رَدِّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا سیّد محمد علی مونگیریؒ
بانیٔ ندوۃ العلماء
١٢٦٢ھ/١٨٤٦ء۔١٣٤٦ھ/١٩٢٧ء
احتسابِ قادیانیت
پنجم
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
رَدِّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا سیّد محمّد علی مُونگیریؒ
بانی ندوۃ العلماء
١٢٦٢ھ؍١٨٤٦ء - ١٣٤٦ھ؍١٩٢٧ء
احتساب قادیانیت
جلد پنجم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 514122
بسم الله الرحمن الرحيم
تعارف
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ (٢٨ جولائی ١٨٤٦ء م ١٣ ستمبر ١٩٢٧ء) اس دھرتی پر اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ آپ کی خانقاہ مونگیر سے سو سے زیادہ رد قادیانیت پر کتب و رسائل شائع ہوئے۔ جن میں سے اکثر وبیشتر آپ کے رشحات قلم ہیں۔ باقی آپ کے شاگردوں ومریدوں میں سے علماء کرام کی جماعت کے تحریر کردہ ہیں۔ آپ کی خانقاہ عالیہ سے صحائف رحمانیہ مختلف اوقات میں شائع ہوئے جن کی تعداد ٢٤ ہے۔ اس جلد میں ان تمام صحائف رحمانیہ کو یکجا شائع کیا جارہا ہے۔ یہ صحائف جن حضرات نے تحریر فرمائے فہرست میں ان کے نام دے دیئے گئے ہیں۔ وہاں کی مراجعت فرمائی جائے۔ یہ صحائف صحیفہ رحمانیہ کے نام سے شائع ہوئے۔ البتہ بعض صحائف کا صحیفہ رحمانیہ کے ساتھ مستقل نام بھی دیا گیا ہے جیسے صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ کا نام مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ دعوت نبوت مرزا‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٩/٨ عبرت خیز‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١/ ١٢ نمونہ القائے قادیانی‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ اسلامی چیلنج‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٦ مرزائی نبوت کا خاتمہ‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧ النبوۃ فی الاسلام کے نو جواب اور مرزا صاحب کے جھوٹ‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٨ چیلنج محمدیہ وصولت فاروقیہ‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٩ چشمہ ہدایت کی صداقت اور مسیح قادیان کی واقعی حالت‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١ خاتم النبیین یعنی کلام الہٰی میں ختم نبوت کی بشارت‘ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٤ کا نام نامہ حقانی در کذب مسیح قادیانی ہے۔
صحائف رحمانیہ کی اشاعت دسمبر ١٩١٣ء سے شروع ہوکر ٣٠ اگست ١٩٢٤ء تک اختتام پذیر ہوتی ہے۔ گویا دس سال میں یہ چوبیس رسائل شائع ہوئے۔ ١٩١٣ء کے بعد اب ٢٠٠١ء میں ان کی اشاعت پر تقریباً ٩٠ سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نوے سال بعد بھی ان مضامین کی آب و تاب جوں کی توں باقی ہے۔ یہ مکمل رسائل کس طرح جمع ہوئے یہ مستقل کہانی ہے: ”ترکت الحساب لیوم الحساب“ کے تحت اس کہانی کو یہاں بیان نہیں کرتے۔
خاکپائے حضرت مونگیریؒ..... فقیر اللہ وسایا ٧ / ٩ / ١٤٢٢ھ / ١٢ / ١١/ ٢٠٠١ء
فہرست
صحیفہ رحمانیہ نمبر ١ مولانا عبدالعزیزؒ، مولانا عبدالوحیدؒ ٥ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ ؍ ؍ ؍ ١٣ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٣ مولانا عبدالوحیدؒ ١٩ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٤ مولانا عبدالعزیزؒ ٢٩ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ پروفیسر سید انور حسینؒ ٣٧ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ٦٣ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ ؍ ؍ ؍ ٨٦ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨/٩ ؍ ؍ ؍ ١٢١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠ حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ ١٨٧ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١/١٢ حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ ٢٠٩ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٣ خواجہ غلام الثقلینؒ ایڈیٹر عصرِ جدید ٢٥٣ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ مولانا عبدالغفار خاںؒ ، مولانا لکھنویؒ ٢٧١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٥ حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ ٢٩١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٦ پروفیسر مولانا سید محمد انور حسینؒ ٣١١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٣٣٧ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٨ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٣٧١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٩ یکے از متوسلین خانقاہ مونگیر ٤٠١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٠ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٤٠٩ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٤١٩ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٢ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٤٥١ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٣ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٤٨٧ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٤ حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ ٥٢٥
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(١)
عبد العزیز خانؒ
عبد الوحید خانؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بھاگلپور کے جلسہ ٢٤؍ دسمبر ١٩١٣ء
مطابق ٢٥؍ محرم ١٣٣٢ھ کی مختصر کیفیت
ناظرین باتمکین کو واضح ہو کہ مدت سے مرزائی جماعت نے مسئلہ حیات حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو اپنی کمزوری کے لئے سپر بنا رکھا تھا اور ہر مناظرہ میں اسی مسئلہ کو پیش کرتے تھے چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے یہ مسئلہ فقط دھوکہ ہی دھوکہ ہے اور حقیقت میں اگر حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ کی موت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت ’اور یہ کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ایک ہی شخص ہیں وغیرہ۔‘ دعاوی باطلہ ہرگز ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے تھے اور نیز اس مسئلہ میں چونکہ بہت آیات وحدیث کا ذکر آتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنے مفید میں آیات کو پیش کیا تھا (گو ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے ایک بھی مفید نہیں) اس وجہ سے بہت سے مسائل علمیہ بھی آجاتے ہیں اور عوام کو ان کے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ بوجوہ مذکورہ علمائے اسلام نے نہایت قوی پہلو اختیار فرمایا اور یہ کہا کہ اس مسئلہ میں گفتگو کا حاصل تو یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیم کی موت ثابت کی جائے۔ ہم مرزا غلام احمد قادیانی پر احسان کر کے مسیح علیہ السلام کی موت کو تسلیم کئے لیتے ہیں۔ مگر یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تمہید ہے۔ اصل دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی مسعود میں ہی ہوں اور خدا کی طرف سے ١٣ سو برس کے بعد تمام امت سے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل واعلیٰ ہو کر آیا ہوں، اور جو مرزا غلام احمد قادیانی کی
٢
نبوت کو نہ مانے وہ ویسا ہی کافر ہے جیسا محمد رسول اللہ ﷺ کا منکر کافر ہے۔ اور منکر ہی نہیں بلکہ متردد اور تأمل کرنیوالا غرض جو مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام دنیا میں نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ یہ تمام دعاوی فقط حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی موت سے کیسے ثابت ہوں گے؟ مگر چونکہ قادیانی جماعت نے سچ نہ کہنے کی قسم کھائی ہے اور شکست تو ان کی قسمت میں لکھی ہی نہیں مونگیر میں ہارے تو اس کا نام فتح عظیم رکھا۔ لدھیانہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے منشی قاسم علی مرزائی نے مات کھائی اور تین سو روپے بھی دینے پڑے، مگر اس کا نام فتح روحانی رکھ لیا۔ حسینا میں مولوی سہول صاحب سے شکست کھائی اس کا نام فتح المبین شائع کر دیا۔ غرض اس جماعت کی فتح بہر صورت ہے اور کیوں نہ ہو جب شکست کا نام فتح اور ذلت کا نام عزت ہے تو اب بجز فتح کے اور کیا ہوگا؟ اس وجہ سے مرزائیوں نے نتیجہ یہ نکالا کہ علمائے اسلام حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیم کی حیات ثابت ہی نہیں کر سکتے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو مسئلہ حیات و ممات سے پورا تعلق ہے اور جہاں کہیں مناظرہ ہوتا ہے اسی مسئلہ کو سرغزل رکھا جاتا ہے۔
چونکہ حضرت مولانا مولوی ابو احمد صاحب رحمانی دامت برکاتہم خلیفہ اعظم قطب وقت حضرت خاتم الاولیا گنج مراد آبادی قدس سرہ العزیز کی توجہ سے کئی سال ہوئے، قادیانی جماعت سے مونگیر میں بڑے پیمانہ پر مناظرہ ہوا اور کئی ضلع کے عوام اور خواص کے سامنے قادیانیوں کی اسی میں شکست ہوئی جس میں مرزائیوں کی کوئی تاویل بھی کام نہ آئی اور جس قدر اس برگزیدہ قوم نے جھوٹ لکھ کر شائع کیا۔ شرکائے جلسہ کو اور نفرت اور ان کے کذب کی دلیل تام ہو گئی۔ اس کے بعد حضرت ممدوح نے فیصلہ آسمانی حصہ اول و دوم و تتمہ و معیار صداقت، و معیار المسیح، و شہادت آسمانی وغیرہ ایسے رسائل لکھے کہ قادیانی جماعت کے خواص کو بھی پسینہ آ گیا اور زندوں ہی نہیں مردوں میں بھی ”زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم“ کا نمونہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اصل ہی دعویٰ کو حضرت ممدوح نے ایسا خاک میں ملایا کہ قادیانیوں کا دل ہی خوب جانتا ہے اور وہ کاری زخم لگا جس کا اندمال محال ہے۔ قطع وتین کی دلیل سے ان ہی کی گردنیں کٹیں۔ آفتاب و ماہتاب کے گرہن سے بھی قادیانی قمر الانبیاء قیامت تک کے لئے بے نور ہو گیا۔ ”یصبکم بعض الذی یعدکم“ کا وہ مطلب بیان فرمایا کہ ”شفاء لما فی الصدور“ ہو گیا۔ پھر سچے اور جھوٹے مسیح کی حقیقت کو حقیقۃ المسیح میں ایسا کھول کر بیان فرما دیا کہ باید و شاید۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو احمد رحمانی کو مسلمانوں کے لئے رحمت بنا دیا اور کیوں نہ
٣
ہوں صاحب البیت ادری بما فیہ، حدیث وقرآن کو اگر ان جیسے نسبی اور روحی خاندان نبوت ہی نہ سمجھیں تو کیا مرزا اور مغل سمجھیں گے؟ یاللعجب ولضیعۃ الادب پہلے تو ہمارا اعتقاد ہی تھا کہ فیصلہ آسمانی لا جواب ہے، مگر عبد الماجد قادیانی کے جواب القاء ربانی نے تو اس کا ایسا یقین دلا دیا ہے کہ اس کا ازالہ نہ اب ازالۃ الاوہام سے ہو سکتا ہے نہ حقیقۃ الوحی سے۔ تانت باجی اور راگ بوجھا۔ عبد الماجد قادیانی کا بھرم بھی القاء ربانی نے کھول دیا جس کے جواب یکے بعد دیگرے عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ شائع ہونے والے ہیں۔
بوجہ مذکورہ حضرت ابن شیر خدا، اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ جناب مولانا مولوی سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری مدرس مدرسہ عالیہ دار العلوم دیوبند نے جلسہ بھاگلپور منعقدہ ٢٥؍ محرم الحرام ١٣٣٢ھ مطابق ٢٤؍ دسمبر ١٩١٣ء کو جلسہ میں عنوان یہی رکھا جو درج اشتہار ہے۔
- ١............ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات وممات سے مرزا غلام احمد قادیانی
کے دعویٰ کو کیا تعلق ہے؟
- ٢............ اگر حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت ثابت ہو جائے تو کیا مرزا غلام
احمد قادیانی کا دعویٰ مسیحیت ومہدویت ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟
- ٣............ واقعی مسلمانوں کا اعتقاد اس مسئلہ کے متعلق کیا ہے؟
- ٤............ آیا قرآن وحدیث سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے یا نہیں؟
اور ان چاروں نمبروں پر وہ عالمانہ تقریر فرمائی کہ حضار (حاضرین) جلسہ کا پہلے تو حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیم کی حیات پر ایمان ہی تھا۔ مگر اس روز عیان ہو گیا۔ ”وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ“ (نساء ١٥٧) کو اخیر تک تلاوت فرما کر قرآن کی فصاحت وبلاغت وغیرہ سے وہ بحث کی کہ حاضرین پر وجد کا عالم طاری ہو گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ قادیانی جماعت اپنے دعویٰ نبوت میں بالکل پست اور مردہ اور بیجان ہے، فقط علمائے اسلام نے جو موجودہ مذکورہ مسئلہ میں گفتگو نہ کی تھی اس وجہ سے بوجہ ناواقفیت کے یہ لوگ دلیر ہو گئے تھے۔ ورنہ شہادت القرآن حصہ اول و دوم مصنفہ مولوی محمد ابراہیم صاحبؒ سیالکوٹی کا اس بحث میں ایسا کافی وشافی رسالہ ہے جس کا جواب خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی نہ دے سکے تو اب مرزائیوں میں کون ہے جو اس کا جواب لکھے گا؟ اب تو قادیانی کسی دوسرے نبی کا
انتظار کریں، ورنہ جب ان کے نبی ہی کچھ نہ کر سکے تو ان مسکینوں سے کیا شدنی ہے۔ اگر واقعی ہمت ہے تو پہلے شہادت القرآن کا جواب دے لیں پھر مسلمانوں سے آنکھیں ملائیں اگر کچھ حیا و شرم ہے، اس جلسہ میں مولانا موصوف نے بھی مرزائی دلائل پر خوب جرح فرما کر بالکل توڑ دیا اور جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحبؒ رحمانی نے بھی ختم نبوت پر نہایت مدلل تقریر فرمائی جس میں مذہب کی ضرورت اور اسلام کا کامل ہونا۔ پیغمبر اسلام کے فضائل اور جمیع کمالات میں ایسے درجہ پر ہونا کہ جس کے بعد ترقی کے لئے کوئی درجہ باقی نہیں نہایت خوبی سے ثابت کیا اور تمام مضمون مسلسل تھا جس سے سامعین پر وجد کی کیفیت طاری تھی اور منشی قاسم علی (قادیانی) کے رسالہ ” النبوۃ فی خیر الامۃ “ کی پوری حقیقت کھول دی اور جناب مولانا مولوی ابوالخیر انور حسین صاحب نے آیت ”انی متوفیک ورافعک الی “ نہایت ہی دلچسپ بیان فرمایا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دلائل پر نہایت کاری جرح کی، اگر قادیانی جماعت کو شوق ہو تو عیسیٰ علیہ السّلام کی موت کے دلائل بیان کر کے دیکھ لیں پھر ہمارے علماء بھی ان کے دلائل کے توڑنے کو موجود ہیں۔
٢٦ محرم مطابق ٢٥ نومبر کو عبد الماجد قادیانی پورنوی نے بھی اشتہار دیا اور ان پانچ نمبروں پر بیان کرنے کا وعدہ فرمایا۔
- ١............ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسّلام کی حیات وممات سے حضرت مرزا غلام احمد
قادیانی کے دعویٰ کو پورا تعلق ہے۔
- ٢............ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسّلام کی وفات چونکہ ثابت ہے اس لئے حضرت
مرزا غلام احمد قادیانی کی مسیحیت ومہدویت بھی ثابت کر دی جائے گی۔
- ٣............ واقعی عام مسلمانوں کا اعتقاد در بارۂ حیات حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ونزول از
آسمان بالکل غلط ہے۔
- ٤............ قرآن وحدیث سے بخوبی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسّلام مثل
اور انبیاؤں علیہم الصلوٰۃ والسلام کے فوت ہو چکے ہیں۔
- ٥............ جو جھوٹے الزامات ہمارے امام پر لگائے جاتے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ اس کے
متعلق بھی قرآن وحدیث سے باتیں مسلمانوں کو سمجھا دی جائیں گی۔
مگر افسوس ایک وعدہ بھی پورا نہ کر سکے اور نہ انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک پورا کر سکتے
٥
ہیں، اگر ان میں کچھ بھی شائبہ صدق ودیانت کا ہے تو جیسے ان امور مذکورہ کے ثابت کرنے کا وعدہ کیا ہے اور خود مدعی بھی ہیں ان کو ثابت فرمائیں اور مناظرہ کی تاریخ مقرر فرمائیں۔ ہم بھی اپنے علماء میں سے کسی کو تکلیف دیں گے ایک ایک حکم طرفین سے ہو اور ایک پنچ مسلم فریقین ہو اور گفتگو ہو جائے مگر ہماری وجدانی پیشین گوئی ہے کہ عبد الماجد قادیانی ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ ہزار طرح کی باتیں بنائیں گے مگر ان امور کو ثابت نہ کر سکیں گے الحمد للہ کہ حق واضح ہو گیا۔
اخیر میں مولانا انور حسین صاحب نے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے چند جھوٹ بیان فرمائے ہیں تمام قادیانی جماعت کیا قادیانی خلیفہ سے عرض ہے کہ ان جھوٹوں کو سچا ثابت کریں ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کذاب اور مفتری ہونے میں کیا تأمل ہے۔ مگر واضح ہو کہ اس میں بھی کسی قادیانی کا قلم نہیں اٹھ سکتا ”جف القلم بما هو کائن.“ ان کے قلم سر بریدہ اور دواتیں خشک ہو گئیں ہیں۔
ان جھوٹوں اور افتراؤں کی فہرست جن کو مولانا انور حسین صاحب نے بیان فرمایا تھا اور قادیانی خلیفہ نور الدین اور عبد الماجد قادیانی اور جملہ قادیانی مل کر بیان فرمائیں کہ جھوٹے کیسے سچے ہوں گے؟ اگر قادیانی جماعت اس کو ثابت نہ کر سکے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے مفتری اور کذاب ماننے میں کیا تأمل ہے؟ اس کا جواب ایک ہفتہ کے اندر ہونا چاہئے ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا کذب اور عبد الماجد قادیانی کا اپنے دعاوی سے فرار اظہر من الشمس ہو جائے گا۔
- ١............ اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٩ میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”مولوی غلام
دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا“ یہ صریح کذب ہے۔ فرمائیے کہاں اور کس کتاب میں لکھا ہے؟ دعاوی مرزا میں اس کے ثابت کرنے پر پانچسو روپے کا انعام بھی ہے۔
- ٢............ اخبار البدر ج ٢ نمبر ٥٢ ص ٥ ملفوظات ج ٩ ص ٩٩ میں لکھا ہے کہ ”جتنے لوگ مباہلہ
کرنے والے ہمارے سامنے آئے سب کے سب ہلاک ہوئے۔“
حالانکہ صوفی عبد الحق صاحب کے سوا کسی نے مباہلہ نہیں کیا اور وہ زندہ ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی ان کے سامنے مر گئے۔ قادیانیو! یہی ہے آپ کے متنبی کی صدق بیانی یا ثابت کرو ورنہ توبہ چاہئے۔
- ٣............ اربعین نمبر ٣ ص ١٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤ میں لکھا ہے ”یہ ضرور تھا کہ قرآن وحدیث
٦
کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں یہ لکھا تھا کہ مسیح جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔‘‘
مرزا کی وہ آیات قرآنی وحدیث نبوی کا حوالہ بتائیں جن میں یہ مضمون بالابیان کیا گیا ہے؟
- ٤.............. البدر مورخہ ٢٤ نومبر و یکم دسمبر ١٩٠٧ء ملفوظات ج ١٠ ص ٤٢٧ چشمہ معرفت ص ٢٨٦
خزائن ص ٢٩٩ ج ٢٣ میں ہے کہ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے“ قادیانی متنبی کی امت ! اپنے نبی کے الہام اور وحی اور صدق بیانی کو دیکھو یہ کس حدیث میں آیا ہے؟ بیان فرمائیے۔
- ٥.............. اشتہار مورخہ ١٢ اگست ١٩٠٧ء زیر سرخی ”عام مریدوں کے لئے ہدایت“ میں لکھا ہے
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں“ فرمائیے اب بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کہو گے۔ مسیح موعود مانو گے وہ کونسی حدیث ہے جس کا یہ مضمون ہے؟
- ٦.............. شہادت القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧ ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو
پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث سے کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ هذا خليفة الله المهدى ۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے“ اے قادیانیو! کچھ تو سوچو اور پہلے نہ سوچا تھا تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت وافضل الامۃ ہی نہیں بلکہ فخر الانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے؟ جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو، بخاری مسلمانوں کی ایک معروف و مشہور کتاب ہے تمام قادیانی مل کر اور جمع ہو کر بتائیں کہ کس بخاری اور کس باب میں حدیث ہے؟ اور اگر نہ بتا سکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیا دیر ہے؟ یہ تو وہ جھوٹ ہے جن میں نہ کوئی الہام ہو سکتا ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے نہ ”ويمحوا الله ما يشاء و يثبت “ کا پیچ چل سکتا ہے نہ بداء ولا یوفی ، کام دے سکتا ہے نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کر سکتا ہے۔ کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی؟ آخر خدا نے انسان بنایا ہے کچھ تو غور و فکر سے کام لو کیا مرنا نہیں ہے؟ کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو ’’من کثر سواد
قوم فهو منهم او کما قال“ سے ڈرو۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کی تائید نہیں کی بلکہ بیخ کنی کی ہے۔ مگر اسلام کا خدا حافظ ہے۔ چراغیکہ ایزد برفروزد الخ اگر توبہ قسمت میں نہیں ہے تو بس اب اشتہار بازی کا زور دکھاؤ اور ان چھ نمبروں کو سچا کر دکھاؤ اور اگر پروفیسر عبد الماجد قادیانی اپنے دعوٰی میں سچے ہیں تو ایچ پیچ کی بات نہیں بس اپنے پانچ نمبروں کو جن کے اپنے اشتہار میں مدعی بنے ہیں ثابت کر دیں ورنہ قرآن شریف کی وعید سے ڈرو۔
عام مسلمانوں کیلئے یہ چھ باتیں، ستہ ضروریہ، کے طور لکھ دی گئی ہیں اگر مرزائیوں نے ان کو ثابت نہیں کیا تو پھر اور کسی علمی بات کا نام نہ لیں ورنہ جو اس قدر صریح کاذب ہو اس کی اور کسی بات پر کس طرح وثوق ہو سکتا ہے؟
المشتهـــــــران
عبدالعزیز خان و عبدالوحید خان عفا اللہ عنہما معظم چک بھاگلپور یکم جنوری ١٩١٤ء مطابق ٣؍صفر ١٣٣٢ہجری
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ٭....... اگر بہروپیئے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل مطابق
اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو‘ فہم دیکھو‘ فراست دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
- ٭....... ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی
بھی زندہ نہ بچے ۔ حکومت کو چاہئیے کہ پکڑ پکڑ کر ان خبیثوں کو مار دے ۔
- ٭....... عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس کا
انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
٭.......٭.......٭
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٢)
عبدالعزیز خانؔ
عبدالوحید خانؔ
بسم الله الرحمن الرحيم
جلسہ بھاگلپور منعقدہ تاریخ ٢٤؍ نومبر ١٩١٣ء مطابق ٢٥ محرم ١٣٣٢ھ
میں جامع معقول و منقول مولانا مولوی ابوالخیر سید محمد انور حسین
بہولوی مونگیری پروفیسر ڈی جے کالج کے بیان کا خلاصہ
بتاریخ ٢٥ محرم جلسہ تاتار پور میں بعد نماز عصر آپ کا بیان شروع ہوا۔ آپ نے آیت کریمہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شىء عليما“ تلاوت فرمائی۔ پھر اس آیت کا شان نزول اور مطلب نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کر کے اس بات پر ایک مدلل تقریر فرمائی کہ مذکورہ بالا آیت بشہادت لغت و احادیث صحیحہ ختم نبوت پر قطعی نص ہے۔ سلسلۂ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوچکا ہے۔ آپؐ کے بعد تا قیام قیامت کسی قسم کا نبی، نبوت جدیدہ نہیں آسکتا اور جو شخص بعد آنحضرتؐ کے دعویٰ نبوت کرے وہ بحکم ”انه سيكون فى امتى دجالون ثلثون كذابون كلهم يزعم انه نبى الله انا خاتم النبيين لا نبى بعدى“
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥
ابواب الفتن)
دجال کذاب ہے۔ ایسے دجالوں کے قلع و قمع کرنے کے لئے ایک گروہ امت محمدیہ میں ابتدائے اسلام سے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ اس گروہ کے حق پر ہونے کی خود آنحضرت ﷺ نے شہادت دی ہے۔ نواب صدیق حسن خان علیہ الرحمۃ والمغفران نے اپنی
٢
کتاب ’’حجج الکرامہ فی آثار القیامہ‘‘ میں اپنے وقت تک کے جھوٹے مدعیان نبوت کا شمار ستائیس تک بیان کیا ہے۔ اٹھائیسویں شخص مرزا غلام احمد قادیانی ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مدعی نبوت بھی ہیں اور ان کی تالیفات میں متعدد اور صریح صریح جھوٹ بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی چند جھوٹی باتوں کو بیان کیا، منجملہ ان کے ایک یہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اربعین نمبر ٣ ص ١٧۔ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤ میں لکھتے ہیں۔ ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا ۔‘‘ حاضرین کو اربعین کا نمبر و صفحہ مذکورہ دکھلا کر یہ کہا کہ جو قرآن مجید مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اس میں تو اس پیشین گوئی کا نام ونشان تک نہیں ہے اور صحاح ستہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں پائی جاتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے کاذب بلکہ مفتری علی اللہ والرسول ہونے کے لئے یہی ایک مثال کافی ہے مگر ایک اور صریح جھوٹ یہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اربعین نمبر ٣ ص ٩ ۔ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤ میں لکھتے ہیں۔ ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا ۔‘‘ تین برس سے زیادہ ہو گیا کہ مرزائیوں کو چیلنج دیا گیا تھا کہ مولوی غلام دستگیر اور مولوی اسمعیل دونوں کی کتابوں میں مذکورہ بالا مضمون دکھلا دیں تو مبلغ پانچ سو روپیہ انعام لیں۔ مگر آج تک کسی مرزائی کو ہمت نہ ہوئی کہ اپنے پیر و مرشد کو سچا ثابت کر کے انعام حاصل کرے۔ کیا ان مثالوں کے بعد بھی کوئی راستباز مرزا غلام احمد قادیانی کے مذکورہ بالا حدیث کے مصداق ہونے میں شبہ کر سکتا ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔
پھر یہ بیان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ بھی محض غلط ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کی امت میں سلسلہ نبوت جاری رہا، اسی طرح آنحضرتؐ کی امت میں بھی سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔ اس لئے کہ آیۂ کریمہ ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاهدا عليكم كما ارسلنا الی فرعون رسولا ۔‘‘ (المزمل ١٥) میں تشبیہ نفس ارسال میں ہے۔ نہ مرسل میں جیسا کہ فاذکروا الله كذكركم ابائكم او اشد ذكرا۔ (البقرة ٢٠٠) میں
تثنیہ نفس ذکر میں ہے نہ مفعول میں۔ پھر صحیح بخاری (باب ذکر عن بنی اسرائیل ص ٤٩١ ج ١) کی ایک حدیث نے اس مطلب کو صاف طریقہ سے ثابت کر دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے دنیاوی اور مذہبی امور کی سیاست انبیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی ہلاک ہوتا تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور چونکہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس لئے ہماری امت میں خلفاء کا سلسلہ رہے گا۔ یہ حدیث اس بارے میں نص صریح ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ آنحضرت کی اس پیشین گوئی کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق سے لے کر اس وقت تک امت محمدیہ میں خلافت کا سلسلہ قائم ہے اور آخر وقت تک قائم رہے گا اگر خلفاء کو نبی کہنا جائز ہوتا تو خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم) اس لقب کے زیادہ مستحق تھے۔ مگر حدیثوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کو نبی کہنا جائز نہیں۔
مولانا کا یہ بیان قبل مغرب ختم ہوا حاضرین جلسہ اس بیان سے بہت محظوظ اور منتفع ہوئے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
پھر حسب خواہش حاضرین جلسہ بعد مغرب مولوی صاحب نے سورہ والعصر کا وعظ بیان فرمایا اور اسی ضمن میں عبد الماجد قادیانی کے رسالہ القاء ربانی صفحہ ٣ سے مکتوبات مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی ان عبارتوں کو سنا کر جو قادیانی مربی نے نقل کی ہیں انہیں عبارتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کو غلط ثابت کر دکھایا اور یہ بھی کہا کہ قادیانی مربی نے ان عبارتوں میں سے کسی کے پہلے کی عبارت اور کسی کے بعد کی عبارت حذف کر دی ہے اور یہ بات دیانت کے محض خلاف ہے۔ پھر بتاریخ ٢٧ محرم روز جمعہ موضع جتا نگر کے جلسہ میں عصر سے مغرب تک مولانا کا بیان ہوا۔ آپ نے سورہ بقرہ کا پہلا رکوع تلاوت فرما کر قرآن مجید کا اعجاز بحیثیت فصاحت و بلاغت اور بحیثیت تعلیمات و ہدایات بیان کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کی اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کی حقیقت ظاہر کی اور القاء ربانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک اردو عبارت سنا کر یہ کہا کہ جو شخص باوجود ہندی ہونے کے اردو عبارت لکھنے میں ایسی ایسی صریح غلطیاں کرے وہ شخص فصیح و بلیغ عربی کیا لکھ سکتا ہے؟ علمائے اسلام نے ان کی عربیت کی بھی پوری خبر لی ہے انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا جواب شائع ہوگا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عربیت کس پایہ کی ہے؟
٤
پھر آپ نے آیت کریمہ ”یا عیسٰی انّی متوفیک ورافعک الیّ ۔“ (آل عمران ٥٥) تلاوت فرما کر اس کا مطلب واضح طور پر بیان کر کے یہ کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ”توفی“ کو موت ہی کے معنی میں منحصر سمجھنا محض غلط ہے۔ لغت میں ”توفی“ کے اصلی اور وضعی معنی، اخذ الشیء وافیا۔ کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے، سلا دینا۔ موت، تعداد، وصولی قرض، اٹھا لینا اس کے انواع ہیں، تفسیر کبیر (جز ٨ ص ٧٢) میں صاف لکھا ہے کہ ”متوفی“ کا لفظ صرف حصول ”توفی“ پر دلالت کرتا ہے اور ”توفی جنس“ ہے اس کے تحت میں انواع ہیں۔ بعض موت کے ساتھ اور بعض آسمان پر اٹھائے جانے کے ساتھ۔ ”متوفیک“ کے بعد ”رافعک الی“ فرمانا تعیین نوع کے لئے ہے اس میں تکرار نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں ”توفی“ سے ”رفع“ مراد ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اس پر بڑا زور ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے ”متوفی“ کی تفسیر ”ممیت“ فرمائی ہے میں کہتا ہوں کہ یہ تفسیر کسی طرح ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہے۔ اس لئے کہ درِّ منثور ج ٢ ص ٣٦ میں بروایت صحیح حضرت ابن عباسؓ سے یہ ثابت ہے کہ آپ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں ”رافعک الیّ ثم متوفیک فی آخر الزمان.“ یعنی حضرت ابن عباسؓ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں۔ کہ میں آپ کو اٹھا لینے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں۔
علاوہ اس کے مرزا غلام احمد قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٢٦١ جلد دوم خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) میں لکھتے ہیں کہ ”مات کے معنی لغت میں نَامَ کے بھی ہیں“ تو اس رو سے ”اماتت“ کے معنی سلا دینا ہوا اور ”ممیت“ ”اماتت“ کا اسم فاعل ہے تو ”ممیت“ کے معنی ہوا سلا دینے والا۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میں آپ کو سلا دینے والا ہوں پھر اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں۔ تفسیر خازن ج ١ ص ٢٥٥ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں اٹھا لیا تا کہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو۔ پس مرزا غلام احمد قادیانی کے بیان کی رو سے بھی اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں ”توفی“ کے معنی سلا دینا ہی ہے ”جو ھو الذی یتوفّٰی کم بالیل“ (الانعام ٦٠) خدا وہ ہے جو تم کو سلا دیتا ہے رات کو اور جب قرآن مجید میں ”توفی“ کے
٥
معنی سلا دینا موجود ہے تو پھر ”متوفی“ کے معنی سلا دینے والا لینے میں کون سا مانع ہے؟ مولانا کے اس بیان کو حاضرین جلسہ نے بہت جی لگا کر سنا اور بہت ہی محظوظ و مسرور ہوئے۔ فجزاہ اللہ عنا وعن سائر المسلمين خيرالجزاء.
خدا کا شکر ہے کہ دونوں جلسے نہایت ہی کامیابی کے ساتھ ختم ہوئے فقط
المشتہران عبدالعزیز خان و عبدالوحید خان عفی اللہ عنہما معظم چک بھاگلپور ١٥؍ جنوری ١٩١٤ء مطابق ١٧؍ صفر ١٣٣٢ھ
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ﴾﴿ ............... یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مراقی مسیحیت کے
کرشمے ہیں کہ وہ خود بخود پیدا ہو کر مسیح ابن مریم بن گیا۔
- ﴾﴿ ............... ہر قادیانی کے منہ پر ایک لعنت برستی ہے جس کو
اہلِ نظر فوراً پہچان لیتے ہیں۔
- ﴾﴿ ............... زندیق ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کا دعویٰ
کرتا ہو مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو۔
٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٣)
عبد الوحید خان
بسم الله الرحمن الرحيم
صحیفہ تبلیغیہ نمبر ١ کا اجمالی جواب
صحیفہ تبلیغیہ میں عبد الماجد قادیانی نے جو عنایت میرے حال پر فرمائی ہے۔ میں اس کا ممنون ہوں۔ اعلان حقانی میں حَکَم سے فیصلہ محض اس بنا پر چاہا ہے کہ میری حقانیت اور تحقیق نے مجھے یقین دلایا کہ آپ نے نہایت صریح امر حق کو پوشیدہ کرنا چاہا ہے اور محض غلط اور باطل باتوں کو عوام کی نظر میں عمدہ اور حقانی دکھانا چاہا ہے۔ اس لئے میری خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ عوام پر اسے ظاہر کردوں۔ اس کی سبیل اس سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتی کہ جلسہ میں حَکَم کے روبرو اس کا اظہار ہو اور جو حضرات خود رسالہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کر سکتے اور ان کی غلطیوں اور قصدی فروگذاشتوں پر واقف نہیں ہو سکتے۔ (اور اکثر ایسے ہی حضرات ہیں) وہ بھی سمجھ لیں اور امر حق سب پر ظاہر ہو جائے۔ چونکہ مجھے مسلمانوں کی خیر خواہی منظور ہے۔ اس لئے مجھے اس میں بھی عذر نہیں کہ آپ کا کوئی شاگرد سامنے آئے۔ مگر اس قدر لیاقت رکھتا ہو کہ اگر کوئی علمی بات آجائے تو سمجھ سکے فیصلہ آسمانی اور القاء میں جو کچھ ہے اسے بھی سمجھتا ہو۔ اگر آپ کا کوئی شاگرد ایسا ہو جو ان امور کی قابلیت رکھتا ہو اور میں بھی اسے جلسہ میں جانچ لوں اور وہ آپ کی طرف سے وکیل ہو۔ یعنی اس کا
٢
عجز آپ کا عجز ہو تو بسم اللہ میں حاضر ہوں اب دیر نہ ہونا چاہئے اور حضرت مؤلف (آسمانی فیصلہ) عم فیضہم کی نسبت میں زیادہ نہیں کہتا صرف اس قدر کہتا ہوں کہ جناب خلیفۃ المسیح اپنے سکوت کا جو عذر پیش کر سکتے ہیں۔ یا آپ کے خیال میں ہو وہی یہاں بھی سمجھ لیجئے۔ زیادہ گفتگو نہ کیجئے۔
الراقم عبداللطیف رحمانی
صحیفہ مذکورہ کا
تفصیلی جواب
اعلان حقانی میں یہ کہا گیا تھا کہ ”القاء“ واقعی فیصلہ آسمانی کا اگر جواب ہے تو عبد الماجد قادیانی مصنف القاء نے اس ایک ہزار روپے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جس کا فیصلہ کے جواب لکھنے پر وعدہ کیا گیا تھا؟ اس سے کافی شہادت اس امر کی ملتی ہے کہ قادیانی مربی کے نزدیک بھی ”القاء“ فیصلہ کا جواب نہیں ہے گو عوام کے دکھلانے کو ”القاء“ پر لکھ دیا گیا ہے کہ فیصلہ آسمانی کا جواب ہے اور اگر قادیانی مربی موصوف کو دیانتاً اپنے جواب پر کامل وثوق ہے تو اس کے لئے طرفین سے حَکَم مقرر ہو جو یہ فیصلہ کرے کہ فیصلہ آسمانی کا یہ جواب ہے یا نہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ قادیانی جماعت زبانی تو بہت کچھ باتیں بناتی ہے اور کاغذی اوراق دستے کے دستے سیاہ کر ڈالتی ہے لیکن حَکَم کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کرتی۔ چنانچہ صحیفہ تبلیغیہ نمبر ١ کے صفحہ ٧ میں بھی قادیانی مربی موصوف نے حَکَم کے سامنے آنے سے گریز کیا۔ وہ اسی کے صفحہ ٥ سطر ٩ میں لکھتے ہیں (کسی حَکَم کے ہونے کی ضرورت نہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا فیصلہ بلا حَکَم کے ہو نہیں سکتا۔ اس لئے کہ فریقین میں جب نزاع ہو تو کوئی فریق اپنے دعوے کو خلاف راستی نہیں کہتا بلکہ ہر فریق اپنے کو راہ مستقیم پر سمجھتا ہے اور حَکَم ہی ان دونوں میں حق و باطل کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر قادیانی مربی منشی قاسم علی قادیانی کے فیصلہ کے بعد غالباً بہت خائف ہو گئے ہیں۔ خصوصاً عبد الماجد قادیانی
٣
کے سامنے نہ آنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ القاء میں بہت کچھ حوالوں اور نقل میں دیدہ ودانستہ کتر بیونت اور بد دیانتی کی گئی ہے اور اب کسی مرزائی کو اہل حق کے سامنے آنے کی ہمت و جرات نہیں ہوتی اور ظاہر ہے کہ اہل ہویٰ کبھی اہل حق کے سامنے نہیں آسکتے اور قادیانی مربی کا گریز اس کی روشن شہادت ہے۔
ناظرین! یہ ہر شخص کا اعتقاد ہے کہ حق بات کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا اور جو امر قرآن ، حدیث، اقوال صحابہ اور ائمہ اور تمام سلف کے اتفاق سے ثابت ہے وہ بلاشبہ حق ہے اور چونکہ فیصلہ آسمانی میں جو بات لکھی گئی ہے وہ ایسی ہی ہے جس کی شہادت قرآن وحدیث و صحابہ اور ائمہ اور سلف صالحین نے دی ہے۔ اس لئے اگر یہ کہا گیا کہ وہ لاجواب ہے تو اس میں کسی مسلمان کو کیا تردد ہو سکتا ہے؟ باقی رہا قادیانی مربی کا یہ فرمانا کہ اس میں سو سے زائد غلطیاں ہیں اسی کے لئے تو میں چاہتا ہوں کہ مربی صاحب حَکم مقرر کر کے اس کو ثابت فرمائیں ورنہ محض کہنے یا لکھنے سے تو کام نہیں چلتا۔ ان كنتم في ريب فادعواشهداء كم ان كنتم صادقين فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا ۔ جس وقت مقابلہ ہوگا، اس وقت روشن ہو جائے گا کہ ان غلطیوں کے بیان میں قادیانی مربی نے کس قدر غلط بیانیاں کیں ہیں اور عوام کو دھوکہ دیا ہے؟ ناظرین قادیانی مربی کا مرزا غلام احمد قادیانی کی محبت میں یہ حال ہوگیا ہے کہ اب ان کو وہ مضامیں بھی نظر نہیں آتے جو کلام پاک میں کثرت سے جا بجا وارد ہیں کیا قادیانی مربی ایمان سے خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ ارشاد خداوندی نہیں ہے۔
- ١........... ومن يضلله فلا هادى له
- ٢........... اذا اراد الله شيئاً ان يقول له كن فيكون.
شاید قادیانی مربی کو یہ دھوکہ ہوا ہے کہ وہ بعینہ ان الفاظ کو قرآن کے الفاظ سمجھتے ہیں بے شک یہ الفاظ بعینہ قرآن میں نہیں ہیں لیکن فیصلہ میں یہ نہیں کہا گیا بھلا یہ تو فرمائیے کہ يسعد ولا يوقی ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے کہاں لکھا ہے جو آپ کے خلیفہ اور ان کے پیروان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ پھر ایسی حالت میں کیا قادیانی مربی کا یہ کھلا اور ظاہر جھوٹ نہیں؟ ہاں ! ذرا یہ تو فرمائیے کہ فیصلہ آسمانی میں یہ کہاں ہے کہ ”اذا اراد اللّٰہ شیئاً فیقول لہ کن فيكون“ ہرگز ہرگز فیصلہ میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ یہ آپ کا سفید جھوٹ ہے اگر آپ فیصلہ آسمانی میں اس طرح پر دکھلا دیں تو میں روپے انعام دوں ورنہ اپنے کذب کا اقرار کریں۔ ہاں ذرا اس
٤
کا بھی جواب دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ضرورۃ الامام صفحہ ٥ میں لکھتے ہیں ”قرآن شریف میں فرمایا گیا ”وکانوا یستفتحون من قبل“ فرمائیے اس طرح پر قرآن شریف میں کہاں ہے؟ ہرگز ہرگز اس طرح پر قرآن شریف میں نہیں ہے۔ پھر ضرورۃ الامام صفحہ ٣١ میں لکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اللہ یعلم حیث یجعل رسالۃ“ اس طرح پر قرآن مجید میں ہرگز نہیں ہے غرضیکہ ان چار غلطیوں کا جواب قادیانی مربی تجویز کریں وہی جواب ادھر سے بھی سمجھ لیں۔ اسی صحیفہ کے صفحہ ٢ میں قادیانی مربی لکھتے ہیں اب مونگیر بھاگلپور میں سلسلہ احمدیہ کی ترقی دیکھ کر خدا جانے قادیانی مربی کو کیا خیال ہوا اور کس مصلحت سے مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔
یہاں تو قادیانی مربی بہت ہی بھولے اور انجان بن گئے۔ اے جناب مصلحت اور خیال اگر آپ کو نہیں معلوم تو مجھ سے سنئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اربعین میں مولانا مدظلہ کو مخاطب تو کیا مگر کتاب نہیں بھیجی۔ جب مونگیر میں یہ فتنہ پھوٹ پڑا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں پر نظر پڑی تو اس کا ابطال شروع کر دیا گیا اور اہل حق کا ہمیشہ سے یہ کام رہا ہے اور یہی شارع علیہ السلام کا حکم ہے کہ ضلالت اور بدعت کی دنیا میں جب اشاعت اور ترقی ہو تو ہمہ تن وہ اس کی مخالفت کریں اور اس کے مٹانے کی کوشش کریں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ آپ اتنا بھی نہیں جانتے یا دیدہ و دانستہ بھولے بنتے ہیں۔ قادیانی مربی نے صحیفہ میں یہ بھی شکایت کی ہے کہ جناب مسیح کی حیات کے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا۔ واقعی یہ شکایت آپ کی بجا ہے لیکن وجوہ ذیل سے آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے سے معذوری ہوئی۔
- ١............ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ مسئلہ محض عوام کے فریب دہی کے لئے چھیڑا ہے جس کو مرزا
غلام احمد قادیانی کے دعویٰ سے تعلق نہیں ہے۔ یعنی اگر ممات مسیح ثابت بھی ہو جائے تو محض اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے بعد بھی اپنے دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوگی۔ پھر ایسی حالت میں ایسے بے تعلق مسئلہ میں پڑنا بے سود سمجھا گیا۔
- ٢............ جب مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنے قول کے مطابق اپنے دعویٰ میں کاذب ٹھہرے تو
ایسی حالت میں کسی ذی عقل کو دوسری طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔ بلکہ محض ان کے اقوال ہی کا (یعنی جھوٹی پیشین گوئی) کا نقل کر دینا کافی ہے اور اسی بنا پر فیصلہ آسمانی میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب کا معیار ان ہی کی پیشین گوئی کو قرار دیا ہے اور یہ محض اس لئے کہ قادیانی جماعت کو پھر حجت باقی نہ رہے۔ کیونکہ ان کے مقتدا کا قول ان کے لئے نہایت تشفی بخش ہوگا۔ یہ اسلوب فیصلہ
٥
آسمانی میں محض مرزائی جماعت کی اور آپ کی خاطر اختیار کیا گیا اور یہ بھی لحاظ کیا گیا کہ ایسی بات ہو جسے عوام بھی سمجھ لیں کہ واقعی مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنے اقرار سے کاذب ہیں۔
٣............ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے ”شہادۃ القرآن“ نہایت عمدہ اور محقق رسالہ عرصہ ہوا مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ہی اس بارہ میں لکھ کر شائع کیا ہے۔ اس میں دو باب ہیں۔ پہلے باب میں صرف قرآن مجید سے حضرت مسیح کا زندہ اٹھایا جانا اور ان کا زندہ رہنا ثابت کیا ہے۔ دوسرے باب میں ان دلیلوں کو غلط ثابت کیا ہے جن سے مرزا غلام احمد قادیانی نے ممات مسیح ثابت کی تھی، مگر نہ مرزا غلام احمد قادیانی کی خود ہمت ہوئی اور نہ اس وقت تک کسی مرزائی نے اس کا جواب دیا۔ مولوی صاحب ممدوح مونگیر میں تشریف لائے اور نہایت دعوے کے ساتھ وعظ میں حیات مسیح کو ثابت کیا۔ مگر کسی کی جرأت تو نہیں ہوئی کہ سامنے آ کر کچھ کہتا اس وقت عبد الماجد قادیانی بھی مونگیر میں موجود تھے۔ جب ایک عمدہ صحیح رسالہ اس بحث میں موجود ہے اور برسوں سے شائع ہو رہا ہے اور اس کے مصنف خاص مونگیر میں مرزائیوں کے نہایت قریب اس کے مضمون کو بیان کیا اور سامنے آنے کی کسی مرزائی کو جرأت نہ ہوئی تو نہایت ظاہر ہے کہ اب اس بحث میں کچھ لکھنا فضول ہے۔ پہلے اس کا جواب دیجئے پھر کچھ زبان سے نکالئے۔
قادیانی مربی صاحب! اگر فیصلہ آسمانی سے بالفرض پانچ چھ لاکھ کے دل ہلے ہیں، تو یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر اور دعاوی اور انبیاء کی توہین اور خدا اور رسول پر افتراء کرنے سے روئے زمین کے تینتیس کروڑ مسلمانوں کے دل ہلے اور آسمان و زمین میں لرزہ پڑ گیا۔ اس کے بعد آپ نے جو کچھ ایک بزرگ کی شان میں بے ادبی کی اور ایک معمولی شخص سے بہت کچھ کرائی۔ اس کی وجہ سے جس قدر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا ان کی تعداد مرزا غلام احمد قادیانی کے مریدوں سے بہت زیادہ ہے جن میں علماء کثرت سے ہیں۔ افسوس ہے کہ اس کا آپ کو خیال نہ ہوا اور چند مٹھی بھر جماعت کا خیال کیا جن کی تعداد محض غلط آپ پانچ لاکھ بیان کرتے ہیں۔
قادیانی مربی صاحب! اگر آپ اپنے اس دعوے میں صادق ہیں کہ وحی الٰہی اور دیگر شواہدات اور بالخصوص حضور پرنور محمد مصطفیٰ ﷺ کی شہادت نے مرزا قادیانی ہی کو اس منصب کے لئے متعین کیا ہے تو مہربانی فرما کر اسے ثابت کیجئے اور بس اسی پر قصہ ختم ہے اور فیصلہ ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آپ کبھی ثابت نہ کر سکیں گے اور نہ آپ کی جماعت نے کبھی ثابت کیا ہے اوراق سیاہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہوگا معیار صداقت میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے سے خدا اور
٦
رسول کو چھوڑنا ہوگا۔ اگرچہ بالکل صحیح ہے جس پر ہر مسلمان کا دل گواہ ہے لیکن اس رسالہ نے قادیانی جماعت پر البتہ بڑا ستم کیا ہے اور اس کے حق میں زہر ہلاہل کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس کے نورانی صفحات سے ان کے دجل کی سیاہی کا پردہ چاک ہو گیا۔ رہا لارڈ ہیڈلی کا اسلام لانا انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد ناظرین اس کی حقیقت سے بھی واقف ہو جائیں گے کہ ان کے اسلام کی بنا محض ان کی اپنی تحقیقات ہے تقریباً وہ بیس برس سے مسلمان ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی تو اب گئے ہیں ان کا کچھ اثر ان پر نہیں ہوا اور کیوں مولانا یہ تو فرمائیے کہ لارڈ ہیڈلی کے قبل جو اسلام لائے ہیں اس میں کس کی سعی ہے کیا وہ بھی قادیانی جماعت ہی کی طرف منسوب ہے؟ اور جاپان میں جو لاکھوں مسلمانوں کی تعداد ہو گئی ہے وہاں بھی کوئی قادیانی پہنچا ہے؟ ذرا شرم کیجئے اور بے پر کی نہ اڑائیے۔ اس صحیفہ میں قادیانی مربی لکھتے ہیں کہ ہم نے پانچ خط حضرت قبلہ عالم مولانا محمد علی صاحب عم فیضہم کی خدمت میں لکھ کر مصنف فیصلہ آسمانی کا نام دریافت کیا لیکن حضرت ممدوح نے اپنا نام ظاہر نہیں فرمایا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اس الف لیلہ کے قصہ سے قادیانی مربی کی کیا غرض ہے اے حضرت! آپ کو مصنف کے نام کے دریافت کا کیا حق ہے اور آپ دریافت کرنے والے ہوتے کون ہیں اور ہم کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایسے جعفر زٹلی کی تحریر کا جواب دیں؟ اسی بنا پر ممکن ہے کہ حضرت ممدوح نے اس طرف توجہ نہ فرمائی ہو۔
قادیانی مربی صحیفہ میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ نصرت یزدانی اور برق آسمانی موجب ازدیاد مادہ طاعون ہو چکا تھا۔ قادیانی مربی یہ تو آپ نے بہت ہی صحیح فرمایا۔ ناظرین ذرا اس طرح متوجہ ہو جائیے اور اسے خوب یاد رکھئے کہ اب بقول قادیانی مربی بھی قادیانی جماعت کی کتابیں مسلمانوں کے حق میں مادہ طاعون ہیں۔ پھر کیا مسلمانوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ اس وبا اور طاعونی بلا کی سیاہی کو دور کریں اور کثرت استغفار اور لاحول سے اس کثافت و نجاست سے صفائی اور پاکی حاصل کریں۔ مربی صاحب! ایک مولوی ابوالحسن مرحوم کیا ہزاروں ہزار اہل اسلام کے لئے آپ کی جماعت کی کتابیں اور تحریریں غم و ہم کا باعث ہوئیں۔ بھلا کون خدا پرست دیندار ہوگا جس کا دل حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت سید الشہداء جناب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین سے پاش پاش نہ ہو جائے گا اور اس کو سن کر مر نہ جائے گا؟ کیا عجب ہے کہ اسی بنا پر مرزائی جماعت کو مسیح علیہ السلام کی موت کا یقین ہو گیا ہے کہ مولوی ابوالحسن کی طرح اس مادہ طاعونی نے حضرت مسیح پر بھی اثر کیا ہے۔ مسیح کاذب کے مصنف کی اس پیشین گوئی کی تصدیق کہ آپ فیصلہ کا
٧
جواب نہیں دے سکتے۔ آپ کے القاء سے پوری ہوگئی کیا القاء کے دیکھنے کے بعد بھی کسی انصاف پرست کو اس میں شک رہے گا کہ فیصلہ کا جواب آپ کی طاقت سے باہر ہے؟ اور کچھ کم دو سال کی مدت تک قادیانی جماعت کے تمام افراد نے سر سے پیر تک زور لگایا اور ناکوں پسینہ آیا لیکن اب تک ان سے جواب نہ ہوسکا۔
ناظرین! معلن اعلان حقانی نے اگر حکم کے ذریعہ سے فیصلہ چاہا تو اس میں نہ کوئی شرعی جرم ہے۔ نہ عقلی، نہ عرفی، پھر معلوم نہیں کہ عبدالماجد قادیانی کس لئے اس پر اس قدر برا فروختہ اور غضبناک ہو کر ناظرین صحیفہ سے دریافت فرماتے ہیں۔ (کیوں ناظرین معلن صاحب کون ہوتے ہیں؟) قادیانی مربی آپ کے ناظرین صحیفہ معلن صاحب کو نہیں بتا سکتے ان کی ہم سے پوچھئے اور ان کی حالت ہم سے سنئے۔ جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب معلن اعلان ان اہل کمال اور ارباب فضل سے ہیں جن کی نظیر اس زمانہ میں بہت کم ہے جن کے حلقہ درس سے سینکڑوں طلبہ سند فضیلت پا کر آج مسند درس پر ممتاز ہیں۔ اسی صوبہ بہار میں بہت علماء ہیں۔ جنہوں نے مولانا ممدوح کے دامن فیض میں تربیت پائی ہے اور معقول تنخواہ پاتے ہیں۔ علامہ ممدوح عرصہ تک ندوۃ العلماء میں جہاں بڑے بڑے علماء کا مجمع تھا مفتی تھے اور ان ہی کا فتویٰ جاری تھا اور اسی کے ساتھ دارالعلوم ندوہ میں طلبہ کو تعلیم بھی دیتے تھے اس کے بعد مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں عرصہ دراز تک صدر مدرس رہے جہاں قازان، روس، بخارا، حجاز، کوفہ، بصرہ، ہندوستان وغیرہ کے طلبہ ان سے مستفیض ہوتے رہے اور اس وقت تک جناب مفتی صاحب کے لئے ہر طرف سے طلبی کے خطوط آ رہے ہیں اور اہل مدارس نہایت متمنی ہیں اور سو روپے مشاہرے دیتے ہیں، لیکن مفتی صاحب نے ان تمام پر خاک ڈال کر حضرت قبلہ عالم جناب مولانا سید محمد علی صاحب (مونگیری) کے فیض صحبت کو اپنے لئے فلاح دارین سمجھا اور اپنا سرمایہ سعادت جانا اور اسی لئے وہ اب اس آستانہ عالی پر پڑے ہوئے ہیں اور عبدالماجد قادیانی تو شاید اردو فارسی اور کچھ معمولی عربی پڑھانے کے لئے پچاس ساٹھ روپے پاتے ہیں جس سے زیادہ مفتی صاحب کے شاگرد پاتے ہیں۔ اب ناظرین انصاف فرمائیں کہ عبدالماجد قادیانی کی یہ بے نیازانہ اداء اور یہ دریافت فرمانا کہ معلن صاحب کون ہوتے ہیں کیسی غضب کی بات ہے؟ اور اس پر طرہ یہ ہے کہ جناب مفتی صاحب کے سامنے آتے ہوئے انہیں حجاب اور شرم آتی ہے اور اس کے لئے اپنے شاگرد کو پیش کرنے کو فرماتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا قادیانی مربی نے آج تک کسی
٨
مدرسہ میں تعلیم دی ہے یا نہیں اور اردو فارسی اور کچھ عربی کے سوا تمام کتب درسیہ پڑھائی بھی ہیں یا نہیں؟ اگر قادیانی مربی کو اس کا ادعا ہے تو وہ مہربانی فرما کر ان شاگردوں کا نام تو لیں جو آپ کے حلقہ درس سے سند فراغ حاصل کر چکے ہیں۔ اگر ہماری واقفیت میں غلطی نہ ہو تو میں کہہ سکتا ہوں کہ قادیانی مربی ایک شاگرد بھی ایسا نہیں پیش کر سکتے ہاں کہنے اور لکھنے کے لئے میدان نہایت وسیع ہے مگر عمل کی جگہ صفر ہے۔ ہاں قادیانی مربی ایک بات مجھے اور آپ سے عرض کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ حضرت قبلہ عالم جناب مولانا سید محمد علی صاحب سے مباحثہ کے آرزومند ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ اس سودائے خام کا منشا کیا ہے؟ شاید آپ کا خیال ہوگا کہ جس طرح آفتاب عالمتاب کی شعاعوں سے ذرات چمکنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی آپ بھی اس فضل و کمال اور صلاح اور تقویٰ زہد و ورع کے آفتاب کی چمکتی دمکتی شعاعوں سے ذرات کی طرح چمک اٹھیں گے۔
ہمیں تعجب ہے کہ آپ باوجود یکہ حضرت مولانا ممدوح کے رفعت شان اور علوّ مقام سے واقف ہیں کہ آج جناب ممدوح کے فیوضات ظاہری اور باطنی سے تمام اہل ہند بلکہ اہل عرب، عجم، چین، و قاذان وغیرہ مالا مال ہیں اور اس وقت یہی ایک آفتاب ہدایت ایسا ہے جس کے کمالات ظاہری و باطنی کی شعاعوں سے دنیا کا اکثر حصہ منور ہے۔ آپ کے رشد و ہدایت و فیوض و برکات کی مثال کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ آپ کے حلقہ ارادت کا دائرہ مشرقی بنگال چاٹگام سے لے کر احاطہ بمبئی تک اور کابل و غزنی سے افریقہ اور حجاز (بہت تھوڑے دن گزرے ہیں کہ مسجد الحرام مسجد نبوی کے نہایت معزز امام اور خطیب ابوبکر حماد مرید ہو کر گئے ہیں اور ان کے خطوط آتے ہیں) عرب تک پھیلا ہوا ہے خصوصاً اضلاع پٹنہ و مونگیر و گیا و بھاگلپور مظفر پور و دربھنگہ و پورنیہ وغیرہ وغیرہ میں بہت ہی کثرت آپ کے غاشیہ برداروں کی ہے، اور خدا کے فضل سے ان کا تدین و تورع اس پُرفتنہ زمانہ کے باوجود بہت ہی غنیمت ہے۔ ان مقامات میں نظر اٹھا کر دیکھئے کہ وہاں کے مسلمانوں کی اصلاح جس خوش اسلوبی سے کی گئی اس کی مثال ہمارے پیش نظر نہیں معلوم ہوتی۔ سینکڑوں شرابی و نشہ باز و بے نمازی ہزاروں آوارہ منش جن کی عمر فسق و فجور و حرکات شنیعہ میں صرف ہوئی اور ان کی اوقات منہیات و ملاہی میں صرف ہوئی وہ حلقہ ارادت میں آتے ہی کیسے دیندار ہو گئے اور کس قدر پابند شریعت بن گئے اور ان میں کیسی صلاحیت پیدا ہو گئی کہ ان کی اگلی حالت پر نظر کرنے سے غرق حیرت ہونا پڑتا ہے اور ان ہی علاقوں میں طرح
٩
طرح کے شرک اور رسوم بدعت کا بازار گرم تھا اور ان کی تعزیہ پرستی جو نہایت تشدد کے ساتھ تھی اور وہ اس میں ایسے منہمک اور مستعد تھے کہ ان مراسم اور دوسرے فضولیات مروجہ کے روکنے والے اور منع کرنے والے واعظین اور مولویوں کو برا بھلا کہہ کر اپنے گاؤں میں ٹھہرنے نہیں دیتے تھے اور ان کی باتیں سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اب ان کی حالت ناگفتہ بہ کی کیسی کایا پلٹ ہوگئی؟ اور ماشاء اللہ ان بدعات وفضولیات سے سچے تائب ہو کر راہ راست پر آگئے اور اچھے خاصے دیندار بن گئے۔ یہ ہے آپ کی توجہ کاملہ کا اثر اور آپ کی اسلامی تعلیم کا نتیجہ۔
آج حضرت مولانا کے حلقہ بگوشی میں بڑے بڑے نامی اور مقتدر صاحب فضل و کمال داخل ہیں جو کہ اپنی اپنی جگہ پر بجائے خود مقتداء اور مجدد وقت ہیں مولانا حکیم عبدالباری صاحب مرحوم جو مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور جن کی نسبت مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی شخص ایسا ذہین اور مستعد ہمارے حلقہ درس میں نہیں آیا اور غالباً آپ کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا۔ پھر دیکھئے کہ آخر میں حکیم صاحب مرحوم کس ذوق وشوق سے خدام حضرت والا کے حلقہ میں داخل ہوئے اور اس کو اپنا سرمایہ سعادت سمجھا۔ اب ایسی حالت میں آپ کی ایسی جرأت اور دلیری کا باعث اندرونی تاریکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے علاوہ اس کے ایسی خواہش کا آپ کو کیا حق ہے؟
فیصلہ آسمانی میں علامہ ممدوح (حضرت مونگیریؒ) نے خلیفہ جی نورالدین قادیانی کو اصل مخاطب بنایا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ خلیفہ قادیانی مولوی نورالدین ساکت ہیں آپ اگرچہ چند اوراق سیاہ کر کے پانچویں سواروں میں داخل ہوگئے مگر قادیانی خلیفہ نے تصدیق کیوں نہ کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بددیانتیوں کی شہادت ان کا دل بھی دے رہا ہے۔ باقی رہا آپ کا یہ فرمانا کہ فیصلہ اور القاء کو پڑھو جس سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی کی پیشینگوئی منہاج نبوت پر پوری ہوئی وغیرہ وغیرہ۔
جناب والا! اسی لئے تو آپ سے گزارش ہے کہ ”القاء“ کے مضامین کو حَکَم کے سامنے پیش کیجئے تو اس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اپنے اس دعویٰ میں کہاں تک صادق ہیں اور فیصلہ آسمانی کو آپ نے سمجھا ہے یا نہیں؟ مرزا قادیانی کے معیار پر جن مدعیان نبوت کو فیصلہ میں موٹے حرفوں سے لکھ کر پیش کیا ہے۔ جب وہی آپ کو نظر نہیں آئے تو اس کے مضامین عالیہ و دقیقہ تک آپ کی ذہن نارسا کی رسائی معلوم؟ اور اس پر ادعا یہ کہ ہم خود مصنف سے مباحثہ کریں گے سچ ہے۔ مصرعہ بے حیاء باش ہر چہ خواہی کن۔
١٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٤)
مولانا عبد العزیز رحمانیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لارڈ ہیڈلے کا اسلام اور مرزائیوں کی جھوٹی شیخی
لارڈ ممدوح کا اسلامی نام سیف الرحمٰن شیخ رحمت اللہ فاروق ہے
اسلام وہ سچا اور مقدس مذہب ہے جس نے راست گوئی اور صداقت کو اپنا شعار بتلایا ہے اور اس کے بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف طور سے کہہ دیا ہے۔ کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا اب جو شخص یا جو گروہ جھوٹ کو اپنا شعار بنائے ۔ اور جھوٹ بول کر اور خلاف واقع بات کو مشتہر کر کے اپنا فروغ چاہے ۔ اسے اپنے آپ کو مسلمان کہنا اسلام کے لئے نہایت عار ہے۔ اسلام میں اور دروغگوئی میں ایسا تباین اور مخالفت ہے ۔ کہ ایسے شخص کو اور ایسے گروہ کو سچے مسلمان اور ان کے پاک مذہب نے بے تامل کہہ دیا کہ مسلمان نہیں ہیں ۔
اس وقت جو ایک جدید گروہ مرزائی قادیانی کا پیدا ہوا ہے جس نے ٣٣ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا کر اپنے چند ہزار شخصوں کا نام مسلمان رکھا ہے جن کے چند اشخاص مونگیر و بھاگلپور میں بھی نظر آتے ہیں یہ غل مچا رکھا ہے کہ لارڈ ہیڈلے خواجہ کمال الدین مرزائی کے ہاتھ پر مسلمان
٢
ہوئے۔ اور اس دروغ کے اعلان میں اشتہار بھی دیا ہے۔ ایسے معزز اور مشہور شخص کا تبدیل مذہب ایسا نہیں ہے کہ اس کی واقعی حالت پوشیدہ رہے اور کوئی ناراست گو اپنے یا اپنے گروہ کے لئے اپنے فخر و مباہات کا ذریعہ قرار دے۔
لارڈ موصوف کے اسلام لانے کی حالت انگریزی اخبارات اور لندن کے خطوط سے ظاہر ہوئی ہے کہ لارڈ موصوف بیس برس سے مسلمان ہیں اور صرف اسلامی عقائد ہی نہیں رکھتے بلکہ اسلامی نماز بھی پڑھتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی تو اب گئے ہیں پھر یہ کہنا کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کی وجہ سے وہ مسلمان ہوئے کیا صریح جھوٹ ہے۔ لارڈ موصوف کی تحریر سے ظاہر ہے کہ ان کا مسلمان ہونا کسی مسلمان کی ترغیب اور اثر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خود ان کی تحقیق اور کتب بینی کا نتیجہ ہے۔ ٢٠ دسمبر کے کامریڈ میں لارڈ موصوف کا یہ جملہ موجود ہے کہ خواجہ کمال الدین نے مجھ پر ذرا سا بھی اثر ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ ٩ دسمبر ١٩١٣ء کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز نے لارڈ موصوف کے اظہار اسلام کی کیفیت اس طرح لکھی ہے۔
لارڈ ہیڈلی کا تبدیل مذہب
لارڈ ہیڈلی یہ پانچواں بیرن ہے (بیرن ایک معزز عہدہ کا نام ہے) اس خطاب کا جس کو کہ یہ عالی عہدہ (پیرج کا) سال گذشتہ کے جنوری میں ملا ہے۔ بعد مر جانے چچیرے بھائی کے وہ مسلمان ہو گئے ہیں اور ان کے مسلمان ہونے کی خبر انجمن ملت اسلام لندن کے سالانہ ضیافت کے روز جس میں خود لارڈ ہیڈلی شریک تھے مشتہر کی گئی۔ لارڈ ہیڈلے نے جو اپنے مسلمان ہونے کی بابت اس جلسہ میں کہا وہ یہ ہے۔
”عام طریقہ سے مجھے مذہب اسلام کے اختیار کرنے کی اشاعت کرنے میں یہ کہنا ضرور ہے کہ میں اپنے ان عقائد اسلامیہ سے جس کو میں نے بیس برس سے اختیار کر رکھا ہے علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ لارڈ ہیڈلے نے عندالملاقات کسی سے اپنے مسلمان ہونے کے بارہ میں یوں کہا ہے۔“
جبکہ انجمن اسلامیہ کی طرف سے مجھ کو اس شب کے کھانے کی دعوت دی گئی۔ میں نے کہا کہ مجھے از حد خوشی ہوگی کہ میں اس میں شرکت کروں اور ان کے ممبران پر خود جا کر ظاہر کروں کہ مجھے ان کے مذہب سے کیسی گہری الفت ہے میں نے ابھی تک کوئی کارروائی عملی طریقہ سے نہیں کی ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ میں چرچ آف انگلینڈ کی (یعنی وہ مذہب جو ولایت میں
٣
جاری ہے اور سلطنت برطانیہ کا مذہب ہے) ممبری سے کنارہ کش ہوا اور جس مذہب میں یا جس مذہب کے طریقہ پر میری تعلیم و تربیت ہوئی تھی اور نہ ہم نے رسماً کوئی اعلان ایجاب دین اسلام کا کیا ہے تاہم مذہب اسلام پر میرا عقیدہ ہے میرے مذہب عیسائی کے چھوڑنے کا باعث زیادہ تر تعصب سے ان لوگوں کو ہوا ہے جو اپنے کو عیسائی کہتے ہیں۔“ دسمبر ١٩١٣ء کے مسلم انڈیا میں لارڈ ممدوح کی تحریر چھپی ہے اور اس میں لکھا ہے۔
”یہ ممکن ہے کہ میرے بعضے احباب خیال کرتے ہوں کہ مجھ پر مسلمانوں کا اثر پڑا ہے مگر یہ بات نہیں ہے کیونکہ میرا موجودہ خیال صرف میری مدتوں کے خیال کا نتیجہ ہے میری اصلی گفتگو تعلیم یافتہ مسلمانوں سے مذہب کے بارے میں چند ہفتہ گزرے کہ شروع ہوئی اور کیا مجھے اس کے کہنے کی ضرورت ہے کہ مجھ کو یہ دیکھ کر کہ میرے کل اصول و نتائج پورے طور سے اسلام کے مطابق ہیں بہت خوشی ہوئی، میرے دوست خواجہ کمال الدین مرزائی نے مجھ پر ذرا سا بھی اثر ڈالنے کی کبھی کوشش نہیں کی لندن میں اخباروں سے نہایت صفائی سے ظاہر ہو گیا کہ لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے میں خواجہ کمال مرزائی کو کچھ دخل نہیں ہے۔ البتہ خواجہ کمال مرزائی نے اور ان کے ہم خیال اہل اخبار وغیرہ نے ہندوستان میں ایسی باتیں بنائی ہیں جن سے مسلمان متاثر ہوں اور مرزائی باطل مذہب کی طرف ان کا عمدہ خیال ہو۔
شاہ نعمت اللہ صاحب رئیس مونگیر عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں حضرت اقدس مولانا سید ابو احمد رحمانی نے ان سے لارڈ موصوف کی حالت دریافت کی تھی، تاریخ ١٨ جنوری ١٩١٤ء کو ان کا خط آیا وہ لکھتے ہیں۔ The London-............ لارڈ ہیڈلے کے بارے میں حضور نے جو دریافت فرمایا ہے اس کی حقیقت میرے خیال میں یہ ہے کہ مرزا غلام احمد (قادیانی) کا غالباً ابھی تک نام بھی انہوں (لارڈ ہیڈلے) نے نہیں سنا ہے وہ آدمی بہت معقول و سنجیدہ ہیں تعلیم بھی ان کی بہت اچھی ہوئی ہے اور فقط اسلام کی خوبیوں سے محو ہو کر مسلمان بالاشتہار ہو گئے ہیں ہم نے ان سے ایک دفعہ کہا کہ نماز میں سجدہ وغیرہ میں آپ کو دقت ہوتی ہوگی اس کا جواب دیا کہ آج سے بیس سال سے ہم روزانہ اسی طور سے عبادت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوگا کہ خواجہ کمال الدین (مرزائی) کے آنے کے بیس سال قبل سے وہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کی وجہ یہاں اخباروں میں لکھی تھی اور صاف طور سے کہا ہے کہ بغیر کسی کے ترغیب دلائے ہوئے فقط کتابی معلومات سے وہ مسلمان ہوئے ہیں یہاں ایک بزرگ لیڈی کبولڈ Lady Cobold
٤
Cobbow of London نام سے مشہور ہیں ہم سے ان کی عرصہ سے ملاقات ہے اور وہ یہاں کے معزز خاندان سے ہیں ان کا خاندان لارڈ ہیڈلے سے زیادہ معزز یہاں سمجھا جاتا ہے اور ماشاء اللہ وہ پورے مسلمان ہیں کلام اللہ شریف کا اکثر حصہ ان سے ازبر (زبانی) سن لیجئے اور عربی بھی بولتی ہیں۔ خواجہ کمال صاحب مرزائی نے ہم کو ان سے بھی ملانے کو کہا تھا مگر ابھی ہم کو ایسا موقع نہیں ملا ہے کہ ملائیں‘ انہوں نے اپنے لڑکے کو پوری عربی کی اچھی تعلیم دی ہے ملاحظہ کیا جائے کہ لارڈ ہیڈلے کے ملنے والے کس قدر صاف لکھتے ہیں کہ لارڈ موصوف، خواجہ کمال مرزائی کے آنے سے بیس برس پہلے مسلمان ہو چکے تھے اور نماز پڑھتے تھے ایک نہایت معزز خاندان کی خاتون مسلمان ہو کر اکثر حصہ قرآن مجید زبانی یاد کر چکی ہیں۔ جن کے پاس آج تک خواجہ کمال صاحب (مرزائی) کی رسائی نہیں ہوئی۔
ان کے علاوہ بہت مردوں کو اور خاتون کو اسلام کی طرف رغبت ہے اور بہت مسلمان ہیں مثلاً Mr & Maseern جنہوں نے اسلامی نام عبدالحمید رکھا ہے یہ سیلون میں مجسٹریٹ ہیں اور پندرہ سولہ برس سے مسلمان ہیں اور لارڈ الڈر نے مرنے کے وقت اپنے اسلام کی شہرت دی تھی۔ Lord Alder Mr.Lehuwra جن کا اسلامی نام خالد ہے یہ نوجوان عرصہ دس بارہ برس سے مسلمان ہیں ایک معزز خاتون لیڈی بلوم فیلڈ Lady Bloom Field فرقہ بہائیہ میں داخل ہوئی ہے اور بہت لوگ لندن کے اس فرقہ میں داخل ہو چکے ہیں کچھ عرصہ ہوا کہ اس فرقہ کے سردار عبدالبہاء لندن میں گئے تھے اور بہت کچھ احترام ان کا وہاں کے لوگوں نے کیا ان کا لیکچر بھی بڑے زور و شور سے ہوا ان کی دعوتیں بھی ہوئیں۔ جن میں بڑے اہتمام سے ایرانی کھانے پکوائے گئے تھے اور شہر مونگیر کے رئیس شاہ محمد یحییٰ صاحب بیرسٹر بھی اس میں شریک تھے۔ پھر عبدالبہاء لندن سے فرانس گئے تھے۔ خواجہ کمال (مرزائی) نے فرانس جانے کا غل تو مچایا۔ مگر ہوا کچھ نہیں۔ عبدالبہاء علی محمد بابی ولایتی کے خلیفہ ہیں جنہوں نے ١٢٥٧ء سے کچھ پہلے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اس وقت اس کے ماننے والے۔ کلکتہ‘ بمبئی‘ لندن‘ رنگون اور استنبول، مصر، شام، امریکہ وغیرہ میں کثرت سے ہیں اور ظاہری اخلاق ان کے اچھے سنے گئے ہیں۔ جس قدر جھوٹ اور فریب مرزائیوں میں دیکھا جاتا ہے۔ ان میں نہیں سنا گیا۔ ایک جھوٹا دعویٰ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ خواجہ کمال (مرزائی) کے سوا یورپ وغیرہ میں جا کر تبلیغ اسلام کسی نے نہیں کی۔ یہ دعویٰ بھی ایسا ہی جھوٹا ہے جیسا پہلا دعویٰ تھا۔
٥
سرسید احمد خان لندن گئے اور وہاں جا کر خطبات احمدی انگریزی کرا کے مشتہر کی اور اپنے خیال کے بموجب تبلیغ اسلام کی۔ اور جو اعتراضات ایک بڑے معزز عیسائی نے جناب رسول اللہ ﷺ پر کئے تھے ان کے جوابات دے کر عیسائیوں کو اسلام کی طرف بلایا اور مصر سے مصطفی کمال پاشا لندن میں گئے اور تبلیغ اسلام کی اور جاپان میں مولوی برکت اللہ ایم ۔ اے گئے ہیں اور عرصہ سے وہاں قیام رکھتے ہیں۔ اور اچھی طرح تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ چنانچہ مسٹر حسن ہٹانو جو خاندان وزارت شاہی کا ایک معزز شخص ہے مولوی صاحب مذکور کی وجہ سے مسلمان ہوا اور سنا گیا ہے کہ مسٹر حسن ہٹانو نے ایک اسلامی اخبار بھی جاری کیا ہے۔ جس کی شہرت اور آمد ہندوستان میں بھی ہے اخبار وکیل سے ظاہر ہوا ہے کہ وہاں تین لاکھ مسلمان ہوئے ہیں چنانچہ ١٠ جنوری ١٩١٤ء کا وکیل لکھتا ہے کہ ترکی ہم قلم اقدام قسطنطنیہ روسی اخبار ”نووی وریمیا“ سے یہ خبر نقل کرتا ہے کہ مسلمانان چین نے ایک جدید انجمن مسلمانان چین و جاپان کو متحد بنانے کی غرض سے قائم کی ہے اس انجمن کا صدر دفتر شہر ٹانکن میں ہے اور اس دفتر کو حال میں ایک قابل توجہ رپورٹ مسلمانان جاپان کے حال کے متعلق موصول ہوئی ہے یہ رپورٹ ٹوکیو کے مدرسہ اسلامیہ کے منتظم اور پرنسپل حسن خورشید نے مرتب کی ہے اس رپورٹ سے عیاں ہوتا ہے کہ جاپان میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ نفوس تک پہنچ چکی ہے اب مجھے مرزا کی جماعت بتائے کہ خواجہ کمال مرزائی نے لندن میں کتنے آدمیوں کو مسلمان کیا ؟ جیسا کہ ان کی جماعت غل مچا رہی ہے اور اس حیلہ سے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے میرے خیال میں خواجہ کمال صاحب (مرزائی) کی نسبت پوسٹ ماسٹر پیر بخش صاحب سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور کی جو رائے ہے وہ نہایت صحیح ہے اور اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
”پوشیدہ نہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب (مرزائی) مریدان مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت‘ مہدویت‘ مسیحیت‘ و کرشنیت‘ وغیرہ وغیرہ کے رکن رکین ہیں اور اہل اسلام ہندوستان و پنجاب پر پھر ایسی ہی غلطی عظیم کا وقت آگیا ہے جو کہ مرزا قادیانی کے اشتہار براہین احمدیہ کا تھا جبکہ انہوں نے اسلام کی حمایت کے بہانہ سے مسلمانوں سے روپیہ بٹورا اور بجائے اشاعت اسلام کے مرزائیت (یعنی اپنے دعاوی نبوت وغیرہ) کی اشاعت کے واسطے اشتہارات اور تالیف کتب پر اس بے رحمی سے دل کھول کر خرچ کیا کہ لاکھوں کی تعداد میں اشتہارات مسیح موعود ہونے کے واسطے تمام ممالک غیر تک پہنچائے اور یہ وہ روپیہ تھا جو اس واسطے مسلمانوں سے لیا تھا کہ
٦
قرآن اور محمد ﷺ کی صداقت پر تین سو دلائل کل ادیان کے رد میں بیان کئے جائیں گے اور اسلامی تعلیم اور مذہب کو سچا ثابت کیا جائے گا، مگر وہ وعدہ بالکل وفا نہ کیا گیا اور روپیہ بے محل خود ستائی اور اپنی نبوت و رسالت کے اثبات میں خرچ کیا اور وفات مسیح علیہ السلام کی خاطر تمام اسلاف اہل اسلام کو غلطی پر بتایا گیا تمام تفاسیر کو ردی قرار دے دیا گیا، ائمہ اربعہ کے اجماع امت کو کورانہ تقلید کا خطاب دیا گیا اور اسلام کے تمام مسائل کے الٹ پلٹ میں کتابیں واشتہارات اس کثرت سے لکھے کہ ممالک متمدنہ یورپ کے کسی ہوشیار سے ہوشیار دوکاندار نے بھی اس قدر شائع نہ کئے ہونگے اور وہ روپیہ جو خدمت وحمایت اسلام کے واسطے جمع کیا گیا تھا وہی تخریب دین میں اور اسلام اور مسلمانوں کی دل آزاری پر خرچ کیا گیا اور مرزائیت کی اس قدر اشاعت ہوئی کہ کوئی شہر وقصبہ پنجاب وہندوستان میں نہیں کہ مرزائیوں کی اڑھائی اینٹ کی مسجد (مرزاڈہ) الگ نہ ہو اور تفرقہ امت محمدیؐ میں اس قدر ڈالا کہ بھائی بھائی سے میاں، جورو سے، جورو میاں سے، خویش واقارب تمام اجزاء جو اسلام کے تھے الگ کر دیئے گئے حتیٰ کہ نمازیں اور جنازے پڑھنے بھی بند ہو گئے اور یہی مرزا قادیانی کی پیدا کردہ چھوٹی سی جماعت تمام موجودہ واسلاف اہل اسلام کو یہودی وکافر کا لقب دینے لگی حتیٰ کہ اب تک کتابوں میں ایسا ہی لکھتے ہیں۔ اور امت محمدیؐ میں وہ فساد ڈالا ہوا ہے کہ کوئی جگہ نہیں جس جگہ چرچا نہ ہو اور اب تو ہند و پنجاب کے علاوہ بلاد غیر میں جا پہنچے ہیں۔ منہ سے قرآن ومحمدؐ کہتے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ بتاتے ہیں مگر جب انہوں نے تمام مسلمانوں کو جو مرزا قادیانی کو نبی ورسول نہیں مانتے کافر قرار دے دیا تو اب مسلمانوں سے کیا واسطہ ہے؟ لیکن یہ عیاری دیکھئے کہ چندہ لینے کے واسطے اور مال وزر وصول کرنے کے واسطے ان یہودیوں (معاذ اللہ) کو مسلمان کہہ دیتے ہیں اور جس طرح بھی بن پڑے مسلمانوں سے روپیہ بٹور لیتے ہیں مگر خود ایسے گرہ کے پکے اور تعصب کے پتلے ہیں کہ سوا قادیان کے ٹیکس کے ایک پیسہ کسی قومی کام میں نہیں دیتے۔ انجمن حمایت اسلام کو دینا گناہ سمجھتے ہیں مگر جب اپنا مطلب ہو تو یہی یہودی، بھائی مسلمان ہیں اور گندم نمائی کر کے اپنا مطلب نکال لیا تو پھر وہی علیحدگی اور قطع تعلق تو کون اور میں کون؟‘‘
وہی وقت اب مسلمانوں پر آ گیا ہے اور ویسی غلطی میں مسلمان مبتلا ہونے لگے ہیں کہ چندہ جمع کر کے خواجہ کمال الدین (مرزائی) کو روانہ کر رہے ہیں یا ارادہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ اخیر وہی پشیمانی ہوگی جو مسلمانوں نے مرزا قادیانی کو چندے اور براہین کی قیمت پیشگی ادا کرنے
٧
سے ہوئی تھی۔ روپیہ مسلمانوں کا ہو گا اور مرزائیت کی اشاعت میں خرچ ہو گا۔ اور برائے نام مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے کسی انگریز کی تبلیغ کے نام سے بھی خرچ کیا جائے گا مونگیر اور بھاگل پور کے مرزائیوں کو دیکھا جائے کہ ایک خاص غرض کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔
جب مرزا قادیانی نے نہایت صفائی سے (حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) وغیرہ میں اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا۔ ان کے بیٹے محمود نے تمام مسلمانوں کے کافر ہونے کے باب میں خاص رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٢٢ اپریل ١٩١١ء و آئینہ صداقت لکھا۔ ان کے خلیفہ نے اس کی تصدیق کی۔ اب ان کے اس خط سے اس کا ثبوت ہو رہا ہے۔ جو انہوں نے خواجہ کمال (مرزائی) کو لکھا ہے۔ اور پیغام صلح میں شائع ہوا ہے اور اخبار وکیل جلد ١٩ نمبر ٧٩ مورخہ ٢٤ جنوری ١٩١٤ء نے اسے نقل کیا ہے۔ عبد الماجد (قادیانی) جو ان کے ہاتھ پر بیعت کر آئے ہیں۔ اور تمام دنیا کے علماء اور اہل اللہ کو خصوصاً علماء کاملین حرمین شریفین کو چھوڑ کر اور انہیں فاسق سمجھ کر مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ کو اپنا مقتداء اور پیشوا مان چکے ہیں۔ اس لئے کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتداء کے خلاف عقیدہ رکھتے ہونگے؟ یہ ہرگز ہو نہیں سکتا مگر چونکہ سمجھتے ہیں کہ عام مسلمان کافر کہہ دینے سے برہم ہو جائیں گے۔ اور اس مذہب کو برا سمجھنے لگیں گے۔ اس لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے اور مرزا قادیانی کے بیٹے نے جو لکھا ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ یہ صرف فریب ہے جب نماز میں شریک نہ ہوں۔ جنازے میں شرکت نہ کریں لڑکی دینے سے انکار۔ ان کے خاص اخبار میں شائع ہو کہ جو غیر قادیانی کو لڑکی دے وہ قادیانی نہیں تمام باتیں کفاروں کی برتیں۔ مگر زبان سے کہہ دیں کہ ہم کسی کو کافر نہیں کہتے، صریح دلیل ہے کہ وہ فریب دیتے ہیں دراصل تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں مگر اپنی خاص غرض سے اپنے دلی عقیدہ کو ظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ جس طرح اور جھوٹی باتیں کہتے ہیں یہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ہمیں سخت افسوس ہے کہ ہمارے بھائی نے ہم سے جدا ہو کر نہایت بری روش اختیار کی ہے اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست پر لائے اور پھر پیارا سچا بھائی بنائے۔
عبد العزیز رحمانی
۞ ۞ ۞ ۞ ۞
٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٥)
پروفیسر مولانا ابوالخیر سید محمد انور حسینؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس میں مرزا حسام الدین احمد مرزائی کے اس اشتہار کا جو جلسہ مسیحی ٨۔ مارچ ١٩١٤ء کے متعلق تھا۔ مُدلّل جواب دیا گیا ہے اور قرآن مجید سے اور نیز مرزا غلام احمد قادیانی کے بیان کردہ معنی کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات جسمانی اور رفع آسمانی کا ثبوت دے کر مرزا قادیانی کی نبوت اور مسیحیت کے ثبوت کا بطلان کیا گیا ہے۔
اَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ
تم لوگ کہاں سے پھیرے جاتے ہو
ادھر آؤ تمھیں اب نور دین انور دکھائیں ہم
ایک اشتہار مرزا حسام الدین احمد احمدی (مرزائی) اکبر آبادی کا ہماری نظر سے گزرا۔ اس اشتہار میں کوئی مضمون ایسا نہیں ہے جس کا جواب علمائے اسلام نے نہ دیا ہو۔ بلکہ وہی باتیں ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش کی تھیں اور علمائے اسلام نے ان کی حیات ہی میں ان کا مفصل اور مدلل جواب دے دیا تھا۔ مشتہر صاحب نے یا تو ان جوابوں کو دیکھا نہیں ہے یا جواب الجواب سے عاجز آ کر مرزا قادیانی ہی کی پیش کردہ باتوں کو دھرایا ہے چونکہ اس اشتہار سے اس بات کا احتمال ہے کہ جن مسلمانوں کو یہ خبر نہیں ہے کہ علمائے اسلام، مرزا قادیانی صاحب کی ہر ایک بات کا مفصل اور مسکت جواب دے چکے ہیں وہ شبہ اور فتنہ میں پڑ جائیں اس لیے علمائے اسلام کی تحقیقات کے مطابق مذکورہ بالا اشتہار کا مدلل جواب دیا جاتا ہے ناظرین بنظر انصاف ملاحظہ فرمائیں۔ وما توفیقی الا باللہ.
مشتہر صاحب لکھتے ہیں، ناظرین! ٨ مارچ ١٩١٤ء کو منجانب مسیحی صاحبان جلسہ مذہبی مقرر تھا۔ ہر شخص کو تقریر کرنے کی اجازت تھی جماعت احمدیہ کی طرف سے اخویم خیر الدین صاحب نے وفات مسیح پر تقریر شروع کی ہنوز بیان تمام نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں مولوی عبدالکریم صاحب مدرس اول ندوۃ العلماء لکھنؤ ومولانا عبدالشکور صاحب ایڈیٹر اخبار النجم نے دخل دینا شروع کیا اور
٢
کہا کہ مرزا قادیانی نے جمیع انبیاء سے حضرت محمد ﷺ کو افضل الرسل اور فرد کامل کہا ہے کیا ان سے پہلے تمام انبیاء فرد کامل نہ تھے۔ ایسا کہنا مرزا قادیانی کا انبیاء ماسبق کی صریح توہین ہے اور اسی طرح اپنے دعویٰ نبوت کے لیے ”توفی“ کے معنی خلاف محاورہ قرآن کریم سے تراشے ہیں۔ لہٰذا ہر سہ حالت میں وہ کافر ہیں ۔‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی عبدالشکور صاحب ہرگز ہرگز ایسے غیر مہذب نہیں ہیں کہ کسی کے اثنائے تقریر میں بلاوجہ دخل دیں۔ یا تو یہ بات ہی غلط ہے یا مقرر صاحب نے کوئی ایسی تقریر کی ہوگی جس کا بروقت جواب دینا ضروری ہو گا۔ ورنہ بقول مشتہر صاحب ہر شخص کو تقریر کرنے کی اجازت تھی مولوی صاحبان مرزائی مقرر کی تقریر کے بعد ان کا جواب دے سکتے ہیں۔ اثنائے تقریر میں دخل دینے کی کوئی خاص وجہ ضرور ہوئی ہوگی کیا اس جلسہ میں کوئی صدر انجمن نہ تھا؟ اور کیا اس کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا کہ کسی کے اثنائے تقریر میں دخل دینے والوں کو روک دے۔ یہ بات بھی سراسر غلط معلوم ہوتی ہے کہ مولوی صاحبان نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی ایک یہ وجہ قرار دی کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کو افضل الرسل اور فرد کامل کہا ہے اور اس سے انبیائے ماسبق کی توہین ہوتی ہے (اور توہین انبیاء کفر ہے) اس لیے کہ مولوی صاحبان عقیدتاً اہل سنت والجماعت ہیں اور تمام اہل سنت والجماعت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ افضل الرسل ہیں۔
(دیکھو شرح عقائد نسفی ص ٢٠٥ مطبوعہ مطبع انوار احمدی ۔ ” وافضل الانبیاء محمد ۔‘‘)
یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ مولوی صاحبان نے آنحضرت ﷺ کو افضل الرسل کہنے کی وجہ سے دوسرے انبیاء کی توہین استنباط کرکے مرزا قادیانی کو کافر کہا۔ ”سبحانک ھذا بھتان عظیم ۔“ بلکہ قرین قیاس یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مولوی صاحبان نے یہ کہا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بعض انبیاء اولوالعزم کی سخت توہین کی ہے چنانچہ دافع البلاء کے ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣ میں لکھتے ہیں ۔ ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے ۔“ پھر اسی رسالہ کے ابتدا میں لکھتے ہیں۔ ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع
٣
تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)
اس عبارت میں مرزا قادیانی ان غلط قصوں کی تصدیق کرتے ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیے گئے ہیں اور ان قصوں کو آپکے حصور (پاکدامن) نہ ہونے کا سبب قرار دیتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے اعتقاد میں حضرت مسیح علیہ السلام پاک دامن نہ تھے اور اس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح کو پاک دامن نہ سمجھنا ان کی سخت توہین ہے۔ بلکہ ان کی نبوت سے ایک طرح کا انکار ہے۔ (نعوذ بالله منه)
یہ بات بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی کہ مولوی صاحبان نے یہ کہا ہو کہ ۔ ”اپنے دعوٰی نبوت کے لیے ”توفی“ کے معنی خلاف محاورہ قرآن کریم کے تراشے ہیں لہٰذا ہر سہ حالت میں کافر ہیں۔“ اس لیے کہ مرزا قادیانی نے ”توفی“ کے جو معنی تراشے ہیں اگر وہ معنی تسلیم بھی کر لیے جائیں تو اس سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوگی۔ اس سے مرزا قادیانی کی نبوت کسی طرح نہیں ثابت ہو سکتی اور پھر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہونے سے کفر نہیں لازم آتا گو یہ عقیدہ جمہور اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ ہاں یہ کہا ہو تو عجب نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہو کر خود مسیح موعود بن بیٹھنا اور آیت کریمہ خاتم النبیین اور احادیث ختم نبوت کے خلاف دعوٰی نبوت ونزول وحی کرنا کفر ہے۔ بہر کیف مشتہر صاحب وجوہ ثلاثہ کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔“
ناظرین! شق اوّل کے لیے تو ہمارا یہی مذہب ہے کہ جناب سرور کائنات محمد ﷺ سے افضل کوئی نبی نہیں ہے جیسا کہ فرمایا نبی ﷺ نے کہ : لو کان موسٰی و عیسٰی حیین لما وسعهما الا اتباعی.
(ابن کثیر جلد ١ ص ٣٧٨)
”اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بجز ہماری اطاعت کے اور کچھ چارہ نہ ہوتا ۔“
(امام احمد اور بیہقی نے حضرت جابرؓ سے جو روایت کی ہے اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام نہیں ہے صرف حضرت موسیٰ ؑ کا نام ہے چنانچہ مشکوۃ شریف ص ٣٠ کتاب الاعتصام بالسنہ میں ہے ۔ لو کان موسٰی حیا ما وسعه الا اتباعی.
کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو سوائے ہماری پیروی کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ جس حدیث کو مشتہر نے پیش کیا ہے کتب حدیث میں اس کا کہیں پتہ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشتہر صاحب نے مذکورہ بالا حدیث (ابن کثیر) کی کوئی سند
٤
بیان نہیں کی اور نہ حدیث کی کسی کتاب کا حوالہ دیا صرف ابن کثیر کے حوالہ دینے سے حدیث کی صحت ثابت نہیں ہو سکتی۔ مشتہر صاحب پر لازم تھا کہ حدیث مع سند بیان کرتے اور پھر ہر ایک راوی کا ثقہ ہونا ثابت کرتے یا محدثین کی تصحیح نقل کئے بغیر اس کا مذکورہ بالا حدیث سے استدلال صحیح نہیں ہو سکتا۔ اور اگر اس حدیث کی صحت ثابت بھی ہو جائے تو مشتہر صاحب کا مدعاء اس حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتا اس لیے کہ
- ١............ ایک یا دو نبی کے تابع ہونے سے کل انبیاء علیہم السلام پر فضیلت نہیں ثابت ہو سکتی ہے۔
- ٢............ مجرد کسی نبی کا تابع ہونا نبی متبوع کی افضلیت کی دلیل نہیں ہے۔
دیکھو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو کہتا ہے کہ اے محمد۔ ثم اوحینا الیک ان اتبع ملة ابراهیم حنیفا ۔ (نحل آیت ١٢٣) ”پھر میں نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کیجئے یکسو ہو کر۔“
”اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیم کے تابع تھے اور حضرت ابراہیم متبوع تھے، مگر افضل الرسل آنحضرت ہی ہیں نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ،معلوم ہوتا ہے کہ مشتہر صاحب کو آنحضرت کے افضل الرسل ہونے کی دلیل معلوم نہیں ہے ورنہ وہ ایسی حدیث پیش نہ کرتے جس کی نہ تو سند کا پتہ ہے اور نہ اس کے الفاظ سے اصل مطلب ثابت ہوتا ہے۔ اچھا تو مجھ سے سنئے۔ آنحضرت ﷺ کے افضل الرسل ہونے کی تین دلیلیں ہیں۔
- ١............ آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر دین کی تکمیل کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام دينا ”آج ہم نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے دین اسلام ہی کو پسند کیا۔“ اور ظاہر ہے کہ یہ فضیلت سوائے آپ کے کسی نبی کو نہیں ملی۔
- ٢............ آپ کی امت افضل ترین امم قرار پائی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف و تنهون عن المنكر (آل عمران ١١٠) ”تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ اچھی باتوں کا حکم کرتے ہو۔ اور بری باتوں سے روکتے ہو۔“
٥
اور ظاہر ہے کہ امت کی فضیلت اس رسول کی فضیلت پر موقوف ہے جس کے وہ تابع ہے۔ پس آپؐ کی امت کا افضل الامم ہونا آپؐ کے افضل الرسل ہونے کی بین دلیل ہے۔
- ٣........... مسلم شریف (ج ١ ص ١٩٩ باب مساجد وموضع الصلوٰۃ) میں حضرت ابو ہریرہؓ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ۔‘‘ عن ابى هريرةؓ ان رسول الله ﷺ قال فضلت على الانبياء بست اعطيت بجوامع الكلم و نصرت بالرعب واحلت لى الغنائم و جعلت لى الارض مسجداً و طهوراً، و ارسلت الى الخلق كافة و ختم بى النبيون۔
(مشکوٰۃ باب فضائل نبینا ﷺ ص ٥١٢)
’’میں دوسرے نبیوں پر چھ باتوں میں فضیلت دیا گیا ہوں (١) مجھ کو جامع کلمے دیئے گئے ۔ (٢) اور میں اپنے رعب کی وجہ سے فتح یاب ہوا (٣) اور مالِ غنیمت میرے لیے حلال ہوا۔ (٤) اور ساری زمین میرے لیے نماز اور تیمم کے لائق بنائی گئی ۔ (٥) اور میں سارے لوگوں کے لیے رسول ہوں ۔ (٦) اور نبیوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا ۔‘‘
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آپؐ نے کسی نبی کے تابع ہونے کو اپنی فضیلت کی دلیل نہیں قرار دی پس مشتہر صاحب کا استدلال غلط ہو گیا ۔
پھر مشتہر صاحب لکھتے ہیں کہ شقِ ثانی کے جواب میں ابوالحسنات مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی کا قول درج کرتے ہیں کہ بعد آنحضرتؐ کے یا زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں ہے بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے ۔
(دیکھو دافع الوسواس فی اثر بن عباس علوی مطبوعہ لکھنؤ ص ١٢ سطر ٨۔)
اس کا جواب یہ ہے کہ مشتہر صاحب کو اس مسئلہ میں نہ کوئی آیت قرآنی ملی اور نہ کوئی حدیث نبوی، نہ کسی صحابی کا اثر ، نہ کسی مجتہد کا قول، مجبور ہو کر مولانا مرحوم کا ایک قول پیش کر دیا ہے حالانکہ قرآن مجید اور احادیث کے نصوص قطعیۃ الدلالت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم ہوچکی ہے آپؐ کے بعد کسی کو نبوت ورسالت نہیں مل سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّيْنَ (احزاب ٤٠) نہیں ہیں محمدؐ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور سب نبیوں کے بعد آنے والے ۔‘‘
٦
خاتم النبیین میں لفظ خاتم بالفتح یا بالکسر ہر حالت میں اس کے معنی آخر کے ہیں۔
(دیکھو لسان العرب ج ٤ ص ٢٥، مجمع البحار ج ٢ ص ١٥)
یہ آیت اس بارہ میں نص قطعی ہے کہ نبوت آپ پر ختم ہوچکی ہے۔ احادیث صحیحہ بھی اس بارہ میں کثرت سے وارد ہیں ان میں سے چند پیش کی جاتی ہیں۔
- ١........... (بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ و مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی
اسماءہ ﷺ) میں جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ انا العاقب و العاقب الذی لیس بعدہ نبی (متفق علیہ)
(مشکوۃ ص ٥١٥ باب اسماء النبی وصفاتہ)
کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
- ٢........... بخاری میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”کانت بنو
اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی و انہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء ۔“ (بخاری، ج ١ ص ٤٩١ باب ذکر عن بنی اسرائیل، و فتح الباری پ ١٣ ص ٨٤) بنی اسرائیل پر انبیاء علیہم السلام سیاست کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پاتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ خلفاء ہوں گے۔
ان دونوں حدیثوں سے یہ بات بعبارۃ النص ثابت ہوتی ہے کہ آپ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی ہے اس لیے کہ ان دونوں حدیثوں میں لفظ نبی نکرہ ہے۔ اور تحت نفی میں واقع ہے اور نکرہ تحت نفی میں عام ہوتا ہے یعنی اس نکرہ کے ہر فرد کی نفی ہو جاتی ہے اور سیکون خلفاء سے اس عموم کی پوری تائید ہورہی ہے پس ان دونوں حدیثوں کا صریح مطلب یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا صاحب شرع جدید ہو یا نہ ہو۔ ہاں دوسری حدیث میں خلفاء کے لفظ سے صراحۃً یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے جانشینوں کا لقب خلفاء ہے انبیاء نہیں ہے اسی وجہ سے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اس لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتے (ترمذی ، ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب عمر ابن الخطابؓ ) میں عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ صحیحین میں سعد بن وقاصؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک میں جاتے وقت حضرت علیؓ سے فرمایا کہ آپ ہماری غیبت میں
٧
اسی طرح ہمارے جانشین ہیں جس طرح موسیٰؑ کے جانشین ہارونؑ تھے مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے بعد (ہماری نبوت کے بعد) کوئی نبی نہیں یعنی ہارونؑ نبی تھے اور چونکہ ہماری نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ہے۔ اس لیے آپ نبی نہیں ہو سکتے ہیں۔“
(بخاری ج ١ ص ٥٢٦ باب مناقب علی ابن ابی طالبؓ ۔ مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علیؓ ابن ابی طالب)
ان روایتوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ سے نبوت کی نفی اسی بنا پر کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ کیا کوئی ایماندار اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی تو فنافی الرسول کے درجہ پر پہنچ کر ظلی یا بروزی نبی اور رسول بن جائیں اور حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو یہ درجہ نہ ملے اور ظلی اور بروزی نبوت سے بھی محروم رہ جائیں۔ (نعوذ باللہ منہ)
- ٣.........(بخاری، ج ١ ص ٥٠٩ باب علامات النبوة فی الاسلام) میں ابو ہریرہ سے روایت ہے
کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ:
لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله . (مشکوٰۃ ص ٤٦٥ باب الملاحم)
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس کے قریب دجال و کذاب پیدا ہوں ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ خدا کا رسول ہے۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ فصل فی قوله صلعم ان بین یدی الساعة کذابین قریباً من ثلاثین)
اور ابو داؤد ترمذی میں حضرت ثوبانؓ سے اس طرح مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ۔سيكون فی امتی کذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبی الله و انا خاتم النبيين لا نبی بعدی
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ باب ذکر الفتن ودلائلہا) (ترمذی، ج ٢ ص ٤٥، باب ما جاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون
مشکوٰۃ ص ٤٦٥ کتاب الفتن )
میری امت میں تیس فریب دینے والے بڑے جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ خدا کا نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اس دوسری حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ آنحضرت کی امت ہی میں سے ہوں گے یعنی اپنے کو امتی بھی کہیں گے اور
٨
نبی بھی، نبوت تشریعی کے مدعی ہوں یا غیر تشریعی کے، پس جو شخص آپؐ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا مدعی ہو تو وہ بحکم حدیث مذکور دجال و کذاب کہلانے کا مستحق ہے۔ فتدبر ولا تكن من الغافلین مولانا عبد الحی صاحب مرحوم کا جو قول مشتہر صاحب نے نقل کیا ہے وہ ان لوگوں کے جواب میں ہے جو کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آئیں گے تو آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں رہیں گے۔ مولانا مرحوم کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ اس لیے کہ آپ زجر الناس علی انکار اثر بن عباس کے ص٨٤ میں تحریر فرماتے ہیں:
”لکن ختم نبینا صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ جمیع انبیاء و جمیع الطبقات بمعنی انه لم یعط بعده النبوة لا حد فى طبقة (زجر الناس ص ٨٤)
کل طبقات کے انبیاء کے اعتبار سے آنحضرت کا خاتم النبیین ہونا حقیقی ہے اس معنی کے کہ بعد آپؐ کے کسی کو کسی طبقہ میں نبوت نہیں دی جائے گی۔
پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ ”لا شبه فى بطلان الا حتمال الثانى و هوان يكون وجود الخواتم فى تلک الطبقات بعده لما وردانه لا نبى بعده و ثبت فى مقره انه خاتم الانبياء على الاطلاق و استغراق“ (ص٨٥،٨٤ زجر الناس)
اس احتمال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ دیگر طبقات میں آنحضرت ﷺ کے بعد خواتم کا وجود ہو اس لیے کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہو چکی ہے کہ آپؐ کے خاتم الانبیاء ہونے میں کوئی قید نہیں ہے علی الاطلاق والا استغراق سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے کہ مولانا مرحوم اس بات کے قائل ہیں کہ آپؐ کے خاتم الانبیاء ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپؐ کسی خاص طبقہ میں خاتم الانبیاء ہیں یا کسی خاص قسم کی نبوت کے خاتم ہیں بلکہ جمیع طبقات جمیع اقسام نبوت کے خاتم ہیں آپؐ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔
مشتہر صاحب نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔ حاشیہ میں سورہ اعراف کی ایک آیت نقل کی ہے اور خود ہی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کہ: ”
یا ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی فمن اتقی و اصلح
٩
فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اعراف ٣٥)
اے اولاد آدم ! کہ جب آئیں رسول تمھارے پاس تمھارے ہی نوع سے ، پڑھیں تم پر آیتیں میری کتاب کی یا خبر دیں تم کو احکام شریعت سے، پھر جو کوئی پرہیز کرے گا شرک و تکذیب سے اور اصلاح کرے گا اپنے کاموں کی ، بس کوئی خوف نہیں ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
میں کہتا ہوں کہ اس آیت سے بعد آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کے ہونے کا امکان اور صاحب شرع جدید کے ہونے کا امتناع ثابت کرنا غلط اور محض غلط ہے اس لیے کہ رسل کا لفظ ہر قسم کے رسولوں کو شامل ہے صاحب شرع جدید ہو یا نہ ہو اسی طرح آیتوں کو پڑھ کر سنانے میں بھی کوئی قید نہیں ہے دونوں صورتوں کو شامل ہے (١) وہ آیتیں جو کسی پہلے نبی پر نازل ہوئی ہوں اور بعد کو آنے والا نبی پڑھ کر سنائے (٢) وہ آیتیں اسی نبی پر نازل ہوئی ہوں جو پڑھ کر سناتا ہے۔ اگر اس آیت سے رسولوں کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے قیامت تک جاری سمجھا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی صاحب شرع جدید کا ہونا بھی ممکن ہے اور آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا جو آیت قطعیۃ الدلالۃ ولكن رسول الله و خاتم النبیین اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کسی معنی سے صحیح نہ ہو اور یہ صرف باطل ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اس وقت کا تذکرہ ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی اولاد سے رسولوں پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔ سورہ بقرہ میں بھی اس کا ذکر ہے جیسا کہ شاہ ولی اللہ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں ”گفتم یعنی برزبان حضرت آدم چناں کہ در سورہ بقرہ اشارت است“
اخرج ابن جرید عن ابی یسار سلمی قال ان الله تبارک و تعالیٰ جعل آدم و ذریته فی کفه فقال یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی.
(در منثور جلد ٣ ص ٨٢ ۔ )
تفسیر در منثور میں ہے کہ ابن جرید نے ابو یسار سلمی سے روایت کی ہے کہ ” اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم اور ان کی اولاد کو اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ اے بنی آدم اگر آئیں تمھارے پاس پیغمبر تم ہی میں سے ، کہ سنائیں تم کو میری آیتیں تو جس نے تقویٰ کیا اور اپنی اصلاح کر لی اس پر کوئی ڈر نہیں اور نہ وہ غمگین ہوگا۔
اس روایت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ تذکرہ حضرت آدم کے وقت کا ہے اور اس
١٠
میں شک نہیں ہے کہ بحکم آیت مذکور حضرت آدم ہی سے رسولوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا اور برابر جاری رہا۔ جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور آیت کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین نازل ہوئی تو معلوم ہوگیا کہ وہ سلسلہ ختم ہو گیا اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمادیا کہ ”ختم بی النبیون“ یعنی نبیوں کا آنا مجھ پر ختم ہو گیا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ یعنی میری نبوت کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کا نبوت کے ساتھ دوبارہ دنیا میں تشریف لانا آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین اور ”لا نبی بعدی“ کے منافی نہیں ہے‘ اس لیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ تفسیر، ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم میں لکھا ہے۔
لا یقدح فیہ نزول عیسیٰ بعدہ علیہ السلام لان معنی کونہ خاتم النبیین انہ لا ینباء احد بعدہ و عیسیٰ ممن نبی قبلہ
(شہادۃ القرآن حصہ دوم ص ١٠٦)
کہ آپؐ کے خاتم النبیین ہونے میں نزول عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کے معنی ہیں کہ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی اور حضرت عیسیٰ تو ان میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے گئے۔
تفسیر بیضاوی۔ تفسیر خازن۔ (ج٥ ص٢١٨ زیر آیت ما کان محمد ابا احد ) تفسیر مدارک۔ تفسیر فتح البیان وغیرہ سب میں یہی لکھا ہے۔ مولانا عبدالحی صاحب مرحوم بھی لکھتے ہیں کہ
ولہٰذا یاتی عیسیٰ فی آخر الزمان علی شریعۃ و ھو نبی کریم علٰی حالہ لا ینقص عنہ شی
(زجر الناس ص ٨٥)
اسی سبب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی شریعت پر تشریف لائیں گے اور وہ اپنی نبوت سابقہ پر نبی ہی رہیں گے ان کی نبوت میں کمی نہیں ہوگی۔ یہ بھی واضح رہے کہ نبوت کی تقسیم تشریعی اور غیر تشریعی کی طرف یا نبی کی تقسیم اصلی اور ظلی و بروزی کی طرف قرآن مجید یا حدیث شریف سے ثابت نہیں ہے۔ ”و من ادعی فعلیہ البیان۔“
توفی کی بحث
مشتہر صاحب لکھتے ہیں ”اب رہی شق ثالث تو توفی کا لفظ علاوہ متنازعہ فیہ کے قرآن
١١
میں ٢٣ جگہ لکھا ہے جس کے معنی بجز قبض روح کے اور نہیں، اور ایک بھی ایسا مقام نہیں جس میں توفی کا لفظ آسمان پر جانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہو۔‘‘ اس کے چند جواب ہیں۔
- ١........... یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ اگر ایک لفظ کے چند معنی ہوں اور وہ لفظ ان معانی میں سے کسی
ایک معنی میں قرآن مجید میں کثرت سے استعمال کیا گیا ہو تو پھر اس لفظ کے دوسرے معنی کسی جگہ قرآن مجید میں نہ لے سکیں۔ بلکہ قرآن مجید میں غور کرنے سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں ’’اصحاب النار‘‘ کا لفظ متعدد مقامات میں واقع ہے اور تمام جگہ اس کے معنی آگ میں جلنے والے کے ہیں۔ مگر سورہ مدثر (آیت ٣١) ’’وما جعلنا اصحاب النار الا ملئکۃ‘‘ میں ’’اصحاب النار‘‘ سے موکلان دوزخ مراد ہیں۔ علیٰ ہذا قرآن مجید میں ’’ریب‘‘ کا لفظ بکثرت وارد ہوا ہے اور تمام جگہ اس کے معنی شک کے ہیں مگر ’’رَیْبَ الْمَنُوْنِ‘‘ میں حوادث دہر مراد ہیں اس کے نظائر قرآن مجید میں بہت ہیں بغرض اختصار دو ہی نظیروں پر اکتفا کیا گیا۔ اب اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ قرآن مجید میں ٢٣ مقامات پر توفی سے قبض روح ہی مراد ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ توفی سے کوئی دوسرے معنی مراد نہیں لیے جاسکتے۔
- ٢........... اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ توفی سے قبض روح ہی مراد ہے جب بھی لفظ توفی سے
حضرت مسیح علیہ السلام کی ممات ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ قبض روح دو طرح پر ہوتا ہے ایک موت میں، دوسرے نیند میں، نیند میں جو قبض روح ہوتا ہے وہ موت نہیں ہے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا.
(زمر٤٢)
’’اللہ تعالیٰ جانوں کو لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو جانیں مری نہیں ہیں یعنی جن کی موت نہیں آئی ہے ان کو نیند کی حالت میں لیتا ہے۔‘‘
لَمْ تَمُتْ کا لفظ صاف دلالت کرتا ہے کہ نیند کی حالت میں موت نہیں ہوتی۔ پس قبض روح پائے جانے سے موت نہیں ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کہنا کہ نیند میں روح قبض کی جاتی ہے اور جسم معطل کیا جاتا ہے صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ نیند میں جسم معطل نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ بیداری کے اعتبار سے نیند میں اصلاح جسم زیادہ
١٢
ہوتی ہے۔ کیونکہ نیند میں حرارت غریزی بالکلیہ باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ہضم غذا کامل طور پر ہوتا ہے اور کمال ہضم کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے اور خون سے ”بدل مایتحلل“ ہوتا ہے۔ دیکھو نفیسی بحث نوم۔ اس کے علاوہ نیند میں جسم کے معطل نہ ہونے کا بین ثبوت یہ ہے کہ نیند میں احتلام ہوتا ہے اور احتلام میں لذت جسمانی کا احساس ہوتا ہے۔ منی خارج ہوتی ہے، اگر نیند کی حالت میں جسم معطل رہتا تو جسمانی لذت نہیں پائی جاتی۔ اور نہ منی خارج ہوتی۔
- ٣........... اس آیت میں کہ ”وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ“ (انعام ٦٠)
خدا وہ ہے جو سلا دیتا ہے تم کو رات کے وقت۔
توفی کے معنی سلا دینا بصراحت موجود ہے اور یہاں پر سلا دینے کے سوا کوئی دوسرے معنی بن نہیں سکتے پھر ”مُتَوَفِّیْ“ کے معنی سلا دینے والا لینے میں کون مانع ہے؟ اس تقدیر پر ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ“ کے معنی یہ ہوں گے کہ ”اے عیسیٰ! میں آپ کو سلا دینے والا ہوں (اور نیند ہی کی حالت میں) آپ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔“
یہ توجیہ بھی تفسیر کبیر (جز ٨ ص ٧٢) خازن (ج ١ ص ٢٥٥) درمنثور (ج ٢ ص ٣٦) فتح البیان ۔ معالم التنزیل (ج ١ ص ١٦٢) میں مذکور ہے چنانچہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ
المراد بالتوفى النوم و منه قوله تعالى الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فجعل النوم وفاة كان عيسى قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلايلحقه خوف ۔
توفی سے مراد نوم ہے جیسا کہ آیۂ کریمہ اللہ یتوفی الانفس میں توفی کے معنی نوم ہی میں مستعمل ہے پس مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ سو گئے اور نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھا لیا تا کہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو۔
مذکورہ بالا مطلب کو ہم ایک ایسے طریقہ سے ثابت کر دکھاتے ہیں جس کے تسلیم کرنے میں غالباً مشتہر صاحب کو کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ٨٩٢ خزائن ج ٣ ص ٥٨٧) میں صحیح بخاری سے بڑے زوروں کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ”متوفیک“ کی تفسیر ”ممیتک“ فرمائی ہے۔ اور پھر اسی ازالۃ الاوہام حصہ دوم کے ص ٩٤٣ خزائن ج ٣ ص ٦٢١ میں لکھتے ہیں۔ ”اماتۃ“ کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں ہے بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ پس جب ”اماتۃ“ کے معنی حقیقی بے
١٤
ہوش کرنا بھی ہے تو ”ممیت“ کے معنی بے ہوش کرنے والا بھی ہوں گے اس لیے کہ ’ممیت اماتۃ “ کا اسم فاعل ہے اب اس کہنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ آیت زیر بحث کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰؑ میں آپ کو بے ہوش کرنے والا ہوں اور (بے ہوشی ہی کی حالت میں) آپ کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں۔ اور ظاہر ہے کہ کسی شخص کو بے ہوش کر کے اٹھا لینے کا مطلب یہی ہو گا کہ وہ زندہ روح مع الجسد اٹھایا گیا۔ پس مرزا قادیانی کے بیان کردہ معنی کے رو سے بھی متوفی کے لفظ سے حضرت عیسیٰ کی حیات اور رفع جسمانی ثابت ہو گئی ”فالحمد للہ علی ذالک“ اور یہ کہنا کہ۔ اس طور کی تاویل سے اگر کچھ ثابت ہو گا تو یہ ہو گا کہ حضرت مسیحؑ کی روح خواب کے طور پر قبض کی گئی اور پھر جسم اپنی جگہ زمین پر پڑا رہا۔ محض غلط ہے اس لیے کہ خواب کے طور پر روح قبض کرنے کے لیے صرف متوفی کا لفظ کافی ہے۔ ”رافعک“ کی کوئی ضرورت نہیں ”رافعک“ کا لفظ رفع جسمی ہی کے ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ (و مکروا و مکر اللہ ،متوفیک رافعک مطہرک) پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ توفی مقدمہ رفع ہے اور تطہیر نتیجہ رفع ہے مقصود بالذات اور اصلی فعل رفع جسمی ہی ہے جس سے ”مکر اللہ“ ثابت ہوتا ہے فتدبر۔
- ٤............ توفی کا مادہ وفا ہے اور وفا کے معنی پورا کرنا ہے لسان العرب میں ہے۔
الوفاء ضد الغدر یقال وفی بعہدہ واوفی (جلد ١٥ ص ٣٥٨)
کہ وفا غدر کے خلاف ہے وفی بعہدہ واوفی کے معنی عہد کو پورا کیا۔ یہ مادہ (وفا) جب باب استفعال اور باب تفعل میں لیا جاتا ہے تو وہ لفظ استیفاء اور توفی بنتے ہیں چونکہ باب استفعال کی موافقت (ہم معنی ہونا) باب تفعل کی خاصیت ہے اس لیے دونوں کے ایک معنی ہیں کامل اور پورا لے لینا۔
استوفاہ و توفاہ استکملہ (اساس البلاغہ) (شہادۃ القرآن حصہ اوّل ص ١٠٧)
توفیت المال منہ و استوفیتہ اذا اخذتہ کلہ (لسان العرب جز ١٥ ص ٣٥٩)
اساس البلاغہ میں ہے کہ ”استوفاء و توفاہ“ دونوں کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اس کو کامل اور پورا لے لیا۔
لسان العرب میں ہے کہ ”توفیت المال“ اور ”استوفیتہ“ دونوں کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اس سے اپنا مال پورا پورا لے لیا۔
١٤
اذا کتالوا علی الناس یستوفون (تطفیف آیت٢) قرآن مجید میں ہے کہ ”جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں“
اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ استیفا کے معنی پورا پورا لے لینا ہے اور ائمہ لغت کی تصریح سے یہ ثابت ہوا کہ توفی اور استیفا کے ایک معنی ہیں۔ پس ان دونوں باتوں سے ثابت ہو گیا کہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے اور جب توفی کے اصلی اور حقیقی معنی معین ہو گئے تو اس کے سوا جتنے معانی میں توفی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے مثلاً نیند۔ موت تعدا و رفع۔ وصولی قرض۔ وہ سب مجازی معنی ہیں اور اس بات کی تو ائمہ لغت نے تصریح کر دی ہے کہ قبض روح توفی کے مجازی معنی ہیں تاج العروس شرح قاموس میں ہے کہ:
ومن المجاز ادرکتہ الوفاة ای الموت والمنیة و توفی فلان اذا مات و
توفاہ اللّٰہ عز و جل اذا قبض روحہ (تاج العروس شرح قاموس جلد ١٠ص٣٩٤)
ومن المجاز توفی فلان و توفاہ اللّٰہ و ادرکتہ الوفاة
(اساس البلاغہ شھادۃ القرآن حصہ اوّل ص١٠٩)
مجاز میں سے ایک یہ ہے ”ادرکتہ الوفاة“ موت نے اسے پالیا۔ اور توفی فلاں وہ پورا لے لیا گیا کے معنی ہیں وہ مر گیا۔ اور توفاہ اللّٰہ، خدا نے اس کو پورا لے لیا کے معنی ہیں۔ خدا نے اس کی روح قبض کر لی۔ اور اساس البلاغہ میں توفی فلاں اور ”توفاہ اللّٰہ“ ”ادرکتہ الوفاة“ کے معنی فلاں مر گیا۔ فلاں کو اللّٰہ نے مار ڈالا۔ موت نے اس کو پا لیا۔ یہ سب مجازی معنی ہیں۔
کوئی ذی علم اس بات سے انکار نہیں کر سکتا ہے کہ معنی مجازی مراد لینے کے لیے قرینہ کا ہونا ضروری ہے۔ پس توفی کا لفظ جہاں کہیں استعمال کیا گیا ہے خواہ قرآن مجید میں ہو یا حدیث شریف میں یا عرب کے دواوین میں۔ سباق و سیاق کلام سے معنی مذکورہ میں جس معنی کا قرینہ ہوگا وہی معنی مراد ہوں گے۔ اگر نیند کے لوازمات کا ذکر ہوگا تو اس کے معنی سلا دینا ہوگا۔ اگر موت کے لوازمات کا ذکر ہوگا تو توفی کے معنی مار ڈالنا ہوں گے اور اگر رفع کا ذکر ہوگا تو توفی کے معنی رفع ہوں گے وعلیٰ ہٰذا القیاس۔ مشتہر صاحب نے پانچ آیتیں پیش کی ہیں۔ جس آیت میں جو معنی مراد ہیں اس کا قرینہ موجود ہے نقشہ ذیل ملاحظہ ہو۔
١٥
نمبر شمار آیت ترجمہ بیان قرینہ
١ حتی یتوفّھن الموت . آیت ١٥ نساء یہاں تک کہ ان کو وفات دے موت مرنے کے معنی مراد لینے کے لیے لفظ موت موجود ہے
٢ توفّنامع الابرار آیت ١٩٣ آل عمران ہم کو وفات دے نیکوں کے ساتھ توفی مع الابرار کنایہ ہے خاتمہ بالخیر ہونے سے اور یہ قرینہ ہے موت کے معنی مراد لینے کے لیے
٣ والذین یتوفّون منکم و یذرون ازواجاً ۔ بقرہ آیت ٢٤٠ تم میں سے جو لوگ وفات پاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کو چھوڑ جانا اور ان کی وصیت یا عدت وغیرہ کا حکم موت کے معنی کا قرینہ ہے۔
٤ توفّنی مسلما والحقنی بالصالحین ۔ یوسف آیت ١٠١ مجھ کو مسلمان وفات دے اور صالحین سے ملا لحوق بالصالحین بھی کنایہ ہے خاتمہ بالخیر ہونے کے ، اور یہ موت کے معنی کا قرینہ ہے۔
٥ ھو الذی یتوفّکم با للیل و یعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی انعام آیت ٦٠ خدا وہ ہے جو تم کو سلا دیتا ہے رات کو اور جانتا ہے جو تم دن کو کرتے ہو پھر تم کو دن کو اٹھاتا ہے تا کہ مدت مقررہ پوری کی جائے یہاں لیل کا لفظ سلا دینے کا قرینہ ہے۔
مذکورہ بالا آیات میں سے کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں توفی سے قبض روح بلا
١٦
قرینہ کے مراد ہو۔ کاش مشتہر صاحب قرآن مجید کے ٢٣ مقامات اور احادیث سے ٣٤٦ مقامات میں سے ایک ہی مقام میں یہ دکھلا دیں کہ بلا کسی قرینہ کے توفی سے قبض روح مراد ہے۔ یا کسی لغت ہی میں یہ دکھلا دیں کہ قبض روح توفی کے حقیقی معنی ہیں اور بلا قرینہ عقلی ونقلی حالی و مقالی کے یہ معنی توفی سے سمجھے جاتے ہیں۔ ہرگز ہرگز نہیں دکھلا سکتے ”ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً۔“
تصریحات بالا سے روز روشن کی طرح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آیت زیر بحث۔ (انی متوفیک و رافعک الی) میں متوفی کے معنی موت دینے والا یا قبض روح والا بغیر قرینہ کے مراد نہیں لیے جاسکتے اور آیت میں اس معنی کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے بلکہ سباق و سیاق کلام کے ساتھ ”رافعک“ کا لفظ رفع کے معنی مراد ہونے کے لیے قرینہ صریحہ موجود ہے۔ پس یہاں پر رفع ہی مراد ہو گی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں آپ کو پورا لینے والا اور اٹھانے والا ہوں اپنی طرف (روح مع الجسد) و ھو المطلوب۔
- ٥............. بڑے بڑے مفسرین نے توفی کی تفسیر ”رفع الی السماء“ (آسمان پر اٹھانے)
کے ساتھ کی ہے ملاحظہ ہو۔ ”امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ۔“
قولہ انی متوفیک یدل علی حصول التوفی و ھو جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت و بعضھا بالاصعاد الی السماء فلما قال بعدہ و رافعک الی کان ھذا تعیناً للنوع و لم یکن تکراراً۔
(تفسیر کبیر جزء٨ ص ٧٢ مطبوعہ مصر)
اللہ تعالیٰ کا قول ”انی متوفیک“ صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور توفی جنس ہے، جس کی بہت سی نوعیں ہیں بعض موت کے ساتھ اور بعض آسمان پر اٹھانے کے ساتھ جب متوفی کے بعد ”رافعک“ فرما دیا تو یہ تعیین نوع ہے اور تکرار نہیں ہے۔
تفسیر بیضاوی۔ اور تفسیر علامہ ابی سعود۔ تفسیر کبیر میں آیت کریمہ ”فلما توفیتنی“ کی تفسیر میں لکھا ہے۔ ”فلما توفیتنی بالرفع السماء بقولہ تعالیٰ و رافعک الی و التوفی اخذ الشی وافیا والموت نوع منہ“
(بیضاوی جلد ١۔ ص ٢٤٧ و تفسیر ابی سعود ص ١٠١ جلد ٣ مطبوعہ بیروت و تفسیر کبیر ص ١٣٥ جلد ١٢ مطبوعہ مصر)
”فلما توفیتنی“ کے معنی یہ ہیں کہ خدایا جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا بدلیل ”انی متوفیک و رافعک“ اس لیے کہ توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لے لینا اور موت اس کی ایک قسم ہے۔
١٧
فلما توفيتنى يعنى فلما رفعتنى الى السماء والمراد به وفاة الرفع لا الموت.
(تفسیر خازن جلد ١ ص ٥٢٤ مطبوعہ مصر)
تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ ”فلما توفیتنی“ کا مطلب یہ ہے کہ خدایا جب تو نے مجھ کو آسمان پر اٹھا لیا اور (توفی سے یہاں پر) مراد آسمان پر اٹھانا ہے موت مراد نہیں ہے تفسیر (جامع البیان ج ٧ ص ١٤٩ اور معالم التنزیل ج ١ ص ٣٠٨) وغیرہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ الغرض تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں پر توفی سے آسمان پر اٹھانا مراد ہے اور موت مراد نہیں ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بلا موت کے آسمان پر اٹھانے کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جسم خاکی کے ساتھ اٹھا لیا اور اسی پر تمام مفسرین ومحدثین وفقہاء و متکلمین و مجتہدین و متصوفین سب کا اتفاق ہے اور جب ایسے بڑے بڑے علماء ارباب بصیرت توفی کے معنی آسمان پر اٹھانا بیان کر رہے ہیں تو پھر کسی کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اس تفسیر کو توڑ سکے۔ مرزا نے کہا کہ جو ان تفاسیر کو نہ مانے وہ درحقیقت اس بات کا قائل ہے کہ گویا آئمہ اور مفسرین نے بھی محض نادانی سے (ایسی تفسیر کی ہے) (نعوذ باللہ منہ)
(اربعین نمبر ٣ ص ٣ خزائن ج ١٧ ص ٣٨٨)
پھر مشتہر صاحب نے یہ کہا کہ ”لفظ توفی کا استعمال رسول اللہ ﷺ سے ۔ صحیح بخاری سے ایک حدیث پیش کی ہے کہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔“
عن ابن عباس انه يجاء برجال من امتى فيؤخذبهم ذات الشمال فاقول يا رب اصحابى فيقال انك لا تدرى ما احدثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح و كنت عليهم شهيدا۔ مادمت فيهم فلما تو فيتنى كنت انت الرقيب عليهم۔
”قیامت کے دن بعض لوگ میری امت میں سے دوزخ کی طرف لائے جائیں گے پس میں کہوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں کہا جائے گا کہ تم کو ان کاموں کی خبر نہیں ہے جو تمھارے بعد ان لوگوں نے کئے۔ سو اس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح بن مریم نے کہ اے رب جب تک میں ان میں رہا ان پر شاہد تھا پھر جب تو نے مجھ کو وفات دی تو تو خود ان کا نگہبان تھا۔“ (بخاری ج ٢ ص ٦٦٥ باب قولہ و کنت علیہم شہیدا الخ)
اس حدیث میں آنحضرتؐ نے اپنے قصہ اور مسیح بن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا
١٨
قصہ قرار دے کر وہی لفظ ”فلما توفیتنی“ کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فلما توفیتنی سے وفات ہی مراد لی ہے کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ آنحضرت ﷺ فوت ہو کر مدینہ منورہ میں مدفون ہیں۔ ”اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کہ توفی بمعنی موت بھی مستعمل ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے توفی کو اپنے حق میں بمعنی موت ہی استعمال کیا ہے مگر آپ کے استعمال سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے قول فلما توفیتنی میں بھی توفی بمعنی موت ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بھی ہے کہ۔
تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک (مائده ١١٦) اے رب جو میرے نفس میں ہے تو اس کو جانتا ہے اور جو تیرے نفس میں ہے اس کو میں نہیں جانتا۔
اب دیکھو کہ یہاں پر نفس کا لفظ حضرت عیسیٰ اور خداوند تعالیٰ دونوں کے لیے وارد ہے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ دونوں کے حق میں نفس کے ایک ہی معنی مراد لیے جائیں۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ پس آنحضرت ﷺ کے حق میں توفی بمعنی موت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بمعنی موت ہو۔
مشتہر صاحب کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے اپنے قصہ اور حضرت مسیح بن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر ”فلما توفیتنی“ کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔“ اس لیے کہ آنحضرت کا قصہ ہرگز حضرت عیسیٰ کے قصہ کے ہم رنگ نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ کا یہ قول۔ ”کنت علیہم شہید الایۃ“ خداوند تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں ہو گا کہ۔“
أانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللّٰہ۔ (مائده ١١٦) اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ بناؤ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود خدا کے سوا۔“
اور آنحضرت سے اس قسم کے سوال کئے جانے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ مفہوم حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐ کا اپنے قصہ کے ساتھ حضرت عیسیٰؑ کے قصہ کو ذکر کرنے سے یہ مقصود نہیں ہے کہ ”توفیتنی“ کے معنی بیان کریں بلکہ مقصود یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰؑ باوجود اپنی برأت کرنے
١٩
کے اپنی امت کے لیے یہ دعا کریں گے کہ خدایا۔ ان تعذبهم فانهم عبادک و ان تغفرلهم فانک انت العزیز الحکیم (مائدہ١١٨) اگر تو ان پر عذاب کرے تو یہ سب تیرے بندہ ہیں اور اگر بخش دے تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔
اسی طرح میں بھی اپنی برأت کروں گا اور اپنی امت کے لیے انہی الفاظ میں دعا بھی کروں گا جس حدیث کو مشتہر صاحب نے پیش کیا ہے: اس حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پوری آیت اس طرح تلاوت فرمائی۔ ”و كنت عليهم شهيد اما دمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم و انت على كل شئ شهيد. ان تعذبهم فانهم عبادک و ان تغفرلهم فانک انت العزیز الحکیم.“ (مائدہ ١١٧۔١١٨)
مگر افسوس ہے کہ مشتہر صاحب نے حدیث کے اس ٹکڑے (الی قوله العزیز الحکیم) کو حذف کر دیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐ نے پوری آیت تلاوت فرمائی۔ دیکھو
(بخاری شریف ج ٢ ص ٦٦٥ مع فتح الباری پارہ ١٨ ص ١٧٦۔ )
مذکورہ بالا مطلب کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مذکورہ بالا دعا آنحضرت ﷺ کو بہت پسند تھی اور اپنی زندگی شریف میں بھی آپؐ نے اپنی امت کے حق میں یہ دعا فرمائی ہے (١) مسلم میں حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ۔
عن عمرو بن العاص ان النبی ﷺ تلا قول الله تعالى في ابراهيم عليه السلام رب انهن اضللن كثيرا من الناس فمن تبعنى فانه منى. الاية وقال عيسى عليه السلام ان تعذبهم فانهم عبادک و ان تغفر لهم فانک انت العزیز الحکیم فرفع يديه وقال اللهم امتى امتى وبكى.
(مسلم جلد اول ص ١١٣ باب دعا النبیؐ لامته و بکائه و شفقته عليهم.)
نبی کریم ﷺ نے وہ آیت تلاوت فرمائی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت وارد ہے (کہ آپ اس طرح دعا فرمائیں گے) خدایا ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے پس جس نے میری پیروی کی وہی مجھ سے ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کو بھی تلاوت فرمایا کہ (خدایا) اگر تو ان پر عذاب کرے تو یہ سب تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو
٢٠
بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔ اس دعا کے پڑھنے کے بعد آپؐ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا۔ اللهم امتی امتی (خدایا میں بھی امت کے حق میں یہی دعا کرتا ہوں) اور آپؐ رونے لگے۔
(٢) عن ابی ذرّ قال قام رسول الله ﷺ حتی اصبح باية و الاية ان تعذبہم فانہم عبادک و ان تغفر لهم فانک انت العزيز الحکيم.
(رواہ النسائی ج ١ ص ١٠٢ وابن ماجہ ص ٩٦ باب ماجاء فی قراہ فی صلوٰۃ اللیل ۔ مشکوۃ ص ١٠٧ باب صلوٰۃ اللیل)
من قول عيسى عليه السلام فى حق قومه و كان عرض رسول الله ﷺ حال امته على الله سبحانه و استغفرلهم.
(حاشیہ مشکوۃ ص ١٠٧۔)
نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت ﷺ نے نماز تہجد میں ایک ہی آیت میں صبح کر دی اور وہ آیت یہ تھی (ان تعذبہم فانہم عبادک الایۃ) اس حدیث کی شرح میں لمعات میں لکھا ہے کہ ”یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے اپنی قوم کے حق میں (آپ کا اس آیت کو بار بار پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ) گویا آپؐ نے اپنی امت کا حال خداوند تعالیٰ کے حضور میں عرض کر کے ان کے لیے مغفرت چاہی۔“
پھر مشتہر صاحب نے شمس الدین سرخسی۔ فوات الوفیات۔ منتہی الارب سے ایک ایک جملہ نقل کر کے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اس لفظ کے مجرد معنی عرف عام میں بجز موت کے اور کچھ نہیں ہوتے چنانچہ ذیل کی حدیث شریف بھی ملاحظہ فرمائیے“
و اخبرنی انہ اخبرہ امتہ لم یکن نبی الا عاش نصف عمر الذی کان قبلہ و اخبرنی ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ.“
(مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢٦ باب فی مرضہ وخاتمہ)
اس کا جواب یہ ہے (١) کہ مجرد معنی سے اگر یہ مراد ہے کہ اس لفظ سے بلا قرینہ کے موت ہی کے معنی سمجھے جاتے ہیں تو غلط اور محض غلط ہے اس لیے کہ جو عبارتیں ثبوت میں پیش کی گئی ہیں ان میں موت کے معنی کے قرینے موجود ہیں نقشہ ذیل ملاحظہ ہو۔
نمبر شمار اصل عبارت معہ ترجمہ قرینہ
٢١
- ١
قال ابو حنيفه رجل توفى عن امراته هى مملوكة
(شمس الدین سرخسی جلد ٦ ص ٥٥)
ترجمہ۔ امام ابو حنیفہ نے فرمایا ایک شخص بی بی چھوڑ کر مر گیا اور وہ مملوکہ ہے۔
عن امراته بی بی چھوڑنا قرینہ ہے موت کے معنی کا
- ٢
ابو جعفر امير المومنين عاش اربعاً وستين سنة وتوفى ببير ميمون من ارض الحرام
(فوات الوفايات ص ٢٣٣)
ترجمہ۔ ابو جعفر منصور امیر المومنین ٦٤ برس زندہ رہا اور بیر میمون میں جو ارض حرم ہے مر گیا۔
عاش اربعاً و ستين سنة ٦٤ برس زندہ رہا یہ قرینہ موت کے معنی کا
- ٣
يقال توفى الله تعالى اى قبض روحه
(منتہی الارب ج ٤ ص ٣٢٥)
ترجمہ۔ کہا جاتا ہے کہ توفی اللہ یعنی اللہ نے اس کی روح قبض کی۔
توفی کے ایک معنی قبض روح ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے دوسرے معنی نہیں ہیں منتہی الارب میں اسی جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے دوسرے معنی تمام گرفتن حق خود بھی ہے۔
الغرض مذکورہ بالا حوالوں سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ بلا قرینہ کے لفظ توفی سے موت کے معنی سمجھے جاتے ہیں اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرف عام میں توفی کے معنی موت ہی ہیں اور اگر مجرد معنی سے کچھ اور مراد ہے تو اس کو نہ ظاہر کیا اور نہ اس کا کوئی ثبوت پیش کیا۔ (٢) جو حدیث مشتہر صاحب نے پیش کی ہے اس میں توفی کا لفظ نہیں ہے۔ اس حدیث میں دو جملے ہیں ( ١ ) ”و اخبرنی انه اخبر انه لم یکن نبی الا عاش نصف عمر الذی کان قبله.“ ( ٢ ) ”واخبرنی ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائة سنة.“ چونکہ پہلے جملہ سے مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ (مسیح موعود ہونا) ہی غلط ہو جاتا ہے اس لیے مشتہر صاحب نے پہلے
٢٢
جملہ کا ترجمہ تک نہیں کیا صرف دوسرے جملہ کا ترجمہ کر کے یہ لکھا ہے کہ۔ ’’ اب جبکہ مخصوص اللہ تعالیٰ نے ذریعہ وحی حضرت مسیح کی عمر کو بتا دیا تو اب بھی اس کو زندہ ماننا خدا تعالیٰ کے کلام کو نہ ماننا ہے۔‘‘ میں دونوں جملوں کو الگ الگ کر کے ہر جملہ کا مطلب بیان کرتا ہوں تاکہ ناظرین کو اس حدیث کے مطلب سمجھنے میں آسانی ہو۔ اور یہ بھی ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت اس حدیث کی رو سے بھی غلط ہے اور مشتہر صاحب نے اس حدیث سے جو سمجھا ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (١) ” واخبرنی انه اخبر، انه لم یکن نبی الا عاش نصف عمر الذی کان قبله. ‘‘ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے مجھ کو یہ خبر دی کہ کوئی نبی نہیں ہوئے، مگر زندہ رہے آدھی عمر اس نبی کی عمر سے، جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی ہر نبی کی عمر پہلے نبی کے عمر کی آدھی ہوتی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے اس لیے کہ مرزا قادیانی (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی سے پہلے نبی آنحضرت ہی ہیں اور کوئی نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ آنحضرت کی عمر ٦٣ برس کی تھی اگر مرزا قادیانی نبی ہوتے تو اس حدیث کی رو سے ان کی عمر ٣٠ برس یا ٣١ برس چھ مہینے کی ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ مرزا قادیانی کی عمر بقول مؤلف آئینہ صداقت ٧٥ برس کی ہوئی۔
(آئینہ صداقت ص ١٨)
اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نبی نہیں تھے۔ اور جب نبی نہیں ہوئے تو مسیح موعود بھی نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ مسیح موعود نبی ہوں گے۔ جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث سے ثابت ہے۔ (٢) ” واخبرنی ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائة سنة ۔ ‘‘ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے مجھ کو یہ بھی خبر دی کہ عیسیٰ بن مریم نے ایک سو بیس برس زندگی بسر کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ بعد نزول جو عمر آپکی ہوگی وہ اس میں محسوب نہیں ہے۔ دیکھو ”حجج الكرامة فی اثار القيامة ص ٤٢٨ میں لکھا ہے کہ ”گویم رفع او (عیسیٰ) بعمر سی وسه سال زعم نصاریٰ است چنانکه وهب ابن منبه گفته و ثابت در احادیث نبویه رفع او بعمر یکصدو بست سال است.“
٢٣
میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کا ٣٣ برس میں اٹھایا جانا نصاریٰ کا قول ہے اور احادیث نبویہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ١٢٠ برس کی عمر میں اٹھائے گئے۔
مشتہر صاحب الہلال کے ایڈیٹر مولوی ابوالکلام آزاد کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ ”کبیر الدین احمد، سیکرٹری انجمن احمدیہ کو اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح بھی دوسرے نبیوں کی طرح مر گئے۔“ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے جن دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کر دی ہے ان کے مقابلہ میں ایڈیٹر ممدوح کا قول قابل سماعت نہیں ہو سکتا ہے اور اگر مشتہر صاحب کے نزدیک ایڈیٹر صاحب کا قول مذکورہ بالا دلائل پر مقدم اور واجب التسلیم ہے تو مشتہر صاحب پہلے ایڈیٹر صاحب کے اس قول کو تسلیم کریں جو الہلال نمبر ١، ٢۔ ٧، ١٤ جنوری ١٩١٤ء کے ص ٢٤ میں درج ہے۔ ”نہ تو میں کسی شخص کو مہدی یقین کرتا ہوں نہ مسیح موعود میں اعتقاد توحید و رسالت اور عمل صالح کو نجات کے لیے کافی سمجھتا ہوں۔“
مشتہر صاحب نے مولوی شبلی صاحب کا ایک فتویٰ بھی نقل کیا ہے کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں وہ مسلمان ہیں اور تمام احکام مسلمانوں کے ان سے متعلق ہیں اور ان سے بلا تکلف مناکحت جائز ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مشتہر صاحب نے مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادے مرزا محمود احمد قادیانی کے اس فتویٰ کا ذکر تک نہیں کیا جو ان دونوں نے اپنے مخالف مسلمانوں کے حق میں دیا ہے۔ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧ میں لکھتے ہیں کہ ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
پھر اسی صفحہ (خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں لکھتے ہیں ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ آپ کے صاحبزادے مرزا محمود احمد قادیانی تشحیذ الاذہان ص ١٢٢ میں لکھتے ہیں ”اور جب حضرت صاحب (مرزا) کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کے بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔“
علامہ شبلی اگر مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادہ کے خیالات سے پورے واقف ہوتے تو ایسا فتویٰ کبھی نہیں دیتے۔ مشتہر صاحب کو چاہیے کہ ان اقوال کو مولوی شبلی صاحب کے سامنے پیش کر کے فتویٰ طلب کریں۔
نوٹ...... میں نے لفظ توفی کی کامل تحقیقات کر دی اور الحمد للہ کہ لفظ توفی ہی سے نہایت ہی پر زور دلائل کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت کر دی سردست کسی دوسری دلیل کے
٢٤
پیش کرنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی اگر مشتہر صاحب ان دلائل کا تشفی بخش جواب دے دیں گے تب اور دلائل پیش کئے جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ بفضلہ تعالیٰ میں نے مشتہر صاحب کا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ اب میرا مطالبہ قادیانی جماعت سے عموماً اور مشتہر صاحب سے خصوصاً یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و مسیحیت قرآن مجید کی کسی قطعی الدلالت آیت سے یا مرفوع متصل صحیح حدیث سے ثابت کر دکھائیں ورنہ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو یہود و نصاریٰ بنانے سے باز آئیں۔
المجیب ابوالخیر سید محمد انور حسین ساکن محلہ مہولی شہر مونگیر پروفیسر ڈی جے کالج مونگیر۔ ١٣ اپریل ١٩١٤ء مطابق ١٧ جمادی الاولیٰ ١٣٣٢ھ۔
ضروری اطلاع: لکھنؤ کی معتبر تحریر سے معلوم ہوا کہ جس قادیانی اشتہار کا اس رسالہ میں جواب دیا گیا ہے اس کا اصل دعوٰی ہی غلط ہے مشتہر نے محض جھوٹا الزام علمائے اسلام پر لگایا ہے اس کی تفصیل ناظرین رسالہ النجم لکھنؤ میں ملاحظہ کریں گے نمبر ١٠، ١١ جلد ١ بابت ماہ جمادی الثانیہ رسالہ مذکور کا دیکھنا چاہیے۔ مژدہ! مولانا عبدالشکور کی تقریر سے ایک قادیانی تائب ہو کر مسلمان ہوا۔ الحمد لله على ذلك۔
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆.......☆ آنحضرت ﷺ کے بعد معجزہ دکھانے کا دعویٰ کفر
ہے۔ کیونکہ معجزہ دکھانا نبی کی خصوصیت ہے۔
- ☆.......☆ قادیانیوں کی سو 100 نسلیں بھی بدل جائیں تو انکا
حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کا حکم نہیں ہوگا۔
- ☆.......☆ مرزائیوں کا کافر مرتد اور زندیق ہونا روز روشن کی
طرح واضح ہے۔
٢٥
احتساب قادیانیت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ ’’احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ’’احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔
احتساب قادیانیت جلد چہارم
مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ : ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ : ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘ رسالہ قائد قادیان“ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ : ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب‘ صدائے ایمان“ مولانا بدر عالم میرٹھیؒ : ختم نبوت‘ حیات عیسیٰ‘ آواز حق‘ امام مہدی‘ دجال‘ نور ایمان‘ الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“ ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔
رابطہ کے لئے:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٦)
حضرت مولانا ابو احمد سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
مسلمانوں کو نہایت بیدار مغزی سے اس دعویٰ کی طرف توجہ کرنا چاہئے۔ یہ وہ عظیم الشان فتنہ ہے جس نے مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اور پیدا کر رہا ہے ہمارے بھائی جب اس دعویٰ کی تفصیل ملاحظہ کریں گے تو متحیر ہو جائیں گے۔ یہ وہ وقت تھا کہ مسلمان سب اتفاق کر کے اپنے مقدس مذہب کے قائم رکھنے اور دشمنان اسلام سے بچانے کی فکر کرتے۔ مگر افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بیرونی حملوں کو اشتعال دیکر اندرونی حملہ ایسا کیا کہ اسلام کا خاتمہ ہی کر دیا۔ وہ آسمانی مذہب جس کی بنیاد حضرت سیدالمرسلین خاتم النبیینؐ نے ڈالی۔ جس کی شاخ و برگ لہلہائے اس وقت تیس چالیس کروڑ شمار کئے جاتے ہیں اس کی بنیاد اکھیڑ کر دوسرا مذہب اسلام کے نام سے قائم کرنا چاہتے ہیں اور نہایت زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جو مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جہنمی ہے کافر ہے۔
بھائیو! کس قدر صدمہ کی بات ہے کہ جس باغ کو جناب رسول اللہ ﷺ نے لگایا اور جس کو آپؐ کے سچے پیروؤں نے ایسا سینچا کہ ساری دنیا میں اس کی شاخیں پھیل گئیں اب اسے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو برباد کرنا چاہتے ہیں اور اپنے جدید خیالی مذہب پر فخر کرتے
ہیں ۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی زبان سے اپنے قلم سے اپنے افعال سے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا کر ان کے دلوں کو پاش پاش اور دشمنان اسلام کو خوش کر دیا ۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کے جھوٹ اور فریب کا دریا موجزن ہے ۔ جن کی کتابیں اور رسالے جھوٹی باتوں اور فریب آمیز تقریروں سے بھری ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم کے ساتھ فہم کامل دی ہے وہ غور سے ملاحظہ کریں ۔ ان کے زور دار دعوؤں اور محض جھوٹی تعلیوں پر فریفتہ نہ ہو جائیں ۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کے دعوؤں سے کوئی کمال انسانی نہیں بچا ۔ سب ہی کا انہیں دعویٰ ہے (١) مجدد ہیں (حقیقت الوحی ص ١٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١) ، (٢) امام وقت ہیں (حقیقۃ الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) (٣) محدث ہیں (توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠) (٤) مہدی ہیں (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) (٥) پہلے مثیل مسیح تھے (ازالہ اوہام ص ١٩٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٧) (٦) اب مسیح موعود ہیں (ازالہ اوہام ص ٣٤٩ خزائن ج ٣ ص ٤٤٦) (٧) نبی ہیں (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) (٨) صاحب شریعت رسول ہیں (اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣) (٩) بعض وقت بعض انبیاء سے افضل ہیں (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) (١٠) اور کسی وقت تمام انبیاء سے افضلیت کا دعویٰ ہے (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) (١١) یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفےٰ ﷺ پر بھی فضیلت کا دعویٰ ہے (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) مگر یہ آخری دعویٰ صاف طور سے نہیں مسلمانوں کے دھوکا دینے کو خادم اور غلام احمد بھی اپنے کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ کا مطیع اور مؤید بتاتے ہیں ۔ مگر آئندہ ان کے بعض اقوال نقل کئے جائیں گے جن سے بخوبی ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو تمام انبیاء اور نیز جناب رسول اللہ ﷺ سے افضل اور نہایت افضل سمجھتے ہیں ۔ شریعت کی اطاعت کا حال ملاحظہ کیجئے ۔ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے وہی معنی لائق اعتبار ہیں جو میں بیان کروں اور حدیث وہی لائق اعتبار ہے جسے میں صحیح کہدوں ورنہ ردی میں پھینک دینے کے لائق ہے ۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ) صاحب عقل کے نزدیک تو اس کا یہی حاصل ہے کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کہیں وہی شریعت ہے ۔ شریعت کا نام لینا اور اس کا مطیع بتانا برائے نام ہے ۔ ورنہ قرآن کے جو معنے تمام صحابہؓ اور امت محمدیہ نے سمجھے اور بیان کئے اور جس حدیث کو تمام امت نے مانا اور صحیح قرار دیا اور صحابہؓ کا جس پر اتفاق ہے اسے نہ ماننا اور ردی میں ڈالنا اور قرآن کے ایسے معنے گھڑنا جو کسی نے سلف اور خلف میں نہیں سمجھے ۔ خصوصاً اہل زبان نے اس کے کیا معنی کئے ہیں؟
٢٦
ذرا اہل فہم وانصاف اس پر غور فرمائیں۔ بایں ہمہ بعض ان کے پیرو کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ظلی نبی ہیں۔ نائب رسول ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی ہیں مگر صاحب شریعت نہیں ہیں۔ بلکہ امتی نبی ہیں۔ (اتمام حجت بر ختم نبوت حاشیہ ص ١١٢۔١١٣) مگر یہ دونوں قول محض غلط ہیں۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے دیدہ دانستہ ایسا کہتے ہیں۔ یا خود غلطی میں پڑے ہیں۔
بھائیو! میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو اس قسم کے بہت دھوکہ دیتے ہیں۔ ہر شخص کے سامنے اس کے مزاج و خیال کے مناسب مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر کر کے اسے مائل کرتے ہیں۔ بھائیو! اگر تمہیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنا ہے تو ایسے حضرات کی باتوں میں نہ آنا اور ان سے علیحدہ رہنا۔ آئندہ ان کے ایسے اقوال نقل کئے جائیں گے جن سے اظہر من الشمس ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مستقل نبی اور صاحب شریعت ہونے کا پختہ دعویٰ ہے۔ جس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آیت قرآنی ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ“ سے انکار ہے۔ مگر چونکہ جانتے ہیں کہ ہمارے دعوے کو صرف مسلمانوں ہی نے مانا ہے۔ کوئی ہندو، کوئی آریہ، کوئی عیسائی ان پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے صاف انکار تو نہیں کرتے بلکہ عوام کے دھوکہ دینے کی غرض سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے۔ آیت مذکور سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ شریعت محمدیہ کی رو سے جسے نبی کہا جائے ان سب کے آپؐ خاتم ہیں یعنی سب کے بعد آنے والے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے معنے لغت میں اور محاورہ عرب میں آخر النبیین کے ہیں۔ یعنی تمام انبیاء اور ہر قسم کے نبیوں کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا آنے والا نہیں اور یہی معنے صحیح حدیثوں سے بھی ثابت ہیں۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ جس قدر انبیاء بھیجے گئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ آنحضرت ﷺ سلطان الانبیاء سرور عالم ہیں آپؐ کے بعد کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ آپ کی شان رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ علمائے امت وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں دیکھنا چاہئے۔ الغرض اب جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب آیت قرآن وحدیث نبوی کے جھوٹا ہے۔ (حدیث یہ ہے)
انہ سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی
٢٧
بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥)
(ترجمہ) میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے۔
اس مضمون کو امام بخاری (ج ١ ص ٥٠٩ باب علامات النبوة فی الاسلام) اور مسلم (ج ٢ ص ٣٩٧ قوله ان بین یدی الساعة کذابین قریباً من ثلاثین “اور ترمذی (ج ٢ ص ٤٥ باب ما جاء لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون ) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں تأمل کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
اوّل! یہ کہ حضور انور ﷺ پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ میرے بعد جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔
دوم! یہ کہ ان کے جھوٹے ہونے کی یہ علامات بیان فرمائی کہ امت محمدی ہونے کا دعویٰ کریں گے اور اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کے مدعی ہوں گے۔ یعنی امتی نبی کہیں گے۔
سوم! ان کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل فرمائی ۔ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّين لَا نَبِيَّ بَعْدِی ۔ یعنی وہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ میرا خاتم النبیین ہونا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے اس سے خاص طور سے اس مدعی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا جو اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور امتی نبی کہے۔
چہارم! نہایت صراحت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لفظ خاتم النبیین کے معنے فقط آخر ہونے کے ہیں۔ یہ معنی نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ انبیاء کی مہر ہیں یا زینت ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ اُن مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں بیان ہوا ہے۔ اگر مہر کے معنی لئے جائیں تو ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جملہ فضول اور بیکار ہو جائے گا۔ اہل علم اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ خاتم النبیین کے بعد جملہ لا نبی بعدی کا اضافہ کیا گیا۔ جس سے نہایت واضح ہو گیا کہ انا خاتم النبیین کے یہی معنے ہیں کہ میں آخر النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
پنجم! اس حدیث کے الفاظ اور معنی پر نظر کرنے کے بعد جب واقعات پر نظر کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد بعض نبوت تشریعی کے مدعی ہوئے ۔ جیسے صالح بن طریف اور بعض غیر تشریعی نبوت کے جیسے ابو عیسیٰ وغیرہ ۔ ان سب کے جھوٹے ہونے کی آپؐ نے یہی دلیل بیان
٢٨
فرمائی کہ میں آخر النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ آپؐ کے بعد تشریعی غیر تشریعی۔ امتی غیر امتی کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ خصوصاً جو امتی نبی ہونے کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا تو آفتاب نیمروز کی طرح اس حدیث سے روشن ہو گیا۔
ششم! اس حدیث سے آیت قرآنیہ ولکن رسول الله وخاتم النبیین کی تفسیر بھی پورے طور سے ہوگئی اور وحی خداوندی کی تفسیر صاحب وحی نے کر دی اور وہ تفسیر بھی الہام خداوندی سے کی جس کا ذکر اوپر کیا گیا
الغرض! اس حدیث میں جو علامت جھوٹے مدعیان نبوت کی بیان ہوئی ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی میں یقینی طور سے پائی جاتی ہے اور حدیث کا آخری جملہ بھی انہیں کاذب ثابت کرتا ہے اور خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے جو معنے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین نے بیان کئے ہیں وہ بھی اس حدیث سے محض غلط ثابت ہوئے اور آیت قرآن مجید کی تفسیر بھی ہو گئی۔ اب جسے اللہ تعالیٰ نے علم کے ساتھ کچھ بھی حق پسندی اور خوف خدا دیا ہے وہ پورے طور سے فیصلہ کرلے گا کہ قرآن و حدیث سے بالیقین ثابت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کاذب تھے۔ اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بیان تو میرا ضمنی طور سے تھا اصل مقصود یہ دکھانا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف مجدد اور مصلح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ نہایت زور سے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اس کا ثبوت ان کے صریح کلام سے کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ یہاں صرف تین طریقے بیان کئے گئے ہیں۔
دعویٰ نبوت کے ثبوت کا پہلا طریقہ
ایک یہ کہ وہ اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں اور ایسا کافر جیسا خدا اور رسول کو نہ ماننے والا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت جگہ اس کی تصریح کی ہے۔ میں ان کی آخری کتاب جو تمام مرزائیوں کے نزدیک نہایت معتبر ہے اس کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ ان کے کسی مرید نے ان سے سوال کیا ہے وہ سوال یہ ہے۔
”سوال! حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ”ہر ایک شخص
٢٩
جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
یہ سائل مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال میں تناقض پیش کر کے اس کا جواب چاہتا ہے۔ اس کا واقعی اور سچا جواب تو یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے تھے۔ آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے اور اپنے مریدین کی حالت پر نظر کرتے کرتے اس مرتبہ کو پہنچے کہ ان کا منکر کافر ٹھہرا اور ان کے مصلح اور امام ہونے کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ اگر اس مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان۔ مسلمان ہی رہتے تو بقول مرزا محمود احمد قادیانی۔ مرزا قادیانی کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوتا؟ اور سائل کا یہ خیال کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جو تکفیر کرے وہی کافر ہوتا ہے کوتاہ نظری اور مرتبہ شناسی کے خلاف ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مرتبہ نبوت مستقلہ پر پہنچ گئے ہیں۔ اب ان کا منکر کافر ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی صاف تحریر نہیں کرتے اور پیچ کے ساتھ اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کا جواب ملاحظہ ہو)
”الجواب! یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر ہے جیسا کہ (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے۔ ”فمن اظلم ممن افترٰی علی الله کذباً او کذب بآیٰتہ“ یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افتراء کرنے والا۔ دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا، اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں خود فرماتا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا“
(حقیقتہ الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧۔ ١٦٨)
اس جواب پر غور کیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو ویسا ہی کافر کہتے ہیں جیسا خدا پر افتراء کرنے والا اور آیات قرآنیہ کا نہ ماننے والا اس کے یہ معنے کسی طرح نہیں ہو سکتے کہ کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میرا نہ ماننے والا کامل
٣٠
الایمان نہیں ہے ناقص الایمان ہے۔ اس مطلب کا ثبوت ان کی عبارت سے نہایت ظاہر ہے تین وجہ سے۔
ایک! یہ کہ وہ مکفر کو اور نہ ماننے والے کو ایک سا قرار دیتے ہیں اور مکفر پر ویسا ہی کفر عود کرتا ہے۔ جیسا اس نے دوسرے پر دعویٰ کیا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی لکھ رہے ہیں کہ نہ ماننے والوں نے مجھے بڑا کافر کہا اور جب میں ایسا کافر نہیں ہوں تو بالضرور میرا نہ ماننے والا بڑا کافر ہے۔
دوسری! وجہ یہ ہے کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کا نہ ماننے والا کافر نہیں ہے تو سوال کا جواب یہ دینا چاہئے تھا کہ میں جس طرح پہلے اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا تھا اب بھی نہیں کہتا اور میرا یہ کہنا کہ جس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کامل مسلمان نہیں ہے۔ اس سے سوال کا جواب بھی پورے طور سے ہو جاتا اور یہ بھی معلوم ہوتا کہ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں کہتے۔ جب یہ نہیں کہا تو بالیقین ان کا وہی مطلب ہے جو ان کے ظاہر الفاظ سے ظاہر ہورہا ہے۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو ویسا ہی کافر سمجھتے ہیں جیسا تمام مسلمان اہل کتاب اور مشرکین کو سمجھتے ہیں۔
تیسری! وجہ نہایت ظاہر ان کا یہ قول ہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ اس قول کے بعد کسی طرح کا شبہ اس امر میں نہیں رہتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے منکر کو ویسا ہی کافر کہتے ہیں جیسا خدا اور رسول کا منکر ہوتا ہے۔ اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مستقل نبوت کا دعویٰ تھا۔ کیونکہ غیر نبی کا منکر کافر نہیں ہو سکتا اور مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت جگہ اپنے منکر کو کافر کہا ہے۔ مثلاً کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل، ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
ایسی صراحتوں کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض مریدوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے کسی صاحب عقل کے نزدیک سچائی پر محمول نہیں ہو سکتا۔ سچائی سے تمام اہل قبلہ کو
٣١
مسلمان کہنے والا مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد ہرگز نہیں ہو سکتا۔
دوسرا طریقہ دعویٰ نبوت کے ثبوت کا
مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ فتویٰ ہے کہ کسی قادیانی کی نماز اس مسلمان کے پیچھے درست نہیں جو قادیانی نہیں۔ یعنی اس نے مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو نہیں مانا اگرچہ وہ مکذب یا مکفر نہ ہو بلکہ متردد یا ساکت ہی ہو۔ مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ) میں لکھتے ہیں ۔ ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو“۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس میں فرماتے ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے کہ غیر قادیانی کے پیچھے نماز قطعا حرام ہے۔ اب ناظرین مرزاغلام احمد قادیانی کے اس فتوے پر غور فرمائیں اور اسی کے ساتھ شریعت محمدیہؐ کے اس حکم کو بھی ملاحظہ کریں کہ ہر مسلمان کے پیچھے مسلمان کی نماز ہو جاتی ہے البتہ کافر کے پیچھے نماز حرام ہے۔ اب ان دونوں باتوں کو دیکھنے سے اس امر میں کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا کہ غیر قادیانی کو مرزاغلام احمد قادیانی کافر سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کا فتویٰ بھی دیکھئے جو فتاویٰ احمدیہ میں منقول ہے۔ ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور (مرزا) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢)
”١٠؍ستمبر ١٩٠١ء کو سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں، یا نہ پڑھوں فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب“ الخ
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٨)
اب دیکھا جائے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے ان صریح احکام کے بعد اگر کوئی ذی علم پختہ قادیانی یہ کہے کہ جو مرزاغلام احمد قادیانی کی تکفیر نہیں کرتا اس کے پیچھے ہم نماز پڑھتے ہیں اور بالفرض اگر کسی وقت غیر قادیانی کے پیچھے پڑھ بھی لے تو اس کیوجہ اس کی نافہمی تو نہیں ہو سکتی کیونکہ جو ذی علم برسوں سے مرزاغلام احمد قادیانی پر گویا فریفتہ ہے وہ مرزاغلام احمد قادیانی کے
٣٢
ایسے ضروری احکام سے ناواقف ہو اس لئے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے کسی مصلحت سے نماز پڑھ لی ، تنہائی میں پھر اعادہ کر لے گا۔ اگر پابند نماز ہے اس کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کا وہ حکم بھی دیکھا جائے کہ غیر قادیانیوں سے مناکحت جائز نہیں۔ اخبار بدر میں بھی چھپ چکا ہے کہ جو غیر قادیانی کو اپنی لڑکی دے وہ قادیانی نہیں ہے۔ اب قادیانیوں کے عمل اور برتاؤ سے بھی اس کا ثبوت ہو رہا ہے کہ وہ کسی غیر قادیانی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اگرچہ امام عالم نہایت متقی پرہیزگار اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہ کہتا ہو بلکہ اپنی جماعت کو علیحدہ کرنے پر اڑتے ہیں اپنی بیٹی غیر قادیانی کو ہرگز نہیں دیتے۔ مسلمانوں کو مثل یہود و نصاریٰ کے سمجھتے ہیں۔ الغرض یہ احکام نہایت صفائی سے ثابت کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مستقلہ نبوت کا دعویٰ تھا۔
تیسرا طریقہ دعویٰ نبوت کے ثبوت کا
مرزا غلام احمد قادیانی نے صاف طور سے اپنی رسالت اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ان کی وحی میں بار بار صد ہا جگہ ان کے خدا نے انہیں نبی رسول کہا ہے اب اہل اسلام اس پر غور کریں کہ ہم مسلمان جن انبیاء اور رسولوں کی نبوت و رسالت کے معتقد ہیں ان کی نبوت کی دلیل بجز اس کے ہمارے پاس کیا ہے کہ خدا نے اپنی وحی میں ان کو رسول کہا اب جب مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی رسول اور نبی خدا نے وحی میں کہا تو پھر ان کے اس دعوے میں کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ورنہ پھر مخالفین خصوصاً دہریہ کو تمام انبیاء میں اسی قسم کی تاویل کا موقع ہوگا۔ بطور نمونہ ان کے اقوال ملاحظہ کئے جائیں۔
دعویٰ نبوت کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے
بعض الہامات واقوال
١ قول مرزا...... ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولاً‘‘ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا۔
٣٠
(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ ترجمہ بالکل غلط ہے آیت قرآنی کے الفاظ نہایت صفائی سے بتا رہے ہیں کہ تشبیہ اور مماثلت صرف رسول بھیجنے میں ہے۔ یعنی جس طرح سابق میں فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا، اسی طرح اب تمہاری طرف بھیجا۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہ رسول ۔ اس رسول کے مانند ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اسی غلطی کی بنیاد پر مرزا غلام احمد قادیانی نے شور مچا رکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ مثیل موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ یہ کہنا حضرت سرور عالم ﷺ کی کسر شان ہے البتہ اسے پورے طور سے سمجھنا اہل علم کا کام ہے۔ مگر ایسے ذی علم جس نے قادیان کے نبی پر اپنی عقل کو قربان نہ کر دیا ہو۔
تشریح ....... یہ قرآن مجید کی آیت ہے سورۂ مزمل میں اللہ تعالیٰ جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو بیان فرماتا ہے اور تمام مخلوق سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی یہی وحی الٰہی بعینہ اپنے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسی ہی رسالت کا دعویٰ ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام و جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔ یعنی جس طرح آنحضرت ﷺ کو مرزا غلام احمد قادیانی مثیل موسیٰ کہتے ہیں اسی طرح اپنے آپ کو بھی مثیل موسیٰ اس الہام سے ثابت کرتے ہیں اور رسالہ الاستفتاء ص ٨٥ خزائن ص ١٣٧ ج ٢٢ میں ان کا یہ الہام بھی ہے۔ ”اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوسٰی“ (تذکرہ ص ٤٧٦ طبع سوم) یعنی تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے غرضیکہ حضرت موسیٰ کا مثیل ہونا تو اس الہام سے بھی ثابت ہے۔ مگر مذکورہ آیت سے تو مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ دونوں کے مثیل قرار دینا چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کا صاحب شریعت ہونا بھی ضرور ہے برادران اسلام اس پر غور کریں۔
- ٢۔ قول مرزا ....... یٰسٓ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ
الرَّحِيْمِ
ترجمہ: اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہِ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
تشریح ....... یہ عربی الہام اور اس کا ترجمہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے۔ یہ وہی الفاظ ہیں جو قرآن
٣٤
مجید میں جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں اور آپ کی رسالت کو نہایت تاکید سے ظاہر کیا ہے انہیں الفاظ کو مرزا غلام احمد قادیانی اپنے لئے کہتے ہیں جس کا مطلب یہی ہے کہ جس یقین اور قطعی طور سے جناب رسول اللہ ﷺ رسول تھے اور ہیں میں بھی ویسا ہی رسول ہوں اور میرا رسول ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا رسول ہونا یقینی ہے۔ ایسے صریح دعوؤں کے بعد بعض مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مستقل رسالت کا دعویٰ نہیں ہے اس نادانی یا کذب پر سخت افسوس ہے۔
- ٣۔ قول مرزا...... اِنَّا اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَوْمِهٖ فَاَعْرَضُوْا وَقَالُوْا كَذَّابٌ اَشِرٌ
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤ تذکرہ ٣٤٥)
تشریح...... مرزا غلام احمد قادیانی اپنے لئے الہام الٰہی بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نے (غلام) احمد کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن قوم نے اس سے اعراض کیا اور کہا کہ جھوٹا ہے۔“
انبیاء سابقین اور بالخصوص جناب رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول کہا اس کی اطلاع کے لئے جو وحی کے الفاظ ہیں اور جن سے ان کی رسالت ثابت کی جاتی ہے وہ بھی بعینہٖ ایسے ہی ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہے۔ پھر اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے ان الفاظ میں تاویل کیجائے تو ایسی تاویل ہر جگہ ہو سکتی ہے اور اس طرح پر تمام ہی انبیاء کی نبوت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
- ٤۔ قول مرزا...... فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الی قوم مفسدین وانی جاعلک
للناس اماماً۔ وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین۔
”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ میں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجنے والا ہوں اور بیشک میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور بلاشبہ تجھے اپنے خلافت سے میں نے معزز مکرم کیا جیسا کہ گذشتہ لوگوں میں میری یہی سنت جاری رہی ہے۔ یعنی دنیا میں فساد کے وقت اہل فساد کے پاس اپنے رسول اور نبی بھیجے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٧٩ خزائن ج ١١ ص ٧٩)
تشریح...... اس الہام میں بھی وہی الفاظ ہیں جو مستقل انبیاء کی رسالت کے لئے آئے ہیں اور جن سے ان کی رسالت کا ہم نے یقین کیا ہے اور آج ان کی رسالت ثابت کر سکتے ہیں کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔ پھر اس پر بھی اب بعض مرزائیوں کا دعویٰ نبوت سے انکار کرنا اور یہ کہنا کہ ہم
٣٥
مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے کیسی سخت جہالت ہے۔ یا عوام کو دھوکہ دینا مقصود ہے۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی نہایت صفائی سے اسی طرح نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں جس طرح انبیاء سابقین نے کیا تھا۔ تو اب جو شخص انہیں مانتا ہے وہ ان اقوال کی وجہ سے بالضرور انہیں نبی مانے گا یا انہیں جھوٹا کہے گا اور ان الہامات کو غلط سمجھے گا اور اپنے احمدی ہونے سے توبہ کرے گا۔
- ٥۔ قول مرزا......’’الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ۔ خدا کا
مامور،خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے‘‘
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٦٢)
تشریح...... اس میں کئی طور سے رسالت کا دعویٰ ہے (اوّل) الہام الٰہی میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت کہا گیا کہ یہ خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامور ہے اور خدا کا رسول اور نبی وہی ہے جو اس کا فرستادہ اور مامور ہو (دوم) جس کی نسبت الہام میں کہا جائے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ وہ بالیقین خدا کا رسول ہے کیونکہ ایمان لانا رسول ہی کے لائے ہوئے پر ضروری ہے۔ رسول کے سوا کسی کے لائے ہوئے پر خواہ وہ قطب الاقطاب ہو، مجدد ہو ،محدث ہو،ملہم ہو، ایمان لانا ضروری نہیں اور نہ اس کی ہمیں خدا کی طرف سے تکلیف ہے (سوم) یہ کہنا کہ اس کا دشمن جہنمی ہے۔ یہ رسالت اور نبوت کا بڑا نشان ہے اور نبوت کا خاصہ، اس لئے کہ نبی ہی کا دشمن یعنی منکر جہنمی ہے۔ کیونکہ وہ کافر ہے اور کافر جہنمی ہے اور نبی کے سوا کسی نائب رسول یا مجدد وقت کا دشمن کافر نہیں ہے پھر وہ اس کی دشمنی سے جہنمی نہیں ہو سکتا۔
- ٦۔ قول مرزا......’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
تشریح ...... اس قول میں تو صاف طور سے زبان اردو میں رسول ہونے کا دعویٰ ہے مگر اس اندھیر نگری کا کیا ٹھکانہ ہے کہ ایسے صریح دعوے رسالت کے بعد بھی بعض مرزائی کہہ دیتے ہیں کہ ہم انہیں رسول نہیں مانتے، بزرگ مانتے ہیں۔
- ٧۔ قول مرزا......’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب
تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح
٣٦٠
کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔"
(دافع البلاء ص ١٠ خزائن، ج ١٨ ص ٢٣٠)
تشریح ...... دافع البلاء کے اس صفحہ ١١ میں تین جگہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسرے مقام پر ایسی شان اور تکبرانہ الفاظ سے کیا ہے کہ کسی رسول برحق نے اس طرح نہیں کیا۔ اس تکبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس دعویٰ کی صداقت میں تمام مذاہب کے مقابل میں جو دلیل بڑے دعوے اور نہایت زوروں کے ساتھ پیش کی تھی وہ نہایت صفائی کے ساتھ غلط ہوگئی۔ رسالہ کشتی نوح میں دعویٰ کیا تھا کہ ”طوفان طاعونی میں قادیان کشتی نوح کی طرح محفوظ رکھے گا ۔“
(کشتی نوح ٹائیٹل خزائن ص ١ ج ١٩)
اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ جس طرح طوفان نوح کے وقت جو کشتی میں تھا وہی ڈوبنے سے بچ گیا اور سب ڈوب گئے اسی طرح جو قادیان میں ہوگا وہی طاعون سے بچے گا اور باقی سب اس میں مبتلا ہوں گے۔ مگر یہ پیشین گوئی بالکل ہر طرح سے جھوٹی ہوئی۔ نہ سارے شہروں اور قریوں کے سب لوگ طاعون میں مبتلا ہوئے، اور نہ سب لوگ مرے، اور نہ قادیان کے سب رہنے والے بچے ۔ بلکہ جس طرح اور مقامات کے رہنے والے بعض طاعون میں مبتلا ہو کر مرے اور بعض اچھے رہے۔ کہیں موتیں زیادہ ہوئیں اور کہیں کم ، بعض شہروں میں بعض قریوں میں طاعون جلد آیا اور بعض میں عرصہ کے بعد آیا ۔ بعض ایسے بھی گاؤں ہیں کہ وہاں ابتک طاعون نہیں آیا۔ اسی طرح قادیان میں کچھ عرصہ تک نہیں آیا۔ غالباً اسی وجہ سے ان کے طبعی کبر نے ان کے خیال میں پختہ کر دیا کہ ہماری وجہ سے یہاں طاعون نہیں آئے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا کبر توڑا اور ١٩٠٤ء میں قادیان میں طاعون آیا اور ٢٨٠٠ کی آبادی میں ٣١٣ آدمی مرے اور پھر ان کے نہایت خاص مرید عبد الکریم سیالکوٹی اور ان کا غلام مرا اور ہر حیثیت سے یہ نہایت زور کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی۔ ہمیں افسوس یہ ہے کہ ایک مدعی اسلام تمام منکرین اسلام کے مقابلہ میں نہایت ذلیل اور جھوٹا ٹھہرے۔ اس پیشین گوئی میں جو جو رنگ مرزا غلام احمد قادیانی نے بدلے ہیں اس کی تفصیل مرقع قادیانی اور الذکر الحکیم میں دیکھنا چاہئے ۔
الغرض یہ ساتواں حوالہ ہے جس سے اظہر من الشمس ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نہایت زور کے ساتھ نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہے اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ
٣٧
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے خیال کے بموجب نبوت کی کوئی قسم چھوڑ دی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت تشریعی اور غیر تشریعی دونوں کا دعویٰ کیا ہے اور یہ وہ دعویٰ ہے جس کی نسبت بالاتفاق اہل سنت نے کفر کا فتویٰ دیا ہے اور نہایت قوی وجہ اس کی یہ ہے کہ اس دعوے سے آیت ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ “ کا انکار ہوتا ہے۔ اگرچہ کسی پوشیدہ وجہ سے زبان سے انکار نہ کیا جائے۔ یعنی اس آیت کے صاف اور صریح معنے یہ ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آخر الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی جدید نبی کسی قسم کا آنے والا نہیں۔ خاتم النبیین کے معنی لغت عرب میں یہی ہیں اور تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے اور النبیین میں الف و لام استغراق کا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ تمام انبیاء یعنی جس کو شریعت کی رو سے نبی کہتے ہیں اور اس لقب کا وہ مستحق ہے خواہ وہ امتی ہو یا نہ ہو۔ ہر قسم کے انبیاء کے آپؐ خاتم ہیں۔ یہ کہنا کہ آپؐ کا امتی ہو کر نبی ہو سکتا ہے عوام کو دھوکہ دینا ہے اور اس پردہ میں اس آیت قرآن سے انکار کرنا ہے کیونکہ اس آیت میں یا کسی دوسری آیت میں اس استثناء کی طرف اشارہ بھی نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے یہ معنے جس طرح محاورہ عرب سے ثابت ہیں اسی طرح احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ ضرور اس آیت قرآن مجید کا منکر ہے۔ گو ظاہر میں انکار نہ کرے۔ اس کا کافی ثبوت شروع رسالہ میں دیا گیا ہے اور حصہ ٣ فیصلہ آسمانی میں اس کا بیان مفصل مرقوم ہے۔ اس کی وجہ بھی نہایت عمدہ بیان کی گئی ہے کہ آپؐ کے بعد نبی کیوں نہیں آسکتا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت و رحمت کی شان اور آپؐ کی امت کا خیر الامم ہونا اسی کا مقتضیٰ ہے کہ آپؐ کی امت میں انبیاء نہ ہوں کیونکہ آپؐ کی نبوت کا آفتاب اور آپؐ کی شریعت کاملہ کی روشنی قیامت تک قائم رہے گی۔ اس کی حفاظت کا وعدہ خداوندی ہو چکا ہے۔ اس میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا اس لئے صرف علمائے راسخین اور کاملین کی ضرورت ہوگی تا کہ وہ شریعت کو سمجھیں اور حسب موقع اسے جاری کریں۔ طلوع آفتاب کے بعد کسی تارے کا نکلنا بیکار ہے۔ اسی طرح آپؐ کے آفتاب رسالت کے بعد کسی کا اختر نبوت چمک نہیں سکتا اس کا نکلنا بیکار ہے۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان راز اس میں یہ ہے کہ یہ امر متفق علیہ اور طرفین کا مسلم ہے کہ سچے نبی کا منکر کافر ہے۔ اب اگر حضور انورؐ کے بعد کوئی نبی آئے حسب عادت مستمرہ آپؐ کے بعض امتی اسے نہ مانیں گے اور انکار نبوت سے کافر ہو کر جہنم کے مستحق ہوں گے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ آپؐ کا امتی جو خیر الامم میں داخل ہو چکا تھا اور نجات ابدی کا مستحق ہو
٣٨
نہیں ہے۔ بلکہ خاص میرے لئے ہے اور متعدد رسالوں میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ بہرحال اس دعوے سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت تشریعی کا دعویٰ ہے اور یہ دعویٰ ان کا ایک ہی جگہ نہیں بلکہ مختلف طور سے متعدد مقامات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ یہاں آیت مذکورہ کے علاوہ دو مقام اور نقل کئے جاتے ہیں۔ ٩۔ قول مرزا ...... ”خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
تشریح ...... دیکھا جائے کہ صاف طور سے پہلے رسالت کا دعویٰ ہے۔ پھر صاحب شریعت ہونے کا، کیونکہ کہہ رہے ہیں کہ اس عاجز کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تو اس کے یہی معنے ہیں کہ مجھے صاحب شریعت رسول بنایا۔ اب دوسرے مقام سے اس کی کامل تشریح ملاحظہ کیجئے۔ ١٠۔ قول مرزا ...... ”اور اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کیلئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی مثلاً یہ الہام ”قل للمومنین يغضوا من ابصار ہم ويحفظوا فروجهم ذلک ازکی لهم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر پچیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی“ (یہ تو متن ہے، اب اس کا حاشیہ بھی ملاحظہ کیجئے لکھتے ہیں)
”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے ”واصنع الفلک باعيننا ووحينا ان الذین یبایعونک انما یبایعون الله یداللہ فوق ایدیھم“ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے۔ جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات
٣٩
گیا تھا وہ اس نبی کے نہ ماننے سے نجات سے محروم ہو گیا۔ یہ آپؐ کی شانِ رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ خاتم النبیین، رحمۃ اللعالمین کو مان کر ابدی عذاب کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ اس لئے آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اب مرزائیوں کی زبان پر اور ان کی تحریروں میں یہ شور ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریعی انبیاء کے خاتم تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے۔ مگر اس خیال کو مرزا غلام احمد قادیانی خود ہی غلط ٹھہراتے ہیں اور صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب ذرا متوجہ ہو کر آنکھوں کو کھول کر اپنے امام کا قول دیکھیں اور دل میں شرمندہ ہوں۔
دعویٰ نبوت تشریعی
- ٨۔ قول مرزا ...... ”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس
آیت کا مصداق ہے کہ ”هُوَ الَّذِىْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۔ “
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
تشریح ...... یہ آیت قرآن مجید کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسول برحق کی عظمت کو بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی وہ ذات ہے جس نے ملک عرب جیسے جہلاء اور ناشائستہ اور غیر مہذب قوم میں اپنا رسول نہایت شائستہ ہدایتوں اور حقانی مذہب اور کامل شریعت کے ساتھ بھیجا تا کہ اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں اور نہایت مفید اور پختہ تعلیمات سے دنیا کے تمام دینوں پر اسے فائق اور غالب کر دے۔ یہ صفت کس رسول کی ہے۔ الفاظ قرآنی نہایت صفائی سے بتا رہے ہیں کہ وہ رسول اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے آچکا ہے کیونکہ صیغہ ماضی کے ساتھ ارشاد ہے ’اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس رسول کو بھیج چکا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ وہ رسول وہی ہیں جن پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ الفاظ قرآنی کے علاوہ حضور انور کی شریعت کی خوبیوں نے اس کا کامل یقین دلا دیا کہ جن کی صفت اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ آپؐ ہی ہیں یہاں تک کہ تمام امت محمدیہؐ کا اس پر اتفاق ہے۔ اور امت محمدیہؐ کے علاوہ بہت سے مخالفین اسلام نے بھی بکشادہ پیشانی اس کا اقرار کیا ہے کہ شریعت محمدیہؐ میں جیسی عمدہ اور مفید تعلیم ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے ہے کسی مذہب میں نہیں ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی الفاظ قرآنیہ کے خلاف اجماع امت کے برعکس اس آیت کو اپنے لئے کہتے ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے
٤٠
ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥۔٤٣٦)
تشریح......مرزا قادیانی کا یہ قول نہایت صاف طور سے شہادت دیتا ہے کہ جس نے ان سے بیعت نہیں کی اور ان کے اقوال باطلہ کو نہ مانا اس کی نجات نہیں ہو سکتی وہ ایسا ہی جہنمی ہے جیسے کافر منکر خدا اور رسول ہوں گے۔ قادیانی جماعت بتائے کہ کس بزرگ نے اپنی بیعت کو مدار نجات بتایا ہے اور بیعت نہ کرنے والے کو جہنمی کہا ہے؟ جو جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو بزرگ مان کر تمام اہل قبلہ کو مسلمان سمجھتی ہے وہ اس قول میں غور کرے اور بتائے کہ جب تک قادیانیوں کے سوا تمام اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے اس وقت تک یہ قول کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تعلیم اور اپنی بیعت کو کشتی نوح بتا رہے ہیں۔ یعنی جس طرح طوفان نوح میں اسی شخص نے نجات پائی جو کشتی میں بیٹھ گیا اور جو نہ بیٹھا وہ طوفان میں غرق ہوا۔ یہی حالت میری بیعت کی ہے جس نے میری بیعت کر لی اس نے عذاب ابدی سے نجات پائی اور جس نے نہ کی وہ عذاب ابدی کے طوفان میں غرق ہوا۔ یہ کہنا اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے کہ جتنے مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والے ہیں وہ سب کافر ہیں۔ اس قسم کے اقوال مرزا غلام احمد قادیانی کے بہت ہیں جن سے اظہر من الشمس ہے کہ ان کے اقوال پر ایمان لا کر اور انہیں مقدس بزرگ مان کر غیر قادیانی اہل قبلہ کو کوئی مسلمان نہیں کہہ سکتا جو انہیں مانتا ہے۔ اسے ان کے صریح اقوال مجبور کریں گے کہ غیر قادیانی اہل قبلہ کو وہ کافر کہے اور اگر کسی قادیانی کا ایسا خیال سادہ دلی اور سچائی پر ہے تو اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ جب وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایسے اقوال کو غور سے دیکھے گا تو وہ ضرور ان سے علیحدہ ہو جائے گا وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
تشریح......مرزا غلام احمد قادیانی آیت ’’لو تقول علینا بعض الاقاویل‘‘ کے بیان میں بڑا زور لگا رہے ہیں اور اپنے دعویٰ نبوت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں سچے اور جھوٹے مدعی نبوت کی معیار بیان ہوئی ہے کہ جھوٹا ہلاک کر دیا جاتا ہے اور سچا کامیاب ہوتا ہے۔ چونکہ میں مفتری نہیں تھا۔ سچا مدعی تھا۔ اسلئے کامیاب ہوا ہلاک نہیں کیا گیا۔ اب اس پر یہ شبہ کر کے جواب دیتے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف خطاب ہے اور آپؐ صاحب شریعت تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں صاحب شریعت کیلئے یہ قاعدہ بیان ہوا ہے۔ یعنی جو جھوٹا مدعی نبوت صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کرے۔ وہ
٤١
ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ تمام مفتری ہلاک نہیں ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے صاحب شریعت کے معنے بیان کرتے ہیں یعنی صاحب شریعت وہ ہے جو وحی کے ذریعے سے چند امر و نہی بیان کرے۔ میں نے وحی کے ذریعے سے امر و نہی بیان کئے ہیں۔ اس لئے میں صاحب شریعت ہوا۔ اسی مضمون کو حاشیہ میں بیان کرتے ہیں۔
اب ہمارے بھائی متن اور حاشیہ دونوں کو ملاحظہ کریں کہ کس صفائی کے ساتھ اپنی وحی سے اپنا صاحب شریعت نبی ہونا ثابت کر رہے ہیں اور اپنی وحی اور اپنی تعلیم کو نجات کا مدار بتا رہے ہیں۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور اپنی زبان کو روکے اور ان رسالوں کو پھاڑ کر پھینک دے جن میں لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے رسول اللہ ﷺ صاحب شریعت انبیاء کے خاتم ہیں۔
الغرض! جب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب شریعت نبی ٹھہرے تو جناب رسول اللہ ﷺ کسی طور سے خاتم الانبیاء اور آخر النبیین نہ ہوئے اور آیت قرآنی ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ غلط ٹھہری (نعوذ باللہ منہ) پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو منکر آیت قرآنی نہ کہا جائے؟ وہ ضرور منکر آیت قرآنی ہیں۔ گو زبان سے نہ کہیں۔ اس دعویٰ کے بعد یہ کہنا کہ یہ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ نہایت صریح دجل اور عوام کو فریب دینا ہے تا کہ جہلاء اور کم علم اتنے کہہ دینے سے یہ سمجھیں کہ یہ منکر آیت نہیں ہیں۔ مگر اہل ایمان اس کا یقین کر لیں کہ جب تک یہ آیت قرآن مجید میں ہے اور دنیا میں علوم عربیہ کے جاننے والے ہیں وہ اپنے علم و ایمان سے اس آیت کے یہی معنے کریں گے کہ رسول اللہ ﷺ آخر النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں مل سکتا اور اس آیت کو مان کر کسی قسم کے نبی کو مستثنیٰ کرنا محض غلط ہے۔ یہ آیت اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے قطعی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی کسی طرح کا نہیں آئے گا اور اس معنے کا ثبوت صرف لغت اور محاورہ عرب سے ہی نہیں ہے بلکہ جس ذات مقدس پر یہ کلام الٰہی نازل ہوا ہے۔ اس نے بوحی الٰہی اس آیت کے یہی معنے بیان کر دیئے ہیں اور ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ فرما دیا ہے اب جو آپؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جو ایسے مدعی کو سچا جانتا ہے وہ یقیناً قرآن شریف پر حملہ کرتا ہے اور آیت ”ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین“ کو در پردہ ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتا ہے۔ یہ ان شریر لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ پر بھی یقین نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔
٤٢
ناظرین! آپ اس تقریر کے حاصل پر بنظر تحقیق حق غور کریں۔ چند باتیں اس مختصر تحریر سے نہایت صفائی سے ثابت ہوتی ہیں۔
- ١............ نص قطعی اور آیت قرآنی اور حدیث نبوی سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد
قادیانی کاذب تھے۔
- ٢............ جو تاویلیں اس آیت وحدیث میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کرتے ہیں وہ
یقیناً غلط ہیں۔
- ٣............ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے کو کافر یعنی منکر
خدا اور رسول کہا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود سے ان کے دعویٰ کے زمانہ میں دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ مسلمان کافر ہو کر مستحق جہنم ہو گئے؟ اور مسلمانوں سے دنیا گویا خالی ہو گئی۔
- ٤............ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت مستقلہ اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ تھا۔ ان کے
خلیفہ اوّل اور ثانی ان دونوں دعوؤں کو مانتے رہے اور خلیفہ ثانی نے تو اس دعویٰ کے ثبوت میں رسالہ (رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء) لکھا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان کر انہی کے کلام سے دنیا کے سارے مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے اور یہ رسالہ خلیفہ اوّل کے حکم کے بموجب چھپ کر مشتہر ہورہا ہے۔ چنانچہ خلیفہ ثانی اپنے رسالہ میں اس کی تصریح کرتے ہیں۔ البتہ اخبار بدر کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوا کہ ان سے کئی مرتبہ یہ سوال کیا گیا ہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں اس کے جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح طویل تقریر لکھی ہے۔ جس کا حاصل تو یہی ہے کہ کافر ہیں۔ مگر ایسے پیچ سے لکھی ہے کہ کم علم بخوبی نہ سمجھیں۔
٢٦۔ مارچ ١٩١٣ء کے پیسہ اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے تین فرقے ہو گئے ہیں ایک وہ ہے جس نے نیا کلمہ بنالیا ہے یعنی "لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ" دوسرا وہ ہے جو قادیانیوں کے سوا سارے دنیا کے مسلمانوں کو کافر کہتا ہے جس کے مقتدا اور امام اب دوسرے خلیفہ مرزا محمود ہیں۔
تیسرا مرزا غلام احمد قادیانی کو مثل اولیاء اللہ کے بزرگ مانتا ہے اور غیر قادیانیوں کو کافر نہیں کہتا۔ یہ تیسرا گروہ اگر اپنے دلی خیال کے اظہار میں سچا ہے تو اعتقاد کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کا آخری
٤٣
کلام ہرگز نہیں ہو سکتا کوئی صاحب عقل حقیقۃ الوحی وغیرہ کے مضامین کو سچا مان کر ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا جیسا یہ تیسرا گروہ بیان کرتے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب جس گروہ میں گنے جاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے کلام کے سمجھنے میں دقت ہو یا اس میں دوسرے معنی کا احتمال ہو۔ البتہ جس طرح انہوں نے اور دعوؤں میں آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اسی طرح اس میں بھی پہلے نہ کہتے تھے کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے اور مسیح موعود کا ماننا کوئی جزو ایمان نہیں ہے۔ مگر جب ان کے ماننے والے کچھ ہو گئے تو اپنی آخری کتاب حقیقۃ الوحی (ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں صاف طور سے کہہ دیا کہ ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا“ یعنی میرا نہ ماننے والا ایسا ہی کافر ہے جیسا خدا اور رسول کو نہ ماننے والا، اور یہ بھی کہہ دیا کہ مسیح موعود کا انکار (یعنی میرا) ایسا ہی کفر ہے جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا انکار، مرزا غلام احمد قادیانی کے ان صاف وصریح دعوؤں کے بعد جو اس رسالہ میں لکھے گئے ہیں کسی ذی علم قادیانی کا یہ کہنا ہے کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے کسی فہمیدہ آدمی کی عقل میں نہیں آ سکتا۔ اس لئے وہ اس خیال پر مجبور ہے کہ بعض قادیانیوں کا ایسا کہنا غالباً اس مصلحت سے ہے کہ اگر اعلانیہ طور سے ہم کافر کہیں گے تو تمام مسلمان دنیا کے برہم ہو جائیں گے اور ہماری بات کو نہ سنیں گے۔ اس لئے اس سے انکار کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مصلح اور مجدد کہتے ہیں مگر ان سے یہ دریافت کیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پچیس تیس برس تک بہت کچھ شور مچایا اور اپنی مدح اور تعلی میں بے انتہا کاغذی گھوڑے دوڑائے مگر انہوں نے کیا اصلاح کی اور ان کی ذات سے اسلام کو کیا فائدے پہنچے؟۔ بجز اس کے کہ دنیا کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر اور ایک جماعت کو جھگڑالو اور فاسق اور فاجر بنا دیا۔ نہ نماز ہے، نہ روزہ ہے، جھوٹ کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ اس خیال کی تائید اس سے بخوبی ہوتی ہے کہ مونگیر اور بھاگلپور کے مرزائی یہی کہتے تھے کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے مگر اب خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت کی، جو اعلانیہ طور سے مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت کا یہی فائدہ بتاتے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر مانا جائے۔ انہیں اپنا امام اور مقتداء ماننا۔ بعض اخبارات میں خلیفہ ثانی نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ ہماری بیعت کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ غیر قادیانی اہل قبلہ کو کافر کہے۔ یہ ایک فریب آمیز اعلان ہے۔ کیونکہ جو شخص بیعت کرلے گا اور اپنا مقتداء مان لے گا، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے مقتداء کے کفر کے فتوے کو نہ مانے؟ یہ تو ایسا عظیم الشان اختلاف ٤٤
ہے کہ بغیر اس کے طے کئے کوئی سمجھ دار بیعت ہی نہیں کر سکتا کیونکہ جب اس کے اعتقاد میں اہل قبلہ کافر نہیں ہیں تو جو انہیں کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہے پھر اس سے بیعت کیسی؟ آئندہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال دکھائے جائیں گے جن میں انہوں نے دعویٰ نبوت کے ساتھ انبیاء سابقین پر اپنی فضیلت اور جناب رسول اللہ ﷺ سے مساوات دکھائی ہے اور بعض وہ اقوال بھی ہیں جن سے حضرت سرور انبیاء پر بھی وہ اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتے ہیں پھر انبیاء علیہم السلام کی توہین جو انہوں نے کی ہے وہ بھی دکھائی جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ برادران اسلام ! ان دعوؤں پر نظر کر کے ان کی حالت پر غور کریں اور جو ان کے پیرو ان کے صریح اقوال کے خلاف اپنا عقیدہ ظاہر کر رہے ہیں ۔ اس پر غائر نظر ڈالیں تا کہ آئندہ کسی قسم کی پشیمانی نہ اٹھانا پڑے ۔ وما علینا الا البلاغ المبین
راقم خاکسار ابو احمد رحمانی
قادیانی جماعت میں اختلاف
گذشتہ اشاعت میں ہم حکیم نور الدین رئیس قادیانی جماعت کے انتقال کی خبر درج کر چکے ہیں جو رسالہ کے مرتب ہونے کے بعد پہنچی تھی ۔ اب جو واقعات شائع ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جماعت میں مسئلہ خلافت اور تکفیر و عدم تکفیر مسلمین کی بنا پر باہم اختلاف و نزاع پیدا ہو گیا ہے ۔
ایک عرصہ سے اس جماعت میں مسئلہ تکفیر کی بنا پر دو جماعتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ ایک گروہ کا یہ اعتقاد تھا کہ غیر قادیانی مسلمان بھی مسلمان ہیں ۔ گو مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں پر ایمان نہ لائے ہوں لیکن دوسرا گروہ صاف صاف کہتا تھا کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لائیں وہ قطعی کافر ہیں ’’ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ‘‘ ۔ آخری جماعت کے رئیس صاحبزادہ بشیر الدین محمود قادیانی ہیں ۔ اس گروہ نے انہی کو اب خلیفہ قرار دیا ہے ۔ مگر پہلے گروہ نے تسلیم نہیں کیا ۔
٤٥
محمد علی لاہوری ایم اے، نے اس بارہ میں جو تالیف شائع کی ہے اور عجیب و غریب جرأت اور دلاوری کے ساتھ قادیان میں رہ کر اظہار رائے کیا ہے (بشرطیکہ ان کے دل میں خود خلیفہ ہونے کی خواہش نہ ہو اور اس خیال کے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی اور اگر دل میں یہ خواہش تھی تو اس کے خلاف ہونے پر جوش آ جانا معمولی بات ہے۔ یہی سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مقتداء مان کر اور ان کے اقوال پر ایمان لا کر غیر قادیانی کو کافر کیوں نہ کہئے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو رسول اللہ کہتے ہیں اور نہایت ظاہر ہے کہ جو رسول اللہ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نہ ماننے والے کو صاف طور سے کافر کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی بیعت کو مدار نجات ٹھہراتے ہیں۔ یعنی جو مرزا غلام احمد قادیانی سے بیعت نہ کرے اسے نجات نہیں وہ جہنمی ہے۔ یہ صفت تو خاص کافر کی ہے۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کے نہایت صریح اقوال سے غیر قادیانی کافر ٹھہرتے ہیں تو پھر جو انہیں اپنا پیشوا مانتا ہے اسے ضرور ہے کہ ان اقوال کو بھی مانے جس طرح وہ اور اقوال کو مانتا ہے۔) جہاں زیادہ تر پہلے گروہ کے رؤسا ہیں۔ وہ فی الحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ اس سال کا ایک یادگار واقعہ سمجھا جائے گا۔
اس جماعت کا بیان ہے کہ ان کی تعداد کم از کم تین لاکھ ہے۔ لیکن مسلمانانِ عالم کی تعداد آج چالیس کروڑ تک اندازہ کی گئی ہے۔ پس اگر غیر قادیانی کو کافر سمجھ لیا جائے تو اس نئی مردم شماری کی بنا پر چالیس کروڑ میں سے انتالیس کروڑ ستانوے لاکھ کی تعداد نکال دینی پڑے گی۔ پھر افسوس اس دین الہی پر جس کا درخت خدا نے لگایا۔ پر آج اس کی شاخوں میں صرف تین لاکھ پھل باقی رہ گئے ہیں۔ !!
