تحفظ ختم نبوت — اہمیت اور فضیلت · محمد متین خالد
Tahafuz Khatm-e-Nabuat Ahmiat or Fazeelat
PDF 1

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ صدق الله العظيم

تحفظ ختم نبوت

اہمیت اور فضیلت

محبت رسول ﷺ سے لبریز دینی غیرت وحمیت اور ایمان ویقین کو تازہ کرنے

والی ایک فکر انگیز دستاویز جس کا عمیق مطالعہ اور اِس پر عمل کرنے سے آپ

کو حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا خاص قرب حاصل ہوگا۔

محمد مبین خالد

صفحہ 1

بسم الله الرحمن الرحيم

تحفظ ختم نبوت

اہمیت اور فضیلت

صفحہ 2

ہر مسلمان بروز محشر حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت کا امیدوار ہے۔ لیکن سوچنا چاہیے کہ شفاعت رسول ﷺ بھی اپنا حق مانگتی ہے یعنی ہر دل سے موسم گل کی زرخیزی کا سامان طلب کرتی ہے ............. اس چیز کے لیے طلب دعا بے سود ہے جس کے حصول کے لیے آپ کوشاں ہی نہیں ہیں ............. یہ کتاب اسی درد دل اور سوز جگر کے ساتھ لکھی گئی ہے ...... پس اس متاع درد و سوز آرزو مندی کو آگے سے آگے تقسیم کیجیے کہ پست اذانیں رعد بلالی بن جائیں ...... یہ کتاب آپ کے لیے بھی ہے ............. آپ کے احباب کے لیے بھی ...... آپ کے پڑوسیوں اور اقربا کے لیے بھی ............. بلکہ ہر مسلمان کے لیے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے ...... اسے پڑھیے ...... سمجھیے ...... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے ...... ...... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!

یہ آرزو رہی دل میں کہ میں اک ایسی کتاب لکھوں
حرف جس کے ہوں پھول جیسے، ورق ورق پہ گلاب لکھوں
صفحہ 3

تحفظ ختم نبوت

اہمیت اور فضیلت

محبت رسول ﷺ سے لبریز دینی غیرت و حمیت اور ایمان و یقین کو تازہ کرنے والی ایک فکر انگیز دستاویز جس کا عمیق مطالعہ اور اِس پر عمل کرنے سے آپ کو حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا خاص قرب حاصل ہوگا۔

ترتیب و تحقیق

محمد متین خالد

علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40۔ اُردو بازار، لاہور۔ 37223584'37232336'37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers

صفحہ 4

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب تحفظ ختمِ نبوّت اہمیت اور فضیلت مصنف مُحمّد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز مطبع آر ۔ آر پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق محمد طیب محبوب / محمد طاہر حجازی کمپوزنگ طاہر علی، ظفر اقبال سن اشاعت 2023ء قیمت -/2000 روپے

علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40۔ اُردو بازار، لاہور۔ 37223584 ' 37232336 ' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers

صفحہ 5

ترتیب عنوانات

صفحہ 6
صفحہ 7
صفحہ 8
صفحہ 9
صفحہ 10
صفحہ 11
صفحہ 12
صفحہ 13
صفحہ 14
صفحہ 15
صفحہ 16
صفحہ 17

اگر آپ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں تو 798

۞.......۞.......۞

صفحہ 18
صفحہ 19

انتساب

وہ تینوں بزرگ دیکھنے میں بڑے بھولے بھالے اور سیدھے سادے، بالکل کسی خانقاہ کے پختہ مزاج صوفی کی طرح...... لیکن......

میں اس کتاب کا انتساب بصد احترام

حضرت مولانا محبّ اللہ صاحب مدظلہٗ

حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہٗ

اور

حضرت مولانا مفتی احمد علی صاحب مدظلہٗ

کے نام کرتے ہوئے روحانی و قلبی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

؎ نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
صفحہ 20
صفحہ 21

کارکنانِ تحفظِ ختم نبوت کے لیے ایک گرانقدر تحفہ

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کی فطرت میں نجانے کیا عجیب وغریب خاصیت ودیعت فرمائی ہے کہ وہ اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگا دینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ محبت رسول ﷺ میں غرقاب، وہ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کے لیے ہر دم بے تاب و بے قرار رہتا ہے۔ دراصل تحفظ ختم نبوت کا کام دنیا و آخرت کی رفعتیں، عزتیں، کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹنے کا بہترین راستہ ہے۔ اس لیے اسے اہم ترین عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ شیطانی وسوسوں کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کم درجے کی عبادات کو اہم تر بنا کر پیش کرتا ہے کہ مسلمان اس میں مشغول ہو کر بڑے اجر وثواب سے محروم ہو جائیں۔ اس طرح وہ ایک اہم فرض کی ادائیگی کے موقع پر مسلمانوں کا پیسہ، وقت اور صلاحیتیں، نفل اور مستحب درجے کی نیکیوں میں لگوا دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ یہ وسائل اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول میں کھپ جائیں اور دین اسلام کو سربلندی حاصل ہو۔ موجودہ حالات میں امت مسلمہ، منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی براہ راست یلغار کا شکار ہے۔ مسلمانوں کو ہمہ تن متوجہ ہونا چاہیے کہ ان کی توانائیاں فتنہ قادیانیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کس حد تک کام آ رہی ہیں، یوں بھی ملک وملت کے خلاف ان کی سازشوں کا مقابلہ ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔

ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسی کتاب تیار ہو جس میں قرآن وسنت کی روشنی میں تحفظ ختم نبوت کے کام کی اہمیت اور فضیلت بیان ہو تا کہ کارکنان ختم نبوت ایک نئے ولولے اور تازہ جذبے کے ساتھ اس محاذ پر کام کریں۔ نوجوانوں کے لیے باعث افتخار، عزیزی محمد متین خالد قابل صد ستائش وتحسین ہیں کہ انھوں نے اس موضوع پر نہایت ایمان پرور اور محققانہ انداز میں کتاب تیار کر کے کارکنان تحفظ ختم نبوت پر احسان فرمایا۔ ناسازی طبع کے باوجود میں نے اس کتاب کو بڑی توجہ سے پڑھا۔ مجھے ایسے معلوم ہوا جیسے یہ کتاب انھوں

صفحہ 22

نے قلم کی سیاہی سے نہیں، خون جگر سے لکھی ہے۔ دراصل درد کے دریا میں ڈوب کر ہی یہ گوہر نکالے جاتے ہیں۔ دینی غیرت و حمیت اور ایمانی جرأت و بسالت سے لبریز ولولہ انگیز حقائق و واقعات سے مزین یہ تخلیق متین پڑھنے سے ہر مسلمان کے روح و قلب میں محبت رسول ﷺ کے خوابیدہ جذبات و احساسات اجاگر ہوجاتے ہیں۔ اس کا ہر لفظ پاکیزہ، ایمان افروز، پرسوز اور باطل شکن ہے جو ہر کہ و مہ کو موہ لیتا ہے جبکہ یہ کتاب منکرین ختم نبوت کی آنکھوں کا آشوب اور ان کے حلق میں چبھتا کانٹا ہے۔

میں عزیزی محمد متین خالد کو اس کتاب کی اشاعت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور بارگاہ الٰہی میں دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس دینی کاوش کا صلہ دارین میں عطا فرمائے اور اس سے تمام مسلمانوں کو استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

فقیر ابوالخلیل (خواجہ) خان محمدؒ

خانقاہ سراجیہ کندیاں، میانوالی

سابق امیر مرکزیہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

صفحہ 23

روشنی کا سفر

قلم کی جنبش بھی اُس ذاتِ بلند و برتر کی رحمت سے ہوتی ہے اور اس کی رفعتِ پرواز بھی اُسی کے کرم کا نتیجہ۔ مولا کریم جس قلم اور جس ذہن سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں، اُسے خود ہی جودتِ فکر، بالیدگی خرد اور رعنائی خیال عطا فرما دیتے ہیں۔ مانگنے والے کے دل میں خلوص ہو تو دینے والے کے انداز بھی نرالے ہوتے ہیں۔

متاعِ مدح پیغمبرﷺ کہاں سب کے مقدر میں
نہ ہو جب تک عطائے کبریا کچھ لکھ نہیں سکتا

لائق صد تحسین ہیں وہ اربابِ فن جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو حضور ختمی المرتبت ﷺ کی بارگاہِ ناز میں نذرانہ ہائے دل پیش کرنے کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی سانسوں میں صلِ علیٰ کی خوشبو مہکتی ہے۔ ان کے ہونٹوں پہ مدحتِ رسول کے پھول کھلتے ہیں۔ وہ چشم تصور میں ہوائے مدینہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتے ہیں اور یوں یہ بختِ رسا والے قلم کے سجدوں کو بھی اپنے نامۂ اعمال میں لکھ لینے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ روشنی کا سفر ہے، روشنی کے اس سفر کو بہر حال جاری رہنا ہے، رہنا چاہیے۔

تحفظ ختم نبوت کے میدان میں جناب محمد متین خالد کی خدمات قابل رشک ہیں۔ ان کے کارنامے مختلف النوع ہیں جن کے حوالے سے ان کی شخصیت جہت کثیر کی حامل دکھائی دیتی ہے۔ زیر نظر کتاب ”تحفظ ختم نبوت، اہمیت اور فضیلت“ ان کی بے پناہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کسی بھی تحریر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ تصویر بن جائے۔ یہ کتاب پڑھتے وقت قاری محسوس کرتا ہے کہ ہر واقعہ اس کی آنکھوں کے سامنے روپذیر ہو رہا ہے۔ میری رائے میں یہ ایک ایسا علمی و تحقیقی کارنامہ ہے جو ہر دور میں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے کارکنان کو ایک نیا ولولہ تازہ اور نور بصیرت عطا کرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)

ملک منیر احمد

صفحہ 24

تحفظ ختم نبوت...... جنت کا راستہ

تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داری انتہائی خوش بختی اور سعادت مندی کی علامت ہے۔ ہر کس و ناکس کو یہ منصب تفویض نہیں ہوتا بلکہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لیے قدرتِ حق صرف اُن خوش نصیبوں کا انتخاب کرتی ہے جن پر وہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے وا کرنا چاہتی ہے۔ بلاشبہ عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان کا سرمایۂ افتخار جبکہ اس سے ذرا سی بے اعتنائی بھی ایمان کا اثاثہ ضائع کرنے کا موجب ہے۔

تحفظ ختم نبوت ...... بزدلوں، نامردوں، دینی غیرت وحمیت سے خالی نام نہاد عاشقوں، نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کا کام نہیں...... یہ اُن بہادر اور غیرت مند مسلمانوں کا کام ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کی خاطر جان دینے کا مصمم عزم رکھتے ہوں...... جو شہیدانِ ناموس رسالت ﷺ کے کارناموں پر فخر کرتے ہوں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں، جو تحفظ ختم نبوت پر معمولی سی آنچ بھی نہ آنے کی ہمت وجرأت رکھتے ہیں۔

باعث صد رشک ہے وہ دل جو محبت رسول ﷺ میں دھڑکتا ہو۔ باعث صد آفریں ہے وہ زباں جو حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے دفاع میں استعمال ہوتی ہو۔ وجہ صد افتخار ہے کہ وہ دماغ جس میں خوشبوئے فکر تحفظ ختم نبوت ﷺ بسی ہوئی ہو اور عرش مقام ہے وہ قلم جو سینۂ قرطاس پہ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کرتا ہوا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شانِ اقدس میں مدحت کے موتی بکھیرتا ہو۔

زیرنظر کتاب ’تحفظ ختم نبوت: اہمیت اور فضیلت‘ کو اجاگر کرتی ہوئی بتاتی ہے کہ اگر حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ دین و ایمان کی بنیاد ہے تو آئین وقانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے منکرین ختم نبوت کا تعاقب فرضِ عین ہے۔ تمام موضوعات و مباحث، دلائل و براہین کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان حقائق سے نظریں چرانے کی یقیناً کوئی گنجائش نہیں

صفحہ 25

رہتی۔ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا، وہ ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم کر دے گا، یہی تقاضائے ایمان ہے۔

کسی صاحب دل نے کہا تھا کہ روز محشر بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوں گے جن کے ہاتھوں میں اعمال ناموں کے علاوہ بھی کچھ ہوگا۔ سوچ حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے کہ اُن کے ہاتھوں میں اور کیا ہوگا؟ بخت آور دل سے یہ صدا آتی ہے، کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کا دفاع کرنے والے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں اس موضوع پر لکھی جانے والی ان کی اپنی کتب ہوں گی۔

نہیں میں جانتا لکھا ہے کیا اعمال نامے میں
مگر ہاتھوں میں توصیف پیغمبر ﷺ کے صحیفے ہیں

ہر مسلمان بروز محشر حضور خاتم النبیین ﷺ کی شفاعت کا امیدوار ہے۔ لیکن سوچنا چاہیے کہ شفاعت رسول ﷺ بھی اپنا حق مانگتی ہے یعنی ہر دل سے موسم گل کی زرخیزی کا سامان طلب کرتی ہے۔ ......... اس چیز کے لیے طلب دعا بے سود ہے جس کے حصول کے لیے آپ کوشاں ہی نہیں ہیں۔ ......... یہ کتاب اسی درد دل اور سوز جگر کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ ....... پس اس متاع درد و سوز آرزو مندی کو آگے سے آگے تقسیم کیجیے کہ پست اذانیں رعد بلالی بن جائیں....... یہ کتاب آپ کے لیے بھی ہے........... آپ کے اہل خانہ اور احباب کے لیے بھی....... آپ کے پڑوسیوں اور اقربا کے لیے بھی........... بلکہ ہر مسلمان کے لیے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔ ...... اسے پڑھیے....... سمجھیے....... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے....... ....... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

محمد متین خالد

mateenkh@gmail.com

صفحہ 26
صفحہ 27

بے شمار دعائیں اور نیک تمنائیں......

تیار کرنے کی بھر پور تحریک دلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان دونوں حضرات کا ہمہ وقت تعاون مجھے حاصل نہ ہوتا تو یہ کتاب شاید کبھی مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔

درویش صفت عبقری جناب یونس الحسنیؒ اور شہرۂ آفاق مصنف و کالم نگار جناب پروفیسر جمیل احمد عدیل کے لیے جنھوں نے مسودہ کی نوک پلک سنوار کر اسے خوبصورت بنایا، ادبی بانکپن دیا۔

جناب چودھری محمد بشیر زرگر، جناب میاں محمد ظفر عباس، جناب محمد شاہین پرواز، جناب چودھری منظور احمد، جناب حبیب احمد عابد، جناب چودھری محمد افتخار (کنعان ٹریڈرز)، جناب ملک محمد انور شاکر، جناب محمد نصر اللہ زرگر، جناب محمد افتخار احمد ملک، جناب مہر اللہ دتہ، جناب محمد عباس بٹ، جناب محمد بلال خادم اور جناب ملک محمد سرور، جناب ایچ ساجد اعوان، مولانا عزیز الرحمٰن رحمانی، جناب اسد اللہ (جڑانوالہ)، جناب شہزاد انجم، جناب مفتی لیاقت علی، جناب قاضی محمد اسد رانجھا، جناب ملک منیر احمد، برادر عزیز جناب محمد ذیشان اقبال، جناب محمد ہاشم جاوید، جناب اسامہ گیلانی، جناب عمر شاہ اور جناب محمد صدیق نقشبندی (شیخوپورہ) کے لیے جنھوں نے کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے بہترین مشوروں سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ ان سب احباب کو دنیا و آخرت میں مظفر و منصور کرے!

محمد متین خالد

صفحہ 28
صفحہ 29

چند ضروری گزارشات

اس لیے اس کی پروف ریڈنگ کو بہتر بنایا گیا ہے، اس کے باوجود غلطی کا امکان ہے۔ اُمید ہے کہ قارئین کرام کسی قسم کی کوتاہی کو بنظر عفو و اغماض دیکھیں گے۔ اگر کسی جگہ کسی قاری کو غلطی نظر آئے تو براہِ کرم مصنف کو ضرور مطلع کرے۔ ان شاء اللہ آئندہ کے ایڈیشن میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی حوالہ کے نقل و اخذ میں سہو ہو گیا ہو تو قارئین کرام ناصحانہ اور ہمدردانہ طور پر نشان دہی فرما دیں تاکہ اس کی تصحیح کر دی جائے۔ شکریہ!

یا آپ کے ذہن میں ہو تو براہِ کرم مجھے ضرور بھجوائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اُسے شامل کیا جا سکے۔

کتاب کی اشاعت کے بارے بار بار استفسار کرتے رہے۔ میں ان سب دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔

آخر میں استدعا ہے:

قلم سے کہیں گر ہوئی ہو خطا
کریں اس کی اصلاح اہل صفا

محمد متین خالد

صفحہ 30
صفحہ 31

اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ وَكَفٰى بِاللهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِىْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ.

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہے جو کسی مسلمان کے عیوب کو تلاش کرے اور اس کی نیکیوں کو فراموش کردے“۔

پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ صاحبانِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ اگر آپ راستے میں بھونکنے والے ہر کتے کو پتھر مارنا شروع کردیں گے تو آپ اپنی منزل پر کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ جاہل کے سامنے عقل کی بات نہ کرو کیونکہ پہلے وہ بحث کرے گا پھر اپنی ہار دیکھ کر دشمن بن جائے گا۔ ناکامی کے اسباب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں دوسروں میں تلاش کرتا ہے۔ شخصیت میں عاجزی نہ ہو تو معلومات میں اضافہ علم کو نہیں بلکہ تکبر کو جنم دیتا ہے۔ رشتوں کی رسی تب کمزور ہوتی ہے جب انسان غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات بھی خود ہی بنا لیتا ہے۔ درخت جتنا اونچا ہوگا، اُس کا سایہ اُتنا ہی چھوٹا ہوگا، اس لیے ”اونچا“ بننے کے بجائے ”بڑا“ بننے کی کوشش کرو۔ حضرت شیخ

صفحہ 32

سعدیؒ کا کہنا ہے: ”جاہلوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب ان کی دلیل مقابل کے آگے نہیں چلتی تو وہ لڑنا شروع کر دیتے ہیں“۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: ”اپنی آواز کے بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اگتے ہیں“۔ مزید فرمایا: ”میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا اور میں نے بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتا“۔ آنکھ دنیا کی ہر ایک چیز دیکھتی ہے مگر جب آنکھ کے اندر کچھ چلا جائے تو اُسے نہیں دیکھ پاتی، بالکل اسی طرح انسان دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے لیکن اپنے عیب اُسے نظر نہیں آتے۔ پہلے اپنے عیب دور کرو پھر دوسروں کے عیبوں پر نکتہ چینی کرو۔ نکتہ چینی بغیر ٹانگوں کا ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں کو دوڑ لگانے کے طریقے بتاتا ہے۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ حسد ایک زہر ہے، جسے انسان خود پیتا ہے اور توقع دوسرے کے مرنے کی کرتا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے: ”بارش کا قطرہ سیپ اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپ اس قطرے کو موتی بنا دیتا ہے جبکہ سانپ اسے زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کسی کا ظرف، ویسی اس کی تخلیق“۔ مزید ارشاد فرمایا: ”حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے“۔

حاسد حسد کی آگ میں ہر دم جلا کرے
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
صفحہ 33

تحفظ ختم نبوت

اہمیت اور فضیلت

صفحہ 34
صفحہ 35

مقام مصطفیٰ ﷺ

اللہ تعالیٰ نے امر کن کی تقدیر سے تمام جہان تخلیق فرمائے۔ اس ذات بابرکات کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں نوع انسانی میں شامل فرمایا۔ پھر مزید کرم فرمایا کہ لقد کرمنا بنی آدم کا باوقار تاج پہنایا۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم صحت مند اور توانا ہیں، مزید یہ کہ خوش حال اور دولتمند ہیں۔ یہ بھی خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رہنے کے لیے بہترین مکان دے رکھا ہے، سعادت مند اولاد عطا فرمائی، عزت اور شہرت سے نوازا، گاڑی سواری وغیرہ بھی دے رکھی ہے، نہایت سکون کے ساتھ زندگی بسر ہو رہی ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر اس رحیم و کریم نے ہم پر اپنی نعمتوں کے دریا بہاتے ہوئے یہ احسان فرمایا کہ ہمیں صاحب لولاک حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں سے پیدا کیا۔ اس لیے کبھی بھی اپنے نصیب کو برا نہ کہو کیونکہ یہ نصیب ہی ہے کہ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت عظمیٰ کا شکر ادا کرنا بھی چاہیں تو کبھی ادا نہیں کر سکتے۔

ناز کر اپنی قسمت پہ اے نوع بشر
مصطفیٰ ﷺ مل گئے اور کیا چاہیے

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام بے حد اعلیٰ اور ارفع ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام سے لغزش کا صدور ہوا، جس کی وجہ سے جنت سے دنیا میں بھیج دیے گئے اور وہ ہر وقت گریہ و زاری کرتے رہتے تھے اور دعا و استغفار کو شعار بنائے رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آسمان کی طرف چہرہ کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ”یارب اسألک بحق محمد لما غفرت لی“ اے پروردگار! میں آپ سے بواسطہ محمد ﷺ کے درخواست کرتا ہوں کہ میری مغفرت کر دیجیے! اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم! تم نے محمد ﷺ کو کس طرح پہچانا؟ حالانکہ ہنوز میں نے ان کو پیدا بھی نہیں کیا۔ عرض کیا کہ اے رب! میں نے اس طرح سے پہچانا کہ جب آپ نے مجھ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنی روح میرے اندر

صفحہ 36

پھونکی تو میں نے سر جو اٹھایا تو عرش کے پایوں پر یہ لکھا ہوا دیکھا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ سو میں نے معلوم کر لیا کہ آپ نے اپنے نامِ پاک کے ساتھ ایسے ہی شخص کے نام کو ملایا ہوگا جو آپ کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم! تم سچے ہو، وہ خاتم النبیین ہیں، تمہاری اولاد میں سے ہیں، فی الواقع وہ میرے نزدیک تمام مخلوقات سے زیادہ پیارے ہیں اور تم نے ان کے واسطہ سے مجھ سے درخواست کی ہے، تو میں نے تمہاری مغفرت کی اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے، تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ (بیہقی، طبرانی)

کتابِ فطرت کے سرورق پر جو نام احمد ﷺ رقم نہ ہوتا
تو نقشِ ہستی ابھر نہ سکتے، وجود لوح و قلم نہ ہوتا

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے تھے کہ تمام دنیا کے آدمیوں کا رونا اگر جمع کیا جائے تو ان کے برابر نہیں ہوسکتا۔ چالیس برس تک سر اوپر نہیں اٹھایا۔ حضرت بریدہؓ حضور اقدس ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے رونے کا تمام دنیا کے رونے سے مقابلہ کیا جائے تو ان کا رونا بڑھ جائے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر ان کے آنسوؤں کو ان کی تمام اولاد کے آنسوؤں سے وزن کیا جائے تو ان کے آنسو بڑھ جائیں گے، ایسی حالت میں حضرت آدم علیہ السلام نے کس کس طرح زاری فرمائی ہوگی۔

اگر نام محمد ﷺ را نیاوردے شفیع آدم
نہ آدم یافتے توبہ نہ نوح از غرق نجینا

(جامیؒ)

ترجمہ: ”اگر حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نام کی سفارش طلب نہ کی جاتی تو نہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوتی اور نہ ہی حضرت نوح علیہ السلام ڈوبنے سے نجات پاتے۔“

حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ ”ایک روز جبرائیل امین بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، بیشک آپ کا رب فرماتا ہے کہ اگرچہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ (ﷺ) کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ میں آپ کی عظمت اور آپ کے درجۂ رفیعہ سے ان کو آگاہ کروں۔ اگر آپ ﷺ

صفحہ 37

کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا“۔

انجیل برناباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں پیش گوئیاں ایک بار نہیں بلکہ بار بار دی تھیں۔ انجیل برناباس کا باب 17 کا ایک حوالہ ملاحظہ کیجیے:

تاب ہے اور پہلے انبیا نے جو باتیں کی ہیں، ان پر روشنی ڈالے گی کیونکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔...... میں تو اس لائق بھی نہیں کہ اللہ کے اس رسول ﷺ کی جوتیوں کے تسمے جھک کر کھولوں۔ (سبحان اللہ!) اس کی تخلیق مجھ سے پہلے ہوئی اور تشریف میرے بعد لے آئے گا۔ وہ سچائی کے الفاظ لائے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہا نہ ہوگی“۔

(انجیل برناباس باب 17 فقرہ 22، 23، باب 42 فقرہ 13 تا 15)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور نبی کریم ﷺ کا امتی بننے کے لیے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی:

رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما“۔ (انجیل برناباس باب: 212 فقرہ: 14)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک کے بعد کسی ایک صبح کو ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اونٹ پر سوار ایک سفید ریش بوڑھا آیا۔ اس نے اپنی سواری کو مسجد کے دروازے پر باندھا اور یہ کہتے ہوئے اندر داخل ہوا: ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت نازل ہو، کیا تم میں اللہ کے رسول محمد (ﷺ) موجود ہیں؟“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے حضور (ﷺ) کے بارے میں پوچھنے والے، تجھے آپ (ﷺ) سے کیا کام ہے؟“ اس نے کہا: ”میں یہودی علما میں سے ہوں اور 80 سال سے توریت کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ اس میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد (ﷺ) کا تذکرہ بڑی تفصیل سے کیا ہے اور میں اس ذکر سے متاثر ہو کر آیا ہوں“۔ اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: ”اور میں آپ (ﷺ) کے ہاتھ پر بیعت اسلام کے لیے حاضر ہوا ہوں“۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بتایا کہ: ”آپ ﷺ کا تو وصال (مبارک) ہو چکا ہے“۔ اس پر اس عالم نے افسوس کا اظہار شروع کر دیا اور کہا: ”کیا تم میں

صفحہ 38

ان (محمدﷺ) کی اولاد ہے؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ: ’’اسے سیّدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس لے جاؤ۔‘‘ وہاں جا کر اس نے اپنا تعارف کروایا اور اس خوشی کا اظہار کیا کہ: ’’میں آپ (ﷺ) کے کپڑوں میں سے کسی کپڑے کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ حضرت سیّدہ عالم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شہزادے امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’وہ کپڑا لاؤ جو آپ (ﷺ) نے بوقت وصال (مبارک) پہنا ہوا تھا۔‘‘ جب وہ کپڑا لایا گیا تو اس عالم نے اس کپڑے کو اپنے چہرے پر ڈال لیا۔ وہ اس کی خوشبو سونگھتا اور خوشبو سونگھتے ہوئے بار بار کہتا کہ: ’’اس صاحب ثوب (یعنی لباس والے) پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مُخاطب ہو کر کہنے لگا: ’’حضور کے اوصاف جمیلہ کا تذکرہ اس طرح کرو کہ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہو۔‘‘ یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شدت جذبات سے رو پڑے اور کہنے لگے: ’’اے سائل، خدا کی قسم! آپ ﷺ کا جس قدر تجھے اشتیاق ہے، مجھے اس سے کہیں بڑھ کر اپنے حبیب ﷺ کی ملاقات کا شوق ہے۔‘‘ بعدازاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کا حلیہ اور سراپا مبارک کا ذکر بڑی تفصیل سے فرمایا، جس کی من وعن تصدیق اس یہودی عالم نے سابقہ کتب سماوی کی روشنی میں کی اور مسلمان ہو گیا۔ (ابن عساکر، تہذیب تاریخ دمشق الکبیر)

جناب عبدالحفیظ امیر پوری نے کیا خوب لکھا ہے: ’’قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بہت سے مقامات پر اپنے حبیب اکرم ﷺ کی قدر و منزلت انتہائی خوبصورت انداز میں واضح فرمائی ہے۔ جس میں پیارے آقا حضور نبی مکرم ﷺ کی عظمت و رفعت اور بارگاہ الٰہی میں کمال شان محبوبیت آشکار ہوتی ہے۔ چنانچہ ارشاد گرامی ہے۔ ”و کان فضل اللّٰہ علیک عظیما“ (النساء: 113) (اور آپ ﷺ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے) اس آیت کریمہ میں حضور نبی کریم ﷺ کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات و اکرامات عطا فرمائے گئے ہیں، وہ سب ہی داخل ہیں۔ یہاں پر ہم بطور تبرک کچھ انعامات و اکرامات کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں قرآن مجید میں بیان فرمایا گیا ہے۔ آپ ﷺ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کی دعا کا ثمرہ ہیں، آپ ﷺ کو کتاب و حکمت عطا فرمائی گئی اور انسانیت کی تربیت کی ذمہ داری کا عظیم شرف عطا فرمایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ربنا و ابعث

صفحہ 39

فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم ايتک ويعلمهم الکتٰب والحكمة ويزکيهم“۔ (البقرہ: 129) حضور نبی کریم ﷺ کو حسن اخلاق کی عظیم دولت عطا فرما کر بھیجا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وانک لعلیٰ خلق عظیم“۔ (القلم: 4) تمام انبیاء و رسل علیہم السلام میں آپ ﷺ کا مقام بلند فرمایا اور آپ ﷺ کی عظمت و شان اور بلندی کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد تمام انبیائے سابقین علیہم سے لیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ، قال ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری، قالوا اقررنا، قال فاشھدوا وانا معکم من الشھدین“۔ (آل عمران: 81) اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو اپنے رسول ﷺ کی اطاعت پر موقوف فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم“ (آل عمران: 31) آپ ﷺ کی برکت سے یہ امت بھی خیرالامم قرار دی گئی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”کنتم خیرامة اخرجت للناس“ (آل عمران: 110) آپ ﷺ کی دیانت و امانت پر اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ”وما کان لنبی ان یغل“۔ (آل عمران: 161) اللہ تعالیٰ نے نبی رحمت ﷺ کے مبعوث فرمانے پر مومنین کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم“ (آل عمران: 164) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اطاعت کو فرض قرار دیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”یا ایھاالذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول اولی الامر منکم فان تنازعتم فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر، ذلک خیر و احسن تاویلا“ (النساء: 59) آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین ہونے کا اعزاز عطا فرمایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین“ (الانبیا: 107) اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی جان کی قسم کھائی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون“ (الحجر: 72) کسی کے ایمان کا اس وقت تک اعتبار نہیں جب تک کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے فیصلوں پر راضی نہ ہوجائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”فلاوربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما“ (النساء: 65) نبی

صفحہ 40

کریم ﷺ کی ذات عالی کو لوگوں پر حجت بنایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة لمن کان یرجوا الله واليوم الاخر وذكر الله کثیرا“ (الاحزاب: 21) نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد پر آپ ﷺ کا ذکر مبارک سابقہ آسمانی کتابوں میں نازل کیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”الذين یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوبا عندهم فی التورۃ والانجيل یأمرهم بالمعروف وينھهم عن المنکر ويحل لھم الطيب ويحرم عليھم الخبئث ويضع عنھم اصرهم والاغلل التی کانت عليھم“ (الاعراف: 157) دنیائے انسانیت کو بتایا گیا کہ آپ ﷺ کا وجود مسعود لوگوں کے لیے عذاب الٰہی سے بچنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وما كان الله لیعذبھم وانت فیھم“ (الانفال: 33) اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں آپ ﷺ کا حصہ مقرر فرمایا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں بطور غنیمت ملے خواہ کوئی چیز ہو تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے اگر تمہیں اللہ پر یقین ہے اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتاری جس دن دونوں جماعتیں ملیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ آپ ﷺ کو یہ بتایا گیا کہ آپ ﷺ جس دین کی طرف دعوت دینے کے مکلّف فرمائے گئے ہیں، یہ دین سارے دینوں پر غالب ہو جائے گا، نیز یہ کہ یہ دین کسی کے مٹانے سے نہ مٹ سکے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”هو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کله ولو کرہ المشرکون“ (التوبہ: 33) حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر اللہ تعالیٰ نے خود شہادت دی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”محمد رسول الله“ نبی مکرم ﷺ کو کتاب عظیم قرآن کریم کی تفسیر وتشریح کی عظیم ذمہ داری عطا کی گئی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم ایتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتب الحکمة“ (البقرہ: 151) آپ ﷺ کو سفر اسراء ومعراج کرا کے آسمانوں اور جنت دوزخ کی سیر کرائی گئی، اور وہاں ملاء اعلیٰ کی قربت سے آپ ﷺ کو سرفراز کیا گیا، سفر اسرا میں تمام انبیا ورسل علیہم السلام کی امامت کرا کے آپ ﷺ کے مقام بلند کا اظہار کیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”سبحن الذی اسرى بعبده لیلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذی برکنا حوله لنریہ من ایتنا، انه

صفحہ 41

هو السميع البصير“ (الاسرا: 1) آپ ﷺ کو مقام محمود سے نوازا جائے گا، مقام محمود وہ مقام ہے جس پر اولین و آخرین سب رشک کریں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”عسٰی ان يبعثک ربک مقاما محمودا“ (الاسرا: 79) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مخالفت کرنے پر درد ناک عذاب کی وعید سنائی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ذلک بانهم شاقوا الله ورسوله ومن يشاق الله فان الله شديد العقاب“ (الحشر: 4) اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله فى الدنيا ولاخرة واعدلهم عذابا مهينا“ (الاحزاب: 57) نبی رحمت ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا کہ آپ ﷺ کی ذات عالی کا تعلق مومنین سے اس سے بھی زیادہ ہے جو ان کا اپنی جانوں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو مومنین کی مائیں قرار دیا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”النبی اولی بالمؤمنین من انفسهم وازواجه امهتهم“ (الاحزاب: 6) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول انور ﷺ کے فیصلہ سے انحراف کرنے کو سراسر گمراہی اور کفر قرار دیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”فلا وربک لا يؤمنون حتى يحکموک فيما شجر بينهم“ (النساء: 65) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ تنبیہ فرمائی کہ ایسا کام نہ کریں جس سے میرے نبی ﷺ کو اذیت پہنچے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وما کان لکم ان تؤذوا رسول الله“ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ بھیجتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ بھی حضور خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں درود و سلام بھیجیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ان الله وملئکته يصلون على النبى، يايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما“ (الاحزاب: 56) جنات کی جماعت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے قرآن سن کر ایمان قبول کر لیا۔ ”قل اوحى الى انه استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا O يهدى الى الرشد فامنا به، ولن نشرک بربنا احدا“ (الجن: 1 تا 2) اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو اپنی بیعت قرار دیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ان الذين يبايعونک انما يبايعون الله“ (الفتح: 10) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے اہل ایمان کو آداب سکھائے۔ نبی مکرم ﷺ کی آواز سے بلند آواز کرنے پر اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال اکارت ہو جانے کا اعلان فرمایا، آپ ﷺ کو عام لوگوں کی طرح پکارے جانے سے منع

صفحہ 42

کیا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا له بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون“ (الحجرات: 2) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ایسے لوگ ذلیل ہوں گے۔ ”ان الذین یحادون الله ورسوله اولئک فی الاذلین“ (المجادلہ: 20) اور فرمایا نبی ﷺ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہیں: ”واذقال عیسی ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التورٰة ومبشراً برسول یاتی منۢ بعدی اسمه احمد“ (الصف: 6) اللہ تعالیٰ نے اس کا اعلان فرمایا کہ آپ ﷺ نہایت بلند اخلاق ہیں، ”وانک لعلی خلق عظیم“ (القلم: 4) اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہ فرمایا کہ اس نے آپ ﷺ کو چھوڑا نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”والضحیٰ ۝ والیل اذا سجیٰ ۝ ما ودعک ربک وما قلیٰ“ (الضحیٰ: 1 تا 3) اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے بارے میں فرمایا: یقیناً آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وللآخرة خیر لک من الاولیٰ (الضحیٰ: 4) حضور ﷺ کے ذکر مبارک کو بلندی عطا کی گئی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ورفعنا لک ذکرک“ (الانشراح: 4) شافع محشر ﷺ کو کوثر عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے خاص اکرام و اعزاز فرمایا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”انا اعطیناک الکوثر، فصل لربک وانحر، ان شانئک ھو الابتر“ (الکوثر: 1 تا 3) اللہ تعالیٰ نے انبیا و سابقین کو ان کے ناموں سے پکارا مثلاً یا آدم، یا نوح، یا موسیٰ فرمایا مگر حضور خاتم النبین ﷺ کو دیگر انبیا علیہم السلام پر اس طرح بھی فضیلت بخشی، کہ آپ ﷺ کا نام لے کر نہیں پکارا بلکہ آپ ﷺ کو صفت رسالت یا صفت نبوت سے پکارا، یا ایھا الرسول، یا ایھا النبی، وغیرہ، آپ ﷺ کی ذات عالی صفات کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”والله یعصمک من الناس“ (المائدہ: 67) نیز یہ بھی فرمایا کہ آپ ﷺ پر طعن کرنے والوں کے لیے اللہ کافی ہے ”انا کفینک المستھزئین“ (الحجر: 95) کفار کی تکذیب سے آپ ﷺ کے ساتھ ملائکہ نے قتال فرمایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثة الف من الملئکة منزلین“ (آل عمران: 124) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کریم ﷺ سے

صفحہ 43

خطاب فرماتے ہوئے وعدہ فرمایا ”ولسوف یعطیک ربک فترضی“۔ (الضحیٰ:5) اے محبوب ! یقیناً آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا حتی کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ اللہ اکبر! تمام دنیا، ساری کائنات، سارے اولیا، سارے صالحین، سارے اتقیا و اصفیا، سارے انبیا و رسولانِ مکرم (علی نبینا وعلیہم السلام) رضائے الٰہی کے متلاشی ہیں اور خود رب العزت اپنے محبوب ﷺ کی رضا کے لیے اپنی عطائیں نچھاور فرمانے کے وعدے فرمارہے ہیں‘‘۔

لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

آپ ﷺ کی شانِ جامعیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور تمام رسولانِ عظام کے اوصاف و محاسن، فضائل و شمائل اور کمالات و معجزات کا بھرپور مجموعہ اور حسین مرقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں، رسولوں اور ساری اولادِ آدم کے اوصاف حمیدہ اور خصائل عالیہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھر دیے تو گویا آپ ﷺ تمام ذریت آدم کے حسن و جمال، اوصاف و خصائل، تعریفوں، خوبیوں، صفتوں، بھلائیوں، نیکیوں، کمالوں، ہنروں، خلقوں اور پاکیزہ سیرتوں کے مجموعہ ہیں۔

چنانچہ آپ ﷺ کی شخصیت میں آدم علیہ السلام کا خلق، شیث علیہ السلام کی معرفت، نوح علیہ السلام کا جوش تبلیغ، لوط علیہ السلام کی حکمت، صالح علیہ السلام کی فصاحت، ابراہیم علیہ السلام کا ولولۂ توحید، اسماعیل علیہ السلام کی جاں نثاری، اسحاق علیہ السلام کی رضا، یعقوب علیہ السلام کا گریہ و بکا، ایوب علیہ السلام کا صبر، لقمان علیہ السلام کا شکر، یونس علیہ السلام کی انابت، دانیال علیہ السلام کی محبت، یوسف علیہ السلام کا حسن، موسیٰ علیہ السلام کی کلیمی، یوشع علیہ السلام کی سالاری، داؤد علیہ السلام کا ترنم، سلیمان علیہ السلام کا اقتدار، الیاس علیہ السلام کا وقار، زکریا علیہ السلام کی مناجات، یحییٰ علیہ السلام کی پاکدامنی اور عیسیٰ علیہ السلام کا زہد و اعجاز مسیحائی یکجا کر دیے بلکہ یوں کہیے کہ پوری کائنات کی ہمہ گیر سچائی اور ہر ہر خوبی آپ ﷺ کی ذاتِ والا صفات میں سمائی ہوئی ہے۔

کسی اہل دل شاعر نے کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے:

؎ حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا داری
آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
صفحہ 44

ترجمہ: ”آپ ﷺ حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دم اور سفید ہاتھ (حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ) رکھتے ہیں۔ وہ خوبصورت لوگ جو کچھ بھی رکھتے تھے، آپ ﷺ اپنی ذات میں اکیلے رکھتے ہیں۔“

حضور ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے اور وہ اسے اپنے لیے باعث فخر اور موجبِ نجات سمجھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔

بہ مصطفیٰ ﷺ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

ترجمہ: ”اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تک پہنچا دے کہ سارا دین وہی ہیں اور اگر تُو ان ﷺ تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر تمام بولہبی ہے۔“

حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے کیا خوب کہا ہے:

”قرآن میں لامحدود عجائبات علمی صورت میں اور ذات بابرکات نبوی ﷺ کی سیرت میں ہی عجائبات عملی صورت میں موجود ہیں۔ گویا ایک علمی قرآن ہے جو اوراق میں محفوظ ہے اور ایک عملی قرآن ہے جو ذات نبوی میں محفوظ ہے اور دونوں ایک دوسرے پر من و عن منطبق ہیں۔ پس قرآن کا کہا ہوا نبی کریم ﷺ کا کیا ہوا ہے اور آپ ﷺ کا کیا ہوا قرآن کا کہا ہوا ہے۔ اس لیے قرآن کریم کی ہزاروں آیتیں دراصل سیرت مقدسہ کے علمی تعارفی ابواب ہیں اور سیرت کے یہ ہزاروں گوشے قرآن کے عملی پہلو ہیں۔ پس قرآن میں جو چیز قال ہے، وہی ذات نبوی میں حال ہے اور جو قرآن میں نقوش و دال ہیں، وہ ذات اقدس ﷺ میں سیرت و اعمال ہیں۔...... قرآن کریم کے مختلف مضامین اپنی اپنی نوعیت اور مناسبت کے مطابق سیرت نبوی کے مختلف الانواع پہلو ثابت ہوتے ہیں۔ قرآن میں ذات و صفات کی آیتیں آپ ﷺ کے عقائد ہیں اور احکام کی آیتیں آپ ﷺ کے اعمال، تکوین کی آیتیں آپ ﷺ کا استدلال ہیں اور تشریع کی آیتیں آپ ﷺ کا حال، قصص و امثال کی آیتیں آپ ﷺ کی عبرت ہیں اور تذکیر کی آیتیں آپ ﷺ کی موعظت، خدمت خلق کی آیتیں آپ ﷺ کی عبدیت ہیں اور کبریا و حق کی آیتیں آپ ﷺ کی نیابت، اخلاق کی آیتیں آپ ﷺ کا حسن معیشت ہیں اور معاملات کی آیتیں آپ ﷺ کا حسن معاشرت، توجہ الی اللہ کی آیتیں آپ ﷺ کی خلوت ہیں اور تربیت خلق کی آیتیں آپ ﷺ کی جلوت، قہر و

صفحہ 45

غلبہ کی آیتیں آپ ﷺ کا جلال ہیں اور مہر و رحمت کی آیتیں آپ ﷺ کا جمال، تجلیات حق کی آیتیں آپ ﷺ کا مشاہدہ ہیں اور استغنا وجہ اللہ کی آیتیں آپ ﷺ کا مراقبہ، ترک دنیا کی آیتیں آپ ﷺ کا مجاہدہ ہیں اور احوال محشر کی آیتیں آپ ﷺ کا محاسبہ، نفی غیر کی آیتیں آپ ﷺ کی فنائیت ہیں اور اثبات حق کی آیتیں آپ ﷺ کی بقائیت، نعیم جنت کی آیتیں آپ ﷺ کا شوق ہیں اور جہنم نار کی آیتیں آپ ﷺ غم، رحمت کی آیتیں آپ ﷺ کی رجا ہیں اور عذاب کی آیتیں آپ ﷺ کا خوف، انعام کی آیتیں آپ ﷺ کا سکون اور انس ہیں اور انتقام کی آیتیں آپ ﷺ کا حزن، حدود و جہاد کی آیتیں آپ ﷺ کا بغض فی اللہ ہیں اور امن و ترحم کی آیتیں آپ ﷺ کا حب فی اللہ، نزول وحی کی آیتیں آپ ﷺ کا عروج ہیں اور تعلیم و تبلیغ کی آیتیں آپ ﷺ کا نزول، امر کی آیتیں آپ ﷺ کی خلافت ہیں اور خطاب کی آیتیں آپ ﷺ کی عبادت، غرض قرآن کریم کی ہر آیت اور ہر لفظ کسی نہ کسی مقام نبوت کا مظہر اور بنیادی گواہی ہے اور ان تمام لازوال سچائیوں پہ ام المومنین عائشہؓ کا یہ قول ہمارے لیے برہان اور حجت ہے: و کان خلقہ القرآن اور آپ ﷺ کا خلق (سیرت) قرآن ہی تو ہے“۔

بقول ملک منیر احمد: ”حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت کو بیاں کرنے کے لیے جبریلِ امیںؑ کی زباں اور سننے کے لیے صدیقِ اکبرؓ کا دل چاہیے۔ آپ کے حسن سراپا کو کس چیز سے تشبیہہ دوں؟ چاند کو آپ کے رخ انور سے نسبت دوں تو وہ بھی ڈوب جاتا ہے۔.......... سورج کو آپ کی پیشانی سے تشبیہہ دوں تو وہ بھی شفق کی سرخیوں میں معدوم ہو جاتا ہے۔.......... ستاروں کو آپ کے دندان مبارک سے نسبت دوں تو وہ بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔.......... شبِ تار کو آپ کی زلفوں سے تشبیہہ دوں تو وہ بھی ڈھل جاتی ہے۔.......... ادھ کھلے غنچوں کو آپ کے ہونٹوں سے نسبت دوں تو وہ بھی مرجھا جاتے ہیں۔.......... پھولوں کی خوشبو کو آپ کے پسینے سے تشبیہہ دوں تو وہ بھی اُڑ جاتی ہے۔.......... عالمِ حیراں میں ہوں کہ کیا کہوں؟

منہ چھوٹا ہے اور بات بڑی بول رہا ہوں
تعریفِ محمدﷺ میں زباں کھول رہا ہوں
میں کھول کے لفظوں کے صدف نوکِ قلم سے
نازاں ہوں سعادت کے گہر گھول رہا ہوں“

کسی نے کیا خوب کہا: ”حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات، انسانی کمالات اور

صفحہ 46

صفات حسنہ کا ایک کامل مجموعہ ہے اور یہ سب انہی کی جامعیت کی نیرنگیاں اور جلوہ آرائیاں تھیں جو کبھی صدیقؓ و فاروقؓ ہو کر چمکتی تھیں، کبھی ذوالنورینؓ اور مرتضیٰؓ ہو کر نمایاں ہوتی تھیں، کبھی خالدؓ، ابوعبیدہؓ اور کبھی سعدؓ و جعفر طیارؓ ہو کر سامنے آتی تھیں، کبھی ابن عمرؓ، ابوذرؓ، سلمانؓ اور ابودرداءؓ ہو کر مسجد و محراب میں نظر آتی تھیں، کبھی ابن عباسؓ، ابی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کی صورت میں علم وفن کی درسگاہ اور عقل وحکمت کا دبستان بن جاتی تھیں اور کبھی بلالؓ وصہیبؓ وعمارؓ و خبیبؓ کی امتحان گاہوں میں تسلی کی روح اور تسکین کا پیام بن جاتی تھیں‘‘۔

رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایک وادی میں لیٹا ہوا تھا کہ دو فرشتے آئے۔ ایک زمین پر آ گیا اور دوسرا زمین و آسمان کے درمیان معلق ہو گیا، اوپر والا نیچے والے سے پوچھتا ہے کیا یہ وہی ہیں، نیچے والا کہتا ہے ہاں یہ وہی ہیں، اوپر والا کہتا ہے یہ تو آرام فرما رہے ہیں، نیچے والا کہتا ہے اگر چہ آرام فرما رہے ہیں مگر دل جاگ رہا ہے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ترازو لگا لیا، ترازو کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا، دوسرے میں ایک شخص کو رکھا، میرا پلڑا بھاری ہو گیا، پھر انہوں نے ایک پلڑے میں مجھے رکھا، دوسرے میں دس آدمیوں کو رکھا، میرا پلڑا پھر بھی بھاری رہا، پھر انہوں نے میرے مقابل سو آدمیوں کو رکھا، میرا پلڑا پھر بھی بھاری رہا، فرشتے نے کہا ایک پلڑے میں ہزار آدمی رکھو ایک میں اکیلے محمد مصطفیٰ ﷺ کو رکھو، رسول پاک ﷺ نے فرمایا میرے مقابل پلڑے میں ہزار آدمیوں کو رکھا گیا، میرا پلڑا پھر بھی بھاری تھا، اور ہزار آدمیوں کا پلڑا اتنا اوپر اٹھا ہوا تھا کہ مجھے خطرہ محسوس ہوا سب میرے اوپر ہی نہ آ گریں، فرشتوں نے کہا: اگر ان کے مقابل ساری کائنات کو تولا جائے تو بھی محمد (ﷺ) کا پلڑا بھاری ہے۔ یعنی ساری کائنات کا ایمان ایک پلڑے میں ہو، اکیلے رسول اللہ ﷺ کا ایمان ایک پلڑے میں ہو، رسول پاک ﷺ کا ایمان پھر بھی لاکھوں گنا زیادہ ہے۔ یہاں ایک بات اور سمجھ لیں رسول پاک ﷺ کی صرف ذات کا وزن ساری کائنات سے بھاری نہیں بلکہ بات کا وزن بھی ساری کائنات سے بھاری ہے، یعنی ایک طرف ساری کائنات کی بات ہو اور ایک طرف اکیلے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بات ہو، تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بات کا وزن زیادہ ہے۔

سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:

صفحہ 47

”ایک ایسی شخصی زندگی جو طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو، صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے۔ اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو۔ اگر غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو، اگر بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو، اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو، اگر فاتح ہو تو بدر وحنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑاؤ، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو، اگر تم استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو، اگر شاگرد ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماؤ۔ اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو، اگر تنہائی وبیکسی کے عالم میں حق کی منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یار و مددگار نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ تمھارے سامنے ہے، اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو، اگر اپنے کاروبار اور دنیاوی جدوجہد کا نظم ونسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر، خیبر اور فدک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو، اگر یتیم ہو تو عبداللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو، اگر بچہ ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو، اگر تم جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو، اگر سفری کاروبار میں ہو تو بصریٰ کے کاروان سالار کی مثالیں ڈھونڈو، اگر عدالت کے قاضی اور پنچایتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے، مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر وغریب سب برابر تھے۔ اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو۔ اگر اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے باپ اور حسنؓ حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو۔ غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، تمہاری زندگی کے لیے نمونہ اور تمہاری سیرت کی درستی و اصلاح کے لیے سامان، تمھارے ظلمت خانہ کے لیے ہدایت کا چراغ اور راہنمائی کا نور، محمد رسول اللہ ﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔ اس لیے طبقۂ انسانی کے ہر طالب اور نور ایمانی کے ہر متلاشی کے لیے صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت، ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔

ایسی کامل و جامع ہستی جو اپنی زندگی میں ہر نوع اور ہر قسم، ہر گروہ اور ہر صنف

صفحہ 48

انسانی کے لیے ہدایت کی مثالیں اور نظیریں رکھتی ہو، وہی اس لائق ہے جو اس اصناف وانواع سے بھری ہوئی دنیا کی عالم گیر اور دائمی راہنمائی کا کام سرانجام دے، جو غیظ وغضب اور رحم و کرم ، جود وسخا اور فقر و فاقہ، شجاعت و بہادری اور رحم دلی ، رقیق القلبی ، دنیا اور دین دونوں کے لیے ہمیں اپنی زندگی کے نمونوں سے بہرہ مند کردے، جو دنیا کی بادشاہی کے ساتھ آسمان کی بادشاہی اور اس آسمان کی بادشاہی کے ساتھ دنیا کی بادشاہی کی بھی بشارت دے اور دونوں بادشاہیوں کے قواعد وقوانین اور دستور العمل کو اپنی زندگی میں برت کر دکھا دے‘‘۔

(خطبات مدراس از علامہ سید سلیمان ندویؒ)

حضور نبی کریم ﷺ کی رحمۃ للعالمینی کا ایسا نادر واقعہ جسے پڑھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے ...... وہ نڈر تھا، جرنیل تھا، تاجر تھا، گورنر تھا، پکڑ کر لایا گیا، مسجد نبوی ﷺ میں ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا، رسول رحمت ﷺ تشریف لائے دیکھا، خوبصورت چہرہ، لمبا قد، توانا جسم، بھرا ہوا سینہ، اکڑی ہوئی گردن، اٹھی ہوئی نگاہیں، ایک حسین جوان ہے ...... حکمرانی کے جتنے اوصاف ہیں، سارے پائے جاتے ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ آگے بڑھے، فرمایا: ثمامہ ! کیسے ہو؟ ثمامہ بولا: گرفتار کر کے پوچھتے ہو کیسا ہوں؟‘‘ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: کوئی تکلیف پہنچی ہے؟ کہتا ہے: نہ تمہاری تکلیف کی کوئی پرواہ، نہ تمہاری راحت کا کوئی خیال، جو جی چاہے کر لو، رسول پاک ﷺ نے فرمایا: بڑا تیز مزاج آدمی ہے، اپنے صحابہؓ کو دیکھا، پوچھا، اس کو دکھ تو نہیں پہنچایا؟ عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ ! گرفتار ہی کیا ہے دکھ کوئی نہیں پہنچایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ثمامہ ذرا میری طرف آنکھ اٹھا کر تو دیکھو، ثمامہ کہتا ہے: کیا نظر اٹھا کر دیکھنے کی بات کرتے ہو، کیا آپ نہیں جانتے کہ مجھ کو مارا جائے گا پھر میرے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی پیشانی سلوٹوں سے بھر گئی۔ تلوار کے میان پر ہاتھ تڑپنے لگا، اشارہ ابرو ہو اور اس کی گردن ہو، حضرت محمد ﷺ کے قدم ہوں، یہ کیا سمجھتا ہے؟ لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے، فرمایا، جتنا غصہ ہے جی بھر کر نکال لو، لیکن ہمارا چہرہ تو دیکھ لو ...... ثمامہ نے جواب دیا: تمہارا چہرہ کیا دیکھوں، کائنات میں تجھ سے ............ کوئی نہیں ہے (نعوذ باللہ)۔ یہ ہیں وہ رحمۃ للعالمین ﷺ، جب بے آسرا تھے تب بھی دشنام سنا لیکن پیشانی پر شکن نہیں ڈالی، آج تاجدار ہیں، اپنے گھر میں بدتمیزی سنتے ہیں لیکن پیشانی پر شکن نہیں ڈالتے ...... فرمایا: کوئی بات نہیں، میری ہستی کی طرف تو نگاہ ڈالو،

صفحہ 49

اس نے کہا: میں نے روم، یونان، ایران و مصر کی ہستیاں دیکھیں مگر تمہاری ہستی کائنات کی سب سے ........... ہستی ہے (نعوذ باللہ)۔ اس ہستی کو کیا دیکھوں؟ حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا: کوئی بات نہیں، دوسرے دن تشریف آئے پھر وہی جواب، تیسرے دن تاجدار کائنات ﷺ تشریف لائے، فرمایا: ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگتے، ذرا دیکھ تو لو۔ کہتا ہے: نہیں دیکھتا، اب ہمیشہ مسکرانے والے پاک پیغمبر ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: جاؤ! ہم نے تجھے رہا کر دیا ہے، ہم تجھے کچھ نہیں کہتے، جاؤ، جہاں دل کرتا ہے، چلے جاؤ...... اور اپنے صحابہ کرام کو جن کی تلواریں ثمامہ کی گردن کاٹنے کے لیے بے تاب تھیں، ان سے فرمایا: بڑا آدمی ہے، عزت کے ساتھ لے جا کر اس کو مدینہ سے رخصت کر دو، انہوں نے چھوڑا، چل دیا...... لیکن اچانک پلٹتے ہوئے اس کے دل میں خیال آیا، بڑے بڑے حکمران بھی دیکھے، محکوم بھی دیکھے، جرنیل بھی دیکھے مگر اتنے حوصلے اور ظرف والا تو کبھی نہ دیکھا، اس کے چہرے کو دیکھوں تو سہی کیسا ہے...... ”بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا“ پھر دیکھتا ہے، دیکھ کر سرپٹ بھاگا، دڑکی لگا دی اور پھر......! ثمامہ کہتے ہیں کہ ”قدم آگے کی طرف بھاگ رہے تھے مگر دل پیچھے کی طرف بھاگ رہا تھا“ دو میل بھاگتا چلا گیا اور جتنی رفتار سے گیا تھا، اس سے دگنی رفتار سے واپس پلٹ آیا، وہ ماہ تمام ﷺ زمین پہ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے...... مسجد کے صحن میں آیا...... نبی کریم ﷺ نے نگاہ ڈالی، سامنے ثمامہ کھڑا ہے، فرمایا! ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا پھر کیوں آ گئے؟ کہا: مجھ کو اپنا بنا کر چھوڑ دیا، کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے۔ چھوڑا تب تھا جب آپ ﷺ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، اب آپ ﷺ کا چہرہ دیکھ لیا، اب زندگی بھر کے لیے آپ کا غلام بن گیا ہوں۔ سبحان اللہ!

مسلمان تو حضور ﷺ کی امت ہونے کے ناتے آپ ﷺ کی ثنا خوانی اور بزرگی کے بیان کی سعادت چودہ سو سال سے کر ہی رہے ہیں کہ یہ ان کے عقیدہ اور ایمان کا لازمی جزو ہے لیکن آپ ﷺ کی تعلیمات عالیہ، اخلاق و مروت اور حسن کردار کی تابانی سے متاثر ہو کر کٹر سے کٹر غیر مسلم بھی حضور ﷺ کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں اور انھوں نے آپ ﷺ کی مدحت اور اخلاقِ حسنہ پر اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس کا احاطہ مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

کردار کی بلندی کا جو عظیم معیار حضورِ رسالت مآب ﷺ نے تمام عمر پیش فرمایا، اس پر اپنے تو کیا، اغیار بھی انگلی نہیں اٹھا سکے۔ نہ صرف انجیل مقدس اور ہندوؤں کے

صفحہ 50

ویدوں میں، بلکہ برطانیہ کے ”علمی میوزیم“ میں، ”دنیا کے سو بڑے لوگ“ کی فہرست میں یا مغربی مستشرقین کی کتب میں حضرت محمد ﷺ کا نام اپنے کردار اور نوع انسانی کو عطا کردہ انقلاب آفریں نظریے کے حوالے سے سرفہرست آتا ہے۔ تھامس کارلائل Thomas) "On Heroes, Hero-Worship and The کی کتاب Carlyle( "Heroic in History" میں یہ الفاظ کہ ”محمد عربی (ﷺ) یقیناً انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام بلند پر فائز ہیں!“ اس پر حرف آخر ہیں۔

میں یہاں پر مغرب کے سب سے بڑے مفکر، فلسفی اور دانشور برنارڈشا کا یہ قول درج کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ کہتا ہے:

”میں نے ہمیشہ اسلام کو اپنی حیرت خیز توانائی کی بدولت وقیع ترین گردانا ہے۔ مجھے صرف یہی ایسا دین لگتا ہے جس میں زندگی کی بدلتی ہوئی صورتیں قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور اس کا ہر وصف ہر زمانے کے لیے اپنے اندر کشش رکھتا ہے۔ میں نے اس محیرالعقول انسان (حضرت محمد ﷺ) کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے، میرے خیال میں وہ (ﷺ) ذرا بھی خلافِ مسیح نہیں، اسے (ﷺ) بالضرور نسل انسانی کا نجات دہندہ کہنا چاہیے۔ میرا عقیدہ ہے کہ اگر ایسا آدمی (ﷺ) آج کی دنیا کا اقتدار سنبھال لے تو وہ اس کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اسے اپنا بشدت مطلوبہ امن اور مسرت مل جائے۔ میں نے دین محمد (ﷺ) کی نسبت پیشگوئی کی ہے کہ جس طرح آج کے یورپ میں اس کی مقبولیت شروع ہے، اسی طرح کل کے یورپ کے لیے یہ قابلِ قبول ہوگا۔“ (نقوش رسول ﷺ نمبر ج 6 ص 550)

دیکھیے، ہری چند اختر آنجہانی یوں مدح سرا ہے ؎

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الٰہی قصر کسریٰ کر دیا
صفحہ 51
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
کہہ دیا لَا تَقْنَطُوْا اختر کسی نے کان میں
اور دل کو سر بسر محو تمنا کر دیا!
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسن کائنات
اب کسی نے اس کو عالم آشکارا کر دیا

منجملہ دیگر کمالات نبوت و معجزات رسالت کے ایک معجزہ گرامی، حضور اقدس ﷺ کا نام نامی بھی ہے۔ یہ زندہ جاوید معجزہ بعثت کے وقت سے تاہنوز اپنے فضائل کی شہادتیں پیش کر رہا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ مُحَمَّدٌ اَلَّذِیْ یُحْمَدُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ محمد ﷺ سے مراد جس کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ تعریف اور توصیف پر توصیف ہوتی رہے۔

جناب محمد ریاض الرحیم اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

”حضور خاتم النبیین ﷺ کے دونوں اسم مبارک (محمد اور احمد) ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ تاجدار مدینہ سرور سینہ ﷺ کے اوصاف، محاسن، مناقب و محامد، فضائل و خصائل و شمائل اتنے کثیر ہیں جن کی نہ کوئی حد ہے نہ نہایت۔ یہ احصا و شمار کے پیمانوں سے بہت ہی ورا ہیں۔ دفتروں کے دفتر ختم ہو گئے۔ عمریں انتہا کو پہنچ گئیں لیکن تاجدار کائنات ﷺ کے ایک وصف کی بھی توضیح کامل، تشریح اکمل نہ ہوسکی۔

شمار کرنے چلیں اس کی خوبیوں کا اگر
تو ساتھ چھوڑ دیں تھک تھک کے نیل، سنکھ، پدم

شیخ عبدالحق محدث دہلوی مدارج النبوت میں لکھتے ہیں:

ایک اسم ہے جو حمد سے مشتق اور مبالغہ کے معنی میں مقید ہے۔ پہلا نام باعتبار کیفیت ہے جب کہ دوسرا نام باعتبار کمیت ہے۔ آپ ﷺ حق تعالیٰ کی حمد، افضل محامد سے کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں کثرت محامد سے آپ ﷺ کی حمد و ستائش کی گئی۔ آپ ﷺ احمد الحامدین (حمد کرنے والوں میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے) اور احمد المحمودین (تمام تعریف کیے ہوؤں میں سب سے زیادہ تعریف کیے گئے) وافضل من حمد (جو بھی حمد کرے ان سب سے برتر حمد

صفحہ 52

کرنے والے) ہیں“۔ (جلد اوّل باب ہفتم، صفحہ 460) آپ ﷺ نے اللہ کی اتنی حمد اور تعریف کی کہ آپ ﷺ احمد ﷺ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتنی تعریف کی کہ آپ محمد ﷺ ہوگئے۔ محمد ﷺ کے معنی ہیں جس کی حمد (تعریف) خود اللہ تعالیٰ کرے۔ قرآن کریم میں جابجا نبی کریم ﷺ کی تعریف آئی ہے۔ احمد ﷺ کے معنی ہیں اللہ جل شانہ کی حمد (تعریف) کرنے والا۔ احادیث شریفہ میں ہزاروں جگہ اللہ جل مجدہ کی تعریف وتوصیف آئی ہے۔

محمد اور احمد کے معنی میں الگ الگ فرق یہ ہے کہ محمد وہ ہے جس کی حمد ونعت (تعریف) سب زمین اور آسمان والوں نے سب سے بڑھ کر کی ہو۔ اور احمد وہ ہے جس نے رب السمٰوات والارض کی حمد وثناء (تعریف) سارے اہل الارض والسموات سے بڑھ کر کی ہو (ﷺ)

محمد ﷺ وہ جو رب العزت کے اسم ذات اور اسمائے صفات کا ذکر کثرت سے کرے اور احمد ﷺ وہ جو ہر نام کے معنی اور مطلب پر غور کرے۔ یعنی حمد (تعریف) کی مقدار کا تعلق ”محمد“ ﷺ سے ہے اور معیار کا تعلق ”احمد“ ﷺ سے۔

اس بنا پر محمد ﷺ واحمد ﷺ میں فرق یہ رہے گا کہ محمد ﷺ وہ ہے جس کی تعریف اپنے اوصاف جمیلہ کی وجہ سے سب سے زیادہ کی جائے اور احمد ﷺ وہ ہے جس کی تعریف سب سے بہتر اور عمدہ ہو۔

دونوں ناموں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنے خلق وخصائل کی وجہ سے اس کے مستحق ہیں کہ آپ ﷺ کی سب سے زیادہ اور سب سے کامل تعریف کی جائے۔ اس تحقیق کے بعد ان دونوں کے مفہوموں کے لحاظ سے سطح عالم پر نظر ڈالیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ اسما جتنی حقیقت اور جتنی صداقت کے ساتھ آپ ﷺ کی ذات مبارک پر چسپاں ہیں، اتنے کسی اور پر نہیں۔ خالق سے مخلوق تک‘ انبیا (علیہم السلام) سے لے کر جن اور فرشتوں تک‘ حیوانات سے لے کر جمادات تک‘ غرض ہر ذی روح اور غیر ذی روح سب ہی نے آپ ﷺ کی تعریفیں کی ہیں۔ اور آج بھی اربوں انسانوں کی زبانیں دن میں نہ معلوم کتنی بار آپ ﷺ کی تعریف کے لیے متحرک رہتی ہیں۔ اس لیے محمد ﷺ اور احمد ﷺ نام کی مستحق جتنی کہ آپ ﷺ کی ذات ہے اتنی کسی اور کی نہیں ہوسکتی۔ اگر احمد ﷺ کو اسم فاعل کے معنی

صفحہ 53

میں لیجیے تو بھی اس اسم مبارک کی سب سے زیادہ مستحق آپ ﷺ ہی کی ذات پاک ہے۔ کیونکہ جس قدر اللہ جل مجدہ کی تعریف آپ ﷺ نے کی ہے، اتنی کسی بشر نے نہیں کی اور اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی امت کو بھی موقع بہ موقع اللہ جل مجدہ کی اتنی حمد سکھائی کہ کتب مقدسہ میں اس امت کا لقب ہی حمادون پڑ گیا یعنی کہ اللہ عزاسمہ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والی امت۔ ...........

میرے آقا و سردار کا نام محمد ﷺ کب رکھا گیا؟ اس سلسلے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں۔ گو تمام راوی اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ نام حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے رکھا گیا۔ لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کتنا پہلے۔ ان روایات کے مطابق آپ ﷺ کا یہ نام تخلیق آدم علیہ السلام سے کم سے کم دو ہزار سال پہلے اور زیادہ سے زیادہ نو لاکھ سال پہلے رکھا گیا۔ لیکن محدثین نے ایک ایسی حدیث شریف کا ذکر بھی کیا ہے جس سے آپ ﷺ کی ذات بابرکات کا نو لاکھ سال سے بھی پہلے موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔

مشہور و معروف صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے ایک بار حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہت زیادہ تفصیل سے اپنی عمر کا اندازہ نہیں لگا سکتا، البتہ اتنا جانتا ہوں کہ چوتھے حجاب میں ایک ستارہ تھا۔ وہ ستارہ ہر ستر ہزار برس بعد ایک مرتبہ طلوع ہوتا تھا، میں نے اس ستارے کو بہتر ہزار بار طلوع ہوتا دیکھا ہے۔ یہ سن کر حضور پر نور ﷺ نے فرمایا کہ ”اے جبرئیل مجھے اپنے رب کریم جل جلالہ کی عزت کی قسم، وہ ستارہ میں ہی تھا“ (مفہوم)۔ (سیرت حلبیہ جلد اوّل، ص: 49، امام یوسف بن اسماعیل نبھانی، جواہر البحار ص: 776، امام بخاری، تاریخ کبیر، تفسیر روح البیان، جلد اوّل، ص: 974)

تھا نور محمد ہی سر عرش معلیٰ
جبرئیل کو صد بار جو تارا نظر آیا

حساب کے عام قاعدہ کی رو سے اگر ہم ستر ہزار کو بہتر ہزار سے ضرب دیں تو حاصل جواب آئے گا، پانچ ارب چالیس کروڑ سال۔ اللہ جل مجدہ نے قرآن شریف میں اپنے ایک دن کو ہمارے ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا ہے۔ (سورہ الحج، آیت: 47) اگر اس حدیث مبارکہ میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بتائے ہوئے سالوں کا اس تناسب سے

صفحہ 54

حساب لگائیں تو نور محمدی (ﷺ) کی تخلیق اس وقت ہوئی جہاں تک ہمارا کوئی حساب کوئی گنتی‘ کوئی عدد نہیں پہنچ سکتا۔

اس حدیث شریف سے پتا چلتا ہے کہ سید الابرار نبی آخر الزماں ﷺ کا نام محمد ﷺ اس وقت رکھا گیا جب کچھ نہ تھا نہ آسمان تھا نہ زمین تھی نہ عرش تھا نہ کرسی تھی نہ جہنم تھا نہ جنت تھی نہ قلم تھا نہ لوح تھی نہ سورج تھا نہ روشنی تھی نہ چاند تھا نہ چاندنی تھی نہ ستارے تھے نہ ان کی چمک تھی نہ دن تھا نہ رات تھی نہ صبح تھی نہ شام تھی نہ فضا تھی نہ ہوا تھی نہ ابر تھا نہ گھٹا تھی نہ زمانہ تھا نہ مکان تھا نہ حسن تھا نہ جمال تھا نہ گل تھے نہ بوٹے تھے نہ شجر تھے نہ حجر تھے نہ گرمی تھی نہ سردی تھی نہ نسیم تھی نہ شمیم تھی نہ بہار تھی نہ خزاں تھی نہ بلبل تھی نہ چہک تھی نہ سبزہ تھا نہ مہک تھی نہ ڈالی تھی نہ لچک تھی نہ ہیرے تھے نہ جواہر نہ زر تھے نہ خزینے نہ دولت تھی نہ دفینے نہ بحر تھے نہ سفینے نہ دریا تھا نہ کنارہ نہ موج تھی نہ حباب نہ صحرا تھے نہ گلشن نہ ہوا تھی نہ خاک نہ پانی تھا نہ آگ نہ طفلی تھی نہ شباب نہ نشیب تھا نہ فراز نہ ثریٰ تھا نہ ثریا نہ جبرئیل تھے نہ میکائیل‘ نہ اسرافیل تھے نہ عزرائیل‘ نہ ملائکہ تھے نہ کروبیں‘ نہ عقل تھی نہ حواس نہ آدم تھے نہ آدمیت نہ انسان تھے نہ انسانیت نہ حیوان تھے نہ حیوانیت نہ یہ چہل پہل تھی نہ یہ ریل پیل نہ دیوانگی تھی نہ شعور نہ ہجر تھا نہ وصال نہ اقرار تھا نہ انکار نہ آہ تھی نہ فریاد نہ رونا تھا نہ ہنسنا نہ جاگنا تھا نہ سونا نہ جذبہ تھا نہ احساس نہ جوانی تھی نہ بڑھاپا نہ ہوش تھا نہ خرد غرض یہ کہ کچھ بھی نہ تھا سب سے پہلے اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کے نور کو پیدا فرما کر آپ ﷺ کا نام محمد ﷺ رکھا۔ یہ نور کیا چمکا گویا زندگی میں بہار آ گئی‘ سلسلہ چل نکلا۔ چراغ سے چراغ جلنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے کائنات وجود میں آ گئی اور سارا جہاں جگمگانے لگا۔ .............

الفاظ مجموعہ حروف ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک حرف کو بھی کم کر دیا جائے تو بقیہ حروف اپنے معنی کھو بیٹھتے ہیں۔ مثلاً ریاض ایک بامعنی لفظ ہے اور ر۔ی۔ا۔ض کا مجموعہ ہے۔ اگر ان حروف میں سے ایک حرف بھی کم کر دیا جائے تو بقیہ حروف بے معنی ہو کر رہ جائیں گے لیکن رب العزت جل شانہ کا اسم ذاتی ”اللہ“ اور میرے آقا و مولا ﷺ کے دونوں اسمائے ذاتی محمد ﷺ اور احمد ﷺ اس قاعدے‘ کلیے‘ فارمولے سے مستثنیٰ ہیں۔

لفظ محمد ﷺ ایسا صحیح اور بامعنی لفظ ہے کہ اگر اس لفظ میں سے کوئی ایک حرف بھی کم کر دیا جائے تو بھی بقایا حروف بامعنی رہیں گے۔ مثلاً اگر اس کا پہلا حرف ”میم“ ہٹا دیا

صفحہ 55

جائے تو ہمارے پاس ”حمد“ باقی رہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں بے پایاں تعریف وتوصیف، یعنی محمد ﷺ ایسی ہستی ہیں جو بے پایاں ستائش وتوصیف کے لائق ہیں اور واقعی آج ہر دیدہ و بینا گواہ ہے کہ مغرب سے مشرق تک اور شمال سے لے کر جنوب تک کرہ ارض پر ہر جگہ و ہر مقام پر نبی کریم ﷺ کی تعریف وتوصیف ہو رہی ہے۔ دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہے جس میں آپ ﷺ کا نام نامی لوگوں کے دلوں میں جاگزیں نہ ہو۔ ہر مسجد میں روزانہ پانچ بار آپ ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کا ڈنکا بلند آواز سے بجتا ہے۔ دنیا میں قریہ قریہ، بستی بستی یہی حال ہے۔ پھر کائنات کا خالق حقیقی خود اور اس کے بے حد وحساب فرشتے ہر وقت میرے آقا ﷺ کے حضور درود وسلام کے گلدستے بھیج رہے ہیں۔ واقعی آپ اللہ جل شانہ کا وہ شاہکار ہیں جس کی جتنی تعریف وتوصیف کی جائے کم ہے۔

اگر محمد ﷺ میں سے ح کو کم کردیا جائے تو ”مد“ باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی مدد کرنے والا۔ عطائے خداوندی سے آپ ہمیشہ سے اپنے چاہنے والوں کی مدد فرماتے رہے ہیں۔

اگر محمد میں سے ابتدائی میم اور ح حذف کر دیئے جائیں تو باقی رہ جاتا ہے ”مد“ جس کے معنی ہیں ”کشیدن“ یعنی کھینچنا۔ آپ ﷺ کی تعلیم پاک ایسی پرکشش ہے کہ ایک دنیا کو آپ ﷺ نے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور آپ ﷺ کی کشش نے ایک دنیا کو آپ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالا ہے۔ مد کے ایک معنی بلند اور دراز کے بھی ہیں۔ یہ میرے آقا ﷺ کی عظمت و رفعت کی طرف اشارہ ہے۔ اور اگر دوسرے میم کو بھی ہٹا دیا جائے تو صرف ”د“ (دال) باقی رہ جاتا ہے۔ جس کا ایک مفہوم ہے دلیل دینے والا۔ یعنی اسم محمد ﷺ اللہ کی وحدانیت پر دال ہے۔ دال کے ایک اور معنی ہیں راہنما۔ گویا حضور پرنور شافع یوم نشور ﷺ ساری دنیا کے لیے راہنما ہیں۔

لفظ محمد ﷺ کی طرح لفظ احمد ﷺ کا بھی ہر حرف با مقصد اور بامعنی ہے۔ شروع کا الف ہٹا دینے سے حمد باقی رہ جاتا ہے جو بامعنی لفظ ہے۔ اگر شروع کا الف اور ح نکال دیں تو ”مد“ رہ جاتا ہے۔ یہ بھی بامعنی لفظ ہے۔ اگر اس میں سے میم کو بھی حذف کردیا جائے تو دال رہ جاتا ہے۔ یہ بھی بامعنی لفظ ہے۔.............

خالق ارض وسما کی بارگاہ میں اس نام کی کتنی قدر و قیمت ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ تا قیامت قرآن حکیم میں اس کا یہ ارشاد محفوظ کر دیا گیا ہے کہ انجیر کی قسم۔ زیتون

صفحہ 56

کی قسم۔ طور سینا کی قسم۔ اس امن والے شہر کی قسم۔ ہم نے انسان کی تخلیق احسن تقویم پر کی۔ یہ احسن تقویم کیا ہے؟ جس کی خاطر رب العالمین نے تمام کبریائیوں‘ عظمتوں‘ بلندیوں اور رفعتوں کا مالک ہونے کے باوجود ایک‘ دو‘ تین‘ نہیں چار چار قسمیں کھائی ہیں۔ یہ قسمیں احسن تقویم کے حسن و جمال‘ رعنائی و زیبائی‘ عزت و شرف‘ عظمت و رفعت کی دلیل ہیں۔ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ جل مجدہ کے نزدیک یہ احسن تقویم بڑی ہی شان و شوکت والی بڑی ہی معزز و مکرم شے ہے۔ یہ احسن تقویم کیا ہے؟

یہ احسن تقویم اسم محمد ﷺ کا نقش ہے۔

کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم علیہ السلام کو مکرم مخلوق بنایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ“۔ اس کی کرامت یہ ہے کہ وہ نام محمد ﷺ کی شکل پر پیدا ہوا۔ چنانچہ اس کا گول سر محمد ﷺ کی میم ہے۔ اور اس کے ہاتھ حا (ح) کے مانند ہے۔ اور اس کے پاؤں دال (د) کی طرح ہیں۔ اعلیٰ حضرت بریلویؒ اتنے مؤدب اور متقی تھے کہ کبھی پاؤں دراز کر کے نہ سوتے تھے۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف ڈیڑھ دو گھنٹے آرام فرماتے اور وہ بھی داہنی کروٹ پر اس طرح کہ دونوں ہاتھ ملا کر سر کے نیچے رکھ لیتے اور پاؤں مبارک سمیٹ لیتے گویا اسم محمد ﷺ کا نقشہ بن جاتے۔ اس طرح سونے کا فائدہ یہ ہے کہ ستر ہزار فرشتے رات بھر اس نام مبارک کے گرد درود شریف پڑھتے ہیں جن کا ثواب سونے والے کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

وقائق الاخبار (صفحہ 3) میں ہے کہ نماز معراج المومنین اس لیے ہے کہ اس میں ”احمد ﷺ“ کا نقشہ بننا پڑتا ہے۔ قیام بصورت ”الف“ کے ہے۔ رکوع کی حالت میں ہم ”ح“ کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ جبکہ سجدے کی حالت میں ”میم“ اور قعدہ کی حالت میں ”دال“ کا منظر ہوتا ہے۔ ان تمام کا مجموعہ احمد ﷺ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز اگرچہ مختصر سی عبادت ہے لیکن کیونکہ اس میں خالق کائنات کے محبوب ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کا نقشہ بننا پڑتا ہے، اس لیے یہ تمام عبادتوں کی سرتاج قرار پائی ہے۔

قیامت کے دن دنیا دیکھے گی کہ اہل جہنم کو دوزخ میں داخل کرنے سے پہلے ان کو انسانی شکل سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان کے سر سے احسن تقویم کی چادر اتار کر ان کو میدان حشر میں ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ ایک حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ (مفہوم) جس

صفحہ 57

کافر کو بھی دوزخ میں ڈالا جائے گا، اس کی انسانی شکل کو مسخ کر کے شیطانی ہیئت پر پھیر دیا جائے گا کیونکہ انسانی شکل میرے نام (محمدﷺ) کی شکل پر ہے۔ حق تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میرے نام کی صورت پر عذاب نازل کرے‘‘۔ (معارج النبوت) (خوشبوئے اسم محمدﷺ از محمد متین خالد)

زمزم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا
یہ قلم آپﷺ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا
میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحت
آپﷺ کے نام کی اک میم نہیں لکھ سکتا

آپﷺ کی شان اقدس میں نثر و نظم میں آج تک جتنی بھی تعریفیں لکھی جا چکی ہیں، ان کا شمار ناممکن ہے اور تو اور قرآن حکیم کی ان آیات کی تفسیر میں، جن میں رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح و ثناء (تعریف و توصیف) بیان کی گئی ہے، دفتر کے دفتر لکھے جا چکے ہیں، لیکن یہ تفاسیر آج تک بھی مکمل نہیں ہوسکی ہیں اور یقیناً ان کے ایک ایک لفظ کی تشریحات کا سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔

غور فرمائیے کہ دنیا میں نہ جانے کتنی قومیں، کتنی زبانیں وجود میں آئیں اور آ کر ختم ہو گئیں۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔ جیسے قبطی، سریانی، عبرانی، سنسکرت وغیرہ۔ جبکہ بہت سی ایسی قومیں اور زبانیں ہوں گی جو تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئیں اور جن کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہ بات صرف اللہ جل مجدہ کے علم میں ہی ہو گی کہ آج تک کتنی قومیں اور زبانیں وجود میں آئیں اور اب ناپید ہیں۔ کتنی امتیں فنا ہو گئیں، کتنے آسمانی صحیفے نازل ہوئے جو اٹھا لیے گئے یا گم ہو گئے۔ ان تمام میں کس قدر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعریفیں لکھی گئیں، پڑھی گئیں، سنی گئیں۔ کون ان کا شمار کر سکتا ہے۔ بقائے انسانی کے ساتھ ساتھ فروغ نسل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کون جانے آج سے قیامت تک کتنی نسلیں، کتنی قومیں اور کتنی زبانیں وجود میں آئیں گی۔ یہ عدم سے وجود میں آنے والے آپﷺ کی شان میں کیا کچھ نہ کہیں گے، اس کا حساب کتاب کون لگا سکتا ہے؟

زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے
ترے (ﷺ) اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا
صفحہ 58

یہ تو تھا انسانوں کا ذکر جو اشرف المخلوقات ہے، ان کے علاوہ اللہ کی کس کس مخلوق میں، کب سے، کس کس طرح حبیب کبریا ﷺ کا ذکر مبارک ہوتا رہا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا، اس کا شمار کون کر سکتا ہے؟ روزانہ ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر آپ ﷺ کے حضور درود و سلام کے گلدستے پیش کرتے ہیں۔ جنّات نے بھی نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے حضور مدح و ثناء کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ شجر و حجر نے سلام و کلام کیا ہے۔ جانوروں نے آپ ﷺ کے سایہ رحمت تلے پناہ لی ہے۔ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیا علیہم السلام نے آپ ﷺ کے ذکر کو حرز جاں بنایا ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو بھی جنت کی وسعت اور اس کے طول و عرض کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہے۔ اس حد خیال سے بھی زیادہ وسیع اور عریض بہشت بریں کے ہر برگ و شجر پر، ہر قبہ اور محل پر، ہر در و دیوار پر حتیٰ کہ حوروں کے سینوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان درج آپ ﷺ کا نام نامی اسم گرامی آپ ﷺ کی مدحت بیان کر رہا ہے۔ پھر روز قیامت مقام محمود پر فائز ہونے پر آپ ﷺ کی جو مدح و ثناء ہوگی، ان تمام کو یکجا کرنے اور شمار کرنے سے عقل انسانی نہ صرف یہ کہ قاصر ہے بلکہ عاجز بھی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوبصورت حقیقت بیان کی ہے:

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

یہ بھی ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے کہ پانچوں وقت اذانوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کی منادی ہوتی ہے۔ عالم اسلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے جائیے، ہر جگہ، ہر مقام پر، ختم نبوت ایک قدر مشترک نظر آئے گی۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک، کسی بھی خطہ ارض میں بسنے والے کلمہ گو مسلمان، خواہ وہ یورپ اور امریکہ کے سفید فام ہوں کہ افریقہ کے سیاہ فام۔ ایران و ترکیہ کے سرخ رو مسلمان ہوں کہ برصغیر ہند و پاک کے گندم

صفحہ 59

گوں یا چین و جاپان کے زرد چہرہ مسلم...... سب کے سب ختم نبوت سے وابستہ ہیں۔ قوم، نسل، رنگ و زبان کے گونا گوں اختلافات کے باوجود یہ سب اگر کسی ایک بات پر متفق و متحد ہیں تو وہ ختم نبوت ہے...... بلاشبہ ختم نبوت ہی ”حبل اللہ“ ہے!

کون ہے وہ جس کا مقدس نام آج کروڑوں انسانوں کی زباں پر جاری اور قلوب پر ساری ہے؟ کون ہے وہ جس کے مقدس نام کی نوبت شاہانہ مساجد کے بلند ترین میناروں سے سامعہ نواز ہوتی ہے؟ کون ہے وہ جس کی سیرت پاک انسان کے ہر لمحہ، ہر ساعت اور ہر درجہ و ہر مقام پر راہنما ہے؟ کون ہے وہ جو اپنے افعال میں محمود ہے؟ کون ہے وہ جس کی رفعت فرش سے عرش تک ملی ہوئی ہے؟ کون ہے وہ جس کی تعلیم کی وسعت بحر و بر پر چھائی ہوئی ہے۔

دنیا میں ہر وقت گونجنے والی صدا اذان ہے۔ اگر دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اسلامی ممالک میں انڈونیشیا کرہ ارض کے عین مشرق میں واقع ہے۔ یہ ملک ہزاروں جزیروں پر مشتمل ہے۔ جن میں جاوا، سماٹرا، بورنیو، سیبلز بڑے بڑے جزیرے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا گنجان آباد ہے اور اس کی آبادی 18 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ طلوع سحر سیبلز کے مشرق میں واقع جزائر میں ہوتی ہے۔ طلوع سحر کے ساتھ ہی انڈونیشیا کے انتہائی مشرقی جزائر میں فجر کی اذان شروع ہو جاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں موذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور نبی اکرم ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے ہیں۔

مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ بعد جکارتہ کے موذن کی اذان کی باری آتی ہے...... جکارتہ کے بعد یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ہو جاتا ہے...... اور سماٹرا کے مغربی قصبوں اور دیہات میں اذانیں شروع ہونے سے پہلے ہی ملایا کی مسجدوں میں اذانوں کا یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے...... اور ایک گھنٹہ بعد ڈھاکہ پہنچتا ہے...... بنگلہ دیش میں ابھی یہ اذانیں ختم نہیں ہوتیں کہ کلکتہ سے سری لنکا تک فجر کی اذانیں شروع ہو جاتی ہیں...... دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے بمبئی کی طرف بڑھتا ہے اور پورے ہندوستان کی فضا توحید و رسالت کے اعلان سے گونج اٹھتی ہے...... سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کا وقت ایک ہی ہے...... سیالکوٹ سے کوئٹہ کراچی اور گوادر تک چالیس منٹ کا فرق ہے۔ اس عرصے میں فجر کی اذان پاکستان میں بلند ہوتی رہتی ہے...... پاکستان میں یہ سلسلہ ختم ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں یہ اذانیں شروع ہو جاتی ہیں...... مسقط کے

صفحہ 60

بعد بغداد تک ایک گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس عرصے میں اذانیں سعودی عرب، یمن، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق میں گونجتی رہتی ہیں۔ بغداد سے سکندریہ تک پھر ایک گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس وقت شام، مصر، صومالیہ اور سوڈان میں اذانیں بلند ہوتی ہیں۔ سکندریہ اور استنبول ایک ہی طول وعرض پر واقع ہے ...... مشرقی ترکی سے مغربی ترکی تک ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے۔ اس دوران ترکی میں اذانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ...... سکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس عرصہ میں شمالی افریقہ میں، لیبیا اور تیونس میں اذانوں کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ فجر کی اذان جس کا آغاز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے ہوتا ہے، ساڑھے نو گھنٹے کا سفر طے کر کے بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے تک پہنچتی ہے ...... فجر کی اذان بحر اوقیانوس تک پہنچنے سے پہلے مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ...... اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ہو جانے تک مشرقی انڈونیشیا میں عصر کی اذانیں بلند ہونے لگتی ہیں ...... یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹہ تک بمشکل جکارتہ تک پہنچتا ہے کہ مشرقی جزائر میں مغرب کی اذان کا وقت ہو جاتا ہے ...... مغرب کی اذانیں سیلیبز سے ابھی سماٹرا تک ہی پہنچتی ہیں کہ اتنے میں انڈونیشیا کے مشرقی جزائر میں عشا کی اذانیں گونج رہی ہوتی ہیں ...... گویا کرۂ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جب لاکھوں موذن بیک وقت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت و ختم نبوت کا اعلان نہ کر رہے ہوں۔ ان شاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

چودہ سو برس سے یہ مبارک نام ان گنت بندگانِ خدا کے کام و دہن میں شیر وشکر گھول رہا ہے۔ قلب وجگر میں فرحت وانبساط کی لہریں اِسی نامِ نامی کے طفیل دوڑتی ہیں ۔ دن رات میں کوئی گھڑی ایسی نہیں جب زبانیں اس کا ورد نہ کرتی ہوں اور دل اِس سے سکون و قرار نہ پاتے ہوں اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گا۔ جب ظلمتِ شب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور سحر اپنی نرالی چھب دکھلاتی ہے تو مؤذن کا یہ اعلان کانوں میں رس گھولتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ مؤذن کی دعوت کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اپنے خالق کے حضور سجدہ ریز ہوں اور پیارے رسول پاک ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجیں۔ اس کائناتِ رنگ و بو کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی ان گنت مخلوق اِس دعوت پر لبیک کہتی ہے ۔ ہر روز جب آفتابِ عالمتاب مشرق سے مغرب کی طرف رُخ کرتا ہے تو

صفحہ 61

مؤذن ظہر وعصر میں پھر یہی پیغام دہراتا ہے اور غروب آفتاب کے بعد مغرب وعشا کے لیے بھی یہی آواز دلنواز کانوں میں گونجتی ہے۔ مسلمان ہر نماز میں خشوع وخضوع کے ساتھ پیارے رسول پاک ﷺ کا ذکر کرتے ہیں۔ اُن کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی اکرم ﷺ کی یاد اک نیا جذبہ اور نیا ولولہ پیدا کر دیتی ہے۔ ابتدا ہی سے مسلمانوں کا یہی شعار رہا ہے۔ پانچ نمازوں میں کوئی نماز بھی ایسی نہیں جو اِس ذکر سے خالی ہو۔ نمازوں کے علاوہ بھی جب مسلمان اپنے آقا ﷺ کا نام سنتے ہیں تو اُن کے قلوب میں جذبۂ محبت، سوز و گداز کی کیفیتیں سمو دیتا ہے۔ ماضی میں بھی مسلمانوں کی یہی شان رہی اور مستقبل میں بھی اُن کا یہی انداز رہے گا۔ اِس سے خالق اکبر کا منشا یہی ہے کہ دینِ قیم کی بنیادیں مستحکم ہوں اور یہ امر حق ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہی اسلام کی نورانی کرنیں مشرق سے مغرب تک پھوٹ نکلیں اور وہ تمام ممالک جو عرب افریقہ اور یورپ کے مابین تھے، اسلام کے زیرنگیں آگئے۔

(میاں عبدالرشید ماخوذ از نور بصیرت جلد دوم)

قارئین کی دلچسپی کے لیے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ چاند پر پہلا قدم رکھنے والا شخص نیل آرم سٹرانگ (Neil Armstrong) ایک دفعہ مصر گیا۔ کسی مسلمان ملک میں جانے کا اس کے لیے یہ پہلا موقع تھا۔ وہاں پہلی رات صبح سویرے وہ بستر پر اچانک اٹھ کر بیٹھ گیا پھر وہ کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد پریشانی کے عالم میں وہ کمرے سے نکل آیا۔ کمرے سے باہر اس کی بے چینی اور بڑھ گئی۔ اس بے چینی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ لان میں آ گیا۔ جس جگہ وہ ٹھہرا ہوا تھا، یہ ایک فائیو سٹار ہوٹل تھا، ڈیوٹی پر موجود ہوٹل کے سٹاف نے اپنے اس قدر معزز مہمان کو پریشان دیکھا تو اس کے اردگرد پروانہ وار جمع ہو گیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’جناب! آپ کیوں پریشان ہیں؟ ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں‘‘۔ نیل آرم سٹرانگ نے الٹا ان پر سوال کر دیا۔ ’’میں کہاں ہوں؟‘‘ انھوں نے کہا ’’جناب! آپ اس وقت مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہیں‘‘۔ اس نے فوراً وہ سوال کیا جو اس کو پریشان کر رہا تھا۔ ’’میں قاہرہ میں ہوں تو یہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں‘‘۔ سٹاف نے یک زبان ہو کر کہا ’’جناب یہ قاہرہ کی مسجدوں سے اذانوں کی آوازیں ہیں‘‘۔ یہ جواب پا کر وہ اٹھا اور خاموشی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ جب محسوس کیا کہ اس کی خامشی پہ سٹاف پریشان ہے تو وہ خاموشی کی کیفیت سے باہر نکلا...... ’’میں چاند پر تھا تو وہاں بھی میں نے ایسی ہی آوازیں سنی تھیں،

صفحہ 62

یہاں انھیں دوبارہ سن کر میں پریشان ہو گیا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں چاند پر ہوں یا زمین پر“۔ یہ کہہ کر سٹاف کی طرف شکریے کا ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیا مگر وہ اب پہلے سے بھی زیادہ مضطرب تھا۔

وہ جن کا ذکر ہوتا ہے زمینوں، آسمانوں میں
فرشتوں کی دعاؤں میں، مؤذن کی اذانوں میں

اس طرح دوسری بھارتی نژاد خلانورد خاتون سنیتا ولیم جو 9 جولائی 2011ء کو چاند پر گئی اور زمین پر واپسی سفر کے بعد ایک بھر پور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاند پر اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر سچے دل سے دین اسلام قبول کر رہی ہے۔ سنیتا ولیم نے اپنا نیا نام فاطمہ رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ چاند پر گئی تو دو واقعات نے اس کے اندر کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ اوّل: ٹیلی سکوپ کے ذریعے چاند سے زمین کا نظارہ کرنے کے بعد وہ ششدر رہ گئی کہ پوری زمین سیاہ اور تاریک ہے لیکن صرف دو مقامات ایسے ہیں جو انتہائی چمکدار اور روشنی سے بھر پور ہیں۔ معمولی سی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دو مقامات مسلمانوں کی مقدس سرزمین مکہ اور مدینہ ہیں۔ دوم: چاند کی فضا میں وقفے وقفے سے عربی الفاظ سنائی دیتے تھے۔ زمین پر واپس آ کر ان الفاظ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ اذان کے وہ الفاظ ہیں جو اسلامی عبادت نماز سے پہلے ادا کیے جاتے ہیں۔

اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ ایک ایسا انسان ہی صاحب قرآن ہونے کے شرف کا مستحق و متحمل ہو سکتا تھا جس کے کردار کی بلندی اور دل کی پختگی کی کرۂ ارض پر اور کوئی مثال نہ ملتی ہو اور ظاہر ہے کہ صاحب قرآن ﷺ کی حیثیت نافذ قرآن کی بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ سے قرآن کی روح کو من وعن منطبق و نافذ کر کے اپنے آپ کو بہترین اور کامل ترین راہبر کے طور پر بھی ثابت کیا اور یہی وہ دراصل مشکل ترین مرحلہ تھا جس سے آپ ﷺ بہ تمام و کمال سرخرو ہوئے اور جہاں خداوند ذوالجلال نے آپ ﷺ کو یہ اعتبار اور اعزاز بخشا کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو“۔ (التغابن: 12، محمد: 33، النور: 54، المائدہ: 92، النساء: 59) بلکہ من یطع الرسول فقد اطاع الله (النساء: 80) یعنی رسول رحمت ﷺ کی اطاعت ہی کو اللہ کی اطاعت قرار دیا، کیونکہ وما ینطق عن الھوی O ان ھو الا وحی یوحی (النجم: 3، 4) یعنی وہ خود سے کچھ نہیں کہتے

صفحہ 63

بلکہ جو ان کو وحی کیا گیا ہے، اسی کی تبلیغ کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا دو تصریحات سے یہ بات علی وجہ البصیرت واضح ہو جاتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نہ صرف ذاتی کردار کے حوالے سے اپنی معراج پر فائز ہیں بلکہ اپنی سیاسی حیثیت میں بھی افضل ترین ہیں۔ ان ہر دو حیثیتوں میں ان کا احترام کس قدر لازم ہے، خود قرآن حکیم نے اس کے پیرائے مقرر کر دیے ہیں۔ سورہ الحجرات کی اولین آیات ہی میں حکم ہوتا ہے۔ ”یاایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ“ اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پہل نہ کرو (الحجرات: 1) اس سے اگلی دو آیات اس باب میں حرف آخر ہیں جس میں بہت بڑی وارننگ بھی دے دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ”یاایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون“۔ اے ایمان والو، اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے اونچا نہ ہونے دو، اور نہ ان سے اونچی آواز میں بات کرو جیسا کہ تم آپس میں بات کرتے وقت کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اب تک کے اعمال اس طرح ضائع ہو جائیں کہ تمھیں احساس تک نہ ہو۔ (الحجرات: 2) اسی سورہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زندگی کے باقی معاملات میں کس طرح رہنا ہے اور حتیٰ کہ جب کوئی ان کے دروازے پر آئے تو کون سے آداب ملحوظ خاطر رکھے۔ کیونکہ یہ وہ بارگاہ سیادت پناہ ہے جہاں دوسری تمام سیادتوں کے پر جل جاتے ہیں، جہاں قوموں کے سردار اور ملکوں کے سلاطین، سلطانی و سرداری کی قبائیں بہت دور تک چھوڑ کر سر کے بل آتے ہیں، جہاں کج کلاہیاں ایک ایک نگاہ پر نثار ہوتی ہیں، جہاں خسروی اپنا انداز خرام بھول جاتی ہے۔ مذکورہ ارشادات میں حکمت تو یہ ہے کہ نبی ﷺ کی حیثیت ان کی ظاہری زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تا ابد قائم ہے اور یہی احترام ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ بخاری شریف کی بیان کردہ حدیث مبارکہ میں روح الامین حضرت جبرئیل علیہ السلام کے انسانی شکل میں دربار نبوت میں حاضر ہونے کا ذکر ہے۔ جبرئیل علیہ السلام خاموشی سے آتے ہیں اور آپ ﷺ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حاضرین کو ان کے اس طرح با ادب طریقے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والا کوئی معمولی اور اَن پڑھ نہیں جو پوچھے گئے سوالوں کے جوابات کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ سے یہ سبق دینا بھی مقصود تھا کہ دربار نبوت میں بیٹھنے اور بات کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔

صفحہ 64

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم ﷺ کی اس قدر تعظیم وتکریم کرتا ہے کہ اس نے براہِ راست تخاطب کے حوالے سے ایک دفعہ بھی حضور نبی اکرم ﷺ کا نام لے کر آپ ﷺ کو نہیں پکارا، بلکہ جہاں کہیں مخاطب کیا ہے تو عزت وتکریم کے کسی صیغے ہی سے آواز دی ہے کہ ياايها الرسول بلغ ما انزل الیک ...... يا ايها النبى جاهد الكفار والمنافقين...... یا پھر محبت سے ”یا ایھا المزمل“ اور ”یاایھا المدثر“ کہہ کر پکارا ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں اولوالعزم انبیا کو جگہ جگہ ان کا اصل نام اور اسم سے پکارا گیا ہے۔ جیسے ”ياآدم اسکن انت و زوجك الجنة“ ”تلک بیمینک یا موسیٰ“ ”يا داؤد انا جعلنک خلیفة“ ”یا زكريا انا نبشرك بغلام ن اسمه يحيیٰ“ ”يا يحيیٰ خذ الكتاب بقوة“ ”يانوح اهبط بسلام“ ”یا عيسٰی انی متوفیک و رافعک الیٰ“۔

اس طریق مخاطبت کے مطابق چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو بھی ”یامُحَمَّداً، یااحمد“ کہہ کر پکارتا، مگر اللہ تعالیٰ کو اس درجہ آپ ﷺ کا احترام سکھانا مقصود تھا کہ تمام قرآن مجید میں ایک جگہ بھی آپ ﷺ کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا بلکہ تعظیم وتکریم پر مبنی خوبصورت اور بہترین القابات پر مشتمل ناموں ہی سے آپ ﷺ کو پکارا ہے۔

اصل ایماں ہے فقط تکریم ذات مصطفیٰ ﷺ
یہ نہیں تو حبط کروا لو گے سب اعمال کو

بعض رسائل میں عبیداللہ بن عمر قواریریؒ سے نقل کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”ایک کاتب میرا ہمسایہ تھا، وہ فوت ہو گیا۔ میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا، اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ کہا، مجھے بخش دیا گیا ہے۔ میں نے سبب پوچھا۔ کہا، میری عادت تھی، جب رسول کریم ﷺ کا اسم مبارک ”محمد“ کتاب میں لکھتا تو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بڑھاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں مجھے ایسا کچھ دیا کہ کسی آنکھ نے دیکھا، کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل پر گزرا“۔

(فضائل درود شریف ص 97)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ایسے لوگوں کے لیے جن کو کوئی شیخ میسر نہ ہو، لکھتے ہیں: ”بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ جب ایسا شیخ کامل اور مرشد اکمل موجود نہ ہو جو اس کی تربیت کر سکے تو اس کو چاہیے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر کثرت سے درود شریف بھیجنے کو لازم کر لے، یہ ایسا طریقہ ہے جس سے طالب واصل بحق ہو جاتا ہے، اور یہی درود و سلام

صفحہ 65

حضورﷺ کی طرف توجہ کرنے سے احسن طریقہ سے آداب نبوی اور اخلاق جمیلہ محمدیّہ سے اس کی تربیت کردے گا اور کمالات کے بلندتر مقامات اور قرب الٰہی کے منازل پر اسے فائز کرے گا اور سیّد الکائنات افضل الانبیاء والمرسلینﷺ کے قرب سے سرفراز بنائے گا۔‘‘

(مدارج النبوۃ، جلد اوّل، صفحہ 408)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’قیامت تک مؤمنین کے قلوب آپﷺ کے قلب مبارک سے استفاضۂ نور (یعنی حصولِ فیض) کرتے رہیں گے اور جو جتنی محبّت، تعظیم اور درود شریف کا زیادہ اہتمام کرے گا، اس نور کا زیادہ سے زیادہ حصّہ پائے گا۔‘‘

حسن و جمال میں آپ کا یہ حال تھا کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ کسی کو حسین اور خوبصورت نہیں دیکھا۔ گویا کہ آفتاب، آپﷺ کے چہرۂ مبارک میں گھومتا ہے اور جب آپﷺ تبسّم فرماتے تو دندانِ مبارک کی چمک دیواروں پر پڑتی تھی۔ شاعرِ رسالت مآبﷺ، صحابی رسول حضرت حسّانؓ بن ثابت نے آپﷺ کی مدح ان الفاظ میں کی ۔

و احسن منک لم تر قط عینی
و اجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرّأ من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

ترجمہ: ’’آپﷺ سے بڑھ کر حسین آدمی آج تک میری آنکھ نے نہیں دیکھا، اور عورتوں نے آپﷺ سے بڑھ کر کسی خوبصورت بچے کو جنم ہی نہیں دیا، آپﷺ تمام عیبوں اور برائیوں سے اس طرح پاک صاف پیدا کیے گئے ہیں، کہ ایسا لگتا ہے کہ آپﷺ اس طرح پیدا ہوئے، جس طرح آپﷺ خود چاہتے تھے‘‘۔

یہ ہے حضور نبی کریمﷺ کی شانِ ارفع کی ہلکی سی جھلک اور وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ کی تفسیر، غالب جیسے نابغہ کو بھی یہ کہنا پڑا ہے:

غالب ثنائے خواجہﷺ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدﷺ است
صفحہ 66

(غالب ہم نے حضرت محمد ﷺ کی تعریف خدا تعالیٰ پر چھوڑ دی کیونکہ وہی پاک ذات حضرت محمد ﷺ کا مرتبہ جاننے والی ہے۔)

جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ: ”میں اور میرے فرشتے آپ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اور اے ایمان والو! تم بھی درود و سلام بھیجو“۔ تو یہ اعزاز خود بخود ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کے مدار میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک حقیقت شناس شاعر نے کہا تھا:

باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار

ایک غلام نے تو یہ کہہ کر عقیدت و محبت کا حق ادا کر دیا:

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست

(میں ہزاروں مرتبہ اپنی زبان کو مشک اور گلاب سے دھوتا ہوں لیکن پھر بھی آپ ﷺ کا مبارک نام لینا انتہا درجے کی بے ادبی سمجھتا ہوں۔)

حضرت جامیؒ فرماتے ہیں:

نسبت خود بسگت کر دم و بس منفعلم
ز انکہ نسبت بسگ کوئے تو شد بے ادبی

(یا رسول اللہ ﷺ! بہت شرمندہ ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے کتے سے نسبت دے دی۔ آپ کی گلی کے کسی کتے سے بھی اپنے آپ کو نسبت دینا اور اس کے برابر اپنے آپ کو ٹھہرانا بے ادبی ہے۔)

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:

خاور دمد از شبم بایں تیرہ شبی
کوثر چکد از لبم بایں تشنہ لبی
اے دوست! ادب کہ در حریم دل ما است
شہنشاہ کونین ﷺ رسول عربی ﷺ

ترجمہ: اگرچہ میرے ہونٹ خود بھی شدید پیاسے ہیں۔ ان پیاسے ہونٹوں کی تشنگی کے باوجود میرے لبوں سے کوثر ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ میری زندگی ظلمتوں سے عبارت ہے لیکن میری زندگی کی شب تار سے آفتاب کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں، ایسا کیوں ہے اے دوست؟ بالیقیں

صفحہ 67

اس لیے کہ میرے قلب و رُوح کی گہرائیوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت جاگزیں ہے۔

حضرت علامہ اقبالؒ کا کہنا ہے:

محمد عربی ﷺ کآبروئے ہر دو سر است
کسے کہ خاک درش نیست خاک برسر او

(محمد عربی ﷺ کی ذاتِ گرامی آبروئے اکوان وعوالم ہے جسے آپ کے در کی خاک بننے میں فخر نہیں، اس شخص کے سر پر خاک!)

ایک اور مقام پر انہوں نے فرمایا:

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آنکہ از خاکش بروید آرزو
یا زِ نور مصطفیٰ ﷺ او را بہا است
یا ہنوز اندر تلاش مصطفیٰ ﷺ است

اس جہانِ رنگ و بو کی جس چیز پر بھی نظر ڈالیں جس سے آرزوئیں اور تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں، یا تو حضرت محمد ﷺ کے نور کی وجہ سے اُس کو قدر و قیمت حاصل ہے یا وہ ابھی اُن ﷺ کے نور کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

مزید فرمایا:

مغزِ قرآں روحِ ایماں جانِ دیں
ہست حُبّ رحمۃ للعالمیں

(قرآن، ایمان اور دین کا نچوڑ حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کی محبت ہے)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

اے ظہور تو شباب زندگی
جلوہ ات تعبیر خواب زندگی
اے زمیں از بار گاہت ارجمند
آسماں از بوسۂ بامت بلند
شش جہت روشن ز تاب رُوئے تو
ترک و تاجیک و عرب ہندُوئے تو
صفحہ 68
از تو بالا پایۂ ایں کائنات
فقر تو سرمایہ ایں کائنات
در جہاں شمع حیات افروختی
بندگاں را خواجگی آموختی
بے تو از نابود مندیہا خجل
پیکران ایں سرائے آب و گل
تا دم تو آتشے از گل کشود
تودہ ہائے خاک را آدم نمود

’’اے حضور پاک ﷺ آپ وہ ہیں کہ آپ ﷺ کے تشریف لانے سے زندگی پر شباب آگیا۔ آپ ﷺ کا جلوہ مقصود کائنات ہے جس سے زندگی کے خواب کو تعبیر ملی۔ آپ کی بارگاہ ناز سے اس زمین کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہوا کہ آسمان نے بھی آپ کی بارگاہ کے درو بام چوم کر بلندی حاصل کی۔ آپ ﷺ کے رُخ انور کی تابانی سے کائنات کا گوشہ گوشہ منور ہوا۔ ترک ہوں یا تاجک یا عرب سب آپ کے غلاموں میں شمار ہونے لگے۔ آپ ﷺ ہی کے دم قدم سے اس کائنات کا درجہ بلند ہوا۔ آپ ﷺ کا فقر و غنا اس کائنات کا سرمایہ عظیم ہے۔ آپ ﷺ نے اس دنیا میں ایمان کی شمع روشن کی اور غلاموں کو آقائی کا ہنر سکھایا۔ آپ ﷺ کے بغیر تو دنیا کی ساری شکلیں کم مایہ ہونے کے باعث اپنے آپ سے شرمندہ تھیں حتیٰ کہ آپ ﷺ نے مٹی کے اندر عشق کی آگ بھڑکائی اور مٹی کے ان تودوں نے آدم کی شکل اختیار کر لی‘‘۔

ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے حضور ﷺ کی ذات ستودہ صفات سے محبت ہی کو حاصل ایمان قرار دیا ہے:

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

مولانا ظفر علی خانؒ حرمت و ناموسِ رسالت ﷺ کو اپنے ایمان کی اساس قرار دیتے ہیں اور اس پر اپنی جان کی بازی لگا دینے کو سعادت سمجھتے ہیں:

صفحہ 69
زکوٰۃ اچھی حج اچھا روزہ اچھا اور نماز اچھی
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

عزت بخاریؒ نے کہا تھا:

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنیدؒ و بایزیدؒ ایں جا

(یہ آسمان کے نیچے عرش سے بھی نازک تر ایک ادب گاہ ہے کہ جنید اور بایزید اپنا نفس گم کیے ہوئے (انتہا درجہ کی خاموشی کے ساتھ) یہاں آتے ہیں۔) اور شیخ سعدیؒ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں اس طرح مدح و ثنا اور نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں:

بَلَغَ الْعُلیٰ بِکَمَالِہٖ
کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَمَالِہٖ
حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ
صَلُّوا عَلَیْہِ وَآلِہٖ

ان چار مصرعوں کا حسن و جمال کسی ترجمے کا محتاج بیان نہیں۔ اپنے معانی و مطالب میں یہ چار مصرعے جامع اور تحسین وتکریم کا شاہکار مرقع ہیں۔ کیا شیخ سعدیؒ کی اس مشہور زمانہ رباعی کا تعلق کسی مشاہدے سے ہے یا اُس الہامی کیفیت سے جو انہیں محبّت رسول ﷺ نے بخشی اور جس کو دربار رسالت ﷺ میں پذیرائی حاصل تھی؟ یہ حسن ادا اور اسلوب بیاں کا وہ مقام ہے جہاں شعر وغنائیت اپنے اسالیب بھول جاتی ہیں، ردیف، قافیے اور شعریت کا اہتمام سب دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔

مزید فرماتے ہیں:

یا صَاحِبَ الجَمَالِ یَا سَیِّد البَشَر
مِن وَجْہِکَ الْمُنِیرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر
صفحہ 70
لَا يُمْكِنُ الثَّنَاء كَمَا كَانَ حَقُّهُ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ترجمہ: اے پیکرِ جمال و رعنائی ﷺ! اے سرتاج انسانیت ﷺ یقیناً (چودھویں کا) چاند آپ ہی کے نور افشاں چہرے سے درخشاں ہے۔ (پوری انسانیت بھی یک زباں ہو کر) آپ کے اوصاف و کمالات بیان کر پائے؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ اس لا انتہا داستاں کو میں یوں مختصر کرتا ہوں کہ خدا کے بعد آپ ہی کی ذات بزرگ و برتر ہے۔

رعنائی جہاں ہے رسالت مآب ﷺ سے
ہر حسن کا ہے حسن محمد ﷺ سے اکتساب

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی ہر ایک ادا کو زندہ و تابندہ رکھا ہے۔ دنیا میں کسی انسان حتیٰ کہ کسی بھی نبی کا نسب محفوظ نہیں۔ یہ منفرد اعجاز صرف اور صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ ان کا عالی شان نسب حضرت عبداللہؓ سے لے کر حضرت آدم علیہ السلام تک نہ صرف موجود ہے، محفوظ ہے بلکہ مکتوب ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عبداللہؓ تک میرے والدین میں سے کسی نے شرک، جھوٹ، زنا، شراب وغیرہ کا ارتکاب نہیں کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شجرہ مبارک یہ ہے:

محمد بن عبداللہؓ بن عبدالمطلبؓ (شیبہ) بن ہاشم (عمرو) بن عبد مناف (مغیرہ) بن قُصی (زید) بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر (انہی کا لقب قریش تھا اور ان ہی کی طرف قبیلۂ قریش منسوب ہے) بن مالک بن نضر (قیس) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ (عامر) بن الیاس بن مضر بن نزار بن مَعَد بن عدنان بن اُد بن ھمیسع بن سلامان بن عوص بن بوز بن قموال بن اُبی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیض بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن اَرعوی بن عیض بن دیشان بن عیصر بن اَفناد بن اَیہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوضہ بن عرام بن قیدار بن اسماعیل علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام بن تارخ (آزر) بن ناحور بن ساروغ بن راعو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت ادریس علیہ السلام کا نام

صفحہ 71

ہے ) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن آنوشہ بن شیث بن آدم علیہ السلام۔ حضور رحمت عالم ﷺ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی امت پر نماز کے دوران آخری تشہد میں آپ ﷺ پر درود و سلام کا نذرانہ بھیجنا واجب ہے بلکہ ہر ذکر کے وقت فرض ہے۔ یہ بھی آپ ﷺ ہی کا امتیاز ہے کہ آپ ﷺ کے لیے شق القمر ہوا یعنی چاند کے دو ٹکڑے کیے گئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک عظیم معجزہ ردّ شمس بھی ہے۔ وادی صہبا میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی نماز عصر سرکار بطحا علیہ التحیۃ والثناء کے آرام کرنے کی وجہ سے فوت ہو گئی۔ آفتاب غروب ہو گیا ، حضور پُر نور سیّد عالم ﷺ بیدار ہوئے اور حضرت علیؓ کی پریشانی کو محسوس فرماتے ہوئے دریافت فرمایا کہ اے علیؓ کیا بات ہے؟ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! عصر کی نماز فوت ہو گئی۔ آپ ﷺ نے سورج کو اشارہ فرمایا ۔ ڈوبا ہوا سورج باہر آ گیا، دھوپ نکل آئی ، حضرت علیؓ نے نماز عصر ادا کی ، پھر سورج غروب ہوا۔

حضور اقدس ﷺ کی بے پناہ خوبیوں میں سے ہے کہ آپ ﷺ دھوپ یا چاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ آپ ﷺ کا کوئی بال اگر آگ میں گر جاتا تو وہ جلتا نہیں تھا نہ آگ اس کو جلا سکتی تھی۔ مکھی آپ ﷺ کے کپڑوں پر بھی نہیں بیٹھتی تھی جبکہ جسم مبارک پر بیٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ آپ ﷺ کے جسم مبارک کے پسینے میں مشک سے زیادہ خوشبو آتی تھی۔ آپ ﷺ جب کسی جانور پر سوار ہوتے تو جب تک آپ ﷺ سوار رہتے ، وہ جانور نہ پیشاب کرتا تھا اور نہ گوبر یا لید وغیرہ ۔ آپ ﷺ کو جمائی نہیں آتی تھی۔ آپ کی قضائے حاجت کا اثر زمین پر باقی نہیں رہتا تھا بلکہ زمین اس کو نگل لیتی تھی اور اس جگہ سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ آپ ﷺ کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ رات کی تاریکی میں بھی اس طرح دیکھ سکتے تھے جس طرح دن کی روشنی میں دیکھتے تھے۔ آپ ﷺ اپنی پشت کی طرف بھی اس طرح دیکھ سکتے تھے جس طرح آپ ﷺ سامنے کی طرف اور دائیں بائیں دیکھتے تھے ۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”میں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی اس طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے سامنے دیکھتا ہوں“ ۔

شجر و حجر یعنی درختوں اور پہاڑوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ درخت نے آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دی اور آپ ﷺ کے بلانے پر آپ ﷺ کے پاس آ گیا۔ دودھ پیتے بچوں نے آپ ﷺ سے کلام کیا اور آپ ﷺ کی نبوت کی شہادت و گواہی دی ۔

صفحہ 72

یہ آپ ﷺ ہی کی خصوصیت ہے کہ ایک سوکھی لکڑی آپ ﷺ کے فراق میں روئی اور اس نے نوحہ کیا۔

حضرت محمد ﷺ کا یہ بھی وصف خصوصی ہے کہ آپ ﷺ قیامت تک تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہیں (بلکہ آپ ﷺ حیوانات اور جمادات کی طرف بھی رسول بنا کر ظاہر کیے گئے ہیں۔) آپ ﷺ کا ایک عالی مقام یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حیات پاک کی قسم کھائی ہے۔ (سورۃ الحجر: 72) اور آپ ﷺ کی رسالت کی بھی قسم کھائی ہے۔ (یٰسین: 1، 2)

آپ ﷺ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کو روز محشر جنت کے حُلّوں میں سے اعلیٰ ترین حُلہ پہنایا جائے گا۔ اس روز آپ ﷺ عرش کے دائیں جانب مقام محمود میں کھڑے ہوں گے۔ مزید آپ ﷺ اپنی امت کے مقدمات کے فیصلوں میں اذن الٰہی سے شفاعت فرمائیں گے۔ آپ ﷺ کی امت کو ”خیر الامم“ یعنی تمام امتوں میں سے بہترین امت کا خطاب ملا ہے، نیز یہ امت تمام مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہے۔ (آل عمران: 110) اس امت کے لوگ جو دعا مانگتے ہیں، وہ قبول ہوتی ہے۔

جید علما کرام فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی امت کو چار اعزاز ایسے دیئے ہیں جو مجھے بھی نہیں ملے:

بعض حضرات علما کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو پانچ اعزاز بخشے ہیں:

صفحہ 73

اخذ الالواح کے متعلق حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: یا رب! میں الواح میں لکھا پاتا ہوں کہ ایک بہترین امت ہوگی جو ہمیشہ اچھی باتوں کو سکھاتی رہے گی اور بری باتوں سے روکتی رہے گی۔ اے اللہ! وہ امت میری امت ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ! وہ تو احمد (ﷺ) کی امت ہوگی۔

پھر کہا یا رب! ان الواح سے ایک ایسی اُمت کا پتہ چلتا ہے جو سب سے آخر میں پیدا ہوگی لیکن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوگی، اے خدا! وہ میری اُمت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ احمد (ﷺ) کی اُمت ہے۔

پھر کہا یا رب! اس امت کا قرآن ان کے سینوں میں ہوگا، دل میں دیکھ کر پڑھتے ہوں گے، حالانکہ ان سے پہلے کے سب ہی لوگ اپنی الہامی کتابوں پر نظر ڈال کر پڑھتے ہیں دل سے نہیں پڑھتے حتیٰ کہ ان کی الہامی کتاب اگر ہٹالی جائے تو پھر ان کو کچھ بھی یاد نہیں اور نہ وہ کچھ پہچان سکتے ہیں، اللہ نے ان کو حفظ کی ایسی قوت دی ہے کہ کسی اُمت کو نہیں دی گئی۔ یا رب! وہ میری اُمت ہو۔ کہا، اے موسیٰ! وہ تو احمد (ﷺ) کی اُمت ہے۔

پھر کہا یا رب! وہ اُمت تیری ہر کتاب پر ایمان لائے گی، وہ گمراہوں اور کافروں سے قتال کریں گے حتیٰ کہ کانے دجال سے بھی لڑیں گے۔ الٰہی! وہ میری اُمت ہو۔ اللہ نے کہا، یہ احمد (ﷺ) کی اُمت ہوگی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا یا رب! الواح میں ایک ایسی امت کا ذکر ہے کہ وہ اپنے نذرانے اور صدقات خود آپس کے لوگ ہی کھالیں گے حالانکہ اس اُمت سے پہلے تک کی اُمتوں کا یہ حال تھا کہ اگر کوئی صدقہ یا نذر پیش کرتے اور وہ قبول ہوتی تو اللہ آگ کو بھیجتا اور آگ اسے کھا جاتی اور اگر قبول نہ ہوتی اور رد ہو جاتی تو پھر بھی وہ اس کو نہ کھاتے بلکہ درندے اور پرندے آکر کھا جاتے اور اللہ ان کے صدقے ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں کو دے گا۔ یا رب! وہ میری اُمت ہو۔ فرمایا، وہ تو احمد (ﷺ) کی اُمت ہے۔

پھر کہا یا رب! میں الواح میں پاتا ہوں کہ وہ اگر کوئی نیکی کا ارادہ کرے گی لیکن عمل

صفحہ 74

میں نہ لا سکے گی پھر بھی ایک ثواب کی حقدار ہو جائے گی اور اگر عمل میں لائے گی تو دس حصے ثواب ملے گا بلکہ سات سو حصے تک، اے خدا! وہ میری اُمت ہو تو فرمایا: وہ احمد (ﷺ) کی اُمت ہے۔ پھر کہا کہ الواح میں ہے کہ وہ دوسروں کی شفاعت بھی کریں گے اور ان کی شفاعت بھی دوسروں کی طرف سے ہوگی ۔ اے اللہ! وہ میری اُمت ہو۔ تو کہا نہیں، یہ احمد (ﷺ) کی اُمت ہوگی۔

قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے پھر الواح رکھ دیں اور کہا:

ترجمہ: ’’کاش! میں محمد عربی ﷺ کا صحابی ہوتا‘‘۔

(تفسیر ابن کثیر، جلد: 2، صفحہ: 223-224)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے یہ بشارت عطا فرمائی کہ سب سے پہلے جنت میں میری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب وکتاب کے داخل ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ 70,70 ہزار افراد ہوں گے۔ مزید یہ عطا فرمایا کہ میری امت پر قحط نہیں ہوگا اور نہ وہ مغلوب ہوگی۔ مجھے نصرت وعزت عطا کی گئی، مہینہ کی مسافت تک مجھے رعب و دبدبہ دیا گیا۔ میرے لیے اور میری امت کے لیے غنائم کو حلال فرما دیا‘‘۔ بے شمار ایسی اشیا ہمارے لیے حلال کر دیں جو سابقہ امتوں پر حلال نہ تھیں اور دین میں ہمارے لیے کوئی تنگی نہ رکھی۔

اسی طرح اس دن حضرت محمد ﷺ کو شفاعتوں کا حق حاصل ہوگا اور وہ گیارہ قسم کی شفاعتیں ہوں گی جن کا حق آپ ﷺ کو حاصل ہوگا۔ اسی طرح اس دن رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہی ہوگی جن کے ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور آدم علیہ السلام سے لے کر بعد تک کے تمام انبیا آپ ﷺ کے اس پرچم کے نیچے ہوں گے۔ نیز اس دن حضرت محمد ﷺ تمام انبیا کے خطیب، امام اور سردار ہوں گے۔

اسی طرح روز محشر آپ ﷺ ہی پہلے شخص ہوں گے جنھیں سجدہ کی اجازت دی جائے گی۔ آپ ﷺ ہی پہلے شخص ہوں گے جو پروردگار عالم کا دیدار کریں گے۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ پہلے سجدہ کریں گے تو پروردگار جل جلالہ فرمائے گا۔ ’’اے محمد! (ﷺ) اپنا سر اٹھائیے، بولیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں، آپ کو عطا کیا جائے گا۔ آپ شفاعت کریں، آپ کی شفاعت وسفارش قبول کی جائے گی‘‘۔

صفحہ 75

اسی طرح حضرت محمد ﷺ کا یہ بھی طغرائے امتیاز ہوگا کہ پل صراط پر سے گزرنے والے سب سے پہلے شخص آپ ﷺ ہوں گے۔ نیز سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے بھی آپ ﷺ ہی ہوں گے۔ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں میں سے فقرا اور مساکین ہوں گے۔ پھر یہ کہ آپ ﷺ ہی کو وسیلہ اور تقرب کا مقام حاصل ہوگا جو جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جنت میں کسی کو کوئی چیز حضرت محمد ﷺ کے وسیلہ کے بغیر نہیں ملے گی۔ نیز یہ کہ جنت میں سوائے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب یعنی قرآن کے کوئی دوسری کتاب نہیں پڑھی جائے گی اور یہ کہ جنت میں سوائے آپ ﷺ کی زبان کے کسی دوسری زبان میں بات چیت نہیں ہوگی۔

خصائص نبوت کے عنوان سے حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن لکھتے ہیں: ’’امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں: علامہ حلیمی نے اپنی کتاب ’’المنہاج‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ انبیائے کرام کا عام انسانوں سے جسمانی اور روحانی قوتوں میں ممتاز ہونا ضروری ہے۔ قوت جسمانیہ دو ہیں: قوت مدرکہ اور قوت محرکہ، پھر قوت مدرکہ کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جس کا تعلق ظاہری حواس کے ساتھ ہے اور دوسری وہ جو باطنی حواس سے تعلق رکھتی ہے، ظاہری حواس کی پانچ اقسام ہیں: قوت باصرہ، سامعہ، لامسہ، ذائقہ اور شامّہ ۔ انبیائے کرام ان تمام قوتوں کے اعتبار سے باقی تمام انسانوں سے بے حد ممتاز ہوتے ہیں۔‘‘ (تفسیر کبیر، ج:8، ص: 199) امام رازی کی اس عبارت کو شیخ بدر عالم میرٹھی نے بھی نقل کیا ہے۔ (ترجمان السنۃ، ج:3، ص: 242)

انبیائے کرام کی قوت باصرہ کا امتیاز یہ ہے کہ عالمِ اعلیٰ و اسفل اور مشارق و مغارب اُن کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’نبوت کی ایک خصوصیت یہ ہے نبی کی بصارت اتنی روشن اور قوی ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی چیزوں کو دیکھتا ہے۔‘‘ (فتح الباری، ج:12، ص: 366) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق فرمایا: ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی نشانیاں دکھاتے تھے کہ وہ عین الیقین والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘ (الانعام: 75) اس کے تحت مفسرین نے لکھا ہے: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی بصارت کو اتنا قوی فرما دیا تھا کہ اُنہوں نے عوالمِ عُلْوِیّہ وسفلیہ میں تمام نشانیاں دیکھ لیں۔

صفحہ 76

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے تمام روئے زمین کو سمیٹ دیا، پس میں نے اُس کے تمام مشارق ومغارب کو دیکھ لیا۔“ (مسلم: 2889) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان تمام چیزوں کو جان لیا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں۔“ (ترمذی: 3233) حضور نبی کریم ﷺ اپنی پیٹھ کے پیچھے سے اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح اپنے سامنے دیکھتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اپنے پسِ پشت بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں، (مسلم: 426)“۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنے پیچھے کھڑے نمازیوں کے ظاہری احوال اور قلبی کیفیات کو بھی جانتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تو تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع، بیشک میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں، (بخاری: 418)“، یعنی تمہارا ظاہر اور باطن میرے سامنے عیاں اور بیاں ہے۔

شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: ”اپنے سامنے کی چیز دیکھ لینا تو ہر انسان کا خاصہ ہے، لیکن رسول وہ ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سامنے اور پیچھے دیکھنے کی یکساں طاقت عنایت فرما دیتا ہے، اگر آنکھ میں اپنے سامنے دیکھنے کی طاقت عام طور پر نہ ہوتی تو کیا کوئی انسان صرف عقلِ سلیم سے یہ حکم لگا سکتا تھا کہ اس عضو میں دیکھنے کی طاقت ہونی چاہیے تھی۔ پس جس نے آنکھ میں صرف سامنے کی سَمت دیکھنے کی طاقت عام طور پر رکھ دی ہے، کیا اس کو قدرت نہیں کہ وہ کسی کے حق میں مخالف سَمت میں دیکھنے کی طاقت بھی پیدا فرما دے۔ قرآن کریم میں قیامت کے دن انسانی اعضا کا بولنا ثابت ہے اور جب انسان اپنے خلاف ان کی شہادت کو سن کر تعجب سے کہے گا: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی، تو وہ جواب میں کہیں گے: ہمیں اُسی اللہ نے قوّتِ گویائی عطا کی ہے، جس نے ہر چیز کو عطا فرمائی ہے۔ صحابہ کرام کا بیان ہے: ہم اپنے سامنے رکھے ہوئے کھانے کی تسبیح خود سنتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے کھانے میں سے بکری کی دستی اُٹھا کر یہود سے فرمایا تھا: مجھے کھانے میں زہر ملانے کی خبر اس نے دی ہے، جب ان اعضاء میں نُطق کی طاقت پیدا ہو جانا ممکن ہوا، تو آنکھ میں صرف بینائی کی طاقت کا مزید ترقی کر جانا ناممکن کیوں سمجھا جائے۔“ (ترجمان السنہ، ج: 3، ص: 246)

قوّتِ سامعہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ”نبی کی سماعت اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی

صفحہ 77

چیزوں کو سنتا ہے، جسے دوسرے لوگ نہیں سنتے، (فتح الباری، ج:12،ص:366)‘‘۔ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا فرمائی تھی کہ وہ پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے اور کئی میل سے اُنہوں نے چیونٹی کی آواز سنی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’حتیٰ کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، مبادا سلیمان اور ان کا لشکر بے شعوری میں تمہیں روند ڈالے، حضرت سلیمان اُس کی یہ بات سن کر مسکرائے، (النمل:18)‘‘۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اُونٹ، بھیڑیے، ہرن، گوہ اور دیگر حیوانات کے کلام کو سننے اور سمجھنے کی قدرت عطا فرمائی اور آپ نے اُن سے کلام فرمایا، (المعجم الاوسط: 5547، 5996، المعجم الصغیر:948)۔ شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: ’’بیمار اور غم رسیدہ انسانوں کی آہ و بکا تو ہر بشر سنتا ہے، لیکن رسول وہ ہوتے ہیں جو مردہ انسانوں کے نالہ و فریاد بھی سُن لیتے ہیں، چونکہ ان کے یقین کے عالم میں عقیدہ اور چشمِ دید حالت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا، اس لیے جو باتیں وہ جانتے ہیں اس کو دیکھنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں، عام انسانوں میں یہ بات نہیں ہوتی، اس لیے بعض شنیدہ واقعات کے دیکھنے کی ان میں طاقت نہیں ہوتی، (ترجمان السنہ، ج:3،ص:246)‘‘۔

نبی کی قوتِ لامسہ کے ممتاز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی، (الانبیاء:69)‘‘۔ نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت ابو مسلم الخولانی کو اسود عنسی نے دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا، لیکن اُن کے جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، حضرت ابو بکر صدیق اُنہیں دیکھتے اور اُن پر رشک کرتے ہوئے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے اُمتِ محمدیہ میں بھی ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے جنہیں حضرت ابراہیم جیسا کمال عطا کیا گیا ہے، (الْخَصَائِصُ الْكُبْرَىٰ، ج:2،ص:134)‘‘۔ جنگِ بدر میں حضرت عکاشہ اور جنگِ اُحد میں حضرت عبداللہ بن جحش کی تلوار ٹوٹ گئی، وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے اُنہیں کھجور کی ٹہنی دی جو اُن کے ہاتھ میں تلوار بن گئی۔ پس نبی کریم ﷺ کے لمس کی برکت سے لکڑی کی حقیقت تبدیل ہوگئی اور وہ لوہا بن گئی۔ (دلائل النبوۃ، ج1:ص:610)‘‘۔

نبی رحمت ﷺ کی قوتِ شامہ کے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’نبی کی قوتِ شامہ بہت قوی ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت یوسف کی قمیص کے متعلق حضرت یعقوب کا واقعہ

صفحہ 78

قرآن کریم میں ہے، (فتح الباری، ج:12، ص: 366)“۔ حضرت یوسف نے کہا: میری قمیص لے جاؤ اور میرے والد حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دو، قافلہ وہ قمیص لے کر روانہ ہوا تو حضرت یعقوب نے فرمایا: ”بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، (یوسف: 94)“، حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کی قمیص کی خوشبو کئی دن کی مسافت سے سونگھ لی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کی قوتِ شامہ عام انسانوں کی قوتِ شامہ سے اعلیٰ اور ممتاز ہوتی ہے۔

نبی کی قوتِ ذائقہ کا عالم یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے گوشت کا ایک ٹکڑا چکھا تو فرمایا: اس میں زہر ملا ہوا ہے، (بخاری: 3169)“۔ ایک خاتون نے آپ کو کھانے پر بلایا، آپ نے لقمہ زبان پر رکھتے ہی فرمایا: یہ کسی ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے، آپ نے لقمہ نوش نہ فرمایا، بات صحیح تھی، کیونکہ اُسے مالک کی اجازت کے بغیر اُس کی بیوی سے حاصل کیا گیا تھا، (مسند احمد: 14785)“۔ شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: ”تلخ و شیریں میں تمیز تو عام بشر کی زبانیں بھی کر لیتی ہیں، مگر نبی ورسول وہ ہوتے ہیں جن کی زبان حرام و حلال میں تمیز کرتی ہے۔“ (ترجمان السنۃ، ج:3 ص: 243)

باطنی حواس و دیگر قویٰ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کی بابت امام رازی فرماتے ہیں: ”ایک باطنی حس حافظہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے، پس آپ نہیں بھولیں گے، (الاعلیٰ: 6)“ اور ایک قوتِ ذکا ہے، حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ”مجھے نبی کریم ﷺ نے علم کے ایک ہزار باب سکھائے ہیں اور میں نے ہر باب سے ہزار باب مستنبط کیے ہیں۔“ پس جب ایک صحابی اور امام الاولیا کی ذکاوت کا یہ عالم ہے تو امام الانبیاء کی ذکاوت کا کیا حال ہوگا۔

امام رازی فرماتے ہیں: قوتِ محرکہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کی مثال نبی ﷺ کی معراج ہے اور حضرات عیسیٰ، ادریس اور الیاس علیہم السلام کا آسمانوں پر زندہ اُٹھایا جانا ہے اور حضرت سلیمان کے ایک صحابی کے بارے میں فرمایا: ”جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اُس نے کہا: میں آپ کے پاس اُس (تختِ بلقیس) کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔“ (النمل: 40) (تفسیر کبیر، ج: 8، ص: 200)“

حضور نبی کریم ﷺ کی 50 امتیازی خصوصیات

صفحہ 79

(المزمل و مدثر: 1، التوبہ: 73، المائدہ: 67)

میں ۔ (ابن ماجہ: 1706)

صفحہ 80

پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا۔ (المائدہ:6)

(سنن ترمذی:3148)

(صحیح بخاری:888)

صفحہ 81

(صحیح بخاری: 6541، ترمذی: 2437)

ہیں ۔ (مسند امام احمد: 452، سنن ابوداؤد: 2042، سلسلہ صحیحہ: 2853)

حضور اقدس ﷺ کے ہزارہا معجزات ہیں۔ ہر معجزہ اپنی جگہ اعلیٰ اور اہم ہے لیکن واقعہ معراج بلاشبہ فخر موجودات ﷺ ، رحمۃ للعالمین ﷺ کے خصائص کبریٰ میں سے ہے کہ آپ ﷺ کے علاوہ تمام انبیائے کرام میں سے کسی کو یہ عظیم شرف و امتیاز نصیب نہیں ہوا۔ بلکہ اگر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے سب فضائل یکجا جمع کیے جائیں تو ان کا مکمل مجموعہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اس ایک فضیلت یعنی معراج شریف کے برابر نہ ہوگا۔ اس عجیب و غریب سفر کا آغاز انوکھے انداز سے ہوا۔ شب معراج، حضور اکرم ﷺ کا سینۂ مبارک چاک کیا گیا۔ مسلم شریف کی روایت کے مطابق فرشتوں نے قلب اطہر کو باہر نکالا اور اس میں سے خون کا لوتھڑا باہر نکال کر الگ کر دیا۔ یہ تیسرا اور آخری شق صدر تھا جو اس لیے ہوا کہ آپ ﷺ کا وجود اقدس ذات باری تعالیٰ کا مظہر اتم بن سکے۔ حضور اکرم ﷺ کو کائناتِ ارضی میں لباس بشری میں مبعوث کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی تھی کہ بشریت اور خلقتِ انسانی کی تکمیل کے لیے اس خون کے لوتھڑے کو پیدا کیا جائے جو وساوس کا مرکز ہے۔ پھر مناسب وقت پر بتقاضائے مشیت اسے نکال کر الگ کر دیا جائے تاکہ حضور اکرم ﷺ کے وجود مسعود میں کسی ایسی چیز کا شائبہ تک باقی نہ رہے جس کا تعلق شیطانی وساوس اور انسانی عیوب سے ہو سکتا ہے۔ حدیث شریف میں روایت کیا گیا ہے کہ شق صدر کے بعد ایمان و حکمت سے لبریز ایک نورانی طشت لایا گیا جس سے حضور انور ﷺ کے قلب اطہر کو بھر دیا گیا۔

روایت میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ حطیم کعبہ میں استراحت فرما رہے تھے کہ جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ کو ایک سواری پر بٹھایا۔ اس سواری کا نام براق تھا اور اس کی سرعت رفتار کا یہ عالم تھا کہ اس کا قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا۔ حضور انور ﷺ اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لے گئے جہاں تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ ﷺ کے

صفحہ 82

منتظر تھے۔ نماز کا وقت ہوا تو جبرئیل علیہ السلام نے امامت کے لیے آپ کو مصلے پر کھڑا کر دیا۔ از اول تا آخر تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی اور اس طرح عملی طور پر آپ امام الانبیا کے منصب عظیم پر فائز ہوئے۔ یہاں سے براق پر سوار ہو کر آپ ﷺ آسمان دنیا پر تشریف لے گئے۔ جبرئیل علیہ السلام نے دستک دی تو دربان نے پوچھا کہ ہمراہ کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کا نام نامی محمد ﷺ لیا تو دروازہ کھول دیا گیا۔ ملائکہ نے جو آپ ﷺ کے استقبال کے لیے حاضر تھے، آپ ﷺ کو خوش آمدید کہا۔ پہلے آسمان پر بابائے نسل انسانیت حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ آپ ﷺ نے سلام کیا تو انھوں نے سلام کرنے پر صالح بیٹے اور صالح نبی کہہ کر استقبال کیا۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے ساتوں آسمانوں کے دروازے کھولے گئے۔ فرشتے جوق در جوق استقبال کے لیے حاضر ہوتے رہے اور ان کے جلو میں آپ ﷺ کا عالم بالا کی طرف عروج جاری رہا۔ دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات بالترتیب حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ سلام اور خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہوتا رہا اور پھر وہ مرحلہ آن پہنچا کہ حضور ﷺ عالم نورانیت کے بلند ترین مقام سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے جس کے آگے کوئی مقرب فرشتہ، نبی اور مرسل دم نہیں مار سکتا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام جو سفر معراج کے تمام مرحلوں میں آپ ﷺ کے ہمرکاب تھے، انھوں نے یہ کہہ کر آپ ﷺ کی معیت میں آگے بڑھنے سے معذوری ظاہر کی کہ ”اگر ایک بال برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں گا!“

سدرۃ المنتہیٰ سے وراء الورا لامکاں میں پستی اور بلندی کا کوئی تصور حیطۂ ادراک سے باہر ہے۔ حضور اکرم ﷺ تن تنہا آگے بڑھتے ہوئے آخر اس مقام خاص تک پہنچ گئے جس کو ”قاب قوسین او ادنیٰ“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں سب حجابات اٹھ گئے۔ اللہ جل شانہ کے نوے ہزار پردہ ہائے صفات سے گزر کر حضور ﷺ قرب و وصال کے مقام پر جلوہ افروز ہوئے۔

معراج شریف، حضور اکرم ﷺ کے من جملہ ہزاروں معجزات میں سے بلاشبہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ لاریب جس قدر بلند و بالا اور ممتاز و منفرد آپ ﷺ کی شان ہے، اسی قدر

صفحہ 83

ممتاز و منفرد مقام آپ ﷺ کے معجزات کا ہے۔ سفر معراج جو سات طبقات، آسمانوں اور ان سے وراء الوراء، سدرۃ المنتہیٰ اور دنیائے ارض کی طرف مراجعت پر مشتمل تھا، ان کی توجیہ و توضیح عقلِ انسانی سے نہیں ہوسکتی۔ معراج میں حضور نبی کریم ﷺ کو قیامت تک ہونے والے تمام واقعات کا علم عطا کر دیا گیا۔ جنت و دوزخ اور عالم اخروی کے حقائق کا مشاہدہ کرایا گیا۔

حضور نبی کریم ﷺ فضائل و کمالات میں دیگر تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے ممتاز ہیں۔ انبیائے سابقین علیہم السلام میں سے ہر ایک حسن اخلاق کی ایک نوع سے مختص تھے مگر رسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس حسن اخلاق کے تمام انواع کی جامع تھی۔ آپ ﷺ کے فضائل و کمالات کا احاطہ طاقت بشری سے خارج ہے۔ آپ ﷺ کی سب سے بڑی عظمت اور فضیلت آپ کا سیّد المرسلین ﷺ اور خاتم النبیین ﷺ ہونا ہے۔

سیّد مناظر احسن گیلانی ”زندہ نبی“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

پر) بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے۔ لیکن کیا کیجیے کہ ان میں جو بھی آیا، جانے ہی کے لیے آیا۔ پر ایک اور صرف ایک جو آیا اور آنے ہی کے لیے آیا، وہی جو ابھرنے کے بعد پھر کبھی نہیں ڈوبا، چمکا اور پھر چمکتا ہی چلا جارہا ہے، بڑھا اور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، چڑھا اور چڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ سب جانتے ہیں اور سبھوں کو جاننا ہی چاہیے کہ جنھیں کتاب دی گئی اور جو نبوت کے ساتھ کھڑے کیے گئے، برگزیدوں کے اس پاک گروہ میں اس کا استحقاق صرف اسی کو ہے اور اس کے سوا کس کو ہوسکتا ہے جو پچھلوں میں بھی اس طرح ہے جس طرح پہلوں میں تھا، دُور والے بھی اس کو ٹھیک اسی طرح پا رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے جس طرح نزدیک والوں نے پایا تھا، جو آج بھی اسی طرح پہچانا جاتا ہے اور ہمیشہ پہچانا جائے گا۔ جس طرح کل پہچانا گیا تھا کہ اسی کے اور صرف اسی کے دن کے لیے رات نہیں، ایک اسی کا چراغ ہے جس کی روشنی بے داغ ہے‘‘۔ (النبی الخاتم از سیّد مناظر احسن گیلانیؒ)

نہ کوئی آیا نہ کوئی آئے گا نبی مصطفیٰ ﷺ کے بعد
حسنِ نبوت کا قلم ٹوٹ گیا مصطفیٰ ﷺ کے بعد
اللہ اور رسول ﷺ کی لعنت ہو اس پہ ساحلؔ
کرے دعویِٰ نبوت جو مصطفیٰ ﷺ کے بعد
صفحہ 84

حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ لکھتے ہیں!

معنی تکمیل نبوت کے ہیں کہ نبوت اپنی انتہا کو پہنچ کر حد کمال کو پہنچ گئی ہے، اب کوئی درجہ، نبوت کا ایسا باقی نہیں رہا کہ بعد میں کوئی نبی لایا جائے اور اس درجہ کو پورا کرایا جائے۔ ایک ہی ذاتِ اقدس نے ساری نبوت کو حدِ کمال پر پہنچا دیا کہ نبوت کامل ہو گئی تو ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے ہیں، قطع نبوت کے نہیں ہیں۔ گویا کہ ایک ہی نبوت قیامت تک کام دے گی، کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ نبوت کے جتنے کمالات تھے ،وہ سب ایک ہی ذات بابرکات میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے آسمان پر رات کے وقت ستارے چمکتے ہیں، ایک نکلا، دوسرا، تیسرا اور پھر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ستارے جگمگاتے ہیں، آسمان ستاروں سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور روشنی بھی پوری ہوتی ہے لیکن رات ، رات ہی رہتی ہے، دن نہیں ہوتا، کروڑوں ستارے جمع ہیں مگر رات ہی ہے۔ روشنی کتنی بھی ہو جائے لیکن جونہی آفتاب کے نکلنے کا وقت آتا ہے تو ایک ایک ستارہ غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ جب آفتاب نکل آتا ہے تو اب کوئی بھی ستارہ نظر نہیں پڑتا، چاند بھی نظر نہیں پڑتا تو یہ مطلب نہیں کہ ستارے غائب ہو گئے دنیا سے، بلکہ ان کا نور مدغم ہو گیا آفتاب کے نور میں، کہ اب اس نور کے بعد سب کے نور دھیمے پڑ گئے، وہ سب جذب ہو گئے آفتاب کے نور میں، اب آفتاب ہی کا نور کافی ہے، کسی اور ستارے کی ضرورت نہیں اور نکلے گا تو اس کا چمکنا ہی نظر نہیں آئے گا، آفتاب کے نور میں مغلوب ہو جائے گا تو یوں نہیں کہیں گے کہ آفتاب نے نکلنے کے بعد دنیا میں ظلمت پیدا کر دی، نور کو ختم کر دیا بلکہ یوں کہا جائے گا کہ نور کو اتنا مکمل کر دیا کہ اب چھوٹے موٹے ستاروں کی ضرورت باقی نہیں رہی، آفتاب کافی ہے، غروب تک پورا دن اسی کی روشنی میں چلے گا تو اور انبیا بمنزلہ ستاروں کے ہیں اور نبی اکرم ﷺ بمنزلہ آفتاب کے ہیں، جب آفتاب طلوع ہو گیا اور ستارے غائب ہو گئے تو یہ مطلب نہیں ہے کہ نبوت ختم ہو گئی بلکہ اتنی مکمل ہو گئی کہ اب قیامت تک کسی نبوت کی ضرورت نہیں گویا نبوت کی فہرست تھی جس پر مہر لگ گئی۔ حضور اکرم ﷺ نے آ کر لگا دی، اب کوئی نبی زائد ہو گا نہ کم ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ بیچ میں سے کسی نبی کو بعد میں لے آیا جائے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد میں نازل ہوں گے مگر وہ اسی فہرست میں داخل ہوں گے اور ان کی متبع کی حیثیت ہوگی۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی جدید نبی داخل

صفحہ 85

ہو، پچھلے نبی کو اگر اللہ تعالیٰ لانا چاہیں تو لائیں گے، حضور اکرم ﷺ نے فہرست مکمل کر دی کہ اب نہ کوئی نبی زائد ہو سکتا ہے نہ کم ہو سکتا ہے۔ (آفتاب نبوت از مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ)

قرآن نے سورج کو ”سراج“ اور چاند کو ”منیر“ کہا: وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجاً وَ قَمَرً مُّنِيرا (الفرقان: 61) لیکن اکیلے نبی کریم ﷺ کو سراج منیر کہا: وَدَاعِيَاً إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجً مُّنِيرًا (الاحزاب: 46) تا کہ کائنات کو معلوم ہو جائے کہ شمس و قمر مل کر بھی آپ کے انوار کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

تیری مدحت میں ستارے چاند سورج کیا لکھوں
یہ فقط ہیں استعارے تو سراپا روشنی

بقول سیّد عطا الرحمٰن ”حضرت رسالت مآب ﷺ کی تشریف آوری سے خدا کی نعمتیں کمال کو پہنچ گئیں۔ دین مکمل ہو گیا، شریعت پر تکمیل کی مہر لگ گئی۔ نبوت کے خزانوں کے دروازے پوری طرح کھول کر اور اس کی تمام دولتیں نچھاور کر کے اس کے دروازے بند کر دیے گئے اور اب قیامت تک کوئی شخص یہ ادعا لے کر نہیں آئے گا کہ میں خدا کی طرف سے فرستادہ ہوں، آؤ اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ اب رشد و ہدایت کا ایک ہی دروازہ ہے، اب رضائے الٰہی کے حصول کی ایک ہی راہ ہے اور اب نجات و فلاح کا ایک ہی راستہ ہے۔ اس لیے ہدایت پانا آسان ہو گیا ہے اور نجات پانا سہل بنا دیا گیا ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد جدید انبیا کا سلسلہ قائم رہتا تو دین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ امت محمدیہ کا شیرازہ بالکل بکھر جاتا۔ ملت اسلامیہ مختلف انبیا کے پیروؤں میں تقسیم ہو کر رسول اکرم ﷺ سے دور جا پڑتی۔ اس لیے کہ انبیا کی آمد ایک بڑا امتحان ہے اور قومیں ہمیشہ مومنین اور کافرین میں تقسیم ہو جایا کرتی ہیں لیکن اللہ کو منظور یہ تھا کہ اب محمد ﷺ ہی کا تخت اجلال دنیا پر بچھایا جائے۔ ہدایت کی بھیک اسی کے در سے مانگی جائے۔ بہشت کے دروازوں کی کنجی اسی سے طلب کی جائے۔ رضائے خداوندی اسی کے ذریعہ تلاش کی جائے۔ اس لیے حضور ﷺ پر نبوت کاملہ کا نزول فرما کر انبیا کا مزید سلسلہ بند کر دیا“۔

عقیدۂ ختم نبوت، قرآن و حدیث کی روشنی میں

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو

صفحہ 86

شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیاتِ مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر پختہ ایمان ”عقیدۂ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔

ختم نبوت اسلام کا اساسی اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دینِ اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاعِ ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ بدقسمتی سے وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں کسی نبی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ رشد و ہدایت کے دو سرچشمے ہیں جو قیامت تک عالم اسلام کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی مدعیِ نبوت کا آنا گمراہی ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت ضروریاتِ دین میں داخل ہے۔ اس کا انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔

قرآن مجید، ایک سراپا اعجاز کتاب ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر دور اور ہر خطہ کے ہر ایک انسان کی مکمل راہنمائی کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ دشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام کی بیخ و بن کو ہلا دینے والے خطرناک طوفانوں میں بھی اس کی عظمت و وقار میں رتی بھر فرق نہ آیا، اور نہ قیامت تک آئے گا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہوا ہے۔ جس طرح قرآن مجید ہر مسئلہ میں انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے، اسی طرح وہ عقیدۂ ختم نبوت کو بھی بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ ختم نبوت کے ہر پہلو کو کھول کھول کر بیان کرتی اور واشگاف الفاظ میں اعلان کر رہی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ صفحات کی قلت کی وجہ سے صرف دو اہم آیات مبارکہ اور ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ اس کی تشریح کے لیے قارئین کرام تفاسیر سے استفادہ کریں۔

وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.

(الاحزاب: 40)

صفحہ 87

ترجمہ: نہیں ہیں محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول اور تمام انبیا کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

عرب سماج میں ایک قدیم رسم یہ بھی تھی کہ وہ اپنے متبنّٰی یا منہ بولے بیٹے کو حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے۔ یہ لے پالک بیٹا وراثت میں بھی برابر کا شریک ہوتا۔ مزید برآں جس طرح ایک صلبی بیٹا مر جاتا اور اس کی بیوی باپ کے لیے حرام ہوتی ، اسی طرح لے پالک بیٹا جب مر جاتا یا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تو وہ عورت لے پالک بیٹے کے باپ کے لیے حرام ہوتی ۔ حضرت زیدؓ بن حارثہ ، نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے ۔ تمام لوگ انھیں ’’زید بن محمد‘‘ کہہ کر پکارتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اس رسم کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی دنیا میں انبیا کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔

الْاِسْلَامَ دِیْنًا.

(المائدہ:3)

ترجمہ: آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمھارے لیے تمہارا دین اور پوری کر دی ہے تم پر اپنی نعمت، اور میں نے پسند کر لیا ہے تمھارے لیے اسلام کو بطور دین۔

یہ آیت حضور نبیِّ رحمت ﷺ کے آخری حج میں عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل ہوئی۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ آخری آیت تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس آیت کریمہ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا تھا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے ۔ اب قیامت تک اس میں ترمیم و اضافہ کی گنجائش ہے نہ کوئی ضرورت ۔ اب یہ امت قیامت تک کسی اور دین، کسی اور نبی کی محتاج ہے، اور نہ کسی کتاب کی۔

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ دینِ اسلام قیامت تک رہنے والا ہے ۔ یہ کبھی ختم نہ ہوگا (ان شاء اللہ)! بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت، آیاتِ احکام میں سے آخری آیت ہے اور آئندہ کے لیے وحی ونبوت کے بند ہونے کی واضح خبر دے رہی ہے۔

صفحہ 88

قرآن مجید کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عقیدۂ ختم نبوت نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اب قیامت تک کسی بھی مسئلہ میں جس شخص نے بھی ہدایت و راہنمائی حاصل کرنا ہے، اسے نبی کریم علیہ التحیۃ والثناء کی اطاعت اختیار کرنا ہوگی۔ ذیل میں عقیدۂ ختم نبوت کے موضوع پر چند اہم احادیث مبارکہ کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔

کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیا کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ ہی سے قصرِ نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیے گئے“۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف)

ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا، اور میں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آ جائے گی اور حشر برپا ہوگا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو“۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف)

کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا“۔

(صحیح مسلم شریف)

باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ اوّل یہ کہ مجھے جوامع الکلم دیے گئے اور دوسرے یہ کہ رُعب سے میری مدد کی گئی (یعنی مخالفین پر میرا رُعب پڑ کر ان کو مغلوب کر دیتا

صفحہ 89

ہے ) تیسرے میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا (بخلاف انبیائے سابقین کے، کہ مال غنیمت ان کے لیے حلال نہ تھا، بلکہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی تھی جو تمام مال غنیمت کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتی تھی، اور یہی جہاد کی مقبولیت کی علامت سمجھی جاتی تھی) اور چوتھے میرے لیے تمام زمین نماز پڑھنے کی جگہ بنا دی گئی (بخلاف امم سابقہ کے کہ ان کی نماز صرف مسجدوں ہی میں ہو سکتی تھی) اور زمین کی مٹی میرے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی (یعنی وقتِ ضرورت تیمم جائز کیا گیا جو کہ پہلی امتوں کے لیے جائز نہ تھا) پانچویں، میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں (بخلاف انبیائے سابقین کے کہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف کسی خاص اقلیم میں ایک محدود زمانہ تک کے لیے مبعوث ہوتے تھے) چھٹے یہ کہ مجھ پر انبیا ختم کر دیے گئے‘‘۔ (صحیح مسلم شریف)

(5) اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں خاتم الانبیا ہوں اور میری مسجد، مساجد انبیا کی خاتم اور آخر ہے‘‘۔

(کنز العمال)

(6) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی‘‘۔

(ترمذی شریف)

(7) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے‘‘۔ (ترمذی شریف)

تحفظِ ختم نبوت، اہمیت اور فضیلت...... قرآن مجید کی روشنی میں

7 مئی 1996ء کو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا:

يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗ اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْكَافِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ط ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ‘‘۔ (المائدہ:54)

صفحہ 90

ترجمہ: ”اے ایمان والو! جو پھر گیا تم میں سے اپنے دین سے (تو اس کی بد نصیبی) سو عنقریب لے آئے گا اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم، محبت کرتا ہے اللہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہیں اس سے۔ وہ نرم ہونگے مسلمانوں کے لیے، بہت سخت ہوں گے کافروں پر، جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے، یہ (محض) اللہ کا فضل (وکرم) ہے۔ نوازتا ہے اسے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی کشادہ رحمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے“۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس اُمت میں فتنۂ ارتداد کے ظاہر ہونے کی ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ صرف پیش گوئی ہی نہیں فرمائی بلکہ حق تعالیٰ شانہ نے ان مرتدین کے مقابلہ میں ایک جماعت کو لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ گویا ایک پیش گوئی ہے کہ اس اُمت میں مرتدین ظاہر ہوں گے، اور دوسری پیش گوئی اور وعدہ ہے کہ ان مرتدین کی سرکوبی اور ان کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو کھڑا کرے گا۔ پھر مرتدین کا مقابلہ کرنے والی اس جماعت کے اوصاف بیان فرمائے۔ چنانچہ حق تعالیٰ شانہ نے اس جماعت کی چھ صفتیں ذکر فرمائی ہیں:

اوّل:... ان کی پہلی صفت یہ ہے: ”يُحِبُّهُمْ“ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتے ہوں گے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوں گے۔

دوم:... ان کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی: ”وَيُحِبُّوْنَهُ“ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محبّ اور عاشق ہوں گے۔

سوم:... ان کی تیسری صفت یہ ہوگی: ”اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ“، مؤمنوں کے مقابلے میں اپنا سر نیچا کر کے رہیں گے۔ یعنی مؤمنوں کے مقابلے میں کمتر بن کر رہیں گے۔

چہارم:... ان کی چوتھی صفت یہ ہوگی: ”اَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِيْنَ“، کافروں کے مقابلے میں معزز اور سر بلند ہو کر رہیں گے۔ یعنی ان کا سر نیچے کریں گے۔

پنجم:... ان کی پانچویں صفت یہ ہوگی: ”يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔

ششم:... ان کی چھٹی صفت یہ ہے: ”وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ“، وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔

سب سے آخر میں فرمایا: ”ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ

صفحہ 91

عَلِیْمٌ“ . ، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ یہ فضل عطا فرما دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا ہے کہ اس کے لیے عطا کرنا مشکل نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ علیم ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کو کون سی چیز دی جائے۔ یہ خلاصہ ہے اس آیت کا۔

یہاں پہلے ایک بات اور بھی سمجھ لیجیے! وہ یہ کہ جنگِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:

وَرَسُوْلَهُ، وَيُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُوْنَ .... الخ“ .

(مشکوٰۃ ص 563، باب مناقب حضرت علیؓ بن ابی طالب)

یعنی میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ کو فتح کرے گا۔

صحابیؓ فرماتے ہیں کہ: جب رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی اور اگلا دن آیا تو اس توقع پر ہر شخص گردن اونچی کر کے اپنے آپ کو نمایاں کر رہا تھا کہ یہ فضیلت مجھے ملے۔ گویا صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا، اور امیر المؤمنین سیّدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں نے امیر بننے کو کبھی پسند نہیں کیا، سوائے اس دن کے‘‘۔ حالانکہ امیر بننا مقصود نہیں تھا، بلکہ بارگاہِ نبوت سے جو خطاب ملا تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے، اس خطاب کو حاصل کرنا مقصود تھا۔

اب صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ آج یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور یہ تمغۂ فضیلت کس کو عطا کیا جائے گا؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یکا یک فرمایا: ’’علیؓ کہاں ہیں؟‘‘ عرض کیا گیا: یا رسول اللہﷺ! وہ اپنے خیمے میں ہیں، ان کی آنکھوں میں آشوب ہے، ان کی آنکھیں دکھتی ہیں اور انہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ فرمایا کہ: ان کو بلاؤ! چنانچہ حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر لایا گیا اور حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بٹھا دیا گیا۔

صفحہ 92

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں پر لگایا، تو اسی وقت ان کی ساری تکلیف دور ہو گئی۔ چنانچہ بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! اس کے بعد مجھے کبھی بھی آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: جاؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مقابلہ کرو! حضرت علیؓ تعمیلِ حکم میں چل پڑے، مگر جب انہیں ایک بات پوچھنے کی ضرورت پیش آئی تو اُلٹے پاؤں لوٹ آئے، یعنی اپنا رُخ نہیں بدلا، بلکہ منہ اسی طرف کو ہے جس طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متوجہ کر دیا تھا، بہرحال اُلٹے پاؤں پیچھے لوٹے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ﷺ ! ایک بات پوچھنا بھول گیا تھا کہ لڑائی سے پہلے دشمن سے کیا کہوں؟ حضور سرور دو عالم ﷺ نے فرمایا: ان کو پہلے اسلام کی دعوت دو۔ دیکھو! دشمن سے مقابلے کے لیے جا رہے ہیں، لڑائی کے لیے روانگی ہے، مگر آپ ﷺ ان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو یہ بتاؤ کہ اگر وہ اسلام لے آئیں گے تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں، اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو ہماری ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرما دیں تو وہ تمہارے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

یعنی اگر دنیا و مافیہا کے خزانے تمہیں دے دیئے جائیں اور پوری دولت تمہارے تصرف میں دے دی جائے، اس سے یہ بہتر ہے کہ ایک آدمی کو تمہارے ذریعہ سے ہدایت نصیب ہو جائے۔ یہاں علما نے ایک عجیب نکتہ لکھا ہے کہ جہاں جہاں احادیث میں آیا ہے کہ یہ چیز دنیا و مافیہا سے بہتر ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی قیمت تو مچھر کے برابر بھی نہیں ہے، پھر اس کا بہتر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ہاں سنو! یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا کی قیمت اللہ کے نزدیک مچھر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کسی کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ دیتے، لہٰذا بلاشبہ دنیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بے قیمت چیز ہے۔ دنیا و مافیہا سے بہتر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ بعض اکابرؒ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ دنیا دار کو پوری دنیا کی دولت ملنے سے جو راحت اور مسرت ہو سکتی ہے، یہ اس سے زیادہ خوشی اور مسرت کا مقام ہے۔ گویا اگر ساری کی ساری دنیا بمع ساز و سامان کے ایک آدمی کے حوالے کر دی جائے کہ تم جو چاہو کرو، جس کو چاہو دو، جس کو چاہو نہ دو، پوری کی پوری دنیا تمہارے قبضے میں کر دی گئی ہے، اگر فرض کرو کسی کے لیے ایسا ہو جائے تو وہ دنیا کا کتنا بڑا خوش

صفحہ 93

قسمت انسان کہلائے گا؟ تو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت ہو جائے تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے“۔ بعض اکابرؒ نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر ساری دنیا اور دنیا کے خزانے تمہیں دے دیئے جائیں اور تم اس پوری دنیا اور اس کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردو، تو کتنا فضیلت کی چیز ہوگی؟ تو فرمایا کہ اس فضیلت سے بہتر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت عطا کردے۔ یہ بات اور یہ حدیث جو میں نے درمیان میں نقل کی ہے، اس سے میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا نہیں دیا تھا، اس وقت تک کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ خطاب کس کو ملنے والا ہے؟ اور یہ سعادت کس کے حصے میں آنے والی ہے؟ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حیدرِ کرارؓ کے ہاتھ میں جھنڈا دیا تو معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ کا مصداق یہ ہیں۔

سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت علیؓ، ہمارے خلیفۂ راشد ہیں، ہمارا اعتقاد ہے: ”حُبُّ عَلِيٍّ مِنَ الْاِيْمَانِ“ علیؓ کی محبت ایمان ہے اور: ”اَلنَّظَرُ إِلَى وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ“ علیؓ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔ جس طرح بیت اللہ کو دیکھنا عبادت ہے، اسی طرح حضرت علیؓ کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ حضرت علیؓ کی بہت اونچی شان ہے، بہت ارفع مقام ہے، ان کی شان کو کون پہنچ سکتا ہے؟ مگر وہ ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کے مقتدی ہیں، یہ حضرات ان کے مقتدا ہیں، پھر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، عثمانؓ وعلیؓ کے مقتدا ہیں، اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ وعلیؓ کے، اور حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ کے مقتدا ہیں، یہ سب حضرات امام ہیں۔

حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے: میں جب میدانِ جنگ میں مبارزت کے لیے جاتا اور اُدھر سے کافروں کا سوار نکلتا تو میں یہ شعر پڑھتا تھا:

یعنی میں وہ ہوں جس کا نام ماں نے شیر رکھا ہے، کیونکہ حیدر شیر کو کہتے ہیں، جیسے شیر کو دیکھ کر جانوروں پر خوف طاری ہوجاتا ہے، اس طرح مجھے دیکھ کر کافروں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔

جس طرح حضرت علیؓ کے ہاتھوں میں جب تک جھنڈا نہیں دے دیا گیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس ارشادِ نبوی: ”يُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَهُ، وَيُحِبُّهُ اللہُ وَرَسُوْلُهُ“ (وہ اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت

صفحہ 94

رکھتے ہیں) کے مصداق کا اعزاز و فضیلت کس کے حصے میں آتی ہے؟ بلکہ ہر ایک منتظر تھا کہ شاید مجھے مل جائے، لیکن جب آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں جھنڈا دے دیا تو معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ کا مصداق حضرت علیؓ ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس وقت آیت شریفہ: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ“ نازل ہوئی، تو اس وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ فضیلت اور یہ سعادت کس کے حصے میں آنے والی ہے؟ یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور محبت اور محبوبیت کا تمغہ کس کو عطا کیا جائے گا؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتنۂ ارتداد پھیلا، لوگ مرتد ہوئے اور انہی مرتدوں میں جھوٹے مدعیانِ نبوت بھی تھے، جن میں سر فہرست مسیلمہ کذاب تھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام خط لکھا تھا:

بعد! فانى قد اشركت فى الأمر معك وان لنا نصف الأرض ولقريش نصف الأرض، ولٰكن قريشاً قوم يعتدون“. (دلائل النبوۃ ج:5 ص:331، مجموعۃ الوثائق

السياسیہ للعهد النبوی والخلافۃ الراشدہ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ)

ترجمہ: ”یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت میں مجھے بھی شریک کردیا، اس لیے آدھی زمین آپ کی اور آدھی میری، لیکن قریش زیادتی کرتے ہیں (کہ مجھے اس میں شریک نہیں کرتے)“۔

مسیلمہ کے خط کے جواب میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا:

الكذاب، السلام علٰى من اتبع الهدٰى، اما بعد! فان الأرض للّٰه يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين“.

