ، مرزا محمد حیات تاثیر، راحت ملک، محمد یونس سلطانی، محمد یوسف ناز، چوہدری صلاح الدین ناصر اور چوہدری اللہ رکھا سمیت قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر ایک نئے قادیانی فرقہ کی بنیاد ڈالی۔ اس فرقہ کے لوگ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی اور نظریات پر مکمل یقین رکھتے ہیں لیکن اس کے بیٹوں کو غاصب، منافق اور بدکردار سمجھتے ہیں۔ ملک عزیز الرحمن اور اس کے تمام ساتھی قادیانی فرقہ کے نہایت اہم مناصب پر فائز تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے اور قادیانی خلیفہ مرزا محمود کی جنسی عیاشیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو نہایت بددل ہوئے اور قادیانیت کو خیرباد کہہ دیا۔ چوہدری غلام رسول نے مرزا محمود کی بدکاریوں پر مشتمل کتاب ”ربوہ کا راسپوٹین“، ”مرزا محمود کی کہانی، مریدوں کی زبانی“ تصنیف کی ہے جس میں قادیانی خلیفہ مرزا محمود، مرزا قادیانی کی بیٹی مبارکہ بیگم، دوسری بیٹی امۃ الحفیظ، مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد، سابق وزیر
خارجہ چوہدری ظفر اللہ خاں، مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا شریف، مرزا محمود کی بیویوں اور دیگر اہم قادیانیوں کے شرمناک کردار کو خوب اجاگر کیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ایک عام قاری بے حد پریشان ہو جاتا ہے کہ اندھی عقیدت اور مذہب کے نام پر کیا کچھ ہوتا ہے۔ چوہدری غلام رسول کی دوسری کتاب ”خلیفہ ربوہ کے ناپاک سیاسی منصوبے“ بھی نہایت چشم کشا کتاب ہے جس میں قادیانی خلیفہ مرزا محمود کے سیاسی منصوبوں، پاکستان پر قبضہ کرنے کی سازشوں، ریاست کے اندر ریاست، ربوہ کا نظام جاسوسی، قادیانی عدالتی اور معاشی نظام وغیرہ پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔
یاد رہے کہ غلام رسول چیمہ، قادیانی حقیقت پسند فرقہ کے بانی ملک عزیز الرحمن کے داماد ہیں۔ بقول محرم راز دروں خانہ جناب شفیق مرزا صاحب ”غلام رسول چیمہ اس زمانے میں ملک عزیز الرحمن کے کرشن نگر والے الاٹ شدہ گھر مدن ولا میں رہتے تھے اور نان شبینہ کے لئے بھی ان کے دسترخوان سے استفادہ کرتے تھے۔ ملک عزیز الرحمن کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے ربوہ سے آنے کے بعد اپنی پوری زندگی میں اپنے لاہوری قادیانی ہونے اور مرزا محمود احمد کے حدود کی ذیل میں آنے والے تمام جرائم میں ملوث ہونے کے بارے میں کبھی کوئی کمپرومائز نہیں کیا اور مرنے کے بعد بھی انہیں عثمان بلاک گارڈن ٹاؤن میں لاہوریوں کے شمشان گھاٹ میں ہی سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ان کی بیگم اور غلام رسول چیمہ کی خوشدامن عظمت بیگم کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب ”شہر سدوم“ میں زیر عنوان آلہ واردات کیا ہے کہ مرزا محمود احمد نے خلافت سیکرٹریٹ میں ملازمت کے دوران ملک صاحب کی اہلیہ سے دست درازی کرنے کی کوشش کی تھی اور یہی سانحہ ان کے خلیفہ ”لاثانی“ سے اختلاف کا موجب بنا تھا کہ اب معاملہ عین الیقین سے آگے بڑھ کر حق الیقین تک جا پہنچا تھا۔ غلام رسول چیمہ کی اپنی اخلاقی حالت بھی ظلی و بروزی طور پر مرزا محمود جیسی ہی ہے اور اسی بناء پر انہوں نے اپنے سسر صاحب سے تاریخی تھپڑ بھی کھایا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ قریباً 30 سال انہی کے مکان میں رہے اور پھر کہیں جا کر وہ 15 کریم بلاک اقبال ٹاؤن میں منتقل ہوئے۔ غلام رسول چیمہ جنہیں قادیانی حلقوں میں غلام رسول 35 کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کے سسر اور ساس ہی لاہوری قادیانیوں کے قبرستان میں مدفون نہیں بلکہ ان کی اپنی بیٹیاں بھی انہی کے ہاں بیاہی ہوئی ہیں۔ اس لئے وہ خواہ کتنے بھی مکر کریں، ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ ہاں
اگر وہ صدق دل سے توبہ کر کے مرزا غلام احمد کی نبوت کاذبہ اور مجددیت باطلہ پر تین حرف بھیج کر مسلمان ہونے کا اعلان کریں تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے کہ اس طرح انہیں نہ صرف اپنے نام نہاد خاندان سے لاتعلقی اختیار کرنا پڑے گی بلکہ ”مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ“ اور اس نوع کی دوسری کتابوں میں انہوں نے قادیانی کتابوں، اور اخبارات و جرائد سے بغیر کسی حوالے کے صفحے در صفحے نقل کر کے ایم اے اسلامیات کے طلبہ کو گمراہ کرنے کی جو کوشش کی ہے، اس کو بھی دور قادیانیت کی باقیات سیئات قرار دینا پڑے گا۔ نقب زنی اور عقب زنی کی اس میراث سے پیچھا چھڑانا ان کے لئے بہت مشکل بلکہ محال ہو گا۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ میری نشاندہی کے بعد انہوں نے اپنی کتاب سیرت خیر البشر میں سے نہ صرف آنجہانی سر ظفر اللہ خاں کا دیباچہ حذف کر دیا ہے بلکہ اس کا نام بھی تبدیل کر کے سیرت سرور عالم رکھ دیا ہے لیکن باقی قابل اعتراض قادیانی سٹائل مندرجات اسی طرح موجود ہیں۔ اس لئے محض نام تبدیل کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ فکر بھی بدلنے پڑے گی۔“
قادیانی حقیقت پسند فرقہ کے اہم رکن مولوی صدر الدین گجراتی کی کتاب ”خلیفہ ربوہ کے مظالم“ بھی نہایت ہوش رُبا کتاب ہے جس میں مرزا محمود کی فسطائی کارروائیوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس فرقہ کا انٹرنیٹ یوٹیوب (You tube) پر Ahmediyyagazette1 کے نام سے چینل ہے جس پر کئی ایک ویڈیوز نہایت چشم کشا اور انکشافاتی ہیں۔
سرسبز قادیانی فرقہ
قادیانی مذہب کا چھٹا فرقہ ”سرسبز قادیانیت“ ہے۔ اس فرقہ کا بانی آنجہانی مرزا قایانی کا پوتا اور مرزا محمود کا بیٹا مرزا رفیع تھا۔ مرزا رفیع نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنا علیحدہ فرقہ بنا لیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنے دادا آنجہانی مرزا قادیانی کے بعد اس صدی کا مجدد ہے۔ حالات و واقعات اس طرح ہیں کہ قادیانی جماعت کا تیسرا خلیفہ مرزا ناصر 8 جون 1982ء کو اسلام آباد میں جہنم واصل ہوا تو نئے خلیفہ کے انتخاب پر قادیانی جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ 10 جون 1982ء کو صبح 9 بجے کے قریب نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر قادیانی مرکزی عبادت گاہ ربوہ (چناب نگر) کے باہر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ خلیفہ، خدا بناتا ہے۔ یہاں اس عقیدہ سے بحث نہیں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ
جب مرزا ناصر کا دور اقتدار تھا تب مرزا ناصر کے بیٹے لقمان کا رشتہ مرزا طاہر کی بیٹی سے طے ہوا تھا۔ یہ دراصل مرزا طاہر کی اپنا آئندہ اقتدار محفوظ کرنے کے لیے مذموم کوشش تھی۔ مگر اس وقت اس کوشش کو شدید دھچکا پہنچا جب مرزا لقمان نے مرزا طاہر کی بیٹی کو چھوڑ کر ایک اور لڑکی سے شادی کر لی۔ کچھ عرصہ بعد جب وہ نیک بخت قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کی پناہ میں آ گئی تو مرزا طاہر احمد نے پھر اپنی بیٹی کے رشتہ کی پیش کش کی۔ اس پر مرزا لقمان کی شادی مرزا طاہر کی بیٹی فائزہ سے ہو گئی۔ قادیانی خلیفہ بے شک قادیانیوں کا خدا ہی بنتا ہو گا لیکن مجھے اس لیے اس تفصیل میں جانا پڑا تا کہ یہ بتا سکوں کہ جس دن مرزا طاہر کی بیٹی اور مرزا ناصر کے بیٹے مرزا لقمان کا رشتہ طے ہوا، اسی دن ربوہ سے خفیہ سرکاری ایجنسی کے اہلکار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس رشتہ کے طے ہونے کے نتیجہ میں اگلے قادیانی خلیفہ کے لیے مرزا طاہر کا نام طے ہو گیا ہے۔ وہ خفیہ رپورٹ اب بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے اور مرزا طاہر کی منافقانہ ذہانت کا واضح ثبوت ہے۔
قادیانی رائل فیملی کے تمام چھوٹے بڑوں میں قادیانی خلافت کے حصول کے لیے لالچ اور اندرونی سازشیں اپنی جگہ لیکن ناظر امور عامہ کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے اس فیملی کے کئی بگڑے ہوئے شہزادے بھی اس عہدے کی خواہش رکھتے ہوئے آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں۔ موجودہ روایت کے مطابق جس کے سر پر ناظر اعلیٰ کا تاج ہو گا، وہ مستقبل کا سربراہ ہو گا۔ اس سلسلہ میں رائل فیملی کے ارکان میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس عہدہ کو حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شعبہ امور عامہ میں ایک خصوصی فنڈ۔ غ۔م (غیر معمولی) کی چمک موجود ہے اور اس فنڈ سے لاکھوں کروڑوں روپے کسی خاص مقصد کے لیے کسی کو بھی بطور رشوت دیے جا سکتے ہیں جس کا اندراج کہیں بھی نہیں ہوتا۔ یہ وہ لکشمی دیوی ہے جسے پانے کے لیے کئی شہزادے بے چین رہتے ہیں۔
ذکر ہو رہا تھا نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا۔ مرزا رفیع (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا بیٹا) جب مجلس مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتا باہر آیا تو مرزا طاہر کے غنڈوں نے اپنی ایک کار AJK 300 میں ڈال کر اسے اغوا کرنے کی کوشش کی مگر مرزا رفیع کے حامیوں نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ پھر مرزا رفیع اپنے حامیوں کو لے کر اقصیٰ چوک میں آ گیا اور وہاں پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر اور اس کے حامیوں نے
خلافت کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور مجھے انتخاب خلافت سے خارج کر دیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ مرزا رفیع کی اس تقریر پر پھر ہنگامہ ہو گیا اور اسے زبردستی اس کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں اسے کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 3 بجے کے قریب طاقت اور دھونس کے بل بوتے پر مرزا طاہر کی نام نہاد خلافت کا اعلان کر دیا گیا۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ مرزا طاہر بنیادی طور پر ایک بدمعاش اور آوارہ مزاج شخص تھا۔ 28 مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے نہتے طلبہ پر بے رحم تشدد اور زدوکوب کرنے والے شرپسندوں کی قیادت مرزا طاہر ہی کر رہا تھا۔ جن لوگوں نے مرزا رفیع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، انہیں بتایا گیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے، ہم تو صرف مکان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ بعد ازاں 26 جنوری 1982ء کو مرزا رفیع کو دل کی تکلیف ہو گئی جس پر اسے لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ مرزا طاہر نے خلافت کا عہدہ سنبھالتے ہی مرزا رفیع کو ”مدرسہ احمدیہ“ کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا۔ پھر 12 اگست 1982ء کو مرزا طاہر نے جماعت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے مرزا رفیع احمد سمیت متعدد بااثر عہدیداروں کو جماعت سے نکال دیا اور قادیانی تنظیموں انجمن احمدیہ، انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور دوسری اہم تنظیموں کے عہدیداروں میں ردو بدل کر کے اپنے گروپ کے حامیوں کا تقرر کیا۔ بیرونی مشنوں کی تجدید بیعت سے انکار کے بعد اپنے ہم خیال نئے مبلغ اور انچارج مقرر کی۔
مرزا طاہر اور مرزا رفیع کے یہ اختلافات جب شدت اختیار کر گئے تو سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں، ایم ایم احمد اور ڈاکٹر عبدالسلام نے مرزا رفیع احمد کی منت سماجت کی مگر وہ نہ مانا۔ پھر مرزا قادیانی کی بیٹی امۃ الحفیظ کی مداخلت سے مرزا رفیع اور مرزا طاہر کے درمیان صلح کرا دی گئی۔ عارضی طور پر یہ اختلاف دب گیا مگر مرزا طاہر نے مرزا رفیع کے حامیوں کو پھر تنگ کرنا شروع کر دیا جس پر اختلافات پھر ابھر کر سامنے آ گئے۔ مرزا رفیع نے مرزا طاہر پر الزام لگایا کہ وہ میرے خاندان کی غیر محسوس انداز میں نسل کشی کر رہا ہے۔ کیونکہ میرے دونوں لڑکوں مرزا طیب اور مرزا صمد کے گھر کوئی اولاد نہیں ہو رہی۔
مرزا رفیع کو جب دیوار سے لگا دیا گیا تو کئی بے گناہ اس شخص کی وجہ سے شہر بدر کر دیے گئے۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جس شخص سے مرزا رفیع کی تعریف سنی گئی یا جس جگہ اس کا ذکر ہو گیا، اس شخص پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے گئے۔ یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ مرزا
رفیع کا کردار ایسا تھا کہ جو کوئی بھی اس کے ساتھ نظر آیا، شہر بدر ہوا تو اتنے خاندانوں کو اجاڑنے کے بجائے اس اکیلے رفیع کو شہر بدر کیوں نہ کر دیا گیا؟ پانی کے سیکڑوں ڈول کنویں سے نکال پھینکے گئے مگر کتا کنویں کے اندر ہی رہا۔
مرزا رفیع اور مرزا طاہر کے اختلافات تاعمر رہے۔ دونوں ایک دوسرے پر فنڈز کی خُرد برد، اختیارات سے تجاوز اور جنسی نوعیت کے شرمناک الزامات لگاتے رہے۔ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر 19 اپریل 2003ء کو مرزا رفیع کی زندگی میں مرا لیکن رفیع ، مرزا طاہر کی تدفین میں شرکت کے لیے لندن گیا اور نہ غائبانہ جنازہ چناب نگر (ربوہ) ہی میں شریک ہوا۔ سب سے بڑھ کر قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرزا رفیع نے تاحیات مرزا طاہر کو خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔
مرزا رفیع احمد 15 جنوری 2004ء کو صبح ڈھائی بجے فضل عمر ہسپتال ربوہ میں بعارضہ قلب فوت ہوا۔ مرزا رفیع احمد ، مرزا بشیر الدین محمود و سارہ بیگم کا بیٹا اور ڈاکٹر اسحاق کا داماد تھا اور مصدقہ اطلاع کے مطابق مرزا رفیع احمد نے مرزا طاہر کی طرح موجودہ خلیفہ مرزا مسرور احمد سے بھی بیعت نہیں کی تھی۔ وہ واقف زندگی تھا جس کا وقف ختم کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود نہ صرف مقامی امیر و ناظر اعلیٰ مرزا خورشید احمد نے اس کا جنازہ پڑھایا بلکہ اسے ”بہشتی مقبرہ“ میں دفن کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ، قادیانی قیادت سے چند سوالات پوچھے جاسکتے ہیں:-
- 1- کیا قادیانی جماعت کوئی مثال دے سکتی ہے کہ کسی کا وقف ختم کر دیا گیا ہو اور اسے
قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا ہو؟
- 2- جس قادیانی نے خلیفہ کی بیعت سے انکار کیا ہو، اور اس کا نماز جنازہ مقامی امیر و
ناظر اعلیٰ پڑھائے بلکہ وہ قادیانی بہشتی مقبرہ میں بھی دفن ہو؟
- 3- کیا قادیانی جماعت یہ ثابت کر سکتی ہے کہ مرزا رفیع نے کبھی مرزا طاہر یا مرزا
مسرور کی بیعت کی ہو؟
- 4- مرزا رفیع احمد نے مرزا طاہر پر جو سنگین و رنگین الزامات لگائے تھے، کیا اس نے
اپنی زندگی میں یہ الزامات واپس لے لیے تھے؟
- 5- قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ جو شخص قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہوتا ہے، وہ
”جنتی“ ہے۔ کیا یہ سمجھنا چاہئے کہ مرزا رفیع نے مرزا طاہر کے ساتھ جو اختلاف کیا تھا، بیعت نہیں کی اور سنگین الزامات لگائے تھے، اس کے صلہ میں وہ بہشتی مقبرہ
میں دفن ہوا جبکہ مرزا طاہر اس ”نعمت“ سے محروم رہا؟ لاہوری فرقہ کے معروف رہنما مظہر ملتانی نے اپنی کتاب ”کمالات محمودیہ“ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا:
”ڈاکٹر نذیر احمد ریاض بیان کرتے ہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود کے ایک صاحبزادے مرزا رفیع احمد کے اپنی سوتیلی والدہ (یعنی مرزا محمود کی بیوی) مریم بیگم سے ناجائز تعلقات تھے۔ ریشمی بدن والی مریم نے عیاشی و اوباشی کے وہ طریقے وضع کیے جو اپنی مثال آپ تھے۔ وہ سر سے پاؤں تک گناہ کی دعوت اور ترغیب تھی۔ شہوت پرستی میں ہر حد سے گزر کر وہ جنسی بھیڑ بن چکی تھی۔ طوائفوں کے لباس کی طرح وہ آئے دن اپنے یار بدلتی۔ اس آفت جان نے مرزا رفیع پر ڈورے ڈالے تو رفیع احمد اس کی توبہ شکن اداؤں کا اسیر بن گیا۔ مریم نے اسے بہلایا، پھسلایا، ورغلایا اور پھر مکروہ ترین باہمی ملاپ کے ذریعے اپنی ہوس پوری کی۔ مرزا رفیع اس کی عطا کردہ لذتوں کا ایسا شیدا ہوا کہ وہ اس کی ہر بات پوری کرتا۔ مرزا رفیع تنومند اور مردانہ وجاہت سے بھر پور جوان تھا۔ وہ دونوں اپنی شرمناک حرکتوں سے بداخلاقی کی ہر حد پار کر گئے۔ ان واقعات کی بازگشت دور دور تک سنائی دینے لگی تو مرزا محمود کے کان کھڑے ہوئے۔ اس نے مرزا رفیع کو انڈونیشیا بھجوا دیا۔ مرزا رفیع وہاں سے مریم کو خط لکھتا۔ سب پوسٹ ماسٹر کبھی کبھی دلچسپی کی خاطر خط کھول لیا کرتا۔ ایک خط میں مرزا رفیع نے اپنی سوتیلی والدہ کو لکھا:
”میری جان، میں تم پر نثار۔ میں تمہارا بندہ بے دام ہوں۔ میں اپنے آپ کو تمہارے سامنے ہار چکا ہوں۔ میں التجا کرتا ہوں، میرے خط کا جواب ضرور دو۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تم میری بیماری یا موت کا سبب بن جاؤ گی۔ میں خیالوں میں اپنا چہرہ اور آنکھیں تمہارے پیروں کے تلوؤں سے رگڑتا ہوں۔ میں جلد آنے والا ہوں۔ میں مزید صبر نہیں کر سکتا۔ تم انکار نہ کرنا۔
اپنے وعدوں کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر
تمہارا رفیع“
آج کل ”سرسبز قادیانی“ فرقہ کا سربراہ مرزا رفیع کا خاص مرید چوہدری غلام احمد
ہے۔ اس نے www.greenahmadiyyat.com کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے۔
قادیانی فرقۃ المسلمین
قادیانی مذہب کا ساتواں فرقہ ”المسلمین“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فرقہ کا بانی ظفر اللہ دومن ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ موجودہ صدی کا مجدد ہے۔ ظفر اللہ دومن کے پیروکار آنجہانی مرزا قادیانی کے تمام عقائد اور دعوؤں پر ایمان رکھتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کے مرنے کے بعد ظفر اللہ دومن کی کوشش تھی کہ وہ قادیانی جماعت کا سربراہ بنے۔ اس ناکامی پر ظفر اللہ دومن نے اپنا علیحدہ فرقہ بنالیا۔ ظفر اللہ دومن کے نزدیک موجودہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور غاصب اور منافق ہے۔ اس فرقہ کا مرکزی دفتر Mauritius میں واقع ہے۔
اس فرقہ کی ویب سائٹ www.jaam-international.org ہے۔ یہاں اس فرقہ کے متعلق معلومات اور قادیانی مذہب سے واضح اختلافات کی مکمل تفصیل موجود ہے۔
قادیانی اصلاح پسند فرقہ
قادیانی مذہب کا آٹھواں بڑا فرقہ ”قادیانی اصلاح پسند فرقہ“ ہے۔ اس فرقہ کا بانی عبدالغفار جَنبہ ہے جو ایک عرصہ تک قادیانی جماعت کا سرگرم مبلغ رہا۔ وہ چناب نگر ضلع جھنگ کے ایک گاؤں ڈاور کا رہنے والا ہے۔ 80-1979 میں کراچی کے قیصر سینما میں فلم کی ٹکٹیں فروخت کرتا تھا۔ انہی دنوں اسے عجیب و غریب خواب آنے لگے اور وہ خود کو زمانے کا مصلح کہنے لگا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ قادیانی فرقہ کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے اور آنے والے جس مصلح موعود کی پیش گوئی کی تھی، اس کا مصداق مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اس فرقہ کے لوگ مرزا قادیانی کے نبوت و رسالت سمیت تمام دعاوی پر یقین رکھتے ہیں جبکہ مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی مذہب کے دوسرے سربراہ مرزا محمود وغیرہ کو جھوٹا، مکار اور منافق سمجھتے ہیں۔ اس فرقہ کے لوگ مرزا محمود پر سنگین اخلاقی الزامات عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا محمود زانی اور شرابی آدمی تھا جسے ماں، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں کی کوئی تمیز نہ تھی۔ وہ مرزا محمود کو قادیانی راسپوٹین کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ موجودہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور اور اس کے خاندان کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کی
رائل فیملی غریب قادیانیوں کے چندوں پر یورپ میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ قادیانی اصلاح پسند فرقہ کے بانی عبدالغفار جنبہ نے قادیانی مذہب کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر سمیت موجودہ سربراہ مرزا مسرور کو کئی دفعہ مناظرے کا چیلنج دیا مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ بعد ازاں جنبہ نے انہیں کئی ایک خطوط لکھے جس کا مرزا طاہر اور مرزا مسرور نے کوئی جواب نہ دیا۔ عبدالغفار جنبہ کا کہنا ہے کہ قادیانیوں کے ہاں جبر کی کیفیت ہے۔ یہاں معمولی اختلاف رائے رکھنا بھی سنگین جرم ہے۔ یہاں اُن کی آزادی اظہار چھین لی گئی ہے۔ جھوٹ اور منافقت کا چرچا عام ہے۔ قادیانی مربی دولت اکٹھی کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ قادیانی مذہب کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے جلسہ سالانہ جرمنی اگست 2001ء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبدالغفار جنبہ کے بارے میں کہا تھا کہ ”اس کے دماغ میں فتور پڑ گیا ہے“ قادیانی مذہب کے پیروکار جنبہ کو شیطان، مکار، فریبی اور فتنہ باز کہتے ہیں۔
اس فرقہ کا مرکزی دفتر جرمنی میں ہے۔ اس کی ویب سائٹ www.alghulam.com ہے جہاں ان کے عقائد ونظریات پر مبنی لٹریچر، کتابیں اور ویڈیوز وغیرہ موجود ہیں۔
فرقہ القادیانیت
قادیانی مذہب کے نویں فرقہ کا نام ”فرقہ القادیانیت“ ہے۔ اس فرقہ کا بانی ناصر احمد سلطانی قادیانی ہے جو اسلام آباد پاکستان میں رہتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ پندرھویں صدی کا مجدد ہے۔ بعض واقفان راز کا کہنا ہے کہ مسعود احمد دہلوی سابق ایڈیٹر روزنامہ ”الفضل“ کی بیوی سلیمہ بیگم، ناصر احمد سلطانی کی داشتہ تھی جس کا پورے چناب نگر (ربوہ) میں چرچا تھا۔ مثل مشہور ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ سلطانی کی دو بیویاں ہیں۔ دوسری بیوی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے ناراض ہو کر ربوہ چلی گئی ہے۔ جہاں اس کے گول بازار ربوہ کے عبدالشکور چشمے والے سے ”تعلقات“ کے قصے زبان زدِ عام ہیں۔ ناصر احمد سلطانی کا بڑا بیٹا عبدالسلام غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ حوالات جاچکا ہے۔
فرقہ ”القادنیت“ کے پیروکار آنجہانی مرزا قادیانی کے تمام دعاوی پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اس کے بڑے بیٹے اور قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا محمود کو جھوٹا اور منافق سمجھتے ہوئے اس کے 52 سالہ دور کو تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا محمود عیسائی پوپ کی خلافت سے بہت متاثر رہا اور اسی کی طرز پر اپنی نام نہاد خلافت چلائی۔
قادیانیوں کے اس فرقہ کے بانی ناصر احمد سلطانی کا دعویٰ ہے کہ اسے بھی آنجہانی مرزا قادیانی کی طرح رویاء، کشوف اور الہامات ہوتے ہیں۔ اس کے کئی نام نہاد کشوف اور الہامات حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر مبنی ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کی کئی آیات اس پر نازل ہوئی ہیں۔ اس فرقہ کی ویب سائٹ www.al-ahmadiyyat.com ہے جس پر اس فرقہ کے بانی ناصر احمد سلطانی قادیانی کی تمام خرافات اور ہذیانات موجود ہیں۔
قادیانی فرقہ صحیح اسلام
قادیانی مذہب کے دسویں فرقہ کا نام ”قادیانی فرقہ صحیح اسلام“ ہے۔ اس فرقہ کا بانی منیر احمد اعظم ہے جو انڈیا کا رہنے والا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ”حضرت امیر المومنین محی الدین الخلیفۃ اللہ“ کہلاتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ مجدد ہے اور اسے مجددیت آنجہانی مرزا قادیانی کی اطاعت سے ملی۔ اس نے اپنی کتاب ”The continuity of Prophethood and Mujaddadiyat till the day of Judgement.“ (نبوت اور مجددیت قیامت تک جاری ہے) میں آنجہانی مرزا قادیانی کے دعووں اور تعلیمات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس فرقہ کے پیروکار آنجہانی مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مہدی مانتے ہیں۔ یہ لوگ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت کے منکر ہیں۔
منیر احمد اعظم فروری 1961ء کو Mauritius میں پیدا ہوا۔ وہ پیدائشی قادیانی ہے۔ 1983ء میں اس کی شادی ہوئی۔ 1987ء میں وہ ایک قادیانی کمپنی میں ڈرائیور بھرتی ہوگیا۔ 1999ء میں وہ قادیانیوں کے سالانہ جلسہ لندن میں شرکت کے لیے گیا تو قادیانی خلیفہ مرزا طاہر سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ 19 جنوری 2003ء میں اس نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے امیر المومنین کا عہدہ عطا کیا۔ پھر بقول اس کے اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ ”جماعت المسلمین“ بنائے۔ چنانچہ 8 مئی 2003ء کو اس نے جماعت المسلمین بنائی۔ جس کا وہ ایک عرصہ تک دوسرا مرکزی سربراہ رہا۔ دسمبر 2003ء میں اس نے دعویٰ کیا کہ اللہ نے اسے ایک الہام کے ذریعے ”محی الدین“ کا خطاب دیا ہے۔ وہ ایک عیاش اور شاہ خرچ شخص ہے۔ 2003ء میں اس پر بڑے پیمانے پر قادیانی چندہ کے خرد برد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے الزامات لگے۔ الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک قادیانی کمیشن قائم ہوا جس نے تقریباً 3 ماہ تک تحقیقات کیں اور منیر احمد اعظم پر چندہ خرد برد کرنے اور غیر محرم عورتوں سے تعلقات قائم
کرنے کے الزامات ثابت ہوئے۔ چنانچہ اسے فرقۃ المسلمین سے نکال دیا گیا۔ جس پر وہ واپس انڈیا چلا گیا اور اس نے 10 مارچ 2008ء کو اپنا علیحدہ فرقہ بنالیا۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے بیٹے اور دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تعلیمات سے بہت متاثر ہے۔ یادرہے یہ وہی مرزا بشیر الدین ہے جس نے کہا تھا:
- ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم
یہ کہو کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا، تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں۔ اور ضرور آسکتے ہیں۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 65 مندرجہ انوار العلوم جلد 3، صفحہ 127، از مرزا بشیر الدین محمود)
- ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے
حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)
- ”اب جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی۔ اب وہی سید ہوگا جو
حضرت مسیح موعود (مرزا) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“
(قول الحق صفحہ 32 مندرجہ انوار العلوم جلد 8 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود)
- ”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار
یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“
(حقیقۃ الرؤیا صفحہ 46 طبع اوّل از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
منیر احمد اعظم کا کہنا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک دفعہ قادیانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قدر روحانی ترقی حاصل کرو کہ ”چھوٹے محمد بن جاؤ“ (نعوذ باللہ) چنانچہ میرا یہی مقصد ہے کہ میں اس قدر روحانی ترقی کروں کہ ”چھوٹا محمد“ بن جاؤں۔ (نعوذ باللہ) اس فرقہ کی سائٹ www.jamaat-ul-sahih-al-islam.com ہے جس پر اس فرقہ کے بانی اور اس کی تعلیمات سے متعلقہ معلومات موجود ہیں۔
۞.......۞.......۞
ایک فیصلہ کن مباہلہ
مولانا عبدالحق غزنویؒ برصغیر کے نامور عالم دین تھے۔ وہ حضرت مولانا عبداللہ غزنویؒ کے ساتھ غزنی سے ہجرت کر کے امرتسر آئے اور یہیں مستقل قیام فرمایا۔ نہایت عبادت گزار اور صاحب تقویٰ بزرگ تھے۔ دنیوی معاملات میں کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔ سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اس لیے لوگ انھیں ”صوفی عبدالحق غزنوی“ بھی کہا کرتے تھے۔ مولانا دینی غیرت وحمیت سے سرشار تھے۔ فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں ان کی گرانقدر خدمات ہیں۔ انھوں نے قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کی مخالفت میں دن رات ایک کر دیا۔ دوسری طرف مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں نے بھی مولانا کے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا۔ نتیجتاً نوبت مباہلے تک جا پہنچی۔ مباہلہ کیا ہے؟ علما وفقہا کے نزدیک اگر کسی امر کے حق وباطل میں فریقین میں نزاع ہو جائے، تو نزاع کو طے کرنے کا صحیح طریقہ عقل اور استدلال ہے۔ لیکن جہاں عقل واستدلال کے تمام مرحلے طے ہو چکے ہوں۔ مخاطب دلیل وحجت سے بالکل عاری ہو، حق اس کے سامنے سورج کی طرح روشن ہو، اس کے لیے اس سے گریز وفرار کی کوئی راہ نہ ہو۔ لیکن وہ محض ہٹ دھرمی کی آن رکھنے کے لیے اپنی بات پر اڑا ہو، اسے اپنی یرقان زدہ آنکھوں سے ہر چیز زرد دکھائی دے تو پھر اتمامِ حجت کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ سب مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو اس امر میں باطل پر ہو، اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے وبال اور ہلاکت پڑے کیونکہ لعنت کے معنی رحمت حق سے بعید ہو جانا ہے اور رحمت سے بعید ہونا قہر کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ پس اس کے معنی یہ ہوئے کہ جھوٹے پر قہر نازل ہو۔ سو جو شخص جھوٹا ہوگا، وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ اس طور پر دعا کرنے کو ”مباہلہ“ کہتے ہیں۔ اس میں خود مباہلہ کرنے والوں کا جمع ہو کر دعا کرنا ہے۔ اپنے عزیز واقارب کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر جمع کیا جائے تو اس سے اور اہتمام بڑھ جاتا ہے۔
قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے نزدیک مباہلہ کی تعریف یہ ہے:
- ”لغت عرب کی رو سے اور نیز شرعی اصطلاح کی رو سے یہ ہے کہ دو فریق مخالف
ایک دوسرے کے لیے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں۔“
(اربعین نمبر 2 صفحہ 29 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 377 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے ایک اصول یہ بھی بیان کیا کہ مباہلہ کے بعد خدائی فیصلہ کی شکل یہ ہے کہ:
- ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 327 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مباہلہ کی مذکورہ بالا تعریف اور اصول کے مطابق مولانا عبدالحق غزنویؒ 1891ء سے مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد پر اسے مباہلہ کا چیلنج دے رہے تھے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایک اشتہار بھی شائع کیا۔ مگر مرزا قادیانی مباہلہ سے گریزاں تھا۔ اس نے 12 اپریل 1891ء کو ”مباہلہ کے اشتہار کا جواب“ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ مباہلہ کے بجائے مناظرہ یا مباحثہ ہو۔
(دیکھیے مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 180 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے مباہلہ سے فرار کا اس کے مریدوں پر بھی بڑا اثر پڑ رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے داماد نواب محمد علی خاں مالیر کوٹلوی نے مرزا قادیانی کو خط لکھا اور کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کو مباہلہ ضرور کرنا چاہیے۔ اس پر مرزا قادیانی نے نواب محمد علی کو خط لکھا کہ مباہلہ سے پہلے مناظرہ ضروری ہوتا ہے تاکہ حجت پوری ہو جائے۔
(مکتوبات جلد دوم صفحہ 162 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
قصہ مختصر مولانا عبدالحق غزنویؒ کا اصرار تھا کہ مرزا قادیانی مباحثہ یا مناظرہ چھوڑ کر میدان مباہلہ میں آئے۔ جوں جوں یہ اصرار بڑھتا گیا، مرزا قادیانی کے پیروکار بھی اس پر زور دیتے رہے کہ وہ مولانا کے اس چیلنج کو قبول کرے اور میدان مباہلہ میں آئے۔ لوگ جگہ جگہ قادیانیوں کو طعنے دیتے کہ تمہارا مسیح موعود مباہلہ کے میدان میں آنے سے کنی کترا رہا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو۔ ایسے ہی طعنوں سے تنگ آ کر مرزا قادیانی کے ایک عقیدت مند حافظ محمد یوسف قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنویؒ کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا۔ یاد رہے کہ مسلک
اہل حدیث کے ایک ممتاز رکن حافظ محمد یوسف ضلعدار امرتسری، حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد بدقسمتی سے کسی قادیانی مبلغ کی تلبیسانہ گفتگو سے متاثر ہو کر قادیانی جال میں پھنس کر مرتد ہو گئے۔ مرتد ہونے کے بعد دن رات مرزائیت کی تبلیغ و تشہیر کرنے لگے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں ان کے متعلق لکھا: ”حافظ محمد یوسف صاحب جو ایک مرد صالح، بے ریا متقی اور متبع سنت اور اول درجہ کے رفیق اور مخلص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص 704 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