(منقول از الہلال مورخہ ٢٧؍ ربیع الثانی ١٣٣٢ھ )
۞ ۞ ۞ ۞ ۞ ٤٦
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف =/350 روپے
رابطہ کے لئے :
منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٧)
حضرت مولانا ابو احمد سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خیر خواہان اسلام
اس وقت مذہب اسلام پر دو طرح سے حملے ہو رہے ہیں ایک بیرونی عیسائیوں اور آریوں کا۔ اس کے لئے رسالے دفع التلبیسات اور پیغام محمدی شائع کئے گئے بعض اور رسالے بھی انشاء اللہ شائع ہوں گے۔ مسلمانوں کو اور خصوصاً اہل علم کو اس وقت ان کا دیکھنا اور ان کی اشاعت میں کوشش کرنی ضروری ہے۔ دوسرا حملہ اندرونی گروہ مرزائیہ اور بہائیہ کا، یہ حملہ عوام کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ دونوں گروہ ظاہر میں اسلام کو مان کر دین محمدی اور اسلام قدیم کو مٹا کر نیا مذہب قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسلام اس کا نام رکھتے ہیں۔ اس پیچ سے عوام اور کم علم واقف نہیں ہو سکتے۔ اس لئے بہ نظر خیر خواہی اہل اسلام متعدد رسالے اور تحریریں ایسی شائع کی گئیں جن سے بانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کی حالت معلوم ہو، اس گروہ میں پالیسی اور ناجائز مصلحت بہت برتی جاتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس میں ایک جماعت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم مرزا کو نبی یا رسول نہیں مانتے بلکہ مجدد اور بزرگ مانتے ہیں اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اس رسالے میں مرزا کے صریح اقوال سے ثابت کیا گیا ہے کہ کوئی شخص مرزا کے اقوال و الہامات پر ایمان لا کر اور انہیں سچا اعتقاد کر کے سچائی سے نہیں کہہ سکتا کہ مرزا نبی نہیں تھے اور ان کا منکر کافر نہیں ہے کیونکہ مرزا صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء سمجھتے ہیں البتہ یہ اقوال ان کے آخر کے ہیں۔ پہلے اقوال اس کے خلاف ہیں یعنی بتدریج انہوں نے ترقی کی ہے۔ اس لئے عجب نہیں کہ بعض ان کے ماننے والے بھی مغالطہ میں ہوں۔ طالبین حق کو چاہئے کہ ان کے متخالف اور متعارض اقوال کو غور سے دیکھیں۔ فرقہ بہائیہ جو تھوڑے عرصہ سے رنگون سے ضلع چپرہ میں آیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اطراف عالم میں اس کے ماننے والے بہت ہو گئے ہیں۔ اب ہندوستان اس نجاست سے آلودہ ہوا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بچائے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً اہل علم کو بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ سب کو ہمت اور توفیق دے۔ آمین ! خاکسار ابو احمد رحمانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلياً
مرزا کا دعوٰی نبوت و افضلیت
اس سے پہلے کے صحیفہ ٦ میں دکھایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعوٰی تھا اور تین طریقوں سے اسے ثابت کیا ہے۔ اوّل ! یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے آخری زمانے میں دنیا کے ان تمام مسلمانوں کو قطعی کافر کہا ہے جو مرزا قادیانی کے دعوے کو صاف طور سے نہیں مانتے ہیں۔ یہ وہ دعوٰی ہے کہ امت محمدیہ کے کسی عالی مرتبہ بزرگ نے نہیں کیا باوجودیکہ بعض بزرگوں کو کافر کہا گیا مگر انہوں نے کسی کو کافر نہیں بنایا۔ دوم! یہ کہ مرزا قادیانی نے غیر قادیانی کے پیچھے نماز پڑھنے کو قطعاً حرام بتایا ہے اور اسی طرح اس سے رشتہ ناطہ کرنے اور بیٹی دینے کی بھی ممانعت کی ہے اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے کہ ان کے خیال کے بموجب دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر تسلیم کر لیا جائے ورنہ ظاہر ہے کہ اہل سنت نے نہایت اہتمام کی وجہ سے اس مسئلہ کو عقائد کی کتابوں میں داخل کر دیا ہے کہ ہر کلمہ گو فاسد العقیدہ اور نیک و بد کے پیچھے نماز درست ہے۔ سوم! مرزا قادیانی کے بعض اقوال نقل کئے ہیں جن میں انہوں نے نہایت صاف طور سے نبوت کا دعوٰی کیا ہے اور اس دعوے کو ثابت کیا جس سے اکثر قادیانی انکار کر رہے ہیں یعنی نبوت تشریعی کو، اور مرزا قادیانی صاف طور سے اربعین میں نبوت تشریعی کا دعوٰی کرتے ہیں اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے مرزا محمود نے (جو اب خلافت کی گدی پر بٹھائے گئے ہیں) ایک خاص رسالہ لکھا ہے۔ جس میں نہایت شدومد سے اپنے والد یعنی مرزا قادیانی کے اقوال سے دنیا کے سارے مسلمانوں کا کافر ہونا ثابت کیا ہے۔ اس صحیفہ میں مرزا قادیانی کے اسی
٣
دعوے کی زیادہ تشریح منظور ہے اور چہارم! طریقہ سے دعویٰ نبوت ثابت کر کے یہ دکھانا مد نظر ہے کہ ان کا دعویٰ صرف اسی قدر نہیں ہے کہ میں نبی صاحب شریعت ہوں۔ بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ میں ”تمام انبیاء سے افضل ہوں، یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی افضل ہوں مگر یہ آخری دعویٰ صاف لفظوں میں نہیں ہے البتہ ان کے تمام اقوال دیکھنے اور ان کے ملانے سے بخوبی اظہر من الشمس ہوتا ہے بنظر تحقیق حق ان کے اقوال ملاحظہ کر کے فیصلہ کیا جائے۔
چوتھے طریقے کے متعلق مرزا کے بعض اقوال
- ١...... قول مرزا ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور
قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرے کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
نتیجہ...... اس قول سے کئی باتیں ثابت ہوئیں اوّل! یہ کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کو ایسا ہی قطعی اور یقینی خدا کا کلام جانتے ہیں جیسا قرآن مجید ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ مرزا قادیانی کو ویسا ہی نبوت کا دعویٰ ہے جیسا حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کی وحی کا قطعی اور یقینی کلام خدا ہونا اور اس پر ایمان لانا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کے منکر کو ویسا ہی کافر سمجھیں گے جیسا منکر قرآن مجید کو۔ اب جو حضرات ان پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کے تمام اقوال کی تصدیق کرتے ہیں وہ ضرور ان کے تمام نہ ماننے والوں کو کافر جانتے ہوں گے۔ اگرچہ کسی مصلحت سے انکار کریں اور تمام کلمہ گو کو مسلمان بتائیں۔ دوم! یہ کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کے مقابلہ میں تمام احادیث نبویہ کو بیکار بتاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی وحی کا ثبوت اور منجانب اللہ ہونا قطعی بتاتے ہیں اور احادیث کا ثبوت ظنی کہتے ہیں بلکہ بلا تعین انہیں موضوع یعنی جھوٹی باتیں بنائی ہوئی کہتے ہیں اس میں دوسرے طریقے سے نبوت کا دعویٰ ہے۔
- ٢...... قول مرزا ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان
لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر
٤
نازل ہوتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
نتیجہ ...... دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اپنے الہامات پر ایمان لانا ویسا ہی فرض بتاتے ہیں جیسا قرآن مجید پر اور ان کے کلام خدا ہونے پر، ایسا ہی انہیں یقین ہے جیسے قرآن مجید کے کلام خدا ہونے پر، اس کہنے کے بعد کسی ذی علم کو تامل نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے جب ان کی وحی کا مرتبہ کلام الٰہی ہونے میں ایسا ہی ہوا جیسا قرآن مجید ہے تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ان کے الہامات کا منکر کافر نہ ہو، بلکہ ضرور ہے کہ ان کے الہامات کا منکر ویسا ہی کافر ہوگا جیسا قرآن مجید کا منکر۔ اب جو حضرات ان پر ایمان لا چکے ہیں بالضرور انہیں اس قول پر ایمان ہوگا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو ان کے الہامات پر ایمان نہیں لائے انہیں وہ ویسا ہی کافر سمجھیں جیسا قرآن مجید کے منکر کو تمام مسلمان سمجھتے ہیں برادران اسلام اس قول پر مکرر غور کر کے اس کے نتیجہ کو دیکھیں۔
- ٣...... قول مرزا ”جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے، تب آخر زمانہ میں ایک
ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦۔ خزائن، ج ١٧ ص ٤٢١)
اس رسالہ کے پہلے حصہ میں بھی مرزا قادیانی کے بعض اقوال نقل کئے ہیں جن میں صاف طور سے ان کا بیان ہے کہ میرے ماننے اور میری باتوں پر ایمان لانے پر نجات منحصر ہے، بغیر میرے مانے نجات نہیں ہو سکتی اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں۔
- ٤...... قول مرزا ”اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں
نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔“
(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١١ خزائن ج ١٧ ص ٤٤١)
نتیجہ ...... ان دونوں اقوال کو دیکھا جائے کہ اپنے یقینی الہام سے اپنا نام ابراہیم بتاتے ہیں اور نجات کا حصہ اس کی پیروی پر کرتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ جو مرزا قادیانی پر ایمان لاکر ان کا پیرو نہیں ہوا وہ کافر جہنمی ہے اس کی نجات نہیں ہے اس کے بعد کے قول میں ایک عالم محدث کو جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اور کلام رسول اللہ ﷺ کی تبلیغ میں صرف کیا اسے کافر بتاتے ہیں۔ کیونکہ دعوت اسلام تو کافر ہی کو ہوتی ہے میں نے جو مدعا ان کے
٥
اقوال سے بیان کیا ہے اس کی صراحت مرزا قادیانی کے رسالہ سیرۃ الابدال کے باب٧ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس باب میں حضرت موسیٰؑ کا ذکر کر کے انبیائے بنی اسرائیل کو ان کا خلیفہ کہتے ہیں اور آخری خلیفہ حضرت عیسیٰؑ کو بتاتے ہیں پھر جناب رسول اللہ ﷺ کو مثیل موسیٰؑ بتا کر ان کے بعد سلسلہ خلفاء یعنی انبیاء کا سلسلہ بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو خاتم الخلفاء یعنی آخر النبیین کہتے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں ۔”ولكنا الجئنا بنص القرآن الى ان نؤمن بخليفة منا هو آخر الخلفاء علىٰ قدم عيسىٰ. وما كان المؤمن ان يكفر به فانه كفر بكتاب الله ولا يفلح الكافر حيث اتى.“
ترجمہ ”ہم قرآن کے نص کی رو سے اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس بات پر ایمان لائیں کہ آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہو گا اور وہ عیسیٰ کے قدم پر آئے گا اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے کیونکہ یہ قرآن کا انکار ہے اور جو کوئی قرآن کا منکر ہے وہ جہاں جائے گا عذاب کے نیچے ہے۔ یعنی کسی طرح اس کی نجات نہیں۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٧٦، ٢٧٧ خزائن، ج ١٦ ص ٢٧٦، ٢٧٧)
یہ عربی عبارت اور اردو ترجمہ مرزا قادیانی کی مذکورہ کتاب کا ہے اس عبارت میں مرزا قادیانی اپنی نبوت کو نص قرآنی سے ثابت بتاتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو میرا منکر ہے وہ قرآن کا منکر ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کا منکر کافر ہے اور کافر فلاح نہیں پائے گا بلکہ جہاں جائے گا عذاب الٰہی اسے نہ چھوڑے گا۔ یعنی کسی صورت سے اس کی نجات نہیں ہے۔ دنیا کے مسلمان مرزا قادیانی کے اقوال پر نظر کریں کہ کس کس طرح سے نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں اور اپنے اوپر ایمان لانے کو نجات کا مدار ٹھہراتے ہیں۔ اب جو حضرات ان کے تمام اقوال پر ایمان لا چکے ہیں وہ کیونکر تمام اہل قبلہ کو مسلمان سمجھ سکتے ہیں اور ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے ناقص کہتے ہیں۔ صداقت پر کیونکر محمول کر سکتے ہیں؟ البتہ لفظ اہل قبلہ اور کافر اور ناقص کے معنی اپنے خیال میں ایسے قرار دے لئے ہوں جو اس وقت ہم نہیں جانتے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں دھوکہ دینے کے خیال میں صادق رہ کر اپنا کام نکال لیں۔ اس کا فیصلہ میں دور بین اور دانشمند حضرات کے حوالہ کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس دعویٰ نبوت کے لئے پانچواں طریقہ بیان کرتا ہوں۔ اس میں ان کے بعض وہ اقوال آپ کو دکھائے جائیں گے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں تمام اولیاء اور انبیاء سے افضل ہوں۔ جب تمام اولیاء سے افضل ہوئے یعنی حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ
٦
اور حضرت علیؓ سے لے کر تیرہویں صدی کے اخیر تک جس قدر اولیائے کرام گزرے ان سب سے مرزا قادیانی کا مرتبہ زیادہ ہے اور اہل علم اور صوفیائے کرام جانتے ہیں کہ ان کے مرتبہ کے اوپر ولایت کا کوئی مرتبہ نہیں ہے نبوت ہی کا مرتبہ ہے اس لئے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اور جب انبیاء سے بھی فضیلت کا دعویٰ ہے تب تو نہایت روشن ہے کہ اعلیٰ مرتبہ کے نبوت کے مدعی ہیں۔ پھر تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ان کا منکر کافر نہ ہو اور ان کے پیرو انہیں کافر نہ سمجھیں۔ اب مرزا قادیانی کا وہ قول نقل کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے اپنے آپ کو تمام اولیاء سے افضل ٹھہرا کر صاف طور سے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
دعویٰ نبوت کے ساتھ تمام اولیاء پر فضیلت کا دعویٰ
- ٥..... قول مرزا ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیا اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے
گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ..... ان میں پائی نہیں جاتی‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦۔٤٠٧)
نتیجہ...... اس عبارت میں صاف طور سے نبوت کا دعویٰ ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صحابہؓ کرام خصوصاً خلفائے اربعہ یعنی حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ سے لے کر حضرت جنید، حضرت شبلی، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت معین الدین چشتی، حضرت غوث پاک جیلانی، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) کوئی نبی ہونے کا مستحق نہ تھا صرف مرزا غلام احمد مستحق تھے۔ اس عبارت میں صاف طور سے تمام صحابہ اور تمام اولیاء اللہ سے اپنی افضلیت ثابت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ بعض مرزائی جو یہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ میں اور بھی نبی ہوئے ہیں اور حضرت مجدد الف ثانی کو نبی بتاتے ہیں یہ ان کی محض ناواقفی یا دھوکہ دہی ہے۔ اس کے بعد ان اقوال کو ملاحظہ کیا جائے جن میں انہوں نے حضرت مسیحؑ پر اپنی فضیلت کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے۔ حضرت مسیحؑ صاحب شریعت رسول ہیں جن کی تعریف جابجا قرآن شریف میں آئی ہے اور ان کے معجزات کا ذکر کیا گیا ہے۔
٧
دعویٰ نبوّت کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السّلام پر فضیلت کا دعویٰ
٦...... قول مرزا ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص١٣ خزائن ،ج ١٨ ص ٢٣٣)
نتیجہ...... اس قول میں نہایت صاف طور سے نبی مستقل اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنی تمام شان کو حضرت مسیح علیہ السلام پر بہت بڑھ کر بتاتے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مستقل نبی صاحب شریعت تھے اور جب مرزا قادیانی اپنی ہر شان میں ان سے بہت بڑھ کر ہوئے تو بالضرور ان کا یہ دعویٰ ہوا کہ میں مستقل نبی ہوں بلکہ بعض مستقل انبیاء سے بہت بڑھ کر ہوں صاحب شریعت ہوں اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر تشریعی نبوت بھی ختم نہیں ہوئی آپؐ کے بعد مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہوئے۔ (جس طرح دوسری صدی میں صالح بن طریق تھا) اور ان کا نہ ماننے والا کافر ہے اس پر خوب غور کیا جائے کہ جب مسیح کے انکار سے یہود بالاتفاق کافر ہو گئے تو مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضرت مسیح سے بہت زیادہ عالی مرتبہ کہتے ہیں تو ان کے ماننے والے بالضرور تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایسا ہی کافر سمجھتے ہوں گے جیسا تمام مسلمان یہود کو سمجھتے ہیں اب کسی قادیانی کا زبان سے یہ کہنا کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے کسی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا بجز اس کے کہ کسی خفیہ مصلحت سے اپنے دلی عقیدہ کے خلاف ظاہر کرتے ہیں۔
٧...... قول مرزا ”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا“
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩ و ١٥٠ خزائن، ج ٢٢ ص ١٥٣۔١٥٤)
نتیجہ...... یہاں صریح طور پر دعویٰ نبوت کے علاوہ نزول وحی کا دعویٰ اس زور سے اور ایسے عنوان سے ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا۔ یہ وہ دعویٰ ہے جس کے مدعی کو بالاتفاق تمام علمائے متاخرین اور متقدمین کافر کہتے ہیں اس قول سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضرت مسیح پر
٨
فضیلت کلی دیتے ہیں اور اس قول کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے ان الہاموں پر نظر کرنی چاہئے جن سے جناب رسول اللہ ﷺ سے برابری ہو رہی ہے اور کہیں افضلیت کا بھی دعویٰ ہے، مگر خاص طور سے نہیں عام طور پر، غالباً جب اپنی امت پر پورا وثوق ہو جاتا اس وقت دلی منشاء کو ظاہر فرماتے۔ بہر حال نبوت کا دعویٰ اس قول میں صاف وصریح طور سے ہے اور کنایۃً حضرت مسیح سے افضلیت کا بھی دعویٰ ہے۔ (نعوذ بالله منه)
٨......قول مرزا ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقة الوحی ص ١٤٨ خزائن، ج ٢٢ ص ١٥٢)
نتیجہ...... ہمارے بھائی، مرزا قادیانی کے الفاظ اور طرز بیان کو ملاحظہ کریں کہ ایک جلیل القدر رسول کے مقابلہ میں اپنی تعلی اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ ان کی پوری تحقیر ہوتی ہے صادقوں کی یہ شان ہرگز نہیں ہو سکتی جناب رسول اللہ ﷺ نے کسی رسول کے مقابلہ میں ایسا نہیں فرمایا بلکہ عموماً فضیلت دینے کو منع کیا۔ قرآن پاک میں ”وجيهاً في الدنيا والاخرة ومن المقربين“ (آل عمران ٤٥) ”اولوا العزم من الرسل“ (الاحقاف ٣٥) ارشاد ہے۔
٩......قول مرزا ”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقة الوحی ص ١٥٥، خزائن، ج ٢٢ ص ١٥٩)
نتیجہ...... اس قول کا نتیجہ بالضرور یہ ہوا کہ بعض وہ نبی جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ سے بہت بڑھ کر کہتے ہیں وہ اعلانیہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کیونکہ اس قول میں کئی جھوٹے دعوے ہیں (١) خدا نے فرمایا ہے کہ آخر زمانے کا مسیح پہلے وقت کے مسیح سے افضل ہوگا۔ (٢) جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے، (٣) تمام انبیائے کرام کا بھی قول ہے (٤) آخری زمانے کے مسیح کی فضیلت اس کے عمدہ اور مفید کاموں کی وجہ سے بیان کی ہے۔ مگر چاروں باتیں محض غلط اور جھوٹ ہیں قرآن وحدیث اور کتب سابقہ موجودہ میں کوئی قادیانی دکھلائے کہ آنے والے مسیح کو پہلے مسیح سے افضل کہاں ٹھہرایا ہے اور اس مسیح نے سوائے اپنی شہرت کے کیا کارنامے دکھائے اور اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچایا؟ کوئی قادیانی بیان تو کرے۔ بجز اس کے کہ دنیا کے مسلمانوں کو
٩
کافر ٹھہرا دیا اور کیا کیا؟ اور اس کے وقت میں اسلام پر اور مسلمانوں پر ہر طرح کی مصیبتیں آئیں۔
یہاں اس امر پر کامل طور سے نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو جناب رسول اللہ ﷺ کا ظل کہتے ہیں اور ان کے مریدین بھی ایسا ہی کہہ دیا کرتے ہیں اور کہیں نائب رسول اور خادم رسول اللہ کہتے ہیں۔ اب یہ دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو جن کا ظل کہتے ہیں اور جن کا نائب اور خادم بتاتے ہیں انہوں نے بھی کسی نبی کا نام لے کر اپنے آپ کو ان سے افضل کہا ہے اور کم سے کم یہ دکھایا جائے کہ اس کو جائز رکھا ہے؟ مگر ایسا نہیں دکھا سکتے بلکہ نہایت صاف طور سے اس کی ممانعت کی ہے اور خاص یہود کے مقابلہ کے وقت حضور انورؐ نے فرمایا لا ”تخیّرونی علیٰ موسیٰ“ یعنی مجھے موسیٰؑ پر فضیلت نہ دو۔ یہ حدیث صحیح بخاری (ج ١ ص ٤٨٤ باب وفات موسیٰؑ و ذکرہ بعد) کی ہے اور صحیح بخاری (ج ١ ص ٤٨١ باب ھل اتاک حدیث موسیٰؑ) اور مسلم (ج ٢ ص ٢٦٧ باب فضائل موسیٰؑ) میں حضور انورؐ کا ارشاد بھی ہے۔ ”لا ینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی“ یعنی کسی کو یہ کہنا نہ چاہئے کہ میں یونس بن متیؑ سے بہتر ہوں۔ اب میں حق پسند حضرات سے بمنّت کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادوں کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے ان دعوؤں پر نظر کریں جو ابھی نقل کئے گئے اور اس کا فیصلہ کریں کہ جو نائب اور خادم ہو کر اپنے مخدوم کی ایسی صریح مخالفت کرے وہ کیسا ہے؟
اب وہ اقوال نقل کئے جاتے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے تمام انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ کیا ہے۔
دیگر انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ
- ١٠...... قول مرزا ”بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ
ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
نتیجہ...... اس قول میں کامل غور کر کے دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی اپنی افضلیت کا دعویٰ کس کس
١٠
طرح کرتے ہیں اور کیسے کیسے پہلو اس میں ہوتے ہیں؟ پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ معجزات کے اعتبار سے میں اکثر انبیاء سے افضل ہوں البتہ بعض انبیاء ایسے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزے دکھائے جس قدر میں نے دکھائے ہیں۔ اس کے بعد اپنے اس قول کو جھوٹا اور غلط ٹھہرا کر سچ اس بات کو ٹھہراتے ہیں کہ جس کثرت کے ساتھ میرے معجزات ہیں اور ان کا ثبوت قطعی اور یقینی ہے اس قدر معجزات کا قطعی ثبوت کسی نبی کے لئے نہیں ہے۔ البتہ حضرت خاتم النبیینؐ کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں جس سے عوام کم علم یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی صاف طور سے استثناء کر کے رسول اللہ ﷺ سے اپنی افضلیت ثابت نہیں کرتے مگر اہل علم اسے خوب سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس قول میں تو اپنے معجزات کو کثیر بتا کر ان کے ثبوت کو قطعی اور یقینی بتاتے ہیں۔ اور دوسرا قول جو اس کے بعد نقل ہوگا اس میں خدا کی قسم کھا کر اس کی تعداد تین لاکھ بتاتے ہیں ان دونوں قولوں کو ملا کر اہل علم بالضرور یہی نتیجہ نکالیں گے کہ مرزا قادیانی اگر چہ ظاہر میں جناب رسول اللہ ﷺ سے اپنے آپ کو فضیلت ظاہرہ نہیں دیتے مگر باطن میں ضرور فضیلت دیتے ہیں کیونکہ تین لاکھ معجزات کے قطعی ثبوت کا دعویٰ نہ کسی ذی علم مسلمان نے جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے کیا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا ضرور ہوگا کہ مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کا نتیجہ بالیقین یہی ہے کہ جس قدر مجھ سے معجزات ہوئے رسول اللہ ﷺ سے بھی نہیں ہوئے اور جب دونوں قولوں کے ساتھ ان کا وہ قول بھی ملایا جائے جو تحفہ گولڑویہ (ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں ہے کہ رسول اللہ سے تین ہزار معجزے ہوئے۔ تو کامل فیصلہ ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے معجزات کو سو حصے زیادہ جناب رسول اللہ کے معجزات سے بتاتے ہیں۔ اب اہل علم ان تینوں قولوں پر نظر کریں اور پھر اس قول کے استثناء کو دیکھیں کسی منصف کو اب تامل ہو سکتا ہے؟ کہ یہ استثناء عوام کے خوش رکھنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اب ناظرین خود ہی فیصلہ کر لیں کہ یہ کیا بات ہے۔
- ١١...... قول مرزا "اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ
اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں"
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
نتیجہ...... اس قول میں تین طور سے دعویٰ نبوت ہے اور اس کی صداقت پر قسم کھاتے ہیں۔ (١) یہ کہنا کہ اس نے یعنی خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ رسول ہونے کا دعویٰ ہے جسے خدا تعالیٰ ہدایت کے
١١
لئے بھیجے وہ بلاشبہ رسول ہے جب مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے تو بالضرور خدا کے مستقل رسول ہونے کا دعویٰ ہوا۔ (٢) صریح کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ (٣) یہ کہ مسیح موعود اپنے کو کہا اور مسیح موعود نبی ہوں گے اور افضلیت کا دعویٰ اس طرح ہے کہ اپنے معجزات کو تین لاکھ بتاتے ہیں۔ حضرت آدم سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک کسی نبی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کوئی ان کا ماننے والا لکھتا ہے کہ فلاں نبی سے تین لاکھ معجزے ہوئے، یہاں لائق غور بات یہ ہے کہ معجزہ اور نشان خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس سے مقصود اس رسول کی صداقت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے اب ظاہر ہے کہ جس قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت اللہ کے نزدیک زیادہ ہوگی اسی قدر اس کی سچائی اور صداقت کا اظہار زیادہ ہوگا۔ اب اس پر غور کرنا چاہئے کہ جب مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ میری تصدیق کے لئے تین لاکھ معجزے ظاہر ہوئے تو اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک میری عظمت اور میرا رتبہ اس قدر عالی ہے کہ کسی نبی کا نہیں ہے یہاں تک کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچے۔ کیونکہ کسی نبی کے لئے اسقدر نشانات تو کیا اس کے عشر عشیر کا بھی ثبوت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی نہیں ہے بلکہ بقول مرزا قادیانی تین ہزار معجزے آپؐ سے ہوئے یعنی مرزا قادیانی کے معجزوں کا عشر عشیر، غضب ہے کہ ایسے دعوے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے امتی نبی اور ظلی نبی ہیں۔ کیا ظل اور سایہ اپنے اصل سے اس قدر بڑھ سکتا ہے؟
تمہید بیان دعویٰ افضلیت بر سرور انبیاء علیہ السّلام
یہاں تک جو اقوال نقل کئے گئے ان سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت بلکہ تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر میں بنظر توضیح اور بوجہ نہایت مہتمم بالشان ہونے کے مرزا قادیانی کے وہ اقوال پیش کرتا ہوں جن میں وہ اپنی فضیلت جزئی یا کلی جناب رسول اللہ ﷺ پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جس نے مرزا قادیانی کی تحریریں ابتداء سے ان کی آخر عمر تک کی محققانہ طور سے دیکھیں ہیں وہ یقین کرسکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے بہت کچھ دعوے کئے مگر آہستہ آہستہ دعوؤں میں ترقی کرتے گئے۔ یہ دعویٰ نہایت ہی عظیم الشان تھا اور مسلمانوں کے دلوں کو برہم کرنے والا، اس لئے اس میں انہیں بہت ہی آہستگی اور نہایت حکمت عملی برتنی پڑی ہے پہلے تو نعتیہ قصائد اور عشقیہ اشعار بہت کچھ لکھے ہیں۔ پھر پادریوں اور آریوں کے جواب میں
١٢
بعض رسائل لکھ کر مسلمانوں کے دلوں کا اپنی طرف رجوع کیا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے خادم ہونے اور غلام ہونے کا بھی جابجا دعویٰ کیا ہے۔
اس تمہید کے بعد آہستہ آہستہ کسی کسی فضل و کمال میں اپنی فضیلت دکھائی ہے اور کسی مقام پر جناب رسول اللہ ﷺ کے قاصر رہنے کی طبع زاد وجوہ بھی پیش کر دیئے ہیں۔
(مثلاً ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٦٩١ خزائن ، ج ٣ ص ٤٧٣ ملاحظہ ہو)
اس میں شبہ نہیں کہ بہت نیک دل سادہ مزاج ان تمہیدی باتوں کو دیکھ کر ان کے زور دار دعوؤں پر ایمان لے آئے اور پھر جو بات اس کے خلاف ان کے خیال میں آئی اس کی تاویل کے درپے ہوگئے اور افسوس ناک اس کی حالت ہوگئی۔ مگر جب کوئی ذی علم حق پسند محققانہ طور سے ان تمہیدی باتوں میں غور کر کے ان کے ان اقوال وافعال پر منصفانہ نظر کرے گا جو ان تمہیدی باتوں کے خلاف ہیں اس کا کانشنس (ضمیر) اس کی حق پسندی بے اختیار کہہ اٹھے گی کہ یہ تمہید مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے تھی اور اصلی غرض کچھ اور تھی یا کچھ لوگوں کی توجہ سے ان کی حالت بدل گئی اور ان کا حوصلہ حد سے زیادہ بلند ہو گیا مگر ان کی عمر نے وفا نہ کی۔ ابھی تک وہ اپنی بلند پروازی کا پورے طور سے اظہار نہیں کرنے پائے تھے کہ ان کی عمر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ان کی دلی تمنا پوری نہ ہوئی۔ ذرا سرسری طور سے اس تمہید پر غور کر لیجئے۔ یہ تو فرمائیے کہ بہت شعراء کے نعتیہ قصیدے اور عشقیہ اشعار موجود ہیں پھر کیا ان کے مضامین کی بنیاد ان کا سچا عشق ومحبت ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کی خیالی باتیں اور جھوٹے دعوے ہیں اور ان کے کذب کی صداقت ان کے دوسرے اقوال و افعال سے بخوبی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے اقوال وافعال سے ان کے عشق کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کا ایک شعر بھی ہے ؎
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦ ، خزائن ص ٢٦ ج ٥)
جس قدر عشق ومحبت مرزا قادیانی کے اشعار سے عموماً اور مذکورہ بالا شعر سے خصوصاً ظاہر ہوتی ہے اگر ان کے دل میں اس کا تخم ہوتا تو کیا ممکن تھا کہ باوجود مقدرت کے وہ روضہ اقدس کی زیارت سے مشرف نہ ہوتے اور جان کا خوف بھی ہوتا تو نہایت جوش سے جان کے قربان کرنے کو موجود ہو جاتے حالانکہ خوف کی کوئی وجہ نہ تھی۔ انہیں تو الہام ہو چکا تھا۔ ”وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ“
(تذکرہ ص ٢٨٠ ۔ ٢٧٩ طبع سوم)
١٣
اور انہیں اپنے الہاموں پر تو ایسا یقین تھا جیسا قرآن شریف پر۔ پھر خوف کی گنجائش کہاں تھی؟ اس کے علاوہ حرمین شریفین میں پوری آزادی ہے کوئی مذہب والا زیارت وحج سے روکا نہیں جاتا۔ دیکھو ان کا بیٹا حج کر آیا مجھے وہاں کے خطوط سے معلوم ہوا کہ شریف مکہ جو وہاں کے حاکم ہیں مرزا محمود کو کافر جانتے تھے مگر کسی قسم کا تعرض ان سے نہیں کیا۔ البتہ باوجود تحریک کے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑی دلیل ان کے دعوے عشق ومحبت اور دعویٰ غلامی کے غلط بتانے والی اور ان کی اصلی حالت کھولنے والے وہ اشعار ہیں جو انہوں نے قصیدہ اعجازیہ میں اپنی تعلی اور جگر گوشہ اور قرۃ العینین رسول الثقلینؒ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے کسر شان میں لکھے ہیں۔ کیا کسی غلام اور عاشق سے یہ ہو سکتا ہے کہ اپنے محبوب کے محبوب سے اس قدر بے باکی اور بے ادبی سے پیش آئے؟ اور خاص اپنے مقابلہ میں ان کی تحقیر کرے جن کو رسول الثقلینؒ نے نہایت پیار ومحبت سے اپنے گودوں میں کھلایا ہو اور جنہیں اہل جنت کا سردار فرمایا ہو۔ بھائیو! بلا طرفداری اس کا جواب دو، مگر جواب سے پہلے قصیدہ کے وہ اشعار بھی ملاحظہ کر لو جن میں مرزا قادیانی نے اپنے دل کا غصہ نکالا ہے۔ پھر کیا کوئی صادق ان باتوں پر نظر کر کے مرزا قادیانی کو محبّت وغلامی کے دعوے میں سچا کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ اب اس توضیح کے لئے میں نمونہ کے طور پر چند حوالہ پیش کرتا ہوں جن میں انہوں نے مختلف طور سے اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر نہ اس زور کے ساتھ جس طرح حضرت مسیحؑ کے مقابلہ میں کیا ہے کیونکہ مصلحت وقت کے خلاف تھا۔
حضرت حسینؓ اور مرزا
وہ اشعار اور ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو
اقول نعم واللّٰہ ربی سیظھر
(اعجاز احمدی ص ٥٢ خزائن ، ج ١٩ ص ١٤٤)
ترجمہ...... ’’اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔‘‘
فانی اُؤید کل آن وانصر
١٤
الى هذه الايام تبكون فانظروا
(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن، ج ١٩ ص ١٨١)
ترجمہ....... میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین پر تو دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔
وعندى شهادات من اللّٰه فانظروا
......٥ وانى قتيل الحب لكن حسينكم
قتيل العدےٰ فالفرق اجلى واظهر
(اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن، ج ١٩ ص ١٩٣)
ترجمہ....... اور بخدا اس میں (کوئی بات) مجھ سے زیادہ نہیں ہے۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو، اور میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔
یہ پانچ شعر ہیں جو مرزا قادیانی نے قصیدہ اعجازیہ میں حضرات حسنینؓ اور خصوصاً حضرت امام حسینؓ کی توہین اور اپنی فضیلت میں لکھے ہیں۔ ان کے مضامین کو عبرت کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ ایک اسلام کا دعویٰ رکھنے والا اور اپنے تئیں خادم رسول اللہ اور عاشق رسول کہنے والا اسی سچے رسولؐ کے جگر گوشہ کے مقابلہ میں اپنی فضیلت اس طرح دکھا رہا ہے۔ پہلے شعر میں اپنی فضیلت کا دعویٰ کر کے اس کے ظہور کی قسمیہ پیش گوئی کر رہا ہے یعنی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میری فضیلت امام حسینؓ پر عنقریب ظاہر ہو جائے گی (مگر اب تک تو اس کے نشان کا بھی ظہور نہ ہوا) دوسرے اور تیسرے شعر میں اپنی یہ فضیلت دکھاتے ہیں کہ مجھے ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد پہنچ رہی ہے اور امام حسینؓ کو تو کربلا میں وہ مصیبت پہنچی تھی جسے یاد کر کے تم اب تک رویا کرتے ہو۔ بھائیو! انصاف سے کہو کہ عاشق رسول کے خیال میں بھی ایسا مضمون گزر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، یہ فضیلت دکھانا ایسا ہی ہے جیسے ہیرودس بادشاہ قاتل حضرت یحییٰ علیہ السلام یا اور کوئی مخالف کافر دنیا کے ناز و نعمت میں رہنے والا حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مظلومیت اور شہادت کو دکھا کر حضرت
١٥
یحییٰ پر فخر کرے۔
مرزا قادیانی کے اس بیان کا یہ نتیجہ ضرور ہوگا کہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ میں جو مؤمنین کے ابتلاء اور کفار کے تنعم دنیا کا ذکر ہے وہ سب غلط ہے۔ (نعوذ باللہ ) ایک فضیلت تو یہ دکھائی۔ دوسری فضیلت پانچویں شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کشتہ محبت خدا ہوں اور امام حسینؓ دشمنوں کے کشتہ تھے۔ یعنی انہیں محبت الٰہی سے واسطہ نہ تھا۔ ان کی شہادت محبت خدا کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ میں کشتہ محبت خدا ہوں کیونکہ چین سے گذرتی ہے قورما پلاؤ کھانے کو اور مشک و زعفران استعمال کرنے کو ملتا ہے۔
بھائیو! انصاف سے کہو کسی مسلمان کے قلم و زبان سے یہ کلمات نکل سکتے ہیں اور کوئی انسان رسول الثقلینؐ پر ایمان لا کر اپنے مقابلہ میں ان کے قرۃ العینینؓ کی تنقیص اس طرح کر سکتا ہے؟ ذرا اپنے ایمان پر نظر کر کے جواب دینا چاہئے۔ ان اشعار میں ایک عظیم الشان عبرت ناک مضمون یہ ہے کہ مرزا قادیانی دوسرے اور پانچویں شعر میں تمام مسلمانوں سے خطاب کر کے کہتے ہیں۔ حسینکم یعنی تمہارا حسینؓ ۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ جن کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں تمام دنیا کے اہل سنت اور اہل تشیع اپنا امام اور مقتداء مان رہے ہیں وہی حسینؓ ہیں۔ جو سید المرسلینؐ کے نواسہ ہیں جنہیں سید المرسلینؐ نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے اور نجات کے لئے کشتی نوح کے مثل ٹھہرایا ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ تمہارا حسین یعنی ہمارا نہیں ہے۔
ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت کو اس سے سمجھ لیں میں اب زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔
حضرت سرور انبیاءؐ پر فضیلت کا دعویٰ
اس سے پہلے تتمہ حقیقۃ الوحی سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نقل کیا گیا ہے کہ میرے بڑے بڑے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ مگر اس پر بس نہیں کی بلکہ تین لاکھ سے زیادہ اپنے معجزات کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے۔
- ١...... قول مرزا ”میری تائید میں اس نے نشان ظاہر فرمائے...... وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ
ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ص ٧٠ ج ٢٢)
نتیجہ ...... اس قول کو پیش نظر رکھ کر جب ان کی عمر کے مہینوں کا حساب کیا جائے اور اس میں متعدد نشانوں کا ہونا مانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کی عمر میں سوا تین لاکھ معجزوں کے مدعی ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کی نسبت (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن، ج ١٧
١٦
ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں کہ ”تین ہزار معجزے ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“
ان دونوں قولوں کے ملانے سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرے معجزات جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات سے سو حصے سے بھی زیادہ ہیں یعنی سو حصے سے مجھے زیادہ فضیلت ہے جناب رسول اللہ پر۔ کیونکہ جس قدر معجزات کا ظہور زیادہ ہوگا اسی قدر اسے قربت خداوندی کا ثبوت زیادہ ہوگا۔ کیونکہ معجزہ کا ظہور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اپنے رسول کی حمایت اور اس کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اب جس قدر قرب زیادہ ہے اور اس کی حمایت زیادہ منظور ہے اسی قدر اس نبی سے زیادہ معجزے ہوں گے۔
برادران اسلام! جناب سید المرسلین کی اس خفیہ توہین کو ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی حضور انور ﷺ کو اپنے سے سو حصہ کم مرتبہ سمجھتے ہیں۔ یہاں سے بالیقین ثابت ہوا کہ دوسرے مقامات پر آپ کی بہت کچھ تعریف کرنا اور اپنے آپ کو خادم کہنا کسی مخفی غرض سے ہے، مگر افسوس ہے کہ ہمارے بھائی غور نہیں کرتے۔
- ٢...... قول مرزا ”لیکن پھر بھی دو نام نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام
ہمارے نبی ﷺ سے خاص ہے اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے۔ ...... اور نبیوں کی پیش گوئیوں میں یہ بھی تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھا ہو جائیں گی۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ١٣ خزائن ، ج ١٧ ص ٣٥٨۔ ٣٥٩ حاشیہ )
نتیجہ...... اس قول میں غور کیا جائے اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مؤید بروح القدوس ہونے کی صفت رسول اللہ ﷺ میں نہ تھی۔ صرف مہدی ہونے کی صفت تھی۔ یعنی ایک عظیم الشان صفت سے جناب رسول اللہ ﷺ محروم تھے ( نعوذ باللہ منہ ) مگر مرزا قادیانی دونوں صفت کے جامع ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ سے فضیلت رکھتے ہیں۔
- ٣...... قول مرزا ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ، ج ٢٢ ص ٩٢)
نتیجہ...... اس قول میں مرزا قادیانی صاف طور سے اپنے آپ کو تمام انبیاء پر فوقیت دیتے ہیں کیونکہ تخت اترنے سے مقصود معمولی تخت نہیں ہو سکتا بلکہ مثالی طور پر عالی مرتبہ رسالت ونبوت کا تخت مراد ہو سکتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا تخت سب سے بلند بچھایا گیا تو معلوم ہوا کہ مرزا
١٧
قادیانی تمام انبیاء سے عالی مرتبہ رکھتے ہیں۔
- ٤...... قول مرزا "واتانی مالم یؤت احد من العالمین"
(حقیقۃ الوحی ص ٧٠، خزائن، ج ٢٢ ص ١١٠)
نتیجہ...... اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کو جو مرتبہ دیا گیا وہ سارے جہاں میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں یعنی حضور کو بھی وہ مرتبہ نہیں دیا گیا۔ استغفر اللہ! (قصیدہ اعجازیہ کے صفحہ ٧٠ خزائن، ج ١٩ ص ١٨٢) میں اپنے آپ کو جناب رسول اللہ ﷺ کی اولاد ٹھہرا کر ص ٧١ میں اپنی فضیلت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں)
- ٥...... قول مرزا "له خسف القمر المنیر، وان لی غسا القمران المشرقان
اتنکر
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ، ص ١٨٣، ج ١٩)
ترجمہ...... اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے اردو محاورہ کے لحاظ سے حضور انور کے ساتھ مرزا قادیانی کے ادب کو لحاظ کیا جائے۔ کس بے ادبی سے ترجمہ کر رہے ہیں؟
یہ ان کا شعر ہے اور انہیں کا ترجمہ ہے اس شعر میں پہلے رسول اللہ ﷺ کا نشان صرف چاند گہن کو بتاتے ہیں اور اپنا نشان چاند اور سورج دونوں کا گہن کہتے ہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے اظہار صداقت کے لئے تو صرف چاند گہن ہوا اور میری صداقت کے لئے چاند اور سورج دونوں کا گہن ہوا۔ اب میں اس سے بحث نہیں کرتا کہ چاند گہن اور سورج گہن کس طرح نشان ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق کے لئے ایک رسالہ خاص لکھا گیا ہے جس کا نام، شہادت آسمانی، ہے جس کو دیکھنا ہو اس میں دیکھے۔ یہاں یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنی ایک فضیلت بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کا نشان حضور انور کے لئے ایک ہوا اور میرے لئے دو ہوئے یعنی رسول اللہ ﷺ پر یہ خاص فضیلت مجھے دی گئی۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا معجزہ شق القمر تو مشہور اور متواتر ہے اور قرآن مجید سے اس کا پتہ ملتا ہے اور واقع میں یہ خرق عادت ہے۔ تمام عقلاء اسے معجزہ مان سکتے ہیں مگر چاند گہن کو معجزہ اور نشان کہنا مرزا قادیانی ہی کے عقل کا تقاضا ہے۔ کوئی ذی عقل تو اسے معجزہ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ چاند گہن اور سورج گہن ہمیشہ ہوا کرتے ہیں اور کسی وقت ایک مہینے میں ان کا اجتماع بھی ہوتا ہے اور بالفرض اگر چہ یہ اجتماع کسی مدعی کے وقت میں نہ ہوا ہو بہر حال کسی ذی علم صاحب عقل کے نزدیک خرق عادت اور معجزہ نہیں ہو سکتا اور اگر شق القمر کو چاند
١٨
گہن کہا ہے تو یہ سراسر غلط اور دروغ محض ہے کہ میرے لئے دونوں کا گہن ہوا۔ کیونکہ یہاں بھی گہن کے معنی شق ہونے کے ہوں گے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ میرے لئے شق القمر اور شق الشمس دونوں ہوئے مگر ساری دنیا واقف ہے کہ محض غلط ہے مرزا قادیانی کے لئے دونوں کیا ایک کا بھی شق نہیں ہوا اور اگر نہایت محدود عقل والوں کی طرح مرزا قادیانی اور ان کے پیرو واقعی شق القمر کو محال بتائیں اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت کو اپنی محدود عقل کے پابند کر کے جناب رسول اللہ ﷺ کے اس عظیم الشان معجزے سے انکار کریں تو میں اس وقت صرف یہ کہوں گا کہ معمولی چاند گہن یا سورج گہن یا دونوں کا اجتماع ایک مہینے میں معجزہ نہیں ہو سکتا۔
خطبہ الہامیہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب ہے جو عربی میں ہے اور موٹے موٹے حرفوں میں چھپی ہے اور درمیان میں اس کا ترجمہ فارسی اور اردو دونوں میں ہے۔ اس کتاب کے (ص٢٨٩۔٢٨٨ خزائن ج١٦ ص٢٨٨۔٢٨٩) میں لکھتے ہیں۔ میں اس کی عربی عبارت اور اردو ترجمہ نقل کرتا ہوں۔
- ٦......قول مرزا "وقد مضى وقت فتح مبين في زمن نبينا المصطفےٰ و بقى
فتح آخر و هو اعظم اثراً واظهر من غلبة اولىٰ وقد حان وقته وقت المسيح الموعود من الله الرؤف الودود وارحم الراحمين واليه اشار في قوله تعالىٰ سبحان الذى اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصىٰ "
ترجمہ: ......اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گذر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔سبحان الذى اسرىٰ .
اب نہایت ظاہر ہے کہ جس نبی کے وقت میں جس رسول کے ذریعہ سے جس قدر یہ فتح زیادہ نمایاں ہوگی اسی قدر وہ رسول عالی مرتبہ زیادہ ہوگا۔ وہ زمانہ زیادہ خیر و برکت کا ہوگا اور جس قدر یہ فتح کم نمایاں ہوگی اسی قدر اس کے مرتبہ میں کمی ہوگی۔ اس وجہ سے اب تمام مسلمانوں کا اتفاقی عقیدہ ہے اور قرآن و حدیث اس پر شاہد ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ سید المرسلینؐ ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ رسالت خداوندی کا نتیجہ جس قدر ان کی ذات بابرکات سے اعظم اور اکبر اور نہایت ظاہر ہوا، کسی رسول سے نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے تمام رسولوں کے سردار قرار پائے مگر مرزا قادیانی کا بیان تو اسے غلط بتا رہا ہے۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ایسی عظیم الشان فتح مسیح
موعود کے وقت میں ہوگی یعنی مرزا قادیانی کے وقت میں، اور جو عظیم الشان نتیجہ رسالت کا مرزا قادیانی کے ذریعہ سے ہوگا وہ جناب رسول اللہ کے ذریعہ سے ظاہر نہ ہوا ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی سید المرسلین ہوئے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نہ ہوئے اور خیر القرون مرزا قادیانی کا زمانہ ہوا، جناب رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نہ ہوا، اور مرزا قادیانی کے صحابی اور تابعی جناب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور تابعین سے افضل ہوئے۔ یہ سب دعویٰ ہو رہے ہیں مگر پیچ کے ساتھ، اس لئے عوام اور نیم ملا نہیں سمجھتے۔ وہ اب تک اسی خیال میں ہیں کہ مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے وہ نائب رسول ہیں یا ظلی، بروزی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعض نیم ملاؤں نے عوام کو سمجھا دیا کہ امتی نبی ہیں۔ بھائیو! کچھ تو غور کرو، اور خدا سے ڈرو مرزا قادیانی اعلانیہ نہایت صفائی سے نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اپنے کو تمام انبیاء سے افضل بتاتے ہیں۔ مگر اس دعویٰ سے قبل یہ بھی کسی وقت کہہ دیا ہے کہ ایک حیثیت سے امتی ہوں اور ایک حیثیت سے نبی ہوں۔
نتیجہ ...... اس میں غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی دو فتح مبین بیان کرتے ہیں ایک جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، اور دوسرا مسیح موعود، یعنی اپنے وقت میں، اب خیال کیا جائے کہ فتح مبین سے کیا مراد ہے۔ چونکہ حضور انور سید المرسلینؐ ہیں اور اسی غرض سے آئے ہیں کہ لشکر شیطان کو شکست دیں اور کفر اور شرک اور بداعمالی کو مٹائیں۔ اس لئے فتح مبین سے مقصود یہی ہو سکتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ملک عرب میں جو لشکر شیطانی کا نہایت غلبہ تھا اور کفر اور شرک اور بداخلاقی کا زور تھا۔ جناب رسول اللہؐ نے اس لشکر کو زیر کر کے اس پر فتح مبین حاصل کی اور اس ملک سے کفر و شرک اور بداعمالی کو مٹا دیا اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ اور خدام نے دنیا کے اور لوگوں کو درست کیا، یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے کو اور اپنے وقت کی امت کو خیر القرون اور خیر امتی قرنی فرمایا ہے اور اس کے بعد صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانہ کو، مگر مرزا قادیانی اس فتح کو یعنی جو فتح جناب رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ہوئی اور صحابہؓ اور تابعینؒ کے وقت میں ہوئی، فتح عظیم نہیں کہتے بلکہ جو فتح مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے وقت میں ہوئی اور ہوگی وہ فتح اکبر ہے اور اعظم ہے اور اظہر ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ مرزا قادیانی اکبر اور اعظم ہوئے جناب رسول اللہ ﷺ سے، مرزا قادیانی کے صحابی افضل ہوئے، جناب رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ سے، اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ حضور انورؐ کا وہ قول جو ابھی نقل کیا گیا، جسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے غلط ہے۔ نعوذ باللہ منہ
٢٠
٧...... قول مرزا ”ان الله خلق آدم وجعله سيدا وحاكما و اميرًا على كل ذى روح من الانس والجان كما يفهم من آية اسجدو الآدم ثم ازله الشيطان واخرجه من الجنان. وَرَدَّالحكومة الى هذا الثعبان ومَس آدم ذلة وخزى فى هذه الحرب والهوان وان الحرب سجال وللاتقياء مآل عندالرَّحمان فخلق الله المسيح الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان فى آخر الزَّمان وكان وعدًا مكتوبًا فى القرآن.“
(سيرة الابدال کے آخر خطبہ الہامیہ کا حاشیہ در حاشیہ روحانی خزائن ج ١٦ص٣١٢)
ترجمہ...... ”اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا اور اسے تمام انسانوں اور جنوں کا سردار اور حاکم بنایا۔ پھر ان کو شیطان نے بہکایا اور جنت سے نکالا اور حضرت آدمؑ کی حکومت شیطان کو ملی اور اس لڑائی میں آدم کو ذلت اور رسوائی ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزا) کو پیدا کیا تاکہ آخری زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دے۔ یہ وعدہ خداوندی قرآن میں لکھا ہوا ہے۔“
نتیجہ...... مرزا قادیانی کے اس بیان سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں مسلمانوں کو انہیں نہایت غور اور عبرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ اول یہ کہ حضرت آدمؑ اور شیطان سے لڑائی ہوئی اور حضرت آدمؑ باوجود نبی بلکہ ابوالانبیاء ہونے کے ناکام رہے اور شیطان کے مقابلہ میں انہیں ذلت ہوئی۔ یہاں تک کہ آپ کی سرداری اور حکومت شیطان کو مل گئی اور یہ اس کے محکوم ہو گئے۔ دوسرے یہ کہ حضرت آدمؑ سے لے کر جناب رسول اللہ ﷺ تک تمام انبیائے کرام کے وقت میں اور صحابہ کرامؓ اور تمام اولیائے عظامؒ کے زمانے میں شیطان کو ہزیمت نہیں ہوئی بلکہ تمام انبیاء اور اولیاء کے وقت میں شیطان کی حکومت رہی کسی اولوالعزم نبی نے بھی شیطان پر غلبہ نہیں پایا اور نہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شیطان کے مغلوب کرنے کے لئے پیدا کیا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت بیکار ہوئی کیونکہ انبیائے کرام اسی لئے آتے ہیں کہ شیطان کو ہزیمت دیں اور مخلوق خدا کو شیطان سے بچائیں۔
تیسرا نہایت عظیم الشان دعویٰ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا) کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا کہ آخر زمانے میں شیطان کو ہزیمت دی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسیح موعود کا وہ مرتبہ ہے جو کسی ولی کا نہیں ہے کیونکہ دنیا میں رسول اور پیغمبر بھیجنے کی بہت بڑی غرض تو یہ ہے کہ شیطان کو ہزیمت دیں۔ یعنی کفر و شرک اور بداعمالی کو مٹا دیں مگر یہ کسی نبی سے نہیں ہوا اس غرض کے لئے خاص مرزا غلام احمد بھیجے گئے انہوں نے آکر اس کام کو کیا۔ بھائیو! کیا کسی مسلمان کا ایمان ان
٢١
باتوں کو قبول کر سکتا ہے حاشا و کلا، ان باتوں کا ایک نہایت خبیث نتیجہ یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سب شیطان سے مغلوب رہے ان تمام انبیاء کرام کے وقت میں شیطان ہی حاکم رہا اور تمام انبیائے کرام محکوم رہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے تیرہ سو برس کے بعد چودھویں صدی میں مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد نے شیطان کو مغلوب کیا اور حضور انور کا جو ارشاد تھا کہ زمانوں میں میرا اور میرے صحابہ کا زمانہ عمدہ ہے یہ ارشاد غلط ہے (نعوذ باللہ) بلکہ مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد کا زمانہ تمام زمانوں سے بہتر ہے کیونکہ شیطان کو ہزیمت اسی وقت ہوئی اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
بھائیو! کوئی مسلمان اس نتیجہ کو سن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ چوتھی بات مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے قرآن مجید میں موجود ہے۔ وعدہ الٰہی ہے کہ اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ قرآن مجید میں وعدے کا نشان بھی نہیں ہے۔
طالبین حق! ان عظیم الشان دعوؤں پر نظر کریں اور پھر اسے دیکھیں کہ کیسے غلط اور محض غلط دعوے ہیں جن کی غلطی کسی ذی علم پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ پھر ایسے غلط دعوے کر کے تمام انبیائے کرام پر اپنی فضیلت ہی ثابت نہیں کرتے بلکہ سخت توہین کرتے ہیں۔ اب کوئی قادیانی ہے کہ مرزا قادیانی کے اس دعوے کو قرآن مجید سے ثابت کر کے مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرے، یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ تمام قادیانی مل کر تمام عمر سر ماریں۔ اب میں آخر میں مجبور ہو کر کہوں گا کہ جو حضرات ایسے غلط دعوؤں پر ایمان لا چکے ہیں جن کے قلوب ایسے صریح غلط دعوؤں کے ماننے سے تاریک ہو گئے ہیں ان سے صداقت کی امید نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ اپنی حالت کی وجہ سے معذور خیال کئے جائیں۔
حضرات! یہ ہیں مرزا قادیانی کے دعوے۔ جس سے ہمارے بھائی ناواقف ہیں اور مرزا قادیانی کے قصیدہ نعتیہ دیکھ کر اور وہ عاجزی کے الفاظ ملاحظہ کر کے (جن میں وہ اپنے تئیں خادم رسول اللہ ﷺ اور احمد کا غلام کہہ کر مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں) مرزا قادیانی کے معتقد ہیں اور ان سے حسن ظن کر رہے ہیں۔ وہ وقت قریب تھا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ کے مقابلہ میں بڑے زور سے کہہ چکے تھے کہ میں ہر شان میں ان سے بڑھ کر ہوں حضرت سرور عالم ﷺ کے مقابلہ میں کہتے ہیں، مگر چونکہ مسلمان ہی ان کے سلسلہ میں داخل ہوئے تھے اس لئے وہ خائف رہے اور صاف طور سے ایسی تعلیٰ نہ کر سکے اور چونکہ عیسائی ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے اس لئے
حضرت عیسیٰ کے مقابلہ میں صاف کہہ دیا۔
- ٨.......مرزا کا الہام "لولاک لما خلقت الافلاک"
(استفتاء حقیقۃ الوحی ص ٩٩ خزائن ، ج ٢٢ ص ١٠٢۔ تذکرہ ص ٦١٢ طبع سوم)
نتیجہ......مرزا قادیانی اپنی مدح میں یہ الہام بیان کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تو نہ ہوتا یعنی اللہ مجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین پیدا نہ کرتا۔ تیری ہی وجہ سے تمام عالم کو آراستہ کیا۔
عام طور پر مسلمانوں میں یہ روایت مشہور ہے اور سب یہی جانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی شان میں یہ مضمون ہے۔ مگر اب مرزا قادیانی اس مضمون کو اپنا الہام بیان کرتے ہیں اور اپنی فضیلت میں یہ کلام الٰہی بتاتے ہیں۔ غور کے بعد اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ فضیلت خاص میرے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے نہیں ہے۔ دو وجہ سے ، ایک یہ کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے اور مرزا قادیانی اپنے الہام کو ویسا ہی قطعی اور یقینی بتاتے ہیں جیسا قرآن مجید اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے لئے تو اس فضیلت کو یقینی بتا رہے ہیں اب رہی دوسری جانب یعنی تیرہ سو برس سے تمام مسلمانوں کا یہ اعتقاد کہ یہ فضیلت جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے اس کا غلط ہونا مرزا قادیانی کے اور بیانات سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کیونکہ اول تو اس روایت کو الفاظ کے لحاظ سے محدثین نے صحیح نہیں کیا۔ اب اگر معنی کے لحاظ سے صحیح بھی ہو تو مرزا قادیانی ازالۃ الاوہام میں لکھ چکے ہیں کہ حدیث اگر صحیح بھی ہو تو مفید ظن ہوگی ۔ "والظن لا یغنی من الحق شیئًا۔"
پھر یہ ظنی ثبوت مرزا قادیانی کے قطعی ثبوت کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے وہ اشعار بھی ملاحظہ کیجئے جن میں احادیث نبویہ کی دھجیاں اڑائی ہیں وہ اشعار یہ ہیں۔
- ١.......هل النقل شئی بعد ایحاء ربنا فای حدیث بعدہ نتخیر
- ٢.......وقد مزق الاخبار کل ممزق فکل بما هو عنده یستبشر
(اعجاز احمدی ص ٥٦۔ ٥٧ خزائن ج ١٩ ص ١٦٨)
ترجمہ......اور خدا کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس ہم خدا تعالیٰ کی حدیث کے بعد کس حدیث کو مان لیں، اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔
- ٣.......اخذنا من الحی الذی لیس مثلہ وانتم من الموتی رویتم ففکروا
(اعجاز احمدی ٧٥ خزائن، ج ١٩ ص ١٦٩)
٢٣
ترجمہ ...... ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی و قیوم اور وحدہ لاشریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔
- ٤....... رأينا ء انتم تذكرون رواتكم، وهل من نقول عند عين تبصر
(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن، ج ١٩ ص ١٨١)
ترجمہ ....... ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔
- ان اشعار میں مرزا قادیانی اپنی وحی کے مقابل میں حدیثوں کو دو چیزوں سے تشبیہ
دے رہے ہیں۔ ایک تو ردی کاغذات سے، یعنی جس طرح ردی کاغذات پھاڑ کر پھینک دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح میری وحی کے بعد حدیثیں پھاڑ کر پھینک دی گئیں۔ دوسرے تشبیہ قصے کہانی سے دی ہے یعنی جس طرح قصے کہانیاں لائق اعتبار نہیں ہوتیں۔ خصوصاً جب وہ قصے چشم دید واقعات کے خلاف ہوں اسی طرح حدیثوں کو مرزا قادیانی کہتے ہیں (احادیث نبویہ کی بے وقعتی عبرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ) الحاصل اس فضیلت کا ثبوت جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے تو حدیث سے ہوتا ہے اور حدیث کا غیر معتبر ہونا پوری طرح سے مرزا قادیانی نے بیان کر دیا اس لئے یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کے لئے ثابت نہیں ہوتی ، اور مرزا قادیانی کا الہام بقول ان کے چونکہ قطعی ہے اس لئے یہ فضیلت ان الفاظ کے ساتھ مرزا قادیانی کے لئے قطعی الثبوت ہوئی۔ اب جو حضرات جناب رسول اللہ ﷺ کو افضل المرسلین اور سید الاولین والآخرین مان چکے ہیں وہ ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی اس عظیم الشان صفت کو اپنے لئے خاص کرتے ہیں۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ جب تمام عالم کے لئے علت غائی ٹھہرے اور ایسے محبوب اور پیارے اللہ کے ہوئے کہ زمین و آسمان اور سید الانس والجان کا وجود بھی انہیں کی وجہ سے ہوا تو ان کی فضیلت کا کیا ٹھکانا ہے؟ اب تو تمام عالم ان کا طفیل ٹھہرا اور تمام کمالات انسانی وجود کے تابع ہیں اور جب وجود انسانی مرزا قادیانی کے وجود کا طفیلی ہوا تو تمام کمالات انسانی بھی مرزا قادیانی کا طفیل ہوئے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ تمام انبیائے کرام اور اولیائے عظام اپنے کمالات ولایت اور نبوت میں مرزا قادیانی کے ظل ہوئے۔ (معاذ اللہ )
الغرض اس الہام سے مرزا قادیانی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے وجود اور اپنے تمام کمالات میں میرے ظل ہیں۔ اصل میں ہوں، مگر سخت حیرت
٢٤
ہے کہ ان کے پیروان کی باتوں پر ایمان لانے والے ان کے اس الہام کا مطلب نہیں سمجھتے اور مرزا قادیانی کو ظلی نبی کہتے ہیں اگر مرزا قادیانی نے کسی وقت اپنے آپ کو ظلی نبی کہا ہو تو ایسا ہی سمجھ لیں جیسا حضرت مسیح کو پہلے اپنے سے افضل سمجھتے تھے اور پھر ہر شان میں اپنے آپ کو ان سے افضل سمجھنے لگے۔ البتہ اس قدر فرق ہے کہ عیسائیوں سے انہیں امید نہیں رہی تھی اس لئے اعلانیہ طور سے ان پر اپنی فضیلت کا اظہار کر دیا۔
مسلمانوں سے انہیں امید تھی کہ یہی لوگ ہم پر ایمان لائیں گے اس لئے اعلانیہ فضیلت کا اعلان مصلحت کے خلاف سمجھا البتہ ایسے الہامات ہو رہے تھے جن میں غور کرنے سے فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ شاید بارش کی طرح وحی کا نزول نہیں ہوا تھا اس لئے اصلی مدعا بیان کرنے کی نوبت نہیں آئی اور منتقم حقیقی کا پیام آ پہنچا اور مرزا قادیانی کو بے وقت جانا پڑا۔ افسوس ہے کہ ہمارے بہت برادران اسلام ان باتوں سے غافل ہیں اور انہیں خادم رسول جان رہے ہیں اور ان کی اندرونی حالت سے بے خبر ہیں افسوس۔
اب میں مرزا قادیانی کا ایک الہام اور نقل کرتا ہوں جس سے مرزا قادیانی اپنی بہت ہی عظیم الشان فضیلت تمام انبیاء پر ثابت کرنا چاہتے ہیں یہ الہام نہایت لائق توجہ ہے۔
الحکم جلد ٩ نمبر ٧ مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء کے صفحہ ١١ میں تو مرزا قادیانی نے ”الوصیت“ عنوان قائم کر کے مضمون لکھا ہے اور طاعون کے غلبہ اور مخلوق کے تباہ ہونے سے بہت ڈرایا ہے اور اپنی طرف متوجہ کیا ہے پھر صفحہ ١٢ کے آخر میں موٹی قلم سے لکھا ہے۔
تازہ الہامات
- ١..... حضور کی طبیعت ناساز تھی حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی ہے جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار
پیپر منٹ
(تذکرہ ص ٥٢٧)
کشف میں شیشی نظر آنا اور اس پر پیپر منٹ لکھا ہونا مرزا قادیانی کے مخصوص مکاشفات سے ہے ایسے مکاشفات کسی اہل اللہ کو نہیں ہوئے۔ کیا کہنا ہے چودھویں صدی کے مسیح ہیں؟
- ٢...... اِنَّمَا اَمْرُكَ اِذَا اَرَدْتَ شَيْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ. یہ عربی الہام (حقیقة الوحی
ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) کی پہلی سطر میں بھی لکھا ہے۔ اب دیکھا جائے کہ یہ عربی عبارت بہت تھوڑے تغیر سے قرآن شریف کی آیت ہے سورۂ یٰسین کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کے بیان میں اس طرح ارشاد ہے۔ اِنَّمَا اَمْرُهٗ اِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ۔ (یٰسین ٨٢)
٢٥
یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ جب کسی چیز کے ہو جانے کا ارادہ کرے اور اسے کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔
مرزا قادیانی اپنے الہام میں اسی مضمون کو اپنے لئے بیان کرتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تیری شان یا تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔
اس کا حاصل یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی وہ خاص صفت جس سے اس کی کامل قدرت ہر شے پر ظاہر ہوتی ہے اور جو کسی ولی اور کسی عالی مرتبہ نبی کو بھی نہیں دی گئی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھے دی گئی۔ اس میں دو طرح سے کلام ہے ایک یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام بتاتا ہے کہ جو قدرت اور فضیلت و مرتبہ مرزا قادیانی کو دیا گیا وہ کسی نبی اور کسی بزرگ کو نہیں دیا گیا یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی نہیں عنایت ہوا۔ کیونکہ آپ نے کسی وقت اس مرتبہ پر پہنچنے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ قرآن مجید میں صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بیان میں یہ جملہ بیان ہوا۔ یہ وہ عظیم الشان صفت ہے جس کی حد و انتہا نہیں ہے۔ اس کے عطا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گویا اپنی خدائی مرزا قادیانی کے حوالے کر دی اور اپنا شریک بنا لیا اور مرزا قادیانی وہی کام کر سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ کر سکتا ہے۔ صرف فرق یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی قادر تھا اور ہے، اور مرزا قادیانی کو خدا نے یہ قدرت دے دی اور اس خاص صفت میں اپنے شریک کر لیا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اپنی خدائی میں شریک کر لیا اور مرزا قادیانی کو قادر مطلق کر دیا۔ اس بیان سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء سے بہت ہی افضل ہوں۔ حضرت سید المرسلینؐ سے بھی میرا مرتبہ بہت ہی عالی ہے کیونکہ اس الہام نے تو مرزا قادیانی کو خدائی کے درجہ تک پہنچا دیا اور خدا تعالیٰ میں اور مرزا قادیانی میں صرف بالذات اور بالغیر کا فرق رہ گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خود بخود بغیر کسی کے بنائے اس صفت کے ساتھ موجود ہے اور مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ نے یہ صفت عنایت کی اس وجہ سے وہ قادر مطلق ہو گئے پھر یہ مرتبہ تو تمام انبیائے کرام کے مرتبہ سے بہت ہی عالی ہے۔ اب تو انبیاء میں اور مرزا قادیانی میں گویا عبدیت اور معبودیت کا فرق ہو گا یا اس کے نہایت قریب (نعوذ باللہ من ھذہ الکفریات) دوسرا کلام اس الہام پر ہمارا یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین حضرت عیسیٰ کے مردے زندہ کرنے کو محض غلط بتاتے ہیں اور اس کے صحیح ماننے کو شرک کہتے ہیں۔ یعنی مردہ کو زندہ کرنا خدا کی صفت ہے بندے میں اس صفت کو ماننا شرک ہے
٢٦
اگرچہ باذن اللہ زندہ کرے۔ اب میں دریافت کرتا ہوں کہ مردہ کا زندہ کرنا خدا کا ایک فعل ہے اور احیائے موتیٰ اس کی صفت ہے۔ اس ایک صفت کا ظہور باذن خداوندی بھی کسی مقرب بندے سے نہیں ہوسکتا اور جو ایسا اعتقاد کرے کہ اللہ کے کسی مقبول بندے سے باذن خداوندی بطور معجزہ اس صفت کا ظہور ہوسکتا ہے اور کسی وقت ہوا بھی ہے تو مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کے نزدیک وہ مشرک ہے۔ اب جو شخص ایسا دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مارنے اور جلانے اور تمام باتوں کا اختیار کلی دے دیا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کے لئے لفظ ”کُن“ کہنے سے ہر ایک چیز موجود ہوسکتی ہے اور جسے نیست و نابود کرنا چاہے یعنی ہو جا وہ نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح میرے ”کُن“ کہنے سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب قادیانی جماعت بتائے کہ وہ مدعی اور اس دعوے پر ایمان لانے والے کتنے بڑے مشرک ہوں گے اور کتنا بڑا پہاڑ شرک کا ان پر ٹوٹے گا۔ غصہ نہ فرمائیں کیا وجہ ہے کہ اس الہام پر ایمان لانے والوں کو ابوالمشرکین نہ کہا جائے۔ انصاف سے مرزا قادیانی کے اس الہام میں غور کر کے اس کا فیصلہ کریں۔ اگر مرزا قادیانی کو سچا جانتے ہیں تو انہیں یہ الزام ضرور ماننا ہوگا۔
حضرات! مرزائی اپنی کم علمی اور ناسمجھی سے اس کے جواب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا کلام پیش کرتے ہیں ان عالی مرتبہ بزرگوں کے کلام سمجھنے کیلئے علم ظاہری کے علاوہ نور باطن ہونا چاہئے۔ جس سے قادیانی جماعت بالکل محروم ہے، حاصل کلام شیخ بیان کرتا ہوں، حضرت شیخ فتوح الغیب میں کسی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندے سے فرماتا ہے کہ عالم میں ہر طرح کا تصرف کرنا یعنی ”كُنْ فَيَكُوْنُ“ خاص میرے لئے ہے۔ اگر تو میری کامل تابعداری کرے گا تو میں تجھے ”كُنْ فَيَكُوْنُ“ کا مرتبہ عنایت کروں گا جس سے تمام عالم میں تو تصرف کر سکے۔ یہاں حضرت شیخ یہ نہیں فرماتے کہ یہ مرتبہ مجھے یا کسی کو عنایت کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت اس کے فرمانبردار بندوں پر بے انتہا عنایت کو بیان کرتے ہیں۔ یعنی اگرچہ کسی کتاب الٰہی اور کسی حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہوا کہ انبیائے سابقین میں سے کسی نبی کو یہ مرتبہ دیا گیا۔ نہ کوئی نبی اپنی وحی کا یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ مرتبہ عنایت کیا مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا نہیں ہے اور اس کی بندہ نوازی اور عنایت کی بھی حد نہیں ہے۔ اس لئے اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ اپنے کامل فرمانبردار بندے کو تصرف کا یہ مرتبہ عنایت کرے جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور غناء کے بیان میں فرماتا ہے۔ يَغْفِرُ لِمَنْ
٧٢
يَشَاءُ ويُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ (البقرہ ١٨٢) مرزا قادیانی نے غالباً حضرت شیخ کا یہ کلام دیکھ کر دعویٰ کر دیا کہ تصرف کا یہ مرتبہ مجھے عنایت کیا گیا ۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ مجھے وہ فضیلت دی گئی جو کسی ولی نبی کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی یہ مرتبہ نہیں دیا گیا۔ طالبین حق کے لئے مرزا قادیانی کے اسی ایک دعوے کا جانچ لینا کافی ہے جس سے ان کی حالت بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔ اوّل تو یہی ملاحظہ کریں اگر یہ الہام سچا ہوتا تو منکوحہ آسمانی کا تا دمِ مرگ انہیں انتظار نہ کرنا پڑتا اور اس قدر رسوائی نہ ہوتی ،صرف لفظ ”كُنْ“ کہہ دینے سے اس کا شوہر مر جاتا، یا طلاق دے دیتا، یا محمدی بیگم خلع کرالیتی اور وہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آجاتی۔ غرضیکہ جب تصرف کا پورا اختیار تھا تو سب کچھ ہو سکتا تھا۔ مگر کچھ نہ ہوا اور آخر عمر تک بہت لوگوں کو انتظار میں رکھا اور خود بھی منتظر رہے جس سے یقینی طور سے ثابت ہوا کہ یہ الہام الٰہی نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے آپ کو ظل کہنا مسلمانوں کو متوجہ کرنے کے لئے تھا۔ دراصل مرزا قادیانی کا خیال اس کے برعکس تھا اور حضور انور کو خاتم النبیین نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے تئیں خاتم النبیین اور سرور انبیاء اعتقاد کرتے تھے۔
حاصل کلام ! جس قدر اقوال مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے ہیں ان سے یقینی طور سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ اور تشریعی نبوت کا دعویٰ تھا۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ وہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء اور خاتم الخلفاء سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت سید المرسلینؐ سے بھی اپنے آپ کو بہت افضل سمجھتے تھے اور اپنے منکر کو کافر، جہنمی کہتے تھے اور اپنے اوپر ایمان لانے کو مدارِ نجات ٹھہراتے تھے۔ اب ان کے ماننے والے دو تین فرقے ہوگئے ہیں۔ ایک تو اعلانیہ طور سے انہیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور ان کے منکر کو کافر کہتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بعثت کا یہی فائدہ بتاتے ہیں کہ ان کے منکر یعنی تقریباً دنیا کے تیس چالیس کروڑ مسلمان کافر ہوگئے۔
دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم انہیں مجدد اور بزرگ مانتے ہیں اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے مگر یہ کسی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا اور کوئی صاحب عقل اس کو باور نہیں کر سکتا کہ مرزا قادیانی کو اپنے دعوؤں میں صادق مان کر اور ان کے اقوال پر ایمان لا کر کوئی ذی فہم یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہ تھا اور ان کا منکر کافر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے نہایت صاف و صریح اقوال پیش کر دیئے گئے، اور ایک قول نہیں ۔ صحیفہ کے نمبر ٦ میں چند اقوال پیش کئے گئے ہیں جن سے ان کا دعویٰ نبوت اور اپنے منکر کو کافر کہنا آفتاب کی طرح روشن ہورہا ہے اور اس دعوے کو تین
٢٨
طریقوں سے ثابت کیا ہے۔ اس نمبر میں بھی یہ دونوں دعوے ان کے اقوال سے ثابت کئے ہیں اور دعویٰ نبوت کو دو طریقوں سے ثابت کیا ہے۔ اس نمبر میں مرزا قادیانی کے وہ اقوال نہایت قابل لحاظ ہیں جن میں انہوں نے تمام انبیاء پر صراحۃً اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ضمناً اپنی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سید محمد جونپوری مدعی مہدویت نے دعویٰ نبوت کے ساتھ انبیائے سابقین پر فضیلت کا دعویٰ کیا تھا مگر جناب رسول اللہ ﷺ پر اسے اپنی فضیلت جتانے کی ہمت نہ ہوئی صرف برابری کا دعویٰ کر کے رہ گیا۔
مرزا قادیانی اس سے زیادہ بلند حوصلہ تھے۔ اس لئے اس سے ترقی کر گئے اور جناب سید المرسلین ﷺ پر بھی فضیلت کا اظہار کیا، مگر صاف طور سے اس دعوے کے لئے مصلحت مانع رہی۔ مگر جو اقوال اوپر نقل کئے گئے ہیں ان سے بخوبی ظاہر ہے کہ انہیں دعویٰ افضلیت ہے۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے ماننے والے انہیں افضل الانبیاء نہ سمجھیں اور ان کی نبوت کی اشاعت نہ کریں۔ البتہ ان کی دانشمندی کا یہ تقاضا معلوم ہوتا ہے کہ جب تک ہماری وقعت دنیا کے تمام مسلمانوں کے دل میں نہ ہو اور ہمیں وہ سچا دین محمدی کا خیر خواہ پورے طور سے نہ سمجھ لیں اس وقت تک مرزا قادیانی کا نام نہ لو جب تمام مسلمان یا اکثر کی توجہ ہماری طرف ہو جائے گی اس وقت ہم دین قادیانی کا اعلان کریں گے اور جناب مرزا قادیانی کی نبوت پر زور دیں گے۔ اس وقت اس پر زور دینا اور سب کو کافر کہہ دینا تمام مسلمانوں کو برہم کر دینا ہے۔ یہی مصلحت انہیں دلی منشاء ظاہر کرنے کے مانع ہوئی ہے اور ”دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز“ پر عمل کر رہے ہیں۔
ملاحظہ کیجئے کہ دہلی کی انجمن نے دو لائق اہل سنت کو خواجہ کمال الدین مرزائی کی مدد کیلئے بھیجنا چاہا تھا مگر انہوں نے منظور نہ کیا اور حیلہ کر کے ٹال دیا اپنے ہی گروہ کے شخص کو چاہتے ہیں۔ سمجھنے والے اس سے سمجھ لیں اور اگر سچائی سے مرزا قادیانی کی نبوت سے انہیں انکار ہے اور دنیا کے مسلمانوں کو وہ مسلمان جانتے ہیں، تو ہم ان کے خیر مقدم کے لئے ہر طرح حاضر ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے ان اقوال کو غلط کہہ دیں جو اوپر نقل کئے گئے ہیں۔ ھذا بلاغ لجميع المسلمين...... وما علينا الا البلاغ المبين
المبلغ ابو احمد رحمانی
٢٩
ضمیمہ صحیفہ رحمانیہ (٧)
حقانی ہائی کورٹ کا فیصلہ
تمام برادران اسلام سے عموماً اور جدید تعلیم یافتوں سے خصوصاً کچھ کہنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میری گذارش کو توجہ سے سنیں گے اور یقین کریں گے کہ ایک دردمند اسلام کی یہ صدا ہے اور مسلمانوں کے خیرخواہ کے شکستہ دل سے نکلی ہے۔ جنہوں نے مسلمانوں کی گذشتہ اور موجودہ حالت پر پوری قابلیت اور فہم وفراست سے نظر کی ہے۔ وہ جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ میں ہر قسم کے مسلمان تھے اور ہیں۔ بعض کم علم، کم فہم، بعض علامہ وقت، نہایت عالی فہم، بعض مشائخ وقت اور اسرار شریعت کے جاننے والے، بعض باوجود علم کے اس کوچہ سے بالکل ناواقف، بعض دردمندان اسلام اور شریعت الہیہ محمدیہ کے پورے پابند اور اس کے جانثار، بعض صرف زبانی اسلام کے مدعی اور پابندی احکام سے بے نصیب، مگر اہل کمال تاریخی حالات سے پوری اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ گذشتہ زمانہ میں جس قدر اہل فضل و کمال اور سچے دردمند اسلام ہوتے رہے ہیں اور کامل پابندی شریعت کیساتھ دردمندی کا اظہار ان سے ہوتا رہا ہے۔ اب وہ حالت نہیں ہے۔ اب بہت کم ایسے حضرات نظر آتے ہیں جنہیں علم وفضل اور تقویٰ کے ساتھ دردمندی اسلام اور مصالح وقت پر ان کی پوری نظر ہو۔ اس سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ اسلامی مصالح سے پورے طور سے وہی واقف ہوسکتا ہے جس کو علوم دینیہ اور پابندی شریعت کے علاوہ نور فراست اور کمال دانشمندی اللہ تعالیٰ نے عنایت کی ہے اور اس نے اپنی عمر کا ایک حصہ اسی غور وفکر میں صرف کیا ہے۔ اب عقل و انصاف پورے طور سے اس کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ جو حضرات پورے طور سے علوم دینیہ سے واقف نہیں ہیں اور نیز اسلام کی محبت نے ان کے
٣٠
کامل پیروی پر انہیں مجبور نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے خیال کے بموجب کیسے ہی دردمند اسلام ہوں اور مصالح وقت پر ان کی نظر ہو مگر ان کی سچی خیر خواہی کا مقتضا یہ ہونا چاہئے کہ ایسے عالم دیندار کے مقابل اپنی رائے کو فوقیت نہ دیں، جس کی حالت ابھی بیان کی گئی البتہ انہیں ضروری ہے کہ محبت اسلامی کی وجہ سے اپنی رائے ایسے متبرک عالم کے روبرو پیش کریں۔ اگر ان کی رائے عمدہ ہے اور اس عالی فہم ذی علم نے کسی جزئی ناواقفی سے غلط رائے قائم کی ہے تو وہ ضرور اپنی رائے سے رجوع کرے گا اور نہایت مسرت سے اس دردمند اسلام کی رائے کو قبول کرے گا۔
اس قبول کرنے میں بھی کسی صاحب کو تامل نہیں ہوسکتا کہ جس طرح عام طور سے جدید تعلیم یافتہ حضرات کو بے دین اور محض ناواقف سمجھ لینا غلط ہے۔ اسی طرح تمام علمائے دیندار سے بدگمانی کرنا اور انہیں مصالح وقت سے ناواقف خیال کر کے اپنے علم کو ترجیح دینا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔ ذرا غور کرنا چاہئے کہ جن حضرات کو علوم دینیہ سے پوری واقفیت نہیں ہے شریعت کی پابندی سے انہیں دلچسپی نہیں ہے پھر وہ اسرار شریعت اور مصالح شرعی سے کیونکر واقف ہو سکتے ہیں؟ ہاں اگر اپنی محض ناواقفی سے اپنے آپ کو واقف سمجھیں اور زمانے کا اثر ان کے قلب میں خود بینی کا تخم بودے تو ہو سکتا ہے۔ مگر در حقیقت اس فیصلہ کے لئے علم دین کے علاوہ کمال دانشمندی اور بے نفسی اور انصاف کن طبیعت کی حاجت ہے تا کہ دونوں گروہ کے افراد کی حالت میں سچا فیصلہ کر سکے۔ میں نہایت ہمدردی سے ان سے سچی بات کہہ رہا ہوں۔
اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ گذشتہ زمانہ میں جس طرح کاملین اور سچے مجدد وقت گزرے ہیں اسی طرح جھوٹے مجدد اور مدعی نبوت بھی گزرے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دیگر خلفاءؓ اور حضرت جنید شبلی علیہما الرحمہ اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ بھی گزرے اور ان کے ماننے والے اور ان پر کفر کا فتویٰ دینے والے بھی گزرے ہیں۔ اسی طرح صالح اور ابو عیسیٰ اور مسیلمہ کذاب وغیرہم متقدمین میں اور سید محمد جونپوری اور علی محمد بابی وغیرہ متاخرین میں اور ان کا ساتھ دینے والے اور ان پر کفر کا فتویٰ لگانے والے بھی گزرے ہیں۔ اسی طرح اب بھی صلحائے کاملین اور کسی مرتبہ کے مجدد گزر رہے ہیں اور متعدد مہدویت اور عیسویت اور امام وقت اور مجدد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر چکے ہیں اور بعض کر رہے ہیں۔ مثلاً مرزا غلام احمد قادیانی گزر چکے اور ان کے ماننے والے اور ان کے انکار کرنے والے موجود ہیں اور عبد البہاء مدعی نبوت و مہدویت اور بعض دیگر مجددین موجود ہیں اور ہر
٣١
ایک کے کچھ نہ کچھ ماننے والے اور بعض کفر کا فتویٰ دینے والے بھی موجود ہیں۔ اب تعلیم یافتہ حضرات انصاف سے فرمائیں کہ وہ ان سب کو یکساں سمجھیں گے اور مسیلمہ اور صالح بن طریف پر کفر کا فتویٰ دینے والے ویسا ہی خیال کریں گے جیسا حضرت صدیقؓ اور حضرت شیخ عبدالقادرؒ کے منکر اور کفر کے فتویٰ دینے والے کو، ذرا اپنے نور ایمانی سے ملاحظہ کر کے اس کا جواب دیں۔ کیا ہر ایک جھوٹے مدعی کے ماننے والے صادقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہارا انکار اور کفر کا فتویٰ ایسا ہی ہے جیسا حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت محبوب سبحانیؒ کا انکار اور کفر کا فتویٰ ہے۔ ضرور کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کہنا ان کا لائق توجہ ہوسکتا ہے اور یہ دونوں انکار اور کفر کے فتویٰ یکساں ہوسکتے ہیں؟ ذرا سوچ کر جواب دیا جائے۔
الغرض یہ مختصر بیان ہر ایک منصف کے نزدیک اس قدر فیصلہ ضرور کرتا ہے کہ ایک مدعی کاذب، بزرگان سلف پر کفر کا فتویٰ پیش کر کے اپنے آپ کو بزرگان سلف کے مثل قرار نہیں دے سکتا اور اپنے کفر کے فتویٰ کو ویسا ہی غلط نہیں کہہ سکتا جیسا بزرگان سلف پر کفر کے فتویٰ کو اہل حق کہتے ہیں۔ اب شخصی فتویٰ کے حق و باطل کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ہر ایک اس کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ بعض فتویٰ دینے والے حالات سے ناواقف اور کم عقل ہوتے ہیں اور سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اگرچہ وہ اپنے خیال میں اپنے آپ کو کم علم نہ سمجھتے ہوں اور دینداری کا خیال بھی انہیں ہو۔ بعض تعصب اور نفسانی غرض سے ایسا کرتے ہیں اور حق و باطل سے انہیں غرض نہیں ہوتی۔ اس لئے ضرور ہے کہ فتویٰ دینے والا۔ علوم دینیہ میں کامل مہارت رکھنے والا۔ دیندار، بالخصوص، حق پسند جس پر فتویٰ دے اس کی حالت سے پورا واقف ہو۔ اب اگر اس کے فتویٰ کی بنیاد صریح قول شارع علیہ السلام کا ہے تو اس کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر کمال علمی اور دیانت سے اس کا استنباط ہے تو جو حضرات علم اور فضل وغیرہ صفات کمالیہ دینیہ میں اس عالم دیندار کے مرتبہ کو نہیں پہنچے انہیں بہ مقتضائے نص قرآنی وَ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (لقمان ١٥) ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو کامل طور سے میری طرف متوجہ ہوئے ہیں، ان کی پیروی کر“ اس کے قول کا اتباع چاہئے اور ان کی راستی اور محبت اسلامی کا یہ تقاضا کسی طرح نہ ہونا چاہئے کہ ایسے عالم دیندار پر بدگمانی کریں۔ وما علینا الا البلاغ
خاکسار خیر خواہ اسلام و مسلمین ابو احمد رحمانی
٣٢
مسیلمہ کذاب
مسیلمہ کذاب کی حالت پر خوب غور کرنا چاہئے، اس نے بالکل ابتدائے اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو مان کر مدعی نبوت تھا۔ حضور انور کی رسالت سے اسے انکار نہ تھا اور یہ وہ وقت تھا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اور گویا تمام دنیا اسلام کے مخالف تھی۔ باایں ہمہ ایسے نازک وقت میں جب بھی جناب رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ارشد حضرت صدیق اکبر نے اس کاذب سے کسی قسم کی پالیسی نہیں برتی اور صاف طریقے سے اس سے مقابلہ اسی طرح کیا جس طرح اس وقت انہوں نے مناسب خیال کیا اور بالآخر انہیں فتح ہوئی۔ اب جس وقت میں مسلمانوں کی تعداد چالیس کروڑ کے قریب بیان کی جاتی ہے اس وقت اگر کوئی سچا مسلمان اپنے بھائیوں کی کثرت پر نظر کر کے رسول اللہ ﷺ اور ان کے خلیفہ اول کی پیروی کرے اور کسی مدعی کاذب کے فتنہ کو مٹائے اور دین حقانی کی حفاظت اس وقت مناسب کرے۔ اسے اہل حق اسلام کے سچے شیدائی کیا کہیں گے۔ آیا وہ اسلام کا سچا خیرخواہ اور جناب رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر کا پورا پیرو ہے یا جھگڑالو مولوی اور مسلمانوں کو کافر کہنے والا؟
ذرا حق پسندی اور مسیلمہ کے قصہ میں غور کر کے اس کا جواب دیا جائے کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایسے ذی علم کو جناب رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر کا پیرو نہ کہا جائے؟
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
٣٣
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل ‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
عبرت خیز
صحیفہ رحمانیہ
(٩/٨)
حضرت مولانا ابو احمد سید محمد علی مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عبرت خیز
جس میں خدا تعالیٰ کی عبرت خیز قدرت کا یہ نمونہ دکھایا گیا ہے کہ بعض نہایت مفسد اور خلق کو گمراہ کر نیوالے دنیا میں بہت کچھ کامیاب ہوئے اور بعض انبیاء اور برگزیدہ خدا اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے شہید کر دیئے گئے اور بعض پر نہایت مصیبتیں آئیں‘ مرزا غلام احمد قادیانی جو اپنی تھوڑی کامیابی کو اپنی صداقت کی دلیل قرار دیتے تھے اُس کا غلط ہونا نہایت روشن ہو گیا اور یہ بیان اُن کے جھوٹے ہونیکی ایک دلیل تھی‘ یہ رسالہ حضرت اقدس مولانا سید ابواحمد رحمانی کے افادات کاملہ سے ہے۔ جن کی ذات سے صدی کے شروع میں قدیم مسیحیوں کے جواب میں لاجواب رسالہ پیغام محمدیؐ و دفع التلبیسات وغیرہ مشتہر ہوئے اور اس وقت جدید مسیحیوں (قادیانیوں) کے فریب سے بچانے کیلئے نہایت نادر الوجود رسائل تحریر فرما کر لاکھوں مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا اور اُن کے ایمان کو محفوظ رکھا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آثار قیامت کے نمونے
حضور سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت اشرار الناس پر قائم ہوگی جس کا ظہور اس زمانہ میں بخوبی ہو رہا ہے اہل نظر عبرت کی نگاہ سے واقعات حال پر نظر ڈالیں کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ حضرت خاتم المرسلینؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا جس سے معلوم ہوا کہ تشریعی اور غیر تشریعی، ظلی اور بروزی ہر ایک قسم کی نبوت کا ہمیشہ کے واسطے خاتمہ ہو گیا اور حضورؐ کے بعد اللہ جل شانہ نے اپنی تمام مخلوق پر قیامت تک کیلئے رسالت و نبوت کو بند کر دیا مگر افسوس کہ باوجود اس زبردست دلیل اور قطعی فیصلہ کے کتنے مدعیان نبوت زمانہ گزشتہ اور موجودہ میں ہوئے اور ہو رہے ہیں زمانہ حال میں پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت اور مسیحیت وغیرہ کے دعوے کئے اور ہزار ہا بندگان خدا کو گمراہ کر دیا یہ بھی منجملہ آثار قیامت کے ایک بڑا نمونہ ہے اب اُنکے پیرو سادہ لوح مسلمانوں کو ہر طرح کی شرمناک ترغیب و تحریص دیکر گمراہ کرنیکی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت و مسیحیت پر ایمان لانے میں ترقی کا راز مضمر ہے حالانکہ اُن کی ذات سے کسی قسم کا فائدہ اسلام کو اور مسلمانوں کو نہیں ہوا بلکہ دنیا کو اُنہوں نے کفر سے بھر دیا بھائیو انھیں ایمان سوز اور گمراہ کن مرزائی تعلیمات اور خیالات کے رد میں خانقاہ رحمانیہ سے محض حسبۃً للہ ایک سلسلہ رسائل عرصہ سے جاری کیا گیا ہے تاکہ ناواقف مسلمان مرزائیوں کی قید سے محفوظ رہیں یہ رسالہ بھی انھیں مقاصد اور اغراض کی تکمیل کے واسطے شائع کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے مسلمان بھائیوں کو نفع بخشے اور زمانہ حال کی ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
خیر خواہ مسلمین محمد اسحق غفرلہ الرزاق
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اُس خدائے حکیم کی تعریف سے ہماری زبان تر اور دل مسرور ہونا چاہئے، جس کی حکمت بالغہ کی انتہا نہیں ہے جس نے اپنے کرم سے ہماری ہدایت کیلئے انبیاء بھیجے جن کے سردار حضرت محمدؐ ہیں۔ جن کا ایک خطاب رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ہے اور دوسرا خطاب خَاتَمَ النَّبِيِّين یعنی تمام انبیاء کے آخر میں آنے والے، اس خطاب سے مقصد یہ ہے کہ اصل مقصود آپؐ ہی کا بھیجنا تھا مگر اور تمام انبیاء بطور مقدمۃ الجیش بھیجے گئے تھے تا کہ عالم کو آراستہ کریں اور اس لائق کر دیں کہ آپؐ کی شریعت کاملہ کے متحمل ہوسکیں، آپؐ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہ رہے، جس طرح آفتاب نکلنے کے بعد تاروں کی حاجت نہیں رہتی خدائے تعالیٰ نے جو کتاب آپؐ کو عنایت کی جسے ہم قرآن مجید کہتے ہیں وہ قیامت تک عالم کی ہدایت کے لئے کافی ہے دنیا کے ہر حصہ کا ہر شخص بے تکلف اُسے سمجھ کر اُس پر عمل کر کے نجات کا مستحق ہو سکتا ہے، اُس کے معانی اور مطالب نہایت ظاہر ہیں، مگر یہ عجب قدرت خدا ہے کہ باوجود ظہور کے اُس کے مطالب دقیقہ تک پہنچنا اور کامل طور سے اُس کے اسرار غامضہ کا سمجھنا انسانی قدرت سے باہر ہے یہاں یہ شعر مناسب حال ہے ؎
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
یہی وجہ ہے کہ ہر ایک ذی علم اپنے علم وفہم اور کوشش کے مطابق سمجھتا ہے اور اگر علم وفہم کے ساتھ نور قلب بھی اللہ تعالیٰ نے عنایت کیا ہے تو اُس پر سچے اور واقعی اسرار کھولے جاتے ہیں، اور جس قدر یہ نور خدا داد زیادہ عنایت ہوتا ہے اُسی قدر اُس پر زیادہ انکشاف ہوتا ہے اور قرآن مجید کے معانی اور اسرار اُس پر زیادہ کھلتے ہیں، اور علم وفہم اگر چہ بہت کچھ ہو مگر اللہ تعالیٰ نے وہ نور قلب عنایت نہیں کیا، جس کی نسبت کہا جائے کہ ”يَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰهِ “ تو اب دو حالتیں ہوں گی یا تو
٤
معمولی ضروری باتیں سمجھے گا اور بیان کرے گا، یا اُس کا علم اس کا مصداق ہوگا ”اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی“ اللہ اُس سے بچائے اللہ تعالیٰ اُن کاملین علما پر بے انتہا رحمت نازل کرے جنہوں نے اپنی ہمت اور کوشش کو قرآن مجید کے سمجھنے میں صرف کیا اور بقدر ان کے نور ایمانی کے معانی قرآن اور اُس کے حقائق اُن پر منکشف ہوئے اور ہم تک ان کے انکشافات پہنچے مگر یہ بھی معلوم کر لینا ضرور ہے کہ بعض نے قرآن دانی کا بہت کچھ دعویٰ کیا اور مسلمانوں پر اس بات کے ظاہر کرنے کی بڑی کوشش کی کہ ہم قرآن مجید کے معارف وحقائق سے اس قدر واقف ہیں کہ دوسرا نہیں، مگر میں نہایت سچائی اور مسلمانوں کی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اُن کی تفسیر یا تو بالکل یہودیانہ تحریف معنوی ہے قرآن مجید کا وہ مطلب ہرگز نہیں ہے، یا وہ تفسیر خوش کن باتیں ہیں جن سے قرآن مجید کے الفاظ سے کچھ تعلق نہیں ہے، اتفاقیہ کہیں صحیح تفسیر بھی ہو مرزا غلام احمد قادیانی کی قرآن دانی کا یہی حال ہے، اب میں نمونہ کے طور پر قرآن مجید کے ایسے مضمون کا ذکر کرتا ہوں، جس سے اُس کا اشکال اور خدا تعالیٰ کی بے نیازی دونوں ظاہر ہوں گی مرزا قادیانی نے چونکہ صادق اور کاذب کا معیار دنیاوی کامیابی اور ناکامی کو ٹھہرایا ہے اور قرآن شریف سے اسے ثابت بتایا ہے اس لئے میں اسی مضمون کی بعض آیتیں پیش کرتا ہوں، ذرا خوب متوجہ ہو کر اور دل کو طرف داری اور تعصب کے گرد و غبار سے صاف کر کے ملاحظہ کیجئے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی سورہ کے پہلے ہی رکوع میں ایمانداروں کو بشارت دی اور فرمایا ”اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ“ (البقرہ ٥) یعنی یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستہ پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانیوالے اور مراد کو پہنچنے والے ہیں، جو حضرات عربیت سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایمانداروں کو فلاح کی بشارت ہی نہیں دی گئی بلکہ اس بشارت کو اُن کے ساتھ مخصوص کر دیا، یعنی ایماندار ہی کامیاب ہوں گے، اور جو نعمت ایمان سے محروم ہے وہ فلاح سے بھی محروم ہے اس مطلب کو قرآن مجید میں متعدد جگہ مختلف طور سے بیان فرمایا ہے کہیں ”هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ“ فرمایا ہے، کہیں ”هُمُ الْفَائِزُوْنَ“ ارشاد ہوا ہے، جس سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ فلاح پانا اور فائز المرام ہونا مسلمانوں ہی سے مخصوص ہے، کوئی منکر کوئی کافر فلاح نہیں پا سکتا اس مدعا کو دوسرے مقام پر نہایت صفائی سے فرمایا ہے مثلاً سورہ مومنوں ١١٧ کے آخر میں ارشاد ہوا ”اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُوْنَ“ یعنی اس میں شبہ نہیں ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے یہ مدعا متعدد آیات سے ثابت ہے یہ آیتیں نہایت صفائی سے بتاتی ہیں کہ کافر یہودی ہو یا عیسائی، مشرک ہندو ہو یا آریہ
٥
کسی قسم کا ہو سب کے لئے ارشاد خداوندی یہی ہے کہ وہ فلاح نہ پائیں گے اور فائز المرام نہ ہوں گے‘ اب فلاح نہ پانے اور نقصان میں رہنے کو کسی خاص کافر سے مخصوص کرنا مثلاً یہ کہنا کہ وہ مفتری فلاح نہیں پائے گا جو الہام وحی (جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے پیرو کہتے ہیں) کا جھوٹا دعویٰ کرے‘ قرآن مجید کے بالکل خلاف ہے‘ کیونکہ قرآن میں نہایت صفائی سے مکرر ارشاد ہے کہ کوئی کافر کوئی مفتری فلاح نہیں پائے گا‘ آیت مذکورہ کے علاوہ ذیل کی آیت ملاحظہ کی جائے‘ اس میں وہی حکم دوسرے الفاظ میں انہیں عام منکرین کے لئے بیان ہوا ہے‘ ارشاد ہے ”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ“ (انعام ٢١)
اُس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اُس کی آیتوں کو جھٹلائے‘ اس میں شبہ نہیں کہ ظالم (نافرمان) فلاح نہیں پائیں گے‘ اس آیت سے پہلے مشرکین اور اہل کتاب کا ذکر ہے یہاں انہیں کی مذمت میں ارشاد ہوا کہ مفتری علی اللہ اور مکذب سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے‘ یعنی مذکورہ دونوں گروہ مفتری بھی ہیں اور مکذب بھی ہیں‘ پھر ان سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے‘ مفتری اس لئے ہیں کہ بعض محض غلط باتوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں‘ مثلاً فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں یا حضرت مسیحؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا محرف شدہ باتوں کو کتاب الٰہی کا حکم بتاتے ہیں۔
الغرض اس آیت میں دو شخصوں کو بہت بڑا ظالم کہا ہے ایک وہ جو خدا پر افتراء کرے دوسرا وہ جو خدائی آیتوں کو اُس کی نشانیوں کو جھٹلائے اور انکار کرے‘ اس کے بعد عام ظالموں کے لئے بتایا کہ یہ ارشاد ہے کہ کوئی فلاح نہیں پائے گا‘ سب نامراد رہیں گے‘ اور جب ہر ایک ظالم کے لئے یہی حکم ہے تو دنیا میں مسلمانوں کے سوا جس قدر فرقے خدا کے ماننے والے ہیں مثلاً یہود‘ نصاریٰ‘ مشرک‘ بت پرست‘ آریہ اور جو سرے سے خدا ہی کو نہیں مانتے‘ جیسے اس وقت کے دہریہ سب کے لئے اس آیت میں یہی ارشاد ہے کہ فلاح نہیں پائیں گے‘ نامراد رہیں گے غرضیکہ آیت میں مفتری علی اللہ کی خصوصیت ہرگز نہیں ہے‘ فلاح نہ پانے میں مفتری اور دوسرے مکذب کلام الٰہی اور معجزات محمدیؐ دونوں برابر ہیں‘ اب جو کوئی اس حکم خداوندی کو مفتری کے ساتھ خاص کرے اور مفتری کے معنی بھی ایسے کرے جس سے مشرکین اور اہل کتاب خارج ہوجائیں وہ قرآن شریف کی صریح مخالفت کرتا ہے ایک اور آیت ملاحظہ ہو ارشاد ہے۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ط (یونس ۔ ١٧)
٦
کہ اُس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ، بہتان باندھا یا اُس کی آیتوں کو جھٹلایا اس میں شک نہیں کہ ایسے گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
ان دونوں آیتوں میں دو طرح سے عموم کو بیان کیا گیا ہے پہلے تو یہ ارشاد ہوا کہ مفتری اور مکذب سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ان دو لفظوں میں سب کافر آگئے خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا کوئی مفتری ہو فلاح نہیں پائیں گے پھر ان سب کو مجرموں میں داخل کیا جو بہت عام لفظ ہے ہر گنہگار کو مجرم کہتے ہیں اس عموم کے ساتھ ارشاد ہوا کہ کوئی مجرم فلاح نہیں پائے گا‘ اس پر بھی نظر کی جائے کہ یہاں تین آیتیں نقل کی گئیں‘ تینوں میں تین طریقوں سے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے‘ پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ کوئی کافر فلاح نہیں پائے گا‘ یہاں تو مفتری کا لفظ ہی نہیں لایا گیا‘ عام منکرین خدا اور رسول کے لئے عدم فلاح کا حکم سنا دیا گیا دوسری اور تیسری آیت میں مفتری کے ذکر کے ساتھ دوسرے عنوان سے عموم کو بیان فرمایا‘ مختلف طریقوں سے اس حکم کے بیان کرنے میں ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فلاح نہ پانے کی تین وجہیں معلوم ہوئیں۔
اوّل! یہ کہ اپنے پروردگار اور اپنے منعم حقیقی کے منکر ہیں۔
دوم! یہ کہ ظالم ہیں۔
سوم! یہ کہ مجرم ہیں‘ اپنے پروردگار حقیقی کا انھوں نے جرم کیا ہے ان دو آیتوں کے طرز بیان سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ ہر ایک ظالم اور ہر ایک مجرم اس کا مستحق ہے کہ فلاح نہ پائے اور اپنی مراد کو نہ پہنچے‘ جب ہر ایک ظالم اور مجرم اس کا مستحق ہے تو جو شخص بہت بڑا ظالم ہے اور بہت بڑا مجرم ہے وہ اس سزا کا بہت زیادہ مستحق ہوگا‘ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں دو گروہ کو بہت بڑا ظالم فرمایا ہے ایک مفتری علی اللہ کو دوسرے اللہ تعالیٰ کے نشانیوں کے مکذب کو‘ ان دونوں گروہوں میں کوئی تفرقہ نہیں فرمایا‘ دونوں کو بہت بڑا ظالم ٹھہرا کر یہ وعید بیان فرمائی کہ فلاح نہیں پائیں گے‘ نامراد رہیں گے۔
الحاصل آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہوا کہ ایمان لانے والے اور نیک کام کرنے والے فلاح پائیں گے اور کامیاب ہوں گے‘ اور جو کافر ہیں یعنی خدا کے کسی رسول کے منکر ہیں اور خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے‘ یا خدا پر افتراء کرتے ہیں‘ وہ نامراد اور ناکام رہیں گے انہیں فلاح ہرگز نہ ہوگی‘ اب جنہیں اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم کے ساتھ علم کی نعمت دی ہے‘ اور تحقیق حق اُن کا شیوہ ہے وہ اس پر غور کریں کہ فلاح پانے اور فائز المرام ہونے سے کیا مقصد ہے؟ آیا دنیاوی
مقاصد کا پورا ہونا‘ مثلاً قورمہ پلاؤ کھانے کو اور مُشک و زعفران استعمال کرنے کو بخوبی ملنے لگے‘ کسی نہ کسی عنوان سے روپیہ ہاتھ میں آنے لگے‘ یا جائیداد اور ملک ہاتھ آ جائے‘ یا کہیں کا حاکم یا بادشاہ ہو جائے یا اولاد اور معتقدین زیادہ ہو جائیں‘ کیا قرآن شریف میں ایسے شخص کو فلاح پانے والا اور فائز المرام کہا ہے؟ ہرگز نہیں‘ اور فلاح نہ پانے اور کامیاب نہ ہونے سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں وہ ذلیل و خوار ہوں گے ہر طرح کی تنگی اُن پر آئے گی‘ یا ذلت سے تباہ و برباد کئے جائیں گے یہ مطلب عوام خیال کر سکتے ہیں‘ مگر جنہیں قرآن مجید پر نظر ہے اور عقل و دانش کے ساتھ دنیا کے حالات پر اُن کی نظر وسیع ہے اور نیکوں اور بدوں کے واقعات کو انہوں نے عبرت کی نگاہ سے دیکھا ہے وہ یقین کرتے ہیں کہ ان آیتوں میں فائز المرام ہونے سے دنیا کی کامیابی مراد نہیں ہے‘ یعنی جسے دنیا کے لوگ دنیاوی چیزوں کے فریفتہ نفس پرست کامیابی سمجھتے ہیں‘ ان آیتوں میں یہ کامیابی مراد نہیں ہے‘ اور دنیا کی مذمت جو قرآن و حدیث میں آئی ہے وہ بھی اس کی شاہد ہے کہ ایماندار کے فائز المرام ہونے سے دنیا کا مل جانا اور اُس میں خوش ہو جانا مراد نہیں ہو سکتا‘ اب اس کے شواہد اور دلائل پر نظر کی جائے‘ اس کا ثبوت قرآن مجید کے نصوص صریحہ اور واقعات زمانہ سے اظہر من الشمس ہو رہا ہے‘ پہلے قرآن مجید کی آیت ملاحظہ کیجئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے فرعون نے جس وقت جادوگروں اور اپنے درباریوں اور رعایا کا مجمع کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں تشریف فرما ہوئے اس وقت حضرت موسیٰ نے فرعون سے اور تمام حاضرین جلسہ سے فرمایا۔ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَ قَدْ خَابَ مَنِ اِفْتَرٰى‘ (طه: ٦١)
تمہارے حال پر افسوس آتا ہے‘ تم خداے تعالیٰ پر افتراء نہ کرو‘ اگر ایسا کرو گے تو خداے تعالیٰ تمہیں کسی عذاب سے ہلاک کر دیگا (حضرت موسیٰ نے یہ پیشگوئی خاص فرعون اور اُس کے لوگوں کے لئے کی پھر عام طور سے فرمایا ) اور اس کا یقین کر لو کہ جس نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا وہ نامراد رہا فائز المرام نہ ہوگا۔
اس آیت میں کئی باتیں قابل غور ہیں‘ اوّل فرعون کو اور اُس کے ماننے والوں کو مفتری علی اللّٰہ کہا گیا حالانکہ اُن میں سے کوئی الہام یا وحی کا مدعی نہیں تھا‘ دوم عام مفتری کے لئے یہ ارشاد ہے کہ جو افتراء کرے گا وہ یقیناً نامراد رہے گا‘ اب اُس کا افتراء خواہ اس طریقے سے ہو کہ وہ الہام و
٨
وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنے یا دوسرے طریقے سے ہو مثلاً یہود و نصاریٰ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے مفتری کہا ہے یہ بھی مفتری ہیں، مگر دوسرے طریقے سے ان کا افتراء ہے سوم ایک بڑی بات قابل لحاظ یہ ہے کہ فرعون جس نے چار سو برس تک حکومت کی اور اُس کے عروج اور غرور کی یہ نوبت پہنچی کہ خدائی کا دعویٰ کیا اور ”اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلیٰ“ (نازعات٢٤) کہا اور باوجود اس سرکشی اور افتراء پر دازی کے ایسا کامیاب رہا کہ اُس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی اور اس دراز مدت میں کبھی اسے بخار بھی نہ آیا اُس کی نسبت بھی ارشاد ہے کہ خائب و خاسر رہا فائز المرام نہ ہوا جب فرعون کی نسبت ایسا کہا گیا جس نے چار سو برس حکومت کی اور دعویٰ خدائی کر کے مخلوق خدا سے اپنے آپ کو خدا منوایا تو اظہر من الشمس ہو گیا کہ دنیا میں کوئی کیسا ہی خوش حال ہو جائے کسی بلند مرتبہ پر پہنچ جائے ہر طرح کی مرادیں اُس کی پوری ہوں اُسے قرآن مجید فائز المرام نہیں کہتا اس مقصد کے لئے یہی ایک آیت کافی ہے مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کے ثبوت میں اس آیت کو متعدد جگہ پیش کیا ہے مگر صرف آخر کا جملہ یعنی ”وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرىٰ“ نقل کیا ہے پوری آیت نقل نہیں کی، کیونکہ پوری آیت اُن کے مدعاء کے خلاف تھی چہارم اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خدا پر افتراء کرنے والا تین چار سو برس تک نہایت کامیابی سے زندہ رہ سکتا ہے کیونکہ فرعون کو مفتری کہا گیا اور باوجود مفتری ہونے کے غالباً چار سو برس تک اُس نے حکومت کی اور بہت کچھ کامیاب رہا اب یہ کہنا کہ جو الہام و وحی کا جھوٹا دعویٰ کر کے خدا پر افتراء کرے وہ جلد ہلاک ہوتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں محض زبردستی ہے جسے تھوڑی بھی عقل دی گئی ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل خلاف عقل ہے کہ جو خدائی کا دعویٰ کرے اور خدا تعالیٰ کا منکر ہو اور مخلوق سے اپنی خدائی کو منوائے اور خدا کے ماننے والوں کو سخت ایذا پہنچائے وہ تو جلد ہلاک نہ ہو اور جو خدا تعالیٰ کو مان کر اپنے نفس کے لئے الہام و وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ جلد ہلاک کیا جائے اسے نہ کوئی عقل باور کر سکتی ہے نہ قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے اربعین میں ایسے مفتری کی ہلاکت کی وجہ یہی لکھی ہے کہ وہ مخلوق کو ہلاکت کی راہ بتاتا ہے اس لئے وہ خود ہلاک کر دیا جاتا ہے مگر تأمل سے دیکھا جائے کہ یہ وجہ تو دونوں میں پائی جاتی ہے کیونکہ جس طرح مدعی وحی اپنی جھوٹی وحی کو منوا کر مخلوق کو گمراہ کرتا ہے اسی طرح فرعون نے مخلوق سے اپنی خدائی منوا کر خلق کو گمراہ کیا اور فرعون کی گمراہی جھوٹے ملہم کی گمراہی سے لاکھ حصہ زیادہ ہے کیونکہ یہاں سرے سے خدا تعالیٰ جو پروردگار اور منعم حقیقی ہے اُسی سے نہایت زور کے ساتھ غضب کا مشتعل کرنے والا اُس کا دعویٰ
٩
خدائی ہے مگر اُس قہار کی آتش غضب نے ایسے مفتری کو چار سو برس کی مہلت دی، پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ایسا سخت مجرم گمراہ کرنے والا تو جلد ہلاک نہ ہو اور جھوٹا مدعی الہام جلد ہلاک کیا جائے اسے کوئی عقل سلیم باور نہیں کر سکتی افسوس ہے اُن کی عقل پر جو قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے خلاف اور صریح عقل کے مخالف ایسی بدیہی حماقت کو الہامی بات خیال کرتے ہیں اور اہل علم سے کہتے ہیں کہ اسے مان کر گفتگو کرو بہت اچھا، ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں، مگر آپ کے راہ راست پر آنے کی امید نہیں ہے البتہ سب ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ“ کے مصداق نہیں ہو سکتے، اس لئے میں ایسی مثالیں بھی پیش کر چکا ہوں اور اب زیادہ توضیح کیساتھ پیش کرتا ہوں جس سے بعض احمدی اہل علم کی بے خبری یا حق پوشی اظہر من الشمس ہو جائیگی، جھوٹے مدعیان وحی والہام میں ایک صالح بن طریف بھی ہے اُس کی کامیابی اور حالت کو ملاحظہ کیا جائے آئندہ میں صالح کے علاوہ اُس کی اولاد کی کچھ حالت اور پھر بعض انبیاء کی حالت بھی دکھاؤں گا تا کہ دنیا کے واقعات سے بھی فلاح اور عدم فلاح کے معنی پر روشنی پڑے اور ہمارے بیان کی صداقت ظاہر ہو
صالح بن طریف
انتہائے مغرب میں برغواطہ قوم کا یہ عالم اور صلحائے قوم میں تھا یہ وہ شخص ہے جس کے واقعات اور حالات پر نظر کرنے سے مرزا غلام احمد قادیانی کا بہت بڑا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے اور پھر کسی منصف مزاج کو اُن کے کاذب ہونے میں تامل نہیں رہ سکتا اس کی مختصر حالت ملاحظہ کی جائے اس کا باپ طریف ایک غریب شخص تھا مگر دوسری صدی کے شروع میں اپنی قوم کا بادشاہ اور سردار ہو گیا تھا اور نبوت کا دعویٰ بھی اس نے کیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ نبوت کے بعد اسے ایسا فروغ ہوا اور اس قدر لوگ معتقد ہوئے کہ بادشاہ ہو گیا اُس کے مرنے کے بعد اُس کی سرداری اور حکومت اُس کے بیٹے کو ملی چونکہ یہ پہلے سے عالم اور نیک مشہور تھا حکومت اور سرداری ملنے سے اس کی حالت پلٹی اور ایسے خیالات اس کے بلند ہوئے کہ نبوت کا دعویٰ اور زور سے کیا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ مجھ پر قرآن نازل ہوتا ہے اور جس طرح ہمارے قرآن مجید میں سورتیں ہیں اُسی طرح اُس نے بھی اپنے قرآن میں سورتیں بیان کیں اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں، سورۃ الدیک، سورۃ النمر، سورۃ الفیل، سورۃ آدم، سورۃ نوح، اس کے سوا بہت انبیاء و غیر ہم کے نام پر سورتوں کے نام تھے سورہ ہاروت و ماروت و ابلیس، سورۃ غرائب الدنیا، اُن کے
معتقدین کے گمان میں اس سورۃ میں بہت کچھ علم تھا، اور کچھ احکامات حلال اور حرام کے متعلق بھی اس میں تھے اُس سورۃ کو اُس کے مریدین نماز میں پڑھتے تھے۔
اب میں فہمیدہ حضرات کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مدعی اور اس کے پیرو قرآن مجید کو مان کر اور حضرت محمدﷺ کو سچا جان کر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جناب رسولؐ کے بعد مستقل نبی آسکتا ہے، اور اُس پر ایسے الہامات اور وحی ہو سکتے ہیں کہ اُس میں حلال و حرام کے احکام ہوں، جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانی جماعت جنہیں تشریعی نبی کہتے ہیں وہ بھی آسکتا ہے اور آیت ”وَ لكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ“ (احزاب ٤٠) بھی صحیح و درست رہ سکتی ہے، کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو صاحب شریعت نبی کہتا تھا، (جب اس نے اپنے قرآن کی سورۃ غرائب الدنیا میں حرام و حلال کے احکام بیان کئے تو معلوم ہوا کہ اس کو صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ تھا) اور اس کے پیرو اُس کی تصدیق کرتے تھے، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا ہے اور نہایت صراحت کے ساتھ کیا ہے، مگر چونکہ ان کی باتیں نہایت پیچیدہ ہوتی ہیں اور ان کے کلام میں بہت تخالف ہے، ایک ہی دعویٰ کی نسبت کہیں اقرار ہے اور بہت زور کیساتھ دعویٰ کیا ہے اور کہیں اُس سے انکار ہے اور اُس میں کوئی قید لگادی ہے، اور اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے مختلف مواقع اور مختلف طبیعتوں کا خیال کر کے مختلف باتیں کہیں ہیں تاکہ ہر ایک موقع پر جو مناسب ہو وہ قول پیش کر دیا جائے مگر اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی نے نہایت شدومد سے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہے (اس کے ثبوت میں خاص رسالہ لکھا گیا جس کا نام ”دعویٰ نبوت مرزا“ ہے، اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦، ٧ میں چھپا ہے پہلے تو مرزائی اکثر یہی کہتے تھے کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے، اب دیکھئے کیا باتیں بتاتے ہیں) اور صاحب شریعت نبی ہونے کا انھیں دعویٰ ہے، اُن کا رسالہ اربعین نمبر ٤ صفحہ ٦ (خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) دیکھا جائے، مگر اُن کے مریدین چونکہ جانتے ہیں۔ کہ یہ دعویٰ کرنا صریحاً آیت قرآنیہ مذکورہ سے انکار ہے، اس لئے عوام کے دھوکا دینے کو باتیں بناتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں، حالانکہ محض غلط ہے، تمام اہل لغت اور مفسرین خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے لکھتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ رسول تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں، مگر جب مرزا قادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ جواب بھی غلط ہو گیا، کیونکہ جناب رسولؐ کے بعد مرزا قادیانی اپنے دعوے کے بموجب صاحب شریعت ہی ہوئے، یہاں تک کہ بعض احکام بھی منسوخ کئے، مثلاً جہاد کو منسوخ کیا، حیثیت سے زیادہ دین کو منسوخ کیا،
اس لئے نبوت کی کوئی قسم باقی نہیں رہی جس کے خاتم جناب رسول اللہؐ ٹھہریں اور مرزا قادیانی کے دعوے کے بموجب آیت ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ غلط ہو گئی (نعوذ باللہ منہ) مگر جس طرح صالح باوجود دعویٰ صاحب شریعت نبی ہونے کے اُمت محمدی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، اسی طرح مرزا قادیانی اور اُس کے پیرو کرتے ہیں اور عوام کے بہکانے کو کوئی بیہودہ بات بنا دیتے ہیں، مگر صالح مرزا قادیانی سے زیادہ سلطان القلم تھا، اس کی وجہ نہایت ظاہر ہے کہ جس طرح جناب رسول اللہؐ نے نزول قرآن کا دعویٰ کیا اُس نے بھی کیا اور اُس ملک کے بہت اہل زبان اُس پر ایمان لے آئے یہاں تک کہ نماز میں اُسے پڑھتے تھے مرزا قادیانی نے اگرچہ معجز کلامی کا دعویٰ کیا، مگر ایسا دعویٰ نہ کر سکے جیسا صالح نے کیا تھا، صرف اتنا ہی کیا کہ چند آیات قرآنیہ کی نسبت یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا الہام ہے، اور بعض اپنے رسالوں کی نسبت اعجاز کا دعویٰ کیا، اسی سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ جو جھوٹا بات بنانا چاہے اور الفاظ قرآنیہ میں عام کو خاص اور خاص کو عام کر کے اور نئے معنی تراش کر اپنے موافق کر سکتا ہے اور ماننے والے ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں، اسی طرح مرزا قادیانی نے ایران کی توران ملائیں اور آیات کے نئے معنی تراش کر سنائے تو کوئی نئی بات نہیں ہے جدت پسند طبیعتیں نئی باتوں کو بہت پسند کرتی ہیں ایسے ہی حضرات نے انھیں پسند کیا صالح نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مہدی اکبر میں ہوں۔ جن کی خبریں حدیثوں میں آئی ہیں) جن کا ظہور آخر زمانے میں ہوگا۔
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جھوٹا مدعی جس نے وحی و الہام کا اس زور سے دعویٰ کیا کہ دوسرے قرآن کا نزول اپنے اوپر بتایا، کس قدر کامیاب ہوا، تاریخ ابن خلدون سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ چھہالیس برس یا اس سے بھی کچھ زائد دعویٰ نبوت کیساتھ اُس نے بادشاہت کی اور اُس کی اولاد میں کئی سو برس تک بہت زور شور سے بادشاہت رہی، ملاحظہ کیا جائے، تاریخ مذکور کی جلد ٦ ص ٤٧٠ میں پہلے لکھا ہے کہ اس کا باپ مرا اور اُس کی سلطنت کا یہ مالک ہوا، پھر اس کے دعویٰ نبوت اور نزول قرآن کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ صالح کا ظہور یعنی اس کے دعوے کی ابتدا یا اُس کا شہرہ ہشام بن عبدالملک کی خلافت میں ہوا۔
نوٹ : صالح بن طریف کے حالات ائمہ تلبیس ص ١٩١ تا ١٩٤ جلد ١ میں مولانا رفیق دلاوریؒ نے الاستقصاء لاخبار دول المغرب الاقصیٰ مطبوعہ مصر کے حوالہ سے تحریر فرمائے ہیں جو قابل مطالعہ ہیں۔
١٢
ابن خلدون کی عبارت
وَكَانَ ظهور صالح هذا فى خلافة هشام بن عبدالملک من سنته سبع و عشر بن من المائة الثانية من الهجرة ثم زعم انه المهدى الاكبر الذى يخرج فى اخر الزمان وان عيسى يكون صاحبه و يصلى خلفه وان اسمه فى العرب صالح و فى سريانے مالك و فى العجمى عالم و فى العبرانى روبيا و فى البربرى وريا و مضاه الذى ليس بعده نبى و خرج الى المشرق بعد ان ملک امر هم سبعاو اربعين سنة ووعدهم انه يرجع اليهم فى دولة السابع منهم و اوصى بدينه الى ابنه الياس وعهد اليه بموالات صاحب الاندلس من بنى امية و باظهار دينه اذا قوى امرهم اقام بامره بعده ابنه الياس و لم يزل مظهر اللاسلام مُسِرًّا لما اوصايه ابوه من كلمة كفر هم وكان طاهرًا عفيفا زاهد اوهلک خمسين سنة من ملكه وولى امرهم من بعده ابنه يونس فاظهر دينهم ودعا اے كفرهم و قتل من لم يدخل فى امره حتى حرق مدائن تامسنا وما والاها يقال انه حرق ثلث مائة و ثمانين مدينة واستلحم اهلها بالسيف ملخالفتهم اياه. قال رمون درحل يونس الى المشرق وحج و لم يحج احدمن اهل بيته قبله ولا بعده و هلک لاربع واربعين سنة من ملكه و انتقل الامرعن بنيه وولى امرهم ابو غفير محمد بن معاد بن ايسع بن صالح بن طريف فاستولى على ملک رغواطه و اخذ بدين ابائه و اشتدن شوكت وعظمه امره وكانت له فى البربرو قايع مشهورة و ايام مذكورة واتخد ابوغفير من الزوجات اربعاواربعين وكان له من الولد مثلها اواكثر وهلک اخريات المائة الثالثة لتسع و عشرين سنة من ملكه وولى بعده ابنه ابوالانصار عبدالله فاقتفى سُنَنَه وكان كثير الدعوة مهاباً عند ملوک عصره يهادونه ويبدا فعونه بالمواصلة وكان حافظا للجار و فياً بالعهد وتوفى سنة احدى واربعين من المائة الرابعه لاربع واربعين سنة من ملكه و دفن باسلاخت وبها قبره وولى بعده ابنه ابومنصور عيسى ابن اثنين وعشرين سنة فسار سير آبائه وادعى النبوة والكهانة واشتد امره و على سلطانه و دانت له قبائل
المغرب (ابن خلدون جلد ٦ ص ٢٠٧‘ ٢٠٨)
مطلب: یعنی ١٢٧ ہجری میں دعویٰ نبوت کے بعد اس نے یہ کہا کہ مہدی اکبر میں ہوں جو آخر وقت میں ظہور کریں گے اور عیسیٰ اُن کے ساتھ ہوں گے اور اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے چونکہ سلف میں یہ امر محقق اور سب کا مسلم تھا کہ مہدی اور عیسیٰ دو ہیں اور مہدی اکبر کے وقت مسیح کا نزول ہوگا اور امام مہدی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے اس لئے وہ کہتا تھا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور عیسیٰ میرے مصاحب ہوں گے عرب کی زبان میں اُس کا نام صالح تھا اور سریانی میں مالک اور فارسی میں عالم اور عبرانی میں روبیا اور بربری میں دریا اس لفظ کے معنی خاتم النبیین کے ہیں، غرضیکہ سینتالیس برس سلطنت اور نبوت کی وجہ سے اپنی قوم کے دینی اور دنیاوی امور کا حاکم رہ کر غالباً زہد کے غلبہ سے مشرق کی جانب کسی پہاڑ کی طرف یا مکہ معظمہ چلا گیا اور اپنے لوگوں سے وعدہ کر گیا کہ تمہارے ساتویں پشت کا جو بادشاہ ہوگا اُس وقت میں لوٹ کر آؤں گا یہ وعدہ صاف شہادت دیتا ہے کہ اُس پر زہد کا غلبہ ہو گیا تھا اور اُس کی وجہ سے اُس کے خیال میں سما گیا تھا کہ اس مدت تک میں زندہ رہوں گا اس لئے پیشگوئی کرتا تھا کہ پھر آؤں گا اور اپنے بیٹے کو اپنے مذہب پر چلنے کی وصیت کی اور اُس سے عہد لیا کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھنا اور جب تمہاری حکومت کی حالت بمقابلہ اس کے خوب مضبوط ہو جائے اپنے دین کا اظہار حاکم اندلس سے یا عام طور سے کرنا اُس کے جانے کے بعد اُس کا بیٹا اُس کی حکومت کا مالک ہوا اور اپنے تمام عہد حکومت میں خالص اسلام کا پابند رہا‘ اور جن عقاید کفریہ کی وصیت اس کے باپ نے کی تھی انہیں پوشیدہ رکھا یہ شخص پاکباز اور زاہد تھا‘ شاید اسی وجہ سے اُسے اپنے باپ کی نبوت میں تردد ہو گیا ہو اور اُس نے اس کے مذہب کا اظہار نہ کیا ہو۔ الیاس پچاس برس حکومت کر کے مر گیا اور اُس کے بعد اس کا بیٹا یونس بادشاہ ہوا‘ اُس نے بادشاہ ہوتے ہی اپنے دادا کے مذہب کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو اس کے ماننے پر مجبور کیا اور جس نے نہ مانا اسے قتل کیا یہاں تک کہ بعض شہروں کو جلا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین سو اسی شہر جلا دیئے گئے اور اُن کے باشندہ تہ تیغ کر دیئے گئے اس کے بعد بقول رمون یونس حج کو گیا اور اس کے علم میں نہ اس سے پہلے اُس کے گھر کے لوگوں میں کسی نے حج کیا تھا نہ اسکے بعد (الحاصل باوجود ایسے ظلم وتعدی کے اپنے دادا کی گمراہی کو پھیلاتا رہا مگر چوالیس برس بادشاہت کر کے معمولی موت سے اس نے انتقال کیا اور اس عرصہ دراز تک خدائے قہار کے آتش غضب نے اسے نہیں کھایا) اس کے بعد یونس کے بیٹے کو سلطنت نہیں ملی بلکہ ابو غفیر کو ملی جو اس کا بھتیجا اور صالح کے
١٤
دوسرے بیٹے یسع کا پوتا تھا غرضیکہ صالح کا دوسرا پوتا بادشاہ ہوا‘ اور برغواطہ کے تمام ملک پر غالب ہو گیا اور اپنے باپ دادا کے مذہب کو اختیار کیا‘ اور اس کی حکومت وشوکت بہت زور کی ہوئی‘ اس نے چالیس بیبیاں کیں اور اسی قدر اُس کے اولاد ہوئی اور ٢٩ برس بادشاہی کر کے مرا‘ اُس کے بعد اُس کا بیٹا ابوالانصار عبداللہ بادشاہ ہوا اس نے بھی اپنے باپ ابوغفیر کا طریقہ اختیار کیا یعنی اپنے دادا صالح کا مذہب اختیار کیا اور لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف بہت بلاتا تھا‘ اس کے وقت میں دوسرے بادشاہ اس سے ڈرتے تھے اور اس سے میل کر کے اپنا بچاؤ کرتے تھے‘ یہ شخص اپنے پڑوسی کے حقوق کا لحاظ رکھتا تھا اور اپنے عہد کو پورا کرتا تھا (مگر افسوس ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک خدا تعالیٰ اپنے عہد کو پورا نہیں کرتا) ابوالانصار ٤٤ برس بادشاہت کر کے ٤٢١ھ میں مر گیا‘ اس کے بعد اس کا بیٹا ابو منصور عیسیٰ ٢٢ برس کی عمر میں بادشاہ ہوا اور اپنے باپ دادا کا طریقہ اختیار کیا اور نبوت و کہانت کا مدعی ہوا اور اُس کی سلطنت بہت زور کی ہوئی اور مغرب کے تمام قبیلے اس کے مطیع و منقاد ہو گئے۔ ابن خلدون کا مضمون ختم ہوا اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں
- ١...... صالح نے وحی اور الہام کا دعویٰ کیا‘ اس کا ثبوت دو وجہ سے ہے‘ اول یہ کہ اس نے
نبوت کا دعویٰ کیا‘ اور جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اُس کے لئے ضرور ہے کہ وحی والہام خداوندی کا دعویٰ کئے بغیر اس کے نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا‘ دوسرے یہ کہ اس نے نزول قرآن کا دعویٰ کیا‘ اس کا بھی مطلب یہی ہے کہ جس طرح جناب رسول اللہ پر قرآن شریف نازل ہوتا رہا اُسی طرح صالح کہتا ہے کہ مجھ پر نازل ہوتا رہا‘ جس طرح قرآن مجید میں سورتیں ہیں اسی طرح وہ بھی اپنے قرآن کی سورتوں کا نام بتاتا ہے‘ دعوئی وحی کے لئے اس قدر کہنا کافی ہے‘ اب اگر کوئی احمدی کسی تاریخ میں اُن سورتوں کو نہ دیکھے تو صالح کا دعویٰ وحی والہام غلط نہیں ہو سکتا‘
- ٢...... دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ صالح کا چلا جانا کسی خوف کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ وہ
نہایت اطمینان سے اپنے بیٹے کو بادشاہ بنا کر اور اُسے وصیت کر کے گیا‘ جانے کی وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے اب جن کی آنکھیں ہوں اور علم سے انھیں کچھ حصہ ملا ہو وہ ابن خلدون کے ص ٢٠٧ کی سطر ٢٤ سے ٢٦ تک ملاحظہ کریں‘ جانے کے وقت صالح نے چار باتیں کہیں اول اُس نے اپنے سب متعلقین کے روبرو پیشینگوئی کی کہ جس وقت تم میں ساتواں بادشاہ ہوگا اس وقت میں آؤں گا‘ صالح نے پیشینگوئی اپنی قوم برغواطہ سے کی تھی اس قوم میں اول بادشاہ طریف ہوا‘ دوسرا صالح اور ساتواں ابو منصور عیسیٰ ہوا جس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کا بھی دعویٰ کیا‘ اس پیشینگوئی سے
١٥
نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ اُسے اپنی قوم میں بلکہ خاص اپنی اولاد میں عرصہ تک سلطنت رہنے کا یقین تھا‘ اب جس طرح مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں میں باتیں بنائی جاتی ہیں اُس لحاظ سے یہ پیشینگوئی پوری ہوئی‘ کیونکہ جس طرح یہ بادشاہ اور مدعی نبوت تھا اُسی طرح اُس کی اولاد میں برغواطہ قوم کا ساتواں بادشاہ مدعی نبوت ہوا‘ اس کی نسبت صالح کا یہ پیشینگوئی کرنا کہ میں ساتویں پشت میں آؤں گا‘ بیجا نہیں ہے‘ کیونکہ اس کی قوم کا ساتواں بادشاہ اُس کی اولاد میں ہونا اور اُس کے ساتھ اُس کا دعویٰ نبوت کرنا گویا اسی کا لوٹ کر آنا ہے‘
ایک اور طریقے سے بھی اس پیشینگوئی کی صحت ہو سکتی ہے وہ یہ کہ جس طرح مرزا قادیانی نے مخصوص عقائد اسلامیہ کے اصلی مقاصد کو بدل دیا اسی طرح صالح اگر تناسخ کا قائل ہو تو عجب نہیں‘ اسی لئے ممکن ہے کہ اس کی قوم ابو المنصور کے جون میں صالح کا آنا خیال کرتی ہو اور ابو المنصور کے آنے کو صالح کا آنا سمجھتی ہو اور تناسخ کا مسئلہ ایسا ہے کہ بعض (خام خیال) مسلمان بھی اس کے قائل ہو گئے ہیں‘ مولوی قلندر علی پانی پتی جو راجہ کشمیر کے وزیر کرپا رام اور اور اس کے بیٹے اننت رام کے استاذ تھے وہ قرآن مجید کی آیات سے ثابت کرتے تھے‘ جس طرح مرزائی خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں‘ اور اُس کی وجہ سے خدائے قدوس پر جو سخت الزام آتا ہے اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتے‘
الحاصل جس طرح مرزائی مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں کو پیش کیا کرتے ہیں اسی طرح برغواطہ اس پیشینگوئی کو پیش کرتے ہوں گے یا پیش کر سکتے تھے‘ دوم ...... جانے کے وقت خاص اپنے بیٹے سے اپنے مذہب کی وصیت کی یعنی اس پر قائم رہنا۔ سوم ...... تاکید کے ساتھ یہ وصیت کی کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھیو ( یہ حاکم بنی اُمیہ میں تھا ) ۔ چہارم ...... یہ کہا کہ جب تمہاری سلطنت کے امور (بمقابلہ بنی امیہ کے ) قوی ہو جائیں تو اپنا مذہب خاص اندلس کے حاکم پر یا عام بنی امیہ پر پیش کیجیو ۔ ایسی صراحتوں کے ساتھ کسی ذی علم کا یہ کہنا کہ صالح خوف کی وجہ سے بھاگ گیا‘ سوائے اس کے کہ وہ قصداً ناواقفوں کو دھوکا دیتا ہے اپنے کسی نفع کے واسطے یا اللہ نے اُس کے علم و فہم کو سلب کر لیا ہے اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی ۔
- ٣ ...... تیسری بات یہ ثابت ہوئی کہ صالح نے ٤٧ برس دعویٰ نبوت کیا‘ اس کے بعد جب اس
دراز مدت تک نبوت اور سلطنت کر چکا اور بوڑھا ہو گیا اس وقت وہ جانب مشرق یعنی مکہ معظمہ کی طرف یا پہاڑوں میں چلا گیا‘ اگر حق طلبی ہے تو اُس کی تفصیل ملاحظہ کیجئے‘ اس مقام پر ابن خلدون
٤٧
نے کئی پشتوں تک کسی کا سنہ وفات نہیں بیان کیا بلکہ صرف تخت نشینی کی مدت بیان کی، البتہ ابوالانصار کا سنہ وفات اور اُس کی سلطنت کی مدت دونوں بیان کی ہیں، اب حساب کرنے سے صالح کا دعویٰ نبوت کا زمانہ بخوبی معلوم ہو سکتا ہے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیا جائے۔ اس نقشہ سے صالح کی نبوت کا زمانہ اور اُس کی اولاد کی سلطنت کا وقت معلوم ہوتا ہے۔
نام: ابوالانصار عبداللہ کیفیت: اس کی وفات اور سلطنت کی مدت ابن خلدون نے لکھی ہے جس سے ظاہر ہے کہ ٢٩٧ھ میں یہ بادشاہ ہوا اور ٣٤١ میں انتقال کر گیا، وفات: ٣٤١ھ، زمانہ سلطنت: ٤٤، حساب: ٣٤١ - ٤٤ - ٢٩٧، سنہ جلوس: ٢٩٧ھ
نام: ابوغفیر محمد، کیفیت: یہ ابوالانصار کا باپ ہے، وفات: ٢٩٧ھ، زمانہ سلطنت: ٢٩ حساب: ٢٩٧ - ٢٩ - ٢٦٨، سنہ جلوس: ٢٦٨ھ
نام: یونس کیفیت: یہ صالح کا پوتا اور ابوغفیر کا چچا ہے جب اُس کے مرنے کے بعد اُس کا بھتیجا اور ابوغفیر بادشاہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابوغفیر کا سنہ جلوس یونس کی وفات کا سنہ ہے۔ وفات: ٢٦٨ھ، زمانہ سلطنت: ٤٤، حساب: ٢٦٨ - ٤٤ - ٢٢٤، سنہ جلوس: ٢٢٤ھ
نام: الیاس کیفیت: یہ صالح مدعی نبوت کا بیٹا اور یونس کا باپ ہے جب اس کے مرنے کے بعد ہی یونس بادشاہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ٢٢٤ھ میں اس کی وفات اور ١٧٤ھ میں اپنے باپ صالح کے بعد بادشاہ ہوا۔ وفات: ٢٢٤ھ، زمانہ سلطنت: ٥٠، حساب: ٢٢٤ - ٥٠ - ١٧٤، سنہ جلوس: ١٧٤ھ
نام: صالح بن طریف کیفیت: یہی مدعی نبوت ہے اس کے دعویٰ کا ظہور ١٢٧ھ میں ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ١٧٤ھ میں سلطنت چھوڑ کر اپنے بیٹے الیاس کو اپنا قائم مقام کر کے چلا گیا،
اس نقشہ سے یقینی طور سے آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ صالح بن طریف ١٧٤ ہجری میں اپنے بیٹے الیاس کو سلطنت حوالہ کر کے گیا ہے اب اس نقشہ کو سیدھے طور سے جانچ لیجئے اور ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے۔
نام: صالح بن طریف
ابتداء ظہور دعوٰی یا ابتدائے سلطنت: ١٢٧ھ انتہا: ١٧٤ھ، مدت دعوٰی یا تخت نشینی: ٤٧ برس
نام: الیاس ابتداء ظہور دعوٰی یا ابتدائے سلطنت: ١٧٤ھ انتہا: ٢٢٤ھ، مدت دعوٰی یا تخت نشینی: ٥٠ برس
نام: یونس ابتداء ظہور دعوٰی یا ابتدائے سلطنت: ٢٢٤ھ انتہا: ٢٦٨ھ، مدت دعوٰی یا تخت نشینی: ٤٤ برس
نام: ابوغفیر ابتداء ظہور دعوٰی یا ابتدائے سلطنت: ٢٦٨ھ انتہا: ٢٩٧ھ، مدت دعوٰی یا تخت نشینی: ٢٩ برس
نام: ابوالانصار ابتداء ظہور دعوٰی یا ابتدائے سلطنت: ٢٩٧ھ انتہا: ٣٤١ھ، مدت دعوٰی یا تخت نشینی: ٤٤ برس
اس نقشہ سے بھی پہلے نقشہ کی صحت ظاہر ہوگئی اب معلوم ہوا کہ صالح ١٧٣ھ کو پورا کر کے ١٧٤ھ میں گیا کیونکہ مؤرخ نے ابوالانصار کی موت کا جو سنہ لکھا ہے وہ اسی حساب سے مطابق ہوتا ہے جو نقشہ میں لکھا گیا اب اس کا ثبوت کہ ٤٧ برس تک صالح نے دعوٰی کیا دو طور سے بخوبی ہوتا ہے اوّل مؤرخ کے بیان سے کہ وہ طریف کے مرنیکا ذکر کر کے لکھتا ہے۔ ”و ولی مکانہ ابنہ صالح و کان من اہل العلم و الخیر فیہم ثم انسلخ من آیات اللہ وانتحل دعوی النبوۃ ۔“
یعنی طریف کے مرنے کے بعد اُس کی جگہ اُس کا بیٹا صالح مالک ہوا یہ شخص عالم اور صاحب خیر تھا مگر بادشاہ ہونے کے بعد آیاتِ خداوندی سے علیحدہ ہو کر جھوٹا دعوٰیِ نبوت کرنے لگا اور دوسرے قرآن کے نزول کا دعوٰی کیا یہ سب بیان کر کے مؤرخ اس کے ابتدائے دعوٰی نبوت یا اس کی شہرت کے وقت کو بیان کرتا ہے اور لکھتا ہے ”و کان ظہور صالح ھذا من سنۃ سبع و عشرین من المائۃ الثانیۃ من الہجرۃ“ یعنی صالح کے ظہور کا دعوٰی اور اُس کی شہرت کی
١٨
ابتداء ١٢٧ھ سے ہوئی، کیونکہ دعویٰ کا ذکر مؤرخ پہلے بیان کرچکا ہے اب بالضرور ظہور صالح سے یہی غرض ہو سکتی ہے کہ اُس کے دعویٰ کا وقت یا دعویٰ کی شہرت کا وقت بیان کرتا ہے اس عرصہ میں صالح کہیں پوشیدہ نہیں تھا جس کے لئے ظہور کا وقت بیان کیا گیا البتہ اُس کا دعویٰ پوشیدہ تھا جس کا ظہور سنہ مذکور میں ہوا اہل علم جن کو عربی عبارت کے سمجھنے کا ذوق ہے وہ یہی مطلب اس عبارت کا کریں گے جو میں نے بیان کیا اس کا ثبوت بعد کی عبارت سے اور محاورہ اہل زبان سے بخوبی کر دیا گیا ہے اب مؤرخ کا یہ قول ”و خرج الی المشرق بعد ان ملک امرهم سبعاواربعین سنة“ یعنی بعد اس بات کے کہ سینتالیس برس رعایا کی تمام باتوں کا مالک رہا اور سیاسی اور مذہبی حکومت اُس کے اختیار میں رہی سلطنت چھوڑ کر مشرق کی طرف چلا گیا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صالح کا زمانہ سلطنت اور زمانہ نبوت ایک تھا جس سے معلوم ہوا کہ تخت نشین ہوتے ہی اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ظاہر حالت سے بھی یہی پایا جاتا ہے کیونکہ اس کا باپ پہلے سے بادشاہت حاصل کر چکا تھا اس لئے اُس نے اس کی تعلیم میں پوری توجہ کی ہوگی اور چونکہ یہ خود بھی نیک تھا تو علم کا شائق بھی ہوگا اور اپنے باپ کے مرنے سے پہلے ہی علم کے کمال درجہ کو پہنچ چکا ہوگا اور مزاج میں علو اور تکبر سما گیا ہوگا اس لئے تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی اس کا خیال علو کمال مرتبہ کو پہنچ گیا اور یہی خیال دعویٰ نبوت کا باعث ہوا اور سینتالیس برس دعویٰ نبوت کے ساتھ بادشاہت کی الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ صالح نے کامل چھیالیس برس دعویٰ نبوت کیا اور سینتالیسویں برس اپنے بیٹے کو بادشاہت دے کر چلا گیا اس تاریخ میں اس کا کہیں اشارہ بھی نہیں ہے کہ کس خوف سے وہ چلا گیا بلکہ چلنے کے وقت اس نے جو وصیتیں اپنے بیٹے کو کیں اُن سے اظہر من الشمس ہے کہ اُس نے پورے اطمینان کی حالت میں سلطنت چھوڑ کر جانے کا ارادہ کیا اور سلطنت چھوڑنے کی وجہ بجز اس کے کوئی سمجھ میں نہیں آتی کہ قلبی حالت نے اُسے مجبور کیا آخر ابراہیم ادہم اسی وجہ سے بادشاہت سے علیحدہ ہو کر درویش ہو گئے گو خیالات میں اور حالت میں نوعی اختلاف ہو مگر غرض یہ ہے کہ قلبی حالت ایسی ہو سکتی ہے کہ انسان بادشاہت کو چھوڑ دے جس وقت صالح نے جانے کا ارادہ کیا ہے اُس وقت کوئی اس کا مخالف اُس پر چڑھ کر نہیں آیا تھا، کسی بادشاہ نے اُسے دھمکی بھی نہیں دی تھی بلکہ مؤرخ نے کسی مخالف کا ذکر بھی نہیں کیا اس کے قریب ہی بنی امیہ کا جو بادشاہ تھا اس سے ایسی دوستی اور رابطہ تھا کہ جانے کے وقت اپنے بیٹے سے اس سے رابطہ رکھنے کی وصیت کر گیا، پھر خوف کس کا اُسے ہوتا بلکہ جانے کے وقت اس کا یہ کہنا کہ ساتویں بادشاہ کے وقت
١٩
میں میں پھر آؤنگا اور اپنے بیٹے کو سلطنت حوالہ کرنا اور اُس کے جانے کے بعد اُس کی اولاد میں زور شور کے ساتھ سلطنت رہنا نہایت بدیہی دلیل ہے کہ وہ کسی خوف و خطر کی وجہ سے سلطنت سے علیحدہ نہیں ہوا ایسا خیال وہی کرسکتا ہے جس کی عقل وفہم نے جواب دیدیا ہو۔
اب جو حضرات خدا اور رسول کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں کتاب اللہ کے سمجھنے کا شوق ہے وہ غور سے ملاحظہ کریں کہ اس وقت میں نے سات بادشاہوں کا ذکر کیا یعنی فرعون، صالح بن طریف، الیاس، یونس، ابوغفیر، ابوالانصار، ابوالمنصور عیسیٰ یہ ساتوں شخص باوجود کافر اور مفتری علی اللہ ہونے کے دنیا کے بادشاہ ہو گئے اور ٢٣ برس سے زیادہ اور بعض بہت زیادہ نہایت شان سے بادشاہت کرتے رہے، ان میں سے سب سے اول فرعون ہے جس نے چار سو برس کی عمر پائی اور حکومت کرتا رہا، اور اُس وقت کے ایمانداروں کو یعنی بنی اسرائیل کو اقسام کی تکلیفیں دیتا رہا، اور پھر بادشاہت کے ساتھ خدائی کا دعویٰ بھی کیا اور اس قوت اور فائز المرامی سے کہ کوئی اس کا مخالف نہیں ہوا جو اُسے ضرر پہنچاتا اور اتنی مدت میں اُسے بخار تک نہیں آیا یہ وہ عظیم الشان کافر ہے جس نے مخلوق کو اپنی خدائی کی طرف بلایا اور خدائے برحق سے انکار کرایا، جس کی مذمت بار بار قرآن مجید میں کی گئی ہے، اور خاص طور پر اُسے مفتری علی اللہ ٹھہرا کر قرآن میں ارشاد ہوا ” وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى “ (طٰہ ٦١) یعنی جس نے خدا پر افتراء کیا وہ ضرور خائب و خاسر رہا، فرعون خائب و خاسر ہوا مگر کئی سو برس کے بعد (٢) دوسرا صالح یہ وہی مدعی نبوت ہے جس کا ذکر ابھی کیا گیا جس نے ٤٧ برس تک باوجود جھوٹے دعویٰ وحی والہام اور مفتری علی اللہ ہونے کے بادشاہت کی اور تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا اور اس مدت کے بعد بھی وہ نہ خود مرا اور نہ مارا گیا، بلکہ اپنے بیٹے کو بادشاہت حوالہ کر کے چلا گیا، تیسرا ان میں الیاس ہے اس نے اگرچہ اپنے باپ کے دین کو فروغ نہیں دیا مگر اُس نے انکار بھی نہیں کیا، جس سے ظاہر ہے کہ اُس کی گمراہی سے یہ راضی رہا، چوتھا ان میں یونس ہے جس نے بادشاہ ہو کر اپنے دادا صالح کی گمراہی کو نہایت ظلم و تعدی سے ترقی دی اور ہزاروں بلکہ لاکھوں مخلوق کو گمراہ کیا، مگر چالیس برس بادشاہت کر کے اپنی طبعی موت سے مرا، یہ کامیابی صالح مفتری کی وراثت ہی سے ملی تھی اس نے اس کے افتراء کو بہت کچھ ترقی دی اس کی فائز المرامی اس کے دادا صالح کی فائز المرامی ہے، مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب صالح کو ٢٣ برس کے اندر ذلت کی موت سے مرنا چاہئے، مگر یہ نہیں ہوا بلکہ وہ ہر طرح کی کامرانی سے ٤٧ برس بادشاہت کر کے اپنے جگر گوشہ کو سلطنت دے گیا، پھر اُس کے بیٹے اور پوتے نے ٩٥ برس تک
٢٠
عیش وعشرت کی اور اپنے باپ دادے کی فائز المرامی کا ثبوت مخلوق کو دکھایا، پانچواں ان میں ابوغفیر ہے جس کی نسبت مؤرخ لکھتا ہے کہ اُس نے اپنے باپ دادے کا مذہب اختیار کیا یعنی صالح کا ”واشتدت شوکته و عظم امره“ یعنی اُس کی شوکت اور حکومت بہت سخت اور عظیم الشان ہوئی، الغرض باوجود مفتری ہونے کے ٢٩ برس تک بادشاہ رہا اور پھر بھی کسی قسم کا زوال نہیں آیا، اور سلطنت اپنے بیٹے کو دے گیا، چھٹا ان میں ابوالانصار ہے جس نے اپنے باپ دادے کا طریقہ اختیار کیا اور جس طرح اس کے باپ دادا خدا پر افتراء کر کے کافر ہوئے تھے یہ بھی کافر ہوا، مگر اس کی عظمت شوکت ایسی ہوئی کہ اس کے وقت کے بادشاہ اس سے ڈرتے تھے اور تحفہ تحائف بھیج کر اسے راضی رکھتے تھے، اور اس شوکت وعظمت کیساتھ ٤٤ برس اس نے بادشاہت کی اور اپنے بیٹے کو بادشاہ کر گیا ساتواں ان میں ابومنصور عیسیٰ ہے یہ ساتواں بادشاہ ہے برغواطہ قوم میں ٢٢ برس کی عمر میں ٣٤١ھ میں اپنے باپ کی سلطنت کا مالک ہوا اس نے سلطنت پر بیٹھتے ہی نبوت کا دعویٰ کیا، اور بیان سابق کے لحاظ سے اس کی دادا صالح کی پیشینگوئی پوری ہوئی، اُس کی حکومت اور سلطنت بہت زور و شور کی ہوئی اور مغرب کی تمام قومیں اس کی مطیع ہوگئیں، اور ایسی مطیع اور معتقد ہوئیں کہ تمام قبائل کے سردار اسے سجدہ کرتے تھے اس شوکت وعظمت کیساتھ ٢٧ برس تک یا اس سے بھی کچھ زیادہ اس نے بادشاہت کی ٣٦٨ھ میں بلکین اس پر چڑھ آیا اور اُس کی قوم پر جہاد کیا اُس میں یہ مارا گیا، مگر دعویٰ نبوت سے ٢٣ برس کے بعد مارا گیا، اس مدت کے اندر نہ اپنی موت سے مرا اور نہ کسی نے اُسے قتل کیا، تاریخ ابن خلدون جلد ٦ ص ٢٠٨ ٢٠٩ بغور دیکھا جائے مؤرخ مذکور اس کے والد ابوالانصار کی موت کو بیان کر کے لکھتا ہے۔
”وولی بعده ابنه ابومنصور عیسٰی أبن اثنین و عشرین سنة فسار سیر آبائه و ادعی النبوة والكهانة واشتد امره وعلا سلطانه ودانت له قبائل المغرب“ الخ ابوالانصار کے بعد اُس کا بیٹا ابوالمنصور عیسیٰ ٢٢ برس کی عمر میں اپنے باپ کی سلطنت کا مالک ہوا اور اپنے باپ دادا کی روش اس نے اختیار کی اور نبوت اور کہانت کا دعویٰ کیا اور اس کی حکومت اور سطوت زبردست ہوئی اور مغرب کے تمام قبیلے اس کے مطیع ہو گئے (اس جملہ کا عطف ولی پر ہے یا سار پر اور واؤ عاطفہ کے ساتھ عطف ہے جس سے ولایت اور دعویٰ نبوت کی معیت اور جمعیت ظاہر ہوتی ہے جو اس کے خلاف دعویٰ کرے وہ ثابت کرے ) یہ عبارت صاف طور سے شہادت دیتی ہے کہ ابو منصور جب بادشاہ ہوا ہے اُسی وقت
٢١
اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور دعویٰ نبوت اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اُس نے وحی والہام الٰہی کا بھی دعویٰ کیا ہے کیونکہ نبوت کا علم مدعی نبوت کو وحی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اس لئے جھوٹے مدعی کو بھی یہ دعویٰ کرنا ضرور ہے کہ مجھ پر وحی آئی اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ میں نبی ہوں اور دعویٰ نبوت کیساتھ کہانت کا بھی دعویٰ تھا اس لیے پیشین گوئی کرنا بھی ضرور ہے یہی وجہ ہوئی کہ تمام مغرب کے قبیلے اس کے مطیع اور معتقد ہو گئے یہاں تک کہ اُسے سجدہ کرنے لگے بالآخر بقول مشہور ہر کمالے را زوالے یہ مارا گیا اس کے بعد بلمکیمن نے اس کی قوم میں بہت خونریزی کی اُس کے بعد بھی صالح کی قوم پر جہاد ہوتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر نے ان کی بیخ و بنیاد اکھیڑ کر پھینک دی اور روئے زمین سے اُن کا نشان مٹا دیا، اس قوم کا آخری بادشاہ ابوحفص عبداللہ تھا، ابو منصور عیسیٰ کی اولاد میں یہ آخری بادشاہ پانچویں صدی کے آخر میں تھا، ابن خلدون لکھتا ہے ”فزحف الیہم ابوبکر بن عمر امیر ملتونۃ فی المرابطین من قومہ وكانت لہ فیھم وقائع استشہد فی بعضھا صاحب الدعوۃ عبداللہ بن یاسین الکبروی ٤٥٠ و استمر ابوبکر وقومہ من بعدہ علی جہاد ھم حتی استا صلوا شا فتھم و محوامن الارض آثار ھم“ (جلد ٦ ص ٢٠٩)
الغرض جس طرح صالح بن طریف نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو غلط کر دیا تھا اسی طرح ابو منصور نے بھی ان کے دعوے کو اُن کے خیال اور اُن کے اقرار کے بموجب غلط کیا، یعنی اُن کا دعویٰ تھا کہ کوئی جھوٹی وحی والہام کا دعویٰ کر کے تیس برس زندہ نہیں رہ سکتا، بلکہ اس مدت کے اندر ذلت کی موت سے ہلاک کر دیا جاتا ہے، ان دونوں مدعیان نبوت نے اس دعویٰ کو غلط ثابت کر دیا ان گذشتہ واقعات کو ذہن نشین کر کے اس زمانے کی حالت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھئے کیا ہو رہا ہے؟ یہود، نصاریٰ، آریہ، مشرکین وغیرہ کی دنیاوی کامیابی اہل اسلام کے مقابلہ میں کیسی ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مفتری علی اللہ کہا ہے، اور ان میں سے بعض گمراہی بھی بہت کچھ پھیلا رہے ہیں، مگر دنیا کے لحاظ سے ہر طرح کامیاب ہیں، اب نہایت غور کے قابل یہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کافر اور مفتری علی اللہ فلاح نہیں پاتے، مگر جن کا ذکر پیشتر کیا گیا یہ لوگ باوجود کافر اور مفتری ہونے کے ایسے کامیاب ہوئے کہ بعض بادشاہ ہو گئے اور بعض اگرچہ بادشاہ نہیں ہوئے مگر بہت کچھ کامیاب ہیں دنیا میں بادشاہت سے زیادہ کامیابی کا مرتبہ نہیں ہو سکتا، اور نہ اس سے زیادہ کوئی فلاح کی صورت ہو سکتی ہے، یہاں سے بالیقین دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ دنیا
٢٢
کی کامیابی اگر چہ کسی مرتبہ کی ہو صداقت اور برگزیدہ خدا ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی، دوسرے یہ کہ کتاب اللہ جو ایمانداروں کے لئے فلاح کی بشارت دی اور کفار کے لئے نامراد ہونا اور فلاح نہ پانا مخصوص کیا‘ اس سے مقصود دنیا کی فلاح اور عدم فلاح نہیں ہے کیونکہ کفار کو اور اُن کو جنہوں نے خدا پر افتراء کیا ہر قسم کی فلاح ہوئی اور نہایت اعلیٰ مرتبہ کی فلاح ہوئی‘ بادشاہ ہو گئے‘ لوگوں کے اعتقاد کی یہ حالت ہوئی ۔ کہ سجدہ کرنے لگے اور سجدہ کرنے والے سو دو سو نہیں ملک مغرب کے تمام قبیلے سجدہ کرنے لگے‘ پھر ایک ملک کے تمام قبیلوں میں لاکھوں کی تعداد سے کم نہیں ہو سکتے‘ یہ بھی خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح جھوٹا مدعی نبوت والہام مفتری ہے اور خلقت کو گمراہ کرتا ہے اسی طرح جو اس کے پیرو ہیں وہ بھی مفتری ہیں‘ کیونکہ وہ مفتری کی تصدیق کرتے ہیں اور خدا پر یہ افتراء کرتے ہیں کہ خدا نے اُسے اپنا رسول بنایا‘ خدا کی وحی اس پر اتری اور یہ کہہ کر مخلوق کو گمراہ کرتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں یہود کو نصاریٰ کو مشرکین کو‘ مفتری علی اللہ کہا ہے کیونکہ بہت سی جھوٹی باتوں کو خدا کی طرف سے وہ بیان کرتے تھے‘ اور اب بھی بیان کرتے ہیں اب ان میں جس نے افتراء کے علاوہ اور عظیم الشان گناہ کیا ہے اسے زیادہ مستحق سزا ہونا چاہئے‘ مثلاً فرعون کہ اُس نے خدائی کا دعویٰ کیا یا صالح کا پوتا یونس کہ اُس نے علاوہ کفر وافتراء کے نہایت ظلم سے مخلوق کو تباہ کیا اور جبر سے اپنے دادا کی نبوت کو منوایا‘
اس بیان سے نہایت روشن ہو گیا کہ یہ دعویٰ کہ مفتری ٢٣ برس یا بیس برس کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے محض غلط ہے جن بادشاہوں کا ذکر کیا گیا اُن کی کامرانی اور فائز المرامی اس غلطی کا روشن ثبوت ہے اُن میں ایک دعویٰ نبوت سے بڑھ کر دعویٰ خدائی کرتا رہا اور ایسا کامیاب رہا کہ اس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے (فرعون کے طویل العمر ہونے میں تو سب کا اتفاق ہے البتہ بعض مجمل لکھ دیتے ہیں کہ طویل العمر تھا جیسا کہ کامل ابن اثیر وغیرہ میں ہے اور بعض صاف طور سے اُس کی عمر کی تعیین کرتے ہیں مثلاً تفسیر فتوحات الہیہ میں ہے ”و عمر فرعون اکثر من اربع مائتہ سنتہ “ یعنی فرعون کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی‘ بعینہ یہی مضمون تفسیر مظہری میں اور تفسیر خازن میں اور تفسیر معالم التنزیل میں اور مراح لبید میں اور فتح البیان میں ہے اور معتبر مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ سلطنت اس کی خاندانی ہے مگر یہ کہ خاص فرعون کتنے دنوں بادشاہ رہا اس کو میں پورے طور سے نہیں کہہ سکتا اکثر کتب تواریخ سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت زمانہ دراز تک اس نے ظلم و تعدی کی ہے اور بنی اسرائیل کو ہر طرح تنگ کرتا رہا ہے‘ مگر بادشاہ اپنے بھائی کے مرنے کے بعد
٢٣
ہوا ہے اُس کے بعد حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ اس کی طرف بھیجے گئے ہیں اب ممکن ہے کہ جس وقت بھائی بادشاہ تھا اس کی طرف سے یہ گورنر ہو یا اُس کا وزیر ہو اور ہر قسم کے ظلم و تعدی اور حکمرانی کا اسے موقع ہو اور جس طرح بادشاہ ہو کر مخلوق کو پریشان و گمراہ کرتا اس طرح گدی نشین ہونے کے پہلے سے گمراہ کر سکتا تھا اور کیا اور گدی نشین ہونے کے بعد ہی کیا۔ (دوسرے نے نبوت کا دعویٰ کیا اور وہ خود ٢٧ برس بادشاہ رہا اور کئی سو برس اُس کی اولاد میں بادشاہت رہی ...... اور اس کی اولاد اس مفتری کے پیرو اور خود مفتری رہے اور اُس مفتری کی گمراہی کو اُس سے بہت زیادہ پھیلایا اور باوجود مفتری ہونے اور گمراہی پھیلانے کے فائز المرام رہے اور سب نے ٢٣ برس سے زیادہ سلطنت کی جو فائز المرامی کا انتہائی مرتبہ ہے۔) جو حضرات مرزا غلام احمد قادیانی پر آنکھیں بند کر کے ان کی ہر بات پر ایمان لائے ہیں وہ خدا کے لئے آنکھیں کھولیں اور اس روشن بیان کو دیکھیں، کیسی عظیم الشان غلطی مرزا قادیانی کی آپ کو دکھائی گئی، محض آپ کی خیر خواہی کے خیال سے ذرا اس پر نظر کیجئے کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ مفتری ٢٢ برس تک تو کامیاب رہ سکتا ہے اور گمراہی پھیلا سکتا ہے مگر ٢٣ برس تک نہیں اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ بہت سے مفتری اگر ١٠ برس ١٥ برس ٢٠ برس ٢٢ برس گمراہی کو پھیلائیں اور مخلوق کو تباہ کریں اور اپنی معمولی موت سے مر جائیں اور میراث اپنی اولاد کو چھوڑ جائیں تو صادق اور کاذب میں اشتباہ نہ ہو مگر ٢٣ برس اگر زندہ رہے تو اشتباہ ہو جائے کیا یہ کامل بے عقلی نہیں ہے یا محض زبردستی اس کو نہ کہیں گے ذرا ہوش کر کے جواب دو اور اس قرآن شریف سے ثابت بتانا کلام خدا پر الزام لگانا ہے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا، یہ سات نظیریں تو میں نے ایسی پیش کیں جنہیں تمام دنیا کے مسلمان ان کی حالت دیکھ کر عبرت پکڑ سکتے ہیں اور مرزائیوں کیلئے خصوصاً ان مثالوں میں کمال عبرت ہے۔
اب میں جماعت مرزائیہ محمودیہ (یعنی جنہوں نے مرزا محمود کو خلیفہ اور اپنا مقتدیٰ مانا ہے جن کا یہ اعتقاد ہے کہ جس نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہیں مانا وہ کافر ہے ) سے خاص خطاب کرتا ہوں کہ وہ فرمائیں کہ جن اہل علم نے مرزا قادیانی کا سخت مقابلہ کیا اور ان کی آخری زندگی تک انہیں ہزیمت دیتے رہے اور اُن کے مذہب کی اشاعت میں بہت ہی حارج ہوئے اور ساری مخلوق پر مرزا قادیانی کی برائیاں بہت کچھ ظاہر کیں وہ اپنے مطالب میں کیوں کامیاب ہوئے یعنی قرآن مجید میں تو خاص ایمانداروں ہی کیلئے فلاح اور فائز المرامی کو مخصوص کیا ہے پھر مرزا قادیانی کے سخت مخالف کیسے کامیاب ہوئے؟ ان میں سب سے اول ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ہیں کہ
٢٤
برسوں اُن کے خاص مریدوں میں رہ کر کیسے مخالف ہوئے اور الہام کا بھی دعویٰ کیا اور مرزا قادیانی کے خاص الہاموں میں شریک ہوئے اور مرزا قادیانی کے مقابلہ میں پیشین گوئیاں بھی کیں اور آخر میں وہ پیشین گوئی کی جس نے مرزا قادیانی کا خاتمہ ہی کر دیا اور مرزا قادیانی نے نہایت غیرت اور جوش کیساتھ اُس کے مقابلہ میں پیشین گوئی کی مگر مرزا قادیانی بالکل ناکام رہے اور ڈاکٹر صاحب کے سامنے نہایت ذلت کی موت سے مرے۔ انہوں نے متعدد رسالے (ان کے رسالوں کے نام یہ ہیں اعلان الحق مسیح الدجال، اس میں ڈاکٹر صاحب نے وہ باتیں لکھی ہیں جن کی وجہ سے مرزا قادیانی کو انہوں نے چھوڑا اور ان کے مخالف ہوئے پہلے بڑے صادق مرید تھے بیس روپیہ ماہوار مرزا قادیانی کے پاس بھیجتے رہے اور ہزاروں روپیہ ان کی صداقت کے اظہار میں صرف کیا پھر نہایت تحقیق اور حق طلبی نے اُنھیں مجبور کیا کہ اُنھیں جھوٹا اعتقاد کریں ان کا تیسرا رسالہ الذکر الحکیم ہے اس کے کئی نمبر ہیں نمبر ٢٤ لائق دید ہے ) مرزا قادیانی کے مقابلے میں لکھے جن کا جواب نہ مرزا قادیانی دے سکا اور نہ کوئی انکا مرید، دوسرے سخت مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ہیں جن سے مرزا قادیانی نے عاجز ہوکر ١٥۔ اپریل ١٩٠٧ء میں اعلان شائع کیا جس کا عنوان جلی قلم سے یہ تھا۔
مولوی ثناء اللہ کیساتھ آخری فیصلہ
اس عنوان کے نیچے مولوی صاحب کی بہت شکایت ہر ایک بیان کر کے لکھتے ہیں۔
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے (مرزا قادیانی کا یہ قطعی حکم یاد رہے ) اور اُس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔“ یہ تو مرزا قادیانی نے کذاب اور مفتری کے ہلاک ہو جانے کی خبر دی اور اس کی ہلاکت کی وجہ بھی بیان کر دی اس کے بعد دو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے بہت عاجزی سے دعا کی جس سے خوب ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مولوی ثناء اللہ صاحب سے نہایت تنگ ہیں پہلی دعا ملاحظہ ہو )
”اے میرے مالک ....... اگر میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات
٢٥
افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے، آمین!“ (یہ پہلی دعا تھی، اب دوسری دعا بھی ملاحظہ کی جائے)
”اے میرے آقا!...... اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما، اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اُس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔...... اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر آمین، ثم آمین!“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨/٥٧٩)
دیکھا جائے کہ کیسی عاجزانہ اور پر مغز دعا ہے، اس دعا کے کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ کی رحمت عامہ کا مقتضا یہ ہوا کہ مولوی صاحب کے سامنے مرزا قادیانی وبائی مرض میں مبتلا ہو کر بہت جلد اپنی دعا کے بموجب ہلاک ہو گئے اور اس دعا کی قبولیت میں تقریباً ایک سال کی دیر ہوئی زیادہ نہیں ہوئی، اور خدا کے فضل سے مولوی صاحب ابتک زندہ ہیں، (پاکستان بننے کے بعد سرگودھا میں فوت ہوئے) اس دعا کی قبولیت کا نہایت عمدہ اور مفید نتیجہ یہ ہوا کہ نہایت صفائی سے امر حق ظاہر ہو گیا یعنی مرزا قادیانی اپنے مکرر اقرار سے مفسد اور کذاب ٹھہرے اور جو علامت مفسد و کذاب کی انہوں نے بیان کی تھی وہ اُن میں پائی گئی اور مرزا قادیانی کے مقدمہ میں گویا اقراری ڈگری ہوگئی، اب حق پسند حضرات ان دعاؤں کو اور اُن کے انجام کو دیکھیں اور مرزا قادیانی کے اُن الہاموں پر نظر کریں جو انہوں نے اپنی قرب خداوندی اور عالی مرتبہ ہونے میں بیان کی ہیں۔...... ”مثلاً تو بمنزلہ میرے توحید کے ہے اور تو میرے مثل ولد کے ہے، مرزا قادیانی اپنے لئے یہ الہامات خداوندی بیان کرتے ہیں، ہمارے بھائی انصاف فرمائیں کہ جو ایسا مقرب بارگاہ خداوندی ہو وہ اس عاجزی سے دعا کر کے مشتہر کرے اور پھر اس دعا کا یہ نتیجہ ہو کہ اپنے اقرار کے بموجب تمام دنیا کے سامنے مفسد و کذاب ٹھہرے یہ ہو سکتا ہے، اس میں غور کر کے مرزا قادیانی کے بارے میں فیصلہ کیجئے، ان دونوں حضرات کے علاوہ اور بھی مرزا قادیانی کے مخالفین ہیں مثلاً مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کہ تا زندگی ان سے سخت مقابلہ رہا، بالآخر مرزا قادیانی ہی ان حضرات کے سامنے نہایت حسرت کیساتھ دنیا سے تشریف لے گئے اب یہ دیکھا جائے کہ فلاح پانے والے کون ہوئے؟
جو قادیانی حضرات مسلمانوں کو ڈرایا کرتے ہیں کہ جو مرزا قادیانی کا مخالف ہوا، جس
٢٦
نے انھیں برے الفاظ سے یاد کیا وہ ضرور مر جائیگا یا مصیبت میں مبتلا ہوگا وہ بتائیں کہ یہ حضرات جن کا ذکر کیا گیا ان سے زیادہ مرزا قادیانی کا مخالف کون ہے اور انھیں نہایت برا کہنے والا ان کے معائب کا ظاہر کرنیوالا کون ہے پھر دیکھئے کہ باوجود سخت مخالفت کیسے کامیاب رہے؟ اور صرف مرزا قادیانی ہی ان کے سامنے ہلاک نہیں ہوئے بلکہ ان کے خلیفہ اعظم اور جانشین اول بھی ان حضرات کے روبرو ہلاک ہوئے اور انھیں کے سامنے مرزا قادیانی کی جماعت میں نہایت تفرقہ پڑ گیا اور دو تین گروہ ہو گئے اور ہر ایک گروہ کے فضیحت کن حالات اخبار وطن شائع ہورہے ہیں اخبار وطن وغیرہ ملاحظہ کیا جائے اگر بقول بعض مرزائیان انھیں ڈھیل دی گئی تو یہ فرمائیے کہ بعض مخالف جو مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کر گئے تو مرزا قادیانی نے کیوں غل مچایا اور اپنی مخالفت کا نتیجہ ظاہر کیا۔ کیونکہ جس طرح یہاں ڈھیل دینے کیلئے کہا جاتا ہے اسی طرح اُن کے متبعین یہ کہیں گے کہ اس وقت مرزا قادیانی کو ڈھیل دی گئی تھی اور اس ڈھیل دینے کی عمدہ وجہ وہ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ مشیت الٰہی نے یہ قرار دے رکھا تھا کہ وہ اپنے ایک سخت مخالف کی پیشین گوئی کے مطابق ہلاک ہوں اور کاذب قرار پائیں اور دوسرے مخالف کے مقابلہ میں اعلانیہ طور سے اپنے اقرار سے مفسد و کذاب ثابت ہوں اگر اس سے پہلے مرتے تو اس امر حق کا ثبوت اس طور سے نہ ہوتا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ اب میں پھر آپ کو اصلی مطلب کی طرف توجہ دلاتا ہوں گذشتہ بیان سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ دنیا میں کسی قسم کی فلاح ایمان اور صداقت کی علامت نہیں ہے کیونکہ منکر خدا اور منکر رسول اور ہر قسم کے مفتری اور جھوٹے بہت کچھ کامیاب ہوئے اور ہورہے ہیں (منکر خدا میں فرعون کی کامیابی دکھائی گئی اور مفتری اور جھوٹوں میں صالح بن طریف اور اس کی اولاد کی فیروزمندی اور بادشاہت دکھائی گئی اور اس وقت کی حالت مشاہدہ ہورہی ہے دیکھا جائے کہ آریہ کس قدر مخالف اسلام ہیں اسی طرح پادریوں کو دیکھا جائے پھر اُن کی ترقی اور کامیابی کو ملاحظہ کیا جائے یہ بھی خیال رہے کہ اس کامیاب جماعت میں وہ بھی ہیں جنہوں نے وحی والہام کا جھوٹا دعویٰ کیا جن کی کامیابی سے مرزا قادیانی انکار کرتے ہیں) بالتخصیص یہ بھی دکھا دیا گیا کہ جھوٹے مدعی وحی والہام میں بھی بہت کچھ کامیاب ہوئے یہاں تک کہ بادشاہ ہو گئے بے شمار خلق نے انھیں نبی و رسول مانا اور اُن کے اعتقاد کی یہ نوبت پہنچی کہ لاکھوں نے انھیں سجدہ کیا اور سینکڑوں برس تک ان کی کامیابی کا آفتاب چمکتا رہا اور دعویٰ نبوت و رسالت کا پھریرا اڑتا رہا ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بالاتفاق جھوٹے اور مفسد تھے اور اُن حضرات کی کامیابی کو بھی دکھایا جو خاص مرزا ٢٧
قادیانی کے مخالف تھے جن کی ناکامی اور موت کے لئے مرزا قادیانی نے ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا مگر ان کا کچھ نہ ہوا بلکہ مرزا قادیانی ہی ناکام رہے اور جنہیں وہ مفسد و کذاب کہتے تھے وہ ہی کامیاب ہوئے۔ (اس کی نظیر میں ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب جو الہام کے بھی مدعی ہیں اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی پیش کئے گئے آخرالذکر مولوی صاحب وہ ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی سے مباہلہ کیا تھا اور کامیاب ہوئے تھے۔)
(اعلان اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی مطبوعہ ١٣١٤ء ملاحظہ ہو۔)
اب دوسرے پہلو پر نظر کیجئے اور بعض مؤمنین کاملین کی حالت ملاحظہ فرمائیے اگرچہ قرآن مجید میں عام سچے مسلمانوں کے لئے فلاح کو خالص کیا ہے مگر ہم بعض مؤمنین کاملین کی دنیاوی ناکامی دکھا کر یہ ثابت کرینگے کہ قرآن مجید میں فلاح سے مراد دنیا کی کامیابی نہیں ہے کیونکہ دنیا کی ناکامی اگرچہ نہایت درجہ کی ہو مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ شخص مسلمان نہیں ہے یا یہ مدعی جھوٹا ہے خوب متوجہ ہو کر دیکھئے کامل مسلمانوں میں سب سے اعلیٰ مرتبہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے اس لئے میں بعض انبیاء کی حالت دکھاتا ہوں اور ان میں سے حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا اور حضرت ایوب علیہم السلام کی حالت پیش کرتا ہوں ذرا عبرت کی نگاہ سے دیکھئے ان میں حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ ہیں جنہیں مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ سے بہت افضل بتاتے ہیں۔
(رسالہ دافع البلا کا صفحہ آخر، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠ حاشیہ ملاحظہ کیا جائے)
اور قرآن مجید میں ان کی فضیلت خاص طور سے بیان ہوئی ہے اور علمائے محققین نے انہیں سید الشہدا کہا ہے
حضرت یحییٰ علیہ السلام
حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماموں اور ہمسن تھے صرف چھ مہینے بڑے تھے بعض کہتے ہیں کہ تین برس آپ کی تعریف میں تفسیر درمنثور میں ایک حدیث نقل کی ہے اس کا نقل کر دینا کافی ہے جس سے حضور انور کی حالت اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مرتبت ظاہر ہوتی ہے صحابہ کرام انبیاء کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے حضور انور تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا ذکر کر رہے ہو صحابہؓ نے عرض کیا جن انبیاء کی فضیلت کا ذکر اُس وقت آیا اُن میں حضرت یحییٰ کا ذکر نہیں تھا۔ ”فقال اما انہ لاینبغی ان یکون احد خیرا من یحییٰ بن زکریا اما
سمعتم الله كيف وصفه فى القرآن يا يحيى خذ الكتاب بقوة“ الخ
(درمنثور ص ٢٦٢ ج ٤ عن ابن عباس)
قرآن مجید میں جو اوصاف حضرت یحییٰؑ کے آئے ہیں اُس کی بناء پر جناب رسول اللہؐ نے اپنا خیال صحابہ سے ظاہر فرمایا کہ زیبا نہیں ہے کہ یحییٰؑ پر کسی کو فضیلت ہو‘ تم نے اللہ کا کلام نہیں سنا‘ اللہ تعالیٰ قرآن میں اُن کی کیسی تعریف کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے یحییٰ کتاب مضبوط پکڑ آپ لڑکپن ہی سے بڑے عابد اور پرہیزگار اور اعلیٰ درجہ کی فہم رکھتے تھے ایک روز لڑکوں نے آپ سے کھیلنے کو کہا تو فرمایا کہ ہم اس لئے نہیں بنائے گئے۔ آپ کی خوراک درختوں کے پتے اور جنگل کی گھاس تھی آپ کے پاس دنیا کے مال ومتاع سے کچھ بھی نہ تھا اور نہ رہنے کو مکان تھا کمبل پہنتے اور جہاں رات ہوتی پڑ رہتے عبادت کرتے کرتے آپ بالکل نحیف ولاغر ہو گئے تھے اور خوف خدا سے روتے روتے آپ کے رخساروں کا گوشت جاتا رہا تھا جس سے آپ کی ڈاڑھیں معلوم ہوتی تھیں جس پر آپ کی والدہ نے دو ٹکڑے سوتی کپڑے کے رکھ دیئے تھے تا کہ دانت کو ڈھانپ لیں خدا تعالیٰ کی خشیت اور زہد ایسا غالب تھا کہ دنیا کی کسی شے پر نظر نہیں پڑتی تھی اور نہ دنیا کی کوئی خواہش آپ کے دل میں پیدا ہوتی تھی اسی لئے تمام عمر آپ نے عورت کی صورت نہیں دیکھی آپ کے والد حضرت زکریاؑ اگر وعظ فرماتے اور اُس میں آپ ہوتے تو حضرت زکریاؑ آپ کے خیال سے دوزخ وجنت کا ذکر نہ فرماتے‘
یہاں آپ کی تمام عمر کی گذران پر نظر کی جائے کہ کس عسرت اور تنگی سے آپ نے اپنی زندگی بسر کی اب اہل دنیا اور مرزا قادیانی ایسے سخت گذران کو کیا کہیں گے اور اُس وقت جو حضرت یحییٰؑ کے مخالف تھے۔ وہ آپ کو کس قدر نامراد اور ناکام کہتے ہوں گے اور خصوصاً اس واقعے سے جو انجام کار آپ کے ساتھ پیش آیا اور باوجود نہایت عالی مرتبہ نبی ہونے کے کس مظلومانہ حالت سے شہید کئے گئے تقریباً ٣٠ برس کی عمر میں بادشاہ نے آپ کو قید کیا اور دو برس تک قید میں رہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی آسمان پر اُٹھائے نہیں گئے تھے کہ آپ (یحییٰؑ) کا سر مبارک بادشاہ نے کٹوا کر آپ کے مخالف دشمن کے حوالہ کیا۔ غرضیکہ ٣٢ برس کا آپ کا سن تھا کہ آپ شہید کئے گئے آپ کی پوری حالت بیان کرنے کے لئے تو ایک رسالہ ہونا چاہیے اس مقام پر صرف اس امر کی ضرورت ہے کہ آپ کے شہید ہونے کا ذکر کیا جائے اس لئے میں نہایت معتبر شہادتوں سے اس کا ثبوت پیش کرتا ہوں اور اس قدر کتب تفاسیر اور تواریخ وغیرہ کے حوالے آپ کو دکھاتا ہوں
٢٩
کہ آپ کو بجز سر تسلیم خم کرنے کے کچھ چارہ نہ ہوگا۔
کتب تفاسیر
- ١۔ نام تفسیر: تفسیر عزیزی
اصل عبارت : وَيَقْتُلُونَ النَّبِيّين یعنی ”وی گفتند پیغمبران را چنانچہ حضرت شعیا وزکریا ویحییٰ علیہ السلام را کشتند وحضرت عیسیٰ علیہ السلام را نیز بزعم خود بردار کشیدند۔“ حاصل مطلب : یہود نے پیغمبروں کو شہید کیا چنانچہ حضرت شعیا کو اور زکریا اور یحییٰ کو قتل کیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی اپنے گمان میں سولی دیدی،
- ٢۔ نام تفسیر: بیضاوی ص ٧٩
اصل عبارت : وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ فَأَنَّهُمْ قَتَلُوا شعيا ، زكريا ويحيى وغيرهم عليهم السلام حاصل مطلب : بلاشبہ یہود نے حضرت شعیا اور حضرت زکریا وحضرت یحییٰ وغیرہ کو قتل کیا علیہم السلام
- ٣۔ نام تفسیر: مدارک التنزیل جز ١ ص ٤١
اصل عبارت : وقد قتلت اليهود شعيا و زكريّا و يحيىٰ صلوة الله عليهم حاصل مطلب : یہود نے حضرت شعیا وحضرت زکریا وحضرت یحییٰ کو قتل کیا،
- ٤۔ نام تفسیر: جلالین مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ١٤
اصل عبارت : وَفَرِيقًا تَقْتُلُوْن اى قتلتم زكريا ويحيىٰ حاصل مطلب : یعنی تم نے قتل کیا حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو۔
- ٥۔ نام تفسیر: معالم التنزیل (مطبوعہ بمبئی) ج ١ ص ٣٨
اصل عبارت : وَفَرِيقًا تَقْتُلُوْن اى قتلتم مثل زكريا و يحيىٰ و شعيا وسائر من قتلوا من الانبياء عليهم السلام حاصل مطلب : یہود سے خطاب ہے کہ تم نے قتل کیا زکریا کو یحییٰ کو اور شعیا کو اور سوا ان کے اور انبیاء کو علیہم السلام
- ٦۔ نام تفسیر: مراح اللبید مطبوعہ مصر مصنفہ امام نوویؒ
اصل عبارت : روى ان اليهود قتل سبعين نبيا فى اول النهار ولم يهتموا حتى قاموا فى اخر النهار يتسوقون مصالحا و قتلوا زكريا و يحيىٰ وشعيا و غير هم من
٣٠
الانبياء عليهم السلام لَمْ يجعل لَهُ من قبل سميّا اى شبيهاً في الفضل و الكمال فانه لم يعص ولم يهم بمعصية من حال الصِغر وانه صار سيد الشهداء على الاطلاق
حاصل مطلب: امام نووی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہود نے ابتدائے دن میں ستر انبیاء کو قتل کیا اور اس کا کچھ غم و الم اُنھیں نہ ہوا یہاں تک کہ سہ پہر کو اپنے کام کے لئے بازار گئے اور حضرت زکریا اور یحییٰ اور شعیا وغیرہ کو قتل کیا علیہم السلام حضرت یحییٰ کی تعریف میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس کا سا صاحب فضل و کمال کسی کو نہیں کیا اُنہوں نے بچپن سے آخر عمر تک گناہ کرنا تو کیسا گناہ کا خیال بھی نہیں کیا اور جتنے انبیاء و اولیا وغیرہ شہید ہوئے مرتبہ شہادت میں سب کے سردار آپ ہوئے‘‘۔ اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی شہادت کا واقعہ نہایت ہی عبرت خیز ہے جس کا ذکر آئندہ آئیگا۔
- ٧۔ نام تفسیر: الوجیز فی تفسیر القرآن العزیز
اصل عبارت: فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ مثل عیسٰی و مُحمّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَفَرِيقًا تَقْتُلُوْنَ مثل یحییٰ وَزکریّا حاصل مطلب: تم نے انبیاء کے ایک گروہ کی تکذیب کی جیسے عیسیٰ اور محمدؐ اور ایک گروہ کو قتل کیا مثلاً یحییٰ اور زکریا علیہم السلام
- ٨۔ نام تفسیر: نیشاپوری برحاشیہ طبری ج اول
اصل عبارت: وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ وَقَدْ قَتَلُوا اليهود يعنو اشعيا و زكريا ويحيٰى وغيرهم حاصل مطلب: یہود ملعون نے شعیا اور زکریا اور یحییٰ وغیرہ کو بلاشبہ قتل کیا، علیہم السلام
- ٩۔ نام تفسیر: مظہری جلد ١ ص ٧١
اصل عبارت: روى ان اليهود قتلت سبعين نبيا فى يوم واحد اوّل النهار، وقتلتم مثل زکریا ويحيٰى و شعيا وغيرهم حاصل مطلب: مروی ہے کہ یہود نے ایک دن میں بیشتر انبیاء کو قتل کردیا تم نے (یہود نے) حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت شعیا کو قتل کیا۔
- ١٠۔ نام تفسیر: کشاف جلد اول ص ١٤٦
٣١
اصل عبارت: ذلک ای بسبب کفر هم وقتلهم الانبیاء و قد قتلو الیهود لعنو اشعیا و زکریا و یحییٰ و غیر هم ، حاصل مطلب: یہود ملعون نے حضرت شعیا اور زکریا و یحییٰ وغیرہم کو قتل کیا۔
- ١١۔ نام تفسیر: رحمانی ص ٤٦
اصل عبارت: ویقتلون النبیین شعیا و زکریا و یحییٰ و غیر هم علیهم السلام حاصل مطلب: یہود نے قتل کیا شعیب کو اور زکریا اور یحییٰ وغیرہ کو علیہم السلام
- ١٢۔ نام تفسیر: تفسیر خازن ج اول ص ٥٨
اصل عبارت: یروی ان الیهود قتلت سبعین نبیا فی اول النهار وقامت الی السوق بقلها فی آخره و قتلوا زکریا و یحییٰ و شعیا وغیرهم من الانبیاء حاصل مطلب: روایت ہے کہ یہود نے ابتداء دن میں ستر انبیاء کو قتل کیا اور دن کے آخر میں اپنے بازار کا کام کیا اور حضرت زکریا اور یحییٰ اور شعیا وغیرہ انبیاء کو قتل کیا۔
- ١٣۔ نام تفسیر: تفسیر علامہ ابی السعود جلد اوّل جز اوّل ص ١٠٧
اصل عبارت: وَيَقْتُلُوْنَ النبیین بِغَيْرِ الْحَقِّ کشعیا و زکریا یحییٰ علیهم السلام حاصل مطلب: یہود نے انبیاء کو قتل کیا مثلاً حضرت شعیا کو اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کو علیہم السلام
- ١٤۔ نام تفسیر: درمنثور جلد ٤-٢٦٢۔ ایضاً جلد ١ ص ٧٣
اصل عبارت: قال النبی صلی الله علیه وسلم ابن اشهید ابن اشهید یلبس الوبر و یاکل الشجر مخافة الذنب یحییٰ بن زکریا علیه السلام حاصل مطلب: صحابۂ انبیاؤں کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ شہید کے بیٹے شہید کہاں ہیں ان کا ذکر نہیں کرتے جو کمبل پہنتے تھے اور پتے کھاتے تھے یعنی یحییٰ زکریا کے بیٹے علیہم السلام، یہاں صاف حدیث سے حضرت یحییٰ اور زکریا علیہم السلام کا شہید ہونا ثابت ہوا، تفسیر در منثور کے حوالے مرزا قادیانی نے اپنے دعوؤں کے اثبات میں بہت دیئے ہیں اس لئے ان کے متبعین کو ضرور ہے کہ اس روایت کو وہ تسلیم کریں حدیث کا یہ ٹکڑا کنز العمال میں ابن شہاب زہری سے مرسل مروی ہے اور اب مرزائیوں کے کنز العمال کے حوالے دیکھے جاتے ہیں اس لئے یہ روایت بھی انہیں ماننا ہو گی غرضیکہ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا کا شہید ہونا حدیث مرفوع اور حدیث مرسل دونوں سے ثابت ہو گیا۔
٣٦
ويقتلون النبیین اخرج ابو دائود الطیالسی عن ابن مسعود قال کانت بنو اسرائیل فی الیوم تقتل ثلث مائة نبی ثم یقیمون سوق بقلهمم فی أخر النهار
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ایک روز میں تین سو انبیاء کو قتل کیا اور پھر دوسرے وقت بازار ہاٹ کا کام کیا یعنی ایسے برگزیدگان خدا کے قتل کی کچھ پرواہ نہیں کی اس روایت کو ابوداؤد طیالسی نے نقل کیا ہے۔
١٥۔ نام تفسیر: النہر الماد بر حاشیہ بحر محیط ج ١ ص ٢٣٦ اصل عبارت: ويقتلون النبیین یحییٰ و شعیا و زکریا قیل قتلوا ثلث مائة نبی اوسبعین حاصل مطلب: یہود نے انبیاء کو قتل کیا یعنی حضرت یحییٰ اور شعیا اور حضرت زکریا کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو انبیاء کو بنی اسرائیل نے قتل کیا یا ستر کو یعنی دونوں روایتیں ہیں۔
١٦۔ نام تفسیر: بحر محیط جلد اول ص ٢٣٦ اصل عبارت: ويقتلون النبیین قتلوا یحییٰ و شعیا و زکریا وروی عن ابن مسعود قتل بنو اسرائیل سبعین نبیاً وفی روایة ثلث مائة نبی فی اول النهار وقامت سوق بقلهم فی آخره حاصل مطلب: یہود نے حضرت یحییٰ اور شعیا اور زکریا کو قتل کیا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل نے ستر نبیوں کو قتل کیا اور ایک روایت میں تین سو انبیاء کا قتل ہونا آیا ہے۔
١٧۔ نام تفسیر: تفسیر ابن عباس بر حاشیہ در منثور جلد اول ص ٣٩ اصل عبارت: وَفَرِيْقًا تقتلون وَفَرِیقًا قتلهم یحییٰ و زکریا علیہ السلام حاصل مطلب: حضرت عبداللہ ابن عباس صحابی رضی اللہ عنہ کی تفسیر جو مشہور ہے اُس میں بھی وہ فرماتے ہیں کہ یہود کے ایک گروہ نے حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا کو قتل کیا
١٨۔ نام تفسیر: جمل ج ١ ص ٧٢ اصل عبارت: روی ان الیهود قتلت سبعین نبیاً فی اول النہا رولم یبالوا ولم یغتمواحتی قاموا فی اخر النهار یتسوقون مصالحهم وقتلوا زکریا ویحییٰ و شعیا و غیر ہم من الانبیاء حاصل مطلب: مروی ہے کہ یہود نے ایک دن دوپہر سے پہلے ستر انبیاء کو قتل کیا اور کچھ پرواہ اس کی نہ کی کہ ہم نے خدا کے برگزیدہ رسولوں پر یہ ظلم کیا یہاں تک کہ سہ پہر کو بازار ہاٹ کا
٣٣
کام بے تکلف کیا اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت شعیا وغیرہ انبیاء کو بھی قتل کیا۔
- ١٩۔ نام تفسیر: کبیر ج ٢ ص ٢٦٢
اصل عبارت: قال ابن عباس ثم قتل یحییٰ قبل رفع عیسیٰ علیهما السلام
حاصل مطلب: حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے اُٹھائے جانے سے قبل یحییٰؑ قتل کئے گئے۔
ویوم یبعث حیا و انما قال (حیا) تنبیها علی کونه من الشهداء لقوله تعالیٰ (بل احیاء عند ربهم یرزقون) ایضاً
حضرت یحییٰؑ کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز حالت زندگی میں اُٹھائے جائیں گے امام رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ لفظ حیا نے متنبہ کر دیا کہ حضرت یحییٰؑ شہیدوں میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں جب حضرت یحییٰؑ کی نسبت خاص طور پر ارشاد خداوندی ہے کہ وہ قیامت کے روز زندہ میدان حشر میں لائے جائیں گے بغیر مر کر جلائے جانا اور میدان میں اُن کا لانا تو حضرت یحییٰؑ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مخلوق کا یہی حال ہوگا تو حضرت یحییٰؑ کی نسبت یہ کہنا کہ وہ زندہ اُٹھائے جائیں گے اسی غرض سے ہے کہ وہ شہید ہو کر اللہ کے پاس زندہ رہے اور اُسی زندگی کی حالت میں میدان حشر میں آ کھڑے ہوں گے حضرت یحییٰؑ کے شہید ہونے پر امام رازی کا یہ عمدہ استدلال ہے۔ الحاصل حضرت یحییٰؑ کا شہید ہونا امام رازی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں اور اس سے پہلے قول میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے قول سے ان کا شہید ہونا بیان کیا تھا امام رازی کی تفسیر کا حوالہ مرزا قادیانی اپنے قول کے ثبوت میں شدومد سے پیش کرتے ہیں انجام آتھم دیکھا جائے اسی سے معلوم ہوا کہ تفسیر کبیر بہت مستند تفسیر ہے۔
- ٢٠۔ نام تفسیر: ابوالسعود جلد اول جز ثانی ص ٣٢
اصل عبارت: قال ابن عباسؓ ان یحییٰ کان اکبر من عیسیٰ علیهم الصلوة و السلام بستة اشهر و قیل بثلث سنین و قتل قبل رفع عیسیٰ علیه السلام بمدة یسیرة
حاصل مطلب: عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یحییٰؑ عیسیٰؑ سے چھ مہینے بڑے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ تین برس اور حضرت عیسیٰؑ کے اُٹھائے جانے کے کچھ دنوں پہلے حضرت یحییٰؑ قتل کئے گئے۔
- ٢١۔ نام تفسیر: روح المعانی ج ٢ ص ١٢٩
٣٤
اصل عبارت : سمی یحییٰ لانه علم اللہ سبحانہ ان يستشهد و الشهداء احیاء عند ربهم يرزقون
حاصل مطلب : صاحب روح المعانی نے یحییٰ نام رکھنے کی کئی وجہ بیان کی ہیں ایک وجہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ کا نام اللہ تعالیٰ نے یحییٰ اس لئے رکھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ شہید ہونیوالے تھے اور شہداء اللہ کے نزدیک زندہ ہیں انھیں موت نہیں ہے اور یحییٰ کے معنی زندہ کے ہیں اس لئے ان کا نام یحییٰ رکھا گیا یعنی ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
ويحيٰ عليه السلام انما قتل لقصة تلك المرأة لعنها الله تعالى وكذلك زكريا ۔ ایضاً جزء اوّل ص ٢٥٢
حضرت یحییٰؑ اور زکریا اس ملعونہ عورت کے قصہ کی وجہ سے قتل کئے گئے (جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
- ٢٢۔ نام تفسیر : فتح البیان جلد ١ ص ١٢٠
اصل عبارت : لان الانبياء لم يعارضو هم فى مال ولا جاه بل ارشد وهم الى مصالح الدين والدنيا كما كان من شعيا و زكريا ويحيىٰ فانهم قتلوهم و هم يعلمون ويعتقدون انهم ظالمون وانما حملهم على ذلك حب الدنيا واتباع الهوىٰ
حاصل مطلب : انبیاء علیہم السلام نے کسی کے مال وجاہ میں جھگڑا نہیں کیا بلکہ دین اور دنیا کے مصالح کی طرف اُنہیں ہدایت کی مثلاً حضرت شعیا اور زکریا اور یحییٰ (علیہم السلام) نے‘ مگر انہوں نے ان انبیاء کو قتل کیا حالانکہ جانتے تھے کہ ہم ظالم ہیں اور دنیا کی محبت اور نفس کی پیروی نے اُنہیں اس پر آمادہ کیا تھا مرزائیوں کی حالت سے اس کا معائنہ ہو رہا ہے قتل کرنے سے تو مجبور ہیں مگر اور سب کچھ کر رہے ہیں جنہیں کوئی سچا مسلمان نہیں کہہ سکتا ۔
عن ابن مسعود قال كانت بنو اسرائيل فى اليوم تقتل ثلث مائة نبى ثم يقيمون سوق بقلهم فى آخر النهار .
عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ایک دن میں انہوں نے تین سو انبیاء کو قتل کیا اور شام کو ترکاری کا بازار لگایا‘ یعنی کچھ پرواہ نہیں کی‘
- ٢٣۔ نام تفسیر : الفتوحات الہيہ جلد ١ ص ٧٢
اصل عبارت : قوله و يقتلون النبين الخ روى عن اليهود قتلت سبعين نبياً في اول النهار ولم يبالوا ولم يغتموا حتى اقاموا في اخر النهار يتسوقون مصالحهم وقتلوا زكريا. حاصل مطلب : روایت ہے کہ یہود نے ستر انبیاء کو سویرے شہید کر دیا اور کچھ پرواہ نہ کی اور ایسے بے پرواہ ہوئے کہ شام کو بازار کے کام کئے اور زکریا اور یحییٰ اور شعیاء وغیرہ کو قتل کیا۔ انبیاء کے قتل کی تعداد بعض روایتوں میں تین سو ہے اور بعض میں ستر ہے اس کی ظاہر وجہ یہ ہے کہ قتل کا ایک واقعہ نہیں ہے متعدد واقعے ہیں، کسی وقت ستر انبیاء کو قتل کیا اور کسی وقت تین سو یہ دونوں واقعے علیحدہ علیحدہ روایت ہوتے چلے آتے ہیں
یہ ٢٤ تفسیروں کی شہادتیں پیش کی گئی اب چند مؤرخیں کی گواہیاں بھی ملاحظہ ہوں ۔
عبارات کتب تواریخ
نمبر شمار : ٢٤/١ نام کتاب : تاریخ طبری جلد ٢ ص ١٣، ١٤ اصل عبارت : ان يحيى قتل قبل ان يرفع عيسى قال حاجتى ان تذبح لى يحيى بن زكريا فقال سلينى غير هذا قالت ما اسئلک الا هذا قال فلما ابت عليه دعا يحيى و دعا بطست فذبحه انتهى ملتقطاً . مطلب : علامہ مؤرخ طبری لکھتے ہیں کہ حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے سے پہلے شہید کئے گئے اھ ۔ مؤرخ ممدوح حضرت یحییٰ کی شہادت کی وجہ اس طرح روایت کرتا ہے کہ اُس وقت کا بادشاہ اپنی بھتیجی پر فریفتہ تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا اور بسبب ممنوع ہونے کے حضرت یحییٰ اُسے منع کرتے تھے ایک روز وہ آئی اور بادشاہ نے اُس سے کہا تو کیا مانگتی ہے اُس ( ملعونہ ) نے کہا کہ حضرت یحییٰ کو ذبح کر کے مجھے دیدے بادشاہ نے کہا کچھ اور مانگ لڑکی نے کہا میں اور کچھ نہیں مانگتی یہی مانگتی ہوں بادشاہ نے حضرت یحییٰ کو بلایا اور ایک طشت منگایا اور سر مبارک کاٹ کر اس میں رکھ دیا اس کے بعد مؤرخ نے حضرت یحییٰ کے قتل کرنیکی مفصل وجہ ص ١٥٤ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے۔
نمبر شمار : ٢٥/٢
٣٦
نام کتاب : ابن خلدون جلد ٢ اصل عبارت : وقتل فيهم يحيى صلوة الله عليه وقد ذكر في قتله اسباب كثيرة ص ١٤٤ اختصار کے خیال سے پوری عبارت نقل نہیں کی گئی صرف حضرت یحییٰ کے قتل کے متعلق جملہ لکھ دیا گیا ہے مطلب : ابن خلدون نے حضرت عیسیٰ کی پیدائش اور ان کی نبوت اور آسمان پر اُٹھائے جانے کے ذکر میں حضرت یحییٰ کی ولادت اور شہادت کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اُس وقت یہود کا بادشاہ ہیرودس تھا اور بڑا شریر اور فاسق تھا اُس نے کتنے حقانی علماء کو قتل کیا اور حضرت یحییٰ کو بھی شہید کر دیا اور آپ کے شہید کر دینے کے مختلف وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔
نمبر شمار: ٢٦/٣
نام کتاب : تاریخ طبری فارسی جلد ٢ ص ٢٣٥ اصل عبارت : پس ملک دراں مستی بفرمود کہ سر یحییٰ را بیارند و یحییٰ علیہ السلام را سر بریدند و در طشتی نہادہ بہ پیش ملک بردند و ملک آں طشت را با سر بریدۂ یحییٰ علیہ السلام پیش آں دخت نہاد۔ مطلب : تاریخ طبری فارسی میں علامہ ابوعلی محمد نے حضرت مریم کے انتقال اور حضرت یحییٰ کے شہید ہونے کی نسبت خاص باب منعقد کر کے حضرت یحییٰ کے شہید ہونیکی حالت لکھی ہے کہ بادشاہ ہیرودس نے نشہ میں سرشار ہو کر اپنی محبوبہ کے کہنے سے حضرت یحییٰ کے سر کاٹنے کا حکم دیا اور اس کے لوگ سر مبارک کاٹ کر لائے اور طشت میں رکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کیا اور بادشاہ نے وہ طشت معہ اُس سر مبارک کے اپنی محبوبہ لڑکی کو دیدیا“۔
نمبر شمار: ٢٧/٤
نام کتاب : تاریخ کامل جلد اول ص ٢٣٠/ ٢٣١ باب ذِکْرُ المَسِیحِ عِیسٰی بن مریم و یحییٰ بن زکریا علیہم السلام اصل عبارت : وبعث الله عيسى رسولا نسخ بعض احكام التوراة فكان ممانسخ انه حرم نكاح بنت الاخ و كان لملكهم و اسمه هيرودس بنت اخ تعجبه يريدان يتز وجها فنهاه يحيىٰ عنها وكان بها كل يوم حاجته يقضيها لها فلما بلغ ذلک امها قالت لها اذا سالک الملک ماحاجتک فقولى ان تذبح یحییٰ ابن زکریا فلما دخلت عليه وسألها ماحاجتك قالت اريد ان تذبح يحيىٰ
٣٧
بن زکریا فقال سئل غیر هذا قالت ما اسالک غیرہ فلما ابت دعا یحییٰ و دعا بنطع فبسط فذبحه فلما رأت الرأس قالت الیوم قرت عینی
مطلب : علامہ ابن اثیر اپنی مشہور تاریخ کامل میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو اپنا رسول کہا۔ انہوں نے توریت کے بعض احکام منسوخ کئے جو احکام منسوخ کئے گئے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ بھائی کی بیٹی سے نکاح حرام ہے پہلے حرام نہ تھا اس وقت جو بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا اُس کی ایک بھتیجی تھی وہ اُسے بہت چاہتا تھا اور اُس سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا تھا حضرت یحییٰؑ نے اُسے منع کیا وہ لڑکی اُس بادشاہ کے پاس آیا کرتی تھی اور جو خواہش وہ کرتی تھی بادشاہ اُسے پورا کرتا تھا اتفاق سے لڑکی کی ماں کو خبر پہنچی کہ حضرت یحییٰؑ لڑکی کے نکاح کو منع کرتے ہیں۔ اُس نے اپنی لڑکی سے کہہ دیا کہ بادشاہ جس وقت پیار میں تجھ سے دریافت کرے کہ تو کیا چاہتی ہے تو کہیو کہ یحییٰؑ کو ذبح کر دے اُس کے بعد جو وہ لڑکی بادشاہ کے پاس گئی اور بادشاہ نے اُس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتی ہے اُس نے حضرت یحییٰؑ کا سر مانگا بادشاہ نے کہا کہ اس کے سوا اور کچھ مانگ لڑکی نے کہا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگتی جب اس لڑکی نے انکار کیا تو بادشاہ نے حضرت یحییٰؑ کو بلایا اور ایک طشت منگایا اور حضرت یحییٰؑ کا سر مبارک کاٹ کر طشت میں رکھ دیا اُس لڑکی نے جب سر مبارک کو طشت میں رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ آج میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
نمبر شمار: ٢٨/٤ نام کتاب: الاخبار الطوال ص ٤٢ اصل عبارت: لما انبعث الله عیسیٰ بن مریم فاقبلت الیهود لقتله فرفعه الله الیه الو یحییٰ بن زکریا فقتلوہ
مطلب : جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تو یہود ان کے قتل کے درپے ہوئے انہیں اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا حضرت یحییٰؑ تشریف لائے انہیں یہود نے قتل کر دیا ظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰؑ حضرت عیسیٰ کے رفع کے بعد قتل کئے گئے مگر اور کتب تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ پہلے شہید کئے گئے ہیں شاید مؤرخ کا مقصود دونوں واقعوں کا بیان کرنا ہے ترتیب واقعہ کا ذکر مقصود نہیں ہے حاصل یہ کہ حضرت یحییٰؑ کا شہید ہونا جس طرح اور مؤرخین نے بیان کیا اسی طرح صاحب اخبار الطوال بھی بیان کرتا ہے۔
نمبر شمار: ٢٩/٦
٨
نام کتاب : تاریخ الفدا جلد اول ص ٣٤
مطلب : حضرت زکریا حضرت مریم کے خالو تھے اس لئے مریم انہیں کی کفالت میں تھیں قدرت خدا سے جب یہ حاملہ ہوئیں تو یہود نے حضرت زکریا پر تہمت لگائی اور انہیں پکڑنا چاہا یہ بھاگے اور ایک بہت موٹے درخت میں پوشیدہ ہو گئے یہود نے اُس درخت کو کاٹ ڈالا حضرت زکریا بھی اُس میں کٹ گئے حضرت یحییٰ کے قتل کی وجہ بھی بیان کی ہے کہ ہیرودس بادشاہ اپنی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا حضرت یحییٰ نے منع فرمایا اس وجہ سے اُس لڑکی کی ماں دشمن ہو گئی اس لئے اُس نے اور اُس کی بیٹی نے بادشاہ سے بہت اصرار سے کہا کہ یحییٰ کو مار ڈال بادشاہ نے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ اُن کے روبرو قتل کرائے گئے۔
نمبر شمار: ٣٠/٧
نام کتاب : انجیل متی باب ١٤ آیت ٣ تا ١١ ص ٢٠ ۔ ٢١
مطلب : ہیرودس نے یوحنا ( یحییٰ ) کو ہیرودیاس کے سبب جو اُس کے بھائی فیلپوس کی جورو تھی گرفتار کیا اور باندھ کے قید خانہ میں ڈال دیا تھا (اس لئے کہ یوحنا نے اُس سے کہا تھا کہ تجھے اُس کو رکھنا روا نہیں ) اور ہیرودس نے چاہا کہ اُسے مار ڈالے پر عوام سے ڈرا کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے پر جب ہیرودس کی سالگرہ لگی ہیرودیاس کی بیٹی ان کے درمیان ناچی اور ہیرودس کو خوش کیا چنانچہ اُس نے قسم کھا کے وعدہ کیا کہ جو کچھ تو مانگے گی میں تجھے دوں گا تب وہ جیسا اُس کی ماں نے اُسے سکھا رکھا تھا بولی کہ یوحنا (یحییٰ) بپتسمہ دینے والے کا سر تھالی میں یہیں مجھے منگوا دے.... تب اُس نے لوگوں کو بھیج کر قید خانہ میں یوحنا (یحییٰ ) کا سر کٹوایا اور اُس کا سر تھالی میں لا کے اُس لڑکی کو دیا‘
نمبر شمار : ٣١/٧
نام کتاب : انجیل مرقس باب ٦
مطلب : اس میں بھی وہی مضمون ہے جو ابھی انجیل متی سے نقل کیا گیا‘
یہ دونوں حوالے تاریخی حیثیت سے نقل کئے گئے ہیں یعنی اگرچہ اُس کتاب سے نقل کئے ہیں جسے تمام نصاریٰ انیس سو برس سے آسمانی کتاب مقدس مانتے چلے آئے ہیں۔ اور مرزا قادیانی نے بھی انہیں کتاب مقدس مانا ہے اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ (توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢۔٥٣ ملاحظہ کیا جائے) مگر میں اس وقت تاریخی حیثیت سے اس کا
٣٩
حوالہ دے رہا ہوں، عیسائیوں کا محقق اور طے شدہ قول ہے کہ پہلی انجیل حضرت مسیحؑ کے مقرب حواری کی لکھی ہے اور تمام عیسائی مانتے ہیں، یہ حواری حضرت یحییٰؑ کے ہمعصر تھے اور دوسری انجیل حواری کے ایک شاگرد نے لکھی ہے غرضیکہ یہ دونوں تاریخیں حضرت یحییٰؑ کی شہادت کے قریب لکھی گئیں اور ایک عظیم الشان گروہ اُس کتاب کو مقدس اور آسمانی کتاب اعتقاد کر کے اُس کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرتا ہے اس لئے کم سے کم تاریخی حیثیت سے اُسے معتبر ماننے میں کلام نہیں ہو سکتا، یہ ٣١ شہادتیں تو معتبر مفسرین اور مؤرخین کی ناظرین ملاحظہ کر چکے اب میں خاص ان کی شہادت پیش کرتا ہوں جن کے مرید حضرت یحییٰؑ کی شہادت کو جھوٹ بتاتے ہیں۔
(٣٢) شہادت حضرت یحییٰؑ کے شہید ہونیکی
بقول خود مجدد دوران مسیح قادیان مرزا غلام احمد قادیانی اپنی مایہ فخر کتاب ازالۃ الاوہام کے حصہ اوّل میں فرماتے ہیں ”۔ حضرت یحییٰؑ نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٦ خزائن ج ٣ ص ١١٠)
(حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کئے جانے کی وجہ ہم نے انجیل سے اور متعدد تاریخوں سے نقل کی ہے جو نہایت معقول وجہ ہے، مگر مرزا قادیانی ایسی معتبر وجہ کو نہیں لکھتے چونکہ انبیاء کی عظمت مرزا قادیانی کے قلب میں نہیں ہے اور اپنی بد زبانی کے الزام کو اُٹھانا چاہتے ہیں اس لئے حضرت یحییٰؑ کے شہید کئے جانے کی وجہ انجیل کے اور مؤرخین ومفسرین کے خلاف ایسی بیان کرتے ہیں جن سے ان کی تیز زبانی ثابت ہو۔)
اب مرزا قادیانی کے وہ مرید اور سلطان القلم کے شاگرد کہاں ہیں جو حضرت یحییٰؑ کے واقعہ شہادت کو جھوٹ بتاتے ہیں؟ اب انہیں چاہئے کہ اپنے مرشد کو جھوٹا کہیں، کیونکہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ حضرت یحییٰؑ نے سخت کلامی کر کے یہود سے اپنا سر کٹوایا، اس کا مطلب یہی ہے کہ یہود نے آپ کو شہید کیا۔
اب جماعت احمدیہ مرزائیہ کی بے خبری اور بے علمی لائق ملاحظہ ہے کہ جس واقعہ کو تیرہ سو برس سے تمام علماء حقانی تسلیم کرتے رہے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے اقوال سے اُس کی تصدیق ہو رہی ہے حدیث میں اُس کا ثبوت موجود ہے، بعض مفسرین نے قرآن مجید کے الفاظ سے اُسے
٤٠
ثابت کیا ہے تمام علماء مفسرین اور محدثین اور مؤرخین ایک زبان ہو کر اس واقعہ کے مصدق ہیں کسی کا اختلاف اس میں نہیں پایا جاتا‘ بایں ہمہ جماعت مرزائیہ انبیاء کرام کی شہادت سے انکار کرتی ہے اور بالخصوص اس واقعہ مذکورہ کو جھوٹا کہتی ہے حالانکہ یہ وہ واقعہ ہے کہ اس کے سچے ہونے میں کسی مسلمان کو تامل نہیں ہوسکتا‘ تیرہ سو برس سے تمام امت محمدیہ کا اس پر اتفاق چلا آتا ہے‘ اور جب اس اتفاق کے ساتھ اس کی پوری تصدیق انجیل سے بھی ہوتی ہے تو معلوم ہوا کہ یہ ایسا سچا واقعہ ہے کہ انیس سو برس سے کسی کا اختلاف اس میں نہیں ہے عیسائی اور مسلمان سب جانتے چلے آتے ہیں اور بلا اختلاف سب کی کتابوں میں اس کی تصدیق موجود ہے یہی وہ مضمون ہے جو فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے ص ٤٧ میں لکھا گیا ہے اور مسیح کاذب (مرزا) کے بعض ماننے والوں نے اس سے انکار کیا ہے اور جھوٹ بتایا ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہؐ سے لیکر اس وقت تک جس قدر کاملین گذرے ہیں اور اس واقعہ کی شہادت دے رہے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں (نعوذ باللہ منہ) اور جتنی تفسیریں اور تاریخیں وغیرہ ہیں سب غیر معتبر ہیں‘ سب نے یہ واقعہ جھوٹ لکھا ہے جس شخص یا جس گروہ کا یہ قول ہو اُس کے جھوٹے اور غیر معتبر ہونے میں کسی مسلمان کو تامل نہیں ہوسکتا۔
برادران اسلام! اس پر غور کریں‘ کہ جو بات ایسی محکم طور سے ثابت ہو کہ حدیث و تفسیر سے اُس کا ثبوت ہو‘ تمام علماء متقدمین اور متاخرین کا اُس پر اتفاق ہو تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی کا اختلاف اُس میں ثابت نہ ہو اس کے ساتھ ایک دوسرے گروہ عظیم الشان کا اتفاق اس پر انیس سو برس سے پایا جائے‘ اگر ایسی محکم اور متفق علیہ بات جھوٹ اور غیر معتبر ہو جائے تو دین کی کسی بات پر اعتبار نہیں ہوسکتا یہ شخص در پردہ دین کی بیخ کنی کے در پے ہے‘ اور صرف عوام کے فریب دینے کو قرآن اور حدیث کا نام لیتا ہے کیونکہ قرآن و حدیث کا ثبوت علماء کے روایت و اتفاق ہی سے ہے اور یہ شخص اُسی کو غیر معتبر کہہ رہا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی باتیں اسی طرز کی ہیں اسی لئے ان کے پیرو بھی اُسی قسم کی باتیں کرتے ہیں اب یہ انکی جہالت ہو یا قصداً ایسا کرتے ہیں دیکھا جائے کہ یہ گروہ اپنے آپ کو اہل سنت اور حنفی کہتا ہے حالانکہ ان کے عقائد ان کے اعمال اہل سنت کے خصوصاً احناف کے بالکل خلاف ہیں‘ اس میں فریب یہ ہے کہ بظاہر عقیدوں کے بیان میں وہی الفاظ لاتے ہیں جو الفاظ اہل سنت نے لکھے ہیں مگر ان کے معنی ایسے بنا رکھے ہیں جو کسی اہل سنت کے خیال میں کبھی نہیں آئے اور نہ آسکتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ اللہ پر ہمارا ایمان ہے‘ مگر اہل سنت
٤١
کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات تمام صفات کمالیہ کی جامع ہے اور تمام عیوب سے پاک ہے مگر مرزا قادیانی کے نزدیک اُس کی ذات صادق الوعد اور متین نہیں ہے وعدہ کر کے محو کر دیتا ہے جو اس کے ثبوت میں ”يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ “ الخ پیش کرتے ہیں۔
(دیکھو تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠ ۔ ٥٧١)
کبھی یہ بھی کہتے ہیں کہ اُس کے بعض وعدوں میں پوشیدہ شرطیں ہوتی ہیں کہ بندے کو اُس کا علم نہیں ہوتا اس کا حاصل یہ ہے کہ اس کا کوئی وعدہ لائق اعتبار نہیں ہے۔
اہل سنت کے نزدیک خدا کے رسول معصوم ہیں گناہ نہیں کرتے وحی کے سمجھنے میں اُسے غلطی نہیں ہو سکتی، مرزا قادیانی کے نزدیک معصوم ہونا تو بہت بڑا مرتبہ ہے بعض انبیاء سے ایسے افعال بھی ہوتے ہیں جو کسی شریف دیندار سے بھی نہیں ہو سکتے، حضرت عیسیٰؑ کی طرف جو شرمناک باتیں مرزا قادیانی نے منسوب کی ہیں ان کا زبان قلم پر لانا دشوار ہے۔
(دافع البلا کا صفحہ آخر (خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) اور ضمیمہ انجام آتھم (ص ٢٥، ٢٧ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩١) دیکھا جائے)
جب انبیاء کی یہ حالت ہے تو کسی فہمیدہ کے نزدیک ان کا کلام لائق اعتبار نہیں ہو سکتا۔
وحی کے غلط معنی سمجھنے کو خطائے اجتہادی کہتے ہیں۔ اس جماعت میں کسی کو اتنا بھی علم نہیں ہے کہ وہ سمجھے کہ وحی کے معنی سمجھنے میں غلطی کرنا اور بات ہے اور خطائے اجتہادی اور شے ہے، اگر وحی کے معنی سمجھنے میں رسول غلطی کرے اور اپنی غلطی کو کلام خدا کہہ دے تو اس کے کسی قول پر اعتبار نہ رہے، فرشتوں کی نسبت جو تیرہ سو برس سے مسلمانوں کا عقیدہ چلا آتا ہے مرزا قادیانی اس سے صاف انکار کرتے ہیں اور مشرکانہ اور ملحدانہ طریقہ ملا کر یہ کہتے ہیں کہ ستاروں کی روح کا نام فرشتہ اور جن ہے۔
(توضیح المرام ص ٣٠ ۔ ٣٤ خزائن ج ٣ ص ٦٦ تا ٦٨ ملاحظہ ہو)
غرضیکہ تمام اصول عقائد اسلامیہ مرزا قادیانی نے درہم و برہم کر دیئے ہیں مگر سخت دھوکا یہ دیا ہے کہ الفاظ وہی ہیں، جو اہل سنت لکھتے ہیں، مگر جب حقیقت امر کو پردہ اٹھا کر دیکھا جائے اس وقت واقعی حالت معلوم ہو جاتی ہے۔
برادران اسلام! میں نہایت خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے کلام سے جو ان کے عقائد معلوم ہوتے ہیں اگر انھیں سچا مانا جائے تو مذہب اور دین الٰہی کوئی لائق اعتبار چیز نہیں رہتی جو ذی علم وسیع النظر ان کے رسالوں کو دیکھے گا وہ اس کا یقین کریگا، یہ ایک ضمنی بات تھی اب مجھے حضرت ایوب علیہ السلام کے مصائب کو دکھانا ہے تاکہ اہل اسلام عبرت پکڑیں اور مصیبت میں
٤٢
پریشاں نہ ہوں خدا کے برگزیدہ اور اعلیٰ مرتبہ کے برگزیدہ کی حالت کو پیش نظر رکھیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام
حضرت ایوب علیہ السلام حضرت اسحق کی اولاد میں سے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یعقوب علیہ السلام کے داماد تھے اور بڑے مالدار صاحب جاہ اور صاحب اولاد تھے مؤرخ ابو الفداء نے لکھا ہے کان صاحب اموال عظیم (یعنی حضرت ایوبؑ بڑے مالدار تھے ) اُن کی مختصر حالت میں پہلے تفسیر مراح البید سے لکھتا ہوں پھر کسی قدر تفصیل اور تفاسیر و کتب تواریخ سے لکھی جائے گی۔
كان ايوب عليه السلام روميا من ولد عيص ابن اسحق وكان الله تعالى قد جعله نبيا وقد اعطاه من الدنيا حظاً وافراً من النعم و الدواب والبساتين واعطاه ولدا من رجال ونساء وكان رحيما بالمساكين وكان يكفل الايتام والا رامل و يكرم الضيف فابتلاه الله تعالى بهلاك اولاده بهدم بيت عليهم و ذهاب امواله والمرض فى بدنه ثمانى عشرة سنة فانه خرج من فرقه الى قدمه ثاليل وقد وقعت فى جسده حكة لايملكها وكان يحك باظفاره حتى سقطت اظفاره حكها بالمسوح الخشنة ثم حكها بالفخار و الحجارة ولم يزل يحكها حتى تقطع لحمه وانتن فاخرجه اهل القرية وجعلوه على كناسة و جعلو له عريشا وكان ملقى فى الكناسة لايقرب منه احدا
(ص ٤٣ مراح لبید ج ٢ علامہ نووی)
حضرت ایوب روم کے رہنے والے تھے ..... حضرت اسحق کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت عنایت کی اور اُس کے ساتھ دنیا کی نعمتیں بھی بہت کچھ دیں گائے‘ بیل‘ بکریاں‘ زمین زراعت وغیرہ تھیں‘ باغات تھے‘ اولاد بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی‘ بیٹے تھے‘ بیٹیاں تھیں‘ حالت ان کی یہ تھی کہ مسکینوں پر بہت کچھ مہربانی کیا کرتے تھے یتیموں کی اور بیواؤں کی کفالت کرتے تھے مہمان نواز تھے‘ بایں ہمہ انھیں اللہ تعالیٰ نے آزمائش میں ڈالا‘ مکان گرا‘ اُس کے نیچے آپ کی سب اولاد دب کر مر گئی جس قدر مال و متاع تھا سب تباہ ہو گیا پھر اٹھارہ برس برابر بیمار رہے سر سے پیر تک تمام بدن پر آبلے نکل آئے اور تمام بدن میں کھجلی اس قدر ہوتی تھی کہ بے اختیار ہو جاتے تھے اور کھجلاتے کھجلاتے ناخن گر گئے پھر ٹاٹ سے کھجلانے لگے پھر کنکر پتھر سے‘ الغرض کھجلاتے
٤٣
کھجلاتے تمام بدن کا گوشت پھٹ گیا اور نہایت بدبو آنے لگی اور گاؤں کے لوگوں نے گاؤں سے نکال کر ایک گھوڑے (گھڑا) پر ڈال دیا اور وہیں ایک جھونپڑا بنا دیا اُسی گھوڑے (گھڑے) پر پڑے رہتے تھے اور کوئی پاس نہ آتا تھا غالباً یہی الفاظ تفسیر کبیر میں ہیں اس کی تفصیل اور تفسیروں میں اور مؤرخین نے بہت کچھ لکھی ہے۔
الغرض حضرت ایوبؑ صاحب مال تھے‘ صاحب جائیداد تھے پانسو ہل اور ایک ہزار بیل تھے‘ ہل چلانے والے اور ہر ایک ہل کے لئے ایک نوکر تھا‘ اسی قدر اونٹ اور بکریاں تھیں‘ اور ان کے چرواہے۔ اب مشیت الٰہی کا تقاضا حضرت ممدوح کے امتحان کا ہوا اور صبر وتحمل کا سبق تمام عالم کے ایمانداروں کو دیا گیا تا کہ آئندہ کی نسلیں بھی عبرت پکڑیں اور اس دنیائے دنی کی حالت پر غور کریں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایسے مقرب بارگاہ الٰہی پر بعض وقت ایسی مصیبتیں آیا کرتی ہیں۔ وہ مصیبتیں حضرت ایوبؑ پر آئی ہیں کہ اُن کے سننے سے بدن کانپنے لگتا ہے اور عقل حیران ہو جاتی ہے‘ مسلمان خیال کریں کہ جس کے جاہ وثروت کا یہ حال ہو اُس پر رفتہ رفتہ مشیت ایزدی سے ایسی بلائیں آئیں کہ تمام مال ومتاع اور زینت دنیا کے متعدد اسباب یکے بعد دیگرے تباہ ہونے شروع ہوئے اور انجام کار نہ وہ مال ومتاع رہا نہ وہ جاہ وثروت رہی نہ اس جائیداد کا پتہ رہا جس کے لئے ہزار بیل اور ان کے لئے سینکڑوں نوکر تھے‘ یہاں تک کہ رہنے کیلئے مکان تک بھی نہ رہا ساری اولاد مکان کے نیچے دب کر مر گئی‘ پھر اس عظیم الشان مصائب کے بعد جسمانی مصیبت شروع ہوئی اور سخت جذام ہو گیا اور بجز بیوی کے ان کے پاس کوئی نہ آتا تھا اور مختلف طور سے لوگ طعنہ دینے لگے اور اس مصیبت میں اٹھارہ برس تک رہے سات برس خاص گھوڑے (گھڑے) پر پڑے رہے۔
فبقی مطروحاً علی الکناستہ سبع سنین ما یسأل اللہ ان یکشف مابہ و ما علی وجہ الارض اکرم علی اللہ منہ۔
(الکامل فی التاریخ ج١ ص٩٩ قصہ ایوب علیہ السلام)
علامہ ابن اثیر کامل میں لکھتے ہیں کہ سات برس گھوڑے (گھڑے) پر پڑے رہے اور اس مدت میں کبھی دعا نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو ہٹا دے۔ حالانکہ روئے زمین پر اس وقت اللہ کے نزدیک کوئی معظم ومکرم ان کے مثل نہ تھا۔
ابن اثیر کا یہ جملہ نہایت ہی عبرت انگیز ہے‘ جن کے دل میں کچھ بھی خوف خدا ہے وہ یہاں دو باتوں پر غور کریں گے ایک یہ کہ حضرت ایوبؑ اس وقت میں ایسے خدا کے پیارے اور
٤٤
معظم تھے کہ اس وقت ان کی مثل کوئی دوسرا دنیا میں نہ تھا اور ایسا برگزیدہ ایسی سخت مصیبتوں میں اتنی دراز مدت تک مبتلا رہا اور اس وقت کے مرزائی صفت لوگوں سے کیسے کیسے طعن و تشنیع سنتا رہا؟ وہ دوسرے اس مقبول خدا کی ہمت اور تحمل و صبر کو دیکھنا چاہئے کہ اللہ کی رضا پر ایسے راضی رہے کہ اس کے خلاف دعا مانگنا بھی پسند نہیں (اللہ اکبر جل جلالہ) آپ پر تین شخص ایمان لائے تھے وہ بھی بدگمانی کرنے لگے تھے، اور بعض وقت طعنہ دیتے تھے، اگر چہ مرتد نہیں ہو گئے تھے مگر حضرت ایوب علیہ السلام ان کے لئے بھی کوئی سخت لفظ نہیں کہتے تھے اب خیال کیجئے کہ جب کچھ پاس نہیں ہے اور کوئی پاس بھی نہیں جاتا سب بدگمان بھی ہو گئے ہیں تو کھانے پینے کی کیا سبیل تھی اتنی مدت تک جیتے کیسے رہے؟ یہی لکھتے ہیں کہ وہی نیک بیوی جس کا نام رحمت تھا اس نازک وقت میں رحمت الٰہی تھی وہ کچھ مزدوری کر کے لاتی تھی اور کھلاتی تھی بالآخر اس دراز مدت کے بعد ایک امتی کے طعنے سے یا کسی دوسرے کے ناشائستہ کلمات سے ان کی زبان سے عاجزانہ نکلا ”رَبِّ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ“ (الانبیاء ٨٣) اس دعا کے کرتے ہی دریائے رحمت جوش زن ہوا اور اللہ نے صحت دی اور اولاد وغیرہ بھی عنایت کی اللہ کے رسولوں کی اور برگزیدہ بندوں کی یہ شان ہوتی ہے مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح نہیں کہ سخت مخالف سے عاجز ہو کر اپنی صداقت ظاہر کرنے کے لیے نہایت ہی عاجزانہ دعا کی ہے (مولوی ثناء اللہ صاحب اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب میں کیسی عاجزانہ دعا کی ہے مگر دونوں جگہ معاملہ برعکس ہوا جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کاذب تھا۔ ان دعاؤں کو مرزا قادیانی نے خود چھپوا کر مشتہر کیا ہے) مگر ایک شنوائی نہیں ہوئی اور مخالف کے رو برو نہایت ذلیل ہوئے۔ (دیکھو مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨ نیز مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩١/٥٩٢)
الغرض ہمارے بھائی خوب معلوم کریں اور یقین کر لیں کہ دنیا کی مصیبت کسی پر آنا اُس کے کافر یا مرتد ہونیکی یا کسی کے مخالف ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی، البتہ احادیث صحیحہ اور دنیا کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں ایمانداروں کو زیادہ مصیبتیں آتی ہیں اب میں مسلمانوں کو اس امر پر خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت ایوب کے واقعات کو پیش نظر رکھ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے حیرت خیز واقعہ کو ایک تیسری نظیر سمجھیں اور پھر مرزا غلام احمد کے بیباکانہ اور بے ادبانہ جملوں کو دیکھیں کہ قرۃ العین رسول الثقلین کی نسبت کیا کہہ رہے ہیں اُن کے رسالہ اعجاز احمدی کے یہ اشعار ہیں۔
٤٥
وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ اقول نعم واللہ ای ربی سیظہر .
(اعجاز احمدی ص٥٢ خزائن ج١٩ ص١٦٣)
لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے (مرزا غلام احمد) امام حسنؓ اور امام حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دیگا یعنی میری فضیلت ظاہر ہو جائیگی مگر مرزائی افسوس کریں کہ کچھ نہ ہوا اور مرزا قادیانی جھوٹے ٹھہرے۔
وشتان مابینی و بین حسینکم فانی اؤید کل آن وانصر و اما حسین فاذکر وادشت کربلا الی ھذہ الایام تبکون فانظروا۔
(اعجاز احمدی ص٦٩۔ خزائن ج١٩ ص١٨١)
مرزا قادیانی کے اس شعر کو برادران اسلام عبرت کی نظر سے ملاحظہ کریں کہ حضرت حسینؓ جناب رسول اللہؐ کے قرۃ العینین نواسہ ہیں جس کی نسبت وہ اصدق الصادقین اپنی امت کی نجات کیلئے کشتی نوح سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ ان کی مصیبت کو دکھا کر اپنی عیش و کامرانی پر مرزا قادیانی فخر کرتے ہیں کیا سچے مسلمان کا دل اس سے شق نہ ہوتا ہوگا، کیا یہ ممکن ہے کہ عاشق رسول الثقلین کی زبان پر ایسے الفاظ آ سکیں؟ کیا ایسے ہی مدعی کو خادم رسول اللہ اور فنافی الرسول کوئی کہہ سکتا ہے دنیا میں اگر ایمان ہے تو کوئی ایماندار ایسے مدعی کو سچا مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا، چہ جائیکہ اسے عاشق رسول اور فنافی الرسول سمجھے،
جس طرح کے کلمات مرزا قادیانی نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت ہمارے مقابلہ میں کہے ہیں اسی طرح فرعون حضرت ایوبؑ کے مصائب دکھا کر حضرت موسیٰؑ اور ان کی امت کے مقابلہ کہہ سکتا تھا، وشتان مابینی و بین نبیکم فانی اوید کل ان وان
(اعجاز احمدی ص٥٢ خزائن ج١٩ ص١٦٣)
لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے (مرزا غلام احمد) امام حسنؓ اور امام حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دیگا یعنی میری فضیلت ظاہر ہو جائیگی مگر مرزائی افسوس کریں کہ کچھ نہ ہوا اور مرزا قادیانی جھوٹے ٹھہرے۔
وا دشت کربلا الی ھذہ الایام تبکون فانظروا۔
(اعجاز احمدی ص٦٩۔ خزائن ج١٩ ص١٨١)
مرزا قادیانی کے اس شعر کو برادران اسلام عبرت کی نظر سے ملاحظہ کریں کہ حضرت حسینؓ جناب رسول اللہؐ کے قرۃ العینین نواسہ ہیں جس کی نسبت وہ اصدق الصادقین اپنی امت کی نجات کیلئے کشتی نوح سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ ان کی مصیبت کو دکھا کر اپنی عیش و کامرانی پر مرزا قادیانی فخر کرتے ہیں کیا سچے مسلمان کا دل اس سے شق نہ ہوتا ہوگا، کیا یہ ممکن ہے کہ عاشق رسول الثقلین کی زبان پر ایسے الفاظ آ سکیں؟ کیا ایسے ہی مدعی کو خادم رسول اللہ اور فنافی الرسول کوئی کہہ سکتا ہے دنیا میں اگر ایمان ہے تو کوئی ایماندار ایسے مدعی کو سچا مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا، چہ جائیکہ اسے عاشق رسول اور فنافی الرسول سمجھے،
جس طرح کے کلمات مرزا قادیانی نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت ہمارے مقابلہ میں کہے ہیں اسی طرح فرعون حضرت ایوبؑ کے مصائب دکھا کر حضرت موسیٰؑ اور ان کی امت کے مقابلہ کہہ سکتا تھا، وشتان مابینی و بین نبیکم فانی اوید کل ان وانصروا (یعنی جس طرح مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے مقابلہ میں حضرت امام حسینؓ کی مصیبت کو دکھایا ہے اور پھر اپنی عیش وعشرت کو تائید الہی بتایا ہے اس طرح فرعون حضرت موسیٰؑ کے مقابلہ میں حضرت ایوبؑ کے مصائب کو دکھا کر اپنی عیش و کامرانی پر فخر کر سکتا تھا اور وہی مرزا قادیانی والا شعر پڑھ سکتا تھا صرف ایک لفظ بدل کر یعنی حسین کی جگہ نبی کہہ دیتا) اور فرعون پر کیا ہے جو منکرین انبیاء دنیا میں کامران رہتے ہیں وہ اکثر انبیاء کی نسبت ایسا ہی فخر کر سکتے ہیں اور مقبولان خدا کی مصیبتوں کو دکھا کر اور اپنی کامرانی پیش کر کے اپنا مؤید من اللہ ہونا بیان کر سکتے ہیں ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
٤٦
شاید اس قسم کے حالات بعض مرزائیوں نے دیکھے اس لئے فائزالمرام اور کامیابی کی یہ صورت بتاتے ہیں کہ مخلوق اُسے زیادہ ماننے لگی مگر یہ جواب بھی ان کی بے خبری اور کم علمی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ حضرت ایوب کی حالت تو ابھی ذکر کی گئی حضرت نوح علیہ السلام کا حال بھی اس کی غلطی کی شہادت کے لئے نہایت کافی ہے‘ یہ تو قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت نوحؑ نے ساڑھے نو سو برس دعوت دی مگر اب دیکھا جائے کہ اس دراز مدت میں کتنی مخلوق آپ پر ایمان لائی ‘قرآن مجید میں مجمل طور پر ارشاد ہے ”وَمَا اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ“ (ھود ٤٠) یعنی حضرت نوحؑ پر بہت تھوڑے ایمان لائے تھے مفسرین نے اس تھوڑے کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے‘ صاحب مدارک التنزیل لکھتے ہیں کہ آٹھ شخص ایمان لائے اور زیادہ سے ٧٨ آدمیوں کا ایمان لانا لکھتے ہیں بعض محققین اسی کی تعداد بیان کرتے ہیں‘ الغرض وہ سچے رسول ہیں جن کی اولاد میں عظیم الشان سلسلہ رسولوں کا ہے‘ اُن کی دعوت سے نو سو پچاس برس کے عرصہ میں اس قدر قلیل مقدار مخلوق کی ان پر ایمان لائی جو کسی شمار میں نہیں ہو سکتی‘ اب اس کے مقابل صالح اور ابوعیسیٰ مدعیان کاذب کی جماعت کو خیال کیجئے کہ تمام قبائل مغرب ان پر ایمان لے آئے تھے تھوڑی مدت میں اس لئے جماعت احمدیہ کے قاعدے کے بموجب ان جھوٹے مدعیوں کو صادق ہونا چاہئے اور حضرت نوحؑ کو کاذب (نعوذ باللہ منہ) الغرض دنیا کی کسی قسم کی کامیابی یا ناکامی صداقت یا عدم صداقت کی دلیل نہیں ہو سکتی‘ ہاں بعض وقت اس کامیابی کیساتھ ایسے قرائن اور وجوہ پیش آتے ہیں کہ عقلی طور سے ایسی کامیابی کو صداقت کی دلیل کہتے ہیں اور ناکامی کو کذب کی علامت‘ اب میں اس دعوے کی تصدیق صحیح حدیثوں سے آپ کو دکھاتا ہوں۔
- (١) لم یصدق نبی من الانبیاء ما صدقت وان من الانبیاء من یصدقہ من امۃ الا رجل
واحد“ الخ
(مسلم ج ١ ص ١١٣ باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار)
جناب رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ جس قدر لوگوں نے مجھے مانا کسی نبی کو نہیں مانا بعض انبیاء ایسے گزرے جنہیں ایک ہی شخص نے مانا اور ان کی دعوت کا ثمرہ اسی قدر ہوا۔
- (٢) عُرِضَتْ عَلَیَّ الامم فرأیت النبی و معه الرُّهَیْطُ والنبی و معه الرجل
والرجلان والنبی لیس معه احد الخ
(مسلم ج ١ ص ١١٧ باب الدلیل علی دخول طوائف المسلمین الجنۃ بغیر حساب ولا عذاب مسند احمد بن حنبل ج ١ ص ٢٧١)
٧٤
دوسری حدیث میں حضور انور کا یہ مقولہ ہے کہ انبیاء علیہ السلام کی امتیں حالت کشفی میں میرے سامنے پیش کی گئیں میں نے دیکھا کہ بعض انبیاء کے ہمراہ چند آدمی ہیں یعنی تین چار آدمی بعض کے ہمراہ دو ایک شخص ہیں بعض ایسے ہیں کہ ان کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں ہے۔ ایک متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔
- (٣) خرج رسول الله يوماً فقال عرضت عَلَىَّ الامم فجعل يمر النبى و معه
الرجل والنبى ومعه الرجلان والنبى و معه الرهط والنبى وليس معه احد الخ
(بخاری و مسلم ص١١٧ج١ باب الدلیل علیٰ دخول طوائف کنز العمال ج٣ ص١٠٠ حدیث نمبر٥٦٨٢ من المسلمین
الجنۃ بغیر حساب ولا عذاب۔)
یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ تشریف لائے اور فرمایا کہ انبیاء کی امتوں کی حالت مجھے معلوم کرائی گئی، میرے سامنے سے ایک نبی گذرے اُن کے ہمراہ ایک ہی امتی تھا دوسرے نبی گزرے اُن کے ہمراہ دو امتی تھے ایک اور گذرے اُن کے ہمراہ چند امتی تھے بعض نبی ایسے گزرے جن کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ معلوم کر کے اور ان حدیثوں کے مضمون میں غور کر کے مسلمانوں کو عبرت پکڑنا چاہئے کہ بہت سے خدا کے پیارے اُس کے سچے رسول جو دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجے گئے تھے اُن کی سینکڑوں برس کی محنت اور مشقت کا نتیجہ کیا ہوا حضرت نوح علیہ السلام کچھ کم ایک ہزار برس تک خلق کو ہدایت کرتے رہے اور ان کے ہاتھوں سے ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آٹھ دس یا ستر، اسی، شخص ایمان لائے اور بعض کی محنت کا نتیجہ یہ کہ دو ایک شخص مسلمان ہوئے اور بعض برگزیدہ ایسے ہوئے کہ ان کی برسوں کی محنت دنیا کی نظر میں بیکار ہی گئی۔
اُس وقت کے مرزائیوں کی طرح اس وقت کے منکرین ان انبیاء سے کیسا مضحکہ کرتے ہوں گے؟ کہ یہ حضرات اس قدر غل مچارہے ہیں، مگر کوئی نہیں سنتا، پھر کیا احمدی حضرات ان انبیاء کے الہام کو غلط بتائیں گے ذرا ہوش کر کے جواب دیں،
حاصل کلام عبرت کا مقام
الغرض سچے مسلمانوں کو مجھے یہ دکھانا ہے کہ خدا کے برگزیدہ حضرات پر دنیا میں کیسے
٤٨
کیسے معاملے گذرے ہیں اور ہر قسم کی دنیوی انہیں ناکامی ہوئی ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی تمام گذران کو دیکھو کہ کس تنگی سے اُن کی عمر بسر ہوئی اور انجام کار دشمن کے ہاتھ سے شہید کر دیئے گئے یہ اُن کے عشق الٰہی کو کمال مرتبہ تک پہنچا کر عاشقوں کو دکھانا تھا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبتوں پر نظر کرو کہ خوشحالی کے بعد اٹھارہ برس تک کیسی مصیبتوں کو برداشت کیا اور دم نہیں مارا یہ ان کی محبت کا امتحان اور گذشتہ مدتوں راحت میں رہنے کا کفارہ تھا اور جن انبیاء کی ہدایت کا نتیجہ کچھ نہ ہوا یا بہت ہی کم ہوا یہاں یہ دکھانا تھا کہ دنیا دارالابتلاء ہے۔ یہاں بعض برگزیدہ حضرات اُس مقصود میں بھی کامیاب نہیں ہوئے جس کیلئے وہ بھیجے گئے تھے اور بعض جھوٹے مفتری علی اللہ دنیا میں بہت کچھ کامیاب ہوئے اور ہوتے ہیں اس لئے نہایت عبرت کا مقام ہے یہاں بہت سے ذی علم بھی بہک جاتے ہیں ہمارے بھائی اس بیان سے یقینی طور سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی قسم کی کامیابی صداقت اور برگزیدہ خدا ہونے کی معیار نہیں ہے اس سے آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اور اُن کے مریدوں کا دنیاوی کامیابی کو اپنی صداقت میں پیش کرنا ان کی عظیم الشان غلطی ہے اول تو وہ یہی بتائیں کہ انہیں دنیاوی کامیابی کیا ہوئی جس قدر انہوں نے اپنی شہرت اور اپنی خودستائی میں محنت کی ہے اور کاغذی گھوڑے دوڑائے ہیں اس کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی کامیابی نہیں ہوئی اس زمانے میں بعض بعض تاجر اپنے اشتہاروں کے ذریعہ سے لکھ پتی، کروڑ پتی ہو گئے مرزا قادیانی کی خود ستائی اور مدح سرائی کا صرف اس قدر نتیجہ سنا جاتا ہے کہ عمدہ کھانے کو اور مشک وزعفران استعمال کرنے کو ملے اور کچھ زمین ہاتھ آگئی اور کچھ مکانات بھی بن گئے پھر یہ تو اُن تاجروں کے مثل بھی کامیابی نہ ہوئی جو جھوٹے اشتہاروں سے کما لیتے ہیں باقی رہا مریدوں کا زیادہ ہونا محض زبانی دعویٰ ہے پہلے لوگوں کو جانے دیجئے اس وقت کے لحاظ سے کہتا ہوں کہ ایک حاجی وارث علی صاحب تھے باوجود یکہ انہوں نے اپنی مدح سرائی میں ایک اشتہار بھی نہیں دیا مگر لاکھوں مرید ان کے ہو گئے اسی طرح اور بھی حضرات ہیں اس کے علاوہ انہوں نے کارخانہ الٰہی اور دنیا کی حالت میں غور نہیں کیا، اور اس کے واقعات پر نظر نہیں ڈالی کہ کیسے کیسے لوگ کامیاب ہوتے ہیں یا جان کر مخلوق کو دھوکا دیا اور دے رہے ہیں، کیونکہ ناواقف اور عوام کے خیال میں دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بہت سے مسلمان بہک گئے اب میں دنیا کا مقام ابتلاء اور محل امتحان ہونا کلام خدا اور اقوال واحوال حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام سے مختصراً بیان کرتا ہوں خوب متوجہ ہو کر ملاحظہ کرنا چاہئے۔
٤٩
حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی گذران کا نمونہ دیکھا جائے صحیح بخاری اور صحیح مسلم (ج ٢ ص ٤٠٩ فصل فی صبر علی قلۃ ما یجد ودخول الفقرا المهاجرین الجنته) میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
ماشبع ال محمد من خبز الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله ﷺ کہ رسول اللہ کے اہل وعیال نے آپ کی وفات تک دو دن برابر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ نے تمام عمر کبھی جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی ایک اور حدیث متفق علیہ ہے۔
عن عمر رضى الله عنه قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فاذا هو مضطجع على رومال حصير الخ متفق عليه (مشكوة المصابيح)
(ص ٤٤٧ باب فضل الفقراء وماكان من عيش النبى)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس حاضر ہوا آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اُس پر بچھونا نہ تھا اس وجہ سے آپ کے دونوں جانب چٹائی کے نشان پڑ گئے تھے اور چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائی تھی۔ اُس تکیہ میں کھجور کا چھلکا بھرا تھا (حضرت عمرؓ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ کی امت سے تنگی دور ہو فراخی ہو فارس اور روم کیسے خوش حال ہیں باوجود یکہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے جناب رسول اللہ نے فرمایا اے عمر ! تم اس خیال میں ہو (یعنی جو اللہ کی عبادت کریں وہ دنیا میں خوش حال رہیں اور جو اُس کی عبادت نہ کریں وہ خوش حال نہ رہیں) ایسا خیال نہیں چاہئے کیونکہ اُن کی کمائی یا مقررہ عیش و آرام دنیا ہی میں دیدیا گیا، آخرت میں سوائے تکلیف کے کچھ اُن کے لئے نہیں ہے۔
دوسری روایت میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد اس طرح ہے کہ کیا تم اس میں خوش نہیں ہو کہ انہیں دنیا ملی اور ہمیں آخرت ان حدیثوں سے آپ کی تنگی گذران کا نمونہ معلوم ہوا مگر دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی گذران آپ نے بخوشی منظور کی تھی اور اللہ سے ایسی ہی گذران کی آپ خواہش کرتے تھے چنانچہ متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔
”اللهم اجعل رزق ال محمد قوتا“
(ابن ماجہ ص ٣٠٥ باب القناعة ، مسلم ج ٢ ص ٤٠٨ فصل فی صبر قلۃ )
”یعنی اے اللہ محمد کے اہل وعیال کو بقدر قوت لایموت کے روزی عنایت فرما“۔
٥٠
دنیا کی گذران میں اس قدر تنگی اختیار کرنا حکمت سے خالی نہیں ہے اگرچہ بے دین نا فہم اُسے نہ سمجھیں اور طعنہ کریں، تنگی اختیار کرنے کی مصلحتیں پوری طور پر تو خدا اور اُس کا رسول ہی جانتا ہے مگر یہ نہایت ظاہر ہے کہ اس حالت میں رہنا غربائے امت کی کمال دل دہی ہے، کیونکہ جب وہ سردار دو جہاں کی یہ حالت معلوم کریں گے تو اپنی غربت کو بھول جائیں گے اور خوشی کے مارے پھولے نہ سمائیں گے اس کے علاوہ اللہ کے نزدیک دنیا نہایت بے حقیقت چیز ہے بلکہ ملعون اور مردود ہے اس لئے اللہ والے اُسے کبھی پسند نہیں کرتے مگر کسی وقت کسی مصلحت سے اللہ تعالیٰ انہیں دیتا ہے ایک حدیث میں رسول اللہؐ کا ارشاد ہے، لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ماسقى كافر منها شربة
(ابن ماجہ ص٣٠٦ باب مثل الدنيا ترمذی ج٢ ص٥٦ باب ماجاء فی ھوان الدنيا علی اللہ)
کہ اللہ کے نزدیک دنیا کی حقیقت اگر مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی دنیا میں نہ ملتا۔
دوسری حدیث ملاحظہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، الا ان الدنيا ملعونة و ملعون ما فيها الا ذكر الله وما والاه و عالم او متعلم
(ترمذی ج٢ ص٥٨ باب ماجاء فی ھوان الدنيا علی اللہ ابن ماجہ ص٣٠٢۔٣٠٣ باب مثل الدنیاء)
کہ خبردار ہو جاؤ دنیا پر اللہ کی لعنت ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب پر خدا کی پھٹکار ہے البتہ دنیا میں اللہ کی یاد اور وہ اعمال صالحہ جنہیں اللہ پسند کرے اور علم دین کے جاننے والے ہوں، سیکھنے والے یہ اُس سے مستثنیٰ ہیں۔
ان دونوں حدیثوں پر غور کیا جائے پہلی حدیث سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا نہایت بے حقیقت ہونا اور دوسری حدیث سے اُس کا ملعون و مردود ہونا ظاہر ہو رہا ہے پھر برگزیدگانِ خدا جو اُس ذات پاک کے عاشق ہیں اور نہایت عالی خیال بلند حوصلہ ہیں وہ ایسی بے حقیقت چیز کو کیونکر پسند کر سکتے ہیں اور پھر یہ کہ وہ شے اُس ذات مقدس کے ایسی ناپسند ہو کہ اُس نے اُس پر لعنت بھیجی ہو وہ کبھی اس کو پسند نہیں کر سکتے، پسند کیا اُس طرف توجہ کرنا بھی انھیں ناگوار ہو گا قرآن مجید میں بھی دنیا کی حقارت بہت آئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی مصلحت اور دینی فائدے کے لئے اپنے کسی برگزیدہ کو بھی دنیا کا مال و متاع دیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل ہے یا اس بے حقیقت کامیابی کو فلاح کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
٥١
اب ہم قرآن شریف کی آیت پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ دنیا میں عزت و آبرو کا ہونا، مال ودولت کا ملنا خدا کی خوشنودی اور صاحب مال کی صداقت فلاح کی دلیل نہیں ہے، ارشاد خداوندی ہے، فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّىْ اَكْرَمَنِ وَاَمَّا اِذَا مَا ابْتَلٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّىْ اَهَانَنِ . (الفجر١٥۔١٦)
پروردگار جب انسان کی اس طرح آزمائش کرتا ہے کہ اُس کو عزت ونعمت دیتا ہے تو بندہ اپنے دل میں خوش ہو کر یا گھمنڈ کر کے کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عزت کی اور جب پروردگار اس طرح آزماتا ہے کہ اُس کی روزی اُس پر تنگ کرتا ہے تو بندہ تنگدل ہو کر کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا۔
اس آیت سے ظاہر ہوا کہ فراخی اور تنگی دونوں صدق یا کذب کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ دونوں کسی وقت صرف امتحان کی غرض سے ہوتے ہیں اور امتحان مسلمان اور کافر دونوں کا ہوتا ہے، کسی کا مال ودولت عزت وجاہ کیساتھ ”انما اموالکم واولاد کم فتنة “ ارشاد خداوندی ہے، کسی کا فقر واحتیاج کیساتھ کسی وقت مسلمان بھی مال ودولت سے بہک جاتا ہے اور کسی وقت فقر واحتیاج سے کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے ارشاد نبوی ہے ”کادالفقر ان یکون کفراً “ اور کافر تو بہکتا ہی ہے، البتہ دنیا کی کامیابی اکثر کفار ہی کے حصہ میں رہی ہے اس کی حکمت بالغہ تو وہی حکیم مطلق جانتا ہے مگر ہماری عقل کی رسائی جہاں تک ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت مال ودولت کی ترقی اور اُس کی حفاظت میں وہ ایسا پریشان و سرگرداں رہتا ہے اور بہت لوگ اُس کے دشمن ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ مال اُس کے لئے وبال ہوتا ہے اور دنیا ہی میں ایک صورت عذاب کی اُس کے لئے ہوتی ہے اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی صاف طور سے موجود ہے سورہ والفجر ملاحظہ ہو کسی وقت میں منکر کے اعمال حسنہ کا بدلہ اُسے دیا جاتا ہے چنانچہ حدیث میں آیا ”اعطیت لهم طیبا تهم“ یہ ایک ضمنی بات تھی اصل مدعا یہ تھا کہ دنیا کی کامیابی کو فلاح نہیں کہہ سکتے اس کا ثبوت تین دلیلوں سے دیا گیا، ان میں ہر ایک دلیل نہایت روشن اور ایسی قوی ہے کہ کسی فہمیدہ حق پسند کو اُس کے ماننے میں تأمل نہیں ہو سکتا،
پہلی دلیل : بعض کفار اور مفتری علی اللہ جن کا ذکر شروع رسالہ میں کیا گیا ان کے حالات سے ظاہر ہے کہ باوجود مفتری علی اللہ ہونے کے ایسے کامیاب ہوئے کہ دنیا میں اُس سے زیادہ کامیابی
٥٢
اور فلاح نہیں ہو سکتی اس سے بالیقین ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس فلاح کو ایمانداروں سے مخصوص کیا ہے وہ دنیا کی کامیابی نہیں ہے اب مرزا قادیانی کی کامیابی کو دکھا کر اُن کی صداقت ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون اور صالح وغیرہ کا معتقد ان کی کامیابی دکھا کر اُن کی صداقت ثابت کرے۔
دوسری دلیل : بعض انبیائے کرام کی دنیاوی حالت دکھائی گئی اُس سے بھی بخوبی واضح ہوا کہ جس فلاح کی بشارت ایمانداروں سے مخصوص ہے وہ دنیا کی کامیابی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اُن انبیاؤں کی دنیا میں یہ حالت ہرگز نہ ہوتی جو اس رسالہ میں دکھائی گئی ہے۔
تیسری دلیل : تین حدیثیں پیش کی گئیں جن سے پوری تصدیق ہو گئی کہ دنیا ایسی چیز نہیں ہے کہ اُس کی کامیابی کو اللہ تعالیٰ فلاح کہے اس سے اظہر من الشمس ہوا کہ جو فلاح ایمانداروں کے لئے مخصوص ہے اور منکرین اور مفتری اُس سے محروم ہیں وہ عالم آخرت کی فلاح ہے جہاں انسان کیلئے دائمی راحت یا ہمیشہ کی تکلیف ہے یہ بھی حدیث سے ثابت کر دیا گیا کہ بہت سے لوگوں کا مطیع ہو جانا بھی صداقت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں کہ اُن کا ایک بھی امتی نہیں ہوا اور بعض کے دو ایک ہوئے جو مثل نہ ہونے کے ہے اب اگر مریدوں کی کثرت کو صداقت کا معیار قرار دیا جائیگا تو بہت سے انبیاء کی نبوت سے انکار کرنا ہو گا حضرت نوح کو ملاحظہ کیجئے کہ ابوالانبیاء ہیں مگر ساڑھے نو سو برس کی کوشش میں آٹھ دس یا ٧٠،٨٠ اشخاص اُن پر ایمان لائے تھے۔
قابل توجہ ہے دیکھا جائے
حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت کا زیادہ ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمانا ’’انی اباھی بکم الامم‘‘ ایک خاص فضیلت آنحضرت کی ہے اُسے صداقت کا معیار ٹھہرانا جاہلانہ خیال ہے البتہ وہ مدعی نبوت جسے بہت سے انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ ہو اُس کی وجہ سے کوئی جہنمی جنت کا مستحق نہ ہو اور کروڑوں جنتی جو جنت کے مستحق ہو چکے تھے وہ جہنم کے مستحق ہو جائیں اس کے جھوٹے ہونے میں کوئی عقلِ سلیم تامل نہیں کر سکتی اب یہاں نہایت غور کے قابل یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضور سرور انبیاء کا ظل کہتے ہیں اور جس طرح حضور کی بعثت عام تھی اسی طرح مرزا قادیانی اپنی بعثت کو عام کہتے ہیں یعنی اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ میں تمام خلق
٥٣
کے لئے مبعوث ہوا ہوں میرے ماننے پر نجات موقوف ہے۔
(رسالہ دعویٰ نبوت مرزا ملاحظہ ہو)
اور ”صلیب پرستی کے ستون کو توڑنے کیلئے آیا ہوں۔“
(اخبار ’بدر‘ قادیان ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٤۔ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
مگر اب کامل غور اور انصاف پسندی سے اس دعویٰ کو ملحوظ خاطر رکھ کر دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی نے کیا کہا اور ان کے بعثت کا نتیجہ کیا ہوا ساری دنیا دیکھ چکی کہ غالباً پچیس برس تک انہوں نے بہت کچھ غل مچایا اور اپنی شہرت اور خلق کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا، اشتہاروں، اور رسالوں اور خطوط کی انتہا کردی بایں ہمہ اُن کی ذات سے کوئی جہنم کا مستحق جنتی نہیں ہوا، یعنی کوئی ممتاز عیسائی کوئی آریہ، کوئی بت پرست، کوئی یہود، مسلمان نہ ہوا، اور تیس چالیس کروڑ مسلمان جو مردم شماری کے لحاظ سے دنیا میں کہے جاتے ہیں جنہیں مرزا قادیانی بھی اپنے اس دعویٰ کے قبل مسلمان اور جنت کا مستحق کہتے تھے اور متعدد رسالوں میں لکھ چکے تھے کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے، آخر میں انہیں کی نسبت کہا کہ جس نے مجھے نہیں مانا وہ ویسا ہی کافر ہے جیسا خدا اور رسول کو نہ ماننے والا، غرضیکہ اُن کا آخری قول یہی ہے کہ جنہوں نے مجھے نہیں مانا وہ سب کافر ہو کر جہنم کے مستحق ہوگئے۔
مرزا قادیانی کے اقوال دعویٰ نبوت مرزا میں نقل ہوچکے ہیں اُن کے بیٹے جو اب اُن کے دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں وہ اپنے رسالہ (تشحیذ الاذہان، ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٢ اپریل ١٩١١ء) میں تحریر فرماتے ہیں ان کا قول یہ ہے ”جب تبت اور سوئٹزر لینڈ کے باشندے رسول اللہ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کو نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہر سکتے ہیں ...... (الی ان قال) جب حضرت (مرزا) کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا، (یعنی مرزا قادیانی)
برادران اسلام! ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی کے خلیفہ اور فرزند ارجمند تمام ہندوستان بلکہ ساری دنیا کے غیر قادیانی مسلمانوں کو کس صراحت سے کافر بتاتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بعثت کا بھی فائدہ بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے غیر قادیانی مسلمان مسلمان نہ رہے یعنی مرزا قادیانی اسی لئے بھیجے گئے تھے کہ مسلمانوں سے دنیا کو خالی کردیں۔
حاصل یہ کہ جنہوں نے نہیں مانا انہیں تو مرزا قادیانی نے جہنم کا مستحق کردیا اور جنہوں نے مانا وہ تو پہلے سے مسلمان اور جنت کے مستحق تھے خود مرزا قادیانی کے قول سے مرزا قادیانی کی
٥٤
وجہ سے کوئی نئی بات نہیں ہوئی اس لئے ان کی بعثت کا نتیجہ یہی ہوا کہ بجز معدودے چند مسلمانوں کے ساری دنیا کے مسلمان کافر ہو گئے اور دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کی خاندانی ثروت و عزت جو زمینداری کے جاتے رہنے
وجہ سے کوئی نئی بات نہیں ہوئی اس لئے ان کی بعثت کا نتیجہ یہی ہوا کہ بجز معدودے چند مسلمانوں کے ساری دنیا کے مسلمان کافر ہو گئے اور دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کی خاندانی ثروت و عزت جو زمینداری کے جاتے رہنے کی وجہ سے چلی گئی تھی یا اُس میں بہت کچھ کمی ہو گئی تھی وہ دنیاوی عزت و ثروت انہیں اور اُن کی خاص اولاد کو مل گئی بلکہ شہرت اور ثروت اُس سے بہت زیادہ ہو گئی
اب برادران اسلام اس پر غور کریں کہ مرزا قادیانی کی وجہ سے مسلمانوں کو اور اسلام کو کس قدر مضرت ہوئی کہ اسلام دنیا سے گویا مفقود ہو گیا اور ٣٠‘٤٠ کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق تھے وہ جہنمی ہو گئے جناب رسول اللہ کے وقت میں آپ کی ذات مبارک سے غالباً دو لاکھ یا کچھ کم و بیش مسلمان ہوئے تھے یعنی یہ تعداد جو قطعاً جہنم کی مستحق ہو چکی تھی وہ جنتی ہو گئی اور کوئی جنت کا مستحق جہنمی نہیں ہوا کیونکہ اُس وقت عرب میں تین گروہ تھے یہود‘ نصاریٰ‘ مشرکین ان میں سے کوئی مسلمان نہ تھا‘ کیونکہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار سے اور نصاریٰ تثلیث پرستی اور مشرکین بت پرستی سے کافر تھے غرضیکہ آپ کے دعویٰ کے وقت میں کوئی جنت کا مستحق نہ تھا‘ اس لئے جس قدر مشرکین یہود و نصاریٰ جناب رسول اللہ پر ایمان لائے وہ وہی تھے جو پہلے جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور ایمان لانے کی وجہ سے جہنم سے علیحدہ ہو کر جنت کے مستحق ہوئے‘ یہ اسلامی جماعت ایسی عالی ہمت و جاں نثار اسلام ہوئی کہ بہت جلد دنیا میں اسلام کو پھیلا دیا اور کروڑوں جہنم کے جانے والوں کو جنت کا مستحق بنا دیا مرزا قادیانی کی حالت اس کے بالکل برعکس ہے‘ یعنی اُس اقرار کے بموجب تیس کروڑ اور واقعی مردم شماری کے لحاظ سے ٣٠‘٤٠ کروڑ مسلمان مستحق جنت تھے مرزا قادیانی نے اُنہیں میں سے بہت تھوڑی جماعت کو علیحدہ کر کے سب کو جہنم میں دھکیل دیا‘ کس قدر حیرت خیز معاملہ ہے کہ ایسے شخص کو خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین کا ظل مانا جاتا ہے اور اس پر مزید یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کی رو سے اپنے آپ کو رحمتہ اللعالمین بھی کہتے ہیں یہ عجیب رحمت ہے جس کی وجہ سے کروڑوں مستحق جنت جہنمی ہو گئے اور جنتی ایک بھی نہ ہوا بایں ہمہ ماننے والے انہیں رحمت مان رہے ہیں‘ اور باعث نجات جانتے ہیں‘ دو چار صلیب پرستوں کو بھی مسلمان نہیں بنایا‘ مگر اُن کے ماننے والوں نے مان لیا کہ مرزا قادیانی نے صلیب پرستی کا ستون توڑ دیا‘ مرزا پرستی کا جب یہ اثر ہے تو ان کے سمجھنے اور راہ راست پر آنے کی کیا اُمید ہو سکتی ہے‘ مگر اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے۔
عالم کے واقعات سے تو اظہر من الشمس ہو گیا اور ہو رہا ہے کہ تمام کفار اور خاص خدا پر
٥٥
افتراء کرنے والے اور وحی والہام کے مدعی دنیا میں بہت کچھ کامیاب رہ چکے ہیں اور اُن کے فلاح نہ پانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا میں وہ ذلیل و رسوا ہوں گے اب بعض آیات قرآنیہ سے بھی ثابت کیا جاتا ہے کہ ہر قسم کے مفتری اور مکذب کی سزا کا وقت موت کے بعد ہے اور کامل سزا کا زمانہ عالم آخرت ہے، دنیا اُس کا وقت نہیں ہے، یہ کہنا کہ مفتری دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے محض غلط ہے، واقعات عالم اور نصوص قرآنیہ دونوں اسے غلط بتا رہے ہیں۔
پہلی آیت اس کو معہ تفسیر علامہ نووی اور ترجمہ کے نقل کیا جاتا ہے
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْكَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ اُولٰئِكَ يَنَالُهُمْ (فِي الدُّنْيَا) نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ (ای مِمَّا كتب لَهُمْ من الارزاق والاعمار) حَتّٰى اِذَا جَاءَتْهُم رُسُلُنَا (اى ملك الموت واعوانه) يَتَوَفَّوْنَهُمْ (اى حال كو نهم قابضين اروا حهم) قَالُوْا (لهم) اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قَالُوْا ضَلُّوْا (ای غا بوا) عَنَّا وَشَهِدُوْا عَلٰى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ قٰلَ (تعالىٰ يوم القیمه) ادْخُلُوْا فِيْ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِ نْسِ فِي النَّارِ (اى ادخلوا فِي النَّارِ فِيمَا بين الامم الكٰفِرِيْن الخ
اُس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء کرے یا اُس کی نشانیوں کو جھٹلاوے، ان دونوں گروہ کا حصہ جو روز ازل میں مقرر ہو چکا ہے یا لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے یعنی اُن کی روزی اُن کی مقرر کردہ عمر وہ اُنھیں دنیا میں ملے گی اور اُس وقت تک ملے گی جس وقت ملک الموت اور اُس کے مدد گار اُس کی جان قبض کرنے کو آئیں گے اور اُن سے کہیں گے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارا کرتے تھے وہ کہاں ہیں یہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے پوشیدہ ہو گئے اور اپنے کفر کا اقرار کریں گے پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم سے پہلے جو کفار جہنم میں جا چکے ہیں اُنہیں کے پاس تم بھی جہنم میں جاؤ۔
(سورہ اعراف ٣٧۔٣٨ مراح لبید ج ١ ص ٢٧٨)
تفسیر روح المعانی (جز ٨ ص ١٠٠) میں جملہ اُولٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:۔
اى مما كتب لهم و قد رمن الارزاق والأجال مع ظلمهم وافتر ائهم لايجرمون ماقدر لهم من ذلك إلى انقضاء اجلهم فالكتاب بمعنى المكتوب
ان مفتریوں اور مکذبوں کے لئے جس قدر رزق ان کا مقدر ہو چکا ہے اور ان کی عمر کی
٥٦
مدت مقرر ہوچکی ہے وہ انہیں ضرور ملے گی یہ دونوں گروہ اپنے ظلم اور افتراء کی وجہ سے اس سے محروم نہ رہیں گے۔
جن کو اللہ تعالیٰ نے علم کے ساتھ عقل وفہم بھی عنایت کی ہے وہ اس آیت سے کئی باتوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں
اوّل یہ آیت کسی اصل مفتری یا کذب کے لئے نہیں ہے بلکہ عام ہے اس آیت کے جملہ مَنِ افْتَرىٰ میں جو لفظ مَنْ ہے وہ عموم پر دلالت کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ہر قسم کے مفتری کا حکم بیان کیا گیا ہے اور آیت کا ماسبق بھی اس عموم کا شاہد ہے۔
دوم ہر قسم کا افتراء کرنے والا اور اُس کی آیتوں سے انکار کرنیوالا ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی حکم میں ہے اِن دونوں کے لئے نہ دنیا میں کوئی فرق ہے نہ آخرت میں سوم اُن کی افتراء پر دازی اور تکذیب کی وجہ سے دنیا میں ان دونوں گروہوں کی مقدار راحت و آرام اور معینہ رزق اور مقررہ عمر میں کچھ کمی نہیں ہوتی اگر اُس کا رزق بہت وسعت اور آرام و راحت کیساتھ لکھا گیا ہے وہ اُسے ضرور پہنچے گا اور جس قدر ان کے عمر کے ایام زیادہ یا کم مقرر ہوچکے ہیں اُن ایام کو وہ ضرور پورا کریگا اُن میں کمی نہیں ہوسکتی اس مدعا کا ثبوت قرآن مجید کے الفاظ سے ظاہر ہے مگر میں نے پانچ تفسیروں کے حوالے بھی دے دیئے ہیں جن سے ان کا ثبوت ظاہر ہورہا ہے اب دیکھا جائے کہ اس آیت سے مرزا قادیانی کے کتنے اقوال غلط ہوگئے اُن کا یہ کہنا کہ مفتری دست بدست سزا پا لیتا ہے خدا کی آتش غضب اُسے جلد ہلاک کرتی ہے کیسا غلط اور خدا پر افتراء ثابت ہوا۔ چنانچہ خود مرزا نے لکھا ہے۔ ”قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ص ٤٩ ج ١١)
دوسری آیت فیصلہ آسمانی حصہ ٢ ص ٥٩ میں بھی لکھی گئی ہے اُس میں اس کی تفصیل دیکھنا چاہئے یہاں اس آیت کے خاص مضمون کا ذکر کیا جائیگا۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَیَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَوْ تَرىٰ اِذَا الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰئِكَةُ بَاسِطُوْا اَيْدِيْهِمْ اَخْرِجُوْا اَنْفُسَكُمْ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهِ تَسْتَكْبِرُوْنَ. (انعام ٩٣)
٥٧
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر افتراء کیا‘ یا یہ کہا کہ مجھ پر وحی کی گئی حالانکہ اُس پر کچھ وحی نہیں کی گئی‘ (محض جھوٹا دعویٰ وحی کرتا ہے) یا کوئی اپنے کمال کے غرور پر یہ کہے کہ جیسی باتیں خدا کی طرف سے اس رسول پر اُتری ہیں ایسی ہم بھی اپنی طرف سے اتار سکتے ہیں یعنی اپنے ذہن اور دماغی قوت سے بیان کر سکتے ہیں ان تینوں گروہوں کو بڑا ظالم فرما کر ظالموں کی حالت اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے‘ اے مخاطب اگر تو اُن ظالموں کی حالت کو دیکھے تو تیرا عجب حال ہو کہ موت کی بیہوشی میں پڑے ہیں (جانکنی ہو رہی ہے) اور فرشتے جان نکالنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو (ابتک تو تم نے چین کیا‘ یا جس طرح رہے مگر) اب تمہارے کئے کا بدلہ تم پر عذاب کیا جائے گا‘ جس کی وجہ سے تم ذلیل و رسوا ہوگئے‘ یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ تم خدا پر افتراء کرتے تھے اور جھوٹی بات اُس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ آیت کا پورا ترجمہ اور مطلب فیصلہ آسمانی میں بیان کیا گیا ہے اُس کا ص ٥٩ وغیرہ دیکھنا چاہئے۔
یہاں آیت کا مطلب معلوم کرنے کے بعد اس پر نظر کرنا چاہئے کہ اس آیت کے نازل کرنے سے اصل مقصود کیا ہے‘ اس کو فہمیدہ حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں کہ اصل مقصود اس آیت میں مفتری علی اللہ کی حالت بیان کرنا ہے وہ حالت یہ ہے کہ ایسا شخص بہت بڑا ظالم ہے اُس سے زیادہ کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اور اس ظالم کی سزا کا وقت اس کے مرنے کے بعد ہے اس کی حالت سے ہر ایک مخاطب کو عبرت پکڑنا اور خوف کرنا چاہیے۔ غرضیکہ اس آیت میں چار باتوں کا بیان کرنا مقصود ہے ایک یہ کہ مفتری علی اللہ بہت بڑا ظالم ہے دوسرے یہ کہ جانکنی کے وقت اُسے سخت تکلیف ہوتی ہے‘ ظاہر میں کسی کو اُس کا نمونہ معلوم ہو یا نہ ہو۔ تیسری یہ کہ موت کے وقت اُسے ایسی تکلیف ہوتی ہے کہ اگر انسان اس کا معائنہ کرے تو بہت بری اس کی حالت ہو‘ یعنی بہت کچھ اُس کو عبرت ہو اور ممکن ہے کہ ظاہری حالت میں بھی اس کی تغیر ہو‘ چوتھے یہ کہ اس کے افتراء کی سزا مرنے کے بعد ہے اب اگر کسی مفتری کو دنیا میں بھی کسی قسم کی سزا ملی تو وہ کسی شمار میں نہیں ہے اصل سزا جو دنیاوی سزا سے بہت زیادہ اور نہایت سخت اور ہمیشہ کیلئے ہے وہ مرنے کے بعد ہے‘ اُس کے مقابلہ میں دنیاوی سزا کوئی چیز نہیں ہے‘ اب دیکھنا چاہئے کہ مفتری علی اللہ کی کئی قسمیں ہیں‘ اُن سب کا یہی ایک حکم ہے یا کسی قسم کا مفتری اُس سے مستثنیٰ ہے‘ مثلاً کسی حکم کو یا کسی عقیدہ کو اپنے خیال سے تراش کر یا کسی کی تقلید کر کے یہ کہے کہ یہ حکم خدا ہے جیسا کہ تثلیث پرست اور مشرکین کہتے ہیں یا یہ کہ نزول وحی کا دعویٰ کرے‘ اب اُس وحی کے ذریعہ سے کسی کتاب یا رسالہ کے نازل ہونے کو بیان کرے یا متعدد
٥٨
اور مختلف مضمون کی وحی پیش کرے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے مفتری کہا ہے
ناظرین ! آیت کے صریح الفاظ نہایت صفائی سے شہادت دے رہے ہیں کہ اس میں ہر قسم کے مفتری کی حالت کو بیان کیا ہے مفتری کی کوئی قسم اس سے مستثنیٰ نہیں ہے اور بالخصوص وہ مفتری جو جھوٹی وحی کا دعویٰ کرے اُس کا ذکر مکرر اور نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے، ملاحظہ کیا جائے پہلے ارشاد ہوا، "وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا " جن کو عربی میں متوسط درجہ کا علم ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ لفظ مَنْ الفاظ عموم میں ہے، جس جملہ پر یہ لفظ آئیگا، معنی کے اعتبار سے اُس صفت میں جتنے شریک ہوں گے سب کو شامل ہو گا اس لئے "مَنِ افْتَرىٰ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا" ہر اُس شخص کو کہیں گے جو اللہ پر افتراء کرے، اب وہ افتراء کسی قسم کا ہو، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہو سکتی اس عام بیان میں وہ مفتری بھی شامل ہے جو وحی الٰہی کا مدعی ہو....... اور کسی رسالہ یا کتاب کے نزول کا جھوٹا دعویٰ کرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔"أَوْ قَالَ أُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ يُوحَى إِلَیْهِ شَیْءٌ" پہلے ارشاد ہوا تھا کہ جس نے افتراء کیا اُس کے بعد ارشاد ہوا کہ جس نے یہ کہا کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُس پر کوئی وحی نہیں کی یہ دونوں گروہ بڑے ظالم ہیں، یہاں صاحب علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ جس طرح پہلے جملے میں عموم ہے اور ہر قسم کے مفتری اُس سے سمجھے جاتے ہیں اسی طرح اس جملے کا مضمون بھی عام ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مَنْ "افْتَرىٰ" آیا ہے اور اس وجہ سے اس جملہ کا مضمون عام ہو گیا، اسی طرح عطف کی وجہ سے قَالَ پر مَنْ آیا اور اُس نے اس جملہ کے مضمون کو عام کر دیا) اور ہر ایسے شخص کا ذکر ہے جو جھوٹی وحی کا دعویٰ کرے، اب اس میں وہ کوئی رسالہ یا کتاب پیش کرے یا چند جملے پیش کر کے کہے کہ یہ مجھ پر وحی کئے گئے، یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ایسا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی دو طرح سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ کسی وجہ سے کسی امر کی خواہش میں اُسے غلبہ ہوا، اور پختہ خیال ہو گیا کہ ایسا ہو گا، اور اس پختہ خیال کو یہ وحی الٰہی سمجھا، دوسرے یہ کہ بغیر ایسے خیال کے یونہی اپنی بزرگی جتانے کو ایسا دعویٰ کر دیا، مگر یہ دونوں اللہ کے نزدیک مفتری ہیں، بعض کم علم حضرات کو یہاں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ جب یہ گروہ بھی مفتری ہے تو پہلے جملہ میں اس کا بیان ہو لیا اُس کے بعد اسے علیحدہ بیان کرنا بیکار ہے، اُس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اس گروہ کا بیان بھی پہلے جملہ میں ہو چکا ہے مگر اہل علم اس کو خوب سمجھتے ہیں کہ بعض وقت ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ پہلے ایک حکم کو بطور عموم بیان کیا جائے پھر اُسی بات کو کسی خاص گروہ یا خاص شخص کے لئے بیان کیا جائے اس کو تخصیص بعد تعمیم کہتے ہیں اس
٥٩
طرز بیان سے اس کا اظہار منظور ہوتا ہے کہ اس وقت اس گروہ یا اس شخص کی طرف توجہ زیادہ ہے اور خصوصیت کیساتھ اس کی مذمت یا تعریف مدنظر ہے‘
الحاصل اس آیت میں ایسے جھوٹے کی حالت بیان کرنا زیادہ مدنظر ہے جو وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے اور دعویٰ کرنے کا کوئی وقت بیان نہیں کیا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ آیت میں جرم کا بیان ہے وہ جرم افتراء کرنا ہے اُس کے بعد اُس کی سزا کا بیان ہے پھر اُس کے لئے وقت کی تعیین نہیں ہو سکتی حاکم نے جب کسی جرم کی سزا مقرر کر دی وہ سزا جرم کے بعد ہر وقت ہوگی اُس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اب اُس جرم کا وقوع جناب رسول اللہؐ کے وقت میں ہو یا آپؐ کے بعد بارہ تیرہ سو برس کے بعد ہو اس آیت میں سب کا بیان ہے، جس طرح روزے اور نماز کا حکم ہے کہ اُس وقت کے اصحاب پر بھی تھا اور اس کے بعد قیامت تک ہے ایسا ہی جس نیک کام کیلئے وعدہ اور برے کام کے لئے وعید کی گئی ہے وہ اُس وقت کیلئے بھی تھی، اور قیامت تک کے انسانوں کے لئے ہے اہل علم اس کا یقین کرتے ہیں جہلاء کا ذکر نہیں ہے۔
الغرض ان سب گروہوں کی نسبت وہ وعید بیان کی گئی ہے جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں ہے، اور جو وقت اُس وعید کا ہے اُسی وقت اُس کا ظہور ہوگا یعنی مرنے کے بعد دنیا میں اُس کا وقت بتانا محض غلط ہے، اس آیت میں جس مفتری کو خاص طور سے بیان کیا ہے یہ وہی مفتری ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں دست بدست سزا پاتا ہے، اور یہ غلط اور جھوٹا دعویٰ بار بار انہوں نے کتب الٰہیہ کی طرف منسوب کیا ہے۔
اب یہاں یہ بھی معلوم کرنا ضرور ہے کہ قرآن مجید میں اور احادیث میں اکثر احکام یا وعدہ و وعید کا نزول ظاہر میں کسی خاص سبب سے ہوا ہے، مگر اس سے یہ سمجھنا کہ یہ حکم یا یہ وعدہ یا وعید اسی سبب سے مخصوص ہے کسی فہمیدہ ذی علم کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر ایک ذی علم یہی سمجھتا ہے کہ اس وعید یا وعدہ کے نزول کا سبب اگرچہ کوئی شخص ہوا ہے مگر یہ وعید یا وعدہ اُس سے مخصوص نہیں ہے بلکہ عام ہے جو شخص جس وقت اس جرم کو کرے گا وہ اس سزا کا مستحق ہوگا، اسی طرح وعدہ میں جزا کا مستحق ہوگا اب میں اس کی تائید اور تشریح میں بعض تفسیروں کی عبارت نقل کرتا ہوں، جس سے ناواقف حضرات اپنے جہل مرکب پر متنبہ ہوں، تفسیر فتح البیان کی جلد سوم میں پہلی آیت کا اول جملہ لکھا ہے، جو یہ ہے۔
فمن افتریٰ علی اللّٰہ کذبا او قال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شئ انما ھذا شان
٦٠
الكذابين رئيس الضلال المسيلمة الكذاب (ثم قال) اهل العلم وقد دخل فى حكم هذه الاية كل من افترى على الله كذبا فى ذلك الزمان وبعده لانه لايمنع خصوص السبب من عموم الحكم ص ١٩٢
جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا نزول وحی کا جھوٹا دعویٰ کیا (پھر اُس کی تفسیر میں لکھتے ہیں) اس میں شبہ نہیں کہ یہ شان اُن جھوٹوں کی ہے جو گمراہوں کے سردار ہیں جیسے مسیلمہ کذاب (اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں عام مفتریوں کا ذکر ہے اور مسیلمہ کذاب کو اُن کی مثال میں پیش کیا ہے پھر چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں) کہ اہل علم کہتے ہیں کہ آیت کے اس بیان میں ہر وہ شخص داخل ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے اس زمانہ میں (یعنی رسول اللہ کے وقت میں) یا اُس کے بعد کیونکہ سبب کا خاص ہونا حکم کے عام ہونے کو منع نہیں کرتا"۔
قادیانی مؤلف القاء اس تفسیر کو ملاحظہ کریں اور اپنی غلطی پر متنبہ ہوں‘ علامہ طبری اپنی تفسیر جامع البیان میں آیت مذکورہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں‘
فقد دخل فى هذه الاية كل من كان مختلقاً على الله كذبا وقائلاً فى ذلك الزمان وفى غيره اوحى الله الىَّ او هو فى قيله كاذب لم يوح الله اليه شيئاً فامَّا التنزيل فانه جائز ان يكون نزل بسبب بعضهم و جائز ان يكون نزل بسبب جميعهم (جلد٧ ص٢٧٤)
اس میں شبہ نہیں کہ اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا‘ اور وحی الٰہی کے نزول کا جھوٹا دعویٰ کیا اب یہ دعویٰ جناب رسول اللہ کے زمانہ میں ہو یا دوسرے وقت میں (یعنی اس میں نہ وقت کی تخصیص ہے نہ کسی مدعی کی اس میں پہلی اور دوسری صدی اور چودھویں صدی سب برابر ہیں) اب رہا آیت کے نازل ہونیکا سبب اس میں ہو سکتا ہے کہ نزول کا سبب بعض جھوٹے ہوں‘ مثلاً مسیلمہ کذاب اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام جھوٹوں کے لئے آیت کا نزول ہوا‘ اگرچہ اُس وقت مسیلمہ کذاب وغیرہ جھوٹے بطور اتفاق موجود تھے۔
علامہ طبری نے نہایت عمدہ فیصلہ کر دیا‘ یعنی یہ فرمایا کہ آیت میں جو حکم جھوٹے مدعی کے لئے بیان ہوا ہے وہ تو ہر طرح عام ہے کسی خاص جھوٹے مدعی سے مخصوص نہیں ہے‘ البتہ آیت کے نزول کا سبب خاص بھی ہو سکتا ہے اور عام بھی ہو سکتا ہے‘ اور جنہوں نے اُس کے نزول کا خاص ہی سبب بیان کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اُس وقت مسیلمہ وغیرہ جھوٹے
٦١
موجود تھے اس لئے اُس وقت بعض حضرات کے خیال میں یہ آیا کہ اسی کی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی، غرضیکہ یہ کوئی پختہ بات نہیں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کا سبب مسیلمہ اور عنسی ہی ہیں، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس قسم کے جھوٹے مدعی ہونے والے تھے اس لئے اُس نے یہ وعید نازل فرمائی، البتہ جس وقت یہ وعید نازل ہوئی اُس وقت بعض ایسے جھوٹے موجود تھے، اور عقل سلیم جب اس پر غور کریگی تو اسی کو ترجیح دیگی کیونکہ علم الہی میں مسیلمہ کے سوا بہت سے جھوٹے مدعی تھے جن کا ظہور اس وقت تک ہوا، پھر اُن کی حالت کا بیان ہونا قرآن مجید میں ضرور تھا، اس لئے آیت مذکورہ میں اُن کا بیان ہوا، مسیلمہ کی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں ہے بجز اس کے کہ نزول کے وقت یہ موجود تھا، اور اسی وجہ سے بعض نے اُسے نزول کا سبب خیال کیا، اور بالفرض اگر نزول کا سبب ہو تو بھی آیت کا حکم اور اُس کی وعید اُس سے مخصوص کسی طرح نہیں ہو سکتی، بعض مفسرین نے مسیلمہ کو باعث نزول آیت قرار دیا ہے، اور بعض نے اُسے بطور مثال پیش کیا ہے، اس سے آیت کے حکم کو اُس سے مخصوص سمجھنا کمال درجہ کی نافہمی ہے، مؤلف القاء اس تحقیق میں غور کریں اور اپنی نافہمی اور غلطی پر متاسف ہوں، علم اصول فقہ میں یہ مسئلہ مصرح ہے توضیح کا یہ جملہ اہل علم کی زبان پر مشہور ہے۔
العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب لان التمسك انما هو باللفظ وهو عام و خصوص السبب لا ينافي عموم اللفظ ولا يقتضى اقتضاءه عليه ولانه قد اشتهر من الصحابة ومن بعدهم التمسك بالعمومات الواردة في حوادث واسباب خاصة من غير قصرلها على تلک الاسباب فيكون اجماعاً على ان العبرة لعموم اللفظ
(توضیح، ص ١٢١)
یعنی قرآن وحدیث میں لفظ کے عموم کا اعتبار ہے اگرچہ اُس کے نزول کا سبب خاص ہو (علامہ تفتازانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ لفظ کے عموم کا اعتبار اس لئے ہے) تمسک اور دلیل تو (قرآن وحدیث کے) الفاظ سے ہوتی ہے، اور سبب نزول کا خاص ہونا عموم لفظ کے منافی نہیں ہے (ممکن ہے کہ سبب نزول خاص ہو اور کلام الہی کے الفاظ عام ہوں، اور اس وجہ سے اُس کلام الہی کا حکم عام ہو) سبب کا خاص ہونا اُس کا مقتضی نہیں ہے کہ کلام الہی کا حکم اُس سے خاص کر دیا جائے (اور ایسے کلام کے عام رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ) صحابہ اور تابعین وغیرہم سے یہ بات درجہ شہرت کو پہنچ چکی ہے کہ جس کلام الہی کے لفظ عام ہیں اور اُس کے نزول کا سبب خاص ہے اُس
٦٢
سے ان تمام بزرگوں نے عام حکم ثابت کیا ہے خاص اُس سبب پر منحصر نہیں رکھا، اس سے ثابت ہوا کہ یہ اجماعی مسئلہ ہے کہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہے (جیسا کہ مذکورہ آیت میں لفظ مَنْ ہے) سبب کے خاص ہونے کا لحاظ نہیں ہے"۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کلام الٰہی میں کسی حکم کو ایسے لفظ سے بیان کیا ہے کہ اُس کے معنی عام ہیں تو بالاتفاق اُس سے عام حکم ثابت ہوگا، اگرچہ اُس کے نزول کا سبب خاص ہو یہ دونوں کتابیں کتب درسیہ میں متوسط درجہ کے طالب علم پڑھتے ہیں، پھر کیا مؤلف القا کے مطالعہ میں یہ کتابیں نہیں آئیں اگر ان کتابوں پر اُن کی نظر نہ ہو تو نور الانوار ہی کو ملاحظہ کریں، اسے تو ادنیٰ مرتبہ کے طلباء پڑھتے ہیں، اس میں اس مسئلہ کو متعدد جگہ مختلف طور سے بیان کیا ہے اُس کی عبارت لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، قادیانی مربی نے پڑھا ہے وہ نکال کر دیکھ سکتے ہیں، البتہ اگر مرزا قادیانی کی بیعت نے تمام علوم کو اور حقانی باتوں کو اُن کے سینہ سے محو کر دیا ہے تو اُس کا علاج انسانی اختیار سے باہر ہے کیونکہ اِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ اَحْبَبْتَ ارشاد خداوندی ہے۔
الغرض یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ ان دونوں آیتوں کی وعید تمام مفتریوں کے لئے ہے، مفتری کی کوئی قسم اس سے علیحدہ نہیں ہے دوسرے یہ کہ جو وعید ان آیتوں میں بیان ہوئی ہے وہ دنیا کی وعید نہیں ہے بلکہ دوسرے عالم کے لئے ہے جس میں انسان مرنے کے بعد جاتا ہے، پہلی آیت سے تو اس کا ثبوت ہوا یا اب دوسری آیت کو ملاحظہ کیجئے۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے تو افتراء پردازوں کو بہت بڑا ظالم ٹھہرا کر اجمالی طور سے ہر قسم کے مفتریوں کو ڈرایا، اُس کے بعد کسی قدر اُس کی تفصیل کے لئے جناب رسول اللہ سے یا عام مخاطبین سے ارشاد ہوتا ہے۔
وَ لَوْ تَرىٰ اِذَا الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ الظالمون عام اندراج فيه اليهود و المتنبئة و غيرهم وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْا اَیْدِيْهِمْ اَخْرِجُوْا اَنْفُسَكُمْ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ الْقَوْلَ عَلَى اللّٰهِ غَيْر الحق يشتمل كل نوع من الكفر ويدخل فيه دخولا اولیّا من تقدم ذكره من المفترين على اللّٰه الكذب
(آیت قرآن مع تفسیر بحر محیط جلد ٤ ص ١٨١ سورہ انعام)
اگر ان ظالموں کی حالت موت کے وقت تو دیکھے کہ کس سختی سے ان کی جان نکلتی ہے، اور عذاب کے فرشتے اُن کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور اُن کے اظہارِ عجز کے لئے کہہ رہے ہیں کہ اپنی جانوں
٦٣
کو اپنے جسم سے نکالو یا اس عذاب سے اپنے آپ کو بچاؤ‘ اب تمہاری افتراء پردازی اور ہر قسم کے کفریات کی تمہیں سزا دی جائے گی اب یہاں غور کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو مفتری کہہ کر اُنھیں بہت بڑا ظالم فرمایا اُس کے بعد اُس ظلم کی سزا ذلت کا عذاب قرار دیا اور اُس عذاب کی ابتداء موت کے وقت سے بتائی چنانچہ ارشاد ہوا۔ ”اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ“ یعنی جس وقت فرشتے جان نکال رہے ہیں اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ اب تمہارے افتراء پردازی کی سزا دی جائے گی‘ یہ ارشاد ایسا ہے کہ دنیا میں کوئی بدمعاش مدت دراز تک پکڑا نہ جائے اور چین سے بدمعاشی کرتا پھرے‘ اور جب وہ پکڑا جائے اور حاکم کا پیادہ اُس کی مشکیں کسے اور لات جوتا بھی رسید کرے اور یہ کہے کہ بہت بدمعاشی کرتے رہے اب تمہاری خبر لی جائے گی اور پوری سزا کی جائے گی‘ یہ مشکیں کسی جانا اور کسی قدر جوتے اور لات سے اُس کی خبر لینا سزا میں داخل نہیں سمجھا جاتا‘ سزا کا مقام تو جیل ہے‘ اُس میں جانے کے وقت سے اُس کی سزا کی ابتداء ہے‘ اُس سے پیشتر جو کچھ اُس کی گت بنائی گئی وہ سزا کی تمہید تھی‘ مجرم انسان کی جان نکالنے کے لئے فرشتوں کا آنا اور اُس کی روح کو نکالنا ایسا ہے جیسا کہ دنیوی مجرم کی مشکیں کسی گئیں قرآن مجید کے اس جملہ نے یقینی طور سے ثابت کر دیا کہ مفتری کی سزا کا وقت مرنے کے بعد ہے اور جانکنی کے وقت جو کچھ تکلیف ہے وہ اُس کی تمہید ہے‘ جس طرح بدمعاشوں کو جیل میں جانے کے پہلے کچھ مار پیٹ ہو جاتی ہے‘ اس آیت میں مفتری کے دنیاوی گزران کا کچھ ذکر نہیں ہے مگر اس وقت اس آیت کو پہلی آیت سے ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کیونکہ اُس آیت میں انھیں مفتری علی اللہ کی نسبت ارشاد ہے۔
اُولٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ حَتّٰى اِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ.
ان مفتریوں کا مقدرہ رزق وغیرہ اُنھیں پہنچتا رہے گا یہاں تک کہ ان کی جان لینے کے لئے ہمارے رسول یعنی ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے پہنچیں“۔ اور جب دنیا کے تاریخی واقعات پر نظر کی جاتی ہے تو مسلمان اور غیر مسلمان سب ہی کو اس کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ عالم دنیا مفتری کی سزا کا مقام نہیں ہے اور نہ اُن کی گرفت کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے۔
حاصل کلام! یہ ہے کہ مفتریوں اور صادقوں کے واقعات‘ اور قرآن مجید کی متعدد آیات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کے لئے جو کامیابی اور فلاح کی بشارت دی گئی ہے‘ اور مفتریوں اور کافروں کے لئے ناکامی اور عدم فلاح کی وعید سنائی گئی ہے‘ ان دونوں کا وقت مرنے کے بعد ہے‘ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ الخ سے مرزا قادیانی کا یہ استدلال کرنا محض غلط ہے کہ
٦٤
مفتری کو بیس برس یا تئیس سے زیادہ مہلت نہیں دی جاتی ہے‘ اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو جلد کھاتی رہی ہے اس لمبے عرصے تک اس جھوٹے کو (یعنی مرزا قادیانی کو) چھوڑ دے۔ کیونکہ آیت سورۃ الحاقہ جو بالاتفاق مکی ہے اور کوئی آیت اس کی مدنی نہیں ہے اُس میں ارشاد ہے۔ تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ‘لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ ، فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ.
(الحاقہ ٤٣ تا ٤٧)
یعنی پورا قرآن پروردگار کی طرف سے اتارا ہوا ہے (کسی دوسرے کا بنایا ہوا نہیں ہے) اگر (ہمارا رسول محمدؐ سچے الہاموں کیساتھ) بعض جھوٹی باتیں ملا دیتا تو ہم اُسے مضبوط پکڑتے یا اُس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (اور وہ بری حالت کرتے کہ تم دیکھ لیتے) اس کے بعد اُسے ہلاک کر دیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ زندہ درگور ہو جاتا‘ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس آیت میں جو بعض کا لفظ آیا ہے وہ جھوٹے ملہم کو سزا سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ مطلب یہ ہے کہ سچا ملہم اگر اپنے سچے الہاموں کے ساتھ بعض جھوٹے الہام بیان کر دے تو اُس کی سزا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے‘ غرض بعض الاقاویل کی قید نے نہایت صفائی سے جھوٹے ملہم کو اس آیت سے نکال دیا‘ چونکہ یہ آیت مکی ہے یعنی اس وقت نازل ہوئی ہے جس وقت تھوڑا سا قرآن شریف نازل ہوا تھا اس لئے بعض کے معنی کل کے کسی طرح نہیں ہو سکتے جیسا کہ بعض مرزائیوں نے اپنی نافہمی سے لکھا ہے، پوری بحث فیصلہ آسمانی حصہ ٢ میں دیکھو ص ٦٨ ۔ ٧٨ تک ملاحظہ ہو۔
پس اگر کسی صادق کو دنیا میں کچھ کامیابی اور خوش حالی ہو اور کسی کافر کو کیسی ہی بدحالی ہو تو اُس جزا اور سزا کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہے‘ جو اپنے وقت اور موقع پر اُنھیں ملنے والی ہے اس لئے وہ کسی شمار میں نہیں ہو سکتی‘ اب اس کے خلاف جو دعویٰ کرتا ہے اور قرآن مجید کی آیت سے اُس کا ثبوت بتاتا ہے وہ محض جاہل اور قرآن مجید سے بالکل بے بہرہ ہے‘ یا کلام الٰہی میں وہ سخت عیب لگانا چاہتا ہے یعنی در پردہ دہریہ یا منکر اسلام ہے اور یہ کہتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور اُس کی باتوں میں تعارض اور تخالف ہے‘ چنانچہ اس رسالے کے مضامین بالا سے کامل طور سے اس کا ثبوت ہو گیا۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ط
۞ ۞ ۞ ۞ ۞
٦٥
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے !
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزار ہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور ، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام !
آج فیصلہ کرلو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے ؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(١٠)
حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جس میں نہایت متانت اور کامل سنجیدگی سے مسیح قادیان کی نسبت اپنے پاکیزہ خیالات بیان کئے ہیں
جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ورسالت کے ذکر میں عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری کے رسالہ القائے ربانی کی چند سطروں میں عظیم الشان دس غلطیاں دکھا کر انہیں متنبہ کیا ہے
اطلاع خاص
عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری نے اپنے رسالہ القائے ربانی کے آخر میں مرزا قادیانی کی نبوت ورسالت کو اپنے خیال فاسد میں اس طرح ثابت کرنا چاہا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی اور معارض نہ ہو۔ مگر ”ایں خیال است و محال است و جنوں“ حضرت سرور انبیاء علیہ التحیۃ والثناء کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ چونکہ نہایت غلط دعوے کے اثبات میں بے سروپا باتیں بنائی ہیں اور امر حق پر پردہ ڈالنا چاہا ہے اس لئے ان سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس نمبر میں صرف دس غلطیاں دکھائی گئی ہیں انشاء اللہ آئندہ کے نمبر میں المضاعف بلکہ اس سے بھی زیادہ دکھائی جائیں گی تا کہ انہیں تنبیہ ہو۔
والسلام خاکسار محمد یعقوب غفر اللہ لہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت
اور عبدالماجد قادیانی کی فاش غلطیاں
اس میں شبہ نہیں کہ رسالہ فیصلہ آسمانی مؤلفہ حضرت مونگیریؒ مرزا قادیانی کے باب میں واقعی آسمانی فیصلہ ہے جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے وہ نہایت صحیح ہے اس کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا۔ اس رسالہ نادرہ میں ضمناً مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی یہ دلیل بھی لکھی ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ کے بعد کوئی امتی یا غیر امتی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب صریح آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کذاب و دجال ہے۔ جن قادیانی مربی کا نام میں نے عنوان پر لکھا ہے یہ بھاگلپور کے مشہور قادیانی مربی ہیں، مگر یہ مذہبی حالت ہمیشہ بدلتے رہے۔ کچھ دنوں سے مرزائی احمدی ہو گئے ہیں اور قادیان کے خلیفۃ المسیح کی فرمائش سے فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا جواب لکھا ہے مگر اہل علم کو ان کا جواب دیکھ کر ان کی حالت پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ ذی علم حضرات ان کے رسالہ میں صریح غلطیاں اور کھلی بددیانتیاں اور بے سروپا باتیں دیکھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا مشہور علم و فضل کیا ہو گیا۔ علم کے سوا ان میں تو دیانت و تہذیب کا بھی پتہ نہیں لگتا۔ اس کے اظہار کے لئے ایک رسالہ انوار ایمانی، مؤلفہ مولانا ابوالخیر محمد انور حسین صاحب مونگیری کا چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا رسالہ ”محکمات ربانی“ جو ان کے نہایت اخص عزیز مولوی حکیم ولی الدین صاحب بھاگلپوری نے لکھا ہے وہ زیر طبع ہے۔ بنظر خیر خواہی مسلمانان، محرر سطور کا بھی خیال ہوا کہ قادیانی مربی کی بعض غلطیوں کو اظہر من الشمس کر کے مسلمانوں کو واقف کرے تاکہ ان کی باتوں سے ناواقف حضرات بچیں۔ اللہ تعالیٰ توفیق عنایت
٣
کرے آمین۔ میں اس مضمون میں صرف انہیں غلطیوں کا نمونہ دکھاؤں گا جو انہوں نے دعویٰ نبوت مرزا کے بیان میں کی ہیں۔
معزز ناظرین! آپ کو خوب یاد ہوگا کہ ایک زمانہ میں مونگیر بھاگلپور میں قادیانی جماعت کا کس قدر زور تھا۔ علماء اسلام کی صلح کن حکمت عملی نے ان کو اس قدر جری کر دیا کہ ان کا جاہل، اجہل، بھی بازاروں میں سڑکوں پر چیلنج دیتا پھرتا تھا اور ذرا بھی ہوشیار ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ بلکہ خدائی ڈھیل پر ان کی جرأت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب یہ بہت بڑھ چڑھ گئے تو موافق سنت الٰہی کے ایک بارگی خداوند ذوالجلال کی غیرت جوش میں آئی اور ایک باخدا مقدس انسان کے دل میں القا فرمایا کہ اٹھو اور ان کی بیخ و بنیاد کو متزلزل کر دو۔ چنانچہ یہ باخدا شخص خدا کا نام لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مرزائی فتنہ کے فرو کرنے پر متوجہ ہو گئے۔ جن کے ادنیٰ فیوضات و برکات کا نتیجہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فوراً بساط مناظرہ قائم ہوگئی جس میں بیچارے مرزائیوں کو اپنے ہی مقرر کردہ شرائط کو نامعقول کہہ کر سر پر الٹی کرسیاں لے کر بھاگنا پڑا، اور دوسری طرف اس مقدس انسان کا فیض دائمی یہ ہوا کہ فیصلہ آسمانی حصہ اول و دوم و سوم و شہادت آسمانی، وثیقۃ المسیح، و دیگر بیش بہا رسالجات کی میگزین تیار فرمائی جس سے نہ صرف مرزا قادیانی کا مصنوعی قلعہ ”ہباء منثورا“ ہوگیا، بلکہ مونگیر بھاگلپور کے مقامی مرزائیوں پر بھی ایسا گولہ پڑا کہ بالکل بے پناہ ہو گئے۔ مثل فراری چوروں کے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ اس طرف مردان خدا اظہار حق کے لئے ہر طرح موجود ہیں ان کے صدر انجمن سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح چاہے مناظرہ کر لیجئے، مباہلہ کر لیجئے۔ عام جلسہ میں کیجئے، خاص میں کیجئے، سامنے آنے میں اگر آپ کو شرم آتی ہے تو اپنی طرف سے اپنے کسی شاگرد کو یا کسی دوسرے کو پیش کیجئے۔ مگر صدائے برنہ خاست کا مضمون ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کسی نفسانی غرض یا طعنہ دہی کی شرم نے ان کو پکڑ رکھا ہے نہیں تو کب کے مسلمان ہو جاتے۔
معزز ناظرین! مذکورہ رسالے ایسی تحقیق اور لاجواب طریقے سے لکھے گئے ہیں کہ کوئی حق پسند ان کے مضامین سے انکار نہیں کر سکتا اور کوئی معاند ان کا صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ مگر عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری نے اتنے عرصہ میں صرف فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا جواب دینا چاہا ہے۔ بلکہ بزعم خود دے بھی دیا ہے اور ایک کتاب بنام القاء ربانی پبلک میں پیش کر دی ہے۔ جسے القاء نفسانی کہنا نہایت صحیح ہے۔ اس سے اور کچھ تو نہیں ہو سکتا ہے صرف اس جنرل کے مشابہ ضرور
٤
ہو گئے ہیں جو جنگ میں شکست فاش کھایا ہوا اور نوک دم بھاگ کر گرتے پڑتے اپنی جان بچائی ہو۔ اس کے بعد پھر اپنی شرم مٹانے کے لئے اپنے بھاگتے ہوئے سپاہیوں کو جمع کر کے انہیں ٹوٹے پھوٹے ہوئے ہتھیاروں سے ایک مرتبہ مقابلہ کے لئے اور بھی ٹھان لی ہو، لیکن ہر شخص آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ بھگوڑے سپاہی نکھے ہتھیاروں سے ایک جرار حوصلہ مند با حربہ وہتھیار فوج کا کیونکر مقابلہ کر سکتے ہیں؟ غور سے نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ قادیانی مربی نے جواب لکھ کر صرف مناظرہ ہونے کی شرم مٹانی چاہی ہے یا خلیفۃ المسیح قادیانی کی شرم رکھنے کے لئے قلم فرسائی کی ہے کیونکہ فیصلہ آسمانی کے جواب کے لئے اول انہیں سے درخواست کی گئی تھی اور ان سے کچھ نہ ہو سکا اور قادیانی مربی کو اپنے جواب کا ضعف اچھی طرح معلوم ہے، نہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ فیصلہ آسمانی کے جواب کے لئے جو ایک ہزار نقد جھنا جھن کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے حاصل کرنے کی ذرہ بھی کوشش نہیں فرماتے اور اشتہار دینے والے کو ایک پرزہ تک نہیں لکھا۔ ہم اس کو نہیں تسلیم کر سکتے کہ قادیانی مربی روپیہ سے بے پرواہ ہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک قلیل ماہانہ تنخواہ کے واسطے روزانہ سر مغزنی کرتے ہیں اور بنچ اور کرسیوں پر سر پیٹتے ہیں۔ ایک ہزار تو بہت بڑی رقم ہے اور اگر قادیانی مربی یہ عذر پیش کریں کہ ایسے ایسے اشتہارات ایفاء وعدہ کے خیال سے نہیں دیئے جاتے ہیں تو پھر ان سے یہ سوال ہوگا کہ مرزا جی بھی تو بہت اشتہار چار ہزاری و پنج ہزاری دیا کرتے تھے، کیا ان کا خیال بھی آپ نے اسی ذیل میں شمار کیا ہے؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اشتہاروں کو آپ جو کچھ خیال کریں یہ آپ کو اختیار ہے مگر یہاں انعامی وعدہ ہے ایک سچے مسلمان نے کیا ہے اس میں خلاف نہیں ہو سکتا۔ بھاگلپوری، مونگیری، لکھنوی قادیانی وغیرہ جہاں قادیانی جماعتیں ہیں جلسہ کر کے فیصلہ کرلیں اشتہاری شرائط میں حکیم نورالدین قادیانی کا بھی ذکر ہے ان کا انتقال ہو گیا ہے، اگر کوئی قادیانی فیصلہ کے لئے تیار ہو تو مشتہر منشی ابراہیم حسین صاحب رتن پوری سے طے کر سکتا ہے اور راقم سے بھی طے کر سکتا ہے، مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی قادیانی یہ ہمت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ان کا دل رسائل مذکورہ کی قوت دلائل کو مان چکا ہے یہی وجہ ہے کہ مناظرہ مونگیر کے زمانہ یعنی ١٩١١ء سے اس وقت تک (پچیس رسالے شائع ہو چکے ہیں اور پانچ رسالے زیر طبع ہیں۔ ان سب کے نام یہ ہیں (١) فیصلہ آسمانی حصہ اول، (٢) فیصلہ آسمانی حصہ دوم، (٣) فیصلہ آسمانی حصہ سوم، (٤) تتمہ فیصلہ آسمانی، (٥) شہادت آسمانی (٦) حقیقۃ المسیح ، (٧) معیار المسیح ، (٨) تنزیہہ ربانی، (٩) معیار صداقت، (١٠) حق نما، (١١) آئینہ قادیانی، (١٢) تکذیب قادیانی،
٥
(١٣) اہل حق کو بشارت، (١٤) انوار ایمانی، (١٥) ادعا مرزا (١٦) مسیح کاذب، (١٧) تائید ربانی بر ہزیمت قادیانی، (١٨) مرزا غلام احمد قادیانی کا فیصلہ، (١٩) مسیح قادیانی کا فیصلہ، (٢٠) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١ (٢١) صحیفہ نمبر ٢ (٢٢) صحیفہ نمبر ٣ (٢٣) صحیفہ نمبر ٤ (٢٤) صحیفہ نمبر ٥ (٢٥) صحیفہ نمبر ٦ (٢٦) صحیفہ نمبر ٧ (٢٧) رسالہ دعویٰ نبوت مرزا نمبر ٦، ٧ میں چھپا ہے، مگر ہر ایک نمبر مستقل رسالہ ہے۔ مندرجہ ذیل کتابیں زیر طبع ہیں۔
(٢٨) عبرت خیز (٢٩) النجم ثاقب، (٣٠) محکمات ربانی (٣١) صواعق ربانی۔ بعض مرزائی حضرات ان رسائل کا بے سود اور فضول ہونا اس جملہ سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ”مونگیر سے رسالہ پر رسالہ نکل رہا ہے۔ مگر قادیانی ہیں کہ کچھ خیال نہیں کرتے۔“ یعنی ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا، اس لئے یہ رسالے بے سود ہیں، اس کا تفصیلی جواب تو دوسرے مقام پر دیا جائے گا مگر قادیانی یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی نے آریوں کے مقابلہ میں کتاب لکھی، پیشین گوئیاں کیں مگر کوئی آریہ ایمان لایا؟ پادریوں کے مقابلے میں کتاب لکھی، بہت غل مچایا مگر کسی پادری نے اس پر توجہ بھی کی؟ پھر آپ کے خیال کے بموجب مرزا قادیانی باوجود مامور من اللہ ہونے کے کیا حاصل کیا؟
اس وقت ہمارے پچیس رسالے چھپ کر شائع ہو چکے ہیں، اس میں مطول اور مختصر اور متوسط ہر قسم کے رسالے ہیں اور متعدد طریقہ سے سمجھایا گیا ہے اور مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے، مگر نہ راہ مستقیم کو قادیانی جماعت اختیار کرتی ہے اور نہ رسالوں کا جواب دے سکتی ہے اس چار برس کے عرصہ میں صرف فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے مقابلے میں دو رسالے لکھے گئے ہیں۔ ایک برق آسمانی جس کا دندان شکن جواب صواعق ربانی زیر طبع ہے، دوسرا القاء ربانی ہے۔ جس پر دو ریمارک ہو چکے ہیں، ایک انوار ایمانی (یہ رسالہ چھپ کر شائع ہو چکا ہے اور مؤلف القاء کو پہنچ چکا ہے دوسرا زیر طبع ہے اور یہ تیسرا رسالہ ہے جن حضرات کو قادیانی مربی کے علم و دیانت پر بڑا اعتماد ہے وہ برائے خدا ان رسالوں کو ملاحظہ فرمائیں اور جب القاء کا پورا جواب لکھا جائے اس کو بنظر انصاف و تحقیق دیکھیں، اگر کچھ بھی انصاف اور حق طلبی ہو تو قادیانی مربی کے علم و دیانت دونوں کی قلعی کھل جائے گی ۔) دوسرا رسالہ محکمات ربانی ہے۔ قادیانیوں کا رسالہ ماسٹر عبدالمجید قادیانی کا ہے حق طلب کی فریاد، اس میں ماسٹر عبدالمجید قادیانی نے کہیں کہیں اپنی نافہمی سے چوٹ کی ہے، فیصلہ آسمانی حصہ ٢ پر، اور اپنے خیال میں مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنا چاہی ہے۔ مگر الحمد للہ اس مختصر رسالے کے جواب میں ان کے مسلمان دوست نے ایک بے نظیر اور
٦
محققانہ مبسوط رسالہ لکھا ہے جس کا نام النجم ثاقب ہے۔ اس کے دو یا تین حصے ہیں میں نے پہلا حصہ دیکھا ہے جو ایک سو چوبیس صفحوں پر چھپا ہے۔ ان رسالوں کے ذخیرہ میں سے عبدالماجد قادیانی نے ایک رسالہ کا جواب لکھا ہے۔ اس سے صاف روشن ہو رہا ہے کہ قادیانی مربی نے سکوت محض مناسب نہیں سمجھا، اپنے ساتھیوں کے رکھ رکھاؤ کے لئے ایک رسالہ پر کچھ لکھ کر اپنی قابلیت اور دیانت کا ثبوت دیا ہے، مگر افسوس ہے کہ جناب مؤلف کو اتنی خبر نہیں ہے کہ اس رسالہ نے تو ان کی فضیحت کن حالت کو طشت از بام کر دیا۔ مگر جہل مرکب کا علاج نہیں ہے۔ خیر ان سب باتوں میں بالتفصیل بحث کرنا اس شخص کا فرض ہے جو اول سے آخر تک کتاب پر ریویو کرے۔ میں ناظرین کی توجہ کتاب القاء ربانی کے صرف ایک باب کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں جس میں قادیانی مربی نے اپنے امام کی پردہ داری کرتے ہوئے اپنی قابلیت اور دیانت کی پوری حالت دکھلائی ہے۔ اس لئے جماعت قادیانی کی خیر خواہی نے مجھ کو مجبور کیا کہ یہ پردہ فاش کر کے ان کو دکھایا جائے کہ یکے دزد باشد یکے پردہ دار عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا۔ قادیانی مربی اپنی کتاب کے صفحہ ٧٠ میں مسیح موعود (مرزا) کی رسالت ونبوت، کی سرخی قائم کر کے تحریر فرماتے ہیں ”ابو احمد صاحب نے چونکہ اپنے اس فیصلہ نفسانی میں کئی ایک جگہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کی نبوت کا ذکر کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیا ہے اور حصہ اول کے ضمیمہ میں بھی خاتم النبیین کی تھوڑی بحث کرنے کے علاوہ اپنی علمی پردہ داری سے اس بات کی کوشش کی ہے کہ حضور پرنور محمد رسول اللہ ﷺ نے مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے۔ اس پر پردہ ڈال کر مسلمانوں میں بدظنی پھیلائیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے معاذ اللہ کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے جو منافی ختم رسالت اور ختم نبوت حضور پرنور ختمی مآب محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔“ اس عبارت کے چند سطروں کے بعد قادیانی مربی نے نبی و رسول کے چند معنی بیان فرمائے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ معنی قرآن مجید سے ثابت ہیں۔ ”(١) صاحب شریعت (٢) غیر صاحب شریعت گو ان کو بھی براہ راست وحی الٰہی ہوتی ہو جیسے حضرت ہارون علیہ وعلیٰ نبینا السلام، (٣) نائب رسول۔“
اب اس معنی کے بیان کے بعد قادیانی مربی نتیجہ نکالتے ہیں۔ ”اب قرآن مجید کی اصطلاح کے مطابق حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ نائب رسول اکرم نبی معظم احمد مجتبیٰ ﷺ اور اس معنی کی رو سے بھی نبی و رسول ہیں، تو مضائقہ کی بات نہیں، چہ جائیکہ خاتم النبیین افضل مرسلین نے مسلم کی حدیث میں ایک بار نہیں تین تین بار ان کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے اور ٢٣
٧
برس کی متواتر وحی نے بھی حضور ختمی مآب ﷺ کے اس نبی اللہ کے خطاب کی تصدیق کی ہے کہ آپ (مرزا) کو رسول ونبی کے لفظ سے اس وحی میں مخاطب کیا گیا ہے اور اس میں کوئی معذور شرعی بھی نہیں ہے۔‘‘
معزز ناظرین! قادیانی مربی کی یہ اردو عبارت کس صفائی سے شہادت دے رہی ہے کہ انہیں اردو لکھنا نہیں آتا وہ اپنے مطلب کو صاف طور سے خوبی کے ساتھ بیان نہیں کر سکتے۔ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لفظ محض غلط لکھتے ہیں مگر میں اس وقت لفظی غلطی دکھانا نہیں چاہتا۔ جنہیں اردو نویسی سے مذاق ہے وہ اس عبارت کو دیکھ کر میرے قول کی بلا تامل تصدیق کریں گے۔ میں ان کے مطالب کی غلطیاں ظاہر کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ معزز ناظرین! مرزا قادیانی نے نہایت زور کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا ہے، بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی ہیں جس سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں مگر اس انکار پر پردہ ڈالنے کے لئے عجیب عجیب طرح کی باتیں بنائی ہیں۔ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی نے آسمانی فیصلہ میں مختصراً اس کا ذکر کیا ہے۔ مؤلف القاء اپنے دجل کو چھپانے کے لئے اپنی قابلیت اور دیانت کا خون کر کے متعدد دعوے کرتے ہیں۔
پہلا دعویٰ، قرآن مجید سے انبیاء کی تین قسمیں ثابت ہوتی ہیں، ایک صاحب شریعت، دوسرا غیر صاحب کتاب وشریعت، تیسرا نائب رسول مگر یہ محض غلط ہے۔ ان تینوں قسموں کا ثبوت قرآن مجید سے ہرگز نہیں ہوتا آئندہ معلوم ہو جائے گا۔ اس لئے یہ دعویٰ غلط ہے۔
دوسرا دعویٰ مرزا قادیانی نے ایسے رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جو منافی ختم رسالت ہو بلکہ نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ بھی غلط اور محض غلط ہے کیونکہ اس دعویٰ کا ثبوت اول تو اس پر موقوف ہے کہ قرآن مجید میں نبوت اور رسالت کی کوئی ایسی قسم بیان کی ہو جو رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہ ہو۔ مگر اس قسم کے نبی کا ثبوت نہ قرآن مجید میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں، اس لئے یہ دعویٰ غلط ہے دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے ہر طرح کی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ثبوت میں خاص رسالہ لکھا گیا ہے، جس کا نام ”دعویٰ نبوت مرزا“ ہے۔ میں مرزا قادیانی کا ایک قول نقل کرتا ہوں جسے اہل حق دیکھ کر قادیانی مربی کی حق پوشی اور غلط بیانی کی تصدیق کریں گے۔ مرزا قادیانی صاف کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سے چودھویں صدی تک میرے سوا کوئی نبی کا خطاب پانے کا مستحق نہیں ہے، میں ہی مستحق ہوں۔ پھر کیا جناب رسول
٨
اللہ ﷺ کے بعد سے کوئی نائب رسول نہیں ہوا؟ کیا حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دیگر خلفائے راشدینؓ نائب رسول نہ تھے؟ گذشتہ تیرہ صدی میں جو مجددین گزرے یہ نائب رسول نہ تھے؟ نہیں ضرور تھے۔ مرزا قادیانی اور ان کے پیرو اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ اس سے بخوبی روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی ایسی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا مرتبہ نائب رسول سے بہت اعلیٰ ہے۔ یہی وہ دعویٰ ہے جو حضرت سرور انبیاء کی ختم نبوت کے منافی ہے۔ اب مرزا قادیانی کا قول ملاحظہ ہو، ’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ (چونکہ مرزا قادیانی کو محض غلط اور جھوٹے دعوے کرنے کا شوق ہے اس لئے ہر جگہ ان کے غلط دعوے دیکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ ہے حضرت محی الدین ابن عربی نے ایک خاص کتاب اپنے مکاشفات کی لکھی ہے اور قیامت تک کے مکاشفات لکھے ہیں۔ مثلاً سلطنت ترک کے متعلق مکاشفات لکھے ہیں۔ قسطنطنیہ کے تمام بادشاہوں کے نام اور ان کی حالت اور مدت سلطنت لکھی ہے مگر خاص اصطلاحات میں بیان ہے۔ اس لئے ہر ذی علم اسے نہیں سمجھ سکتا۔ علمائے مغرب اس سے واقف ہیں۔ مرزا قادیانی نے جو پیشین گوئیاں صاف و صریح کیں وہ تو بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ پھر وہ کون سے مکاشفات ہیں جن کی نسبت یہ دعویٰ ہو رہا ہے اور تمام صحابہ کرام اور اولیاء عظام پر فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ کوئی مرزائی سامنے آئے اور ان مکاشفات کو دکھائے۔) تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن، ج ٢٢ ص ٤٠٦۔٤٠٧)
کہئے قادیانی مربی اب تو آنکھیں کھلیں اب فرمائیے کہ آپ کے مرشد کس نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں جب تیرہ سو برس میں کوئی بزرگ اس مرتبہ کو نہیں پہنچا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت فاروقؓ بھی نہیں پہنچے تو اب نائب رسالت اور ولائت کا مرتبہ تو ختم ہو لیا۔ مرتبہ صدیقیت کے اوپر نبوت مستقلہ کا ہی مرتبہ ہے جو بلاشک و شبہ ختم نبوت کے منافی ہے مکتوبات امام
٩
ربانی دیکھئے جسے آپ نے سند میں پیش کیا ہے۔ غرضیکہ مذکورہ عبارت سے نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مستقل نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہایت صاف طور سے صاحب شریعت نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ الغرض قادیانی مربی کے دعوے کی غلطی دو شاہدوں سے تو ثابت ہوگئی۔ تیسرا شاہد جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جسے امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے بھی نقل کیا ہے یعنی ”لو کان بعدی نبی لکان عمرؓ“ (مکتوب بست و چہارم دفتر دوم حصہ ہشتم ص ٣٢٧) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ اگر شریعت میں نبی کے معنی نائب رسول کے ہوتے تو آنحضرت ﷺ کبھی یہ نہ فرماتے جو میں نے ابھی نقل کیا۔ کیونکہ اس میں تو شک نہیں ہے کہ حضرت عمرؓ نائب رسول تھے اس حدیث نے فیصلہ کر دیا کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے۔
تیسرا دعویٰ! ”حضرت موسیٰؑ صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے اور حضرت ہارونؑ اور بہت سے انبیاء صاحب کتاب اور صاحب شریعت نہ تھے۔“ اس دعویٰ کے ثبوت میں مؤلف القا لکھتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیات۔ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ. (الصّٰفّٰت ١٢٣) وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ. (الصّٰفّٰت ١٣٩) وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (الصّٰفّٰت ١٣٣) وَوَهَبْنَا لَهٗ مِن رَّحْمَتِنَا اَخَاہُ هَارُوْنَ نَبِیًّا (مریم ٥٣) وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ اِدْرِیْسَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ (مریم ٥٦) اس پر شاہد ہیں مؤلف القا نے یہاں پانچ آیتیں نقل کی ہیں جن میں پانچ انبیاء کا ذکر ہے۔ (١) حضرت الیاسؑ (٢) حضرت یونسؑ (٣) حضرت لوطؑ (٤) حضرت ہارونؑ (٥) حضرت ادریسؑ، ان پانچوں آیتوں کی نسبت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آیتیں ہمارے دعویٰ کی شاہد ہیں کہ یہ پانچوں انبیاء صاحب شریعت نہ تھے۔ اس سے غرض یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ انبیاء صاحب شریعت نہ تھے ویسا ہی مرزا قادیانی نبی تھے مگر صاحب شریعت نہ تھے اکثر صاف طور سے یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر ناظرین ملاحظہ کریں کہ یہ ایسا صریح غلط دعویٰ ہے کہ کسی کم علم پر بھی اس کی غلطی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ ان آیتوں کا صرف یہ مطلب ہے کہ یہ حضرات جن کا ذکر کیا گیا رسول اور نبی ہیں۔ ان آیتوں میں اس کا اشارہ بھی کسی طرح میں نہیں ہے کہ یہ انبیاء صاحب شریعت تھے یا صاحب شریعت نہ تھے۔ اب ان کو اپنے دعویٰ کا شاہد بتانا کیسا صریح غلط ہے؟ اس کے بعد مرزائی رسالہ القائے ربانی ص ١٥٨ میں دوسرا غلط دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ تمام اہل اسلام متفق ہیں کہ باوجود رسول اور نبی ہونے کے یہ لوگ صاحب شریعت
١٠
نہ تھے۔ اب میں دریافت کرتا ہوں کہ مؤلف کا یہ قول دلیل سابق کا تتمہ ہے یا مستقل ایک دلیل ہے یعنی ان کی یہ غرض ہے کہ آیتوں سے انبیائے مذکورہ کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس اتفاق و اجماع سے ان کا صاحب شریعت نہ ہونا، اگر ان کا ایسا خیال ہے تو مذکورہ آیات کو اپنے دعوے کا شاہد کہنا محض غلط ہے۔ وہ آیتیں صرف اس کی شاہد ہیں کہ یہ پانچ حضرات خدا کے رسول تھے۔ اب یہ قول خواہ پہلی دلیل کا تتمہ ہو یا علیحدہ دلیل ہو جو کچھ ہو مگر غلط ہے اور محض غلط ہے۔ قادیانی مربی کو کسی کتاب کا حوالہ دیتے شرم آئی۔ یہ اتفاقی مسئلہ کسی معتبر کتاب میں لکھا ہے؟ مگر خوب خیال رہے کہ ان انبیاء کا صاحب شریعت نہ ہونا دکھائیں۔ لفظ نبوت تشریعی اور غیر تشریعی صوفیائے کرام کی کتابوں میں تو مرزائیوں نے دیکھ لیا مگر اس کے معنی جو ان کی اصطلاح میں ہیں اس سے بے خبر ہیں۔ ہمیں تفصیل کی ضرورت نہیں ہے اس قدر کہنا کافی ہے کہ حضرت آدم سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے انبیاء آئے سب صاحب شریعت تھے سب کی نبوت تشریعی تھی۔ شیخ اکبر فصوص الحکم میں لکھتے ہیں ۔ ”اما نبوة التشريع والرسالة منقطعة فی نبینا ﷺ فلا نبی بعدہ مُشَرِّعًا اومُشَرَّعًا۔ مولانا حاجی صاحب اس کی شرح میں فرماتے ہیں ۔ ” مُشَرِّعًا ای آتیا بالاحکام الشریعة غیر متابع لنبی آخر قبله کموسیٰ و عیسیٰ و محمد علیہم الصلوۃ والسّلام اومُشَرَّعًا له ای متبعًا لما شرعہ النبی المتقدم کانبیاء بنی اسرائیل “ اس کے ترجمہ کی ضرورت نہیں مؤلف اس کا غالباً کر سکیں گے۔ حاصل یہ ہے کہ جتنے انبیاء گزرے سب صاحب شریعت تھے اور نبوت و رسالت منقطع ہوگئی۔ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اب نہ کوئی ایسا نبی آسکتا ہے کہ کوئی جدید شریعت لائے نہ ایسا نبی کہ آپؐ کی شریعت کا پابند ہو کر نبوت کا دعویٰ کرے۔ الغرض اس مقام پر قادیانی مربی نے تین غلط دعوے کئے ۔ (١) قرآن کی اصطلاح میں دو قسم کے حضرات کو نبی کہا ہے ایک صاحب شریعت دوسرے غیر صاحب شریعت قرآن مجید میں یہ تقسیم ہرگز نہیں ہے۔ (٢) مذکورہ آیتوں کو اس دعوے کا شاہد بتایا حالانکہ وہ آیتیں اس کی شاہد ہرگز نہیں ہیں۔ (٣) مذکورہ انبیاء کا صاحب شریعت نہ ہونا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ بتایا۔ اس دعویٰ کی غلطی کے ثبوت میں شیخ اکبر اور مولانا حاجی کا قول پیش کردیا۔ اب میں ان دعوؤں کی غلطی آیات قرآنیہ اور دوسرے اقوال صحیحہ سے بیان کرتا ہوں ناظرین ملاحظہ کریں۔ تین غلط دعوے پہلے گزر چکے ہیں۔ تین یہ ہیں۔ تو یہ کل چھ غلط دعوے ہوئے۔
١١
سورہ انعام کا دسواں رکوع ملاحظہ کیا جائے اس رکوع میں اٹھارہ انبیاء کا ذکر آیا ہے یعنی (١) حضرت ابراہیم (٢) حضرت اسحق (٣) حضرت یعقوب (٤) حضرت نوح (٥) حضرت داؤد (٦) حضرت سلیمان (٧) حضرت ایوب (٨) حضرت یوسف (٩) حضرت موسیٰ (١٠) حضرت ہارون (١١) حضرت زکریا (١٢) حضرت یحییٰ (١٣) حضرت عیسیٰ (١٤) حضرت الیاس (١٥) حضرت اسمعیل (١٦) حضرت الیسع (١٧) حضرت یونس (١٨) حضرت لوط علیہم السلام۔ ان انبیاء کا صریح نام بیان کر کے ارشاد ہوتا ہے۔ ” اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ “ الخ (الانعام ٨٩) ترجمہ: یہ ہی ہیں جنہیں ہم نے کتاب دی اور شریعت دی اور نبوت دی
اس آیت میں ان چار انبیاء کا بھی ذکر ہے جنہیں قادیانی مؤلف الٹا غیر صاحب شریعت بتا چکے ہیں۔ یعنی (١) حضرت الیاس (٢) حضرت یونس (٣) حضرت لوط (٤) حضرت ہارون، ان چاروں کو اسی طرح صاحب کتاب اور صاحب شریعت کہا ہے جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کو، غرضیکہ اس آیت سے نہایت صفائی سے ان بہت سے انبیاء کا صاحب شریعت ہونا ثابت ہو گیا جنہیں قادیانی مربی اپنے معمولی علم کے مطابق سمجھے ہوئے تھے کہ یہ صاحب شریعت نہیں ہیں۔ البتہ اس آیت میں حضرت ادریس کا ذکر نہیں ہے ان کا ذکر سورہ مریم میں ہے۔ یہ صاحب حضرت نوح کے دادا ہیں ان کا صاحب شریعت ہونا اول تو اس طرح ثابت ہے کہ قرآن مجید میں جس قدر انبیاء کا ذکر ہے ان میں کوئی تفریق صاحب شریعت اور غیر صاحب شریعت کی کسی مقام پر نہیں کی گئی اس سے ظاہر ہے کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے وہ سب صاحب شریعت ہیں اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ادریس بھی صاحب شریعت ہیں۔ اب جو اس کے خلاف کا مدعی ہے وہ ثابت کرے قرآن شریف سے۔ اس کے علاوہ مفسرین محققین لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس پر تیس صحیفے نازل ہوئے، تفسیر مدارک التنزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ ملاحظہ ہو۔ پھر جس پر تیس صحیفے نازل ہوں انہیں یہ کہنا کہ صاحب شریعت نہ تھے کسی ذی علم کا کام نہیں ہے۔
اب چونکہ حضرت ہارون کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے اس لئے میں خاص ان کے باب میں دو آیتیں اور پیش کرتا ہوں تاکہ قادیانی مربی کی اور ان کی جماعت کی بے خبری قرآن مجید سے خوب روشن ہو جائے۔ سورۃ الصّٰفّٰتِ کے چوتھے رکوع میں اوّل ارشاد خداوندی ہے۔
١٢
”وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ۔“ (الصافات ١١٤) ترجمہ: ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا، پھر ان احسانات کے بیان میں ارشاد ہے۔ ”وَآتَیْنٰھُمَا الْکِتَابَ الْمُسْتَبِیْنَ“ (الصافات ١١٧) ترجمہ: اور ہم نے دی ان دونوں کو واضح کتاب، دیکھا جائے کہ کس صفائی سے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کا صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہونا اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ اب تیسری آیت ملاحظہ ہو جس میں خاص حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کا ذکر ہے۔ ”وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَضِیَاءً وَّ ذِکْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَ“ (الانبیاء ٤٨) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان دیا یعنی وہ چیز جس سے حق و باطل میں تمیز ہو سکے وہ کتاب اللہ توریت تھی اور قلب میں روشنی جس سے صراط مستقیم اور راہ نجات نہایت صفائی سے نظر آنے لگے اور نصیحت خدا سے ڈرنے والوں کو۔
غرضیکہ تینوں باتوں میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ یکساں قرار دیئے گئے کوئی فرق اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا۔ اب اس کے مقابلہ میں فرق کرنا اور ایک کو تشریعی اور دوسرے کو غیر تشریعی کہنا ایجاد بندہ ہے اور صریح قرآن مجید کی مخالفت ہے۔
الغرض قادیانی جماعت نے جو انبیاء میں تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق نکالا ہے یہ محض غلط ہے جن انبیاء کو اس جماعت نے غیر تشریعی سمجھا ہے۔ وہ بموجب نص قرآنی صاحب شریعت ہیں اس کے ثبوت میں تین آیتیں اور بعض کاملین صوفیائے کرام کے اقوال یہاں پیش کئے گئے۔ یہاں تک جو کچھ غلطیاں اور بے خبریاں دکھائی گئیں وہ صرف اس وجہ سے کہ انہیں اپنی واقعی حالت کی خبر نہیں ہے۔ بمقتضائے جہل مرکب اپنے آپ کو بڑا واقف خیال کرتے ہیں۔ اب میں ان کی خاص عظیم الشان غلطی اصل مطلب کے متعلق دکھاتا ہوں۔ اسے بغور و انصاف دیکھا جائے۔ قادیانی مؤلف القا کا اصل مدعا یہ ہے کہ جس قسم کی نبوت کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے وہ جناب رسول اللہ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ کیوں منافی نہیں ہے؟ آپ نے بڑی قابلیت صرف کر کے انبیاء کی دو قسمیں بیان کیں۔ تشریعی اور غیر تشریعی ہم محض آپ کی خاطر سے آیات قرآنیہ اور تحقیق مذکورہ سے آنکھ بند کئے لیتے ہیں اور آپ کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء کی دو قسمیں ہیں۔
اب قرآن شریف کے پہلے پارہ سے لے کر ٢٢ تک دیکھا جائے کہ ان دونوں قسم کے
١٣
انبیاء کا ذکر ہے جنہیں قادیانی تشریعی اور غیر تشریعی کہتے ہیں۔ ان سب کے بعد سورہ احزاب میں۔ جناب رسول اللہ کی نسبت ارشاد ہے۔ ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ (احزاب ٤٠) یعنی آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں یعنی سب نبیوں کے آخر میں آنے والے اب جنہیں اللہ نے عقل و فہم دیا ہے۔ وہ ملاحظہ کریں کہ طرز بیان بتا رہا ہے کہ آپ دونوں قسم کے انبیاء کے خاتم ہیں۔ یعنی دونوں قسم کے انبیاء کا ذکر کر کے حضور کا خاص نام لے کر آپ کی یہ صفت بیان کی کہ آپ آخر النبیین ہیں اس سے ہر ایک صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ اس بیان سے پہلے جو دو قسم کے انبیاء ذکر کئے گئے ہیں سب کے آپ خاتم ہیں اس کے بعد جب عربی الفاظ کے قاعدے پر نظر کی جائے کہ لفظ النبیین جمع ہے اور اس پر الف و لام آیا ہے جس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضور تمام انبیاء کے آخر میں آئے خواہ تشریعی ہوں یا غیر تشریعی۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ لفظ خاتم النبیین پر مضاف کیا گیا جس کے معنی محاورہ عرب کے لحاظ سے آخر النبیین کے ہیں کہ سب نبیوں کے آخر میں آنے والے۔ اب اس قرینہ سیاق و سباق اور محاورہ عرب سے جو معنی ثابت ہوتے ہیں وہی معنی جناب رسول اللہ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرما دیئے اور اس طرح بیان فرمائے کہ قرآنی الفاظ کی کامل توضیح ہو گئی یعنی صحیح حدیثوں میں حضور کے یہ الفاظ ہیں۔ ’’اَنا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی اگرچہ خاتم النبیین سے سمجھا جاتا تھا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے مگر جب خاتم النبیین کے بعد لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ فرما دیا تو آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ کوئی نبی کسی طرح کا آپ کے بعد نہیں ہے۔ یعنی کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہاں لفظ نبی نکرہ ہے اور اس پر لائے نفی لایا گیا اس لئے قاعدے کی رو سے ہر قسم کے نبی کی نفی ہو گئی یعنی کسی قسم کا کوئی نبی آپ کے بعد نہ ہوگا۔
الغرض قرآن مجید کا سیاق و سباق اور محاورہ عرب اور حدیث نبوی کی تفسیر سب متفق ہو کر شہادت دے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت بلاشک و شبہ جناب رسول اللہ کی ختم رسالت کے منافی ہے۔ یہی علمی باتیں حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے پیش نظر ہیں اس لئے بہ نظر خیر خواہی مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ مگر قادیانی مؤلف القا کو ان علمی باتوں کی خبر نہیں۔ باطل کی پیروی نے دینی علوم کو ان کے قلب سے محو کر دیا۔ افسوس کہ باوجود ایسی بے خبری کے قادیانی مربی ایک علامہ حقانی کی لاجواب کتاب ہدایت مآب کا جواب دینے بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا عالم خیال
١٤
کرتے ہیں ذرا ہوش کیجئے اور راہ حق چھوڑ کر اور ایک علامہ ہادی خلق پر بدزبانی کر کے اپنے آپ کو خسر الدنیا والاٰخرۃ کا مصداق نہ بنائیں۔
یہ تو آپ کی غلطیاں اور جہالتیں تھیں اب اپنی دیانت بھی ملاحظہ کیجئے کہ کیسا صریح ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کا خوانخواہ تفرقہ پیش کر کے مغالطہ میں ڈالتے ہیں۔ آپ کے مرزا قادیانی تو اعلانیہ نہایت زور سے تشریعی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کا رسالہ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥۔٤٣٦) ملاحظہ ہو۔ ”اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی اور نہی بھی مثلاً یہ الہام ”قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکیٰ لھم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ امر باطل ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم وموسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی“۔ اربعین کا یہ تو متن تھا اب اس کا حاشیہ ملاحظہ ہو۔ ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے ”واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدھم“ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا
١٥
جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ، ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ )
کہئے مربی صاحب اب تو آپ کے تمام تار و پود کی بخیہ آپ کے مرشد نے ادھیڑ دیئے دیکھئے کس صفائی سے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اپنی بیعت کو مدار نجات قرار دے رہے ہیں اب بتائیے کہ کس نائب رسول نے ایسا دعویٰ کیا ہے اور کس ظلی اور بروزی نے اپنی بیعت کو مدار نجات ٹھہرایا ہے اب کون سی نبوت رہ گئی جس کے خاتم جناب رسول اللہ ہیں۔ اب سوائے بغلیں جھانکنے کے آپ کوئی جواب دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ناظرین ! یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزا قادیانی منقولہ عبارت میں نبوت تشریعی کا دعویٰ کر کے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ بھائیو! یہ کیسا صریح دجل اور عوام کو دھوکہ دینا ہے جب نبوت مستقلہ تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں ، پھر رسول اللہ کے خاتم النبیین ہونے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ مرزا قادیانی اپنے معتقدین کی بے وقوفی معلوم کر چکے ہیں اس لئے سب کچھ کہہ کر ختم نبوت پر اپنا ایمان ظاہر کر دیا تا کہ عوام کے سامنے کہنے کو ہو کہ مرزا قادیانی ختم نبوت کا انکار نہیں کرتے۔
ذرا آنکھیں کھول کر ہوش کو سنبھال کر ملاحظہ کیجئے۔ اب فرمائیے کہ کون سی نبوت باقی رہ گئی جس کے خاتم جناب سرور انبیاء ﷺ ہیں۔ آپ کے امام جس طرح پہلے مثیل مسیح تھے اور مسیح موعود ہونے سے صاف انکار کرتے تھے۔ اسی طرح پہلے ظلی اور بروزی اور غیر تشریعی اور نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا جب انہوں نے دیکھا کہ اسے لوگ مان گئے تو اعلانیہ نبوت مستقلہ شرعیہ کا دعویٰ کر دیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں مگر ابھی صاف طور سے اس کہنے کا وقت نہیں آیا تھا اس لئے صاف طور سے زبان قلم سے اسے نہیں نکالا اور جس طرح مسیح موعود ہونے سے انکار کر کے پھر اس کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح سے یہاں بھی کسی وقت ہوتا ، مگر ان کے خیال میں اس کا وقت نہیں آیا تھا اگر چہ دعویٰ تو نہایت صراحت سے کیا، مگر باتیں بنانے کی گنجائش چھوڑ گئے اور اپنے مریدوں کو بھی دھوکہ دے گئے۔
اب فرمائیے کہ حضرت علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی بدظنی پھیلاتے ہیں یا آپ اور آپ کے مرشد مرزا قادیانی اعلانیہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے مسیح کی تصانیف اور ان کے سلسلہ کے رسائل سراسر دجل و فریب سے بھرے ہیں اور متناقض اور جھوٹے دعوؤں کا انبار ہے۔ سامنے آئیے تو ہم آپ کو دکھائیں اور آپ کو شرمائیں قلم کی گھس گھس سے پورا
١٦
کام نہیں چلتا اور عوام نہیں سمجھتے۔ اب آپ اچھی طرح دیکھیں ایک دعویٰ آپ کا یہ تھا کہ مرزا قادیانی کو نائب رسول ہونے کا دعویٰ ہے اس کا غلط ہونا تو ہم آپ کے دوسرے دعوے کی غلطی میں بیان کر آئے ہیں۔ خود مرزا قادیانی کے قول سے اب غیر تشریعی نبوت آپ ثابت کرنا چاہتے تھے اس کا غلط ہونا بھی آپ کے امام ہی کے قول سے ثابت کر دیا گیا اور دکھا دیا گیا کہ مرزا قادیانی ضرور حضرت سرور عالم ﷺ کی ختم رسالت کے منکر ہیں۔ اگر چہ زبان سے نہ کہیں لوگوں کو دام میں لانے کے خیال سے۔ اب خوب آنکھیں کھول کر دیکھئے اس دعوے کے بیان میں پانچ غلطیاں آپ نے کیں تین غلطیاں تو میں نے شمار کر کے بتا دی ہیں۔
چوتھے یہ ہے کہ آپ آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کے معنی نہیں سمجھے اور لفظ النبیین جو عام ہے اس کے خاص معنی لیتے ہیں۔ پانچویں ، آپ کو یہ خبر نہیں کہ اس محل پر نبوت کی دو قسمیں تشریعی اور غیر تشریعی بتا کر مرزا قادیانی کی پردہ پوشی کرنا بیکار ہے۔ وہ تو اعلانیہ نبوت تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ الحاصل یہاں تک آپ کی سات غلطیاں عظیم الشان بیان ہوئی ہیں۔
آٹھواں ! غلط دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید میں نائب رسول کو بھی رسول کہا ہے، یہ دعویٰ اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید میں کسی کو صاف طور سے نائب رسول کہہ کر اسے رسول خدا کا خطاب دیا ہو۔ مگر جن کی نظر قرآن مجید پر ہے وہ یقین کر سکتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ یعنی قرآن مجید میں کسی کو نائب رسول کہہ کر اسے رسول کا خطاب نہیں دیا اور جب تک یہ دونوں باتیں قرآن مجید سے ثابت نہ ہوں اس وقت تک کسی ذی علم کے نزدیک قرآن مجید کی یہ اصطلاح نہیں ہو سکتی اور انطاکیہ والے رسولوں کو نائب رسول کہنا قادیانی مربی کی ویسی ہی ناواقفی ہے جیسی پہلے ان کے دعوؤں میں بیان کی گئی ۔ اس پر مزید یہ ہے کہ جو صحیح حدیث دوسرے دعویٰ کی غلطی میں پیش کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے اور آئندہ ایک حدیث پانچویں دعویٰ کے بیان میں آئے گی جس سے ظاہر ہوگا کہ حدیث و قرآن میں نائب رسول کو رسول یا نبی نہیں کہا۔ اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ صاحب انطاکیہ نائب رسول نہ تھے بلکہ رسول تھے۔
حیرت ہے اس پر نظر نہیں کرتے کہ جب خداوند تعالیٰ ہی نے انہیں نہایت صراحت سے مکرر سہ کرر رسول فرمایا ہے تو دوسرے کو نائب رسول کہنے کا کیا حق ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے وہ نائب رسول ہوں پھر اللہ کا فضل اُن پر ہوا اور اس نے انہیں رسالت مستقلہ کا مرتبہ عنایت کیا جس
١٧
کسی نے انہیں نائب رسول کہا وہ پہلی حالت کے خیال سے کہا مگر جنہیں صاف طور سے خداوند تعالیٰ نے مکرر رسول فرمایا ہے اور ان کے بھیجنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور صاف فرمایا ہے۔ ”اِذْ اَرْسَلْنَا اِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ“۔ (یعنی اللہ تعالیٰ انہیں انطاکیہ کے رسولوں کی نسبت فرماتا ہے کہ انہیں ہم نے بھیجا) اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ انہیں رسول خدا نہ کہا جائے بالخصوص جبکہ احادیث صحیح سے ثابت ہے کہ نائب رسول کو نبی نہیں کہتے، اب اگر چہ اس کی تائید میں کوئی اور روایت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر قادیانی مربی کی بے خبری کے علاوہ ان کی ایک دوسری حالت پر بھی روشنی ڈالنا منظور ہے۔ اس لئے لکھتا ہوں کہ امام المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباسؓ انطاکیہ والے رسولوں کو نائب رسول نہیں کہتے، بلکہ رسول اللہ کہتے ہیں۔ قادیانی مربی نے تفسیر فتح البیان کے اکثر حوالے دیئے ہیں یہ مقام بھی انہوں نے دیکھا ہوگا۔ مگر اس کا ذکر نہیں کرتے جو روایت حدیث و قرآن کے مطابق ہے اسے دبا کر اس کے خلاف پر زور دے رہے ہیں کیا دیانت ہے اور کیا علم ہے؟ اہل علم کو اگر میرے قول کی تصدیق منظور ہے تو تفسیر فتح البیان میں سورہ یسٰین، کی تفسیر ص٩ ملاحظہ فرمائیں۔
نواں ! غلط دعویٰ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مسلم کی حدیث میں تین مرتبہ مرزا قادیانی کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے۔‘‘ مربی صاحب ناواقفوں کو کس قدر دھوکا دیتے ہیں۔ اس حدیث کا بیان آگے آئے گا یہاں اس قدر کہتا ہوں کہ اس حدیث میں مرزا قادیانی کو نبی اللہ ہرگز نہیں کہا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح موعود کا ذکر ہے اور مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں ہیں۔ جو علامتیں، اس حدیث میں مسیح موعود کی بیان ہوئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں ہرگز پائی نہیں گئیں۔ اب کوئی قادیانی مربی سے دریافت کرے کہ آپ نے یا آپ کے پیر و مرشد نے کسی سچی دلیل سے یہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور ان کے مخالفین نے اسے مان لیا۔ یہ تو ہرگز نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ جب ان سے یہ نہیں ہو سکا تو کس منہ سے ہمارے سامنے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو حضرت سرور انبیاءؑ نے نبی کہا ہے پھر ان علماء کے مقابلہ میں جنہوں نے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا دلائل بیّنہ سے ثابت کر دیا ہے اور اظہر من الشمس ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہر گز نہ تھے بلکہ وہ اپنے اقرار سے کاذب تھے۔ البتہ ہم دعویٰ کر سکتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مرزا قادیانی کو دجال اور جھوٹا فرمایا ہے۔ صحیح مسلم ص ٣٩٧ ج ٢ وغیرہ میں حضور پر نورؐ کا ارشاد ہے ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین
١٨
لا نبی بعدی“ اس حدیث کو مسلم کے سوا ترمذی (ج ٢ ص ٤٥) ابوداؤد (ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن) وغیرہ نے بھی بیان کیا ہے۔ اس حدیث میں جناب رسول اللہ خبر دیتے ہیں کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی علامت اس حدیث میں یہ بیان ہوئی کہ امتی ہونے کا دعویٰ کر کے نبی ہونے کے مدعی ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے جو کوئی میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ لا نبی بعدی میں پورے عموم کے ساتھ نفی کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی سچا نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اس حدیث نے پورا فیصلہ کر دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور خاص کر وہ جو امتی ہو کر دعویٰ کرے۔ اب نہ تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق کام دیتا ہے اور نہ نبی کے معنی نائب رسول کے ہو سکتے ہیں کیونکہ اس حدیث سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہوا کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے ورنہ جناب رسول اللہ ﷺ اس مدعی کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں عام طور سے یہ نہ فرماتے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ کیونکہ آپؐ کے بعد نائب رسول اور ورثۃ الانبیاء کا ہونا تو ضرور تھا اور ہوئے۔ اگر انہیں نبی کہنا صحیح ہوتا تو اس طرح عام طور سے نبی ہونے کا انکار آنحضرتؐ نہ فرماتے۔ خوب خیال رہے کہ مربی صاحب کا دوسرا دعویٰ صحیح حدیثوں سے غلط ثابت ہوا، ایک یہ حدیث اور دوسری اسی دعویٰ کے بیان میں مذکور ہوئی۔ یعنی ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ شریعت محمدیہ میں نبی کے معنی نائب رسول کے نہیں ہیں۔
دسواں! غلط دعویٰ یہ ہے کہ تئیس برس کی متواتر وحی نے نبی اللہ کے خطاب کی تصدیق کی ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی وحی نے۔ اس دعوے کے غلط ہونے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں۔ پہلی وجہ مرزا قادیانی کی وہ وحی ہے جس کو انہوں نے اپنی صداقت میں پیش کیا تھا جس کے سچے ہونے پر مرزا قادیانی کو آخر وقت تک وثوق رہا۔ یہاں تک کہ کچہری میں حاکم کے سامنے اپنا یقین ظاہر کیا اور ایسی پختہ وحی جس کا بار بار نزول برسوں ہوتا رہا جس میں کسی طرح کی غلطی کا احتمال نہیں ہو سکتا بالآخر وہ وحی غلط ثابت ہوئی (یعنی منکوحہ آسمانی والی وحی) اور غلطی کا ثبوت بھی اس طرح ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے پختہ اقرار سے کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہرے (اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ اول و حصہ سوم میں ملاحظہ ہو) جب ایسی موثق وحی جس پر برسوں مرزا قادیانی کو
١٩
اصرار رہا وہ غلط نکلی تو کوئی صاحب عقل مرزا قادیانی کی وحی کو وحی الہی نہیں سمجھ سکتا بلکہ شیطانی وحی کہے گا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ (١) اس کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے خدائے قدوس پر خلاف وعدگی کا الزام آیا (٢) اور اس دراز مدت تک مرزا قادیانی اس غلطی کی وجہ سے مخلوق میں مطعون ہوتے رہے۔ (٣) اور آخر کار جسے انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا وہ غلط نکلا (٤) اور اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر کسی وقت متنبہ نہ کیا حالانکہ متنبہ کرنا ضرور تھا تا کہ مخلوق بدگمانی سے بچے اور سچے کو جھوٹا نہ سمجھ لے۔ جس کی وحی کا یہ حال ہو اس سے سند پکڑنا اور تصدیق میں پیش کرنا کسی فہمیدہ دیندار کا کام نہیں ہو سکتا۔
دوسری! وجہ جب قرآن مجید کے نص قطعی سے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت سرور انبیاء ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ۔ اب جس کسی کو یہ وحی ہو کہ میں نبی اللہ ہوں وہ یقیناً جھوٹا ہے اس وحی کے جھوٹے ہونے پر قرآن وحدیث دونوں شاہد ہیں۔ ایسے شخص کی وحی کو کوئی مسلمان لائق توجہ نہیں خیال کر سکتا چہ جائیکہ اسے سند میں پیش کرے۔
تیسری ! وجہ یہ کہ امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی پر وحی نہ آئے گی جو کوئی اس کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے شفاء قاضی عیاض ملاحظہ ہو۔
”ومن ادعى النبوة لنفس او جوز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها وكذالك من ادعى منه انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهؤلاء كلهم كفار كمكذبون للنبي ﷺ لانه اخبر انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا لكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعاً واجماعاً وسمعاً“
(الشفاء فی حقوق المصطفیٰ ص ٢٢ ج ٢)
شفائے قاضی عیاض کی یہ عبارت ہے جس سے نہایت صفائی سے ثابت ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے یا نزول وحی کا مدعی ہو یعنی کہے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے وہ کافر ہے اور اس کا کفر قطعی ہے۔ قرآن وحدیث سے اور اجماع امت سے اس کا کفر ثابت ہے۔ مربی صاحب کی عقل پر سخت افسوس ہے کہ علوم دینیہ کی کتابوں سے بے خبر ہیں اور مسلمانوں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی وحی کو سند میں پیش کرتے ہیں۔
”تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ“
٢٠
یہ پوری دس غلطیاں ہیں جو مربی صاحب نے چند سطروں میں کی ہیں غرضیکہ مرزا قادیانی کی ٢٣ برس کی وحی کو ماننا اور اسے لائق تصدیق سمجھنا کسی ایماندار کا کام نہیں ہو سکتا۔ اب مربی صاحب کی علمیت کو ملاحظہ کیا جائے کہ جو دعویٰ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہو جسے بالاتفاق امت محمدیہ نے کفر ٹھہرایا ہو اس کی نسبت مربی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی محذور شرعی نہیں ہے۔ (قادیانی مربی نے اپنے لئے قابلیت کی وجہ سے اس لفظ کو معذور شرعی لکھا تھا مگر پرانی تحقیق اور محاورہ سے غلط بتاتا ہے اس لئے میں نے صحیح لفظ لکھا جو موقع کے مناسب ہے۔) جناب مربی فرمائیں کیا مرزا قادیانی پر ایمان لانے سے آپ ایسے ہی عالم ہو گئے ہیں کہ چند سطروں میں دس جھوٹے دعوے کئے۔ کیا اسی قابلیت پر فیصلہ آسمانی کے جواب لکھنے کا دعویٰ ہے اور اس میں غلطیاں دکھانے بیٹھے ہیں۔ میں نے نہایت اختصار کے ساتھ یہ غلطیاں دکھائی ہیں اگر اس کے جواب کی ہمت قادیانی مربی کو ہوگی اس وقت ان بیانوں کی تشریح اچھی طرح کی جائے انشاء اللہ تعالیٰ مربی صاحب جو غلطیاں میں نے آپ کو دکھائیں ہیں یہ ایسی قطعی اور تحقیقی ہیں کہ آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی ذی علم (اگر کوئی ہے) ان غلطیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔
آپ کو یا آپ کی جماعت کو اگر طلب حق ہے تو چند اہل علم کے مجمع میں یا عام جلسہ میں بیٹھ کر فیصلہ کر لیجئے میں ہر وقت حاضر ہوں۔ مگر آپ سے اور آپ کی جماعت سے ہرگز امید نہیں۔ نو مہینے کئی روز ہوتے ہیں کہ جناب استاذی مولانا مفتی محمد عبداللطیف صاحب نے بنظر خیر خواہی یہ اعلان دیا تھا کہ مربی صاحب جس طرح چاہیں جلسہ خاص میں یا جلسہ عام میں امر حق کو سمجھ لیں یا ہمیں سمجھا دیں فیصلہ ہو جائے رسالے اور پمفلٹوں کی ضرورت نہ رہے، مگر مربی صاحب اور ان کی تمام جماعت ایسے خاموش ہوئے کہ گویا شہر خاموشاں میں چلے گئے پہلے اعلان کا نہایت مہمل جواب دیا تھا۔ پھر اس کے جواب میں اہل حق کی طرف سے صحیفہ رحمانیہ نکلا اور ان کی بات کو تسلیم کر کے مستعدی ظاہر کی گئی مگر پھر تو قادیانی مربی ایسے دم بخود ہوئے کہ اب تک سانس نہیں لیتے (باقی دارد) (خادم اطبا محمد یعسوب)
٢١
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء‘ خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ ......... رہائش‘ خوراک‘ کتب ودیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
نمونہ القائے قادیانی
صحیفہ رحمانیہ
(١١ / ١٢)
حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوئے نبوت کی تشریح اور قادیانی مربی عبدالماجد بھاگلپوری مرزائی کی چند غلطیوں کو خوب روشن کر کے دکھایا ہے جن سے حیرت ہوتی ہے کہ مربی صاحب کیا سے کیا ہو گئے ان کی مشہور قابلیت ان کی دیانت کہاں چلی گئی عبارتوں کے نقل کرنے میں کیسی کیسی بددیانتیاں کی ہیں اس کا مطلب سمجھنے میں کیسی ٹھوکریں کھائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔
ہوا خواہان اسلام ! اس وقت کے فتنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ بھی بڑا فتنہ ہوا۔ مگر الحمد للہ کہ اس مونگیر کے ایک مقدس اہل فضل و کمال کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے فرو کرنے کی طرف متوجہ کر دیا۔ اور ان کے فیضان توجہ سے یہ فتنہ کم ہوا اور زوال پذیر ہو رہا ہے۔ دردمندان اسلام اس پر غور فرمائیں کہ اس نازک وقت میں مرزا قادیانی نے کیسا تفرقہ مسلمانوں میں ڈالا اور مناظرہ اور مباہلہ کرنے کا کس قدر غل مچایا۔ اور تمام علماء اور مشائخین ہند کے نام لکھ کر اپنے رسالوں میں شائع کیے اور سب کو اپنے مقابلے کے لیے بلایا۔ مگر جب کوئی مقابلے کے لیے کھڑا ہو گیا تو حیلے حوالے کر کے بھاگتے نظر آئے۔ ان کے بعد بھی ان کے چیلے زبانی اور اشتہاروں میں مناظرے کے لیے بلاتے رہے۔ مگر جب سے حضرت ابو احمد رحمانی عم فیضہم نے اس طرف ہمت فرما کر پہلے مناظرے کا جلسہ کرایا جس میں مرزائیوں کو نہایت فاش شکست ہوئی۔ اس کے بعد بیش بہا فیصلہ کن تحریر کی طرف متوجہ ہوئے اور اس وقت تک آپ کے اور آپ کے خدام کے تقریباً تیس بتیس رسالے شائع ہو چکے ہیں ان میں بڑا رسالہ فیصلہ آسمانی ہے یعنی اس رسالے میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی وہ دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن کا فیصلہ منجانب خدا ہوا ہے اس کے تین حصے ہیں ہر ایک حصہ ایک مستقل رسالہ ہے اور علیحدہ علیحدہ چھپا ہے۔
پہلا حصہ سوا پانچ جز میں دوسری مرتبہ امرتسر میں چھپا ہے۔ دوسرا حصہ پہلی مرتبہ چار جز دو ورق مطبع مجیدی کانپور میں چھپا ہے۔ تیسرا حصہ پونے نو جز میں امرتسر میں چھپا ہے۔ ان میں سب سے اول دوسرا حصہ چھپا۔ جس وقت یہ شائع ہوا تو مرزائیوں میں کھلبلی مچی اور خلیفۃ المسیح قادیانی سے جواب لکھنے کی درخواست کی گئی۔ قادیانی خلیفہ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے علم و
فضل سے کسی قدر واقف تھے اس لیے وہ تو دم بخود ہو گئے ان کی ہمت تو سامنے آنے کی نہ ہوئی مگر مریدوں کے پھنسا رہنے کے لیے قادیانی مربی عبد الماجد بھاگل پوری کو جواب کے لیے آمادہ کیا تا کہ جواب میں جو کچھ ذلت ہو وہ انہیں کی ہو ہم بد نام نہ ہوں ۔ قادیانی مربی نے خلیفہ صاحب کے حکم کی تعمیل کسی خاص وجہ سے کی مگر اس جواب نے قادیانی مربی کا بھرم کھول دیا اور جس قدر ان کی ناواقفی اور کم علمی اور بددیانتی اس رسالے سے ظاہر ہوئی اس کا وہم و گمان بھی اس سے پہلے نہ تھا۔ اس رسالہ کی اصل باتوں کا جواب تو حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی ( مولانا محمد علی مونگیریؒ ) کے رسالوں میں موجود ہے۔ جسے حق کی طلب ہو وہ رسالہ تنزیہہ ربانی، معیار صداقت اور فیصلہ آسمانی حصہ ٣ غور سے ملاحظہ کرے اس پر آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد اپنے پختہ اقرار سے کاذب ہیں اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ مرزائیوں نے جو کچھ اس کے جواب میں ہرزہ سرائی کی تھی اس کا قلع و قمع پورے طور سے تین رسالوں میں ہے اور چوتھا رسالہ عبرت خیز ہے جس سے مرزا قادیانی کی کامیابی والی دلیل محض غلط ہو جاتی ہے جسے وہ عظیم الشان دلیل خیال کرتے ہیں اس محققانہ تحریر میں فیصلہ آسمانی حصہ ٢ کے آخر مضمون کی شرح ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ ان چاروں رسالوں سے عبد الماجد قادیانی کے القا کا کامل جواب ہو جاتا ہے۔ مگر حضرت مؤلف نے انہیں لائق خطاب نہیں سمجھا اس لیے انہیں مخاطب نہیں بنایا۔ اپنے رسالہ فیصلہ آسمانی کے اصل مدعا کو نہایت خوبی سے ثابت کر دیا ہے۔ اب رہیں ان کی غلطیاں اور بددیانتیاں ان کے اظہار کرنے کے لیے بھی متعدد رسالے لکھے گئے ہیں۔ میرے علم میں رسائل ذیل میں ان کا اظہار کیا گیا ہے۔
١............ انوار ایمانی عرصہ ہوا یہ رسالہ چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ ٢............محکمات ربانیہ یہ رسالہ سات جز کا مطبع الپنچ بانکے پور میں چھپا ہے۔ اس کے شائع ہونے سے بھاگل پور کے مرزائیوں میں عجب بے چینی اور کھلبلی مچی ہے۔ ٣............نمونہ القائے قادیانی جو صحیفہ رحمانیہ کے تین نمبروں میں یعنی نمبر ١٠ و ١١ و ١٢ میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ ٤............القاء کی ایک غلطی میں تیس غلطیاں۔ یہ چار رسالے اس وقت تک ہوئے ہیں اور مستقل کامل رسالہ کے جواب کا جماعت مرزائیہ انتظار کرے۔ چونکہ اس جماعت کو خدا سے واسطہ نہیں ہے اس لیے جواب سے عاجز ہو کر فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کر کے حضرت مخدوم بہاری (مولانا محمد علی مونگیری ) اور حضرت مجدد الف ثانی علیہما الرحمۃ وغیرہ بزرگوں کو در پردہ اور حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کو اعلانیہ گالیاں دینا اور عوام کو بہکانا
شروع کیا ہے اور ایک رسالہ چھاپ کر شائع کر چکے ہیں اور سنا جاتا ہے کہ کچھ اور لکھ رہے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ اگر حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی ناخوش نہ ہوئے تو ان کے خدام اس قسم کے رسالوں کا جواب بھی ترکی بہ ترکی ایسا دیں گے کہ مرزا قادیانی کی ہڈیاں بھی قبر میں سلگ اٹھیں گی اور بزبان حال اپنے چیلوں کو اندرون دل سے کوسیں گی۔ الحمد للہ اسی وقت اس کے نمونے کا ظہور ہو رہا ہے۔ اب جو قادیانی جماعت میں تہذیب و شائستگی کے مدعی ہیں وہ اپنے گروہ اہل علموں کی شائستگی کو دیکھیں اور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی حقانیت کا یہی نمونہ ہے کہ جو ایسے عاجز ہو کر ایسی بیہودہ گوئی کریں اور بزرگوں سے ایسی بے ادبی سے پیش آئیں۔ مرزائیوں میں یہ بھی نبوت کا معیار ہوگا جس طرح پیشین گوئیوں کا غلط ہونا ان کے خیال میں معیار نبوت ہے۔
اے عزیزو! ہوش کرو اپنی عاقبت برباد نہ کرو اپنی قبر میں آگ نہ سلگاؤ۔ میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں۔
خاکسار محمد یعقوب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٠ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
بقیہ عبدالماجد قادیانی کی فاش غلطیاں
مؤلف القاء نے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں عجب طرح سے دام تزویر پھیلایا ہے اور اس پر زور لگایا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت بھی قائم رہے اور عوام کی نظروں میں حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتم النبیین بھی رہیں۔ مگر باوجود کئی ورق سیاہ کر دینے کے صاف طریقے سے یہ نہیں بیان کر سکے کہ مرزا قادیانی کو کس قسم کا دعویٰ نبوت تھا اور قرآن مجید میں جو حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صفت میں خاتم النبیین آیا ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ باوجودیکہ اس کے معنی کی تشریح حدیث کے صریح الفاظ سے کر دی گئی ہے (فیصلہ آسمانی کا حصہ ٣ وصحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ دیکھا جائے) مگر مؤلف القاء چونکہ صریح احمق اور علمائے حقانی کے مخالف اور مقابل ہو گئے ہیں اس لیے کچھ بدحواس سے معلوم ہوتے ہیں کوئی بات ٹھکانے کی نہیں کہتے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک طولانی تقریر کر کے اور متعدد کتابوں کے حوالے دے کر عوام پر اپنی قابلیت ثابت کریں اور دکھائیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت حضرت سرور انبیاء کے خاتم النبیین ہونے کے منافی نہیں تھا۔ اور اس کے ساتھ حضرت مونگیریؒ مؤلف فیصلہ آسمانی کی نسبت بیہودہ گوئی کر کے مسلمانوں کو بدگمان کرنا چاہا ہے مگر خوب یاد رکھیں کہ پہلے گمراہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور مقدس بزرگوں کو تکلیفیں پہنچائی ہیں مگر بمقتضائے ارشاد خداوندی (واللہ متم نورہ الخ) کے ان بزرگوں کی شان میں کچھ کمی نہیں ہوئی اور ان کے تقدس کی روشنی کو چھپانے والے ہی خائب وخاسر ہوئے۔ چنانچہ ان لاجواب رسالوں کا نکلنا اور مؤلف القاء اور ان کی جماعت کا دم بخود رہنا ان کے خائب و
خاسر ہونے کی کیسی بین دلیل ہے۔ میں نے اس مضمون کے پہلے حصہ میں مؤلف القاء کی قرآن دانی پر روشنی ڈالی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جناب رسول اللہ ﷺ کی ختم رسالت کے منافی ہے اور چند سطروں میں دس غلطیاں عبد الماجد قادیانی کی دکھائی ہیں۔ اس حصہ میں ان الزامات کا جواب دیا جائے گا جو مؤلف القاء حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی پر لگانا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں ان کی تصوف دانی کی حالت بھی دکھائی جائے گی۔ نیز ان کے ان دلائل کا قلع قمع کیا جائے گا جو اقوال بزرگان کے پردے میں ظاہر کیے ہیں اور ان کے ساتھ جس حدیث شریف کو مرزا قادیانی کی نبوت میں پیش کیا ہے اسی حدیث سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا جائے گا۔
غرضکہ پہلے حصہ میں عبد الماجد قادیانی کی دس غلطیاں دکھائی گئی تھیں اور اس حصہ کے شروع میں اٹھارہ غلطیاں مختلف عنوان سے دکھائی ہیں اور ٢٨ غلطیاں اس حدیث کے سمجھنے میں کی ہیں جس سے وہ مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں اس کے سوا بھی غلطیاں ہیں غرض کہ اس مختصر تحریر میں پچاس غلطیوں سے کم نہ ہوں گی جو میں نے دکھائی ہیں اس غرض سے کہ انہیں اپنی حالت پر تنبیہ ہو اور ناواقف حضرات بھی واقف ہوں۔
مؤلف القاء اپنے رسالہ کے صفحہ ١٨٧ میں گستاخانہ طور سے حضرت مولانا ابو احمد رحمانی مونگیری کو ناواقف اور غافل ٹھہرا کر اپنی قابلیت ظاہر کرنا چاہتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں۔
”ابو احمد صاحب کے مریدین ذرا سوچیں کہ مسیح موعود کی مخالفت میں ابو احمد صاحب کہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ باوجود شیخ بن بیٹھنے اور تقویٰ کے دعوے کے اپنے بزرگان سلسلہ کی تحقیقات سے بھی کس قدر غافل ہیں یا عمداً مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔“ حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ یہاں مؤلف القاء چھ دعوے کرتے ہیں۔ بعض اشارۃً اور بعض صراحۃً
اوّل: حضرت قبلہ کے مریدین کو یہ دکھاتے ہیں کہ حضرت مولانا ابو احمد صاحب عم فیضہم مسیح موعود حضرت عیسٰی علیہ السلام کے مخالف ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے صرف عوام کے دھوکا دینے کو ایسا لکھا گیا ہے۔ ہمارے حضرت مسیح علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام کے ہرگز مخالف نہیں ہیں بلکہ جھوٹے مدعی مرزا قادیانی کے مخالف ہیں جس نے محض غلط اور جھوٹا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کیا ہے اور اس کا جھوٹا ہونا نہایت قوی دلائل سے ثابت کر کے تمام مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا۔ آپ کے رسائل محققانہ شہادت آسمانی اور ھدیۃ المسیح اور فیصلہ آسمانی وغیرہ ملاحظہ کئے جائیں ان
میں سے صرف ایک ہی رسالہ یعنی حصہ ٣ فیصلہ آسمانی ملاحظہ کیا جائے کس محققانہ طور سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور صحیح حدیثوں سے اور خود مرزا قادیانی کے اقوال سے اس طرح ثابت کیا ہے کہ اب جائے دم زدن نہیں رہی۔ حضرات مرزائی جو جوابات دیا کرتے تھے ان کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ وعدہ الٰہی اور وعید کی بحث ایسی نفیس اور محققانہ اس رسالہ میں کی گئی ہے کہ اس وقت تک اس روشن طریقے سے متقدمین اور متاخرین کی کسی کتاب میں نہیں دیکھی گئی اہل علم ضرور ملاحظہ کریں۔ ان کے جواب سے تمام قادیانی مشن عاجز ہے مگر آنکھ بند کیے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان رہے ہیں یہ بجز نفس پرستی یا مرزا پرستی کے سوا اور کیا ہے کہ بلا دلیل ایک جھوٹے مدعی کو مسیح موعود مان رکھا ہے اور علماء کاملین کو عوام کے سامنے مسیح موعود کا مخالف بنا کر انہیں بدظن کرنا چاہتے ہیں مگر ہم نہایت خیر خواہانہ اور کامل یقین سے کہتے ہیں کہ حضرت اقدس مولانا ابو احمد صاحب عم فیضہم اسی کے مخالف ہیں جن کی مخالفت ہر مسلمان پر فرض ہے حضرت مولانا وہی کام کر رہے ہیں جو علمائے کاملین اور ہادیان امت کو کرنا چاہیے۔ ہم مؤلف القاء کو ہدایت کرتے ہیں کہ پہلے مذکورہ رسالوں کا جواب دیں اور مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت کریں (جو از قبیل محالات ہے) اس کے بعد مسلمانوں کے روبرو انہیں مسیح موعود کہیں۔
دوم و سوم: حضرت اقدس مولانا کی نسبت گستاخانہ یہ کہتے ہیں کہ شیخ بن بیٹھے اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ وہ اس قابل تو نہ تھے مگر ایسا دعویٰ کیا اس میں دو دعویٰ ہیں۔ پہلے یہ کہ حضرت شیخ بننے کے لائق نہ تھے مگر بن بیٹھے۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے ایسا دعویٰ کیا۔ مگر یہ دونوں دعویٰ غلط ہیں۔ اگر حضرت کے خاندان کو دیکھا جائے تو آپ علاوہ سید آل رسول حسنی حسینی ہونے کے حضرت پیران پیرؒ کی اولاد میں سے ہیں جن کے شیخ اور مقتدیٰ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے جن کے زیر قدم رہنا تمام اولیاء اللہ اپنا فخر سمجھتے ہیں پھر یہ کہ آپ کا سلسلہ آبائی صوری و معنوی دونوں حیثیت سے آپ سے لیکر حضرت غوث پاک بلکہ حضور پرنور سید کونین حضرت رسول اللہ ﷺ تک آفتاب کی طرح روشن و ہادی شریعت و طریقت رہا ہے آپ کے سلسلۂ نسب کا ہر رکن تاج ہدایت کا درخشاں ہیرا رہا ہے آپ کے پیر و مرشد حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی قدس سرہ ہیں جن کی بزرگی کا شہرہ چار دانگ عالم میں ہے جس کے لیے نہ اشتہار بازی ہوئی نہ رسالے شائع ہوئے۔ صرف کمال روحانیت سے مقبول و مخدوم عالم ہو گئے اور ہزاروں کو ولی اللہ بنا دیا۔ انہیں برگزیدہ خدا و مقبول انام نے حضرت اقدس مولانا ابو احمد صاحب کو شیخ
طریقت بنا دیا ہے اور اپنی زبان مبارک سے آپ کے جدامجد حضرت غوث علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی تعریف فرمایا کرتے تھے جو کانپور ونواح کانپور میں ایک مشہور مقتدئ و بزرگ تھے۔
غرض کہ آپ کا سلسلۂ آبائی اور پیران طریقت دونوں اس بات کی پوری شہادت دیتے ہیں کہ آپ شیخ ہونے کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ اس مرتبہ پر پہنچنے کی شہادت مؤلف القاء کے اول مرشد حضرت اقدس مولانا فضل الرحمٰن علیہ الرحمۃ دے چکے ہیں ان خوبیوں کے ساتھ جب آپ کی ذات اطہر کی طرف نظر کی جائے تو آپ کے مقدس بزرگ ہونے پر اور بھی کامل شہادت ہو جاتی ہے کہ اللہ پاک نے جیسا آپ کو اعلیٰ علمی فضل و کمال سے مالا مال بنایا ہے ویسا ہی تقویٰ شعار بھی بنایا ہے آپ کے تقویٰ کی یہ حالت ہے کہ باوجود اس ضعف و نقاہت کے ایک سنت و مستحب چھوٹنے نہیں پاتا ہے چلنے کی طاقت نہیں ہے لیکن نماز تراویح عمدہ قاری کے پیچھے اور تہجد و تمام اوراد مسنونہ ترک نہیں ہوتے آپ کی سخاوت بھی اللہ اللہ بے مثل ہے میں نے خود بارہا دیکھا ہے کہ جو کچھ تحویل میں رہا کوڑی کوڑی غربا و مساکین و چندوں میں دے دیا ہے حالانکہ نہ کوئی ذاتی آمدنی ہے نہ مریدین سے آمدنی کا دسواں حصہ وصول کیا جاتا ہے نہ بہشتی مقبرہ کا چندہ ہے نہ منارے کے نام سے وصول کیا جاتا ہے اور باوجود اس علم و فضل داد ہش ذاتی و صفاتی تقدس کے کسی قسم کا دعویٰ نہیں ہے اور نہ اشتہار ہے لیکن خلق اللہ ہر چہار طرف سے جوق در جوق چلی آتی ہے اور شرف بیعت حاصل کرتی ہے اس کو بن بیٹھنا نہیں کہتے ہیں۔ البتہ بن بیٹھنا یہ ہے کہ نہ سید آل رسول ہیں نہ شیخ صدیقی نہ فاروقی ہیں بلکہ مرزا کہلاتے ہیں اور محض اپنی زبان درازی سے اور قلم فرسائی کی بدولت سید آل رسول بنی فاطمہ امام مہدی کی گدی پر بیٹھنے کے مدعی ہو گئے اور اس کا غل دنیا میں مچا دیا۔ بن بیٹھنا اسے کہتے ہیں۔
غلہ چوں ارزاں شود امسال سید می شوم
- چہارم : اس کا دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت اقدس تقویٰ کے مدعی ہیں مگر تمام وہ
حضرات جو برابر حضوری کا شرف رکھتے ہیں یا کبھی کبھی حاضر خدمت ہوتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ قول محض غلط ہے۔ اور حضرت اقدس نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ انکساری ہی کے الفاظ فرمایا کرتے ہیں۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہدایت کی غرض سے جھوٹوں اور مخالفین اسلام کے مقابل میں ان کے غلط دعویٰ کے اظہار میں بعض ایسے جملے لکھے گئے ہوں جنہیں
جھوٹوں کے پیرو ناجائز دعوٰی خیال کرتے ہوں مگر درحقیقت وہ ناجائز دعوٰی نہیں ہوسکتا ہے بلکہ مناسب طریقے سے مخالفین اسلام کو عاجز کرنا ہے۔
پنجم و ششم : مؤلف القاء کا یہ دعوٰی ہے کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تحقیقات سے حضرت اقدس غافل ہیں اور ہم اس سے واقف ہیں یہاں درحقیقت دو دعوے ہیں ایک یہ کہ حضرات نقشبندیہ کی تحقیقات سے حضرت مولانا ناواقف ہیں دوسرا یہ کہ ہم واقف ہیں مگر یہ دونوں دعوے بھی سرتا پا غلط ہیں ان دونوں دعوؤں کے ثبوت میں مثنوی مولانا روم کے دو شعر اور مولانا اسمعیل دہلوی کا قول منصب امامت سے اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کے دو قول سند میں لائے ہیں۔ میں نہایت سچائی سے کہتا ہوں کہ عبد الماجد قادیانی کو ان بزرگوں کی اصطلاحات سمجھنے سے کیا واسطہ ہے جو بزرگوں کی صحبت میں نہ رہا ہو تقویٰ شعاری سے وہ بالکلیہ علیحدہ ہو اور کچہری کی مقدمہ بازی کا اسے شوق ہو جو منظر عام پر حاکم کے روبرو جاہلوں کی سی بے سروپا بلکہ محض جھوٹ باتیں کہے وہ صوفیائے کرام کی غامض باتوں اور ان کی اصطلاحات کو کیا سمجھ سکتا ہے۔ اب اپنی ناواقفی مؤلف القاء ملاحظہ کریں میں بالاختصار کہتا ہوں کہ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں جو اولیاء کرام اپنے اپنے وقت میں عالی مرتبہ ہوتے ہیں انہیں یہ حضرات نبی وقت اور پیغمبر وقت کہتے ہیں۔ نبوت و رسالت شرعی اور چیز ہے شرعی نبی کا تمام خلق کو جس کے لیے وہ بھیجا گیا ہے اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ اور جو اس سے انکار کرے کافر ہے اور حضرات صوفیائے کرام کے اصطلاحی نبی (ولی) کا نہ یہ دعوٰی ہوتا ہے اور نہ ان کا ماننا ہر ایک پر فرض ہے نہ ان کے انکار سے کوئی کافر ہوتا ہے آج تک کسی بزرگ صاحب ولایت نے ہوش وحواس کی حالت میں ایسا دعوٰی نہیں کیا ہے۔ مولانا روم جنہیں نبی وقت کہہ رہے ہیں انہیں ایسا نبی نہیں کہتے ہیں جس پر ایمان لانا فرض ہو یا جس کا منکر کافر ہو بلکہ وہ اصطلاحی نبی (ولی) وقت ہیں اور مرزا قادیانی تو اعلانیہ اپنے آپ کو شرعی نبی کہتے ہیں۔ سارے خلق پر اپنا ماننا فرض بتاتے ہیں اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ آنکھ کھول کر رسالہ دعوٰی نبوت مرزا دیکھو۔ اس لیے اصطلاحی نبی کے ہونے سے حضور پرنور خاتم النبیین ﷺ کی ختم رسالت سے انکار لازم نہیں آتا ہے تمام صوفیائے کرام کے نزدیک آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں آپؐ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جس کو قرآن وحدیث نے نبی کہا ہو بلکہ جو نبوت کا دعوٰی کرے گا کذاب و دجال ہے۔ مثنوی کے حوالے کی حالت تو معلوم ہوگئی۔ اب
مکتوبات امام ربانی کا حال بھی معلوم کیجئے جس کو قادیانی مربی نے بڑی تلاش ومحنت سے نکالا ہوگا الزام دینے کی غرض سے۔ چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ سیدنا ابو بکر صدیق و سیدنا عمر فاروق کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ایں ہر دو بزرگوار از بزرگی و کلانی در انبیاء معدوداند و بہ فضائل انبیاء محفوف تا آخر
(مکتوبات امام ربانی، مکتوب نمبر ٢٥١ ص ٦٤-٦٥ دفتر اول حصہ چہارم ترکی)
جو عبارت عبد الماجد قادیانی نے یہاں نقل کی ہے اس سے حضرت مولانا مؤلف فیصلہ کو تو غافل بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو واقف و ہوشیار جانتے ہیں اس لیے ہم ان کی واقفیت اور ہوشیاری کی قلعی کھولتے ہیں اور ان کی غفلت کو دکھاتے ہیں۔
پہلی غفلت : وہ یہ تو بتائیں کہ آپ نے حضرت شیخ احمد رحمتہ اللہ کو مجدد الف ثانی تحریر فرمایا ہے۔ آپ کا یہ لکھنا صداقت کے طور سے ہے؟ اور آپ کا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے تو مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد ماننا غلط ہے کیونکہ جب حضرت مجدد علیہ الرحمہ کو الف ثانی یعنی دوسرے ہزار کا مجدد مان چکے ہیں تو ضرور ہے کہ اس دوسرے ہزار میں دوسرا مجدد نہ ہوگا ورنہ انہیں مجدد الف ثانی کہنا غلط ہوگا۔ اور اگر ہر صدی میں مجدد ہونے اور چودھویں صدی میں مرزا قادیانی آئے تو حضرت شیخ احمد رحمہ اللہ کو مجدد الف ثانی کہنا صحیح نہ ہوا بلکہ مجدد مائۃ احدی عشر کہنا چاہیے۔ اس قول میں مؤلف القاء کی یہ پہلی غلطی یا غفلت ہوئی۔
دوسری غفلت : حضرت مجدد علیہ الرحمہ کا یہ ارشاد ہے کہ ایں ہر دو بزرگوار در بزرگی و کلانی در انبیاء معدوداند۔ اس کے کیا معنی ہیں آیا جس طرح مرزا قادیانی نبی ہیں یہ دونوں بزرگوار بھی نبی تھے تو اس قول سے آپ کے مرشد ہی جھوٹے ٹھہرتے ہیں کیونکہ ہم اس رسالے کے پہلے حصہ میں مرزا قادیانی کا قول نقل کر آئے ہیں جسمیں مرزا قادیانی نے نہایت صراحت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں ہے میں ہی ہوں۔
اور قول مذکور سے اور اس کے بعد کے قول سے تین نبی اور بھی نکل آئے ہیں یعنی حضرات شیخین اور حضرت مجدد الف ثانی۔ اس لیے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں میں وہی نبی کے نام کا مستحق ہوں محض غلط ثابت ہوا۔ مؤلف القاء قادیانی یہ کیسی غفلت آپ کے مرشد کے قول سے ثابت ہوئی۔
تیسری غفلت : حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے کلام کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ حضرت صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو شرعی نبی کہتے ہیں جیسا مرزا قادیانی اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ تو آپ کی صریح بددیانتی ہے جس صفحہ کی عبارت آپ نے نقل کی ہے اس صفحہ کی پانچویں سطر میں یہ عبارت ہے کمالات حضرات شیخینؓ شبیہ کمالات انبیاء است علیہم الصلوات والتسلیمات۔
اس عبارت میں صاف طور سے ان دونوں کے نبی ہونے سے انکار ہے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ ان کے کمالات انبیاء کے مشابہ ہیں مثلاً انبیاء میں صفت ہدایت اور مخلوق پر مہربانی کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ اس کے مشابہ حضرات شیخینؓ میں یہ صفت اور یہ کمال ہے اس کو نبوت سے کیا واسطہ۔ مگر قادیانی عبد الماجد صاحب کی دیانت ہے کہ اس عبارت کو ظاہر نہیں کیا۔ عوام کے فریب دینے کو ایک جملہ لکھ دیا تاکہ ناواقف سمجھ لیں کہ جس طرح حضرات شیخینؓ کو حضرت مجدد صاحب نبی کہتے ہیں اسی طرح مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے۔
دوسری بددیانتی اور ملاحظہ ہو۔ جو جملہ قادیانی عبد الماجد نے لکھا ہے اس کے بعد اسی سے ملا ہوا یہ جملہ ہے۔ ”قال النبی صلی الله علیہ وسلم لو کان بعدی نبی لکان
عمر“ (مشکوٰۃ ص ٥٥ باب مناقب عمر مکتوبات امام ربانی دفتر اوّل حصہ چہارم ص ٦٥)
یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ حضرت عمرؓ نبی نہیں تھے۔ حضرت مجدد رحمہ اللہ نے اس جملہ کو غالباً اس لیے زیادہ کیا کہ کم علم حضرات جملہ در انبیا معدود اند۔ سے یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ حضرات مرتبہ نبوت کو پہنچ گئے اور نبی ہو گئے۔ مگر بددیانتی کا کیا علاج ہے حضرت مجدد رحمہ اللہ کے خیال میں یہ ہرگز نہ ہوگا کہ ذی علم بھی ایسے بددیانت ہوتے ہیں اب اس کی تشریح دوسرے مکتوب سے دیکھیئے۔ مکتوبات کی جلد ٣ حصہ ہفتم مکتوب ٢٤ ص ٣٢٧ میں فرماتے ہیں۔
”درشان حضرت فاروق رضی اللہ عنہ فرمودہ است علیه و علی اله الصلوٰۃ والسلام لو کان بعدی نبی لکان عمرؓ۔ یعنی لوازم و کمالاتیکہ در نبوت در کار است ہمہ را عمرؓ دارد اما چوں منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است (علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام) بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔“
حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے اس قول سے کئی باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ حضرت عمرؓ کا
نبی نہ ہونا اور مقام نبوت پر نہ پہنچنا حدیث نبوی سے ثابت ہے دوسرے یہ کہ کمالات نبوت اور چیز ہیں اور منصب نبوت اور مقام نبوت اور چیز ہے۔ مؤلف القاء ان دونوں باتوں سے غافل ہیں۔ اس کلام سے یہ تو بخوبی ثابت ہو گیا کہ عبارت در انبیا معدود اند کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرات شیخین نبی ہیں کیونکہ حضرت ممدوح صاف طور سے لکھتے ہیں کہ منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است اور حدیث میں تو اس سے بھی زیادہ صراحت ہے۔ اس غفلت میں دو بد دیانتیاں بھی مؤلف القاء کی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ مکتوب میں حضرت مجدد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
”مقرر است کہ ہیچ ولی امتی بمرتبہ صحابی آں امت نرسد فکیف بہ نبی ان امت“
(مکتوبات امام ربانی مکتوب بست و چہارم دفتر دوم حصہ ہشتم ص ٣٢٧)
اب اگر مؤلف القاء حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے کلام کو صحیح اعتقاد کرتے ہیں اور انہیں مجدد الف ثانی سمجھتے ہیں تو ضرور ہے کہ اپنے مرشد قادیانی کو اپنے دعویٰ میں کاذب سمجھیں کیونکہ مرزا قادیانی کو باوجود امتی ہونے کے یہ دعویٰ ہے کہ میں تمام صحابہ سے بلکہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہوں اور اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی امتی کیسا ہی مرتبہ عالی رکھتا ہو مگر کسی نبی کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں حضرت مسیح سے ہر شان میں بڑھ کر ہوں عقائد اہل سنت کے بالکل خلاف ہے کسی ظلی اور بروزی نبی کی یہ شان نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی کا بعض انبیاء سے افضلیت کا دعویٰ تو صاف لفظوں میں ہے اور اگر غور سے ان کے کلام کو دیکھا جائے تو انہیں افضل الانبیا ہونے کا دعویٰ ہے اور حضرت سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں ان کا الہام ”لولاک لما خلقت الافلاک“ (تذکرہ ص ٦١٢ طبع سوم) اس کا شاہد ہے اس کی تفصیل دعویٰ نبوت مرزا میں دیکھیے۔ مؤلف القاء کی یہ کیسی بھاری غفلت ہے کہ اپنے سلسلہ کے بزرگوں کی بلکہ اپنے مرشد کے کلام کی بھی خبر نہیں ہے مؤلف القاء کی یہ چوتھی غفلت ہے۔ حضرت مجددؒ مکتوبات کی پہلی جلد کے ١٨ مکتوب ص ٤١ میں لکھتے ہیں۔
”فوق مقام شہادت مقام صدیقیت است...... وفوق آں مقامی نیست الا النبوة علی اهلها الصلوة والتسلیمات.“
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مرتبہ نبوت اور مقام نبی، صدیقیت کے مقام سے بلند ہے اور صدیق رضی اللہ عنہ مقام صدیقیت میں تھے اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ حضرت صدیقؓ نبی نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ در انبیا معدود اند کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرات شیخین نبی ہیں اور
مرزا قادیانی تو صاف طور سے نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں انتہا یہ کہ بعض الوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل بتاتے ہیں اپنے تئیں تشریعی نبی کہتے ہیں۔ پھر وہ کونسا مرتبہ نبوت ہے جو حضرت سرور انبیاء ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔
یہ پانچویں غفلت ہے جس سے ظاہر ہے کہ مؤلف القاء حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے کلام کو نہیں سمجھتے اور اپنے جہل مرکب سے ایک علامہ نقشبندی مجددی کو غافل سمجھتے ہیں غرض کہ اس قسم کی غلطیاں اور غفلتیں مؤلف القاء کی بہت ہیں۔ اب ناظرین کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ مؤلف القاء نے صفحہ ١٥٩ میں حضرت مجدد کے چند جملوں کا ترجمہ کیا ہے اس سے ان کی قابلیت اور اردو نویسی کی حالت کو ملاحظہ فرمائیں اسی اردو نویسی اور قابلیت پر فیصلہ آسمانی کا جواب لکھنے بیٹھے ہیں۔ طوالت اور سمع خراشی کا خوف نہ ہوتا تو اس کی تفصیل کر دیتا۔ مگر واقف کار حضرات صفحہ مذکور کو دیکھ کر میرے بیان کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ مذکورہ اقوال کے سوا بھی مؤلف القاء نے اپنی کوشش کو دکھایا ہے اور چند علماء کے اقوال نقل کیے ہیں اور مامور من اللہ کی مخالفت میں بڑی سرگرمی ظاہر کی ہے سب کو نقل کر کے جواب دینے میں طوالت کا خوف ہے اس لیے سب کا اجمالی جواب دیتا ہوں اور وہ جواب بھی ایسا ہے کہ مؤلف القاء کا پسندیدہ ہے اس لیے میں انہیں کی کتاب سے نقل کرتا ہوں القاء کے صفحہ ٩ میں لکھتے ہیں۔
ابواحمد صاحب حضرت مجدد صاحب کی اس عبارت کو بھول گئے۔ ”قائل آں سخناں شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی کلام محمد عربی در کار است نہ کلام محی الدین عربی و نہ صدرالدین قونوی۔“
اب میں کہتا ہوں کہ حضرت علامہ ابواحمد صاحب تو اس کلام کو نہیں بھولے اس مقام پر آپ کا یہ الزام آپ کی خوش فہمی پر پوری روشنی ڈالتا ہے جس مقام پر آپ نے یہ الزام نقل کیا ہے وہاں اس الزام کا موقعہ ہرگز نہیں ہے۔ البتہ اس الزام کا یہ موقعہ ہے کہ آپ نے متعدد علماء کے اقوال کو اپنے مطالب کے لیے سند پکڑ کے الزام دینا چاہا ہے اور کوئی حدیث نہیں پیش کی اس لیے ہم کہتے ہیں کہ برائے سند کلام محمد عربی ﷺ درکار است نہ کلام دہلوی و لکھنوی و نانوتوی وغیرہ۔ اس لیے بہت سی عبارتیں نقل کرنا فضول بلکہ نہایت ناسمجھی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ فیصلہ آسمانی میں جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب کسی صحیح حدیث یا قرآن کی آیت سے دیں بہت سی عبارتیں نقل کر کے عوام کو دھوکا نہ دیں۔ الغرض اپنے مسلمہ اور منقولہ قاعدے کی پابندی سے غافل نہ
ہو جائیے۔ مگر یہاں آپ غافل ہوئے اور بڑی غفلت کی ۔ یہ آپ کی چھٹی غفلت ہے اور اگر آپ کو ان حضرات کے اقوال پر ایسا اعتماد ہے کہ قرآن وحدیث کی طرف توجہ دشوار ہے تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں اور نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ آپ کے مرشد کی عیسویت اور مہدویت کی بنیاد انہیں کے اقوال سے اکھیڑ کر پھینک دیں گے۔ ان سب اقوال میں زیادہ مستند اور لائق اعتبار حضرت مجدد رحمہ اللہ کا قول ہونا چاہیے کیونکہ انہیں آپ مجدد الف ثانی لکھ چکے ہیں اور کچہری میں آپ نے انہیں نبی مانا ہے اور آپ اور آپ کے خلیفۃ المسیح اپنے آپ کو اس خاندان میں منسلک بتاتے ہیں اس لیے میں ان کا قول پیش کرتا ہوں۔
مؤلف القاء کی عظیم الشان غفلت
مکاتیب کی جلد ٢ مکتوب ٦٧ صفحہ ١٣٢ میں حضرت مجدد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ”جماعتے از نادانی گمان کنند شخصی را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود۔“
عبارت مکتوب
از اہل ہند مہدی موعود بودہ است پس بزعم ایناں مہدی گذشتہ است وفوت شدہ و نشان مید ہند کہ قبرش در فرہ است۔ در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است چہ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ در حق آں شخص کہ معتقد ایشان است آں علامات مفقود اند۔ در احادیث نبوی آمدہ است۔ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام۔
- ١......... کہ مہدی موعود بیرون آید و برسر وے پارہ ابر کہ بود دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں
شخص مہدی است او را متابعت کنید۔
- ٢......... و فرمودہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ تمام زمین را مالک شدند چارکس دوکس از مؤمنان و دو کس
از کافران ذوالقرنین وسلیمان از مؤمناں و نمرود و بخت نصر از کافران و مالک خواہد شد آں زمین را شخص پنجم از اہل بیت من یعنی مہدی۔
- ٣......... فرمود علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام دنیا نرود تا آنکہ بعث کند خدا تعالیٰ مردے را از اہل
بیت من کہ نام او موافق نام من بود و نام پدر او موافق پدر من باشد پس پر سازد زمین را بداد و عدل چنانچہ پر شدہ بود بجور وظلم۔
- ٤........... و در حدیث آمدہ است کہ اصحاب کہف اعوان حضرت مہدی خواہند بود۔
- ٥........... وحضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام در زمان وے نزول خواہد کرد واو موافقت خواہد
کرد با حضرت عیسیٰ علیہ السلام در قتال دجال۔
- ٦........... و در زمان ظہور سلطنت او در چہاردہم شہر رمضان کسوف شمس خواہد شد و در اوّل آں ماہ
خسوف قمر برخلاف عادت زماں و برخلاف حساب منجمان۔‘‘
(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ٦٧ دفتر دوم ص ١٩٠۔١٩١ طبع ترکی)
مطلب........ ہندوستان میں ایک شخص نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا بعض اہل ہند نے اس کے دعویٰ کو مانا تھا ان کے گمان میں مہدی موعود گزر گئے (جس طرح اب مرزائی کہتے ہیں) اور اس کی قبر مقام فرہ میں ہے (حضرت مجدد رحمہ اللہ فرماتے ہیں) کہ صحیح اور مشہور حدیثیں جو تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئیں اس جماعت کو جھوٹا بتاتی ہیں۔ کیونکہ ان حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے مہدی کی علامتیں بیان فرمائی ہیں اور وہ علامتیں اس شخص میں نہ تھیں جس کے یہ لوگ معتقد ہیں۔ (اب وہ علامتیں شمار کے ساتھ لکھی جاتی ہیں انہیں غور کے ساتھ ملحوظ رکھئے۔)
پہلی علامت.......... مہدی موعود جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا ہوگا اور اس میں فرشتہ ہوگا وہ بآواز بلند کہتا ہوگا کہ یہ مہدی ہے اس کی پیروی کرو (اس سے معلوم ہوا کہ مہدی موعود کو اپنی زبان سے دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ ہوگی)
دوسری علامت.......... جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ چار شخص تمام دنیا کے بادشاہ ہو چکے ہیں دو مسلمان اور دو کافر۔ مسلمانوں میں ذوالقرنین اور حضرت سلیمان اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر اور پانچواں شخص جو تمام روئے زمین کا مالک ہوگا وہ میرے اہل بیت سے ہوگا یعنی مہدی (مرزا غلام احمد قادیانی تو ایک شہر کے بھی مالک نہیں ہوئے)
تیسری علامت.......... یہ فرمایا کہ دنیا کا خاتمہ نہ ہوگا جب تک کہ میرے خاندان سے ایک ایسا شخص پیدا نہ ہو کہ اس کا نام میرے نام پر ہو اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہو اس کے ظہور کے وقت دنیا جور وظلم سے بھری ہوگی یہ شخص داد ودہش اور عدل وانصاف سے دنیا کو بھر دے گا۔
چوتھی علامت............. یہ فرمایا کہ حضرت مہدی کے مددگار اصحاب کہف ہوں گے۔
پانچویں علامت........... یہ کہ امام مہدی کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کریں گے اور امام مہدی آپ کے ہمراہ ہو کر دجال سے لڑیں گے۔
چھٹی علامت............ یہ فرمایا کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت میں رمضان کی چودہ تاریخ کو سورج گہن اور پہلی تاریخ کو چاند گہن ہوگا۔ یعنی زمانے کی عادت اور منجموں کے حساب کے خلاف یہ دونوں گہن ہوں گے۔
اب مؤلف القاء سنبھل کر بیٹھیں اور بتائیں کہ مکتوبات میں حضرت مجدد رحمہ اللہ نے (جنہیں آپ بھی مجدد الف ثانی کہتے ہیں اور ان کے کلام کو سند میں پیش کر رہے ہیں) یہ چھ علامتیں امام مہدی کی بیان فرمائیں ان میں سے ایک بھی مرزا قادیانی میں پائی گئی؟ یہ تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ ان میں سے ایک علامت بھی ان میں نہ پائی گئی پھر اب حضرت مجدد الف ثانی کے خلاف انہیں مہدی مان کر اپنا ایمان کیوں تباہ کر رہے ہیں؟ یہ آپ کی ساتویں غفلت ہے اور بہت ہی بڑی غفلت ہے۔ اب تو آپ کو یقین کرنا چاہیے کہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے ان کے جھوٹے ہونے کی چھ علامتیں یا چھ دلیلیں بیان فرمائیں اس پر بھی آپ نے غور نہیں کیا کہ حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے وقت میں ایسا ہی مدعی مہدویت گذرا ہے جیسا آپ کے وقت میں مرزا قادیانی۔ حضرت ممدوح اسی کے رد میں یہ دلیلیں بیان فرما رہے ہیں۔ اس کے بعد اس کے ماننے والے سے کہتے ہیں کہ:
عبارت مکتوب......... بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات دراں شخص میت بودہ است یا نہ و علامات دیگر بسیارست کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام شیخ ابن حجر رسالہ نوشتہ است در علامات مہدی منتظر کہ بدویست ٢٠٠ علامت می کشد۔ نہایت جہل است کہ با وجود وضوح امر مہدی موعود جمعی در ضلالت مانند ھداھم اللہ سبحانہ سواء الصراط (صفحہ ١٣٢ جلد ٢)
(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم نمبر ٦٧۔ ص ١٩١۔ طبع ترکی)
انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ یہ علامتیں اس مردہ مہدی میں تھیں یا نہ تھیں۔ ان علامتوں کے سوا اور بھی بہت سی علامتیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں۔ شیخ ابن حجر نے مہدی منتظر کی علامات میں ایک رسالہ لکھا ہے اور ان علامتوں کو دوسو تک پہنچایا ہے۔ نہایت جہالت ہے
کہ باوجود مہدی موعود کی حالت واضح ہونے کہ ایک جماعت گمراہی میں پڑ گئی اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔“
یہاں یہ بات بھی لائق دیکھنے کے ہے کہ حضرت مجدد رحمہ اللہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ مہدی موعود کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اس سے معلوم ہوا کہ مہدی اور مسیح دو ہیں ایک نہیں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور اس وقت میں معمول کے خلاف نہایت عجیب طور سے سورج گہن اور چاند گہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہو گا۔ یعنی پہلی تاریخ میں چاند گہن اور چودھویں تاریخ میں سورج گہن ہوگا۔ یہ تین باتیں وہ ہیں جن کے انکار میں مرزا قادیانی نے رسالے لکھے ہیں اور اپنے نزدیک حضرت مجدد رحمہ اللہ کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے (استغفر اللہ) اب عبدالماجد قادیانی فرمائیں کہ وہ کیسے جھوٹا سمجھیں گے۔ ایک کو مجدد الف ثانی اور نبی مان چکے ہیں اور دوسرے کو مسیح موعود تسلیم کر چکے ہیں۔ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیں۔ مگر عبدالماجد قادیانی کیا جواب دیں گے کاذب کی پیروی اور اہل حق کے مقابلہ نے عقل و فہم اور علم سب سلب کر دیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ قادیانی مربی کے تو ظاہری علم کا بھی اس مقابلہ میں پتہ نہیں ہے۔ دعویٰ تصوف دانی کا بھی ہو رہا ہے اور حضرات صوفیہ کے کلام پیش ہو رہے ہیں۔
سچ ہے جہل مرکب بری بلا ہے اس کا علاج نہایت دشوار ہے خاتم النبیین کے معنی حدیث میں اور لغت عرب میں نہایت وضاحت سے مصرح ہیں مگر قادیانی مربی کو خبر نہیں اپنے جہل مرکب کی بنیاد پر لکھتے ہیں۔ ”مولانا و استاذنا ابوالحسنات عبدالحی صاحب محدث لکھنوی کی کتاب دافع الوسواس یا تو دیکھی نہیں الخ صفحہ ١٦١۔“
قادیانی عبدالماجد کو اس کی خبر نہیں کہ حضرت اقدس مولانا ابو احمد مدظلہم سے اور مولانا عبدالحی صاحب سے کیا تعلق تھا حضرت اقدس کو علمی مسائل کی تحقیق کا شوق تھا اور خاص اسی غرض سے لکھنو میں تشریف لے جاتے تھے اور اپنے پیر بھائی مولوی یحییٰ صاحب کے پاس قیام فرماتے تھے اور فرنگی محل میں آ کر کتابیں ملاحظہ کیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالحی صاحب مرحوم سے دوستی تھی۔ اکثر مسائل میں محبانہ گفتگو ہوتی تھی۔ آپ مولانا مرحوم کی یاد اور کتب بینی کی بہت تعریف کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلہ میں گفتگو شروع ہوتی تو کتابوں کے حوالے
٢٣
دینا شروع کرتے کہ فلاں نے یہ لکھا ہے اور اس نے یہ لکھا ہے مگر جب حضرت نے یہ کہا کہ ہاں لکھا تو ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے اس کا کیا جواب ہے اس کے بعد مولانا خاموش ہو جاتے تھے۔ اور عمر میں بھی برس دو برس چھوٹے تھے اسی لیے اپنی تصانیف وتالیفات برابر حضرت مولانا کی خدمت اقدس میں پیش کیا کرتے تھے اور عنوان تحریر ہمیشہ ویسا ہی ہوا کرتا تھا جیسا چھوٹا بڑے کے ساتھ یا کم سے کم برابر والوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جیسے لفظ بخدمت کہ یہ اپنے سے چھوٹے کو ہر گز نہیں لکھ سکتے ہیں۔ مولانا عبدالحی صاحب مرحوم کے ہاتھ کا میں نے خود دو رسالوں ( الکلام المبرور اور دافع الوسواس ) پر لکھا ہوا دیکھا ہے جو حضرت مولانا کی خدمت میں مولانا عبدالحی صاحب مرحوم نے بھیجے تھے۔ پھر حضرت کے روبرو دافع الوسواس کو پیش کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کے علاوہ معلوم ہوتا ہے کہ عبد الماجد قادیانی نے مولانا عبدالحی صاحب مرحوم کے نہ کلام کو سمجھا اور نہ ان کی اور تصانیف کو دیکھا ہے نہیں تو اس قسم کی نادانی کی باتیں نہ بناتے۔ جب قرآن مجید اس پر ناطق ہے اور تمام امت کا اجماع ہے کہ حضور پرنور رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی ہے۔ اس اجماعی مسئلہ کی کسی فرد امت نے تاویل بھی نہیں کی تو مولانا عبدالحی صاحب مرحوم کیسے جرأت کر سکتے ہیں کہ اس کے خلاف کہیں۔ افسوس ہے کہ عبد الماجد قادیانی کو خلاف عقل و نقل عقیدہ کو اپنے استاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ مولانا عبدالحی صاحب مرحوم تو صاف صاف زجر الناس میں لکھ رہے ہیں۔
عبارت ............ لكن ختم نبينا ﷺ الى جميع الانبياء جميع الطبقات بمعنى انه‘ لم يعط النبوة لاحدفى طبقة.
لا شبهة فى بطلان الاحتمال الثاني و هو ان يكون وجود الخواتم فى تلک الطبقات بعده بما ورد انه لا نبي بعده و ثبت في مقره انه خاتم الانبياء علی الاطلاق والاستغراق.
یہاں مولانا کے لفظ علی الاطلاق والاستغراق پر اہل علم خوب غور کریں اس سے بخوبی ظاہر ہو جائے گا کہ عبد الماجد قادیانی اپنے استاد کے کلام کو نہیں سمجھے دو لفظوں کے بڑھانے کا یہی مقصد ہے جو میں نے بیان کیا ناظرین یہاں پر مؤلف قادیانی القاء کی دو بھاری غلطیاں ہیں اوّل تو دافع الوسواس کی سند کو پیش کرنا محض بے موقعہ ہے دوسرے یہ کہ اس کے مطلب کو نہیں سمجھے۔
مطلب: کل طبقات کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا حقیقی ہے اس اعتبار سے
٢٤
کہ آپ کے بعد کسی کو کسی طبقہ میں نبوت نہیں دی گئی۔
اس احتمال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ دیگر طبقات میں آنحضرت ﷺ کے بعد خواتم کا وجود ہو اس لیے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہو چکی ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں مطلقا یعنی جس کو نبی کہا جاسکے چاہے ظلی ہو یا بروزی یا کسی قسم کا نبی ہو سب کے آپ خاتم ہیں۔ مگر اس ختم نبوت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ کا فیض روحی بند ہو گیا آپ کے فیض ہی کی وجہ سے تو ابدال اقطاب اولیاء ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے البتہ مرتبہ نبوت کسی کو نہیں مل سکتا ہے جس کی نہایت معقول وجہ فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں لکھی گئی ہے۔
قادیانی عبد الماجد نے مولانا عبدالحی صاحب مرحوم کی جو آڑ پکڑی تھی ناظرین پر اس کا حال ظاہر ہو گیا۔ اب حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کے توسل سے اپنے مسیح کی نبوت کو جو ثابت کرنا چاہا ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ قادیانی عبد الماجد نے تحذیر کے حوالے سے اپنی کتاب القاء کے صفحہ ١٦١ سطر ٩ سے سطر ١٧ تک ایک عبارت نقل کی ہے جس سے آپ نے اپنی فہم کامل کے زور سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بعد حضور ﷺ کے نبی آسکتا ہے خاتمیت آنحضرت کے منافی نہیں ہے۔
قادیانیو! تم ہمیشہ شور مچایا کرتے ہو کہ مرزا قادیانی کو کیوں لوگ دجال۔ مفتری۔ کذاب وغیرہ وغیرہ سخت الفاظ سے یاد کیا کرتے ہیں۔ تو گوش ہوش سے سن لو کہ ان سب الفاظ کے ذمہ دار تمہارے مرزا قادیانی اور خود تم ہو۔ خود اپنے قول و فعل سے اس کو ثابت کر رہے ہو تو دوسروں کو اس کے کہنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے اقوال و پیشین گوئیوں میں کچھ کذب بیانی و افتراء لوگوں نے ظاہر کیا اس کو تو تم کہہ دیا کرتے ہو کہ یہی منہاج نبوت ہے اور یہی سنت اللہ ہے لیکن عبد الماجد قادیانی تو نئے منہاج نبوت پر ہیں۔ جو مولانا۔ مولوی۔ مقتدا وغیرہ وغیرہ ضخیم و فخیم القابوں کے باوجود مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ علیہ کی عبارت میں دجل کرنے سے ذرا بھی نہیں شرمائے بلکہ ڈھٹائی سے اس کو پیش کر دیا۔
مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کے کلام میں عبد الماجد قادیانی کا فریب
مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم نے اپنے رسالہ تحذیر الناس میں یہ ثابت کیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ حضور پرنور (روحی فداہ) سب سے آخر میں آنے والے نبی ہیں یعنی صرف خاتم زمانی
٢٥
ہی نہیں ہیں بلکہ آپ جیسے خاتم زمانی ہیں خاتم ذاتی بھی ہیں یعنی آپ پر تمام کمالات نبوت بالذات ختم ہیں۔ اس مضمون کو ثابت کرنے کے لیے مولانا مرحوم نے ایک طولانی علمی تحریر کی ہے جس میں عبدالماجد قادیانی نے جو مرزا قادیانی کے خاص پیروکاروں میں سے ہیں یہ دجل کیا ہے کہ چند جگہوں سے کلمات تراش تراش کر ایک عبارت بنائی ہے اور پبلک کے سامنے پیش کر کے حضرت رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت سے مولانا مرحوم کا انکار ثابت کرنا چاہا ہے اور لطف یہ کہ مولانا مرحوم نے انہیں صفحات پر جس صراحت سے خاتمیت زمانی کا اقرار بلکہ اس کے منکر کو کافر کہا ہے اس کو ایک دم ہضم کر گئے۔ قادیانیو ! نوحہ کرو بلکہ دھاڑیں مار مار کر روؤ۔ چلاؤ کہ تمہارا مقتدا بھاگلپوری قادیانیوں کا امام اس قدر دجل صریح سے کام لیتا ہے جس کو لوگ ضرور مرزا قادیانی کے پیروکار ہونے کا اثر سمجھیں گے۔ جس کو سمجھتے تھے مسیحا وہ ہلاکو نکلا۔ اور صحبت اور پیروی کے اثر میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
ناظرین عبدالماجد قادیانی نے اپنی کتاب القاء ربانی میں جو عبارت پیش کی ہے۔ وہ تحذیر الناس کے صفحہ ٣ و ١٤ و ٢٨ سے تراش خراش کر کے پیش کی ہے میں یہاں نقل کرتا ہوں۔
عبدالماجد قادیانی نے جو عبارت بنائی ہے وہ یہ ہے (١) عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے (٢) غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے۔ جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ کی نسبت خاص نہ ہوگا کہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو۔ جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے (٣) بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں کہیں اور کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
اس کے نمبر وار میں نے تین ٹکڑے کر دیئے ہیں جو مختلف تین صفحات صفحہ ٣ و صفحہ ١٤ و صفحہ ٢٨ سے لیے گئے ہیں۔ آپ ان کی کتاب اٹھا کر دیکھیں کس چالاکی سے اس کو ایک مضمون بنا کر پیش کیا ہے اور کہیں پر اس کا نشان بھی نہیں ہے۔ کہ یہ تین جگہوں سے لیا گیا ہے تاکہ ناظرین کو اس کا وہم و گمان بھی نہ ہو کہ یہ دراصل تین عبارتیں ہیں جن کو ایک بنا دیا گیا ہے یہ کیوں؟ صرف اس واسطے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم پر انکار خاتمیت کا الزام لگا کر مرزا قادیانی کا
٢٦
بوجھ ہلکا کیا جائے۔ لیکن افسوس کہ عبد الماجد قادیانی کا یہ فریب تحذیر کے دیکھ لینے سے نہ چل سکا اور مرزا قادیانی کا بوجھ ہلکا ہونے کے بجائے ان کی قبر پر اور لاکھ من مٹی پڑگئی فالحمد للہ۔
اس قدر بیان سے عبد الماجد قادیانی کا فریب تو ظاہر و روشن ہو گیا لیکن اب دیکھنا چاہیے کہ یہ فریب عبد الماجد قادیانی کے لیے مفید مطلب بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی بالفرض اگر یہ تین عبارتیں ایک ہی عبارت مان لی جائیں تو کیا اس سے مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کا یہ عقیدہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نبی ہو سکتے ہیں؟ میں نہایت زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ ایک عامی شخص بھی عبد الماجد قادیانی کی پیش کردہ عبارت سے ایک منٹ کے لیے بھی مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کسی دوسرے نبی کا قائل و مجوز نہیں مان سکتا۔ عبد الماجد قادیانی کو تو ذی علم ہونے کا دعویٰ ہے۔ معلوم نہیں یہ کیسے نتیجہ نکالا؟ عبد الماجد قادیانی نے مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کی جو عبارت پیش کی ہے اس میں تو صاف صاف اگر ”بالفرض“ کا لفظ لکھا ہوا ہے جس کے تو یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہو سکتی مگر ہم فرضی مان رہے ہیں جیسا کہ ہم نے ابھی چار سطر اوپر لکھا ہے کہ اگر بالفرض یہ عبارتیں ایک مان لی جائیں تو کیا اس سے کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ہم نے واقعی مان بھی لیا۔ اس کے علاوہ عام طور سے لوگ۔ فرضی نام‘ فرضی بیع‘ فرضی ہبہ‘ فرضی قبالہ وغیرہ بولتے ہیں جس کے ہمیشہ معنی غیر واقع ہوتے ہیں۔
اول تو اس چھلانگ کو ملاحظہ فرماویں کہ صفحہ ٣ کے بعد صفحہ ١٤ پر جا بیٹھے اور وہاں سے کودے تو چودہ دونی ٢٨ پر۔
ماشاء اللہ واہ رے رست خیز۔ کیوں قادیانیو! کیا کسی عبارت کے پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ اگر یہی تحریف ہے تو تحذیر الناس کی کیا ضرورت تھی قرآن مجید سے جو مطلب چاہئے ثابت کر دیتے۔ قرآن مجید میں غلام اور احمد ۔ اور رسول اللہ ۔ وخاتم النبیین سب کچھ الفاظ آئے ہیں ان سب کو ملا کر کہہ دیتے کہ قرآن میں غلام احمد رسول اللہ وخاتم النبیین آیا ہے۔ بس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی کی رسالت بلکہ خدائی بھی ثابت ہو جاتی۔
مرزائیو۔ تم سے سچ کہتا ہوں ماتم کرو ماتم‘ کیونکہ اس کے ساتھ دوسرا دجل بھی ہے۔ جس صفحہ ٣ کی عبارت عبد الماجد قادیانی نے اپنی موافقت میں نقل کی ہے اسی صفحہ پر یہ عبارت بھی ہے۔ بلکہ بناء خاتمیت اور بات ہے جس سے تاخر زمانی اور سد باب مذکور خود بخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔ تحذیر صفحہ ٣۔
٢٧
اس عبارت سے حضرت مولانا مرحوم اس بات کی صراحت کیسے روشن طریقے سے فرماتے ہیں کہ بناء خاتمیت ایسی بات پر ہے جس سے آپ کا نبی آخرالزمان ہونا خود بخود لازم آ جاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ١٠ میں تو آنحضرت ﷺ کو نبی آخر الزمان نہ ماننے والے اور آپ کے بعد دوسرے نبی پیدا ہونے کے قائل کو کافر قرار دیتے ہیں قادیانی جماعت آنکھوں سے پردہ اٹھا کر غور سے دیکھے لیکن حیا کا پردہ نہ اٹھ جائے۔ مولانا فرماتے ہیں۔ ”سو اگر اطلاق عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت ظاہر ہے ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے ادھر تصریحات نبوی مثل ”انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی او كما قال“ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے کافی‘ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعت فرائض وغیرہ و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں جیسا اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہے تحذیرالناس صفحہ ١٠ ان دو اقتباسوں کے متعلق ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ عبد الماجد قادیانی نے ان عبارتوں کو دیکھا اور ضرور دیکھا لیکن اپنی کتاب کے ناظرین کو فریب دینا مقصود تھا اس لیے قصداً قلم انداز کر دیا۔ یہ دو اقتباس تو خاص تحذیر کے تھے ان کے علاوہ مولانا مرحوم کے اور اقوال بھی نقل کر دینا مناسب سمجھتا ہوں تا کہ دروغ گو بخانہ باید رسانید صحیح ہو جائے۔ اور کسی قادیانی اور غیر قادیانی کو آئندہ لب کشائی کا موقعہ نہ ملے۔ (١) مولانا ! حضرت خاتم المرسلین ﷺ کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے اور یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ آپ اوّل المخلوقات ہیں (مناظرہ عجیبہ صفحہ ٣) پھر ملاحظہ ہو صفحہ ٢٧ (٢) مولانا ! خاتمیت زمانی کی میں نے توجیہ اور تائید کی ہے تغلیط نہیں کی مگر ہاں گوشہ عنایت و توجہ سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔ انتہی ایضاً صفحہ ٣٩ (٣) مولانا ! خاتمیت زمانی اپنا دین و ایمان ہے ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں سو اگر ایسی باتیں جائز ہوں تو ہمارے منہ میں بھی زبان ہے۔ ایضاً صفحہ ١٠٣ (٤) مولانا‘ امتناع بالغیر میں کسے کلام ہے اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ ﷺ کے کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔
اس قدر حوالجات کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عبد الماجد قادیانی موافق قول حضرت مولانا مرحوم کے وہ بھی بعد رسول اللہ ﷺ کے مجوز نبی کو کافر سمجھیں گے اور آئندہ سے ہمیشہ کے
٢٨
لیے اپنے منہ پر مہر کرلیں گے۔ اتنے بیان کے بعد اب عبدالماجد قادیانی اپنے قول کو دیکھیں جو اسی صفحہ میں ہے اگر دیکھی ہے تو دیدہ و دانستہ مریدین کے خوش کرنے اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے خیال سے خاتم النبیین ﷺ کی بحث میں اس قدر غلط بیانات کرتے ہیں جس سے اہل علم کو تعجب ہوتا ہے۔ قادیانی مربی ایمان سے فرمائیے یہ آپ راستی اور سچے دل سے کہہ رہے ہیں یا خلیفہ المسیح اور چند نوگرفتاروں کے خوش کرنے کو کہہ رہے ہیں، کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ پہلے معتقدین کی نظروں میں تو ذلیل و خوار ہوگئے اب قادیانی خلیفہ اور ان کی قلیل ہی جماعت میں کچھ اوراق سیاہ کر کے اپنی سرخ روئی دکھا کر کچھ فائدہ اٹھائیں یہ الزام آپ پر خوب چسپاں ہے اور حضرت اقدس مؤلف فیصلہ آسمانی تو پہلے سکوت ہی میں زیادہ آرام میں تھے سب آپ سے خوش تھے۔ یہاں تک کہ خلیفہ صاحب بھی راضی تھے اور آپ بھی۔ اب جس وقت سے مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کو فتنہ عظیم سے بچانے کے لیے دردسری مول لی ہے اس وقت سے گمراہ جماعت گویا دشمن ہو گئی ہے۔
مؤلف القاء اپنی ہستی کو خیال کریں اور ان ناشائستہ کلمات کو دیکھیں جو انہوں نے اپنے مہمل رسالے القائے شیطانی میں لکھے ہیں جو جہالتوں اور جھوٹی باتوں کا انبار ہے جس کے چند صفحات کا نمونہ میں نے دکھایا ہے۔ یہ تو فرمائیے کہ وہ اہل علم کون ہیں جنہیں واقعی اور سچی بات پر تعجب ہوتا ہے خدا کے لیے کسی کا نام تو لیجئے جھوٹی ترنگ نہ ہانکیے آپ کی جماعت میں کوئی اہل علم ہے؟ جسے تعجب ہے۔
خاتم النبیین کے معنی پہلے تو اجمالی طور سے بیان کئے گئے تھے اس کے بعد فیصلہ آسمانی کے حصہ ٣ میں اور رسالہ دعویٰ نبوت مرزا میں تو ایسے عمدہ مضامین لکھے ہیں کہ ہر ایک ذی علم اور ذی فہم دیکھ کر سبحان اللہ کہتا ہے عبدالماجد قادیانی تو کیا ان کے گرو مرزا قادیانی کا ذہن بھی ایسے مضامین حقہ سے خالی ہوگا۔ قرآن وحدیث کے الفاظ سے عرب کے محاورہ سے نہایت خوبی سے ثابت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد امتی۔ غیر امتی۔ تشریعی۔ غیر تشریعی۔ کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا اور امت محمدیہ کی فضیلت اس میں دکھائی ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے۔ نہایت ہی عمدہ تقریر ہے۔ اور مرزا قادیانی کے اقوال سے یہ دکھایا ہے کہ انہوں نے ہر قسم کا نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی ہیں، صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ و ٧ کو دیکھئے اور خوف خدا بھی دل میں رکھیئے۔ آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ قرآن مجید کی اصطلاح میں تین قسم کے حضرات کو
٢٩
رسول کہا ہے اس کا غلط ہونا اس مضمون کے پہلے حصہ میں ثابت کر چکا ہوں اور یہ جو آپ نے بزرگوں کے کلام سے رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کا ہونا ثابت کرنا چاہا ہے یہ آپ کی بے خبری ہے صوفیائے کرام کے کلام کا مطلب سمجھنا آپ حضرات کا کام نہیں ہے جنہوں نے برسوں بزرگوں کی خدمت کی ہے دنیا کے سب کام چھوڑ کر یاد الہی میں مشغول رہ کر ایک خاص حالت پیدا کی ہے وہی ان کی باتوں کا پورے طور سے مطلب سمجھ سکتا ہے اگر یہ بات اسے نصیب نہیں ہوئی تو ان بزرگوں کے رسائل دیکھنے کے بعد بھی ایران کی توران سمجھے گا اور بے تکی باتیں بولے گا جیسے آپ بول رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں اگر آپ کو خوف خدا اور حق طلبی ہے تو رسالہ ختم نبوت دیکھئے اس میں مختصر طور سے بزرگوں کے کلام کے معنی بیان کر دیئے ہیں اور کچھ میں نے بھی پہلے حصہ میں لکھا ہے۔ میں مختصر بات کہتا ہوں کہ کوئی بزرگ اس کا قائل نہیں ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ ملے گا۔ اور کوئی ایسا نبی ہوگا جس پر تمام مخلوق کو ایمان لانا فرض ہو اور ان پر ایمان لانا نجات کا مدار ہو ایسا کوئی نبی کسی صوفی کے نزدیک بھی اس تیرہ سو بتیس برس کے عرصہ میں نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی ایسے ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے (اربعین نمبر ٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ مع حاشیہ ٤٣٦) کو آنکھیں کھول کر دیکھا جائے جو بالیقین حضرت سرور انبیا علیہ الصلوۃ والسلام کے ختم رسالت کے منافی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے یہاں کئی غلطیاں کیں۔
پہلی غلطی: نبوت شرعی اور اصطلاحی میں آپ نے فرق نہیں کیا یعنی صوفیائے کرام کے اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ میں کسے کہتے ہیں۔ میں اس فرق کا حاصل بیان کرتا ہوں۔ صوفیاء کے اصطلاح میں ولایت کے ایک مرتبہ خاص کا نام ہے مگر اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا کسی پر ضروری نہیں اور نہ اس کے انکار سے کوئی کافر و جہنمی ہو سکتا ہے اسی وجہ سے کسی عالی مرتبہ صاحب ولایت نے اپنے منکر کو کافر نہیں کہا باوجودیکہ مخلوق نے ان میں سے بعض کو کافر کہا۔
دوسری غلطی: نبی حکمی اور نبی حقیقی میں فرق نہیں کیا۔ جو صلاح و تقویٰ کے ساتھ ہدایت خلق اور رفاہ خلق کرے اس نے وہ کام کیا جو نبی کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں حکمی نبی کہہ دیتے ہیں اس کو منصب نبوت سے کیا واسطہ؟ عبد الماجد قادیانی کو اتنا بھی نہیں معلوم اور ایک حقانی علامہ کا مقابلہ کرنے چلے ہیں۔
تیسری غلطی: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو چھوڑ کر علماء کے اقوال پیش کئے مگر اتنا نہیں معلوم
٣٠
کہ اس مقابلہ میں علماء کے اقوال لائق توجہ ہو سکتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام پر اپنی قابلیت اور وسعت نظر جتانا منظور ہے تا کہ عوام سمجھیں کہ عبدالماجد قادیانی نے اتنی کتابیں دیکھ لی ہیں اتنا انہیں علم کہاں کہ یہ کتاب کس کی تالیف ہے وہ کس پایہ کے عالم تھے۔
چوتھی غلطی : یہ نہیں سمجھے کہ کمالات نبوت پر پہنچنا اور بات ہے اور منصب نبوت پر فائز ہونا اور بات ہے کمالات نبوت میں ایک کمال یہ ہے کہ مثلاً مخلوق خدا پر شفقت اور ہدایت خلق کا شوق ہوتا۔ اب اس شفقت اور شوق کے مراتب ہیں جو ان دونوں صفتوں کے مرتبہ عالی کو پہنچا وہ بعض کمالات نبوت پر پہنچا اس پایہ کے علمائے امت ہوئے اور ورثۃ الانبیاء کہلائے۔ نبی نہیں کہلائے منصب نبوت اس سے بہت عالی ہے۔ مرزا قادیانی کو تو یہاں تک پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا۔ وہ ہمیشہ خلق کے لیے بددعا کرتے رہے اور ان کے لیے طاعون اور زلزلوں اور سخت آفتوں کو بلاتے رہے اور خلق کی مصیبتوں پر خوش ہوتے رہے اور علمائے امت کے ساتھ نہایت سختی اور بدزبانی سے پیش آتے رہے۔
شان شفقت اور شوق ہدایت اسے کہتے ہیں کہ منکرین رسول اللہ ﷺ آپؐ کے خون کے پیاسے تھے اور آپؐ کے شہید کر دینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ مگر اس خاص جنگ کی حالت میں اس رحمۃ للعالمینؐ کی شان رحمت نے یہ جلوہ دکھایا کہ کوئی سخت لفظ زبان مبارک پر نہیں آیا بلکہ یہی ارشاد ہوا کہ ”اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون“ (درمنثور ج ٢ ص ٢٩٨)
یعنی اے خدا میری قوم کو تو ہدایت کر یہ واقف نہیں ہیں نادان ہیں۔ شوق ہدایت اور شفقت خلق کی یہ شان ہے۔ پھر ایسے شفیق امت اور رحمت خلق کے ظل ہونے کا دعویٰ اور یہ سختیاں پھر یہ دعویٰ جھوٹا نہیں تو اور کیا ہے؟
پانچویں غلطی : مؤلف القاء اپنے مرزا کا وہ قول یاد کریں جو میں نے اس تحریر کے پہلے حصہ میں ان کے دعویٰ کی غلطی میں پیش کیا ہے وہ قول تو ان بزرگوں کے قول کو غلط بتا رہا ہے۔ وہ تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں میرے سوا کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملا اور قادیانی مربی کے خیال کے بموجب مذکورہ عبارتیں یہ بتاتی ہیں کہ اور بھی انبیاء ہوئے اس لیے قادیانی مربی کو چاہیے کہ پہلے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو غلط مان لیں اس کے بعد صوفیائے کرام کی وہ عبارتیں پیش کریں ورنہ ان کا پیش کرنا محض بیکار ہے۔ میں ایک اور سچی بات کہنا چاہتا
٣١
ہوں۔ قادیانی مربی معاف فرمائیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ بزرگوں کے اقوال کو سند میں پیش کریں۔ کیونکہ ان حضرات کی اصطلاحات اور اقوال سمجھنے کے لیے وسعت نظر کے علاوہ نہایت قابلیت اور روحانیت کی ضرورت ہے۔ جس سے قادیانی جماعت محروم ہے کیونکہ روحانیت بغیر تقویٰ اور یاد خدا کے اور کسی بزرگ کی صحبت کے نہیں ہوسکتی اور اظہر من الشمس ہو رہا ہے کہ قادیانی جماعت اس سے کوسوں دور ہے۔ انہیں تو سوائے وظیفہ مرزا کے اور کچھ نہیں ہے جس طرح پادری کفارہ پر ایمان لانا نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اسی طرح قادیانی جماعت مرزا قادیانی پر ایمان لانے کو کافی خیال کرتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صوفیائے کرام جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم المرسلین اور آخر النبیین سمجھتے ہیں اور صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی تشریعی غیر تشریعی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ قادیانی مربی و دیگر قادیانی حضرات صرف اسی بات پر غور کر لیں کہ مذکورہ بالا عبارتوں سے جن بزرگوں کی نبوت کو قادیانی مربی سمجھتے ہیں (جیسے حضرت مجدد صاحب وغیرہ) ان میں سے کسی کے نبی ہونے کا کوئی فرقہ اہل اسلام کا قائل نہیں ہے اور نہ ان کے منکر کو کافر جہنمی یہودی کا خطاب دیتے ہیں بخلاف مرزا قادیانی کے کہ وہ اپنے منکر کو جہنمی یہودی قابل مؤاخذہ سب کچھ خطابات دیتے ہیں۔
(دیکھو حقیقۃ الوحی وغیرہ) میں مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں۔
معزز ناظرین! ہماری اس قدر تحریر نے ضرور ثابت کر دیا کہ قادیانی مربی نے قرآن مجید و قول بزرگان کی جو آڑ پکڑی تھی وہ محض دھوکہ تھا قادیانی مربی کی نظر نہ قرآن مجید پر ہے اور نہ بزرگوں کے کلام کو وہ سمجھ سکتے ہیں میں نے دلائل سے پہلے حصہ میں اور اس حصہ میں دکھا دیا کہ قرآن مجید میں نبوت کی تین قسمیں ہرگز نہیں ہیں اس کو قادیانی مربی کبھی نہیں ثابت کر سکتے ہیں اور نہ اس کو ثابت کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں نائب رسول کو رسول کہا ہے اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی فقط نائب رسول ہونے کی وجہ سے اپنے کو رسول نہیں کہتے ہیں بلکہ ان کا دعویٰ نبوت مستقلہ کا ہے جو آیت ختم رسالت کے صریح خلاف ہے قادیانی مربی باتیں بنا کر اس کو چھپانا چاہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اگر چہ اپنے آپ کو خادم آنحضرتؐ اور آپؐ ہی کی نبوت کا فیض یافتہ لکھا ہے۔ لیکن اگر ان کے تمام اقوال پر نظر کی جائے تو ان کی تصنیفیں بآواز دہل پکار رہی ہیں کہ
٣٢
صرف یہی نہیں کہ مرزا قادیانی مستقلہ نبوت کے دعویدار ہیں بلکہ ہر قسم کے کمال نبوت کے مرجع ہیں افضل الانبیاء ہیں تمام کمالات نبوت انہیں کی وجہ سے انبیاء کو پہنچے ہیں۔ (معاذ اللہ)
رسالہ دعویٰ نبوت مرزا ملاحظہ کیا جائے۔ باایں ہمہ کہیں پر اپنے کو ظلی و بروزی نبی کہتے ہیں۔ یہ متعارض اقوال ان کی طرف سے بدگمان کرتے ہیں اور اس بھاری اختلاف کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آسکتی بجز اس کے کہ مسلمانوں کے متوجہ کرنے کو خادم اور فیض یافتہ ہونے کا دعویٰ ہے اور ان کا ظل اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ لیکن جب موقعہ ہاتھ آتا ہے تو اپنا مقصود اصلی بھی صاف صاف آواز کے ساتھ ظاہر کر دیتے ہیں دیکھیئے آپ حضرات تو جانتے ہی ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے کو ظلی نبی۔ متبع نبی، غیر صاحب شریعت نبی کہا کرتے ہیں اور عبد الماجد قادیانی نے بھی ابھی اسی کا اقرار کیا ہے لیکن خود مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں لکھتے ہیں۔
”اور اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو دعویٰ بلا دلیل ہے خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی اس کے ماسوا یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں۔ اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ’قل للمؤمنین یغضون من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلک ازکی لهم“
یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اس پر تیس برس کی مدت بھی گذر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی“۔ یہ تو متن ہے۔
اب اس کا حاشیہ ملاحظہ ہو۔
”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی اس لیے خدا نے میری وحی، تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے جیسا کہ ایک الہام کی یہ عبارت ہے۔ ’واصنع الفلک باعیننا ووحينا ان الذين يبايعونک انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم‘ یعنی اس تعلیم وتجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا جس کی
٣٤
آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔"
(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
اب یہاں عبد الماجد قادیانی کیا تاویل کریں گے؟ مرزا قادیانی کی اس تحریر نے تو قادیانی مربی کا صاحب شریعت وغیرہ کی قسمیں نکالنے کی مٹی پلید کر دی جب خود بدولت ہی اپنی شریعت منوا رہے ہیں تو حاشیہ نشین کا راز پنہاں بتانا فریب نہیں تو اور کیا ہے؟ کسی نائب رسول اور ظلی نبی نے کہا ہے کہ میری بیعت کو خدا نے مدار نجات ٹھہرایا ہے؟ یعنی جس نے مجھ سے بیعت نہ کی اس نے نجات نہیں پائی وہ کافر جہنمی ہے۔ اس قول کے بعد بھی قادیانی مربی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے؟ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں سمجھتے ذرا خوف خدا دل میں کر کے اس کا جواب دیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اس قدر بیان سے قادیانی مربی کا نبوت کی تین قسمیں نکال کر مرزا قادیانی کو نائب رسول کے زمرہ میں شامل کر کے نبی کا خطاب دینا باطل ہو گیا اور مرزا قادیانی کا نبی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ آفتاب کی طرح ظاہر ہو گیا۔ اور یہی میرا مقصود تھا جو حاصل ہو گیا لیکن تا بخانہ باید رسانید کے مصداق سے میں صرف یہی نہیں دکھلاؤں گا کہ مرزا قادیانی مستقلہ نبوت کے دعویدار ہیں بلکہ ان کی تصنیفیں اس سے بھی بھری پڑی ہیں کہ وہ اپنے کو تمام انبیاء سے افضل اور حضور انورؐ سے برتر سمجھتے ہیں۔ وھو ھذا۔
انبیاء پر فضیلت
”صرف میں یہ ہی جواب نہیں دوں گا کہ معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا کے فضل سے اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ ١٥٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بہت کم ایسے نبی ہیں جن
سے مرزا قادیانی کے معجزات زیادہ نہ ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ معجزہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے سچے نبی کی صداقت کے اظہار میں، اور جس قدر اس نبی کا مرتبہ زیادہ ہے اسی قدر اس کی صداقت کے اظہار میں معجزات کا ظہور زیادہ ہوگا۔ غرض کہ اس قول کا حاصل یہ ہوا کہ میں اکثر انبیاء سے افضل ہوں۔ قادیانی مربی یہ تو میں نے پوشیدہ راز آپ کے روبرو پیش کیا مگر مرزا قادیانی نے تو صاف طور سے ایک نبی اولوالعزم حضرت عیسیٰؑ پر اپنی فضیلت کا دعویٰ کیا اور جوش میں آ کے اس کی تصدیق خدا اور رسول اور تمام انبیاء کے ذمہ لگا دی اب ان کے مستقل نبی ہونے میں قادیانی مربی کو کیا عذر ہو سکتا ہے؟ کوئی نائب رسول کسی ادنیٰ نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ اس کے ایک اولوالعزم رسول سے افضل ہو جائے اب تو مرزا قادیانی کی نبوت مستقلہ اور بعض انبیاء بلکہ اکثر انبیاء سے ان کا افضل ہونا ان کے کلام سے ایسا ظاہر ہو گیا کہ قادیانی مربی کو کہنا چاہیے کہ اگر کسے شک آرد کافر گردد مگر قادیانی مربی کا صاف طور سے یہ نہ کہنا اور نائب رسول کی رٹ لگانا صرف عوام کو دھوکا دینے کی غرض سے ہے۔ قادیانی مربی دیانتاً فرمائیں کہ کیا کوئی نائب رسول انبیاء سے افضل ہو سکتا ہے؟ قادیانی مربی یہ فرمائیں کہ آخر زمانے کے مسیح کو خدا اور رسول نے اور تمام انبیاء نے افضل کہاں فرمایا ہے کیا روئے زمین پر کوئی کتاب ہے جس میں خدا اور رسول کا یہ قول لکھا ہے؟ قرآن وحدیث میں تو یہ مقولہ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کی غلامی کا بظاہر دم بھرتے ہیں اگر انکے مریدوں کی عقل صحیح وسالم ہے تو وہ دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے حضور پرنور سے بھی مساوات کا دعویٰ کیا ہے اور خوب زوروں سے کیا ہے لیکن ان کے دام افتادوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی گئی ہے جو اس قسم کی باتوں پر ان کی نظر نہیں پڑتی۔ قادیانی مربی نے قصداً اگر دھوکا نہیں دیا ہے تو مرزا قادیانی کی محبت میں ایسے کوتاہ نظر ہو گئے ہیں کہ اس قسم کی باتیں ان کی آنکھوں سے نہیں معلوم ہوتی ہیں لیجئے میں بتاتا ہوں آنحضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی خاص فضیلت ہے کہ آپؐ رحمۃ للعالمین ہو کر تشریف لائے ہیں یہ کسی نبی کو نہیں فرمایا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو بھی بعینہ بلفظہ یہی الہام ہوا کہ ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“
(تذکرہ ص ٨١ طبع سوم)
نمبر ٢۔ مقام محمود صرف آنحضورؐ کے لیے خاص ہے لیکن مرزا قادیانی کو بھی الہام ہوا۔ ”اراد الله ان یبعثک مقاماً محموداً“
(تذکرہ ص ٦٠٩ طبع سوم)
اور حضرت حضورؐ ختمی مآب کی فضیلت میں نازل ہوا۔ ”هو الذی ارسل رسولہ
٣٥
بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اللہ کی وہ ذات ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ تمام دینوں پر اسے غالب کرے۔ جب کہ اس آیت کا نزول مرزا قادیانی اپنے لیے بیان کرتے ہیں (تذکرہ ص ٤٥ طبع سوم) تو اب اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ انہیں صاحب شریعت بننے کا دعویٰ ہے ۔؟
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ خاص میری شان میں ہے ان کے اس الہام سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ صاحب شریعت ہونے کے مدعی تھے جیسے آنحضورؐ صاحب شریعت تھے۔ معزز ناظرین آپ نے دیکھ لیا کہ ایک غلام نے اپنے آقاؐ سے مساوات کا کس الفاظ میں ادعاء کیا ہے؟ لیکن غلامان با وفا کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت تعجب و تکلیف میں ڈالنے والی یہ بات ہے کہ اس غلام نے آقا کی صرف مساوات ہی کا دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ جا بجا افضلیت کا دعویٰ کر کے بھی اپنی تہذیب و وفاداری کا ثبوت دیا ہے؟
افضلیت آنحضرت ﷺ
- ١......... قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضور سرور
کونینؐ کو خدائی صفت یا اس کا ایک حصہ بھی ملا ہو۔ بلکہ قرآن مجید میں صاف صاف ارشاد ہے کہ ”اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ“ (القصص ٥٦) ”ہر اس شخص کو جس سے تم کو محبت ہو تم ہدایت نہیں دے سکتے ہو۔“
پھر دوسری جگہ ہے کہ مشرکین کے لیے تم اگر ستر مرتبہ بھی استغفار کرو تو خدا نہیں بخشے گا۔ اللہ اللہ حضورؐ تو اپنی تمام خواہشوں میں روکے جاتے ہیں لیکن ایک غلام دعویٰ کرے کہ
- ١......... انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون . (تذکرہ ص ٥١٧) جس
کے معنی یہ ہوئے بس تیرا (مرزا) مرتبہ یہ ہے کہ جب تو ارادہ کرے کسی چیز کا اور فرمادے کہ ہو جا پس ہو جائیں گے۔ یہ خاص خداوندی صفت ہے جو رسول اللہ کو نہ ملے اور مرزا قادیانی پیٹ بھر حصہ پائیں۔ اس کے جواب میں مرزائیوں نے لکھا ہے کہ حضرت غوث پاک کو بھی یہ الہام ہوا تھا اور فتوح الغیب کا حوالہ بھی دے دیا ہے افسوس ہے کہ جو پہلے نیک تھے مگر مرزا قادیانی نے انہیں بھی ایسا کر دیا کہ صاف طور سے جھوٹ بولنے لگے اور پھر یہ بھی شرم نہیں کہ یہ ایسا جھوٹ ہے کہ
٣٦
پوشیدہ نہیں رہ سکتا یعنی یہ کہنا کہ یہ الہام حضرت شیخ عبدالقادرؒ پر ہوا تھا محض غلط ہے فتوح الغیب موجود ہے اس میں ہرگز یہ نہیں ہے جس کو دعویٰ ہو وہ دکھائے کہاں ہے؟
٢........... رسول اللہ ﷺ کو تو ”لولاک لما خلقت الافلاک“ نہیں ارشاد ہوا لیکن مرزا قادیانی اپنے خودساختہ قرآن میں اپنے بارہ میں فرمارہے ہیں جس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
٣........... رسول اکرم کو خداوند تعالیٰ نے سوائے رسول وغیرہ الفاظ کے بیٹا نہیں کہا لیکن مرزا قادیانی کو ”انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی انت منی بمنزلۃ ولدی“ کا الہام ہوا۔
(تذکرہ ص ٥٢٦ طبع سوم)
جس کے معنی یہ ہوئے کہ ”اے مرزا تو ہمارے نزدیک بمنزلہ ہماری توحید کے ہے اور تو بجائے بیٹا کے ہے۔“ اب مرزا قادیانی کو یہ مرتبہ ہو گیا کہ خدا کا بیٹا کہے جانے لگے۔ اور جن کی غلامی کا ہمیشہ بظاہر دم بھرتے ہیں یعنی آقائے دو جہان آنحضرت ﷺ ہمیشہ اپنے کو خدا کا غلام ہی ظاہر کرتے رہے ایک مرتبہ بھی بیٹا کے لفظ سے نہ پکارے گئے۔ مرزا قادیانی جابجا اپنے کو حضورؐ کا غلام کہہ دیا کرتے ہیں اور قادیانی مست ہیں کہ دیکھو وہ تو غلام کہتے ہیں دعویٰ ہمسری نہیں کرتے ہیں لیکن یہ چال نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ مرزا قادیانی باوفا غلام اسی وقت تصور کیے جاسکتے جب آقاؐ کے اعزازی و تمیزی خطابات میں اپنے کو برابر کا شریک نہ ثابت کرتے اور ان سے فوقیت کا خیال نہ کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے خطابات و دعویٰ نبوت و رسالت کا انہیں زور دار الفاظ میں اظہار کیا ہے جو آنحضرتؐ کو دربار احدیت سے پروانہ تقرری میں ملے ہیں یعنی ”هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ“ اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی بادشاہ اپنے دو معتمدوں کو ایک ہی قسم کے الفاظ میں پروانہ تقرری دے کر اپنے ممالک محروسہ کا یکے بادیگرے والی بنا کر بھیجے تو ان دونوں کا مرتبہ ایک ہی خیال کیا جائے گا ایک دوسرے کا نائب و غلام نہیں ہو سکتا جیسے ہندوستان کے جتنے گورنر جنرل آئے یا آتے رہیں گے سب کا مرتبہ بہ اعتبار عہدے کے ایک ہی ہے ان میں سے اگر کوئی اپنے کو پیشرو کا غلام کہے تو کسی پالیسی یا انکسار پر محمول ہوگا۔ اسی طور سے مرزا قادیانی کا باوجود حضورؐ کے پروانہ تقرری میں برابر کا شریک ہونے کے امتی امتی کی رٹ لگانا کسی مذموم پالیسی پر محمول ہوگا۔ جو ان کو ایک مرد باخدا بھی ثابت نہیں ہونے دیتی ہے‘ نبوت تو ایک بڑی چیز ہے۔
٣٧
ناظرین! قادیانی مربی کی تمام دلیلوں کی بفضلہٖ قلعی کھل گئی اور ان کا بطلان اظہر من الشمس ہو گیا۔ البتہ ایک بات رہ گئی جس کے متعلق میں نے ابھی تک کچھ نہیں لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ قادیانی مربی نے تحریر فرمایا ہے کہ رسول اللہ نے بھی مسلم شریف کی حدیث میں مسیح موعود کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے ملخصاً۔ اب قطع نظر اس کے کہ انہیں یہ دعویٰ کرنا اس وقت زیبا ہو سکتا تھا کہ پہلے کسی ایسی دلیل سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود ثابت کرتے کہ مخالفین بھی مان لیتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں مگر اس سے ہم قطع نظر کر کے اسی حدیث سے ان کے دعویٰ کی غلطی ثابت کرتے ہیں۔
اب حضرات اس دلیل کا بھی رنگ ملاحظہ کرلیں۔ یہ بحول اللہ آپ کو دکھلاتا ہوں کہ قادیانی مربی نے بھی سخت دھوکا دیا ہے۔
- ١۔......... میں قادیانی مربی سے دریافت کرتا ہوں کہ کیوں مربی صاحب آنحضرتؐ نے حضرت
عیسیٰ کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے وہ حقیقی نبی کا یا مجازی کا؟ اگر حقیقی نبوت مراد ہے تو ہیر پھیر کر وہی بات آگئی کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور امتی امتی کی رٹ دھوکہ کی چال ہے دوسرے خود مرزا قادیانی نے جہاں پر حضرت عیسیٰ ناصری علیہ السلام کے دوبارہ دنیا پر تشریف لانے کو رد کیا ہے بڑے زوروں میں حقیقی نبوت کو بعد خاتم النبیین کے ناجائز قرار دیا ہے بلکہ کتاب البریہ (ص ١٩٩۔٢٠٠ خزائن ج ١٣ ص ٢١٧۔٢١٨) میں مرزا قادیانی آیت خاتم النبیین کے معنی اس قدر سخت مانتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے قبل کے انبیا علیہم السلام کا بھی بعد آپؐ کے دوبارہ آنا سخت ناجائز ہے بلکہ مرزا قادیانی کی عبارت محولہ بالا نے آسانی سے اس کا بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ بعد حضورؐ کے امتی وظلی نبی کا آنا بھی ویسا ہی حرام ہے جیسا کہ صاحب شریعت نبی کا، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ وعلیٰ نبینا السلام کو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت امتی نبی ہی کہتے ہیں اور باوجود امتی نبی کے ان کا آنا آیت خاتم النبیین کے خلاف وسخت خلاف کہتے ہیں تو اب دوسرے امتی نبی کا آنا کیونکر جائز ہو گیا؟ یہ مرزا قادیانی کی عین ہوشیاری ہے کہ ایک جگہ یعنی حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کو اس وجہ سے ناجائز قرار دیا کہ بعد آنحضرتؐ کے نبی اللہ کا آنا آیت قرآنی کے خلاف ہے اور جہاں پر اپنی نبوت دکھلائی ہے وہاں پر یہ کہہ دیا کہ بعد آپؐ کے نبی اللہ کے آنے میں کوئی معذور شرعی نہیں ہے (یہ لفظ اس مقام پر غلط ہے مگر عبد الماجد قادیانی کے باوجود دعویٰ قابلیت کے اپنے رسالہ میں اسی طرح لکھا ہے اس لیے میں نے ان کی قابلیت کے اظہار کے لیے اسی طرح
٣٨
رہنے دیا تا کہ اہل علم دیکھیں کہ اس قابلیت پر فیصلہ آسمانی کا جواب دینے بیٹھے ہیں کسی نے خوب کہا ہے بایں خواری امید ملک داری ۔) اور نہ کسی آیت کے خلاف ہے۔ یہ تو مرزا قادیانی کا فعل ہے اس کے جواب دہ قادیانی مولوی نہیں ہو سکتے ہیں لیکن ان کی چالاکی یہاں پر یہ ہوئی ہے کہ دلیل پیش کی حقیقی نبوت کی اور تمغہ دیا مستقلہ رسالت کا لیکن جب آیت ختم رسالت کا تذکرہ کیا گیا تو فوراً فرمانے لگے کہ نائب رسول ہونے کے سبب سے مرزا قادیانی کو رسول کہتے ہیں اور اس کو ایک قلم بھلا دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت سے کہیں بڑھ چڑھ کر دعویٰ کیا ہے اور اپنے کو صاحب شریعت انبیاء سے بھی بلند تر کہا ہے۔
کیا اب بھی کسی قادیانی کا منہ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے؟ اور ان کی نبوت مجازی ہے کیا مجازی نبوت کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ وہ تمام حقیقی انبیاء سے بھی بالاتر ہو۔ غرض کہ اس حدیث میں اگر نبی اللہ کا خطاب مرزا قادیانی کو مل رہا ہے تو دونوں صورت میں مرزا قادیانی ملزم ہوتے ہیں اگر حقیقی نبوت مراد ہے تو خود بدولت ہی اس کو بعد آنحضرتؐ کے ہونے کو روک چکے ہیں اور مجازی نبوت لیں گے تو وہی اعتراض ہو گا کہ اس سے بڑھ چڑھ کر دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔
- ٢............ اوپر کی چالاکی تو خیر ایک معمولی چالاکی تھی ہاں اصل یہ دوسری چالاکی ہے۔ جس کو ہم
فریب و سخت فریب کہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔
قادیانی مربی نے جب مسلم کی حدیث سے استدلال کیا ہے تو ان کو چاہیے تھا کہ حدیث معہ ترجمہ نقل کر دیتے تا کہ ہر شخص کو غور کرنے کا موقعہ ملتا لیکن افسوس قادیانی مربی نے ایسا نہیں کیا بلکہ صرف اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس کا راز یہ ہے کہ حدیث شریف اوّل سے آخر تک مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت ”مہدویت“ مسیحیت کی سخت مخالف ہے اور صرف لفظ نبی اللہ کا ان کے حسب خواہ ہے اب حدیث نقل کرنے میں تو یہ خوف ہوا کہ چلے ہیں مرزا قادیانی کی رسالت ثابت کرنے کہیں ان کی مہدویت و رسالت ہی کے نہ لالے پڑ جائیں اور واقعہ بھی یہی ہے لیکن صرف اشارہ کرنے میں پوری حدیث پر پردہ پڑا رہا اور لوگ سمجھے کہ ماشاء اللہ مرزا قادیانی کی نبوت کا استدلال حدیث شریف سے کیا گیا ہے بس پھر کیا چپڑی اور دو دو۔
افسوس ہے قادیانی مربی یہ عذر بھی نہیں پیش کر سکتے ہیں کہ طوالت کے خوف سے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس سے بڑی بڑی عبارت اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس کے علاوہ زیادہ نہیں تو
٣٩
صرف ترجمہ ہی نقل کر دیتے۔
٣............قادیانی مربی نے حدیث کو نقل نہ کرنے کے علاوہ ایک چالاکی یہ بھی کی ہے کہ اس کا پتہ مطلق نہیں دیا ہے کہ کس جلد اور کس صفحہ میں ہے۔ سمجھتے ہیں کہ کس کو غرض پڑی ہے جو اتنی بڑی کتاب کی دو جلدوں میں تلاش کرنے کی تکلیف اٹھائے گا۔ اور ہمارے استدلال کے جانچنے کی فکر کرے گا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ تاڑنے والے غضب کے ہوتے ہیں وہ گہری پردہ داری تک کو جان جائیں گے۔ بفضلہ تعالیٰ میں نے حدیث کو تلاش ہی کر لیا ہے اور بآواز بلند کہتا ہوں کہ
ہمارا اور قادیانی مربی عبد الماجد کا فیصلہ
صرف اسی حدیث پر ہو جائے۔ جتنی باتوں کو یہ حدیث بتاتی ہے ہم اور قادیانی مربی بلاچون و چرا تسلیم کرلیں۔ اب زیادہ قصہ و قضایا کی ضرورت نہیں ہے اور نہ زیادہ کاغذ سیاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک روز ہم اور وہ مع دس بیس آدمیوں کے مونگیر میں یا بھاگلپور میں بیٹھ جائیں اور سامنے حدیث رکھ دی جائے اور میں یا خود قادیانی مربی ترجمہ کر کے سنائیں میرا ان کا فیصلہ ہے۔ ترجمہ لغت اور محاورہ عرب کے مطابق ہوگا اور مطلب وہی جو حدیث کے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو قادیانی مربی سرسری نہ خیال فرمائیں بلکہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مربی قادیانی عبدالماجد کو چیلنج ہے۔
قادیانی مربی نے ثنائی چکر وغیرہ میں علماء اسلام کو جو غیرت و حیا وغیرہ کے الفاظ لکھے تھے یا لکھوائے تھے انہیں سامنے رکھ کر ہمت کریں۔ اب میں قادیانی عبدالماجد کی غیرت کو جنبش دیتا ہوں اگر وہ مرزا قادیانی کو واقعی نبی اللہ مانتے ہیں تو ضرور سامنے آ کر اس حدیث سے ثابت کر کے فیصلہ کر لیں۔
عبد الماجد قادیانی سے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر وہ ڈر کر سامنے نہ آنا چاہیں اور علمی تکبر کا حیلہ کرلیں تو ہمارے دوست فضیلت مآب قادیانی حکیم خلیل احمد ہی کو ہمارے سامنے کر دیں ہم دونوں سے فیصلہ کرنے کو تیار ہیں لیکن غیرت کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ خود عبد الماجد قادیانی سامنے آ جائیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قادیانی حکیم کو اس قدر قابلیت نہیں ہے کہ حدیث میں گفتگو کر سکیں۔
میں عبدالماجد قادیانی کی خاطر اتنی آسانی اور دیتا ہوں کہ اگر حدیث شریف کو اپنے
٤٠
خلاف سمجھ کر فیصلہ کے لیے نہ آنا چاہیں اور کوئی بہانہ کرنا چاہیں تو مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی سے بھی قادیانی مربی اپنے موافق دلیل لائے ہیں بس مکتوبات حضرت مجدد ہی پر فیصلہ ہو جائے۔
معزز ناظرین! اس قدر خطاب تو میاں عبدالماجد قادیانی سے تھا اب میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ عبدالماجد قادیانی کا یا حکیم خلیل احمد قادیانی کا صحیح مسلم کی حدیث سے فیصلہ کرنے کے لیے آنا نامعلوم۔ ان کا اگر حدیث کے مطابق ایمان ہوتا تو جیسے دوسری کتابوں سے لمبی لمبی عبارتیں نقل کی ہیں ضرور اس کو بھی نقل کرتے یا کم سے کم نشان و حوالہ ہی بتاتے پورے طور سے۔ غرض کہ حدیث شریف کا مضمون وترجمہ آپ کے کانوں تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ اس واسطے میں آپ کے دیکھنے کے خیال سے اور ان بھولے بھالے قادیانیوں کی خیر خواہی کے واسطے جو قادیانی عبدالماجد کو علم کا آفتاب خیال کر کے ان کی پیروی میں دل و جان سے لگے ہوئے ہیں۔ نیز قادیانی عبدالماجد کے واسطے اگر آخرت کا خیال فرمائیں اس حدیث شریف سے جتنی باتیں نکلتی ہیں نقل کرتا ہوں جس میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر فیصلہ کر لے حدیث شریف یا اس کے لفظی ترجمہ کو اس وقت میں اس وجہ سے نہیں نقل کرتا ہوں کہ قادیانی عبدالماجد کی ہمت ومردانگی کو آزماؤں اگر انہوں نے مردانگی کے ساتھ اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور ان کو اس حدیث سے کچھ خوف نہیں ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس قدر غیرت دلانے والے الفاظ کو دیکھ کر ضرور اپنے کسی آئندہ رسالہ میں حدیث شریف مع ترجمہ کے نقل کر کے داد مردانگی لیں گے۔ اس وقت میں قادیانی حضرات ودیگر ناظرین کے لیے صرف اس حدیث شریف کے مضامین کو نمبر وار بیان کرتا ہوں اور اس کے مقابل میں نفس مضمون حدیث کے متعلق مرزا قادیانی وعبدالماجد قادیانی کا خیال اعتقاد لکھتا ہوں۔
آپ حضرات خود دیکھ لیں کہ قادیانی مربی اس حدیث کے مضامین کو کہاں تک اور کس حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں اور کس منہ سے اس حدیث کو مرزا قادیانی کی نبوت کی دلیل میں لائے ہیں۔
نمبر شمار مضمون حدیث مرزا قادیانی کا خیال ١۔ دجال ایک شخص واحد ہوگا دجال پادریوں کی ایک جماعت ہے ٢۔ دجال جوان ہوگا دجال زیادہ تر بوڑھے ہوں گے ( کیونکہ پادری کا خطاب زیادہ تر بڑھاپے میں ملتا ہے )
٤١
- ٣۔ اس کے بال بہت گھنگروالے ہوں گے۔ مطلق گھونگروالے نہیں ہوں گے
(پادریوں کو ملاحظہ کر لیں ۔)
- ٤۔ اس کی ایک آنکھ مثل انگور کے ابھری ہو گی ایسا نہیں ہوگا (پادریوں کو ملاحظہ کر لیجئے )
- ٥۔ وہ شام و عراق کے درمیان سے نکلے گا۔ وہ یورپ سے نکلیں گے (کیونکہ پادری
زیادہ وہیں سے آتے ہیں)
- ٦۔ وہ بہت فساد برپا کرے گا۔ وہ بہت امن کے ساتھ سلطنت کریں گے
(کیونکہ انگریز بہت امن پسند ہوتے ہیں) خود مرزا قادیانی نے بھی انگریزوں کی سلطنت کی بڑی تعریف کی ہے۔
- ٧۔ وہ زمین پر چالیس دن رہے گا۔ وہ زمین پر سینکڑوں برس رہیں گے۔
- ٨۔ دجال کے وقت ایک دن ایک سال کے یہ کیونکر ممکن ہے نظام قانون کے خلاف
برابر ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر ہے۔ اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی ایام مثل معمولی دنوں کے ہوں گے۔
- ٩۔ وہ زمین پر بادل کی طرح تیز چلے گا۔ ان کی چال معمولی ہوگی (اور ریل گاڑی
کے ذریعہ سے تیز چلیں گے تو دجال۔ عیسیٰ۔ کافر ۔ مسلمان ۔ سب کے سب چلتے ہیں دجال کی خصوصیت نہیں ہے )۔
- ١٠۔ وہ ایک جوان شخص کو تلوار سے دو ٹکڑے کر یہ غلط ہے ہرگز کسی کا زندہ ہونا قانون
کے دوبارہ زندہ کرے گا۔ قدرت کے خلاف ہے۔ (دہریہ بھی ایسا ہی کہتے ہیں ۔)
- ١١۔ ایسے ہی زمانہ میں حضرت عیسیٰ نازل ہوں نزول عیسیٰ کے وقت میں ایسی ایسی دور از
گے۔ عقل باتیں نہ ہوگی ۔
٤٢
- ١٢۔
حضرت عیسیٰ دمشق کے منارہ شرقی سے نزول فرمائیں گے۔
قادیان میں نازل ہوں گے۔ اور منارہ ادھورا بنوا کر چھوڑ جائیں گے۔
- ١٣۔
دو زرد چادر اوڑھے ہوں گے۔
جسم کا اعلیٰ و اسفل حصہ بیماری کی وجہ سے زرد ہوگا۔ زرد چادر نہیں ہوگی۔
- ١٤۔
دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔
دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھنا کافی ہے۔
- ١٥۔
سر سے صاف قطرے پانی کے ٹپکیں گے۔
اس کی ضرورت نہیں۔
- ١٦۔
ان کی سانس سے کافر مریں گے۔
نہیں بددعا سے۔
- ١٧۔
ان کی سانس ان کے منتہائے نظر تک جائے گی۔
قانون قدرت کے خلاف ہے۔
- ١٨۔
حضرت عیسیٰ دجال کو تلاش کرتے ہوئے باب لد پر پکڑیں گے اور وہیں قتل کر ڈالیں گے (باب لد بیت المقدس کے قریب شہر ہے)
قتل کا مضمون غلط ہے بلکہ دجال کے سامنے حضرت عیسیٰ ہی تشریف لے جائیں گے ہاں لدھیانہ میں مناظرہ ہوگا۔ اور متعدد مناظروں سے مرزا قادیانی فرار کریں گے۔
- ١٩۔
اللہ پاک حضرت عیسیٰ کے پاس وحی بھیجے گا کہ ہم نے تمہارے واسطے ایک ایسی جماعت تیار کر رکھی ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت فنا نہیں کر سکتی۔
مرزائی جماعت کو تو ہندوستان کا ایک رئیس چاہے تو تباہ کر دے چنانچہ امیر کابل نے ایک مرزائی کو تربیت کی غرض سے ذلت سے مارا اور کسی مرزائی سے کچھ نہ ہو سکا۔
- ٢٠۔
حضرت عیسیٰ کے وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے اور بحیرہ طبریہ کا پانی ان کا ایک گروہ پی جائے گا۔
یاجوج ماجوج بھی یورپ کے معمولی انسان ہوں گے۔
٤٣
- ٢١۔ حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی محصور ہو جائیں گے۔
مرزا قادیانی کبھی محصور نہیں ہوئے
- ٢٢۔ اس وقت میں گائے کا سر اشرفیوں سے زیادہ پیارا ہوگا۔
براہین احمدیہ کی قیمت ہی پیاری ہو گی۔
- ٢٣۔ یاجوج ماجوج پر خدا کیڑا برسائے گا اور ایک ہی رات میں سب کے سب مر جائیں گے۔
یاجوج ماجوج پر کم اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں پر اور ہندوؤں اور منکر مکذب مسلمانوں پر (طاعونی) کیڑے زیادہ گریں گے اور ایک رات میں مرنے کی ضرورت نہیں۔
- ٢٤۔ ایک بالشت زمین بھی لاشوں کی بدبو سے خالی نہ ہوگی۔
یہ کہاں؟ مبالغہ بلکہ غلط ہے۔
- ٢٥۔ اس کے بعد ایک ایسی عام بارش ہوگی کہ زمین کو دھو کر صاف کر ڈالے گی۔
ایسا نہیں ہوگا۔
- ٢٦۔ حضرت عیسیٰ کے وقت ہر چیز بڑھ جائے گی۔ ایک انار کے چھلکے سے چھتری تیار ہو سکے گی اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کو کافی ہوگا۔
گرانی زیادہ ہو جائے گی لوگ دانوں کو ترسیں گے دودھ گراں ہو جائے گا۔
- ٢٧۔ اس کے بعد ایک ایسی خوشبودار ہوا چلے گی کہ سب مسلمان ایک ہی مرتبہ مر جائیں گے۔
سب غلط ہے (یہ ستائیس غلط خیالات مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے ہیں جن کو عبد الماجد قادیانی بھی مان رہے ہیں اور پھر جہل مرکب یہ ہے کہ اس حدیث سے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنا چاہتے ہیں جو ٢٧ باتوں میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کو غلط بتا رہی ہے)
٤٤
- ٢٨۔ حضرت عیسیٰ نبی اللہ ہوں گے۔ (مگر وہ ہاں ہاں ضرور ہوں گے (مگر یہ بھی ضرور
عیسیٰ جن کے نزول کی ٢٧ علامتیں اسی کہنا ہوگا کہ مرزا قادیانی وہ نہیں ہیں) حدیث میں بیان کی گئیں)
حدیث میں یہ ستائیس علامتیں مسیح موعود کی بیان ہوئیں۔ اٹھائیسویں بات یہ ہے کہ وہ عیسیٰ جو نزول کریں گے وہ نبی ہوں گے۔ افسوس ان کی عقل پر ہے کہ اس سے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں یہ کیسی عظیم الشان غلطی ہے کہ جس حدیث کی ٢٧ باتیں صاف صاف بتا رہی ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہیں۔ اس حدیث سے مرزا قادیانی کا نبی اللہ ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ الحاصل اس حدیث کے بیان سے ٢٨ غلطیاں قادیانی عبدالماجد کی معلوم ہوئیں۔
اس موقع پر قادیانی مربی کی ایک ہوشیاری مجھ کو یاد آئی کہ شروع باب میں تو نائب رسول مرزا قادیانی کو کہا اور نبوت سے انکار تھا لیکن حدیث سے دلیل دی تو نبوت کی دی جس میں لوگ ان کی شروع تحریر دیکھ کر خیال کریں کہ نبوت نبوت لوگ غلط الزام دیتے ہیں لیکن حدیث کے مضمون پر پہنچ کر ان کی نبوت سے کچھ مانوس ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ قائل بھی ہو جائیں گے لیکن افسوس ہے کہ ہماری اس تحریر سے مرزا قادیانی نہ نائب رسول رہے اور نہ رسول بلکہ حدیث شریف کے مندرجہ بالا مضامین کو اور مرزا قادیانی کے خیال کو دیکھ کر ہر شخص آسانی سے سمجھ لے گا کہ حدیث میں جو لفظ نبی اللہ ہے وہ مرزا قادیانی کی شان میں ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ان کے سخت مخالف ہے قادیانی مربی کی یا نافہمی یا حدیث سے بے علمی ہے جو اس کو اپنے موافق خیال کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں نبی اللہ کا لفظ ہے اور قادیانی مربی نے مرزا قادیانی کے نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں اوپر حدیث سے ثابت کر چکا ہوں کہ شریعت غراء میں نائب رسول کو نبی اللہ کہنا کسی صورت سے جائز نہیں ہوسکتا۔ پس صاف ظاہر ہو گیا کہ حدیث کا خطاب مرزا قادیانی کو (جو بزعم خود نائب نبی اللہ ہیں) نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے لفظ نبی اللہ کا خطاب اسی شخص کو مل سکتا ہے جس کے وقت میں حدیث کی باقی ٢٧ علامتیں پائی جائیں اور ظاہر ہے کہ یہی شخص مسیح موعود بھی ہوگا۔ اب دیکھ لو کہ مرزا قادیانی میں ٢٧ میں سے ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی ہے تو صرف نبی اللہ کے خوبصورت لفظ کو اختیار کر لینا کیا قرین دیانت ہوسکتا ہے؟ اور اگر یہ کہو کہ نبی اللہ کے علاوہ جو ٢٧ علامتیں ہیں ان کی تاویل کی گئی ہے جیسا کہ قادیانی کہہ دیا کرتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ پھر مسیح موعود کا کیا ثبوت ہے؟ اگر اس قسم کی نصوص قطعیہ کی تاویل ہو جایا
٤٥
کرے تو نہ خدا باقی رہتا ہے نہ رسول نہ کتاب اللہ اور جس بے تکا پن سے ان ٢٧ علامتوں کی تاویل کی گئی ہے دوسرا شخص بھی نبی اللہ کے معنی عدو اللہ بیان کردے گا اور ثابت کردے گا۔ پھر نہ مسیح موعود کا ثبوت ہے اور نہ مہدی کا۔
دیکھو حقیقۃ المسیح میں مسیح کے آنے کی کیا اچھی تاویل کی گئی ہے جو نہ لغت کے خلاف ہے اور نہ عقل کے مرزا قادیانی کے لفظ نبی اللہ کو چن لینے سے اس واقعہ کے مشابہ ہو جاتا ہے کہ ایک آریہ کے گھر گرو مہاراج آئے اور عورتوں سے کہا کہ آج کوئی لیلا (ڈرامہ) ہونا چاہیے عورتوں نے کہا بہت اچھا مہاراج آپ ہی مقرر بھی کر دیجئے کہ کون سا ڈرامہ ہو۔ پنڈت جی نے وہ ڈرامہ کی شکل اختیار کی جس میں مہاراجہ کرشن عورتوں کے نہاتے وقت ساڑھیاں اٹھا کر درخت پر لے بھاگا اور اس شرط پر واپس کیں کہ سب پانی سے نکل کر ننگی میرے پاس ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوں۔ غرض کہ مردوں کو باہر نکال دیا گیا کہ عورتیں پوجا کریں گی اور رات یہ ڈرامہ ہوا۔ آریہ کے دل میں کھٹکا ہوا تو اس نے چھپ کر سب ماجرا دیکھا بہت غصہ ہوا اور صبح کو اپنے کو بنا کر کہا کہ مہاراج آج رات کو وہ ڈرامہ کیجئے جس میں مہاراج کرشن جی نے ایک انگلی پر پہاڑ کو اٹھا لیا تھا۔ گرو جی بولے تم عجیب بیوقوف آدمی معلوم ہوتے ہو۔ سوائے مہاراج کے کس میں یہ طاقت ہے؟ اتنا کہنے پر آریہ لاٹھی لیکر اٹھا کہ تم کو کرنا ہوگا۔ مزے والا ڈرامہ تو تم کرو پھر زور و طاقت والا ڈرامہ کون کرے؟ لوگ کہتے ہیں بعینہ یہی حالت مرزا قادیانی کی ہے جن باتوں میں کام کرنا پڑتا تھا مثلاً قتل دجال وغیرہ اس کو تو قبول کیا نہیں تاویل کر دی اور خطاب کے لیے دعویٰ ہے ضد ہے شور ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی نبوت کے خواہشمند حضرات یاد رکھیں کہ اس حدیث سے مرزا قادیانی کی نبوت کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی ہے بلکہ انہیں اچھے لوگوں کے شمول میں بھی نہیں رہنے دیتی ہے۔ نبی اللہ کا خطاب ملنا تو بڑی بات ہے جس کو یہ خطاب ملنا تھا مل چکا۔ یعنی کلمۃ اللہ روح اللہ حضرت عیسیٰ علیہ وعلیٰ نبینا السلام کی شان میں یہ لفظ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نبی اللہ ہونا آیت ختم رسالت کے منافی نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے سے نبی اللہ ہیں بخلاف اس کے مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا یہ دعویٰ ضرور ختم رسالت کے منافی ہو گا۔ اور وہی دوبارہ دنیا پر مشرقی بیت المقدس سے نزول فرمائیں گے۔ اور وہی دجال کو حقیقت میں قتل فرمائیں گے۔ اور مرزا قادیانی کی طرح صرف مناظرہ و گالی گلوچ کا نام قتل نہ رکھیں گے۔ انہیں کے وقت میں مفسد اور کانا دجال پیدا ہو گا اس لیے یہ حدیث بھی کافی طریقے سے ثابت کر
٤٦
رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں اور ہرگز ہرگز نہیں مرے۔
حضرت مسیحؑ کی حیات وممات کا تذکرہ
قادیانی مربی کا یہ کہنا محض غلط ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مرنا قادیانیوں نے قرآن مجید سے ثابت کیا ہے اور علمائے اسلام نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ مربی بھلا کر ایسی غلط بات کہتے ہیں جس کے صریح جھوٹ ہونے میں کسی منصف کو تامل نہیں ہوسکتا اس مسئلہ کے متعلق جو ہمارے علماء کے رسالے ہیں اور میں نے دیکھے ہیں ان کا تذکرہ کرتا ہوں۔
- ١...........شمس الہدایہ ١٣٢٢ھ میں مطبع مصطفائی لاہور میں چھپا ہے اس کے مؤلف مولانا پیر مہر علیؒ
شاہ صاحب ہیں۔
- ٢...........سیف چشتیائی۔ اس کا جواب مرزا قادیانی سے نہیں ہوسکا اس رسالہ کے مؤلف بھی پیرؒ
صاحب ہیں۔
- ٣...........الفتح الربانی : یہ رسالہ اصل عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں ١٣١١ھ میں
مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔
- ٤...........الحق الصریح فی حیات المسیح ١٣٠٩ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے
یہ وہ رسالہ ہے جس کے دلائل کے جواب بالمقابل مرزا قادیانی نہ دے سکے اور دہلی چھوڑ کر قادیان بھاگ گئے تھے اس کے مؤلف مولانا محمد بشیر صاحب سہوانی ہیں۔
- ٥...........البیان الصحیح فی حیاۃ المسیح یہ رسالہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں چھپا ہے۔
- ٦...........حصر الشارد فی رد ھفوات المولوی عبدالواحد الملقب تشیید
المبانی لرد القادیانی : اس کے مؤلف جناب مولانا حافظ ابو محمد عبداللہ صاحب چھپراوی مقیم کلکتہ ہیں آپ سے اور عبد الواحد مرزائی سے تحریری مناظرہ ہوا ہے اور مرزائی بالکل ساکت ہو گئے اور مولانا نے خوب تفصیل سے جناب مسیحؑ کی حیات کو ثابت کیا ہے بسیط رسالہ ہے مگر اس وقت تک طبع نہیں ہوا۔
- ٧...........شہادۃ القرآن اس کے دو باب ہیں اور علیحدہ علیحدہ چھپے ہیں۔
پہلے باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت کی ہیں۔ اور دوسرے باب میں مرزا قادیانی کی دلیلوں کا جواب دیا ہے۔ یہ رسالہ دوبارہ لاہور میں ١٣٣٠ھ میں چھپا
٤٧
ہے۔ اس کے مؤلف مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی ہیں۔ مولوی صاحب نے قادیانیوں کے تمام دلائل کو رد کر کے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کا خزانہ اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ اب تک نہ مرزا قادیانی سے اور نہ کسی قادیانی سے اس کا جواب ہو سکا۔ اس کے علاوہ مولوی ابراہیم صاحب مناظرہ مونگیر میں آئے تو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل کو شیروں کی طرح للکار للکار کر بیان فرمایا۔ قادیانیوں کو اصرار کر کے نکتہ چینی کے لیے بلایا اور تو اور خود عبدالماجد قادیانی باوجود شہرت قابلیت کے سامنے نہ آسکے۔ اسی طور سے تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ بھاگل پور میں جناب مولوی مرتضیٰ حسن صاحب نے حیات مسیح پر خوب خوب بیان فرمایا اور عبدالماجد قادیانی کو ان کی جماعت نے خاص طور سے اس موقع کی مدد کے لیے بلایا اور بہت کچھ ہمت بندھانا چاہا۔ مگر سامنے نہ آئے۔
- ٨............. رسالہ مذاہب الاسلام مطبوعہ ١٩٠٤ء آخر میں حیات مسیح پر عمدہ تقریر کی ہے اس کا جواب
بھی نہیں دیا گیا۔
- ٩............. صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ میں جناب مولوی انور حسین صاحب نے لفظ توفی پر خوب اچھی بحث
لکھی ہے جس سے ممات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی۔
- ١٠............. کچھ عرصہ ہوتا ہے کہ غلام سرور شاہ قادیانی مفتی صادق قادیانی لکھنؤ آئے تھے۔ علمائے
اسلام نے مرزا قادیانی کی مہدویت و مسیحیت کے دلائل طلب کیے ان دونوں نے انکار کیا اور حیات و ممات کے مسئلہ پر بحث کرنے پر راضی ہوئے اور مدعی بھی علماء اسلام ہی کو بنایا علمائے کرام نے دلائل لکھ کر قادیان بھیجے لیکن جواب ندارد۔ اس پر تقاضے کئے گئے لیکن صدائے برنہ خاست۔ مولوی عبدالشکور صاحب نے اس تحریر کو شائع بھی کر دیا۔
(دیکھو النجم لکھنؤ جلد ١٠ نمبر ١٣)
یہ نو رسالے اور تحریریں اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام پر میں نے دیکھی ہیں جو مونگیر میں موجود ہیں۔ اب کوئی قادیانی بتائے کہ ان کے جواب میں کسی قادیانی نے لب کشائی یا قلم فرسائی کی ہے؟ پھر کس منہ سے ممات مسیح کا دعویٰ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے حضرت مولانا ابواحمد صاحب مدظلہم نے اس طرف توجہ نہیں فرمائی اور فضول سمجھا۔
اس کے علاوہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حضرت مسیح مر گئے اور دوسرے مسیح آئیں گے مگر اب اس کا ثبوت کہ وہ دوسرے مسیح مرزا قادیانی ہیں نہ خود مرزا قادیانی دے سکے اور نہ ان کا
٤٨
کوئی چیلہ اس پر قلم اٹھا سکا اور نہ کوئی اسے ثابت کر سکتا ہے۔ پھر مسیح کی حیات و ممات پر گفتگو فضول ہے اس لیے حضرت مولانا بلکہ اکثر دوسرے اہل کمال اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ الحمد للہ کہ ہماری مختصر تقریر سے ثابت و واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی نہ سچے رسول ہیں اور نہ نائب رسول ہیں مگر انہیں رسالت و نبوت کا دعویٰ ہے جو بالیقین ختم رسالت کے منافی ہے اس لیے وہ ضرور یقینی طور سے حدیث ”سیکون فی امتی دجالون کذابون“ کے مصداق ہیں جس کو ابو داؤد و مسلم وغیرہ کی روایت سے نقل کر چکا ہوں۔ قادیانی عبد الماجد اس پر غور کریں اور راہ باطل کو چھوڑیں۔ واللہ الموفق والمعین.