(دلائل النبوۃ ج:5 ص:331، کنز العمال ج:14 ص:201 حدیث:38386، مجموعۃ

الوثائق السياسیہ للعهد النبوی والخلافۃ الراشدہ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ)

ترجمہ: ”محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام، اما بعد! زمین اللہ کی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے، اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور اچھا انجام متقیوں کے لیے ہے“۔

دراصل مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت تو کیا تھا رسول اللہ ﷺ کی ظاہری زندگی

صفحہ 95

میں، مگر اتنے میں رسول اللہ ﷺ کا وصال مبارک ہو گیا، نجد اور یمامہ پورا علاقہ مسیلمہ کذاب کے قبضے میں تھا، اسی طرح سجاح نام کی ایک خاتون تھی، اس نے بھی دعویٰ نبوت کیا تھا، جس نے بعد میں مسیلمہ کے ساتھ شادی کر لی تھی، مسیلمہ نے اس سے پوچھا کہ: تمہیں مہر کیا دیں؟ تو کہنے لگی: دو نمازیں معاف کر دو! چنانچہ مسیلمہ کذاب نے دو نمازیں (فجر اور عشاء) معاف کر دیں۔

مختصر یہ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب سے پہلے جو لشکر بھیجا گیا، وہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اللہ کی تلواروں میں سے ایک) اس لشکر کے سپہ سالار تھے، جب مسیلمہ سے مقابلہ ہوا تو بڑے بڑے حفاظ صحابہ کرامؓ اس جہاد میں شہید ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے۔

مسیلمہ کذاب اور اس کی قوم نے مسلمانوں کا اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ ایک دفعہ تو مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ گئے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے صحابہ کرامؓ کو پھر سے جمع اور مرتب کیا اور مسیلمہ پر دوبارہ حملہ کیا، حضرت سالمؓ، حضرت عمارؓ، حضرت حذیفہؓ اور ایک دوسرے صحابی نے لوگوں سے کہا کہ: لوگو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تا کہ پیچھے نہ ہٹ پائیں، مختصر یہ کہ مسلمانوں کی فوج نے بے جگری سے ان کا مقابلہ کیا، چنانچہ مسلمان، بڑی جواں مردی سے مسیلمہ کذاب اور ان کے ایک لاکھ کے لشکر کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک باغ میں لے گئے، تو مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے باغ میں، جس کی چار دیواری اور دروازہ تھا، قلعہ بند کر لیا اور محفوظ ہو گئے۔

ایک صحابیؓ نے کہا: اندر سے تو دروازہ اور کنڈا بند ہے، میں تمہیں اس کی تدبیر بتا دیتا ہوں، اگر تم اس پر عمل کرو تو یہ مشکل حل ہو سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ مجھے نیزوں پر اُٹھا کر دیوار کے اُوپر سے اندر پھینک دو تو میں کنڈا کھول دوں گا، اگر انہوں نے مجھے شہید بھی کر دیا تو کوئی بات نہیں، اور اگر میں شہید ہونے سے پہلے دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا تو تم اندر داخل ہو جانا، اور اگر میں شہید ہو جاؤں تو میری جگہ ایک اور آدمی کو اندر پھینک دینا، پھر ایک اور کو پھینک دینا، پھر ایک اور کو پھینک دینا، یہاں تک کہ مسلمان اس قلعہ کا دروازہ

صفحہ 96

کھولنے میں کامیاب ہو جائیں۔ صحابہ کرامؓ نے ان کی رائے سے اتفاق کیا اور ان کو اندر قلعہ میں پھینک دیا، چونکہ ان کا نیزہ اور تلوار ان کے ساتھ تھی، اس لیے وہ ان سے لڑتے بھڑتے دروازہ تک پہنچ گئے اور دروازہ کھول دیا، تو مسلمان یلغار کر کے اس کے اندر داخل ہو گئے اور مسیلمہ کے لشکر کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی بن حربؓ جو سید الشہدا سیدنا حضرت حمزہؓ کے قاتل تھے، نے قتل کیا تھا، جس کی صورت یہ ہوئی کہ ان کے پاس ایک حربہ یعنی چھوٹا سا نیزہ تھا، اس کو انہوں نے اس طرح پھینک کر مارا کہ مسیلمہ کذاب کے جاکر لگا اور وہ وہیں مردار ہو گیا، اس جنگ میں مسیلمہ کذاب کے 20 ہزار آدمی قتل ہوئے، تو 12 سو کے قریب حضرات صحابہ کرامؓ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بھیجے ہوئے لشکر نے ان مرتدین سے مقابلہ کیا تب پتہ چلا کہ یہ جھنڈا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا جانا تھا، اور ارشاد الٰہی: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ“ میں جو چھ صفات ذکر کی گئی تھیں، اس کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ہیں۔ اسی طرح یہ تمغہ جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، یہ بھی انہیں کے حصہ میں آیا۔

یہاں ایک نکتہ ذکر کرتا ہوں، وہ یہ کہ میں نے حضرت علیؓ کے بارے میں غزوۂ خیبر کی حدیث ذکر کی تھی، اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ: ”يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ، وَيُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ“ یعنی جس شخص کو میں جھنڈا دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مگر یہاں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗ“ اللہ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ سے محبت رکھیں گے۔ کیا آپ حضرات کو ان دونوں کا فرق سمجھ میں آیا؟ اگر نہیں آیا تو میں سمجھاتا ہوں، وہ یہ کہ: حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ: ”يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ“ کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔

دوسری طرف مرتدوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو لانے کا وعدہ فرمایا،

صفحہ 97

اس کے بارے میں فرمایا: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ“ یعنی اللہ کو ان سے محبت ہے، اور ان کو اللہ سے محبت ہے۔ یہاں رسول اللہ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی، اللہ ہی کی محبت ہے، اور جس کو اللہ سے محبت ہوگی، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت ہوگی، یہ لازم وملزوم ہیں، اور کبھی ایسا بھی کردیا جاتا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ذکر کردیا جاتا ہے۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ حدیث میں حضرت علیؓ کی اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو پہلے ذکر فرمایا اور فرمایا کہ: وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اس کے بعد فرمایا گیا کہ: ”وَيُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُوْلُهُ“ لیکن یہاں ترتیب الٹی ہے، یہاں اللہ کا ان سے محبت رکھنا پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں: ”وَيُحِبُّوْنَهُ“ اور وہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عاشق اور محبّ صادق بھی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ ایک ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں محبوب ہونا اور ایک ہے اللہ کا محبّ ہونا، حضرت علیؓ کے بارہ میں فرمایا کہ وہ محبّ پہلے ہیں اور محبوب بعد میں ہیں، اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرمایا کہ: وہ محبوب پہلے ہیں، اور محبّ بعد میں ہیں، کیا خیال ہے؟ دونوں کے درمیان میں فرق سمجھ میں آیا؟ یہ تو ظاہر ہے جو اللہ کا محبّ ہوگا وہ حق تعالیٰ کا محبوب بھی ہوگا، اور جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوگا وہ محبّ بھی ہوگا، یہ دونوں باتیں لازم وملزوم ہیں لیکن زہے سعادت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبوبیت کا تمغہ پہلے دیا اور محبّ ہونے کا تمغہ بعد میں دیا، محبوب پہلے نمبر پر اور محبّ بعد میں۔

یہ وہی بات ہے جو صحابہ کرام حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے، کہ ہم لوگ آئے تھے اور عمرؓ لائے گئے ہیں، ہم مریدین بن کر آئے تھے اور وہ مراد بن کر لائے گئے ہیں۔ تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محبّ بھی ہیں۔

مرتدین کے مقابلہ میں آنے والی جماعت کی تیسری اور چوتھی صفت یہ ذکر فرمائی گئی تھی کہ: ”اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ، اَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِيْنَ“ اہلِ علم جانتے ہیں کہ ”عزیز“ کا لفظ اُوپر کے لیے آتا ہے اور ”ذلیل“ کا لفظ نیچے کے لیے آتا ہے، چنانچہ ان کی صفت یہ ہوگی کہ ”وہ مؤمنوں کے لیے کمتر ہوں گے“ ظاہر ہے کہ کمتر اُوپر تو نہیں ہوتا، نیچے ہی ہوتا ہے،

صفحہ 98

مطلب یہ ہے کہ وہ اُوپر ہونے کے باوجود مؤمنوں کے سامنے سر جھکا کر رہیں گے، یعنی ان کی تواضع کا یہ عالم ہوگا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، علم وفضل کے باوجود، اپنی محبوبیت اور محبت کے باوجود وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے ساتھ بھی نیچا ہو کر یعنی تواضع کر کے رہیں گے اور اپنے آپ کو اُونچا نہیں کہیں گے۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلیفہ رسولؐ بننے کے بعد جو پہلا خطبہ دیا تھا، اس میں انہوں نے فرمایا تھا: لوگو! مجھے تمہارے معاملات کا والی بنادیا گیا ہے، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کرو۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بعض بڑی بوڑھیوں کا پانی بھر کے دیا کرتے تھے، جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنادیئے گئے تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارا پانی کون بھرا کرے گا؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اب بھی میں ہی بھروں گا! یہ تھی آپؓ کی تواضع، انکساری، عاجزی، نیازمندی اور مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو نیچا کرنا۔ ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ کا حال تھا۔ لوگوں کو دبدبۂ فاروقی تو یاد ہے لیکن انہیں حضرت فاروق اعظمؓ کی تواضع یاد نہیں ہے۔ ان کو فاروقیؓ دُرّہ تو یاد ہے کہ ہر وقت کندھے پر رہتا تھا، چنانچہ ان کے دبدبہ سے بڑے بڑے بھی تھر تھر کانپتے تھے، مگر ان کا خوف وخشیت یاد نہیں ۔۔۔ انہوں نے بھی پہلے خطبے میں فرمایا تھا: سنو! تم میں سے جو زیادہ طاقت ور ہے، وہ میرے نزدیک کمزور ہے، جب تک کہ میں اس سے کمزور کا حق وصول نہ کرلوں، اور جو تم میں سے کمزور ہے، وہ میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ اس کا حق ادا نہ کردوں۔

بلاشبہ یہ حضرات مؤمنوں کے سامنے اپنے آپ کو اتنا نیچا کرنے والے اور اتنا پست کرنے والے تھے، ایسا لگتا تھا کہ ان کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے، ان کی پوری زندگیوں میں ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا کہ کبھی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ یا سیدنا امیر المؤمنین حضرت علیؓ نے کسی مسلمان کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کیا ہو، اور اپنے آپ کو بڑا ظاہر کیا ہو، مؤمنوں کے لیے تو اتنا متواضع تھے، لیکن: ”أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِیْنَ“ کافروں کے مقابلہ میں ہمیشہ سر بلند ہوکر رہے، کبھی سر نیچا نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ وہ جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں: ”وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ“ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں

صفحہ 99

کریں گے، چاہے کوئی ہو۔ الحمدللہ! ہمیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہے، صرف ایک ذات پر نگاہ ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات! صرف اور صرف یہی غرض ہے کہ وہ راضی ہوجائے اور بس!

یاد رکھو! جہاد تین قسم کا ہوتا ہے:

اول: مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ”وَجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ“۔ قرآن کریم میں بار بار آتا ہے کہ مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے اور صحابہ کرامؓ نے مالی قربانیوں کے ایسے ریکارڈ قائم کیے اور ایسی مثالیں پیش کیں کہ کوئی ان کو دُہرا نہیں سکتا۔

دوم: زبان وقلم سے جہاد ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”یوزن یوم القيامة مداد العلما بدم الشهداء!“

(احیاء العلوم ج:1 ص:6، طبع بیروت)

ترجمہ: ”قیامت کے دن علما کے قلم کی سیاہی شہدا کے خون سے تولی جائے گی“۔ یعنی علما کے قلم کی روشنائی شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی، باطل کے مقابلہ میں قلم اور زبان کے ساتھ جہاد کرنا اور کبھی باطل کے ساتھ مصالحت نہ کرنا۔

سوم: تیسرا درجہ یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو بارگاہ الٰہی میں نذرانہ سر پیش کردینا اور جان کی قربانی پیش کردینا۔

اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے بندے تینوں قسم کے جہاد کے لیے تیار ہیں، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگرچہ انہیں کوئی: سر پھرا کہے، کوئی: مذہبی جنونی کہے، اور کوئی: سیاسی اغراض و مقاصد کا طعنہ دے، کوئی کچھ کہے، کوئی کچھ کہے، بلکہ جس کے منہ میں جو آئے کہے، مگر وہ: ”وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ“ کے مصداق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور یہ ان کا کمال نہیں بلکہ: ”ذَالِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ“ یہ اللہ کا فضل ہے دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں۔ ہاں! یہ ہر ایک کو نہیں ملتا، یہ دولت عظمیٰ ہر ایک کے نصیب میں کہاں؟ ”وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ“۔ اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

اس آیت کریمہ کے سب سے پہلے مصداق حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کی جماعت کے حضرات تھے، اس لیے کہ جب پورے عرب میں ارتداد کی آگ پھیل گئی تھی اور گیارہ قسم

صفحہ 100

کے قبائل مرتد ہو گئے تھے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فراست اور حضرت خالدؓ کی تلوار کے ذریعہ اس ارتداد کا قلع قمع کیا گیا۔ دو سال بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضور نبی کریم ﷺ سے جا کر ملتے ہیں اور ان کی بارگاہ میں سلام کرتے ہیں، تو گویا دو سال کے بعد غلام اپنے آقا کی خدمت میں اس طرح سرخرو ہوکر حاضر ہوتا ہے کہ پورا عرب دوبارہ اسلام کے زیرِ نگیں تھا اور صدیقی فوجیں فارس اور روم کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ خلاصہ یہ کہ آپؓ ہی پہلے مصداق تھے اور وہ چھ کی چھ صفات اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی ذات میں جمع کر دی تھیں۔

اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ارتداد کے فتنے ظاہر ہوتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے اور پیش گوئی کے مطابق ان مرتدین کے مقابلے میں بھی ایک ایک قوم کو لاتا رہا، مگر ان سب کے پہلے قائد، پیشوا اور امام حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، بعد میں آنے والے سب کے سب ان کے پیچھے نیت باندھ کر کے کھڑے نظر آتے ہیں۔

ایک بات کہنا چاہتا ہوں، توجہ سے سنو! وہ یہ کہ زندگی کے دو میدان ہیں، یا یوں کہو کہ آدمی اپنی زندگی میں جو محنت کرتا ہے، اس کے دو میدان ہیں۔

اول... دنیا میں دنیا کے لیے محنت کرنا، مثلاً: کسی کی پچاس، ساٹھ سال کی عمر تھی یا جتنی بھی مقدر تھی، وہ اس پوری کی پوری عمر میں دنیا کے لیے محنت کرتا رہا، لیکن جب وہ اس دنیا سے گیا تو سب کچھ یہاں چھوڑ گیا، اور خود خالی ہاتھ چلا گیا، ملازمتیں حاصل کیں، بڑے بڑے عہدے حاصل کیے، اُونچے اُونچے منصب حاصل کیے، اور اُونچی اُونچی پروازیں کیں، لیکن جاتے ہوئے کوئی چیز بھی ساتھ نہیں گئی، یہ ہے دنیا کی محنت دنیا کے لیے، جس کو قرآن کریم نے خسارہ کی محنت اور گھاٹے کا عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِيْنَ اَعْمَالاً“ (میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے زیادہ خسارے کے عمل والے کون سے ہیں؟ ”اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا“۔ وہ لوگ جن کی ساری محنت دنیا میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ تو زندگی کا ایک رُخ تو یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دنیا کے لیے محنت کی جائے، چونکہ یہ نقد ہے اور ادھار نہیں ہے، اور چونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی ہے کوئی غیب کی چیز نہیں، اس لیے میں اور آپ بلکہ ساری دنیا کا رُخ اس طرف ہے، اس لیے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

دوم... دوسری محنت اور محنت کا میدان یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کے لیے محنت کی

صفحہ 101

جائے، پھر آخرت میں بہت سی چیزیں ہیں، لیکن سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ“ کا اعزاز حاصل ہو جائے، یعنی اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور ہم اللہ سے راضی ہو جائیں، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے بارہ میں فرمایا: ”رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ“ اللہ ان سے راضی، اور وہ اللہ سے راضی۔ محنت کے لیے اللہ نے بہت سے راستے رکھے ہیں، یعنی دنیا کی محنت کے لیے بہت سے راستے ہیں، مثلاً: محنت کا راستہ تجارت بھی ہے، تعلیم بھی ہے، اور دوسرے شعبے بھی ہیں۔ اسی طرح آخرت کی محنت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سے شعبے رکھے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں اور میری بات کو یاد رکھو، دین کے جس شعبے میں جو آدمی کام کر رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لشکر کا سپاہی اور قابلِ احترام ہے۔ یہ معمولی سپاہی اور کانسٹیبل جو سرکاری وردی میں ہوتا ہے، اگر کوئی اس کی یا اس کی وردی کی توہین کرے، اس وردی کی توہین کرنے والا سرکاری مجرم کہلائے گا۔ اس لیے جتنے بھی اہلِ ایمان ہیں اور دین کے کسی بھی شعبے میں کام کر رہے ہوں، ان کو لائقِ احترام سمجھو۔ یہ بات دوسری ہے کہ جس طرح تجارت کے بعض شعبے زیادہ نفع بخش ہوتے ہیں اور بعض کم، اسی طرح ان کے بعض شعبے بعض سے اہم ہوتے ہیں اور بعض میں دوسرے کی نسبت منفعت زیادہ ہوتی ہے۔

قادیانیوں سے مقابلہ کرنا، قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ان چھ انعامات کے ملنے کی سند اور ضمانت ہے، جو شخص چاہے وہ سرکاری افسر ہو یا عام آدمی، تاجر ہو یا مزدور، وکیل ہو یا جج، مولوی ہو یا مسٹر، غرض جو شخص بھی یہ چاہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی معیت اور ان کی اقتدا میں اس آیت مبارکہ کی بشارت کا مستحق بن جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس زمانے میں آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی ذریتِ خبیثہ (قادیانیوں) کا مقابلہ کرے۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے کوشش کرنا ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے حصول کا یقینی ذریعہ ہے۔

فتنوں سے لڑنے والوں کا مقام

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ”فتنوں سے لڑنے والوں کا مقام“ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”حق تعالیٰ کا نظام قدرت و حکمت بھی عجیب ہے۔ بعض حضرات بزمِ جہاں میں دیر سے آتے ہیں، مگر ان کو نشست ”صدیقین اولین“ کے پہلو میں دی جاتی ہے۔ امام بیہقیؒ

صفحہ 102

نے ”دلائل النبوۃ“ میں حضرت محمدﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: انه سيكون فی آخر هذه الامۃ قوم لهم مثل اجر اولهم، یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر ویقاتلون اهل الفتن.

(مشکوٰۃ ص 584)

”اس امت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے جن کو اجر، امت کے پہلوں کا سا دیا جائے گا۔ یہ لوگ ”معروف“ کا حکم کریں گے، برائیوں سے روکیں گے اور اہل فتنہ سے لڑیں گے“۔

یعنی ”المعروف“ کا حکم کرنا، ”المنکر“ سے روکتے رہنا اور فتنہ پردازوں سے برسر پیکار رہنا، یہی تین وصف ایسے ہیں جو پچھلوں کو پہلوں سے ملا دیتے ہیں۔ بلاشبہ علم وفضل، طہارت وتقویٰ، زہد و تقدس وغیرہ ایمانی و انسانی اوصاف بھی نہایت گرانقدر ہیں، مگر ان سارے اوصاف سے آدمی مقبولیت عند اللہ میں اپنے ہمعصروں سے آگے نکل سکتا ہے، اور اپنے زمانہ کا مقتدا بن سکتا ہے، تاہم شمار اس کا اسی زمانے میں ہوگا جس میں وہ پیدا ہوا اور اس کے اجر و ثواب اور درجات کا پیمانہ بھی اسی دَور کے لحاظ سے متعین ہوگا۔ لیکن جو چیز قرونِ متاخرہ کے افراد کو قرونِ اولیٰ کی شخصیت بنا دیتی ہے، وہ صرف امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اہل فتن (قادیانیوں) سے جہاد ہے“۔

ایک اور موقع پر آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

”دنیا بھر کا ہر ہندو، ہر یہودی، ہر عیسائی اور ہر دہریہ، قادیانی مذہب سے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے، اس کے تحفظ کے لیے اپنی طاقت کی چھتری مہیا کرنا ضروری فرض سمجھتا ہے، اور قادیانیوں کی خاطر عالم اسلام کو ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا عزم رکھتا ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ ”الكفر ملۃ واحدۃ“ کفر کے تمام فرقوں کی باہمی لڑائی انھیں اسلام دشمنی کے مقصد پر جمع ہونے سے نہیں روکتی، تمام طاغوتی طاقتیں عالم اسلام کے خلاف قادیانی جماعت کی معاون ومحافظ ہیں اور قادیانی گروہ ان سارے طاغوتوں کی شطرنج کا مہرہ ہے، جسے اسلام کو زک پہنچانے کے لیے بہ لطائف الحیل حرکت میں لایا جاتا ہے۔

امت مسلمہ پر یہ فرض ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہو اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کے طلسم سامری کو پاش پاش کر ڈالے۔ اس فریضہ کا نام تحفظ ختم نبوت ہے، اور تاریخ شہادت دے گی کہ امت مسلمہ نے کسی بھی دور میں اس فرض سے کوتاہی نہیں کی۔

صفحہ 103

اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا اور آنجہانی مرزا قادیانی کی ذریت اور اس کی جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا، کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں؟“

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کے لیے خصوصی انعام

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا:

”نبی آخر الزماں ﷺ سے وابستگی اور آپ ﷺ سے محبت و تعلق ہر مسلمان کے لیے ایک بنیادی اعزاز و اکرام کا باعث ہے اور جتنا نبی اکرم ﷺ سے تعلق اور شرف میں اضافہ ہوگا اتنا ہی انسان کا رتبہ اور شرف اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی اور دنیا میں بھی زیادہ ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اتنے بڑے انعامات عطا ہوئے، اس کی کئی ایک وجوہات تھیں۔ ایک نبی آخر الزماں ﷺ کی زیارت اور صحبت و رفاقت اور دوسری حضور ﷺ سے خاص انس و تعلق، اسی بنا پر ان کو ”حزب اللہ“ (اللہ تعالیٰ کی جماعت) کا کہیں خطاب ملا، کہیں اولیاء اللہ کا خطاب عطا ہوا اور کہیں ”رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ“۔ (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے) اس تعلق اور انس کی برکت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معمولی درجے کے عمل کو بھی اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج کے ولی کامل اس سے ہزار گنا زیادہ بھی عمل کرلیں تو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوگی، اس لیے فقہا کرام نے تصریح کی ہے کہ ہزاروں اولیاء اللہ، مجدد اور قطب مل جائیں تو ایک ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہو سکتے، ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اگر کوئی شخص مماثلت کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کے بدلے وہ انعامات اور اعزازات عطا کریں جو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حاصل تھے تو اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین والا تعلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف وغیرہ کی تصریحات اور تجربات کے نچوڑ سے میں یہ کہتا ہوں کہ اس دور میں اگر حضور ﷺ سے صحابہ کرامؓ والا تعلق کوئی قائم کرنا چاہتا ہے تو وہ حضور ﷺ کے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنے آپ کو

صفحہ 104

وقف کر دے کیونکہ موجودہ دور میں اسلام کو عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، کمیونزم وغیرہ سے اتنا خطرہ نہیں، کیونکہ یہ کھلے دشمن ہیں۔ اس وقت عیسائی پوری دنیا میں ہزاروں مشنریوں کے ذریعے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے درپے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکے، لیکن قادیانیت اسلام کے لیے بڑا خطرہ ہے جو اسلام کی آڑ میں، اسلام کے لبادے میں، اسلامی طور و طریقہ اختیار کر کے مسلمانوں کے دلوں، دماغوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مسیلمہ کذاب اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کے نقش قدم پر چل کر مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دے رہے ہیں، وہ مسلمانوں جیسی عبادت گاہیں قائم کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کا کلمہ پڑھ کر اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں، وہ اسلام کی آڑ میں حضور ﷺ اور انبیا کرام علیہم السلام کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، وہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں کے دشمن ہیں، اس لیے ان کا مکمل بائیکاٹ کر کے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو روک کر مسلمان نبی ﷺ سے وابستگی قائم رکھ سکتے ہیں“۔

یہ بات تعجب خیز ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے اسلام کے خلاف جو اولین سازش تیار کی تھی، وہ عقیدۂ ختم نبوت ﷺ پر کاری ضرب تھی۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد جو افراد دعویٰ نبوت لے کر کھڑے ہوئے، الاستاذ جمیل مصری کی تحقیق کے مطابق ان سب کے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ تاریخ کے مستند حوالوں سے اپنی تحقیقی کتاب ”اثر اهل الكتاب في الحروب و الفتن الداخلية في القرن الأول“ سے ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب حضرات صحابہ کرام نے بھی اس کو گویا بھانپ لیا، خاص طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ”اینقص الدین و أنا حی“ کا تاریخی جملہ کہہ کر صحابہؓ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کی اہمیت خوب اچھی طرح سمجھیں اور منکرین ختم نبوت کے فتنوں کی سرکوبی کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔

مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ بیسویں صدی میں مسلمانوں کی گمراہیوں کو دیکھ کر دل برداشتہ ہو کر فرماتے تھے ”ردة ولا ابا بکر لها“ کہ ارتداد نے ایک بار پھر زور دار سر اٹھایا ہے مگر افسوس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ جیسا حوصلہ نہیں، ان کے جیسی حمیت و غیرت نہیں۔ واقعۃً حضرت نے درست کہا۔ منکرین ختم نبوت

صفحہ 105

ایسے ارتدادی فتنے کے خلاف جیسی ایمانی یلغار حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں تھی، آج بھی ویسی ہی کیفیت ہے تب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے مگر آج کوئی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو کیا ان کا عشر عشیر بھی نہیں، اللہ ہی مدد اور حفاظت فرمائے۔ آمین!

منکرین ختم نبوت سے بغض، ایمان کا حصہ

”انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو جذبے رکھے ہیں، ایک پسند کا، اور ایک نفرت و ناپسندیدگی کا۔ پسند کے جذبہ کے ذریعہ اُسے جو چیز پسند آئے وہ اس کی چاہت کرتا ہے اور جس چیز سے اسے نفرت ہو، وہ اس سے بھاگتا ہے، اور اس سے ایک درجہ کی عداوت رکھتا ہے، یہ انسان کی فطرت ہے۔ شریعت کی زبان میں اس جذبے کو کہتے ہیں: ”الحب فی اللہ والبغض فی اللہ“ ترجمہ: ”اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا، اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا“۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل، اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک منادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا دے گا اور اعلان کرے گا: ”این المتحابون فی؟“ یعنی وہ لوگ کہاں ہیں؟ کھڑے ہو جائیں وہ لوگ جو صرف میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعلان سن کر کچھ لوگ کھڑے ہو جائیں گے، ان کے بارے میں حکم ہوگا کہ جنت میں چلے جاؤ، اس کے بعد باقیوں کا حساب و کتاب ہوگا۔

کسی سے اللہ کی خاطر محبت رکھنے کو رسول اللہ ﷺ ”احب الاعمال“ فرماتے ہیں، یعنی سب سے محبوب ترین عمل، اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا عمل نہیں اور اسی کا دوسرا پہلو ہوگا اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا، ارشاد خداوندی ہے:

ترجمہ: ”بے شک تمہارے لیے خوبصورت نمونہ ہے، ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کی زندگی) میں۔ جب انہوں نے (برملا) کہہ دیا اپنی قوم سے کہ ہم بیزار ہیں تم سے اور ان معبودوں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا ہے یہاں تک کہ تم ایمان لاؤ ایک

صفحہ 106

اللہ پر مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا اس سے مستثنیٰ ہے کہ میں ضرور مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اور میں مالک نہیں ہوں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کسی نفع کا۔ (پھر کہا) اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری طرف ہی رجوع کیا اور تیری طرف ہی ہمیں پلٹ کر آنا ہے‘‘۔ (الممتحنہ: 4)

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے بہت اچھا نمونہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات میں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں میں کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم بری ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا، ہم تمہارے ساتھ کفر کرتے ہیں، یعنی انکار کرتے ہیں، اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کا مظاہرہ ہوگا اور یہ دشمنی اس وقت تک رہے گی جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لاؤ گے......! تو یہ نظریہ کہ کسی کو برا نہ کہو، نہایت غلط ہے، اور یہ حقیقت میں سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، اسلام اور کفر کی لکیروں کو مٹا دینے کا نام ہے کہ کفر و اسلام میں امتیاز تک نہ رہے، گویا نہ اسلام، اسلام رہے، نہ کفر، کفر رہے، نہ حق، حق رہے، اور نہ باطل، باطل رہے۔ جس شخص کو جتنی محبت رسول اللہ ﷺ سے ہوگی، ہماری اس کے ساتھ اتنی ہی محبت ہوگی، اور جس شخص کو آپ ﷺ کے ساتھ جتنی دشمنی ہوگی یا اس کے دل میں آپ ﷺ کی جتنی مخالفت ہوگی، ہمیں بھی اس کے ساتھ اتنی ہی دشمنی ہوگی۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی المرتضیٰ اور دیگر اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہمارا جذباتی تعلق صرف رسول کریم ﷺ کی نسبت سے ہے، اگر رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی نہ ہوتی تو نہ ہم ابوبکرؓ کو جانتے، نہ عمرؓ کو جانتے، نہ عثمانؓ کو جانتے، نہ علیؓ کو جانتے، نہ طلحہؓ، زبیرؓ کو اور نہ کسی دوسرے صحابیؓ کو۔ دوسری طرف ہمیں ابوجہل، ابولہب، عتبہ، شیبہ اور بڑے بڑے کافروں کے ساتھ بغض و عداوت اور دشمنی ہے صرف اس لیے کہ ان کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دشمنی تھی۔

یہاں اس سلسلہ کے دو واقعات ذکر کر دیتا ہوں، ایک یہ کہ ایک صاحب اکثر نماز میں سورۃ ”تبت یدا ابی لهب وتب“ پڑھا کرتے تھے، ایک بزرگ نے فتویٰ دیا کہ یہ زندیق ہے، اور فرمایا کہ: دراصل اس کے اس سورۃ پڑھنے کا منشأ یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کے چچا ابولہب کی برائی بیان کرنا چاہتا ہے، اور ابولہب کی برائی اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ وہ آپ ﷺ کا دشمن تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا۔ اس واقعہ سے یہ واضح ہو گیا

صفحہ 107

کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی عزیز کی محض اس لیے برائی کرنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا عزیز ہے، یہ درحقیقت آپ ﷺ سے دشمنی ہے، اس لیے اس نظریہ سے ”تبت یدا ابی لھب“ پڑھنے والا زندیق ہے، کیونکہ اس کا مقصد اور اس کا منشأ ...... نعوذ باللہ ...... رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ عالی پر عیب لگانا ہے۔

اسی طرح ایک اور ایوب صاحب ہیں، ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ میرے پاس آیا، اس کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں کہ یوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کا سارا کلام ہی محبوب ہے، مگر سب سے زیادہ مجھے ”تبت یدا ابی لھب“ محبوب ہے، اس لیے کہ اس میں حضور ﷺ کے دشمن کی برائی ہے۔ دیکھئے! یہاں بھی وہی بات ہے، مگر یہ بات خالص ایمان کی ہے، کیونکہ ”تبت یدا ابی لھب“ میں ابولہب کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل، رسول اللہ ﷺ کو حد سے زیادہ ایذاء پہنچاتے تھے، باوجود اس کے کہ آپ ﷺ کا قریب ترین عزیز اور سگا چچا تھا، مگر جہاں آپ ﷺ دعوت کے لیے پہنچتے، یہ بدبخت بھی وہاں پیچھے چلا جاتا اور کہتا: یہ میرا بھتیجا ہے، اور یہ غلط باتیں کرتا ہے۔ ...... نعوذ باللہ ...... اور اس کی بیوی ام جمیل، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی، تو شافع محشر ﷺ کی ذاتِ عالی سے عداوت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ابولہب اور اس کی بیوی کی سخت مذمت بیان فرمائی اور پوری سورۃ، سورۂ لہب کو نازل کیا۔

تو ایمان کی علامت یہ ہے کہ پیارے آقا ﷺ کے دوستوں سے دوستی رکھنا اور حضور ﷺ دشمنوں سے دشمنی رکھنا۔ چنانچہ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی کو برا نہ کہو۔ صحیح نظریہ یہ ہے کہ اچھے کو اچھا کہو، اور برے کو بُرا کہو، اور جس درجے کا بُرا ہو، اس کو اسی درجے کا بُرا سمجھو۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان، بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ کتنا ہی گناہگار سے گناہگار مسلمان کیوں نہ ہو، لیکن اس کے دل کے دریچے کو کھول کر دیکھو، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرا ہوا ہوگا۔ آپ ﷺ کی محبت کی وجہ سے محبت رکھنا اور بغض کی وجہ سے بغض رکھنا، یہ ایمان کا حصہ ہے۔

مسیلمہ کذاب نے جب حضور خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں خط بھیجا تو اس خبیث نے لکھا: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله“ یعنی مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے یہ خط محمد رسول اللہ کے نام ہے۔ گویا وہ حضور ﷺ کو ”محمد رسول اللہ“ مانتا تھا،

صفحہ 108

اور وہ حضور ﷺ کی نبوت کا منکر بھی نہیں تھا، لیکن رسالت کو اپنے لیے بھی ثابت کرتا تھا، اس لیے جواب میں آپ ﷺ نے لکھوایا:

(محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام)

کذاب کا معنی ہے: سب سے بڑا جھوٹا، چنانچہ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ مسلمان جب بھی مسیلمہ کا نام لیتے ہیں، اسے ”مسیلمہ کذاب“ کہتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ: ”آپ بھی رسول اللہ ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں“ لیکن قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ میں ”محمد رسول اللہ“ ہوں۔ لہٰذا دنیا میں ہماری دشمنی کا سب سے بڑا مظہر اگر ہوسکتا ہے تو وہ مرزا قادیانی ملعون دجال ہے، لہٰذا جس کو رسول اللہ ﷺ سے جتنی محبت ہوگی، اس کو قادیانیت سے اتنا ہی بغض ہوگا“۔

(حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی تقریر سے اخذ کردہ)

کلمۂ شہادت کی طرح عقیدۂ ختم نبوت بھی ایمان کا جزو ہے

حضرت زید بن حارثؓ اپنے ایمان لانے کا ایک طویل اور دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں آ کر مسلمان ہوگیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور مجھے آپ ﷺ کے پاس دیکھ کر کہا کہ اے زید! اٹھو اور ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بدلے میں ساری دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور نہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پھر انھوں نے حضرت محمد ﷺ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے محمد ﷺ! ہم آپ ﷺ کو اس لڑکے کے بدلے میں بہت سے اموال دینے کے لیے تیار ہیں، جو آپ ﷺ چاہیں طلب فرمائیں، ہم ادا کر دیں گے۔ مگر اس لڑکے کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسئلکم ان تشہدوا ان لا الہ الا اللہ وانی خاتم الانبیا ورسلہ وارسلہ معکم“ ترجمہ: ”میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں۔ وہ یہ کہ شہادت دو اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں انبیا و رسل کا ختم کرنے والا ہوں (اس اقرار و ایمان کے بدلے میں) زید کو تمھارے ساتھ کردوں گا“۔

(مستدرک حاکم ص 214 ج 3)

اس حدیث شریف میں آپ ﷺ نے عقیدۂ ختم نبوت کو کلمہ شہادت کی طرح

صفحہ 109

ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔ اسی لیے امام ابن نجیمؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب الاشباہ والنظائر کے ص 102 پر تحریر کیا: ”اذا لم یعرف الرجل ان محمداً ﷺ آخر الانبیا فلیس بمسلم لانه من الضروریات“ ترجمہ: ”جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں“۔ غرضیکہ ایمان کے لیے کلمہ کی طرح ختم نبوت کا بھی دل اور زبان سے اقرار ضروری ہے۔

کلمہ طیبہ: دونوں جزوں میں پوشیدہ حکمتیں اور عجائب وغرائب

غیر منقوط ہے۔

کلمہ طیبہ کا دوسرا جزو مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ بغیر نقطہ کے ہے جبکہ تمام انبیا ورسل کے کلموں کے دوسرے جزو میں نقطے ہیں مثلاً:

صفحہ 110

اشارہ اس طرف ہے کہ پہلا جزو بے نقطہ ہے، اس کا معنی یہ ہے اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں، دوسرا جزو بے نقطہ اس لیے ہے کہ آقائے مصطفےٰ ﷺ کے بعد اور کوئی محبوب نہیں۔

یعنی اللہ تعالیٰ پر ربوبیت ختم، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پر نبوت ختم۔ اللہ تعالیٰ پر الوہیت ختم، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پر رسالت ختم۔ اللہ رب العالمین ہے، محمد مصطفیٰ ﷺ رحمت للعالمین ہیں۔ اللہ رب العلیٰ ہے، محمد ﷺ محبوب مصطفیٰ ہیں۔ کروڑوں قیامتیں تو برپا ہوسکتی ہیں مگر اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں، حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں۔

خوب نام محمد ﷺ ہے اے مومنو!
جس میں نقطہ بھی رب کو گوارہ نہیں
خود خدا نے نبی ﷺ کو فرما دیا
جو تمہارا ﷺ نہیں وہ ہمارا نہیں

توحید و رسالت ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت

خدائے ذوالجلال والاکرام کی توحید کے بعد سرور عالم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت سب سے اہم ہے۔ جس طرح بغیر توحید کے (قلبی ولسانی) اقرار کے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، اسی طرح بغیر ختم نبوت کے حقیقی اعتراف کے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ بلکہ توحید کا اقرار شرعاً صرف اُسی کا معتبر ہے جو خاتم الانبیا ﷺ کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک مانے۔ ورنہ جو شخص یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک سمجھتا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری نبی مانتا ہوں مگر حضور پرنور ﷺ کے کہنے سے میں اللہ کو ایک نہیں سمجھتا، بلکہ یہ میری ذاتی تحقیق ہے کہ اللہ ایک ہے تو یہ شخص شرعاً مسلمان نہیں۔ مسلمان وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے کہنے سے اللہ کو ایک مانے۔

صفحہ 111

قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی روشنی میں امت کا اجماعی و اتفاقی مسئلہ ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا تو الگ رہا، حضور ﷺ کے بعد نبوت کی تمنا یا خواہش کرنا بھی کفر ہے۔ بزرگانِ دین کے صریح ارشادات اس بارے میں موجود ہیں۔ چنانچہ اعلام بقواطع الاسلام میں ہے۔ امام حلیمی نے فرمایا:

فى جميع ذلك والظاهر أنه لافرق بين تمنى ذلك باللسان او القلب.

ترجمہ: ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں یا حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کا تمنا کرنا کہ کسی طرح سے نبی ہو جاتا، ان صورتوں میں کافر ہو جائے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں کہ وہ تمنا زبان سے ہو یا صرف دل میں“۔

جب ایک شخص نبی ہونے کی تمنا کرنے پر کافر ہو جاتا ہے تو اندازہ لگائیں کہ نبوت کا دعویٰ کرنا کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا اور پھر مدعیِ نبوت پر ایمان لانا تو علیحدہ رہا، حضور نبی کریم ﷺ کے بعد مدعیِ نبوت سے معجزہ طلب کرنا بھی کفر ہے۔ اسی اعلام بقواطع الاسلام میں ہے۔

لها منه مجوز لصدقه مع استحالته المعلومة من الدين بالضرورة.

مدعیِ نبوت کی تکفیر تو خود ہی واضح ہے اور جو اس سے معجزہ طلب کرے، اس کا کفر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ قرآن وسنت سے واضح ہے کہ نبی ﷺ کے بعد دوسرا کوئی نیا نبی ممکن نہیں۔

سراج الامت حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک دوسرے شخص نے کہا کہ میں جا کر اس سے اس کی نبوت کی کوئی نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں، تاکہ اس کا صدق و کذب عیاں ہو۔ اس پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

ترجمہ: ”جو شخص اس سے (نبوت کی) علامت طلب کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ

صفحہ 112

حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی‘۔

(مناقب صدر الائمہ المکیؒ جلد 1 ص 161 طبع دائر المعارف، حیدر آباد دکن)

الغرض ختم نبوت کا مسئلہ اس طرح واضح اور بے غبار ہے کہ اس میں کسی قدر تامل کرنا بھی خالص کفر ہے۔ اب خود ہی خیال فرمائیے کہ مسئلہ ختم نبوت کس قدر اہم اور نازک ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی یا کسی بھی دوسرے مدعی نبوت کو نبی ماننا، مجدد ماننا، امام و پیشوا جاننا تو درکنار، اسے مسلمان سمجھنا، اس کے کفر میں شک کرنا بھی ایک مسلمان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ علمائے عرب وعجم کا ایسے کذاب و گستاخ لوگوں کے لیے صاف ارشاد ہے: من شک فی عذابہ و کفرہ فقد کفر.

نبی(ﷺ) کے بعد نبوت کا ادعا ہو جسے
ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے
منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ

جھوٹے مدعیانِ نبوت اور ان کے پیروکاروں کے خلاف صحابہؓ کرام کا جہاد

اسود عنسی

10ھ کا زمانہ تھا، عہد رسالت ﷺ کے آخری ایام تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے عامل یمن کے مختلف علاقوں پر مقرر تھے۔ باذان فارسی (ایرانی گورنر) کے قبول اسلام کے بعد وہ یمن کے گورنر بنا دیے گئے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا بیٹا شہر بن باذان فارسی اپنے باپ کی جگہ گورنر مقرر ہوا۔ اس کے ساتھ یمن کے مختلف علاقوں پر مختلف عامل اپنے اپنے کام اور ذمہ داریوں میں مصروف تھے کہ اچانک اسود عنسی ملعون نے یمن میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہ کاہن اور شعبدہ باز تھا۔ اس کے ساتھ دو شیطان رہتے تھے۔ ایک کا نام سحیق تھا اور دوسرے کا شقیق تھا۔ اسود عنسی کا نام عبہلہ بن کعب بن غوث تھا، اور یہ کہف حنان علاقہ کا رہنے والا تھا۔ ابتدا میں اس کے ساتھ سات سو جنگجو آدمی شامل ہو گئے تو اس خبیث نے حضور اکرم ﷺ کے مقرر کردہ عاملین کو اس طرح خط لکھا:

ترجمہ: اے ہم پر سرکشی کرنے والو! تم نے جو ہماری زمینیں لے لی ہیں، وہ ہمیں واپس

صفحہ 113

دے دو، کیونکہ ہم اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

اس کے بعد یہ شخص نجران کی طرف متوجہ ہوا تو دس دن میں اس پر قبضہ کر لیا، پھر صنعا کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں اس کے مقابلے پر شہر بن باذان آیا۔ دونوں میں لڑائی ہوئی۔ اسود غالب آیا اور شہر بن باذان کو شہید کر دیا اور اس کے لشکر کو توڑ کر رکھ دیا۔ صرف 25 دن میں اس نے صنعا پر قبضہ کر لیا۔ وہاں سے حضرت معاذ بن جبلؓ پیچھے ہٹ گئے، اور راستے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لے کر دونوں حضر موت کی طرف چلے گئے۔ حضور اکرم ﷺ کے دوسرے عامل، طاہر بن ابی ہالہ کے ہاں جمع ہو گئے، اور خالد بن سعید اور عمرو بن حزم واپس مدینہ چلے گئے۔

اب پورا یمن اسود عنسی کے قبضے میں آ گیا اور آگ کے شعلے کی طرح اس کی قوت بھڑک اٹھی۔ یمن کے اکثر لوگ اس کی وجہ سے مرتد ہو گئے۔ عمرو بن معدیکرب بھی اس فتنے کا شکار ہوئے، تو اسود نے ان کو اپنا نائب مقرر کر دیا۔ عمرو بن معدیکرب بعد میں مسلمان ہو گئے۔ اسود عنسی نے فیروز دیلمی کو ابنا پر امیر مقرر کیا اور داذویہ کو اس کا معاون مقرر کیا۔ شہر بن باذان کی بیوی کو زبردستی اپنے نکاح میں لے لیا۔ یاد رہے کہ فیروز دیلمی، داذویہ اور شہر بن باذان کی بیوی یہ تینوں اسلام پر قائم تھے لیکن اس شیطان نے ان کو اپنے کام میں زبردستی لگا رکھا تھا۔ اس طرح اس کا فتنہ انتہائی مضبوط ہوا۔ اسود کے دعویٰ سے اس کے قتل تک کل چار ماہ کا عرصہ تھا، جو اس فتنے کی کل عمر تھی۔

حضور اکرم ﷺ نے یمن کے اطراف میں جو علاقے مسلمانوں کے تھے اور ان کے عامل اسلام پر قائم تھے، سب کو خط لکھا جس کا مضمون تھا کہ سب مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں اور سب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسود عنسی کے قتل کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ چاہے میدان مقابلہ میں اس کو قتل کریں چاہے خفیہ طور پر۔ اس خط کو مدینہ منورہ سے ایک صحابی وبر بن تحنسؓ نے لے کر مختلف علاقوں کے عمال تک الگ الگ طریقوں سے پہنچایا۔ حضر موت میں حضرت معاذ بن جبل نے سب لوگوں کو اسلام پر جمع کر دیا تھا۔ نجران والوں نے بھی یہ خط پڑھا۔ حضرت فیروز دیلمیؓ اور ان کے احباب تک بھی یہ خط پہنچا۔ اس خط اور حضرت فیروزؓ وغیرہ کی محنتوں سے ایک فوری فائدہ تو یہ ہوا کہ اسود عنسی کی فوج کا جرنیل قیس بن عبد یغوث خفیہ طور پر مسلمان ہو کر حضرت فیروز دیلمی کا ہمراز بن گیا اور اسود کے قتل کی منصوبہ سازی

صفحہ 114

کرنے لگا۔ یہ خط جشیش ابن دیلمی تک بھی پہنچا۔ اس نے اسود عنسی کے قتل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بہر حال حضرت فیروز دیلمیؓ، داذویہ، ازاذ، قیس بن یغوث اور جشیش بن دیلمی کی صورت میں یہ ایسا گروہ تیار ہو گیا جو اسود عنسی کے گھر کے لوگ تھے۔ لیکن اس خبیث کے پاس شعبدہ بازی کا ایسا فن تھا کہ جس کے سامنے سب کاوشیں بے اثر تھیں۔ پھر عمومی قوت وہ شیطان حاصل کر چکا تھا لیکن اللہ نے بالآخر مدد کی اور مسئلہ ختم ہو گیا۔

حضرت فیروز دیلمیؓ نہایت نیک بخت اور خوش نصیب انسان تھے جنھیں خود پیارے آقا کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کو قتل کرنے کے لیے یمن بھیجا اور انھیں جنت الفردوس کی بشارت دی۔ 10 ربیع الاوّل 11ھ کو نبی کریم ﷺ حالت علالت میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کے مکان پر تشریف لائے اور یک شنبہ کے دن مرض نے شدت اختیار کر لی۔ آپ ﷺ نے انہی ایام علالت میں فرمایا: ”میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے۔ مجھے ان سے نفرت ہوئی تو ان پر پھونک دیا۔ معاً دونوں کنگن معدوم ہو گئے۔ ان دو کنگنوں کی تعبیر یہی دو دجال ہیں کہ میں جن کے درمیان میں ہوں۔ ایک مسیلمہ یمامہ والا اور دوسرا اسود عنسی۔ آپ ﷺ نے انہی ایام علالت میں وحی الٰہی سے اطلاع پا کر یہ بھی فرمایا کہ ”اسود عنسی فلاں روز اور فلاں مقام پر قتل کیا جائے گا!“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اسود عنسی کے خلاف فارسیوں کا جو گروہ تیار ہو گیا تھا، انھوں نے آپس میں مل بیٹھ کر مشورہ کیا۔ ابھی مشاورت کا عمل مکمل ہوا تھا کہ اسود کے شیطان نے جا کر اسود کو پورے منصوبے سے آگاہ کر دیا۔ اسود عنسی نے اپنے جرنیل قیس کو بلایا اور کہا اے قیس! یہ کیا کہتا ہے؟ قیس نے کہا کہ کیا کہتا ہے؟ اسود نے کہا یہ کہتا ہے: ”تم نے قیس کی طرف توجہ کی، اس کا اکرام کیا۔ جب وہ مکمل طور پر تجھ پر حاوی ہوا اور عزت میں تیرے جیسا بن بیٹھا تو اس نے دشمن کی چال چلی اور دل میں چھپا کر تیری حکومت کا ارادہ کر لیا۔ یہ کہنے والا کہتا ہے اے اسود! اے اسود! اے تیرا ناس ہو! اے تیرا ناس ہو! جاؤ اور قیس کی گردن اڑاؤ، ورنہ وہ تجھے پہلے قتل کر دے گا“۔

قیس: تیری عزت و عظمت کی قسم! بخدا! میرے دل و دماغ میں تو آپ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں کہ میں آپ کے بارے میں ایسا خیال بھی کروں۔

صفحہ 115

اسود: میرا آپ کے متعلق یہ گمان نہیں کہ آپ بادشاہ کے سامنے جھوٹ بولتے ہوں۔

قیس باہر جا کر اپنے ساتھی فیروز اور داذویہ سے مشورہ کرنے لگا اور اندر کی گفتگو کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب کو خطرہ لاحق ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ وہ لوگ مشورہ کر ہی رہے تھے کہ اسود کا قاصد آیا اور سب کو اسود کے ہاں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ وہ اسود کے پاس گئے تو اسود اور ان کے درمیان یہ گفتگو ہوئی:

اسود: کیا میں نے تم سب کو دوسروں سے کہیں زیادہ عز وشرف سے نہیں نوازا؟

فارسی گروہ: جی ہاں مقام دیا ہے۔

اسود: پھر تمھارے خفیہ مشوروں کی اطلاعات کیوں آ رہی ہیں؟

گروپ: اس دفعہ ہمیں معاف فرمائیں!

اسود: تم آئندہ ایسی باتیں مت کرو تو میں معاف کر دیتا ہوں۔

قیس کہتے ہیں کہ پھر ہم وہاں سے باہر آ گئے لیکن اسود کو ہمارے بارے میں سخت شبہ لاحق تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک ہمارے پاس عامر بن شہر، امیر ہمدان، ذی ظُلم اور ذوالکلاع وغیرہ یمن کے امیروں کے خطوط آئے، جس میں سب نے یہ کہا تھا کہ ہم تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں۔ تم اسود عنسی کا کام تمام کر دو۔ ہم نے جواب دیا کہ ابھی ہم منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تم ذرا رُک جاؤ۔

ازاذ، کردار کے اعتبار سے نیک اور غیور خاتون تھی، جو شہر بن باذان شہید کی بیوہ تھی۔ اس کے شوہر کو اسود نے قتل کیا اور اس سے زبردستی نکاح کر لیا تھا۔ یہ فیروز دیلمی کی چچا زاد بہن تھی۔ یہ نیک سیرت خاتون، اسود کے گھر میں دین اسلام پر قائم تھی اور اسود کی جانی دشمن تھی۔

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ہم سخت پریشان تھے، تو میں اس خاتون سے اسود کے گھر جا کر ملا۔

قیس: اے میرے چچا کی بیٹی! آپ کو معلوم ہے کہ اس شخص کا فتنہ پھیل گیا ہے۔ اس نے تیرے شوہر کو قتل کیا اور تیری قوم کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کی بے حرمتی کی۔ اب بتاؤ، آپ کے ہاں اس شخص کا علاج کیسا ہوگا؟

ازاذ: کیا آپ لوگ اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟

قیس نے کہا۔ ہاں وہ ملک بدر ہو جائے یا قتل ہو جائے۔ ہم ہر بات کے لیے تیار ہیں۔

ازاذ: ہاں۔ اس کا قتل کرنا ہی بہتر ہے۔ خدا کی قسم! یہ انتہائی مبغوض شخص ہے۔ یہ

صفحہ 116

اللہ تعالیٰ کی پروا کرتا ہے اور نہ کسی انسان کی۔ جب تم قتل کا ارادہ کر لو، تو پہلے مجھے بتاؤ۔ قیس کہتا ہے کہ جب میں باہر نکل آیا تو فیروز اور داذویہ میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہم آپس میں ابھی اکٹھا نہیں ہوئے تھے کہ اسود نے ہم سب کو بلایا۔ ہم اس کے پاس گئے اور یہ گفتگو ہوئی۔

اسود: میں تمھیں سچ بتاتا ہوں اور تم لوگ میرے ساتھ جھوٹ کا معاملہ کرتے ہو۔ یہ کہنے والا مجھے کہتا ہے : اے تیرا ناس ہو ! اے تیرا برا ہو ! اگر تو نے قیس کے ہاتھ نہ کاٹے تو یہ تیری گردن کاٹ ڈالے گا۔

قیس : یہ کہنے والا صحیح نہیں کہتا ہے۔ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو آپ کے سامنے میرا مرنا زیادہ بہتر ہے۔ ہر روز کٹ کٹ کر مرنے سے ایک ہی دن مرجاؤں گا۔ چلو مجھے قتل ہی کر دو۔

اسود ترس کھا کر کہنے لگا۔ یہاں سے نکل جاؤ۔

قیس وہاں سے باہر آ گیا اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے لگا اور کہا کہ بس اب کارروائی کرو۔ یہ لوگ ان باتوں میں تھے کہ اسود عنسی باہر آ گیا۔

اسود : اے فیروز ! تجھ سے جو باتیں مجھ تک پہنچتی ہیں ، کیا وہ حقیقت نہیں؟ میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ تجھے بھی ذبح کر کے ان جانوروں کے ساتھ ملا دوں ۔ یہ کہہ کر اسود نے تلوار کھینچ لی۔

فیروز : آپ نے ہمیں اپنا سسرال بنایا۔ پھر فارسیوں میں ایک مقام دیا۔ اگر آپ نبی نہ ہوتے تو ہم اپنی ہمدردیاں آپ سے وابستہ نہ کرتے ۔ حالانکہ اب تو ہم دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے ہیں تو آپ کو اس قسم کی جو باتیں پہنچتی ہیں ، آپ ان پر اعتبار نہ کریں۔

اسود : اچھا، اب میں آپ سے راضی ہو گیا ہوں۔ اب آپ گوشت کو اہل صنعا پر تقسیم کر دیں۔ چنانچہ فیروز وہ گوشت تقسیم کر کے پھر جلدی سے اسود کے پاس گیا، دیکھا کہ وہاں ایک شخص اسود کو ابھار رہا ہے کہ فیروز کو ضرور قتل کیا جائے۔ اسود نے کہا۔ ہاں ! کل ہی میں اس کو قتل کروں گا بلکہ ان کے ساتھیوں کو بھی قتل کروں گا۔ آپ ان لوگوں کو کل میرے پاس لے آئیں۔

فیروز نے جا کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ یہ سب کچھ طے ہو گیا ہے۔ کل آنے سے پہلے پہلے کچھ کرو۔ سب نے طے کر لیا کہ اسود کی بیوی ازاذ کے ذریعہ سے کوئی

صفحہ 117

منصوبہ بنایا جائے تو فیروز دیلمی ان کے پاس گئے۔ ازاذ نے کہا کہ اسود پر سخت پہرا رہتا ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں پہرے دار نہ ہو۔ البتہ ایک کمرا گھر کا ایسا ہے کہ اس کے باہر کی جانب سے کوئی پہرے دار نہیں ہے۔ آپ لوگ باہر سے اس کمرا کی دیوار میں نقب لگا کر اندر آ جائیں۔ میں کمرے میں چراغ اور اسلحہ رکھ دوں گی۔ اس طرح دوسرے کمرے میں اسود کذاب تک آپ لوگ پہنچ سکیں گے۔ چنانچہ اس مشورہ کے بعد جب فیروز باہر آئے تو اسود نے ان کو دیکھ لیا اور پھر چیخ کر کہا کہ تجھے میرے گھر اور میری بیوی کے پاس آنے کی کس نے اجازت دی ہے؟ یہ کہہ کر اس نے فیروز کی گردن مروڑنے کی کوشش کی۔ قریب تھا کہ یہ دیوہیکل فیروز کو قتل کر دیتا لیکن اندر سے ازاذ آئی اور کہا کہ یہ میرا چچا زاد بھائی ہے، ملنے کے لیے آیا تھا۔ اسود نے کہا: چپ ہو جاؤ! چلو میں نے تیری وجہ سے اس کو معاف کر دیا۔ فیروز اپنے ساتھیوں کے پاس چلا گیا اور کہا جان بچاؤ جان بچاؤ! اب سب حیران ہو گئے کہ کیا کرنا چاہیے؟ ازاذ نے پھر ان کو پیغام بھیجا کہ پریشان مت ہو اور جو منصوبہ بنایا ہے، اس کو عملی جامہ پہناؤ۔ اب فیروز دوبارہ اپنی بہن کے پاس گیا اور منصوبہ مضبوط کیا۔ دیوار کا کچھ حصہ اندر سے اکھیڑ دیا تاکہ باہر سے نقب زنی میں آسانی ہو، واپسی پر پھر اسود نے ان سب ساتھیوں کو دیکھ لیا اور سب کو ڈانٹ کر ہٹا دیا۔

اب رات کا سناٹا چھا گیا۔ اسود کذاب نے خوب شراب پی اور مست ہو کر سو گیا۔ فیروز دیلمی اپنے ساتھیوں کے ساتھ نقب لگانے میں کامیاب ہو گئے، اندر آ کر اسلحہ اٹھایا، چراغ جلایا اور اسود کذاب کے کمرے میں داخل ہو گئے۔ اسود ریشمی بستر پر اس حالت میں سو رہا تھا کہ اس کی بیوی پاس بیٹھی تھی۔ جوں ہی فیروز قریب آئے تو اسود آہٹ سے اٹھ بیٹھا اور کہا: مالی ومالک یافیروز؟ اے فیروز میرا اور تیرا کیا معاملہ ہے؟

اب فیروز گھبرا گئے کہ اگر واپس آ جاؤں گا تو مجھے قتل کر دیں گے اور اس عورت کو بھی مار دیں گے۔ یہ سوچ کر فیروز دیلمی نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ اونٹ کی طرح قوی ہیکل تھا لیکن فیروز نے اس کی گردن توڑ دی اور اس کی کمر میں گھٹنے دبا کر اس کو نیم بے ہوش کر دیا اور پھر باہر نکلنے لگے تاکہ باقی ساتھیوں کو اطلاع کر دیں۔ ازاذ نے کہا کہ کہاں جا رہے ہو مجھے چھوڑ کر؟ آپ نے فرمایا، ساتھیوں کو اطلاع دینے جا رہا ہوں۔ چنانچہ وہ سب لوگ آ کر اسود کا سر کاٹنے لگے۔ لیکن اس کے شیطان نے اس کو پھر حرکت دے دی۔ اب تو اسود اُچھل رہا

صفحہ 118

تھا اور کسی کے قابو میں نہیں آ رہا تھا حتی کہ دو ساتھی اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے۔ اس کے منہ میں چادر ٹھونس دی اور عورت نے اس کو سر کے بالوں سے پکڑ لیا اور تیسرے ساتھی نے اس کو ذبح کر کے سر تن سے جدا کر لیا۔ اسود اتنا شدید بڑبڑا رہا تھا، جیسا کہ ایک طاقت ور بیل پوری طاقت سے ڈکرا رہا ہو۔ باہر چوکیداروں اور پہرے داروں میں ہلچل مچ گئی اور انھوں نے کہا کہ ماھذا ماھذا کیا ہو رہا ہے؟ اسود کی بیوی نے کہا۔ نبی یوحى الیه یعنی نبی کو وحی آ رہی ہے۔ وہ لوگ واپس ہو گئے اور اسود کذاب ٹھنڈا ہو گیا۔ اس طرح ایک خبیث ملعون کا خاتمہ ہو گیا اور مخلوق خدا اس کے فساد سے بچ گئی۔

اب قیس، فیروز اور داذویہ مشورہ کے لیے بیٹھ گئے کہ اس قتل کا عام اعلان کیسے کیا جائے۔ چنانچہ سب نے اتفاق کر لیا کہ صبح کے وقت اپنے خاص اسلامی شعار کا اعلان مسلمانوں کے سامنے کر دیں گے اور اسود کے قتل کا اعلان ہو جائے گا۔ چنانچہ صبح کے وقت قیس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر خاص اسلامی شعار سے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور پھر صبح ہی کے وقت حضرت وبر بن یحنس نے اذان دے دی اور فرمایا اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰه وَاَنَّ عبهلة كَذَّاب یعنی حضور اکرم ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسود عنسی عبہلہ جھوٹا ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے اسود کا سر لوگوں کے سامنے میدان میں پھینک دیا۔ اب تو اسود کے ساتھی جان بچانے کی غرض سے دُم دبا کر بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے کسی کو قید کیا اور کسی کو قتل کر دیا۔ اس طرح اسلام کا بول بالا ہو گیا۔ کلمۂ اسلام غالب آیا اور کلمہ کفر مٹ گیا۔ یمن پر حضور اکرم ﷺ کے جتنے عامل تھے، وہ سب واپس اپنے اپنے مقامات پر آ گئے اور چار ماہ کی اسودی نبوت اور فراڈ بھرا فتنہ فرو ہو گیا۔

ادھر آسمان سے بذریعہ وحی حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اسی رات اطلاع دے دی، جس رات اسود قتل ہو گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرات صحابہ کرامؓ کو اس طرح خوش خبری سنائی:

”آج رات اسود عنسی کو ایک مبارک خاندان کے ایک مبارک شخص نے قتل کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا۔ وہ کون شخص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فیروز فاز فیروز وہ کامیاب شخص فیروز ہے فیروز“۔ (البدایہ والنہایہ ج 6 ص 312)

اس اطلاع کے ایک دن بعد آپ ﷺ کا وصال مبارک ہو گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے

صفحہ 119

بتا دیا کہ دوسرے جھوٹوں اور ان کے فتنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس پوری کارروائی سے امت محمدیہ ﷺ کو جو سبق ملا، وہ محتاج بیان نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے اس کذاب کے قتل کا حکم خود صادر فرمایا۔ حضرات صحابہ کرامؓ نے اس کے قتل میں کٹھن تکلیفیں اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان محنتوں کے ثمر میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کر کے اس مردود کے اپنے گھر میں ہی اس کے قتل کا سامان کر دیا اور یوں فتنۂ ارتداد کا ایک بہت بڑا دروازہ بند ہو گیا۔ اگر مسلمان جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو ’’گربہ کشتن روز اوّل‘‘ کے مصداق ابتدا میں ہی ختم کر دیتے تو یہ فتنہ اپنی موت آپ ہی مر چکا ہوتا۔ یوں پھر نہ تقریروں کی ضرورت تھی نہ تصانیف اور نہ وعظ و بیان اور احتجاج کی ضرورت تھی اور نہ آج تک یہ فتنہ اس طرح زندہ رہتا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے!

طلیحہ اسدی

طلیحہ اسدی، حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں ہی مرتد ہو گیا تھا۔ یہ شخص انتہائی بہادر تھا اور ایک ہزار آدمیوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ 9 ہجری کو قبیلہ اسد کے وفد میں طلیحہ نے آ کر اسلام قبول کیا اور جب واپس گیا تو مرتد ہو گیا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کے لیے حضرت ضرارؓ بن ازور کو بھیجا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد اس شخص کا معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا۔ عیینہ بن حصن فزاری اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہو کر طلیحہ کے ساتھ مل گیا اور اس کا دستِ راست بن گیا۔

طلیحہ اسدی، مرزا قادیانی کی طرح احادیث کی تاویلات کر کے امتی نبی ہونے کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ میرے بعد نبی ’’لا‘‘ ہوگا۔ یعنی ایسا شخص نبی ہوگا جس کا نام ’’لا‘‘ ہوگا اور میرا ایک نام ’’لا‘‘ بھی ہے۔ پس میں نبی ہوں۔ طلیحہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس فرشتہ آتا ہے۔ طلیحہ نے نماز سے سجدہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان مرتدین کو جب پتا چلا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فوج آ رہی ہے تو انھوں نے بزاخہ میں تمام قبائل اسد و غطفان وفزارہ وعبس اور ذبیان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ کیا اور سب نے مل کر ایک متحدہ فوج تشکیل دی تاکہ خالدؓ بن ولید کا مقابلہ کر سکیں۔ عیینہ بن حصن فزاری نے اس تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور پھر کہا۔ قسم بخدا! معاہدین میں سے ایک نبی کو ماننا مجھے قریش کے نبی سے زیادہ محبوب ہے۔ محمد ﷺ کا وصال ہو چکا ہے۔ اب صرف طلیحہ ہی نبی ہے۔

صفحہ 120

اس مضبوط قوت کے جمع ہونے کے بعد وہاں سے حضور اکرمؐ کے مقرر کردہ لوگ مدینہ منورہ واپس آئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تمام احوال سے آگاہ کیا۔ حضرت خالدؓ نے الحرب خدعة کے اصول کے تحت عوام الناس کو بتایا کہ وہ خیبر کی طرف جا رہے ہیں اور آپ نے بزاخہ کی طرف اپنے پُر وقار لشکر کو روانہ کر دیا۔ قبیلہ اسد اور غطفان کے درمیان ایک تیسرا قبیلہ طے بھی رہتا تھا۔ ان لوگوں کے ارتداد کی خبریں بھی حضرت صدیق اکبرؓ کو پہنچ رہی تھیں۔ حضرت خالدؓ نے چاہا کہ پہلے کارروائی قبیلہ طے کے خلاف کی جانی چاہیے۔ لیکن خوش قسمت عدی بن حاتمؓ نے آ کر حضرت خالدؓ سے درخواست کی، اور اسی طرح حضرت صدیق اکبرؓ سے اجازت طلب کی کہ مجھے اپنی قوم کو سمجھانے کے لیے کچھ مہلت دی جائے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے ان کو حضرت خالدؓ کے لشکر سے پہلے روانہ کر دیا اور حاتم طائی کا یہ سردار بیٹا اپنی قوم بنی طے میں دو بڑے قبیلوں جدیلہ اور غوث کے پاس پہنچ گیا۔ معلوم ہوا کہ طلیحہ نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے اور قریباً ڈیڑھ ہزار آدمی بزاخہ میں جمع ہیں۔ حضرت عدی بن حاتم نے لوگوں کو سمجھایا، وہ کہنے لگے کہ ہم ابوالفصیل کی اطاعت نہیں کریں گے۔ یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ابوالفصیل کہا۔ مطلب یہ ہے کہ اونٹوں کے چھوٹے بچوں کا مالک۔ حضرت عدیؓ نے فرمایا۔ بدبختو: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت خالد کو ایسے لشکر کے ساتھ روانہ کیا ہے، وہ تم پر چڑھ آئے تو پھر ابوبکرؓ ابوالفحل الاکبر بن جائے گا، یعنی بڑے اونٹوں کا مالک۔ بہر حال ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے لوگ طلیحہ کے پاس ہیں۔ اگر ہم اسلام کی طرف واپس آنے کا اعلان کرتے ہیں تو طلیحہ سب کو قتل کر دے گا۔ آپ صبر کریں کہ وہ لوگ کسی طریقہ سے واپس آ جائیں۔ چنانچہ بعد میں وہ لوگ وہاں سے واپس آگئے تو جدیلہ اور غوث اور طے کے باقی خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس طرح حضرت خالدؓ ایک بڑی مہم سے فارغ ہو گئے بلکہ طے کے ایک ہزار بہادر نوجوان بھی طلیحہ کے خلاف لشکر اسلام میں شامل ہو گئے۔ اب صرف بزاخہ میں اسد و غطفان و فزارہ وغیرہ کے خلاف کارروائی رہ گئی۔

قبیلہ جدیلہ اور غوث کے ڈیڑھ ہزار افراد طلیحہ سے کٹ گئے اور مسلمانوں کے ساتھ آ کر مل گئے۔ اس سے طلیحہ کا بڑا نقصان ہوا تھا۔ مناسب تو یہ تھا کہ وہ پیچھے ہٹ کر سرکشی چھوڑ دیتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ مزید سرکشی پر اتر آیا۔ ادھر اس کے دست راست عیینہ بن حصن نے لشکروں کو منظم کیا اور مقابلہ و مقاتلہ کے لیے تیار ہو گیا۔ اس شخص کا لقب احمق مطاع

صفحہ 121

تھا، یعنی بے وقوف سردار۔ یہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ کا وصال ہو گیا ہے، اب طلیحہ نبی ہے۔ اب یہاں مسئلہ صرف زکوۃ دینے کا نہیں رہا تھا، بلکہ ایک نیا مذہب کھڑا ہو گیا تھا اور ایک نئی بغاوت قائم ہو گئی تھی اور دین اسلام کو مٹانے کی فکر ہو رہی تھی۔ اب جنگی لحاظ سے ضرورت اس امر کی تھی کہ بزاخہ میں احمق مطاع کی اس عظیم الشان طاقت سے پہلے نمٹا جائے۔ اسی وجہ سے حضرت خالدؓ کو ان پر چڑھائی کے لیے بھیجا گیا تھا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے انھیں حکم دیا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کے ہر طریقے کے ساتھ قتل کر کے نشانِ عبرت بنا دو!

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس جو قوت تھی، وہ منتشر تھی کیونکہ جزیرۂ عرب میں تقریباً ہر جگہ فوج مصروف تھی۔ یہ پوری قوت ستر ہزار تک مشکل سے پہنچتی تھی اور بزاخہ پر کارروائی کے لیے حضرت خالدؓ کے پاس زیادہ سے زیادہ دس ہزار کی فوج تھی، جبکہ دشمن کی چالیس ہزار فوج صرف بزاخہ میں تیار بیٹھی تھی۔ بنو اسد کو میسر ہر قسم کی آرام و سہولت، حفاظت اور مثالی شجاعت کے پیش نظر حضرت خالدؓ نے انتہائی احتیاط سے قدم اٹھایا۔ دس ہزار مسافروں اور دُور دراز سے آئے ہوئے تھکے ماندے مجاہدین کا مقابلہ چالیس ہزار جنگجوؤں اور تجربہ کاروں سے تھا۔ اس لحاظ سے حضرت خالدؓ نے دو پہاڑوں اور مضبوط و محفوظ مقامات آ جاء اور سلمیٰ پر اپنی فوج اتار دی اور پوزیشن سنبھال لی۔

حضرت خالدؓ نے حالات کی نزاکت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اس لیے آپ نے حالات معلوم کرنے کے لیے اپنا ایک جاسوسی دستہ بزاخہ کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ دو مشہور صحابیؓ تھے۔ ایک کا نام عکاشہ بن محصنؓ تھا، جن کو حضور اکرم ﷺ نے بلا حساب و کتاب جنت کی خوش خبری سنائی تھی اور دوسرے کا نام ثابتؓ بن اقرم انصاری تھا۔ یہ دونوں بہادر صحابہؓ اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر حالات کا کھوج لگانے کے لیے آگے بڑھے۔ بزاخہ میں دشمن غافل نہیں تھا۔ ان کا سردار ایک عیار، مکار، ہوشیار اور بہادر شخص تھا۔ یعنی خود طلیحہ جو ایک ہزار کا اکیلے مقابلہ کرتا تھا، اس نے بھی خالدؓ کی طرح اپنا ایک جاسوسی دستہ لشکر اسلام کے احوال معلوم کرنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ دونوں جاسوسی دستے اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو گئے۔ اب لڑائی کے سوا کوئی دوسری صورت نہ تھی، لہٰذا حضرت عکاشہؓ نے طلیحہ کے بھائی اور اس کے ماتحت جاسوسی دستے پر حملہ کر دیا۔ دستے کا کمانڈر طلیحہ کا بھائی مارا گیا اور باقی لوگ واپس بزاخہ بھاگ نکلے۔ جب طلیحہ کو اپنے بھائی کے قتل ہونے کا پتا چلا تو غصہ سے بھر گیا اور

صفحہ 122

آگ بگولا ہو کر اپنے مشہور گھوڑے پر سوار ہو کر اسلامی دستے کا تعاقب شروع کر دیا اور پھر حضرت عکاشہؓ اور ثابتؓ بن اقرم پر قابو پا کر شدید لڑائی کے بعد دونوں کو شہید کر دیا۔ مسلمانوں کو اس ہزیمت پر بڑا رنج ہوا۔ کیونکہ یہ دونوں اعلیٰ درجے کے بہادر کمانڈر تھے۔ میدان بدر میں جب حضرت عکاشہؓ کی تلوار ٹوٹ گئی تھی تو حضور اکرم ﷺ نے ان کو کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی تھی جو فوراً تلوار بن گئی۔ طلیحہ ان دونوں کے قتل پر فخر کرتا تھا۔

حضرت خالدؓ، لشکر اسلام کو تیار کر رہے تھے، چونکہ تھکے ماندے تھے، کچھ آرام بھی مطلوب تھا۔ ادھر سے حضرت عدیؓ بن حاتم نے پیغام بھیجا کہ کچھ صبر کریں۔ میں قبائل طے کا ایک بھر پور لشکر تیار کر رہا ہوں۔ چنانچہ وہ عظیم لشکر بھی شاہینوں کی طرح حضرت خالدؓ کے ہاں پہنچ گیا۔ ادھر طلیحہ کا زبردست لشکر مکمل تیار ہو گیا۔ ایک جنگی دستے کی قیادت خود طلیحہ کر رہا تھا۔ دوسرے کی قیادت اس کا بھائی سلمہ کر رہا تھا۔ تیسرے کی قیادت عیینہ بن حصن کر رہا تھا۔ چوتھے کی قیادت قرہ نامی جرنیل کر رہا تھا۔

حضرت خالدؓ نے اسلامی لشکر کے جانبازوں کو بزاخہ کی طرف بڑھنے کا اشارہ دیا تو اسلام کے یہ شاہین ایک دم بزاخہ سے ایک میل کے فاصلے تک قریب پہنچ گئے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے حکم کے مطابق حضرت خالدؓ، طلیحہ کو دعوت اسلام دینے کے لیے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اس کے قریب گئے اور فرمایا کہ طلیحہ کو بات کرنے کے لیے بلاؤ! طلیحہ کے پیروکاروں نے کہا کہ ہمارے نبی کے نام میں تصغیر کیوں استعمال کرتے ہو وہ تو طلحہ ہے۔ اتنے میں طلیحہ آ گیا۔ حضرت خالدؓ نے اس سے کہا کہ تم نے اسلام چھوڑا ہے، اب دوبارہ اسلام میں داخل ہو جاؤ، ہم تم کو چھوڑ دیں گے۔ طلیحہ نے نہایت متکبرانہ انداز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ میں نبی اور رسول ہوں۔ میرے پاس فرشتہ آتا ہے جس کا نام ذوالنون ہے۔ جس طرح محمد (ﷺ) کے پاس جبرئیل آیا کرتا تھا۔

ایک دفعہ طلیحہ سے کسی نے پوچھا تھا کہ اپنی وحی تو سناؤ تو وہ کہنے لگا:

ملکنا العراق والشام یعنی کبوتر اور قمری اور لال بیگ وغیرہ کی قسم! جنھوں نے تم سے کئی سال پہلے روزے رکھے۔ یقیناً ہماری حکومت عراق اور شام تک پھیلے گی۔

(اندازہ لگائیں یہ تھا معیار ”آسمانی کلام“ کا!)

صفحہ 123

طلیحہ نے جب حضرت خالدؓ کی دعوت ٹھکرا دی تو خالدؓ واپس معسکر تشریف لائے اور رات بھر لشکر کو تیار کیا اور سحری کے وقت بڑا جنگی جھنڈا زیدؓ بن الخطاب کے ہاتھ میں دیا۔ انصار کا جھنڈا قیس بن شماس کے حوالے کیا۔ بنی طے کا جھنڈا حضرت عدیؓ کو دیا اور خود پیدل ہو کر لشکر کو درست کرنے لگے۔ ادھر طلیحہ نے عمومی قیادت عیینہ بن حصن کے ہاتھ میں دے دی اور خود چالیس بہادر نوجوانوں کے پہرے میں جا کر خیمے میں بیٹھ گیا اور کہا کہ میں ذوالنون کی وحی کا انتظار کر رہا ہوں۔

حضرت خالدؓ نے اپنی فوجوں کو عمومی حملہ کا حکم دے دیا۔ لشکر اسلام کے سپاہیوں نے چالیس ہزار کے لشکر پر یورش کر دی۔ لیکن طلیحہ کے لوگ اس طرح ڈٹ گئے اور عیینہ بن حصن نے اس طرح بہادری دکھائی کہ لشکر اسلام کے جوان سست پڑ گئے اور بکھرنے لگے۔ حضرت خالدؓ کو یہ صورت حال نہایت ناگوار معلوم ہوئی اور آپ شدید غم کی حالت میں اس طرح مسلمانوں کو بلا رہے تھے۔ اللہ اللہ یا معشر الانصار! یعنی اے جماعت انصار و مہاجرین! خدارا واپس آ جاؤ! یہ کہہ کر حضرت خالدؓ نے دو تلواریں اٹھا لیں اور اپنے گھوڑے کو کفار کے بالکل بیچ میں ڈال دیا اور ان کی جماعت میں گھستے چلے گئے۔

مسلمان، حضرت خالدؓ کو اس طرح آواز دے کر بلا رہے تھے:

اللہ اللہ فانت امیر القوم ولا ینبغی لک ان تقدم۔

آپ تو لشکر اسلام کے امیر ہیں۔ آپ کو اس طرح گھس کر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

خالد: بخدا مجھے خوب معلوم ہے جو آپ کہتے ہو۔ لیکن میں مسلمانوں کی شکست پر صبر نہیں کر سکتا۔

مسلمان: یا خالد علیک سلمیٰ و آجاء۔ اے خالدؓ آ جاؤ سلمیٰ میں پناہ لے لو۔

خالد: بل الی اللہ الملجاء: آ جاؤ سلمیٰ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پناہ درکار ہے۔

حضرت خالدؓ موت کی پروا کیے بغیر برابر صفوف کفار میں آگے بڑھتے رہے اور شدید جنگ لڑتے رہے۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ خالدؓ واپس نہیں آ رہے ہیں تو سب نے مل کر کفار پر شدید حملہ کر دیا اور گھمسان کی جنگ کے بعد طلیحہ کے لشکر کو شکست فاش دے دی۔ حضرت خالدؓ نے طلیحہ کے خاص پہرے داروں چالیس نو عمر جوانوں کو قتل کر دیا اور لشکر کفار کے پرچم بردار کو ہلاک کر دیا۔ اس طرح کفار کے کئی لوگ مارے گئے اور کئی قید ہو گئے اور اس

صفحہ 124

مرحلہ میں مسلمانوں نے ایک حد تک جنگ جیت لی۔

طلیحہ کے خاص پہرے دار مارے گئے تھے۔ اب اسلامی لشکر نے ازسرنو صف بندی کر کے دوبارہ شدید حملہ کیا۔ گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔ طلیحہ اپنے خیمے میں اس غرض سے گیا کہ ابھی اس پر آسمان سے وحی اترے گی۔ وہ وہاں وحی کے انتظار میں بیٹھ گیا اور اس کا نائب جس کو حضور اکرم ﷺ نے دیکھ کر 'احمق مطاع' کا نام دیا تھا، میدان میں لشکرِ کفار کو کمانڈ کر رہا تھا۔ دس ہزار اسلحہ بردار سپاہی ہر وقت اس بے وقوف کے پیچھے پھرتے رہتے تھے۔ اس وقت سات سو جنگجو انسانوں نے اس کو اپنی حفاظت میں لے رکھا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر لشکرِ اسلام کے شاہین، کفار پر ایسے ٹوٹ پڑے کہ ایک دم جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، انسانوں کے سر فضا میں اڑ اڑ کر گر رہے تھے۔ دونوں طرف سے تلواریں ٹکرا ٹکرا کر انسانی خون پی رہی تھیں۔ نیزے سانپوں کی طرح پیچ و تاب کھا کر انسانی جسموں کو چھید رہے تھے۔ طلیحہ کا جھنڈا اس دن سرخ تھا اور ایک انتہائی چست آدمی نے اس کو اٹھا رکھا تھا۔ حضرت خالدؓ نے شیر کی طرح جھپٹ کر اسے قتل کر دیا تو جھنڈا گھوڑوں کے قدموں کے نیچے روندا گیا۔ حضرت خالدؓ نے اس دن ایسی جنگ لڑی کہ اس سے پہلے کبھی زندگی بھر اس طرح جنگ نہیں لڑی تھی۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا۔ طلیحہ اپنے کمبل میں لپٹ گیا کہ شاید کوئی شیطانی وحی آجائے۔ عیینہ بن حصن نے جا کر طلیحہ سے کہا کہ کوئی وحی آئی ہے؟ تو طلیحہ نے نفی میں جواب دیا۔

مسلمانوں کا دباؤ مرتدین پر بڑھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ احمق مطاع پھر طلیحہ کے پاس گیا اور کہا کہ حالات خراب ہو رہے ہیں۔ بتاؤ کوئی وحی آئی ہے یا نہیں؟ ہم تو پس گئے۔ طلیحہ نے کہا کہ مجھے جبرئیل نے یہ کہا: ان لک رحا کرحاہ وحدیثا لا تنساہ. یعنی تجھ پر ان کی چکی کی طرح چکی چلے گی اور ایسا واقعہ پیش آئے گا کہ تو یاد رکھے گا۔

اب احمق مطاع نے اپنے حمق کے باوجود یقین کر لیا کہ یہ شخص جھوٹا دجال ہے تو استہزاءً اس نے طلیحہ سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جان لیا ہے کہ ایسا واقعہ ہوگا کہ تو یاد رکھے گا۔ پھر احمق مطاع نے اپنے گھوڑے کو ایڑ دی، اور شدید جنگ میں جا کر اپنی قوم سے کہا کہ طلیحہ جھوٹا دجال ہے۔ اب جو شخص جان بچا سکتا ہے، وہ جان بچالے! چنانچہ فزارہ کے سارے لوگ بھاگنے لگے۔ اس کے بعد قبیلہ غطفان کے لوگ بھاگ اٹھے اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا کر کے بہتوں کو قتل اور بہت سوں کو گرفتار کر لیا۔ احمق مطاع بھاگ رہا تھا کہ بنی

صفحہ 125

طے کے ایک شیر عروہ بن اوس نے اس کو گرفتار کر لیا۔ حضرت خالدؓ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ لیکن ایک مخزومی شخص نے اس کی سفارش کر دی۔ چنانچہ وہ قید کی حالت میں زنجیروں میں جکڑا مدینہ منورہ پہنچا دیا گیا۔

بزاخہ میں مرتدین طلیحہ کے پاس جمع ہو گئے کہ اب آپ کا کیا حکم ہے؟ اس نے سواری تیار کر کے بیوی بچوں کو اس پر بٹھایا اور بھاگنے لگا اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں، ہر شخص ایسا ہی کرے۔ یعنی بھاگنے کی کوشش کرے۔ طلیحہ بھاگتے بھاگتے شام پہنچ گیا۔ عرصہ تک وہاں رہا اور پھر تائب ہو کر دوبارہ مسلمان ہوا۔ اس کا بھائی سلمہ بن خویلد بھی مسلمانوں کی قید میں آ گیا۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے قید کی جگہ قتل کر دو۔ چنانچہ اس کو قتل کر دیا گیا۔ میدانِ بزاخہ صاف ہوا۔ کفر کے سرغنے بھاگ چکے تھے، مرے پڑے تھے یا زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

احمق مطاع وہی عیینہ بن حصن فزاری مرتدین کا جرنیل اور طلیحہ کا نائب تھا۔ اس سے قبل جب حضور اکرم ﷺ نے اسے دیکھا تھا کہ لوگ اسلحہ اٹھائے اٹھائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں اور پہرا دے رہے ہیں تو حضور اکرم ﷺ نے اس کو احمق مطاع کا لقب دیا تھا یعنی بے وقوف سردار۔ جب یہ بزاخہ میں قید ہوا تو اس کو گرفتار کر کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ کر دیا گیا، کچھ اور قیدی بھی ساتھ تھے، تا کہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ ، ان کے بارے میں اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ جب مدینہ منورہ میں احمق مطاع کو پہنچایا گیا تو مدینہ طیبہ کے بچے اس کی طرف دوڑ پڑے اور کھجور کی ٹہنیوں سے اس کو کچوکے مارتے تھے اور کہتے تھے: اے اللہ کے دشمن! تم اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کی طرف چلے گئے۔ شرم کرو، ڈوب مرو!

ادھر حضرت خالدؓ کے ہاتھ میں بزاخہ میں جتنے قیدی آئے تھے، سب کو اکٹھا کیا اور خندقیں کھود کر آگ جلائی اور پھر ان لوگوں کو اس جلتی آگ میں ڈال کر جلا دیا گیا۔ بعض مسلمانوں نے حضرت خالدؓ کو اس کے سوا کسی اور سزا کا مشورہ دیا۔ لیکن حضرت خالدؓ نے فرمایا کہ مجھے حضرت صدیق اکبرؓ کا یہ حکم ہے کہ اگر تم ان لوگوں پر کامیاب ہو گئے تو ان کو آگ میں جلا دو! اس طرح ان قیدیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ان مرتدین نے اس سے پہلے مسلمانوں کو بھی اس طرح جلایا تھا۔ بعض کو پہاڑیوں سے گرایا تھا۔ بعض کو پتھروں کے درمیان کچلا تھا تو آج جو کچھ ان کے ساتھ حضرت خالدؓ نے کیا، یہ ان لوگوں کے کیے کا بدلہ تھا اور بطور

صفحہ 126

قصاص ایسا کیا گیا۔

سیف اللہ خالدؓ نے کامل ایک ماہ تک بزاخہ میں اپنے لشکر کے ساتھ قیام کیا تاکہ مرتدین کی ہر طرف سے بیخ کنی کی جائے۔ مرتدین نے اپنی عورتوں اور بچوں کو عام طور پر اس علاقے سے ہٹا دیا تھا۔ اس لیے وہ قید میں نہیں آئے اور وہاں پر حالات درست ہونے کے بعد وہ لوگ دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی سلسلہ میں عمرو بن معدیکرب زبیدی بھی دوبارہ مشرف بہ اسلام ہوئے اور اس طرح اس علاقے میں اسلام کا کلمہ اس عظیم جہاد کے بعد بلند ہوا۔

سجاح بنتِ حارث

سجاح بنتِ حارث نامی عورت بنو تمیم کے قبیلہ یربوع سے تعلق رکھتی تھی لیکن یہ خود عراق میں رہتی تھی۔ یہ مالک بن نویرہ کے خاندان کی نہایت معزز خاتون سمجھی جاتی تھی اور ایک قسم کی سرداری اس کے ہاتھ میں تھی۔ یہ عورت مسلمان نہیں ہوئی تھی، بلکہ بنو تغلب کے عیسائیوں سے اس کا مذہبی رشتہ تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ کا وصال مبارک ہوا اور جزیرۂ عرب میں ارتداد کے کئی فتنے اٹھے اور جھوٹے نبیوں نے سر اٹھایا تو اس عورت نے بھی موقع کو غنیمت سمجھا اور نبوت کا دعویٰ کر کے بنو تمیم کے پاس آ گئی۔ اس کے آنے سے بنو تمیم کے لوگ بھڑک اٹھے اور کھل کر بغاوت شروع کر دی۔ اس عورت کا اصل ہدف تو حضرت صدیق اکبرؓ کو خلافت سے ہٹانا اور مدینہ پر قبضہ کرنا تھا۔ عراق سے ایک بڑا لشکر بھی اس مقصد کے لیے ساتھ لے کر آئی تھی لیکن اس نے یہ خیال کیا کہ بنو تمیم میں بھی اضطراب ہے، تو پہلے وہاں جا کر قوت کو مجتمع کیا جائے، پھر کارروائی کامیاب رہے گی۔ چنانچہ یہ اپنے لشکروں کے ساتھ بطاح پہنچ گئی۔ اب اس عورت نے حضرت خالدؓ کے آنے سے پہلے پہلے علاقہ بطاح اور بنو تمیم میں جو مسلمان تھے، ان پر ہلہ بول دیا اور وہاں مسلمانوں کو شہید کر ڈالا۔ مالک بن نویرہ، وکیع اور سجاح نے آپس میں مکمل فوجی معاہدہ کیا اور پھر بنو رباب پر حملہ کر دیا۔ وہاں کے مسلمانوں نے، جو زیادہ تر بنو رباب کے تھے، خوب مقابلہ کیا اور برابر کی جنگ لڑی اور طرفین سے بڑی مخلوق ماری گئی۔ صورت حال خانہ جنگی کی سی تھی۔ مسلمان اگرچہ تھوڑے تھے لیکن انھوں نے خوب مقابلہ کیا۔ جب فریقین بہت زیادہ خون خرابے کے بعد تھک گئے تو صلح کی بات شروع ہو گئی۔ سجاح نے صلح میں پہل کی اور صلح کے بعد قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ ان نتائج کو دیکھ کر بنو تمیم کا سردار مالک بن نویرہ پشیمان ہوا، لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

صفحہ 127

سجاح نے فارغ ہو کر اِدھر اُدھر دوسرے علاقوں میں بھی کارروائیاں کیں جو غیر مسلموں کے ساتھ صرف قیادت و سیادت کی غرض سے تھیں۔ اب یہ عورت مالک بن نویرہ اور اس کی قوم کو چھوڑ کر اپنی فوجوں کے ساتھ علاقہ نباج تک پہنچ گئی۔ اس کے جانے کے بعد وکیع اپنی قوم کے ساتھ پھر اسلام میں داخل ہو گیا اور اس نے سجاح اور مالک بن نویرہ دونوں کو چھوڑ دیا۔ اب مالک بن نویرہ حیران و پریشان رہ گیا کہ وہ اکیلا کیا کرے! ایک ساتھی کٹ کر مسلمان ہو گیا۔ دوسرا دھوکا دے کر ادھر چلا گیا۔ شیطان انسان کو گمراہ کر کے ایسا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ سجاح نے نباج میں جا کر ایک سخت جنگ کی۔ دونوں طرف سے جانی نقصانات ہوئے لیکن سجاح کو وہاں بھی غلبہ حاصل نہ ہو سکا اور بنو تمیم نے اس کا مقابلہ کیا تو یہ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلی اور سیدھا یمامہ کا رخ کیا تاکہ وہاں مسیلمہ کذاب سے اس کی زمین چھین لے اور اپنا اقتدار وہاں قائم کر لے۔ سجاح کے کمانڈروں نے اس سے کہا کہ بنو تمیم میں ہمیں ناکامی ہوئی۔ نباج میں بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اب یمامہ میں مسیلمہ کذاب بنو حنیفہ کے جنگ آزمودہ لوگوں کو کمانڈ کر رہا ہے۔ وہاں آپ کو بالکل جانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ سخت ہزیمت اٹھانی پڑے گی۔

جھوٹی سجاح نے ایک مسجع کلام پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہ وحی آئی ہے، اس لیے مجھے وہاں ضرور جانا ہے۔ جھوٹی عورت کی جھوٹی وحی یہ تھی۔ علیکم باليمامة ودفو دفيف الحمامة فانھا غزوة صرامة لا یلحقکم بعدھا ملامة. یعنی تم یمامہ پر چڑھائی کر لو اور کبوتری کی طرح تیز تیز چلو، کیونکہ یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے۔ لوگ یہ سن کر متاثر ہوئے اور سب نے مسیلمہ کذاب پر چڑھائی کا ارادہ کر لیا اور سجاح کی فوجیں حرکت میں آ گئیں۔ ادھر مسیلمہ کذاب کو پتہ چلا کہ سجاح کی فوجیں اس کی طرف بڑھ رہی ہیں، تو وہ سخت گھبرا گیا کیونکہ وہ پہلے سے حضرت شرحبیل بن حسنہؓ، ثمامہ بن اثالؓ اور حضرت عکرمہؓ کی مزاحمت میں مشغول تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر سجاح نے حملہ کر دیا تو چاروں طرف سے میں جنگ میں گھر جاؤں گا۔ وہ ایک مکار شخص تھا، اس لیے اس نے فوراً سجاح کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ بڑے تحفے تحائف بھیجے اور یہ پیغام بھیجا کہ مجھے امن دو، میں امن بھری ملاقات چاہتا ہوں۔ سجاح نے کہا کہ میں نے امن دے دیا۔ اب مسیلمہ کذاب اپنے چالیس بااثر اشخاص کے ساتھ وفد کی شکل میں سجاح سے ملاقات کے لیے چلا گیا۔ جب دونوں کی ملاقات ہو گئی تو ہر ایک نے اپنا

صفحہ 128

اپنا مسجع کلام پیش کیا، جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو اُلّو بناتے تھے۔

تین دن تک سجاح اور مسیلمہ اکٹھے تنہائی میں رہے اور رنگ رلیاں مناتے رہے۔ جب سجاح واپس اپنی مجلس مشاورت میں آئی تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ کیا ہوا؟ سجاح نے کہا کہ میں نے اس کو حق پر پایا تو اس کے اتباع کا فیصلہ کر لیا اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔ سجاح کے ساتھیوں نے کہا کہ مہر کیا مقرر کیا ہے؟ سجاح نے کہا، مہر تو نہیں رکھا۔ ساتھیوں نے کہا کہ یہ تو بڑی بدنامی کی بات ہے کہ بغیر مہر کے نکاح ہو جائے۔ جاؤ اور مہر مقرر کرو۔ چنانچہ سجاح پھر آئی تو مسیلمہ نے قلعہ کا دروازہ بند کر کے اس سے پوچھا کہ دوبارہ کیوں آئی ہو؟ اس نے کہا کہ میرا حق مہر مقرر کر دو۔ مسیلمہ نے کہا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ محمد ﷺ کی مقرر کردہ پانچ نمازوں میں سے عشاء اور فجر کی دو نمازیں مسیلمہ رسول اللہ نے موقوف کر دی ہیں، اب صرف تین نمازیں ہیں۔ چنانچہ بنی تمیم یہ دو نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔

کچھ عرصہ بعد سجاح کو پتہ چلا کہ سیف اللہ حضرت خالدؓ بن ولید یمامہ کی طرف رخ کرنے والے ہیں، تو یہ مکار عورت گھبرا کے یمامہ سے پھر واپس عراق کی طرف چلی گئی۔ لیکن مسیلمہ کذاب پر یہ ٹیکس لگا دیا کہ یمامہ کا نصف غلہ مجھے عراق بھیج دیا کرے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا لیکن لشکر اسلام نے کچھ عرصہ بعد اس گٹھ جوڑ کو توڑ دیا۔

حضرت خالدؓ قریباً ایک ماہ تک اپنے لشکر کے ساتھ بزاحہ میں قیام پذیر رہے تاکہ نظام درست کریں۔ اس کے بعد حضرت خالدؓ نے بطاح میں بنو تمیم اور خاص کر مالک بن نویرہ اور اس کی فوجوں کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اہل شوریٰ اور اکثر انصار نے مشورہ دیا کہ خلیفۂ اوّل کی طرف سے مزید احکامات کا انتظار کیجیے، بغیر نئے حکم کے بطاح کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ حضرت خالدؓ نے فرمایا کہ مجھے ذاتی طور پر حضرت صدیق اکبرؓ نے بنو تمیم کی طرف جانے کا حکم دیا ہے، اس لیے بغیر کسی توقف کے بنی تمیم کے علاقوں پر فوج کشی ضروری ہے، خصوصاً جبکہ سجاح کے ساتھ ان لوگوں نے ہمدردیاں وابستہ کیں۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے، وہ ’بسم اللہ‘ کرے اور جو رہنا چاہتا ہے، وہ یہاں پر رہے۔ کچھ انصار رہ گئے۔ بعد میں انصار نے ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔ بہر حال یہ لوگ بھی بعد میں بطاح میں حضرت خالدؓ کے لشکر میں جا کر شامل ہو گئے۔ بنو تمیم کے عام لوگ سجاح کے فتنہ سے تائب ہو گئے تھے اور اب اسلام پر قائم تھے۔ البتہ مالک

صفحہ 129

بن نویرہ نے اپنے متعلقین اور قبیلے سے کہا تھا کہ شہری علاقوں سے نکل کر دیہات اور صحراؤں میں پناہ لو۔ چنانچہ وہ لوگ مختلف مقامات پر جا چھپے تھے۔ حضرت خالدؓ نے بطاح پہنچ کر مالک بن نویرہ کے مقابلہ پر ایک دستہ روانہ کیا، جس کی کمانڈ حضرت ضرارؓ بن ازور کر رہے تھے۔ حضرت ضرارؓ نے جا کر پانی کے گھاٹوں پر ان لوگوں سے زبردست جنگ لڑی اور پھر مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھ ایک اچھی خاصی جماعت کو گرفتار کر کے حضرت خالدؓ کے پاس پہنچا دیا۔

مسیلمہ کذاب

حضرت خالد بن ولیدؓ جب مدینہ منورہ سے واپس بطاح پہنچے تو آپ نے اسلامی لشکر کو مسیلمہ کذاب کی طرف متوجہ کیا۔ مسیلمہ کذاب کی ماتحتی میں بنو حنیفہ کے چالیس ہزار جنگ آزمودہ لوگ، حضرت خالدؓ سے ٹکر لینے کے لیے انتظار میں بیٹھے تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ شدید ترین معرکہ تھا کیونکہ بنو حنیفہ عدد اور جرأت دونوں اعتبار سے مشہور تھے۔ جنگی نقشہ بھی 80 فیصد ان کے حق میں تھا اور وحدت و اتحاد کے لحاظ سے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند تھے۔ حضرت خالدؓ کو ان تمام چیزوں کا علم تھا کیونکہ وہ قبل از اسلام اور بعد از اسلام، عرب کے تمام قبائل اور ان کی جنگی صلاحیتوں سے خوب واقف تھے۔ حضرت خالدؓ سے پہلے حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عکرمہؓ کو جنگی جھنڈا اور لشکر دے کر یمامہ کی طرف روانہ کر دیا تھا اور شرحبیل بن حسنہؓ کو بھی اسی طرف روانہ کیا تھا تا کہ اس جھوٹے کذاب کا یمامہ میں خاتمہ کیا جائے۔

حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عکرمہؓ کو یمامہ کی طرف روانہ کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ جب شرحبیل بن حسنہؓ کی فوج آ جائے تو پھر مل کر یمامہ پر حملہ کر دو، لیکن حضرت عکرمہؓ نے وہاں پہنچتے ہی بغیر انتظار کیے حملہ کر دیا۔ چالیس ہزار کے جنگجو لشکر نے حضرت عکرمہؓ کے خلاف جوابی کارروائی کی اور لشکر اسلام کو شکست سے دوچار کر دیا۔ حضرت عکرمہؓ اپنے لشکر کے ساتھ واپس آ گئے۔ حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کی فوج ابھی یمامہ کے آدھے راستے تک پہنچی تھی کہ سامنے سے لشکر اسلام واپس آتا ہوا نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ حضرت عکرمہؓ کے لشکر کو مکمل طور پر شکست ہو گئی ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کو اس کا پتا چلا تو آپؓ بہت غمگین ہوئے اور حضرت عکرمہؓ پر سخت ناراض بھی ہوئے کہ انھوں نے حملہ کرنے میں جلد بازی سے کام کیوں لیا اور خلیفہ کے حکم کے مطابق شرحبیلؓ کے لشکر کا انتظار کیوں نہ کیا؟ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم جاری کیا کہ حضرت عکرمہؓ کو میں نے قیادت و امارت کے عہدے سے معزول کر دیا ہے، اب

صفحہ 130

حضرت عکرمہؓ صرف ایک عام سپاہی کی حیثیت سے جنگ لڑیں اور یمامہ سے ہٹ کر عمان میں دو جرنیل حضرت عرفجہؓ اور حضرت حذیفہ بن محصنؓ کی مدد کے لیے جائیں اور ان کی کمان میں عمان کے مرتدین کے ساتھ جنگ لڑیں۔ لہٰذا حضرت عکرمہؓ بحیثیت ایک عام سپاہی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں سے عمان چلے گئے اور حضرت صدیق اکبرؓ نے شرحبیل بن حسنہؓ کو حکم دے دیا کہ آپ یمامہ کے قریب ٹھہریں اور حملہ نہ کریں حتیٰ کہ میرا دوسرا حکم آپ تک پہنچ جائے۔

اُدھر یمامہ میں حضرت ثمامہ بن اثالؓ بھی مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں میدان میں تھے، لیکن یہ فتنہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ اس مزاحمت کا خاطر خواہ اثر ظاہر نہیں ہورہا تھا۔ حضرت عکرمہؓ کی شکست کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت خالدؓ کو مزید فوجی کمک بھیج دی تاکہ وہ بہتر طور پر قبیلہ بنو حنیفہ سے نمٹ سکیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ چونکہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے اور مسلمانوں کے خلیفہ میں جتنی جنگی مہارت اور عسکری تدابیر ہونی چاہئیں، وہ آپ میں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے تصریح کی تھی کہ مرتدین کے تمام علاقوں میں سب سے زیادہ خطرناک یمامہ کے لوگ ہیں اور اسی وجہ سے آپ نے حضرت عکرمہؓ کو اس علاقے پر متعین فرما دیا تھا جو جنگی جرأت و شجاعت اور دیگر صلاحیتوں میں حضرت خالدؓ کے ہم پلہ تھے۔ تاہم حضرت خالدؓ میں حکمت عملی کا عنصر، صبر و تحمل اور حالات کی تفہیم، حضرت عکرمہؓ کی نسبت کہیں زیادہ تھی اور حضرت عکرمہؓ میں جلد بازی کا عنصر کچھ غالب تھا، جس کی وجہ سے بعض اوقات حالات دگرگوں ہو جاتے تھے۔ بہر حال حضرت صدیقؓ نے ان حالات کے پیش نظر حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کو بھی یمامہ کی طرف حضرت عکرمہؓ کے پیچھے روانہ کیا تھا اور ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا تھا اور حضرت خالدؓ سے بھی فرمایا تھا کہ بزاخہ و بطاح سے فارغ ہو کر یمامہ کی طرف پیش قدمی کریں۔ جب یہ نئے حالات سامنے آئے تو صدیق اکبرؓ نے ایک اور لشکر تیار کر کے حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے روانہ کیا اور پھر ملعون مسیلمہ کذاب پر چڑھائی کا حکم دیا۔ یہ نئی فوجی کمک جنگجو قبائل عرب اور انصار و مہاجرین پر مشتمل ایک بڑی فوج تھی۔ انصار کے مجاہدین پر حضرت صدیق اکبرؓ نے ثابت بن قیسؓ کو امیر لشکر مقرر فرمایا اور پھر سب کو حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے بطاح کی طرف روانہ کیا۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے بطاح میں ان نئے مجاہدین کا انتظار کیا۔ مہاجرین پر حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت ابو حذیفہؓ کو امیر بنایا۔ چنانچہ اسلام کے یہ شاہین بطاح میں جمع ہوئے اور اب صرف سیف اللہ کے اشارۂ ابرو

صفحہ 131

کے منتظر تھے تاکہ اس جھوٹے نبی اور اس کی قوم پر حملہ آور ہو جائیں۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس کا نام مسیلمہ بن ثمامہ بن کبیر بن حبیب بن الحارث تھا۔ یہ بنو حنیفہ قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور یمامہ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ طویل العمر شخص تھا۔ جاہلیت میں رحمان الیمامہ کے لقب سے مشہور تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص ابتدا ہی سے ریاست وحکومت کا شوقین تھا۔ یہ انتہائی بدشکل اور بدصورت تھا، بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ انتہائی بدکردار اور بدسیرت بھی تھا۔

جب مکہ مکرمہ فتح ہو کر سارا عرب اسلام کے زیر نگیں آ گیا تو 9 یا 10 ہجری میں یمامہ کے وفد میں مسیلمہ کذاب بھی مدینہ منورہ آیا اور اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ شخص وفد کے سامان کے ساتھ پیچھے رہ گیا اور حضور اکرم ﷺ کے سامنے نہیں آیا۔ اس کا تذکرہ حضور اکرم ﷺ کے سامنے ہوا۔ حضور اکرم ﷺ نے وفد کا جو اکرام کیا، اس میں مسیلمہ کا حصہ بھی رکھا۔ جب یہ وفد واپس یمامہ پہنچا تو مسیلمہ کذاب اپنے قبیلے میں پہنچتے ہی مرتد ہو گیا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا اور پھر بے حیا بن کر حضور اکرم ﷺ کو اس طرح خط لکھا۔

بعد! فانی قد اشرکت فی الأمر معک وان لنا نصف الأرض ولقریش نصف الأرض، ولکن قریشاً قوم یعتدون“. (دلائل النبوۃ ج:5 ص:331، مجموعہ الوثائق السیاسیہ للعہد النبوی والخلافہ الراشدہ از محمد حمید اللہ)

ترجمہ: ”یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت میں مجھے بھی شریک کر دیا، اس لیے آدھی زمین آپ کی اور آدھی میری، لیکن قریش زیادتی کرتے ہیں (کہ مجھے اس میں شریک نہیں کرتے)“۔

مسیلمہ کے خط کے جواب میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا:

الکذاب، السلام علىٰ من اتبع الھدیٰ، اما بعد! فان الأرض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ والعاقبة للمتقین“. (دلائل النبوۃ ج:5 ص:331، کنز العمال ج:14 ص:201، مجموعہ الوثائق السیاسیہ للعہد النبوی والخلافہ الراشدہ از محمد حمید اللہ)

ترجمہ: ”محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام، اما بعد! زمین اللہ کی ہے، اللہ

صفحہ 132

جس کو چاہتا ہے، اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور اچھا انجام متقیوں کے لیے ہے“۔ حضور اکرم ﷺ چونکہ سراپا شفقت و رحمت تھے، آپ ﷺ نے مسیلمہ کو عذاب آخرت سے ڈرایا اور دعوت حق دی مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ درحقیقت جس بات نے مسیلمہ کی طاقت میں اضافہ کیا، وہ نہار الرجال کا اس سے مل جانا تھا۔ یہ شخص اسی علاقے کا رہنے والا تھا اور ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گیا تھا۔ اس نے قرآن مجید پڑھا اور دین کی تعلیم حاصل کی، چونکہ بڑا ذہین تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے اہل یمامہ کو دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور لوگوں کو مسیلمہ کی متابعت سے روکنے کے لیے بطور معلم خود روانہ کیا تھا، لیکن وہ مسیلمہ سے بھی زیادہ فتنہ پرور نکلا۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ مسیلمہ کی اطاعت قبول کرتے جا رہے ہیں تو وہ لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخرو کرنے کے لیے ان سے مل گیا اور مسیلمہ کی چرب زبانی اور لالچ دلانے پر مرتد ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ جھوٹا قول بھی منسوب کر دیا کہ مسیلمہ کو ان کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ اہل یمامہ کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے تھا کہ نہار الرجال مسیلمہ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے، لہٰذا لوگ جوق در جوق مسیلمہ کے پاس آنے لگے اور ایک رسول کی حیثیت سے اس کی بیعت کرنے لگے۔ مسیلمہ نے یمامہ میں حرم بھی متعین کر لیا اور چند دنوں میں اس کی قوت میں زبردست اضافہ ہو گیا۔ مسیلمہ نے نہار الرجال کو اپنا خاص معتمد بنا لیا اور اس کے مشورے سے نبوت کے کام انجام دینے لگا اور اس کے عوض نہار الرجال کو دنیا بھر کی نعمتیں میسر آگئیں۔

علامہ بلاذریؒ لکھتے ہیں کہ مسیلمہ کا قد ٹھگنا، چہرہ نہایت زرد اور ناک چپٹی تھی اور ابوثمامہ اس کی کنیت تھی۔ ایک شخص جس کا نام حجیر تھا، اس کے لیے اذان دیتا تو کہتا تھا: ”اشہد ان مسیلمہ یزعم انہ رسول اللہ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ مسیلمہ رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے) البتہ تاریخ طبری (جلد 3 صفحہ 244) میں مذکور ہے کہ مسیلمہ کے ہاں نبی اکرم ﷺ کے لیے اذان کہی جاتی تھی اور اذان میں برابر اشہد ان محمد رسول اللہ کی گواہی دی جاتی تھی۔ مسیلمہ کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ تھا اور اقامت حجیر بن عمیر کہتا تھا۔ مگر جب مسیلمہ کے ایلچی جن میں یہ عبداللہ بن نواحہ بھی موجود تھا، حضرت محمد ﷺ کے حضور حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:

ما تقولان انتما: تمہارا مسیلمہ کے دعویٰ نبوت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟

صفحہ 133

ایلچی: نقول کما قال: جو حضرت مسیلمہ کہتے ہیں، ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ حضورﷺ: اگر ایلچیوں کا قتل کرنا خلاف اصول نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔

بعد ازاں بہت عرصہ بعد حارثہ بن مضرب، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آئے اور انھیں بتایا کہ میں یمامہ کی ایک مسجد سے گزرا تو کیا دیکھا کہ وہاں مسیلمہ کذاب کے چند ساتھی موجود ہیں جو اسے اب بھی نبی مانتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ سن کر ان لوگوں کو بلا بھیجا اور ان سے توبہ کرنے کو کہا: اچانک آپ نے دیکھا کہ ان لوگوں میں عبداللہ بن نواحہ بھی موجود ہے۔ آپ نے اس سے کہا کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ”اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا“۔ لہٰذا آج تُو ایلچی نہیں ہے۔ تُو مسیلمہ کا پیروکار ہے۔ تیری کوئی توبہ قبول نہیں۔ لہٰذا آپ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن نواحہ کی گردن اُڑا دے تاکہ روحِ محمدی ﷺ کو تسکین پہنچے۔ چنانچہ قرظہ بن کعب نے عبداللہ بن نواحہ کو قتل کر دیا۔

(سنن ابی داؤد شریف)

مسیلمہ کی ترقی کا راز دراصل قومی عصبیت اور قبائلی خود مختاری کا جذبہ تھا، وگرنہ جہاں تک اس کے معجزات دکھانے کا تعلق ہے، نہ لوگوں نے اس کا کوئی معجزہ دیکھ کر اسے قبول کیا اور نہ اس کی خود ساختہ وحی سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لائے۔ مندرجہ ذیل واقعہ اس قومی عصبیت کی نشاندہی کے لیے کافی ہے۔

ایک رئیس طلحہ نمری یمامہ آیا تو اس نے لوگوں سے پوچھا: ”مسیلمہ کہاں ہے؟“ لوگوں نے کہا ”تم اس کا نام اس قدر بے ادبی سے لیتے ہو، حالانکہ وہ اللہ کا رسول ہے“۔ اس نے کہا کہ میں تو اس کو اس وقت تک رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں جب تک اس سے مل نہ لوں۔ تم مجھ کو اس کے پاس لے چلو۔

مسیلمہ کے پاس پہنچ کر طلحہ نے پوچھا: ”تمھارے پاس کون آتا ہے؟“

”رحمان“۔ مسیلمہ نے جواب دیا۔

”روشنی میں یا اندھیرے میں؟“

”اندھیرے میں“۔

اس پر طلحہ بولا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تو کذاب ہے اور محمد ﷺ سچے ہیں، لیکن اپنا کذاب ہمیں دوسروں کے سچے سے زیادہ محبوب ہے“۔ چنانچہ اس بدبخت نے مسیلمہ کی

صفحہ 134

اطاعت قبول کر لی اور اسی کے ہمراہ جنگ یمامہ میں لڑتا ہوا مارا گیا۔ یمامہ سے ایک وفد حضرت صدیقؓ کے پاس آیا تھا۔ صدیق اکبرؓ نے ان سے کہا کہ مسیلمہ کی کوئی وحی تو سنا دو۔ ان لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اس سے معاف رکھیں۔ حضرت صدیقؓ نے فرمایا کہ نہیں ضرور بالضرور کچھ سناؤ، انھوں نے یہ وحی سنائی۔ ترجمہ: ”اے دو مینڈکوں کی بچی مینڈک! جس طرح تُو پہلے ٹرٹر کرتی تھی، اب بھی ٹرٹر کر۔ تیرا اوپر والا حصہ تو پانی میں ہے اور نچلا حصہ مٹی میں ہے۔ نہ تو پانی پینے والے کو روکتی ہے اور نہ پانی کو گدلا بناتی ہے“۔ ایک اور جھوٹی وحی میں مسیلمہ نے کہا: ”قسم ہے بکری اور اس کے رنگوں کی، اس میں سب سے اچھی بکری کالی ہوتی ہے اور اس کا دودھ بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔ سیاہ بکری اور سفید دودھ محض ایک اعجوبہ ہے“۔ ایک اور جھوٹی وحی میں کذاب نے کہا: ”کھیتی باڑی کرنے والوں کی قسم! پھر فصل کاٹنے والیوں کی قسم! اور گندم کو صاف کرنے والیوں کی قسم! پھر اسے پیسنے والیوں کی قسم! پھر روٹی پکانے والیوں کی قسم! پھر ثرید بنانے والیوں کی قسم! پھر گھی میں بھگو کر لقمے بنانے والیوں کی قسم! کہ تم اونٹوں والوں پر فضیلت لے گئے ہو۔ اپنی سرسبز اور شاداب چراگاہوں کی حفاظت کرو۔ مصیبت زدہ کو پناہ دو اور سرکش کو عبرتناک سزا دو“۔ ایک اور جھوٹی وحی میں مسیلمہ نے اس طرح کہا: ”اے جنگلی چوہے! اے جنگلی چوہے! تُو تو صرف سر اور سینہ ہو اور اس کے علاوہ خالی خولی کچھ نہیں“۔

لوگوں نے مسیلمہ سے کہا کہ محمد ﷺ نے اپنے منہ کا پانی خشک کنوئیں میں پھینکا تھا تو وہ پانی سے بھر گیا تھا۔ مسیلمہ نے پانی منگا کر ایسا ہی کیا تو جو کچھ پانی کنوئیں میں تھا، وہ بھی خشک ہو گیا اور ایک کنوئیں میں یہ عمل کیا تو اس کا پانی کھارا ہو گیا۔ ایک دفعہ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی کھجور کے تنے میں پھینک دیا تو کھجور کا تنا خشک ہو گیا۔ ایک دفعہ چند بچوں کو برکت کے لیے ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے لیے لایا گیا۔ مسیلمہ نے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا تو بعض بچے تو سر کے بالوں سے محروم ہو گئے اور بعض بچوں کی قوتِ گویائی سلب ہو گئی۔ ایک دفعہ اس کذاب نے ایک شخص کو بلایا، جس کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ کذاب نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ شخص اندھا ہو گیا۔

محترم قارئین! یہ مشتے نمونہ از خروارے، میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس شخص کے باقی خرافات نقل کرنے سے میں قاصر ہوں۔ اس سے پہلے سجاح کے ساتھ اس

صفحہ 135

کی رنگ رلیاں اور جھوٹی وحیاں آپ ایک بار پھر پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ کیا یہ شخص ایک سنجیدہ انسان بھی تھا؟ چہ جائیکہ وہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ اسی وجہ سے حضرت صدیق اکبرؓ نے جب مسیلمہ کے یہ قبائح اور افسانے سنے تو فرمایا کہ خدا کی قسم! یہ کلام تو رب کا نہیں، بلکہ ایک عقلمند انسان کا بھی نہیں۔ اسی لیے تو حضرت صدیق اکبرؓ نے ان خناسوں کے دماغ سے شیطان کو باہر نکالا اور مسلح جہاد کر کے سب کو ٹھکانے لگا دیا۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا صدیق اکبرؓ نے جلسے منعقد کیے یا جلوس نکالے یا وفد کے وفد بھیج کر منتیں کیں یا بحث مباحثے کیے؟ نہیں بھائی! بس ایک نسخۂ جہاد ان جیسے دجالوں کا علاج تھا، اس کو استعمال کیا تو زمین ان کی گندگی سے پاک ہو گئی۔ کیا آج کل اس سے بڑھ کر ارتداد اور جھوٹی نبوتوں کی قباحتیں موجود نہیں؟ کیا کھلم کھلا اسلام کے خلاف بغاوتیں نہیں؟ اگر ہیں تو اس کا علاج بھی وہی ہے جو حضرت صدیق اکبرؓ نے تجویز کیا تھا، اور جو شریعت مقدسہ نے ان کے لیے وضع کیا تھا۔

جنگِ یمامہ، تحفظِ ختمِ نبوت کی پہلی جنگ

یمامہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے شمال مغرب میں تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے جہاں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ اس کا شمار سعودیہ کے بہترین قصبات میں ہوتا ہے۔ اسے آج کل جبیلہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عینیہ کے نزدیک نجد کے علاقہ وادی حنیفہ میں واقع ہے۔ بطاح، عقربا اور جبیلہ یمامہ کے چھوٹے چھوٹے علاقے تھے جو آج بھی یہاں موجود ہیں۔ دونوں فوجوں کے لشکر یہاں اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرتے رہے۔ جبیلہ میں وادی حنیفہ کے جنوبی کنارے پر واقع شہدائے یمامہ کا قدیم قبرستان بھی ہے جو اس میدان میں ایک چار دیواری کے اندر ہے جبکہ شمالی کنارے پر اس وادی اور تنگ گھاٹی کے درمیان چھوٹا ٹیلہ ہے جہاں مرتدین کی لاشیں ٹھکانے لگیں۔ موجودہ دور میں یمامہ کو سولر سسٹم (شمسی توانائی) کی مملکت کہا جاتا ہے۔ یہاں پر کنگ عبدالعزیز ملٹری کالج بھی ہے۔

حضرت خالدؓ بن ولید تقریباً آٹھ ہزار جاں نثاروں کو لے کر بطاح سے یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مقابلے میں چالیس ہزار نفوس پر مشتمل جنگ آزمودہ لشکر موجود تھا۔ چونکہ پورا علاقہ مسیلمی مرتدین سے بھرا ہوا تھا، اس لیے حضرت خالدؓ انتہائی احتیاط اور تیاری کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آپ اپنے جاسوسی دستوں کو متحرک کر کے حالات کا ہمہ وقتی اندازہ

صفحہ 136

لگاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ مسیلمہ کذاب بھی تمام حالات سے واقف تھا۔ اس کو حضرت خالدؓ کی تدبیر و جرأت کا بھی علم تھا، اُسے صحابۂ کرامؓ کی جاں نثاری کا بھی اندازہ تھا، نیز اپنی حماقتوں اور سرکشی سے بھی خوب واقف تھا۔ اس لیے اس نے اپنے لشکروں کو جنگی اہمیت کے مقامات پر متعین کر کے خوب قومی تعصب اور غیرت دلا دلا کر قوم کی رگوں میں آگ بھر دی۔

ان تقریروں کا خاطر خواہ اثر بھی ہوا اور منکرین ختم نبوت ایک ساتھ ہو کر لشکر اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک موقع پر عمومی جنگ سے پہلے انہوں نے حملہ کر دیا اور اتنے آگے بڑھ گئے کہ حضرت خالدؓ کے خیمے تک پہنچ گئے۔ حضرت خالدؓ تمام امور سے باخبر تھے۔ اس لیے آپ نے حضرت صدیق اکبرؓ سے مزید مدد کی درخواست کی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے بلا توقف مزید دستے حضرت عبداللہؓ کی قیادت میں روانہ کیے لیکن حضرت خالدؓ نے اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت ان دستوں کا انتظار نہیں کیا بلکہ عمومی حملے کے لیے سرزمین یمامہ میں چالیس ہزار کے مقابلے میں آٹھ ہزار شاہینوں کی صف بندی کر کے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔

اس اثنا میں خلیفہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدؓ کی کمک کے لیے ایک دستہ فوج روانہ فرما دیا جس کے سر عسکر سلیط تھے۔ امیر المومنین نے سلیط کو حکم دیا تھا کہ وہ خالد کی امداد کے لیے ان کے عقب میں رہیں تاکہ غنیم خالد کو عقب سے ضرب نہ لگا سکے۔ اس موقع پر حضرات شیخینؓ یعنی امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما میں اس بارے میں اختلاف رائے تھا کہ غازیانِ بدر کو بھی لڑائی میں بھیجنا چاہیے یا نہیں؟ حضرت صدیق اکبرؓ فرماتے تھے کہ ان سے لڑائی میں مدد لینے کی اتنی ضرورت نہیں ہے جس قدر کہ ان کی دعا اور برکت کی حاجت ہے کیونکہ ان پاک بازوں کی برکت سے رب العزت اکثر آفات و بلیات رفع فرما دیتا ہے۔ مگر حضرت عمرؓ کی یہ رائے تھی کہ زیادہ نہیں تو ان حضرات کو کم از کم فوجوں کی امارت پر ضرور مقرر کیا جائے۔ آخر امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے اتفاق کر لیا اور اصحاب بدر رضی اللہ عنہم بھی ان معرکوں میں شریک ہوئے۔

مسیلمہ کذاب نے اپنا مرکزی لشکر مقام عقربا میں ٹھہرا لیا تھا اور جنگی اعتبار سے چاروں طرف اپنے نوجوانوں کو پھیلا دیا تھا تاکہ ہر اس حادثہ سے آسانی سے نمٹا جا سکے جو ناخوشگوار حالت میں پیش آجائے۔ مسیلمہ کذاب کی فوجوں کی ترتیب اس طرح تھی۔

صفحہ 137

ادھر لشکر اسلام سیف اللہ کی قیادت میں مقام عقربا کی طرف بڑھنے لگا۔ حضرت خالدؓ نے جاسوسی دستہ آگے بھیجا۔ ادھر سے مسیلمہ کا جاسوسی دستہ آ گیا جو مجاعۃ بن مرارہ کی قیادت میں تھا۔ کچھ مقابلہ ہوا لیکن مسلمانوں نے ان ساٹھ آدمیوں کو ان کے کمانڈر مجاعۃ سمیت گرفتار کر لیا اور حضرت خالدؓ کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت خالدؓ نے ان سے پوچھا کہ مسیلمہ کیسا آدمی ہے؟ انھوں نے کہا کہ نبی ہے۔ حضرت خالدؓ نے بڑی نرمی کی۔ لیکن ان لوگوں نے کہا منا نبی و منکم نبی ایک ہمارا نبی اور ایک تمہارا نبی۔ حضرت خالدؓ نے سب کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔ جب کمانڈر مجاعۃ کی باری آئی تو ایک قیدی نے کہا کہ اے خالدؓ! اگر کل کا کوئی فائدہ سوچتے ہو تو اس شخص کو مت قتل کرو، یہ قوم کا سردار ہے، یہ تمھارے کام آ سکتا ہے۔ خالدؓ نے مجاعۃ اور سفارشی قیدی دونوں کو قید میں رکھا اور قتل نہیں کیا اور مجاعۃ کو اپنے خیمے میں باندھ لیا اور ام تمیم سے کہا کہ اس کا خیال رکھیو۔ مقام عقربا میں پہنچ کر حضرت خالدؓ نے اپنی فوج کو اس حکمت عملی سے ترتیب دیا۔

لشکر اسلام مقام کے اعتبار سے بھی اچھی جگہ پر نہیں تھا۔ پھر عساکر سفر کر کے انتہائی تھکے ہوئے بھی تھے۔ مسیلمہ کی سپاہ تمام راحتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ جنگی لحاظ سے جگہ بھی موزوں تھی۔ حضرت خالدؓ تو چاہتے تھے کہ مسلمان آرام کریں۔ لیکن مسیلمہ کے لوگوں نے بغیر مہلت دیے حملہ کر دیا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے مسیلمہ نے اپنے لشکر کے سامنے ایک جذباتی تقریر کی جس میں کہا:

”آج یہ غیرت کا دن ہے۔ اگر آج تم نے شکست کھائی تو حالت قید میں بغیر مہر کے تمہاری عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔ پس اپنی عزت اور حسب ونسب کی حفاظت میں لڑو اور اپنی عورتوں کو دشمن کے ہاتھ میں جانے سے بچاؤ“۔

صفحہ 138

یہی تقریر سن کر مسیلمہ کا لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ مرتدین لشکر اسلام کی صفوں کو توڑ کر آگے بڑھتے بڑھتے حضرت خالدؓ کے خیمے تک پہنچ گئے اور خیمہ کو تلواروں سے کاٹنا شروع کر دیا اور ام تمیم کو قتل کرنا چاہا تو مجاعہ نے ان کو روکا اور کہا کہ مردوں سے لڑو، یہ عورت ذات ہے۔ ادھر سے ہٹ جاؤ۔ اگر اللہ کی مدد اور پھر انصار و مہاجرین کی ثابت قدمی نہ ہوتی تو اس حملہ سے ایک مسلمان کا بچنا بھی مشکل تھا۔ ایک جنگی جھنڈا زیدؓ بن الخطاب کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا ثابت بن قیسؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو عمارؓ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور ان کا ایک کان کٹ چکا تھا جس سے فوارہ کی طرح خون بہہ رہا تھا۔ حضرت خالدؓ نے خود ایسی تنظیم قائم کی جس کی جنگی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ انھوں نے خوب دفاع کیا، یہاں تک کہ وہ لوگ حضرت خالدؓ کی بے مثال شجاعت کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔

صحابۂ کرام از سرِ منظم ہو کر مسیلمہ کے لشکر پر حملہ آور ہوئے اور پوری وادی ایک مقتل میں بدل گئی۔ اس نوع کا منظر چشم فلک نے کبھی پہلے دیکھا نہ بعد میں۔ مسیلمہ کے سپاہی بے جگری سے لڑ رہے تھے۔ انصار و مہاجرین نے بھی شجاعت کے غیر معمولی جوہر دکھائے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ جو فصحا اور خطبا صحابہ میں سے تھے، انصار کا جھنڈا لیے ہوئے میدان کار زار میں کھڑے تھے، ایک مسیلمی نے ان کی ٹانگ کاٹ ڈالی تھی۔ لیکن ان کی شجاعت دیکھیے کہ انھوں نے اُس کو وہی ٹانگ اس زور سے ماری کہ وہ جہنم واصل ہو گیا۔ پھر آپ نے ایک گڑھا کھودا اور اس میں اتر کر جھنڈے کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ حضرت زیدؓ بن الخطاب بھی جنگی جھنڈا لیے کفار کو مارتے مارتے آگے نکل گئے، یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔ یہ حضرت عمر فاروقؓ کے بھائی اور اولین اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ آپ کی شہادت کے بعد جھنڈا حضرت سالمؓ نے ہاتھ میں لے لیا۔ حضرت سالمؓ آدھی پنڈلی تک زمین کھود کر کھڑے ہو گئے تا کہ جھنڈا گرنے نہ پائے۔ اب مجاہدین نے مرتدین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ اس کوشش میں متعدد مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔ ان میں حضرت ثابتؓ، حضرت سالمؓ، یزید بن قیس اور حکم بن سعید رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔

رافعؓ بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ یمامہ کی لڑائی میں تلواریں ٹکرائیں۔ لوگ زخمی

صفحہ 139

ہوئے، کشتوں کے پشتے لگ گئے، بازو کٹ رہے تھے اور سر اُڑ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ عبادؓ بن بشر کی تلوار درانتی کی طرح ٹیڑھی ہوگئی تھی اور وہ گھٹنے پر رکھ کر اسے سیدھا کر ہی رہے تھے کہ اچانک مسیلمہ کی فوج کا ایک آدمی حملہ آور ہوا اور شمشیر زنی شروع ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ وہی تلوار، عبادؓ نے اس شخص کے سینے پر اس زور سے ماری کہ میں نے اس کے پھیپھڑے دیکھ لیے اور وہ آدمی مرگیا۔ لیکن دوسروں نے عباد پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ مسیلمہ کے لوگ ان کے پہلو اور پیٹ میں تلواریں مار رہے تھے، حتیٰ کہ وہ شہید ہو گئے۔ میری آنکھ میں یہ دلدوز منظر بھی اترا کہ 20 آدمی عباد کے ہاتھ سے قتل ہوئے اور وہ خود بھی لاشوں میں پڑے تھے۔

حضرت ضرار بن ازورؓ نے بھی یمامہ کی لڑائی میں نمایاں کارنامے انجام دیے اور بڑی بہادری دکھائی۔ عقربا کی اس شدید جنگ کا جو نقشہ آپ نے پیش کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دست بدست لڑائی تھی۔ جس میں تیر اور نیزہ کام نہیں دے سکتا تھا۔ صرف تلوار سے کام لیا جاتا تھا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ شہید ہو چکے تھے۔ حضرت سالم اور زید بن الخطابؓ اور دیگر چوٹی کے کمانڈر اور کئی دیگر مجاہدین جام شہادت نوش کر چکے تھے۔ میدان کارزار میں پہلوان اب بھی قسمت آزمائی کر رہے تھے کہ اتنے میں میدان میں حضرت براءؓ بن مالک آئے جو حضرت انسؓ کے بھائی تھے۔ ان کی ایک عجیب عادت تھی کہ جب جنگ کا میدان گرم ہو جاتا تو یہ تھوری دیر بیٹھ کر کانپنے لگ جاتے تھے، پھر ان پر دو آدمی خوب زور سے بیٹھ جاتے۔ پھر یہ مٹی جھاڑ کر نیچے سے اٹھ جاتے اور شیر کی طرح حملہ آور ہو جاتے۔ پھر ان کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ جب انھوں نے یہ عمل کیا تو بآواز بلند کہا: این یا معشر المسلمین؟ اے مسلمانو! میں براءؓ بن مالک ہوں، میری طرف آؤ، میری طرف آؤ۔ چنانچہ اس آواز سے ایک جماعت لپک کر ان کے اردگرد جمع ہوگئی اور پھر سب نے کفار پر حملہ کر دیا۔ حضرت براء بن مالکؓ ایک دم کفار کی صفوں میں گھس گئے، بہتوں کو قتل کیا اور کفار کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

اس کے علاوہ بھی صحابہ کرامؓ نے اس جنگ میں بڑی بہادری دکھائی اور بڑی مشقتیں اٹھائیں۔ بہت سے شہید ہو گئے اور بہت سے زخمی تھے۔ بالآخر کئی معرکوں کے بعد مسیلمہ کذاب کا لشکر، پسپا ہوا اور دم دبا کر اس کے قلعے میں قلعہ بند ہو گیا۔ مسیلمہ کے بڑے بڑے جرنیل مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ سرکش خبیث رجال بھی مرا پڑا تھا۔ اس کے

صفحہ 140

علاوہ مسیلمہ کا دست راست اور بنو حنیفہ میں مسیلمہ کے بعد سب سے بڑی شخصیت سردار محکم بن طفیل بھی مارا گیا تھا جو اپنی فوجوں کو ابھار رہا تھا اور خطیب بن کر اس طرح کہہ رہا تھا: ”قسم بخدا! اب شریف زادیوں کی عزتیں پامال ہوں گی۔ ان سے زبردستی نکاح کیا جائے گا۔ تم میں کچھ بھی شرافت ہو تو اس کو ظاہر کر دو“۔ یہ مفسد بڑا جنگجو تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نے اس کے گلے میں تیر مارا جو حالت تقریر میں ٹھیک اس کے گلے میں جا کر لگا اور یہ شیطان گر کر مر گیا۔

بہر حال اب میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور مرتدین قلعہ میں مسیلمہ کذاب کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے جبکہ مجاہدین قلعہ میں محصور مرتدین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ مسیلمہ کذاب تو پہلے سے قلعہ بند تھا، اب دوسرے لوگ بھی قلعہ بند ہو گئے پھر جی کڑا کر کے قلعہ سے باہر آ کر مقابلہ کرنے لگے۔ اب قلعہ کی دیواروں کے باہر شدید لڑائی شروع ہو گئی اور مسیلمہ کے سیکڑوں لوگ کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ لیکن پھر بھی یہ لوگ مقابلہ سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے کیونکہ ان کا سرغنہ مسیلمہ کذاب اب تک موجود تھا۔ حضرات صحابہ کرامؓ نے بار بار حملے کیے۔ کبھی وہ لوگ پسپائی اختیار کر لیتے اور کبھی مسلمان پیچھے ہٹ جاتے۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت خالدؓ نے اپنی جنگی حکمت عملی سے کام لیا اور لڑائی کے میدان میں آ کر مسیلمہ کذاب کو یہ کہہ کر دعوت مبارزت دینے لگے۔ انا ابن الولید العود العود. میں خالد بن ولید ہوں، آؤ مسیلمہ کذاب، میرے مقابلے پر آؤ۔ حضرت خالدؓ کا خیال تھا کہ اگر مسیلمہ مارا جائے تو یہ لوگ بھاگ جائیں گے اور معرکہ مختصر ہو جائے گا ورنہ یہ لوگ آخری دم تک مسیلمہ کے لیے لڑیں گے، جس میں مسلمانوں کے لیے مشکلات تھیں لیکن مسیلمہ تو فی الواقع کذاب تھا، وہ سیف اللہ کے مقابلے پر کہاں آ سکتا تھا؟ اس نے صاف انکار کر دیا۔

تب حضرت خالدؓ نے تمام افواج اسلامیہ کو ایک ساتھ حملے کا حکم دے دیا۔ چنانچہ مجاہدین نے نعرۂ تکبیر بلند کر کے چاروں طرف سے قلعہ کے ارد گرد لوگوں پر حملہ کر دیا۔ تلواریں چمکنے لگیں۔ نیزوں نے سانپوں کی طرح حرکت کر کے آگ کی چنگاریاں چھوڑنا شروع کیں۔ ہر طرف سے تیر چلنے لگے۔ مسلمانوں نے مرتدین کا قافیہ تنگ کر دیا۔ بالآخر کچھ مرتدین مارے گئے اور کچھ نے بھاگ کر حدیقۃ الموت یعنی موت کے باغیچے میں پناہ لی۔ یہ قلعہ کے اندر مسیلمہ کذاب کا ایک وسیع باغ تھا۔ مسلمان باہر تھے، مسیلمہ اور اس کے ساتھی اندر تھے۔

صفحہ 141

اب یہ بنو حنیفہ کے دفاع کا آخری مورچہ رہ گیا تھا۔

مسیلمہ کذاب نے اپنے لوگوں سے کہا: ”اپنی عزت اور ناموس کا دفاع کرو، دین یہاں نہیں ہے“۔ اس جملہ سے اس ملعون نے اقرار کر لیا کہ یہاں وحی ہے نہ تھی۔ نبوت ہے نہ تھی۔ یہ تو سب دھوکا تھا۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اپنی عزتوں کو بچاؤ۔ یہ لوگ سمجھ گئے کہ یہ شخص نبی نہیں بلکہ جھوٹا تھا۔ لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ مسلمان قلعہ کے باہر تو لڑ رہے تھے لیکن قلعہ میں داخل ہونے کا امکان بظاہر بہت کم تھا، کیونکہ اس قلعہ کی دیواریں اتنی بلند تھیں کہ آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ تاہم لشکر اسلام نے چاروں طرف سے اس قلعہ کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ اب اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے قلعہ کے دروازہ کو کھولنے اور مسلمانوں کے اندر داخل ہونے کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں تھی۔ بعض جانبازوں نے قلعہ کی دیواروں سے اپنے آپ کو اندر گرا دیا تاکہ دروازہ کھول کر راستہ بنائیں، لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ آخر کار حضرت ابو دجانہ انصاریؓ نے کہا کہ میں مشتاق شہادت ہوں، مجھے ڈھال میں بٹھا کر نیزوں سے باندھ کر باغ کے اندر پھینک دو، میں دروازہ کھول دوں گا یا شہید ہو جاؤں گا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اسی طرح کیا اور حضرت ابو دجانہ انصاریؓ کو ڈھال میں بٹھا کر نیزوں سے باندھ کر باغ کے اندر پھینک دیا۔ آپ نے اندر جاتے ہی تکبیر کے نعروں سے دشمنوں کے دلوں کو دہلا دیا اور شمشیر حقانی کی کاٹ کے جوہر دکھا دکھا کر کفار کو حیران کر دیا۔ حضرت ابو دجانہؓ نے بہتیری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح دروازے تک پہنچوں مگر افسوس کہ دشمنوں کی کثرت نے کوئی پیش نہ جانے دی اور بالآخر لڑتے لڑتے کفار کو فی النار والسقر کرتے کرتے دروازے کے قریب آ کر زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور تاج شہادت پہن کر جنت الفردوس میں پہنچ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۝

حضرت خالدؓ کی حمیت اسلامی اس امر کو کب گوارا کر سکتی تھی کہ ابو دجانہ انصاریؓ جیسا شیر دل مقدس صحابی اکیلا دشمنوں میں لڑتا بھڑتا رہے اور خالد خاموش بیٹھا رہے۔ دیوانہ وار باغ کے گرد چکر لگایا مگر جب اندر پہنچنے کے لیے کوئی راستہ نہ ملا تو بتوکل علی اللہ اپنے وفادار تازی کو چابک کا اشارہ دیا۔ اشارے کا ملنا تھا کہ راکب و مرکب دونوں باغ کے اندر ایک ہی جست میں جا پہنچے۔ افسوس کہ شیر دل ابو دجانہؓ انصاری خالدؓ کے پہنچنے سے پیشتر ہی جام شہادت نوش کر چکے تھے۔ حضرت خالدؓ کو دیکھتے ہی مسیلمہ کا ایک مشہور پہلوان جھپٹا۔ مگر خالدؓ

صفحہ 142

نے اپنی خداداد چستی و چالاکی سے فوراً اس کو زمین پر دے پٹخا، اور گھوڑے سے اتر کر اس کی چھاتی پر بیٹھ گئے۔ مخالف نے اپنے تیز حربے سے جو اس کے پاس تھا، خالدؓ کو سات کاری زخم لگائے۔ حضرت خالدؓ نے اس پہلوان کو بالآخر واصل جہنم کر دیا مگر خود گھوڑے پر سوار ہونا چاہتے تھے کہ ہجوم اور شور و غل کی وجہ سے جو حضرت خالدؓ کے داخلِ باغ ہونے سے کفار میں پیدا ہو گیا تھا، گھوڑا ڈر گیا اور بدک کر بھاگ گیا۔ یوں حضرت خالدؓ پا پیادہ رہ گئے۔ دشمنوں نے ہر طرف سے غلبہ کر لیا لیکن کیا مجال کہ خوف و ہراس حضرت خالدؓ کے پاس تک پھٹکا ہو۔ وہ جرأت، ہمت اور استقلال کے ساتھ تنِ تنہا ہزاروں کفار کے درمیان ایک بہادر شیر کی طرح مقابلہ کرتے رہے اور ان کے ہر مجموعی حملے کو روکتے ہوئے دروازۂ باغ کی طرف پشت کر کے پچھلے پاؤں دروازہ کی طرف آئے اور جونہی دیوار کے قریب پہنچے، اپنی خداداد ہمت سے ایک ہی چھلانگ میں باغ سے باہر ہو گئے اور مخالفین انگشت بدنداں رہ گئے۔

حضرت خالدؓ نے باہر نکلتے ہی ایک عام ہلے کا حکم دے دیا اور اپنی ساری طاقت کو دروازۂ باغ پر مجتمع کر دیا اور دروازے کو توڑنا شروع کیا اور اس تائیدِ الٰہی کے باعث جو پہاڑوں کو لمحوں میں ریزہ ریزہ کر سکتی ہے، آناً فاناً دروازے کو توڑ تاڑ کر لشکرِ اسلامیہ باغ میں داخل ہو گیا اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔ مسلمانوں کے سخت محاصرے اور جانبازی کو دیکھ کر کفار گھبرا گئے اور مسیلمہ سے پوچھنے لگے کہ مسلمانوں کی ایک مٹھی بھر فوج نے جو ہمارے ہزاروں کی تعداد کے مقابلے میں بالکل بے حقیقت ہے، ہماری فوجوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ہزاروں اب تک تلوار کے گھاٹ اتر چکے ہیں اور سیکڑوں اتر رہے ہیں، بیشمار پڑے زخمی کراہ رہے ہیں۔ وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان اس باغ کو بھی بزور ہم سے چھین لیں، تمہارا وعدہ نصرتِ ملائک اب کہاں ہے؟ خدا کی مدد کب آئے گی؟ یہاں تو ہماری جان پر آ بنی ہے، کیا امدادِ الٰہی اس وقت آئے گی جبکہ ہماری جانیں لقمۂ اجل ہو چکی ہوں گی؟ لیکن مسیلمہ کذاب ان کے اس یاس انگیز سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا جس سے لوگ اور مایوس ہو گئے اور حوصلہ ہار بیٹھے۔ اب کفار نے باغ میں پناہ نہ دیکھ کر قلعے کا رخ کیا اور باغ سے نکلنے لگے۔ مسیلمہ بھی لباس تبدیل کر کے باغ سے نکلنے لگا لیکن ایک انصاری مسلمان نے دُور سے پہچان کر حضرت وحشیؓ بن حرب کو جو مشہور حربہ باز تھے اور دروازے پر کھڑے تھے، بلند آواز سے پکار کر کہا کہ یہی مسیلمہ کذاب ہے، جانے نہ پائے۔ حضرت وحشیؓ نے اس بات کے سنتے ہی

صفحہ 143

فوراً ایسا تلا ہوا نیزہ مارا کہ مسیلمہ وہیں گر کر ڈھیر ہو گیا اور ایک مجاہد صحابیہؓ حضرت ام عمارہؓ نے فوراً مسیلمہ کا سر اپنے بیٹے عبداللہ بن زید کی مدد سے کاٹ لیا۔ مرتے وقت مسیلمہ کو حضرت وحشیؓ نے للکار کر کہا کہ زمانۂ جاہلیت میں بحالتِ کفر میں نے خیرالناس حضرت حمزہؓ عم رسول اللہ ﷺ کو جنگِ اُحد میں شہید کر کے داخلِ جنت کیا تھا، اور آج بحالتِ اسلام، شرالناس مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کر رہا ہوں۔ مسیلمہ کے مرتے ہی کفار نے بالکل حوصلہ چھوڑ دیا۔

مسیلمہ کے محل کے بالائی حصے سے ایک لڑکی نے چیخ و پکار کرتے ہوئے کہا: ”وا امیر المؤمنین قتلہ العبد الاسود“۔ ہائے افسوس! امیرالمؤمنین مسیلمہ کو ایک حبشی غلام نے قتل کر دیا۔ اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ مرتدین جان بچانے کی غرض سے بھاگنے لگے۔ اب مرتدین بھاگ رہے تھے اور مسلمان ان کو قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ پورا علاقہ اور قلعہ صاف ہو گیا۔ قریب تھا کہ یمامہ میں ایک آدمی بھی زندہ نہ بچتا لیکن وہاں کے سنجیدہ لوگوں نے امن کی درخواست کی اور اس طرح ایک بڑے کافر کا بڑا فتنہ جہادِ مقدس کے ذریعہ سے ختم ہوا۔ صحابہؓ کرام پر اللہ تعالیٰ کی کروڑ ہا رحمتیں ہوں!!!

مسیلمہ کذاب واقعی کذاب ثابت ہوا۔ اب اس کی نبوت تھی نہ خلافت، امارت نہ سیادت بلکہ ذلت کے ساتھ زمین پر پڑا تھا۔ اس معرکہ یمامہ میں اس کے کل 28 ہزار آدمی مارے جاچکے تھے۔ گویا نصف سے زائد فوج ہلاک ہو گئی تھی اور وہ خود بھی واصلِ جہنم ہو گیا تھا۔

اگرچہ دشمن کا نقصان بے اندازہ ہوا لیکن افسوس کہ لشکرِ اسلامیہ کو بھی بہت نقصان پہنچا، اور اس سے پہلے کسی جنگ میں اس قدر نقصان نہیں پہنچا تھا۔ اس جنگ میں بارہ سو مسلمان جن میں انصار تین سو ساٹھ، مہاجرین تین سو جن میں کافی بدری صحابی بھی تھے اور عام مسلمان پانچ سو چالیس شہید ہوئے۔ ان سب میں سات سو کے قریب حافظِ قرآن تھے چونکہ مجاہدین کے آگے آگے حفاظِ کرام ہی قرآنِ پاک کی یہ آیاتِ مبارکہ:

یرزقون ۝ فرحین بما اتہم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم الا خوف علیہم ولاہم یحزنون ۝ (آل عمران: 169، 170)

پڑھ پڑھ کر مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیتے، فضیلت بیان کرتے اور شوقِ شہادت میں بیتاب کر کے خود دشمن کے مقابل سینہ سپر ہوتے تھے، اس لیے زیادہ تر حفاظِ قرآن شریف ہی اس

صفحہ 144

لڑائی میں کام آئے اور انہی کے حوصلے اور جرأت کے باعث یہ خوفناک فتنہ ختم ہوا۔ جس باغ میں مسیلمہ کے لوگ ہلاک ہوئے تھے چونکہ بہت زیادہ اموات ہوئیں، اس لیے وہ جگہ حدیقۃ الموت یعنی موت کا باغیچہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

حضرت خالدؓ نے چاہا کہ وہ اس شخص کو دیکھ لیں جس نے لوگوں کو اس قدر گمراہ اور ہلاک کر کے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ آپ نے لاشوں میں مسیلمہ کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حضرت خالدؓ کا جنگی قیدی مجاعہ بیڑیوں میں اٹھتا گرتا آپ کے پیچھے جا رہا تھا۔ جب حضرت خالدؓ نے رجال کی لاش دیکھی تو فرمایا کہ کیا یہی مسیلمہ ہے؟ تو مجاعہ نے کہا نہیں، یہ رجال ہے۔ پھر حضرت خالدؓ کا گزر محکم بن طفیل کی لاش پر ہوا تو فرمایا کیا یہ مسیلمہ ہے؟ تو مجاعہ نے کہا۔ نہیں بخدا، یہ اس سے اچھا تھا۔ پھر کچھ آگے گئے تو لوگوں نے اور لاشوں کو اُلٹ پلٹ کر کے نیچے سے مسیلمہ کی لاش لا کر حضرت خالدؓ کو دکھائی۔ آپؓ نے دیکھا کہ ایک گھٹیا سا آدمی ہے۔ رنگ پیلا ہے اور ناک انتہائی بدصورت ہے تو حضرت خالدؓ نے فرمایا کہ اللہ تم کو ذلیل کرے کہ ایسے حقیر اور بدصورت آدمی کے پیچھے لگ گئے۔ مجاعہ نے کہا کہ بس ایسا ہی ہوا۔ مسیلمہ کذاب کی لاش قریباً 20 ہزار لاشوں میں پڑی تھی اور قیدیوں کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔

اس اثنا میں امیر المؤمنین ابو بکر صدیقؓ نے حضرت خالدؓ کے نام ایک فرمان بھیجا جس میں لکھا تھا کہ اگر خدائے عزیز و برتر مرتدین پر فتح یاب کرے تو ان میں سے جس قدر افراد بالغ ہو چکے ہوں، وہ سب بجرم ارتداد قتل کیے جائیں اور عورتیں اور کم سن لڑکے حراست میں لے لیے جائیں۔ لیکن امیر المومنین کا فرمان پہنچنے سے پیشتر حضرت خالدؓ ایک معاہدہ کی تکمیل کر چکے تھے۔ اس بنا پر اس حکم کا نفاذ نہ ہوسکا اور باوجودیکہ یہ معاہدہ دھوکے اور فریب کاری کی اساس پر لکھا گیا تھا لیکن چونکہ عہد کی پابندی مسلمان کا لازمی شعار ہے، حضرت خالدؓ نے اس معاہدہ کو علیٰ حالہا قائم رکھا۔ مجاعہ کی تحریک سے مسیلمہ کے سات ممتاز افراد منتخب ہوئے جنھوں نے حضرت خالدؓ سے صلح کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور مسیلمی عقائد سے توبہ کر کے از سر نو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔ بہت عرصہ پیشتر مرزائیوں نے افغانستان میں عبدالطیف مرتد کی سنگباری پر یہ کہتے ہوئے بڑا اودھم مچایا تھا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کے مسیلمہ کذاب کے خلاف اس حکم کو دلیل راہ بنائیں۔

صفحہ 145

یہاں پر ایک نہایت ایمان افروز بات کا تذکرہ کرنا بے حد ضروری ہے کہ جب امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مسیلمہ کذاب کے جہنم واصل ہونے کی اطلاع ملی تو آپ خوشی ومسرت سے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ اس معرکہ حق و باطل میں جس طرح خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فرزند گرامی حضرت عبد الرحمنؓ شریک ہوئے، اسی طرح خلیفہ ثانی امیر المومنین عمر فاروقؓ کے صاحبزادہ جناب عبداللہ بن عمرؓ بھی شریک تھے۔ جب لشکر اسلام مظفر ومنصور ہو کر مدینہ منورہ واپس آیا اور حضرت عبداللہؓ نے اپنے والد محترم سے ملاقات کی تو حضرت فاروق اعظمؓ نے ان سے فرمایا ”یہ کیا بات ہے کہ تمہارا چچا (حضرت زیدؓ بن خطاب) تو شہید ہوا اور تم زندہ رہو؟ تم زیدؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے؟ کیا تمھیں شہادت کا شوق نہ تھا؟“ جناب عبداللہؓ نے عرض کیا ”اے والد محترم! چچا جان اور میں دونوں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی درخواست کی تھی۔ ان کی دعا مستجاب ہوئی لیکن میں اس سعادت سے محروم رہا۔ حالانکہ چچا جان کی طرح، میں نے بھی حصول شہادت کے لیے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا تھا۔

جنگ یمامہ میں حضور سرور کائنات ﷺ کے جو اصحاب رضوان اللہ علیہم شہید ہوئے، ابن اثیر نے ان میں سے مندرجہ ذیل حضرات کے اسمائے گرامی قلمبند کیے ہیں:

صفحہ 146

موجود تھے۔

کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔

صفحہ 147

شریک تھے۔

(فتنہ ارتداد اور جہاد فی سبیل اللہ از حضرت مولانا فضل محمد)

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہؓ کرام کی کتنی بڑی جماعت جھوٹے مدعی نبوت سے مقابلہ کے لیے میدان میں آئی۔ صحابہؓ کرام نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا، نہ مسلمانوں کی بے سروسامانی کا، اور نہ اس جماعت کے نماز، روزہ، حج، تلاوت یا دیگر احکام اسلامی کے ادا کرنے سے دھوکا کھایا۔ انھوں نے محض اس بات پر جہاد کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا ہر مدعی کذاب ہے اور اس کی سرکوبی ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا دعویٰ نبوت ......خواہ کسی بھی تاویل سے ہو،............ اس کی کتنی ہی بڑی جماعت کیوں نہ ہو،............ اس کے پیروکار ظاہری شکل و صورت سے کتنے ہی ’’اسلامی‘‘ کیوں نہ ہوں،............ خواہ وہ زبان سے کلمہ پڑھتے ہوں،............ تمام اسلامی شعائر کی پابندی کرتے ہوں،............ ان سب کو غیر مسلم قرار دیا جانا، قرآن وسنت اور اجماع صحابہؓ کرام کے سبب عین درست اور نہایت ضروری ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور ہرزہ سرائیاں

حضور خاتم النبیین علیہ التحیۃ و الثناء سے لامحدود اور غیر مشروط محبت واحترام ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے۔ وہ جب تک نبی کریم ﷺ کو اپنے والدین، اولاد، عزیز رشتہ دار، دولت وکاروبار حتیٰ کہ خود اپنی جان سے زیادہ عزیز ترین نہ جانے، مسلمان نہیں کہلوا سکتا۔ یہ قانون، قرون اولیٰ کے صحابہؓ کرام سے لے کر قیامت کی ساعت اول کے آغاز تک اسلام قبول کرنے والے ہر شخص پر یکساں لاگو ہے۔ اس سے ذرہ برابر روگردانی، رتی بھر انحراف، معمولی لاپروائی اور ادنیٰ سی بے توجہی بھی ایک مسلمان کو احسن تقویم کی چوٹیوں سے اٹھا کر

صفحہ 148

اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی کج فہم، کوتاہ نظر اور معکوسی فکر کا حامل شخص مسلمانوں کے مرکز نگاہ اور محبوب ترین شخصیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بھی توہین کرتا ہے تو غیرت و حمیت سے سرشار مسلمان کا تو تذکرہ ہی کیا بلکہ ایک عام مسلمان کا بھی خون کھول اٹھتا ہے اور اس کے رگ و پے میں لاوا سا گردش کرنے لگتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اس کا وجود غیظ و غضب کی کڑکتی بجلیوں کا روپ دھار لیتا ہے اور اسے اس وقت تک کسی پہلو قرار نہیں آتا جب تک کہ وہ شاتم رسول کے ناپاک اور غلیظ وجود سے اس دھرتی کو پاک نہیں کر لیتا۔ اس ہدف تک رسائی کے لیے وہ رات دن بے تاب رہنے لگتا ہے۔ اس جاں گسل مہم کو سر کرنے کے لیے چاہے اسے لاکھ چٹانیں اور خون کے اَن گنت سمندر ہی کیوں نہ عبور کرنا پڑیں، اس کے بے قابو جذبوں، ناقابل تسخیر جنوں اور کہسار صفت اخلاص و وفا کے سامنے کفر کی ہر طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ راہِ محبت کا یہ راہی اور لشکر عشق کا یہ سپاہی جانتا ہے کہ اس کی یہ جدوجہد ہی حاصلِ زندگی ہے، اسی میں اس کی بقا ہے اور یہ کہ یہی راستہ اللہ کی خوشنودی کی طرف اور یہی رہگزر شفاعت محمدی ﷺ کی طرف جاتی ہے۔

مسلمانان عالم کا حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدۂ جہاد 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور نبی کریم ﷺ کی محبت و عقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حکومت برطانیہ کی سرپرستی اور لالچ پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ بدبخت گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا تھا۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کرایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر بتدریج مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امر و نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے ادعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا، حتیٰ کہ اعلان کیا کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ) پھر اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے

صفحہ 149

مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ”محمد رسول اللہﷺ“ کو بھیجا۔ مزید کہا کہ مرزا قادیانی خود ”محمد رسول اللہ“ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں آیا۔ اس لیے ہمیں کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اب کلمہ طیبہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ یہ قادیانی عقیدہ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے اپنی ایک نظم میں پیش کیا۔

محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

قاضی اکمل نے مندرجہ بالا نظم لکھ کر ایک قطعہ کی صورت میں مرزا قادیانی کو پیش کی۔ مرزا قادیانی نے اس نظم کو پڑھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔

قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“، اس کی بیوی کو ”ام المومنین“، اس کی بیٹی کو ”سیدۃ النساء“، اس کے خاندان کو ”اہل بیت“، اس کے ساتھیوں کو ”صحابہ کرام“، اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ”قرآن مجید“، اس کی گفتگو کو ”احادیث رسول“، اس کے شہر قادیان کو ”مکہ“، ربوہ کو ”مدینہ“ اور اس کے مرگھٹ کو ”جنت البقیع“ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں۔ یاد رہے کہ شعائر اسلامی کے استعمال پر قادیانیوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C اور 298/C کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے۔

بلاشبہ قادیانی، قرآن مجید کی اس آیت کے مصداق ہیں جس میں ارشاد خداوندی ہے:

دل تو ہیں (مگر) یہ ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں تو ہیں (مگر) یہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں (مگر) یہ ان سے سنتے نہیں، یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ دراصل غافل ہیں“۔ (الاعراف: 179)

بقول چوہدری افضل حق: ”مرزائیت عیسائیت کی توام بہن ہے۔ یہ تحریک انگریزی حکمت عملی کی آغوش میں پل کر بڑھی پھلی اور پھولی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے پلومر کی ٹانک وائن سے مست ہو کر ایک مکتوب میں اپنی نبوت کو انگریز کا ”خودکاشتہ“ پودا بیان کر کے برطانوی سرکار سے اپنے ناجائز تعلقات کی پوری کہانی بے خبری میں کہہ دی۔ اس دستاویزی ثبوت کے بعد کوئی عقل کا اندھا ہی مرزائیت کی راہ

صفحہ 150

اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پھرنے والوں کی کمی نہیں۔ تکمیل دین کے بعد اجرائے نبوت کے قائل مرزائی لوگ گویا تاج محل پر مٹی کا بھدا گھروندا تیار کر کے ذوق سلیم کی توہین کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح فن تعمیر کے ماہر ایسے کور ذوق لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے، اس طرح سچے مسلمان ایسے کور ذوق مذہب کو قبول نہیں کر سکتے“۔

نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ 1993ء میں قادیانی جماعت نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی اور اس میں موقف اختیار کیا کہ انھیں خود کو مسلمان کہلانے، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرنے، لٹریچر تقسیم کرنے اور سرعام جلسے وغیرہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔ دوران مقدمہ جب مسلمان وکلا نے مرزا قادیانی، اس کے بیٹوں اور مریدوں کی کتب سے مذکورہ بالا گستاخانہ اور کفریہ عبارات پیش کیں تو فل بنچ کے جج صاحبان انھیں دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے روکتے ہوئے لکھا کہ ہر قادیانی شعائر اسلامی کی توہین اور اپنے کفریہ عقائد کی بنا پر ”سلمان رشدی“ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سلمان رشدی بدنام زمانہ گستاخ رسول ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ اگر قادیانیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی تو انتظامیہ ان کی جان اور مال کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ کوئی مسلمان ایسی دل آزار تحریریں پڑھنے کے بعد اپنے غصہ پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اس کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز لاء اینڈ آرڈر کا موجب بن سکتی ہے جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہتے، شعائر اسلامی کی توہین کرتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے اور گستاخانہ لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کا قانونی اور مذہبی فریضہ ہے کہ وہ قادیانیوں کی ارتدادی اور شرانگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے اور اگر کوئی قادیانی ایسا کرتا نظر آئے تو معززین علاقہ کے ہمراہ متعلقہ تھانہ میں جا کر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295/C اور 298/C کے تحت قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کرائے۔

مرزا قادیانی اور اس کے رفقا کی کتب میں بعض ایسی روح فرسا تحریریں ہیں جو عقائد کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان تحریروں کو پڑھ کر کلیجا پھٹنے کو آتا، دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا، آنکھیں خون کے آنسو روتیں، سینہ چھلنی ہوتا، روح میں زہر آلود نشتر چبھتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ نقل کفر، کفر نہ باشد کے مصداق، آئیے! بوجھل دل کے ساتھ ان دل آزار تحریروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

صفحہ 151

اللہ تعالیٰ کی توہین

مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کے متعلق لکھتا ہے:

(تذکرہ مجموعہ الہامات از مرزا قادیانی طبع چہارم ص 358)

(دافع البلاء از مرزا قادیانی، ص 11 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 231)

مرزا قادیانی کا ایک عقیدت مند مرید اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے“۔

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 از قاضی یار محمد)

حضور نبی کریم ﷺ کی توہین

مرزا قادیانی نے اپنی کئی تحریروں میں حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی نہایت توہین آمیز خیالات کا اظہار کیا جو ایک عام مسلمان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہے۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

تمام مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ بعد میں (قادیانی جماعت سے میری) یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک (مرزائیہ) کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں، پھل سے پہچانا جاتا ہے“۔

(حرف اقبال از لطیف احمد شیرانی ص 123)

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ اس سلسلہ میں اس کا اپنا بیان ہے:

والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول

صفحہ 152

بھی‘‘۔

(ایک غلطی کا ازالہ از مرزا قادیانی ص 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 ص 207)

وہ مزید لکھتا ہے:

بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیا ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمدؐ اور احمدؐ رکھا ہے اور مجھے آنحضرتؐ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتؐ کے خاتم الانبیا ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا‘‘۔

(ایک غلطی کا ازالہ از مرزا قادیانی ص 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 ص 212)

ایک اور موقع پر لکھتا ہے:

ہوں، میں اسمعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ ہوں، ابن مریمؑ ہوں، میں محمدؐ ہوں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی از مرزا قادیانی ص 521 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 521)

مرزا قادیانی نے اپنے متعلق مزید لکھا:

’’یعنی میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا، یعنی موسیٰؑ ہوں، میں محمدؐ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں‘‘۔

(تریاق القلوب از مرزا قادیانی ص 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 ص 134)

مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو کہ وہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ اپنی کتاب ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں بیان کیا ہے۔ ملعون مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:

کوئی دوئی باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریمؐ نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان

صفحہ 153

کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچاوے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدؐ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا‘‘۔ (کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ایم اے ص 105)

چونکہ مسلمان حضرت محمد ﷺ کے قادیان میں دوبارہ آنے کے قائل نہیں اور مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ تسلیم نہیں کرتے ، اس لیے قادیانیوں کے نزدیک وہ نئے کلمہ کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا بشیر احمد ایم۔اے لکھتا ہے:

بھی کفر ہونا چاہیے، کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو‘‘۔ (کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ص 146-147)

پھر اور بڑھتے ہوئے لکھتا ہے:

بہت ، کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریمؐ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا ۔‘‘

(کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ایم اے ص 113)

مرزا بشیر احمد ایم اے اس سلسلہ میں مزید لکھتا ہے:

سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما رئیٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ ’’پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔

صفحہ 154

ہاں اگر محمدؐ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی‘‘۔

(کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ایم اے ص 158)

مرزا قادیانی کے ایک عقیدت مند قاضی ظہور الدین اکمل نے مذکورہ بالا عقیدہ کو شاعری میں ڈھالا۔ ملاحظہ کیجیے:

امام اپنا عزیزو اس زماں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکرم
مکاں اس کا ہے گویا لا مکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمدﷺ پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدﷺ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء)

جب اس دلخراش قصیدہ پر اعتراض ہوا تو قادیانی جماعت نے جلتی پر تیل کی طرح جو جواب دیا، وہ نہایت افسوسناک ہے، ملاحظہ کیجیے:

قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پھر یہ نظم اخبار بدر 25 اکتوبر 1906ء میں چھپی اور شائع ہوئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایماں وقلت عرفاں کا ثبوت دے“۔

(روزنامہ الفضل 23 اگست 1944ء ص 4)

مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود، مرزا قادیانی کا رتبہ نبی کریم ﷺ سے بھی بڑھ کر بتاتا ہے۔

صفحہ 155

ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(مرزا محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5 جلد 17، 10 جولائی 1922ء)

مرزا قادیانی اپنے ایک مکتوب میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرتے ہوئے بڑی دیدہ دلیری سے لکھتا ہے:

حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے“۔ (لعنت اللہ علی الکاذبین۔ مؤلف)

(مرزا قادیانی کا مکتوب، اخبار الفضل قادیان 22 فروری 1924ء)

مرزا بشیر احمد ایم اے مرزا قادیانی کی مشہور سوانح حیات ”سیرۃ المہدی“ میں ایک اہم واقعہ لکھتا ہے:

ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تشریف لائے اور اندر سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آگئے، اور آتے ہی حضرت مسیح موعود سے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے خلاف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب کو جوش آگیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہوگئیں اور آواز کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (یعنی اے مومنو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز کے سامنے بلند نہ کیا کرو) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبدالکریم صاحب تو فوراً خاموش ہوگئے اور مولوی محمد احسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپنا جوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے اٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے آئے“۔

(سیرت المہدی جلد دوئم از مرزا بشیر احمد ایم اے ص 30)

اہلِ علم جانتے ہیں کہ اس واقعہ میں مذکور آیت قرآنی حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی جو ہمیں بارگاہ رسالت مآب ﷺ کے آداب سکھاتی ہے، جبکہ یہ آیت غیر ضروری انداز میں مرزا قادیانی کی شخصیت پر اسی طرح چسپاں کر دی گئی، جیسا کہ شانِ رسالت ﷺ بیان

صفحہ 156

کرنے والی دیگر آیات کا مرزا قادیانی پر اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ اس واردات سے قادیانی سازش کا پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں سے ان کا محور عقیدت چھین کر نام نہاد تقدس کا ایک متوازی مرکز تعمیر کیا جائے تاکہ اسلام کا نقطہ ماسکہ کسی طرح تحلیل ہو جائے۔ مرزا قادیانی اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی کے بارے میں لکھتا ہے:

(اربعین نمبر 4 از مرزا قادیانی ص 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 ص 25)

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیات قرآنی، وحی کی صورت میں دوبارہ اس پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ آیات قرآنی صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کے لیے ہی مخصوص ہیں۔ مرزا قادیانی کا اصرار ہے کہ چونکہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے، اس لیے اب وہی ان آیات کا مصداق ہے۔ اس نے بعض آیات میں تحریف بھی کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 73 طبع چہارم)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 74 طبع چہارم)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 194 طبع چہارم)

من الدمع یصلون علیک“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 41 طبع چہارم)

ورعد و برق کل شیء تحت قدمیہ“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 119 طبع چہارم)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات از مرزا قادیانی ص 541 طبع چہارم)

صفحہ 157

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 198 طبع چہارم)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 37 طبع چہارم)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 64 طبع چہارم)

اللہ و رسولہ. وكان امر اللہ مفعولا “

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 59 طبع چہارم)

ان آیات کے علاوہ مرزا قادیانی نے درج ذیل حدیث قدسی کو بھی اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھا۔

ترجمہ: اے مرزا، ”اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا“۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 556 طبع چہارم)

مرزا قادیانی پوری زندگی جسمانی اور دماغی بیماریوں کا شکار رہا۔ اس صورت حال میں اس کا یہ دعویٰ کہ ”میں محمد رسول اللہ ہوں“ نہایت گستاخانہ اور دل آزار اقدام ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی توہین

اہل بیتؓ عظام کا نسب نہایت پاکیزہ و عالی ہے۔ وہ تمام لوگوں میں سے بہتر، برگزیدہ اور پاکباز ہیں۔ ان کے حق میں قرآن کریم کی کئی آیات نازل ہوئیں اور کئی احادیث ان کی شان میں وارد ہوئیں۔ وہ طیب شجرِ نبوی کی مقدس شاخیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر آلائش کو دور کر دیا ہے اور انہیں صاف ستھرا کیا ہے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے ان کی خدمات، اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ سب مسلمانوں کے احترام، توقیر اور ان کی محبت کے لائق اور مستحق ہیں۔ ہر مسلمان اہل بیتؓ سے محبت اپنے لیے سرمایۂ حیات سمجھتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اور اس کے چیلے اہل بیتؓ کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟ ملاحظہ کیجیے:

نواسۂ رسول ﷺ، شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

صفحہ 158

اس مسیح سے بڑھ کر ہے، اور اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسینؓ تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے“۔

(دافع البلا از مرزا قادیانی ص 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 ص 233)

حضرت امام حسینؓ عالی مقام کے بارے میں بے حد غیر محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا:

پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس (ذکر حسینؓ) گوہ کا ڈھیر ہے“۔

(اعجاز احمدی از مرزا قادیانی ص 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 ص 194)

صد حسین است در گریبانم

ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں“۔ (نزول المسیح از مرزا قادیانی ص 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 ص 477)

مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ ملعون مرزا محمود، مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے، جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے، جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) امام حسین کے برابر تھے یا اعلیٰ۔

صفحہ 159

حضرت امام حسین ولی تھے۔ مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا، جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔ حضرت امام حسین اس وقت ہوئے جبکہ لاکھوں اولیا موجود تھے، اسلام اپنی شان وشوکت میں تھا۔ ایسی حالت میں ان کو وہ غم کہاں ہوسکتا تھا، جو اس شخص کو ہوا، جو ایسے ہی حالات میں مبعوث ہوا جن حالات میں خود محمدؐ کی بعثت ہوئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت رسول کریم ﷺ کی شہادت سے بڑی تھی؟ نہیں۔ اس لیے کہ جو غم اور تکلیف آپ کو اسلام کے لیے اٹھانی پڑی، وہ حضرت امام حسین کو نہیں اٹھانی پڑی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی شہادت بھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے گھر پر بیٹھے رہے۔ پھر کس طرح امام حسینؓ سے بڑھ گئے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا محمدؐ اسی طرح فوت ہوئے، جس طرح امام حسین فوت ہوئے تھے۔ نہیں! مگر کوئی ہے جو کہے محمدؐ کی قربانی حضرت امام حسین کی قربانی سے کم تھی۔ محمد ﷺ کی ایک ایک سیکنڈ کی قربانی حضرت امام حسینؓ کی ساری عمر کی قربانی سے بڑھ کر تھی۔ پس جس طرح محمدؐ کی قربانی بڑی تھی اسی طرح وہ شخص جو انہیں حالات میں کھڑا ہوگا جن میں محمدؐ کھڑے ہوئے، اس کی قربانی بھی بہت بڑھ کر ہوگی۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا ہے:

کربلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

”کہ مجھ پر تو ہر لمحہ سو سو کربلا کی مصیبتیں گزرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں“۔ (خطبہ مرزا محمود، روزنامہ الفضل قادیان شمارہ نمبر 80 جلد نمبر 26، 13 جنوری 1926ء)

تائید اور مدد مل رہی ہے“۔ (اعجاز احمدی از مرزا قادیانی ص 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 ص 181)

ظاہر ہے“۔ (اعجاز احمدی از مرزا قادیانی ص 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 ص 193)

حضرت علیؓ کی توہین

خلیفہ راشد حضرت علیؓ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:

ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ کو تلاش کرتے ہو“۔

(ملفوظات احمدیہ جلد اول ص 400 از مرزا قادیانی)

صفحہ 160

جگر گوشۂ رسول حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے شریکِ حیات، حضرات حسنؓ و حسینؓ کے پیارے والد، دنیا میں سب سے پہلے ناموس الٰہی کے مصدق جنہوں نے اپنی زندگی حضرت رسول اکرمﷺ کی خاطر خطرے میں ڈالتے ہوئے شب ہجرت کے موقع پر جب سرکار مدینہﷺ کفار مکہ میں محصور ہو چکے تھے، اکیلے کاٹی، اللہ اللہ جسے اسد اللہ کا خطاب رب کعبہ عنایت فرمائے اور جبرائیل سلام عرض کرے اور جو تمام غزوات میں شمع رسالتﷺ کے شانہ بشانہ رہے اور صدہا چوٹیں رفاقت میں کھائیں اور جنہوں نے اپنا ذاتی بدلہ کبھی نہ لیا اور جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ ”انت اخی فی الدنیا والآخرۃ (ترمذی ج 2 ص 213) اور ”انت منی بمنزلہ ہارون من موسی (مسلم ج 2 ص 278) فرمائیں۔ یعنی جن کو سرکار مدینہﷺ دنیا و آخرت میں بھائی قرار دے کر یہ فرمائیں کہ تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ موسٰی کو ہارون، آہ! جسے رب قدیر زندہ کہے، اسے مرزا قادیانی مردہ قرار دے۔ کیا رعونت و تکبر نے اس مردود کو تاریخ اسلامی سے بالکل بے بہرہ بنا دیا تھا۔ قرآن کریم کا ارشاد ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات (البقرۃ: 154)“ بھول گیا۔ آہ اس ملعون کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ماہِ صیام میں جبکہ حضرت علیؓ مسجد میں رب کعبہ کے حضور اس کے پاک نام کی تسبیح پڑھ رہے تھے، شہادت کی نعمت کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہوئے۔

کس قدر ظلم اور کتنا اندھیر ہے، کاش مرزا قادیانی کا گمراہ قلم حضرت علیؓ کو مردہ لکھتے وقت ٹوٹ جاتا، اس کے ناپاک ہاتھ شل اور مفلوج ہو جاتے۔ بخدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ زندہ ہیں، زندہ رہیں گے اور قیامت تک اُن کے نام پر رحمتیں پہنچتی رہیں گی! اے اللہ! رسول اکرمﷺ کے چوتھے وزیر حضرت علیؓ اسد اللہ الغالب پر تمام اہل اسلام کی طرف سے کروڑ کروڑ رحمتیں برسا! آمین!