19 اپریل 1893ء بمطابق 2 شوال 1310ھ کی رات کو حافظ محمد یوسف قادیانی نے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت اور مہدی و مسیح موعود کی حقانیت پر مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کیا۔ مباہلہ کا موضوع تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے مرتد، کافر، کذاب اور دجال ہیں یا مسلمان؟ مولانا غزنویؒ کا موقف تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے مرتد، کافر، کذاب اور دجال ہیں جبکہ حافظ محمد یوسف قادیانی کا کہنا تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے مسلمان ہیں۔
اس مباہلہ کو ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف قادیانی کی تعریف اور تائید میں 25 اپریل 1993ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا: ”اشتہار مباہلہ، میاں عبدالحق غزنوی و حافظ محمد یوسف صاحب“ اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے اس مباہلہ کی تفصیل درج ذیل الفاظ میں بیان کی:
- ❑ ”مجھ کو اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ
محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس ثواب کو حاصل کیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادۂ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لیے اشتہار دیا تھا، اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آوے۔ میں اس سے مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا۔ حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ ہو گیا اور حافظ صاحب کا ہاتھ آ کر پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں مگر
مباہلہ فقط اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد و مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن، یہ تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں۔ حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبد الہادی صاحب اور میاں عبد الرحمن صاحب عمر پوری قرار پائے اور جب حسب دستور مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے منہ سے کہہ چکے کہ یا الہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو۔ یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو۔ تب حافظ صاحب نے عبدالحق سے دریافت کیا کہ اس وقت میں بھی اپنے آپ پر بحالت کاذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی منہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کاذب ہونے کے عذاب الہی کی اپنے لیے درخواست کر چکے۔ لہٰذا اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آ گئی تو میں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کر لوں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 324، 325 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں کئی غلط بیانیوں سے کام لیا جس کے جواب میں مولانا عبدالحق غزنویؒ نے 26 شوال 1310ھ کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں انھوں نے مرزا قادیانی کی غلط بیانیوں اور لاف و گزاف کا پردہ چاک کیا۔ یہ اشتہار مرزا قادیانی کی کتاب مجموعہ اشتہارات جلد اوّل کے (حاشیہ) صفحہ 344 تا 347 تک درج ہے۔ مولانا کا اشتہار ملاحظہ فرمائیں:
- ❑ ”حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اوّل درجہ کا ناصر و
مؤید و مددگار ہے۔ اس نے 2 شوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی۔ آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نور الدین و محمد احسن امروہی یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذاب ہیں چونکہ تاہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمودار نہیں ہوا۔ لہٰذا پیر جی کو بھی گرمی آگئی اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دے دیا۔ ذرا صبر تو کرو۔ دیکھو۔ اللہ کیا کرتا ہے۔ و کل شئ عندہ باجل مسمی انه حکیم حمید. مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے دکھایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سنایا۔
علاج کے کنمت آخر الدواء الکے
اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔ میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔ دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش ہوا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 346 تا 347 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے بیانات سے پتا چلتا ہے کہ:۔
- 1- مباہلہ مرزا قادیانی کے مرید حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے درمیان ہوا۔
- 2- مباہلہ کا موضوع تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے (بالخصوص حکیم نور
الدین اور محمد احسن امروہی) مرتد، کافر، کذاب اور دجال ہیں یا نہیں؟
- 3- یہ مباہلہ 19 اپریل 1893ء بمطابق 2 شوال 1310ھ کی رات کو ہوا۔
- 4- مرزا قادیانی نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف قادیانی کے مباہلہ کی نہ صرف بھر پور
تائید و تصدیق کی بلکہ اس پر بے حد خوشی ومسرت کا اظہار بھی کیا۔ گویا اس مباہلہ کا جو نتیجہ بھی برآمد ہو، مرزا قادیانی نے اس کی ذمہ داری کو قبول کرنے کا اعلان کرنے کے لیے اشتہار دے دیا۔ اب اس مباہلہ کا نتیجہ کیا نکلا؟ اللہ تعالیٰ نے کس کو فتح دی، مباہلہ کا فیصلہ کس کے حق میں ہوا؟ اس مباہلہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ثابت ہوا؟ اس کا فیصلہ قارئین کرام خود فرمائیں۔
اس مباہلہ کا انجام یہ ہوا کہ مباہلہ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد حافظ محمد یوسف نے قادیانی ارتداد سے توبہ کر کے مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے قادیانیت کی سرکوبی کے لیے دن رات ایک کر دیا اور اپنی تبلیغ میں اعلان کرنے لگے کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے مرتد، کافر، کذاب اور دجال ہیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے حافظ محمد یوسف کے خلاف ایک انعامی اشتہار شائع کیا۔ صفحات کی طوالت کے خوف سے میں اس اشتہار کو یہاں نقل نہیں کر رہا۔ خواہش مند قارئین، اسے مرزا قادیانی کی کتاب اربعین نمبر 3 صفحہ 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 386 پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ یہی اشتہار مرزا قادیانی کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے شروع میں ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 37 پر بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مباہلہ کے بعد جو مولانا عبدالحق غزنویؒ اور حافظ محمد یوسف کے درمیان ہوا تھا، اگر خدانخواستہ نتیجہ اس کے الٹ نکلتا، یعنی اگر مولانا عبدالحق غزنوی، مرزا قادیانی پر ایمان لے آتے اور قادیانیت قبول کر لیتے تو کیا قادیانی اسے مباہلہ کا نتیجہ قرار نہ دیتے؟ کیا وہ اسے مرزا قادیانی کی حقانیت کے طور پر پیش نہ کرتے، ضرور کرتے اور یقیناً ایسا کرتے۔ اب جبکہ مباہلہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا عبدالحق غزنویؒ کا حریف حافظ محمد یوسف، قادیانی عقائد سے تائب ہوگیا اور مولانا غزنوی کی طرح خود مرزا قادیانی کو مفتری، کافر، کذاب، مرتد اور دجال سمجھنے لگا اور اس کی تبلیغ و تشہیر کرنے لگا تو بتائیے کہ کیا یہ مباہلہ کا نتیجہ ہے یا نہیں؟ اور اس مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا قادیانی کا مرتد، کافر، کذاب اور دجال ہونا ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
قارئین کرام! اب آئیے مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے درمیان براہ راست مباہلہ کی طرف۔ مولانا عبدالحق غزنویؒ مرزا قادیانی کی تمام تحریروں پر گہری نظر رکھتے تھے کہ کب مرزا قادیانی انھیں مباہلے کا چیلنج دے اور وہ اسے قبول کریں۔ لہٰذا طوعاً و کرہاً مجبور ہو کر بالآخر مرزا قادیانی نے اپنے تازہ ترین اشتہار میں مولانا محمد حسین بٹالوی اور مولانا نذیر حسین دہلوی کو مباہلے کا چیلنج دے دیا لیکن اس میں مولانا عبدالحق غزنوی کا ذکر نہ کیا۔ مرزا قادیانی کا اشتہار ملاحظہ فرمائیں:
- □ ’’ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ
سے یا اپنی نافہمی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں، عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہوگیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں اس طرح پر کہ اوّل آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل از روئے قرآن اور حدیث کے سناؤں۔ اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔ سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بٹالوی، اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں اور میں اُن تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر 1892ء ہے۔ چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 261، 262 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 261، 262 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے اس اشتہار کی اشاعت کے بعد مولانا غزنویؒ ایک دفعہ پھر سامنے آ گئے اور کہا کہ چیلنج پہلے میں نے دیا تھا، لہٰذا پہلے میرا حساب بے باق کریں پھر کسی اور کو دعوت دیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے 26 شوال 1310ھ کو ایک اشتہار شائع کیا۔ جسے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں شائع کیا:
- ’’اب بذریعہ اشتہار ہٰذا بدستخط خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہان کو گواہ کرتا ہوں کہ
اگر تمھارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر کچھ لعنت کا اثر صریح طور پر جو عموماً سمجھا جاوے کہ بیشک یہ مباہلہ کا اثر ہوا ہے تو میں فوراً تمھارے کافر کہنے سے تائب ہو جاؤں گا۔ اب حسب اشتہار خود مباہلہ کے واسطے بمقام امرتسر آؤ۔ مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمھارے سب اتباع دجالین کذابین ملاحدہ اور زندقہ باطنیہ ہیں اور میدان مباہلہ عیدگاہ ہوگا۔ تاریخ جو تم مقرر کرو۔ اب بھی تم بموجب اشتہار خود میرے ساتھ مباہلہ کے واسطے بمقام امرتسر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواست مباہلہ اوّل درجہ کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے اور الا لعنت اللہ علی الکاذبین کا مصداق بننا ہے۔ اب ضرور دلیری و توکل کر کے ہزیمت نہ کرو۔ بلوغ الا مال فی رکوب الاھوال۔ اور اگر ایسے ہی کاغذوں کی گڈیاں اڑانا ہے اور حقیقت اور نتیجہ کچھ نہیں۔ پھر تم پر مسیحیت مبارک ہو۔ اللہ نے تمہاری عمر کو ضائع کیا اور مسلمانوں کی عمر عزیز کا ناحق خون کیوں کرتے ہو۔
بر تو شد نفرین رب اکبرے
المشتھر: عبدالحق غزنوی از امرت سر (پنجاب) 26 شوال 1310ھ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 347 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس اشتہار نے مرزا قادیانی کو مولانا عبدالحق غزنویؒ کے مقابلے میں میدان مباہلہ میں آنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے درج ذیل اشتہار شائع کیا:
- ’’ایک اشتہار مباہلہ 26 شوال 1310ء شائع کردہ عبدالحق غزنوی میری نظر سے
گزرا۔ سو اس لیے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو اس شخص اور ایسا ہی ہر ایک مکفر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے، مباہلہ منظور ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ القدیر میں تیسری یا چوتھی ذیقعدہ 1310ھ تک امرت سر میں پہنچ جاؤں گا اور تاریخ مباہلہ دہم ذی قعد اور یا بصورت بارش وغیرہ کسی ضروری وجہ سے گیارھویں ذیقعد 1310 قرار پائی ہے۔ جس سے کسی
صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا اور مقام مباہلہ عید گاہ جو قریب مسجد خاں بہادر محمد شاہ مرحوم قرار پایا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 344 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس کے جواب میں مولانا عبدالحق غزنویؒ نے فوراً ایک اور اشتہار شائع کیا جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
- ”میں یعنی عبدالحق تین بار بآواز بلند کہوں گا؟ یا اللہ! میں مرزا کو ضال، مضل، ملحد،
دجال، کذاب، مفتری، محرف کلام اللہ و احادیث رسول اللہ (ﷺ) سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔ مرزا تین بار بآواز بلند کہے: یا اللہ اگر میں ضال و مضل و ملحد و دجال و کذاب و مفتری و محرف کتاب اللہ و احادیث رسول اللہ ﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر آج تک تو نے نہ کی ہو۔“
”بعدہ رو بقبلہ ہو کر دیر تک ابتہال اور عاجزی کریں گے کہ اے اللہ جھوٹے کو شرمندہ اور رسوا کر اور سب حاضرین مجلس آمین کہیں گے۔“
(تاریخ مرزا، صفحہ 47 مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور، بحوالہ اشتہار مولانا عبدالحق غزنوی، 8 ذیقعدہ 1310ھ)
اس اشتہار کے جواب میں اگلے دن مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس نے لوگوں کو مقام مباہلہ پر آنے کی دعوت دی۔
- ”اے برادران اہل اسلام کل دہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میاں
عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انھوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بے دین اور دشمن اللہ جل شانہٗ اور رسول اللہ ﷺ کا سمجھتے ہیں اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کیے بیٹھا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہو جائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول ﷺ کے فرمودہ سے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو۔ اور آپ لوگ آمین کہیں کیونکہ اگر میں
کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان تو نہایت برے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے اور میں ایسی زندگی سے ہزار دل بیزار ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دے گا۔ وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عیدگاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لیے تشریف لائیں۔ خاکسار غلام احمد قادیانی 9 ذیقعدہ 1310ھ‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 349 طبع جدید از مرزا قادیانی)
چنانچہ اس اشتہار کی اشاعت کے اگلے روز 27 مئی 1893 بمطابق 10 ذیقعدہ 1310ھ کو عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے مابین رو در رو مباہلہ ہوا۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 380 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے)
اس مباہلہ کے بارے میں خود مرزا قادیانی نے لکھا:
- ’’عبدالحق غزنوی ثم امرتسری نے مجھ سے مباہلہ چاہا مگر میں مدت تک اعراض کرتا
رہا، آخر اس کے نہایت اصرار سے مباہلہ ہوا۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 64 از مرزا قادیانی)
اپنی کتاب نزول المسیح میں مرزا قادیانی نے لکھا:
- ’’صدہا مخالف مولویوں کو مباہلے کے لیے بلایا گیا تھا جن میں سے صرف عبدالحق
غزنوی میدان میں نکلا۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 572 از مرزا قادیانی)
- تاریخ مقررہ پر عبدالحق مباہلہ پر آ گیا اور امرتسر میں جو بیرون دروازہ رام باغ عیدگاہ
متصل مسجد ہے۔ اس میں مباہلہ ہوا اور کئی سو آدمی جمع ہوئے۔ یہاں تک کہ بعض انگریز پادری بھی آئے اور ہماری جماعت کے احباب شاید چالیس کے قریب تھے اور عبدالحق بھی آیا اور بہت سی بددعائیں دیں۔‘‘ (مکتوب احمد جلد دوم صفحہ 596 مکتوب نمبر 207 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے درمیان اس مباہلہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ مرزا قادیانی اپنے مباہل کی موجودگی میں 26 مئی 1908ء بمطابق 24 ربیع الثانی 1326ھ بروز منگل صبح دس بجے احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور میں نہایت عبرتناک حالات میں جہنم واصل ہوا جبکہ مولانا عبدالحق غزنویؒ، مرزا قادیانی کی موت کے بعد 9 سال تک زندہ رہے اور 16
مئی 1918ء بمطابق 23 رجب 1335ھ کو فوت ہوئے۔ اس مباہلہ میں مرزا قادیانی جھوٹا ثابت ہوا اور مولانا عبدالحق غزنویؒ سچے۔ مباہلہ کرنے والوں میں جو جھوٹا ہوتا ہے، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس امر کا اعتراف خود مرزا قادیانی نے اپنی درج ذیل تحریر میں کیا ہے:
- ”صرف جھوٹا نہیں بلکہ جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے۔
ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ مسیلمہ کذاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا۔ حضور شفیع المذنبین ﷺ نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا سو ویسا ہی ظہور میں آیا۔ مسیلمہ کذاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا اور پیشگوئی پوری ہوئی۔ ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 327 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اب قارئین کرام خود فیصلہ فرمائیں کہ اس مذکورہ بالا مباہلہ کے نتیجہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟
آخر میں قارئین کرام کی دلچسپی کے لیے ایک اہم بات کا تذکرہ نہایت ضروری سمجھتا ہوں کہ مباہلہ کے نتیجہ سے پہلے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ میں مولانا عبدالحق غزنوی کو جن الفاظ میں مخاطب کیا، وہ نہایت شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ قادیانی، مرزا قادیانی کو ”سلطان القلم“ کہتے ہیں۔ آئیے، سلطان القلم کی شیریں بیانی کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔
- ”اے عبدالحق غزنوی، اے گمراہ عبدالجبار، اور تم نے دیکھ لیا کہ تمہیں طاقت نہیں
ہوئی کہ میری کلام جیسی کلام بنا لاؤ۔ اور عبدالجبار کی جماعت میں سے ایک موذی نے کہا کہ یہ شخص دجال اور اکفر الکفار ہے اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اسنے گالیاں دیں اور پشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور ایک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجفی ہے اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھا بلکہ اس نے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا۔ اور کسی گالی کو نہ چھوڑا جسکو کمینہ رذیلوں کی طرح نہ لکھا۔ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں۔ اور ہم گالی کی طرح رجوع نہیں کرتے جیسا کہ اس نے عناد سے کیا۔ مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔ اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبدالحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے۔ اور ہم نے فحش گوئی سے پرہیز کیا ہے اور ہر ایک درخت
پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آجائیں گے اور بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بد بخت اور محروم ہیں اپنے تئیں تو بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بدبختوں کے طریق پر چلتا ہے۔ فاسقوں کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے۔ تیری باطنی پلیدی نے تیری صورت کو متغیر کر دیا تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور خبث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھالیں اور موت آجائے اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا تجھے تباہ کرے اور جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ کلب العناد، پس اے مسخ شدہ اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔
معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا
اور کتا ایک صورت ہے اور تو اسکی روح ہے۔
پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔
ہم نے تنبیہہ کے لیے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔
پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔
اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا۔
اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔
اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا۔
اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔
اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔
اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔
اے شیخ شقی سوچ۔
اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔
پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا۔
تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا۔
(حجتہ اللہ صفحہ 24 تا 88 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 172 تا 236 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے کہا تھا:
- ”جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے۔“
(آسمانی فیصلہ، صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)
فرار کفر جس طرح ہو مسجد الحرام سے
۞......۞......۞
مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو درجنوں بیماریاں لاحق تھیں اور یہ بیماریاں ساری زندگی اس کے ساتھ چمٹی رہیں۔ بالآخر اس کی زندگی کا عبرتناک انجام قریب آ گیا۔ روزنامہ الفضل قادیان، مرزا قادیانی کی اہم تحریروں میں سے درج ذیل اقتباس نقل کرتا ہے جو ہر قادیانی کے لیے دعوتِ فکر ہے:۔
بہت بری موت
- ”اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے
مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 28، نمبر 50، صفحہ 1 مورخہ 2 مارچ 1940ء)
اب اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچ لیتے ہیں۔ یعنی اگر مرزا قادیانی اپنے دعوؤں میں سچا تھا تو اس کا انجام اچھا ہونا چاہیے تھا، اور اگر اپنے دعوؤں میں جھوٹا تھا تو ”نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام“ ہونا چاہیے تھا۔ مزید براں خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ
کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 288، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)
- ”مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ“ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے لکھوایا تھا:
”بخِدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الہدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں
میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں...... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے، تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک !...... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے...... تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور
دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے ...... میں دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ ان ہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 5 اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید)
اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی 25 اپریل 1907ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا:
یہ خدا کی طرف سے ہے
- ❑ ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف
سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 206 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
ہیضہ، غضب کی تلوار
آنجہانی مرزا قادیانی نے ہیضہ کو ”غضب کی تلوار“ قرار دیا۔
(حقیقت الوحی صفحہ 364 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 364 از مرزا قادیانی)
ہیضہ کی آمدن
اس سے تقریباً 3 ماہ بعد جولائی 1907ء کو مذکورہ پیش گوئی کے تسلسل میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
”ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے“۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 614 از مرزا قادیانی)
مذکورہ پیش گوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ”آخری فیصلہ“ کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں بقول اس کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“ سے ہوئی۔ ہر شخص دم بخود رہ گیا کہ خود مرزا قادیانی کی دعا پر قدرتِ حق نے عجب فیصلہ کیا۔
25 مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہوگئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعد ازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہوگیا۔ اس کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہوگیا تھا۔ بلڈ پریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہوگئی کہ محسوس کرنا مشکل ہوگئی۔ مرزا بشیر احمد ایم، اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
حالت دگرگوں
- ”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو
پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- بقول حکیم نور الدین ”معدہ کے اندر کی تمام سوزشیں، آنتوں کی سوزشیں اور پیٹ کی
جھلیوں کی سوزشیں قے کا باعث بنتی ہیں۔ ہیضہ کی صورت میں جب آنتیں متاثر ہوتی ہیں تو قے کے ساتھ اسہال ہوتے ہیں۔ قے کا آنا بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ آنتوں کے فالج اور رکاوٹ میں غذا ہی قے کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد شراب یا افیون کے استعمال سے بھی قے ہوتی ہے۔ اگر اسہال کے ساتھ قے بھی شامل ہو تو مرض اسہال کے بجائے ہیضہ بن جاتا ہے۔“
(بیاض نور الدین صفحہ 209)
- مسلسل اسہال اور قے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے جسم، بستر اور کمرے میں سخت
بدبو اور تعفن پھیل گیا تھا۔ اس کی حالت دگرگوں ہوگئی اور نورالدین کو بلانے کے لیے کہا۔ حکیم نور الدین آیا تو مرزا قادیانی نے اسے کہا ”مجھے اسہال کا دورہ ہوگیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔“
(ضمیمہ الحکم 28 مئی 1908ء)
حکیم نور الدین نے چند مقوی ادویات کھانے کو دیں مگر مرزا قادیانی نے قے کر دیں۔ اس کے بعد اس کی نبض ڈوبنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک انگریز ڈاکٹر آیا مگر وہ نہایت عبرتناک حالت دیکھتے ہی چلا گیا۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق مرزا قادیانی کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔ ایسی ہی بھیانک حالت میں مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو صبح ساڑھے دس بجے جہنم واصل ہوگیا۔
قول کا پکا تھا پہلے مر گیا
قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لیے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ”نام نہاد صحابی“ اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ”اقرار صالح“ موجود ہے۔ میر ناصر نواب لکھتا ہے:
میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے
- ”حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر
جا کر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔“ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں
تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیاتِ ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
لیجئے! بہت ”بری موت“ کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے طے کرادیئے، یعنی پہلے اس سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعین و تشخیص بھی اسی کے قلم سے کرادی کہ طاعون اور ہیضہ کی موت ہی وہ ”بری موت“ ہے، جو بطور سزا ”خدا تعالیٰ کے ہاتھوں“ سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر خود اسی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرا دیا کہ وہ ”وبائی ہیضہ“ سے ”بہت بری موت“ مر رہا ہے، اور یہ اقرار ریکارڈ پر موجود ہے۔
قادیانیوں کی نفسیات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو ”مسیح موعود“ مانتے ہیں مگر اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا ”مسیحا“ کہتا ہے ”...... مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ۔“...... مگر قادیانی مصر ہیں کہ حضرت صاحب کا کہنا درست نہیں ہے۔
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
جھوٹے مدعی کو خدا ہلاک کرتا ہے
- ❑ ”جھوٹے مدعی کو خدا ہلاک کرتا ہے اور اس کو مہلت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ خدا پر
افتراء کرتا ہے اور حق و باطل میں گڑبڑ ڈالنا چاہتا ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 554 طبع جدید از مرزا قادیانی)
کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخِ وفات لکھی ہے ؎
اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا
اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج
کالرہ سے خود مسیحا مر گیا
مرزا قادیانی کی تاریخِ وفات ہے: لَقَدْ دَخَلَ فِي قَعْرِ جَهَنَّمْ ۔ ١٣٢٦ھ
۞......۞......۞
قادیانی مدعیان نبوت
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی
جھوٹی نبوت کا دعویدار قادیانی نبوت کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی پنجاب میں ضلع گورداسپور کے ایک قصبے ”قادیان“ میں 1840ء میں پیدا ہوا۔ یہ قصبہ امرتسر سے شمال مشرق کی طرف ریلوے لائن پر ایک قدیم شہر بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
مثل مشہور ہے کہ ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ اس کے مصداق مرزا قادیانی بچپن ہی سے ایک آوارہ مزاج، کھلنڈرا، رنگین مزاج اور مذہب بیزار نوجوان تھا۔ اس کا بچپن بے شمار آلودگیوں سے لتھڑا پڑا تھا۔ شرارت، فساد، جھوٹ، گالی اور آوازے کسنا اس کے مشغلے تھے۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کے مطابق بچپن میں اسے سُندھی کہا جاتا۔ وہ چڑیاں پکڑتا اور پھر بڑی بے رحمی سے سرکنڈے کے ساتھ ان کے گلے کاٹتا (یعنی جس طرح سکھ مذہب کے لوگ جانوروں کا جھٹکا کرتے ہیں) اور پھر ان کا گوشت پکا کر بڑے شوق سے کھاتا۔ اکثر بغیر پوچھے اپنے دادا کی پنشن (جو اس دور میں سات سو روپے تھی) چوری چھپے وصول کر کے رقم عیاشی میں ضائع کر دیتا۔ وہ بٹیر بازی اور مرغ بازی کا دلدادہ تھا۔ اسی طرح وہ چشم نیم باز اپنے گھر کی چھت اور کھڑکیوں کی اوٹ سے دوسرے گھروں میں جھانکتا، اس پر کئی دفعہ جھگڑا بھی ہوا۔ ایسے ہی شوق میں وہ ایک دن اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گرا اور دایاں بازو ٹوٹ گیا اور یہ ہاتھ آخر عمر تک ٹھیک نہ ہوا۔ اس کے بیٹے بشیر احمد ایم اے کی ایک روایت کے مطابق اس ہاتھ سے کھانے کا لقمہ تو منہ تک لے جاسکتا تھا مگر پانی کا گلاس یا چائے وغیرہ کا کپ منہ تک نہ اٹھا سکتا تھا۔ وہ گھر سے چینی چوری کر کے باہر دوستوں میں لے جاتا اور خود بھی کھاتا اور انہیں بھی کھلاتا۔ ایک دفعہ چوری چھپے ایک برتن میں سے سفید چینی سمجھ کر اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی، اس کا دم رک گیا، بعد میں پتا چلا کہ جسے اس نے چینی سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا، وہ چینی نہ تھی بلکہ پسا ہوا
نمک تھا۔ وہ قادیان کے کچے اور گندے تالابوں میں تیراکی کرتا۔ وہ اکثر و بیشتر جھوٹے موٹے منتر پڑھتا اور لوگوں کو پھونکیں مارتا جس سے لوگوں کو نفسیاتی طور پر مرعوب کرتا۔ رات کو ہاتھوں میں جگنو پکڑ کر اس کی روشنی سے لوگوں کو بے وقوف بناتا۔
مرزا قادیانی کی بدعملی اور آوارہ مزاجی کے نتیجہ میں اس کی شادی تقریباً 1850ء میں کر دی گئی۔ مرزا قادیانی کا نکاح اس کے سگے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے ہوا، جس سے دو بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ یہ شادی بڑے دھوم دھڑکے اور پورے لوازمات کے ساتھ ہوئی۔ مرزا قادیانی کا والد اور بھائی اس سے بے حد متنفر تھے کیونکہ وہ کوئی کام نہ کرتا تھا۔ وہ اس کے مستقبل کے بارے میں بھی پریشان رہتے۔ خود مرزا قادیانی کا اعتراف ہے کہ میرا والد اکثر اوقات افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا کہ ”میرا ایک بچہ تو لائق ہے مگر دوسرا نالائق ہے۔ کوئی کام نہ اسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے، مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے؟“ (تاریخ احمدیت از دوست محمد شاہد ج 1 ص 71)
1857ء میں جنگ آزادی شروع ہوئی تو مرزا قادیانی کی قسمت بدل گئی۔ انگریز حکومت کو معقول معاوضے پر مسلمانوں کے خلاف مخبر اور غدار درکار تھے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے انہیں اپنی خدمات پیش کیں، اپنے خاندان کی پرانی خدمات کے نتیجے میں وہ انگریز حکومت کی سرپرستی میں آگیا۔ انگریزوں نے اس پر اپنی نوازشات کی بارش کر دی۔ اسی دوران مرزا قادیانی نے انگریز کی حمایت میں کتابیں لکھنا شروع کیں۔ خود مرزا قادیانی کا اقبالی بیان ہے کہ اس نے 17 برس تک سرکار انگریز کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں مؤثر تقریریں کیں۔