مسلمانوں کا خیر خواہ محمد یعسوب
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆ ...... ☆ ...... الحمد للہ ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک
پہنچا دیا ہے۔ برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے جس نے ان کو جنم دیا۔
- ☆ ...... ☆ ...... تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے کمالات کا خلاصہ اور
عطر حضرت محمد ﷺ ہیں۔
- ☆ ...... ☆ ...... امام الانبیاء کا کیا مطلب ہے۔ سمجھے نہیں ہو اس
رمز اور اشارہ کو؟ امام جب تک امام ہے مقتدی اس کے اشارے پر چلے گا۔
☆ ...... ☆ ...... ☆
٤٩
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے
جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قائم فرمائی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس تحریک کو کامیاب بنایا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں قادیانیت کے خاتمہ کی مہم پر ہے۔
اغراض و مقاصد
اسلام کی دعوت و تبلیغ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانی فتنہ ارتداد کی سرکوبی، باطل فرقوں کا مقابلہ، مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے۔ قادیانیوں کے سراسر غلط، پرفریب اور مفت لٹریچر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اربوں کھربوں کے منصوبے شروع کر دیئے ہیں جن سے مجلس کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ، دفاتر، مدارس، مساجد ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلیے وقف ہیں۔ مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے۔ لاکھوں روپے کا صرف لٹریچر اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا جاتا ہے۔ جامع مسجد ربوہ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجلس کے تعمیراتی منصوبے تشنہ تکمیل تھے جبکہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ختم نبوت کی خدمت اور مالی اعانت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کارِ خیر میں ضرور شریک ہونگے۔
واجرکم علی اللہ، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
فقیر خان محمد امیر مرکزیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ، حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان، فون ٤٠٩٧٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(١٣)
خواجہ غلام الثقلینؒ
ایڈیٹر عصر جدید
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(اخبار عصر جدید ١٩٠٣ء)
جس میں قابل مضمون نویس نے نہایت عمدگی سے یہ دکھایا ہے کہ نبوت و تقدس کی جو شان ہے ، اس کے مطابق مرزا قادیانی کی باتیں ہرگز نہیں تھیں اور مسلمانوں کو ان کی ذات سے سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ، اس لئے وہ مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتے ۔
مونگیر اور بھاگلپور کے مرزائی، علمائے حقانی کے تو دشمن ہو گئے ہیں اور جواب سے عاجز آ کر گالیاں دینی شروع کر دی ہیں مگر چونکہ ہمارے مذہب مقدس اسلام میں دوسروں کی خیر خواہی ایک بہت بڑا اسلامی فرض ہے۔ اس لئے ہمیں کسی وقت اس کو چھوڑنا نہ چاہئے اور جس وقت جو طریقہ مناسب ہو اسی طریقہ سے خیر خواہی کرنی چاہئے ۔ اس وقت ایک نہایت عمدہ مضمون جو نہایت تہذیب سے لکھا گیا ہے اور مسیح قادیانی کی حالت کو عمدگی سے ظاہر کیا ہے اور اس کے لکھنے والے مشہور علماء سے نہیں ہیں بلکہ ایک اخبار کے ایڈیٹر اور قوم کے سچے خیر خواہ ہیں اور چونکہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اس لئے وہ دردمندی سے سمجھانے کے لئے لکھتے ہیں۔
ہم کو نئے انبیاء سے کوئی بغض نہیں
مرزا قادیانی اور ان کے حواری اور واعظ اور اخبار نویس اس بات کو دہراتے نہیں تھکتے کہ مسلمانوں کی حالت نہایت سقیم ہے اس لئے ایک جدید رسول اور مجدد اور ہادی اور مرسل یزدانی کی ضرورت ہے۔ اس دعویٰ کے پہلے حصہ سے ہم کو پورا اتفاق ہے اور جس شخص نے ہمارے گروہ کے رسالے اور لیکچر اور کتابیں ملاحظہ کی ہوں گی اس کو قبول کرنا ہو گا کہ اس قومی اصلاح کی ضرورت کو محسوس کرنے میں ہم ایک قدم پیچھے نہیں رہنا چاہتے اور اگر صاف صاف دلائل اور مفید
٢
اور برحق تعلیم ہم کو ملے تو ہم بے تامل ایک ہادی اور ایک رسول کو لینے کے لئے آمادہ ہیں۔ خواہ وہ ہادی مستقل رسول ہو یا کسی رسول کا اوتار یا بروز خواہ اپنے الہامات سے اصلاح عالم کرے یا بابیوں اور دوسرے فرقوں کے انتخابات کو اپنی طرف سے شائع کرے۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حقیقی رسول مل جائے تو ہم اس کے سامنے اپنی پرانی احادیث اور روایات کو بھول جانے پر آمادہ ہیں ہم پیغمبر اسلام ﷺ کی اس متواتر اور صحیح اور متفق علیہ حدیث سے انکار کرنے یا اس کی تاویل پر آمادہ ہو جائیں گے جہاں آپؐ نے غزوہ تبوک میں جاتے وقت علیؓ ابن ابی طالب سے فرمایا تھا
”قال عليه السلام لعلى انت منى بمنزلة هارون من موسىٰ الا انه لانبى بعدى“
(مشکوٰۃ ص ٥٦٣ باب مناقب علی بن ابی طالب)
اے علیؓ! تو میرے ساتھ میں ایسا ہے جیسا ہارونؑ نبی موسیٰؑ کے ساتھ تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس سے بھی زیادہ ہم قرآن شریف کی اس آیت کے معنی وہی لے لیں گے جو مرزا قادیانی لیتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ پہلے انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں۔ نبیوں کے مہر کے بھی معنی سہی اور یہ بھی سہی کہ مہر آخر میں نہیں ہوتی بلکہ مہر کے بعد عبارت ہوتی ہے مگر قرآن و حدیث کے ان معنوں سے جو تیرہ سو برس سے مسلم ہیں اور اجماع امت محمدی کے چھوڑتے وقت کم از کم ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ہم کو دین ودنیا کے فائدہ کی کوئی ایسی چیز ضرور دو، جس کی وجہ سے ہم اپنا یقین و اعتقاد قربان کر ڈالیں۔
ہدایت ہر جگہ سے لینے پر آمادہ ہیں
ہاں ہم بیمار ہیں، کمزور ہیں، ہم کو شفاء چاہئے اور ہم کو طاقت کی حاجت ہے۔ ہم نے کوئی عہد نہیں کیا کہ انگریزی طب یا یونانی طب یا ویدک ہی ہم کو اچھا کرے تو اچھے ہوں گے۔ اگر بیچم صاحب یہ ثابت کر دیں کہ ان کی گولیاں طاعون اور زلزلہ اور قحط کو دفع کر دیں گی تو ہم آج طب اور ڈاکٹری اور طبقات الارض اور پولیٹیکل اکانومی کی تمام کتابوں کو دریا میں ڈبو کر بیچم صاحب کی اور علماء اور اطباء پر خدا کی مار پکارنے پر آمادہ ہیں کیونکہ ہم نے اول ہی یہ بیان کیا ہے کہ ہم تعصب کے راستہ سے حق تک پہنچنے کو محال سمجھتے ہیں۔
دلائل نبوت
وفات مسیح...... اوّل ہم مرزا قادیانی کی نبوت کے دلائل پر غور کرتے ہیں پہلی دلیل اور نہایت
٣
زبردست شہادت ان کی یہ ہے کہ مسیح ابن مریم وفات پا گئے اس لئے میں غلام احمد مسیح موعود ہو سکتا ہوں۔ ہم ان دونوں دعوؤں کو بہت آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔ آپ بیشک مسیح موعود ہو سکتے ہیں جیسے آپ کروڑ پتی یا ممبر پارلیمنٹ یا شہنشاہ جرمن ہو سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ ایسے ہیں بھی؟ جو چیز محال نہیں وہ ممکن ہے فرض کیجئے کہ ایک امتی مسلم کا مسیح ہونا ممکن ہے مگر اس کی صفات اور آیات دیکھنی چاہئیں۔ سرسید احمد خان بیشک نپولین بونا پارٹ ہو سکتے تھے۔ کیونکہ نپولین مر چکا تھا اور مسلمانوں کو ایک زبردست جرنیل کی ضرورت تھی مگر کیا سید احمد خان نپولین تھے؟ ہرگز نہیں پس جب تک اپنی کوئی خصوصیت ظاہر نہ ہو مرزا قادیانی کا مسیح ہونا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کسی اور مؤلف یا مصنف کا۔
معجزات...... ہر مذہب کے پیرو عام طور پر حقانیت ہادی کی دلیل معجزات اور آیات کو سمجھتے ہیں۔ معجزات کی نسبت مرزا قادیانی کا عقیدہ سرسید کے عقیدے کے موافق ہے اور ناچیز ایڈیٹر عصر جدید کے نزدیک محض غلط ہے۔ ہر معجزے یا خرق عادت کو محال سمجھنا، اول درجہ کی ناواقفیت حقائق الہیات سے ثابت کرتا ہے۔ میں اگر چاہوں تو ایک کام ایسا کر سکتا ہوں جو میں نے برس دن سے نہیں کیا تھا۔ میرا قلم اگر چاہے تو وہ مجھ سے ایسا کام نہیں کرا سکتا۔ خدا تعالیٰ اگر چاہے تو وہ بموجب اپنی مصلحت یا بموجب قوانین کے جو خاص اس کے علم میں ہیں ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے، جو ظاہر میں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیں مگر انسان خدا کو مجبور کر کے اس سے معجزہ نہیں دیکھ سکتا۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں ”قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ“ (انعام ١٠٩) کہہ دے کہ نشانیاں خدا کے پاس ہیں یعنی ان کا اظہار خدا کی رائے کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ بندہ کی خواہش کے موافق، نبی کا کام دنیا کو نیک راہ بتانا ہے اور بس۔ البتہ خدا تعالیٰ خود اس کی تائید مناسب مواقع پر معجزات سے کرتا ہے دوسرے ہمارا علم قوانین قدرت کا اس قدر محدود ہے جیسے ایک مچھر کا علم بمقابل افلاطون کے قلیل ہے۔ جس طرح مچھر کو حق نہیں کہ افلاطون کی باتوں کا انکار اپنے علم کے گھمنڈ پر کرے اس طرح ہم کو انکار معجزات کا حق نہیں ”وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ“ (البقرہ ٢٥٥) ”بندے اس کے علم میں سے ذرا سی چیز کا احاطہ بھی نہیں کئے ہوئے ہیں مگر جتنا اس نے بتا دیا ہے۔“
یہ بات نہایت کھلی ہوئی ہے اور اس لئے سرسید اور مرزا قادیانی سے تعجب معلوم ہوتا
٤
ہے پھر بھی سید تو کل انبیاء کے معجزات کی تاویل کرتے تھے مرزا قادیانی، مسیح علیہ السلام کے احیاء موتی کو تو شعبدہ اور بیماروں کے اچھا کرنے کو مسمریزم کہتے ہیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٢٨ تا ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ تا ٢٥٨)
حضرت ابراہیمؑ کے اس قصہ کو جس کا ذکر پرندوں کے زندہ کرنے کا قرآن میں ہے کہتے ہیں کہ وہ پرندے زندہ نہیں ہوئے تھے صرف پرندوں کو پرچایا گیا تھا۔
(ازالۃ الاوہام ص ٤٥٢، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)
مگر اپنے لئے بڑے بڑے معجزات کے قائل ہیں۔ چنانچہ اپنے ایک پسر مردہ کو زندہ کرنے کا دعویٰ بھی ان کے اخبار نے بشہادت ان کی زوجہ کے شائع کیا ہے اگر مرزا قادیانی ایسے معجزات دکھا سکتے تو دوسرے انبیاء کے لئے کیوں منکر ہوتے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں قوت معجزہ نہیں ہے اور انہوں نے یا ان کے تنخواہ یاب قصیدہ خوانوں نے ۔ لو مردہ زندہ ہوگیا کا دعویٰ غلط طور پر گھڑا ہے۔
پیشین گوئیاں...... پیشین گوئیاں بھی جب کہ صاف اور بلاشرائط کے ہوں اور ان مہمل اور مجمل الفاظ سے بری ہوں جن سے کہانت کا شبہ ہو ایک قسم کا معجزہ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری کئی ہزار پیشین گوئیاں سچی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جو شخص صبح سے شام تک دس حکم سوچ کر بلا علم غیب کے لگا دے گا۔ ان میں سے چار ضرور صحیح ہو جائیں گے مگر یہ امر حیرت انگیز ہے کہ جس قدر معرکہ کی پیشینگوئیاں بطور تحدی کے مرزا قادیانی نے کی ہیں سب کی سب (سوائے ایک پیشین گوئی کے جس کے حالات شک سے خالی نہیں اور جو انسان کے ہاتھ سے پوری ہوئی) اس قدر صریح غلط نکلیں کہ تاویل ان کو معنی پہناتے پہناتے شرمانے لگی، یہاں تک کہ مرزا قادیانی کو وہ وتیرہ اختیار کرنا پڑا جو حد درجہ خطرناک ہے اور جس کی وجہ سے ہم کو خاص طور پر ان کے اوپر شبہ کرنا پڑا۔ اس شبہ کا اظہار اس قدر وضاحت کے ساتھ ہم نے اس غرض سے نہیں کیا کہ مرزا قادیانی یا ان کے حواریوں اور داعیوں کی وہ جماعت جو مشاہرہ یاب ہے متنبہ ہوں گے ان لوگوں سے ہم کو نہ کچھ امید ہے اور نہ ہمدردی ہے۔ البتہ مسلمانوں کا وہ خاصا بڑا گروہ جو جال میں پھنس گیا ہے اور جس کو یہ تنخواہ یاب یا جاہ طلب گروہ یہ کہہ کر لوٹتا ہے کہ زندہ اسلام کا نمونہ دیکھنا ہو تو قادیان میں چلو، ان سے ہم کو ہمدردی ہے اس وجہ سے ہم یہ مضمون لکھتے ہیں۔ اگر ہم ایک منٹ کے لئے بھی سمجھتے کہ مرزا قادیانی کی تحریک مذہبی ہے تو کبھی اس بحث میں نہ پڑتے۔ مگر ہمارے نزدیک یہ
٥
کارخانہ محض دنیا داری کا ہے اس لئے بغرض اصلاح معاش مسلمین متنبہ کرنا ضرور ہوا مذہبی معاملہ میں ہم کو دخل دینے کی کوئی وجہ نہیں معتقدات کا فیصلہ قادر مطلق اپنی بارگاہ میں کرے گا۔
منہاج نبوت....... مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ وہ اپنی صداقت اور معجزات اور پیشین گوئیوں کی صحت کی وجہ سے نبوت کے معارج تک نہیں چڑھ سکتے تو انہوں نے انبیاء علیہم السلام کو اپنے درجہ پر نیچے گھسیٹنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ حضرت عیسیٰ کے ساتھ گستاخیاں کیں اور ان کی اور ان کے رشید شاگرد سیالکوٹی کی بے ادبیاں اس نبی معصوم کی نسبت اب تک جاری ہیں۔ شاہ ولایت علی ابن ابی طالب کی ہجو، ان کے ایک منہ پھٹ اور بے تمیز حواری نے شائع کی، حسین ابن علی کی شہادت اور منزلت کو اپنے سے بہت کمتر بتایا سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کرسچن (عبداللہ آتھم) کی بابت حتمی اور مؤقت موت کی پیشین گوئی کے غلط ہو جانے پر سید انبیاء محمد المصطفیٰ ﷺ کو بھی مثل اپنے خاطی، اور غلط فہم ظاہر کیا، جس سے خود آنحضرت کی نبوت پر شک واقع ہوتا ہے۔ (معاذ اللہ)
سب مسلمان قرآن مجید کو کلام الٰہی کہتے ہیں۔ قرآن میں جس خواب کو پیغمبر علیہ السلام نے دیکھا اس کی صریح تصدیق آئی ہے۔ ”لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا “ (الفتح ٢٧) مرزا قادیانی اور ان کے حواری حکیم نور الدین قادیانی نے اپنی تاویل سے تصدیق الٰہی کو غلط قرار دیا، یا قرآن شریف کو انسانی گھڑت قرار دیا یا انہوں نے نبی کو جس کی اطاعت مثل اطاعت خدا ہے۔ کج فہم قرار دیا کہ وہ وحی کے معنی سمجھنے میں غلطی کرتے تھے۔ غرض انہوں نے آنحضرت کی خبر فتح مکہ کو جو بالکل راست تھی مرزا قادیانی کی موت آتھم کے برابر کر دیا جو صراحتاً غلط تھی۔ (معاذ اللہ)
پس اپنی بچت کے لئے مرزا قادیانی نے عظمت انبیاء اور بنیاد دین میں ایسی سرنگ لگائی ہے اور بعض انبیاء و اولیاء کی نسبت ایسی بد زبانی کی ہے جس کی وجہ سے وہ جرأت کے ساتھ اعمال ناشائستہ کرنے لگے اور ضعیف الاعتقاد لوگوں کو اس طرح پر چانے لگے کہ یہ سب منہاج نبوت ہے۔ جیسے وہ تھے ویسے ہی ہم ہیں یا ہم کو بھی مانو یا ان کو بھی مکار کہو!!! (معاذ اللہ)
ایک بڑا مذہبی خطرہ
مرزا قادیانی نے جو دعویٰ اکثر انبیاء کے اوتار ہونے کا کیا ہے یا مستعار طور پر ابن اللہ وغیرہ کا بلکہ ابواللہ کا بھی کیا ہے اس کو میں مذہبی خطرہ نہیں سمجھتا۔ کیونکہ دس پندرہ برس میں بعد ان کی وفات کے یہ باتیں سب مفقود ہو جائیں گی، سب سے بڑا صدمہ مرزا قادیانی کے مشن اور
٦
زیادہ تر ان کے مریدوں سے یہ پہنچا ہے کہ موجودہ نسل کے لامذہب اور ملحد گروہ کی انہوں نے نامعلوم طور پر سرپرستی کی ہے۔ جب یہ لوگ ایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ وہ افعال ۔(١) خلاف عدالت (٢) خلاف اجتماع قومی (٣) خلاف کفایت شعاری (٤) خلاف سعی و محنت یعنی برخلاف ہر چہار اصول اصلاح اور اصول دین کے کرتا ہے۔ مگر اپنے افعال کو نمونہ دوسرے انبیاء کا قرار دیتا ہے اور سوائے ایک کے کل انسانوں سے اپنے آپ کو افضل بتاتا ہے مگر جب اس پر اعتراض ہوتا ہے تو اس ایک ہادی کو بھی مثل اپنے خاطی و غلط فہم ظاہر کرتا ہے۔ جب یہ لوگ ایسا دیکھتے ہیں اور پھر ہزاروں آدمیوں کا اعتقاد اس کی طرف دیکھتے ہیں اور اخبارات و کتب و رسائل اس کی مدح سے مملو پاتے ہیں۔ تب یہ لوگ بغیر جانچ کے یہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اجی پہلے زمانہ میں بھی ایسے ہی ڈھکونسلے اور کرایہ کے حواری اور تعریف کرنے والے ہوں گے۔ جب اس تعلیم و تہذیب کے زمانہ میں ایک معمولی شخص نبی بن گیا تو اس وقت نبی بن جانا کیا مشکل تھا؟ (نعوذ باللہ) میں جو سچے دل سے سلسلہ انبیاء علیہم السلام کو جس کا ذکر قرآن میں ہے سچا اور منزل من اللہ مانتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ غلط نمونہ نبی اور مرسل کا یہ تعلیم جس کی غرض ذاتی تعلی اور جلب منفعت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایک درد انگیز صدمہ دینداروں کے لئے ہے۔ یہ شکر ہے کہ متواتر پیشین گوئیوں کے غلط ہو جانے سے اس دعوت جدید کی وقعت نہیں ہونے پائی۔ ورنہ جہلاء جو یہ نہیں جانتے کہ کامل انسان میں اور افضل ترین نمونہ انسانی میں کیا صفات ہونی چاہئیں۔ دین کو بھی اشتہاروں کے ذریعہ سے خرید لیتے۔ جس طرح وہ مہلک امراض کی دواؤں کو اشتہاری طبیبوں سے لیتے ہیں۔ دراصل ان اناڑی طبیبوں اور اشتہاری نبیوں میں امور مشابہ فیہ بہت ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ صحت و زر کو لیتے ہیں اور یہ ایمان و زر کو۔
صیغہ اصلاح کے اصول کے لحاظ سے مرزا قادیانی پر نظر
میں نے لیکچر اصول اصلاح میں قومی ترقی کے لئے چار اصول قرآن شریف سے اخذ کئے تھے۔ اگر مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کا ظہور دیکھا جاتا تو ہم نہایت خوشی کے ساتھ جہاں ہم نے ان پر اعتراض کئے ہیں وہاں عملی اخلاق کے لحاظ سے ان کی تعریف بھی کرتے، مگر نہایت افسوس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے کہ تقدس کے لمبے چوڑے وعظوں اور دعاوی کے ساتھ قومی ترقی کے اصل معاملات سے مرزا قادیانی اور ان کے حواری بالکل بے پرواہ ہیں۔
- ١...... عدالت یا انصاف ایک لازمی شرط انسانی ترقی کی ہے اس کا یہ حال ہے کہ مرزا قادیانی نے
٧
ایک بالغہ عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے (جس میں ان کو نا کامیابی ہوئی ) اوّل تو خود اس لڑکی کی رضامندی حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی جو لازمی چیز ہر معاہدہ میں ہے۔ دوسرے جس لڑکے سے اس کا عقد ہوا اس کو موت کی دھمکی دی جو باوجود گزرنے مقررہ میعاد پوری نہیں ہوئی۔ تیسرے اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دی اور اپنے ایک بیٹے کی زوجہ پر تشدد کیا کہ اس نکاح میں کوشش کرے اور اگر بیٹا زوجہ خود کو طلاق نہ دے تو بیٹے کو عاق کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے ان پرائیویٹ خطوط کی نقول بلا تردید کے مولوی ثناء اللہ صاحب ”رسالہ الہامات مرزا“ میں چھاپ چکے ہیں۔
٢...... اتفاق قومی میں نبوت کے دعویٰ سے جو اختلاف پڑا اس سے میں قطع نظر کرتا ہوں مگر مرزا قادیانی نے علاوہ اس کے قوم کی بدخواہی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اوّل انہوں نے خود جہاد بالسیف سے انکار کیا اپنی اور مولویوں کی مخالفت کی یہ وجہ بتائی کہ علما جہاد کے اور خونی مہدی کے قائل ہیں۔ گویا ایک غیر مہذب اور غیر قوم گورنمنٹ کی نگاہ میں اپنے تئیں خیر خواہ اور عام مسلمانوں کو ایک خونی مذہب کا قائل اور بدخواہ سرکار کا ظاہر کیا۔ صرف یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ مرزا قادیانی کوئی نیک نیت خیر خواہ مسلمانوں کے نہیں ہیں۔ دوسرے امام مہدی علیہ الرضوان کو خونی قرار دینا در پردہ جہاد نبوی کی ہتک اور تذلیل ہے۔ ان کا مقابلہ سرسید کی خیر خواہی سے کیا جائے جس نے وہابیوں کو بچانے کے لئے اعلان کیا کہ میں خود وہابی ہوں تب فرق معلوم ہوگا۔ دوسری دلیل اس بات کی کہ مرزا قادیانی اپنے ذرا سے آرام کو قوم اور انسانوں کی بہبود و اتفاق پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ہے کہ وہ خاص مسلمانوں کی موت اور ہلاکت کی برابر پیشین گوئیاں کرتے رہے اور اس میں کسی قلبی تکلیف کی پرواہ نہ کی کیونکہ بقول خود خدا کی طرف سے مامور ہو چکے تھے۔ مگر ایک مجسٹریٹ درجہ اوّل کے دھمکانے اور مچلکہ لینے پر صاف وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی نبی الہامات کی اشاعت ایک ادنیٰ مجسٹریٹ کے دھمکانے سے کیسے بند کر سکتا ہے؟ عوام الناس دھوکا نہ کھائیں کہ نبی یا ولی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مسیحؑ نے تن تنہا مصلوب ہونا اور حسینؓ نے تین دن کی بھوک و پیاس میں ہزاروں زخموں سے شہید ہونا قبول کیا اور کلمہ حق کو نہ چھوڑا۔ اگر ایسی مثالیں نہ ہوں تو لوگ مذہب اور خدا سے منحرف ہو جائیں اور اگر ایسے لوگ نہ ہوں جو مرزا قادیانی کو مسیحؑ اور حسینؓ سے افضل سمجھتے ہیں، تو دنیا میں دین اور عقل کو کارگزاری اور ہدایت کی گنجائش نہ ملے۔ نبی اور مصلح کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ اکثر لوگ کم عقل ہوتے ہیں اور مکاروں کے
٨
جال میں پڑ جاتے ہیں۔
- ٣...... کفایت شعاری، ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو کچھ دولت یا قوت بندوں کو ملی ہے وہ خدا کی طرف
سے امانت ہے۔ اس کو نہایت احتیاط سے صرف کرنا چاہئے۔ برخلاف اس کے اپنی دولت نہیں بلکہ چندہ کے روپیہ سے جو مسلمانوں کی گاڑھی کمائی سے آتا ہے مرزا قادیانی اعلانیہ اسراف کرتے ہیں۔
ایک ظاہر ثبوت وہ عرضی ہے جو بعض نیک نفس غریب مریدوں نے مرزا قادیانی کے نام بھیج کر لکھا تھا کہ چندہ بے دردی سے خرچ ہوتا ہے۔ لنگر خانہ جو مسافروں کے لئے ہے اس میں آپ کے ذاتی ملازم (خانگی باغ کے) کھانا کھاتے ہیں۔ اس کا جواب الحکم میں مرزا قادیانی نے شائع کیا ہے کہ میں کوئی بنیا نہیں کہ حساب رکھوں، جس طرح میں چاہوں گا خرچ کروں گا۔ العجب! ہر شخص امانت کے روپے کیلئے بنیا ہوتا ہے منہاج نبوت پر مرزا قادیانی اس قدر زور دیا کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے وہ قصہ نہیں پڑھا کہ عقیل نے حضرت علیؓ کی دعوت کی تھی۔ تین دن کی خوراک میں سے بچا کر چند روٹیاں تیار کیں تا کہ اپنی مفلسی کو ظاہر کریں۔ حضرت علیؓ نے اسی نسبت سے ان کے روزینہ میں کمی کر دی۔ کیا ان کو خلیفہ دوم کی چادر کا قصہ نہیں معلوم؟ پھر ایک شخص کس جرأت سے کہتا ہے کہ میں بنیا نہیں۔ یہی فقرہ سمجھ داروں کے لئے کافی ہے۔ ہم کو سخت افسوس اور حیرت ہے حکیم نورالدین قادیانی پر جو اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے ایک ایسا رسول اور ایک ایسا منہاج بنا کر اسلام پر یا مسلمانوں پر احسان کیا ہے۔ بڑے سے بڑا دشمن اسلام بھی اس سے زیادہ سبک کیا کر سکتا ہے کہ ایسے شخص کو امت خاتم النبیین محمد بن عبداللہ کا بروز بتائے؟
- ٤...... سعی و محنت، ہمارا صیغہ گداگری اور سستی کا سخت مخالف ہے اور یہ چاہتا ہے کہ سب لوگ محنت
اور سعی سے بسر کریں۔ یہی تعلیم اسلامی ہے۔ گداگری اس لئے منع ہے کہ وہ انسان کو دوسرے پر بار کرتی ہے، کہنے کو گداگر کہتا ہے کہ مجھ کو دو تو دنیا اور دین میں آرام پاؤ گے مگر چونکہ وہ اپنے نفس کے لئے مانگتا ہے اس لئے برا کرتا ہے۔ ربوٰ کی حرمت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ اس سے توکل جاتا رہتا ہے کیونکہ توکل تو جائیداد سکنی و زرعی کافی ہو اس وقت بھی نہیں رہے گا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہر وقت محنت اور سعی جو انسانی ترقی کا لازمہ ہے اس میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جائیداد و تجارت کے باقی رکھنے کے لئے بہت توجہ درکار ہے اس لئے سعی فرض ہے۔
مرزا قادیانی نے سب مولویوں اور پیروں اور فقیروں سے زیادہ دوسرے کی محنت سے
٩
گزر کرنے اور اپنی جائیداد بڑھانے کی مثال قائم کی ہے۔ ہم نے قرآن وحدیث و توراۃ وانجیل میں تلاش کیا۔ مگر کہیں پتہ نہ ملا کہ کسی نبی یا امام برحق نے اپنی تعلیم کی وجہ سے اپنی مالی حالت درست کی ہو۔ برخلاف اس کے ہم مرزا قادیانی کا اشتہار کشتی نوح میں صفحہ ٦ پر دیکھتے ہیں۔ جس کے پڑھنے سے ہم پر اس قدر حقائق ان کی تعلیم کے ظاہر ہوتے ہیں جن کے بیان کرنے کے لئے ایک بڑا مضمون درکار ہے۔ وہ اشتہار یہاں پر نقل کیا جاتا ہے۔
”چونکہ آئندہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس کے بعض حصوں میں مرد مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیواری کے اندر ہوں گے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہمارے مکان کا جزو ہوسکتی ہے۔ دو ہزار تک تیار ہوسکتی ہے چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق و رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے بھی دیکھا کہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی، ”والسلام على من اتبع الهدى“ المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی۔“
(کشتی نوح ص ٧٦ خزائن ص ٨٦ ج ١٩)
اس کے مفصلہ ذیل امور معلوم ہوئے۔
- ١...... مرزا قادیانی کا گھر کشتی نوح ہے اور طاعون سے محفوظ رہے گا۔
- ٢...... مرزا قادیانی کے جس قدر گھر قریب ہیں وہ بھی شامل ہو جائیں تو کشتی نوح بن جائیں گے۔
- ٣...... مرزا قادیانی کو مریدوں کی طرف سے کیسہ ہائے زر مل جائیں تو وہ اس قاعدہ کے رو سے
اپنے مکان کو وسیع کرتے کرتے ایک دنیا کو طاعون سے بچا سکتے۔ گویا طاعون اس لئے بھیجا گیا ہے کہ لوگ مرزا قادیانی کا مکان وسیع کر کے اس طاعون سے بچ جائیں اور چونکہ طاعون بقول ان کے ایک عذاب الٰہی ہے جو اس وجہ سے آیا ہے کہ لوگ ان کی نبوت اور مسیحیت سے انکار کرتے ہیں۔ اس لئے ان کی نبوت اس وجہ سے ہوئی ہے کہ ان کے مکان اور جائداد میں وسعت ہو کیونکہ
١٠
(١) مسیحیت علت طاعون (٢) طاعون علت توسیع مکان (٣) توسیع مکان علت چندہ۔ پس مسیحیت کا مقصد تحصیل زر ہوا، ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس سے زیادہ صریح گداگری کیا ہوگی؟ شاید یہ شبہ غلط ہو اس لئے میں صاف صاف طور پر بذریعہ اس مضمون کے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یوم دعویٰ الہام سے اب تک مرزا قادیانی نے اپنی یا لواحقین کی جائداد بڑھائی یا نہیں اور جو جائیداد خریدی ہے وہ وقف ہے یا ذاتی۔ وقف نامہ رجسٹری شدہ ہے یا نہیں۔ اس کی نقل شائع کی جائے اس معیار پر اگر مرزا قادیانی صحیح اترے (بشرطیکہ بے لاگ شخص تحقیق کریں) تو ہم بہ معذرت اس چوتھے اعتراض کو واپس لیں گے ورنہ سب مسلمانوں سے کہیں گے کہ اصلاح تمدن چاہتے ہو تو ایسے مدعیوں سے بھاگو۔
خلاصہ...... الغرض اس تمام غل و شور سے جو جدید مسیحیت کا پھیلا ہے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بغیر کسی تمدنی فائدے کے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ انبیاء کی ہتک ہوئی۔ مذاہب الہامی پر اعتراض کرنے کا ملحدین کو بہت اچھا بہانہ ہاتھ آیا۔ بہت سے لوگوں نے دین کے نام سے اچھی اچھی تنخواہیں وصول کرنا اور روپیہ پیدا کرنے کا شیوہ کر لیا۔ ایک شخص کی تعریف میں خدا اور رسول کی تعریف کو گرد کر دیا۔ کیونکہ خدا اور انبیاء اولوالعزم کی تعریف بھی ایسی نہ ہوئی ہوگی۔ بد نما تاویلات اور بدنام کن مقدمہ بازیاں ہوئیں۔ اگر یہ سب باتیں کسی تمدنی مفید نتیجے تک پہنچنے کے واسطے ہوتیں تب بھی ایک تسلی تھی۔ مگر یہ سب اس لئے ہوا کہ چند آدمیوں کو ایک مشغلہ ناموری اور حیلہ، رزق درکار تھا، مگر کیا یہ تحریک محض بیکار ہے ہرگز نہیں؟ اس سے کم از کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں میں زود اعتقادی بہت ہے اور اس کی اصلاح جب ہی ہو سکتی ہے جب دین کے پختہ اصول پر وہ قائم ہوں۔ اس سے سمجھداروں کو اطمینان ہو گیا کہ استقلال کے ساتھ ہر کام میں خاصی کامیابی ہو سکتی ہے کیونکہ ذاتی اور شخصی تحریک میں جب یہ رونق ہے تو قومی تحریک میں کیوں نہ ہوگی؟ بعض لوگ جو اس مذہبی تحریک کو (اپنی بدگمانی یا گہری فراست سے) زرکشی اور مذہب کی ہنسی اڑانے کا ایک ایسا جال سمجھتے ہیں جو چند شخصوں نے جن کے دل میں نہ خوف خدا ہے نہ یقین قیامت کھڑا کیا ہے۔ ان کو بھی اطمینان ہے کہ الٰہی قوت ضرور موجود ہے جس نے اس تحریک میں کوئی بڑی کامیابی نہ ہونے دی۔ ہر سمجھ دار آدمی کے تین چار اٹکل کی باتوں میں ایک آدھ صحیح ہو جاتی ہے۔ اس تحریک کے بانی یہ بھی نہ کر سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی لاٹھی بغیر آواز اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ آخر میں اس بات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے مرزائی دوست اور
١١
معتقد اس مضمون کو پڑھ کر برافروختہ نہ ہوں کیونکہ یہ ان کی خیر خواہی کے لئے لکھا گیا ہے۔ اگر ان کو تکلیف پہنچے تو معاف کریں جس طرح وہ جراح کو معاف کرتے ہیں۔ جو زخم آلائش دور کرتا ہے، وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آیا ایسا انسان افضل ترین عباد خدا، بعد رسول عرب کے ہو سکتا ہے؟ وہ غور کریں کہ ہم نے کونسی غلط بات اس مضمون میں لکھی ہے اور پھر بھی اگر ان کو کوئی فائدہ اس مضمون سے نہ ہو تب بھی وہ اس کو نیک نیتی پر محمول کریں۔
فقط غلام الثقلین
مضمون دیگر عصر جدید
سال گذشتہ میں قادیانی تحریک کے عنوان سے ہم نے ایک مضمون ہند کے ایک جدید مسیح کے متعلق لکھا تھا۔ جس کا اثر جماعت کے بعض ارکان پر اچھا پڑا۔ چند مضامین جواب کے نام سے مسیح قادیانی کے بعض پیروؤں نے اس زمانہ میں شائع کئے تھے۔ جن میں سے دو مضامین کا ذکر اکتوبر ١٩٠٥ء کے عصر جدید میں کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے ایک تو قابل جواب ہی نہ تھا اور دوسرا یعنی خواجہ کمال الدین مرزائی کا مضمون تمہید ہی میں رہا اور باوجود وعدہ آگے نہ بڑھا سکے۔ اس جماعت کے ”لیڈر قوم“ اور ”مخدوم الملت“ یعنی عبد الکریم سیالکوٹی آنجہانی جیسا کہ ان کے زمانہ بیماری کے ملفوظات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے مضمون کا جواب نہ دے سکنے کا داغ حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔ ؎
مگر اسی زمانہ میں ریویو آف ریلیجنز کے قابل ایڈیٹر مسٹر محمد علی لاہوری ایم۔ اے نے ایک مضمون اپنے رسالہ میں بعنوان ایک نیا معترض، شائع کیا تھا، مگر یہ رسالہ ہمارے پاس نہیں بھیجا گیا۔ چند ماہ ہوئے ہم نے اس ریویو کے پرانے پرچے منگوائے تو یہ مضمون نظر پڑا اور اب اس کے متعلق مختصر رائے دینا اسلئے ضروری ہے کہ صاحب مضمون نے کئی جگہ ہم سے یہ سوال کیا
١٢
ہے کہ ہم سچے اور جھوٹے مدعی کا نشان بتائیں۔ اس کے متعلق ایڈیٹر موصوف نے خود ایک نشان پیش کیا ہے۔ جو ٹھیٹھ ہندی میں اس طرح بیان ہوسکتا ہے کہ ”چلتی کا نام گاڑی“ اور اس کا ثبوت صاحب موصوف نے اس آیت مبارکہ سے اخذ کیا ہے ”اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔“ (المومن ٥١) یعنی ”ہم بے شک مدد کرتے ہیں اس دنیاوی زندگی میں اپنے رسولوں کی اور ان آدمیوں کی جو ایمان لاتے ہیں“ اور اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی کا کام روبہ ترقی ہے اور مزید بڑھتے جاتے ہیں اس لئے وہ یقیناً سچے مسیح ہیں۔
آیت مذکورہ بالا کے علاوہ اسی مضمون کی اور بھی آیات قرآن شریف میں موجود ہیں اور اگر ان آیتوں کا وہی مطلب ہے جو مسٹر محمد علی لاہوری اور دیگر مرزائیوں نے سمجھا ہے اور امداد الٰہی کے یہی معنی ہیں کہ کسی مدعی کی دولت یا مریدوں کی تعداد میں زیادتی ہو تو ہم ایک لمحہ کے لئے مرزا قادیانی کے ابتدائی دعوٰی سے لے کر انتہائی الہام تک بلا دلیل و حجت ماننے پر آمادہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ ان دو باتوں کو جو بطور امور تنقیح طلب کے ہم نے اوپر لکھے ہیں۔ قرآن یا عقل یا ہر دو سے ثابت کردیں۔
ہم کو یہ معلوم ہے کہ عبد الکریم سیالکوٹی مرزائی نے سرطان کا پھوڑا نکلنے سے قبل جو آخری مضمون ”الحکم“ میں شائع کیا تھا وہ زیادہ تر اسی آیت مذکورہ کے غلط معنی پر مبنی تھا اور اسی غلط تفسیر کی وجہ سے متوفی نے آئمہ اہل بیت ؓ کی نسبت نہایت گستاخانہ الفاظ لکھے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو ”بت ناہنجار“ کہنے میں اس شخص کی دریدہ دہنی نے تامل نہیں کیا تھا اور وجہ اس کی یہی ظاہر کی تھی کہ خدا نے ان کو ہمیشہ ”ناکامیاب“ اور ”خاسر“ اور ”مغضوب علیہم“ رکھا اور ان کے مخالفوں کی مدد کی۔ اس زمانہ میں میرے ایک لائق دوست نے بذریعہ تحریر نہایت ہمدردی کے ساتھ فرقہ قادیانی کے اس رکن رکین کو ایک طویل تحریر لکھی تھی جس میں ظاہر کیا تھا کہ اگر اس شخص کا یہی عقیدہ رہا تو بموجب کلام مجید اس کا انجام انتہا درجہ کا کفر و گمراہی میں ہوگا۔ جو بے شمار آیات اس تحریر میں درج کی گئی تھیں۔ ان کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔ مگر چند متواتر اور نہایت کثرت سے بیان کئے ہوئے قرآنی یا متواتر قصص کی طرف ہم ایڈیٹر ”ریویو آف ریلیجن“ کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم اصرار کے ساتھ ان مطالب کا جواب چاہتے ہیں۔
خدا نے بیان کیا ہے کہ ہم نے انسان کو صرف عبادت واطاعت کے لئے پیدا کیا ہے اور شیطان نے خدا کی عزت کی قسم کھائی ہے کہ وہ سب کو گمراہ کر دے گا ”اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ
١٤
الْمُخْلَصِيْنَ“ (الحجر ٤٠) مگر صرف تیرے خاص بندوں کو، خدا نے دوسری جگہ کہا ہے ”وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهُ“ (سبا ٢٠) شیطان نے اپنے اس خیال کو سچا کر دکھایا۔ اب قادیانی فرقہ بتائیں کہ کون قابل اطاعت اور لائق پرستش ہے؟ خدا، یا ابلیس؟ اور اس دنیا میں کس کی اطاعت کرنے والے زیادہ ہیں؟
- ٢....... بنی اسرائیل کی عورتوں کو چھوڑ کر فرعون اور قوم فرعون ان کے بچوں کو قتل کر دیتی تھی اور
اس نسبت قرآن مجید میں کہا گیا ہے ”وَفِيْ ذَالِكَ بَلَاءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ“ (الاعراف ١٤١) پس حکماء سلسلہ قادیانیہ جواب دیں کہ طریقہ فرعون حق پر تھا یا ملت ابراہیمی، اور قتل ہونے والوں کی اس زندگی میں خدا نے کیا مدد کی؟
- ٣....... بقول مرزا قادیانی، مسیح مصلوب ہوئے اور یہود نے فتح حاصل کی ان دونوں میں کون
حق پر تھا اور کس کی اطاعت کا خدا نے حکم دیا ہے؟
- ٤....... خلفاء اربعہؓ اور سبطینؓ میں سے منجملہ چھ کے پانچ نفس دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک
ہوئے۔ اس صورت میں حیات دنیا میں ان کی کیا مدد خدا نے کی؟ جبکہ اس نے وعدہ کیا ہے ”کَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ“ (الروم ٤٧) ان چند مثالوں سے ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر مرزائیوں کی تفسیر صحیح ہے تو دنیا میں اکثر ظالم، فاجر، بدکار، فاسق، جھوٹے، قابل اطاعت اور خدا کے سچے رسول مامور اور مومن ہیں اور سب کو انہیں کی پیروی کرنی چاہئے۔ اگر یہ معنے صحیح ہیں (اور جاہلوں کو بہکانے کے واسطے کوئی اخبار یا رسالہ یا کتاب قادیانی جماعت کی ایسی نہیں نکلتی جس میں نشان کامیابی پر زور نہیں دیا جاتا) تو قرآن شریف کی باقی تعلیم اخلاق و صبر و تحمل و تقویٰ وغیرہ کی فضول اور بیکار ہے۔
اگر دنیاوی کامیابی معیار حق و باطل کا ہے تو یہ نشان جس پر اس قدر زور دیا جاتا ہے ایک خوفناک گمراہی اور ایک ہولناک غار ہے۔ پس آیت قرآنی کے ہرگز وہ معنی نہیں ہیں جو جناب مرزا قادیانی یا حکیم نورالدین قادیانی لیتے ہیں۔
شاید یہ کہا جائے کہ نشان بالا صرف مامور من اللہ کے ساتھ خاص یعنی جو شخص خدا کی طرف سے مرسل ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کو کامیابی ہو تو وہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور ہم بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ آیت ”لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ“ (الحاقہ ٤٤) سے مدد لے کر یہی معنے پہنائے جائیں گے۔ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اے محمدؐ! اگر تو ہماری طرف غلط باتیں
١٤
منسوب کرے تو ہم تیری گرفت کر لیں گے اور رگ گردن تیری منقطع کر دیں گے۔ اس آیت کے معنی بیان کرنے میں بھی یا تو حد درجہ کا دھوکا دیا جاتا ہے یا انتہا درجہ کی سادہ لوحی برتی جاتی ہے۔ دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ اگر سچا پیغمبر (بفرض محال) جھوٹے الہام بنانے لگے تو اس کو سخت سزا ملے گی۔ اس سے اگر یہ لازم بھی آئے کہ اس دنیا میں سزا ملے گی تو یہ کہاں سے لازم آیا کہ جھوٹے پیغمبر کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ یا جس کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہ جھوٹا پیغمبر ہے؟ ”يَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ الْحَقِّ“ (البقرہ ٦١) (نبیوں کو بلا وجہ قتل کرتے ہیں) اس آیت کی تاویل سادہ لوحوں کے سمجھانے کے لئے ممکن ہے۔ مگر تاریخی تواتر و مذہبی شہادت اور تمام دنیا کے اجماع کو باطل کرنا کہ حضرت زکریا، یا حضرت یحییٰؑ شہید نہیں ہوئے۔ ایک ایسا جرأت کا کام ہے۔ جس کے سامنے دہلی کے ایک مرزا کا دعویٰ بھی کہ حضرت امام حسینؓ شہید نہیں ہوئے۔ پھیکا اور ہلکا معلوم ہوتا ہے۔
پس آیت مذکورہ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے وہ جلد ہلاک ہو جاتا ہے کسی صحیح عقل اور متعارف منطق کے رو سے نہیں چل سکتا اور اس سے یہ بھی نتیجہ نکلے گا کہ دنیا میں نہ کوئی جھوٹا مذہب چلا ہے اور نہ چل سکتا ہے۔
حالانکہ جھوٹے سلسلے ہمیشہ موجود رہے ہیں اور اب بھی ہر مذہب میں موجود ہیں اور مدت تک ان کے بانی رونق کے ساتھ رہے اور عزت کے ساتھ مرے۔
ہم نے اس مختصر مضمون میں ابھی تک مسٹر محمد علی لاہوری بلکہ کل فرقہ مرزائیہ کی عمدہ ترین دلیل کو جس پر انہیں بہت ناز ہے مخزن اور منبع تمام خرابیوں اور فسادات کا ثابت کیا ہے لیکن دو باتیں بتانی اور باقی ہیں۔
- ......١ اول یہ کہ آیت مذکورہ کے اصل معنی کیا ہیں۔
- ......٢ یہ کہ سچے اور جھوٹے میں امتیازی نشان کیا ہے۔
مگر ان ہر دو مباحث کو ہم اس وقت اس لئے ملتوی کرتے ہیں کہ اوّل ایڈیٹر ”ریویو آف ریلیجنز“ اپنے اس امتیازی نشان کو واپس لیں اور آیت مذکورہ کے معنے سمجھنے میں استفادہ کے خواہش مند ہوں۔ اگر وہ کسی تعلیم یافتہ اور بے لاگ جیوری کو جسے وہ خود غیر مرزائیوں میں سے منتخب کریں یہ یقین دلا سکیں کہ جو امتیازی نشان انہوں نے مقرر کیا ہے وہ قابل قبول ہے یا ان کے بتائے ہوئے معنے قرآن کی آیات کو ملانے سے نکلتے ہیں کہ جو مذہب چل جائے وہ ضرور سچا ہے۔
١٥
تب ہم کو دوسرے تنقیحات پر بحث کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ لیکن اگر وہ اپنے دعویٰ سے عاجز ہوں تو ہم کسی آئندہ تحریر میں اس بحث کے باقی حصے کو ہدیہ ناظرین کریں گے۔ اگرچہ اس نمبر میں ہم اس مضمون پر مفصل بحث نہیں کریں گے مگر بطور مشورہ حکیم نورالدین قادیانی اور محمد علی قادیانی سے عرض کریں گے کہ حیات دنیا کی امداد کے وعدے کی تفسیر اور توضیح کرنے سے پہلے وہ اس آیت کو بھی اپنے سامنے رکھیں۔
كُلَّمَا جَاءَ هُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوَى اَنْفُسُكُمْ اِسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُوْنَ‘‘ (البقرة ٨٧) جس وقت کوئی رسول ان کی نفسانی خواہش کے خلاف آیا تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کیا۔
دوسرے ان آیات پر غور کریں جہاں کافروں اور بدکاروں کو اس دنیا میں مہلت دینے کا ذکر ہے اور یہاں تک لکھا ہے کہ لوگ دھوکے میں نہ پڑ جاتے تو کفار کے مکانوں کی چھتیں ہم سونے چاندی کی کر دیتے۔
اور وہ اس پر بھی غور کریں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بے ادبی بمقابلہ مرزا قادیانی کے اس وجہ سے الحکم اور متوفی سیالکوٹی نے بار ہا کی ہے کہ ان کے مددگار کم تھے۔ اس سے قادیانی جماعت کی قوت ایمانی اور خوف خدا کا پتہ کہاں تک چلتا ہے اور کیوں ہم ان کے سلسلہ کو محض اس وجہ سے مسیحی سلسلہ سے بہتر سمجھ لیں؟ کہ گورنمنٹ انگریزی بہ نسبت رومیوں کے زیادہ فیاض طبع اور عادل ہے اور مدعیان مذہب کو سخت سزائیں نہیں دیتی۔
(غلام الثقلین)
ضمیمہ..... خواجہ غلام ثقلین صاحب کا یہ مضمون چونکہ نہایت متانت اور تہذیب اور انصاف سے لکھا گیا ہے اس لئے عصر جدید سے اس مضمون کو علیحدہ کر کے طبع کرایا گیا۔ خواجہ صاحب کے اس مضمون کی زیادہ تحقیق اور تفصیل رسالہ عبرت خیز اور فیصلہ آسمانی حصہ ٢ میں صفحہ ٣١ سے ٨٠ تک ہے۔ ناظرین اسے دیکھیں۔ ان دونوں رسالوں میں تاریخی تواتر اور آیات قرآنی سے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں نبی ایسے بھی ہوئے ہیں جو قتل کئے گئے۔ سخت سے سخت مصیبت میں مبتلا رہے۔ ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں۔ اس کے خلاف بہت جھوٹے مدعیان نبوت اور کافر۔ فاسق، عمر بھر راحت اور چین کی زندگی بسر کرتے رہے اور کرتے ہیں اور ایمانداروں سے زیادہ عیش و آرام میں ہیں۔ بلکہ ان میں سے ایسے بھی ہوئے جنہیں تمام عمر کبھی سر میں درد بھی نہ ہوا۔ ان دونوں باتوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا کی راحت اور عیش و آرام سچوں کی فلاح اور کامیابی کا معیار ہرگز نہیں
١٦
ہوسکتا۔ ”وَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا اِلَّا غُرُوْرًا“ اس پر وہی فخر کرسکتا ہے جس کا مقصد اعلیٰ صرف دنیا ہو۔ ان دونوں رسالوں کو دیکھنے کے بعد قادیانی جماعت کی ایک اعلیٰ قابل ناز وفخر دلیل بیکار ہوجاتی ہے اور رسالہ معیار المسیح دیکھنے سے مرزا غلام احمد قادیانی کی کامیابی کی حقیقت بھی کھلتی ہے۔ فقط
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆...... قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ مرتد مرد یا عورت
سے نکاح نہیں ہوتا۔ اس لئے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہوگی وہ ولد الحرام ہوگی۔
- ☆...... مرزا قادیانی کے بلند بانگ مگر بے بنیاد دعوے
”مراق“ کا کرشمہ ہے۔
- ☆...... وہ وکلاء جنہوں نے دین محمدی ﷺ کے خلاف
قادیانیوں کی وکالت کی قیامت کے دن مرزا غلام احمد قادیانی کے کیمپ میں ہوں گے۔
اد
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆......☆...... مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆......☆...... قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
- ☆......☆...... مرزائیو میرے اس سوال کا جواب دو کہ ٥٢ سال
جھوٹ بکنے والا مسیح موعود کیسے بن گیا ؟۔
☆......☆......☆
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆......☆...... کسی مرزائی کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ،
چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔
- ☆......☆...... جس شخص نے کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے
ہیں وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔
- ☆......☆...... مرزائیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ محارب
کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
☆......☆......☆
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(١٤)
حضرت مولانا عبد الغفار خانؒ
حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی چیلنج
یہ چیلنج اس بات پر دیا گیا ہے کہ ہمارے علمائے کاملین نے کامل طور سے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ کی رو سے مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹے تھے۔ اب حضرت مسیح کی حیات وممات کے ذکر کو خواہ مخواہ چھیڑنا صرف مرزا قادیانی کے کذب پر پردہ ڈالنے کی غرض سے ہے اور اصل مدعا سے گریز کا ایک طریقہ نکالا ہے۔ اب مرزائیوں کا فرض ہے کہ اس بحث کے پیش کرنے کی وجہ بیان کریں۔ مگر اس چیلنج کو اچھی طرح دیکھ کر ۔ اسے خوب سمجھ لیں کہ جس کا جھوٹا ہونا ہر طرح ثابت ہو گیا ہو۔ اس کے ماننے والے اس کی صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہوں، وہ مسیح موعود کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے جھوٹے کی صداقت قرآن شریف سے ثابت سمجھنا، اللہ و رسول کو سخت الزام دینا ہے۔ اگر کچھ عقل ہے تو اسے سمجھو؟
٢
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُ اللّٰهَ العَظِيْمَ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
مرزائی حضرات مرزا غلام احمد قادیانی کو خدا کا رسول اور اس کا برگزیدہ سمجھتے ہیں اور صرف مانتے ہی نہیں ہیں بلکہ دوسروں سے منوانے کے لئے بڑے کوشاں ہیں۔ اعلانیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی خدا کے برگزیدہ تھے۔ انہیں مانو، اہل حق نے ان کے سمجھانے کے لئے بہت کوشش کی اور کر رہے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔ ہمارے رسالوں کو تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھتے ہی نہیں۔ جو ان کے مرشد نے کہہ دیا ہے اسی پر ان کا عمل ہے۔ اگرچہ وہ عقلاً اور نقلاً کیسا ہی غلط ہو۔ میں نے اسلامی اعلان میں چالیس سے زیادہ ان رسالوں کے نام بتائے ہیں جن میں مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن سے، صحیح حدیثوں سے، عقل سے، مرزا قادیانی کے پختہ اقراروں سے، ان کے جھوٹے دعویٰ سے، یقینی طور سے ثابت کر دیا ہے۔ میں نے اسلامی اعلان میں بہ نظر خیر خواہی اس کا نمونہ دکھایا ہے اور اسے کثرت سے شائع کیا ہے۔ اب مرزائیوں کا فرض تھا کہ ان رسالوں کو منگوا کر دیکھتے اور ہمارے الزامات کا جواب دیتے اور اپنے جھوٹے نبی کی صداقت ثابت کرتے، یہ تو کسی سے نہ ہوسکا، مگر ایک سیالکوٹی مرزائی نے ہمارے اعلان کے جواب میں اپنا چیلنج ہمارے پاس بھیجا۔ جس میں انہوں نے اپنے جاہلانہ خیال کے موافق حضرت مسیح کی موت ثابت کی ہے اور مسلمانوں کے اس خیال کو غلط بتایا ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور ہم سے اس کا جواب طلب کیا ہے۔ اس سے ان کی کمال ناواقفی اور تیرہ درونی ثابت ہوتی ہے دو وجہ سے۔
ایک یہ کہ ہر فہمیدہ اس کو سمجھتا ہے کہ جو اعلان میں نے بھیجا تھا اگر وہ ان کے خیال کے بموجب غلط تھا تو اس کا جواب دیتے اور اس جواب کے ساتھ اپنا چیلنج بھیجتے، مگر یہ نہیں کیا۔
دوسرے یہ کہ حیات مسیح کے ثبوت میں بہت رسالے لکھے گئے ہیں۔ رسالہ ”حفاظت ایمان“ میں پندرہ رسالوں کے نام بتائے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے رسالے ہیں۔ عبدالکریم سیالکوٹی مرزائی کے رسالے کی تو کیا حقیقت ہے۔ ان کے مرشد نے ازالۃ الاوہام میں حضرت مسیح
٣
کی ممات ثابت کرنے پر زور لگایا ہے اس کی ایسی دھجیاں اڑائی ہیں کہ باید و شاید اور کسی نے ان کا جواب نہیں دیا۔ پھر کس منہ سے اس بحث کا چیلنج دیا جاتا ہے۔ سیالکوٹی صاحب! میرے اسلامی اعلان کے جواب میں اپنا چیلنج بھیجنا ایسا ہی بے جوڑ ہے جیسے مشہور مثال میں کہا جاتا ہے کہ ”مارے گھٹنا سر لنگڑائے۔“
میاں! جب ہم نے نہایت پختہ اور یقینی دلیلوں سے آپ کے مرشد کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے اظہر من الشمس کر دیا تو حضرت مسیحؑ کا مردہ ہونا ایسے جھوٹے کو سچا کیسے کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی صاحب عقل اس کو باور نہیں کر سکتا کہ اگر مسیح مر گئے تو ان کی جگہ ایسا جھوٹا شخص جسے قرآن و حدیث نے جھوٹا ثابت کر دیا ہو وہ مسیح موعود ہو جائے؟ سیالکوٹی صاحب! ذرا ہوش کر کے اس کا جواب دو؟ مگر ہم کہتے ہیں نہیں دے سکتے۔ اگر دعویٰ ہے تو ہمارے الزاموں کا شافی جواب دیجئے۔ اس کے طے ہونے کے بعد دوسری بات پیش کیجئے گا۔ اگر ہوش باقی رہے۔ بھلا اور رسالوں کا جواب تو کیا دیں گے میں نے اعلان کے ابتداء میں ان کے عقیدے لکھے ہیں جن سے ان کا جھوٹا ہونا ہر طرح ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً پہلے یہ عقیدہ مرزا کا دکھایا ہے کہ ”خدا جھوٹ بولتا ہے (نعوذ باللہ) دوسرے یہ کہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔“ اب میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ میرا کہنا صحیح ہے یا نہیں۔ اگر ان کے خیال میں صحیح نہیں تھا تو مجھے لکھتے کہ تمہارا یہ الزام غلط ہے، اس کا ثبوت دو۔ مگر یہ نہیں کیا اس سے کامل طور سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی میرا لکھنا صحیح ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کے نزدیک خدا جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔ جب میرا قول صحیح ہے تو اب فرمائیے کہ کون عقلمند ایسے خدا کو اور اس کے رسول کو مان سکتا ہے؟ اور جو کوئی مانے تو اس وقت کے دہریہ کس قدر اس کا مضحکہ کریں گے اور اگر میں نے غلط لکھا ہے تو آپ کو چاہئے تھا کہ مجھے اس غلطی کا الزام دیتے اور مجھ سے دریافت کرتے۔ مگر ایسا نہیں کیا، بلکہ بے جوڑ ایک چیلنج بھیج دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اس الزام کے جواب سے عاجز ہیں۔ مگر بات کو ٹالنا چاہتے ہیں اور دوسری بحث چھیڑ کر اپنے مرشد کے کذب پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
مرزائی صاحب یہ چیلنج آپ کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ہمارے اسلامی اعلان کے مقابلہ میں یہ چیلنج دے کہ تم جو آسمان کی گردش مانتے ہو یہ غلط ہے۔ بلکہ زمین چکر کھاتی ہے۔ تم آسمان کی گردش کو ثابت کرو، اس کا جواب ہم یہی دیں گے کہ ہم نے تو بہ نظر خیر خواہی آپ کو اس امر پر متنبہ کیا کہ آپ بہک گئے ہیں۔ آپ کی عاقبت خراب ہو گی۔ ہمارے اعلان کو دیکھ کر اپنے ایمان کو
٤
درست کیجئے۔ آسمان کی گردش کے غلط ہونے سے آپ کا ایمان درست نہیں ہو سکتا۔ اور زمین کی گردش صحیح ہونے سے آپ کے مرشد سچے نہیں ہو سکتے۔ اس طرح حضرت مسیح کے مر جانے سے مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ قطعا جھوٹے کذاب ہیں۔ اسلئے آپ کو ان سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
”مَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى“ (البقره ٢٥٦)
ترجمہ (یعنی جس نے طاغوت سے انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی کو پکڑا) یہاں اللہ تعالیٰ نے طاغوت سے انکار کرنے کو ایمان باللہ سے پہلے بیان فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ جھوٹے سے علیحدہ ہونا اور اسے برا سمجھنا ایمان کا پہلا جز ہے اور اللہ پر ایمان لانا اس کا دوسرا جز ہے۔ اس لئے آپ اپنے طاغوت یعنی مرزا قادیانی سے پہلے انکار کیجئے پھر آپ کا ایمان درست ہوگا۔ ورنہ آپ کا ایمان باللہ بے کار ہے۔
اب اگر کسی کو میرے قول میں تردد ہو اور کہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کر کے خدا پر ایسا الزام لگائے۔ تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی یہی حالت ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کو درحقیقت نہیں مانتے۔ مسلمانوں کو فریب دینے کو ظل اور بروز اور محبت رسول کا دعویٰ تھا۔
اب اس کا ثبوت ملاحظہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کی نسبت فرماتا ہے۔
”وَآتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ“ الخ (البقره ٨٧) ہم نے اسے معجزات دیئے۔ دوسری جگہ ان معجزات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ ”اَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ “ الخ (آل عمران ٤٩) یہاں نہایت صاف طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١) میں اس سے صاف انکار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ”حق یہ ہے کہ آپ (یعنی حضرت عیسیٰ) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ۔“ کہیے یہ صریح قول خداوند کی تکذیب ہوئی یا نہیں۔ اور اس قدوس لم یزل کو حضرت مسیح کے معجزات کے بیان میں مرزا قادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا یا نہیں؟ یہ نہ کہہ دینا کہ الزاماً لکھا ہے۔ کیونکہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک جو امر واقعہ اور حق ہے اسے بیان کرتے ہیں۔ صرف الزام نہیں دیتے۔
دوسرا شاہد ملاحظہ کیجئے ۔ وہی منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی دیکھئے۔ (جس نے مرزا
٥
قادیانی کو بہت بدنام و رسوا کیا ) اس کے نکاح میں آنے کی نسبت کیسے پختہ وعدے خداوندی مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٢٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں الہام الٰہی کے الفاظ انہوں نے اس طرح لکھے ہیں ”انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی ...... خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا ۔“ اس بیان پر غور کیا جائے کہ کیسا حتمی وعدہ ہے اور کس قدر تاکیدوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور برسوں وعدہ ہوتا رہا مگر آخر کار پورا نہ ہوا۔
اب یہاں مرزا قادیانی کے قول کے بموجب خدا تعالیٰ کی کیسی کذب بیانی اور وعدہ خلافی ثابت ہوئی۔ بلکہ فریب ثابت ہوا۔ یا یہ کہئے کہ وہ عالم الغیب نہ تھا۔ قادر مطلق نہ تھا۔ ورنہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوتا۔ جب یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو بالضرور خدا کا جھوٹا ہونا اور اس کے رسول یعنی مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا لازم آیا۔ کیونکہ انہوں نے بڑے زور سے اس پیشین گوئی کو اپنے لئے صداقت کا نہایت عظیم الشان معجزہ کہا تھا۔ جب اس معجزہ کا ظہور نہ ہوا، تو اس دعویٰ میں وہ جھوٹے ٹھہرے اور قرآن مجید کے نص قطعی اور تورات کے صریح بیان سے جھوٹے قرار پائے۔
اب سیالکوٹی عبد الکریم مرزائی فرمائیں کہ حضرت مسیح کی موت کا ثبوت مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کا جواب ہو سکتا ہے؟ کیا ان کا مہمل چیلنج اس اعلانیہ کذب کے دھبہ کو دھو سکتا ہے؟ کیا اس وعدہ کے پورا نہ ہونے سے مرزا قادیانی قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے بموجب کذاب و مفتری نہیں ہوئے؟ ضرور ہوئے۔ حضرت مسیح کی ممات کا ثبوت ان نصوص قطعیہ کو مٹا کر مرزا قادیانی کا سچا ہونا ثابت نہیں کر سکتا؟ یہ آپ کا چیلنج محض بے کار ہے۔ ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے مرشد کا جھوٹا ہونا ثابت نہ کیا ہوتا تو ہم اس طرف توجہ کرتے ۔ کچھ عرصہ ہوتا ہے کہ مونگیر سے ایک مضمون قادیان بھیجا گیا تھا۔ جس میں مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث سے ثابت کیا گیا ہے، وہ بھی ایک چیلنج تھا۔ مگر اس وقت تک تو آپ کے خلیفہ کی جرأت نہ ہوئی کہ کچھ جواب دیتے۔ پھر آپ کس منہ سے چیلنج دیتے ہیں، اب میں اسے نقل کر کے آپ کو دیکھاتا ہوں، آپ قادیان سے اس کا جواب منگوا کر ہمیں بھیجئے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک پختہ دلیل یہ بھی ہے کہ انہیں نبوت کا دعویٰ ہے اور وہ اپنے آپ کو مستقل نبی صاحب شریعت سمجھتے ہیں اور نہایت صفائی سے بعض عظیم المرتبت انبیاء سے اپنے آپ کو بہت افضل کہتے ہیں۔ اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس وقت یہ بیان کیا جاتا
٦
ہے کہ قرآن مجید سے اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہو سکتا۔ ان کے اس دعویٰ سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو آیت قرآنی ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ (احزاب:٤٠) سے دلی انکار ہے۔ مگر چونکہ جانتے ہیں کہ ہمارے دعویٰ کو صرف مسلمانوں ہی نے مانا ہے۔ کوئی ہندو، کوئی آریہ، کوئی عیسائی، ان پر ایمان نہیں لایا اس لئے صاف انکار تو نہیں کرتے۔ بلکہ صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کر کے کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ عوام کے دھوکا دینے کی غرض سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے۔ آیت مذکورہ سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ کی رو سے جسے نبی کہا جائے اور قرآن وحدیث میں جس کو رسول یا نبی کہا ہے ان سب کے آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی سب کے آخر میں آنے والے کیونکہ خاتَم النَّبِیّٖنَ کے معنی لغت میں اور محاورہ عرب میں آخر النبیین کے ہیں۔ یعنی تمام انبیاء اور ہر قسم کے نبیوں کے بعد آنے والے۔ پھر آپؐ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا آنے والا نہیں۔ اور قرآن مجید کے بیان کا قرینہ بھی اسی کا شاہد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن مجید سے اکیس پارہ تک بہت سے انبیاء تشریعی وغیر تشریعی امتی وغیر امتی کا ذکر کر کے بائیسویں پارہ میں یہ آیت نازل کی اور جناب رسول اللہ ﷺ کی ایک خاص صفت خاتم النبیین ہونے کی بیان فرمائی۔ اس میں النبیین جمع ہے اور اس پر الف اور لام استغراق کا ہے، جس سے اشارہ ان تمام انبیاء کی طرف ہے جن کا ذکر اس سے پہلے ہو لیا ہے اور خاتم کا لفظ جب النبیین کی طرف مضاف کیا گیا تو محاورہ عرب کے لحاظ سے اس کے معنی آخر النبیین کے ہوئے۔ اب خاتم کے معنی مہر کے لینا یا یہ کہنا کہ آپؐ تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ لغت سے اور بیان مذکورہ سے نہایت ظاہر ہے کہ جتنے انبیاء تشریعی اور غیر تشریعی کا ذکر اس آیت سے پہلے ہو لیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ اور ان کے بعد والے سب کے آخر میں آپؐ آنے والے ہیں۔ جس طرح سورج تمام تاروں کے بعد سب کے آخر میں صبح کو نکلتا ہے اور بے شمار تاروں کی روشنی چھپ جاتی ہے اور ایک سورج کی روشنی ان بے شمار تاروں کی روشنی سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حضرت سرور عالم کا آفتاب نبوت اس لئے آخر میں چمکا، تاکہ معلوم کرنے والے خوب جان لیں کہ آپؐ کا وہ مرتبہ عالی ہے کہ آپؐ کے فیوضات اور انوار نبوت کے بعد کسی کا چراغ نہیں جل سکتا۔ تمام انبیاء مثل تاروں کے ہیں اور آپؐ
٧
مثل آفتاب کے ہیں۔ قیامت تک آپؐ کی نبوت کی روشنی چمکتی رہے گی اور جس طرح سورج کے غروب ہوتے ہی دن کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح آپؐ کی نبوت کے ختم ہوتے ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آپؐ کی نبوت کے زمانہ میں کوئی نبی کسی طرح کا نہیں آئے گا۔ اور بمقتضائے ، العلماء ورثۃ الانبیاء کے علماء وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے۔ لسان العرب (ج ٤ ص ٢٥) جو عربی لغت کی نہایت مستند کتاب ہے اور اس وقت عرب میں اس کا نہایت اعتبار ہے اس میں لکھا ہے۔
”ختام الوادی اقصاه و ختام القوم وَخَاتِمُهُمْ وَخَاتَمُهُم آخرهم...... وفي التنزيل العزيز مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اى آخرهم“
ترجمہ: ”یعنی عرب اپنے بول چال میں جو ختام الوادی کہتے ہیں اس کے معنے ہیں اس میدان کی انتہا یعنی جس مقام پر میدان کی انتہا ہوئی ہے اسے ختام الوادی کہتے ہیں۔ اسی طرح جب اہل عرب لفظ ختام کو یا خاتم کو قوم کی طرف مضاف کرتے ہیں اور خَاتِمِ القوم یا خَاتَمَ القوم کہتے ہیں تو اس کے معنی آخر قوم کے ہوتے ہیں۔ یعنی جسے خاتم القوم کہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ ساری قوم کا آخر، مطلب یہ ہوا کہ مثلاً ایک قوم کے آدمی یکے بعد دیگرے آئے۔ سب کے آخر میں جو آیا اسے خاتم القوم کہیں گے۔ (اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ختام اور خاتم جب کسی ایسی چیز کی طرف مضاف ہو۔ جس میں وسعت ہے تو اس کی وسعت جہاں ختم ہوئی ہے اس جگہ کو ختام کہتے ہیں۔ اور جب لفظ خاتم ایسے لفظ کی طرف مضاف ہو جس کے بہت سے افراد ہیں مثلاً لفظ قوم ہے اور خاتم القوم کہیں تو اس کے یہی معنی ہیں کہ ساری قوم کا آخر۔ اسی طرح جب اس لفظ کو النبیین کی طرف مضاف کریں گے تو اس کے معنی آخر النبیین کے ہوں گے۔) اس بیان کے بعد صاحب لسان، قرآن مجید کی مشہور آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ الخ نقل کر کے خاتم النبیین کے معنی آخرہم کے بیان کرتے ہیں۔ یہ معنی اگرچہ پہلے بیان سے معلوم ہوگئے تھے مگر بالتخصیص آیت کو نقل کر کے اس کے وہ معنی بیان کرنا جو بیان سابق سے سمجھے جاتے ہیں اسی غرض سے ہے کہ صاحب کتاب محققین کی طے شدہ بات کو بیان کرتا ہے تا کہ کوئی ناواقف دوسرے معنی نہ لے اور اگر کوئی گمراہ دوسرا معنی لے تو اسے الزام دیا جاسکے۔ یعنی خاتم کے معنی اگرچہ مہر کے بھی آتے ہیں مگر یہاں وہ معنی نہیں ہیں۔ یہاں بالاتفاق اس کے معنی آخر کے ہیں تمام محققین اہل لغت یہی معنی
٨
بیان کرتے ہیں چنانچہ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے۔ "الخاتم من كل شئی عاقبته واخرته وَالْخَاتِمُ اخِرُ الْقَوْمِ كَالْخَاتَمِ ومنه قوله تعالىٰ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اى آخر" ترجمہ (یعنی ہر شے کے انجام کو خاتم کہتے ہیں۔ اسی طرح خاتم القوم آخر قوم کو کہتے ہیں اور قرآن مجید میں جو خاتم النبیین ہے اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں اور یہی بات مختار الصحاح سے ظاہر ہے۔) اب قادیانی مربی ان کتابوں کی صراحت کو دیکھیں کہ کس صفائی سے خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے بیان کئے ہیں اور خاص قرآن مجید کے الفاظ نقل کر کے وہی معنی بیان کر دیئے جو ہم بیان کرتے ہیں۔
جب قطعی طور سے معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی محاورہ عرب میں آخر النبیین کے ہیں تو بالیقین ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جناب رسول اللہ ﷺ کو آخر النبیین فرمایا ہے یعنی حضور انور تمام انبیاء کے آخر میں آئے ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا۔ جس کے انکار سے کوئی مسلمان کافر ہو جائے کیونکہ قرآن مجید لغت عرب میں نازل ہوا ہے۔ اس لئے اس کے وہی معنی لئے جائیں گے جو محاورہ عرب میں آئے ہیں اور بیان مذکور سے ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہو گیا کہ حضور انور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی طرح صحیح حدیثوں سے بھی ثابت ہے کہ حضور انور ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی نہیں آئے گا۔ جھوٹے مدعی نبوت ہوں گے۔
آپ کے آخر الانبیاء ہونے کا مقصد یہ ہے کہ جس قدر انبیاء بھیجے گئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے اور آنحضرت ﷺ سلطان الانبیاء سرور عالم ہیں۔ آپ کے بعد کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ یہ آپ کی شان رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ تجربہ اس کا شاہد ہے کہ جب نبی آئے تو بعض پہلے نبی کے ماننے والوں نے بھی انکار کیا اور وہ مسلمان نہ رہے۔ جہنم کے مستحق ہوئے۔ اب اگر حضور انور کے بعد بھی نبی مبعوث ہوتے تو حسب عادت بعض آپ کے امتی بھی ان سے انکار کرتے اور جہنم کے مستحق ہوتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ جناب رسول اللہ کے بعض ماننے والے بھی جہنم میں جائیں۔ مگر کسی سچے مسلمان کے دماغ میں یہ خیال کسی طرح نہیں آ سکتا کہ جس نبی کریم کی صفت رحمت ہو۔ جس کی شان کو اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے۔ جس سے
٩
خاص خطاب کر کے فرمائے ”وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ“ (الانبیاء ١٠٧) یعنی ہم نے تجھے سارے جہان کی رحمت کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔ اس کی شان کسی وقت ایسی ہو سکتی ہے کہ اس کا ماننے والا جہنمی ہو جائے اور وہ ایسی عام رحمت سے محروم رہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ مرزا غلام احمد ہی کی دریدہ دہنی ہے کہ دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ اس حبیب کبریا رحمۃ للعالمینؐ کے ماننے والوں کو جہنمی کہتا ہے اور حضور انور کی شان میں سخت دھبہ لگاتا ہے۔ حضورؐ کے بعد نبی کی اس لئے بھی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی امت کے علماء کو وہ شرف دیا ہے کہ انبیائے بنی اسرائیل جو کام کرتے تھے وہی علمائے امت کریں گے۔ اب وہ حدیثیں بھی ملاحظہ کیجئے جن سے آیت مذکور کی تفسیر اور مرزا قادیانی کا کاذب ہونا یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہیں
- ١۔ حدیث...... ”ابن ماجہ (ص ٢٩٧ باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم ) میں ابوامامہ
الباہلیؓ سے دجال کے بیان میں ایک طویل حدیث مروی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم اس پر خوب غور کیا جائے کہ اس حدیث میں صاف لفظ آخر الانبیاء ہے خاتم الانبیاء نہیں ہے جس سے ثابت ہوا کہ خاتم الانبیاء کے معنی آخر الانبیاء کے ہیں۔
مطلب...... یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی امت سے خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں ہو۔ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی دوسری امت ہے۔ اے عزیز دیکھو جس طرح لغت اور محاورہ عرب سے ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں اسی طرح حدیث رسول اللہ ﷺ سے بھی نہایت صراحت سے ثابت ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں اور حضورؐ آخر النبیین ہیں۔
- ٢۔ حدیث...... ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا
خاتم النبیین لا نبی بعدی “
ترجمہ...... یعنی میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا نبی سمجھے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا اور جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
اس مضمون کو امام بخاری (ج ١ ص ٥٠٩ باب علامات النبوۃ فی الاسلام اور مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ فصل فی قولہ ان بین یدی الساعۃ کذابون اور ابودائود
١٠
ج ٢ ص ١٢٧ باب ذکر الفتن و دلائلھا اور ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں تامل کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
اوّل! یہ کہ حضور انور ﷺ پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ میرے بعد میری امت میں جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔
دوم! یہ کہ ان کے جھوٹے ہونے کی یہ علامت بیان فرمائی کہ امت محمدی ہونے کا دعویٰ کریں گے اور اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کے مدعی ہوں گے۔ یہ علامت مرزا قادیانی میں پورے طور سے پائی گئی اس لئے وہ جھوٹے مدعیوں میں ہوئے۔
سوم! ان کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل فرمائی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی. یعنی وہ جھوٹے نبوت کا دعویٰ کریں گے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ میرا خاتم النبیین ہونا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس سے خاص طور سے اس مدعی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا جو اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور اپنے آپ کو امتی نبی کہے۔ اور مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا۔ اس لئے بموجب ارشاد جناب رسول اللہ ﷺ کے مرزا قادیانی جھوٹے ٹھہرے اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔
چہارم! نہایت صراحت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لفظ خاتم النبیین کے معنے فقط آخر النبیین کے ہیں۔ جس طرح محاورہ عرب اور لغت سے پہلے ثابت کیا گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث سے بھی نہایت صفائی سے یہ ثابت ہوا، اور یہ معنی نہیں ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ انبیاء کی مہر ہیں۔ یا زینت ہیں اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جملہ ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں بیان ہوا ہے۔ اگر مہر کے معنے لئے جائیں تو ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہو سکتی۔ یعنی پہلے یہ ارشاد ہوا کہ میری امت میں جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے۔ پھر ان کی یہ حالت بیان فرمائی کہ ان میں ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اس ارشاد کے بعد آپ فرماتے ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کا نہایت صاف مطلب یہی ہے کہ خدا نے مجھے خاتم النبیین بنایا ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس لئے ان کا دعویٰ نبوت کرنا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اب اگر خاتم النبیین کے معنی مہر کے لئے جائیں تو کوئی مرزائی بتائے کہ حدیث کے کیا معنے ہوں گے؟ مگر
١١
یہ یقینی بات ہے کہ اگر یہاں خاتم کے معنے مہر کے لئے جائیں تو یہ جملہ غلط ہو جائے گا بلکہ حدیث کے مطلب کو بگاڑ دے گا۔ دوسرے یہ کہ خاتم النبیین کے بعد جملہ لا نبی بعدی کا اضافہ کیا گیا۔ جس سے نہایت واضح ہو گیا کہ انا خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں کہ میں آخر النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، یہ بیان دو طریقوں سے ثابت کرتا ہے کہ یہاں خاتم کے معنی مہر کے نہیں ہیں بلکہ آخر کے ہیں۔
پہلا طریقہ! یہ کہ جملہ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ مدعیان نبوت کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی وہ مدعی اس لئے جھوٹے ہوں گے کہ میں آخر النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے اس کا یہ دعویٰ اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔
دوسرا طریقہ! یہ ہے کہ اس کے بعد لا نبی بعدی کہہ کر اس کی شرح کر دی اور فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی کسی طرح کا نہیں ہے۔ کیونکہ عربی دان واقف ہیں کہ یہاں لا نفی جنس کا ہے اور لفظ نبی نکرہ ہے۔ اس لئے ہر قسم کے نبی کی نفی ہو گئی۔
پنجم! اس حدیث کے الفاظ اور معنی پر نظر کرنے کے بعد جب واقعات پر نظر کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد بعض نبوت تشریعی کے مدعی ہوئے۔ جیسے صالح بن طریف متقدمین میں اور بہاء اللہ بابی متاخرین میں اور بعض غیر تشریعی نبوت کے جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ ان سب کے جھوٹے ہونے کی آپؐ نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ میں آخر النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے اس لئے وہ جھوٹے ہیں۔ اس سے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ آپؐ کے بعد تشریعی غیر تشریعی۔ امتی، غیر امتی، ظلی، بروزی، کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ کیونکہ خاتم کی اضافت نے اور لا نبی بعدی کے لائے نفی جنس نے ہر قسم کے نبی کی نفی کردی۔ اس کو اہل علم خوب جان سکتے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ جو رسول خداؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ خصوصاً جو امتی نبی ہونے کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا تو آفتاب نیمروز کی طرح اس حدیث سے روشن ہو گیا۔
ششم! اس حدیث سے آیت قرآنیہ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ کی تفسیر بھی پورے طور سے ہو گئی اور وحی خداوندی کی تفسیر صاحب وحی نے کر دی اور وہ تفسیر بھی الہام خداوندی سے کی جس کا ذکر اوپر کیا گیا اور یہ تفسیر بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ مذکورہ حدیث میں جو تیس جھوٹے مدعیوں کے آنے کی خبر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں
١٢
ہے کہ قیامت تک تیس ہی جھوٹے آئیں گے اور ان کے سوا اگر اور مدعی ہوں گے تو سچے ہوں گے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ غرض یہی ہے کہ میرے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ اس کا اثبات بالمشافہ کیا جائے گا اور آپ اور حاضرین جلسہ دیکھ لیں گے کہ الفاظ حدیث سے کس خوبی سے ثابت کر دیا گیا کہ جناب رسول اللہؐ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ اگرچہ تیس ہزار مدعی ہوں۔
الغرض اس حدیث میں جو علامت جھوٹے مدعیانِ نبوت کی بیان ہوئی وہ مرزا قادیانی میں یقینی طور سے پائی جاتی ہے اور حدیث کا آخری جملہ بھی انہیں کاذب ثابت کرتا ہے۔ اس حدیث کے سوا اور بھی حدیثیں اس مضمون کی اس قدر ہیں کہ اس کے متواتر ہونے میں کوئی تردد نہیں ہو سکتا۔ بعض روایتیں اور بیان کی جاتی ہیں۔
٣۔ حدیث...... ”انا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى“ صحیح بخاری (ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول) اور مسلم (ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ ﷺ)
مطلب! رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ جسطرح پہلی حدیث سے ثابت ہوا تھا کہ حضور انور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اسی طرح اس حدیث سے بھی ثابت ہوا۔
ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں
٤۔ حدیث...... ”كان رسول الله ﷺ يسمى لنا نفسه اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفى“ الخ
(صحیح مسلم ۔ ج٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ ﷺ)
مطلب! رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد نام بیان فرمائے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مُقَفّیٰ ہوں اور مقفّیٰ کے معنی محدثین نے وہی بیان کئے ہیں جو عاقب کے ہیں۔ یعنی آخر الانبیاء اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے
(نووی شرح مسلم وغیرہ دیکھو)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ کا نام احمد بھی ہے۔ یہ وہ نام مبارک ہے جو قرآن شریف میں نہایت صراحت سے آیا ہے اور کلام الٰہی بتا رہا ہے کہ یہ نام مبارک جناب رسول اللہ کا ہے۔ اس حدیث میں اس اجمال کی جو قرآن شریف میں تھا اور زیادہ تفصیل کر دی۔ اب کسی کاذب کو جائے دم زدن نہیں ہے۔ اب بعض قادیانیوں کا یہ کہنا کہ یہ نام حضور انور کا نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد کا ہے۔ محض غلط ہے، غلام ہو کر مولیٰ بننا چاہتے ہیں۔
١٣
- ٥۔ حدیث.......”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه
نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا ما تأمرنا قال فوابيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم وان الله سائلهم عما استرعاهم.“
(صحیح بخاری (ج ١ ص ٤٩١) باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)
مطلب! ”بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ خلفاء ہوں گے (جو مسلمانوں کے تمام امور کا نظم کریں گے) اور ان کی کثرت ہوگی۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپؐ ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں، یعنی جب بہت سے ہوں گے تو اگر ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے۔)
”حکم ہوا جس سے پہلے بیعت کرلو اس کو پورا کرو اور ان کے حقوق کو پورا کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا۔“
اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہو گیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اس میں لفظ ختم یا خاتم نہیں ہے۔ جس کے معنی میں گفتگو کی گنجائش ہو سکے بلکہ صاف طور سے یہ ارشاد فرمایا ” لا نبی بعدی“ جس کے معنی قطعی طور سے یہی ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی کسی طرح کا نہیں ہے۔ اس کے معنے سوا اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ یہ حدیث اس کتاب کی ہے کہ جس کی صحت کا مرتبہ بعد قرآن مجید کے مسلّمات سے ہے اور اس کا مضمون وہ ہے جس کی تائید قرآن مجید سے صاف طور سے ہوتی ہے۔ ”سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
”وَعَدَاللهُ الَّذِيْنَ امَنُوْ مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ“ (النور ٥٥)
مطلب! (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ بلاشک و شبہ ہم تمہیں ملک میں خلیفہ اور حاکم بنائیں گے جیسا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں بنائے تھے۔)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ امت محمدیہؐ پر اپنا انعام ظاہر فرماتا ہے اور نہایت صاف طور سے صرف خلافت کا وعدہ دیتا ہے۔ چنانچہ اول ظہور اس کا خلفاء راشدین سے ہوا۔ سب سے اول حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوئے۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ، ان کے بعد حضرت عثمان غنیؓ، ان کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ ہوئے۔ یہ زمانہ خلافت راشدہ کا ہوا۔ اس کے بعد اور خلفاء ہوتے رہے
١٤
اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ مگر اس آیت میں یا کسی اور آیت میں یہ وعدہ ہرگز نہیں ہے کہ تم میں ہم نبی پیدا کریں گے۔ حالانکہ اس آیت میں اس کے ذکر کا موقع تھا۔ کیونکہ اللہ پاک اپنا احسان ان پر جتا رہا ہے۔ اگر کوئی نبی آنے والا ہوتا تو آیت میں ضرور اس کا بھی وعدہ ہوتا۔ حدیث مذکورہ نے اس آیت کی کامل تفسیر کر دی کہ امت محمدیہ میں خلافت ہوگی نبوت نہ ہوگی۔ آیت سے ضمناً اور طبعاً سمجھا جاتا تھا۔ حدیث نے اس کی تفسیر کر دی اور اس آیت وحدیث سے خاتم النبیین کے معنی کی شرح بھی ہو گئی۔ یعنی رسول اللہ آخرالانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ”رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔“ ٦۔ حدیث.......”لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة“
(بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥ باب مبشرات)
مطلب! اب نبوت باقی نہیں رہی البتہ اچھے خواب باقی ہیں۔ مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کا یہ ارشاد مرض موت میں تھا۔
اس وقت میں یہ ارشاد فرمانا نہایت صاف دلیل ہے اس بات کی کہ آپؐ اپنی امت کو متنبہ کرتے ہیں کہ دیکھو نبوت ختم ہوگئی ہے۔ میری نبوت کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے اسے سچا نہ سمجھنا۔ یہ معمولی حدیث نہیں ہے۔ یہ صحیحین کی حدیث ہے اس کی صحت پر امت محمدیہ کا اتفاق ہے ۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث کا مضمون متواتر ہے بطور نمونہ یہاں چند حدیثیں پیش کی گئی ہیں۔
٧۔ حدیث.......”قال يا ايها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرؤيا الصالحة“
(ابوداؤد ج ١ ص ٨٩ باب الدعا فى الركوع والسجود اور نسائی ج ١ ص ١١١ باب الامر
بالاجتهاد فى الدعا فى السجود)
مطلب! (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! نبوت کی بشارتوں سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر اچھے خواب، یہ حدیث بھی مرض موت میں حضور انور ﷺ نے بیان فرمائی ہے ) امام احمد کنز العمال ج ١٥ ص ٣٧٧ حدیث نمبر ٤١٣٦٠ ج ٦ نمبر ٣٣٨١ اور ابن ماجہ مسلم ج ١ ص ١٩١ باب النھی عن قراۃ القرآن فی الرکوع وسجود، اور طبرانی ج ٣ ص ١٧٩ حدیث نمبر ٣٠٥١ روایت کرتے ہیں۔
١٥
- ٨۔ حدیث....... ”ذهبت النبوة وبقيت المبشرات“
(ابن ماجہ ص ٢٧٨ باب الرؤيا الصالحه) الخ
مطلب! نبوت ختم ہو چکی اور مبشرات باقی ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت باقی نہیں رہی آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا البتہ خواب باقی ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نائب رسول اللہ ﷺ اور کاملین امت کو سچے خواب ہوتے رہیں گے۔ جس سے امت کو آئندہ کی خبریں معلوم ہوتی رہیں گی۔ جن سے انہیں بشارت ہوتی رہے گی۔ اس حدیث کو طبرانی اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے یہ دونوں بڑے محدثوں میں ہیں۔ محدث ابی یعلیٰ روایت کرتے ہیں
- ٩۔ حدیث...... ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت ولا نبي ولا رسول بعدی“
(واللفظ لہ فلا رسول بعدی ولا نبی، مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٥٧ حدیث نمبر ٨٢٣٩)
مطلب ! (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی۔ میرے بعد اب نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ رسول ہوگا۔)
یہاں تک قرآن مجید کی دو آیتوں اور نو حدیثوں سے ثابت کر دیا گیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور پہلی حدیث میں تو نہایت صاف طور سے رسول اللہ ﷺ اپنے آپ کو آخر النبیین فرما رہے ہیں اور چھ حدیثوں میں لفظ ختم یا خاتم آیا ہے۔ جس کے معنی میں جائے دم زدن نہ ہو۔ دوسری حدیث میں لفظ خاتم النبیین بھی آیا مگر اس کے بعد ”لاَ نَبِيَّ بَعْدِيْ“ نے اس کی پوری شرح کر دی کہ خاتم کے معنی آخر کے ہیں مہر کے نہیں ہیں۔ اب ان نصوص صریحہ کے بعد امت محمدیہ میں نبوت کو باقی رکھنا صریح خدا اور رسولؐ کے فیصلہ سے انکار کرنا ہے مگر صراحتاً نہیں۔ باتیں بنا کر، اس میں شبہ نہیں کہ مرزا غلام احمد کو سچا مان کر یہ کہنا کہ ہم قرآن و حدیث کو مانتے ہیں ایسا ہی ہے جیسا یہود گوسالہ پرستی کرنے کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ ہم توریت کو مانتے ہیں۔
غرضیکہ اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد منصب نبوت باقی نہیں رہا۔ اس لئے اب جو دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ آخر النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہ ملے گا۔ اسی طرح احادیث صحیحہ
١٦
متواتر سے بھی نہایت صراحت سے بالیقین ثابت ہو گیا کہ آپ کے بعد مرتبہ نبوت کسی کو نہ ملے گا۔ اس کی وجہ بھی نہایت معقول بیان کر دی گئی۔ اب بعض جاہل قادیانیوں کا بعض آیت قرآنیہ کو پیش کر کے امت محمدیہ ﷺ میں نبوت کو ثابت کرنا محض ان کی جہالت اور بے خبری کی دلیل ہے۔ میاں قاسم علی نے اس بات میں رسالہ لکھا تھا۔ اس کے دو جواب لکھے گئے ہیں۔ ایک منشی پیر بخش لاہوری نے لکھا، دوسرا صوبہ بہار کے ایک عالم نے لکھا ہے اور وہ مشتہر ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد قاسم علی مرزائی اور ان کے معین و مددگار سب دم بخود ہیں۔
اب سیالکوٹی کلرک آنکھیں کھول کر اپنے مرشد کے کذب کے دلائل کو دیکھیں کہ کس صفائی سے قرآن مجید سے۔ صحیح حدیثوں سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ اب وہ یہ بتائیں کہ ان کا چیلنج انہیں سچا ثابت کر سکتا ہے؟ انہوں نے میرے اعلان کے جواب میں بھیجا ہے۔ کیا حضرت مسیح کی موت کے ثبوت سے یہ آیات و احادیث دنیا سے نیست و نابود ہو جائیں گی اور مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت لائق توجہ ہو سکے گا؟ کیا ان کی پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے اور ان نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے قطعاً اور یقیناً کاذب نہیں ہوئے؟ ضرور ہوئے۔ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا۔
مولانا عبداللطیف صاحب کے چیلنج کو ایک سال سے زیادہ ہوا مگر کسی قادیانی مربی کی جرأت نہ ہوئی کہ جواب دے۔ یہی مضمون فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں لکھا گیا ہے اور مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا گیا ہے۔ اس کو چھپے ہوئے چوتھا برس ہے۔ اب عبدالکریم مرزائی سیالکوٹی دکھائیں کہ کس نے اس کا جواب دیا۔ پھر کس منہ سے وہ ایک بیکار چیلنج ہمارے پاس بھیجتے ہیں اور اپنے مربیوں کو اور خلیفہ کو شرم نہیں دلاتے کہ جب تک ان رسالوں کا جواب نہ دیا جائے تو کس منہ سے مرزا کے دعویٰ نبوت کا اعلان دیا جاتا ہے اور اس جھوٹے دعوے پر پردہ ڈالنے کے لئے خواہ مخواہ حضرت مسیح کی حیات و ممات کی فضول بحث کو چھیڑا جاتا ہے۔ اگر حضرت مسیح مر گئے اور دوسرا کوئی شخص مسیح موعود ہے تو وہ ایک مقدس پاکباز شخص ہوگا۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ آنے والا مرزا قادیانی کی طرح جھوٹا ہو؟ جس کا جھوٹا ہونا قرآن و حدیث سے، اس کے اقوال سے، عقل سلیم سے، ہر طرح ثابت ہو گیا ہو، اور آنے والے مسیح کی جو علامتیں حدیث میں بیان ہوئی ہیں وہ بھی نہیں پائی گئیں۔ حقیقۃ المسیح اور ہدیہ عثمانیہ کے دوسرے حصہ میں ان کا ذکر ہوا ہے۔
غرضیکہ جب ہم نے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا کامل طور سے ثابت کر دیا ہے تو اب
١٧
ہمیں حضرت مسیح کی حیات وممات پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر سیالکوٹی مرزائی یا کوئی مرزائی ضرورت ثابت کرے تو سامنے آئے اور ثابت کر کے دکھائے ، مگر ہرگز ثابت نہیں کر سکتا۔ آخر میں راقم یہ بھی کہتا ہے کہ حیات مسیح کے ثبوت میں متعدد رسالے لکھے گئے ہیں اور مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت مسیح کی ممات کے ثبوت میں اپنی جدت دیکھائی ہے اس کی ایسی دھجیاں اڑائی گئی ہیں کہ باید وشاید اور بڑے بڑے رسالے لکھے گئے ہیں۔ میں چند نام مع مختصر کیفیت کے لکھتا ہوں۔
حیات المسیح علیہ السّلام کے ثبوت میں رسائل
- ١۔ الحق الصریح فی حیات المسیح ...... مولانا محمد بشیر مرحوم سے مرزا قادیانی کا دہلی میں اسی
مسئلہ پر مناظرہ ہوا مگر مرزا قادیانی اسے ناتمام چھوڑ کر قادیان بھاگے اور مولانا نے یہ رسالہ پورا کر کے ١٣٠٩ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپوایا۔
- ٢۔ الالہام الصحیح فی حیات المسیح ...... یہ رسالہ ١٣١١ھ میں مولانا غلام
رسول صاحب نے عربی زبان میں نہایت قابلیت سے لکھ کر چھپوایا ہے اور تا زندگی کہتے رہے کہ اگر مرزا قادیانی نے یا حکیم نورالدین قادیانی نے اس کے جواب میں قلم اٹھایا تو پھر ایسا جواب دیا جائے گا کہ ہوش جاتی رہے گی مگر دونوں صاحبوں نے دم نہیں مارا اور دنیا سے تشریف لے گئے۔
- ٣۔ شہادۃ القرآن ...... اس میں دو باب ہیں، پہلے باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت مسیح
کی حیات ثابت کی ہے اور دوسرے باب میں مرزا قادیانی کے دلائل ممات کو غلط ثابت کیا ہے یہ باب دوم ١٣٢٤ھ میں اور پہلا باب اس سے دو برس پہلے چھپا ہے۔ یہ دونوں باب ٢٠٦ صفحوں پر چھپے ہیں۔
- ٤۔ السیف الاعظم ...... مقام کٹک میں بعض مرزائیوں نے مناظرہ کا غل کیا تھا۔ وہاں کے
ایک ہمدرد اسلام سید مکرم علی صاحب رئیس اعظم نے مولوی غلام مصطفیٰ صاحب سہسوانی کو مناظرہ کے لئے بلایا۔ مگر قادیانی صاحب کسی طرح سامنے نہ آئے۔ انہوں نے ایک رسالہ لکھا تھا۔ ممات
١٨
مسیح پر مولانا نے اسی کے جواب میں ١٣٢٨ھ میں یہ رسالہ لکھا اور ١٩١٠ء میں مطبع فخر المطابع لکھنؤ میں چھپوایا ہے۔ مگر اس کے جواب سے بھی قادیانی عاجز رہے۔
یہ چار رسالے تو مدت سے چھپے ہوئے مشتہر ہیں۔ پہلا رسالہ ٢٦ برس سے اور دوسرا ٢٤ برس سے مشتہر ہے۔ پھر کیا ہیڈ کلرک سیالکوٹی نے ان رسالوں کو نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہے تو ان باتوں کا جواب نہیں پایا ہے جو انہوں نے اپنے چیلنج میں لکھی ہیں۔ ان رسالوں کو مکرر دیکھیں اور پھر ہمیں لکھیں کہ ہماری فلاں بات کا جواب نہیں دیا گیا حالانکہ اس کا جواب دینا ضرور تھا۔ پھر ہم انہیں سمجھا دیں گے اور ان کی نادانی اور ناواقفی کو دکھا دیں گے۔ ایک جدید رسالہ جو خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں حیات مسیح پر لکھا گیا ہے وہ عجیب رسالہ ہے۔ اس میں قرآن مجید سے اور احادیث سے اور اجماع امت سے اور مرزا قادیانی کے مسلّمات سے حضرت مسیح کی حیات کو ثابت کیا ہے اور مرزا کے دعوے قرآن دانی کی وہ دھجیاں اڑائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ مگر یہ رسالہ اب تک چھپا نہیں ہے۔ حیات مسیح اس کا نام ہے۔
آخر میں پھر کہوں گا کہ ہم نے مرزا قادیانی کو نہایت قطعی دلیلوں سے جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ اب ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات وممات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرزائی پہلے ہمارے الزامات کو اٹھائیں اور ان کا راستباز اور نیک ہونا ثابت کریں پھر اس کے بعد حیات وممات پر بحث کریں۔
سرکاری محکمہ میں جگہ خالی ہونے سے اسی کو جگہ مل سکتی ہے جو پاس حاصل کر چکا ہو اور جس نے کوئی پاس نہیں کیا اور اس کا چال وچلن بھی اچھا نہیں ہے وہ اس جگہ کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی نے تو اسلامی سرکار میں راستبازی کا پاس بھی حاصل نہیں کیا، پھر وہ حضرت مسیح کے عہدۂ جلیلہ پر کیونکر فائز ہو سکتے ہیں؟ حضرت مسیح کے انتقال کر جانے سے مرزا قادیانی سے وہ الزامات نہیں اٹھ سکتے جن سے وہ قطعی کاذب ثابت ہو چکے ہیں۔ خیال کیجئے کہ جو آیت و احادیث میں اوپر نقل کر آیا ہوں۔ جن سے مرزا قادیانی یقینی طور سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ انہیں قرآن وحدیث سے مرزائی نکال کر صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے؟ کیا ہمارے علماء کے سامنے ان کے معنی میں تحریف کر کے اپنے مدعا کے موافق کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اس کے خلاف دعویٰ ہو تو اپنے کسی بڑے مربی کو سیالکوٹی سامنے لائیں۔ مگر ہم یہ بھی پیشین گوئی کرتے ہیں کہ کوئی مرزائی سامنے نہ آئے گا۔ ”وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكَافِرُوْنَ۔“
١٩
اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح کی حیات وممات کے مسئلہ کو سب سے اوّل پیش کرنا خاص اس غرض سے ہے کہ مرزا قادیانی کے کذب پر پردہ ڈالا جائے۔ چونکہ اُن کے بڑے خوب جان چکے ہیں کہ ہم مرزا کی صداقت ثابت نہیں کر سکتے اس لئے اس بحث کو اپنی سپر بنا رکھا ہے۔ جانتے ہیں کہ اس میں علمی بحث پیش آئے گی اور عوام اسے نہیں سمجھیں گے اور بحث بھی طویل ہے اس لئے اس میں اس قدر دیر ہوگی کہ مرزا کی پردہ دری کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ یہ طریقہ مرزا قادیانی نے ہی تعلیم کیا ہے کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت مسیح کی ذات میں جو خوبیاں ہیں وہ مجھ میں نہیں ہیں۔ ان کے آنے کی جو علامتیں صحیح حدیثوں میں آئی ہیں وہ اس وقت ہرگز نہیں پائی گئیں۔ مگر چونکہ انہیں مذہب سے کچھ واسطہ نہیں ہے اس لئے جھوٹی باتیں بنا کر بہت مسلمانوں کو گمراہ کیا اور مخالفین اسلام کو اعتراض کا موقع دیا۔ انہیں کے پیرو سیالکوٹی ہیں۔ چند ورق کا چیلنج لکھ کر اپنی جہالت سے یہ خیال کر لیا کہ ہماری تحریر لاجواب ہے۔ انہیں چاہئے کہ ذرا ہمت کر کے ہماری تحریر کا جواب دیں اس کے بعد دوسری بات کریں۔
مرزائیوں کا فریب
جن کو خوف خدا اور حق طلبی ہے انہوں نے دیکھ لیا کہ قادیانی مرزا کا جھوٹا ہونا قرآن شریف اور احادیث اور خود ان کے اقراروں سے ثابت کر دیا گیا اور اس باب میں تیس چالیس رسالوں سے زیادہ لکھ کر شائع کر دیئے گئے اور تمام مرزائی ان کے جواب سے عاجز ہیں۔ مگر جس طرح قدیم عیسائی پادری باوجود لاجواب ہو جانے کے اپنے مذہب کی اشاعت میں کوشاں ہیں۔ اسی طرح مرزائی بھی کوشاں ہیں اور اب دو طرح سے انہوں نے فریب دینا اختیار کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ جہلاء کو قرآن شریف میں تحریف کر کے جابجا غلط معنی سکھا دیئے ہیں وہ اپنی جماعت میں بیٹھ کر قرآن شریف کا درس دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعریف قرآن شریف سے ثابت کرتے ہیں اور عوام کو فریب دیتے ہیں۔ بھائی مسلمان اس اندھیر کو ملاحظہ کریں کہ جس کا جھوٹا ہونا یقینی طور سے دکھا دیا گیا ہو اس کی تعریف قرآن شریف میں ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہو تو قرآن مجید منجانب اللہ نہ رہے (نعوذ باللہ ) دوسرا فریب یہ ہے۔ جب کوئی ان سے مناظرے کی درخواست کرتا ہے تو حضرت مسیح کی حیات وممات کی بحث کو پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر حضرت مسیح مر بھی گئے تو ایسا جھوٹا شخص کیونکر مسیح ہو سکتا ہے؟ جس کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث کے علاوہ اسی کے پختہ اقراروں سے ثابت ہو گیا ہو۔ اس لئے مرزائیوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ ان کی صداقت ثابت کریں اور ہمارے رسالوں کا جواب دیں۔ فقط
٢٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(١٥)
حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ
بسم الله الرحمن الرحيم O
جس میں ختم نبوت پر دلائل اور امت محمدیہ کے فضائل بیان کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن واحادیث سے ثابت کیا ہے ۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہ آنے کا ایک عجیب سر عظیم دکھایا ہے ۔ جس سے حضور سرور انبیاء کی شان رفعت اور امت محمدیہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے ۔
اظہار واقعہ
مونگیر خانقاہ رحمانی سے مولانا مفتی عبد اللطیف صاحب ومولانا محمد عبد الشکور صاحب لکھنوی تبلیغ واشاعت کی غرض سے بھاگلپور و پورینی تشریف لے گئے تھے دونوں صاحبوں کی وہاں تقریریں ہوئیں اور عبد الماجد قادیانی سے جو قادیانیوں کے سرکردہ شمار کیے جاتے ہیں مناظرہ کی بار بار درخواست کی گئی ۔ مگر عبد الماجد قادیانی گریز کرتے رہے ۔ ایک دن عبد الماجد قادیانی کچھ بہکے ہوئے اشخاص کو پختہ کرنے کے لیے اپنے دولت کدہ پر وعظ کا سامان کر رہے تھے کہ اچانک حضرات علمائے کرام ایک جماعت کے ساتھ عبد الماجد قادیانی کے مکان پر پہنچ گئے اور مولانا عبدالشکور صاحب نے مرزا قادیانی کے صدق وکذب پر گفتگو کرنی شروع کر دی چنانچہ جب مرزا قادیانی کا کذب ثابت کر دکھایا گیا تو عبد الماجد قادیانی نے اپنے نبی کی صداقت میں ایسی باتیں پیش کیں جس کا غلط ہونا قرآن مجید سے اس وقت ثابت کیا گیا اور اس کے بعد عبد الماجد قادیانی پر ایسی بدحواسی طاری ہوئی کہ قرآن مجید ہاتھ میں لیکر بسم اللہ تک صحیح نہ پڑھ سکے ۔ اور ان کی اس حالت نے مرزا قادیانی کے کذب ودجل کا گویا معائنہ کرا دیا ۔ اگر مرزائی حضرات کے قلب میں
٢
حق طلبی اور خوف خدا ہوتا تو اسی وقت مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر ایمان لے آتے۔ مگر اس کے خلاف محض حقانیت کے چھپانے کے لیے مرزائی حضرات نے دو اشتہار شائع کر دیئے جس میں دروغ بے فروغ کا انبار۔ اور علمائے کرام پر سب و شتم کی بوچھاڑ کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ جس کا صریح مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو غصہ دلا کر اصل مقصد سے علیحدہ کر کے دوسری باتوں کی طرف متوجہ کر دیا جائے۔
اسی طرح ظریف مرزائی نے اپنے اشتہار میں صرف یہ کہہ کر اپنے مذہب کے پیروؤں کو خوش کر دیا کہ کتاب فیصلہ آسمانی پاگل کی بڑ ہے جس کا آج تک بڑے سے بڑے مرزائی سے جواب نہ ہو سکا۔ اور نہ مشتہر انعام لینے کی ہمت کر سکے۔
اس کے علاوہ مسیح قادیان کے جھوٹے ہونے کی دلیلوں میں بہت رسالے لکھ کر شائع کیے گئے جس کے جواب سے مرزائی امت اب تک عاجز ہے جن میں (١) قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے (٢) صحیح حدیثوں سے (٣) خود ان کی پیشینگوئیوں کے جھوٹے ہو جانے سے (٤) جھوٹے حوالوں اور اعلانیہ دروغ گوئیوں سے (٥) اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹے اور کاذب تمام دنیائے اسلام کے نزدیک ثابت ہوئے اور ان کا کذب و دجل آفتاب کی طرح روشن اور ظاہر کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے اصحاب اور خواص کی روش ان کی تہذیب و شائستگی ان کی بدزبانی مرزا قادیانی کے حالات اور اثرات کا آئینہ بن کر مسلمانوں کے سامنے موجود ہے جس سے مرزا قادیانی کا نیک انسان ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا بزرگی اور نبوت تو بڑی بات ہے۔
محمد یعقوب مونگیریؒ
٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم ہ
اس خدائے برتر و توانا کا صد ہزار احسان اور شکر ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو اپنے ایسے نبی مرسل کی امت میں پیدا کیا جس کی شان رفعت کا اندازہ ہماری محدود عقل صحیح طریقہ پر کرنے سے معذور ہے اور جو دنیا میں رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین بن کر اسلام جیسا محکم اور سچا دین لایا۔ اور جس نے نور کو ظلمت سے جدا کر کے اللہ کے بتلائے ہوئے راہ کی رہنمائی فرمائی۔ جو عقل و فہم کے عین مطابق ہے۔
صوبہ پنجاب کے ایک قصبہ میں جو قادیان کے نام سے موسوم ہے وہاں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جو کبھی بروزی ظلی کے رنگ میں کبھی تشریعی اور کبھی غیر تشریعی کے رنگ میں اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا۔ اور شیطانی الہاموں، پیشینگوئیوں وحی کی بارشوں میں اس قدر بدحواس ہو گیا کہ کبھی ابن اللہ اور کبھی خود خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر بیٹھا۔ اور اس غلط روی کے باوجود ایک جماعت نے اسے اپنا امام ۔مجدد۔مرسل۔نبی مان لیا جسے عام مسلمان اپنی ناواقفیت اور جہالت سے اسلام کا سچا خیرخواہ تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ جماعت اپنے اصول کے لحاظ سے اسلام سے کوسوں دور ہے اور ایک عظیم گمراہی میں مبتلا ہے۔ چنانچہ حضور سرور عالم ﷺ پر نبوت کا ختم ہونا قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے مسلم ہے مگر یہ جماعت اس امر کے ثبوت کے باوجود مدعی نبوت قادیانی کو اپنا پیشوا اور نبی مانتی ہے اور اس کو اس پر اصرار ہے۔ ہر وہ انسان جسے امت محمدیہ میں ہونے کا فخر حاصل ہے اور اس امر کا وہ کامل یقین رکھتا ہے کہ انسان کو حیات ابدی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا پورا پیرو اور تمام باتوں کو ماننے والا ہو۔ بتقاضائے نفس ”نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ“ اس کی حالت نہ ہو تو اپنے رسول برحق جناب نبی کریم ﷺ کی پیشینگوئیوں پر پورا اعتقاد رکھے گا۔ اور اس کا ایک ایک حرف پر کامل ایمان ہوگا۔ رسول برحق ﷺ کی پیشینگوئی ملاحظہ ہو۔ (١) ”سَيَكُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ كَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ كُلُّهُمْ یزعم انه نبیٌّ وَأَنَا خاتم النبيين لانبی بعدی ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرین لایضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله“
(ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧ باب ذکر الفتن ودلائلھا )
٤
میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے (اس لیے ان کا یہ دعویٰ کرنا ہی ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے) میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا اور غالب رہے گا اس کے مخالف اسے ضرر نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ خدا کا حکم و قیامت آجائے اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ میرے بعد میری امت میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا ہے اس سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے خصوصاً وہ جو اپنے آپ کو امت محمدی میں قرار دے کر نبوت کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا نہایت ظاہر ہے۔
اس حدیث سے اس کا بھی فیصلہ ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی کلام خدا اور رسول میں جن کو نبی کہا گیا ہے ان سب کے بعد آنے والے جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مان کر یہ کہنا کہ آپ تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں یا تمام انبیاء کے لیے زینت یا مہر ہیں محض غلط اور قرآن شریف میں تحریف کرنا ہے۔ ان دونوں تراشیدہ معنوں کی غلطی اس حدیث نے ظاہر کر دی۔ اگر خاتم النبیین کے معنی میں کوئی تخصیص کی جائے یا اس کے دوسرے معنی لیے جائیں تو جملہ ’وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘ ان کاذبوں کے جھوٹے ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتی واقعات اور تاریخ سے ظاہر ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت نے جناب رسول اللہ ﷺ کو مان کر دعویٰ کیا ہے ان میں سے کل یا اکثر ایسے ہی ہیں جنہوں نے نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ کیا ہے اس لیے ان کے کذب کے لیے حضور کا یہ ارشاد صحیح نہ ہوگا۔ (نعوذ باللہ)
الحاصل یہ حدیث قرآن مجید کے مطابق اور آیت ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ احزاب ٤٠، کے بعض مضمون کی تفسیر ہے اس حدیث نے اوّل تو خاتم النبیین کے معنی بیان کر دیئے یعنی تمام انبیائے کرام بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سلطان الانبیاء ہیں آپ آخر میں آئے اب آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ آپ ہی کی ہدایت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا، اور آپ کی شریعت حقہ کاملہ کی روشنی عمل کرنے والوں کے دلوں کو منور کرتی رہے گی اور کسی جدید شریعت کی انہیں حاجت نہ ہوگی ہاں علمائے امت اور مجددین ہوں گے جو آپ کے دین مستقیم کی حقانیت کو ظاہر کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کی خراب
٥
حالت کی درستگی ان کا کام ہوگا۔ اور یہ بھی بشارت حضور انور نے دیدی کہ یہ گروہ حقانی، جھوٹوں اور گمراہوں پر غالب رہے گا۔ اس لیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔ اس مضمون کی شہادت میں بہت حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں، نمونہ کے طور پر چند حدیثوں کے بعض الفاظ آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں تا کہ میرے دعویٰ کی صحت میں آپ کو تامل نہ رہے
- ١............ ”لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب“
(ترمذی ج٢ ص٢٠٩ باب مناقب عمرؓ)
”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتا اس سے نہایت صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپؐ کی امت میں کوئی نبی نہ ہوگا اب جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ حضور انور کو جھوٹا ٹھہراتا ہے“
- ٢............ ”لا نبوۃ بعدی الا المبشرات“
(مسند احمد ج٥ ص٤٥٤، کنزالعمال ج١٥ ص٣٧٠ حدیث نمبر٤١٣٢٢)
”میرے بعد نبوت نہیں ہے مگر مبشرات ہیں“
- ٣............ ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“
(ترمذی ج٢ ص٥١ باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات)
”بلاشبہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ہے“
- ٤............ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکان سے تشریف لائے اور تین
مرتبہ فرمایا۔ ”انا محمد النبی الامی ولا نبی بعدی“
(مسند احمد ج٢ ص١٧٢)
”میں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، یہ حدیثیں امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہیں ۔“
- ٥ و ٦............ ”ختم بی الانبیاء و ختم بی النبیون“
(صحیح بخاری و مسلم ج١ ص١٩٩ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)
”یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، انبیاء کا خاتمہ مجھ پر کیا گیا“
اس مضمون کی روایتوں سے حدیث کی کتابیں بھری ہیں میں صحابی اس مضمون کی روایت کرنے والے اس وقت میرے پیش نظر ہیں اور کامل تلاش سے کس قدر ہوں اسے میں نہیں کہہ سکتا؟ الغرض عام طور سے ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث سے کامل طور سے ہے، مگر نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق کر کے کسی ضعیف روایت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ نبوت غیر تشریعی ختم
٦
نہیں ہوئی، جن صحابہ نے ختم نبوت کی حدیثیں روایت کی ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں جابر بن عبداللہ، ابو سعید خدری، ابوالطفیل، ابو ہریرہ، انس بن مالک، عفان بن مسلم، ابی معاویہ، جبیر بن مطعم، عبداللہ بن عمر، ابی بن کعب، حذیفہ، ثوبان، قتادہ، عبادۃ بن الصامت، عبداللہ ابن مسعود، جابر، عبداللہ ابن عمر، عائشہ، عبداللہ ابن عباس، عطاء ابن یسار رضی اللہ عنہم۔
مگر یہاں حدیث مذکور کے علاوہ صرف تین حدیثیں نقل کی جاتی ہیں (٢) ”ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم“ میں دجال کے بیان میں ایک بڑی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ ارشاد ہے۔ ”اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَ اَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ“ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ اپنی امت سے خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں ہو، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی دوسری امت نہیں ”امت محمدی پر دنیا کا خاتمہ ہے، اب جن گمراہوں کا یہ خیال ہے کہ آخری امت احمدی ہے محمدی ﷺ نہیں ہے محض غلط ہے جس کی غلطی رسول اللہ ﷺ نے نہایت صاف طور سے بیان فرمادی اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں (امام بخاری ج١ ص ٥٠١ باب ما جاء فی اسماء رسول اللہ اور مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسماء رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اس طرح روایت کرتے ہیں (٣) انا العاقب و العاقب الذی لیس بعدہ نبی میں عاقب ہوں (پیچھے آنے والا) اور عاقب وہ ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔
جناب رسول اللہ ﷺ کے نام بہت ہیں ان میں ایک نام عاقب بھی ہے اس کے معنی پیچھے آنے والا اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس نام کی شرح فرمادی جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیاء کے پیچھے آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، ناظرین ان دونوں حدیثوں کو ذرا غور سے ملاحظہ کریں کہ کس صفائی سے جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں آخر النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ان تینوں حدیثوں نے خاتم النبیین کے معنی کی نہایت واضح شرح کردی یعنی پہلی حدیث میں تھا ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ یعنی میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے یہاں تو جملہ ”لا نبی بعدی“ نے خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین متعین کیے تھے دوسری حدیث میں صاف طور سے حضور نے اپنے آپ کو ”انا اخر الانبیاء“ فرمایا۔ یعنی میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں تیسری حدیث میں اس کی جگہ ارشاد ہوا۔ ”انا العاقب الخ“ یعنی میں سب نبیوں کے بعد آنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس کے
٧
معنی بعینہ وہی ہیں جو دوسری حدیث کے ہیں‘ ان تینوں حدیثوں سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ غرض کہ اس الہامی لفظ کے معنی صاحب الہام نے بیان فرما دیئے اور حضور انور ﷺ کی زبان مبارک سے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی غلطی ظاہر ہوگئی‘ اب اس کی تائید کے لیے چوتھی حدیث ملاحظہ ہو۔
(٤) (صحیح بخاری ج١ ص ٤٩١ باب ماذکر عن بنی اسرائیل) میں ہے۔ ”کانت بنوا اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی وانه لا نبی بعدی و سیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا یارسول الله قال فوابیعة الاول فالاول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم“ یعنی بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے‘ جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا‘ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ خلفاء ہوں گے (جو مسلمانوں کے تمام امور کا نظم کریں گے اور ان کی کثرت ہوگی‘ صحابہ نے عرض کیا کہ آپؐ ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں (یعنی جب بہت سے ہوں گے تو اگر ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہیے) حکم ہوا کہ جس سے پہلے بیعت کرلو اس کو پورا کرو‘ اور ان کے حقوق کو ادا کرتے رہو‘ اللہ تعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا‘ تم بری الذمہ ہو‘ اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہو گیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا‘ یہ مدعا ان چاروں حدیثوں سے عبارۃ النص ثابت ہے‘ اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔
الحاصل ان حدیثوں سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ حضور انور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں دیا جائے گا‘ البتہ جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے‘ جن کا ظہور ہورہا ہے۔
اب میں مختصر طور سے یہ بیان کرتا ہوں کہ خاتم النبیین کے جو معنی احادیث مذکورہ سے معلوم ہوئے وہی معنی محاورہ عرب سے ثابت ہیں‘ کیونکہ خاتم النبیین میں لفظ خاتم ہے اس میں حرف تا کو زبر بھی ہے اور زیر بھی ہے اگر چہ روایت کے لحاظ سے زبر پر زیادہ مستند اور معتبر ہے کیونکہ زبر کی روایت کرنے والے صرف دو آدمی ہیں‘ باقی جتنے ماہرین قرآن اور قراء ہیں وہ سب زیر کے ساتھ روایت کرتے ہیں‘ البتہ ہندوستان میں زیر کے ساتھ مستعمل اور مشہور ہو گیا ہے‘ اس لیے عوام اسی کو اپنی ناواقفیت سے ہی صحیح سمجھتے ہیں۔
کلام عرب میں خاتم کے کئی معنی ہیں‘ انگوٹھی‘ مہر‘ آخر القوم یعنی جو سب سے آخر میں ہو‘ مگر یہ لفظ جب مضاف ہو جاتا ہے اس وقت کوئی معنی نہیں رہتے بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے اس
٨
کے معنی خاص ہو جاتے ہیں مثلاً خاتم فضۃ یعنی انگوٹھی چاندی کی یہاں خاتم خاص انگوٹھی کے معنی میں ہے دوسرے معنی نہیں ہیں اسی طرح جس وقت خاتم کو قوم وغیرہ کی طرف مضاف کریں گے مثلاً خاتم القوم کہیں گے تو اس کے معنی صرف آخر قوم کے ہوں گے دوسرے معنی نہیں ہوں گے لسان العرب جو اہل زبان کے نزدیک نہایت مستند لغت ہے اس میں لکھا ہے ”خِتام القوم وخاتمهم و خاتمهم. آخرهم و فی التنزيل العزيز ماكان مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اى اخِرُهُمْ“
(لسان العرب ج ٤ ص ٢٥)
یعنی لفظ ختام اور خاتَم اور خاتِم۔ تینوں کو جب مضاف کرتے ہیں اور مثلاً خاتم القوم کہتے ہیں تو اس کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں یعنی ساری قوم کے آخر میں آنے والا اور قرآن مجید میں جو مَا كَانَ مُحَمَّد الخ میں جو لفظ خاتم النبیین ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد (ﷺ) تمام انبیاء کے آخر میں ہیں اسی طرح جب خاتم لفظ نَبِيّٖنَ کی طرف مضاف ہوگا اور خاتم النبیین کہیں گے تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ سب انبیاء کے آخر میں آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر اس کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ دیا جائے تو وہ آخر الانبیاء نہ ہوا یہی معنی اور ماہرین لغت نے لکھے ہیں چنانچہ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے۔
”الخاتم من كل شىء عاقبته و اخرته والخاتم اخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالىٰ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اى اخِرِهِم“.
یعنی ہر شے کے انجام اور اس کے آخر کو خاتم کہتے ہیں اسی طرح خاتم القوم آخر قوم کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی سب انبیاء کے آخر میں آنے والا۔
لغت کی ان تین کتابوں میں پہلے خاتم کے معنی محاورہ عرب سے ثابت کر کے خاص قرآن مجید کی وہ آیات والفاظ جن میں لفظ خاتم آیا ہے اور النبیین کی طرف مضاف ہے اس کے معنی بیان کر دیے اور نہایت وضاحت سے بتا دیا کہ اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں اگرچہ ان تینوں کتابوں کے بیان سابق سے آیت کے معنی معلوم ہو گئے تھے کہ آخر النبیین کے معنی ہیں مگر آخر میں آیت کے الفاظ کو نقل کر کے یہ کہنا کہ یہاں بھی خاتم کے وہی معنی ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔ غالباً اسی دور اندیشی کی غرض سے ہے کہ کسی وقت کوئی جاہل یا گمراہ آیت میں دوسرے معنی بتا کر مسلمانوں کو گمراہ نہ کرے۔
اب نہایت ظاہر ہے کہ قرآن مجید عرب کی زبان میں اتارا گیا ہے تاکہ وہ اسے سمجھ کر
٩
اس کی ہدایتوں پر عمل کریں اور دوسروں کو سمجھائیں، اس لیے تمام دنیا کے لیے ضرور ہے کہ اس کے وہی معنی کرے جو عرب کے محاورہ میں آئے ہیں، اس کے خلاف معنی کرنا یقینی تحریف ہے اور بیان سابق سے قطعی طور پر آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ عرب کے محاورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں، یعنی سب کے آخر میں آنے والا اس کے سوا دوسرے معنی نہیں ہو سکتے، اس لیے بخوبی ثابت ہو گیا کہ آیت ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“
(احزاب ٤٠)
اس باب میں نص قطعی ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ آخر الانبیاء ہیں آپؐ کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا آپؐ کے وجود باجود سے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی آپ کی نبوت اور آپؐ کی شریعت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا، اس آیت سے یہ بھی قطعی طور سے ثابت ہو گیا کہ آپ کے بعد امتی غیر امتی جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
اہل علم اس کو سمجھتے ہوں گے کہ قرآن مجید میں اور حدیثوں میں اس مقام پر لفظ النبیین جمع سالم معروف بالام آیا ہے ایسے لفظ کو اصول فقہ وغیرہ میں الفاظ عام میں شمار کیا ہے اس لیے خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ جس کو نبوت کا مرتبہ دیا گیا، اور جس پر نبی کا اطلاق کیا جائے خواہ وہ ظلی اور بروزی نبی ہوں یا تشریعی اور غیر تشریعی جس قسم کے بھی ہوں سب کے آپؐ خاتم ہیں یہی بات بعض کاملین امت محمدیہ کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ کلام بھی روحانیت افزا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں“
ایں فقیر از روح پر فتوح آنحضرتؐ سُوال کرد کہ حضرت چہ می فرمایند در باب شیعہ کہ مدعی محبت اہلبیت اند و صحابہ را بد می گویند آنحضرتؐ بنوعی از کلام روحانی القا فرمودند کہ مذہب ایشاں باطل است و بطلان مذہب ایشاں از لفظ امام معلوم می شود چوں از ایں حالت افاقت دست داد در لفظ امام تامل کردم معلوم شد کہ امام باصطلاح ایشاں معصوم مفترض اطاعت منصوب مِنَ الْحَقِّ است و وحی باطنی در حق امام تجویز می نمایند و پس در حقیقت ختم نبوت را منکر اند گو بزبان آنحضرتؐ را خاتم الانبیاء می گفتہ باشند۔ اس کے بعد جناب شاہ صاحب کے قول کی شرح میں قاضی صاحب فرماتے ہیں۔ ”فقیر محمد ثناء اللہ گوید کہ آنچہ حضرت شیخ را در بطلان مذہب امامیہ از جناب رسالت پناہ علیہ السلام القا شدہ و واضح گشتہ کہ عقیدہ ایشاں مستلزم انکار ختم نبوت است بطریق توارد بریں فقیر ہم واضح شدہ کہ فقیر آخر در شمشیر برہنہ باستیعاب نوشتہ۔“
یہ دو بزرگ ان کاملین علما اور واصلین بحقائق سے ہیں جن کے علم و فضل پر امت
١٠
محمدیہ ناز وفخر کرتی ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ شیعہ کا مذہب اس وجہ سے باطل ہے کہ آل اطہار اور ائمہ کبار کے ساتھ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں جس سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے۔ اس عقیدے میں شاہ صاحبؒ چار باتیں لکھتے ہیں۔ ١........... امام کو معصوم جانتے ہیں۔٢........... اس کی طاعت کو فرض سمجھتے ہیں۔٣...........یہ بھی اعتقاد کرتے ہیں کہ مخلوق کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔٤...........وحی باطنی ان پر اترتی ہے ان چار باتوں میں آخری دو باتیں انبیاء سے مخصوص ہیں اور پہلی دو باتیں ان کو لازم ہیں البتہ چوتھی بات میں اس قدر کمی ہے کہ انبیاء کو ظاہری و باطنی ہر قسم کی وحی ہوتی ہے۔ اور امام کو صرف باطنی ہوتی ہے مگر باوجود اس کمی کے ان کے عقیدہ کو انکار ختم نبوت لازم ہے اور یہ دونوں حضرات کاملین شیعہ کو منکر ختم نبوت فرماتے ہیں۔ ان کے کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں اور وہ نبی تشریعی یا غیر تشریعی جس طرح کا ہو جناب رسول اللہ ﷺ سب کے خاتم ہیں کیونکہ شیعہ اماموں کو تشریعی نبی نہیں جانتے۔
مرزائی حضرات تو مرزا قادیانی کو رسول بلکہ انبیاء اولو العزم سے افضل اعتقاد کرتے ہیں۔ اور کامل وحی الہی کا ان پر اترنا ان کے عقیدہ میں ہے۔ مرزا قادیانی تو نزول وحی کا اس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی نبی نے نہیں کیا چنانچہ (حقیقتہ الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں۔ ”بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“ ملاحظہ کیا جائے کہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا مگر مرزا قادیانی کرتے ہیں اس کے ساتھ صاف طور سے یہ بھی کہتے ہیں کہ صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا‘ اس لیے بموجب ارشاد حضرت شاہ ولی اللہ و قاضی ثناء اللہ علیہ الرحمۃ بھی مرزائی حضرات منکر ختم نبوت ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے گو زبان سے اس کا اظہار کریں اور اپنے اشتہاروں اور رسالوں میں چھاپیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں جب کوئی دریافت کرتا ہے کہ جب تم مرزا کو نبی مانتے ہو تو پھر جناب رسول اللہ ﷺ کیسے ختم الانبیاء ہوئے تو عجیب طرح کی باتیں بناتے ہیں اور تشفی بخش جواب دینے سے جان چراتے ہیں۔ حاصل یہ کہ خلاف قرآن واحادیث صحیحہ اور محاورہ عرب کے خاتم النبیین کے معنی قرار دے کر خوش ہیں اور کسی وقت ظلی یا بروزی غیر اصلی نبی بھی کہتے ہیں ایسے لوگ یہ بتائیں کہ جب مرزا قادیانی خود اپنے اوپر نزول وحی کا ایسا پرزور بیان کرتے ہیں کہ کسی اولوالعزم نبی نے بھی بیان نہیں کیا‘ اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ صریح طور سے مجھے نبی کا خطاب دیا گیا پھر اصلی نبی میں
١١
اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے جو اس سے انکار کیا جاتا ہے‘ الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اعلانیہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور صاف طور سے ختم نبوت کے منکر ہیں مگر ان کے مریدین عوام کے دھوکہ دینے کو باتیں بناتے ہیں۔
الغرض جس طرح صحیح حدیثوں سے ثابت ہوا تھا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی‘ اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت نے اس مطلب کی کامل صراحت کر دی۔ اب طالب حق کے لیے قرآن مجید کے نص قطعی اور مستند اور متعدد احادیث کے صریح الفاظ سے یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ حضور انور جناب رسول اللہ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا‘ اس لیے آپ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقیناً جھوٹا ہے البتہ علمائے کاملین آپ کے نائب ہوتے رہیں گے اور وہ وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے یہ ایک عمدہ وجہ ہے اس امت کو خیر الامم ہونے کی کہ باوجود امت ہونے کے وہ کام کریں گے جو گذشتہ انبیاء نے کیا ہے۔ اس مختصر بیان سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا اور ان کی جماعت کا انہیں کسی قسم کا نبی سمجھنا قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ اب اس کے خلاف ختم نبوت کی مخالفت کرنا محض عوام کو فریب دینا ہے‘ اگر کسی مرزائی نے کچھ اس کے خلاف لکھا ہے تو ہمارے سامنے پیش کرے اور پھر اپنی جہالت و فریب کو دیکھے کہ ہم کس طرح اسے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھاتے ہیں اور کوئی رسالہ لکھ کر اپنے جاہل گمراہوں میں شائع کرنا اور ہم سے پوشیدہ رکھنا کسی اہل حق کا کام نہیں ہے‘ پوشیدہ رکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنے بیان پر وثوق نہیں ہے‘ مگر اپنے پیروؤں کو اپنے فریب میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں اس لیے ان جاہلوں کو تھامنے کے لیے کچھ لکھ دیتے ہیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ قادیانی جماعت کے سرگروہ قرآن مجید کا مشغلہ زیادہ رکھتے ہیں مگر حیرت ہے کہ ایسی صریح باتوں سے بے خبر ہیں اور سورہ اعراف کی اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ کے بعد بھی رسول آئیں گے‘ وہ آیت یہ ہے ”یٰبَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا یَاْ تِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ“ (اعراف ٣٥) اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ حضرت خاتم الانبیا محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد انبیاء آئیں گے بہت بڑی غلطی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت علوم قرآنیہ سے بالکل ناواقف ہے‘ قرآن مجید میں انبیائے سابقین کے حالات اور واقعات بہت بیان
١٢
ہوئے ہیں انہیں واقعات کے بیان میں یہ آیت بھی ہے اس سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر آنے کا قصہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد سے یہ خطاب کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی آدم میرے رسول تمہارے پاس آئیں گے اور میری باتیں تم سے کہیں گے پھر جس نے انہیں مانا اور میری باتوں پر عمل کیا اسے کچھ خوف و خطر نہیں ہے اور جس نے نہ مانا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
- ١............ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض ان انبیاء کا ذکر کیا جو اس عام حکم سنانے کے بعد آئے
یعنی حضرت نوحؑ ۔ حضرت ہودؑ ۔ حضرت صالحؑ ۔ حضرت لوطؑ ۔ حضرت شعیبؑ ۔ حضرت موسیٰ علیہم السلام اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں اسی وقت کا ذکر ہے ایسے اعلانیہ قرینہ ہونے کے بعد بھی مرزائی قرآن مجید کو نہیں سمجھتے۔
- ٢............ اس کے علاوہ اگر قرآن مجید پر نظر ہے تو سورۂ بقرہ کے ذیل کی آیت ملاحظہ کیجئے جس
میں یہی مضمون اس طرح ہے کہ میرے بیان کی اس سے پوری تصدیق ہوجاتی ہے۔
فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ٥ قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ٥ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ٥
(سورہ بقرہ آیت ٣٧ تا ٣٩)
”یعنی آدمؑ نے اپنے پروردگار سے (معافی مانگنے کے لیے) چند کلمات سیکھ لیے (جن کی برکت سے) خدا نے ان کی توبہ قبول کی بیشک وہ بڑا ہی معاف کرنے والا مہربان ہے‘ ہم نے حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ (اور یہ بھی کہہ دیا کہ) جب میری طرف سے تمہیں ہدایت پہنچے (تو اس پر عمل کرنا) کیونکہ جو ہمارے حکم کی پیروی کریں گے اور ہماری ہدایت پر چلیں گے انہیں (آخرت میں) نہ کسی بات کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو ہماری ہدایت سے انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کی تکذیب کریں گے وہ جہنمی ہوں گے اور اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“
یہ آیت اور سورہ اعراف کی آیت دونوں مضمون کے اعتبار سے ایک ہیں حاصل معنی میں کچھ فرق نہیں ہے‘ البتہ کچھ لفظوں کا اختلاف ہے اور جب اس آیت میں صاف ہے کہ یہ خطاب حضرت آدمؑ کو جنت سے جدا ہونے کے وقت کیا گیا تھا اس لیے سورۃ اعراف کی اس آیت کے خطاب کا بھی یہی وقت ہے‘ کیونکہ یہ دونوں آیتیں ایک مطلب کو بیان کر رہی ہیں۔ غرضیکہ یہ دو روشن قرینے جو قرآن مجید سے ظاہر ہورہے ہیں اس بات کی کامل شہادت دیتے ہیں کہ سورۂ
١٣
اعراف کی آیت مذکورہ میں امت محمدیہ سے خطاب نہیں ہے، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ان کی اولاد سے خطاب ہے۔
- ٣......... اب اس کی کامل تائید حدیث سے بھی ملاحظہ کر لیجئے۔ ”اخرج ابن جریر عن ابی
یسار السلمی قال ان الله تبارک و تعالی جعل آدم و ذریته فی کفه فقال یا بنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقی الخ“
(تفسیر درمنثور ج ٣ ص ٨٢)
اس روایت میں خاص اسی آیت کی تفسیر ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے اور نہایت صفائی سے وہی تفسیر کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے، یعنی اس آیت میں امت محمدیہ سے خاص خطاب نہیں ہے، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں یہ خطاب کیا گیا ہے اور اس کی صورت حال اس روایت میں بیان کی گئی ہے چونکہ مرزا قادیانی نے ٤.......... اس تفسیر سے بہت حوالے دیئے ہیں اس لیے اس تفسیر سے لکھنا میں نے مناسب سمجھا، اس تفسیر کے علاوہ جب خاتم النبیین کے معنی محاورہ عرب اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے کہ آخرالنبیین کے ہیں تو آیت ”وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ (احزاب ٤٠) نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ سورۂ اعراف کی آیت میں قیامت تک کے بنی آدم مراد نہیں ہیں بلکہ خاص حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کا ذکر ہے، کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ آخرالنبیین ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہ چار دلیلیں قرآن مجید اور حدیث سے بیان کی گئی جن میں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہو گیا کہ سورۂ اعراف کی آیت کا مطلب وہ نہیں ہے جو مرزائی بیان کرتے ہیں، بلکہ وہ مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا۔
اب اہل علم انصاف پسند قادیانی جماعت کے سرگروہوں کی قرآن دانی معلوم کر لیں کہ قرآن مجید کے معنی سے کس قدر نا آشنا ہیں اور نص قطعی کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور عوام کے دھوکا دینے کو حضرت غوث اعظمؒ اور شیخ محی الدین عربیؒ کا قول پیش کرتے ہیں، مگر نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ان حضرات کا قول پیش کرنا یہ دعویٰ کرنا ہے کہ ان مقدس حضرات نے صریح قرآن وحدیث کے خلاف ایک بات کہی، مگر یہ بڑی غلطی ہے، ان بزرگوں کی شان نہایت اعلیٰ و ارفع ہے ان کا کوئی کلام خلاف قرآن وحدیث کے نہیں ہو سکتا، جو حضرات صوفیہ کی اصطلاحات نہیں جانتے اور ان کے حالات سے واقف نہیں ہیں ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ اپنے دعویٰ کی دلیل میں ان کے کلام کو پیش کریں۔
١٤
حضور سرور انبیاءؐ کے آخر میں آنے کا راز
اور امت محمدیہ کی فضیلت
یہاں اس کا بھید معلوم کرنا چاہیے کہ جب خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں، یعنی سب انبیاء کے بعد آنے والا تو اس میں کیا خوبی اور فضیلت ہوئی؟ بظاہر خوبی تو اسی میں معلوم ہوتی ہے کہ آپؐ کے بعد آپؐ کی شریعت کے پیرو بہت سے انبیاء آتے، جس طرح حضرت موسیٰؑ کے بعد شریعت موسوی کے پیرو بہت انبیاء آئے، یہ خیال ظاہر میں کم علم کو ہو سکتا ہے، مگر جن کو خداوند تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اسرار شریعت پر آگاہی بخشی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا وجود باجود سب کے بعد اس لیے ہوا کہ آپؐ کی ذات مقدس سے اللہ تعالیٰ کو دین کا کمال منظور تھا۔ آپؐ کو شریعت کاملہ دی گئی۔ اور ارشاد ہوا۔ ”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ“ الخ (مائدہ:٣) حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے وقت سے لیکر حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ تک دنیا کے لوگ اس لائق نہ تھے کہ انہیں کامل شریعت دی جاتی، پہلے انبیاء جس قدر آئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سلطان الانبیاء ہیں تمام انبیاء سابقین نے آہستہ آہستہ بنی آدم کو آراستہ اور اس لائق کیا کہ شریعت کاملہ دی جائے اس لیے سب کے بعد آنے والے کی زیادہ عظمت ہونی چاہیے کیونکہ اس کے ذریعہ سے شریعت کاملہ مخلوق کو ملی جو اصل مقصود انبیاء کے بھیجنے کا ہے، چونکہ آپؐ صفت رحمت کے مظہر کامل ہیں اور رحمۃ للعالمین آپؐ کا خطاب ہے اس کا مقتضیٰ یہ ہوا کہ آپؐ کے بعد نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ دیا جائے۔ کیونکہ شرعی نبی وہی ہے جس کا منکر کافر ہو، یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اب اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حسب عادت قدیمہ ضرور بہت لوگ ایسے ہوتے کہ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے ہوتے اور اس نبی پر ایمان نہ لاتے جو آپؐ کے بعد ہوا، اور اس وجہ سے وہ دائمی عذاب کے مستحق ہوتے، یہ آپؐ کی شانِ رحمت کے بالکل خلاف تھا اور ہے کہ آپؐ کو مان کر کسی وجہ سے دائمی عذاب میں مبتلا رہے اس لیے آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اس سے حضور انور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کمال فضیلت حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور تمام انبیاء پر ظاہر ہوتی ہے کہ یہ شان رحمت کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور کسی کی امت کو یہ شرف نصیب نہ ہوا اور اس کی وجہ سے دوسرا شرف آپؐ کی امت کو یہ ملا کہ اس امت کے علمائے کاملین کی عظمت و شان وہی ہے جو انبیاء کی ہونی چاہیے، یعنی یہ وہی
١٥
کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل نے کئے ہیں علامہ سیوطی (خصائص کبریٰ ج٣ ص٢١٩ باب اختصاصہ بان امته اوتيت العلم الاول والعلم الآخر“ میں امت محمدیہ کی خصوصیات میں یہ بھی لکھتے ہیں ۔ ”علمائهم كانبیاء بنی اسرائیل“ یعنی امت محمدی کے علماء انبیائے بنی اسرائیل کے مانند ہیں جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے علماء کی شان میں فرمایا۔ ”العلماء ورثة الانبیاء“ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ بھی فرمایا۔ ”فضل العالم على العابد كفضلى على ادنكم“ (ترمذی ج٢ ص٩٣ باب فی فضل الفقه علی العبادة)
یعنی رسول اللہ فرماتے ہیں کہ عالم کی فضیلت عابد یعنی عبادت کرنے والے پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت میرے ادنیٰ امتی پر ۔ یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کا ترکہ مال و دولت نہیں ہوتا بلکہ عظمت و بزرگی اور کلام الٰہی کا علم ان کا ترکہ ہے اس لیے حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ انبیاء کی شان اور عظمت اور ہدایت و علم شریعت علماء کو ملتا ہے جب علماء امت کی شان انبیاء کی شان جیسی ہوئی تو جس طرح حضرت موسیٰ کے بعد انبیاء کے ہونے سے حضرت موسیٰ کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح یہاں علمائے کاملین سے آپؐ کی عظمت کا اظہار نہایت کامل طور سے ہوتا ہے البتہ یہ فرق ہے کہ حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کو مان کر پھر کسی بزرگ اور عالم کے نہ ماننے سے دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہو سکتا اور حضرت موسیٰ کو مان کر ان کے بعد کے نبی کو نہ ماننے سے عذاب دائمی کا مستحق ہے مثلاً یہود حضرت موسیٰ کو مانتے ہیں مگر حضرت عیسیٰ کے نہ ماننے سے کافر ہیں اور عیسائی حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں اس فرق سے حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ دوسری حدیث سے تو علماء کاملین کی بہت ہی بڑی عظمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان کی فضیلت کو حضور انور ﷺ اپنی فضیلت کے مشابہ فرماتے ہیں اور مسند امام احمد کی روایت بھی دیکھی جائے۔
امام محمد نے (مسند احمد ج٥ ص٣٢٢) میں جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد لکھا ہے ”الابدال فى هذه الامة ثلاثون مثل ابراهيم خليل الرحمن عزوجل كلما مات رجل ابدل الله مكانه رجلاً“ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ابراہیم خلیل اللہ کے مثل ہوتے رہیں گے ان میں سے جب ایک کا انتقال ہوا کرے گا اس کی جگہ دوسرا قائم مقام ہوگا یعنی ایسے بزرگ ذی مرتبہ سے امت محمدیہ خالی نہیں رہے گی یہاں ان بزرگوں کو حضرت ابراہیم کے مثل کہا ہے اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ ان کا مرتبہ بعینہ
١٦
حضرت ابراہیمؑ کا سا ہوگا اور وہ ظلی اور بروزی نبی حضرت ابراہیمؑ کے مثل ہوں گے اور ان کا منکر کافر ہے (استغفر اللہ) یہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ جس طرح مثال دی جاتی ہے زید کالاسد یعنی زید شیر کے مانند ہے اس مثال سے یہ غرض ہرگز نہیں ہوتی کہ جو حالتیں اور خواص شیر کی ہیں وہ سب یا اکثر زید میں پائی جاتی ہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ شیر کی ایک خاص صفت جو انسان کے مناسب اور اس کے لیے خوبی ہو سکتی ہے وہ ایک حد تک زید میں پائی جاتی ہے اسی طرح ان ابدال میں قرب خداوندی اور دوسری حالت حضرت ابراہیمؑ کے مشابہ ہو گی مگر جس قسم کے دعویٰ مرزا قادیانی نے کئے یہ ہرگز نہ کریں گے، الغرض امت محمدیہ میں ولایت اور نبوت کے مشابہ کمالات ہوں گے جس کی وجہ سے العلماء ورثة الانبیاء اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کہا جاسکے، مگر نبوت کا وہ خاص درجہ جس کی وجہ سے اس کا منکر کافر ہو جاتا ہے کسی کو نہیں دیا جائے گا، کیونکہ ایسا ہونا آپؐ کی شان رحمت کے منافی ہے۔
اب خیال کرنا چاہیے کہ اس فضیلت کی کیا انتہا ہے اللہ اکبر یہ خیال کہ اگر نبوت ختم ہو جائے تو خدائے تعالیٰ کی صفت کلام معطل ہو جائے گی جاہلانہ خیال ہے ذرا غور کرو کہ جس طرح خدا تعالیٰ کی ذات پاک ازلی وابدی ہے۔ اس طرح اس کی صفات بھی ازلی وابدی ہیں اور انسان کا وجود اور اس نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا، جن کی نبوت کو آٹھ نو ہزار برس سے زیادہ مورخین نہیں بتاتے، اس سے پہلے نبوت کا سلسلہ نہ تھا، اس وقت اس کی صفت کلامیہ کا کیا حال تھا، اگر اس نبوت کے ختم ہو جانے سے اس کی صفت کا معطل ہو جانا لازم آئے تو حضرت آدم علیہ السلام کے وجود سے پہلے جب اس نبوت کا سلسلہ ہی نہ تھا تو اس خیال کے بموجب اس غیر متناہی زمانے میں خدائے پاک کی یہ صفت معطل ماننی ہوگی، حالانکہ اس خیال کی بنیاد محض نادانی اور ناواقفی پر ہے، خدا کے مقربین میں فرشتے بھی ہیں جن سے وہ ہمیشہ کلام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی فرشتوں کے وجود شرعی سے بھی منکر ہیں اور توضیح المرام میں بے دینوں کی طرح باتیں بناتے ہیں اس کے علاوہ خدا کی مخلوق کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا کیونکہ ”وَمَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا“ (الاسرا:٨٥) اس کا ارشاد ہے پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا کلام کس کس طرح اور کن کن طریقوں سے ہوتا ہے اور کون کون بندے اس سے ممتاز ہوتے ہیں، انسان کا علم اس کو احاطہ نہیں کر سکتا، مگر اس قدر ضرور کہیں گے کہ اس کے مخصوص فرشتے اور خاص خاص اولیاء اللہ اس کے خطاب اور کلام سے ممتاز ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس کے لیے رسالت اور نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
١٧
اس تمام بیان کا نتیجہ بھی معلوم کر لینا چاہیے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی نص قطعی اور چار صحیح حدیثوں سے مسیح قادیان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا اور اس کے جھوٹے ہونے پر بیس صحابہ کرام نے شہادت دی بلکہ اس کے سوا جس قدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ختم نبوت کے مضمون کو روایت کیا ہے ان کا یقینی اعتقاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے اس لیے آپؐ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ ان صحابہؓ کی زبان سے جھوٹا ہے اب جو ایسے یقینی جھوٹے اور مفتری کو سچا کہتا ہے وہ حقیقت میں اللہ و رسول سے سخت گستاخی کرتا ہے اور تمام قرآن مجید اور مذکورہ احادیث صحیحہ کو نہیں مانتا اگرچہ ظاہر میں زبان سے انکار نہ کرے اور مسلمانوں کو فریب دے اب اہل دانش سمجھ لیں وہ کیسا شخص ہے اور اس سے کیسا معاملہ کرنا چاہیے اور اس کے اصحاب کو کیا سمجھنا چاہیے۔
یہاں تک جو عبارت نقل کی گئی وہ بعینہ فیصلہ کے تمہید کی ہے اس میں دس حدیثیں ہیں اور پانچ آیات قرآنی ہیں اور ان کے معنی ہیں ان کو یہ قادیانی مسخرہ پاگل کی بڑ کہتا ہے اور یہ وہ قادیانی ہے جو شب و روز قادیانی مربیوں کی صحبت میں رہتا ہے ان ہی کے مشورہ سے ایسے کام کرتا ہے اس کا یہ حال ہے کہ کلام خدا اور کلام رسول ﷺ کی کیسی بے حرمتی کر رہا ہے؟ اب ہمارے بھائی قادیانیوں کی ایمانی حالت کا اندازہ کریں یہ وہ باتیں ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور قرآن و حدیث کو مانتے ہیں مسلمانوں کو محض فریب دینا ہے یا مرزا قادیانی کی بیعت کا اثر ہے کہ عقل سلب ہو گئی ہے تیرہ درونی نے انوار حقانیت کو پوشیدہ کر دیا ہے اس لیے کلام خدا اور رسول بھی ان کے نزدیک پاگل کی بڑ ہے (نعوذ باللہ)۔ اب دیکھیں کون قادیانی مربی اس مدلل اور محکم تحریر کا جواب دیتا ہے ہم منتظر ہیں اگر دو ماہ کے اندر اس کا جواب نہ دیا تو کامل طور سے سمجھا جائے گا کہ تمام قادیانی کسی خاص وجہ سے ایک یقینی جھوٹ کے پیرو ہیں اور کسی طرح اس کی صداقت ثابت نہیں کر سکتے۔
آخر میں دو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایک تو قادیانیوں کی جہالت کا نمونہ دکھاتا ہوں ملاحظہ کیا جائے جن حدیثوں میں جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ یعنی میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس کے معنی میں اپنی قابلیت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ لا نبی بعدی کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کامل نبی میرے بعد نہیں ناقص نبی آئیں گے اس کا نتیجہ یہ تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ناقص نبی ہیں۔
١..........اس کے علاوہ یہ فرمائیں کہ جب لا نبی بعدی کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی کامل نبی
١٨
میرے بعد نہیں ہے‘ ناقص نبی ہوں گے تو ان کے نزدیک ”لا الہ الا اللہ“ کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی بڑا معبود کامل نہیں ہے‘ چھوٹے چھوٹے معبود ہیں یعنی مشرکین عرب وغیرہ کا جو خیال تھا اور ہنود کا ہے وہ صحیح ہے اسلام نے انہیں مشرک نہیں ٹھہرایا‘ قادیانی مربی کہیے یہی عقیدہ آپ کا ہے؟ اگر نہیں ہے تو دونوں جملوں میں فرق بیان کیجئے۔
- ٢ ............ تمہید کی چوتھی حدیث دیکھئے اس میں جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل
میں انبیاء سیاست کرتے تھے۔ جب ایک نبی انتقال کرتا تھا اس کی جگہ دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہوتا تھا‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے‘ اب اگر اس کے یہ معنی ہوں کہ میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں ہے تو حدیث سے یہ ثابت ہوگا کہ حضرت موسیٰ کے بعد جتنے نبی اسرائیل میں ہوئے وہ سب کامل نبی تھے جناب رسول اللہ ﷺ کے مثل امت محمدیہ میں ویسے نبی نہ ہوں گے‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ افضل الانبیاء نہ تھے بلکہ انبیائے بنی اسرائیل کے مثل تھے اور مرزا قادیانی کا مرتبہ ان سے بہت کم ہے‘ قادیانی ذرا ہوش کر کے باتیں کیجئے‘ تمہارے اس دعویٰ کے غلط ہونے کے اور بھی وجوہ ہیں جو اہل علم الفاظ حدیث سے بخوبی سمجھتے ہیں‘ وقت ضرورت ہم بھی بیان کر دیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت تک اہل حق کی طرف سے بہت سے رسالے مرزا قادیانی کے کذاب و مفتری ہونے کے ثبوت میں مشتہر ہوچکے ہیں اور قرآن وحدیث کے علاوہ خود مرزا قادیانی کو ان کا جھوٹا ہونا‘ مردود ہونا‘ ملعون ہونا‘ ہر بد سے بدتر ہونا‘ ثابت کر دیا گیا ہے‘ ان کا اعلانیہ جھوٹ دکھا دیا گیا ہے مگر سخت حیرت ہے کہ مرزائی گروہ کی عقل کس طرح سے سلب ہو گئی کہ کچھ خیال نہیں کرتے اور ایسے اعلانیہ جھوٹے کو خدا کا رسول مان رہے ہیں اور افسوس یہ ہے کہ اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں‘ یہ بھی انہیں خیال نہیں ہوتا کہ کئی برس سے رسائل مشتہر ہو رہے ہیں اور یہاں سے قادیان تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ ان کا جواب دے پھر ان کے جھوٹے ہونے میں کیا شک رہا؟
بھائیو ! جان بوجھ کر اپنی عاقبت تباہ نہ کرو‘ اور ان رسالوں کو غور سے دیکھو‘ جہاں تمہیں شبہ پیش آئے اسے دریافت کرو‘ جواب دینے کے لیے میں حاضر ہوں‘ جو تمہیں ان رسالوں کے دیکھنے سے منع کریں انہیں اپنا دشمن سمجھو اور یقین کر لو کہ تمہیں راہ حق دیکھنے سے روکتے ہیں اور اندھا بنا کر جہنم میں گرانا چاہتے ہیں‘ ہم تمہاری خیر خواہی سے کہتے ہیں۔
خادم الحکماء محمد یعقوب
١٩
قال النبي صلى الله عليه وسلم انا خاتم النبيين لا نبي بعدي (الحديث)
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائی نبوت کا خاتمہ
صحیفہ رحمانیہ
(١٦)
پروفیسر مولانا سید محمد انور حسینؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o
جس میں ختم نبوت کے قطعی دلائل بیان کئے گئے ہیں اور یقینی طور سے ثابت کر دیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا، اور جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ بموجب ارشاد نبویؐ جھوٹا دجال ہوگا، ختم نبوت کی بحث میں یہ ساتواں مضمون ہے اس سے پہلے تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ ٢ فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں پھر مرزا محمود کی تشریف آوری والے مضمون میں دعویٰ نبوت مرزا اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ و نمبر ١٥ میں یہ مضمون بعنوان مختلف لکھا گیا ہے اور اس وقت تک کسی نے جواب نہیں دیا مگر باایں ہمہ مرزائی جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہو رہا ہے۔
تاریخ۔ ٥ اگست ١٩١٧ء کو انجمن حمایت اسلام مونگیر کے مکان میں قادیانی فرقہ کے عقائد باطلہ کے رد میں ایک شاندار جلسہ ہوا۔ جس میں فاضل مولانا نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا۔ اما بعد ! ”فقد قال الله تبارک و تعالٰی، مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.“ (پ ٢٢ احزاب ٤٠)
مسلمانو ! افسوس ہے کہ یہ ایک ایسا پُر آشوب زمانہ آیا ہے۔ کہ مقدس مذہب اسلام کے ان مسائل وعقائد پر جو نصوص قطعیہ سے ثابت ہیں۔ اور جن پر تمام اہل اسلام کا اتفاق اور اجماع ہو چکا ہے۔ ایک ایسا شخص نکتہ چینیاں کرنے کو کھڑا ہو جاتا ہے۔ کہ جو نہ تو آیات قرآنیہ کی حقیقت سمجھ سکتا ہے۔ اور نہ احادیث نبویہ سے خبر رکھتا ہے، ایک جھوٹے مدعی نبوت کے اردو رسالوں کو دیکھ کر اسلام کے منصوص اور اجماعی مسئلوں اور عقیدوں کو غلط ثابت کرنے کا مدعی ہوتا ہے اور غلط غلط شبہات پیش کر کے مسلمانوں میں بیہودہ خیالات پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، دیکھو تمام مسلمانوں کا عموماً اور اہل سنت والجماعت کا خصوصاً اجماعی عقیدہ ہے۔ کہ آنحضرتؐ خاتم النبیین ہیں، یعنی نبوت اور رسالت آپؐ پر ختم ہو چکی ہے۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہ ہوگا، آج کل اس کے خلاف یہ آواز اٹھائی گئی ہے۔ کہ نبوت ورسالت ہنوز ختم نہیں ہوئی ہے، آپؐ کے بعد بھی نبی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد آنجہانی
٢
قادیانی نبی اور رسول ہیں، اس لیے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مسئلہ ختم نبوت پر مفصل اور مدلل تقریر کی جائے اور مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھا دیا جائے۔ کہ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اور آپؐ کے بعد کسی کا نبی نہ ہونا، قرآن مجید کی قطعی الدلالت آیت سے اور صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور اہل اسلام کا عموماً اور اہل سنت والجماعت کے تینوں فرقے (١) فقہا (٢) محدثین (٣) صوفیہ کا خصوصاً اس پر اجماع ہے جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ اہل سنت و الجماعت بلکہ اہل اسلام سے خارج ہے اور جو شخص آپؐ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ کذاب اور دجال ہے۔
مذکورہ بالا آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضرت زیدؓ صحابی آنحضرت ﷺ کے پسر متبنٰی (لے پالک) تھے حضرت زیدؓ کی شادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی تھی میاں بیوی میں سخت نا اتفاقی رہا کرتی تھی، آخر حضرت زیدؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دیدی، طلاق کے بعد عدت گزرنے پر خداوند تعالیٰ کے حکم سے حضرت زینبؓ آنحضرتؐ کے عقد نکاح میں آئیں اور ازواج مطہراتؓ میں داخل ہوگئیں، اس پر مخالفین اسلام نے طعن اور طنز کی راہ سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی (بیوہ) سے نکاح کرلیا ہے، حالانکہ بیٹے کی بیوی (بہو) قرآن مجید کے رو سے حرام ہے، اسی بیہودہ اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ“ محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے (حقیقی اور نسبی) باپ نہیں ہیں اور زیدؓ تمہارے مردوں میں ہیں تو زیدؓ کے بھی حقیقی باپ نہیں ہیں، پس زیدؓ آپؐ کے حقیقی اور نسبی نہیں ہوئے اور زیدؓ کی بیوی آپؐ پر حرام نہیں ہوئیں، پس مذکورہ بالا اعتراض لغو ہے، اور نا سمجھی پر مبنی ہے، یہاں پر دو شبہ پیدا ہوتے ہیں۔
پہلا شبہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تین بیٹے تھے (١) ابراہیم (٢) قاسم (٣) طاہرؓ جب آپؐ کے تین بیٹے موجود تھے تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ رجال رجل کی جمع ہے اور رجل عربی میں بالغ مرد کو کہتے ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ تمہارے بالغ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، چونکہ آنحضرت ﷺ کے تینوں صاحبزادے بالغ ہونے سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اس لیے یہ کہنا بہت صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ تمہارے بالغ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، اس شبہ کا جواب لفظ رجل کے معنی پر غور کرنے ہی سے ہوجاتا ہے، اس لیے اس شبہ کے جواب
٣
میں کوئی دوسری عبارت نہیں لائی گئی اور مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ہی کو اس کے جواب میں کافی سمجھا گیا۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزا قادیانی (اخبار البدر ١٩۔ دسمبر ١٩٠٧ء ملفوظات ج ٧ ص ٢٤٧) میں فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔ حالانکہ یہ محض غلط بات ہے نہ کسی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور نہ تاریخ کی کتابوں میں کہیں لکھا ہے کہ آپؐ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے، یہ مرزا قادیانی کا جاہلانہ جھوٹ ہے، اگر کسی مرزائی کو کچھ بھی غیرت ہے تو اس روایت کا ثبوت پیش کرے ورنہ اس بات کا اقرار کرے۔ کہ مرزا قادیانی محض بیباک جھوٹے تھے۔
دوسرا شبہ یہ ہے کہ جب آپؐ سے ابوۃ کی نفی کی گئی، یعنی یہ کہا گیا کہ آپؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے حقیقی باپ نہیں ہیں۔ تو اس سے سمجھا جاتا ہے۔ کہ آپؐ میں حقیقی باپ جیسی شفقت بھی نہ ہو گی، اس شبہ کے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ“ لیکن محمد (ﷺ) خدا کے رسول ہیں اور رسول کی شفقت امت پر اس شفقت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، جو شفقت حقیقی باپ کو اپنی اولاد پر ہوتی ہے، انبیائے کرام کے واقعات زندگی پر غور کرو، کہ انہوں نے امت کی بہی خواہی کے لیے کیسی کیسی مصیبتیں جھیلی ہیں، حق تو یوں ہے، کہ اپنا باپ بھی اپنی اولاد کے لیے اتنی تکلیفیں نہیں برداشت کر سکتا۔ جتنی تکلیفیں انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی امت کے لیے برداشت کی ہیں، بس اس کہنے سے کہ محمدؐ خدا کے رسول ہیں وہ شبہ تو جاتا رہا، کہ آپؐ میں حقیقی باپ جیسی شفقت نہیں ہو گی، مگر یہ بات ثابت نہیں ہوتی تھی کہ آپؐ کی شفقت تمام انبیائے کرام کی شفقت سے بڑھی ہوئی ہے اس لیے فرمایا۔
”وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ آپؐ تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور آخر الانبیاء ہیں اور جب آپؐ....... آخر الانبیاء ہیں تو آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور چونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا، اس لیے ضرور ہے کہ آپ ﷺ میں وہ نبوی شفقت اعلیٰ و اتم و اکمل درجہ پر ہو، چنانچہ آپ ﷺ کی اعلیٰ تعلیمات و ہدایات سے اس کی کافی شہادت ملتی ہے جیسا کہ آپؐ کی تعریف میں کہا گیا ہے۔
”ماترک خیرا الا ھداکم الیہ وماترک شرا الا حذرکم وبالہ الوخیم“ آپؐ نے ہر ایک بھلی بات کی ہدایت فرما دی، اور ہر ایک بری بات کے ناقابل برداشت عذاب سے ڈرا دیا۔
٤
اس آیت میں لفظ خاتم النبیین کی قراءت میں اختلاف ہے سات قاریوں میں سے چھ قاریوں کے نزدیک خاتم النبیین بکسر تا ہے اور یہی مشہور قراءت ہے اور ایک قاری عاصم کے نزدیک خاتم النبیین بفتح تا ہے‘ گو یہ قراءت مشہور نہیں ہے‘ مگر ہندوستان میں اسی قراءت کا رواج ہو گیا ہے‘ چنانچہ یہاں کے قرآن مجید میں خاتم النبیین بفتح تا ہی ہے۔ بہر کیف اگر خاتم کو بکسر تا پڑھئے تو یہ صیغہ اسم فاعل کا ہے۔ ختم یختم باب ضرب یضرب سے اور اس کے معنی ختم کرنے والا‘ یا مہر کرنے والا ہوگا‘ خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے کہ نبیوں کا ختم کرنے والا یا نبیوں پر مہر کرنے والا‘ چونکہ مہر کرنا خدا کی صفت ہے اس لیے اس معنی کے رو سے خاتم النبیین آپ ﷺ کی صفت نہیں ہو سکتی‘ پس یہاں پر سوائے ختم کرنے والے کے اور دوسرے معنی صحیح نہیں ہو سکتے ہیں‘ اس صورت میں نبوت کا ختم ہو جانا روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے‘ تھوڑی سمجھ کا آدمی بھی اس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
اور اگر خاتم بہ فتح تا پڑھئے تو خاتم کے تین معنی ہیں۔ (١) انگوٹھی جیسے خاتم فضۃ‘ چاندی کی انگوٹھی (٢) مہر جیسے خاتم الکتاب‘ خط کی مہر (٣) آخر جیسے خاتم القوم‘ قوم کا آخری شخص‘ عربی لغات اور عربی محاورات پر غور کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ختام‘ خاتم بالکسر وخاتم بالفتح یہ الفاظ جب کسی وسعت والی چیز کی طرف مضاف ہوتے ہیں تو جہاں پر وسعت ختم ہوتی ہے اسی جگہ کو ختام‘ خاتم بالکسر‘ خاتم بالفتح کہتے ہیں‘ ختام الوادی اسی جگہ کو کہتے ہیں‘ جہاں پر میدان ختم ہو جائے‘ اسی طرح یہ الفاظ جب کسی ایسی چیز کی طرف مضاف ہوتے ہیں‘ جس کے بہت سے افراد ہوں‘ تو ختام‘ خاتم بالکسر‘ خاتم بالفتح ہر ایک کے معنی آخر کے ہوتے ہیں‘ جیسے خاتم القوم‘ قوم کا آخری شخص مجمع البحار جو احادیث کی ایک معتبر لغت ہے‘ اور قاموس اور اس کی شرح تاج العروس اور لسان العرب وغیرہ عربی کی مشہور لغتوں میں صاف لکھا ہے۔
"ختام الوادی اقصاہ ختام القوم وغایتہم و خاتمہم ‘ آخرہم"
(لسان العرب ج ٤ ص ٢٥)
کہ ختام الوادی کے معنی انتہائی وادی ہے اور ختام القوم کے معنی آخر قوم ہیں‘ اور اس کے ساتھ ان کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے‘ کہ خاتم النبیین یا خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں‘ پس خاتم النبیین پڑھو یا خاتم النبیین‘ ہر حالت میں یہی مطلب ہوگا‘ کہ آنحضرت آخر النبیین ہیں‘ یعنی تمام انبیائے کرام کے آخر ہیں‘ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا‘ یہاں
٥
پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس آیت میں لفظ رسول اللہ کے بعد خاتم النبیین کا لفظ صرف اس بات کے ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے' کہ وہ شفقت جو انبیائے کرام کی اپنی اپنی امت پر رہا کرتی ہے' آپؐ میں سب سے زیادہ تھی' اور آپؐ اس شفقت میں نہایت ہی اعلیٰ واتم واکمل درجہ پر ہیں' اور یہ مطلب اس آیت سے اسی وقت ثابت ہوسکتا ہے جب کہ خاتَم یا خاتِم کے معنی آخر یا ختم کرنے والا لیا جائے' اور اگر خاتم بالفتح کو بمعنی مہر بھی لیا جائے' جب بھی ہمارے مطلب کے منافی نہیں۔ اس لیے کہ کسی چیز پر مہر لگ جانے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے' کہ وہ چیز بند کر دی گئی' پس اس جملہ کا مطلب کہ آپؐ نبیوں پر مہر ہیں' یہی ہوگا کہ آپؐ کے وجود باجود سے نبیوں کا آنا بند ہو گیا' آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ وہو المطلوب۔
حضرات ناظرین! یہاں تک میں نے محض عربی لغتوں کے رو سے خاتم النبیین کے معنی بیان کیے' جس سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی' کہ یہ آیت مسئلہ ختم نبوت پر قطعی الدلالۃ نص ہے۔ اس میں کسی طرح دوسرے معنی کی گنجائش نہیں' اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں' کہ جس مقدس ذات پر یہ آیت نازل ہوئی ہے' اس نے اس آیت کا کیا مطلب سمجھا اور سمجھایا ہے' اور اپنی امت مرحومہ کو مسئلہ ختم نبوت میں کیا تعلیم دی ہے۔
پہلی حدیث! (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں دجال کے بارہ میں ایک طویل حدیث مروی ہے' اس میں جناب رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔
- ا ............ ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم“
”کہ میں سب نبیوں کا آخری شخص ہوں اور تم سب امتوں میں آخری امت ہو۔“
یعنی نہ میرے بعد کوئی نبی ہے' اور نہ تمہارے بعد کوئی دوسری امت' جب خود حضور پرنور ﷺ نے اپنے کو آخر الانبیاء فرما دیا' تو اس سے صاف ثابت ہوگیا' کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں' جیسا کہ اہل لغت لکھتے ہیں' اب کسی مسلمان کی مجال نہیں ہے' کہ آخر کے سوا خاتم کے کوئی دوسرے معنی لے' اس لیے کہ مسلمان کی شان یہ ہے۔
بلکہ مرزائیوں کی بھی مجال نہیں ہے' کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہونے میں چون و چرا کرسکیں' اس لیے کہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ اوّل نورالدین قادیانی کا مذہب یہ ہے'
کہ وحی والہام کے معنی جو صاحب وحی والہام بیان کرے وہی صحیح ہے‘ اور اس کے سوا سب غلط‘ یہاں پر جب خود صاحب وحی علیہ الصلوۃ والسلام نے انا آخر الانبیاء فرما دیا تو اب آخر کے سوا خاتم کے دوسرے معنی لینا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ وهو المراد.
دوسری حدیث! جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں۔
- ٢......... عن جبير بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ يقول ان لی اسماء انا
محمد. وانا احمد وانا الماحی الذی يمحوالله بی الکفر وانا الحاشر الذی يحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعده نبی.
(بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ ﷺ )
میرے بہت سے نام ہیں‘ میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں‘ میں ماحی ہوں‘ اللہ میرے ذریعے سے کفر مٹائے گا‘ میں حاشر ہوں‘ میرے بعد لوگ قبروں سے اٹھیں گے‘ میں عاقب ہوں‘ اور عاقب اسی کو کہتے ہیں‘ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو‘ عاقب کی تفسیر میں ”لیس بعدہ نبی“ فرمایا۔
اس میں نبی کا لفظ نکرہ ہے اور نفی کے تحت میں واقع ہے اور جب نکرہ تحت نفی میں واقع ہوتا ہے تو عام ہوتا ہے یعنی اس نکرہ کے ہر فرد کو شامل ہوتا ہے پس ”لیس بعدہ نبی“ کا یہ مطلب ہوا کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہے تشریعی ہو یا غیر تشریعی ظلی ہو یا بروزی‘ علاوہ اس کے عاقب کے لغوی معنی بھی پیچھے آنے والا ہے‘ اور پیچھے آنے والا اسی کو کہتے ہیں‘ جس کے بعد کوئی نہ ہو‘ پس لغوی معنی کے رو سے بھی ثابت ہوتا ہے‘ کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ وهو المقصود
یہ بھی واضح رہے کہ قرآن مجید سے یا کسی حدیث صحیح سے یہ ثابت نہیں ہوتا‘ کہ نبی اور رسول دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (١) تشریعی (٢) غیر تشریعی یا (١) اصلی (٢) ظلی و بروزی‘ بلکہ قرآن مجید کی ایک صریح آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نبی صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے‘ دیکھو سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ، نوحؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ، الیاسؑ، اسمعیلؑ، الیسعؑ، یونسؑ، لوطؑ عَلٰى نَبِيِّنَا وَ عَلَيْهِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ کا ذکر کر کے فرمایا۔
”اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنَاهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ“ (پ ٧ انعام ٨٩)
یہ وہ جماعت ہے‘ جن سب کو میں نے کتاب اور شریعت اور نبوت دی ہے۔
٧
پس کسی نبی کو تشریعی یعنی صاحب کتاب وصاحب شریعت قرار دینا‘ اور کسی نبی کو غیر تشریعی یعنی غیر صاحب کتاب وغیر صاحب شریعت قرار دینا‘ اس آیت کے صریح خلاف ہے۔
اسی طرح آیہ کریمہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ (البقرہ٢٨٥) سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ نبوت ورسالت میں سب رسول برابر ہیں‘ کسی میں کچھ فرق نہیں ہے‘ اب تشریعی وغیر تشریعی کا فرق نکالنا اور کسی نبی کو تشریعی کہنا اور کسی کو غیر تشریعی یا کسی کو اصلی کہنا اور کسی کو بروزی کہنا باطل ہے‘ ہاں باعتبار درجہ کے بعض نبی کو بعض نبی پر فضیلت ہے‘ جیسا کہ ”تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ“ (البقرہ٢٥٣) سے ثابت ہوتا ہے‘ مگر فضیلت کی یہ وجہ نہیں ہے کہ بعض نبی تشریعی ہیں اور بعض غیر تشریعی‘ بلکہ وجوہ فضیلت دوسری باتیں ہیں۔
تیسری حدیث! ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ٣............ عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجد وطھورا ارسلت الی الخلق کافة و ختم بی النبیون. (رواہ مسلم ج١ص١٩٩ باب
المساجد و مواضع الصلوة)
کہ میں دوسرے نبیوں پر چھ باتوں میں فضیلت دیا گیا ہوں (١) مجھ کو جامع کلمے دیئے گئے (٢) میں اپنے رعب کی وجہ سے فتح یاب ہوں (٣) مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا (٤) ساری زمین میرے لیے نماز اور تیمم کے لائق بنائی گئی (٥) میں سارے لوگوں کے لیے رسول ہوں‘ (٦) نبیوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا۔
اس حدیث سے بعبارت النص ثابت ہوا‘ کہ رسالت آپؐ پر ختم ہوچکی ہے‘ اب آپؐ کے بعد کوئی رسول ہو نہیں سکتا۔
مسلمانو! مرزائی جماعت کی گستاخی اور بے ادبی دیکھو‘ کہ رسول اللہ ؐ نے تو ختم رسالت کو اپنے وجوہ فضیلت میں بیان فرمایا ہے‘ اور یہ جماعت کہتی ہے‘ کہ بنی اسرائیل میں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد زمانہ دراز تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا‘ اور بدقسمتی سے مسلمانوں کے وقت میں نبوت ورسالت ختم کردی گئی‘ جس بات کو رسول اللہؐ نے اپنی فضیلت میں شمار کیا ہے‘ یہ بے ادب جماعت اس بات کو بدقسمتی قرار دیتی ہے‘ یہ ہے مرزائیوں کا اسلام اور ایمان۔
٨
میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں کا یہ خیال کہ جس طرح بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی اور رسول آتے رہے، اسی طرح امت محمدیہ میں بھی آنحضرتؐ کے بعد قیامت تک نبی اور رسول آتے رہیں گے، غلط اور محض غلط ہے۔
چوتھی حدیث! بخاری شریف میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے
فرمایا۔
- ٤.......... کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی وانه
لا نبی بعدی وسیکون خلفاء. (بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذکر عن بنی اسرائیل)
کہ بنی اسرائیل پر انبیاء (علیہم السلام) حکومت کرتے رہے، جب کوئی نبی وفات پاتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، البتہ خلفاء ہوں گے۔
اس حدیث سے صاف طور سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس طرح بنی اسرائیل میں ایک نبی کے جانشین دوسرے نبی ہوتے تھے، اس طرح سے آنحضرت ﷺ کا کوئی جانشین نبی نہ ہو گا، اس لیے کہ نبوت آپؐ پر ختم ہو چکی ہے، آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا، اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے، کہ آپؐ کے جانشینوں کا لقب خلفاء ہے، انبیاء نہیں ہے، اسی وجہ سے بعض خلفائے راشدین کی نسبت آنحضرت ﷺ نے صاف لفظوں میں فرما دیا ہے، کہ ان میں نبی ہونے کی صلاحیت تھی، مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اس وجہ سے وہ نبی نہ ہو سکے۔
پانچویں حدیث! (ترمذی ج٢ ص٢٠٩ باب مناقب عمرؓ) میں عقبہ بن عامر سے
روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا۔
- ٥.......... قال رسول الله ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب. ”کہہ
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن خطاب ہوتے۔“
چھٹی حدیث! صحیحین میں سعد بن وقاصؓ سے روایت ہے، کہ آنحضرتؐ نے
غزوہ تبوک میں جاتے وقت حضرت علیؓ سے فرمایا۔
- ٦.......... قال رسول الله ﷺ انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى
بعدی.
(بخاری ج ١ ص ٥٢٦ باب مناقب علی ابن ابی طالب مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علیؓ ابن ابی طالب)
٩
”کہ آپ ہمارے غیب میں اسی طرح ہمارے جانشین ہیں، جس طرح موسیٰؑ کے جانشین ہارونؑ تھے، مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں۔“
یعنی ہارونؑ نبی تھے، اور چونکہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اس لیے آپ نبی نہیں ہو سکتے۔
اس روایت سے روزِ روشن کی طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپؐ کے بعد حضرت ہارونؑ جیسی نبوت بھی کسی کو نہیں مل سکتی ہے، اور مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت ہارونؑ کی نبوت غیر تشریعی تھی، تو ثابت ہوا کہ غیر تشریعی نبوت بھی کسی کو نہیں مل سکتی۔
کیا کوئی مسلمان اس بات کو مان سکتا ہے کہ مرزا قادیانی تو فنا فی الرسول کے درجہ پر پہنچ کر غیر تشریعی اور ظلی و بروزی نبی بن جائیں، اور حضرت عمرؓ و حضرت علیؓ کو یہ درجہ نہ ملے، اور غیر تشریعی و ظلی و بروزی نبوت سے بھی محروم رہ جائیں، ہر گز نہیں ہر گز نہیں، (واقف کار حضرات جانتے ہیں، اور جان سکتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ سے اور بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسلام کو کس قدر نفع پہنچا اور اسلامی حکومت کو ترقی ہوئی، اور مرزا قادیانی کے وجود سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کس قدر نقصان ہر طرح کا پہنچا، با ایں ہمہ مرزا قادیانی کو اپنی فضیلت کا دعویٰ ہے۔ افسوس۔
مسلمانو ! اس وقت تک جتنی حدیثیں میں نے بیان کیں ان سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے، آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا۔
اب ایک اور حدیث بیان کرتا ہوں جس سے علاوہ اس مضمون کے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں، آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہو گا، یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کے بعد جو شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرے، وہ محض کذاب و دجال ہے۔
ساتویں حدیث ! (ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ باب ذکر الفتن و دلائلھا اور ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج الکذابون) میں حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے۔
٧............. قال رسول اللہ ﷺ اذا وضع السیف فی امتی لم یرفع عنھا الٰی یوم القیامۃ ولا تقوم الساعۃ حتی تلحق قبائل من امتی بالمشرکین وحتی تعبد قبائل من امتی الاوثان وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ
١٠
وانا خاتم النبيين لانبى بعدى ولا تزال طائفه من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتى امر الله و فى رواية البخارى دجالون كذابون.
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہماری امت میں جب لڑائی شروع ہو جائے گی تو قیامت تک موقوف نہ ہو گی اور قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ ہماری امت کے چند قبیلے مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور یہاں تک کہ چند قبیلے ہماری امت کے بت پرستی کرنے لگیں اور بیشک ہماری امت میں تیس کے قریب کذاب ہوں گے (بخاری شریف میں اس طرح ہے دجال و کذاب ہوں گے) ہر ایک ان کا دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے حالانکہ میں سب نبیوں میں آخری شخص ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور ہماری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، جو ان کی مخالفت کرے گا ان کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔
اس حدیث میں دو لفظ قابل غور ہیں (١) کذاب (٢) دجال۔ کذاب کے لغوی معنی ہیں کثرت سے جھوٹ بولنے والا دجال کے لغوی معنی ہیں کثرت سے فریب دینے والا یہ ظاہر ہے کہ ایک معمولی انسان جب جھوٹ بولتا ہے یا کسی کو فریب دیتا ہے تو بڑے بڑے عقلا اس کے جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں اور اس کے فریب میں آجاتے ہیں، بھلا جو شخص کہ مدعی نبوت ہو گا اس کا کذب و فریب کیسا ہوگا؟ خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ کثرت سے جھوٹ بولے اور کثرت سے فریب دے، یقیناً معمولی انسان کے کذب و فریب سے کہیں زیادہ ہو گا، جو لوگ اہل علم ہیں، وہ تو قرآن وحدیث کی رو سے اس کذاب و دجال کو پہچان سکتے ہیں اور ان کے فریب سے بچ سکتے ہیں، مگر جو لوگ قرآن وحدیث سے واقف نہیں ہیں ان کا بچنا بہت دشوار ہے اس لیے حضور ﷺ نے ان کذاب ودجال کی نشانی ایسے عام فہم لفظوں میں فرمادی ہے کہ جس کو تھوڑی عقل والا آدمی بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے وہ نشان یہ ہے ”كلهم يزعم انه نبى الله“ یعنی ہر ایک ان کا یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہی کذاب و دجال ہے، یعنی آپؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا ہی کذاب و دجال ہونے کی نشانی ہے۔ اس لیے کہ ہر قسم کی نبوت آپؐ پر ختم ہوچکی ہے، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ”انا خاتم النبيين لانبى بعدى“ اگر آپؐ کے بعد کسی قسم کے نبی کا ہونا جائز ہوتا، تو آپؐ کذاب دجال کی یہ نشانی نہیں بتاتے اور ہرگز عام لفظوں میں نہ فرماتے کہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا یہاں پر لانبی بعدی میں لانفی جنس
16
ہے، جو استغراق کے لیے ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے، کہ آپ کے بعد کوئی شخص کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا، یہ جملہ کہ ”انا خاتم النبیین“ آپ کے بعد مدعیان نبوت کے کاذب ہونے کی دلیل ہے، اور یہ جملہ کہ ”لا نبی بعدی، انا خاتم النبیین“ کی تفسیر ہے، یعنی انا خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے، کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اس حدیث سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے، کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی حضور ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی ہے، ان میں تین صفتیں پائی جائیں گی (١) باوجود دعویٰ نبوت کے اپنے کو امتی کہیں گے، (٢) کثرت سے جھوٹ بولیں گے، (٣) بڑے فریبی ہوں گے۔
اس حدیث کی رو سے جب مرزا قادیانی کی حالت پر غور کرتا ہوں، تو یہ تینوں صفتیں مرزا قادیانی میں نہایت صفائی کے ساتھ پاتا ہوں، مرزا قادیانی کی تالیفات کو اٹھا کر دیکھو، قریب قریب ہر تالیف میں ان کا یہ اقرار موجود ہے، کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی، مرزا قادیانی میں اس پہلی صفت کا پایا جانا ان کا اقرار ہے، کوئی مرزائی اس سے انکار نہیں کر سکتا، دوسری صفت یعنی کثرت سے جھوٹ بولنا بھی مرزا قادیانی میں روز روشن کی طرح پائی جاتی ہے، دیکھو صحیفہ محمدیہ نمبر ١، ٨، ١٤ وغیرہ۔ مرزا قادیانی جھوٹ بولنے میں ایسے دلیر ہیں، کہ بے شمار جھوٹ باتیں قرآن و حدیث کی طرف منسوب کر دینے میں کچھ بھی باک نہیں کرتے، اور ماوشما کی طرف جھوٹ بات کا منسوب کر دینا تو ان کا شعار ہے، دیکھو (اربعین نمبر ٣ ص ١٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشینگوئیاں پوری ہوتیں، جس میں لکھا تھا، کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا، تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا، وہ اس کو کافر قرار دیں گے، اور اس کے قتل کے لیے فتوے دئیے جائیں گے، اور اس کی سخت توہین کی جائے گی، اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے کہیں قرآن مجید اور احادیث میں ان مضامین کا پتہ نہیں ہے، کوئی غیرت مند مرزائی ہے، جو قرآن و احادیث میں ان مضامین کو دکھا سکے، اگر نہیں دکھلائے (اور ہرگز نہیں دکھلا سکتا) تو اس کو مرزا قادیانی کے کاذب تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ مرزا قادیانی کا ایک اور صریح جھوٹ دیکھو (اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں لکھتے ہیں کہ ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا، کہ وہ اگر کاذب ہے، تو
١٢
ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا، کیونکہ وہ کاذب ہے، مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے، اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا، کہ کاذب کون تھا۔ حالانکہ یہ بھی محض جھوٹ ہے، نہ مولوی غلام دستگیر صاحب نے ایسا لکھا اور نہ مولوی اسمعیل صاحب سے عرصہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کہ دونوں صاحبوں کی کتابوں میں دکھلاؤ، مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دیتا ہے۔ دعاء مرزا میں جو عین جلسہ مناظرہ مونگیر میں شائع کی گئی تھی جس کو یہ ساتواں سال ہے مبلغ پانچسو روپے کا چیلنج دیا ہوا ہے، کہ جو مرزائی مذکورہ بالا مضمون دونوں مولوی صاحبوں کی کتابوں میں دکھلا دے وہ مبلغ پانچ سو روپیہ مجھ سے انعام لے۔ جلسہ مناظرہ میں مرزائی جماعت کے بڑے بڑے مربی موجود تھے مگر صدائے برنخواست یہ ہے مرزا قادیانی کے کذاب ہونے کا قطعی ثبوت، اب رہی تیسری صفت یعنی دجال بڑا فریبی ہونا، اس صفت میں بھی مرزا قادیانی اپنی نظیر آپ ہے، اگر مرزا قادیانی کی دھوکا بازیوں اور فریبوں کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب ہو جائے، میں اس وقت ان کا ایک فریب دکھلاتا ہوں، سنو!
مرزا قادیانی نے جس طرح مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اسی طرح خاتم الخلفاء ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے، یعنی وہ کہتے ہیں، کہ میں آنحضرت ﷺ کا آخری خلیفہ ہوں، کسی نے ان پر اعتراض کیا، کہ از روئے حدیث شریف کے خلافت تو تیس برس تک ختم ہوچکی، اب آپ خاتم الخلفاء کیونکر ہو سکتے ہیں، اس کے جواب میں مرزا قادیانی (شہادة القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں۔
”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے، جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہے، مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے، کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی، کہ ”هذا خليفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے، جو ایسی کتاب میں درج ہے، جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے، مگر وہ حدیث جو معترض نے پیش کی ہے، علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے۔“
اس جواب میں مرزا قادیانی کا فریب یہ ہے، کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو جس میں یہ ذکر ہے، کہ بعض خلیفہ کے لیے آسمان سے آواز آئے گی کہ ”هذا خليفة الله
١٤
المهدی“ بخاری شریف کی طرف منسوب کر دیا ہے پھر اہل سنت و جماعت کے اس مشہور قول کو کہ قرآن مجید کے بعد تمام کتابوں سے صحیح تر کتاب بخاری شریف ہی ہے ذکر کر کے اس پر زور دے دیا ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ حدیث بہت صحیح ہے اور جو حدیث معترض نے پیش کی ہے بمقابلہ اس حدیث کے ضعیف ہے حالانکہ یہ بات محض غلط ہے بخاری شریف میں اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں ہے نہ تو ان لفظوں کے ساتھ یہ حدیث بخاری میں ہے اور نہ اس مضمون کی کوئی حدیث بخاری ہے میں عرصہ ہوا کہ میں نے اس کو بھاگلپور کے جلسہ میں بھی بیان کیا تھا اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٦ میں بھی طبع کرا کر شائع کر دیا ہے مگر آج تک مرزائیوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آج پھر مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ اس حدیث کو یا اس کے مضمون کو بخاری شریف میں دکھلائیں یا مرزا قادیانی کے جھوٹے اور فریبی ہونے کا اقرار کریں یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک معترض کے جواب میں تو مرزا قادیانی نے اس حدیث کو بخاری شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس وجہ سے اس کی صحت پر بڑا زور دے رہے ہیں اور اس سے پیشتر اپنی مایہ ناز کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٦١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨) میں لکھا ہے کہ ”اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لیے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسمعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے اپنے صحیحہ سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعویٰ کر کے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا لیکن امام محمد مہدی کا تو نام تک بھی نہیں لیا اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کے رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں“۔
اب کوئی مرزائی مجھے بتلائے کہ جب امام بخاری نے امام محمد مہدی کا نام تک نہیں لیا تو پھر یہ حدیث کہ ”هذا خليفة الله المهدی“ صحیح بخاری میں کیونکر پائی جاسکتی ہے؟ یہ ہے مرزا قادیانی کا دوسرا فریب کہ جہاں ان کو یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مہدی نہیں ہوں گے وہاں یہ لکھ دیا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب میں امام مہدی کا نام تک نہیں لیا ہے اور جب ایک معترض نے ان کے خاتم الخلفا ہونے پر اعتراض کیا تو اس کے جواب میں لکھ دیا کہ ”هذا خليفة الله المهدی“ بخاری شریف میں ہے یا یوں کہیے کہ مرزا قادیانی کو معترض کے
١٣
جواب لکھتے وقت اپنے حافظہ کے قصور کی وجہ سے اپنی پہلی تحریر یاد نہیں رہی‘ تو اس صورت میں بھی مرزا قادیانی مشہور مثل کے مطابق کہ دروغ گو را حافظہ نباشد دروغ گو ثابت ہوتے ہیں۔
الغرض مرزا قادیانی جس طرح قرآن و حدیث کی رو سے کاذب ثابت ہوتے ہیں اسی طرح ایک مشہور مثل کی رو سے بھی دروغ گو ثابت ہوتے ہیں ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
مسلمانو! آپ حضرات نے ہمارے مذکورہ بالا بیان سے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا‘ کہ ہم لوگوں کا یہ عقیدہ کہ سید المرسلین شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفیٰؐ پر نبوت و رسالت ختم ہو چکی ہے‘ آپؐ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت و رسالت نہیں مل سکتی۔ نہایت ہی پختہ عقیدہ ہے‘ اور قرآن مجید کی آیۂ قطعی الدلالت اور صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور مذکورہ بالا آیت اور احادیث کے وہی معانی ہیں جو ابھی بیان کیے گئے ان کے سوا دوسرے معانی نہیں ہو سکتے‘ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے‘ اور آنحضرتؐ کے بعد کسی کے نبی و رسول ہونے کا قائل ہو وہ شخص اہل سنت و جماعت بلکہ اہل اسلام سے خارج ہے‘ جیسا کہ قاضی عیاض اپنی مشہور کتاب (شفاء جز ٢ ص ٢٤٧ فصل فی بیان ماهو من المقالات کفر و مایتوقف ) میں لکھتے ہیں۔
”ومن ادعی النبوة لنفسه اوجوز اکتسابها والبلوغ بصفاء القلب الی مرتبتها کالفلاسفة وغلاة المتصوفة وکذلک من ادعی منهم انه یوحی الیه وان لم یدع النبوة وانه یصعد الی السماء ویدخل الجنة و یاکل من ثمارها ویعانق حور العین فهؤلاء کلهم کفار مکذبون للنبی ﷺ لانه اخبر ﷺ انه خاتم النبیین لا نبی بعده و اخبر عن الله تعالیٰ انه خاتم النبیین و انه ارسل کافة للناس و اجمعت الامة علی حمل هذا الکلام علی ظاهره وانه مفهومه المراد به دون تاویل وتخصیص فلاشک فی کفر هؤلاء الطوائف کلها قطعاً واجماعاً وسمعا.“
”جو شخص خود نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ محنت سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ صفائی قلب سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے جیسا کہ فلاسفہ اور غالی صوفیاء قائل ہیں یا یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے گو نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے‘ جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کا میوہ کھاتا ہے حوروں کو گلے لگاتا ہے‘ پس یہ سب کے سب کافر ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں‘ اس لیے کہ آپؐ نے یہ خبر دی
١٥
ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور آپ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین کہا ہے اور آپ کو تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے اور امت محمدیہ نے اس پر اجماع کیا ہے کہ ختم نبوت کے بارہ میں جو آیت یا حدیث آئی ہے اس کے وہی معنی ہیں جو اسکے الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں اور وہی مراد ہیں اور اس میں کسی طرح تاویل یا تخصیص جائز نہیں ہے پس اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سب گروہ یقینی کافر ہیں ان کے کفر پر اجماع ہو گیا ہے اور ان کا کفر قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔“ اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص اسلام سے خارج ہے نہ تو اس کے جنازے کی نماز درست ہے نہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اب میں اپنا بیان اس دعا پر ختم کرتا ہوں۔
”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃً انک انت الوھاب، ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولنا فانصرنا علی القوم الکافرین“
اس تقریر کے ختم ہونے کے بعد مولانا محمد عمر صاحب نے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے، جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کے نبی ہونے کا قائل ہو وہ مسلمان نہیں ہے جس طرح اس کے جنازہ کی نماز اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے اسی طرح اس سے شادی بیاہ بھی ناجائز ہے نہ اپنی لڑکی اس کو دو اور نہ اس کی لڑکی لو۔
ناظرین! مذکورہ بالا تقریر برجلسہ حقانی میں بتاریخ ٥۔اگست ١٩١٧ء ہوئی تھی۔ اس کے بعد تاریخ ١٠۔اگست مذکور کو مرزائیوں کی طرف سے ایک اشتہار اس عنوان سے شائع کیا گیا۔ حکیم خلیل احمد (مرزائی) کا نبوت پر تیسرا لیکچر‘ اس تاریخ میں مسلمانوں کی طرف سے چند حضرات مرزائیوں کے جلسہ میں بھیجے گئے اور غازی مولوی سعید الحسن صاحب مختار نے حکیم خلیل احمد (مرزائی) سے مناظرہ کیا جس کی مختصر کیفیت صحیفہ محمدیہ ستمبر ١٧ء میں شائع کی جاچکی ہے۔
اس جلسہ میں حکیم خلیل نے مناظرہ کے قبل اپنی تقریر میں یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے مخالفین ختم نبوت کی دلیل میں آیت خاتم النبیین پیش کرتے ہیں حالانکہ خاتم النبیین کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے بلکہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں، یعنی جس طرح مہر اس چیز کی تصدیق
١٦
کرتی ہے جس پر مہر ہے اسی طرح آپ سارے نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں اس رو سے خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کا تصدیق کرنے والا، پس اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے اسی طرح لا نبی بعدی کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعد ہمارے جیسا کوئی نبی نہ ہوگا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سے کم درجہ کا نبی ہو سکتا ہے، جس طرح ”اذاہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ و اذاہلک قیصر فلا قیصر بعدہ“ کا یہ مطلب ہے کہ جب کسریٰ ہلاک ہو گا تو اس جیسا دوسرا کسریٰ نہ ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہو گا تو اس جیسا دوسرا قیصر نہ ہوگا۔“
(مسلم ج ٢ ص ٢٩٦ فصل فی ہلک قیصر وکسریٰ)
ہرچند اس جواب کا جواب مذکورہ بالا تقریر میں موجود ہے لیکن اس وجہ سے کہ مرزائی مقرر نے اس جواب میں محض دھوکا دیا ہے اور صریح فریب سے کام لیا ہے، پھر بچند وجوہ جواب دیتا ہوں، سنو!
- ١........... اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں کہ خاتم النبیین میں خاتم کے معنی مہر کے ہیں اور خاتم النبیین
کے معنی یہ ہیں کہ آپ سب نبیوں کے مہر ہیں تو بھی اس آیت سے نبوت کا ختم ہو جانا ہی ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ اس معنی کی رو سے مطلب یہ ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کو مہر کے ساتھ اس بات میں تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح مہر آخر میں لگائی جاتی ہے اسی طرح آپ سب نبیوں کے آخر ہیں، دیکھو حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے ”فشبہ النبی ﷺ بالخاتم لکونہ فی خاتمتہم“ یا یوں کہیے کہ جس طرح کسی چیز کو بوتل وغیرہ میں بند کر کے مہر کر دیتے ہیں تاکہ دوسری چیز اس میں داخل نہ ہو سکے اسی طرح سلسلہ نبوت کو بند کر کے آپ کو مہر بنایا تا کہ اب کوئی دوسرا سلسلہ نبوت میں داخل نہ ہو سکے۔
یہاں یہ کہنا کہ جس طرح مہر تصدیق کرنے والی چیز ہے اسی طرح آپ انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہیں، دو وجہوں سے غلط ہے۔
وجہ اوّل ! یہ ہے کہ اگر ہم تسلیم کرلیں کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ سب نبیوں کے تصدیق کرنے والے ہیں تو یہ صفت سب نبیوں میں پائی جاتی ہے اس لیے کہ ہر نبی کل انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہیں کسی نبی نے کسی نبی کی تکذیب نہیں کی ہے، پس یہ صفت آپ کے ساتھ خاص نہیں رہی، حالانکہ حضور ﷺ نے ختمِ نبوت کو ان چھ چیزوں میں شمار کیا ہے جو آپ
١٧
کے سوا کسی نبی کو نہیں دی گئی مذکورہ بالا تقریر میں تیسری حدیث کو بغور دیکھو۔
وجہ دوم ! یہ ہے کہ خاتم کو بمعنی مہر لے کر پھر اس کو تصدیق کرنے والے کے معنی میں لینا عربی لغات اور عربی محاورات کے محض خلاف ہے، کہیں عربی محاورہ میں خاتم تصدیق کرنے والے کے معنی میں مستعمل نہیں ہے تو قرآن وحدیث میں اور نہ دیگر کلام عرب میں، اگر کسی مرزائی کو کچھ بھی علمیت کا دعویٰ ہے تو اس بات کو کلام عرب سے ثابت کرے کہ خاتم کے معنی مصدق کے ہیں، اگر نہیں ثابت کر سکتا اور ہرگز نہیں ثابت کر سکتا، تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ وہ اس طرح کی تفسیر میں اس حدیث شریف کا مصداق ہے جو (ترمذی ج ٢ ص ١١٩ ابواب تفسیر القرآن ) میں ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ
- ٨............. عن النبی ﷺ من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوء مقعدہ من النار .
کہ حضورؐ نے فرمایا کہ جو شخص تفسیر محض اپنی رائے سے کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔
- ٢............. اس آیت میں مشہور قرآت کی رو سے خاتم بالکسر ہے جس کے معنی ہیں ختم کرنے والا،
مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی قرأت کو لیا ہے اور یہی معنی کیا ہے، چنانچہ وہ اپنی مشہور کتاب ازالۃ الا وہام کے (حصہ دوم ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں لکھتے ہیں وہ اکیسویں آیت یہ ہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ.
”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے، مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“
اب مرزائی لیکچرر بتائے کہ جب اس کے پیرو مرشد خاتم النبیین کے معنی نبیوں کا ختم کرنے والا لکھ چکے ہیں تو اب وہ اس معنی کو چھوڑ کر کس منہ سے دوسرے معنی بیان کرتا ہے، اس کو اپنے پیر و مرشد کے خلاف معنی بیان کرنے میں شرم نہیں آتی ہے، شرم ! شرم !! شرم !!!
- ٣............. تمام اہل لغت اور تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیین میں خاتم کو بالکسر
پڑھو یا بالفتح دونوں حالت میں اس کے معنی آخر النبیین ہیں اور متعدد صحیح صحیح حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور پرنورؐ نے اپنے کو ”انا آخر الانبیاء‘ انا العاقب انا اللبنة“
عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنة فطاف بہ النظار متعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلک اللبنہ فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی البنیان و
١٨
ختم بی الرسل و فی رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبیین. (مشکوٰۃ ص ٥١١ باب فضائل سید المرسلین، بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین )
صحیحین میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ”میری اور دوسرے نبیوں کی مثل ایک مکان کی ہے کہ کسی نے نہایت عمدہ مکان بنایا لوگ اس کو پھر پھر کر دیکھتے ہیں اور اس کے حسن تعمیر پر تعجب کرتے ہیں مگر اس مکان میں ایک اینٹ کی جگہ باقی ہے پس میں نے آ کر اس اینٹ کی جگہ کو بھر دیا اور وہ ناتمام مکان مجھ سے پورا ہو گیا اور رسولوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا پس میں پیغمبروں میں اس آخری اینٹ کے مانند ہوں یعنی میں خاتم النبیین ہوں۔“
اس روایت میں آپؐ نے دین کو ایک مکان کے ساتھ تشبیہ دی اور تمام انبیا کو اینٹ کے ساتھ تشبیہ دی اور اپنے کو آخری اینٹ فرمایا جس سے ثابت ہوا کہ آپؐ آخری نبی ہیں آپؐ کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہو سکتا ایسی صحیح صحیح اور صاف صاف حدیثوں کے ہوتے ہوئے ختم نبوت کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنی کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔
اور چند موقع پر لا نبی بعدی فرما کر بتلا دیا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں، اب کون ایماندار ہے کہ ان تصریحات کو چھوڑ کر خاتم النبیین کے دوسرے معنی کرے با وجود ان تصریحات کے مرزائی جماعت اگر ختم نبوت کی قائل نہیں ہوتی ہے تو صاف یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم کو قرآن وحدیث کے ماننے میں کلام ہے، اگر ایسا کہہ دیں تو ہم آئندہ اس کے مقابلہ میں قرآن وحدیث پیش نہیں کریں گے بلکہ دوسرے طریقہ سے ان کے غلط دعوئے کو باطل کر دکھائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
مرزائی لیکچرر کا یہ کہنا کہ لا نبی بعدی کا یہ مطلب ہے کہ آپؐ کے بعد آپؐ جیسا کوئی نبی نہ ہوگا‘ آپؐ سے کم درجہ کا نبی ہو سکتا ہے، محض فریب دہی ہے اس لیے کہ اگر مرزائی لیکچرر کا یہ بیان صحیح ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے یہ معنی ہوں کہ خدا جیسا کوئی معبود نہیں ہے خدا سے کم درجہ کا معبود ہو سکتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ) اسی طرح یہ بھی لازم آتا ہے کہ لَا مَہْدِیَّ اِلَّا عِیْسٰی کا یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جیسا کوئی مہدی نہ ہوگا‘ حضرت عیسیٰؑ سے کم درجہ کا مہدی ہو سکتا ہے حالانکہ مرزا غلام احمد لا مہدی الا عیسیٰ کا یہ مطلب لکھتے ہیں کہ اس وقت بجز عیسیٰ کے کوئی مہدی نہیں ہوگا۔
اب مرزائی لیکچرر بتلائے کہ کلمہ طیبہ کے صحیح معنی کیا ہیں اور مرزا قادیانی نے جو معنی
١٩
لا مهدی الا عیسیٰ کے لکھا ہے صحیح ہے یا غلط؟ اس موقع پر میں ایک اور صحیح حدیث پیش کرتا ہوں جو (ترمذی ج ٢ ص ٥١ باب ذهبت النبوة و بقیت المبشرات مسند امام احمد بن حنبل ج ٣ ص ٢٦٧) میں انس بن مالکؓ سے مروی ہے۔
- ا ۔ ............ قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول
بعدی ولا نبی‘ الحدیث.
کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی پس کوئی رسول اور نبی میرے بعد نہیں۔
مرزائی لیکچرر اپنے بڑے بڑے مربیوں سے پوچھے کہ اس حدیث کے پہلے جملہ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت کا کیا مطلب ہے؟ اور پھر اس جملہ کے بعد فاء تفریع کے ساتھ لا رسول بعدی ولا نبی لانے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اگر مرزائی جماعت میں کسی کو بھی کچھ علمیت کا دعویٰ ہے تو با قاعدہ اس حدیث کا جواب دے ورنہ مسئلہ ختم نبوت میں چون و چرا کرنے سے باز آئے۔
اصل بات یہ ہے کہ مرزائی لیکچرر نہیں جانتا کہ لائے نفی جنس سے کس جگہ نفی ذات مراد ہوتی ہے اور کس جگہ نفی صفت سچ ہے۔
جو مبتدا و خبر کی خبر نہیں رکھتے
مرزائی لیکچرر کا اذا هلک کسریٰ فلا کسریٰ بعده و اذا هلک قیصر فلا قیصر بعدہ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس حدیث کے شان نزول سے محض ناواقف ہے اگر اس حدیث کے شان نزول سے واقف ہوتا تو کبھی اس حدیث کو پیش نہیں کرتا۔
سنو ! اس حدیث کا شان نزول یہ ہے کہ قریش اسلام قبول کرنے سے پہلے شام اور عراق میں تجارت کے لیے جایا کرتے تھے جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو ان کو اس بات کا خوف ہوا کہ شام میں قیصر کی سلطنت ہے اور عراق میں کسریٰ کی سلطنت ہے اور یہ دونوں ہمارے مذہب اسلام کے مخالف ہیں ہم لوگوں کو مسلمان ہو جانے کی وجہ سے اپنے اپنے ملک میں تجارت نہیں کرنے دیں گے اس وقت حضور ﷺ نے قریش کو یہ خوشخبری سنائی کہ شام سے قیصر کی سلطنت اور عراق سے کسریٰ کی سلطنت بہت جلد زوال پذیر ہو جائے گی پھر شام میں قیصر کی سلطنت اور
٢٠
عراق میں کسریٰ کی سلطنت نہ ہوگی پس ”فلا کسریٰ بعدہ ولا قیصر بعدہ“ کا مطلب یہ ہے فلا کسری بالعراق ولا قیصر بالشام اور یہی واقع بھی ہوا کہ عراق سے کسریٰ کی سلطنت گئی تو پھر کوئی کسریٰ عراق کا مالک نہیں ہوا‘ اور شام سے قیصر کی سلطنت گئی تو پھر شام کا مالک کوئی قیصر نہیں ہوا۔
اس حدیث کا یہ مطلب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی مطلب شان نزول کے مطابق ہے‘ دیکھو (فتح الباری شرح بخاری۔)
اب مرزائی لیکچرار بتائے کہ اس حدیث سے اس کو کیا فائدہ پہنچا؟
نوٹ: ناظرین اس بات پر بھی غور کریں کہ علمائے اسلام مرزائیوں کے رد میں جو تقریریں کرتے ہیں ہم ان کو قلمبند کر کے چھاپ کر شائع کر دیتے ہیں تاکہ غیر حاضرین جلسہ بھی ان تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور مرزائی جماعت کو اگر ان تقریروں پر کوئی اعتراض ہے تو پیش کریں اور جواب سنیں‘ مگر آج تک مرزائیوں کو جرات نہیں ہوئی کہ ان تقریروں پر کوئی اعتراض کر سکیں‘ اس کے خلاف مرزائیوں کی یہ حالت ہے کہ اپنے اشتہاروں میں یہ تو لکھ دیتے ہیں کہ فلاں مضمون پر پہلا لیکچر‘ دوسرا لیکچر‘ تیسرا لیکچر مگر کسی لیکچر کا مضمون چھاپ کر شائع نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مضامین اَوْهَنَ مِنْ بَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ ہیں یعنی مکڑے کے جالے سے بھی زیادہ کمزور‘ یہی وجہ ہے کہ کسی ذی علم مسلمان کے سامنے منہ کھولنے کی انہیں جرات نہیں ہوتی۔ مونگیر کے جلسہ کے بعد بھاگلپور عبدالماجد قادیانی کی مدد کو میاں خلیل قادیانی پہنچے وہاں بھی بجز مرزائی جہلاء کے کسی کے سامنے نہ آئے ایک لائق انگریزی دان نے مناظرہ کو کہا کہ مرزا کی نبوت پر بحث کی جائے مگر بالکل دم بخود اور کچھ نہ بولے پھر یہ حضرت نبوت پر لیکچر دیں گے ان کی باتیں صرف جہلاء کے بہکانے کے لیے ہیں۔ مکڑے کے جالے سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں اگر ان مضامین میں کچھ بھی قوت ہوتی تو وہ ضرور شائع کرتے۔
ضمیمہ: مذکورہ بالا تقریر کی کاپیاں تیار ہو چکی تھیں‘ تصحیح ہو رہی تھی کہ مولوی عبدالشکور صاحب بی اے بھاگلپوری کا ایک خط پہنچا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے قادیانی عبدالماجد سے دو سوال کیے تھے جن کا جواب انہوں نے لکھا ہے‘ اب جواب الجواب ہونا چاہیے‘ یہ خط مولانا ابوالخیر مولوی سید
٢١
محمد انور حسین کو دیا گیا کہ آپ جواب الجواب لکھ دیں اور وہ آپ کی تقریر ختم نبوت کا ضمیمہ بنادیا جائے چنانچہ مولانا ممدوح نے جواب الجواب تحریر فرما کر دیا جو درج ذیل ہے۔
مولوی عبدالشکور صاحب بی اے کا پہلا سوال
کیا آپ قرآن شریف سے یہ ثابت کر سکتے ہیں بعد محمد (ﷺ) کے کوئی نبی یا رسول یا پیغمبر تشریف فرما ہوں گے اگر اس کا ذکر ہے تو آپ مہربانی کر کے حوالہ دیں گے، مگر لفظ پیغمبر، نبی، رسول کا ہونا ضرور ہے، میں منطق اور فلسفہ نہیں جانتا۔
قادیانی مربی عبد الماجد کا جواب
آپ کے دو سوالوں میں سے اول سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جب تک بنی آدم موجود ہیں خداوند تعالیٰ کے رسول آیا کریں گے، کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کی گئی ہے سورہ اعراف کے تیسرے رکوع میں یہ ہے کہ يٰبَنِى اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِىْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (اعراف ٣٥) اسی طرح ایک اور آیت سورہ حج میں ہے اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ الْمَلٰئِكَةِ رُسُلاً وَّ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ (سورۃ حج ٧٥)
جواب الجواب
قادیانی مربی عبد الماجد کا جواب بچند وجوہ غلط ہے۔
- ١.............جواب سوال کے مطابق نہیں ہے، اس لیے کہ سوال میں یہ ہے کہ حضرت محمد (ﷺ) کے
بعد رسول یا نبی کا آنا قرآن مجید سے ثابت کیجئے مربی صاحب کی پیش کردہ دو آیتوں میں سے کسی میں یہ قید نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آئیں گے یہاں پر دعویٰ خاص اور دلیل عام ہے پس جواب غلط ہوا ماہرین فن مناظرہ سے پوچھ لو علاوہ اس کی یاتینکم نون تاکید ہے اور مرزا قادیانی اور ان کی تمام جماعت کو اس بات سے سخت انکار ہے کہ نون تاکید زمانہ استقبال پر دلالت کرتی ہے، پس مرزائی علم نحو کی رو سے اس آیت سے زمانہ استقبال میں کسی رسول کا آنا کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا اگر قادیانی مربی عبد الماجد یہاں پر اس بات کے قائل ہو جائیں کہ نون تاکید استقبال پر دلالت کرتی ہے تو ان کو ماننا پڑے گا کہ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ میں بھی نون تاکید استقبال کے لیے ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مولوی قادیانی کو
ممات مسیح کے اعتقاد سے توبہ کر کے حیات مسیح کا قائل ہونا پڑے گا، جس سے مرزا قادیانی کی مسیحیت کا بنیادی پتھر اکھڑ جائے گا اور سارا مرزائی کارخانہ درہم و برہم ہو جائے گا ہم اس آیت کا صحیح مطلب آگے چلکر بیان کریں گے۔
٢............. یہ آیت جملہ شرطیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو جو شخص صلاح و تقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ و محزون نہ ہوگا اور جملہ شرطیہ کے لیے اس کا واقع ہونا ضروری نہیں ہے، مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اگر زید ہمارے یہاں آئے گا تو ہم اس کو دس روپے دیں گے اس کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زید کا آنا ضروری ہو پس مجرد اس آیت سے کسی زمانہ میں بھی رسولوں کے آنے کا ضروری ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا، چہ جائیکہ یہ ثابت ہو کہ آنحضرتؐ کے بعد بھی رسول آیا کریں گے۔
٣............. عبد الماجد قادیانی اپنے ایک چھوٹے سے رسالہ ”احیاء موتی“ میں یہ بات تسلیم کر چکے ہیں بلکہ اسی پر ان کا استدلال ہے کہ جب کوئی مضمون کسی آیت سے قطعی طور پر ثابت ہو جائے اور حدیث سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہو تو جو دوسری آیت و حدیث اس کے معنی کے خلاف ہو تو اس دوسری آیت و حدیث کے وہ معنی کرنے چاہیے جو پہلی آیت و حدیث کے خلاف نہ ہو پس اسی قاعدہ کی رو سے ہم یہ کہتے ہیں کہ آیہ کریمہ ”مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“
قطعی طور پر از روئے لغات و محاورات عرب اور نیز باتفاق مفسرین یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرتؐ پر نبوت ختم ہو چکی ہے، آپؐ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا اور اس کی کامل تائید متعدد صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت کر کے دکھائی گئی ہے، بلکہ یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ آپؐ کے بعد جو شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب ہے تو اگر قادیانی مربی کی سمجھ میں کوئی آیت یا حدیث ایسی ہے جس سے ختم نبوت کے خلاف ہمیشہ رسول کا آنا ثابت ہوتا ہو تو ان کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اس آیت و حدیث کے ایسے معنی تراشیں جو آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہوں۔
٤............. سورہ اعراف کی آیت میں اس وقت کا تذکرہ ہے جس وقت حضرت آدمؑ جنت سے جدا ہوئے خداوند تعالیٰ نے بنی آدم سے عالم ارواح میں جس طرح اور عہد و پیمان لیا تھا اسی طرح سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ اے بنی آدم اگر ہمارے رسول تمہارے پاس آئیں اور ہماری آیتیں سنائیں تو جو
٢٣
شخص ان کے کہنے کے مطابق صلاح و تقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ اور محزون نہ ہوگا اور جو تکذیب و انکار کرے گا وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا اس کے دو ثبوت ہم پیش کرتے ہیں۔
پہلا ثبوت ! جناب شاہ ولی اللہ صاحب علیہ الرحمۃ (جن کو قادیانی عبد الماجد اپنے حلفی اظہار میں اسی طرح کا نبی مان چکے ہیں جس طرح کا نبی مرزا قادیانی کو مانتے ہیں) اسی آیت کے تحت میں فرماتے ہیں ”یعنی بر زبان آدم چنانچہ از سورہ بقرہ اشارت رفت۔“ یعنی اس آیت میں بزبانی حضرت آدم کے بنی آدم کو خطاب کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ میں صاف طور سے مذکور ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَتَلَقَّى ادَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمِ فَقُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِّنِّى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوْا بِآيَاتِنَا أُوْلٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ.
(سورہ بقرہ ٣٧ تا ٣٩)
پس سیکھ لیے آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمے تو خدا نے ان کی توبہ قبول کی بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے کہا ہم نے کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ پس اگر تمہارے پاس ہماری ہدایت (کتاب ورسول) پہنچیں تو جو کوئی ہماری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ کبھی خوف زدہ و محزون نہ ہوگا، اور جو انکار وتکذیب کرے گا وہ دوزخی ہوگا اور ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
سورہ اعراف کی آیت اور سورہ بقرہ کی آیت دونوں کا ایک مطلب اور ایک وقت ہے اس آیت سے روز روشن کی طرح سے ثابت ہو گیا کہ سورہ اعراف میں جس خطاب کا ذکر ہے وہ خطاب اس وقت ہوا تھا جس وقت حضرت آدمؑ جنت سے دنیا میں آئے تھے اور اس میں شک نہیں کہ اس کے بعد حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کے آنے کا سلسلہ برابر جاری رہا جب آیۂ خاتم النبیین نازل ہو گئی تو معلوم ہو گیا کہ اب وہ سلسلہ ختم ہو چکا۔
دوسرا ثبوت ! (تفسیر در منثور ج ٣ ص ٨٢) میں (جس کا مرزا قادیانی نے بھی اپنے تالیفات میں اکثر حوالہ دیا ہے) سورہ اعراف کی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے۔
اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی قال ان الله تبارک و تعالیٰ جعل آدم و ذريته فى كفه فقال يا بنى آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم
٢٤
آیاتی فمن اتقیٰ و اصلح فلاخوف علیہم ولا ہم یحزنون الآیہ۔ کہ ابن جریر نے ابی یسار سلمی سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم اور ذریت آدم کو اپنے ہاتھ میں لیکر فرمایا کہ اے بنی آدم اگر تمہارے پاس ہمارے رسول آئیں اور تم پر ہماری آیتیں پڑھیں تو جو شخص ان کے کہنے کے مطابق صلاح و تقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ ومحزون نہ ہوگا اور جو انکار و تکذیب کرے گا وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اس روایت میں خاص اسی آیت کی تفسیر ہے جو قادیانی مربی عبد الماجد نے پیش کی ہے اس روایت سے یاتین کی نون تاکید کا زمانہ استقبال کے لیے ہونا بھی صحیح ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ خطاب حضرت آدم کے وقت کیا گیا تھا اور اس خطاب کے مطابق رسولوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہوا اور رہا جب آیت خاتم النبیین نازل ہو گئی تو معلوم ہو گیا کہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا، خاتم النبیین کی آیت کے نازل ہونے کے بعد اس آیت سے قیامت تک کے لیے رسولوں کے آنے پر استدلال کرنا یا تو محض حماقت ہے یا دیدہ و دانستہ آیہ خاتم النبیین کا انکار ہے۔
دوسری آیت کا جواب
سورہ حج میں ہے کہ ”اللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ“ اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسولوں کو اور انسانوں میں سے، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اس آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ خدا کے رسول فرشتہ بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی، یہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا ہے کہ فرشتہ اور انسان ہمیشہ قیامت تک رسول بنا کریں گے، یصطفی مضارع مطلق ہے، مضارع دوامی نہیں ہے، قادیانی عربی علم صرف کی کتابیں ملاحظہ فرمائیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مضارع دوامی کا صیغہ عربی میں کس طرح بنتا ہے اور مضارع مطلق اور مضارع دوامی میں کیا فرق ہے؟ اس کے علاوہ جب ایک آیت سے قطعاً ثابت ہو گیا کہ رسالت و نبوت ختم ہو گئی، اب کوئی نبی و رسول چنا نہیں جائے گا، پھر اس آیت سے یہ سمجھنا کہ ہمیشہ انسانوں سے رسول چنے جائیں گے کیسی نا سمجھی ہے۔ مولوی مربی کی حالت پر نہایت افسوس ہے کہ وہ ایسے رکیک رکیک استدلالات پیش کر کے خود اپنی علمی پردہ دری کا باعث ہوتے ہیں۔
٢٥
مولوی عبدالشکور صاحب بی اے کا دوسرا سوال
اگر میں مرزا قادیانی کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانوں تو میری شفاعت بروز قیامت ہوگی یا نہیں؟
قادیانی مربی عبد الماجد کا جواب
شفاعت کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ ”شفاعتی لاهل الکبائر من المؤمنین“ اب آپ اپنے علما سے دریافت کر لیجئے کہ مسیح موعود کے منکر کی شفاعت ہے یا نہیں۔
جواب الجواب
تمام علمائے اسلام کا عموماً اور علمائے اہل سنت و جماعت کا خصوصاً یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ مسیح موعود وہی حضرت عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیلی نبی ہیں، ان کے سوا کوئی دوسرا شخص مسیح موعود نہیں ہو سکتا، حضرت عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیلی نبی کا منکر مومن نہیں ہے، اس کی شفاعت ہرگز نہیں ہوگی، اور جو شخص جھوٹے مدعیان مسیحیت کا منکر ہے وہ مومن ہے اس کی شفاعت ضرور ہوگی۔
راقم بندہ آثم ابوالخیر سید محمد انور حسین عفی عنہ پروفیسر ڈی جی کالج مونگیر ٩۔دسمبر ١٩١٧ء
٢٦
أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں
النبوۃ فی الاسلام کے نو جواب
صحیفہ رحمانیہ
(١٧)
حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ O
ہمدرد اسلام ممتاز احمد خان کا تحفہ امتیازیہ۔ جماعت احمدیہ بنظر انصاف قبول کرے
بغیر جواب دیئے منہ دکھانا سخت بے غیرتی ہے
النبوۃ فی الاسلام کے نو جواب
اور مرزا قادیانی کے جھوٹ
راقم الحروف عرصہ سے دیکھ رہا ہے کہ اہل حق نے مرزا غلام احمد قادیانی کی حالت کو نہایت روشن کر کے دکھایا اور اس قدر رسالے لکھے گئے کہ غالباً دوسرے کسی مدعی کاذب کی نسبت نہ لکھے گئے ہوں گے اور نہایت روشن بات یہ دکھائی گئی ہے کہ مرزا قادیانی نے بہت کچھ دعویٰ کئے اور مختلف طور سے چندے لیے مگر ان کی ذات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بجز نقصان کے کسی قسم کا نفع نہیں ہوا، یعنی وہ نفع جو ان کی ذات سے مخصوص ہو اور دوسرے ذی علم سے نہ ہوا ہو؟ اس کے جواب میں ہر ایک واقف کار نہایت یقین سے بے تامل یہی کہے گا کہ کسی قسم کا نفع نہیں ہوا، یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مخالفین اسلام کا رد کیا، مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ خاص انہوں نے کی ہو،
٢
بلکہ اور علماء اسلام نے ان سے بہت زیادہ کیا اور اس کا نفع بہت زیادہ ہوا حضرت مولانا ابو احمد صاحب عم فیضہ نے عیسائیوں کے جواب میں تیرہویں صدی کے آخر میں اور اس صدی کے شروع میں اس قدر کوشش کی کہ مرزا قادیانی نے اس کی عشر عشیر بھی نہیں کی بہت رسائل لکھے اور متعدد مناظروں میں انہیں عاجز کیا ' اور بہت تدبیریں کیں جن سے پادریوں کا غل وشور اس وقت ایسا کم ہوا کہ گویا نہیں رہا ' مرزا قادیانی نے ایک مناظرہ کیا اور اس قدر غل وشور مچایا کہ خدا کی پناہ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پادریوں نے بہت خوشیاں منائیں اور مسلمانوں کو شرمندہ کیا ' اس کی تفصیل الہامات مرزا میں ملاحظہ ہو۔
آریہ کے جواب میں رسالہ لکھا مگر کانپور کے مدرسہ الہیات کو دیکھا جائے کہ اس نے بہت رسالے لکھے ' اطراف میں آریوں کا اثر مٹانے کے لیے اہل علم بھیجے گئے اور بہت کچھ فائدہ ہوا ' مرزا قادیانی کی تحریروں سے اگر کچھ فائدہ ہوا ہو ' مگر مضرت اس سے بہت زیادہ ہوئی ' براہین احمدیہ میں اسلام کی حقانیت پر ایک دلیل لکھ کر نہایت زور سے یہ اشتہار دیا کہ ہم تین سو دلیلیں اسی طرح کی حقانیت اسلام پر لکھیں گے اس کے چھپنے کے لیے پیشگی قیمت دو۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣، ٢٤)
چونکہ اس وقت پادریوں نے زور کیا تھا اس لیے مسلمانوں نے قیمت بھیجی اور ہزاروں روپیہ آیا (رسالہ اشاعۃ السنۃ ملاحظہ ہو) مگر باوجود پختہ وعدہ کے اور اس وعدے کے نہایت مشتہر ہونے کے مرزا قادیانی نے تین سو کی جگہ تین دلیلیں بھی نہ لکھیں اور مسلمانوں کے علاوہ مخالفین اسلام نے اچھی طرح معائنہ کیا کہ مسلمانوں کا مجدد اور مسلمانوں کے امام اور مسیح اور نبی ایسے جھوٹے ہوتے ہیں اور جھوٹ بول کر روپیہ کماتے ہیں؟ اس قسم کے الزامات اور بھی ہیں ' اگر کوئی حق طلب دریافت کرے گا تو بیان کیا جائے گا ' خدا پر جھوٹ کے اور وعدہ خلافی کے الزام لگائے ' انبیاء کی بہت کچھ توہین کی ' خود اس قدر جھوٹ بولے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے متعدد رسالوں میں انہیں دکھایا گیا ہے صرف ایک صحیفہ محمدیہ ﷺ نمبر ٨ میں بائیس جھوٹ دکھائے ہیں اور اس رسالہ میں دکھائے جائیں گے ' اور جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ حضرت سرور انبیاء ﷺ کا ارشاد اس کی نسبت ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا ' بایں ہمہ اس صحیفہ کو چھپے ہوئے سال بھر سے زیادہ ہو گیا مگر کسی مرزائی نے جواب تو نہیں دیا ' البتہ یہ کہتے سنا کہ انبیاء جھوٹ بولتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جھوٹ پر ایک روایت پیش کر دی ' حالانکہ قرآن شریف میں ان کی نسبت ارشاد
٣
خداوندی ہے ”اِنَّہٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا“ (مریم ٤١) اور حدیث میں آیا ہے کہ صدیق وہ ہے جو ہمیشہ سچ بولے اور سچائی کی تلاش میں رہے‘ اب جو روایت اسکے خلاف ہو اسے مرزائیوں کو اپنے قول کے بموجب نہ ماننا چاہیے‘ البتہ اس اعلانیہ کذب وافتراء پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک رسالہ مشتہر کیا جس میں ایک مقدس بزرگ مجدد وقت کو گالیاں دی ہیں‘ اسی بازاری پاجی نے پہلے بھی اسی مضمون کا رسالہ لکھا تھا‘ اور اس کا محققانہ اور مہذبانہ جواب دو رسالے ”تعبیر رویاۓ حقانی و جواب حقانی“ میں دیا گیا تھا‘ مگر بازاری اور پھر قادیانی کے مقابلہ میں تحقیق وتہذیب سے کام نہیں چلتا‘ ان کے مقابلہ میں تو انہیں کے مثل بازاری شہدہ ہو اور ایک گالی کے عوض دس گالیاں دے‘ جب وہ خاموش ہوتے ہیں‘ چونکہ اہل حق ایسی بیہودگی نہیں کر سکتے اس لیے اس بے حیا نے اسی مضمون کا دوسرا رسالہ لکھ دیا جس سے مرزا قادیانی کی اور ان کے مریدوں کی حالت معلوم ہوتی ہے‘ اس کے بعد دوسرا رسالہ اسی گروہ کا دیکھا گیا جس کا نام ”النبوۃ فی الاسلام“ ہے جس میں اپنے خیال میں یہ ثابت کیا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی‘ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی نبی ہوتے رہیں گے اور بہت سی جاہلانہ فریب باتیں اس میں بتائی ہیں اور عوام کو فریب دینے کے لیے بعض قرآن مجید کی آیتیں بعض حدیثیں‘ بعض بزرگوں کے اقوال پیش کیے ہیں‘ مگر یہ راقم نہایت خیر خواہی اور کمال وثوق سے کہتا ہے اور مجمع عام میں ثابت کرنے کے لیے تیار ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے وہ قطعاً اور یقیناً غلط ہے آیتوں کے معنی میں تحریف کی ہے‘ غیر معتبر روایتیں پیش کی ہیں اور ان کا مطلب نہیں سمجھے‘ بزرگوں کے کلام کو نہ سمجھنے کے علاوہ عبارت پوری نقل نہیں کی‘ اس میں شبہ نہیں کہ امت محمدیہ کے تمام علمائے کرام اور صوفیائے عظام کا اس پر اتفاق ہے کہ نبوت شرعیہ یعنی شریعت محمدیہؐ میں جس کو نبوت کہتے ہیں وہ قرآن وحدیث کی رو سے ختم ہوگئی‘ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا‘ حضرت سید المرسلین ﷺ کا آفتاب نبوت ایسا تاباں و درخشاں ہوا اور قیامت تک روشن رہے گا کہ کسی چھوٹے یا بڑے کوکب کی حاجت نہ رہی‘ اور اس آفتاب روشن جہان نبوت کے سامنے ایک کوکب کیا ہزار دس ہزار نبوت کے تارے بیکار ہیں‘ اس روشنی اور تابانی کے علاوہ حضور سرور دو جہان ﷺ کی شان کا یہی تقاضا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور آپؐ کی امت جسے اللہ تعالیٰ نے بہترین امت کا خطاب دیا ہے‘ راحت جاودانی کے بدلے عذاب دائمی کی مستحق نہ ہو‘ مدعیان نبوت نے تو اس شاہ دو جہانؐ کی ان دونوں امتیازی اور عظیم الشان صفتوں سے انکار کیا اور حضور انور ﷺ کی امت کو جہنم کا مستحق بنا کر کلام الٰہی كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ سے
٤
انکار کر دیا‘ گو زبان سے نہ کہیں‘ چنانچہ مرزا قادیانی نے دعوٰی نبوت کر کے یہ اعلان کر دیا کہ جس نے مجھے نہ مانا وہ کافر جہنمی ہے۔ (تذکرہ ص١٦٣ طبع ٣)
اس کا حاصل یہ ہوا کہ چودہویں صدی میں جو امت محمدیہؐ کی تعداد چالیس کروڑ ہوئی تھی ان سب کو بجز چند افراد کے جہنمی بنا دیا۔
کہو میاں ارادت قادیانی آپ کے رسالہ ”الدعوۃ فی الاسلام“ اور آپ کے نبی نے امت محمدیہؐ کو یہی فخر عنایت کیا کہ حضور سرور عالم ﷺ کی غلامی سے جو مخلوق کثیر نجات دائمی کی سند حاصل کر چکی تھی اسے اس جدید نبی نے چھین کر اس معزز جماعت کو ہمیشہ کے عذاب کا مستحق بنا دیا؟ اور نبوت فی الاسلام کا یہ نتیجہ ہوا‘ ہوش کر کے اس کا جواب دو اور تم تو کیا دو گے کوئی قادیانی مربی اس کے جواب میں دم نہیں مار سکتا‘ مجمع عام میں گفتگو کر کے دیکھ لو۔
اب میں اس رسالے کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ ہماری اور آپ کی اصل گفتگو تو مرزا قادیانی کی نبوت میں ہے‘ ہم نے ان کا جھوٹا ہونا متعدد طریقوں سے ثابت کر دیا ہے یعنی قرآن مجید سے‘ احادیث صحیحہ سے‘ ان کی ان پیشینگوئیوں کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے‘ جنہیں آپ کے مرشد نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان بڑے زور وشور سے بتایا تھا‘ اور اپنے مرنے کے ایک سال قبل تک ان کی صداقت پر وثوق کرتے رہے‘ یہ وہ جھوٹ ہے جس کی صداقت معائنہ اور مشاہدہ سے ہو رہی ہے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گواہ اس کی شہادت دل سے کرتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی پیشینگوئی اشتہاروں اور اخباروں کے علاوہ (شہادۃ القرآن خزائن ج٦ ص٣٧٥) اور (ازالۃ الاوہام خزائن ج٣ ص٣٠٥) وغیرہ میں کس زور سے کی گئی ہے اور خدا کا وعدہ بتایا گیا ہے کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد وہ عورت تیرے نکاح میں ضرور آئے گی‘ اور سب موانعات دور ہوں گے‘ مگر معائنہ اور مشاہدہ اور تواتر اس کو ثابت کر رہا ہے کہ وہ عورت اور اس کا شوہر اس وقت تک زندہ موجود ہے اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس سے زیادہ ہو گئے اس پیشینگوئی کے جھوٹا ہو جانے سے مرزا قادیانی نے صرف اپنا ہی جھوٹا ہونا ثابت نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ وفریب کا الزام لگایا‘ اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا‘ اپنے جہال کو خوش کر دینا اور بات ہے‘ اگر دعوٰی ہے تو معززین کے جلسہ میں آ کر اس کا جواب دیجئے اور پھر دیکھئے کہ ہم اس کی کیسی دھجیاں اڑاتے ہیں‘ اس کے علاوہ خود ان کے پختہ اقراروں سے ان کا قطعی جھوٹا ہونا‘ ہر
٥
بد سے بدتر ہونا، ملعون ہونا ثابت کر دیا ہے (فیصلہ آسمانی دیکھو اور اب رسالہ مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں چھپا ہے اس میں دیکھ لیجئے گا) جب ہم ایسے مستحکم طریقوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر چکے ہیں جن کے لیے آپ نے یہ رسالہ لکھا ہے تو اب ہم فضول گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی یا نہیں ہوئی مگر ایسا جھوٹا شخص ہرگز اس مقدس عہدہ کا مستحق نہیں ہو سکتا، پہلے جس طرح آپ حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و ممات کو ضروری بنا کر مرزا قادیانی کے کذب پر پردہ ڈالتے تھے اب ایک دوسرا مسئلہ اسی غرض سے نکالا ہے۔
اے نادان دشمنو! اس پر غور کرو جو دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی بیان کی گئیں ان کے علاوہ ان کے اعلانیہ جھوٹ بھی دکھائے گئے، محض تمہاری خیر خواہی کے خیال سے ان کا جواب تو تم نہیں دے سکے ایک بے جوڑ مسئلہ پر رسالہ لکھ دیا اس رسالہ سے مرزا قادیانی سچے نہیں ہو سکتے، صحیفہ محمدیہ نمبر ٨ میں بائیس جھوٹ حیرت ناک دکھائے ہیں ان کا جواب دیجئے اور اسی صحیفہ کے نمبر ١٣ میں بہت جھوٹ دکھائے ہیں ان جھوٹوں سے اپنے مرشد کی برأت ثابت کیجئے پھر اور کچھ لکھئے گا، مگر تم اپنی عمر میں تو ان کا جواب نہیں دے سکتے بطور مثال ایک عبارت مرزا قادیانی کی پیش کرتا ہوں (انجام آتھم ص ٣٠ خزائن ج ١١ ص ٣٠ حاشیہ) میں لکھتے ہیں۔
”خدا تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور (١) پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا (٢) وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی (٣) شرط نہیں تھی، جیسا کہ (٤) تفسیر کبیر ص ١٦٤ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں (٥) احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ مگر وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔“
اب میاں ارادت قادیانی اور ان کے گمراہ کرنے والے بتائیں کہ وہ قطعی طور سے چالیس دن کا وعدہ کس یقینی آسمانی کتاب میں ہے، قرآن و حدیث متواتر میں کہیں اس کا پتہ نہیں ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ یہ پانچ دعویٰ جن پر میں نے ہندسہ دے دیا ہے قطعی پانچ جھوٹ ہیں، اس کی تشریح یہ ہے کہ اول تو نزول عذاب کا وعدہ ہی ثابت نہیں ہوتا بلکہ قرآن مجید سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے (اس کی تفصیل رسالہ تذکرہ یونس میں کی گئی ہے ناظرین اسے ضرور ملاحظہ کریں تاکہ مرزا قادیانی کے اس کامل جھوٹ کا معائنہ ہو جائے جس کو مرزا قادیانی نے بار بار بول کر خوب مشق کر لیا ہے)۔ اس لیے (١) پہلا جھوٹ تو یہی ہے اور جن ضعیف روایتوں میں وعدہ کا ذکر ہے ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ وعدہ الٰہی ہے بلکہ حضرت یونس علیہ السلام نے امم سابقہ پر
٦
قیاس کر کے اپنی امت کو ڈرایا ہے البتہ ایک ضعیف روایت سے وعدہ الہی معلوم ہوتا ہے مگر اسی روایت میں اس وعدے کا پورا ہونا بھی آیا ہے اب مخلوق پر ظاہر کرنا کہ منکوحہ آسمانی والا وعدہ اسی طرح پورا نہ ہو جس طرح حضرت یونس سے نزول عذاب کا وعدہ الہی ہوا تھا اور پورا نہ ہوا (٢) یہ دوسرا جھوٹ ہے اور صرف جھوٹ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو سخت فریب دیا ہے اور اس قدوس پر عیب لگایا ہے جو ہر عیب سے پاک ہے (٣) تیسرا جھوٹ یہ ہے کہ اس وعدہ کو بلا شرط کہتے ہیں جب وعدہ ہی کا ثبوت نہیں ہے تو پھر اس میں شرط اور بے شرط کیسا؟ اس کے بعد جو تفسیر کبیر کا حوالہ دیا ہے اس سے مقصود تینوں دعوؤں کا ثبوت ہے یا صرف آخر کے دعوے کا یعنی شرط کا نہ ہونا مگر ہر طرح غلط ہے تفسیر کبیر سے کوئی دعویٰ مرزا قادیانی کا ثابت نہیں ہوتا اور اگر صرف تیسرے دعویٰ کے ثبوت میں حوالہ دیا ہے تو بھی محض غلط ہے اسی تفسیر کبیر کی (جلد ٦ ص ١٨٨) میں صاف طور سے شرط موجود ہے کہ اگر ایمان نہ لائیں گے تو ان پر عذاب آئے گا اور تفسیر روح المعانی وغیرہ میں بھی شرط موجود ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے ”فاوحی اللہ تعالٰی الیہ قل لهم ان لم يؤمنوا جاء لهم العذاب“ یہی عبارت شیخ زادے محشی بیضاوی کی ہے اور ان کا ایمان لانا قرآن سے ظاہر ہے چنانچہ حضرت یونس کی نسبت ارشاد ہے ”وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰی مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ فَاٰمَنُوْا“
ہم نے یونس کو ایک لاکھ بلکہ زائد کافروں کی طرف بھیجا پس وہ ایمان لے آئے مرزا قادیانی پر تو نہ ان کی منکوحہ آسمانی ایمان لائی نہ اس کا شوہر وغیرہ‘ پھر اپنی پیشینگوئی کے جھوٹا ہونے پر حضرت یونس کو پیش کرنا کیسا صریح فریب ہے؟ یہ بھی خیال رہے کہ ہمارا حوالہ مرزا قادیانی کے حوالے کی طرح بے ٹھکانہ نہیں ہے کہ تفسیر کا نام لکھ کر صفحہ لکھ دیا اور جلد کا پتہ ندارد‘ غرضکہ یہ حوالہ (٤) چوتھا جھوٹ ہے اور تفسیر درالمنثور کا حوالہ دیگر احادیث صحیحہ سے اسے ثابت بتانا‘ (٥) پانچواں جھوٹ ہے احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت ہرگز نہیں ہے‘ سب دعوؤں کا کیا ثبوت ہوتا ایک دعویٰ کا بھی ثبوت صحیح حدیثوں سے نہیں ہے‘ انجام آتھم میں اس قسم کے بہت جھوٹ ہیں اور اس کو خلیفہ قادیان بھی معلوم کر چکے ہیں۔ مگر یہ جھوٹ تو ایسے ہیں کہ مرزا قادیانی نے متعدد رسالوں میں ان کا استعمال کیا ہے‘ تتمہ حقیقۃ الوحی میں بھی نہایت زور سے حضرت یونس علیہ السلام پر یہ افتراء کیا ہے اور اس کے پورا نہ ہونے کو بیان کیا ہے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١)
اصل بات یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کی بڑی عظیم الشان پیشینگوئیاں جھوٹی ہوئی ہیں تو انہوں نے ان جھوٹی پیشینگوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے حضرت یونس علیہ السلام کی پیشینگوئی کے
٧
جھوٹا ہونے کا ذکر کیا ہے‘ مگر ناظرین اس کا خیال رکھیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی ایسی پیشنگوئی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو‘ کسی ضعیف روایت سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہے اور قطعی اور یقینی ثبوت تو بڑی بات ہے جن حضرات کے ایسے قطعی اور یقینی جھوٹ ثابت ہوں اور جس نے اعلانیہ افتراء ایک مقدس نبی پر کیا ہو‘ اس پاک ذات کا برگزیدہ ہو سکتا ہے؟ جسے جھوٹ سے کمال نفرت ہے جس کے برگزیدہ رسول کا ارشاد ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا؟ ہرگز نہیں۔
اب ایک نمونہ ان کی جھوٹی تعلیوں کا ملاحظہ کر لیجئے (انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩) میں لکھتے ہیں۔
(١) ”خدا نے میری سچائی کے سمجھنے کے لیے بہت سے قرائن واضحہ ان کو عطا کیے تھے (محض غلط‘ خدا کی طرف سے کوئی قرینہ ان کی صداقت کا نہیں ہوا) (٢) ”میرا دعوٰی صدی کے سر پر تھا۔“ (یہ قرینہ مدعی کے سچے ہونے کا ہرگز نہیں ہے‘ اس کو صداقت کا قرینہ کہنا صریح جھوٹ ہے‘ جس مدعی کا جھوٹا ہونا متعدد دلیلوں سے ثابت ہو گیا ہو اس کا دعوٰی صدی کے سر پر ہو یا پیر پر ہو‘ وہ ہر وقت جھوٹا ہے‘ اگر مجدد کے لیے دعوٰی کی ضرورت ہوتی تو حدیث میں اس کا ذکر ہوتا‘ تیرہ صدیوں میں جو مجدد آئے وہ دعوٰی کرتے اور دنیا کو اس کی اطلاع ہوتی‘ مگر کہیں خبر نہیں ہے اور بجز دو ایک کے کسی نے دعوٰی نہیں کیا)۔ (٣) ”میرے دعوٰی کے وقت میں خسوف وکسوف رمضان میں ہوا تھا“
(یہ صداقت کا قرینہ ہرگز نہیں ہے اس کو قرینہ کہنا محض غلط اور صریح جھوٹ ہے دوسری شہادت آسمانی میں نہایت تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہ معمولی گہن جیسے ١٣١٢ھ میں ہوئے تھے امام مہدی کی علامت ہرگز نہ تھی مرزا قادیانی نے اس دعوٰی میں بہت جھوٹ فریب سے کام لیا ہے)۔
(٤) ”میرے دعوٰی الہام پر پورے بیس برس گزر گئے‘ اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی“ (یہ بھی محض جھوٹ ہے‘ بعض مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دی گئی ہے) (رسالہ عبرت خیز دیکھو)
(٥) ”میری پیشنگوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا۔“
(اوّل تو یہ پیشنگوئی پوری نہیں ہوئی اور یوں مرنے کو لوگ دنیا میں مرتے ہی ہیں‘ اس کی تفصیل الہامات مرزا میں دیکھئے‘ دوسرے یہ کہ پیشنگوئی کے پورا ہونے کو صداقت کا قرینہ کہنا محض غلط ہے پہلے کاہن پیشنگوئیاں کرتے تھے اور وہ پوری ہوتی تھیں‘ اور اب بھی رمال وغیرہ
٨
کرتے ہیں اور اکثر پوری ہوتی ہیں اور اخباروں میں چھپتا ہے یہ دو جھوٹ ہوئے) (٧) مجھکو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے۔ (یہ محض غلط ہے البتہ جھوٹی باتیں بنانا اور جہلاء کو بہکانا اور بڑے زور سے جھوٹے دعوے کرنا خوب آتا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں صفت اضلال کا نمونہ بنایا تھا، حقائق اور معارف صوفیائے کرام کی کتابوں میں دیکھی جائیں مثلاً فتوحات مکیہ الیواقیت والجواہر ان میں حقائق کا بیان ہے مرزا قادیانی کے یہاں تو جھوٹ و فریب کا انبار ہے چنانچہ یہاں چار سطروں میں سات جھوٹ ہوئے) پھر لکھتے ہیں۔
(١)”قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت جلد اس کو کچل ڈالتی ہے اور ہلاک کرتی ہے۔“ پھر ایک سطر کے بعد لکھتے ہیں۔
”ایک مفتری کا اس قدر دراز عرصہ تک افتراء میں مشغول رہنا ...... اور خدا تعالیٰ کا اس کے افتراء پر اس کو نہ پکڑنا ...... ایسا امر ہے کہ (٢) جب سے خدا تعالیٰ نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہرگز نہیں پائی جاتی“
(انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩)
(محض غلط اس کی متعدد نظیریں دکھائی گئی ہیں) اور پھر یہی مضمون (رسالہ مذکور کے ص ٦٣ خزائن ج ١١ ص ٦٣ و حاشیہ) میں ہی لکھتے ہیں۔
(١) ” توریت اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے، (٢) کوئی نام لینے والا اس کا باقی نہیں رہتا اور انجیل میں بھی لکھا ہے“ پھر اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔
(٣)”ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا اور (٤) خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ (٥) توریت بھی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی اور (٦) فرقان مجید بھی“ ان دونوں قولوں میں مرزا قادیانی نے پانچ جھوٹے دعوے کئے ہیں اور تین کا ثبوت کتب مقدسہ ثلاثہ سے بتایا ہے۔
(حالانکہ کسی کتاب الٰہی سے ان دعوؤں کا ثبوت نہیں ہوتا اس لیے یہ نو جھوٹ ہوئے کیونکہ تین جھوٹے دعوے کئے اور ہر ایک کا ثبوت تینوں آسمانی کتابوں سے بتایا اس لیے نو جھوٹ ہوئے) وہ تین دعویٰ یہ ہیں۔ (١) قرآن شریف کے متعدد نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ جھوٹا مدعی
٩
وحی والہام دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے اور جلد تباہ ہو جاتا ہے اور اس کا ثبوت متعدد آیات سے بتاتے ہیں مگر محض غلط ہے قرآن مجید میں یہ مضمون ہرگز نہیں ہے (٢) توریت سے بھی یہ دعویٰ ثابت ہے (٣) انجیل سے بھی ثابت ہے مگر یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں ان دعوؤں کا جھوٹا ہونا واقعات سے اور قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت ہے (رسالہ عبرت خیز ملاحظہ کیا جائے) غرضیکہ یہ تین جھوٹے دعوے ہیں اور پھر ہر ایک کے ثبوت کے لیے جھوٹا حوالہ دیا ہے اس لیے نو جھوٹ تو یہ ہوئے اور دو جھوٹ وہ ہیں جن کے ثبوت میں وہ اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں اس لیے ان دونوں قولوں میں گیارہ جھوٹ ہوئے چھ سات سطروں میں اور سات جھوٹ اس سے پہلے قول میں اور پانچ اول قول میں غرضیکہ ان تین قولوں میں پورے تئیس جھوٹ ہوئے ان کا یہ کہنا کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانے میں چل نہیں سکا محض غلط ہے بعض مدعیان نبوت کا افتراء ایسا چلا ہے کہ مرزا قادیانی ان کے جوتے کے گرد کو بھی نہ پہنچے چنانچہ طریف اور صالح اور ابو عیسیٰ کا دعویٰ اور ان کی بادشاہت تاریخ ابن خلدون سے دکھائی گئی ہے اور آئینہ کمالات مرزا عنقریب چھپا ہے اس میں غالباً اسی قدر جھوٹ مرزا قادیانی کے دکھائے گئے ہیں اب دونوں کا مجموعہ کر لیجئے اور اگر نظر کو اور وسیع کیجئے تو جھوٹ کا دفتر دیکھئے مثلاً ان کے اعجاز احمدی کا جواب لکھا گیا ہے جس میں قصیدہ کی سینکڑوں غلطیاں دکھا کر قصیدہ جوابیہ کی تمہید میں ان کے جھوٹ دکھائے ہیں چنانچہ ص ٢٤ حصہ دوم میں اس رسالہ کی نسبت لکھتے ہیں کہ
”مرزا قادیانی نے سینکڑوں جھوٹ لکھے ہیں اور افتراء سے اس کو بھر دیا ہے آپ خود خیال فرمائیں کہ جب سات صفحے میں موٹے موٹے اور سرسری نظر میں ٢٣ جھوٹ ہوئے اور یہ کتاب اشتہار سمیت نوے صفحے کی ہے تو اس حساب سے سینکڑوں جھوٹ اس میں کہنا بالکل صحیح ہے۔“ یہاں انجام آتھم کی چند سطروں میں تئیس جھوٹ دکھائے گئے اب سات صفحوں میں ٣٣ جھوٹ کا ہونا کچھ تعجب نہیں ہے جناب والا کو جھوٹ بولنے کی ایسی مشق تھی کہ ان کا شمار دشوار ہے ان کی کچھ تعداد صحیفہ محمدیہ کے نمبر ١٨ اور ١٣ میں دکھائی گئی ہے آخر نمبر میں کروڑوں تک اس کا شمار پہنچ گیا ہے متعجب ہو کر انکار نہ کر دیجئے گا نمبر ١٣ کو ملاحظہ کر لیجئے یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ صالح ابن طریف نے حضرت خاتم النبیین ﷺ کو مان کر نبی اور مہدی اکبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے اوپر کتاب الٰہی کے نزول کا بھی مدعی تھا اور اس میں اسی طرح کی سورتیں بنائی تھیں جس طرح قرآن مجید میں ہیں اور اس کے پیرو انہیں نماز میں پڑھتے تھے اور دعویٰ نبوت تشریعی کے ساتھ
١٠
اڑتالیس برس تک بادشاہی کرتا رہا‘ اور لاکھوں کروڑوں اس کے مطیع اور امتی رہے اور پھر بھی نہیں مرا‘ اور اپنے بیٹے کو تخت سلطنت پر بیٹھا کر جنگل چلا گیا‘ (رسالہ عبرت خیز دیکھو) مرزا قادیانی تو بیس ہی برس اپنے عروج کا بیان کر رہے ہیں جس میں دس بیس گاؤں کے بھی مالک نہ ہوئے اور نہ ان کے مرید اس قدر ہوئے اور نہ انہیں نبوت صراحۃً تشریعی کرنے کا حوصلہ ہوا البتہ بڑے زور سے جھوٹ بولنے اور افتراء پردازی کرنے کا بڑا حوصلہ تھا۔
ایک اور نمونہ ملاحظہ کیجئے اس انجام آتھم مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان کے ص ٤٦ میں فرماتے ہیں ”اس بات کی کسی کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانے میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الٰہی تعلیم کا سخت مخالف ہے یعنی کفارہ اور تثلیث کی تعلیم‘ جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہیے کیونکہ کفارہ اور تثلیث کے تمام اغراض صلیب کے ساتھ وابستہ ہیں۔۔۔۔۔ پس خدا نے اپنے وعدے کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے (خوب خیال رہے کہ یہ وعدہ الٰہی تھا اور مشیت الٰہی بھی ہو گئی کہ صلیبی فتنہ پارہ پارہ کیا جائے) اور اس نے ابتداء سے اپنے نبی مقبول ﷺ کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافرکش سے یہ فتنہ فرو ہو گا اسی کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔“ (انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٤٦)
ناظرین خوب ملاحظہ کریں‘ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ صلیبی فتنہ سے مراد تثلیث اور کفارہ کی تعلیم ہے اور مسیح موعود کی وجہ سے یہ تعلیم نیست و نابود ہو جائے گی یا بہت کم ہو جائے گی۔
اب مرزائی بتائیں کہ بیس پچیس برس سے زیادہ مرزا قادیانی کا بیان اور تحریر اور انفاس کافرکش رہی اور بہت کچھ غل مچایا مگر کیا نتیجہ ہوا؟ ان کے بیان کو سن کر کتنے تثلیث پرست مسلمان ہوئے ان کے تاثیر کلام سے کتنے کفارہ پر ایمان رکھنے والے تائب ہوئے‘ ان کافر کش انفاس نے کتنے صلیب پرستوں کی کشی کر کے دکھایا؟
اے بھائیو! اس کا کوئی معقول جواب ہو سکتا ہے؟ سوا اس کے کچھ نہیں ہوا‘ اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے‘ ساری دنیا کے علاوہ صرف ہندوستان میں جس قدر تثلیث پرست تھے ان میں سے سو پچاس بھی کم نہ ہوئے اس مسیح کی وجہ سے بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا کہ جو کفارہ اور تثلیث کے مخالف اور مسلمان تھے انہیں اس مسیح (مرزا) نے کافر جہنمی بنا کر دنیا کو اسلام سے خالی کر دیا‘ اب غضب ہے کہ انہیں سچا مسیح موعود کہا جائے جن کا جھوٹا ہونا ان کے اعلانیہ اقرار سے آفتاب کی طرح روشن ہو رہا ہے جن کے جھوٹ ثابت کر رہے ہیں کہ ایسا شخص تو صالح
١١
مسلمان بھی نہیں کہلا سکتا، تعجب ہے کہ اسے نبی اور مسیح موعود کہا جائے دیکھئے ان دل کے اندھوں پر کیا بلا نازل ہونے والی ہے ان روشن باتوں پر کچھ نظر نہیں ہے ان کا کچھ جواب نہیں دیا جاتا، نبوت فی الاسلام ثابت کیجاتی ہے۔
اب یہ فرمائیے کہ جس شخص کے ایسے اعلانیہ جھوٹ ثابت ہوں جن کا نمونہ یہاں ٢٣ جھوٹ دکھائے گئے ہیں اور بے شمار جھوٹوں کا حوالہ دیا ہے اسے آپ کا رسالہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، پھر ہم ایسی اعلانیہ باتوں کو چھوڑ کر آپ کے رسالہ کی بے تکی باتوں اور غلط بیانیوں کی طرف توجہ کر کے اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟ اس کے علاوہ ہمارے علمائے حقانی نے متعدد طریقے سے متعدد رسالوں میں ختم نبوت کو ثابت کر کے حجت تمام کردی ہے مگر دل کے نابینا ان حقانی رسائل کو کیا دیکھیں گے اور سچی باتوں کو کیوں مانیں گے؟ جو رسالے اس مضمون پر لکھے گئے ہیں طالبین حق کے لیے ان کے نام لکھتا ہوں۔
١۔ ختم نبوت
قادیانی اخباروں میں نبوت کے ختم نہ ہونے پر آیت قرآنی اور بعض صوفیاء کے اقوال پیش کئے تھے ان کا جواب نہایت خوبی اور کمال تہذیب سے مولانا حسن پھلواروی مرحوم نے اس رسالہ میں دیا ہے اور مطبع اخبار اہل فقہ امرتسر میں یہ رسالہ ١٣٣١ھ چھپا ہے اس کے ہمراہ ایک ضمیمہ ہے جس میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جھوٹا ثابت کر کے مرزائی اقوال کو اسلامی عقائد کے بالکل مخالف ثابت کیا ہے ٣٦ صفحے کا رسالہ ہے۔
٢۔ تردید نبوت قادیانی
یہ رسالہ ٢٢٤ صفحہ کا ہے اور قاسم علی مرزائی نے جو اسی مضمون پر رسالہ ”النبوۃ فی خیر الامۃ“ لکھا تھا اس کا یہ جواب ہے اور مرزا قادیانی کی صداقت کی بنیاد اکھیڑ کر پھینک دی ہے یعنی ان کی صداقت میں جو باتیں پیش کی جاتی ہیں سب کا غلط ہونا نہایت محققانہ طور سے ثابت کر دیا ہے قابل دید رسالہ ہے اس کے مؤلف منشی پیر بخش صاحب بڑے ہمدرد اسلام ہیں جن کا ماہواری رسالہ قادیانی جھوٹ کی اشاعت میں بھاٹی دروازہ لاہور سے نکلتا ہے ١٣٣١ھ میں یہ رسالہ چھپا ہے چھ برس ہوئے مگر اب تک کسی نے جواب نہیں دیا، اور نہ کوئی دے سکتا ہے۔
٣۔ الخلافۃ فی خیر الامۃ
یہ بھی قاسم علی مرزائی کے رسالہ مذکورہ کا جواب ہے اور ثابت کیا ہے کہ نبوت ختم ہوگئی خلافت باقی ہے اور آخر میں امامت قادیانی پر عمدہ بحث کر کے نہایت تحقیق و تہذیب سے مرزا قادیانی کا امام نہ ہونا ثابت کیا ہے یہ رسالہ ١٣٣٣ھ مطبع قومی کانپور میں چھپا ہے اس کا جواب بھی کوئی نہیں دے سکا۔
٤۔ مرزا محمود قادیانی کی تشریف آوری
مونگیر میں یہ خبر مشہور ہوئی تھی کہ مرزا محمود قادیانی مونگیر سے ہوتے ہوئے کلکتہ جائیں گے اس خوشی میں جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب نے ایک خط مرزا محمود قادیانی کو لکھا تھا کہ اگر آپ یہاں تشریف فرما ہوں تو ہم مرزا قادیانی کی نبوت پر گفتگو کریں گے آپ وہاں سے تیار ہو کر آئیے گا اور بطور نمونہ قرآن وحدیث سے ختم نبوت کو ثابت کر کے دکھایا تھا اور قادیان بھیجا تھا یہ ١٣٣٤ھ کا واقعہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کے مربی اس کا جواب کئی برس تک سوچتے رہے تیسرے برس نبوت فی الاسلام نکالا ہے مگر چونکہ ان کا دل شاہد تھا کہ اس کا جواب دیا جائے گا اور غلطیاں دکھائی جائیں گی اس لیے ایک جاہل کے نام سے مشتہر کر دیا تاکہ قادیان کے لوگ بدنامی سے بچیں مگر لطف تو جب تھا کہ کوئی قادیانی سامنے آتا اور بالمشافہ گفتگو ہوتی مگر قادیانیوں میں اس قدر جان کہاں وہ اپنی حالت کو جان چکے ہیں، مگر بعض کو ضد اور جاہلانہ غیرت اس سے علیحدہ ہونے سے مانع ہے بعض کی روٹیاں اسی پر ہیں، جس طرح پادریوں کے مشن سے بہت کرسٹاں (پادری) تنخواہ پاتے ہیں اس لیے اسے جھوٹا جان لینے کے بعد بھی علیحدہ نہیں ہوتے چنانچہ ایک کرسٹان نے پیغام محمدی دیکھ کر صداقت کا اقرار کیا مگر جب کہا گیا کہ آپ جھوٹ سے علیحدہ کیوں نہیں ہوتے تو صاف جواب دیا کہ اس قدر تنخواہ کون دے گا بال بچوں کی پرورش کس طرح ہوگی؟ یہ قدیم مسیحی ہیں انہیں کے پیرو جدید مسیحی مرزائی ہیں۔
٥۔ اسلامی چیلنج
ایک مرزائی نے اپنا رسالہ حضرت مسیحؑ کی ممات پر لکھ کر خانقاہ رحمانیہ میں بھیجا تھا اس کا نام چیلنج ہے اس کے جواب میں یہ رسالہ لکھا گیا۔ اس میں مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا متعدد طریقوں سے دکھا کر یہ لکھا گیا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا اب ہمیں مسیحؑ کی حیات و
١٣
ممات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ حضرت مسیح زندہ ہوں یا نہ ہوں‘ مگر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتا‘ وہ مرزائی اس کے جواب سے عاجز رہا‘ اس میں بھی ختم نبوت کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔
٦۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٥
اس میں بھی وہی مضمون ہے مگر اس میں اس آیت کے معنی بھی لکھے ہیں جس سے مرزائی حضرات اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں اور اس معنی کا قرینہ ثبوت قرآن مجید کی دوسری آیت سے دیا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہ آنے کی وجہ نہایت ہی عمدہ بیان کی ہے جس سے جناب رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان اور امت محمدیہ کی شان کامل طور سے ثابت ہوتی ہے۔ رسالہ ص ١٧ سے ٢٠ تک دیکھا جائے۔ مگر امر حق کو ماننا تو طالبین حق کا کام ہے راقم الحروف اس آیت کی توضیح کامل طور سے کرے گا جس سے اہل حق بہت مسرور ہوں گے اور قادیانی مربی حیران ہو جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
٧۔ مرزائی نبوت کا خاتمہ
اس میں نہایت پر زور تقریر سے آیت قرآنی اور احادیث صحیحہ پیش کر کے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے اور مرزائیوں کے شبہات کا جواب دیا ہے اور آیت ”یٰا بَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ“ (اعراف ٣٥) سے جو دوام نبوت ثابت کیا جاتا ہے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں ص ٢٩ سے ٣٢ تک دیکھئے۔ یہ رسالہ ماہ دسمبر ١٩١٧ء میں چھپا ہے۔
اس آیت کی نسبت میں مختصر بات کہتا ہوں کہ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ جملہ شرطیہ کا مقدم ہے وعدہ الٰہی نہیں ہے جس کا پورا ہونا ضرور ہو یعنی یہ کہا گیا ہے کہ اگر رسول آئیں اس سے تو یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ رسولوں کا آنا ضروری ہے پھر یہ ثابت کرنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول آتے رہیں گے‘ سخت جہالت ہے‘ یہ جملہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ میاں ارادت اگر کچھ سمجھ رکھتے اور بھائی وغیرہ کے بہکانے میں نہ آتے تو گمراہ نہ ہوتے‘ اب وہ یہ فرمائیں کہ اس جملہ شرطیہ کا مقدم واقعی ہے یا ان کا سمجھدار ہونا ضروری ہے‘ اگر واقعی نہیں ہے اور نہ جملہ شرطیہ کے لیے یہ ضرور ہے بلکہ کسی اپنی مصلحت اور ضرورت کی وجہ سے ایسے جملے بولے جاتے ہیں تو پھر ایسے جملہ کو دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرنا جہالت نہیں تو کیا ہے؟ اور لطف یہ ہے کہ وہ حضرات اس جملہ سے اپنا
١٤
دعویٰ قطعی طور سے ثابت کرنا چاہتے ہیں جن کے خلیفہ اوّل (قادیانی) کا اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ جملہ مشہور ہو ”یَعِدُ وَلَا یُوْفِیْ“ یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور پورا نہیں کرتا‘ اب دیکھا جائے کہ جب وعدہ الٰہی لائق اعتبار نہیں ہے اور کسی وقت وہ پورا نہیں ہوتا تو پھر اس جملہ شرطیہ کو وعدہ سمجھ کر اس کے پورا ہونے پر کیونکر اطمینان ہوسکتا ہے اور انبیاء کے آنے کا یقین کر لینے کی کیا وجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ لفظ یَاْتِیَنَّکُمْ استقبال کے لیے مخصوص نہیں ہے جس سے آپ آئندہ نبی کا آنا قطعی طور سے ثابت کریں‘ اس کی تفصیل مرزائیوں کی معتبر کتاب عسلِ مصفّیٰ میں دیکھئے‘ جو لفظ لَیُؤْمِنُنَّ کی تفسیر میں اس کے مؤلف نے کی ہے اور مرزا قادیانی نے مولوی محمد بشیر صاحب کے مقابلہ میں لَیُؤْمِنُنَّ کے بیان میں لکھا ہے۔
غرض کہ اس آیت سے آپ کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور قرآن مجید کی آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ سے تمہارے دعویٰ کا غلط ہونا ظاہر ہے چنانچہ سات رسائل مذکورہ میں دیکھا گیا ہے۔ اب آٹھواں رسالہ یہ پیش کیا جاتا ہے جس کا نام۔
- (٨) ختم النبوۃ فی الاسلام ہے‘ اس میں نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ اور اکابر امت
محمدیہؒ کے اتفاق سے اور جناب مرزا قادیانی کے اقوال سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا ہے اور قادیانی رسالہ کے مہملات اور اس کے اغلاط ضمناً کچھ بیان کئے گئے ہیں اگر پوری توجہ کی جائے تو صرف اس کے اغلاط کے بیان میں ایک بڑا رسالہ ہوجائے جس میں تضیع اوقات کے علاوہ تضیع مال بھی ہے۔
اب میں چاہتا ہوں کہ اس رسالہ کے بیان کا نمونہ بھی قادیانی حضرات کے روبرو پیش کروں رسالہ مذکور میں آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ اور اقوال ائمہ امت محمدیہؒ نقل کر کے لکھا ہے افسوس ہے مرزائی جماعت کی تیرہ درونی اور نفسانی ضد پر یا ان کی جہالت پر کہ بعض آیتوں کو ان نصوص قطعیہ کے خلاف سمجھتے ہیں اور قیامت تک نبی کا آنا ثابت کرنا چاہتے ہیں‘ مگر وہ یقین کر لیں کہ اگر ان کی ساری جماعت قیامت تک زور لگاتی رہے تو یہ جھوٹا دعویٰ ہرگز ثابت نہیں کر سکتی‘ سب سے بڑا استدلال ان کا آیت ذیل سے ہے اس پر طالبین حق خوب غور فرمائیں۔
آیت: یَابَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیَاتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْهَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ط (اعراف: ٣٥۔٣٦)
مطلب : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس رسول آئیں تمہاری جنس
١٥
کے اور میری نشانیاں تم سے بیان کریں جو انہیں سن کر خدا سے ڈرا اور اپنی اصلاح کی انہیں کسی بات کا خطرہ نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جس نے ان نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کے ماننے سے سرکشی کی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘
اس آیت میں کئی لفظ قابل غور ہیں اوّل يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ یہ خطاب عام بنی آدم سے ہے یا خاص امت محمدیہ سے اس پر غور کرنے کے لیے دیکھا جائے کہ اس کے دوسرے رکوع سے حضرت آدمؑ کا ذکر ہے اور سارے رکوع میں انہیں کا قصہ ہے پھر تیسرا رکوع اسی خطاب سے شروع ہوا ہے۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ الخ (اعراف : ٢٦)
اس میں اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے اپنا عام احسان بیان فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو لباس عنایت کیا تا کہ تم اپنے ظاہری جسم کو ڈھانکو اور زینت کرو اور تقویٰ اور پرہیزگاری کا لباس اندرونی حالت درست کرنے کے لیے نہایت خوب ہے۔
اس بیان کے بعد پھر اسی عام خطاب يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ سے تمام بنی آدم کو متنبہ کیا جاتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ شیطان کے فتنہ سے بچو ایسا نہ ہو کہ جس طرح تمہارے ماں باپ آدمؑ وحوا کو بہکا کر جنت سے نکالا اسی طرح تمہیں جنت سے محروم کر دے اس پر خوب نظر رکھئے کہ پہلے حضرت آدمؑ کی پوری حالت بیان کر کے ان کی اولاد کو ہدایت کی پھر بعض احکام ایسے بیان کیے جو سب بنی آدمؑ کے لیے ضروری تھے اس کے بعد پھر وہ قول نقل کیا گیا جو حضرت آدمؑ کے نزول کے وقت ارشاد ہوا تھا یعنی وہ آیت جو ابھی نقل کی گئی اب یہ تمام بیان اور روانی کلام اس کا شاہد ہے کہ یہ خطاب عام بنی آدم سے ہے اور صرف یہ سوق کلام (روانی کلام) ہی شاہد نہیں ہے بلکہ اس خطاب کے عام ہونے کے نہایت روشن متعدد وجوہ اور بھی موجود ہیں ملاحظہ کئے جائیں۔
پہلی وجہ ! یہ خطاب الٰہی (يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ) ان الفاظ سے ہے جو بالکل عام ہیں جن سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کل بنی نوع انسان سے یہ خطاب ہے کسی امت سے مخصوص نہیں ہے۔
دوسری وجہ ! یہ ہے کہ عام خطاب کر کے جو یہاں خبر دی گئی ہے وہ قرآن مجید میں تین جگہ ہے ایک تو یہی آیت ہے جس میں گفتگو ہے دوسری سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں حضرت آدمؑ کے جنت میں رہنے کا ذکر ہے پھر شیطان کے بہکانے کے بعد ارشاد خداوندی اس طرح ہے۔
١٦
”قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“ الخ (بقره:٣٨)
مطلب: ”یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آدم اور اس کی تمام نسل سے کہا کہ تم سب یہاں سے اترو اس کے بعد اگر میری طرف سے رہنمائی کی باتیں تمہارے پاس پہنچیں تو جس نے ان کی پیروی کی اور ہماری راہ پر چلا اسے کچھ خوف و خطر نہیں ہے اور نہ وہ کسی وقت غمگین ہوگا۔“
اس مضمون کو اعراف کی آیت مذکورہ کے مضمون سے ملائیے اس آیت میں آدم علیہ السلام کے اتارے جانے کا ذکر فرما کر اسی مضمون کا بیان ہے جو سورہ اعراف کی مذکورہ آیت میں بیان ہوا ہے وہ خاص لفظ جس سے رسول کے آنے اور ہدایت کے پہنچنے کی خبر دی گئی ہے وہ دونوں آیتوں میں ایک ہے یعنی اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ اس کے بعد تمام بنی آدم کی دو حالتیں دونوں آیتوں میں بیان ہوئی ہیں ایک مطیع و فرمانبردار دوسرے نافرمان اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسی ارشاد کی تکرار پھر کی گئی ہے جس کا ذکر سورہ اعراف میں ہے شاہ ولی اللہ صاحبؒ صاف طور سے اس کی صراحت کرتے ہیں اور ترجمہ آیت يَابَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ میں لکھتے ہیں ”گفتیم اے فرزندانِ آدم اگر بیایند بشما پیغمبران از جنسِ شما“ اس ترجمہ میں گفتیم کا لفظ شاہ صاحب نے زیادہ کیا اور اس پر یہ حاشیہ لکھا ’یعنی بر زبان آدم چنانچہ در سورہ بقرہ اشارت رفت‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں قُلْنَا کہہ کر بنی آدم سے خطاب کیا تھا اسی طرح سورہ اعراف میں وہی قول خداوندی منقول ہے اس سے صاف ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے یہ دونوں خطاب تمام بنی آدم سے ہیں خاص امت محمدیہ سے کوئی خطاب نہیں ہے پھر یہی مضمون سورہ طٰہٰ کے چھٹے رکوع میں ہے یعنی حضرت آدم کے جنت میں رہنے اور پھر وہاں سے نکالے جانے کا حکم اس طرح ہوا ہے۔
آیت: قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِنِّیْ هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰی . (طٰہٰ:١٢٣)
مطلب: ”یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا اور ان کی نسل سے فرمایا کہ تم سب جنت سے اترو تمہاری نسل میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پس اگر تمہارے پاس ہدایت پہنچے تو جس نے اس کی پیروی کی وہ نہ بہکے گا اور نہ نامراد رہے گا۔“
قرآن مجید کے اس حوالے نے بھی کامل شہادت دی کہ سورہ اعراف میں جو يَابَنِیْ اٰدَمَ کر کے خطاب ہوا ہے وہ حضرت آدم سے ہوا ہے اور اس واقعہ کے بیان کرنے کے لیے اللہ
١٧
تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا۔ ”قُل“ یعنی اپنی امت سے اس واقعہ کو کہہ دے اب ان صریح قرائن قرآنیہ کے خلاف اس خطاب کو امت محمدیہ سے مخصوص بتانا کس قدر جہالت ہے اس کے بعد اس پر بھی نظر کرنا چاہیے کہ جس طرح اس خطاب کے الفاظ سے اور دوسری آیات سے عموم سمجھا جاتا ہے اور خاص حضرت آدمؑ اور ان کی نسل سے خطاب معلوم ہوتا ہے اسی طرح حدیث سے اور علمائے کاملین کے اقوال سے بھی ظاہر ہوتا ہے یہ تیسری وجہ سے خطاب کے عام ہونے کی امام طبری اپنی تفسیر (جامع البیان ج ٨ ص ١٦٧/١٦٨) میں لکھتے ہیں۔
يَا بَنِىٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ (الى ان قال) معرفا خلقه ما اعد لحزبه واهل طاعته....... و ما اعد لحزب الشيطان واوليائه (پھر اس عام معنی کی سند میں ذیل کی روایت پیش کرتے ہیں) عن ابي يسار السلمي قال ان الله تعالى جعل ادم ذريته فى كفه فقال يَا بَنِىٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ (الخ)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی حالت بیان کرتا ہے کہ میری مخلوق میں دو گروہ ہیں ایک گروہ رحمانی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ان کے لیے ہمیشہ کی راحت اور عیش ہے دوسرا گروہ شیطانی ہے جو اس کے پیرو ہیں ان کے لیے جہنم ہے وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اس عموم کی سند یہ ہے کہ ابی یسار سلمیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی تمام اولاد کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور آیت کا مضمون ارشاد فرمایا یعنی جس طرح روز ”الست“ میں تمام مخلوق سے ارشاد ہوا تھا کہ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلٰى اسی طرح تمام بنی آدم سے یہ ارشاد ہوا۔
چونکہ یہ مضمون کوئی قیاسی بات نہیں ہے اس لیے ضرور ہے کہ راوی نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر بیان کیا ہے جس تفسیر سے یہ مضمون نقل کیا گیا اس کا نہایت معتبر اور مستند ہونا پہلے بیان کیا گیا ہے (تفسیر الدر المنثور ج ٣ ص ٨٢) میں آیت مذکور کی تفسیر اسی عموم کے ساتھ اس روایت کی سند سے بیان کی گئی ہے یہ وہ تفسیر ہے جسے مرزا قادیانی بھی معتبر سمجھتے ہیں اور اکثر اپنے دعوؤں کی سند میں اس کے اقوال اور اس کی روایات کو پیش کیا ہے انجام آتھم وغیرہ دیکھا جائے۔
صاحب تفسیر مظہری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”الخطاب الى ذرية آدم“ یعنی بنی آدم کی اولاد سے خطاب ہے اور بھی بہت تفسیروں میں ایسا ہی ہے اب اس کے خلاف اس خطاب کو امت محمدیہ سے مخصوص سمجھنا اس آیت کے الفاظ ظاہری اور دوسری آیات قرآنی کے خلاف اور ان نصوص قطعیہ کے معارض ہے جو ختم نبوت کے بارہ میں پیش کئے گئے ہیں۔ اور اس
١٨
آیت سے قبل جو لفظ قُلْ آیا ہے اس سے خیال کرنا کہ یہ خطاب امت محمدیہؐ سے خاص ہے ایک سخت جہالت ہے کیونکہ قرآن شریف میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں خواہ وہ قصص انبیائے سابقین ہوں یا ان کی کتابوں کے بیان ہوں سب کے ساتھ ہی ارشاد خداوندی ہے یعنی ارشاد ہوا ہے کہ اس مضمون کو کہو بیان کرو، اب لفظ قُلْ وہاں ظاہر میں ہو یا نہ ہو اس لیے قُلْ کا ہونا اس بات کی دلیل ہرگز نہیں ہوسکتی کہ یہ بیان خاص امت محمدیہ کے لیے ہے البتہ یہ قصہ سابقہ امت محمدیہؐ کے معلوم کرنے کے لیے بیان ہوا ہے اور (تفسیر روح المعانی ج ٨ ص ٩٩) میں بعض محققین کا قول اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے ”ان هذا حكاية لما وقع مع كل قوم“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلی امتوں کی سرگذشت بیان فرمائی ہے کہ ہر ایک گروہ سے اس طرح کہا گیا ہے۔
چوتھی وجہ! نہایت قابل لحاظ یہ ہے کہ ہمارے سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بہت کچھ عظمتیں بیان ہوئی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کا نام لیکر کہیں خطاب نہیں کیا، جس طرح اور انبیاء مثلاً حضرت موسیٰؑ حضرت عیسیٰؑ وغیرہما کا اکثر نام لیا ہے اور یا موسیٰ یا عیسیٰ کہا ہے مگر یا محمد ﷺ کہیں نہیں فرمایا‘ اس طرح آپؐ کی امت کو خیر امت یعنی بہترین امت فرمایا اور عظمت کے ساتھ انہیں پکارا ہے یعنی يَاأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فرمایا ہے یعنی اے ایمان والو‘ یہ کیسا پیارا لفظ ہے جس میں جنت کی بشارت پوشیدہ ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ جب تک حضور سرور عالم ﷺ مکہ معظمہ میں رہے اور مسلمان بہت کم تھے اور مشرکین کا غلبہ تھا اس وقت تک اس غلبہ کی وجہ سے يَاأَيُّهَا النَّاس سے قرآن مجید میں خطاب الٰہی رہا اور جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اس سر زمین مقدس میں مسلمان کا غلبہ تھا وہاں يَاأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سے خطاب ہوا‘ اتفاقیہ پہلا خطاب کسی وقت آیا ہے مگر ایک معمولی خطاب يَا بَنِىْ اٰدَمَ سے امت محمدیہ مخاطب نہیں بنائی گئی۔ دوم! اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جملہ يَأْتِيَنَّكُمْ اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے جس سے حال واستقبال کی خبر معلوم ہوتی ہے اور نون تاکید سے استقبال کی تائید ہوتی ہے مگر اسی لفظ سے حال ماضی کی حکایت بھی ہوتی ہے‘ چنانچہ ایک محقق کا قول ابھی نقل کیا گیا‘ جب یہ احتمال بھی ہے اور امت محمدیہ کے بعض محققین نے بیان بھی کیا ہے تو بفحوائے قول مشہور ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ آیت مذکور سے یہ ثابت کرنا کہ آئندہ رسول ضرور آئیں گے محض غلط ہوگیا اور اس پر اضافہ یہ ہے کہ نصوص قطعیہ سے ثابت کردیا گیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی
١٩
نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ کہنا ضرور ہے کہ اس آیت میں حال گذشتہ کی حکایت کی گئی ہے یعنی انبیائے سابقین اور بالخصوص حضرت آدم علیہ السلام کی امت سے عام طور سے خطاب کیا گیا ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو ان کی بات مانو۔
سوم! یہ کہ جملہ يَاْتِيَنَّكُمْ کے ساتھ لفظ اِمَّا بھی آیا جو اِنْ حرف شرط اور مَا تاکیدیہ سے مرکب ہے اور یہ سب اہل علم جانتے ہیں کہ جب حرف شرط مضارع پر آتا ہے تو مضارع میں جس بات کی خبر دی گئی ہے وہ یقینی نہیں رہتی ہے بلکہ وہ بالکل مشکوک ہو جاتی ہے اور حرف ما اور آخر کے نون تاکید نے شک کی کامل تاکید کر دی ہے اس لیے جملہ مذکورہ میں جو رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے وہ یقینی نہیں ہے بلکہ بالکل جملہ شرطیہ ہے جس کا وقوع ضروری نہیں اس سے ثابت کرنا کہ بالضرور رسول آئیں گے محض غلط ہے پھر ایسی بات پر ایمان رکھنا اور دوسروں کو اس پر ایمان لانے کی رغبت دلانا ”ضَلُّوا فَاَضَلُّوْا“ کا مصداق بننا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔
چہارم ! یہ امر بہت غور طلب ہے کہ رسولوں کے آنے کی خبر جو دی گئی ہے ان سے مراد اصطلاحی اور شرعی رسول ہیں جن پر وحی نبوت آتی ہے یا لغوی مراد ہیں یعنی جو پیام لیکر جاتے ہیں۔
جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اپنی مخصوص امت سے ہے ”بلغوا عنی ولو اية“ یعنی میری باتوں کو پہنچاؤ ساری دنیا پر جس قدر ہو سکے اب جو امتی آپ کے ارشاد کی تعمیل کرے اور احکام شریعت اور پیام رسالت کو پہنچاوے وہ رسول ہے اب کیا وجہ ہے کہ اس آیت میں یہ رسول مراد نہ ہوں رسول کے معنی عام پیامبر کے ہیں چنانچہ سورۂ یوسف میں بادشاہ کے پیامبر کی نسبت ارشاد ہے فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُوْلُ اور جناب رسول اللہ ﷺ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو تبلیغ کے لیے یمن بھیجنے لگے تو آپ نے چند سوال کیے اور حضرت معاذ ؓ نے آپ کی حسب مرضی جواب دیئے اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَ رسول رسولہ بما يرضی رسولہ“ یہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیامبر کو رسول فرمایا اسی طرح اس آیت میں خدا کے پیامبروں کو رسل کہا گیا ہے عبد الماجد قادیانی نے بھی اپنے رسالہ القا میں لکھا ہے کہ قرآن شریف میں تین قسم کے رسولوں کا ذکر ہے تشریعی، غیر تشریعی، نائب رسول، اس آیت میں تیسرے قسم کے رسولوں کا ذکر ہے یہ قیامت تک ہوتے رہیں گے اور یہاں اس معنی لینے کی دو وجہ معلوم ہوتی ہیں جن سے یہ معنی نہایت ظاہر اور صاف معلوم ہوتے ہیں۔
ایک وجہ یہ ہے کہ رسول کے آنے کی خبر ہر ایک انسان کو دی گئی ہے لفظ کُمْ کا خطاب ہر
٢٠
فرد بشر سے ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو ان کی باتوں کو سنو اور ان پر عمل کرو اب نہایت ظاہر ہے کہ جس قدر انبیائے کرام آئے وہ ہر ایک انسان کے پاس نہیں گئے اور نہ جاسکتے تھے مثلاً ہمارے رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم صرف عرب میں رہے اور کہیں تشریف نہیں لے گئے اور چونکہ آپؐ کی رسالت سارے عالم کے لیے تھی اس لیے دنیا کے ہر شخص کے پاس آپؐ کو پہنچنا چاہیے تھا، مگر یہ امر بالکل غیر ممکن تھا اس لیے اس آیت کے لحاظ سے جس کے پاس آپؐ تشریف نہیں لے گئے ان کو ایمان لانا ضرور نہ ہوا اور آپؐ انہیں کے لیے رسول ہوں جن سے بالمشافہ آپؐ نے تبلیغ کی حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور اگر رسول سے مراد پیام رسول اللہ پہنچانے والا کیا جائے تو بے تکلف معنی بنتے ہیں کیونکہ ایسے رسول تو بے شمار ہوئے اور ہوتے رہیں گے یہ ہر جگہ ہر شخص کے پاس پہنچ سکتے ہیں اور ہر ایک فرد بشر پر حجت تمام ہو سکتی ہے اور آیت کے صریح معنی بے تکلف بنتے ہیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ضروری ہے کہ وہ مالک الملک عالم الغیب رسولوں کے آنے کی خبر شرط کے ساتھ دیتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ اگر وہ آئیں تو یہ کرو اب دیکھا جائے کہ رسولوں کا پہنچنا اس کے اختیار میں ہے ان کا آنا اور تبلیغ کرنے کا بھی اسے علم ضرور ہے پھر یہ شرط لگا کر واقعی اور ضروری خبر کو مشکوک کر دینے کی کیا وجہ ہے اور اس مختار الکل پر کوئی چیز واجب نہیں ہے پھر اس کی کیا ضرورت تھی کہ یہ جملہ شرطیہ بیان کیا جاتا؟ غرضیکہ شرعی رسول مراد لینے سے یہ شبہات ہوتے ہیں اور اگر لغوی رسول مراد لیا جائے تو جس طرح پہلا شبہ وارد نہیں ہوتا اسی طرح یہ شبہ بھی وارد نہ ہو گا کیونکہ مبلغین بہت جگہ پہنچ سکتے ہیں مگر بعض جنگل اور پہاڑ ایسے ہو سکتے ہیں کہ وہاں انسان ہیں مگر کوئی مبلغ وہاں اپنی لاعلمی سے یا نہایت دشواری کی وجہ سے نہیں پہنچ سکا، اس لیے اس عالم الغیب نے ان دشواریوں سے واقف ہو کر اس میں شرط لگا دی، جس سے وہ انسان جسے رسول خدا کی خبر نہیں پہنچی اور کوئی مبلغ اس کے پاس نہیں گیا وہ معذور ہے، اس پر رسول کا ماننا فرض نہیں ہے، اسی طرح مبلغین کو ایسی جگہ جانا جس کا انہیں علم نہیں ہے یا وہاں کا جانا نہایت دشوار ہے وہاں وہ نہیں گئے تو گنہگار نہ ہوں گے، اس لیے وہ کریم و رحیم نے شرطیہ خبر دی تاکہ ان دونوں گروہوں پر تکلیف مالا یطاق نہ ہو، اس کا ارشاد ہے ”لَا یُکَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا“ اب شرطیہ خبر دینا اور ہر ایک انسان کے پاس رسول کا پہنچنا بے تکلف صحیح ہوتا ہے اور ختم نبوت میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔
الغرض ان نہایت قوی سات وجہوں سے آیت مذکورہ سے یہ استدلال کرنا کہ رسول
٢١
اللہ ﷺ کے بعد رسول شرعی آتے رہیں گے محض غلط ثابت ہوا۔ آٹھویں وجہ ! یہ ہے کہ یہ دعویٰ نصوص قطعیہ کے خلاف ہے اور نویں ! وجہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کے مخالف ہے دسویں ! وجہ یہ ہے کہ اجماع امت محمدیہ ﷺ اسے غلط بتا رہا ہے۔ لو! میاں ارادت قادیانی اب تو تم نے دیکھ لیا کہ کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو حضور سرور عالم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے مخالف ہو تم نے ایک آیت يَابَنِي اٰدَمَ اِمَّا يَاتِيَنَّكُمْ (الخ) پر الٹا سیدھا زور لگایا تھا کہ کسی صورت سے جاہلوں کے سامنے ایک آیت پیش کر کے ان کو دھوکے میں ڈال کر ایک کذاب و دجال کو نبی منواؤ مگر یاد رکھو کہ مسلمان تمہارے دام تزویر سے خوب واقف ہو گئے ہیں وہ تمہارے الٹے سیدھے معنی کو جو مفسرین عظام ومحدثین کرام کے خلاف ہوں ہرگز نہیں مان سکتے بلکہ اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور جس کتاب وکاغذ میں تمہاری دروغ بانی کو دیکھتے ہیں اس کی جگہ ردی کی ٹوکری بناتے ہیں۔
بھائیو ! اب ملاحظہ کیجئے کہ اس آیت کو میں نے سات وجہوں سے تو مدلل کر کے ثابت کر دیا کہ اس سے سلسلہ نبوت کا باقی رہنا کسی صورت سے ثابت نہیں ہوتا ہے اب کوئی شرعی رسول نہیں آئے گا ہاں
علمائے امت قیامت تک تبلیغ احکام الہی کرتے رہیں گے اور خلق اللہ برابر ان کے نور ہدایت سے مستفیض ہوتی رہے گی اور عُلَمَاءُ اُمَّتِي كَاَنْبِيَاءِ بَنِي اِسْرَائِيْلَ کی شان ظاہر ہوتی رہے گی۔
میاں ارادت قادیانی! اس کے بعد مجھے اس کی ضرورت تو نہیں تھی کہ میں تمہاری پیش کردہ موضوع حدیث کی طرف جو تم نے اپنے رسالہ کے ص ١ میں لکھی ہے توجہ کرتا مگر چونکہ عام پبلک کو تمہاری لیاقت علمی کا جتلانا اور تم کو بھی تمہاری غلطی پر متنبہ کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اس لیے میں تمہاری روایت کا غلط اور بے بنیاد ہونا دو طریقے سے ثابت کرتا ہوں۔
پہلا طریقہ ! یہ ہے کہ ختم نبوت جن احادیث سے ثابت ہوتی ہے وہ حدیثیں صحاح ستہ کی ہیں یعنی ان کتابوں کی جن کو امت محمدیہ کے ائمہ دین نے معتبر اور مستند مانا ہے اور ان کی حدیثوں کو صحیح بتایا ہے وہ چھ کتابیں ہیں پھر ان میں سے دو کتابیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو بالخصوص صحیحین کا خطاب دیا ہے اور پھر اس میں خاص صحیح بخاری کو یہ شرف ہے کہ اسے اصح الکتب
٢٢
بعد کتاب اللہ سب نے مانا ہے یہاں تک کہ آپ کے مقتداء آپ کے بہکانے والے مرزا قادیانی بھی اس کتاب کو انہیں الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہتے ہیں۔ ان مستند کتابوں کی روایات سے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کے ختم ہونے کو ثابت کیا ہے اور مختلف عنوان سے اس اسلامی عقیدہ کو جناب رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے میں چند حدیثیں پیش کرتا ہوں خدا کے لیے بہ نظر انصاف انہیں ملاحظہ کیجئے۔
حدیث: ١ ............ انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘ (بخاری ومسلم)
(بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ)
مطلب: جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی عاقب کے لفظی معنی آخر میں آنے والے کے ہیں۔
مگر جناب رسول اللہ ﷺ اس کے شرعی معنی یہ فرماتے ہیں کہ عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہ ہو یعنی وہ سب انبیاء کے آخر میں ہو یہ بیان اس کو ثابت کرتا ہے کہ جس طرح آپؐ کا نام آپؐ کے والدین نے محمد (ﷺ) رکھا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نام آپؐ کا عاقب رکھا گیا۔ تاکہ امت محمدیہ یہ معلوم کرلے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
حدیث: ٢ ............ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤیا الصالحة (بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥ باب الرؤیا الصالحة و مسلم ج ١ ص ١٩١ باب النھی عن قراۃ القرآن)
مطلب: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ نبوت کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا مگر مبشرات، صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ مبشرات کیا ہیں آپؐ نے فرمایا کہ سچی خوابیں۔
اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے نہایت صفائی سے اپنی امت کو آگاہ کر دیا کہ نبوت کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا یعنی ظلی اور بروزی، مستفید، غیر مستفید، کامل یا ناقص، عالی مرتبہ یا کم مرتبہ، کسی قسم کا کوئی نبی میرے بعد نہیں ہوسکتا، یہی معنی ہیں لا نبی بعدی کے یعنی لفظ نبی پر لائے نفی جنس کا لا کر یہ ظاہر کر دیا کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا یہ وہ طرز بیان ہے کہ کم علم اور عامی عرب بھی اس سے اسلامی اعتقاد کو پورے طور سے جان سکتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی طرح کا نبی نہ ہوگا، یہ حدیث بھی صحیحین کی ہے یعنی اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری اور صحیح مسلم کی۔
حدیث: ٣ ............ کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ
٢٣
نبی وانه لا نبی بعدی و سیکون خلفاء۔
(بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذکر عن بنی اسرائیل)
مطلب: بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا البتہ خلفاء ہوں گے۔
اس حدیث میں تیسرے طریقے سے ختم نبوت کو بیان فرمایا جس سے مرزائی خیال کے موافق نبوت تشریعی اور غیر تشریعی، مستفید اور غیر مستفید وغیرہ ہر قسم کی نبوت کی نفی ہو گئی، کیونکہ پہلے حضورؐ نے تمام انبیاء سابقین کے سلسلہ نبوت کی حالت بیان فرمائی کہ ہر ایک نبی کے بعد نبی ہوتے رہے، اب یہ ظاہر ہے کہ انبیائے سابقینؑ میں نبی تشریعی اور غیر تشریعی بھی ہوئے اور مستفید اور غیر مستفید بھی اور عالی مرتبہ اور کم مرتبہ بھی، مثلاً حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت لوطؑ، حضرت یونسؑ اس میں ہر قسم کے انبیاء ہیں، کوئی قسم خاص نہیں ہے اب جملہ لا نَبِیَّ بَعْدِیْ میں لائے نفی جنس کا لا کر ہر قسم کے نبی کی نفی کر دی، اور ختم نبوت کو نہایت شائستہ پیرائے سے عام فہم طریقہ سے سمجھا دیا۔ یہ حدیث اس کتاب کی ہے جسے مرزا قادیانی بھی اصح الکتب بعد کتاب اللہ لکھتے ہیں یعنی صحت کے لحاظ سے اس کا مرتبہ قرآن مجید کے بعد ہے۔
حدیث: ٤ ............. کان رسول اللہ ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفی الخ
(صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ)
مطلب: جناب رسول اللہ ﷺ اپنے متعدد نام بیان فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرا نام محمدؐ ہے اور احمد ہے اور مقفی ہے اور مقفی کے معنی محدثین نے وہی بیان کئے ہیں۔ جو ابن ماجہ کی روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی صفت میں فرمایا ہے یعنی انا اخر الانبیاء یعنی میں سب انبیاء کے آخر میں ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، یہی معنی مقفی کے ہیں۔ اس سے بوضاحت ظاہر ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ختم نبوت کا مسئلہ اور کسی نبی کے نہ آنے کا اعتقاد ایسا ضروری اور مہتمم بالشان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعدد نام مبارک ایسے رکھے گئے، جن سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ آخر النبیین ہیں اس میں کسی کو شک و شبہ نہ رہے اور ان حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رسول اللہ ﷺ کی خاص صفت خاتم النبیین بیان فرمائی ہے اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں جن کا بیان مختلف طور سے حضور انور ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے۔
٢٤
اس حدیث سے یہ بھی روشن ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا نام احمد بھی ہے اور حضور انور ﷺ اپنی زبان مبارک سے اپنا نام احمد فرماتے ہیں، مگر باایں ہمہ محمودی مرزائی کہتے ہیں کہ یہ نام جناب رسول اللہ ﷺ کا نہیں ہے بلکہ مرزا غلام احمد کا ہے، اب یہ مرزائی غلام کو مولیٰ اور مولائے دوجہان سرور صادقان کو جھوٹا بنانا چاہتے ہیں، اور اسفل السافلین میں اپنا ٹھکانا بناتے ہیں، افسوس !
اب اس فرقہ قادیانی کو دیکھا جائے کہ ان صحیح حدیثوں کو خلاف قرآن شریف قرار دے کر رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ (معاذ اللہ)
اے مرزائیو ! مجدد کی حدیث سے یہ حدیثیں بہت زیادہ معتبر اور کمال درجہ کی مستند ہیں جس سے تم مرزا کا مجدد ہونا ثابت کرتے ہو، مگر تمہارے زور لگانے سے رسول اللہ ﷺ (روحی فداہ) جھوٹے نہیں ہو سکتے، ان صحیح اور نہایت مستند حدیثوں کے مقابلہ میں ابن عساکر کی موضوع روایت پیش کرنا تمہاری اور تمہارے مربیوں کی جہالت اور سخت جہالت ہے، اول تو یہ دیکھو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مقابلہ میں ابن عساکر کی روایت کیا حیثیت رکھتی ہے؟ کہ یہ متعدد احادیث صحیحہ اس کی روایت سے مردود ہو جائیں (استغفر اللہ)
اس کے علاوہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس حدیث پر آپ کے دعوے کا دارومدار ہے اور صحیح حدیثوں کو اس کے مقابلہ میں (نعوذ باللہ) ردی میں آپ ڈالنا چاہتے ہیں اسے ائمہ محدثین نے موضوع اور جھوٹی کہا ہے، چنانچہ علامہ محمد بن علی بن محمد الشوکانی الفوائد المجموعة في الاحادیث الموضوعہ کے ص ١٠٣ میں اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
قال الخطابى وضعته الزنادقة و يدفعه اوتيت الكتاب و مثله معه وكذا قال الصغانى قلت وقد سبقهما الى نسبة وضعه الى الزنادقة ابن معين كما حكاه عنه الذهبى على ان فى هذا الحديث الموضوع نفسه ما يدل على رده لا نا اذا عرضناه على كتاب الله خالفه ففى كتاب الله عزوجل ما اتكم الرسول فخذوه و ما نهكم عنه فانتهو ونحو هذا من الايات.
مطلب : اس کا یہ ہے کہ خطابی اور صغانی دونوں نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے اور ان سے پہلے علامہ ابن معین نے اس روایت کو زندیقون کا بنایا ہوا کہا ہے، غرض کہ ان تین کاملین اور نقادین حدیث نے اس روایت کو موضوع کہا ہے اور وہ بھی اس طور سے کہ اس کے بنانے والے کو زندیق
٢٥
قرار دیا ہے (یعنی پکے کافر) اور ان ماہرین حدیث کے اقوال کے علاوہ اس روایت کا نفس مضمون کتاب اللہ کے مخالف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چیز تمہارے رسول لائیں اس کو لے لو اور جس چیز سے تم کو روکیں اس سے رک جاؤ اس مضمون کی متعدد آیتیں ہیں۔
حاصل اس کا یہ ہے کہ دونوں حدیثیں اور دوسری حدیثیں جو اس کے ہم معنی ہوں وہ ہرگز حدیث الرسول ﷺ نہیں ہوسکتیں، کیونکہ وہ آیت ما اتکم الرسول کے بالکل خلاف ہیں۔ اسی طرح صاحب افادہ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ لکھتے ہیں۔
دروایت عرض احادیث بر قرآن مختلق و موضوع است نزد ائمہ ایں شان۔ اوزاعی گفتہ الکتاب احوج الی السنة من السنة الی الکتاب ویحییٰ ابن کثیر گفتہ السنة قاضیة علی الکتاب وخلاف نمی کند دراں مگر ہر کہ بہرہ از اسلام ندارد (چنانچہ پیروان مرزائے قادیانی)
یہ روایت میں جو آیا ہے کہ حدیث کو قرآن مجید پر پیش کرو وہ روایت محدثین کے نزدیک جھوٹی اور بنائی ہوئی ہے امام اوزاعی کہتے ہیں کہ قرآن مجید کو حدیث کی طرف زیادہ حاجت ہے بہ نسبت حدیث کے اور امام یحییٰ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے معنی کا فیصلہ حدیث سے ہوتا ہے اور اس میں وہی شخص خلاف کر سکتا ہے جو اسلام سے بے نصیب ہے۔ (اس کے مصداق مرزائی ہیں)
اب رہی وہ حدیث یعنی ”لو عاش ابراھیم لکان نبیا“ اور دوسری ”لو عاش لکان صدیقاً نبیا“
ان دونوں حدیث پر بھی یہاں امت قادیانی کے مربیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اس حدیث سے آپؐ کے بعد نبی آنے کا امکان ثابت ہوتا ہے اس کا کامل جواب بڑے رسالہ ”ختم النبوۃ فی الاسلام“ میں لکھا گیا ہے اس میں صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ پہلی حدیث سرے سے حدیث ہی نہیں ہے دوسری حدیث ابن ماجہ ص ١٠٨ کی ہے مگر اس کے راوی ابراہیم بن عثمان بن خواشی ہیں اور ان کی نسبت صاحب تہذیب التہذیب (ج ١ ص ٩٥) محدثین کے حسب ذیل اقوال نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں۔
قال الترمذی منکر الحدیث و قال النسائی متروک الحدیث وقال ابو حاتم ضعیف الحدیث سکتوا عنہ و ترکوا حدیثہ.
یعنی یہ شخص منکر الحدیث ہے اس کی روایت کو محدثین نے لینے کے لائق نہیں سمجھا اس
٢٦
کی حدیث کی طرف توجہ نہیں کی قادیانیوں کے اس جہل پر افسوس ہے کہ ایسے شخص کی روایت کو سند میں پیش کرتے ہیں اگر تہذیب التہذیب کا دیکھنا میسر نہیں ہوا تھا تو ابن ماجہ میں اسی نام کے نیچے لکھا ہے متروک‘ مگر چشم بداندیش اس کے دیکھنے سے قاصر رہی‘ آپ کے مربیوں کی جہالت پر افسوس ہے کہ متروک الحدیث کی روایت کو اپنے دعویٰ کی سند میں پیش کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صحیحین کی روایات صحیحہ مردود ہو جائیں‘ اسی نافہمی اور جہالت کا نتیجہ ہے کہ ایک متروک الامۃ اور بقول سرور امت دجال کو اپنا پیشوا مان رہے ہیں۔
لو میاں ارادت ! اب تو تمہاری اور تمہارے قادیانی مربیوں کی تمام گندم نمائی جو فروشی ظاہر ہوگئی‘ ان محققین کاملین کی تحقیق کی بنا پر تمہارے رسالہ النبوۃ فی الاسلام کی وقعت ہرگز ردی کی ٹوکری کے چند ورقوں سے زیادہ نہیں رہی‘ لو یہ مختصر رسالہ اپنے بھاگلپوری اور قادیانی مربیوں کو دو اور کہو کہ اس کا جواب لکھو۔ ہم دعویٰ کے ساتھ چیلنج دیتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک نہیں لکھ سکتے‘ آپ کے رسالہ کا طرز تحریر یہ بتا رہا ہے کہ آپ کے صدر انجمن کا لکھا ہوا ہے جنہوں نے فریب میں مولانا عبدالشکور صاحب کے مقابلہ میں عام جلسہ کے روبرو سخت ہزیمت اٹھائی تھی اور اعلانیہ کہتے تھے کہ میں مناظرہ کے لیے تیار نہ تھا‘ میری مثال تو ایسی ہوئی کہ ”طفل مکتب نمیرود ولے برندش“ یعنی بے پڑھے لکھے بچے بن گئے تھے اس لیے میں ان کے خاص رسالے القاء شیطانی کا ذکر کرتا ہوں‘ جسے مرزائی حضرات فیصلہ آسمانی کا جواب سمجھتے ہیں‘ اگرچہ یہ رسالہ قادیانی خلیفہ اوّل کی مدد اور مشورہ سے لکھا گیا ہے مگر ہمارے حضرت قبلہ ابواحمد صاحب عم فیضہم کی توجہ سے اس شیطانی القاء کے اغلاط کا اظہار دس رسالوں میں کیا گیا ہے۔
القاء قادیانی کے جوابات اور اظہار اغلاط میں رسائل
- ١............ قریب میں رسالہ ”حقیقت رسائل اعجازیہ“ شائع ہوا ہے اس میں القاء کے ایک صفحہ میں
آٹھ غلطیاں دکھائی ہیں ص ٤٥ سے ٥٥ تک ملاحظہ کیجئے تا کہ مرید و مرشد دونوں کا نمونہ معلوم ہو جائے۔
- ٢............ رسالہ اغلاط ماجدیہ میں القاء کے ایک ورق میں ٣٢ غلطیاں دکھائی ہیں‘ غرضیکہ تین
صفحوں میں چالیس غلطیاں ہوئیں‘ جن کی تالیف کا یہ حال ہو وہ ایک لاجواب رسالہ فیصلہ آسمانی کا جواب لکھیں گے؟ بایں خواری امید ملک داری۔
٢٧
٣..........صحیفہ رحمانیہ نمبر١٠ یہ ٢٩ صفحوں کا رسالہ ہے اس میں اسی القاء کی بہت بڑی غلطیاں اور ان کے جھوٹ دکھائے ہیں، یہ رسالہ ١٩١٤ء میں چھپا ہے، چار برس ہو گئے مگر ایک غلطی کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
٤..........نمونہ القائے قادیانی۔ یہ پونے چار جز کا رسالہ ہے اس میں قادیانی مربی کی حیرتناک بدیانتیاں اور غلطیاں اور نافہمیاں دیکھائی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی علم و دیانت کیا ہو گئی اور وہ کیا سے کیا ہو گئے انہیں چاہیے کہ اپنے چہرۂ مبارک کو آئینہ انصاف میں دیکھیں۔
٥..........محکمات ربانی۔ یہ رسالہ سات جز کا ہے مطبع ایچ بانکی پور میں چھپا ہے نہایت ہی محققانہ اور مہذبانہ طریقہ سے لکھا گیا ہے، اس کے مؤلف عبد الماجد قادیانی کے خاص عزیز ہیں، بہت خوبی سے پہلے قادیانی مربی کے فریب دکھائے ہیں پھر ان کے مرشد کی غلطیاں بیان کی ہیں اس رسالہ کے تمہیدی اشعار بڑے لطف کے ہیں، نمونہ ملاحظہ ہو۔
جواب القاء کے لطیف اشعار
کہہ دیتی ہے خود تحریر میں حق سے معرّیٰ ہوں دبائے سے کہیں دبتا ہے حضرت جوش نفسانی
طریقہ یہ نہیں دیندار کا سچے مسلماں کا طریقہ یہ مسیحی ہے عقیدہ ہے یہ نصرانی
غلط تحریر پر ایسی تعلیٰ واہ رے جرأت نہیں ہے نور دیں کچھ بھی نہیں ہے آنکھ میں پانی
یہ حالت زار اپنے بھائی کی دیکھی نہیں جاتی تجھی پر خوب روشن ہے میرے دل کی پریشانی
طبیعت مضطرب ہے اشک کی تجھ سے دعا یہ ہے بہت بگڑی سنبھال ان کو دکھا اپنی درخشانی
یہ رسالے تو قادیانی مؤلف القاء سے خطاب کر کے لکھے گئے ہیں ان کے علاوہ حضرت مؤلف ’’فیصلہ آسمانی‘‘ عم فیضہم نے اپنے کئی رسالوں میں قادیانی مربی غلط فہمیوں کا نہایت محققانہ جواب دیا ہے مگر انہیں مخاطب نہیں بنایا، کیونکہ وہ اس قابل نہ تھے وہ رسائل یہ ہیں۔
٦..........فیصلہ آسمانی حصہ ٣ کا نصف آخر جس میں کامل طور سے مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں کو جھوٹا ثابت کر کے انہیں قطعی کاذب ثابت کر دیا ہے وہاں القاء کے سارے مہملات ردی ہو گئے ہیں۔
٧..........معیار صداقت ٨..........تنزیہہ ربانی، یہ دونوں رسالے اگرچہ اخبار البدر مرقومہ ٨۔
٢٨
اگست ١٩١٢ء کے ایک مضمون کے جواب میں ہیں مگر مضمون وہی ہے جو فیصلہ آسمانی میں ہے اور القاء میں اس کی نسبت کچھ کہا گیا ہے مگر یہ مختصر رسالے اس تحقیق اور متانت سے لکھے گئے ہیں کہ مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشینگوئیوں کے لیے جو جھوٹی باتیں بنائی گئی تھیں سب کا نہایت محققانہ جواب دے کر مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔
- ٩......... عبرت خیز' اس بے نظیر رسالے میں نہایت محققانہ طور سے عبرت خیز مضمون دکھایا ہے
اور فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے آخری حصہ کے مضامین کی تحقیق اس خوبی سے کی ہے کہ القاء کے شبہات باد ہوا ہو گئے ہیں اور مرزا قادیانی جو اپنی دنیاوی کامیابی کو اپنی صداقت کی عظیم الشان دلیل قرار دیتے تھے وہ بیکار ہو گئی اور واقعات زمانہ اور آیات قرآنی سے ثابت کر دیا کہ یہ ایک فریب تھا مرزا قادیانی کا۔
- ١٠......... انوار ایمانی' اس میں پہلے قادیانی مؤلف القاء کی بددیانتیاں دکھا کر یہ ثابت کیا ہے
کہ حضرت مولانا مؤلف فیصلہ آسمانی کی اصل باتوں کا کچھ جواب نہیں دے سکے اور جو کچھ لکھا ہے وہ محض غلط ہے' یہ دس رسالے تو القائے قادیانی کے جواب میں لکھ کر مشتہر ہو چکے ہیں اور ایک نہایت محققانہ رسالہ خاص ان کے منہاج نبوت پر لکھا گیا ہے اور ان کی شرمناک غلطیاں اس میں دکھائی گئی ہیں مگر وہ ابھی تک چھپا نہیں ہے' مگر مذکورہ دس رسالے جو عرصہ سے مشتہر ہیں کسی کا جواب تو نہیں دیا گیا البتہ عوام کو فریب دیا جاتا ہے کہ القاء فیصلہ آسمانی کے تینوں حصوں کا جواب ہے اور اس کہنے سے شرم نہیں آتی' جن کے ایک ایک صفحہ میں آٹھ آٹھ اور آٹھ دونی سولہ سولہ غلطیاں ہوں وہ ان کی محققانہ تصنیف کا جواب دے سکتے ہیں جن کے علم وفضل کا دنیا میں شہرہ ہے جن کے مجدد ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے؟
میاں ارادت قادیانی ان دس رسالوں میں سے ایک کا جواب لکھوا کر اپنے مرزا کی صداقت ثابت کی ہوتی' النبوۃ فی الاسلام سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی' فیصلہ آسمانی حصہ کا تتمہ جو چھپا ہے اس میں القاء کی ضروری باتوں کا جواب دے دیا گیا ہے اور در حقیقت القاء کے گیارہ جواب دیئے گئے ہیں اسی القاء پر فخر کیا جاتا ہے اور اسے ردی میں نہیں پھینکا جاتا ؟
ناظرین جب القاء کا حال معلوم کر چکے کہ اس کی کیسی دھجیاں اڑائی گئی ہیں جس کے مصنف مرزائیوں کے صدر اور بڑے مربی کہلاتے ہیں پھر برق آسمانی کیا چیز ہے؟ جس رسالہ کا جواب القاء میں لکھا گیا ہے اسی کے جواب کا مؤلف برق بھی دعویٰ کرتا ہے' جو مؤلف القاء کے
٢٩
مقابلہ میں ایک جاہل شخص ہے اس لیے جو رسالے القاء کے جواب میں لکھے گئے وہی برق کے جواب بھی ہیں اور علیحدہ بھی اس کا جواب لکھا گیا ہے، مگر بے ضرورت سمجھ کر اس کے چھپوانے کی طرف توجہ نہیں کی گئی پھر یہ کہنا کہ برق کا جواب کوئی نہیں دے سکا کیسا اعلانیہ جھوٹ اور ابلہ فریبی ہے اور نصرت یزدانی کا جواب تائید ربانی لکھا گیا ہے جو ١٣٣١ھ میں چھپا ہے۔
مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقۃ المسیح کا جواب تصدیق المسیح دیا گیا ہے یہ محض غلط ہے اس کا جواب ہو نہیں سکتا اگر دعویٰ ہے تو کوئی مرزائی دکھائے کہ وہ تصدیق المسیح کہاں ہے؟ کسی خانگی اخبار میں کچھ لکھ دینے سے جواب نہیں ہو سکتا، رسالہ یہاں بھیجو۔
میاں ارادت قادیانی یہ تو مختصر رسالہ ہے جو تمہارے رسالہ النبوۃ فی الاسلام کے جواب میں لکھا گیا ہے اس کے بعد ختم النبوۃ فی الاسلام بھی عنقریب چھپ کر شائع ہوگا، جس میں قرآن شریف کی دس آیتوں سے اور ١٦ مفسرین کی تفسیروں سے اور متعدد احادیث صحیحہ اور اجماع امت محمدیہ سے اور نیز مرزا قادیانی کے متعدد اقوال سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، نبوت ختم ہو گئی مگر مرزائی ان باتوں سے بے خبر ہیں اور اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں، فاعتبروا یا اولی الالباب،
رحمانی فیض کی بارش
حضرت قبلہ عالم مولانا سید ابو احمد رحمانی دام اللہ فیوضہم علی سائر المسلمین کی
توجہ باطنی اور تالیفات نادرہ کا بہترین نتیجہ
باخبر حضرات پر روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ صوبہ بہار کے شہر مونگیر اور بھاگلپور اور اس کے اطراف میں قادیانی گمراہی کا ایک سیلاب آیا تھا اور قریب تھا کہ ان دونوں شہروں کے اہل ایمان اکثر یا کل اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور پھر یہ سیلاب دور تک ایمانی عمارات کو بہالے جائے عنایت خداوندی کا شکر ہے کہ اس نے حضرت ممدوح کو متوجہ کر دیا اور ان کی توجہ ظاہری اور باطنی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں مخلوق خدا سخت گمراہی اور دہکتی آگ سے بچ گئی آپ کے رسائل نادرہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے غلط دعوؤں اور ان کے جھوٹ و فریب کو تمام دنیا پر روشن کر دیا کہ ہر ایک دیکھنے والا مرزا قادیانی کی حالت سے واقف ہو گیا اور اس گمراہی سے بچا اور بہت
٣٠
ناواقف مسلمان جو اس دام گمراہی میں پھنس چکے تھے اور قریب تھا کہ بہت سے اس بلا میں مبتلا ہو جاتے مگر آپ کے رسائل ہدایت مآب کے دیکھتے ہی اس سے علیحدہ ہوگئے، یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے انصاف پسند اور حق بین حضرات ناواقف ہوں، جو دام گرفتہ ان پُر ہدایت رسائل کے دیکھنے سے روک دیئے گئے ہیں وہ اس پر غور فرمائیں کہ روکنے والے اپنے مذہب کو ایسا ضعیف سمجھتے ہیں کہ کوئی سمجھدار ان مفید اور حقانی رسائل کو دیکھ کر ہمارے دجل وفریب سے ناواقف نہیں رہ سکتا، اس کا نمونہ مونگیر و بھاگلپور والے حضرات تو دیکھ چکے ہیں جو حضرات ناواقف ہیں وہ معلوم کریں کہ ان رسالوں کا اثر صوبہ بہار تک محدود نہیں رہا بلکہ ساری دنیا میں پھیلا، صوبہ پنجاب، مدراس، بمبئی، گجرات، حیدرآباد، تمام بنگال یعنی کلکتہ سے لیکر چاٹگام، سلہٹ، ڈھاکہ، نواکھالی، میمن سنگھ وغیرہ تک جہاں قادیانی پہنچے ہیں وہاں سے ان رسالوں کی طلب آئی ہے اور رسائل پہنچنے کے بعد عاجز ہوکر بھاگ گئے ہیں یا خاموش ہو گئے ہیں اور چونکہ حضور ممدوح الصدر کی شہرت اور فیض محمدی ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ اکثر دنیا میں ہے اس لیے آپ کے رسائل مفیدہ حرمین شریفین بھی گئے ہیں، اور رنگون اور ملک افریقہ میں بہت گئے ہیں اور جہاں جہاں رسالے پہنچے ہیں وہاں سے گمراہی پھیلانے والے بھاگے ہیں اور مسلمان، قادیانی گمراہی سے محفوظ رہے ہیں، اور بعض جو فریب میں آگئے تھے۔ وہ راہ راست پر آگئے۔ اسی طرح سرحد کی طرف بھی اثر ہوا، الحمدللہ بعض رسائل کا ترجمہ انگریزی میں بھی ہوگیا اور گجراتی زبان میں بھی اور بنگلہ زبان میں ہورہا ہے۔
اب میں اسی فیضان بے پایان کا ایک نمونہ دکھانا چاہتا ہوں صوبہ اڑیسہ میں کٹک اور اس کے اطراف میں ان گمراہوں کی جماعت ہوگئی تھی اور اس کی ترقی ہورہی تھی وہاں کے مدرسہ سلطانیہ کے صدر مدرس مولوی سید محمد قاسم صاحب بہاری نے رحمانیہ رسائل منگوا کر شائع کئے اس کا اثر وہاں کے مسلمانوں پر جو کچھ ہوا وہ ذیل کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کئی روز ہوئے مولوی محمد عبدالستار صاحب اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر مسلم سکنری کٹک کا خط آیا ہے وہ نقل کیا جاتا ہے۔
مسلم سکنری کٹک کا خط
جناب قبلہ وکعبہ حضرت مولانا صاحب دام ظلکم ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور سے گرچہ شرف زیارت حاصل نہیں ہے مگر تصانیف اور تالیفات جو حضور کے برابر یہاں آتے رہتے ہیں اس سے گویا غائبانہ شرف زیارت حاصل ہے، حضور کی تصنیفات کے
٣١
سبب سے حضور کا تذکرہ اکثر یہاں رہتا ہے خصوصاً اس زمانے میں جبکہ ہر معاملات میں مولوی محمد قاسم صاحب اپنے زمانہ قیام میں ہماری مدد کرتے تھے مجھے چند دنوں سے یہ معلوم ہوا کہ کٹک کے قادیانیوں کے متعلق کوئی صحیح خبر حضور کے نزدیک نہیں پہنچتی ہے اس واسطے یہ کام اپنے ذمہ لیتا ہوں کہ وقتاً فوقتاً یہاں کی خبر سے حضور کو اطلاع دیتا رہوں حضور کے رسالوں اور کتابوں کا اس ملک میں اچھا اثر پڑا۔ مسلمانوں کے عقائد بہت درست ہو گئے ایک جم غفیر اور بڑی جماعت جو قادیانی ہونے والی تھی انہی کتابوں کی بدولت قادیانی ہونے سے بچ گئی اور اب یہ حالت ہے کہ کسی قادیانی کو اپنے مذہب سے دلچسپی نہیں رہی ہم لوگوں نے ہمیشہ سے قادیانیوں کی سخت مخالفت کی اور اب بھی ان کی بیخ کنی میں حتی المقدور کوشاں ہیں اسی قادیانی جماعت کو کمزور اور اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کے واسطے ہم لوگوں نے ایک اسکول مسلم سیمنری کھولا ہے جو مذہبی رنگ لیے ہوئے ہے اور وہاں انٹرنس تک انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے کٹک میں اسکول تو بہت ہیں مگر اس کی بنیاد ڈالنے کی ہم بانیان اسکول کی یہی غرض تھی کہ جب ہم لوگوں نے مسلمانوں کا زیادہ رجحان قادیانی مذہب کی طرف دیکھا تو ہم لوگوں نے اپنی ایک بڑی جماعت قائم کر لی اور اسی اسکول کو قائم کیا جس میں جوق در جوق مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور اس طرح ہماری ایک بڑی جماعت قادیانیوں کے مقابلہ میں قائم ہوگئی جس کے سبب سے قادیانی جماعت پر جو قلیل جماعت ہے بہت گہرا اثر پڑا۔ ہم بانیان اسکول نے ہمیشہ قادیانیوں سے نفرت ظاہر کی اس اسکول کے قائم کرنے سے بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے لڑکے جو اور اسکولوں میں اس مذہب کے زہریلے اثر سے متاثر ہو جاتے تھے اس سے محفوظ رہے کیونکہ اور اسکولوں میں ماسٹر اور بعض لڑکے بھی قادیانی ہیں ہمارا اسکول اس سے پاک ہے اور ہم بانیان اسکول کا اہم ترین مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے پاک رکھا جائے اسی اسکول میں اسکولی تعلیم کے ساتھ دینیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اس کے متعلق ایک مسجد بھی قائم کی گئی ہے جس میں اسکول کے وقتوں میں لڑکے ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اب ایک سال سے ایک مطبع بھی بنام مصدر فیوض جاری کیا گیا ہے جس میں دوسری چیزوں کے علاوہ اکثر قادیانیوں کی تردید میں اشتہار وغیرہ چھپتے رہتے ہیں ہمارے اسکول کے خزانچی اور پریذیڈنٹ جناب مکرم علی صاحب رئیس کٹک ہیں جو اسکول سے بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور قادیانیوں کی تردید میں اکثر ہم لوگوں کو ان سے مدد ملتی رہتی ہے حضور کو شاید معلوم ہو گا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ یہاں سونگڑے مفصلات کے قادیانیوں کا جو مقدمہ مسجدوں کے بارے
٣٢
میں تھا وہ فیصلہ ہو گیا ہے جناب مجسٹریٹ صاحب نے ایک آرڈر بھی پاس کیا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ کل مسجدیں سنیوں کی ہیں اور اس میں قادیانی آ نہیں سکتے اس خط کے ہمراہ ایک اشتہار ارسال خدمت ہے جس میں اس آرڈر کا مفصل ذکر ہے قادیانی تو اب مسجدوں سے محروم ہو گئے اب وہ ایک نیا فساد برپا کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے مردوں کو مسلمانوں کے مقبروں میں دفنانے کا حق جتانا چاہتے ہیں چند دن قبل ایک قادیانی لڑکا اس شہر میں انتقال کر گیا انہوں نے شہر میں دفنانا چاہا پولیس سے مدد چاہی مگر کامیاب نہ ہو سکے آخر شہر کے باہر ایک ٹکڑا زمین خرید کر کے وہاں دفنایا، دس بارہ دنوں کی بات ہے کہ سونگڑے میں ایک نیا اور تازہ واقعہ پیش آیا، ایک قادیانی عورت مرگئی قادیانی لوگ اسے مسلمانوں کے مقبرے میں دفنانا چاہتے تھے، مسلمانوں نے منع کیا مگر قادیانی نہیں مانے اور موقع پا کر قبر کھود کر لاش کو گاڑ آئے، جب یہ بات مسلمانوں کے کان میں پڑی سب لوگ جمع ہو گئے اس لاش کو قبر سے نکال کر اس کے مکان کے سامنے پھینک آئے قادیانیوں نے مخالفت کی، بہت بیجا طور پر مسلمانوں کو گالیاں دیں نوبت یہاں تک پہنچی کہ مار پیٹ شروع ہو گئی ایک قادیانی کا سر پھٹ گیا، دوسرے قادیانی کو کسی نے ایسے زور سے ایک اینٹ رسید کی کہ عینک ٹوٹ کر بیچارے کی ناک کو زخمی کر دیا۔
سنا ہے کہ قادیانیوں نے پولیس کو خبر دی ہے کل پولیس تدارک کے واسطے گیا تھا دیکھئے خدا تعالیٰ کی مرضی کیا ہے، انشاء اللہ اس مقدمہ کی حالت حضور کی خدمت میں پہنچتی رہے گی ہم لوگوں کی یہ دلی خواہش ہے کہ حضور سے زیارت کا شرف حاصل کریں اور اس بات کی دلی تمنا اور آرزو رکھتے ہیں، اور اسی خیال میں ہیں کہ جب موقع ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف زیارت حاصل کریں، میرے ایک دوست مولوی عبدالمجید صاحب بی اے جو ہمارے اسکول کے سیکرٹری ہیں ان کو حضور کی جدید تصنیفات کو دیکھنے کا بہت ہی شوق ہے از راہ مہربانی ذیل کے پتہ پر نئے رسالے بھیج دیئے جائیں۔
آپ کا خادم محمد عبدالستار اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر مسلم سیمنری کٹک
یہ سب کچھ ہمارے حضرت قبلہ عالم مدظلہ کے فیض باطنی کا اثر ہے الحمد للہ پہلے موتیہر کی مسجد کے مقدمہ میں ہائیکورٹ تک مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور مرزائی ذلیل و رسوا رہے اور مسجد
٣٤
سے نکالے گئے دوسرا واقعہ پورینی ضلع بھاگلپور کی عید گاہ کا ہے وہاں بھی ان کی مدد اور توجہ خاص سے ان کو ناکامی ہوئی اور عبد الماجد مرزائی کے جھوٹے اظہاروں سے ان کی بہت رسوائی ہوئی‘ صوبہ بہار کا یہ تیسرا واقعہ ہے وہاں کے حضرات نے بھی یہاں سے مدد چاہی ہائیکورٹ کی نظیر کی نقل منگوائی‘ الحمد للہ کہ یہاں بھی کامیابی ہوئی وہاں کے حاکم نے جو فیصلہ لکھا ہے اس کی یہاں نقل کی جاتی ہے۔
”ہم احمدیوں کی التجا کے مطابق کماحقہ تدارک کے بعد صاف حکم صادر کرتے ہیں کہ قادیانی لوگ رسولپور‘ کوکبمی‘ محی الدین پور اور دہواں ساہی کی چاروں مسجدوں میں یعنی جن مسجدوں میں قادیانی اپنا دخل اور حق جتا کر دعویدار ہوتے تھے اور نیز انہوں کی ہوئی تعمیر کو اپنے آباؤ و اجداد کی طرف منسوب کر رہے تھے‘ قدم رکھ نہیں سکتے کیونکہ ان مسجدوں کے تیار کنندگان اہل سنت والجماعت میں سے تھے‘ اگر وہ اپنی دانست میں کوئی استحقاق رکھتے ہیں تو صاف عدالت دیوانی کی طرف رجوع کریں اور کسی مسجد کی جانب رخ نہ کریں اگر کئے تو فوجداری آئین کے دفعہ ١٠٧ کے مطابق ان کے خلاف عملدرآمد ہوگا‘ اب اس سے زیادہ صاف حکم ہم نفاذ کر نہیں سکتے۔“
اب مرزائیوں کو چاہیے کہ مرزا قادیانی کا وہ قول یاد کریں کہ جھوٹا ناکام ہوتا ہے اور سچا کامیاب ہوتا ہے اس لیے مرزائی اپنے مرشد کے قول سے جھوٹے ثابت ہوئے ”الحمد لله علیٰ ذالک“۔
آخر میں نہایت خیر خواہانہ عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے کذب کے دلائل میں اس قدر رسالے لکھے گئے ہیں کہ دنیا میں کسی جھوٹے مدعی کے کذب میں نہیں لکھے گئے ابھی ایک فہرست جس میں ٣٦ رسالوں کے نام ہیں ان کو ملاحظہ کیجئے اور اس کا یقین کیجئے کہ یہ وہ رسالے ہیں کہ ان کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا جھوٹی اور غلط باتیں لکھ کر چھاپ دینا اور بات ہے۔
الراقم محمد اسحق غفرلہ الرزاق نگران تعلیم مسلمانان ضلع مونگیر ٥۔ جنوری ١٩١٨ء
٭٭٭
٣٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
چیلنج محمدیہ ﷺ وصولت فاروقیہ
صحیفہ رحمانیہ
(١٨)
حضرت مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چیلنج محمدیہ
صولتِ فاروقیہ
طالبین حق اس پر غور فرمائیں کہ یہ مختصر رسالہ ١٣٣٧ھ مطابق ١٩١٩ء میں گروہ مرزائی قادیانی اور لاہوری دونوں کی ہدایت و خیر خواہی کے لئے مشتہر ہوا تھا، اور جواب کیلئے تمام دنیا کے قادیانیوں کو چیلنج دیا گیا تھا اب ١٣٤٠ھ ہے۔ اس وقت تک نہ کسی نبی ماننے والے نے اور نہ کسی مجدد کہنے والے نے دم مارا۔ ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ قادیان کے نام مکرر بھیجا گیا مگر بجز مہر سکوت اس وقت تک کچھ جواب نہیں آیا۔ اب قادیانی خلیفہ کے خاص چیلے میاں اللہ یار عرف اللہ دتہ کا چیلنج آیا ہے، انہوں نے اپنے خیال میں ممات مسیح ثابت کی ہے۔ اس کے جواب میں ہم ساتویں روز ایک رسالہ بھیج چکے ہیں جس کا نام ”رسائل لاثانی در کذب مسیح قادیانی“ ہے۔ اب یہ رسالہ بھیجتے ہیں جس میں مرزا قادیانی کا جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا نہایت ان کے پختہ الہامی اقراروں سے خوب روشن کر کے دکھایا ہے اور ان کے اعلانیہ افتراء پردازیوں اور کذب بیانیوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔ اب اس رسالہ کے دوبارہ طبع میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور انجامِ آتھم کی تھوڑی سی عبارت میں مرزا قادیانی کے چوّن ٥٤ جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ اب اللہ دتہ بتائیں کہ ایسا اقراری جھوٹا اور ہر بد سے بدتر مسیح موعود ہو سکتا ہے؟ حضرت مسیح کا مرنا ایسے کذاب کو مسیح موعود نہیں بنا سکتا۔
٢
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ عَلٰی سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ
اس کے بعد یہ خیر خواہ تمام مرزائی گروہ کو کلکتہ سے قادیان اور حیدر آباد سے افریقہ تک چیلنج دیتا ہے کہ میرے رسالہ کا جواب دیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تقریری جواب دیں یا تحریری، تقریری کی صورت یہ ہے کہ کلکتہ میں، قادیان میں، لکھنؤ میں، دہلی میں، جلسہ عام کریں، اور مجھے اطلاع دیں میں اس جلسہ میں تن تنہا یا اپنی جماعت کے ہمراہ حاضر ہوں گا، اور اسی جلسہ میں ایک ایک قول حاضرین جماعت کو سناؤں گا اور جواب طلب کروں گا، مگر کامل دعوٰی سے کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی کسی مقام کا جواب نہیں دے سکتا اور ہرگز نہیں دے سکتا۔ اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے کہ ہادی مطلق نے نہایت روشن طریقے سے مخلوق پر ایک بڑے ہوشیار کذاب و مفتری کے کذب کو اسی کے اقوال سے دکھا دیا اور کامل طور سے حجت تمام کر دی، پانچواں مہینہ ہے کہ اس کی لاجوابی کا ثبوت خدا تعالیٰ نے اس طرح دکھایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ قادیانی اور علمائے دیوبند سے تحریری مناظرہ ہو رہا تھا، اور علمائے دیوبند کے متعدد رسالے اور اشتہارات چھپ رہے تھے۔ مگر ایڈیٹر الفضل کے گیارھویں نمبر کا جواب غالباً علمائے دیوبند نے اس وقت تک مشتہر نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹر الفضل سمجھے کہ ہمارے جواب سے علمائے دیوبند عاجز ہو گئے اس لئے وہ نمبر فخریہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں بھیج دیا، چونکہ علمائے دیوبند سے مباہلہ پر بحث شروع ہوئی تھی اس وجہ سے اس چیلنج محمدیہ کے پہلے ہی صفحہ پر یہ مضمون لکھ کر کہ جس مدعی کا جھوٹا ہونا اس کے پختہ اقراروں سے ثابت کر دیا ہو جیسا کہ اس رسالہ میں دکھلایا گیا ہے۔ جس میں سات اقرار مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹے ہونے کے کئے ہیں۔ پھر ایسے اعلانیہ جھوٹے کی صداقت پر کوئی فہمیدہ مباہلہ کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، کچھ دنوں کے بعد پھر اسی اشتہار کے سرورق پر یہ لکھا آیا کہ مباہلہ تو آخری فیصلہ ہے۔ ٢٠؍ رجب ١٣٤٨ھ کو یہاں سے جواب گیا کہ آخری فیصلہ اگر ہے تو اس کے لئے ہے جس کا فیصلہ نہ ہوا ہو، جس کا فیصلہ خود مدعی کی زبان سے ہو گیا اور قطعاً اور یقیناً اس کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا ہو۔ پھر
٣
اس کے لئے دوسرا فیصلہ بے کار ہے۔ اس مضمون کو کچھ تفصیل سے لکھ کر اور چھپوا (٢٨؍ شعبان ١٣٣٨ھ میں رحمانیہ پریس مونگیر میں چھپا ہے) کر ایڈیٹر الفضل اور مرزا محمود خلیفہ قادیان کو بھیج دیا گیا اب دوسرا سال تمام ہوتا ہے۔ اس وقت تک تو صدائے برنخواست کا مضمون ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا، مگر افسوس ہے کہ اس اعلانیہ طور سے جھوٹے ثابت ہوئے مگر ایسے جھوٹے کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٠ میں اس جواب کی تفصیل ملاحظہ ہو۔
برادرانِ اسلام پورے طور سے متوجہ ہوکر میری دردمندی کو ملاحظہ کریں ان دنوں کلکتہ میں ایک دشمنِ اسلام مرزائی غامدی آیا تھا اور اپنے ترلقمہ کو ہضم کرنے کے لئے علمائے اہل اسلام اور خصوصاً ان مجدد وقت کو چیلنج دیتا تھا جنہوں نے پچاس ساٹھ رسالے مرزا کی کذابی کے بیان میں شائع کر کے دنیا کے مسلمانوں کو آگاہ کر دیا اور عظیم الشان گمراہی سے بچایا۔ فیصلہ آسمانی کے تین حصوں کو مشتہر ہوئے برسیں گزر گئیں جس میں توریت مقدس، اور قرآن مجید سے اور صحیح حدیثوں سے اور ان کے اعلانیہ کذابیوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا اور اس کے جواب دینے والے کو ہزاروں روپیہ کا انعام دینے کے لئے کہا گیا مگر اس وقت تک قلم نہ اٹھا سکے، دوسری شہادت آسمانی میں ان کی آسمانی شہادت کو کیسا خاک میں ملایا ہے اور ان کے جھوٹ اور فریب دکھائے ہیں۔ مگر کسی مرزائی کی مجال تو نہ ہوئی کہ سامنے آئے اور اپنے مرشد کی روسیاہی کو مٹائے اور اس کا جواب دے۔ عنقریب (قریب میں) رسالہ چشمہ ہدایت چھپا ہے جس میں ان کے اٹھارہ اقوال دکھائے گئے ہیں جن سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ اس رسالہ میں یہ اقوال بھی ہیں جو اس چیلنج میں لکھے گئے اور ان کے علاوہ اور بھی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے جھوٹے ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے اقوال، ان کے نہایت پختہ اقرار، انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں مگر چونکہ مرزا قادیانی کا وجود چودھویں صدی میں نمونہ قہر الٰہی تھا، اس لئے اس کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ اس فتنہ کی طرف سے مسلمانوں کو کچھ توجہ نہیں ہے قادیانی جماعت کی عقل سلب کر دی گئی ہے۔ وہ اپنی اس خیر خواہی کو دیکھتے ہی نہیں اور دہکتی آگ میں گرے پڑتے ہیں اور دوسروں کو اپنے ہمراہ زبردستی گھسیٹتے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے کرم سے اتمام حجت کیلئے مرزا قادیانی کو ان کے پختہ اقراروں سے ان کا مفتری اور جھوٹا ہونا ثابت کر دیا اور وہ اقرار جن کے سچے ہونے پر انہوں نے نہایت سخت قسم کھائی ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر یہ میرا قول سچا نہ ہو تو میں جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہوں اور انہیں نہایت پختہ اور سچا الہام الٰہی کہا ہے یعنی ان اقراروں کو
٤
انہوں نے اسی طرح الہام الٰہی کہا ہے جس طرح اپنے مسیح اور مہدی اور مجدد اور نبی ہونے کے الہام کو کہا ہے، ان دونوں الہاموں میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا، مگر مرزائی حضرات کچھ خیال نہیں کرتے اور ان کے مسیح اور مہدی ہونے کے الہام کو سچا سمجھ کر انہیں مہدی اور مسیح مان رہے ہیں اور اسی قسم کے وہ الہامات جن سے وہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ان کی طرف کچھ خیال نہیں کرتے اور ایسے اقراری کذاب سے علیحدہ نہیں ہوتے اور اپنے سچے اور بہی خواہوں کے عجز و نیاز پر بھی رحم نہیں کرتے اور ایسے اعلانیہ کذاب سے علیحدہ نہیں ہوتے اور دہکتی آگ میں گرنا قبول کرتے ہیں۔ راقم خیر خواہ اس قسم کے چند اقرار، ان کی صرف ایک کتاب انجام آتھم سے یہاں نقل کرتا ہے، اور قدرت خدا کا نمونہ دکھاتا ہے کہ ایسا ہوشیار اور چالاک شخص اپنے ایک رسالہ میں ایک ہی واقعہ کے بیان میں آٹھ نو اقرار ایسے کرتا ہے جن سے وہ خود جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ثابت ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے جھوٹے ہونے پر قسم کھائی ہو۔ وہ اقرارات ملاحظہ ہوں، پہلا اقرار (١) میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے، اس کا انتظار کرو (یہ عبارت محاورہ اردو سے غلط ہے، مرزا کو تانیث وتذکیر میں امتیاز نہ تھا) (٢) اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ (٣) اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہو گئی اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔ (٤)...... جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے، کوئی اسے روک نہیں سکتا۔‘‘ (انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ)
مرزا قادیانی کے قول سے ثابت ہوا کہ وعید کی پیشین گوئی رونے دھونے سے رک نہیں سکتی، یہ اقرار مرزا قادیانی نے ٢٢؍جنوری ١٨٩٧ء سے کچھ قبل کیا ہے، اس اقرار کے الہامی اور سچے ہونے پر اس قدر اصرار و پختگی ہے کہ صرف انہیں چار سطروں میں نہایت زوردار چار طریقوں سے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کو بیان کیا ہے، لیکن الحمدللہ ہر طریقہ سے مرزا قادیانی کا کذب ہی ثابت ہوتا ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو، اول طریقہ بیان مرزا قادیانی کا یہ ہے۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔‘‘ (جس بات کا پورا ہونا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہو اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں) اس لئے مرزا قادیانی کے قول کا مطلب یہ ہوا کہ داماد احمد بیگ کا میرے سامنے مرنا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے، وہ ضرور ضرور میرے سامنے مرے گا لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ (مرزا ١٩٠٨ء میں مرا، اور مرزا سلطان بیگ پاکستان بننے
٥
کے بعد فوت ہوا) جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا اسے تقدیر مبرم کہنا محض جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر افتراء تھا اور نہایت ظاہر طریقہ سے مرزا قادیانی کاذب و مفتری علی اللہ ثابت ہوئے اور جب اس جھوٹ کو مرزا قادیانی بار بار بولے تو اس طریقہ سے کم سے کم تین جھوٹ مرزا قادیانی کے ثابت ہوئے یعنی ایک جھوٹ تین مرتبہ بولے اور اگر قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو اس دروغ گوئی سے مبراء سمجھتی ہے، تو دہریوں کی موئید ہے۔ دوسرا طریقہ! نہایت ظاہر طور سے اپنا کمال وثوق اس کے پورا ہونے پر اس طرح ظاہر کیا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“ ہمارے دینی برادران طالبین حق اس پر غور فرمائیں کہ جناب مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے اظہار میں اور اپنی نبوت کی دلیل میں نہایت روشن بات پیش کی ہے جس کی صداقت آنکھوں سے معاینہ ہوتی ہے اور جس کا یقین متواتر خبروں سے ہوسکتا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے بارہ برس ہو گئے اور خدا جانے ان کی ہڈیوں کی کیا حالت ہوئی ہوگی اور احمد بیگ کا داماد اب تک موجود ہے اور اپنے چہرے کو دکھا کر ان کی کذابی کا معائنہ کرا رہا ہے۔ مگر ان کے مریدین ایسے اندھے ہیں کہ ایسی اعلانیہ بات پر بھی ایمان نہیں لاتے اور اس کذاب کو جھوٹا نہیں سمجھتے جس کے کذب کا معاینہ ان کی آنکھوں سے ہو رہا ہے اس پر نظر رہے کہ یہ قول مرزا قادیانی کا معمولی نہیں ہے کہ اتفاقیہ کوئی بات کہہ دی ہو بلکہ اپنی نبوت کی دلیل میں یہ پیشین گوئی کی ہے اور اس دلیل نے انہیں جھوٹا ثابت کر دیا۔ تیسرا طریقہ! اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا، جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا دخل ہو جاتا ہے، مرزا قادیانی تیسرے طریقے میں تمثیل دے کر اپنی پیشین گوئی پوری ہونے کی توضیح کرتے ہیں اور احمد بیگ اور مسٹر آتھم کی نظیر پیش کرتے ہیں لیکن یہ دونوں پیشین گوئیاں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ اس کی تفصیل الہامات مرزا اور فیصلہ آسمانی میں کی گئی ہے اور اس قول میں مرزا قادیانی نے چار جھوٹ بولے ہیں۔ (١) یہ کہ پیشین گوئی پوری ہوگی (٢) احمد بیگ کی پیشین گوئی پوری ہوگئی (٣) آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی (٤) وقتوں میں کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے یہ چوتھی بات بھی محض دروغ اور بناوٹ ہے۔ انبیاء کے مقرر کئے ہوئے اوقات میں کبھی استعارہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی ڈھٹائی ہے۔ اس تیسرے طریقہ میں چار جھوٹ مرزا قادیانی کے ہوئے۔
چوتھا طریقہ! جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اس
چوتھے جملہ میں مرزا قادیانی اپنی پیشین گوئی کی مزید توثیق کے خیال سے اس کو خدا کے یہاں کی ٹھہری ہوئی بات بیان کرتے ہیں۔ جب یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ خدا کے یہاں کی ٹھہری ہوئی بات نہ تھی، بلکہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا اور اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا، مرزا قادیانی اپنے پہلے اقرار کے تمام طریقوں سے جھوٹے ٹھہرے البتہ ان کا یہ اقرار سچا نکلا ، اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ مرزا قادیانی عمر بھر میں غالباً سوائے اس جملہ کے کوئی سچ نہ بولے ہوں گے، اب قادیانی جماعت بتائے کہ جب آپ مرزا قادیانی کے تمام الہاموں اور ان کے اقوالوں کو سچا اعتقاد کر کے ان پر ایمان لائے ہیں تو اس پختہ اور یقینی اقرار پر ایمان لا کر انہیں جھوٹا کیوں نہیں مانتے اور اس اقرار میں انہیں جھوٹا کیوں سمجھتے ہیں؟ اگر آپ کے خیال میں نبی جھوٹ بولتا ہے یا کسی وقت وحی والہام کے معنی نہیں سمجھتا تو پھر کسی صاحب عقل کے نزدیک نبی کی کوئی بات لائق اعتبار نہیں ہو سکتی اور نبوت بے کار ہو جاتی ہے ذرا اس میں غور کرو عقل کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ جب مرزا قادیانی کا وہ قول جو اس نے بار بار کہا ہو اور اس کو خدا کا الہام بتایا ہو اور اسے اپنی صداقت کا معیار ٹھہرایا ہو، اور عرصہ دراز تک وہ اپنے اس غلط دعوے کو مشتہر کرتا رہا ہو اور اللہ تعالیٰ اس غلطی پر اسے کسی وقت متنبہ نہ کرے اور دنیا کے روبرو اسے جھوٹا اور رسوا کرے ایسا ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور میں نہایت خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق اور بالخصوص مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ مرزا قادیانی کے کذب کو دنیا پر روشن کر کے دکھا دیا اور کسی نافہم اور جاہل کو بھی جائے دم زدن نہ رہی کیونکہ مرزا قادیانی اس کے لائق تھے ، وہ جھوٹ بولنے میں ایسے بے باک اور عوام کے فریب دینے کو ایسے جھوٹ بے باکانہ بولے ہیں کہ اہل فہم ان کے جھوٹ کو اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی اقرار میں مرزا قادیانی کے آٹھ جھوٹ دکھائے گئے اور اس سے پہلے اسی انجام آتھم کے تیسویں صفحہ میں حضرت یونس کا ذکر کیا ہے۔ اس میں متعدد جھوٹ بولے ہیں۔ اس کے ساتھ مرزا قادیانی کے اس پیشین گوئی کے جھوٹ کو بھی ملا لیا جائے تو مرزا قادیانی کے جھوٹ کی تعداد اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ناظرین مختصر لفظوں میں اس کی تشریح ملاحظہ فرمائیں،
مرزا قادیانی کے اعلانیہ چون٥٤ جھوٹ
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی جیسا کہ تفسیر
٧
کبیر کے ص ١٦٤ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣٠ خزائن ج ١١ ص ٣٠ حاشیہ)
اس قول میں مرزا قادیانی کئی دعوے کرتے ہیں۔ ایک! یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نزول عذاب کا قطعی وعدہ کیا تھا یعنی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر بالیقین عذاب نازل ہوگا، دوسرا دعویٰ! یہ کہ نزول عذاب کی مدت چالیس دن ہے اور اس مدت کا ثبوت بھی قطعی ہے کچھ شک وشبہ نہیں ہے۔ اس کے بعد پھر نزول عذاب کی وعید کو قطعی اور یقینی کہتے ہیں اور اپنے پہلے قول کی تاکید کرتے ہیں۔ تیسرا دعویٰ! یہ کہ نزول عذاب کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ نزول عذاب کے لئے اگر شرط ہوگی تو یہی ہوگی کہ اگر ایمان نہ لائیں تو ان پر عذاب آئیگا، مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شرط نہ تھی۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ان پر عذاب ضرور نازل ہوگا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک خدا تعالیٰ کسی وقت ظلم بھی کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کے یہ تینوں دعوے جھوٹے ہیں اور کہیں سے ثابت نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قطعی طور سے بلا شرط بطور نادری حکم کے عذاب کا وعدہ کر دیا تھا تین جھوٹ یہ ہوئے۔ چوتھا دعویٰ! یہ ہے کہ یہ تینوں دعوے تفسیر کبیر ص ١٦٤ سے ثابت ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے یہ دعویٰ نہ تفسیر کبیر کے کسی مقام سے ثابت ہے اور نہ تفسیر کبیر کے اس صفحہ سے کیونکہ تفسیر کبیر کی آٹھ جلدیں ہیں اور آٹھوں جلدوں کے اس صفحہ سے اس پیشین گوئی کا قطعی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ دو جھوٹ ہوئے اور چونکہ تفسیر کبیر سے تین دعوے ثابت کر رہے ہیں اس لئے اس میں درحقیقت تین دونی چھ جھوٹ ہوئے۔ پانچواں دعویٰ! یہ ہے کہ تفسیر درمنثور سے بھی یہ تینوں دعوے ثابت ہیں۔ یہ بھی محض جھوٹ ہے اور چونکہ تین دعوؤں کا ثبوت اس کتاب سے بھی دے رہے ہیں۔ اس لئے تین جھوٹ یہ بھی ہوئے اور شروع سے یہاں تک شمار میں بارہ جھوٹ ہوئے اور چونکہ ان تفسیروں میں احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت بتاتے ہیں اور احادیث جمع کا صیغہ ہے جس کے لئے کم سے کم تین صحیح حدیثوں کا ہونا ضرور ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر دعوے کے متعلق تین صحیح حدیثیں ہیں اور دعوے تین ہیں تو اس لحاظ سے نو صحیح حدیثیں ہونا چاہئیں اور چونکہ ان حدیثوں کا حوالہ دو کتابوں سے دے رہے ہیں۔ اس لئے نو دونی اٹھارہ صحیح حدیثیں دونوں کتابوں میں ملا کر ہونا چاہئے تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ اٹھارہ تو کیا ہوئیں ایک صحیح حدیث بھی ان دعوؤں کے ثبوت میں نہیں ہے تو اس اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ
٨
تعداد حدیث کے لحاظ سے اٹھارہ جھوٹ یہاں پر مرزا قادیانی کے ہوئے اور بارہ پہلے ہوئے تھے تو اب کل میزان تیس ہوئے اب ایسی حالت میں کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی اور دنیا پر اس کا جھوٹا ہونا آفتاب کی طرح روشن ہو گیا تو مرزا قادیانی نے اپنی پیشگوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہہ دیا کہ جس طرح حضرت یونسؑ کا وعدۂ عذاب ٹل گیا اسی طرح مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کا وعدہ ٹل گیا۔ یہ مرزا قادیانی کا اکتیسواں جھوٹ ہے کیونکہ حضرت یونسؑ کا وعدہ عذاب پورا ہوا اور عذاب آیا، جو قرآن شریف کی نص قطعی سے ثابت ہے اور سورۂ یونس میں مذکور ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان پر سے وہ عذاب جو ان پر نازل ہو چکا تھا، خدا نے دور کر دیا اور یونسؑ کا وعدہ پورا ہوا، بخلاف اس کے کہ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے داماد کی موت کے لئے قطعی طور سے بار بار کہا مگر وہ نہ مرا۔
علاوہ اس کے حضرت یونسؑ کے واقعہ کو پیش کرنا اور اپنی پیشگوئی کے ہمشکل بتانا اس وجہ سے بھی غلط اور سراسر کذب و فریب ہے کہ حضرت یونسؑ کی قوم پر سے عذاب اس وجہ سے خداوند تعالیٰ نے نازل کرنے کے بعد اٹھا لیا کہ ان کی قوم ایمان لے آئی اور یہاں تو مرزا قادیانی پر وہ لوگ جن کے متعلق مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی آخری دم تک ایمان نہیں لائے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی پیشین گوئی حضرت یونسؑ کی پیشین گوئی سے دوسرے معنی کے اعتبار سے بھی مختلف ہے اور اس لحاظ سے مرزا قادیانی کا اپنی پیشین گوئی کو حضرت یونسؑ کے واقعہ کے ہمشکل ٹھہرا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا بتیسواں جھوٹ ہوا، اس کے بعد اسی پیشین گوئی کے ضمن میں مرزا قادیانی کی چار سطر کی عبارت بھی قابل دید ہے کہ بالکل بے باک و نڈر ہو کر جھوٹ بولتے گئے ہیں۔ میں ناظرین کے سامنے وہ عبارت پیش کر کے اس کے جھوٹ دکھاتا ہوں، مرزا قادیانی (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٣١،٣٢ خزائن ج ١١ ص ٣١،٣٢) میں لکھتے ہیں ’’تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشین گوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ کیا جائے، کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جز ہے۔ جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کیلئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے‘‘ اس عبارت میں پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کو وقوع یافتہ بات کا ایک جز قرار دے رہے ہیں، حالانکہ محض غلط ہے کیونکہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ پیشین گوئی کا کوئی حصہ پورا نہیں ہوا جیسا کہ اس کو
(الہامات مرزا) میں خوب اچھی طرح ثابت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ اس عبارت کا مطلب آسان ہے، اس لئے تشریح نہیں کرتا ہوں۔ اس میں ایک جھوٹ خدا پر ہوا قرآن مجید میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے۔ اگر کسی مرزائی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے بلکہ اس کے خلاف متعدد جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔ فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں متعدد آیات سے اس دعویٰ کو ثابت کیا ہے کہ خدا کا وعدہ اور وعید میں کبھی تخلف نہیں ہوتا، لہٰذا یہ مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ ہوا، تیسرے یہ کہ اسی مضمون کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن حدیثوں میں بھی اس کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ یہ تیسرا جھوٹ ہے، چوتھے یہ کہ اس کے مضمون کو پچھلی کتابوں کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں۔ پچھلی کتابیں دس ہیں تو گویا دسوں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ ایک کتاب میں بھی یہ مضمون نہیں ہے اس لئے دس جھوٹ یہ ہوئے۔ اس کے بعد غضب کی ڈھٹائی کے ساتھ مرزا قادیانی اسی مضمون کو اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہیں یہ کس قدر بے باکی و جسارت ہے کہ جس بات کے دس بیس علماء بھی قائل نہ ہوں اس کو اجماعی عقیدہ بیان کردیا۔ اپنے اس قول میں مرزا قادیانی نے صرف ایک دو علماء پر اتہام نہیں باندھا ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی طرف جھوٹی بات منسوب کردی ہے۔ کیونکہ اجماعی عقیدہ وہی کہلاتا ہے جس کو تمام مسلمان تسلیم کرلیں اب خیال کرو کہ رسول اللہ ﷺ سے لے کر اس وقت تک کتنے مسلمان گزرے ہوں گے اور اگر تم تمام مسلمانوں کو نہ لو صرف علماء ہی کا شمار کرو اس وقت بھی کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی تو گویا اس قول میں مرزا قادیانی نے کروڑوں جھوٹ بولے اور اگر کروڑوں جھوٹ اس کو نہ کہو گے تو کروڑوں جھوٹ کے مقابلہ کا ایک جھوٹ تو شمار کرو گے اس لحاظ سے اس چار سطر کی عبارت میں چوداں جھوٹ ہوئے اور بتیس پہلے ہوئے تھے اور ان سے قبل آٹھ تو اب میزان کل چون ہوتی ہے خدا کی پناہ جس شخص کے ایک اقرار کی چند سطروں میں چون جھوٹ ظاہر ہوں، اس کو لوگ نبی مانیں سوا اس کے کیا کہا جائے کہ مرزائیوں کی عقلیں سلب ہوگئی ہیں۔ اب جو شخص مرزا قادیانی کی صداقت کا مدعی ہو وہ مجمع کرکے ہمارے سامنے ان کی صداقت ثابت کرے پھر دیکھے کہ ان کا جھوٹا ہونا کس طرح ثابت کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا چیلنج ہے اور اس جلسہ میں ہم اس کیلئے انعام بھی مقرر کر دیں گے اس قدر عرض کرنے کے بعد اب میں پھر مرزا قادیانی کے اقرار کی طرف لوٹتا ہوں جس
وقت مرزا قادیانی نے داماد احمد بیگ کے اپنے سامنے نہ مرنے پر اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار عام طور سے مشتہر کیا تو خاص طور سے بعد میں علماء کو بھی خط لکھا ہے اور عربی اور فارسی کی قابلیت دکھائی ہے اور ٢١ صفحوں پر اسی پیشین گوئی کا ذکر کیا ہے، اور علماء کی شکایت کی ہے کہ احمد بیگ کا داماد پیشین گوئی کی میعاد میں نہیں مرا ”و ایں برخلاف آں وعدہ تاکیدی است کہ در الہام بود“ پھر اس کے جواب میں ایک طوفان بے تمیزی کا اٹھایا ہے، اور ص٢١٤ پر پہنچ کر اس کے مرنے کا جدید الہام بیان کیا ہے اور الہام سابق کی اسے تفصیل قرار دی ہے اور ص٢١٥ میں اس مضمون کا اعادہ کیا ہے، پھر (خزائن ج ١١ ص ٢١٦) میں تیسرا الہام اسی داماد احمد بیگ کی موت کی بابت بڑے زور سے پیش کرتے ہیں اور اس میں کسی شرط کو بیان نہیں کرتے اور اس کی تعریف عربی اور فارسی میں اس طرح کرتے ہیں۔
”وتجلى هذا الالهام كالنور فى الظهور ورفع الحجب كلها من السر المستور وكان هذا شرحاً مبسوطاً للالهامات السابقة وتفصيلاً لكلم المجملة الكشفية وبياناً واضحاً للسامعين“
”وایں الہام در ظہور مانند نور تجلی کرد و ہمہ حجاب ہا کہ بر راز پوشیدہ بود از میان برداشت وایں الہام برائے الہامات سابقہ بطور شرحے بود مبسوط و برائے کشوف مجملہ تفصیلے بود واضح۔“
اس کا حاصل یہ ہے کہ اس کے مرنے کی اس تیسرے الہام نے پہلے الہاموں کی ایسی واضح شرح کر دی کہ کسی طرح کا شبہ نہ رہا اور آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا کہ احمد بیگ کا داماد ضرور میرے سامنے مرے گا، ان مکرر الہاموں اور یقینی مشرح بیانوں سے یہ امر بھی بخوبی ظاہر ہو گیا کہ جس طرح مرزا قادیانی کو اپنے مجدد اور مسیح اور نبی ہونے کا یقینی الہام ہوا تھا یہ الہام بھی یقین اور وضوح میں اس سے کم نہیں ہے بلکہ الہام کی یہ شرح تو اس کی مقتضی ہے کہ مسیحی الہام سے یہ الہام زیادہ واضح اور یقینی ہے کیونکہ ان الہاموں کی ایسی تعریف کہیں دیکھی نہیں گئی۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جب اس الہام سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا تو مسیحی الہام بھی قابل اعتبار نہ رہا خوب خیال رکھئے کہ یہ محکم اور مشرح الہام جس کا بیان ابھی کیا گیا، مرزا قادیانی نے عربی اور فارسی دونوں میں لکھا ہے، مگر صرف ان کی فارسی نقل کرتا ہوں۔
دوسرا اقرار
”بیان ان ایں است خدا تعالیٰ مرا درباره قبیله من مخاطب کرد و گفت کہ ایں مردم مکذب آیات من
١١
ہستند و بدانها استہزا می کنند پس من ایشاں را نشانے خواہم نمود۔ و برائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد و آں زن را کہ زن احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیروں شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد در کلمات خدا و وعدہ ہائے او ہیچکس تبدیل نتواند کرد و خدائے تو ہر چہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند پس خدائے تعالیٰ بہ لفظ فَسَیَکْفِیْکَهُمُ اللّٰهُ سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد میرانیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد و اصل مقصود میرانیدن بود۔ تو میدانی کہ ملاک ایں امر میرانیدن ست وبس۔‘‘
(انجام آتھم ص٢١٦، ٢١٧ خزائن ج١١ ص٢١٦۔ ٢١٧)
مطلب...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کنبہ کے باب میں فرمایا کہ یہ لوگ میرے نشانوں کے منکر ہیں اور انہیں ہنسی اور مذاق میں اڑاتے ہیں ان کو میں ایک معجزہ دکھاؤں گا (اور وہ معجزہ یہ ہے) کہ احمد بیگ کی لڑکی کو تیرے پاس واپس لاؤں گا یعنی اس لڑکی کا نکاح ایک اجنبی غیر کفو سے ہو گیا ہے، اس لئے وہ اپنے قبیلہ سے خارج ہوگئی ہے مگر تیرے نکاح میں آنے سے پھر اپنے قبیلہ میں آجائے گی خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا، خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے کسی طرح ملتوی نہیں رہ سکتا، (اس لڑکی کا مرزا کے نکاح میں آنا خدائے تعالیٰ کی انہیں باتوں میں ہے جو کسی وقت ملتوی نہیں ہوسکتیں) اللہ تعالیٰ کے الہام میں لفظ فَسَیَکْفِیْکَهُمُ اللّٰهُ اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح میں آنے کے جو مانع ہیں اور روک رہے ہیں انہیں مار کر اس لڑکی کو میرے نکاح میں لائے گا اور اس مقصود خداوندی ان مانعوں کا مار ڈالنا ہے۔‘‘)
اس قول سے پانچ باتیں ثابت ہوئیں (١) اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے کنبے کے لوگوں کو نشان یعنی ایک خاص معجزہ دکھانے کا وعدہ کرتا ہے (٢) وہ معجزہ یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح جو غیر کفو میں ہوگیا ہے اس کا شوہر مرے گا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح کے ذریعے سے اپنے قبیلہ میں آئے گی یہ دو وعدۂ الٰہی ہیں۔ ایک یہ کہ احمد بیگ کا داماد مرے گا، دوسرا یہ کہ اس کی بیوی مرزا کے نکاح میں آئے گی۔ (٣) خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں (٤) اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا خدا تعالیٰ کی ان باتوں میں ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی یا ان کا الہام یہ کہتا ہے کہ بہر حال شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند۔‘‘ (٥) اصل مقصود خداوندی، احمد بیگ کے داماد وغیرہ کا مار ڈالنا ہے، ان باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اور اس کی مشیت یہ ہو چکی
١٢
ہے کہ اس لڑکی کا شوہر مرے گا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی یہ امر کسی طرح ملتوی نہیں ہو سکتا یعنی مذکورہ دونوں وعدے پورے ضرور ہوں گے اور نکاح میں آنا کیا معنی بلکہ نکاح میں آچکی ہے کیونکہ بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے اس کا نکاح آسمان پر کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا لقب منکوحہ آسمانی دنیا میں مشہور ہو گیا۔
اب خیال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اس کے نکاح میں لانے کا پختہ وعدہ کیا پھر اس کے ظہور کی پختگی کیلئے آسمان پر نکاح بھی خود پڑھا دیا۔ اس لئے اس کا ظاہر ہونا ہر حالت میں ضرور ہے۔ کسی وجہ سے یہ ملتوی نہیں ہو سکتا، اس کو نہ کوئی شرط روک سکتی ہے اور نہ کسی کا رونا دھونا اسے ملتوی کر سکتا ہے، اگر ایسا پختہ وعدہ بھی پورا نہ ہو تو اس کے کسی وعدہ پر اطمینان نہ رہے گا اور اس کے نبی کی نبوت اور اس کا تمام کلام بیکار ہو جائے گا، کسی پر اعتماد نہ رہے گا۔ اب مرزا قادیانی کی خبط الحواسی یا دفع الوقتی اور فریب دہی ملاحظہ کیجئے۔ مدت کے بعد جب وہ احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور اس کی بیوی مرزا کے نکاح میں نہ آئی تو اس وقت ایک نے دریافت کیا کہ وہ عورت تو تمہارے نکاح میں نہ آئی اور تم جھوٹے ہوئے تو اپنے رسالہ حقیقۃ الوحی میں اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہ پیشین گوئی شرطی تھی اور اس عورت نے شرط کو پورا کر دیا اس لئے وہ پوری نہ ہوئی، اب مرزائی حضرات دیکھیں کہ یہاں تو نہایت صاف طور سے کہہ رہے ہیں کہ ”بہر حال شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند۔“ یعنی اس نکاح کا ملتوی ہونا ممکن نہیں ہر طرح اس کا ظہور ہوگا اور حقیقۃ الوحی میں اس کے التوا کے لئے ایک جھوٹی شرط پیش کرتے ہیں یہ اعلانیہ فریب نہیں تو اور کیا ہے؟
ناظرین! اس پر خوب غور فرمائیں کہ یہاں مرزا قادیانی نے تین وعدہ الہی بیان کئے ہیں جن کا پورا ہونا وہ ضرور بیان کرتے ہیں جنہیں کوئی شے روک نہیں سکتی ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے کنبے کے لوگوں کو معجزہ دکھائے گا، دوسرا یہ کہ احمد بیگ کی لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں لائے گا۔ تیسرا وعدہ یہ کہ احمد بیگ کے داماد وغیرہ کو مرزا قادیانی کے روبرو مارے گا، اس کا مرنا مرزا قادیانی کے لئے وعدہ ہے اور اس کے لئے وعید ہے اور تیسرے وعدہ کی نسبت کہتے ہیں کہ اصل مقصود خداوندی اس وعدہ کا پورا کرنا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی زندگی میں احمد بیگ کے داماد کو مارنا۔ اب دنیا نے دیکھ لیا کہ ان تین وعدوں میں سے کوئی وعدہ الہی پورا نہ ہوا یہاں تک کہ جس وعدہ کا پورا ہونا عین مقصود خداوندی بتایا تھا وہ بھی پورا نہ ہوا اس لئے اس قول سے خدائے قدوس پر دو عیب مرزا قادیانی نے ایسے لگائے جس سے اس کی خدائی درہم برہم ہو گئی۔ کیونکہ یہ وہ
١٣
وعدے ہیں جو اس نے نہایت پختگی سے بار بار مرزا قادیانی سے کئے ہیں اور ایسے پختہ وعدوں کو اس نے پورا نہ کیا، اس لئے اس کے تمام وعدے جو شریعت محمدؐیہ میں اس نے کئے ہیں وہ سب بیکار ہوگئے، ان میں کوئی وعدہ قابل وثوق نہیں رہا، تیسرے وعدے کے پورا نہ ہونے سے وعدہ خلافی کے علاوہ اس کا عاجز ہونا بھی ثابت ہوا، کیونکہ مرزا قادیانی کے قول کے بموجب وہ اپنے اصلی مقصود کو پورا نہ کر سکا اور احمد بیگ کے داماد کو نہ مار سکا اور اپنے اور اپنے رسول کے قول کو جھوٹا اور دنیا کے نزدیک غیر معتبر ٹھہرا دیا اور پورے طور سے دہریوں کی تائید کی۔ اے مرزائیو! اس اعتراض کا کوئی جواب ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں یہ پرانے اعتراض نہیں ہیں بلکہ نئے ہیں اور اس طرح کے ہیں کہ ان سے آپ کے پرانے جوابات ردی ہو گئے اور آپ کے مرشد اپنے اقراروں سے یقیناً مفتری اور دہریوں کے مؤید بلکہ پوشیدہ دہریہ ثابت ہوئے اس کے بعد ص ٢٢٢ تک وہ میعادی جھوٹی پیشین گوئی کے متعلق اپنی سلطان القلمی دکھائی ہے اور خوب جھوٹی باتیں بنا کر یہ دکھایا ہے کہ وہ پیشین گوئی اس وجہ سے ملتوی ہو گئی یعنی احمد بیگ کا داماد اس وقت تک نہیں مرا مگر اب ص ٢٢٣ میں اس کے مرنے کے لئے پھر پیشین گوئی کرتے ہیں۔
تیسرا الہامی اقرار
جس سے قدرت خدا نظر آتی ہے کہ ایسے چالاک اور ہوشیار مدعی کو اس کے نہایت صاف اور محکم اور قسمیہ اقرار سے دنیا کو جھوٹا دکھا کر اپنی قدرت کا نمونہ معائنہ کرایا ہے۔ طالبین حق ملاحظہ کریں کہ ایک پیشین گوئی ہے۔ داماد احمد بیگ کی اب اس کی صداقت اور اپنے اعتماد کا اظہار متعدد زبانوں اور مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے یہ دوسرا طریقہ ہے یہاں اپنی قابلیت کے اظہار میں عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں اپنا مدعا بیان کیا ہے مگر عربی میں زیادہ زور ہے اور ان کا مدعا بھی عربی زبان میں زیادہ واضح ہوتا ہے اس لئے میں ان کی عربی عبارت نقل کر کے اس کا مطلب لکھتا ہوں۔
”ثُمَّ ماقُلْتُ لكم ان القضية على هذا القدر تمت والنتيجة الاخرة هى التى ظهرت وحقيقة النبَاءِ عليها ختمت بل الامر قائم على حاله“
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
مطلب...... (میں پھر تم سے کہتا ہوں کہ میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ اس پیشین گوئی کی حالت اسی پر ختم ہو گئی۔ (یعنی مذکورہ وجوہات سے احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور اب وہ ہمارے حیات میں
١٤
نہ مرے گا اور پیشین گوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ) بلکہ اصل بات بدستور اپنی حالت پر قائم ہے ۔‘‘ یعنی وہ پیشین گوئی ضرور پوری ہوگی اور احمد بیگ کا داماد میری زندگی میں مرے گا (یہاں مدعا تمام ہو گیا) اب اس پر کمال وثوق اور اعتبار کے لئے تاکیدی جملے تحریر کرتے ہیں۔)
اظہار کمال وثوق کے لئے تاکیدی جملے
(١)ولا یردہ احد باحتیالہ (٢) والقدر قدر مبرم من عندالرب العظیم (٣) وسیاتی وقتہ بفضل اللّٰہ الکریم (٤) فوالذی بعث لنا محمداً المصطفٰی وجعلہ خیر الرسل وخیر الورٰی (٥)ان ھذا احق فسوف ترٰی وانی اجعل ھذا النباءَ معیاراً لصدقی وکذبی (٦) وما قلت الا بعد ما انبئت من ربی “
(انجام آتھم ص ٢٢٣۔ خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
مطلب....... ”(١) کوئی شخص اسے کسی طرح ٹال نہیں سکتا (٢) کیونکہ خدائے بزرگ کی طرف سے اس کا ہونا تقدیر مبرم ہے۔ (یعنی اس کا ظہور میں آنا علم الٰہی میں قرار پا چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور اس کا علم بعض وقت انبیاء کو دیا جاتا ہے۔ اس میں اجتہادی غلطی نہیں ہوسکتی۔) (٣) اور اس کے ظہور کا وقت عنقریب آنے والا ہے (اس کے بعد اپنے بیان کے سچے ہونے پر قسم کھاتے ہیں) (٤) اس خدائے بزرگ کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیٰ کو مبعوث فرمایا اور انہیں بہترین مخلوقات بنایا، کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اور پیشین گوئی کر رہا ہوں اس کا ظہور میں آنا حق ہے اس کا ظہور تو عنقریب دیکھ لے گا۔ (٥) اور میں اس پیشین گوئی کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں اگر یہ پیشین گوئی سچی ہو جائے تو میں سچا ہوں اور اگر جھوٹی نکلے تو جھوٹا ہوں۔ (٦) اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے بلکہ وہی کہا ہے جو میرے پروردگار نے مجھے اطلاع دی ہے۔“
مذکورہ عربی عبارت بعینہ نقل کی گئی ہے جسے انہوں نے اپنے کامل اعتماد و ظہور کیلئے بقلم جلی لکھا ہے اور کسی مقام پر اس کے شرطی ہونے کا ذکر نہیں کیا بلکہ قسم کھا کر ہر طرح اس کا پورا ہونا بیان کیا ہے۔ ناظرین! اس پر خوب نظر کریں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ بدستور قائم ہے اور وہ میری زندگی میں ضرور مرے گا۔ اب اس کے وثوق اور اعتماد ظاہر کرنے کے لئے چھ جملے مرزا قادیانی نے لکھے ہیں۔ جن پر میں نے ہندسہ دے دیا ہے، ان
١٥
میں سب سے زیادہ تاکیدی جملہ وہ ہے جس میں مرزا قادیانی نے اس خبر کے سچے ہونے پر قسم کھائی ہے اور قسم بھی بڑے زوروں کی ہے جس میں انہوں نے اپنی ذہانت سے ایک لطیف اشارہ رکھا ہے وہ یہ کہ قسم کھانے والا اس خدائے عالی ذات کا بندہ ہے جس نے حضرت محمد مصطفیٰ جیسے عالی صفات پیغمبر بنا کر بھیجے اور اسی عالی مرتبہ نبی کا ارشاد ہے کہ مسلمان یعنی میرا امتی جھوٹ نہیں بولتا پھر جھوٹی قسم کیسے کھا سکتا ہے؟ اس طرح قسم کھانے کی یہ وجہ ہے کہ اہل علم اس قسم پر کامل وثوق کریں، آخری جملہ میں ان کا یہ کہنا کہ میں نے وہی کہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے۔ اپنی صداقت کے اظہار کی تاکید ہے کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ پیشین گوئی بغیر خدا کے خبر دیئے کوئی نہیں کر سکتا۔ اور کسی کے مرنے کی خبر دینا پیشین گوئی ہے۔ اس لئے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ خدا سے خبر پا کر یہ پیشین گوئی کر رہے ہیں مگر مرزا قادیانی تو سلطان القلم ہیں اپنے اظہار صداقت کو انتہا مرتبہ تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ مخاطب کے دل میں کمال مرتبہ وثوق بیٹھ جائے مگر یہاں خدا کی قدرت نمائی قابل ملاحظہ ہے ان کی سلطان القلمی اور اظہار قابلیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دربار اسلام میں اپنے نہایت محکم بیان اور پختہ قسم سے جھوٹے ہوئے اور اپنے مقرر کردہ معیار سے کاذب اور مفتری علی اللہ ثابت ہوئے۔ ”الحمدللہ علٰی احسانہ“ اس نے اپنی بہت مخلوق پر رحم فرمایا کہ واقعی کذاب کے کذب کو اسی کے قسمیہ اقرار سے دنیا پر آشکارا کر کے ہر ایک پر اپنی حجت تمام کر دی جس کے مرنے کی نسبت اس قدر وثوق ظاہر کیا گیا اور بار بار مختلف عنوان سے اسے بیان کر کے اس پر وثوق دلایا گیا، مگر ان کے اس تمام اہتمام نے ان کے کذب کو خوب روشن کر دیا وہ احمد بیگ کا داماد جس کے جلد مرنے کی نسبت یہ زور دار بیان ہو رہا ہے اور اس پر قسم کھائی جاتی ہے وہ اب تک موجود ہے اور مرزا قادیانی کی ہڈیاں بھی قبر میں سڑ کر خاک میں مل گئی ہوں گی اور ان کی روح پر خدا جانے کس طرح کا عذاب ہو رہا ہوگا۔ جس کا جی چاہے قبر کھول کر دیکھ لے۔ اے حضرات مرزائیو اس کا کچھ جواب ہو سکتا ہے۔ اے قادیانی اور لاہوری مرزائیو! یہ تو بتاؤ کہ ١٩٠٨ء میں احمد بیگ کا داماد مر کر بہشتی مقبرے میں دفن ہوا؟ یا مرزا قادیانی آپ کے مرشد اپنی پیشین گوئی کو نہایت حسرت سے جھوٹی دیکھتے ہوئے اپنے دشمن کے روبرو دنیا سے گذر گئے اور اپنے مقرر کردہ معیار سے دنیا کے روبرو جھوٹے ثابت ہوئے۔ خدا کے لئے یہ بتا دو کہ اب تمہیں ان کے جھوٹے ماننے میں کیا عذر ہے؟ اب تو ان کے اقرار سے ان کے تمام نشانات جھوٹے ہو گئے ان کے تمام دعوے جھوٹے نکلے۔ جیسے امت محمدیہ کے دوسرے جھوٹے مدعیوں کے۔ کہو میاں حیدر آبادی جنرل ١٦
ہرچند انہیں دعوؤں پر آپ کا چیلنج ہے۔ مدعی سست گواہ چست، اے جناب! جب آپ کے مدعی جن کے دعوے آپ نے اپنے چیلنج میں نقل کئے ہیں خود اپنے اقراروں سے جھوٹے ہو رہے ہیں اور ان کا مقرر کردہ معیار انہیں کاذب کہہ رہا ہے تو آپ کو ان دعوؤں کے جھوٹا ماننے اور مدعی کے کاذب یقین کرنے میں کیا عذر ہے؟ بیان کیجئے، کیا ممکن ہے کہ ایسا اقراری جھوٹا اور خدائے قدوس پر اتہام لگانے والا سچا ہو جائے اور اسے بزرگی کا خطاب دیا جائے؟ استغفر اللہ آسمان و زمین ٹل جائے مگر یہ نہیں ہوسکتا۔ جس طرح چاہئے اس کی تصدیق کر لیجئے، کلکتہ کی مرزائی انجمن سے بھی ہم یہی کہتے ہیں انجام آتھم سے تو مرزا قادیانی کی صداقت کا خاتمہ ہو لیا، اب اس کا ضمیمہ ملاحظہ کیجئے اس کے ص ١٤ میں اپنے مخالفوں کے روبرو اپنی صداقت کے ثبوت میں دو الہام لکھتے ہیں۔
چوتھا اقرار
”پہلا الہام ایتها المرأة توبى فانى البلاء على عقبك“ یعنی اے عورت! (عورت سے مراد احمد بیگ ہوشیار پوری کی بیوی کی والدہ ہے) توبہ کر توبہ کر کہ تیری دختر اور دختر کی دختر پر (یعنی تیری بیٹی اور نواسی پر) بلا نازل ہونے والی ہے، سو ایک بلا تو نازل ہو گئی کہ احمد بیگ فوت ہو گیا، اب بنت البنت (یعنی نواسی) کی بلا باقی ہے جس کو خدا تعالیٰ نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، خزائن، ج ١١ ص ٢٩٨)
یہ چوتھا اقرار ہے اس میں بھی نہایت زور سے مذکورہ پیشین گوئی کی نسبت اپنا وثوق بیان کر رہے ہیں۔ اس پر خوب نظر رہے کہ اس الہام سے مرزا قادیانی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ احمد بیگ کی خوش دامن یعنی ساس پر دو بلا آئیں گی۔ ایک اس کی بیٹی پر یعنی اس کا شوہر احمد بیگ مرے گا، دوسری بلا اس کی نواسی پر یعنی اس کا شوہر بھی مرے گا اور وہ بیوہ ہوگی، پہلا کا ظہور تو ہو گیا یعنی احمد بیگ تو چھ ماہ میں مر گیا، اب نواسی کی بلا باقی ہے، یہ امر لائق یاد رکھنے کے ہے کہ ١٨٨٨ء میں مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ احمد بیگ تین برس کے اندر مرے گا، اور اس کا داماد ڈھائی برس کے اندر مگر اس مدت میں نہ مرا اور ان کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اس کے بعد پھر پیشین گوئی کی جس کا حاصل یہ ہے کہ میری زندگی میں وہ ضرور مرے گا اور اس کی بیوی ضرور میرے نکاح میں آئے گی رسالہ انجام آتھم میں اس پیشین گوئی کے سچا ہونے پر نہایت اصرار ہے اور مختلف طور سے اس کی صداقت کا اظہار کرتے ہیں، یہ چوتھا طریقہ ان کے اصرار کا ہے اور لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور اس وعید کو بھی ضرور پورا کرے گا، اس بیان سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ
١٧
پیشین گوئی شرطی تھی یا غیر شرطی مگر یہ وعید ہر طرح پوری ہوگی، مگر اب تو آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہوگیا کہ احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے برسیں گزر گئیں اور وہ اب تک زندہ موجود ہے اس لئے مرزا قادیانی اپنے پختہ اقراروں اور اپنے الہام سے جھوٹے ثابت ہوئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگایا۔
پانچواں اقرار
دوسرا الہام دہلی میں شادی ہونے سے پہلے کا وہ یہ ہے کہ ”بِکْرٌ وَّثَیِّبٌ“ یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی، اور پھر بعدہٗ ایک بیوہ سے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤۔ خزائن، ج ١١ ص ٢٩٨ سطر ١٦)
مرزا قادیانی کو کیسے کیسے الہام ہوتے ہیں جیسے بقول مشہور بلی کو خواب میں بھی چھچھڑے نظر آتے ہیں اور ایسے جملے القا ہوتے ہیں کہ بقول المعنی فی بطن الشاعر سوائے مرزا قادیانی کے کوئی انہیں سمجھ نہیں سکتا۔ اس الہام کو ملاحظہ کرلیجئے۔ یہ الہام اور اس کا مطلب بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ کے قصہ کا ابھی نام و نشان نہ تھا اور نہ ابھی اس دوسری شادی کا کچھ ذکر تھا۔ پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ (الہام) خدا کا نشان تھا جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا (یعنی دہلی میں کنواری لڑکی سے شادی ہوگئی) اور دوسرا حصہ جو ثَیِّبٌ یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤ خزائن ج ١١ ص ٢٩٨)
یعنی احمد بیگ کی لڑکی بیوہ ہوگی، اس کا داماد مرے گا اور اس کی بیوی ثیبہ سے میرا نکاح ہوگا اور اس الہام کا دوسرا حصہ پورا ہوتے شیخ محمد حسین بٹالوی دیکھ لے گا۔ اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے حصہ کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہوا مگر دوسرے حصہ کی نسبت تو آسمانی فیصلہ ہو گیا کہ اس کا ظہور نہیں ہوا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ احمد بیگ کی لڑکی بیوہ نہیں ہوئی، یعنی احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور اس کی بیوی ثیبہ جسے منکوحہ آسمانی کا خطاب ہوچکا تھا، مرزا قادیانی کے بیان کے بموجب اللہ تعالیٰ نے اس کا نکاح مرزا قادیانی سے پڑھا دیا تھا مگر وہ فرضی منکوحہ مرزا قادیانی کے نکاح میں کسی وقت نہ آئی اور اس سے صرف مرزا قادیانی ہی جھوٹے نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے اپنے خدا پر سخت عیب لگایا کہ اسے آئندہ کی حالت معلوم نہ ہوئی اور ایک عبث فعل آسمان پر کرکے مرزا قادیانی کو رسوا کیا اس کے بعد بعض اور جھوٹے نشانات بیان کرکے داماد احمد بیگ کی پیشین
١٨
گوئی پورا نہ ہونے کی وجہ میں باتیں بنائی ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کے مرجانے سے چونکہ اس کو بہت خوف اور غم ہوا اور اس نے توبہ کی اس لئے اس کی موت میں تاخیر ہوگئی مگر اس کا پورا ہونا ضرور ہے یہ محض غلط ہے اس کا جھوٹا ہونا دکھا دیا گیا پھر ص ٥٣ میں مذکورہ پیشین گوئی کے ظہور پر کمال وثوق و اعتبار نہایت شائستہ اور مہذب الفاظ سے بیان کرتے ہیں، اور اپنی تہذیب اور جمالی ظہور کا معائنہ کراتے ہیں۔ (مرزا محمود کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد وہی جناب رسول اللہ ﷺ ہیں، یعنی حضور انور ﷺ نے دوسرا جنم لیا ہے مگر پہلا ظہور جلالی تھا اور مرزائی جنم میں جمالی ہے یعنی کسی قسم کی سختی نہیں ہے مگر ان کے اس قول کو دیکھا جائے کہ مسلمانوں کی سچی بات کہنے پر کس قدر سخت کلامی کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ جلال تو ان کے اختیار میں نہیں تھا۔) ملاحظہ ہو۔
چھٹا اقرار اور نہایت معتمد قول
مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد مر جائے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں آجائے گی) تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی، اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
سُبحان اللہ! کیا تہذیب اور شائستگی ہے انہیں کو حضرت رحمۃ اللعالمین کا ظل اور دوسرا جنم اور جمالی ظہور کہا جاتا ہے اور حضور کو جلالی مظہر ، اب کوئی ان دل کے اندھوں سے دریافت کرے حضور انور ﷺ کو مخالفین نے کیسی کیسی تکلیفیں دی ہیں، مگر کسی وقت کسی قسم کے سخت الفاظ آپؐ نے نکالے ہیں؟ کوئی ثابت کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں، بلکہ اس نازک وقت میں جس وقت جان لینے کے واسطے مخالفین حملے کر رہے تھے اس وقت حضور انور ﷺ نے یہ فرمایا کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت کر یہ جانتے نہیں ہیں۔ یہ ناواقفی سے میرے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ اب مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو صفات اپنے مخالفوں کیلئے تجویز کیں تھیں وہ اس وقت کیلئے کیں تھیں جس وقت ان کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہو جائیں گی یعنی منکوحہ آسمانی ان کی آغوش میں آجائے گی، اور اس کا شوہر مرجائے گا، جس کے لئے وہ قسمیہ اقرار کر چکے ہیں، مگر اب تو قدرت خدا نے آفتاب کی طرح روشن کر دیا کہ مرزا قادیانی کی ان دونوں مرادوں سے ایک بھی
١٩
پوری نہ ہوئی اور دم واپسیں تک اپنی نامرادی پر کف افسوس ملتے ہوئے جان دی، وائے برناکامی ایشان، اب کہنا یہ ہے کہ جب یہ دونوں پیشین گوئیاں پوری نہ ہوئیں تو اب انصاف سے فرمایا جائے کہ مرزا قادیانی کے مذکورہ ارشادات کا مستحق خود جناب والا اور ان کے موافقین ہوئے یا نہیں؟ ضرور ہوئے، کیونکہ کلام خداوندی نے انہیں مستحق بتایا، ارشاد نبوی نے انہیں جھوٹا اور کذاب کہہ کر انہیں ان صفات کا مورد قرار دیا، پھر جب مدعی نبوت کی ایسی مستحکم پیشین گوئیاں جھوٹی ہوگئیں تو اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ سچائی کی تلوار نے اس مدعی کو اور اس کے ماننے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا؟ (اس میں کسی کو کیا تامل ہوسکتا ہے، جسے خدا اور رسول نے جھوٹا اور کذاب قرار دیا ہو، اس کی صورت مسخ ہونے میں کس کو تامل ہوسکتا ہے۔ مفتری کی سزا موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے اس لئے ان کی قبر کو کھول کر ان کی صورت کو دیکھا جائے اور صورت مسخ ہو جانے کا معائنہ کیا جائے، جس نے مسیح ومہدی ہونے کا دعویٰ کر کے چالیس کروڑ امت محمدیہ پر کفر کا فتویٰ دے دیا ہو اور کسی کافر کو سچا مسلمان نہ بنایا ہو اس کے جھوٹے ہونے میں کسی کو تامل ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں پھر یہ ظلم و ستم اس مدعی تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس کے ایک خلیفہ گزر گئے، اب دوسرے خلیفہ کی باری ہے مگر ان کا تمام زور و شور مسلمانوں ہی کے تباہ کرنے پر ہے کسی کافر پر ہاتھ صاف نہیں کیا جاتا، ہندوستان میں کثرت سے ہنود، آریہ، عیسائی وغیرہ ہیں۔ ان کا کوئی مبلغ یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم نے اتنے ہندو اور عیسائیوں کو قادیانی بنایا؟ ہرگز نہیں، جناب رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ثانی نے اسلام کو کس قدر ترقی دی تھی، ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھو کہ کس طرح یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کو مسلمان بنایا تھا) قول مذکور کے بعد آخر میں لکھتے ہیں۔ ”خدا کے الہام میں جو توبی توبی ان البلاء علیٰ عقبک ١٨٨٦ء میں ہوا تھا، اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی اور الہام کذبو بایتنا اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا تو شرطی پیشین گوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣۔٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اس عبارت سے نہایت روشن ہوگیا کہ پیشین گوئی کے شرطی ہونے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس کے ظہور میں تاخیر ہوگئی، یعنی احمد بیگ کا داماد ڈھائی برس کے اندر نہ مرا، اس کے دو سطر بعد نہایت زور سے یہ کہتے ہیں کہ انجام کار اس پیشین گوئی کا ظہور ضرور ہوگا۔ اس کا شرطی ہونا اس کے ظہور کو روک نہیں سکتا، وہ قول ملاحظہ ہو بقلم جلی لکھتے ہیں۔
٢٠
ساتواں اقرار اور نہایت فیصلہ کن مقولہ
”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا، اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں، یقیناً سمجھو کہ (٢) یہ خدا کا سچا وعدہ ہے (٣) وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، (٤) وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨ سطر ٦ سے ٨ تک)
اس ساتویں اقرار میں مرزا قادیانی چھ باتیں کہتے ہیں (١) یہ کہ اگر احمد بیگ کا داماد نہ مرا تو میں بدترین خلائق ثابت ہوں گا یعنی مجھ سے بدتر دنیا میں کوئی نہ ہوگا (٢) یہ کہ یہ پیشین گوئی میرا افتراء نہیں ہے بلکہ الہام ربانی ہے (٣) دوسرے عنوان سے یہ کہتے ہیں کہ یہ قول کسی خبیث مفتری کا نہیں ہے (٤) اس قول کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں خدا نے دکھا دیا کہ یہ خدا کا وعدہ نہیں ہے بلکہ بالیقین خدا پر افتراء ہے۔ (٥) اپنی پیشگوئی کو اس خدائے تعالیٰ کی باتوں میں بتاتے ہیں جس کی باتیں نہیں ٹلتیں (٦) یہ کہ اپنی بات کو اس قادر مطلق کے ارادوں میں شمار کرتے ہیں، جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا، حالانکہ یہ دونوں باتیں بھی محض غلط ہیں کیونکہ یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی اور احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا اس لئے اس پیشین گوئی میں مرزا قادیانی کے پانچ جھوٹ ثابت ہوئے اور ایک قول پہلا وہ سچا ثابت ہوا مگر وہ سچا قول ایسا ہے جس نے جھوٹوں کا سرگروہ انہیں قرار دیا کیونکہ ہر بد سے بدتر بالضرور جھوٹوں کا سرگروہ ہوگا۔ اب اس پر غور کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی اپنے جھوٹے دعوؤں پر کس قدر اپنا وثوق اور اعتماد ظاہر کرتے ہیں ایک طریقے سے نہیں چار طریقوں سے اس کے ظہور پر وثوق بیان کیا ہے پہلے یہ کہا کہ اگر احمد بیگ کے داماد کے متعلق پیشین گوئی پوری نہ ہو، یعنی وہ میرے سامنے نہ مرے تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا یعنی بدترین خلائق ہوں گا مجھ سے بدتر دنیا میں کوئی انسان نہ ہوگا۔ اب خوب خیال کیا جائے کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہو تو مرزا قادیانی اپنے اس اقرار سے بالیقین اس قول کے مصداق ٹھہریں گے کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ان کے قول کے بموجب انہیں بد سے بدتر نہ کہا جائے کیونکہ جب دنیا نے دیکھ لیا کہ احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور برسیں گزر گئیں۔ مرزا قادیانی تو قبر میں عذاب اٹھاتے ہوئے اور وہ خود زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا معائنہ کراتا رہا یہاں تک کہ پہلے خلیفہ کو بھی قبر میں ڈال کر دوسرے خلیفہ کی تاک میں ہے۔ اب مرزا محمود قادیانی اپنے
٢١
باپ کے آغوش میں جائیں یا نہ جائیں مرزا قادیانی کی حالت معلوم ہو گئی۔ دوسرے! یہ کہ اس کے مرنے کو یقینی خدائی دعویٰ کہتے ہیں۔ پھر یہ معمولی وعدہ نہیں ہے جو مرزا قادیانی کے نزدیک کبھی جھوٹا بھی ہو جاتا ہے اور ”يُعِدُ وَلَا يُوْفِیْ“ کا مصداق ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی اسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں وہ ضرور پورا ہو گا۔ تیسرے! یہ کہ اسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں وہ ضرور پورا ہو گا۔ چوتھے! یہ کہ اسے خدا کا وعدہ بیان کر کے اس کی یہ صفت بیان کرتے ہیں کہ اس کی باتیں نہیں ٹلتیں جو وہ کہتا ہے وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔ سچ ہے ”مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ“ اس کا ارشاد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری کوئی بات نہیں بدلتی جو کہہ دیا گیا وہ ضرور پورا ہو گا۔ اب چونکہ اس نے داماد احمد بیگ کی موت کا وعدہ کیا ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔ میری زندگی میں وہ ضرور مرے گا۔ پانچویں! یہ کہ یہ وعدہ اس پروردگار کا ہے جو صاحب جلال ہے کسی وقت اپنے مخالفوں اور منکرین پر عظمت و جلال کی شان ظاہر کرتا ہے کس کی مجال ہے کہ اس ذوالجلال کے ارادوں کو روک سکے۔ احمد بیگ اور اس کا داماد مخالف اور منکر رہا اس لئے وہ رب ذوالجلال ان کی نسبت اپنے جلال کے اظہار کا ارادہ کر چکا ہے۔ اس ارادے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اب وہ ایمان لا ہی نہیں سکتا اور کوئی بات ایسی نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے پیشین گوئی پوری نہ ہو، اگر ایسا ہو تو خدا کا عالم الغیب نہ ہونا اور سچا وعدہ کر کے پھر بھی اسے پورا نہ کرنا اور بدل جانا ثابت نہ ہوگا۔ غرضیکہ خدائی درہم و برہم ہو جائے اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اب ناظرین حق پسند ان تمام اقراروں کو اور بالخصوص اس اخیر اقرار کو دیکھیں کہ وہ اپنے اقرار اور یقینی الہام کے بموجب جھوٹے اور بدترین خلائق ثابت ہوتے ہیں اور ان کا جھوٹا اور کذاب ہونا دنیا پر مثل آفتاب کے روشن ہو رہا ہے۔ اب کسی صاحب عقل و فہم کے نزدیک ایسا شخص بزرگ عالی مرتبہ نہیں ہو سکتا۔ اب اس کو نبی اور مسیح موعود اور مہدی ماننا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ اب اگر مان لیا جائے کہ حضرت مسیح اسرائیلی جنہیں شریعت محمدیہ نے مسیح موعود کہا ہے مر گئے ہوں اور کوئی دوسرا عالی مرتبہ بزرگ مسیح موعود ہو تو وہ مرزا کسی طرح نہیں ہو سکتے بالفعل ٢٨؍ دسمبر ١٩٢٢ء کو جو خلیفہ قادیان نے اپنے خاص چیلے میاں اللہ مارا عرف اللہ دتہ سے ایک چیلنج شائع کرایا ہے جس میں انہوں نے اپنے خام خیال کے بموجب حضرت مسیح کی موت ثابت کر کے یہ سمجھے ہیں کہ مسیح قادیان کا مسیح موعود ہونا ثابت ہو گیا مگر افسوس ہے کہ خود مسیح قادیان کے اقوال نہیں دیکھتے جو اپنے پختہ اقوالوں سے بدترین خلائق ثابت ہو چکے ہیں اور اپنے اقوال سے خدا پر بہت کچھ الزامات لگا
٢٢
چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کسی مرزائی سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ پہلے حیات وممات کی بحث کو چھیڑتا ہے یا ختم نبوت کی بحث کو درمیان میں لاتا ہے۔ اب اس سے ہم یہی دریافت کرتے ہیں کہ اس بحث سے کیا فائدہ اگر ہم مان بھی لیں کہ حضرت مسیح مر گئے اور نبوت ختم نہیں ہوئی مگر یقینی بات ہے کہ جو اپنے کرداروں اور اپنے اقراروں سے جھوٹا کذاب مفتری ہر بد سے بدتر ثابت ہو گیا ہو وہ مسیح موعود اور نبی نہیں ہو سکتا اور ہرگز نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا مرنا ایسے جھوٹے کذاب کو سچا نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح میں عام گروہ مرزائیہ سے اور بالخصوص میاں اللہ دتہ سے عرض کرتا ہوں کہ جن کے قولوں پر آپ ایمان لا چکے ہیں اور ان کو مسیح موعود مان چکے ہیں انہیں کے الہامی اقوال کو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کو ملاحظہ کیجئے کہ ان کی صداقت پر اور ان کے الہامی ہونے پر مرزا قادیانی کو کس قدر وثوق ہے۔ ان کو آپ نہ مانیں گے۔ آپ اپنی فہم و عقل کو کیوں برباد کرتے ہیں اور ایسے اقراری جھوٹے کو جھوٹا نہیں مانتے اور اعلانیہ طور سے مسیلمہ کذاب ثانی کو مان کر جہنم میں جانا پسند کر رہے ہیں۔ میں مختصراً مکرر عرض کرتا ہوں غور سے ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کس زور و شور و یقین سے داماد احمد بیگ کے مرنے کو اپنی زندگی میں بیان کر رہے ہیں اور اسے وعدہ خداوندی کہہ کر اسے یقینی الہام بتا رہے ہیں مگر غضب یہ ہے کہ بایں ہمہ یہ سب جھوٹ کا طومار نکلا اور احمد بیگ کا داماد ان کی زندگی میں ان کے سینہ پر مونگ دلتا رہا اور انہیں مرے ہوئے برسوں گزر گئے اور وہ زندہ موجود رہ کر ان کی روح کو تڑپا رہا ہے۔ اے مرزائی حضرات! اب انہیں بدترین خلائق ماننے میں تمہیں کیا عذر ہے؟ کچھ تو کہو، اے حق کے دشمنو اس قول نے ان کے سارے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر کے انہیں ہر بد سے بدتر ثابت کر دیا۔ وہ کون دعویٰ ہے جس پر انہوں نے اس سے زیادہ اپنا وثوق ظاہر کیا ہو اور بالفرض اگر کیا بھی ہو تو جب اس قدر مؤکد اور مکرر اقرار جھوٹا ہو گیا اور اپنے مکرر اقراروں سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے تو اب کسی اہل حق ، صاحب عقل کے نزدیک کسی طرح وہ سچے نہیں ہو سکتے ، اب اگر کوئی بے ایمان ان کی مجبوری اور معذوری بیان کر کے خدا پر جھوٹ بولنے اور فریب دینے کا اقرار کرے تو اس نے خدائی پلٹ دی، دہریہ ہو گیا، جب اس کا خدا ان صفات کا ہے تو اس کے رسول کیا چیز ہوں گے۔ وہ جھوٹوں اور فریبیوں کے رسول ہوں گے اور انہیں جھوٹ کی تعلیم دیں گے اور اپنے ہمراہ جہنم میں انہیں لے جائیں گے، کلکتہ کے مرزائی ایسے بدترین خلائق کے ماننے پر ترقی کا مدار بتاتے ہیں۔ کیسا فریب نکالا ہے، خیال کیا جائے کہ جس نے دنیا کے
٢٣
چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر ٹھہرا کر دنیا کو اسلام سے گویا خالی کر دیا ہو، اور گروہ کفار میں کروڑوں کی ترقی دے دی ہو، اس سے اسلام کو ترقی ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں جو اپنے اقرار سے ہر بد سے بدتر بالیقین ثابت ہو گیا ہو، اسے ترقی اور نجات کا سبب بتانا اپنے کو مسلوب العقل ثابت کرنا یا دنیا کو اعلانیہ فریب دینا ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مرزا اپنے اقرار کے بموجب بدترین خلائق شخص تھا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہمارے گروہ کو بہت کچھ ترقی ہو رہی ہے، جھوٹی تعلی کے علاوہ یہ ان کے فخر کی بات نہیں ہے، آریوں کو بہت زیادہ ترقی ہو رہی ہے۔ ہزاروں مسلمان آریہ ہو گئے، کئی مولوی آریہ ہو گئے ضلع فرخ آباد میں وہ تبلیغ کرتے ہیں، پادریوں کی دس سالہ رپورٹ دیکھو، ہزاروں کیا لاکھوں کی تعداد ہر دس برس میں عیسائی ہو جاتے ہیں۔ یہ کوشش وسعی اور روپیہ صرف کرنے کا نتیجہ ہے۔ (عیسائی کروڑوں صرف کرتے ہیں اس کا نتیجہ بہت زیادہ دیکھتے ہیں مرزائی اس قدر نہیں صرف کرتے اس لئے اس مرتبہ کو نہیں پہنچتے ہزاروں صرف کرتے ہیں اس لئے اسی قدر اس کا نتیجہ دیکھتے ہیں) گروہ بابی نے تو یورپ اور امریکہ میں ترقی کی ہے اور کثرت سے انگریز اور بڑی بڑی میمیں بابی ہو گئی ہیں۔ غرضیکہ نصاریٰ کو انہوں نے اپنے طور کا مسلمان بنایا ہے۔ مرزا قادیانی نے اور ان کے گروہ نے تو کسی جماعت کفار کو اپنا سا مسلمان بھی نہیں بنایا مسلمانوں کو ہی کافر بنایا اور بناتے ہیں، غرضیکہ ہر طرف سے کفر کی ترقی ہے۔ مسلمانوں کو دین کا خیال نہیں دین کی تائید اور گمراہی کے مٹانے کو جھگڑا سمجھتے ہیں، کسی طرح مدد کرنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ قیامت قریب ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ اشرار ناس پر قیامت آئے گی یعنی جب تمام دنیا میں شر و فساد اور کفر و کفریات پھیل جائیگا۔ اس وقت قیامت آئے گی، مرزائیوں کو دیکھنا چاہئے کہ کس طرح سے انہیں گفتگو میں عاجز کیا گیا ہے، لاجواب رسالے مرزا کے دجل و فریب میں لکھ کر شائع کئے گئے۔ ان کے پاس بھجوائے گئے، جواب سے عاجز ہیں، مگر دلوں پر تو ان کی مہر ہو گئی ہے اور گمراہ کرنے والے اپنے پیٹ بھرنے کے لئے انہیں حقانی رسائل دیکھنے سے روک دیا ہے۔ پھر وہ ایمان کیسے لائیں مگر ہم خیر خواہی سے باز نہ رہیں گے۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہونا تو ان کے اقراروں سے ثابت کر دیا گیا۔ اب مرزا قادیانی کے دہریہ ہونے کا ثبوت ملاحظہ ہو۔
مرزا قادیانی کے دہریہ ہونے کا ثبوت
ناظرین! آپ نے مرزا قادیانی کا اقراری ویقینی جھوٹا ہونا تو معلوم کر لیا اب میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزا قادیانی صرف جھوٹے ہی نہیں ہیں، بلکہ اعلانیہ دہریہ ہیں۔
٢٤
خدا اور رسول کو نہیں مانتے، ان کی متعدد تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ توہین انبیاء میں ان کی ایک عبارت نقل کر کے دکھاتا ہوں ، انبیاء کی توہین بجز منکر نبوت اور دہریہ کے کوئی نہیں کر سکتا، مگر مرزا قادیانی نے اعلانیہ طور سے بہت زور و شور سے مسیح علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ جن کی تعریف قرآن مجید میں بہت جگہ آئی ہے اور انہیں سچا نبی فرمایا ہے اور ان کے معجزات بیان کئے ہیں ، مگر مرزا قادیانی اپنے رسالہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، ٧ خزائن ، ج ١١ ص ٢٩٠-٢٩١ حاشیہ ) میں انہیں حضرت مسیح کی نسبت لکھتے ہیں ”مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا (یعنی حضرت مسیح سے جن کو یسوع بھی کہتے ہیں۔۔۔۔ دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی یہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پرہیز گار انسان بھی نہ تھے اور نبی تو کیا ہوتے اس توہین کی کچھ انتہا ہے ) ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسے بیمار کا علاج کیا ہو ، مگر آپ کی بد قسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا، پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١ کے صفحہ ٢٤ سے ٢٦ تک یہ عبارت مع اس کی کچھ شرح کے لکھی گئی ہے جس سے دہریت کے علاوہ ان کا جھوٹ وفریب بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ کر لیجئے گا۔
طالبین حق کو غالباً یہ شبہ ہوگا کہ مرزا قادیانی نے بہت زور وشور سے اسلام کا دعویٰ کیا ہے اور براہین احمدیہ میں اسلام کی حقانیت پر بڑی دلیل لکھی ہے۔ پھر انہیں دہریہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟ اس کا جواب غور سے ملاحظہ کیجئے اور مرزا قادیانی کے مختلف رسائل کو دیکھئے مرزا قادیانی کا اصل مقصود یہ
٢٥
تھا کہ تمام دنیا کے انسان یعنی یہود، عیسائی، ہنود، مسلمان عام اور خاص تمام مذہب والے مجھے مقدس اور بزرگ مان لیں، اسی وجہ سے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جن کو یہود اور نصاریٰ اور مسلمان سب مانتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نبی اور رسول ہوں اور امام مہدی ہوں جن کو عام اور خاص مسلمان سب مانتے ہیں اور ہندوؤں سے یہ کہا کہ میں کرشن اوتار ہوں مگر قدرت خدا یہ ہوئی کہ کسی مذہب کے دس بیس شخصوں نے بھی انہیں نہیں مانا۔ ہمارے بھائی مسلمان ہی ان کے فریب میں آگئے اور اب تک آرہے ہیں اور ان کے مبلغین کہیں کفار پر تبلیغ نہیں کرتے بلکہ جاہل مسلمانوں کو ہی بہکاتے پھرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب کسی مذہب والے نے انہیں نہ مانا کچھ مسلمان ہی ان کے پھندے میں آئے تو انہیں ضرور ہوا کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کریں، دہریہ کو تو جھوٹ بولنا اور فریب دینا کوئی بات نہیں ہے اپنے مطلب کیلئے سب جائز سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے اپنا یہ رنگ دکھلایا اور ان کے بیٹے مرزا محمود ہنود کا مذہب اختیار کر کے جناب رسول اللہ ﷺ کو مرزائی جنم میں آنا بیان کرتے ہیں (نعوذ باللہ) بھائیو! کیا غضب ہے کہ ایسے اعلانیہ جھوٹے دہریہ کو جناب سرور عالم محبوب کبریا کا جنم بیان کرتے ہیں۔ اب ناظرین اس کو ملاحظہ کریں کہ اس رسالہ کے صفحہ ٥ سے صفحہ ١٢ تک ایک مطلب کے بیان میں چوّن جھوٹ لکھے گئے ہیں۔ اب تمہیں انصاف سے کہو کوئی ایسا جھوٹا شخص مجدد یا نبی اور رسول ہو سکتا ہے۔ ضرور یہی کہو گے کہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور اسی صفحہ ٥ سے صفحہ ٢٥ تک ان کے سات پختہ اقرار ہیں، جن سے وہ جھوٹے ہوتے ہیں اور پہلے اور ساتویں اقرار میں جو اپنی صداقت میں آٹھ دلیلیں بیان کی ہیں ان دلیلوں سے بھی خود جھوٹے ٹھہرتے ہیں، اب میں تمام مسلمانوں سے کہتا ہوں یہ قول تو آپ ان کا دیکھ چکے ہیں، جس میں انہوں نے ایک بڑے نبی عظیم الشان کی ہجو کی ہے۔ جن کی عظمت و شان اور ان کا سچا ہونا قرآن شریف میں بہت جگہ آیا ہے اور جن کے متعدد معجزات بیان کئے گئے ہیں۔ انہیں یہ مکار و فریبی کہتا ہے اب میں تمام طالبین حق کی خیر خواہی کیلئے ان کی مذہبی حالت کی عام اطلاع دیتا ہوں۔
ان کی مذہبی حالت کی عام اطلاع
معززین کلکتہ کو اس کی اطلاع نہ ہوگی کہ اس وقت میں اسلام کے لئے مرزائی فتنہ نہایت خطرناک ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی جو ان کا مرشد اور گمراہ کرنے والا ہے وہ درحقیقت ایک ملحد، دہریہ شخص تھا، مگر نہایت ہوشیار اور چالاک تھا۔ چاہتا یہ تھا کہ ساری دنیا مجھے مانے، اسی
٢٦
لئے انہوں نے یہ دعوے کئے ہیں کہ میں اس وقت کا مجدد، امام، مسیح موعود، امام مہدی، نبی، رسول ہوں، مسلمانوں اور یہود و عیسائیوں کے لئے اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں اور مسلمانوں کے لئے صرف دعویٰ نبوت ہی نہیں ہے بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے اور تمام انبیائے کرام کی مذمت و توہین کی ہے اور ایک بڑا راز یہ ہے کہ حضرت مسیح کی نہایت ہی توہین کی ہے۔ باوجود یہ کہ ان کے ماننے والے انہیں خدائی میں شریک کرنے والے دنیا کے بادشاہ ہیں، مگر مرزا قادیانی سے کسی پادری نے کچھ گرفت نہیں کی۔ آخر میں مرزا قادیانی نے یہ بھی کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خدائی اختیارات دے دیئے ہیں۔ البتہ دعویٰ خدائی میں کچھ دیر تھی غالباً مریدوں کا امتحان لے رہے تھے کہ انہیں اس دعوے کے قبول کرنے میں کوئی عذر تو نہ ہوگا۔ اسی حالت میں بری حالت سے ان کا انتقال ہو گیا۔ خدائے قدوس پر بھی انہوں نے شائستہ طور سے الزامات لگائے ہیں۔ کسی وقت وہ بھی دکھائے جائیں گے۔ یہ سب باتیں ان کے دہریہ ہونے کو ثابت کرتی ہیں، مگر چونکہ ان کے دعویٰ کو بجز مسلمانوں کے کسی گروہ یہودی یا عیسائی، یا ہندو نے نہیں مانا، یہ بد نصیبی مسلمانوں ہی کے حصہ میں تھی اس لئے مرزا قادیانی نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا تاکہ یہ گروہ قابو میں رہے، پہلے انکا بہت شور و غل تھا اور ہر جگہ مناظرہ کے اشتہارات دیتے تھے۔ شہر مونگیر و بھاگلپور میں بہت زور تھا اور بہت مسلمان ان کے فریب میں آنے والے تھے۔ حضرت مولانا سید ابواحمد صاحب عم فیضہم خاموش تھے ان کی حالت سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ بہت مسلمانوں نے آکر دریافت کیا، آپ نے ان کی کتابیں دیکھ کر مرزا قادیانی کی حالت معلوم کی اور ان کی گمراہی سے واقف ہو کر متوجہ ہوئے اور پہلے مناظرہ کرایا اور قادیان کے مخصوص اشخاص مناظرہ کیلئے آئے خدا کا شکر ہے کہ قادیانیوں کو اس مناظرہ میں ایسی شکست اور ذلت ہوئی کہ کہیں نہیں ہوئی اور عام جلسہ میں بعض قادیانی بول اٹھے کہ ایسی شکست ہمیں کہیں نہیں ہوئی تھی۔ جیسی یہاں ہوئی۔ اس کی کیفیت چھپ کر مشتہر ہو چکی ہے اور سکریٹری انجمن مرزائیہ کلکتہ کو بھیجی گئی ہے اس کے بعد سے اس گروہ نے تقریری مناظرہ سے انکار کیا ہے اس وقت تک حکم مقرر کرنے سے انکار نہیں کرتے تھے۔ مگر جس وقت سے فاتح قادیان مولوی ثناء اللہ صاحب کا مناظرہ قاسم علی مرزائی سے ہوا اور اس جلسہ میں ایک معزز غیر مذہب حَکَم مقرر ہوئے تھے اور تین سو روپیہ انعام کا غالب فریق کیلئے قرار پایا تھا، مولوی صاحب غالب ہوئے اور فاتح قادیان کا لقب پایا اور حَکَم کی منصفانہ رائے سے وہ روپیہ مولوی صاحب کو ملا اور مرزائی نقصان مایہ اور شماتت ہمسایہ کے مصداق ہوئے۔ اس وقت سے
٢٧
مرزائی حضرات کو حکم کے نام سے لرزہ آتا ہے، حالانکہ تمام دنیا اس کی شہادت دے سکتی ہے کہ فیصلہ کے لئے حاکم، یا حکم کا ہونا ضرور ہے مگر الحمد للہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کے ثبوت میں ہمیں کسی حکم کی بھی ضرورت نہیں ہے حاکم حقیقی نے خود مرزا کی زبان سے ان کے قلم سے اس کا فیصلہ نہایت کامل طور سے کرا دیا اور دیکھنے والوں نے دیکھ لیا اور جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھیں گے اور جن کے کان ہیں وہ دوسروں سے سن لیں گے کہ مرزا قادیانی اپنے متعدد اقراروں سے اپنی پختہ قسم سے جھوٹے ثابت ہوئے یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ صرف زبانی اور جسمانی اقرار نہیں ہے۔ بلکہ روحانی اور الہامی اقرارات ہیں ان اقراروں کا مجموعہ پہلے چھپ کر مشتہر ہو چکا ہے۔ جس کا نام چشمہ ہدایت ہے اور خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے پہلے قادیان بھیجا گیا ہے اس کے بعد کلکتہ کے مرزائیوں نے جب اپنا چیلنج بھیجا ہے اس کے جواب میں خانقاہ سے متعدد چیلنج اور رسائل پچاس کی تعداد میں بھیجے گئے ہیں ان میں رسالہ چشمہ ہدایت بھی بھیجا گیا ہے۔ اس چیلنج میں ان کے چند اقرار ہیں۔ اب حضرات مرزائیوں کو بڑا صدمہ یہ ہوگا کہ مرزا قادیانی نے صرف اپنے جھوٹے ہی ہونے پر کفایت نہیں کی بلکہ نہایت زور سے اپنے کامل وثوق و الہام سے اپنے بدترین خلائق ہونے کا اقرار کیا ہے اور اپنے تمام ماننے والوں کو عاجز ولا جواب کر دیا ہے۔ اب کسی کو جائے دم زدن نہیں رہی کلکتہ کے مرزائیوں کو چاہئے کہ مرزا محمود کو مع ان کے تمام اسٹاف کے بلائیں بلکہ دنیا بھر کے مرزائیوں کو جمع کر کے واویلا کریں اور مرزا قادیانی کی قبر پر جا کر روئیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر ایسے بدترین خلائق سے علیحدہ نہ ہوئے تو یقین کر لیں اور ہم سے اسٹام پر لکھوا لیں کہ قیامت تک ان کی روح روئے گی اور پھر ہمیشہ کے لئے بدترین خلائق کے ہمراہ رہیں گے، اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی اگر کچھ حوصلہ ہے تو اس چیلنج کا جواب دیجئے، مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دے سکتے اور ہرگز نہیں دے سکتے اور اس کو بھی خوب سمجھ لیں کہ النبوۃ فی الاسلام اور حق الیقین اور دیگر مہملات سے اس کا جواب نہیں ہو سکتا۔ نبوت ختم ہوئی یا نہیں ہوئی مگر مرزا اس لائق نہیں کہ وہ نبی یا مجدد ہو سکے اگر اسکی تصدیق چاہتے ہو تو سامنے آؤ، مجمع عام میں اس کا فیصلہ کر لو یا خاص تعلیم یافتہ حضرات کے جلسہ میں ہم ہر طرح سے تیار ہیں، میاں عبدالرحیم مرزائی حقانی رسائل دیکھ کر کلکتہ سے بھاگے بھاگلپور میں آئے یہاں بھی رسائل حقانیہ کی بوچھاڑ کی گئی انہیں دیکھ کر مدراس بھاگے وہاں بھی متعدد رسائل بھیجے گئے مگر وہ ایسے دم بخود ہوئے کہ کوئی پتہ ونشان نہ رہا۔ آخر میں میں نہایت خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ یہ وقت اسلام کیلئے نہایت نازک ہے اگر اس مقدس مذہب سے ٢٨
پوری محبت ہے تو مستعد ہو جاؤ اور جس طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے وقت میں لسانی جہاد کئے تھے اور اپنا جان و مال اللہ کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اسی طرح اس وقت ہر مسلمان پر بالخصوص اہل علم اور صاحب مال پر فرض ہے کہ جہاد لسانی و قلمی کریں اور صاحب مال اپنے روپے کو جنت کا ذریعہ بنائیں اور انفاق کر کے اس کی صورتیں نکالیں ورنہ پچھتانا ہوگا۔
راقم! خیر خواہ اسلام ابو محمود محمد اسحاق غفرلہ
۞۞۞۞۞
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆.......... اگر بہروپئے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل
مطابق اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو مرزا قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے؟۔
- ☆.......... ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک
قادیانی بھی زندہ نہ بچے۔ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مار دیں۔
- ☆.......... عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔
اس کا انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
٢٩
ماہنامہ لولاک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ، منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 250/= روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o
چشمہ ہدایت کی صداقت
اور مسیح قادیان کی واقعی حالت
صحیفہ رحمانیہ
(٥١)
خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا عجب نمونہ دکھایا ہے کہ کس طرح مرزا قادیانی کو نہایت روشن طریقوں سے جھوٹا ثابت کر کے دکھایا گیا ہے مگر مرزائی حضرات کچھ نہیں دیکھتے اور اسی طرح کذب پرستی کر رہے ہیں جس طرح ہنود اپنی عقل کو طاق میں رکھ کر بت پرستی کرتے ہیں مگر رسالہ چشمہ ہدایت نے تو یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی بزبان حال اپنی نسبت صائب کا یہ شعر پڑھتے ہیں۔
یعنی آئندہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے کام اور ان کی خوبیاں بیان کر کے یہ لکھا ہے کہ میں ان کاموں کے لیے مستعد ہوا ہوں اگر میں نے یہ کام کر کے نہ دکھائے اور جو خوبیاں مسیح موعود میں ہونا چاہیں وہ مجھ میں نہ پائی گئیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس کا حاصل یہی ہوا کہ کسی کے مان لینے سے مسیح موعود نہیں ہو سکتا اس میں خود وہ خوبیاں ہونا چاہئیں جو مسیح موعود کے لیے مخصوص ہیں سچ ہے۔
بہت دردمندان اسلام اس سے واقف ہوں گے کہ اس نازک وقت میں ہمارے
١
پاک مذہب اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنی گمراہی اور بددینی پھیلا کر اسلام کو مٹانا چاہتا ہے ان سب میں اس وقت بڑا دشمن ہندوستان میں مرزائی قادیانی گروہ ہے اس گروہ کی اصلاح اور اسلام کی حمایت میں خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے بہت رسالے نکلے ہیں جن سے بہت کچھ فائدہ ہوا اور مرزائیوں کا تمام گروہ ان کے جواب سے عاجز ہے سب سے اوّل رسالہ اس مبارک خانقاہ سے فیصلہ آسمانی نکلا ہے اس کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مرزا قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کو ایسا پامال کر کے ان کو ایسا جھوٹا ثابت کر دیا ہے کہ ان کا شمار کسی معمولی نیک آدمیوں میں بھی نہیں ہو سکتا مجدد اور ملہم اور نبی ہونا تو بہت بڑی بات ہے۔ خیال کرنے کی بات ہے کہ یہ رسالہ ایک سو بارہ صفحہ کا ہے جو ١٩١٧ء میں دہلی میں چھپا ہے اس کے صفحہ انتالیس تک مرزا قادیانی کے بائیس جھوٹ گنائے ہیں اور بقیہ اکاذیب کو ناظرین کے شمار پر چھوڑ دیا ہے مگر اب کئی برس ہو گئے کسی پرانے اور نئے مرزائی نے اس کا جواب تک نہیں دیا اور مرزا قادیانی کو سچا ثابت نہیں کر سکے۔ دوسرے حصے میں مرزا قادیانی کے متعدد اقوال سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے اس کے جواب میں عبدالماجد قادیانی نے قادیانی خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کی تائید سے کچھ قلم فرسائی کی تھی ان کی ایسی خبر لی گئی کہ پھر بالکل دم بخود ہو گئے۔ ایک رسالہ اس کے جواب میں انہیں کے ایک مسلمان عزیز نے لکھا جس کا نام ”محکمات ربانی“ ہے اسے ہر ایک سمجھدار دیکھ کر مرزائیوں کی صداقت اور دیانت کا اندازہ کر سکتا ہے کہ مشہور قادیانی مربی ہو کر کیسی کیسی بددیانتیاں اور غلطیاں کی ہیں۔ دوسرا رسالہ ”انوار ایمانی“ اس کے جواب میں لکھا گیا ہے اس میں بھی ان کی غلطیاں اور بددیانتیاں دکھائی ہیں صحیفہ محمدیہ کے نمبر دس و گیارہ و بارہ میں کس قدر ان کی کذابی اور بددیانتی دکھائی ہے مگر کسی کا تو وہ جواب نہیں دے سکے
فیصلہ آسمانی کا تیسرا حصہ اب دوسری مرتبہ دہلی میں ایک سو ستر صفحوں پر چھپا ہے اس کے جواب میں بھی اب تک کسی نے قلم نہیں اٹھایا اور نہ کوئی اٹھا سکتا ہے۔ ایک رسالہ دوسری شہادت آسمانی ہے جس میں نہایت تحقیق سے مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کو خاک میں ملایا ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹ اور فریب پورے طور سے دکھائے ہیں، غرض ان باتوں کا جواب کوئی نہیں دے سکا اور اب کسی کو دعویٰ ہو تو سامنے آئے اور جواب دے مگر ہم بالیقین کہتے ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا اگرچہ یہاں سے قادیان تک کے سارے قادیانی مربی جمع ہو جائیں۔ مگر حیرت ہے کہ مرزا کو نبی مان رہے ہیں ان کے علاوہ اور بہت سے رسائل لکھے گئے۔ اس سال
٢
٣٧ء میں نہایت نادر رسالہ چشمہ ہدایت مشتہر ہوا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے اٹھارہ اقرار نقل کیے ہیں جنہیں دیکھ کر ہر ایک ذی علم اور جاہل سے جاہل مرزا قادیانی کو جھوٹا یقین کرے گا اور علاوہ ان اقراروں کے محققانہ طور پر بھی ان کو جھوٹا ثابت کیا ہے اس وقت تک کسی مرزائی نے اس کے جواب میں دم نہیں مارا۔ مگر قادیانی چونکہ ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ ٥“ کے مصداق ہو گئے ہیں اس لیے ایسے اعلانیہ جھوٹے سے علیحدہ بھی نہیں ہوتے۔ البتہ ایک ناشائستہ جدید مرزائی شکار حرص وطمع نے اسے دیکھا اور دیکھ کر تمام اصلی باتوں کے جواب سے عاجز رہ کر پانچویں اقرار کی ایک زائد اور فضول بات پر زور لگایا ہے اور اسے غلط ثابت کرنا چاہا ہے اور یہ ایسی بات ہے کہ اگر اسے ہم غلط ہی مان لیں تب بھی مرزا قادیانی پر جو الزامات ہیں ان میں سے ایک الزام کا بھی جواب نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی جتنے اقراروں سے جھوٹے ثابت کئے گئے ہیں وہ بدستور قائم ہیں۔ اب اس ناشائستہ شکار سے دریافت کیا جائے کہ تیری انیس باتیں باتوں سے کیا نتیجہ ہوا؟
جس طرح ہم حیات وممات کی بحث کی نسبت کہتے ہیں کہ حضرت مسیح مر گئے یا زندہ ہیں ہم کو اس سے کچھ بحث نہیں ہے۔ مرزا قادیانی ہر طرح جھوٹے ہیں حضرت مسیح زندہ ہوں یا مردہ ہو گئے۔ اسی طرح ہم یہاں بھی کہتے ہیں کہ مؤلف رسالہ ”چشمہ ہدایت“ سے بالفرض اگر کوئی غلطی ہو گئی اور ایک نہیں ایک سو غلطیاں ہو گئیں تو کیا حرج ہے، کیونکہ انہیں معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں ان غلطیوں کے ہو جانے سے مرزا قادیانی سچے نہیں ہو سکتے وہ باتیں دکھاؤ جن سے مرزا قادیانی سچے ہوں، مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا تو قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے احادیث صحیحہ سے، ان کے اقوال سے، ان کے اعلانیہ فریبوں سے، ان کے پختہ اقراروں سے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھا دیا گیا ہے، وہ رسالے جن میں یہ سب باتیں لکھی گئی ہیں دنیا میں مشتہر ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ ناشائستہ شکار جدید مرزائی ان باتوں کا جواب دیں۔ اسی چشمہ ہدایت کے آخر میں دس ہزار کا چیلنج دیا گیا ہے آپ پیٹ بھرنے کے لیے مرزائی ہوئے ہیں تو وہ دس ہزار کیوں نہیں حاصل کرتے مگر کیا کریں عاجز ہیں اگر کچھ انہیں علم ہے اور تواریخ پر نظر بھی ہو گی تو اپنے دل میں جانتے ہوں گے کہ مرزا کے مثل کوئی ایسا جھوٹا نہیں گزرا جس کا اتنا جھوٹ اس کے اقراروں سے ثابت ہوا ہو۔
اب تمام ہمدردان اسلام اور بالخصوص پیروان مسیح قادیان سے التماس ہے اور ان میں خاص ایڈیٹر الفضل اور ان کے ناشائستہ شکار مضمون نگار سے عرض رسا ہوں کہ آپ بنظر غور و
٣
انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ جناب مؤلف چشمہ ہدایت نے اس چودہویں صدی کے مسیح کاذب کے جھوٹے ہونے کے دلائل صراحتاً اور اشارۃً کس قدر بیان فرمائے ہیں انہیں شمار کیجئے۔
مسیح قادیان کے جھوٹے ہونے کی مقبولہ دلیلیں
جناب مؤلف چشمہ ہدایت نے صفحہ ٤ سے ٧ تک ٣٦ رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں مختلف اور متعدد طریقوں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا نہایت محققانہ طریقہ سے ثابت کیا گیا ہے اور اس وقت تک کوئی مرزائی ان کا جواب نہیں دے سکا اب ہم ان رسالوں کی متعدد دلیلوں سے قطع نظر کر کے ہر ایک رسالہ کو ایک ایک دلیل مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی قرار دے کر مجموعہ رسائل کو چھتیس دلیلیں ٹھہراتے ہیں اس میں تو کسی مرزائی اور خصوصاً ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار کو جائے دم زدن نہیں ہو سکتی۔ اب وہ دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی کے کذابی کی دلیلوں کا شمار ایک مہینہ کے دنوں سے زائد تو صفحہ ٧ تک ہو گیا اب آگے چلئے اور آنکھیں کھول کر دیکھئے۔
صفحہ ٨ میں ایام صلح سے ایک قول نقل کیا ہے جس میں مرزا قادیانی مسیح موعود کے وقت کی تین علامتیں بیان کرتے ہیں (٣٧۔٣٨۔٣٩) (١) اسلام دنیا پر پھیل جائے گا۔ (٢) ادیان باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ (٣) راست بازی ترقی کرے گی۔ ” نہایت روشن ہو رہا ہے کہ مسیح قادیان کو خروج کیے یا نزول کیے دو قرن سے زائد ہو گئے مگر ان علامتوں کا نشان بھی نہیں پایا گیا بلکہ نہایت ظاہر طور سے ہر ایک علامت کے خلاف ظہور ہو رہا ہے اسلامی حالت دیکھ لیجئے اور ادیان باطلہ کی ترقی کا مشاہدہ کر لیجئے۔ جھوٹ اور فریب کی ترقی اظہر من الشمس ہے۔ اس لیے یہ تین علامتیں مرزا قادیانی کے کذب کے لیے ان کے تین اقرار ہوئے (٤٠۔٤١) (براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣) (تلخیص) میں مسیح موعود کی علامت بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے دین اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور آیت ”هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ“ (الخ) کو اس کی دلیل کہتے ہیں۔ یعنی یہ آیت انہیں کی شان میں ہے اس علامت کا شائبہ بھی ظہور میں نہ آیا بلکہ مرزا قادیانی کے ظہور کی شومی سے بالکل برعکس معاملہ ہو رہا ہے، اس قول سے دو طرح مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے ایک ان کے وقت میں وہ علامت نہ پائی گئی جو انہوں نے خود بیان کی تھی، دوسرے یہ کہ آیت مذکورہ ان کے لیے نہیں ہے کیونکہ اس کے مضمون کا ظہور ان کے وقت میں نہیں ہوا۔ دیکھو (٤٢۔٤٣) (چشمہ معرفت ص ٨٣ خزائن ج ٢٣ ص ٩١) (تلخیص) میں مسیح موعود کی
٤
علامت یہی بیان کرتے ہیں کہ تمام قومیں ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گی اور دین اسلام کو ایک عالمگیر غلبہ اس کے ذریعہ سے ہو گا مگر اس کا جھوٹا ہونا بھی بخوبی ظاہر ہو گیا، خصوصاً اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی نے دنیا کو گویا اسلام سے خالی کر دیا کیونکہ چند اپنے ماننے والوں کے علاوہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا اور کسی کافر کو مسلمان نہیں بنایا (حقیقۃ الوحی ملاحظہ ہو) اس لیے دو طرح سے جھوٹے ہوئے ایک یہ کہ جو علامت مسیح موعود کی انہوں نے بیان کی تھی وہ ان میں نہ پائی گئی دوسرے یہ کہ اس کے برعکس پایا گیا۔ یعنی کفر کی ترقی ان کی وجہ سے ہو گئی۔
(٤٤۔٤٥۔٤٦) ضمیمہ انجام آتھم میں اپنی صداقت کے ثبوت میں چار باتیں پیش کرتے ہیں (١) میرے ذریعہ سے ادیان باطلہ کا مرجانا۔ (٢) اسلام کا بول بالا ہونا۔ اور ہر ایک طرف سے لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا۔ (٣) اور عیسائیت کے باطل معبود کا فنا ہو جانا یعنی نیست و نابود ہو جانا۔
ان تینوں باتوں کا سات برس کے اندر ہو جانے کو کہتے ہیں اور پھر اس میں خدا کی قسم کھا کر لکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہو تو میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔ ان کا یہ قول ١٨٩٧ء میں ہے اس کے بعد گیارہ بارہ برس تک زندہ رہے مگر ان باتوں میں سے ایک کا بھی ظہور نہ ہوا اور اپنے تئیں دعوؤں کے لحاظ سے اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹے ہوئے اور اگر یہ کہا جائے کہ مسلمانوں نے ان کی بات کو نہیں مانا تو اس سے خدائی پیشین گوئی غلط نہیں ہو سکتی چنانچہ مرزا قادیانی کا یہ قول اس سے قبل نقل ہو چکا ہے حاشیہ صفحہ ١١ چشمہ ہدایت دیکھو اب ایڈیٹر صاحب اور ناشائستہ مضمون نگار ملاحظہ کریں کہ آپ کے مرشد کے جھوٹے ہونے کی دلیلوں کا شمار ڈیڑھ مہینے کے دنوں کے شمار سے تو زیادہ ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی کا وہ اقرار جس کے تتمہ سے مضمون نگار کو عوام کے فریب دینے کا موقع ملا ہے۔ چشمہ ہدایت میں جو پانچواں اقرار لکھا گیا ہے اس کی ابتدا مرزا قادیانی کی اعجازی تحریر سے ہے ١٩٠٢ء میں (اعجاز احمدی خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں اپنی نسبت الہام الٰہی لکھتے ہیں ”اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا..... اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ”هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ“ o یہاں کسر صلیب کو مرزا قادیانی نے جلی قلم سے لکھا ہے اس الہام میں تو کسر صلیب کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس کے بعد ١٩٠٦ء میں اس کام پر مستعد ہونے کی خبر دیتے ہیں اور (اخبار البدر ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٤ مطبوعہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء) میں لکھتے ہیں۔ ”میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں
٥
کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ میرے انجام کو نہیں دیکھتی، اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
ناظرین راستباز عموماً اور ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ جدید مرزائی خصوصاً اس پر اچھی طرح نظر کریں کہ مرزا قادیانی بزبان حال یہاں یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ بیوقوفوں کے مان لینے سے کوئی مسیح موعود نہیں ہوسکتا بلکہ اس مدعی کی ذات میں وہ کمالات ہونا چاہیں جو مسیح موعود کے لیے مخصوص ہیں مرزا قادیانی اس قول میں مسیح موعود کے تین کام بیان کرتے ہیں اور ان کی تین علامتیں بتاتے ہیں۔ اوّل یہ کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دینا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں کوئی تثلیث پرست نہ رہے۔ دوسرا کام یہ کہ تثلیث کی جگہ توحید کو پھیلانا۔ تیسرا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی جلالت و شان کو ظاہر کرنا۔
مرزا قادیانی یہ کام مسیح موعود کے بیان کرتے ہیں اور اس کے مدعی ہیں کہ میں ان کاموں کے لیے مستعد ہوا ہوں اور انہیں کر کے دکھا دوں گا اور اگر یہ کام میں نہ کروں اور مسیح موعود کے آنے کی جو علت غائی ہے وہ ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ اور صرف اپنے کو جھوٹا ہی نہیں کہتے بلکہ اپنے جھوٹے ہونے پر دوسروں کو گواہ بناتے ہیں۔
ناظرین خوب خیال کریں کہ کس صفائی سے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ مجھ سے کروڑ نشان ظاہر ہوں اور یہ علامت نہ پائی جائے تو میں جھوٹا ہوں اور خوب خیال کیجئے کہ صرف اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے سب ماننے والوں کو اور سب کو اپنے جھوٹے ہونے کا گواہ قرار دیتے ہیں اور صاف طور سے کہتے ہیں کہ اگر یہ کچھ نہ ہوا۔ (یعنی مسیح موعود کا جو کام ہے وہ میں نے اپنی زندگی میں نہ کیا) اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔
اب یہ خیر خواہ اور تمام بہی خواہان امت مرزا قادیانی کے ماننے والوں سے اور بالخصوص ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار اور میاں روشن علی قادیانی سے نہایت اخلاص اور ادب سے یہ
٦
دریافت کرتا ہے کہ اپنے آپ ان کے ارشاد کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی کیوں نہیں دیتے؟ خدا کے لیے اپنی عاقبت کا خیال کر کے یہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ پرستی کے ستون کے توڑنے میں کچھ کام کیا ہے۔ دنیا میں کسی مقام پر اور کسی جگہ تثلیث پرستی میں کچھ کمی ہو گئی، مرزا قادیانی کی ذات سے کسی ملک میں کسی شہر میں کسی قریہ اور دیہات میں تثلیث کی جگہ توحید پھیلی؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کوئی نہیں دے سکتا کہ مرزا قادیانی سے یہ کام ہرگز نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کیونکہ اس کا تو معائنہ ہو رہا ہے اور تمام دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہر جگہ تثلیث پرستی کا زور ہے اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے خلیفہ دوم اپنے اخباروں میں اپنی تحریروں میں اہل تثلیث کی بہت تعریف کر رہے ہیں اور خوب خوشامدانہ باتیں بنا رہے ہیں۔ پھر بتائیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا شک رہا ہے؟ اب تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ انہیں جھوٹا نہ کہا جائے اور ان کے کہنے کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی نہ دی جائے یہاں تو مرزا قادیانی نے اپنے ان تمام نشانات کو بھی خاک میں ملا دیا جن کی تعداد تین لاکھ سے زائد بیان کی جاتی ہے۔ اب تو ایڈیٹر الفضل اور روشن علی قادیانی کو ان کے نشانات پیش کرنے کی مجال نہ رہی اور ہر طرح مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہو گئے اور ایک دلیل سے نہیں انچاس دلیلوں سے، پہلی دلیلوں کو اس قول کی تین دلیلوں سے ملا کر دیکھ لیجئے قول مذکور کی شرح چشمہ ہدایت کے صفحہ ١٩ سے ٢٨ تک ملاحظہ کر لیجئے۔
اب اگر رسالہ مذکور کی تین سطروں میں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اس سے مرزا قادیانی کی کذابی میں کوئی فرق نہیں آتا اور اس امر کا ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار کو بھی اقرار ہے کیونکہ ناشائستہ مضمون نگار نے مرزا قادیانی کے ان اقراروں کی نسبت دم بھی نہیں مارا جو اوپر نقل کیے گئے ہیں۔ میں مکرر کہتا ہوں آنکھیں کھولکر دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے اس قول میں مسیح موعود کے تین کام بیان کیے ہیں۔ اب بتائیے کہ ان میں سے کونسا کام مرزا قادیانی نے کیا؟
- ١.......... کیا تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دیا؟ اس کے جواب میں دنیا کے ایمان دار یہی کہیں گے
کہ ہرگز نہیں توڑا۔
- ٢.......... کیا مرزا قادیانی نے بجائے تثلیث کے توحید پھیلائی؟ اس کا جواب بھی ہر ایک جاننے
والا ایمان دار یہی کہے گا کہ ہرگز نہیں بلکہ نہایت ظاہر ہے کہ تثلیث کا شیوع ہو رہا ہے۔
- ٣.......... کیا مرزا قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کی عظمت وشان کو ظاہر کیا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔
نہایت ظاہر ہے کہ جب تثلیث پرستی کو ترقی ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ کی عظمت و
٧
شان ظاہر نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے وجود سے اور ان کے اقوال سے جناب رسول اللہ ﷺ کی نہایت تحقیر ہوئی دو وجہ سے ایک یہ کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں غلط ہوئیں تو انہوں نے خدا اور رسول پر ایسی باتیں لگائی ہیں کہ تمام مذہب درہم و برہم ہوتا ہے خدا اور رسول کی شان میں نہایت بٹا آتا ہے ان باتوں کا ذکر ایک خاص اعلان میں کیا گیا ہے اور چھپ کر مشتہر ہو چکا ہے اب دوبارہ مشتہر ہو رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے امت محمدیہ کو یعنی رسول اللہ ﷺ کے جان نثاروں کو جہنم کا مستحق بنا دیا یعنی یہ کہہ دیا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی ہے حضرت سرور انبیاء کی یہ کیسی کسر شان ہے کہ آپ کا ماننے والا اور آپ کا جان نثار دائمی جہنم کا مستحق ہو جائے یہ کہنا آپ کی سروری کو خاک میں ملا دینا ہے۔ کہو میاں روشن علی قادیانی ان باتوں کا کوئی جواب ہو سکتا ہے ذرا ہوش کر کے جواب دو۔ کیا آپ تذکرہ یونس علیہ السلام پر تنقید کرنا چاہتے ہیں۔
میاں روشن علی اندھیر نہ مچائیے مرزا قادیانی کی کذابی کی دلیلوں کا جواب دیجئے۔ آپ تذکرہ یونس پر کیا تنقید کریں گے آپ کی کیا مجال ہے۔ تذکرہ یونس میں جو کچھ لکھا ہے وہ لاجواب بات ہے کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے جابجا یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب کے آنے کی قطعی الہامی پیشینگوئی کی تھی اور وہ پوری نہ ہوئی یہ محض غلط اور مرزا قادیانی کا صریح جھوٹ ہے اس کا ثبوت نہ قرآن شریف سے ہے نہ حدیث صحیحہ سے اگر آپ کو صداقت کا دعویٰ ہے تو ثبوت پیش کیجئے فضول باتیں بنا کر عوام کو فریب نہ دیجئے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی الہامی پیشین گوئی ایسی نہیں کہ جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اس جھوٹ کے علاوہ ہم نے مرزا قادیانی کے بہت جھوٹ ثابت کر دیئے ہیں۔ ایسا جھوٹا کوئی مجدد اور بزرگ بھی نہیں ہو سکتا اور نبوت کی تو بڑی شان ہے اور مرزائی جھوٹوں کے جواب میں یہ کہہ دینا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے تھے محض جہالت یا فریب ہے۔ جس روایت سے حضرت ابراہیم کا جھوٹ ثابت کیا جاتا ہے وہ روایت صحیح نہیں ہے تفسیر کبیر ج ٦ دیکھئے اس کے علاوہ وہ روایت قرآن شریف کے صریح خلاف ہے اور یہ بات مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مسلم ہے جو روایت قرآن شریف کے خلاف ہو وہ صحیح نہیں قرآن شریف میں حضرت ابراہیم کی نسبت نہایت صاف طور سے مذکور ہے كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا O (مریم ٤١) یعنی ابراہیم نہایت سچے نبی تھے۔ صدیق اسی کو کہتے ہیں جو ہمیشہ سچ بولے مرزا قادیانی کے جھوٹوں کی تو انتہا نہیں ہے پھر ان کو نبوت سے کیا واسطہ وَاللّٰهُ يَهْدِى مَنْ يَّشَاءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْم.
٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٢٠)
حضرت مولانا محمد اسحق مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ە
اثر مباہلہ مولوی عبدالحق غزنوی
نعت احمد را کہ فخر انبیاء است
مرزائی گروہ کو جب سے شہر مونگیر صوبہ بہار کے مناظرہ میں شکست فاش ہوئی ہے اس وقت سے انہیں مناظرہ کی ہمت نہیں رہی۔ یہ وہ شاندار مناظرہ تھا جس میں قادیان کے مخصوص مربی اور بھاگلپور کے مرزائی صدر مناظر تھے اور جنہیں جلسہ میں اقراری شکست ہوئی تھی اس کے بعد خانقاہ رحمانی مونگیر سے لاجواب رسائل رد قادیانی کی بھر مار ہوئی اور جناب مرزا قادیانی کے دجل و فریب سے ان کے مخصوص حضرات واقف ہوئے تو ان کے خلیفہ کو خوف ہوا کہ یہ رسائل حقانی اگر ہماری جماعت فریب خوردہ دیکھے گی۔ تو بالضرور ہمارے مرشد عیار کے فریبوں سے واقف ہو کر ہم سے علیحدہ ہو جائے گی اور ہماری عزت اور روزی دونوں میں خلل آ جائے گا۔ اس لیے اپنی جماعت فریب خوردہ کو قطعی حکم دیا کہ ان رسالوں کو کوئی نہ دیکھے۔ ورنہ ایمان جاتا رہے گا اب ہم قادیانی جماعت سے محبانہ دریافت کرتے ہیں کہ بنظر متعصبانہ قادیانی خلیفہ کے اس حکم
٢
پر غور فرما کر اس کا فیصلہ فرمائیں کہ اس حکم نے یہ ثابت کر دیا یا نہیں کہ مذہب قادیان ایسا ضعیف اور کمزور ہے کہ ان حقانی رسائل کے دیکھنے کے بعد قادیانی مذہب کا جھوٹا ہونا پوشیدہ نہیں رہ سکتا، آپ کا دلی انصاف اور آپ کا ضمیر بالضرور یہی کہے گا کہ بلاشبہ یہ حکم ان کی کمزوری اور واقف ہو کر ایک کذاب کی پیروی کو آشکارا کر رہا ہے اس کے علاوہ پہلے علمائے دیوبند اس گروہ کو بے حقیقت سمجھ کر اس کی طرف مطلقاً توجہ نہیں کرتے تھے اس بنا پر بعض جاہل قادیانیوں کو خیال ہوا کہ یہ علمائے حقانی ہمارے مقابلہ سے عاجز ہیں اس خام خیالی میں آکر انہوں نے اشتہار دیا کہ علماء دیوبند ہم سے مباہلہ کریں گے۔
اس اعلان پر حضرات دیوبند میں کچھ جوش پیدا ہوا اور مناظرہ اور مباہلہ پر مستعد ہو گئے اور تحریری طریقہ پر جواب دینا شروع کر دیا اور بڑے بڑے اشتہاروں کے ذریعہ عالمانہ اور محققانہ جواب لکھ کر شائع کرائے۔ جو دس گیارہ نمبر تک نکالے گئے مگر مرزائی جماعت چونکہ اپنے مرشد سے جھوٹ اور فریب کی تعلیم یافتہ ہے اس لیے وہ حقانی گروہ جو جھوٹ اور فریب کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا انہوں نے سکوت اختیار کیا اور ایڈیٹر الفضل نے اپنا اشتہار نمبر ١١ خانقاہ رحمانی مونگیر میں فخریہ بھیجا چونکہ ان اشتہاروں کی بنیاد مباہلہ پر تھی اور ان کا اوّل اشتہار مباہلہ کے طلب میں چھپا تھا اس لیے خانقاہ رحمانی سے صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٨ جس کا نام چیلنج محمدیہ ہے اور اس میں مرزا قادیانی کے نہایت صاف و صریح سات اقرار لکھے گئے ہیں جن سے وہ یقینی جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ثابت ہوتے ہیں، مدیر الفضل اور خلیفہ قادیان کے پاس بھیجا گیا اور اس کے لوح پر صرف اس قدر لکھ دیا گیا کہ اشتہار آپ کا پہنچا۔ مگر یہ فرمائیے کہ جو مدعی اپنے پختہ اقراروں سے خود جھوٹا ثابت ہو چکا ہے جیسا کہ اس رسالے میں دکھائے گئے ہیں اس کی صداقت پر مباہلہ کرنا کسی صاحب عقل کا کام ہو سکتا ہے یہ ہرگز نہیں۔ اس کا کچھ جواب نہیں آیا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہی اشتہار مدیر الفضل نے پھر بھیجا مگر اس کے حاشیہ پر اس قدر لکھ دیا کہ مباہلہ تو آخری فیصلہ ہے اور حضرت مجدد صاحب کا حوالہ دے دیا۔ اس مہمل جواب کے اظہار میں جو تحریر لکھ کر بھیجی گئی وہ ذیل میں مرقوم ہے البتہ اس میں کچھ اضافہ اور پہلی تحریر سے کچھ تغیر ہو گیا ہے مگر اس کا یقین ہے کہ اگر تمام قادیان کی جماعت مل کر اس کا جواب دینا چاہے۔ تو نہیں دے سکتی اور ہرگز نہیں دے سکتی۔ کیونکہ نہ انہیں علم سے کچھ واسطہ ہے اور نہ حق طلبی کی ان میں بو ہے ان دونوں باتوں کا ثبوت ان کے مختصر جواب سے ظاہر ہے کیونکہ انہیں اب تک مباہلہ کی حقیقت ہی نہیں معلوم اور زبردستی اور ناحق کوشی کا یہ حال ہے کہ ہم
٣
مرزا قادیانی کے اقراری کذب پر ستاون دلیلوں سے زیادہ انہیں دکھا رہے ہیں۔ مگر ایک کا بھی جواب نہیں دیتے اور جہلاء کے فریب دینے کو صرف یہ لکھ دیا کہ مباہلہ آخری فیصلہ ہے اس کا جواب ملاحظہ ہو۔
ایڈیٹر الفضل قادیان
اگر مباہلہ کو آپ کے لکھنے کے بموجب یقینی حجت شرعی و قطعی فیصلہ امت محمدیہ کے لیے مان لیا جائے تو اسی وقت یہ فیصلہ قرار پائے گا۔ جس وقت اس مدعی کے کذب پر کوئی دلیل نہ قائم ہوئی ہو اور جب ہم اس کے یقینی کذب پر آپ کے روبرو ستاون دلیلیں پیش کر چکے ہیں اور دو رسالے ایک چیلنج محمدیہ دوسرا چشمہ ہدایت کی صداقت آپ کے پاس بھیج چکے ہیں جن میں مرزا قادیانی کے ستاون وہ قول نقل کئے گئے ہیں۔ جن سے وہ خود یقینی کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے عقلاً اور شرعاً اور بفحوائے ”اَلْمَرْءُ يُؤْخَذُ بِإِقْرَارِهِ“ وہ قطعاً جھوٹے ثابت ہوئے اس میں کسی طرح چون و چرا کی گنجائش نہیں ہے اس کے بعد کون صاحب عقل مباہلہ کو ایسے یقینی کاذب کے لیے آخری فیصلہ اس کی صداقت کا اقرار دے گا؟ برائے خدا اپنے مرشد کے اس قول کو ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی نسبت متعدد طور سے پیشین گوئی کر کے مختلف طور سے اپنا وثوق و اعتماد اس پر ظاہر کیا ہے اور یقینی طور سے اس کو الہام الٰہی اور وعدۂ خداوندی فرمایا ہے آخر میں سب سے زیادہ وثوق اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ اگر یہ پیشینگوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا، کسی انسان کا افتراء نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہ خدا جس کی باتیں نہیں بدلتیں“ پورے الفاظ چیلنج محمدیہ میں (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) نقل کیے گئے ہیں۔ انہیں دیکھئے جب یہ پیشینگوئی پوری نہ ہوئی جسے انہوں نے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے تو اب کیا وجہ ہے کہ ان کو ہر بد سے بدتر نہ مانا جائے خصوصاً اس وجہ سے کہ خدا کو جھوٹا اور سخت وعدہ خلاف ثابت کر رہے ہیں جب ایسا زبردست قول انہیں ہر بد سے بدتر ثابت کر رہا ہے کیا سبب ہے کہ انہیں اس کا مصداق نہ قرار دیا جائے اور امر حق کو پوشیدہ کرنے کے لیے مباہلہ کا حیلہ پیش کیا جائے۔ خصوصاً جبکہ ان کی نہایت عظیم الشان پیشینگوئی کے جھوٹے ہو جانے سے توریت مقدس و قرآن مجید نے انہیں جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ فیصلہ آسمانی میں اس کا ثبوت کامل طور سے دیا گیا ہے اور اگر با ایں ہمہ مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے تو نعوذ باللہ خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف اور نہایت
فریب دہندہ ماننا ہوگا اور شریعت الہی کے جتنے وعدے اور وعیدیں ہیں۔ ان سب کو غیر معتبر کہنا پڑے گا (اس کی تصدیق توضیح المرام کے صفحہ ٨ میں ملاحظہ ہو) کیونکہ مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ با ایں ہمہ وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔ باوجود یکہ وہ قادر مطلق برسوں وعدہ کرتا رہا۔ اس سے اس کا صرف جھوٹا ہی ہونا ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کا وعدہ خلاف ہونا اور اپنے نبی کو فریب دینا اور دنیا پر اس کا جھوٹا ہونا ظاہر کر دیا۔ اتنے الزام خدا پر آتے ہیں تو ایسے خدا کے نبی بھی جیسے ہوں گے وہ معلوم ہے۔
اب نہایت تعجب ہے کہ ایسے خدا کے مصنوعی نبی کی صداقت پر مباہلہ کیا جائے اور اس کو آخری فیصلہ کہا جائے دنیا میں کوئی صاحب عقل اس کا قائل نہیں ہو سکتا، ذرا ہوش کر کے اس کا جواب دیجئے میں نے شروع میں آپ کے قول کو فرضی طور پر مان کر یہ لکھا ورنہ آپ کا قول ماننے کے لائق نہیں ہے کیونکہ امت محمدیہ میں مباہلہ کی نسبت اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ مباہلہ جناب رسول اللہ ﷺ سے مخصوص تھا چنانچہ تفسیر بحر محیط کی جلد ثانی میں آیت مباہلہ کے بیان پر لکھا ہے کہ ”قال الشعبیؒ ویدل علیٰ ان ذالک مختص بالنبی ﷺ“ بعض اس میں شرطیں لگاتے ہیں چنانچہ تفسیر جمل میں علامہ شیخ سلیمان لکھتے ہیں ”وقع البحث عند شیخنا العلامۃ الدوانی قدس سرہ فی جواز المباہلہ مابعد النبی ﷺ فکتب رسالۃ فی شروطھا المستنبط من الکتاب والسنۃ والآثار وکلام الائمۃ“ اور اس عبارت کو تفسیر فتح البیان میں بھی نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی اور دلیل سے اس کا فیصلہ نہ ہوتا ہو اور بعض اس کے ظہور اثر کے لیے یہ قید لگاتے ہیں کہ سال ڈیڑھ سال کے اندر ہوتا ہے اور آپ کی جماعت تو یہ غضب کرتی ہے کہ اثر کو متعین نہیں کرتی، یہ دو باتیں بھی مباہلہ کو بیکار کر دیتی ہیں کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے اور ہر ایک حق پسند اس کی شہادت دے سکتا ہے کہ دنیا میں بہت ہی کم ایسے اشخاص ہوں گے جو اس مدت کے اندر کم و بیش کسی تکلیف یا کسی مصیبت یا کسی بیماری سے محفوظ رہتے ہوں۔ یا بغیر مباہلہ اس مدت کے اندر کوئی مرتا نہ ہو جب یہ بات ہے تو پھر مباہلہ کرنے والے پر اگر کوئی مصیبت یا بلا آئی یا وہ مر ہی گیا تو اس کو بالیقین اثر مباہلہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی، ان باتوں سے ظاہر ہے امت محمدیہ کا مباہلہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہے اگر یقینی حجت شرعی ہوتا تو اختلاف نہ ہوتا اور اپنے قیاس اور گمان سے اس میں شرطیں زائد نہ کی جاتی اور اس کے اثر کو غیر متعین نہ رکھا جاتا یہاں تک مباہلہ کے بیکار ہونے کی دو وجہ تو بیان ہو گئیں جو ٢٠ رجب المرجب
٥
١٣٣٨ھ کو ایڈیٹر الفضل کے پاس جوابی رجسٹری کرا کے بھیجی گئی ہیں اب تیسری نہایت زبردست وجہ پیش کی جاتی ہے جس سے آپ کے خیال کے موافق مباہلہ کو آخری فیصلہ مان کر اور ان کی اقراری ڈگریوں سے چشم پوشی کر کے آپ کے مرشد کو مباہلہ سے جھوٹا ثابت کیا جاتا ہے ملاحظہ ہو۔
مولوی عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کا اثر
بڑی وجہ مرزائی قادیانیوں کے مباہلہ کے بیکار ہونے کی یہ ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے مرزا قادیانی سے مباہلہ کیا تھا اور پندرہ مہینہ کے بعد ١٣١٢ھ میں مطابق ١٨٩٥ء کے اس کے اثر کا اشتہار دیا تھا جس کا عنوان یہ ہے۔
اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی
اس کے بعد عربی کا ایک شعر لکھ کر اس طرح شروع کرتے ہیں۔ کیوں مرزا جی مباہلہ کی لعنت اچھی طرح پڑ گئی یا کچھ کسر ہے۔ اس کے بعد چار پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اس میں چوتھی پیشینگوئی (حجۃ اللہ خزائن ج٦ ص٤٩) سے نقل کرتے ہیں۔
”پس جبکہ یہ بات ہے تو میری سچائی کے لیے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں۔“
اس قول میں مرزا قادیانی دو باتیں کہتے ہیں ایک یہ کہ میرے مباہلہ کا اثر مخالف پر ایک سال کے اندر ظاہر ہوگا اس سے زیادہ مدت نہ ہوگی‘ دوسری بات یہ کہ اگر اس مدت میں مخالف پر بڑا اثر نہ ہو تو میں جھوٹا اور موت کی سزا کے لائق ہوں۔ اس کے لیے مدت متعین نہیں کی‘ مرزا قادیانی کے اس قول کے بعد مولوی صاحب لکھتے ہیں۔
”اب مسلمانوں کو عموماً اور مرزائیوں کو خصوصاً قسم دیتا ہوں کہ میرے اور مرزا کے حال کو دیکھ کر تم خود اندازہ کرلو کہ مباہلہ کو پندرہ ماہ گزر گئے۔ اب میرے پر تاثیر مباہلہ کی پڑی یا مرزا پر‘ میں نے تو جب سے مباہلہ کیا اللہ عزوجل نے مجھ کو آباد کیا اور زوجہ صالحہ عنایت کی اب اولاد صالح کا امیدوار ہوں‘ آگے میں ہمیشہ بیمار رہتا تھا اب کے سال اللہ کے فضل سے میرے بدن پر پھوڑا پھنسی تک نہیں اور وہ باطنی نعمتیں اور فتوحات جو اللہ عزوجل نے اس عاجز پر کی ہیں نہ بیان کرتا ہوں اور نہ مناسب جانتا ہوں‘ اور مرزا کا حال تو ظاہر ہے اور اسکے مریدوں کا یہ حال ہے (کہ تین
٦
خاص مرید مرزا کے اسی عرصہ میں عیسائی ہو گئے۔ ایک کا نام اسمعیل‘ دوسرے کا یوسف خاں تیسرے کا نام محمد سعید‘ اب اہل انصاف دونوں صاحبوں کے قولوں کو ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی اپنے مخالف پر سال بھر کے اندر اثر مباہلہ کے ظہور کو بیان کرتے ہیں یعنی اس مدت میں لعنت کا ظہور اس پر ہو گا ان کے مخالف مولوی صاحب مباہلہ کا عمدہ اثر ڈیڑھ سال کے بعد خدا کے متعدد انعامات بیان کرتے ہیں۔ ایک انعام یہ کہ پہلے ان کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ مباہلہ کے بعد ان کی شادی ہو گئی یہ وہ بڑا انعام الٰہی ہے جسے خاص و عام سب شادی کہتے ہیں دوسرا انعام یہ ہے کہ نیک بیوی ملی تیسرا انعام یہ ہے کہ بہت تھوڑے عرصہ میں وہ بیوی حاملہ ہوئی اور اولاد کی امید ہوئی۔ اس کے بعد اولاد ہوئی یا نہیں ہوئی۔ اس کا ہم کو علم نہیں ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ جس مدت میں لعنت کا اثر مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب پڑنا چاہیے تھا اس مدت میں کوئی برا اثر نہیں پڑا بلکہ یہ خوشی کی امید ہوئی چوتھا انعام یہ ہے کہ پہلے بیمار رہتے تھے مباہلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے صحت عنایت کی پانچویں باطنی متعدد نعمتوں کا اجمالی اظہار کرتے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مباہلہ کا برا اثر اور لعنت کا ظہور ان پر نہیں ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی پر متعدد اثر ہوئے‘ ایک یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعووں کی صداقت ثابت کرنے کے لیے اپنے مخالف سے مباہلہ کیا مگر ان کی لعنت کا اثر مخالف پر کچھ نہ ہوا بلکہ انہیں پر ہوا اور متعدد طریق سے ہوا‘ ایک یہ کہ اپنے اقرار سے اپنے متعدد دعووں میں جھوٹے ہوئے کیونکہ صاف لکھتے ہیں کہ ”میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو“ مباہلہ کے بعد نشان کا ظہور یہی ہے کہ مخالف پر لعنت کا اثر اعلانیہ طور سے ظاہر ہو یہی مرزا کی بددعا ہے اس کا ظہور مولوی صاحب پر ہونا چاہیے تھا مگر نہیں ہوا بلکہ مرزا قادیانی پر ہوا اور وہ اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے مولوی صاحب کے اشتہار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصہ میں تین پیشینگوئیاں مرزا قادیانی کی اور بھی جھوٹی ہوئیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توریت مقدس نے اور قرآن مجید نے تین مرتبہ مرزا کے جھوٹے ہونے پر گواہی دی کیونکہ دونوں کلام الٰہی یہ شہادت دیتے ہیں کہ جس مدعی کی ایک پیشینگوئی بھی جھوٹی ہو تو وہ جھوٹا ہے اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں دیکھئے‘ حضرات مرزائیان آنکھیں کھول کر اس اعلانیہ بیان کو ملاحظہ کریں کہ کس خوبی سے مرزا قادیانی پر لعنت کا اثر ظاہر ہوا اور مرزا قادیانی مولوی عبدالحق صاحب کے مباہلہ سے جھوٹے ثابت ہوئے اور ہزاروں اشتہارات ان کے کذب کے اظہار میں شائع ہو گئے پھر اب ان کے لیے مباہلہ بیکار اور تحصیل حاصل نہیں تو کیا ہے خدا کے لیے کوئی حق بات تو زبان سے فرمائیے مگر یہ آپ ٧
سے ہو نہیں سکتا کیونکہ مرزا کے اثر نے آپ کی راستبازی کو مٹا دیا ہے مرزا قادیانی مولوی صاحب کی یہ اعلانیہ صداقت اور کامیابی دیکھ کر حیران ہو گئے اور دو برس تک سوچتے رہے کہ اس جھوٹ کو کیونکر پوشیدہ کروں تیسرے برس یہ خیال کیا ہو گا کہ ان کا اشتہار ایک دو مرتبہ چھپ گیا اور صرف پنجاب کے بعض مقاموں میں شائع ہوا چند روز کے بعد اس کا پتہ بھی نہ رہے گا‘ اس لیے مخلوق کو فریب دیتے ہیں اور ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ١١ ص ٣٠٩ حاشیہ ) میں اپنے مخالف علماء کو بہت کچھ لعن طعن کر کے اور کمال بے تہذیبی کا جامہ پہن کر صفحہ ٢ میں لکھتے ہیں ۔ ” اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگرچہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو مگر جو صادق کے سامنے مباہلہ کے لیے آیا ہے کسی قدر تو بعد مباہلہ ایسے امور کا پایا جانا چاہیے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ مورخہ ٢٢ جنوری ١٨٩٧ء)
ناظرین : مرزا قادیانی کی اس بناوٹ پر غور فرمائیں۔ تحریر فرماتے ہیں کہ اگرچہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے (یعنی میری طرف سے ) کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہے۔ یہ قول مرزا قادیانی کا ہے‘ وہ بددعا کی نسبت اپنا واقعہ اپنی حالت تردد اور شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہے یہ کیسی ابلہ فریبی ہے‘ اے دشمن حق‘ مباہلہ تو اسی کو کہتے ہیں کہ طرفین سے جھوٹے پر لعنت کی جائے اور جب طرفین سے بددعا نہیں کی گئی ۔ تو مباہلہ ہی نہیں ہوا پھر یہ کہنا کہ عبدالحق سے مباہلہ ہوا۔ محض جھوٹ ہوا مگر بحمد اللہ کہ ابھی انہیں کے قول سے بددعا کرنا اور اپنے اقرار سے ان کا جھوٹا ہونا اور مولوی عبدالحق صاحب کا صادق ہونا ثابت کر دیا گیا ۔ اس اعلانیہ جھوٹ اور کذابی کے بعد جھوٹی باتیں بنانا اور اپنے نعمتوں کا اظہار کرنا ایسا ہی ہے۔ جیسا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بعض کفار و منکرین کی نسبت فرمایا ہے۔
یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے مختصراً سورہ والفجر ١٥۔١٦ میں ارشاد ”فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلٰهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض انسان کا امتحان اور اس کی آزمائش اس طرح کرتا ہے کہ اس کی عظمت ظاہر کرتا ہے اور اسے دنیاوی نعمتیں دیتا ہے اس سے وہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو اللہ نے مکرم اور معظم بنایا ہے اور جس کا امتحان تنگی معاش وغیرہ سے کیا گیا وہ سمجھتا ہے کہ میری اہانت کی‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے مقبول ہونے کی یہ علامت
٨
نہیں ہے کہ دنیا میں قورمہ پلاؤ کھائے اور روپیہ پیسہ بہت مل جائے جسے مرزا قادیانی مقبولیت کا نشان سمجھتے ہیں اور دنیا میں کچھ تنگ حالی سے گذارنا اہانت سمجھتے ہیں حالانکہ اکثر انبیاء کی زندگیاں تنگ حالی سے گذری ہیں۔ کہ ہم انہیں مہلت دیتے ہیں اور بہت کچھ انہیں راحت و آرام اور دولت دے کر انہیں بھول میں ڈالتے ہیں اور پھر ایک بارگی انہیں پکڑتے ہیں اسی کا نمونہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی پر دکھایا کہ بحمداللہ مخلوق پر پہلے ان کا کاذب ہونا اعلانیہ طور سے ثابت کردیا پھر ان کو ایسی نعمتیں دیں جن سے مرزا قادیانی اپنی ہلاکت اور کلام الٰہی کی شہادت کو بھول گئے اور اپنی سرکشی میں ترقی کر گئے آخر کار نہایت بری حالت اور ایسی ناگفتہ بہ صورت سے مرے کہ خاص مریدوں نے مرنے کے بعد ان کا چہرہ دکھانا روا نہیں رکھا اور غالباً اسی مباہلہ کے اثر سے ایسی موت ان کی ہوئی اور ان کے قول کے بموجب ہوئی۔ کیونکہ خود انہوں نے اپنے مباہلہ کا اثر یہ بیان کیا تھا کہ اگر ایک سال کے اندر میرا نشان ظاہر نہ ہو (یعنی میری لعنت کا اثر مخالف پر ظاہر نہ ہو) تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور موت کی سزا کے لائق ہوں وہی ہوا‘ اور اپنی زندگی کی نسبت جو پیشین گوئی کی تھی اس سے بہت پہلے خاک میں جاملے اس کی تفصیل شہادت آسمانی مطبوعہ مونگیر ١٣٣٣ھ کے آخری ورق پر کی گئی ہے شائقین حق ملاحظہ کریں۔
حاصل کلام : جناب خلیفہ قادیانی اور مدیر صاحبان کی خدمت میں پیش کر کے قبول حق یا جواب کا یہ خیر خواہ خواستگار ہے پہلے مختصر مضمون ٢٠ رجب المرجب کو بھیجا گیا تھا چھپنے کے وقت تک ایک مہینے سے زیادہ ہوا مگر جواب کا پتہ نہیں ہے اور ہمارا الہام یہ کہتا ہے کہ مرزائی جواب سے عاجز ہیں‘ اس تحریر سے مرزائی مباہلہ تین وجہ سے بیکار ثابت ہوا۔
پہلی وجہ ! مباہلہ اسی بات پر کیا جاتا ہے جس کا حق یا ناحق ہونا ثابت نہ کر دیا گیا ہو۔ اور جس کا کاذب اور ناحق پر ہونا متعدد دلیلوں سے اور مدعی کے پختہ اقراروں سے ثابت کر دیا گیا ہو جیسا کہ مرزا مسیح قادیان کا کاذب ہونا قرآن وحدیث کے علاوہ ان کے قسمیہ اور الہامی اقراروں سے ثابت کر کے وہ رسالے ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ قادیان کے پاس بھیج دیئے گئے۔ جن میں ستاون اقرار مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں دکھائے گئے ہیں پھر ایسے یقینی کذاب کی صداقت پر کون ایماندار فہمیدہ مباہلہ کر سکتا ہے اور اس کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔
دوسری وجہ ! یہ کہ امت محمدیہ میں مباہلہ سے ایسی یقینی بات ثابت نہیں ہو سکتی جس پر کفر واسلام
٩
موقوف ہو کہ اس کے ماننے سے مسلمان ہو جائے اور نہ ماننے سے کافر ٹھہرے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا، اس لیے مرزا قادیانی مدعی نبوت کے صدق و کذب پر مباہلہ کرنا محض فضول اور بیکار ہے۔ تیسری وجہ ! یہ کہ مرزا قادیانی نے مولانا عبدالحق صاحب سے مباہلہ کیا اور بدعا بھی اس میں کی مگر اس بددعا کا اثر مولانا صاحب پر کچھ نہیں پڑا بلکہ وہ اس معیاد میں نہایت خوش وخرم رہے تھے جس میں مرزا قادیانی نے اپنے لعنت پڑنے کا وقت بیان کیا تھا بلکہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے اور خس کم جہاں پاک کے مستحق ہوئے۔ والسلام علی من اتبع الهدی.
خیر خواہ ابو محمود محمد اسحاق رحمانی
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆...... مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆...... قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
- ☆...... مرزائیو میرے اس سوال کا جواب دو کہ 52 سال
جھوٹ بکنے والا مسیح موعود کیسے بن گیا؟۔
☆......☆......☆
١٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں
خاتم النبیین یعنی کلام الہی میں
ختم نبوت فی الاسلام کی بشارت
صحیفہ رحمانیہ
(٢١)
حضرت مولانا محمد اسحاق مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خاتم النبیین یعنی کلام الٰہی میں
ختم النبوۃ فی الاسلام کی بشارت
جس میں ختم نبوت کے دلائل اور مرزا قادیانی کے کذب کی روشن براہین دکھائی گئی ہیں طالبین حق ضرور ملاحظہ کریں۔
اس کی مختصر توضیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سرور انبیاء علیہم السلام کی وہ صفت بیان فرمائی جو حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء علیہم السلام میں نہیں پائی گئی مقصود یہ ہے کہ ہمارے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو مثل موسیٰ وغیرہ کے نہ سمجھنا کہ ان کی نبوت کا اثر اور فائدہ ان کی زندگی تک محدود رہا تھا اور ان کے انتقال کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت ہوتی تھی، محمد مصطفیٰ (علیہ الصلوٰۃ والثنا) کی وہ شان ہے کہ آپؐ کا آفتاب نبوت قیامت تک درخشاں رہے گا اور آپؐ کی امت اس سے مستفید ہوتی رہے گی اور آپؐ کی ہدایات اور احکام کی تعلیم آپؐ کے علمائے کرام کرتے رہیں گے تو جو بجائے انبیا کے ہیں اور آپؐ کا سچا ماننے والا کسی طرح دائمی جہنم کا مستحق نہ ہوگا، مرزا غلام احمد قادیانی جو حضور انور ﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل قرار دے کر آپؐ کے بعد انبیاء کا آنا قرار دیتا ہے اور ان کے نہ ماننے سے آپؐ کی امت کو جہنمی کہتا ہے وہ حضور انور ﷺ کی اور آپؐ کی امت کی نہایت ہتک کرتا ہے اور حضور انور سرور انبیاء اور آپؐ کی امت کو بہترین امت نہیں مانتا اور صریح آیات قرآنیہ کا منکر ہے، اب اس کی زیادہ تشریح ملاحظہ ہو۔
٢
بعد حمد خدا و نعت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثنا کے ناظرین حق بین بغور ملاحظہ کریں۔ لفظ خاتم النبیین جو اس مضمون کے عنوان پر بقلم جلی لکھا گیا ہے عربی لفظ ہے اس کے وہی معنی ہوں گے اور بالضرور وہی ہونا چاہئیں جو عرب کے محاورہ اور ان کی بول چال میں مروج تھے اور اب تک ہیں کیونکہ قرآن مجید خاص محاورہ عرب میں نازل ہوا ہے اسی وجہ سے کسی ذی علم یا بے علم کو جائز نہیں ہو سکتا کہ ان معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی بیان کرے اس کو اس طرح سمجھ لینا چاہیے کہ غالب دہلوی کے رسالہ اردو معلی کے ہر جملہ کے وہی معنی ہوں گے جو اہل زبان دہلی سمجھتے ہیں اب اگر کوئی بنگالی یا کابلی اس کے دوسرے معنی اپنے خیال کے بموجب کرنے لگے تو ہرگز وہ قابل اعتبار نہیں ہوں گے بلکہ اس کی جہالت سمجھی جائے گی اور اگر ایسا کرے گا تو اسے تحریف کہا جائے گا جس کی مذمت قرآن مجید میں آئی ہے اور اس کا الزام یہود کو دیا گیا ہے کیونکہ یہودیوں کی عادت یہ ہو گئی تھی کہ اپنے غلط مدعا اور جھوٹی باتوں کے ثابت کرنے کے لیے توریت میں لفظی اور معنوی تحریف کرتے تھے اور توریت کے اصلی معنی اور مطلب بدل کر عوام کو اپنے غلط مدعا کا ثبوت توریت سے بتاتے تھے بعینہ یہی حال مرزائیوں کا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرما کر لفظی تحریف کا دروازہ تو بند کر دیا، البتہ معنوی تحریف متعدد گروہ کرتے ہیں مثلاً تیرہویں صدی کے درمیان میں ایک گروہ بابی پیدا ہوا جس کے ماننے والے یورپ اور امریکہ اور رنگون میں زیادہ ہیں یہ گروہ قرآن مجید کو مان کر یہ کہتا ہے کہ ہمارے رسول نے شریعت محمدیہ کو بالکل منسوخ کر دیا، اور ہماری کتاب نے احکام محمدیہ کو بدل دیا مثلاً ماں، بیٹی، بہن سے نکاح حرام تھا، ہماری کتاب کی رو سے ان سے نکاح جائز ہو گیا، اب مرشد کی بیوی کے سوا سب سے نکاح کرنا جائز ہے، مرزائیوں کو اتنی جرأت تو نہ ہوئی کہ ماں، بہن کو اپنے لیے جائز کر لیتے اور دوسری بیوی کی ضرورت نہ پڑتی۔
اب دیکھا جائے کہ یہ گروہ کیسی محکم آیتوں میں تحریف کر کے اپنے مدعا کو ثابت کرتا ہے اسی طرح مرزائی گروہ اپنے خیال میں غیر تشریعی نبوت کو ثابت کرنے میں خوب زور لگا کر عجیب عجیب طرح کے معنی بیان کر کے عوام کو فریب دیتے ہیں اور یہودیانہ تحریف معنویہ کا نمونہ دکھاتے ہیں چنانچہ لفظ خاتم النبیین کی تحریف خوب ہی دل کھول کر کی ہے اور عجیب عجیب طرح کے معنی بیان کیے ہیں اور اعلانیہ جھوٹ بول کر عوام کو فریب دیا ہے، صحیح معنی کی شرح ملاحظہ ہو۔
خاتم النبیین میں دو لفظ ہیں خاتم اور النبیین، قرآن مجید میں لفظ خاتم دو طرح سے آیا
٣
ہے یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اکثر پڑھنے والوں نے خاتم کی ت کو زبر سنا ہے اور بعض نے زیر سنا ہے اگرچہ ہندوستان میں زیر ہی رائج ہو گیا ہے اور جہلاء اسی کو ہی صحیح سمجھتے ہیں (حالانکہ دونوں قرأتیں صحیح ہیں) اس لفظ کے کئی معنی ہیں مہر کو بھی خاتم کہتے ہیں اور انگوٹھی کو بھی کہتے ہیں اور آخر شی کو بھی کہتے ہیں، مگر عرب کی بول چال میں جب یہ لفظ کسی جماعت کی طرف مضاف ہوتا ہے جس طرح عرف بیان میں انبیا کرام کی جماعت کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور خاتم النبیین کہا گیا ہے اس حالت میں اس کے ایک ہی معنی ہیں یعنی آخر النبیین، اس کے دوسرے معنی نہیں ہو سکتے چنانچہ کتاب لسان العرب (جو اہل عرب کے نزدیک نہایت معتبر اور مستند لغت ہے) اس میں محاورہ عرب سے اس کے معنی آخر کے بیان کر کے قرآن مجید کی وہ آیت نقل کی ہے جس میں حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کی صفت میں لفظ خاتم النبیین آیا ہے اور اس کے معنی اس طرح بیان کئے ہیں، اے آخرہم یعنی خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی تمام انبیاء کے آخر میں آنے والے اس کے سوا کوئی دوسرے معنی نہیں کئے، اس کی پوری عبارت اور مطلب ملاحظہ ہو۔ اصل عبارت اس کی یہ ہے۔
ختام القوم و خاتمہم وخاتمہم اخرہم و محمد ﷺ خاتم الانبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام والخاتم والخاتم من اسماء النبی ﷺ و فی التنزیل العزیز مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَا تَمَ النبیین ای اخرہم (لسان العرب ج ١٤ ص ٢٥)
ختام القوم اور خاتم القوم ت کو زبر اور خاتم القوم ت کو زیر آخر قوم کو کہتے ہیں یعنی جب لفظ ختام یا خاتم و خاتم کو ایک جماعت کی طرف مضاف کریں تو اس کے معنی آخر اور انتہا کے ہوتے ہیں اور آنحضرتؐ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم اور خاتم دونوں آپؐ کے نام بھی ہیں اور قرآن مجید میں ”جو ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین“ آیا ہے وہاں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی تمام نبیوں کے آخر میں آنے والے آپؐ کے بعد کوئی جدید نبی کسی مرتبہ کا نہیں آئے گا، اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ خاتم النبیین کے معنی کے بیان میں صاحب لسان العرب نے کس قدر تفصیل کی ہے مگر اس کا کہیں اشارہ بھی نہیں کیا کہ نبیین سے خاص انبیاء مراد ہیں اگر کسی طرح کی تخصیص ہوتی تو ضرور بیان کرتے تا کہ اصلی مدعا ظاہر ہو جاتا اس سے ظاہر ہوا کہ تخصیص کرنا بلا دلیل ہے اور تحریف معنوی ہے۔
٤
جب یہ لفظ قرآن مجید کا ہے اور جن کی زبان میں قرآن مجید نازل ہوا ان کا قطعی فیصلہ ہے کہ اس کے معنی آخر النبیین کے ہیں تو کلام الہی کے نص قطعی سے ثابت ہو گیا کہ حضرت سرور انبیاء محمد رسول اللہ ﷺ آخر النبیین ہیں یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ تک جتنے انبیاء آئے ہیں خواہ عالی مرتبہ یا کم مرتبہ سب کے بعد آخر میں ہمارے رسول کریم بھیجے گئے‘ آپ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا‘ اس کی وجہ یہ ہے ہر کہ و مہ پر روشن ہو جائے کہ حضور انور ﷺ کی نبوت و ہدایت کا ماہتاب قیامت تک روشن رہے گا اور آپ کے خادم علمائے امت اس روشنی سے مستفید ہو کر ساری امت کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور یہ علما وَرَثَةُ الْاَنْبِيَاءِ کے معزز خطاب سے مشرف رہیں گے یہ وہ عزت اور مرتبہ ہے جو حضور انور کے پیشتر کسی نبی کو نہیں ملا پیشتر ہر نبی کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت ہوتی تھی‘ اس مختصر بیان میں تو ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے دیا گیا اور اس کی تفصیل رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام میں کی گئی ہے اور قرآن مجید کی دس آیتوں سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی متعدد کتب لغات کاملہ سے بیان کئے ہیں‘ جس سے بالیقین ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالیقین جھوٹا ہے‘ اب اس کی تصدیق و تفصیل جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائی ہے اور ایسے جھوٹے مدعیوں کی پیشین گوئی کی ہے جو آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے چنانچہ ارشاد ہے۔
- ١ ........... وانه سيكون فى امتى كذّابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله و انا
خاتم النبيين لا نبى بعدى‘ (مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ابوداؤد ج ٢ ص ٢٢٨)
”جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے اور ان میں ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا رسول ہوں حالانکہ میں تمام انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“
اس حدیث میں پہلے حضور علیہ السلام نے اپنی امت کے جھوٹے مدعیان نبوت کو جھوٹا فرما کر ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں جملہ ”وَ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ“ فرمایا جس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین فرمایا ہے جس کے معنی ہیں آخر النبیین کے‘ مگر حضور ﷺ نے اس کی دوسری تفسیر بیان کرنے کی غرض سے الفاظ بدل دیئے اور لا نبى بعدى فرمایا یعنی میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہ ہوگا‘ یہ عموم اس وجہ سے ہوا کہ لفظ نبی نکرہ
٥
ہے جو ہر قسم کے نبی کو شامل ہو یعنی جس پر نبی کا لفظ بولا جائے خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی ظلی ہو یا بروزی طفیلی ہو یا غیر طفیلی اور جو قسم نکلے سب کو یہ لفظ شامل ہے پھر اس پر لانفی جنس کالا کر یہ فرمایا کہ کسی قسم کا کوئی نبی میرے بعد نہیں ہے یعنی کسی انسان کو کسی قسم کی نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا، اس سے لفظ النبیین کے معنی کی کامل تشریح ہو گئی کہ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء کے آخر میں ہیں خواہ کامل ہوں یا کم مرتبہ کے ہوں، آپؐ کا وہ عالی مرتبہ اور وہ شان رحمت ہے کہ آپؐ کا ماننے والا کسی کے نہ ماننے سے جہنمی نہیں ہو سکتا اس لیے آپؐ کے بعد کسی نبی کا آنا آپؐ کی نہایت کسر شان ہے کہ آپؐ کا نہ ماننے والا دوسرے کے نہ ماننے سے آپؐ کے سایہ رحمت میں آ کر پھر وہ سخت زحمت میں پڑ جائے اور جہنم کا مستحق ہو جائے اور آپ کی رحمت عامہ اس کے کچھ کام نہ آئے، اور وہ جدید نبی آپؐ کی شان رحمت کو ملیا میٹ کر دے جیسا کہ مرزائے قادیان نے تمام جہان کے محمدیوں کو جہنمی بنا کر آپؐ کی عالی شان کو اپنے خیال میں پامال کیا ہے صد ہزار لعنت کا ہار ایسے جھوٹے کے گلے میں کس قدر افسوس ہے کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور دو چار عیسائیوں کو بھی تو مسلمان نہ بنا سکے، مگر چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا دیا مسیح موعود اسی لیے آئے تھے؟
اس حدیث کو ثوبان، ابو ہریرہ، ابن عمر، سمرہ، ابن جندب، ابو برزہ رضی اللہ عنہم اصحاب کرام سے صحیح مسلم اور ترمذی اور ابو داؤد وغیرہم نے روایت کیا ہے یعنی صحاح ستہ کی متعدد اور مستند کتابوں میں متعدد صحابہ کرام سے منقول ہے، یہ حدیث نہایت قابل غور کئی وجہ سے ہے اوّل یہ کہ اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ دو باتوں کی پیشین گوئی فرماتے ہیں ایک یہ کہ میرے بعد جھوٹے مدعی نبوت آئیں گے دوسرے یہ کہ کوئی نبی میرے بعد مبعوث ہونے والا نہیں ہے، اس مدعا کو مختلف اوقات میں متعدد طریقوں سے آپ نے بیان فرمایا ہے، ایک تو یہ بیان ہوا۔
- ٢........... کنز العمال کی جلد ٦ میں ثوبان کی روایت میں یہی الفاظ ہیں بجز ایک لفظ کے۔
- ٣........... (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٠٩ باب علامات نبوۃ فی الاسلام) میں قرب قیامت کی علامات
میں بیان ہے۔ ”يبعث دجالون کذابون قریبا من ثلاثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ“ یعنی قیامت کے قریب تیس جھوٹے دجال اٹھیں گے اور ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔
- ٤........... ترمذی میں ہے۔
"لا تقوم الساعة حتى يبعث كذابون دجالون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله" (ترمذی جلد ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون) یعنی جب تک دنیا میں قریب تیس کے جھوٹے دجال پیدا نہ ہولیں گے قیامت قائم نہ ہوگی۔
٥.......... پانچویں حدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٢٠ باب الناس تبع لقریش ) میں جابر بن سمرۃؓ سے روایت ہے۔ "سمعت النبی ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين فاحذروهم"
”جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ نے اپنی تمام امت سے فرمایا کہ قیامت کے قریب جھوٹے مدعی ہونے والے ہیں ان سے بچو۔“
جھوٹوں کے آنے کی اور ان سے بچنے کی تاکید کس طرح ہورہی ہے؟ مگر کسی جدید نبی کے آنے اور اس پر ایمان لانے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں آیا حالانکہ اس کا ذکر بھی ضرور تھا تیسری، چوتھی اور پانچویں حدیث میں نہایت صاف طور سے یہ بیان ہے کہ ان جھوٹے مدعیوں کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد سے قیامت تک کوئی وقت معین نہیں ہے بلکہ الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت میں زیادہ ہوں گے یعنی اگر چہ جھوٹے مدعی رسول اللہ ﷺ کے آخر وقت سے شروع ہوگئے مگر قیامت تک ان کا سلسلہ آہستہ آہستہ رہے گا‘ کوئی وقت ایسا نہیں ہوسکتا کہ کہا جائے کہ اس پیشین گوئی کا وقت تمام ہوگیا‘ اب سچے نبی آسکتے ہیں کیونکہ حدیث کے الفاظ اس کے بالکل خلاف ہیں‘ اگر سچے نبی آتے تو ان حدیثوں میں ضرور ان کا بیان ہوتا کیونکہ جس طرح جھوٹوں سے ڈرانا اور بچانا ضروری تھا اسی طرح اگر سچے نبی آنے والے تھے تو ان پر ایمان لانے کی ترغیب ہوتی اور ضرور ہوتی، کیونکہ جس طرح جھوٹوں سے بچنے کی ضرورت ہے اس طرح سچوں پر ایمان لانا فرض ہے اس لیے کسی حدیث میں مثلاً آتا کہ "ان انبیاء الله سيبعث تحت نبوتی فامنوا بهم" مگر اس مضمون کا تو ایک روایت میں بھی پتہ نہیں ہے اور جھوٹوں کے بیان میں متعدد حدیثیں مختلف طور سے آئی ہیں اور بعض میں اسکے بعد نہایت صفائی سے ”لا نبی بعدی“ فرما کر متعدد طریقے سے ہر قسم کے نبی کی نفی فرمائی ہے کسی قسم کی تخصیص کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتی‘ الفاظ حدیث اور قرینہ ما سبق اور ما لحق سب عموم پر شہادت دیتے ہیں اور جنس نبی کی نفی ثابت ہوتی ہے‘ مگر اس کے خلاف آنکھوں پر جہالت اور تعصب کی پٹی باندھ کر ان
٧
حدیثوں میں بلا دلیل تخصیص کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور عوام کے فریب دینے کو وہ اقوال پیش کیے جاتے ہیں جو کسی دلیل عقلی اور نقلی سے خاص کئے گئے ہیں‘ اس پر ذرا غور نہیں کرتے کہ کس کس طریقے سے حضور علیہ السلام نے سچے نبی کے ہونے کی عام طور پر نفی کی ہے اور خصوصیت کا کہیں اشارہ بھی نہیں فرمایا ہے جس کو دعویٰ ہو وہ کوئی حدیث پیش کرے اس بیان میں پہلا طریقہ ”لا نبی بعدی“ ہے اس طریقے کی چند حدیثیں اس وقت پیش نظر ہیں جن میں تخصیص کا کہیں اشارہ بھی نہیں ہے۔
- ٦............طریقہ یہ ہے ”انا اخر الانبیاء“ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں
(ابن ماجہ ص ٢٩٧)
- ٧............طریقہ تاکید کے ساتھ ”فانی اخر الانبیاء“ اس میں شبہ نہیں کہ میں تمام انبیاء کے
آخر میں ہوں۔
(صحیح مسلم ج ١ ص ٣٤٦)
- ٨............طریقہ ”انا خاتم الانبیاء“ میں تمام انبیاء کو ختم کرنے والا ہوں۔
(کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ٣٢٩٩٩)
ان تین طریقوں میں تو لا نبی بعدی کی طرح لا نفی جنس کا نہیں ہے اور لا فتی الا علی کا فریب کچھ چل نہیں سکتا۔
- ٩............طریقہ ”انہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء“ اس میں شبہ نہیں کہ میرے بعد کوئی نبی
نہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩١) اس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے لفظ سیکون خلفاء فرما کر نہایت صاف طور پر مطلق نبی کے ہونے کی نفی فرمادی اور نہایت صاف طور سے دو پیشینگوئی آپ نے فرمائیں اوّل کسی قسم کے نبی کے نہ ہونے کی اور دوسرے خلیفہ کے ہونے کی اگر کسی قسم کا کوئی نبی ہوتا تو یہاں ضرور اس کا ذکر فرماتے۔
- ١٠............دسواں طریقہ ”لم یبق من النبوۃ الا المبشرات“ (بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥ باب الرؤیا
الصالحۃ مسلم ج ١ ص ١٩١ باب النہی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع والسجود)
یعنی نبوت کا کوئی حصہ اور کوئی شعبہ اور جز باقی نہیں رہا‘ صرف عمدہ خوابیں باقی ہیں‘ اس کا حاصل یہ ہوا کہ نبوت کے اجزاء میں جن کا ہونا نبی کے لیے ضروری ہے اب ان اجزاء میں سے کوئی جزء کسی کو نہ ملے گا‘ صرف ایک حصہ اس کا امت محمدیہ کے نیک لوگوں میں پایا جائے گا‘ یعنی صالحین امت محمدیہ خواب دیکھیں گے اور اس کا ظہور ہوگا‘ اس صحیح ترین حدیث نے ظلی‘ بروزی‘ ہر طرح کی نبوت کی نفی کردی اور نہایت صاف طور سے ثابت کردیا کہ رسول اللہ کے بعد کسی کو کسی طور
٨
کی نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا، اور نبوت کا جز اور جو حصہ باقی رہا ہے اس سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اسی وجہ سے حدیث میں صاف طور سے فرما دیا کہ لم یبق من النبوۃ یعنی نبوت کا کوئی جز اور کوئی حصہ باقی نہیں رہا بجز سچی خواب کے۔
١١............طریقہ ابن عساکر روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا اور انہوں نے جواب دیا۔
”قَالَ آدَمُ مَنْ مُّحَمَّدٌ قَالَ آخِرُ وُلْدِکَ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ“
(کنز العمال ج ١١ ص ٤٥٥ حدیث نمبر ٣٢١٣٩)
یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے جبرائیل سے دریافت کیا کہ محمد (ﷺ) کون ہیں انہوں نے جواب دیا کہ جتنے انبیاء تمہاری اولاد میں ہوں گے ان سب کے آخر میں یہ تمہارے بیٹے نبی ہوں گے۔
اس روایت میں کوئی بناوٹ مرزائیوں کی نہیں چل سکتی اس میں تو نہایت صاف طریقہ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں جس قدر انبیاء ہوں گے عالی مرتبہ یا کم مرتبہ سب کے آخر میں محمد رسول نبی ہوں گے آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
ناظرین احادیث مذکورہ اور ختم نبوت کے طریقوں کے بیان سے کس قدر روشن ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے عقیدہ ختم نبوت کو اس قدر ضروری اور مہتم بالشان سمجھا تھا کہ متعدد اصحاب سے مختلف اوقات میں صاف بیانی کے مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔
تاکہ کسی کم علم ناقص فہم کو بھی اس کے سمجھنے میں کوئی عذر نہ رہے مگر قادیانی مبلغ اپنی کمائی کی دھن میں حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ علم احادیث صحیحہ قطعیہ کے مقابلہ میں قول لافتی الا علی پیش کرتے ہیں اور لاصلوة الابفاتحة الکتاب کو دکھاتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ لافتی الا علی کی خصوصیت تو چشم دید اور ہاتھوں کے حس معائنہ اور مشاہدہ کرا رہی ہے کہ بے انتہا دوسرے جوان موجود ہیں اس لیے لافتیٰ سے ایک خاص صفت کے جوان مراد ہیں اگر خاص جوان مردانہ لیے جائیں تو معائنہ اس جملہ کو جھوٹا قرار دے گا لانبی بعدی میں تخصیص کی کون سی دلیل ہے؟ اسی طرح ”لاصلوة الابفاتحة الکتاب کو دوسری حدیث قرأۃ الامام قرأۃ لہ“ سے خاص کر رہی ہے مبلغ قادیان کیوں اپنے ایمان کو تباہ کرتے ہیں اور دائمی جہنم میں گرنا چاہتے ہیں اسے خوب سمجھ لو کہ لائے نفی جنس کا کلام عرب میں عام نفی کے واسطے موضوع ہے ہاں البتہ
٩
جہاں عقلی یا نقلی کافی دلیل اس کے خلاف پر ہو گی اس وقت وہ خاص ہو جائے گا۔ اب قادیانیوں کا لا نبی بعدی کو خاص کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بت پرست لا اله الا الله کو خاص کرے اور یہ معنی کہے کہ جو معبود عالی مرتبہ ہے وہ اللہ ہے اس سے جھوٹے معبودوں کی نفی نہیں ہوتی جو کم مرتبہ کے ہیں اب اگر آپ بت پرستوں کے شریک ہوں اور کلمہ طیبہ کے لائے نفی جنس میں خصوصیت کے قائل ہوں اور جھوٹے معبودوں کو مانیں تو ہم آپ سے خطاب چھوڑ دیں گے اور اگر آپ ان کے معبودوں کو تسلیم نہ کریں اور کلمہ لا اله الا الله سے عام معبودوں کی نفی ثابت کریں گے تو لانبی بعدی میں بھی آپ کو عام نفی ثابت کرنی ہو گی کوئی خصوصیت آپ ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ الفاظ عرب محاورہ عرب میں جس معنی کے لیے موضوع ہیں اس سے جو مطلب سمجھا جاتا ہے وہی مطلب ہر عربی جملہ کا ہونا ضرور ہے البتہ بعض وقت کسی دلیل عقلی یا نقلی سے اس کے خلاف ہو سکتا ہے جس طرح مبلغ قادیانی نے چند جملے لکھے ہیں ان میں دلیل عقلی یا نقلی خاص کرنے کی موجود ہے جیسا کہ بیان کیا گیا‘ یہاں تک ختم نبوت کے ثبوت میں بارہ حدیثیں بیان کی گئیں اور مبلغ مرزائی کے شبہات کا جواب دیا گیا‘ اس کے بعد چند حدیثوں کی تفصیل اور بھی ملاحظہ کیجئے۔
- ١٢............. حدیث ۔ صحیح ابن ماجہ میں دجال کے بیان میں ایک طویل حدیث مذکور ہے اس میں
جناب رسول اللہ ﷺ نے نہایت ہی صفائی سے اپنی امت سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے۔ اَنَا آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ وَ اَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ. (ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال ص ٢٩٧) یعنی میں تمام انبیا کے آخر میں ہوں اور تم تمام امتوں کے آخر میں ہو۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہے یعنی امت محمدیہ کے بعد کوئی مرزائی یا غلامی یا غلمدی یا احمدی امت نہ ہوگی۔
خوب خیال رہے کہ یہاں الانبیاء میں اور الامم میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے جو تخصیص کرے وہ بلا دلیل حدیث نبوی میں یہودیانہ تحریف معنوی کرتا ہے اس حدیث میں حضور انورؐ نے لفظ خاتم نہیں فرمایا بلکہ اس کی جگہ ایسا صاف لفظ فرمایا جسے جاہل بھی سمجھتا ہے کہ آنحضرتؐ نے اپنے آپ کو آخر الانبیاء فرمایا جس کے معنی عام وخاص ہر ایک بے تکلف یہی سمجھتا ہے کہ ہمارے رسول اللہ سب انبیاء کے آخر میں تشریف لائے۔ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی یہ تو پہلا جملہ حدیث کا ہے دوسرا جملہ یعنی اَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ نے پہلے جملے کی تاکید اور تشریح کر دی کیونکہ جب کوئی نبی آتا ہے تو اس کی امت خاص ہوتی ہے اور جب امت محمدیہ کے بعد کوئی امت نہیں
١٠
ہے تو کوئی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔ دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اور کیسے عمدہ طریقے سے خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرما دیئے ہیں وہ قادیانی مبلغ جن کی باتوں کا جواب اس کے پہلے دیا گیا ہے چونکہ حقانیت اور سمجھ سے انہیں کچھ واسطہ نہیں ہے اور زبان درازی خوب آتی ہے وہ اس حدیث کو جو اس میں دوسری حدیث اپنی ناسمجھی سے پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے۔
- ١٣ ............ قال رسول الله ﷺ فانی اخر الانبياء وان مسجدى اخر المساجد
(صحیح مسلم شریف ج ١ ص ٤٣٦ باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینہ)
یعنی میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ یعنی جس طرح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کہا ہے حالانکہ آپؐ کی مسجد کے بعد ہزاروں مسجدیں بنیں اور بنتی رہیں گی اُسی طرح آپؐ نے اپنے آپ کو آخر الانبیاء کہا ہے جس طرح آپؐ کی مسجد کے بعد اور مسجدیں بنیں اسی طرح آپؐ کی نبوت کے بعد اور انبیاء ہوں گے؟
مبلغ صاحب حدیث کا مطلب بیان کرنے سے عاجز ہیں آنجناب یہ تو فرمائیے کہ آخری مسجد کہنے سے کیا مقصد ہے؟ کیا آخری نبوت حضرت سرور انبیاء اور آپؐ کی آخری مسجد میں مشابہت تامہ ہے اور جس طرح آپؐ کی مسجد کے بعد دنیا میں بے شمار مسجدیں ہوتی رہیں اور ہوتی رہیں گی کوئی قریہ اور کوئی قصبہ مسلمانوں کا مسجد سے خالی نہیں رہا۔ یہی حالت آپؐ کی نبوت کے بعد انبیاء کی ہونی چاہیے اور آپ کے خیال کے بموجب جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بہت سے نبی ہوئے اس طرح حضرت سرور انبیاء کی امت میں بھی بے شمار انبیاء ہونے چاہیں اور ہر وقت میں حسب عادت الٰہی ان بے شمار انبیاء کے منکر بھی بے شمار ہوتے رہیں گے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ امت محمدیہ کے بے شمار مسلمان قیامت تک جہنم کے مستحق ہوتے رہیں گے اب یہ اندازہ کہ ایک وقت اور ایک نبی کے وجود سے کس قدر جہنمی ہوں گے؟ اس کی حالت مرزا قادیانی کے وجود سے معلوم ہو سکتی ہے آپ کے دعویٰ کے وقت میں مردم شماری کے لحاظ سے چالیس کروڑ امت محمدیہ تھی ان میں سے دو چار ہزار یا دو چار لاکھ تو بچے اور باقی سب جہنم کے مستحق ہو گئے اور یہ چند لاکھ کا جنتی ہونا کچھ مرزاجی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ مرزا کے دعویٰ کے پہلے ساری امت محمدیہ جنتی تھی البتہ دعویٰ کے بعد جن کو جہنمی بنایا انہیں مرزائی رحمت قہر کا جسم لیکر جہنم میں ان کی پرورش کرے گی اور وہ دو چار لاکھ بھی اسی میں داخل تھے۔
١١
مبلغ صاحب یہ تو آپ کے بیان سے لازم آتا ہے اب اگر آپ کا مطلب کچھ اور ہے تو صاف بیان کیجئے مگر ایسا مطلب بیان کیجئے جس کی تعیین کسی دلیل سے ہو مگر یہ آپ کے امکان میں نہیں ہے آپ راہ نجات چھوڑ کر بہکے جارہے ہیں اب حدیث کا مطلب مجھ سے سنئے جس طرح اس سے پہلے تیرہ حدیثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ نبوت ختم ہوچکی حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اس طرح اس حدیث میں آنحضرت نہایت تاکید سے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں آخرالانبیاء ہوں میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا اور اس کے بعد مسجدی آخر المساجد اسی مطلب کی تاکید ہے یعنی انبیاء کی مسجدیں مجھ سے پہلے بہت ہوچکیں اب یہ میری مسجد آخری مسجد ہے اس کے بعد نبی کی مسجد کوئی نہ ہوگی اس کی تشریح اور اس مطلب کے دلائل ملاحظہ ہوں۔
- ١..........اس حدیث میں ایسی صراحت اور تاکید سے ختم نبوت کے عقیدے کو بیان کیا ہے کہ کسی
فہمیدہ ایماندار کو انکار کی گنجائش نہیں ہوسکتی ملاحظہ ہو رسول اللہ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس میں شبہ نہیں کہ میں آخر الانبیاء ہوں اس لفظ کے معنی زبان اردو میں اور عربی میں یقینی طور سے یہی ہیں کہ رسول اللہ تمام انبیاء کے آخر میں ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
انبیاء لفظ جمع ہے اور اس پر الف لام استغراق کا ہے یا جنس کا اس لیے ہر قسم کے نبی کو شامل ہے کوئی وجہ نہیں ہے جس سے کسی قسم کی تخصیص کی جائے۔
- ٢..........اس حدیث سے پہلے جو حدیث ہے اس میں ان الفاظ کے سوا جناب رسول اللہؐ اپنی
امت کو آخر الامم فرماتے ہیں اس کا نتیجہ اور حاصل یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ کیونکہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہوتا اور امت محمدیہ کے سوا کوئی دوسری امت ہوتی تو قرآن مجید کی کسی آیت میں یا کسی روایت میں صاف طور سے اس کا ذکر ضرور آتا مگر کہیں نہیں آیا۔
- ٣..........کس قدر عقل و فہم سلب کر دی گئی ہے کہ جھوٹے کذابوں کے آنے کا ذکر تو صاف طور
سے بار بار آئے اور سچوں کے آنے کا ذکر کہیں نہ پایا جائے یہ کامل تصدیق اس بات کی ہے کہ جناب سرور انبیاء ﷺ آخر الانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اس کے علاوہ پہلی حدیث کے بیان میں اس کا بیان دیکھو اب اس بیان کو زیادہ طول نہیں دیتا اس قدر کہتا ہوں کہ علامہ زرقانی نے مؤطا کی شرح میں اس آخری مسجد کے تین معنی ہمارے موافق بیان کئے ہیں اگر کتاب میسر ہو اور دیکھنے کی تاب ہو تو دیکھو اور اگر یہ بھی نہ ہو تو جناب رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اپنی جہالت و کذابی پر شہادت ملاحظہ کر کے کچھ تو خوف خدا کرو۔
١٢
فضل الحرمین والمسجد الاقصیٰ
- ١٤ ........... ”اناخاتم الانبیاء و مسجدی خاتم مساجد الانبیاء“
(کنز العمال ج١٢ ص٢٧٥ حدیث نمبر٣٤٩٩٩)
”میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد تمام انبیاؤں کی مسجد کے آخر میں ہے یعنی میرے بعد نہ کوئی نبی ہونے والا ہے اور نہ کوئی نبی کی مسجد ہوگی۔“ جس طرح آپ پر نبوت ختم ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں، اس طرح آپ کی مسجد خاتم مساجد الانبیاء ہے ظاہر ہے کہ جب کوئی نبی نہ ہوگا تو نبی کی مسجد بھی نہ بنے گی حضرت مسیح علیہ السلام آخر وقت میں جب نازل ہو کر آئیں گے تو رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھیں گے کوئی نئی مسجد نہیں بنائیں گے (جسے انبیاء کی مساجد میں اضافہ قرار دیا جاسکے) اس لیے آپ کی مسجد آخر المساجد الانبیاء ہوئی دیکھا جائے کہ ایک حدیث میں آپ نے آخری مسجد کا صاف بیان نہیں فرمایا؟ مگر نبی کے آنے کا ذکر تو کسی حدیث میں آپ نے کسی طرح نہیں فرمایا وہ تفصیل رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام میں دیکھئے گا اور اپنے جہل مرکب کو معائنہ کیجئے گا۔
الغرض جناب رسول اللہؐ کے آخرالانبیاء ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے‘ اب جو ان معنی سے انکار کرتا ہے اور دوسرے معنی خلاف قرآن اور احادیث صحیحہ کے اپنی طرف سے لگاتا ہے وہ بالضرور جناب رسول اللہ ﷺ کا مکذب ہے اور مسلمانوں کو بہکاتا ہے اگرچہ ظاہر میں بغرض فریب دہی انکار نہ کرے اور تعریف کرتا رہے خود مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ کی تعریف بھی کرتے تھے اور سب انبیاء سے افضل بتاتے تھے اور جب اپنی تعریف کے جوش میں آتے تھے تو کہیں تو اپنے کو رسول اللہ ﷺ کے برابر اور کہیں اپنے آپ کو بہت بڑھا ہوا کہتے تھے چنانچہ ان کا الہام ہے ”آتانی مالم یوت احد من العالمین“ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو وہ فضائل وکمالات دیئے جو عالم میں کسی کو نہیں دیئے۔“ اب ظاہر ہے کہ اس الہام سے مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ میں سارے انبیاء اور اولیاء سے افضل ہوں تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہؐ سے تین ہزار معجزے ہوئے (تحفہ گولڑویہ ص٤٠ خزائن ج١٧ ص١٥٣ اور حقیقۃ الوحی ص٦٨ خزائن ج٢٢ ص٧٠)
تشحیذ الاذہان میں اپنے معجزوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ بیان کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اپنے آپ کو سو حصے زیادہ افضل جناب رسول اللہؐ سے سمجھتے تھے اب خیال کرنے کا
١٤
مقام ہے کہ جو جھوٹوں کا سردار اور فریبیوں کا افسر ہو چنانچہ متعدد رسالوں میں ان کے جھوٹ و فریب دکھائے گئے ہیں مگر کسی قادیانی نے دم تو نہیں مارا اسے مبلغ صاحب نبی اور اپنا مرشد مانتے ہیں مذکورہ حدیثوں میں ختم نبوت کے بیان کا جو پانچواں طریقہ بیان کیا گیا ہے اس کی کامل طور سے شرح کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جس سے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کا عموم آفتاب کی طرح روشن ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ہمیشہ انبیاء سیاست کرتے رہے اور احکام دینی اور دنیاوی سب کا اجراء اس وقت کے نبی کے اختیار میں ہوتا تھا جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو اس کے بعد ہی اس کی جگہ دوسرا نبی اللہ تعالیٰ قائم کرتا تھا اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل کا فیضان اور اثر ہدایت ان کی زندگی تک محدود رہتا تھا اس لیے ان کے انتقال کے بعد ہی دوسرا نبی ہدایت کے لیے بھیجا جاتا تھا اس حالت میں حضرت موسیٰ اور تمام انبیائے بنی اسرائیل برابر ہیں مگر اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ان انبیائے بنی اسرائیل کے مراتب میں فرق تھا بعض عالی مرتبہ اور بعض کم مرتبہ کے تھے ان سب کی حالت یکساں بیان فرما کر حضور انور اپنی عظمت و شان کو عام فہم طریقے سے تاکید اور عموم کے ساتھ اس طرح بیان فرماتے ہیں وَاِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ یعنی اس کو اچھی طرح تحقیق سے معلوم کر لو کہ میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے یعنی کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا البتہ خلفاء ہوں گے جو امت محمدیہ کی سیاسی خدمات کو انجام دیں گے چنانچہ ارشاد ہے کہ۔
١٥ ............ کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء
(بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)
بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ سیاست کریں گے۔
الغرض حضورؐ نے اس حدیث میں اپنے بعد مطلقاً ہر طرح کے نبی کے آنے کی نفی اس طرح فرما دی کہ کوئی شبہ باقی نہ رکھا کیونکہ اس لفظ نبی کے عموم کا ثبوت پہلے لفظ نبی کے عموم سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کیونکہ پہلے عام انبیاء کے آنے کا اثبات جناب رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں اس کے متصل ہی اپنے بعد کی حالت اسی لفظ نبی سے بیان کرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ پہلے نبی کے آنے کو فرمایا ہے اور پھر نبی کے نہ آنے کو اس لیے عمومیت لفظ کے علاوہ بیان سابق دوسری
١٤
دلیل ہے اس جملہ کے عموم کی‘ مگر حضور ﷺ نے انہیں دو دلیلوں پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ جملہ سَیَکُونُ خُلَفَاءُ فرما کر ختم نبوت کے عموم کی تیسری دلیل ارشاد فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح پہلے نبی کے بعد انبیاء آتے تھے میرے بعد خلفاء ہوں گے نبی نہ ہوں گے اگر کسی طرح کا کوئی نبی ہوتا تو خلفاء کے ساتھ اس کا ذکر بھی ضرور ہوتا اگر سیاسی نبی کی نفی ہوتی تو اس طرح ارشاد ہوتا ”لانبی بعدی تسوس امتی بل سیکون خلفاء“ مگر کسی حدیث میں اس کا اشارہ بھی نہیں ہے یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے۔
(شہادۃ القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
اس حدیث سے نہایت روشن طریقے سے دو باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت تشریعی‘ غیر تشریعی‘ ظلی‘ بروزی کسی طرح کی نہیں ہو سکتی یعنی پہلے طریقے میں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس کے آخری جملہ ”لانبی بعدی“ میں لا نفی جنس آیا ہے جس سے ہر قسم کے نبی کی نفی ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا مگر یہ عموم کا ثبوت علمی طریقے سے ہے جسے عوام نہیں سمجھتے اس لیے مرزائی ان سے جھوٹی باتیں بنا کر فریب دے سکتے ہیں اس طرح دوسرے طریقے میں بھی جاہلوں اور کم فہموں کو بہکا سکتے ہیں مگر حدیث کے اس طریقے میں پہلے عام انبیاء علیہم السلام کی حالت بیان کر کے اپنے بعد کی حالت ایسے الفاظ سے بیان فرمائی جس سے ان کے فریب کے راستے بند ہو گئے کیونکہ پہلے آپ ﷺ نے ہر قسم کے انبیاء کا آنا بیان فرمایا کسی قسم کی تخصیص نہیں کی اور اپنے بعد نبی کے نہ آنے کو تاکید سے فرما کر خلفاء کا ہونا بیان فرمایا اس سے یقینی طور سے ظاہر ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہ ہوگا اور کسی خلیفہ کو نبی کا لقب نہیں ملے گا کیونکہ آپ ﷺ نے پہلے ”لانبی بعدی“ کہہ کر ”سیکون خلفاء“ فرمایا ہے اگر کسی خلیفہ کو نبی کا لقب ملتا تو آپ ﷺ اس کے پیشتر ”لانبی بعدی“ کبھی نہ فرماتے پس آپ ﷺ کا سب سے پہلے عام لفظ میں انبیاء بنی اسرائیل کا اس طرح ذکر فرمانا کہ بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا اور سیاسی و مذہبی خدمات اس کے متعلق ہوجاتے تھے اس کے بعد تاکید کے ساتھ عام طریقہ پر یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا محض اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ جو آپ ﷺ کے بعد ہونے والے ہیں یعنی خلفاء انہیں بیان فرمادیا یہ صاف اس امر پر دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہ ہوگا کیونکہ نبی کی نفی کرنے کے بعد جملہ ”سیکون خلفاء“ فرمانے
١٥
سے یہی مقصود ہے کہ اگر کسی کے دل میں یہ خطرہ ہو کہ بنی اسرائیل کی طرح جب آپؐ کے بعد انبیاء نہ ہوں گے تو پھر امت محمدیہ کی سیاست کس کے ہاتھ میں رہے گی اور احکام شرعیہ کس طرح نفوذ پائیں گے؟ تو اس کا جواب حضرتؐ نے دیا کہ جس طرح بنی اسرائیل پر انبیاء سیاست کرتے تھے اور ایک کے انتقال کے بعد دوسرا نبی اس کا جانشین ہو جاتا تھا امت محمدیہ پر خلفاء سیاست کریں گے کیونکہ نبوت تو مجھ پر ختم ہو گئی لہٰذا جو کام کہ انبیائے بنی اسرائیل انجام دیتے تھے اس خدمت کو امت محمدیہ میں خلفاء انجام دیں گے اب ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر امت محمدیہ میں کسی طرح کے انبیاء کا آنا حضور کے خاتم النبیین ہونے کے بعد جائز ہوتا تو ضرور آپؐ اس کی خبر دیتے کیونکہ آپؐ اپنے بعد کی حالت بیان فرما رہے ہیں اور نظام شریعت کی سیاست کے متعلق خبر دے رہے ہیں کہ کس کے ہاتھوں یہ کام انجام پائے گا؟ اور جب آپ نے اس کے لیے کسی نبی کی خبر نہیں دی بلکہ یہ فرمایا کہ خلفاء ہوں گے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ آپؐ کے بعد کس طرح کا کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور تا قیامت یہی خلفاء یکے بعد دیگرے امت محمدیہ پر سیاست کرتے رہیں گے۔
اس میں حضور علیہ السلام کی نہایت عظمت و شان یہ ہوئی کہ تمام انبیائے بنی اسرائیل کی ہدایت کا اثر ان کی زندگی تک محدود رہا اور حضور انور ﷺ کی ہدایت کا روشن چراغ قیامت تک درخشاں رہے گا، مرزا قادیانی نے جابجا حضور انور علیہ السلام کو مثیل موسیٰ علیہ السلام قرار دیا ہے جس سے کمال درجہ کی بے حرمتی حضور انور ﷺ کی ہوتی ہے کیونکہ آپؐ تو حضرت موسیٰ سے بدرجہا بلند مرتبہ ہیں اور مرزا کا مثیل موسیٰ کہنا جس کے معنی یہ ہیں کہ سرور انبیاء ﷺ موسیٰ علیہ السلام کے برابر تو نہیں ہیں مگر ان کے مشابہ تھے اہل علم اس کو بخوبی سمجھیں گے۔
١٦............ اب میں وہ ارشاد نبوی نقل کرتا ہوں جو آپؐ نے آخر عمر میں جماعت کثیر یعنی ایک لاکھ چوالیس ہزار اصحاب کرامؓ کے روبرو نہایت زور شور سے بیان فرمایا ہے یعنی اپنی وفات سے تین مہینے کئی روز پیشتر حجۃ الوداع میں ”قصواء“ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر پہاڑی پر چڑھ کر جماعت مذکورہ کے روبرو نہایت ضروری اور ہدایات عامہ آپؐ نے بیان فرمائے ہیں ان میں خاص طور سے یہ عام ارشاد بھی ہوا۔
”عن ابی امامۃؓ ایہا الناس انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم الا فاعبدوا ربکم“ الخ
(کنزالعمال جلد ٦ ص ٢٩٥ حدیث نمبر ١٢٩٢٢)
”کہ اے حاضرین جماعت اس کو معلوم کرو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ
١٦
تمہارے بعد کوئی امت ہے اس کو اعتقاد کر کے خوب متنبہ ہو جاؤ اور اللہ کی یاد میں مشغول رہو۔‘‘ طالبین حق اس حدیث کے معنی اور الفاظ پر خوب غور فرمائیں کہ کس طرح آپؐ نے اپنے بعد کسی نبی کے نہ ہونے کی بشارت دی‘ ملاحظہ ہو اس وصیت کے اعلان کے واسطے بہت بڑا مجمع کیا‘ اور اس مجمع میں اونٹنی پر سوار ہو کر عام حاضرین کو متوجہ کر کے پہلے یہی فرمایا کہ ”اَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ جس میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کے متعدد معنی ہوں‘ یا کوئی ایسا لفظ ہو جسے عام طور پر لوگ سمجھتے نہ ہوں‘ غالباً اسی وجہ سے آپؐ نے خاتم النبین کا لفظ نہیں فرمایا کہ بعض ناسمجھ نفس پرست دوسرے معنی لگا کر گمراہ نہ ہوں‘ اس کے علاوہ ہر ایک ذی ہوش سمجھ سکتا ہے کہ جناب رسول اللہؐ کے بعد کسی نبی کا نہ ہونا کیسا مہتمم بالشان مسئلہ ہے کہ اس پر ایمان رکھنے کے لیے حضور انورؐ نے اپنی عمر کے درمیانی حصہ میں بارہا بیان کرنے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ آخری عمر میں بھی جلسہ عام کر کے بلندی پر کھڑے ہو کر یہ وصیت فرمائی کہ دیکھو ایسا خیال ہرگز نہ کرنا کہ میرے بعد کوئی نبی ہو گا‘ بلکہ میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہ ہو گا‘ پھر اس کی تاکید اس طرح فرماتے ہیں ”وَلَا اُمَّةَ بَعْدَكُمْ“ کوئی امت تمہارے بعد نہ ہوگی یعنی امت محمدیہؐ کے بعد کوئی امت غلمدی یا احمدی وغیرہ نہ ہوگی۔
ان احادیث نبویہ نے قرآن مجید کی اس نص قطعی کی کیسی تائید اور تشریح فرمائی ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔
اب اس کے بعد جس کے دل میں کچھ بھی ایمان ہے اس کے خیال میں کبھی اس کا خطرہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی ہو گا‘ مگر چونکہ مرزائی مذہب کی بنیاد خدا اور رسول کے بالکل خلاف ہے اس لیے یہاں بھی قرآن مجید کی نص قطعی اور بہت سی احادیث صحیحہ کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی رسول آتے رہیں گے اور چونکہ قرآن وحدیث کے اصلی اور صحیح معنی سے انہیں کچھ واقفیت نہیں ہے‘ بلکہ مرزا قادیانی یا ان کے کسی خاص مرید نے یہودیانہ تحریف کر کے جو معنی بنا کر کہہ دیئے ہیں انہی غلط معنی پر ان کا ایمان ہے‘ اس لیے بمقتضائے جہل مرکب قرآن مجید سے اس کا ثبوت بتاتے ہیں۔
اس مختصر بیان سے قرآن مجید کی ایک نص قطعی اور سولہ احادیث صریحہ صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ جناب رسول ﷺ پر نبوت ورسالت ختم ہوگئی‘ آپؐ کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا اسی وجہ سے تمام اولیائے کرام کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے
١٧
گی اور کسی پر وحی نبوت نہیں آئے گی بالفرض اگر کوئی ولی خلاف صریح قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے کہے تو اس کا قول لائق توجہ نہ ہوگا اور اس کی غلطی سمجھی جائے گی یہ بھی معلوم کر لینا چاہیے کہ صاحب فتوحات کی نسبت ہمارے علماء میں اختلاف ہے بعض انہیں بہت برائی سے یاد کرتے ہیں بعض انہیں بڑا بزرگ سمجھتے ہیں مگر بعض مسائل میں غلطی کے قائل ہیں فتح الباری ملاحظہ ہو اور بعض ان کے زیادہ معتقد ہیں عبد الوہاب شعرانی انہیں بہت مانتے ہیں اور اپنی کتاب یواقیت میں انہیں کے اقوال نقل کیے ہیں اب اگر بقائے نبوت کے وہ قائل ہیں تو علمائے منکرین کے نزدیک ان کا ایسا ہی حال ہوگا جیسا مرزا غلام احمد قادیانی کا پھر اسے ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا جہالت ہے مگر ہمارے خیال میں گروہ قادیانی کی یہ محض نادانی یا فریب دہی ہے شیخ محی الدین ابن عربی نے فتوحات میں اصطلاحات صوفیاء بیان کیے اس کا سمجھنا ان اصطلاحوں کے جاننے پر موقوف ہے گروہ قادیانی اور ان کا مرشد ان سے بالکل ناواقف ہے اور بمقتضائے جہل مرکب ان کے بعض قولوں کو اپنے موافق خیال کر کے جواب میں پیش کرتے ہیں مگر یہ یقینی ان کی غلطی ہے فتوحات مکیہ کا مطلب سمجھنا ہر ایک ملا کا کام نہیں ہے ان کے اصطلاحات کو جاننا کمال واقفیت اور نظر وسیع کو چاہتا ہے میں چند عبارتیں فتوحات کی نقل کرتا ہوں جن سے قادیانیوں کی غلطی اور ہمارے قول کی تصدیق ہوتی ہے۔
پہلا قول: حضرت محی الدین اپنے شیخ ابوالعباس کی دعا نقل کرتے ہیں۔ ”اللہم انک سددت باب النبوۃ والرسالۃ دوننا ولم تسد باب الولایہ“
(فتوحات مکیہ ج ٢ باب ٧٣ ص ٧٩ سوال نمبر ٩٣)
”اے اللہ تو نے ہمارے لیے نبوت و رسالت کا دروازہ تو بند کر دیا ہے مگر ولایت کا دروازہ بند نہیں کیا“
شیخ ابوالعباس محققین صوفیہ رحمہم اللہ میں ہیں وہ کس صفائی سے فرماتے ہیں کہ امت محمدیہ کے لیے نبوت اور رسالت کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند کر دیا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہ ہوگا، البتہ ولایت کا دروازہ بند نہیں کیا۔
دوسرا قول: ”انما انقطع الوحی الخاص بالرسول والنبی من نزول الملک علی اذنہ وقلبہ وتحجیر لفظ اسم النبی و الرسول“
(فتوحات مکیہ ج ٢ باب ١٥٥ ص ٢٥٣)
١٨
اس میں شبہ نہیں کہ جو وحی انبیاء اور رسولوں پر آتی تھی وہ موقوف ہو گئی اور کسی کو نبی اور رسول کہنا ممنوع ہو گیا اس میں صاف طور سے شیخ فرماتے ہیں کہ اب کس کو نبی اور رسول نہیں کہہ سکتے اس مطلب کو شیخ اکبر نے جلد ٣ میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے وہ یہ ہیں۔
تیسرا قول : ”واعلم ان لنامن الله الالهام لا الوحى فان سبيل الوحى قد انقطع بموت رسول الله ﷺ وقد كان الوحى قبله و لم يجئ خبر الهی ان بعده (ﷺ) وحيا كما قال الله تعالىٰ وَلَقَدْ اُوْحِيَ إِلَيْكَ وَ إِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ وَ لَمْ يُذْكَرْ وَحْيًا بَعْدَهُ“
(فتوحات مکیہ ج٣ باب ٣٥٣ ص ٢٣٨)
اے مخاطب تو معلوم کرلے کہ امت محمدیہ کے لیے اللہ کی طرف سے الہام ہے وحی نہیں ہے، وحی کا آنا رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد سے بند ہو گیا، البتہ آپؐ سے پیشتر انبیاء کو وحی آتی تھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر اور آپؐ سے پیشتر انبیاء پر وحی آنے کی خبر دی ہے اور آپؐ کے بعد کسی پر وحی آنے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا اور جب وحی نہیں آئے گی تو کوئی نبی بھی نہیں ہوگا، کیونکہ نبی کے لیے وحی کا آنا ضروری ہے اس قول میں شیخ اکبرؒ نے قرآن مجید سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے اوپر نزول وحی کے مدعی ہیں، اور نئے طور کا نزول ہے کہ حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں کہ بارش کی طرح مجھ پر وحی کا نزول ہوا، یہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا اور نہ اس طرح کا نزول ہو سکتا ہے، کہیے مؤلف ختم نبوت اب تو سید الاولیاء نے آپ کے مرشد کو قرآن مجید سے جھوٹا ثابت کر دیا، حضرت شیخؒ کو تو آپ سید الاولیاء فرماتے ہیں اور ان کے اقوال کو سند میں پیش کرتے ہیں پھر جب ایسے بزرگ مرزا قادیانی کو جھوٹا فرما رہے ہیں تو آپ کو اپنے مرشد کے جھوٹا ماننے میں کیا عذر ہے۔
چوتھا قول : ”وان كان سواله عن مقام الانبياء من الاولياء اى انبياء الاولياء والنبوة التى قلنا انھا لم تنقطع“ (الخ) (فتوحات مکیہ ج٢ باب ٧٣ ص ٥٣ سوال نمبر ١٩)
”اگر کوئی ان اولیاء اللہ کے مقام کو دریافت کرے جو مقامِ نبوت تک پہنچے ہیں جنہیں انبیاء الاولیاء کہا جاتا ہے اور یہی وہ نبوت ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ وہ منقطع نہیں ہوئی ہے، قیامت تک باقی رہے گی۔“
یعنی جس نبوت کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے اور جن کو نبی اور رسول شریعت محمدیہ میں
١٩
کہا گیا ہے اور جن کا ماننا فرض ہے اور ان کے نہ ماننے سے انسان کافر ہو جاتا ہے وہ نبوت ختم ہو گئی، اس نبوت کو صاحب فتوحات نے نبوت تشریعی کہا ہے یعنی وہ نبوت جس کا ثبوت شریعت محمدیہ سے ہے اور سید الاولیاء کی نبوت کو غیر تشریعی اس لیے کہا کہ اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے نہیں ہے، بلکہ صوفیاء کی اصطلاح میں یہ نبوت اولیاء اللہ کا ایک عالی مقام ہے اس نبوت کو اور اس نبی کو جو اس مقام پر ہے امت پر ماننا فرض نہیں ہے، نہ ان کا منکر کوئی کافر ہو سکتا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ نبوت شرعیہ بالیقین ختم ہو گئی جس کا ثبوت قرآن وحدیث سے دیا گیا اور نبوت اصطلاحی ختم نہیں ہوئی لیجئے مبلغ گمراہی قادیانی اب تو آپ کے سیدالاولیاء صاحب کے کلام سے بھی نبوت شرعی کا ختم ہو جانا ثابت کر دیا گیا اور آپ کی جہالت بھی اظہر من الشمس ہو گئی، اب بھی کچھ شرم کیجئے اور اپنی آخرت کو برباد نہ کیجئے۔
یہاں تک قادیانی مبلغ کی بیہودہ گوئی کا جواب ہو لیا اور ان کی نافہمی یا فریب دہی کو اظہر من الشمس کر دیا گیا، اب صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ کا وہ مضمون دکھایا جاتا ہے جس کے جواب سے قادیانی مبلغ صاحب عاجز ہیں اور عاجز کیوں نہ ہوں کہ اس تحریر سے مرزا قادیانی کا پختہ دہریہ ہونا ثابت ہوتا ہے، اور قرآن شریف کی نصوص قطعیہ سے بھی جھوٹے ٹھہرتے ہیں، صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ کا صفحہ ٥٤ ملاحظہ ہو۔ (صحیفہ نمبر ١٤ میں اجمال ہے اس میں تفصیل ہے اس لیے اسے یہاں پورا لے لیا ہے۔ مرتب)
مؤلف صحیفہ رحمانیہ مذکور لکھتے ہیں
اب اگر کسی کو میرے قول میں تردد ہو اور کہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کر کے خدا پر الزام لگائے تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی یہی حالت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا و رسول کو درحقیقت نہیں مانتے تھے مسلمانوں کے فریب دینے کو ظل اور بروز اور محبت رسول کا دعویٰ تھا۔
اب اس کا ثبوت ملاحظہ کیجئے، حضرت مسیح علیہ السلام کی وہ شان ہے کہ قرآن مجید میں ان کی تعریف اور عظمت غالباً تیس جگہ سے زیادہ بیان ہے، یہاں صرف تین آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
- ١ ............. وَآتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (سورہ بقرہ ٨٧)
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو نشان و معجزے دیئے اور روح
٢٠
القدس سے ان کی تائید کی حضرت ممدوح کے نبی ہونے کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ دو دلیلیں حضرت سرور انبیاء سے بیان فرماتا ہے ایک معجزوں کا دینا اور دوسرے روح القدس سے ان کی مدد کرنا۔‘‘
٢ ........... اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (آل عمران٤٥)
’’فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے ایک حکم کی خوشخبری دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا ہے (جس کی شان یہ ہے کہ) دنیا و آخرت دونوں میں وہ صاحب مرتبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقبول اور مقربین بارگاہ الٰہی میں سے ہے۔‘‘
چونکہ حضرت مسیح بغیر باپ کے صرف بحکم الٰہی مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا حکم اور حضرت مریم کا بیٹا فرمایا اور ان کے ناموں میں ابن مریم بھی شمار کر دیا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا کیا تھا یعنی جس طرح حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ اور ماں کے پیدا کر کے اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا تھا اسی طرح حضرت مسیح کو صرف بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرت کا دوسرا نمونہ دکھایا‘ اسی طرح انبیائے کرام سے عجیب و غریب معجزات دکھلا کر اپنی قدرت کے نمونہ دکھلائے ہیں‘ ان آیتوں میں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کی عظمت و شان بتائی اور ان کا صاحب معجزات ہونا‘ بیان فرمایا‘ اب تیسری آیت ملاحظہ کیجئے جس میں چند معجزات کی تفصیل ہے۔
٣ ........... اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّىْ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِى الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِىْ بُيُوْتِكُمْ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ط (سورہ آل عمران٤٩)
اس آیت میں ان معجزات کی تفصیل حضرت مسیح کے اقوال سے بیان ہوتی ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ مسیح بنی اسرائیل سے کہتے ہیں کہ میں تمہارے پروردگار کا نشان لیکر تمہارے پاس آیا ہوں‘ اس میں شبہ نہیں کہ میں مٹی کی چڑیا تمہارے لیے بنا دیتا ہوں‘ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے اڑتی چڑیا ہو جاتی ہے یعنی جاندار ہو کر اڑ جاتی ہے اور چنگا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے یعنی میری صداقت ظاہر کرنے کے لیے اللہ میرے واسطہ سے مردہ زندہ کرتا ہے اور جو کچھ تم گھر میں کھا کر آتے ہو اور جو کچھ چھوڑ
٢١
آیت ہذا میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ تم فلاں چیز کھا کر آئے ہو اور فلاں چیز گھر میں چھوڑ آئے ہو یہ کیسے اعلانیہ معجزے ہیں اگر تمہارے دل میں ایمان ہے۔ مگر چونکہ دہریت کا اس وقت زور ہے اس لیے مرزا قادیانی نے یہوديانہ تحریف کر کے ان معجزات سے انکار کیا ہے اور اپنے جہل مرکب سے ان یقینی باتوں کے نہ ماننے والوں کو مشرک بتایا ہے اس کی بحث تو کسی دوسرے وقت کی جائے گی اور دکھا دیا جائے گا کہ ان کی دہریت کا شعبہ اور آزاد تعلیم یافتہ حضرات کو اپنی طرف کھینچنا ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے انگریزی تعلیم یافتہ انہیں مان گئے ہیں۔
مرزا قادیانی کے دہریہ ہونے کا ثبوت
برادران اسلام ملاحظہ کریں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا اور حضرت مسیح کے مذکورہ معجزات کا مرزا قادیانی صریح انکار کرتے ہیں اور صاف لکھتے ہیں کہ ”حق بات یہ ہے کہ آپ سے (یعنی حضرت عیسیٰ سے) کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ ) کہیے یہ صریح اقوال خداوندی کی تکذیب ہوئی یا نہیں اور اس قدوس لم یزل کو حضرت مسیح کے معجزات کے بیان میں مرزا قادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا یا نہیں؟ یہ نہ کہہ دینا کہ الزاماً لکھا گیا محض غلط ہے کیونکہ وہ صاف یہ کہہ رہے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک جو امر واقعی اور حق ہے اسے بیان کرتے ہیں صرف الزام نہیں دیتے اور شریعت محمدیہ میں اعلانیہ جھوٹ بولنا نبی کی توہین کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے
( قرآن شریف کی یہ مخالفت تو مہذبانہ طریقے سے تھی، اب اس کے بعد اسی ضمیمہ کے ص ٧ میں ملحدانہ طرز سے ایک عالی مرتبہ نبی کے معجزات کو اپنے خیال سے اڑا کر آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسے بیماری کا علاج کیا ہو“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ )
یہ دوسرے طریقہ سے کلام الہی کا انکار ہے یعنی تیسری آیت میں تو نہایت صراحت سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم بحکم الہی اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کرتے تھے اور مردے کو جلاتے تھے مرزا قادیانی ان اعلانیہ معجزات سے انکار کر کے لکھتے ہیں کہ کسی تدبیر سے علاج کرتے ہوں گئے اس کے بعد کسی لندنی دہریہ کی کتاب دیکھ کر کلام الہی کی تکذیب تیسرے طریقہ سے
٢٢
کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ”مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہوتو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ)
دیکھا جائے کہ حضرت یسوع مسیح کے اعلانیہ اور نہایت بین معجزات میں دہریوں کے خیالات ظاہر کر کے ان یقینی معجزات سے انکار کر رہے ہیں اور پھر اسی پر بس نہیں ہے بلکہ اس کے بعد اعلانیہ طور سے انہیں مکار اور فریبی ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں ”اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے کچھ نہیں تھا“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)
یہ کیسا اعلانیہ کلام الٰہی کا انکار ہے اور ایک اولوالعزم رسول خدا کی توہین وتکذیب ہے؟ یہ چوتھا طریقہ انکار کا ہے ”پھر افسوس ہے کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی‘ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)
یہ پانچویں طریقہ سے انکار کلام الٰہی ہے اور صرف انکار ہی نہیں بلکہ خدائے قدوس پر سخت الزامات ہیں اور اس کے مقدس رسول کی نہایت ہتک ہے کیونکہ ان الزامات کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے‘ کیونکہ مکار اور فریبی کو صاحب معجزہ کہتا ہے اور اس کے معجزے بیان کرتا ہے اور مکار اور فریبی کو رسول بنا کر بھیجتا ہے‘ اس کے رسول بازاری شہدوں کی طرح عیاش و بدچلن ہوتے ہیں (نعوذ باللہ) ان کی ذاتی اور نسبی دونوں طرح کی حالت ایسی خراب بھی ہوتی ہے کہ ہر ایک بھلا آدمی اسے عار سمجھتا ہے۔
ہمدردانِ اسلام! اس نازک وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ خیالات دشمنان
٢٣
اسلام اور بالخصوص دہریوں کی کیسی تائید کرتے ہیں یہ تو مرزا قادیانی کے ملحدانہ خیالات کا جوش تھا اور جب ہوش ہوا تو سمجھے کہ یہ مسلمانوں کے بہت خلاف لکھا گیا‘ قرآن مجید میں تو حضرت مسیح کی بہت تعریف آئی ہے اس لیے اسی ضمیمہ کے حاشیہ میں ناواقف مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے جو یسوع مسیح کو گالیاں دیں تو الزاماً دیں اور اس کا دوسرا جواب یہ دیتے ہیں۔
”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا کہ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
اس فریب کو ملاحظہ کیا جائے کہ قرآن مجید میں نصاریٰ ہی کو سمجھایا ہے جو حضرت عیسیٰ کو خدا کہتے ہیں‘ اور ثالث ثلٰثۃ قرار دیتے ہیں اور جس طرح عیسیٰ اور مسیح ان کا نام ہے اس طرح انجیل میں ان کا نام یسوع بھی ہے اور یسوع حضرت عیسیٰ کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں ہے اور مرزا قادیانی بھی جانتے ہیں چنانچہ (توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ ”مسیح اور عیسیٰ اور یسوع تینوں ایک ہی شخص کا نام ہے“ یہاں وہ مشہور مثل کیسی صادق آئی کہ دروغگو را حافظہ نباشد یعنی اور دلائل کے علاوہ مشہور مثل سے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔
عرصہ ہوا کہ یہ الزامات صحیفہ محمدیہ نمبر ٢ میں دیئے گئے ہیں عبیداللہ مرزائی بتائے کہ اس وقت تک کس مرزائی نے اس کا جواب دیا ہے ہمارے سامنے پیش کرئے‘ ورنہ کسی ناپاک نالی میں ڈوب مرئے‘ یہ صحیفہ ماہ محرم ١٣٤٥ھ میں چھپا ہے اس کا عنوان بقلم جلی یہ ہے ”مسیح قادیان اور توہین انبیائے ذیشان“ اس کو چھپے ہوئے پانچ برس ہو رہے ہیں اب یہ عبید قادیانی دکھائے کہ ان الزاموں کا جواب قادیان یا آپ کے مکان کے کس طاق میں ہے‘ مگر یہ یقینی بات ہے کہ قادیانی مبلغ قطعاً جھوٹے ہیں ہم ہزار روپیہ دیتے ہیں اگر وہ یا ان کا کوئی بھائی اس کا جواب دے۔
اے برادرانِ اسلام! ہوشیار ہو جاؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی حالت سے واقف ہو کر اس سے دور رہو اور اپنے ایمان کو بچاؤ اور اس مضمون کو مکرر دیکھو (مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا توریت شریف اور قرآن مجید سے) اس کا ثبوت فیصلہ آسمانی کے تینوں حصوں میں کامل طور سے دیا گیا ہے اور قرآن مجید کی متعدد آیتیں دکھائی ہیں دوسرا مضمون اس صحیفہ کے ص ٤ و ٥ میں منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی ہے جس کے ظہور کا انتظار مرتے دم تک انہیں رہا اور مختلف طور سے
٢٤
یقینی الہامات بیان کئے ہیں جن کے غلط ہو جانے سے مرزا قادیانی کا یقینی جھوٹا ہونا قرآن مجید اور توریت مقدس سے ثابت ہو گیا اور صرف جھوٹا ہی ہونا ثابت نہیں ہوا بلکہ ان کا دہریہ اور فریب دہندہ ہونا بھی ثابت ہوا اہل حق حضرات جنہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی عقل و فہم دی ہے وہ مرزا قادیانی کی کذابی کو ملاحظہ فرمائیں، منکوحہ آسمانی کی نسبت انہوں نے اشتہاروں اور رسالوں میں اس قدر غل مچایا ہے اور دم موت تک اس پر وثوق ظاہر کیا ہے جس کی حد نہیں بایں ہمہ وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور نہایت اعلانیہ طور سے دنیا نے ان کا جھوٹا ہونا معائنہ کر لیا اور کلام الٰہی میں اس کی صراحت دیکھ کر ان کے جھوٹے ہونے پر ایمان لانا فرض ہو گیا (منکوحہ آسمانی کی نسبت چند الہامات) ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں مشتہر کرتے ہیں۔ (١) ”ان دنوں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٦ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
(فیصلہ آسمانی حصہ اوّل) لفظ انجام کار پر خوب نظر رہے (٢) ”خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لیے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مدد گار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔“
(١٠ جولائی ١٨٨٨ء تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٦ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
اس میں بھی وہی لفظ انجام کار ہے اور اس پر اضافہ یہ ہے کہ اسے خدا کی ان باتوں میں بیان کرتے ہیں جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ کوئی شرط وغیرہ اس نکاح کو روک نہیں سکتی انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
(٢٠ مئی ١٨٩١ء حقانی پریس لدھیانہ میں اشتہار نصرت دین طبع کرایا ہے اور اس میں لکھتے ہیں)
”مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
(فیصلہ آسمانی ص ٣٢۔٣٣) میں اس اشتہار کی پوری عبارت نقل کر کے اس کی شرح کی ہے۔ اس پر خوب نظر رہے کہ اس میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اب ظاہر ہے کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی
کے نکاح میں نہ آئی اور ان کے کہنے کے بموجب خدا تعالیٰ پر یہ الزام ضرور آیا کہ وہ عالم الغیب نہیں ہے اور اپنے رسولوں کو فریب دیکر جھوٹی پیشین گوئیاں کراتا ہے (٣) (ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”خدا تعالیٰ نے پیشینگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کے دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہولیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔ اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے وثوق بیان کرنے کی انتہا کر دی ذیل کے جملوں کو ملاحظہ کیجئے۔ (١) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی (٢) آخر کار ایسا ہی ہوگا (٣) خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا (٤) ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا (٥) اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ ان پانچوں جملوں نے نہایت صراحت سے بالیقین ثابت کر دیا کہ اس نکاح کو شرط وغیرہ کوئی شے روک نہیں سکتی بلکہ اس کا ظہور ضرور ہوگا۔ اس آخری جملے نے وثوق ویقین کی انتہا کردی۔
ناظرین! برائے خدا اس بات پر غور فرمائیں کہ اس مشہور پیشینگوئی کے متعلق میں نے چار قول مرزا قادیانی کے نقل کئے ہیں ان میں پہلا قول ١٨٨٨ء کا ہے اس کے بعد آخر عمر ١٩٠٨ء یعنی بیس برس تک اس منکوحہ کے انتظار میں رہے اس مدت میں کسی وقت انہوں نے قطعی مایوسی کا اظہار نہیں کیا بلکہ آخر عمر تک جب کوئی جملہ انہوں نے کہا ہے اس سے امید ہی معلوم ہوتی ہے اس طرح اس کے شوہر کے مرنے کی نسبت انہوں نے بار بار پیشینگوئی کی ہے اور صرف اپنے ایک رسالہ انجام آتھم میں سات مرتبہ مختلف طور سے اپنا یقین بیان کیا ہے کہ وہ ضرور مرے گا اور ایک جگہ اس پر قسم بھی کھائی ہے مگر انجام اس کا یہی ہوا کہ نہ اس کا شوہر مرا اور نہ وہ فرضی منکوحہ ان کے نکاح میں آئی یہاں تک کہ وہ ان کا رقیب اب تک زندہ موجود ہے اور یہ واقعے ایسے روشن اور کھلے ہوئے ہیں کہ معائنہ ہورہا ہے۔ بھائیو۔ اب اس پر غور کرو کہ جب ایسے قطعی الہامات جو تمام عمر یقینی طور پر ہوتے رہے اور مرزا قادیانی انہیں خدا کی طرف سے بتاتے رہے مگر وہ قطعا جھوٹے ثابت ہوئے اب وہ الہامات جس کی وجہ سے انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور نبی اور رسول
٢٦
ہونے کے مدعی ہوئے ان پر کیونکر اعتبار ہوسکتا ہے کوئی معیار ایسی ہو سکتی ہے جو ان دونوں میں فرق ظاہر کر دے اور یہ بتا دے کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی اور اس کے شوہر کے مرنے کے الہامات جھوٹے ہو گئے تو ہو گئے مگر جو الہامات نبوت و رسالت کی نسبت تھے وہ ضرور سچے ہیں؟ بھائیو۔ کوئی حق پسند یہ نہیں کہہ سکتا۔ جھوٹا ثابت ہونے کے لیے تو ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے۔ مرزا قادیانی کی ان پیشین گوئیوں کے جھوٹا ثابت ہونے سے مرزا قادیانی کے بہت سے جھوٹ ثابت ہوئے۔ (اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں دیکھی جائے) حاکم وقت کی کچہری میں جس گواہ کا ایک بھی جھوٹ ثابت ہو جائے تو دنیاوی بات میں اس کی پھر شہادت مقبول نہیں ہوتی مگر مرزائی حضرات کی عقل پر کمال افسوس ہے کہ دینی بات میں تمام امت محمدیہ کے خلاف ایسے کذاب کو نبی مانتے ہیں اور کچھ خوف خدا نہیں کرتے۔ اب ان کے کذب پر کلام الٰہی کی شہادت ملاحظہ کی جائے۔ (پرانا عہد نامہ کتاب استثناء باب ١٨ آیت ٢٢ ص ١٧٦ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور ١٩٢٧ء) میں ہے کہ ”جب کوئی نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہا ہے۔“ الغرض توریت مقدس میں سچے نبی کی یہ شناخت بیان کی ہے کہ جو پیشین گوئی کرے اور وہ پوری نہ ہو یا جس کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو جائے وہ جھوٹا ہے اس نے الہام الٰہی سے پیشینگوئی نہیں کی بلکہ اپنی طرف سے بطور دھوکہ نفس یا علم نجوم وغیرہ سے کی ہے اور قرآن شریف میں ارشاد ہے ”فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ“ (سورہ ابراہیم ٤٧) ”یعنی ایسا گمان و خیال ہرگز نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں سے وعدہ خلافی نہ کرنے کو کس زور اور تاکید سے بیان فرمایا ہے اس کا گمان و خیال کرنے کو بھی تاکید سے روکا ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا کہ اللہ پاک اپنے کسی رسول سے کوئی وعدہ یا وعید کرے اور پھر اسے پورا نہ کرے اب ان وعدوں پر غور کیجئے جو بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے ان سے کیے ہیں جن کی نقل گذشتہ چار قولوں میں کی گئی ہے اور پھر وہ پوری نہ ہوئی لہٰذا یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ جس طرح توریت مقدس سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے اس طرح قرآن مجید کی نص قطعی سے ان کا یقینی جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا۔ اور اس مضمون کی متعدد آیات قرآن مجید میں مذکور ہیں، فیصلہ آسمانی حصہ اوّل و سوم ملاحظہ کیا جائے۔ کہئے جناب عبید اللہ صاحب مرزائی آپ نے صحیفہ رحمانیہ ١٤ کے جواب دینے کا تو دعویٰ کیا ہے مگر ان عظیم الشان دو مضمونوں کے جواب سے ایسے
٢٧
عاجز ہوئے کہ اپنے جھوٹے ہونے کا بھی خیال نہ کیا۔ مگر جن کے پیر نے صدہا جھوٹ بولے ہوں پھر ان کے مرید اگر چند جھوٹ بولیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے قادیانی مبلغ اس کو آپ یقین کر لیجئے کہ آپ کے مرشد بالیقین جھوٹے ہیں۔ اور ان کا جھوٹا ہونا قرآن مجید توریت مقدس احادیث صحیحہ اور ان کے متعدد اقراروں سے ثابت کر دیا گیا ہے مگر اس وقت تک کسی نے جواب نہیں دیا اگر کسی کو جواب کا دعویٰ ہو تو سامنے آئے آپ ہوں یا آپ کا کوئی برادر خورد و کلاں ہو۔ ہم اپنے رسالوں کو دکھا کر ان کے اعتراضات آپ کو سنائیں اور آپ ان کے جوابات کو سنائیں عام جلسہ ہو حاضرین جلسہ اس کا فیصلہ کریں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ آپ تو کیا کریں گے قادیان میں جو آپ کے سرگروہ کہلاتے ہیں وہ بھی نہیں کر سکتے۔
خواجہ کمال مرزائی اور مسلمانان رنگون
مرزائی صاحبان کی فریب آمیز کارروائیوں اور ان کی کوششوں سے غالباً اب بہت سے مسلمان واقف ہو چکے ہیں، کوئی لندن میں تبلیغ اسلام کا دل فریب نام لیکر مسلمانوں کو شکار کر رہا ہے کوئی افریقہ میں کوئی امریکہ میں کوئی بصرہ میں غرض جس کو جہاں موقع ملا اپنی گرم بازاری کی فکروں میں مشغول ہے، سب اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ جس طرح ہو سکے مسلمانوں کو حضرت ختم الرسل ﷺ کے سایہ رحمت سے نکال کر مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کاذبہ کا معتقد بنائیں اور اپنا جتھا بڑھا کر آمدنی کے ذرائع وسیع کریں۔
بظاہر اس وقت ان میں دو پارٹیاں نظر آتی ہیں ایک محمودی پارٹی جو مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا محمود قادیانی کے طرف دار ہیں دوسری کمال پارٹی جو خواجہ کمال (لاہوری گروپ) کے زیر اثر ہے۔
محمودی پارٹی برملا ختم نبوت کا انکار کر کے مرزا کی نبوت و رسالت کا (نعوذ باللہ منہ) اعلان کرتی ہے اور تمام مسلمانان عالم جو مرزا کو نہیں مانتے کافر کہہ کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کرتے ہیں اور کمال پارٹی (لاہور گروپ) ایک گہری پالیسی کی بنا پر مرزا کو مجدد و محدث وغیرہ القاب سے یاد کرتے ہیں نبوت و رسالت کا ناواقفوں کے بہکانے کے لیے انکار کرتی ہے مسلمانوں کو کافر کہنے کا وظیفہ بھی جو ان کے خانہ ساز پیغمبر نے انہیں سکھلایا ہے بلند آواز سے نہیں پڑھتی۔
٢٨
اس پالیسی کا یہ نتیجہ ضرور نکل رہا ہے کہ سادہ لوح مسلمان جس قدر جلد کمالی پارٹی کا شکار ہوتے ہیں محمودی پارٹی کے نہیں ہوتے۔
مگر واقف کار خوب سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں پارٹیاں اصولاً متحد ہیں مقصد دونوں کا مرزائیت کی تبلیغ اور تحصیل زر ہے منزل مقصود دونوں کی ایک ہے راستہ بدلا ہوا ہے۔
المختصر چار پانچ ماہ ہوئے کہ خواجہ کمال کا موکب اجلال رنگون پہنچا تا کہ ملک برما میں مرزائیت کی تخم ریزی کریں اور لندن میں تبلیغ اسلام کا دل آویز سبق سنا کر کوئی معقول رقم حاصل کریں اس سے پہلے محض خط و کتابت پر تقریباً سولہ ہزار روپیہ انگریزی ترجمہ قرآن مجید کے لیے رنگون سے ان کو مل بھی چکا تھا، مگر مسلمانان رنگون مستحق صد ہزار مرحبا ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے کہ خواجہ کے لیکچروں کو سن کر وہ چونک اٹھے اور انہوں نے خواجہ کا مرزائی ہونا اچھی طرح محسوس کر لیا اور بڑے زور کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے۔
یہاں تک کہ لکھنؤ سے جناب مولانا مولوی محمد عبد الشکور صاحب مدیر النجم عم فیضہ کو رنگون تشریف لے جانے کی تکلیف دی رنگون کارروائی زیر طبع ہے جس سے حسب ذیل امور روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں گے۔
- ١............ خواجہ نے ہر چند اپنا مذہب چھپانا چاہا مگر چھپ نہ سکا سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ شخص ختم
نبوت کا منکر اور ایک جھوٹے اور بدکردار شخص کو نبی و رسول مانتا ہے اور محض مسلمانان کو فریب دینے کے لیے اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہے۔
- ٢............ مرزا غلام احمد کا اصلی مذہب اور دلی مقصد کیا تھا اور مرزا کے ماننے کا حقیقی نتیجہ اور ثمرہ کیا ہے۔
- ٣............ مرزا اور مرزا کے ماننے والوں کا خارج از اسلام ہونا ایسا صریح ہے کہ جو شخص اس میں
شک کرے وہ تین حال سے خالی نہیں۔ (١) یا وہ مرزا کی تعلیمات کفریہ سے ناواقف ہے نہ اس نے مرزا کی تصنیفات دیکھی ہیں نہ اس کے رد میں جو کتابیں علمائے دین نے لکھیں ان کو مطالعہ کیا ہے۔ (٢) یا وہ شریعت الہیہ کو لڑکوں کا کھیل سمجھتا ہے کہ جس کا جی چاہے جس بات کو مانے جس کا جی نہ چاہے نہ مانے۔ (٣) یا وہ ایسا جاہل ہے کہ اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کس چیز سے آدمی مسلمان ہوتا ہے اور کس چیز سے کافر ہو جاتا ہے۔
- ٤............ مرزائیوں کا ترجمہ قرآن مجید سرتا پا مرزائیت کی کفریات صریحہ سے بھرا ہوا ہے اور دین
الہی کے بالکل خلاف ہے۔
٢٩
اہل رنگون کی دینی حمیت
لائق تہنیت ہے کہ (١) انہوں نے جناب مولانا مولوی محمد عبدالشکور صاحب مدیر النجم عم فیضہ کے مضامین عالیہ کو جمعیۃ العلماء رنگون کی طرف سے بنگلہ اردو۔ انگلش۔ چولیا۔ گجراتی۔ برما وغیرہ متعدد زبانوں میں ترجمہ کرا کر اور چھپوا کر خوب شائع کیا انہیں کی اس سعی مشکور کا نتیجہ ہے کہ صوبہ برما ایک بڑے مہلک فتنہ سے بچ گیا۔ اور اب ان زریں واقعات کی روئیداد بھی اہل رنگون ہی چھپوا رہے ہیں۔
٢............ رنگون میں ایک انجمن بنام دعوۃ الاسلام قائم کی اور اس کے دو شعبہ قرار دیئے اوّل! مسلمانوں میں دینی واقفیت پیدا کرنا شریعت الہیہ کے زبانی درس کو جو ایک مدت سے متروک ہو چکا ہے از سر نو قائم کر کے مسلمانوں کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا۔ دوم! غیر مسلمین کو اسلام کی دعوت دینا اسلام پر جو حملے اندرونی یا بیرونی ہورہے ہیں ان کا مہذب و تشفی بخش جواب دینا۔
یہ انجمن ان دونوں شعبوں کے مقاصد کے لیے علمائے اسلام ایدہم اللہ تعالیٰ کی مفید تحریرات و تقریرات کی طالب ہے مفید اور ضروری رسائل کی اشاعت بھی کرے گی اور صوبہ برما میں دورہ کرنے کے لیے اچھے اور مصلح واعظین کا تقرر بھی عمل میں لائے گی غالباً انجمن کے قواعد و مقاصد مرتب ہوچکے ہوں گے اور پہلے شعبہ کا کام بھی شروع ہو گیا ہوگا۔
اس انجمن کے لیے عارف معلم صاحب تاجر رنگون نے پچاس روپیہ ماہوار نقد مقرر کیا اور دوسو روپیہ ماہوار کرایہ کا مکان چھ ماہ کے لیے دیا اور حاجی یوسف صاحب وحاجی داؤد صاحب تاجران رنگون نے بھی بڑی عالی ہمتی کے ارادے ظاہر کیے ہیں خدا پورا کرے اور قبول فرمائے انشاء اللہ تعالیٰ اس انجمن کے ضروری حالات وقتاً فوقتاً صحیفہ ہذا میں شائع ہوتے رہیں گے۔
٣............ عارف معلم صاحب نے مبلغ ایک ہزار روپیہ اشاعت کتب دینیہ کے لیے مطبع رحمانیہ بھیجا۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ اہل رنگون کی توفیق اور زیادہ کرے اور تمام مسلمانوں کو ایسی خدمات دینیہ کی توفیق دے اور ان کے دلوں کو اپنے دین پاک کے درد و محبت سے معمور رکھے۔
اس مبارک انجمن سے ضروری التماس
مرزائی فتنہ روز بروز ترقی پر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑی جماعت ہے اور چھوٹی
٣٠
جماعت کو جوش زیادہ ہوتا ہے اس لیے جانی و مالی ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں سارے ہندوستان میں ان کے مبلغ پھرتے ہیں افریقہ میں ان کے مبلغ ہیں بصرہ میں ان کی کوشش ہو رہی ہے امریکہ میں ان کے مبلغ پہنچے ہوئے ہیں، جنوبی امریکہ میں محمودی پارٹی کے مبلغ بہت زور و شور سے کام کر رہے ہیں شمالی امریکہ میں خواجہ کمال کا بھیجا ہوا مبلغ مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے وہاں کے مسلمانوں نے خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں چند سوالات بھیجے تھے جن کے جوابات میں یہاں سے ایک رسالہ لکھ کر بھیجا گیا ہے کچھ رسائل رد قادیانی کے بھی منگوائے تھے وہ بھی بھیجے گئے ہیں مگر افسوس ہے کہ ہمارے برادران اسلام بالکل غافل ہیں کچھ توجہ نہیں فرماتے۔
دو باتوں کی بہت ضرورت ہے۔ ایک یہ ہے کہ کم سے کم دس بارہ مبلغ رکھے جائیں اور حسب مشورہ جا بجا انہیں بھیجا جائے۔ دوسرے یہ کہ جو رسائل رد قادیانی میں اور رد آریہ اور عیسائیوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں اور بالخصوص وہ رسائل جو خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں موجود ہیں وہ چھپوا کر برابر سارے ملکوں میں شائع ہوتے رہیں اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ کرا کر شائع کیا جائے بالخصوص انگریزی زبان میں اور فارسی میں اور گجراتی میں چند کتابوں کے نام میں یہاں لکھتا ہوں جنکا چھپنا اور بالخصوص انگریزی زبان میں ترجمہ ہو کر خوب مشتہر ہونا بہت ضروری ہے وہ رسالے یہ ہیں۔
عیسائیوں کے جواب میں رسائل
(١) پیغام محمدی (٢) دفع التلبیسات (٣) ترانہ حجازی (٤) آئینہ اسلام (٥) مراۃ الیقین (٦) مراسلات مذہبی
مرزائیوں کے رد میں لاجواب رسائل
(١) فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ (٢) دوسری شہادت آسمانی (٣) ہدیہ عثمانیہ (٤) مسیح قادیان کی حالت کا بیان (٥) آئینہ کمالات مرزا (٦) چشمہ ہدایت (٧) چشمہ ہدایت کی صداقت (٨) دعویٰ نبوت مرزا (٩) صحیفہ رحمانیہ (١٠) عبرت خیز یعنی صحیفہ رحمانیہ (١١) ختم النبوۃ فی الاسلام (١٢) رسالہ حیات مسیح علیہ السلام (١٣) النجم الثاقب ہر سہ حصہ (١٤) مرقع قادیانی
٣١
ایک رسالہ انگریزی میں ایک قابل شخص عربی انگریزی دان نے فیصلہ آسمانی کا حاصل بیان کیا ہے اسے بار بار چھپوا کر مشتہر کرنا ضرور ہے خصوصا تمام انگریزی والوں کے پاس بھیجنا۔ اب میں تمام اراکین انجمن دعوۃ الاسلام سے اور بالخصوص عارف معلم صاحب اور حاجی یوسف صاحب اور حاجی داؤد صاحب تاجران سے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ وقت حمایت اسلام کا ہے یہ سب گروہ اسلام کے مٹانے میں بے حد کوشاں ہیں خدا کے لیے آپ حضرات توجہ کیجئے اور اسلام کی مدد کیجئے تمام ہندوستان میں بجز آپ کے یہاں کے تو کسی کو خیال نہیں ہے اور نہ اب تک کوئی انجمن اس قسم کی قائم ہوئی جیسی کہ آپ حضرات کی توجہ سے ہوئی یہاں بھی ہمارے حضرت قبلہ مدظلہ العالی چاہتے ہیں کہ ایک انجمن قائم ہو خواہ وہ آپ ہی کی انجمن کی ایک شاخ ہو تا کہ یہ سلسلہ یہاں بھی برابر قائم رہے۔
(الملتمس محمد اسحاق خادم ابواحمد رحمانی)
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆...... ہر قادیانی کے منہ پر ایک لعنت برستی ہے جس کو اہل
نظر فوراً پہچان لیتے ہیں۔
- ☆☆...... زندیق ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کا دعویٰ
کرتا ہو مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو۔
- ☆☆...... مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆☆...... قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
٣٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٢٢)
حضرت مولانا محمد اسحٰق مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام برادران اسلام اور بالخصوص قدیم پیروان مرزا سے خیر خواہانہ عرض کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن مجید کی ٢١ نصوص قطعیہ سے، چار حدیثوں سے، اور توریت مقدس کے صریح بیان سے، ان کی فریب آمیز باتوں سے، ان کے اقراروں سے حدیبیہ والی پیشین گوئی کی صداقت بخاری شریف سے اور توہین انبیاء کی کرتا اور محبوبہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا باوجود تمام عمر کی امید واری کے اور احمد بیگ کے داماد کے سامنے مرجانے سے تو صرف جھوٹے ہی نہیں ہوتے بلکہ اپنے اقرار سے ہر بد سے بدتر ٹھہرے اور خداوند قدوس کا جھوٹا اور بالیقین وعدہ خلاف ہونا مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب قرار پاتا ہے۔ (معاذ اللہ)
عقائد اسلام
- (١) تمام اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد
جو کوئی شخص دعویٰ نبوت یا دعویٰ وحی کرے وہ کافر ہے
ثبوت قرآن مجید
- ١.........مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
(سورہ احزاب ٤٠)
- ٢..........مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران ١٤٤)
- ٣...........اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ
الْاِسْلَامَ دِيْنًا (مَائِدَة ٣)
حدیث بخاری
- ١..........عن ابی ھریرة عن النبی ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسھم الانبياء
كلما ھلك نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسيكون خلفاء
(بخاری شریف جلد اول ص ٤٩١، باب ذکر بنی اسرائیل)
٢
- ٢.......... سيكون فی امتی كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی وانا خاتم النبيين
لا نبی بعدی .
( كنز العمال جلد ٦ باب در بیان فضائل نبی کریم ﷺ )
فقہ
- ١.......... اذالم يعرف الرجل ان محمد ﷺ اخرالانبياء عليهم وعلى نبينا
السلام فليس بمسلم كذا فی اليتيمہ وكذلك لو قال انا رسول الله او قاله بالفارسیۃ من پیغمبر یر ید به من پیغام می برم يكفر
(فتاوی عالمگیری جلد ٢ ص ٢٦٣)
- ٢.......... ويكفر بقوله ان كان ماقال الانبياء حقا او صدقًا وبقوله انا رسول الله
(بحر الرائق جلد ٥ ص ١٢١)
- ٣.......... دعوے النبوة بعد نبينا ﷺ كفربالا جماع .
(شرح فقہ الاکبر لابی ملاعلی قاری ص٢٠٢)
- ٤.......... ومن ادعى النبوة لنفسه او جواز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الی
مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة....... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبی ﷺ لا انه اخبرانه خاتم النبيين لا نبی بعده....... وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على جمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعًا اجماعًا وسمعا
(شفاء ص ٢٣٧ ج٢)
- ٥.......... اذا لم يعرف ان محمدًا اخرالا انبياء فليس بمسلم لانه من الضروريات
(الاشباه والنظائر کتاب السیر والردۃ ص٢٩٦)
عقائد مرزاغلام احمد قادیانی
- (١)مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت او روحی کا کیا ،مرزا قادیانی
نے ١٨٨٠ء میں سب سے پہلے اپنے آپ کو مجدّ دظاہر کیا
ثبوت قول مرزا
- ١.......... ’’اور پھر جب تیرھویں صدی کا آخر ہوا اور چودہویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ
نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ ’’الرحمن علم القرآن لتنذر قومًا ما انذر اباء ھم ولتستبین سبیل
٣
المجرمین قل انی امرت وانا اول المؤمنین“ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اس کے صحیح معنی تیرے پر کھول دیئے، یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے، جو باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ہیں، ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اول المؤمنین ہوں اور یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو ان ہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا، میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔‘‘
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٨٣، خزائن ج ١٣ ص ٢٠١، براہین احمدیہ ص ٢٣٩)
’’کتاب البریہ ١٨٩٨ء کی تصنیف ہے اس کے ٨ برس قبل اپنا مجدد ہونا اور اس الہام کا شائع ہونا بیان کرتے ہیں یعنی ١٨٨٠ء میں۔‘‘
- ٢............ بعد مجدد ہونے کے مرزا قادیانی نے اپنے کو مثیل مسیح ظاہر کیا مرزا قادیانی قریب قریب
سات برس مجدد بنے رہے، پھر مثیل مسیح ہوئے اس کا ثبوت ذیل کی تحریر سے ہوتا ہے۔
قول مرزا ’’علماء ہند کی خدمت میں نیاز نامہ‘‘
’’اے برادران دین و علماء شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر تصریحاً درج کر دیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا، میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا ہے کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘
(ازالۃ الاوہام حصہ اوّل ص ١٩٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
- ٣۔ قول مرزا...... ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں ہے
کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے، بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں، ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔‘‘
(ازالۃ الاوہام حصہ اوّل ص ١٩٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
الحاصل ١٨٨٨ء میں یا اس کے کچھ قبل مثیل مسیح بنے، ازالۃ الاوہام میں مرزا قادیانی
٤
صاف تحریر کر رہے ہیں کہ جو شخص مجھ کو مسیح موعود خیال کرے وہ کم فہم ہے اور مرزا قادیانی مسیح بن مریم بھی نہیں ہیں اس سے بھی انکار کر رہے ہیں جو شخص مرزا قادیانی کو مسیح بن مریم کہے وہ مطابق فتویٰ مرزا قادیانی کے کذاب اور مفتری ہے۔
دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ١٨٩١ء سے شروع ہوا
- ١۔ قول مرزا...... ”١٨٩١ء میں بااطلاع الٰہی یہ اعلان دیا گیا کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے۔“ پھر کیا
تھا کامل طور پر مامور من اللہ ہونے کا خلعت مل گیا اور وہ غرض اور غایت جو اس نور کی دنیا میں اترنے کی تھی ظاہر ہو گئی۔ (رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ص٩) الہام مرزا ”الحمد للہ الذی جعلک المسیح ابن مریم، اس خدا کی تعریف ہے، جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
- ٢۔ قول مرزا...... ”جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے، تب میں نے معلوم کیا کہ
میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں، یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بہ تصریح لکھا گیا ہے“
(کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥١)
- ٣۔ ........... ”الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں اور میری ہی نسبت کہا گیا ہے
کہ ہم اس کو نشان دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“ (مرزا قادیانی کا یہ فتویٰ تھا کہ جو کوئی شخص مجھے مسیح بن مریم کہے وہ مفتری اور کذاب ہے مگر پھر اپنے کو مسیح ابن مریم آپ ہی خود کہتے ہیں مرزا قادیانی کے مسیح ابن مریم بننے کا ثبوت ملاحظہ ہو، تحریر کرتے ہیں) ”پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا پھر جب اس پر دو برس گذر گئے جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ ٤ ص ٤٩٦ میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ ٤ ص ٥٥٦ میں درج ہے۔ مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“ (کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠) ”جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔“
(کشتی نوح ص ٤٨ خزائن، ج ١٩ ص ٥٢)
کھلے کھلے لفظوں میں دعویٰ نبوت
- ١۔ قول مرزا، الہام مرزا...... ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا
٥
اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اسی رسول کے مانند ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
٢.............. يٰسٓنٓ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ، ترجمہ: اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
٣.............. اِنَّا اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَوْمِهٖ فَاَعْرَضُوْا وَقَالُوْا كَذَّابٌ اَشِرٌ ترجمہ: ہم نے بھیجا احمد کو اس کی قوم کی طرف پس انکار کیا ان لوگوں نے اور کہا جھوٹا ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)
٤.............. ”فکلمنی ربی و نادانی وقال انی مرسلک الی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اماماً کما جرت سنتی فی الاولین۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا میں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجنے والا ہوں، اور بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور بلاشبہ تجھے اپنی خلافت میں سے معزز کیا ہے جیسا کہ گذشتہ لوگوں میں میری سنت جاری رہی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٩ خزائن ج ١١ ص ٥٩)
٥.............. ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٦٢)
٦.............. ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
٧.............. ”خاکسار محدث ہے المحدث ...... نبی یعنی محدث نبی ہوتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
٨.............. ”بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے، اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
دعوت نبوت تشریعی
٩.............. ”خدا وہی ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب
٦
اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦۔ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ١٠............ ’’لا تخف انی لایخاف لدی المرسلون ترجمہ: مت ڈر، میرے قرب میں
میرے رسول نہیں ڈرتے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٩٤)
- ١١............ ’’ مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے کہ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
نوٹ............ یہ آیت قرآن مجید کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول برحق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت کو بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے ملک عرب کے جہلاء اور ناشائستہ اور غیر مہذب قوم میں اپنا رسول نہایت شائستہ ہدایتوں اور حقانی مذہب اور کامل شریعت کے ساتھ بھیجا، تا کہ اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں اور نہایت مفید اور پختہ تعلیمات سے دنیا کے تمام دینوں پر اسے غالب اور فائق کر دے۔ یہ صفت کس رسول کی ہے، الفاظ قرآن نہایت صفائی سے بتا رہے ہیں کہ وہ رسول اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے آچکا ہے، کیونکہ صیغہ ماضی کے ساتھ ارشاد ہے ”ارسل رسولہ“ یعنی اللہ تعالیٰ اس رسول کو بھیج چکا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ وہ رسول وہی ہے جن پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، الفاظ قرآنی سے تو صاف آنحضرت ﷺ مراد ہیں، مگر مرزا قادیانی الفاظ قرآنی کے خلاف اور اجماع امت کے برعکس اس آیت کو اپنے لئے کہتے ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ خاص میرے لئے ہے۔
- ١٢............ ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے، جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے
چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمومنین یغضوا ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں، اور نہی بھی۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
٧
وحی الٰہی کا مستقل دعویٰ اور دعوائے نبوت
کے ساتھ تمام اولیائے کرام پر اپنی فضیلت
- ١٣.......... ”اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان
کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں مخصوص کیا گیا اور وہ دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
- ١٤.......... ”میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں میں اس خدا کی اس
پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
- ١٥.......... ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں
جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر ہے اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
- ١.......... ”قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰهُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِد“
ترجمہ: ان کو کہہ دیں میں ایک انسان ہوں، میری طرف یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ٢.......... ”وَاتْلُ عَلَیْهِمْ مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ .
ترجمہ: اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی، وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن، ج ٢٢ ص ٧٨)
دعویٰ نبوت کے ساتھ حضرت مسیحؑ پر فضیلت
- ١٦.......... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت
بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ١٧.......... ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
٨
١٨............’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے، وہ نبی ہے خدا کے نزدیک مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقة الوحی ص ١٤٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
١٩............’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقة الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
٢٠............’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا تعالیٰ کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔‘‘
(حقیقة الوحی ص ١٥٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)
٢١............’’جب خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقة الوحی ص ١٥٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت کے ساتھ
رسول اللہ ﷺ پر بھی اپنی فضیلت ثابت کرنا
٢٢............’’و اتانی مالم یوت احد من العالمین، مجھے وہ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا۔‘‘
(استفتاء ص ٧٨ خزائن ج ٢٢)
اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کو جو مرتبہ دیا گیا وہ سارے جہان میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں۔
٢٣............’’له خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان اتنکرا‘‘
٥
ترجمہ: اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا، اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
یہ ان کا شعر اور ان ہی کا ترجمہ ہے۔ اس شعر میں رسول اللہ ﷺ کے معجزہ شق القمر کو جو مشہور اور متواتر قرآن مجید سے اس کا پتہ ملتا ہے، اور جو واقع میں خرق عادت ہے مرزا قادیانی اس سے انکار کرتے ہیں اور شق القمر کو چاند گہن بتلاتے ہیں، یہ مرزا قادیانی کی عقل کا تقاضا ہے کوئی ذی عقل تو چاند گہن کو معجزہ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ چاند گہن اور سورج گہن ہمیشہ ہوا کرتے ہیں، گویا شق القمر کو مرزا قادیانی نے چاند گہن کہا، جس کا حاصل یہ ہوا کہ میرے لئے شق القمر اور شق الشمس دونوں ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف ایک یعنی شق القمر، مگر یہ محض غلط ہے، مرزا قادیانی کے دونوں کیا ایک بھی شق نہیں ہوا۔
- ٢٤........... (خطبہ الہامیہ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٣١٢) میں مرزا قادیانی ایک عربی عبارت تحریر
کرتے ہیں۔ جس کا شروع ”ان اللہ خلق ادم جعلہ“ الخ سے ہے۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور اسے تمام انسانوں اور جنوں کا سردار حاکم بنایا، پھر ان کو شیطان نے بہکایا اور جنت سے نکالا اور حضرت آدمؑ کی حکومت شیطان کو ملی اور اس لڑائی میں آدمؑ کو ذلت اور رسوائی ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزا) کو پیدا کیا، تا کہ آخری زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دے، یہ وعدہ خداوندی میں لکھا ہوا ہے۔
(٢) تمام اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ
اب تک زندہ ہیں نہ مقتول ہوئے نہ مصلوب۔
ثبوت قرآن مجید
- ١....... ”وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ
وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا.“
(نساء ١٥٧-١٥٨)
- ٢........... ”وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ“
(نساء ١٥٩)
١٠
(٢) مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت
شدہ سمجھتے ہیں اور مقتول اور مصلوب ہونا کہتے ہیں
ثبوت قول مرزا
١............ ابن مریم مر گیا حق کی قسم، داخل جنت ہوا وہ محترم (مارتا ہے اس کو فرقان سر بسر، اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر ) وہ نہیں باہر رہا اموات سے ، ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے۔
(ازالہ اوہام ص٦٢٧۔ خزائن،ج٣ص٥١٣)
٢............ ’’ازاں جملہ ایک یہ کہ قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح اس خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ۔ بلکہ قرآن کریم کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا صریح ذکر ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول ص٤٤ خزائن ج٣ص١٢٥)
٣............ ’’از انجملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی وانسانی اجسام کے لئے ضروری ہے آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور مرور زمانہ لا ابدی اور لازمی طور پر ایک دن ضرور اس کیلئے موت واجب ہوگی۔ پس اس صورت میں اول تو مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان ہی میں فوت ہوگئے ہوں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے اسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کر لیں تو شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہوگئے ہونگے اور اس کام کے لائق ہرگز نہ ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں، پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش معلوم نہیں ہوتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول ص٤٩ خزائن ج٣ص١٢٧)
٤............ ’’تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا اور نیپال ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے، ان کو ہدایت کی اور آخر (١٢٠) برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوز آسف نبی کے نام سے مشہور ہو گئے۔
(راز حقیقت ص٩ حاشیہ خزائن، ج١٤ص١٦١)
١١
- ٥......... ”حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زخم ان کو
دکھلائے۔“
(راز حقیقت ص ٧، ٨۔ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٥٩ حاشیہ)
- (٣) ہم مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوالعزم نبی
ہیں اور کامل اور پاک انسان ہیں یہود نے جو ان پر تہمتیں لگائی ہیں وہ ان سے پاک ہیں اور یہ تمام باتیں قرآن مجید سے ثابت ہوتی ہیں۔
ثبوت قرآن مجید
- ١............ اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ اَلْقٰهَآ اِلٰى مَرْيَمَ .
(نساء:١٧١)
- ٢............ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ
عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ
(آل عمران٤٥۔٤٦)
- ٣............ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَآئِيْلَ
(سورہ آل عمران ٤٨۔٤٩)
(٣) مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی۔
ثبوت قول مرزا
- ١......... مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ (توضیح المرام ص ٣ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٥٢)
یسوع کی تمام پیشین گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے اگر ایک پیش گوئی بھی اس پیش گوئیوں کے ہم پلہ اور ہموزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں، اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں، صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے، قحط پڑیں گے، لڑائیاں ہوں گی پس ان لوگوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشین گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے، کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے، کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا، پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام
رکھا، محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا، دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی، اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے، یہ تو وہی بات ہوئی جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی، لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی رات میں خدا نظر آجائے گا، بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا، آخر ہر ایک وظیفی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں، اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا، یہی آپ کا طریق تھا کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی، کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں، سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا، اس جگہ بھی وہی کاروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو، اور خدا کا خدا کو حالانکہ حضرت کا اپنا عقیدہ تھا، کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہئے مگر یسوع اسی بنا پر ہتھیار بھی خریدے شہزادہ بھی کہلایا، مگر تقدیر نے یاوری نہ کی متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی، آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے، بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں اکثر غصہ آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے، اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا، بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں، جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے، لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے
١٤٠
عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانسنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا، معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے، اس وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔
ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اس الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے...... آپ کے عیسائیوں نے بہت سے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے یہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں..... ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو، یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو، مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے، اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے۔ اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو، تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے، اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں، آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی، آپ کا کنجریوں (کسبی عورتوں) سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو، کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے، ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی عورت) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر واپس آ جاؤں گا، حالانکہ نہ صرف وہ
١٤
لوگ بلکہ انکی نسلیں اس کے بعد بھی انیس صدیوں میں مرچکیں مگر آپ اب تک تشریف نہ لائے، خود وفات پاچکے مگر اس جھوٹی پیش گوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم۔ ص٨٤تا٨۔ خزائن ج١١ ص٢٨٨ تا٢٩٢)
(٣) تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کی توہین
کرنے والا کافر اور شیطانی گروہ میں ہے۔
ثبوت قرآن مجید
- ١............هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ
(شعرا ٢٢١،٢٢٢)
- ٢............وسئل عمن ينسب الى الانبياء الفواحش كعَزْمهم على الزنى
ونحوه...... قال يكفر لانه شتم لهم واستخفاف بهم
(فتاویٰ عالمگیری ج٢ ص٢٦٣)
- ٣............وكذلك من اضاف الى نبينا صلى الله عليه وسلم تعمدا لكذب فيما بلغه واخبربه
او شك فى صدقه او سبه او تنقصه او قال انه لم يبلغ واستهزاء به او باحد من الانبياء او ازرى عليهم او اذاهم فهو كافر باجماع من علماء المسلمين.
(شرح شفا جلد٢ ص٥١٧)
- ٤............او استخف به او باحَدٍ من الانبياء او ازرى عليهم او اذا هُمْ...... فهو
كافر باجماع.
(شفا ص٢٤٦ ج٢)
- ٥............ويكفر اذا شك فى صدق النبى صلى الله عليه وسلم او سبه او نقصه او صغره.
(اشباہ والنظائر ص٢٩٥)
- ٦............وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الاجمة من تكررت ردته على
مامر والكافر بسب النبى من الانبياء فانه يقتل حدّا ولا تقبل توبة مطلقا
(طحطاوی جلد٢ ص٣٨١ حاشیہ)
- ٧............وفى التهذيب ثم انما يصير مرتدّا بانكار ما وجب الاقرار به او ذكر
الله تعالى او واحداً من الانبياء بالا ستهزاء ولو كان اسلامه بالفعل
(١٢ اشباہ والنظائر جلد اول ص٢٩٢)
١٥
(٤) تمام اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ سے معجزات صادر ہوئے، اللہ نے انہیں قدرت دی تھی کہ وہ مردہ کو زندہ کرتے تھے کوڑھی اور مادرزاد اندھے کو اچھا کرتے تھے۔
ثبوت قرآن مجید
١........اَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ اَنِّى اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللهِ وَاُبْرِئُ الاَكْمَهَ وَالاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللهِ،
(آل عمران ٤٩)
”دیکھا جائے کہ قرآن مجید نے تو اعلانیہ طور سے حضرت مسیحؑ کے عظیم الشان معجزوں کو بیان کیا ہے، مگر مرزا قادیانی ان معجزات کے بالکل منکر ہیں، چنانچہ اس سے پیشتر ان کا قول بیان کیا گیا ہے اور صرف معجزات ہی کا انکار نہیں ہے بلکہ ان کو گالیاں بھی دی ہیں اور بدگمانیوں کا مخزن بتایا ہے، ان کے معجزات میں تاویلیں بھی بتائی ہیں۔“
(٤) مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ
کے تمام معجزات سے انکار کیا۔
ثبوت قول مرزا
١........چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو، کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣ خزائن ج ٣
١٦
ص ٢٥٤) دیکھا جائے کہ نہایت صاف طریقہ سے حضرت مسیح کا باپ قرار دے رہے ہیں۔
- ٢.............. ”پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو، اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام حصہ ١ حاشیہ ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
- (٥) تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے مسلمان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں عام اس سے کہ وہ فاسق فاجر مسلمانوں کے کسی فرقہ کا ہو۔
ثبوت قرآن مجید
- ١.............. وَارْكَعُوْا مَعَ الرَّاكِعِين (سورہ بقرہ ٤٣)
علم کلام
- ٢..............صلو اخلف کل بر و فاسق،
حدیث
- ٣.............. عن عبداللہ ابن عدی ابن الخیار انه دخل علی عثمان وهو محصور فقال انک امام عامة وتنزل بک مانری ویصلی لنا امام فتنة فتتحرج فقال الصلوة احسن مايعمل الناس فاذا احسن الناس فاحسن مايعمل الناس فاذا احسن الناس فااحسن معهم واذا اساؤ فاجتنب اسائھتم . رواه البخاری جلد ١
(مشکوٰۃ بر حاشیہ مرقاۃ جلد ١ ص ٤٠٩)
وفیه دلیل علی جواز الصلوۃ خلف الفرقۃ الباغیۃ و کل فاجر،
- ٤..............عن قبیصۃ ابن وقاص قال قال رسول اللّٰہ ﷺ یکون علیکم امراء من بعدی یوخرون الصلواۃ فھی لکم وھی علیھم فصلوا معھم ماصلو للقبلۃ . رواۃ ابوداؤد
١٧
(٥) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ غیر احمدی
مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔
ثبوت قول مرزا
١.......... ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے، اس لئے وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ جیسا خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ۔ خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
(٦) ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ تمام فرقہ اسلامیہ
میں باہم مناکحت و ازدواج جائز ہے
ثبوت قرآن مجید
١.......... وَلَا تَنْكِحُوْا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰی يُؤْمِنَّ وَلَامَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوْ الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰی يُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ“
(بقرہ ٢٢١)
(٦) مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے کہ احمدی کو غیر احمدی سے مناکحت و ازدواج جائز نہیں ہے
ثبوت
١.......... گواہ نمبر ٤ کے بیان سے ظاہر ہے۔
(٧) تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ آنحضرتؐ
کی امت افضل ترین امت ہے اور ثقہ ہے۔
ثبوت قرآن مجید
١.......... ”كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ،
(آل عمران ١١٠)
١٨
- ٢......... وَكَذلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوْنَ
الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا“
(بقره ١٤٣)
فِقْه
- ١.......... وَكَذلِكَ نقطع تكفير كل قائل قال قولا يتوصل به الى تضليل الامة
(شفاء ص ٣٦٢، ٣٦٣)
(٧) مرزا قادیانی کے تمام مسلمانوں کو بجز اپنے
ماننے والوں کے سب کو کافر کہتے ہیں۔
ثبوت قول مرزا
- ١.......... ”ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے ہیں اور نہ یہ
کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے۔ ..... دوسرے یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
- ٢.......... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقۃ الوحی ١٦٣۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
(٨) ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ خدا کے کلام
قرآن کریم کے سوا اور کسی کا کلام معجزہ نہیں ہے
ثبوت قرآن
- ١.......... ”وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهِ وَادْعُوْا
شُهَدَاءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“
(بقره ٢٣)
- ٢.......... ”اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهِ وَادْ عُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ
دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“
(یونس ٣٨)
١٩
(٨) مرزا قادیانی اپنے کلام کو معجزہ کہتے ہیں۔
ثبوت ...... اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی مرزا قادیانی کے اعجاز ہیں۔
قول مرزا
١............. اعجاز المسیح، اس میں سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے ”رسالہ اعجاز المسیح جب فصیح عربی میں میں نے لکھا تو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے یہ اعلان شائع کیا کہ اس رسالہ کی نظیر اس فصاحت و بلاغت کے ساتھ کوئی مولوی پیش نہیں کر سکتے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٧٩۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣)
٢............. اعجاز احمدی کے متعلق قول مرزا۔ ”میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اردو عبارت اور قصیدہ تیار ہو گئے ہیں میں اسی وقت تک نظیر پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں، جو ان تحریرات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں اور معجزہ قرار نہیں دیتے، اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اتنی مدت تک جو میں نے اردو مضمون اور قصیدہ میں خرچ کی ہے اسی قدر مضمون اردو جس میں میری ہر ایک بات کا جواب ہو کوئی بات رہ نہ جائے اور اسی قدر قصیدہ، جو اس تعداد کے اشعار ہیں واقعات کے بیان پر مشتمل ہو، اور فصیح و بلیغ ہو، اس مدت مقررہ میں چھاپ کر شائع کر دیں تو میں ان کو دس ہزار روپیہ نقد دوں گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٩٠۔ خزائن ج ١٩ ص ٢٠٤)
(٩) ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے وعیدیں سچی ہوتی
ہیں اور جس وعید میں وقت معین کر دیا گیا ہے وہ اسی وقت پر پوری ہوتی ہے۔
ثبوت قرآن مجید
٢............. ’ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ
(روم ٦)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ہیں جاہل ہیں۔
٣............. لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ (حج ٤٧) اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔
٤............. اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (آل عمران ٩ ۔ رعد ٣١) بلاشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
٢٠
- ٥..........وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ (حج۔٤٧) (اے پیغمبر
منکرین) تجھ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ (یہ یقین کر لیں کہ) اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔
- ٦..........مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (ق ۔٢٩) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری
بات میں تغیر نہیں ہو سکتا اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
- ٧..........”فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ“
(ابراہیم ۔٤٧) اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے یا عام مخاطبین سے ارشاد فرماتا ہے کہ تو ایسا خیال اور گمان ہرگز نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے اس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی وعدہ و وعید نہیں بدلتا ، شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ”تغیر دادہ نمی شود وعدہ نزدیک من۔ و نیستم من ستم کنندہ بر بندگان“ اگر وعید وقت مقررہ پر پوری نہ ہوئی تو کلام الٰہی بدل گیا اور اس کلام الٰہی کے خلاف ہوا۔
(٩) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے
تمام وعدے اور وعیدیں سچی نہیں ہوتیں
ثبوت قول مرزا
- ١..........قرآن اور توریت کی رو سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی معیاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے۔
(انجام آتھم ص٢٩، حاشیہ خزائن ج١١ ص٢٩)
- ٢..........تاریخ عذاب کا ٹل جانا تخلف وعدہ نہیں ہے بلکہ سنت اللہ ہے۔ (برق آسمانی)
- ٣..........وعید کی پیشین گوئی کے ٹل جانے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔ (انجام آتھم ص٢٩)
- ٤..........يَعِدُ وَلَا يُوفِي ”یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت اسے پورا نہیں کرتا۔“
(یہ قول خلیفہ اول حکیم نورالدین کا بہت مشہور ہے۔ ملاحظہ ہو، ریویو بابت مئی جون ١٩٠٨ء)
قرآن مجید کی ٢١ آیتوں اور چار حدیثوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا
اس رسالہ میں شروع سے یہاں تک ٢١ آیتیں قرآن مجید کی اور ٤ حدیثیں بیان ہوئی ہیں جن سے مرزا غلام احمد قادیانی کا قطعی جھوٹا ہونا ثابت ہوا۔ جس کو تردد ہو سامنے آ کر سمجھ لے۔
٢١
بایں ہمہ ایسے یقینی کاذب کا ثبوت قرآن مجید میں بتایا جاتا ہے اور کلام الٰہی میں یہودیانہ تحریف کر کے مسلمانوں کو فریب دیا جاتا ہے۔ اب میں صرف آخر کی پانچ آیتوں کا خلاصہ بیان کرتا ہوں تاکہ مرزا قادیانی کی کذابی ہر ایک پر ایک خاص طریقے سے خوب روشن ہو جائے۔ قرآن مجید کی ان آیتوں میں خدا تعالیٰ کی صفت وعدہ اور وعید کا بیان ہے، یعنی وہ قادر مطلق، صادق القول ہے، جس بندے کو کسی طرح بشارت دیتا ہے یا جس کو سزا کا حکم سناتا ہے وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتا اس کا وعدہ اور وعید دونوں ضرور پورے ہوتے ہیں۔ اس کی کامل تحقیق فیصلہ آسمانی حصہ سوم طبع دوم کے صفحہ ٩٨ سے ١١٦ تک کی گئی ہے لائق دید ہے۔ اس مطلب کو ان آیتوں میں مختلف طور سے متعدد تاکیدوں سے بیان فرمایا ہے، مثلاً آخر کی آیت میں نہایت زور کی تاکید سے اللہ تعالیٰ ہر ایک بندے کو مخاطب کر کے یا خاص حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کو ارشاد فرماتا ہے، اے بندے ایسا گمان اور خیال بھی ہرگز نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی رسول سے وعدہ خلافی کرے، اس میں وعدہ اور وعید دونوں شامل ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے متعدد اقوال نہایت وضاحت اور یقین سے ثابت کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کامل پختہ وعدہ کرتا ہے اور ایک بار نہیں متعدد مرتبہ اس وعدے کو یاد دلاتا ہے اور پھر بھی پورا نہیں کرتا، فریب دیتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ (نعوذ باللہ) ناظرین کو یہ ملحدانہ قول دیکھ کر نہایت حیرت ہوگی اور احمدی حضرات تو جھوٹا ہی سمجھیں گے مگر جلدی نہ فرمائیں آئندہ کا مضمون ملاحظہ کرلیں۔
مرزا قادیانی کے اقوال جن سے خدا قدوس پر سخت الزام آتا ہے
یہ اقوال مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی کی نسبت اشتہارات اور رسالوں میں مشتہر کرائے ہیں جن کے فیصلہ آسمانی حصہ اول مطبوعہ بار سوم ١٩١٧ء اور حصہ سوم میں یہ لفظ نقل کئے گئے ہیں ان میں سے بعض اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔
پہلا قول ............. مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ان دنوں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(خاکسار غلام احمد، ١٠ جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہے اب خیال کیجئے کہ کتنے برسوں کا نکاح غل رہا ہے اس قول میں خوب دیکھا جائے کہ کس زور سے وعدہ الٰہی بیان کیا ہے کہ وہ لڑکی خاص مرزا
٢٢
قادیانی کے نکاح میں آئے گی اسے کوئی شرط وغیرہ روک نہیں سکتی کیونکہ نہایت صاف طریقے سے تین جملے اس قول کے بتا رہے ہیں کہ کوئی امر اس نکاح کو روک نہیں سکتا، پہلا جملہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے جو امر خدائے تعالیٰ کے علم میں مقرر ہو چکا ہے اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم ہرگز نہیں ٹلتی۔ دوسرا جملہ، ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ مرزا کے نکاح میں اسے لائے گا۔ تیسرا جملہ انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا، ان تینوں قولوں کے بعد کسی جاہل کو بھی تردد نہیں ہو سکتا، کہ وہ عورت اگر مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو اس وقت بھی مرزا قادیانی سچے رہ سکتے ہیں؟ بلکہ ہر ایک یہی کہے گا کہ بالیقین مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگایا اور اسے وعدہ خلاف ٹھہرایا اور وہ خود ملحد ثابت ہوئے، یہ لاجواب بات ہے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا، کیونکہ یہاں صاف طریقے سے بقول مرزا قادیانی، خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی اور فریب دہی ثابت ہوئی اس لئے کہ وہ عورت مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی، جس کے نکاح میں آنے کا اس نے حتمی وعدہ کیا تھا اور مقرر کر رکھا تھا اور مرزا قادیانی مرتے دم تک اس کے لئے تڑپتے رہے اور وہ دوسرے کے نکاح میں رہی اور مرزا قادیانی کلام الٰہی سے اور نیز اپنے الہامی اقرار سے یقینی جھوٹے ہوئے۔
دوسرا قول............ مذکورہ اشتہار میں اسی عورت کی نسبت یہ فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ...... انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے، (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨) اس قول میں بھی دو باتیں ایسی بیان کی ہیں جن سے اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا یقینی اور قطعی ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ انجام کار اس لڑکی کا واپس لانا یعنی جس غیر شخص کے نکاح میں وہ لڑکی جا چکی ہے اس سے واپس آئے گی یعنی اس کے نکاح میں نہ رہے گی۔ دوسرے یہ کہ میرے نکاح میں اس کا آنا خدا تعالیٰ کی مقرر شدہ باتوں میں سے ہے اور خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا، یعنی وہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی ، شرط وغیرہ کوئی اسے روک نہیں سکتی، پہلے قول میں اس کی زیادہ شرح ہے، اب ناظرین غور فرمائیں کہ یہ دو قول ہیں مرزا قادیانی کے، جن میں نہایت قطعی طور سے پیشین گوئی کرتے ہیں کہ محمدی بیگم احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور غالباً بیس برس تک اس پیشین گوئی کا غل کرتے رہے مگر پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی اس تمنا میں مر کر قبر میں جا سو رہے اور اس کی آرزو میں اور اس کذب کے جرم میں تڑپ رہے ہوں گے۔ (خدا کی پناہ) یہ دو قول مرزا قادیانی کے اس اشتہار میں ہیں جو
٢٣
١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو گورداس پور سے شائع کیا گیا ہے۔ فیصلہ آسمانی کے ص ١٦ سے ص ٤٣ تک۔ اس اشتہار میں سترہ جھوٹ دکھائے ہیں۔ ان جھوٹوں میں اکثر ان کی پیشین گوئیاں ہیں اس لئے تین طریقوں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اوّل یہ کہ صرف ایک اشتہار میں انہوں نے سترہ جھوٹ بولے۔ اب غور کیا جائے کہ نبی کی شان تو بہت بڑی ہے، وہاں تو ایک دو جھوٹ سے نبوت باطل ہو جاتی ہے۔ کسی مجدد اور بزرگ کی بھی یہ شان نہیں ہو سکتی ہے کہ ایک دو ورق میں اس قدر جھوٹ بولے۔ جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو جھوٹ بولے وہ مسلمان نہیں۔ دوسرے طریقے سے ان کا جھوٹا ہونا اس طرح ثابت ہوا کہ مذکورہ دونوں قولوں میں ان کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اور پورے اشتہار میں سولہ پیشین گوئیاں ان کی جھوٹی ہوئیں یعنی ان کے بیان کے بموجب حتمی وعدہ الٰہی ہوا مگر خدا تعالیٰ نے وہ اپنا وعدہ پورا نہ کیا اور اس سے پیشتر قرآن شریف کی پانچ آیتیں نقل کی گئی ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور وعید دونوں ضرور پورے ہوتے ہیں۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس کا کوئی وعدہ یا وعید پوری نہ ہو اگر ایسا ہو تو نبوت اور رسالت درہم برہم ہو جائے۔ اس میں خوب غور کرو، الغرض اس قول میں بھی مرزا قادیانی بموجب اپنے قول کے اور کلام الٰہی سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ تیسرے یہ کہ جس طرح وہ قرآن سے جھوٹے ٹھہرے اسی طرح توریت مقدس نے بھی ان کے جھوٹے ہونے پر شہادت دی۔ ملاحظہ ہو۔
توریت مقدس کا فیصلہ مرزا کی کذابی پر
توریت کی پانچویں کتاب مقدس استثنا کے باب ١٨ آیت نمبر ٢٠ تا ٢٢ میں یہ ارشاد ہے۔ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔ (یعنی توریت میں یہ سیاسی حکم ہے کہ جھوٹا نبی قتل کر دیا جائے) اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا واقع نہ ہوا تو وہ بات خداوند نے نہ کہی، بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔“ اور نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی نسبت خدا جانے کتنے مرتبہ بیان کیا ہے، مگر وہ نکاح میں نہ آئی یعنی جھوٹ بولا ہے اور وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اس لئے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا۔ الحاصل قرآن مجید اور توریت مقدس دونوں اس پر متفق ہیں کہ مرزائے
٢٤
قادیانی بالیقین جھوٹا ہے۔ یہاں تین طریقوں سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا۔ جب ان دوقولوں نے مرزا قادیانی کے کذب کا کامل فیصلہ کر دیا تو اب زیادہ اقوال نقل کرنے کی ضرورت نہیں رہی، مگر میں خوش طبع حضرات کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی باوجود سن رسیدہ ہونے کے احمد بیگ کی دختر پر ایسے فریفتہ تھے کہ بار بار اس کا ذکر کرتے تھے اور جابجا اس کے اشتہار میں انہیں مزہ ملتا تھا۔ اور یہ بھی خیال ہوگا کہ بار بار اعلان واشتہار کو حکم الٰہی بتانا عوام کو ڈراتا اور توجہ دلاتا ہے۔ خوامخواہ انہیں خیال ہوگا کہ اگر مرزا کو واقعی الہام الٰہی نہ ہوتا تو بار بار اس کثرت سے اس کا ذکر نہ کرتے۔ یعنی اپنے عشق ضعیفی کے ساتھ عوام کی فریب دہی بھی تھی مذکورہ اشتہار تو ١٨٨٨ء کا تھا ذیل کا اشتہار ٢٠؍ مئی ١٨٩١ء کو حقانی پریس لدھیانہ میں چھپوایا ہے اور اس کا نام اشتہار نصرت دین رکھا ہے۔ اب اس نصرت دین کا مضمون ملاحظہ ہو۔
تیسرا قول ........... کہتے ہیں کہ ”احمد بیگ کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
ناظرین! یہ نصرت دین کے لئے اشتہار ہے اور بحکم الٰہی اشتہار دیا گیا ہے اور مضمون وہی معمولی مطلوبہ کے نکاح میں آنے کا ہے۔ مگر نہایت تاکید سے لکھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے یہی مقدر قرار پا چکا ہے کہ وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی، چونکہ یہ اشتہار بحکم الٰہی دیا گیا ہے اس لئے ضرور ہے اس کا مضمون بھی اسی کی طرف سے ہوگا۔ اس لئے حیرت یہ ہے کہ عالم الغیب ہونا اس کی صفت ہے، مگر اسے یہ علم نہیں ہے کہ کس حالت میں نکاح ہوگا، باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے، مگر الحمد للہ جو کچھ علم تھا وہ جہل مرکب تھا واقعی علم نہ تھا۔ کیونکہ کسی وقت وہ عورت مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی اور اشتہار نے مرزا قادیانی کو رسوا کیا اور مرزا نے خدائے قدوس پر جہالت یا فریب دہی کا عیب لگایا اسی وجہ سے اسلامی دردمند انہیں دہریہ فتنہ سمجھتے ہیں۔ مسیح کی تثلیث تو ہو گئی یعنی مسیح قادیان کے تین جھوٹے الہام بیان ہوئے اب چوتھا الہام اسی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی نسبت قرآنی الفاظ میں ہوا ہے۔ جس سے شک وشبہ نہ مرزا کا دور ہوا ہے، فرماتے ہیں۔
چوتھا قول ........... ”١٢؍ اپریل ١٨٩١ء کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی ...... اور یہ
٢٥
معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے تب میں نے اس پیشین گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے معنی اور ہوں گے، (یہ مرزا قادیانی کا فریب ہے کہ میں اس کے معنے نہ سمجھ سکا خیال کیا جائے کہ اس قدر تکرار اور ایسی صاف مادری زبان میں الہام ہوں اور پھر ان میں نہ سمجھنے کا احتمال ہو! اگر انہی کو اپنی وحی کے معنے نہ سمجھنے کا احتمال ہو تو اس کی تمام وحی بیکار ہو جائے کیونکہ ہر وحی پر احتمال ہوگا اور کوئی معنی اس کے یقینی نہ رہیں گے۔) جو میں سمجھ نہیں سکا تب مجھے اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ”اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ“ یعنی (اس کا نکاح میں آنا) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیا شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٩٨۔ خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
خیال کرنے کا مقام ہے کہ اس پیشین گوئی کی صداقت پر یہ زور ہے کہ مختلف عنوانوں کے سوا خاص قرآنی الفاظ میں الہام اتار کر اس کے سچا ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے مگر جب اس قادر مطلق کو ان کی کذابی کا اظہار منظور ہے تو مرزا قادیانی کی چالاکیاں کیا کام دے سکتی ہیں؟ یعنی وہ لڑکی مرزا قادیانی کی بغل میں نہ آئی غرضیکہ یہ چوتھا قول بھی ان کا جھوٹا ہوا اور مرزائیوں کے خیال کے موافق چوتھی مرتبہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگایا کیونکہ وہ تو مرزا کو اب تک سچا مان رہے ہیں۔ اس لئے بالضرور اس جھوٹے الہام کا الزام وہ خدا تعالیٰ پر لگائیں گے۔
پانچواں قول...........اسی پیشین گوئی کی نسبت نقل کرتا ہوں جو سب اقوال سے زیادہ مشرح اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے لئے بہت زیادہ یقین دلانے والا ہے۔ وہ قول یہ ہے ”خدائے تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔
(ازالہ الاوہام حصہ اول ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اس قول میں مرزا قادیانی نے مذکورہ پیشین گوئی کے ہر طرح سچے ہونے کے لئے چھ طریقوں سے یقین دلایا ہے جن کے بعد کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ وہ طریقے ملاحظہ ہوں۔
٢٦
پہلا طریقہ........ انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گا۔ دوسرا طریقہ....... لوگ کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اردو کے جاننے والے یقینی طور سے جانتے ہیں کہ لفظ انجام کار آخر کار وہیں بولتے ہیں جہاں ایک شے میں متعدد باتیں ہو سکتی ہیں۔ ان میں جو بات بالیقین سب کے آخر میں ہو اسی کو انجام کار یا آخر کار کہتے ہیں۔ تیسرا طریقہ........ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے تمہاری طرف لائے گا۔ یعنی باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے شرطی ہونے کی حالت میں یا بے شرطی کی حالت میں۔ چوتھا طریقہ........ ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا (اس میں شرط وغیرہ جو کچھ ہو سب آگیا ، اب نکاح میں آنے کا کوئی مانع نہ رہا، شرط پوری ہو یا نہ ہو) اب اس کے بعد کے جملہ نے تو اور بھی غضب کیا، فرماتے ہیں۔ پانچواں طریقہ....... اور اس کام کو (یعنی مرزا کے اس نکاح کو) ضرور پورا کرے گا، جب مرزا قادیانی کا خدائے قدوس اس نکاح کے کرنے کو ضرور کہتا ہے تو اس کے ظہور میں نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ بجز اس کے کہ قادر نہیں ہے، عاجز ہے۔ (نعوذ باللہ) ان پانچوں قولوں نے حقیقۃ الوحی کے اس جواب کو محض غلط ٹھہرا دیا جو اس لڑکی کے نکاح میں نہ آنے کی نسبت مرزا قادیانی نے دیا ہے، یہ خوب یاد رہے کہ یہ بھی مرزا قادیانی کا ایک وقتی فریب ہے۔ چھٹا طریقہ......... ان کا یہ قول ہے، کوئی نہیں جو اسے روک سکے، اس میں شرط وغیرہ بھی آ گئی، اس یقین اور کمال وثوق واعتماد کے بعد بھی وہ پیشین گوئی ایسی جھوٹی ثابت ہوئی کہ دنیا نے دیکھ لیا اور مرزا قادیانی کے چھ جھوٹ قطعی اس ایک قول میں ہوئے اور بیس جھوٹ پہلے قولوں میں بیان ہوئے ہیں۔ کل چھبیس جھوٹ ہوئے ، اب قادیانی پارٹی ان الزاموں کا کچھ جواب دے سکتی ہے۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ جب مرزا قادیانی کی مخصوص پیشین گوئی جھوٹی ہوئی جس کا الہام ان کے دعویٰ مجدد ہونے یا نبی ہونے سے زیادہ پکا ہے۔ تو بالیقین قرآن مجید سے اور توریت مقدس سے اور خود اپنے اقراروں سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اب ایم اے صاحب اور خواجہ کمال کہیں کہ یہ جھوٹی پیشین گوئی ایسی ہی ہے جیسا کہ آنحضرت حدیبیہ والی پیشین گوئی؟ تم کو شرم نہیں آتی کہ ایسے صریح کاذب کی باتوں کو آنحضرتؐ کی حقانی باتوں سے مشابہت دیتے ہو، یہ کون پاجی کہتا ہے کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی پوری نہیں
٢٧
ہوئی، اس پیشین گوئی میں تعین وقت نہیں کی گئی تھی اور مرزا نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی وقت انداز کردہ پوری نہیں ہوئی محض غلط ہے مگر لاہوری ایم ، اے جھوٹ بولنے میں اپنے مرشد سے بھی بڑھ گئے اور بالکل پورا نہ ہونے کے قائل ہو گئے ۔ انہیں چاہئے کہ فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا ص ٢٣ سے ٣١ تک دیکھیں اس سے معلوم ہو جائے گا کہ قادیانی پیر اور مرید دونوں جھوٹے ہیں ۔ میں نے فیصلہ آسمانی کا حوالہ تو دے دیا مگر چونکہ اس رسالے میں کامل طور سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا ہے اور دکھا دیا ہے کہ وہ نہ مجدد ہیں نہ نبی ہیں نہ رسول ہیں، نہ رسولوں کی سی ان کی روش تھی۔ بلکہ وہ نہایت جھوٹے فریب دہندہ، کامل عیار تھے اس لئے جو درحقیقت انہیں نبی مانتا ہے یا ظاہر میں انہیں الہامی مجدد کہتا ہے وہ آسمانی فیصلہ کو ہرگز نہیں دیکھے گا اس لئے میں اس کا خلاصہ بیان کرتا ہوں جس سے مرزا قادیانی کا اور ان کے جان نثار مرید کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو جائے، وہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ کی پیشین گوئی ایسی نہیں ہے جو پوری نہ ہوئی ہو، حدیبیہ والی پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے کسی وقت اور کسی طرح حضور نے وقت کی تعین نہیں فرمائی۔ بلکہ صاف طور سے یہ فرمایا ہے کہ ہم نے پیشین گوئی کی ہے وہ پوری ہوگی ۔ الحمد للہ وہ دوسرے ہی سال پوری ہوگئی اس لئے قادیانی پیر اور مرید دونوں جھوٹے ہوئے۔ میاں ایم اے، صاحب صرف ایک منکوحہ والی پیشین گوئی تو جھوٹی نہیں ہوئی ان کی تو تمام صاف پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔ خصوصاً وہ جن پر تمام عمر زور لگاتے رہے اور خدا کا سچا وعدہ بتاتے رہے اور قسم کھاتے رہے اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے آپ کو جھوٹا اور ہر ایک سے بدتر کہتے رہے۔ وہ پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی، بلکہ خدائے تعالیٰ نے متعدد طریقوں سے انہیں ایسا جھوٹا ثابت کر دیا کہ ہر ایک ایماندار آنکھوں سے دیکھ کر ان کا جھوٹا ہونا معائنہ کر سکتا ہے۔ وہ پیشین گوئی ملاحظہ کیجئے، انجام آتھم میں فرماتے ہیں ۔ ” بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر اس کی انتظار کرو، اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی...... جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ (انجام آتھم ص ٣١۔ خزائن ج ١١ ص ٣١) یہ قول ان کا الہامی ہے اور اس کے الہامی ہونے کا وثوق اسی ایک قول میں کئی طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ اول یہ کہ اس پیشین گوئی کے وقوع کو تقدیر کہتے ہیں۔ یعنی اس پیشین گوئی کا وقوع علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے اس لئے اس کا ظہور ضرور ہوگا ۔ اس کا علم انبیاء کو دیا جاتا ہے، یہ کہنا کہ میں بار بار کہہ چکا ہوں کا محاورہ اردو میں کم سے کم تین مرتبہ کہنے کو بولتے ہیں ۔ اس لئے اس کے تقدیر مبرم ہونے کو ٢٨
تین مرتبہ بیان کر چکے ہیں ، دوم کمال درجہ کا وثوق اور اعتماد اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی۔ دیکھا جائے کہ اس پیشین گوئی کی صداقت پر کس قدر پختہ یقین ہے کہ اس کے خلاف میں اپنے آپ کو نہایت صاف طور سے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ یعنی اگر اس پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں، یعنی میں نے مہدی ، اور مسیح اور مجدد اور نبی اور رسول ہونے کے دعوے کئے ہیں۔ سب غلط ہیں، مجھے جھوٹا یقین کرو، بھائیو! مرزا قادیانی اپنی زبان قلم سے تحریر فرما رہے ہیں اب اس کے بسر و چشم ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے؟ خدا کے لئے کوئی احمدی بیان کرے، سوم یعنی تیسرا طریقہ اعتماد کا یہ بیان کرتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے روبرو مرنا خدا کی طرف سے قرار پا چکا ہے اور جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا ۔ اب خوب غور و انصاف سے دیکھا جائے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے پر مرزا قادیانی کو کس قدر وثوق ہے اور یہ کہتے ہیں کہ اس کا ظہور خدا کی طرف سے قرار پا چکا ہے۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ جب یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے جھوٹی ثابت کر دی تو مرزا قادیانی کے تین جھوٹ اور خدا پر افتراء کرنا ثابت ہوا اور اگر کوئی مرزائی حضرات اس کو نہ مانیں تو اپنے خدا پر جہالت یا فریب دہی کا الزام دیں، یعنی خدا تعالیٰ کو داماد احمد بیگ کے زندہ رہنے کا جو علم نہ تھا، یا اس نے مرزا کو فریب دیا، (نعوذ باللہ من ہذہ الکفریات ) اب یہ دیکھا جائے کہ جب اس پیشین گوئی کے ظہور کو کوئی روک نہیں سکتا، کیونکہ خدا کی طرف سے بالیقین قرار پاچکی ہے تو منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا بھی ایسا ہی ہے، شرط وغیرہ کوئی اسے روک نہیں سکتی، غرضیکہ مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کے لئے جس طرح کے متعدد طریقوں سے اپنا وثوق نو (٩) بیان کیا ہے یہاں تک کہ آخر قول میں چھ طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ جن کا ذکر اوپر ہوا، کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنے کا وثوق طریقوں سے مرزا قادیانی نے بیان کیا، اب نہایت ظاہر ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ شرط کے پورا کر دینے سے نکاح میں نہ آئی تو نو طریقوں سے یعنی مرزا قادیانی کے نو قولوں سے یہ قول (یعنی حقیقۃ الوحی والا جواب ) جھوٹا قرار پائے گا اور جب یہ کہنا بھی جھوٹ ہے کہ اس لڑکی کی ماں یا نانی نے توبہ کی تھی تو یہ پورے دس جھوٹ مرزا قادیانی کے ہوئے۔ ان کی پوری تصدیق مرزائی حضرات کو مشکل ہے، مگر اس کی تصدیق میں تو ذرا بھی دشواری نہیں ہے۔ مرزا قادیانی خود فرماتے رہے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی۔ اور خدا کے فضل سے وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی کی
٢٩
کذابی کا اعلان واظہار اس قدر دنیا میں ہوا اور ہورہا ہے کہ بارہ برس مرزا کو قبر میں سڑتے ہوئے ہو گئے اور احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے اور مرزائیوں کو اپنا چہرہ دکھا کر مرزا قادیانی کی کذابی دکھا رہا ہے مگر سخت افسوس ہے کہ یہ حضرات عار کو نار پر ترجیح دے رہے ہیں اور توبہ کر کے جہنم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پھر اس طرح کے قول صرف ایک ہی تو نہیں ہیں بلکہ بہت ہیں ایک اور ملاحظہ کیجئے۔ اسی پیشین گوئی کی نسبت ضمیمہ انجام آتھم میں بڑے زور سے لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد کا داماد نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا، اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں، کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں، یقیناً یہ سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤۔ خزائن، ج ١١ ص ٣٣٨) ہر ایک نظر رکھنے والا اس قول کو دیکھے کہ مذکورہ پیشین گوئی کے ظہور پر کس قدر وثوق ہے اور اسے خدا تعالیٰ کا سچا وعدہ کہتے ہیں، یعنی یَعِدُ وَلَا یُوفِی میں داخل نہیں ہے بایں ہمہ وہ پیشین گوئی جھوٹی ہونے اور مرزا قادیانی کے نہایت پختہ قول سے خدائے قدوس پر وعدہ خلافی کا اور اس کے نہایت پختہ باتوں کے غیر معتبر ہونے کا اور اپنے ارادہ میں عاجز ہونے کا الزام آیا اور بالیقین مرزا کو اپنے اقرار سے جھوٹا اور ہر بد سے بدتر یعنی بدترین خلائق ثابت ہوا۔ اے احمدی گروہ آنکھیں کھول کر صداقت کو دیکھو اور ایسے اعلانیہ کذاب سے علیحدہ ہو کر اپنے آپ کو بچاؤ اور سچے خیر خواہوں کے بھائی بن جاؤ، ان اعتراضوں کا جواب کوئی مرزائی نہیں دے سکتا۔ ایک رسالہ چیلنج محمدیہ مشتہر ہوا ہے جس کو دو برس سے زیادہ ہوا، اور قادیان میں خلیفہ صاحب وغیرہ کے پاس بھیجا گیا اور جابجا مولوی مرزائیوں کو بھیجا گیا، مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ اس کے مقابلہ میں دم مارے۔
حیرت ہے کہ خواجہ کمال کا گروہ اس پیشین گوئی کے پوری نہ ہونے سے کوئی الزام مرزا پر عائد نہیں کرتا۔ بلکہ ایک طرح کی مماثلت حضرت سرور انبیاء سے بتاتا ہے کہ یہ پیشین گوئی ایسی ہی پوری نہ ہوئی جس طرح جناب رسول اللہ کی حدیبیہ والی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تھی۔ حالانکہ محض غلط ہے۔ جناب رسول اللہ کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہوئی۔ اس کے بیان میں ایک خاص رسالہ لکھا گیا ہے اور مرزا کی تو خاص پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور اس طرح جھوٹی ہوئیں کہ خدائے تعالیٰ پر متعدد الزامات ثابت ہوئے جن کا بیان اوپر کیا گیا، ایسے کذاب کے ماننے والے اشاعت اسلام کریں گے (استغفر اللہ) میاں ایم اے صاحب لاہوری، آپ کے مرزا
٣٠
بالفرض نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے مگر خدا پر الزام تو لگاتے ہیں اپنے اقرار سے جھوٹے اور بدترین خلائق تو ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے انہیں جھوٹا تو ثابت کر دیا، پھر ایسے کذاب کو بزرگ مجدد ماننے والا سچے مسلمانوں میں مل سکتا ہے؟ اور ایسے جھوٹے اشاعت اسلام کر سکتے ہیں۔ البتہ بطور فریب اسلام کا نام لیا جاتا ہے۔ درحقیقت انجام میں مرزائیت کی گمراہی پھیلانی مدنظر ہے جس کا بیان ہدیہ عثمانیہ وغیرہ میں کیا گیا ہے، اگر حدیبیہ والی پیشین گوئی کی پوری حالت معلوم کرنا ہے تو ملاحظہ کیجئے۔
٦ ہجری میں جناب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا ارادہ کیا، یہ وہ وقت ہے کہ ابھی مکہ معظمہ کفار مشرکین کے قبضے میں ہے، مگر وہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور عمرہ کرنے والے کو روکتے نہ تھے اور چار مہینوں میں یعنی شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور رجب میں لڑائی کو منع جانتے تھے، اسی وجہ سے آپؐ نے ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا اور تشریف لے چلے، آپؐ کے ہمراہ چودہ، پندرہ سو صحابہ ہوئے، آپؐ حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپؐ نے خواب دیکھا کہ ہم مع تمام اصحاب کے بلاخوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور ارکان حج ادا کئے ہیں، یہ آپؐ کا خواب ہے، کوئی الہامی پیش گوئی نہیں ہے، اس خواب میں کوئی قید اور کسی وقت کی تعیین نہ بطور اندازہ بیان کی گئی ہے۔ نہ حتمی طور پر کوئی بات کہی گئی ہے، یہ خواب آپؐ نے اصحابؓ سے بیان فرمایا چونکہ حضور انور ﷺ اس سال عمرے کا ارادہ فرما رہے تھے اور انبیاء علیہم السلام کا خواب تو سچا ہوتا ہی ہے اس لئے بعض اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم کو یہ یقین ہوا کہ اسی سال ہم بلاخوف وخطر مکہ معظمہ میں پہنچیں گے اور حج کریں گے انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے وقت کی تعیین نہیں فرمائی مگر مقام حدیبیہ میں جب آپؐ پہنچے تو کفار مانع ہوئے اگرچہ شرائط کے ساتھ اس پر صلح ہوگئی۔ اس سال نہ جائیں آئندہ سال آ کر عمرہ کریں۔ حضورؐ نے حدیبیہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا، حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضرت (ﷺ) آپؐ نے تو فرمایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے، یعنی آپؐ نے اپنا خواب بیان فرمایا تھا۔ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ہم نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں، حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو گے اور طواف کرو گے، یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ہوگا، یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے آئندہ سال میں اس کا ظہور دکھایا اور پھر ایک سال کے بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل طور سے اس
٣١
پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور ہوا، غرضیکہ دو برس کے اندر وہ پیشین گوئی کامل طور سے پوری ہوگئی۔ یہاں یہ معلوم کرلینا بھی ضرور ہے کہ ٦ ہجری میں جو حضور انور ﷺ نے عمرہ کا ارادہ کیا تھا اس ارادہ کا باعث آپؐ کا خواب تھا یا صرف عمرہ کا شوق اور وہاں کے کفار کی حالت کا معلوم کرنا، کامل تحقیق اس کی شہادت دیتی ہے کہ عمرہ کرنے کا خیال اس کا باعث ہوا کیونکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خواب کا دیکھنا اس سفر کا باعث ہوا، صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انور ﷺ نے وہ خواب دیکھا تھا۔ اس کی صحت بہ لحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے ہر طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کے راوی مجاہد ہیں، جو حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں اس روایت کو اکثر مفسرین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا ہے کہ۔
من مجاهد قال اری رسول الله ﷺ وهو بالحديبية انه يدخل مكة هو واصحابه آمنین الخ
(درمنثور جلد ٦ ص ٨٠)
(مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کہ آپؐ نے خواب میں دیکھا کہ آپؐ اور آپؐ کے اصحابؓ بے خوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔)
تفسیر جامع البیان طبری اور فتح الباری اور عمدۃ القاری اور ارشاد الساری میں بھی یہی ہے کہ حضور انور ﷺ نے حدیبیہ میں یہ خواب دیکھا غرضیکہ اس وقت نو کتابوں سے اس دعوے کا ثبوت دیا گیا جس روایت میں یہ آیا ہے کہ مدینہ پاک میں حضور انور ﷺ نے یہ خواب دیکھا وہ روایت ضعیف ہے۔ علاوہ اس کے ضعیف ہونے کے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور ﷺ کا وہ سفر اس خواب کی وجہ سے ہوا، برادران اسلام اس کا یقین کرلیں کہ جو کچھ اس رسالہ میں مختصر طور سے لکھا گیا ہے وہ مرزا قادیانی کے کذب کے لئے نہایت کافی ہے کوئی مرزائی احمدی اس کا جواب دے نہیں سکتا۔
تتمہ صحیفہ رحمانیہ (٢٢)
مسیح قادیان کی اقراری کذابی کا اعلان
اے بھائیو! خدا سے ڈرنے والو محض تمہاری خیر خواہی اور تم سے محبت دینی کی وجہ سے مسیح قادیان کی حالت کے بیان میں بہت سے رسالے لکھے گئے اور تمہاری خیر خواہی میں جان و
٣٢
مال دونوں کو صرف کیا گیا مگر افسوس ہے کہ تم کو توجہ نہیں ہوتی اور اپنی جان کو ہلاکت سے نہیں بچاتے فیصلہ آسمانی دیکھو کہ کس کس خوبی سے قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے احادیث صحیحہ سے اور ان کی خود زبان سے اور ان کے قطعی اقراروں سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے۔ رسالہ چشمہ ہدایت ، اور چشمہ ہدایت کی صداقت ، اور چیلنج محمدیہ اپنی جانوں پر رحم کر کے ملاحظہ کرو اور اگر تم کو رسالے دیکھنا نا گوار ہیں تو میں ایک مختصر اعلان آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس میں جناب مرزا قادیانی کے تین قول ہیں.. کمال مہربانی کر کے انہیں ضرور ملاحظہ کیجئے ان کے دیکھنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی ، خوب غور سے ملاحظہ کیجئے کسی اور کا قول نہیں ہے، بلکہ آپ کے مقتدیٰ جناب مرزا قادیانی کا قول ہے۔
٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء میں فرماتے ہیں اور ٩؍ مئی ١٩٠٨ء میں ان کا انتقال ہے، غرضکہ اپنی موت سے بارہ برس پہلے فرماتے ہیں، ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہو اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ ظہور میں نہ آئے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠، ٣٥۔ خزائن، ج ١١ ص ٣١٤ تا ٣١٩)
اب اس قول میں مرزا قادیانی اپنی صداقت کے ثبوت میں تین باتیں پیش کرتے ہیں۔ یعنی میری سعی وکوشش سے یہ سچی باتیں ظاہر ہوں گی۔ ایک اسلام کی میں نمایاں اثر ظاہر ہوگا۔ دوسری مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے اس لئے میرے ذریعہ سے جھوٹے دینوں کا ہلاک ہو جانا ظہور میں آئے گا۔ تیسری اسلام کا بول بالا کرلوں گا ۔ اب خدا کے لئے بہ نظر انصاف فرمائیے کہ مرزا قادیانی اس قول کے بعد بارہ برس تک زندہ رہے اور ان باتوں کا ظہور سات برس کے اندر فرما چکے تھے۔ سات برس تو درکنار بارہ برس تک ان کی زندگی میں بھی کسی ایک بات کا بھی ظہور نہ ہوا ، ان بارہ برس کو بھی جانے دیجئے تحریر کی تاریخ سے آج ٢٤؍ برس سات مہینے ہوئے اس ٢٤، ٢٥ برس کے اندر بھی کسی بات کا ظہور نہ ہوا ، بلکہ دن بدن کفر وضلالت ہی کو ترقی ہو رہی ہے، اب مرزائی حضرات اپنے مرشد کے قول کو غور سے ملاحظہ کریں کہ قسم کھا کر اپنے کو
٣ اپنے کو
٣٣
جھوٹا بنا رہے ہیں پھر کیا آپ کو اپنے مرشد کی قسم پر بھی اعتبار نہیں ہے کیا آپ کے نزدیک مجدد و نبی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ جن کی قسم کا بھی اعتبار نہ ہو اور جھوٹے کہلائیں۔ ایسے جھوٹے کذاب کا وحی والہام آپ صحیح مانیں گے اور جھوٹے اور سچے کو ایک ساتھ سمجھیں گے افسوس صد افسوس۔
بھائیو! یہ باتیں تو بہت بڑی ہیں ان کو مرزا قادیانی ان کے خلیفہ وصاحبزادے تو کیا پورا کریں گے۔ اس کے بعد میں آپ کو مرزا قادیانی کا دوسرا قول دکھلانا چاہتا ہوں جو خاص اپنی معشوقہ منکوحہ آسمانی کے رقیب کی نسبت ہے اگرچہ اس کے قبل بھی میں نے پیشین گوئی کے اس جملہ کو بیان کیا ہے لیکن پھر بھی مزید توجہ کیلئے اس کو لکھتا ہوں، علاوہ اس کے نہ پیش گوئی اس قابل ہے کہ اس کو مکرر سہ کرر کثرت سے مسلمانوں کو دکھانا چاہئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی داماد احمد بیگ میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) اس قول میں مرزا قادیانی زوروں کے ساتھ اپنی پیشین گوئی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس کو خدا کا سچا وعدہ بھی کہا ہے۔ مسلمانو! ذرا غور کرو کہ داماد احمد بیگ نہ تو ڈھائی برس میں مرا اور نہ ان کے سامنے مرا۔ بلکہ اب تک زندہ ہے اور مرزا قادیانی کے ہر بد سے بدتر ہونے کا ثبوت علی الاعلان دے رہا ہے۔ حالانکہ اس کے مرنے کو مرزا قادیانی خدا کا سچا وعدہ بتا رہے ہیں جس سے خود تو جھوٹے ہوئے ہیں لیکن اپنے ساتھ خدا کو بھی جھوٹا اور وعدہ خلاف بنایا، اس کی مزید تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ دوم میں دیکھئے، اب اس کے بعد بھی مرزا قادیانی کو نبی و مسیح و مہدی تو کیا ایک سچا مسلمان ماننا بھی صریح گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب ذرا تیسرا قول بھی مرزا قادیانی کا ملاحظہ کیجئے۔ جس میں اس پیش گوئی کے ساتھ ساتھ اپنے جھوٹے ہونے کی بھی وضاحت کرتے ہیں اگرچہ یہ بھی مرزا قادیانی کے رقیب داماد احمد بیگ کے مرنے ہی کے متعلق ہے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلے دونوں قول ضمیمہ انجام آتھم کے تھے اور یہ خاص قول انجام آتھم کا ہے لکھتے ہیں کہ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١۔ خزائن ج ١١ ص ٣١)
اس میں آپ لکھتے ہیں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیش گوئی تقدیر مبرم ہے یعنی
اٹل ہے۔ کسی صورت سے اس کے خلاف ہو نہیں سکتا ، اور طرہ یہ ہے کہ اس کو آپ لفظ مکرر بار بار کے ساتھ اپنے مریدوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ داماد احمد بیگ ضرور مرے گا پھر اس کے بعد والی عبارت سچائی سے کس قدر بھری ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اب اس میں یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ اس کا مرنا مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں تقدیر مبرم ہے۔ اب اس دنیا کے رہنے والے عموماً اور مرزائی حضرات خصوصاً غور کریں اور دیکھیں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیش گوئی ١٠ / جولائی ١٨٨٨ء میں کی گئی تھی اور آج اگست ١٩٢١ء ہے جس کو ملانے سے عرصہ ٣٣ برس کا ہوتا ہے اور اس کا نکاح ١٨٩٢ء میں ہوا اور مرزا قادیانی اپنی حسرت و ارمان کے ساتھ تشریف لے گئے ۔ ١٩٠٨ء میں تو اس حساب سے خود مرزا قادیانی کی زندگی میں وہ داماد احمد بیگ سولہ برس تک ان کی تقدیر مبرم اور خدائی وعدہ کا مقابلہ کرتا رہا ۔ اب اہل حق خود فیصلہ کرلیں کہ جب داماد احمد بیگ اب تک زندہ ہے اور مرزا قادیانی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے تو مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے یا نہیں اور صرف جھوٹے نہیں بلکہ بار بار جھوٹے ہیں اور عربی ، فارسی ، اردو اور تینوں میں جھوٹے ہوئے اور یہ مُسَلَّم ہے کہ ایسا جھوٹا شخص ہرگز نبی ، مسیح ، مہدی نہیں ہوسکتا ہے ۔ وما علینا الا البلاغ المبین
ابو محمود محمد اسحاق غفرلہ الرزاق یکم ذی الحجہ ١٣٣٩ھ
٣٥
صلى الله على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه وسلم
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد آخری نبیؐ ۔ طوبہ مسجد موتی کونی لاہور
نامہ حقانی در کذب مسیح قادیانی
صحیفہ رحمانیہ
(٢٣)
حضرت مولانا محمد اسحٰق مونگیرویؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جس میں مرزائیوں کے فریبوں کو ظاہر کر کے مسلمانوں کو ان سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے اور مرزائیوں نے جو اب ایک نیا فریب نکالا ہے کہ علماء کے سامنے پہیلیاں پیش کر دیتے ہیں ان کے اس فریب کی اچھی طرح قلعی کھولی گئی ہے اور مثال میں چند پہیلیاں پیش کر کے دندان شکن جواب دیا گیا ہے اور اس کے جواب میں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے دلائل اور ان کے اعلانیہ ٨٣ جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔
ہمدردان اسلام ! یہ خاکسار کچھ ضروری دینی بات آپ سے کہنا چاہتا ہے آپ اسے غور سے ملاحظہ فرمائیں اور گروہ مرزائی قادیانی کو سمجھائیں تمام اہل اسلام اس کو دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں تیس چالیس کروڑ مسلمان شمار کیے جاتے ہیں مگر اس تعداد کثیر کے بعد بھی کچھ نہیں کر سکتے اور نہ کچھ کرنے کا خیال ہے ایسے نازک وقت میں مرزا قادیانی اٹھے اور تمام امت محمدیہ یعنی بہترین امت کے خلاف دعویٰ نبوت کر کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہہ دیا کہ بجز چند آدمیوں کے اس کا حاصل یہی ہوا کہ دنیا مسلمانوں سے خالی ہو گئی اور دین اسلام گویا مٹ گیا مرزا کی نبوت اور مسیحیت کا یہ نتیجہ ہوا اب مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ اپنے مریدوں سے چندہ لیکر ایک نیا اسلام پھیلانا چاہتے ہیں مگر طالبین حق اور ہمدردان اسلام جنہیں کچھ بھی علم ہے اور اسلام کا درد ہے وہ علمائے اسلام کے رسائل ملاحظہ کر چکے ہوں گے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا کذاب ہونا قطعی طور سے ثابت کر دیا گیا ہے مگر مرزائی حضرات سے جب مقابلہ ہوتا ہے تو ابتداء سے ان کا یہی معمول رہا ہے کہ پہلے حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کرنے کو کہتے ہیں اور کبھی ختم نبوت پر بحث کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہیں اور مرزا کے صادق یا کاذب ہونے کی گفتگو سے بھاگتے ہیں کیونکہ انہیں بھی مرزا کے جھوٹے ہونے کا یقین ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان علمی بحثوں کو چھیڑ کر عوام کو پھنسا دیا جائے کیونکہ وہ علمی باتیں سمجھیں گے نہیں اس طور سے مرزا کے کذب اور ان کی اصلی حالت پر پردہ پڑا
٢
رہے گا، حالانکہ علمائے اسلام نے بڑے بڑے رسائل حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں لکھے ہیں اور وہ چھپ کر مشتہر ہو چکے ہیں چنانچہ رسائل لاثانی در کذب مسیح قادیانی عنقریب چھپا ہے اس میں چودہ رسالوں کے نام مع کیفیت لکھے ہیں اور یہ رسالہ قادیان بھیجا گیا ہے اسی طرح مطول اور مختصر مختلف عنوان وطریقوں سے اثبات ختم نبوت میں میرے علم میں گیارہ رسالے لکھے گئے ہیں اور مشتہر ہو چکے ہیں اور قادیان بھیجے گئے ہیں ان رسائل کے نام ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔
حیات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں رسائل
(١) الالہام الصحیح فی حیات المسیح (٢) شمس الہدایۃ (٣) سیف چشتیائی (٤) الفتح الربانی (٥) الحق الصریح فی حیات المسیح (٦) البیان الصحیح فی حیات المسیح (٧) شہادۃ القرآن باب اول (٨) شہادۃ القرآن باب دوم (٩) رسالہ مذاہب الاسلام (١٠) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ (١١) رسالہ انجم لکھنوجلد ١٠نمبر١٣ (١٢) موازنۃ الحقائق (١٣) درّۃ الدرانی علی ردالقادیانی (١٤) السیف الاعظم (١٥) رسالہ حیات المسیح یہ آٹھ جز کا رسالہ نہایت خوبی سے لکھا گیا ہے انشاء اللہ عنقریب چھپے گا۔ (١٦) شفاء للناس (١٧) بیان للناس (١٨) فتح ربانی درمباحثہ قادیانی (١٩) تشیید المبانی لردالقادیانی۔
اب ناظرین اہل حق ملاحظہ کریں کہ حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایسا مہتمم بالشان اور ضروری ہے کہ مرزائی سب سے اوّل اسی مسئلہ کو پیش کرتے ہیں اور اس میں بحث کرنا ضروری خیال کرتے ہیں، الحمد للہ کہ میں نے اس مسئلہ کی تحقیق میں انیس رسالے پیش کیے جن سے معلوم ہوا کہ ہمارے علماء نے یہ انیس دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں بیان کی ہیں اور آج تک کوئی قادیانی جواب نہیں دے سکا۔
ختم نبوت کی بحث میں رسائل
(١) تردید نبوت قادیانی ٢٢٤ صفحہ کا رسالہ ہے (٢) ختم نبوت (٣) الخلافۃ فی خیر الامۃ (٤) ختم النبوۃ فی الاسلام یہ بڑا رسالہ ہے جس میں قرآن شریف کی دس آیتوں اور ٣٤ صحیح حدیثوں سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے عنقریب چھپنے والا ہے (٥) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥ (٦) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ (٧) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٥ (٨) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٦ (٩) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧ (١٠) صحیفہ
٣
رحمانیہ نمبر ٢١ (١١) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢ ختم نبوت پر یہ گیارہ رسالے پیش کئے گئے۔ اب بظاہر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی یہ گیارہ دلیلیں ہوئیں مگر جب یہ دیکھا جائے کہ بعض رسالے متعدد دلائل پر مشتمل ہیں مثلاً ختم النبوۃ فی الاسلام میں اس مسئلہ کو قرآن شریف کی دس آیتوں اور تینتالیس حدیثوں سے اور اجماع امت سے ثابت کیا ہے چونکہ ہر ایک آیت اور ہر ایک حدیث اور اجماع امت ثبوت مدعا کے لیے ایک کامل دلیل ہے، اس لیے ایک رسالہ میں چون دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی بیان ہوئی ہیں، اس سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی چونسٹھ دلیلوں سے جھوٹے ہیں، اب مذکورہ انیس دلیلوں کو بھی ملا لیجئے تو ٨٣ دلیلیں ہوئیں، اب میں تمام قادیانیوں سے کہتا ہوں وہ ان دلائل کو خوب یاد رکھیں اور آئندہ اور دلیلیں پیش کی جائیں گی، اب یہ کہنا ہے کہ باوجود ان رسالوں کے جن میں تراسی دلیلوں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا گیا ہے، پھر بھی بار بار کہا جاتا ہے کہ ہم نے مان لیا کہ حضرت مسیحؑ مر گئے مگر حضرت مسیحؑ کے مر جانے سے ایسا جھوٹا کذاب جس نے اعلانیہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں جھوٹ بولے ہوں اور انبیائے کرام کی توہین کی ہو اور اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹا اور بدترین خلائق ثابت ہو گیا ہو ایسا شخص مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح ختم نبوت کا حال ہے یعنی اگر فرض کر لیا جائے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی مگر نہایت ظاہر ہے کہ ایسا فریب دینے والا دہریہ جیسے مرزا قادیانی ہیں کسی طرح نبی یا مجدد نہیں ہو سکتا یہ دو فریب تو عرصہ سے مرزائی حضرات کے تھے مگر جب ان دو دعوؤں کے ثبوت میں لاجواب رسالے لکھے گئے تو اپنے دل میں عاجز ہو کر ایک نیا فریب نکالا کہ عرب کے چند اشعار اور کچھ عبارت عربی میں میرے پاس بھیجے ان میں پہیلیاں ہیں، پہلے دستور تھا کہ مجلسوں میں بطور مذاق یا بطور دوستانہ امتحان کے لیے اشعار بیان کیے جاتے تھے اور اسی طرح نثر عبارت بھی لکھی جاتی تھی اور کسی مجلس میں اپنے احباب کے سامنے پیش کر کے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا تھا اکثر کمسن لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے پوچھتی تھیں اہل علم نے ایسے اشعاروں میں رسالے لکھے ہیں مگر علمائے کاملین کی اس طرف توجہ نہیں دیکھی گئی ناظرین کی طبیعت خوش کرنے کے لیے اور مرزائیوں کے فریب سے واقف ہونے کے لیے تین پہیلیاں عربی و فارسی و اردو کی لکھتا ہوں جن کا مطلب بجز ان کے جن کو پہیلیوں سے واقف ہونے کا مذاق ہو خواہ وہ معمولی ہی پڑھے کیوں نہ ہوں دوسرا نہیں بتا سکتا۔
عربی زبان میں پہیلی
فارسی زبان میں پہیلی
اردو زبان میں پہیلی
بانس کا مندر واہ کا باسا باشی کا وہ کھا جا سنگ ملی تو سر پر رکھیں واہ کوراد راجا
سی سی کرتا م بتایا تا میں بیٹھا ایک الٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک
بھید پہیلی میں کیسی کہی سن لے میرے لال عربی ہندی فارسی تینوں کرو خیال
ناظرین! یہ عربی، فارسی، اردو کی پہیلیاں ہیں، اب مرزائی حضرات بتائیں کہ اس کا مطلب کیا ہے اور بخوبی ممکن ہے کہ کوئی معمولی لکھا پڑھا جسے پہیلیوں کے سمجھنے کا مذاق ہو اس کا مطلب بیان کرسکتا ہے، مگر اس سے کیا وہ شخص علمائے کاملین سے ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں اور اگر کوئی ذی علم ایسے اشعار کے مطلب سے واقف نہ ہو تو اس کے علم اور کمال میں ہرگز کوئی بٹہ نہیں آسکتا، مرزا قادیانی کا جھوٹا اور فریبی ہونا کوئی پہیلی نہیں ہے کہ جو ہر ایک اس سے واقف نہ ہوسکے، اس کا جھوٹا ہونا تو اظہر من الشمس ہے، اس واقف ہونے کے لیے علم کی ضرورت نہیں اگر کوئی معمولی اردو خواں ہو یا کچھ نہ پڑھا ہو اور صرف اردو زبان جانتا ہو تو وہ مرزا قادیانی کے اقوال دیکھ کر یا سن کر بے تامل کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہیں اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں سینکڑوں رسالے ہمارے علماء نے ایسے لکھے ہیں جن سے مرزا قادیانی کا کذاب اور دجال ہونا نصف النہار سے زیادہ روشن ہوگیا اب ان کو جھوٹا جاننے کے لیے قابلیت اور علم کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے میں غیر ضروری بات کی طرف توجہ کر کے اپنے اوقات کو خراب نہیں کرتا، البتہ اس کے علاوہ مجھے اپنی قابلیت کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ فقرہ
ہمارے ایک قابل برادر نے مرزا کے اس معجزے کی خوب دھجیاں اڑائی ہیں جسے مرزا قادیانی نے عربی میں لکھ کر اپنی قابلیت ظاہر کی تھی اور اسے چند روزہ معجزہ کہا تھا اور اعجاز احمدی اس
٥
کا نام رکھا تھا‘ مولانا سید غنیمت حسین صاحب نے اس کا کیسا خاکہ اڑایا ہے اور اس کے قصیدہ اعجازیہ میں سینکڑوں ان کے جھوٹ اور سینکڑوں ان کی عربیت کی غلطیاں دکھائی ہیں رسالہ ابطال اعجاز مرزا اس کا نام رکھا ہے‘ دو حصوں میں وہ چھپا ہے‘ اس میں عربیت کی قابلیت دیکھو کہ مرزا قادیانی نے جس عربیت کا دعویٰ اعجاز کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کے مثل کوئی نہیں بنا سکتا (اس میں درپردہ قرآن شریف کے اعجاز کا ابطال ہے کیونکہ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جس طرح خدا قرآن مجید میں اپنے کلام کے بینظیر ہونے کا دعویٰ کیا ہے اسی طرح ہم بھی اپنے کلام کے بے نظیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ قرآن مجید کی کوئی خصوصیت نہیں ہے) مگر ہمارے مولانا ممدوح نے صرف اس کے مثل ہی نہیں بنایا بلکہ اس سے بہت افضل بنا کر ان کے اعجاز کو پامال کر کے ان کو جھوٹا اور فریبی ثابت کر دیا‘ پھر ہمارے سامنے تھوڑی سی عربی عبارت پیش کر کے اپنی قابلیت دکھلانا چاہتا ہے اور عوام کو بہکاتا ہے‘ جب تیرے بڑے مرشد کو عربیت میں کامل درجہ پامال کر دیا تو تیری اور تیرے بھائیوں کی کیا ہستی ہے؟ مگر عوام کی خیر خواہی کے لیے مرزا ہی کے رسالوں سے ان کا جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہونا خواص و عوام پر ظاہر کرتا ہوں‘ ان کے رسالے اردو میں بھی ہیں اور فارسی میں بھی ہیں اور ٹوٹی پھوٹی عربی میں بھی ہیں‘ اور مرزا قادیانی نے اپنی عربی کا ترجمہ فارسی اور اردو میں بھی کر دیا ہے‘ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے رسالوں سے ان کے اقوال سے ان کے اقراروں سے ان کا جھوٹا ہونا ہم ثابت نہ کر سکیں‘ ہر ایک سمجھدار بے تامل کہہ دے گا کہ ضرور ثابت کر سکتے ہیں‘ مرزا کا جھوٹ اور فریب ثابت کرنا اس پر موقوف نہیں ہے کہ عربی کا ادب بھی کمال طور پر جانتا ہو‘ عربی میں بہت سے علوم ہیں منطق و فلسفہ و ریاضی و ہیئت و ہندسہ و غیرہ اب ان علوم میں سے تو خلیفہ محمود یا ان کی جماعت کے دوسرے لوگ کوئی علم بھی نہیں جانتے اگر دعویٰ ہو تو سامنے آئیں‘ اور ہماری باتوں کا جواب دیں یا ہم کو اپنے یہاں بلائیں اور ایک جماعت کے سامنے مقابلہ ہو‘ مگر یہ ہرگز نہیں کر سکتے‘ جب وہ ایسے جاہل ہیں تو اپنے باپ کی حقانیت کو کس طرح جانا بالخصوص اس وجہ سے کہ ہمارے علماء نے مرزا کی کذابی پر بہت رسالے لکھے ہیں‘ چنانچہ انیس رسالے حیات مسیح پر اور گیارہ رسالے ختم نبوت پر پہلے دکھائے گئے ہیں یعنی مرزا کی کذابی پر تیس دلیلیں اجمالی پیش کی گئی ہیں‘ اب میں ان کے علاوہ چند دلیلیں پیش کرتا ہوں جو ان کے کذب کو بصراحت ظاہر کر رہی ہیں اور صرف کذب ہی نہیں ہے بلکہ ان کو بدترین خلائق ثابت کرتی ہیں‘ اگر حوصلہ ہے تو ان کا جواب دیں‘ مگر ہم پیشینگوئی کرتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کیا ان کی ساری جماعت جواب نہیں دے سکتی ہے‘
٦
خلیفہ قادیان اپنی جماعت کی اگرچہ خوب حجامت کرتے ہیں اور ان سے روپیہ لوٹتے ہیں مگر ہماری حقانیت اور سچی باتوں کا جواب نہیں دے سکتے جس طرح چاہیں امتحان ہو جائے مرزا قادیانی قطعا اور یقینا بلاشبہ جھوٹے فریبی دہریہ ہیں اسکے ثبوت میں سینکڑوں رسالے بنظر خیر خواہی لکھ کر اور چھپوا کر مشتہر کئے گئے ہیں مگر ان کا دیکھنا بھی تو خلیفہ قادیان کو اور ان کے مددگاروں کو ناگوار ہے اور اپنے مریدین کو تاکید کر دی ہے کہ مخالفین کا کوئی رسالہ نہ دیکھیں ورنہ ایمان جاتا رہے گا، یہ صاف روشن دلیل ہے کہ اگر ہمارے مریدین ان رسالوں کو دیکھ لیں گے تو مرزا قادیانی سے پھر جائیں گے اور انہیں جھوٹا یقین کریں گے، لیکن اس پر بھی میں چند دلیلیں نہایت مختصر اور بہت واضح لکھ کر پیش کرتا ہوں شاید اس میں ان کا بھلا ہو جائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کی دلیلیں
پہلی دلیل: مرزا قادیانی اپنے رسالہ (انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١) میں لکھتے ہیں۔
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشینگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے، اس کا انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشینگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
اے بھائیو ذرا اس پر غور کرو یہ مرزا قادیانی کا قول اردو زبان میں ہے جس کو ہندوستان میں ہر ذی علم اور جاہل سے جاہل بھی سمجھتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹے ہونے کا صریح اقرار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے یعنی میری پیشینگوئی پوری نہ ہو اور میں اس کے سامنے مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں، اب پڑھے لکھوں اور جاہلوں نے جب یہ بات دیکھ لی اور اکثر نے یقینی طور سے اسے سن لیا، کہ مرزا قادیانی داماد احمد بیگ کے سامنے مرگئے اور وہ داماد برسوں تک مرزا قادیانی کے بعد موجود رہا اور بہت لوگ بلکہ خود مرزائی اسے دیکھتے رہے تو کوئی ایماندار مرزا قادیانی کے اقراری جھوٹا ہونے میں تردد نہیں کر سکتا اس کے سمجھنے میں کسی طرح کا علم درکار نہیں ہے اس کا یقین خلیفہ قادیان صاحب کو ضرور ہے، مگر نفس پرستی اور دنیا کی کمائی اس کے اظہار کو روکتی ہے اور مرزا قادیانی کے دہریہ پن کا اثر زیادہ انہیں مانع ہوتا ہے، ورنہ ایسے اعلانیہ اقرارات مرزا قادیانی کو جھوٹا جاننے کے لیے کسی طرح مانع نہیں ہو سکتے۔
دوسری دلیل: یہ دلیل بھی مرزا قادیانی کا اقرار ہے اور نہایت پختہ اور مستحکم اقرار ہے،
٧
اور اردو زبان میں اقرار ہے اس کے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں ہے ہر ایک ذی علم اور جاہل اردو جاننے والا بخوبی سمجھ سکتا ہے ملاحظہ ہو مرزا قادیانی اپنے رسالہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھتے ہیں اور پہلے جملہ کو موٹے قلم سے لکھا ہے۔ ”یاد رکھو کہ اس پیشینگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا اس کے سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا اس لیے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔“
ناظرین ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی کا یہ قول نہایت صاف اردو زبان میں ہے جس میں صاف طور سے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشینگوئی کی ہے اور بڑے زور سے کہتے ہیں کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا یعنی بدترین خلائق ہوں گا دنیا میں مجھ سے بدتر کوئی نہ ہوگا اس دعویٰ کو چھ تاکیدوں سے مؤکد فرمایا ہے ان کا یہ دعویٰ ہر ایک اردو بولنے والا اور سمجھنے والا سمجھے گا کہ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشین گوئی جس طرح پہلے کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ میرے سامنے نہ مرے اور میں اس کے سامنے مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔“ اب اس قول میں اس سے زیادہ ترقی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے بلکہ میں اس کے سامنے مر جاؤں تو صرف جھوٹا ہی نہیں ہوں گا بلکہ بدترین خلائق ہوں گا۔“
اب مرزائی حضرات فرمائیں کہ اس صاف بیان کے سمجھنے کے لیے کون سے علم کی ضرورت ہے جس کے لیے آپ نے چند اشعار یعنی چند پہیلیاں عربی کی لکھ کر بھیجی ہیں (جن کی طرف کسی ذی علم اہل کمال کو توجہ نہیں ہوتی) اور جہلاء کے بہکانے کے لیے ہمارے علم کا امتحان لیا ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس دعویٰ کو صرف تاکیدوں اور صفائی سے ہی بیان نہیں کرتے بلکہ بار بار اسے کہتے ہیں اور توجہ دلاتے ہیں چنانچہ انہیں چار صفحوں میں یعنی ص ٥٤ سے لیکر ص ٥٧ تک تین چار جگہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو بیان کیا ہے یعنی ص ٥٤ میں قول مذکور بیان کر کے ص ٥٧ میں بیان کرتے ہیں۔ ”اس کے بعد یوں ہوگا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی، پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧ خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
٨
اس قول میں پہلے جز کی شرح مرزا قادیانی نے یوں کی کہ اس سے مراد مرزا احمد بیگ کی موت ہے اور دوسری جز کی شرح اس طرح کی کہ اس سے مراد احمد بیگ کا داماد یعنی منکوحہ آسمانی کے شوہر کی موت ہے اور پہلے قول میں مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ لکھا گیا ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا“ یہاں ناظرین خیال فرمائیں کہ ہر ایک اردو جاننے والا بخوبی سمجھ لے گا کہ دوسرے جز سے مرزا قادیانی کا مطلب بقول خود احمد بیگ کے داماد کی موت ہے اور وہ ہرگز پورا نہ ہوا یعنی مرزا قادیانی دنیا سے تشریف لے گئے اور احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور مرزا قادیانی کی پیشینگوئی پوری نہ ہوئی اور بقول خود ہر ایک بد سے بدتر ٹھہرے، اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہو سکتا، اس کے بعد پھر اس دعویٰ کی تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم سست مت ہو اور غم مت کرو کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا، کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے، اس کے چار سطر کے بعد پھر اس کی تاکید کی اب خیال کرنا چاہیے کہ اس پیشین گوئی کے سچے ہونے پر مرزا قادیانی کو کس قدر وثوق ہے کہ بار بار متعدد مقامات میں مختلف طور پر اس دعوے کو پیش کر کے اس کا یقین دلاتے ہیں، تاکیدوں کی بوچھاڑ لگا دی ہے، مگر بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی سچی حالت کو ظاہر کر دیا اور ان کا جھوٹا ہونا دنیا کو دکھا دیا اور ایسا صاف وصریح طور سے کہ کسی عام وخاص بلکہ جاہل سے جاہل پر بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا، جس ملک میں مرزا قادیانی پیدا ہوئے اس ملک کی جو زبان ہے اس کے جاننے والے جب مرزا قادیانی کی موت کی حالت معلوم کریں گے اور اس پیشین گوئی کا انہیں علم ہو گا تو مرزا قادیانی کو ضرور جھوٹا کہیں گے اس میں کسی علم کا دخل نہیں ہے، مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ہر بے علم پر بھی ظاہر ہو جائے گا اور جو اس قول کو معلوم کر کے ان کی موت کو معلوم کر چکے ہیں انہیں ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو گیا ہے۔ اب خلیفہ صاحب اور ان کے خاص پیرو اعلانیہ کذب کی دلیلیں دیکھ کر کچھ توجہ نہیں کرتے اور مخلوق کو گمراہ کرنے میں کوشش کر رہے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے تمام مرید انہیں چندہ دیتے ہیں یعنی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ پیش کرتے ہیں، جو مرزا قادیانی اپنی اولاد کے لیے مقرر کر گئے تھے اور بڑے لطف اور مزے سے ان کی دنیا گزرتی ہے اور پیٹ بھرتا ہے اور آخرت تو ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں ہے اور نہ اس کی پرواہ ہے اگرچہ وہ زبان سے اقرار نہ کریں مگر مرزا قادیانی اپنے پختہ اقراروں سے نہایت صاف طور سے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہو رہے ہیں، مگر ان کے ماننے والے انہیں جھوٹا نہیں مانتے، اس کے سمجھنے میں اور ان کو جھوٹا جاننے میں کسی علم یا کسی دقیق فہمی کی ضرورت نہیں
٩
ہے اب انہوں نے ہمارے امتحان کے لیے چیستاں اشعار لکھ کر بھیجے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ہم نے جو مرزا قادیانی پر اعتراضات کیے ہیں ان کے جواب سے عاجز ہیں کچھ عرصہ ہوا کہ رسالہ چیلنج محمدیہ لکھ کر ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ محمود کے پاس بھیجا گیا مگر آج تک کوئی جواب وہاں سے نہیں آیا، یہ رسالہ ١٣٣٩ھ میں چھپا ہے یہی رسالہ مکرر مع کچھ اضافہ کے ١٣٤٠ھ میں چھپا ہے اور ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ محمود کو پھر دوبارہ رجسٹرڈ شدہ بھیجا گیا ہے مگر سوائے دم بخود رہنے کے جواب نہیں آیا۔ مگر اپنے برادروں کے بہکنے کا خیال ہوا اس لیے ایک فضول بات پوچھتے ہیں تا کہ اپنے برادروں سے کہہ دیں کہ ہماری بات کا جواب نہیں دیا اور اس سے ظاہر ہو گیا کہ مولوی صاحب بالکل جاہل اور ناسمجھ ہیں، ہمارے حضرت مرزا قادیانی کی باتوں کو نہیں سمجھتے، اب ہم ان کے برادروں سے خیر خواہانہ کہتے ہیں کہ خدا سے ڈرو۔ ایک دن مرنا ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانا ہے، ہماری تحریر کو ملاحظہ کرو اور ایسے اعلانیہ جھوٹے اور کذاب سے علیحدہ ہو، ہم ان کے مہملات کی طرف کچھ توجہ نہ کریں گے، مسلمانوں کی خیر خواہی کی غرض سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا نہایت کامل طور سے ثابت کیا ہے اور کرتے رہیں گے، اور یہ یقینی بات ہے کہ خلیفہ صاحب اور ان کے پیرو جھوٹ اور فریب ظاہر کرتے رہیں گے اور قیامت میں اپنے ساتھ اپنے پیروؤں کو لیکر جہنم میں جائیں گے۔
مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی دو دلیلیں ختم ہوئیں، یہ کوئی عقلی اور نقلی دلیلیں نہیں ہیں جن کے سمجھنے میں قادیانی جاہلوں کو تامل ہو بلکہ نہایت ظاہر اور کھلے طور پر مرزا نے اپنے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہونے کا اردو زبان میں اقرار کیا ہے، اب تیسری دلیل ملاحظہ کیجئے اور مرزا قادیانی کے وہ اقوال دیکھئے جن میں انہوں نے اپنی نبوت کی خاک اڑائی ہے اور اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔
تیسری دلیل: جو پانچ دلیلوں پر مشتمل ہے یعنی ان کے پانچ قول نقل کئے جاتے ہیں اور ہر قول انہیں اور ان کے خلیفہ اور ان کے تمام مریدوں کو جھوٹا اور کذاب ثابت کرتا ہے، چنانچہ (انجام آتھم ص ٢٧ خزائن ج ١١ ص ٢٧ حاشیہ) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
پہلا قول: ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرتؐ
کے بعد رسول اور نبی ہوں‘ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔“
ناظرین اس قول کو اچھی طرح ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی اس قول میں دعویٰ نبوت و رسالت سے قطعی طور سے انکار کرتے ہیں اور تین جگہ لفظ نبوت ورسالت دونوں لائے ہیں اور آخر قول میں نہایت صاف طور سے ظاہر کر دیا ہے کہ نبوت اور رسالت دو چیزیں ہیں‘ کیونکہ لکھتے ہیں ”حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت ورسالت دو چیزیں ہیں‘ اس کے دو ہونے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ تشریعی وغیر تشریعی اب ظاہر ہے کہ دعویٰ نبوت کے یہ معنی ہیں کہ نبوت غیر تشریعی کا مدعی ہے اور دعوائے رسالت کا یہ مطلب ہے کہ نبوت تشریعی کا مدعی ہے‘ اب مرزا قادیانی کے قول کا حاصل یہ ہوا کہ میں صاحب شریعت یا غیر شریعت کسی طرح کی نبوت کا مدعی نہیں ہوں‘ جب اس قول سے نہایت صفائی سے یہ ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی ہر قسم کی نبوت سے انکار کرتے ہیں تو اس کے بعد پانچ قول ان کے اور نقل کیے جاتے ہیں‘ ان کے معنی بھی بالضرور یہی ہوں گے یعنی ہر قسم کی نبوت سے انہیں انکار ہے‘ اسی وجہ سے وہ اپنے قصیدہ نعتیہ میں جناب رسول ﷺ کی مدح لکھتے ہیں۔
دوسرا قول : مصرعہ ”ہر نبوت را برو شد اختتام“
(سراج منیر ص ٩٣ خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
یعنی ہر قسم کی نبوت تشریعی وغیر تشریعی کا آنحضرت ﷺ پر خاتم ہو گیا‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے نہایت صفائی سے اپنے آپ کو اور اپنے خلیفہ کو اور تمام مریدوں کو منکر قرآن اور کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ قرآن شریف میں لفظ خاتم النبیین ہے اس کے معنی یقینی طور سے آخر النبیین کے ہیں اور مصدق اور مہر وغیرہ کے معنی جو اب قادیانی بنا رہے ہیں ان معنی کو مرزا قادیانی کفر ٹھہراتے ہیں کیونکہ اس معنی کو ایسا یقینی کہتے ہیں کہ اس کا منکر کافر ہے‘ قول مذکور کے پانچ سطر کے بعد فرماتے ہیں۔
”تیسرا قول اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ نہ کوئی پرانا نہ کوئی نیا ۔“
(انجام آتھم ص ٢٧ خزائن ج ١١ ص ٢٧)
اس قول کے الفاظ بھی نہایت ظاہر طور سے بتا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ہر قسم کی نبوت سے انکار ہے۔
چوتھا قول: اسی طرح مرزا قادیانی رسالہ (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں لکھتے ہیں ”ماکان لی ان ادعی النبوۃ و اخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ یعنی یہ مجھ سے کسی طرح نہیں ہو سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔“
پانچواں قول: دیکھو (آسمانی فیصلہ ص ٣ خزائن ج ٤ ص ٣١٣) میں مرزا غلام احمد تحریر کرتے ہیں۔ ”میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ دیکھئے اس قول میں بھی کس صفائی سے عام نبوت سے انکار کیا ہے۔
چھٹا قول: (ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٤٧١ خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے۔ جب حضرت جبرائیل کا آنا بہ پیرایۂ وحی مسدود ہے تو کسی قسم کی نبوت نہیں ہو سکتی“ یہ چھ قول ان کے جھوٹے ہونے کی چھ دلیلیں ہوئیں جن کو اقراری ڈگری کہنا چاہیے۔
اب دیکھا جائے کہ ان چھ قولوں میں کس صفائی اور کس زور و شور سے مرزا قادیانی نے ختم نبوت کا اقرار کیا ہے اور منکر ختم نبوت کو منکر قرآن اور کافر ٹھہرایا ہے یہ قول مرزا قادیانی کا ایسا سچا اور صحیح ہے کہ گذشتہ تیرہ سو برس کے عرصہ میں جو علمائے کاملین اور بزرگان دین نے فرمایا ہے اور اپنی کتابوں میں لکھا ہے اس کے بالکل مطابق ہے چنانچہ حضرت محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ کے چودھویں باب میں لکھتے ہیں۔
”اعلم ان الحق تعالیٰ قصم ظهور الانبياء بانقطاع النبوۃ والرسالۃ بعد موت محمد ﷺ“
صاحب فتوحات فرماتے ہیں ”کہ اس کو اچھی طرح معلوم کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا ہونا بند کر دیا اور انبیاء کے ظہور کو روک دیا، یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا۔“
پھر تمہید کے بیان میں لکھتے ہیں
”اعلم ان الله تعالیٰ قد سد باب الرسالۃ علی کل مخلوق بعد محمد ﷺ“
١٢
”اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسالت کا دروازہ تمام مخلوق کے لیے بند کر دیا۔“
(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٣٧ بحث ٣٥ میں ہے)
”اعلم ان الاجماع قد انعقد علی انہ ﷺ خاتم المرسلین کما انہ خاتم النبیین (پھر لکھتے ہیں) فنحن نقطع بتحریم خرق اجماع الامۃ سواء علمنا لہم دلیلا فی ذلک ام لم نعلم.“
یقینی طور سے معلوم کر لو کہ اس پر امت محمدیہ کا اتفاق ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم المرسلین اور خاتم النبیین ہیں یعنی نبوت تشریعی اور غیر تشریعی دونوں آپؐ پر ختم ہوچکی ہیں اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا اس پر امت محمدیہ کا اتفاق ہو چکا ہے اور ہم یقینی طور سے اجماع امت محمدیہ کے خلاف کرنے کو حرام جانتے ہیں، ہمیں اس کی دلیل معلوم ہو یا نہ ہو۔
بغرض اختصار میں نے امت محمدیہ کے دو بزرگوں کے ...... اقوال نقل کئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت پر تمام کاملین امت محمدیہ کا اتفاق ہے جناب مرزا قادیانی کے مذکورہ چھ اقوال ان بزرگوں کے قول کے بالکل مطابق ہیں اور یہی چھ اقوال مرزا محمود کو اور ان کی تمام جماعت کو قطعی کافر اور منکر قرآن مجید ٹھہراتے ہیں۔ اب نہایت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی ان سچے اقوال کے بعد زور وشور سے دعویٰ نبوت کرتے ہیں اور اپنے سچے اقراروں سے جھوٹے اور کافر بنتے ہیں اور تعجب یہ ہے کہ جماعت مرزائی کے ان سچے چھ قولوں کو جو تمام کاملین امت محمدیہ کے اقوال کے مطابق ہیں ان کو ردی بنا کر ان اقوال کو جن سے وہ بقول مرزا اور بقول کاملین امت محمدیہ جھوٹے اور کافر ٹھہریں، صحیح مانتے ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں، اب بعض وہ اقوال بھی ملاحظہ ہوں جن سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور تمام انبیاء پر فضیلت اظہر من الشمس ہورہا ہے۔
پہلا قول: مرزا قادیانی (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں۔
”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت محمدیہ میں سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، بس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
محض جھوٹ ہے کوئی دلیل اس پر نہیں بیان کی گئی اور نہ بیان ہو سکتی ہے، اس قول میں مرزا قادیانی اپنے آپ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بلکہ خلفائے اربعہ اور تمام صحابہ کرام اور آل عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر فضیلت دیتے ہیں، جنہوں نے
دنیا میں اسلام کو پھیلایا اور مرزا قادیانی نے تو بجز اس کے کچھ نہ کیا کہ تمام دنیا میں کفر کو پھیلا دیا‘ کیونکہ چالیس کروڑ مسلمان جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے سب کو کافر بنا دیا اور دنیا میں ایک اسلامی حکومت تھی وہ بھی ان کے نحوست قدم سے جاتی رہی اور وہاں بھی غلبہ کفار ہو گیا‘ اور اب ان کے صاحبزادے تثلیث پرستوں پر اپنی جان و مال نثار کرنے کو کہتے ہیں اور اپنے باپ کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں کیونکہ ان کے مرزا قادیانی بڑے زور وشور سے دعویٰ کر رہے ہیں‘ کیونکہ ان کا مقولہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں‘ اور اسی لیے کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کو ظاہر کروں‘ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں‘ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہیے تھا تو میں سچا ہوں‘ اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں‘ یہ مضمون تو اخبار البدر میں ہے اور اس کی تائید اجمالی طور سے اس اعلان کے حاشیہ سے ہوتی ہے جو حقیقۃ الوحی سے پہلے ہے‘ اس کی عبارت یہ ہے۔
”میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں‘ کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے‘ اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص١٦۔١٧ خزائن ج٢٢ ص٤٢٧)
اس حاشیہ کے شروع میں یہ بھی لکھا ہے کہ میرا یہ اعلان صرف میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے (اخبار البدر مورخہ ١٩۔ جولائی ١٩٠٦ء ملاحظہ ہو) اب دعویٰ نبوت مرزا قادیانی کا دوسرا قول ملاحظہ ہو۔
دوسرا قول: ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں
(اخبار بدر ٥۔ مارچ ١٩٠٨ء ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)
تیسرا قول: اسی (حقیقۃ الوحی ص٨٩ خزائن ج٢٢ ص٩٢) میں مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
چوتھا قول: مرزا قادیانی اپنے رسالہ (استفتاء ص٨٧ خزائن ج٢٢ ص٧١٥) میں لکھتے ہیں ”اتانی مالم یوت احد من العلمین“ یعنی مجھے وہ فضل و کمال ملا جو تمام عالم میں کسی ولی و نبی کو نہیں ملا‘ ان دونوں قولوں میں کس صفائی سے تمام اولیاء اور انبیاء پر اپنی فضیلت بیان کی ہے اور صاف طور سے کہا ہے کہ جو بزرگی اور بڑائی اللہ نے مجھے دی ہے وہ کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں
١٤
دی اُس میں حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ بھی داخل ہیں، مسلمانو! غیرت کرنا چاہیے کہ ایک جھوٹا کذاب دجال اپنے آپ کو سرور عالم ﷺ سے افضل کہتا ہے (لعنة الله علیه و علی تابعیه)
یہاں صرف چار قول نقل کیے گئے ہیں جن صاحب کو زیادہ تفصیل دیکھنا ہو وہ رسالہ دعویٰ نبوت مرزا مطبوعہ وکٹوریہ پریس بدایون کو خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے منگوا کر دیکھیں، اس موقع پر یہ بھی خیال رہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت تشریعی اور غیر تشریعی دونوں کا ہے، صرف نبوت غیر تشریعی پر ان کو قناعت نہیں ہے اس کا ثبوت متعدد رسالوں اور صحیفوں میں کیا گیا ہے، اس جگہ ان کا ایک قول اس باب میں نقل کیا جاتا ہے، مرزا قادیانی رسالہ (اربعین نمبر٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں لکھتے ہیں۔
”اگر کہو کہ صاحب الشریعہ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتریٰ، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعہ ہو گیا، پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی مثلاً یہ الہام ”قل للمومنین یغضوا من ابصارہم و یحفظوا فروجہم ذلک ازکٰی لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی“
دیکھئے اس عبارت میں کیسا وضاحت اور صفائی کے ساتھ مرزا قادیانی تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اس کے قبل میں ان کا دعویٰ فضیلت دکھا چکا ہوں، اب مرزا قادیانی کے حرص کو ملاحظہ فرماویں کہ ان کو صرف دعویٰ نبوت و فضیلت تمام انبیاء پر اور صاحب الشریعہ ہونے پر بس نہیں ہے بلکہ دعویٰ خدائی بھی مرزا قادیانی کے مدنظر ہے، چنانچہ (الحکم جلد ٩ نمبر ٧
١٥
مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء ص ١٢ نیز تذکرہ ص ٥٢٧ طبع سوم میں اور حقیقۃ الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨ نیز تذکرہ ص ٤٠٣ طبع سوم) میں لکھا ہے۔
تازہ الہامات
- ١............ حضور کی طبیعت ناساز تھی حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا ’خاکسار
پیپرمنٹ۔
- ٢............ ’’اِنَّمَا اَمْرُكَ اِذَا اَرَدْتَ شَيْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ‘‘ مرزا قادیانی اپنا
الہام الٰہی یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ ’’اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جب تو کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرے اور اسے تو کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گا۔‘‘
اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی صاف طور سے کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر شے پر قدرت دے دی ہے، جس شے کا ہونا میں چاہوں وہ اسی وقت موجود ہو سکتی ہے اب جن کو اللہ نے آنکھ دی ہے وہ اس قول کا جھوٹا ہونا ایسے ہی روشن دیکھتے ہیں جیسے آفتاب چمکتا ہے خاص و عام سب اسے دیکھتے ہیں، بھلا ہر چیز کو کیا موجود کرتے ایک ان کی معشوقہ منکوحہ آسمانی کے لیے سترہ اٹھارہ برس تک تڑپتے رہے مگر وہ ان کے پاس نہیں آئی، اسی طرح اس کے شوہر کے لیے بہت کچھ رمالی کی اور اس کے مرنے کے لیے بہت کچھ پیشین گوئیاں کر کے جھوٹے اور بدترین خلائق بنے (انجام آتھم اور اس کا ضمیمہ پورا ملاحظہ ہو)
مگر وہ نہ مرا اور مرزا صاحب ہی تڑپتے ہوئے اس کے سامنے قبر میں گئے اور ان کے خلیفہ اور تمام مریدین اس کو زندہ مع الخیر دیکھتے رہے اور مرزا کو تڑپاتے رہے اب اس کا اقرار کر لینا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے وہ اقوال جو ختم نبوت کے مخالف ہیں اس وجہ سے ہیں کہ وہ درپردہ دہریہ تھے اور ان کے خلیفہ اور بعض مریدین کا بھی یہی حال ہے اور بعض ناواقف بے علم فریب میں آ گئے ہیں اور اب بات کھل گئی ہے یہ بھی معلوم کر لینا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے اقوال میں یہ اعلانیہ اختلاف اسی وجہ سے ہے کہ ان کے نزدیک خدا اور رسول کوئی چیز نہیں ہیں پھر نبوت کا ختم ہونا یا نہ ہونا چہ معنی دارد، جیسا موقع دیکھا ویسا کہہ دیا، طالب حق کو فیصلہ آسمانی کے دیکھنے سے اس کا ثبوت اچھی طرح ہو جائے گا خصوصاً مرزا قادیانی کے ان الہامی اقوال سے جو انہوں نے اپنی معشوقہ فرضی منکوحہ آسمانی کے لیے استعمال کیے ہیں فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ کا ص ٢٠ و ٢١ مطبوعہ دہلی بار
سوم ١٨٩٧ء وغیرہ ملاحظہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اللہ ورسول پر کس کس طرح سے الزامات ان اقوال سے آتے ہیں، اسی طرح فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصہ میں ص ١١٩ سے آخر تک دیکھئے کہ منکوحہ آسمانی کی نسبت جو جو الہامات الٰہی انہوں نے بیان کیے ہیں اس پیشین گوئی کے جھوٹے ہو جانے سے خدائے قدوس پر کس قدر الزامات آتے ہیں، بہر حال جماعت احمدیہ سے میں پوچھتا ہوں کہ جو گروہ مرزا قادیانی کو نبی مان رہا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے مذکورہ پانچ قولوں سے کافر ہے یا نہیں؟ ضرور ہے کسی طرح سے اس سے انکار نہیں ہو سکتا، اور اس انکار کو نبوت غیر تشریعی سے خاص کرنا سخت جہالت یا فریب دہی ہے، ہم ان کے الفاظ سے عموم ثابت کر آئے ہیں۔
یہاں تک مرزا قادیانی کے سات قول نقل کئے گئے پہلے دو قولوں سے تو نہایت صاف طور سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر یعنی بدترین خلائق ہیں کسی دوسری دلیل وحجت کی حاجت نہیں ہے اور دوسرے مذکورہ پانچ قولوں سے مرزا محمود اور ان کی تمام جماعت کافر اور منکر قرآن مجید ثابت ہوتی ہے اور جب مرزا کے وہ اقوال دیکھے جاتے ہیں جن میں ان کا دعویٰ نبوت ہے تو ان اقوال سے خود مرزا قادیانی کافر اور منکر قرآن ثابت ہوتے ہیں، یہاں سے معلوم ہوا کہ خلیفہ محمود صاحب اپنے والد کو جھوٹا سمجھتے ہیں مگر چھپانا چاہتے ہیں مرزا قادیانی کے ان اقوال سے خلیفہ محمود صاحب کے دل میں اپنے والد کا جھوٹا ہونا بخوبی ثابت ہو گیا ہو گا، مگر چونکہ اپنے باپ کی جھوٹی نبوت کے ذریعہ سے خوب کھانے کو مل رہا ہے اور چین اڑانے کو بہت روپے ہاتھ میں آتے ہیں اس لیے باپ کی جھوٹی نبوت کو نہیں چھوڑتے۔
حاصل یہ ہے کہ خلیفہ صاحب اپنے باپ کے مریدوں کو الٹے استرہ سے مونڈ رہے ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ تحقیقی طور سے معلوم ہوا ہے کہ خلیفہ صاحب نے انجام آتھم کے نسخوں کو برباد کر دیا اور تمام مریدوں سے کہہ دیا کہ اس کا نسخہ کہیں نہ رہے، جس کے پاس ہو وہ ضائع کر دے یا چھپا دے، یہ بھی سنا گیا ہے کہ کوئی نیا رسالہ لکھ کر اس کا نام انجام آتھم رکھا گیا ہے اور واقعی انجام آتھم کے جو اقوال پیش کیے جاتے ہیں تو مصنوعی انجام آتھم کو پیش کر کے کہا جاتا ہے کہ اس میں دکھاؤ یہ قول کہاں ہے یہ بات ان کے فریب دہی اور کذب پرستی کو آفتاب کی طرح روشن کرتی ہے، مگر سخت افسوس ہے ان ماننے والوں کی عقل پر کہ علاوہ کذب پرستی کے مرزا قادیانی کا خود ان کے اقراروں سے جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا دیکھ رہے ہیں اور ان سے علیحدہ نہیں ہوتے مرزائیوں کا حقانی رسالوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ انہیں نہ دیکھو ان کے دیکھنے سے ایمان جاتا رہے گا، صاف
١٧
ثابت کرتا ہے کہ مرزا محمود اپنے دل میں بالیقین جانتے ہیں کہ ان رسالوں میں کامل طور سے مرزا کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا ہے اگر ہمارے مرید کسی وقت بنظر انصاف اسے دیکھیں گے تو بالضرور مرزا کو جھوٹا مان لیں گے یہاں تک تو مرزا قادیانی کے اعلانیہ اقراروں سے ان کا جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا دکھایا گیا اب ان کے چند وہ جھوٹ اور دروغگوئیاں دکھائی جاتی ہیں جن سے ہر ایک غیرت مند انسان پرہیز کرتا ہے اور اس دروغگو کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا مرزا قادیانی کے اعلانیہ جھوٹ دکھائے گئے ہیں، صحیفہ محمدیہ کے پہلے نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھے گئے ہیں اور اس میں مرزا قادیانی کے جھوٹ گنائے ہیں، پہلا رسالہ یعنی فیصلہ آسمانی حصہ تتمہ کے اس میں ١٥٩ جھوٹ و فریب و غلطیاں دکھاتے ہیں دوسرا فیصلہ آسمانی حصہ دوم اس میں ٦٩ جھوٹ و فریب و غلطیاں دکھائی ہیں تیسرا فیصلہ آسمانی حصہ سوم اس میں ٩٠ جھوٹ ہیں، چوتھا دوسری شہادت آسمانی اس میں ٤٥ جھوٹ اور فریب مرزا قادیانی کے دکھائے ہیں، پانچواں انجم الثاقب اس میں ٤٢ جھوٹ ہیں چھٹا مسیح کاذب اس میں ٢٤ جھوٹ و فریب دکھائے گئے ہیں، ساتواں ہدیہ عثمانیہ حصہ اوّل اس میں ٧ جھوٹ و فریب دکھائے ہیں، اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے مقابلہ کی معرکۃ الآراء پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اس سے کئی جھوٹ مرزا کے ثابت کئے ہیں، انہیں دیکھئے۔
- ١............ ان کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے روبرو ہلاک ہوگا۔
- ٢............ دنیا میں وہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
- ٣............ میں اس کی زندگی میں ہرگز نہ مروں گا، میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔
- ٤............ ڈاکٹر عبدالحکیم مجھ پر غالب نہیں آسکتا، یہ چاروں باتیں مرزا قادیانی کی جھوٹی ہوئیں
اور اپنے اقرار سے لعنت کی موت سے مرے اس کی تفصیل رسالہ آئینہ کمالات مرزا میں دیکھئے جس میں مرزا غلام احمد کی پیشینگوئیاں ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق بیان کر کے ان کا سراسر غلط ہونا تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے علاوہ ان باتوں کے صحیفہ محمدیہ نمبر ١١ کے آخری صفحہ میں تین پیشینگوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے، غرضیکہ سات جھوٹ اور چار جھوٹی پیشینگوئیاں دکھائی گئی ہیں، اب ان کو سابقہ رسائل والے جھوٹوں کے ساتھ شمار کر لیجئے اور جمع کیجئے کہ سو جھوٹ ہوئے، اور پھر تھوڑی سی عقل کو دخل دیجئے کہ جھوٹ ایسا جرم ہے کہ اگر ایک جھوٹ بھی کسی کا ثابت ہو جائے تو
پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا‘ اور جو ایسا جھوٹ بولے جس سے خدا پر الزام آئے تو حسب ارشاد خداوندی وہ جھوٹا ہے مرزا قادیانی نے تو ہر قسم کے جھوٹ بولے ہیں‘ پھر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود مانا جائے حیرت ہے یہی حضرت ہیں جنہیں خواجہ کمال مسیح موعود اور تمام اولیاء اللہ سے افضل مانتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی مدح میں یہ مصرعہ پڑھتے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی غیر معتبر اور جھوٹا ہونے کے لیے ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے اور یہاں تو دو ورق میں اس قدر جھوٹ ثابت کر دیئے گئے اور دکھا دیا گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تو کیا ہوتے صلحاء اور راستباز جماعت میں بھی ان کا شمار نہیں ہو سکتا‘ اور مونگیر سے لیکر بنگال اور حیدرآباد تک اور حیدرآباد سے قادیان اور لاہور اور پشاور تک ہزاروں دو ورقے شائع کر دیئے مگر کسی قادیانی کی مجال تو نہ ہوئی کہ جواب دئے اگر ہم نے غلط کہا ہے تو مرزائی جواب دیں‘ مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
اس صحیفہ کے نمبر ٢ میں دوسرے طریقے سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے یعنی احادیث صحیحہ سے یہ دکھایا گیا کہ شریعت محمدیہ میں انبیاء کی توہین حقیقتاً اور الزاماً کسی طرح جائز نہیں ہے اور مرزا قادیانی نے اس ناجائز فعل کا ارتکاب بڑے شدومد سے کیا ہے اور انبیائے کرام کی سخت توہین کی ہے جس سے وہ اعلانیہ دائرہ اسلام سے علیحدہ معلوم ہوتے ہیں اور اس توہین میں اپنی عادت مستمرہ کے بموجب محض جھوٹی باتیں لکھی ہیں مثلاً ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٩٠ حاشیہ ) میں مسیحؑ کی نسبت لکھا ہے کہ (٨) ”حق بات یہ ہے کہ ان سے (یعنی حضرت عیسیٰ سے ) کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
ملاحظہ ہو‘ یہ وہ جھوٹ ہے جس کی شہادت کلام الٰہی دیتا ہے اور ارشاد خداوندی سورۃ بقرہ کے دسویں رکوع میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے اور سورہ مائدہ میں ان معجزات کی تفصیل بیان ہوئی ہے‘ اب مرزا کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کیسا صریح جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ الزاماً نہیں بولا ہے‘ بلکہ ان کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے‘ بخوبی ثابت کرتا ہے کہ اس امر میں ان کے نزدیک جو امر حق ہے اسے بیان کیا ہے‘ اب ان کا حضرت مسیح کے معجزات سے انکار کرنا اور اس انکار کو حق بات کہنا قرآن مجید کی آیات مذکورہ سے صریح انکار ہے‘ مگر چونکہ مسلمانوں کو فریب دینا ہے اس لیے صاف انکار نہیں کرتے باتیں بنا کر
١٩
فریب دیتے ہیں‘ مولوی عبد الماجد مرزائی سے اسی پر گفتگو ہوئی تھی اور مولانا محمد عبدالشکور صاحب نے انہیں ایسا عاجز اور ساکت کر دیا کہ وہ اپنے عجز کے خود مقر ہو گئے اور تمام حاضرین جلسہ نے اس کا معائنہ کر لیا اسی صحیفہ میں ایک جھوٹ یہ بھی دکھایا ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت لکھتے ہیں (٩) آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ کا حاشیہ دیکھو خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
برادران اسلام ! ایک اولوالعزم نبی کی شان کو خیال کریں اور مرزا قادیانی کی اس گستاخی اور بے ادبی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملاحظہ فرمائیں‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ عالی مرتبہ پیغمبر ہیں جن کی عظمت اور رسالت اور معجزات اور تقرب الٰہی کا ذکر قرآن مجید میں بکثرت آیا ہے‘ ان کی نسبت مرزا کا یہ قول ہے کہ آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا یہ کیسی صریح ان آیات کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر الزام ہے جن میں ان کی رسالت وعظمت بیان ہوئی ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے۔ ”وَاٰ تَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ“
(بقرہ ٨٧)
(یعنی ہم نے عیسیٰ کو معجزے دیئے اور روح القدس کے ذریعہ سے ان کی مدد کی بعض مقام پر ان کی تعریف اس طرح فرمائی ”وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ“
(آل عمران ٤٥)
یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں جہان میں صاحب وجاہت اور مقبولان خدا سے ہیں‘ برادران اسلام ملاحظہ کریں کہ جن کی برگزیدہ صفات اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بیان فرمائے ان کی نسبت مرزا قادیانی نہایت بیباکی سے یہ لکھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا‘ یہ کیسی صریح تکذیب ہے کلام الٰہی کی‘ کسی مسلمان کو ایسی جرات نہیں ہو سکتی‘ یہ کہنا کہ الزاماً ایسا کہا ہے محض جہالت یا فریب دہی ہے‘ اوّل تو انبیاء کی نسبت ایسی گستاخیاں تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح منع ہیں حدیث سے ثابت کر دیا گیا ہے‘ دوسرے یہ کہ الزام دینے کا یہ طریقہ ہرگز نہیں ہے اہل علم اسے خوب جانتے ہیں‘ یہی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کو مذہب سے کوئی واسطہ نہ تھا‘ البتہ مسلمانوں کو فریب دینے کے لیے اپنے آپ کو اسلام کا مطیع کہتے تھے اور قرآن وحدیث سے استدلال پیش کرتے تھے‘ مگر اس میں ایسی تحریف کرتے تھے جسے اہل علم ہی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی دلی خواہش کو مسلمانوں سے منوانے کے لیے قرآن مجید کو
٢٠
پیش کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے ہمارا مدعا ثابت ہے ان باتوں کے علاوہ اس تحریر میں اور بھی جھوٹ و فریب بیان ہوتے ہیں ناظرین ان کو ملاحظہ فرمائیں۔
مسیح قادیان کے بعض اعلانیہ جھوٹ
جن میں بعض وہ بھی ہیں جو کئی برس ہوئے دکھا کر جواب طلب کیا گیا تھا مگر اب تک یہاں سے قادیان تک سب کا ناطقہ بند ہے جواب سے عاجز ہیں مگر سخت افسوس ہے ان کے حال پر کہ ایسے اعلانیہ جھوٹ دیکھ کر بھی اس کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوتے مقابلہ پر کبھی دم بخود ہو جاتے ہیں کچھ نہیں کہتے کبھی کہتے ہیں کہ حوالہ غلط ہے پوری عبارت نہیں لکھی گئی اصل کتاب دکھاؤ چونکہ جانتے ہیں کہ ہر وقت ہر شخص کے پاس کتاب موجود نہیں رہتی اس لیے ٹالنے کے لیے ایسا کہہ دیتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ جو حوالے ہم نے مرزا کی کتابوں سے دیئے ہیں اگر مرزا قادیانی کی کتاب میں یہ مطلب نہ ہو تو ہم مجمع میں اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کریں گے اور ہر غلط حوالے کے عوض ہزار روپے دینے کو موجود ہیں اور حوالہ غلط نہ ہو اور جو مطلب ہم نے ثابت کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہو تو تمہیں مرزا کو جھوٹا ماننا ہو گا میں تمام برادران اسلام سے کہتا ہوں کہ جب کوئی مرزائی ہمارے حوالہ پر الزام لگائے اس سے یہی کہیں اور نہایت زور سے کہیں اب مرزا کے جھوٹوں کا نمونہ ملاحظہ ہو۔
گیارہواں جھوٹ: (اربعین نمبر ٣ ص ٩) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے ”کہ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا“ یہ مرزا قادیانی کا صریح کذب ہے ان دونوں حضرات نے ایسا کہیں نہیں لکھا اگر کسی کو دعویٰ ہے تو بتائے کہ کہاں اور ان کی کس کتاب میں ہے دعائے مرزا میں بھی استفسار کیا گیا ہے اور مجیب کے لیے پانچ سو روپے کا اشتہار دیا ہے اور یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ سے بہت پہلے چھپا ہے پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر اوّل میں اس جھوٹ کو دکھایا گیا ہے صحیفہ ماہ صفر ١٣٣٢ھ میں چھپا ہے اور اب ١٣٤١ھ ہے مگر اس وقت تک کوئی مرزائی اس جھوٹ کے داغ کو مٹا نہیں سکا اور نہ قیامت تک مٹا سکتا ہے۔
بارہواں جھوٹ: (اخبار بدر مورخہ ٢٧ دسمبر ١٩٠٦ء ملفوظات ج ٩ ص ٩٩) میں لکھا ہے ”کہ جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے خدا تعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا“
٢١
یہ دعویٰ بھی محض غلط اور بڑا بھاری جھوٹ ہے صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور صوفی صاحب نے مرزا قادیانی سے مباہلہ کے پندرہ ماہ بعد ١٣١٢ھ میں اس کے اثر کا اشتہار دیا اس کی شروع کی عبارت یوں ہے ” کیوں مرزاجی مباہلہ کی لعنت اچھی طرح پڑ گئی یا کچھ کسر ہے ۔“ اس کے بعد مرزا قادیانی کی چار پیشینگوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے کیونکہ توریت اور قرآن مجید سے کہ جس مدعی نبوت کی پیشینگوئی جھوٹی ہو وہ جھوٹا ہے مگر مریدوں کی کذب پرستی کا یہ حال ہے کہ اپنے مرشد کے اس دعویٰ کو سچ مان کر بڑے زور سے اب تک یہی دعویٰ کر رہے ہیں چنانچہ ٢١ دسمبر ١٩١٦ء کے پیغام صلح میں لکھا ہے کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہو کر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے ۔“ اب دیکھا جائے یہ کیسا اعلانیہ جھوٹ ہے مگر کاذب کی پیروی نے دل کو تاریک اور عقل و ہوش کو بیکار کر دیا ہے کہ متنبہ کرنے پر بھی واقعی بات کی تحقیق نہیں کرتے اس دعویٰ کا جھوٹا ہونا ١٩١٣ء میں صحیفہ رحمانیہ نمبر ١ میں دکھایا ہے بایں ہمہ ١٩١٦ء میں کس جرأت سے لکھتے ہیں کہ مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے اگر اور کچھ نہیں دیکھا تھا اور مرزا قادیانی کے جھوٹ کو بھی وہ سچ سمجھتے تھے ۔ تو صوفی عبدالحق صاحب کو بھی انہوں نے دیکھا یا سنا نہ تھا کہ مباہلہ کرنے والے اس وقت تک زندہ امرتسر میں موجود ہیں‘ پھر ایسا اعلانیہ جھوٹ بولتے انہیں شرم نہیں آئی اور یہ بھی خیال نہیں کیا کہ باوجود اس شور و غل کے تمام عمر میں ایک صوفی صاحب سے مباہلہ کی نوبت آئی اور ان کی زندگی میں مرزا قادیانی ہلاک ہوئے اور اس اہل حق کی صداقت پر مہر لگا گئے اب اس اعلانیہ سچے واقعہ کے خلاف بیان کرنا کسی صاحب شرم و حیا کا کام ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں یہ خواجہ کمال کی پارٹی کا جھوٹ ہے جو اشاعت اسلام کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے روپیہ بٹور رہے ہیں لطف یہ ہے کہ ١٧ جنوری ١٩١٨ء کے اخبار اہلحدیث میں ان مباہلین کے نام دریافت کئے ہیں جو مرزا قادیانی سے مباہلہ کر کے مر گئے تو بڑی جرأت سے تاریخ مذکور کے پیغام صلح میں ان پانچ شخصوں کے نام بتائے جنہوں نے مرزا قادیانی سے کسی وقت مباہلہ نہیں کیا البتہ جس طرح دنیا کے بہت لوگوں نے مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کیا اسی طرح پانچوں صاحب نے انتقال کیا‘ مگر اس جماعت کے کذب کی پیروی اور راستی اور سچائی سے بیزاری قابل ملاحظہ ہے کہ باوجودیکہ اپنا اور اپنے مرشد کا جھوٹ معلوم کر چکے مگر عوام ناواقفوں کے سامنے ملمع کر کے اپنی سچائی دکھانا چاہتے ہیں اور پانچ شخصوں کے نام گنائے ہیں تا کہ ناواقف
٢٢
یہ سمجھیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مباہلہ کیا اور مر گئے حالانکہ یہ بات نہیں ہے ان لوگوں نے ہرگز مباہلہ نہیں کیا یہی حضرات اشاعت اسلام کا دعویٰ کر رہے ہیں اور مسلمانوں سے چندہ مانگتے ہیں اور ہمارے سیدھے سادھے مسلمان انہیں سچا سمجھ کر چندہ دے رہے ہیں۔
تیرہواں جھوٹ: جس میں چھ جھوٹ ہیں۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”یہ ضرور تھا کہ قرآن کریم وحدیث کی پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں یہ لکھا تھا کہ مسیح جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اسے کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے“
یہ دعویٰ بالکل غلط ہے قرآن وحدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ امام مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت اس قدر ہوگی کہ ہر وقت ان کا ذکر کریں گے اور بلا ان کی خواہش کے بیعت ان سے کرنا چاہیں گے اور کریں گے۔
(البرہان فی علامات المہدی آخر الزمان ملاحظہ ہو)
اس قول میں تین باتیں قرآن اور حدیث کی طرف منسوب کی ہیں (١) یہ کہ علماء کے ہاتھ سے مسیح موعود دکھ اٹھائے گا یعنی اسے ماریں پیٹیں گے (٢) اسے کافر قرار دیں گے (٣) اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے اور یہ تینوں باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کی ہیں یعنی قرآن مجید میں بھی یہ تینوں باتیں آئی ہیں اور حدیث میں بھی مگر جب یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں نہ قرآن میں ان دعوؤں کا پتہ ہے اور نہ حدیث میں اس لیے یہ چھ جھوٹ ہوئے۔ اب جن کو ان کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے وہ قرآن وحدیث سے ثابت کرے ورنہ خدا سے ڈر کر ایسے جھوٹے سے علیحدہ ہو جائے۔ اٹھارہ جھوٹ تو یہ ہوئے۔ اب انیسواں جھوٹ دیکھئے۔
انیسواں جھوٹ: قادیانی (اخبار البدر مورخہ ١٩۔ دسمبر ١٩٠٧ء ملفوظات ج ٧ ص ٤١٧) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔“ دیکھئے یہ کیسا بے تکا جھوٹ ہے اب قادیانی پارٹی یا لاہوری پارٹی کوئی اپنے مقتداء کی صداقت ثابت کرے اور کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائے یہ اس قسم کے جھوٹ ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ بولنے میں ایسے بیباک تھے کہ جو جی چاہا بے تامل کہہ دیا اب خیال کیا جائے کہ جو شخص ایسا اعلانیہ جھوٹ بولے جو تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہو سکتا ہے اس کے اس قول کو کہ مجھے یہ وحی والہام ہوا ہے۔ کون عقل باور کر سکتی ہے۔
٢٣
بیسواں جھوٹ: ١٢ اگست ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا تھا جس کی سرخی تھی ”عام مریدوں کے لیے ہدایت“ اس میں لکھا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وباء نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“ یہ قول بھی حضور سرور انبیاء علیہ السلام پر افتراء ہے اس افتراء کی ضرورت مرزا قادیانی کو یہ پیش آئی کہ قادیان میں جب طاعون آیا تو مرزا قادیانی باہر بھاگے اس لیے اس بھاگنے کو حضور علیہ السلام کا حکم ظاہر کرنا چاہا اب اگر سچا ماننے والوں کو کچھ غیرت ہو تو کسی حدیث کی کتاب سے کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دکھا سکتے۔
اکیسواں جھوٹ: (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں، مثلاً صحیح بخاری کی حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفہ کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
اس مضمون کو بخاری کی روایت بتانا بھی اس کی شہادت دیتا ہے کہ مرزا کی طبیعت میں احتیاط اور راستبازی کا بالکل خیال نہ تھا جو دل میں آ گیا وہ زور سے بیان کر دیا اور جس کی طرف چاہا اس کی طرف اس خیال کو منسوب کر دیا اگر اتفاقیہ سچ ہو گیا تو مدعا حاصل ورنہ باتیں بنانا کچھ مشکل نہیں ہیں اور ماننے والے ہر طرح مان ہی لیتے ہیں عیاں را چہ بیان مرزا قادیانی کے مرید اس کی کامل شہادت دیتے ہیں اگر میں غلط کہتا ہوں تو تمام دنیا کے مرزائی مل کر تلاش کریں اور بخاری کی اس روایت کو دکھائیں، اے مرزائیو کچھ تو سوچو اور اگر اب تک غفلت میں تھے تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت اور افضل الامت ہی نہیں بلکہ قمر الانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو؟ بخاری مسلمانوں کی ایک معروف و مشہور کتاب ہے، تمام قادیانی ملکر اور جمع ہو کر بتائیں کہ بخاری کے کس باب میں یہ حدیث ہے اور اگر نہ بتا سکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیوں دیر کرتے ہیں یہ تو وہ جھوٹ ہیں جن میں نہ کوئی الہام کی غلط فہمی کام آ سکتی ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے۔ نہ ”یمحو
الله مايشاء و يثبت" کا پیچ چل سکتا ہے نہ ”يعد ولا يوفی" کام دے سکتا ہے نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کر سکتا ہے کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی اسی کو نبوت قرآن وحدیث سے ثابت کرتے ہو؟ آخر خدا نے انسان بنایا ہے کچھ تو غور وفکر سے کام لو کیا مرنا نہیں ہے کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے ہو اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو؟
بائیسواں جھوٹ: (حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠وص ٣٩١) میں اپنی مدح میں ایک پیشینگوئی گھڑی ہے اور اسے حدیث رسول اللہ ﷺ ٹھہرایا ہے لکھتے ہیں۔
”واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں پیشینگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔" یہ پیشینگوئی کسی حدیث میں نہیں آئی مرزا قادیانی نے جاہلوں کے بہکانے کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ پر افتراء کیا ہے اگر ہم غلط کہتے ہیں تو کوئی مرزائی اس روایت کو کسی معتبر کتاب سے ثابت کرے مگر نہیں کر سکتا اس قول میں مرزا قادیانی اپنے لیے پیشینگوئی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مریدوں کو خوش کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اردو محاورے کے لحاظ سے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ در حقیقت تو وہ عیسیٰ اور ابن مریم نہیں ہو گا مگر دوسروں سے کہلائے گا یعنی لوگوں سے کہے گا کہ مجھے عیسیٰ اور ابن مریم کہو اس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بلوائے گا اور عیسیٰ اور ابن مریم بنے گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ نام تو اس کا کچھ اور ہو گا کسی وجہ سے لوگ اسے عیسیٰ اور ابن مریم کہنے لگیں گے وہ خود نہیں کہلائے گا اب یہ قول پہلے معنی کے لحاظ سے تو صاف طور سے ایک جھوٹے کی پیشینگوئی ہوئی جیسے دجال کی پیشینگوئی ہے دوسرے معنی کے لحاظ سے مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہو سکتے کیونکہ لوگوں نے انہیں خود عیسیٰ اور ابن مریم نہیں کہا بلکہ انہوں نے بہت جھوٹی اور فریب آمیز باتیں بنا کر اپنے کو عیسیٰ اور ابن مریم بتایا ہے تا کہ مسیح موعود کے مصداق بنیں بہر حال جو معنی ہوں کسی حدیث میں یہ پیشینگوئی نہیں ہے کہ میری امت میں ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا ایک جملہ اس قول میں یہ بھی ہے اور نبی کے نام سے موسوم ہو گا یہ جملہ مرزا قادیانی نے بڑی ہوشیاری اور عیاری سے لکھا ہے اب مرزائی حضرات یہ فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ظاہر اردو کے محاورہ کے لحاظ سے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ در حقیقت تو وہ نبی یعنی خدا کا رسول نہ ہو گا بلکہ اس کا نام نبی رکھا جائے گا جس طرح اس وقت لکھنؤ میں ایک مشہور بیرسٹر ہیں ان کا نام نبی اللہ ہے جا کر دیکھ لیجئے مگر
٢٥
یہ مطلب اس لیے غلط ہے کہ مرزا قادیانی کا نام نبی نہیں رکھا گیا بلکہ غلام احمد ان کا نام ہے غرض کہ برائے نام بھی انہیں نبی کہنا غلط ہے، مگر مرزا قادیانی نے یہ جملہ اس لیے تراشا ہے کہ خاص و عام میں مشہور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ان کی تسکین کے لیے کہتے ہیں کہ وہ حقیقی نبی نہیں ہوگا، بلکہ نبی اس کا نام رکھا جائے گا، اس سے مقصد یہ ہے کہ ہم پر یہ الزام نہ لگایا جائے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے منکر ہیں، بلکہ اسے مان کر ہم نبی کہلانے کے مستحق ہیں ہمیں حدیث میں نبی کہا گیا ہے مگر یہ محض فریب ہے حدیث میں جنہیں نبی کہا گیا ہے وہ واقعی نبی ہیں مگر انہیں رسول اللہ ﷺ سے پہلے نبوت کا مرتبہ مل چکا ہے رسول اللہ کے بعد انہیں نبوت نہیں ملی جو حضور علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کے مخالف ہو بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ کسی حدیث صحیح میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ میری امت میں ایسا شخص پیدا ہو گا جس میں یہ تین باتیں ہوں گی، یعنی یہ کہ وہ عیسیٰ کہلائے اور ابن مریم بھی اسے لوگ کہیں اور نبی کے نام سے بھی موسوم ہو البتہ صحیح مسلم میں حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشینگوئی ہے مگر اس میں ٢٧ باتوں سے زائد ایسی بیان ہوئی ہیں جن سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔
(صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١ و ١٢ کالم ٤٢ سے ص ٥١ تک ملاحظہ ہو)
اس حدیث میں پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اور کافروں کا مارا جانا بیان کر کے یا جوج و ماجوج کا آنا اور حضرت عیسیٰ کا پہاڑ پر محصور ہونا بیان ہوا ہے، پھر ارشاد ہے ”فیرغب نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ“ یعنی اس وقت خدا کے رسول جن کا نام عیسیٰ ہے اور ان کے اصحاب خدا کی طرف متوجہ ہوں گے اور دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یا جوج و ماجوج کو نیست و نابود کر دے گا اس کے بعد دنیا کی ایسی عمدہ حالت کی پیشینگوئی ہے کہ اس کا ظہور اس وقت تک کبھی نہیں ہوا قادیانی مسیح کے وقت کی حالت تو ایسی خراب رہی اور ہے کہ کبھی ایسی نہیں ہوئی اس حدیث میں کسی امتی کا نام نبی یا نبی اللہ ہر گز نہیں بتایا بلکہ حضرت عیسیٰ کی صفت نبی اللہ بیان ہے۔
تیسواں جھوٹ: (نشان آسمانی ص ١٨ خزائن ج ٤ ص ٣٧٨) میں لکھتے ہیں ”جاننا چاہیے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لیے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا، لیکن چودہویں صدی کے لیے یعنی اس بشارت کے بارے میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودہویں صدی کے سر پر ظاہر ہو گا اس قدر بشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب
٢٦
منکر نہیں ہوسکتا‘‘ مرزا قادیانی نے یہ عظیم الشان دعویٰ کیا اور اکثر عمر رسائل لکھنے میں گزاری مگر کسی رسالے میں ان اشاروں کا اجمالی ذکر بھی کہیں دیکھا نہیں گیا، اگر کوئی دکھا سکے تو دکھائے مگر یہ بات قطعاً اور یقیناً جھوٹی ہے کہ چودہویں صدی کے مجدد کے لیے مخصوص اشارے کسی حدیث میں ہیں جو اور مجددوں کے لیے نہیں ہیں اس مضمون کی ایک روایت صرف ابوداؤد میں ہے جس کے معنی کے اشکال سے اگر قطع نظر کی جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد کو پیدا کرے گا جو دین کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا، (الفاظ حدیث کو ملاحظہ کیا جائے) ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجددلها دينها (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣ باب ما يذكر في قدر المائة) اللہ تعالیٰ ضرور اس امت کے لیے ہر صدی کے شروع میں ایسا مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا اب قادیانی جماعت بتلائے کہ اس حدیث میں وہ کونسا لفظ ہے جس سے معلوم ہوا کہ چودہویں صدی کا مجدد ممتاز ہوگا یا اس کے سوا کوئی دوسری حدیث دکھلائے جس میں وہ الفاظ ہوں۔
جو عربی عبارت سمجھ سکتے ہیں وہ بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ اس حدیث میں صرف اس قدر بیان ہے کہ ہر صدی پر مجدد ہوگا جو دین کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس کے سوا کوئی اشارہ اس میں نہیں ہے اس حدیث کے بموجب مرزا قادیانی مجدد ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو کوئی نفع ایسا نہیں پہنچایا جو دوسرے علماء نے نہ پہنچایا ہو بلکہ نہایت نقصان پہنچایا مثلاً یہ کہ (١) چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دنیا کو اسلام سے خالی کر دیا (٢) خدا اور رسول پر ایسے الزام لگائے جس سے منکرین اسلام کو اس مقدس مذہب پر مضحکہ کا موقع دیا اور ثابت کر دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی در پردہ دہریہ ہیں ہر ایک موقع پر ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ ہر ایک مذہب پر خصوصاً اسلام پر مخالفین کو مضحکہ کا موقع ملے اور جاننے والے جان لیں کہ قادیانیوں کے سردار جھوٹوں کے سرگروہ ہیں اور انہیں کو خواجہ کمال قادیانی مسیح موعود اور تمام صحابہ کرام اور اولیاء عظام سے افضل کہتے ہیں اور در پردہ ہمارے مقدس بزرگوں کی سخت توہین کرتے ہیں۔
چوبیسواں جھوٹ: ”پھر آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ میری دعوت کے وقت میں آسمان پر رمضان میں خسوف اور کسوف عین حدیث کے موافق وقوع میں آیا‘‘
(تحفہ غزنویہ ص ١٢ خزائن ج ١٥ ص ٥٤٣)
مرزا قادیانی کے علاوہ بہت سے مدعیان نبوت و مہدویت کے وقت میں ایسا خسوف و
٢٧
کسوف رمضان میں ہوا ہے‘ میری دعوت کے وقت میں لکھنا صریح جھوٹ ہے اس کی تفصیل دوسری شہادت آسمانی میں کامل طور سے کی گئی ہے اس کو دیکھنا چاہیے۔
پچیسواں جھوٹ: ”اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کر دیا جاتا ہے۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣ و ٤ تتمہ اربعین ص ١١ خزائن ج ١٧ ص ٤٧٧)
قرآن پاک میں اور تمام کتب آسمانی میں جھوٹے نبی اور سچے نبی دونوں کے ہلاک کا ذکر ہے بلکہ جھوٹے نبی کے لیے کوئی خاص قاعدہ ہلاک کا مقرر نہیں ہے (ملاحظہ رسالہ عبرت خیز)
چھبیسواں جھوٹ: ”خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اس کو وہ عمر ہرگز نہیں ملتی ہے جو صادق کو مل سکتی ہے تمام صادقوں کا بادشاہ ہمارا نبی ﷺ ہے اس کو وحی پانے کے لیے ٢٣ برس کی عمر ملی یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣ و ٤ ص ١ خزائن ج ١٧ ص ٤٧٨)
چونکہ قرآن کریم میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم الرسل‘ خاتم النبیین لکھا ہے اس لیے قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آ سکتا ہے‘ اور جب نبی نہیں آ سکتا تو آئندہ کسی نبی کے آنے کا پیمانہ بتلانے کی ضرورت نہیں رہی البتہ بہت جھوٹے نبی ہوئے اور ٢٣ برس سے زیادہ دنیا میں عیش وعشرت سے رہے اور ہلاک نہیں کئے گئے۔
ستائیسواں جھوٹ: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک ۔ مجلد کتاب ہزار جز کی کتاب بھی ہو اور اس میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
ہزار جز کی کتاب تو بڑی کتاب ہوگی‘ اگر ہزار سطروں میں بھی مرزا قادیانی کے صدق کی دلیلیں ہوتیں تو کہا جاتا یہ بھی صریح جھوٹ و مبالغہ ہے ہزار جز کا آٹھ سو ورق ہوا جس کے سولہ سو صفحے ہوئے‘ حقیقۃ الوحی جو ٣٩٢ صفحہ کی کتاب ہے جس میں ٢٠٨ نشان درج ہے اور نشان کیا ہے یہی کہ مجھ کو لڑکا ہوگا‘ لڑکی ہوگی‘ فلاں کی تبدیلی ہوئی فلاں مرے گا‘ اگر اسی کا نام نشان ہے اور یہی صدق کی دلیلیں ہیں تو رمال جفار روز ایسی ایسی خبریں دیا کرتے ہیں جو دلیل نبوت نہیں ہو سکتی ہے۔
٢٨
اٹھائیسواں جھوٹ: ”مگر آج باوجود مخالفانہ کوششوں کے ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت مختلف مقامات میں موجود ہے پس کیا یہ معجزہ ہے یا نہیں۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٩٧)
انتیسواں جھوٹ: ”اب اگرچہ خاص لوگ اہل علم اور اہل جاہ و ثروت دس ہزار کے قریب ہماری جماعت میں موجود ہیں مگر عام تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔“
(تحفۃ غزنویہ ص ١٣ خزائن ج ١٥ ص ٥٤٤)
تحفۃ الندوہ اور تحفۃ غزنویہ دونوں کتابیں اکتوبر ١٩٠٢ء کی تصنیف ہیں‘ تحفۃ الندوہ میں صریح جھوٹ سے مرزا قادیانی نے کام لیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ میری جماعت میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی موجود ہیں تحفۃ غزنویہ کی تحریر سے تحفۃ الندوہ کی تحریر غلط ہو رہی ہے۔
تیسواں جھوٹ: ”اگر قرآن کریم نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“ (تحفۃ الندوہ ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
مرزا غلام احمد کا نام قرآن کریم نے ہرگز مسیح ابن مریم نہیں رکھا ہے مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹے ہیں کیونکہ کشتی نوح میں مرزا قادیانی اپنا مسیح ابن مریم ہونا اس طور سے ظاہر کرتے ہیں کہ میں پہلے مریم بنایا گیا اور مجھ میں نفخ روح کی گئی اور نو مہینے تک حاملہ رہا‘ نو مہینے کے بعد عیسیٰ ہو گیا‘ پس اس طور سے میں مسیح ابن مریم ٹھہرا اور ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ ”جو کوئی مجھے مسیح ابن مریم کہے وہ کذاب ہے“ پس اگر قرآن کریم نے مرزا قادیانی کا نام مسیح ابن مریم رکھا تھا تو پھر مسیح ابن مریم کہنے والے کو مرزا قادیانی مفتری اور کذاب کیوں کہتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٧٧ رسالہ تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦) میں سات جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔
- (١) اکتیسواں جھوٹ: ”قرآن نے میری گواہی دی محض غلط ہے قرآن ایسے
جھوٹے کی گواہی ہرگز نہیں دے سکتا۔“
- (٢) بتیسواں جھوٹ: ”رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٥)
ہرگز نہیں دی‘ جناب رسول اللہؐ پر بالکل افتراء ہے حضرت سرور عالم ﷺ ایسے جھوٹے کی گواہی نہیں دیتے‘ البتہ ان کے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہے اور فرمایا ہے کہ میرے بعد متعدد
٢٩
جھوٹے آئیں گے اور پیغمبری کا دعویٰ کریں گے ان سے بچیو رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام دیکھو اس میں تینتالیس حدیثیں اس مضمون کی ہیں۔
(٣) تینتیسواں جھوٹ: ”پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
بالکل جھوٹ ہے کوئی مرزائی سامنے آ کر بتائے کہ کس کس نبی نے مرزا کے آنے کا زمانہ متعین کیا ہے‘ مگر قیامت تک کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔
(٤) چونتیسواں جھوٹ: ”قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
محض جھوٹ ہے البتہ قرآن شریف کی دس آیتوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
(٥) پینتیسواں جھوٹ: ”میرے لیے آسمان نے بھی گواہی دی۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
یہ بھی محض جھوٹ اور فریب ہے اس دعویٰ کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں دو رسالے لکھے گئے ہیں‘ ایک شہادت آسمانی اور دوسری شہادت قرآنی‘ ناظرین ان دونوں رسالوں کو اچھی طرح دیکھیں مرزا قادیانی کا جھوٹا اور فریبی ہونا کامل طور سے ظاہر ہو جائے گا۔
(٦) چھتیسواں جھوٹ: ”اور زمین نے بھی گواہی دی“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
جو زمین پر رہنے والے حق بین ہیں وہ بالیقین اس دعویٰ کو جھوٹا جانتے ہیں‘ اس پانچویں اور چھٹے دعویٰ کا جھوٹا ہونا رسالہ حقیقۃ المسیح کے ص ٣٣ سے ص ٣٥ تک نہایت روشن طریقے سے ثابت کیا ہے۔
(٧) سینتیسواں جھوٹ: ”اور کوئی نبی نہیں ہے جو میرے لیے گواہی نہیں دے گیا“
(تحفۃ الندوہ ص ٤ خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
یہ انبیاء پر اتہام ہے‘ کوئی اللہ کا رسول ایسے جھوٹے کی گواہی نہ دے سکتا ہے جیسے مرزا قادیانی ہیں ہاں اگر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہو تو تعجب نہیں‘ مرزا قادیانی کے رد میں جو رسائل لکھے گئے ہیں فیصلہ آسمانی وغیرہ ان سے بخوبی ان دعوؤں کا جھوٹا ہونا معلوم ہو سکتا
٣٠
ہے اب یہ بھی معلوم کر لینا چاہیے کہ ایسے عالیشان دعویٰ کرنے سے مرزا قادیانی کا کیا مقصد ہے؟ ان کا کلام دیکھنے سے اور یہ معلوم کرنے سے کہ انبیاء سابقین نے ایسے دعوے نہیں کئے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ مختلف طور سے اپنا افضل الانبیاء ہونا ثابت کرتے ہیں یہاں سات دعوے کئے ہیں آسمان اور زمین کے قلابے ملائے ہیں، جھوٹوں کو تعلیم دی ہے جھوٹ بولے تو ایسا بولے جیسا ہم بول رہے ہیں کہ دیکھنے اور سننے والے حیران ہو جائیں ظاہر میں تو سات جھوٹ ہیں مگر سینکڑوں جھوٹ سے بڑھ کر ہیں۔
بھائیو! ایسے ہی زور کے دعوؤں نے سادہ لوحوں کو ان کا معتقد بنا دیا ہے، مگر یہ خیر خواہ نہایت کامل یقین سے کہتا ہے کہ یہ کل دعوے محض غلط اور صریح جھوٹ ہیں نہ قرآن مجید نے ان کی گواہی دی ہے نہ رسول کریم ﷺ نے اور نہ کسی نبی نے ان کے آنے کا وقت متعین کیا ہے، یہ پہلے نبیوں پر افتراء ہے صاحبانِ عقل اس پر غور کریں کہ ایسا شخص جن کے جھوٹ کا انبار پیش ہو رہا ہے جن کے مختلف قسم کے جھوٹ دکھائے گئے، جن کی عظیم الشان پیشینگوئیاں جھوٹی ہوئیں اور قرآن مجید اور توریت مقدس نے انہیں جھوٹا ٹھہرایا جو اپنے مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے، ان کی صداقت کی شہادت کلام الٰہی اور حدیث نبوی میں ہو سکتی ہے؟ انہیں انبیائے کرام سچا کہہ سکتے ہیں؟ آسمان اور زمین ٹل جائیں مگر یہ نہیں ہو سکتا بلکہ آسمانی کتابوں نے اور کلام الٰہی نے ان کے جھوٹے ہونے کی قطعی شہادت دی ہے، کیونکہ قرآن مجید میں اور توریت میں جھوٹے نبی کا یہ معیار بیان کیا ہے کہ اس کی پیشینگوئی جھوٹی ہو جائے اور مرزا قادیانی کی پیشینگوئیاں ایسی قطعی طور سے جھوٹی ہوئیں کہ ان کے ماننے والے بھی اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے (دیکھو رسالہ نبی کی پہچان) کیا خواجہ کمال کی پارٹی یا مرزا محمود کا گروہ ان دعوؤں کو ثابت کر سکتا ہے؟ میں نہایت استحکام اور کامل وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر تمام مرزائی جماعت سر رگڑ کر مر جائے تو ان سات دعوؤں میں سے ایک دعویٰ کو بھی ثابت نہیں کر سکتی ہرگز نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو سامنے آئے مگر بمقتضائے ”اَلْحَقُّ يَعْلُوْ وَلَا يُعْلٰى“ کوئی سامنے نہیں آ سکتا، یوں عوام کو بہکانا اور قرآن مجید میں تحریف کر کے محض غلط باتیں بنانا ہر ایک فریب دہندہ کر سکتا ہے، یہاں ساتواں قول قابلِ لحاظ زیادہ ہے کیونکہ انہوں نے تمام انبیائے کرام پر یہ افتراء کیا ہے کہ کوئی نبی نہیں جو میری گواہی نہیں دے چکا اس کا حاصل یہی ہے کہ تمام انبیائے کرام نے میری گواہی دی ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ انبیائے کرام پر بالکل افتراء ہے، خیال تو کیجئے کہ تمام انبیاء جن کی تعداد لاکھ سے زیادہ بیان
٣١
کی جاتی ہے، ان سب کی کتابیں کیا قادیان کی الماری میں رکھی ہیں؟ جنہیں دیکھ کر مرزا قادیانی یہ دعویٰ کرتے ہیں، کیا ایسا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں پھر کیا کسی ایک یا دو کتاب آسمانی میں سب انبیاء کا یہ قول منقول ہے، اور کوئی اسے دکھا سکتا ہے؟ غیر ممکن ہے، ہرگز نہیں دکھا سکتا، جب یہ اقرار عام طور سے تمام انبیاء پر کیا گیا تو بے شمار افتراء ہوئے اور ہزاروں سے زائد جھوٹ ہو گئے، ایسے مفتری اور کذاب کو یہ قادیانی حکیم خلیل سچا ثابت کرنے آیا ہے، اور صریح جھوٹی معیاریں بتا کر ناواقفوں کو فریب دیتا ہے، ایسے معیار بتاتا ہے جس سے تمام جھوٹے مدعی مثلاً مسیلمہ کذاب جس کا نام احمد اور کنیت ابو مسلم تھی وغیرہ سب سچے ثابت ہوتے ہیں مگر چونکہ اس کذاب کا نام بھی احمد تھا اس لیے مرزائی ایسے معیار بیان کرتے ہیں کہ یہ کذاب بھی سچا ثابت ہو جائے اب ایک اور جھوٹ بھی قابل ملاحظہ ہے۔
اڑتیسواں جھوٹ: (تحفہ غزنویہ ص ٥ خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
”یہ تمام دنیا کا جانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشینگوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“
اس قول میں مرزا قادیانی اپنی جھوٹی پیشینگوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عوام کو فریب دیتے ہیں اور قرآن مجید کے خلاف تمام اہل اسلام کا عقیدہ بیان کرتے ہیں اور محض جھوٹ بولتے ہیں مسلمانوں کا عقیدہ ہرگز نہیں ہے قرآن مجید کی نص قطعی ”مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ“ (ق ٢٩)
مسلمانوں کے پیش نظر ہے متعدد آیات قرآنیہ کی رو سے ان کا اعتقاد ہے کہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ اور وعید ہرگز نہیں ٹلتی اس کی کامل تحقیق فیصلہ آسمانی حصہ ٣ میں لکھی گئی ہے اس کا ص ١١٠ سے ص ١١٨ تک متن و حاشیہ دیکھو۔
اب اس کہنے میں ہمیں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ بتانا ان پر صریح افتراء ہے اور ظاہر ہے کہ کسی ایک مسلمان پر یہ افتراء نہیں ہے، بلکہ اس وقت چالیس کروڑ مسلمانوں پر یہ جھوٹ باندھا گیا ہے، اس لیے اس کہنے میں کوئی تامل نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کے اس قول میں چالیس کروڑ جھوٹ ہیں اور اگر بالکل جاہل کالانعام کو چھوڑ دیا جائے تو بھی کروڑوں کی تعداد رہے گی یہاں تو وعید کے ٹلنے کا امکان بیان کیا گیا، اس کے بعد ہی اس رسالے میں لکھتے ہیں۔
انچالیسواں جھوٹ: ”وعید یعنی عذاب کی پیشینگوئی کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت
٣٢
ہے کہ خواہ پیشینگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتے ہیں“
(تحفہ غزنویہ ص ٦ خزائن ج ١٥ ص ٥٣٦)
یہ دعویٰ مرزا قادیانی نے بہت جگہ کیا ہے‘ مگر اس میں شبہ نہیں کہ یہ دعویٰ محض غلط اور خدا تعالیٰ پر افتراء ہے‘ عذاب کی پیشینگوئی یعنی وعید الٰہی اس میں شرط نہیں ہے‘ وہ کسی وجہ سے ٹل نہیں سکتی‘ وہ ضرور پوری ہوتی ہے ایسی وعید جس کے لیے کی جاتی ہے اسے توبہ اور تضرع کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ اپنے جھوٹے عقیدہ پر بدستور قائم رہتا ہے اور خدا کا کلام پورا ہوتا ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ وعید الٰہی ہرگز نہیں ٹلتی اس کے خلاف کو سنت اللہ کہنا خدائے تعالیٰ پر عظیم الشان افتراء ہے جو اس قدوس عالم الغیب کی شان کے بالکل خلاف ہے مرزائیوں پر فرض ہے کہ کم سے کم چار پانچ مثالیں ایسی پیش کریں جہاں وعید کی پیشینگوئی صرف خوف سے ٹل گئی ہو‘ مگر فیصلہ آسمانی حصہ سوم کو بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ مرزا قادیانی کی اس طوفان بے تمیزی کی حقیقت انہیں کھل جائے اگر انہیں طلب حق ہے۔
معزز ناظرین! آپ نے مرزا قادیانی کی حالت کا معائنہ کرلیا ملاحظہ کیجئے کہ اسی پر یہ صاحب نبی کہے جاتے ہیں اور لمبے چوڑے خطابات سے یاد کیے جاتے ہیں‘ افسوس! کیوں حکیم صاحب آپ کی دیانت کا یہی تقاضا ہے کہ جس شخص کے لاتعداد جھوٹ ہوں اس کو آپ نبی ماننے اور منانے کے لیے تیار ہیں‘ یہ فلسفہ آپ نے کہاں سیکھا ہے کہ جھوٹا شخص نبی مانا جائے اور لطف یہ ہے کہ یہ شخص خداوند تعالیٰ کو بھی جھوٹا بنانے کی کوشش کرتا ہے‘ اللہ پاک فرماتا ہے۔
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ (ابراہیم ٤٧) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَاد (آل عمران ٩) یعنی اللہ پاک وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اللہ پاک کو ہرگز ہرگز ایسا نہ سمجھو کہ اپنے رسولوں سے وعدہ کر کے پورا نہ کرے خدائے پاک کا تو یہ ارشاد ہے لیکن جب مرزا قادیانی کی پیشینگوئیاں غلط ہونے لگیں تو کہنے لگے کہ خدا کی یہ سنت ہے کہ رسولوں کی پیشینگوئیوں کو ٹال بھی دیا کرتا ہے کیوں میر بشارت حسین صاحب خدا کے واسطے کچھ تو غور کیجئے۔
میر صاحب اور حکیم صاحب اور پیرو مرزا قادیانی اگر آپکو سامنے آنے کی ہمت ہوگی تو ہم آپ کو آیات قرآنی سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے دکھا دیں گے ان دونوں آیتوں میں جھوٹے مدعی نبوت کا یہ معیار بتایا ہے کہ جو مدعی نبوت کوئی وعدہ یا وعید الٰہی بیان کرے یعنی وعدہ و وعید کی پیشینگوئی کرے اور وہ پوری نہ ہو تو وہ قطعاً جھوٹا ہے‘ اب مرزا قادیانی کی جھوٹی
٣٣
پیشینگوئیوں کا انبار دیکھئے سب سے بڑی پیشینگوئی منکوحہ آسمانی والی ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان بتایا تھا‘ یعنی عظیم الشان نشان تو اور بھی انہوں نے بتائے ہیں مگر اس منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا نہایت ہی عظیم الشان نشان تھا‘ الحمدللہ وہ ایسا غلط ہوا کہ خاص و عام پر روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی اس خیالی منکوحہ سے ترستے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے اب چونکہ مرزا قادیانی نے اس کے لیے وعدہ الٰہی اس طرح بیان کیا تھا کہ ”وہ ہر طرح تیری طرف اسے لائے گا اور سارے موانع کو دور کرے گا۔“
(ازالۃ الاوہام حصہ اول ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
جب یہ منکوحہ مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو معلوم ہوا کہ وہ وعدہ الٰہی نہ تھا بلکہ مرزا قادیانی کا افتراء تھا اللہ تعالیٰ پر ورنہ بموجب ارشاد خداوندی ”لَا تَحْسَبَنَّ اللہَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ“ وہ وعدہ ضرور پورا ہوتا اسی طرح احمد بیگ کے داماد کی وعید پوری نہ ہونے سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے مگر مرزا قادیانی اس جھوٹ سے ایسے پریشان ہوئے ہیں کہ اس کے سچ بنانے کے لیے بہت سے جھوٹ بولے ہیں چنانچہ (انجام آتھم ص ٢٩ خزائن ج ١١ ص ٣٠) میں وعید کی میعاد کے ٹلنے کا ذکر کر کے ص ٣٠ میں لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل کرنے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی“ جیسا کہ تفسیر کبیر ص ١٦٢ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے (حاشیہ انجام آتھم ص ٣٠) اس قول میں مرزا قادیانی کئی دعویٰ کرتے ہیں‘ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نزول عذاب کا قطعی وعدہ کیا یعنی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر بالیقین عذاب نازل ہوگا‘ دوسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کی مدت ٤٠ دن ہے اور اس مدت کا ثبوت بھی قطعی ہے کچھ شک وشبہ نہیں ہے‘ اس کے بعد پھر نزول عذاب کی وعید کو قطعی اور یقینی کہتے ہیں اور اپنے پہلے قول کی تاکید کرتے ہیں تیسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کے لیے کوئی شرط نہیں ہے‘ اب نہایت ظاہر ہے کہ نزول عذاب کے لیے اگر شرط ہوگی تو یہی ہوگی کہ اگر ایمان نہ لائیں تو ان پر عذاب آئے گا مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شرط نہ تھی اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ان پر عذاب ضرور نازل ہوگا‘ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک خدا تعالیٰ کسی وقت ظلم بھی کرتا ہے‘ مرزا قادیانی کے یہ تینوں دعویٰ جھوٹے ہیں کہیں سے ثابت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قطعی طور سے بلاشرط بطور نادری حکم کے عذاب کا وعدہ کر دیا تھا تین جھوٹ یہ ہوئے چوتھا
٣٤
دعویٰ یہ ہے کہ یہ تینوں دعویٰ تفسیر کبیر ص ١٦٤ سے ثابت ہیں یہ بالکل جھوٹ ہے یہ دعویٰ نہ تفسیر کبیر کے کسی مقام سے ثابت ہے اور نہ تفسیر کبیر کے کسی صفحہ سے کیونکہ تفسیر کبیر کی ٨ جلدیں ہیں اور آٹھوں جلدوں کے اس صفحہ سے اس پیشینگوئی کا قطعی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا ہے اس لیے یہ دو جھوٹ ہوئے اور چونکہ تفسیر کبیر سے تین دعوٰی ثابت کر رہے ہیں اس لیے اس میں درحقیقت تین دونی چھ جھوٹ ہوئے پانچواں دعویٰ یہ ہے کہ تفسیر در منثور سے بھی یہ تینوں دعوٰی ثابت ہیں یہ بھی محض جھوٹ ہے اور چونکہ تین دعوؤں کا ثبوت اس کتاب سے بھی دے رہے ہیں اس لیے تین جھوٹ یہ بھی ہوئے اور شروع سے یہاں تک شمار میں بارہ جھوٹ ہوئے اور چونکہ ان تفسیروں میں احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت بتاتے ہیں اور احادیث جمع کا صیغہ ہے جس کے لیے کم سے کم تین صحیح حدیثوں کا ہونا ضرور ہے اس لیے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر دعوٰی کے متعلق تین صحیح حدیثیں ہیں اور دعوٰی تین ہیں تو اس لحاظ سے نو صحیح حدیثیں ہونا چاہیں اور چونکہ ان حدیثوں کا حوالہ دو کتابوں سے دے رہے ہیں اس لیے نو دونی اٹھارہ صحیح حدیثیں دونوں کتابوں میں ملا کر ہونا چاہیے تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ اٹھارہ تو کیا ہوتیں ایک صحیح حدیث بھی ان دعوؤں کے ثبوت میں نہیں ہے تو اس اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ تعداد حدیث کے لحاظ سے اٹھارہ جھوٹ یہاں پر مرزا قادیانی کے ہوئے اور بارہ پہلے ہوئے تھے تو اب کل میزان تیس ہوئے اب ایسی حالت میں کہ مرزا قادیانی کی پیشینگوئی جھوٹی نکلی اور دنیا پر اس کا جھوٹا ہونا آفتاب کی طرح روشن ہو گیا تو مرزا قادیانی نے اپنی پیشینگوئی پر پردہ ڈالنے کے لیے کہہ دیا کہ جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کا وعدہ عذاب ٹل گیا اسی طرح مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کا وعدہ ٹل گیا یہ مرزا قادیانی کا اکتیسواں جھوٹ ہے کیونکہ حضرت یونس علیہ السلام کا وعدہ عذاب پورا ہوا اور عذاب آیا جو قرآن شریف کے نص قطعی سے ثابت ہے اور سورۂ یونس میں مذکور ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان پر سے وہ عذاب جو ان پر نازل ہو چکا تھا خدا نے دور کر دیا اور یونس علیہ السلام کا وعدہ پورا ہوا‘
مرزا قادیانی (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ٣١، ٣٢ خزائن ج ١١ ص ٣١۔٣٢) میں لکھتے ہیں۔
”جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشینگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لیے منہ پھیرنا بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔“
اس عبارت میں پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ اس پیشینگوئی کو وقوع یافتہ بات کا ایک جز قرار
٣٥
دے رہے ہیں حالانکہ محض غلط ہے کیونکہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ پیشینگوئی کا کوئی حصہ پورا نہیں ہوا جیسا کہ اس کو الہامات مرزا میں خوب اچھی طرح ثابت کیا گیا ہے اس کے بعد لکھتے ہیں ’خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشینگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔‘
اس عبارت کا مطلب آسان ہے اس لیے تشریح نہیں کرتا ہوں اس میں ایک جھوٹ خدا پر ہوا ’قرآن مجید میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ عذاب کی پیشینگوئی خوف سے ٹل جاتی ہے‘ اگر کسی مرزائی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے بلکہ اس کے خلاف متعدد جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ خدا کے وعدہ اور وعید میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ہے لہٰذا مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ ہوا‘ تیسرے یہ کہ اسی مضمون کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن حدیثوں میں بھی اس کا ذکر کہیں نہیں ہے یہ تیسرا جھوٹ ہے چوتھے یہ کہ اس کے مضمون کو پچھلی کتابوں کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں پچھلی کتابیں دس ہیں تو گویا دسوں کی طرف منسوب کرتے ہیں‘ حالانکہ ایک کتاب میں بھی یہ مضمون نہیں ہے اس لیے دس جھوٹ یہ ہوئے اس کے بعد غضب کی ڈھٹائی کے ساتھ مرزا قادیانی اسی مضمون کو اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ یہ کس قدر بیباکی و جسارت ہے کہ جس بات کے دس بیس علماء بھی قائل نہ ہوں اس کو اجماعی عقیدہ بیان کر دیا‘ اپنے اس قول میں مرزا قادیانی نے صرف ایک دو علماء پر اتہام نہیں باندھا ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی طرف جھوٹی بات منسوب کر دی ہے کیونکہ اجماعی عقیدہ وہی کہلاتا ہے جس کو تمام مسلمان تسلیم کر لیں‘ اب خیال کرو کہ رسول اللہ ﷺ سے لیکر اس وقت تک کتنے مسلمان گزرے ہوں گے اور اگر تم تمام مسلمانوں کو نہ لو صرف علماء ہی کا شمار کرو اس وقت بھی کروڑوں کی تعداد ہو جائے گی تو گویا اس قول میں مرزا قادیانی نے کروڑوں جھوٹ بولے اور اگر کروڑوں جھوٹ اس کو نہ کہو گے تو کروڑوں جھوٹ کے مقابلہ کا ایک جھوٹ تو شمار کرو گے اس لحاظ سے اس چار سطر کی عبارت میں چودہ جھوٹ ہوئے اور اس پورے قول میں چوالیس جھوٹ ہوئے مذکورہ چوالیس جھوٹ تو ایسے تھے کہ انہیں ذی علم حضرات معلوم کر سکتے ہیں‘ مگر ذرا عقل سے کام لیجئے کہ انبیاء سے ایسی غلطی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مخلوق کے روبرو جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ٹھہریں اور مرتے دم تک اس غلطی میں رہیں‘ اور اللہ تعالیٰ انہیں آگاہ نہ کرے‘ اور اس کا جھوٹا اور رسوا ہونا پسند کرے‘ کہئے یہی آپ کے نبی ہیں جہلاء کے سامنے انہیں کی نبوت کی معیار بیان کی جاتی ہے ذرا شرم کیجئے اور ان رسالوں کو دیکھئے جو آپ کی خیر خواہی میں
٣٦
مشتہر کئے گئے ہیں اور خدا پر توکل کیجئے مبلغ پر ایمان فروشی نہ کیجئے اور یہ فریب نہ دیجئے کہ وہ ایمان لے آیا تھا اس لیے وعید ٹل گئی وہ ایمان کسی وقت نہیں لایا اور مرزا قادیانی کو نبی ورسول اور مسیح موعود ہرگز نہیں مانا اس کے علاوہ مرزا قادیانی تو اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں یعنی علم الہی میں اس کا مرنا میرے سامنے قرار پاچکا ہے۔ اس لیے اس کی وعید ٹل نہیں سکتی ایمان درست کرنے کے لیے ہر سہ حصہ فیصلہ آسمانی کا دیکھنا کافی ہے اگر اس میں آپ کو شبہ ہو تو سامنے آکر دریافت کیجئے۔
جماعت احمدیہ خدا کے لیے اپنی جانوں پر رحم کر کے فیصلہ کے تیسرے حصہ کو دیکھئے کہ مرزا قادیانی کو کس کس طرح جھوٹا ثابت کیا ہے اور اس فیصلہ آسمانی کو دکھایا ہے کہ مرزا قادیانی نے جس بات کو اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان بڑے زور سے کہا تھا اور آخر عمر تک اس کی امید رہی مگر اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا جھوٹا کر کے انہیں رسوا کیا پھر ان کے خانگی خطوں کو مشتہر کرا کے کیسی ان کی اندرونی حالت کو ظاہر کر کے مخلوق پر حجت تمام کر دی پھر آپ حضرات ان اعلانیہ باتوں پر کیوں غور نہیں فرماتے اس پر نظر کیجئے کہ اس خدائی فیصلہ پر پردہ ڈالنے کے لیے جس قدر باتیں خود مرزا قادیانی نے اور ان کے خلیفہ اور مریدوں نے بنائی ہیں سب کی دھجیاں کیسی اڑائی ہیں اور انہیں کیسا غلط ثابت کیا ہے مرزا قادیانی سے علیحدہ ہونے کے لیے صرف یہی ایک نشان کافی ہے مگر بھائیو ! آپ کے مرشد کے جھوٹوں کا انبار ہے دوسری شہادت آسمانی کو ٹھنڈے دل سے ملاحظہ کیجئے کہ کس خوبی و تحقیق سے ان کی آسمانی شہادت کو کیسا خاک میں ملایا ہے اور ان کے جھوٹ و فریب کو کس طرح روشن کر کے دکھایا ہے اگر پورا رسالہ نہ دیکھئے تو شروع کا ایک جز اور آخر کا ص ٨١ سے آخر تک ضرور ملاحظہ کر لیجئے اب آپ کو اس سے علیحدہ ہونے میں کیا عذر ہے یہ آپ کا خیرخواہ بہ منت آپ سے کہتا ہے کہ اس تحریر کو آپ خیر خواہانہ سمجھ کر ملاحظہ کیجئے اگر آپ ایسا کریں گے تو بالیقین آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں بزرگ مانا جائے اور نبی کی تو بڑی شان ہے۔
فقط المشتهر ابومحمود محمد اسحاق رحمانی
٣٧
خاتم النبيين لا نبي بعدي
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ رحمانیہ
(٢٤)
حضرت مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ مختصر رسالہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیشمار جھوٹ اور افتراء کا نہایت صاف اور جھلکتا ہوا آئینہ ہے جس سے مرزا قادیانی کی پوری حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے جسے دیکھنے کے بعد ایک باغیرت اور سچا مسلمان ایسے شخص کو نبی اور مجدد تو کیا ایک معمولی مسلمان بھی تصور کرنا پسند نہیں کر سکتا مرزائی حضرات اسی چھوٹے رسالہ کو دیکھ کر خود فیصلہ کر لیں کہ ایسا شخص جس کی کذب بیانی کا یہ حال ہو وہ کس خطاب کا مستحق ہو سکتا ہے‘ اور ایک ایماندار کے لئے ایسے شخص سے علیحدگی کس قدر ضروری ہے اور حصول نجات کیلئے اس کی اتباع کس قدر مضر ہے۔ حسب ارشاد حضرت اقدس مولانا سید محمد علی صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقائه
برادران اسلام‘ اور بالخصوص ہمارے وہ بھائی جو ہم سے بچھڑ کر علیحدہ ہو گئے ہیں جن پر مرزا قادیانی کا جادو سامری کے سحر کی طرح ایسا غالب ہو گیا ہے کہ میں اس کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ بجائے گوسالہ پرستی کے مرزا پرستی میں ایسے منہمک ہیں کہ اپنے خیر خواہوں کی باتوں پر ذرا بھی غور نہیں کرتے بلکہ میں تو یقین اور دعویٰ کیساتھ کہتا ہوں کہ قادیانی جماعت پر مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا روشن ہو گیا ہے کہ اُنھیں بھی ان کے جھوٹے ہونے کا یقین ہے اور وہ مثل یہود و نصاریٰ کے حق و باطل کو خوب سمجھ گئے ہیں مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اُن سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کیوں ایسے جھوٹے کی پیروی میں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں بجز اس کے اور کیا کہا جائے کہ شیطان انھیں راہ راست پر نہیں آنے دیتا خانقاہ رحمانیہ میں سو سے زائد رسالے مرزا قادیانی کی حالت میں لکھے گئے ہیں جنہیں مختلف طور سے اُن کے جھوٹ وفریب دکھائے گئے ہیں اس رسالہ میں تھوڑے سے تغیر کے ساتھ اُن جھوٹوں کو جمع کر دیا گیا ہے جو صحیفہ محمدیہ نمبر ٨ و ١٣ میں آٹھ برس سے مشتہر ہو رہے ہیں (یہ صحیفے بڑے دو ورقوں پر ١٣٣٥ھ میں رحمانیہ پریس مونگیر سے چھپ کر ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو چکے ہیں یہاں کے علاوہ امرتسر پنجاب سے بھی چھپ کر تمام مشتہر ہوئے ہیں اور تماشہ یہ ہے کہ قادیان کے سالانہ جلسہ میں خوب ان کی اشاعت ہوئی مگر کسی مرزائی کی تو ہمت نہ ہوئی کہ ان جھوٹوں کو سچ کر کے دکھاتا) جن کی تعداد کا شمار لاکھ سے تجاوز کر کے اربوں تک پہنچ گیا ہے مگر حیرت ہے کہ مرزائی حضرات ایسی صاف اور اعلانیہ باتوں پر بھی غور نہیں کرتے اور ایسے جھوٹے سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ اے قادیانی جماعت خدا کے واسطے اس مختصر تحریر کو غور سے دیکھئے اور اپنی جانوں پر رحم کر کے اس جھوٹے کی پیروی سے الگ ہو جائیے۔
٢
قادیانی جماعت سے خیر خواہانہ گزارش
اور مسیح قادیان کی حالت کا بیان
ہم نے نہایت خیر خواہی سے تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً قادیانی جماعت کو مرزا قادیانی کی حالت سے آگاہ کیا اور متعدد رسالے لکھ کر اُن کے سامنے پیش کئے مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت کچھ توجہ نہیں کرتی۔ اور اُن کے سرگروہ ہمارے رسالوں کو دیکھنے نہیں دیتے اور یقینی جھوٹے کی پیروی میں سرگرم ہیں اور نہایت ناجائز طریقوں سے جھوٹ کی اشاعت میں کوشاں ہیں اور کچھ خیال نہیں کرتے کہ دنیا میں بہت تھوڑے دن رہنا ہے سخت حیرت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اعلانیہ جھوٹ اور فریب چھپانے کیلئے خدا تعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگاتے ہیں اور یہ خوشی سے مان رہے ہیں۔ اُن کے قادیانی مربی نہایت غلط اور شرمناک باتوں کو مرزا قادیانی سے الزام اُٹھانے کیلئے اعلانیہ پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے خدا پر الزام آئے گا۔ اور شریعت الٰہی بیکار ہو جائیگی۔ مگر اُن کی اس بے رخی اور بے اعتنائی کے ساتھ بھی ہم اُن کی خیر خواہی سے باز نہیں رہ سکتے اور مخلوق خدا کو اس عظیم الشان گمراہی سے بچانے کیلئے مستعد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے اور بھائیوں کو بھی مستعد کرے آخر میں اس تحریر میں ہم خاص طور سے مرزا قادیانی کی کذب بیانی دکھانا چاہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہیں کہ وہ ہادی مطلق مرزائی جماعت کو ہدایت کرے اور راست بازی اور حق پسندی کا جوش ان کے دل میں عنایت فرمائے۔
پہلے اس کو اپنے ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ہمارا مذہب مقدس اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی اور سچائی اس کا بڑا جز ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النبیین نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ہر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ برگزیدہ اسلامی صفت مرزائیوں کے مرشد میں نہیں پائی جاتی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت اس سے بہت دور ہے اور ناراستی اور بے باکی ان کی سرشت میں سرایت کر گئی ہے پھر ایسے شخص کو مقدس اور بزرگ ماننا اسلام کی ہتک کرنا اور ارشاد نبوی کو پامال کرنا ہے جس میں حدیث رسول اللہ کے بموجب اسلام کا جزو اعظم نہ پایا جائے اُسے بزرگ اور مسیح موعود سمجھنا۔ اور تمام اولیائے کرام سے اُسے افضل بتانا کس قدر اسلام پر اور کاملین
اسلام پر مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا ہے۔ مخالفین اعلانیہ کہیں گے کہ جس مذہب کے بڑے بزرگ جنھیں خواجہ کمال جیسے لیکچرار تمام اولیائے امت سے افضل قرار دیں اور قادیانی جماعت کے مفروض الطاعۃ امام مرزا محمود احمد قادیانی انھیں خدا کا رسول بتائیں وہ ایسے جھوٹے اور کذاب ہوں۔ پھر اور اولیائے امت کا کیا حال ہوگا۔ اور تمام شریعت الٰہی کے معتبر ہونے کی کیا وجہ ہوگی حیرت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو جھوٹ بولنے میں اس قدر جرأت ہے کہ نہایت بے اصل اور اعلانیہ جھوٹ کو اس قدر زور اور دعوے سے بیان کرتے ہیں کہ ناواقف کے ذہن میں اُس کی صداقت اثر کر جاتی ہے۔ اور اُس کے جھوٹے ہونے کا خطرہ بھی اسے نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سادہ لوحوں اور کج طبیعت حضرات نے انھیں مان لیا۔ اور ماننے کے بعد اُس میں سرشار ہو گئے اور بہتوں کو تنخواہیں ملنے لگیں۔ بعض کو بات کی چاٹ پڑ گئی اور طالب دنیا ان کے پیرو ہو گئے اب مرزا قادیانی کی ناراستی اور کذب بیانی کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ ذرا اس صحیفہ کا پہلا نمبر ملاحظہ کیجئے کہ اُس میں کئی جھوٹ مرزا قادیانی کے بیان ہوئے ہیں اور کئی پیشین گوئیاں جو انہوں نے اپنے سخت مخالف کے مقابلہ میں کی تھیں وہ جھوٹی ہوئیں پیغام صلح والے اور محمودی پارٹی آنکھیں کھول کر دیکھے اور انہیں شمار کرے۔ اس نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھ کر یہ بتایا ہے کہ پہلے رسالہ میں ١٥٩ جھوٹ و فریب مرزا قادیانی کے دکھائے ہیں اور دوسرے میں ٦٩ اور تیسرے میں ٩٠ اور چوتھے میں ٤٥ اور پانچویں میں ٢٤ اور ساتویں میں ١٧۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مقابلہ کی معرکۃ الآراء پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور اُس سے کئی جھوٹ مرزا کے ثابت کئے ہیں۔ اے رب العالمین رسول اللہ ﷺ کے ان بہکے ہوئے غلاموں کو جو ایک جھوٹے دجال کے اوپر فریفتہ اور شیدا ہیں راہ راست کی ہدایت فرما اور انھیں اُس کی توفیق عنایت کر کہ اس سے علیحدہ ہو کر کونوا مع الصادقین پر عمل درآمد کریں آمین بحرمت سید المرسلین و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔
مرتبہ خیر خواہ انام ابو یحییٰ محمد اسحاق غفر اللہ لہٗ خانقاہ رحمانیہ مونگیر
(نوٹ) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٣ کے مضمون اور اس صحیفہ نمبر ٢٤ کے مضامین میں اس قدر توارد تھا کہ یہاں سے اسے حذف کرنا پڑا۔ تکرار سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ناگزیر تھا۔
فقیر اللہ وسایا
۞ ۞ ۞ ۞ ۞
٤