سیدۃ النسا حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کی شرمناک توہین

آبروئے کائنات، خاتون جنت، جگر گوشۂ رسولؐ، سیدہ طاہرہ، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی عظمت و شان سے کون واقف نہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”بے شک فاطمۃ الزہراؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسنؓ و حسینؓ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“۔ (ترمذی) کتب صحاح میں حضرت سیدہ بتولؓ کے بے شمار فضائل و محاسن موجود ہیں۔ آپؓ کی جلالت شان اور مقام معصومیت کے متعلق سید الانبیاﷺ نے فرمایا: ”قیامت

صفحہ 161

کے وسط عرش سے مناد، ندا کرے گا کہ اے اہل محشر! اپنے سروں کو جھکا دو اور اپنی آنکھوں کو بند کر لو کہ فاطمہ بنت محمد ﷺ پل صراط سے گزر جائے۔ اس وقت ستر ہزار حوریں ان کے ہمراہ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گی‘‘۔ لیکن بدبخت مرزا قادیانی حضرت فاطمہ کے بارے میں نہایت دل آزار اور گستاخانہ اسلوب میں لکھتا ہے:

[کیا کریں؟ ہمارا قلم اسے لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگر کسی نے یہ ہرزہ سرائی دیکھنی ہو تو ملعون مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ درج ہے۔]

(ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 11 از مرزا قادیانی)

السلام اے فخر مریم دختر شاہ امم ﷺ
وارث تطہیر و عصمت باعث عزّ حرم
مالک کان حیا منبع جود و کرم
اے مصائب کی امیں روحِ روانِ درد و غم
پارۂ محبوب حق آرام جان مصطفیٰ ﷺ
اے خدیجہؓ کی نشانی غم گسار مرتضیٰ
پرورش گاہِ امامت تیری آغوشِ حیات
تیرے ہر فرزند نے دی قوت باطل کو مات
حسن تربیت ترا شبیر کا عزم و ثبات
تیرا اندازِ عمل ہے سطر عنوانِ نجات
گردشِ کون و مکاں ہے محتاج فرمانِ بتولؓ
فاطمہ زاہرہؓ! تری تعظیم کرتا ہے رسول ﷺ
اے چراغِ خانۂ حیدرؓ وقارِ علم دیں
پردۂ ناموس احمد ﷺ اے شرافت کی جبیں
مادرِ شاہ شہیداں حاصل صبر و یقیں
پیکر مظلومیت ہے تو شہادت کی امیں
یوں بسر کی ہے تو نے اپنی صبح شام زندگی
دین فطرت کا تحفظ اور حق بندگی
صفحہ 162

سید کون؟

مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ مرزا محمود لفظ ”سید“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“

(”قول الحق“ از مرزا محمود، ص 32)

قرآن مجید کی توہین

مرزا قادیانی نے قرآن مجید میں لفظی تحریف کرتے ہوئے کہا:

اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے“۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات از مرزا قادیانی ص 59 طبع چہارم)

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے قرآن مجید کے بارے میں قادیانی جماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

کیا ضرورت تھی؟ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہؐ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے“۔

(کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ایم اے ص 173)

قرآن مجید کے بارے میں مرزا قادیانی نے کہا:

(تذکرہ مجموعہ الہامات از مرزا قادیانی ص 77 طبع چہارم)

ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے،

صفحہ 163

خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی از مرزا قادیانی ص 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 ص 220)

مرزا قادیانی نے ایک کشف میں دیکھا کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ نبوت و رسالت کا دعویدار ہے، اس لیے اس کے کشف پر بالفرض محال تھوڑی دیر کے لیے بھروسا کر بھی لیا جائے تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے قرآن میں قادیان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ ذرا مرزا قادیانی کا کشف ملاحظہ کیجیے:

میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان‘‘۔

(ازالۃ اوہام از مرزا قادیانی (حاشیہ) حصہ اول ص 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 140)

مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کی توہین

مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے بارے میں مرزا محمود کے ناپاک خیالات ملاحظہ کیجیے:

یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟‘‘ (حقیقۃ الرؤیا ص 46 از مرزا محمود)

قادیانی، مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟

قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ آئیے اس کی ایک جھلک مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کی تحریروں سے ملاحظہ کیجیے:

صفحہ 164

شوق ہے اور حلال زادہ نہیں“۔

(انوار الاسلام ص 30 مندرجہ روحانی خزائن ج 9 ص 31 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح (حاشیہ) ص 4 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 382 از مرزا قادیانی)

معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی. الا ذریة البغایا“.

ترجمہ: ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“۔

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن ج 5 ص 547، 548 از مرزا قادیانی)

(نجم الہدیٰ ص 53 مندرجہ روحانی خزائن ج 14 ص 53 از مرزا قادیانی)

عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمد ﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔

(کلمۃ الفصل ص 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

تیری مخالفت اختیار کی، وہ جہنمی ہے“۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے“۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود علیہ السلام نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز

صفحہ 165

نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود علیہ السلام کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح علیہ السلام آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو‘۔

(کلمتہ الفصل ص 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

ہوئے، خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں"۔

(آئینہ صداقت ص 35 از مرزا محمود ابن مرزا قادیانی)

علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں“۔ قادیانیوں کے ایسے ہی عقائد و عزائم اور علامہ اقبالؒ کے مذکورہ قول کی روشنی میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس کے بعد 26 اپریل 1984ء کو صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 بی اور 298 سی کا اضافہ کرتے ہوئے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے غلط استعمال اور اپنے مذہب (قادیانیت) کی تبلیغ سے روک دیا۔ بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کے ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے نہ صرف قادیانیوں کو اپنے عقائد کی تبلیغ و تشہیر سے منع کر دیا بلکہ اس کی خلاف ورزی پر سزا بھی مقرر کی۔

نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا فرضِ اوّلین ہے۔ اس کی حفاظت میں کوتاہی بہت بڑا گناہ ہے، جس کی پاداش میں روزِ قیامت ہم سے سوال ہوگا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیانِ نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ تاویلات اور جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر دینِ اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ منکرینِ ختمِ نبوت اپنی شپرہ چشمی کو آفتاب، کج فہمی کو دلیل، بکائن کو انگور، زہر کو امرت، ظلمت کو اُجالا اور پیتل کو زرِ خالص تسلیم کروانے پر مُصر رہے مگر امتِ مسلمہ نے دینِ اسلام میں ذرا سی بھی تبدیلی، تحریف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا، بلکہ ہر قسم کے مشکل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دل و جان سے

صفحہ 166

عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی اور منکرین ختم نبوت کے خلاف بھر پور جہاد کیا۔ ختم نبوت کی آسمانی نعمت کے باغی ٹانک وائن کی بدمستی میں ختم نبوت کا چراغ پھونکوں سے بجھانے کی ناپاک سازشیں کرتے رہے مگر نورِ ایمان کے حامل مجاہدین ختم نبوت نے جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکاروں کے خلاف ناقابل فراموش سرفروشی اور جان نثاری کے ایسے ایمان افروز مناظر پیش کیے جن سے نہ صرف حق کا سر بلند ہوا بلکہ منکرین ختم نبوت اپنے مکروہ عزائم سمیت خائب وخاسر ہوئے!

حضور نبی کریم ﷺ سے محبت وعقیدت، ایمان کی بنیاد

مغز قرآن جان ایمان روح دین
ہست حب رحمۃ للعالمین

یعنی قرآن مجید کا اگر عطر نکالا جائے، ایمان کی روح کے جوہر کو تلاش کیا جائے، دین کی حقیقی جان کو ڈھونڈا جائے تو یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آپ ﷺ کی محبت کے بغیر ہمارا دین مکمل ہے اور نہ ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی سورۃ توبہ میں فرماتے ہیں۔

عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِيْمٌ ۝

(توبہ:128)

ترجمہ: ”بے شک تمہارے پاس تم میں سے ایک عظمت والے رسول تشریف لائے، ان پر سخت گراں ہے، تمہارا مشقت میں پڑنا، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، ایمان والوں پر نہایت مہربان اور بے حد رحم فرمانے والے ہیں“۔

حضور خاتم النبیین ﷺ نے اپنی محبت، امت پر فرض قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میری ذات اسے اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے“۔

(صحیح البخاری: 15)

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں“۔

پاکستانی قومی ترانے کے خالق جناب حفیظ جالندھری اپنی شہرہ آفاق تصنیف

صفحہ 167

”شاہنامہ اسلام“ میں اس حدیث مبارکہ کا منظوم ترجمہ کرتے ہیں۔

محمد ﷺ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا

مذکورہ بالا حدیث میں جس محبت کا مطالبہ کیا گیا ہے، یہ ”محبت طبعی“ ہی سے تعبیر کی جاسکتی ہے اور اس کو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ اگر تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں کوئی خونی رشتہ جیسے باپ، ماں اور اولاد کی محبت و پیار رکاوٹ کھڑی کردے تو اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں اس خونی رشتہ جیسے ماں، باپ اور اولاد وغیرہ کو یکسر نظر انداز کرنا ہوگا، اگر ایسے حالات میں ان کو نظر انداز نہ کیا جائے تو ایسے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں اور نہ اس کو ایمان ہی کہا جاسکتا ہے اور ایسا معاملہ کسی وقت انسان کی اپنی جان کی محبت کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ ایسی صورت واقع ہو جائے تو اپنی جان پر کھیل کر ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرنا ایمان کی نشانی قرار پائے گا۔ بزرگوں نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا ہے کہ یہاں طبعی محبت ہی مراد ہے اور درحقیقت وہ ہر مسلمان میں اس قدر موجود ہے کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، چاہے وہ اس کا کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو۔ اس محبت کا امتحان کے موقع پر پتا چلتا ہے، کوئی مسلمان کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، اگر اس کے سامنے اس کا باپ یا بیٹا بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں کوئی گرا ہوا لفظ کہہ دے تو اس سے برداشت نہیں ہوگا اور وہ اسے ختم کرنے کو دوڑے گا۔ معلوم ہوا کہ ہر مسلمان عقلی اور طبعی طور پر اپنے آقا ومولا ﷺ کی محبت میں بندھا ہوا ہے۔

مختصر یہ کہ قرآن وحدیث کا ماحصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدار حبّ رسول ﷺ پر ہے۔ جس شخص میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس درجہ کی محبت نہ ہو، اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

آپ ﷺ پر ایمان لانے والے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ نے اپنے اپنے ایمان کا اظہار اس خوبی سے کیا کہ آج بھی انسان کی حیرت گم ہو کر رہ جاتی ہے کہ فی الواقعہ فطری اور طبعی محبت کو اس ”عقلی محبت“ پر اتنی ترجیح دی اور ان واقعات کو سن کر انسان ششدر رہ جاتا ہے، ان واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ:

غزوہ احد میں جب میدان کارزار گرم ہوا اور مسلمانوں کی فتح پر کفار غالب آگئے

صفحہ 168

اور فتح ہوتے ہوئے بظاہر شکست میں بدل گئی اور مسلمان پریشان ہو گئے ۔ یہاں تک خبریں گرم ہو گئیں کہ کفار مکہ نے مسلمانوں پر فتح حاصل کر لی اور جونہی مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو مدینہ سے عورتیں اور بچے میدان کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایک انصاری عورت کے شوہر، باپ اور بھائی تینوں میدان احد میں کام آئے۔ جونہی اس کو یہ خبر پہنچی تو اس نے ان تینوں کی شہادت کی خبر سن کر بھی پوچھا تو یہی پوچھا کہ ”خدا را مجھے یہ بتاؤ کہ میرے آقا و سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو بخیریت ہیں؟“ لوگوں نے آپ ﷺ کی سلامتی اور خیریت کی خبر اس کو دی لیکن اس کے باوجود اس کو تسکین نہ ہوئی۔ اس لیے کہ یہ افواہ عام ہو چکی تھی کہ نعوذ باللہ ”آپ ﷺ قتل کر دیے گئے“۔ وہ آگے بڑھی اور یہ کہہ رہی تھی کہ میں خود اپنی آنکھوں سے جب تک آپ ﷺ کو نہ دیکھ لوں، اس وقت تک یقین نہیں آئے گا“۔ پھر اس نے آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھی كل مصيبة بعدك جلل ”جب آپ ﷺ زندہ سلامت ہیں تو ہر مصیبت آسان ہے“۔

نظر آیا کہ ہاں جلوہ فگن نور تجلی ہے
پکار اُٹھی کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
تسلی ہے، پناہ بے کساں ﷺ زندہ سلامت ہے
کوئی پروا نہیں، سارا جہاں زندہ سلامت ہے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین صفات جس شخص میں پائی جائیں گی، وہ ایمان کی شیرینی کو پالے گا۔ پہلی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اس کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری: اگر کسی سے محبت رکھے تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے۔ تیسری: یہ کہ کفر میں جانے کو اسی طرح برا سمجھے جس طرح آگ میں گرائے جانے کو برا سمجھتا ہے“۔ (بخاری و مسلم) امام بخاریؒ نے باب حب الرسول ﷺ من الایمان اور باب حلاوة الایمان کے عنوانات کے زیر تحت لکھا ہے کہ ایمان کی لذت اور مٹھاس تب محسوس ہوگی جب حضور نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ محبوب ہوں۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس جسے انسان خود اپنے دل میں محسوس کر سکتا ہے، صرف اسی آدمی کو حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کی محبت میں ایسا سرشار ہو کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ان کی محبت ہو اور اس محبت

صفحہ 169

کا اس کے دل پر ایسا قبضہ اور تسلط ہو کہ اگر وہ کسی اور انسان سے بھی محبت کرے تو اللہ ہی کے لیے کرے اور اس شخص کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دین اتنا عزیز اور پیارا ہو کہ اس سے پھرنا اور اس کو چھوڑنے کا خیال، اس کے لیے آگ میں گر جانے کے برابر تکلیف دہ اور پریشان کن ہو۔

آپ کا اسم مبارک خاتم دل کا نگیں
آپ کا ذکرِ حسیں وجہِ سکوں میرے حضورﷺ

امام طبرانی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک صحابیؓ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ آپ ﷺ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ یقیناً آپ ﷺ مجھے میرے بیٹے سے زیادہ پیارے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی محفل میں آتا ہوں تو چین ملتا ہے۔ گھر بیٹھتا ہوں تو مجھے چین نہیں آتا، جب تک کہ آپ ﷺ کا دیدار نہ کر لوں، جب میں اپنی اور آپ ﷺ کی رحلت کا تصور کرتا ہوں، تو سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ تو جنت میں داخل ہونے کے بعد انبیا کے ساتھ نہایت بلند مقام پر فائز ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہو بھی گیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ میں آپ ﷺ کا دیدار نہ کر پاؤں گا۔ اس موقع پر حضرت جبرئیل علیہ السلام اس آیت کے ساتھ تشریف لائے۔

وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰۤىِٕكَ رَفِيْقًا ٥ (النساء: 69)

ترجمہ: ’’جو کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، پیغمبروں، صدیقوں، شہدا اور صالحین میں سے، اور یہ لوگ کتنے اچھے ساتھی ہیں اور کتنے اچھے ہمدرد و رفیق ہیں‘‘۔

امام بخاریؒ، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے مقدادؓ کی وہ خوبی دیکھی ہے جس کا پانا مجھے دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ عزیز ہے۔ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب آپ ﷺ مشرکوں کے لیے بددعا کر رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ ﷺ سے وہ بات نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہی: فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا۔ (المائدہ: 24) (یعنی) تُو اور تیرا رب دونوں جا کر لڑیں۔ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں، بائیں، آگے پیچھے ہر

صفحہ 170

جانب سے جنگ کریں گے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا اس بات نے نبی ﷺ کے چہرے کو روشن کر دیا اور آپ ﷺ خوش ہو گئے‘‘۔

نبی اکرم ﷺ ہماری محبت کے محتاج نہیں۔ ہم ان سے محبت کریں یا نہ کریں، اس سے آپ ﷺ کی عزت، عظمت اور بزرگی میں فرق واقع ہوگا نہ کمی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے تو ان کا ذکر بے حد بلند کر دیا ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:

اور جو خوش قسمت حُب رسول ﷺ کے تقاضے پورے کرتے ہیں، انھیں حضرت انسؓ کی روایت میں رحمۃ للعالمین ﷺ کی نوید ہے کہ:

’’جو میرے ساتھ محبت کرتا ہوگا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘۔

ایک شخص نے پوچھا، یا رسول اللہ ﷺ! ایک آدمی دوسرے سے اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہ نیک عمل کرتا ہے لیکن خود وہ یہ نیک عمل نہیں کرتا، تو کیا یہ بھی محبت کی وجہ سے اس کے ساتھ ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا، آدمی جس سے محبت کرے گا، اسی کے ساتھ ہوگا۔

(صحیح مسلم)

یعنی اگر کوئی شخص خود تحفظ ختم نبوت کا کام نہیں کرتا لیکن یہ کام کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، ان کا اکرام کرتا ہے، ان کی دامے، درمے، قدمے، سخنے معاونت کرتا ہے تو بھی اپنے اس نیک عمل کے باعث وہ جنت میں داخل ہوگا۔

حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! ایک آدمی ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر سکتا، کیا یہ بھی ان کے ساتھ ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا، اے ابو ذر! تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرو گے۔ میں نے کہا، مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، تم جس سے محبت کرو گے، اسی کے ساتھ ہو گے۔ میں نے اپنا جملہ پھر دہرایا تو حضور ﷺ نے پھر یہی ارشاد فرمایا۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتے اور آپ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں، اس شخص کی نسبت جو ایسی قوم سے محبت رکھتا ہے جن سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔ آپ ﷺ نے

صفحہ 171

ارشاد فرمایا۔ ”المرء مع من احب“۔ ”انسان قیامت کے دن ان لوگوں کے زمرہ میں اٹھے گا جن سے وہ محبت رکھتا تھا۔“ (صحیح بخاری)

اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ قادیانیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، ان کے لیے محبت و پیار کے جذبات رکھتے ہیں، قیامت کے دن ان کا حشر بھی قادیانیوں کے ساتھ ہی ہوگا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا گیا کہ ”رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی محبت کیسی ہے؟“ حضرت علیؓ نے جواب دیا:

”خدا کی قسم، رسول اللہ ﷺ ہم کو اپنے مال، اولاد، آبا، امہات اور شدت پیاس کے وقت جو پانی کی طلب ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ حضرت علیؓ نے سچ فرمایا۔ تمام صحابہ کرام کی یہی حالت تھی اور کیوں نہ ہوتی جبکہ وہ حضرات کامل الایمان تھے۔

اصحاب رسول ﷺ کی محبت و فریفتگی کی دنیا کا اک اک ذرہ آفتاب سے کم نہ تھا اور پھر جب محبوب، محبوب خدا (ﷺ) ہوں اور چاہنے والے روبرو ہوں تو اس کیف کا عالم کیا ہوگا؟

اپنا معیار زمانے سے جدا رکھتے ہیں
ہم تو محبوب بھی محبوب خدا ﷺ رکھتے ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”میری امت میں مجھ سے شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے، ان میں بعض کی تمنا ہوگی کہ کاش! وہ اپنے اہل و مال کے عوض ایک بار میری زیارت سے مشرف ہو جائیں“۔

کاش! جب ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو تو آپ ﷺ خوشی سے ہمیں یہ مژدہ جانفزا سنائیں کہ تم میرے ساتھ محبت کرتے ہو، میرے دوستوں کو اپنے دوست سمجھتے ہو اور میرے دشمنوں کو اپنا دشمن تصور کرتے ہو، اس پر میں تم سے بہت خوش ہوں اور اس کا بدلہ جنت ہے۔

فیض نسبت سے رہتی نہیں کوئی آرزو بے نمو

نسبتیں اُس وقت محترم ہوتی ہیں جب وہ ارفع اور اعلیٰ انسانوں سے ہوں اور جب ایسی ہستی کی نسبت کا حوالہ آئے جو خالق کون و مکاں کے بعد سب سے بڑی ہو تو نسبت کتنی

صفحہ 172

وقیع ہوگی، حوالہ کتنا معتبر ہوگا اور ذکر کتنا متبرک ہوگا، کوئی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔

نسبت رسول ﷺ کائنات کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ یہ نسبت کا ہی فیضان ہے کہ جس جگہ پر حضور سرور ہر عالم ﷺ آرام فرما رہے ہیں، وہ جگہ عرش معلیٰ اور کعبہ و کرسی سے بھی اعلیٰ و افضل ہے۔ یہ بھی نسبت کا فیض ہے کہ اصحاب کہف کا کتا، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا دنبہ، حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی، حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا اور حضور نبی کریم ﷺ کا براق جنت میں جائیں گے۔ یہ نسبت کی برکت ہے کہ خانہ کعبہ میں ایک رکعت کا ثواب ایک لاکھ کے برابر اور مسجد نبوی ﷺ میں ایک رکعت کا ثواب پچاس ہزار رکعتوں کے برابر ملتا ہے۔ یہ نسبت کا ہی حسن ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے حجر اسود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ کسی کو نفع۔ اگر رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ یہ نسبت کی ہی برکت ہے کہ قرآن مجید کی تعظیم و تکریم تو مسلمہ ہے ہی، مگر غلاف کی بھی تعظیم اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ قرآن مجید کے نسخہ کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ یہ بھی نسبت کا فیض ہے کہ ایک ہی بھٹے سے تیار ہونے والی اینٹ کسی گھر یا مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے مگر احترام کے حوالے سے دونوں میں فرق ہے۔ اسی طرح پانی دنیا بھر میں ہر جگہ موجود ہے لیکن آب زم زم کا کوئی مقابلہ نہیں۔ کیا یہ سارے حسن اتفاق نسبت کی مرہون منت نہیں؟

آنکھ ہو یا دل، ہاتھ ہو یا پاؤں، جب اس کا تعلق کسی سے ہو جاتا ہے تو اس کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ مقناطیس سے چمٹ کر لوہا خود کب جدا ہو سکتا ہے۔ صفا و مروہ کی عام پہاڑیوں کو بے بسی کے غار سے نکالنا نسبت ہی کا کام ہے۔ اب جو ساری کائنات کی بہاریں ان پر فدا ہو رہی ہیں تو کیا اس میں ان کا کوئی ذاتی وصف بھی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں کی ٹھوکر لگنے والے پانی کے چشمے کے سوتے دو اڑھائی ہزار سال سے خشک نہیں ہو رہے تو آخر کیوں؟ کس کی نسبت نے ان کو شہرت کے بام عروج تک پہنچا دیا ہے۔ نظم کائنات میں چاروں طرف بکھرے ہوئے ہزاروں نہیں، لاکھوں شعبہ جات میں یہ کرشمہ سازیاں دیکھی جاسکتی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ نسبت ہی باعث نجات ہے۔

دیتی ہے دلوں کو شاد کامی نسبت
ہے قابل فخر یہ گرامی نسبت
صفحہ 173

بلاشبہ نسبتیں عظیم ہوتی ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ سلسلہ خیر کا ہو تو نجات اخروی مقدر بنتی ہے اور مقصد دنیا ہو تو بھی سیم وزر کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ یہ محض لکیروں اور ستاروں کی گفتگو نہیں، زمینی حقیقت ہے کہ جس نے جس سے تعلق استوار کیا، وہ ربط اس کے بخت سنوار گیا۔ حضور رحمت عالمﷺ کا اسم گرامی اتنا عظیم ہے کہ سو سالہ کفر وطغیان میں ڈوبا ہوا شخص بھی یہ نام لے کر ایمان واثق کی آخری سرحدوں کو فوراً چھو لیتا ہے۔ یہ اسی عظیم ترین محبوبﷺ کی نسبت کا رنگ ہے، اگر چڑھ جائے تو منسوب اس نسبت کے حوالہ سے ساری دنیا کے لیے محسود بن جائے۔ جس شخص کو نسبت رسولﷺ نصیب ہو جائے، اس کا رتبہ بدل جاتا ہے۔ یہی وہ متاع عظیم ہے جس پر صحابہ کرامؓ فخر کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی فضیلت حالت ایمان میں حضور نبی کریمﷺ کی زیارت کے سبب ہے اور ان کے رتبے تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ امت مسلمہ کو باقی تمام امتوں سے زیادہ فضیلت صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے عطا ہوئی ہے۔ رسول اللہﷺ کی آمد سے قبل مدینہ کو یثرب (آفات اور بیماریوں والی جگہ) کہا جاتا تھا مگر آپﷺ کے مبارک قدموں کی نسبت سے مدینہ کی مٹی میں شفا رکھ دی گئی۔

کسی چیز کے ساتھ کسی چیز کو نسبت ہوتی ہے تو اس نسبت کی قدر اس چیز کے مطابق ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کو نسبت ہوتی ہے۔ ارفع واعلیٰ چیز کے ساتھ نسبت رکھنے والی چیز بھی معزز ہو جاتی ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اگر کسی کو مل جائے تو وہ اس سعادت پر فخر کرتا ہے۔ یہ سب نصیب کی بات ہے۔ محبوب سے نسبت رکھنے والی چیز محبوب ہوتی ہے۔ نسبت اگر احسن ہو تو لاریب پستی کو بھی بلندی کا شرف مل جاتا ہے۔ خاک کی نسبت اگر نعلین پاک سے ہو جائے تو وہ اہل نظر کی آنکھ کا سرمہ بن جاتی ہے اور جس کی نسبت سرکار دو عالمﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ سے ہو جائے تو اُس کے مقدر کے کیا کہنے!......

؎ انﷺ کی نسبت ہے سلامت تو سلامت ہم بھی

نسبت رسولﷺ سند ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے نسبت رسولﷺ بہت بڑا اعزاز ہے۔ دین اسلام کی سلامتی اور ایمان کے استحکام کا انحصار نسبت رسولﷺ کی موجودگی پر ہے۔ اگر یہ نسبت قائم ہے تو دین و ایمان کی عمارت سلامت ہے اور اگر خدانخواستہ یہ نسبت ٹوٹ جائے تو سمجھ لیجیے کہ سب کچھ رائیگاں چلا گیا۔ حضور نبی کریمﷺ سے محبت وعقیدت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر اس چیز سے محبت کریں جس

صفحہ 174

کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نسبت ہے۔

تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے ہر مجاہد کو نہ صرف حضور نبی کریم ﷺ سے خاص نسبت حاصل ہو جاتی ہے بلکہ اسے آپ ﷺ کا خصوصی قرب و فیض بھی نصیب ہوتا ہے۔ وہ آپ ﷺ کی خاص رحمت، نگاہ التفات اور شفاعت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ثابت کرتا ہے کہ اگر وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور مبارک میں ہوتا تو جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد میں حصہ لیتا۔ اس کا یہ صادق جذبہ اُسے حمایتی رسول، حواری رسول اور عاشق رسول ﷺ بنا دیتا ہے۔ یہ نسبت اتنی عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی نسبت اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ تحفظ ختم نبوت کی نسبت اگر کسی کو نصیب ہو جائے تو اسے اپنے مقدر پر رشک کرنا چاہیے۔

ہر چند کہ خاکِ کفِ پا بھی نہیں ہوں
نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرے

فصل بہار سے باغوں کی نسبت ہوا کو ہر وقت عطر بیز اور خوشبودار کر دیا کرتی ہے۔

شیخ سعدی کا فرمان ہے:

گلے خوشبوئے در حمام روزے
رسید از دست محبوبے بدستم
کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتا من گل ناچیز بودم
و لیکن مدتے بہ گل نشستم
جمال ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

ترجمہ: ایک دن ایک نہایت ہی خوشبو دار مٹی مجھے ایک محبوب کے ہاتھ سے ملی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عبیر کہ میں تیری دل آویز خوشبو سے مست ہوگیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں ایک ناچیز سی مٹی ہوں لیکن مدتوں گلاب کے ساتھ رہی۔ جمال ہم نشیں نے مجھ پہ اثر کیا وگرنہ میں تو وہی بے مایہ سی مٹی ہوں جو تھی، یہ خوشبو اُس کی نسبت اور رفاقت کا اثر ہے۔

صفحہ 175

محبت رسول ﷺ ............ ایمان کی آکسیجن

آکسیجن انسان کی بقا کے لیے بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔ کھانا پانی ایک مدت تک نہ بھی ملے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن آکسیجن تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ملے تو انسان کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ خون میں آکسیجن کی مقدار اور دباؤ میں کمی کے باعث انسان کی حالت نازک اور تشویشناک ہو جاتی ہے۔ دراصل ہمارا جسم کروڑوں خلیوں کا مرکب ہے اور خلیہ ہی زندگی کی بنیاد ہے اور آکسیجن ہر خلیے کی بنیادی ضرورت۔ اگر خلیوں کو حسب ضرورت آکسیجن نہ ملے تو ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور خلیوں کی موت ہی انسان کی موت ہے۔ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچائی ہوئی آکسیجن خون کے دوران کے ساتھ ساتھ دل سے ہوتی ہوئی جسم کے کروڑوں خلیوں تک پہنچتی ہے۔ آکسیجن دل و دماغ ، آنکھوں، کانوں اور جسم کے دوسرے حصوں میں باقاعدگی کے ساتھ پہنچتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں دل و دماغ ، آنکھیں اور کان نہایت عمدگی کے ساتھ اپنا اپنا کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نہ صرف غنودگی، ذہنی تھکان ، سر درد اور متلی کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے بلکہ تشنج، اینٹھن اور جھٹکے شروع ہو جاتے ہیں بعض اوقات انسان کوما میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے فیصلے کرنے کی قوت اور یادداشت بُری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دل، دماغ، آنکھوں اور کانوں کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ صرف طبعی کارکردگی کے لیے ہی نہیں ہیں کہ دل صرف خون کے دوران کے لیے پمپ کا کام کر رہا ہو، دماغ انسانی جسم کی نشوونما یا انسانی حرکات وسکنات کے لیے احکامات جاری کرنے ہی میں مصروف ہو، آنکھیں صرف دیکھ رہی ہوں یا کان صرف سُن رہے ہوں، بلکہ نفسانی اور روحانی کارکردگی میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ آنکھیں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ حق و باطل میں تمیز بھی کر سکتی ہیں، کان نہ صرف سُن سکتے ہیں بلکہ سُن کر حق و باطل میں فرق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آنکھوں اور کانوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر دماغ تدبر کرتا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے پھر اس فیصلے کو دل قبول کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔

جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت رسول ﷺ ایمان کی آکسیجن ہے جو روح کو تقویت پہنچاتی ہے۔ یہ آکسیجن جس قدر وافر ، شفاف اور منزہ ہوگی ، اسی قدر ایمان مضبوط ترین اور روح حق شناس ہوگی۔ جن لوگوں کے پھیپھڑوں میں

صفحہ 176

محبت رسول ﷺ کی آکسیجن پہنچتی رہتی ہے، ان کی آنکھیں، کان اور دماغ حق کو نمایاں کرتے اور حق کی تائید کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل حق کو قبول کر لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے لامحدود اور غیر مشروط محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ اگر اس میں خامی ہوگی، تو ایمان ناقص ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات وصفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ: ”اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ اگر تمھارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمھارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال ودولت جس کو تم نے محنت سے کمایا ہے اور تمہاری وہ چلتی ہوئی تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے رہنے کے وہ اچھے مکانات جو تم کو پسند ہیں (پس دنیا کی محبوب و مرغوب چیزیں) اللہ، اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کے دین کی راہ کی جدوجہد سے زیادہ تمھیں محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے اور یاد رکھو، اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا“۔ (توبہ:24)

یہ آیت اس باب میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی محبت ضروری اور لازمی ہے اور جس شخص کو ان مذکورہ آٹھ اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ پیاری ہو، اسے ایسا گم کردہ راہ بتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی جان سے بھی پیارا سمجھا جائے۔ ایک اور جگہ پر ارشاد خداوندی ہے:النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم۔ (احزاب:6) ”مؤمن کا اپنی جان پر جتنا حق ہے، اس سے زیادہ اس کی جان پر نبی ﷺ کا حق ہے“۔

دراصل ایمان نام ہے محبت رسول (ﷺ) کا۔ حُب رسول (ﷺ) کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے بلکہ مسلمان ہونے کی شرط اوّلین، محبت مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ہے۔ بخاری شریف کتاب الایمان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم (ﷺ) نے فرمایا:

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میری ذات اسے

صفحہ 177

اس کے والدین، اولاد حتیٰ کہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے‘‘۔ (صحیح البخاری: 15)

اور ایک روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں“۔

زیر نظر حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدار حبّ رسول پر ہے جس شخص میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس درجہ کی محبت نہ ہو، اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ سے ایک اور روایت ہے کہ ”ایک شخص بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ فرمائیے کہ قیامت کب برپا ہوگی؟ شافع محشر ﷺ نے اس سے پوچھا: مَااَعْدَدْتَ لَهَا تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! میں نے نہ تو زیادہ نمازیں پڑھی ہیں، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ زیادہ صدقات ہی دیے ہیں۔ لٰکِنِّيْ اُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا: ”اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ تُو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تُو محبت کرتا ہوگا“۔ (صحیح بخاری)

مندرجہ بالا حدیث شریف کے راوی حضرت انسؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں کبھی کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی حضرت محمد ﷺ کے اس قول انت مع من احببت (تُو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے) سے ہوئی‘‘۔

ہر مسلمان فاقہ کشی کی زندگی تو گزار سکتا ہے لیکن اگر اس کے قلوب و اذہان سے روح محمد ﷺ نکال لی جائے تو یہ فوراً مر جائے گا کیونکہ اس کی سانسیں محبت رسول ﷺ سے وابستہ ہیں۔ اگر اس کو محبت رسول ﷺ کی روحانی تسکین اور ٹھنڈک سے الگ کر دیا جائے تو زمانے کی گرمی اسے جھلسا کے رکھ دیتی ہے۔ عطرِ سخن یہ کہ مسلمانوں کا جینا مرنا غلامی رسول ﷺ سے وابستہ ہے۔ محبت رسول ﷺ ایسی متاع گرانمایہ ہے جس کے سامنے تمام ارضی و سماوی نعمتیں ہیچ ہیں۔ یہ ایک ایسا یدِ بیضا ہے جس کے مقابلے پر دنیا و جہاں کی تمام چیزیں سحر سامری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ایک ایسا پھول ہے جو اگر کسی کے دل میں ایک بار کھل اٹھے تو پھر کبھی نہیں مرجھاتا بلکہ اس کی رنگینی، شگفتگی اور تازگی روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ وقت کے تیز و تند تھپیڑے اور زمانے کے آہنی

صفحہ 178

ہاتھ اُس کی کومل پنکھڑیوں کو نہ تو چھو سکتے ہیں اور نہ ہی تاراج کر سکتے ہیں۔ یہ وہ ارفع پھول ہے جس کی خوشبو روح کو لطافت اور من کو بالیدگی بخشتی ہے۔ خوش بخت ہیں وہ لوگ جن کے دلوں کے آنگن میں محبت رسول ﷺ کے پھول کھلے ہیں اور ان کی خوشبو اُن کے رگ و پے میں بس گئی ہے۔ وہ بڑے اعلیٰ لوگ ہیں اور اُن سے بڑی دولت پوری کائنات میں نہیں۔ رسول پاک ﷺ سے محبت تو مسلمان کی زندگی کی ہر ہر سانس میں مہکتی اور دھیمی دھیمی آنچ کی طرح اس کے ہر قطرۂ خون میں دہکتی رہتی ہے۔ کلمہ گو مسلمان جو بھی ہو اور جیسا بھی ہو، اپنے دل میں سبز مخمل میں لپٹی ایک چھوٹی سی ڈبیہ ضرور رکھتا ہے جس میں محمد عربی ﷺ کی محبت کا گلاب ہر آن مہکتا رہتا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے دروازے پر بیٹھ کر پہرا دے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم حضرت محمد ﷺ کی محبت کے سوا کسی اور کو اس کے اندر داخل نہ ہونے دے۔

اہل عشاق کا کہنا ہے کہ آمنہ کے لعل، سید الانبیا ﷺ کا اسم گرامی تشنہ لبوں پہ شبنم بکھیرے اور چشم تر میں چراغاں نہ ہو ...... سانسوں میں خوشی کے آبگینے نہ پھوٹیں ...... دل کی دھڑکنیں حرف سپاس نہ بنیں ...... اور اقلیم روح میں شہنائیاں نہ بج اٹھیں ...... تو سمجھو کہ تمہارے جذبہ محبت میں کچھ کمی رہ گئی ہے ...... ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سید الانبیا ﷺ کا اسم گرامی اور ذکر خیر لبوں پر آئے اور لہو کی ایک ایک بوند وجد میں نہ آئے ...... یہ کیسے ممکن ہے کہ لب اسم محمد ﷺ کو چومیں اور پلکیں بہر سلامی نہ جھک جائیں ...... اہل عشاق کی تو دنیا ہی دوسری ہے ...... وہ تو آپ ﷺ کی بارگاہ ناز میں آنسوؤں کا رقص بھی بے ادبی میں شمار کرتے ہیں ...... دل کا زور سے دھڑکنا بھی سوئے ادب خیال کرتے ہیں ...... یہاں تو سانس بھی آہستہ لینے کا حکم ہے ...... وہ تو قیام مدینہ میں شہر مدینہ کی مقدس گلیوں میں جاروب کشی کی سعادت نصیب ہونے پر ناز کرتے ہیں اور آپ ﷺ کے نقش پا کے دل آویز تصور میں دل کو حرم کی گلیوں سے آباد رکھتے ہیں ...... گلاب ہونٹوں کو درود سلام کی شبنم سے تر رکھتے ہیں اور اس کیف و مستی میں ڈوب کر پلکوں کی منڈیروں پہ آنسوؤں کے چراغ جلاتے ہیں ...... اور ان کی سانسیں اسم محمد ﷺ کے ذکر سے معطر رہتی ہیں ...... اور وہ چشم خیال میں گنبد خضرا کی دید میں محو رہتے ہیں ...... جب تک اس طرح سے نقش پائے رسول ﷺ سے اکتساب فیض نہ کیا جائے ...... راہ محبوب ﷺ کے ذروں سے روشنی اخذ نہ ہو گی ...... جب تک ممدوح رب دو

صفحہ 179

جہاں ﷺ کی رحمت سے رعنائیاں کشید نہ کی جائیں...... نہ ایمان کے تقاضے پورے ہوں گے اور نہ حریم دیدہ و دل میں چراغاں ہوگا اور نہ شمع کے پروانوں میں خود سپردگی کی کیفیت پیدا ہو گی اور نہ جاں سپاری کا جذبہ عمل کی بھٹی کے عمل سے گزر کر کندن بنے گا۔

حُسنِ آدمؑ سے بے خبر ابلیس محروم محبت تھا، اس لیے راندۂ درگاہ قرار دے دیا گیا ......ابلیس کا معبود تو تھا، محبوب نہیں تھا...... اور مردود ہونے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔

بلاشبہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ محبت سے ادب پیدا ہوتا ہے، وہ ادب جس میں جمالِ محبوب ﷺ کی چاشنی ہو اور مقامِ محبوب ﷺ قصرِ احساس کی زینت بنے۔ بلاشبہ عاشقانِ رسول کے رگ و پے میں حضور ﷺ کا نام نامی اور ذکر گرامی سنتے ہی محبت ادب سے دوزانو ہو جاتی ہے، پلکیں عالمِ خیال میں پائے اقدس کا بوسہ لینے لگتی ہیں، آنکھیں رم جھم برسنے لگتی ہیں اور بدن ہیں کہ لرزہ براندام ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی مقام کے پیش نظر قدسی مقال اقبال نے کہا تھا: ............ با خدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار...... حضور ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا جزو لازم ہے اس کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن ہی نہیں اور اطاعت کے لیے ضروری ہے کہ ہم جس ہستی کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، اس کی محبت و عقیدت اور ادب و احترام دل میں موجود ہو۔ حضور ﷺ سے محبت ہی شریعت پہ عمل کرنا سہل اور آسان بناتی ہے، اس کے بغیر نہ تو صراطِ مستقیم کی نشاندہی ہوتی ہے اور نہ منزلِ عرفان سے ہمکنار ہوا جاتا ہے۔ دانائے سبل، مولائے کل، ختم الرسل ﷺ کی توقیر فرضِ عین ہے جو محبت اور ادب کے بغیر ناممکن ہے۔ توقیر وہی توقیر ہے جس کا مبدا ادب ہے اور تعظیم وہی تعظیم ہے جس کا منشا محبت ہو۔ محبت ادب سکھاتی ہے اور ادب اتباع ؎

ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد
ذات نبی ﷺ بلند ہے، ذاتِ خدا کے بعد
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰ ﷺ کے بعد

محبت رسول ﷺ روحِ ایماں بھی ہے اور تسکینِ قلب و جاں بھی، یہ آبروئے ملت بھی ہے اور وقارِ زندگی بھی۔ محبت رسول ﷺ دل کے شبستاں میں کھلا ہوا ایک ایسا پھول ہے جسکی بہار بے خزاں ہے۔ یہ ایک ایسی حسیں سحر ہے جسکی شام ہوتی ہی نہیں، یہ ایک ایسی بادۂ

صفحہ 180

انگیں ہے جس کے سرور کے بغیر روح کو چین آتا ہی نہیں۔ آپ ﷺ کی محبت ایک ایسا پھول ہے جو اگر کسی کے دل میں ایک بار کھل اٹھے تو پھر کبھی نہیں مرجھاتا۔ یہ وہ مقدس جذبہ ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتا ، یہ وہ نایاب پھول ہے جسکی خوشبو روح کو لطافت اور من کو بالیدگی بخشتی ہے۔ ہماری زندگی کی بقا کا راز آپ ﷺ کے دامن کرم سے وابستگی میں پنہاں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس گم گشتہ میراث سے ایک نئے ولولے کے ساتھ رشتہ جوڑیں۔ اگر ہم آج بھی اپنے اجڑے ہوئے قلب و جگر کو مئے الفت رسول ﷺ سے آباد کر لیں تو ہماری عظمت رفتہ گردش ایام کی طرح لوٹ سکتی ہے۔ محبت رسول ﷺ ہم پہ قرض ہے، دیکھنا یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہم اس فرض سے کس طرح عہدہ برا ہوتے ہیں۔

وہ محبت ہی محبت ہے محبت کی قسم
ان ﷺ کی محبت کے سوا کچھ نہ خدارا مانگو

بقول شخصے : ”ہر انسان آکسیجن سے سانس لیتا ہے لیکن مسلمان کی سانس کا دوسرا نام عشق رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان پانی پی کر جیتا ہے لیکن مسلمان حُب رسول ﷺ کی آب و ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ ہر انسان آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن مسلمان کی آنکھ کا سرمہ خاک مدینہ و نجف ہے۔ ہر انسان کے پہلو میں دل دھڑکتا ہے لیکن مسلمان کے دل کی دھڑکن یاد رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان کی رگوں میں خون دوڑتا ہے لیکن مسلمان کی رگوں میں محبت آل رسول ﷺ گردش کرتی ہے۔ ہر انسان زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کرتا ہے لیکن مسلمان خدا اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزارتا ہے۔ ہر انسان آزادی کا خواہاں ہے لیکن مسلمان غلامی رسول ﷺ کا طلب گار ہے۔ ہر انسان نفع و نقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز کو عقیدہ و ایمان کے ترازو میں تولتا ہے۔ ہر انسان اپنی ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمت رسول ﷺ پر لٹا دینے کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے“۔

ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل ایک لیٹر میں پینسٹھ سے ستر کلومیٹر چلتی تھی۔ اچانک اس کی ایوریج خراب ہو گئی اور پینتالیس چھیالیس پہ آگئی۔ دو تین مکینکس کو دکھانے کے باوجود معاملہ قابو میں نہ آیا۔ پھر ایک مکینک نے اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک سینئر موسٹ کی طرف ریفر کر دیا۔ چنانچہ بائیک وہاں لے جائی گئی۔ اس نے ساری بات سنی اور ”چھوٹے“ کو آواز دی۔ ”چھوٹے“ سے چھوٹا پیچ کس منگوایا۔ کاربوریٹر سے ایک پیچ

صفحہ 181

کھول کے ”چھوٹے“ کو کہا کہ اسے بف لگا کے لاؤ۔ وہ پانچ منٹ میں بف لگا کے لے آیا۔ مکینک نے پیچ اسی جگہ پہ لگا دیا اور کہا کہ جاؤ، ان شاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پیسے بھی اس نے کچھ نہ لیے۔ چند دن بعد نوٹ کیا تو گاڑی پھر تقریباً ستر کلو میٹر پہ آ گئی تھی۔ میں شکریہ ادا کرنے کے لیے گیا تو پوچھا کیا فالٹ تھا؟ مکینک بولا کاربن آ گیا تھا۔ صرف کاربن آ جانے سے اتنا اثر پڑا؟ جی ہاں .......... کبھی کبھی دلوں پر بھی کاربن آ جایا کرتا ہے۔ تب دل کسی نیکی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ ایسے کاربن کو دور کرنے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود شریف اور تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے رہنا چاہیے۔

محبت رسول ﷺ ایمان کی جان، اس کی پہچان اور سایہ رحمن ہے، محبت رسول ﷺ تمام مصائب کا علاج ہے۔ محبت رسول ﷺ سرمایہ دین و دنیا، قبر و حشر میں چراغِ وفا، پیغامِ شفا اور روحانی علاج ہے۔ محبت رسول ﷺ زیبائش اعمال، ہر زخم کا اندمال، بیماریوں میں ڈھال، زخموں کا مرہم، سرچشمہ برکات اور قلب سکون ہے۔ محبت رسول ﷺ کی وجہ سے ایک مسلمان کی روحانی آنکھیں، کان اور دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔ گمراہی و ضلالت کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد بھی اسے ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن بدقسمت مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺ کی آکسیجن کم یا ناخالص ہوتی ہے، ان کے دل سیاہ، دماغ مفلوج اور چہرے پر نحوست کے آثار جلد ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایمانی اعتبار سے ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی دماغی صلاحیت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ وہ ایک چلتی پھرتی لاش تو ہو سکتے ہیں، مسلمان نہیں۔ وہ ایمانی طور پر کوما یعنی بے ہوشی میں چلے جاتے ہیں۔ انھیں کچھ سدھ بدھ نہیں رہتی کہ ان سے جو کچھ سرزد ہو رہا ہے، کیا سرزد ہو رہا ہے۔ وہ دماغی طور پر اتنے پست ہو جاتے اور اپنے ہوش و حواس اس قدر کھو دیتے ہیں کہ حق و باطل اور نیکی و بدی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ ان میں دینی غیرت و حمیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ”گنگا گئے تو گنگا رام، جمنا گئے تو جمنا داس“ کی پالیسی پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے عقیدہ کے اظہار میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گستاخانِ رسول کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے اور خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں، ان کے ساتھ معاشی و معاشرتی تعلقات قائم کر لیتے ہیں، ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کی مصنوعات کا استعمال کرتے

صفحہ 182

ہیں، یاد رکھنا چاہیے کہ گستاخ رسول سے دوستی کا مطلب اپنے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رخصت کرنا ہے۔ جب تک کوئی مسلمان گستاخان رسول سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتا رہے گا، اس وقت تک وہ ایمانی آکسیجن کی کمی کا شکار رہے گا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت مہلک اور خطرناک روحانی امراض کا شکار ہو جائے گا۔ ایسے لوگ صحیح فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ رواداری اور بے غیرتی کے ہیضہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے فوری طور پر محبت رسول ﷺ کا اعلیٰ انتظام کیا جائے تاکہ وہ ایمانی موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں، کیونکہ بے شمار مسلمان اس آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ایمانی موت کے شکنجے میں پہنچ چکے ہیں۔ بقول صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی ”محبت رسول ﷺ کوئی رشتہ ہے جو دل و جاں کو کھینچتا ہے۔ یہ وہی روح محمد ﷺ (محبت رسول ﷺ) ہے جو ذہنوں اور دلوں کو سرشار کرتی ہے۔ جو حضور نبی کریم ﷺ کے ہر چاہنے والے کے خون میں رواں دواں ہے، DNA کی طرح۔ پس محبت رسول ایسا موضوع ہے جس کی روشنی سے حضور کے کسی نام لیوا کا دل محروم نہیں، جس کی تپش سے ہر سینہ معمور ہے، جس کا گداز ہر کلمہ گو محسوس کرتا ہے۔ محبت رسول کوئی فن نہیں کہ کوئی صاحب فن ہی اس پر اظہار خیال کرے اور کوئی شعبۂ علم نہیں کہ کوئی بڑا عالم یہ گتھی سلجھائے۔ بلکہ یہ سراسر ایک کیفیت ہے، ذوق ہے، تڑپ اور وارفتگی ہے، والہانہ پن ہے، سوز دروں ہے، گداختگی اور شیفتگی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کوئی غازی علم الدین شہیدؒ ایسا محنت کش اس میدان میں الفارابی اور البیرونی سے بہت آگے ہو۔ کوئی دیوانہ عہد کے تمام فرزانوں سے بازی لے جائے۔ کوئی سادہ لوح کسی نکتہ سنج سے زیادہ خوش نصیب ہو۔ خاک بسر اور چاک گریباں اس کوچے کا زیادہ راز دار ہو“۔

معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں: ”فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں اٹھ کر اس کے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ”کیا آپ مسلمان ہیں؟ اس نے مسکرا کر جواب دیا ”نہیں، میں جارڈن کا یہودی ہوں۔ میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا ”تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟“ وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ”میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں“۔ میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ”تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟“ اس نے

صفحہ 183

کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ”میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں“۔ میں نے پوچھا ”تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟“ اس نے لمبا سانس لیا، دائیں بائیں دیکھا، گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ”میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی (ﷺ) سے محبت کرتے ہیں۔ یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ اپنے نبی (ﷺ) کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے“۔ یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا، میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، وہ بولا ”میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے، یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ محمد (ﷺ) کی ذات تھی، آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں، آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں، آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں، یہ برداشت کر جائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول (ﷺ) کا نام غلط لہجے میں لیں گے، یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون، یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے“۔ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا، وہ بولا ”میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں محمد رسول اللہ (ﷺ) کی محبت نہیں رہے گی، اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو مسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا“۔ اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا، اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا، کندھے پر رکھا، سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا۔ لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں، میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا، میں جان گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے، اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے، جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔“

ایک مغربی سکالر نے کہا تھا: ”مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ایک مسلمان مغرب میں پیدا ہوتا ہے، اس کا سارا لائف سٹائل مغربی ہوتا ہے، اس میں تمام شرعی عیب بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن جب اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر آتا ہے تو اس مغربی مسلمان اور کٹر مولوی کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں ہوتا، آخر کیوں......؟ جواب ملا، یہ وہ بنیادی بات ہے جسے مغرب کبھی

صفحہ 184

نہیں سمجھ سکتا، یہ دلوں کے سودے ہوتے ہیں اور دلوں کے سودے کبھی بیوپاری کی سمجھ میں نہیں آسکتے ۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات ایمان کی وہ حساس رگ ہوتی ہے جو برف سے بنے مسلمان کو بھی آگ کا بگولہ بنا دیتی ہے۔ مسلمان دنیا کے ہر مسئلے پر سمجھوتہ کر لیتا ہے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو جلاتی نہیں، اسے بناتی ہے، اسے دوبارہ زندہ کرتی ہے اور تم اور تمہارے لوگ اس کیفیت، اس سرور کو کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ تم لوگوں نے زندگی میں محبت رسول ﷺ کا مزہ چکھا ہی نہیں ہے۔

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میری سرکار ہیں ﷺ ایسا نہیں کوئی

صحابہ کرامؓ کا عشق رسول ﷺ

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جب دنیا کو پیغام حق دیا تو آپ ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے والے چند غلام ، کچھ نوعمر لڑکے ، کچھ عورتیں اور کچھ بوڑھے تھے۔ مادی اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ کے پاس نہ کوئی طاقت وحکومت، نہ مال ودولت، نہ رؤسا وامراء کی امداد۔ 13 سال کی مسلسل اور جانگسل کوشش ومحنت کے بعد ایک مختصر سی جماعت تیار ہوئی، وہ بھی مادی طور پر اتنی کمزور کہ مکہ کے شب و روز اس پر تنگ تھے مگر اصل چیز یہ تھی کہ ان کے آقا ﷺ سے عشق کی بلندیاں آسماں کو چھونے والی تھیں۔ ان پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر سچے عشاق کی زبانوں سے اُف تک نہیں نکلتی۔ کبھی جلتی ریت پر گھسیٹے جاتے ہیں تو کبھی لوہے کی زرہیں پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں، کبھی چٹائی میں لپیٹ کر دھونی دی جاتی ہے تو کبھی انگاروں پر لٹایا جاتا ہے۔ ان کے محبوب ﷺ کا بھی یہ حال ہے کہ ان پر عرب کی زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ کوئی ظلم نہیں جو آپ ﷺ پر نہ آزمایا گیا ہو۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ظاہری طور پر اتنی کمزور جماعت جس کے پاس کسی بھی طرح کے مادی وسائل نہیں تھے۔ اپنے اتنے طاقتور دشمن پر کس طرح حاوی آ گئی؟ چند غلاموں، بوڑھوں اور لڑکوں نے عرب کے نامور سرداروں کا غرور خاک میں ملا دیا۔ پھر عرب کے صحرا سے نکل کر ایران و روم کی حکومتوں کو تہہ و بالا کر ڈالا۔ ایسی حکومتوں کو جن کا ثانی دنیا میں نہیں تھا۔ دراصل اس محبت رسول ﷺ نے ایک ایسی جماعت تشکیل دی تھی جن کی زندگی کا حاصل محمد! محمد!!...... محمد!!! ﷺ کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ ایک ایسی جماعت تھی جو فنا فی الرسول (ﷺ)

صفحہ 185

تھی۔ ان کا کردار اسوۂ رسولؐ کے سانچے میں پوری طرح ڈھل گیا تھا۔ انھوں نے اپنی زندگیوں کا شعار رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو بنالیا تھا۔ ”قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جاؤں“۔

(بخاری ومسلم)

یہ جماعت صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی جن کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ سرٹیفکیٹ دیتا ہے: رضی الله عنهم و رضوا عنه (التوبہ: 100) ”راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ اُن سے اور راضی ہوگئے وہ اس سے“۔ صحابہ کرامؓ محبت رسول ﷺ کی وجہ سے ایمان کے اس درجہ کو پہنچ چکے تھے کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حقیقی بیٹا عبدالرحمٰن بن ابی بکر کفار کے ساتھ بدر کے میدان میں موجود تھا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو تلوار لے کر اس کے قتل کو لپکے اور پکارا: ”اے اللہ کے دشمن سن!“ مگر رسول اللہ ﷺ کے منع کرنے پر آپ اس کے قتل سے باز رہے۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو قتل کر ڈالا۔ اسی میدان میں حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ عتبہ بن ربیعہ کو مقابلے کے لیے طلب کیا مگر وہ سامنے نہ آیا۔ عاص بن ہشام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حقیقی ماموں تھا۔ جب وہ ان کی زد میں آیا تو پکارا ”انت یا ابن اُختی!“ (میرے بھانجے کیا تو مجھے قتل کرے گا؟) تو حضرت عمرؓ نے کہا: ”نعم یا عدواللہ“ (ہاں! اے اللہ کے دشمن) اور اس کا کام تمام کر ڈالا۔ حضرت عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بہن ان کے سمجھانے پر بھی رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے سے باز نہ آئی تو انھوں نے اس کافرہ کو قتل کر ڈالا۔

صحابہ کرامؓ محبت رسول ﷺ میں غرقاب تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے اوصاف حسنہ ان کی زندگی میں پوری طرح اتر چکے تھے۔ امانت و دیانت، ایثار و قربانی، حق گوئی و بیباکی، عفو و درگزر، عفت و پاکبازی، شرم وحیا اور عدل و انصاف وغیرہ ان کی زندگی میں رچ بس گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تین سو تیرہ افراد کی بے سر و سامان ایک مختصر جماعت، جس میں بوڑھوں بچوں اور غلاموں کی کثرت تھی، بدر کے میدان میں ایک ہزار جنگجو لوگوں پر، جو ہر طرح کے سامانِ حرب سے لیس تھے، بھاری ثابت ہوئی۔ یہ محبت رسول ﷺ ہی کا پیدا کیا ہوا جوش تھا کہ جب آپ بدر میں لشکر کو ترتیب

صفحہ 186

دیتے ہیں تو بچے اپنا قد لمبا ظاہر کرنے کے لیے ایڑیاں اٹھا لیتے ہیں اور بوڑھے اپنا سینہ پھلا کر اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ کہیں ان کی کمزوری کی بنا پر انھیں جنگ کی شرکت سے روک نہ دیا جائے اور وہ اپنے محبوب ﷺ کی حفاظت میں جان دینے سے محروم نہ رہ جائیں۔ اُحد کے میدان میں وقتی طور پر کفار غالب آ جاتے ہیں۔ ان کی بھر پور کوشش ہے کہ شمع نبوت کی اس لو کو (نعوذ باللہ) ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیں مگر پروانے اس شمع کے گرد اس انداز سے جمع ہیں، کہ عشق کی آگ میں خود کو خاکستر کر ڈالتے ہیں۔ حضرت ابو دجانہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں کہ دشمن کے تیروں کی طرف اپنی پشت کر کے اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی تیر رسول اللہ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے یہاں تک کہ ان کی کمر چھلنی ہو جاتی ہے اور گر پڑتے ہیں۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اسلامی جھنڈے کو بلند کیے ہوئے ہیں۔ دشمن کے وار سے ہاتھ کٹ جاتا ہے تو دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔ جب وہ ہاتھ بھی کٹ جاتا ہے تو دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں سے جھنڈے کو سینے سے لگا کر تھام لیتے ہیں اور جب تک دشمن ان کو شہید نہیں کر دیتا، تب تک اسلامی جھنڈے کو بلند ہی رکھتے ہیں۔ حضرت طلحہؓ کی ڈھال ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے تو اس خوف سے ڈھال اٹھانے کے لیے نہیں جھکتے کہ مبادا وہ جھکیں اور کوئی وار ان کے محبوب ﷺ پر ہو جائے۔ ہر وار کو اپنے ہاتھ پر ہی روکتے ہیں، یہاں تک کہ اس عاشق صادق کا ہاتھ زخموں سے شل ہو جاتا ہے۔ الغرض اصحابِ رسول ﷺ وہ مقدس جماعت ہے جس کا ہر سانس عشق مصطفیٰ ﷺ سے مہکتا تھا اور اس کا ہر عمل حرمتِ رسول کا نگہبان تھا۔ اس عظیم جماعت سے وابستہ لوگ وہ پاکیزہ ہستیاں تھیں جن کے حالات دیکھ کر ایک عیسائی مؤرخ بھی پکار اٹھا کہ: ”محمد (ﷺ) کے ساتھیوں جیسی عظیم مثالیں، عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں تلاش کرنا بے کار ہے“۔ ان برگزیدوں کے واقعات ایک طرف محبت و وفا کی لازوال داستانیں ہیں تو دوسری طرف یہ شریعت کا دستور اور قانون بھی ہیں۔ پڑھیں اور احسان دانش مرحوم کی اس دعا پر آمین بھی کہتے جائیں:

اللہ، تم کو صاحبِ سیف و سناں کرے
جسموں میں روحِ خالدؓ و طارقؒ رواں کرے
دے کر شعورِ زیست، ارادے جواں کرے
جو جم چکا ہے خون رگوں میں رواں کرے
صفحہ 187
تم کو رہِ رسولﷺ پہ چلنا نصیب ہو
کب سے گرے پڑے ہو، سنبھلنا نصیب ہو

حضرت سمیہؓ کا قبول اسلام اور درسِ استقامت

دین مبین پھیلانے اور پرچم اسلام کو سربلند کرنے میں صرف مجاہد مردوں کا ہی نہیں، بلند ہمت خواتین کا بھی بڑا حصہ ہے۔ ابوجہل کی کنیز حضرت سمیہ بنت خیاط رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کیا تو ابوجہل کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ایک آزاد آدمی کا اسلام قبول کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا، چہ جائیکہ ایک کنیز دین اسلام قبول کرتی۔ ابوجہل نے فرعونیت بھرے لہجہ میں حضرت سمیہؓ کو کہا کہ ”باز آ، اس دین سے لوٹ آ جو تو نے قبول کیا ہے ورنہ اپنا حشر دیکھنے کے لیے تیار ہو جا۔“ اس مجاہدہ نے ابوجہل کو اپنی ایمانی سرشاری میں ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا: ”میں حضرت محمد رسول اللہﷺ کے دین کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتی۔“ اس پر ابوجہل طیش میں آگیا اور اس نے حضرت سمیہؓ کو اتنے کوڑے مارے کہ ان کا سارا جسم زخموں سے چھلنی ہو گیا اور ان میں ہلنے جلنے کی سکت نہ رہی۔ جب ابوجہل اپنی کنیز کے ایمان کو بدلنے میں ناکام ہو گیا تو اس نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک دن حضرت سمیہؓ کو خانہ کعبہ کے سامنے لے آیا اور جب اہل مکہ وہاں جمع ہوگئے تو ابوجہل نے اتمام حجت کے طور پر حضرت سمیہؓ سے پھر پوچھا: ”کیا اب بھی تو محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے دین کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے؟“ حضرت سمیہؓ نے جواب دیا: ”جی ہاں! میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سچے دین کو ہرگز نہیں چھوڑوں گی۔“ ابوجہل نے کہا پھر میں تجھے یہیں اور اسی وقت موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل نے اہل مکہ کے سامنے اپنا نیزہ اتنی قوت سے حضرت سمیہؓ کے سینے میں گھونپ دیا کہ نیزے کا سرا حضرت سمیہؓ کی پیٹھ سے باہر نکل آیا۔ اس طرح حضرت سمیہؓ نے نہایت اذیت ناک حالت میں جام شہادت نوش کیا۔ حضرت سمیہؓ کو المبشرۃ بالجنۃ (جنت کی خوشخبری حاصل کرنے والی) اور اول شھیدۃ الاسلام (اسلام کی پہلی شہیدہ) کے خوبصورت القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اے صبر و رضا کی پیکر حضرت سمیہؓ! تیری عظمت پہ قربان جائیں کہ تو نے مسلمانوں کو ایسا درسِ استقامت دیا کہ دنیا قیامت تک تجھے یاد رکھے گی۔ تاریخِ عزیمت و دعوت میں لازوال کردار ادا کرنے والی عظیم خواتین کی روایات کو زندہ رکھنے والی میری پیاری بہنو، بیٹیو! یاد رکھیے، دین اسلام ہم تک

صفحہ 188

آسانی سے نہیں پہنچا۔ اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی گئی ہیں۔ میری بہنو سوچیے! کیا ہم اسلام کی خاطر ایسی لازوال قربانی کا عشر عشیر بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟

اسلام ترے نام پہ سو ناز کرے گا

حضرت عاصمؓ بن ثابت انصاری

رسول اکرم ﷺ نے ایک بار چھ یا دس آدمیوں کی جماعت تبلیغ دین کے لیے بھیجی، راستہ میں بنو لحیان کے دوسو آدمیوں سے مقابلہ ہوا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں نے اُحد میں اپنے مقتول کافر عزیزوں کے جوش انتقام میں ان حضرات کو فریب وحیلہ سے اپنے یہاں بلایا۔ سلافہ نامی ایک عورت جس کے دو لڑکے اُحد میں مارے گئے تھے، اس نے منت مانی تھی کہ اگر میرے بیٹوں کے قاتل عاصم کا سر ہاتھ آ جائے تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی۔ اس نے اعلان کردیا کہ جو عاصم کا سر لائے گا، اسے سو اونٹ انعام دوں گی۔ سفیان بن خالد نے سو اونٹوں کی طمع میں قبیلہ عضل اور قارہ کے چند آدمیوں کو مدینہ منورہ بھیجا۔ انھوں نے وہاں خود کو مسلمان ظاہر کیا اور حضور نبی کریم ﷺ سے کہہ کر چند حضرات کی جماعت اپنے یہاں تبلیغ دین کی غرض بتا کر ساتھ لے آئے جن میں حضرت عاصمؓ بن ثابت انصاری، حضرت خبیبؓ بن عدی، حضرت مرثد ابی مرثد غنوی، خالد بن بکر، حضرت زید بن دثنہؓ اور حضرت عبداللہ بن طارقؓ بھی تھے۔ راستہ میں لے جا کر انھوں نے بدعہدی کی اور دوسو آدمیوں کو مقابلہ کے لیے بلا لیا جن میں سو آدمی مشہور تیر انداز تھے۔

دس یا چھ بزرگوں پر مشتمل یہ مختصر جماعت، دشمنوں کی بدنیتی دیکھ کر فدفد نامی ایک پہاڑی پر چڑھ گئی۔ کفار نے کہا، ہم تمھیں قتل نہیں کرنا چاہتے۔ صرف اہل مکہ سے تمھارے بدلے کچھ مال لینا چاہتے ہیں، تم ہمارے ساتھ آ جاؤ مگر انھوں نے کہا کہ ہم کافروں کی بدعہدی سے دھوکا نہیں کھانا چاہتے اور ترکش سے تیر نکال کر مقابلہ کیا، جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا۔ حضرت عاصمؓ نے ساتھیوں سے جوش میں کہا، تم سے دھوکا کیا گیا مگر گھبراؤ مت، شہادت کو غنیمت سمجھو، تمہارا محبوب تمھارے ساتھ ہے اور جنت کی حوریں تمہاری منتظر ہیں۔ یہ کہہ کر کافروں سے لڑنے لگے۔ پہلے ان پر تیر برسائے، جب تیر ختم ہوگئے تو دشمنوں پر نیزے کے وار کرنے لگے اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے مقابلہ کیا۔ دشمنوں کا مجمع کثیر تھا، آخر شہید ہوگئے اور دعا کی، یا اللہ! اپنے رسول ﷺ کو ہمارے حال سے آگاہ

صفحہ 189

فرما دینا۔ سرکار دو عالم ﷺ کو اسی وقت اس واقعہ کا علم ہو گیا۔ حضرت عاصمؓ یہ بھی سن چکے تھے کہ سلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی منت مانی ہے، اس لیے مرتے وقت دعا کی، یا اللہ ! میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جا رہا ہے تو ہی اس کا محافظ ہے۔ چنانچہ شہادت کے بعد جب کافروں نے سر کاٹنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا (اور بعض روایتوں میں بھڑوں کا) ایک غول بھیج دیا، جنھوں نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ کافروں کا خیال تھا کہ رات کے وقت جب یہ اڑ جائیں گی تو سر کاٹ لیں گے مگر رات کو خوب بارش ہوئی اور اس کے پانی کی ایک تیز لہر آئی اور ان کی نعش کو بہا کر لے گئی، اسی طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہو گئے، غرض تین باقی رہ گئے، عبداللہ بن طارق، زید بن دثنہ اور حضرت خبیبؓ بن عدی۔ ان تینوں حضرات سے پھر انھوں نے عہد و پیمان کیا کہ تم نیچے آجاؤ، ہم تم سے بدعہدی نہ کریں گے۔ یہ تینوں حضرات نیچے اتر آئے اور نیچے اترنے پر کفار نے ان کی کمانوں کی تانت اتار کر ان کی مشکیں باندھیں۔ حضرت عبداللہ بن طارق نے فرمایا کہ یہ پہلی بدعہدی ہے، میں تمھارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا، ان شہید ہونے والوں کی اقتدا ہی مجھے پسند ہے، انھوں نے زبردستی ان کو کھینچنا چاہا مگر یہ نہ ٹلے تو ان لوگوں نے ان کو بھی شہید کر دیا۔ صرف دو حضرات ان کے ساتھ رہے جن کو لے جا کر ان لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ ایک حضرت زید بن دثنہؓ جن کو صفوان بن امیہ نے پچاس اونٹوں کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ امیہ کے بدلے قتل کر دے (بخاری شریف کی روایت ہے کہ حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا کہ انھوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا) صفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زیدؓ کو فوراً ہی حرم سے باہر اپنے غلام کے ہاتھ بھیج دیا کہ قتل کر دیے جائیں۔

حضرت زید بن دثنہ

دنیا کی یہ زندگی چند لمحوں کی زندگی ہے جو صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔ چھن جانے کے بعد پھر کبھی نہیں ملتی جو شخص اس مختصر وقفہ کو سچے موتی حاصل کرنے کے بجائے بے قیمت سنگریزوں کے بٹورنے اور ان سے کھیلنے میں ضائع کرتا ہے، اس کی نادانی کا کوئی ٹھکانا ہے؟ اور یہی وجہ ہے کہ ہر قرن اور ہر زمانہ میں بکثرت اس کی نظیریں ملتی ہیں کہ شمع نبوت ﷺ کے پروانوں نے ناموس نبی ﷺ پر قربان ہو کر اپنی فدائیت کا ثبوت دیا ہے اور اس کو اپنے کمال کی انتہائی معراج سمجھا ہے۔ شہید اسلام حضرت زید بن دثنہؓ کا وہ واقعہ ہماری نظروں کے

صفحہ 190

سامنے ہے کہ دشمنان اسلام ان کو گرفتار کر کے قتل کرنے کے لیے مقتل میں لاتے ہیں اور ان کا سردار حضرت زیدؓ سے پوچھتا ہے۔

عنقہ وانک فی اھلک“

زید میں تم کو تمھارے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ یہاں تمھارے بجائے...... کو قتل کر دیا جائے اور تم (سکون سے) اپنے اہل وعیال میں رہو۔

حضرت زیدؓ بے بس ہیں۔ مگر نہایت برافروختہ ہو کر جواب دیتے ہیں:

توذیہ وانا جالس فی اھلی“

اللہ کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ اپنی جگہ پر ہوں اور ان کو معمولی کانٹا بھی لگ جائے جس سے ان کو تکلیف ہو اور میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں۔

یہ سن کر ابوسفیان (جو اب تک اسلام نہ لائے تھے) نے کہا: ”میں نے لوگوں میں کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی سے ایسی محبت رکھتا ہو جیسا کہ محمد کے اصحاب، محمد سے رکھتے ہیں“۔

پھر صفوان کے غلام نسطاس نے حضرت زیدؓ کو شہید کر دیا۔

(سیرت ابن ہشام)

وقت کی نزاکت اور حضرت زیدؓ کے ان محبت میں ڈوبے ہوئے الفاظ کو دیکھو اور ان سے ان کے دلی جذبات کا اندازہ لگاؤ تو معلوم ہوگا کہ شمع نبوت ﷺ کا ہر پروانہ اپنے آقا ومولا ﷺ کے متعلق یہی جذبات رکھتا ہے۔ ہر مسلمان (بشرطیکہ نام کا مسلمان نہ ہو) رسول اللہ ﷺ کی عزت کو ایک اپنی جان نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے۔ اس کو ایک درجہ میں یہ تو گوارا ہے کہ دنیا بھر کے سارے مسلمانوں کو فنا کر دیا جائے مگر وہ کسی طرح یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ ایک بھی مسلمان موجود ہو اور اس کی موجودگی میں ناموس رسالت ﷺ پر حملہ ہو۔ وہ اس منحوس وقت کے آنے سے پہلے اپنی موت بہتر سمجھتا ہے۔

میرے کارواں میں شامل کوئی کم نظر نہیں ہے
جو نہ مر مٹے محمد ﷺ پہ مرا ہم سفر نہیں ہے
صفحہ 191

حضرت خبیبؓ بن عدی

حضرت خبیبؓ بن عدی کو سفیان ہزمی مکہ لے گیا اور مکہ کے درندوں کے ہاتھ فروخت کر دیا پھر انھیں حارث بن عامر کے گھر ٹھہرایا گیا اور پہلا حکم یہ دیا گیا کہ انھیں روٹی دی جائے نہ پانی۔ چنانچہ حارث بن عامر نے حکم کی تعمیل کی اور کھانا بند کر دیا۔

ایک دن حارث کا نوعمر بچہ چھری سے کھیلتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا تو اس مرد مجاہد نے جو کئی روز سے بھوکا اور پیاسا تھا، حارث کے بچہ کو گود میں بٹھا لیا اور چھری اس کے ہاتھ سے لے کر زمین پر رکھ دی۔ جب ماں نے پلٹ کر دیکھا تو یہ مرد مجاہد چھری اور بچہ لیے بیٹھے تھے۔ عورت چونکہ مسلمانوں کے کردار سے ناواقف تھی، یہ حال دیکھ کر لڑکھڑا گئی اور بے تاب چیخنے لگی۔ جب انھوں نے عورت کی تکلیف محسوس کی تو فرمایا، بی بی! تم مطمئن رہو، میں بچے کو ذبح نہیں کروں گا۔ مسلمان ظلم نہیں کیا کرتے۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی اس مرد مجاہد نے گود کھول دی۔ معصوم بچہ اٹھا اور جا کر ماں سے لپٹ گیا۔

قریش نے چند روز انتظار کیا۔ جب فاقہ کشی کے احکامات اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے تو قتل کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔ کھلے میدان میں ایک ستون نصب تھا، اُس کے چاروں طرف بے شمار آدمی ہتھیار سنبھالے کھڑے تھے، بعض تلواریں چمکا رہے تھے، بعض نیزے تان رہے تھے، بعض کمان میں تیر جوڑ رہے تھے۔ اتنے میں آواز آئی، ’’مجاہد‘‘ آ رہا ہے۔ مجمع میں ایک شور محشر بپا ہو گیا۔ لوگ ادھر اُدھر دوڑنے لگے۔ بعض لوگوں نے مستعدی سے ہتھیار سنبھالے اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حضرت خبیبؓ قدم بہ قدم تشریف لائے اور انھیں صلیب کے نیچے کھڑا کر دیا گیا۔ ایک شخص نے انھیں مخاطب کیا: ’’ہم تمہاری مصیبت سے دردمند ہیں، اگر اب بھی اسلام چھوڑ دو تو تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے۔

حضرت خبیبؓ خطاب کرنے والے کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’جب اسلام ہی باقی نہ رہا تو پھر جان بچانا بیکار ہے‘‘۔ اس جواب کی ثابت قدمی بجلی کی طرح پرشور بھیڑ پر گری۔ مجمع ساکت ہو گیا اور لوگ دم بخود رہ گئے۔ پھر ایک شخص نے کہا: ’’کوئی آخری آرزو ہے تو بیان کرو!‘‘ تو اس مرد مجاہد نے جواب میں کہا ’’کوئی آرزو نہیں، بس دو رکعت نماز ادا کرنا ہے‘‘ ہجوم سے آواز آئی: ’’بہت اچھا، فارغ ہو جاؤ‘‘۔

پھانسی تیار تھی۔ حضرت خبیبؓ اس کے نیچے کھڑے ہوئے تا کہ اللہ کی بندگی کا حق

صفحہ 192

ادا کریں۔ خلوص و نیاز کا اصرار ہے کہ زبان شاکر جو حمد حق میں کھل چکی ہے، اب کبھی بند نہ ہو۔ دست نیاز جو بارگاہ کبریا میں بندھ چکے ہیں، اب کبھی نہ کھلیں۔ رکوع میں جھکی ہوئی کمر کبھی سیدھی نہ ہو۔ سجدے میں گرا ہوا سر کبھی خاک نیاز سے نہ اٹھے۔ ہر بن مُو سے اس قدر آنسو بہیں کہ عبادت گزار کا جسم تو خون سے خالی ہو جائے مگر اس کے عشق ومحبت کا چمن اس انوکھی آبیاری سے رشک فردوس بن جائے۔

حضرت خبیبؓ کا دل محبت نواز اور عشق و نیاز کی لذتوں میں ڈوب چکا تھا کہ عقل مصلحت کیش نے انھیں روکا اور ایک ایسی آواز میں جسے صرف شہیدوں کی روح ہی سن سکتی ہے، انھیں روح اسلام کی طرف سے یہ پیغام دیا کہ اگر نماز زیادہ لمبی کرو گے تو کافر یہ سمجھے گا کہ مسلمان موت سے ڈر گیا ہے۔ اس پیغام حق کے ساتھ ہی اس مرد مجاہد نے دائیں طرف گردن موڑی اور کہا ”السلام علیکم ورحمتہ اللہ !“ کفار نہیں بولے مگر ان کی کھنچی ہوئی تلواروں نے جواب دیا ”وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ“ اب آپ نے بائیں طرف گردن موڑی اور کہا ”السلام علیکم ورحمتہ اللہ !“ کفار اب بھی خاموش رہے مگر نیزوں کی انیاں اور تیروں کی زبانیں رو رو کر پکاریں، اے مجاہد اسلام ”وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ !“ مرد مجاہد سلام پھیر کر صلیب کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ کفار نے انھیں پھانسی کے ستون کے ساتھ جکڑ دیا پھر نیزوں اور تیروں کو دعوت دی کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کے صدق ومظلومیت کا امتحان لیں، ایک شخص آگے آیا اور اس نے مجاہد اسلام کے جسم پاک کے مختلف حصوں پر ہلکے ہلکے چرکے لگائے اور وہی پاکیزہ خون جو چند لمحے پہلے حالت نماز میں شکر کے آنسو بن کر آنکھوں سے بہا تھا، اب زخموں کی آنکھوں سے شہادت کے مشک بو قطرے بن کر ٹپکنے لگا۔ پیکر صبر، مجاہد اسلام کے دردناک مصائب کا تصور کیجیے۔ آپؓ ستون کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں، کبھی ایک تیر آتا ہے اور دل کے پار ہو جاتا ہے، کبھی نیزہ لگتا ہے اور سینے کو چیر دیتا ہے، ان کی آنکھیں آتے ہوئے تیر کو دیکھ رہی ہیں، بدن کے عضو عضو سے خون بہہ رہا ہے مگر درد و تکلیف کی اس قیامت میں بھی ان کا دل اسلام سے نہیں ٹلتا۔

ایک اور شخص آگے آیا اور اس نے مجاہد اسلام کے جگر پر نیزے کی انی رکھ دی۔ پھر اس قدر دبایا کہ وہ کمر کے پار ہوگئی۔ یہ جو کچھ ہوا، مرد مجاہد کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ حملہ آور

صفحہ 193

نے کہا ”اب تم بھی پسند کرو گے کہ محمد ﷺ یہاں لگ جائیں اور تم اس مصیبت سے چھوٹ جاؤ“۔ پیکر صبر نے جگر کے چیر کو دل کی حوصلہ مندی سے برداشت کر لیا مگر یہ زبان کا گھاؤ برداشت نہ ہوا۔ اگرچہ بدن کا خون ختم ہو چکا تھا مگر جوش ایمان نے اس میں تاب گویائی پیدا کردی اور آپ نے جواب دیا ”اے ظالم! میرا اللہ جانتا ہے کہ مجھے جان دے دینا پسند ہے مگر یہ ہرگز پسند نہیں کہ میرے آقا و مولا رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ایک کانٹا بھی چبھے“۔ یہ کہہ کر یہ مجاہد اسلام راہی جنت ہو گیا۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی تو کوئی بات نہیں

حضرت اُمّ عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

تاریخ تحفظ ختم نبوت کا ایک اور روشن کردار حضرت سیدہ اُمّ عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہے جن کا نام نسیبہؓ تھا۔ ان کا شمار انصار کے سابقین اولین میں ہوتا ہے۔ حضور سرورِ کونین ﷺ سے غایت درجہ کی عقیدت و محبت رکھتی تھیں۔ حضور ﷺ بھی اُن سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ جنگ اُحد میں حضرت ام عمارہؓ اپنے شوہر حضرت زید بن عاصمؓ اور اپنے دو بیٹوں عمارؓ اور عبداللہؓ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوئیں۔ جب کفار حضور نبی کریم ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو یہ نبی ﷺ کے قریب آ کر حملہ روکنے والے خاص صحابہؓ میں شامل ہو گئیں۔

حضرت ام عمارہؓ نے کہا ”میں اپنے کندھے پر مشک لیے ہوئے پیاسوں کو پانی پلا رہی تھی کہ اچانک مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے۔ کفار نے چاروں طرف سے سخت حملہ کیا۔ میں نے اسی وقت مشک پھینکی اور ایک تلوار اٹھا کر حضور خاتم النبیین ﷺ کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو گئی۔ میرے پاس ڈھال نہ تھی۔ کسی پلٹ کر جانے والے کی طرف حضور نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا۔ وہ اپنی ڈھال پھینک کر بھاگ گیا تھا۔ میں دشمنوں کے تیروں اور تلواروں کو اسی ڈھال پر روکنے لگی۔ مصیبت یہ تھی کہ ہم پیدل تھے اور دشمن سواریوں پر۔ اگر وہ بھی ہماری طرح پیدل ہوتے تو ہم بآسانی اُن سے نمٹ لیتے۔ سوار اپنی پوری قوت سے ہمارے اوپر حملہ کرتے، ان کا روکنا بہت دشوار تھا۔ میں نے یہ ترکیب نکالی کہ جب کوئی سوار وار کرتا تو اس کو روک لیتی اور جوں ہی وہ آگے بڑھتا، میں پیچھے سے ایک ایسا کاری وار کرتی کہ اس کے گھوڑے کا پاؤں کٹ جاتا اور وہ مع سوار کے گر پڑتا۔ یہ دیکھ کر پیارے نبی ﷺ

صفحہ 194

میرے بیٹے عبداللہ کو زور سے آواز دیتے کہ اپنی والدہ کی مدد کرو۔ وہ فوراً آجاتا اور میں اور وہ دونوں مل کر اس سوار کا خاتمہ کر دیتے“۔

حضرت ام عمارہؓ کے بیٹے عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ”میں اور میری والدہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے۔ میں دوسری طرف مشغول تھا کہ ایک مشرک نے پیچھے سے آکر میرے بازو پر ایک تلوار ماری۔ زخم بہت کاری تھا۔ میں نے مڑ کر اس پر حملہ کیا لیکن وہ سیدھا نکل گیا۔ میں لڑ رہا تھا مگر میرا خون نہیں بند ہو رہا تھا۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ام عمارہؓ کو حکم دیا کہ اس کے زخم پر پٹی باندھو۔ وہ اپنے ساتھ اسی غرض کے لیے بہت سی پٹیاں لائی تھیں۔ فوراً ایک پٹی نکال کر خوب مضبوط باندھی اور بولیں کہ بیٹا! فوراً اٹھو اور لڑو۔ میں خون کے نکلنے سے بہت کمزور ہو گیا تھا، اٹھنے کی طاقت نہیں تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ام عمارہؓ! ہر شخص میں وہ طاقت کہاں ہوتی ہے جو تجھ میں ہے۔ اتنے میں وہ شخص جس نے مجھے زخمی کیا تھا، پھر پلٹ کر دوبارہ اسی طرف آگیا۔ آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ اے ام عمارہؓ! دیکھ وہی شخص آرہا ہے جس نے عبداللہ کو زخمی کیا ہے، ام عمارہؓ نے لپک کر اُس پر تلوار کا وار کیا۔ اس کی ایک پنڈلی صاف کٹ گئی اور وہ اسی جگہ دھڑام سے گر پڑا۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا سر کاٹ لیا۔ حضور ﷺ خوشی سے مسکرائے اور فرمایا کہ ام عمارہؓ اللہ تعالیٰ نے بڑا تازہ بدلہ تجھ کو عطا کیا ہے“۔ کئی گھنٹے تک یہی حالت رہی۔ حضرت ام عمارہؓ کے زخموں کا کچھ شمار نہ تھا لیکن وہ ذرا بھی ان زخموں کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور برابر چستی اور ذمہ داری کے ساتھ حضور ﷺ کی حفاظت میں مشغول تھیں۔ اسی دوران ایک کافر ابن قمیہ نے جو مشہور شہ سوار تھا، آپ ﷺ پر تلوار کا وار کیا جس سے آپ ﷺ کی خود کے دو حلقے رخسار مبارک میں کھب گئے۔ حضرت ابی عبیدہؓ بن جراح نے ان حلقوں کو نکالا۔ رخسار مبارک سے خون کے قطرے ٹپکنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت ام عمارہؓ نے نہایت جلال وقہر کے ساتھ شیرنی کی طرح اُچھل کر ابن قمیہ پر حملہ کیا۔ جواباً اُس نے ان کے کندھے پر تلوار کا وار کیا جس سے انہیں ایک بڑا گہرا زخم آیا۔ باوجود اس زخم کے حضرت ام عمارہؓ نے اس مردود پر تلوار کے پے در پے کئی وار کیے۔ قریب تھا کہ وہ دو ٹکڑے ہو جاتا مگر اس نے دو زرہ پہن رکھی تھیں، لہٰذا بچ نکلا۔ حضرت ام عمارہؓ کو بڑا کاری زخم لگا تھا، خون میں لت پت ہوگئیں۔ حضور رحمت عالم ﷺ نے اپنے سامنے کھڑے ہو کر اُن کے زخم پر پٹی بندھوائی اور فرمایا کہ واللہ! ام عمارہؓ کا آج کا کارنامہ

صفحہ 195

فلاں فلاں (چند بہادر صحابہؓ) کے کارناموں سے بہت بڑھ کر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے، احد کے دن میں دائیں بائیں جدھر نظر ڈالتا تھا، ام عمارہؓ ہی لڑتی نظر آتی تھیں۔ اس موقع پر حضرت ام عمارہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ہمراہ مجھ کو جنت میں داخل کرے۔ نبی رحمت ﷺ نے اسی وقت ان کے لیے، ان کے شوہر اور دونوں بیٹوں کے لیے دعا کی کہ اللهم اجعلهم رفقائی فی الجنة (اے اللہ ! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔) حضرت ام عمارہؓ زندگی بھر یہ بات علی الاعلان کرتی تھیں کہ نبی ﷺ کی اس دعا کے بعد میرے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ حضرت ام عمارہؓ نے جنگ احد کے علاوہ خیبر اور حنین کی لڑائیوں میں بھی حضور نبی کریم ﷺ کے ہمراہ شرکت کی۔

حضرت اُمّ عمارہؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں بھی اپنی روایتی بہادری سے حصہ لیا۔ اُمّ عمارہؓ شروع ہی سے مسیلمہ کذاب کی تاک میں تھیں۔ سپہ سالار خالدؓ بن ولید خود بھی اسی تاک میں تھے۔ جب لڑائی باغ (حدیقۃ الموت) کے اندر داخل ہوئی تو اُمّ عمارہؓ زخم پر زخم لگاتیں اور کھاتیں، کذاب کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس کوشش میں انھیں گیارہ زخم آئے اور ایک ہاتھ بھی کلائی سے کٹ گیا مگر خاتونِ اُحد نے ہمت نہ ہاری۔ اب کفار نے باغ میں پناہ نہ دیکھ کر قلعے کا رخ کیا اور باغ سے نکلنے لگے۔ اسی اثنا میں مسیلمہ بھی لباس تبدیل کر کے قلعے سے فرار ہونے لگا لیکن ایک انصاری مسلمان نے دُور سے پہچان کر حضرت وحشی بن حربؓ کو جو مشہور حربہ باز تھے اور دروازے پر کھڑے تھے، آگاہ کیا۔ حضرت وحشی بن حربؓ کی نگاہ جب مسیلمہ کذاب پر پڑتی ہے تو آپ، حضرت اُمّ عمارہؓ اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہؓ تینوں مسیلمہ کذاب کی طرف بڑھتے ہیں اور بیک وقت حملہ کرتے ہیں۔ حضرت وحشیؓ کا نیزہ مسیلمہ کے پیٹ پر لگتا ہوا پار ہو جاتا ہے۔ حضرت اُمّ عمارہؓ کی تلوار مسیلمہ کذاب کے سر پر اور حضرت عبداللہؓ کا وار اُس کے کندھے پر پڑتا ہے اور مسیلمہ کذاب جہنم واصل ہو جاتا ہے۔

لکھتا ہوں خونِ دل سے یہ الفاظ احمریں ...... بعد از رسول ہاشمی ﷺ کوئی نبی نہیں

اس جنگ میں حضرت ام عمارہؓ کا کردار نہایت قابل فخر رہا۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت کی اس جنگ میں بذات خود حصہ لیا اور قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسیلمہ کذاب قتل نہیں ہو جاتا،

صفحہ 196

ہتھیار نہیں رکھوں گی۔ اللہ کے فضل سے آپؓ کی قسم پوری ہوئی، مسیلمہ جہنم واصل ہوا اور آپؓ بامراد مدینہ منورہ واپس ہوئیں۔ آپ کے جسم پر تلوار اور نیزوں کے بارہ زخم تھے۔ یہ سب کے سب اس مجاہدہ صحابیہؓ کے لیے تمغائے شرف تھے جس نے دنیا بھر کی مسلمان خواتین کے لیے تحفظ ختم نبوت سے متعلق بہترین مثال پیش کی۔ انہوں نے اس کی خاطر ایسی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں جو عام طور پر عورت ذات (صنف نازک) کے بس کی بات نہیں۔ اس جنگ میں حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا ایک ہاتھ کلائی سے کٹ گیا تھا۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کٹ جانے والے اس ہاتھ کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ام عمارہؓ کو یہ انعام دیا کہ جب بھی مدینہ طیبہ میں کوئی بیمار ہوتا تو حضرت ام عمارہؓ اپنا کٹا ہوا ہاتھ بیمار خواتین اور بچوں پر پھیرتیں تو وہ صحت یاب ہو جاتے۔ (سبحان اللہ) حضرت ام عمارہؓ کو ام المحاربین (جنگجوؤں کی ماں) اور حارسة الرسول (اللہ کے رسول ﷺ کی محافظہ) ایسے دلآویز القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ہر شخص نے دی ہے تری عظمت کی گواہی

حضرت اُم سلیمؓ

حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو ایک خاتون حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا: ”یارسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! یہ میرا فرزند انسؓ ہے۔ میری دلی تمنا ہے کہ یہ آپ ﷺ کی خدمت میں رہے۔ قبول فرمائیں اور اس کے لیے دعا کریں“۔ یہ لڑکے مشہور صحابی حضرت انسؓ بن مالک تھے اور خاتون ان کی والدہ اُم سلیمؓ تھیں، جو عظیم المرتبت صحابیات میں شمار ہوتی ہیں۔ بیعت عقبہ اُولیٰ کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ ان کے پہلے خاوند مالک نے اسلام قبول نہ کیا اور ناراض ہو کر شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔

ابو طلحہ نے پیغام نکاح بھیجا تو انھیں فرمایا کہ جب تک تم ایک خود ساختہ بت کے پجاری ہو، تم سے نکاح ممکن نہیں۔ وہ اسلام میں داخل ہو گئے تو فرمایا: پھر میں تم سے صرف اسلام کے حق مہر پر نکاح کرتی ہوں۔ بقول حضرت ثابتؓ کسی عورت کا مہر اُم سلیمؓ سے افضل نہیں سنا گیا۔ حضرت ابو طلحہؓ بیعت عقبہ ثانی میں شامل تھے۔ غزوہ اُحد میں ابو طلحہؓ آخر تک حضور ﷺ کی حفاظت میں سینہ سپر رہے اور اُم سلیمؓ حضرت عائشہؓ کے ساتھ میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی رہیں۔ غزوہ حنین میں بھی دونوں میاں بیوی جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ حضور ﷺ نے اُم سلیم کو خنجر بکف دیکھا تو پوچھا: خنجر کو کیا کروگی؟ انھوں نے عرض کیا:

صفحہ 197

یارسول اللہﷺ! آپ کا کوئی گستاخ قریب آیا تو اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ اس پر حضورﷺ نے تبسم فرمایا۔

سوچنا چاہیے! کیا ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں میں آج یہ جذبہ موجود ہے؟

حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ حبشہ کی طرف مسلمانوں کے دوسرے قافلہ نے ہجرت کی تو حضرت عبداللہ بھی مکہ چھوڑ کر جانے والوں میں شامل تھے۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی تو وہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ 6 ہجری میں سرورِ کونین ﷺ نے دنیا کے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام لانے کے لیے خطوط بھیجے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک خط پہنچانے کی سعادت انہیں بھی حاصل ہوئی۔

کفار کے خلاف ایک معرکہ میں حضرت عبداللہ بن حذافہ جس دستے کے سالار تھے، اس کے ایک مجاہد کو پکڑ کر زیتون کے کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گوشت ہڈیوں سے الگ ہو گیا۔ عجیب دلدوز منظر تھا۔ دیکھنے والے کے لیے صبر کرنا مشکل تھا، لیکن حضرت عبداللہؓ اور ان کے اَسی بیاسی ساتھی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین یہ منظر دیکھنے پر مجبور کیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ ...... تمہارا بھی یہی حشر ہونا ہے!

ابن عساکر اور بیہقی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان شام کے علاقے فتح کرتے جا رہے تھے کہ ان کا ایک فوجی دستہ دشمن کے ہاتھوں میں پھنس گیا۔ رومی اس زمانے میں سب سے بڑی قوت تھے لیکن میدانِ جنگ میں لا الہ الا اللہ کے مستانوں پر حاوی نہ ہو سکتے تھے۔ اب جو چند اللہ والے پکڑے گئے تو انہوں نے سوچا کہ ...... اگلے پچھلے تمام بدلے ان سے چکالیں۔

حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اپنی ٹکڑی کے سردار تھے۔ سب سے پہلے ان سے کہا گیا کہ ...... تمہارے چھوٹنے کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ تم عیسائی بن جاؤ! جواب ملا ...... یہ تو ممکن نہیں! کہا گیا ...... اگر یہ ممکن نہیں تو مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ! حضرت عبداللہ نے کہا ...... تمہارا فیصلہ منظور ہے! جان دے سکتا ہوں لیکن ایمان نہیں بیچ سکتا! رومی جنرل نے ان کے ایک ساتھی کو بلایا ...... پوچھا ...... تم عیسائی بننے کے لیے تیار ہو؟ جواب ملا ...... نہیں! جنرل نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ...... اسے اٹھاؤ اور کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دو! سامنے

صفحہ 198

پیتل کی بنی ہوئی ایک بڑی گائے کھڑی تھی۔ اس کے پیٹ کے نیچے نہ جانے کتنی لکڑیاں جل رہی تھیں کہ ساری گائے سرخ انگارہ بنی ہوئی تھی۔ اس کی پیٹھ کھلی ہوئی تھی اور تیل کھولتے ہی زیتون کے تیل سے جہنم زار بن گیا تھا۔ اسد الغابہ میں ہے، ابن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھی تیل میں بھن کر فوراً شہید ہو گئے۔ ایک مرتبہ پھر رومی جنرل نے ان سے کہا...... اس انجام کو دیکھ لو اور سنبھل جاؤ! اگر اب بھی تم نے حکم کی تعمیل نہ کی اور اپنا مذہب نہ بدلا تو لمحوں میں تمہیں بھی گائے پر قربان کردیا جائے گا۔ جواب ملا...... کوئی پروا نہیں۔ تم اپنے دل کی آگ ٹھنڈی کرلو مگر یہ بات بالکل بھول جاؤ کہ ہم میں سے کوئی بھی اسلام چھوڑ سکتا ہے۔ ان کی بات ختم ہوئی تھی کہ رومی جنرل کڑکا...... اٹھاؤ اور اسے بھی گائے کے پیٹ میں بھسم کردو! حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اٹھایا گیا کہ بے اختیار ان کے رخساروں پر آنسو بہنے لگے۔ جنرل نے اپنے سپاہیوں کو روک دیا اور عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا...... آخر ہمت جواب دے گئی اور جان کی محبت نے رُلا دیا؟ رومی جنرل نے جب انہیں طعنہ دیا تو انہوں نے کہا...... ظالم! تو کیا جانے کہ میں کیوں رو رہا ہوں؟ مجھے تو یہ خیال ستا رہا ہے کہ بس ایک ہی بار اللہ کی راہ میں شہادت پانے کا موقع ملے گا۔ کاش! میرے ہر بال میں ایک جان ہوتی۔ تم بار بار مجھے کھولتے ہوئے تیل میں ڈالتے اور میں بار بار راہِ خدا میں شہید ہونے کی سعادت حاصل کرتا!...... یہ الفاظ عبداللہ بن حذافہؓ کی زبان سے نکلے ہی تھے کہ فضا اللہ اکبر کے نعرے سے گونج اٹھی۔ یہ نعرہ ان کی زبانوں سے نکلا تھا جو جانتے تھے کہ موت بھی اللہ ہی کے لیے ہے اور زندگی بھی اللہ ہی کے لیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے...... قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اس بات کو زیادہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ شہادت کے بلند مقام کو پہچانتے تھے، اسی لیے انہوں نے رومی جنرل سے کہا...... تم نے مجھے غلط سمجھا! میرے لیے تو یہ مقامِ شکر ہے۔ رومی جنرل اور اس کی سپاہ ابن حذافہ رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر دنگ رہ گئی۔ قوتِ ایمانی کیا ہوتی ہے۔ اس کا انہیں اندازہ ہی نہ تھا۔

بعض روایات میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا گیا اور کھانا پینا بند کردیا گیا۔ کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا گیا لیکن آپ نے شدید بھوک پر بھی اس کی طرف

صفحہ 199

توجہ تک نہ فرمائی ۔ بادشاہ نے آپ کو بلا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا: اس حالت میں میرے لیے جائز تو ہو گیا ہے لیکن میں تجھ ایسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتا ۔ اب بادشاہ نے کہا: کہ اچھا تم میرے سر کا بوسہ لے لو ، تو میں تمہیں اور تمہارے تمام ساتھیوں کو رہا کر دیتا ہوں ۔ آپ نے اسے قبول فرما لیا اور اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا ۔ چنانچہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو چھوڑ دیا ۔

جب حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں بڑے ادب کے ساتھ منبر رسول ﷺ پر بٹھایا اور فرمایا کہ عبداللہ اپنا واقعہ ہم کو سناؤ ............ چنانچہ جب آپ نے پورا واقعہ شروع کیا تو خلیفۃ المسلمین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی چومے اور میں ابتداء کرتا ہوں ۔ یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر کا بوسہ لیا اور پھر جمیع مسلمانوں نے ۔

شہید عشق محمد ﷺ کا احترام کرو
کہ اس سے برزخ و محشر میں احتساب نہیں

حضرت اسود خیبریؓ

ہر انسان کی زندگی میں ایک لمحہ ضرور آتا ہے جو اُسے زمین سے اُٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتا ہے اور بعض اوقات بد قسمتی سے یہی لمحہ اُسے احسن تقویم کی بلندیوں سے گرا کر اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتا ہے۔ اسود خیبری کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺ خیبر تشریف لے گئے تو وہاں پڑاؤ ڈالا۔ ایک یہودی چرواہا ایک یہودی سردار کی بکریاں چرا رہا تھا۔ اس نے پوچھا : ”یہ کیا ہے“؟ بتایا گیا: ”مدینہ کا ایک شخص ہے جو اللہ کا نبی ہے اور لڑنے کے لیے یہاں لشکر سمیت آیا ہوا ہے“۔ پھر صحابہؓ سے پوچھا: ” آپ لوگوں کا امیر کون ہے“؟ صحابہ کرامؓ نے فرمایا : ”فلاں خیمہ میں ہیں“۔ نام اسود اور رنگ کا بھی کالا ، چہرہ روکھا تھا ، گرد و غبار سے اٹا ہوا تھا، پسینہ کی بھی بدبو آ رہی تھی۔ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: ” آپ کیا کہہ رہے ہیں“؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”دنیا کے تمام معبودوں سے دستبردار ہو جائیں ، ایک اللہ کی عبادت کریں ، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں“۔ پھر اس نے کہا: ”اے اللہ

صفحہ 200

کے نبی! ہاتھ بڑھائیں، آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوتا ہوں، میں اسلام قبول کرتا ہوں‘‘۔ چند لمحات نے اس چرواہے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ چرواہے نے کہا: ”میں یہودی کا چرواہا ہوں، اب میں کیا کروں‘‘؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بکریاں امانت ہیں۔ یہ واپس کر دو، ہمارے دین میں امانت میں خیانت کرنا جائز نہیں‘‘ اور سبق آموز بات یہ ہے کہ ایک ایسی قوم کے خلاف لڑنے کے لیے پہنچ چکے ہو، جن کے اموال غنیمت بنیں گے۔ وہ چرواہا بکریاں یہودی کو واپس کر کے آیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اب ہمارے ساتھیوں کے ساتھ چل کر جہاد میں شریک ہو جاؤ‘‘ تو یہ چرواہا آپ ﷺ کے ارشاد پر جہاد میں شریک ہو جاتا ہے۔ جب غزوہ ختم ہوا تو آپ ﷺ نے معمول کے مطابق شہداء اور زخمیوں کو سنبھالا۔ صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ ایک شخص ہمارے ساتھیوں میں ہے لیکن ہم اس کو نہیں پہچانتے۔ آپ ﷺ نے جا کر دیکھا اور فرمایا: اس شخص کو آپ نہیں جانتے، میں اس کو جانتا ہوں۔ یہ ابھی مسلمان ہوا ہے۔ میں اپنی ان آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ فرشتے مشک وعنبر سے اس کو غسل دے رہے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری فرصت کے لمحات قیمتی بن جائیں۔

حضرت اصیرم عمرو بن ثابت انصاریؓ

اصیرم عمرو بن ثابت، انصار قبیلہ اوس کی شاخ عبدالاشہل سے تھے اور اسلام کے سخت مخالف تھے۔ ان کے قبیلہ کے دوسرے لوگوں نے تو اسلام قبول کر لیا تھا لیکن وہ بدستور کفر پر اڑے ہوئے تھے۔ جس دن حضور سرور دو عالم ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سمیت غزوۂ اُحد کے لیے تشریف لے گئے تھے، حضرت اصیرمؓ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو محلے میں سناٹا دیکھا کیونکہ ان کے رشتہ دار بھی حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان جنگ میں چلے گئے تھے۔ انھوں نے گھر کی خواتین سے پوچھا کہ میرے خاندان کے لوگ کہاں گئے؟ جواب ملا، میدان اُحد میں۔ یہ سن کر غیرت آ گئی۔ اس وقت زرہ پہنی، ہتھیار لیے، گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے سرپٹ دوڑاتے ہوئے میدان اُحد میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! مسلمان ہو جاؤں یا لڑوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، دونوں کام کرو۔ چنانچہ فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور وہاں جہاں دوسرے مجاہدین کھڑے تھے، وہ بھی جا کر کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں نے جب انھیں

صفحہ 201

دیکھا تو کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ، تم یہاں ہمارے ساتھ نہیں ٹھہر سکتے۔ انھوں نے کہا بھائیو! آپ مجھ پر برہم نہ ہوں، میں نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے اور تمہاری طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اور محبت مصطفیٰ ﷺ کی سرشاری میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے آیا ہوں۔

چنانچہ جب کفار سے جنگ شروع ہوئی تو حضرت اصیرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ یہاں تک کہ زخموں سے چور چور ہو کر گر پڑے۔ بنی عبدالاشہل کے چند آدمی میدان جنگ میں جب اپنے مقتولوں کی تلاش میں آئے تو انھوں نے اصیرم کو ایک جگہ گرا ہوا پایا۔ وہ کہنے لگے: بخدا یہ تو اصیرم ہے۔ یہ یہاں کیسے آیا، یہ تو منکر اسلام تھا۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ تم یہاں کیسے آئے؟ کیا تمھیں اپنی قومی غیرت یہاں لے آئی ہے یا اسلام کی محبت کے باعث تم یہاں آئے ہو؟ انھوں نے کہا: محض اسلام اور حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کے باعث یہاں آیا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم ﷺ پر ایمان لایا ہوں۔ یہی جذبہ مجھے میدان جنگ میں لے آیا ہے۔ میری زخموں سے یہ حالت ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ میں مر جاؤں تو میرے سارے اموال و املاک حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کر دینا۔ حضور ﷺ جس طرح چاہیں انھیں خرچ فرما لیں۔ اتنے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے۔ انھوں نے ان کے بھائی کو کہا کہ ان سے پوچھے۔

”یعنی کیا تم اپنی قوم کی حمیت کے جذبہ سے یہاں آئے ہو یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناموس کے لیے غضبناک ہو کر آئے ہو؟ کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے آیا ہوں“۔

کچھ دیر بعد اصیرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں اطلاع دی گئی تو فرمایا ”کہ اصیرم اہل جنت سے ہے“۔

ایک دن حضرت ابو ہریرہؓ نے لوگوں سے پوچھا: ایسے جنتی کا نام بتاؤ جس نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی اور پھر بھی وہ جنت میں ہے؟ لوگوں نے کہا آپؓ ہی فرمائیے۔ کہا ”وہ اصیرم (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہے جو بنی عبدالاشہل کا فرد ہے“۔

جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
صفحہ 202

حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ

اسلام کے مجاہدین میدانِ اُحد میں مختلف مقامات پر دادِ شجاعت دے رہے تھے اور دشمنوں کے حملوں کو پسپا کرنے میں مصروف تھے۔ حضور ﷺ نے چاہا کہ نشیب سے پہاڑ کی چوٹی پر جا کر ڈیرا جمائیں تاکہ مجاہدین کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ پہاڑ کی بلندی پر جب تشریف فرما ہوں گے تو سارے جاں نثار حضور ﷺ کو دیکھ لینے کے بعد وہاں اکٹھے ہو جائیں گے اور پھر اجتماعی قوت سے لشکرِ کفار پر حملہ کیا جاسکے گا لیکن کفار نے جب حضور ﷺ کو پہاڑی کے اوپر جاتے ہوئے دیکھا تو فیصلہ کن حملہ کرنے کے لیے ادھر بھاگے۔ ان کی نیت یہ تھی کہ وہ حضور ﷺ کی شمعِ حیات کو گل کر دیں۔ اس نازک وقت میں جمالِ نبوت کا شیدائی ہالہ بن کر خورشیدِ نبوت کو آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرف سے بچا رہا تھا۔ تیروں کی بوچھاڑ کو ہتھیلی پر روکتا، تلوار اور نیزہ کے سامنے اپنے سینے کو سپر بناتا اور اسی حال میں کفر کا نرغہ زیادہ ہو جاتا تو شیر کی طرح تڑپ کر حملہ کرتا اور دشمن کو پیچھے ہٹا دیتا۔ تیروں کی بارش جاری ہے۔ حشر کا معرکہ برپا ہے۔ سردارِ انبیا ﷺ مشرکوں کا جائزہ لینے کے لیے اپنے سر مبارک کو اٹھاتے ہیں تو حضرت ابوطلحہؓ آپ ﷺ سے عرض کرتے ہیں کہ: ’’یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! سر مبارک نہ اٹھائیے، ایسا نہ ہو کہ مشرکوں کا کوئی تیر آپ ﷺ کو لگ جائے۔۔ کمالِ محبت سے گویا ہوتے:

نحری دون نحرک
’’میری چھاتی آپ ﷺ کے سینہ مبارک کے لیے ڈھال ہے!‘‘

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضور ﷺ پہاڑی کے اوپر چڑھ رہے تھے، مشرکین نے پیچھے سے آلیا۔ حضور ﷺ پُرنور نے فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی ہے جو اُن کا راستہ روکے؟‘‘ طلحہؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! میں۔ فرمایا تم جہاں ہو ٹھیک ہو، کوئی اور؟ ایک انصاری نے عرض کیا ’’اے اللہ کے پیارے رسول ﷺ! یہ غلام حاضر ہے!‘‘ وہ انصاری ان حملہ آوروں سے برسرِ پیکار ہو گیا۔ اس دوران میں حضور ﷺ اوپر چڑھتے گئے۔ کچھ دیر بعد اس انصاری کو شہید کر دیا گیا۔ حضور ﷺ نے پھر وہی سوال دُہرایا۔ حضرت طلحہؓ نے عرض کیا، لبیک یا رسول ﷺ! حضور ﷺ نے انھیں دوبارہ صبر کرنے کی تلقین فرمائی، اور ایک دوسرے صحابیؓ نے ان سے لڑنا شروع کر دیا اور حضور ﷺ نے دوبارہ اوپر

صفحہ 203

چڑھنا شروع کر دیا۔ پھر یہ انصاری بھی شہید کر دیا گیا، اس طرح گیارہ انصاری یکے بعد دیگرے اپنے آقا ﷺ کے دشمنوں کے سامنے آڑے آتے رہے اور جانیں قربان کرتے رہے، یہاں تک کہ کفار کے اس ریلے کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف دو شخص رہ گئے، ایک رحمت عالم ﷺ اور ایک حضور ﷺ کے جانباز صحابی حضرت طلحہؓ۔ پھر حضرت طلحہؓ ان کفار کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو گئے اور جتنی مزاحمت ان گیارہ جاں نثاروں کی تھی، اتنی دیر تک اکیلے طلحہؓ نے کی اور ان کو ایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا، یہاں تک کہ ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور ہاتھ شل ہو گیا تو آہ کے بجائے زبان سے نکلا ”حس“ یعنی خوب ہوا۔ اس پر حضور سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس لفظ کے بجائے بسم اللہ کہتے تو ملائکہ آسمانی تمہیں ابھی اُٹھا لے جاتے۔ حضرت طلحہؓ نے غزوۂ اُحد میں فدائیت، جانثاری اور شجاعت کے جو بے مثل جوہر دکھائے، یقیناً تمام اقوام عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس جنگ میں اُن کا پورا جسم زخموں سے چھلنی ہو گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کے جسم کے ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔ دربارِ رسالت ﷺ سے اسی جانبازی کے صلے میں اُنہیں خیر کا لقب مرحمت ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ غزوہ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہؓ کا مخصوص دن تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ اِن کو صاحبِ اُحد فرمایا کرتے تھے۔ خود حضرت طلحہؓ کو بھی اپنے اس کارنامہ پر بڑا ناز تھا اور ہمیشہ لطف و انبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔

رشتہ جو نہ ہو قائم محمد ﷺ سے وفا کا
جینا بھی برباد ہے، مرنا بھی اکارت

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلے میں صحابہ کرامؓ ایسا جذبہ عطا فرمائے!

جس شان سے جان دی، خود تاریخ اسلام بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت ابوبکرؓ جب کبھی یومِ اُحد کی بات کرتے تو فرماتے: یہ دن سارے کا سارا طلحہؓ کے لیے تھا۔ حضرت طلحہؓ نے اس دن حضور ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے ستر سے اوپر زخم کھائے۔ جن میں سے کچھ تلواروں کے، کچھ نیزوں کے اور کچھ تیروں کے زخم تھے۔ ان کی ایک انگلی بھی کٹ گئی تھی پھر ان کے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی۔ حضرت طلحہؓ کے سر پر تیروں کے بہت زخم لگے تھے جس سے بہت خون بہا اور

صفحہ 204

آپ بے ہوش ہو گئے۔ حضرت صدیق اکبر نے ان کے منہ پر پانی چھڑکا اور انھیں ہوش آیا، تو سب سے پہلے یہ سوال کیا ’’حضور ﷺ کا کیا حال ہے؟‘‘ انھیں بتایا گیا کہ الحمدللہ، حضور ﷺ بخیر و عافیت ہیں۔ یہ سن کر اس جانباز صادق نے بے ساختہ کہا ’’اللہ کا شکر ہے حضور ﷺ سلامت ہیں۔ کوئی مصیبت آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے کوئی حقیقت نہیں رکھتی‘‘۔

؎ تیرا جلوہ ہو، تیری صورت ہو اور کیا چاہیے نظر کے لیے

کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دی جا چکی تھی، ان کا ایک ہاتھ شل ہو گیا تھا۔ لوگوں کو بہت تعجب ہوتا جب وہ دیکھتے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے جلیل القدر صحابی اور خلیفۂ راشد کبھی کبھی ان کا وہ شل ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں۔ ایک دن کسی نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے ان کے ہاتھ کے شل ہو جانے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے بتایا کہ غزوۂ احد کے موقع پر پیارے آقا حضور نبی کریم ﷺ جب زخمی ہو گئے تو کافروں کے ایک دستہ نے موقع غنیمت جان کر آپ ﷺ پر ہجوم کرنا شروع کیا۔ اس وقت سوائے میرے آپ ﷺ کے پاس کوئی دوسرا شخص موجود نہ تھا۔ تیر تھے کہ بارش کی طرح برس رہے تھے۔ میرے پاس سپر تھی۔ میں حضور ﷺ کے آگے کھڑا ہو گیا اور آنے والے تیروں کو اس سپر پر روکنے لگا۔ اتفاقاً میرے ہاتھ سے چھوٹ کر سپر زمین پر گر گئی۔ یہ لمحہ نازک ترین لمحہ تھا۔ اگر میں جھک کر اٹھاتا تو ہو سکتا تھا کہ کوئی تیر رسول کریم ﷺ کو زخمی کر دیتا۔ فیصلہ کرنے میں مجھے ذرا بھی دیر نہ ہوئی۔ میں نے سپر نہیں اٹھائی اور سپر کے بجائے آنے والے تیروں کو اپنے اسی ہاتھ پر روکنا شروع کر دیا۔ ہر تیر آ کر میری ہتھیلی میں چھید کر جاتا۔ خون کا فوارہ میرے ہاتھ سے چھوٹ رہا تھا مگر میں آنے والے تیروں کو ہتھیلی پر لیتا رہا۔ بعد ازاں میں نے اپنی ہتھیلی کو دیکھا تو وہ بالکل گوشت کے ایک لوتھڑے کے مانند تھی۔ اکثر رگیں کٹ چکی تھیں۔ میں نے پرواہ نہ کی اور آج وہ ہاتھ شل ہو چکا ہے۔ اب لوگوں کی سمجھ میں آیا کہ کیوں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ جیسے عظیم المرتبت صحابی، حضرت طلحہؓ کے اس شل ہاتھ کو کبھی کبھی چوم لیا کرتے تھے۔ ہاتھ شل کرایا، ہتھیلی شدید زخمی کرائی، مگر آفرین ہے عشرہ مبشرہ کے ایک فرد سیّدنا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ پر کہ پیارے نبی ﷺ پر کاری زخم نہ لگنے دیا۔ یہی وہ بابرکت ہستیاں تھیں جنھوں نے اپنا خون دے کر جنت خریدی تھی۔

صفحہ 205
محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سنو لوگو
یہ جس من میں سما جائے، وہ من میلا نہیں ہوتا

حضرت زیاد بن سکنؓ

جنگ اُحد کے موقع پر کفار نے حضورﷺ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’کون مرد ہے جو ہمارے لیے اپنی جان کا سودا کرے؟‘‘ تو زیادؓ بن سکن اٹھ کھڑے ہوئے اور دشمن کے نرغے کو توڑنا شروع کیا۔ وہ دشمن کو بھگانے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن خود زخموں سے چور چور ہو گئے، انھیں چودہ گہرے زخم لگے تھے۔ جب دشمن بھاگ گئے تو حضورﷺ نے فرمایا، ’’میرے محبّ دلفگار کو میرے قریب لے آؤ‘‘۔ انھیں اپنے آقاﷺ کے قریب لایا گیا تو انھوں نے حضورﷺ کے قدموں پر اپنے رخسار رکھ دیے اور اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کر دی۔

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حضرت زبیر بن عوامؓ

نوفل بن عبداللہ بن مغیرہ نے غزوہ خندق کے دن دشمن کی صف سے باہر نکل کر مسلمانوں کو اپنے مقابلہ کے لیے نکلنے کی دعوت دی، چنانچہ اس کے مقابلہ کے لیے نوجوان صحابی حضرت زبیر بن عوامؓ نکلے اور اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے ٹکڑے کر دیے۔ اس کی وجہ سے ان کی تلوار میں دندانے پڑ گئے۔ واپس آتے ہوئے وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے:

انی امرء احمی و احتمی
عن النبی المصطفی الامی

’’میں ایسا آدمی ہوں کہ دشمن سے اپنی بھی حفاظت کرتا ہوں اور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی بھی حفاظت کرتا ہوں‘‘۔

کر لیا ہے اور کچھ کا کہنا تھا کہ حضورﷺ شہید کر دیے گئے ہیں۔ بنو ہاشم سخت غیظ و غضب کے عالم میں تھے۔ ابھی کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ نوعمر زبیرؓ بن عوام (رسول پاکﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ کے فرزند) کے کانوں میں بھی اس خبر کی بھنک پڑ

صفحہ 206

گئی۔ اس سولہ سالہ کشیدہ قامت اور قوی الجثہ نوجوان کو رحمت عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، یہ خبر سنتے ہی تڑپ کر اٹھا۔ کھونٹی سے تلوار اتار کر اس کا نیام زمین پر پٹخ دیا اور شمشیر بکف مکہ کی گلیوں میں کود گیا۔ اس کا رخ مکہ کے بالائی حصے میں واقع حضور سرور عالم ﷺ کے کاشانۂ اقدس کی جانب تھا۔ اس وقت فرط جوش سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ وہ نہایت تیزی سے گلیاں طے کر رہا تھا۔ جلد ہی وہ حضور ﷺ کی مبارک اقامت گاہ پر پہنچ گیا اور یہ دیکھ کر اس کی مسرت کی انتہا نہ رہی کہ رسالت مآب ﷺ خیر و عافیت کے ساتھ وہاں رونق افروز ہیں۔

حضور ﷺ شمشیر بکف نوجوان کو دیکھ کر متبسم ہو گئے اور فرمایا ”زبیر! خیر تو ہے، اس وقت تم شمشیر برہنہ سونت کر کیسے آ رہے ہو؟“

زبیر نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، میں نے سنا تھا کہ آپ ﷺ کو دشمنوں نے گرفتار کر لیا ہے یا شاید آپ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں“۔

ارشاد ہوا: ”اچھا تو یہ بات ہے اور اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو تم کیا کرتے؟“

زبیر نے بے ساختہ عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! خدا کی قسم میں آپ ﷺ کے دشمنوں سے لڑ مرتا اور مکہ میں خون کی ندیاں بہا دیتا“۔ اس کا جواب سن کر رحمت دو عالم ﷺ کے روئے انور پر بشاشت پھیل گئی۔ آپ ﷺ نے اس کے جذبہ فدائیت کی تحسین فرمائی اور اس کے حق میں دعائے خیر کی بلکہ اس کی تلوار کو بھی دعا دی کہ یہ پہلی تلوار تھی جو رسول برحق ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ میں بلند ہوئی۔

در دل مسلم مقام مصطفیٰ ﷺ ست
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ ست

مسلمان کے دل میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا مقام ہے...... اور ہماری عزت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام سے ہے۔

کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا جذبہ عطا فرمائے کہ اس کے بغیر زندگی محض شرمندگی ہے۔

حضرت سعد بن ربیعؓ

غزوہ احد کے دن جب جنگ ختم ہوئی تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کوئی ہے جو

صفحہ 207

مجھے سعد ابن ربیع کی خبر لا دے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! میں یہ حکم بجا لاؤں گا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر سعد تمہیں زخمی حالت میں ملے تو اس کو میرا سلام کہنا۔ حضرت ابی بن کعبؓ کہتے ہیں کہ میں لاشوں میں دیکھتا رہا، مجھے سعد کی لاش نہ ملی، میں نے زندوں میں دیکھا، سعد نہیں ملا، زخمیوں میں گیا تو میں نے دیکھا سترہ آدمی زخمی ہیں، ان زخمیوں کے نیچے ستر زخموں سے چور سعد تڑپ رہا ہے، میں نے سعد کو نیچے سے نکالا اور کہا، تجھے حضور خاتم النبیین ﷺ نے سلام بھیجا ہے۔ ہاں ہاں، اس نبی محتشم ﷺ نے کہ ساری کائنات جس پر سلام بھیجتی ہے دیکھو اس نے سعد کو سلام بھیجا ہے، اتنا کہنا تھا کہ سعد ابن ربیعؓ جوش سے اٹھتا ہے، کہا نبی ﷺ نے مجھے سلام بھیجا ہے، زخمی شیر کی طرح اٹھنا چاہتا ہے مگر تڑپ کر زمین پر گر جاتا ہے۔ جب اٹھا نہ گیا تو سعد نے کہا، اے بھائی! میرے پیارے نبی ﷺ کو میرا سلام کہنا، اور میرے آقا و مولا ﷺ کو کہنا کہ میرے لیے دعا کریں اور میرا یہ پیغام دینا کہ اگرچہ نیزے اور تیر میرے جسم سے آر پار ہو گئے لیکن میں نے اپنے قاتل کے جسم سے بھی نیزہ پار کر دیا اور اسے جہنم واصل کر دیا ہے، اور میری قوم انصاریوں کو جمع کرنا، اور کہنا انصاریو! میرے آقا ﷺ کے نام پر کٹ جانا، مٹ جانا، لٹ جانا، ذبح ہو جانا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا، مگر ان کی حرمت پر کوئی آنچ نہ آنے دینا۔ اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس پر ذرا سا بھی حرف آیا تو یاد رکھنا کہ قیامت کے دن تمہارا سردار تمہیں پکڑے گا، اگر رسول پاک ﷺ کو کچھ ہو گیا اور تم میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہوا تو قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ہم نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ پر فدا ہونے کا حلف اٹھایا تھا۔‘‘ یہ کہا اور ہچکی لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ربیعؓ کے آخری الفاظ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیے تو نبوت کے ہاتھ بلند ہوئے: اے اللہ! سعد کو اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دے۔ زندگی اور موت دونوں میں اللہ اور اللہ کے رسول کے بہی خواہ رہے۔ (طبقات الکبریٰ ابن سعد) ایک دفعہ حضرت ابی بن کعبؓ مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے مکان کے دروازے پر چٹائی بچھا کر لیٹے ہیں اور ایک چھوٹی سی بچی حضرت صدیق اکبرؓ کے سینے پر کھیل رہی ہے۔ ابوبکر صدیقؓ بچی سے پیار کرتے ہیں، میں نے کہا ابوبکر یہ آپ کی بچی ہے؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ تڑپ اٹھے۔ کہا یہ میری

صفحہ 208

بچی نہیں بلکہ سعد ابن ربیع کی بچی ہے، میں اس لیے اسے پیار کر رہا ہوں کہ جب سعد کا آخری وقت تھا۔ اس نے یہ تو کہا تھا کہ میرے نبی ﷺ کی حفاظت کرنا، اس نے یہ نہیں کہا میری بچی کا خیال کرنا، وہ یتیم بچی چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا، اور رہتی دنیا تک کے لوگوں کو بتا گیا کہ:

محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

حضرت قتادہ بن نعمانؓ

حضرت قتادہ بن نعمانؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو ہدیہ میں ایک کمان ملی، آپ ﷺ نے وہ کمان اُحد کے دن مجھے دے دی۔ میں اس کمان کو لے کر حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر خوب تیر چلاتا رہا، یہاں تک کہ اس کا سرا ٹوٹ گیا۔ میں برابر حضور ﷺ کے چہرے کے سامنے کھڑا رہا اور میں اپنے چہرے پر تیروں کو لیتا رہا۔ جب بھی کوئی تیر آپ ﷺ کے چہرے کی طرف مڑ جاتا تو میں اپنے سر کو گھما کر تیر کے سامنے لے آتا اور حضور ﷺ کے چہرے کو بچا لیتا (چونکہ میری کمان ٹوٹ چکی تھی اس لیے) میں تیر تو چلا نہیں سکتا تھا۔ پھر آخر میں مجھے ایک تیر ایسا لگا جس سے میری آنکھ کا ڈھیلا ہاتھ پر آ گرا۔ میں اسے ہتھیلی پر رکھے ہوئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آپ ﷺ نے آنکھ کا ڈھیلا میری ہتھیلی میں دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ ﷺ نے میری آنکھ کا ڈھیلا لے کر اس کی اصل جگہ پر رکھ دیا اور یہ دعا دی۔

اس کی اس آنکھ کو زیادہ خوبصورت اور زیادہ تیز بنادے“۔

حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ میری وہ آنکھ دوسری سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ تیز نظر والی ہو گئی۔

حضرت ابودجانہؓ

حضرت ابودجانہؓ میدانِ اُحد میں مختلف مقامات پر دادِ شجاعت دیتے رہے لیکن جب دشمنوں نے ان کے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اکٹھے ہو کر حملہ کر دیا تو آپ دوڑتے ہوئے آئے اور اس وقت وہاں پہنچے جبکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر چاروں طرف سے مشرکین تیروں کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔ یہ ڈھال بن کر اپنے آقا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور آنے

صفحہ 209

والے سارے تیروں کو اپنی پشت پر لیتے رہے۔ ساری پشت تیروں سے بھر گئی لیکن محبوب خدا ﷺ کا یہ جان نثار عاشق سرمو آگے پیچھے نہ سرکا۔

(سیرت ابن ہشام ج 3 ص 30)

اس موقع پر حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف، حضور ﷺ کے قدموں میں کھڑے ہو کر حملہ آور کفار سے چومکھی لڑائی لڑتے رہے۔ آپؐ کے سامنے والے دندان مبارک ٹوٹ گئے، آپؐ کو بیس سے زیادہ کاری زخم لگے لیکن پایۂ ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی۔ ٹانگ زخمی ہونے کی وجہ سے معذور ہو گئے اور ساری عمر لنگڑا کر چلتے رہے۔

حضرت رافعؓ اور حضرت سمرہؓ بن جندبؓ

نبی اکرم ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب لڑائی میں شمولیت کے لیے روانہ ہونے لگتے تو مدینہ منورہ سے باہر جانے کے بعد لشکر کا معائنہ فرماتے، ان کے احوال کو، ان کی ضرورتوں کو دیکھتے اور سپاہ کی اصلاح فرماتے اور پندرہ برس سے کم عمر کے بچوں کو واپس فرما دیتے۔ یہ حضرات شوق میں نکل پڑتے۔ چنانچہ احد کی لڑائی کے لیے جب تشریف لے جانا ہوا تو ایک موقع پر جا کر جیش کا جائزہ لیا اور پندرہ برس سے کم عمر کے لڑکوں کو واپس بھیج دیا جن میں حضرات ذیل بھی تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ، زیدؓ بن ثابت، اسامہ بن زیدؓ، زید بن ارقمؓ، براء بن عازبؓ، عمرو بن حزمؓ، اسید بن حضیرؓ، عرابۃ بن اوسؓ، ابوسعید خدریؓ، سمرۃ بن جندبؓ، حضرت سمرہؓ بن جندب کے ایک ساتھی رافع بن خدیجؓ تھے۔ وہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے، اس لیے حضور ﷺ نے انھیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت دے دی۔ سمرۃ بن جندبؓ نے اپنے سوتیلے باپ مرۃ بن سنان سے کہا کہ حضور ﷺ نے رافع کو تو اجازت مرحمت فرما دی اور مجھے اجازت نہیں عطا فرمائی۔ حالانکہ میں رافع سے قوی ہوں، اگر میرا اور اس کا مقابلہ ہو تو میں اس کو پچھاڑ لوں گا۔ حضور ﷺ نے دونوں کا مقابلہ کرایا تو سمرۃ نے رافع کو واقعی پچھاڑ لیا۔ اس لیے حضور ﷺ نے سمرۃ کو بھی لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت عطا فرما دی۔

یہ شوق اور ولولے تھے، ان حضرات کے کہ بچہ ہو یا بڑا، ہر شخص کچھ ایسا سرشار تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنا اپنی سعادت سمجھتا تھا۔ اسی وجہ سے کامیابی ان کے قدم چومتی تھی۔

حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ

سیدنا حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے

صفحہ 210

ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جب دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو لڑکے (جوان) معاذؓ اور معوذؓ تھے، ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھلا دیجیے۔ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا، یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے، وہ مرجائے۔

مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے مجھے چھوا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا: ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی دونوں نے اپنی تلواریں لیں، اس پر جھپٹ پڑے اور اسے شدید زخمی کر کے زمین پر گرا دیا۔ بعد میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر سوار ہو کر اس کا سر قلم کر دیا۔

( صحیح البخاری، فرض الخمس، باب من لم يخمس الاسلاب 502/4)

یہ جس سے ہو سکے وہ آئے، آئے!
جو سب کچھ کھو سکے وہ آئے، آئے!
اُگانے کے لیے اک دور نو کو
جو جاں کو بو سکے وہ آئے، آئے!

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص

کرنے والوں میں ایک روایت کے مطابق آپ کا تیسرا نمبر ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ ساتویں مسلمان ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا۔ بالکل آغاز شباب میں آپ ایمان لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ آپ بڑے جری اور بہادر تھے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے مخصوص محافظین اور پہرا داروں میں شامل تھے۔ جب سے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ گئے تھے، قریش برابر جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے۔ بنو کنانہ کو ہموار کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ کنانہ، مکے اور مدینے کے درمیان رہتے تھے اور قریش کے دشمن تھے۔ اس لیے انھیں ہمت نہ پڑتی تھی کہ مدینے پر دھاوا بولیں

صفحہ 211

مگر اب اہل ایمان کی دشمنی میں سب پرانے دشمن سر جوڑ کر بیٹھے اور انھیں مدینہ سے نکال پھینکنے کے منصوبے بنانے لگے۔ یہاں آ کر بھی مسلمان کچھ عافیت میں نہ تھے۔ دن کا چین اور رات کی نیند ختم ہو چکی تھی۔ ہر وقت کھٹکا لگا رہتا تھا کہ دشمن اب آیا کہ اب آیا! اس زمانے میں حضور اکرم ﷺ رات بھر جاگا کرتے۔ ایک رات آپ ﷺ سخت فکر مند تھے۔ کچھ بات تھی کہ پلک سے پلک نہ جھپکتی تھی۔ زبان مبارک ﷺ سے نکلا : کاش ! کوئی نیکو کار آج رات یہاں ہوتا اور پہرا دیتا !۔

شاید آپ ﷺ بہت تھک گئے تھے اور سونا چاہتے تھے کہ اتنے میں ایک جھنکار سی سنائی دی جیسے ہتھیار بج رہے ہوں ۔ زبان رسالت ﷺ سے بے اختیار نکلا : کون ہے؟

آواز آئی : سعد بن ابی وقاص !

ارشاد ہوا: کیسے آنا ہوا؟

عرض کیا گیا : جانے کیوں دل میں وسوسے آ رہے تھے کہ آج رات آپ کی ذاتِ اقدس ﷺ کو کچھ خطرہ ہے۔ مجھ سے گھر پر رہا نہ گیا ، پہرا دینے حاضر ہوا ہوں ۔

جواب سن کر زبان رسالت ﷺ سے بے شمار دعائیں نکلیں اور خدا کا نبی ﷺ اپنی کمبلی اوڑھ کر سو گیا۔

ثابت ہوا کہ آج کے دور میں جو شخص بھی حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا پہرا دیتا ہے یعنی آپ ﷺ کی عزت و آبرو کو دشمنان رسول ﷺ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے، آپ ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کرتا ہے، حضور نبی کریم ﷺ کی رحمت بھری دعائیں آج بھی اس کے ساتھ ہیں ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنھیں یہ سعادت حاصل ہے۔

عبداللہ بن جحش نے مجھے کہا کہ آؤ ایک کونہ میں جا کر دعا مانگیں ۔ میں دعا مانگوں گا ، اس پر آپ آمین کہیں ۔ پھر آپ دعا مانگیں ، اس پر میں آمین کہوں گا۔ اس قبولیت کی گھڑی میں ہماری التجائیں قبول ہوں گی ۔ چنانچہ ہم الگ ایک گوشہ میں چلے گئے ۔ پہلے میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کی : اے میرے رب ! کل جب دشمن سے ہمارا مقابلہ ہو تو میرے مقابلہ میں ایک طاقتور اور ماہر جنگجو کو بھیج تاکہ میں تیری رضا کے لیے اس سے جنگ کروں اور وہ مجھ سے جنگ کرے، پھر مجھے اس پر غلبہ دے تاکہ میں اس کو قتل کر دوں ۔ حضرت

صفحہ 212

عبداللہ نے میری دعا پر کہا آمین! پھر حضرت عبداللہ بن جحش نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کی: الٰہی میرے مقابلہ میں ایک ایسا کافر بھیج جو بڑا قوی اور تنومند ہو اور فنِ حرب کا ماہر ہو۔ میں تیری رضا کے لیے اس سے جنگ کروں اور وہ مجھ سے جنگ کرے، آخر کار وہ مجھے قتل کر دے۔ پھر وہ مجھے پکڑے، میری ناک اور میرے کان کاٹ دے اور جب میں روز قیامت تجھ سے اس حالت میں ملاقات کروں تو تُو فرمائے ’’اے میرے بندے کس جرم میں تیری ناک اور تیرے کان کاٹے گئے؟‘‘ تو میں جواب میں عرض کروں۔ ’’فِیْکَ وَفِیْ رَسُوْلِکَ کہ تیری محبت اور تیرے محبوب ﷺ کی محبت کے جرم میں‘‘۔ تو تُو فرمائے ’’اے میرے بندے: تم سچ کہہ رہے ہو‘‘۔

یہ بیان کرنے کے بعد حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہؓ کی دعا میری دعا سے بدرجہا بہتر تھی۔ چنانچہ دونوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور حضرت عبداللہؓ کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔ کیا آج بھی عشقِ مصطفےٰ ﷺ کی سرشاری میں کوئی ایسا ہے جو ایسی دعا مانگے!

سے بچانے کے لیے جان لڑا دی، آپ کی صاحبزادی عائشہ بنت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُس دن کے بارے میں آپ سے روایت کرتی ہیں۔ وہ خود بیان کرتے ہیں:

’’اس روز جب لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تو میں ایک طرف ہو کر سوچنے لگا اور آخر فیصلہ کیا کہ نہ ہتھیار ڈالوں گا اور نہ بھاگوں گا، میں ان سے لڑتا رہوں گا، یہاں تک کہ میں ان سے نجات پا جاؤں یا شہید ہو جاؤں۔ اچانک ایک آدمی میرے قریب آ گیا، اس کا چہرہ بہت سرخ تھا۔ کفار نے ہر طرف سے اس کا گھیرا تنگ کر لیا تھا۔ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لی اور ان کی طرف پھینکی۔ میں نے مقداد کو پہچان لیا۔ میں نے چاہا کہ میں ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھوں۔ اتنے میں وہ بولے۔ اے سعد! یہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور تمھیں یاد فرما رہے ہیں۔ یہ سن کر میں کھڑا ہو گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ مجھے نئی زندگی مل گئی ہے اور کوئی گزند مجھے پہنچا ہی نہیں۔ میں فوراً حاضرِ خدمت ہوا، حضور ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میں دشمن پر تیر چلانے لگا۔ جب میں کوئی تیر چلاتا تو کہتا ’’اے اللہ! یہ تیرا تیر ہے، اسے اپنے دشمن کے سینہ میں پیوست کر‘‘۔

میں یہ کہتا تو حضور ﷺ فرماتے:

صفحہ 213

”اے اللہ ! سعد کی دعا قبول فرما ، اے اللہ ! سعد کا تیر نشانہ پر لگے ، واہ واہ سعد تیر چلاؤ ۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں“۔ (بخاری شریف) ”میں جب بھی تیر چلاتا حضور ﷺ مجھے اس دعا سے سرفراز فرماتے ۔ جب میرے ترکش کے تیر ختم ہو گئے تو سرکار دوعالم ﷺ نے اپنے ترکش کے تیر نکال کر میرے سامنے بکھیر دیئے“۔ امام ذہبیؒ، کہتے ہیں کہ اس روز حضرت سعدؓ نے ایک ہزار تیر لشکر کفار پر برسائے اور عشق مصطفےٰ ﷺ کے اظہار کا بے مثل مظاہرہ کیا۔ کیا اعزاز تھا ، کیا اکرام تھا کہ جس نے یہ بات سنی حضرت سعدؓ کے مقدر پر رشک کرنے لگا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی فرماتے ہیں کہ غزوہ احد میں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ، آپ سعدؓ سے فرما رہے تھے ۔

”اے سعد تیر چلا ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں“ ۔

حضور ﷺ کا یہ کلمہ حضرت سعدؓ کے لیے آپ ﷺ کی انتہائی خوشنودی ، تعلق خاطر اور محبت کی قابل فخر سند ہے ۔ آپ نے یہ الفاظ حضرت سعدؓ کے علاوہ ایک اور موقع پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے بھی فرمائے ۔

غزوہ احد ہی کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعدؓ کو یہ دعا دی ۔

”اے اللہ سعد جب بھی دعا کریں ، ان کی دعا قبول فرما ۔

(ترمذی۔ ابواب المناقب۔ باب مناقب ابی اسحق سعد ابن ابی وقاصؓ ج 2 ص 216)

چنانچہ حضرت سعدؓ مستجاب الدعوات مشہور تھے اور لوگ ان کی بددعا سے ڈرا کرتے تھے۔ آپ کسی کے حق میں جو دعا یا بددعا کرتے ، وہ بارگاہ الٰہی میں ضرور قبول ہوتی ۔

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو یہ اعزاز محض اس لیے حاصل تھا کہ انھوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمنوں کے خلاف آپ ﷺ کا دفاع کیا تھا۔ قدرت کا یہ انعام آج بھی ہر اس شخص کو ملتا ہے جو آپ ﷺ کے دشمنوں کے خلاف آپ ﷺ کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کا دفاع کرتا ہے ۔

حضرت زبیرؓ

5 ہجری میں یہود کی افترا پردازی سے تمام عرب، مسلمانوں کے خلاف امڈ آیا ،

صفحہ 214

سرور کائنات ﷺ نے مدینہ کے قریب خندق کھود کر اس طوفان کا مقابلہ کیا، حضرت زبیرؓ اس جگہ پر مامور تھے جہاں عورتیں تھیں۔

بنو قریظہ اور مسلمانوں میں باہم معاہدہ تھا۔ لیکن عام سیلاب میں وہ بھی اپنے عہد پر قائم نہ رہے، رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں کے احوال و عزائم کی دریافت کے لیے کسی کو بھیجنا چاہا اور تین بار فرمایا ”کون اس قوم کی خبر لائے گا؟“ حضرت زبیرؓ نے ہر مرتبہ بڑھ کر عرض کی کہ ”میں جاؤں گا“۔ حضرت محمد ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا ”ہر نبی کے حواری (مددگار) ہوتے ہیں، میرا حواری (مددگار) زبیرؓ ہے“۔ اس نازک وقت میں حضرت زبیرؓ کی اس طرح بے خطر تنہا آمد و رفت سے حضور نبی کریم ﷺ ان کی اس جانبازی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ فرمایا:

”فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ“ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“۔

صحابہ کرامؓ سمیت ساری دنیا کے نیک بزرگ، اولیا، قطب، ابدال وغیرہ کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے کہ وہ جب بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر خیر کرتے ہیں تو عرض کرتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں....... لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔ خود حضور نبی کریم ﷺ اپنے پیارے صحابی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو یہ فرما رہے ہیں۔ ”اے سعد! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“۔ ”اے زبیر! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو یہ منفرد اعزاز صرف اس لیے حاصل ہوا کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے خلاف تیر چلا رہے تھے۔ حضرت زبیرؓ کو یہ بے مثال اعزاز صرف اس لیے نصیب ہوا کہ انھوں نے انتہائی خطرناک حالات میں حضور نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں آپ ﷺ کی مدد کی۔ آج بھی جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں آپ کے دشمنوں کے خلاف جانی، مالی، تقریری یا تحریری جہاد کرتا ہے، وہ آپ ﷺ کے خاص حلقہ میں سمجھا جائے گا۔

کہاں لا سکے گا زمانہ محبت کی ایسی مثال

تحفظ ختم نبوت کے ایمان افروز اور تاریخی حقائق و واقعات

حضرت عمر فاروقؓ کی خواہش

رات کا سماں ہے، جگمگ کرتے ستاروں کے درمیان چاند اپنی سیادت جمائے دودھیا

صفحہ 215

کرنیں بکھیر رہا ہے، ایک عفت مآب پاکدامن خاتون آسمان کے چاروں طرف نگاہ دوڑاتی ہیں تو اسے ستارے ہی ستارے نظر آتے ہیں، وہ انھیں گننے کی کوشش کرتی ہیں مگر وہ تو لاتعداد اور اَن گنت ہیں اور رب کائنات کی بندگی اور حمد وثنا میں مصروف ہیں۔ اتنے میں اس کے ذہن میں ایک سوال اُبھرتا ہے تو وہ عقیدت بھری نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھتی ہیں جو اس کے قریب ہی تشریف فرما ہیں۔ وہ اپنے شوہر سے پوچھتی ہیں ”اے اللہ کے پیارے محبوب ﷺ! کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کی نیکیاں ان جگمگاتے ستاروں کے برابر ہوں؟“

خاتم الانبیا ﷺ فرماتے ہیں ”جی ہاں! کیوں نہیں، عمر فاروقؓ کی نیکیاں آسمان کے ان ستاروں کے برابر ہیں۔“ - سرور کائنات ﷺ کا یہ غیر متوقع جواب سن کر وہ کچھ افسردہ سی ہو جاتی ہیں اور خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ رحمۃ للعالمین ﷺ خاموشی کا سبب دریافت فرماتے ہیں تو وہ جواب دیتی ہیں کہ ”میرے خیال میں یہ تھا کہ میرے والد محترم کی نیکیاں آسمان پر جگمگاتے ستاروں کے برابر ہوں گی مگر اے کاش ایسا ہوتا!“

سرکارِ دو عالم ﷺ زیر لب مسکراتے ہیں اور پھر جب آپ ﷺ کے لب کھلتے ہیں تو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ کا منزہ چہرہ فرط مسرت سے کھلکھلا اٹھتا ہے۔ تمام افسردگی، غمگینی اور اداسی کافور ہو جاتی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں ”اے عائشہؓ! تیرے والد محترم ابوبکر صدیق کی صرف ایک رات کی غارِ ثور والی نیکی ان تمام ستاروں کے برابر نیکیوں پر بھاری ہے“۔

ایک دفعہ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ میری زندگی کی تمام نیکیاں لے لیں اور اس کے بدلے میں مجھے اپنی زندگی کی صرف دو نیکیاں دے دیں۔ ایک رات کی نیکی اور ایک دن کی نیکی۔ رات کی وہ نیکی جب آپ ہجرت کے وقت، غارِ ثور میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور دن کی وہ نیکی جب آپ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کے لیے یمامہ کی طرف لشکر اسلام روانہ کر رہے تھے۔

جس کو بخشا تھا پیغمبر ﷺ نے حمیرا کا لقب
مہر و ماہ کی رونقیں قربان اُس کے نام پر

پہلے شہید ختم نبوت، حضرت حبیبؓ بن زیدؓ

معروف سکالر و دانشور محترم ارشاد الرحمن اپنے گرانقدر مضمون ”ناموس رسالت ﷺ

صفحہ 216

کا عظیم شہید‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ اور آپ کے والد زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ان 70 بابرکت آدمیوں میں شامل تھے، جنھیں بیعت عقبہ ثانیہ کا شرف واعزاز حاصل ہے۔ آپ کی والدہ حضرت نسیبہ بنت کعبؓ (ام عمارہؓ) ان دو عورتوں میں سے ایک تھیں، یعنی آپ نسلی مسلمان تھے اور ایمان آپؓ کے رگ وپے میں اترا ہوا تھا۔ آپ نے ہجرتِ مدینہ کے بعد جوار رسول ﷺ میں اس طرح زندگی گزاری کہ کسی غزوہ میں شرکت اور کسی فرض کی ادائیگی سے کبھی پیچھے نہ رہے۔

اس دور میں ایک روز ایسا بھی آیا کہ آپؓ نے جنوبی جزیرہ عرب میں دو سر پھرے جھوٹوں کو دیکھا جو نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اور لوگوں کو گمراہی کی طرف لیے جا رہے تھے۔ ان میں ایک صنعاء میں نمودار ہوا جس کا نام اسود بن کعب عنسی تھا اور دوسرا یمامہ میں منظر عام پر آیا اس کا نام مسیلمہ کذاب تھا۔ ان دونوں کذابوں نے اپنے اپنے قبیلوں میں لوگوں کو ان مؤمنین کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا شروع کر دیا، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کر دیا کہ وہ ان علاقوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کے نمائندے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور خود نبوت کے دعویدار بن بیٹھے اور زمین کو فساد و گمراہی سے بھرنے لگے۔

مسیلمہ کذاب نے علی الاعلان یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں رسول ہوں، مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے، جیسا کہ محمد بن عبداللہ کو قریش کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ یہ اعلان سننے کے بعد قوم اس کے گرد جمع ہونے لگی اور قومی عصبیت کی بنا پر اس کا بھر پور ساتھ دینے لگی۔ قومی عصبیت کا یہ عالم تھا کہ بنو حنفیہ کی ایک شخصیت نے برملا کہا۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ سچے ہیں اور مسیلمہ جھوٹا ہے۔ لیکن ربیعہ قبیلے کا جھوٹا شخص مجھے مضر قبیلے کے سچے شخص سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘

جب مسیلمہ کی حیثیت مضبوط ہو گئی اور ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو اس نے رسول خدا ﷺ کی طرف ایک خط لکھا جس میں یہ تحریر تھا۔

مسیلمہ رسول اللہ سے محمد رسول اللہ کی طرف!

السلام علیک!

صفحہ 217

مجھے نبوت و رسالت میں آپ کا شریک کار بنا دیا گیا۔ نصف زمین ہمارے لیے ہے اور نصف قریش کے لیے، لیکن قریش ظالم قوم ہے۔

یہ خط دو قاصدوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ تک پہنچایا۔ جب یہ قاصد خط لے کر رسول اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ ﷺ کو یہ خط پڑھ کر سنایا گیا تو آپ ﷺ نے ان دو قاصدوں سے پوچھا، تم دونوں کی کیا رائے ہے؟ دونوں نے بیک زبان کہا: اس سلسلے میں ہمارا وہی موقف ہے جو مسیلمہ کا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کی بات سن کر ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! اگر قاصدوں کے تحفظ کا بین الاقوامی قانون نہ ہوتا تو آج میں تمہاری گردنیں اُڑا دیتا۔

پھر آپ ﷺ نے مسیلمہ کی طرف ایک خط لکھا، جس میں تحریر تھا:

محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی طرف۔ اسلام اسی شخص کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی اختیار کر لے اما بعد! سن لو کہ! زمین تو اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ لیکن اچھا انجام ڈر جانے والوں کا ہی ہوگا۔“

رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ سپیدہ سحر کے مانند نمودار ہوئے اور مسیلمہ کذاب کو رسوا کر کے چھوڑ گئے جس نے نبوت کو بادشاہت سمجھ لیا تھا اور نصف زمین اور نصف رعایا کا مطالبہ کرنے لگا تھا۔

مسیلمہ کے ہرکارے نے رسول اللہ ﷺ کا یہ جواب اس تک پہنچایا تو وہ مزید گمراہی میں پڑ گیا اور لوگوں کو مزید گمراہ کرنے لگا۔ یہ کذاب اپنا افک و بہتان پھیلانے لگا۔ مومنوں کو دی جانے والی سزاؤں کو اُس نے بڑھا دیا اور لوگوں کو اُن کے خلاف بھڑکانے کا کام شروع کر دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس صورت حال میں اس کی طرف ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا جس میں آپ ﷺ اس کو اس کی حماقتوں سے منع کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ کی نگاہ انتخاب حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ پر پڑی کہ آپ یہ مکتوب مسیلمہ تک پہنچائیں۔ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے تیز قدمی سے سفر شروع کر دیا تا کہ اس مہم کو

صفحہ 218

بخوشی سر کریں جو رسول اللہ ﷺ نے اس نیت سے ان کو سونپی تھی کہ مسیلمہ کا دل حق کی طرف راہنمائی پالے۔

حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ نے مطلوبہ مقام پر پہنچ کر خط مسیلمہ کے حوالے کر دیا۔ مسیلمہ کذاب نے خط کھولا تو خط کے نور وضیا نے اس کی آنکھیں اندھی کر دیں اور وہ غرور وضلالت میں مزید بڑھ گیا۔ ادھر دین عظیم یعنی اسلام کے معیارات اور پیمانوں نے چاہا کہ عظمت وشوکت کے وہ دروس جو اس نے مکمل طور پر انسانیت کے سامنے پیش کر دیے ہیں، ان کے اندر ایک نیا درس شامل کر دے جس کا موضوع اور استاد اس بار حضرت حبیب بن زیدؓ ہوں۔

مسیلمہ ایک شعبدہ باز سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ وہ جگہ جگہ شعبدہ بازی کرنے والوں کی تمام تر عادات و خصائل اپنے اندر رکھتا تھا۔ اس طرح اس کے اندر کوئی مروت تھی نہ عرب نسلیت اور نہ کوئی آدمیت جو اس کو اس پیغام رساں کے قتل سے باز رکھتی جس کا عرب بڑا احترام کرتے اور مقدس جانتے تھے۔

مسیلمہ کذاب نے اپنی قوم کو ایک روز اکٹھے ہونے کا کہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پیغام رساں حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو لایا گیا جن کے اوپر اس تشدد سے تعذیب کے آثار دکھائی دے رہے تھے جو مجرموں نے ان کے اوپر توڑے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کی روح شجاعت کو سلب کر لیں گے اور آپؓ لوگوں کے سامنے آئیں گے تو مطیع ہو چکے ہوں گے اور جب مسیلمہ پر ایمان لانے کے لیے کہا جائے گا تو فوراً ایمان لے آئیں گے۔ مسیلمہ کذاب اس طریقے سے اپنے ذہن میں تیار کیا ہوا معجزہ اپنے فریب خوردہ پیروکاروں کے سامنے دکھانا چاہتا تھا۔ مسیلمہ نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم یہ شہادت دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب دیا۔ ہاں! میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں! حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کے منہ سے یہ کلمات نکلے تو رسوائی اور ناکامی کی زردی نے مسیلمہ کا چہرہ زرد کر دیا اور اس نے پھر سوال کیا: کیا تم یہ شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟

حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے مضحکہ خیز انداز میں بڑا ایمان افروز جواب دیا: انا اصم لا اسمع، میں بہرہ ہوں۔ میرے کان تمہاری بات سننے سے انکاری ہیں۔ اس جملے کے بعد کذاب کے چہرے کی زردی جل کر راکھ ہو جانے والے کوئلے کی

صفحہ 219

سیاہی میں بدل گئی۔ اس کی منصوبہ بندی ناکام ہوگئی اور اس کے تشدد نے بھی کوئی کام نہ دکھایا۔ اسے ان لوگوں کے سامنے جن کو وہ اپنا معجزہ دکھانا چاہتا تھا، ایسا زور دار طمانچہ پڑا کہ اس کی جعلی ہیبت ہوا ہوگئی۔ وہ ذبح شدہ سانڈ کی طرح پھنکارا اور اپنے اس جلاد کو آواز دی جو اپنی تلوار کے دانتوں سے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کے جسم کی بوٹی بوٹی کر ڈالنے والا تھا۔

اس نے چیخ کر جلاد سے کہا: تلوار مار کر اس کے بدن کا ایک ٹکڑا اڑا دو۔ جلاد نے تلوار ماری اور حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کا بازو بدن سے کٹ کر زمین پر جا گرا۔

مسیلمہ نے پھر مخاطب ہو کر حضرت حبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب نے جواب دیا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ مسیلمہ نے کہا: اور یہ بھی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟

حضرت حبیب رضی اللہ عنہ بولے: میں نے تم سے کہا ہے کہ میرے کان وہ بات سننے سے قاصر ہیں جو تم کہتے ہو۔ مسیلمہ نے جواب سنا تو جلاد کو حکم دیا کہ اس کے جسم کا دوسرا بازو بھی اڑا دو۔ جلاد نے فوراً تلوار ماری اور حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کا دوسرا بازو بھی اڑا کر رکھ دیا۔ لوگ آپ پر نظریں گاڑے حیرت و تعجب سے دیکھے جارہے تھے کہ کس قدر عزیمت و استقامت ہے۔

مسیلمہ مسلسل اسی طرح سوال کرتا رہا اور جلاد آپؓ کے بدن کی بوٹیاں اڑاتا رہا اور آپؓ بھی دیوانہ وار یہی جواب دیتے رہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس مسلسل عمل سے آپؓ کے بدن کا آدھا حصہ کٹ کر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر بکھرا ہوا تھا اور آدھا دھڑ باقی رہ گیا تھا۔ بالآخر آپؓ کی پاکیزہ و عظیم روح پرواز کر گئی مگر زبان پر ختم نبوت زندہ باد کا ورد جاری تھا۔ (اللہ اکبر)

اگر حضرت حبیب رضی اللہ عنہ جان بچانے کی خاطر دل سے ایمان پر قائم رہتے ہوئے مسیلمہ کذاب کی ہم نوائی کر لیتے تو ان کے ایمان میں کوئی نقص واقع نہ ہوتا اور نہ ان کے اسلام کو کوئی نقصان پہنچتا مگر یہ شخص جو اپنے والد، والدہ، بھائی اور خالہ کے ہمراہ بیعت عقبہ میں حاضر ہوا تھا اور جس نے ان مبارک اور فیصلہ کن لمحات سے ہی اپنی بیعت اور بے نقص ایمان کامل کی ذمہ داری اٹھا رکھی تھی، اس کے نزدیک یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی اور آغاز اسلام کے درمیان ایک لمحے کا بھی موازنہ کرتا اور زندگی کو اہم سمجھ کر اس کو بچانے کی راہ اختیار کرتا۔ لہٰذا ان کے پیش نظر یہ بات نہیں تھی کہ وہ اس واحد موقع سے فائدہ

صفحہ 220

اٹھاتے ہوئے زندگی کو بچا لیتے جس موقع پر ان کے ایمان کی تمام داستان، ثبات و عظمت، قربانی و بطولت اور راہ حق و ہدایت میں جان قربان کر کے مرتبہ شہادت پا لینے کے ایسے نمونے میں ڈھل گئی کہ قریب تھا کہ وہ اپنی حلاوت و دلکشی میں ہر کامیابی اور فتح و نصرت سے آگے نکل جاتی۔

ادھر اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے معزز پیغام رساں کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنے رب کے فیصلے پر صبر کیا کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نور بصیرت کی روشنی میں مسیلمہ کذاب کا انجام دیکھ رہے تھے۔

ادھر حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت نسیبہ بنت کعبؓ نے لمبے عرصے تک اپنے دانتوں کو بھینچے رکھا۔ پھر یہ قسم کھاتے ہوئے دانتوں کو کھولا کہ وہ خود مسیلمہ سے اپنے بیٹے کا انتقام لیں گی اور اس ناپاک کے جسم میں اپنا نیزہ اور تلوار گھسا کر رہیں گی۔ قدرت جو اس وقت ان کے صدمے، صبر اور تکلیف کو دیکھ رہی تھی، نہ معلوم اسے ان کی یہ ادا کس قدر پسند آئی کہ اس نے اس وقت یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنی قسم پوری کر لے۔

کچھ وقت گزرا کہ وہ موقع آ گیا جس کے نقوش دائمی ہیں یعنی جنگ یمامہ کا موقع! خلیفہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یمامہ کی طرف جانے والے لشکرِ اسلام کو تیار کیا۔ جہاں مسیلمہ نے ایک بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا تھا۔ حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا بھی لشکر اسلام کے ساتھ نکل پڑیں اور میدانِ جنگ کے اندر معرکہ کارزار میں اس طرح گھس گئیں کہ آپؓ کے دائیں ہاتھ میں تلوار اور بائیں ہاتھ میں نیزہ تھا اور زبان یہ للکار رہی تھی کہ ”اللہ کا دشمن مسیلمہ کذاب کہاں ہے؟“

جب مسیلمہ قتل ہو گیا اور اس کے پیروکار دھنکی ہوئی روئی کے مانند گرنے لگے اور اسلام کے جھنڈے کامیاب و کامران ہو کر بلند ہو گئے تو حضرت نسیبہؓ کھڑی ہو گئیں اور آپؓ کی حالت یہ تھی کہ آپ کا تنومند و طاقتور جسم زخموں سے چھلنی تھا۔ آپؓ اس طرح کھڑی تھیں گویا اپنے شہید بیٹے حضرت حبیبؓ کے روئے مبارک کو صاف طور پر دیکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ آپؓ نے اپنے لخت جگر کو یوں محسوس کیا کہ اس نے زمان ومکان کو اپنی عظمت سے بھر دیا ہے!

ہاں…… بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ حضرت نسیبہ فتح و نصرت کی خوشی سے مسکراتے اور لہراتے جس بھی پرچم کی طرف نگاہ اٹھاتیں، اس کے اوپر اپنے بیٹے حضرت حبیبؓ کا چہرہ ہنستا اور مسکراتا دیکھتیں…… اللہ اکبر

صفحہ 221
لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسول ہاشمی ﷺ کوئی نبی نہیں

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان مئی 2010ء)

سب سے پہلے اسیرِ ختم نبوت

حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمی رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں، حضرت محمد ﷺ کے وصال کے وقت عمان میں تھے، خبر سن کر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے، راستے میں مسیلمہ کذاب نے ان کو گرفتار کر لیا، اس نے آپ کے سامنے اپنی نبوت پیش کی تو آپ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، مسیلمہ کذاب نے اس جرم (ختم نبوت پر ثابت قدمی) میں ان کو جیل میں ڈال دیا۔ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ جیل سے نکل کر حضرت خالدؓ کے لشکر کے اس حصے میں جا کر شامل جہاد ہوئے جو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی کمان میں جنگ کر رہا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ کو ختم نبوت کی خاطر سب سے پہلے گرفتار ہونے کی سعادت حاصل ہے۔

(طبقات ابن سعد حصہ چہارم ص 446 اُردو)

حضرت ابو مسلم خولانیؒ

حضرت ابو مسلم خولانیؒ جن کا نام عبداللہ بن ثوبؒ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ اور تابعی ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرما دیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آتش نمرود کو گلزار بنا دیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم ﷺ کے عہد مبارک ہی میں اسلام لا چکے تھے لیکن سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لیے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران میں اس نے حضرت ابو مسلم خولانیؒ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ حضرت ابو مسلمؒ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابو مسلمؒ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آگ کو بے اثر فرما دیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ

صفحہ 222

اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقا پر ہیبت سی طاری ہو گئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلا وطن کر دو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمھارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل نہ آ جائے، چنانچہ انھیں یمن سے جلاوطن کر دیا گیا۔ یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالت ﷺ پردہ فرما چکا ہے اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے، انھوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبوی ﷺ کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آ کر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ وہاں حضرت عمرؓ فاروق موجود تھے۔ انھوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابومسلمؒ نے جواب دیا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابومسلمؒ نے فرمایا: اُس کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کر چکی تھی، انھوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابومسلم خولانیؒ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرط مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، اور انھیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، پھر انھیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ ﷺ کے اس شخص کی زیارت کرا دی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا“۔

چراغ عشق محمد ﷺ ہے اندھیروں میں روشنی کے لیے

حضرت مولانا عماد الدین غوریؒ

حضرت مولانا عماد الدین غوریؒ ابتدائے عمر میں بڑے طاقتور اور نامی گرامی پہلوان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کر دیا اور وہ کئی سال تک بڑے ذوق وشوق سے علم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ پھر دین کی خدمت شروع کر دی۔ ایک دن یہ سلطان محمد تغلق کے دربار میں بیٹھے تھے۔ محمد تغلق نے کہا: ”فیض خدا منقطع نیست چرا باید کہ فیض نبوت منقطع شود، اگر حالا کسے دعویٰ پیغمبری بکند و معجزہ نماید تصدیق می کنید یا نے؟

صفحہ 223

(جب فیض خدا، منقطع نہیں تو فیض نبوت، کیوں منقطع ہو۔ اگر اب کوئی پیغمبری کا دعویٰ کرے اور معجزہ دکھائے تو تم تصدیق کرو گے یا نہیں؟) یہ سننا تھا کہ مولانا غوریؒ کی غیرت ایمانی جوش میں آئی اور ناموس ختم نبوت پر حرف آنے سے آنکھوں میں خون اتر آیا اور زبان سے نکلا:

”بادشاہ گُوہ مَخُور“! (بادشاہ گندگی مت کھا!)