اس جنگ میں مرزا قادیانی کے والد نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی۔ پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ جنگ کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے۔ مرزا قادیانی کا بیان ہے ”میں نے اپنی عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزارا اور ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“ (تریاق القلوب ص 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 ص 155، 156 از مرزا قادیانی) پھر مرزا قادیانی نے فتویٰ دیا ”انگریز گورنمنٹ سے جہاد کرنا نہایت حماقت ہے
کیونکہ انگریز ہمارا محسن ہے اور محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘ (شہادت القرآن ص 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 ص 380 از مرزا قادیانی) پھر کہا ’’اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور دوسرے حکومت برطانیہ کی اطاعت۔‘‘(شہادت القرآن ص 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 ص 380 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ان خدمات کے نتیجہ میں انگریز حکومت نے مرزا قادیانی اور ان کے خاندان پر اپنی نوازشات اور مراعات کی انتہا کر دی۔ مرزا قادیانی کے دن پھر گئے۔ دولت اور وسائل کی ریل پیل ہوگئی۔ بعد ازاں اپنی عیاشیوں کے نتیجہ میں اس نے اپنی بیوی حرمت بی بی سے قطع تعلق کر لیا اور اسے میکے بٹھا دیا۔
مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو
اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اول ص 33 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
قادیانی ذہنیت کی پستی ملاحظہ کیجیے کہ مرزا بشیر احمد ایم اے جو مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم کی اولاد میں سے ہے، جب اپنی والدہ کا ذکر کرتا ہے تو اسے ’’ام المومنین‘‘ کے لقب سے یاد کرتا ہے اور جب مرزا قادیانی کی پہلی بیوی کا ذکر کرتا ہے تو اسے ’’پھجے کی ماں‘‘ کہتا ہے۔ پھجا سے مراد مرزا فضل احمد ہے جس نے مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مزید برآں یہ کس قدر بے غیرتی اور بے حمیتی کی بات ہے کہ مرزا بشیر احمد بقلم خود بیان کر رہا ہے کہ میرے والد نے اپنی پہلی بیوی سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ ظاہر ہے مرزا بشیر احمد کو یہ بات مرزا قادیانی نے بتائی یا اس کی والدہ نصرت بائی نے۔ ان ہر دو صورتوں میں ان کی خباثت پوری طرح کھل کر سامنے آگئی ہے۔
دہلی میں اکثر لوگ اپنی اولاد کو اخلاق و آداب، اطوار و عادات، تہذیب و شائستگی اور آداب مجلسی سکھانے کے لیے اونچے درجے کی طوائفوں کے پاس بھجواتے، جہاں ان کے
کوٹھوں پر انہیں زبان کے مزاج، گفتگو کی نزاکت اور ادب و شعر کی تعلیم بھی دی جاتی۔ طوائفوں کے آداب کو سند کا درجہ دیا جاتا تھا اور مشہور تھا کہ جس نے تہذیب سیکھنی ہو، وہ طوائفوں سے سیکھے۔ دہلی کے ایسے ہی ایک آزاد خیال گھرانے میں مرزا قادیانی کی دوسری شادی 17 نومبر 1884ء کو نصرت جہاں بیگم نامی ایک خاتون کے ساتھ ہوئی۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر 45 سال اور نصرت جہاں بیگم کی عمر صرف 16 سال تھی۔ نصرت کے خاندان کے کئی معزز لوگ اس شادی کے خلاف تھے۔ وہ اس بات پر بھڑک اٹھے کہ دولت کی خاطر ایک نوخیز لڑکی کی ایک بوڑھے شخص کے ساتھ شادی کر دی گئی ہے۔ اس غصہ اور ناراضی کی وجہ سے انہوں نے نکاح کی تقریب میں شرکت نہ کی۔ بہرحال مخالفت کے باوجود مرزا قادیانی نصرت کو لے کر قادیان آ گیا۔ مرزا قادیانی کے بعض قدیم اور مخلص دوستوں نے بھی اس کی صحت اور بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شادی پر اظہار افسوس کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں حقوق زوجیت پورے نہ ہونے پر کوئی ابتلا نہ پیش آ جائے۔ آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ خود مرزا قادیانی نے حکیم نورالدین کے نام ایک خط میں اعتراف کیا ہے:
- ”جب میں نے دوسری شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ میرا
دل، دماغ اور جسم بے حد کمزور ہے۔ ذیابیطس، دوران سر، تشنج قلب اور دق کی بیماری بھی موجود ہے۔ اس وجہ سے میری حالت مردمی کالعدم ہے۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی ہے۔“
(تریاق القلوب ص 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 ص 203 از مرزا قادیانی)
پھر ایک اور خط میں مرزا قادیانی نے حکیم نور الدین کو لکھا کہ وہ اس نازک مرحلہ میں اس کی مدد کرے۔ قوت باہ بڑھانے، منی کو غلیظ کرنے اور مباشرت کا وقت بڑھانے کی دوا تیار کر کے فوری بھجوائے تا کہ مزید شرمندگی سے بچا جاسکے۔ چنانچہ حکیم نور الدین نے کئی ایک ممسک ادویہ بھجوائیں۔ ان ادویہ میں مشک عنبر، مروارید، سنکھیا، کشتہ اور افیون بھی شامل تھی۔ مرزا قادیانی کو ان ادویہ کے استعمال سے کچھ افاقہ ہوا مگر وہ مستقل طور پر مردانہ طاقت سے محروم ہو چکا تھا۔ بعد ازاں اس نے جنسی تحریک کے لیے افیون اور شراب ٹانک وائن کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کے استعمال پر بھی اسے ناکامی ہوئی۔ ٹانک وائن کے متعلق مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود کا کہنا ہے: ”اور ٹانک وائن کے متعلق دکان ای پلومر سے پوچھا گیا کہ چیست؟ تو جواب ملا: ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت
سے سربند بوتلوں میں آتی ہے اس کی قیمت ایک روپیہ آٹھ آنے ہے۔‘‘
(’’سودائے مرزا‘‘ ص 39، حاشیہ، طبع دوم، مصنفہ حکیم محمد علی صاحب، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)
اور دوسری گواہی بھی خود مرزا محمود کی مرزا قادیانی کے بارے میں ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ’’افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا
کرتے تھے کہ بعض اطبا کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔...... حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (نورالدین) کو حضور (مرزا) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔‘‘
(مضمون از مرزا بشیر الدین محمود مندرجہ اخبار الفضل، جلد 17 نمبر 6 مورخہ 19 جولائی 1929ء)
- مرزا قادیانی کا خادم حامد علی قادیانی بیان کرتا ہے کہ جب حضرت صاحب
مرزا قادیانی نے دوسری شادی (محمود کی اماں سے) کی تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ (مرزا) نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ’’زد جام عشق‘‘ کے نام سے مشہور ہے، بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا...... الہامی ہونے کے متعلق دو باتیں سنی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نسخہ الہام ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ کسی نے یہ نسخہ حضور (مرزا) کو بتایا۔ اور پھر الہام میں اسے استعمال کرنے کا حکم دیا۔
(سیرت المہدی حصہ سوم ص 50 روایت نمبر 569 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- نسخہ زد جام عشق یہ ہے جس میں ہر حرف دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے زعفران، دار
چینی، جائفل، افیون، مشک، عقرقرحا، شنگرف، قرنفل یعنی لونگ ان سب کو ہم وزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم الفار میں چرب رکھتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔
(سیرت المہدی جلد سوم ص 51 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کا اعترافی بیان ہے:
- ’’ایک ابتلا مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور
دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا۔ اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس
لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا اور ایک خط جس کو میں نے اپنی جماعت کے بہت سے معزز لوگوں کو دکھلا دیا ہے جیسے اخویم مولوی نورالدین صاحب اور اخویم مولوی برہان الدین وغیرہ۔ مولوی محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی کی ہے اور مجھے حکیم محمد شریف کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اولیاء اللہ کے خوارق اور روحانی قوتوں کا منکر نہیں ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے۔‘‘ یہ ایک چھوٹے سے کاغذ پر رُقعہ ہے جو ابتک اتفاقاً میرے پاس محفوظ رہا ہے اور میری جماعت کے پچاس کے قریب دوستوں نے بچشم خود اس کو دیکھ لیا اور خط پہچان لیا ہے اور مجھے امید نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب اس سے انکار کریں اور اگر کریں تو پھر حلف دینے سے حقیقت کھل جائے گی۔ غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے رفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی۔ اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کر لیا کہ وہ پُرصحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کیے گئے۔ اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لیے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 ص 203، 204 از مرزا قادیانی)
انبیائے کرام انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا بہترین انتخاب ہوتے ہیں۔ انہیں نبوت و رسالت ایسے عظیم ترین منصب سے سرفراز اور ممتاز کیا جاتا ہے۔ وہ عنداللہ بے حد مقبول اور محبوب ہوتے ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ پوری انسانیت میں سے بلند ہوتا ہے۔ انہیں جہاں دیگر
اعلیٰ ترین اوصاف حمیدہ سے نوازا جاتا ہے، وہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انبیائے کرام کی صحت نہایت قابل رشک ہوتی ہے کیونکہ بارِ نبوت اٹھانے اور نباہنے کے لیے ان کا تندرست اور صحت مند ہونا لازمی امر ہے۔ وہ کسی خاص مرض کا نشانہ نہیں بنتے۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی پوری زندگی جسمانی اور دماغی بیماریوں کا شکار رہا۔ وہ بیمار نہیں بلکہ ”بیماری“ تھا۔ اسے لاحق چند پیچیدہ امراض کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
- مائی اوپیا (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- دل و دماغ سخت کمزور (تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15
صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
- ذیابیطس (تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15
صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
- دوران سر (تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15
صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
- تشنج قلب (تریاق القلوب صفحہ 75 خزائن مندرجہ روحانی جلد 15
صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
- حالت مردی کالعدم (تریاق القلوب صفحہ 75 روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 203
از مرزا قادیانی)
- تشنج اعصاب (سیرۃ المہدی جلد اوّل صفحہ 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- خارش (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- دق (تریاق القلوب صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15
صفحہ 202 از مرزا قادیانی)
- سل (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- ہسٹیریا (سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- مراق (سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- دورے (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- غشی (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- سو سو دفعہ پیشاب
(اربعین نمبر 4 ضمیمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17
صفحہ 471 از مرزا قادیانی)
- کثرت اسہال
(نسیم دعوت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ
348، 349 از مرزا قادیانی)
- قولنج زحیری
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 221، 222 از مرزا بشیر احمد ایم
اے)
- لکنت
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 25 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- دانتوں کو کیڑا
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 125 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
- شدید درد سر جس کا
آخری نتیجہ مرگی
(حقیقت الوحی صفحہ 376 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22
صفحہ 376 از مرزا قادیانی)
- حافظہ بہت خراب
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 483 طبع جدید)
- سرعت انزال
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 20 طبع جدید)
- نامردی
(تریاق القلوب صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15
صفحہ 203 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! جیسا کہ آپ ملاحظہ کر چکے ہیں، مرزا قادیانی کو درجنوں بیماریاں لاحق تھیں اور یہ بیماریاں ساری زندگی اس کے ساتھ چمٹی رہیں۔ بالآخر اس کی زندگی کا عبرتناک انجام ہوا۔
شروع شروع میں مرزا قادیانی کا عقیدہ تھا کہ نبوت بند ہے اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اب دنیا کسی نئے نبی کے وجود سے مستغنی ہو گئی ہے۔ بعد ازاں اسلام دشمن طاقتوں کے ایما پر آنجہانی مرزا قادیانی نے پینترہ بدلتے ہوئے اپنے سابقہ عقیدہ میں بددیانتی سے انحراف کیا اور ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ پر چوٹ لگاتے ہوئے نبوت کے جاری ہونے پر اصرار کیا اور خود نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا قادیانی کے نئے عقیدہ کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:-
- ’’میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ
اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا...... اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا
ہے اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 103، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل
ہوا...... اور یہ دعویٰ امت محمدیہؐ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 387، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی)
- ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی
نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 387، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی)
- ”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد
مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیا اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 391، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 407,406 از مرزا قادیانی)
- ”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے
مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 154,153 از مرزا قادیانی)
- ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔‘‘
(حقیقتہ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن نمبر 22 صفحہ 154 از مرزا غلام احمد قادیانی)
- ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک
کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 14، روحانی خزائن نمبر 18 صفحہ 230 از مرزا قادیانی)
- ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن نمبر 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی اس تحریر کا مطلب یہ ہوا کہ سچے خدا کی نشانی صرف یہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو قادیان میں رسول بنا کر بھیجا ہے اور اگر مرزا قادیانی رسول نہیں ہے تو پھر (نعوذ باللہ) خدا کی سچائی بھی مشکوک ہے۔
- ’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد حضور شفیع
المذنبین ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں، قصے ہیں اور کوئی اگر چہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے، اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرلے، تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 184، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 354 از مرزا قادیانی)
- ’’ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت
رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ
کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے، وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے، حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ، رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3، روحانی خزائن نمبر 18 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)
جب مرزا قادیانی کے پیروکاروں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کے طفیل، نبوت کا دروازہ کھل گیا ہے تو ہر حوصلہ مند قادیانی کو طمع لاحق ہوئی، کہ موقع ملنے پر وہ بھی اپنی نبوت کے جوہر دکھائے اور کچھ بن کر مرزا قادیانی کی طرح شہرت و دولت حاصل کر لے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی زندگی اور وفات کے بعد بہت سے قادیانی، یاجوج ماجوج کی طرح دعویٰ نبوت کے ساتھ ہر طرف سے اُمڈ آئے اور اپنے اپنے دعوؤں کی ڈفلی بجانی شروع کر دی۔
رہی سہی کسر قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے پوری کر دی۔ اس نے اپنے خطبہ میں کہا:
- ’’اب انبیا عظام حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خادموں میں پیدا ہوں
گے۔‘‘ (روزنامہ الفضل جلد 15 نمبر 96، 97 ص 15، 12 جون 1928ء)
جب سے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین کے یہ الفاظ قادیانیوں نے سنے اور پڑھے ہیں۔ ہر ایک مرزائی کے پیٹ میں نبوت کے چوہے دوڑ رہے ہیں اور الہامات ہیں کہ سونے نہیں دیتے۔ ان کے قلوب ایسے مسخ ہوئے ہیں کہ ان میں احساس کا نام نہیں اور دماغ ایسے مختل ہوئے ہیں کہ عقل کا مادہ گویا ان سے یک قلم سلب ہو چکا ہے۔ جب سے مرزا قادیانی نے نبوت کا پھاٹک کھولا ہے، مرزا قادیانی کے مرید آپے سے ایسے باہر ہوئے کہ اللہ کی پناہ! انھوں نے نبوت کے پاک نام کی تذلیل کی اور اس کی تمام تر ذمہ داری مسیلمہ پنجاب آنجہانی مرزا قادیانی پر عائد ہوتی ہے۔
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین کا اعترافی بیان ملاحظہ فرمائیں:
- ’’دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان میں سے
سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے۔ واقعہ میں ابتدا میں انھیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب نہیں، اب بھی ہوتے ہوں مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا، خشیت اللہ پائی جاتی تھی۔ آگے خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے مگر ابتدا میں ان کی حالت مخلصانہ تھی۔ ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا مگر نقص یہ ہو گیا کہ انھوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا گئے۔
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے زمانہ میں ایک آدمی یہاں آیا جو احمدی تھا۔ کہنے لگا، مجھے الہام ہوتے ہیں کہ تُو موسیٰ ہے، ابراہیم ہے، محمد ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا، یہ بتاؤ جب تمھیں موسیٰ کہا جاتا ہے تو اس قسم کے نشان بھی دیے جاتے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے تھے۔ یا جب ابراہیم کہا جاتا ہے تو کیا حضرت ابراہیم کی طرز کا کلام اور برکات بھی دیے جاتے ہیں؟ یا جب محمد ﷺ کہا جاتا ہے تو جیسے معارف اور لطائف روحانی آپ کو دیے گئے، وہ تمھیں بھی دیے جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگا، دیا تو کچھ نہیں جاتا، صرف کہا ہی جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا، دیکھو خدا کسی سے مخول نہیں کیا کرتا۔ وہ جب کسی کو کوئی نام دیتا ہے تو اس کے ساتھ برکات بھی دیتا ہے۔ تمھیں جو الہام ہوتے ہیں، ان کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ کہ وہ کلام کسی اور کے لیے نازل ہوتا ہے جسے تم بھی سن لیتے ہو اور غلطی سے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھ لیتے ہو یا پھر یہ خدا کا کلام نہیں، شیطان کا کلام ہے جو تمھیں دھوکا دے رہا ہے۔ دیتا تو کچھ نہیں مگر کہتا ہے تم یہ بن گئے، وہ بن گئے۔ گویا وہ تمھیں وہ بات کہتا ہے جو تم میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(تقریر مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 15، ص 6-5، مورخہ 30 مارچ 1928ء)
جن قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی پیروی میں نبوت کا دعویٰ کیا، ان میں سے چند ایک کے نام اور حالات مندرجہ ذیل ہیں:۔
چراغ دین جموی قادیانی
مرزا قادیانی کے خاص مرید چراغ دین جموی نے مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں
نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس کو ناقابل معافی سمجھ کر اپنی جماعت سے خارج کر دیا اور اس کے رد میں ایک کتاب ”دافع البلاء“ 23 اپریل 1902ء کو شائع کی۔ مرزا قادیانی نے لکھا:
- ایک شخص ساکن جموں چراغ دین نام کی نسبت اپنی تمام جماعت کو ایک عام اطلاع
چونکہ اس شخص نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں، طاعون کے بارے میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کیے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ ان کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا، اس لیے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعوے جو اس کے حاشیے میں تھے، اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لیے اجازت دی گئی۔ اب جو رات اسی شخص چراغدین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لیے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کرا دے اور قرآن اور انجیل کا تفرقہ باہمی دور کر دے اور ابن مریم کا ایک حواری بن کر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ قرآن شریف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کرے گا بلکہ ان کتابوں کو محرف مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا ہے اور تاج خاص اکملت لکم دینکم کا اپنے لیے رکھا ہے۔
پس یہ کیسی ناپاک رسالت ہے جس کا چراغ دین نے دعویٰ کیا ہے۔ جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہلا کر یہ ناپاک کلمات منہ پر لائے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں مذہبوں کا مصالحہ کروں۔ لعنۃ اللہ علی الکافرین۔ پھر باوجود ناتمام عقل اور ناتمام فہم اور ناتمام پاکیزگی کے یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں، یہ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے، گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون۔ لیکن خاتم الانبیا اور
خاتم الاولیاء اس طریق سے مستثنیٰ ہے اور جیسا کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا۔ اور تمام صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔ کسی کو دعویٰ نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلائے۔
اور ہمارا آنا صرف دو فرشتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہزاروں فرشتوں کے ساتھ ہے اور خدا کے نزدیک وہ لوگ قابل تعریف ہیں جو سالہائے دراز سے میری نصرت میں مشغول ہیں اور میرے نزدیک اور میرے خدا کے نزدیک ان کی نصرت ثابت ہو چکی ہے۔ مگر چراغدین نے کونسی نصرت کی ، اس کا تو وجود اور عدم برابر ہے۔ قریباً تیس سال سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اس نے تو صرف چند ماہ سے پیدائش لی ہے اور میں اس کی شکل بھی اچھی طرح شناخت نہیں کر سکتا کہ وہ کون ہے اور نہ وہ ہماری صحبت میں رہا اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات میں مجھے مدد دینا چاہتا ہے۔ کیا عربی نویسی کے نشان میں یا معارف قرآنی کے بیان میں میرا مددگار ہوگا یا ان مباحث دقیقہ میں میری اعانت کرے گا جو طبعی اور فلسفہ کے رنگ میں عیسائیوں اور دوسرے فرقوں سے پیش آتے ہیں؟ میں تو جانتا ہوں کہ وہ ان تمام کوچوں سے محروم ہے اور نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لیے مستعفی نہ ہو جائے۔
افسوس! کہ اس نے بے وجہ اپنی تعلیٰ سے ہمارے سچے انصار کی ہتک کی اور عیسائیوں کے بد بودار مذہب کے مقابل پر اسلام کو ایک برابر درجہ کا مذہب سمجھ لیا۔ سو ہم کو ایسے شخص کی کچھ پروا نہیں۔ ایسے لوگ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 33 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 239 تا 242 از مرزا قادیانی)
مزید لکھا:
- ’’چراغدین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی سی ہو کر مجھ کو خدائے
عز وجل کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ نزل بہ جیز یعنی اس پر جیز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یا رؤیا سمجھ لیا۔ جیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اُتر سکے اور مرد بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی
اور فرومائیگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو اور اس جگہ لفظ جمیز سے مراد وہ حدیث النفس اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی۔ اس لیے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جمیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے۔ ورنہ جمیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 243 از مرزا قادیانی)
معلوم نہیں مرزا قادیانی پر تمام آسمانی معارف ”تھوڑی سی غنودگی“ کی کیفیت میں ہی کیوں نازل ہوا کرتے تھے؟ ہوش وحواس کی حالت میں الہامات کے نزول میں جانے کیا امر مانع تھا؟ غالباً وہ شرمساری محسوس کرتے ہوں گے کہ ہم کس پر اتر رہے ہیں!
مرزا قادیانی نے مزید لکھا:
- ’’رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغدین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا انی
اذیب. من یریب. میں فنا کر دوں گا۔ میں غارت کروں گا۔ میں غضب نازل کروں گا۔ اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے توبہ نہ کی اور خدا کے انصار جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں۔ ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیونکہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا۔ حالانکہ خدا نے بار بار براہین احمدیہ میں ان کی تعریف کی اور اُن کو سابقین قرار دیا اور کہا اصحاب الصفة. وما ادراک ما اصحاب الصفة.
اور جمیز اس روٹی خشک کو کہتے ہیں کہ دانت اُس کو توڑ نہ سکیں اور وہ دانت کو توڑے اور حلق سے مشکل سے اترے اور امعا کو پھاڑے اور قولنج پیدا کرے۔ پس اس لفظ سے بتلایا کہ چراغ دین کی یہ رسالت اور یہ الہام محض جمیز اور اُس کے لیے مہلک ہیں۔ مگر دوسرے اصحاب جن کی توہین کرتا ہے ان پر مائدہ نازل ہورہا ہے اور ان کو خدا کی رحمت سے بڑا حصہ ہے۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 243، 244 از مرزا قادیانی)
جس طرح مرزا قادیانی نے چراغ دین جموی کے مضمون کو زہریلا، خطرناک،
اسلام کے لیے مضر، سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا کہا ہے، ہمارے نزدیک مرزا قادیانی کی کتابیں اور مضامین بھی اسی تعریف میں شامل ہیں۔ جس نظریہ سے وہ اس بات پر معترض ہے کہ چراغ دین نے کیونکر اس کی بیعت کر کے اور اس کی جماعت میں داخل ہو کر، ان کے مقابلہ میں نبوت کا ادعا کر دیا، اسی نظریہ کے مطابق مرزا قادیانی ہی کو کب یہ حق حاصل تھا کہ وہ خود کو مسلمان کہہ کر اور محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھ کر، ان کا امتی ہونے کے باوصف آپ ﷺ ہی کے مقابلہ میں نبوت کا ڈھکوسلا کھڑا کردے؟ خود اس نے بھی اپنے مضامین اور اپنے دعویٰ رسالت پر کیوں نہیں غور کیا؟ جب چراغ دین جموی کو یہ حق نہیں پہنچتا، کہ وہ مرزا قادیانی کا مدمقابل بن کر آ جائے، تو مرزا قادیانی کو کب یہ استحقاق ہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کے مدمقابل آئے؟ (نعوذ باللہ) جس طرح مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق چراغ دین کے دعویٰ نبوت سے اس کی ساری امت کی توہین ہوئی ہے، اسی طرح خود اس کے دعویٰ نبوت سے بھی پوری امت مسلمہ کی توہین ہوئی ہے۔ اگر یہ جرأت چراغ دین کے لیے جائے غیرت تھی تو مرزا قادیانی کے لیے بھی جائے غیرت ہے۔ اسے بھی بقول خود یہ ناپاک کلمے منہ پر نہیں لانے چاہئیں تھے۔ اگر چراغ دین نفس امارہ کی غلطی سے خودستائی میں مبتلا ہوسکتا ہے تو مرزا قادیانی اس سے بڑھ کر نفس امارہ کی غلطی سے خودستائی میں گرفتار ہوا۔
ظہیر الدین اروپی
جھوٹا مدعی نبوت ظہیر الدین، اُروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہائشی اور لاہوری جماعت کے آرگن اخبار ”پیغام صلح لاہور“ کا مدیر بھی رہ چکا تھا۔ اس کے نزدیک مرزا قادیانی ایک صاحب شریعت نبی تھا۔ وہ مسجد قادیان کو بیت اللہ شریف کہتا تھا۔ لہٰذا اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا تھا۔ اس کا کلمہ لاالہ الا اللہ احمد جری اللہ تھا جس کی وہ تقریری اور تحریری تبلیغ کرتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس پر وحی اترتی ہے۔ وہ بذریعہ الہام یوسف (علیہ السلام) بنا اور بعض قادیانی سربرآوردہ افراد کی ہلاکت کی پیشگوئی بھی کی۔
یار محمد وکیل ہوشیار پوری
قاضی یار محمد وکیل ہوشیار پوری، مرزا قادیانی کے خاص مریدوں میں سے تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی کئی آیات بھی اپنے اوپر چسپاں کیں۔
اس کے متعلق قادیانی خلیفہ مرزا محمود لکھتا ہے:
- ”ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے
مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد صاحب تھا۔ انھیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی محبت میں بڑھتے بڑھتے انھیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔“
(مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 22، نمبر
79، ص 7، مورخہ یکم جنوری 1935ء)
قاضی یار محمد کے بارے میں مرزا بشیر احمد ایم اے کی ایک دلچسپ روایت ملاحظہ کیجیے:
- ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ
میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر 1907ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم (خاص حصہ) کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔“
(سیرت المہدی، جلد 3 صفحہ 265 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
یار محمد کہتا تھا کہ اسے وحی ہوئی ہے کہ محمدی بیگم جس کے ساتھ ”مرزا قادیانی“ کا آسمان پر نکاح ہوا تھا، وہ درحقیقت میں ہوں۔ وہ اپنے آپ کو قدرتِ ثانیہ کا مصداق کہتا تھا کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ قدرتِ ثانیہ میرے جانے کے بعد آئے گی اور قدرتِ ثانیہ کا وہ مظہر ہو گا جو میری خو بو پر ہوگا۔ سو یہ علامت میری ذات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ یار محمد نے بہت کوشش کی کہ مرزا محمود قادیانی مسندِ خلافت خالی کر دے۔ مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوا۔ اس پر یار محمد نے مرزا محمود کے خلاف چالیس کے قریب رسالے شائع کیے۔ اس نے اپنی ایک
کتاب ”اسلامی قربانی“ میں مرزا قادیانی کے بارے میں لکھا:
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
ویسے اس قدر غیر معمولی وضاحت میں اشارت والی کون سی بات ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہوسکتا ہے۔ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اُسے دنیا میں لیٹرین میں موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
عبداللہ تیما پوری
جھوٹا مدعی نبوت عبداللہ تیماپور مرزا قادیانی کا سرگرم مرید تھا۔ وہ تیماپور واقع حیدر آباد دکن کا رہنے والا تھا۔ عربی سے بالکل نا آشنا تھا۔ مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھ کر اس کے دماغ میں فتور آ گیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اسے وحی و الہام کا بھی دعویٰ تھا۔ پہلے روح القدس کے نزول کا مدعی بنا۔ پھر مظہر قدرت ثانیہ کا دعویٰ کیا۔ اس نے ”انجیل قدسی“ نامی ایک کتاب بھی لکھی جس میں مرزا قادیانی کے ان خطوط کو جو محمدی بیگم سے عقد کرنے کے سلسلۂ مساعی میں لکھے تھے، ناپسندیدہ خیال کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ میں بروز محمد ہوں، اس لیے شریعت محمدی میں نسخ و تبدل کا اختیار ہے۔
اس نے مزید کہا:
- ”اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرما کر سلسلۂ آسمانی کی طرف
مخلوق کو دعوت دینے کی تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے، خاکسار خدا سے وحی پا کر اس کام کو انجام دے رہا ہے۔“ (”ام العرفان“ ص 9، مصنفہ عبداللہ تیماپوری قادیانی)
ایک دفعہ چند لوگ ملاقات کے لیے جب اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ نبی تو گھر کی چار دیواری میں نہیں بیٹھتے بلکہ باہر گاؤں میں تبلیغ کیا کرتے ہیں تو فوراً اس کی الہامی مشین میں حرکت ہوئی اور آدھا تیتر آدھا بٹیر پر مشتمل ایک الہام اس خوبی و عمدگی سے بنایا جو ضیافت طبع کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
عبداللہ تیماپوری نے کہا کہ مجھے ابھی ابھی الہام ہوا ہے: یاایھا النبی! تیماپور میں رھیو : یعنی اے نبی ! تمھیں بس یہی حکم ہے کہ تیماپور میں ہی موجود رہو۔
وہ کہتا تھا جو آدمی میرا مرید ہو جائے گا، اس میں دس مردوں کی قوت رجولیت آ جائے گی۔ مزید کہتا تھا، میں مرزا قادیانی کا اصلی جانشین ہوں۔ مزید کہا کہ چونکہ مرزا قادیانی نے اسے نہیں پہچانا تھا، اس لیے مرزا کی عمر 15 سال کم ہوگئی۔ (عسل مصفی جلد دوم صفحہ 216، از مرزا خدا بخش قادیانی)
بعدازاں وہ اپنے آپ کو مظہر اول قدرت ثانی فی الارض خلیفة اللہ وفي السماء محمد عبداللہ مامور من اللہ یمین السلطنة حکم و عدل مہدی معہود کے لقب سے ملقب کرتا تھا۔ اس کی جماعت ریاست میسور و دکن میں دن بدن بڑھتی گئی۔ جاہل اشخاص اس کے قابو میں آتے رہے۔ 1324ھ میں اس نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب ”محاکمہ آسمانی“ مطبوعہ 1334ھ نعمت پریس دکن کے صفحہ 31 پر اس نے مرزائیوں کو حسب ذیل الفاظ میں چیلنج دیا:
- ”اللہ پاک کا آسمانی قانون ہے کہ مفتری علی اللہ اور جھوٹا مامور من اللہ یمین
السلطنت اور حکم و عدل ہونے کا دعویٰ کرے۔ پھر اپنی صداقت میں الہام حق کے جاری کرے اور لوگوں کو اطاعت حق میں اپنے اتباع کی طرف بلائے۔ ماننے والوں کو خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو عذاب حق سے ڈراوے۔ ایسا شخص سرکار آسمانی کا باغی ہے۔ ایسے مدعی کا دست یمین گرفت کر کے رگ گردن کاٹ دی جائے گی۔ اس عاجز پر کئی صحیفہ آسمانی نازل ہوئے۔ اللہ پاک نے خاکسار کے عروج کے لیے پندرہ سال کا پرانا الہام نازل کیا ہے۔ اگر کسی دشمن خلافت کو مقابلہ منظور ہے تو اس کے لیے میدان مباہلہ موجود ہے۔ اگر حوصلہ ہو تو آئیں۔“
اس چیلنج کے جواب میں مرزائیوں کو مقابلہ کا حوصلہ نہ ہوا۔ تیماپوری نے اپنے
سلسلہ کا نام سلسلہ محمدیہ رکھا۔ اپنی کتاب ”محاکمۂ آسمانی“ کے ص 16 پر لکھا: ”یہ کتاب 1334ھ میں لکھی گئی۔ اس سے قبل 40 سال سے الہامات شروع تھے مگر 1334ھ سے وحی کا اعلیٰ مرتبہ شروع ہوا۔“ مرزا قادیانی کے متعلق لکھتا ہے کہ ”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کا مرتبہ شہود تک عروج تھا۔ مقام وجود تک ان میں رسائی نہ تھی۔ خاکسار نے ہر دو کو اپنے ترجمہ میں صحیح پایا۔ اس لیے دونوں مراتب کا جامع قرار پا کے ظل محمد و احمد بن کر ہر دو مراتب کا مظہر بنا ہے۔ اللہ پاک نے اس عاجز کے سلسلہ کا نام طریقہ محمدیہ رکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات میں اسی راز کی طرف اشارہ ہے۔ ”کان الله نزل من السماء و جائک النور وهو افضل منک“ یعنی وہ یحییٰ مظہر خدا ہوگا اور بعض کمالات کے مستعداد یہ ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے افضل ہوگا۔ اے قوم احمدی! میرے حق ظاہر کرنے پر غصہ مت ہو۔ کیا خدا کے کلام کو پورے ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ آخر مسیح کا الہام پورا ہونا ہے یا نہیں۔“ (محاکمۂ آسمانی ص 8 حاشیہ)
- ”باوجود ان تمام خوشخبریوں کے خاکسار کو اس انعام الٰہی کا اقرار ہے کہ حضرت غلام
احمد مسیح موعود اور یہ خاکسار مہدی موعود ہر دو خدا کی طرف سے مامور و مرسل ہونے کی وجہ سے ہم دونوں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک دوسرے کے ظل ہو کر ایک میوے کے دو پھانک ہیں۔ یا ایک تخم کے دو دال دانے۔ ہمارے ہر دو کے ملاپ سے عروج اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ جو لوگ ہم میں تفریق کرتے ہیں۔ وہ ہم میں سے نہیں بلکہ اپنے ایمان کے تخم میں تفریق کرتے ہیں۔ ”یاایها الذین آمنوا آمنوا بالله ورسوله.“ (محاکمۂ آسمانی ص 19)
- ”یہ (تیماپوری) وہی انسان ہے جس کے لیے ساری دنیا انتظار کر رہی تھی۔“
(محاکمۂ آسمانی ص 19)
- ”مامور کو تیس سے چالیس مردوں کی قوت مردی عطا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض
حالت میں وہ انزال کے لیے جب تک اپنی رضا مندی ظاہر نہ کرے، انزال نہیں ہوتا۔ اس سے میں نے حوران بہشت کے راز کو پایا ہے۔“ (محاکمۂ آسمانی ص 19)
- ”میرے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا عکس دکھایا گیا۔“
(محاکمۂ آسمانی ص 17)
- ”اللهم صلی علی محمد عبدالله“ (محاکمۂ آسمانی ص 16)
کذاب تیماپوری نے 1339ھ میں کتاب ”سود کا مسئلہ اور قدسی فیصلہ“ شائع کی۔ جس میں ظاہر کیا کہ سود کی شرح حضور شفیع المذنبین ﷺ کے زمانہ میں نہ ہونے پائی تھی۔ وہ اس زمانہ کے لیے خدا کے مامور کے ذریعہ ہونا تھا۔ مجھے الہام ہوا کہ سیکڑہ ساڑھے بارہ روپیہ سالانہ سود کی آخری حد ہے جس کی اجازت ہے۔ تیماپوری نے اپنی امت کے لیے کئی آسانیاں بہم پہنچائیں۔ اپنی کتاب رحمت آسمانی ص 7 پر لکھتا ہے کہ : ”ماہ رمضان کے تیس روزوں کی بجائے تین روزے کافی ہیں۔ عورتوں کو بے پردہ رہنے کی اجازت ہے۔ ساڑھے بارہ روپیہ سینکڑہ سالانہ سود لینا جائز ہے ۔“ عبداللہ تیماپوری پر اعتراض ہوا کہ تم ناسخ شریعت محمدیہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہو۔ اس پر اس نے وہی جواب دیا جو مرزائی دیا کرتے ہیں۔ یعنی میں بروزی طور پر عین محمد ہوں۔ لہٰذا میں کچھ نہیں جو کچھ ہے، وہ ہے۔ اس لیے محمد ﷺ خود اپنی شریعت میں ترمیم کر رہے ہیں۔ اس پر کسی کو اعتراض نہ ہونا چاہیے۔ کذاب تیماپوری کی تصانیف میں سے تفسیر فاتحہ، طوفان کفر، تقریر آسمانی، مبشرات آسمانی، صحیفہ آسمانی، شان تعالیٰ، حقیقت وحی الہ، اسلامی گیت، ام العرفان، تفسیر قصہ آدم، قدرت ثانی، رحمت آسمانی، ارشادات، توحید آسمانی، شناخت آسمانی، مکار مرشدوں کے ارشادات، فرمان محمدی، کسر صلیب، رسمی شادی وغیرہ کئی کتابیں طبع ہو کر شائع ہوئیں۔ اس کا سب سے بڑا معاون ایک معروف قادیانی میر حسن میل کنٹرکٹر موٹر سروس ٹمکور صوبہ دکن تھا۔ اس شخص نے تیماپوری کے دعاوی کی اشاعت میں بے دریغ روپیہ صرف کیا۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ مرفوع القلم مدعیوں کو پاگل پروموٹرز اور فنانسرز بھی مل جاتے ہیں، واقعی دولت اور عقل لازم وملزوم نہیں۔
احمد نور کابلی
احمد نور کابلی مرزا قادیانی کے خاص مریدوں میں شامل تھا۔ اس نے قادیان میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کی ناک پر زہریلا پھوڑا نکلا جس کا اثر دماغ تک پہنچنے لگا۔ اس پر اس کی ناک کاٹی گئی۔ یہ قادیان میں سرمہ بیچتا تھا۔ پھر پنساری کی دکان کھول لی۔ بنفشہ وگاؤ زبان بیچتے بیچتے نبی بن گیا۔ وہ انسانی لباس میں بھیڑیا یا انسانی ڈھانچے میں ایک کریہہ الصورت ایسا شیطان تھا جس سے انسانیت پناہ مانگتی تھی۔ ایسی شکل وشباہت شاید مرزائی نبیوں کے لیے لازمی ہوگی۔ وہ ربڑ کی ناک استعمال کرتا تھا۔ منہ پر برص کے داغ تھے۔ وہ ناک
میں بولتا تھا۔ لوگ پوچھتے کہ تم کون ہو؟ تو کہتا میں نبی اللہ ہوں۔ آسمان پر گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے مل آیا ہوں۔ تم مانو نہ مانو، میں نبی ہوں۔ مجھے وحی آتی ہے۔
اس نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ“ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب
آسمان کے نیچے اللہ کا دین، میری تابعداری ہے اور اللہ کا مخاطب رسول زندہ موجود ہے جو میں ہوں۔ میرا مان لینا اللہ کا دین ہے اور نہ ماننا اللہ کے دین سے اخراج ہے اور دنیا پر میرا وقت رسالت کا ہے اور اللہ کے دین کی رسی صرف میرے اور رحمٰن کے ہاتھ میں ہے۔ میری وحی، اللہ کی طرف سے ہے جیسا کہ تمام انبیا کی وحی اللہ سے ہے۔ میں اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میرا نام محمد رسول اللہ ہے۔ میں تمام انبیا کا مظہر ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔
(لکل امۃ اجل ص 1-2، مصنفہ احمد نور کابلی قادیانی)
وہ کہتا تھا: میری وحی کی تعداد دس ہزار تک پہنچتی ہے۔ جو شخص میرا انکار کرے گا، وہ لعنتی موت مرے گا۔
قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا کہ:
- ”ہر شخص جانتا ہے کہ احمد نور کابلی خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔
پس ان کا کام ہماری طرف سے کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے۔“
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 22، نمبر 58، ص 17، مورخہ 11 نومبر 1934ء)
اس کے ایک پیرو عبدالرحمٰن ساکن ہولا گنج بٹھڑہ کان پور نے اس کا ایک اعلان مطبع احمد المطابع کان پور سے طبع کرا کر شائع کیا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”اے اللہ تعالیٰ کے ماننے والو! اور رسولوں کے ماننے والو! اے تمام آدم علیہ
السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت خبر دیتا ہوں کہ میں اللہ کی طرف سے مامور ہو گیا ہوں۔ دنیا کے واسطے رسول اور نبی مامور من اللہ ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا ویسا ہی رسول ہوں۔ جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام، جیسے موسیٰ علیہ السلام، جیسے عیسیٰ علیہ السلام، جیسے محمد ﷺ، جیسے مسیح علیہ السلام مرزا صاحب۔ میری آمد تمام انبیا کی آمد ہے۔ میں تمام انبیا کا مظہر ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوں۔ میرے ساتھ وہ خدا جس نے تمام انبیا کے ساتھ کلام کیا ہے، کلام کرتا ہے۔ اس نے آرڈر دیا ہے کہ میری رضا کی خاطر خبر دو کہ اگر اللہ سے محبت کرتے ہو تو
میری بات مان لو۔ میری تابعداری کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ محبت کرے گا۔ میں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے یہ خبر دی ہے۔ جو مانے گا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث بنے گا۔ باقی اللہ تعالیٰ انعام دے گا جس کو وہ پسند کرتا ہے۔“
- ”میں ایمان کا درخت ہوں۔ جیسا کہ تمام انبیا اور جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام اور
جیسے موسیٰ علیہ السلام، جیسے کہ عیسیٰ علیہ السلام، جیسے کہ محمد ﷺ اور جیسا کہ مسیح علیہ السلام۔ الغرض تمام انبیا ایمان کے درخت ہیں۔ سب کے ماننے سے ایمان کا پھل ملتا ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب ملتا ہے اور جنت ملتی ہے۔ میں بھی اسی طرح ایمان کا درخت ہوں۔ میرا انکار اسی طرح زہر قاتل ہے، جیسا تمام انبیا کا انکار زہر قاتل ہے۔ احمد نور کابلی احمدی اللہ کا رسول، مقام قادیان پنجاب۔“
- ”میری آواز پر لبیک کرنا اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کرنا ہے۔ وہ آدمی لبیک کرنے
والا اپنے گھر بیٹھا ہوا خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث بن سکتا ہے۔ جیسا کہ ہر ایک نبی کا ماننے والا اسے قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث بنتا ہے اور میرے نہ ماننے والا اپنے گھر میں خدا تعالیٰ کو ناراض کرتا اور باغی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز سے غافل اور غفلت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ میں مجنون نہیں ہوں۔ مجنون کے ساتھ اللہ کا کلام نہیں ہوتا اور اس کو اللہ تعالیٰ رسول کے نام سے ہادی کے نام اور نبی کے نام سے پکارتا ہے۔ دنیا کے لوگو! اللہ کی رضا لو۔ اللہ کو ناراض مت کرو۔“
ڈاکٹر صدیق بہاری چن بسویشور
ڈاکٹر صدیق بہاری گیا واقع صوبہ بہار کا رہنے والا تھا۔ وہ پہلے مرزائی تھا۔ قادیان میں کچھ عرصہ مقیم رہنے کے بعد نبوت کے دعویٰ کا شوق دل میں سمایا۔ یہ شخص نہایت چالاک، مفتری اور خطرناک ثابت ہوا۔ اس کا اصلی نام صدیق تھا۔ اس نے اپنا تخلص دیندار رکھا اور اس کے پیرو کار دیندار کہلاتے تھے۔ اہل ہنود کو اپنے کسی موعود چن بسویشور کا انتظار تھا۔ یہ مدعی تھا کہ چن بسویشور میں ہی ہوں۔ اس نے اپنی کتاب ”خادم خاتم النبیین“ میں لکھا:
- ”مرزا قادیانی نے 8 اپریل 1884ء میں یہ اعلان کیا کہ ایک مامور مستقبل قریب
میں پیدا ہونے والا ہے۔ یعنی آج سے ایک مدت حمل میں دنیا میں آئے گا۔ وہ روح حق سے
بولے گا، اس کا نزول گویا خدا کا آنا ہے۔ وہ عظیم الشان انسان میں ہوں۔"
(خادم خاتم النبیین ص 17)
اس نے اپنی کتاب (ظہور۔ بشو۔ یسور) میں لکھا کہ ”مسیح قادیانی، دشنو اوتار تھا۔ خلیفہ محمود ابن غلام احمد دیر بسنت ہے۔ اور میں چن۔ بشو۔ یسور۔ ہوں۔ میرے ظہور کے سات سال کے اندر مرزا محمود مر جائے گا ۔" دنیا میں صرف مجھے صدیق کا درجہ ملا ہے جو مہدی اور مسیح سے بھی فائق ہے۔ 8 اپریل 1886ء کو مرزا صاحب نے جس پسر موعود کی پیشگوئی کی تھی، وہ میں ہی موعود ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اہل قادیاں کی اصلاح کروں۔ قادیاں سے آواز اٹھ رہی ہے کہ حضرت خاتم النبیین کے بعد بھی نبوت جاری ہے۔ بیس کروڑ مسلمانوں کو مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج از اسلام تصور کیا جائے۔ محمودیوں اور پیغامیوں میں جھگڑا تھا، اس لیے میں حکم بن کر آیا ہوں۔ میرے معجزات 54 ہیں۔ میری بعث کے بغیر قادیاں کی اصلاح ناممکن تھی ۔"
- ”میرے متعلق اس کثرت سے نشان بیان کیے گئے ہیں کہ مسلمانوں میں مہدی
اور مسیح کے بھی نہیں، اتنی عظمت اس مامور کو اس وجہ سے دے گئی ہے کہ وہ بڑی خدمت کرنے والا ہے۔ اسلام پر جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں، اس کے دور کرنے کے لیے ایسے شان و شوکت سے اتنے ہی نشانوں سے اتنی ہی دھوم دھام سے ایک شخص مختلف اقوام کے لیے رحمت کا نشان بن کر اشاعت اسلام کا بہترین ذریعہ بن کر ساری اقوام کا پیارا بن کر آنا چاہیے تھا کہ اللہ پوری طاقت کے ساتھ آسمان سے آتا ہوا نظر آئے ۔" (خادم خاتم النبیین ص 11)
- ”خود اس مجدد (مرزا قادیانی) سے بڑھ کر زمین اور آسمان نے میرے لیے
نشانات ظاہر کیے تاکہ اتمام حجت میں کوئی کسر نہ رہے۔" (خادم خاتم النبیین ص 21)
- عید منائیو اے احمدیو سب مل کر
(خادم خاتم النبیین ص 18)
- ”میں خود قرآن ہوں ۔" (خادم خاتم النبیین ص 46)
- تیما پوری کذاب کی طرح چن بسو یشور بھی اپنی کتاب میں فخریہ ذکر کرتا ہے کہ
”ایک عورت میری روحانیت کے اثر سے مجھ پر اس قدر فریفتہ ہوگئی کہ وہ جس طرف دیکھتی
تھی، اسے چن بسویشور ہی نظر آتا تھا۔ مرغ کی اذان، بچہ کے رونے غرض ہر آواز سے چن بسویشور کے الفاظ ہی سنتی تھی۔“ (خادم خاتم النبیین ص 47)
”ایک عورت تنہائی میں رات کے وقت میرے پاس آیا کرتی تھی اور آدھی رات کے وقت پھول و زیورات سے آراستہ ہو کر میرے لحاف میں آگھسی اور میرے منہ پر منہ رکھ دیا۔“ (خادم خاتم النبیین ص 66)
محمد عبداللہ
یہ شخص چیچہ وطنی ضلع منٹگمری (ساہیوال) میں پٹواری تھا۔ ایک عرصہ تک قادیانی مذہب میں رہا پھر خود نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ وہ مرزا قادیانی کا ہمسر تھا۔ وہ اپنے آپ کو احمد ”محمد“ عبد اللہ حارث حراث مہدی آخر الزمان رجل یسعیٰ کہلاتا تھا۔ اس نے ایک کتاب ”ہدایت العالمین“ تالیف کی جس کے تین حصے شائع ہوئے۔ اس کے دعاوی و الہامات نہایت عجیب و غریب تھے۔ وہ اپنے آپ کو کئی انبیا سے افضل سمجھتا اور قرآن فہمی میں اپنا کمال بیان کرتا۔
قرآن مجید میں ہے کہ: ”وجاء من اقصىٰ المدينة رجل يسعىٰ“ ایک آدمی شہر کے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ رجل یسعیٰ میں ہوں۔ وہ بڑھاپے میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر بڑی عبرتناک موت کا شکار ہوا۔
نبی بخش مرزائی
یہ شخص موضع معراجکے، تحصیل پسرور، ضلع سیالکوٹ کا ایک پرانا مرزائی تھا۔ اس نے 1911ء میں ایک اعلان شائع کیا۔ جس میں لکھا ”اے ہر مذہب وملت کے دوستو! آپ پر واضح ہو کہ اس عاجز پر ستائیس سال سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کا سلسلہ جاری ہے۔ اس عرصہ میں اس عاجز کی بے شمار پیشین گوئیاں پوری ہوچکی ہیں۔ مجھے ایک روشن نور اپنی طرف کھینچ کھینچ کر مقام محمود کی طرف لے جا رہا ہے۔ مجھے سلطان العارفین کا درجہ دیا گیا ہے۔ مجھے چار سال سے تبلیغ کا حکم ہو رہا ہے۔ میں نے عرض کیا، یا الٰہی! میں امی ہوں۔ حکم ہوا جس طرح ”محمد رسول اللہ“ تبلیغ کرتے تھے تو بھی تبلیغ کر۔ اس کے بعد یہ عاجز ان الفاظ سے مخاطب کیا گیا۔ يَأَيُّهَا الصِّدِّيقُ يُوسُف اِنِّى مَعَک اسی طرح بار بار حکم ہوتا رہا۔ یہ عاجز فکر مند تھا اور سوچ رہا تھا کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن مجھے سمجھایا گیا کہ نبوت کا سلسلہ بدستور جاری
ہے ۔ تم دنیا کے طعنوں سے نہ ڈرو ۔ نبوت کا تاج تمھارے سر پر رکھ دیا گیا ہے۔ دعوائے نبوت کے واسطے تیار ہو جا۔ مدعی نبوت کا فرض ہے کہ میدان میں نکل پڑے۔ میں تیری مدد کے لیے فرشتوں کی فوج تیار رکھوں گا۔ ہر وقت تجھے مدد دیتا رہوں گا۔ موسیٰ مرسل کی طرح میدان میں ہوشیار رہنا۔ بڑے بڑے فرعون تیرے سامنے آئیں گے مگر سب منہ کی کھائیں گے۔ تیرے خاندان کے لوگ اس دعوے کو تسلیم نہیں کریں گے مگر کسی کی پروا نہ کرنا۔ آنے والی نسلیں افسوس کریں گی کہ لوگ تجھ پر ایمان نہ لائے۔ حالات سن سن کر رویا کریں گے۔ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ تو ابراہیمی نسل ہے۔ تُو خاندانِ نبوت سے ہے۔
اپنے اعلان میں مزید لکھتا ہے ”میں رسول اللہ بھیجا گیا طرف تمھارے، رب تمھارے سے۔ بندے بنو۔ اسلام کے پیروں، مرشدوں، مولویوں کی خود ساختہ شریعت کے پیچھے نہ جاؤ۔ وہ سب احکام بلا وحی ہیں۔ جن کا ثبوت نہ کتاب سے دیتے ہیں۔ یعنی کلمہ، درود، سنت، نفل، نعت، غزل، مولود، نماز تراویح، نماز عیدین، نماز جنازہ اور عرس مُردہ اولیاء پر کھانا کھلانا وغیرہ۔ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کہنا شرک ہے ۔“ کتاب ہدایۃ للعالمین میں لکھتا ہے کہ الرسول یدعو کم اور اطیعو الرسول میں میری طرف اشارہ ہے اور لکھتا ہے کہ میں نے خواب میں اپنی والدہ مرحومہ کو دیکھا اور کہا کہ خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنا کر بھیجا ہے۔ یہ سن کر والدہ حیران رہ گئیں اور کہنے لگیں کہ بیٹا کل تو تُو یہ کہتا تھا کہ مسیح آئے گا۔“
کسی ظریف الطبع نے جس کا نام خدا بخش تھا۔ اس کے جواب میں اعلان کیا کہ میں نے نبی بخش کو نبی نہیں بنایا، اس لیے وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔
جس طرح مرزا قادیانی کا ایک دلچسپ الہام ہے۔ غَثَم غَثَم غَثَم۔ اسی نمونہ کا ایک مضحکہ خیز نبی بخش کا الہام انگریزی میں تھا۔
آئی۔ ایم ۔ وٹ ۔ وٹ (یعنی میں وٹ ۔ وٹ ہوں)
احمد سعید سمبڑیالوی
جھوٹا مدعی نبوت احمد سعید مرزائی سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ وہ اسٹنٹ انسپکٹر تھا۔ اس نے با قاعدہ مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بعد ازاں نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنا لقب یوسف موعود رکھا اور اپنے الہام اور وحیاں ”پیراہنِ یوسفی“ نامی اپنی کتاب میں جمع کیں۔ مرزا قادیانی کے بیٹے سلطان احمد کی بیوی سے ان کے ناجائز مراسم
تھے۔ اس پر کئی دفعہ اس کی پٹائی اور رسوائی ہوئی۔ وہ کہتا تھا کہ مسلمانوں کی موجودہ رشتہ داریاں سب ناجائز اور ولدالزنا ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کے متعلق کہا تھا۔ یاتی قمر الانبیا لیکن سعید نے دعویٰ کیا کہ میں قمر الانبیا ہوں۔ اس کو گلپھڑوں کی بیماری تھی۔ یعنی ٹھوڑی کے نیچے گردن پر نہایت بدنما ورم تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ یہ مہر نبوت ہے۔ (نعوذ باللہ)!
عبداللطیف گناچوری
عبداللطیف گناچوری پہلے جالندھر میں قادیانی مبلغ تھا۔ وہ گاؤں گاؤں جا کر مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کی تبلیغ کرتا۔ بعدازاں خود نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اپنا لقب قمر الانبیا اختیار کیا۔ اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں 500 صفحات سے زائد ایک ضخیم کتاب ”چشمۂ نبوت“ شائع کی جس میں لکھا کہ ”احادیث میں جس مہدی کے آنے کا ذکر ہے، وہ میں ہوں۔ دانیال نبی نے میرا ہی زمانہ 1335ھ ہجری سے 1340 ہجری تک بتایا ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی کا دعویٰ زمین پر غلام احمد اور آسمان پر مسیح ابن مریم ہے۔ اسی طرح خدا نے زمین پر میرا نام عبداللطیف اور آسمانوں میں محمد بن عبداللہ موعود رکھا ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی روحانی اولاد بن کر سید ہاشمی بن گیا تھا، اسی طرح میں بھی آل رسول میں داخل ہوں۔ قادیانیوں کا یہ خیال غلط ہے کہ مہدی اور مسیح دونوں ایک ہی شخصیت ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہہ چکا ہے کہ مجھ سے پہلے بھی مہدی آچکے ہیں اور بعد میں بھی آئیں گے۔ ان کے زمانے میں کوئی مہدی نہ تھا۔ اس لیے ”مہدی آخر الزمان“ ہوں۔ میرے 90 معجزات ہیں۔ میری پیشگوئیاں مرزا قادیانی سے بھی بڑھ کر سچی نکلی ہیں۔“ اس کے دلائل عام طور پر وہی ہیں جو مرزا قادیانی نے اپنے لیے دیئے ہیں۔ عبداللطیف نے قادیانی خلیفہ مرزا محمود اور اپنے تمام مخالفین کو دعوت مباہلہ بھی دی تھی۔
اس نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”چونکہ خدا تعالیٰ نے 9 سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لیے اور اسلام کو ہر
رنگ میں تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے اپنا نبی، رسول اور امام مہدی بنا کر مبعوث کیا ہے اور میرے دعویٰ کے دلائل کتاب ”چشمہ نبوت“ کے ذریعہ پانچ سال سے شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن مرزا بشیر الدین قادیانی اور ان کی جماعت نے میرے دعاوی قبول کرنے سے انکار کر دیا
ہے، اس لیے خدائے تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا اور ان کے اسی انکار اور سرکشی کی پاداش میں خدا کا غضب مرزا محمود احمد قادیانی پر اور ان کے ساتھیوں پر اور ان کی بستی پر کسی سخت مصیبت اور عذاب شدید کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے۔ اور یہ عذاب، عبرتناک انجام کی صورت میں نازل ہونے والا ہے۔ اور عذاب شدید کے بعد جماعت احمدیہ کے بقیہ اور منتشر لوگ پھر خدا کے حکم سے میرے ہاتھ پر جمع ہوں گے۔ اس عذاب کے ٹلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان قوم یونس کی طرح میرے دعویٰ پر ایمان لا کر مجھے قبول کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی نہیں۔‘‘
(مورخہ 5 مارچ 1930ء، عبداللطیف، خدا کا نبی اور رسول اور امام مہدی گناچور، ضلع جالندھر)
الٰہی بخش
الٰہی بخش (اکاؤنٹنٹ لاہور) مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے وحی و الہام ہوتے تھے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں موسیٰ ہوں۔ پھر مرزا قادیانی کے خلاف ایک کتاب ’’عصائے موسیٰ‘‘ شائع کی۔ وہ کہتا تھا، مرزا قادیانی فہم الہامات میں کمزور ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں الٰہی بخش کا ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ’’اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت
یہ الہام ہے....... یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 581، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی)
شیخ غلام محمد قادیانی لاہوری
شیخ غلام محمد قادیانی کا تعلق مرزائی لاہوری جماعت سے تھا۔ وہ اپنے ملہم ہونے کی بنیاد مرزا قادیانی کے دعویٰ پر قرار دیتے ہوئے کہتا تھا کہ میرے لیے مرزا قادیانی نے بشارت دی تھی کہ میرے عصبہ سے ایک لڑکا ہو گا جو مصلح ہو گا۔ قادیانی موسیو بشیر الدین کو مصلح موعود قرار دینا غلط ہے۔ اس نے ایک اشتہار میں لکھا:
- جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش، گمشدہ، معمولی اور بے علم
محض ہوتے ہیں، ایسا ہی میرا حال تھا۔ میری زبان اور قلم وعظ کے لیے بہت کم اٹھی۔ میری تمام توجہ اپنے ذاتی فرائض منصبی کی تکمیل، اپنی ذاتی مکمل اصلاح اور تلاش محبوب میں منہمک رہی اور جونہی میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور و غل کے ساتھ غار حرا یا غار ثور سے باہر نکل آیا جس کی کوئی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کرسکتی۔ ایک ہی رات میں وہ عظیم الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں عالم بھی ہو گیا، مصنف بھی ہو گیا، مقرر بھی ہو گیا، امام بھی ہو گیا، اور نبی بھی ہو گیا۔ اور یہ سب کچھ علم وعمل کے اتحاد کے ساتھ ظہور میں آیا۔‘‘
نور محمد
نور محمد گاؤں کیسرو ریاست پٹیالہ کا رہنے والا اور جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کا بیان تھا کہ مرزا قادیانی کا وہ موعود بیٹا جس کی بابت اس کو یہ الہام ہوا تھا، ’’فرزند ارجمند مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء‘‘ میں نور محمد ہوں۔ جب اس سے کہا گیا کہ وہ تو خاص مرزا قادیانی کے صلب سے ہو گا تو جواب دیا کہ ہاں صحیح ہے، مگر صلب روحانی مراد ہے، نہ کہ صلب جسمانی۔ پس مرزا قادیانی کا موعود بیٹا روحانی طور پر میں نور محمد ہوں۔ جب اس سے کہا گیا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام میں یوں ہو اور تم اس کی یوں تاویل کرو۔ اس نے کہا میں تاویل نہیں کرتا۔ جس طرح مرزا قادیانی روحانی طور پر ابن مریم ہے۔ نور محمد بھی اسی طرح روحانی طور پر ابن مرزا ہے۔
غالباً اس کو مرزا قادیانی بننے کی یہ ضرورت پڑی کہ بیٹا اپنے کمالات میں باپ سے بڑھا ہوا تھا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کہتا اور کہلاتا تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس کے مریدوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس نے ایک دفعہ اپنے مریدوں کو کہا کہ آج مرزا قادیانی یہاں آئے گا، لہٰذا خوب اہتمام کرو۔ گاؤں سے پہلے آدھ میل تک کچے راستے میں پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ رات بھر دف و دہل بجتا رہا۔ مشعلیں روشن رہیں۔ ہر وقت یہی آواز تھی۔ اب آئے، اب آئے۔ اس کی بیوی نے مراقب ہو کر نیم شب کے بعد کہا، تم جانتے ہو، مرزا قادیانی کیوں نہیں آئے، تمہاری ان مشعلوں کا دھواں جو سرسوں کے تیل سے روشن ہیں، ان کے دماغ کو اذیت دیتا ہے، جاؤ اسی وقت گاؤں سے روغن گھی اکٹھا کر کے لاؤ۔ گھی لایا گیا، مشعلیں
جلائی گئیں۔ سپیدہ دم اس نے حکم دیا۔ چلو، لوٹ چلو۔ مرزا قادیانی آئے تھے۔ مگر واپس چلے گئے۔ لوگوں نے کہا کب آئے تھے۔ کب چلے گئے۔ ہم نے تو زیارت بھی نہ کی تو کہنے لگا روحانی طور پر آئے تھے۔ تم آنکھوں کے اندھے، ان کو نہیں دیکھ سکے۔ اس نے مرزا قادیانی کی طرح بہت سے مضحکہ خیز دعوے کیے۔
فضل محمد ساکن چنگا بنگیال
یہ شخص مرزا قادیانی کا خاص مرید تھا۔ چنگا بنگیال گوجر خاں ضلع راولپنڈی کا رہنے والا تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میں مرزا صاحب کا ظہور ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر 80 سال کی تھی لیکن جب وہ اپنی عمر کے 60 سال گزار چکے تو باقی ماندہ 20 سالہ عمر مجھے تفویض فرما کر وادی آخرت کو چل دیے۔ اب میں حقیقی مرزا صاحب ہوں۔ اس کی مضحکہ خیز تحریریں جو سراسر تعلیوں، لن ترانیوں اور ملحدانہ خیالات سے بھرپور تھیں، 1932ء ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع ہوئیں۔ وہ اپنے ٹریکٹ میں لکھتا ہے:
- ”مردے بولا نہیں کرتے۔ دیکھو مسیح مجھے بول کر تعلیم فرما رہے ہیں۔ میں وہی مسیح
ہوں جس کے بارے میں الہامات مسیح ہیں۔ یدنیٰ منك الفضل و دنیٰ منيك الفضل! آیا ہے۔ مسیح کے وجود کے دو حصے ہیں۔ فضل اور احمد، احمد بطون عالم میں، فضل ظاہر میں موجود۔ واللہ یہ واقعہ راست ہے مسیح زندہ ہے مسیح نہیں مرا۔ واللہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مسیح موعود دنیا میں زندہ موجود ہیں۔ بموجب حدیث نبوی جو مشکوٰۃ میں عمر آدم اور داؤد کا واقعہ لکھا ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود سے مورخہ 18 مئی 1908ء کو 21 سال عمر قرض لی تھی اور خدا تعالیٰ سے مزید 25 سال عمر حاصل کرنے مورخہ 19 مئی 1931ء کو آسمان پر جا کر 25 سال عمر لے کر آسمان سے زمین پر امداد کے لیے لے آیا ہوں۔ مگر دنیا مجھے نہیں دیکھتی۔ میں اس خدا کے ہاتھ میں ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ او انجانو! دیکھو جس کو تم مردہ کہتے ہو، وہ کلام کر رہا ہے۔“ (ٹریکٹ یکم فروری 1932ء ص 4)
امام دین گجراتی قادیانی
معروف مزاحیہ شاعر امام دین گجراتی، قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ گجرات میں میونسپلٹی کا ملازم تھا۔ وہ اپنے نام کے ساتھ خود ساختہ ڈگریاں لکھتا تھا۔ مثلاً بی اے (بانی ادب)
ایل ایل ڈی (لایعنی اور لاثانی ڈگری یافتہ) ایم اے (موجد ادب) ASS (افسر شعر و شاعری)۔ وہ ہر قسم کے علم و ادب سے ناواقف تھا۔ اس نے مرزا قادیانی کی ساری کتابیں پڑھ رکھی تھیں جس کی جھلک اس کی تحریروں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ بعد ازاں اس نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کر دیا جس پر خود قادیانیوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد بد دل ہو کر تائب ہو گیا۔ لیکن ڈھٹائی کی انتہا دیکھیے کہ پھر واپس قادیانی مذہب پر مزید پکا ہو گیا۔ جس طرح مرزا قادیانی پنجابی نما اردو لکھتا تھا، بالکل امام دین گجراتی اس کا بروز لگتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں کبھی گالیاں لکھتا ہے، کبھی اپنی شیخیاں بگھارتا ہے۔ اس نے علامہ اقبالؒ کے مقابلہ میں اپنے دیوان کا نام ”بانگ دہل بمقابلہ بانگ درا“ رکھا۔ بانگ دہل کے موجودہ ایڈیشن میں متنازعہ، فحش اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی تعریف میں کہے گئے تمام اشعار حذف کر دیئے گئے ہیں۔ اس نے اپنی ہر نظم میں لفظوں کا ستیاناس کیا اور معروف عروضی اصولوں کو پامال کیا۔ بقول شخصے ”اگر وہ صحیح اور صاف و شستہ اردو لکھتا تو مرزائیت سے خارج ہو جاتا“۔ اس کے بعض اشعار تفریح طبع کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے چند اشعار:
خوشی سے جہنم میں ”وڑ“ مام دینا
کس کس کو میدان سے پسپا نہیں کرتے
ذیل میں امام دین گجراتی کی ایک نظم درج کی جاتی ہے جسے پڑھتے ہی اس کی ذہنی حالت پر ہنسی آجاتی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے چارلی چپلن یا مسٹر بین شاعری کر رہا ہے۔ کوئی سلیم الطبع انسان اُسے صحیح الدماغ تسلیم نہیں کر سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اس نظم کو اپنی جماعت کے سالانہ جلسوں میں باقاعدگی سے ہر سال پڑھواتا اور قادیانی سامعین مجبوراً اُس پر داد دیتے۔ نظم ملاحظہ کیجیے:
آتھر نہیں رہا کہ میں شاکل نہیں رہا بندہ نہیں رہا کہ میں واصل نہیں رہا
تونگر نہیں رہا کہ میں سائل نہیں رہا حقیقی نہیں رہا کہ میں ناقل نہیں رہا
ہرقل نہیں رہا کہ میں ہیکل نہیں رہا ہے شکر کی جگہ کہ میں بزدل نہیں رہا
کاغذ نہیں رہا کہ میں پنسل نہیں رہا حاکم نہیں رہا کہ میں شامل نہیں رہا
بیرسٹر نہیں رہا کہ میں موکل نہیں رہا منصف نہیں رہا کہ میں عادل نہیں رہا
ڈپٹی نہیں رہا کہ میں جنرل نہیں رہا عہدہ وہ کونسا ہے جو حاصل نہیں رہا
بی اے نہیں رہا کہ میں ایل ایل نہیں رہا ممبر نہیں رہا کہ میں کونسل نہیں رہا
جرنل نہیں رہا کہ میں کرنل نہیں رہا تمغا نہیں رہا کہ میں میڈل نہیں رہا
مقتل نہیں رہا کہ میں قاتل نہیں رہا زخمی نہیں رہا کہ میں بسمل نہیں رہا
تنزل نہیں رہا کہ معطل نہیں رہا عرصہ ملازمت میں مسلسل نہیں رہا
ارسطو نہیں رہا کہ میں صندل نہیں رہا دارو نہیں رہا کہ میں درمل نہیں رہا
کیوڑہ نہیں رہا کہ میں صندل نہیں رہا روغن نہیں رہا کہ میں جائفل نہیں رہا
زیرہ نہیں رہا کہ میں فلفل نہیں رہا گوٹہ نہیں رہا کہ میں نریل نہیں رہا
واٹر نہیں رہا کہ میں بوتل نہیں رہا وسکی نہیں رہا کہ میں لیول نہیں رہا
انجن نہیں رہا کہ میں آئل نہیں رہا خشکی نہیں رہا کہ میں جل تھل نہیں رہا
من مٹ نہیں رہا کہ میں ہل جل نہیں رہا سمندر نہیں رہا کہ میں ساحل نہیں رہا
بجلی نہیں رہا کہ میں بادل نہیں رہا صادق نہیں رہا کہ میں باطل نہیں رہا
پیمبر نہیں رہا کہ میں مرسل نہیں رہا نمازی نہیں رہا کہ نوافل نہیں رہا
پڑھتا نہیں رہا کہ میں غافل نہیں رہا قرآں نہیں رہا کہ حمائل نہیں رہا
کتب نہیں رہا کہ رسائل نہیں رہا میداں نہیں رہا کہ میں دنگل نہیں رہا
گرتا نہیں رہا کہ سنبھل نہیں رہا قصیدہ نہیں رہا کہ میں غزل نہیں رہا
توجہ فرمائیں
- قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت بھی ایک نعمت ہے، امت محمدیہ اُس سے کیوں محروم ہوگئی ہے؟
قادیانیوں کے اس بھونڈے سوال کا یہ جواب دینا چاہیے کہ کیا قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں؟ جب اس میں اضافہ و ترمیم نہیں ہوسکتا تو آپ کو نبوت کے بند ہونے پر کیوں