بادشاہ نے حکم دیا: عماد کو ذبح کر دو اور زبان باہر نکال ڈالو۔ آپ نے نہایت اطمینان اور بے پروائی سے اس حکم کو سنا اور کلمہٴ حق کہنے پر شہید ہوگئے۔

کیا چیز محبت ہے سرکار دو عالمﷺ کی

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ

غیرت وحمیت کا پیکر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اسلام کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا محافظ تھا۔ وہ بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خدا ترس، رحم دل اور صحیح اسلامی حکمران تھا۔ آج بھی اس کا نام اسلامی دنیا میں نہایت عزت واحترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ سلطان کا تذکرہ مسلمانوں کے خون میں زندگی کی لہر دوڑاتا ہے۔ زندگی کی مایوسیوں اور تلخیوں میں اس کی ذات ہمیشہ مسلمانوں کے لیے حوصلے کا باعث رہی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی بڑا عاشق رسولﷺ اور مجاہد ختم نبوت تھا۔ اس کے دور حکومت میں کسی جھوٹے مدعی نبوت کو سر اٹھانے کی جراٴت نہ ہوئی۔ سلطان اس مسئلہ میں اس قدر حساس تھا کہ اس کے دور میں ایک دفعہ ایک شاعر نے یہ شعر کہا:

كان مبداء هذا الدين من رجل
سعى فاصبح يدعى سيد الامم

ترجمہ: ”آغاز اس دین کا ایک شخص سے تھا کہ اس نے کوشش کی اور وہ سردار ہوگیا امتوں کا“۔ اس شعر میں قرار دیا گیا کہ نبوت کسبی ہے جو محنت اور ریاضتوں سے ہر شخص کو حاصل ہوسکتی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اس شعر کا علم ہوا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور فوراً اس ملعون شاعر کو قتل کروا دیا۔

سلطان عبدالحمید خاںؒ

”خلافتِ عثمانیہ کے 34 ویں خلیفہ عبدالحمید ثانیؒ تھے۔ انہوں نے 31 اگست

صفحہ 224

1876ء سے 27 اپریل 1909ء تک خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالی۔ وہ 21 ستمبر 1842ء کو ترکی کے شہر استنبول میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 75 برس کی عمر میں 10 فروری 1918ء کو وفات پائی۔ آپ ایک اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی تھے۔ ان کا نام تاریخ اسلام میں نہایت سنہری حروف میں درج ہے۔ خلیفہ عبدالحمید ثانی خلافت عثمانیہ کے ان خلفاء میں شمار کیے جاتے ہیں، جو عالم اسلام میں اپنے کردار اور حب رسول ﷺ کی وجہ سے اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی مملکت پر حکمران رہے۔ خلافت عثمانیہ کی سرحدیں یورپ سے ملتی تھیں اور اکثر سیاسی کشمکش اور جنگی معرکوں کا بھی سلسلہ جاری رہا۔

خلیفہ عبدالحمید ثانی ایک دن اپنے مشیروں اور وزراء کے درمیان موجود تھے کہ اچانک ایک حکومتی عہدیدار نے آپ کو آ کر ایک ایسی خبر سنائی کہ آپ کے چہرے کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا اور نہایت جلال میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ حکومتی عہدیدار کے ہاتھ میں فرانسیسی اخبار موجود تھا، جس میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا کہ فرانس کے ایک تھیٹر نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ ڈراما پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اخبار کے اشتہار سے خلیفہ عبدالحمید ثانی کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے ایک ڈراما تحریر کیا ہے، جسے تھیٹر میں پیش کیا جائے گا۔ اس ڈرامے میں نعوذ باللہ حضور نبی کریم ﷺ کا کردار بھی فلمایا جانا ہے اور وہ کردار تھیٹر میں ایک شخص ادا کرے گا (نعوذ باللہ)۔ خلیفہ نے حکومتی عہدیدار سے فرانسیسی اخبار لے کر اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ نہایت جلال اور غصے کی حالت میں سلطان کا جسم کانپ رہا تھا، جبکہ آپ کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ آپ وہاں موجود حکومتی عہدیداروں کو مخاطب کر کے اخبار میں شائع اشتہار سے متعلق بتا رہے تھے کہ فرانس کے اس اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے کہ ایک شخص نے ایک ڈراما لکھا ہے، اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرضی کردار ایک شخص ادا کرے گا۔ پیرس کے تھیٹر میں چلنے والے اس ڈرامے میں ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں ہوں گی۔ اگر وہ میرے بارے میں بکواس کرتے تو مجھے کوئی غم نہ ہوتا، لیکن اگر وہ میرے دین اور میرے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کریں گے تو میں جیتے جی مر جاؤں گا، میں تلوار اٹھاؤں گا، یہاں تک کہ اپنی جان پیارے آقا ﷺ پر فدا کر دوں گا، چاہے میری گردن کٹ جائے یا میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، تاکہ کل بروز قیامت رسول اللہ ﷺ کے سامنے شرمندگی نہ ہو۔ میں انہیں برباد کر دوں گا، یہ برباد ہو جائیں گے، راکھ ہو جائیں گے، یہ آگ اور تباہی ہر ذلیل دشمن کے لیے نشان عبرت ہوگی، ہم جنگ کریں گے، ہم

صفحہ 225

بے غیرت نہیں ہو سکتے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم اپنے دفاع سے پیچھے ہٹ جائیں۔ خلیفہ عبدالحمید ثانی نہایت جلال میں بآواز بلند گستاخان رسول کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہے تھے۔

اسی اثنا میں سلطان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

کچھ ہی دیر بعد خلیفہ دربار میں روایتی لباس فاخرانہ، جو شاید فرانسیسی سفیر پر ہیبت ڈالنے کے لیے زیب تن کیا تھا، نہایت جلال اور بے چینی کی حالت میں بجائے تخت پر بیٹھنے کے کھڑے تھے اور فرانسیسی سفیر ان کے سامنے حاضر تھا۔ سلطان کی حالت سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے بلاوجہ طلب نہیں کیا گیا، اس کے ماتھے پر پسینہ آ چکا تھا، جبکہ جسم پر لرزہ طاری تھا اور ٹانگیں سلطان کے رعب سے کانپ رہی تھیں۔ سلطان نے فرانسیسی سفیر کو مخاطب کیا: سفیر صاحب! ہم مسلمان اپنے پیارے رسول ﷺ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان سے محبت کرنے والے ان پر اپنی جانوں کو قربان کرتے ہیں اور مجھے بھی کوئی تردد نہیں ہے کہ میں بھی حضور خاتم النبیین ﷺ پر جان قربان کرتا ہوں۔ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے ایک تھیٹر ڈراما بنایا ہے، جو نبی مکرم ﷺ کی توہین پر مشتمل ہے، یہ کہہ کر خلیفہ نے فرانسیسی سفیر کی جانب قدم بڑھانا شروع کر دیے، خلیفہ کہتے جا رہے تھے، میں بلقان، عراق، شام، قافقاز، لبنان، حجاز، اناطولیہ اور دارالحکومت کا سلطان اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا خلیفہ عبدالحمید خان ہوں۔ یہ کہتے ہوئے خلیفہ فرانسیسی سفیر کے قریب پہنچ گئے اور فاصلہ نہایت کم ہوگیا، فرانسیسی سفیر کے جسم پر لرزہ طاری تھا، وہ خلیفہ کے جلال کے سامنے بہت مشکل سے کھڑا تھا۔ خلیفہ نے فرانسیسی سفیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت رعب دار لہجہ میں اسے کہا کہ اگر تم نے اس ڈرامے کو نہ روکا، تو میں تمہاری دنیا تباہ کر دوں گا۔ یہ کہہ کر خلیفہ عبدالحمید ثانی نے ڈرامے کے اشتہار والا اخبار فرانسیسی سفیر کی طرف اچھال دیا اور نہایت تیزی سے دربار سے نکل گئے۔

فرانسیسی سفیر اس اخبار کو اٹھائے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ دربار سے باہر نکلا اور سیدھا سفارت خانے پہنچا اور ایک نہایت برق رفتار پیغام اپنی حکومت کو بھیجا کہ اگر یورپ کو اپنی آنکھوں سے جلتا ہوا اور فرانس کی فصیلوں پر اسلامی پرچم نہیں دیکھنا چاہتے تو فوری طور پر گستاخانہ ڈرامے کو روکو، عثمانی لشکر اور ان کے جہاز بندرگاہ پر صرف احکامات کے منتظر ہیں اور پیادہ فوج اور توپ خانہ چھاؤنیوں سے نکل چکا ہے۔

خلیفہ عبدالحمید ثانی فرانسیسی سفیر کو دربار میں طلب کرنے اور جنگ کا اعلان کرنے

صفحہ 226

کے بعد چپ نہیں رہے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے مشیر خصوصی کو اپنے دفتر میں طلب کر کے خود ایک سرکلر اپنی زبانی لکھوایا کہ فرانسیسیوں کی دین اسلام کے خلاف کارروائیاں حد سے تجاوز کر چکی ہیں، ہم پھر بھی پاس ادب رکھے ہوئے ہیں، لیکن اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب ہم خلافت کا پرچم بلند اور فرانسیسیوں سے ایک حتمی جنگ کرنے جا رہے ہیں۔ اب ہم ان سے ان کی زبان میں بات کریں گے۔ اس سرکلر نے اسلام دشمن فرانس پر خوف طاری کر دیا۔ فرانسیسی سفیر کا پیغام ملتے ہی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔ خلیفہ اپنے خاص کمرہ میں موجود فرانس کے جواب کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ایک حکومتی عہدیدار ہانپتا ہوا کمرے میں بغیر اجازت ہی داخل ہو گیا اور گویا ہوا، جناب! ایک خوشخبری آئی ہے۔ خلیفہ: وہ کیا؟ حضور فرانسیسیوں نے نہ صرف اس ڈرامے کو روک دیا ہے، بلکہ اس تھیٹر کو بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اس خوشخبری کو سنتے ہی خلیفہ عبدالحمید کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ فرط جذبات سے صرف الحمدللہ ہی کہہ سکے، پھر اس حکومتی عہدیدار سے مخاطب ہوئے:

’’اے پاشا! مجھے یہ عزت صرف اس لیے ملی ہے کہ میں اس دین کا ادنیٰ سا خادم ہوں، مجھے کسی بڑے لقب کی ضرورت نہیں‘‘۔

(اس واقعے کی ڈرامائی تشکیل سوشل میڈیا پر موجود ہے)

سلطان عبدالحمید کے اس جرأت مندانہ اعلان نے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی، بلکہ اسلام دشمنوں کو بھی یہ بتا دیا کہ ’’آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است‘‘۔ فرانس نے گھٹنے ٹیکے تو پورے عالم اسلام میں جشن کا سماں تھا، یہاں تک کہ غیر مسلموں نے بھی یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں آئندہ بھی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ مسلمان گلی، کوچوں اور شاہراہوں میں اس خوشی کے موقع پر حضور نبی رحمت ﷺ سے والہانہ محبت کا اظہار ان پر درود شریف پڑھ کر، کر رہے تھے۔

ایک وقت تھا کہ خلافتِ عثمانیہ کی ہیبت وجلال کی ایسی دھاک تھی کہ فرانس کیا، پورا یورپ ہل جایا کرتا تھا۔ آج یہ عالم ہے کہ ساٹھ اسلامی ممالک ہیں، مگر وہی فرانس ہے جس کا صدر، حضور اکرم ﷺ کے خاکوں کی نہ صرف حمایت کر رہا ہے، بلکہ انہیں سرکاری عمارتوں پر بھی لگا رہا ہے۔ مسلم حکمرانوں کے منہ میں زبان تک نہیں، چہ جائے کہ وہ اسلامی غیرت و حمیت کے پیکر سلطان عبدالحمید کی طرح یہ اعلان کریں کہ ہماری افواج اگلے حکم کے لیے تیار

صفحہ 227

ہیں ۔ نائن الیون کے بعد مغرب کے حکمران جس دیدہ دلیری سے توہین رسالت کر رہے ہیں اور قرآن تک کو جلانے کے عمل سے گزر چکے ہیں، مسلم قیادت ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے خواب غفلت میں مدہوش ہے۔

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے“

(’’آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است‘‘ از پروفیسر سجاد احمد ، ماہ نامہ ’’نور الحبیب‘‘ بصیر پور شریف جنوری 2021ء)

یونانیوں کے ساتھ سُلطان موصوف کے مجاہدانہ کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے بیسویں صدی کے مشہور مصری ادیب و شاعر احمد شوقی اپنی نظم صدی الحرب میں سُلطان سے خطاب کرتے ہیں :۔

بسیفک یعلو الحق و الحق اغلبُ
وینصر دین اللہ ایان تضربُ

ترجمہ: تیری تلوار کے ذریعہ حق کو بلندی ملتی ہے اور حق ہمیشہ غلبہ پانے والا ہے اور جہاں جہاں تُو شمشیر کے جوہر دکھاتا ہے، دین کو مدد ملتی ہے۔

معتصم

عموریہ کے محاصرے کے دوران ایک شخص دیوار پر کھڑا ہو کر ...... العیاذ باللہ ...... نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اور کیا ہو سکتی تھی۔ ہر مجاہد کی خواہش تھی کہ اس منحوس کو قتل کرنے کی سعادت اس کے حصے میں آئے لیکن وہ تیروں اور حملوں کی زد سے محفوظ ایسی جگہ کھڑا ہوتا جہاں سے اس کی آواز تو سنائی دیتی تھی لیکن اسے موت کے گھاٹ اتارنے کی تدبیر سمجھ میں نہ آتی تھی۔ یعقوب بن جعفر نامی شخص لشکرِ اسلام میں ایک بہترین تیرانداز تھا۔ گستاخ ملعون نے جب ایک بار دیوار پر چڑھ کر شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کے لیے منہ کھولا تو یعقوب گھات میں تھا، فوراً تیر پھینکا جو سیدھا جا کر اس کے گلے سے پار ہوا، وہ گر کر ہلاک ہوا تو فضا نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔

صفحہ 228

یہ مسلمانوں کے لیے بڑی خوشی کا واقعہ تھا۔ معتصم نے اس مجاہد تیر انداز کو بلایا اور کہا۔ ”آپ اپنے اس تیر کا ثواب مجھے فروخت کر دیجیے“۔ مجاہد نے کہا ثواب بیچا نہیں جاتا۔ کہا، میں آپ کو ترغیب دیتا ہوں اور ایک لاکھ درہم اسے دیے۔ مجاہد نے انکار کیا۔ خلیفہ نے پانچ لاکھ درہم اسے دیے، تب وہ جانباز مجاہد کہنے لگا:

”مجھے ساری دنیا دے دی جائے تو بھی اس کے عوض اس تیر کا ثواب فروخت نہیں کروں گا، البتہ اس کا آدھا ثواب بغیر کسی عوض کے میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں“۔

معتصم اس قدر خوش ہوا گویا اسے ایک جہاں مل گیا ہو۔ معتصم نے پھر پوچھا، آپ نے تیر اندازی کہاں سے سیکھی ہے؟ فرمایا، بصرہ میں واقع اپنے گھر میں۔ معتصم نے کہا، وہ گھر مجھے فروخت کر دیں۔ کہنے لگا، وہ رمی اور تیر اندازی سیکھنے والے مجاہدین کے لیے وقف ہے (اس لیے اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا) بعد ازاں معتصم نے بڑی منت سماجت کے بعد ہدیہ کے طور پر اس جانباز مجاہد کو ایک لاکھ درہم انعام میں دیے۔

تبع حمیری

یمن کا عظیم الشان اور نیک دل بادشاہ ایک زبردست لشکر کا مالک تھا۔ جب وہ فتوحات کے لیے نکلا تو اس کے ساتھ ایک لاکھ تینتیس ہزار گھڑ سوار اور ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ فوج تھی۔ اس کثیر لشکر کے ساتھ وہ جس ملک یا شہر پر چڑھائی کرتا، لوگ خوف زدہ ہو جاتے اور اطاعت میں سر خم کر دیتے۔ وہ جس علاقے کو فتح کرتا، وہاں سے دس دانا آدمی منتخب کر کے بطور مشیر اپنے ساتھ رکھتا۔ جب وہ ممالک کو زیر نگیں کرتا ہوا مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہوا، تو اہل مکہ اس کے لاؤ لشکر کو دیکھ کر ذرا بھی مرعوب نہ ہوئے۔ اس وقت، اس کے پاس چار ہزار حکما اور علما بھی تھے۔ تبع نے اپنے وزیر عمار لیس کو بلا کر پوچھا کہ اہل مکہ کے دلوں پر اس لشکر جرار کا خوف کیوں نظر نہیں آرہا؟ عمار لیس نے کہا کہ یہ عربی لوگ اَن پڑھ اور جاہل ہیں، جنہیں سوجھ بوجھ نہیں۔ ان کے ہاں ایک خانہ کعبہ ہے اس کی وجہ سے احساس مفاخرت میں مبتلا ہیں، یہ اس میں جا کر شیطان اور بتوں کو سجدہ کرتے ہیں۔ اس بات نے تبع کو غصہ دلایا۔ اس نے خانہ کعبہ مسمار کرنے، وہاں کے مردوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو غلام بنانے کا ارادہ کرلیا۔

عین اسی وقت اس کے سر میں درد پیدا ہو گیا جس کے ساتھ ناک، کان، منہ اور آنکھوں سے نہایت بدبودار پیپ بہنے لگی جس کی شدت کے باعث کوئی شخص لمحہ بھر کے لیے

صفحہ 229

بھی اس کے پاس نہ ٹھہر سکتا۔ اس بیماری نے اس کی نیند چھین لی۔ اس کے تمام حکما اور علما کو بلایا تاکہ اس بیماری کا علاج دریافت کرے، لیکن سب اس مرض کی تشخیص اور علاج سے عاجز آ گئے اور کہنے لگے : ”یہ کوئی آسمانی امر ہے جس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔ ہم دنیاوی امور کے ماہر ہیں، امور آسمانی کو ٹالنے کی استطاعت نہیں رکھتے“۔ بادشاہ روز بروز بیمار سے بیمار تر ہوتا چلا گیا اور تمام احتیاطیں اور تدبیریں ناکام ہوتی چلی گئیں۔ آخر کار ایک رات سب علما کا سردار وزیر کے پاس آیا اور کہا کہ اگر بادشاہ مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھے تو میں اسے بیماری کا علاج بتا سکتا ہوں۔ وزیر اس کی بات سن کر خوش ہوا اور بادشاہ کی اجازت کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بادشاہ کے پاس لے گیا۔ عالم نے راز دارانہ لہجے میں بادشاہ سے پوچھا کہ کیا اس کے دل میں کعبۃ اللہ کے بارے میں کوئی برا خیال تو نہیں آیا؟ بادشاہ نے اعتراف کر لیا کہ اس کے دل میں کعبۃ اللہ کو نقصان پہنچانے کا خیال آیا تھا۔ اس عالم نے اسے اس ارادے سے باز رہنے کی نصیحت کی اور کہا کہ یہی آپ کی بیماری کا سبب ہے۔ اس گھر کا مالک زور آور ہے اور دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس گھر کو نقصان پہنچانے کا ہر خیال دل سے نکال دیں، پھر آپ کے لیے دنیا اور آخرت میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے صدق دل سے توبہ کی اور کہا کہ میں تمام مکروہات کو دل سے نکال کر تمام بھلائیوں اور نیکیوں کی نیت کرتا ہوں۔ ابھی وہ عالم دین بادشاہ کے خلوت خانے سے باہر بھی نہ نکلا تھا کہ بادشاہ کی تکلیف رفع ہوگئی اور وہ صحت یاب ہو گیا۔ اب تبع کے دل میں خانہ کعبہ کی عظمت پیدا ہو گئی اور وہ دین ابراہیمی پر ایمان لے آیا۔ اس نے خانہ کعبہ کے سات غلاف تیار کروائے۔ وہ خانہ کعبہ کو غلاف پہنانے والا پہلا شخص تھا۔ اس نے اہل شہر کو بلایا اور حفاظت کعبہ کی تاکید کی۔ وہاں سے تبع یثرب کی سرزمین کی طرف روانہ ہوا۔

سرزمین یثرب ان دنوں ایک صحرا پر مشتمل تھی، جہاں صرف پانی کا ایک چشمہ تھا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی عمارت تھی نہ کوئی پودا، نہ کوئی جاندار وہاں بستا تھا۔ تبع نے چشمے کے پاس پڑاؤ ڈال دیا۔ وہاں لشکر کے سب علما اور حکما جمع ہوئے، جو مختلف شہروں سے منتخب کر کے ہمراہ رکھے گئے تھے۔ ان میں وہ صاف باطن، دین الہی کا خیر خواہ، رئیس العلما بھی تھا جس نے بادشاہ کو عظمت کعبہ سے روشناس کروایا تھا اور اسے بلائے مرض سے نجات دلائی تھی۔ باہم مشورہ کرنے کے بعد چار ہزار میں سے چار سو علما الگ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم اب یہاں

صفحہ 230

سے واپس نہیں جائیں گے، چاہے ہماری جان چلی جائے۔ وہ آ کر بادشاہ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا: ہم نے اپنے شہر چھوڑے اور مدتوں بادشاہ کے ساتھ رہے اور اس مقام تک پہنچے کہ یہاں موت نصیب ہو۔ اب ہم نے عہد کیا ہے کہ اس جگہ کو نہیں چھوڑیں گے، چاہے بادشاہ ہمیں قتل کر دے یا جلا ڈالے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ معلوم کرو کس چیز نے انہیں آگے چلنے سے روک دیا ہے۔ مجھے ان کی ضرورت ہے اور میں ان سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ وزیر نے انہیں جمع کیا اور اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ”کعبۃ اللہ کی بزرگی جس ہستی کی مرہونِ منت ہے، جس کا اسم گرامی محمد ﷺ ہوگا، جو امام الحق، صاحبِ شمشیر و ناقہ، صاحبِ تاج وعصا، صاحبِ قرآن وقبلہ، صاحبِ لوا ومنبر اور صاحبِ کلمہ لا الہ الا اللّٰہ ہو گی، وہ ہستی پیدا تو مکہ میں ہوگی لیکن قیام اس جگہ کرے گا۔ وہ شخص خوش نصیب ہوگا جو اس ہستی پر ایمان لائے گا۔ ہم اس امید پر یہاں فروکش ہو گئے ہیں کہ ہم یا ہماری نسلیں ان کی زیارت سے مشرف ہو جائیں“۔ وزیر علما کی گفتگو سن کر بہت متاثر ہوا۔ اس کے دل میں بھی آرزوؤں کے چراغ جلنے لگے اور اسی سرزمین پر آباد ہونے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ چند روز کے بعد بادشاہ نے روانگی کا حکم دیا تو ان حضرات نے چلنے سے انکار کر دیا۔ وزیر نے جب بادشاہ کو اس کا سبب بتایا تو بادشاہ کے دل پر بھی بڑا اثر ہوا۔ اس نے مزید ایک سال تک اسی جگہ قیام کرنے کا حکم دے دیا اور حضور اکرم ﷺ کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ بادشاہ کے حکم سے وہاں چار سو مکانات تعمیر کیے گئے۔ ہر ایک عالم دین کو ایک مکان دیا گیا۔ ہر ایک کے لیے ایک لونڈی خرید کر آزاد کی گئی۔ ان علما سے ان کے نکاح کیے گئے اور ان کی نسلوں سے اس شہر کو آباد کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا، تاکہ جب وہ ہستی جلوہ افروز ہو تو یہ لوگ ان کے خدام میں شامل ہو جائیں۔

ایک عالی شان مکان بطور خاص حضور نبی آخر الزمان ﷺ کے لیے تعمیر کیا گیا جسے رئیس العلما کے سپرد کیا گیا تا کہ وہ اس ہستی کے انتظار میں عارضی طور پر اس میں قیام کرے۔ بادشاہ نے ان علما کو پورا پورا خرچ دیا اور کہا کہ مجھے امور سلطنت یہاں مستقل طور پر قیام کرنے کی اجازت نہیں دیتے، البتہ آپ لوگ اس ہستی کے ظہور تک اسی جگہ پر قیام فرما رہیں۔ اب تبع نے حضور ﷺ کے نام ایک خط لکھا، جس کا مضمون یہ تھا:

”بنام رسالت مآب ﷺ، اے محمد ﷺ میں آپ پر اور آپ (ﷺ) پر نازل شدہ کتاب پر ایمان لاتا ہوں۔ میں آپ (ﷺ) کے دین کو قبول کرتا ہوں اور آپ (ﷺ) کی

صفحہ 231

سنت پر چلتا ہوں۔ میں آپ (ﷺ) کے رب، جو ہر چیز کا رب ہے، پر ایمان لاتا ہوں۔ میں ایمان اور اسلام کی ان تمام شرائط کو قبول کرتا ہوں جو آپ (ﷺ) اپنے رب کی طرف سے لائے ہیں۔ اگر میں آپ (ﷺ) کی زیارت سے مشرف ہو جاؤں تو زہے قسمت! اور اگر میری زندگی وفا نہ کرے تو آپ روزِ قیامت میری شفاعت فرمائیں اور مجھے بھول نہ جائیں۔ میں آپ (ﷺ) کی اولین امت ہوں اور آپ (ﷺ) کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ (ﷺ) کی آمد سے بھی پہلے آپ (ﷺ) پر ایمان لاتا ہوں۔ میں آپ (ﷺ) کی ملت میں سے ہوں اور آپ (ﷺ) کے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت میں سے ہوں‘‘۔

تبع نے اس خط کو بند کیا اور اس پر اپنی سنہری مہر ثبت کی، جس پر یہ الفاظ کندہ تھے: ’’لِلّٰهِ الامر من قبل و من بعد و یومئذ یفرح المومنون. بنصر اللّٰهِ‘‘۔ تبع نے اس مکتوب پر یہ سرنامہ لکھا: ’’آخری نبی، رب العالمین کے رسول، حضرت محمد (ﷺ) کے نام۔ تبع اول حمیر بن وردع کی طرف سے‘‘۔

تبع نے یہ خط اس عالم کو دیا جس نے مکہ مکرمہ میں اسے اس کی بیماری کا حل بتایا تھا اور اسے نصیحت کی کہ ’’اسے سنبھال کر رکھ لو، اسے سرکارِ رسالت مآب کی خدمت میں پیش کر دینا: اگر تمہاری زندگی ساتھ نہ دے تو اسے اپنی اولاد میں منتقل کر دینا‘‘۔

تبع وہاں سے روانہ ہو گیا اور ہندوستان کے ایک شہر غلسان میں وفات پائی۔ تبع کے یومِ وفات کے ٹھیک ایک ہزار برس بعد حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی۔ اعلانِ نبوت کے تیرہ برس بعد آپ ﷺ سرزمینِ یثرب پر جلوہ گر ہوئے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں آپ ﷺ کے انتظار میں چار ہزار علما دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھے رہے۔ اسی جگہ کو آج مدینۃ الرسول ﷺ کہا جاتا ہے۔ تمام انصارِ مدینہ انھی علما کی اولاد میں سے تھے۔ تبع بادشاہ کا خط نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے پاس آ پہنچا، جن کا سلسلۂ نسب اس رئیس العلما سے ملتا تھا۔ جسے بطور امانت خط دیا گیا تھا۔ ان کی رہائش اسی مکان میں تھی جو ایک ہزار برس پہلے حضور اکرم ﷺ کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔

جب حضور ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لا رہے تھے، تو سب انصارِ مدینہ آپ ﷺ کا استقبال کرنے کے لیے شہر سے باہر نکل کر مکہ مکرمہ کے راستے پر کھڑے ہو گئے۔ حضور ﷺ ابھی قبیلہ بنی سلیم کے پاس تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے مشورے پر سب

صفحہ 232

سے امانت دار شخص ابولیلیٰ کو وہ خط دے کر آگے بھیجا گیا۔ حضور ﷺ نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا اور بغیر کسی ابتدائی تعارف کے فرمایا: ”ابولیلیٰ تم ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تبع اوّل کا خط تمہارے پاس ہے؟“ وہ سوچ میں پڑ گئے اور حضور ﷺ کو پہچان نہ سکے۔ دل میں کہنے لگے۔ یہ عجیب بات ہے۔ کہیں یہ جادو کا کمال نہ ہو اور مجھ سے امانت پہنچانے میں غلطی نہ ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ کیونکہ میں آپ کو پہچانتا نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے وہم کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ”میں محمد (ﷺ) رسول اللہ ہوں۔ وہ خط لاؤ“۔ ابولیلیٰ نے ایک رحل میں بحفاظت رکھا ہوا خط نکال کر پیشِ خدمت کیا۔ حضور ﷺ نے نہایت خوشی کے عالم میں اسے دستِ اقدس میں لیا اور حضرت علیؓ سے فرمایا: ”اسے کھولیں اور پڑھ کر سنائیں“۔ خط کا مضمون سماعت فرمانے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا: ”نیک بھائی، مرحبا! نیک بھائی مرحبا! نیک بھائی خوش آمدید“۔

(ڈاکٹر محمد نوید ازہر کے مضمون سے استفادہ کیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیل سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر اہم کتاب ”شرف المصطفیٰ“، از ابی سعد عبدالملک بن ابی عثمان محمد بن ابراہیم الخرکوشی نیشاپوری (متوفی 406ھ) مطبوعہ: دار البشائر الاسلامیہ، بیروت، لبنان، جلد اول، صفحات 93 تا 105 پر موجود ہے۔ زرقانی علی المواہب کے مطابق یہ بادشاہ الہامی کتاب ”زبور“ کا پیروکار تھا۔)

یاد رکھیے! حضور نبی رحمت ﷺ کی طرف سے آفرین و شاباش ...... آج بھی ...... ہر اس شخص کے لیے ہے، جو آپ ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔

عمرو بن اللیثؒ

امام ابوالقاسم قشیریؒ کی روایت ہے:

”خراسان کا ایک بادشاہ جس کا نام عمرو بن اللیث تھا (جو صفار کے لقب سے مشہور تھا) اس کی وفات کے بعد اسے کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا، قبر میں تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تو اس نے جواب میں کہا: ”میں نے اپنی زندگی میں ایک دن پہاڑ کی چوٹی سے اپنی ساری فوج کو دیکھا تو مجھے اس قدر فوج دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، تو میں نے دل میں کہا، کاش! میں، حضور انور ﷺ کے مبارک زمانہ میں ہوتا تو آپ ﷺ کے دشمنوں کے خلاف آپ ﷺ کی مدد کرتا اور یہ فوج وہاں کام آتی“۔ میری اس دلی تمنا کو دربار خداوندی میں مقبولیت حاصل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے محض اس خواہش کے نتیجہ میں میری

صفحہ 233

بخشش فرمادی‘‘۔

(کتاب الشفاء ج 2 ص 27)

بوعلی سینا

آج کائنات میں روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس پر ہر وقت ’اشھدان محمد رسول اللہ‘‘ کی صدا نہ گونج رہی ہو۔ پوری دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں یہ صدا سنائی نہ دیتی ہو۔ مشہور فلسفی اور حکیم بوعلی سینا جو اپنے زمانے میں حکمت اور علم کے شناور سمجھے جاتے تھے، ان کی فراست و ذہانت کا ڈنکا بجا ہوا تھا، ان کے ایک شاگرد نے ایک مرتبہ استاد سے کہا: ”اللہ نے آپ کو اتنی فہم و فراست اور علم دیا ہے تو اگر آپ نبوت کا دعویٰ کردیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی خلقت آپ کے ساتھ ہوجائے گی، آپ کو لوگ نبی مان لیں گے‘‘۔ بوعلی سینا نے اپنے شاگرد کی بات سنی اَن سنی کردی۔ کوئی جواب نہ دیا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔

ایک عرصے بعد بوعلی سینا کو شام کا سفر پیش آیا اور دمشق گئے۔ جامع مسجد دمشق کے قریب ایک مکان کے اندر قیام کیا، شاگرد بھی ساتھ تھا، سخت سردی کا زمانہ تھا، برفانی و طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ رات کو شیخ تہجد کے لیے بیدار ہوئے۔ شاگرد ساتھ سویا ہوا تھا۔ اس سے کہا: ”بیٹا نماز پڑھنی ہے، وضو کرنا ہے، پانی گرم کر دو تاکہ میں وضو کر کے نماز ادا کرلوں‘‘۔ شاگرد نیند کے مزے لے رہے تھے۔ لحاف میں گھسے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: ”جناب شیخ! تہجد کی نماز کوئی فرض و واجب تو ہے نہیں، یہ تو ایک نفلی عبادت ہے اور سردی بہت سخت ہے۔ اگر آپ تہجد نہ پڑھیں تو کیا حرج ہے؟“ شیخ خاموش ہوگئے۔ کچھ دیر گزری تھی کہ دمشق کے میناروں سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ مؤذن مسجد کے مینار پر چڑھ کر کہہ رہا تھا: ”اشھدان لا الہ الا اللہ اشھدان محمد رسول اللہ“ اذان ختم ہوئی تو شاگرد کو استاد نے بلایا اور کہا: ”آج سے کچھ عرصہ پہلے تم نے ایک تجویز پیش کی تھی۔ اس وقت تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا، آج میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ تم نے مجھ سے کہا تھا، نبوت کا دعویٰ کرو تو خلقت میرے ساتھ ہوجائے گی۔ یہ بتاؤ! اگر میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو سب سے پہلے جو میری تصدیق کرنے والے ہوتے، وہ تم ہی ہوتے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ میں نے تمہیں پانی گرم کرنے کا کہا تو تمہیں سردی یاد آگئی اور مجھے یہ بتلانے لگے کہ یہ فرض نہیں، واجب نہیں، نفل ہے۔ جبکہ دوسری طرف دیکھو جامع دمشق کے مینار پر ان طوفانی و برفانی ہواؤں کے باوجود مؤذن یہ نعرہ لگا رہا ہے: ”اشھدان لا الہ الا اللہ اشھدان محمد رسول اللہ“ اس کو آج حضورﷺ نے

صفحہ 234

نہیں فرمایا کہ تم مینار پر جا کر اذان دو، ان کو تو دنیا سے ظاہری پردہ فرمائے صدیاں گزر چکی ہیں لیکن آپ کے حکم کی خاطر سردی کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی طوفانی ہواؤں کا خیال کرتا ہے۔ کھڑے ہو کر ”اشھدان محمد رسول اللہ“ کی صدا بلند کرتا ہے۔ نبی وہ ہوتے ہیں، پیغمبر وہ ہوتے ہیں جن کے ماننے والے اپنی جان کی پروا نہیں کرتے، اپنی صحت کی پروا نہیں کرتے اور ان کے حکم پر اپنی جان قربان کر دیا کرتے ہیں۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ

حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ ایران کے صاحب کرامات بزرگ تھے۔ انہوں نے تصوف کے موضوع پر پانچ سو کے قریب رسائل تحریر کیے۔ انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں بہت سی پیش گوئیاں کیں جن میں اکثر پوری ہو چکی ہیں۔ حضرت کی ایک مشہور پیش گوئی ہے:

دو کس بنام احمد گمراہ کنند بے حد
سازنداز ذلے خود تفسیر فی القرآنہ

یعنی دو ایسے اشخاص جن کے ناموں میں احمد ہوگا، وہ اپنی رائے اور تاویلات سے قرآنی آیات کی ایسی تشریح اور تفسیر کریں گے کہ مسلمان گمراہ ہو جائیں گے۔ یقیناً اس پیش گوئی کا مصداق جھوٹا مدعی نبوت مرزا قادیانی ہے جس کے گمراہ کن نظریات کی وجہ سے کئی مسلمان ایمان کی دولت سے محروم ہو گئے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کا شمار ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جو احیائے اسلام اور تجدید دین کے باعث محی الدین تھے۔ آپ علم و عرفان اور شریعت و طریقت، دونوں میں جامع تھے۔ قدرت نے انھیں تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے بطور خاص تیار کیا تھا۔

1890ء میں حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مستقل طور پر مدینہ طیبہ میں سکونت پذیر ہونے کا ارادہ کر لیا۔ لہٰذا اس غرض سے حج کا سفر کیا۔ مدینہ طیبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کے بعد بہت خوش ہوئے کہ اب زندگی کی باقی تمام بہاریں گنبد خضرا کی ٹھنڈی چھاؤں تلے گزاریں گے۔ اسی روز حضور نبی کریم ﷺ، پیر مہر علی شاہؒ کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: ”مہر علی، ہندوستان میں مرزا قادیانی میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔ واپس جاؤ اور اس فتنہ کا سدباب کرو“۔

صفحہ 235

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی اپنے امتی کو ہمیشہ اعلیٰ وارفع کام کا حکم دیتا ہے۔ مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، جبکہ بیت اللہ شریف میں ایک نماز ادا کرنے پر ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گا جو مدینہ میں مرے گا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میں اس کا گواہ بنوں گا‘‘۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

لیکن یہاں حضور نبی کریم ﷺ اپنے ایک امتی کو حکم دے کر قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے واپس ہندوستان بھیج رہے ہیں۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کا کام جہاد عظیم ہے۔ اس کام سے بڑھ کر کوئی کام ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ جو کوئی شخص دنیا کے کسی خطے میں تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اسے بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھنے سے کروڑوں درجہ زائد ثواب ملتا رہے گا کیونکہ اس کی کوشش سے ایک مسلمان مرتد ہونے سے بچ جاتا ہے اور ایک گم کردہ راہ قادیانی واپس اسلام کی آغوش میں آ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے تو اس کو بے حد ثواب تو ہوگا ہی لیکن اس کی وجہ سے جتنے آدمی اس نیک کام کو شروع کریں گے یا اس فتنہ کے کفریہ عقائد سے آگاہ ہو کر اپنا ایمان بچائیں گے یا اس فتنہ میں مبتلا لوگ واپس حلقہ بگوش دین متین ہو جائیں گے تو ان سب لوگوں کی نیکیوں میں اس شخص کا بھی مستقل حصہ ہوگا۔ تحفظ ختم نبوت کا کام ایک ایسے سرمائے کی مثل ہے جو کسی فیض رساں تجارت میں لگا دیا جائے تو اس سے ہمیشہ اس کا منافع ملتا رہے۔ دوسری اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ تحفظ ختم نبوت کے کام کی سرپرستی اور نگرانی براہ راست حضور نبی کریم ﷺ خود فرماتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر خود راہنمائی بھی فرماتے ہیں۔

چنانچہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ واپس ہندوستان تشریف لائے اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ پیر صاحب نے نہ صرف مسلمانوں کو اس فتنہ کی شر انگیزیوں سے آگاہ کیا بلکہ قادیانیت کی تردید میں کئی ایک کتب بھی تحریر فرمائیں جن میں قادیانی عقائد و عزائم کا منہ توڑ جواب دیا۔ آپ کی بھرپور کوششوں سے مرزا قادیانی حواس باختہ ہو گیا اور کہا کہ بادشاہی مسجد لاہور میں میرے ساتھ تفسیر نویسی کا تحریری مناظرہ کر لیں۔ پیر صاحب

صفحہ 236

نے جواباً فرمایا کہ ممکن ہے اس طرح مناظرہ میں فیصلہ نہ ہو سکے، ایسا کرتے ہیں کہ ایک کاغذ پر قلم تم رکھ دو، ایک کاغذ پر قلم میں رکھ دیتا ہوں، جس کا قلم خود بخود لکھنا شروع کر دے، وہ سچا اور جس کا قلم پڑا رہے وہ جھوٹا۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ بھی منظور نہیں تو تم حسب وعدہ، شاہی مسجد میں آؤ، ہم دونوں اس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہوگا، وہ بچ جائے گا اور جو کاذب ہوگا، وہ مر جائے گا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں اس طرح چپ سادھی کہ گویا دنیا ہی سے رخصت ہو گیا۔ تحفظ ختم نبوت کے لیے پیر صاحب کی یہ رجز خوانی تیرہ سو سال کے اولیا و مشائخ کی روحانی قوتوں کا فیضان تھا اور نہ جانے کون کون سی ہستیاں آپ کی پشت پناہ تھیں۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ کو مناظرہ کی دعوت دے کر جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا مناظرے کے لیے نہ آنا، ایک تاریخی واقعہ ہے جس سے مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھل گئی تھی اور اسے انتہائی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پیر مہر علی شاہؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ان دنوں، میں اپنی آنکھیں بند کیے بیداری کی حالت میں حجرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تشہد کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور چار بالشت کے فاصلے پر یہ نیاز مند بالکل محاذات میں ایسے بیٹھا ہے جیسے کہ مرید شیخ کے سامنے۔ مرزا قادیانی مشرق کی طرف رخ کیے رسول پاک ﷺ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد میرا اطمینان قلبی اور زیادہ ہو گیا اور میں احباب کے ہمراہ لاہور پہنچا۔ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرزا قادیانی لاہور نہ آیا‘‘۔ یہ بات واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے اشتہارات میں اعلان کیا تھا کہ جو فریق اس مناظرے سے فرار ہوگا، اس پر اللہ کی لعنت ہوگی۔ وہی ہوا کہ وہ خود مناظرے سے فرار ہو گیا اور لاہور نہیں آیا۔ حالانکہ تمام علما اور دوسرے رفقاء نے تین دن تک لاہور میں اس کا انتظار کیا تھا۔ اسی دوران مرزا قادیانی نے تفسیر نویسی کا چیلنج دیا جسے حضرت مہر علی شاہؒ نے قبول فرما لیا اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے یوں فرمایا کہ قلم و کاغذ رکھ دیئے جائیں، جس کا قلم قرآن پاک کی تفسیر خود بخود لکھے، وہی حق پر ہوگا۔ آپ نے بعد میں فرمایا کہ میں نے جو بات کہی تھی، وہ یوں ہی نہیں تھی، مجھے مکمل طور پر تائید ایزدی اور حمایت نبوی ﷺ حاصل تھی، اگر میں اس سے بھی بڑا دعویٰ کرتا تو اللہ تعالیٰ مجھے ضرور سرخرو فرماتا۔ مجھے اس لیے اس بات پر یقین تھا کہ بحالت رویا و بیداری میں نے جو کچھ دیکھا تھا، وہ سراسر حق تھا۔

صفحہ 237

(ضیائے مہر یعنی سوانح حیات حضرت پیر سید غلام محی الدین گیلانی (بابو جی قدس سرہ العزیز) از جناب مولانا مشتاق احمد چشتی ، درگاہ عالیہ غوثیہ مہریہ، گولڑہ شریف، صفحہ 237 تا 238)

ایک بزرگ حضرت سید چانن شاہ جابہ شریف اس عرصے میں اپنے ایک خواب کی کیفیت بیان کرتے تھے:

”میں نے ایک فوج کو عَلَم لہراتے دریائے جہلم کے پل پر سے لاہور کی طرف جاتے دیکھا جس میں سے ایک صاحب نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ ہم بغداد شریف سے آ رہے ہیں اور پیر صاحب گولڑہ شریف کی نصرت کے لیے جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے مقابلے پر لاہور جارہے ہیں“۔

کچھ عرصہ بعد قادیانی جماعت کا ایک وفد حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ایک اندھے اور ایک اپاہج یعنی لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں، دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے۔ جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں، وہ سچا ہے، اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔ پیر صاحب نے جواب دیا کہ یہ بھی منظور ہے۔ مزید مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دیں کہ اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آ جائے، ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو پیر صاحب کے سامنے آنے کی ہمت نہ پڑی۔ اس پر پیر مہر علی شاہؒ نے فرمایا: ”یہ دعویٰ میں نے ازخود نہیں کیا تھا بلکہ عالم مکاشفہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے جمال باکمال سے میرا دل اس قدر قوی اور مضبوط ہو گیا تھا کہ مجھے یقین کامل تھا کہ اگر اس سے بھی کوئی بڑا دعویٰ کرتا تو اللہ تعالیٰ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف ضرور مجھے سچا ثابت کرتے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اس کی پشت پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے“۔

پیر صاحب کا یہ احساس تائید ربانی سے بہرہ ور تھا کیونکہ تحفظ ختم نبوت کی اس جدوجہد میں شروع ہی سے آپ کو حضور سید المرسلین ﷺ کے بے پایاں لطف وکرم کی تجلیاں اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھیں۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ گولڑوی نے 1902ء میں مرزا قادیانی کے بارے میں ایک پیش گوئی کی تھی جو اُس کے جھوٹے ہونے کی بین دلیل ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔ پیر صاحب نے کہا تھا:

صفحہ 238

کرنا اور جواب سلام سے مشرف ہونا، یہ نعمت (مرزا) قادیانی کو کبھی نصیب نہ ہوگی‘‘۔

(سیف چشتیائی، صفحہ 108، شائع شدہ 1981ء)

اس پیش گوئی کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی تقریباً چھ سال زندہ رہا لیکن دولت، صحت اور فرصت ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کو پوری زندگی حرمین شریفین کی حاضری نصیب نہیں ہوئی۔ با ادب بامراد، بے ادب بے نصیب۔

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوریؒ

امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ ان عظیم بزرگوں میں شامل ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف تحفظ ناموس رسالت ﷺ تھا اور اس مشن کی تکمیل کے لیے انھوں نے شب و روز ایک کر دیے۔ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں آپ کی خدمات جلیلہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

6 مئی 1908ء کو مرزا قادیانی لاہور آیا، ارتدادی مہم کے مقابلے کے لیے لاہور کے مسلمانوں نے حضرت پیر جماعت علی شاہؒ کو بلوایا، آپ نے موچی دروازہ اور دیگر مقامات پر مرزا قادیانی کو للکارا، مرزا قادیانی کو پانچ ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا کہ وہ آ کر مناظرہ کرے اور انعام پائے، جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ ’’پیر صاحب! مجھے بھگانے کے لیے آئے ہیں، یہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں، مگر میں ایسا نہیں جو بھاگ جاؤں، اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو میرا قدم نہ ہلے گا!‘‘ اس کے جواب میں پیر جماعت علی شاہؒ نے 22 مئی 1908ء کے جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ ’’بارہ برس تو اپنی جگہ رہے، مرزا قادیانی جلد ہی لاہور نہیں، بلکہ دنیا سے ذلیل و خوار ہو کر جائے گا‘‘۔

آپ نے مرزا قادیانی کو ہر طرح سے للکارا۔ اسے دعوت دی کہ وہ میدان میں آ کر اپنے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت کرے۔ مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے۔ پانچ ہزار روپیہ کا انعام وصول کر لے۔ اگر مرزا قادیانی میدان میں نہیں آ سکتا تو ہم ان کے پاس جانے کو تیار ہیں مگر مرزے کو کوئی بھی بات ماننے کی جرأت نہ ہوسکی۔

آخر کار 25 مئی 1908ء بروز پیر رات کے جلسہ میں لاہور و بیرون لاہور کے ہزاروں مسلمانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے بیان کیا:

صفحہ 239

”ہم نے مرزا قادیانی کا بہت انتظار کیا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آیا، پیشگوئی کرنا میری عادت نہیں لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ میرے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ میرا نبی ﷺ سچا ہے اور میں صدق دل سے اس سچے نبی کا غلام ہوں۔ آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے میں ہمیں اس جھوٹے نبی سے نجات عطا فرمائے گا“۔

جب آپ نے یہ پیش گوئی فرمائی تو ہزاروں مسلمانوں نے یک زبان ہو کر آمین کی صدائیں بلند کیں۔ یہ پیش گوئی آپ نے رات دس بجے فرمائی اور 26 مئی کو صبح دس بج کر دس منٹ پر مرزا قادیانی ہیضہ سے آنجہانی ہو گیا۔ مولانا رومؒ نے سچ فرمایا ہے:

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود
گرچہ از حلقومِ عبداللہ بود

(اس کا کہا ہوا اللہ کا کہا ہوا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ (بات) کسی اللہ کے بندے کے حلق سے نکل رہی ہو۔)

آنجہانی مرزا قادیانی نے ہیضہ کو ”غضب کی تلوار“ قرار دیا تھا۔

(حقیقت الوحی صفحہ 364 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 364 از مرزا قادیانی)

آسمان کا تھوکا منہ پر آیا۔ جس رات حضرت امیر ملت قدس سرہٗ نے پیش گوئی فرمائی تھی، اسی رات تھوڑی دیر بعد مرزا قادیانی کو ہیضہ ہوا۔ نصف شب گزرنے تک مرض نے شدت اختیار کر لی۔ مرنے سے چھ گھنٹے قبل زبان بند ہو گئی۔ ڈاکٹر نے ایسی دوا دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا، اوپر کو ہو گیا۔ یوں نجاست منہ سے نکلتی رہی اور اسی حالت میں (26 مئی 1908ء) (صبح دس بج کر دس منٹ پر) بیت الخلاء میں خاتمہ ہو گیا۔ مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ہے لقد دخل فی قعر جہنم۔ (1326ھ)

جس وقت حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کی پیش گوئی فرمائی تھی، تو لوگوں نے اسے پوری اہمیت نہ دی مگر جب پوری ہوگئی تو حد درجہ حیران ہوئے۔ اس پیش گوئی کا مرزائیوں نے آج تک ذکر نہیں کیا۔ مفتی محمد عبداللہ ٹونکیؒ، پروفیسر اورئینٹل کالج لاہور نے فرمایا کہ ”ہم پہلے تو اس پیش گوئی کو معمولی سمجھتے تھے لیکن وہ سب سے بڑھ کر نکلی“۔

حضرت امیر ملت قدس سرہٗ نے جب مرزا قادیانی کی ہلاکت کی خبر سنی تو فوراً سجدۂ

صفحہ 240

شکر بجالائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مسلمانوں کے ایمانوں کو محفوظ رکھا، اپنے حبیب پاک ﷺ کی صداقت ظاہر فرمائی اور مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھا۔

آپؒ کی ردّ قادیانیت پر گرانقدر خدمات ہیں، مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر آپؒ نے پانچ نکاتی معرکہ آرا بیان جاری کیا۔

تعلیم پاتا ہے، بلا واسطہ اس کی تعلیم وتعلم خداوند قدوس سے ہوتا ہے، (جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے)۔

کے روبرو دعویٰ نبوت کر دیتا ہے، بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجۂ نبوت نہیں ملتا، کہ پہلے وہ محدث، پھر مجدد اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کرے۔

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نام مفرد تھے، کسی سچے نبی کا نام مرکب نہیں تھا، (اس کے برعکس جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا)۔

کو محروم الارث کیا)۔

احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور کی لیٹرین میں عبرتناک موت مرا اور قادیان (بھارت) میں دفن ہوا۔

آپؒ کا یہ پانچ نکاتی اعلان و چیلنج آج تک مرزائی اُمت کے لیے سوہان رُوح ہے، کوئی مرزائی اس کا جواب نہ دے پایا۔

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

حضرت اعلیٰ مولانا ابوالسعد احمد خاںؒ

حضرت اعلیٰ مولانا ابوالسعد احمد خاںؒ، سرخیل اولیائے وقت گزرے ہیں۔ سنت نبوی ﷺ کی ترویج واشاعت میں آپ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انھوں

صفحہ 241

نے ایک عرصہ دراز تک مخلوق خدا کو رشد و ہدایت سے نوازا۔ تحفظ ختم نبوت کا درد آپ کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جن ایام میں مسجد شہید گنج لاہور کی تحریک زوروں پر تھی اور اہل اسلام میں ہر فرد ولولہ اور جوش کا مرقع تھا، حضرت اعلیٰ نے فرمایا: مسجد شہید گنج، اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو اس کا غم نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مساجد پھر بھی تعمیر کی جاسکیں گی، ان کی حیثیت ہر حال میں ثانوی ہے۔ اسلام کے تحفظ و بقا کو اولین اہمیت حاصل ہے اور اصل فتنہ موجودہ دور میں مرزائیت کا ہے جو وجود اسلام کو مٹانا چاہتا ہے، اس کے خلاف جہاد جاری رکھنا چاہیے۔ اگر اسلام محفوظ رہا تو مساجد کی کمی نہ رہے گی، لہٰذا بقائے اسلام کی خاطر قادیانیت کے خلاف اپنی تمام کوشش و ہمت کو مبذول کرنا چاہیے۔

حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ

آفتاب ولایت حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ ظاہری و باطنی علوم و معارف سے مالا مال ایک صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ بڑے بڑے علما و مشائخ آپ کی خدمت میں دو زانو ہو کر بیٹھتے۔ آنے والے ہر عقیدت مند کو آپ شریعت مطہرہ کی پیروی کا سختی سے حکم فرماتے۔ آپ فتنہ قادیانیت کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے۔

ایک زمیندار مردان علی نامی، صاحب ثروت تھا مگر بڑا آزاد خیال۔ نیچری قسم کے اعتقادات رکھتا تھا۔ مرزائیت کی طرف مائل تھا اور وقتاً فوقتاً قادیان بھی جایا کرتا تھا۔ ایک بار وہ کسی شخص کے ساتھ حضرت میاں شیر محمدؒ کی خدمت میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا۔ اس کی نیت یہ تھی کہ اگر حضرت شرقپوری سے بھی یہ عقدہ حل نہ ہوا تو قادیان جا کر مرزا قادیانی کی بیعت کر لوں گا۔ میاں صاحبؒ کی صرف ایک ہی نگاہ سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی زبان سے کہنے لگا۔ ’’مرزا جھوٹا، مرزا جھوٹا، مرزا جھوٹا!‘‘ اس اقرار کے بعد جب وہ ہوش میں آیا تو فوراً اپنے خیالات فاسدہ سے تائب ہوا۔

ایک دفعہ حضرت شیر محمد شرقپوریؒ نے مراقبہ کیا اور دیکھا کہ مرزا قادیانی کی شکل قبر میں باؤلے کتے کی سی ہے اور باؤلے پن کا اس پر دورہ پڑا ہوا ہے۔ اس کا منہ دُم کی طرف ہے، بھونکتے ہوئے گول چکر کاٹ رہا ہے۔ منہ سے نجاست نکل رہی ہے اور بار بار اپنی دُم اور ٹانگوں کو کاٹتا ہے۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں

صفحہ 242

نے زندگی بھر فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔ وہ بیک وقت عیسائیوں، آریوں اور بالخصوص قادیانیوں سے مناظرے کرتے اور انھیں شکست فاش سے دوچار کرتے۔ انھوں نے قادیانیت کی تردید میں درجنوں کتابیں تحریر کیں جنھیں ہر مکتبہ فکر نے سراہا۔ ان کا اپنا پرچہ ہفت روزہ ”اہل حدیث“ امرتسر سے نکلتا تھا جس کے ابتدائی صفحات قادیانیت کی تردید کے لیے وقف تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ملک بھر میں قادیانی عقائد پر بے شمار تقریریں کیں اور مباحثے کیے۔ اس سے عاجز آ کر آنجہانی مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا:

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے...... میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر! مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے...... اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے“۔ (مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 578 از مرزا قادیانی)

اس چیلنج اور دعا کے نتیجہ میں مرزا قادیانی اپنی دعا کے 13 ماہ اور بارہ دن بعد 26 مئی 1908ء کو ہیضہ کی بیماری سے نہایت عبرتناک حالت میں آنجہانی ہو گیا جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اس دعا کے تقریباً 40 سال بعد 15 مارچ 1948ء میں اللہ کو پیارے ہوئے۔

صفحہ 243

کسی نے کیا خوب کہا:

؎ لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا

امیر حبیب اللہ خاں والیٔ افغانستان

مرزا قادیانی نے جب جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو اس نے اپنی اس جھوٹی نبوت کی تبلیغ کا سلسلہ افغانستان تک بھی پہنچایا، چنانچہ کچھ لوگ اس کے دام فریب میں آ گئے۔ ان میں دو اشخاص عبدالرحمن اور عبداللطیف سرفہرست ہیں جنھوں نے وہاں پر قادیانیت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انگریز کے لیے جاسوسی بھی شروع کر دی۔ عبدالرحمن خان کو امیر عبدالرحمن کے دور حکومت میں ارتداد کے جرم میں ہلاک کیا گیا۔ جبکہ عبداللطیف کو 1903ء میں امیر حبیب اللہ خاں کے دور میں ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا گیا۔ عبداللطیف قادیان کا باشندہ تھا اور کچھ مدت تک قادیان میں مرزا قادیانی کی صحبت میں رہ کر قادیانیت اختیار کر لی۔ چنانچہ اس کو قادیانی عقائد کی بنا پر موت کی سزا سنائی گئی۔ اسے کمر تک زمین میں زندہ گاڑ دیا گیا اور اس کے بعد پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہی حال بعد میں نعمت اللہ خاں قادیانی مبلغ کا ہوا۔ جب مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ والیٔ افغانستان کے حکم سے میرے ماننے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے تو اس نے والیٔ افغانستان کو ایک لمبا چوڑا احتجاجی اور تبلیغی خط لکھا جس کے جواب میں والیٔ افغانستان نے صرف ایک جملہ لکھا جو فارسی میں تھا۔ وہ یہ کہ

ایں جابیا (یعنی، اس جگہ آؤ)

جب یہ جواب مرزا قادیانی کو پہنچا تو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ مرزا قادیانی کو اس جواب کا مفہوم بخوبی سمجھ آ گیا تھا کہ اگر میں افغانستان گیا تو میرا حال بھی میرے مبلغین جیسا ہوگا۔

حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

تحفظ ختم نبوت کتنا اہم ترین مسئلہ ہے، اس کا اندازہ آپ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ محدث کشمیریؒ کے اس واقعہ سے کر سکتے ہیں۔ آپ بہت بڑے عالم، زاہد و عابد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ 1926ء میں احمد پور شرقیہ بہاولپور کی ایک مسلمان عورت غلام عائشہ نے بہاولپور کی ایک عدالت میں دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر مرزائی ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کا نکاح فسخ کیا

صفحہ 244

جائے۔ اس مقدمہ میں تمام مشاہیر علما کو شہادت کے لیے عدالت میں بلایا گیا۔ جب یہ مقدمہ آخری مراحل میں پہنچا تو شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، حضرت مفتی صادق صاحبؒ اور تمام علما نے استدعا کی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک علمی بیان عدالت میں ہونا چاہیے۔ شاہ صاحبؒ ان دنوں خونی بواسیر کے سخت مریض تھے۔ ڈاکٹروں حکیموں نے سفر سے بالکل روک دیا تھا۔ اسی سال حج کا بھی ارادہ تھا۔ کمزوری بہت ہو چکی تھی، لیکن جونہی شاہ صاحبؒ کو دعوت پہنچی، آپ سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ بہاولپور سے مفتی صادق صاحب بھی خود انھیں لینے کے لیے دیوبند پہنچ گئے۔ حکیموں نے آپ کو بیماری کے پیش نظر سفر کرنے سے منع کیا۔ لیکن حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ”اگر قیامت کے روز حضور ﷺ نے یہ سوال کر لیا کہ میری ختم نبوت کا مقدمہ پیش تھا، تجھے طلب کیا گیا اور تُو نہیں گیا تو میں کیا جواب دوں گا؟ موت تو آنی ہی ہے، اگر اسی راستہ میں آ گئی تو اس سے بہتر اور کیا ہوگا“۔ لہٰذا حکیموں کے روکنے کے باوجود آپ تاریخ مقدمہ سے کئی روز پیشتر بہاولپور تشریف لے آئے، اور تقریباً 25 روز بہاولپور میں قیام فرمایا۔

26 اگست 1932ء کو یوم جمعۃ المبارک تھا۔ جامع مسجد الصادق بہاولپور میں آپ نے جمعہ کی نماز ادا کرنا تھی۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ قرب وجوار کے گلی کوچے نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ نماز کے بعد آپ نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا۔

مولانا غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ کا ٹیلی گرام موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لیے بہاولپور آئیے۔ ایک مسلمان بچی کے تنسیخ نکاح کا مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے ارتداد و کفر کا مسئلہ ہے اور ختم نبوت کے اعتقاد کا مسئلہ ہے۔ ٹیلی گرام پڑھ کر، میں نے پچھلی زندگی کے اعمال پر سوچا کہ اگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھ لے کہ کون سا عمل لائے ہو، پچھلی زندگی میں کوئی عمل رکھتے ہو تو پیش کرو؟ تو سوچنے کے بعد میرے دماغ میں کوئی ایسا عمل تازہ نہیں ہوا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر سکوں۔ چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل اور حج کا سفر ملتوی کر دیا اور بہاولپور کا سفر کیا۔ تاکہ قیامت کے دن حضور ﷺ کے منصب ختم نبوت کے تحفظ کرنے والوں میں شمار کیا جاؤں اور سمجھا جاؤں اور اس عمل کے صدقے میں میری بخشش ہو جائے۔ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ جا تو رہا ہوں حج کے لیے اور آگے سفر کروں گا مدینہ منورہ کا تو اللہ تعالیٰ کی رضا بھی چاہیے، حضور ﷺ کی شفاعت بھی چاہیے۔ قیامت کے

صفحہ 245

دن اگر حضور ﷺ پوچھ لیں کہ ضرورت وہاں تھی، آ یہاں گیا۔ ضرورت تو تیری بہاول پور میں تھی اور تو یہاں آ گیا تو میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں حضور ﷺ کے مقام ختم نبوت اور منصب ختم نبوت کی حفاظت کے لیے بہاولپور جاؤں گا۔ بہت ضعیف اور علیل ہوں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہمارا نامۂ اعمال تو سیاہ ہے ہی، شاید یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ نبی کریم ﷺ کا وکیل بن کر عدالت میں پیش ہوں۔ ممکن ہے یہ نیکی میرے لیے توشۂ آخرت بن جائے“۔

اس پر لوگ دھاڑیں مارتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے......پھر فرمانے لگے:

محلے کا حق نمک خوب ادا کرتا ہے جبکہ ہم حق غلامی وامتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبر ﷺ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور ایک کتے سے بھی بدتر کہلوائیں گے“۔

صوفی بزرگ بلھے شاہ نے کہا تھا:

راتیں جاگیں، کریں عبادت
راتیں جاگن کُتے، تیتھوں اُتے
بھونکنوں بند مُول نہ ہوندے
جا رُڑی تے سُتے، تیتھوں اُتے
خصم اپنے دا در نہ چھڈ دے
بھانویں وجن جُتے، تیتھوں اُتے
بُلھے شاہ! کوئی رخت وہاج لے
نئیں تے بازی لے گئے کُتے تیتھوں اُتے

جج صاحب جن کا نام محمد اکبر تھا، وہ شاہ صاحب کا بہت احترام کرتا تھا۔ آپ کو عدالت میں کرسی مہیا کی گئی اور حضرت شاہ صاحبؒ کا آخری معرکہ آرا بیان ہوا اور قادیانیوں کی طرف سے ان پر جرح ہوتی رہی اور شاہ صاحبؒ جواب دیتے رہے۔

آپ کے مد مقابل قادیانیوں کی طرف سے مشہور مرزائی مبلغ ومناظر جلال الدین شمس تھا۔ آپ نے اس پر خوب جرح کی مگر وہ کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہا

صفحہ 246

اور ہر بات پر ”میں نہ مانوں“ کی رٹ لگاتا رہا۔ اس پر شاہ صاحب نہایت جلال میں آگئے اور ان پر ایک عجیب وغریب وجد طاری ہوگیا۔ آپ نے مرزائی مبلغ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”جلال الدین! اگر اب بھی تمھیں مرزا قادیانی کے کفر میں کوئی شک ہے تو آ! میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ میں تمھیں بھری عدالت میں کھڑے کھڑے مرزا قادیانی جہنم میں جلتا ہوا دکھا سکتا ہوں“۔

اس پر جلال الدین شمس پر سکتہ طاری ہوگیا اور وہ کچھ نہ بول سکا۔ بعدازاں عدالت سے فراغت کے بعد ایک مرید نے حضرت شاہ صاحب سے پوچھا: حضرت! آج آپ نے عدالت میں بہت بڑی بات کہہ دی۔ اگر مرزائی مبلغ آپ سے مرزا قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھانے کا کہہ دیتا تو آپ کیا کرتے؟ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا:

”بالکل دکھا دیتا، کیونکہ مجھے ہزار فیصد یقین کامل ہے کہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اللہ اسے دوسروں کے سامنے کبھی رسوا نہیں کرتا۔ شرط یہ ہے کہ یہ مقدس کام اخلاص ومحبت سے کیا جائے۔ تب دنیا و جہان کی تمام کامیابیاں اس کے قدم چومیں گی“۔

خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی بلاشبہ مردود ازلی ہے۔ اس کو شیطان سے زیادہ لعین سمجھنا جزو ایمان ہے۔ شیطان نے ایک ہی نبی کا مقابلہ کیا تھا، اس خبیث اور بدباطن نے جمیع انبیا علیہم السلام پر افترا پردازی کی“۔

اہم اقدامات تھے:

بجائے خود گالی بن جائے، حتیٰ کہ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مرزائی، یا قادیانی کہلانا عار اور شرم کا موجب سمجھیں۔

چاک کرے اور ان تمام علمی مباحث کو نہایت صاف اور واضح کر دے جو اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث آئے ہیں۔

صفحہ 247

پسپا ہونے پر مجبور ہو جائے اور اسے ہر گلی کوچے میں مسلمانوں کو للکارنے کی جرأت نہ ہو۔

قادیانیت کے طاغوتی جراثیم پائے جائیں، وہاں ختم نبوت کا تریاق مہیا کیا جاسکے۔

اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چارپائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں لائے۔ تمام طالب علموں اور اساتذۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:

کے قریب ہوگی۔ تاریخِ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے، اس کی بنیاد پر پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا خطرناک اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔ میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اگر نجات اخروی اور حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت چاہتے ہو تو تحفظ ختم نبوت کا کام کرو کیونکہ یہ کام آپ ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ مرزا قادیانی سے تمھیں جتنی نفرت ہوگی، اتنا ہی تمھیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قرب نصیب ہوگا۔ اس لیے کہ دوست کا دشمن، دشمن ہوتا ہے اور دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کو بے حد خوشی اس شخص سے ہوتی ہے جو اس فتنہ کے استیصال کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے۔ رسول اکرم ﷺ اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے گا، اس کی جنت کا میں ضامن ہوں‘‘۔ سبحان اللہ! دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آخری وقت ہے۔ اگر فکر ہے تو اس فتنہ کی۔ پھر آپ نے اس وقت اپنی فراست ایمانی سے دیکھ کر جو کچھ فرمایا، آج واقعات اس کی کس قدر تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ قارئین سے مخفی نہیں۔

”میں یہ بات علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ حدیث کی خدمت بھی اللہ کی دین ہے۔ قرآن کی خدمت بھی بہت اہم خدمت ہے۔ تفسیر کی خدمت بھی بہت بڑی سعادت ہے۔ فقہ کی خدمت بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ تبلیغ کرنا بھی بہت اچھا کام ہے لیکن تحفظ ختم نبوت، سرکار دو عالم ﷺ کی ذات کا تحفظ ہے۔ باقی چیزیں اقوال کا تحفظ ہیں، اعمال کا تحفظ ہیں، افعال کا تحفظ

صفحہ 248

ہیں ۔ آپ ﷺ کی سیرت کا تحفظ ہیں۔ لیکن ذات کا تحفظ ان سب سے اولی اور افضل ہے۔ جس شخص نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ایک گھنٹہ بھی کام کر لیا، اسے حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت ضرور نصیب ہوگی۔ (بروایت مولانا محمد مکی حجازی (مدرس حرم مکی) ”بیت اللہ کے سائے میں“ ہفت روزہ ضرب مومن 2 تا 8 نومبر 2007ء)

تھا، وہ ان کی گفتگو اور خطبات سے نمایاں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس فتنہ کے استیصال کے لیے مامور من اللہ تھے اور ان کی تمام صلاحیتیں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ قادیانیت کے قصر الحاد کو پھونک ڈالیں۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانی الحاد پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ان کے کفر و ارتداد کو عالم آشکارا کرنے کے لیے اپنی تمام سرگرمیاں صرف کردیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے حضور خاتم النبیین ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے ، اس سے ایک باغیرت و باحمیت مسلمان کا خون کھول جاتا ہے اور جو شخص اس کے بعد بھی قادیانیوں کے بارے میں کسی نرمی یا مصالحت کا رویہ رکھتا ہے، اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ یا تو دین و ایمان سے محروم ہے یا پھر اس کی غیرت وحمیت کو مصلحت کی دیمک چاٹ چکی ہے۔

حضرت انور شاہ کشمیریؒ کو قادیانی فتنہ نے کس قدر بے قرار کر رکھا تھا؟ بہتر ہوگا کہ ہم یہ روداد غم حضرت بنوریؒ سے سنیں:

”امت کے جن اکابر نے اس فتنہ کے استیصال کے لیے محنت کی ہے، ان میں سب سے امتیازی شان حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ کو حاصل تھی۔ قادیانیوں کے شیطانی وساوس اور زندیقانہ دسائس کا امام العصرؒ نے جس طرح تجزیہ کر کے ان پر تنقید کی، اس کی نظیر عالم اسلام میں نہیں ملتی ۔ حضرت مرحوم نے خود بھی گرانقدر علوم و حقائق سے لبریز تصانیف رقم فرمائیں اور اپنے تلامذہ مدرسین دیوبند سے بھی کتابیں لکھوائیں اور ان کی پوری نگرانی واعانت فرماتے رہے۔ میں نے خود حضرت رحمہ اللہ سے سنا ہے کہ ”جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی (علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے“۔ فرمایا ”چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضمحل ہوجائے گا“۔

صفحہ 249

میں نے اپنی زندگی میں کسی بزرگ اور عالم کو اتنا دردمند نہیں دیکھا جتنا کہ حضرت امام العصر کو، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل میں ایک زخم ہو گیا ہے جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا نام لیتے تو فرمایا کرتے تھے ”لعین ابن لعین ابن لعین قادیاں“ اور آواز میں ایک عجیب درد کی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ گالیاں دیتا ہے، فرمایا: ”ہم اپنی نسل کے سامنے اپنے اندرونی درد دل کا اظہار کیسے کریں؟ ہم اس طرح قلبی نفرت اور غیظ وغضب کے اظہار پر مجبور ہیں“۔

کشمیری کا کہنا ہے: ”ایک مرتبہ والد مرحوم نے فرمایا کہ فتنہ قادیانیت کی وجہ سے تین ماہ تک نہیں سویا۔ اس غم اور فکر میں کہ کہیں قادیانیت کا فتنہ یونہی خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیلتا پھولتا گیا تو دین اسلام کا کیا بنے گا؟ تین ماہ کے بعد میرے قلب پر القا ہوا کہ خداوند تعالیٰ اس دین کی حفاظت فرمائے گا“۔

درس میں ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ تیس سال کے عرصہ میں دس دس سال کے وقفہ سے میں نے تین مرتبہ رحمت عالم ﷺ کی زیارت کی۔ آپ ہر مرتبہ توجہ دلاتے تھے کہ: ”ختم نبوت کی حفاظت کرو اور قادیانی فتنہ کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن سعی کی جائے“۔

والد صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولانا حسین علی صاحب نقشبندیؒ، (جن کے متعلق والد مکرم فرمایا کرتے تھے کہ یہ نقشبندیت کے امام ہیں) دیوبند تشریف لے گئے اور والد صاحب کی قبر پر بہت دیر تک مراقب رہے۔ جب دفتر تشریف لائے تو اہتمام کے ذمہ دار حضرات نے پوچھا کہ آپ دیر تک مزار پر مراقب رہے۔ بتائیے، شاہ صاحب سے ملاقات بھی ہوئی؟ پہلے تو آپ نے بتلانے سے گریز کیا۔ بے حد اصرار کے بعد فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب سے میری لمبی گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے حضرت شاہ صاحب نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تشریف لائے اور میرے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ فرمایا کہ نجات ہو گئی۔ میں نے دریافت کیا کہ کون سا عمل کام آیا؟ فرمایا: ”میں نے ختم نبوت کے لیے جو کام کیا تھا، وہ میرے لیے وسیلۂ نجات بن گیا اور فرمایا کہ عالم قبر میں آ کر مجھ پر بات کھلی کہ ختم نبوت کی حفاظت وصیانت کے لیے کام کیا جائے تو اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل مقبول نہیں“۔

صفحہ 250

لاجواب کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام“ لکھی۔ یہ وہ کتاب ہے جس کے بارے میں آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ حیات مسیح علیہ السلام پر میں نے ایسی کتاب لکھ دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بنا پر میری شفاعت فرمائیں گے۔ عجیب اتفاق ہے کہ آپ کے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلیٰ آسمان سے اترا۔ اس کے کنارے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور دوسرے کنارے پر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ بیٹھے ہیں، جس کی تعبیر یہی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت شاہ صاحب کی شفاعت فرمائی۔ پھر آپ نے ”حجۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام“ لکھی جو اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ (سوانح وافکار حضرت بنوریؒ صفحہ 193، 194)

”قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوتا تھا اور مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال حسب معمول جلسے میں تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نماز فجر کے وقت میں حاضر ہوا تو دیکھا حضرت اندھیرے میں سر پکڑے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا ”حضرت! کیسے مزاج ہیں؟“ کہا ”ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں، مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کردی“۔

میں نے عرض کیا، ”حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد، علما اور مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟“ فرمایا ”میں تم سے صحیح کہتا ہوں، عمر ضائع کردی“۔ میں نے عرض کیا ”حضرت، بات کیا ہے؟“

فرمایا ”ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدو کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں، امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں اور دوسرے ائمہ پر آپ کے مسلک کی فوقیت ثابت کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔

اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی! کیا ابوحنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں؟ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ لوگوں سے

صفحہ 251

خود اپنا لوہا منوائے گا، وہ تو ہمارے محتاج نہیں اور ہم امام شافعیؒ، مالکؒ اور احمدؒ بن حنبل اور دوسرے مسلک کے فقہا کے مقابلے میں جو ترجیح قائم کرتے ہیں، کیا حاصل ہے اس کا؟ ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا، لہذا اجتہادی مسائل کا صرف اس دنیا میں فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے۔ دنیا میں ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح، یا یہ کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا بھی ہو اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی، قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی۔

اللہ تعالیٰ شافعیؒ کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہؒ کو، مالکؒ کو رسوا کرے گا نہ احمد بن حنبلؒ کو۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے، جنھوں نے نورِ ہدایت چار سُو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدانِ حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے برعکس۔ تو جس چیز کو دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی ضروریات جو سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور جن منکرات کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ آج تحفظ ختم نبوت کا کام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے اور فتنہ قادیانیت جس کو مٹانے میں ہمیں جان قربان کرنا چاہیے، وہ پھیل رہا ہے، الحاد آ رہا ہے، شرک و بت پرستی چل رہی ہے اور حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوتے ہیں ان فروعی بحثوں میں‘‘۔ حضرت شاہ صاحب نے آخر میں فرمایا ’’یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی‘‘۔

قتل کیے جانے پر حضرت امیر امان اللہ خاں غازی والیٔ افغانستان کی خدمت اقدس میں ایک فارسی مکتوب روانہ فرمایا۔ اس مکتوب کے آخر میں علامہ ممدوح نے چند نہایت ہی پُرتاثیر دعائیہ

صفحہ 252

اشعار زیب رقم فرمائے۔ جو فی الواقعہ تمام مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان ہیں۔ یہاں تبرکاً و تیمناً درج کیے جاتے ہیں۔

باد ہمیشہ ہمہ فرّ شہى بندۂ درگاہِ امانُ اللّٰہی
شاہِ جگر دار و بسالت پناہ سایۂ حق غازی ظلِ الہ
رایت اقبال تُرّا برجبیں انا فتحنا لک فتح مبیں
ثبت لوایت ز قریبٌ مجیب نصر من اللہ و فتحٌ قریب
اشہب ایام بہ کام تو باد سکۂ اسلام بنامِ تو باد
دل کہ بہ تو بستہ چہ امیدہا می طلبد رفعت جاوید ہا
دین نبی از سر تو زندہ باد دولتِ تو دائم و پائندہ باد

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان جون 1998ء ص 20)

ترجمہ: آپ کو ہمیشہ شہنشاہانہ شان وشوکت حاصل ہو۔ تیری درگاہ کا بندہ خدا کی امان میں ہو۔ جرأت والے شاہ اور بہادری کو پناہ دینے والے۔ حق کا سایہ غازی اور خدا کا سایہ۔ آپ کا مرتبہ آپ کی جبیں کے لائق ہے کہ ہم نے آپ کے فتح مبین (کا دروازہ) کھول دیا۔ آپ کے جھنڈا کی پختگی کامیابی کے قریب ہے۔ اللہ کی طرف سے مدد اور فتح قریب ہے۔ زمانے کا گھوڑا تیرے کام کا ہو اور اسلام کا سکہ تیرے نام سے ہو۔ دل کہ جس نے آپ سے امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ آپ کے لیے ہمیشہ کی بلندی طلب کرتا ہے۔ نبی ﷺ کا دین آپ کی وجہ سے زندہ ہو اور آپ کی حکومت ہمیشہ اور پختہ رہنے والی ہو۔

علامہ محمد اقبالؒ

ترجمان حقیقت حضرت علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کے شہرۂ آفاق دانشور، عظیم روحانی شاعر، اعلیٰ درجہ کے مفکر اور بلند پایہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد ساز انسان بھی تھے۔ ایسی زندۂ جاوید ہستیاں صدیوں میں کہیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا دل ملت اسلامیہ کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ وہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کے وارث تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے انحطاط اور تنزل کی گھاٹی کی طرف تیزی سے گرتے عالم اسلام کے تنِ مضمحل میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے انقلاب کی راہ دکھائی۔

علامہ اقبالؒ کے حوالے سے یہ خاص پہلو بھی پیش نظر رہے کہ وہ انسانی خوبیوں اور

صفحہ 253

خامیوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ جہاں تک قادیانیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تو وہ محرم راز درون خانہ تھے۔ انھوں نے جب بنظر غائر دیکھ لیا کہ مرزائی خود تو غیر مسلم ہیں ہی، لیکن عامۃ المسلمین کو بھی مرتد بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“ کے مصداق اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انھیں گمراہ کر رہے ہیں تو وہ اپنی اسلامی غیرت وحمیت اور عشق رسول ﷺ کے حوالے سے برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے انتہائی زیرکی اور ژرف نگاہی سے اس اہم مسئلے کا جائزہ لیا اور اپنے معروضی تاثرات امت مسلمہ کے سامنے واضح انداز میں پیش کر دیے۔ علامہ اقبالؒ کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ملت اسلامیہ کو جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، ان میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت کا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کی ملت اسلامیہ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خطبات، مضامین، توضیحات اور خطوط کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی اور اس تحریک کے عالم اسلام پر دینی، معاشی اور تمدنی اثرات اور ان کے منفی نتائج سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ علامہ اقبالؒ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے حکومت کے سامنے سب سے پہلے یہ مطالبہ پیش کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے اندر رہ کر ایک نئی امت تشکیل دے رہے ہیں۔

ایک دفعہ اپنے خط بنام پنڈت جواہر لعل نہرو مورخہ 21 جون 1936ء میں انھوں نے قادیانیوں کے سیاسی رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے تحریر کیا، ”میرے ذہن میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں“۔ ایک جگہ انھوں نے فرمایا: ”ذاتی طور پر مجھے اس تحریک کے متعلق اس وقت شبہات پیدا ہوئے جب ایک نئی نبوت کی برتری کا دعویٰ کیا گیا اور تمام عالم اسلام کے کافر ہونے کا اعلان کیا گیا۔ بعدازاں میرے شبہات نے اس وقت مکمل بغاوت کی صورت اختیار کر لی، جب میں نے اپنے کانوں سے اس تحریک کے ایک رکن کو پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں نہایت نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے سنا“۔ ایک اور موقع پر انھوں نے قادیانی عقائد وعزائم کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے انجمن حمایت اسلام میں سے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ سمیت تمام قادیانیوں کو نکال باہر کیا تھا جس کا دکھ قادیانی اب تک نہیں بھولے۔

صفحہ 254
تازہ مرے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیٰ ﷺ، عقل تمام بولہب

النبیین ﷺ سے محبت وعقیدت واحترام کے مبارک عنوان سے سجا ہوا ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ السلام کا ذکر مبارک آتے ہی علامہ اقبالؒ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے۔ حالت غیر ہوجاتی، سرد آہیں بھرتے، رنگ زرد پڑ جاتا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپتے۔ آپ کے خادم خاص، علی بخش کہتے ہیں کہ حضرت علامہ کے احوال سحر خیزی کا بیان کیا کریں، خوف و خشیت الٰہی اور غلبہ محبت رسول ﷺ میں آنسوؤں کا نہ تھمنے والا سیل ہوتا۔ بسا اوقات قرآن مجید کے اوراق دھوپ میں خشک کرنا پڑتے۔ ڈاکٹر طاہر فاروقی اپنی کتاب ”اقبالؒ اور عشق رسول ﷺ“ میں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے آپ کی مجلس میں آقائے نامدار ﷺ کا اسم مبارک ذرا بے تکلفی سے لے لیا۔ بس کیا تھا۔ تلملا اٹھے! آنکھیں سرخ ہوگئیں کہ میرے آقا ﷺ کا نام مبارک بے تکلف کیوں لیا ہے؟ اس کم بخت کو اپنی مجلس سے اٹھا دیا۔ پھر پہروں روتے رہے۔

دے کر ”انجمن حمایت اسلام“ کے دروازے ان پر بند کر دیئے تھے، مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی، انجمن کا ممبر نہیں ہوسکتا تھا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں۔ ایک دفعہ علامہ اقبالؒ جنرل کونسل کے اجلاس عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہوکر اعلان فرمایا: ”مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہوسکتا، مرزا قادیانی کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج از اسلام ہیں“۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ قادیانی کرسی صدارت کے عین سامنے بیٹھا تھا، اس کے ساتھ ہی میاں امیر الدین فروکش تھے، حضرت علامہؒ نے ڈاکٹر یعقوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو!“ ڈاکٹر مرزا یعقوب لاہوری جماعت کا پیروکار تھا، حضرت علامہؒ کے اس اعلان سے تھرا گیا، کانپ اٹھا، جزبز ہوا، کچھ کہنا چاہا، حتیٰ کہ ان کا رنگ فق ہوگیا، حضرت علامہؒ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو بیک بینی و دوگوش نکال دیا گیا، اس کی طبیعت پر اس اخراج کا یہ اثر ہوا کہ بدحواس ہوگیا، دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آلیا اور اس صدمے کی تاب نہ لا کر جہنم واصل ہوا۔

صفحہ 255

قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ

عقیدۂ حیاتِ مسیح علیہ السلام یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور ان کا قربِ قیامت اس دنیا میں دوبارہ نازل ہونا مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے جو قرآن اور احادیث سے منصوص ہے۔ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ محدثین نے اپنی کتب حدیث میں ”نزول عیسیٰ ابن مریم“ کے عنوان سے مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ ہر دور میں اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔

1891ء میں مرزا قادیانی نے حیاتِ مسیح کا انکار کیا اور اپنے خود ساختہ الہام کی بنیاد پر وفات مسیح کا عقیدہ گھڑا اور خود مسیح موعود بن بیٹھا حالانکہ مرزا قادیانی نے جو پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے نام سے لکھی، اس میں قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کا ذکر کیا اور اس عقیدہ پر تقریباً 16 سال تک قائم بھی رہا۔ پھر یکا یک اپنے ”خاص الہام“ کی بنیاد پر وفات مسیح کا اعلان کر دیا۔ اس نے وفات مسیح کے موضوع پر ”فتح اسلام“ ، ”توضیح مرام“ اور ”ازالہ اوہام“ کے نام سے کتابیں لکھیں جن میں قرآن کریم کی تیس آیات میں معنوی تحریف کر کے تحریر کیا کہ ان آیات سے وفات مسیح کا ثبوت ملتا ہے۔ مرزا قادیانی کے ہمعصر علمائے کرام نے مرزا قادیانی کی مذکورہ کتابوں کا مدلل جواب دیا۔ بعض اہل علم نے مرزا قادیانی کو چیلنج دیا کہ ان کی کتابوں میں دیے گئے دلائل کو توڑنے اور بعض مصنفین نے تو دلائل توڑنے کا جواب دینے والوں کو انعام دینے کا اعلان بھی کیا لیکن نہ تو مرزا قادیانی کو جواب دینے کی ہمت ہوئی اور نہ کسی قادیانی ہی نے انعامی چیلنج کو قبول کیا اور یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے۔

ان کتابوں میں ”غایت المرام“ اور ”تائید الاسلام“ نامی کتابیں قابل ذکر ہیں جو مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی ”رحمۃ للعالمین ﷺ“ کے مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوریؒ نے رقم فرمائیں اور یہ کتب دراصل مرزا قادیانی کی تصانیف فتح الاسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام کا مدلل جواب تھیں۔ انھوں نے مرزا قادیانی کے پاس اپنی مذکورہ کتابیں اس خلوص نیت سے بھیجیں کہ اس کی اصلاح ہو سکے۔ قاضی صاحب مرحوم نے مناظرہ بازی کے بجائے علمی مکالمہ کا راستہ اپنایا۔ کتاب کے ساتھ ایک پیش گوئی بھی لکھ کر روانہ کی۔ انھوں نے لکھا:

صفحہ 256

”چونکہ آپ پیش گوئیاں بہت کرتے ہیں اس لیے بہ توفیق الٰہی، میں بھی تین باتیں لکھ دیتا ہوں:

قاضی صاحب مرحوم کی اُن پیش گوئیوں پر دوستوں نے ردوقدح کی تو فرمایا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہوگا۔ پھر احباب کو ایک خواب سنایا کہ:

”حضرت سیدنا امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کو دیکھا کہ ایک حوض میں ہیں، میں نے قریب جا کر سلام کیا تو انھوں نے پانی کے چھینٹے مجھ پر پھینکے۔ میں نے عرض کیا کہ شہزادو! میں آپ کے خاندان کے غلاموں کے غلاموں سے بھی کمتر ہوں۔ یہ شوخی کیسی؟ فرمایا سلمان! یہ شوخی نہیں، عطا ہے۔ ہم جس حوض میں ہیں، اس کے چند چھینٹے تمھیں عطا کر رہے ہیں۔ یہ ’غایت المرام‘ لکھنے کا انعام ہے۔ ہماری طرف سے تم بھی اس کو (مرزا قادیانی کو) تین پیشگوئیاں کر دو۔ وہ بھی پیشگوئیاں کرتا رہتا ہے“۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مرزا قادیانی پندرہ سال زندہ رہا لیکن جواب لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ حج ہی نصیب ہوا اور مرزا کی موت بھی پہلے واقع ہو گئی۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں بھی (حسنین کریمینؓ کے) اس حوض کے چند چھینٹے عطا فرمائے! آمین!)

میں حضرت رسول مقبول ﷺ کی زیارت بابرکت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”کوئی قادیانی اس کتاب کا جواب نہ دے سکے گا“ اور ہوا بھی یہی کہ بارہا یہ کتاب شائع ہو چکی ہے مگر آج تک کوئی قادیانی اس کا جواب نہ دے سکا، حالانکہ قادیانی جواب دینے میں بہت تیز سمجھے جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی ایرا غیرا قادیانی ہی جواب دے دے تو؟ اس پر فرمایا کہ کوئی ایسا بھی نہیں کر سکتا کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ کوئی اس کا جواب نہ دے سکے گا۔ آج تک یہ بات دُرست ہے اور قیامت تک دُرست رہے گی۔

(سیرت النبی ﷺ بعد از وصال النبی ﷺ از محمد عبدالمجید صدیقی ایڈووکیٹ)

صفحہ 257

مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علمی اور روحانی طور پر وہ اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی۔ 1952ء میں آپ حج پر تشریف لے گئے۔ مدینہ منورہ جا کر روضہ اقدس پر حاضر ہو کر مراقب ہوئے اور حضوری میں رہنے کی اجازت چاہی۔ رات کو حضور سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی اور حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عبداللہ ! تم یہاں آگئے ہو؟ پاکستان واپس چلے جاؤ (کیونکہ حضرت کا ارادہ تھا کہ بقایا عمر دیار حبیب ہی میں گزار دیں) کیونکہ وہاں میری ختم نبوت پر کتے حملہ آور ہورہے ہیں، تم میری ختم نبوت کی حفاظت کرو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمھارے کام سے میں گنبد خضرا میں بہت خوش ہوں ۔ ڈٹے رہو! اس کام کو خوب کرو، میں تمھارے لیے دعا کرتا ہوں“۔

حضرت درخواستی حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے۔ شاہ جی چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا، شاہ جی تڑپ کر نیچے گر گئے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے درخواستی صاحب میرے آقا ومولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی صاحب کے اثبات میں جواب دینے پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔

کچھ عرصہ کے بعد دہلی دروازہ لاہور میں شاہ جیؒ کی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر ہوئی ۔ تقریر کے دوران میں ایک بار والہانہ جھوم کر فرمایا ”میں تو پہلے ہی اللہ کے فضل سے باز آنے والا نہیں تھا مگر اب تو ”سوہنے“ یعنی محبوب کا پیغام آ گیا ہے۔ ہاں ہاں میرا سب کچھ ختم نبوت کی حفاظت پر قربان ہو جائے تو کچھ پروا نہیں“۔

”میرے محترم بزرگو! اور بھائیو! خاتم الانبیا کی تفسیر کا پتہ میدان محشر میں چلے گا......! جب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سوا کسی پیغمبر سے شفاعت کا حاصل ہونا ناممکن ہوگا ۔ ختم نبوت کی حفاظت اسلام کی حفاظت ہے، اور اسلام کی حفاظت جہاد اکبر ہے، اور جو اس راستے میں جدوجہد کرے، وہ غازی اور جو تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں جدوجہد کرتا ہوا مر جائے، وہ شہید ہے۔ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت نبوی ﷺ کے حصول کا قریب ترین راستہ ہے“۔

صفحہ 258

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک نے اس سلسلہ میں اپنی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور سخت لہجے میں پیغام بھیجا کہ حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے باز رہے، ورنہ اس کا حشر عبرتناک ہوگا۔ جناب بھٹو اس پر بے حد پریشان ہوئے۔ تحریک کے قائد حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ سے ایک ملاقات میں جناب بھٹو نے دبے لفظوں میں اپنی اس پریشانی کا اظہار بھی کیا جس پر حضرت بنوریؒ نے بھٹو صاحب کو یقین دلایا کہ وہ اس کے توڑ کے لیے عرب ممالک سے درخواست کریں گے۔ چنانچہ اس ساری صورت حال کو واضح کرنے کے لیے آپ کے حکم پر ایک وفد اسلامی سربراہان سے ملاقات کے لیے عرب ممالک بھیجا گیا جس کی قیادت حضرت مولانا عبداللہ درخواستی کر رہے تھے۔

وفد جب سعودی عرب پہنچا تو اس نے شاہ فیصلؒ سے ملاقات کی اور انھیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ جناب شاہ فیصلؒ نے اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ بعد ازاں وفد نے عمرہ کی سعادت حاصل کی اور مدینہ طیبہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کے روضۂ اقدس پر حاضری دی اور تحریک کی پوری رپورٹ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت مولانا درخواستی فرماتے ہیں کہ اسی دن رات کو پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے مجھے تحریک کی کامیابی کی خوشخبری دی اور فرمایا عبداللہ! پاکستان جا کر اعلان کرو کہ جس شخص نے بھی میری ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دامے، درمے، قدمے سخنے حتیٰ کہ کسی بھی طریقے سے تھوڑا یا زیادہ کام کیا، اللہ تعالیٰ نے سب کی بخشش فرما دی ہے‘‘۔

مولانا عبداللہ درخواستی واپس پاکستان تشریف لائے اور بادشاہی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس (منعقدہ یکم ستمبر 1974ء) سے خطاب کرتے ہوئے اپنا یہ سارا خواب من وعن بیان کیا تو لوگ خوشی و مسرت سے تشکر کے آنسوؤں کے ساتھ رونے لگے۔

مولانا سیّد محمد علی مونگیریؒ

مولانا سید محمد علی مونگیریؒ بانی و ناظم اوّل ندوۃ العلما ایک جلیل القدر عالم، عظیم المرتبت مبلغ، شیخِ طریقت، ایک عالی مقام عارف و سالک اور صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انھوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتب اور رسائل تصنیف کیے ہیں۔ انھوں نے تحفظ ختم نبوت کے کام کو وقت کا افضل

صفحہ 259

ترین جہاد قرار دیا۔ اس کام کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کیا، بڑی دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو اس کام کی اہمیت سمجھائی۔

آپؒ کا زیادہ تر وقت وظائف، عبادات و مجاہدات میں گزرتا تھا، انھوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویا میں حضور سرور کائنات، فخر موجودات، خاتم الانبیا ﷺ کے دربارِ عالی میں پیش ہوا، نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کیا، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’محمد علی! تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو، اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر رہے ہیں، تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو‘‘۔

حضرت مولانا رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اس مبارک خواب کے بعد نمازِ فرض، تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیے، دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہوگیا‘‘۔

اسی درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا، مراقبے میں مولاناؒ کو یہ القا ہوا کہ ’’یہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تُو ساکت ہے، اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب دو گے؟‘‘ (سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ص 297)

مولانا مونگیریؒ کو فتنۂ قادیانیت کی سنگینی کا پوری شدت سے احساس تھا اور اکثر کہا کرتے تھے:

تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے‘‘۔

مولانا کا معمول تھا کہ رات کے پچھلے پہر 3 بجے کے قریب تہجد کے لیے اٹھ جاتے تھے۔ بعدازاں تہجد کا وقت بھی مولانا نے رد قادیانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اکثر یہ وقت تصنیف و تالیف میں گزرتا۔ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ مولانا تہجد چھوڑ کر فتنہ قادیانیت کی تردید پر کتابیں لکھا کرتے تھے۔

مولوی نظیر احسن صاحب بہاری جن کا خط پاکیزہ تھا، صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ مولانا مونگیریؒ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودات صاف خوشخط کر کے دوبارہ لکھیں۔ وہ دونوں پیروں سے مفلوج تھے۔ اگر کبھی مسودات صاف کرنے میں تاخیر ہو جاتی تو مولانا ان سے فرماتے: محنت سے کام کرو، تمھیں جہاد کا ثواب ملے گا۔ ایک مرتبہ مولوی صاحب نے

صفحہ 260

پوچھا کہ: کیا مجھ کو جہاد بالسیف کا ثواب ہوگا؟

فرمایا: ”بے شک! فتنہ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں“۔

اور کون نہیں جانتا کہ جہاد بالسیف کا اجر جنت ہے۔

ہندوستان بھر میں اس وقت حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے لاکھوں مرید تھے۔

ایک دفعہ آپ نے یہ اعلان فرمایا:

”میرا ہر مرید اپنے اپنے علاقہ میں ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے دن رات کام کرے۔ دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے یہ کام سب سے بڑا مقبول اور مجرب وظیفہ ہے۔ میرا جو مرید تحفظ ختم نبوت کے کام میں سستی یا غفلت برتے گا، وہ میری بیعت سے خارج سمجھا جائے گا“۔

حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ

عمدۃ المحققین، زبدۃ العارفین، بقیۃ السلف حضرت مولانا عبدالقادرؒ رائے پوری کو حفاظتِ ختم نبوت اور تردید مرزائیت میں اس قدر شغف تھا کہ آپ کی مجلس میں عموماً قادیانیت کی اسلام دشمنی کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ جب بھی حضرت کی مجلس میں حضرت امیر شریعتؒ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی، مولانا محمد حیاتؒ یا مولانا لال حسینؒ اختر حاضر ہوتے تو حضرت اقدس ان حضرات کو فرماتے کہ ختم نبوت، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور تکذیب مرزا کے دلائل بیان کیجیے، تاکہ حاضرین مجلس ان دلائل کو اپنے ذہنوں میں محفوظ کر کے تردید مرزائیت کی جدوجہد میں حصہ لے سکیں۔

حضرت نے اپنے وصال سے پندرہ دن پہلے مولانا لال حسینؒ صاحب اختر سے فرمایا کہ مجھے آپ سے، مولانا محمد علیؒ سے اور مولانا محمد حیاتؒ سے بہت زیادہ پیار ہے کیونکہ آپ ختم نبوت کی حفاظت کا کام کرتے ہیں۔ مولانا لال حسینؒ صاحب اختر نے عرض کیا کہ حضرت! پڑھنے کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔ حضرتِ والا نے فرمایا ”آپ روزانہ کچھ درود شریف پڑھ لیا کیجیے۔ آپ کے لیے وظیفہ یہ ہے کہ ختم نبوت پر وعظ کیا کریں۔ یہ چھوٹا وظیفہ نہیں، بہت بڑا وظیفہ ہے۔ پورے دین کا مدار حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ہے“۔ مولانا لال حسین اختر کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد میں پھر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت سے پھر درخواست کی کہ مجھے دنیا و آخرت میں کامیابی کا کوئی زبردست وظیفہ بتائیے۔

صفحہ 261

آپ نے فرمایا: ختم نبوت کا کام کرتے رہو۔ ختم نبوت کی حفاظت ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے‘‘۔

کہ ایک بار تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے میری کچھ بحث چل پڑی، اس میں کچھ تلخی کی باتیں بھی ہوگئیں۔ دوسرے روز حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری وضو فرمانے لگے تھے کہ ان صاحب نے میری شکایت کی۔ حضرت وضو سے رک گئے اور رنجیدہ لہجہ میں فرمایا: ’’مجھ سے ان حضرات کی شکایت نہ کیا کرو۔ آج کے زمانہ میں حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر ان کی طرح جان نثار کرنے والا کون ہے؟ حضور ﷺ کی محبت میں ان کو میں صحابہؓ کے نقشِ قدم پر دیکھ رہا ہوں، آئندہ کوئی اس جماعت کی مجھ سے شکایت نہ کرے‘‘۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ آسمانِ ولایت پر آفتابِ عالمتاب بن کر چمکے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بے شمار کمالات اور سعادات سے نوازا تھا۔ ان کی علمی و روحانی شہرت بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت ختم نبوت کے مجاہد تھے۔ فتنہ قادیانیت کی تردید میں دن رات ایک کیا۔ قید و بند سے بھی گریز نہ فرمایا۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ نبی آخرالزمان ﷺ کی حرمت کے لیے جیل جانا کیا، اگر سر کٹانے کی نوبت بھی آئے تو میں اسے اپنے لیے عین سعادت سمجھوں گا۔

ایک دفعہ مولانا تاج محمودؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ، حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ کی خدمت میں حاضر تھے۔ دورانِ گفتگو ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آ گیا۔ حضرت لاہوریؒ نے فرمایا کہ:

’’میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں‘‘۔

اور پھر فرمایا:

’’میں کیا ان سے تو خود سرکارِ دو عالم ﷺ محبت فرماتے ہیں‘‘۔

’’میں مرکزی حکومت سے کہتا ہوں کہ یہ حکومتی عہدے کوئی چیز نہیں، خدا سے اپنا معاملہ درست رکھو۔ آج کسی کا ہارٹ فیل ہو جائے تو قبر میں اگر پوچھا گیا کہ ختم نبوت کے

صفحہ 262

لیے کیا کیا تھا؟ تو کیا جواب دو گے؟ وہاں تو قادیانیوں کی دوستی کام نہیں آئے گی۔ وہاں مرزائیوں کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ حکومتی عہدیداروں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر مرزائیوں کی حمایت کرو گے تو قبر جہنم کا گڑھا بنے گی‘۔

ہم نے بنیادِ دوستی رکھی یادِ خیر البشر ﷺ کے رشتے سے

تقریر کے ذریعے اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تحفظِ ختم نبوت کے سپاہیوں سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ خصوصاً سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے انتہائی محبت تھی۔ شاہ جی جیل میں ہوتے یا سفر و حضر میں، ہمیشہ اپنے احباب سے ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے۔ مولانا عبیداللہ انورؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپؒ نے فرمایا: محشر کا دن ہوگا، رحمتِ دو عالم ﷺ جلوہ افروز ہوں گے۔ صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے۔ بخاریؒ آئے گا، حضور نبی کریم ﷺ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاریؒ تیری ساری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری، آج میدانِ حشر میں تیرا شفیع میں ہوں، تیرے لیے کوئی باز پرس نہیں، جا! اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے اور تیری جماعت کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں۔ جس طرف سے چاہو، کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔

میں مدعو تھے۔ لیکن آپ کی طبیعت سخت علیل تھی۔ بہرحال وعدہ کے مطابق کانفرنس میں تشریف لائے۔ چارپائی پر آپ کو سٹیج پر لایا گیا۔ اپنے خطاب میں فرمایا:

’’لوگو! میں سخت بیمار ہوں، ڈاکٹروں نے سفر کرنے اور تقریر کرنے سے سختی سے منع کیا ہوا ہے لیکن یہ حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہے، آپ ﷺ کی عزت و ناموس کا سوال ہے۔ میں کسی حال میں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ کانفرنس میں محض اس لیے آ گیا ہوں کہ شاید قیامت کے دن اس عمل کی بدولت نجات ہو جائے‘‘۔

نبوت سے کچھ روز قبل جمعہ کی تقریر میں حکمرانوں کو للکار کر فرمایا:

’’میں خواجہ ناظم الدین وزیرِ اعظم پاکستان اور میاں ممتاز دولتانہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ تمہاری غیرتِ اسلامی اور حمیتِ دینی کو کیا ہو گیا ہے؟ تم مسلمان حکمران ہو؟

صفحہ 263

تمہاری حکومت میں رسالت مآب ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ختم نبوت کے انکار کرنے والے قادیانی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، قرآن پاک اور حدیث رسول ﷺ کی توہین کر رہے ہیں مگر تم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ تم انہیں مسلمانوں سے علیحدہ نہیں کرتے، انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے مطالبہ کو نہیں مانتے۔ کیا تمہیں مرنا نہیں؟ خدا کے حضور کیا جواب دو گے؟ پھر فرمایا! مرزا قادیانی کہتا ہے کہ جو مجھے نبی تسلیم نہیں کرتے، وہ جنگلی سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیاں ہیں۔ میں خواجہ ناظم الدین اور دولتانہ سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم بھی مرزائی ہو؟ اگر نہیں تو مرزا قادیانی کے کہنے پر تم بھی جنگلی سور اور تمہاری عورتیں کتیاں ہیں۔ پھر بھی تمہیں غیرت نہیں آتی۔ فحش گالیاں دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے، مسلمان تو غیرت مند ہوتے ہیں۔‘‘

حکمراں ہو کے بھی تم غیر کے محکوم رہے
غیرت تاج ملی مگر تاج سے محروم رہے

امیر شریعت سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ

امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ ایک عالم باعمل، بے باک و نڈر اور محبت رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال ایک خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ شاہ جی بلاشبہ برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے خطیب تھے۔ ان کی پوری زندگی تحفظ ختم نبوت میں گزری۔ اس مقدس مشن کی خاطر بقول خود ان کی آدھی زندگی جیل میں اور آدھی ریل میں گزری۔

معروف ادیب جناب مختار مسعود اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’آواز دوست‘‘ میں لکھتے ہیں:

آنکھوں پر بٹھایا اور خواص نے اُن سے ہمیشہ خم کھایا۔ میں نے اُن کی تقریر کبھی نہیں سنی مگر اس کی تعریف اکثر سنتا رہتا ہوں اور سوچتا تھا کہ وہ خطابت کس پائے کی ہوگی جسے مولانا محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور بہادر یار جنگ کا زمانہ ملا، پھر بھی وہ سب پر بھاری رہی۔ مولانا محمد علی علی گڑھ اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے، ابوالکلام آزاد الہلال نکالتے اور امام الہند کہلاتے تھے۔ بہادر یار نواب اور جاگیردار تھے۔ شاہ جیؒ کے پاس کیا رکھا تھا؟ پٹنہ میں داغ یتیمی، بنارس میں ورق کوٹنے کی مشقت اور امرتسر میں ایک چھوٹی سی مسجد کی امامت، اس کے باوجود شاہ جیؒ کو جس نے سنا، اس نے یہی کہا ؎

صفحہ 264
چہ جادو ئیست ندانم بطرزِ گفتارش
کہ بازبستہ زبانِ سخن طرازاں را“

لیے مکہ مکرمہ گیا۔ میری ملاقات ایک ولی اللہ مولانا خیر محمد صاحب سے ہوئی جو بہاولپور میں رہتے تھے۔ سارا دن اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور شام کو طالبعلموں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا خیر محمد صاحب نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بیت اللہ کا طواف ہو رہا ہے، حضرت آدم علیہ السلام طواف کر رہے ہیں، حضرت خلیل اللہ علیہ السلام طواف کر رہے ہیں، حضرت کلیم اللہ علیہ السلام طواف کر رہے ہیں، حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام موجود ہیں، انبیائے کرام علیہم السلام کی ایک بڑی جماعت طواف کر رہی ہے اور پیچھے پیچھے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ چل رہے ہیں۔ مولانا خیر محمد صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ شاہ جیؒ! یہ مرتبہ کیسے ملا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف، تو شاہ جیؒ فرمانے لگے، بس اللہ تعالیٰ نے یوں کریمی فرما دی کہ عطاء اللہ شاہؒ تم نے میرے محبوب ﷺ کی ختم نبوت کے لیے زندگی جیل میں کاٹ دی۔ مصیبتوں اور دکھوں میں گزار دی، اب آ، نبیوں کے ساتھ طواف کی سعادت حاصل کر۔

میں مجھے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زیارت ہوئی۔ میں نے پوچھا شاہ جی! فرمائیے قبر کا معاملہ کیسا رہا؟ شاہ صاحب نے فرمایا کہ بھائی یہ منزل بہت ہی مشکل ہے، آقائے نامدار ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کی برکت سے معافی مل گئی۔

کے بہت بڑے محدث اور استاذ الانام ہیں، نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جماعت صحابہؓ کرام میں تشریف فرما ہیں۔ حضور پاک ﷺ کی خدمت میں ایک دستار مبارک لائی گئی۔ حضرت محمد ﷺ نے جناب صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ ”اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو، میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لیے بہت سارا کام کیا ہے“۔ مولانا فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے خود یا اور کسی صحابیؓ کو کیوں حکم

صفحہ 265

نہ دیا کہ بخاری صاحب کے سر پر دستار باندھ دو، بلکہ حضرت ابوبکر صدیق کو حکم دیا۔ یہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ سب سے پہلے ختم نبوت کا تحفظ مسیلمہ کذاب کے زمانہ میں حضرت صدیق اکبر نے کیا تھا۔ اب پاکستان میں مسیلمۂ پنجاب کا مقابلہ اور ختم نبوت کا تحفظ بخاری صاحب نے کیا۔ گویا ختم نبوت کا ایک محافظ، ختم نبوت کے دوسرے محافظ کو دستار بندی کرادے۔

متزلزل کرنے والے، سحر خطابت اور عمل پیہم سے ایمان کی روشنی پھیلانے والے مرد حق آگاہ، حضرت امیر شریعتؒ نے 1950ء میں ختم نبوت کی حفاظت کے متعلق تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

جی نہیں چوری کا حوصلہ کرے گا، میں اس کے گریبان کی دھجیاں بکھیر دوں گا۔ میں میاں ﷺ کے سوا کسی کا نہیں نہ اپنا نہ پرایا، میں انہی ﷺ کا ہوں، وہی میرے ہیں، جن کے حسن و جمال کو خود رب کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ہو، میں ان ﷺ کے حسن و جمال پر نہ مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے ان پر جو ان ﷺ کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں (چوروں) کی خیرہ چشمی کا تماشہ دیکھتے ہیں۔‘‘

کرتے ہوئے کہا:

’’مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین رسالت ﷺ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انھیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دو۔ عزیزو نوجوانو! تمھارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضرا کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کُتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز حضرت محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر توہین رسالت ﷺ کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں۔‘‘

مشہور ادیب ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں کہ اس روز پانی اور آگ یعنی سرد آہوں اور گرم آنسوؤں کے ملاپ سے ان کی تقریر ڈھل رہی تھی۔ شاہ جیؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’آج آپ لوگ جناب فخر رسل رسول عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آج اس جلیل القدر ہستی کی عزت معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ آج کوئی روحانیت کی آنکھ سے دیکھنے والا ہو تو دیکھ

صفحہ 266

سکتا ہے کہ اس دروازے پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟‘‘ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہؓ دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں؟ (یہ سن کر مجمع پلٹا کھا گیا۔ مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے) تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد میں رسول اللہ ﷺ مضطرب ہیں۔ آج حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ تمھارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟ آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ ﷺ حمیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ جنھوں نے سید عالم ﷺ کی رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کے ناموس کی خاطر جانیں دے دو تو کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے۔ یاد رکھو! جس روز یہ موت آئے گی، پیام حیات لے کر آئے گی۔ اگر کچھ پاس رسالت ﷺ ہے تو ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرو‘‘۔ یہ کلمات اہل ایمان بالخصوص غازی علم الدین شہیدؒ کے دل کی دھڑکنوں میں ڈھل گئے۔

تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا:

بچے گا۔ جڑ کو گھن لگے تو شاخ اور پتیاں سلامت نہیں رہتیں۔ عقیدے کو درخت سمجھو۔ جب تک جڑ مضبوط نہ ہو، درخت بار آور نہیں ہو سکتا۔ اب وہ ماں مر گئی ہے جو نبی جنا کرتی تھی۔ مشاطہ ازل نے حضرت محمد ﷺ کی زلفوں میں وہ کنگھی ہی توڑ ڈالی جو زلف نبوت سنوارا کرتی تھی۔ اب زمانے کے یہ کنڈل یونہی رہیں گے لیکن کسی کنگھی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئیے ہمارے ساتھ تعاون کیجیے، ایک دن ہماری بات پورے مسلمانوں کی آواز بن جائے گی، جسے حکومت کو بھی سننا پڑے گا۔ ہمیں اپنے خدا پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ ہم بھی حالات بدل کر دکھا دیں گے۔ ایک وقت آئے گا کہ جو کچھ آج ہماری زبان پر ہے، پورے مسلمانوں کے دل کی آواز اور دھڑکن ہوگا۔ بس میری مانو! حضور نبی کریم ﷺ کے دیوانے بن جاؤ۔ اس معاملے میں عقل کو جواب دے دو کہ یہ عقل کا نہیں، عشق کا معاملہ ہے۔ صحابہؓ کرام بھی صحیح معنوں میں دیوانگان محمد ﷺ تھے۔ تبھی پوری دنیا پر چھا گئے‘‘۔

صفحہ 267

آپ کو پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ عربی زبان میں لا ”نفی جنس“ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی لا جس چیز پر وارد ہوتا ہے اس چیز کی مکمل نفی کر دیتا ہے۔ وہ چیز کسی شکل کسی حالت میں باقی نہیں رہتی ہے۔ لا رجل فی البیت، مکان میں کوئی مرد نہیں ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ مرد جنس کی جتنی حالتیں اقسام اور صورتیں ہو سکتی ہیں، ان میں سے کسی بھی صورت میں مرد کا وجود نہیں ہے۔ یعنی لڑکا، نوجوان ، بوڑھا کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ اس جنس کی مکمل نفی ”لا“ سے ہوگئی ہے۔...... آپ نے مزید وضاحت فرماتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا...... آپ نے دیکھا ہوگا۔ ”لا“ تلوار کی طرح ہوتا ہے اور تلوار کا کام کاٹنا ہے جو سامنے آئے گا، کٹ جائے گا۔ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر آپ نے کلمہ طیبہ میں ”لا“ کا ذکر فرمایا اور کہا....... جب اللہ نے دیکھا کہ دنیا میں بے شمار الہ پیدا ہو گئے ہیں تو اس نے ”لا“ کا حکم فرمایا، ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ”لا“ کی تلوار چلی جو بھی خود ساختہ الہ سامنے آیا، اسے ختم کر دیا۔ لا تو اللہ پر وارد ہو جاتا لیکن اللہ پاک نے فوراً اس کے ساتھ الا کا کلمہ لگا دیا۔ الا نے تحفظ کیا، لا کا کام ہی خاتمہ کرنا ہے اور ہر شکل میں کرنا ہے۔ پھر آپ نے الم ذالک الکتب لاریب فیہ کا ذکر فرمایا کہ یہاں بھی لا نے شک و شبہ کی جتنی بھی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ سب کی نفی فرمائی ہے۔ یعنی قرآن پاک وہ کتاب ہے جس کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ جس نے قرآن پاک نازل فرمایا جس کے ذریعہ نازل فرمایا۔ جس پر نازل فرمایا۔ جس نے لوگوں تک پہنچایا، کسی موقع پر کسی بھی صورت میں اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مثالیں آپ پر لا کے صحیح مفہوم کو پہنچانے کے لیے دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح جب نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ انا خاتم النبیین لانبی بعدی۔ تو مسئلہ حل ہو گیا۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ جھوٹا ہے“۔

”مسلمانو! ختم نبوت کے عقیدہ کو یوں سمجھو جیسے یہ ایک مرکز دائرہ ہے جس کے چاروں طرف توحید، رسالت، قیامت، ملائکہ کا وجود، صحف سماوی کی صداقت، قرآن کریم کی حقانیت و ابدیت، عالم قبر و برزخ، یوم النشور یوم الحساب گردش کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دین نہیں بچے گا، بات سمجھ میں آئی؟ مزید

صفحہ 268

سمجھیے، جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں، اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور رسالت پناہ ﷺ کے وجود مسعود پر ختم ہو جاتا ہے۔ آپ کی نبوت ورسالت وہ مہر درخشاں ہے جس کے طلوع کے بعد اب کسی روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی، سب روشنیاں اسی نور اعظم ﷺ میں مدغم ہوگئی ہیں جبھی تو مخبر صادق ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر آج موسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں زندہ ہوتے تو انھیں بھی بجز میری اتباع کے چارۂ کار نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی طرح امتی اور خلیفہ کی حیثیت سے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبرؓ کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے‘‘۔

۞ ’’ساری باتوں کو چھوڑیے، لاہور والو! کوئی ہے!‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا، ’’جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی، اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو۔ اس سے کہو، ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں، ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں کوئی سؤر ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سؤروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لیے بھی تیار ہے مگر شرط صرف یہ ہے کہ رسول اللہ فداہ ابی وامی کی ختم رسالت ﷺ کی حفاظت کا قانون بنا دے۔ کوئی آقا ﷺ کی توہین نہ کرے، آپ ﷺ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے‘‘۔ شاہ جی بول رہے تھے اور مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ چشم فلک نے اس جیسا سماں بھی کم دیکھا ہوگا۔ عوام و خواص سب رو رہے تھے۔ شاہ جی پر خاص وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت ﷺ کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلہ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمد ﷺ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
صفحہ 269
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو ضیا بخشی ہے

”دنیا میں چار قیمتی چیزیں محبت کے قابل ہیں: مال، جان، آبرو اور ایمان۔ لیکن...... جب جان پر کوئی مصیبت آئے تو مال قربان کرنا چاہیے اور آبرو پر کوئی آفت آئے تو مال اور جان دونوں کو اور اگر ایمان پر کوئی ابتلا آئے تو مال، جان، آبرو سب کو قربان کرنا چاہیے اور اگر ان سب کے قربان کرنے سے ایمان محفوظ رہتا ہے تو یہ سودا سستا ہے“۔

ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

”مرزائیوں کو میں دعوت فکر دیتا ہوں، وہ غور کریں اور اپنے مدعی نبوت اور اس کے خاندان کی فرنگی نوازی دیکھیں کہ یہ انگریز کا درباری نبی کس طرح ہندوستان میں انگریز افسروں کے دربار میں اپنی اور اپنے باپ دادا کی خدمات کے حوالے سے اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے لجاجت، منت و سماجت اور سراپا حاجت بن کر یقین دہانیاں کرتا ہے۔ ظالم تم نے اگر نبوت کا دعویٰ کر ہی لیا تھا اور تم اپنے تئیں نبی بن ہی بیٹھے تھے تو کم از کم اس کے نام و منصب کا وقار ہی قائم رکھا ہوتا اور فرنگی کی چوکھٹ پر جبہ سائی نہ کرتے۔ اپنی جبین نیاز کو عدو اللہ فرنگی کی خاک نجس سے آلودہ نہ کرتے:

”اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا“

تجھ سے تو سابق کذاب و دجال مدعیان نبوت ہی بہتر تھے جنھوں نے دعوائے نبوت کے بعد مسلمان بادشاہوں کے درباروں کی راہ تک نہ دیکھی۔ ان کا بھی ایک وقار تھا مگر تجھ سا بے حمیت خطۂ ارضی پر کوئی دوسرا نہیں“۔

”تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قد و قامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کردار کی موت تھا۔ جھوٹ اس کا شیوہ تھا۔ معاملات کا درست نہ تھا۔ بات کا پکا نہ تھا۔ بزدل اور کمزور تھا۔ مسلک کا ٹوڈی تھا۔ تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری نہ بھی ہوتی۔ وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قویٰ میں تناسب ہوتا، چھاتی 45 انچ ہوتی، کمر ایسی کہ سی آئی ڈی کو بھی پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کردار کا

صفحہ 270

آفتاب ہوتا، خاندان کا مہتاب ہوتا، شاعری میں فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اور فیضی اس کا پانی بھرتے، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپئر ہوتا اور اردو کا ابوالکلام ہوتا، پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟؟؟

میں تو کہتا ہوں کہ خواجہ غریب نواز اجمیریؒ، شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ، امام ابوحنیفہؒ، امام بخاریؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، ابن تیمیہ، امام غزالیؒ یا حسن بصریؒ بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہم انھیں نبی مان لیتے؟ اگر علیؓ دعویٰ کرتے کہ جسے تلوار حق نے اور بیٹی نبی ﷺ نے دی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروق اعظمؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انھیں نبی مان لیتا؟ ہرگز نہیں، حضور ﷺ کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کر سکے، وہ ایک ہی ہے جس کے دم قدم سے کائنات میں نبوت سرفراز ہوئی‘‘۔

عزت و ناموس پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ آج محمد عربی ﷺ کی آبرو پر کمینے اور ذلیل قسم کے انسان حملہ آور ہیں۔ یاد رکھو! محمد ﷺ ہے تو خدا ہے، محمد ﷺ ہے تو قرآن ہے، محمد ﷺ ہے تو دین ہے۔ محمد ﷺ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم محمد ﷺ کی بے حرمتی کرنے والی کسی تحریر کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم یقیناً ہر اس اخبار کو جلائیں گے جو رسول اللہ ﷺ کی ذات پر حملہ کرے گا۔ ہم حضور ﷺ کے نام لیوا ہیں۔ حضور اقدس ﷺ کا ہر دشمن، ہمارا بدترین دشمن ہے۔ میری گردن تو آج بھی تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر پھانسی لگنے کو تڑپتی ہے۔ میں تمام مسلمانوں سے مخاطب ہوں کہ تم حضور اکرم ﷺ کی آبرو کی حفاظت کرو تو میں تمھارے کتے بھی پالنے کو تیار ہوں اور اگر تم نے حضور ﷺ سے بغاوت کی تو پھر میں تمہارا باغی ہوں۔ میں محمد ﷺ کے نام پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں‘‘۔

بیٹوں کو بھی سلامت رکھے، مگر بیٹی سے مجھے محبت بہت ہے۔

اس نے کئی بار مجھے کہا:

ابا جی! اب تو اپنے حال پر رحم کریں، آپ کو چین کیوں نہیں آتا، کیا آپ سفر کے قابل ہیں، چلنے پھرنے کی طاقت آپ میں نہیں رہی، کھانا پینا آپ کا نہیں رہا، یہ آپ کا حال

صفحہ 271

ہے، کیا کر رہے ہیں آپ؟ میں نے کہا:

تم نے میری دُکھتی رگ پکڑی ہے، میں تمھیں کس طرح سمجھاؤں؟ بیٹا! تم بہت خوش ہوگی اگر میں چار پائی پر مروں؟ میں تو چاہتا ہوں کسی کے گلے پڑ کے مروں۔ تم اس بات پہ راضی نہیں کہ میں باہر نکلوں میدان میں، اور یہ کہتا ہوا مر جاؤں......

لَا نَبِيَّ بَعْدَ مُحَمَّد، لَا رَسُوْلَ بَعْدَ مُحَمَّد، لَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّةِ مُحَمَّد (ﷺ)

بیٹا! دعا کرو۔ عقیدۂ ختم نبوت بیان کرتے ہوئے اور کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے مجھے موت آجائے۔

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدَهُ“۔

(راولپنڈی میں جلسۂ عام سے خطاب، 1956ء) (سیدی و ابی از محترمہ سیدہ ام کفیل بخاری)

بدزبانی کی اور گالیاں بکیں۔ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اس سے بھی زیادہ بدسلوکی ہوتی تو ہماری سعادت ہوتی۔ اگر تمہاری اماں اور بہن کو سڑک پر گھسیٹ کر لاتے اور ان کو مارتے تو میں سمجھتا کہ تحفظ ختم نبوت کا کچھ حق ادا ہوا۔ اللہ کے دین کے کاموں میں سختیاں اور امتحانات نہ آئیں اور مار نہ پڑے، یہ ہو نہیں سکتا۔ دین کا کام کرو گے تو مار بھی پڑے گی۔ اس کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھو۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ نبی خاتم ﷺ جیسی رؤف و رحیم ہستی کو دین کے نام پر کتنی تکالیف اٹھانی پڑیں۔ جانتے نہیں! آپ ﷺ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو زخمی کیا گیا اور اسی زخم سے وہ شہید ہوئیں۔ ہماری کیا حیثیت ہے؟ اس لیے صبر کرو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس حقیر سی قربانی کو قبول فرمائے‘‘۔

(سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی اپنے بڑے بیٹے...... سید ابوذر بخاریؒ کو فہمائش، 1953ء)

(سیدی و ابی از محترمہ سیدہ ام کفیل بخاری)

ایک قدرتی امر تھا۔ کئی لوگ ان شہدا کے متعلق جو اس تحریک ناموسِ ختم نبوت پر قربان ہو چکے تھے، یہ سوال کرتے کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہ جی نے لاہور کے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا:

ہوں، وہ عشق رسالت مآب ﷺ میں مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں

صفحہ 272

جذبہ شہادت میں نے پھونکا تھا۔ جو لوگ ان کے خون سے اپنا دامن بچانا چاہتے اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا۔ وہ عشق نبوت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خانوں کی بھینٹ چڑھ گئے، لیکن ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی سات سو حفاظِ قرآن اسی مسئلہ کی خاطر شہید کروا دیے تھے“۔

شاہ جی نے مزید فرمایا:

عرض کروں گا کہ یارسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے خوش نصیبوں کا مقصد صرف اور صرف آپ ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ تھا، اس طرح 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والوں کا مقصد بھی صرف اور صرف آپ ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ تھا۔ لہٰذا یارسول اللہ ﷺ! میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ تحریک ختم نبوت 1953ء میں شہید ہونے والوں کو بھی یمامہ کے شہدا کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کریں کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا“۔ پھر شاہ جی نے فرمایا: مجھے امید کامل ہے کہ میرے نانا، میرے پیارے آقا و مولا میری درخواست کو شرف قبولیت ضرور بخشیں گے۔

فرمایا کہ جب حضرت شاہ جی بستر علالت پر تھے، ان دنوں تبلیغی جماعت کے حضرات کی ایک جماعت کویت گئی ہوئی تھی۔ امیر صاحب فرماتے ہیں کہ کویت میں ہمارا مرکز کویت کی مرکزی جامع مسجد میں تھا۔ ایک روز صبح کے وقت ایک سن رسیدہ بزرگ تشریف لائے جن کا نورانی چہرہ ہی ان کی بزرگی کی شہادت دیتا تھا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھا پاکستان میں کوئی عطا اللہ شاہ بخاری نام کے بزرگ ہیں؟ میں نے اقرار کرتے ہوئے شاہ جی کا مختصر تعارف کرایا اور تعجب سے دریافت کیا کہ آپ انھیں کیسے جانتے ہیں؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ ایک وسیع میدان میں ایستادہ ایک سمت یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کسی کا انتظار ہو۔ پھر میں نے دیکھا کہ بہت بڑا ہجوم حضور ﷺ کی طرف آ رہا ہے۔ ہر شخص کا چہرہ نہایت

صفحہ 273

نورانی، تابناک اور دل آویز ہے۔ وہ ہجوم حضور ﷺ کے پاس آ کر دو حصوں میں دائیں بائیں بٹ گیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ویسا ہی ایک اور ہجوم نمودار ہوا اور وہ بھی نہایت خوبرو اور درخشندہ پیشانیوں والے لوگ ہیں۔ حضور ﷺ کے قریب آ کر وہ بھی دائیں بائیں تقسیم ہو گئے مگر حضور ﷺ اب بھی اسی طرح اسی جانب دیکھ رہے ہیں جیسے اب بھی کسی کا انتظار ہو۔ اتنے میں صرف ایک شخص جو نہایت حسین وجمیل ہے، آتا دکھائی دیا۔ جب وہ قریب تر پہنچا تو حضور ﷺ آگے بڑھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے اس شخص سے مصافحہ کیا، سینے سے لگایا اور اس کی پشت پر شفقت سے دست مبارک پھیرتے رہے۔ میں نے جی میں کہا یہ پہلا گروہ تو انبیا کرام علیہم السلام کا تھا، دوسرا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مگر یہ شخص کون ہے جس کا حضور انتظار فرماتے رہے اور اتنی محبت وشفقت کا اظہار فرمایا۔ تو ایک آواز آئی کہ یہ خادم ختم نبوت عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستانی ہے۔ خواب بیان کرنے کے بعد اس بزرگ نے فرمایا کہ آپ نے بتایا ہے کہ وہ بیمار تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی وفات ہوچکی ہے۔ امیر جماعت کہتے ہیں جب ہمیں شاہ جی کی وفات کا علم ہوا تو ہم نے حساب لگا کر دیکھا شاہ جی کی وفات بالکل اسی روز ہوئی تھی جس شب اس بزرگ نے یہ خواب دیکھا تھا۔

”وزیراعظم یہ کافی نہیں“ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں: ”یادش بخیر گزشتہ دنوں میں ایک بڑے ماہر قلب (کارڈیالوجسٹ) کی سوانح عمری پڑھ رہا تھا جو ان کی وصیت کے مطابق ان کے وصال کے بعد شائع ہوگی۔ انہوں نے مسودہ از راہ عنایت مجھے بھجوایا تھا۔ میں انہیں صاحب باطن، صاحب نظر اور ولی اللہ سمجھتا ہوں اور جانتا ہوں اخفا ان کا حکم ہے اور ان کا حکم مجھے عزیز ہے۔ ان گنت واقعات کے جھرمٹ میں انہوں نے ایک خواب کا حال بیان کیا تھا جو قارئین کی نذر ہے۔ لکھا تھا کہ خواب میں خانوادہ رسول ﷺ کے دو شہزادوں کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے مصافحے کا اعزاز حاصل ہوا اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے جگر گوشوں نے ڈاکٹر صاحب کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بتایا کہ ہم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو لینے آئے ہیں۔ اس دور میں ڈاکٹر صاحب کالج کے طالب علم تھے اور ان کا ختم نبوت تحریک سے گہرا تعلق تھا۔ اس تحریک کے سرخیل اور لیڈر حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے جو یقیناً سچے عاشق رسولؐ تھے۔ اسی لیے انہیں یہ مقام اور مرتبہ عطا ہوا تھا۔

صفحہ 274

ڈاکٹر صاحب کے بقول جس رات انہوں نے یہ خواب دیکھا، اس سے اگلے دن حضرت بخاری صاحب کا وصال ہو گیا۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور 6 اکتوبر 1997ء)

دلچسپ اور ایمان افروز مکالمہ ملاحظہ کیجیے:

”1953ء کی تحریک ختم نبوت، اپنے شباب پر پہنچ کر مائل بہ اختتام تھی۔ تحریک کی قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں بند تھے۔ ”عدالتی تحقیقات‘‘ کے لیے جسٹس منیر اور ایم آر کیانی پر مشتمل کمیشن (لاہور ہائی کورٹ) سماعت کر رہا تھا۔ جسٹس منیر متعصب قادیانی نواز تھا۔ وہ علما کو کمرۂ عدالت میں بلا بلا کر بے عزت کر رہا تھا۔ تحریک ختم نبوت کو ”فسادات پنجاب‘‘ کا نام دیتا تھا۔ اسلام کو موضوعِ بحث بنا کر علما کا مذاق اڑا رہا تھا، اور اپنے قادیانی آقاؤں اور محسنوں کو خوش کر رہا تھا۔

لیکن....... ایک دن وہ اپنی ہی عدالت میں پکڑا گیا۔ اس نے قائد تحریک تحفظ ختم نبوت، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری (علیہ الرحمۃ) کو عدالت میں طلب کر لیا۔ حکومت نے بیان داخل کرنے کے لیے امیر شریعتؒ کو سکھر جیل سے لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا۔ پیشی کی تاریخ پر امیر شریعتؒ اور ان کے قیدی رفقا کو سخت پہرے میں عدالت میں لایا گیا۔

عدالتی ہرکارے نے آواز لگائی: سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری وغیرہ وغیرہ

اب، اسیرِ ختم نبوت امیر شریعت، پورے قلندرانہ جاہ و جلال اور ایمانی جرأت و وقار کے ساتھ کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے۔ عدالت کے دروازے پر ہزاروں فدائین ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت ﷺ کے پروانے نعرہ زن تھے۔ نعرۂ تکبیر....... اللہ اکبر، تاج و تختِ ختم نبوت....... زندہ باد، مرزائیت....... مردہ باد! امیر شریعتؒ نے عدالت کے دروازے پر کھڑے ہو کر ہتھکڑیاں فضا میں لہرائیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔

مجمع وارفتگی سے پوچھ رہا تھا:

کہیے کیا حکم ہے؟ دیوانہ بنوں یا نہ بنوں؟
حکم ہوا....... خاموش!
تمام مجمع ساکت و جامد!

امیر شریعتؒ عدالت میں داخل ہو گئے۔

صفحہ 275

جسٹس منیر بغض و حسد سے بھرا ہوا، غصے سے لال پیلا، گردن تنی ہوئی اور تکبر و غرور کا پیکر ناہنجار بنا کرسی پر بیٹھا تھا۔

مرد مومن کے چہرۂ انور پر نگاہ پڑی تو اس کی آنکھیں جھک گئیں۔

جسٹس منیر دوسری مرتبہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔

کارروائی شروع ہوئی۔

امیر شریعتؒ نے اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منیر نے ایک نظر بیان کو دیکھا (جسے اس نے ’’منیر انکوائری رپورٹ‘‘ میں شامل نہیں کیا) اور پھر اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں سوالات کا آغاز کر دیا۔

جسٹس منیر: ہندوستان میں اس وقت کتنے مسلمان ہیں؟

امیر شریعتؒ : سوال غیر متعلق ہے، مجھ سے پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھیں۔

جسٹس منیر: (تمسخر آمیز لہجے میں) ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟

امیر شریعتؒ : ہندوستان میں علما موجود ہیں، وہ بتائیں گے۔

جسٹس منیر: (طنز کرتے ہوئے) آپ بتا دیں؟

امیر شریعتؒ : پاکستان کے بارے میں پوچھیں، یہاں کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟

جسٹس منیر: مسلمان کی تعریف کیا ہے؟

امیر شریعتؒ : اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کے لیے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے۔ لیکن اسلام سے خارج ہونے کے ہزاروں روزن ہیں۔ ضروریاتِ دین میں کسی ایک کا انکار کفر کے ماسوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی انسانوں میں مانا تو مشرک، قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر، اور نبی کریم ﷺ کے منصب ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد۔

جسٹس منیر: (قادیانی وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟

امیر شریعتؒ : خیال نہیں عقیدہ۔ جو ان کے بڑوں کے بارے میں ہے۔

صفحہ 276

مرزائی وکیل: نبی کی تعریف کیا ہے؟

امیر شریعتؒ: میرے نزدیک اسے کم از کم ایک شریف آدمی ہونا چاہیے۔

جسٹس منیر : (بدتمیزی کے انداز میں) آپ نے مرزا قادیانی کو کافر کہا ہے؟

امیر شریعتؒ: میں اس سوال کا آرزومند تھا۔ کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے، یہی عدالت تھی جہاں آپ بیٹھے ہیں، یہاں چیف جسٹس، مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ تھے اور جہاں مسٹر کیانی بیٹھے ہیں، یہاں رائے بہادر جسٹس رام لال تھے۔ یہی سوال انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا۔ وہی جواب آج دہراتا ہوں۔ میں نے ایک بار نہیں ہزاروں مرتبہ، مرزا کو کافر کہا ہے، کافر کہتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں گا کافر کہتا رہوں گا۔ یہ میرا ایمان اور عقیدہ ہے اور اسی پر مرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت غیر مسلم ہے۔ مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔

جسٹس منیر : (غصے سے بے قابو ہو کر، دانت پیستے ہوئے) اگر غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے یہ دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کر دیتے؟

امیر شریعتؒ: میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کر کے دیکھ لے!

حاضرین عدالت : نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، ختم نبوت...... زندہ باد، مرزائیت...... مردہ باد...... کمرۂ عدالت لرز گیا۔

جسٹس منیر : (بوکھلا کر) توہین عدالت......!

امیر شریعتؒ: (جلال میں آ کر) توہین رسالت......!

جسٹس منیر...... دم بخود، خاموش، مبہوت، حواس باختہ، چہرہ زرد، ہوش عنقا...... پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔

”عدالت“ امیر شریعت کی جرأت ایمانی اور جذبۂ حب رسول ﷺ دیکھ کر سکتے میں آ چکی تھی۔

امیر شریعتؒ: (گرج دار آواز میں) کچھ اور......؟

جسٹس منیر : (پریشانی میں بڑبڑاتے ہوئے) میرا خیال ہے ہمیں مزید کچھ بھی نہیں پوچھنا! عدالت برخاست ہو جاتی ہے۔

؎ وہ صداقت جس کی بیباکی تھی حسرت آفریں
صفحہ 277

مولانا ظفر علی خاںؒ

ظفر الملت حضرت مولانا ظفر علی خاں ایک تاریخ ساز اور عہد طراز شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اس دور کے تبحر عالم، صاحب بصیرت مدیر، منفرد ترجمہ نگار، نعت گو شاعر، بابائے صحافت، قادرالکلام خطیب، حاضر طبع شاعر اور بلند پایہ ادیب تھے۔ وہ نظم نثر پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے۔ دینی وسیاسی علوم میں یکہ تاز تھے۔ بلند پایہ علمی و ادبی ذوق انہیں ورثے میں ملا تھا۔ انہیں دین اسلام بالخصوص حضور خاتم النبیین ﷺ سے والہانہ محبت اور بے پناہ عقیدت و احترام تھا۔ آپ اُردو کے قدیم اور ممتاز اخبار ’زمیندار‘ کے مدیر اعلیٰ اور مالک تھے۔ اس اخبار نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے ساتھ ساتھ فتنہ قادیانیت کے تعاقب اور محاکمہ کے سلسلہ میں جو لاثانی کردار ادا کیا، اسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

بیسویں صدی کے اوائل میں عام مسلمان قادیانی عقائد وعزائم اور اس کے دجل و فریب سے نا آشنا تھے۔ مولانا نے اس فتنہ کے خلاف اپنے روزنامہ میں مستقل بنیادوں پر بڑے زبردست اور انقلابی مضامین تحریر کیے جس سے ناصرف قادیانی ملمع سازی کی قلعی کھل گئی بلکہ عام مسلمانوں کو بھی ایک ولولہ تازہ اور جرأت اظہار عطا ہوئی۔ زمیندار وقتاً فوقتاً ’قادیان نمبر‘ شائع کرنے کا بھی اہتمام کرتا رہا۔ اس کے علاوہ مولانا نے بڑے گھن گرج کے ساتھ فتنہ قادیانیت کے تار و پود کو اپنی رجزیہ شاعری میں بے نقاب کیا جس سے لوگوں کو نہ صرف اس فتنہ سے آگاہی ہوئی بلکہ لغت میں ایسے الفاظ واصطلاحات کا بھی اضافہ ہوا جن میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے برصغیر میں جلسے جلوسوں میں اپنی شعلہ بار خطابت سے مسلمانوں کے جذبات ومحسوسات کی ترجمانی کی۔ ’زمیندار‘ خرمن قادیان پر برق باری کے باعث متعدد بار قادیانیوں اور قادیانیت نواز حکومتوں کے زیر عتاب رہا۔ اس پر بھاری جرمانوں، اخبار کی ضبطیوں اور ڈیکلریشن کی تنسیخ کے پے در پے وار کیے گئے۔ پریس ضبط ہوا، آئے دن کی ڈگریاں، گرفتاریاں، نظر بندیاں اور جبر واستبداد اس کا مقدر بنے رہے۔ مولانا نے یہ سب مصائب خندہ پیشانی سے برداشت کیے۔ ان کے لیے ان مراحل سے گزرنا اور ابتلا و آزمائش کی اس کسوٹی پر کسا جانا ضروری تھا کہ شاید قدرت کو ان کے خلوص وصداقت

صفحہ 278

کا امتحان لینا مقصود تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد تحریکِ ختم نبوت (1953ء) میں ’زمیندار‘ کا ڈیکلیریشن منسوخ ہوا اور حکومت نے پرنٹنگ پریس اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان دنوں مولانا ظفر علی خاں کے بیٹے اختر علی خاں اخبار کے مدیر تھے۔ ان کو مارشل لاء کے تحت چودہ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، یوں تقریباً نصف صدی کی ہنگامہ خیز جدوجہد کے بعد 1954ء میں اخبار مستقلاً بند ہو گیا۔

مجھ کو دہراؤ گے محفل میں مثالوں کی طرح

مولانا ظفر علی خاں نے 1933ء میں قادیانیت کے عوامی احتساب کے لیے ایک جماعت بنائی۔ اس جماعت نے تقریباً ہر روز عوامی جلسے منعقد کرنا شروع کر دیے۔ حکومت نے قادیانی امت کی پشت پناہی کے لیے اندیشہ نقضِ امن کی آڑ لے کر 4 مارچ 1933ء کو مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقا مولانا احمد علیؒ، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا عبدالحنان، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد بخش مسلم اور خان احمد یار رزمی کو گرفتار کر لیا۔ یہ پہلا مقدمہ تھا جو سیاسی پس منظر کے تحت مرزائیت کی حمایت میں حکومت نے پہلی دفعہ مسلمان زعما کے خلاف تیار کیا۔ ٹھاکر کیسر سنگھ مجسٹریٹ درجہ اوّل نے حفظِ امن کے لیے ضمانت طلب کی۔ مولانا احمد علی، مولانا حبیب الرحمٰن اور مولانا محمد بخش مسلم کے عقیدت مندوں نے ضمانتیں داخل کر دیں۔ لیکن مولانا ظفر علی خان، مولانا عبدالحنان، مولانا لال حسین اختر اور احمد یار خان نے انکار کر دیا۔ عدالت نے وہ نوٹس پڑھ کر سنایا، جو اس مقدمہ کی بنیاد تھا کہ:

اس کے مذہبی پیشوا پر حملے کیے ہیں، جس سے نقضِ امن کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وجہ بیان کرو کہ تم سے کیوں نہ نیک چلنی کی ضمانت طلب کی جائے‘‘۔

مولانا نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا: ’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا، لیکن جہاں تک مرزا قادیانی کا تعلق ہے، ہم اس کو ایک بار نہیں، ہزار بار دجال کہیں گے، اس نے حضور ﷺ کی ختم المرسلینی میں اپنی جھوٹی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموسِ رسالت ﷺ پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اپنے اس عقیدے سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا قادیانی

صفحہ 279

دجال تھا، دجال تھا، دجال تھا۔ میں اسی سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں۔ میں قانونِ محمدی ﷺ کا پابند ہوں۔‘‘

قرآن وحدیث کی روشنی اور عشق رسالت مآب ﷺ میں ڈوبے ہوئے مولانا ظفر علی خاںؒ کے یہ اشعار آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں:

زکوٰۃ اچھی حج اچھا روزہ اچھا اور نماز اچھی
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

حضرت مولانا لال حسین اختر فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ مجھے لاہوری مرزائیوں کے چند مبلغ ملے۔ انھوں نے میرے سامنے اپنی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو نہایت ہی مبالغہ آمیزی سے بیان کیا اور آنجہانی مرزا قادیانی کی اسلامی خدمات کے بڑھ چڑھ کر افسانے سنائے اور کہا: ’’ہماری جماعت کے وہی عقائد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے ہیں۔ مرزا قادیانی مدعی نبوت نہیں تھے۔ جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا ہے، انھوں نے مرزا قادیانی کے متعلق جھوٹ بولا ہے اور بہتان طرازی وافترا پردازی سے کام لیا ہے۔ اپنے اس بیان کو درست ثابت کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی ابتدائی کتابوں سے چند حوالے بھی پڑھ کر سنائے جن میں مرزا قادیانی نے مدعی نبوت کو کافر، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج لکھا ہے۔ چونکہ مرزائی مذہب کے متعلق میرا مطالعہ صفر کے برابر تھا، اس لیے میں تبلیغ اسلام کے نام پر ان کے دامِ تزویر میں پھنس گیا اور بدقسمتی سے مرزا قادیانی کی مجددیت ومہدویت کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا۔ بیعت کرنے کے بعد انجمن کے تبلیغی کالج میں داخل ہوا۔ سنسکرت پڑھی اور ویدوں وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ مدت معینہ میں کورس ختم کرنے کے بعد بحیثیت ایک کامیاب مبلغ کے مجھے تبلیغ واشاعت کے کام پر لگا دیا گیا۔ اس دوران میں، میں نہ صرف مبلغ اور مناظر ہی کے فرائض انجام دیتا رہا بلکہ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن، ایڈیٹر اخبار ’’پیغام صلح‘‘ اور ’’محصل‘‘ وغیرہ کے ذمہ دارانہ عہدوں پر بھی فائز رہا اور آٹھ سال تک پوری جانفشانی وسرگرمی کے ساتھ مرزائی عقائد کی تبلیغ واشاعت کرتا رہا۔

صفحہ 280

1931ء کے وسط میں، میں نے یکے بعد دیگرے متعدد خواب دیکھے جن میں مرزا قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ میں یہ خواب مرزائیوں سے بیان نہ کر سکتا تھا کیونکہ اگر انھیں یہ خواب سنائے جاتے تو وہ مجھے کہتے کہ یہ شیطانی خواب ہیں۔ نہ کسی مسلمان ہی کو یہ خواب بتا سکتا تھا کیونکہ اگر انھیں یہ خواب سنائے جاتے تو وہ کہتے کہ مرزا قادیانی اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا ہے۔ مرزائیت سے توبہ کر لیجیے؟ میری حالت یہ تھی۔

دو گونہ رنج و عذاب است جان مجنوں را
بلائے فرقت لیلیٰ و صحبت لیلیٰ

(غرض مجنوں کی جان کو تو دونوں طرح کا رنج ہے۔ لیلیٰ کی جدائی کی مصیبت اور لیلیٰ کی ملاقات بھی۔)

ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک چٹیل میدان میں ہزاروں لوگ حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ میں بھی ان میں موجود ہوں۔ ان کے چاروں طرف لوہے کے بلند و بالا ستون ہیں اور ان پر زمین سے لے کر قد آدم تک خاردار تار لپٹا ہوا ہے۔ تار کے اس حلقے سے باہر نکلنے کا کوئی دروازہ یا راستہ نہیں۔ ہزاروں اشخاص کو اس میں قید کر دیا گیا ہے۔ ان میں چند میری شناسا صورتیں بھی ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ہمیں اس مصیبت میں گرفتار کیوں کیا گیا ہے؟ انھوں نے مجھے جواباً کہا کہ ہمیں احمدیت کی وجہ سے مخالفین نے یہاں بند کر دیا ہے۔ یہاں سے کچھ فاصلہ پر ”حضرت مسیح موعود“ (مرزا قادیانی) پلنگ پر سوئے ہوئے ہیں۔ انھیں ہماری خبر نہیں کہ وہ ہماری رہائی کے لیے کوشش کر سکیں۔ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی اوزار نہیں کہ جس سے خاردار تار کو کاٹ کر باہر نکلنے کا راستہ بنایا جا سکے۔ میں نے خاردار تار کے چاروں طرف گھومنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ سے زمین کی سطح کے قریب تار ڈھیلا ہے۔ میں زمین پر بیٹھ گیا اور اس تار کو اپنے دائیں پاؤں سے نیچے دبایا تو وہ تار زمین کے ساتھ جا لگا۔ سر کے قریبی تار کو ذرا سا اوپر کو دھکا دیا تو دونوں تاروں میں اس قدر فاصلہ ہو گیا کہ میں تار سے باہر نکل آیا۔

مجھے کافی فاصلہ پر پلنگ نظر آیا جس پر مرزا قادیانی چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ میں نہایت ادب و احترام سے پلنگ کے قریب پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے اپنے چہرہ سے

صفحہ 281

چادر سرکائی تو اس کا منہ قریباً دو فٹ لمبا اور شکل خنزیر کی ہے۔ ایک آنکھ بالکل بے نور اور بند تھی۔ دوسری آنکھ ماش کے دانے کے برابر تھی۔ اس نے کہا میری بہت بری حالت ہے۔ اس کی آواز کے ساتھ شدید قسم کی بدبو پیدا ہوئی۔ اس کی شکل اور بدبو سے میں کانپ گیا اس پر میری آنکھ کھل گئی اور میری نیند جاتی رہی۔

چند دنوں بعد دوسری دفعہ پھر خواب دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے قریباً دو سو گز آگے جا رہا ہے۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں۔ تانت (جس سے روئی دھنی جاتی ہے) کا ایک سرا اس کی کمر میں بندھا ہوا ہے اور دوسرا سرا میری گردن میں۔ ہمارا سفر مغرب سے مشرق کی طرف ہے۔ دورانِ سفر راستہ پر دائیں طرف ایک نہایت وجیہ شخص نظر آئے۔ سفید رنگ، درمیانہ قد، روشن آنکھیں، سفید پگڑی، سفید لمبا کرتہ، سفید شلوار، مسکراتے ہوئے مجھے فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جہاں میرے آگے جانے والے مجھے لے جا رہے ہیں۔ کہنے لگے جانتے ہو یہ کون ہے اور تمھیں کہاں لے جا رہا ہے؟ میں نے کہا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہے اور مجھے کہاں لے جا رہا ہے؟ فرمانے لگے یہ آنجہانی مرزا قادیانی ہے۔ خود جہنم کو جا رہا ہے اور تمھیں بھی وہیں لیے جا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو جان بوجھ کر جہنم میں جائے اور دوسروں کو بھی جہنم میں لے جائے۔ انھوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے عمداً جہنم کا راستہ اختیار نہ کیا تھا؟ میں ان کی اس دلیل کا جواب نہ دے سکا تو فرمانے لگے، غور سے سامنے دیکھو! میں نے سامنے نگاہ کی تو مجھے دور حد نگاہ پر زمین سے آسمان تک سرخی دکھائی دی۔ انھوں نے پوچھا جانتے ہو، یہ سرخ رنگ کیا ہے؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ کہنے لگے یہی تو جہنم کے شعلے ہیں۔ میں حسبِ سابق چل رہا تھا۔ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ قدم اٹھائے جا رہے تھے۔ اچانک وہ غائب ہو گئے۔ میں بدستور اس شخص (مرزا قادیانی) کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہم سرخی (جہنم کے شعلوں) کے قریب پہنچ رہے تھے۔ اب تو مجھے حرارت بھی محسوس ہونے لگی۔ وہ وجیہ شخصیت پھر نمودار ہوئی، انھوں نے تانت پر زور سے ضرب لگائی۔ تانت ٹوٹ گئی اور میں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی جہنم میں گر گیا ہے اور میں بچ گیا۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی۔

اگرچہ پہلے بھی مرزا قادیانی کے بعض ”الہامات“ اور اس کی چند ”پیشگوئیاں“ میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں، لیکن حسن عقیدت اور غلو محبت کی طاقتیں ان خیالات

صفحہ 282

کو فوراً دبا دیتی تھیں اور دل کو تسلی دے دیتا تھا کہ مرزا نبی تو نہیں کہ جس کے تمام ارشادات صحیح ہوں۔ ان خوابوں کی کثرت سے متاثر ہو کر میں نے غور و فکر کیا کہ گو ہمارے خوابوں پر دین کا مدار نہیں اور نہ ہی یہ حجت شرعی ہیں لیکن ان سے صداقت کی طرف رہنمائی تو ہو سکتی ہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ مرزا قادیانی کی محبت اور عداوت دونوں کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مرزائیت کے صدق و کذب کو تحقیقات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

خدائے واحد و قدوس کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے یہ اعلان کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں نے مرزا قادیانی کی محبت اور عداوت کو چھوڑ کر اور خالی الذہن ہو کر اس کی اپنی مشہور تصنیفات اور قادیانی و لاہوری ہر دو فریق کی چیدہ چیدہ کتابوں کو جو مرزا کے دعویٰ کی تائید میں لکھی گئی تھیں، چھ ماہ میں نظر غائر سے بطور ایک محقق پڑھا اور علمائے اسلام کی تردید مرزائیت کے سلسلہ میں چند کتابیں مطالعہ کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ میں نے مطالعہ کیا، اتنا ہی مرزائیت کا کذب مجھ پر واضح ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ الہام، مجددیت، مسیحیت، نبوت وغیرہ میں جھوٹا اور کذاب تھا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضور رسالت مآب ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے ہماری دنیا میں بحیثیت امتی واپس تشریف لائیں گے“۔

شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

تحریک ختم نبوت 1953ء میں برکت علی اسلامیہ ہال میں منعقدہ تحفظ ختم نبوت کنونشن میں پیکر جرأت و غیرت قمر الملت حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے انتہائی جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہوگا۔ آپ مجھے حکم دیں، میں قادیانیوں سے خود نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا“۔

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی امنگوں کے ترجمان، سرمایہ اہلسنّت والجماعت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے امیر مرکزیہ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے فرمایا:

”ہم مرزائیوں کو اسلام اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہیں اور اس کے استیصال کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہیں“۔

صفحہ 283

ایک موقع پر فرمایا: ”جس طرح سورج کو حق ہے کہ وہ سیاہی اور تاریکی پر حملہ کرے، اسی طرح ہمیں بھی یہ حق ہے کہ فخر دو عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے تاج و تختِ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں“۔

ایک اور موقع پر فرمایا: ”حق، باطل کی ریشہ دوانیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا“۔

مزید فرمایا: ”آج کے دور میں عقلیت کا دور دورہ ہے، ہر شخص اپنی عقل کے بل بوتے پر ہر چیز کو پرکھنے کا قائل ہے، اگر وہ واقعی نبوت اور جھوٹے دعوائے نبوت، اسی طرح نبی اور جھوٹے مدعی نبوت کے درمیان فرق کو سمجھنا اور حق و باطل کو پرکھنا چاہے، تو اسلام اور قادیانیت کے تقابلی مطالعہ سے وہ بڑی آسانی سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ حق و سچ کیا ہے؟ سچے نبی میں کیا خوبیاں ہوتی ہیں؟ اور جھوٹے مدعی نبوت ان خوبیوں سے کس طرح عاری ہوتے ہیں؟ اخلاق و کردار کی کن بلندیوں پر انبیائے کرام علیہم السلام فائز ہوتے ہیں جبکہ جھوٹے مدعی نبوت بشمول مرزا قادیانی اخلاقی اعتبار سے پستی کے اسفل درجہ میں پڑے ہوئے ہیں“۔

ختم نبوت کے شیدائی و فدائی قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی زندگی کے آخری ایام کا واقعہ پڑھیے اور ختم نبوت کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت دیکھیے!

کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ابتدائی ایام میں قاضی صاحبؒ نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیر علاج تھے۔ دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا، قاضی صاحب کو نیند آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ ”حضور ﷺ! میں آپ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے“۔ اس کے تھوڑی دیر بعد درود شریف پڑھنے لگے، میں یہ سمجھا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے مگر کچھ دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہو گئے۔ ہشاش بشاش تھے، درود شریف پڑھ رہے تھے“۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے فرمایا کہ ”میرے متعلق تحریک ختم نبوت 1953ء کی تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین سے کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا، کیا

صفحہ 284

عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے“۔

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک واقعہ 1954ء میں پیش آیا۔ مولانا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان جیل میں نظر بند تھے، اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا: ”اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرسکتے ہیں۔ مولانا نے خشمگیں انداز میں کہا کہ میں نے یہ جیل رسول اکرم ﷺ کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر آقائے نامدار ﷺ کو دھوکا دے جاؤں۔ میں نبی کریم ﷺ کے غلاموں کا غلام ہوں، مجھ پر اس جیسی ایک ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اُف نہ کروں گا“۔ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ

مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے فاضل اجل اور عالم بے بدل ہونے کا ایک زمانہ معترف ہے۔ وہ درویش صفت مبلغ ہونے کے ساتھ ساتھ خطابت کے بادشاہ بھی تھے۔ بات کو تمثیل کے ساتھ سمجھانے کا ڈھنگ جانتے اور اس میدان میں اپنی نظیر آپ تھے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ان کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ 20 سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند سے مروجہ درس نظامی کی سند تکمیل لے کر نکلے اور یوں ان کی کتاب زندگی میں ایک شاندار باب کی تکمیل ہوئی۔ جس دن دارالعلوم سے نکل رہے تھے، اس دن سید انور شاہ کشمیریؒ نے الگ بلا کر کہا ”تحفظ ختم نبوت کو اپنا مشن بنالینا“۔ فرمایا کرتے تھے جب میں دارالعلوم سے نکلا تو میرے ذہن میں دو باتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایک انگریز سے نفرت، دوسری آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف جہاد کا جذبہ، گویا کہ میری سند میں انھیں دو مضمونوں سے فراغت کی شہادت درج تھی۔

جس کو لکھنے سے قاصر اور زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔ ایک جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ایک ایک کے دروازے پر جا کر دستک دیں گے اور دامن پھیلا کر ناموس

صفحہ 285

رسالت ﷺ و ختم نبوت کا واسطہ دے کر بھیک مانگیں گے، اور پھر گلوگیر لہجہ میں فرمایا کہ دیوبندی اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم علمائے حق کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ختم نبوت پر ڈا کا ڈالا جارہا ہے اور تم خاموش اپنے گھروں میں بیٹھے ہو۔ میں بریلوی حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ تمھیں دعویٰ ہے کہ تم سے زیادہ اور بڑا کوئی عاشق رسولؐ نہیں اور یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہو۔ کیا تم کو اس کی خبر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبر اطہر میں بے چین ہیں اور تم اس سے بے خبر ہو اور اہل حدیث حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ تمھیں دعویٰ ہے کہ تمھارے سوا کوئی بھی زیادہ حدیث پر عمل کرنے والا نہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ احادیث کے مقابلے میں نئی احادیث بنائی جارہی ہیں اور شیعہ حضرات سے بھی پوچھتا ہوں کہ تمھیں شیعان علیؓ کا دعویٰ کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ ایک شخص حضرت فاطمہ الزہراؓ کے متعلق بکواس کرتا ہے اور حضرات حسنینؓ اور کربلا کے متعلق جو کچھ بکتا ہے، کیا تم اس سے بے خبر ہو، کیا تمھیں اس کی خبر نہیں؟

ہوا۔ چشتیاں تک ریل گاڑی میں سفر کیا۔ آگے چک تک منتظمین جلسہ نے تانگے کا انتظام کیا۔ راستے میں تانگہ خراب ہو گیا۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اسی تانگہ میں جلسہ کے لیے لاؤڈ سپیکر اور بیٹری بھی لدے ہوئے تھے۔ آپ کی علمی وجاہت کے پیش نظر یہ سوچا گیا کہ کسی اور سواری کا انتظام کیا جائے اور انتظار کیا جائے۔ آپ نے ساتھ لے جانے والے ساتھی سے کہا ”میاں دوسری سواری کے آنے تک ہم پیدل چل کر جلسہ گاہ تک پہنچ جائیں گے“۔ آپ تو پیدل چل لیتے مگر مسئلہ لاؤڈ سپیکر اور بیٹری کا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھی کو سمجھا بجھا کر آمادہ کرلیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر سر پر اٹھائے اور آپ بیٹری اٹھائیں گے۔ فرمایا کرتے تھے ”بیٹری وزنی تھی، میں تھک کر چور ہو گیا مگر چلتا رہا اور دعا کرتا گیا اے اللہ! تیرے نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی خدمت ہے، قبول کرلینا۔ اس محبوب ﷺ کے لیے میری جان بھی قربان ہو جائے تو زہے نصیب“۔

تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں ہمیں بھی ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ بظاہر ایسی چھوٹی چھوٹی نیکیاں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہاڑ برابر ثواب کا درجہ رکھتی ہیں۔

صفحہ 286

”دیکھو! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں، بوڑھا ہو گیا ہوں، شاید جدائی کا وقت قریب ہو، میں تین طبقوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں، شاید آپ اس پر عمل کر کے میری قبر ٹھنڈی کریں۔

وفادار بن کر رہیں اور کسی عہدہ کے لالچ یا دنیا کی عارضی عزت کے بدلے پیارے رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں، ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہو چکا ہے جنھوں نے حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور دشمنانِ عقیدۂ ختم نبوت کے ہاتھ مضبوط کیے، پھر آپ نے چند ایسے بدنام زمانہ حکام اور افسران کے عبرتناک واقعات بھی سنائے۔

چکی ہیں، انھیں میسر نہیں رہیں گی، جب ایسے حالات آ جائیں تو ثابت قدمی سے دین پر خود بھی قائم رہیں اور اشاعت دین بھی کرتے رہیں، ایسے حالات میں رستوں پر بیٹھ کر اور درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈال کر اللہ کریم کا دین پڑھاتے اور سکھاتے رہیں۔ آپ کے اسلاف نے ایسا کر کے دکھایا ہے، اس کے برعکس ایسے حالات بھی آئیں گے کہ ملازمت یا عہدہ کا لالچ دے کر علما کو خدمت دین سے باز رکھا جائے گا۔ خدارا، بھوکوں مرجانا مگر اللہ کریم کے دین سے بے وفائی کر کے اس دنیا کی فنا ہونے والی عزت پر نقد دین نہ لٹوانا، دین سکھاتے رہنا، بے شک کچھ بھی ہو جائے۔

نبوت کا نام لینا جرم بن جائے گا، اللہ کرے ایسا نہ ہو، لیکن اگر حالات تمھیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کر دیں تو جان دے دینا مگر باوفا نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے دنیا کی عارضی تکلیف پر بے وفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدہ پر جمے رہنا، یہاں تک کہ موت تمھیں دنیا کی ان عارضی چیزوں سے بچا کر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کر دے کہ جس کی نعمتوں کے بارے میں ارشاد ہے:

صفحہ 287

ترجمہ: ”نہ کسی آنکھ نے انھیں دیکھا، نہ کسی کان نے ان کے تذکرے سنے اور نہ کسی دل پر ان (کی رنگارنگی) کا خیال گزرا“۔

الاٹ کرا لیا تھا اور وہاں اپنی تبلیغی سرگرمیاں جاری کر دیں۔ حضرت امیر شریعتؒ کو جب علم ہوا تو اس علاقہ میں موضع جابہ کے قریب سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا حکم دیا۔ یہ کانفرنس دو یوم کے لیے ایک عرصہ دراز سے مرکزی جماعت تحفظ ختم نبوت کے خرچ پر ہر سال ماہ ستمبر میں ہوتی ہے۔ 1982ء میں بعض مجبوریوں کی بنا پر ایک میل دور ضلع اٹک کی حدود میں نئی جگہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے چند روز قبل تلہ گنگ کے حاجی محمد ابراہیم (ملک وال) نے خواب دیکھا کہ خود حاجی صاحب اور مولانا فضل احمد صاحب مع دیگر احباب کانفرنس کی شرکت کے لیے اس نئی جگہ میں آئے۔ جب پہنچے تو دیکھا اس میدان میں حضرت محمد ﷺ تشریف رکھتے ہیں اور فرما رہے ہیں، دیر ہو رہی ہے، جلسہ جلدی شروع کرو۔ محمد علی جالندھری سے کہو کہ جلسہ میں دیر نہ کیا کرے۔

ارادے سے گیا۔ وہاں مرزائیوں کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کو منع کر دیا کہ مولوی صاحب وعظ نہ کریں۔ مسلمانوں نے مجھے روک دیا۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ میرے دل و دماغ پر صدمہ کے اثرات تھے کہ مسلمانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یہ قادیانیوں سے اتنے مرعوب ہیں۔ رات کو خواب میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ میں انھیں خواب میں دیکھتے ہی حدیثوں کے مطابق ان کی علامتوں و نشانیوں کو پوری کرنے لگ گیا۔ چہرہ مہرہ، شکل و شباہت، وضع قطع، سر کے بالوں سے پانی کا ٹپکنا کہ جس طرح ابھی حمام سے نہا کر تشریف لائے ہوں۔ جب میں نے احادیث میں پڑھی ہوئی علامتوں کو پورا کر کے یقین کر لیا کہ واقعتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیسے اس دنیا میں آگئے ابھی تو حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا، دجال کا خروج نہیں ہوا۔ آپ نے تو احادیث رسول اللہ ﷺ کی رُو سے ان اہم دو امور (ظہور مہدی و خروج دجال) کے بعد تشریف لانا تھا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: محمد علی جالندھری جب تم میری حیات (لوگوں کے روکنے کے باعث) بیان نہیں کرتے تو میں خود اپنی حیات کی

صفحہ 288

دلیل بن کر نہ آؤں تو کیا کروں۔ اس پر مولانا فرماتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ رات بھر ذکر وفکر میں گزار دی۔ دل میں فیصلہ کر لیا کہ جان جاتی ہے جائے مگر میں صبح حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تقریر ضرور کروں گا۔ چنانچہ صبح نماز کے بعد مسجد میں اعلان کیا کہ مسلمانو! تم نے میری تقریر مسجد میں نہیں ہونے دی، اب میں اپنی ذمہ داری پر خود اس گاؤں کے چوک میں تقریر کرنے لگا ہوں، جو سننا چاہیں آجائیں۔ میں نے جا کر تقریر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ آنے شروع ہو گئے۔ اسی اثنا میں مسلح زمیندار قادیانیوں کا ایک جتھا بھی آگیا۔ ان کے سردار نے مولانا جالندھری کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے غیظ وغضب کے لہجے میں کہا: اگر آپ نے احمدیوں کے متعلق کچھ کہا، یا حیات مسیح کا مسئلہ چھیڑا تو (مسلح آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا) پھر آپ یہ دیکھ رہے ہیں، خیر نہیں گزرے گی۔ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوا ہی تھا کہ مولانا نے فرمایا میرے سامنے بڑ کا ایک درخت تھا، اس کے تنے کے قریب سے ایک قد آور نوجوان اٹھا اور للکار کر مجھ سے مخاطب ہوا: مولانا آپ کو خدا کی قسم، جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، کھل کر کہیں، یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا دیا اور زبان سے اتنا کہا، بہت شکریہ! پھر میں نے تقریر شروع کر دی۔ ڈیڑھ دو گھنٹے تقریر کرتا رہا۔ جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا، کہا۔ از روئے قرآن وحدیث حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کی۔ کسی دشمن کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ مجھے روکے۔ مجمع پر ایک سحر طاری تھا۔ جب میں نے تقریر ختم کی تو مجمع عقیدت کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے امڈ پڑا۔ مصافحہ کے لیے ہر ہاتھ بڑھ رہا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا بھئی وہ نوجوان کہاں ہے جس نے زمیندار کے جواب میں مجھے حوصلہ دیا تھا۔ وہ سب کہنے لگے ہم نے تو اسے اس گاؤں میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہم تو یہ سمجھے وہ آپ کا ہی ساتھی ہے۔ میں نے کہا ”وہ میرا ساتھی تو نہیں تھا“۔ پھر ہم سب خدا کی اس قدرت پر حیرت زدہ رہ گئے۔

چند تارے ہی چمکتے ہیں سحر ہونے تک
بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا

مولانا حافظ نواب الدین ستکوہیؒ

مولانا نواب الدین ستکوہیؒ معروف نعت گو شاعر حافظ مظہر الدینؒ کے والد محترم تھے۔ رام داس ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔ جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے تعاقب کے شوق میں قادیان سے تھوڑے فاصلہ پر ستکوہ میں ڈیرے ڈال لیے جو بٹالہ سے قادیان

صفحہ 289

جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں سے کئی ایک مناظرے کیے۔ چنانچہ حافظ مظہر الدینؒ لکھتے ہیں۔ ”جب مرزا قادیانی ایک مقدمہ میں ماخوذ ہوکر کچہری میں آیا تو والد صاحب بھاگم بھاگ کچہری پہنچ گئے اور مرزا کے گرد لوگوں کا حلقہ توڑ کر اس کا بازو پکڑ کر اسے شدید جھٹکا دے کر کہا: ”مردود! اگر نبوت جاری ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس علاقہ میں کسی کو نبی بنا کر بھیجتا تو بتا کہ مجھ جیسے وجیہہ انسان کو بھیجتا یا تجھ جیسے بَجّو کو؟“ حاضرین کھلکھلا کر ہنس پڑے اور مرزا قادیانی پر سکتے کا عالم طاری ہوگیا“۔

حافظ مظہر الدینؒ لکھتے ہیں کہ میری عمر بہت چھوٹی تھی کہ ہماری ایک رشتہ دار خاتون کا نکاح ایک مرزائی سے ہوگیا تو مولانا ستکوہی نے کہا کہ مسلمان کا مرزائی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ لیکن میرے ماموں محمد ابراہیم تحصیل دار تھے جو مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے والد محترم تھے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے بہت خلاف تھے اور مرزائیت کے رد میں بالعموم یہ دلیل دیا کرتے تھے کہ میں نے اور مرزا قادیانی نے پٹوار کا امتحان دیا۔ وہ فیل ہوگیا اور میں پاس ہو گیا۔ جو شخص پٹواری نہ بن سکے، وہ خدا کا رسول کیسے بن سکتا ہے؟ ماموں تحصیل دار کی منشا یہ تھی کہ ہمارے خاندان کی لڑکی عدالت میں نہ جائے۔ چنانچہ والد صاحب نے یہ کہہ کر لڑکی سے نکاح کرلیا کہ عدالت کا معاملہ میں خود نمٹ لوں گا۔ مرزائیوں کو جب اس نکاح کی اطلاع ملی تو انھوں نے گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ سات سال تک چلتا رہا بلکہ مولانا کے حق میں فیصلہ ہوا۔ کیس کے دوران جب مرزا محمود عدالت میں پیش ہوا تو مولانا ستکوہیؒ نے فرمایا کہ ”برخوردار! تیرے باپ کو حیض آتا تھا اور جسے حیض آئے وہ اللہ کا نبی نہیں ہوسکتا“۔ اس جملہ سے ظفر اللہ خان سٹپٹا گیا۔

محمدی بیگم سے نکاح آسمانی کا مرزا قادیانی نے شور وغوغا کیا تو مولانا ستکوہی، محمدی بیگم کے قصبہ ”پٹی“ پہنچ گئے اور اپنی سحر بیانی سے پٹی کے لوگوں کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کرلیا اور محمدی بیگم کا خاندان مولانا کا مرید ہوگیا۔ یوں مرزا قادیانی کا نکاح آسمانی، زمین پر نہ ہوسکا۔

مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ

مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ تحریک پاکستان کے راہنما، تحریک ختم نبوت کے ہیرو، تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کے روحِ رواں اور تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ

صفحہ 290

کے سالار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اعلیٰ بصیرت سے نوازا تھا۔

بقول شخصے: ”مولانا عبدالستار خاں نیازی ایک عہد کی تاریخ ہیں، تابناک اور بے داغ تاریخ۔ جس طرح ان کے رخِ زیبا کو دیکھ کر انسان بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ ”چہ رخ چہ قد چہ جبیں لا الہ الا اللہ“ بالکل اسی طرح ان کی راستی و پختگی فکر، ان کی حق گوئی و بے باکی، ہمت و استقلال اور عشق نبی ﷺ سے سرشاری کو دیکھ کر اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ؎

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں ان کا بڑا اہم کردار ہے۔ تحریک کے مرکز، مسجد وزیر خاں (لاہور) میں تحریک کی قیادت کرتے رہے۔ بالآخر گرفتار ہوئے۔ فوجی عدالت نے انھیں سزائے موت سنا دی۔ آپ نے خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کیا۔ بعد ازاں حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، پھر دو سال اور ایک ماہ بعد یہ سزا بھی ختم ہو گئی۔

مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں:

رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا۔ ”میری عمر وہ دن اور راتیں ہیں جو میں نے ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس جیل والی زندگی پر ناز ہے“۔

فرمائیے۔ آپ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و نزاکت پر نہایت موثر انداز میں اظہار خیال فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:

نبوت کے مسئلہ کو تمام دوسرے مسائل پر ترجیح دے۔ اگر ہم تحفظ ختم نبوت کے ذریعے اپنی بقا کا اہتمام کر لیتے ہیں تو توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، قرآن شریف، شریعت الغرض کسی اصول دین کو ضعف نہیں پہنچ سکتا، لیکن خدانخواستہ اگر قادیانی تحفظ ختم نبوت کو ہماری لوح قلب سے ذرا بھی اوجھل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر نہ ہمیں ناموسِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، ہمارا ایمان برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نہ ولائے اہل بیتؓ ہماری نجات

صفحہ 291

کے لیے کافی ہو سکتی ہے، نہ قرآن ہی کے اوراق میں ہمارے لیے ہدایت باقی رہ جاتی ہے، نہ مساجد ہی کے محراب و منبر میں کوئی تقدیس باقی رہ جاتی ہے اور نہ اولیاء اللہ اور مشائخ عظام ہی کی نسبتیں جاری رہ جاتی ہیں، نہ علمائے کرام ہی کی تدریس و وعظ میں اثر باقی رہ جاتا ہے، نہیں نہیں صرف یہی نہیں، خاکم بدہن اُمت محمدیہؐ کے تسمیہ اور وجود دونوں پر زَد پڑتی ہے۔ اُمتِ محمدیہ ملل میں تقسیم ہو جاتی ہے، ملتیں، حکومتوں میں بٹ جاتی ہیں اور حکومتیں، گروہوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہیں، فقط اتنا ہی نہیں خاندانِ ملت سے خارج ہو جاتے ہیں، خود خاندان کے اندر صلہ رحمی، قطع رحمی سے مبدل ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، خاتم النبیین نہیں تو پھر شریعت نہیں، جب شریعت نہیں تو حرام و حلال بھی نہیں، جب حرام و حلال نہیں تو باپ، بیٹے، ماں بہن، خاوند اور بیوی غرض دنیا کے سب رشتے اپنی تقدیس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ختم نبوت کا انکار آسمان پر فرشتوں کا انکار ہے، زمین پر قبلہ اور حج کا انکار ہے، سیاست میں مسلمانوں کے غلبے اور جداگانہ وجود کا انکار ہے۔ غرض ختم نبوت سے انکار خود مسلمان کے مسلمان ہونے سے انکار ہے، یہاں پہنچ کر زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قلم ٹوٹ جاتا ہے اور الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے‘‘۔

ہے یہ وہ نام خاک کو پاک کرے نکھار کر
ہے یہ وہ نام خار کو پھول کرے سنوار کر
ہے یہ وہ نام ارض کو کر دے سما اُبھار کر
اکبر اسی کا ورد تُو صدق سے بے شمار کر
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

مولانا عبدالستار خان نیازی بہت بڑے خطیب تھے۔ اُن کی خطابت کا درج ذیل نمونہ شبستان رسول میں چلتی ہوئی باد نسیم کا ایک مشک بو جھونکا ہے جن سے عشاق کے مشام جاں ابھی تک معطر ہیں۔

اور رتیں بدل جائیں گی، باران رحمت ہو گی اور شہداء کی قبروں کو دھو کر بہہ جائے گی، خزاں کے پتے ہوا سے اُڑیں گے اور قبرستانوں میں بکھر جائیں گے، موسم بہار میں شبنم اپنے خنک آنسو اُن مزارات پر ٹپکائے گی جن کو شاید کبھی لوح مزار بھی نصیب نہ ہو، لیکن کیا ہم اور ہماری

صفحہ 292

آئندہ نسلیں اُن شہداء کا دنیاوی احسان کبھی فراموش کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنا آج تمہارے کل پہ نچھاور کر دیا، جنہوں نے اپنی جانیں اس لیے دیں کہ تم زندہ رہو، جنہوں نے موت کی تلخی اس لیے چکھی کہ تم نشوونما کی مٹھاس سے بہرہ ور ہو سکو، جنہوں نے اپنا سب کچھ وار دیا تا کہ تمہارے پاس جو ہے، وہ تمہارے پاس رہے اور آئندہ تم مزید بھی حاصل کر سکو‘۔

صاحبزادہ سیّد فیض الحسن شاہؒ

تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کے لیے صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب سٹیج پر تشریف لائے تو ایک رضا کار نے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیا۔ صاحبزادہ نے ہار کو توڑا اور لوگوں کی جانب پھینک کر فرمایا میرے عزیز! یہ وقت ہار پہننے کا نہیں۔ سرور کونین محمد مصطفیٰ ﷺ کی آبرو کو خطرہ درپیش ہو اور میں ہار پہنوں؟ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لاؤ، ہمیں پابہ زنجیر کر کے دیکھو کہ ہمارے ماتھے پر شکن بھی آتا ہے؟ اس کے بعد اپنے مخصوص انداز میں آپ نے موتی بکھیرنے شروع کیے۔ جلسے پر ایک سکوت طاری تھا اور صاحبزادہ صاحب حسب معمول ساون بھادوں کی طرح برس رہے تھے۔ صاحبزادہ کی تقریر نے مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو اس طرح ابھارا کہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس طرح رات 12 بجے تک جلسہ ہوتا رہا۔

صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہؒ آلومہار شریف فرمایا کرتے تھے:

اور بہن کی عزت و ناموس کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا‘‘۔

حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات شاہ قادریؒ

حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات شاہ قادریؒ بڑے بلند پایہ عالم دین تھے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت تھا۔ چنانچہ اس تحریک میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ آپ تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء کے امیر تھے۔ آپ نے مرزائیت کی تردید میں پورے ملک کا دورہ کیا اور ختم نبوت کے سلسلہ میں لاکھوں مسلمانوں سے خطاب کیا۔ مرزائیت کی تردید کی پاداش میں حکومت نے حضرت مولانا کی قیادت میں ان کے رفقا کو گرفتار کر لیا اور کراچی سنٹرل جیل میں بھیج دیا۔ اس گرفتاری کے بعد پورے ملک میں تحریک

صفحہ 293

نے زور پکڑا۔ پنجاب سے روح فرسا خبریں پہنچنا شروع ہوئیں۔ آپ کو اچانک ایک دن اطلاع ملی کہ حضرت مولانا خلیل احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان کو مارشل لاء حکومت نے پھانسی کی سزا سنا دی ہے۔ مولانا اپنے اکلوتے فرزند کے متعلق یہ المناک خبر سن کر سجدے میں گر گئے...... اور عرض کیا، الہی! میرے بچے کی قربانی کو منظور فرما۔ ڈیڑھ ماہ تک کراچی میں قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار رہنے کے بعد سکھر سنٹرل جیل میں نظر بند کر دیے گئے۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، آٹھ مربع فٹ کوٹھڑی میں علامہ ابوالحسنات ، مولانا عبدالحامد بدایونی ، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور سید مظفر علی شمسی بند تھے۔ حیدر آباد جیل میں بھی قید رہے۔ چھ ماہ سی کلاس میں گزارنے کے بعد اے کلاس ملی۔ بعد ازاں لاہور منتقل کر دیے گئے جہاں تحقیقاتی عدالت میں پیش ہوئے۔ جناب مظفر علی شمسی بیان کرتے ہیں:

”جس ہمت اور اولوالعزمی سے علامہ ابوالحسنات نے قید میں دن گزارے، اس کی مثال ملنی بہت مشکل ہے۔ ناز ونعم میں پلا ہوا انسان، لاکھوں انسانوں کے دلوں کا بادشاہ، علم و عمل کا شہنشاہ، مگر محبت رسول ﷺ نے امتحان چاہا تو بے دریغ قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس شان سے قید کاٹی کہ مثال بن گیا۔ کیا مجال، جو کسی سے شکایت کی یا کسی سے شکوہ کیا ہو یا اپنے مشن سے دستبرداری کا ارادہ کیا ہو۔ جیل میں آپ کا بہترین شغل قرآن کریم کی تفسیر لکھنا تھا، کئی برس قید کاٹی اور بہت شدت کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں“۔

خدا جب حشر میں پوچھے گا تو میں کہہ دوں گا
کہ آقا تیری خاطر جیل میں، میں نے چکی پیسی

حضرت مولانا سید خلیل احمد قادریؒ

حضرت علامہ ابوالحسنات شاہؒ کے صاحبزادے، حضرت مولانا خلیل احمد قادریؒ بڑے عابد و زاہد اور مجاہد ختم نبوت تھے۔ مسجد وزیر خاں لاہور میں تحریک کو سرگرم رکھنے میں دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے آپ گرفتار ہوئے۔ اس سلسلہ میں اپنا احوال بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا خلیل احمد قادریؒ فرماتے ہیں:

صفحہ 294

مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔ دوران تفتیش گالیوں سے نوازا گیا۔ رات کو سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک رات صبح سے عشاء تک کھڑا رکھا اور ان کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ میں معافی مانگ لوں۔ مگر میں نے معافی نہ مانگی، چونکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ تھا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر اس میں جان بھی دینا پڑے تو گریز نہیں کروں گا۔ جس دن ہمیں پھانسی کا حکم دیا جانے والا تھا۔ اس دن ہمارے ساتھیوں میں سے ایک صاحب آئے اور بتایا کہ پھانسی کا حکم دیا جانے والا ہے۔ میں نے سوچا کہ حبیب پاک ﷺ کی عظمت کی خاطر اگر میری جان جاتی ہے تو ایک جان کیا، ایسی ہزار جانیں قربان۔ یقین جانیے! اس وقت میرے سامنے جنت کا نقشہ آ گیا اور میں سوچتا تھا کہ یہ دیر بھی کیوں ہو رہی ہے۔ ایک وقت تو یہ تھا کہ فوج نے مسجد وزیر خاں کو گھیر لیا تھا اور ہماری گرفتاری ہونے والی تھی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اب زندہ نہیں رہنا اور حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر قربان ہونا ہے۔ چنانچہ میں نے اعلان کیا کہ جن لوگوں کو یہاں رہنا ہے، وہ اپنی موت کا فیصلہ کر لیں اور جو ذرا بھی خوف محسوس کریں، وہ یہاں سے جا سکتے ہیں۔ ساتھیوں میں قطعی کوئی کمزوری نہیں تھی۔ فوج ہمیں گرفتار کر کے تھانہ کوتوالی لے گئی۔ پھر ہمیں پرانی کوتوالی سے دہلی دروازے تک پیدل ہی لایا گیا۔ ہمیں زیر حراست دیکھ کر لوگ مکانوں کی چھتوں سے نعرے لگانے لگے۔ دہلی دروازے سے جیپ میں بٹھا کر شاہی قلعہ کی طرف لے جایا گیا۔ مارشل لاء حکام کو ہماری گرفتاری کی اطلاع تو ہو ہی چکی تھی۔ شاہی قلعہ میں داخل ہوئے تو خاص دربار کے بالائی حصے میں تین چار لمبے لمبے قد والے فوجی افسران کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پھر وہ نیچے آئے۔ میز اور کرسیاں بچھائی گئیں اور وہ فوجی افسران کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ (غالباً ایک فوجی افسر کا نام سرفراز تھا) مجھے بھی کرسی پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ قدوائی صاحب میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ایک فوجی افسر نے سب سے پہلا سوال مجھ پر یہ کیا ”کیا آپ غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور یہ تحریک کسی ملک کے ایما پر چلائی جا رہی ہے؟“ میں نے جواباً کہا ”1947ء میں تحریک پاکستان کی حمایت میں خضر وزارت کے خلاف جو ایجی ٹیشن ہوا تھا، کیا وہ بھی غیر ملکی سازش تھی؟ جن لوگوں نے اس تحریک میں گرفتاریاں پیش کیں، کیا وہ بھی غیر ملکی ایجنٹ تھے؟...... ہماری تحریک تو ان لوگوں کے خلاف ہے جو غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور مذہبی اور سیاسی لحاظ سے پاکستان کے دشمن ہیں۔ ان لوگوں نے بانی