اعتراض ہے۔ جس طرح سورج کے نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ اگر نبوت نعمت ہے اور یہ جاری رہنی چاہیے تو قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے بعد کون نبی ہے؟ مرزا قادیانی کے بعد یہ نعمت کیوں بند ہوگئی؟ اور نبوت کا دروازہ چودہویں صدی میں صرف مرزا قادیانی پر کھل کر کیوں بند ہو گیا؟ مرزا قادیانی سے پہلے نہ کسی مدعی نبوت کا پتا چلتا ہے اور نہ اس کے بعد قادیانی جماعت میں کوئی نبی تسلیم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی پیروی میں مولوی یار محمد قادیانی، احمد نور کابلی قادیانی، عبدالطیف گنا چور قادیانی، الٰہی بخش ملتانی قادیانی، چراغ دین جموی قادیانی اور عبداللہ تیماپوری قادیانی وغیرہ پاگلوں نے نبوت کے دعوے کیے اور کہا کہ ہم بھی نبوت کی کھڑکی سے گزر کر آئے ہیں۔ اس سے زیادہ منصب نبوت کی تذلیل اور کیا ہوگی؟ مرزا قادیانی نے اگرچہ چھوٹی بڑی 100 کے قریب کتب چھوڑی ہیں۔ اگر وہ اس بات کا قائل نہ ہوتا کہ وہ آخری نبی ہے تو وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتا اور اپنی اُمت کو اس کی نشانیاں بتاتا تا کہ وہ اسے پہچان سکے لیکن اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ قادیانی گروہ بھی کسی نئے نبی کا منتظر نہیں ہے اور مرزا قادیانی کو ہی آخری نبی سمجھتا ہے۔
اب آخر میں قادیانیوں سے ایک سوال ہے کہ بتایا جائے کہ خاتم النبیین کون ہے؟ میرے خیال میں قادیانیوں سے نبوت ختم یا نبوت جاری کی بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مسلمان اور قادیانی دونوں ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانیوں کے نزدیک آنجہانی مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔ فرق واضح ہو گیا کہ مسلمان نبی کریم ﷺ پر نبوت کو بند مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی پر۔ عجیب بات ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد ساڑھے چودہ سو سال کے عرصہ میں اگر کوئی نبی آیا تو مرزا قادیانی آیا۔ اور اس کے بعد اب کوئی نبی نہیں۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ قرآن مجید کی کوئی ایک آیت یا احادیث نبویہ میں سے کوئی ایک حدیث دکھا دیں جس سے ثابت ہو کہ اب مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں بنے گا۔ یاد رہے کہ قادیانیوں نے قرآنی
آیات اور احادیث مبارکہ میں ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لیے جو تحریفات کی ہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنا ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کے بعد وہ بھی نبوت بند تسلیم کرتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کے ہاں نبوت بند ہے تو وہ مرزا قادیانی کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے قادیانی مدعیان نبوت کو نبی کیوں نہیں مانتے؟؟؟
خصوصاً آج کل کے انبیا سے
۞......۞......۞
قادیانیوں کی شرعی و آئینی حیثیت
اور ان کا مکمل بائیکاٹ
(قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں فرق)
ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے: یہ درست ہے کہ قادیانی غیر مسلم اور کافر ہیں لیکن دنیا میں غیر مسلم اور کافر تو اور بھی ہیں۔ مثلاً یہودی، عیسائی، سکھ، ہندو، پارسی، بہائی وغیرہ۔ لیکن صرف قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کی مہم چلائی جاتی ہے، آخر کیوں؟
اس سوال کا جواب عرض کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کفار کی چار مشہور اقسام ہیں۔
- 1- عام کافر: ایسا شخص جو اعلانیہ کافر ہو، اُسے عام کافر یا مطلق کافر کہتے ہیں۔ اس
میں یہودی، عیسائی، سکھ، ہندو، پارسی وغیرہ سب داخل ہیں۔ ایسے کافر کھلے عام اعلانیہ اپنے کفر کا اظہار کرتے ہیں۔ کفر ہر حال میں کفر ہے۔ یہ اسلام کی مکمل ضد ہے۔ دنیا کے تمام کافر اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں لگاتے۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے، بلکہ ان کے مذاہب کی اپنی الگ الگ پہچان ہے اور ان کے شعائر اور عقائد بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔
- 2- منافق: ایسا شخص جو زبان سے ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کہتا ہے
مگر اپنے دل کے اندر کفر کو چھپاتا ہے، ایسے شخص کو منافق کہتے ہیں۔ منافق کا کفر عام کافر سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس نے کفر اور جھوٹ کو جمع کیا۔ منافق بہت خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی وقت دھوکا دے کر اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ معروف منافق عبداللہ بن ابی کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
- 3- مرتد: ایسا شخص جو دین اسلام میں داخل ہو کر پھر اسے چھوڑ دے اور کفر اختیار کر
لے یا کسی اور مذہب (کتابی یا غیر کتابی) میں داخل ہو جائے، اُسے مرتد کہتے ہیں۔
مرتد کے بارے میں حکم ہے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے، اسلام کے بارے میں اس کے ذہن میں کوئی شک وشبہ یا الجھن ہو تو اُسے دور کیا جائے۔ اگر وہ نہ مانے تو اُسے تین دن تک قید میں رکھا جائے اور ہر ممکن طریقے سے اُسے سمجھایا جائے۔ اس دوران میں اگر وہ واپس اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک، ورنہ اُسے سزائے موت دی جائے گی۔ تمام مہذب ملکوں، حکومتوں اور قوانین میں باغی کی سزا موت ہے۔ اسلام کا باغی وہ ہے جو اسلام سے مرتد ہوجائے، اس لئے اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے۔ لیکن اسلام نے اس میں بھی رعایت دی ہے۔ حکومتیں باغیوں کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دیتیں۔ گرفتار ہونے کے بعد اگر جرم ثابت ہو جائے تو حکومت اپنے باغی کو فوری طور پر سزائے موت دے دیتی ہیں۔ وہ ہزار معافی مانگے، توبہ کرے، قسمیں اٹھائے کہ آئندہ ایسا ارتکاب نہیں کروں گا، ساری عمر حکومت کا وفادار بن کر اچھے شہری کی طرح زندگی بسر کروں گا۔ مگر حکومت ایک نہیں سنتی اور اس کی معافی ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ مگر اسلام میں اتنی رعایت ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کو تلقین کی جاتی ہے کہ توبہ کرلے، معافی مانگ لے تو سزا سے بچ جائے گا۔ افسوس ہے کہ پھر بھی اسلام میں مرتد کی سزا پر اعتراض کیا جاتا ہے۔
مرتد کی سزائے موت پر امت کا اجماع ہے۔ فقہا کے نزدیک زوجین میں سے ایک مرتد ہو جائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر میاں بیوی علیحدگی اختیار نہ کریں اور اس دوران میں اگر کوئی اولاد پیدا ہو جائے تو وہ ولد الحرام ہوگی۔ مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں بلکہ مردار ہے، خواہ وہ اہل کتاب کے مذہب میں داخل ہوا ہو یا کسی اور مذہب میں۔ ارتداد سے نکاح، ذبیحہ، گواہی اور وراثت وغیرہ باطل ہو جاتی ہے۔ فقہاء کے نزدیک مرتد مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسکی لاش کو گھسیٹتے ہوئے کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔
- 4- زندیق: ایسا شخص جو بظاہر تو اسلام کو اختیار کیے ہوئے ہو لیکن باطن میں عقائد
کفریہ رکھتا ہو اور باطل تاویلات سے انھیں عقائد اسلام قرار دیتا ہو یا اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہو یا حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اعتراف کرنے کے باوجود کافرانہ عقائد رکھتا ہو یا قرآن مجید کی آیات، احادیث مبارکہ یا صحابہ کرام کے ارشادات کو توڑ جوڑ کر باطل تاویلات کر کے اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہو یا اسلام کے عقائد متواترہ میں
سے کسی ایک پر بھی طعن کرتا ہو یا تبدیل کرتا ہو یا شرعی اصطلاحات و الفاظ تو نہ بدلے لیکن ان کے اجماعی اور متفق علیہ مفہوم کو بدل دے۔ مثلاً ختم نبوت، نزول عیسیٰ علیہ السلام، معراج اور جہاد کا انکار تو نہ کرے لیکن ان کے اجماعی مفہوم کو بدل کر نئے مفہوم اور مطالب بیان کرے، اُسے زندیق کہتے ہیں۔
زندیق کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ زندیق کی توبہ قبول نہیں کیونکہ اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس لیے کہ اس کے باطن میں سازش پوشیدہ ہے، اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی خواہ ہزار بار توبہ کرے۔ جیسے زنا کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی بلکہ ہر حال میں اس پر سزا جاری کی جاتی ہے۔ اسی طرح زندیق کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوگی، اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے یعنی اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مسئلہ کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں شراب حرام ہے۔ اس کا پینا، بنانا یا خرید و فروخت کرنا ممنوع ہے۔ اب کوئی شخص شراب فروخت کرتا ہے تو وہ ایک جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایک دوسرا شخص شراب بیچتا ہے لیکن اس نے شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگایا ہوا ہے۔ اس کا یہ جرم پہلے شخص سے ہزار گنا زیادہ ناقابل معافی ہے۔ اس طرح شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے۔ اس کا گوشت فروخت کرنا، خریدنا، کھانا قطعی حرام ہے۔ اب اگر کوئی آدمی خنزیر کا گوشت فروخت کرتا ہے اور صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے، جس کو لینا ہے، لے لے، جو نہیں خریدنا چاہتا، وہ نہ لے۔ یہ شخص خنزیر کا گوشت بیچنے کا مجرم ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خنزیر کے گوشت کو بکرے کا گوشت کہہ کر فروخت کرتا ہے تو اس کا جرم پہلے شخص کے جرم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ دونوں مجرم ہیں۔ لیکن دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک حرام کو بیچتا ہے حرام کے نام سے جس سے کوئی دھوکا نہیں۔ ایک حرام کو فروخت کرتا ہے حلال کے نام سے جس سے ہر شخص آسانی سے دھوکا کھا سکتا ہے۔ بالکل یہی فرق، یہودیوں، عیسائیوں، سکھوں اور ہندوؤں کا قادیانیوں سے ہے۔ یہودی، عیسائی، سکھ اور ہندو وغیرہ اپنے کفر کو کفر کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن قادیانی اپنے کفر کو اسلام کہہ کر پیش کرتا ہے۔ لہٰذا اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قادیانی زندیق ہیں کیونکہ یہ لوگ بظاہر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے قرآن مجید، احادیث رسول ﷺ
شعائر، کلمہ، نماز، روزہ سے ظاہری وابستگی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی لاکھ دعویٰ کرے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا بلکہ مصلح، ہادی یا امام مانتا ہے تو ایسی صورت میں بھی اسے زندیق سمجھا جائے گا کیونکہ اس نے ایک کذاب مدعی نبوت اور مفتری کو مصلح اور ہادی مانا ہے۔ فقہاء کے نزدیک جو شخص نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی مدعی نبوت کو نبی، پیغمبر، مصلح، مجدد، راہبر حتیٰ کہ مسلمان تسلیم کرے، اس کا بھی وہی حکم ہے جو خود مدعی نبوت کا ہے۔
علماء وفقہاء کے نزدیک قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ شریعت میں زندیق سزائے موت کا مستوجب ہے۔ زندیق، مرتد سے بھی زیادہ بدتر اور سنگین ہے۔ کیونکہ مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ قبول ہے۔ لیکن زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ مرتد کی اولاد کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ جس نے خود ارتداد اختیار کیا، وہ اصلی مرتد ہے، اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر وہ اسلام نہ لائے تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ مرتد والدین کی صلبی اولاد والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد کہلاتی ہے، اس لیے ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ بلکہ حبس و ضرب کی سزا دی جائے گی۔ البتہ تیسری پشت میں مرتد کی اولاد پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہوتے، بلکہ عام کافر کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ لیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کا حکم نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا جو جرم ہے، یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا، یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں پایا جاتا ہے۔
الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں، خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، یا وہ ”پیدائشی قادیانی“ ہوں یعنی قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو تو ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زندیق کا۔ کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دینِ اسلام کو کفر کہتے ہیں اور اپنے کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے، خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو۔ اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے، بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔
ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ
- جو شخص اسلام چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کر لے، وہ مرتد بھی ہے اور زندیق بھی۔
- اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زندیق بھی۔
- اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں بلکہ خالص زندیق ہے، چاہے ہزار نسلیں ہوں۔
سب زندیق ہیں۔
- مرتد اور زندیق دونوں سزائے موت کے مستوجب ہیں، دونوں سے ہر قسم کے
معاشی و معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کے مفہوم کو اپنے ظاہر پر رکھنا لازم اور ضروری ہے۔ اس میں ہر تاویل، باطل ہوگی جو تاویل کرنے والے کو کفر سے نہیں بچاسکتی۔ قادیانی مذہب کی تمام تر بنیاد تاویلات پر ہے۔ مرزائی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ گروہ باب تاویل میں باطنیہ جیسے باطل پرست فرقہ سے بھی دو قدم آگے ہے۔ قادیانیوں کے عقائد اور اس پر ان کی تاویلات سراسر زندقہ ہیں۔ فقہاء کے نزدیک اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے شعائر اسلام کی پابندی بھی دکھائے لیکن ضروریات دین (مثلاً عقیدہ ختم نبوت، عقیدہ حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جہاد وغیرہ) کے خلاف عقائد رکھتا ہو تو وہ زندیق ہے یا بعض ضروریات دین کی ایسی من مانی تاویل کرے جو صحابہ کرام، تابعین اور اجماع امت کے سراسر خلاف ہو تو ایسا شخص شریعت میں زندیق ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ بے شک حضور نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد ظلی یا بروزی نبی آسکتا ہے۔
چاروں آئمہ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ زندیق سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس لیے کہ اس کی توبہ کا پتا لگانا دشوار ہے۔ ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید کے سامنے ایک زندیق پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے امام ابو یوسفؒ کو اس سے مناظرہ کرنے کے لیے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ آپ اس سے مکالمہ و مناظرہ کریں۔ امام ابو یوسفؒ نے خلیفہ سے کہا: ”اے امیر المومنین! دیر نہ کیجئے، تلوار منگوائیے اور ابھی اس کا سر قلم کیجئے۔ یہ زندیق ہے، مرتد نہیں کہ اس کو مناظرہ سے سمجھایا جائے۔ اس زندیق کا ایک لمحہ بھی زندہ رہنا اسلام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔“ (تاریخ بغداد از خطیب ابوبکر جلد 14 صفحہ 253)
امام الانبیاء، سید الکونین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ”فداہ ابی وامی“ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل اور پختہ ایمان کسی آدمی کے مومن ہونے کے لیے لازم شرط ہے۔ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ
کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ پر ہر قسم کی نبوتوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آپ ﷺ خاتم الانبیا بمعنی آخر الانبیا ہیں۔ آپ ﷺ کو تمام انبیا سابقین علیہم السلام کے بعد آخری نبی ماننا ضروریات دین اور عقائد اسلام میں سے ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر و ضلالت ہے۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دوسو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدۂ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔
ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ:
”دعویٰ النبوة بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع۔“ ”یعنی ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ باجماع امت کفر ہے۔“
منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے تمام عقائد و نظریات زنادقہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ صفحات کی قلت کے پیش نظر ان کے صرف چند زندیقانہ عقائد درج کیے جاتے ہیں۔ اس کے مطالعہ سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ قادیانی، دیگر کافروں سے کتنے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں۔
قادیانی زندقہ نمبر 1: مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ہے (نعوذ باللہ)
قادیانیوں کا سب سے بڑا زندیقانہ عقیدہ یہ ہے کہ جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی بذات خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ) اس سلسلہ میں مرزا قادیانی دعویٰ کرتا ہے:
- ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- ”میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ
ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“ (تتمۃ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا بیٹا اپنے باپ کے دعویٰ ”محمد رسول اللہ“ کی تشریح ان الفاظ میں کرتا ہے:
- ”اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور نبی کریم ﷺ
میں کوئی دُوئی (فرق) باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت،
کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 113، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی
کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و مارأی اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا
وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
گویا ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے معانی قادیانیوں کے نزدیک ’’لا الہ الا اللہ مرزا رسول اللہ‘‘ ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا کہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے۔ لہٰذا ہم مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ مان کر یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔
- مرزا قادیانی کا ایک خاص مرید قاضی ظہور الدین اکمل مرزا قادیانی کی شان میں
ایک نظم لکھتے ہوئے اپنا یہ عقیدہ اس طرح واضح کرتا ہے۔
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں‘‘
(اخبار بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء)
جب اس دلخراش قصیدہ پر اعتراض ہوا تو قادیانی قیادت نے جلتی پر تیل کی طرح جو جواب دیا، وہ نہایت افسوسناک ہے، ملاحظہ کیجیے۔
’’یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پھر یہ نظم اخبار بدر 25 اکتوبر 1906ء میں چھپی اور شائع ہوئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے
اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایماں وقلت عرفاں کا ثبوت دے۔‘‘
(اخبار روزنامہ ’’الفضل‘‘ 23 اگست 1944ء صفحہ 4)
قادیانیوں سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، امت مسلمہ کے مفسرینؒ، محدثینؒ، بزرگانِ دینؒ، اکابرینؒ بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو قادیان میں دوبارہ مبعوث کرے گا؟ (نعوذ باللہ)
اس زندیقانہ عقیدہ کے باوجود قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس کفریہ عقیدہ کو عین اسلام کہتے ہیں۔ اس عقیدہ کے نہ ماننے والے کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ گویا اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ تسلیم نہ کرے یا کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا قادیانی نہ لے تو وہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمان نہیں ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ اس سے بڑا بھیانک جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟
ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانی اپنے اس عقیدہ کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ تقریر وتحریر کے ذریعے اپنے اس زندیقانہ عقیدہ کی بھر پور تشہیر کرتے ہیں اور اگر انھیں منع کیا جائے تو وہ مظلوم بن جاتے ہیں اور پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ انھیں اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی اور آزادی اظہار پر قدغن ہے۔ سوچنا چاہیے کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ جس سے اکثریت کی دل آزاری ہوتی ہو، بلاشبہ اس عقیدہ کی بناء پر ہر قادیانی زندیق ہے کہ وہ اپنے کفر کو اسلام کہتا اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
قادیانی زندقہ نمبر 2: حضور نبی کریم ﷺ کی توہین
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے: ’’حضور نبی رحمت ﷺ اور آپ کے اصحاب ...... عیسائیوں
کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور یہ تھا کہ سُور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘ (نعوذ باللہ)
(مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے
حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (نعوذ باللہ)
(مرزا بشیرالدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی شخصیت تمام انبیا کرام بشمول حضرت محمد ﷺ کا
مجموعہ ہے۔ (حقیقت الوحی صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! آپ خود فیصلہ کریں کہ ایسے گستاخانہ اور زہریلے عقائد رکھنے والا کتنا بڑا بھیانک کافر ہوگا۔ راجپال، سلمان رشدی اور قادیانیوں میں کیا فرق باقی رہ گیا ہے؟ ظلم یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کو اسلام کہتے ہیں۔ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اگر کوئی شخص تنقید کرے کہ آپ شان رسالت ﷺ میں توہین کے مرتکب ہوئے ہیں تو قادیانی ایسے شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اس کو زندیق کہتے ہیں۔
قادیانی زندقہ نمبر 3: نبوت جاری ہے
قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں جو اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے اس اہم عقیدہ کو مردہ، لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت عقیدہ کہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447 طبع جدید از مرزا قادیانی، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم
صفحہ 183، 139، 138، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 306، 354 از مرزا قادیانی)
- مرزا قادیانی کہتا ہے: ”مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب
راہوں میں سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 56، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ پاخانوں کی نجاست اٹھانے والا چوہڑا بھنگی جو چور ہو، زانی ہو،
جیل میں قید بھی رہ چکا ہو۔ اس کی ماں، دادیاں اور نانیاں بھی ایسے ہی نجس کاموں میں مشغول رہی ہوں، وہ مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہوں، اگر مسلمان ہو جائیں تو وہ نبی اور رسول بن سکتے ہیں۔
(تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280 از مرزا قادیانی)
قادیانی عقیدہ ختم نبوت کے سلسلے میں مختلف زندیقانہ تاویلات کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر ہے۔ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عطا کرتے تھے لیکن اب حضور نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے نبوت ملے گی۔ یعنی جو شخص آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کرے گا، آپ ﷺ اس پر مہر لگا دیں گے اور وہ نبی بن جائے گا۔ کبھی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے سے پہلوں کے لیے آخری ہیں، آئندہ آنے والے نبیوں کے لیے
نہیں ۔ کبھی کہتے ہیں : ”نبوت کسبی ہے ، وہبی نہیں ۔“ یعنی ہر شخص اپنی محنت و کوشش اور ریاضت و مجاہدات سے نبی بن سکتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ نبوت بھی ایک نعمت ہے، امت محمدیہ اس سے کیوں محروم ہو گئی ہے؟ اسے ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔
ان کفریہ عقائد کے باوجود قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں اور ان عقائد کے نہ ماننے والوں کو کافر۔ اسے کہتے ہیں زنادقہ یعنی نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ کس قدر ظلم اور ناانصافی کی بات ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں تواتر کے ساتھ رائج اس متفقہ اور غیر متزلزل عقیدہ کے ماننے والوں کو کافر کہا جارہا ہے۔
قادیانی زندقہ نمبر 4: قرآن مجید مرزا قادیانی پر نازل ہوا
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید ، مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا۔ اس سلسلہ میں
مرزا قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے : ”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 173 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- مرزا قادیانی کا کہنا ہے : ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں
ہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- وہ مزید کہتا ہے : ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور
قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر 4 صفحہ 19، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید میں تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ درج
ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔
(ازالہ اوہام صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا۔ اس سلسلہ میں
مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی آیات میں تحریف بھی کی۔ صرف ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے۔
- ”انا انزلناہ قریباً من القادیان. وبالحق انزلناہ و بالحق نزل صدق اللہ ورسولہ .
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات مرزا قادیانی پر نازل ہوئی
ہیں۔ اب ان آیات کے مصداق حضرت محمد ﷺ نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)
- ”انا اعطینک الکوثر. فصل لربک وانحر. ان شانئک ھو الابتر.“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73، طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”ورفعنالک ذکرک“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 74 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”تبت یدا ابی لھب و تب“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 198 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 73 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- یٰسٓ والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 398 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”وَمَا ارسلنک اِلَّا رحمۃ للعالمین“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 64 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
اسے کہتے ہیں زنادقہ ۔ سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیات حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی ہیں۔ مگر قادیانی کہتے ہیں کہ یہ آیات مرزا قادیانی پر نازل ہوئی ہیں (نعوذ باللہ) اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مذہب اسلام ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات آنجہانی مرزا قادیانی پر نازل نہیں ہوئیں تو قادیانیوں کے نزدیک ایسا شخص کافر اور مرتد ہے اور یہ ہے زندقہ جس کا مرتکب ہر قادیانی ہے۔
قادیانی زندقہ نمبر 5: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے، بد زبانی اور
جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ انہوں نے انجیل چرا کر لکھی۔ ان کا کوئی معجزہ نہیں بلکہ معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیتے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔
(انجام آتھم حاشیہ صفحہ 7,6,5 مندرجہ روحانی خزائن ج 11 صفحہ 289 تا 291 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔
(کشتی نوح صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن ج 19 صفحہ 71 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار
اور کسبی تھیں۔ آپ کنجریوں سے صحبت کرتے تھے۔
(انجام آتھم حاشیہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن ج 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم نے ناجائز حمل کی وجہ سے یوسف نجار نامی
ایک شخص سے نکاح کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اپنی والدہ حضرت مریم علیہم السلام کے نکاح کے دو ماہ بعد پیدا ہوئے۔ (کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن ج 19 ص 18 ، چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 356,355 از مرزا قادیانی)
انبیا کرام اللہ تعالیٰ کا خاص انتخاب ہوتے ہیں۔ وہ معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی شان اقدس میں معمولی سی بھی گستاخی ایک شخص کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کئی آیات نازل ہوئی ہیں۔ لیکن آنجہانی مرزا قادیانی نے آپ کے متعلق جو بازاری زبان استعمال کی ہے، وہ قابل صد نفرین ہے۔ افسوس! ہر قادیانی اپنے گرو مرزا قادیانی کی اتباع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی گستاخانہ عقائد رکھتا ہے، اس کی تشہیر کرتا ہے اور اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے مذہب کو اسلام اور خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اسے کہتے ہیں زندقہ۔
قادیانی زندقہ نمبر 6: دیگر مقدس ہستیوں و مقامات کی توہین
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ساتھی صحابہ کرام ہیں۔
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 128 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین ہے۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ 555 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان اہل بیت ہے۔
(درثمین صفحہ 45 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی 100 امام حسینؓ کے برابر ہے۔
(نزول المسیح صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ اب جو جہاد کرتا ہے وہ خدا کا دشمن ہے۔
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قادیان (مرزا قادیانی کی جنم بھومی) جانے پر حج سے
زیادہ ثواب ملتا ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 352 از مرزا قادیانی)
- قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت
کریں اور دوسرے اس سلطنت (انگریز) کی جس نے امن قائم کیا ہوا ہے جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں قادیانیوں کو پناہ دی، سو وہ سلطنت برطانیہ ہے۔
(شہادت القرآن صفحہ 84، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)
مسجد اقصیٰ امت مسلمہ کا قبلہ اول ہے۔ یہ حضور سرور کائنات ﷺ کے سفر معراج کی پہلی منزل تھی۔ یہاں تمام انبیا کرام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ آپ ﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں یہاں سے ہفت افلاک طے کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچے۔ جبکہ آنجہانی مرزا قادیانی مسجد اقصیٰ کے بارے میں کہتا ہے:
- ”والمسجد الاقصے المسجد الذی بناه المسیح الموعود فی القادیان“
مسجد اقصیٰ سے مراد وہ مسجد ہے جسے قادیان میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بنایا۔
(خطبہ الہامیہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 25 از مرزا قادیانی)
- ”معراج میں جو حضور نبی رحمت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصے تک سیر فرما ہوئے،
وہ مسجد اقصے یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔“ (خطبہ الہامیہ صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22 از مرزا قادیانی)
مندرجہ بالا قادیانی عقائد اس قدر گستاخانہ اور دل آزار ہیں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہیں لیکن افسوس قادیانی ان عقائد کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ وہ ان عقائد کو اسلامی عقائد کا نام دیتے ہیں، اسے کہتے ہیں زندقہ۔
قادیانی اپنے کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد دنیا میں موجود ایک ارب بیس کروڑ مسلمان کافر ہو گئے کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ حتیٰ کہ جنھوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا، وہ بھی مسلمان نہیں رہے۔ گویا مسلمانوں کی تعداد سوا ارب سے کم ہو کر ہزاروں میں رہ گئی۔ اب قادیانیوں / مرزائیوں کے نزدیک مسلمان ہونے کے لیے مرزا قادیانی کو ماننا لازم ہے، اگر کوئی شخص حضور خاتم النبیین حضرت محمد
مصطفیٰ ﷺ کی سچی اطاعت میں ساری زندگی گزار دے مگر مرزا قادیانی کو نہ مانے تو اس کی نجات ممکن نہیں۔ اس سلسلہ میں چند حوالے ملاحظہ کیجیے۔
- ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبة والمودة و ینفع من
معارفھا ویقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریة البغایا۔“
ترجمہ: ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
- ”دشمن ہمارے بیانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا
ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعودؑ (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفضل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے، خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
- بقول مرزا قادیانی اُسے الہام ہوا کہ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری
بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کے ان زندیقانہ عقائد کی بناء پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ
طور پر 7 ستمبر 1974 کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (3)260 میں اس کا اندراج کر دیا۔ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دنیا کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ اسمبلی میں اس کے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے قادیانی عقائد کے حوالے سے اُس پر جرح کی جس کے جواب میں مرزا ناصر نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ باطل تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیانی، پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت، پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ انہیں ان کے عقائد کی بناء پر غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا بلکہ اُلٹا وہ مسلمانوں کو کافر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم نہیں کرتے، اسے کہتے ہیں زندقہ ۔
قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ ہمارے حقوق غصب کئے جارہے ہیں۔ ہمیں آزادی اظہار نہیں ہے۔ وہ کبھی اقوام متحدہ سے اپیلیں کرتے ہیں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں سے دباؤ ڈلواتے ہیں۔ حالانکہ ہم بڑی سادہ سی جائز بات کہتے ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ نہ کہو۔ کلمہ طیبہ مسلمانوں کا ہے۔ تم اس پر قبضہ نہ کرو یعنی شراب پر زم زم کا لیبل نہ لگاؤ۔ کتے اور خنزیر کا گوشت حلال ذبیحہ کا نام پر فروخت نہ کرو۔ اپنے کفر اور زندقہ کو اسلام نہ کہو۔ لیکن قادیانی اس سے باز نہیں آتے بلکہ اپنے کفریہ عقائد و نظریات کی بھر پور تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں۔
قادیانیوں کا نبی الگ، قرآن الگ، شریعت الگ، کلمہ الگ، امت الگ ہے۔ اس سلسلہ میں قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کا اعترافی بیان ملاحظہ کیجیے۔
- ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیاتِ مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ
تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔‘‘
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’الفضل‘ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام
اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد پنجم نمبر 15 صفحہ 8)
- اسی شوق اختلاف میں قادیانی قیادت نے اسلامی تقویم کے مقابلہ میں قادیانی
تقویم پیش کی جو مندرجہ ذیل ہے۔
اسلامی تقویم: محرم۔ صفر۔ ربیع الاول۔ ربیع الثانی۔ جمادی الاول۔ جمادی الثانی۔ رجب۔ شعبان۔ رمضان۔ شوال۔ ذیقعد۔ ذوالحج
قادیانی تقویم: شہادت۔ ہجرت۔ احسان۔ وفا۔ ظہور۔ تبوک۔ اخاء۔ احسان۔ فتح۔ صلح۔ امان۔ تبلیغ
اس کے باوجود قادیانی اپنے مذہب کو اسلام کہتے ہیں اور ہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں یعنی مرزا قادیانی کا دین اسلام، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دین کفر۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی سے پہلے حضور نبی کریم ﷺ کا دین اسلام اور اس کے ماننے والے مسلمان، مرزا قادیانی کی آمد کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کا دین کفر اور اس کے ماننے والے کافر۔ (نعوذ باللہ) اس لحاظ سے مرزا قادیانی کے دو جرم ہوئے۔ ایک یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اپنا الگ مذہب بنایا اور اس کا نام اسلام رکھا۔ دوسرا یہ کہ حضرت محمد ﷺ کے دین اسلام کو کفر کہا۔
قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال اور اس کی توہین سے روکنے کے لیے 26 اپریل
1984ء کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانی اپنے مذہب کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں نے اس پابندی کو وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ، کوئٹہ ہائی کورٹ وغیرہ میں چیلنج کیا جہاں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بالآخر قادیانیوں نے پوری تیاری کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی کہ انھیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں اطراف سے دلائل و براہین دیے گئے۔ اصل کتابوں سے متنازع ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے مفتی صاحبان نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان نے جب قادیانی عقائد پر نظر دوڑائی تو وہ لرز کر رہ گئے۔ فاضل جج صاحبان کا کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کے حقوق سلب ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے تاریخی فیصلہ ظہیرالدین بنام سرکار، (1993 SCMR 1718) کی رو سے کوئی قادیانی کلمہ طیبہ پڑھ سکتا ہے، خود کو مسلمان کہلوا سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298-C اور 295-C کے تحت سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس کے باوجود قادیانی آئین، قانون اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہلواتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے، گستاخانہ لٹریچر تقسیم کرتے، شعائر اسلامی کا تمسخر اڑاتے اور اسلامی مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانیوں کی ان آئین شکن، خلاف قانون اور انتہائی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس سے بعض اوقات لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ خود سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اپنے نافذ العمل فیصلہ میں لکھا:
’’یہ بات قابل غور ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے قوانین، ایسے الفاظ اور جملوں کے استعمال کا تحفظ کرتے ہیں، جن کا مخصوص مفہوم و معنی ہو اور اگر وہ دوسروں کے لیے استعمال کیے جائیں تو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو
لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں قادیانی جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔ قادیانی اصرار کرتے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کی انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں (مرزا قادیانی اور اس کے خلیفوں) کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس قادیانیوں کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلامی کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ (قادیانیت) دھوکا دہی اور فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگر قادیانی دوسروں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے مذہب کے لیے نئے القابات وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معانی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پا سکتا بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں، انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ ........... ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (”صحیح بخاری“ ”کتاب الایمان“، ”باب حب الرسول من الایمان“) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام
ٹھہر سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟
”ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے علانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا علانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ علانیہ رسول اکرمؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔“
”ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں۔“
- جناب جسٹس عبدالقدیر چوہدری صاحب
- جناب جسٹس محمد افضل لون صاحب
- جناب جسٹس سلیم اختر صاحب
- جناب جسٹس ولی محمد خاں صاحب
(ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718ء)
اسلامی شریعت اور قانون نہ ہونے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ
قادیانی زندیقوں کا معاشی اور معاشرتی طور پر مکمل بائیکاٹ کریں۔ کافروں سے بائیکاٹ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
- لا یتخذ المومنون الکافرین اولیاء من دون المومنین ومن یفعل ذلک
فلیس من اللہ فی شیء (آل عمران:28) مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں (یہودیوں، عیسائیوں، قادیانیوں) کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں۔
- لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الآخر یوادون من ھاد اللہ ورسولہ
ولو کانوا آبآءھم او ابناءھم او اخوانھم او عشیرتھم. (مجادلۃ:22) اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے۔ گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ کے ہی کیوں نہ ہوں؟
- یایھا الذین امنو لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیھم
بالمودة وقد کفروا بما جاء کم من الحق. (ممتحنہ:1) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمھارے پاس آچکا ہے۔ کفر کرتے ہیں۔
- یایھا الذین امنو لا تتخذو ابآء کم و اخوانکم اولیآء ان استحبو الکفر
علی الایمان ومن یتولھم منکم فاولئک ھم الظلمون. (التوبہ:23) اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا، وہ پورا ظالم ہے۔
حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں بڑے کذاب ہوں گے جو تمھارے پاس ایسی باتیں لائیں گے جن کو تم نے نہ سنا ہوگا، نہ تمھارے باپ دادا نے، تم ان سے دور رہنا (یاد رہے) وہ تم سے دور رہیں، وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈالیں۔
(صحیح مسلم جلد اول صفحہ 10)
امام ابن قدامہ نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ مرتد کو توبہ کی ترغیب دی جائے گی لیکن زندیق کو توبہ کی ترغیب نہیں دی جائے گی۔ حضرت علیؓ کے پاس ایک شخص لایا گیا
جو عیسائی ہو گیا۔ آپ نے اسے توبہ کرنے کے لیے کہا، اس نے انکار کر دیا جس پر اس کی گردن اڑا دی گئی۔ ایک گروہ حضرت علیؓ کے پاس لایا گیا جو نمازیں تو پڑھتے تھے لیکن زندیق تھے جس کی عادل گواہوں نے شہادت بھی دی۔ انھوں نے بے دینی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دین تو صرف اسلام ہے۔ آپ نے ان لوگوں سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا اور ان کی گردن اڑا دی۔ پھر آپ نے فرمایا ”تمھیں معلوم ہے کہ میں نے نصرانی کو کیوں توبہ کی ترغیب دی تھی؟ میں نے اس لیے ایسا کیا تھا کہ اس نے اپنے دین کا اظہار کر دیا تھا، لیکن زندیقوں کا یہ ٹولہ جس کے خلاف ثبوت بھی مہیا ہو گئے تھے، اسے میں نے اس لیے قتل کر دیا کہ یہ اپنے کفر کو کفر کہنے سے انکاری تھے، حالانکہ ان کے خلاف گواہی قائم ہوچکی تھی۔“ (المغنی ابن قدامہ 141/8)
قادیانی / مرزائی اسلام کے باغی ہیں اور دنیا کا اصول ہے کہ باغیوں سے کسی قسم کے کوئی تعلقات نہیں رکھے جاتے بلکہ باغیوں سے تعلق رکھنے والا بھی باغی تصور کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں سے کوئی تعلق رکھنا بالواسطہ ان کے زندیقانہ عقائد کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر حدیث رسول ﷺ ”مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ“ کے مطابق شرعی تعزیر نافذ کر کے اس فتنہ کا قلع قمع کرے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کو اس فتنہ کی یورش سے بچائے۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے۔ قادیانی، اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“ لہٰذا مسلمانوں کو ان سے کسی بھی قسم کی رواداری برتنا قطعی طور پر حرام ہے کیونکہ یہ لوگ انتہائی خطرناک ہیں۔ حقیقت میں ان کا مقصد حیات و وفات مسیح یا آمد مہدی کا موضوع چھیڑ کر آنجہانی مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت کو تسلیم کروانا ہے۔ قادیانیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، سلام و کلام، میل جول، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، شادی غمی میں شرکت کرنا یا کرانا، ہر طرح کے معاشی، معاشرتی، سیاسی تعلقات رکھنا قطعی حرام ہے۔ ان سے تجارت، لین دین، خرید و فروخت، ان کے سکولوں، ہوٹلوں، ریسٹورانوں اور ہسپتالوں میں جانا حرام ہے۔ ان کا جنازہ جائز نہیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت نہیں۔ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کی عارضی زندگی میں کافر و مسلمان کو اکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اجتماع کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔ کسی قادیانی کو لڑکی دینا یا لینا حرام ہے۔ اس سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
کسی قادیانی کا ذبیحہ حلال اور جائز نہیں بلکہ حرام اور مردار ہے۔
اے شمع ختم نبوت ﷺ کے پروانو! آؤ ہم بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں، کیا ہمارے قادیانیوں کے ساتھ معاشی اور معاشرتی تعلقات تو نہیں؟ کیا ہمارا کوئی دوست مرزائی تو نہیں؟ کیا ہم قادیانیوں کے ساتھ کھاتے پیتے تو نہیں؟ کیا ہمارا کسی قادیانی کے ساتھ کوئی کاروبار تو نہیں؟ کیا ہم قادیانیوں کی مصنوعات مثلاً شیزان وغیرہ کا استعمال تو نہیں کرتے؟ کیا ہم قادیانیوں کے بیاہ شادیوں و دیگر تقریبات میں شریک تو نہیں ہوتے یا انھیں اپنے ہاں مدعو تو نہیں کرتے؟ کیا وہ ہمارے کسی عزیز کی نماز جنازہ تو نہیں پڑھتے اور اپنے کسی مردے کو ہمارے قبرستان میں دفن تو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو پھر سوچئے! کیا ہم مسلمان ہیں؟ کیا ہم نبی آخر الزمان ﷺ کے امتی ہیں؟ کیا ہمیں بروز محشر شفاعت محمدی ﷺ نصیب ہو گی؟ خدارا غور کیجئے اور فکر کیجئے! سیّدنا حضرت علیؓ کا ارشاد ہے: ”ایک گھڑی کا فکر، زندگی بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔“
قادیانی اسلامی شعائر کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اڑاتے اور مار آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو منتشر کرنے کے درپے ہیں۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے اور تمام عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ہر سطح پر مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کا نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ ان وجوہات کی بناء پر اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی اجازت ان کافروں سے ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں۔ قادیانی اپنی شر انگیزیوں کے باعث اس زمرے میں نہیں آتے۔ اسلامی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس فتنہ کا مکمل قلع قمع کرے اور اگر حکومت یہ فریضہ سرانجام نہ دے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کا مکمل سماجی و معاشی مقاطعہ اور بائیکاٹ کریں۔ اگر وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے ان کے بائیکاٹ ایسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے مجرم ہوں گے۔ بائیکاٹ کے سلسلہ میں سیرت کی کتابوں سے ہمیں ایک ایسا اہم واقعہ ملتا ہے کہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے تین کبار صحابہؓ حضرت کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم کی لغزش کی پاداش میں ان کے بائیکاٹ کا حکم دیا۔ فرمایا: لا تجالسوهم ولا تکلموهم نہ ان کے ساتھ بیٹھو اور نہ ان سے بات چیت کرو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی
طرف سے وحی (سورۃ توبہ: 102، 103) کے ذریعے ان کی براءت کا اعلان کیا گیا۔ سوچنا چاہیے کہ اگر صحابۂ کرام کا بائیکاٹ ہوسکتا ہے تو زندیق قادیانیوں کا بائیکاٹ کیوں نہیں؟
ہر زمانہ کے مسلمان اسی بائیکاٹ کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ صحابۂ کرام اور ان کے بعد والے ہر زمانہ کے ایمان والوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالفوں، دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ کرتے رہے حالانکہ ان ایمانداروں کو دنیاوی طور پر ان مخالفین کی احتیاج بھی ہوتی تھی لیکن وہ مسلمان خدا تعالیٰ کی رضا کو اس پر ترجیح دیتے ہوئے بائیکاٹ کرتے تھے۔ (شرح مشکوٰۃ، جلد 10 ص 290) یہ بائیکاٹ قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے بلکہ سید عالم ﷺ نے عملی طور پر بھی اس کو نافذ فرمایا۔ جب غزوۂ خیبر میں آپ ﷺ نے یہودیوں کا محاصرہ کیا اور یہودی قلعہ میں محصور ہوگئے اور کئی دن گزر گئے تو ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابوالقاسم! اگر آپ مہینہ بھر ان کا محاصرہ رکھیں تو ان کو پروا نہیں کیونکہ ان کے قلعہ کے نیچے پانی ہے، وہ رات کے وقت قلعہ سے اترتے ہیں اور پانی پی کر واپس چلے جاتے ہیں، اگر آپ ان کا پانی بند کر دیں تو جلد کامیابی ہوگی۔ اس پر سید دوعالم ﷺ نے ان کا پانی بند کر دیا تو وہ مجبور ہوکر قلعہ سے اتر آئے۔ (زاد المعاد علی الزرقانی، جلد چہارم صفحہ 205)
سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ عمارؓ بن یاسر نے ”خلوق“ (زعفران) لگایا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا۔ غور فرمائیے کہ معمولی خلاف سنت بات پر جب یہ سزا دی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت، سلام وکلام اور لین دین کی اجازت کب ہو سکتی ہے؟
کافروں سے بائیکاٹ کے سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں ہمیں کئی ایک واقعات ملتے ہیں لیکن ذیل کے ایک اہم واقعہ سے ہمیں نہ صرف اسلامی غیرت وحمیت کا سبق ملتا ہے بلکہ ان کافروں سے جو ہمارے نہایت قریبی رشتہ دار ہیں، مکمل بائیکاٹ کا طریقہ بھی۔
قرآن پاک کی رُو سے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات درجہ میں امت کی جملہ خواتین سے بلند تر ہیں۔ آیۂ تطہیر انہی کی شان میں ہے، اسی نسبت سے انھیں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک ہی کی رُو سے وہ امت کی مائیں ہیں۔ ماؤں کی طرح نہیں فرمایا، بلکہ مائیں فرمایا:
حضرت اُم حبیبہؓ امہات المومنین میں سے تھیں۔ آپؓ کا نام رملہ تھا۔ ابوسفیان کی بیٹی تھیں۔ آپؓ کا پہلا نکاح عبیداللہ بن جحش سے ہوا۔ دونوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اکٹھے اسلام قبول کیا۔ پھر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہاں جا کر خاوند مرتد ہو گیا اور اسی حالت ارتداد میں انتقال کیا۔ حضرت اُم حبیبہؓ نے یہ بیوگی کا زمانہ حبشہ ہی میں گزارا۔ حضور ﷺ نے وہیں نکاح کا پیام بھیجا اور حبشہ کے بادشاہ کی معرفت نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائیں۔ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے ابوسفیان صلح حدیبیہ کی مقررہ مدت میں توسیع کی درخواست لے کر حضور نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے مگر آپ ﷺ نے یہ بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ آخر کار مایوس ہو کر سفارش کی غرض سے اپنی بیٹی ام حبیبہؓ کے پاس گئے۔ یاد رہے کہ باپ بیٹی کی ملاقات تقریباً 15 سال کے طویل عرصہ کے بعد ہو رہی تھی۔ جب بیٹی سے ملنے گئے تو وہاں بستر بچھا ہوا تھا، اس پر بیٹھنے لگے تو حضرت اُم حبیبہؓ نے نہ صرف ناگواری کا اظہار کیا بلکہ وہ بستر الٹ دیا۔ باپ کو تعجب ہوا کہ بجائے بستر بچھانے کے اس بچھے ہوئے کو بھی الٹ دیا۔ پوچھا کہ یہ بستر میرے قابل نہیں تھا، اس لیے لپیٹ دیا یا میں بستر کے قابل نہیں تھا؟ حضرت ام حبیبہؓ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے پاک اور پیارے رسول ﷺ کا بستر ہے اور تم بوجہ مشرک ہونے کے ناپاک ہو۔ اس پر کیسے بٹھا سکتی ہوں؟ باپ کو اس بات سے بہت رنج ہوا اور کہا کہ تم مجھ سے جدا ہونے کے بعد بری عادتوں میں مبتلا ہو گئیں۔ مگر اُم حبیبہؓ کے دل میں حضور ﷺ کی جو عظمت تھی، اس کے لحاظ سے وہ کب اس کو گوارا کر سکتی تھیں کہ کوئی ناپاک مشرک باپ ہو یا غیر ہو، حضور ﷺ کے بستر پر بیٹھ سکے۔
ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم بھی گستاخانِ رسول قادیانیوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتے ہیں یا اس کے برعکس؟ جو لوگ قادیانیوں سے بائیکاٹ کو ظلم کہتے ہیں، ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے اور ہمیں رواداری اور برداشت کا درس دیتے ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ سے زیادہ خوش اخلاق، رحم دل اور اسلام دوست ہیں۔ اگر ہم قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں تو یہ عین اسلام کے مطابق ہے اور اگر خدانخواستہ ہم قادیانیوں کو اپنے بستروں، صوفوں یا کرسیوں پر بٹھاتے ہیں تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہمارے دل و دماغ اسلامی غیرت و حمیت سے خالی ہو چکے ہیں، ذلت اور بے غیرتی پوری طرح ہماری روح میں اتر چکی
ہے۔ صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: ’’جو شخص حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کی حفاظت نہیں کرتا، وہ اپنی ماں اور بہن کی عزت و آبرو کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا۔‘‘ غور کیجئے کہ کہیں ہمارا شمار ایسے لوگوں میں سے تو نہیں؟
صحابہؓ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی باہمی محبت اور کافروں سے نفرت کی بنا پر خدا تعالیٰ نے ان کے جذبات کی تعریف فرمائی ہے۔ اشداء علی الکفار رحماء بینھم یعنی وہ کافروں اور دشمنوں پر بڑے ہی سخت ہیں لیکن آپس میں رحم دل ہیں، بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور شدت ہی سے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت وعقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ تو کرے لیکن محبوب کے دشمنوں کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھے، وہ محبت میں سچا نہیں ہے، وہ محبت، محبت ہی نہیں ہے بلکہ وہ دھوکا ہے، فریب ہے۔ الحاصل خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں۔
حدیث پاک میں ہے۔ افضل الاعمال الحب فی اللہ والبغض فی اللہ۔
(مشکوٰۃ شریف)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے دشمنی کرنا، بہترین عمل ہے۔‘‘
رسول اکرم ﷺ دربار الٰہی میں یوں دعا کرتے ہیں: ’’یا اللہ! ہم کو ہدایت دہندہ، ہدایت یافتہ کر۔ یا اللہ ہم کو گمراہ اور گمراہ کرنے والا نہ کر، یا اللہ ہم کو اپنے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے والا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنے والا بنا۔ یا اللہ ہم تیری محبت کی وجہ سے، تیرے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ ان کی عداوت کی وجہ سے، ہم ان سے عداوت رکھتے ہیں۔ یا اللہ یہ ہماری دعا ہے، اسے قبول فرما۔‘‘
تفسیر روح المعانی میں حدیث قدسی منقول ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، مجھے میری عزت کی قسم جو شخص میرے دوستوں کے ساتھ دوستی نہیں کرتا اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرتا، وہ میری رحمت حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘
مخدوم الاولیاء سیدنا امام ربانی خواجہ مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہٗ نے فرمایا ہے:
- ’’دو محبتیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں کیونکہ
اجتماع ضدین محال ہے۔ اگر خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی دل میں محبت ہوگی تو خدا اور رسول کے دشمنوں کی محبت دل میں نہیں آسکتی اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کی جتنی محبت و دوستی دل میں آئے گی تو خدا اور رسول (جل جلالہ و ﷺ) کی محبت اتنی ہی کم ہو جائے گی۔ (مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر 165 جلد اوّل)
- ”تاجدار مدینہ ﷺ کے ساتھ کمال محبت کی یہ علامت ہے کہ سید دو عالم علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے دشمنوں کے ساتھ کمال بغض و عداوت ہو۔“ (مکتوب 1/165)
- ”کافروں کے ساتھ جو کہ خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کے دشمن
ہیں، دشمنی رکھنی چاہیے اور ان کو ذلیل وخوار کرنے میں کوشش کرنی چاہیے اور کسی طرح ان کی عزت نہیں کرنی چاہیے اور ان بدبختوں کو اپنی مجلس میں نہیں آنے دینا چاہیے۔“ (مکتوب نمبر 165)
- ”خدا اور رسول کے دشمنوں کو کتوں کی طرح دُور رکھنا چاہیے۔“ (مکتوب نمبر 165)
- ”اسلام کی عزت اسی میں ہے کہ کفر و کفار کو خوار و ذلیل کیا جائے جو شخص کفر والوں
کی عزت کرتا ہے، وہ حقیقت میں مسلمانوں کو ذلیل کرتا ہے۔ (مکتوب نمبر 1/163)
- ”رسول اکرم شفیع معظم ﷺ کی بارگاہ تک لے جانے والا یہی ایک راستہ ہے (کہ
ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی، عداوت رکھی جائے) اگر اس راستہ کو چھوڑ دیا جائے تو اس دربار تک رسائی مشکل ہے۔“ (مکتوب نمبر 1/165)
ہر نمازی نماز وتر کی دعا میں پڑھتا ہے: ونخلع ونترک من یفجرک (یا اللہ ہم ہر اس شخص سے قطع تعلقی کریں گے اور علیحدہ ہو جائیں گے جو تیرا نافرمان ہے۔) عجیب معاملہ ہے کہ مسلمان مسجد میں دربار الٰہی میں مودبانہ کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ کر عہد کرتے ہیں کہ یا اللہ ہم تیرے نافرمانوں، مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں گے لیکن ان میں سے بعض مسجد سے باہر آ کر ساری باتیں بھول جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں سے نفرت کرنا اس طرح فرض ہے، جس طرح حضور نبی کریم ﷺ سے محبت وعقیدت رکھنا۔ جب تک گستاخان رسول قادیانیوں سے دشمنی اور نفرت نہ ہو، اس وقت تک حضور شافع محشر ﷺ سے صحیح طور پر دوستی اور گہری محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ہر مسلمان کو قادیانیوں سے کراہت اور نفرت کرنی چاہیے۔ گستاخ رسول ﷺ
سے دوستی کا مطلب اپنے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رخصت کرنا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے تو حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ میں اپنی معمولی متاعِ حیات سے لے کر اپنی زندگی کا عزیز ترین ساز و سامان بھی لٹا دیا تھا۔ ایک ہم ہیں کہ اپنے پیارے نبی ﷺ کے گستاخوں کے ساتھ دوستی ختم نہیں کر سکتے۔ یاد رکھیے! جب تک مسلمان گستاخانِ رسول ﷺ قادیانیوں سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتے رہیں گے، ان کے لیے اپنے دل میں ہمدردی کے جذبات پالتے رہیں گے، اس وقت تک وہ ہر قسم کی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار رہیں گے۔ ناکامیاں ان کا مقدر رہیں گی۔ ذلت و رسوائی اور بے بسی کا عذاب ان پر مسلط رہے گا۔
عجیب بات ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو ہم مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔...... کوئی ہماری بیوی کی بے حرمتی کرے تو ہم غیرت کے نام پر ہر قدم اٹھا لیتے ہیں۔...... کوئی ہماری بیٹی کو میلی آنکھ سے دیکھے تو ہم اس کی آنکھ پھوڑ دیتے ہیں۔...... کوئی ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچائے تو ہم اس سے مستقل دشمنی مول لے لیتے ہیں۔...... بعض اوقات معاملات تھانوں اور عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔...... لیکن اگر کوئی بدبخت ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کرے تو ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔...... ہمیں غصہ آتا ہے نہ ہم پریشان ہوتے ہیں۔...... یہاں ہماری رگِ حمیت نہیں پھڑکتی...... نہ ہمارے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے۔...... ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں، جیسے ہمارا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں...... حضور ﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہؓ سے کوئی واسطہ نہیں...... صحابہؓ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں...... اس کے برعکس ہم کتنے خود غرض اور سیانے ہیں اگر ہمیں بلڈ پریشر ہو جائے تو نمک کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں، اگر شوگر کا مرض لاحق ہو جائے تو چینی کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس ہو جائے تو ڈاکٹر کی ایک ایک بات پر عمل کرتے ہوئے ہر اس چیز سے نفرت کرتے ہیں جو اس بیماری کو پروان چڑھاتی ہے۔
یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکا زنی ہو رہی ہو، وہاں آپ ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کرنا فرضِ عین ہے۔ اس سے ذرا سا بھی اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ختم نبوت پر ڈاکا زنی دیکھتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کو گنبد خضرا میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر
لیجئے کہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھ کر منکرین ختم نبوت کی تکذیب کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ ہے۔ جو شخص مسلمان ہو کر کسی قادیانی سے معاشی یا معاشرتی تعلقات رکھتا ہے، تو علماء و فقہاء کے فتویٰ کے مطابق اس کا ایمان فاسد ہے اور اس کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: ’’اہلِ ایمان کی ارواح اکٹھے لشکروں کی مانند ہیں جو ان سے جان پہچان کر لیتا ہے، وہ ان سے مل جاتا ہے اور جو ان سے جان پہچان نہ کرے، وہ ان سے جدا ہو جاتا ہے۔‘‘
کبوتر با کبوتر، باز با باز
اگر ہم گستاخانِ رسول ﷺ قادیانیوں کے ساتھ اپنا تعلق رکھیں گے، ان کی خوشی غمی میں شریک ہوں گے، ان کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے تو پھر ہمارا انجام نہایت عبرتناک ہوگا۔ لوگ ہمیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے لیکن ہماری مرزائیت نوازی کی وجہ سے راتوں رات ہماری لاش ربوہ یا قادیان کے قبرستان میں پہنچا دی جائے گی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
حضور شافع محشر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی بدعتی کی عزت کرے گا تو (اس کا مطلب ہے کہ گویا) اس نے اسلام کو ڈھانے میں مدد دی۔ (مشکوٰۃ) اسی طرح مشکوٰۃ ہی میں حضرت عمران بن حصینؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے۔
قارئین کرام! آپ اس سے خود اندازہ لگا لیں کہ بدعتی اور فاسق شخص گنہگار ہونے کے باوجود اسلام کے دائرے میں رہتے ہیں اور مسلمان کہلوانے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں حکم ہے کہ نہ ان کی عزت کی جائے اور نہ ان کی کوئی دعوت ہی قبول کی جائے۔ گویا ان کے مکمل بائیکاٹ کا حکم ہے۔...... اس کے برعکس قادیانی جو نہ صرف گستاخِ رسول، مرتد اور زندیق ہیں اور ان کی تمام تر سرگرمیوں اور عزائم کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نقصان پہنچانا ہے، ہم ان کے ساتھ ہر قسم کے سوشل تعلقات رکھتے ہیں، محبت و احترام کی پینگیں بڑھاتے ہیں بلکہ بعض مواقع پر ان کی حمایت بھی کرتے ہیں۔...... ہماری ان حرکات پر کیا نبی کریم ﷺ کا دل نہیں دکھتا....... کیا آپ ﷺ اس پر رنجیدہ نہیں ہوتے....... کیا ہمیں
روز محشر آپ ﷺ سے شفاعت کی امید رکھنی چاہیے؟ سوچیے ...... ضرور سوچیے ...... !