صفحہ 295

پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی نماز جنازہ تک پڑھنے سے گریز کیا، آج یہ لوگ ملک کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں۔ ہم نے یہ تحریک ان کو کلیدی عہدوں سے علیحدہ کرنے کے لیے چلائی ہے‘‘۔

پھر اس فوجی افسر نے دوسرا سوال کیا ’’کیا آپ قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘۔ اس نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’سرکار دوجہاںﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور قادیانیوں نے ایک بناسپتی نبی پیدا کر لیا ہے اور ان کا فقہ بھی مسلمانوں سے علیحدہ ہے۔ ضابطہ اخلاق بھی جدا ہے اور سیاسی نظام بھی مختلف ہے‘‘۔ اس نے پوچھا ’’فقہ کیسے علیحدہ ہے؟‘‘ میں نے جواباً کہا ’’زانی کو ہم مسلمان حکم قرآنی کے مطابق کوڑوں کی سزا کا حقدار سمجھتے ہیں جبکہ قادیانیوں نے زنا کی سزا دس جوتے مقرر کی ہے جو زانی اور زانیہ کو لگائے جاتے ہیں، اس طرح قادیانیوں نے زنا کا بھی دروازہ کھول دیا ہے‘‘۔ یہ جواب سن کر قادیانی فوجی افسر آگ بگولا ہو گیا اور اس نے مجھے انگریزی میں گالیاں دینا شروع کر دیں۔

قدوائی صاحب نے اسے ٹوکا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔ فوجی افسر نے قدوائی صاحب کو کہا ’’اب تم بھی اپنے آپ کو گرفتار سمجھو، میں تمھارے ساتھ نپٹ لوں گا‘‘۔ قدوائی صاحب نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ قادیانی ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’پورا ملک قادیانیوں کا ہے!‘‘ اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ تقریباً ایک بج چکا تھا اور ہمیں سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔ پھر کرسیاں اٹھا لی گئیں اور ہم نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ چاروں طرف پٹھان فوجی ہماری نگرانی کر رہے تھے۔ اسی دوران ظہر کا وقت ہو گیا اور ہم نے وضو کے لیے پانی مانگا۔ ہمیں شمالی حصے میں لایا گیا جہاں نلکا لگا ہوا تھا۔ وہاں سے وضو کرنے کے بعد میں نے اذان دی۔ اذان کی آواز سن کر کچھ فوجی اور چند کارکنان ختم نبوت جو پہلے ہی گرفتار ہو کر آئے ہوئے تھے، نماز پڑھنے کے لیے آ گئے۔ چنانچہ میں نے امامت کروائی اور سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ دعا کی۔ دعا کے بعد فوجی میرے گرد جمع ہو گئے اور انھوں نے مجھ سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں۔ میں نے قادیانیت کا پول کھولا اور تحریک کا پس منظر بیان کیا۔ میری باتیں سن کر فوجیوں نے اپنی چادریں بچھا دیں اور نہایت محبت کے ساتھ پیش آئے۔ ایک فوجی میس میں گیا اور ہمارے لیے کھانا لے آیا۔ پھر ہم

صفحہ 296

نے نماز عصر بھی اسی طرح باجماعت ادا کی۔ نماز عصر کے بعد پہلے فوجیوں کی ڈیوٹیاں تبدیل کر دی گئیں اور نئے فوجی آ گئے۔ انھوں نے پھر ہمیں نیچے بٹھا دیا اور نہایت سختی کا مظاہرہ کیا۔ ہلنے تک کی ممانعت تھی۔ نماز مغرب کا وقت ہوا تو میں نے پھر اسی طرح اذان دی اور باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد دعا میں مشغول ہو گیا۔ یہ نئے فوجی بھی دعا سے بڑے متاثر ہوئے۔ انھوں نے بھی ہم سے سوالات کیے۔ ہم نے تفصیلات بتائیں تو ان کا رویہ فوراً بدل گیا اور وہ بڑے اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔ نماز مغرب کے بعد مجھے اور قدوائی صاحب کو جیپ میں بٹھا کر مغربی حصے میں واقع سی آئی اے کے دفتر میں لایا گیا۔ جہاں हमारा نہایت فحش اور غلیظ گالیوں سے استقبال ہوا۔ قدوائی صاحب کو مجھ سے علیحدہ کر دیا گیا اور مجھے اوپر کے حصے میں لے جا کر ایک چھوٹی سی حوالات میں بند کر دیا گیا جس میں پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ رات کو مجھے کھانا بھی نہیں دیا گیا اور میں بھوکا ہی سو گیا۔

دن کے وقت مجھے قید تنہائی میں رکھا جاتا اور رات کو تقریباً دس گیارہ بجے تیز روشنی میں بٹھا کر نہایت بدتمیزی سے سوالات کیے جاتے۔ اس کے بعد مجھے پریشان کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا۔ حوالات کی پچھلی طرف ایک کھائی تھی۔ اس میں رائفل سے فائر کیے جاتے اور پھر ایک افسر سپاہیوں سے پوچھتا آج کتنے ”اُتارے؟“ سپاہی جواب میں چار یا چھ کہتا اور پھر مجھے کہا جاتا ”اب آپ کی باری بھی آنے والی ہے“۔ پھر پوچھ گچھ کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ مجھے ہتھکڑی لگا کر ایک تہہ خانے میں لے جایا جاتا اور وہاں اوٹ پٹانگ سوالات کر کے پریشان کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اسی دوران ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک روز مجھے تہہ خانے میں اتارا جا رہا تھا، جب تین چار سیڑھیاں باقی رہ گئیں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً ڈیڑھ گز لمبا سانپ پھن پھیلائے فرش پر پڑا ہے۔ میرے ساتھ آنے والے افسر نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے معافی نہ مانگی تو مجھے اس سانپ کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ میں نے اپنے حوصلے کو قائم رکھا اور معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے مجھے دھکا دینے کی کوشش کی تو میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ چنانچہ اتفاق یہ ہوا کہ وہ اپنے ہی زور سے نیچے کی طرف لڑھک گیا اور پھر بدحواسی کے عالم میں اوپر کی طرف بھاگا۔ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی، جب مجھے حوالات میں بند کرنے کے لیے پولیس کی بارک کے سامنے سے گزارا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے

صفحہ 297

اپنے دونوں ہاتھ اُوپر اُٹھائے اور پھر ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگا لیا۔ میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں کہا ”خدا کا شکر ہے کہ میں نے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں نہیں پہنیں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے آج اللہ کے پیارے حبیب شافع محشر ﷺ کی ناموس اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور پہنا ہے“۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا ”دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے، ملازمت کا معاملہ ہے“۔ میں نے ان سے کہا ”یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی۔ اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اسوۂ حُر پر عمل کرو“۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہو گئے۔

چند دنوں بعد ڈی ایس پی، سی آئی اے نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور کاغذ اور قلم میرے سامنے رکھ دیا اور مجھے کہا کہ میں جو کچھ بھی چاہتا ہوں، کاغذ پر لکھ دوں۔ میں نے اسے پوچھا کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آ گئی تو اس نے جواب میں مغلظات سنانا شروع کر دیں۔ میں یہ گالیاں برداشت نہ کر سکا اور میں نے اسے کہا ”آپ میرے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں لیکن میرے بزرگوں کو گالی نہ دیں ورنہ آپ کو اس کی بڑی سخت سزا ملے گی کیونکہ میرے بزرگوں کا تعلق اہل بیت سے ہے“۔ یہ باتیں سن کر وہ مرعوب سا ہو گیا۔ اس کے بعد فائرنگ کی آواز آئی اور پھر دو سپاہی دفتر میں داخل ہوئے۔ ڈی ایس پی نے ان سے پوچھا ”آج کتنے اُتارے؟“ انھوں نے جواب دیا ”دو“ سپاہی واپس چلے گئے اور پھر فائرنگ کی آواز آنے لگی۔ ڈی ایس پی نے فون اٹھایا اور پھر وہی سوال دہرایا ”اب کتنے اتارے؟“ اور پھر اس نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ”اب مزید چار افراد کو گولی مار دی گئی ہے۔ حکومت کے باغیوں کا یہی حشر ہوتا ہے“ اور پھر اس نے بڑی لجاجت سے کہا ”آپ تو شریف آدمی ہیں، اس کاغذ پر معافی نامہ لکھ دیجیے، ہم آپ کو ابھی رہا کروا دیں گے“۔ میں نے اسے جواب دیا ”جو حکومت ختم نبوت کی منکر ہو اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی باغی ہو، میں اس سے ہرگز معافی نہیں مانگ سکتا“۔ میرا جواب سن کر اس نے کہا کہ میں اپنے یہی الفاظ کاغذ پر لکھ دوں۔

چنانچہ میں نے یہ الفاظ کاغذ پر لکھ دیے۔ ڈی ایس پی نے یہ عبارت پڑھی تو غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے قلم زور سے زمین پر مارا اور کاغذ پھاڑ دیا پھر وہ مجھے مارنے کے لیے کرسی سے اچھلا۔ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور جلدی میں کرسی کا تکیہ ہی پکڑ سکا۔ لیکن اس پر اللہ کے فضل سے ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مجھے کچھ کہے بغیر دفتر سے باہر چلا گیا۔ پھر ایک سپاہی آیا اور اس

صفحہ 298

نے مجھے قلعہ کے دروازے کے پاس حوالات میں لے جا کر بند کر دیا۔ اس روز دوپہر کو مجھے نہ تو کھانا دیا گیا اور نہ پانی مل سکا۔ ظہر اور عصر کی نماز میں نے تیمم سے ادا کی۔ مغرب کے وقت مجھے وضو کے لیے پانی دے دیا گیا۔ تقریباً نو بجے مجھے ہتھکڑی لگا کر ایک بڑے کمرے میں لایا گیا یہاں میری ہتھکڑی کھول دی گئی اور پھر مجھے سیدھا کھڑا رہنے کا حکم دیا گیا، تھوڑی دیر کے بعد ایک سپاہی نے میرے بازو پکڑ کر اوپر کر دیے اور ٹانگیں کھولنے کو کہا، اسی عالم میں دو تین گھنٹے گزر گئے پھر وہ سپاہی چلا گیا اور اس کی جگہ دوسرا آ گیا۔ اس طرح تین تین گھنٹے کے بعد ڈیوٹیاں بدلتی رہیں، جونہی میں ہاتھ ذرا نیچے کرتا، ڈیوٹی پر موجود سپاہی فوراً میرا بازو پکڑ کر ہاتھ اوپر کر دیتا! یہ اذیت ناک سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ فجر سے تقریباً دو گھنٹے قبل میرے پیٹ اور سینے میں شدید درد اُٹھا اور میں کراہنے لگا۔ لیکن ان لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر میں نے تہجد کے نفل ادا کرنے کی اجازت مانگی لیکن اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں نے درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ چند ہی لمحے بعد کافی افاقہ ہو گیا۔ نماز فجر ادا کرنے کی اجازت بھی مجھے نہ مل سکی۔ رات کے نو بجے سے صبح گیارہ بجے تک یہی عالم رہا۔ طبیعت نہایت مضمحل تھی اور تھکاوٹ سے بدن چور چور ہو رہا تھا۔

اتنے میں ایک پولیس افسر آیا اور مجھے ہتھکڑی لگا کر حوالات میں لے گیا۔ یہاں ایک سپاہی کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ وہ مجھے سونے نہ دے۔ پانی کا گھڑا تو لا کر رکھ دیا گیا مگر کھانا نہ ملا۔ عصر کے بعد وہ سپاہی چلا گیا اور میری آنکھ لگ گئی۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ بہت بڑا کمرہ ہے جس میں سبز رنگ کی روشنی ہے، اس کمرے کی سیڑھیاں ہیں جس پر والد محترم حضرت علامہ ابوالحسنات (جو اس وقت سکھر جیل میں تھے) کھڑے ہیں، مجھے دیکھ کر انھوں نے سینے سے لگا لیا۔ میں نے ان سے پوچھا ”آپ کا کیا حال ہے؟“ تو انھوں نے جواباً فرمایا ”مجھے بھی انھوں نے رات بھر کھڑا رکھا ہے“۔ اس گفتگو کے بعد میں ان سیڑھیوں سے نیچے کمرے میں اترا تو میں نے دیکھا کہ شمالی جانب ایک دروازہ ہے جو کہ کھلا ہوا ہے۔ میں اس کمرے میں دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک بزرگ سپید نورانی چہرہ، کشادہ پیشانی، درمیانہ قد، سفید داڑھی، کھلی آستینوں کا سبز کرتہ زیب تن کیے میری طرف تشریف لائے اور پیچھے سے ایک آواز آئی ”حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لا رہے ہیں“۔ میں نے دست بستہ حضرت سے عرض کی ”حضور! ان کتوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے“۔ سرکار غوث

صفحہ 299

اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے میری داہنی طرف پشت پر تھپکی دی اور فرمایا ”شاباش! بیٹا گھبراؤ نہیں...... سب ٹھیک ہو جائے گا“۔ میں نے دوبارہ عرض کی ”حضور! انھوں نے بہت پریشان کر رکھا ہے“۔ رُخ انور پر مسلسل شگفتگی تھی، فرمایا ”کچھ نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا“ اور یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے گئے، اس واقعہ کے بعد میرا حوصلہ بہت بلند ہو گیا ورنہ اس رات کی اذیت سے ممکن تھا کہ میں ڈگمگا جاتا لیکن غوثِ پاک کے روحانی کرم نے مجھے ذہنی اور قلبی سکون سے مالا مال کر دیا۔ مغرب کے بعد مجھے کھانا دیا گیا اور پھر رات کو کسی نے مجھے پریشان نہیں کیا۔ نماز کے بعد میں بیٹھا ہوا تھا کہ معاً دل میں خیال آیا کہ یہاں خشک روٹی اور چنے کی دال کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ اگر اپنے گھر میں ہوتے تو حسب منشا کھانا کھاتے لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ میں نے سر بسجود ہو کر توبہ کی اور اس وسوسے کا ازالہ چاہا، لیکن خدا کی قدرت دیکھیے کہ چند لمحے بعد اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی ”شاہ جی! یہ لے لو“ اور پھر ایک لفافہ مجھے دے دیا گیا جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت قاسم عالم ﷺ کے صدقے میں ملی ہے۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔

مجھے سات سال قید بامشقت کی سزا ہوئے تقریباً ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ فوجی عدالت نے مقدمہ بغاوت کی سماعت شروع کر دی اور سرسری کارروائی کے بعد مجھے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ فوجی عدالت کے سربراہ نے فیصلہ پڑھا ”ملزم کو گلے سے اس وقت تک پھانسی پر لٹکایا جائے جب تک کہ وہ مر نہ جائے!“ سزائے موت کا فیصلہ سننے کے بعد ایک لمحے کے لیے تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا لیکن معاً بعد آیت کریمہ بل احیاء ولكن لاتشعرون زبان پر آ گئی اور پھر حوصلے کا یہ عالم تھا کہ جامِ شہادت نوش کرنے کے لیے طبیعت مچلنے لگی اور جنت کے لہلہاتے ہوئے باغات آنکھوں میں گھومنے لگے۔ مجھے سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص ”کال کوٹھڑی“ میں لا کر بند کر دیا۔ میں اپنے بخت رسا پر ناز کرنے لگا کہ ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کی خاطر جان کی قربانی پیش کرنے کی سعادت حاصل ہونے والی ہے۔ تین روز کے بعد مجھے دوبارہ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اس نے میری سزائے موت چودہ سال قید میں تبدیل کر دی حالانکہ میں نے سزا میں تخفیف کے لیے کوئی اپیل تک نہ کی تھی۔

صفحہ 300

ایک روز میں نے سکھر جیل کے ایڈریس پر والد محترم کو اپنی خیریت کا خط لکھا جس کا جواب مجھے پندرہ روز کے بعد موصول ہو گیا، والد صاحب نے اپنے خط میں لکھا کہ مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ تم رتبہ شہادت حاصل نہیں کر سکے، لیکن بہر حال یہ جان کر دل کو اطمینان ہوا کہ تم تحفظ ختم نبوت ﷺ کی خاطر لڑ رہے ہو۔ خط کے آخر میں لکھا تھا: ”کاش اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا“۔

زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

حضرت مولانا خلیل احمد قادریؒ روایت کرتے ہیں: ”میں تحریک ختم نبوت 1953ء کے سلسلے میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ (نیلا گنبد) کے پاس گیا، اور اُن سے تحریک میں باقاعدہ شمولیت کے لیے درخواست کی، تو اُنہوں نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور پھر کہنے لگے کہ: میں ٹانگوں سے معذور ہوں، مگر آپ تحفظ ختم نبوت کی خاطر مجھے جب چاہیں، گرفتار کروا دیں، اگر آپ ابھی چاہیں تو میں اسی وقت آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں“۔

آغا شورش کاشمیریؒ

خطابت، صحافت، شاعری اور سیاست کے محاذ پر جناب آغا شورش کاشمیریؒ ایسا عبقری نظر نہیں آتا۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو بڑی بے خوفی اور استقامت سے حق کی سربلندی کے لیے باطل سے ٹکرا جاتے اور تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آغا شورش کاشمیریؒ مجاہد ختم نبوت تھے۔ انھوں نے اپنی خداداد خطابت اور صحافت سے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی ناپاک سازشوں کا بھرپور محاسبہ کیا۔ وہ قادیانیت کو ایک مذہبی تحریک نہیں بلکہ سیاسی گماشتہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ”عجمی اسرائیل“ میں فتنہ قادیانیت کو ایک سامراجی مہرہ ثابت کیا اور ان کے مذموم عقائد و عزائم سے حکمرانوں کو بروقت خبردار کیا۔ آپ تحفظ ختم نبوت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے۔ ایک دفعہ چٹان پریس کی ضبطی پر موچی دروازے میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا: ”ایوب خان! محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کی پاداش میں تم نے میرا پریس ضبط کیا ہے، جاؤ دوسرا پریس بھی ضبط کر لو، تم نے کمینگی کا مظاہرہ کیا ہے، میں تو اس مسئلہ کی خاطر اپنی

صفحہ 301

جان کی بازی لگانے کا تہیہ کیے ہوئے ہوں“۔

ایک دفعہ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

لندن پناہ گاہ، ماسکو استاد اور واشنگٹن اس کا بینک ہے“۔

آغا شورش کاشمیریؒ سنایا کرتے تھے کہ 1973ء میں پاکستان کے دریاؤں میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا، پنجاب کے بہت سے شہر اس سے متاثر ہوئے، ایک قادیانی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آغا صاحب! اب تو آپ ہمارے حضرت پر ایمان لے آئیں!“ میں نے کہا ”کون سے آپ کے حضرت؟“ کہا ”حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی پر“۔ میں نے کہا ”کروڑ کروڑ لعنت انگریز کے اس آلہ کار جھوٹے دجال پر“ قادیانی کہنے لگا ”دیکھیں جی کتنا بڑا سیلاب آیا ہے، دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ تباہ ہوگیا لیکن ”ربوہ“ بچ گیا، اس میں سیلاب نہیں آیا“۔

آغا صاحب نے کہا کہ ”ادھر دریائے راوی میں بھی بڑا سیلاب آیا لیکن لاہور کی ”ہیرا منڈی“ بچ گئی۔ وہاں بھی سیلاب نہیں آیا، ادھر آپ کے ”ربوہ“ میں سیلاب کا پانی نہیں آیا، اور وہ بھی بچ گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہیرا منڈی اور ربوہ والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں“۔ آغا صاحب کا یہ جواب سن کر وہ قادیانی شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ دریائے چناب کا مغربی کنارہ جہاں ”چناب نگر (ربوہ)“ آباد ہے، وہ اونچا ہے۔ ایک طرف پہاڑی سلسلہ ہے، وہاں اکثر سیلاب کا پانی نہیں آتا، اس لیے اس میں کوئی کرامت کی بات نہیں تھی۔

(جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا۔ ص 29، 30 از مولانا منظور احمد چنیوٹی)

جناب زیڈ اے سلہری بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے آخری دنوں میں جب ہم آغا شورش کاشمیریؒ سے ملنے ہسپتال گئے تو انھوں نے دوران ملاقات انتہائی رقت آمیز آواز میں کہا: ”سلہری صاحب! آپ گواہ رہنا کہ میں مسلمان ہوں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ میں نبی کریم ﷺ کا عاشق ہوں۔ تحفظ ختم نبوت میری زندگی کا مشن ہے“۔ اللہ کی شان آغا صاحب اسی روز رات 11 بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ کئی ہفتوں بعد وہ اپنے دیرینہ رفیق صلاح الدین کے خواب میں تشریف لائے اور کہا: ”صلاح الدین! قبر اور حشر کے معاملات بہت سخت ہیں۔ اگر میرے نامۂ اعمال میں تحفظ ختم نبوت کا کام نہ ہوتا تو میری

صفحہ 302

نجات ناممکن تھی۔“

اس واقعے کے راوی کہنہ مشق صحافی جناب جلیس سلاسل ہیں جنہوں نے 1975ء میں ہفت روزہ ”اخبار جہاں“ کراچی کے لیے آغا شورش کاشمیری مرحوم سے انٹرویو لیا جو ٹائٹل اسٹوری کے طور پر شائع ہوا۔ یہ شورش مرحوم کی زندگی کا آخری انٹرویو تھا، اس انٹرویو کے شروع میں جناب جلیس سلاسل نے لکھا:

سے طویل ملاقات میں ایسی اثر انگیز انداز تقریر کی کہ بھٹو کو کہنا پڑا، شورش کاشمیری نے میرا دو ٹوک جواب سننے کے باوجود قادیانیوں کے مذہبی معتقدات میرے سامنے اس طرح رکھے جن کے مطابق امت کا ہر فرد حتیٰ کہ خود میں اور میرے ماں باپ بھی کافر نظر آنے لگے تھے۔ جب میں نے اپنے غصہ پر قابو پا کر شورش کاشمیری سے کہا، یہ تو درست ہے کہ قادیانی، امت مسلمہ کے ہر چھوٹے بڑے رکن کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ان کے عقائد کے بارے میں کیا کر سکتا ہوں، یہ تو علمائے کرام کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی تبلیغ کے ذریعے تائب کریں اور جو وقت وہ تحریکیں چلانے میں صرف کرتے ہیں قادیانیوں کے خلاف تبلیغ میں صرف کریں، حکومت ان کی ہر طرح مدد کرنے کو تیار ہے۔ شورش کاشمیری نے میرے اس جواب کے بعد ایک جذباتی مطالبہ کیا۔ اس کے مطالبے کو قبول کرنے کے لیے میرے سامنے دلائل کا انبار تھا اور میں نے دل ہی دل میں یہ مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن اس موقع پر شورش نے ایسی حرکت کی جس سے میں لرز گیا، مولانا تاج محمود جو ان کے ہمراہ تھے، وہ بھی بڑے حیران ہوئے۔ شورش نے گفتگو کرتے ہوئے یکایک اٹھ کر بڑے جذباتی انداز میں میرے پاؤں پکڑ لیے۔ میں نے شورش کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہوئے اٹھا کر گلے سے لگا لیا، مگر شورش ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا بھٹو صاحب! ہمارے پاس کون سی عظمت ہے، ایک سو سال سے اپنے آقا و مولا کی عزت و عظمت بحال نہیں کرا سکے۔ ہم سے زیادہ ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہو گی۔ ہم اس وقت عزت و عظمت کا تاج سر پر رکھ سکتے ہیں جب قادیانیوں سے محمد عربی ﷺ کی نبوت کا تاج چھین کر اپنے نبی ﷺ کو راضی کر لیں۔ پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلا کر کہا میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی کی بھیک مانگتا ہوں، آپ میری زندگی کی تمام نیکیاں اور خدمات لے لیں، میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا مگر خدا کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 303

نبوت کی حفاظت کر دیجیے، یہ میری جھولی نہیں، فاطمہ بنت محمد ﷺ کی جھولی ہے، جس کی جھولی پر قادیانی حملہ آور ہیں۔ اب اس سے زیادہ مجھ میں سننے کی تاب نہ تھی۔ میرے بدن میں ایک جھر جھری سی آئی، میں بھی آخر مسلمان تھا اور اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا تھا اور میں اپنے مسلمان ہونے کی حیثیت کے سوا سب کچھ بھول گیا تھا، میں نے شورش سے وعدہ کر لیا، میں قادیانی مسئلہ ضرور حل کروں گا۔ شورش مجھ سے وعدہ لے کر چلا گیا اور میں سوچتا رہا کہ شاید اس شخص نے مجھ پر جادو کیا ہے لیکن مجھ جیسے شخص کو قائل کرنے کے لیے ایک جذباتی ماحول پیدا کرنا صرف شورش کا کام تھا۔ میں اس شخص کی بہت قدر کرتا ہوں“۔

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک نادرۂ روزگار مفکر، ایک زمانہ ساز مدبر اور ایک حیات آفریں شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں ان کی کوششیں قابل صد ستائش ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر ”تفہیم القرآن“ ان کی بہترین کاوش ہے جسے پوری دنیا میں بے حد پذیرائی ملی۔ مولانا مودودیؒ کو 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں ”قادیانی مسئلہ“ نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں فوجی عدالت سے سزائے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس موقع پر انھوں نے فرمایا: ”دلائل کا جواب دینے کے لیے دلائل موجود نہ ہوں تو پھر طاقت کے زور پر حق کو دبانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے“۔ مولانا سے کہا گیا کہ آپ اپنی سزائے موت کے خلاف حکام سے اپیل کر سکتے ہیں تو مولانا نے ایمان اور عزم کی شان کے ساتھ فرمایا:

ہوں۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی“۔

بعدازاں مولانا کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل کر دی گئی، پھر تقریباً تین سال قید کے بعد مولانا کو رہا کر دیا گیا۔

گر مدعی حسد سے نہ دے داد، تو نہ دے
؎ آتش غزل یہ تُو نے کہی عاشقانہ کیا

حافظ محمد ادریس صاحب اپنے مضمون ”جنوبی افریقن سپریم کورٹ کا تاریخی

صفحہ 304

فیصلہ‘ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں:

کے ملک نائیجیریا میں قائم تھی۔ ہمارے دوستوں نے وہاں بھی قادیانی فتنے کا خوب مقابلہ کیا۔ قادیانی اس قدر شاطر اور چالاک تھے کہ اسلام کے لبادے میں نائیجیریا کے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلاتے اور اپنا ہم نوا بنا لیتے۔ نائیجیریا کے ایک بہت بڑے قبائلی چیف بھی ان کے نرغے میں آگئے۔ ان کے قادیانی ہونے سے پورے قبیلے اور علاقے میں قادیانیوں نے پنجے گاڑ لیے۔ اسلامک فاؤنڈیشن کانو، نائیجیریا نے مولانا مودودیؒ کے کتابچے ’’مسئلہ ختم نبوت‘‘ کا انگریزی ترجمہ Finality of Prophethood مقامی زبانوں میں پھیلایا۔ اس قبائلی چیف تک بھی کسی نہ کسی طرح یہ کتابچہ پہنچ گیا۔ قادیانیوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے چیف کے خوب کان بھرے کہ یہ شخص تو گمراہ ہے اور اسلام کا دشمن ہے۔ مگر اس نے کہا کہ نہیں مجھے دیکھنا تو چاہیے کہ یہ کہتا کیا ہے۔ اس نے پورا کتابچہ پوری توجہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا۔ کتابچہ پڑھنے کے بعد اس چیف کے ذہن میں ہلچل مچ گئی۔ اللہ کی قدرت کہ رات کو خواب میں اس نے دیکھا کہ وہ اپنے محل کے وسیع وعریض لان میں اکیلا بیٹھا ہے اور اس کے چاروں جانب ایک باڑ ہے جس میں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اچانک اس باڑ کو آگ لگ گئی، اس نے جان بچانے کے لیے چیخ و پکار کی لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ خوف کے عالم میں اس نے دیکھا کہ باڑ کے ایک جانب کتابچہ ختم نبوت کا عنوان لکھا تھا اور اس جانب سے باڑ جل چکی تھی اور راستہ بن گیا تھا۔ اس نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور یوں اللہ نے اسے راہنمائی دی کہ مسئلہ ختم نبوت اس کی سمجھ میں آگیا۔ اسی دوران یہ خبریں بھی نائیجیریا پہنچیں کہ پاکستان جو قادیانیوں کا گڑھ ہے، وہاں کی پارلیمنٹ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے تو چیف بالکل یکسو ہو گیا اور اس نے قادیانیت چھوڑ کر پھر اسلام کو سینے سے لگا لیا۔ ظاہر ہے ایسے کتابچے کو قادیانی اپنے لیے پیغام موت ہی سمجھ سکتے ہیں۔ بعد میں اس چیف کو بتایا گیا کہ مولانا مودودیؒ کو اسی مسئلے پر فکری راہنمائی دینے کے نتیجے میں ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی مگر انہوں نے ناموس رسالت ﷺ پر جان قربان کر دینے کا عزم ظاہر کیا اور حکمرانوں سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کی جان بچالی اور ان کے مخالفین دم بخود رہ گئے۔ اس سے اس کے یقین

صفحہ 305

وایمان میں اور مضبوطی آئی۔ یوں قادیانیوں کو جگہ جگہ شکست ہوئی‘‘۔

(فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 دسمبر 2013ء)

مولانا گلزار احمد مظاہریؒ

حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ ملک کے نامور عالم دین، واعظ خوش بیان، اتحاد امت کے نقیب، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی راہنما، تحریک ختم نبوت کے جری و دبنگ مبلغ اور بے باک راہنما تھے۔ مولانا مظاہریؒ زندگی بھر دعوت وتبلیغ میں مصروف رہے۔ پاکستان کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں، ریلیوں، سیرت النبی ﷺ اور ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ مشرقی ومغربی پاکستان کا کوئی قابل ذکر شہر، قصبہ، دیہات اور گوٹھ ایسا نہیں کہ جہاں مولانا مظاہری توحید و رسالت کی دعوت اور عقیدہ ختم نبوت کا پیغام لے کر نہ پہنچے ہوں۔

چونکہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین کا تعلق بھیرہ سے تھا، اس لیے بھیرہ کی پراچہ برادری کے کچھ خاندان قادیانی ہو گئے تھے بلکہ یوں بھی تھا کہ باپ قادیانی اور بیٹا مسلمان یا باپ مسلمان اور بیٹا قادیانی۔ اسی طرح مختلف خاندانوں میں باہمی شادیوں کے نتیجہ میں مسلمان خواتین غیر مسلموں کے عقد نکاح میں تھیں اور اسے کوئی برائی بھی تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ جب مظاہرالعلوم سے عالم دین بن کر بھیرہ واپس آئے تو انھوں نے اپنے محلہ کی بڑی جامع مسجد میں پہلے ہی خطبہ جمعہ میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنا، انھیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کرنا ناجائز، خلاف اسلام، نبی کریم ﷺ کی دل آزاری اور تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔ مولانا مظاہریؒ کے اس اظہار حق سے قادیانیوں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔ انھوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ چونکہ ان میں سے بعض گھرانے بااثر بھی تھے اور متمول بھی۔ اس لیے انھوں نے اسے اپنی توہین سمجھا۔ لیکن الحمد للہ، مولانا مظاہریؒ کے اعلان حق نے پوری پراچہ برادری میں ہی نہیں، پورے شہر میں ایک نیا جذبہ اور نئی بیداری پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں کچھ ہی عرصہ بعد قادیانی اچھوت بن گئے۔ سگے بیٹوں نے اپنے قادیانی باپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ قادیانیوں کے سماجی بائیکاٹ کا یہ سب سے پہلا بڑا اور منظم مظاہرہ تھا۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے موقع پر مولانا مظاہری جماعت اسلامی ضلع میانوالی کے امیر تھے۔ اس

صفحہ 306

مرحلہ پر تحفظ ختم نبوت کا علم لے کر انھوں نے ملک بھر کا طوفانی دورہ کیا۔ کراچی سے خیبر تک، شہر شہر، قریہ قریہ ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ ان کے پُر جوش خطاب نے ملک بھر میں اہلِ ایمان کے دلوں میں عشق مصطفےٰ ﷺ کی آگ لگا دی جس سے گھبرا کر حکمرانوں نے انھیں کراچی کے ایک جلسہ عام کے بعد گرفتار کر لیا۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں انھیں نظر بند کر دیا گیا۔ شاہی قلعہ کے صعوبت خانے میں ان پر تشدد بھی ہوا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی بلکہ ...... بڑھتا ہے ذوق جرم یہاں ہر سزا کے بعد ...... کے مصداق قید و بند نے ان کے جوش وخروش اور عزم و ولولہ کو مزید بلند و بالا کر دیا۔

مولانا مظاہریؒ نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت سے دو سال پہلے ہی قادیانیوں کے خلاف منبر ومحراب اور قرطاس وقلم کے ذریعے بھرپور مہم کا آغاز کیا۔ انھوں نے اس موقع پر قادیانیت اور ان کے عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے مختلف عنوانات پر انتہائی مدلل اور پُر اثر کتابچے تحریر کیے اور انھیں ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے ملک بھر میں پھیلایا۔

مولانا مظاہریؒ نے قادیانیوں کے عزائم سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوانے کا مطالبہ پوری شدت سے اٹھایا۔ اسی سلسلہ میں انھوں نے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد پیش کی اور الحمد للہ کہ مولانا مظاہریؒ کی کوشش سے رابطہ عالم اسلامی نے 1972ء میں قادیانیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔

چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قادیانیوں کے وحشیانہ تشدد کے بعد پورے ملک میں تحریک ختم نبوت پوری شدت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ مولانا کے صاحبزادے فرید احمد پراچہ اس وقت پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔ انھوں نے پورے ملک کے طلبہ کو متحرک کیا اور پنجاب بھر کے طوفانی دورے کیے۔ اس دوران اکابر علمائے کرام کی طرف سے مولانا مظاہریؒ کو جو ان دنوں برطانیہ کے دورے پر تھے، فوراً واپس پہنچنے کا حکم ملا۔ عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ مولانا کی لازوال محبت کا یہ بین ثبوت ہے کہ اگر چہ وہ برطانیہ میں بھی یہی مشن لے کر گئے تھے، لیکن جب انھیں اکابر علمائے کرام کی طرف سے وطن واپسی کا حکم ملا تو بلا تاخیر پہلی فلائٹ سے پاکستان واپس پہنچے اور پھر پورے ملک کا مسلسل دورہ کر کے ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں میں عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ

صفحہ 307

ناموس رسالت ﷺ کی شمع روشن کی۔ یہ بھی مولانا مظاہری کے عقیدہ ختم نبوت پر لازوال یقین اور حضور رسالت مآب ﷺ سے غیر متزلزل محبت کی دلیل ہے کہ جب ان کی سب سے چھوٹی بیٹی عابدہ نسیم کے لیے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں کے وحشیانہ تشدد کے باوجود تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے نعرے بلند کرنے والے نشتر میڈیکل کالج ملتان کی طلبہ یونین کے صدر ڈاکٹر ارباب عالم خان کے رشتہ کی تجویز پہنچی تو مولانا نے اپنے خاندان میں موجود مختلف رشتوں کے باوجود یہ کہہ کر بلا تامل ہاں کر دی کہ ارباب عالم کا سب سے بڑا اعزاز غلامی رسول ﷺ ہے اور اس سے بڑا اعزاز اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

حضرت مولانا تاج محمودؒ

حضرت مولانا تاج محمودؒ تحریک ختم نبوت کے مدبر جرنیل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائد و رہنما تھے۔ جامع مسجد ریلوے کالونی فیصل آباد میں ساری زندگی گزار دی۔ تحریک ختم نبوت 1953ء اور 1974ء میں بھر پور قائدانہ حصہ لیا۔ آخری دم تک تحفظ ختم نبوت کے لیے فتنہ قادیانیت سے برسر پیکار رہے۔ آپ زبان وقلم دونوں کے دھنی اور میدان تقریر وتحریر کے یکساں شہسوار تھے۔ وہ بڑی خوبصورت، علمی، انکشافاتی اور شعلہ بار تقریر کرتے جس سے بزدل دشمنوں کے دل دہل جاتے۔ ایک دفعہ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ دل کے مریض ہیں، آپ تقریر میں اس قدر جذباتی نہ ہوا کریں۔ اس طرح آپ کو دل کی بیماری کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ آپ مسکرا کر فرما دیتے: ’’چھوڑو جی، ایک دل ہی تو ہے ہم فقیروں کے پاس، یہ بھی اگر اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر نثار نہ کیا تو کیا کمایا۔ ہونے دو جو ہوتا ہے، ہم حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ مرتے دم تک جہاد جاری رکھیں گے اور پھر ایک دنیا گواہ ہے کہ یہ صرف زبان تک محدود نہیں، بلکہ آپ نے کر کے دکھایا۔

آئیے! ایک منفرد ایمان پرور واقعہ پڑھیے اور اپنے دلوں کی دھڑکنوں کو محبت رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات سے ہم آہنگ کیجیے۔ تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران میں جب مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد میں شمع رسالت کے پروانوں کے ایک جم غفیر کو قادیانی گروہ اور اس کے کفریہ عقائد و عزائم کے تحفظ اور سرپرستی کے لیے حکومت وقت کی طرف سے کیے گئے قادیانی نواز اقدامات سے آگاہ

صفحہ 308

کر رہے تھے تو مولانا تاج محمودؒ کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی سوز و گداز سے بھرپور یہ آواز مسجد کی سیڑھیوں کے نزدیک کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھی۔ دفعتاً شدت جذبات سے مغلوب ہو کر ساری مسجد میں پھیلے ہوئے مجمع کو چیرتی ہوئی وہ عورت آگے بڑھی اور اپنی گود کے بچہ کو منبر کے نزدیک جا کر (جہاں مولانا کھڑے تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اچھال دیا اور کہا: ”مولانا! میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے، اسے سب سے پہلے حضور خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس پر قربان کر دو“۔ یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔ اس ایمان افروز منظر کو دیکھ کر سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ خود مولانا کی آواز گلوگیر اور رندھی ہوئی تھی۔ انھوں نے مجمع سے کہا: لوگو! اس بہن کو جانے نہ دینا، اسے بلاؤ۔ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا تو مولانا نے کہا: میری بہن، سب سے پہلے گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے (اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے چھوٹے سے اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہو جائیں تو پھر آخر میں اپنے اس بچے کو لے آنا اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی عزت پر قربان کر دینا۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔ (اللہ کریم امت مسلمہ کو ایسی عظیم مائیں عطا فرمائے جو تحفظ ختم نبوت کی خاطر اپنے معصوم بچوں کی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں)

نے دیکھا کہ مولانا بہت خوبصورت کپڑوں میں ہیں۔ پوچھا، کیسے گزری۔ فرمایا ”معاملہ تو بہت سخت تھا، مگر میرے ہاتھ پر ایک شخص قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوا تھا، اس کی برکت سے بخشش ہوگئی“۔

رائے پوریؒ نے نماز عیدالفطر، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ کی مسجد میں ادا فرمائی۔ مولانا مرحوم کی وفات کے بعد یہ پہلی عید تھی، اس لیے آپ نے اپنے مخلص ورکروں اور حضرت مولانا مرحوم کی اولاد اور ارادت مندوں سے شفقت فرمائی کہ آپ کے تشریف لانے سے بہت ہی زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی۔ مولانا مرحوم کے صاحبزادے طارق محمود اور مولانا فقیر محمد صاحب نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ مولانا تاج محمود صاحب کی بیٹھک میں

صفحہ 309

تشریف لے چلیں۔ فرمایا نہیں، میں مولانا کے پاس ہی بیٹھوں گا۔ یہ فرما کر حضرت مولانا تاج محمود صاحب کی قبر مبارک پر تشریف لائے۔ دیر تک کچھ پڑھتے رہے۔ مراقبہ کی حالت آپ پر طاری تھی مگر کیا مجال کہ کسی کو کچھ محسوس ہو کہ آپ پر کیا کیفیت ہے۔ یعنی صاحب کرامت و کشف ہونے کے باوجود اخفا اتنا ہوتا ہے کہ کیا مجال ہے کہ کسی کو کچھ علم ہو کہ یہ بھی کچھ ہیں۔ دعا فرمائی، چل دیے۔

بعد میں فقیر اپنے گرامی قدر مخدوم جناب محمد اقبال صاحب کے ہمراہ حضرت کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ دست بوسی کے بعد بیٹھتے ہی ہمارے دل میں خیال آیا کہ حضرت سے پوچھوں کہ میرے محسن مولانا تاج محمود صاحب کا کیا حال ہے؟ حضرت کا احترام اور مزاج مانع رہا مگر دل میں یہ خیال بار بار آیا کہ پوچھ لینے میں کیا حرج ہے؟ میری اس قلبی کیفیت کو اللہ رب العزت نے آپ پر منکشف فرما دیا۔ فوراً میری طرف نظر شفقت فرمائی اور فرمایا ”مولانا تاج محمود جنت الفردوس میں مزے لوٹ رہے ہیں اور یہ سب کچھ تحفظ ختم نبوت کے کام کا صلہ ہے“۔

حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ

تحریک میں شریک تھا اور کاروانِ تحریک کے قائد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ تھے۔ اس وقت کا ایک واقعہ مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانویؒ نے یوں بیان فرمایا:

جامۂ تنگ میں نہیں سما سکتی۔ تحریک کے دنوں میں جو آخری سفر حضرتؒ نے کراچی سے ملتان، لاہور راولپنڈی، پشاور تک کا کیا، اس کی یاد کبھی نہ بھولے گی۔ کراچی سے روانہ ہوئے تو حضرتؒ پر بے حد رقت طاری تھی اور جناب مفتی ولی حسن سے فرما رہے تھے۔ ”مفتی صاحب! دعا کیجیے حق تعالیٰ کامیابی عطا فرمائیں۔ میں کفن ساتھ لیے جا رہا ہوں۔ مسئلہ حل ہو گیا تو الحمدللہ، ورنہ شاید بنوریؒ زندہ واپس نہ آئے گا“۔ حق تعالیٰ نے آپ کے سوز دروں کی لاج رکھ لی اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر جدا کر دیا گیا“۔

مذکورہ تحریک کے دوران جب طلباء جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”ضرورت پڑی تو پہلے بنوری اپنی گردن کٹوائے گا، پھر

صفحہ 310

آپ کی باری آئے گی‘‘۔

تھے۔ آپ کی شب و روز کوششوں سے تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا۔ حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد غالباً رمضان المبارک میں، میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف میں یہ آیت لکھی ہے۔ انه من سليمان وانه بسم الله الرحمن الرحيم میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت پر مجھے انعام دیا جارہا ہے اور اس کی یہ تعبیر کی کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے اور میں اس کا نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔

مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمت اسلام کے لیے وقف تھیں۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ ملتان سے گرفتار ہوئے۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسمبلی سے باہر ملت اسلامیہ کی راہنمائی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں جلیل القدر علما و راہنماؤں نے کی اور قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی وکالت آپ نے کی۔ اسمبلی کے معزز ممبران و علما کرام کی حمایت و تعاون آپ کو حاصل تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مرزا ناصر قادیانی اور صدر الدین لاہوری مرزائیوں کے جواب میں جو محضر نامہ تیار کیا گیا، اس کا نام ”ملت اسلامیہ کا موقف“ ہے۔ اس کے عربی، اردو، انگلش میں مجلس نے کئی ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ اس محضر نامے کو اسمبلی میں پڑھنے کا شرف اللہ رب العزت نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ آپ اسمبلی میں ملت اسلامیہ کی متفقہ آواز تھے۔

قومی اسمبلی سے 7 ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں ان کا بڑا حصہ ہے۔ 22 اگست 1974ء سے 5 ستمبر 1974ء کی شام تک آئینی کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔ سب سے

صفحہ 311

زیادہ جھگڑا آئین کی دفعہ 106 میں ترمیم کے مسئلہ پر ہوا۔ اس دفعہ کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے جو بلوچستان میں ایک، سرحد میں ایک، سندھ میں دو اور پنجاب میں تین سیٹوں پر مشتمل ہے۔ ان 6 غیر مسلم اقلیتوں کے نام یہ ہیں: عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچھوت۔ حزب اختلاف کے نمائندگان چاہتے تھے کہ ان چھ کی قطار میں قادیانیوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ اس کے لیے حکومت تیار نہ تھی اور ویسے بھی قادیانیوں کا نام اچھوتوں کے ساتھ پیوست کرنا پڑتا تھا۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا، اس کو رہنے دیں۔ مفتی صاحب نے کہا، جب اور اقلیتی فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بھی لکھ دیں۔ پیرزادہ نے جواب دیا، یہ اقلیتی فرقوں کی ڈیمانڈ تھی اور مرزائیوں کی ڈیمانڈ نہیں۔ مفتی صاحب نے کہا، یہ تو تمہاری تنگ نظری ہے اور ہماری فراخدلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان کی ڈیمانڈ کے بغیر انہیں ان کا حق دے رہے ہیں۔

7 ستمبر کو اسمبلی نے فیصلہ سنانا تھا۔ ادھر سب کمیٹی 5 ستمبر کی شام تک کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکی۔ چنانچہ 6 ستمبر کی صبح کو مسٹر بھٹو نے مولانا مفتی محمود سمیت سب کمیٹی کے چھ ارکان کو پرائم منسٹر ہاؤس بلایا جہاں دو گھنٹے کی مسلسل گفتگو کے باوجود بنیادی نکتہ نظر پر اتفاق رائے کی صورت پیدا نہ ہوئی۔ اپوزیشن سمجھتی تھی کہ اس کے بغیر حل ادھورا رہے گا۔ بڑی بحث و تمحیص کے بعد مسٹر بھٹو نے یہ جواب دیا: میں سوچوں گا۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو میں دوبارہ بلاؤں گا‘۔

عصر کے وقت اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ پیرزادہ نے مفتی صاحب سمیت دیگر ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ اپوزیشن نے اپنا موقف پھر واضح کیا کہ دفعہ 106 میں چھ اقلیتی فرقوں کے ساتھ مرزائیوں کی تصریح کی جائے اور بریکٹ میں ’قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ‘ لکھا جائے۔ مسٹر پیرزادہ نے کہا، وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا، ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے، احمدی تو ہم ہیں۔ پھر کہا، ”چلو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار لکھ دو“۔ پیرزادہ نے نکتہ اٹھایا، دستور میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا۔ حالانکہ دستور میں حضرت محمد ﷺ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام موجود ہیں اور پھر سوچ کر بولے، مفتی صاحب، مرزا قادیانی کے نام سے دستور کو کیوں پلید کرتے ہو؟ مسٹر پیرزادہ کا خیال تھا، شاید اس حیلے سے مفتی صاحب ٹل جائیں۔ مفتی صاحب نے فوراً جواب دیا۔ ’شیطان، ابلیس، خنزیر کے نام بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اس سے قرآن کی صداقت و تقدس

صفحہ 312

پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا‘‘۔ پیرزادہ لاجواب ہو کر دوبارہ کہنے لگے، وہ اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا، بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکھتا ہے، صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔ یوں لکھ دو ’’قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں‘‘۔ چنانچہ اس پر فیصلہ ہو گیا۔

7 ستمبر 1974ء ہماری تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب 1953ء اور 1974ء کے شہیدان ختم نبوت کا خون رنگ لایا اور ہماری قومی اسمبلی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ اس روز دستور کی دفعہ 260(3) میں اس تاریخی شق کا اضافہ ہوا:

ایمان نہ رکھتا ہو اور حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی معنی و مطلب یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو یا اس قسم کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو، وہ آئین یا قانون کے ضمن میں مسلمان نہیں ہے‘‘۔

دستور کی دفعہ 106(3) کی شکل یوں بنی:

میں ایسے افراد کے لیے مخصوص فاضل نشستیں ہوں گی جو عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانی گروہ یا لاہوری افراد (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکھتے ہیں، بلوچستان ایک، سرحد ایک، پنجاب تین، سندھ دو۔

مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد آپ کے ایک عقیدت مند نے آپ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ فرمائیے حضرت کیسے گزری؟ اس پر آپ نے فرمایا: ’’ساری زندگی قرآن و حدیث کی تعلیم میں گزری، اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش و کاوش کی، وہ سب اللہ رب العزت کے ہاں بحمدہ تعالیٰ قبول ہوئیں مگر نجات صرف اس محنت کی وجہ سے ہوئی جو قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت کے لیے کی تھی، ختم نبوت کی خدمت کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی‘‘۔

حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ

صفحہ 313

قائد اہلسنّت حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ایک عالم باعمل، مجاہد تحریک ختم نبوت اور پاکستان کے اہم ترین سیاست دان تھے۔ ان کے والد گرامی حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ اپنے زمانے کے شہرہ آفاق روحانی بزرگ اور عالمی مبلغ اسلام تھے جن کے ہاتھ پر بے شمار غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ فتنہ قادیانیت کے خلاف ان کی گرانقدر خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی ایک سحر بیان خطیب، کمال ذکی، حاضر جواب اور فی البدیہہ گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ زبردست خوش الحان قاری قرآن بھی تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بے پایاں محبت وعقیدت ان کی رگ رگ میں جاگزیں تھی۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت نورانی میاںؒ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انھوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کیے اور انھیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ انھوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے کے لیے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعدازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانیؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین ﷺ میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا“۔

حضرت مولانا نورانیؒ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

طرف سے محضر نامہ پڑھنے کے لیے جب قومی اسمبلی میں آیا تو خدا کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز دیکھنے میں آیا کہ جس وقت اس نے محضر نامہ پڑھنا شروع کیا تو اسمبلی کے اس بند ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں اوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کا پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا، سیدھا اس محضر نامے پر آ کر گرا۔ جس سے مرزا ناصر ایک دم چونکا اور گھبرا کر کہا "I am disturbed" مرزا ناصر کی بدحواسی، ذلت آمیز پریشانی اور اس

صفحہ 314

عجیب و غریب واقعہ پر اراکین اسمبلی ششدر رہ گئے کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی غلاظت اوپر چھت سے اس طریقہ سے گری ہو‘‘۔

صنعت و حرفت حکومت پاکستان نے پروفیسر شاہ فرید الحق صاحب سے ذکر کیا کہ ”آپ کے صدر جمعیت، عجیب آدمی ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی اپنی پیش کردہ قرارداد سے دو لفظوں کے اخراج پر انھیں بہت بھاری رقم مل رہی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی۔ مفصل واقعہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں تحریک ختم نبوت 1974ء کے دوران میرے مکان پر علامہ شاہ احمد نورانی کی دعوت تھی۔ کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ قادیانی لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض سرکردہ لوگ وہاں آئے اور پوچھا کہ کیا آپ کے ہاں مولانا نورانی تشریف فرما ہیں، ہم ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو اندر لے گیا اور حضرت نورانی صاحب سے کہا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کیا بات ہے؟ ان لوگوں میں تین چار اعلیٰ سرکاری افسر بھی تھے۔ ایک صاحب نے کہا جناب آپ نے قومی اسمبلی میں اپنی پیش کردہ قرارداد میں لاہوری گروپ کو بھی غیر مسلم قرار دیا ہے حالانکہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی قرارداد میں ہمارا ذکر درست نہیں ہے۔ آپ یوں کریں کہ اپنی قرارداد سے ہمارا نام نکال دیں، ہم اس کے عوض آپ کو پچاس لاکھ روپے پیش کرتے ہیں۔ (یاد رہے 1974ء میں پچاس لاکھ روپے کروڑوں بلکہ اربوں کے برابر تھے) اس پر علامہ نورانی طیش میں آ گئے اور بلند آواز میں فرمایا، ”او کم نصیبو! ہمارا سودا تو دربار مصطفیٰ ﷺ میں ہو چکا ہے۔ ہم آپ کی پیشکش جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، اس لیے کہ ہمارا جوتا اس پیش کش سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹا مدعی نبوت ہے اور جو اسے مجدد یا مسلمان مانتا ہے، وہ بھی کافر ہے اور میری قرارداد سے کوئی لفظ حذف نہیں ہو گا آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں ورنہ آپ کے لیے اچھا نہ ہو گا‘‘۔ اس پر وہ لوگ چلے گئے تو علامہ نورانیؒ نے فرمایا کہ بڑی بڑی اعلیٰ حکومتی شخصیات سفارش کرتی ہیں کہ صاحب! ان لوگوں کا آپ کیوں ذکر لے آئے ہیں۔ یہ تو نبی نہیں مانتے لیکن الحمد للہ! اللہ کریم نے استقامت عطا فرمائی۔ یہ پیسے آنی جانی چیز ہے۔ اصل دولت ایمان کی دولت ہے جو سرمایہ آخرت ہے‘‘۔

صفحہ 315

کسی نے کیا خوب کہا تھا: ”مولانا نورانی نہ جھکتا ہے نہ بکتا ہے“۔

حضرت نورانی میاںؒ نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا:

کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ختم نبوت کا منکر غیر مسلم ہے۔ اس امت میں فتنۂ ارتداد اور فتنہ انکار ختم نبوت کو بیخ و بن سے اکھاڑنے والے سب سے پہلے اور سچے عاشق رسول، حضور ختمی مرتبت ﷺ کے پہلے خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر فتنۂ ارتداد، فتنہ انکار ختم نبوت کی سرکوبی کی، مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں ہزاروں صحابہ کرام شریک ہوئے، جن میں سینکڑوں حفاظ قرآن بھی تھے اور بالآخر مسیلمہ کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ برصغیر میں متنبّیٰ قادیان کے خلاف بھی علما حق نے کفر و ارتداد کے فتاویٰ جاری کیے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ، اعلیٰ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ اور دیگر تمام مکاتب فکر کے اکابر علما نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی۔ علما حق نے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج دیے اور قبول کیے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کا سواد اعظم اس فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہا“۔

حضرت نورانی میاںؒ نے قادیانیوں کے بارے میں نہایت اہم انکشاف کرتے ہوئے فرمایا:

جانے لگے ہیں کیونکہ ان کے پاسپورٹ میں قادیانی نہیں لکھا ہوتا، اس لیے سعودی حکومت انھیں نہیں روکتی۔ وہاں پہنچ کر یہ لوگ سازشیں کرتے ہیں اور یہاں یہ کہتے ہیں کہ ہم تبلیغ کی غرض سے گئے تھے اور چونکہ وہاں ان کو تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے وہ وہاں صرف جاسوسی کرتے ہیں اور یہودیوں کو وہاں کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتے ہیں۔

چونکہ میرے والد گرامی کا موضوع رد قادیانیت و مرزائیت تھا۔ ایک حوالے سے تو یہ موضوع مجھے ورثہ میں ملا اور پھر اس موضوع کا مطالعہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ انسان سوتے سے جاگتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ اے مصطفیٰ ﷺ کے غلام، اٹھ اور جاگ، تیرے ہوتے ہوئے تیرے نبی ﷺ کے گستاخ کیسے جرأت و جسارت کے ساتھ دندنا رہے ہیں۔ یہ قادیانی سیاہ بخت، اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کی محبت ختم کر کے ہندوستان کے جھوٹے نبی کی

صفحہ 316

محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ہر صاحب ایمان کا فرض ہے کہ وہ اٹھ کھڑا ہو اور میدان میں کود پڑے۔ اس منحوس فتنہ کی سرکوبی ہر بڑے فریضے سے اہم فریضہ ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو گڑ کی شکل میں کھلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں بہت ضروری ہے کہ ہر مسلمان فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے موثر اقدام اٹھائے“۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر (ربوہ) میں ختم نبوت کانفرنس سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے فرمایا:

ایمانیات کا مسئلہ ہے جس کے لیے ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ قادیانی حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر مالی اور سیاسی فوائد حاصل کر رہے ہیں حالانکہ وہ اقلیت میں ہیں۔ وہ پاکستان میں اپنی وہی پوزیشن بنانا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں نے بنالی ہے۔ اگر یہ فتنہ اس طرح پروان چڑھتا رہا تو آئندہ اس ملک پر ان کا قبضہ ہوگا اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی حکومت نہ کر سکے گا۔ مرزائیت، یہودیت کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے اور پاکستان میں تل ابیب کا ایجنٹ ربوہ ہے۔ اس کی معرفت جو چاہتے ہیں، کرواتے ہیں۔ مذہب کا تو ان لوگوں نے لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیت ایک بہت بڑی خطرناک سیاسی تحریک ہے اور صیہونیت کی ذیلی تنظیم ہے جو مسلمانوں کے اندر رہ کر مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ ہر مسلمان کو ان کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے“۔ آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو

سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کا شمار دنیا کے عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب کی ذات سے کسی کو ہزار اختلاف ہوں، تو ہوں پر یہ سچائی اپنی جگہ ہے کہ وہ ایک تاریخ ساز اور عہد آفریں شخصیت تھے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا نام اور ناقابل فراموش کردار ہیں۔ وہ انتہائی مدبر سیاستدان، اعلیٰ تعلیم یافتہ، بے حد وسیع المطالعہ، وقت کے نبض شناس اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے دنیا سے اپنی خطابت و ذہانت کا لوہا منوایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام خامیوں اور بشری کمزوریوں کے باوجود عوام کی بھاری اکثریت آج بھی ان کا احترام کرتی ہے۔

صفحہ 317

جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 29 مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی قیادت کے ایما پر بے پناہ تشدد کیا گیا جب وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے بعد واپس ملتان جا رہے تھے۔ ان طلبہ کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے 22 مئی کو پشاور جاتے ہوئے ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانی متنازعہ لٹریچر لینے سے انکار کیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ اس کی پاداش میں، واپسی پر ان کی گاڑی بلا ضابطہ روک کر طلبہ پر ظلم وتشدد کا ہر نیا طریقہ آزمایا گیا جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کا پورے ملک میں زبردست ردّعمل ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں میں ہڑتالوں اور پُر جوش مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ چنانچہ 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک قرارداد پیش کی۔ اس سے پہلے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 13 جون 1974ء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

تعلق رکھنے والے سارے مسئلے کو جولائی کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ حکمران جماعت کے ارکان پر پارٹی کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور انھیں آزادی ہوگی کہ وہ کم وبیش 90 سال پرانے اس اہم اور نازک مسئلے کو عوام کی اکثریت کی خواہشات، ایمان اور عقیدے کی رُو سے مستقل طور پر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلے پر، میں آمرانہ طور پر خود کوئی فیصلہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ جمہوری طریق کار یہی ہے کہ اس اہم مسئلے پر عوام کے منتخب نمائندے خود سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کریں۔ میں قادیانیوں کے مسئلہ کا جمہوری، منصفانہ اور صحیح فیصلہ کروں گا اور مجھے اپنے فیصلے پر فخر ہوگا۔ یہ فیصلہ کرانے کے لیے وقت کی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہرگز متنازعہ نہیں۔ فیصلہ تو ہو چکا ہے اور یہ طے شدہ ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا قائل نہیں ہے، وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اب اسے ایک ضابطہ کے تحت لانا باقی ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں قادیانیوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے لیکن انھوں نے ہمیں خرید تو نہیں لیا۔ ووٹ تو ہمیں دوسرے لوگوں نے بھی دیے۔ مگر ہم ان کے محتاج تو نہیں۔ میں صرف اللہ کا محتاج ہوں اور پاکستان اور اس کے عوام سے وفاداری میرا ایمان

صفحہ 318

ہے۔ میں وہی کروں گا جو میرا ضمیر کہے گا۔

میں مسلمان ہوں۔ مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کے ساتھ مروں گا۔ ختم نبوت پر میرا ایمان کامل ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے ملک کو جو دستور دیا ہے، اس میں ختم نبوت کی اتنی ٹھوس ضمانت نہ دی گئی ہوتی۔ 1956ء اور 1962ء کے آئین میں ایسی کوئی ضمانت کیوں نہیں دی گئی۔ حالانکہ یہ مسئلہ 90 سال پرانا ہے۔ یہ شرف مجھ گناہگار کو حاصل ہوا ہے کہ ہم نے اپنے دستور میں صدر مملکت اور وزیر اعظم کے لیے ختم نبوت پر کامل ایمان کو لازمی شرط قرار دیا ہے۔ ہم نے یہ ضمانت اس لیے دی ہے کہ ہمارے ایمان کی رو سے، حضور ﷺ خدا تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ملک کو نیا عوامی دستور دیا اور ان شاء اللہ عوام کے تعاون سے قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کر دوں گا۔ یہ اعزاز بھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور یومِ حساب، خدا کے سامنے اس کام کے باعث سرخرو ہوں گا‘‘۔

انہی دنوں مجاہد ختم نبوت جناب آغا شورش کاشمیری نے بھٹو سے طویل ملاقات کی جس میں انھوں نے اثر انگیز انداز میں ختم نبوت کی وکالت کی۔ اس پر جناب بھٹو کو کہنا پڑا ’’شورش کاشمیری نے میرا دو ٹوک جواب سننے کے باوجود قادیانیوں کے مذہبی معتقدات میرے سامنے اس طرح رکھے جن کے مطابق امت کا ہر فرد حتیٰ کہ خود میں اور میرے ماں باپ بھی کافر تھے۔ مجھے قادیانیوں کی کتابیں دیکھ کر بڑا غصہ آیا...... کم از کم میں تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ قادیانی حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ، حضرت علیؓ اور میرے ماں باپ تک کو کافر سمجھتے ہیں...... (نعوذ باللہ)‘‘ لیکن میں نے اپنے غصے پر قابو پا کر شورش کاشمیری سے کہا۔ یہ تو درست ہے کہ قادیانی، امت مسلمہ کے ہر چھوٹے بڑے رکن کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ان کے عقائد کے بارے میں میں کیا کر سکتا ہوں۔ یہ کام تو علما کا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی تبلیغ کے ذریعے ان عقائد سے تائب کریں اور جو وقت وہ تحریکیں چلانے میں صرف کرتے ہیں، وہ قادیانیوں کے خلاف تبلیغ میں صرف کریں، حکومت ان کی ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے‘‘۔

شورش نے جو کچھ کہا اس پر باحوالہ دلائل دیے اور سب سے آخر میں، اس نے بھی مفتی محمود کی طرح ایک جذباتی مطالبہ کیا۔ اس کے مطالبے کو قبول کرنے کے لیے میرے سامنے

صفحہ 319

اس کے دلائل کا انبار تھا اور میں نے دل ہی دل میں یہ مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا...... لیکن اس موقع پر شورش نے ایک ایسی حرکت کی جس سے میں لرز گیا۔ ان کے ساتھی مولوی تاج دین جو ان کے ہمراہ تھے، وہ بھی بڑے حیران ہوئے۔ شورش نے گفتگو کرتے ہوئے یکا یک اٹھ کر بڑے جذباتی انداز میں میرے پاؤں پکڑ لیے۔ میں نے شورش کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہوئے اٹھا کر گلے سے لگا لیا مگر شورش ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا!

”بھٹو صاحب! ہمارے پاس کون سی عظمت ہے۔ ہم ایک سو سال سے اپنے آقا و مولا ﷺ کی عزت و عظمت بحال نہیں کر سکے۔ ہم سے زیادہ ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہوگی۔ ہم اس وقت عزت و عظمت کا تاج سر پر رکھ سکتے ہیں جب قادیانیوں سے محمد عربی ﷺ کی نبوت کا تاج چھین کر آقائے کونینؐ کو راضی کرلیں“۔

پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلا کر کہا۔ ”بھٹو صاحب! میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی ﷺ کی ختم المرسلینی کے تحفظ کی بھیک مانگتا ہوں۔ آپ میری زندگی کی تمام خدمات اور نیکیاں لے لیں۔ میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا مگر خدا کے لیے اپنے نبی ﷺ کی نبوت کی حفاظت کر دیجیے۔ یہ میری جھولی نہیں۔ فاطمہ بنت محمد (رضی اللہ عنہا) کی جھولی ہے۔ جس کی ناموس پر قادیانی حملہ آور ہیں“۔

اب اس سے زیادہ مجھ میں کچھ سننے کی تاب نہ تھی۔ میرے بدن میں ایک جھر جھری سی آگئی۔ میں بھی آخر مسلمان تھا اور اسی نبی ﷺ کا کلمہ پڑھتا تھا...... میں مسلمان کی حیثیت کے سوا اپنی ہر حیثیت بھول گیا تھا۔ میں نے شورش سے وعدہ کر لیا کہ میں قادیانی مسئلہ ضرور حل کر دوں گا۔ (ہفت روزہ چٹان لاہور 29 اکتوبر 1979ء ص 11-12)

ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تو انہیں امریکہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ جب بھٹو مرحوم سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا سیکٹ (Sect) ہے۔ ان کا آپ نے ہر لحاظ سے خیال رکھنا ہے۔ دوسری مرتبہ بھی جب امریکہ کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی، اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں یہ کہتے ہوئے کہا: ”یہ بات میرے پاس امانت تھی۔ فقط ریکارڈ پر لانے کے لیے کہہ رہا ہوں“۔ بھٹو کے دور اقتدار میں کئی کلیدی افسران کو اس لیے

صفحہ 320

جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا کہ انہوں نے ائیر فورس پر مرزائیوں کو قابض کرانے کے لیے بڑی ناکام تدابیر کیں۔ ایک دفعہ ایئر مارشل ظفر احمد چودھری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے فضائیہ کے ایک مسلمان افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اور انہیں ظفر چودھری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا۔ ان کی یہ لرزہ خیز داستان سن کر مسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے۔ اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور ان کے ماتھے پر معنی خیز شکن ابھر آئی اور کہا: ”اچھا یہ ہے کہ ان کا اصل روپ!“ اس کے علاوہ بھی بھٹو کو بہت سی ایسی باتیں ظفر چودھری کے حوالے سے معلوم ہوئیں جن سے انہیں یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آگ ہیں۔

چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر 13 دن کی طویل جرح کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ آئین کی دفعہ 106 کی شق (3) اور 260 کی شق (3) کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

سے میرا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں تمام پارٹیوں اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے اور آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کا عکاس ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف وتحسین کا حق دار بنے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل فیصلہ، کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حاکمیت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ............. جناب اسپیکر ! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے کے بارے میں میرے جو احساسات تھے، انھیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہے، جس کا ہمارے عقائد سے تعلق ہے۔ یہ

صفحہ 321

پورے ایوان اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی (Humanly) طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا۔ اسی طرح میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں، جو اس فیصلے سے خوش نہ ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ ناگوار ہو۔ یہ ایک فطری سی بات ہے۔ ہم یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہوں گے، جو گزشتہ 90 سال سے حل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مسئلہ سادہ سا ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا، تو یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا، لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ 1953ء میں بھی ممکن نہیں ہو سکا تھا‘‘۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی سے پہلے لکھی جانے والی اپنی آخری کتاب "If I am Assassinated?" ”اگر مجھے پھانسی دی گئی“ میں لکھا:

مسٹر زیڈ اے فاروقی کے بیانات وائٹ پیپر میں جگہ جگہ شامل کیے گئے ہیں۔ اتفاق یہ ہے کہ مسٹر زیڈ اے فاروقی، مسٹر این اے فاروقی کے بھتیجے بھی ہیں جن کی بیوی میرے مقدمہ میں وعدہ معاف گواہ مسعود محمود کی بیوی کی بہن ہے۔ جہاں تک میری اطلاعات کا تعلق ہے، این اے فاروقی نے مسعود محمود کے وعدہ معاف گواہ بننے سے قبل مسعود محمود اور مارشل لاء حکام کے درمیان رابطے کا کام کیا تھا۔ یہاں میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری مسٹر این اے فاروقی جن کے بیانات کو وائٹ پیپر میں بنیاد بنایا گیا ہے، وہ قادیانی ہیں اور انھوں نے مجھ سے اس بات کا بدلہ لیا ہے کہ میں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار کیوں دیا تھا‘‘۔

مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ بیان کرتے ہیں:

قیادت میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے جید علمائے کرام پر مشتمل ایک وفد نے جناب ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اور انھیں قادیانی عقائد و عزائم سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر علمائے کرام نے بھٹو صاحب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کی پُر زور درخواست کی۔ اس پر جناب بھٹو نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اپنے ایمان اور عقیدے کی رُو سے قادیانیوں کو غیر مسلم

صفحہ 322

سمجھتے ہیں اور قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلہ پر ہر مسلمان فخر کرے گا۔ مزید برآں انھوں نے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے وفد سے کہا کہ آپ لوگ مجھ سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا رہے ہیں لیکن میں اس کے بدلہ میں اپنی گردن میں پھانسی کا پھندا دیکھ رہا ہوں، کیونکہ امریکہ سمیت مجھے کئی عالمی طاقتوں نے خصوصی طور پر کہا ہے کہ ”آپ پاکستان میں احمدیوں کا خاص خیال رکھیں!“

قادیانیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دلانے والے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر قادیانیوں نے جشن منایا، مٹھائیاں تقسیم کیں اور جھوٹے مدعی نبوت اور برٹش سامراج کے خودکاشتہ پودے مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ کی کتابوں کو کھنگالنا شروع کر دیا کہ شاید کوئی ایسا لفظ مل جائے جسے وہ الہام بنا کر جناب بھٹو پر چسپاں کر سکیں، طویل تلاش و بسیار کے بعد مرزا قادیانی کی ایک نام نہاد وحی ملی:

ماحصل یہ ہے کہ (کلب یموت علیٰ کلب) یعنی وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا۔ جو باون سال پر دلالت کر رہے ہیں یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا۔ تب اسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص 187، مندرجہ روحانی خزائن ج 3 ص 190 از مرزا قادیانی)

اس خودساختہ اور من گھڑت الہام کو سچا ثابت کرنے کے لیے کتے کے اعداد نکالے جو 52 بنتے ہیں اور پھر اسے جناب بھٹو مرحوم پر چسپاں کر دیا کہ چونکہ بھٹو صاحب کو 52 ویں سال میں پھانسی ہوئی اور مرزا قادیانی کا یہ الہام بھٹو صاحب کے بارے میں ہے، لہٰذا کتا (بھٹو) کتے کی موت مر گیا (استغفر اللہ!) اس موقع پر مولانا تاج محمودؒ نے اپنے پرچہ ہفت روزہ ”لولاک“ میں لکھا تھا:

اور کہہ دیا ہوگا کہ ”یہ کتا ہے، کتے کی موت مرے گا!“ ماں باپ خواہ مسلمان ہوں یا مرزا قادیانی کی طرح زندیق ہوں، ان کی بددعا اکثر و بیشتر اولاد کے بارے میں اپنا اثر دکھاتی ہے، چنانچہ مرزا قادیانی کی اس بددعا نے (جسے الہام بنا دیا گیا) اپنا اثر دکھایا اور مرزا محمود گیارہ سال تک خارش زدہ باؤلے کتے کی طرح ایک علیحدہ کمرے میں قید رہا، جس کے

صفحہ 323

ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ آخری دنوں میں تو اس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ کتے کی طرح بھونکتا تھا۔ چونکہ مرزا محمود کی مدت خلافت باون سال تھی اور ”کلب“ کے عدد بھی 52 ہوتے ہیں، لہذا یہ بددعا مرزا محمود کو لگی اور وہ کتے کے عدد پر مر گیا“۔

قادیانیوں کا بھٹو کے خلاف فیصلہ کے بارے میں جو نقطۂ نظر تھا، وہ سابق وزیر خارجہ اور مشہور قادیانی چوہدری ظفر اللہ خاں کے ایک انٹرویو کی صورت میں ”سیاسی اتار چڑھاؤ از منیر احمد خان“ میں شائع ہو چکا ہے جس میں اس نے بھٹو صاحب کے بارے میں اسی قسم کی بکواس کی ہے۔ حالانکہ بھٹو مرحوم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔ ان کی یہ شاندار خدمت تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے اور اس معاملے میں ہم انھیں ملک وملت کا محسن گردانتے ہیں۔

17 مئی 1978ء سے 4 اپریل 1979ء تک کرنل رفیع الدین نے سنٹرل جیل راولپنڈی میں مارشل لاء انتظامیہ کی جانب سے سپیشل سیکورٹی سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سرانجام دیے جہاں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو رکھا گیا تھا۔ انھوں نے اسی عرصہ ملازمت کے مشاہدات، تجربات اور محسوسات پر مبنی ایک کتاب ”بھٹو کے آخری 323 دن“ تحریر کی جس میں وہ لکھتے ہیں:

دفعہ کہنے لگے، رفیع! یہ لوگ چاہتے تھے کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔ یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ ایک بار بھٹو نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے، اس میں میرا کیا قصور ہے۔ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع! کیا قادیانی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میری موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بددعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کوٹھڑی میں پڑا ہوا ہوں۔ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ”بھئی اگر ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ تو حضرت محمد ﷺ کو آخری پیغمبر ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے ہی اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہگار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کر دے!“ بھٹو صاحب کی باتوں سے میں یہ اندازہ لگایا کرتا تھا کہ شاید ان کو گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس

صفحہ 324

ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے‘‘۔ (ص:67)

جناب کرنل رفیع الدین اپنی مذکورہ کتاب میں بھٹو صاحب کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کے ذریعے دست شناسی کا شوق پیدا ہوا۔ کمیشن حاصل کرنے کے بعد میں نے اس مشغلے کو کافی سنجیدگی سے لیا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں، بے شمار ہاتھ بھی دیکھے۔ اب بھی جب کبھی گاؤں جاتا ہوں تو بزرگ خواتین اپنے اہل وعیال کے ساتھ گھیر لیتی ہیں۔ لیکن جب انھیں بتاتا ہوں کہ مجھ سے یہ علم لے لیا گیا ہے تو وہ بہت رنجیدہ ہو جاتی ہیں۔ مگر پھر بھی اصرار کرتی ہیں کہ میرے اس بچے کی قسمت کے متعلق کچھ تو بتاؤ۔

کافی عرصہ ہوا میں نے پامسٹری کو پڑھنا اور پریکٹس کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن اس کے باوجود میں کسی بھی ہاتھ کو دیکھتے ہی چند بڑی لکیروں پر نظر دوڑا لیتا ہوں۔ جس دن سے بھٹو صاحب کے ساتھ جیل میں ملنا ملانا شروع ہوا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کا سلسلہ چل نکلا تو میرا دست شناسی کا پرانا اشتیاق جاگ اٹھا۔ دراصل بھٹو صاحب خوب باتیں کیا کرتے تھے۔ اس دوران ان کی زبان کے ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ بھی ہوا میں لہراتے رہتے تھے۔ میری آنکھیں ان کے ہاتھ پر جمی رہتی تھیں۔ ان کے ہاتھ کی لکیروں کو بار بار دیکھتا رہتا تھا۔ ان کی شمسی اور قسمت کی لکیریں بے حد نمایاں تھیں۔ دل، دماغ اور زندگی کی لکیریں بھی کافی غور سے دیکھیں۔ اس کیس کی وجہ سے میں ان کی زندگی کی لکیر کو بار بار دیکھتا۔ ان کی یہ لکیر سوائے پہلے چند سالوں کے جو عموماً ہر ہاتھ پر ایسی ہی ہوتی ہے، باقی گہری، صاف، بغیر کسی خلل اندازی یا کٹ کے شروع سے کلائی تک بالکل نمایاں تھی، یعنی زندگی کی لائن، ٹوٹ پھوٹ، جزیرے یا کٹ وغیرہ سے مبرا تھی۔ یہی نہیں بلکہ مددگار لکیر بھی موجود تھی۔ مجھے ان کے ہاتھ پر کسی حادثے یا اچانک موت کی کوئی نشانی نہیں ملی۔ اس لیے مجھے یقین ہو رہا تھا کہ ان کو سزا تو ہو سکتی ہے لیکن پھانسی سے ان کی زندگی ختم نہیں ہوگی۔

ان کی اپیل خارج ہونے کے بعد جب ایک روز وہ باتیں کر رہے تھے اور ہاتھ کو میرے سامنے خوب ہلا رہے تھے، میں ان کی زندگی کی لکیر کو خوب غور سے دیکھ رہا تھا تو کہنے لگے، رفیع! میرے ہاتھ پر کیا ہے جسے آپ اتنے غور سے دیکھ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا

صفحہ 325

جناب آپ کے ہاتھ پر زندگی کی لکیر سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کافی دراز ہے۔ جواب میں انھوں نے کہا کرنل! بھٹوز ہمیشہ جوانی میں ہی مرتے رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا لیکن آپ کا ہاتھ تو اس کے خلاف کہہ رہا ہے۔ وہ مسکرائے، اپنے ہاتھ کو دیکھا اور مجھ سے کہا، کیا آپ پامسٹری جانتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ گذشتہ سالوں میں یہ میرا مشغلہ رہا تھا لیکن آج کل اسے چھوڑا ہوا ہے۔ انھوں نے پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا اور میرا خیال تھا کہ وہ اپنا ہاتھ مجھے تھما دیں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر کہنے لگے کرنل رفیع! آپ نے چودھری یار محمد سے ایک دفعہ کہا تھا کہ دو گردنوں میں سے ایک کو جانا ہے، بھٹو کی گردن یا جنرل ضیا کی گردن، چونکہ بھٹو کی گردن اندر ہے اس لیے شاید اسے ہی جانا ہوگا۔ میں نے جواب دیا کہ میں اس سے انکار نہیں کرتا لیکن وہ ایک عام سی خیال آرائی تھی مگر آپ کے ہاتھ کی لکیر تو ایسا نہیں کہتی۔ بھٹو صاحب نے اس موضوع پر اور کچھ نہ کہا بلکہ خود بخود ہی کچھ دیر میں کوئی اور بات چھیڑ دی۔

پامسٹری کی پریکٹس یعنی ہاتھ دیکھنے تو میں نے ساٹھ کی دہائی کے آخیر سے چھوڑ دیے تھے لیکن ان لکیروں کے علم کا یقین رہا یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ایک علم انسان کو دیا ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد مجھے اس علم پر بہت شک و شبہ ہو گیا۔ حتیٰ کہ میں نے اپنے ہاتھ پر بھی نظر ڈالنا چھوڑ دیا۔ دل و دماغ میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بہت عرصہ بعد ایک دن ایم اے ملک کا یہ بیان پڑھ کر دل میں کچھ ڈھارس بندھی کہ کچھ سرکردہ دست شناسوں نے کہا ہے کہ شہید کے ہاتھ پر زندگی کی لکیر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس کے ہاتھ کی لائف لائن کبھی نہیں ٹوٹتی کیونکہ وہ مرتا نہیں ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد میرا یقین پامسٹری سے اٹھ گیا تھا لیکن اس بیان کے پڑھنے کے بعد پھر سے اس علم پر کچھ یقین سا ہونے لگا‘‘۔

حضرت مولانا لطف اللہؒ فرماتے ہیں:

میں انھوں نے مولانا سے فرمایا تھا: ”میں نے بھٹو کو ملاقات کے وقت صاف صاف بتا دیا تھا کہ پاکستان کے تین دشمن ہیں: قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک“۔

مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے بھٹو سے جو ملاقات لاہور میں کی تھی، اس میں آپ نے بھٹو سے کہا: ”کیا آپ کو شاہ فیصل نے نہیں بتایا کہ قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک،

صفحہ 326

پاکستان کے تین دشمن ہیں اور انہی لوگوں نے سازش کر کے لیاقت علی خان کو مروایا تھا؟ مسٹر بھٹو نے مولانا سے کہا کہ کیا آپ مجھے بھی مروانا چاہتے ہیں؟ مولانا نے برجستہ فرمایا کہ: ایسی موت کسی کو نصیب ہو تو اس پر ہزاروں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔ جو شخص شہادت کی موت مرتا ہے، وہ مرتا نہیں بلکہ زندہ جاوید ہو جاتا ہے‘‘۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی 16 تا 23 مئی 2007ء)

مجاہد ختم نبوت جناب آغا شورش کاشمیریؒ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر جناب ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

موڈی سے کوڑیوں کے بھاؤ ربوہ کی زمین حاصل کی اور وہاں سے پاکستان کے مختلف حصوں میں اپنی فرمانروائی کا منصوبہ تیار کرنے لگے۔ مرزا ناصر تو عقل کے کورے ہیں لیکن مرزا محمود، کرنل لارنس کی سی شاطرانہ ذہنیت کے مالک تھے۔ انھوں نے پاکستان میں اقتدار کا خواب دیکھنا شروع کیا حتیٰ کہ بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ جب ان کی سیاسی پخت و پز خطرناک ہو گئی تو علما میں زبردست ہیجان پیدا ہو گیا۔ تمام علما نے اکٹھے ہو کر مزاحمت کا بیڑا اٹھایا، مجلس عمل کی بنیاد رکھی، راست اقدام کیا لیکن اس وقت کے بدبخت حکمرانوں نے ملت اسلامیہ کے متفقہ مطالبے کو ٹھکرا دیا، مارشل لاء لگایا۔ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ سینکڑوں نوجوان گولیوں سے بھونے...... منیر انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کیں تو خواجہ ناظم الدین نے کھلے بندوں کہا کہ وہ ظفر اللہ کو علیحدہ کرنے یا مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ماننے سے اس لیے قاصر تھے کہ پاکستان میں خوراک کا بحران تھا اور امریکہ ظفر اللہ کے بغیر ایک دانہ گندم دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ گویا اسلام، دانہ گندم پر قربان کر دیا گیا......

میں یہ اعلان کرتا رہا کہ مسٹر بھٹو ہی قادیانی امت کو ملت اسلامیہ سے خارج کر کے اقلیت قرار دیں گے۔ بحمد للہ یہی ہوا۔ آج یہ عظیم کارنامہ مسٹر بھٹو نے ہی سرانجام دیا ہے۔ انھوں نے ملت اسلامیہ سے 13 جون کے عظیم نشریہ میں جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کیا اور اس طرح پورا کیا کہ آج پاکستان کے مسلمان ہی نہیں بلکہ کائنات کے مسلمان ان کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کی اجتماعی آواز کو پروان چڑھایا۔ تمام پارٹیوں کی متفقہ خواہش پر صاد کیا بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں اس حد تک غیرت ایمانی اور جرأت اسلامی کا ثبوت دیا

صفحہ 327

کہ پاکستان میں ہمیشہ کے لیے فرضی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا...... مسٹر بھٹو نے اس فیصلے اور اقدام سے پچھلی تمام حکومتوں کو مات دے دی ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کے دربار میں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ انھوں نے ختم نبوت کی پاسبانی کی ہے۔ ان کی عزت کا محافظ اللہ ہوگا اور وہ جلد ہی محسوس کریں گے کہ انھوں نے ایک مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے دل جیت لیے ہیں۔ آج ہر گھر میں مرد عورتیں اور بچے بچیاں ان کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ جو کام بڑے بڑے الحاج وزیر اعظم نہ کر سکے اور نظریہ پاکستان کی اجارہ دار کھیپ سے نہ ہو سکا، وہ کام بھٹو نے کیا اور اس طرح کیا کہ ہمارے پاس ان کے لیے تشکر و امتنان کے الفاظ نہیں......“

برطانوی نژاد نبوت کا ارتحال
نرغے میں آ گئے ہیں سیہ کار، زندہ باد
بھٹو کا نام زندۂ جاوید ہو گیا
شورش شکست کھا گئے اشرار، زندہ باد

(ہفت روزہ چٹان لاہور 14 ستمبر 1974ء ص 5,3)

صدر جنرل محمد ضیاء الحق

صدر جنرل محمد ضیاء الحق ایک صالح اور خدا ترس حکمران تھے۔ اسلام سے گہرا، جذباتی اور شعوری تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے دور حکومت میں منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو شعائر اسلامی استعمال کرنے سے باز رکھنے کے لیے 26 اپریل 1984ء کو ایک صدارتی آرڈیننس نمبر 20 جاری کیا جس کی رو سے کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، نہ اپنے مذہب کو بطور اسلام پیش کر سکتا ہے، نہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے اور نہ شعائر اسلامی کا استعمال کر سکتا ہے۔ بعدازاں اسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی اور 298 سی کا مستقل حصہ بنا دیا گیا۔ قادیانیوں نے اس آرڈیننس کو ’’حقوق انسانی‘‘ کے منافی سمجھا اور اس کے خلاف پوری دنیا میں شور مچایا۔ تمام اسلام دشمن طاقتیں بالخصوص بھارت اور مغربی میڈیا ان کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گیا لیکن مسلمانان پاکستان کی بلند ہمتی اور اسلامی جذبوں سے سرشار ملی یکجہتی کی بدولت قادیانی پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ بالآخر قادیانیوں نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت، مختلف ہائی کورٹس اور بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جہاں ان کی رٹ درخواستیں خارج کرتے ہوئے جج صاحبان نے

صفحہ 328

متفقہ طور پر اس آرڈیننس کو درست قرار دیا۔

30 اپریل 1984ء کو قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر قادیانی صدارتی آرڈیننس مجریہ 1984ء کی خلاف ورزی پر مقدمات کے خوف سے بھاگ کر لندن چلا گیا۔ رات کو لندن میں اس نے مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ سے ملحقہ محمود ہال میں غصہ سے بھر پور جوشیلی تقریر کی۔ اس موقع پر معروف سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام، مرزا طاہر کے سامنے صف اول میں براجمان تھا۔ مرزا طاہر نے اپنے خطاب میں امتناع قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984ء (جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا تھا) پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کے منافی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ احمدیوں کی بددعا سے عنقریب پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ پھر اس نے امریکا اور دوسرے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر پاکستان کی ہمہ اقسام کی اقتصادی امداد بند کردیں۔ اپنے خطاب کے آخر میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر عبدالسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ” آپ میرے دفتر میں ملاقات کے لیے تشریف لائیں، آپ سے چند ضروری باتیں کرنا ہیں“۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اسے اپنی سعادت سمجھا اور ملاقات کے لیے حاضر ہوگئے۔ اس ملاقات میں مرزا طاہر نے ڈاکٹر عبدالسلام کو ہدایت کی کہ وہ صدر ضیاء الحق سے ملاقات کریں اور انہیں امتناع قادیانیت آرڈیننس واپس لینے کے لیے کہیں۔ چند دنوں بعد ڈاکٹر عبدالسلام نے جنرل محمد ضیاء الحق سے پریذیڈنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور انہیں قادیانی جماعت کے جذبات سے آگاہ کیا۔

صدر ضیاء الحق نے بڑے تحمل اور توجہ سے ڈاکٹر عبدالسلام کی باتیں سنیں۔ پھر اچانک اٹھے اور الماری سے قادیانی قرآن ”تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات“ اٹھا لائے اور کہا کہ یہ آپ کا قرآن ہے اور دیکھیں، اس میں کس طرح قرآن مجید کی آیات میں تحریف کی گئی ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر کے سامنے رکھ دیا۔ اس صفحہ پر مندرجہ ذیل آیت درج تھی:

ترجمہ: ”(اے مرزا قادیانی) یقیناً ہم نے قرآن کو قادیان (گورداسپور بھارت) کے قریب نازل کیا“ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، ص 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی)

پھر اس کتاب میں مزید لکھا ہے کہ یہ قرآن مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا ہے۔

صفحہ 329

(نعوذ باللہ!) اس کے بعد ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبدالسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر صاحب! یہ بات مجھ سمیت ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اب آپ خود بتائیں کہ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنا درست ہے یا غلط؟‘‘ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، وہ بے حد شرمندہ ہوا اور کھسیانا ہو کر بات کو ٹالتے ہوئے پھر حاضر ہونے کا کہہ کر اجازت لے کر چلا گیا۔

ایک موقع پر صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

ہے۔ ختم نبوت اور ختم وحی کا مطلب یہ ہے کہ شعور انسانی اس درجہ پہنچ چکا ہے کہ اب اسے صراط مستقیم پر چلنے کے لیے آخری کتاب قرآن مجید اور سیرت رسول ﷺ کے سوا کسی کی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ حضور خاتم النبیین ﷺ پر نبوت درجہ کمال کو پہنچ گئی اور جب کوئی چیز درجہ کمال کو پہنچ جائے تو کسی اضافے اور تکرار کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قرآن، نبوت کے درجہ کمال پر پہنچ جانے کا اعلان ہے۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا ہر مدعی کاذب ہے اور ایسا دعویٰ کرنے والے کو صاحب شریعت یا مجدد ماننے والے گمراہ اور غیر مسلم ہیں۔

قادیانیت کا وجود عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت پاکستان مختلف اقدامات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس سرطان کا خاتمہ کیا جائے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ انھوں نے آنجہانی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا اور دنیا کو اس کے فریب سے آگاہ کیا۔ ختم نبوت کا عقیدہ نہ صرف ملت اسلامیہ کے ایمان کا بنیادی نکتہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین اور رحمت کی تکمیل کا عالمی پیغام ہے۔

قادیانیوں کے سامنے دو راستے کھلے ہیں، یا تو وہ اسلام قبول کر لیں اور اپنی غلطیوں اور گستاخیوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں یا پھر اقلیت بن کر رہیں اور اپنی اقلیتی حیثیت کو تسلیم کر لیں۔ قادیانیوں کے بارے میں آرڈیننس نافذ کر کے حکومت نے نہ صرف اسلام کی عظمت کی بحالی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کر دیا ہے بلکہ اس نے معاشرے کی خرابیوں کو دور کرنے کا بھی تہیہ کر رکھا ہے۔ ہمیں اصل خطرہ انہی منافقوں (قادیانیوں) سے ہے جو مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر ہماری صفوں میں گھسے ہوئے ہیں۔‘‘

صفحہ 330

(روزنامہ جنگ کوئٹہ 11 مئی 1985ء)

فتنہ قادیانیت کے خلاف صدر ضیاء الحق کی ان خدمات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے انعام واکرام کی کیسی بارش فرمائی، اس کا اندازہ اس غیر معمولی واقعہ سے ہوتا ہے کہ 1986ء میں جب وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین گئے تو نماز عشاء کے وقت نماز باجماعت کی صف بندی ہورہی تھی۔ امام کعبہ نے دیکھا کہ پہلی صف میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق کھڑے ہیں تو انھوں نے صدر کا ہاتھ پکڑ کر انھیں آگے مصلیٰ پر کھڑا کر دیا اور خود پیچھے ان کی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور کہا مسلمانوں کے امام تو آپ ہیں۔ پھر مائیک پر کہا کہ آج ہم عالم اسلام کے ایک مجاہد کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس پر صدر ضیاء الحق کی حالت غیر ہوگئی۔ قدم لڑکھڑانے لگے، آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور گلا رندھ گیا۔ انھوں نے سورۃ فاتحہ بھی مشکل سے مکمل کی اور مختصر سورتوں کے ساتھ نماز اس طرح پڑھائی کہ دوران نماز ان کے بے ہوش ہو جانے کا اندیشہ پیدا ہوتا رہا۔ بعدازاں ان کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھول دیا گیا جہاں وہ جذبات تشکر سے اپنے رب کے حضور خوب گڑگڑائے۔ بعدازاں جب وہ مدینہ طیبہ حاضری کے لیے مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو ان کے لیے روضۂ رسول ﷺ کا دروازہ کھول دیا گیا، جہاں وہ خاموشی سے روتے رہے اور اپنی مغفرت کی دعائیں کرتے رہے۔ یہ واقعہ ان کے عاشق رسول ﷺ ہونے کا بین ثبوت ہے۔

20 اگست 1988ء کو جب شہید ضیاء الحق کا جنازہ اٹھا تو انسانوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا اسلام آباد تاریخ کی آنکھ میں منجمد ہو گیا۔ بارہ لاکھ سے زائد عاشقان مرد وفا اس منظر میں شریک ہونے کے لیے کشاں کشاں چلے آئے تھے۔ ان کی زبان پر کلمہ شہادت اور درود و سلام کے نغمے تھے۔ پوری اسلامی تاریخ میں اتنا بڑا جنازہ اور اتنی کثیر دعائے مغفرت شاید ہی کسی حکمران کو نصیب ہوئی ہو۔ اسلامی دنیا کی ہر چھوٹی بڑی مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی اور اشکوں میں گندھی ہوئی دعائیں مانگی گئیں...... یہ ہے تحفظ ختم نبوت کا انعام!

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ

علامہ احسان الٰہی ظہیر ایک جید عالم، خطیب اور ادیب تھے۔ انھوں نے فتنہ قادیانیت کے خلاف عربی زبان میں ایک کتاب ’’القادیانیہ‘‘ تحریر فرمائی۔ بعدازاں اس کا اردو ترجمہ

صفحہ 331

”مرزائیت اور اسلام“ کے نام سے کیا۔ مولانا کی یہ تصنیف ردقادیانیت کی کتب میں نہایت اہم اضافہ ہے۔ مولانا مرحوم اپنی اس کتاب کی قبولیت کے سلسلہ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں:

پڑوس میں اپنی کتاب ”القادیانیۃ“ کو مکمل کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سحرگاہ دعائے نیم شبی لبوں پر لیے بابِ جبرئیل کے راستے (کہ جب دیارِ حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا) مسجد نبوی ﷺ کے اندر داخل ہوتا ہوں، لیکن روضۂ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹک جاتا ہوں کہ آج خلاف معمول روضۂ معلّٰی کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رُو استقبالیہ انداز میں منتظر ہیں۔ میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ سامنے سرور کونین رحمت عالم حضرت محمد ﷺ رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ کی معیت میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ دل خوشیوں سے معمور اور دماغ مسرتوں سے لبریز ہو جاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں۔ ”یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے؟“ جواب ملا ”یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے!“ آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے میناروں سے یہ دلکش ترانے گونج رہے تھے۔

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ

اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرا سنایا تو انھوں نے فرمایا: ”تمھیں مبارک ہو! ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری میں حضور خاتم النبیین ﷺ کے رب نے تمہاری کاوش کو پسند فرمایا ہے“۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

ایک دفعہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا: ”ایک دن میں بیٹھا تھا کہ ایک پرانے دوست آئے، پاس بیٹھ گئے اور پوچھا کیا حال ہے؟“ میں نے کہا ”ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟“ انھوں نے شاید میرے لہجے سے سمجھا کہ بہت دکھیارا ہے اور بظاہر انھیں ایسی کوئی بات نظر نہ آئی تو کہنے لگے ”بڑھاپا آ گیا ہے اور کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”میرے بھائی اگر کوئی جنت میں کسی جنتی سے پوچھے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو اس کا کیا جواب ہوگا۔ یہی ناں کہ ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟ اللہ کی قسم! اللہ دنیا میں جنت کا مزہ دے رہا ہے۔ یہی ہے وہ مقام محبوبیت

صفحہ 332

جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور کبھی اس انتخاب سے پیشتر بشارت دے کر حق تعالیٰ انسان کا رواں رواں نور سے منور فرما دیتے ہیں۔ راتوں کو جب لوگ محو خواب ہوتے ہیں تو حق تعالیٰ کسی کے دل پر دستک دے کر اپنائیت کا اک عجب احساس عطا فرماتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ 1977ء میں دیکھا جانے والا خواب 1978ء میں معجزانہ طور پر یوں منکشف ہوگا کہ عالم خواب میں ایک بڑا، بہت بڑا اژدھا رنگت نسواری مائل ایک پہاڑ پر سر رکھے پڑا ہے اور چند لوگ اس کے گرد جمع ہیں اور پتھر اس کے سر پر مار رہے ہیں۔ فقیر بھی ان میں شامل ہے۔ زخمی حالت میں وہ اژدھا اپنا سر اٹھا کر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے اور وہ اژدھا نیم مردہ حالت میں جب اپنا سر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے، تب لوگ کہتے ہیں اب (ان شاء اللہ) یہ نہ اٹھ سکے گا۔ 1978ء میں حق تعالیٰ کی نظر کرم اپنا مقام پا چکی، مجھے تحفظ ختم نبوت کا کام تفویض ہو چکا تو رحمت عالم ﷺ خواب میں تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے سر پر دست شفقت پھیرا اور بے شمار دعائیں دیں۔ تب سے اب تک واقعاً دنیا جنت کا مزہ دے رہی ہے۔

؎ اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

سید نور الحسن شاہؒ

حضرت سید نور الحسن شاہؒ فرماتے ہیں کہ لاہور میں ایک خوش نصیب لڑکا رہتا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اس کو کثرت سے درود شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اس عمل صالح کے نتیجہ میں اس کو حضور نبی اکرم ﷺ کی اکثر زیارت نصیب ہوتی۔ ہمارے احباب کو اس کے متعلق علم ہوا تو چونکہ اُن دنوں تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی، اس لیے برادرم محمد اسحاق، مہر جلال الدین، بابا الہ دین اور شیخ مظفر الدین وغیرہ کو خیال آیا کہ اس لڑکے سے کہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں عرض کر کے دریافت کرے کہ مرزا قادیانی کے متعلق آپ ﷺ کا کیا فرمان مبارک ہے؟ چنانچہ یہ تمام صاحبان اس لڑکے کے پاس اسلامیہ پریس میں گئے جہاں وہ کام کرتا تھا اور عرض کیا کہ ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی حضوری حاصل ہے۔ آپ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں عرض کریں کہ مرزا قادیانی کے متعلق آپ ﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ کسی وقت تو جب زیارت نصیب ہوتی ہے تو جس بات کے دریافت کرنے کا خیال ہو، یاد رہتی ہے اور کبھی یاد نہیں رہتی۔ حضور اکرم ﷺ خود ہی جس بات

صفحہ 333

کا جواب دینا منظور ہوتا ہے، دے دیتے ہیں ورنہ ادب کی وجہ سے از خود میں عرض نہیں کر سکتا۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو کسی وقت فرما دیں گے۔ چنانچہ ایک دو دفعہ اس لڑکے کو ملے تو اس نے یہی جواب دیا کہ زیارت تو نصیب ہوئی لیکن اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ کے بعد ایک دن اتفاقاً ایک جگہ اس نیک بخت لڑکے سے ملاقات ہوگئی تو کہنے لگا کہ وہ آپ کی بات ہوگئی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”مرزا قادیانی کے متعلق جس کو اتنا بھی خیال ہو کہ شاید سچا ہے یا جھوٹا، میں اس کی بھی شفاعت نہیں کروں گا۔ بلاشبہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار دائرۂ اسلام سے خارج ہیں“۔

مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور صوفی برکت علیؒ سالار والے

فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اپنی کتاب ”جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا“ میں ایک واقعہ لکھتے ہیں:

”ملک نصیر الدین صاحب کا اور میرا رشتۂ باہمی جنون ”ربوہ“ نام کی تبدیلی کا بھی تھا۔ انھوں نے تجویز دی کہ ربوہ سٹیشن کا نام اگر بدل جائے تو پھر ربوہ شہر کا نام بھی بدل جائے گا۔ حالانکہ یہ بات بالکل غیر معقول تھی کیونکہ سٹیشنوں کے نام تو شہروں کے نام کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ جب تک شہر کا نام نہ بدلے، سٹیشن وغیرہ کا نام تبدیل نہیں ہوسکتا مگر شوق جنون میں بغیر سوچے سمجھے ان کی تجویز پر سٹیشن کا نام تبدیل کرانے کی تدبیر سوچی کہ اس وقت ریلوے کے وزیر عبدالحفیظ چیمہ صاحب ہیں اور وہ صوفی برکت علیؒ صاحب سالار والے کے مرید ہیں۔ صوفی برکت علیؒ صاحب کے پاس چلتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اپنے مرید وزیر موصوف سے سٹیشن کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔ چنانچہ ہم دونوں صوفی صاحب کے پاس سالار والا پہنچے۔ صوفی صاحب کا نام تو کافی سنا ہوا تھا مگر ان سے ملاقات کا شرف اس سے قبل حاصل نہ تھا۔ یہ پہلی ملاقات اپنے خاص جنون کی وجہ سے تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ صوفی صاحب کو حضور سرکار دو عالم ﷺ سے سچی محبت ہے اور ختم نبوت کے عاشق ہیں۔ میرا تعارف جب ان سے ہوا تو جس گدی پر تشریف فرما تھے، فوراً چھوڑ دی اور مجھ ناچیز کو زبردستی اپنی گدی پر بٹھا دیا جبکہ خود میرے سامنے دوزانو اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی مرید اپنے پیر کے سامنے بیٹھتا ہے۔ آپ فرمانے لگے ”اصل کام تو آپ کر رہے ہیں، ہم تو بے کار لوگ ہیں“۔ فرمایا ”جب بڑا بادشاہ آ جاتا ہے تو نائین گدی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ اس گدی کے زیادہ مستحق

صفحہ 334

ہیں‘‘۔ میں صوفی صاحب کے انکسار اور تواضع سے بہت متاثر ہوا۔ ان کی یہ عقیدت میرے بارے میں شاید اس وجہ سے تھی کہ میں ختم نبوت کے لیے عملی کام جنون کی حد تک شوق سے کر رہا تھا۔ اس کے بعد آپ نے دودھ سے ہماری تواضع فرمائی اور ایک سبز چادر منگوا کر میرے اوپر ڈال دی۔ آخر ہم نے آنے کا مدعا بیان کیا تو انھوں نے فرمایا ’’میں وزیر موصوف سے کوئی کام کہتا تو نہیں لیکن یہ بات ان سے ضرور کروں گا۔ مجھے امید واثق ہے کہ صوفی صاحب نے چیمہ صاحب سے ضرور بات کی ہوگی‘‘۔

حضرت میاں عبد الہادیؒ

قطب عالم حضرت میاں عبد الہادیؒ سجادہ نشین دین پور شریف اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھے مگر تحریک ختم نبوت 1974ء سے آپ کی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کی چارپائی کو خان پور جلوس میں لایا گیا۔ ویگن (پک اپ) میں چار پائی رکھی گئی۔ ان حالات میں آپ نے جلوس کی قیادت کی۔ خان پور کے اس جلوس میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی (دیوبندی) اور حضرت حافظ سراج احمد صاحب (بریلوی) آپ کے دائیں بائیں ہمراہ تھے۔ شرکا جب ختم نبوت کا نعرہ لگاتے تو حضرت میاں عبد الہادی صاحبؒ اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے ’’زندہ باد‘‘ سے جواب دیتے۔ ’’مرزائیت مردہ باد‘‘ کہتے تو آپ پر جلال کی کیفیت طاری ہوتی۔ رفقا کو اشارہ سے بلا کر فرماتے کہ میاں دیکھو، گواہ رہنا۔ کل قیامت کے دن حضور رحمت عالم ﷺ کی بارگاہِ شفاعت میں گواہی دینا کہ یہ عاجز عبد الہادی محض اس عمل کے صدقہ سے نجات و شفاعت کی بھیک مانگتا تھا۔ یاد رکھنا عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ ہی سے نجات ہوگی۔ نجات اور شفاعت حاصل کرنے کا یہ ’’شارٹ کٹ‘‘ راستہ ہے۔ اسے کبھی نہ چھوڑنا‘‘۔

حضرت خواجہ خان محمدؒ

قطب العالم حضرت خواجہ خان محمدؒ کا شمار بلاشبہ ’’الآخرون السابقون‘‘ میں ہوتا ہے، جن کی پوری زندگی اہلِ فتن بالخصوص منکرین ختم نبوت سے جہاد و پیکار میں گزری۔ حضور خاتم النبیین ﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت و احترام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی پُر جوش ایمانی غیرت نصیب کی کہ وہ بڑھاپے کے عالم میں بھی ہمہ وقت قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر نہ صرف بے قرار رہتے بلکہ جوانوں کی طرح اس فتنہ کے خلاف مصروفِ جہاد رہے۔

صفحہ 335

حضرت خواجہ خان محمدؒ عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے کارکنان کی کامیابی کے لیے ہر روز اللہ تعالیٰ سے بے شمار دعائیں، التجائیں، استدعائیں اور نالہ ہائے نیم شبی میں اتنی سسکیاں بھرتے کہ مالک ارض و سما کو ان پر ترس آ جاتا اور ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا جاتا۔

میرپور خاص سندھ کے ڈاکٹر احمد اللہ ہمدانی مدینہ طیبہ گئے۔ روضہ طیبہ پر درود و سلام پڑھا اور دعا کی کہ اے آقائے نامدارﷺ! آپ کا جو بہت پیارا امتی ہے، اس بزرگ کی مجھے آج زیارت ہو جائے۔ یہ دعا کر کے مواجہہ شریف سے پیچھے ہٹے تو ایک دوست نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب مرکزی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لائے ہوئے ہیں، آپ زیارت کے لیے چلیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ آج تو میری دعا نقد قبول ہو گئی۔ میں گیا اور جا کر مولانا خواجہ خان محمدؒ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ سجادہ نشین کندیاں شریف نے علما، خطبا اور اہل علم کے نام ایک خط جاری فرمایا اور انھیں ان کے فرائض کی طرف متوجہ فرماتے ہوئے لکھا:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کو معلوم ہے کہ قادیانی، مرزائی اندر ہی اندر مسلمانوں کو غیر مسلم بنانے میں مصروف ہیں، میں آپ حضرات سے اللہ کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ مہینہ میں صرف ایک ہی مرتبہ سہی، اپنے خطبہ میں صرف دس، پندرہ منٹ تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانی، مرزائی کا مکروہ چہرہ کے متعلق نوجوانوں کو آگاہ فرما دیا کریں، تاکہ ہم حضورﷺ کے اس حق کو ادا کرنے میں خدا کے ہاں اجر کے مستحق بن سکیں۔ امید ہے کہ آپ توجہ فرمائیں گے۔

والسلام فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ 27 جمادی الاوّل 1428ھ“

حضرت خواجہ خان محمدؒ صاحب کے اس درد بھرے مکتوب کی روشنی میں ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ جس سے جو بن پڑے، اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت کا مستحق بنے، ورنہ اس بات کا شدید اندیشہ ہے

صفحہ 336

کہ کل قیامت کے دن حضور اکرم ﷺ یہ کہہ کر ہماری شفاعت کرنے سے انکار فرما دیں کہ تمھارے سامنے میری ردائے ختم نبوت کو تار تار کیا جاتا رہا اور تم نے نہ صرف اس کا سد باب نہ کیا بلکہ تمھارے ماتھے پر کوئی شکن تک نہیں آئی تھی۔- خدانخواستہ اگر کل قیامت کے دن پیارے آقا ﷺ یہ کہہ کر ہم سے منہ موڑ لیں تو بتلایا جائے ہمارا کیا بنے گا؟ اور ایسی صورت میں ہماری ہلاکت و بربادی میں کوئی شک و شبہ رہ جاتا ہے؟؟

حضرت خواجہ خان محمدؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہر امتی کا چناؤ اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے، اسی طرح تحفظ ختم نبوت کے لیے امت میں سے خوش نصیب افراد کا چناؤ بھی اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے۔- تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر گرانقدر خدمات انجام دینے والے جناب عامر خورشید عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت خواجہ خان محمدؒ سے با قاعدہ بیعت تھے۔- حضرت کے روحانی فیض نے جنید جمشید کی طرح ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ عامر بھائی تحفظ ختم نبوت کے کام میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ ایک دفعہ انھیں خیال گزرا کہ تبلیغی جماعت والے تبلیغ کے کام کی فضیلت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے اس کا بے شمار ثواب بیان کرتے ہیں تو کیا تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کا بھی اتنا ہی ثواب ہے یا نہیں؟ لہٰذا انھوں نے اپنے شیخ حضرت خواجہ خان محمدؒ سے اس بارے پوچھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تبلیغ کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت اور ثواب اپنی جگہ پر، اس سے انکار نہیں لیکن تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے کو تبلیغ کا کام کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ثواب ملتا ہے کیونکہ تحفظ ختم نبوت کا کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر 100 فیصد پورا اترتا ہے۔ یہ کام نہ صرف دین کی بہترین تبلیغ ہے بلکہ اس میں مرتدین اسلام کی سرکوبی بھی شامل ہے۔- منکرین ختم نبوت کی خلاف اسلام مذموم سرگرمیوں اور سازشوں کو روکنا وقت کا سب سے بڑا جہاد اور تبلیغ ہے۔- لہٰذا اس کا ثواب تمام عبادات سے بڑھ کر ہے۔

بلاشبہ موجودہ دَور میں تحفظ ختم نبوت کا کام اعلیٰ ترین درجے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضے پورا کرتا ہے۔- بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس نے تحفظ ختم نبوت کے کام سے انکار کیا، گویا اس نے نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کیا۔

قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کے سلسلہ میں حضرت اقدس ایک فتویٰ میں فرماتے ہیں:

صفحہ 337

بدل جائیں تو بھی ان کا حکم عام کافروں کا نہیں ہوگا بلکہ وہ زندیق ہیں۔ زندیق اس کو کہتے ہیں جو شرعی اصطلاحات و الفاظ تو نہ بدلے بلکہ ان کے اجماعی اور متفق علیہ مفہوم کو بدل دے یعنی وہ کفر کا نام اسلام رکھ دے۔ مرتد اور زندیق کی اصل سزا قتل ہے جس کا نفاذ حکومت اسلامیہ کے ذمہ ہے۔ تاہم جب تک ان کی اصلی سزا کا نفاذ نہ ہو، اہل اسلام پر ضروری ہے کہ وہ ان سے الگ رہیں۔ قادیانیوں/ مرزائیوں سے معاشی، معاشرتی، دوستانہ تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ حرام ہیں۔ ان سے برادرانہ تعلقات کو منقطع کرنا چاہیے۔

ان سے سلام و کلام، لین دین اور خرید و فروخت نہ کی جائے اور نہ ان سے کسی قسم کی پارٹنر شپ کی جائے۔ نہ ان کے ہاں ملازمت کی جائے اور نہ ہی ان کو ملازم رکھا جائے۔ ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے نہ مال خریدا جائے اور نہ ان کو کسی قسم کی سہولت اور فائدہ پہنچایا جائے اور نہ ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں۔ ان کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں، ریستورانوں میں جانا یا کسی طرح سے تعلق رکھنا یا تعاون کرنا ناجائز ہے۔ قادیانیوں/ مرزائیوں کے ہسپتالوں، ڈسپنسریوں کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ان سے علاج کروانا یا کسی قسم کا معاملہ کرنا یا تعاون ناجائز اور حرام ہے۔ قادیانیوں/ مرزائیوں کا بائیکاٹ ظلم نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوۂ رسول ﷺ ہے اور جو شخص ان کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے ان سے تعلقات رکھتا ہے وہ گمراہ، ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔ قادیانیوں/ مرزائیوں سے اقتصادی و معاشی و معاشرتی اور سیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح اور اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے۔ غیرت ایمانیہ اور حمیت دینیہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانیوں/ مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور یہ عشق مصطفیٰ ﷺ کی علامت ہے‘‘۔

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ ممتاز جید عالم دین اور ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی تھے۔ وہ فتنہ قادیانیت کے خلاف شمشیر بے نیام تھے۔ موصوف تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک سپاہی کی طرح کام کرتے تھے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا قلع قمع ایک ایسا کام ہے کہ دور حاضر میں ایمان کے بعد اس کا مقام ہے۔ ایمان کے بعد مقبول ترین عمل تحفظ ختم نبوت کا کام ہے جو ہر شخص کی نجات کے لیے روز محشر کام آئے گا۔

آپ نے تحریک ختم نبوت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قادیانیوں کے خلاف جو تحریک

صفحہ 338

چلائی گئی، وہ آپ نے ضلع ژوب ہی سے چلائی۔ قادیانی بدبختوں نے فورٹ سنڈیمن میں تحریف شدہ قرآن مجید تقسیم کیے جس کا نوٹس لیتے ہوئے مولانا صاحب اور علاقہ کے عوام نے ایک مہینے تک ژوب شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ جس کے نتیجے میں حکومت کو مجبوراً گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مجبوراً پاکستان کے قانون میں یہ لکھنا پڑا کہ کوئی شخص بھی خود کو قادیانی ظاہر کر کے ضلع ژوب میں داخل نہیں ہو سکتا اور آج بھی یہ قانون موجود ہے کہ کوئی مرزائی یا قادیانی ژوب میں داخل نہیں ہو سکتا۔

مولانا شمس الدین شہیدؒ کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا۔ مولانا سید امام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کے خون مقدس سے ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی حتیٰ کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا، سارا دن اُن سے خوشبو آتی رہی۔ یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی۔ جب لوگ مولانا شہیدؒ کے مزار پر دعا میں مصروف تھے، اس وقت مزار پر سفید رنگ کے پھول برس رہے تھے جو کئی لوگوں نے اٹھائے۔ بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ہوا کے ساتھ قریبی باغ سے بادام کے درختوں کے پھول اڑ کر آ رہے ہیں، لیکن جب ان پھولوں سے موازنہ کیا گیا تو یہ پھول بادام کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے۔ لوگوں نے بجا طور پر اسے شہید ختم نبوت کی کرامت سمجھا۔

مولانا غلام غوث ہزارویؒ

مولانا غلام غوث ہزارویؒ ایک جید عالم دین، مجاہد ختم نبوت اور معروف سیاسی لیڈر تھے۔ ان کی پوری زندگی مسلسل جدوجہد سے مزین ہے۔ ایک دفعہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا زین العابدین بیمار ہوا۔ مولانا گھر پر تھے، اس کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی۔ حتیٰ کہ اس کی زندگی سے مایوسی کے آثار ظاہر ہو گئے۔ اس دن مولانا نے مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری سے ہزارہ کے علاقہ میں مناظرہ کے لیے جانا تھا۔ مولانا اپنے اکلوتے جواں سال صاحبزادے کو اس حالت میں چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ ابھی اڈہ پر ہی پہنچے تھے کہ پیچھے سے آدمی دوڑتا ہوا آیا اور پیغام دیا کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ٹھنڈا سانس لیا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور اس آدمی سے کہا کہ گھر جا کر غسل دیں، کفن پہنائیں، جنازہ پڑھیں اور دفن کر دیں، میرا اس مناظرہ کے لیے جانا ضروری ہے۔ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لیے فرض عین ہے، ورنہ کئی آدمیوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے،

صفحہ 339

میں جارہا ہوں ۔ یہ کہہ کر استقامت و ایثار کے بے تاج بادشاہ غلام غوث ہزاروی بس پر سوار ہو کر مناظرہ کے لیے مقررہ مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ قارئین کرام ! ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آیا ہم میں سے کوئی آدمی ایسی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اللہ رب العزت ان پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے۔

تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے ایک خادم کے ساتھ بھیس بدل کر خانقاہ سراجیہ آئے۔ اس وقت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا محمد عبداللہ ثانیؒ تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مرید، جو بھلوال ضلع سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے، ان کے ایک دور دراز کھیتوں کے ڈیرہ پر مولانا کی رہائش کا انتظام کر دیا۔ پولیس اور فوج آپ کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ”مجھے سخت پریشانی لاحق تھی اور اپنی حالت پر سوچتا تھا اگر اس حالت میں گولی سے مارا جاتا ہوں تو یہ بزدلی کی موت ہے اور اگر گرفتاری کے لیے ظاہر ہوتا ہوں تو مرکز کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پریشانی تین دن تک رہی اور تیسرے دن مجھے کچھ نیند اور کچھ بیداری کی حالت میں حضور انور ﷺ کی زیارت مبارک نصیب ہوئی اور آپ ﷺ نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

”غلام غوثؒ! تم نے اللہ کے رسول ﷺ کی عزت کے لیے قربانی دی ہے، پریشان مت ہو، کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا“۔

جب میری آنکھ کھلی تو طبیعت میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور کامل اطمینان پیدا ہو گیا۔ بعد میں بہت سی تکالیف بھی آئیں لیکن مجھے قطعاً پریشانی نہیں ہوئی اور اس کے بعد ہی میں فوج اور پولیس کو جُل دے کر نکل گیا اور ایسے اوقات بھی آئے کہ میرے پیچھے فوج اور پولیس والے نماز پڑھتے رہے لیکن پہچان نہ سکے۔ یہ سب حفاظت الہی اور بشارتِ نبوی ﷺ کا نتیجہ تھا۔

مولانا ظفر احمد عثمانیؒ

یہ اُس زمانہ کا ذکر ہے جب سعودی عرب میں آج کی طرح دولت کی ریل پیل نہ تھی اور اس ملک کی معیشت کا دار و مدار زیادہ تر حج کے موقع پر آنے والے حاجیوں سے ہونے والی آمدنی پر تھا۔ آبادی بہت غریب تھی اور بڑی مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔ مولانا ظفر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں کہ میں حج کے بعد مدینہ منورہ گیا ہوا تھا۔ ہم لوگوں نے ایک دن کھانا

صفحہ 340

کھانے کے بعد دسترخوان اٹھا کر ایک ڈھیر پر جھاڑ دیا، تاکہ روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑوں کو جانور کھا جائیں۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں اپنے کمرے میں سے باہر نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک خوبصورت آٹھ نو سال کا بچہ ان ٹکڑوں کو چن چن کر کھا رہا ہے، مجھے سخت افسوس ہوا، بچے کو ساتھ لے کر قیام گاہ آیا اور اسے پیٹ بھر کے کھانا کھلایا، کیونکہ میں ایسی ہستی کے شہر میں تھا جو غریبوں کا والی اور غلاموں کا مولیٰ تھا۔ میرے اس برتاؤ کو دیکھ کر بچہ بے حد متاثر ہوا۔ میں نے چلتے وقت اس سے کہا کہ بیٹے! تمھارے والد کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا میں یتیم ہوں۔ میں نے کہا: بیٹے! میرے ساتھ ہندوستان چلو گے؟ وہاں میں تم کو اچھے اچھے کھانے کھلاؤں گا، عمدہ عمدہ کپڑے پہناؤں گا، اپنے مدرسے میں تعلیم دوں گا، جب تم عالم فاضل ہو جاؤ گے تو میں خود تم کو یہاں لے کر آؤں گا اور تمھیں تمہاری والدہ کے سپرد کر دوں گا۔ تم جاؤ اپنی والدہ سے اجازت لے کر آؤ۔ لڑکا بہت خوش ہوا اور اچھلتا کودتا اپنی والدہ کے پاس واپس گیا۔ وہ بے چاری بیوہ! دوسرے بچوں ہی کے اخراجات سے پریشان تھی۔ اس نے فوراً اجازت دے دی۔ بچہ نے آ کر بتایا کہ میں آپ کے ساتھ چلوں گا، میری ماں نے اجازت دے دی ہے، پھر پوچھنے لگا کہ آپ کے شہر میں یہ چنے ملتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ بیٹے! یہ ساری چیزیں وافر مقدار میں تمھیں ملیں گی۔ پھر میری انگلی پکڑے پکڑے مسجد نبوی ﷺ میں وہ میرے ساتھ آیا اور ٹھٹک کر رہ گیا...... سرکارِ دو عالم ﷺ کے روضہ مبارک کو دیکھا اور مسجد کے دروازے کو، پھر دریافت کیا، بابا! یہ دروازہ اور روضہ بھی وہاں ملے گا؟ میں نے اس سے کہا کہ بیٹا! اگر یہ وہاں مل جاتا تو میں یہاں کیوں آتا؟ لڑکے کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور کہا بابا تم جاؤ، اگر یہ نہیں ملے گا تو میں ہرگز ہرگز اس روضے کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ بھوکا رہوں گا، پیاسا رہوں گا، اس روضہ کو دیکھ کر اپنی بھوک اور پیاس بجھاتا رہوں گا، جس طرح آج تک بجھاتا رہا ہوں۔ یہ کہہ کر بچہ رونے لگا اور اس کے اس عشق و تعلق کو دیکھ کر میں بھی رونے لگا۔

؎ میری آرزو محمد ﷺ، میری جستجو مدینہ

ربیع مدینہ منورہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تین ہزار اشرفیاں پیش کیں۔ آپ نے نذر قبول فرمائی۔ ربیع نے رخصت ہونے سے قبل عرض کیا ”یا حضرت! خلیفہ کی یہ خواہش ہے کہ آپ میرے ہمراہ بغداد تشریف لے چلیں“۔ اس پر حضرت امام مالکؒ نے ربیع سے پوچھا:

صفحہ 341

”کیا تم میرے آقا و مولا ﷺ کے فرمان سے واقف ہو؟“ ربیع نے لاعلمی کا اظہار کیا تو آپ نے اس کے سامنے وہ حدیث بیان فرما دی جس کا مفہوم تھا ”مدینہ اُن کے حق میں بہت ہے، اگر وہ اس بات کو سمجھیں تو“ ربیع اُن کا اشارہ سمجھ گیا اور جذبہٴ احترام کے سبب حضرت امام مالکؒ کے آگے سرتسلیم خم کر دیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا ”بغداد جانے کی بات تو دور کی ہے اگر مجھے ایک دن بھی حضور سرور کائنات ﷺ کا روضہٴ اطہر نظر نواز نہ ہو تو قلب پر قیامت سی گزر جاتی ہے“۔ آپ کے ان الفاظ میں ایسی تاثیر اور رعب و جلال تھا کہ ربیع کانپ اٹھا۔ اس نے اس عاشق رسول کے بارے میں بہت سی باتیں سن رکھی تھیں مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اسے حضرت امام مالکؒ کے عشق کا اندازہ ہو گیا تھا۔ وہ سوچوں کے سمندر میں غرق تھا کہ حضرت امام مالکؒ کی آواز پھر کانوں سے ٹکرائی فرما رہے تھے۔۔۔۔۔۔ ”ربیع! میں نور کے اس حصار سے بھلا کہاں جا سکتا ہوں؟ میں تو پہچانا بھی حضور اکرم ﷺ کی ذات کے حوالے سے جاتا ہوں، اگر آپ ﷺ کا دامن چھوٹا تو مالک بے نام و نشاں ہو جائے گا“۔ یہ فرما کر ربیع کو تین ہزار اشرفیوں کی تھیلی واپس لوٹا دی اور فرمایا: ”ربیع! امیر المومنین سے کہہ دینا کہ مالک مدینہ منوہ کی خاک پاک کے ایک ذرے کے عوض ساری دنیا کی دولت ٹھکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے“۔۔۔۔۔۔ ربیع نے جب حضرت امام مالکؒ کی محبتوں کی یہ انتہا دیکھی تو خاصا گھبرا گیا اور بمشکل گویا ہوا۔۔۔۔۔۔ ”اعلیٰ حضرت! ہمارے امیر المومنین کا مقصد یہ ہرگز نہ تھا، آپ اپنی خوشی سے جہاں کہیں بھی رہیں، بس اتنی التجا ہے کہ ہمارے خلیفہ کے حق میں دعا فرماتے رہیں“۔ حضرت امام مالکؒ نے یہ بات سماعت فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ”اے اللہ تعالیٰ تو خلیفہ کو اس کے حسن نیت کا صلہ عطا فرما“۔

حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ

ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نابغہٴ روزگار تھے۔ علم و عرفان کا ایک سمندر آپ کے سینہ میں موجود تھا۔ قرآن مجید کی تفسیر ”ضیاء القرآن“ علم و ادب کی دنیا میں ایک شہ پارہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا مطالعہ دل و دماغ کو ایمان کی ایک نئی جلا بخشتا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں پیر صاحب کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ تحریک ختم نبوت میں ان کے گرانقدر کارنامے سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت بیان کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ نے فرمایا:

صفحہ 342

عقیدۂ توحید کو نظر انداز کر کے ہم بحیثیت امت مسلمہ زندہ نہیں رہ سکتے، اسی طرح اگر خدانخواستہ ہم عقیدہ ختم نبوت سے دستبردار ہو جائیں تو ہماری تعداد اگرچہ ایک ارب کے قریب ہے، تعداد کی اس کثرت کے باوجود بحیثیت امت ہم چشم زدن میں نیست و نابود ہو جائیں گے۔ بحیثیت ملت ابراہیمیؑ ہمارا نام ونشان باقی نہ رہے گا۔ امت مسلمہ کا یہ قصر رفیع صرف دو بنیادوں پر استوار ہے، عقیدۂ توحید اور عقیدۂ ختم نبوت۔

جب یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عقیدہ توحید کی طرح عقیدہ ختم نبوت پر ہماری زندگی اور بقا کا انحصار ہے تو ہم اپنے عقیدہ ختم نبوت کو نظر انداز کر کے اپنی شہ رگ کاٹ ڈالیں۔ ہم کسی کو خوش کرنے کے لیے خودکشی کے مرتکب ہوں؟ یہ کیونکر ممکن ہے؟؟ حالانکہ نوع انسانی کی فلاح اور بقا کے لیے ہمارا زندہ و سلامت رہنا ضروری ہے۔ درحقیقت دفاع ختم نبوت کا جذبہ ہی ملت اسلامیہ کی زندگی کی علامت ہے جب تک یہ جذبہ زندہ وسلامت اور قوی وتوانا رہے گا، ابلیسی نظام کا کوئی فتنہ، کوئی سازش اس نور ہدایت کو بجھا نہ سکے گی جس کو بڑھانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ بہر حال جس شخص نے امت کو انگریز کی ابدی غلامی کے لیے تیار کرنے میں ساری عمر کھپا دی ہو، ہم مجبور ہیں کہ اسے ملت کا بدخواہ اور غدار قرار دیں۔ جس طرح ہم خارش زدہ کتے کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیتے، اسی طرح ایسے غداروں کو ہم حرم ملت کے پاس نہیں پھٹکنے دیں گے“۔

حضرت پیر فیض الحسن تنویرؒ

حضرت پیر فیض الحسن تنویرؒ المعروف شاہ جی ایک بلند پایہ شخصیت کے مالک تھے۔ حضور سرور کائنات ﷺ سے بے پناہ محبت اور فتنہ قادیانیت سے نفرت آپ کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں انھوں نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ جامع مسجد ہارون آباد کے عظیم اجتماع میں خطاب اور رضا کاروں کی تربیت سے فارغ ہو کر اپنی گرفتاری کے لیے سب سے پہلے شاہ جیؒ ہی مسجد سے باہر آئے۔ پولیس کی بھاری اور مسلح گارڈ آپ کی گرفتاری کے لیے موجود تھی۔ سب انسپکٹر پولیس نے آپ کو دروازے پر روک کر گرفتار کرنے کے لیے حوالدار کو ہتھکڑی لگانے کا حکم دیا۔ حوالدار نے چابی لگائی۔ شاہ جی نے ہاتھ نیچے کیے تو ہتھکڑی کھل گئی۔ سب انسپکٹر پولیس نے حوالدار کو گھورا کہ بیوقوف تجھے ابھی تک ہتھکڑی لگانے کا طریقہ ہی نہیں آیا۔ کیا ملازمت کر رہے ہو؟ حوالدار نے تیزی سے

صفحہ 343

شاہ جی کی طرف پھر ہاتھ بڑھایا اور بڑی احتیاط سے چابی گھمائی جب ہتھکڑی لگ گئی اور اس نے تسلی کر لی تو شاہ جی کو لے کر چلنے ہی والا تھا کہ شاہ جی نے ہاتھ نیچے کیے تو حسب سابق ہتھکڑی پھر کھل گئی۔ اس پر سب انسپکٹر خود آگے بڑھا، دوسری ہتھکڑی لائی گئی اور اس نے اپنے ہاتھوں سے ہتھکڑی لگائی مگر جب لے کر چلے تو ہتھکڑی ایک بار پھر کھل کر نیچے گر پڑی۔ پولیس میں افراتفری مچ گئی۔ بالآخر موقع پر موجود ڈی ایس پی نے کہا، شاہ جی کو بغیر ہتھکڑی کے لے جاؤ۔ یہ بھاگنے والے لوگوں میں نہیں ہیں اور پھر بغیر ہتھکڑی کے ہی شاہ صاحب کو جیل لے جایا گیا۔ شاہ جی نے اس تحریک میں بہاولنگر، ساہیوال اور ہارون آباد کی جیلوں میں صعوبت وعزیمت کے دن گزارے اور اُف تک نہ کی۔

حضرت مولانا محمد یوسف المعروف حضرت جیؒ

تبلیغی جماعت کے راہنما، جید عالم دین اور معروف روحانی شخصیت حضرت مولانا محمد یوسف المعروف حضرت جیؒ تقریباً ربع صدی تک اللہ کی راہ میں مسلسل سفر، مسلسل جدوجہد، مسلسل دعوت اور مسلسل نقل و حرکت کرتے رہے۔ ایک دفعہ تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

قادیانیت کی مخالفت نہیں کرتے۔ انگلینڈ میں کوئی مشین خواہ کتنی ہی تیز چلنے والی کیوں نہ ہو، وہ اتنی تیزی سے کپڑا تیار نہیں کرتی، جتنا قادیانی کفر کی مشین میں تیزی سے ارتداد تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اس پر مزعومہ دلائل کا رنگ چڑھا کر مرزائی مبلغین سے دجل وفریب اور کہہ مکرنی کی بھٹی میں استری کر کے مسلمان قوم کے ایمان کے جنازہ کے کفن کے لیے تیار کرتے ہیں۔ مرزائیت، مکر و افترا اور کذب وفریب کا ایک پلندا ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹوں کا سردار تھا۔ امت کو اس فتنے سے بچانے والے، پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں“۔

حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کی علمی و دینی خدمات سے کون ناواقف ہے۔ ایک دفعہ انھوں نے پیپلز کالونی فیصل آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

صفحہ 344

کو منہ زور گھوڑے کی طرح جھوٹ کی وادیوں میں دوڑاتا تھا۔ ہر قدم پر جھوٹ تیار کرنا اور پھر سب سے پہلے اس کا خود بے دریغ استعمال کرنا، اس کا وتیرہ تھا۔ ہمارے اکابر نے اپنی ایمانی و وجدانی کیفیات سے سرشار ہو کر اس کا تعاقب کیا۔ ان سبھی حضرات نے امت کی اس فتنہ کے خلاف رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو اس فتنہ کے بڑھنے کے بہت اسباب تھے۔ آپ نے ان کے سامنے دیوارِ چین کھڑی کر دی ہے لیکن مولانا (محمد علی جالندھری) دیکھیں، یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک امتی بھی قادیانی ہو گیا تو ہم سے پوچھا جائے گا کہ قادیانیوں نے اس کے ایمان پر ڈاکا ڈالا تھا، تم نے اس کا ایمان بچانے کی فکر کیوں نہ کی تھی؟‘‘

حضرت مولانا محمد عمر پالن پوریؒ

تبلیغی جماعت کے معروف راہنما حضرت مولانا محمد عمر پالن پوریؒ نے ایک دفعہ فرمایا:

قادیانی کو صرف اپنے نبی و رسول ہونے کا دعویٰ نہ تھا، بلکہ نعوذ باللہ اس کو خدا کا بیٹا اور اس سے بھی بڑھ کر خدا ہونے کا دعویٰ تھا۔ حیرانی ہے کہ ایک احمق و کور باطن کو لوگ کیا سے کیا مانے ہوئے ہیں۔ اس فتنہ کے خلاف کام کرنا، حضور نبی کریم ﷺ کی توجہات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین وسیلہ ہے‘‘۔

حضرت مولانا نذرالرحمٰن

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا نذرالرحمٰن مدظلہ نے ایک دفعہ خانقاہ سراجیہ میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

اور مجاہد بھی۔ فتنہ قادیانیت کے خلاف ان کے کام کو دیکھ کر یقین ہے کہ ان میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی نسبت عود کر آئی ہے۔ مرزا قادیانی ایسے بے دین، گمراہ، دجال و کذاب شخص کی تردید وقت کی ضرورت ہے۔ خوش بخت و سعادت مند انسانوں کو قدرت ان کاموں کے لیے قبول فرماتی ہے‘‘۔

مفتی محمد رفیع عثمانی

پڑھتا تھا تو ہمارے ایک استاد تھے حضرت مولانا امیر الزماں کشمیری صاحبؒ، آزاد کشمیر کے

صفحہ 345

تھے ابھی ان کا انتقال ہوا۔ تو ان کی نئی نئی شادی ہوئی، نئی نویلی دلہن گھر میں تھی کہ انہی دنوں میں قادیانیوں نے ایک بڑی کانفرنس کراچی میں منعقد کی۔ جہانگیر پارک اس زمانے میں کراچی کا مشہور باغ تھا، اس زمانے میں بڑے جلسے وہیں ہوتے تھے۔ اب تو نشتر پارک میں ہوتے ہیں۔ جہانگیر پارک ہمارے گھر سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھا۔ مغرب کے بعد قادیانیوں کا جلسہ شروع ہونے والا تھا تو ہمارے استاد گھر پر تشریف لائے۔ والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ والد صاحب کے وہ شاگرد بھی تھے۔ انھوں نے اپنا کچھ زیور کچھ نقدی کچھ امانتیں کچھ وصیت نامہ یہ سب لکھ کر (فہرست بنا کر) والد صاحب کی خدمت میں پیش کیا کہ حضرت میں تو اب جارہا ہوں گا اور یہ امانت آپ کی خدمت میں ہے۔ میرے گھر پر میری بیوی ہے، میرا کوئی بچہ نہیں ہے۔ امید ہے کہ آپ دیکھ بھال کریں گے۔ وہ بندہ خدا تو والد صاحب کے پاس امانت اور وصیت رکھوا کر چلے گئے۔ میں اس وقت موجود نہیں تھا۔ میں آیا تو پتہ چلا کہ ہمارے استاد چلے گئے ہیں تو میں نے حضرت والد صاحبؒ سے اجازت چاہی کہ کہ حضرت مجھے بھی اجازت دیجیے، میں اور میرے بھائی مولانا ولی رازی صاحب اور ایک میرے پھوپھی زاد بھائی تھے، ہم چلے راستے میں بڑے زبردست پہرے تھے۔ داڑھی والوں کو جلسے کے پاس تک نہیں جانے دے رہے تھے مگر میری داڑھی تو ابھی نکلنی ہی شروع ہوئی تھی، اس وجہ سے ہمیں پہنچنے کا موقع مل گیا۔ وہاں پہنچ کر کیا دیکھا، وہ جلسہ کیا تھا جیسے جیل کے اندر کوئی تقریر کر رہا ہو کیونکہ سارے مسلمانوں نے اس جلسے کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ کوئی قادیانی باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ اندر جانے کے لیے بڑے فوجی پہرے تھے جس کے ذریعہ سے وہ اندر جاتے تھے۔ لیکن انہوں نے لاؤڈ اسپیکر باہر دور تک لگائے ہوئے تھے تو ہم کوئی اور کام تو کر نہیں سکتے تھے، دو کام ہم نے کیے کہ ان کھمبوں کو اکھاڑنا شروع کیا جن پر لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے تھے اور ان کی بتیوں کو ہم نے پتھروں سے مار مار کر توڑنا شروع کیا اور کچھ لوگوں کو جمع کر کے کچھ تقریر شروع کر دی۔ خیر تھوڑی دیر میں پولیس آگئی۔ جلسہ درہم برہم ہوگیا کیونکہ ان کے لاؤڈ اسپیکر کا سارا نظام تلپٹ ہوگیا تھا۔ وہاں بھگدڑ مچی تو پولیس نے آکر ہمیں گھیر لیا، پھر لاٹھی چارج کیا، بڑی مشکل سے جان بچائی مگر الحمد للہ کراچی میں قادیانیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور پھر اس کے بعد ان کا کوئی جلسہ کراچی میں نہ ہوسکا‘‘۔ (خطاب: مفتی محمد رفیع عثمانی)

صفحہ 346

سیّد انور حسین نفیس الحسینیؒ

قطب الارشاد شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز، پیر طریقت حضرت سید انور حسین نفیس الحسینیؒ نے ایک دفعہ راقم الحروف سے ملاقات میں فرمایا:

آپ ﷺ کے دشمنوں سے دلی نفرت کی جائے۔ قادیانیت، دراصل حضور شافع محشر ﷺ سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ ان سے روزمرہ زندگی میں معمولی سا بھی تعاون سخت گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک دفعہ مظہر ملتانی قادیانی، قادیانیوں کی گڑھی شاہو لاہور میں واقع عبادت گاہ کی پیشانی کے لیے کلمہ طیبہ لکھوانے کے لیے آیا۔ میں نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا کہ تمھیں یہ جرأت کس طرح ہوئی کہ میں قادیانیوں کا کام کروں گا۔ ایک دفعہ ایک پریس والے کا رقعہ لے کر ایک شخص آیا کہ یہ نظم کا کام کرانا چاہتے ہیں۔ نثر کے کام کی نسبت کاتبوں کے لیے نظم کا کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ رقعہ میں تحریر تھا کہ جو آپ معاوضہ کہیں گے، یہ آپ کو دیں گے۔ یہ بات میرے مزاج کے خلاف تھی۔ تاہم کام کی آسانی اور پریس والوں کی شناسائی کے باعث اس آدمی کو میں نے بٹھا لیا اور مسودہ دیکھا تو وہ آنجہانی مرزا قادیانی کا کلام ”درثمین“ تھا۔ ملعون مرزا قادیانی کا کلام دیکھ کر مجھے بہت تعجب اور صدمہ ہوا۔ جس پریس والے نے رقعہ لکھا تھا، اس پر بھی افسوس ہوا۔ سوچا کہ میرے اندر ضرور کوئی کمی ہوگی کہ کفر مجھ سے کافرانہ کلام لکھوانے کی امید سے میرے دروازے پر آ گیا۔ استغفار کیا اور اس آدمی کو چلتا کیا۔ میں نے زندگی بھر کسی قادیانی کا کوئی کام نہیں کیا۔ یہ واقعات اس لیے بیان کر دیے ہیں کہ دوسرے خوشنویس حضرات خواہ وہ کمپیوٹر کتابت کرتے ہوں، کو نصیحت ہو کہ وہ مسلمان ہو کر قادیانیوں کا کام نہ کریں۔ یہ بھی قادیانیت سے اعانت کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً حرام اور ناقابل معافی جرم ہے“۔

سر عمر حیات ٹوانہ

حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب فرماتے ہیں کہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے ایک دفعہ مجھے بتایا ”خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم، سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز حکومت کا

صفحہ 347

مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے قادیانی مقدمہ کو ختم کرا دیں، تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب ﷺ کا تو ان سے سودا نہیں کیا۔ آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے، میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں حضرات کی نجات کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے‘‘۔ آج کے روشن خیال اور ترقی پسند حکمران اگر چاہیں تو اس واقعہ کی تقلید کر کے اپنی آخرت بہتر بنا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی نیت ٹھیک ہو۔

نواب محمد صادق والیٔ ریاست بہاولپور

مشہور مقدمہ بہاولپور میں فاضل جج محمد اکبر فریقین کے دلائل اور علما کے بیانات سُن کر ایک حتمی نتیجے پر پہنچ گئے تھے اور اس فتنہ سیئہ کی حقیقت ان پر آشکار اور روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی تھی، مگر فیصلے کا اعلان کرنے میں اس خیال سے متردد اور تذبذب کا شکار تھے، مبادا بقول علامہ شورش کاشمیری، انگریز کے ایجنٹ اور خود ساختہ پودے کو غیر مسلم قرار دینے پر انگریزی حکومت ریاست بہاولپور کو نقصان نہ پہنچائے۔ جب یہ خبر والیٔ ریاست بہاولپور نواب محمد صادق صاحب تک پہنچی تو انہوں نے جج صاحب سے بغیر کسی خوف و خطر کے ببانگ دہل یہ فرمایا: ’’آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیر مسلم قرار دیں، اگر صادق کی ایک کیا، ہزار ریاستیں بھی سرکار محمد ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ میں قربان بھی ہو جائیں تو یہ میرے لیے سب سے بڑی سعادت کی بات ہو گی اور مجھے کوئی پروا نہیں‘‘۔ پھر وہ تاریخی فیصلہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں انگریز کے خود کاشتۂ پودے، قادیانیت کو پوری دنیا میں خائب و خاسر ہونا پڑا اور آخر کار 7 ستمبر 1974ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔

’’خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘

محمد اکبر خان

بہاولپور میں ایک جج محمد اکبر خان صاحب مرحوم و مغفور نے ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ چنانچہ ایک مسلمان

صفحہ 348

عورت کا نکاح جو ایک قادیانی سے ہوا تھا، فسخ ہے۔ مقدمہ بہاولپور کے فیصلہ کے کچھ عرصہ بعد جج محمد اکبر خاں صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد میر عبدالجمیل صاحب سابق سیشن جج جو میر سراج الدین صاحب ریٹائرڈ چیف جسٹس کے صاحبزادے جو بڑے متقی اور پرہیز گار ہیں، آج کل حضور رسالت مآب ﷺ کے قرب میں باب جبریل کے بالمقابل ایک مدرسہ میں خلوت نشین ہیں۔ انہوں نے جج محمد اکبر صاحب مرحوم کو اپنے ایک خواب میں بہشت بریں میں دیکھا۔ پہلے ان کو کئی عالی شان محلات دکھائے گئے۔ اس کے بعد ایک نہایت ہی خوبصورت محل میں ایک تخت پر جج محمد اکبر صاحبؒ بیٹھے دکھائے گئے۔ جب میر عبدالجمیل صاحب نے ان سے سوال کیا کہ یہ بلند درجات آپ کو کیسے نصیب ہوئے تو جج محمد اکبر خاں صاحبؒ نے یہ جواب دیا کہ یہ انعامات مجھے تحفظ ختم نبوت ﷺ کی حفاظت میں اس خدمت کے عوض ملے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فیصلہ بہاولپور کی صورت میں لی اور یہ جتنے محلات آپ دیکھتے آئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر مجھے دیئے ہیں کہ فی الحال یہ لے لو۔ تمہارا مکمل انعام روز قیامت ملے گا۔ یہ بیان فرماتے ہوئے میر صاحب کی ریش مبارک شدت گریہ سے تر ہوچکی تھی۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسن

اس دور قحط الرجال میں حضرت مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ کی شخصیت علم و عرفان کی درخشاں قندیل ہے۔ آپ کے محاسن و معارف، خدا خوفی، بلندی کردار، دینی غیرت و حمیت، محبت رسول ﷺ اور گستاخان رسول سے بے پناہ نفرت و حقارت کے بارے میں لکھنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ آپ نے خود کو تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ آپ جس جذبے سے اپنے شاگردوں کو اس محاذ پر تیار کر رہے ہیں، اس کی مثال ملنا محال ہے۔ آپ اپنی ایک تحریر میں فرماتے ہیں:

ہے۔ اس مبارک عقیدہ کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ یہ عقیدہ پورے دین اسلام کی روح ہے۔ جیسے روح کے بغیر جسم کی کوئی حیثیت نہیں، ایسے ہی عقیدہ ختم نبوت کے بغیر کسی عمل کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگرچہ لاکھ نمازیں پڑھے، روزے رکھے، حج کرے، سب بے کار ہے۔ یہ قرب قیامت کا دور ہے۔ روز بروز نت نئے فتنے

صفحہ 349

مختلف شکلوں میں رونما ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک خطرناک ترین فتنہ، قادیانیت کا فتنہ ہے۔ یہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے باغی اور دشمن ہیں۔

مسیلمہ کے جانشین گرہ کٹوں سے کم نہیں
کتر کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے

آج بھی یہ مختلف چالوں سے مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور ہیں ۔ دوستی، نوکری، لڑکی، پیسوں کے لالچ اور غیر ملکی ویزہ کا جھانسہ دے کر ان کے ایمان کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بندہ سیدھے لفظوں میں عرض کر رہا ہے۔ اللہ نہ کرے، اگر کسی مسلمان نے قادیانیوں کے مکر و فریب میں آ کر کسی مغربی ملک کا ویزہ لے لیا اور کسی قادیانی لڑکی سے شادی کر کے قادیانی بن گیا تو یاد رکھے کہ گنبدِ خضرا سے اس کا ویزہ ختم ہو گیا۔ گنبدِ خضرا سے اس کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اے میرے غیرت مند مسلمان بھائی! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ، اگر خدانخواستہ حضور نبی رحمت ﷺ سے ہمارا رشتہ ختم ہو گیا تو ہمارے پلے رہے گا کیا ۔ پھر یہ ویزہ کب تک کام آئے گا، شادی کا من تو کب تک پورا کرے گا۔ ہماری ساری امیدوں کا سہارا آپ ﷺ کی مبارک ہستی ہی تو ہے۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل کوئی پونجی ہے تو وہ آپ ﷺ کی محبت ہی تو ہے۔ لہٰذا آقائے دو جہاں، سرور کونین، فخر دو عالم، سرور دو عالم، سید المرسلین، حضور خاتم النبیین ﷺ کی محبت (جو گناہگار سے گناہگار مسلمان کے سینے میں جوش مار رہی ہے) کے وسیلے سے ایک ایک مسلمان سے پُرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قادیانیوں سے مکمل طور پر بائیکاٹ کرے۔ ان سے ہر قسم کے تعلقات کو ختم کرے اور ان کے ساتھ تعلقات کو ختم کرنے کے لیے اپنے دل کو غیرت دلانے کے لیے اس جملے کو پڑھ لیا کرے۔

اے مسلمان جب تو کسی قادیانی سے ملتا ہے تو گنبدِ خضرا میں دل مصطفیٰ ﷺ دکھتا ہے۔ قادیانی مسلمانوں کا روپ دھار کر اور ان کے شعائر (نشانیوں) کو استعمال کر کے تعلقات کے جھانسے میں سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات حرام ہیں۔

یہاں ایک واقعہ کا ذکر کرنا مناسب ہوگا جس کو بندہ اکثر مجالس میں سناتا رہتا ہے۔

صفحہ 350

وہ یہ ہے کہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں ایک صاحب نے خط لکھا کہ میں نے مرزائیوں کا لٹریچر پڑھا ہے اور میرے ذہن میں عجیب قسم کے شکوک وشبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ میں اب کیا کروں؟ حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے جو جواب مرحمت فرمایا، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرمایا: آپ نے سانپ پکڑنے کا منتر سیکھے بغیر سانپ کو پکڑنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ڈسے گا نہیں تو اور کیا کرے گا۔ مطلب یہ کہ قادیانیت کا زہر سانپ کے زہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ سانپ کے زہر سے اگر موت کا وقت آ چکا ہے تو موت آ جائے گی لیکن قادیانیت کا زہر اگر سرایت کر گیا تو وہ دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کر دے گا۔ لہٰذا اس فتنے کے بارے میں معلومات رکھنے والے علمائے کرام اور محافظین ختم نبوت قادیانیت کے سانپ کو پکڑنے کا منتر جانتے ہیں۔ جب بھی ضرورت ہو فوراً ان سے رجوع کریں‘‘۔

مستری برکت علی مغلؒ

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”غیرت ایمان کا حصہ ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ سچا نبی اپنے امتیوں میں غیرت پیدا کرتا ہے اور جھوٹا مدعی نبوت اپنے امتیوں میں بے غیرتی اور دیوثی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال ملاحظہ کیجیے۔

سندھ کے علاقہ عمرکوٹ کنری ضلع تھرپارکر کے مجاہد ختم نبوت بزرگ جناب مستری برکت علی مغلؒ لوہار کا کام کرتے تھے۔ دینی غیرت وحمیت اور عشق رسول ﷺ کی لازوال دولت سے مالا مال تھے۔ ایک دفعہ ان کے پاس ایک قادیانی مبلغ آیا اور اپنے باطل مذہب کی ارتدادی گفتگو شروع کر دی۔ اس دوران مستری صاحب اپنے کام میں مگن، دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کر رہے تھے۔ قادیانی مبلغ اپنی گفتگو میں بار بار جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا نام بڑے ادب و احترام اور مقدس القابات سے ادا کرتا۔ قادیانی مبلغ تقریر کرتا رہا۔ مستری برکت علی صاحب سنتے رہے۔ جب کلہاڑی کی دھار خوب تیز ہوگئی تو مستری برکت صاحب شیر کی طرح اٹھے اور کلہاڑی قادیانی مبلغ کی گردن پر رکھ کر کہا: ”او خبیث بتا! تم مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہو؟“ قادیانی مبلغ نے کہا: میں اسے نبی مانتا ہوں۔ مستری صاحب نے پورے جلال کے ساتھ کہا۔ کہو کہ مرزا قادیانی جھوٹا، بے ایمان اور بدکار تھا۔ مبلغ نے اپنی جان کی خیر مناتے ہوئے کہا مرزا قادیانی جھوٹا، بے ایمان اور بدکار تھا۔ مستری صاحب نے دوبارہ کہا،

صفحہ 351

کہو کہ مرزا قادیانی مردود اور اُلو کا پٹھا تھا۔ قادیانی مبلغ نے یہی الفاظ پھر دہرا دیے۔ الغرض مستری صاحب مرزا قادیانی کے متعلق جو بے نقط سناتے، قادیانی مبلغ اسے بار بار دہراتا۔ آخر کار مستری برکت علی صاحب، وہی کلہاڑی قادیانی مبلغ کے ہاتھ میں دے کر خود اس کے سامنے گردن جھکا کر بیٹھ گئے اور کہا: او بدبخت! اب تم یہ کلہاڑی میری گردن پر رکھ کر میرے سچے نبی، میرے آقا و مولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق میری زبان سے ایک جملہ بھی نکلوا کر دیکھ۔ میں تمھارے سامنے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں گا مگر میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں ادنیٰ سی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی میرے اور تمھارے مابین سچے اور جھوٹے ہونے کی بین دلیل ہے۔

سچے نبیوں کا اقرار ضروری ہے
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے
ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے
نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے

حضرت علامہ علاؤ الدین صدیقیؒ

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر، عظیم مفکر، شعلہ بیاں خطیب، لاجواب منتظم اور متبحر عالم دین حضرت علامہ علاؤ الدین صدیقیؒ جامع الصفات شخصیت کے حامل تھے۔ تحریک پاکستان میں ان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد و یگانت کے بڑے داعی اور علمبردار تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی دعوتِ دین اور خدمتِ اسلام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے تحریک ختم نبوت 1953ء میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہر صوبہ اور علاقہ میں ختم نبوت کانفرنسوں اور اجتماعات میں اپنی شعلہ نوا تقریروں سے عوام کے دلوں کو گرمایا اور محبت رسول ﷺ کے جذبے کو بیدار کیا۔ تحفظ ختم نبوت کی کانفرنسوں میں ایمان پرور تقریریں کر کے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ وجہ تخلیق کائنات اور شاہکارِ منشائے ربانی حضور اکرم ﷺ سے والہانہ عشق کا نتیجہ تھا کہ حق بات برملا کہہ دیتے تھے۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت ملک گیر صورت اختیار کر گئی۔ بے شمار طلبہ صدائے اللہ اکبر پر پروانہ وار فدا ہوتے چلے گئے اور لاتعداد نوجوانانِ وطن نے جامِ شہادت نوش کیا۔ لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو گیا، جمعہ کا دن تھا، جناب علامہ علاؤ الدین صدیقیؒ پہلے سے ہی مسجد

صفحہ 352

شاہ چراغ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے ختم نبوت کے موضوع پر حد درجہ پر جوش خطاب شروع کر دیا کہ اتنے میں اچانک گھوں گھوں کی سی آواز سنائی دی، یہ آواز جنرل اعظم خان کی مشین گنوں سے مسلح جیپ کی تھی جو جی پی او کے چوک میں آ کر رکی تھی۔ جناب علامہ صدیقیؒ خطابت میں معمول سے زیادہ جوش میں تھے۔ حاضرین نے نعرہ ختم رسالت ﷺ بلند کیا۔ اس وقت فضا بالکل ساکن تھی۔ اس آن علامہ صدیقی نے جنرل اعظم کو مخاطب کر کے کہا:

”تمہاری بندوق کی گولیاں اگر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کے سینوں کو چھید سکتی ہیں تو پہلے میرے سینے پر گولی لگنی چاہیے“۔

کچھ توقف کے بعد جنرل اعظم کی جیپ چلی گئی۔ لاہور کی خون آلود سڑکیں اہل لاہور کو خوب یاد ہیں۔ شہدائے ختم نبوت کے خون کا نقشہ آج بھی زندہ جاوید ہے اور ابدالآباد تک زندہ رہے گا۔

ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر اعلیٰ جناب الطاف حسن قریشی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

”یہ غالباً 1953ء کی سردیوں کا ذکر ہے۔ میں اُن دنوں ایم اے علوم اسلامیہ کا طالب علم تھا۔ ہماری کلاسیں دن میں دو بار لگتی تھیں۔ ایک صبح سات بجے سے لے کر نو بجے اور پھر شام کو چار بجے سے لے کر رات کے آٹھ نو بجے تک اور اگر ہمارے استادِ مکرم علامہ علاؤ الدین صاحب صدیقی کسی اہم مسئلے پر گفتگو فرماتے، تو رات کے گیارہ بارہ بھی بج جاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار جھوٹے مدعیان نبوت پر بات چل نکلی تو جناب علامہ نے پوری اسلامی تاریخ سمیٹ کر رکھ دی اور آخر میں بڑے دلدوز لہجے میں فرمایا:

”تاریخ کے کسی بھی حصے میں امت مسلمہ نے جھوٹے نبی کو برداشت نہیں کیا اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھی جب تک اپنے آپ کو جھوٹے نبی کے ناپاک وجود سے پاک نہیں کر لیا، لیکن اہل پنجاب کی بے غیرتی نے پوری اسلامی تاریخ کی غیرت کو مجروح کیا۔ ہائے! دیوانوں کو غیرت نہ آئی“۔

اُس رات ایک بج گیا تھا اور شدید سردی کے باوجود ہمیں غیرت کے پسینے آتے رہے“۔ (ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہور جولائی 1968ء)

ناز کیا اس پہ کہ بدلا ہے زمانے نے تجھے
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
صفحہ 353

سید ذاکر حسین شاہ

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی سکالر اور دانشور جناب سید ذاکر حسین شاہ صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ 1974ء کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے تاریخی اجلاس میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ وہ جید علمائے کرام کی اس اہم ٹیم میں شامل تھے جو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پر کیے جانے والے سوالات اور جرح میں معاونت کرتی تھی۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب اس سلسلہ میں محترم شاہ صاحب کے بے حد معترف تھے کیونکہ قادیانی خلیفہ دوران جرح شاہ صاحب کے تیار کردہ کئی سوالات کے کوئی جواب نہ دے سکا۔

سید ذاکر حسین شاہ صاحب نے ایک دفعہ اپنا ایمان افروز واقعہ سنایا:

تھے کہ حالت بیداری میں اچانک دیکھا کہ دو بزرگ تشریف لائے جن کے چہروں سے نور ٹپک رہا تھا۔ ان میں ایک حضرت امام ابو حنیفہؒ اور دوسرے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ تھے۔ ان بزرگوں نے قادیانیوں کے خلاف تیاری کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مجھے شاباش دی اور فرمایا، گھبرانا نہیں ۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے رہو، فتح مسلمانوں کی ہی ہوگی‘‘۔

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے مجھے تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کا مزید حوصلہ اور جذبہ نصیب ہوا۔

حضرت مولانا محمد عارفؒ

حضرت مولانا محمد عارفؒ ایک درویش صفت عالم دین اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ وہ ایک عرصہ تک کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی مسجد میں بطور خطیب اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی قناعت اور غربت میں گزاری۔ ہمیشہ حرام سے بچتے ہوئے محنت کی کمائی سے بمشکل گزارا کرتے ۔ بعض اوقات فاقوں تک بھی نوبت پہنچ جاتی مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے بلکہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے۔ آخری دنوں کینسر کے موذی مرض کا شکار ہو گئے۔ اس بیماری کا بڑی استقامت اور دلیری سے مقابلہ کیا۔ اُن کے صاحبزادے جناب حافظ قاری محمد عمران خان بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے بی اے کا امتحان پاس کیا تو والد صاحب نے حکم دیا کہ تم قانون کا امتحان پاس کرو۔ میری

صفحہ 354

خواہش ہے کہ تم عدالت کے ایوانوں میں ختم نبوت کا تحفظ کرو اور گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کا مقابلہ کرو۔ میں نے جواب میں عرض کیا کہ لاء کالج میں داخلہ کے لیے میرے پاس رقم نہیں ہے۔ اس پر والد محترم نقاہت کے باوجود فوراً بستر سے اُٹھے اور کہا، میرے پاس کچھ رقم ہے، وہ داخلہ کے لیے جمع کروا دو۔ میں نے عرض کیا کہ وہ تو آپ نے اپنی ادویات کے لیے جمع کر رکھی ہے۔ اس پر والد محترم نے فرمایا: ”بیٹا! موت تو پھر بھی آ جانی ہے۔ تم لاء کر کے عدالت کے ایوانوں میں حضور شافع محشر ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کرو گے تو یہ صدقہ جاریہ قبر اور حشر میں میری بخشش کے لیے کافی ہو گا“۔ حضرت مولانا محمد عارفؒ 12 مارچ 2004ء کو قضائے الٰہی سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حافظ محمد عمران ایڈووکیٹ آج کل سیشن کورٹ لاہور میں وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ ختم نبوت لائرز فورم پاکستان کے جنرل سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

؎ تیرے دیوے دی رشنائی جاوے وچ زمیناں

جناب طارق محمود

خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آج کل کراچی میں ہیں، نہایت عابد و زاہد اور متقی نوجوان ہیں۔ اپنے اخلاص و نیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابل احترام ہیں۔ انھوں نے ایک دفعہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ کے موقع پر بیان کیا:

کیفیت ہے۔ عظیم اجتماع استقبال کے لیے امڈ آیا ہے۔ لوگ اِدھر اُدھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار ﷺ دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا جس طرف سے آپ ﷺ تشریف لا رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ کا کہاں تشریف لے جانے کا ارادہ ہے؟ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”جامع مسجد ختم نبوت میں ہماری کانفرنس ہو رہی ہے۔ ادھر جانے کا پروگرام ہے“۔

تحفظ ختم نبوت کے پروگراموں (بالخصوص کانفرنسوں) میں شرکت کرنا ہر مسلمان

صفحہ 355

کے لیے باعث سعادت ہے۔ کسی بھی پروگرام میں شرکت سے جب شرکا کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ تو اس سے نہ صرف کفار کے دلوں میں مجاہدین ختم نبوت کا رعب و دبدبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ حکومت بھی مرزائیت نوازی کا مظاہرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک ایمان پرور واقعہ ملاحظہ کیجیے:

حضرت سیدنا انس بن مالکؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ قادسیہ کے دن حضرت سیدنا عبداللہ ابن ام مکتومؓ کو دیکھا کہ وہ زرہ پہنے ہوئے ہیں اور اس کی اطراف کھینچ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا ہے۔ جب اُن کو کہا گیا کہ آپ تو نابینا ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو معذور قرار دیا ہے تو پھر آپ اس طرح کیوں تکلیف جھیل رہے ہیں؟ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ ہاں! اللہ تعالیٰ نے تو مجھے گھر رہنے کی اجازت دی ہے مگر میں اپنی ذات کے ساتھ اہل اسلام کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہوں تا کہ کفار پر رعب بڑھے۔

جناب ایچ ساجد اعوان

ایچ ساجد اعوان ایبٹ آباد کے عظیم مجاہد ختم نبوت ہیں۔ اللہ پاک نے انھیں محبت رسول ﷺ کی لازوال دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی تحفظ ختم نبوت کے نام وقف کر رکھی ہے۔ موصوف نے ”تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور گستاخ رسولؐ کی سزا“ کے عنوان پر ایک ضخیم اور تاریخی کتاب تالیف کی ہے۔ جناب ساجد اعوان کہتے ہیں: ”جب میں نے یہ کتاب لکھنا شروع کی تو ایک رات میرے سوئے ہوئے بخت جاگ اٹھے۔ میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ میں مسجد نبوی شریف کی سیر کر رہا ہوں، جی بھر کر مسجد نبوی شریف کی زیارت کی، پھر روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوا۔ روضۂ رسول ﷺ کی خوب خوب زیارت کی اور قلب و نظر کی تسکین کا سامان کیا۔ آنکھ کھلی تو پورے وجود میں ایک مہک تھی۔ طبیعت میں ایک عجیب فرحت تھی۔ اس خواب سے کئی دن مجھ پر ایک کیف و سرور کی کیفیت رہی“۔

میں نام مصطفیٰ ﷺ پر ہوں سو جان سے نثار
مقبول اس لیے میری تحریر ہو گئی

حضرت معظم الحاج قاضی محمد صدر الدین نقشبندی مجددیؒ

حضرت معظم قاضی محمد صدر الدین نقشبندی مجددیؒ کو اللہ پاک نے حسن صورت اور حسن سیرت دونوں سے جی کھول کر نوازا تھا۔ علم و فضل کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہونے کے

صفحہ 356

باوجود مزاج میں کمال انکساری اور خاکساری تھی۔ تمام تر کمالاتِ باطنی کے باوجود آپ ہمیشہ اخفائے حال اور کسر نفسی سے کام لیتے۔ کبھی کسی کمال یا کرامت کو اپنی طرف منسوب نہ فرماتے بلکہ ہر وقت مولا کریم کے دربار میں خشوع و خضوع کے ساتھ مصروفِ دعا رہتے۔ آپ غیرت وحمیت کا پیکر اور مجاہد ختم نبوت تھے۔

حضرت معظم کی حق گوئی و بے باکی کی وجہ سے گاؤں کے خوانین کے ساتھ اکثر آپ کی چپقلش رہتی۔ کیونکہ حق کے معاملہ میں آپ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی خاطر میں نہ لاتے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ نمازِ جنازہ پڑھانے گئے۔ اُن دنوں درویش میں میر افضل خاں رئیسِ اعظم تھے اور ان کے جاہ و جلال کا یہ عالم تھا کہ گاؤں بھر میں کسی کو اُن کے سامنے لب کشائی کی جُرأت نہ ہوتی تھی۔ جنازہ کے لیے جاتے ہوئے راستہ میں آپ کو معلوم ہوا کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے میر افضل خان صاحب بھی آئے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ اپنے ایک قادیانی دوست شیخ عبداللہ کو بھی لائے ہیں۔ آپ کب گوارا کر سکتے تھے کہ ایک مومن میت کی نمازِ جنازہ میں قادیانی کافر شریک ہو۔ اس لیے جب نمازِ جنازہ کے لیے صفیں دُرست ہوگئیں اور آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے کھڑے ہوگئے تو آپ نے اعلان کیا۔ ”سُنا ہے کہ جنازہ میں شیخ عبداللہ بھی شریک ہے۔ شیخ عبداللہ قادیانی ہے اور قادیانی قطعی طور پر غیر مسلم ہیں۔ اس لیے پہلے اس کو صفوں سے باہر نکالا جائے۔ تب نمازِ جنازہ پڑھائی جائے گی“۔ شیخ عبداللہ وکیل اور باحیثیت آدمی تھا۔ پھر وہ میر افضل خان صاحب کا دوست تھا۔ خان صاحب سے اپنے دوست کی یوں سرِ عام تذلیل و رسوائی برداشت نہ ہوسکی۔ اس لیے انہیں غصہ آگیا۔ ”قاضی صاحب ! آپ ہٹ جائیے۔ کوئی دوسرا مولوی جنازہ پڑھا دے گا“۔ انہوں نے کہا۔ ”ٹھیک ہے۔ میں یہاں سے ہٹ جاتا ہوں۔ مگر میں یہیں موجود رہوں گا۔ اگر کسی کو جُرأت ہو تو آ کر پڑھائے“۔ آپ جائے نماز سے اُترتے ہوئے نہایت جلال سے بولے۔ مگر کس کو جُرأت ہوتی کہ وہ آپ کی موجودگی میں ایک ایسی نمازِ جنازہ کی امامت کرے جس میں ایک قادیانی بھی شامل ہو؟ اسی طرح کافی دیر گزر گئی۔ شام قریب ہوگئی۔ آخر لوگوں نے خان صاحب سے کہا۔ ”موجودہ صُورتِ حال میں کوئی شخص بھی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ قاضی صاحب کی بات مان لی جائے اور شیخ عبداللہ کو نکال دیا جائے“۔ اس کے علاوہ کوئی حل ہی نہ تھا۔ مجبوراً خان صاحب خاموش ہوگئے اور لوگوں نے شیخ

صفحہ 357

عبداللہ کو پکڑ کر نکال دیا۔ تب آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

حضرت قاضی محمد صدر الدین نقشبندی مجددیؒ کے فیضان نظر سے کئی لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ ہم صرف ایک نہایت اہم واقعہ ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

بھائی ڈاکٹر عبدالحمید، قادیانی ہوگیا۔ حاجی صاحب نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ آخر حاجی صاحب اسے لے کر حضرت معظمؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورت حال عرض کی۔ آپ نے بھی اسے دلائل کے ساتھ سمجھایا کہ ہر قسم کی نبوت دو جہان کے سردار کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ مگر اس نے ایک نہ سنی۔ کہنے لگا۔ ”میں نے حق اور ہدایت کو تو اب پایا ہے اور مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے اپنی سابقہ زندگی باطل اور گمراہی میں گزار دی ہے“۔

”مگر تمہیں آخر یہ کس طرح یقین ہوگیا ہے کہ اس سے پہلے تم غلط راہ پر تھے اور اب تمہیں صحیح راستہ مل گیا ہے؟“ حضرت معظمؒ نے پوچھا۔

”دراصل پہلے تو میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بہت ہی بڑا اور دلکش باغ ہے۔ حد نگاہ تک سبزہ زار پھیلا ہوا ہے۔ جگہ جگہ خوشنما پھول کھلے ہیں اور ہر طرف خوشبوئیں مہک رہی ہیں۔ اس باغ میں ایک نہایت ہی عمدہ اور خوبصورت مسہری پڑی ہے اور اس پر مسیح موعود مرزا غلام احمد چادر اوڑھے آرام فرما ہیں۔ میں نے اگرچہ ان کا روئے انور تو نہیں دیکھا، مگر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ وہی ہیں۔ ان کا یہ بلند مقام دیکھ کر مجھے قدرتی طور پر ان سے عقیدت ہوگئی اور اسکے بعد مجھے ہر عبادت میں خشوع اور حضور و سرور کی لذت ملنے لگی۔ جبکہ اس سے پہلے میری تمام عبادات بے کیف اور بے لذت تھیں“۔ اس نے پوری تفصیل بیان کی۔

حضرت معظمؒ خاموش ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد اس کے بھائی حاجی صاحب کو اپنی جگہ لے جاکر فرمایا:

”آپ کا بھائی ایک غلط مشاہدہ کی وجہ سے گمراہ ہوگیا ہے۔ اس لیے جب تک اسے صحیح مشاہدہ نہ کرا دیا جائے۔ اس کے لیے تمام دلائل اور ہر طرح کی وعظ و نصیحت بے کار ہے۔ آپ اس وقت واپس چلے جائیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ دوبارہ صراطِ مستقیم پر آجائے“۔

حاجی صاحب اسے لے کر واپس چلے گئے۔ مگر دو ہی دن بعد پھر اسے ساتھ لے آئے اور انتہائی مسرت سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توجہ سے میرے بھائی پر کرم

صفحہ 358

فرما دیا ہے اور یہ توبہ کر کے پھر سے دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ہے۔ حضرت معظمؒ نے وجہ پوچھی تو حاجی صاحب کے بھائی نے بتایا کہ میں نے خواب میں پھر وہی منظر دیکھا۔ وہی باغ، اسی طرح کی مسہری اور اس پر چادر اوڑھے ہوئے مرزا قادیانی۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں چپکے سے چادر ہٹا کر آپ کا دیدار کرلوں۔ میں بصد اشتیاق مسہری کے پاس گیا۔ انتہائی احتیاط سے چہرے سے چادر سرکائی اور یہ دیکھ کر میری چیخ نکل گئی کہ مسہری پر مرزا قادیانی کے بجائے مرا ہوا خنزیر پڑا ہے۔ ڈر سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اسی وقت توبہ کی اور پھر سے راہِ حق پر آگیا۔

یہ واقعہ پڑھ کر ایک الجھن پیدا ہوتی ہے اور وہ یہ کہ عبدالحمید نے حضرت معظمؒ سے کہا تھا کہ قادیانی ہونے کے بعد مجھے ہر عبادت میں خشوع وخضوع کی لذت ملنے لگی جبکہ اس سے پہلے میری عبادات بے کیف تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر قادیانی باطل پر ہیں تو قادیانی ہونے کے باوجود عبادات میں خشوع وخضوع کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ یہی سوال جب میں نے حضرت معظمؒ سے کیا تو آپ نے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص لہجے میں فرمایا:

’’جھلیا! یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے بھلا؟ ...... عبادت میں خشوع وخضوع اس لیے حاصل نہیں ہوتا کہ شیطان وساوس ڈال کر انسان کے دل و دماغ کو پراگندہ کرتا رہتا ہے، تاکہ انسان بے کیفی اور بے مزگی سے تنگ آ کر عبادت کرنا چھوڑ دے...... لیکن اگر کوئی شخص قادیانی ہو کر دائرہ اسلام ہی سے خارج ہو جائے تو پھر شیطان کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس کے دل و دماغ کو پراگندہ کرنے کے لیے محنت کرتا پھرے؟ ...... ظاہر ہے کہ کفر کی حالت میں خواہ کتنے ہی خشوع وخضوع سے عبادت کی جائے...... نا قابل قبول ہے‘‘۔ تفسیر روح البیان میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک یہودی عالم نبی اکرم حبیب خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:

اصحابک انہم یصلون بالوسواس.