یاد رکھیے! محض ختم نبوت پر ایمان لانے سے اپنا ایمان معتبر نہیں ہوگا بلکہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ اور ان کی سرکوبی بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قادیانیوں کے ساتھ معاشی و معاشرتی تعلقات رکھے گا، ان کی ہر خوشی و غمی میں شریک ہوگا، ہر موقع پر ان کا ساتھ دے گا تو بلاشبہ ایسے شخص کا انجام بھی قادیانیوں کے ساتھ ہی ہوگا۔
قادیانیت نوازی ایسی منحوس و ملعون چیز ہے کہ یہ مسلمان کے اندر محبت رسول ﷺ کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔ اس سے دل سیاہ، دماغ مفلوج اور چہرہ پر نحوست کے آثار جلد ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایسا شخص شفاعت رسول ﷺ ایسی لازوال نعمت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کی (سچی توبہ کرنے پر) سفارش تو فرمائیں گے مگر اپنے دشمنوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی سفارش ہرگز نہ فرمائیں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو، قادیانی نواز جو مار ہائے آستین ہیں، سے بہت احتیاط لازم ہے۔
شیزان کمپنی سادہ لوح مسلمان دکاندار کو شیزان کی مصنوعات رکھنے پر دوسری کمپنیوں کے مقابلہ میں مفت ایمپٹی یا زیادہ منافع دینے کا اعلان کرتی ہے۔ جس سے دکاندار لالچ میں آکر نہ صرف اپنی دکان پر شیزان کی تمام مصنوعات رکھتا ہے بلکہ اپنی دکان کو پینٹ کروا کر شیزان کی تشہیر کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کسی کاروبار سے وابستہ یا دکاندار ہیں تو آپ کی دینی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ آپ ہر قسم کے لین دین اور خرید و فروخت میں قادیانیوں کی تمام تر مصنوعات بالخصوص شیزان وغیرہ کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شیزان گستاخان رسول ﷺ مرزائیوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کی آمدنی کا ایک کثیر حصہ دارالکفر ربوہ جاتا ہے۔ مسلمان اپنی کم علمی کی بنا پر اس کے مشروبات اور دیگر مصنوعات خرید کر کم از کم 10 روپے ربوہ فنڈ میں جمع کرواتے ہیں اور اس طرح اپنے آقا و مولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ، دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی مخالفت کے بھیانک جرم میں شریک ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ شیزان کی تمام اشیا حرام اور لحم الخنزیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔
معروف سابق قادیانی مرزا محمد حسین نے ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیزان کمپنی کے مالک شاہنواز قادیانی کی خصوصی ہدایت پر اس کی تمام مصنوعات میں ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ کی ناپاک مٹی بطور تبرک استعمال ہوتی ہے۔ لہٰذا شیزان کی تمام تر مصنوعات اور اس
کے دیگر اداروں کا مکمل بائیکاٹ ہر غیور مسلمان عاشق رسول ﷺ کا دینی و ملی فرض ہے۔ یہ ادارے ہر سال قادیانی جماعت کو کروڑوں روپے چندہ دیتے ہیں جو اسلام کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کی نظر میں کوئی دوسری قادیانی کمپنی یا آپ کے شہر میں کوئی دکان ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کیجیے۔ یہ آپ کی دینی غیرت و حمیت کا اولین تقاضا ہے۔ یاد رکھیں! ہر نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر آپ کی وجہ سے قادیانیوں کو منافع اور فائدہ پہنچ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں میں مالی طور پر بالواسطہ آپ بھی شامل ہو رہے ہیں۔ یہ چیز آپ کی آخرت کو برباد کر دے گی۔ لہٰذا اس سے اجتناب کریں۔
دیکھا جائے تو قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ سے ان کو یہ احساس ہوگا اور سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ امت مسلمہ سے جدا ہو کر ہم خسر الدنیا والآخرہ کے مصداق بن گئے ہیں۔ لہٰذا ان سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوۂ رسول کریم ﷺ ہے۔ ایک مسلمان کی حضور سرور کائنات ﷺ سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے دشمنوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھے اور نہ ہی ان کے متعلق کسی قسم کی نام نہاد رواداری کا شکار ہو۔ اسلامی عدل و انصاف کے مطابق قادیانیوں سے معاشرتی، معاشی، سیاسی اور اقتصادی یعنی مکمل بائیکاٹ فرض ہے اور کسی بھی قسم کا معاملہ کرنا حرام ہے۔ جس کی ایمانی و دینی غیرت و حمیت باقی ہو وہ قادیانیوں سے کسی قسم کا سلام، کلام، لین دین، خرید و فروخت کا سوچ بھی نہیں سکتا، ہاں اگر غیرت ایمانی مر جائے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے
منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
۞.......۞.......۞
(نوٹ): اس مضمون کی تیاری کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل اہل حق ، جید علماء کرام و مفتیان عظام کی کتابوں اور قادیانیوں کے خلاف دیے گئے ان کے فتاویٰ جات سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔
- حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ۞ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ
- حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ۞ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمدؒ
- حضرت مولانا مفتی محمد امین مدظلہ ۞ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
- حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ
- حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ
- حضرت مولانا محمد موسیٰ الروحانی البازیؒ
- حضرت پیر محمد کرم شاہ الازھری بھیرہ شریف
- حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ
- جناب ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمیؒ
- حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ
- حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری مدظلہ (انڈیا)
- حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
- حضرت مولانا محمد منشا تابش قصوری مدظلہ
- حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ
- حضرت مولانا مفتی محمد تنویر القادری مدظلہ
- حضرت مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ
- حضرت مولانا مفتی عبدالستار سعیدی مدظلہ
- حضرت مفتی محمد اصغر علی چشتی سیالوی مدظلہ
- حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرؒ
- محترم قاضی حسین احمدؒ سابق امیر جماعت اسلامی
- محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور کراچی
- حضرت مولانا عبدالمالک منصورہ لاہور
- صاحبزادہ رشید احمد صاحب مدظلہ مرکز سراجیہ
- حضرت مولانا عبدالرحمٰن اشرفیؒ
- حضرت مولانا مفتی احمد علی مدظلہ جامعہ اشرفیہ
- حضرت مولانا عبدالرؤف فاروقی مدظلہ
- حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جانؒ
- حضرت مولانا مفتی عبیداللہ عفیف مدظلہ
- حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی مدظلہ
- حضرت مولانا صوفی محمد سرور مدظلہ
- حضرت مولانا حکیم محمد اختر کراچیؒ
- حضرت مولانا عبدالرحمٰن مدظلہ جامع فتحیہ
- حضرت مولانا قاری شبیر احمد عثمانی مدظلہ
قادیانیوں سے مناظرہ کیسے کریں؟
کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے بحث ومباحثہ کرنے کو مناظرہ کہتے ہیں۔ مناظرہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حق و باطل کی۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
چراغ مصطفویٰؐ سے شرارِ بولہبی
ازل سے آج تک کوئی دور بھی کسی فتنہ سے خالی نہیں۔ باطل ہمیشہ حق کی گھات میں رہا اور مناسب موقع ملنے پر اس نے حق پر بھر پور حملہ کیا مگر جب حق نے انگڑائی لی تو باطل نو دو گیارہ ہو گیا۔ موجودہ دور میں مختلف فتنے اسلام کے درپے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں فتنہ قادیانیت ہے جسے دنیا بھر کی اسلام دشمن طاقتوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس فتنہ کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی 1840ء میں قادیان میں پیدا ہوا۔ اس نے نہ صرف نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا بلکہ قرآن مجید میں تحریفات کیں، شعائرِ اسلامی کی بے حرمتی اور مقدس اسلامی شخصیات کی توہین کا مرتکب بھی ہوا۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بنا پر 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 26 اپریل 1984ء کو حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 سی کے ذریعے انھیں شعائرِ اسلامی کے استعمال اور اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرنے سے سختی سے روک دیا۔ قادیانیوں نے اس دفعہ کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا۔ جہاں معزز جج صاحبان نے اس دفعہ کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی نہ صرف اپنے کفریہ عقائد کی رو سے ”سلمان رشدی“ کی طرح گستاخِ رسولؐ ہیں بلکہ اپنی تقریر و تحریر میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی بھی دل آزاری کرتے ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ شعائرِ اسلامی استعمال کرنے کے بجائے اپنے علیحدہ القابات اپنائیں تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا نہ ہو۔ اس کے باوجود قادیانی آئین و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف سرعام
اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں بلکہ عام مسلمانوں کو ”سرکاری مسلمان“ ہونے کا طعنہ دے کر اشتعال دلاتے ہیں اور جب جھگڑے کی صورت حال پیدا ہونے لگتی ہے تو انھیں مناظرے کا چیلنج دے دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسے قادیانیوں یا تنخواہ دار مبلغین نے کسی غلط فہمی یا سادہ لوحی کی بنا پر مرزا قادیانی کی پیروی نہیں کی بلکہ دنیاوی مفادات کے عوض جان بوجھ کر دین و ایمان کی متاعِ عزیز کو فروخت کیا ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی غایت درجہ پر فریب چال بازیوں کو نیا روپ عطا کرنا شروع کیا ہے۔ ان کے دام تزویر کا نشانہ وہ لوگ بنے جو اسلام اور فتنۂ قادیانیت کے بارے میں ناقص معلومات رکھتے ہیں۔ لیکن جب ان کا پالا ایسے لوگوں سے پڑے جو فتنۂ قادیانیت کے بارے میں گہری معلومات رکھتے ہیں تو ان پر خوف سے ہیبت چھا جاتی ہے، خون خشک ہو جاتا ہے، روح کانپ اٹھتی ہے اور وہ مسلمان مناظر کے بالمقابل آنے کی جرأت نہیں کرتے۔
نہایت اہم بات یہ ہے کہ عام قادیانیوں کی اکثریت مرزا قادیانی کی ان کفریہ، دل آزار اور قابلِ اعتراض تحریروں سے بے خبر اور لاعلم ہے جو انہوں نے اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے متعلق لکھیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ تحریریں قادیانیوں سے جان بوجھ کر چھپائی جاتی ہیں۔ قادیانی جماعت کی بنیادی کتابیں ایک عرصہ دراز سے ناپید ہیں اور ایک خاص مصلحت کے تحت انہیں شائع نہیں کیا جا رہا۔ یہ وہ کتابیں ہیں جن میں اسلام، خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، صحابہ کرامؓ، اہلِ بیت، قرآن و حدیث، مقدس شخصیات اور اکابرین امت کا نہ صرف تمسخر اڑایا گیا ہے بلکہ طعن و تشنیع اور تضحیک و تحقیر کا کوئی پہلو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ان کتابوں میں ایسی دل آزار تحریریں ہیں جن کو پڑھنا اور سننا تو درکنار، صرف ان کے تصور سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ان کتابوں میں خصوصی طور پر ”ایک غلطی کا ازالہ“ از مرزا قادیانی ”تذکرہ یعنی وحی مقدس و مجموعہ الہامات (قادیانیوں کا اصل قرآن) “ از مرزا قادیانی ”کلمۃ الفصل“ از مرزا بشیر احمد ایم اے ”سیرت المہدی“ (مرزا قادیانی کی سوانح اور حالاتِ زندگی) از مرزا بشیر احمد ایم اے ”انوارِ خلافت“ از مرزا بشیر الدین محمود احمد ”حقیقۃ النبوۃ“ از مرزا بشیر الدین ”حقیقۃ الرؤیا“ از مرزا بشیر الدین ”آئینہ صداقت“ از مرزا بشیر الدین ”اسلامی قربانی“ از قاضی یار محمد ”خطوطِ امام بنام غلام“ از حکیم محمد حسین قریشی ”ذکرِ حبیب“ از مفتی محمد صادق اور ”تذکرہ المہدی“ از پیر سراج الحق شامل ہیں۔
جب کسی مناظرے میں قادیانیوں کے سامنے ایسی کفریہ کتابوں سے تحریریں پیش کی جاتی ہیں تو وہ ہکا بکا ہو کر کہتے ہیں کہ ہمارا ان کتابوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جواباً انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کے نبی مرزا قادیانی اور ان کے خاص مریدوں کی تحریریں ہیں۔ اگر آپ ان تحریروں پر یقین نہیں رکھتے تو آپ بتائیں آپ کا ان شخصیات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس پر ان کی شرمندگی اور پریشانی قابل دید ہوتی ہے۔ مناظرہ کے دوران اس نکتہ پر آپ خوب زور دیں۔
انصاف اور اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ قادیانی ان اشتعال انگیز اور جذبات میں آگ لگا دینے والی کتابوں کا دفاع کرنے کی بجائے ان سے اپنی برأت کا اعلان کریں۔ یاد رہے کہ ان کتابوں کے مصنفین نے ختم نبوت کے قلعہ میں نقب زنی کے جرم کا ارتکاب سیاسی و معاشی مجبوریوں اور شاید سماجی و سرکاری مفادات کے حصول کے لیے کیا۔ سامراجی اور استعماری حکمرانوں کے ایما پر لکھی گئی ان کتابوں اور ان کی تعلیمات کو حریت فکر کا علمبردار ایک بھی آزاد شہری تحسین کی نگاہ سے دیکھنے کا جرم نہیں کر سکتا۔ میرا دعویٰ ہے کہ اگر یہ کتب اصل حالت میں دوبارہ شائع ہو کر کم از کم قادیانیوں میں ہی تقسیم ہو جائیں تو آدھے سے زیادہ قادیانی اپنے مذہب سے بیزار ہو کر اسلام قبول کر لیں، اور مجھے پورا یقین ہے کہ قادیانی قیادت کسی بھی قیمت پر اپنی مذکورہ کتب کبھی شائع نہیں کرے گی۔
بے شمار قادیانی ایسے ہیں جو اپنی جماعت کے ساتھ نہایت مخلص اور اپنے عقائد پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ دن رات جماعت کی ترقی و تبلیغ میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ کئی طرح کی مشکلات بھی برداشت کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا قادیانی ہو جس نے مرزا قادیانی کی تمام کتب کا مطالعہ کیا ہو۔ ورنہ اکثریت تو مرزا قادیانی کی کتب کے نام بھی نہیں جانتی۔ بہت کم ایسے قادیانی ہوں گے جنہوں نے مرزا قادیانی کی زیادہ سے زیادہ 5 یا 10 کتابیں مکمل پڑھی ہوں۔ مرزا قادیانی کی تصانیف کی تعداد تقریباً 84 ہے۔ مکتوبات، ملفوظات اور مجموعہ اشتہارات وغیرہ ان کے علاوہ ہیں۔ اس طرح مرزا قادیانی کی کتب کی مجموعی تعداد 100 کے قریب بنتی ہے۔ مجھے درجنوں قادیانیوں سے تبادلہ خیال اور مباحثہ کے کئی مواقع میسر آئے، ان میں پڑھے لکھے نوجوان اور تنخواہ دار مبلغ بھی شامل ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ایک بھی ایسا قادیانی نہیں تھا جس نے مرزا قادیانی کی تمام کتب پڑھی
ہوں حالانکہ قادیانی قیادت کے نزدیک ایسے مخلص قادیانی حضرات کا ایمان مشکوک ہے۔
مناظرہ کے شروع میں قادیانی مناظر سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ اس نے مرزا قادیانی کی کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ جواب میں یقیناً وہ کہے گا کہ اس نے مرزا صاحب کی پانچ دس کتابیں پڑھی ہیں۔ پھر آپ دوسرا سوال کریں کہ باقی کتابیں آپ نے کیوں نہیں پڑھیں؟ اس پر وہ شرمندہ اور پریشان ہوگا۔ پھر آپ اس سے مرزا صاحب کی کتابوں کے نام پوچھیں۔ یقیناً وہ اس پر بھی بے حد پریشان ہوگا۔ پھر آپ اس سے مخاطب ہو کر کہیں کہ آپ کو تو اپنے مرزا کی کتابوں کے نام تک یاد نہیں چہ جائیکہ آپ نے تمام کتابیں پڑھی ہوں۔ اور کمال ڈھٹائی ہے کہ آپ مناظرہ کرنے آ گئے ہیں۔ اس طرح تو قادیانی قیادت کی نظر میں آپ کا قادیانی ہونا بھی مشکوک ہے کیونکہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنے باپ کی مستند سوانح عمری ”سیرت المہدی“ میں لکھتا ہے:
- ❑ ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ حضرت (مرزا صاحب) فرمایا
کرتے تھے کہ ہمارے آدمیوں کو چاہیے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا۔ اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔“
(سیرت المہدی از مرزا بشیر احمد ایم اے جلد دوئم صفحہ 78)
قادیانی عقائد کے مطابق اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی اور رسول ہے تو قادیانیوں کو مرزا قادیانی کے کردار پر بات کرتے ہوئے ہرگز نہیں کترانا چاہیے، کیونکہ نبی اور رسول تو سب سے پہلے لوگوں کے سامنے اپنا کردار پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں، میں آپ کے سامنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مثال پیش کرتا ہوں۔
ایک روز حضور نبی کریم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کے لوگوں کو بلانا شروع کیا جب سب جمع ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ھل وجدتمونی صادقا ام کاذبا. لوگو! مجھے بتاؤ کہ تم مجھے سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا جانتے ہو؟
سب نے ایک آواز سے کہا: ہم نے کوئی بات غلط یا بیہودہ آپ کے منہ سے نہیں سنی۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ ﷺ صادق و امین ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دیکھو! میں پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوں اور تم اس کے نیچے ہو۔ میں پہاڑ کے ادھر بھی دیکھ رہا ہوں اور اُدھر بھی نظر کر رہا ہوں۔ اچھا اگر میں یہ
کہوں کہ رہزنوں کا ایک مسلح گروہ دُور سے نظر آ رہا ہے جو مکہ پر حملہ آور ہوگا۔ کیا تم اس بات کا یقین کرلو گے؟
لوگوں نے کہا: ”بے شک! کیونکہ ہمارے پاس آپ جیسے راست باز آدمی کے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہیں، خصوصاً جبکہ وہ ایسے بلند مقام پر کھڑا ہے کہ دونوں طرف دیکھ رہا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب کچھ سمجھانے کے لیے ایک مثال تھی۔ اب یہ یقین کرلو کہ موت تمہارے سر پر آ رہی ہے اور تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں عالم آخرت کو بھی ایسا ہی دیکھ رہا ہوں، جیسے دنیا پر تمہاری نظر ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے شرک کے خرافات و اباطیل کا پردہ چاک کرنا اور بتوں کی حقیقت اور حیثیت کو واشگاف کرنا شروع کر دیا۔ آپ مثالیں دے دے کر سمجھاتے کہ یہ کس قدر عاجز و ناکارہ ہیں اور دلائل سے واضح فرماتے کہ جو شخص انہیں پوجتا ہے، وہ کس قدر کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہے۔
قریش یہ سب کچھ سمجھ رہے تھے، لیکن مشکل یہ آن پڑی تھی کہ ان کے سامنے ایک ایسا شخص تھا جو صادق و امین تھا۔ انسانی اقدار اور مکارم اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھا اور ایک طویل عرصے سے انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ میں اس کے کردار کی نظیر نہ دیکھی تھی اور نہ سنی تھی۔ آخر اس کے بالمقابل کریں تو کیا کریں؟ قریش حیران تھے اور انہیں واقعی حیران ہونا چاہیے تھا۔
مرزا قادیانی کے ذاتی کردار کے بارے میں بعض باتیں اس قدر مضحکہ خیز اور ہوش ربا ہیں کہ انھیں پڑھنے کے بعد مرزا قادیانی ایک شریف آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں، میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ مرزا قادیانی کی سوانح عمری ”سیرت المہدی“ از مرزا بشیر احمد ایم اے اور ”ذکر حبیب“ از مفتی صادق کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ آپ حیران ہو جائیں گے کہ نبوت و رسالت کا دعویٰ کرنے والے مرزا قادیانی کی ذاتی زندگی اور کردار کس معیار کا تھا؟
مناظرہ میں قادیانیوں کو مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل کتب کے مذکورہ صفحات پڑھنے پر مجبور کریں اور پھر ان کی بے بسی اور شرمندگی ملاحظہ کریں۔ یہ تحریریں اس قدر سوقیانہ ہیں کہ میں انہیں یہاں نقل کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف حوالہ جات پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔
- آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 اور 75 تا 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا
34، 75 تا 76
- ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 تا 196 مندرجہ روحانی خزائن ج 21 ص
192، 193، 196
- انجام آتھم صفحہ 311 تا 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311 ، 317
- حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444
- آئینہ کمالات اسلام صفحہ 282 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 282
لاہوری جماعت کے ایک ذمہ دار شخص نے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد پر رنگ رلیوں کے الزامات لگائے اور ایک اہم خط لکھا۔ لاہوری جماعت کے لوگ مرزا محمود کے تو خلاف ہیں مگر مرزا قادیانی کو مہدی اور مسیح موعود مانتے ہیں۔ ایک ایسے ہی عقیدت مند کے دلی جذبات اور سچ گوئی ملاحظہ کیجیے:
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا
کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ پھر لکھا ہے، ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں، کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مورخہ 31 اگست 1938ء)
ایسے ہی دوسرے ”عقیدت مندوں“ کی کتابیں مثلاً ”تاریخ محمودیت“ کے چند پوشیدہ اوراق ، ربوہ کا مذہبی آمر، خلیفۂ ربوہ کے مظالم، ربوہ کا پوپ اور روحانی شکار گاہ وغیرہ پڑھنے کے لائق ہیں۔ ان کتب میں درج چشم کشا انکشافات ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔
”وفاتِ مسیح“ اور ”اجرائے نبوت“ ہر قادیانی کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یہ ایک ایسا ٹیکنیکل موضوع ہے کہ ایک عام اور سادہ لوح مسلمان قرآن و حدیث سے لاعلمی اور ناقص مطالعہ کی بنا پر مدلل گفتگو نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایک عام احمدی کی اس خاص موضوع پر بھرپور تیاری ہوتی ہے اور یوں وہ ایک عام مسلمان پر بزعم خود نفسیاتی فتح حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی قادیانی یا مبلغ سے گفتگو، بحث یا مناظرہ کے شروع میں اگر یہ کہہ دیا
جائے ”آج مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار“ پر بات ہوگی تو یقین جانیے، قادیانیوں کے اوسان خطا اور ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں بلکہ بعض تو اس قدر طیش میں آ جاتے ہیں کہ گویا گالی سے ان کی تواضع کی گئی ہے۔ مجھے بیسیوں قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں جب بھی کسی قادیانی مناظر سے مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار پر بات کرنے کے لیے کہتا تو وہ غصہ سے لال پیلا ہو جاتا، اس کی آواز لڑکھڑا جاتی، زبان خشک ہو جاتی اور اس کی گھگھی بندھ جاتی۔ قادیانی کبھی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے رضامند نہیں ہوتے بلکہ صاف انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن آپ کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ مرزا قادیانی کی شخصیت، اس کے کردار، صدق و کذب اور پیش گوئیوں پر ضرور بات ہو۔ اگر قادیانی حسب معمول اس سے انکار کریں تو انھیں مندرجہ ذیل حوالے دکھانا چاہئیں کہ خود قادیانی قیادت کے نزدیک کسی مدعی نبوت و رسالت کے دعویٰ کو جانچنے کا پہلا معیار یہ ہے کہ اس کا کردار دیکھیں کہ آیا وہ صادق ہے یا کاذب۔ اس سلسلہ میں مرزا بشیر احمد ایم اے (مرزا قادیانی کا بیٹا) لکھتا ہے:
- ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام، توضیح
مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا صاحب سے علیحدہ کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! کیا نبی کریمﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کریں گے۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل ص 98 از بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
اس طرح قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود اس کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی
طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے...... غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں؟ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس
کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔‘‘
(دعوة الامیر صفحہ 49، 50 مندرجہ انوار العلوم جلد 7 صفحہ 376، 377 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
کسی مدعی الہام اور اس کے مامور آسمانی ہونے کو جانچنے کی آسان راہ اس کی پیش گوئیاں ہیں جو اس نے اپنے صادق و کاذب ہونے کے باب میں تحدی سے پیش کی ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے:
- ”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری
پیشگوئیوں سے بڑھ کر اور محک امتحان نہیں ہو سکتا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 288 از مرزا قادیانی)
قادیانی مناظر کو یہ تینوں حوالے دکھا کر اسے پابند کریں کہ وہ مرزا قادیانی کے کردار و شخصیت پر بات کرے۔ اگر وہ پھر بھی اس موضوع پر بات نہ کرے تو اس سے ایک سادہ کاغذ پر لکھوا لیا جائے کہ وہ مرزا قادیانی کے کردار پر بات کرنا پسند نہیں کرتا۔
قادیانیوں کا اختلاف مسلمانوں سے دوچار مسائل میں نہیں بلکہ ان کا مذہب بنیادی عقائد سے لے کر فروعی مسائل تک دین اسلام سے جداگانہ راستہ اختیار کرتا ہے اور مسلمانوں سے ہر ایک چیز میں ان کو اختلاف ہے، چنانچہ قادیانی جماعت کا خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ مرزا قادیانی کے الفاظ اپنی ایک تقریر میں جو الفضل قادیان 30 جولائی 1931ء کے شمارے میں ”مسلمانوں سے اختلاف“ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، نقل کرتا ہے۔“
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ میرے کانوں
میں گونج رہے ہیں، آپ نے فرمایا تھا، یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح علیہ السلام یا چند اور مسائل میں ہے، آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول اللہ ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)
- ”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا
اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“ (روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد پنجم 15 صفحہ 8)
خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے
لوگوں (مسلمانوں) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔“
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2، 3)
- اسی شوق اختلاف میں قادیانی قیادت نے اسلامی تقویم کے مقابلہ میں قادیانی
تقویم پیش کی جو مندرجہ ذیل ہے۔
اسلامی تقویم: محرم۔ صفر۔ ربیع الاول۔ ربیع الثانی۔ جمادی الاول۔ جمادی الثانی۔ رجب۔ شعبان۔ رمضان۔ شوال۔ ذیقعد۔ ذوالحج
قادیانی تقویم: شہادت۔ ہجرت۔ احسان۔ وفا۔ ظہور۔ تبوک۔ اخاء۔ احسان۔ فتح۔ صلح۔ امان۔ تبلیغ
- ”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک
جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔
غیر احمدیوں (مسلمانوں) سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمؐ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
اس اختلاف کلی کے باوجود مرزائی مبلغین، مسلمانوں سے صرف چند بنیادی عقائد
میں اختلاف ظاہر کرتے ہیں اور مسلمانوں سے انہی عقائد بارے مناظرہ و مباحثہ کرتے ہیں۔
- (1) حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں
یا وفات پا چکے؟ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے بجسم عنصری زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تھا اور وہ اب بھی زندہ موجود ہیں، قرب قیامت میں دوبارہ نزول فرمائیں گے، اور مرزائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح وفات پاچکے ہیں اور ان کی قبر کشمیر کے شہر سری نگر محلہ خانیار میں موجود ہے۔
- (2) اجرائے نبوت و ختم نبوت یعنی نبوت جاری ہے یا بند ہوگئی؟ ہمارا یہ
بنیادی عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیا ہیں اور آپ ﷺ کی ذات اقدس پر باب نبوت بالکلیہ بند ہو چکا ہے، لہذا اب قیامت تک کوئی نیا نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوگا جبکہ مرزائیوں کے نزدیک حضور پاک ﷺ آخری نبی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت جاری ہے۔
- (3) صدق و کذب مرزا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی سچا ہے یا جھوٹا؟
قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی سچا آدمی تھا جبکہ ہم بلا خوف و تردید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آنجہانی مرزا قادیانی کذاب، مرتد، افاک، دجال، وصف صدق سے بالکل کورا، کذب و افترا اور فحش گوئی و بدکلامی کا محور و مرکز تھا۔
مرزائی مبلغ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مناظرہ حیات و وفات مسیح علیہ السلام اور اجرائے نبوت و ختم نبوت پر کریں اور خود مرزا قادیانی کی سیرت و کردار کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی صورت میں مرزا قادیانی کے کردار پر بحث و مناظرہ نہ کیا جائے، کیونکہ وہ خود سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کردار بے داغ نہیں ہے، اس لیے ان کو کردار مرزا پر گفتگو کرنا موت نظر آتا ہے۔ ہمارے مسلمان مناظر کو چاہیے کہ وہ صرف کردار مرزا ہی پر بحث کرے اور حقیقت یہ ہے کہ موضوع کا متعین کرانا سب سے اہم اور کٹھن مسئلہ ہے اور فریقین کی ہار جیت کا دار و مدار تعین موضوع ہی پر ہوتا ہے، جس فریق نے بھی اپنا موضوع منوالیا تو سمجھ لیجیے کہ اسی کی فتح ہوگئی، اس لیے مسلمان مناظر کو چاہیے کہ وہ اپنا موضوع (سیرت مرزا) کو دانشمندی سے منوانے میں کامیاب ہو اور مرزائی حربوں، چالاکیوں، عیاری و مکاری سے اپنے کو بچاتا رہے۔
ایک اہم نکتہ: اگر کوئی شخص حضرت عیسیٰؑ کو فوت شدہ مانے مگر مرزا کو نبی نہ مانے تو مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے۔ معلوم ہوا کہ اصل مدار مرزا قادیانی کی ذات ہے۔ اس لیے سب سے پہلے مرزا قادیانی کے کردار پر بحث ہونی چاہیے۔ اسی طرح بالفرض اگر کوئی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات بھی مانے اور نبوت کو بھی جاری مانے مگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے، تب بھی وہ مرزائیوں کے ہاں مسلمان نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ اصل مدار مرزا قادیانی کی ذات ہے۔ اس لیے سب سے پہلے مرزا قادیانی کی ذات و کردار پر بحث ہو گی۔ جیسا کہ بہائی مذہب کے لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بھی قائل ہیں اور نبوت بھی جاری مانتے ہیں مگر مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہیں کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں تسلیم کرتے۔ اس لیے معلوم ہوا کہ اصل خرابی مرزا قادیانی کی ذات ہے۔ لہٰذا ایک اچھے مناظر کو مرزا قادیانی کی سیرت اور کردار پر بات کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی ہے۔ اب آپ ﷺ قیامت تک آخری نبی ہیں۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ نہ صرف کافر بلکہ سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت ختم نہیں بلکہ جاری ہے اور قادیان کا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نبی و رسول ہے۔
قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں۔ (1) تشریعی نبوت، مرزا قادیانی نے ایسی نبوت کو حقیقی نبوت کہا ہے۔ (2) غیر تشریعی نبوت، مرزا قادیانی نے ایسی نبوت کو مستقل نبوت کہا ہے۔ (3) ظلی اور امتی نبوت: مرزا قادیانی کے نزدیک حضور نبی کریم ﷺ سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا ہے۔ ایسی نبوت پہلے نبی کی اتباع سے ملتی ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ قادیانی مطلق اجرائے نبوت کے قائل نہیں بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ کے بعد ایک خاص قسم کی نبوت کے قائل ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اس خاص قسم کی نبوت کے بارے میں قرآن و سنت سے دلائل دیں۔ ہم پورے یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی اپنے دعویٰ کے مطابق ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ قادیانیوں سے مناظرہ کرتے وقت مسلمان مناظر کو یہ خاص نکتہ یاد رکھنا چاہیے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت ایک نعمت اور رحمت ہے۔ امت محمدیہ اس سے کیوں محروم ہو گئی ہے؟ قادیانیوں کے اس سوال کا یہ جواب دینا چاہیے کہ کیا قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نعمت و رحمت نہیں۔ جب اس میں اضافہ و ترمیم نہیں ہو سکتا تو آپ کو نبوت کے بند ہونے پر کیوں اعتراض ہے؟ جس طرح سورج کے نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ اگر نبوت نعمت ہے اور یہ جاری رہنی چاہیے تو قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے بعد کون نبی ہے؟ مرزا قادیانی کے بعد یہ نعمت کیوں بند ہو گئی؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قادیانی بھی ختم نبوت کے قائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں جبکہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ قادیانیوں سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ حضور نبی رحمت ﷺ سے لے کر آنجہانی مرزا قادیانی تک چودہ سو سال کے عرصہ میں نبوت کیوں بند رہی؟ کیا یہ اتنا طویل دور نعمت اور رحمت سے خالی رہا؟ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، غوث، ابدال، قطب، محدثین، مفسرین اور ائمہ میں سے کوئی اس قابل نہ تھا کہ اسے نبوت ملتی۔ ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ آخر مرزا قادیانی میں ایسی کیا خوبی تھی کہ اس نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا؟ قادیانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ”نبوت کسبی ہے، وہبی نہیں“ اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت اکتسابی نہیں ہے۔ کوئی انسان اپنی محنت و کوشش، ریاضت و مجاہدات سے نبی نہیں بن سکتا۔ بعض فقہا نے نبوت کو اکتسابی کہنے والوں کو کافر کہا ہے۔ نبوت ہر لحاظ سے وہبی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کا بہترین انتخاب ہے۔ نبوت کے کسبی نہ ہونے کے بارے میں مرزا قادیانی کا اعتراف ملاحظہ کیجیے۔
(ترجمہ) ”اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی ہے، کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی۔“
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 135 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 301)
امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی وغیرہ کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ وہ
آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔ قرب قیامت وہ اس دنیا میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ حضرت امام مہدی اس امت میں حضور نبی کریمؐ کی اولاد سے پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ موجود ہوں گے۔
وفات مسیح کا مسئلہ ہر قادیانی کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ہر قادیانی کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنی گفتگو یا بحث کا آغاز اسی موضوع سے کرے۔ لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک اس موضوع کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ نہ تو اسے ایمان کا کوئی جزو سمجھتا ہے، نہ اسے دین اسلام کے ارکان میں سے کوئی رکن۔ بلکہ کہتا ہے کہ اس کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کوئی حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ عقیدہ حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہمیت و ضرورت کے بارے مرزا قادیانی کی چند اہم تحریریں ملاحظہ کیجیے:
- ’’اوّل تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری
ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی، اُس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 171 از مرزا غلام احمد قادیانی)
اس حوالہ سے چند امور واضح ہوئے:
- (1) عقیدہ نزول مسیحؑ ہمارے ایمانیات کا حصہ نہیں ہے۔
- (2) یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے کوئی رکن نہیں ہے۔
- (3) یہ ایک پیش گوئی ہے، اس کا حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
- (4) اس کے بیان نہ کرنے سے اسلام ناقص نہیں ہوتا اور بیان کرنے سے کامل نہیں ہوتا۔
- ’’کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس فرقہ میں اور دوسرے لوگوں میں
سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیاتِ مسیح کی غلطی
کو دور کرنے کے واسطے ہے، اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی۔ اور کئی خواص اور اولیا اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا۔ اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا۔‘‘
(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے، صفحہ 3 از مرزا قادیانی)
اس حوالہ سے چند امور واضح ہوئے:
- (1) حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ حضور شفیع المذنبین ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد
پھیل گیا تھا۔
- (2) کئی خواص، اولیا اور اہل اللہ کا یہی عقیدہ تھا۔
- (3) یہ کوئی ایسا اہم امر نہیں ہے جس کا ازالہ خدا تعالیٰ نے ضروری سمجھا ہو۔
- □ ’’اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ
حضرت عیسیٰؑ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں، صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی حاشیہ صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 32 از مرزا قادیانی)
اس حوالہ سے جو امور واضح ہوئے، وہ یہ ہیں:
- (1) نزول عیسیٰؑ کے معتقد پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
- (2) یہ محض اجتہادی خطا ہے اور اس قسم کی خطا اسرائیلی نبیوں سے بھی ہوتی رہی۔
- □ ’’ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے
پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘
(ملفوظات، جلد اوّل صفحہ 352 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس حوالہ سے یہ واضح ہوا:
- (1) احمدی حضرات کی غرض یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وفات و حیات مسیح پر مباحثہ و جھگڑے کریں۔
- (2) یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔
قادیانیوں کے نزدیک جب یہ مسئلہ ان کے ایمانیات کا جزو نہیں ہے ...... جب یہ دین کے رکنوں میں سے رکن نہیں ...... جب اسلام کی حقیقت سے اس کا کچھ تعلق نہیں ...... جب اس کے بیان کرنے یا نہ کرنے سے اسلام میں کچھ فرق نہیں پڑتا ...... جب یہ مسئلہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ کے بعد جلد ہی پھیل گیا تھا ...... جب یہ عقیدہ خواص کا تھا، اولیا کا تھا، اہل اللہ کا تھا اور جب یہ کوئی خاص امر نہیں ہے ...... جب اس کا ازالہ خدا نے ضروری نہیں سمجھا ...... جب اس کا عقیدہ رکھنے والے پر کوئی گناہ نہیں ...... جب یہ محض اجتہادی غلطی ہے ...... جب اس قسم کی خطائیں سابقہ انبیا سے بھی ہوتی رہیں ...... جب آپ کی غرض اس پر مباحثہ کرنے کی نہیں ...... اور جب یہ ادنیٰ سی بات ہے تو اس مسئلہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت واہمیت باقی نہ رہی۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا گیا اور نہ صلیب ہی دیا گیا۔ قرآن مجید، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