یعنی اس یہودی نے کہا، اے محمدﷺ! ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیں خیالات و وسوسے نہیں آتے اور ہم نے سنا ہے کہ آپ کے اصحاب نماز پڑھتے ہیں تو ان کو نماز میں خیالات و وسوسے آتے ہیں۔ (تو ثابت ہوا کہ ہمارا مذہب سچا ہے) یہ سن کر نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر اس یہودی کو مسئلہ سمجھا دو۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی

صفحہ 359

اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اے یہودی! تو یہ بتا کہ اگر دو کمرے ہوں، ایک کمرہ زر و جواہر، سونا، چاندی سے بھرا ہوا ہو لیکن دوسرا کمرہ بالکل خالی ہو، تو یہ بتا کہ چور اگر چوری کرنے آئے کس کمرے میں جائے گا؟ یہودی نے کہا چور اسی کمرے میں جائے گا جس میں زر و جواہر سونا چاندی ہو۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ چور دوسرے کمرے میں جو کہ چوپٹ خالی ہے، کیا اس میں جائے گا؟ یہودی نے کہا نہیں، اس کمرہ میں تو کچھ نہیں، چور کیا لینے جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تیرے سوال کا جواب ہے کہ ہمارے ایمان والوں کے دل ایمان کی دولت سے بھر پور ہیں، اس لیے شیطان وسوسے دیتا ہے اور تمہارے دل چونکہ دولت ایمان سے خالی ہیں، اس لیے شیطان کو کیا پڑی ہے کہ وہ وقت ضائع کرے۔ فاسلم الیہودی۔ تب یہ جواب سن کر یہودی مسلمان ہو گیا۔ (تفسیر

روح البیان، جلد 5 صفحہ 182) (حیات صدریہ، از قاضی عبدالدائم دائم)

حکیم اجمل خان

1863ء کو پنجاب کے ضلع دہلی کے شریفی خاندان میں پیدا ہونے والے حکیم اجمل خان کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے ہے جو 400 سال سے ہند، پنجاب میں اپنے علمی مرتبے کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا تھا۔ اس خاندان نے حکمت، مذہب اور سیاست میں جو کارنامے انجام دیئے، اس بارے ابھی پاک و ہند میں بہت کم کام ہوا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے حکیم اجمل کے پڑدادا حکیم شریف خان کی زمینیں ضبط کر لیں تھیں مگر اس کے باوجود تصنیف و تالیف اور خدمت سے ان کا رشتہ نہ ٹوٹا۔ یہ حکیم صاحب کے دادا حکیم صادق خان تھے جنہوں نے شاہ اسمعیل کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کے جواب میں ”تقویۃ العقائد“ لکھ کر شہرت پائی۔ خود حکیم اجمل خان نے 1901ء سے 1927ء کے درمیان برصغیر کی سیاسی سماجی زندگی میں جو قابل قدر اور جرأت مندانہ کردار ادا کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

حکیم صاحب کا شمار ان جہاں دیدہ حضرات میں ہوتا ہے جو علوم و فنون اور سیاست میں انگریزی تہذیب کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے دیسی اور ولایتی امتزاج سے نئے رستے بنانے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کا قائم کردہ طبیہ کالج یونانی، ویدک اور انگریزی علوم کا مرکب تھا۔ 1906ء میں جب آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی قرارداد نواب آف ڈھاکہ سر سلیم اللہ نے پیش کی تو اس کی تائید میں پہلی تقریر حکیم اجمل خان نے ہی کی۔ صوفیاء کی تعلیمات کے

صفحہ 360

حامی حکیم اجمل خان کی سیاسی بصیرت بھی دیدنی تھی۔ ندوۃ العلما، اسلامیہ کالج دہلی اور مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لیے ان کی خدمات کو بھلانا ممکن نہیں۔

حکیم اجمل خان محبت رسول ﷺ میں غرقاب تھے۔ آپ ﷺ کے ذکر مبارک پر وہ آبدیدہ ہوجاتے۔ دن میں کئی ہزار دفعہ درود شریف پڑھتے۔ 1927ء میں آپ کی رحلت کے بعد ان کے ایک قریبی عزیز نے انہیں خواب میں دیکھا اور قبر میں حساب کتاب کے بارے میں پوچھا۔ حکیم صاحب نے جواب دیا کہ نامۂ اعمال میں کوئی ایسی خاص چیز نہ تھی مگر میرے ایک عمل کی وجہ سے نہ صرف میری بخشش و مغفرت ہوگئی بلکہ جنت میں اعلیٰ مقام بھی حاصل ہوگیا۔ یہ عمل کیا تھا؟ آئیے اس کی تفصیل جانتے ہیں۔

حکیم اجمل خان صاحب مریضوں کو دیکھنے کے لیے جب اپنے مطب میں بیٹھتے تو بعض مریضوں سے اپنی فیس اور دوائیوں کی قیمت وصول نہ کرتے۔ حکیم صاحب کا معمول ہوتا تھا کہ وہ ایسے مریض کی پرچی پر لکھ دیتے کہ اس سے پیسے نہیں لینے ۔عموماً یہ خیال کیا جاتا تھا کہ حکیم صاحب غریب لوگوں سے پیسے نہیں لیتے۔ لیکن ایک دن عجیب انکشاف ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دن ایک نہایت امیر کبیر عورت اپنی ذاتی گاڑی پر حکیم اجمل خان صاحب کے پاس اپنے علاج کے سلسلہ میں آئی۔ حکیم صاحب نے اس کی پرچی پر لکھ دیا کہ اس سے فیس اور دوائیوں کے پیسے نہیں لینے۔ ڈسپنسر حیران ہوا کہ حکیم صاحب سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ نہ صرف دوائیاں بہت قیمتی ہیں بلکہ یہ عورت بہت امیر بھی ہے۔ چنانچہ ڈسپنسر فوراً حکیم صاحب کے کمرہ میں داخل ہوا اور پورا معاملہ حکیم صاحب کے گوش گزار کیا۔ حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا! ارے بھائی مجھے سب معلوم ہے۔ اس سے پیسے نہیں لینے کیونکہ اس کا نام فاطمہ ہے۔ حکیم اجمل خان صاحب کا معمول ہوتا تھا کہ وہ صحابہ کرامؓ، صحابیاتؓ، امہات المومنینؓ اور اہل بیتؓ کے نام پر نام رکھنے والوں سے علاج معالجے کا کوئی پیسہ نہ لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے صلہ میں انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کیا۔ سبحان اللہ!

مولانا قاضی مظہر حسینؒ

جناب انجم نیازی اپنی کتاب ’ایک تنہا آدمی‘ (خودنوشت) میں لکھتے ہیں:

صفحہ 361

اترے ہوئے تھے اور گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ بار بار ایس ڈی ایم کے پاس آتے اور واپس چلے جاتے۔ پتہ چلا کہ چکوال میں ”آل پاکستان احمدیہ کانفرنس“ کا انعقاد ہونا ہے۔ اس کے لیے ساری انتظامی مشینری مصیبت میں پڑی ہوئی ہے۔ ان دنوں ایم ایم احمد، ایوب خان کا دستِ راست تھا اور اس کی وجہ سے مرزائی پورے عروج پر تھے۔ حکومت اور اس کی ساری مشینری ان کے اشارے پر چلتی تھی۔ میں نے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ قاضی مظہر حسین نے الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ یہ جلسہ اس کی لاش پر ہوگا۔ میں نے کہا، کیا ایک مولوی کے خوف سے اس قدر سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے؟ مولوی کے لیے تو ایک اے ایس آئی ہی کافی ہوتا ہے۔ جواب ملا وہ ایسا مولوی نہیں ہے جس کے لیے ایک اے ایس آئی کافی ہو۔ اس کے لیے تو پاکستان بھر کی ساری انتظامی قوت بھی ناکافی ہے۔ اول تو وہ کوئی فیصلہ بلاسوچے سمجھے جلدی میں کرتا ہی نہیں۔ جب فیصلہ کر لے تو پھر کسی قیمت پر بدلتا نہیں۔ خوف اور لالچ کے الفاظ اس کے لغت میں ہیں ہی نہیں۔ وہ کئی بار آزمایا جا چکا ہے۔ ایک گولی کے لیے نہیں، کئی گولیاں کھانے کے لیے میدان میں آئے گا۔ اس کی پیش قدمی فوجی ٹینک بھی نہیں روک سکتے۔ ٹینک اسے کچل سکتے ہیں، اس کو روک نہیں سکتے۔ میں حیران تھا کہ چکوال میں ایسی شخصیت موجود ہے جس سے ساری حکومتی مشینری خوف زدہ ہے۔

کانفرنس کا دن آنا تھا، آ گیا۔ قادیانیوں نے لاؤڈ سپیکر پر اپنی تقریریں شروع کر دیں۔ ان کی عبادت گاہ کو چاروں طرف سے پولیس نے گھیر رکھا تھا۔ مگر وہ چند منٹ ہی تقریریں کر سکے۔ اس کے بعد لاؤڈ سپیکر کی آواز بند ہو گئی۔ قادیانی صحن سے بھاگ کر عبادت گاہ کے کمرے کے اندر خوف سے ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر ہو گئے۔ پتہ چلا کہ جس مولوی کا خطرہ تھا، وہ مولوی آ پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے سچے عاشق رسول ﷺ نوجوان تھے جو گولیوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ پہلے تو پولیس نے اپنا دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ رائفلیں لوڈ کر لی گئیں۔ سپاہیوں نے گولی چلانے کی پوزیشن سنبھال لی۔ ڈی ایس پی نے ایک لکیر کھینچی اور کہا کہ جو اس لکیر سے آگے آئے گا، ہم گولی چلا دیں گے۔ اس لائن کو سب سے پہلے کراس کرنے والا وہی مولوی تھا جس نے الٹی میٹم دے رکھا تھا۔

بہادری اور شجاعت بھی اپنے اندر کمال کا حسن رکھتی ہیں، بشرطیکہ یہ صداقت کے لیے ہو۔ اب ڈی ایس پی کی ساری شوخی، رعب اور دبدبہ کی مصنوعی عمارت زمین بوس ہو گئی۔

صفحہ 362

اس کو نوکری خطرے میں گھری ہوئی محسوس ہونے لگی یا اس کے اندر ایمان کی کسی کرن نے کروٹ لی۔ اس نے قاضی مظہر حسین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور کہا کہ آپ ہمارے حال پر مہربانی کریں۔ کوئی ایسا حل بتائیں جس پر ہم عمل کر سکیں۔ قاضی مظہر حسین نے کہا: لاؤڈ سپیکر اتار لو جو کچھ انہوں نے کہنا ہے، بند کمرے میں کہتے رہیں۔ ہم جھوٹے نبی کی کھلے عام تبلیغ برداشت نہیں کر سکتے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

غازی احمد (سابق کرشن لعل)

ہندوازم چھوڑ کر دینِ اسلام قبول کرنے والے معروف سکالر، دانشور اور مجاہدِ اسلام جناب غازی احمدؒ (سابق کرشن لعل) کے حالاتِ زندگی نہایت ایمان افروز اور عزیمت سے بھرپور ہیں۔ ان کا تعلق میانی بوچھال کلاں ضلع چکوال سے تھا۔ انہیں یہ اعزاز اور سعادت حاصل ہے کہ انہوں نے عالمِ رؤیا میں سید المرسلین، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں اپنے سینے سے لگایا اور نہایت شفقت فرمائی۔ وہ اپنے ہر خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فتنۂ قادیانیت کا رد بھی کرتے۔ آئیے ان کے قبولِ اسلام اور عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان و ایقان کی روداد ان کی زبانی سنتے ہیں:

امتحان بھی قریب تھا۔ سکول کے کام سے فارغ ہونے کے بعد سونے سے قبل میں باقاعدہ دعا کر کے سوتا کہ اللہ تعالیٰ راہِ راست کا انکشاف فرما دیں۔ ایک دن جب میں نے سکول کا کام ختم کر لیا اور سونے کے لیے بستر پر دراز ہوا تو میں نے اپنے آقا سے عرض کیا، میرے مالک! مجھے اپنی دعاؤں کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ کیا میں آپ کا بندہ نہیں ہوں؟ احساسِ محرومی اور شدتِ جذبات نے میرے دل کو پگھلا دیا اور بلا ارادہ آنسوؤں کے چند قطرے میری آنکھوں سے ٹپک پڑے اور میں پُرنم آنکھوں کو بند کر کے سو گیا۔ نصف شب کا عمل ہوگا کہ میں نے ایک خواب دیکھا۔

میں نے خواب میں اپنے ایک ہم جماعت لال خاں ولد عالم شیر سکنہ میانی سے کہا۔ آؤ یار میرا ارادہ ہے کہ مل کر حج کر آئیں۔ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اسلام قبول کر لوں گا۔ لال خاں چلنے پر رضامند ہو گیا اور ہم میانی گاؤں سے نکل کر مکہ مکرمہ کی سمت چل پڑے۔

صفحہ 363

ہمارے گاؤں سے شمالی جانب ایک میل کے فاصلہ پر کچھ چشمے اور باغات ہیں۔ جب ہم نے باغات کو عبور کر لیا تو ہمیں سامنے سے ایک ہندو سادھو آتا دکھائی دیا جس نے صرف ایک لنگوٹی زیب تن کر رکھی ہے اور اس نے تمام بدن پر راکھ ملی ہوئی تھی۔ ہمارے قریب پہنچ کر سادھو نے شفقت بھرے لہجے میں کہا عزیزو! کہاں جا رہے ہو۔ لال خان نے جواب میں کہا کہ ہم حج کرنے مکہ مکرمہ جارہے ہیں۔ سادھو مسکراتے ہوئے کہنے لگا، بہت اچھا! میرا بھی وہیں جانے کا ارادہ ہے، خوب ساتھ رہے گا۔ میں مکہ مکرمہ تک تمام راستہ اور اس کے نشیب و فراز سے بھی آگاہ ہوں، تمہیں بحفاظت ساتھ لے جاؤں گا۔

سادھو کی باتیں سن کر ہم بہت خوش ہوئے کہ محرم راہ کی رفاقت حاصل ہو گئی۔ ہم تینوں چل پڑے۔ سادھو آگے آگے تھا اور ہم دونوں اس کے نقش قدم پر چلتے جارہے تھے۔ تین چار میل کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم ایک سنسان مہیب اور تاریک جنگل میں داخل ہو گئے۔ خار دار جھاڑیوں اور بکھرے ہوئے کانٹوں کی وجہ سے چلنا محال ہو رہا تھا۔ جب ہم جنگل کے وسط میں پہنچے تو ہر طرف سے خونخوار جانور شیر، چیتے، سانپ اور بچھو وغیرہ اپنی طرف آتے دکھائی دیے۔ ہم دونوں یہ منظر دیکھ کر سہم گئے ۔ ہمارے قدم چلنے سے خود بخود رک گئے۔ سادھو صاحب نے ہماری یہ ہیجانی کیفیت بھانپ لی۔ ہمیں مخاطب کر کے کہنے لگے، دیکھو میرا کام لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ سو تمہیں بھی غلط راہ پر لے آیا ہوں۔ یہ راستہ مکہ مکرمہ تک نہیں جاتا۔ میں نے اپنا فرض منصبی ادا کر دیا، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ سادھو یہ الفاظ کہہ کر ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ تلاش بسیار کے باوجود اس کا نشان تک نہ ملا۔ ہم دونوں نے درندوں کے خوف سے گاؤں کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ جب ہم گاؤں کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا اور ہر سو گہری تاریکی چھا گئی تھی۔

میرا ساتھی لال خاں گھر چلا گیا اور میں چند منٹ گاؤں سے باہر ہی رکا رہا۔ تاریکی شب نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا تھا۔ مجھے اندھیرے میں خوف آنے لگا اور گھر جانے کے لیے قدم اٹھایا ہی تھا کہ میرے قریب ایک سایہ آکر رُک گیا۔ خوف کے مارے میں پسینے میں شرابور ہو گیا۔ آنے والے نے پوچھا کون ہو؟ میں نے کہا کرشن لعل ہوں۔ میں نے بھی آواز سے پہچان لیا کہ یہ میرا دوست اور ہم جماعت محمد صادق ولد صوبیدار خان زمان ساکن بوچھال کلاں ہے۔ میرے حواس بحال ہوئے تو میں نے پوچھا

صفحہ 364

محمد صادق اس تاریک رات میں آپ کہاں؟ ’’حج کرنے جارہا ہوں‘‘۔ محمد صادق نے جواب دیا۔ میں نے کہا ارادہ تو میرا بھی تھا مگر اب اس اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا میں صبح کے وقت روشنی میں اپنے سفر کا آغاز کروں گا۔ میری بات سن کر محمد صادق نے میری پیٹھ پر ایک زور دار مکہ جما دیا اور کہا، ارے بھئی! ابھی چلو۔ یہ اندھیرے، اسلام کی راہ میں پرکاہ جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔ یہ ہمت افزا الفاظ سن کر میں بھی چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اب ہم نے اندھیرے میں چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ مغرب کی جانب آسمان پر ایک بہت بڑا چاند نمودار ہو گیا جو چودھویں کے چاند سے پندرہ گناہ بڑا ہوگا۔ چاند کی روشنی اس قدر تیز تھی کہ روئے زمین پر تاریکی کا نام و نشان تک باقی نہ رہا اور ہزاروں میلوں تک زمین ہماری نظروں کے سامنے تھی۔ چاند کی تیز روشنی میں ہم نے مبارک سفر کا آغاز کیا۔

خواب میں یوں محسوس ہوا کہ کچھ مسافت طے کرنے کے بعد ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ جب حرمِ مقدس میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ نظروں کے سامنے تھا اور ہر طرف ریتلا میدان تھا۔ ہم نے دیکھا کہ بے شمار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم صاف و شفاف سفید لباس میں ملبوس بیت اللہ کی طرف رخ کیے بیٹھے ہیں اور حضور سرورِ کونین، آقائے نامدار، سید المرسلین نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ کی دیوار سے پشت مبارک لگائے صحابۂ کرام کی طرف رُخ زیبا کیے تشریف فرما ہیں۔ حضرت محمد ﷺ رکن یمانی اور حطیم کے کونے والی دیوار کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ ہم نے دُور ہی سے آپ ﷺ کو پہچان لیا۔ میں محمد صادق کے پیچھے پیچھے چلنے لگا کہ یہ مسلمان ہے، لہٰذا پہلے آپ ﷺ سے یہ ملے۔ اس کے بعد میں ملاقات کی سعادت حاصل کروں گا۔ ہم صحابۂ کرام کے درمیان سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ محمد صادق نے حضور ﷺ سے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے۔ حضور ﷺ نے جلوس کی حالت ہی میں مصافحہ فرمایا۔

محمد صادق کے بعد میں بارگاہِ عالی میں مصافحہ کے لیے حاضر ہوا تو نبی رحمت ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھ جیسے غیر مسلم، حقیر اور ناقص انسان کو گلے لگانے کا شرف بخشا۔ میرے بدن کے روئیں روئیں میں مسرت کی لہریں دوڑ گئیں۔ مارے خوشی کے رونے کو جی چاہتا تھا۔ رحمۃ للعالمین اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور مجھ جیسے ناکارہ کو بھی اپنے پاس بٹھا لیا۔ فرمایا! کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ آپ ﷺ کی خدمت میں مسلمان ہونے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ ﷺ نے میرے دائیں ہاتھ کو اپنے مقدس ہاتھوں میں لیا اور کچھ دیر پڑھنے کے

صفحہ 365

بعد فرمایا کہ اب تم مسلمان ہو۔ آپ ﷺ کا ارشاد سن کر میں بہت خوش ہوا کہ مجھے خود نبی آخر الزمان ﷺ نے اسلام کی دولت سے بہرہ ور فرمایا۔ میں کتنا خوش قسمت ہوں۔ عالم خواب ہی میں ہم نے کچھ وقت مکہ مکرمہ میں گزارا اور پھر اپنے گھروں کو لوٹ آئے‘‘۔

سلسلے میں مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ناظم امتحان مقرر کیا۔ یہیں پچیس دن ربوہ کالج میں میرا قیام رہا۔ ایک اتوار کو چھٹی کے دن میں نے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے پوتے مرزا ناصر سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ دفتر میں گیا اور ملاقاتیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔ میرا تیسواں نمبر تھا۔ میں نے ناظم ملاقات سے کہا اگر ممکن ہو تو جلد ملاقات کرا دیں، مجھے تو امتحان کے سلسلے میں کام کرنا ہے۔ انہوں نے میرے متعلق مرزا ناصر کو فون پر بتایا۔ مرزا ناصر نے کہا کہ ان کا نام دوسرے نمبر پر درج کر دیں پہلے نمبر پر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی تھے۔ ملاقات شروع ہوئی تو ڈاکٹر عبدالسلام تقریباً نصف گھنٹہ تک محو گفتگو رہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے بعد میری باری آئی۔ مرزا ناصر دوسری منزل پر تھے۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا۔ مرزا ناصر نے دروازے میں آ کر استقبال کیا۔ علیک سلیک کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔

مرزا ناصر نے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہندو دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں! آپ درست فرماتے ہیں۔ میں واقعی ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور اللہ رب العزت نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا۔ مرزا ناصر نے کہا کہ مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عالم رؤیا میں آپ کو اسلام سے مشرف فرمایا۔ میں نے کہا: جی ہاں! آپ کی معلومات بالکل درست ہیں۔ میں نے خواب میں نبی مکرم ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے۔ مرزا ناصر نے مسرت کا اظہار فرمایا اور کہا واقعی آپ بڑے خوش قسمت انسان ہیں بلکہ میں کہوں گا کہ آپ تو اسلام کی صداقت کی دلیل ہیں۔ مرزا ناصر میرے قبول اسلام کی تفصیلات دریافت کرتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔

تقریباً نصف گھنٹہ اسی گفتگو میں گزر گیا تو میں نے کہا، جناب کافی وقت گزر چکا ہے۔ نیچے بہت سے ملاقاتی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں رخصت چاہتا ہوں البتہ اگر آپ مناسب خیال کریں اور گستاخی نہ سمجھیں تو ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا ناصر نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔ میں نے عرض کیا

صفحہ 366

جیسا کہ جناب کو بھی معلوم ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے مجھے مشرف باسلام فرمایا اور بمصداق، حدیث من رانی فی المنام فقد رانی (یعنی جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا، اس نے میری ذات ہی کو دیکھا) میرا ایمان ہے کہ میں نے رسول مکرم ﷺ کی ذات گرامی ہی سے دین اخذ کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان ہے کہ جو عقیدہ اور مسلک میں نے اپنایا ہے، وہ حضور ﷺ کی رضائے عالیہ کے مطابق ہے۔

آپ حضرات کا سلسلہ نبوت کا سلسلہ ہے۔ اگر آپ کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درست ہوتا تو حضور نبی اکرم ﷺ مجھے اسلام سے مشرف فرمانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ اب تم مسلمان تو ہو چکے ہو، تکمیل دین کے لیے قادیان چلے جاؤ۔ بحیثیت نبی آپ ﷺ کے لیے ضروری تھا کہ مرزا قادیانی کی نبوت کو نظر انداز نہ فرماتے مگر حضور ﷺ نے مرزا قادیانی کی نبوت کو قطعاً نظر انداز فرما دیا۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا سلسلہ نبوت عنداللہ و عندالرسول درست نہیں بلکہ یہ نبوت، نبوت کاذبہ کے زمرے میں آتی ہے۔

مرزا ناصر نے سوال سن کر کہا کہ یہ سوال میری زندگی میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ آپ کے سوال کی معقولیت میں شک نہیں مگر ملاقاتی کافی بیٹھے ہیں۔ پھر کسی ملاقات میں اس کا جواب دوں گا۔ میں نے مرزا ناصر سے اجازت طلب کی۔ جب میں سیڑھیاں اتر رہا تھا تو ختم نبوت پر میرے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ واقعی حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ کا لایا ہوا دین کامل، مکمل اور اکمل ہے۔ کسی نئے تکمیل کنندہ کی قطعاً نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، اس کی نبوت کاذبہ ہو گی۔ تکمیل دین اور ختم نبوت لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ سلسلۂ نبوت کا آپ کی بعثت کے بعد انقطاع ایک ضروری امر ہے۔ نامکمل چیز کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی تکمیل کنندہ کی ضرورت باقی رہتی ہے لیکن ہر لحاظ سے مکمل چیز کی تکمیل تحصیل حاصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں جو ایک کامل دین کی تکمیل کرے۔

؎ وہی تو فیصلہ کرتا ہے پتھر کے مقدر کا
کسے ٹھوکر پہ رکھنا ہے کسے اسود بنانا ہے

عنایت اللہ رشیدی

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر معروف خوشنویس اور آرٹسٹ جناب عنایت اللہ رشیدی

صفحہ 367

کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس موضوع پر بغیر کسی منافع کے وہ بے شمار کتابوں، کتابچوں، اشتہارات، کیلنڈرز اور ڈائریوں کی کتابت، ڈیزائننگ اور پرنٹنگ وغیرہ کر چکے ہیں۔ یہ کام وہ اپنا فرض، اخروی نجات اور حصول شفاعت رسول کریم ﷺ کے لیے کرتے ہیں۔ اس مقدس کام کی برکت سے انہیں کئی دفعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی زیارت نصیب ہو چکی ہے۔ آیئے ان ایمان افروز ساعتوں کی کہانی ان کی اپنی زبانی سنتے ہیں۔

میرے والد صاحب کو کچھ وردی والے لوگ گرفتار کر کے ساہیوال جیل لے گئے ہیں۔ میں نے اپنی والدہ سے معصومیت سے پوچھا:

”امی جان! یہ لوگ ابا جی کو کہاں لے گئے ہیں؟ انہوں نے کیا جرم کیا ہے؟“

ماں نے جواب میں کہا: ”بیٹا! تمہارے والد ختم المرسلین ﷺ سے عشق کی پاداش میں پکڑ لیے گئے ہیں۔ وہ آپ ﷺ کے بعد کسی کذاب کو نبی ماننے کو تیار نہ تھے۔ یہ انکار، اہل اقتدار کو پسند نہیں آیا۔ اس لیے وہ پابند سلاسل کر دیے گئے“۔

یہ 1953ء کی بات ہے۔ میرے والد صاحب سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے قافلے کے ایک سچے سپاہی تھے۔ ختم نبوت سے عشق اور فرزانگی ہمیں اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملی تھی۔ اسی کا ثمر ہے کہ آج تک اس مسئلہ سے دل و جان سے منسلک ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا ہر شخص مجھے دل و جان سے عزیز ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ زندگی میں احباب و اساتذہ بھی اللہ تعالیٰ نے وہ عطا کیے جو اس مسئلہ سے وابستہ تھے۔ جن کے کردارِ عمل نے میرے اندر بھی عشق رسول ﷺ کی شمع جلائے رکھی۔ زندگی کے ساتھ ساتھ محبت رسول ﷺ کی یہ تڑپ فزوں تر ہوتی گئی۔ بسا اوقات ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے اور آنکھیں فراق محبوب ﷺ میں ساون بھادوں کی برسات لے آتیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ محبت یک طرفہ نہ تھی۔ جب دل قابو سے باہر ہوتا تو محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے زیارتِ رسول ﷺ کا تحفہ مل جاتا۔ قلب و روح ان وجد آفریں لمحات میں دنیا و مافیہا سے بے خبر، عالم سرشاری میں محو خرام ناز رہتے۔ مدتوں اس حلاوت کا مزہ محسوس ہوتا رہتا۔

میں جذب و کیف کے ان لمحات کو اپنے آپ تک ہی محدود رکھنا چاہتا تھا کیونکہ جب بھی مجھے بے قراری ہوتی تو میں ان مبارک لمحات کو یاد کر کے شاداں و فرحاں ہو جاتا۔

صفحہ 368

محترم محمد متین خالد اپنے دو دوستوں کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں تذکرۂ خیر الانام ﷺ چل نکلا۔ میری زبان سے ان فرحت بخش لمحات و واقعات کا تذکرہ ہو گیا۔ جس پر محترم متین خالد صاحب نے فرمایا کہ آپ یہ واقعات اپنی زبانی قلمبند کردیں۔ ختم نبوت کے کام سے منسلک ہونے کی وجہ سے میں اپنے اس پیارے بھائی کی بات ٹال نہ سکا۔ لہٰذا میں یہ دونوں واقعات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اگرچہ ان واقعات میں میری عزت و توقیر میں اضافہ تو ضرور ہوگا، مگر حاشا و کلا نمود و نمائش میرا مطمح نظر نہیں۔ اللہ تعالیٰ خودنمائی، وسوسوں اور شیطانی حملوں سے محفوظ رکھے۔

آج سے تقریباً 20 برس پہلے کی بات ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ دل میں ہمہ وقت عشق خاتم النبیین ﷺ موجزن تھا اور بے اختیار جامی کا یہ شعر

شب و روز از شکیبائی ز حد گشتم تمنائی
بہ خلوت سوئے من آئی خراماں یا رسول اللہ ﷺ

’’رات دن کے صبر سے میری تمنائیں حد سے بڑھ گئی ہیں۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میری خلوت میں خراماں خراماں تشریف لائیں۔‘‘

ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے پرائمری کے استاد (جن سے مجھے بے حد پیار تھا) جناب محترم غلام نبی صاحب کے ہمراہ جارہا ہوں۔ چلتے چلتے ہم ایک کمرے کے سامنے رک گئے ہیں جس کا دروازہ بند تھا۔ میں دیکھتا ہوں کہ یکا یک وہ دروازہ کھل جاتا ہے اور میں اس کے اندر داخل ہو جاتا ہوں۔ جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو میرے استاد محترم غائب تھے۔ سامنے دیکھتا ہوں تو ایک چھوٹا سا کمرہ جس کا طول تقریباً 10 فٹ اور عرض 6 فٹ ہے، بالکل خالی ہے۔ جس دروازے سے میں داخل ہوا تھا، اس کے علاوہ نہ کوئی دروازہ ہے اور نہ کھڑکی۔ تینوں اطراف سپاٹ دیواریں ہیں۔ میں حیران کھڑا ہوں کہ اچانک سامنے کی دیوار سے ایک دروازہ نمودار ہوتا ہے اور اس میں سے کائنات کے محسن اعظم حضور خاتم النبیین ﷺ تشریف لاتے ہیں۔ سفید لباس، سر پر عمامہ، دونوں کندھوں کے درمیان شملہ لٹکا ہوا، کندھے ذرا سے سامنے کو جھکے ہوئے، روشن آنکھیں، چمکتا ہوا چہرہ انور اور کشادہ پیشانی۔ ایک نظر آپ کے دیدار کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد تو ہمت جواب دے گئی اور تمام جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں آپ کے رعب و دبدبہ سے دبا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک

صفحہ 369

قدم آگے بڑھایا اور مجھے اپنے سینۂ رحمت سے لگا لیا۔ میری کمر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”جو بھی پہلی مرتبہ یہاں آتا ہے، اُس کا یہی حال ہوتا ہے“۔ اس کے بعد میں پُر سکون ہو گیا۔ یہ خواب جب بھی مجھے یاد آ جاتا ہے تو میرے جسم کا رواں رواں فرط و انبساط کی تصویر بن جاتا ہے اور میں اپنے آپ سے کہتا ہوں۔ ”واہ رے تیری قسمت“۔

دوسری سعادت مجھے پچھلے سال 2011ء میں ربیع الاوّل کے مہینے میں نصیب ہوئی۔ میں بنیادی طور پر ایک خوشنویس ہوں۔ ختم نبوت کے اکثر امور کی پرنٹنگ اور ڈیزائننگ اللہ تعالیٰ نے میرے ذمے لگا رکھی ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ختم نبوت کے کیلنڈر کی تزئین و آرائش میں مصروف تھا۔ میرے ممدوح جناب فیاض اختر ملک صاحب اور میرا بیٹا محمد طیب سلمہٗ اس کام میں میرے شریک کار ہوتے ہیں۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ہم تینوں اس مرقع و مرصع سنہری کیلنڈر کے بنڈل اپنے کندھوں پر اٹھائے مسجد نبوی کے عین وسط میں محراب کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں کہ سامنے والیٔ بطحا ﷺ ایک خوبصورت تخت پوش پر تشریف فرما ہیں اور ہاتھ کے اشارے سے ہم تینوں کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کر کے فرماتے ہیں: ”آجاؤ، لے آؤ یہ کیلنڈر مجھے اسی کا انتظار ہے۔ ہم کیلنڈر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور خود آپ ﷺ کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ تحفظ ختم نبوت کے کام کا صدقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تازیست اس کام سے وابستہ رکھے اور دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کے غلاموں کے قدموں میں جگہ عطا فرما دے۔ آمین یارب العالمین“۔

ملک محمد سرور مجاہد

کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس کے کارکنوں کے اوصاف پر ہوتا ہے۔ اگر کارکنان کے دل خشیت الٰہی سے معمور اور سینے محبت رسول ﷺ سے منور ہوں، وہ بہترین اخلاق و عادات، مضبوط کردار کے مالک، بے لوث خدمت و قربانی کے جذبہ سے سرشار، شہرت کی خواہش سے کوسوں دور، آزمائش و مشکلات کی گھڑیوں میں ثابت قدم اور نامساعد گھریلو حالات پر صابر و شاکر ہوں تو تحریک کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے نوجوان جناب ملک محمد سرور مجاہد کا شمار ایسے ہی مثالی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ وہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں دن رات مگن رہتے ہیں۔ جلسے جلوسوں کے پوسٹر لگانے، بینرز آویزاں کرنے، دریاں بچھانے، سٹیج آراستہ کرنے، مہمانوں کو

صفحہ 370

کھانا کھلانے، اجلاسوں کی اطلاع کروانے، لٹریچر تقسیم کرنے اور سکیورٹی کے فرائض انجام دینے میں بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں سمیت خود کو تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی بدولت جناب ملک محمد سرور مجاہد کو ایک دفعہ خواب میں سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آئیے یہ ایمان پرور خواب جناب ملک محمد سرور مجاہد کی زبانی سنتے ہیں:

در جوق جامع مسجد غلہ منڈی (اونچی مسجد) ننکانہ صاحب کی طرف جا رہے ہیں۔ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے کسی برگزیدہ شخصیت کی گھن گرج کے ساتھ تقریر ہورہی تھی۔ میرے دریافت کرنے پر ایک شخص نے بتایا کہ یہاں تحفظ ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے اور امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ صدارتی خطاب فرما رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ان کی تقریر ختم ہوگئی۔ میں نے حضرت کی زیارت کا قصد کیا تو پتہ چلا کہ آپ جامع مسجد غوثیہ سراجیہ (انڈہ تالاب) تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ مسجد کے صحن میں لیٹے ہیں۔ چہرہ مبارک نہایت نورانی اور قد دراز تھا۔ میں نے فوراً قدم بوسی کی سعادت حاصل کی ، اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے، کیا کام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، حضور ! میرا تعلق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ہے۔ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں کام کرتے ہیں۔ میں نے مزید عرض کیا کہ یہ اتحاد بین المسلمین کا پلیٹ فارم ہے۔ پھر میں نے قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کی۔

اس پر سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ نے میری تصحیح کرتے ہوئے فرمایا۔ بیٹا! اصل آیت اس طرح ہے۔

مزید فرمایا:”آپ بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ اس کام کو جاری وساری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نصرتیں دنیا و آخرت میں تمہارے ساتھ ہونگی“۔ ابھی یہ مبارک لمحات جاری تھے کہ موذن کی اذانِ فجر سے میری آنکھ کھل گئی ۔“

صفحہ 371

پروفیسر چودھری فضل احمد

پروفیسر میاں محمد یعقوب (شعبہ اردو نیشنل سائنس کالج گوجرانوالا) ایک ایمان افروز واقعہ یوں بیان کرتے ہیں:

طالب علم تھا۔ وہاں ہمارے ایک بزرگ پروفیسر تھے، چودھری فضل احمد ، انھوں نے یہ واقعہ کلاس روم میں سنایا:

”میں بیروت کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا اور وہاں ہندوستان (تقسیم سے قبل) کے بہت سے طلبہ و طالبات زیرتعلیم تھے۔ ان میں سے ایک لڑکی (نام نہیں بتایا) بہت شوخ و شنگ اور الٹرا ماڈرن قسم کی تھی۔ اس کا تعلق ہندوستان کے کسی مسلمان نواب گھرانے سے تھا۔ وہ خود شاید فیشن کے طور پر کمیونزم کی پرچارک تھی۔ ایک دن ٹک شاپ پر اسلام اور کمیونزم کی بحث چل رہی تھی کہ اس ناہنجار لڑکی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک آدھ نازیبا لفظ کہہ دیا۔ میں نے اسے بے نقط سنائیں، بہت برا بھلا کہا اور ہمیشہ کے لیے اس سے قطع کلام کر لیا۔ پھر یوں ہوا کہ مجھے (پروفیسر فضل احمد) اور اس نابکار لڑکی کو جو اپنی امارت اور حسن پر بہت نازاں تھی، دوران تعلیم ہی میں برص کا حملہ ہوا۔ اس نے اپنے حسن کو بچانے کے لیے اس وقت کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی طرف رجوع کیا لیکن برص پھیلتا چلا گیا اور وہ خود بھی پھیلتی چلی گئی، یعنی بے اندازہ موٹی ہو گئی۔ ہندوستان واپسی پر اس کا کہیں رشتہ نہ ہو سکا اور اپنی مضحک ہیئت کذائی کی وجہ سے اس نے گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا اور وہ جو کبھی جانِ محفل ہوا کرتی تھی، سوسائٹی میں نسیاً منسیاً ہو گئی۔ اُدھر واپسی کے بعد میں نے جہلم کے ایک ڈاکٹر سے علاج کروایا اور اللہ کے فضل سے (چہرہ پر ایک آدھ داغ کے سوا) شفا ہو گئی“۔

تقریباً ساری کلاس نے سوال کیا۔ ”سر! اسے تو رحمۃ للعالمین ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کے سبب یہ سزا ملی، آپ پر برص کیوں حملہ آور ہوا؟“

بوڑھے پروفیسر کے جواب نے نہ صرف کلاس کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ سب کو آنسوؤں سے رُلا دیا۔ فرمایا ”مجھے اس وجہ سے برص ہوا کہ میں نے گالیوں پر اکتفا کیوں کیا اور اسے اُسی دم جہنم واصل کیوں نہ کر دیا“۔

صفحہ 372

باز بہادر

یہ اس وقت کا ہندوستان ہے جب ملک کسی مرکزی حکومت کے تحت نہیں تھا، جا بجا ریاستیں اور راجواڑے قائم ہو چکے تھے۔ ان ریاستوں میں ایک ریاست مالوہ بھی تھی جس کا حکمران باز بہادر، شراب و شباب کا رسیا اور ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے فلسفے پر عمل پیرا تھا۔ وہ اپنی منظورِ نظر ہندو کنیز کے حسن کا اس قدر اسیر ہو چکا تھا کہ اسے امورِ سلطنت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ ریاست کا تمام انتظام اس ہندو کنیز کے قریبی عزیز کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ ایک روز جبکہ باز بہادر شراب کے نشے میں دھت اپنی منظورِ نظر کے پہلو میں تھا کہ اس کنیز کے قریبی عزیز کی جانب سے شانِ رسالت ﷺ میں نازیبا کلمات ادا کرنے کی اطلاع ملی۔ یہ سنتے ہی باز بہادر کے دل میں دبی ایمان کی چنگاری نے جوالہ مکھی کی صورت اختیار کر لی۔ اس نے اسی وقت اس گستاخِ رسول کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم دے دیا۔ باز بہادر کے اس فیصلے پر اس کی محبوبہ تلملا اٹھی اور اس نے باز بہادر کو اس فیصلے سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جس پر باز بہادر گویا ہوا ”اے جاناں بہ تو دل دادم نہ کہ ایماں دادم“ (اے محبوب! تجھے میں نے اپنا دل دیا تھا، ایمان نہیں)۔

عشق کے بھی ہیں انداز نرالے

اختر شیرانی

ہمارے ہاں کے تو رندانِ بلانوش کا بھی حال یہ ہے کہ شراب کی ساری سرمستیاں اور نشہ کی تمام مدہوشیاں حضور رسالت مآب ﷺ کا دامانِ ادب ان کے لرزتے ہاتھوں سے چھڑانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتیں اور یہ ”دیوانے“ اپنے اس حال میں بھی ”بامحمد ہوشیار“ کا پاس نہیں بھولتے۔

شہرۂ آفاق شاعر اختر شیرانی رومانوی شاعری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک معروف نقاد نے کہا تھا کہ وہ وصل کی آرزو اس طرح کرتا ہے جس طرح بچہ ٹافی مانگتا ہے۔ مجاہدِ ختمِ نبوت آغا شورش کاشمیریؒ فرماتے ہیں کہ عرب ہوٹل میں ایک دفعہ بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ اس وقت تک شراب کی دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے۔ تمام بدن پر رعشہ طاری تھا، حتیٰ کہ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ ادھر انا کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ جانے کیا سوال زیرِ بحث تھا۔ فرمایا مسلمانوں میں

صفحہ 373

تین شخص اب تک ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ہر اعتبار سے جینئس (Genius) بھی ہیں اور کامل الفن بھی۔ پہلے ابوالفضل، دوسرے اسد اللہ خاں غالب، تیسرے آزاد۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔ کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے۔ جوش کے متعلق پوچھا، کہا وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا نام لیا، مسکرا دیے۔ فراق کا ذکر چھیڑا، ہونہہ ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا۔ فرمایا، مشق کرنے دو۔ ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا ”نام سنا ہے“۔ احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا ”میرا شاگرد ہے“۔ نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں، تو بحث کا رخ پھیر دیا۔

”حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟“

آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ نشہ میں چور تھے۔ زبان پر قابو نہیں تھا، لیکن چونک کر فرمایا:

”کیا بکتے ہو؟“

”ادب و انشا یا شعر و شاعری کی بات کرو“۔ کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا۔ ”ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟“ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا، مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے، فرمایا۔ ”اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون، ارسطو یا سقراط آج ہوتے، تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے، ہمیں ان سے کیا؟ کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں“۔ اس لڑکھڑاتی ہوئی گفتگو سے فائدہ اٹھا کر ایک قادیانی نوجوان نے سوال کیا۔

”آپ کا محمدﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟“

اللہ اللہ! ایک شرابی، جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔

”بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیاہ رُو سے پوچھتا ہے! ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟“

تمام جسم کانپ رہا تھا۔ ایکا ایکی رونا شروع کیا۔ گھگی بندھ گئی ”تم نے اس حالت میں یہ نام کیوں لیا؟ تمھیں جرأت کیسے ہوئی......؟ گستاخ! بے ادب!!

باخدا دیوانہ باش و با محمدﷺ ہوشیار!

اس شریر سوال پر توبہ کرو، تمہارا خُبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔ اس قادیانی کو محفل سے اٹھوا دیا پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے۔ کہتے

صفحہ 374

تھے یہ بدبخت اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسی وقت حضور سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں فی البدیہہ نعت کہی۔

دنیائے ہست و بُود کو زینت تمہی ﷺ تو ہو
اس باغ کی بہار کے ساماں تمہی ﷺ تو ہو
دنیا کی آرزوئیں فنا آشنا ہیں سب
جو روح زندگی ہے وہ ارماں تمہی ﷺ تو ہو
صبح ازل سے شام ابد تک ہے جس کا نور
وہ جلوہ زار حُسن درخشاں تمہی ﷺ تو ہو
دنیا و آخرت کا سہارا تمہاری ﷺ ذات
دونوں جہاں کے والی و سلطان تمہی ﷺ تو ہو
اخترؔ کو بے نوائی دنیا کی فکر کیا
ساماں طراز بے سر و ساماں تمہی ﷺ تو ہو
(اخترؔ شیرانی)

علامہ محمد بن سعید البوصیریؒ کے شہرۂ آفاق قصیدہ بردہ شریف کا ایک شعر نہایت قابل توجہ ہے:

بشرى لنا معشر الاسلام ان لنا
من العناية ركنا غير منهدم

ہم مسلمانوں کے لیے اس سے بڑھ کر خوشخبری اور نیک بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے پاس آقائے نامدار ﷺ کی ذات والا صفات کی صورت میں ایک ایسا ستون اور سہارا موجود ہے جس کو کوئی نہیں ہٹا سکتا۔

شورش کاشمیری اپنی تصنیف ’’نورتن‘‘ میں لکھتے ہیں ’’احسان دانش کسی مشاعرے کا ذکر کر رہے تھے کہ وہاں رات کے تاریک سناٹوں کی پیداوار ترقی پسند نوجوانوں نے شراب میں بہک کر مذہب پر حملے شروع کردیئے اور ان کی گستاخیاں حضور ﷺ کے دامنِ سیرت تک آ رہی تھیں کہ مجید لاہوری نے انہیں فوراً ٹوک دیا حالانکہ وہ بھی اس وقت شراب کے نشے

صفحہ 375

میں چور تھا اس نے خبردار کا نعرہ بلند کیا اس پر اشتراکی شاعر مہر بلب ہو کر رہ گئے ............ احسان دانش کہتا ہے کہ اس کے بعد مجید رات بھر روتا رہا اور سسکیاں لے کر چیختا رہا کہ ان بدزبانوں کو اتنی جسارت ہو گئی ہے کہ وہ میرے حضورﷺ پہ زباں درازی کریں، انہیں معلوم نہیں یہ اسلامی معاشرہ ہے۔ یہاں اسلامی حکومت ہے۔ یہ ان کے جاں نثاروں کی بستی ہے۔ یہ وطن ان ہی کے نام پر لیا گیا۔ ہم مسلمان گو لاکھ گنہگار سہی شرابی سہی لیکن ہمارے سامنے انہیں دریدہ دہنی کا حوصلہ کیونکر ہوا ...... ہم قیامت کے دن حضورﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے ، ہم عاصیوں کا واحد سہارا انہی کی ذات ہی تو ہے۔ ان کی شفاعت ہی ہمارے کام آئے گی وگرنہ ہماری بخشش کا سروسامان ہی کیا ہے؟ ......

مال و زر جہاں کی تمنا نہیں مجھے
عشق رسولؐ میری متاع حیات ہے
دہلیز مصطفیٰؐ سے کہاں اٹھ کے جاؤں گا
میرا تو آسرا ہی پیغمبرﷺ کی ذات ہے

احمد بن بیلا

احمد بن بیلا ایک جوشیلے مسلمان تھے۔ یہ ایک غریب کسان کے بیٹے تھے۔ ذہین اور ہوشیار ہونے کی وجہ سے ہی تعلیم کا موقع ملا۔ جس کالج میں یہ تعلیم پاتے تھے، اس میں اکثر اعلیٰ طبقے کے بچے پڑھتے تھے۔ ایک دن کلاس میں ان کے ایک فرانسیسی استاد نے رسول اللہﷺ کی ذات اقدس پر ایک رکیک حملہ کیا۔ اس نے آپﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ کلاس میں تقریباً سب ہی طلباء مسلمان تھے۔ ان میں اکثریت اعلیٰ افسروں کے بیٹوں کی تھی۔ استاد کی بات کے مقابلے میں کسی کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی، سب کو سانپ سونگھ گیا اور کسی نے دم نہ مارا۔ احمد بن بیلا کا دل جوش عقیدت سے سرشار تھا۔ اس سے نہ رہا گیا۔ غیرت و حمیت کے جوش اور غصے کے عالم میں کھڑے ہو کر کہا ”یہ الگ بات ہے کہ ایک استاد کی حیثیت سے میں آپ کا احترام کرتا ہوں لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے میں یہ دریدہ دہنی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا جو زبان میرے محبوب نبیﷺ کی توہین کرے گی، اس کو میں تالو سے کھینچ لوں گا اور جو منہ میرے حضورﷺ کی گستاخی کے لیے کھلے گا، میں اس میں آگ جھونک دوں گا۔ میں آپ کی اس دریدہ دہنی پہ سخت احتجاج کرتا ہوں۔ آپ کو معافی مانگنی

صفحہ 376

ہوگی اور یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ آئندہ نہ صرف ہمارے پیغمبر ﷺ کے بارے میں کچھ کہیں گے بلکہ ہمارے کسی بھی بزرگ یا پیشوا کے خلاف زبان نہیں کھولیں گے“۔ مرینہ کے اس دہقان زادے کی بات سن کر وہ فرانسیسی استاد دم بخود رہ گیا۔ اس نے بھری کلاس میں معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں کوئی نامناسب بات نہیں کہے گا۔

جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی صاحب نے ہمیشہ شغل مے نوشی کی اور صرف غزلیں کہیں۔ جن دنوں بھوپال ہاؤس میں جگر صاحب ٹھہرے ہوئے تھے، نعت کے مشہور شاعر اور 'زائر حرم' کے خالق جناب حمید صدیقی بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے اور جگر صاحب سے ملنے آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حمید صدیقی ان سے ملنے آئے۔ جگر عالم سرشاری میں لیٹے ہوئے کوئی غزل گنگنا رہے تھے۔ تپائی پر بوتل رکھی ہوئی تھی۔ جیسے ہی حمید صدیقی پر نظر پڑی، وہ گھبرا گئے اور کہا میں نے آپ کو منع کیا تھا کہ ایسے وقت میرے پاس نہ آیا کریں۔ انہوں نے کہا، حرج ہی کیا ہے۔ میں آپ کے اس شغل سے واقف بھی ہوں اور معترض بھی نہیں۔ جگر صاحب نے کہا، بات معترض ہونے کی نہیں ہے، اس عالم میں اگر میں آپ سے نعت سنوں تو کیسے سنوں اور پھر آب دیدہ ہوگئے۔

جگر جیسے شرابی شاعر کا یہ اعلیٰ شعور۔ اللہ اکبر! جگر نے کبھی نعت نہیں کہی صرف غزلیں کہتے رہے اور دل کا غبار کاغذ پر انڈیلتے رہے۔ جگر صاحب نے پہلی نعت اجمیر کے مشاعرے کے لیے کہی۔ اس نعت کا عجیب وغریب شان نزول پاکستان کے مشہور ومعروف تذکرہ وخاکہ نگار ڈاکٹر ساجد حمید نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

کہ جگر مراد آبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے، وہ کھلے عام شراب پیتے تھے اور نعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کا نام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہو گیا، کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔ دراصل جگر صاحب کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس

صفحہ 377

کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے؟ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علما حضرات اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔ آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر صاحب کو مدعو کیا جانا چاہیے۔ یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگر صاحب کی عظمت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہو سکتا تھا۔ جگر صاحب کو مدعو کیا گیا تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ”میں رند، سیہ کار، بدبخت...... اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں“۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب کو تیار کیسے کیا جائے۔ ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغر گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہو گئے۔ سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپا دیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیطان سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اترا تو کس زبان سے اپنے آقا ﷺ کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونا نہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہو جائے، شاید مجھ پر اس کملی والے کا کرم ہو جائے، شاید خدا کو مجھ پر ترس آجائے۔ ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہو گیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہو گئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔

مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرہ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ ادھر تو یہ حال تھا، دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہر کے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جا رہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگر صاحب کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ لوگ اسٹیج پر جمع ہو کر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے

صفحہ 378

منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔ وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے، جبکہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گے۔ جگر صاحب اپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔

کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگر کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔ جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔ ”رئیس المتغزلین حضرت جگر مراد آبادی!“

اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا۔ جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا۔ ”آپ لوگ مجھے ہوٹ کر رہے ہیں یا نعت رسول پاک ﷺ کو، جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں“۔ شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے:

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

جو جہاں تھا، ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہو رہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہو رہا ہے۔ نعت کیا تھی، گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی، خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔ وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم ﷺ کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔ ”یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے“۔ مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:

دامان نظر تنگ و فراوانی جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ
اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت سلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطان مدینہ
صفحہ 379
اک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید
صدقے ترے اے صورت سلطان مدینہ
کونین کا غم یاد خدا درد شفاعت
دولت ہے یہی دولت سلطان مدینہ
اے عالم تکویں! ترے اسرار حقیقت
منجملہ ایک آیت سلطان مدینہ
ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوت سلطان مدینہ
اس امت عاصی سے نہ منھ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرت سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگر اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت سلطان مدینہ

نور ابد معاش

مولانا محمد امین اوکاڑویؒ کا کہنا ہے: ’’مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا کہ مولانا صاحب! ہمارے گاؤں میں آج تک ختم نبوت پر بیان نہیں ہوا۔ ہمارا بہت دل کرتا ہے کہ کوئی اس اہم موضوع پر خطاب کرے۔ آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں، ہم تیاری کر لیں گے۔‘‘ میں نے محبت بھرے جذبات دیکھ کر خط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔ دیئے گئے وقت پر میں ٹرین سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے میزبانوں نے مجھے ہدیہ کا لفافہ پیش کر کے کہا، مولانا آپ جا سکتے ہیں ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں 90 فیصد قادیانی ہیں، وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر ختم نبوتؐ پر بیان کروایا تو نہ تمہاری عزتیں، نہ مال، نہ گھر بار محفوظ رہیں گے۔ مولانا ہم کمزور ہیں، غریب ہیں، تعداد میں بھی کم ہیں، اس لیے ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ میں نے انھیں لفافہ واپس کیا اور کہا، بات تمھاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا، بات مدینے والے آقا ﷺ کی عزت کی آگئی ہے، اب بیان ہوگا اور ضرور ہوگا۔ وہ گھبرا گئے کہ آپ تو چلے جائیں گے، مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔ میں نے کہا: ’’اس گاؤں کے

صفحہ 380

آس پاس کوئی ڈنڈے والا ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دور نورا ڈاکو ہے، پورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔ میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نورے کے پاس۔ جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے تو ہمیں دیکھ کر نورا بولا! آج خیر اے، مولوی کیوں آگئے نیں؟ میں نے کہا! نورے! حضورﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ ہے، تمھاری ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سلسلہ میں، میں نے اسے پوری بات بتائی اور کہا کہ اس پر تم کچھ کرو؟ میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا: مولوی صاحب!” میں ڈاکو ضرور آں پر بے غیرت نہیں آں۔“ وہ ہمیں لے کر مسجد کی طرف چل نکلا۔ میں نے مسجد میں 3 گھنٹے بیان کیا اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا۔ آخر میں نورے نے یہ کہا کہ اگر کسی نے مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو وہ نورے سے بچ نہیں سکے گا۔ میں تقریر کر کے واپس اپنے گھر آ گیا۔ کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا، سر پر عمامہ، چہرے پر داڑھی، زبان پر درود پاک کا ورد، میں نے پوچھا، ”کون ہو......؟“ وہ رو کر بولا، ”مولانا! میں نورا ڈاکو آں۔ جب اس دن میں واپس گھر جا کر سویا۔ تھوڑی دیر بعد آنکھ لگی ہی تھی کہ پیارے مصطفیٰ کریمﷺ میرے خواب میں تشریف لائے۔ میرا ماتھا چوما اور فرمایا، ”آج تو نے میری عزت پر پہرا دیا ہے۔ میں اور میرا اللہ تم پر خوش ہو گئے ہیں۔ اللہ نے تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔“ مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ اب تو آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے۔ مولانا صاحب میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں کہ آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی، میری آخرت سنور گئی ہے۔

بھولا

حکیم الامت، ترجمان حقیقت، مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے کہا تھا:

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

گزشتہ کئی سالوں سے مجاہد تحفظ ناموس رسالت غازی علم الدین شہیدؒ کے مزار پر ہر ماہ با قاعدگی سے حاضری میرا معمول ہے۔ میں وہاں تقسیم کرنے کے لیے اپنے ساتھ نئے کرنسی نوٹ اور مٹھائی بھی لے کر جاتا ہوں۔ ایک دن علی الصبح مزار پر حاضری ہوئی۔ نوافل، تلاوت قرآن مجید اور درود شریف ایصال ثواب کرنے کے بعد مزار کے باہر بیٹھے مستحقین میں پیسے اور مٹھائی تقسیم کی۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص جو بظاہر ”جہاز“ لگ

صفحہ 381

رہا تھا، قمیص کے بٹن کھولے، فضا میں بازو لہراتے، بے حد اکڑ اور غرور کی چال چلتے ہوئے مزار کی طرف آ رہا ہے۔ جونہی وہ غازی صاحب کے مزار کے قریب آیا، فوراً ادب و احترام کی تصویر بن کر رک گیا۔ اس نے جلدی سے گریبان اور کف کے بٹن بند کیے، جیب سے چھوٹا سا کپڑا نکال کر سر پر رکھا اور گردن جھکا کر نہایت مؤدبانہ انداز میں صاحب مزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”غازی بادشاہ! تسیں بڑا کمال کم کیتا اے، اللہ دی قسمے، اگر تسیں ایہ کم نہ کردے تے میں ضرور کردا“۔ میں نے اس کی زبانی یہ ایمان افروز الفاظ سنے تو حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب گیا اور بے اختیار آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ اسی کیفیت میں، میں نے اسے تمام رقم اور مٹھائی دے دی اور سسکیوں میں بمشکل اس کا نام پوچھ سکا تو اس نے کہا: ”بھولا“۔ تھوڑی دیر تک مجھ پر بے خودی کی کیفیت طاری رہی، حواس بحال ہوئے تو باہر مین روڈ تک اس کے پیچھے بھاگا تا کہ اس کی دست بوسی کر سکوں مگر وہ عاشقِ رسولؐ غائب ہو چکا تھا۔ آج جب بھی غازی صاحب کے مزار پر حاضری ہوتی ہے تو آنکھیں خود بخود اسے تلاش کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

محمد رفیع

بھارت کے ایک آنجہانی وزیر اعظم نے اپنے ملک کے مشہور ترین گلوکار محمد رفیع سے کہا: رفیع صاحب! ہم آپ کو کوئی ایوارڈ دینا چاہتے ہیں۔ رفیع صاحب نے جواباً کہا: مجھے کسی ایوارڈ کی ضرورت نہیں۔ میڈیا اور لوگ مجھے رفیع صاحب کہتے ہیں۔ آپ سرکاری حکم نامہ جاری کریں کہ آئندہ مجھے رفیع صاحب نہیں بلکہ محمد رفیع پکارا اور لکھا جائے کہ نام محمد ﷺ ہی ہمارا آخری سہارا ہے۔ چنانچہ آج تک انہیں محمد رفیع کہا اور لکھا جاتا ہے۔

صبا حسین چودھری

یہ جون 1999ء کا واقعہ ہے۔ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع لڑکیوں کے اہم سکول Levenshulme High School کے ہال میں تقریری مقابلہ ہو رہا تھا۔ موضوع تھا Famous Religious Person (مشہور مذہبی شخصیت) اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک بچی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔ اپنی تقریر کے دوران میں یہ بچی جب بھی لفظ ”محمد“ ادا کرتی تو غیر ارادی طور پر ”صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ نہ کہتی۔ کلاس میں بیٹھی صبا حسین چودھری نامی ایک بچی کو یہ حرکت انتہائی ناگوار

صفحہ 382

گزری، اس غیر ارادی لغزش کو ایک دو دفعہ برداشت کرنے کے بعد اس بچی سے نہ رہا گیا، پھر وہ اچانک اپنی نشست سے اٹھی اور زور دار الفاظ میں بے اختیار پکار اٹھی۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ سکول کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے نظم وضبط کی خلاف ورزی کی تھی۔ بچی کو فوری طور پر ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ یہودی و عیسائی اساتذہ اور ماہرین نفسیات پر مشتمل بورڈ نے بچی سے متعدد سوالات کیے اور اس بے ساختہ حرکت کے بارے میں پوچھا۔ بچی نے ہچکیوں اور سسکیوں میں ایمان افروز جواب دیا: ”جب کوئی شخص ہمارے پیارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم گرامی استعمال کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادا کرے۔ میں اس پر کوئی Compromise نہیں کرسکتی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی سن کر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کہنا میرا ایمانی ودینی استحقاق اور اولین فریضہ ہے۔ اس فریضہ اور استحقاق کی ادائیگی سے مجھے ڈسپلن کے نام پر نہیں روکا جاسکتا“۔ برطانیہ ایسے سیکولر ، مادر پدر آزاد اور جنسی بے راہروی کے شکار معاشرے میں ایسی بچیاں اسلام کے روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔

تحریک ختم نبوت 1953ء اور 1974ء کے ایمان افروز واقعات

تحریک ختم نبوت 1953ء میں لاہور، لائل پور (فیصل آباد)، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال، راولپنڈی، سرگودھا اور دوسرے تمام شہروں اور قصبوں کی حالت یہ تھی کہ رضا کار اپنے اپنے بھرتی کے مراکز پر آتے، جسم پر بڑی دلیری سے زخم لگاتے اور خون سے حلف نامے پر دستخط یا انگوٹھا ثبت کر دیتے تھے۔ رضا کاروں کا یہ جذبہ گفتنی نہیں، دیدنی تھا۔ بس ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان نوجوانوں کے سینوں میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے دل دھڑکنے لگ گئے ہیں اور یہ دنیا ومافیہا سے منہ موڑ کر خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر قربان ہو جانا چاہتے ہیں۔

لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسول ہاشمی ﷺ کوئی نبی نہیں

ساتھ گرفتار ہوگئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دیگر اکابرین کے ساتھ سکھر جیل کی ایک کوٹھڑی میں انھیں بند کر دیا گیا۔ عید الفطر کا دن تھا، مظفر علی شمسی کی شدید بیمار بہن کا خط بھائی کو جیل

صفحہ 383

میں اسی روز ملتا ہے جسے پڑھ کر آنکھیں پُرنم ہو جاتی ہیں۔

ہوں۔ بخار دامن نہیں چھوڑتا، 104 درجہ حرارت سے گرتا نہیں، کھانسی زوروں پر ہے۔ محبوب بھائی ڈاکٹر کو لائے تھے۔ ایکسرے میں ٹی بی کی ابتدائی منزل ہے۔ ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اب موت مجھے لیے جا رہی ہے۔ کاش کہ میرے آخری وقت آپ میرے پاس ہوتے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو استقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربار رسالت ﷺ میں سرخرو کرے، آپ بہادری سے قید کاٹیں۔ اگر زندہ رہی تو مل لوں گی ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں۔ سب بچے سلام کہتے ہیں، اب ہاتھ میں طاقت نہیں، لہٰذا خط ختم کرتی ہوں۔

بھیا سلام آپ کی بہن

اس خط سے شاہ صاحب سمیت تمام رہنما آبدیدہ ہو گئے۔ سب نے عزیزہ کی صحت کے لیے دعا کی۔ اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دور ہو اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو۔

؎ کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ اتار کے

”تحریک ختم نبوت 1953ء میں ایک عورت اپنے بیٹے کی شادی کی برات لے کر دہلی دروازہ کی جانب آ رہی تھی۔ سامنے سے تڑ تڑ کی آواز آئی۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے لوگ سینہ تانے بٹن کھول کر گولیاں کھا رہے ہیں تو اس عورت نے برات کو معذرت کر کے رخصت کر دیا۔ پھر اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا! آج کے دن کے لیے میں نے تمھیں جنا تھا۔ جاؤ اپنے پیارے آقا ﷺ کی عزت پر قربان ہو کر دودھ بخشوا جاؤ، میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری برات میں آقائے نامدار ﷺ کو مدعو کروں گی۔ جاؤ پروانہ وار شہید ہو جاؤ تا کہ میں فخر کر سکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے شہید ہو گیا۔ جب لاش لائی گئی تو گولی کا کوئی

صفحہ 384

نشان پشت پر نہ تھا۔ سب گولیاں سینہ پر کھائیں“۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

طالب علم کتابیں ہاتھ میں لیے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک میں شامل لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا: ہمیشہ پڑھتا رہا ہوں، آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی، گر گیا۔ پولیس والے نے آ کر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا: ظالم گولی ران پر کیوں ماری ہے، عشق مصطفےٰ ﷺ تو دل میں ہے، یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے“۔

جو سوچتا رہا، رہا گمنام و نامراد
جو بڑھ کے جل گیا، وہی پروانہ بن گیا

کے نعرے لگا رہا تھا۔ ایک پولیس والے نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا، اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے، یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا، یہ زخموں سے چُور چُور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ میجر نے کہا ایک سال سزا۔ اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ اس نے سزا دو سال کر دی، اس نے پھر نعرہ لگا دیا غرضیکہ میجر سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی، دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرہ سے باز نہیں آ رہا۔ تو میجر نے کہا کہ عدالت سے باہر لے جا کر ابھی اسے گولی مار دو۔ اس نے گولی کا سن کر دیوانہ وار رقص کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ختم نبوت زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور اور وجد آفریں کیفیت طاری کر دی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ اسے رہا کر دو، یہ دیوانہ ہے، اس نے رہائی کا سن کر پھر نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد

(قارئین کرام! میں یہ ایمان پرور واقعہ لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ

صفحہ 385

لگائیں۔ ختم نبوت زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد)

تیری جستجو میں جو آئے تو مجھے موت بھی ہے عزیز تر

نکلتے رہے اور دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر حضور خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہو گئے تو ایک اسّی (80) سالہ بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو اپنے کندھے پر اٹھا کر لایا۔ باپ نے ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق زندہ باد کہا۔ دو گولیاں آئیں، اسّی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم بچے کے سینے سے شائیں کر کے گزر گئیں، دونوں شہید ہو گئے۔ مگر تاریخ میں اس نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اسّی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر پانچ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔

مسافروں سے کہو رات سے شکست نہ کھائیں
میں لا رہا ہوں خود اپنے لہو سے بھر کے چراغ

’’1953ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتاری کے لیے پیش ہونے والے مجاہدین ختم نبوت کو پولیس پکڑ کر کراچی سے بلوچستان کی طرف تقریباً سو میل دُور ایک مقام پر چھوڑ کر آئی، لیکن پولیس والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہتی جب ٹھیک تین چار گھنٹوں بعد انہی کارکنوں کو وہ کراچی میں پھر جلوس نکالتے ہوئے پاتے۔ پولیس انکوائری کر کر کے تھک گئی کہ کونسی طاقت ان کو اس دُور کے جنگل سے اتنی جلدی کراچی میں پہنچا دیتی ہے؟ زمین سمیٹ دی جاتی ہے؟ غائبانہ سواری کا انتظام ہوتا ہے؟ یا اس گروہ کو لانے والی کوئی مستقل تنظیم ہے؟ بہر حال پولیس کے لیے یہ معمہ رہا، اور واقعہ یہ ہے کہ تمام کارکنوں کو جونہی دُور دراز کے جنگل میں چھوڑا جاتا، اللہ رَبّ العزّت ان کے لیے فی الفور کراچی پہنچانے کا انتظام فرما دیتے، وہ کارکن کراچی آتے ہی پھر تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے میں لگ جاتے، بالآخر پولیس نے تھک کر یہ پروگرام ترک کر دیا۔‘‘

مولانا مزید فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ پولیس والے مجاہدین ختم نبوت کے ایک جتھے

صفحہ 386

کو رات کے وقت گرفتار کر کے دُور کے ایک جنگل میں چھوڑ آئے، پولیس کے جانے کے بعد یہ مجاہد چند قدم چلے تو روشنی نظر آئی ، وہاں گئے تو جنگل میں چند گھرانے آباد دیکھے، ان گھرانوں میں سے ایک آدمی باہر آیا ، ان مجاہدین کو بلایا ، دُعا دی، راستہ اور حفاظت کا وظیفہ بتلایا ، یہ حضرات چند گھنٹوں میں کراچی پہنچ گئے۔ پولیس والے سو کر بھی نہ اُٹھے ہوں گے کہ یہ حضرات کراچی میں پھر ختم نبوت کے جلوس نکالنے میں مصروف ہو گئے۔ جنگل میں کونسی قوم آباد تھی؟ وہ آدمی از خود بغیر آواز دیے، کیسے رات کے وقت باہر آیا؟ کراچی کا راستہ اور حفاظت کا وظیفہ کیوں بتلایا؟ دُعا کیوں دی؟ وہ کون تھا؟ ان مجاہدین کے ساتھ ان کا یہ شفیق برتاؤ کیوں؟ آج تک اہل دُنیا کے لیے یہ معمہ ہے، مگر اہل نظر خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات پر ختم نبوت کی وجہ سے اللہ ربّ العزّت کے انعامات کی بارش ہو رہی تھی‘‘۔

”جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریک ختم نبوت 1953ء اپنے جوبن پر تھی۔ پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہو گئی۔ اسیرانِ ختم نبوت بس میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ ایک ملٹری آفیسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب وجلال سے گرجا، تمھیں معلوم نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے، کون نعرے لگاتا تھا؟ اس اچانک صورتحال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اٹھا۔ میں نے تن کر کہا ”میں لگاتا تھا“۔ اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا، اچھا اب نعرہ لگاؤ۔ میں نے پُر جوش آواز میں نعرہ لگایا ”میرا کملی والا“ سب نے بآواز بلند جواب دیا ”زندہ باد“۔ اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی ، منہ پھیر کر کہا ، ”ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے“ اور بس سے اتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا کہ جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی۔ پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے“۔

ناز کیونکر نہ کریں آپﷺ سے نسبت والے
لوگ کہتے ہیں ہمیں ختم نبوت والے
صفحہ 387
جن کو ہے ختم نبوت کی حفاظت کا جنون
قسم اللہ کی یہی لوگ ہیں قسمت والے
قافلہ ختم نبوت کا ہے وہ جس میں ہیں سب
معرفت والے، یقیں والے، فراست والے
یہ کھلی بات ہے مرزائی ہیں غدارِ وطن
کیوں سمجھتے نہیں یہ بات حکومت والے
یاد تو ہوگا تمہیں قصۂ فرعون و کلیم
غرق جھوٹے ہوئے اور پار صداقت والے
تیرے دشمن سے امیں لڑتا ہوا مر جائے
یہ ہے خواہش مری اے تاج شفاعت والے

(سید امین گیلانی)

اپنے علاقہ کا ایک ایمان پرور واقعہ سنایا کہ تحریک ختم نبوت 1974ء میں واہ کینٹ میں ایک جلوس نکلا۔ پولیس نے جلوس کے کئی شرکا کو گرفتار کر لیا۔ ان میں ایک سات سالہ بچہ بھی تھا۔ مقامی ڈی، ایس، پی نے اس بچے کو مرغا بنا کر پوچھا: ”بتاؤ تمہاری پیٹھ پر کتنے جوتے ماروں“۔ بچے نے بڑی ایمانی جرأت اور معصومیت سے جواب دیا: ”اتنے جوتے مارنا جتنے تم قیامت کے دن کھا سکتے ہو“۔ اتنا سننا تھا کہ ڈی ایس پی مارے خوف کے پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس بچے کو سینہ سے لگایا، پیار کیا، گھر لے گیا، کھانا کھلایا، رقم دی، پاؤں پکڑ کر معافی مانگی اور فوراً گھر چھوڑنے گیا۔

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری

1953ء کی تحریک ختم نبوت کا واقعہ انہی کی زبانی سنیے اور اپنے ایمان کو تر و تازہ کیجیے، فرماتے ہیں: ”میری شادی کے چند ماہ بعد تحریک ختم نبوت 1953ء شروع ہوئی۔ میں تحریک میں بھر پور حصہ لینے کے لیے ننکانہ صاحب سے لاہور، مسجد وزیر خاں چلا گیا۔ یہاں روزانہ

صفحہ 388

جلسہ ہوتا اور جلوس نکلتے۔ لاہور میں مارشل لاء لگ چکا تھا۔ ایک دن انتظامیہ کے کہنے پر مسجد کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس پر مسجد میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا، پھر جلوس نکلا۔ میں اس جلوس میں شامل تھا۔ ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ چند احباب کے ہمراہ سرسری سماعت کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ میرا نمبر آخر میں تھا۔ میری باری پر قادیانی میجر جنرل حیاء الدین نے کہا معافی مانگ لو کہ آئندہ تحریک میں حصہ نہیں لو گے تو ابھی بری کر دوں گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر کو کہا کہ آپ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہو اور ایک امتی کی شفاعت کا ذریعہ ہو اور پھر وہ معافی مانگ لے؟ میجر نے کہا کہ سامنے لان میں چلے جاؤ۔ آدھا گھنٹہ اچھی طرح سوچ لو۔ میں لان میں بیٹھ گیا۔ پھر پیش کیا گیا تو میجر جنرل نے کہا کہ معافی مانگ لو۔ میں نے مسکراتے ہوئے میجر کو جواب دیا کہ شاید آپ کو اس مسئلہ کی اہمیت کا علم نہیں، آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس مسئلہ میں معافی کیا ہوتی ہے؟ اس پر میجر حیاء الدین نے غصہ کی حالت میں میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور آٹھ ماہ قید بامشقت اور 500 روپے جرمانہ کا حکم دیا، جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔ میرے نامۂ اعمال میں میری بخشش کے لیے یہی ایک نیکی کافی ہے‘‘۔

زمانہ آج بھی اس کو خراج دیتا ہے
کہ جس نے جبر کے آگے نہ سر جھکایا

تھے۔ ایک قافلہ میں میاں فضل احمد موچی بھی جا کر گرفتار ہو گیا۔ ان کی گرفتاری مارشل لاء کے تحت عمل میں آئی۔ مارشل لاء عدالت نے ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر دیگر ساتھیوں کی نسبت کم سزا دی۔ اس پر وہ بگڑ گئے۔ عدالت سے احتجاج کیا کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس سے عدالت نے سمجھا کہ شاید یہ سزا کم کرانا چاہتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا تو کہا ’’مجھ سے کم عمر کے لوگوں کو دس دس سال کی سزا دی، میرے ساتھ انصاف کیا جائے اور میری سزا میں اضافہ کیا جائے‘‘۔ یہ سن کر مارشل لاء عدالت کانپ اٹھی۔ اس بوڑھے جرنیل کی ایمانی غیرت پر جج انگشت بدنداں اُٹھ کر عدالت سے ملحق کمرہ میں چلا گیا۔ میاں فضل احمد نے عدالت میں کپڑا بچھا کر گرفتاری، سزا اور آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی قربانی کی بارگاہِ خداوندی میں قبولیت کے لیے نوافل پڑھنے شروع کر دیئے۔

صفحہ 389
انوکھی وضع ہے سارے زمانے میں نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

نبوت کے دوران بطور ڈاکٹر میری تعیناتی میو ہسپتال میں تھی۔ ہم چند دوست ہسپتال کی چھت پر کھڑے تھے۔ اچانک دیکھا کہ نسبت روڈ چوک کی جانب سے ختم نبوت کے پروانوں کا ایک جلوس بڑھتا ہوا آ رہا ہے، جسے روکنے کے لیے فوج نے ہسپتال کے گیٹ کے آگے ریڈ لائن لگا دی اور انتباہ کر دیا کہ جو بھی اسے پار کرے گا، اسے گولی مار دی جائے گی۔ یہ ایک ایسا انتباہ اور ایسی وارننگ تھی، جسے عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی پوری تاریخ میں کبھی پرکاہ سی اہمیت بھی حاصل نہ رہی، یہاں بھی یہی ہوا، جلوس نام محمد ﷺ کی عظمتوں کے ترانے بلند کرتا ہوا اسی آن سے آگے بڑھتا رہا۔ ریڈ لائن پہ اک لمحے کو رُکا۔ دوسرے ہی لمحے چشم فلک نے دیکھا کہ غلامی رسول پہ ناز کرنے والا ایک خوبرو نوجوان آگے بڑھا، اس نے اپنا سینہ کھولا اور نعرہ لگایا ختم نبوت زندہ باد اور سرخ لائن کراس کر گیا۔ دوسری طرف سے بندوق سے گولی نکلی اور سرخ سرحد عبور کرنے والا جوان، عشق مصطفیٰ ﷺ کے سفر میں اتنا تیز نکلا کہ ایک ہی جست میں زندگی کی سرحد عبور کر کے قدم بوسی حضور ﷺ کے لیے روانہ ہو گیا۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اسی رفتار سے دوسرا جوان آگے بڑھا، اس نے بھی گریبان چاک کیا اور پوری قوت سے نعرہ زن ہوا، ختم نبوت زندہ باد، ظلم و تشدد کی روایت کے مطابق ادھر سے گولی آئی اور عشق و محبت کی تاریخ کا اک اور صفحہ رنگین کرتے ہوئے گزر گئی، وہ جوان لڑکھڑایا اور لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ لیے راہی فردوس بریں ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ تیسرا نوجوان آگے بڑھتا، ہم چھت سے نیچے آ چکے تھے اور ادھر خبر ملی کہ ان دونوں جوانوں کے لاشے بھی ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ دوران زیارت معلوم ہوا کہ دونوں جوان سگے بھائی تھے“۔

یاد ہم تم کو شہیدان نبی کرتے ہیں! ناز ہم تم پہ عزیزان نبی کرتے ہیں
بے گماں خون شہیدان نبی کے چھینٹے چشم عالم میں فزوں شان نبی کرتے ہیں
سر بکف کفر کے باطل کے مقابل ہوں گے عہد و پیمان ثناء خوان نبی کرتے ہیں
اپنے نزدیک تو ہیں قابل شمشیر و سناں جو بھی توہین رفیقان نبی کرتے ہیں
اے بخاری! تیری عظمت تیری رفعت کی قسم عہد تقلید شہیدان نبی کرتے ہیں
صفحہ 390
مشکبو کرتے ہیں کانٹوں کو اگر ہم تو فقط بہر تزئین گلستان نبی کرتے ہیں
کسی کذاب و مفتن نے اگر دعویٰ کیا جان قربان غلامان نبی کرتے ہیں
کاروان سیّد یثرب کا چلے گا ہر سو
یہ صدا آج حدی خوان نبی کرتے ہیں!

غداران ختم نبوت کا انجام

یہاں پر قادیانی نوازوں کا تذکرہ بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ لوگ قادیانیوں سے بے پناہ آسائشیں اور مراعات (شراب و کباب، یورپی ممالک کے ویزے، نہایت پوش ایریاز میں لگژری کوٹھیاں اور نئے ماڈل کی گاڑیاں وغیرہ) کے بدلے ان کے سہولت کار کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں چھپے ہوئے یہ قادیانی نواز افسران ایسی سازشیں کرتے ہیں جس سے مسلمانوں میں بے حد ہیجان اور غم وغصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ کبھی تو وہ ختم نبوت کے پر امن جلوسوں پر فائرنگ کرواتے ہیں، کبھی قادیانیوں کو کسی ایسے اہم کمیشن وغیرہ میں شامل کرتے ہیں جو حساس ہونے کے ساتھ ساتھ ملک عزیز پاکستان کی بنیادی پالیسیاں طے کرتا ہے۔ کبھی مختلف اہم دستاویزات مثلاً پاسپورٹ، حج فارم وغیرہ سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کردیتے ہیں۔ کبھی قادیانیوں کو حج پرمٹ اور کوٹہ الاٹ کرتے ہیں۔ کبھی تعلیمی نصاب سے عقیدہ ختم نبوت سے متعلقہ باب/مواد ختم کردیا جاتا ہے۔ کبھی ڈش اور کیبل پر قادیانی چینل (MTA) کو دکھانے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ایسے لوگوں کو بے نقاب کر کے کیوں سزا نہیں دی جاتی؟ ہمارے خیال میں یہ لوگ قادیانیوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ ان کے معاون بن کر اسلام کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہوتے اور معاشرے میں Unrest پھیلاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قادیانی نوازوں کا انجام بے حد عبرتناک ہوا ہے۔

تحریک ختم نبوت کے قاتلوں میں ایک نام ملک غلام محمد کا بھی آتا ہے۔ ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن...... اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ تھا۔ وہ فالج اور ہائی بلڈ پریشر کا مریض تھا اور چلنے پھرنے سے بالکل معذور، اس لیے اکثر مریضوں والی کرسی پر بیٹھ کر گورنر ہاؤس کا گشت کیا کرتا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں رعشہ تھا اور اپنے دستخط کے علاوہ مزید کچھ لکھنے کے قابل نہ تھا۔ فالج نے اس کی زبان اور چہرے کے حصے کو خاصا متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے

صفحہ 391

اس کی گفتگو کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ وہ غصے میں چیخ چیخ کر اول فول بکتا تو منہ سے جھاگ نکلنے لگتی۔ پھر تھو تھو کرنے لگتا جس سے اس کا کوٹ اور آستین بری طرح گندے ہو جاتے اور پھر اس کی خوبرو سیکرٹری مس بورل جسے وہ امریکہ سے ایک سرکاری دورہ میں پسند کر کے اپنے ساتھ لایا تھا، صاف کرتی۔ اس کے ذہن کا عضلاتی نظام اس قدر کمزور ہو گیا تھا کہ وہ کھانے پینے کی کوئی شے بھی منہ میں ڈالتا تو اس کا کچھ حصہ دونوں کونوں سے باہر گرتا رہتا تھا۔ اس کے باوجود اس کا سازشی ذہن بہت تیزی سے سازش بنتا۔ بقول پروفیسر جمیل احمد عدیل ”قطع نظر وہ امور مملکت کیسے چلاتے تھے۔ گالیوں کی ادائیگی کا کام بڑی عمدگی سے چلاتے رہے۔ اپنے آفس میں انہوں نے بڑی مقفیٰ و مسجع گالیوں کا ایک طویل مگر خوش خط چارٹ آویزاں کروا لیا تھا۔ جسے جو گالی دینا مطلوب ہوتا، ملک صاحب اس خاص گالی کو اپنی چھڑی کی نوک لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کر دیتے“۔

تحریک ختم نبوت 1953ء کے ہزاروں شہدا کے قاتلوں میں سکندر مرزا کا نام بھی سرفہرست ہے۔ 1952ء سے اکتوبر 1958ء تک سکندر مرزا پاکستان کے مطلع سیاست پر اس طرح چھایا رہا کہ اس کی ہیبت اور دبدبے کا شہرہ چار دانگ عالم میں تھا۔ اس کے اشارہ ابرو کے بغیر پاکستان میں کوئی پتا تک نہیں ہلتا تھا، وہ مشرقی پاکستان کی گورنری کے عہدے پر فائز رہا پھر اس نے مرکزی حکومت میں سیکرٹری داخلہ اور دفاع کے فرائض انجام دیئے، پھر ایوان صدر کراچی کی غلام گردشوں میں کوئی ایسا کھیل کھیلا کہ مفلوج و معذور ملک غلام محمد کو نکال باہر کیا اور قائد اعظمؒ کی کرسی پر مسلط ہو گیا۔ اس کے دور میں چودھری محمد علی، سہروردی، چندریگر اور پھر ملک فیروز خان نون کی چھٹی ہوئی۔ اس طرح پاکستان کی سیاست میں اس نے وزرائے اعظم کے تقرر اور برطرفی کا ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کی شکست کا مسئلہ کسی طالع آزما ”صدر“ کا منتظر ہے۔ وہ اپنے نامزد کردہ پانچویں (جنرل ایوب خان) وزیر اعظم کو بھی چھٹی دینے کے لیے تیار ہو گیا لیکن ایوب خان اس کھیل میں اس سے بازی لے گیا اور اسے بیک بینی و دوگوش ایوان صدر سے ہی نہیں بلکہ ملک سے بھی نکال باہر کیا۔ اپنے دور اقتدار میں ملک کی قسمت کا مالک بننے والے جنرل مرزا کو لندن کے ایک ہوٹل میں منیجر کا عہدہ ہی مل سکا اور اقتدار کے دور میں حاصل کردہ صرف ایک ہی چیز اس کی رفیق سفر رہی یعنی اس کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا۔ بیگم ناہید جو پاکستان میں متعین ایک ایرانی پریس اتاشی کی اہلیہ تھی، کسی

صفحہ 392

تقریب میں سکندر کی نگاہ انتخاب کا مقدر ٹھہری اور جس طرح ایرانی شوہر سے اس نے نجات حاصل کی، وہ ایک طویل اور شرمناک کہانی ہے۔

سکندر مرزا نے ملک میں دو مارشل لاء لگائے۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے کسی کو یہ ”دوہری سعادت“ حاصل نہیں ہوسکی۔ وہ ملک کا آخری گورنر جنرل اور پھر پہلا صدر مقرر ہوا۔ یہ ایک ایسا منفرد ریکارڈ ہے جو شاید ہی کسی سے ٹوٹے گا۔ وہ چانکیہ اور میکاولی ازم کا معجون مرکب تھا اور ان سے کام لے کر وہ پاکستانی سیاست کا مردِ آہن بن گیا۔ امریکی سفارت خانے اور ایوان صدر کے درمیان گہرے رابطے انہی دنوں استوار ہوئے کہ اس کے صاحبزادے نے امریکی سفیر کی صاحبزادی کو اپنی زوجیت میں لیا اور پھر اس کی اولاد کو ”امویہ لارنس مرزا“ کا منفرد نام دیا گیا۔ سیکرٹری دفاع کی حیثیت سے اس کے حکم پر لاہور میں 1953ء کا مارشل لاء لگایا گیا اور پھر اسے ہی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ 1958ء میں اس نے اس آئین ہی کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جس کی اس نے منظوری دی تھی اور اسی آئین نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا صدر ہونے کا اعزاز بخشا۔ سکندر مرزا کا عہد اقتدار ہماری تاریخ کا ایک ایسا حصہ ہے۔ جس کی ایک ایک سطر عبرت کا مرقع ہے۔ اس نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کیا کیا تدبیریں اختیار نہ کیں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈالی جو اب ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ اس نے راتوں رات ری پبلکن پارٹی بنوائی جس کا سربراہ اپنے ایک قدیمی دوست ڈاکٹر خان صاحب کو بنایا اور پھر ان کی سادگی اور خلوص کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا۔ سکندر مرزا کے ”کارناموں“ کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی قوم نے اپنے مزاج کے خلاف کیسے کیسے حکمرانوں کو برداشت کیا یا کیسے کیسے حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے صبر و ضبط کو آزمانے کی کوشش کی۔ اقتدار کے حصول کے لیے کیسے کیسے گھناؤنے کھیل کھیلے گئے اور ملک و عوام کے خلاف ایسی کونسی سازش تھی جو نہیں کی گئی اور اگر قدرت کا دست غیب پاکستانی عوام کے سر پر سایہ فگن نہ ہوتا تو پاکستان اور پاکستانی قوم کا کیا حشر ہوتا، اس کے تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ سکندر مرزا کے بارے میں ان گنت کہانیاں مشہور ہیں۔ ایک کہانی تو یہ ہے کہ اپنے زمانے کے معروف سمگلر قاسم بھٹی نے اس کی اہلیہ کو ایک لاکھ روپے کی مالیت کا ہار بطور تحفہ پیش کیا اور اس کے بدلے ان سے سونے کی سمگلنگ میں سرپرستی کی استدعا کی جو

صفحہ 393

بارگاہ سلطانی میں قبول کی گئی۔ لیکن فوجی حکام نے اس زمانے میں ایک کروڑ روپے کا مالیتی سونا کراچی کے قریب سمندر سے برآمد کرلیا جس پر سکندر مرزا کی خفگی قابل دید تھی۔ اخبارات میں قاسم بھٹی اور سکندر مرزا کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی تھی جس میں اپنے اپنے فن کے دو امام کھڑے مسکرا رہے تھے لیکن تقدیر ان پر مسکرا رہی تھی۔ ایک کو قید بامشقت اور دوسرے کو جلاوطنی کی سزا ملی۔ سکندر کو پھر اپنے پیشرو سکندر اعظم کی طرح اپنے وطن کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ کہتے ہیں سکندر اعظم کی پیدائش یورپ (یونان) میں ہوئی۔ موت ایشیا میں آئی اور اسے افریقہ میں دفن کیا گیا۔ یہ سکندر بھی ایشیا میں پیدا ہوا، یورپ میں مرا اور پھر اس سرزمین میں دفن ہوا جہاں اس کے پیشرو سکندر کی موت واقع ہوئی تھی۔ ؎

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
ورنہ ”وہ“ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

معروف دانشور جناب پروفیسر احمد فریدی اپنے مضمون ”میر جعفر حاضر ہو“! میں لکھتے ہیں۔

مستعفی ہوگئے اور 13 نومبر 1969ء کو انگلستان میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے تیس برس بعد، ان کے صاحب زادے (ہمایوں اسکندر مرزا) نے جو تیس سال ورلڈ بینک کا نمک کھانے کے بعد اب ریٹائر ہوچکے ہیں، اپنے والد اور ان کے خاندان کے بارے میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ”پلاسی سے پاکستان تک“۔ اس کتاب میں جو 1999ء میں امریکہ میں شائع ہوئی، پانچ صفحات پر پھیلا ہوا ایک شجرہ نسب ہے۔ جس میں بڑے فخر سے بتایا گیا ہے کہ سکندر مرزا ساتویں پشت پر میر جعفر کی صلبی اولاد ہیں۔

وطن عزیز میں اس وقت میر صادق کی کمی ہے نہ میر جعفر کی ............. چنانچہ یہاں بھی صرف ایک واقعہ کا ذکر ہے۔ یہ 1953ء کی بات ہے۔ جب پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں تحریک ختم نبوت عروج پر تھی۔ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے مرکزی کابینہ کا خصوصی اجلاس کیا۔ سکندر مرزا کو جو اس وقت وزارت دفاع کے سیکرٹری تھے، اجلاس میں بلایا گیا۔ وہاں جو کچھ بیتی، اس کا احوال سکندر مرزا کے صاحبزادے نے ”پلاسی سے پاکستان تک“ میں یوں بیان کیا ہے:

”وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے اپنی کابینہ سے پوچھا کہ اب کیا کیا جائے۔ سب

صفحہ 394

چپ رہے۔ وزیراعظم نے سکندر مرزا کی رائے طلب کی، سکندر مرزا جانتے تھے کہ وزیراعظم کی قوت فیصلہ جواب دے چکی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے تھوڑی دیر کے لیے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملتے ہی سکندر مرزا سیدھے ملٹری انٹیلی جنس کے دفتر پہنچے اور وہاں سے خصوصی ٹیلی فون کے ذریعے لاہور کے جی اوسی میجر جنرل اعظم خان سے بات کی اور کہا ”اعظم! لاہور سول انتظامیہ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس کا انتظام میں اب تمہیں سونپ رہا ہوں۔ مارشل لاء لگاؤ اور اس بارے میں کسی کی طرف سے مزید احکام کا انتظار نہ کرو۔ ذمہ داری میری ہے۔ مارشل لاء لگاؤ، کارروائی کا آغاز کرو اور فتنے کو ختم کر ڈالو۔“ اعظم خان نے کہا ”جناب! کارروائی کا آغاز تو ہو جائے گا لیکن اس میں خاص جانیں بھی جائیں گی۔ سکندر مرزا نے کہا ”میں یہ جانتا ہوں۔ تمہارا خیال ہے کہ تم کسی کو مارے بغیر یہ کام سر انجام نہیں دے سکتے ہو“۔ اس مختصر گفتگو کے بعد سکندر مرزا، وزیراعظم کے پاس واپس پہنچے اور انہیں مطلع کیا کہ لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو گیا ہے...... وزیراعظم خواجہ ناظم الدین پریشان ہو گئے۔ انہوں نے سکندر مرزا سے کہا ”کرنل! میری رات کی نیند اڑ گئی ہے۔ فوج اللہ کے نیک بندوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ سکندر مرزا نے دوبارہ اعظم خان سے لاہور میں بات کی ”احمق! ملاؤں کو ٹھکانے لگانے کے بعد تمہیں یہ مشتہر کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ تم نے ملاؤں کو گولی سے اڑا دیا ہے؟ اعظم خان نے کہا ”جناب! مجھے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں تھے؟“ سکندر مرزا نے کہا ”تمہیں کہنا چاہیے تھا کہ تم نے آج اتنے بدکردار لوگوں کو ٹھکانے لگا دیا ہے“۔ اس گفتگو کے بعد یہ فارمولا کامیابی سے استعمال کیا جاتا رہا اور خواجہ ناظم الدین کی نیند میں خلل نہیں پڑا“۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور 12 ستمبر 2000ء)

رات کے تاریک سناٹوں کی پیداوار لوگ
میکدوں میں سیرت خیر البشرؐ پہ نکتہ چیں

جناب آغا شورش کاشمیری ”غداران ختم نبوت کا انجام“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

عندالملاقات راقم سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: ”ختم نبوت کی تحریک (1953ء) کے دوران میں جن لوگوں نے اقتدار کے زعم میں فدایان محمد ﷺ کا خون بہایا، ان کا انجام ورق عبرت ہو گیا۔ انھیں قدرت نے اتنی

صفحہ 395

زبردست سزا دی کہ اس کا تصور کرتے ہوئے جی کانپتا ہے۔ ”وہ سزا کیا تھی اور عبرت کیا؟ سردار صاحب نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ لیکن راقم بعض واقعات سے آگاہ ہے۔ مثلاً قلعہ لاہور میں علما کو تفتیش کے لیے رکھا گیا تو پولیس کا جو آفیسر ان علما پر مامور تھا، اس نے اتنی گندی زبان استعمال کی کہ ہم ملفوف سے ملفوف الفاظ میں بھی بیان نہیں کر سکتے۔ پھر اس کا جو عبرتناک انجام ہوا، وہ ہمارے سامنے ہے۔ اگلے ہی دن اس کی جوان لڑکی سوئمنگ پول میں ڈوب کے مرگئی۔ قدرت یونہی عبرت سکھاتی ہے۔

ایک دوسرے سپرنٹنڈنٹ پولیس جو ان دنوں سی آئی ڈی میں اے سیکشن کے انچارج تھے، ایک مسلح دستہ پولیس لے کر مال روڈ پر نوجوانوں کو شہید کرتے رہے۔ انھوں نے مال روڈ پر چینیز لنچ ہوم کے سامنے دو درجن نوجوانوں کے ایک ہجوم پر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے کی پاداش میں گولیوں کی بارش کروائی۔ کئی ایک نوجوان شہید ہو گئے۔ وہ ان کی لاشوں کو ٹرک میں لاد کر نجانے کہاں لے گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چند دنوں ہی میں سزا دی۔ اس کا بیٹا کھیلتا ہوا اس طرح گرا کہ اس کے پیٹ میں شکستہ بوتل کے ریزے چلے گئے اور وہ آناً فاناً رحلت کر گیا۔ وہ واحد سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا جو خود اپنے حلقوں میں کبھی عزت پیدا نہ کر سکا۔ اس پر پولیس کے اہلکار اور آفیسر بھی لعنت بھیجتے رہے کہ وہ نوکری کے غرور میں اندھا ہو چکا تھا۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر جس نے مسلمان عوام پر تحریک کے چار دنوں میں وحشیانہ ظلم کیے، پاگل ہو گیا تھا پھر بہت دنوں پاگل خانے میں رہا...... یہ تو خیر معمولی افسروں کے واقعات ہیں اور راقم کو ذاتی طور پر معلوم ہے کہ بعض پولیس آفیسر جو فدائیان ختم نبوت کے معاملہ میں فرعون ہو گئے تھے، ان کا انجام کیا ہوا اور وہ کس طرح تڑپ تڑپ کر مرتے رہے اور ان کی اولاد پر کیا بیتی؟

ملک غلام محمد ان دنوں گورنر جنرل تھے۔ انھوں نے ہماری ثقہ معلومات کے مطابق شیخ دین محمد گورنر سندھ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ قادیانیوں کو فی الفور اقلیت قرار دیا جائے۔ شیخ صاحب نے اس سلسلہ میں ایک آئینی و دستوری مسودہ تیار کیا۔ الحمد للہ وہ محفوظ ہے، لیکن ملک غلام محمد بعض عادتوں میں سر ظفر اللہ خان کے ساتھی تھے۔ انھوں نے ختم نبوت کے مضمرات پر غور نہ کیا اور وہ قیمتی مسودہ ٹھکرا دیا بلکہ اس جرم میں ایک سازش کے تحت شیخ صاحب کو گورنری سے سبکدوش کر دیا۔ ملک غلام محمد کس طرح مرے، سب کو معلوم ہے۔ وہ آخری ایام

صفحہ 396

میں دماغ کے تعطل کا ورق عبرت تھے۔ کسی مسلمان کہلانے والے کی موت اس سے زیادہ عبرت ناک کیا ہوسکتی ہے کہ وہ مر جائے تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ ملے۔ ملک غلام محمد گوروں کے قبرستان میں دفن کیے گئے اور اب شاید وہ قبر ہی مٹ چکی ہے۔ کسی پھول یا چراغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی مسلمان انھیں عزت سے یاد نہیں کرتا اور نہ کسی رعایت سے ان کا عزت سے تذکرہ کیا جاتا ہے۔ وہ خدا و عوام دونوں کے معتوب ہو کر مرے تھے۔

؎ اور اک تو ہے کہ تیرا سایہ بھی نجس

سکندر مرزا اس زمانہ میں ڈیفنس سیکرٹری تھے۔ وہ ختم نبوت کی تحریک کو کچلنے کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ لاہور گورنر ہاؤس میں افسران مجاز سے چیخ چیخ کر پوچھتے کہ مجھے یہ نہ بتاؤ فلاں جگہ امن قائم ہوگیا ہے بلکہ یہ بتاؤ کہ تم کتنی لاشوں کا مژدہ لائے ہو۔ کوئی گولی ضائع تو نہیں ہوئی۔

اس سکندر مرزا کے انجام سے ایک دنیا واقف ہے کہ اسے ملک سے نکالا گیا۔ لندن کے ایک ہوٹل میں مینجر ہوگیا۔ پھر وہاں فاحشہ عورتوں کی دلالی کرتا رہا۔ آخر بے بسی میں نذر اجل ہوا تو لحد کے لیے وطن کی زمین نصیب نہ ہوئی، دیار غیر میں مرا اور ایک دوسرے ملک میں قبر کے لیے جگہ ملی۔

یہ واقعات ہم نے اس لیے لکھے ہیں کہ آج بھی سرکاری ایوانوں میں بعض اس قسم کے وزراء و حکام موجود ہیں جنھیں مزدور کے پسینہ سے تو ہمدردی ہے لیکن ختم المرسلین ﷺ کی ناموس سے نہیں۔ ہم انھیں یہی کہیں گے ؎

خدا کی غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈرو!

معروف سکالر جناب محمد شریف لون اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

کمانڈر سی۔ ایس احمد کو حکم ملا کہ ایوب خان کو جہاز سے اترتے ہی گرفتار کر لیا جائے۔ ایوب خان کا طیارہ پہنچا تو کموڈور نے بتایا کہ سکندر مرزا نے گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ایوب خان فوراً لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کے پاس گیا۔ جو یہ سن کر غصہ میں آ گیا، وہ فوجی دستوں کے ساتھ ایوان صدر گئے اور صدر کے بیڈ روم کے دروازے کو ٹھڈا مار کر کھولا، ناہید لباس تبدیل کر رہی تھی۔ سکندر مرزا کو حکم دیا گیا کہ وہ فوراً لباس تبدیل کرے۔ اسے کھینچ کر باہر لایا گیا اور زمین

صفحہ 397

پر گھسیٹا گیا پھر ملندہ کے اسی بوڑھے کو ٹھڈے مار کر کار میں دھکیل دیا گیا جہاں سکندر مرزا نے غلام محمد کو تھپڑ مارے تھے۔ برطانوی ہائی کمشنر اور امریکی سفیر بھی پہنچ گئے۔ انھوں نے درخواست کی کہ سکندر مرزا کو جلا وطن کر دیا جائے۔ اس طرح اسے وطن سے نکلنا پڑا“۔

(تحت خاک کے مشاہدات از محمد شریف لون ص 656)

تحفظ ناموس رسالت ﷺ : چند اہم پہلو

حضور نبی کریم ﷺ کی محبت تکمیل ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں ذرا سی بھی خامی ہوگی ، تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت ، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حضور نبی کریم ﷺ کا تعارف وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْن کی سند جاری کرتے ہوئے کرواتے ہیں۔ آپ ﷺ سراپا رحمت ہیں، محسن انسانیت ہیں۔ جو شخص آپ ﷺ سے ذرا سا بھی بغض و عناد رکھتا ہے، آپ ﷺ کی شان میں معمولی سی بھی گستاخی کرتا ہے، وہ از خود ’رحمت‘ سے اپنا تعلق منقطع کر لیتا ہے۔ ایسا شخص کائنات کا بدترین اور بدقسمت ترین شخص ہے اور کسی رعایت اور ہمدردی کا مستحق نہیں۔ جو بدبخت شخص، حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کا مرتکب ہوتا ہے، طعن و تشنیع کرتا ہے، تضحیک و استہزا کرتا ہے ، آپ ﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے، آپ ﷺ کے رتبہ کو گھٹاتا ہے ...... اور پھر جب اسے اس جرمِ عظیم کی سزا ملتی ہے تو وہ اور اس کے حواری اس پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آواز بلند کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں، آپ ﷺ نے تو کبھی دشمنوں سے بھی بدلہ نہیں لیا۔ ایک عورت آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی مگر آپ ﷺ نے کبھی اس کا برا نہیں مانا۔ (یہ واقعہ من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ شاید یہ واقعہ ہمارے کسی تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ عوام الناس میں معروف اور زبان زد عام ہے۔ مگر احادیث یا سیرت النبی ﷺ یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں درج نہیں۔ نجانے یہ فرضی قصہ کس نے وضع کیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے جھوٹی بات آپ ﷺ کی طرف منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے) طائف کے میدان میں آپ ﷺ پر بے حد ظلم و تشدد ہوا مگر آپ ﷺ نے ان کے لیے بددعا تک نہ کی ...... ان بدبختوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ

صفحہ 398

عزیمت، ابتلا، برداشت، صبر اور آزمائشوں کا دور تھا جسے مکی دور کا نام دیا جاتا ہے...... مگر مدنی دور میں اسلامی سلطنت قائم ہوتے ہی نئے قوانین نافذ ہو گئے۔

رواداری کے ہیضہ میں مبتلا اسلامی تاریخ سے نابلد دانش خوروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عرینہ کی ایک جماعت وفد کی صورت میں آئی جس میں آٹھ آدمی تھے۔ یہ لوگ مسلمان کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ یہ لوگ بہت زیادہ لاغر اور کمزور تھے۔ ان کے رنگ زرد اور پیٹ بڑے بڑے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں ٹھکانا دیجیے اور کچھ کھانے کا انتظام فرما دیجیے“۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان لوگوں کو اپنے پاس صفہ پر (یعنی مسجد سے ملحق اس چبوترے پر جہاں دوسرے بہت سے نادار صحابہ کا مسکن تھا) ٹھکانا دیا، ایک روز انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ”ہم لوگ دیہاتی یعنی کسان نہیں بلکہ مویشی پالنے اور ان کے دودھ پر گزر بسر کرنے کے عادی ہیں“۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہتر ہو گا کہ تم لوگ (شہر سے باہر) ہماری دودھیاری اونٹنیوں کے ساتھ رہو“۔ غرض ان لوگوں نے مدینہ سے باہر جا کر رہائش اختیار کی اور اونٹوں کے پاس رہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر عمل کیا جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت وشفا عطا فرمائی اور وہ تندرست ہو گئے۔ غرض جب یہ لوگ تندرست ہو گئے تو اسلام سے منحرف ہو کر دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے اور اس چراگاہ میں (آپ ﷺ کا) جو چرواہا تھا، اس کو قتل کر دیا۔ یہ چرواہا نبی کریم ﷺ کا غلام یسار تھا، انھوں نے یسار کو قتل کر کے اس کے ناک، کان اور آنکھ کاٹ کر لاش کا مثلہ کر دیا۔ انھوں نے یسار کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کی زبان اور آنکھوں میں کانٹے چبھو دیئے، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد یہ لوگ نبی رحمت ﷺ کی اونٹنیاں لے کر فرار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے بیس گھڑ سوار ان کے پیچھے روانہ فرمائے اور ان پر حضرت سعید ابن زیدؓ کو امیر مقرر فرمایا، ان سواروں کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا شخص بھی بھیجا جو نشان قدم پر مجرموں کا پیچھا کر رہا تھا۔ آخر ان سواروں نے ان لوگوں کو جا لیا اور چاروں طرف سے گھیر کر ان سب کو گرفتار کر لیا۔ صحابہ کرامؓ ان کو لے کر مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کے حکم پر ان کے ہاتھ پیر کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں چبھائی گئیں، پھر ان لوگوں کو حرہ میں لے جا کر ڈال دیا گیا جو سیاہ پتھروں کا علاقہ

صفحہ 399

تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے ان پتھروں کو آگ میں جلا دیا گیا ہے۔ یہاں یہ لوگ پیاسے بے تاب مگر کہیں پانی نہیں تھا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی شدت سے زمین کو اپنے دانتوں سے کھود رہا تھا کہ مٹی کی نمی سے تسکین ہو مگر وہ نمی بھی نہ ملی، یہاں تک کہ وہ اسی عبرتناک حالت میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔

(بخاری شریف)

نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا اور یہ بھی کہا کہ بعض علما عراق نے جلد یعنی کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے جو شریعت میں قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا ہے۔ امام مالکؒ اس خفیف سزا کو سنتے ہی برہم ہو گئے اور نہایت غصہ کے لہجہ میں یہ فرمایا:

ترجمہ: اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے کہ جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔

ترجمہ: جو شخص انبیائے کرام علیہم السلام کو گالیاں دے، اس کو قتل کیا جائے اور جو شخص صحابہ کرامؓ کو سب وشتم کرے، اس کے تعزیری کوڑے لگائے جائیں۔ علامہ خفاجی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں۔

(نسیم الریاض 399 ج 4)

ترجمہ: پس کسی کے لیے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے بجز اس کے کہ یا تو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان خدا کی راہ میں دے دے۔

جب حضرت حذیفہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کچھ لوگوں نے توہین رسالتؐ کی تو انھوں نے کہا تم مجھے میرے ماں باپ کی گالی دے لو مگر شان رسالت ﷺ میں کچھ نہ کہو۔ جب وہ باز نہ آئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ جو اس علاقے کے گورنر تھے، انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر اس واقعہ سے مطلع کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو شدید غصہ آ گیا۔ آپ نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دو ہزار کا لشکر بھیجا جنہوں نے ان کے خلاف جہاد کر کے ان کو شکست دی۔ وہ شکست کھا کے دوبارہ شہر میں داخل

صفحہ 400

ہو گئے اور قلعے میں پناہ لی۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک مہینے تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب وہ مجبور ہو گئے تو انھوں نے صلح کی درخواست کی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی کہ غیر مسلح ہو کر باہر آؤ۔ پھر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کے قلعہ میں داخل ہو گئے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سرداروں میں سے ایک سو سرداروں کو توہین رسالت ﷺ کے جرم میں قتل کیا۔ (نصب الرایہ جلد نمبر 3 صفحہ 452، دارالکتب الاسلامیہ لاہور)

کل فن مستظرف“ کے پچھترویں باب کی دوسری فصل کے اختتام پر صفحہ 530 طبع قدیمی کتب خانہ صفحہ 689 طبع المختار، قاہرہ پہ لکھا ہے۔

”بحرین کے کچھ بچے لاٹھیوں سے ہاکی وغیرہ کھیل رہے تھے۔ قریب ہی ایک پادری بیٹھا تھا۔ گیند اس کے سینے کو جا لگی۔ اس نے گیند پکڑی، بچے گیند مانگنے لگے۔ ان بچوں میں سے ایک نے کہا اگر تو ویسے نہیں دیتا تو ہم حضرت محمد ﷺ کے صدقے تجھ سے سوال کرتے ہیں، ہماری گیند دے دے۔ اس پادری نے نہ صرف گیند دینے سے انکار کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ کو گالی بھی دے دی۔ جونہی بچوں نے اس کی زبان سے شان رسالت ﷺ میں گالی سنی تو انھوں نے لاٹھیوں سے اس پر حملہ کر دیا اور اس وقت تک مارتے رہے جب تک وہ لعنتی مر نہ گیا۔ یہ کیس حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ خدا کی قسم! حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی فتح اور مال غنیمت کے ملنے پر اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے بچوں کے اس گستاخ پادری کو قتل کرنے پر خوش نظر آئے اور کہا ”اب اسلام غالب آگیا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے نبی ﷺ کو گالی دی گئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت کی وجہ سے غصے میں آگئے۔ پس غالب ہوئے اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پادری کے خون کو باطل قرار دے دیا۔

قارئین کرام دیکھیے! یہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان بچوں سے ناراض نہیں ہوئے کہ تم نے مجھ سے یا امیر بحرین سے پوچھے بغیر ہی ایسا کیوں کیا بلکہ ان کے اس عمل پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام کا غلبہ کہا۔

حکمرانوں کی طرف سے قیروان کے قاضی تھے۔ ان کے پاس توہین رسالت کے مرتکب ایک

صفحہ 401

یہودی کو پیش کیا گیا۔ وہ اسے دیکھ کر جذبات کو کنٹرول نہ کر سکے اور عدالت ہی میں اسے مکے مار مار کر جان سے مار دیا۔

(سیر اعلام النبلاء جلد نمبر 11 صفحہ 580 طبع دارالفکر)

ایمان کے حقیقی اور واقعی ہونے کے لیے دو باتیں ضروری ہیں۔ محمد رسول ﷺ کی تعظیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم۔ اس کی آزمائش کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کیسی ہی عقیدت، کیسی ہی دوستی، کیسی ہی محبت ہو جیسے تمھارے استاد، تمھارے پیر، تمھارے بھائی، تمہاری اولاد، تمھارے احباب، تمھارے بڑے، تمھارے دوست، تمھارے مولوی، تمھارے حافظ، تمھارے مفتی، تمھارے واعظ وغیرہ وغیرہ۔ اگر وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کریں تو اصلاً تمھارے قلب میں ان کی عظمت اور ان کی محبت کا نام ونشان نہ رہے۔

(تمہید ایمان بآیات القرآن)

شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ کا فتویٰ ہے کہ ”اگر کسی نے حضور اقدس ﷺ کی نعلین شریف کی بھی توہین کی تو واجب القتل ہے“ اگر کوئی مسلمان حضور ﷺ کی شان میں صراحتاً گستاخی کرنے کے بعد توبہ بھی کر لے، تب بھی واجب القتل ہے۔ حضرت سیدنا امام مالکؒ کے نزدیک یہ توبہ قبول نہیں۔ توبہ کرنے کے بعد بھی گستاخِ رسولؐ واجب القتل ہے کیونکہ یہ سزا کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ حد شرعی کے تحت ہوگی۔

ڈاکٹر اظہر وحید اپنے گرانقدر مضمون ”باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار“ میں لکھتے ہیں: ”بعض سادہ لوح لوگ سیرتِ پاک سے عفو و درگزر کی مثالیں دیتے ہیں اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو درگزر سے کام لینے کا ”حکیمانہ“ مشورہ دیتے ہیں۔ وہ سادہ دل ایک سادہ سا نکتہ بھول جاتے ہیں کہ علم جس مرکز سے ملتا ہے، اسی مرکز پر استعمال نہیں ہوتا۔ عفو و درگزر کا علم اس لیے دیا گیا ہے کہ اگر تم پر کوئی ظلم و زیادتی کرے تو اسے ذاتی سطح پر معاف کر دیا کرو۔ اس علم کا مدعا یہ ہرگز نہیں کہ اسے ہی علم دینے والے پر استعمال کرنا شروع کر دو۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کی سند پوری اسلامی تاریخ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ جن اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گستاخانِ رسولؐ کے سر قلم کیے، کیا اُن پر کوئی حد جاری ہوئی؟ فتح مکہ کے موقع پر جب بدر اور اُحد کے قاتلوں کو بھی عام معافی دے دی گئی، دربارِ نبوی ﷺ سے گستاخانِ نبوتؐ کے بارے میں یہ حکم تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے بھی چھپے ہوں تو انھیں ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے۔ گویا اپنے دشمن کو

صفحہ 402

معاف کرنے کی تعلیم ہے، دشمن خدا کو نہیں ...... اور دشمن خدا کون ہے؟ جو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دے ...... رسول خدا ﷺ کو اذیت دینا اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ منجانب الٰہی تفویض شدہ منصب رسالت ﷺ کی توہین کی جائے۔ درحقیقت جب کوئی توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ براہ راست غیظ و غضب الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔ وہ خالق کائنات کی غایت تخلیق پر حملہ آور ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ چونکہ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں، اس لیے یہاں توہین کا ارتکاب کرنے والا گویا مالک کائنات کے اس عظیم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے تحت اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جو شہر علمؐ کے دوبدو ہو جائے، وہ ابوالحکم بھی ہو تو ابوجہل قرار پاتا ہے۔ یہ روزمرہ کی حقیقت ہے کہ اس شہر کے در کو پشت کرنے والے جہل اور گمان کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ شہر علم تو دور کی بات شان رسالتؐ کی طرف بھی اگر کوئی اپنے گمان کی ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے تو اس کی فہم میں ٹیڑھ پیدا ہو جاتا ہے، اس کی عقل کو گرہن لگ جاتا ہے، اُس کے ادراک کو گرہ لگ جاتی ہے اور وہ دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی سادہ سی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے‘‘۔

(روزنامہ نئی بات، لاہور 14 جنوری 2017ء)

حق تعالیٰ پیکر ما آفرید
وز رسالت در تن ما جاں دمید
حرف بے صوت اندریں عالم بُدیم
از رسالت مصرع موزوں شدیم
از رسالت در جہاں تکوین ما
از رسالت دین ما آئین ما
از رسالت صد ہزار ما یک است
جزو ما از جزو ما لاینفک است

اللہ تعالیٰ نے ہماری ملت کا جسم پیدا کیا اور اس جسم میں رسالت کے ذریعے سے جان پھونکی۔ ہم اس دنیا میں ایسے الفاظ تھے جن کی کوئی آواز نہ تھی۔ رسالت کی برکت سے ہم نے ایک موزوں مصرع کی شکل اختیار کر لی۔ ہمارا وجود اس دنیا میں رسالت سے ہے۔ رسالت ہی سے ہمیں دین ملا، رسالت ہی سے شریعت ملی۔ رسالت ہی کی برکت ہے کہ ہم

صفحہ 403

لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں۔ ہمارا ایک جزو دوسرے جزو سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ (یعنی ملت اسلامیہ ایک وحدت ہے)

آں کہ شان اوست یهدی من یرید
از رسالت حلقہ گرد ماکشید
حلقہ ملت محیط افز استے
مرکز او وادی بطحا ستے
ماز حکم نسبت او ملتیم
اہل عالم را پیام رحمتیم
از میان بحر او خیزیم ما
مثل موج از ہم نمی ریزیم ما

وہ پاک ذات جس کی شان یہ ہے کہ جسے چاہتی ہے کامیابی کی راہ پر لگا دیتی ہے۔ اس نے ہمارے ارد گرد رسالت کا حلقہ کھینچ دیا ہے یعنی ہم سب کو رسالت کے ذریعے سے باہم جوڑ دیا ہے۔ وہ ایسا حلقہ ہے جس کا محیط ہر لحظہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا مرکز وادی بطحا ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ نسبت کی بنا پر ملت وقوم بن گئے اور دنیا والوں کے لیے رحمت کا پیغام ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سمندر سے موج کی طرح اٹھتے ہیں لیکن خدا کی ہم پر خاص رحمت ہے کہ موج کی طرح بکھر کر نابود نہیں ہوتے۔

کافروں کی ذلت ورسوائی پر خوش ہونا سنت نبوی ﷺ ہے

حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ ”غزوۂ اُحد میں ایک کافر بڑھ چڑھ کر مسلمانوں پر حملہ کر رہا تھا اور اس نے کافی نقصان پہنچایا تھا، اس صورتحال کو دیکھ کر حضور اقدس ﷺ نے مجھے فرمایا ”اے سعد! تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر قربان“۔ چنانچہ میں نے اس کافر کو ایک تیر مارا جو اس کے پہلو میں لگا اور وہ مردار ہو کر ایسا گرا کہ اس کا ستر بھی کھل گیا۔ (اس کی بدحواسی اور ہلاکت کی خوشی میں) حضور ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے“۔ (بخاری ومسلم)

حضرات صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے بارے میں کس

صفحہ 404

قدر حساس اور غیرت مند تھے، اس کا معمولی سا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے۔

صحابہ کرامؓ اور اکابرین اُمت کی غیرتِ رسول ﷺ

شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کا احسان ہم پر ایسا نہیں جس کا بدلہ ہم نے ادا نہ کر دیا ہو، سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جو احسان ہم پر ہے، اس کا بدلہ ان کو اللہ قیامت میں دے گا اور اتنا نفع مجھ کو کسی کے مال نے نہ دیا جتنا نفع میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے پایا۔

(جامع ترمذی، جلد 2، صفحہ 652)

عرب کے بدوی ماحول اور جاہلی غرور میں ڈوبا ہوا معاشرہ، تہذیب نفس کی کسی آواز پر لبیک کہنے کو تیار نہ تھا، ایسے تہہ در تہہ اندھیروں میں نور نبوت ہویدا ہوا تو اکثر آنکھیں چندھیا گئیں مگر جس وجود نے اپنی فطری راہ یابی کی توفیق پا کر درِ صداقت پر سب سے پہلے سر جھکایا، وہ رفیق نبوت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ نہ دلیل طلب کی اور نہ معجزہ چاہا بلکہ حق شناس وجود نے کلمۂ حق کو ادا ہوتے ہی پہچان لیا، اس طرح قافلۂ ملت اسلامیہ کے اولین سالار کہلائے۔ ایک نازک موقع پر مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو حرم شریف میں گھیر کر حملہ کر دیا۔ کسی نے جا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خبر دے دی کہ اپنے رفیق محبوب کی خبر لو۔ یہ سننا تھا کہ دل و دماغ میں ہلچل مچ گئی، دل بے تاب ہو گیا، تڑپتے ہوئے حرم شریف پہنچے، جا کر جو دیکھا کہ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ پر دست درازی کر رہے ہیں، جلال میں آگئے، بے اختیار اس خطرناک مجمع میں گھس گئے اور رسول اللہ ﷺ پر سے ایک ایک مشرک کو مار مار کر ہٹانے لگے اور کہنے لگے: ’’تم پر افسوس ہے کہ ایک ایسی مقدس شخصیت پر ہاتھ اٹھاتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اللہ کی جانب سے روشن دلیلیں تمہارے پاس لایا ہے‘‘۔ جب مشرکین مکہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا اور ان پر پل پڑے۔ لیکن عاشق رسول ﷺ تو ان کی ہر ضرب پر کہنے لگے ’’تبارکت یا ذوالجلال والاکرام‘‘! ان کے نزدیک تو خود کو دشمنوں کے حوالے کرنا آسان تھا لیکن محبوب پر آنچ بھی آئے یہ بات عاشق کو سخت ناپسند تھی۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں لکھا ہے کہ مشرکین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ

صفحہ 405

عنہ کو گرا کر پاؤں سے روندا ۔ ”عقبہ بن ربیعہ“ جو قریش میں بردبار سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اس قدر غصے میں آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اپنے سخت تلے والے جوتے سے پے در پے اتنی ضربیں لگائیں کہ ان کا سارا منہ سوج گیا اور ناک اس میں چھپ گئی ، ادھر جب یہ سارا حال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قبیلہ والوں کو معلوم ہوا تو فوراً ان کو چھڑا کر گھر لے آئے ۔ آپ بے ہوش تھے لیکن جب ہوش میں آئے تو پوچھا ، رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ اللہ رے! کیا انتہائے عشق ہے کہ اپنے زخموں سے نکلنے والے خون اور تکلیف کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں ہے، پروا ہے، فکر ہے، غم ہے تو اس بات کی کہ میرے محبوب کا کیا حال ہے؟ جس کی محبت جس کے لیے تڑپ دل میں ہو تو عاشق تو اسی کی فکر کرے گا۔

سوچنا چاہیے! کیا ایسی محبت کا ایک ذرہ بھی ہمارے دلوں میں موجود ہے کہ ہم بھی عاشق رسول کہلواتے شرماتے نہیں؟

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور عروہ بن مسعود ثقفی

عاشق صادق حضرت ابوبکر صدیقؓ جن کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر ایک پلڑے میں سارے پیغمبروں کے صحابہؓ کا اور میرے صحابہؓ کا ایمان رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان رکھا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا یعنی اس امت کے صحابہ اور پچھلی تمام امتوں کے صحابہ کے ایمان سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان ہے ۔ غیرت رسول کریم ﷺ کے سلسلے میں آپؓ کا ایک ایمان افروز واقعہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔ ملاحظہ کیجیے۔

پاس آیا اور آ کر کہنے لگا: میں نے قریش کو دیکھا ہے، وہ شیروں کی کھالیں پہنے آپ سے نبرد آزمائی کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں اور آپؐ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ۔ اے محمد! خدا کی قسم! میں یہاں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپؐ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں ۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے موجود تھے، انھوں نے غصے میں آ کر اسے کہا: امصص بظر اللات انحن نفر عنہ وندعہ؟ جا! اپنے معبود (بت) لات کی شرمگاہ کو چوس! ہم حضور ﷺ کو چھوڑ کر کیوں بھاگیں گے؟ اس کے بعد عروہ دوبارہ نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگا جب وہ گفتگو کرتا تو آپ ﷺ کی ریش مبارک پکڑ

صفحہ 406

لیتا۔ عروہ کے بھتیجے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ، نبی ﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر زرہ، عروہ جب نبی ﷺ کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے: اخر یدک عن لحیۃ رسول اللّٰہ ﷺ یعنی اپنا ہاتھ رسول اللّٰہ ﷺ کی ریش مبارک سے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے؟ یہ تو بڑا تند خو اور سخت طبیعت کا مالک ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ (اللہ اکبر) کوئی قرابتداری اور رشتہ داری نہیں۔ اس کے بعد عروہ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صحابہؓ کرام علیہم الرضوان کے تعلق خاطر کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر سردارانِ قریش کے پاس واپس آیا اور بولا: اے برادرانِ قریش! بخدا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جاچکا ہوں، بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں، جتنی محمدؐ کے ساتھی محمدؐ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ کھنکار بھی تھوکتے تھے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا اور وہ شخص اسے اپنے جسم اور اپنے چہرے پر مل لیتا تھا اور جب وہ کوئی حکم دیتے تھے تو اس کی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے تھے اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ان کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے تھے اور فرطِ تعظیم کے سبب انھیں بھر پور نظر سے نہ دیکھتے تھے اور انھوں نے تم پر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے، لہٰذا اسے قبول کرلو‘۔

(الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ)

تم سا حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
یہ شانِ لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
اے شوق نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے
یہ سرکارﷺ کا جلوہ ہے تماشا نہیں کوئی

حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو جہل

مکہ کی فضا ظلم و جور کے ان سیاہ بادلوں سے گمبھیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن ہوگیا، یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہِ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ ان کے اسلام لانے کا سبب یہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کوہِ صفا کے نزدیک رسول

صفحہ 407

اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ کو ایذا پہنچائی اور سخت الفاظ کہے۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، اور کچھ بھی نہ کہا لیکن اس کے بعد اس نے آپ ﷺ کے سر پر ایک پتھر دے مارا، جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا۔ پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا۔ عبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی کوہِ صفا پر واقع اپنے مکان سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کمان حمائل کیے شکار سے واپس تشریف لائے تو اس نے ان سے ابوجہل کی ساری حرکت کہہ سنائی۔ حضرت حمزہؓ غصے سے بھڑک اُٹھے...... یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے۔ ماجرا سن کر کہیں ایک لمحہ رُکے بغیر دوڑتے ہوئے اور یہ تہیہ کیے ہوئے آئے کہ جوں ہی ابوجہل کا سامنا ہوگا، اس کی مرمت کر دیں گے۔ چنانچہ مسجد حرام میں داخل ہوکر سیدھے اس کے سر پر جا کھڑے ہوئے اور بولے: ”او سرین پر خوشبو لگانے والے بزدل! تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے حالانکہ مَیں بھی اسی کے دین پر ہوں“۔ اس کے بعد کمان سے اس زور کی مار ماری کہ اس کے سر پر بدترین قسم کا زخم آ گیا۔ اس پر ابوجہل کے قبیلے بنو مخزوم اور حضرت حمزہؓ کے قبیلے بنو ہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اُٹھے۔ لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انھیں خاموش کر دیا کہ ابوعمارہ کو جانے دو۔ میں نے واقعی اس کے بھتیجے سے بدتمیزی کی تھی۔ (الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ)

حضور نبی کریم ﷺ کا چچا ابولہب آپ کا پڑوسی تھا۔ وہ آپ کو اذیت دینے کے لیے اپنے گھر کا پاخانہ اور گندگی آپ کے دروازے پر پھینک دیتا تھا۔ اس کے جواب میں آپ صرف اتنا فرماتے، اے بنو عبدالمطلب ! تم کیسے ہمسائے ہو؟ ایک روز حضرت حمزہؓ نے اُسے ایسا کرتے دیکھ لیا تو پاخانہ اُٹھا کر ابولہب کے سر پر ڈال دیا۔ وہ سر جھاڑتا جاتا اور کہتا جاتا صابی، احمق۔ ابولہب پھر یہ حرکت کرنے سے باز آ گیا۔

(الطبقات الکبریٰ، جلد اوّل، صفحہ 201، تاریخ الامم والملوک، طبری جلد اوّل، صفحہ 553، الکامل فی

التاریخ جلد اوّل، صفحہ 685، انساب الاشراف جلد اوّل، صفحہ 131 رقم 264، 265)

سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ اور ایک منافق امام مسجد

حضرت عمر فاروقؓ کے عظیم فضائل ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ نے حق بات کو عمرؓ کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ

صفحہ 408

اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ نیز آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں شیاطین انس وجن کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کے ڈر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔

حضرت عبداللہ ابن اُمّ مکتومؓ جو اُمّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے خالہ زاد بھائی تھے اور ان خوش نصیبوں میں سے تھے جن کا شمار ’’السابقون الاولون‘‘ میں ہوتا ہے، یہ نابینا تھے۔ ایک روز بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں شیبہ، عتبہ پسرانِ ربیعہ، ابوجہل، امیہ ابن خلف، ولید ابن مغیرہ، عباس ابن عبدالمطلب اور دیگر روسائے قریش حاضر تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑی دلسوزی اور محویت سے انھیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکالنے کی سعی فرما رہے تھے۔ ’’حریص علیکم‘‘ کی شان اپنے پورے جوبن پر تھی۔ دریں اثنا عبداللہ ابن اُمّ مکتومؓ حاضر ہوئے۔ نابینا ہونے کی وجہ سے محفل کا رنگ نہ دیکھ سکے۔ انھوں نے اپنے شوقِ فراواں سے مجبور ہو کر آتے ہی عرض کی: ’’یا رسول اللہ علمنی مما علمک اللہ‘‘ (اے اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ نے آپ کو سکھایا، اس میں سے مجھے بھی سکھائیے)

یہ مداخلت بیجا حضور کو پسند نہ آئی۔ رخِ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔ آدابِ مجلس کا تقاضا بھی یہی تھا کہ جو سلسلۂ کلام پہلے شروع ہے، وہ ختم ہو جائے تو نئی بات چھیڑی جائے۔ یہاں تو حضور ﷺ تبلیغ کا نہایت اہم ترین فریضہ ادا کرنے میں مصروف تھے۔ عبداللہ پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس بے شمار مواقع تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ کی دلجوئی کرتے ہوئے سورہ عبس نازل فرمائی تاکہ دنیا کو پتا چل جائے کہ اس بارگاہ میں شکستہ دلوں اور سوختہ جگروں کی جو قدر و منزلت ہے وہ کسی اور کی نہیں۔ جو لوگ ان آیات سے سرورِ عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مرتبۂ عالیہ کی تنقیص کرتے ہیں، وہ پرلے درجے کے کم فہم ہیں۔ پہلے بھی اہلِ نفاق کا یہ شیوہ تھا۔ علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں کہ حضرت فاروقِ اعظمؓ کو پتہ چلا کہ ایک امام ہمیشہ نماز میں اسی سورت کی قراءت کرتا ہے تو آپ نے ایک آدمی بھیجا جس نے اس کا سر قلم کر دیا چونکہ وہ حضور کے مرتبہ عالی کی تنقیص کے ارادے سے اس کی قراءت کیا کرتا تھا تاکہ مقتدیوں کے دل میں بھی حضور کی عظمت کم ہو جائے۔ اس لیے نگاہِ فاروق میں وہ مرتد تھا، اور مرتد واجب القتل ہوا کرتا ہے (روح البیان) ایسے مقامات پر انسان کو سنبھل کر قدم اٹھانا چاہیے مبادا ایمان کی شمع گل ہو جائے۔ (ضیاء القرآن از ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ)

صفحہ 409
اٹھا لے زَر کی رنگینی فقیری کا ہنر دے دے
عطا کر جان لفظوں کو دُعاؤں میں اثر دے دے
ملائک ہم نے کیا کرنے ہمیں کوئی بشر دے دے
ترستی ہے یہ دنیا خدا کوئی عمرؓ دے دے

سلطان نور الدین زنگیؒ

سلطان نور الدین ایک عابد شب بیدار تھا۔ وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا ہونے کے باوجود ایسا مرد درویش تھا، جس کی راتیں مصلیٰ پر گزرتی تھیں اور دن میدان جہاد میں۔ وہ عظمت و کردار کا ایک عظیم پیکر تھا، جس نے اپنی نوک شمشیر سے تاریخ اسلام کا ایک روشن باب لکھا۔ سلطان نور الدینؒ رات کا بیشتر حصہ عبادات و مناجات میں گزارتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ نماز عشاء کے بعد بکثرت نوافل پڑھتا اور پھر رسول اکرم ﷺ پر سیکڑوں مرتبہ درود و سلام بھیج کر تھوڑی دیر کے لیے بستر پر لیٹ جاتا۔ چند ساعتوں کے بعد پھر نمازِ تہجد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور صبح تک نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات میں مشغول رہتا۔

ایک شب وہ اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹا تو خواب میں تین بار رسول کریم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ بعض روایتوں میں سلطان نے متواتر تین رات حضور نبی رحمت ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ ہر مرتبہ دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا: ”نور الدین! یہ آدمی مجھے ستا رہے ہیں، ان کے شر کا استیصال کر“ نور الدین یہ خواب دیکھ کر سخت مضطرب ہوا۔ بار بار استغفار پڑھتا اور رو رو کر کہتا: میرے آقا و مولا کو میرے جیتے جی کوئی ستائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ میری جان، مال، آل، اولاد سب حضور خاتم النبیین ﷺ پر نثار ہے۔ خدا اس دن کے لیے نور الدین کو زندہ نہ رکھے کہ حضور ﷺ غلام کو یاد فرمائیں اور وہ دمشق میں آرام سے بیٹھا رہے۔ سلطان نور الدین بے چین ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں ضرور کوئی ایسا ناشدنی واقعہ ہوا ہے، جس سے حضور سرورِ کونین ﷺ کی روح اقدس کو تکلیف پہنچی ہے۔ خواب سے بیدار ہوتے ہی اس نے بیس اعیان دولت کو ساتھ لیا اور بہت سا خزانہ گھوڑوں پر لدوا کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ اہل دمشق سلطان کے یکا یک عازم سفر ہونے سے بہت حیران ہوئے، لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ اصل بات کیا ہے؟ دمشق سے مدینہ منورہ پہنچنے میں عام طور پر بیس پچیس دن لگتے تھے، لیکن سلطان نے

صفحہ 410

یہ فاصلہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ طے کیا اور سولہویں دن مدینہ منورہ جا پہنچا۔ اہل مدینہ اس کی اچانک آمد پر حیران رہ گئے۔ سلطان نے آتے ہی شہر میں آنے جانے کے دروازے بند کرا دیے، پھر منادی کرا دی کہ آج تمام اہل مدینہ اس کے ساتھ کھانا کھائیں، تمام اہل مدینہ نے نہایت خوش دلی سے سلطان کی دعوت قبول کی۔ اس طرح مدینہ منورہ کے تمام لوگ سلطان کی نظر سے گزر گئے۔ لیکن ان میں وہ آدمی نہیں تھے، جن کی شکلیں اسے خواب میں دکھائی گئیں تھیں۔ سلطان نے اکابر شہر سے پوچھا کہ کوئی ایسا شخص تو باقی نہیں رہا، جو کسی وجہ سے دعوت میں شریک نہ ہوسکا ہو، انھوں نے عرض کی کہ اہل مدینہ میں تو کوئی شخص ایسا نہیں رہا، جو دعوت میں شریک نہ ہوا ہو۔ البتہ دو خدا رسیدہ مغربی زائر جو مدت سے یہاں مقیم ہیں، نہیں آئے۔ یہ دونوں بزرگ عبادت میں مشغول رہتے ہیں، اگر کچھ وقت بچتا ہے تو جنت البقیع میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں۔ اس کے سوا وہ کسی سے ملتے ملاتے نہیں۔ سلطان نے حکم دیا، ان دونوں کو بھی ضرور یہاں لاؤ، جب وہ دونوں سلطان کے سامنے حاضر کیے گئے، تو اس نے ایک نظر میں پہچان لیا کہ یہ وہی دو آدمی ہیں، جو اسے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ انھیں دیکھ کر سلطان کا خون کھول اٹھا، لیکن تحقیق حال ضروری تھی، کیونکہ ان کا لباس زاہدانہ اور شکل وصورت مومنوں کی سی تھی۔ سلطان نے ان دونوں سے پوچھا کہ تم دونوں کہاں رہتے ہو؟ انھوں نے بتایا کہ روضہ اقدس کے قریب ایک مکان کرایہ پر لے رکھا ہے اور اسی میں ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں۔

سلطان نے انھیں وہیں اپنے آدمیوں کی نگرانی میں چھوڑا اور خود اکابر شہر کے ہمراہ اس مکان میں جا پہنچا، یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس میں نہایت مختصر سامان مکینوں کی زاہدانہ زندگی کی شہادت دے رہا تھا۔ اہل شہر ان دونوں کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور بظاہر کوئی چیز قابل اعتراض نظر نہیں آتی تھی، لیکن سلطان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ اس نے مکان کا فرش ٹھونک بجا کر دیکھنا شروع کیا۔ یکا یک سلطان کو ایک چٹائی کے نیچے فرش ہلتا ہوا محسوس ہوا۔ چٹائی ہٹا کر دیکھا تو ایک چوڑی سل تھی، اسے سرکایا گیا تو ایک خوفناک انکشاف ہوا۔ یہ ایک سرنگ تھی، جو روضہ اقدس کی طرف جاتی تھی۔ سلطان سارا معاملہ آناً فاناً سمجھ گیا اور بے اختیار اس کے منہ سے صدق الله و صدق رسوله النبی الکریم نکلا۔

سادہ مزاج اہل مدینہ بھی ان بھیڑ نما بھیڑیوں کی یہ حرکت دیکھ کر ششدر رہ گئے، سلطان اب قہر و جلال کی مجسم تصویر بن گیا اور اس نے دونوں ملعونوں کو پابہ زنجیر کر کے اپنے

صفحہ 411

سامنے لانے کا حکم دیا، جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے، تو اس نے ان سے نہایت غضبناک لہجہ میں مخاطب ہو کر پوچھا...... سچ سچ بتاؤ تم کون ہو؟ اور اس ناپاک حرکت سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ دونوں ملعونوں نے نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے جواب دیا، اے بادشاہ! ہم نصرانی ہیں (بعض روایتوں میں ہے کہ یہ دونوں یہودی تھے) اور اپنی قوم کی طرف سے تمھارے پیغمبر کے جسد مبارک کو چرانے پر مامور ہوئے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کار ثواب نہیں ہے، لیکن افسوس کہ عین اس وقت جب ہمارا کام بہت تھوڑا باقی رہ گیا تھا، تم نے ہمیں گرفتار کر لیا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ سرنگ حضرت عمر کے جسد مبارک تک پہنچ چکی تھی، یہاں تک کہ ان کا ایک پاؤں ننگا ہو گیا تھا۔

سلطان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ اس نے تلوار کھینچ کر ان دونوں بدبختوں کی گردنیں اڑا دیں اور ان کی لاشیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں ڈلوا دیں۔ یہ کام انجام دے کر سلطان پر رقت طاری ہو گئی اور شدت گریہ سے اس کی گھگی بندھ گئی، وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں روتا ہوا گھومتا تھا اور کہتا تھا ”زہے نصیب کہ اس خدمت کے لیے حضور ﷺ نے اس غلام کا انتخاب فرمایا“...... جب ذرا قرار آیا تو سلطان نے حکم دیا کہ روضہ نبوی ﷺ کے گرد ایک گہری خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے۔

سلطان کے حکم کی تعمیل میں روضۂ اطہر کے چاروں طرف اتنی گہری خندق کھودی گئی کہ زمین سے پانی نکل آیا، اس کے بعد اس میں سیسہ بھر دیا گیا تا کہ زمانہ کی دستبرد سے ہر طرح محفوظ رہے۔ یہ سیسے کی دیوار روضۂ اقدس کے گرد آج تک موجود ہے اور ان شاء اللہ ابد تک قائم رہے گی۔ آج بھی اہل اسلام سلطان نور الدین کا نام نہایت محبت اور احترام سے لیتے ہیں اور ان کا شمار ان نفوس قدسی میں کرتے ہیں، جن پر سید البشر ﷺ نے خود اعتماد کا اظہار فرمایا اور ان کے محبّ رسول ﷺ ہونے کی تصدیق فرمائی۔

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

(”نور الدین محمود زنگی“ از طالب الہاشمی)

”پرویز“...... تخت رہا نہ تاج

یہ 6 ہجری کی بات ہے۔ خسرو پرویز کو اطلاع دی گئی کہ مدینے سے ایک قاصد آیا ہے۔ نوشیروان کے پوتے نے بڑے تعجب سے پوچھا۔ ”مدینہ سے؟ بتایا گیا، ہاں!“

صفحہ 412

شہنشاہوں کے دربار میں سفیر، شہنشاہوں، بادشاہوں اور امیروں کی طرف سے آتے ہیں۔ یہ مدینے میں کون سی سلطنت قائم ہوئی ہے، جہاں سے اب سفیر بھی آنے لگے؟ حکم دیا ”اچھا، اس قاصد کو ہمارے حضور پیش کیا جائے“۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ پیش ہوئے۔ عرب کے صحرا نشینوں کا حلیہ ...... ڈھیلے ڈھالے کپڑے، پیوند زدہ جوتیاں، شان و طمطراق کا کوئی شائبہ بھی عبداللہ رضی اللہ عنہ کو چھو کر نہ گیا تھا، یہ سفیر تھا یا فقیر ! دربارِ عجم کے حاضر باش خود بھی اس ہیئت سے کچھ خوش نہ تھے اور شہنشاہ کے غصے کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ پہلی ہی نظر میں بے شمار سلوٹیں اس کے ماتھے پر ابھر آئی تھیں۔ شہنشاہ نے ایک درباری سے مخاطب ہو کر کہا ”پوچھو کیا عرض کرنا چاہتا ہے؟“ درباری نے وہ الفاظ دہرائے ”کیا عرض کرنا چاہتے ہو؟“ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ خسرو پرویز کی ذہنی کشمکش سے بالکل بے پروا آگے بڑھے اور حضور اکرم ﷺ کا، نامۂ مبارک اس کے حوالے کیا۔ کیا ہے؟ خسرو نے پوچھا۔ بتایا گیا عرب میں ایک نبی (ﷺ) مبعوث ہوئے ہیں۔ انھوں نے آپ کے نام ایک خط بھیجا ہے۔ نبی (ﷺ) کا خط ......! ہمارے نام !!! خسرو پرویز کا غصہ برابر بڑھتا جا رہا تھا۔ پوچھا ”کیا لکھا ہے اس میں؟“ خط پڑھ کر سنایا گیا۔ ”خدائے رحمن و رحیم کے نام سے محمد ﷺ پیغمبر کی طرف سے کسریٰ والیِ فارس کے نام ...... یہاں تک خط پڑھا جا سکا تھا کہ خسرو تلملا اٹھا اور وہ غصے سے کانپنے لگا۔ بولا! ”شہنشاہ فارس کا نام اپنے نام کے بعد! ہم سے یہ گستاخی! شہنشاہ عجم کی یہ تحقیر! یہ ہمارے دست نگر، یوں ہمارے منہ آنے لگے؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ عرب میں خط کا یہی طریقہ رائج ہے لیکن وہ خدائی خمار تو ادھار کھائے بیٹھا تھا کہ کسی طرح مسلمان سفیر کو شکوہِ سلطانی کا جلوہ دکھائے۔ بولا: بادشاہ یمن کو آج ہی حکم بھیجا جائے کہ ان پیغمبر کو جنہوں نے ہمیں خط بھیجنے کی جرأت کی ہے، فوراً ہمارے دربار میں پیش کیا جائے۔ نامۂ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر چاک کیا اور اس کے پرزے اڑا دیے۔ ملائک نے ان پرزوں کو آنکھوں سے لگایا۔

پھر تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھ لیا کہ پیغام حق کس قدر قوت والا تھا۔ دس برس سے بھی کم عرصے میں اس سلطنت عجم کے پرزے اڑ گئے۔ اس کی گستاخی قدرت کی طرف سے یہ سزا ملی کہ چند ہی دنوں میں اس کے بیٹے شیرویہ نے اسے تخت سے اتار کر قتل کر دیا اور سولہ ہجری میں شانِ کسریٰ کے اس قلعہ سفید کے فرش کو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے بھائی بند اپنے پیوند زدہ جوتوں سے روند رہے تھے۔ نہ وہ تخت رہا نہ تاج! (تحریر: شاہ بلیغ الدین)

صفحہ 413

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اور پرنس ریجی نالڈ

ایک دفعہ شیطان صفت پرنس والی کرک ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تا کہ مدینہ منورہ میں حضرت محمد ﷺ کے روضہ مبارک کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے (نعوذ باللہ)۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے مدینہ پاک سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج، اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگی۔ مسلم سپاہ کے جیالوں نے ان کا تعاقب کیا اور ان کے ٹکڑے کر دیے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسولؐ خود بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا لیکن ابلیس کا یہ فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانا اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنا، اس کی فطرت کا جزو لاینفک بن گیا۔ لین پول کا بیان ہے کہ ریجی نالڈ نے 1179ء میں مسلمانوں کا ایک کارواں لوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کر لیے۔ بادشاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لیے سفیر بھیجے۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ 1183ء میں اس نے پھر یہی حرکت کی۔ 1186ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلے کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا ”تم محمد (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو، اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تم کو چھڑائے“۔ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھا کر کہا، خدا نے چاہا تو اس صلح شکن کافر کو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔

صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہوگئی۔ فرنگی بادشاہ اور اس کے سر بر آوردہ ساتھی مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہو گئے۔ ان سب کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔ سلطان کو دیکھ کر اسے اپنی بد اعمالیاں یاد آ گئیں اور ساتھ ہی سلطان کی قسم بھی یاد آ گئی، جس نے ریجی نالڈ کا خون خشک کر دیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا۔ اس نے سلطان سے پانی مانگا۔ سلطان نے اسے پانی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم گستاخ رسول ہو، تمھیں پانی نہیں دیا جا سکتا۔ پھر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اس کو اس کی تمام بد اعمالیاں شمار کرائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کر دیا۔ اس

صفحہ 414

کے بعد فرمایا کہ ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔

قرآن مجید اور ولید بن مغیرہ

قرآن مجید بدنام زمانہ گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کے عیوب بیان کرتے ہوئے اسے ”زنیم“ یعنی ”حرام زادہ“ قرار دیتا ہے۔ (القلم: 10 تا 13)

مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر کرتے ہیں: ”جس طرح حدیث شریف کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار درود شریف پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اسی طرح قرآن مجید کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ حضور نبی کریم ﷺ کی شان ارفع میں ایک گستاخی کرنے سے نعوذ باللہ منہا اس شخص پر منجانب اللہ دس لعنتیں نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے بسزاء استہزاء یہ دس کلمات ارشاد فرمائے۔ حلاف، مھین، ھماز، مشاء بنمیم، مناع للخیر، معتد، اثیم، عتل، زنیم، مکذب

للآیات“۔ (زاد السعید)

ان دس نشانیوں کا مطلب یہ ہوا:

امام قرطبیؒ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے:

صفحہ 415

”جب ولید بن مغیرہ نے یہ آیات سنیں تو وہ اپنی والدہ کے پاس گیا اور تلوار ننگی کر کے ماں سے کہنے لگا کہ مسلمانوں کا نبی محمد (ﷺ) غلط بیانی نہیں کرتا اور مسلمانوں کے نبی (ﷺ) نے میرے بارے میں دس علامات بیان کی ہیں۔ 9 کا فیصلہ میں خود کر سکتا ہوں، دسویں کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ 9 کی 9 علامتیں میرے اندر موجود ہیں۔ اب دسویں کی تصدیق تُو کر کہ کیا میں ولد الزنا ہوں یا نہیں؟ اس کی ماں نے اسے جواب دیا: تیرا باپ اس قابل نہ تھا کہ اس کے نطفہ سے اولاد ہو سکے، چنانچہ میں نے ایک چرواہے سے زنا کروایا اور تیرا تولد ہوا۔ مسلمانوں کے رب نے سچ فرمایا ہے کہ تو ولد الزنا ہے“۔

(الجامع الاحکام القرآن 234/18)

گستاخان رسول ﷺ سے نفرت

نبی کریم ﷺ کے ایک چچا کا نام عبدالعزٰی تھا۔ قرآن مجید نے اس کا لقب ابولہب رکھا۔ خود آپ ﷺ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کے لیے ”کذاب“ (بہت بڑا جھوٹا) کا لفظ استعمال کیا جو نفرت وحقارت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اب وہ پوری دنیا میں مسیلمہ کذاب کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ مشہور گستاخ رسول اور کافر ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام جبکہ لقب ابوالحکم (عقل کا باپ) تھا مگر رسالت مآب ﷺ نے اسے ”ابوجہل“ کا لقب دیا کہ وہ حق دیکھ کر بھی جہالت کا شکار رہا۔ یہ لقب ایسا مشہور ہوا کہ بہت سے لوگوں کو اس کا اصل نام بھی یاد نہ رہا۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے اسے اپنی امت کا ”فرعون“ قرار دیا۔ غزوہ احد میں مشرکین میں سے لڑائی کے لیے جو کافر سب سے پہلے نکلا، اس کا نام ابو عامر انصاری اوسی تھا، اسے راہب بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا نام ”فاسق“ رکھا۔ جھوٹے مدعی نبوت طلیحہ اسدی کے نائب عیینہ بن حصن فزاری کو آپ ﷺ نے ”احمق مطاع“ کا خطاب دیا یعنی ”بے وقوف سردار“۔ اس طرح آپ ﷺ نے مشہور منافق عبداللہ بن ابی کو ”رئیس المنافقین“ کا خطاب دیا۔

؎ اسمِ مقدس جس کا محمدؐ وہ احمدؐ ، محمودؐ ہے
اللہ کی مخلوق میں بس وہؐ اللہ کا مقصود ہے
شک نہیں اس میں ذات ہی اسؐ کی وجہ ہست و بود ہے
اسؐ کا محبّ، محبوب ہے حق کا اور دشمن مردود ہے
صفحہ 416

مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تذکرہ میں آتا ہے کہ حضرت کی عادت تھی کہ جب کبھی گفتگو یا درس کے دوران میں مرزا قادیانی کا نام آتا تو طبیعت میں جلال آ جاتا۔ کذاب، لعین، مردود، شقی، بدبخت ازلی، محروم القسمت، دجال اور شیطان کہہ کر مرزا قادیانی کا نام لیتے اور اس کے بعد بددعائیہ جملے ارشاد فرما کر اس کے قول کو نقل کرتے۔ کسی خادم نے پوچھا یا شیخ! آپ جیسا نفیس الطبع آدمی، جب مرزا قادیانی کا نام آتا ہے تو اس طرح غضب ناک ہو جاتا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا میاں! میرا ایمان ہے کہ جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت رکھنی چاہیے، اس طرح آپ ﷺ کے دشمنوں سے بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن مرزا قادیانی بدبخت تھا۔ اس لیے اس مردود سے جتنا اظہارِ بغض ہوگا، اتنا ہی زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوگا۔ میں یہ اس لیے کرتا ہوں کہ تم اپنے باپ کے دشمن کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی تو میں حضور علیہ السلام کے دشمن کو کس طرح برداشت کرلوں؟ بعض عاشقان رسول ﷺ کا قول ہے کہ گستاخ رسول ﷺ سے بغض و عناد اور عداوت و نفرت رکھنے کا ثواب درود شریف کے اجر وثواب کے برابر ہے۔ کیونکہ دونوں چیزیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت وعقیدت کی وجہ سے ہیں۔ اس لیے وہ مرزا قادیانی اور اس قبیل کے دیگر گستاخوں کو خنزیر ایسے ناپاک جانور سے تشبیہ دیتے ہیں۔

مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض ترقی پسند اور روشن خیال حضرات، مرزا قادیانی اور دیگر گستاخوں کے لیے صاحب، جناب اور ایسے ہی دیگر احترامیہ القابات استعمال کرتے ہیں جو انتہائی قابل مذمت اور قابل نفرین ہے۔ گستاخان رسول ﷺ کے لیے کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان استعمال کرنا، لکھنؤ کا گلابی لہجہ اختیار کرنا، شاہی آداب بجالانا، اپنے دل میں مروت ومودت پیدا کرنا، بدذوقی ہی نہیں معصیت بھی ہے۔ اسے اخلاق اور رواداری کا نام دینے کا حوصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل غیرت وحمیت اور سینہ عشق رسول ﷺ سے خالی ہو۔ ابو جہل، ابولہب، ولید بن مغیرہ، مسیلمہ کذاب، راجپال، سلمان رشدی، مرزا قادیانی وغیرہ کیا حسن اخلاق یا پھول پیش کیے جانے کے مستحق ہیں؟ ان سے رواداری برتنا کس زمرے میں آتا ہے؟ ان کے لیے عزت وتکریم کا صیغہ استعمال کرنا کہاں کی دانشوری ہے؟

رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا مستحق اور غضب الہی کا سزاوار ہے۔ قرآن کریم میں واضح اعلان ہے:

صفحہ 417

دوستی کریں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی ہے، اگرچہ وہ (مخالفین) اُن (اہل ایمان) کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے (ہی کیوں نہ) ہوں“۔ (مجادلہ: 22)

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی (کا انجام) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال نہیں کر پاتا۔ (اُس کا کیا حال ہوگا؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی (کا انجام) اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (صحیح مسلم: 1770)

عربی کہاوت ہے کہ دوست تین قسم کے ہوتے ہیں۔ (1) دوست (2) دوست کا دوست (3) دشمن کا دشمن۔ اسی طرح دشمن بھی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ (1) دشمن (2) دوست کا دشمن (3) دشمن کا دوست۔

ظاہر بات ہے رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کا دوست، رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کا دشمن، رسول اللہ ﷺ کے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

حضرت حسانؓ بن ثابت کی گستاخانِ رسولؐ کے خلاف شاعری

حضرت حسانؓ بن ثابت اسلام کی دینی شاعری کے بانی تھے۔ انھیں شاعرِ رسول اللہ ﷺ بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت حسانؓ نے دفاع اسلام اور شاعرِ رسول اللہ ﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی ادب و روایات کا بھی دفاع کیا۔ ان کے اشعار کی کاٹ کفار کے لیے تلوار کی دھار سے زیادہ کاری ثابت ہوئی۔ ابتدا میں کفار و مشرکین نے شعر و شاعری کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا بھرپور مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ معاملہ روز بروز بڑھتا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے رسول اللہ کی اپنے ہتھیاروں سے مدد کی ہے (یعنی انصار) انھیں اب زبانوں سے ان کی مدد کرنے میں کونسی چیز مانع ہے؟ جواب میں شعرائے رسول ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ذات اقدس ﷺ کے زیر نگرانی شعرا کی ایک جماعت قائم ہوگئی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ نہ صرف کفار کی بدزبانی اور گستاخیوں کے جواب دیے بلکہ

صفحہ 418

رسول کریم ﷺ کی عزت و آبرو کی حفاظت و دفاع کی خاطر اپنی جان و مال اور عزت و آبرو سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ حضرت حسانؓ بن ثابت کے ایک شعر کا مفہوم ہے: ”میرے باپ دادا اور خود میری عزت و آبرو حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے ڈھال ہے“۔

اغانی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حسان بن ثابت سے فرمایا کہ ہجو شروع کرنے سے پہلے ابوبکرؓ کے پاس جاؤ، وہ تمھیں مکہ والوں کے بارے پوری تفصیلات بتا دیں گے۔ ان کی جنگوں اور ان کے حسب ونسب کے بارے میں پوری معلومات فراہم کر دیں گے، پھر ان کی ہجو کرو، جبریل علیہ السلام تمھارے ساتھ ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ آپ ﷺ خود بھی مکی اور قریشی تھے جبکہ حسانؓ بن ثابت مدنی اور انصاری تھے اور مکہ والوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ اس لیے خطرہ تھا کہ کہیں ایسی بات ہجو میں نہ کہہ جائیں جس میں حضور نبی کریم ﷺ یا آپ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں پر چوٹ پڑ جائے جس کا اظہار آپ ﷺ نے حسانؓ بن ثابت سے کر دیا تھا۔ چنانچہ حسانؓ بن ثابت جب ابوبکرؓ کے پاس آئے تو انھوں نے حسانؓ بن ثابت کو قریش کے حسب ونسب کے بارے میں جملہ معلومات دے کر ان کی ڈھکی چھپی برائیاں اور برے اور بھلے لوگوں کی نشاندہی کی۔ چنانچہ حسانؓ بن ثابت نے مکہ والوں اور قریشیوں کی اس طرح ہجو کی اور اس طرح ان کی بے عزتی کی کہ وہ سن کر تلملا اٹھتے تھے لیکن حضور ﷺ پر چھینٹ نہیں پڑتی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ یہ (اس قسم کے ہجویہ اشعار ) مکہ والوں کے لیے تیروں سے زیادہ تکلیف دہ ہیں ۔ یہ انداز ہجو قریش والوں کے لیے اتنا سخت تکلیف دہ ہے جیسے گھور اندھیری رات میں کسی پر تیز تلوار سے اچانک بھر پور وار کر دیا جائے۔

حضرت حسانؓ بن ثابت کے اشعار قرآنی معانی و مفاہیم سے مستفاد ہوتے ۔ مدح رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ کفار کی ہجو و قدح میں بھی دفتر کے دفتر کہہ ڈالے جس سے مشرک شعرا سر پیٹ کر رہ گئے۔ انھیں ہجو وقدح میں خاص ملکہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس لیے ان کی ہجووں میں اس بلا کی تیزی، گرمی، شدت اور فصاحت و بلاغت ہوتی کہ کفار عرب پناہ مانگتے تھے۔

حضرت حسانؓ بن ثابت خاص طور سے اور کعب بن مالکؓ عام طور سے مکہ والوں کی جنگوں میں شکستوں، معرکہ کار زار سے فرار اور ان کی بزدلی اور بخل کے قصوں کو نمک مرچ لگا کر بیان کرتے تھے۔ ان کی بداخلاقیوں، بے حیائی اور حسب ونسب میں ملاوٹوں ، کمزوریوں

صفحہ 419

اور برائیوں کو اچھالتے تھے، جنھیں سن کر مکہ والے جل اٹھتے تھے اور بھنائے بھنائے پھرتے تھے مگر کچھ نہ بن پڑتی تھی۔

عہد رسالت ﷺ میں حضرت عبداللہؓ بن رواحہ، حضرت کعبؓ بن مالک انصاری اور حضرت حسانؓ بن ثابت شہرۂ آفاق خضرمی شعرا تھے، جنھوں نے مشرکین کی ہجووں کا جواب نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں دیا، لیکن حضرت حسانؓ کی خدمت حضور خاتم النبیین ﷺ کے لیے اس وجہ سے بیش قیمت تھی کہ وہ کفار کی یاوہ گوئی کا مقابلہ بڑی دل جمعی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ روح القدس حضرت جبرائیل علیہ السلام اس سلسلے میں ان کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت ہے کہ شعرائے قریش کی ہجووں کا جواب دینے کا معاملہ طے ہوا تو حضور پاک ﷺ نے حضرت کعب بن مالکؓ کو کہلا بھیجا کہ قریش کی ہجو اور لغویات کا جواب دو۔ انھوں نے حکم کی تعمیل کی۔ لیکن حضور ﷺ کو ان کے جوابی اشعار پسند نہ آئے۔ کیونکہ آپ ﷺ اس سے بھی زیادہ بھرپور اور جارحانہ انداز میں جواب چاہتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کو یہ کام تفویض کیا۔ انھوں نے بھی جوابی ہجو کہی۔ لیکن اس مرتبہ بھی حضور ﷺ کو پسند نہ آئی۔ اس کے بعد حضرت حسانؓ کو پیغام ارسال کیا کہ تم یہ کام کرو۔ لوگ ان کے پاس حاضر ہوئے اور حضور ﷺ کا پیغام سنایا تو انھوں نے بڑے پُرعزم لہجے میں کہا، ”یارسول اللہ ﷺ! میں اس کام کے لیے حاضر ہوں، اور اپنی زبان پکڑ کر کہا کہ خدا کی قسم! اب اس کے ذریعے بصریٰ اور صنعا کے درمیان کسی دوسری بات سے مجھے خوشی نہ ہوگی یعنی اب یہ زبان صرف آپ ﷺ کی طرف سے مدافعت اور آپ ﷺ کی طرف سے زبانی جنگ کے لیے وقف ہے۔ میں گستاخان رسول ﷺ کو اپنی زبان سے ٹھیک کردوں گا“ اور واقعی انھوں نے وہی کر دکھایا جو کہا تھا۔

حضور سرور عالم ﷺ نے حضرت حسانؓ بن ثابت سے ارشاد فرمایا، ”تم ان لوگوں کی ہجو کیسے کرو گے جبکہ میں خود انھی کا ایک فرد ہوں؟ تو انھوں نے جواب دیا، ”فقال: انی اسلک منهم کما تسل الشعرۃ العجین“۔ یعنی میں آپ ﷺ کو ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے کے خمیر سے بال کھینچ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا، ”انصار کے تین اشخاص مشرکین کی ہجو کریں گے، حسان بن ثابت، کعب بن مالک اور عبداللہ بن رواحہ۔ حسان بن ثابت اور کعب بن مالک یہ دونوں حضرات مشرکین کے جواب میں جنگ

صفحہ 420

و جدال اور موروثی عیوب کو ظاہر کریں گے اور حسب ونسب کے ذریعے عار دلائیں گے۔ دوسری طرف عبداللہ بن رواحہؓ انھیں بت پرستی اور کفر پر لعنت و ملامت کریں گے۔ معاصرین میں حسانؓ و کعبؓ کی زبان آوری مشرکین پر سخت گراں ہوا کرتی تھی اور عبداللہ بن رواحہؓ کا جواب قدرے سہل اور نرم ہوتا۔ لیکن اسلام لانے کے کچھ دنوں کے بعد جب ان کے اندر اسلام کی گہری بصیرت آ گئی تو ان کی ہجو بھی بڑی سخت ثابت ہوئی۔

ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

فقال و احسن وامرت كعب بن مالك فقال و احسن، وامرت حسان بن ثابت فشفى و اشتفى.

’’میں نے عبداللہ بن رواحہ کو قریش کی ہجو کا حکم دیا تو انھوں نے بہ حسن و خوبی انجام دیا، پھر کعب بن مالک کو حکم دیا تو انھوں نے بھی اچھے طریقے سے نبھایا، پھر جب حسان بن ثابت کو حکم دیا تو انھوں نے حجت پوری کردی‘‘۔

حضرت حسانؓ کا کلام یہود و نصاریٰ پر زیادہ شاق اس وجہ سے تھا کہ وہ اوثان پرستی کے اعتقادی امراض و معائب کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ قریش کی ناکامیوں، موروثی و خاندانی کمزوریوں کو اجاگر کرتے تھے، جس سے قریش تکلیف وخفت سے پانی پانی ہوجاتے تھے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حضرت حسانؓ کو جو خدمت تفویض فرمائی، اسے انھوں نے بہ احسن و خوبی اور عقیدت کے ساتھ ادا کیا۔ حضور پاک ﷺ اس مدافعت سے نہایت خوش ہوتے تھے۔ ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’اصابہ‘‘ میں ابوداؤد شریف کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے جو حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے: ’’نبی کریم ﷺ حضرت حسانؓ کے لیے مسجد نبوی ﷺ میں منبر بچھواتے تھے جس پر کھڑے ہوکر وہ کفار عرب کی ہجووں کا جواب دیتے اور اپنے آقا مصطفیٰ ﷺ کی مدح میں نغمہ سرا ہوتے تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے کہ حسانؓ کے یہ ہجویہ اشعار کفار کے لیے اندھیرے میں چلنے والے تیروں سے بھی زیادہ کارگر ہیں ۔

دوسری روایت کے مطابق ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ نے حضرت حسانؓ سے ارشاد فرمایا:

اے حسان میری طرف سے جواب دو، اے خدا! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد کر۔

صفحہ 421

ایک دفعہ یوں ارشاد فرمایا:

اے حسان! مشرکین کی ہجو کر ، جبرئیل امین تیرے ساتھ معاونت کریں گے۔

حضرت حسانؓ کی شاعری، واقعاتی اور حقیقت پر مبنی ہوا کرتی تھی۔ ان کی ہجو و قدح میں جہاں گستاخان رسولؐ کی سرکوبی ہوتی، وہیں رسول پاکﷺ اور صحابہ کرامؓ کا دفاع بھی شامل ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی اسلامی حمیت و غیرت پر آنچ آتی تو ان کے جذبات اس طرح برانگیختہ اور موجزن ہوتے جس طرح دیگچی کا پانی جوش کھاتا ہے۔ دین حق کی راہ میں کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہوتا تو اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے اور مشرکین پر بھرپور وار کرتے۔

حضرت حسان بن ثابتؓ کی زبان کی کاٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضرت محمدﷺ کے ایک مبلغ کو الحارث بن عوف المری کی امان میں قتل کر دیا گیا تو حسانؓ اس غداری کو معاف نہ کر سکے۔ اس کا ذکر اتنی تلخ ہجو سے کیا کہ الحارث اسے سن کر چیخ چیخ کر رونے لگے اور رسولﷺ اللہ کی پناہ میں آ کر مزید ہجو کرنے سے حسانؓ کو منع کرنے کی درخواست پیش کی۔ دراصل مشرکین اور دشمنان رسولؐ کے جواب دیتے وقت حسانؓ بن ثابت کے کلام میں اتنی بلندی اور رفعت پیدا ہوتی تھی کہ ان کا کہا ہوا قصیدہ ادبی لحاظ سے ایک شہ پارہ بن جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت محمدﷺ نے انھیں اپنا شاعر منتخب فرمایا۔ حضورﷺ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا کلام مکہ والوں کے دل میں برچھی کی طرح پار ہو جاتا ہے اور اس طرح حسانؓ اپنے دل کو اور میرے دل کو بڑا سکون پہنچاتے ہیں۔ ان کی انھیں خصوصیات کی وجہ سے نقادوں نے حسانؓ بن ثابت کو میدان شعر و شاعری کا استاد مانا ہے۔

معرکہ بدر میں کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سردار واصل جہنم ہوئے تو مکہ میں کہرام مچ گیا۔ کفار کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشہور گستاخ رسول کعب بن اشرف یہودی جگہ جگہ مجمع لگا کر حضور نبی کریمﷺ کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور اشتعال دلانے والے اشعار سناتا اور مقتول کفار کی شان میں مرثیے کہنے لگا۔ اس کے ردعمل میں حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنی دینی غیرت و حمیت کے پیش نظر کعب بن اشرف کے اشعار کا دندان شکن جواب دیا۔ آپ نے اپنے ایک شعر میں کہا:

فابکی فقد ابکیت عبدا راضعا
شبہ الکلیب الی الکلیبۃ یتبع
صفحہ 422

تو نے کمینے غلاموں کو تو (بہت کچھ) رلایا (اب) تُو بھی رو جس طرح کم عمر کتیا، کم عمر کتیا (سے مجامعت) کے بعد آواز نکالتا ہے۔

(سیرت ابن ہشام ص 31)

شعر کے بارے میں جب کعب بن مالکؓ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’مومن اپنی تلوار سے جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی‘‘ یہ فرما کر آپ ﷺ نے مسلمان شعرا و ادبا پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے۔ آج ہمیں جس فکری اور ثقافتی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب اگر ہمیں اس کو روکنا ہے اور اپنی تہذیب، اپنے نظریات اور اپنی قدروں کے ساتھ جینا ہے تو اس کے لیے جہاد بالسیف کے ساتھ ساتھ جہاد بالقلم کی بھی ضرورت ہے۔ اب یہ مسلمان اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فکری اور ثقافتی یلغار کے آگے بند باندھ لیں اور حقِ قلم ادا کریں۔

کافروں سے دوستی یا دشمنی؟؟؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

كانوا آباءهم او ابناءهم او اخوانهم او عشيرتهم.

(المجادلة: 22)

’’اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرنے والے ہرگز نہ پائیں گے، اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے قبیلے کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر و تشریح کے ضمن میں مفسرین کرام نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ:

نے غزوۂ بدر کے روز میدانِ بدر میں اپنے باپ کو قتل کر دیا تھا۔

حقیقی بیٹے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہوا تھا۔

عبید بن عمیر کو بدر کے دن ہی قتل کیا تھا۔

صفحہ 423

ایک قریبی رشتہ دار (اپنے سگے ماموں عاص بن ہشام) کو قتل کر دیا تھا۔

حارثؓ کے بارے میں بھی نازل ہوئی کیونکہ انھوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو بدر کے دن قتل کر دیا تھا۔

مسلمانوں سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے اس طرف اشارہ کیا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ پھر اس حاصل کیے ہوئے فدیے (تاوانِ جنگ) سے مسلمانوں کی قوت و طاقت (اسلحہ وغیرہ) کا سامان بنایا جائے، آخر وہ ہمارے ہی چچیرے بھائی اور برادری والے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں سے اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت کی دولت سے بھی نواز دے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرؓ بن خطاب سے مشورہ طلب کیا تو سیدنا حضرت عمر فاروقؓ فرمانے لگے، اے اللہ کے رسول ﷺ! میری رائے اور مشورہ وہ نہیں ہے جو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے دیا ہے۔ میں تو آپ سے عرض کروں گا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ قیدیوں میں جو فلاں شخص میرا قریبی رشتہ دار ہے، وہ مجھے دے دیا جائے اور مجھے اس کی گردن کاٹنے کا اختیار حاصل ہو تا کہ میں اس کی گردن کاٹ ڈالوں۔ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کو ان کا قیدی حقیقی بھائی عقیل بن ابی طالب سپرد کر دیا جائے تاکہ وہ اس کی گردن کاٹ ڈالیں۔ علیٰ ھذا القیاس جس جس کا کوئی عزیز اور رشتہ دار ان قیدیوں میں ہے، وہ اس کے حوالے کر دیا جائے اور اس کو اختیار دیا جائے کہ وہ اس کا گلا کاٹ ڈالے، تاکہ اللہ تعالیٰ کو ہماری طرف سے پتا چل جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کی کوئی محبت و مودت نہیں ہے۔

(دیکھئے تفسیر ابن کثیر: 330/4)

جنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے محاصرے کا اعلان کر دیا تو دو شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، جن کے بنو قینقاع کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ ایک حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے، جن کے بنو قینقاع کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات تھے اور بہت سے معاملات و مفادات بھی ان سے وابستہ تھے، مگر انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ جانتے ہیں کہ بنو قینقاع کے ساتھ تعلقات

صفحہ 424

اور دوستی ترک کرنے میں مجھے کتنے معاشی اور معاشرتی نقصانات ہوں گے، مگر میں سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا کے لیے قربان کرتا ہوں، جبکہ عبداللہ بن ابی کی صورت حال بھی اسی طرح کی تھی، مگر اس نے نبی اکرمﷺ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے یہ دوستی اور تعلقات ترک کرنے میں نقصان ہوگا، جس کا میں متحمل نہیں ہوں، چنانچہ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

بعض ط ومن يتولهم منكم فانه منهم ط ان الله لا يهدى القوم الظلمين ۝ فترى الذين فى قلوبهم مرض يسارعون فيهم يقولون نخشى ان تصيبنا دائرة فعسى الله ان ياتى بالفتح او امر من عنده فيصبحوا على ما اسروا فى انفسهم ندمين ۝ (المآئدۃ، 51-52)

’’اے اہل ایمان! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ بھی انھیں میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ لیکن اس کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، وہ ان کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کہیں ہم پر کوئی گردش نہ آجائے۔ پس ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے دیں یا کوئی اور فیصلہ صادر فرمادیں تو ان منافقوں کے پاس ندامت کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔‘‘

تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن ابی کا کردار آج بھی زندہ ہے، دونوں کردار نظر آرہے ہیں۔ اب یہ مسلمان پر منحصر ہے کہ وہ کون سا کردار پسند کرتا ہے، عبادہ بن صامتؓ یا عبداللہ بن ابی کا۔

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم؟

قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت واضح اور اٹل انداز میں اپنا حکم بیان کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت قرآنیہ میں چند درج ذیل احکامات اور ہدایات ارشاد فرمائی ہیں:

جو شخص بھی یہود و نصاریٰ اور ان کے علاوہ دیگر کافروں (قادیانیوں) سے دوستی اور محبت کرے گا اور مومنوں کے خلاف ان کافروں کی مدد، سپورٹ اور حمایت کرے گا، وہ بالکل انہی جیسا کافر ہوگا۔ اس شخص کا انجام اور معاملہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بالکل وہی ہوگا

صفحہ 425

جو ان کافروں کا ہوگا۔

اس آیت کریمہ میں یہ واضح راہنمائی بھی موجود ہے کہ کافر کبھی کسی مسلمان کا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ علاوہ ازیں اس بات کی راہنمائی بھی موجود ہے کہ تمام کافروں سے بائیکاٹ اور عداوت واجب ہے۔ جب اللہ رب العزت نے ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں سے ان کے کافر ہونے کی بنا پر دشمنی اور قطع تعلق کرنے کا حکم دیا ہے تو یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ جو کافر (قادیانی) ہیں، ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہوگا۔

اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ان الکفر کلہ ملۃ واحدۃ (ساری دنیا کا کفر ایک ملت اور ایک جماعت ہے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بعضہم اولیاء بعض (وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں)

امام ابن جریر طبریؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں: ”زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ومن یتولہم منکم فانہ منہم ط) کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ جو مومنوں کے بجائے یہودیوں، عیسائیوں (اور قادیانیوں) سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہوگا۔ اللہ کے ہاں وہ یہودی اور عیسائی ہی شمار ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے کہ جو ان یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی رچائے گا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا تو وہ ملت یہود اور ملت نصاریٰ کا ایک فرد ہوگا اور انہی کے مذہب پر کار بند سمجھا جائے گا۔ (ملت اسلامیہ اور دین اسلام سے وہ نکل جائے گا)۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی سے محبت اور دوستی کے تعلقات قائم کرتا ہے تو آخر وہ اس شخص کو، اس کے دین کو اور اس کے نظریات اور مشن کو پسند کرتا ہے تو دوستانہ تعلقات قائم کرتا ہے۔ اگر کسی کو کسی شخص کے دین و مذہب، نظریہ اور مشن سے اختلاف ہوگا تو وہ کیونکر اس سے دوستی قائم کرے گا۔ اسی اصول کے تحت اگر کوئی شخص کسی یہودی اور عیسائی کافر کو پسند کرتے ہوئے اور اس کے مذہب و دین کو پسند کرتے ہوئے دوستی کرتا ہے تو گویا وہ اس کے مخالفین (مسلمانوں) سے لازماً دشمنی اختیار کرے گا اور ان سے ناراض ہوگا۔ نتیجتاً جو حکم اور انجام دنیا و آخرت میں ان یہودیوں، عیسائیوں (اور قادیانیوں) کا ہوگا، وہی حکم اور انجام یہودیوں، عیسائیوں (اور قادیانیوں) سے دوستیاں کرنے والے ان نام نہاد

صفحہ 426

مسلمانوں کا بھی ہوگا‘‘۔

شیخ جمال الدین قاسمیؒ اسی بنا پر فرماتے ہیں: ’’اللہ رب العزت کے اس زیر تفسیر فرمان (ومن يتولهم منكم فانه منهم ط) کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرے گا، وہ ان کے گروہ ہی میں شمار ہوگا۔ ان سے دوستی کرنے والے پر بھی وہی حکم اور قانون نافذ ہوگا جو ان یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے ہوگا۔ باوجود اس کے کہ وہ زبانی دعوے کرتا رہے کہ میں تو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا مخالف ہوں۔ اس لیے کہ ظاہری حالات و واقعات اور عمل و کردار کی شہادت ان کافروں کے ساتھ پوری پوری موافقت کی واضح دلیل ہے۔ (یہی قانون قادیانی اور قادیانی نوازوں پر لاگو ہوتا ہے)۔

فضیلۃ الشیخ سلیمان بن عبداللہؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ رب العزت نے یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے سے منع فرمایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مسلمانو! یاد رکھو جو تم میں سے ان کو اپنا دوست اور حمایتی بنائے گا پھر وہ ان میں ہی شمار ہوگا۔ وہی معاملہ اس شخص کا بھی ہوگا اور جو یہود و نصاریٰ کے علاوہ کسی کافر (قادیانی) کو دوست بنائے گا یا کسی بتوں کے پجاری (ہندومت یا بدھ مت) کو دوست بنائے گا تو وہ ان مذہب والوں ہی میں شمار ہوگا‘‘۔

لہٰذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ’’دولتِ ایمان‘‘ اور ’’کافروں سے دوستی‘‘ ایک دل میں اکٹھی ہو سکتی ہی نہیں۔ اگر دل میں دولتِ ایمان ہوگی تو کافروں سے دوستی نہیں ہوگی۔ اگر کافروں سے دوستی ہوگی تو دل میں دولتِ ایمان نہیں ہوگی۔ لہٰذا جو شخص کافروں کو دوست بنائے گا، وہ ایمان کے ان لازمی تقاضوں کو کبھی پورا نہیں کر سکے گا جو اللہ پر، نبی ﷺ پر اور نبی ﷺ پر نازل ہونے والی وحی یعنی قرآن اور حدیث پر ایمان لانے کے بعد ایک بندۂ مسلم پر لاگو ہوتے ہیں۔ گستاخانِ رسولؐ قادیانیوں سے دوستی رکھنے والوں کو اس امر پر خوب غور کرنا چاہیے۔

لايتخذ المؤمنون الكفرين اولياء من دون المؤمنين ج ومن يفعل ذلك فليس من الله فى شىء الا ان تتقوا منهم تقۃ ط و يحذركم الله نفسه ط والى الله المصير ہ (ال عمران: 28)

صفحہ 427

”مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ اللہ کی کسی حمایت میں نہیں، مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو اور اللہ تعالیٰ خود تمھیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“۔

مذکورہ الصدر آیت کی تفسیر میں شیخ التفسیر والمفسرین امام ابن جریر طبریؒ رقمطراز ہیں: ”اس آیت کریمہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ کافروں کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ بناؤ۔ وہ اس طرح کہ ان کے دین و مذہب کی بنیاد پر ان سے دوستیاں رچانے لگ جاؤ، مسلمانوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے کے درپے ہو جاؤ اور کافروں کو مسلمانوں کے خفیہ راز اور معلومات فراہم کرنے لگ جاؤ۔ جو شخص ایسا رویہ اختیار کرے گا، فليس من الله فى شىء یعنی اس طرح کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ اس سے لاتعلق ہو جائے گا۔ اس وجہ سے کہ وہ اسلام سے کفر میں داخل ہو چکا ہے۔

مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیرؒ یوں رقمطراز ہیں: ”اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی کریں۔ اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر ان سے چھپ چھپ کر دوستانہ مراسم قائم کریں۔ بعد ازاں اس بات پر ڈانٹتے ڈپٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ومن يفعل ذلك فليس من الله فى شىء (آل عمران:28) یعنی جو کافروں سے دوستی کر کے اس جرم عظیم کا ارتکاب کرے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوگا“۔

اسی طرح سورۃ الممتحنہ کی آیت:1 میں بھی اللہ تعالیٰ کافروں سے دوستی کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

بالمودة وقد كفروا بما جاء كم من الحق ج......

”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ تم تو دوستی کی وجہ سے ان کی طرف خفیہ پیغام بھیجتے ہو، اور وہ اس حق کا انکار کرتے ہیں جو تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے آچکا ہے......“

پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الممتحنہ کی آیت:1 کے آخر میں سورۂ آل عمران کی

صفحہ 428

آیت: 28 کے طرز کلام سے ملتا جلتا انداز اختیار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”تم میں سے جو بھی یہ کام کرے گا، وہ یقیناً راہِ راست سے بھٹک جائے گا“۔

یایہا الذین آمنوا لا تتخذوا آباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان ط ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ۝

(التوبہ: 23)

”اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وہ پورا پورا گنہگار (ظالم) ہوگا“۔

علامہ قرطبیؒ مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

”اس آیت کا ظاہری حکم اور معنی تو یہی معلوم ہوتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں تمام مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس آیت کا حکم قیامت تک لیے باقی ہے (یعنی منسوخ نہیں ہوا) قیامت تک کے لیے یہ حکم ہے کہ مومنوں اور کافروں کے درمیان محبت و دوستی ہرگز جائز نہیں ہے۔

علامہ قرطبیؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں:

”قرآن مجید کی مذکورہ آیت کے آخری حصہ ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ۝ کے بارے میں مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے:

”جو کسی کافر و مشرک سے دوستی کرے گا، وہ ان کی طرح ہی کا مشرک ہوگا، اس لیے کہ جو شرک کو پسند کرتا ہے، وہ بھی مشرک ہوتا ہے“۔

دلیل ثانی میں جو بات گزری تھی کہ بعض لوگوں نے غلطی کی بنا پر یہ سمجھا ہے کہ

”کوئی نام نہاد مسلمان اس وقت کافر ہوگا جب وہ دل سے کافروں کے دین و مذہب کو پسند کرنے لگ جائے۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کے خلاف کسی کافر کی مدد و معاونت کرتا ہے اور کافر کے ساتھ مل کر مسلمان کے خلاف لڑائی کرتا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا، جب تک دل سے اس

صفحہ 429

کافر کے دین کو پسند نہ کرے۔‘‘

امام طبریؒ کے حوالے سے پیش کردہ اس کلام اور گفتگو کی مزید کچھ وضاحت سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے کلام سے واضح ہوتی ہے کہ یہ سمجھنا مبنی برخطا ہے کہ کافروں سے دوستی کرنے والے کسی شخص کو کافر قرار دینے کے لیے ”رضائے قلبی“ (دلی خوشنودی) کی شرط عائد کی جائے، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے مذکورہ بالا قول سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے موقف کے مطابق بھی مسئلہ یوں ہی ہے کہ جو کسی کافر کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کرے گا، تو وہ اسی کی طرح کافر ہوگا۔ کسی کافر سے دوستی کے ظاہری مراسم ہی اس کے دل کے اندر کی رضا و رغبت کی دلیل سمجھے جائیں گے۔‘‘

اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قادیانی، یہود و نصاریٰ سے زیادہ خطرناک اور آستین کے سانپ ہیں۔ ان سے دوستانہ تعلقات اور مراسم رکھنے والے اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک انہی میں شمار ہوں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے قادیانیوں کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

تعالیٰ یوں حکم دیتا ہے:

یایھا الذین آمنوا لا تتخذوا الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ط اتریدون ان تجعلوا لله علیکم سلطنا مبینا o (النساء: 144)

’’اے اہل ایمان! مومنوں کے علاوہ کافروں (یہودیوں، عیسائیوں، قادیانیوں وغیرہ) کو اپنے دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا صریح الزام لو‘‘۔

مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مومن بندوں کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ وہ منافقوں والی عادات و اطوار اور اخلاق و کردار اختیار نہ کریں۔ وہ منافق جو مومنوں کے بجائے کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں وہ پھر انھیں کی طرح کفر کی حالت میں چلے جاتے ہیں، کیونکہ وہ اس کردار کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات سے منع کرتا ہے کہ میرے دشمنوں سے محبت کی پینگیں بڑھاؤ اور ان کافروں سے دوستیاں کرو۔ ملت اسلامیہ کو چھوڑ کر ان کافروں کو کسی طرح کا تعاون اور سہارے مت فراہم کرو۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے اہل ایمان! اگر تم نے یہ رویہ

صفحہ 430

اور کردار اختیار کیا تو تم ان منافقوں کی طرح ہو جاؤ گے جن پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کو لازم قرار دے دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں کافروں کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اب اگر تم ان سے دوستی کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو خود یہ دلیل مہیا کر رہے ہو کہ وہ تمھیں بھی سزا دے (یعنی معصیت الٰہی اور حکم عدولی کرنے کی وجہ سے)

ارشاد خداوندی ہے:

بما تعملون بصير o (الممتحنہ: 3)

ترجمہ: ”تمھارے خاندان والے (رشتہ دار) اور تمہاری اولاد روز قیامت کام نہیں آئیں گے (روز حساب تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکیں گے) فیصلہ تو اللہ کرے گا۔ تم جو کرتے ہو، اللہ دیکھ رہا ہے“۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ ان کفار کا مقصد کیا ہے۔ غور کیجیے:

الله هو الهدى ولئن اتبعت اهواء هم بعد الذى جاء ك من العلم مالك من الله

من ولى ولا نصير o (البقرہ: 120)

”اور یہود و نصاریٰ اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہوں گے، جب تک تم ان کے مذہب کے پیروکار نہیں بن جاتے۔ کہہ دو کہ سیدھا اور صاف راستہ تو وہ ہے جو اللہ نے دکھایا ہے اور (اے اہل اسلام) اگر اس علم کے بعد بھی جو تم تک پہنچا دیا گیا ہے، تم ان (یہود و نصاریٰ) کی خواہشات اور مذموم (عزائم) کی پیروی کرو گے تو تمھیں کوئی ایسا دوست اور ایسا مددگار نہیں ملے گا، جو تمھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکے“۔

اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے حوالے سے کہ جو کفار کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہو گا، ایک حدیث پیش ہے:

”عبداللہ بن مسعودؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”انسان کو اسی کا ساتھ نصیب ہوگا جس سے اس نے محبت کی“۔

مطلب واضح ہے کہ وہ روز حساب ان ہی روسیاہ کفار کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

ایک اور حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے:

صفحہ 431

”عبداللہ بن عباسؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، محبت، نرم گفتگو اور شفقت کے اظہار میں تمہارا ان (کفار) کی طرف جھکاؤ نہ ہو“۔

غور کیجیے کہ کفار کو دوست نہ بنانے کے متعلق اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کس قدر سخت ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ کفار نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اس لیے کہ یہ اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ یہ مسلمانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو بھی ان کے دلوں میں اسلام دشمنی ہوتی ہے اور وہ اس دوستی کو اسلام کی بیخ کنی میں اور مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔

”بے شک کافر تمھارے کھلے دشمن ہیں“۔

”کفار کی دوستی شیاطین کے ساتھ ہوتی ہے“۔

صرف یہ نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے منع کیا ہے بلکہ یہ حکم بھی دیا ہے:

بئس المصير. (التوبہ: 73)

”اے نبیؐ! کفار اور منافقین دونوں کے خلاف جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جگہ ہے“۔

عنتم قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفي صدورهم اكبر قد بينا لكم الايت ان كنتم تعقلون. (آل عمران: 118)

”اے ایمان والو! غیر مسلموں کو اپنا ہمراز نہ بناؤ (کیونکہ) وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں رہنے دیتے۔ تمھیں جس قدر تکلیف پہنچتی ہے، وہ اتنا ہی خوش ہوتے ہیں۔ (اسلام کی) دشمنی ان کی زبان پر آ جاتی ہے (لیکن) ان کے دلوں میں جو دشمنی چھپی ہوئی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے تمھیں پتے کی بات بتا دی ہے، اگر تم میں عقل ہے (تو اس بات کو سمجھو)

صفحہ 432

ہمراز بنانے کا مطلب ہوتا ہے کسی دوست کو اپنے دکھ درد سنانا۔ عموماً توقع یہ رکھی جاتی ہے کہ دوست ہمدردی کا اظہار کرے اور امداد بھی دے۔ پھر اس کا سدباب کیا ہو؟ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس سوال کا جواب بھی دے دیا ہے:

’’کفار کی باتوں میں نہ آؤ، ان کے خلاف جہاد کبیر کرو‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں میں سے ایک نبی پر وحی بھیجی کہ فلاں شخص جو تمہاری امت میں بڑا عابد ہے۔ اس سے کہہ دو کہ تو نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے اپنی جان کو راحت اور اطمینان تو دیا ہے اور غیروں سے تعلق قطع کر کے مجھ سے جو تعلق پیدا کیا تو، تو نے میری وجہ سے عزت حاصل کی لیکن کیا جو میرا حق تیرے اوپر تھا، اس میں سے بھی تو نے کچھ ادا کیا؟ ان نبی علیہ السلام نے جب اس زاہد کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا تو اس نے کہا کہ اے میرے رب! تیرا کون سا حق میرے ذمے ہے؟ ارشاد ہوا تو نے کسی شخص سے میری وجہ سے دشمنی یا کسی سے میرے لیے دوستی بھی کی؟ (ابونعیم، خطیب)

یعنی دنیا کو چھوڑ دینے اور لوگوں سے لاتعلق ہو جانے سے تجھے کچھ قلبی سکون تو ہوا ہو گا اور میرا قرب اور میری عزت بھی حاصل ہوئی لیکن ہمارے تعلق کی جو اصل چیز تھی، اس میں کیا کیا؟ اور وہ یہ تھی کہ مخلوقِ خدا میں سے اگر کسی سے دشمنی ہو تو وہ بھی ہماری وجہ سے ہو اور دوستی ہو تو وہ بھی ہماری وجہ سے ہو۔ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ!

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس (کسی بندۂ مومن) نے اللہ ہی کے واسطے محبت کی، اللہ ہی کے واسطے کسی سے بغض رکھا اور اللہ تعالیٰ ہی کی خوشنودی کے لیے کسی کو کچھ عطا کر دیا اور اللہ ہی کی خوشنودی کی خاطر کسی سے کچھ لے لیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔

حضرت عبداللہؓ اور ان کا والد عبداللہ بن اُبی منافق

5ھ میں بنو المصطلق کی مشہور جنگ ہوئی، اس میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کی باہم لڑائی ہو گئی، معمولی بات تھی مگر بڑھ گئی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی قوم سے دوسرے کے خلاف مدد چاہی اور دو فریق ہو گئے۔ قریب تھا کہ آپس میں لڑائی ہو جائے مگر بعض لوگوں نے درمیان میں پڑ کر صلح کرا دی۔ عبداللہ بن اُبی منافقوں کا سردار اور مسلمانوں کا سخت مخالف تھا مگر چونکہ اسلام ظاہر کرتا تھا، اس لیے اس کے ساتھ سخت برتاؤ نہ کیا جاتا تھا، اس کو جب اس

صفحہ 433

قصے کی خبر ہوئی تو اس نے حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے اور اپنے دوستوں سے خطاب کر کے کہا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے شہروں میں ٹھکانا دیا، اپنے مالوں کو ان کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا، اگر تم ان لوگوں کی مدد کرنا چھوڑ دو تو ابھی سب چلے جائیں اور یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم عزت والے مل کر ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔ حضرت زیدؓ بن ارقم نو عمر بچے تھے، وہاں موجود تھے، یہ سن کر تاب نہ لا سکے، کہنے لگے، خدا کی قسم! تُو ذلیل ہے تُو اپنی قوم میں بھی ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ تیرا کوئی حمایتی نہیں اور محمد ﷺ عزت والے ہیں۔ رحمٰن کی طرف سے بھی عزت دیے گئے ہیں اور اپنی قوم میں بھی عزت والے ہیں۔ عبداللہ بن اُبی نے کہا، اچھا میں تو ویسے ہی مذاق میں کہہ رہا تھا مگر حضرت زیدؓ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ عبداللہ بن ابی نے یہ بکواس کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ اگر اجازت ہو تو اس کافر کی گردن اڑا دی جائے مگر حضور ﷺ نے اجازت مرحمت نہ فرمائی۔ عبداللہ بن اُبی کو جب اس کی خبر ہوئی کہ حضور ﷺ تک یہ قصہ پہنچ گیا ہے تو حاضر خدمت ہو کر جھوٹی قسمیں کھانے لگا کہ میں نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا ہے۔ زید نے جھوٹ نقل کر دیا ہے۔ انصار کے بھی کچھ لوگ حاضر خدمت تھے، انھوں نے بھی سفارش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ قوم کا سردار ہے، بڑا آدمی شمار ہوتا ہے۔ ایک بچہ کی بات اس کے مقابلے میں قابل قبول نہیں، ممکن ہے کہ سننے میں کچھ غلطی ہوئی ہو یا سمجھنے میں۔ حضور ﷺ نے اس کا عذر قبول فرما لیا۔ حضرت زیدؓ کو جب اس کی خبر ہوئی کہ اس نے جھوٹی قسموں سے اپنے کو سچا ثابت کر دیا اور زید کو جھٹلا دیا تو شرم کی وجہ سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ بالآخر سورۂ منافقون نازل ہوئی جس سے حضرت زیدؓ کی سچائی اور عبداللہ بن ابی کی جھوٹی قسموں کا راز کھل گیا۔ حضرت زیدؓ کی وقعت موافق ومخالف سب کی نظروں میں بڑھ گئی اور عبداللہ بن اُبی کا قصہ بھی سب پر ظاہر ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہؓ تھا۔ وہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشق رسولؐ تھے، دیکھنے والوں کی نگاہوں پر خیرہ کن بجلی کوند گئی، منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے جب عبداللہؓ جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور باپ سے کہنے لگے: اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تُو اس کا اقرار نہ کرے کہ تُو ذلیل ہے اور محمد ﷺ عزیز ہیں۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے

صفحہ 434

باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے والے تھے مگر حضورﷺ کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی۔ آخر اس نے مجبور ہو کر اقرار کیا کہ واللہ! میں ذلیل ہوں اور محمدﷺ عزیز ہیں، اس کے بعد وہ مدینہ میں داخل ہوسکا۔ (تاریخ خمیس ص172)

حضرت عمر فاروق اور ایک منافق

ایک دفعہ ایک یہودی اور ایک منافق میں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ یہودی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو، میں اسے حضرت محمد مصطفیٰؐ کی خدمت میں لے چلوں۔ چنانچہ وہ کوشش کر کے اسے حضورﷺ کی بارگاہ عدالت میں لے آیا، اور حضورﷺ نے واقعات سن کر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ وہ منافق یہودی سے کہنے لگا کہ میں تو عمرؓ کے پاس چلوں گا اور ان کا فیصلہ منظور کروں گا۔ یہودی بولا! عجب اُلٹے آدمی ہو، کوئی بڑی عدالت سے ہو کر چھوٹی عدالت میں بھی جاتا ہے، جب تمھارے پیغمبرﷺ فیصلہ دے چکے تو اب عمرؓ کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ منافق نہ مانا اور اس یہودی کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور حضرت عمرؓ سے فیصلہ طلب کرنے لگا۔ یہودی بولا! جناب پہلے یہ بات سن لیجیے کہ ہم اس سے قبل محمدﷺ سے فیصلہ لے آئے ہیں اور انھوں نے فیصلہ میرے حق میں فرما دیا ہے مگر یہ شخص اس فیصلہ پر مطمئن نہیں اور اب یہاں آپ کے پاس آ پہنچا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی تو منافق سے پوچھا، کیا یہودی جو کچھ بیان کر رہا ہے، درست ہے؟ منافق نے کہا: ہاں سرکارﷺ اس کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں۔ فاروق اعظمؓ نے فرمایا، اچھا ٹھہرو میں ابھی آیا اور ابھی تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے، پھر ایک تلوار لے کر نکلے اور اس منافق کی گردن یہ کہتے ہوئے اُڑا دی کہ جو حضورﷺ کا فیصلہ نہ مانے، اس کا فیصلہ یہ ہے۔

حضورﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا واقعی عمرؓ کی تلوار کسی مومن پر نہیں اُٹھتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرما دی۔ فلا وربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم (النساء:65) تیرے ربّ کی قسم! یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے، جب تک تمھیں اے اللہ کے رسولؐ اپنا حکم نہ مانیں اور تمہارا فیصلہ تسلیم نہ کریں۔ (تاریخ الخلفاء ص88)

یہ وہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا، اور اس کے گورنر بنے تو کچھ عرصہ بعد بؤونہ کا مہینہ آ گیا۔ (یہ ماہِ جون کا قبطی نام ہے)۔ مہینہ کے شروع ہوتے ہی مصر کے قدیم قبطی باشندوں کا ایک وفد حضرت عمروؓ

صفحہ 435

کے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ : ”جناب امیر! ہمارے دریائے نیل کو ایک عادت ایسی پڑی ہوئی ہے کہ اگر اسے پورا نہ کیا جائے تو وہ چلنا بند ہو جاتا ہے“ حضرت عمروؓ نے پوچھا : ”وہ کیا؟“ کہنے لگے : ”عادت یہ ہے کہ بؤونہ کے مہینہ کی بارہ راتیں پوری ہوجاتی ہیں تو ہم ایک نوجوان دوشیزہ کو تلاش کرکے اس کے والدین کو راضی کرتے ہیں اور اسے بہترین زیور اور کپڑوں سے آراستہ کرکے دریا میں ڈال دیتے ہیں، اس کے بعد وہ خوب بہنے لگتا ہے“۔

حضرت عمروؓ نے فرمایا: ”اسلام میں ایسا نہیں ہوسکتا، اسلام تمام پچھلی (جاہلانہ) رسموں کو منہدم کرتا ہے“۔ وفد یہ سن کر چلا گیا، لیکن ہوا واقعہ یہی کہ بؤونہ (جون) ابیب (جولائی) اور مسری (اگست) تینوں مہینے گزر گئے اور دریائے نیل خشک پڑا رہا، یہاں تک کہ لوگ وہاں سے دوسرے مقامات کی طرف جانے کا ارادہ کرنے لگے، حضرت عمروؓ نے یہ دیکھا تو حضرت عمرؓ کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ : ”تم نے ٹھیک کیا، اسلام واقعی پرانی (جاہلانہ) رسموں کو منہدم کرتا ہے، میں تمہارے پاس ایک پرچہ بھیج رہا ہوں، اسے دریائے نیل میں ڈال دینا“۔

حضرت عمروؓ نے وہ پرچہ کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا تھا:

تجری من قبلک فلا تجر وان کان الله الواحد القهار هو الذی یجریک، فنسال الله الواحد القهار ان یجریک“۔

”اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام، حمد و صلوٰۃ کے بعد...... اگر تو اپنی مرضی سے بہا کرتا ہے تو بہنا بند کردے، اور اگر خدائے واحد وقہار جو تجھے چلاتا ہے، تو ہم اسی خدائے واحد وقہار سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے بہنے پر مجبور کردے“۔

حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ پرچہ نصاریٰ کی عید صلیب سے ایک دن پہلے دریا میں ڈال دیا، مصر کے باشندے وہاں سے بھاگنے کی پوری تیاریاں کرچکے تھے، اس لیے کہ ان کی زندگی کا دارومدار نیل کے پانی پر تھا، لیکن عید صلیب کے دن جب صبح کو جاکر دیکھا تو نیل پوری آب و تاب کے ساتھ بہنا شروع ہوچکا تھا، اور ایک رات میں پانی کی سطح سولہ ذراع (گز) بلند ہوگئی۔

آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
صفحہ 436

حضرت عبداللہ ابن امّ مکتومؓ اور ان کی لونڈی

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن امّ مکتومؓ کی بڑی چہیتی اور خدمت گزار لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ہودہ اور گستاخانہ باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ نابینا صحابیؓ منع کیا کرتے، وہ باز نہ آتی۔ وہ اس کو ڈانٹتے مگر وہ نہ مانتی۔ ایک شب اس نے کچھ بکواس شروع کی تو حضرت ابن امّ مکتومؓ نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور ام ولد کو ہلاک کر ڈالا۔ صبح کو اس کی تحقیقات ہوئیں۔ حضرت ابن امّ مکتومؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنے فعل کا اقرار کیا اور پورا واقعہ بیان کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سب گواہ رہو کہ ام ولد کا خون رائیگاں ہے (یعنی کوئی قصاص وغیرہ نہیں)۔ اس واقعہ سے حضرت ابن امّ مکتومؓ کا حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ والہانہ محبت اور پاس ادب ثابت ہوتا ہے۔

حضرت عمیر بن عدیؓ اور عصماء بنت مروان

جب ایک اور گستاخ ملعونہ عصماء بنت مروان کو اس کے ایک قریبی رشتے دار اور غیرت مند صحابی حضرت عمیر بن عدیؓ (جو نابینا تھے) نے قتل کیا تو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت و امداد کرنے والا ہے تو میرے اس جاں نثار کو دیکھ لو“۔ جب حضرت عمر فاروقؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیار سے کہا کہ دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اعمٰی (نابینا) نہ کہو بلکہ بصیر و بینا کہو کیونکہ اس کی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے“۔ حضرت عمیرؓ نور بصارت سے محروم تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے تمام صحابہؓ کرام کو انھیں اندھا کہنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اب اسے عمیر البصیر کہا کرو (یعنی وہ عمیر جو نور بصیرت والا ہے)

حضرت عمیر بن عدیؓ جب دربار رسالت ﷺ سے اپنے گھر کی طرف لوٹے تو انھیں معلوم ہوا کہ عصماء ملعونہ کو اس کے خاندان کے لوگ دفن کر رہے ہیں۔ ان کے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا: کیا تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انھوں نے بلا تامل کہا: ہاں! کیا ہے اور تم سے بھی کہتا ہوں کہ اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو میں اکیلا تم سب کو بھی قتل کر دوں گا یا خود شہید ہو جاؤں گا۔ اس پر انھیں

صفحہ 437

جرأت نہ ہوسکی کہ وہ حضرت عمیرؓ کا بال تک بھی بیکا کریں۔ اس واقعہ کے بعد اس خاندان میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی۔

کل جہاں کا جمال لکھ دینا
م ح م د لکھ دینا
جب حرم کی اذان یاد آئے
آنسوؤں سے بلال لکھ دینا
جو اُٹھائے رسولﷺ پر انگلی
قتل اُس کا حلال لکھ دینا

حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور ان کا مشرک باپ

حضرت ابوعبیدہ بن جراح کمال شجاعت کے مالک اور تلوار کے دھنی تھے۔ حتیٰ کہ رات کو سوتے وقت بھی تلوار کو کبھی نیام میں نہ کیا۔ سوتے وقت بھی شمشیر عریاں اپنے سرہانے رکھ کر سوتے تھے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر شمشیر زنی اور جانبازی کا وہ ثبوت دیا کہ جس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ مشرکین قریش کی ایک ہزار غرقِ آہن فوج کے سامنے لوہے کی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ نے اپنے مشرک باپ کو دیکھا تو محمدﷺ کے غلام کو جلال آگیا۔ آپ غیظ وغضب کے عالم میں مشرک باپ پر جھپٹے اور جونہی باپ بیٹے کی زد میں آیا، تلوار کے ایک کاری وار میں مشرک باپ کا سر زمین پر خاک وخون میں لوٹ رہا تھا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کا فرزند

سیّدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ ایک وسیع الظرف شخصیت اور اعلیٰ حسب نسب کے مالک تھے۔ آپؓ بڑے حلیم، بردبار اور غمگسار شخص تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ بہت سے معاملوں میں ثانی رہے۔ مثلاً تصدیق نبوت میں ثانی، قبول اسلام میں ثانی، ہجرت میں ثانی، غارِ ثور میں ثانی، مگر محبت مصطفیٰﷺ میں آپ ہمیشہ اوّل رہے۔ قرآن مجید فرقان حمید نے محبت رسولﷺ کا یہ پیمانہ مقرر کیا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کی محبت دنیا کی ہر چیز پر غالب آجائے۔ اس معیار پر سیّدنا ابوبکر صدیقؓ پورے اُترے۔ محبت مصطفیٰﷺ آپ کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی اور اسی محبت کی بدولت آپ میں باقی تمام کمالات پیدا ہوئے۔ حضرت

صفحہ 438

ابوبکر صدیقؓ کو حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات گرامی سے کس قدر محبت وعقیدت تھی، اس کا اندازہ علامہ محمد اقبالؒ کے ان اشعار سے لگایا جاسکتا ہے:

معنی حَرفم کُنی تحقیق اگر
بنگری با دیدۂ صدیق اگر
قوتِ قلب و جگر گردد نبی ﷺ
از خدا محبوب تر گردد نبی ﷺ

ترجمہ: اگر تو میرے حرف کی تحقیق کرے اور تو اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آنکھ سے دیکھے، تو نبی ﷺ دل اور جگر کی طاقت بن جاتے ہیں اور اللہ سے بھی زیادہ محبوب ہو جاتے ہیں۔

مانا خدا کو ہم نے توسط سے آپ ﷺ کے
مفہوم کیا ہے اس کے سوا لا الہ کا

حضرت ابوبکرؓ کے فرزند عبدالرحمٰن جنگ بدر سے پہلے حالت کفر میں تھے۔ جنگ بدر میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ عین جنگ میں حضرت ابوبکرؓ اپنے فرزند کی زد میں آ گئے، تو محبت فرزندی نے جوش مارا اور انھوں نے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔

اصحاب رسولؐ کی مجلس گرم تھی۔ جنگ بدر کا تذکرہ چھڑا تو حضرت عبدالرحمٰن نے جو اس وقت مسلمان ہو چکے تھے، اپنے جلیل القدر والد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اس واقعے کا ذکر کیا اور کہنے لگے، ابا جان! غزوہ بدر کے موقع پر آپ کتنی مرتبہ میرے سامنے آئے مگر میں نے باپ سمجھ کر آپ کو چھوڑ دیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا! بیٹا اگر تم میرے سامنے ایک مرتبہ بھی آجاتے تو میں محبت پدری کی پروا نہ کرتا اور تمھیں ہرگز نہ چھوڑتا بلکہ تمہارا کام تمام کر دیتا کیونکہ اس وقت تم میرے محبوب ﷺ کے دشمن بن کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دفعہ یہ دعا مانگی ”اے اللہ! ابوبکر کو قیامت کے دن میرے ساتھ درجہ میں رکھنا“۔ یعنی اعزاز واکرام کے اعتبار سے میرے ساتھ رکھنا۔ حضور ﷺ نے نہایت شفقت کے طور پر ایسا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان دنیاوی رشتوں میں پھنس کر دینِ حق سے اعراض نہیں کرسکتا۔ سوچنا چاہئے! کیا آج ہم میں یہ جذبہ موجود ہے۔

؎ زمانہ ظلمت گستاخ کی لپیٹ میں ہے
اٹھو! کہ عشق رسالت ﷺ کا اہتمام کریں
صفحہ 439

فتح مکہ کے روز جن اشخاص کو مباح الدم (واجب القتل) قرار دیا گیا

8 ہجری میں نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ مکرمہ میں پرچم اسلام بلند کیا تو آپ ﷺ نے تمام اہل مکہ کے لیے عفو عام کا اعلان کر دیا، سوائے ان معدودے چند لوگوں کے جنھوں نے اس سے پہلے مسلمانوں کو بہت اذیتیں دی تھیں۔ خواہ اپنے عمل اور کردار سے یا اپنے قول اور گفتار سے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف فتح الباری شرح صحیح البخاری میں، مشہور مؤرخ اسلام علامہ ابن ہشامؒ نے اپنی معروف تالیف ”سیرت النبی ﷺ کامل“ میں اور مشہور مصنف الشیخ صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر اپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب ”الرحیق المختوم“ میں ان افراد کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ مختلف کتب تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے روز عام معافی کے اعلان کے باوجود جن کو مباح الدم (واجب القتل) دیا گیا تھا، وہ کل تیرہ افراد تھے، جن میں سے 9 مرد اور 4 عورتیں تھیں اور وہ درج ذیل تھے:

عبد بن قصی“ مذکور ہے۔ کیونکہ دونوں قسم کے ناموں کے تحت ذکر کردہ جرم اور کیفیت و سزا ایک جیسی مذکور ہے۔

کنیت ام سعد تھی۔

صفحہ 440

مذکورہ بالا فہرست میں سے اوّل الذکر پہلے چھ تو اس اعلان کے مطابق قتل کر دیے گئے۔ چاہے ان میں سے کوئی کعبہ کے پردوں کے ساتھ بھی لٹکا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو اور مسلمانوں کو انھوں نے بہت زیادہ پریشان کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں اور آپ ﷺ کو اذیتیں ان کی طرف سے انتہا کو پہنچی ہوئی تھیں۔ گویا اپنے قول اور فعل سے پریشان کرتے تھے جبکہ پہلے چھ کے بعد بقیہ سات افراد کا جرم قدرے کم تھا۔ انھوں نے اپنے جرائم سے سچی توبہ کی، ندامت کے ساتھ معافی کے خواستگار ہوئے، اسلام قبول کیا اور اسلام میں رہتے ہوئے اچھا کردار اور رویہ پیش کیا۔ لہٰذا ان کو معاف کر دیا گیا۔

گستاخانِ رسولؐ کی سرکوبی

ایک مسلمان کو حلقہ بگوش اسلام سے زیادہ حلقہ بگوش محمد مصطفیٰ ﷺ ہونا چاہئے۔ تاکہ اس کا نام آپ ﷺ کے سچے امتیوں میں آسکے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ فرماتے ہیں: ”تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں میری زبان تلوار کی طرح تیز ہے“۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر صاحب ایمان کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقا ومولا کی عزت وتوقیر پر فدا ہونا حاصل ایمان سمجھتا ہے۔ یہی تعلیمات قرآنی کی تاثیر اور یہی احکامات ربانی کی تفسیر ہے۔ عزت رسول ﷺ پر کٹ مرنا اور ناموس رسالت ﷺ پر جان لٹا دینا، ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔

حفیظ جالندھری کے الفاظ میں:

سما سکتی ہے کیونکر حب دنیا کی ہوا دل میں
بسا ہو جب کہ نقش حب محبوب خدا دل میں
محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
صفحہ 441
محمدﷺ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمدﷺ کی محبت روح ملت، جان ملت ہے
محمدﷺ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمدﷺ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جاں، اولاد سے پیارا
یہی جذبہ تھا اُن مردان غیرتمند پر طاری
دکھائی جن کے ہاتھوں حق نے باطل کو نگونساری

سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ اور گستاخ رسولؐ ابورافع یہودی

امام بخاریؒ نے ”الجامع الصحیح“ میں درج ذیل واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑے اسلام دشمن اور رسولؐ دشمن ابو رافع یہودی کے بارے میں ہے۔ وہ رسول اکرمﷺ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور دوسرے لوگوں کو بھی رسول اللہﷺ سے دشمنی کرنے پر ابھارتا تھا۔ صحیح بخاری میں اس بارے میں جو واقعہ ہے، سیدنا براءؓ بن عازب اس کو یوں بیان فرماتے ہیں:

اور سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ ابو رافع یہودی رسول اکرمﷺ کو تنگ کیا کرتا تھا اور آپﷺ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ سر زمین حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ سکونت پذیر تھا۔ جب وہ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ لوگ اپنے مویشی لے کر (اپنے گھروں کو) واپس ہو چکے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو! میں (اس قلعہ پر) جا رہا ہوں اور دربان پر کوئی تدبیر کروں گا تاکہ میں اندر جانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ چنانچہ وہ (قلعہ کے پاس) آئے اور دروازے کے قریب پہنچ کر انھوں نے خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کر رہا ہو۔ قلعہ کے تمام آدمی اندر داخل ہو چکے تھے۔ دربان نے آواز دی۔ اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلدی آ جا، میں اب دروازہ بند کر دوں گا۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے کہا:) چنانچہ میں بھی اندر چلا گیا اور چھپ کر اس کی حرکات وسکنات دیکھنے لگا۔

صفحہ 442

جب سب لوگ اندر آ گئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کنجیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ فرماتے ہیں: اب میں ان کنجیوں کی طرف بڑھا اور انھیں اٹھا لیا۔ پھر میں نے قلعہ کا دروازہ کھول لیا۔ ابو رافع کے پاس رات کے وقت داستانیں بیان کی جا رہی تھیں، اور وہ اپنے خاص بالا خانے میں تھا۔ جب رات کے وقت قصہ گوئی کرنے والے (داستان گو) اس کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کے مخصوص کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس تک پہنچنے کے لیے اس دوران میں، مَیں جتنے دروازے کھولتا تھا، انھیں اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر قلعہ والوں کو میرے متعلق علم ہو بھی جائے تو اس وقت تک یہ لوگ میرے پاس نہ پہنچ سکیں جب تک میں اسے قتل نہ کرلوں۔ آخر میں اس کے قریب پہنچ ہی گیا۔ اس وقت وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ (سورہا) تھا۔ مجھے کچھ اندازہ نہ ہوسکا کہ وہ کہاں ہے؟ اس لیے میں نے آواز دی: ابو رافع! وہ بولا: کون ہے؟ اب میں نے آواز کی طرف بڑھ کر تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا، یہی وجہ ہوئی کہ میں اس کا کام تمام نہیں کرسکا۔ جب وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا اور تھوڑی دیر تک باہر ہی ٹھہرا رہا۔ پھر دوسری مرتبہ اندر گیا۔ میں نے پھر آواز بدل کر پوچھا: ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی؟ وہ بولا: تیری ماں غارت ہو۔ ابھی ابھی مجھ پر کسی نے تلوار سے حملہ کیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ فرماتے ہیں:) میں نے پھر (آواز کی طرف بڑھ کر) تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اگرچہ میں اس کو خوب لہولہان تو کر چکا تھا مگر وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ مجھے اب یقین ہوگیا کہ میں اسے قتل کرچکا ہوں۔

چنانچہ میں نے ایک ایک کر کے دروازے کھولنے شروع کیے۔ بالآخر ایک زینے پر پہنچا۔ میں یہ سمجھا کہ میں زمین پر پہنچ چکا ہوں۔ (لیکن ابھی میں پہنچا نہ تھا) اس لیے میں نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ اس طرح گر پڑنے سے میرے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی اور میں دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ معلوم کرلوں کہ آیا میں اسے قتل کر چکا ہوں یا نہیں؟ جب مرغ نے اذان دی تو اسی وقت قلعہ کی فصیل (دیوار) پر ایک آواز دینے والے نے کھڑے ہو کر آواز دی: لوگو! میں اہل حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ تب میں اپنے

صفحہ 443

ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ چلنے کی جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو (میرے ہاتھوں) قتل کرا دیا ہے (آپ نے اپنے عمامہ سے پاؤں کی ہڈی کو باندھا اور ایک پاؤں پر اچھلتے ہوئے قلعہ سے باہر آ گئے)۔

پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو ابو رافع کے قتل کی اطلاع دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا پاؤں آگے کرو“۔ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا، میرا پاؤں فوراً ایسا اچھا ہو گیا جیسے کبھی اس میں مجھ کو کوئی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی“۔

سیدنا محمدؓ بن مسلمہ انصاری اور گستاخِ رسول کعب بن اشرف یہودی

کعب بن اشرف ایک مالدار یہودی سردار تھا۔ یہ بدطینت اور شیطان صفت انسان لوگوں کو خاص طور پر قریشِ مکہ کو نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ کرنے پر ابھارتا اور برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ ہمیشہ اس ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح دھوکے سے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو قتل کرا دے۔ فتح الباری میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ اس نے اس غرضِ فاسد کے تحت رسول اکرم ﷺ کو ایک دعوت پر بھی مدعو کیا تھا مگر رسول کریم ﷺ کو اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کے ذریعہ بروقت آگاہ کر دیا اور آپ بال بال بچ گئے۔

اس پر مسلمانوں کی طرف سے قاتلانہ کارروائی کی مفصل روداد سیدنا جابر بن عبداللہؓ یوں بیان کرتے ہیں:

کرے گا؟ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت زیادہ ستا رہا ہے“۔ اس پر سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر ڈالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں مجھے یہ پسند ہے۔ انھوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ بقدرِ ضرورت اس سے جو مناسب سمجھوں، بات کر لوں؟ (خواہ ظاہراً وہ بری اور ناجائز ہی ہو) آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس چیز کی اجازت مرحمت فرمائی۔ رات کے وقت جب یہ لوگ مدینہ منورہ سے کارروائی کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو سید الاولین والآخرین، امام الانبیا والمرسلین ﷺ نے بنفسِ نفیس ان کو جنت البقیع (اصل نام الغرقد) تک آ کر الوداع کیا۔

صفحہ 444

سبحان اللہ کتنی عظیم جماعت ہے جو تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا عزم لیے گستاخ رسول کی سرکوبی کے لیے جا رہی ہے۔ اس جماعت کی قیادت محمد بن مسلمہؓ کر رہے ہیں جو گستاخ رسول کعب بن اشرف کے بھانجے ہیں۔ وہ ان کا ماموں ہے۔ لیکن حرمت رسول ﷺ کے لیے اپنی جان، مال، ماں باپ، بیوی، بچے، رشتہ دار، اولاد، تجارت، کاروبار حتیٰ کہ جان تک سب قربان ہے۔ یہ کتنا سعادت مند قافلہ ہے جس کو الوداع کرنے کے لیے حضور نبی کریم ﷺ بنفس نفیس خود شہر مدینہ سے باہر تشریف لائے اور ان کے مشن کی کامیابی کے لیے خود دُعا فرمائی۔

یہ سن 3 ہجری تھا، ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ چاندنی رات تھی۔ مجاہدین کی اس مختصر چھاپہ مار گوریلا ٹیم کو رخصت کرتے وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ! اللہ تمہاری مدد کرے“۔

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا: یہ شخص (اشارہ رسول اکرم ﷺ کی جانب تھا) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں مشقت میں مبتلا کر رکھا ہے، اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں۔ اس پر کعب بن اشرف کہنے لگا: ابھی آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا، اللہ کی قسم! تم بالکل اکتا جاؤ گے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: چونکہ ہم نے اب اس کی اطاعت کر لی ہے۔ اس لیے جب تک یہ معاملہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے، انھیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں، میں تم سے ایک وسق (ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے جو تقریباً ایک سو تیس کلو کے برابر بنتا ہے) غلہ بطور قرض لینے آیا ہوں۔

کعب بن اشرف نے کہا: ہاں! میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: کونسی چیز تم گروی میں چاہتے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو۔ سیدنا محمد بن مسلمہ نے کہا: تم عرب کے نہایت خوبصورت مرد ہو، ہم تمھارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کعب بن اشرف نے کہا: پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے جواب دیا: ہم اپنے بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ کل کلاں انھیں اسی بات پر گالیاں اور طعنے دیے جائیں گے کہ یہ تو وہی ہیں جنھیں ایک وسق یا دو وسق غلے کے بدلے گروی رکھا گیا تھا۔ یہ تو ہمارے لیے بہت بڑی ذلت ہوگی۔ البتہ ہم تمھارے پاس اپنے ”لائمہ“ گروی رکھ دیتے ہیں (حدیث کے ایک راوی سفیان کہتے ہیں: لائمہ سے مراد ہتھیار اور اسلحہ تھا)۔ کعب نے کہا ٹھیک ہے۔

محمد بن مسلمہ نے دوبارہ ملاقات کرنے کا وعدہ کیا۔ (کچھ دنوں کے بعد) وہ رات کے وقت کعب بن اشرف کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ابو نائلہؓ بھی تھے اور وہ کعب بن اشرف

صفحہ 445

کے رضاعی بھائی تھے۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انھوں نے آواز دی۔ وہ باہر آنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: اس وقت (اتنی رات گئے) باہر کہاں جا رہے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہا: باہر محمد بن مسلمہ اور میرا (رضاعی) بھائی ابونائلہ (مجھ سے ملنے آئے ہیں)...... حدیث کے ایک راوی عمرو بن دینار کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا: مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے جواب دیا: (نہیں ایسی کوئی بات نہیں بلکہ وہ) میرے عزیز محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں۔

بالآخر کعب بن اشرف چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا۔ اس کے سر سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ محمدؓ بن مسلمہ نے کہا: اس سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے پہلے کبھی نہیں سونگھی۔ عمرو کے سوا دوسرے راوی سفیان بن عیینہ نے بیان کیا: کعب بن اشرف اس بات پر بولا: میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: محمدؓ بن مسلمہ نے کہا: کیا تمھارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے؟ اس نے کہا: سونگھ سکتے ہو۔ محمدؓ بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا۔ پھر دوسری دفعہ محمدؓ بن مسلمہ نے سر کو سونگھنے کی اجازت مانگی۔ اس نے دوسری دفعہ بھی اجازت دے دی۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح اسے اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ انھوں نے اپنا خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ وہ چند لمحے تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ انھوں نے سر کاٹ کر ساتھ لیا اور روانہ ہو گئے۔ بقیع پہنچ کر بلند آواز میں تکبیر کہی۔ حضور ﷺ مسجد میں اپنے رب کے حضور کھڑے تھے، تکبیر کی آواز سُن کر سمجھ گئے کہ مہم کامیاب رہی، اتنے میں یہ لوگ آ پہنچے۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: ”افلحت الوجہ“ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا: ووجھک یا رسول اللہ! اور سب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک، اے اللہ کے رسول ﷺ۔ پھر کعب بن اشرف کا سر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے الحمدللہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ (فتح الباری: ج 7 ص 340)

اس معرکہ میں حضرت حارث بن اوسؓ شدید زخمی ہوئے۔ صحابہ کرامؓ ان کو اٹھا کر حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لائے تو آپ ﷺ نے ان کے زخم پر اپنا لعاب مبارک لگایا، جس سے زخم فوراً مندمل ہو گیا۔

صفحہ 446

امام نوویؒ نے قاضی عیاضؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے:

دہی قرار دے۔ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مجلس میں کسی شخص نے ایسی بات کہہ ڈالی تھی تو سیدنا حضرت علیؓ نے فوراً اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا تھا‘‘۔

پہلے مجاہد ختم نبوت حضرت فیروز دیلمیؓ اور مدعی نبوت اسود عنسی:

جب اسود عنسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اہلِ یمن کی ایک بہت بڑی جماعت دین اسلام سے پھر گئی اور مرتد ہو گئی۔ اس مرتد جماعت کے افراد نے اسود عنسی کی پیروی اختیار کر لی۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ اسود عنسی ’’صنعاء‘‘ شہر پر غالب آ گیا۔ اس وقت صحابی رسولؐ سیدنا فیروز دیلمیؓ نے اسود عنسی کے سامنے ظاہر کیا کہ گویا وہ اس کے خاص لوگوں میں شامل ہے اور بہترین معاونین میں سے ہے۔ لیکن دل کے اندر ایک پروگرام تھا کہ میں نے اسے قتل کرنا ہے۔ امام بخاریؒ نے سیدنا فیروز دیلمیؓ کے واقعہ کو اپنی ’’الجامع الصحیح‘‘ میں بیان فرمایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: کسی بیان کرنے والے نے مجھے وہ خواب یوں بیان کیا ہے (دوسری روایت میں اس بیان کرنے والے کا نام سیدنا ابو ہریرہؓ منقول ہے) کہ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

دیے گئے ہیں۔ میں ان سے بہت گھبرایا اور میں نے دونوں کنگنوں کو ناپسند کیا۔ پھر مجھے حکم ہوا اور میں نے انھیں پھونک مار دی تو وہ دونوں کنگن اڑ گئے۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ نبوت کے دو جھوٹے دعویدار عنقریب نکلنے والے ہیں‘‘۔ روایت بیان کرنے والے تابعی جناب عبید اللہ بن عبداللہؒ فرماتے ہیں۔ نبوت کے ان دو جھوٹے دعویداروں میں سے ایک اسود عنسی تھا جسے سیدنا فیروز دیلمیؓ نے یمن میں قتل کیا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا‘‘۔

امام ابن جریر طبریؒ نے سیدنا فیروز کے واقعہ میں اپنی سند کے ساتھ ضحاک بن فیروز دیلمیؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میرے والد فیروز نے ہمیں بتایا کہ:

آئے۔ اس خط میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہمارے لیے یہ حکم تھا کہ (1) تم نے اپنے دین ’’اسلام‘‘ پر قائم اور ڈٹے رہنا ہے۔ (2) دشمنانِ اسلام کے خلاف جنگ میں برسرپیکار

صفحہ 447

رہنا ہے۔ (3) اسود عنسی کذاب کا کام تمام کرنا ہے، چاہے کسی خفیہ پلاننگ سے وہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے یا پھر دو بدو جنگ سے اور (4) ہر وہ شخص جس کے پاس جرأت و بہادری اور پرہیزگاری اور دینداری کے جذبات ہیں، اس تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں۔ (سیدنا فیروزؓ فرماتے ہیں) ہم نے آپ ﷺ کے حکم نامہ پر پورا پورا عمل کیا۔

اسود عنسی ملعون نے حضرت محمد ﷺ کی ظاہری حیات ہی میں مرتد ہو کر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا، جو دراصل اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف کھلی بغاوت تھی، لہٰذا اس پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا بے چین ومضطرب ہونا بالکل فطری تھا، کیونکہ اسود عنسی کا دعویٰ نبوت دراصل منصب نبوت ورسالت اور تاج ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھا، جس سے آپ ﷺ کو ذہنی، قلبی اور شدید روحانی اذیت پہنچی تھی۔ جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسود عنسی کو کیفر کردار تک پہنچا کر آپ ﷺ کی راحت رسانی کا انتظام کیا تو انھیں لسان نبوت سے: ’’فاز فیروز‘‘....... فیروز کامیاب ہو گیا....... کی بشارت سے نوازا گیا۔

فيها الاسود العنسى، فخرج علينا فقال: قتل الاسود البارحة قتله رجل مبارك من اهل بيت مباركين، فقيل من هو؟ قال: فيروز الديلمى“.

(كنز العمال ص 572 ج 13، اتحاف الساده ص 18 ج 7)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس رات اسود عنسی کو قتل کیا گیا، حضرت محمد ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی تھی، آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: گزشتہ رات اسود عنسی کو قتل کر دیا گیا، اس کو مبارک گھر والوں میں سے ایک مبارک شخص نے قتل کیا ہے، آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون شخص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ فیروز دیلمیؓ ہے“۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مدعی نبوت طلیحہ اسدی

عہد صدیقی میں صحابہؓ کرام کا اس پر اجماع اور اتفاق ہو چکا تھا کہ مرتدین میں سے بڑے بڑے اماموں اور سرداروں کا جو حکم ہے وہی ان کے معاونین اور حامیوں کا ہے۔ مثلاً نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی کے پیروکاروں اور مددگاروں کو اسی سزا کا مستحق سمجھا گیا جس کا مستحق جھوٹے نبیوں کو سمجھا گیا تھا۔ صحابہؓ کرام کے اجماع سے بھی

صفحہ 448

گویا اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ جو حکم کفار اور مرتدین کا ہے وہی ان کے انصار و معاونین کا ہے۔

طلیحہ اسدی کذاب کی اطاعت قبول کرنے والے اور اس کا ساتھ دینے والے ”خاندان بزاخہ“ کے لوگ پہلے اسلام میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں مرتد ہو گئے۔ جب سیدنا خالد بن ولید نے ان سے جنگ کی اور ان کو بدترین شکست سے دوچار کیا تو ان لوگوں نے اپنا ایک وفد تشکیل دے کر خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیق کی جانب روانہ کیا، تاکہ وہ اسلام لانے کے بعد اپنی بدعہدی کرنے اور ایک جھوٹے نبی کا ساتھ دینے پر معذرت اور معافی کی درخواست پیش کریں۔ چنانچہ بزاخہ خاندان کی دو ذیلی شاخوں بنو اسد اور بنو غطفان کا ایک مشترکہ وفد خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد کے افراد نے آپؓ سے نقض عہد کے بعد تجدید صلح کی درخواست کی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے انھیں دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا: جلاوطنی پر مبنی جنگ چاہتے ہو یا ذلت آمیز صلح؟ وفد کے ارکان کہنے لگے: جلاوطنی پر مبنی جنگ کی تو ہمیں سمجھ آ گئی ہے البتہ ذلت آمیز صلح کی سمجھ نہیں آئی۔ یہ کیا چیز ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ذلت آمیز صلح کی یہ وضاحت فرمائی:

مال غنیمت کے طور پر رہے گا۔ جبکہ تم نے جو مال ہم سے حاصل کیا ہوا ہے، وہ تم ہمیں واپس کرو گے۔

مرداروں) کا فدیہ ادا نہیں کریں گے۔ بلکہ تمھارے مقتولین جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔

طرح) اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے فقط اونٹ چراتے رہو۔ (تاکہ تم معاشرے میں باوقار، خود مختار اور سرکردہ افراد کی حیثیت اختیار نہ کرسکو) تمھیں اس حالت میں اس وقت تک باقی رکھا جائے گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی ایسی صورت حال واضح نہ کردے جس سے وہ تمہارا (بدعہدی، غداری اور بغاوت والا) جرم معاف نہ کردیں۔

صفحہ 449

شہیدان ناموس رسالت ﷺ

صحن گلشن میں گل رعنا جلوہ فگن ہو تو ممکن نہیں کہ اس کی مہک پس دیوار چمن مشام جاں کو معطر نہ کرے۔ ممکن نہیں کہ سنگی فصیلیں عنادل آتش بجاں کا راستہ روک سکیں۔ بیابان کی شب تاریک میں شمع فروزاں ہو تو کیسے ممکن ہے کہ اندھیارے اس کی زرتار کرنوں کا راستہ روک لیں۔ جان نثار پروانوں کے ذوق جاں سپاری کی راہ میں حائل ہو سکیں۔ بطحا کے تاریک ریگزار میں شمع رسالت ﷺ روشن ہوئی تو پروانہ ہائے رسالت دیوانہ وار روشنی کامل کی طرف بڑھے۔ نور و نکہت کا یہ سرمدی سیلاب بوئے ضلالت کے رسیا برداشت نہ کر سکے۔ قتل و غارت گری کے منصوبے بنے۔ سازشوں کے در کھلے، ظلم و ستم کی آندھیاں چلیں، طعن و دشنام کے بگولے اٹھے۔ لیکن رحمت کی گھٹا جھوم کے اٹھی اور صدیوں کی پیاسی زمین پر کھل کے برسی۔ ستم کی آندھیاں، دشنام کے بگولے خاک میں مل گئے۔ سوندھی خوشبو سے فضا مہک اٹھی۔ اٹھتی گھٹا، پھیلتی خوشبو کا راستہ کون روک سکا ہے۔ روشنی اور خوشبو کے دشمن ناکام ہوئے، نامرادی و ذلت سیاہ بختوں کا مقدر ہوئی۔ سرزمین ہند میں عددی برتری اور انگریزی سرپرستی کے زعم باطل میں مٹی، لکڑی پتھر کے خود ساختہ بے جان بتوں اور گائے، بندر کے حضور سجدہ ریز ہونے والے تیرہ بختوں نے آفتاب رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخیوں کی جسارت کی، سانپ کے پجاریوں نے کتابوں کی صورت میں زہر اگلا، خرافات کا جواب فرزانوں نے علمی دلیلوں سے مضامین و کتب کی صورت میں دیا۔ لیکن آتش بغض سے دہکتے ہوئے انگارے قطرۂ شبنم سے کب ٹھنڈے ہوئے ہیں۔ تیرہ بختوں نے یکے بعد دیگرے شعلہ فشانیوں کا سلسلہ دراز کیا تو

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

شمع رسالت مآب ﷺ کے پروانے مئے عشق سے سرشار، عالم بے خودی و سرمستی میں سر ہتھیلی پر رکھ کر اس شان دلربائی سے حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے دیوانہ وار آگے بڑھے کہ ان کے ہر ہر قدم پر حور و ملائک تڑپ تڑپ اٹھے کہ کاش عشق کا یہ مقام بلند انہیں نصیب ہو سکتا۔ کاش وہ شہید حرمت مصطفیٰ کا منصب عظیم پا سکتے۔ عشق رسول ﷺ سے سرشار ان خوش نصیبوں کو بہت سوں نے روکا اور ٹوکا لیکن غیرت عشق کو کیسے گوارا ہوتا کہ حرمت محمد ﷺ پر سر کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے بڑھتا ہوا قدم رکے۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ پر قربان ہونے کا سرمدی جذبہ لیے یہ آتش بجاں دیوانے بجلی بن کر خرمن باطل پر گرے اور

صفحہ 450

شاتمان رسول کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

یہ سعادت ان خوش نصیبوں کے مقدر میں تھی۔ مقدمے چلے، جیلیں کاٹیں اور پھانسی کا پھندہ چوم کر شہادت عظمیٰ سے سرفراز ہو گئے۔ ملت اسلامیہ کا فخر بن گئے۔ آئیے ہم بھی ان چراغوں سے اپنے قلب ونظر روشن کریں۔

اے کہ ترا غبار راہ تابش روئے ماہتاب
اے کہ ترا نشان پا نازش مہر خاوری

اس عالم فانی میں جو ہستیاں صحیفۂ عشق رسول ﷺ کی عملی تفسیر تھیں، ان کا چشمۂ فیض آج بھی دائمی زندگی کا انمٹ ثبوت پیش کر رہا ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ، غازی عبدالقیوم شہیدؒ، غازی عبدالرشید شہیدؒ، غازی محمد صدیق شہیدؒ، غازی میاں محمد شہیدؒ، غازی مرید حسین شہیدؒ، غازی عبداللہ شہیدؒ سے ہم نسبت غلامی اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ ناموس رسالت ﷺ پر پروانہ وار فدا ہو گئے اور ان کی خوش نصیب مائیں تحسین و آفرین کے پھولوں کی مستحق ہیں۔ انھوں نے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنے جگر گوشوں کو پھولوں کے ہار پہنا کر سوئے مقتل روانہ کیا تھا۔

محترم راجا رشید محمود (مدیر اعلیٰ ماہنامہ ”نعت“ لاہور) ”تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی کوششیں“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

کہ جہاں پیدا ہوئی، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس نے اوائلِ شباب اور پھر بھرپور شباب کے دن گزارے، جس چھوٹے سے گاؤں میں اس کے چالیس تینتالیس سال بیتے تھے۔ اس کے روشن کردار نے دیکھنے والوں، ملنے والوں، اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کی آنکھیں خیرہ کیے رکھیں۔ وہ ہستی اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہی نہ تھی، وہاں کے سب قبیلے اس کو ”حکم“ مانتے تھے۔ اس کے شفاف اور بے داغ کردار و عمل کی، اس کی دانش و حکمت کی، اس کی صداقت و امانت کی قسم کھاتے تھے، اپنی امانتیں اس ہستی کے پاس رکھواتے تھے، اپنے مناقشات اس سے فیصل کراتے تھے۔ جب وہ ہستی کوہ صفا پر کھڑی ہوئی تو کوئی ایک

صفحہ 451

آواز ایسی نہ تھی جو اس کے خلاف اٹھتی ، کوئی ایک انگلی نہ تھی جو اس کی زندگی کے کسی پہلو کی طرف اٹھ سکتی۔

وہ ہستی ........... جس نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا، خدائے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کی راہ دکھائی ، خود ساختہ بتوں اور مظاہرِ فطرت کو پوجنے سے منع کیا، آباء و اجداد کی راہوں پر چلنے والوں کو ان کی غلط روی کا احساس دلانے کی کوشش کی، تو مخالفتیں ہوئیں، حق کو تسلیم نہ کرنے کی روش اختیار کی گئی ، اس ہستی کی دعوت کے راستے میں کانٹے بھی بچھائے گئے ...... لیکن ...... اس کی سیرت پر حرف زنی نہ کی جاسکی ۔ بات نہ مانی لیکن جھوٹا نہ کہا جا سکا۔ اس ہستی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کا مقاطعہ تک کیا گیا ، لین دین روک دیا گیا، مگر اپنی امانتوں کا امانت دار اس کے سوا کسی اور کو نہ بنایا جا سکا۔

وہ ہستی ........... اپنا شہر چھوڑ کر دوسرے شہر کو ہجرت بھی کر گئی ، اسے مار دینے تک کی سازشوں نے سو اونٹوں کی پیشکش تک بات پہنچائی۔ اس دوسرے شہر میں بھی کوشش کی گئی کہ ان کا ناطقہ بند کیا جائے ۔ لڑائیاں تک لڑی گئیں، لیکن ان کے بے داغ اور مصفّٰی کردار پر کلوخ اندازی تو کیا، ہلکے پھلکے جھوٹ کی کوئی تلوار بھی سیدھی نہ کی جاسکی۔

وہ ہستی ........... جس کی دعوت و تبلیغ نے جھوٹے خداؤں کے سروں کو نیچا دکھایا، جھوٹوں کی کمر توڑ دی ، آس پڑوس ہی نہیں ، دور دور کے رہنے والے اس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہو ہو کر اس کی حقانیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے لگے ۔ ایسے میں بھی معاندین اس ہستی کی مہر آسا شخصیت کی طرف کسی اعتراض کی نگاہ نہ اٹھا سکے۔

وہ ہستی ........... چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور اس ہستی کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی خواہشیں دل میں پالنے والی طاقتوں کی ساری کوششوں کے باوجود، آج بھی نظر رکھنے والے، صاحبِ دل اور اہلِ انصاف جس کی سیرت و کردار کے حضور حرفِ استحسان پیش کرتے ہیں۔ جس شخص کی نگاہِ نقد اس ہستی کی سیرت کے تمام گوشوں میں جستجو کرتی

صفحہ 452

ہے، اسے خوبیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ خوبیاں جو شخصیت کو تو بڑا ثابت کرتی ہی ہیں، معاشرے کو بھی صاف ستھرا بناتی ہیں، ماحول کو بھی ہر آلودگی سے پاک رکھتی ہیں، انسانیت کو اس کے اوج کمال تک پہنچانے کی راہ دکھاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ اس مبارک ہستی کی زندگی کے ایک ایک گوشے سے پھوٹتی ہیں۔

اس صورتِ حال میں جب کوئی بدبخت، شپرہ چشم، خَرِ نامشخّص اس ہستی معصوم کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس پر نگاہِ غیظ ڈالتا ہے، کائنات کا مالک و مختار اسے ”اَبْتَر“ کرتا ہے۔ اس کے ”زِنیم“ ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔ جس ہستی کے لیے کائناتیں تخلیق کی گئیں، جسے رب کریم نے اپنے اوصاف کا مظہر بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا، جس کی معصومیت اپنے ذمے رکھی، جس کی جان کے دشمن بھی اس کی ذات کے کسی گوشے کی طرف انگشت نمائی نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔ اس کے خلاف کچھ کہنے والے، اس کی شان سے فروتر کوئی کلمہ ادا کرنے والے، اس کی ناموس و حرمت پر ژاژ خائی کی جسارت کرنے والے سے بڑھ کر مستحق قتل اور کون ہو سکتا ہے۔

حضور پُرنور، ہادئ اعظم، نور مجسم، رحمت ہر عالم ﷺ، خالق و مالک حقیقی جل شانہ کے محبوب ہیں۔ متفق علیہ حدیث پاک ہے ”حضور سرورِ کائنات علیہ السلام والصلوٰۃ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تمام محبتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہ رکھے، وہ مسلمان نہیں۔ پھر خدا کے محبوب ﷺ کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت کرنے سے بڑھ کر کفر کیا ہوگا اور اگر کوئی اپنی سب سے محبوب ہستی کی ناموس پر کوئی چھینٹا پڑنے دے تو اس کا ایمان کہاں ہے؟

اصل میں اسلام دشمن طاقتیں وقتاً فوقتاً ایسی جسارتوں کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ”روحِ محمد ﷺ“ مسلمانوں کے دل سے نکال دیں۔ لیکن ہر زمانے میں ناموس رسالت ﷺ کے کسی نہ کسی محافظ نے ایسی کوششوں، ایسی تحریکوں کے سد باب کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے عالم کفر پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم ان کی تہذیبی، ثقافتی، سیاسی یورشوں کے آگے تو سرخم نظر آتے ہیں مگر جہاں ہمارے آقا و مولا علیہ التحیۃ والثناء کی حرمت و ناموس کا موقع آتا ہے، ہمارے لیے جان لینا اور جان دینا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

عہد نبوی (ﷺ) اور عہد صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے لے کر آج کے دور انحطاط تک

صفحہ 453

جہاں کہیں ایسا واقعہ پیش آیا، غیرتِ اسلامی کا ایک نہ ایک علمبردار اٹھا اور اس نے ملبوسِ شماتت کے پرخچے اڑا دیے...... قصر تاریخ کے شکستہ حصوں میں مرزا قادیانی، راجپال، شردھانند، پالامل، سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے بھوت پریت بھونکتے بھونکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مخلوق کا سلسلہ نسب ”حَمَّالَةَ الْحَطَبَ“ اور ”بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْم“ کے کھنڈرات میں ملتا ہے۔ اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہے۔ تاریخ کے ہر عہد اور قصرِ تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت، وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کر دکھائی۔ جب بھی ایسا موقع آیا، گویا جوانمردی اور جاں سپاری کا سورج بامِ قصر پر چمکا۔ جھروکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہو گئے۔ آس پڑوس کے باسیوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کیے۔ تھڑدلوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں، حوصلہ مندوں نے سینے تان لیے۔

ناموس رسالت ﷺ کے محافظ، وقت پر حکمران تھے، دلیری ان کے قدم چومتی رہی، دنیا حیران ہوئی کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا۔ قصرِ تاریخ کے کھنڈرات کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے...... انسانیت کا ناز ہیں، ملت کا سرمایہ ہیں، اللہ کے محبوب ہیں، ان کے ذکر میں جھک جانے والے سر کہیں نہیں جھکتے !!“

غازی علم الدین شہیدؒ

ہندو آریہ سماج تنظیم جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے دل آزار کتابیں شائع کرواتی رہتی تھی، 1923ء کے اواخر میں اس تنظیم کے سرگرم رکن راجپال نے ایک ایسی دل آزار کتاب شائع کی، جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بے پناہ گستاخیاں کی گئی تھیں۔ کتاب کی اشاعت سے پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔ مسلمانوں نے احتجاجی جلسے اور جلوس نکالنے شروع کر دیے۔ ملزم راجپال کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ پھر راجپال کو 6 ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہوا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے نہ صرف ملزم کو بری کر دیا بلکہ اس کا جرمانہ بھی معاف کر دیا۔ اس دل آزار کتاب کی اشاعت جاری رہی۔ یکم اپریل 1929ء کی رات ایک نوجوان غازی علم الدین شہید اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دہلی دروازہ کے باغ میں جلسہ سننے چلے گئے، جہاں سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے بڑی رقت انگیز

صفحہ 454

تقریر کی۔ دفعہ 144 کا نفاذ تھا جس کی رو سے کسی نوع کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہوسکتا تھا لیکن مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ وہاں اس عاشق رسول ﷺ نے ناموس رسالت پر جو تقریر کی، وہ اتنی دل گداز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہوگئی۔ کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کی ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے“۔

اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہوکر کہا:

”آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ اور اُمُّ المومنین خدیجۃ الکبریٰؓ کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟“

یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظریں معاً دروازے کی طرف اٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پھر اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

”تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضرا میں رسول اللہ ﷺ مضطرب ہیں۔ آج حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمھارے دلوں میں اُمہات المومنین کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آج اُمُّ المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنھوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہؓ اور عائشہؓ کے لیے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں“۔

شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا:

”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین

صفحہ 455

سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی ، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پرخچے اڑا دیے جائیں۔ میں دفعہ 144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا۔

پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے۔ اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگا دی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جا بجا جلسے ہونے لگے۔

6 اپریل 1929ء کو غازی علم الدین ٹھیک ایک بجے راجپال کی دکان پر پہنچ گئے اور دریافت کیا کہ راجپال کہاں ہے؟ راجپال نے خود ہی کہا۔ میں ہوں کیا کام ہے؟ غازی صاحب نے چھری نکال کر اس پر بھرپور حملہ کیا۔ پھر پے در پے وار کر کے اسے واصل جہنم کر دیا اور کہا یہی کام تھا۔

غازی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ 10 اپریل 1929ء کو سیشن جج کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ 22 مئی 1929ء کو غازی صاحب کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا۔ 30 مئی کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ 15 جولائی کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ اس مقدمہ کی وکالت کے لیے ہائی کورٹ میں پیش ہوئے مگر ہائی کورٹ نے اپیل خارج کر دی جس کے نتیجہ میں 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں آپ کو پھانسی دے دی گئی۔ جسد اطہر کو میانوالی سے لاہور لایا گیا۔ جنازہ میں لاکھوں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی۔ آپ کو لاہور کے میانی قبرستان میں دفنایا گیا۔ غازی علم الدین شہید برصغیر کے شہیدان ناموس رسالت ﷺ کے ہیرو ہیں۔

نامور دانشور جناب صاحبزادہ خورشید گیلانی اپنے مضمون ’’شہید محبت‘‘ میں لکھتے ہیں:

طے شود جادۂ صد سالہ بآہے گاہے

یعنی بعض اوقات ایک آہ کے فاصلے پر منزل ہوتی ہے یا لمحے بھر میں سو سال کا سفر

صفحہ 456

طے ہو جاتا ہے، یہ مصرع زبان پر آتے ہی ذہن بے اختیار شہید ناموس نبی ﷺ غازی علم الدین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس نے صدیوں کا سفر اس تیزی اور کامیابی سے طے کیا کہ اربابِ زہد وتقویٰ اور اصحاب منبر ومحراب بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس نے ایک قدم انارکلی ہسپتال روڈ پر اٹھایا اور دوسرے قدم پر جنت الفردوس میں پہنچ گیا۔

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

اسی جنت کی تلاش میں زاہدوں اور عابدوں کے نجانے کتنے قافلے سرگرداں رہے، کیسے کیسے لوگ غاروں کے ہو کر رہ گئے، کئی پیشانیاں رگڑتے اور سر پٹختے رہے، ہزاروں سر بگریباں، چلہ کش اسی آرزو میں دنیا سے اٹھ گئے، لاکھوں طواف وسجود میں غرق رہے، بے شمار صوفی وملا وقف دعا رہے، اَن گنت پرہیزگار خیالِ جنت میں سرشار رہے، خدا ان سب کی محنت ضرور قبول کرے گا، لیکن غازی علم الدین کا مقسوم دیکھیے! نہ چلہ کیا نہ مجاہدہ، نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، نہ حرم کا مجاور بنا، نہ مکتب میں داخلہ لیا، نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا، نہ کنز قدوری کھول کر دیکھی، نہ رازی وکشاف کا مطالعہ کیا، نہ حزب البحر کا ورد کیا، نہ اسمِ اعظم کا وظیفہ پڑھا، نہ علم و حکمت کے خم وپیچ میں الجھا، نہ کسی حلقۂ تربیت میں بیٹھا، نہ کلام ومعانی سے واسطہ رہا نہ فلسفہ و منطق سے آشنا ہوا، نہ مسجد کے لوٹے بھرے، نہ تبلیغی گشت کیا، نہ کبھی شیخی بگھاری نہ کبھی شوخی دکھائی، اسے پاکبازی کا خبط نہیں، محبوب حجازی ﷺ سے ربط تھا۔ وہ تسبیح بدست نہیں، مستِ مئے الست تھا، وہ فقیہ مسند آرا نہیں، فقیر سر راہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مصلحت کیشی سے نہیں، جذبۂ درویشی سے کام لیا، چنیں و چناں کے دائروں سے نکل کر کون ومکاں کی وسعتوں میں جا پہنچا، وہم وگمان کی خاک جھاڑ کر ایمان وعشق کے نور میں ڈھل گیا، نجانے ہاتفِ غیب نے چپکے سے اس کے کان میں کیا بات کہی کہ پل بھر میں دل کی کائنات بدل گئی ؎

پروانے کا حال اس محفل میں، ہے قابل رشک اے اہل نظر
اک شب میں ہی یہ پیدا بھی ہوا، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

خدا معلوم کتنی ریاضت سے آغوشِ بسطام نے بایزیدؒ کی پرورش کی، خاکِ بغداد نے جنیدؒ کو جنم دیا، شہر قونیہ نے مولانا رومؒ کو بنایا، دہلی نے شاہ ولی اللہؒ کو پیدا کیا اور ادھر علم الدینؒ، بڑھئی کی دکان سے اٹھا اور ایک ہی جست میں زمان ومکان طے کر ڈالے‘‘۔

شہید ناموسِ رسالت غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازہ پر امیر ملت حضرت پیر سیّد

صفحہ 457

جماعت علی شاہ علی پوریؒ نے اپنی روحانی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

کسی دنیاوی حاکم سے آج تک کبھی مرعوب ہوا، حمد ونعت کی وارفتگی میں میری تار نفس بجتی رہتی ہے۔ میں نے کسی کے آگے بڑھ جانے کے متعلق بھی نہیں سوچا، حسد کی آگ سے خداوند قدوس نے مجھے ہمیشہ بچائے رکھا مگر غازی علم الدین شہیدؒ کا حال دیکھ کر میرے دل میں اس آرزو نے ضرور انگڑائی لی، کاش! یہ خوش قسمت موت مجھے نصیب ہوتی! میں نے بیت الحرام میں نمازیں ادا کیں، مسجد نبوی ﷺ میں سجدہ ریزیوں کا لطف بھی اٹھایا، مگر جو کیفیت غازی علم الدین شہیدؒ کے جنازے میں شامل ہو کر حاصل ہوئی، وہ مجھے کسی اور جگہ نہ ملی۔ کیا عجب ہے کہ خود سرکار دو عالم ﷺ اپنے غلام کے جنازے میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہوں اور میری اس کیفیت سرشاری کا سبب بھی یہی تھا‘‘۔

مولانا ظفر علی خاں نے غازی علم الدین شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

ہیں، جنھیں مخالف ہوا کے تند و تیز جھونکے بھی بجھا نہیں سکتے، آپؒ کی شہادت سے قوم کو ایک نئی زندگی ملی ہے، وہ زندگی جسے اب موت بھی نہیں مارسکتی‘‘۔

شہیدان وفا کو کجکلاہان کفن کہیے
یہ وہ ہیں زندۂ جاوید شایان کفن کہیے
یہ وہ ہیں زندگی سائے میں جن کے سانس لیتی ہے
یہ وہ ہیں صبح محشر میں گواہی جن کی دیتی ہے

غازی علم الدین شہیدؒ اور قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

غازی علم الدین شہیدؒ کی عظمت پر مبنی ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے: ’’1953ء کی تحریک ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ گرفتار ہو کر میانوالی جیل میں قید ہوئے۔ دوران قید میں ان کی ملاقات عبداللہ نامی ایک ایسے خوش نصیب قیدی وارڈن سے ہوئی جو جیل میں غازی علم الدین شہیدؒ کی نگرانی پر مامور تھا۔ عبداللہ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو کئی مواقع پر غازی علم الدین شہیدؒ کے حالات و واقعات سنائے۔ ایک دن عبداللہ وارڈن نے قاضی صاحب کو بتایا کہ آپ بہت

صفحہ 458

خوش قسمت ہیں کہ آپ غازی علم الدین شہیدؒ والی کوٹھڑی میں قید ہیں۔ قاضی صاحب نے عبداللہ سے درخواست کی کہ وہ غازی علم الدین شہیدؒ کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ سنائے۔ عبداللہ وارڈن کے چہرے پر مزید نورانیت اور بشاشت اتر آئی۔ پھر اس نے بتایا کہ جس دن یعنی 31 اکتوبر 1929ء کو جب غازی علم الدین شہید کو پھانسی ہونا تھی، اس سے ایک روز پہلے میں حسب معمول غازیؒ کی کوٹھڑی کا پہرا دے رہا تھا۔ پیدل چلتے ہوئے میں کوٹھڑی سے ذرا فاصلے پر عام قیدیوں کی بیرک کی طرف آ گیا۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ غازی کا کمرہ خوبصورت اور دلکش روشنیوں سے بھر گیا ہے۔ میں یہ سمجھا کہ شاید غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنے کمرے کو آگ لگا لی ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ نور کا ایک بادل ہے جو تیزی سے آسمانوں کی طرف چلا گیا۔ چنانچہ میں بھاگم بھاگ غازیؒ کی کوٹھڑی کی طرف بھاگا۔ اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پورا کمرہ بہترین اور مسحور کن خوشبوؤں سے معطر اور منور تھا۔ غازیؒ حالت سجدہ میں زار و قطار رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اٹھے تو میں نے ان کی قدم بوسی کی اور خود بھی بے اختیار رونا شروع کر دیا۔ پھر میں نے عرض کیا، غازی صاحب یہ کیا ماجرا تھا؟ غازی صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر عرض کیا کہ حضرت! آپ یہ اہم راز اپنے سینے میں لے کر نہ جائیں اور اس واقعہ کی تفصیلات ضرور بتائیں، بہرحال غازیؒ نے میرے بے حد اصرار پر فرمایا، عبداللہ! تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کل پھانسی ہو رہی ہے۔ میری دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے شافع محشر، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے خاص صحابہؓ کرام کے ساتھ یہاں خود تشریف لائے اور بڑی محبت اور شفقت فرمائی۔ اس موقع پر حضرت علیؓ نے مجھ سے پوچھا کہ غازی بیٹا! تمھیں پھانسی کا خوف تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا۔ حضور! بالکل نہیں۔ فرمایا: بیٹا اگر کوئی خوف ہے تو آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے پھر عرض کیا۔ حضور! نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ میں تو بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ پھر پیارے آقا و مولا حضور نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: غازی بیٹا! پھانسی کے وقت جیل حکام تم سے تمہاری آخری خواہش پوچھیں گے، تم کہنا کہ میرے ہاتھ کھول دیں۔ میں پھانسی کا پھندا چوم کر خود اپنے گلے میں ڈالنا چاہتا ہوں تا کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ تم روزہ رکھ کر آنا، میں تمام صحابہؓ کرام اور فرشتوں کے ہمراہ حوض کوثر پر

صفحہ 459

تیرا استقبال کروں گا اور ہم سب روزہ اکٹھے افطار کریں گے‘۔

یہ ہے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا صلہ!

غازی محمد صدیق شہیدؒ

دنیا میں ایسے آدمی بہت کم ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی بلند مقصد ہو اور وہ اس کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دینے سے ذرا سا بھی تامل نہ کریں۔ ایسے ہی آدمیوں سے قوموں کی زندگی کے چراغ روشن رہتے ہیں اور ایسے ہی آدمیوں سے ملتوں کی تاریخ بنتی ہے۔ قصور کے غازی محمد صدیق شہیدؒ اس صف کے ایک ممتاز مجاہد تھے۔

پالامل ایک ہندو سنار تھا جو ہندو ساہوکاروں کی پشت پناہی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا تھا۔ 16 مارچ 1934ء کو اس نے حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے۔ توہین رسالت ﷺ کی اس قبیح حرکت پر سارے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پالامل کے خلاف استغاثہ دائر ہوا اور عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے چھ ماہ قید اور دوسو روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مجرم نے سیشن جج کی عدالت میں اپیل کر دی اور ضمانت پر رہا ہو گیا۔ ادھر یہ ہوا کہ شمع رسالت ﷺ کے ایک پروانے غازی محمد صدیق کا مقدر جاگ اٹھا۔ خواب میں رحمت عالم حضور سرور کائنات ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ملا۔

”قصور میں ایک ہندو ہماری شان میں گستاخیاں کر رہا ہے۔ جاؤ اس کی زبان بند کرو“۔

آقائے دو جہاں ﷺ کا یہ جانباز سپاہی کئی دن تک شدت غم سے نڈھال رہا۔ اس کے سینے میں غیظ وغضب کے شعلے ابل رہے تھے۔ دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ جلد از جلد اسے جہنم رسید کر دوں۔ چنانچہ غازی محمد صدیق نے مجرم سے نمٹنے کی تیاری کی اور چلتے وقت اپنی والدہ سے کہا: ماں دعا کرو میں اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں اور بارگاہ سرور کونین ﷺ میں میری قربانی منظور ہو‘۔ 17 ستمبر 1934ء کو یہ عظیم مجاہد دربار بابا بلھے شاہ کے پاس ایک درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور اپنے شکار کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے ہی مجرم سامنے آیا اسے پہچان کر للکارا اور کہا: ”میں تاجدار کائنات ﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے ملیچھ گستاخ رسول! آج تو کسی بھی طرح ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا“۔ یہ کہا اور نعرہ تکبیر لگا کر اس گستاخ رسول کو ڈھیر کر دیا۔

صفحہ 460

موقع پر موجود افراد کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو آسانی سے ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنا فرض ادا کر کے نماز شکرانہ ادا کی اور اطمینان سے مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ ہندوؤں کے چہرے اترے ہوئے تھے اور غازی صاحب خوشی سے مسکرا رہے تھے۔ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔

قتل کے الزام میں پولیس نے محترم غازی صاحب کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر غازی صاحب نے پولیس آفیسر کے روبرو ایمان افروز بیان دیتے ہوئے فرمایا:

توہین کی تھی۔ وہ دیدہ و دانستہ اس جرم کا مرتکب ہوا، اسے راجپال اور غازی علم الدین شہیدؒ کے واقعہ کا بھی بخوبی علم تھا۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ شخص ہرگز مسلمان نہیں بلکہ منافق ہے جو پیارے آقا ﷺ کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمتِ رسول ﷺ پر جان قربان نہ کرے۔ کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برداشت ہو سکتا ہے، دنیوی امور میں کسی بھی فرد خواہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں، کی شان میں گالی گلوچ پر چپ رہا جا سکتا ہے لیکن سرکارِ مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ و غضب، جوش و ولولہ اور غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں ہو سکتا۔ میں نے جو کچھ کیا، خوب غور و فکر کے بعد غیرت دینی کے سبب اپنے رسول ﷺ کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ اس پر مجھے قطعاً تاسف یا ندامت نہیں بلکہ میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں۔ عدالت زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکتی ہے، جب چاہے دے دے، مجھے قطعاً حزن و ملال نہ ہوگا۔ مگر جب تک ہمیں شہنشاہِ مدینہ ﷺ کی حرمت اور تقدس کے تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی، کوئی نہ کوئی سرفروش نوجوان بزم دار و رسن میں چراغِ محبت جلاتا رہے گا۔ یہ تو ایک جان ہے، اس کی بات ہی کیا ہے، میں تو آپ ﷺ کی خاکِ قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کر ڈالوں تو میرا عقیدہ، ایمان اور عشق و وجدان یہی کہتا ہے کہ گویا ابھی حقِ غلامی ادا نہیں ہو سکا“۔

سیشن کورٹ سے پھانسی کے فیصلے کے بعد حضرت غازی محمد صدیق شہیدؒ کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا:

لیے تم قربان گاہ پر جا رہے ہو، اس محبوب کردگار ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لیے مجھے تم جیسے

صفحہ 461

20 بیٹوں کی قربانی بھی دینا پڑے تو ربّ کعبہ کی قسم! کبھی دریغ نہ کروں اور یوں غازی محمد صدیق نے آقائے دو عالم ﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دے کر امت مسلمہ کو تا ابد سرخرو کر دیا‘‘۔ تختہ دار پہ اس پروانہ شمع رسالت کے آخری الفاظ یہ تھے: ”میرے اللہ! تیرا ہزار شکر کہ تو نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لیے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا‘‘۔

تیرے ذوق شہادت کا فسانہ
نہ بھولے گا قیامت تک زمانہ
فنا کے بعد بھی زندہ رہے گا
تیرے ایمان کامل کا فسانہ!!

غازی عبدالرشید شہیدؒ

شردھا نند رسوائے زمانہ شدھی تحریک کا بانی اور ہندو مسلم فساد کا داعی تھا۔ اس کا اصل نام منشی رام تھا اور وہ مسلمانوں کے خلاف فرنگی سازشوں کا آلۂ کار تھا۔ تحریک خلافت کے زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کی جو فضا برسوں کے اندر پیدا ہوئی تھی، شردھا نند اور اس کے چیلوں نے چند مہینوں میں اسے نفرت و انتشار میں بدل دیا۔ یہ لوگ گاؤں گاؤں پھیل گئے اور اسلام پر کیچڑ اچھالنے لگے۔ حد یہ کہ ان لوگوں نے براہ راست ناموس رسالت ﷺ پر حملے شروع کر دیئے۔ شردھا نند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضور سرورِ کائنات ﷺ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں بالکل عریاں الفاظ میں کی گئی تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔

توہین رسالت ﷺ کفر کی آخری حد ہے۔ شردھانند کی لگائی ہوئی آگ ہر طرف بھڑک رہی تھی اور جاں نثارانِ مصطفیٰ ﷺ کے دل تڑپ رہے تھے۔ بگراس ضلع بلند شہر (یوپی) سے ایک نوجوان عاشق رسول ﷺ اٹھا اور اس نے رسالت مآب ﷺ پر کیچڑ اچھالنے والے اس گروہ کے سرغنہ کا قصہ پاک کرنے کی ٹھان لی۔ شمع رسالت ﷺ کا یہ پروانہ غازی عبدالرشید تھا۔ ایک غریب مگر معزز گھرانے کا یہ فرزند جس کی خوش قسمتی پر کائنات ہمیشہ ناز کرے گی، دہلی سے افغانستان روانہ ہوا، اور وہاں سے ایک پستول خرید کر لوٹ آیا۔ اب غازی عبدالرشید تھا اور عشق رسول ﷺ کی بیقراریاں تھیں۔ جذبوں کی حرارت جوں جوں

صفحہ 462

بڑھتی گئی اور اس عاشق رسول ﷺ کا چہرہ نکھرتا گیا۔ وہ موقع کی تلاش میں تھا اور قدرت نے یہ موقع اسے جلد ہی فراہم کر دیا۔ 17 دسمبر 1926ء کو شردہانند دہلی میں اپنے مکان پر موجود تھا کہ غازی عبدالرشید ریوالور لے کر دن دہاڑے اس کے آشرم میں جا پہنچا۔ ملت اسلامیہ کے اس غیور فرزند نے دشمن رسول ﷺ شردہانند ملعون کو للکارا اور پستول کی لبلبی دبا دی۔ چھ گولیاں اس ملعون کے سینے میں پیوست ہو گئیں اور یوں بیسیویں صدی کے ایک بہت بڑے فتنے کی کہانی اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گئی۔

شردہانند کے قتل سے ہندوؤں میں صف ماتم بچھ گئی جبکہ مسلمانوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا۔ غازی عبدالرشید نے ابتدائی کارروائی کے دوران ہی قتل کا اعتراف کر لیا۔ دہلی، یوپی اور پنجاب کے مسلمانوں نے مقدمے میں گہری دلچسپی لی۔ ہر پیشی پر عدالت میں غازی عبدالرشید سے محبت کرنے والوں کا بے پناہ ہجوم امڈ آتا۔ مقدمے کی ساری روداد خود مولانا محمد علی جوہرؒ نے شائع کی۔ عدالت نے غازی عبدالرشید کو پھانسی کی سزا دی اور ملت اسلامیہ نے اپنے اس قابل فخر سپوت کو ”شہید اسلام“ اور عاشق رسول ﷺ کے خطاب سے نوازا۔

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمد ﷺ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو ضیاء بخشی ہے

معروف دانشور جناب فرید الدین احمد فریدی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ”دہلی میں میرے باپ، دادا، پردادا دفن ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد جب بھی دو چار دفعہ دہلی جانا ہوا تو میرے جانے کی سب سے بڑی کشش یہ ہوتی تھی کہ برسوں بعد اپنے باپ دادا کی قبروں پر فاتحہ پڑھ سکوں گا۔ میرے والد دلی کے قدیم قبرستان میں دفن ہیں لیکن ایک زمانے میں یہ جگہ دلی کی شہر پناہ سے باہر تھا۔ اب یہ ہندوستانی دارالحکومت کے عین مرکز میں

صفحہ 463

ہے اور اس کے عین مقابل ہندوستان کے مشہور اخبار، انڈین ایکسپریس اور ذرا آگے دوسرے مشہور اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مرکزی دفاتر ہیں جہاں ایک گز کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے۔ اکتوبر 2004ء میں جب میں اپنے والد کی قبر کی طرف جا رہا تھا تو چند سو گز پہلے دائیں طرف سرسبز پودوں اور مختلف رنگوں کے پھولوں سے لدی ایک چار دیواری نظر آئی۔ میں اندر داخل ہوا، سامنے سنگ مرمر کے کتبے پر غازی عبدالرشید شہیدؒ کا نام تھا جن کے ہاتھوں دلی میں وہی کام لینا مقدر کیا گیا تھا جو لاہور میں غازی علم الدین شہیدؒ کے لیے لکھ دیا گیا تھا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے لیکن دلی میں غازی عبدالرشید شہیدؒ کے مزار کی کوئی ایسے ہی دیکھ بھال کر رہا ہے جیسے لاہور میں غازی علم الدین شہیدؒ کی تربت کی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس غالب کے مزار کی دلی میں وہ نگہداشت نہیں جو لاہور میں اقبال کے مزار کی ہے۔ یہ کس کا عشق ہے جس کا فیض بھارتی راجدھانی دلی میں عام ہے۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود دلی میں اس مزار کا تقدس برقرار ہے۔ ؎

زیارت گاہِ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

(شہید ناموس رسالت ﷺ عامر عبدالرحمٰن چیمہ)

غازی عبدالقیوم شہیدؒ

آریہ سماج حیدر آباد سندھ کے سیکرٹری نتھو رام نے ”تاریخ اسلام“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں سرکار دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔ مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ جلسے جلوس اور شدید احتجاج کے علاوہ نتھو رام کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا گیا۔ نتھو رام پر مقدمہ چلا۔ کتاب ضبط ہوئی اور معمولی جرمانہ کے ساتھ ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ اس نے جوڈیشل کمشنر کی عدالت میں اپیل کی اور اس کی ضمانت منظور ہو گئی۔ مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ ہزارہ کے ایک غریب خاندان کے فرزند عبدالقیوم نے نتھو رام کی خرافات کا ذکر سنا تو اس کی غیرت ایمانی بھڑک اٹھی۔ خدا نے ازل سے عبدالقیوم کے نصیب میں غازی اور شہید کا اعزاز لکھا ہوا تھا۔

مقدمہ کی تفصیل جاننے کے لیے غازی عبدالقیوم نے پوچھا: سندھ میں اتنے مسلمان ہیں مگر اس بد زبان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں

صفحہ 464

گستاخی کرنے کی تجھے کس طرح جرأت ہوئی؟ کیا ہم اس قدر بے غیرت ہو چکے ہیں؟ پھر کیا تھا، اس شہباز محبت نے اپنے آقا ﷺ کی ناموس پہ قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک تیز دھار چاقو خریدا اور اپنی رفیقۂ حیات سے کہا:

”دعا کرو اللہ مجھے اس مردود سے عدالت ہی میں ملوائے۔ میں اسے بتا دوں گا کہ میرے رسول ﷺ کی عظمت و تقدیس میں یاوہ گوئی کا فیصلہ انگریز کی عدالت سے نہیں، کسی غیرت مند مسلمان کے خنجر کی نوک ہی سے ممکن ہے“۔

یہ مارچ 1934ء کی بات ہے۔ نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کارروائی سننے آئے۔ غازی عبدالقیوم شہید عدالت میں داخل ہوا تو نتھو رام پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد شمع رسالت ﷺ کا یہ پروانہ اٹھا اور نتھو رام کے پیٹ میں اپنا خنجر گھونپ دیا۔ گستاخ رسول ﷺ کی آنتیں باہر نکل آئیں اور وہ تڑپنے لگا۔ غازی عبدالقیوم نے بڑے اطمینان سے جج کو مخاطب کر کے کہا! ”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا ومولا ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کو سزا مل گئی“۔ یہ کہا اور بڑے اطمینان سے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ پولیس نے آکر گرفتار کیا۔

مقدمہ چلا اور مسلمان وکیلوں نے مقدمے کی مفت پیروی کی پیشکش کی تو غازی عبدالقیوم شہید نے ایک جرأت مندانہ فقرہ کہا: ”آپ جو چاہیں کریں مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبۂ عقیدت و محبت رسول ﷺ کو ٹھیس پہنچے گی“۔ یوں غازی عبدالقیوم شہید پھانسی چڑھ کر ہمیشہ کی زندگی پا گیا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو عشق رسول ﷺ کی حرارت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لازوال جذبوں کی تابانیاں دے گیا۔ آج بھی فضائے عالم میں اس غازی شہید کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں اور تا ابد گونجتے رہیں گے:

”میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے گستاخ رسول کو موت کے گھاٹ اتارا اور میں اسی جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر اپنی زندگی، شہنشاہ مدینہ ﷺ کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں“۔

غازی عبدالقیوم شہید جیسے غیور نوجوان امت مسلمہ کی آبرو اور تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ؎

صفحہ 465
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ اے مرد مسلماں! تجھے کیا یاد نہیں؟
حرف لا تدع مع اللہ الہاً آخر

غازی مرید حسین شہیدؒ

1936ء میں روزنامہ زمیندار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ پلول ضلع گڑگاؤں کے ڈاکٹر رام گوپال نے ایک ............ کا نام معاذ اللہ ہمارے ............ کے نام نامی پر رکھا ہے۔ خبر چھپتے ہی ہر مسلمان کا خون کھول اٹھا اور شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھلہ ضلع چکوال کے ایک غیرت مند جوان غازی مرید حسین کے جوش و جذبے کا کچھ اور ہی حال تھا۔ اس عاشق رسول ﷺ کے تن بدن میں شعلے بھڑک اٹھے اور اس نے رام گوپال کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مجرم کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اسے جہنم واصل کرنے کی پوری منصوبہ بندی کی۔ بالآخر 7 اگست 1936ء کو آفتاب نبوت ﷺ کا یہ شیدائی اس ملعون کے ٹھکانے پر پہنچا۔ ہسپتال کے قریب ایک محفوظ جگہ کھڑا ہو گیا اور اپنے شکار کی راہ دیکھنے لگا۔ بالآخر ڈاکٹر سامنے آیا اور یہ نحیف و نزار مجاہد ناموس رسالت ﷺ اس پر ٹوٹ پڑا؛ اور یہ کہتے ہوئے: ”او موذی! اٹھ اج محمد ﷺ دا پروانہ آ گیا ای“۔ چھوٹے سے خنجر کے ایک ہی وار سے گستاخ رسول ہندو کو واصل جہنم کر دیا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے مرید حسین کو غازی مرید حسین شہیدؒ بنا کر رہتی دنیا تک امر کر دیا۔

رام گوپال کو جہنم رسید کرنے کے بعد غازی مرید حسین نے خود ہی گرفتاری پیش کر دی اور دوران تفتیش اس سوال پر کہ مقتول کا حلیہ کہاں سے معلوم ہوا، اس شہبازِ محبت نے انکشاف کیا:

”جس عظیم ذات نے مجھے اس کی شناخت کروائی، ان کے حضور تم تو کیا تمہارے خیال کا بھی گزر نہیں ہو سکتا۔ رام گوپال نے میرے آقا ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور میرے آقا ﷺ نے کرم فرمایا کہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مجھے چن لیا۔ میری قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں پیارے آقا ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ ﷺ نے

صفحہ 466

اس گستاخ کی صورت مجھے دکھائی اور میں نے جاگ کر اس کا حلیہ نوٹ کر لیا‘‘۔ اب میں اسے ختم کر چکا ہوں۔ یہ میرے ہنسنے اور ہندوؤں کے رونے کا وقت ہے‘‘۔

سچ کہا غازی مرید حسین نے۔ واقعی یہ اس کے ہنسنے کا وقت تھا۔ چنانچہ جب پھانسی کا وقت آیا تو محبوب خدا ﷺ کا یہ غلام تختہ دار کی طرف اس شان سے چلا کہ ہونٹوں پر تبسم تھا اور زبان پر نعت رسول ﷺ کے زمزمے۔

بقول علامہ اقبالؒ

مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے

آپ کے نورانی چہرے پر وہی تبسم تھا جس کا علامہ مذکور نے یوں ذکر فرمایا ہے۔

نشان مرد مومن با تو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

صبح نو بجے جہلم جیل سے ناموس رسالت ﷺ کے اس جانثار کا جنازہ اٹھایا گیا۔ جہلم کے گلی کوچے درود و سلام سے گونج رہے تھے اور انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، جو غازی صاحب کی آخری آرام گاہ ’’غازی محل‘‘ تک ساتھ رہا۔ راستے میں کئی مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ مختلف نعروں اور اشعار کے ہمراہ مولانا ظفر علی خانؒ کے یہ اشعار بھی پڑھے جاتے رہے۔

جیت گیا اسلام کا غازی
ہار گئی کفر کی بازی
جھک نہ سکا توحید کا پرچم
صلی اللہ علیہ وسلم

سہ پہر کو بھلہ شریف کے شمال کی جانب لب شاہراہ انتہائی موزوں مقام پر شمع رسالت ﷺ کے اس پروانے کو انتہائی عقیدت و والہانہ انداز میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ سینکڑوں حفاظ کرام، علمائے کرام اور دیگر فرزندان توحید اس وقت قرآن مجید کی آیات، کلمہ طیبہ اور درود شریف پڑھ رہے تھے۔ ایسا ایمان افروز سماں جو زبان قلم سے بیان نہیں ہو سکتا،

صفحہ 467

اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔ مختلف شعرا کے اشعار پڑھے جارہے تھے۔ مثلاً مولانا محمد علی جوہرؔ جو بیت المقدس میں مسجد عمرؓ کے قریب دفن ہیں۔ ان کا شعر: ؎

رشک ایک خلق کو ہے جوہرؔ کی موت پر
یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

(یہاں جوہر کی جگہ غازی کر دیا گیا تھا)۔

کوئی علامہ اقبالؒ کی زبان میں رطب اللسان تھا: ؎

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

عاشق رسولؐ غازی مرید حسین شہید شاعر بھی تھے، اسیرؔ تخلص تھا۔ کوئی ان کے یہ اشعار پڑھ رہا تھا:

دنیا سے دل لگا کے تجھے کیا ملا اسیرؔ
اب عشق مصطفیٰ ﷺ میں بھی جاں دے کے دیکھ لے
یا الٰہی اس اسیر خستہ جاں کو دار پر
خواہش دیدار احمد ﷺ کے سوا کچھ بھی نہیں

کوئی یہ اشعار پڑھ رہا تھا:

زندگی کیا ہے؟ محمد ﷺ پہ فدا ہو جانا
موت کیا ہے؟ اسی جذبہ کا فنا ہو جانا
سعادت ہے کتنی سعید اس بشر پر
محمد ﷺ پہ جو بھی فدا ہوگیا
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں حق کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
پی جام شہادت کا میداں میں نکل مسلم
جنت میں صلہ اس کا محبوب خدا ﷺ دیں گے
مسلمان لاکھ بودے ہوں مگر نام محمد ﷺ پر
خوشی سے اب بھی حاضر ہیں وہ اپنے سر کٹانے کو
صفحہ 468
غازی ملت نبی ﷺ کے جانثار
رحمتیں تجھ پر خدا کی صد ہزار

غازی صاحب جام شہادت نوش کر کے زندہ جاوید ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایمان کی حرارت والوں نے ”غازی محل“ تعمیر کر دیا جس میں تین ہستیاں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ مزار کے درمیان میں غازی مرید حسین شہیدؒ، مغرب کی طرف آپ کی والدہ محترمہ غلام عائشہ (متوفی 1962ء) اور مشرق میں آپ کی اہلیہ محترمہ امیر بانو (متوفی 1943ء)۔ مزار کے سامنے کعبہ کی بیٹی یعنی مسجد ہے۔ ہر سال غازی محل میں غازی صاحب کے یوم شہادت پر شاندار انداز میں عرس منایا جاتا ہے اور دور دور سے لوگ شرکت کے لیے آتے ہیں۔

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

غازی میاں محمد شہیدؒ

16 مئی 1934ء کی شام ایک فوجی چھاؤنی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدیدار خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے کوئی نعت بآواز بلند ترنم سے پڑھنی شروع کر دی۔ لہجے میں مٹھاس اور عقیدت کا رنگ نمایاں تھا۔ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ پاس ہی ایک دوسرا ہندو بیٹھا تھا۔ وہ اپنے ڈوگرہ ساتھی کے منہ سے حضور رحمت عالم ﷺ کا اسم گرامی سنتے ہی جل بھن کر رہ گیا۔ اس نے غلیظ الفاظ میں حضور اکرم ﷺ کی توہین کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا کہ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا پاپ ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ عاشق رسول ﷺ غازی میاں محمد یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ اس نے گستاخ ڈوگرے سپاہی سے کہا: ”وہ خوش قسمت ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نعت پاک پڑھ رہا ہے۔ اگر تجھے پسند نہیں تو خاموش رہ یا باہر نکل جا۔ خبردار! آئندہ ایسی بکواس مت کرنا، وہ بولا: ”میں ایسا ہی کہوں گا۔ تجھے کیا، میں جو چاہوں کہتا پھروں“۔

یہ جواب سن کر غازی میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور فیصلہ کن انداز میں کہا: ”اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جرأت ہرگز نہ کرنا۔ یہ بدتمیزی تجھے اذیت ناک موت سے دو چار کر دے گی“۔ بدقسمت ڈوگرے نے دوبارہ وہی جواب دیا اور یہ وہ لمحہ تھا جب میاں محمد نے اپنے آقا ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے

صفحہ 469

کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی بیرک میں گیا، نماز عشاء ادا کی اور بارگاہ الہی میں تڑپ کر التجا کی:

ہرزہ سرائی کرنے والے کا کام تمام کردوں۔ تو مجھے حوصلہ اور استقامت عطا فرما۔ حضور سید کائنات ﷺ کی عزت و ناموس پہ مجھے اپنی جان نچھاور کرنے کی توفیق دے اور میری یہ قربانی منظور کر لے“۔

یہ دعا مانگ کر غازی اٹھا، اپنی رائفل نکالی اور شاتم رسول ﷺ ہندو سپاہی کو للکار کر کہا: ”ارے کم بخت! اب بتا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی پر میں تجھ سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟“ اور اس کے ساتھ ہی ناموس رسالت ﷺ کے شیدائی کی گولی ہندو ڈوگرے کو ڈھیر کر چکی تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور عشق مصطفیٰ ﷺ کا یہ پیکر اپنے آقا و مولا ﷺ کی ناموس اطہر پہ قربان ہو گیا۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

غازی محمد عبداللہ شہیدؒ

1942ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ چنچل سنگھ جو پہلے مسلمان تھا، ایک سکھ عورت کے عشق میں مرتد ہو گیا اور جنڈیالہ شیر خان کے قریب اس عورت کے گاؤں میں جا بسا۔ یہ نامراد حق سے پھرا، انتہائی خبیث حرکتوں پر اتر آیا۔ سکھوں کے اکسانے پر جگہ جگہ حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کرنے لگا۔ مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا۔ چنچل سنگھ کے گاؤں سے کوسوں دور رہنے والے عبداللہ انصاری کو ایک رات خواب میں حضور پرنور سید عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عبداللہ! یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے۔ اس کی زبان بند کرو“ صوفی عبداللہ کی آنکھ کھلی تو اپنے اندر ایک عجیب ایمانی قوت اور جوش ولولہ محسوس کر رہا تھا۔ تقدیر نے اس کے لیے غازی اور شہید کے اعزاز لکھ دیئے تھے۔ وہ اٹھا اور یہ کہہ کر سکھ کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا:

”اس مرتد نے شہنشاہ کونین ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس دنیا میں ہی سزا ملنی چاہئے اور یہ سزا میں دوں گا“۔

اس عاشق رسول ﷺ کا حوصلہ اور امنگ دیکھو کہ تن تنہا سکھوں کے گاؤں جا رہا تھا

صفحہ 470

جو اپنی سفاکی، خونریزی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ضلع بھر میں بدنام تھے اور جن کے سامنے آس پاس کے سارے مسلمان خود کو بے بس اور مجبور پا رہے تھے۔ چلچل سنگھ کنویں پر بیٹھا تھا اور پاس ہی کئی سکھ گپیں ہانک رہے تھے۔ غازی عبداللہ نے ان سے پوچھا: ”مجھے چلچل سنگھ سے ملنا ہے“۔ ایک سکھ نے اس مردود کی طرف اشارہ کیا۔ غازی عبداللہ نے بڑھ کر اسے دبوچ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا، اسے لٹا کر گلے پر چھری پھیر دی۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ غازی عبداللہ نے چھری زمین پر رکھ کر بارگاہ الہی میں سجدۂ شکر ادا کیا پھر نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا۔ چہرے پر خوشی کی لہریں مچل رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکھوں کا اژدھام ہو گیا مگر کسی میں غازی کے قریب آنے کی جرأت نہ تھی۔ پولیس کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور حیران ہو کر سکھوں سے پوچھا: یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے، مگر اس کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔ گرفتاری کے وقت غازی عبداللہ اتنا خوش اور ہشاش بشاش تھا جیسے شادی کی تقریب میں آیا ہو۔ قریباً ایک برس مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر سزائے موت سنائی گئی۔ یہ دیوانہ تو بارگاہ سرور کونین ﷺ میں حاضری کے لیے پہلے ہی بیتاب تھا۔ شہادت سے سرفراز کیے جانے کی خوشخبری سن کر چہرہ بشاشت سے مزید چمک اٹھا۔

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

غازی حاجی محمد مانکؒ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے معروف مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لکھتے ہیں کہ سندھ کی ایک بستی کرونڈی میں ایک بدفطرت قادیانی مبلغ عبدالحق رہتا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ وہ مرزا قادیانی کا جانشین نبی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی انگوٹھی پر ”عبدالحق نبی اللہ“ نقش تھا۔ ایک دفعہ اس نے مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ ایک مناظرے میں حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نہایت بدترین توہین کی۔ لوگوں کا کلیجا چھلنی ہوگیا۔ لوگوں نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گیا اور لوگ کف افسوس ملتے رہے۔ وہاں کے ایک رہائشی اور مرد مجاہد حاجی محمد مانک ان دنوں علاقے سے باہر تھے۔ واپس آئے تو ان کی والدہ نے روتے ہوئے کہا: ”بیٹا میں تمھیں دودھ معاف نہ کروں گی کہ تمھارے ہوتے ہوئے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے ملجا و ماویٰ حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گالیاں بکتے ہیں“۔ ان کے استفسار پر

صفحہ 471

بوڑھی ماں نے پورا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ حج کی تیاری میں مصروف تھے۔ یہ دردناک حادثہ سن کر حج کا ارادہ منسوخ کر دیا۔ چنانچہ 54 سالہ شیر نے اس گستاخ رسول ﷺ کا تعاقب کیا اور روزہ کی حالت میں بڑی جدوجہد کے بعد اسے پکڑا اور قتل کیا۔ پھر اس کے منہ سے اس کی ناپاک زبان نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کی اور کہا کہ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کا حاجی مانک ہمیشہ یہی انجام کرتا رہے گا۔

یہی ہے رسمِ وفا اور من چلوں کا شعار

الغرض پولیس انسپکٹر نے آپ کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ مصدقہ روایت ہے کہ متعلقہ پولیس افسر کی بیوی بڑی پاکباز، نیک سرشت اور عبادت گزار تھی۔ وہ نبی پاک ﷺ کے شہر خوباں کی ٹھنڈی ہوا کے لیے ہمیشہ تڑپا کرتی۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک معزز خاندان سے تھا اور یہ کہ اس خوش بخت خاتون کے والد ایک باعمل اور متقی عالم دین تھے۔ قصہ مختصر نصف شب کے قریب موصوفہ سو رہی تھیں کہ یکا یک مقدر بیدار ہوگیا، خواب میں رسول پاک نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا کہ حوالات میں ہمارا ایک مہمان آیا ہوا ہے، اس کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا۔ یہ نیک سیرت خاتون اسی لمحے اٹھ بیٹھیں۔ حدِ نظر تک اجالا ہی اجالا تھا۔ فضاؤں میں الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی وجد آفرین صدائیں گونج رہی تھیں۔ اب کہاں کی نیند اور کیسا اضطرار! انسپکٹر مذکور بغرض سحری گھر آئے تو ماحول بھینی بھینی خوشبوؤں میں رچا ہوا تھا۔ عجیب قسم کی راحت محسوس ہوئی۔ وہ کچھ نہ سمجھ سکے، جھٹ اپنی رفیقہ حیات سے پوچھا کہ یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی، کس کی ادا پر نثار ہیں۔ مہکی مہکی ہوا، بدلے ہوئے موسم کا پتا دے رہی ہے۔ ہمارے گھر میں بہار کی یہ رونقیں کیسے اور کب سے آ بسیں؟ شرم و حیا کی اس تصویر نے سجدۂ شکر سے سر اٹھایا اور اشکِ مسرت اپنے رخساروں سے پونچھتے ہوئے بولی:

”آج ہمارے پاک نبی ﷺ نے کرم فرمایا ہے۔ ان آنکھوں نے جب سے وہ جلوہ دیکھا، کسی اور نظارے کی حسرت نہیں رہی۔ شاہِ مدینہ ﷺ کے یاقوتی ہونٹوں سے ایسے ترنم ریز الفاظ سنے ہیں کہ میں اپنے مقدر پر مر مٹی ہوں۔ آپ ﷺ کی حرمت و ناموس کا کوئی محافظ آج تھانے میں پابند ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرح سے ان کی مدارات کا خیال رکھیں۔“

اس ایمان پرور واقعہ کے بعد پولیس کے رویہ میں نمایاں تبدیلی رونما ہو گئی۔ جب

صفحہ 472

تفتیش کا مرحلہ ختم ہو چکا تو افسران بالا کی ہدایت پر حاجی محمد مانکؒ کو ڈسٹرکٹ جیل خیر پور میں بھیج دیا گیا۔ یہاں ابر رحمت ایک بار پھر امڈ آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جیل سے ملحقہ ایک سید گھرانے کی رہائش تھی۔ غازی صاحب کے ادھر آتے ہی ایک سیدانی کو سرورِ دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے فرمایا ”بیٹی ! جیل میں آج شام سے ہماری عصمت و ناموس کا ایک نگہبان محبوس ہے، لوگ اسے حاجی مانک کے نام سے جانتے ہیں، اسے کھانے وغیرہ کی تکلیف نہ ہونے دینا“۔ علی الصبح گلشن زہراؓ کی اس پاکیزہ کلی نے تمام روداد اپنے بھائی سید امام علی شاہ صاحب کے گوش گزار کی۔ انھوں نے حاجی صاحب کے متعلق معلوم کروایا۔ پتہ چلا کہ وہ ایک قاتل ہے۔ اس پر پریشانی لاحق ہوئی۔ دوسرے روز پھر جمالِ اقدس کا دیدار نصیب ہوا اور تاکید فرمائی گئی کہ یہی تو ہماری عظمتوں کا پاسبان ہے۔

دوران اسیری ان کی طرف سے باقاعدہ کھانا پہنچتا رہا۔ نان و نفقہ کا یہ ایسا اہتمام تھا جو من و سلویٰ تناول کرنے والے کے لیے باعث رشک ہے، اس لیے کہ خود محسن انسانیت ﷺ نے اپنے مخلص غلام کی خاطر اس کا حکم فرمایا۔

پولیس کے قانونی تقاضے پورے ہوچکے تھے۔ اب حسب ضابطہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ آپ بالآخر مقدمے سے بری ہوئے۔ رہائی کے بعد جب حضرت قبلہ غازی صاحب کی ضیافتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحبان نے بالخصوص دعوت منظور کی۔ سپرنٹنڈنٹ جیل جناب منظور حسین خان پنور صاحب، جو آج کل آئی جی جیل خانہ جات سندھ ہیں، نے ہر دورے پر جناب غازی ممدوح سے نیک برتاؤ کیا۔ آپ کا ابتدائی تعلق حسین آباد ضلع خیر پور سے ہے۔ ایسے صاحب کردار افسر بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ جب تک الحاج موصوف بقید حیات رہے، آپ سے وقتاً فوقتاً ملتے رہنا ان کا معمول تھا۔ بعض اوقات تو سپیشل ملاقات کے لیے تشریف آوری ہوتی۔ محترم سپرنٹنڈنٹ جناب پنور صاحب بتاتے ہیں کہ ایک رات میں گشت پر تھا۔ غازی محمد مانک صاحب کی کوٹھڑی کے قریب سے میرا گزر ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماحول خوشبوؤں میں رچا ہوا ہے اور عجب قسم کی روشنی بھی دیکھی۔ قریب پہنچا تو دکھائی دیا کہ غازی صاحب قبلہ رو سر بسجدہ ہیں۔ وہ پہلا دن تھا جب میرے دل میں عقیدت پیدا ہوئی اور پھر روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب آپ سے ملتا تو دل مطمئن ہو جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ ہمیشہ دعاؤں کی درخواست کیا کرتے۔

صفحہ 473

2 اکتوبر 1983ء بروز ہفتہ چار بجے شام کے قریب آپ کا وصال ہوا۔ غازی محمد مانک مرحومؒ نے تمام زندگی مرزائیوں کے خلاف جہاد کیا۔ ایک موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

کا کام کرتے رہیں گے اور اس عظیم مقصد کے لیے ہر مصیبت بخوشی جھیلیں گے‘‘۔

خواہش یہ تھی کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو۔ میں مدتوں اوراد و وظائف میں جٹا رہا۔ سات حج کیے، باقاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھیں مگر ہمیشہ اس عظیم شرف سے محروم رہا۔ آخر میری قسمت اس وقت جاگی، جب میں نے اپنے نوک قلم سے نشان باطل (عبدالحق قادیانی) کو کھرچ ڈالا۔ اب کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں شاہ مدینہ ﷺ نے ملاقات نہ فرمائی ہو۔ ہر وقت ہر روز قربت کے مزے لوٹتا ہوں۔ بس میری زندگی کے روز و شب ان ﷺ کی نگاہ کرم سے گزر رہے ہیں‘‘۔

میرے ہزار دل ہوں تصدق حضور ﷺ پر
میری ہزار جان ہو، قربان مصطفیٰ ﷺ

غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ

30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلنز پوسٹن نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں 12 نہایت توہین آمیز اور نازیبا کارٹون شائع کیے۔ پھر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت جنوری 2006ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارات و رسائل نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا۔ ان کارٹونوں کی اشاعت سے مشتعل ہو کر جرمنی میں مقیم ایک پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحمن چیمہ نے متعلقہ اخبار کے چیف ایڈیٹر ہینرک بروڈر پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہو گیا۔ عامر عبدالرحمن چیمہ گرفتار ہوئے۔ جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیوں نے برلن جیل میں 44 دن تک عامر چیمہ کو ذہنی و جسمانی اذیتیں دے کر تشدد کیا۔

ایک موقع پر تفتیشی افسر نے عامر چیمہ کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمن ٹیلی ویژن پر آ کر اعلان کرے کہ وہ ذہنی مریض ہے، دماغی طور پر

صفحہ 474

تندرست نہیں ہے اور اس نے یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا ہے۔ مزید براں یہ کہ اس فعل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور میں اپنے کیے پر بے حد شرمندہ اور نادم ہوں۔ شہید عامر چیمہ نے نہایت تحمل سے تفتیشی آفیسر کی تمام باتیں سنیں اور پھر اچانک شیر کی طرح دھاڑا اور اس آفیسر کے منہ پر تھوک دیا اور روتے ہوئے کہا ”میں نے جو کچھ کیا ہے، وہ نہایت سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ مجھے اپنے فعل پر بے حد فخر ہے۔ یہ میری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک تو کیا، ہزاروں جانیں بھی قربان۔

صفحہ 475

کہ پروفیسر نذیر چیمہ صاحب کا بیٹا عامر جو گستاخ رسول پر حملے کے جرم میں جرمنی میں گرفتار تھا، شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا اور عامر کی یادیں دل میں بسائے سو گیا۔ صبح سے کچھ دیر قبل میں نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑے میدان میں بہت زیادہ قمقمے جگمگا رہے ہیں اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ اس دوران میں میں نے دیکھا کہ اس روشن میدان میں ایک بلند سٹیج سجا ہوا ہے اور اس پر حضور ﷺ جلوہ افروز ہیں۔ آپ کے رخ زیبا سے نور ہی نور پھوٹ رہا ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ خلفائے راشدینؓ بھی موجود ہیں۔ اسی اثناء میں میدان کی دوسری طرف سے سفید لباس میں ملبوس عامر شہید آتے ہیں اور تیز قدموں کے ساتھ حضور ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں۔ آقا نامدار ﷺ عامر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر خوشی اور مسرت سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آغوش مبارک وا کر کے عامر کو پکارتے ہوئے

صفحہ 476

کی مداخلت سے کئی دن تک ملزمہ کے خلاف پرچہ درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی اس حرکت سے علاقہ بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر 19 جون 2009ء کو آسیہ مسیح کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت ایف آئی آر نمبر 326 درج کر لی گئی۔ ملزمہ کو گرفتار کر کے حفاظتی اقدام کے طور ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ بھیج دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں نیک نامی اور دیانت داری کی مثالی شہرت رکھنے والے جناب سید محمد امین بخاری ایس پی شیخوپورہ نے کی، جنھوں نے 26 جون 2009ء کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت آسیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور نہایت جانفشانی، غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کرتے ہوئے آسیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ملزمہ آسیہ مسیح کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے۔ ملزمہ نے یہ تمام باتیں نہ صرف تسلیم کیں ہیں بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی ہے۔

اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ آسیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:

مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر توہین رسالت ﷺ کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ 340(2)، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر

صفحہ 477

لگائے گئے الزامات غلط ثابت کیے۔ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے مؤقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید و تصدیق کی ہے۔ استغاثہ گواہان اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جا سکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا میں ملزمہ مسماۃ آسیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔“

اس فیصلہ کے خلاف دُنیا بھر کی سیکولر لابیاں، نام نہاد ”انسانی حقوق“ کی تنظیمیں اور عیسائی نمائندے میدان میں آ گئے۔ عیسائی پوپ بینڈکٹ نے آسیہ ملعونہ کے دفاع میں احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ایسے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔ پوپ نے ویٹی کن میں منعقدہ خصوصی دُعائیہ تقریب میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کا نام لے دُعا کرائی بلکہ صدرِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ اس کی سزا معاف کی جائے۔ اُنہوں نے حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانون توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پوپ کے بیان کے بعد 20 نومبر 2010ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر عدالت سے مجرمہ قرار دی جانے والی خاتون سے ملنے کے لیے فوراً ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے۔ جہاں اُنہوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ کے وی آئی پی کمرہ میں آسیہ مسیح سے خصوصی ملاقات کی اور اُسے حکومتی سطح پر ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔ وہ گورنر ہاؤس سے اپنے ساتھ آسیہ مسیح کو ملنے والی سزا کی معافی کی ٹائپ شدہ درخواست بھی ہمراہ لائے تھے۔ گورنر سلمان تاثیر نے میڈیا کی موجودگی میں آسیہ مسیح سے کہا کہ یہ آپ کی طرف سے تحریر کردہ درخواست ہے، آپ اس پر دستخط کر دیں تاکہ میں بطور گورنر اس درخواست کو صدر پاکستان تک پہنچا کر سزا کی معافی ممکن بنوا سکوں۔ سزا معافی کے بعد آپ کو یورپ کے کسی ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح کو معصوم قرار دیا اور کہا کہ دُنیا کی کوئی طاقت آسیہ مسیح کو سزا نہیں دے سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ قانون توہینِ رسالت ایک ”امتیازی، غیر انسانی اور کالا قانون“ ہے، جس کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہیے۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا

صفحہ 478

دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کر دے گی جو اقلیتوں کی ’’آزادی اظہار‘‘ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال، جنھوں نے شان رسالتؐ میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی تھی، کو ٹیلی فون کیا اور نہایت غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کے بعد وہ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز پر برملا کہتے رہے کہ قانون توہین رسالت ضیاء الحق کے دور میں انسانوں کا بنایا ہوا ’’کالا قانون‘‘ ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ سلمان تاثیر اس سے پہلے بھی قانون توہین رسالتؐ کے خاتمہ کے لیے کئی بار متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دے چکے تھے۔ اس کے ردعمل میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے، نیک بخت طالب علم صاحبزادہ عطا الرسول مہاروی نے 16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً براؤنز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا اور حقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخان رسول کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295/C کو ظالمانہ کہہ کر ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذات خود توہین رسالتؐ کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔

30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علما کرام نے قانون توہین رسالت کو ’’کالا قانون‘‘ کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت و سرپرستی کرنے پر سلمان تاثیر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ 4 جنوری 2011ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک محمد ممتاز قادری نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعات کے مطابق گورنر پنجاب، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو کی کہسار مارکیٹ میں واقع ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں اپنے کاروباری دوست شیخ وقاص کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آرہے تھے کہ ان کے سرکاری محافظ گن مین غازی ملک محمد ممتاز قادری نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس پر وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انھیں فوری طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پولی کلینک لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ غازی ملک محمد ممتاز قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں اعتراف کیا کہ ’’گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا

صفحہ 479

تھا، اس لیے گستاخ رسولؐ کی سزا موت ہے۔ سلمان تاثیر گستاخ رسولؐ تھا۔ اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخ رسولؐ ثابت کر دیا تھا۔ اس پر میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ مجھے اپنی غلامی میں قبول کر لیں۔ موت اور زندگی میں کوئی فرق نہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ’’اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین پر فساد پیدا ہو جائے مگر اللہ سب جہانوں پر فضل کرنے والا ہے‘‘۔

(البقرہ: 251)

یکم اکتوبر 2011ء کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کے جج سید پرویز علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں سلمان تاثیر قتل کیس میں ملک ممتاز حسین قادری کو دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ ہفتہ کے روز اڈیالہ جیل میں صبح 10 بجے چند منٹ کی سماعت کرتے ہوئے ملک ممتاز قادری کو پہلے انگریزی میں فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا تو اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی، لہٰذا اردو میں بتایا جائے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ممتاز قادری! آپ کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے الزام میں دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی جاتی ہے۔ ملک ممتاز حسین قادری نے عدالتی فیصلے کی کاپی وصول کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘۔ یہ سزائے موت نہیں بلکہ اعلان شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے میری محبت کو قبول کر لیا ہے۔ مجھے سو بار بھی زندگی ملی تو ہر بار گستاخان رسولؐ کو اس انجام سے دوچار کرتا رہوں گا۔ عاشقان رسولؐ میری خوش بختی پر مٹھائیاں تقسیم کریں۔ ملک ممتاز حسین قادری نے سزا کے بعد اپنے سیل نمبر 3 میں ملاقات کرنے والوں کو آبدیدہ کر دیا۔ ممتاز قادری اس موقع پر انتہائی خوش تھا اور اپنے والد کو عدالتی فیصلے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے وکیل صفائی کو دیکھ کر شکوہ کیا کہ آپ خالی ہاتھ آگئے ہیں، مٹھائی کہاں ہے؟ ممتاز قادری نے کہا کہ خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شہادت کے لیے چن لیا ہے۔ ممتاز قادری نے سب کو سیل میں بٹھا کر سورۃ کوثر کی تلاوت کی اور اس کے بعد ’’رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر‘‘ نعت پڑھی۔ ملاقات کے اختتام پر ممتاز قادری نے وکیل صفائی راجہ شجاع الرحمٰن کو خاک مدینہ سے بنا پیالہ بطور تحفہ دیا۔

6 اکتوبر 2011ء کو ملک ممتاز حسین قادری کے وکیل نے اس فیصلہ کے خلاف

صفحہ 480

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعہ 6 میں جن بنیادی نکات کا ذکر ہے، ان کا اس کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔ 7 اکتوبر 2011ء کو مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال، مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہوئیں۔ جمعہ کے اجتماعات میں عدالتی فیصلے کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔ 9 مارچ 2015ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججوں نے ممتاز قادری کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جہاں 7 اکتوبر 2015ء کو عدالت نے اپیل خارج کر دی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی گئی۔ یہاں بھی 14 دسمبر 2015ء کو عدالت نے نظرثانی اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ چنانچہ 29 فروری 2016ء کو غازی ممتاز حسین قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ شہادت کے دوسرے دن یکم مارچ 2016ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں لاکھوں افراد نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔ بعد ازاں اسلام آباد کے نواح ”بہارہ کہو“ کے قریب آپ کے آبائی گاؤں ’اٹھال‘ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ آج کل یہاں بہت خوبصورت مزار ہے جہاں روزانہ ہزاروں عاشقان رسول ﷺ فاتحہ خوانی اور خراج تحسین پیش کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

سب کچھ لٹا کے اپنی خودی کو بچا گئے
دنیا جسے نہ پا سکی وہ راز پا گئے

مولانا محمد علی جوہرؒ

ایک عام مسلمان کا حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ناموس رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کو اپنے لیے مایہ فخر سمجھتا ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ کی ایمانی غیرت وحمیت کے یہ الفاظ تقریباً ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:

حاجت، اگر کوئی اس قدر شقی القلب ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے، ان میں سب سے اشرف ومکرم نبی سرور کونین ، باعث تکوین دو عالم ﷺ کا جو تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس عظیم برگزیدہ ہستی کی توہین کر کے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے ...... تو مجھ سے جہاں تک صبر ہو سکے گا، صبر کروں گا، جب صبر کا جام

صفحہ 481

لبریز ہو جائے گا تو اٹھوں گا اور اس گندہ دل، گندہ دماغ، گندہ ذہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس کی کوشش میں کھو دوں گا‘‘۔ (مولانا محمد علی جوہر، آپ بیتی اور فکری مقالات، صفحہ 232)

تنگ آ جائے گی خود اپنے چلن سے دنیا
تجھ سے سیکھے گا زمانہ ترے انداز کبھی

مولانا محمد علیؒ جوہر کو تاج برطانیہ کی سطوت و جلال اور اس کی قہرمان عدالتوں کا رعب و دبدبہ مانع نہ تھا۔ یہ 1921ء کا واقعہ ہے۔ مولانا محمد علیؒ جوہر کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ برطانوی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کی پاداش میں کراچی لایا گیا جہاں ان کا مقدمہ ایک انگریز جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔

مولانا محمد علی جوہرؒ، اراکین جیوری سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی قانون بغاوت کی دھجیاں اُڑانے لگے۔ آپ نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین کا وفادار ہوتا ہے جس کی رو سے اس پر برطانوی فوج میں ملازمت حرام ہے۔ اس تاریخ ساز خطاب میں آپ نے اپنے آقا و مولا ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کا حوالہ دیا جو انسانی آزادی کا اوّلین چارٹر ہے۔ اس پر مولانا محمد علی جوہرؒ اور عدالت کے مابین جو مکالمہ ہوا، وہ بڑا ہی ایمان افروز تھا۔ اس سے آپ کا رسالت مآب ﷺ سے بے پناہ محبت و احترام اور ادب و عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

انگریز جج: ’’ختم کرو یہ قصہ اور چھوڑو اپنے پیغمبر (ﷺ) کی بات کو۔

مولانا جوہر: (طیش میں آ کر انتہائی غصے کے عالم میں) اپنے محبوب آقا ﷺ کا ذکر کروں گا اور ضرور کروں گا، اپنے الفاظ واپس لو (پھر گرج کر پوری قوت سے بولے)...... ’’میں کہتا ہوں اپنے الفاظ واپس لو۔ خبردار! جو شخص بھی میرے محبوب پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا، میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا، اسے میں جان سے مار دوں گا‘‘۔

مولانا بھرے ہوئے شیر کے مانند گرج رہے تھے۔ انگریز جج نے جب یہ صورتحال دیکھی تو سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلایا اور حکم دیا ’’ان کو یہاں سے ہٹا دو‘‘ لیکن مولانا جوہرؒ کے غیظ و جلال کو دیکھ کر اس کو بھی ہمت نہ پڑی کہ قریب آتا۔ آپ مسلسل بولتے چلے گئے۔ بالآخر شدت جذبات سے مغلوب ہو کر آپ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ گلا رندھ گیا جس کے بعد آپ کچھ نہ کہہ سکے۔

صفحہ 482

بیرسٹر ڈاکٹر محمد عالم

رسوائے زمانہ راجپال کی دل آزار کتاب جب منظر عام پر آئی تو مسلمانوں کو بہت ملال ہوا۔ علما نے جلسے کیے، احتجاج کیا گیا، ملعون راجپال کے خلاف بہت زیادہ جوش پھیلا۔ گستاخی رسول ﷺ پہ مسلمانان عالم کے دل مجروح ہوئے۔ فیصلہ ہوا کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ چونکہ حکومت انگریز کی تھی، اس لیے یہ ساری کارروائی غیر مؤثر ہو کر رہ گئی بلکہ اُلٹا اُن علما کے خلاف مقدمات بنائے گئے جنہوں نے راجپال کے خلاف اپنے ایمانی جذبات کا اظہار پبلک جلسوں میں کیا تھا۔ چنانچہ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بھی مقدمہ دائر کر دیا گیا اور الزام یہ لگایا گیا کہ شاہ جیؒ نے عوام کو راجپال کے قتل کے لیے اُکسایا اور ترغیب دی۔ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وکالت ڈاکٹر محمد عالم بار ایٹ لا کر رہے تھے جو لاہور کے مسلمہ اور قابل بیرسٹر تھے۔ وہ اپنے وقت کے مانے ہوئے قانون دان تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی مدرسہ سے دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی کسی پیر صاحب کے پاس جا کر سلسلۂ طریقت میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا تھا۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹس شروع کردی۔ پس وہ انگریزی تہذیب میں رنگے ہوئے انسان تھے۔ مقدمہ پیش ہوا۔ شاہ جیؒ کی طرف سے ڈاکٹر محمد عالم پیروی کے لیے عدالت میں کھڑے ہوئے تو جج نے جو ہندو تھا، بڑے تحکمانہ لہجے میں کہا ”ڈاکٹر محمد عالم! آپ ایک فاضل وکیل ہو کر ایسے آدمی کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں جس نے برسرعام لوگوں کو ایک آدمی کے قتل کے لیے بھڑکایا اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا“۔ عینی شاہد کا بیان ہے کہ یہ بات سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کے تیور بدل گئے، چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور ہوش و حواس نے بالکل جواب دے دیا۔ عدالت اور اس کے آداب کا خیال ہی نہ رہا۔ ڈاکٹر محمد عالم عدالت میں بے ساختہ پکار اٹھا کہ فاضل عدالت کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بخاریؒ کا جو قصور ہے، وہ ہوتا رہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ اگر میرا بس چلے تو راجپال کو میں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کردوں۔ جج نے حیرانی سے پوچھا! کیا کہہ رہے ہو؟ ہوش و حواس تو ٹھکانے پر ہیں۔ جواب دیا کہ میرے حواس ٹھکانے پر ہیں لیکن میں فاضل عدالت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں والدین کی توہین برداشت کر سکتا ہوں، کسی رشتہ دار کی تضحیک سن سکتا ہوں مگر محمد عالم بحیثیت مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے

صفحہ 483

آقائے نامدارﷺ کی ذات گرامی پر کسی قسم کا کوئی حرف آئے۔ بلاشبہ ہم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے فریضہ میں کمزوری دکھا سکتے ہیں مگر بحیثیت مسلمان محبت رسول ﷺ کو دل سے نہیں نکال سکتے۔ ایک مسلمان کا دل محبت رسول ﷺ سے کبھی خالی نہیں ہوسکتا‘‘۔

جرس الہام کا بجتا ہے پیہم
دلیل راہ ہے آواز جبریل

سر محمد شفیع

تقسیم ہند سے قبل کا واقعہ ہے۔ ایک انگریز میجر کی بیوی نے اپنے مسلمان خانساماں کے سامنے حضورﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر اس مردِ غیرت مند نے اسی وقت اس انگریز میم کا کام تمام کر دیا۔ یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا تو ڈویژن بنچ میں دو انگریز جج اس مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے۔ ملزم کی جانب سے اس وقت کے سیاسی رہنما اور ممتاز قانون دان میاں سر محمد شفیع جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں سر محمد شفیع کے سیاسی معتقدات سے بحث نہیں بلکہ سرکار (انگریز) دربار میں رسائی کے باوجود ان کی دینی حس کی بابت بتلانا مقصود ہے۔ اس مقدمہ میں دوران بحث میاں محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جس پر مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے حیرت سے پوچھا۔ سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہوسکتا ہے؟ اس پر سر شفیع نے رنج اور حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا:

”جناب! آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبرﷺ کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے“۔

یوں روح کی تسکین کا سامان کریں گے
ایمان کے لیے جان کو قربان کریں گے

دنیا اور موت کی حقیقت

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا نہایت بے حقیقت چیز ہے، اس لیے اللہ والے اسے کبھی

صفحہ 484

پسند نہیں کرتے۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

گھونٹ پانی بھی دنیا میں نہ ملتا۔

(ترمذی، ابن ماجہ)

مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے دنیا کی حقیقت پوچھی تو آپ نے فرمایا: دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلا جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر چلا آ رہا ہے، وہ بھاگتا ہے۔ بھاگتا ہوا جب تھک جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ سامنے ایک گڑھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ گڑھے میں گر کر جان بچائے مگر گڑھے میں اژدھا نظر آتا ہے۔ اتنے میں درخت کی ایک ٹہنی پہ نظر پڑتی ہے، وہ اسے پکڑ کر درخت پر چڑھ جاتا ہے۔ مگر چڑھنے کے بعد پتا چلا کہ دو چوہے ایک سفید اور ایک سیاہ، درخت کی جڑ کو کاٹ رہے ہیں۔ وہ بہت پریشان ہوتا ہے کہ کچھ دیر میں درخت گر جائے گا اور میں، شیر اور اژدھے کا شکار ہو جاؤں گا۔ اتنے میں اس کو اوپر کی جانب ایک شہد کا چھتہ نظر آیا اور وہ شہد پینے اور حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہو گیا کہ نہ شیر کی فکر رہی نہ اژدھے کا ڈر نہ چوہوں کا غم۔ اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی، وہ گر پڑا، شیر نے اسے پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا جہاں اژدھے نے اس کو نگل لیا۔

مولانا رومؒ تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جنگل سے مراد یہ دنیا ہے، شیر سے مراد موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے۔ گڑھا قبر ہے جو انسان کے آگے ہے، اژدھا برے اعمال ہیں جو قبر میں عذاب دیں گے۔ چوہے دن اور رات ہیں۔ درخت عمر ہے جو ہر گزرنے والے دن کم ہو رہی ہے اور شہد کا چھتہ دنیا کی غافل کر دینے والی لذتیں ہیں کہ انسان اعمال کی جواب دہی، موت اور قبر سب بھول جاتا ہے اور موت اسے اچانک آن لیتی ہے۔

زندگی کی مثال پانی کے ایک بلبلے کی سی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، وہ جب چاہے واپس لے لے۔ ایک صاحب نے اس کی یوں منظر کشی کی ہے؎

آتے ہوئے اذاں ہوئی جاتے ہوئے نماز
اتنے قلیل وقت میں آئے اور چل دیے

قارئین کرام! ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا حساب لے اور مرنے کے بعد کی تیاری کرے۔ انسان کتنا ہی سرکش اور طاقتور کیوں نہ ہو لیکن ہر شام زندگی کا ایک دن کم ہو جاتا ہے اور وہ اسے روک بھی نہیں سکتا۔ لیکن وہ رب اسے نئی صبح

صفحہ 485

دے کر پھر مہلت دے دیتا ہے، شاید میرا بندہ توبہ کرلے اور میں اسے بخش دوں۔ کون نہیں جانتا کہ یہ دنیا ایک عارضی مسافر خانہ ہے، جہاں سے ہر کسی کو کوچ کرنا ہے۔ مسافر کو حالت سفر میں کسی چیز اور کسی جگہ سے دلبستگی نہیں ہوتی۔ جو شخص اس سے دل لگا بیٹھتا ہے، ہمیشہ پچھتاتا ہے۔ شاہی محلات میں دم توڑتے ہوئے بادشاہوں کے الفاظ ہمیں درس عبرت دیتے ہیں کہ اس دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ دنیا کس قدر بے ثبات، اس کی ثروت کس درجہ عارضی، اس میں قیام کس قدر مختصر اور اس کا انجام کتنا حسرت ناک، عبرت ناک، تاسف خیز اور یاس و حرماں سے لبریز ہے۔

مولانا محمد یوسف اصلاحی فرماتے ہیں:

کچھ نہیں معلوم کہ زندگی کا یہ کچا دھاگا کب ٹوٹ جائے اور موت کی تلوار آپ کا کام تمام کر دے۔ اس نازک ترین صورت حال میں آپ زندگی کی گھڑیاں گزار رہے ہیں اور کسی وقت یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کی زندگی کے کتنے لمحے باقی ہیں۔ کسی بھی وقت آپ دوسری دنیا کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ آپ چاہیں، جب بھی منتقل ہونا ہے، نہ چاہیں، جب بھی منتقل ہونا ہے۔ آپ کو دوسری دنیا کا یقین ہو، جب بھی منتقل ہونا ہے اور آپ دوسری دنیا پر یقین نہ رکھتے ہوں، تب بھی منتقل ہونا ہے۔ یہ انتقال بہرحال ایک دن ہونا ہے۔ ہر متنفس جس نے زندگی پائی ہے ایک دن اسے موت کا مزہ چکھنا ہے۔

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ موت سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں، آدمی کہیں ہو، کسی حال میں موت سے بچ نہیں سکتا۔ موت سے بچنا ممکن نہیں۔

ترجمہ: ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے، تمھیں موت آ لے گی، خواہ تم مضبوط ترین قلعوں میں (پناہ گزیں) ہو۔“

موت کی دستک سنتے ہی زندگی سارے نقاب پھاڑ ڈالتی ہے اور بے حجاب ہو کر دنیا کے سامنے آ جاتی ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ آدمی کی بے نقاب شخصیت زندگی کے آخری لمحات ہی

صفحہ 486

میں سامنے آتی ہے اور یہی لمحات بتاتے ہیں کہ آدمی دنیا سے کامیاب جا رہا ہے یا نا کام...... اسی لیے ہر مومن زندگی بھر یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرا خاتمہ ایمان پر ہو۔ یہی اس کی سب سے بڑی تمنا ہوتی ہے اور اسلام نے اسے یہی تعلیم دی ہے۔ جنازے کی نماز پڑھتے ہوئے جب موت کے شکار انسان کا لاشہ اس کے سامنے ہوتا ہے، وہ سوز و غم میں ڈوبی ہوئی دل گیر آواز میں اپنے پروردگار سے یہی کہتا ہے:

پروردگار ہم میں سے جس کو بھی تو موت دے، اس حال میں موت دے کہ وہ ایمان پر قائم ہو۔

جنازے کی نماز میں پڑھی جانے والی دعا کے یہ الفاظ اس لائق ہیں کہ آدمی کبھی ان کو ذہن سے اوجھل نہ ہونے دے اور یاد رکھے کہ آخر کار ایک دن اسے بھی اسی طرح دنیا سے رخصت ہونا ہے۔..... فکر کی بات یہ نہیں ہے کہ رخصت ہونا ہے، رخصت تو ایک دن ہونا ہی ہے، فکر کی بات اگر کچھ ہے تو صرف یہ ہے کہ پروردگار اس حال میں اس دنیا سے اٹھائے کہ سینہ ایمان کے نور سے منور ہو۔ زندگی کا کچا دھاگا کب ٹوٹے گا۔ موت کا دروازہ کب کھلے گا اور کس چپہ زمین پر کھلے گا، اور کب آپ اس میں چار و ناچار داخل ہو جائیں گے، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ راز صرف عالم الغیب ہی کو معلوم ہے۔

تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ o (لقمان: 34)

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس سرزمین پر اس کو موت آنی ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

ہر لمحہ آپ اس اندیشے کے ساتھ گزار رہے ہیں کہ ممکن ہے، یہی زندگی کا آخری لمحہ ہو، ہر دوسرا لمحہ موت کا لمحہ ہو سکتا ہے، اور آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دوسری دنیا میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ جب واقعہ یہ ہے....... اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے۔..... تو پھر خود ہی اپنے ضمیر سے پوچھیے کہ خاتمہ بالخیر کی تمنا میں آپ کس قدر صادق ہیں، ایمان پر خاتمے کی دعا آپ کتنے اخلاص کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ہر دوسرا لمحہ جو یکا یک آپ کو دوسری دنیا میں منتقل کر سکتا ہے، کیا واقعی آپ اس کیفیت، شعور، احساس اور بیداری کے ساتھ گزار رہے ہیں کہ

صفحہ 487

اگر یہی لمحہ زندگی کا آخری لمحہ ہو...... تو یہ ایمان کا لمحہ ثابت ہو، خدا کی اطاعت کا لمحہ ثابت ہو، معصیت اور نافرمانی کا لمحہ نہ ہو۔

یہ خالص آپ کا ذاتی مسئلہ ہے۔ آپ کی اور صرف آپ کی کامیابی اور ناکامی کا مسئلہ ہے۔ کوئی دوسرا اس مسئلہ میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا، نہ یہ دوسروں کو مطمئن کرنے کا مسئلہ ہے، یہ صرف اپنی ذات کو مطمئن کرنے کا مسئلہ ہے، اپنے ضمیر سے جواب لینے اور اسے مطمئن کرنے کا مسئلہ ہے۔ سامنے آنے والے نتائج صرف آپ ہی کو بھگتنے ہیں، کوئی دوسرا قطعاً آپ کا شریک حال نہ ہوگا۔...... کس قدر قابل رشک ہے وہ موت جو اس حال میں آئے کہ آدمی کو ایمان کی دولت حاصل ہو، اور وہ ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو۔...... موت کے اُس پار کیا ہے اور انسان کو کن حالات سے دوچار ہونا ہے...... کچھ نہیں معلوم۔ حیرت انگیز دریافت اور ایجاد کے باوجود انسانی معلومات کے ذرائع اس معاملے میں ذرا کام نہیں دے سکتے۔ البتہ وہ لمحات جب آدمی موت کے دروازے پر ہوتا ہے، ضرور کچھ کچھ پتا دیتے ہیں کہ رخصت ہونے والا کیسا ہے اور اس کا کیا انجام ہونے کی توقع ہے“۔

(شعور حیات از مولانا محمد یوسف اصلاحی)

کہتے ہیں کہ سلطان قزل ارسلان ایک ایسے مضبوط قلعے میں رہتا تھا جسے طاقتور سے طاقتور فوج بھی فتح نہ کرسکتی تھی۔ اس کی بلندی کوہ الوند سے ہمسری کا دعویٰ کرتی تھی۔ علاوہ مضبوطی کے یہ قلعہ خوش منظر بھی ایسا تھا کہ روئے زمین پر اس کی نظیر کہیں مشکل ہی سے ہوگی۔ پیش منظر اور پس منظر کے مرغزاروں میں وہ یوں نظر آتا تھا جیسے سبز طباق میں انڈا رکھا ہو۔ اتفاق سے ایک مرد درویش سیاحی کرتا ہوا اس قلعے میں بھی آ نکلا، اور جب اسے سلطان کے حضور باریابی حاصل ہوئی تو سلطان نے از راہ غرور درویش سے سوال کیا کہ حضرت نے بہت دنیا دیکھی ہے، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے، یہ تو فرمائیے، ایسا مضبوط اور خوش نما قلعہ بھی کہیں دیکھا؟ نیز یہ کہ اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا کوئی دشمن اسے فتح کر سکتا ہے؟ سلطان کی یہ بات سن کر مردِ خدا آگاہ ہنسا اور پھر سلطان کی طرف دیکھ کر بولا، قلعہ واقعی اچھا ہے لیکن میں یہ بات ہرگز نہیں مان سکتا کہ یہ مضبوط بھی ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرے جو بزرگ تجھ سے پہلے اس میں رہتے تھے، یہ موت سے ان کی حفاظت نہ کر سکا۔ بالکل اسی طرح یہ تیری حفاظت بھی نہ کر سکے گا۔ تیرے بعد لازمی طور پر اس میں اور لوگ آباد ہوں گے۔ اے

صفحہ 488

سلطان! تجھے چاہیے کہ اپنے باپ کے عہد حکومت کو یاد کرے اور اس خیال کو دل سے نکال دے کہ تو ہی سدا اس قلعے میں رہے گا۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیں

یونان کا سکندر اعظم ایک بہت بڑا فاتح تھا۔ اس کی فتوحات سے متاثر ہو کر ایک بادشاہ نے از راہ دور اندیشی صلح کے لیے پیش قدمی کی با وجود کہ اس کا لشکر جرار سکندر سے بدرجہا زیادہ تھا۔ سکندر نے اس کی بے شمار فوج کو دیکھ کر پوچھا: ”اگر تو صلح کے لیے آیا ہے تو اتنی فوج کو ساتھ لانے کا کیا مطلب ہے؟ کہیں تیرے دل میں کوئی دغا تو نہیں؟“ بادشاہ نے کہا کہ ”دغا و دھوکا غلاموں کا شیوہ ہے۔ صاحب مقدور کبھی دغا نہیں کرتے۔ یہ میرا سارا لشکر نہیں ہے، یہ تو صرف وہ لشکر ہے جو دائیں بائیں میرے ہم رکاب رہتا ہے اور یہ اس لیے لایا ہوں تا کہ تو جان جائے کہ میں کسی کمزوری یا کسی شکست کے خوف اور عاجزی سے تیری اطاعت نہیں کر رہا۔ لیکن تیرا اقبال بلند ہے، جو کوئی تجھ سے لڑے گا، سو گرے گا۔ اسی سبب سے تیرا مطیع ہوا ہوں“۔ سکندر نے کہا: ”بے شک تو لائق تحسین ہے، میں نے تجھے امان دی“۔ اس بادشاہ نے سکندر کی دعوت کی اور اس کے لشکر کو نہایت پر تکلف کھانا کھلایا۔ سکندر کے لیے شاندار قسم کا زر دوزی خیمہ لگایا، اس میں دیبائے منقش کا فرش بچھایا۔ سکندر کو اندر بٹھانے کے بعد ایک خوان زریں میں بیش قیمت جواہرات، لعل، یاقوت، موتی، ہیرے اور زمرد بھر کر سکندر کے آگے رکھ دیا اور کہا کہ ”کھائیے“ سکندر نے کہا: ”جواہرات انسان کی غذا نہیں ہوتے“۔ بادشاہ نے پوچھا: ”آپ کیا کھایا کرتے ہیں؟“ سکندر نے کہا: ”وہی روٹی جو عام لوگ کھاتے ہیں“۔ بادشاہ نے کہا: ”سخت تعجب ہے، کیا یہ روٹی آپ کو اپنے ملک میں نہ ملتی تھی کہ اس قدر دور کا سفر کیا اور بے شمار رنج و مصائب برداشت کیے اور اپنے ساتھ بے شمار مخلوق خدا کو بھی مبتلائے مصیبت کر رکھا ہے“۔ سکندر نے سر نیچے کرلیا اور ایک آہ کھینچ کر کہا: ”اس سفر میں مجھے اس نصیحت کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھے معلوم ہو گیا سب رموز دنیا و آخرت کی حقیقت کیا ہے؟“

حضرت شیخ ابو الحسن شاذلیؒ فرماتے ہیں: ”دنیا ابلیس کی بیٹی ہے۔ پس جو کوئی ضرورت سے زیادہ دنیا لے گا، وہ شیطان کا داماد بن جائے گا اور اس کے پاس شیطان کی

صفحہ 489

آمد و رفت اپنی بیٹی کی وجہ سے زیادہ ہوجائے گی۔

مولانا رومیؒ ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ بادشاہ کے محل سے شاہی باز اڑ کر کہیں چلا گیا۔ بادشاہ سلامت کو اس شاہی باز سے بڑی محبت تھی، اس لیے وہ خود اسے تلاش کرنے محل سے نکل پڑا۔ باز اڑ کر ایک بڑھیا کے گھر جا پہنچا۔ بڑھیا اس خوبصورت پرندے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئی۔ اسے پکڑ کر کہنے لگی، تو کس نااہل کے ہتھے چڑھا ہوا تھا؟ ہائے ظالم نے تیری قدر نہ جانی، تیرے ناخن اور پر کس قدر لمبے ہوگئے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے باز کے پاؤں باندھے اور اس کے پر اور ناخن کاٹ ڈالے۔ یہاں مولانا رومیؒ نے ایک شعر لکھا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: ”جاہل اگر تجھ سے محبت بھی کرے گا تو اپنی جہالت کی وجہ سے تجھے تکلیف ہی دے گا“۔ بادشاہ سارا دن باز کو تلاش کرتے کرتے آخر کار اس بڑھیا کے گھر پہنچا۔ باز کو اس قدر برے حال میں دیکھ کر بادشاہ کے آنسو نکل آئے۔ بادشاہ باز سے کہنے لگا: ”حقیقت میں تیری اس بے وفائی کی یہی سزا ہے، کیونکہ تو ہماری وفاداری پر قائم نہ رہا“۔ باز اپنے پروں کو بادشاہ کے ہاتھ پر ملنے لگا، اور زبان حال سے کہنے لگا کہ ”میں نے آپ سے جدائی کا نتیجہ دیکھ لیا، یہ مجھ سے سخت خطا سرزد ہوئی۔ اے بادشاہ! میں شرمندہ ہوں، معافی کا طلب گار ہوں اور تجھ سے نیا عہد و پیمان کرتا ہوں کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کروں گا۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں کہیں اور چلا جاؤں گا، کسی اور کے دروازے پر بیٹھ جاؤں گا، اگر تیرا لطف و کرم میرے شامل حال ہو جائے تو ناخنوں اور پروں کے بغیر بھی میں شہباز ہوں“۔ باز کی پشیمانی اور گریہ زاری دیکھ کر بادشاہ کو رحم آگیا، دل میں باز کی پہلے جیسی محبت جاگ اٹھی۔ بادشاہ نے پھر باز کو اپنا محبوب بنا لیا۔ یہاں مولانا رومیؒ ایک اور شعر لکھتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ”جو شخص کسی جاہل کی صحبت اختیار کرے گا، اس کا یہی حال ہوگا۔ باز جیسا واقعہ اس کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔ باز کے پر اور ناخن ہی تو اس کے کمالات تھے، جن سے وہ شکار کرتا ہے۔ جاہل بڑھیا کو وہی کمالات معیوب نظر آئے، جس کی وجہ سے ظالم نے باز کو بالکل ہی بے کار کر دیا“۔

اس حکایت سے درس ملتا ہے کہ یہ دنیا بھی جاہل عورت کے مانند ہے۔ جو شخص اس کی جانب مائل ہوگا، اس کے پر کاٹ دیے جائیں گے۔ اس کی اصل خوبی یعنی باطنی حسن ضائع ہو جائے گا اور پھر وہ اپنے رب کی نظروں میں گر جائے گا۔ لہٰذا فوراً اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر، رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر اصل زندگی کا آغاز کر، ورنہ اس دنیا میں ہی بھٹکتا

صفحہ 490

رہ جائے گا۔ ایک در سے دوسرے در تک پھرتا رہے گا مگر کہیں ٹھکانا نہیں ملے گا۔ جب انسان پشیمانی کے ساتھ سچی معافی کا طلب گار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آ جاتا ہے اور وہ دل سے سجدہ ریز ہونے والے کا دامن رحمت سے بھر دیتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی خواہشیں آکاس بیل کی طرح انسانی درخت کو اپنے جال میں پھنسائے رکھتی ہیں جس سے اس کا بڑھنا پھولنا پھلنا بند ہو کر اس کی زندگی کی جڑ کاٹ دیتی ہیں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک دن حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کی عمر سب پیغمبروں سے زیادہ ہوئی، آپ نے دنیا کو کیسا پایا؟ فرمایا: مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک مکان کے دو دروازے ہیں۔ ایک میں سے میں اندر گیا اور دوسرے میں سے باہر نکل آیا۔

ایک نیک دل بادشاہ نے اپنے محل خاص میں ایک تابوت اس خیال سے رکھ چھوڑا تھا کہ اس کو دیکھ دیکھ کر موت کی یاد تازہ رہ سکے۔ ایک روز آئینے میں ایک سفید بال اپنی داڑھی میں نظر آیا، حکم دیا کہ اب تابوت اٹھا دیا جائے۔ موت کو یاد کرنے کے لیے اب اس کی ضرورت نہیں جبکہ نشان مرگ یعنی سفید بال ہر وقت میرے سامنے موجود ہے۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ ایسے جلیل القدر صحابی رسول ﷺ کے خوف آخرت کا یہ عالم تھا کہ کوئی سرسبز درخت دیکھتے تو کہتے کاش میں درخت ہوتا کہ عاقبت کے جھگڑوں سے آزاد رہتا۔ چڑیوں کو دیکھتے تو سرد آہ کھینچ کر فرماتے، کاش میں چڑیا ہوتا تا کہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا، سڑک کے کنارے سے گزرتے تو کہتے کاش میں جھاڑی کا ایک پودا ہوتا۔

حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔ آپ ﷺ نے عمر فاروق کی شان میں یہ بھی فرمایا کہ عمرؓ جس گلی سے گزرتے ہیں، شیطان راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ان کے خوف آخرت کا یہ حال تھا کہ ایک بار آپ کہیں جا رہے تھے، راستے میں سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا کاش میں تنکا ہوتا۔ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا۔

حضرت عثمان غنیؓ جب کسی قبر پر جاتے تو اتنا روتے کہ ریش مبارک بھیگ جاتی۔ کسی نے کہا کہ آپ جنت اور دوزخ کے بیان پر اتنا نہیں روتے جتنا آپ قبروں پر روتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت محمد ﷺ سے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے

صفحہ 491

منزل اوّل ہے۔ اگر اس سے مردہ بچ گیا تو اور منزلیں بھی اس پر آسان ہو جاتی ہیں۔ اگر اس منزل سے نجات نہ پائی تو دوسری منزلیں بھی کڑی ہو جاتی ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر حیوانات اپنی موت کو ایسا جانیں جیسا کہ تم جانتے ہو تو کوئی جانور بھی تم کو موٹا نہ نظر آئے۔

حضرت سیدنا علیؓ سب سے کم عمر میں اسلام قبول کرنے والے تھے، حضور ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضور ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی شہزادی کونین حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے شوہر تھے۔ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ تھے۔ دنیا ہی میں جنت کی خوش خبری مل چکی تھی۔ لیکن آخرت کا خوف اتنا تھا کہ جب رات ختم ہونے کو آتی تو اپنی داڑھی ہاتھ میں لے کر اس طرح بے قرار ہو جاتے جیسے سانپ کا کاٹا ہوا بے قرار ہوتا ہے اور بڑی درد ناک آواز میں روتے اور کہتے اے دنیا! جا کسی اور کو دھوکا دے۔ ایک دن قبرستان میں بیٹھے تھے، کسی نے پوچھا آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ فرمایا ”میں ان لوگوں کو بہت اچھا ہمنشیں پاتا ہوں۔ یہ کسی کی بدگمانی نہیں کرتے۔ کسی کی غیبت نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں“۔

سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے فرمایا تھا: ”موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے........... جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے........... زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا۔ دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدانِ جہاد میں موت ہوتی تو اس خالد بن ولید کو موت بستر پر نہ آتی“۔

موت سے کسی کو مفر نہیں۔ دنیا میں آنے والے ہر شخص نے ایک نہ ایک دن اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں کہا گیا:

”آپ کہہ دیجیے کہ جس موت سے بھاگتے ہو وہ یقیناً تم کو پہنچ کر رہے گی“۔

کسی نے کیا سچی بات کہی ہے ؎

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ تو کل کو ہماری باری ہے

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو یاد کرنے سے دنیا کی لذتوں اور اس کی دلچسپیوں میں کمی آتی ہے۔ قلب انسانی مالک حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ عطاء خراسانیؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کا ایک مجلس سے گزر ہوا جہاں سے ہنسنے کی آوازیں آ رہی

صفحہ 492

تھیں۔ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”اپنی مجالس میں لذتوں کو مکدر کرنے والی چیز کا تذکرہ شامل کر لیا کرو، صحابہؓ نے عرض کیا آقا ﷺ ! لذتوں کو مکدر کرنے والی چیز کیا ہے؟ فرمایا: یہ موت ہے جو گناہوں کو زائل کرتی ہے اور دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اس لیے موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ ایک موقع پر حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم کو یہ معلوم ہو جائے کہ مرنے کے بعد تم پر کیا گزرے گی تو تم کبھی رغبت سے کھانا کھاؤ اور نہ کبھی لذت سے پانی پیو“۔

ایک بار ایک صحابیؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے موت سے محبت نہیں ہے، کیا علاج کروں؟ فرمایا، تمھارے پاس کچھ مال ہے؟ عرض کی ہاں کچھ ہے۔ فخر دو عالم ﷺ نے فرمایا: اس مال کو آگے پہنچاؤ۔ انسان کا دل مال سے لگا رہتا ہے جب اس کو آگے بھیج دیا جاتا ہے تو پھر خود بھی اسی کے پاس جانے کو چاہتا ہے اور جب پیچھے چھوڑ جاتا ہے تو پھر خود بھی اس کے پاس رہنے کو جی چاہتا ہے۔

ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اپنے دل کی قساوت کی شکایت کی۔ آپؓ نے فرمایا: اپنی موت کو کثرت سے یاد کرو، ان شاء اللہ دل نرم ہو جائے گا۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس آئی اور بتایا کہ موت کی کثرتِ یاد نے میرے دل کو روئی کے گالے کی طرح نرم کر دیا ہے۔

حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ موت کا سختی سے ذکر فرمایا کہ موت سے اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تین سو جگہ تلوار کی کاٹ سے ہوتی ہے۔ ایک روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو حق تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ موت کو کیسا پایا؟ انھوں نے عرض کی! مولا اپنی جان کو ایسا دیکھ رہا تھا جیسے زندہ چڑیا کو اس طرح آگ پر بھونا جا رہا ہو کہ نہ اس کی جان نکلتی ہو اور نہ ہی اڑنے کی کوئی صورت ہو۔ ایک اور روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: موت کے وقت میری حالت ایسی تھی جیسے زندہ بکری کی کھال اتاری جا رہی ہو۔ حضرت عمرؓ نے حضرت کعبؓ سے دریافت کیا کہ موت کی کیفیت بیان کریں۔ انھوں نے عرض کی، یا امیر المومنینؓ! جس طرح ایک کانٹے دار ٹہنی کو آدمی کے اندر داخل کر دیا جائے جس کے ساتھ بدن کا ہر جزو لپٹ جائے، پھر اسے ایک دم کھینچ لیا جائے۔ اسی طرح جان کھینچی جاتی ہے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ کو نزع کے عالم میں پوچھا گیا،

صفحہ 493

کیا حال ہے؟ فرمایا پگھل رہا ہوں، بگڑتا زیادہ ہوں بنتا کم ہوں۔ ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ ان کے بیٹے نے سوال کیا تو حضرت عمرو بن العاصؓ نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا! جان من موت کی صفت بیان نہیں ہوسکتی۔ موت نا قابل بیان ہے۔ لیکن اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے گویا آسماں زمین پر ٹوٹ پڑا ہے اور میں دونوں کے درمیان پڑ گیا ہوں۔

میرے بھائیو! ہم موت سے غافل ہیں۔ لیکن موت ہم سے غافل نہیں ہے۔ ہم موت کو بھولے بیٹھے ہیں۔ لیکن موت ہمیں یاد کرتی ہے۔ موت اعلان کرتی ہے:

”میں ہی وہ موت ہوں جو ماؤں اور بیٹیوں میں جدائی ڈال دیتی ہوں۔ میں ہی وہ موت ہوں جو بھائیوں اور بہنوں کو جدا کر دیتی ہوں۔ میں ہی وہ موت ہوں جو خاوند بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہوں۔ میں ہی وہ موت ہوں جو دو پیار کرنے والے دوستوں کو جدا کر دیتی ہوں۔ میں ہی وہ موت ہوں جو محلات کو ویران اور گھروں کو اجاڑ دیتی ہوں۔ میں وہ موت ہوں جو قبرستانوں کو آباد کرتی ہوں۔ میں وہ موت ہوں جو تمھیں تلاش کرتی رہتی ہوں اور تمھیں مضبوط قلعوں میں بھی پا لیتی ہوں اور کوئی مخلوق بھی میرا ذائقہ چکھے بغیر نہیں رہتی“۔

کوئی بن گیا رونق پکھیاں دی، کوئی چھڈ کے شیش محل چلیا
کوئی پلیا ناز تے نخریاں وچ، کوئی ریت گرم تے تھل چلیا
کوئی بھل گیا مقصد آون دا، کوئی کر کے مقصد حل چلیا
ایتھے ہر کوئی فرید مسافر اے، کوئی اج چلیا، کوئی کل چلیا

موت ہر دم یہی پیغام دیتی ہے کہ مجھے بھولنے والو۔ میں تمھیں نہیں بھولتی۔ ایک روایت میں آیا کہ ہر انسان کی قبر دن میں 70 دفعہ اسے یاد کرتی ہے۔ بار بار اعادہ کرتی ہے۔ مجھے بھولنے والے انسان ”انا بیت الوحده“ میں تنہائی کا گھر ہوں۔ ”انا بیت الظلمات“ میں اندھیرے کا گھر ہوں۔ ”انا بیت الحیۃ والعقارب“ میں سانپوں اور بچھوؤں کا گھر ہوں۔ ہائے افسوس ہم اپنی قبر کی پکار کو نہیں سنتے۔ وہ دہائی دے دے کر کہہ رہی ہے:

صفحہ 494
اے نرم گداز بستر پر مزہ لینے والے
اے لگژری گاڑیوں میں گھومنے والے

میں تنہائی کا، اندھیرے کا، تاریکی کا، سانپوں کا، بچھوؤں کا اور وحشت کا گھر ہوں۔

اے میرے پاس آنے والے یہاں بہترین بستر نہیں ہوگا۔ بلب، ٹیوب لائٹ، چراغ نہیں ہوگا۔ کیڑے تیرے جسم کا گوشت کھائیں گے۔ مٹی تیری ہڈیوں کو کھا جائے گی۔ آنے والے ذرا تیاری سے آنا۔ آنے والے خالی ہاتھ نہ آنا لیکن یاد رکھنا یہاں تیری دولت کام نہ آئے گی۔ تیری جاگیر، تیرا کارخانہ، تیری جوانی، تیرا حسن، تیری حکومت، تیرا اقتدار، تیرا منصب، تیرا عہدہ، تیری ذات، تیری برادری کام نہ آئے گی۔

موت کے بعد انسان پانچ حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

اس لیے کوشش کریں کہ کہیں شیطان، ایمان نہ لے جائے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے سے ایمان نہ صرف محفوظ رہتا ہے بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔

ایک دفعہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ جب سے میں نے آپ سے منکر نکیر کی سخت آواز اور قبر کے بھینچنے کا ذکر سنا ہے، دھیان قبر کی طرف سے ہٹتا ہی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا منکر نکیر کی آواز مومن کے کانوں کو اتنی اچھی لگے گی جیسے آنکھوں میں سرمہ اچھا لگتا ہے اور قبر کا دبوچنا اتنا اچھا لگتا ہے جیسے شفیق ماں سے بیٹا سر درد کی شکایت کرے اور وہ آہستہ آہستہ دبائے لیکن گنہگاروں کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ وہ لوگ قبر میں اس طرح دبوچے جائیں گے جس طرح ایک بڑا پتھر انڈے کو کچل ڈالے۔

حضرت یحییٰ ؒ بن ابی کثیر جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو واپسی پر لوگ انھیں چارپائی پر لاتے، ان کو چلنے یا سواری کی طاقت نہ رہتی۔ اسی حالت میں کئی دن شدتِ خوف کی وجہ سے کام تو درکنار کلام بھی نہ کر سکتے۔ موت کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ نہ صبح و

صفحہ 495

شام نہ شب و روز نہ گرمی سردی۔ وقت جب آ جاتا ہے۔ ذرا سی دیر کا بھی پس و پیش نہیں ہوتا۔ بقول شخصے: ”جب وقت اجل آ جاتا ہے، تو نہ ایک ساعت پیچھے ہوتا ہے اور نہ ایک ساعت آگے ۔ خواہ کوئی دولت میں قارون، تکبر میں فرعون ، ظلم میں ضحاک، تمرد میں نمرود، شہ زوری میں رستم، روئیں تنی میں اسفندیار ، خوبصورتی میں یوسفؑ، صبر میں ایوبؑ، درازیٔ عمر میں نوحؑ، بسالت میں موسیٰ ؑ، مصوری میں مانی ، عشق میں مجنوں، عدل و سیاست میں عمرؓ، ملک گیری میں سکندر، دبدبہ میں جمشید، عیاشی میں شاہ رنگیلا، اقبال میں اکبر، فصاحت میں سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، انصاف میں نوشیرواں، حکمت میں لقمان، دانش میں ارسطو، سخاوت میں حاتم، موسیقی میں تان سین، شاعری میں انوری، فردوسی و سعدی، مردانگی میں محمد فاتح، خاموشی میں زکریا، گریہ میں یعقوبؑ، رضا جوئی میں ابراہیمؑ، غزا میں محمود، جہالت میں ابوجہل، حیا داری میں عثمانؓ، غربت میں یحییٰ ؑ، ذہانت میں فیضی، شقاوت میں یزید، تصوف میں بایزیدؒ، حکومت میں سلیمانؑ، نازک دماغی میں تانا شاہ، شجاعت میں علیؓ، خونریزی میں چنگیز، فلسفۂ اسلام میں امام غزالیؒ، رفاہ عام میں شیر شاہ سوری، محسن کشی میں روہیلہ، فقہ میں امام اعظمؒ، تیراندازی میں بہرام گور، کسب حلال میں سلطان ناصر الدین، صدق میں ابوبکرؓ، خوش الحانی میں داؤدؑ، کثیر الازدواجی میں واجد علی شاہ، جہاد میں سلطان صلاح الدین، سیاحت میں ابن بطوطہ اور پختگی ارادہ میں علاؤ الدین خلجی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن موت سے کسی کو رستگاری نہیں۔ کہتے ہیں ارسطالیس مرضِ سل سے، افلاطون فالج سے، لقمان سرسام سے اور جالینوس اسہال سے فوت ہوئے۔ حالانکہ انہی امراض کے علاج میں ان حکماء کو یدطولیٰ اور رتبۂ کمال حاصل تھا۔

قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جن کا خیال تھا کہ دنیا کا ان کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ جب ہم اس دنیا سے آخرت کی طرف جائیں گے تو مکان، دکان، روپے پیسے سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ جو کچھ بھی کمایا، سو فیصد یہاں چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ عینک، گھڑی، موبائل، عطریات، گاڑی، بینک بیلنس، زیورات، بانڈز حتیٰ کہ بدن کے کپڑے تک چھوڑ کر جانے پڑیں گے۔

ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ مرنے والا جب مرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے آگے کیا بھیجا؟ اور لوگ پوچھتے ہیں کہ اس نے پیچھے کیا چھوڑا۔ (مشکوٰۃ ص 445)

بقول مولانا محمد زکریاؒ، لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اولاد کا کیا

صفحہ 496

بنے گا؟ جبکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کی اولاد کے مرنے کے بعد اولاد کا کیا بنے گا؟

بس اک سخن رہے بندۂ عاجز کا یاد
اپنے آپ کو اور اللہ کو نہ بھولو

کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سونے کی ایک اینٹ پڑی پائی۔ یہ اینٹ ہاتھ آنے سے پہلے یہ غریب آدمی نماز روزے کا پابند اور خدا کے ذکر میں محو رہا کرتا تھا اور اپنے ان اشغال میں بڑی حلاوت محسوس کرتا تھا۔ لیکن سونے کی اینٹ ہاتھ آتے ہی اس کے قلب کی کیفیت بدل گئی۔ خدا کی یاد سے غافل ہو کر اب وہ ہر وقت دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کے منصوبے بناتا رہتا تھا۔ کبھی سوچتا کہ مجھے ایک ایسا شاندار مکان تعمیر کرانا چاہیے جس کے ساتھ ایک باغیچہ بھی ہو۔ کبھی اعلیٰ درجے کے لباس اور بہترین بستر بنوانے کے منصوبے بناتا۔ اس کے دماغ کا کچھ ایسا حال ہو گیا گویا کھوپڑی میں کوئی کیڑا گھس گیا ہو۔ اس پریشان خیالی سے تنگ آ کر ایک دن وہ جنگل کی طرف نکل گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک شخص ایک قبر کی مٹی سے اینٹیں پاتھ رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر اس کا قلب کچھ بیدار ہوا۔ اس نے سوچا کہ میں بھی کیسا احمق ہوں۔ سونے کی ایک اینٹ کو دل میں بسا لیا ہے جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ ایک دن میری قبر کی مٹی سے بھی اسی طرح اینٹیں پاتھی جائیں گی۔ میں سونے کی اینٹ پا کر دنیاوی خیالات میں الجھ گیا ہوں۔ مجھے یہ خیال ہی نہیں کہ عمر کا قیمتی سرمایہ یونہی برباد ہو رہا ہے۔

چنانچہ دنیا کی بے ثباتی پر یہ کہنا مناسب ہے ۔

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

انسان کتنا ہی سرکش اور طاقتور کیوں نہ ہو، لیکن ہر شام اس کی زندگی سے ایک دن کم ہو جاتا ہے اور وہ اسے روک بھی نہیں سکتا۔ لیکن وہ مہربان رب انسانوں کو روزانہ ایک نئی صبح دے کر پھر مہلت دے دیتا ہے، شائد میرا بندہ توبہ کرلے اور اسے میں بخش دوں۔ بے شک اللہ بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی

ایک دن ایک مجذوب بازار میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک بادشاہ کا گزر ہوا، بادشاہ

صفحہ 497

نے مجذوب سے پوچھا: ”حضرت کیا کر رہے ہیں؟“ مجذوب نے کہا: ”بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں، اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مانتے“۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ کا گزر قبرستان کے پاس سے ہوا تو دیکھا کہ وہی مجذوب قبرستان میں بیٹھا ہوا ہے، بادشاہ نے مجذوب سے پوچھا: ”حضرت کیا کر رہے ہیں؟“ مجذوب نے کہا: ”بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں، آج بندے تو مان رہے ہیں لیکن اللہ نہیں مان رہا“۔

کہتے ہیں کہ ملک الموت ہی تمام جانداروں کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ ہر گھر پر روزانہ پانچ مرتبہ اور جاندار پر ہر گھنٹے کھڑے ہوتے ہیں اور بندوں کے چہروں پر روزانہ ستر مرتبہ نگاہ ڈالتے ہیں۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ ملک الموت جب مومن کی روح قبض کرتے ہیں تو گھر کی چوکھٹ پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور گھر والوں میں ایک شور ہوتا ہے۔ بعض عورتیں چہرے پر تھپڑ مارتی ہوتی ہیں، بعض بال نوچتی ہیں، بعض تباہی و بربادی کی بددعائیں دیتی ہوتی ہیں۔ اس پر ملک الموت فرماتے ہیں، یہ جزع فزع کیوں کر رہے ہیں؟ بخدا میں نے نہ تم میں سے کسی کی عمر میں کمی کی، نہ کسی کا رزق ختم کیا، نہ تم میں سے کسی پر کوئی ظلم کیا، میرا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اس لیے کہ میں حکم ربانی کا بندہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہوں، اور تم اپنے رب کے حکم سے شاکی ہو تو یہ تمھارے کافر ہونے کا ذریعہ ہے اور میں پھر تمھارے پاس لوٹ کر آؤں گا اور ضرور لوٹ کر آؤں گا تا کہ تم میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑوں۔

نہیں ٹلتی مقرر ہے جو ساعت موت آنے کی
جگہ اس میں نہیں دم مارنے کی لب ہلانے کی

قبر اور جہنم کا حال

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب میت کو قبر میں اتار دیا جاتا ہے تو قبر اُس سے خطاب کرتی ہے۔ ”اے آدمی تیرا ناس ہو! تُو نے کس لیے مجھے فراموش کر رکھا تھا؟ کیا تجھے اتنا بھی پتا نہ تھا کہ میں فتنوں کا گھر ہوں، تاریکی کا گھر ہوں، پھر تُو کس بات پر مجھ پر اکڑا اکڑا پھرتا تھا؟“ اگر وہ نیک آدمی ہو تو ایک غیبی آواز قبر سے کہتی ہے، ”اے قبر! اگر یہ ان میں سے ہو جو نیکی کا حکم کرتے رہے اور برائی سے منع کرتے رہے تو پھر؟“ (تیرا سلوک کیا ہوگا؟) قبر کہتی ہے، ”اگر یہ بات ہو تو میں اس کے لیے گلزار بن جاتی ہوں“۔ چنانچہ پھر اس

صفحہ 498

شخص کا بدن نور میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کی روح رب العالمین عزوجل کی بارگاہ کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔

ایک دفعہ حضرت علیؓ صفین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں کوفے کے باہر قبرستان پر پہنچے تو فرمایا! ’’اے ڈراؤنے شہر، اے ویران مکان، اے تاریک قبرو، اور اے خاک کے رہنے والو، اے مسافرو، اے وحشت کے مقامات کے باشندو، تم پہلے پہنچ گئے، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔ وہ تمہارے مکان آباد ہو گئے، تمہاری بیویاں بیاہ دی گئیں، مال تقسیم ہو گئے‘‘ یہ خبر تو ہم نے تمہیں سنادی، تم بتاؤ! یہاں تمہاری کیا خبر ہے؟‘‘ (نہج البلاغہ از حضرت علیؓ)

رات کے اندھیرے میں ڈر جانے والوں، بلی کی میاؤں پر چونک پڑنے والوں، کتے کے بھونکنے پر راستہ بدل دینے والوں، سانپ اور بچھو کا صرف نام سن کر تھر تھر کانپ اٹھنے والوں، سُلگتی ہوئی آگ کو دُور سے دیکھ کر گھبرانے والوں، بلکہ فقط دھوئیں سے بے چین ہو جانے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ حضرت سیدنا علامہ جلال الدین سیوطی الشافعیؒ ’’شرح الصدور‘‘ میں نقل فرماتے ہیں، ’’جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے تو وہ تمام چیزیں اس کو ڈرانے کے لیے آجاتی ہیں جن سے وہ دنیا میں ڈرتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرتا تھا‘‘۔

حضور رسالت مآب ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ’’قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘۔

میرے بھائیو! اپنا عقیدہ اور ایمان اس بات پر پختہ رکھو کہ مومن کا اصل جہاں یہ نہیں بلکہ وہ ہے جو آنکھیں بند ہونے کے بعد شروع ہوگا۔ آمنہ کے لال، محبوب رب ذوالجلال، پیکرِ جمال، صاحب کمال، حضور خاتم النبیین ﷺ کا فرمان ہے:

’’دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔‘‘ (الحدیث)

مزید ارشاد فرمایا! ’’اے ابوذرؓ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، قبر امن کی جگہ ہے اور جنت اس کا ٹھکانا ہے۔ دنیا کافر کی جنت ہے اور قبر اس کا عذاب ہے اور جہنم اس کا ٹھکانا ہے‘‘۔

نیز رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’نہیں دیکھا میں نے کوئی منظر مگر یہ کہ قبر کا منظر اس سے زیادہ خوفناک اور شدید ہے‘‘۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

حضرت عثمان غنیؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا، جب میّت

صفحہ 499

کے دفن سے فارغ ہو جاتے ، تو قبر کے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے: اپنے اس بھائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دُعا کرو اور یہ بھی استدعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کو سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھے، کیونکہ اس وقت اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔ (ابوداؤد)

حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب (مشہور انصاری صحابی) سعد بن معاذؓ کی وفات ہوئی، تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے جنازے پر گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کو قبر میں اُتار کر قبر برابر کر دی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ، سبحان اللہ کہا، (آپ کو دیکھ کر آپ کے اتباع میں) ہم بھی دیر تک سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے رہے، پھر آپ نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنا شروع کیا، تو ہم بھی آپ کے اتباع میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے لگے۔...... پھر آپ سے پوچھا گیا، کہ: یا رسول اللہ ﷺ اس وقت آپ کی اس تسبیح اور تکبیر کا کیا خاص سبب تھا؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے اس نیک بندے پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی (جس سے اس کو تکلیف تھی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تنگی کی، پھر اس کیفیت کو دُور فرما کر کشادگی پیدا فرمادی، اور اس کی تکلیف دور کر دی۔ (مسند احمد)

یہ سعد بن معاذ انصاریؓ رسول اللہ ﷺ کے مشہور اور ممتاز اصحاب کرام میں سے تھے، غزوۂ بدر کی شرکت کی فضیلت اور سعادت بھی انھیں حاصل تھی، 5ھ میں ان کی شہادت ہوئی اور ان کی شہادت پر اللہ تعالیٰ کا عرش کانپ گیا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ستر ہزار فرشتوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی، اور آسمان کے دروازے ان کے لیے کھولے گئے۔ باوجود اس کے کہ قبر کی تنگی کی تکلیف سے ان کو بھی واسطہ پڑا (اگرچہ فوراً ہی وہ اُٹھا لی گئی)...... اس میں ہم جیسوں کے لیے بڑا انتباہ اور سبق ہے۔

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں اُس آزمائش کا ذکر فرمایا جس میں مرنے والا آدمی مبتلا ہوتا ہے، تو جب آپ ﷺ نے اس کا ذکر فرمایا، تو خوف و دہشت سے سب مسلمان چیخ اُٹھے، اور ایک کہرام مچ گیا۔ (بخاری)

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے بعض نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے سنا۔

صفحہ 500

(اے اللہ! میرا حساب آسان فرما)

میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟“ آپ نے فرمایا۔ ”آسان حساب یہ ہے کہ بندہ کے اعمال نامہ پر نظر ڈالی جائے اور اُس سے درگزر کی جائے (یعنی کوئی پوچھ گچھ اور جرح نہ کی جائے) بات یہ ہے کہ جس کے حساب میں اُس دن جرح کی جائے گی، اے عائشہ (اُس کی خیر نہیں) وہ ہلاک ہو جائے گا۔

(مسند احمد)

مرنے کے بعد جب بندہ کا واسطہ اُس زمین (قبر) سے پڑتا ہے، اور وہ اس کے سپرد ہوتا ہے، تو ایمان وعمل کے فرق کے لحاظ سے زمین کا برتاؤ اس کے ساتھ کتنا مختلف ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے ہوتا ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب وہ بندہ زمین کے سپرد کیا جاتا ہے جو حقیقی مومن و مسلم ہو تو زمین (کسی عزیز اور محترم مہمان کی طرح اس کا استقبال کرتی ہے، اور) کہتی ہے مرحبا! (میرا دیدہ و دل فرش راہ) خوب آئے، اور اپنے ہی گھر آئے، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جتنے لوگ میرے اوپر چلتے تھے، ان میں سب سے زیادہ محبوب اور چہیتے مجھے تم ہی تھے، اور آج جب تم میرے سپرد کر دیے گئے ہو، اور میرے پاس آ گئے ہو، تو تم دیکھو گے کہ (تمہاری خدمت اور راحت رسانی کے لیے) میں تمھارے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہوں، پھر وہ زمین اُس بندۂ مومن کے لیے حد نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے، اور اُس کے واسطے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے...... اور جب کوئی سخت بدکار قسم کا آدمی، یا ایمان نہ لانے والا آدمی زمین کے سپرد کیا جاتا ہے، تو زمین اُس سے کہتی ہے کہ جتنے آدمی میرے اوپر چلتے پھرتے تھے تُو مجھے ان سب سے زیادہ مبغوض تھا، اور آج جب تُو میرے حوالہ کر دیا گیا ہے، اور میرے قبضے میں آ گیا ہے، تو ابھی تُو دیکھے گا کہ میں تیرے ساتھ کیا کرتی ہوں...... آپ ﷺ نے فرمایا کہ...... پھر وہ زمین ہر طرف سے اُس کو بھینچتی اور دباتی ہے، یہاں تک کہ اس دباؤ سے اس کی پسلیاں اِدھر سے اُدھر ہو جاتی ہیں...... ابوسعید خدری کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر ہم کو اس کا نقشہ دکھایا...... اس کے بعد فرمایا...... پھر اُس پر ستر اژدھے مسلط کر دیے جاتے ہیں، جن میں سے ایک اگر زمین میں پھنکار مارے، تو رہتی دنیا تک وہ زمین کوئی سبزہ نہ اُگا سکے، پھر یہ اژدھے اُسے برابر کاٹتے نوچتے رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اور حشر کے بعد وہ حساب کے مقام تک پہنچا دیا جائے......