- وما قتلوہ و ما صلبوہ ولكن شبہ لہم (النساء: 157)
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ اس کے برعکس ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔ اب جس عیسیٰ یا مسیح نے دوبارہ دنیا میں آنا تھا، وہ مرزا قادیانی کی صورت میں آچکے ہیں۔ جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر رفع اور پھر قرب قیامت زمین پر نزول کا تعلق ہے، قرآن مجید میں ہے:
- ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق ...... (الصف: 10)
ترجمہ: ”وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔“
اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے
اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین
اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ صفحہ 499 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی)
اس تحریر سے صاف معلوم ہو گیا کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی دلیل ہے کیونکہ نزول اسی وقت ہوگا جب کہ پہلے سے رفع ثابت اور واقع ہو چکا ہو۔ قرآن مجید میں ارشادِ خداوندی ہے:
- عسیٰ ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا (بنی اسرائیل:8)
ترجمہ: ”عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے۔‘‘
اس آیت کے تحت مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ
ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف و احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اُتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم مندرجہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 601، 602 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں کی موجودگی میں وفات مسیح کے موضوع پر قادیانیوں کی بحث کی ساری بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں قادیانی مختلف تاویلات کا سہارا لیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ باتیں مرزا قادیانی نے محض رسمی طور پر تحریر کی ہیں۔ یہ بات حق کو تسلیم نہ کرنے کا ایک بہانہ ہے کیونکہ یہ عقیدہ رسمی نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ مرزا قادیانی نے اس کے ثبوت میں آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جس سے ثابت ہوا کہ اس نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں بلکہ قرآن کی رو سے قبول کیا۔ پھر قادیانی اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ ”عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام“ مرزا قادیانی کی ”اجتہادی غلطی“ ہے۔ یہ بات بھی کتمان حق کے زمرے میں آتی ہے۔ ان تحریروں کو مرزا قادیانی کی اجتہادی غلطی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وہ یوں کہ ” براہین احمدیہ“ جس میں مرزا قادیانی نے اپنا مذکورہ عقیدہ بیان کیا ہے، بقول مرزا قادیانی، یہ کتاب حضور نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ آپ ﷺ نے ہی مرزا قادیانی کو اس کتاب
کا نام ”قطبی“ بتایا۔ یعنی یہ کتاب قطب ستارہ کی طرح مستحکم اور غیر متزلزل ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپے کا اشتہار دیا گیا۔ (دیکھیے براہین احمدیہ مندرجہ روحانی خزائن ج اول ص 275) اگر قادیانیوں کے بقول نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رسمی ہے تو نہ یہ کتاب قطبی رہے گی اور نہ اس میں ذکر کردہ باتیں مستحکم اور غیر متزلزل قرار پائیں گی۔ خصوصاً یہ کتاب جب حضور نبی کریم ﷺ نے ملاحظہ فرمائی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی سنگین غلطی (عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام) کو آپ ﷺ نظر انداز فرما دیں جو مرزا قادیانی کے نزدیک شرکِ عظیم ہے۔ (الاستفتاء ص 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 660) اگر یہ عقیدہ رکھنا شرک ہے تو خود مرزا قادیانی اس فتویٰ کی زد میں آتا ہے۔ پھر یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی 1891ء تک (تقریباً 52 سال) حیات عیسیٰ علیہ السلام اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے مشرک تھا اور ظاہر ہے کوئی مشرک ”مسیح موعود“ نہیں ہو سکتا۔
جبکہ مرزا قادیانی ایک جگہ اپنے متعلق لکھتا ہے:
- ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط بات
سے محفوظ رکھتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 حصہ دوئم مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)
- پھر مزید دعویٰ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری ہر بات الہامات پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی میں
نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ خدا کے امر سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا۔“
(مواہب الرحمان صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
مزید لکھتا ہے:
- ”یعنی خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا رہا وہ وہی کہتا ہوں جو خداوند فرماتا ہے اور
میں نے کوئی کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خداوندی ہو اور مخالف خداوندی میری قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوتی۔“
(حمامة البشریٰ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 186 از مرزا قادیانی)
ایک جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 262 از مرزا قادیانی)
معمولی سی عقل سلیم رکھنے والا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ گپ کے معنی جھوٹ کے ہیں اور جھوٹا آدمی مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔
خود مرزا قادیانی کا اعتراف ہے:
- ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 56 از مرزا قادیانی)
ایک اور جگہ پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
- ”حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدے کے لیے
گھڑا تھا۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 29 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں کی رُو سے ثابت ہوتا ہے کہ خود وہ 52 سال تک عیسائی عقائد رکھتا تھا۔
بعض قادیانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شروع شروع میں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی تو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے اگر عقیدہ تبدیل کر لیا تو کیا حرج ہے؟ اس سلسلہ میں بیت المقدس کی مثال بالکل غلط ہے۔ بیت المقدس کو قبلہ بنانا حسب ہدایت آیت فبهدهم اقتده (الانعام:90) انبیا سابقین کی سنت پر عمل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ عقائد میں سے ہے اور عقائد میں تنسیخ و تبدیلی نہیں ہو سکتی جبکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے جن میں تبدیلی و تنسیخ ہو سکتی ہے۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے جو نمازیں حضور نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کی تھیں، وہ سب کی سب بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں اور بعد میں کسی نے ان نمازوں کو نہیں لوٹایا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بارے میں مرزا قادیانی کی کئی تضاد بیانیاں اس کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔ کبھی کہتا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچائی تھی بلکہ یہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی نسبت گواہی دے
رہی ہے جو گلیل میں اس کو پیش آئی‘‘ ۔ (ازالہ اوہام صفحہ 474 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 354) کبھی کہتا ہے: ”حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے‘‘۔ (مسیح ہندوستان میں صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 14) کبھی کہا: ”مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدتِ درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آ گیا کہ گویا وہ موت ہی تھی‘‘۔ (کشتی نوح صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 57) کبھی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر کے محلہ خانیار میں ہے۔ (دافع البلاء صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 235) اور کبھی کہتا ہے کہ ان کی قبر فلسطین کے علاقہ گلیل میں واقع ہے۔ (ازالہ اوہام صفحہ 473 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 ) کبھی کہا کہ ان کی قبر بلدہ قدس (یروشلم) میں ہے (اتمام الحجۃ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 299) اور کبھی کہا کہ ان کی قبر بلاد شام میں ہے۔ (اتمام الحجۃ صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 296)
مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہٗ اپنے گرانقدر مضمون ”قادیانیوں سے گفتگو کے لیے رہنما اصول‘‘ میں لکھتے ہیں:
”قادیانیوں سے گفتگو کرنی ہو تو ہماری پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کے کذب پر گفتگو ہو۔ اس موضوع سے قادیانی اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شکار تیر سے۔ اس لیے کہ قادیانی کتب سے مرزا قادیانی کی جو بھیانک صورت اجاگر ہوتی ہے اس سے قادیانیوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ بدیں وجہ قادیانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حیاتِ مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو آڑ بنا کر، تحریف کے نشتر چلا کر، استعارہ کی اوٹ لے کر اور بات کا بتنگڑ بنا کر مرزا قادیانی کی حقیقت پر پردہ پوشی کریں۔ لہٰذا حیاتِ مسیح علیہ السلام پر جب آپ گفتگو کریں تو قادیانیوں اور سامعین پر واضح کریں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ اسے نازل ہوئے چودہ صدیاں بیت گئیں۔ آیا اسے آج تک کسی نے سمجھا بھی ہے یا نہیں؟ یقیناً اس کا وہ جواب ہاں میں دیں گے۔ تو پھر آپ موقف اختیار کریں کہ قرآن مجید کی جس آیت کا ترجمہ و مفہوم سمجھنا ہو، امت کے قدیم مفسرین، مجددین و محدثین کی تفہیم کی روشنی میں ہی ہم اسے سمجھیں گے۔ یعنی جو آیت زیر بحث ہو اس کا ہم یا قادیانی جو ترجمہ و مفہوم بیان کریں وہ چودہ سو سال میں امت کی رائے کے خلاف نہ ہو۔ اگر ہم نیا ترجمہ کرتے ہیں تو لازم آئے گا کہ چودہ سو سال میں امت سے قرآن مجید کو کسی نے نہیں سمجھا۔ اور یہ محال ہے۔ مرزا
قادیانی کے فتنہ کو سو سال ہو گئے۔ اس سے اختلاف ہوا۔ اس سے قبل جو امت کے مفسرین، مجددین یا محدثین ہیں وہ تو متفقہ ہیں۔ اس لیے فریقین جو آیت پیش کریں، اس کا ترجمہ و مفہوم امت کی سابقہ تفسیروں سے دکھائیں۔ جو تفسیر فریقین کے نزدیک مسلم ہو، اس کو مدار بنائیں۔ ایک نہیں دس سابقہ قدیم تفاسیر کو مدار بنا کر گفتگو کریں جو ترجمہ و مفہوم ہو، ہم ان تفاسیر میں دکھانے کے پابند ہوں اور قادیانی بھی۔ قادیانی کسی ایک قدیم تفسیر یا تفاسیر جتنی چاہیں ان کے نام بتائیں۔ جس آیت کا ترجمہ و مفہوم پوچھنا ہو، ان سے پوچھیں گے۔ اس نکتہ پر قادیانی کبھی نہ آئیں گے۔ تو ان کا بار بار کہنا کہ قرآن سے، قرآن سے، قرآن سے، بحث کریں، وہ سامعین پر واضح ہو جائے گا کہ یہ جو قرآن کا نام لے کر قرآن مجید پر الحاد کا کلہاڑا چلانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لغت سے ترجمہ نہ ہو۔ لیکن لغت میں ایک لفظ کے کئی معنی ہیں۔ یہاں کونسا معنی مراد ہے۔ اس کے لیے قدیم مفسرین پر فیصلہ کی فریقین پابندی کریں۔ آخر قدیم مفسرین بھی تو لغت جانتے تھے۔ آج کے دور میں فہم قرآن پر ہم پابندی نہیں لگا رہے، بلکہ اپنے فہم کو امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ سلسلۃ الذہب سے منسلک کر رہے ہیں تاکہ الحاد سے بچ جائیں۔
2...... ہمارے نزدیک ہر صدی میں مجدد یا مجددین کا ہونا صحیح ہے۔ لیکن وہ کون ہے؟ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اور قادیانیوں نے از خود مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد بنانے کے لیے تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست شائع کر دی ہے۔ جو یہ ہے:
”پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کیے گئے: (1) عمر بن عبدالعزیز (2) سالم (3) قاسم (4) مکحول۔ علاوہ ان کے اور بھی اس صدی میں مجدد مانے گئے ہیں چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنیٰ ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے۔ دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) امام محمد ادریس ابو عبداللہ شافعی (2) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (3) یحییٰ بن معین بن عون عطفانی (4) شہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (5) ابو عمر مالکی مصری (6) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (7) قاضی حسن بن زیاد حنفی (8) جنید بن محمد بغدادی صوفی (9) سہل بن ابی سہل بن رحلہ شافعی (10) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداللہ صوفی بغدادی (11) اور بقول قاضی القضاۃ علامہ عینی۔ احمد بن خالد الخلال، ابو جعفر حنبلی بغدادی۔ (دیکھو نجم الثاقب جلد دوم ص 14 قرۃ العیون و مجالس الابرار تعریف
الاحیاء بفضائل الاحیاء ص 32) تیسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (2) ابوالحسن اشعری متکلم شافعی (3) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (4) احمد بن شعیب (5) ابو عبدالرحمن نسائی (6) خلیفہ مقتدر باللہ عباسی (7) حضرت شبلی صوفی (8) عبید اللہ بن حسین (9) ابوالحسن کرخی صوفی حنفی (10) امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث (دیکھو تعریف الاحیا بفضائل الاحیاء ص 33 ونجم الثاقب وقرة العیون ومجالس الابرار) چوتھی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) امام ابوبکر باقلانی (2) خلیفہ قادر باللہ عباسی (3) ابو حامد اسفرائنی (4) حافظ ابو نعیم (5) ابوبکر خوارزمی حنفی (6) بقول شاہ ولی اللہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم نیشاپوری (7) امام بیہقی (8) حضرت ابو طالب مکی صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیا سے ہیں (9) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی (10) ابو اسحٰق شیرازی (11) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ ومحدث ۔ پانچویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) محمد بن ابو حامد امام غزالی (2) بقول عینی و کرمانی حضرت راعونی حنفی (3) خلیفہ مستظہر باللہ مقتدی باللہ عباسی (4) عبداللہ بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی (5) ابو طاہر سلفی (6) محمد بن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی ۔ چھٹی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) محمد بن عمر ابو عبداللہ فخر الدین رازی (2) علی بن محمد (3) عز الدین ابن کثیر (4) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا (5) یحییٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (6) یحییٰ بن شرف بن حسن محی الدین نووی (7) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی (8) حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سرتاج طریقہ قادری ۔ ساتویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (2) تقی الدین ابن دقیق العید (3) شاہ شرف الدین مخدوم بہائی سندی (4) حضرت معین الدین چشتی (5) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی زرعی دمشقی حنبلی (6) عبداللہ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن فلاح ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (7) قاضی بدر الدین محمد بن عبداللہ الشبلی حنفی دمشقی ۔ آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (2) حافظ زین الدین عراقی شافعی (3) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (4) علامہ ناصر الدین شاذلی ابن بنت میلی ۔ نویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) عبدالرحمن بن کمال الدین شافعی معروف بامام جلال الدین سیوطی (2) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (3) سید محمد جون
پوری اور بعض دسویں صدی کے مجددین حضرت امیر تیمور صاحب قران فاتح عظیم الشان۔ دسویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) ملا علی قاری (2) محمد طاہر فتنی گجراتی محی الدین محی السنۃ (3) حضرت علی بن حسام الدین معروف بعلی متقی ہندی مکی۔ گیارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) عالمگیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (2) حضرت آدم بنوری صوفی (3) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی۔ بارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (2) مرزا مظہر جان جاناں دہلوی (3) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکبانی (4) حضرت احمد شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (5) امام شوکانی (6) علامہ سید محمد بن اسماعیل امیر یمن (7) محمد حیات بن ملا ملازیہ سندھی مدنی۔ تیرھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (1) سید احمد بریلوی (2) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (3) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (4) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (5) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں ان کی اطلاع نہ ملی ہو۔“
(عسل مصفیٰ ص 162 تا 165، خدا بخش مرزائی تصدیق شدہ از مرزا قادیانی)
لیجیے اس فہرست میں جو حضرات فریقین کے ہاں مسلم ہوں، ان پر اتفاق کر لیا جائے۔
- (1) جس آیت کا وہ جو ترجمہ کریں دونوں فریق قبول کریں۔
- (2) وہ فرما دیں کہ مسیح علیہ السلام زندہ تو ہم دونوں فریق قبول کریں۔ وہ کہہ دیں فوت
ہو گئے تو بھی فریقین قبول کریں۔
- (3) وہ ختم نبوت کے مسئلہ پر جو موقف رکھتے ہوں فریقین مان لیں۔ قادیانیوں کو اس کا
پابند کریں۔ فیصلہ آسان ہوگا۔ قارئین یقین فرمائیے تیرہ صدیوں کا ایک بھی مسلمہ مفسر و مجدد ایسا نہیں جو حیات مسیح کا منکر یا اجرائے نبوت کا قائل ہو۔ قادیانی اس پر آ جائیں۔ لیکن قادیانی اس سے بھاگیں گے۔ اس پر نہیں آئیں گے۔ حیات مسیح، ختم نبوت پر ان بزرگوں کے جو وہ حوالہ جات دیتے ہیں، سب محرف شدہ ہیں۔ کانٹ چھانٹ اور ہیر پھیر سے کام لیتے ہیں، دجل کرتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں ایک بھی مسلمہ بزرگ ان مسائل میں امت کے خلاف موقف نہیں رکھتا۔
- 3- قادیانی اس پر کبھی نہ آئیں گے۔ تو پھر آپ ان سے سوال کریں کہ تیرہ صدیوں
کے مسلمہ مجدد حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل۔ چودھویں صدی کا ایک آپ کا نام نہاد مجدد مرزا قادیانی ان کا منکر آیا۔ تیرہ صدیوں کے مجدد صحیح ہیں یا یہ ایک؟ اس لیے کہ ایک مسئلہ پر تیرہ صدیوں کے مسلمہ بزرگوں کی رائے ایک ہے۔ اکیلے مرزا قادیانی کی ایک طرف۔ اگر تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر ہیں تو مرزا قادیانی حق پر نہ ہوا۔ اگر مرزا قادیانی حق پر ہے تو تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر نہ ہوئے۔ اب مرزائی تیرہ صدیوں کے مسلمہ مجددین کا انکار کریں یا ایک کا؟ اس سے بھی سامعین اور انصاف پسند قادیانی سمجھ جائیں گے کہ حق کس طرف ہے۔
- 4- ذیل میں مرزا قادیانی کی کتب سے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ ان پر گفتگو
کے وقت نظر رہے۔ نیز سابقہ نکات کی تائید کے لیے بھی یہ کارآمد ہیں۔
- □ ”مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 55، خزائن جلد 6 صفحہ 351 از مرزا قادیانی)
- □ ”مگر وہ باتیں جو مدارِ ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص
مسلمان کہلا سکتا ہے، وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔“
(کرامات الصادقین صفحہ 20، خزائن جلد 7 صفحہ 62 از مرزا قادیانی)
- □ ”غرض برخلاف اس متبادر مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک
سمجھے جاتے ہیں، ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 745، خزائن جلد 3 صفحہ 501 از مرزا قادیانی)
- □ ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں، وہ نرے استخوان
فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب ﷺ کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انھیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو رسولوں اور نبیوں کی دی جاتی ہیں۔“ (فتح الاسلام صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7 از مرزا قادیانی)
- □ ”مجدد کا علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ
154 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 179 از مرزا قادیانی)
- □ ”مجدد لوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے ہاں گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم
کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے: ”ومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون (نور:56)“
(شہادت القرآن صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 344 از مرزا قادیانی)
- ”ایسے آئمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے،
جنھوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہؐ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کے پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔“
اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ:
- ”نصوص کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 409 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 312 از مرزا قادیانی)
- ”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام
لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(انجام آتھم صفحہ 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 144 از مرزا قادیانی)
- ”من فسر القرآن برائیہ فھو لیس بمؤمن بل ھو اخ الشیطان“ جس نے
تفسیر کی قرآن کی اپنی رائے کے ساتھ پس وہ مؤمن نہیں بلکہ وہ شیطان کا بھائی ہے۔“
(اتمام الحجہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 276 از مرزا قادیانی)
- ”سلف، خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو
ماننی پڑتی ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 374 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 293 از مرزا قادیانی)
ان حوالہ جات سے جو نتائج برآمد ہوئے، وہ یہ ہیں:
- (الف) مومنوں کو قرآن کا علم و عمل عطا کیا گیا۔
- (ب) ہر صدی میں ائمہ و اکابر قرآن مجید کے فہم کو جاننے والے موجود رہے۔
- (ج) مدار ایمان چیزیں ہر زمانہ میں شائع (مشہور عام) ہوتی رہیں۔
- (د) متبادر مسلمہ معنوں کے خلاف قرآن میں معنی گھڑنا الحاد و تحریف ہے۔
مرزا قادیانی کے ان حوالوں کی روشنی میں قادیانی گزشتہ صدیوں کے ائمہ و اکابر کے فہم قرآن کے خلاف نئے معنی گھڑ کر الحاد و تحریف اختیار کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ تمام
مختلف فیہ مسائل میں تمام قرآنی آیات جو پیش ہوں، وہ ترجمہ کریں۔ اس فہم کو پیش کریں جو مرزا قادیانی سے پہلے گزشتہ صدیوں کے ائمہ و اکابر کی تفاسیر سے معلوم و متعین ہیں تا کہ بات کسی نتیجہ پر پہنچ سکے۔
قادیانی، تفاسیر کی آرا کے اختلاف کی بابت سوال کریں تو ان سے کہا جائے کہ امت کے اکابر نے دیانت داری سے جتنے اقوال و تشریحات ہو سکتی ہیں، سب کو بیان کر دیا۔ ان آرا کے باوجود جو مختار، راجح بلکہ ارجح معنی و مفہوم تھا، اسے بھی بیان کیا۔ اس کے مطابق جو عقیدہ اختیار کیا، اس کو ماننا چاہیے۔ اب حیات مسیح، ختم نبوت پر جو امت کے اکابر و ائمہ کا عقیدہ ہے، اسے مانیں۔ وہ سب حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل تھے۔ ہاں اگر اختلاف اقوال کو دیکھا جا سکتا ہے تو وہ مختلف حضرات کے مختلف اقوال تھے۔ مختلف آیات کی ہر ایک نے ترجمہ و تفسیر کی۔ جس آیت کی جتنی تشریح یا جو جو آیت کا مفہوم ہو سکتا تھا، بیان کیا۔ لیکن کسی نے ایک ہی مسئلہ پر کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، نہیں فوت ہو گئے۔ ختم نبوت نہیں اجرائے نبوت ہے، یہ نہیں کہا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ان امور پر کیا کردار تھا۔ دُور نہ جائیں قادیانیوں کے گھر کی شہادت پیش خدمت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا سالا مرزا محمود کا ماموں، میر اسماعیل قادیانی نے لاہوری قادیانی اختلاف کے سلسلہ میں ”نبوتِ حضرت مسیح موعود پر ایک شہادت“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو فرقان قادیان جولائی 1943ء میں شائع ہوا۔ اسی مضمون کو دوبارہ الفرقان ربوہ مئی، جون 1965ء کی اشاعت میں شائع کیا گیا، جس میں وہ لاہوریوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے:
- ”اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہر دو
فریق کے مقتدا ہیں۔ نیز ہمارے اور آپ کے نزدیک وہ صادق اور راستباز ہیں۔ ان باتوں کے باوجود (1)...... حضور ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری زندہ ہیں۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ (2)...... اور یہ کہتے ہیں کہ مسیح ناصری آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ وہ ہرگز آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ (3)...... پھر کہتے ہیں مسیح اور مہدی دو شخص ہوں گے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہرگز نہیں مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے۔ (4)...... کبھی فرماتے ہیں کہ مہدی تو بنی فاطمہ سے ہوگا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں۔ (5)...... کہیں فرماتے ہیں کہ مجھے عیسیٰ سے کیا نسبت وہ عظیم الشان
نبی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں مسیح ناصری سے افضل اور ہر شان میں بڑھ کر ہوں۔ (6)......کہیں فرماتے ہیں کہ میں نبی نہیں ہوں صرف مجدد اور محدث ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ (7)......اسی طرح فرماتے ہیں کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ میرا منکر کافر ہے۔ (8)......غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے بھی رہے پھر حرام بھی فرمادیں۔ (9)......ان سے رشتے ناطے بھی کرتے تھے۔ پھر منسوخ بھی کر دیے۔ (10)......متوفیک کے معنی کیے کہ پوری نعمت دوں گا۔ پھر کہا کہ ہزار روپیہ انعام اگر سوائے موت، اس کے کوئی اور معنی ثابت ہوں۔ (11)......فرماتے تھے کہ ایک نبی دوسرے کا متبع نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی نبی کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ (12)......ایک کتاب میں نبی کی تعریف اور کی ہے۔ دوسری میں اس کے کچھ مخالف کی ہے۔ (13)......کبھی کہا کہ میں تو مسیح کا صرف مثیل ہو کر آیا ہوں۔ وہ خود بھی آئے گا۔ پھر کہا کہ میں ہی مسیح ہوں اور کوئی نہیں آئے گا۔ غرض حضور کی تصانیف میں 10 حوالے اگر آپ ایک طرح کے دکھا سکتے ہیں تو 100 ہم دوسری طرح کے۔“
(مسیح موعود نمبر الفرقان ربوہ مئی جون 1965ء ص 44)
قادیانی بتائیں کہ یہ آپ کے مجدد، مہدی، مسیح، نبی کی یہ شان تھی۔ اعمال میں نہیں، عقائد و اخبار میں بھی تفاوتِ اقوال ہے۔ کیا عقائد و اخبار میں بھی نسخ ہوتا ہے؟“
(قادیانی شبہات کے جوابات از مولانا اللہ وسایا)
مناظرہ کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں
- 1- مناظرہ، تفریح طبع یا ہنگامہ آرائی کے بجائے ناگزیر ضرورت کے طور پر ہونا
چاہیے۔ مناظرہ صرف اس مقصد کے تحت ہونا چاہیے کہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو جائے اور وہ حق کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام دے۔
- 2- قادیانیوں سے مناظرہ کرنے سے پہلے شرائط طے کر لیں۔ پھر قادیانیوں سے ان
شرائط کی پابندی کروائیں۔
- 3- شرائط مناظرہ میں قادیانیوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ”وفاتِ مسیح“ کو
موضوع بنائیں۔ جبکہ مسلمان مناظر کو کوشش کرنی چاہیے کہ مرزا قادیانی کے کردار، اس کی پیش گوئیوں، اس کے جھوٹ، اس کے تضادات اور اس کی فحش تحریروں پر
بات کرے اور سامعین کو اصل حوالہ جات دکھائے۔
- 4- قادیانیوں سے گفتگو کرتے وقت ہمیشہ یہ خیال رہے کہ قادیانی کبھی ایک بات پر نہ
ٹھہرے گا۔ ہمیشہ ایک بات کو چھوڑ کر دوسری طرف رخ کرے گا اور بحث کو اس جگہ لے جائے گا، جہاں جھگڑا ہو اور گفتگو بغیر نتیجہ رہ جائے۔ پس ہمیشہ گفتگو کرتے وقت یہ مدنظر رکھئے کہ جو چیز آپ پیش کریں، آخر وقت تک اس بات کو دہراتے جائیں اور اس سے جواب کا مطالبہ کیجیے اور ہر وقت یہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ گفتگو مختصر ہو اور ایک وقت میں ایک ہی بات ہو۔ قادیانیوں کو اصل موضوع سے کبھی باہر نہ جانے دیں، انھیں گھیر گھار کر اصل موضوع پر لائیں۔ یہ لوگ چند لمحوں کے بعد اپنا رنگ بدلا کرتے ہیں۔ پس پوری ہوشیاری سے پہلے ان کی چال دیکھیں اور پھر گفتگو شروع کریں۔
- 5- قادیانیوں کی کوئی ایسی شرط نہ مانیں جو اصول مناظرہ کے خلاف ہو۔
- 6- ہر ایرا غیرا قادیانی مناظرے کا شوقین ہوتا ہے۔ وہ خود کو ”مناظرہ باز“ کہلوانا پسند
کرتا ہے جبکہ آپ کو مناظرہ جُو ہونا چاہیے۔
- 7- قادیانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی بوجھل گفتگو کریں جو سامعین کی سمجھ میں نہ
آئے، لہٰذا مسلمان مناظر کو ہمیشہ ایسی سلیس اور دو ٹوک بات کرنی چاہیے جو سب کی سمجھ میں آجائے۔
- 8- قادیانی جب بھی کوئی تحریر یا حوالہ پیش کرتے ہیں تو عبارت میں خیانت کر کے،
اسے توڑ مروڑ کر، سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے یا غلط حوالہ دے رہے ہوں گے۔ لہٰذا آپ ان تمام چیزوں کا خاص خیال رکھیں۔ صرفی، نحوی، لغوی، منطقیانہ، فلسفیانہ قسم کی علمی بحث سے گریز کیا جائے۔ عوام الناس جو اس بحث کو سنیں گے، وہ ان علوم سے بے بہرہ ہوں گے، وہ کیا اندازہ کریں گے کہ درست بات کون کہہ رہا ہے۔ پس جھگڑا ہوگا، جو تیز و طرار، چالاک و ہوشیار ہو گا، پبلک اس سے متاثر ہوگی۔ پبلک کیا سمجھے کہ از روئے علوم اسلامیہ کون صحیح بات کہہ رہا ہے؟ لہٰذا آسان لفظوں میں سوال کریں اور آسان لفظوں میں جواب دیں۔
- 9- عقیدہ ختم نبوت، حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مرزا قادیانی کی شخصیت
اور کردار اور اس سے متعلقہ دیگر موضوعات پر آپ کو مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔
- 10- مناظر کے لیے ذہانت، فہم و فراست، صبر و تحمل، خود اعتمادی اور قوت حافظہ بھی
بہت ضروری ہے۔
- 11- جب کوئی قادیانی مناظر اپنے استدلال کو نقص و اختلال سے محفوظ نہ رکھ پائے تو
اس موقع پر مرزائی مناظر کی ظریفانہ چٹکی لینے سے وہ پیچ و تاب کھا کر اپنا ذہنی سکون کھو بیٹھتا ہے۔ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ یاد رہے کہ آپ کی ظرافت بھی دلائل و براہین سے مدلل ہونی چاہیے۔
- 12- مناظرہ میں ہمیشہ عالمانہ انداز اپنانا چاہیے۔ عامیانہ اور جاہلانہ انداز قادیانیوں کا
ہوتا ہے۔
- 13- قادیانیوں کے کسی سوال پر بھی آپ پر گھبراہٹ طاری نہیں ہونی چاہیے بلکہ نہایت
سکون اور اعتماد سے ان کے سوال کا جواب دینا چاہیے۔
- 14- مناظرے میں برجستہ گوئی اور حاضر جوابی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا مناسب
موقع پر ان کا بھر پور استعمال کریں۔
- 15- قادیانی اعتراض کا جواب قرآن و حدیث کے علاوہ مرزائی کتب سے بھی ہونا
چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتب مرزا، تردید مرزا کے لیے کافی ہیں۔
- 16- مناظرے کے دوران بے جا جوش و خروش کا مظاہرہ، چیخنا چلانا یا غل غپاڑہ مچانا
آداب مناظرہ کے خلاف ہے۔
- 17- جذبات اور استدلال دونوں کا برمحل استعمال کریں۔
- 18- مناظرہ میں کوئی ایسا الزام یا تحریر پیش نہ کریں جس کا حوالہ موجود نہ ہو۔ ہمیشہ
معروضی دلائل سے بھر پور گفتگو کریں۔
- 19- مسلمان مناظر کو قادیانی کتب پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔
قادیانیوں سے مناظرہ میں یقینی کامیابی کے لیے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے
- ❑ سیف چشتیائی...... از حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ
- ❑ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ...... مولانا پروفیسر محمد الیاس برنیؒ
- ❑ رئیس قادیان...... مولانا رفیق دلاوریؒ
- قادیانی شبہات کے جوابات حصہ اوّل، دوم، سوم......مولانا اللہ وسایا
- قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ......(مرتب) مولانا اللہ وسایا
- آئینہ قادیانیت............مولانا اللہ وسایا
- تحفہ قادیانیت (مکمل سیٹ)......مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
- احتساب قادیانیت (مکمل سیٹ)......شائع کردہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
- رد قادیانیت کے زریں اصول......مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ
- محمدیہ پاکٹ بک......مولانا عبداللہ معمارؒ
- مطالعہ قادیانیت......حافظ عبیداللہ
- ثبوت حاضر ہیں (مکمل سیٹ)......محمد متین خالد
- قادیانیت، اُس بازار میں......محمد متین خالد
- کامیاب مناظرہ......محمد متین خالد
- راسپیوتینوں کے عبرتناک انجام......محمد متین خالد
- قادیانیوں کو لاجواب کیجیے......محمد متین خالد
۞......۞......۞
مولانا ظفر علی خاں اور فتنۂ قادیانیت
تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر مولانا ظفر علی خاںؒ کے معرکہ آرا مضامین، مقالات، توضیحات، اداریے، خطبات، مکاتیب اور شاعری کا دلکش مرقع
محمد متین خالد
عالمانہ شکوہ، ادیبانہ جلال و جمال اور صحافیانہ بے باکیوں پر مشتمل مربوط و مبسوط ایک ایسی دل آویز کتاب
- جس کے مضامین کا انتخاب انتہائی محنت شاقہ اور عرق ریزی سے اردو کے
قدیم اور تاریخ ساز اخبار’زمیندار‘ اور ’ستارہ صبح‘ کی فائلوں سے کیا گیا ہے۔
- جو فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھے گئے تاریخ ساز مضامین اور ولولہ انگیز نظموں کا
سدا بہار گلدستہ ہے۔
- جو استعماری آب و گل سے تیار ہونے والے فتنہ قادیانیت کا علمی، تحقیقی،
استدلالی اور تجزیاتی محاکمہ ہے۔
- جو پر شکوہ ترکیبوں، نادر استعاروں، دلکش تشبیہوں، تیز دھار روز مروں، سنگلاخ زمینوں،
ادق قافیوں، دلچسپ محاوروں، نایاب ضرب الامثال اور جدید الفاظ و اصطلاحات کا ایک پوشیدہ جہاں اپنے اوراق و صفحات کے دامن میں نگینوں کی طرح سمیٹے ہوئے ہے۔
- جس کے گراں بہا رشحات، فتنہ قادیانیت کے لیے روز حشر کا محاسبہ ہیں۔
- جو اپنے دامن میں روانی و سلاست اور فصاحت و بلاغت سے بھر پور نظم و نثر کا
ایک جامع، بلند پایہ اور سحر انگیز ادبی سرمایہ لیے ہوئے ہے۔
- جو معجزانہ نشاۃ پر مبنی علم و تحقیق کا ایک بے مثال اور حیرت انگیز گنج گراں مایہ ہے۔
- جس کی بعض شعلہ فشاں تحریروں کے باعث مولانا ظفر علی خاںؒ کو گوناگوں
مصائب و شدائد، جبر و استبداد اور زنجیر و تعزیر کے مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔
معروف سیرت نگار جناب پروفیسر تفاخر محمود گوندل اور نامور سکالر جناب عبدالرؤف کی قلمی جولانیوں اور علمی رفعتوں پر مبنی ایمان افروز تقاریظ کے ساتھ
پڑھیے! تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے! شفاعت رسول ﷺ آپ کی منتظر ہے۔
ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
علامہ اقبالؒ اور فتنۂ قادیانیت
تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر علامہ محمد اقبالؒ کے معرکہ آرا مضامین، توضیحات، خطبات، مکاتیب اور شاعری کا مربوط و مبسوط مجموعہ
محمد متین خالد
مستند تاریخی حوالہ جات اور معتبر شواہد و دستاویزات پر مبنی ایک ایسی اثر انگیز کتاب جو
- علامہ محمد اقبالؒ کے عشق رسالت مآب ﷺ، غیرت اسلامی اور حمیت ملی کے
آئینہ دار ایمان افروز واقعات اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔
- علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و نظریات کی روشنی میں قادیانیت کی فتنہ طرازیوں اور
شر انگیزیوں کا مکمل محاکمہ، محاسبہ، تجزیہ اور تحلیل کرتی ہے۔
- علامہ محمد اقبالؒ کے مقالات، خطبات، توضیحات، شاعری اور مکاتیب کو جو
قادیانیت کے خلاف قول فیصل اور حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں، اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
- جو فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھے گئے شہرہ آفاق دانشوروں کی چشم کشا، فکر انگیز،
تحقیقی اور تاریخی تحریروں کا گلدستہ ادراک ہے۔
- حضرت علامہ اقبالؒ کے بارے میں قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے بے بنیاد
شکوک و شبہات، تلبیسات، دسیسہ کاریوں اور کذب و افترا کے دندان شکن جوابات اور ناقابل تردید دلائل و براہین کا گنج گراں مایہ ہے۔
- جو کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے مشعل راہ اور مینارہ نور سے کم افادہ رساں نہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ سے دلی محبت اور ذہنی ارادت رکھنے والوں کے لیے ایک متاع گراں بہا اور شاہکار تحفہ
ماہر اقبالیات جناب محمد سہیل عمر اور نامور کالم نگار جناب حافظ شفیق الرحمٰن کی زریں حروف سے مرقوم اور دانش و بینش کے موتیوں سے مزین تقاریظ کے ساتھ
پڑھیے! تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے! شفاعت رسول ﷺ آپ کی منتظر ہے۔ ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
قادیانیت
اِسْلَام کے نام پَر دھوکا
مُحَمَّد مَتِین خَالِد
تاریخی، تحقیقی، فکر انگیز، منفرد اور اچھوتے موضوعات
- قادیانی غیر مسلم، پارلیمنٹ کا تاریخ ساز فیصلہ
- قادیانی عقائد و عزائم کا مکمل محاکمہ!
- سانحہ ربوہ کی عدالتی رپورٹ کیوں شائع نہیں ہوتی؟
- قادیانیت، اعلیٰ عدالتیں کیا کہتی ہیں؟
- مرزا قادیانی کی ایک شرمناک تحریر!
- قادیانی پیش گوئیاں
- قادیانی فرقے!
- مرزا قادیانی، عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟
- یہ ہے قادیانی اخلاق
- محمدی بیگم
- قادیانی چھلاوہ
- اصل ’سیرۃ المہدی‘ کیوں منظر عام پر نہیں لائی جاتی؟
- ڈاکٹر عبدالسلام، تصویر کا دوسرا رُخ
- صدی کا سب سے بڑا جھوٹ
- قادیانیوں کی شرعی و آئینی حیثیت
- قادیانیوں سے تیس انعامی سوالات
- پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں!
- حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور فتنہ قادیانیت
- قادیانیوں سے مناظرہ کیسے کریں؟
- قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کا عبرتناک انجام
- مرزا قادیانی اور نصرت جہاں بیگم
- ایک فیصلہ کن مباہلہ
- ایسے بھی ہوتے ہیں خوش نصیب
- قادیانیت، انگریز کا خودکاشتہ پودا
- سر ظفر اللہ خاں قادیانی، زوال و پستی کی خوفناک داستان
- قادیانی نبیوں کے بھیانک حالات اور ان کی بربادی کے چشم کشا واقعات
یہ کتاب وہ کلیڈوسکوپ ہے جس میں آپ کو قادیانیت کے ایسے تمام سربستہ پہلو نظر آئیں گے جو ناقابل یقین تو نہیں مگر ہوش رُبا ضرور ہیں!