صفحہ 501

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، سیّدنا ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : ”قسم اُس ذاتِ پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر (اللہ کے قہر وجلال اور قیامت و آخرت کے لرزہ خیز ہولناک احوال کے متعلق) تمھیں وہ سب معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے، تو تمہارا ہنسنا بہت کم ہو جائے، اور رونا بہت بڑھ جائے“۔مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی، اور اس کے قہر و جلال اور قیامت و آخرت کے ہولناک لرزہ خیز احوال کے متعلق جو کچھ مجھے معلوم ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر منکشف کر دیا ہے، اگر تم کو بھی اس کا پورا علم ہو جائے، اور تمہاری آنکھوں کو بھی وہ سب نظر آنے لگے جو میں دیکھتا ہوں، اور تمھارے کان بھی وہ سب کچھ سننے لگیں جو میں سنتا ہوں، تو تمہارا چین و سکون ختم ہو جائے، تم بہت کم ہنسو، اور بہت زیادہ روؤ...... اس کی مزید تفصیل حضرت ابو ذر غفاریؓ کی روایت کردہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوگی :

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں عالمِ غیب کی وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور وہ آوازیں سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چر چرا رہا ہے، اور حق ہے کہ وہ چر چرائے ...... قسم ہے اُس رب ذوالجلال کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، آسمان میں چار انگل جگہ بھی نہیں ہے، جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے حضور میں اپنا ماتھا رکھے سجدے میں نہ پڑا ہو، اگر تم وہ باتیں جانتے، جو میں جانتا ہوں، تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، اور بستروں پر بیویوں سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکتے، اور اللہ سے نالہ و فریاد اور گریہ و زاری کرتے ہوئے بیابانوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے ...... (اس حدیث کو نقل کر کے) ابوذرؓ فرماتے ہیں۔ کاش! میں ایک درخت ہوتا، جو کاٹ دیا جاتا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ قیامت کے دن جس کے متعلق فرمایا گیا ہے ”اُس دن لوگ کھڑے ہوں گے، رب العالمین کے حضور میں“ تو اس دن کس کو کھڑے رہنے کی طاقت اور قدرت ہوگی (اور کون اُس پورے دن کھڑا رہ سکے گا، جس کے متعلق قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سچے ایمان والوں کے حق میں یہ کھڑا ہونا بہت ہلکا اور خفیف کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان

صفحہ 502

کے لیے بس ایک فرض نماز کی طرح ہو جائے گا۔ (البعث والنشور للبيهقی) جہنم ہولناک، دہکتی اور شعلے اگلتی آگ کا نام ہے جو بُری قیام گاہ، بُرا ٹھکانا اور بُرا مسکن ہے۔ اس کی ہولناکی اور شدت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا‘‘۔ (صحیح مسلم ص 513)

قرآن مجید میں ارشادِ خداوندی ہے:

سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے جہنمیوں میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے‘‘۔ (الحجر: 44,43)

کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جہنم کے دربان ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس خود تمہارے لوگوں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے اور اس دن کے آنے سے ڈراتے تھے؟ وہ جواب دیں گے ’’ہاں‘‘ آئے تھے لیکن عذاب کا فیصلہ کافروں پر حق ثابت ہو کے رہا، کہا جائے گا داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ تکبر کرنے والوں کے لیے بہت ہی بری جگہ ہے۔ (الزمر:71)

پاؤ گے۔ (النساء 145)

ہے؟ (ق:35)

سنیں گے۔ جہنم جوش کھا رہی ہوگی، ایسا معلوم ہوگا کہ غصہ کے مارے ابھی پھٹ جائے گی۔ (الملک: 8,7)

صفحہ 503

جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، جو حکم انہیں دیا جاتا ہے، اسے بجا لاتے ہیں۔ (التحریم: 6)

پر مسلط ہوگی، انہیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوگی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یونس: 27)

آگ میں جھونکیں گے جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ عذاب کا خوب مزہ چکھیں۔ اللہ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ (النساء: 56)

(الفرقان: 13)

نکل آئیں گے۔ (المؤمنون: 4,1)

دے گی۔ (الانبیا: 100)

گا۔ (الدخان: 43)

صفحہ 504

کے لیے دیا جائے گا۔ (ابراہیم: 17,16)

ان کے چہروں پر برسائے جائیں گے۔ (ابراہیم: 50,49)

گا۔ (الواقعہ: 44,41)

تانبے جیسا ہوگا جو چہرے کو بھون ڈالے گا۔ بدترین پینے کی چیز اور بہت ہی بری آرام گاہ ہے۔ (الکہف: 29)

احادیث مبارکہ میں آتا ہے:

اور بعض لوگوں کو گردن تک جلائے گی۔ (صحیح مسلم)

آواز سنی، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: جانتے ہو، یہ آواز کیسی ہے؟ راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک پتھر تھا جو آج سے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا اور وہ آگ میں گرتا چلا جا رہا تھا اور اب وہ جہنم کی تہہ تک پہنچا ہے“۔ (صحیح مسلم)

مسافت کا فاصلہ ہے۔ (ابو یعلیٰ للاثری، 1358/2)

ہوں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحیح مسلم)

صفحہ 505

لگیں (آنسو ختم ہو جائیں گے تو) جہنمی خون کے آنسو بہائیں گے یعنی پانی کے آنسوؤں کی جگہ۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ)

میں جو کچھ ہوگا، اسے کاٹ ڈالے گا اور وہ سب کچھ اس کی پیٹھ سے نکل کر، قدموں میں جا گرے گا اور اس سزا کے بعد کافر پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹا دیا جائے گا۔ (الشرح السنۃ)

انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں تب بھی اسے نہیں اٹھا سکتے۔ (مسند ابی یعلی، للاثری)

ہوگا اور اس کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیانی فاصلہ کے برابر ہوگی۔

(صحیح ترمذی للالبانی)

ستر ہاتھ، اس کا بازو بیضاء پہاڑ کے برابر اور ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی۔ اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنی میرے اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ)

آگ دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے....... عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہی (دنیا کی آگ) کافی تھی؟ آپ نے فرمایا کہ ”دوزخ کی آگ دنیا کی آگ کے مقابلہ میں انہتر درجہ بڑھا دی گئی ہے، اور ہر درجہ کی حرارت، آتش دنیا کی حرارت کے برابر ہے“۔ (صحیح بخاری ومسلم)

دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا، جس کی چپلیں اور ان چپلوں کے تسمے آگ کے ہوں گے، اُن کی گرمی سے اُس کا دماغ اس طرح کھولے گا اور جوش مارے گا کہ جس طرح چولہے پر دیگچی کھولتی ہے، اور اُس میں جوش آتا ہے۔ وہ نہیں خیال کرے گا، کہ کوئی شخص اس سے زیادہ سخت عذاب میں بھی ہے (یعنی وہ اپنے ہی کو سب سے زیادہ سخت عذاب

صفحہ 506

میں سمجھے گا) حالانکہ وہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا ہوگا۔...... (بخاری ومسلم)

سانپ ہیں، جو اپنی جسامت میں بختی اونٹوں کے برابر ہیں (جو جثہ میں عام اونٹوں سے بھی بڑے ہوتے ہیں) اور وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ ان میں کا کوئی سانپ جس دوزخی کو ایک دفعہ ڈسے گا تو چالیس سال کی مدت تک وہ اس کے زہر کا اثر پائے گا (اور تڑپے گا)، اور اسی طرح دوزخ میں بچھو ہیں، جو (اپنی جسامت میں) پالان بندھے خچروں کے مانند ہیں (وہ بھی ایسے ہی زہریلے ہیں کہ) ان میں سے کوئی کسی دوزخی کو ایک دفعہ ڈنک مارے گا، تو چالیس سال تک وہ اس کے زہر کی تکلیف پاوے گا۔ (مسند احمد)

(یعنی وہ سڑی ہوئی پیپ جو جہنمیوں کے زخموں سے نکلے گی، اور جس کے متعلق قرآن مجید میں بتلایا گیا ہے کہ وہی انتہائی بھوک میں اُن کی غذا ہوگی۔ وہ اس قدر بدبودار ہوگی کہ) اگر اس کا ایک ڈول اس دُنیا میں بہا دیا جائے، تو ساری دُنیا (اس کی سڑاہند سے) بدبودار ہو جائے...... (ترمذی)

فرمائی۔ اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے، اور فیصلہ کر لو کہ ہرگز نہ مرو گے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم (اللہ کے فرمانبردار بندے) ہو گے)...... (اور اللہ سے اور اس کے عذاب سے ڈرنے کے سلسلے میں) آپ نے بیان فرمایا کہ ”زَقُّوْم“ (جس کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ وہ جہنم میں پیدا ہونے والا ایک درخت ہے، اور وہ دوزخیوں کی خوراک بنے گا) اگر اس کا ایک قطرہ اس دُنیا میں ٹپک جائے، تو زمین پر بسنے والوں کے سارے سامانِ زندگی کو خراب کر دے، پس کیا گزرے گی اُس شخص پر جس کا کھانا وہی زقوم ہوگا۔ (ترمذی)

مطلب یہ ہے کہ زقوم اس قدر گندی اور زہریلی چیز ہے، کہ اگر اس کا ایک قطرہ ہماری اِس دنیا میں ٹپک جائے تو یہاں کی تمام چیزیں اس کی بدبو، گندگی اور زہریلے پن سے متاثر ہو جائیں، اور ہمارے کھانے پینے کی ساری چیزیں خراب ہو جائیں، پس سوچنے کی بات ہے کہ یہ زقوم جس کو کھانا پڑے گا اُس پر کیا گزرے گی۔

صفحہ 507

فرمایا کہ اے لوگو! (اللہ اور اس کے عذاب کے خوف سے) خوب روؤ، اور اگر تم یہ نہ کر سکو، یعنی اگر حقیقی گریہ کی کیفیت تم پر طاری نہ ہو (کیونکہ وہ ایسی اختیاری چیز نہیں ہے کہ آدمی جب چاہے اُس کو اپنے اندر پیدا کر سکے) تو پھر (اللہ کے قہر اور اُس کے عذاب کا خیال کر کے) تکلف سے روؤ، اور رونے کی شکل بناؤ، کیونکہ دوزخی دوزخ میں اتنا روئیں گے، اتنا روئیں گے کہ اُن کے چہروں پر اُن کے آنسو ایسے بہیں گے کہ گویا وہ (بہتی ہوئی) نالیاں ہیں، یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے، اور پھر (آنسوؤں کی جگہ) خون بہے گا، اور پھر (اُس خون بہنے سے) آنکھوں میں زخم پڑ جائیں گے (اور پھر اُن زخموں سے اور زیادہ خون جاری ہو گا، اور ان دوزخیوں کے ان آنسوؤں اور خونوں کی مجموعی مقدار اتنی ہوگی کہ) اگر کشتیاں اُس میں چلائی جائیں تو خوب چلیں۔ (شرح السنہ)

”جب انسان کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس کے پاس سے چلے جاتے ہیں، وہ مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تم ان صاحب (حضرت محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتے تھے، مومن کہے گا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور آخری رسولؐ تھے۔ وہ فرشتہ کہے گا، اپنے دوزخ کے ٹھکانے کو دیکھو، اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا عطا فرما دیا ہے۔ وہ ان دونوں کو دیکھے گا۔ فرمایا منافق یا کافر سے کہا جائے گا تم ان صاحب (حضرت محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ وہ کہے گا مجھ کو پتا نہیں، میں وہی بات کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا کہ تجھے نہ کچھ پتا چلا اور نہ تو نے کچھ پڑھا، اس کو لوہے کے ہتھوڑے سے مارا جائے گا جس کی وجہ سے وہ اتنی زور سے چیخے گا کہ جسے انسانوں اور جنوں کے علاوہ وہاں اطراف کی سب مخلوق سنے گی۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے استشہاد کے لیے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:

ترجمہ: اور ہر انسان کا عمل ہم نے اس کے گلے کا ہار کر رکھا ہے۔ یعنی اس کے اعمال نامہ کو اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا، جب وہ اس سے

صفحہ 508

فارغ ہوگا تو اس کے پاس امتحان لینے والے دو فرشتے آ جائیں گے۔ یہ سیاہ رنگ کے دو فرشتے ہوں گے جو اپنی داڑھوں سے زمین کو پھاڑ دیں گے، ان کے بال لٹکے ہوئے ہوں گے، وہ انھیں زمین پر گھسیٹتے ہوں گے، ان کی شکل گرجنے والے بادل اور آنکھیں چمکنے والی بجلی کی طرح ہوں گی، ان کی سانس تیز آندھی کی طرح ہوگی۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ایسا ہتھوڑا ہوگا کہ اگر ساری مخلوق مل کر اسے اٹھانا چاہے تو نہ اٹھا سکے، اگر بڑے سے بڑے پہاڑ کو بھی مارا جائے تو ریزہ ریزہ ہو جائے، روح جب اسے دیکھے گی تو کانپنے لگے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گی اور مردے کے نتھنے میں گھس جائے گی، اور میت کو سینے کی جانب سے زندگی ملے گی اور اس کی وہ کیفیت ہو جائے گی جیسی روح قبض ہونے کے وقت تھی، وہ حرکت بھی نہ کر سکے گا البتہ وہ دیکھ اور سن سکے گا۔ وہ دونوں فرشتے اس سے بڑی ترش روئی سے بات کریں گے، بڑی سختی سے جھڑکیں گے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(ابراہیم: 27)

”اللہ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)“۔

اس آیت کریمہ میں قولِ ثابت سے مراد وہ کلام ہے جو قبر میں ہر مسلمان قبر میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہے گا۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ہر مومن شخص قبر میں شہادت دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے آقا ومولا حضرت محمد ﷺ کو پہچاننے کے بعد کہے گا کہ یہ میرے نبی ﷺ ہیں اور ایک روایت کے مطابق وہ کہے گا کہ یہ میرے نبی محمد ﷺ ہیں جو خاتم النبیین ہیں۔ یہی قولِ ثابت ہے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قبر میں حضور سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی تشریف لائیں گے اور ہر شخص سے سوال بھی آپ ﷺ کے بارے میں کیا جائے گا۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر بالحدیث والآثار سے یہی ثابت ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت ہر مومن کے لیے دنیا سے لے کر قبر تک ایمان کا حصہ ہے اور وہاں سے حشر تک جاری وساری ہے۔

اگر حضور ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی مبعوث کیا جانا ہوتا اور اہل اسلام پر اس

صفحہ 509

کی اتباع کو لازم ٹھہرایا جاتا تو لازمی طور قبر میں اس کی بھی پہچان کرائی جاتی اور امتی اس کا بھی نام لیتا لیکن اس کے برعکس ہر مسلمان قبر میں نہ صرف اپنے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نام لے کر پہچانتا ہے بلکہ خاتم النبیین کے الفاظ سے مرزائی تاویلات کا رد بھی ہوتا ہے۔

فرماتے ہیں کہ قبر کے اندر ہر مسلمان سے یہ سوال ہوگا کہ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارا نبی کون ہے؟ اور پھر حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کروا کر پوچھا جائے گا کہ ان کے بارے میں اپنا عقیدہ بتاؤ۔ جس آدمی کا عقیدۂ ختم نبوت پر مضبوط ایمان ہوگا! وہ فرشتوں سے کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں جو خاتم النبیین ہیں، میں آپ ﷺ کو قیامت تک اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانتا ہوں اور ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے۔ منکر ونکیر یہ سن کر کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔ (درمنثور) اس پر اس شخص کی نجات ہو جائے گی اور اگر وہ شک میں پڑا اور اس نے یہ نہ کہا کہ اللہ تعالیٰ میرے پروردگار، نبی کریم ﷺ میرے آخری نبی، اور اسلام میرا دین ہے تو وہ فرشتے دوزخ کی جانب ایک دروازہ کھول دیں گے، وہ اس سے اس کی زنجیروں، سانپوں، بچھوؤں، طوقوں اور دوسری وہ چیزیں جو وہاں ہیں، دیکھے گا جیسے پیپ اور زقوم وغیرہ اور یہ دیکھ کر وہ سخت گھبرا جائے گا۔ فرشتے دوزخ کا دروازہ اس کی طرف کھول دیں گے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ مسئلہ ختم نبوت ایمان کا اس قدر اہم جزو ہے کہ قبر کے مختصر سے سوال و جواب میں بھی اس کی شہادت دی جاتی ہے۔

جنت کا حال

جنت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے باغ، ایسا باغ جو اپنے سبزہ اور گھنے درختوں کی وجہ سے زمین کو چھپالے، قرآن مجید نے اس حسین وجمیل، پرکشش، دلفریب اور دیدہ زیب جنت کے کئی ایک نام ذکر کئے ہیں مثلاً دارالسلام، دارالخلد، دارالمقامہ، دار الآخرہ، مقام امین، جنۃ الماویٰ، جنت عدن، جنت النعیم، جنت الفردوس وغیرہ۔ جنت کیا ہے؟ اور کس چیز کا نام ہے اس دنیا میں اس کا تصور کرنا اور اس کے اندرونی ماحول کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(صحیح مسلم)

’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان

صفحہ 510

کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے سلامتی ہو تم پر، یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے، آخرت کا گھر تمہیں

مبارک ہو۔ (الرعد: 24,23)

گے۔ (حجر: 48)

کریں گے۔ (الکہف: 31)

(صافات: 47,46)

گی جنہیں اس سے پہلے کسی جن یا انسان نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ (الرحمٰن: 57,56)

و نازک جیسے انڈے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی ہو۔ (صافات: 49)

کریں گے) باریک ریشم اور موٹا ریشم پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے یہ ہوگی ان کی شان اور ہم گوری گوری خوبصورت موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں سے ان کا نکاح کر دیں گے۔ جنتی لوگ ہر طرح کی لذیذ چیزیں پورے اطمینان اور بے فکری

سے طلب کریں گے۔ (الدخان: 57,51)

صفحہ 511

دوسرے سے جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے، ایسی شراب جس کے پینے سے نہ تو بیہودہ گوئی ہوگی نہ کوئی گناہ سرزد ہوگا، محفوظ کئے ہوئے موتیوں کی طرح خوبصورت لڑکے ان کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہیں گے۔ (طور:22, 24)

شوہروں کی ہم عمر عورتیں ہوں گی، چھلکتے جام ہوں گے، ہر قسم کے لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک ماحول ہوگا۔ (النباء32,35)

علم کسی نفس کو نہیں۔ (السجدہ:17)

بیریوں میں ہوں گے، کیلے تہ بہ تہ، لمبے سائے، بہتا ہوا پانی اور بکثرت پھل (ان کے لیے تیار کیے گئے ہیں)۔ (واقعہ:27, 32)

ہوں گے۔ شیشے بھی چاندی کی طرح (چمکدار) ہوں گے۔ ان پیالوں کو (خدام) ٹھیک اندازے کے مطابق بھریں گے۔ اہل جنت کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یہ (شراب جنت کے) ایک چشمہ سے (برآمد) ہوگی جس کا نام ’’سلسبیل‘‘ ہے۔ (الدھر:15, 18)

گے۔ (الغاشیہ:13, 16)

مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھے ہیں۔ (یسین:55, 56)

لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں۔ (الدھر:19)

صفحہ 512

جنت کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ کے ارشادات ملاحظہ کیجیے:

الجہاد، باب الصدقۃ، اور باب الریان وغیرہ۔ (بخاری)

اور جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔ (مسلم)

ہے۔ (ترمذی)

میں ہر وقت عود (لکڑی) جلتی رہے گی جس کی خوشبو سے ان کے محلات معطر رہیں گے۔ جنتیوں کے پسینہ سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ جنت میں تھوک، ناک اور رفع حاجت وغیرہ نہیں ہوں گے۔ تمام جنتی باہم شیر وشکر ہوں گے۔ کسی کے دل میں دوسرے کے خلاف کوئی حسد یا بغض نہیں ہوگا۔ اہل جنت ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کریں گے۔ (بخاری)

آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی ایک اینٹ چاندی کی ہے ایک سونے کی ، اس کا سیمنٹ تیز خوشبو والا مشک ہے۔ اس کے سنگریزے موتی اور یاقوت کے ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے۔ جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ عیش کرے گا۔ کبھی تکلیف نہیں دیکھے گا، ہمیشہ زندہ رہے گا کبھی نہیں مرے گا، جنتیوں کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی فنا نہیں ہوگی۔ (ترمذی)

کے ہر کونے میں (مومن کی) بیویاں ہوں گی جنہیں دوسرے (محل کے) لوگ (دوری اور وسعت کی وجہ سے) نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن آدمی ان (بیویوں) کے درمیان چکر لگاتا رہے گا۔ (مسلم)

صفحہ 513

شاخ سے اہل جنت کی پوشاک تیار کی جائیگی۔ اس کے لباس اور جبے (قمیض) بھی اسی سے بنائے جائیں گے۔ کھجور کا پھل مٹکے یا ڈول کے برابر ہوگا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، مکھن سے زیادہ نرم ہوگا، اس میں سختی بالکل نہیں ہوگی۔

(شرح السنہ)

گا۔

(مجمع الزوائد)

سونے کے ہیں جس کا پانی موتی اور یاقوت پر بہتا ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔

(ترمذی)

کے پاس کھڑا تھا، اتنے میں یہودیوں کے علما میں سے ایک عالم آیا اور پوچھنے لگا: جس روز زمین و آسمان ادل بدل کیے جائیں گے، اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’پل صراط کے قریب اندھیرے میں‘‘۔ پھر یہودی عالم نے دریافت کیا۔ پل صراط کو سب سے پہلے کون لوگ عبور کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تنگدست مہاجرین‘‘، یہودی عالم نے دریافت کیا: جنتی لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے ان کی خدمت میں کون سا تحفہ پیش کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مچھلی کے جگر کا گوشت‘‘۔ یہودی نے پھر پوچھا: اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جنتیوں کے لیے جنت میں چرنے والا بیل ذبح کیا جائے گا (جس کا گوشت انہیں کھلایا جائے گا)‘‘۔ یہودی نے پوچھا: کھانے کے بعد پینے کے لیے جنتیوں کو کیا دیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سلسبیل چشمہ کا پانی‘‘ یہودی عالم نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، پھر یہ آدمی چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ ساری باتیں اللہ نے مجھے بتائی ہیں‘‘۔

(صحیح مسلم)

صفحہ 514

مشرق ومغرب کے درمیان ہر چیز روشن کر دے اور فضا کو خوشبو سے بھر دے۔ جنتی

عورت کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ (بخاری)

کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے اور نہ ہی جوانی فنا ہوگی۔ (صحیح مسلم)

گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”مرد ایک دن میں سو سو کنواری عورتوں کے پاس جائے

گا“۔ (سلسلۃ الصحیحۃ)

اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو نوازنے کے لیے کتنی بڑی جنت کا اہتمام کیا ہے، اس کا کامل تصور ہمارے ذہن میں نہیں آ سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی وسعت اور کشادگی صرف ایک آسمان کو نہیں بلکہ تمام آسمانوں اور زمین کو قرار دیا۔ جنت کے مختلف درجے ہیں، ہر دو درجوں کا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے۔ جنت الفردوس تمام جنتوں میں اعلیٰ ترین مقام ہے۔ یہ جنت کا درمیانی اور اعلیٰ ترین حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عرش، جنت الفردوس کے اوپر ہے اور یہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ جنت کے سو درجات صرف اور صرف ”مجاہدین فی سبیل اللہ“ کے لیے مخصوص ہیں۔ جنت کے کل آٹھ دروازے ہیں، جب اہل جنت وہاں پہنچیں گے تو انھیں کھلا پائیں گے اور جنت کے منتظمین فرشتے انھیں سلامی دیں گے اور مرحبا و خوش آمدید کہیں گے۔ جنت میں بہت خوبصورت باغات اور چشمے ہوں گے، جن میں کافور کی آمیزش ہوگی۔ جنتی بڑے مزے میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں میں بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر نورانیت اور خوشی کی رونق ہوگی۔ انھیں نفیس ترین شراب پلائی جائے گی جس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ عنبر و کستوری کی خوشبو سے بھر پور دو چشمے اہل جنت کے گھروں پر اس طرح برسیں گے جس طرح اہل دنیا کے گھروں پر بارش برستی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ”تم جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو فردوس کی درخواست کرو۔ وہ سب سے بہترین جنت ہے اور سب سے اعلیٰ جنت ہے۔ اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور جنت کی تمام نہریں بھی وہیں سے جاری ہوتی ہیں“۔ جنت کی نہروں میں صرف پانی ہی نہیں بہے گا بلکہ دودھ، شراب اور شہد بھی رواں دواں

صفحہ 515

ہوگا۔ جنت میں ہر قسم کے تازہ اور بہترین پھل ہوں گے جن سے جنتی لطف اندوز ہوں گے۔

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہمیں جنت کے بارے کچھ بتائیں، وہ کیسی ہوگی؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہوگی۔ اس کا گارا کستوری کی خوشبو والا، اس کے کنکر موتی اور یاقوت کے اور اس کی مٹی زعفران جیسی ہوگی۔ جنت کے درخت بھی بے شمار خوبیوں سے مزین ہوں گے۔ ان کی جڑیں، ان کے تنے، ان کی شاخیں، ان کے پتے، ان کے پھل اور پھول ہر اعتبار سے دنیوی درختوں سے اعلیٰ و اشرف اور ممتاز ہوں گے۔ جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ سوار اپنی سواری پر سو سال تک اس کی چھاؤں میں چلتا رہے، اسے عبور نہ کر سکے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ”جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہوگا“۔

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: جنت کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے مانند ہوگا، جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ ملائم ہوگا“۔ حدیث میں آتا ہے کہ ”مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ایسا ہوگا جو ہیرے کو اندر سے کھرچ کر بنایا گیا ہوگا۔ اس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی۔ اس خیمے میں مومن کی متعدد بیویاں ہوں گی، وہ ہر ایک کے پاس جائے گا، لیکن اس کے اہل خانہ آپس میں ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں گے“۔

جنت کی بلند و بالا رہائش گاہیں ایسی ہوں گی کہ اندر سے باہر نظر آئے گا اور باہر سے اندر نظر آئے گا۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مرغوباتِ نفس کی ہر شکل کسی نہ کسی صورت میں مہیا کی ہے، حتیٰ کہ اس میں بازار بھی ہوں گے۔ اہل جنت ہر جمعہ وہاں تشریف لائیں گے۔

دنیا کے پھل جس طرح موسموں کے ساتھ مخصوص ہیں، جنت کے پھل اس قید سے آزاد ہوں گے، چنانچہ وہ ہر وقت دستیاب ہوں گے۔ یہ پھل ہمہ قسم کے اور وافر مقدار میں ہوں گے اور سدا بہار ہوں گے۔ جنت میں آدمی جب کوئی پھل توڑے گا تو فوراً اس کی جگہ دوسرا پھل آجائے گا۔ جنت کی ہر شے باکمال اور لاجواب بلکہ بے مثال ہے تو پھر خوشبو بھی بے نظیر اور بے عدیل ہوگی۔ جنت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ وہاں پر جنتی موت کا مزہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آچکی، سو آچکی۔ جنتی کبھی پریشان نہ ہوگا، نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کی جوانی پر زوال آئے گا۔ نہ بیمار ہوگا بلکہ

صفحہ 516

مستقل صحت مند رہے گا۔ وہ ان نعمتوں سے ہمیشہ ہمکنار ہوگا۔

اہل جنت کا داخلہ شاہی مہمان کی طرح ہوگا اور پھر مہمان کی حیثیت کا اعتبار کر کے نہیں بلکہ میزبان کے کرم و عطا کے لحاظ سے استقبال ہوگا اور منتظمین جنت سلامیاں دیتے ہوئے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے۔ اہل جنت کے چہرے چاند ستاروں کی طرح روشن و منور ہوں گے۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے، مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر داڑھی نہ نکلی ہوگی، گورے چٹے ہوں گے، گٹھے ہوئے بدن ہوں گے، آنکھیں سرمگیں ہوں گی، سب جوان ہوں گے۔ مزید براں پاکیزہ دلوں والے ہوں گے۔ جنتی آپس میں بھائی بھائی ہوں گے۔ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہیں گے۔ سدا بہار اور حاضر نعمتوں کے علاوہ عام خور و نوش کا معاملہ اہل جنت کی مرضی پر منحصر ہوگا کہ چاہے کھانے میں عام گوشت پسند کریں یا پرندوں کا گوشت، ہر خواہش طبعی تقاضوں کے مطابق پوری کی جائے گی۔ یہ نعمتیں اور آسائشیں سدا بہار اور لامتناہی ہوں گی۔ حسب منشا پھلوں اور من بھاتے کھانوں کے علاوہ وافر مقدار میں پاکیزہ شراب بھی پیش کی جائے گی اور اس خوبی کے ساتھ کہ نہ تو اس شراب میں سڑاند ہوگی اور نہ یہ نشہ پیدا کرنے والی ہوگی، کہ اسے پی کر وہ بدمست ہو جائیں اور بیہودہ گفتگو کرنے لگیں یا گالم گلوچ یا فحش حرکات پر اتر آئیں۔ کھانے پینے، جماع اور شہوت میں ہر جنتی کو سو آدمی جتنی طاقت دی جائے گی۔ اتنا وافر کھانے کے باوجود کسی کو پیشاب، پاخانے یا گندی ہوا سے واسطہ نہیں پڑے گا بلکہ کستوری کی خوشبو میں بسا ہوا ڈکار آئے گا یا کستوری جیسا پسینہ آئے گا۔ جنت کے برتن قیمتی ترین دھاتوں یعنی سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ ان کی چمک دمک اور شفافیت شیشے جیسی ہوگی۔ ان کی کنگھیاں تک سونے کی ہوں گی۔ جنتی باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے اور اونچی مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھیں گے۔ اہل جنت کے لباس دنیا کے حکمرانوں اور بادشاہوں کے لباس سے کہیں زیادہ نفیس، ملائم اور خوبصورت ہوں گے۔ انھیں سونے اور چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کے بستر دبیز ریشم کے ہوں گے۔ اہل جنت جن تختوں یا مسہریوں پر جلوہ افروز ہوں گے، وہ ہیرے جواہرات سے سجی ہوں گی اور دیدہ زیب نقش و نگار ان کی خوبی میں اضافہ کر رہے ہوں گے۔

غلمان اہل جنت کے خدمت گار ہوں گے جو ہمہ وقت حاضر باش ہوں گے، اور

صفحہ 517

پوری تندہی و سرعت کے ساتھ حکم بجالائیں گے ۔ وہ انتہائی خوبصورت اور دلربا ہوں گے جیسے موتی اور ہیرے بکھرے پڑے ہوں ۔ سب سے کم درجے والے جنتی کے 80 ہزار خادم ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی اہل جنت پر عظیم ترین مہربانیوں میں سے ایک مہربانی یہ ہوگی کہ انھیں اپنے خاندان کے ساتھ جنت میں اکٹھا فرما دیں گے ۔ اگر کسی جنتی کی بیوی نیک اور پارسا ہوئی تو اسے جنت میں اپنے خاوند کے ساتھ رکھا جائے گا۔ مومن خاتون جنت میں حور عین سے زیادہ اچھی حالت میں ہوگی؛ وہ مرتبے میں بلند تر اور حُسن و جمال میں اُن سے بڑھ کر ہوگی! جنت میں جانے والی ہر خاتون خواہ مرنے سے پہلے شادی شدہ اور بوڑھی ہو کر مری ہو، جب جنت میں جائے گی تو کنواری ہوگی، عاشق مزاج ہوگی، خاوند کی ہم عمر ہوگی ۔ اگر جنت کی کوئی خاتون زمین کی طرف جھانک کر بھی دیکھ لے تو جنت سے زمین تک روشنی ہی روشنی پھیل جائے اور خوشبو کی بہار آ جائے ۔ ایسی بے مثل اور بے مثال ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جنتی خواتین خوب سیرت اور پاک طینت بھی ہوں گی ۔ وہ شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی جنھیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا۔ ایسی خوب سیرت اور اوصاف حمیدہ کی مالک بیویاں انسان کو جنت میں عطا ہوں گی۔ ان ظاہری و باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ جنت کی عورتیں نجاستوں سے پاک ہوں گی ۔

حضرت محمد بن کعب القرظیؒ فرمایا کرتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے کوئی حور اوپر سے اپنا کنگن ظاہر کر دے تو اس کا نور چاند سورج کے نور پر غالب آ جائے ، پھر اس حور کا کیا حال ہوگا جو سرتاپا آراستہ و منور ہو! اسی طرح ان کپڑوں اور زیورات سب کا حال ہوگا کہ ان کا نور اور چمک دمک سورج کی روشنی پر غالب ہوگی ۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرمایا کرتے تھے کہ جنت میں ایسی حور ہوگی جسے عیناء کہا جاتا ہوگا، وہ جب چلے گی تو اس کے دائیں بائیں ستر ستر ہزار غلام چلیں گے اور وہ یہ کہتی ہوگی کہاں ہیں اچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے والے ۔ یعنی ختم نبوت کا تحفظ اور منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کرنے والے ۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرمایا کرتے تھے جنت میں ایک حور ہوگی جسے ’’لُعْبَہ‘‘ کہا جاتا ہوگا، اگر وہ کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا تمام پانی شیریں ہو جائے ، اس کے سینے پر لکھا ہوگا جس کو یہ پسند ہو کہ اسے مجھ جیسی حور ملے تو اسے میرے پروردگار عزوجل کی عبادت

صفحہ 518

کرنا چاہیے۔ اسراء و معراج کی حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسراء والی رات ایک حور کی تعریف فرمائی، فرمایا میں نے اس کی پیشانی کو چاند کی طرح روشن دیکھا، اس کی لمبائی ایک ہزار تیس گز تھی، اس کے سر میں سو لٹیں بندھی تھیں، ہر لٹ کے درمیان ستر ہزار گیسو تھے جو چودھویں رات کے چاند سے زیادہ روشن تھے، اس کی پازیب موتیوں اور مختلف قسم کے جواہرات سے جڑی ہوئی تھی، اس کی پیشانی پر دو سطریں موتیوں اور جواہرات سے لکھی ہوئی تھیں۔ پہلی سطر میں لکھا تھا بسم الله الرحمن الرحیم اور دوسری میں لکھا تھا کہ جو مجھ جیسی حسینہ کو حاصل کرنا چاہے اسے میرے پروردگار کی اطاعت کرنا چاہیے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے محمد ﷺ یہ اور اس جیسی حوریں، آپ ﷺ کی امت کے لیے ہیں، آپ ﷺ کو مبارک ہو اور اپنی امت کو بھی یہ خوش خبری دے دیجیے اور انھیں حکم دیجیے کہ وہ پروردگار جل شانہ کی اطاعت کی خوب کوشش کریں۔

جنت میں نقل و حرکت کے لیے انسان کسی مادی وسیلے کا محتاج نہ ہوگا بلکہ جہاں چاہے گا، آنکھ جھپکتے ہی پہنچ جائے گا۔ لیکن اگر گھوڑے یا کسی اور سواری کی طلب کرے گا تو فوراً حاضر ہوگی۔ جنت میں جانے والے وہاں مستقل اور دائمی مقیم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ جنت میں اعلان کرنے والا، بآواز بلند پکارے گا۔ اے جنت والو! اب تم یہاں ہمیشہ صحت مند رہو گے۔ کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ ہمیشہ زندہ رہو گے۔ ہمیشہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو گے۔ کبھی محرومی نہیں دیکھو گے۔ یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، تمھیں ان اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے۔

قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا گویا کہ وہ سفید و سیاہ مینڈھا ہے۔ اسے جنت اور دوزخ کے عین درمیان لا کھڑا کیا جائے گا۔ بلند آواز سے پوچھا جائے گا۔ اے جنت والو، کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھتے ہوئے کہیں گے۔ ہاں! یہ موت ہے۔ پھر جہنم والوں کو پکار کر پوچھا جائے گا۔ وہ بھی گردنیں اونچی کر کے دیکھیں گے اور کہیں گے۔ ہاں یہ موت ہے۔ پھر اس کے ذبح کا حکم جاری ہوگا، تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر آواز آنے لگے گی: اے جنت والو! یہیں ہمیشہ رہنا ہے، اب کسی کو موت نہیں آئے گی اور اے جہنم والو! تمھیں بھی یہیں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ اب کسی کو موت نصیب نہیں ہوگی۔

جس طرح دنیا میں ایک عام آدمی کے لیے انتہائی خوشی بلکہ خوش قسمتی کا مقام ہوتا

صفحہ 519

ہے کہ بادشاہ وقت اسے شرف ملاقات بخش دے اور اس سے گفتگو کرے، اسی طرح بلکہ اس سے ہزاروں درجے بڑی خوشی ہوگی ان اہل جنت کو جنھیں رب العالمین اور مالک الملک ہستی شرف دیدار اور شرف ہم کلامی سے نواز دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

دیکھو گے، اسے دیکھنے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا“۔

دوسرے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:

مولا اور ہر بھلائی آپ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ دریافت کریں گے: کیا تم راضی ہو؟ وہ عرض کریں گے: ہم کیوں نہ راضی ہوں اے رب! جبکہ آپ نے ہمیں اتنی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں کہ کسی دوسرے کو نہیں دیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا میں تم کو ان سے بہتر چیز نہ دے دوں؟ وہ کہیں گے: اے رب اس سے بہتر کونسی چیز ہو سکتی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: میں اپنی رضامندی تم کو عطا کرتا ہوں، چنانچہ آج کے بعد میں کبھی بھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا“۔

حق تعالیٰ کا دیدار وہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ نے جن کو عقل صحیح اور ذوق سلیم عطا کیا ہے، وہ اگر خود اپنے وجدان میں غور کریں، تو اس نعمت کی خواہش اور تمنا وہ ضرور اپنے دل میں پائیں گے، اور کیوں نہ ہو جو بندہ اپنے خالق اور رب کی بے شمار نعمتیں اس دنیا میں پا رہا ہے، اور پھر جنت میں پہنچ کر اس سے لاکھوں گنا زیادہ نعمتیں پائے گا، لازماً اُس کے دل میں یہ تمنا اور تڑپ پیدا ہوگی کہ کسی طرح میں اپنے اُس محسن اور کریم رب کو دیکھ پاتا، جس نے مجھے وجود بخشا، اور جو اس طرح مجھ پر اپنی نعمتیں اُنڈیل رہا ہے، پس اگر اُسے کبھی بھی یہ نظارہ نصیب نہ ہو، تو یقیناً اس کی لذت و مسرت اور اس کے عیش میں بڑی کمی، اور بڑی تشنگی رہے گی، اور اللہ تعالیٰ جس بندہ سے راضی ہو کر اُس کو جنت میں پہنچائیں گے، اُس کو ہرگز اس سے تشنہ اور محروم نہیں رکھیں گے۔

جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے، ”آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ دریافت فرمائیں گے: تم کچھ اور چاہتے ہو جس کا میں اضافہ کر دوں؟ جنتی جواب دیں گے: کیا آپ نے ہمیں سرخ رو نہیں کیا؟ کیا آپ نے ہمیں آگ سے محفوظ فرما کر جنت میں داخل نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے رخ اقدس سے حجاب اتار

صفحہ 520

دیں گے تو اللہ عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ان جنتیوں کو کوئی دوسری چیز نہیں ملی ہوگی‘‘۔

حضور نبی کریم ﷺ کی اپنی امت سے بے پناہ محبت اور شفقت

حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ اپنی امت سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ امت کو درپیش آنے والی ہر تکلیف اور مشکل پر آپ ﷺ بے حد فکرمند ہو جاتے۔ آپ ﷺ اپنی امت کی فلاح و کامیابی کے لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں یوں فرماتا ہے:

بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ o

(توبہ: 128)

ترجمہ: ”بے شک تشریف لایا ہے تمہارے پاس ایک برگزیدہ رسول تم میں سے، گراں گزرتا ہے اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا، بہت ہی خواہش مند ہے، تمہاری بھلائی کا، مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

اوپر درج کردہ آیت میں امت اور حضور نبی رحمت ﷺ کے درمیان کارفرما خصوصی ربط اور تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا اپنی امت کے ساتھ اس قدر گہرا تعلق قائم ہوا کہ سابقہ انبیا علیہم السلام میں سے کسی نبی کا اپنی امت کے ساتھ ایسا گہرا تعلق نہ تھا۔ آیت مذکورہ میں آپ ﷺ کے اسی تعلق بالامۃ کو بیان کیا گیا ہے۔

آیت کریمہ میں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں:

خواہشمند اور حریص ہیں۔

مذکورہ آیت کریمہ کی توضیح میں حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں:

ان النبی ﷺ قال: ما من مومن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والآخرۃ.

(بخاری)

’’حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی مومن ایسا نہیں مگر یہ کہ دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ میں اس کے قریب ہوں‘‘۔

صحیح مسلم کی روایت ہے:

صفحہ 521

”میں ہر مومن کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں“۔

اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص مومن ہے، اسے دنیا و آخرت میں حضور نبی اکرم ﷺ کی قربت نصیب ہوگی۔ اب کوئی بدنصیب شخص ہی ہوسکتا ہے جو قربت مصطفیٰ ﷺ سے بیگانہ ہو کر کسی کذاب مدعی نبوت یا اس کے کسی ماننے والے سے ایسا قریبی تعلق استوار کرنے کی کوشش کرے۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ کے اپنے غلاموں کے ساتھ اتنا گہرا تعلق آج بھی قائم ہے تو پھر حضور ﷺ کے ہوتے ہوئے کسی اور نبی کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے اوصاف حمیدہ میں ذکر کر دیا کہ امت کی تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے۔ ان کو شب و روز یہی خواہش دامنگیر ہے کہ امت راہ راست پر آ جائے۔ آپ ﷺ نے امت کی ہدایت و بہبودی کے لیے بے شمار مصیبتیں جھیلیں۔ سخت سے سخت مصیبت میں بھی آپ ﷺ نے بددعا نہ کی بلکہ ہدایت کی دعا کی۔ ایمان والوں پر آپ ﷺ کی شفقت و رحمت ظاہر ہے۔ اسی واسطے آپ ﷺ نے کسی مقام پر امت کو فراموش نہیں فرمایا۔ جس روز آندھی یا آسمان پر بادل ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر غم وفکر کے آثار نمایاں ہوتے، اور آپ ﷺ کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے۔ جب بارش ہو جاتی، تو آپ خوش ہوتے اور حالتِ غم جاتی رہتی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے آپ ﷺ سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ مبادا (قومِ عاد کی طرح) یہ عذاب ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔ (صحیح مسلم)

حضور نبی اکرم ﷺ کی کرم نوازی اور امت کی غم گساری کا سلسلہ آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد بھی جاری وساری ہے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ منقول ہے جسے امام ابن قدامہ المقدسی (م 620ھ)، امام نووی (م 677ھ)، امام ابن کثیر (م 774ھ) اور دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں درج کیا ہے۔ واقعہ درج ذیل ہے:

السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ! سمعت اللہ یقول: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًاo﴾ (النساء: 64) وقد جئتک مستغفرا لذنبی مستشفعاً بک الی ربی.

صفحہ 522

ثم أنشاء يقول:

يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنَتْ بِالْقَاعِ اَعْظُمُهُ
فَطَابَ مِنْ طِيْبِهِنَّ الْقَاعُ وَالْاَكَمُ
نَفْسِي الْفِدَاءُ لِقَبْرٍ اَنْتَ سَاكِنُهُ
فِيْهِ الْعَفَافُ وَفِيْهِ الْجُوْدُ وَالْكَرَمُ

ثم انصرف الأعرابي، فغلبتنی عينی، فرأيت النبی ﷺ فی النوم، فقال: يا عتبی! الحق الأعرابي، فبشره ان الله قد غفرله.

عتبی کہتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی قبر انور کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ! میں نے یہ فرمان الٰہی سنا ہے: (اور (اے حبیب ﷺ!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (ﷺ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور اس کے حضور آپ کی شفاعت طلب کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔

”پھر وہ یہ اشعار پڑھنے لگا:

(اے ان تمام لوگوں سے بہترین ہستی جن کے اجساد میدانوں میں دفن کیے گئے ہیں اور ان کی خوشبو سے وہ میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ہیں، میری جان اس قبر انور پر قربان جس میں آپ ﷺ تشریف فرما ہیں، اس میں پارسائی ہے، سخاوت ہے اور کرم ہے۔ میری بدقسمتی کہ میرے پہنچنے سے پہلے آپ ﷺ وصال فرما گئے۔ اب میں مایوسی کی حالت میں واپس جا رہا ہوں) یہ کہہ کر وہ چل دیا کہ اتنے میں میری آنکھ لگ گئی اور میں نے حالت خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عتبی! (میرے عاشق اُٹھ) اس دیہاتی (میرے گنہگار امتی) کو خوش خبری دے (کہ اس کا آنا قبول کر لیا گیا ہے اور) اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش فرما دی ہے“۔

علامہ قرطبی نے ایک واقعہ سیدنا حضرت علیؓ شیر خدا سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا:

صفحہ 523

علی قبر رسول اللہ ﷺ وحثا علی رأسہ من ترابہ. فقال: قلت: یارسول اللہ! فسمعنا قولک، ووعیت عن اللہ فوعینا عنک، وکان فیما انزل اللہ علیک، (وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوْکَ) وقد ظلمت نفسی، و جئتک تستغفرلی. فنودى من القبر انہ قد غفرلک.

(قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 3، جزو 5: 266,265)

”حضور ﷺ کے وصال مبارک کے تین دن بعد ایک دیہاتی ہمارے پاس آیا۔ وہ آتے ہی حضور ﷺ کے مزارِ اقدس پر گر پڑا اور آپ ﷺ کی تربت مبارکہ کی مٹی اپنے سر میں ڈالنا شروع ہو گیا اور (رو رو کر) عرض کرنے لگا، یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے سنا جو آپ نے فرمایا اور جو آپ نے اللہ سے سیکھا، ہم نے وہ آپ سے سیکھا۔ یا رسول اللہ ﷺ! جو قرآن، اللہ نے آپ پر نازل فرمایا، اس میں یہ آیت مبارکہ ہے (اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے ......) اے میرے آقا ﷺ! میں نے اپنے آپ پر بڑے ظلم کیے، اب میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ میری بخشش و مغفرت کی دعا کیجیے اور میری شفاعت فرمائیے۔ (حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ) حضور نبی کریم ﷺ کی قبر انور سے آواز آئی: (اے میرے گنہگار اور دکھی دل امتی! خوش ہو جا) تجھے بخش دیا گیا ہے“۔

اس روایت سے یہ بات اَلَمْ نَشْرَح ہو گئی کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک سے آپ ﷺ کی نبوت اور اس کے فیوض ختم نہیں ہوئے۔ آپ ﷺ آج بھی اپنی امت کے گنہگاروں کی شفاعت فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ اپنی قبر اطہر میں ظاہری زندگی کی طرح زندہ و حیات ہیں۔ (اس عقیدہ کا منکر مردود و ملعون ہے) آپ ﷺ کی نبوت آج بھی جاری و ساری ہے اور قیامت تک رہے گی بلکہ قیامت کے بعد جنت میں بھی اسی طرح جاری و ساری رہے گی۔ آپ ﷺ کہ جن کی نبوت کا زمانہ آخرت تک محیط اور جنت تک پھیلا ہوا ہو، وہ نبوت بھلا کس طرح ختم ہو سکتی ہے۔

حضرت امی عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ یوں دعا مانگی:

ترجمہ: ”خدایا جو شخص میری امت کے کسی کام کا والی (حکمران یا افسر وغیرہ) بنایا جائے، اگر وہ ان کو مشقت میں ڈالے تو اس والی کو مشقت میں ڈال اور جو شخص میری امت کے کسی

صفحہ 524

کام کا والی بنایا جائے، اگر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو اس والی کے ساتھ نرمی کر‘‘۔

حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا ’’جو مومن مر جائے اور مال چھوڑ جائے، تو وہ اس کے وارثوں کو خواہ کوئی ہوں، ملنا چاہیے اور جو مومن قرض یا (محتاج) عیال چھوڑ جائے تو چاہیے کہ قرض خواہ یا عیال میرے پاس آئے کیونکہ میں اس کا ولی و متکفل ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری)

حضور نبی کریم ﷺ کی اپنی امت سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر سال دو جانوروں کی قربانی دیتے۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسری امت کے ان افراد کی طرف سے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تین رات نماز تراویح اپنے اصحاب کرام کو پڑھائی۔ چوتھی رات صحابہ کرامؓ بکثرت مسجد میں جمع ہوئے اور انتظار کرتے رہے مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف نہ لائے۔ صبح کی نماز کے بعد آپ ﷺ نے یوں تقریر فرمائی:

’’تمہارا مسجد میں جمع ہونا مجھ پر پوشیدہ نہ تھا۔ لیکن میں ڈر گیا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے اور تم اس کے ادا کرنے سے عاجز آ جاؤ‘‘۔ (صحیح بخاری)

نماز تراویح کی طرح بعض اور افعال کو آپ ﷺ نے صرف اس ڈر سے ترک کر دیا کہ کہیں امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ ہر نماز کے لیے مسواک کا ترک کرنا، تاخیر عشاء کا ترک کرنا اور صوم وصال سے منع فرمانا اسی قبیل سے ہیں۔

حضرت ہند بن ابی ہالہ نے رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ (امت کے بارے میں) مسلسل غمگین اور ہمیشہ فکر مند رہتے تھے، کسی گھڑی آپ ﷺ کو چین نہیں آتا تھا۔ اکثر اوقات خاموش رہتے، بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی) آپ ﷺ کو اپنی امت کا کس قدر درد و غم تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب آپ ﷺ امت کی فکر میں روتے تو ہنڈیا کے ابلنے کی آواز آپ ﷺ کے سینہ اطہر سے آتی تھی۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک دفعہ اچانک ایک اعرابی نے آواز دی ’’السلام علیکم یا اہل بیت رسول اللہ ﷺ! حکم ہو تو اندر آؤں‘‘۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ’’رسول اللہ ﷺ کی طبیعت ناساز ہے، ملاقات نہیں ہو سکے گی‘‘۔ اس اعرابی نے

صفحہ 525

دوبارہ وہی آواز دی۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ”رسول اللہ ﷺ کی طبیعت اس وقت سخت خراب ہے، ملاقات کا امکان نہیں ہے“۔ اس اعرابی نے تیسری بار اتنے زور سے آواز دی کہ سارا گھر ہل گیا۔ سرکار دو عالم ﷺ کی آنکھ کھل گئی۔ آپ ﷺ نے پوچھا ”کیا بات ہے؟“ بنت رسول ﷺ نے بتایا ”ابا جان! ایک اعرابی آپ ﷺ سے ملاقات چاہتا ہے اور منع کرنے کے باوجود آوازیں لگائے جا رہا ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”اے جان پدر! یہ اعرابی نہیں ہے، یہ عورتوں کو بیوہ اور فرزندوں کو یتیم کرنے والا فرشتۂ اجل ہے، اسے اندر بلا لو“ ملک الموت اعرابی کی صورت میں حاضر ہوا اور فرمایا ”السلام علیکم یا حبیب اللہ ﷺ ! رب کریم نے آپ ﷺ کو سلام بھیجا ہے“۔ آپ ﷺ نے پوچھا ”جبریل کہاں ہیں؟“ اعرابی نے بتایا کہ وہ آسمان پر ہیں اور آپ ﷺ کی عیادت کے لیے آنے والے فرشتوں کو تسلی دے رہے ہیں۔

اتنے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی حاضر خدمت ہوئے اور رب رحمان و رحیم کا سلام پہنچایا، ساتھ ہی یہ بتایا کہ آج جنت کو آراستہ کیا گیا ہے اور دوزخ کو بجھا دیا گیا ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا ”رب تعالیٰ آپ سے پوچھ رہا ہے کہ کچھ طلب کرنا ہو تو کیجیے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”اے جبرئیل ! تم میری یہ خواہش رب کریم سے عرض کرو کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے اگلی امتوں کی طرح میری امت کی صورت مسخ نہ کرے۔ میرا مالک امت کے معاملہ میں مجھے آزردہ نہ کرے اور قیامت کے دن سب سے پہلے میں اپنی امت کی شفاعت کروں“۔ جبرئیل علیہ السلام تشریف لے گئے اور خلعت قبولیت کے ساتھ واپس آئے۔

پھر فرشتۂ اجل نے عرض کی ”یا رسول اللہ ﷺ ! میرے لیے کیا حکم ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا ”جب تک میں اپنی امت کے متعلق کوئی انتہائی خوشی کی بات نہ سن لوں گا تجھے اجازت نہ دوں گا“۔ یہ سن کر جبرئیل علیہ السلام رب العزت کے پاس دوبارہ تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو فرمایا ”اے محمد ﷺ ! رب رحمان و رحیم سلام کہتے ہیں اور ارشاد ہوا ہے کہ اگر آپ ﷺ کا کوئی امتی مرنے سے ایک برس پہلے توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی“۔

آپ ﷺ نے فرمایا ”ایک سال تو بہت ہے“۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور ایک مہینہ کی خبر لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”ایک مہینہ بھی بہت ہے“۔

صفحہ 526

حضرت جبرئیل علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور ایک ہفتہ کی خبر لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”ایک ہفتہ بھی بہت ہے“۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور موت سے ایک دن پہلے کی گئی توبہ کی قبولیت کی نوید لائے۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ”ایک دن بھی بہت ہے“۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور ایک ساعت کی خبر لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”ایک ساعت بھی زیادہ ہے“۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام پھر تشریف لے گئے اور واپس آ کر فرمایا ”اے محبوب خدا ﷺ ! رب تعالیٰ آپ ﷺ کو سلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ ﷺ کے نزدیک ایک ساعت بھی زیادہ ہے تو جس وقت آپ ﷺ کا کوئی امتی حلق میں روح پہنچنے پر بھی توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ رب العالمین کی ذات بے نیاز بھی ہے اور غفور الرحیم بھی“۔ اس خوشخبری کو سن کر سرورِ کائنات ﷺ بہت خوش ہوئے اور عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب وہ اپنا کام شروع کرے۔

جب رحمۃ للعالمین ﷺ کو اپنی امت کی اتنی فکر ہو تو امت کو آپ ﷺ کا امتی ہونے پر فخر اور شکر ادا کرنا چاہیے، مگر بغیر حق ادا کیے محض امتی ہونا بھی ہمارے شایانِ شان نہیں۔ یہ کہاں کی وفاداری ہے کہ پیارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہماری دنیا و آخرت کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہیں اور ہم اپنے نبی ﷺ کے گستاخوں اور دشمنوں سے نفرت اور بائیکاٹ کے بجائے دوستانہ مراسم رکھیں اور شان رسالت ﷺ میں ہونے والی گستاخیوں پر اپنا کوئی ردِعمل ظاہر نہ کریں۔ حیف! ...... صد حیف!

آپ ﷺ کے وصالِ مبارک کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آ کر کہا ”فاطمہ کی جان آپ ﷺ پر قربان! میرے پیارے ابا جان! آنکھیں کھولیے، آپ ﷺ کی لاڈلی حاضر ہے، اس پر نظر شفقت کون کرے گا! آپ ﷺ کے لاڈلے حسنؓ اور حسینؓ ہیں ان سے پیار کون کرے گا، ان کے ناز کون اٹھائے گا!“

رحمۃ للعالمین حضرت محمد ﷺ نے آنکھیں کھولیں اور اپنا دستِ مبارک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سر پر رکھ کر دعا فرمائی ”یا رب العالمین! میری فاطمہ کو صبر عطا فرما“۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سردارِ دو جہاں ﷺ سے لپٹ کر رونے لگیں اور پوچھا ”پیارے ابا جان! آپ ﷺ سے کہاں ملاقات ہوگی؟“ ہادیٔ کون و مکاں ﷺ نے فرمایا ”اب قیامت کے دن ملاقات ہوگی“۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا ”ابا جان!

صفحہ 527

کس جگہ آپ ﷺ سے ملاقات ہوگی؟‘‘ خاتم الانبیا ﷺ نے فرمایا ”جب سورج سوا نیزے پر آ جائے گا اور زمین تپے گی تو میری امت سایہ تلاش کرے گی۔ اس وقت میں لوائے حمد بلند کروں گا۔ بیٹا! تم وہیں آ جانا‘‘۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا ”ابا جان! اگر آپ ﷺ سے وہاں ملاقات نہ ہوئی تو پھر میں آپ ﷺ کو کہاں تلاش کروں؟‘‘ سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا ”بیٹا! تم حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات فرمانا‘‘۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا ”ابا جان! اگر وہاں بھی ملاقات نہ ہوئی تو پھر آپ ﷺ کو کہاں ڈھونڈوں؟‘‘ ختم المرسلین ﷺ نے فرمایا ”بیٹا اگر میں حوضِ کوثر پر نہ ملوں تو میزان پر آ جانا، میں وہاں اپنی امت کی بخشش کے لیے ان کے اعمال تلوا رہا ہوں گا‘‘۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا ”ابا جان اگر وہاں بھی آپ ﷺ نہ مل سکے تو میں آپ ﷺ کو کس جگہ تلاش کروں؟‘‘ محبوبِ خدا ﷺ نے فرمایا ”بیٹا! اگر تم مجھے وہاں نہ پاؤ تو پھر پل صراط پر آ جانا۔ میں اپنی امت کو پل صراط سے پار اُتار رہا ہوں گا‘‘۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر پوچھا۔ ”اگر پل صراط پر بھی ملاقات نہ ہوئی تو پھر آپ ﷺ کہاں ہوں گے؟‘‘ رحمتِ دوعالم ﷺ نے فرمایا ”جانِ پدر! تو بس پھر تم دوزخ کے دروازہ پر آ جانا‘‘۔ یہ سنتے ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گھبرا سی گئیں اور تعجب سے پوچھا ”ابا جان! آپ ﷺ دوزخ کے دروازہ پر کیوں تشریف لے جائیں گے؟‘‘ رحمتِ مجسم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ”میں ربِ رحمٰن و رحیم سے اجازت طلب کروں گا کہ میں درِ دوزخ پر جا کر دیکھوں کہ میرا کوئی امتی دوزخ میں تو نہیں گیا۔ اگر شامتِ اعمال سے دوزخ میں جائے گا تو میں اس کی شفاعت کروں گا اور جب تک میرا ایک امتی بھی باقی رہے گا، میں جنت میں نہیں جاؤں گا‘‘۔

یہ ہے رحمت و شفقت کے بحرِ بے کراں کا اپنی امت سے محبت کا عالم کہ وقتِ وصال بھی امت کے ایک ایک فرد کی فکر ہے لیکن ہم ہیں کہ کہلاتے تو سرکارِ دو جہان ﷺ کے امتی ہیں مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ چوبیس گھنٹوں میں ہم شافعِ محشر ﷺ کی ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں! اور ہم میں عشقِ مصطفےٰ ﷺ کا خمار کس قدر ہے! وہ بھی زبانی کلامی ہے یا عملی اور فعلی؟ ہائے افسوس، ہمارے عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ اور غلامانِ محمد ﷺ کہلوانے پر!

حضرت سیدنا معروف کرخیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر روز یہ دعا پڑھے کہ اے اللہ!

صفحہ 528

رسول اللہ ﷺ کی امت پر رحم فرما تو اللہ تعالیٰ اُس کو ابدال میں سے لکھ دیتا ہے اور یہی بات حلیہ میں امام ابونعیمؒ نے لکھی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص دس بار یہ پڑھے، یا اللہ! رسول اللہ ﷺ کی امت کی پریشانیاں دُور فرما۔ اے اللہ! رسول اللہ ﷺ کی امت پر رحم فرما تو اللہ تعالیٰ اُس کو ابدال میں سے لکھ دیتا ہے۔ (کشف الخفاء ومزیل الالباس لامام العجلونی جلد 1،

ص 35، حاشیہ شرح الزرقانی علی المواہب لامام الزرقانی (جلد 7، ص 485)

لیکن اس سے بھی بڑھ کر اگر کوئی شخص حضور اقدس ﷺ کی امت کے افراد کو کسی فتنہ سے بچاتا ہے، اُنھیں گمراہی کی طرف جانے سے روکتا ہے، ان کے ایمان کی حفاظت کرتا ہے، ان کی آخرت کے بارے میں فکر کرتا ہے، ایسا شخص وقت کے ابدال سے بھی بڑا درجہ رکھتا ہے اور یقیناً تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا ہر شخص اس کا مصداق ہے۔

ان ﷺ کے در سے تو سب کچھ ملے گا مگر
اپنا کردار بھی دیکھنا چاہیے!

شفاعت رسول کریم ﷺ

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر الصدّیقؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک روز ارشاد فرمایا۔ ’’میرے رب نے میری امت میں سے مجھے ستر ہزار مسلمان ایسے دیے ہیں جو جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہو جائیں گے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی ’’یا رسول اللہ ﷺ! کیا اچھا ہوتا اگر حضور ﷺ اس تعداد سے زیادہ کے متعلق سوال کرتے‘‘۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’میں نے زیادہ کے لیے استدعا کی اور میرے رب نے اس قدر عطا فرمایا‘‘۔ اس قدر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے اپنے ہاتھوں کو کھولا، دونوں بازوؤں کو پھیلا دیا اور کلاوہ بھرا۔ ہشام کہتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے جو اس نے اپنے محبوب کو دیا اور اس کی تعداد معلوم نہیں ہو سکتی۔

عمرو بن حزم انصاریؓ سے مروی ہے کہ تین دن تک رسول کریم ﷺ کا یہ معمول رہا کہ صرف نماز پنجگانہ کے لیے مسجد میں تشریف لاتے اور نماز سے فراغت کے بعد پھر خلوت نشین ہو جاتے۔ چوتھے دن حضور پُرنور ﷺ حسبِ معمول تشریف لائے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ تین دن تک ہم سے الگ تھلگ رہے یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کوئی حادثہ وقوع پذیر ہو گیا ہے۔ آقا و مولا ﷺ نے ارشاد فرمایا:

صفحہ 529

ہے۔ میرے رب نے میرے ساتھ یہ وعدہ فرمایا کہ میری امت سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ میں اپنے رب سے تین دن تک اس تعداد میں اضافے کی التجا کرتا رہا۔ پس میں نے اپنے پروردگار کو بڑا عظیم کریم پایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ستر ہزار کے علاوہ ان میں سے ہر ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار عطا فرمائے، جنھیں حساب لیے بغیر جنت میں داخل کیا جائے گا“۔

سبحان اللہ! کیا شانِ کریمی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ ﷺ کے 70 ہزار افراد کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرمائیں گے اور پھر ان میں سے ہر ایک خوش نصیب اپنے ساتھ 70 ہزار افراد کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں لے کر جائے گا۔ یوں حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک دعا سے اللہ تعالیٰ، امت محمدیہ ﷺ کے 4 ارب 90 کروڑ 70 ہزار افراد کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ یقین کیجیے کہ یہ سب کچھ حضور خاتم النبیین ﷺ کی مقدس ذات گرامی کی بدولت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا شمار بھی ان 70 ہزار خوش نصیبوں میں ہو تو آپ کو چاہیے کہ تحفظِ ختم نبوت کے لیے دن رات ایک کر دیں اور منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے مذموم عقائد وعزائم کی سرکوبی کے لیے بھر پور کوشش کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس کام کی بدولت آپ پر اپنی خاص رحمتوں اور برکتوں کی بارش فرمائے گا۔

علامہ قرطبیؒ نے حضرت سعید بن مسیبؒ کا یہ قول نقل کیا ہے:

حضور ﷺ اپنے ہر امتی کا چہرہ اور اس کے اعمال کو پہچانتے ہیں۔ اس علم کامل کے باعث حضور ﷺ قیامت کے روز سب کے گواہ ہوں گے“۔

(تفسیر قرطبی، جلد 5، ص 198)

حضرت سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ حضور کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

کرے گا اور پوچھے گا یا محمد ﷺ! کیا آپ ﷺ راضی ہو گئے؟ میں عرض کروں گا، ہاں میرے پروردگار میں راضی ہو گیا“۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

حساب و کتاب) جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ

صفحہ 530

شفاعت کا فیضان عام ہے (اگر نصف امت کو جنت میں داخل کرنے پر میں قناعت کرتا تو باقی نصف امت کا کون پرسان حال ہوتا) چنانچہ میں نے شفاعت کو پسند کیا تا کہ جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں پہنچ نہ جائے، اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوگی بلکہ میری شفاعت گناہ گاروں اور خطا کاروں کے لیے ہوگی‘‘۔ (ابن ماجہ)

ڈرتا ہوں عمر بھر کے گناہوں کو دیکھ کر
پھر سوچتا ہوں شافع محشر حضورﷺ ہیں

تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسولﷺ سب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف امت کو (بلا حساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ اللہ ہم کو (بھی) شفاعت کے حقداروں میں کر دے۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ ہر مسلمان کے لیے ہے‘‘۔

ظاہر ہے مسلمان وہ ہے جو اپنے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچوں، دولت، کاروبار حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر نبی کریمﷺ سے محبت کرتا ہے اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرتا ہے۔

کیں (ترجمہ) ”اے میرے پروردگار، ان بتوں نے تو گمراہ کر دیا بہت سے لوگوں کو۔ پس جو کوئی میرے پیچھے چلا تو وہ میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے بیشک تُو غفور و رحیم ہے‘‘۔ (ابراہیم: 36) ”اگر تُو عذاب دے انھیں تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو بخش دے ان کو تو بلاشبہ تو ہی سب پر غالب ہے اور بڑا دانا ہے‘‘۔ (المائدہ: 118) حضورﷺ یہ آیتیں پڑھتے رہے اور بارگاہ رب العزت میں دست سوال دراز کر کے زار و قطار روتے رہے اور بار بار عرض کرتے رہے اے اللہ! میری امت میری امت! اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو حکم دیا، فرمایا: فوراً میرے حبیبﷺ کے پاس جاؤ۔ اگرچہ تیرا رب سب کچھ

صفحہ 531

جانتا ہے لیکن میرے حبیب ﷺ سے پوچھو کیوں رو رہے ہیں؟ جبریل امین خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور رونے کی وجہ دریافت کی۔ حضورﷺ نے عرض کی میں اپنی امت کی بخشش کے لیے رو رہا ہوں۔ جبریل نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ جواب پیش کیا اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا فوراً میرے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں جاؤ اور میری طرف سے انھیں یہ پیغام دو اے حبیب ﷺ! آپ ﷺ کی امت کے بارے میں ہم آپ ﷺ کو راضی کریں گے اور اس بارے میں آپ ﷺ کو غمگین نہیں کریں گے‘‘۔

بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے جبرئیل علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سن کر فرمایا کہ ’’میں تو تب مطمئن اور خوش ہوں گا جب میرا کوئی امتی بھی دوزخ میں نہ رہے‘‘۔

کریم سے سوال کیا اور اپنی امت کی شفاعت کی۔ اللہ تعالیٰ نے میری امت کا تیسرا حصہ مجھے عطا فرمایا۔ میں اس احسان عظیم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سربسجود ہوگیا۔ پھر کچھ دیر کے بعد میں نے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر رب کریم کی بارگاہ میں اپنی امت کی بخشش کے لیے التجا اور شفاعت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی امت کا دوسرا تہائی حصہ عطا فرمایا۔ اپنے کریم رب کے لطف عمیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پھر سجدہ ریز ہوگیا۔ پھر کچھ دیر کے لیے سر کو اٹھایا، پھر اپنی امت کی بخشش کے لیے التجا کی۔ اللہ تعالیٰ نے احسان فرماتے ہوئے وہ آخری تہائی بھی مجھے عطا فرمائی۔ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا‘‘۔

امام بخاری اور مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے اپنی صحیحین میں حدیث شفاعت کو حضرت ابوہریرہؓ کے واسطہ سے بالتفصیل بیان کیا ہے جس کا مطالعہ ہم جیسے خطا کاروں اور گناہگاروں کے لیے باعث صد طمانیت ہے:

نزدیک ہوگا۔ لوگ ناقابل برداشت غم و اندوہ میں مبتلا ہوں گے۔ طویل انتظار کے بعد ان کو یارائے صبر نہ رہے گا۔ وہ آپس میں مشورہ کریں گے اور کہیں گے کہ کیا تم کسی ایسی ہستی کے پاس نہیں چلتے جو تمھارے لیے خداوند ذوالجلال کی بارگاہ میں شفاعت کرے۔ چنانچہ وہ سب ابوالانبیا آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور یوں عرض گزار ہوں گے۔

صفحہ 532

دست قدرت سے تخلیق فرمایا اور آپ میں اپنی روح پھونکی۔ پھر آپ کو جنت میں بسایا۔ تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اشیا کے نام سکھائے۔ اے بڑی شان والے ہمارے پدر بزرگوار! از راہ عنایت ہمارے لیے بارگاہ رب العزت میں شفاعت کیجیے تاکہ اس تکلیف دہ حالت سے ہمیں رہائی نصیب ہو۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس کرب و غم میں مبتلا ہیں!

آدم علیہ السلام فرمائیں گے، میرا رب آج بہت غضبناک ہے۔ وہ اس سے پہلے اتنا غضبناک کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ آج کے بعد وہ کبھی اتنا غضبناک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا، میں لغزش کر بیٹھا۔ نفسی نفسی اذهبوا الی غیری یعنی مجھے تو آج اپنی فکر ہے، مجھے تو آج اپنی فکر ہے، شفاعت کی التجا کرنے کے لیے کسی اور کے پاس جاؤ‘‘۔

پھر ساری مخلوق نوح علیہ السلام کے پاس حاضر ہوگی اور عرض کرے گی: ’’اے نوح (علیہ السلام)! آپ اہل زمین کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبداً شکوراً (شکر گزار بندہ) کا لقب ارزانی فرمایا ہے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ کیا آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہمارے لیے شفاعت نہیں کریں گے؟‘‘

حضرت نوح علیہ السلام جواب دیں گے۔ ’’آج میرا پروردگار از حد غضبناک ہے، اتنا غضبناک نہ وہ کبھی پہلے ہوا تھا اور نہ کبھی آئندہ ہوگا۔ نفسی نفسی: مجھے تو آج اپنی ذات کی فکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک دعا مانگنے کا حق دیا تھا جو وہ ضرور قبول فرمائے گا۔ میں نے اپنا یہ حق استعمال کر لیا ہے اور اپنی قوم کی بربادی کی دعا مانگی ہے۔ اب میں اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کے لیے لب کشائی کی جرأت نہیں کر سکتا، کسی اور کے پاس جاؤ۔ حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں‘‘۔

پھر ساری مخلوق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگی اور بڑے ادب سے عرض کریں گے۔ ’’اَنْتَ نَبِی اللّٰہ و خلیلہ من اہل الارض اشفع لنا الی ربک الا تری ما نحن فیہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور تمام اہل زمین میں سے اللہ کے خلیل ہیں۔ از راہ نوازش اپنے خداوند کریم کی بارگاہ میں ہمارے لیے شفاعت کریں۔ کیا آپ دیکھ

صفحہ 533

نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں‘۔

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی وہی جواب دیں گے کہ ”آج میرا رب ازحد غضبناک ہے۔ میں تمھارے لیے شفاعت نہیں کر سکتا۔ مجھے تو آج اپنی جان کی فکر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے تورات جیسی کتاب مرحمت فرمائی ہے اور اس کو قریب بلاکر اس سے سرگوشی کی ہے“۔ ساری مخلوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی عرضداشت بصد ادب پیش کرے گی۔ آپ بھی معذرت کریں گے کہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کا کلمہ اور روح ہیں۔

پس سب لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی حالت زار بیان کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ بارگاہ الٰہی میں وہ ان کی شفاعت کریں۔ آپ بھی معذرت فرمائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی پریشان حال اور غم واندوہ سے نڈھال مخلوق کو ایک ایسے کریم اور محبوب کا پتہ بتائیں گے جس کے دروازے پر آنے والا کوئی سائل کبھی محروم نہیں لوٹتا۔ آپ انھیں کہیں گے کہ محمد عربی کی بارگاہ بیکس پناہ میں حاضر ہوکر یہ فریاد کرو۔ چنانچہ ساری مخلوق خاتم الانبیا والمرسلین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگی اور اپنی عرضداشت پیش کرے گی۔

حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق در در کی ٹھوکریں کھانے اور ہر دروازہ سے مایوس ہونے کے بعد میرے پاس آکر فریاد کرے گی، تو میں انھیں جواب دوں گا۔

أَنَا لَهَا أَنَا لَهَا ہاں مجھے یہ حق پہنچتا ہے کہ میں اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کروں یعنی اب تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ رحمت عالم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے چل کر عرشِ الٰہی کے پاس حاضر ہوں گا اور اپنے رب سے شفاعت کرنے کی اجازت طلب کروں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں گے۔ جب میں اپنے کریم پروردگار کو عرش عظیم پر جلوہ فرما دیکھوں گا تو سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے شرح صدر کی نعمت مرحمت فرمائے گا اور میں اس کے ایسے محامد بیان کروں گا اور اس کی ایسی ثنا و ستائش کروں گا کہ آج تک اس طرح میں حمد و ثنا نہیں کر سکا تھا۔ میں دیر تک سجدہ ریز رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی:

”اے میرے محبوب ﷺ! اپنا سر مبارک سجدہ سے اٹھاؤ اور مانگو جو تم مانگو گے، میں

صفحہ 534

عطا کروں گا۔ آپ شفاعت کریں جس کی آپ شفاعت کریں گے، اس کے بارے میں آپ کی شفاعت قبول ہوگی“۔

یہ مژدہ جانفزا سن کر میں سجدہ سے سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔

يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي. اے میرے پروردگار، میری امت پر رحم فرما اور اس کو نجات دے۔ اے میرے پروردگار میری امت پر رحم فرما اور اس کو نجات دے۔ میرا پروردگار مجھے فرمائے گا۔

”جنت کے دروازوں سے دائیں جانب کے دروازے سے اپنے ان امتیوں کو داخل کرو جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور جنت کے دوسرے دروازوں سے بھی آپ کی امت جنت میں داخل ہوگی“۔

حضرت انسؓ سے اس سلسلے میں یہ الفاظ مروی ہیں:

”میں پھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں سر بسجود ہو جاؤں گا۔ مجھے کہا جائے گا اے میرے حبیب ﷺ اپنا سر مبارک اٹھایئے تم جو عرض کرو گے، میں سنوں گا۔ تم جس کی شفاعت کرو گے، میں شفاعت قبول کروں گا۔ آپ جو مانگیں گے، وہ ضرور آپ کو دیا جائے گا۔ اس اذنِ عام کے بعد میں عرض کروں گا۔ اے میرے پروردگار میری امت کو بخش دے“۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ رحمت سے یہ جواب ملے گا: آپ ﷺ تشریف لے جائیے اور آپ ﷺ کے جس امتی کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، اس کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جائیے۔ حسب ارشاد میں جاؤں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جن کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، ان کو بھڑکتے ہوئے جہنم سے نکال کر فردوس بریں کی بہاروں میں داخل کرا دوں گا۔ پھر لوٹ کر میں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ ریز ہوں گا۔ پھر اس کی حمد وثنا میں مصروف رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ پھر مجھے فرمائیں گے۔ اے حبیب ﷺ! اب عجز و نیاز کی انتہا ہوچکی، اب سجدہ سے سر مبارک اٹھایئے، تم مانگتے جاؤ، میں دیتا جاؤں گا۔ تم کہتے جاؤ، میں سنتا جاؤں گا۔ تم سفارش کرتے جاؤ، میں شفاعت قبول کرتا جاؤں گا۔

پھر ارشاد ہوگا ہر وہ شخص جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہے، اس کو نکال کر جنت میں پہنچاؤ۔ چنانچہ میں اپنے تمام امتیوں کو جن کے دلوں میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا، ان کو فردوس بریں میں پہنچا دوں گا۔

صفحہ 535

تیسری مرتبہ پھر یہی صورت حال ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اے میرے محبوب ﷺ! جس تیرے غلام کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم بہت کم بہت کم ایمان ہے، اس کو بھی جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچا دیں، چنانچہ میں ایسا ہی کروں گا‘‘۔

چوتھی مرتبہ پھر عزيز عليه ماعنتم حريص عليكم بالمومنين رؤف رّحيم کی شانِ رفیع کا مالک اللہ کا رسول ﷺ اور ہمارا آقا پھر سجدہ ریز ہوگا۔ اپنی عاجزانہ التجاؤں سے رحمت الٰہی کو پھر اپنی طرف ملتفت کرے گا۔ پھر ارشادِ ربانی یوں سامع نواز ہوگا: ’’اے میرے حبیب ﷺ! اپنا سر مبارک اٹھاؤ: تم کہتے جاؤ، میں سنتا جاؤں گا۔ تم شفاعت کرتے جاؤ، میں شفاعت قبول کرتا جاؤں گا۔ تم مانگتے جاؤ، میں دیتا جاؤں گا‘‘۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں چوتھی بار یہ عرض کروں گا:

’’اے میرے پروردگار مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ ہر اس شخص کو جنت میں پہنچاؤں جس نے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہا ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے حبیب ﷺ! یہ میرا کام ہے مجھے اپنی عزت کی قسم، اپنی کبریائی کی قسم، اپنی عظمت کی قسم، اپنے جبر و قہر کی قسم! میں ہر اس شخص کو آتشِ جہنم سے نکال لوں گا جس نے کلمہ طیبہ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پڑھا۔

(صحیح بخاری و مسلم)

حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ جب لوگ بارگاہِ مصطفوی ﷺ میں حاضر ہوں گے اور شفاعت کے لیے التجا کریں گے تو پل صراط کو بچھا دیا جائے گا۔ حضور ﷺ کی شفاعت سے جن کو نجات مل جائے گی، وہ اس پل سے گزر کر جنت میں جائیں گے۔ بعض لوگ بجلی کی تیزی سے گزریں گے۔ بعض ہوا کی رفتار سے گزریں گے اور بعض پرندوں کی طرح پرواز کرتے گزریں گے۔ حضرت حذیفہؓ آخر میں فرماتے ہیں۔

رہے ہوں گے تو سرورِ عالم ﷺ اس پل کے قریب کھڑے ہوئے التجا کر رہے ہوں گے، ’’اے میرے اللہ! میرے امتیوں کو اس نازک مرحلہ سے سلامتی سے گزارنا‘‘۔

یہ شان رحمۃ للعالمینی ہے، اس محبوب ربِّ العالمین کی کہ دنیا میں بھی اپنے

صفحہ 536

امتیوں کی بخشش اور نجات کے لیے آنسوؤں کے دریا بہاتے رہے اور قیامت کے دن بھی کبھی مقام محمود پر سرفراز ہو کر اور کبھی پل صراط کے قریب کھڑے ہو کر ان کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے۔

رحمت عالم ﷺ اور ہم

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔

وعدہ کیا۔ سب انبیا نے اپنی اس مخصوص دعا کو اس دنیا میں مانگ لیا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے اس مقبول دعا کو چھپا رکھا ہے تا کہ قیامت کے دن میں اس دعا کو امت کی شفاعت کے لیے مانگوں“۔

حضور نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ محبت کا کیا عالم ہے کہ وہ خاص دعا جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشنے کا وعدہ کیا ہوا ہے، آپ ﷺ نے اسے مؤخر کر رکھا ہے تا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی مغفرت اور بخشش کے وقت کام آ سکے۔ یہ آپ ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ لطف و کرم کی انتہا ہے۔ کیا ہم اس احسان کے بدلے حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جان تو دور کی بات ہے، کیا اس مقدس مشن کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں دے سکتے؟ کیا ہم آپ ﷺ کے دشمنوں کا راستہ نہیں روک سکتے، کیا ہم منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی شر انگیزیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے؟ کیا ہم گستاخان رسول قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ نہیں کر سکتے؟ یقین مانیے کہ آخرت میں حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے بدلے میں یہ چیزیں کچھ بھی اہمیت نہیں رکھتیں، کاش ہم اس پر غور و فکر کریں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک عقیدہ و نیت درست نہ ہو تو عمل کبھی درست نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہالت بہت سارے فاسد اعتقادات اور مخالف اسلام نظریات کا سبب ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت تحفظ ختم نبوت کی اہمیت و افادیت سے غافل ہے۔ یہ چیز ان کے ایمان کے لیے خطرناک ہے۔ اگر ایک مسلمان کے سامنے حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف تبلیغ ہو رہی ہو، لٹریچر تقسیم ہو رہا ہو اور وہ مسلمان یہ سب کچھ دیکھ کر چپ سادھ لے تو یقین کیجیے اس کی اس حالت پر اللہ اور اس کا رسول ﷺ سخت ناراض ہیں۔

آج دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنھیں اس بات کا علم نہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ

صفحہ 537

آخری نبی ہیں، اسلام آخری دین ہے، قرآن آخری کتاب ہے۔ لہٰذا ایسے لوگ بڑی سادگی سے منکرین ختم نبوت کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے پیروکار بن جاتے ہیں جبکہ اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ اگر ایسے لوگوں نے قیامت کے دن ہمارا گریبان پکڑ لیا کہ آپ نے ہمیں مرزا قادیانی کے بارے میں نہیں بتایا تھا، تو ہم کیا جواب دیں گے؟ اب ہر شخص یہ کہتا ہے کہ یہ کام میرا نہیں۔ کیا وہ یہ کہنے سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی سے بچ جائے گا؟

تحفظ ختم نبوت کا کام...... امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کے ساتھ خاص درجہ رکھتا ہے اور یہ اس کے لیے تمغۂ امتیاز ہے۔ یہ تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ امت میں ایک جماعت اس کام کے لیے مخصوص ہو کہ وہ لوگوں کو اچھے اعمال کی تبلیغ کرے اور برے کاموں سے روکے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

الْمُنْكَرِ وَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.

(آل عمران: 104)

ترجمہ: اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ جو خیر کی طرف بلائے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کرے اور برے کاموں سے روکا کرے اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔

مزید ارشاد فرمایا:

وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ.

(آل عمران: 110)

ترجمہ: تم بہترین امت ہو کہ لوگوں (کی نفع رسانی) کے لیے نکالے گئے ہو۔ تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے ہو، اور برے کام سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ دولت کدہ پر تشریف لائے۔ میں نے چہرۂ انور پر ایک خاص اثر دیکھ کر محسوس کیا کہ کوئی اہم بات پیش آئی ہے۔ حضور ﷺ نے کسی سے کچھ بات چیت نہیں فرمائی اور وضو فرما کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ میں حجرہ کی دیوار سے لگ کر سننے کھڑی ہوگئی کہ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ حضور ﷺ منبر پر

صفحہ 538

تشریف فرما ہوئے اور حمد وثنا کے بعد ارشاد فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، مبادا وہ وقت آجائے کہ تم دعا مانگو اور قبول نہ ہو۔ تم سوال کرو اور سوال پورا نہ کیا جائے۔ تم اپنے دشمنوں کے خلاف مجھ سے مدد چاہو اور میں تمہاری مدد نہ کروں“۔ یہ کلمات طیبات حضور ﷺ نے ارشاد فرمائے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر گرانقدر خدمات انجام دینے والے جناب عامر خورشید صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت خواجہ خان محمدؒ سے باقاعدہ بیعت ہیں۔ حضرت کے روحانی فیض نے جنید جمشید کی طرح ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ عامر بھائی تحفظ ختم نبوت کے کام میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ ایک دفعہ انھیں خیال گزرا کہ تبلیغی جماعت والے تبلیغ کے کام کی فضیلت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے اس کا بے شمار ثواب بیان کرتے ہیں تو کیا تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کا بھی اتنا ہی ثواب ہے یا نہیں؟ لہٰذا انھوں نے اپنے شیخ حضرت خواجہ خان محمدؒ سے اس بارے میں پوچھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تبلیغ کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت اور ثواب اپنی جگہ پر، اس سے انکار نہیں لیکن تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے کو تبلیغ کا کام کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ثواب ملتا ہے کیونکہ تحفظ ختم نبوت کا کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر 100 فیصد پورا اترتا ہے۔ یہ کام نہ صرف دین کی بہترین تبلیغ ہے بلکہ اس میں مرتدین اسلام کی سرکوبی بھی شامل ہے۔ منکرین ختم نبوت کی خلاف اسلام مذموم سرگرمیوں اور سازشوں کو روکنا وقت کا سب سے بڑا جہاد اور تبلیغ ہے۔ لہٰذا اس کا ثواب تمام عبادات سے بڑھ کر ہے۔

بلاشبہ موجودہ دَور میں تحفظ ختم نبوت کا کام اعلیٰ ترین درجے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضے پورا کرتا ہے۔ بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس نے تحفظ ختم نبوت کے کام سے انکار کیا، گویا اس نے نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کیا۔

حضور نبی رحمت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

میں سوال ہوگا۔ ہر شخص اپنے گھر والوں کا نگران ہے۔ اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا.......“

(بخاری ومسلم)

ایک دوسری جگہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جو مسلمانوں کے امور کا خیال نہ رکھے

صفحہ 539

(یعنی مسلمانوں کے دین کی فکر نہ رکھے) وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ قیامت کے دن ایک شخص اپنے پڑوسی کے خلاف بارگاہ خداوندی میں دعویٰ کرے گا، ”اے اللہ! دنیا میں یہ میرا پڑوسی تھا مگر اس نے مجھے گناہوں میں مبتلا دیکھنے کے باوجود میری اصلاح کی کوشش نہ کی“ اتنا فرما کر آپ ﷺ نے فرمایا ”اسی جرم کی سزا میں اللہ تعالیٰ اس مُدّعا علیہ (جس پر دعویٰ کیا گیا) کے لیے دوزخ کا فیصلہ فرما دے گا“۔

اللہ نہ کرے، یہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پڑوس میں گہری نظر رکھیں کہ کوئی قادیانی یا کوئی تنظیم ہمارے مسلمان بھائیوں کو اپنے فاسد نظریات کی بنیاد پر گمراہ تو نہیں کر رہی، اگر ہمیں پتہ چلے کہ ہمارا کوئی پڑوسی غلط نظریات اختیار کر رہا ہے یا وہ قادیانی عقائد سے متاثر ہے یا وہ گستاخان رسول کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اسے قرآن وسنت سے سمجھائیں، اس کے شکوک وشبہات دور کریں اور اس کی اصلاح کریں تاکہ وہ اپنے فاسد خیالات ونظریات سے تائب ہو۔ یاد رکھیے! اس فرض سے کوتاہی آپ کو شفاعت رسول ﷺ سے محروم کر سکتی ہے کیونکہ نبی رحمت ﷺ کا فرمان ہے: ”جسے میری امت کی فکر نہیں، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں“۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار آیتوں میں نیک بندوں کے بنیادی اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: تامرون بالمعروف و تنهون عن المنکر (آل عمران:110) یعنی وہ نیک بندے دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے لوگوں کو منع کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر مسلمان کے ذمے فرض عین ہے۔

آج ہم لوگ اس کی فرضیت ہی سے غافل ہیں۔ اپنی آنکھوں سے اپنی اولاد کو مختلف فتنوں کی طرف راغب ہوتے دیکھ رہے ہیں، اپنے ملنے جلنے والوں کو گستاخان رسول قادیانیوں سے میل ملاپ کرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس برائی پر ان کو متنبہ کرنے کا کوئی جذبہ اور کوئی داعیہ ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ ایک مستقل فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔ جس طرح ہر مسلمان پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ جس طرح رمضان کے روزے ہر مسلمان پر فرض ہیں۔ زکوٰۃ اور حج فرض ہے، بالکل اسی طرح تحفظ ختم نبوت کے لیے کوشش کرنا اور منکرین ختم نبوت کے منفی ہتھکنڈوں سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور بچانا بھی فرض ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس کام کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی نے ساری عمر نیکیوں میں

صفحہ 540

گزار دی۔ ایک نماز بھی نہیں چھوڑی، روزہ ایک بھی نہیں چھوڑا، زکوٰۃ اور حج ادا کرتا رہا، اور اپنی طرف سے کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب بھی نہیں کیا، لیکن اس شخص نے تحفظ ختم نبوت کا کام انجام نہیں دیا، اور دوسروں کو قادیانی عقائد وعزائم سے بچانے کی فکر بھی نہیں کی تو یاد رکھیے! اپنی ذاتی نیکیوں کے باوجود آخرت میں اس شخص کی پکڑ ہوگی کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے فتنہ قادیانیت کی تبلیغ ہو رہی تھی، کفریہ عقائد کی تشہیر ہو رہی تھی، اور سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان لٹ رہا تھا، تم نے اس کو روکنے کا کیا اقدام کیا؟ کیا اس سوال کا جواب ہمارے پاس ہے؟

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو وحی فرمائی: میں تمھارے علاقے میں چالیس ہزار نیک اور ساٹھ ہزار برے آدمیوں کو ہلاک کرنے لگا ہوں۔ انھوں نے عرض کیا، اے رب تعالیٰ! یہ برے تو ٹھیک (قابل ہلاکت ہیں) مگر نیک لوگوں کو آپ کیوں ہلاک کرتے ہیں؟ فرمایا: وہ برے لوگوں کے ساتھ کھانا پینا رکھتے تھے۔ (مکاشفۃ القلوب واحیاء العلوم)

یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے باعث عبرت ہے جو گستاخان رسولؐ قادیانیوں کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں، انھیں اپنی شادیوں میں مدعو کرتے ہیں یا خود ان کی تقریبات میں جاتے ہیں یا ان کی مصنوعات بالخصوص شیزان وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے:

اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا: کہ جائیے فلاں بستی کو تباہ کر دیجیے، الٹ دیجیے۔ کہا اے رب! اس میں تیرا ایک فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر تیری نافرمانی نہیں کی۔ اللہ فرمائے گا، جاؤ پوری بستی کو تباہ کر دو، اُس نیک ولی کو بھی تباہ کر دو۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی نافرمانی دیکھتا تھا اور سنتا تھا مگر اس کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلتا تھا، اس لیے جاؤ اس کو بھی تباہ کر دو۔ (تسہیل المواعظ ص 111 ج 1)

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله، ينفون عنه تحريف الغالين و انتحال المبطلين و تاويل الجاهلين. (مشکوٰۃ:6294)

ترجمہ: اس علم کو بعد میں آنے والے ہر طبقہ کے صاحب تقویٰ لوگ حاصل کریں گے، وہ اس (علم) سے غلو کرنے والوں کی تحریف، جھوٹے لوگوں کی جعل سازی اور جہلا کی تاویل کی نفی کریں گے۔

صفحہ 541

محترم پیران کرام، مشائخ عظام اور سجادہ نشین حضرات کو مذکورہ احادیث مبارکہ پر خوب غور کرنا چاہیے کہ ان کے سامنے قادیان کے ایک مخبوط الحواس شخص مرزا قادیانی کو نبی کہا جا رہا ہے، اس کی باتوں کو احادیث کا درجہ دیا جاتا ہے، اس کے خاندان کو اہل بیت کا درجہ دیا جاتا ہے، اس کے ساتھیوں کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے، اس کی نام نہاد وحی کو قرآن کا درجہ دیا جاتا ہے، مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا زنی کر کے انھیں مرتد بنایا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اگر آپ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے کوئی کام نہیں کرتے، ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو نہیں روکتے۔ تو یاد رکھیے! اس غفلت اور کوتاہی پر اللہ تعالیٰ، اس کے پیارے حبیب مکرم ﷺ کی خفگی ہو سکتی ہے۔ فاعتبرویا اولی الابصار!

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو اور ظالموں کو ظلم سے روکتے رہو اور حق بات کی طرف کھینچ کر لاتے رہو ورنہ تمھارے قلوب بھی اسی طرح سیاہ کر دیے جائیں گے جس طرح ان لوگوں کے کر دیے گئے اور اسی طرح تم پر بھی لعنت ہو گی جس طرح ان پر یعنی بنی اسرائیل پر لعنت ہوئی۔ قرآن پاک کی آیات تائید میں اس لیے پڑھیں کہ ان آیات شریفہ میں ان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے اور سبب لعنت منجملہ اور اسباب کے یہ بھی ہے کہ وہ منکرات سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جو لوگ منکرات سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے، قادیانیت ایسے فتنوں کا راستہ نہیں روکتے، گستاخان رسول کی سرکوبی نہیں کرتے، ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے خود لعنت فرمائی ہے۔

آج کل یہ خوبی سمجھی جاتی ہے کہ آدمی صلح کل رہے جس جگہ جائے، ویسی ہی کہنے لگے۔ اسی کو کمال اور وسعت اخلاق سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ علی الاطلاق غلط ہے، جہاں قادیانی اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ کریں، وہاں کسی طرح بھی یہ سکوت کامل اخلاق نہیں بلکہ سکوت کرنے والا شرعاً وعرفاً خود مجرم ہے۔

حضور پرنور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ بندے سے قیامت کے روز (مختلف) سوالات کیے جائیں گے...... حتیٰ کہ ایک سوال یہ بھی کیا جائے گا کہ تُو نے فلاں کو برا کام کرتے دیکھا تو، تُو نے اسے کیوں نہ روکا؟

یقیناً ہم سے پوچھا جائے گا کہ آپ کے سامنے قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی تبلیغ و

صفحہ 542

تشہیر کرتے تھے، کفریہ لٹریچر تقسیم کرتے تھے، اجتماعات منعقد کرتے تھے، آپ نے انھیں کیوں نہ روکا، ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے آگے بند کیوں نہ باندھا؟ کیا ہمارے پاس اس سوال کا جواب ہے؟

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا:

یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان۔

(رواہ صحیح مسلم وترمذی وابن ماجہ ونسائی)

یعنی تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ وہ اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو (کم از کم) دل سے تو اسے برا ضرور جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

قارئین کرام! سوچیے، ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو قادیانیوں کی خلاف اسلام سازشوں اور مذموم سرگرمیوں کو دیکھ کر انھیں ہاتھ سے روکتے ہیں یا صرف زبان سے ان کے خلاف بولتے ہیں، یا کم از کم دل سے ان کو برا سمجھتے ہیں اور رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ تنہائی میں بیٹھ کر اس حدیث پر ضرور غور فرمائیں کہ ہمارے سینے میں ایمان نامی کوئی چیز ہے؟

صحابہ کرامؓ نے حضور اقدس ﷺ سے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ ہم لوگ ایسی حالت میں بھی تباہ و برباد ہو سکتے ہیں جبکہ ہم میں صلحا اور متقی لوگ موجود ہوں؟ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”ہاں جب خباثت غالب ہو جائے“۔

اور کون نہیں جانتا کہ فتنہ قادیانیت سب سے بڑی خباثت ہے جو اسلام دشمن طاقتوں کی سرپرستی میں دیمک کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور اس کے خلاف بند باندھنے والے لوگ بہت کم ہیں۔

حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جو لوگ منکر (برائی) کو دیکھیں اور اس کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ برائی کرنے والے اور اس کے دیکھنے والوں کو ایک ہی عذاب میں لپیٹ لے“۔

اس وقت روئے زمین پر فتنہ قادیانیت سے بڑھ کر اور کوئی برائی نہیں اور اس برائی کو دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والے بڑے مجرم ہیں۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر کسی جماعت اور قوم میں کوئی شخص کسی

صفحہ 543

گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور وہ جماعت اور قوم باوجود قدرت کے اس شخص کو اس گناہ سے نہیں روکتی تو ان پر مرنے سے پہلے دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کا عذاب مسلط ہو جاتا ہے۔

قارئین کرام! یہ ہیں مسلمانوں کی تباہی کے اسباب، ان کے گھروں میں بے سکونی اور پریشانیوں کی وجوہات، قادیانی سرعام شعائر اسلامی کی توہین کرتے ہیں اور ہم باوجود قدرت رکھنے کے انھیں نہیں روکتے، لہٰذا اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر کئی ایک عذاب مسلط کر رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے:

حضرت حذیفہ بن یمانؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم پر اپنا عذاب بھیج دیں گے، پھر تم دعا بھی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول نہ کریں گے۔ (ترمذی)

آج ہماری دعاؤں سے اثر ختم ہوگیا ہے، ہماری کوئی دعا قبول نہیں ہو رہی، اس لیے کہ ہم ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کوئی کام نہیں کر رہے بلکہ قادیانیوں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھتے ہیں اور ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر کوئی ردّعمل ظاہر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے!

آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو ہدایت (والے راستے) کی طرف بلاتا ہے۔ اس کو ان لوگوں کے ثواب کے برابر حصہ ملتا ہے جو اس کا اتباع کرتے ہیں اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوتی۔ (ریاض الصالحین)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ سے پوچھا کہ اے اللہ! آپ داعی کو کیا دیں گے؟ تو فرمایا کہ اے موسیٰ میں داعی کو اس کے ایک ایک بول (یعنی ایک ایک لفظ خواہ تقریری ہو یا تحریری) پر ایک سال کی عبادت کا ثواب دوں گا۔ (احیاء العلوم و کیمیائے سعادت و مکاشفۃ القلوب)

وہ تمام لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں، لوگوں کو اس کی رغبت دلاتے ہیں، عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ قادیانیوں کی ناپاک سازشوں کا سدباب کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں، تحفظِ ختم نبوت پر مبنی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں، تقاریر کرتے ہیں یا قادیانیوں سے مناظرہ وغیرہ کرتے

صفحہ 544

ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یقیناً اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ ان کے ایک ایک بول کا ثواب یقیناً ایک ایک سال کی عبادت کے برابر ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک گھڑی گزارنا ، 70 سال کی عبادت سے افضل ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا ایک ایک لمحہ ہزار ہا سال کی مقبول عبادت پر بھاری ہے۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کے جسم پر مکھی کے پَر کے برابر بھی گناہ باقی نہیں رہتا، جو شخص اس کام کے لیے ایک رات جاگتا ہے، اسے ایک ہزار راتوں کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کو قدم قدم پر اَن گنت ثواب ملتا ہے۔

مختلف احادیث میں آتا ہے کہ جنت کی حوروں کو اللہ تعالیٰ اتنا حسن عطا فرمائیں گے کہ ان کے چہرے کا نور سورج کی طرح چمکتا ہوگا۔ ان کے دانتوں کی چمک کی وجہ سے ساری جنت روشن ہو جایا کرے گی۔ اگر کوئی حور اپنی کلائی کو سورج کے سامنے کر دے تو اس کے نور کی وجہ سے سورج بے نور نظر آئے گا۔ اگر اس کا ایک بال آسمانِ دنیا پر آ جائے تو ساری دنیا اس کے بال کی چمک ونور کی وجہ سے روشن ہو جائے گی۔ اگر وہ اپنا دوپٹہ آسمانِ دنیا پر لہرا دے تو ساری دنیا خوشبو سے معطر ہو جائے گی۔ جنتی اس کے چہرے کی طرف دیکھے گا تو اسے اپنا چہرہ نظر آئے گا ، کیونکہ اس کا جسم شیشے کی طرح شفاف ہوگا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوبصورت حور کو اللہ نے کس شخص کے لیے بنایا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ حور اعلان کرتی ہے: بھلائیوں کے پھیلانے والے اور برائیوں کے مٹانے والے کہاں ہیں۔ اللہ نے میرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جو دنیا میں بھلائیوں کو پھیلاتا ہے اور برائیوں کو مٹاتا ہے۔

بلاشبہ آج کے دور میں اس کے مصداق وہ خوش نصیب ہیں جو تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہوئے لوگوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری نبی اور رسول ہونے کی تبلیغ کرتے اور گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھیں وہ قوم نہ بتاؤں جس کے افراد میں نہ تو کوئی نبی ہوگا نہ شہدا ہوں گے لیکن قیامت کے دن انبیا اور شہدا ان کے مرتبہ

صفحہ 545

پر رشک کریں گے۔ یہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا، یہ کون لوگ ہوں گے (یعنی کس وصف کی وجہ سے ان کو اتنا اعلیٰ مقام ملا ہوگا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ کا دوست بنائیں گے اور زمین پر امر بالمعروف کرتے ہوئے چلتے ہوں گے۔ (احیاء العلوم وحیاۃ الصحابۃؓ)

قادیانی اللہ تعالیٰ کی شان میں بدترین توہین کرتے ہوئے لوگوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے کمزور کرتے بلکہ توڑتے ہیں، اس طرح زمین پر فساد پھیلاتے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے خوش نصیب چلتے پھرتے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحیمی، کریمی اور عظمت و کبریائی بیان کرتے ہوئے ان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑتے ہیں اور لوگوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت تقسیم کرتے ہیں۔ آج کے دور میں یہی امر بالمعروف ہے۔

حضور انور ﷺ کا ارشاد ہے جو اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے واسطے 700 گنا ثواب اس کے بدلے میں لکھتے ہیں۔ (ترمذی، نسائی)

یقیناً جو شخص گستاخان رسول ﷺ اور منکرین ختم نبوت کے خلاف کام کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جتنا خرچ کرتا ہے، اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اسے سات سو گنا زیادہ ثواب عطا فرماتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے، ان کی توہین کرنے والوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرتا ہے تو کائنات کی ہر چیز ایسے شخص کی قسمت پر رشک کرتی اور سلام بھیجتی ہے۔ اس سلسلہ میں حضور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

حَتَّى الْحُوْتَ لَيُصَلُّوْنَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ . (مشکوٰۃ ص 32)

بے شک اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، آسمانوں اور زمین کے بسنے والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں سمندر میں بھلائی کا سبق دینے والے پر سلام بھیجتے ہیں۔

حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اس موضوع پر کبھی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں، کبھی تقریریں کرتے ہیں، کبھی کانفرنسیں منعقد کرواتے ہیں، کبھی قادیانیوں کی شرانگیزیوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، کبھی صاحبان اقتدار کی توجہ اس طرف دلاتے ہیں، الغرض یہ لوگ اس مقدس کام کے لیے در در پھرتے

صفحہ 546

ہیں ۔ ایسے لوگوں کے متعلق ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک جنتی اپنی جنت سے سیر کے لیے نکلے گا تو اس کے چہرے کا نور سورج کی طرح چمک رہا ہو گا تو ایک دوسرا جنتی اللہ سے پوچھے گا کہ اے اللہ یہ نور کیسا ہے؟ اس سے کہا جائے گا کہ یہ فلاں جنتی کے چہرے کا نور ہے۔ وہ کہے گا کہ اے اللہ اس کو ایسا (یہ ) نور کیسے ملا؟ اس سے کہا جائے گا تُو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھتا تھا اور یہ میرے راستے میں در در پھرتا تھا۔ ( صبح کا ستارہ مؤلفہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ )

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آجائے گا کہ اس میں صبر و استقلال سے زندگی گزارنا آگ کے انگاروں کو ہاتھ میں پکڑنے کی طرح دشوار ہوگا۔ اس لیے اس وقت جو دین کے مقتضیات پر عمل کرے گا، اس کو تمہارے پچاس آدمیوں کے عمل کے برابر ثواب ملے گا۔ (یعنی صحابہ کرامؓ کے اعمال کے برابر ) (ترمذی، ابوداؤد، بحوالہ انوار الباری اردو شرح صحیح البخاری جلد 3، صفحہ 136 از حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ )

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: یقیناً اس امت کے آخری زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو نیکی کا حکم دیں گے، برائی سے روکیں گے اور فتنوں کے خلاف جہاد کریں گے ۔ ایسے لوگوں کا اجر پہلے وقت کے لوگوں (صحابہ کرامؓ ) کے اعمال کے برابر ہوگا۔ (مشکوٰۃ شریف، ص 584)

حضرت سیدنا ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا، یا رسول اللہ ﷺ! کیا مشرکین سے جنگ کے بغیر بھی جہاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ کے ایسے مجاہدین بھی زمین پر ہیں جو ان شہدا سے افضل ہیں جو زندہ ہیں، انھیں روزی ملتی ہے، یہ زمین پر چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ آسمان پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں۔ ان کے لیے جنت سجائی جاتی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، نیکی کا حکم کرنے والے، برائی سے روکنے والے، اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنی رکھنے والے۔

پھر ارشاد فرمایا، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ بندہ بلند ترین مکان میں ہو گا جو شہدا کے مکانات سے بلند ہوگا۔ ہر مکان کے تین سو (300) دروازے ہوں گے یاقوت اور سبز زمرد کے، ہر دروازے پر روشنی ہوگی ۔ ایسا آدمی اُن حوروں سے نکاح کرے گا، جو انتہائی پاک اور خوبصورت ہوں گی ۔ جب بھی وہ کسی ایک کی طرف

صفحہ 547

دیکھے گا، تو وہ کہے گی، آپ نے فلاں دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور آپ نے اس طرح نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا، الغرض جب بھی کسی حور کی طرف دیکھے گا تو وہ نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے اس کا ایک اعلیٰ مقام بتائے گی۔ (احیاء العلوم و مکاشفۃ القلوب)

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے خوش نصیبوں کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو نیکی کا حکم دیتے، برائیوں سے روکتے، اللہ تعالیٰ کی خاطر لوگوں سے محبت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔ قادیانیوں کے ساتھ ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ محض ان کے گستاخانہ اور کفریہ عقائد کی وجہ سے ہم ان سے نفرت کرتے ہیں اور یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب مکرم ﷺ سے محبت کی وجہ سے ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی وجہ سے گستاخان رسول ﷺ سے نفرت اور عداوت رکھتا ہے، ایسے لوگوں کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت اہم ہے۔

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا ہر قدم جنت کے کتنے درجوں کو طے کرتا ہے، ایک ایک قدم پر جنت کے کتنے درجات ہوتے ہیں، یہ وہ راستہ ہے کہ اس کے گرد و غبار کو بھی جنت کی خوشبو بنایا جائے گا تو غور کیجیے اس کے اعمال کی کیا قیمت لگے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے مجاہدین پوری دنیا میں دن رات اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں۔ اب قیامت تک ہر مرحلہ زندگی میں جس شخص نے بھی ہدایت و راہنمائی حاصل کرنا ہو، اسے حضور سرور کائنات ﷺ کی اطاعت اور غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کے مطابق قرب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے اور شریعت محمدیہ ﷺ پر عمل کریں گے، دجال کو قتل کریں گے اور پھر پوری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ یہ عقائد ضروریات دین میں سے ہیں۔ ان کا انکار کفر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بعض مسلمان بھائی اپنی کم علمی اور سادگی کی وجہ سے ان ضروری اور بنیادی عقائد سے نا آشنا اور بے خبر ہیں جس کی وجہ سے وہ قادیانیوں کی دھوکا دہی اور فریب کاری سے متاثر ہو کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے حضرات دن رات مسلمانوں کو ان عقائد سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ ایسے خوش نصیبوں کے بارے میں

صفحہ 548

سرکار دو عالم ﷺ کا بڑا خوبصورت ارشاد گرامی ملاحظہ کیجیے: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:

مِنْ غَيْرِ اَنْ يَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِى الاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَّنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ. (صحیح مسلم) ترجمہ: ”جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کے لیے اپنے عمل کا بھی اجر ہوگا اور اس کے بعد جو اس پر عمل پیرا ہوں گے، ان کا اجر بھی اس کو ملے گا اور ان کے اجور میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں بُرا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کے عمل کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد جو اس بُرے طریقے سے عمل پیرا ہوں گے، ان کے گناہ بھی اس کو ملیں گے اور ان کے گناہوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی“۔

ایک دوسری حدیث پاک میں حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنی زبان سے کوئی حق بات کہے، جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا رہے تو قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ اس کا اجر جاری فرما دیتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب عطا فرمائیں گے۔ (مسند احمد)

حضرت سعدؓ کو ایک فضیلت اور خصوصیت یہ بھی حاصل تھی کہ اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر دشمن پر انہوں نے ہی چلایا، مدینہ طیبہ میں آنے کے بعد 1ھ میں حضور ﷺ نے ساٹھ آدمیوں کی ایک جماعت حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں قریش کا ایک قافلہ روکنے کے لیے مقام رابغ کی طرف روانہ کی، اس جماعت میں حضرت سعدؓ بھی شامل تھے، ان کی مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی، اس وقت حضرت سعدؓ نے مشرکین پر سب سے پہلا تیر چلا کر دشمنِ اسلام کا خون بہایا۔ حضرت سعدؓ نے خدا کے راستہ میں قتال کا سب سے پہلے آغاز کیا، اس لیے قیامت تک جہاد کرنے والوں کا اجر و ثواب حضرت سعدؓ کے اعمال نامہ میں بھی لکھا جاتا رہے گا۔

یعنی مسلمان جو بھی نیک کام کرتے ہیں، اس کا ایک ثواب تو کرنے والے کو اور دو اس کی ترغیب دینے والے کو اور چار اس کو ترغیب دینے والے کو اور آٹھ اس شخص کو جس نے اسے سب سے پہلے ترغیب دی، اسی طرح جس قدر اوپر جاؤ، سلسلہ بڑھتا جائے۔ حدیث پاک میں

صفحہ 549

ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِهِ (مشکوٰۃ کتاب العلم) یعنی جو شخص نیکی پر راہبری کرے، اس کو کرنے والے کی طرح ثواب ملتا ہے۔

حکایت ہے کہ شطرنج کا ایجاد کرنے والا شطرنج کو لے کر اپنے بادشاہ کے پاس گیا، بادشاہ نے کہا کچھ انعام مانگو، اس نے کہا میرے شطرنج کے خانوں کو چاولوں سے اس طرح بھر دیجئے کہ ہر اگلے خانہ میں پچھلے خانہ سے دوگنے ہوں، یعنی پہلے خانہ میں ایک چاول، دوسرے میں دو، تیسرے میں چار، چوتھے میں آٹھ، پانچویں میں سولہ، بادشاہ سمجھا نہیں، اس نے کہا جاؤ یہ حساب کون لگائے۔ دو بورے چاول، ہمارے باورچی خانے سے لے لو، اس نے کہا سرکار! مجھے تو اسی حساب سے دو، جب حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ ساری روئے زمین پر اس قدر چاول پیدا نہیں ہوتا جتنا کہ حساب سے اس نے مانگا ہے، وجہ یہ ہے کہ شطرنج کے 64 خانے ہوتے ہیں، اور 8 چاول کی ایک رتی، اور 8 رتی کا ایک ماشہ اور 12 ماشہ کا ایک تولہ اور 5 تولہ کی ایک چھٹانک اور 16 چھٹانک کا ایک سیر اور 40 سیر کا ایک من ہے، تو حساب لگایا کہ چھبیسویں خانہ میں ایک من بنا۔ اب جو فی خانہ دگنا کیا گیا تو آخر میں اتنا چاول ہوا کہ اگر اس چاول کی قیمت میں سونا دیا جائے تو کروڑوں من بنتا ہے۔ چاولوں کا تو حساب ہی نہیں لگتا۔

یہ تو چونسٹھ خانوں کا حساب تھا جو بادشاہ وقت ادا نہ کر سکا، مگر حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کا اجر وثواب دگنا، چار گنا، آٹھ گنا ہوتا ہوا تو اتنا ہو جاتا ہے، جہاں عدد بھی کام نہیں کرتا، مگر حساب بڑھ جائے تو کیا ہے، دینے والا بھی تو رب ہے۔ اس کے خزانے میں کیا کمی ہے، یہ بھی عزت رسول ﷺ کی ایک شق ہے، فرمایا گیا وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ تمہارے لیے غیر منقطع ثواب ہے۔

پہرا دینے کی فضیلت اور تحفظ ختم نبوت

قرآن وحدیث میں جہاد فی سبیل اللہ کے ضمن میں جہاد میں پہرا دینے کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں پہرا کے متعلق دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک تو لفظ ”رباط“ ہے جس کو قرآن واحادیث دونوں نے استعمال کیا ہے۔ دوسرا لفظ ”حراسہ“ ہے جس کو احادیث نے بکثرت استعمال کیا ہے۔ ان دونوں لفظوں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ ”رباط“ کا تعلق اسلامی سرحدات کی حفاظت سے ہے اور حراسہ کا تعلق چوکیداری وحفاظت سے ہے۔ خواہ وہ اسلامی افواج کی حفاظت کے لیے ہو یا کسی اعلیٰ مذہبی و

صفحہ 550

مقدس شخصیت کی حفاظت کا معاملہ ہو یا دینی مراکز کی حفاظت کے لیے ہو۔ جہاں اہل باطل سے حملہ آور ہونے کا خطرہ ہو، وہاں بطور حفاظت چوکیداری کا نام حراسہ ہے۔

چنانچہ مسجد نبوی میں ایک ستون ہے جس کا نام اسطوانہ حرس ہے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پر صحابہ کرامؓ حضور خاتم النبیین ﷺ کی چوکیداری اور حفاظت کے لیے رات کو پہرا دیا کرتے تھے۔ اس قسم کے پہرا کی اہمیت وفضائل کے سلسلہ میں کئی احادیث مبارکہ بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے چند ایک ملاحظہ کیجیے:

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے میں نے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ دو قسم کی آنکھیں ایسی ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ ہے جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئی ہے اور دوسری وہ آنکھ ہے جس نے اللہ کے راستے میں چوکیداری میں رات گزار دی ہو۔

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ کے راستہ میں ایک رات کی چوکیداری ایک ہزار دنوں کے روزوں سے زیادہ محبوب ہے جس میں رات بھر مسجد حرام میں تہجد کی نماز ہو اور نبی کریم ﷺ کے روضہ کے پاس مسجد میں عبادت ہو۔

حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اگر تین راتیں مسلمانوں کے مرکز کی چوکیداری میں گزاروں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے کہ مجھے مسجد نبوی یا بیت المقدس میں لیلۃ القدر مل جائے۔ اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے منبر نبوی ﷺ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں آج تمھیں ایک ایسی حدیث سنانا چاہتا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی تھی لیکن آپ لوگوں کے چلے جانے کے خوف سے اب تک بیان نہیں کی، میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ ایک رات کی چوکیداری، راہ جہاد میں ایک ہزار ایسی راتوں سے افضل ہے جس کی رات میں تہجد ہو اور دن میں روزہ ہو۔

حضرت ابوریحانہؓ سے روایت ہے، فرمایا کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ایک دن ہم ایک بلند مقام پر جا پہنچے اور ہم نے رات گزارنے کا وہیں پر ارادہ کیا۔ رات کو ہمیں شدید سردی پہنچی یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بعض مجاہدین زمین میں گڑھا کھود کر اس میں داخل ہو جاتے تھے اور ڈھال وغیرہ اپنے اوپر ڈالتے رہے۔ جب رسول اللہ ﷺ

صفحہ 551

نے سردی کی اس تکلیف کو لوگوں پر دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج رات کون ہماری چوکیداری کرے گا؟ میں اس کو ایسی دعا دوں گا جس میں اس کی فضیلت ہوگی۔ اس پر ایک انصاری نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ! میں چوکیداری کے لیے تیار ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو فرمایا کہ قریب ہو جاؤ۔ وہ قریب ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کون ہو؟ انصاری نے اپنا نام بتا کر تعارف کرایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے دعا شروع کی اور بہت زیادہ دعا کی۔

حضرت ابوریحانہؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے نبی کریم ﷺ کی دعائیں سنیں تو میں بھی قریب ہو گیا اور میں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ! میں ایک دوسرا آدمی ہوں (میں بھی چوکیداری کے لیے تیار ہوں)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی قریب ہو جاؤ تو میں بھی قریب ہو گیا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا میں ابوریحانہ ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے بھی دعائیں دیں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام ہے جو خوف خدا سے روئی نیز دوزخ کی آگ حرام ہے اس آنکھ پر جو اللہ کے راستے میں (چوکیداری کر کے) بیدار رہی۔ (طبرانی)

حضرت ابن عائذؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ ایک شخص کی نمازِ جنازہ میں تشریف لائے۔ جب جنازہ پڑھانے کے لیے رکھا گیا تو حضرت عمرؓ بن خطاب نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں کیونکہ یہ ایک فاسق و فاجر آدمی تھا۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگے کہ کسی نے اس شخص کو اسلام کے کسی عمل پر دیکھا ہے؟ اس پر ایک شخص نے جواب دیا کہ ہاں یارسول اللہ ﷺ! اس شخص نے ایک رات جہاد فی سبیل اللہ میں چوکیداری کی تھی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھادی اور خود اپنے دست مبارک سے اس کی قبر پر مٹی ڈال دی اور پھر (اس کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ تیرے ساتھی خیال کرتے ہیں کہ تو دوزخیوں میں سے ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اہل جنت میں سے ہے۔ (بیہقی)

حضرت سہل بن حنظلیہؓ حکایت کرتے ہیں کہ ہم جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لمبے سفر میں چلتے رہے یہاں تک کہ شام کا وقت ہو گیا اور نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں نماز کا وقت آ گیا کہ اتنے میں ایک شہسوار حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ! میں آپ حضرات سے پہلے نکل آیا، یہاں تک کہ فلاں پہاڑ تک پہنچ گیا۔ وہاں اچانک میں

صفحہ 552

نے دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، بکریوں اور مال مویشی سمیت میدانِ حنین میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مسکرا کر فرمانے لگے کہ ان شاء اللہ کل یہ سب کچھ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بنے گا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج رات کون ہماری چوکیداری کرے گا؟ حضرت انس بن ابی مرثد غنویؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں چوکیداری کروں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی سواری پر سوار ہو جاؤ، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ اُس وادی کی طرف چلے جاؤ، یہاں تک کہ اس کے پرلے حصہ پر جا کر ٹھہرو، خبردار! ہم پر رات میں تیری طرف سے کہیں اچانک حملہ نہ ہو جائے۔ جب رات گزر کر صبح ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے، دو رکعت نماز آپ ﷺ نے پڑھ لی اور پھر پوچھا کہ کیا تم نے اپنے شہسوار کو دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے نہیں دیکھا۔ اتنے میں جماعت کے لیے تکبیر پڑھی گئی اور حضور اکرم ﷺ نماز پڑھانے لگے۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھا کر فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: مبارک ہو، تمہارا شہسوار آ گیا۔ اس پر ہم سب نے وادی کے درختوں میں دیکھنا شروع کیا کہ اتنے میں وہ شہسوار آ کر نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں اس درہ کے اوپر اس حصہ تک گیا جہاں مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا۔ جب میں نے وہاں پر صبح کی تو میں نے دونوں پہاڑوں کے درمیان جھانک کر دیکھا۔ میں نے خوب غور سے دیکھا لیکن مجھے کوئی شخص وہاں پر نظر نہیں آیا۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا تو اس پوری رات میں اپنی سواری سے نیچے اترا ہے؟ انھوں نے کہا کہ سوائے نماز یا قضائے حاجت کے میں نہیں اترا ہوں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اپنے لیے جنت واجب کر دی، اب اگر تم کوئی عمل نہ بھی کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (ابوداؤد)

اللہ کے راستہ میں پہرا دینے کا اس قدر ثواب ہے اور جو لوگ حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کا پہرا دیتے ہیں، آپ ﷺ کی عزت و ناموس کی چوکیداری کرتے ہیں، سارقانِ ختم نبوت کی مذموم سرگرمیوں کا مقابلہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا کیا درجہ ہوگا، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

صفحہ 553

قادیانیوں کی کم از کم سزا...... مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ

قادیانی اسلامی شعائر کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اڑاتے اور مار آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو منتشر کرنے کے درپے ہیں۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے اور تمام عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ہر سطح پر مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کا نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ ان وجوہات کی بنا پر اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی اجازت ان کافروں سے ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں۔ قادیانی اپنی شرانگیزیوں کے باعث اس زمرے میں نہیں آتے۔ اسلامی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس فتنہ کا مکمل قلع قمع کرے اور اگر حکومت یہ فریضہ انجام نہ دے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کا مکمل سماجی و معاشی مقاطعہ اور بائیکاٹ کریں۔ اگر وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے ان کے بائیکاٹ ایسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کے مجرم ہوں گے۔ بائیکاٹ کے سلسلہ میں سیرت کی کتابوں سے ہمیں ایک ایسا اہم واقعہ ملتا ہے کہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے تین کبار صحابہؓ کی لغزش کی پاداش میں ان کے بائیکاٹ کا حکم دیا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے ان کی براءت کا اعلان نہیں ہو گیا۔ اگر صحابہؓ کرامؓ کا بائیکاٹ ہو سکتا ہے تو گستاخان رسولؐ کا بائیکاٹ کیوں نہیں؟

صحابہؓ کرامؓ کی لغزش پر ان کا بائیکاٹ

تین صحابی حضرت کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم بغیر کسی قوی عذر کے محض سستی کے باعث جنگ تبوک میں شریک نہ ہو سکے۔ حضرت کعب بن مالکؓ اپنی سرگزشت بڑی تفصیل کے ساتھ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ میں جنگ تبوک سے پہلے کسی لڑائی میں بھی اتنا مالدار نہیں تھا جتنا کہ تبوک کے وقت تھا۔ اس وقت میرے پاس خود ذاتی دو اونٹنیاں تھیں، اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اونٹنیاں نہ ہوئی تھیں۔ جنگ تبوک کے موقع پر چونکہ سفر دور کا تھا اور گرمی بھی شدید تھی، اس لیے حضور ﷺ نے صاف اعلان فرما دیا کہ مسلمان اس طویل اور مشکل سفر کے لیے تیار ہو جائیں، چنانچہ مسلمانوں کی اتنی بڑی جماعت حضور ﷺ کے ساتھ ہو گئی کہ رجسٹر میں ان کا نام بھی لکھنا دشوار تھا اور مجمع کی کثرت کی وجہ سے کوئی شخص اگر چھپنا چاہتا کہ میں نہ جاؤں اور پتا نہ چلے تو ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی

صفحہ 554

پھل بالکل پک رہے تھے، میں بھی سامان سفر کی تیاری کا ارادہ صبح ہی سے کرتا مگر شام ہو جاتی اور کسی قسم کی تیاری کی نوبت نہ آتی...... میں اپنے دل میں خیال کرتا کہ مجھے وسعت حاصل ہے، جب پختہ ارادہ کروں گا، تیاری فوراً ہو جائے گی۔ اسی طرح کئی دن گزرتے گئے حتیٰ کہ حضور ﷺ روانہ بھی ہو گئے اور مسلمان آپ کے ساتھ ساتھ تھے مگر میرا سامانِ سفر تیار نہ ہوا۔ پھر مجھے یہ خیال رہا کہ ایک دو روز میں تیار ہو کر لشکر سے جا ملوں گا۔ اسی طرح آج کل پر ٹالتا رہا، حتیٰ کہ حضور ﷺ کے تبوک پہنچنے کا زمانہ آ گیا۔ اس وقت میں نے کوشش بھی کی مگر سامان نہ ہو سکا۔ اب جب مدینہ منورہ میں اِدھر اُدھر دیکھتا ہوں تو صرف وہی لوگ ملتے ہیں جن کے اوپر نفاق کا بد نما داغ لگا ہوا تھا یا معذور تھے۔ ادھر حضور ﷺ نے تبوک پہنچ کر دریافت فرمایا کہ کعب نظر نہیں پڑتے ، کیا بات ہوئی؟ ایک صاحب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! اس کو مال و جمال کے فخر نے روکا۔ حضرت معاذؓ بن جبل نے فرمایا: نہیں، ہم جہاں تک سمجھتے ہیں، وہ بھلے آدمی ہیں۔ مگر حضور ﷺ نے بالکل سکوت فرمایا، اور کچھ ارشاد نہ فرمایا، حتیٰ کہ چند روز میں حضور ﷺ کی واپسی کی خبر سنی تو مجھے رنج و غم ہوا، اور فکر پیدا ہوئی۔ دل میں جھوٹے جھوٹے عذر آتے تھے کہ اس وقت کسی فرضی عذر سے جان بچالوں۔ پھر کسی وقت معافی کی درخواست کر لوں گا اور اس بارے اپنے گھرانے کے ہر سمجھدار سے مشورہ کرتا رہا مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ تشریف لے ہی آئے تو میرے دل نے فیصلہ کیا کہ بغیر سچ کے کوئی چیز نجات نہ دے گی اور میں نے سچ سچ عرض کرنے کی ٹھان لی۔ حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اوّل مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھتے اور وہاں تھوڑی دیر تشریف رکھتے کہ لوگوں سے ملاقات فرمائیں۔ چنانچہ حسب معمول حضور ﷺ تشریف لائے تو مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں موجود رہے اور منافق لوگ آ کر جھوٹے جھوٹے عذر کرتے اور قسمیں کھاتے رہے۔ حضور ﷺ ان کے ظاہر حال کو قبول فرماتے رہے کہ اتنے میں مَیں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا، حضور ﷺ نے ناراضی کے انداز میں تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہاں آؤ، میں قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تجھے کس چیز نے غزوہ میں جانے سے روکا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں کسی دنیا دار کے پاس اس وقت ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ میں اس کے غصے سے کوئی نہ کوئی بات بنا کر خلاصی پا لیتا کہ مجھے بات کرنے کا سلیقہ اللہ نے عطا فرمایا ہے۔ لیکن یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کے متعلق مجھے علم ہے

صفحہ 555

کہ آپ کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ یا رسول اللہ ﷺ! بے شک آپ کو غصہ آ رہا ہے۔ لیکن قریب ہے خدا کی ذات پاک آپ ﷺ کے عتاب کو زائل کر دے گی۔ حضور! میں سچ ہی عرض کرتا ہوں کہ واللہ! مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جیسا فارغ اور وسعت والا میں اس زمانہ میں تھا، کسی زمانہ میں بھی اس سے پہلے نہ ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا۔ پھر فرمایا کہ اچھا اٹھ جاؤ، تمہارا فیصلہ حق تعالیٰ خود فرمائے گا۔ میں وہاں سے اٹھا تو میری قوم کے بہت سے لوگوں نے مجھے ملامت کی کہ تو نے اس سے پہلے کبھی کوئی گناہ نہ کیا تھا۔ اگر تو کوئی عذر کر کے حضور سے استغفار کی درخواست کرتا تو حضور ﷺ کا استغفار تیرے لیے کافی تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کوئی اور بھی ایسا شخص ہے جس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہو۔ لوگوں نے بتایا کہ دو شخصوں کے ساتھ اور بھی یہی معاملہ ہوا کہ انھوں نے بھی یہی گفتگو کی جو تو نے کی اور یہی جواب ان کو بھی ملا ہے، جو تجھ کو ملا۔ ایک ہلال بن امیہ دوسرے مرارہ بن ربیع۔ میں نے دیکھا کہ دو صالح شخص جو دونوں بدری ہیں، وہ بھی میرے شریک حال ہیں۔ حضور ﷺ نے ہم تینوں سے بولنے کی بھی ممانعت فرما دی کہ کوئی شخص ہم سے کلام نہ کرے۔ اب اس ارشاد کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے تعمیل اس طرح کر کے دکھا دی کہ کعب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ممانعت پر لوگوں نے ہم سے بولنا چھوڑ دیا اور ہم سے اجتناب کیا۔ گویا دنیا ہی بدل گئی، حتیٰ کہ زمین باوجود اپنی وسعت کے ہمیں تنگ معلوم ہونے لگی، سارے لوگ اجنبی معلوم ہونے لگے، در و دیوار بیگانے ہو گئے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ میں اس حال میں مر گیا تو حضور ﷺ جنازہ کی نماز بھی نہ پڑھیں گے اور خدانخواستہ حضور ﷺ کا وصال شریف ہو گیا تو میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایسا ہی رہوں گا، نہ مجھ سے کوئی کلام کرے گا نہ میری نماز جنازہ پڑھے گا کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے خلاف کون کر سکتا ہے۔ غرض ہم تینوں نے پچاس دن اسی حال میں گزارے۔ میرے دونوں ساتھی شروع ہی سے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔ میں سب میں قوی تھا۔ چلتا پھرتا بازار میں جاتا، نماز میں شریک ہوتا مگر مجھ سے بات کوئی نہ کرتا۔ حضور ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور بہت غور سے خیال کرتا کہ حضور ﷺ کے لب مبارک جواب کے لیے ہلے یا نہیں؟ نماز کے بعد حضور ﷺ کے قریب ہی کھڑے ہو کر نماز پوری کرتا اور آنکھ چرا کر دیکھتا کہ حضور ﷺ مجھے دیکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ جب میں مشغول ہوتا تو حضور ﷺ مجھے دیکھتے اور جب میں ادھر متوجہ ہوتا تو حضور ﷺ منہ

صفحہ 556

پھیر لیتے اور میری جانب سے اعراض فرما لیتے۔ غرض یہی حالات گزرتے رہے اور مسلمانوں کا بات چیت بند کر دینا مجھ پر بہت ہی بھاری ہو گیا تو میں ابوقتادہ کی دیوار پر چڑھا، وہ میرے رشتہ کے چچازاد بھائی تھے اور مجھ سے تعلقات بھی بہت ہی زیادہ تھے۔ میں نے اوپر چڑھ کر سلام کیا، تو انھوں نے سلام کا جواب نہ دیا، میں نے ان کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے؟ انھوں نے اس کا جواب بھی نہ دیا۔ میں نے دوبارہ قسم دی اور دریافت کیا۔ وہ پھر بھی چپ ہی رہے۔ میں نے تیسری مرتبہ قسم دے کر پوچھا تو انھوں نے صرف اتنا کہا۔ ’’اللہ جانے اور اس کا رسول ﷺ‘‘۔ یہ کلمہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور میں وہاں سے لوٹ آیا۔ اسی دوران میں ایک مرتبہ مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ ایک نبطی کو جو نصرانی تھا اور شام سے مدینہ منورہ اپنا غلہ فروخت کرنے آیا تھا، یہ کہتے ہوئے سنا کہ کوئی کعبؓ بن مالک کا پتہ بتائے۔ لوگوں نے اس کو میری طرف اشارہ کر کے بتایا۔ وہ نصرانی میرے پاس آیا اور غسان کے کافر بادشاہ کا خط مجھے لا کر دیا۔ اس میں لکھا ہوا تھا ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمھارے آقا نے تجھ پر ظلم کر رکھا ہے، تجھے اللہ ذلت کی جگہ نہ رکھے اور ضائع نہ کرے، تم ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہاری مدد کریں گے‘‘۔ حضرت کعبؓ بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے یہ خط پڑھ کر اِنَّا لِلّٰہ پڑھا کہ میری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے ہیں اور مجھے اسلام تک سے ہٹانے کی تدبیریں ہونے لگی ہیں۔ یہ ایک مصیبت اور آئی، اور اس خط کو میں نے ایک تنور میں پھونک دیا اور حضور ﷺ سے جا کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اب تو آپ ﷺ کے اعراض کی وجہ سے کافر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے۔ اسی حالت میں ہم پر چالیس روز گزرے تھے کہ حضور ﷺ کا قاصد میرے پاس حضور ﷺ کا یہ ارشاد والا لے کر آیا کہ اپنی بیوی کو بھی چھوڑ دو۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا منشا ہے، اس کو طلاق دے دوں؟ کہا نہیں بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کر لو اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی انہی قاصد کی معرفت یہی حکم پہنچا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تو اپنے میکے میں چلی جا، جب تک اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ فرمائے، وہیں رہنا۔ ہلال بن امیہ کی بیوی، حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہلال بالکل بوڑھے شخص ہیں، کوئی خبر گیری کرنے والا نہ ہوگا تو ہلاک ہو جائیں گے، اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو میں کچھ کام کاج ان کا کر دیا کروں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، اچھا اس بات کی

صفحہ 557

تجھے اجازت ہے مگر قربت نہ ہو۔ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس بات کی طرف تو ان کو میلان بھی نہیں۔ جس روز سے یہ واقعہ پیش آیا ہے، آج تک ان کا وقت روتے ہی گزر رہا ہے۔ حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ اس حال میں دس روز اور گزرے کہ ہم سے بات چیت، میل جول چھوٹے ہوئے پورے پچاس دن ہو گئے۔ پچاسویں دن صبح کی نماز اپنے گھر کی چھت پر پڑھ کر میں نہایت غمگین بیٹھا ہوا تھا کہ زمین مجھ پر بالکل تنگ تھی اور زندگی دوبھر ہو رہی تھی کہ سلع پہاڑ کی چوٹی پر ایک زور سے چلانے والے نے آواز دی کہ ”کعب خوشخبری ہو تم کو“۔ میں اتنا ہی سن کر سجدہ میں گر گیا اور خوشی کے مارے رونے لگا اور سمجھا کہ تنگی دور ہو گئی۔ حضور ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد ہماری معافی کا اعلان فرمایا جس پر ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر زور سے آواز دی جو سب سے پہلے پہنچ گئی۔ اس کے بعد ایک صاحب گھوڑے پر سوار بھاگے ہوئے آئے۔ میں نے اپنے پہننے کے کپڑے اس بشارت دینے والے کی نذر کیے اور پھر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسی طرح میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی خوشخبری لے کر لوگ گئے۔ میں جب مسجد نبوی ﷺ میں گیا تو وہ لوگ جو خدمت اقدس ﷺ میں حاضر تھے، مبارکباد دینے کے لیے دوڑے اور سب سے پہلے ابوطلحہ نے بڑھ کر مبارکباد دی اور مصافحہ کیا جو ہمیشہ ہی یادگار رہے گا۔ میں نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں جا کر سلام کیا تو چہرۂ انور کھل رہا تھا اور خوشی کے انوار چہرۂ مبارک سے ظاہر ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ کا چہرۂ مبارک خوشی کے وقت چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میری جتنی جائداد ہے، وہ سب اللہ کے راستہ میں صدقہ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس میں تنگی ہوگی، کچھ حصہ اپنے پاس بھی رہنے دو۔ میں نے عرض کیا بہتر ہے کچھ حصہ میرے پاس بھی رہنے دیا جائے۔ مجھے سچ ہی نے نجات دی، اس لیے میں نے عہد کر لیا کہ ہمیشہ سچ ہی بولوں گا“۔ (بخاری شریف ص 675 ج 2، درمنثور، فتح الباری، روح البیان)

اُم المومنین حضرت اُم حبیبہؓ اور ان کے والد حضرت ابوسفیانؓ

کافروں سے بائیکاٹ کے سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں ہمیں کئی ایک واقعات ملتے ہیں لیکن ذیل کے ایک اہم واقعہ سے ہمیں نہ صرف اسلامی غیرت وحمیت کا سبق ملتا ہے بلکہ ان کافروں سے جو ہمارے نہایت قریبی رشتہ دار ہیں، مکمل بائیکاٹ کا طریقہ بھی۔ قرآن پاک کی رُو سے حضور نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہراتؓ درجہ میں امت کی

صفحہ 558

جملہ خواتین سے بلند تر ہیں۔ آیہ تطہیر انہی کی شان میں ہے، اسی نسبت سے انھیں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک ہی کی رُو سے وہ امت کی مائیں ہیں۔ ماؤں کی طرح نہیں فرمایا، بلکہ مائیں فرمایا:

حضرت اُم حبیبہؓ امہات المومنین میں سے تھیں۔ آپؓ کا نام رملہ تھا۔ ابوسفیان کی بیٹی تھیں۔ آپؓ کا پہلا نکاح عبید اللہ بن جحش سے ہوا۔ دونوں نے بعثت کے ابتدائی دور میں اکٹھے اسلام قبول کیا۔ پھر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہاں جا کر خاوند مرتد ہو گیا اور اسی حالت ارتداد میں انتقال کیا۔ حضرت اُم حبیبہؓ نے یہ بیوگی کا زمانہ حبشہ ہی میں گزارا۔ حضور ﷺ نے وہیں نکاح کا پیام بھیجا اور حبشہ کے بادشاہ کی معرفت نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائیں۔ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے ابوسفیان صلح حدیبیہ کی مقررہ مدت میں توسیع کی درخواست لے کر حضور نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے مگر آپ ﷺ نے یہ بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ آخر کار مایوس ہو کر سفارش کی غرض سے اپنی بیٹی ام حبیبہؓ کے پاس گئے۔ یاد رہے کہ باپ بیٹی کی ملاقات تقریباً 15 سال کے طویل عرصہ کے بعد ہو رہی تھی۔ جب بیٹی سے ملنے گئے تو وہاں بستر بچھا ہوا تھا، اس پر بیٹھنے لگے تو حضرت اُم حبیبہؓ نے نہ صرف ناگواری کا اظہار کیا بلکہ وہ بستر الٹ دیا۔ باپ کو تعجب ہوا کہ بجائے بستر بچھانے کے اس بچھے ہوئے کو بھی الٹ دیا۔ پوچھا کہ یہ بستر میرے قابل نہیں تھا، اس لیے لپیٹ دیا یا میں بستر کے قابل نہیں تھا؟ حضرت ام حبیبہؓ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے پاک اور پیارے رسول ﷺ کا بستر ہے اور تم بوجہ مشرک ہونے کے ناپاک ہو۔ اس پر کیسے بٹھا سکتی ہوں؟ باپ کو اس بات سے بہت رنج ہوا اور کہا کہ تم مجھ سے جدا ہونے کے بعد بری عادتوں میں مبتلا ہو گئیں۔ مگر اُم حبیبہؓ کے دل میں حضور ﷺ کی جو عظمت تھی، اس کے لحاظ سے وہ کب اس کو گوارا کر سکتی تھیں کہ کوئی ناپاک مشرک باپ ہو یا غیر ہو، حضور ﷺ کے بستر پر بیٹھ سکے۔

ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم بھی قادیانیوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتے ہیں یا اس کے برعکس؟ جو لوگ قادیانیوں سے بائیکاٹ کو ظلم کہتے ہیں، ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے اور ہمیں رواداری اور برداشت کا درس دیتے ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ سے زیادہ خوش اخلاق، رحم دل اور اسلام دوست ہیں۔ اگر ہم قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں تو یہ عین

صفحہ 559

اسلام کے مطابق ہے اور اگر خدانخواستہ ہم قادیانیوں کو اپنے بستروں، صوفوں یا کرسیوں پر بٹھاتے ہیں تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہمارے دل و دماغ اسلامی غیرت و حمیت سے خالی ہو چکے ہیں، ذلت اور بے غیرتی پوری طرح ہماری روح میں اتر چکی ہے۔ صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: ”جو شخص حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کی حفاظت نہیں کرتا، وہ اپنی ماں اور بہن کی عزت و آبرو کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا“۔ غور کیجیے کہ کہیں ہمارا شمار ایسے لوگوں میں تو نہیں؟

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کا دندان شکن جواب

ایک دفعہ حضور سرور کائنات ﷺ اپنے گدھے پر سوار مدینہ طیبہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے۔ وہاں عبداللہ بن ابی ابن سلول کھڑا تھا۔ سواری کی وجہ سے معمولی سا گرد و غبار اٹھا ہوگا تو عبداللہ بن ابی ابن سلول نے ناک چڑھائی اور سرکار مدینہ ﷺ کے گدھے کی توہین کرتے ہوئے کہا: ”والله لقد اذانی نتن حمارک“ ”خدا کی قسم! تمہارے گدھے کی بدبو نے مجھے تکلیف دی ہے“۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب اس نے یہ کہا کہ آپ ﷺ کے گدھے کی بدبو نے مجھے تکلیف دی ہے تو یہ توہین، نبی ﷺ کی ذات کی نہیں تھی، یہ سرکار ﷺ کی شریعت کی توہین نہیں تھی، یہ نبی ﷺ کی صفات کی بھی توہین نہیں تھی۔ یہ آپ ﷺ کی تعلیمات کی بھی توہین نہیں تھی، یہ آپ ﷺ کی سنت مبارکہ کی بھی توہین نہیں تھی، یہ صرف اس گدھے کی توہین تھی جس پر نبی کریم ﷺ سواری فرماتے تھے۔

اتفاق سے وہاں پر آپ ﷺ کے خادم، قادر الکلام شاعر اور جرنیل صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جو موتہ کے میدان میں شہید ہوئے تھے، موجود تھے۔ انہوں نے فوراً جواب دیا: ”والله لحمار رسول الله ﷺ اطیب ریحا منک“۔ (بخاری شریف جلد 1 صفحہ 370) ”خدا کی قسم! میرے پیارے رسول ﷺ کا گدھا تجھ سے خوشبو والا ہے“۔ جبکہ تفسیر جلالین میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے یہ جواب دیا: ”والله لبول حمار رسول الله ﷺ اطیب ریحا منک“ ”خدا کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے گدھے کا پیشاب بھی تجھ سے خوشبو والا ہے“ اور پھر انہوں نے عبداللہ بن ابی سلول کی مکوں، تھپڑوں اور ٹھڈوں سے تواضع کی۔

حضرت ربیعؓ بنت معوذؓ کی غیرت دینی

حضرت ربیعؓ بنت معوذؓ ایک انصاری صحابیہؓ ہیں۔ اکثر لڑائیوں میں حضور

صفحہ 560

اقدس ﷺ کے ساتھ شریک ہوئی ہیں۔ زخمیوں کی تیمارداری فرمایا کرتی تھیں اور مقتولین اور شہدا کی نعشیں اٹھا کر لایا کرتی تھیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے پہلے مسلمان ہو گئی تھیں۔ ہجرت کے بعد شادی ہوئی۔ حضور اکرم ﷺ بھی شادی کے دن ان کے گھر تشریف لے گئے تھے۔ وہاں چند لڑکیاں خوشی میں شعر پڑھ رہی تھیں۔ جن میں انصار کے اسلامی کارنامے اور ان کے بڑوں کا ذکر تھا جو بدر کی لڑائی میں شہید ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے یہ مصرع بھی پڑھا وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَّعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ (ہم میں ایسا نبی ہے جو آئندہ کی باتوں کو جانتا ہے) حضرت ربیع کے والد حضرت معوذؓ، ابو جہل کے قتل کرنے والوں میں ہیں۔ ایک قریشی عورت جس کا نام اسما بنت مخربہ تھا، عطر بیچا کرتی تھی۔ وہ ایک مرتبہ چند عورتوں کے ساتھ حضرت ربیع کے گھر بھی گئی اور ان سے نام حال خاندان وغیرہ جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے، دریافت کیا۔ انھوں نے بتا دیا۔ ان کے والد کا نام سن کر وہ کہنے لگی کہ تُو ہمارے سردار کے قاتل کی بیٹی ہے۔ یہ سن کر حضرت ربیع کو غصہ آ گیا۔ کہنے لگیں کہ میں تو غلام کے قاتل کی بیٹی ہوں۔ اسماء کو ابو جہل کے متعلق غلام کا لفظ سن کر غصہ آیا اور کہنے لگی کہ مجھ پر حرام ہے کہ تیرے ہاتھ عطر فروخت کروں۔ حضرت ربیع نے کہا کہ مجھ پر بھی حرام ہے کہ تجھ سے عطر خریدوں۔ میں نے تیرے عطر کے سوا کسی عطر میں گندگی اور بدبو نہیں دیکھی۔ ربیع کہتی ہیں کہ میں نے بدبو کا لفظ اس کے جلانے کو کہا تھا۔ یہ حمیت اور دینی غیرت تھی کہ دین کے اس سخت دشمن کے متعلق وہ سرداری کا لفظ نہ سن سکیں۔ آج کل دین کے بڑے سے بڑے دشمن کے لیے بھی، اس سے اونچے اونچے القابات بولے جاتے ہیں اور کوئی شخص اگر منع کرے تو اس کو تنگ نظر کہا جاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ ”منافق کو سردار مت کہو، اگر وہ تمہارا سردار ہو گیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا“۔

مسجد ضرار

مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسجد کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے۔ (الحج: 40) مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اسلامی عبادت ہے اور کافر اس کا اہل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں اور اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کے دور مبارک میں منافق ہمیشہ اس امر کے درپے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں

صفحہ 561

میں پھوٹ ڈال دیں۔ اس غرض سے انھوں نے اپنی علیحدہ مسجد بنانے کا ارادہ کیا۔ ابو عامر فاسق جو انصار میں سے تھا، عیسائی ہو گیا تھا، وہ غزوۂ خندق تک حضرت محمد ﷺ سے لڑتا رہا۔ جب کفار کو شکست ہوئی تو وہ شام چلا گیا تھا۔ اس نے وہاں سے ان منافقین کو کہلا بھیجا کہ تم مسجد قبا کے متصل اپنی مسجد بنا لو اور سامان حرب تیار کر لو، میں قیصر روم کے پاس جاتا ہوں اور رومیوں کی فوجیں لاتا ہوں تاکہ محمد اور اس کے اصحاب کو ملک سے نکال دیں۔ (نعوذ باللہ) چنانچہ منافقوں نے مسجد قبا کے پاس ایک مسجد بنائی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آ کر درخواست کی کہ ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لیے ایک مسجد بنائی ہے، آپ قدم رنجہ فرما کر اس میں نماز پڑھائیں اور دعائے برکت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اب غزوۂ تبوک پر جا رہا ہوں۔ واپس آ کر ان شاء اللہ تعالیٰ آؤں گا۔ چنانچہ جب آپ تبوک سے واپس ہو کر موضع ذواوان میں پہنچے جو مدینہ طیبہ سے ایک گھنٹہ کی راہ ہے، تو یہ آیتیں نازل ہوئیں:

اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے اور کمین گاہ بنانے کے لیے اس شخص کے واسطے جو پہلے سے خدا اور رسولؐ سے لڑ رہا ہے اور البتہ وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی۔ اللہ گواہ ہے کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں آپ اس مسجد میں ہرگز کھڑے نہ ہوں۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے، اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔ (توبہ: 107، 108)

چنانچہ حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے حضرت مالک بن دُخشمؓ اور معن بن عدی عجلانیؓ کو حکم دیا کہ جا کر اس مسجد ضرار کو گرا دو اور جلا دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ بقول حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، ”منکرین ختم نبوت کی تعمیر کردہ نام نہاد مسجدیں بھی ’مسجد ضرار‘ ہیں اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو حضرت محمد ﷺ نے ’مسجد ضرار‘ سے روا رکھا تھا“۔

عیسائی کاتب...... نامنظور

ایک دفعہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سرکاری حساب کتاب کے لیے ایک نصرانی کاتب مقرر کیا تو سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سختی سے جھڑکا۔ اس واقعہ کی

صفحہ 562

تفصیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ امیر المومنین سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنا تمام لین دین ایک جلد میں لکھ کر بھیجیں۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ایک نصرانی کاتب تھا جو یہ حساب کتاب لکھا کرتا تھا۔ پس جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنا حساب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو وہ حساب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پسند آیا اور انہوں نے کہا کہ یہ کاتب تو بڑی اچھی یادداشت اور مہارت رکھتا ہے، ہمارے پاس مسجد میں ایک اور کتاب بھی پڑی ہے جو شام سے آئی ہے، اس کاتب کو بلاؤ تاکہ وہ کتاب بھی ہمیں پڑھ کر سنائے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وہ جنبی ہے؟ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ وہ نصرانی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے میری ران پر مارا اور مجھے سخت ڈانٹ پلائی، پھر فرمایا: اسے نکال باہر کرو، اور یہ آیت پڑھی: ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو بے شک وہ انہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔ (المائدہ:51) یہ سن کر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے دوست تو نہیں بنایا، وہ تو صرف کتابت کا کام کرتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا مسلمانوں میں تمہیں کوئی کاتب نہیں ملا تھا......؟ جب اللہ نے انہیں دور کر دیا تو تم انہیں قریب مت سمجھو اور جب اللہ نے انہیں ذلیل کر دیا ہے تو تم انہیں عزت مت دو...... پھر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کاتب کو نکال دیا“۔ (بیہقی نے اس واقعے کو انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے)

اسی طرح عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے ایک گورنر کو لکھا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اپنا سیکرٹری کسی نصرانی کو بنا رکھا ہے جو مسلمانوں کے معاملات کی دیکھ بھال کر رہا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں......“ اس لیے جب میرا یہ خط تمہیں پہنچے تو اس کاتب کو اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو وہ ہم میں سے ہے اور اگر وہ انکار کر دے تو اس سے کام نہ لو اور کسی بھی غیر مسلم کو مسلمانوں کے کسی کام پر نہ لگاؤ“۔ چنانچہ مذکورہ غیر مسلم کاتب نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے زمانے میں جب بعض جگہ غیر مسلموں کو سرکاری عہدوں پر فائز کیا جانے لگا

صفحہ 563

اور یہ خبر عام ہوگئی، تو مشہور خطیب شعیب بن شعیبہ التمیمی تابعیؒ نے خلیفہ ابو جعفر کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا سختی سے محاسبہ کیا اور دلیل سے اس سلسلے میں خلیفہ وقت کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ انہوں نے سرکاری فرمان کے ذریعہ اعلان کروا دیا کہ ”ہر ایسے عہدے دار کو برخاست کیا جائے جو غیر مسلم ہے“۔ یہی اصول عباسی خلیفہ ہارون الرشید، مامون الرشید، مہدی و متوکل اور المقتدر نے اپنائے رکھا۔ لیکن بعد میں آنے والوں نے اس اصول کو توڑا اور ہم نے اس کا انجام ہلاکو کے ذریعے بغداد کی تباہی، مغلیہ سلطنت کے خاتمے، بنگال کے نواب سراج الدولہ، میسور کے ٹیپو سلطان کی شکست و شہادت اور اسپین، خلافت عثمانیہ، مصر اور فلسطین کے سقوط کی صورت میں دیکھا۔ بہرحال جب بھی حکمرانوں نے قرآن کریم کے صریح حکم کی نافرمانی کی انہیں لامحالہ برے دن دیکھنا پڑے، خواہ وہ حکومتیں ماضی قریب کی ہوں یا عصر حاضر کی ۔!

صحیح مسلم میں حدیث نبوی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ غزوہ بدر کے لیے نکلے تو ایک مشرک آدمی بھی ساتھ ہو لیا اور حرہ مقام پر ملاقات کرتے ہوئے اس نے آپ ﷺ سے جنگ میں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو؟“ اس نے کہا نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم واپس لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیا کرتے“۔

مذکورہ بالا واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست کے کلیدی عہدوں پر غیر مسلموں کا تقرر ہر صورت ممنوع ہے خواہ یہ لوگ کتنے ہی پڑھے لکھے، باصلاحیت اور اخلاقی قدروں کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوں۔ ایک غیر مسلم کی خدمات اسلامی ریاست کے لیے خواہ کتنی ہی ناگزیر کیوں نہ ہوں، اسے کلیدی اور حساس عہدے پر ہرگز فائز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ اس طرح مسلمانوں کے حالات اور خفیہ بھید بڑی آسانی سے حاصل کرلیں گے اور نتیجتاً ان کی ضرر رسانی کا سامان تیار کرنے کی سازشیں کرنے لگیں گے۔ قادیانی اسلام اور پاکستان دونوں کے غدار ہیں۔ وہ آئین، قانون اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے باغی اور منکر ہیں۔ انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنا کسی بھی خطرے سے خالی نہیں۔ لہٰذا اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساسات کا اولین تقاضا ہے کہ انہیں حساس اور کلیدی عہدوں سے فی الفور علیحدہ کیا جائے۔ جہاں تک ریاستی عہدوں یا ریاستی حقوق سے مستفید ہونے کی بات ہے، تو

صفحہ 564

قادیانیوں سمیت یہاں کی ہر مذہبی اقلیت کو ملکی آئین بلاشبہ ان کے حقوق دیتا ہے۔ مسئلہ صرف ایک ہے، جسے قادیانی اور ان کے سہولت کار نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ مسئلہ ہے قادیانیوں کی آئین میں متعین کی گئی حیثیت۔ پس واضح ہو، ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر ان کے حق کا انکار فی الوقت ہماری جانب سے اُن کے ’’اسلام کا منکر‘‘ ہونے کی بنیاد پر نہیں ہو رہا (اسلام کے منکر، تو ظاہر ہے ملک کے عیسائی بھی ہیں، ہندو بھی سکھ بھی، جبکہ پاکستان میں ایک ہندو چیف جسٹس رہ چکا ہے) بلکہ قادیانیوں کے ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے ’’حق‘‘ کا انکار ان کے ’’آئین کا منکر‘‘ ہونے کی بنیاد پر ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کے مسئلہ میں بار بار ہمارے سامنے ’’اقلیتوں‘‘ یا ’’شہریوں‘‘ کی بات لانا نری ایک فنکاری ہے۔ دیانتدار ہیں تو مسئلہ کو اس طرح پیش کیجیے کہ ایک ایسا شہری جو ریاست کے آئین کا منکر ہے، اسے ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا حق کیوں نہیں؟ اس کا جواب آپ کو اپنے سوال ہی سے مل جائے گا۔ لہٰذا اپنا سوال براہ کرم ضرور درست کر لیں۔ ہمارا مسئلہ بھی حل اور آپ کا بھی۔ غرض قادیانیوں کا معاملہ اتنا واضح اور آسان ہے کہ اگر وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں تو اپنے مسلمان ہونے کا انکاری ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو آئین پاکستان کے انکاری ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ فرق جو باقی اقلیتوں اور ’’قادیانی اقلیت‘‘ کے مابین ہے۔

سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت

حضرت مولانا مفتی محمد امینؒ لکھتے ہیں:

’’حدود و قصاص کا قائم کرنا حکومت کا کام ہے، رعایا کا کام نہیں لیکن اگر معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور کچھ افراد جرائم و معاصی کا ارتکاب کرنے لگ جائیں تو ان کو درست اور سیدھا کرنے کے لیے اور معاشرہ کو برائیوں سے پاک وصاف رکھنے کے لیے جرائم پیشہ افراد سے قطع تعلقی (بائیکاٹ) کرنا، ان کے ساتھ میل جول، لین دین ترک کر دینا، ان سے رشتہ ناتا نہ کرنا، ان کی تقریبات شادی غمی میں شریک نہ ہونا، ان کو اپنی تقریبات میں شامل نہ کرنا نہایت ہی پُر امن، بے ضرر اور موثر طرزِ عمل ہے۔ آج سے تقریباً نصف صدی پہلے تک ہر زمانہ کے مسلمان اسی بائیکاٹ کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ صحابہؓ کرام اور ان کے بعد والے ہر زمانہ کے ایمان والوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالفوں، دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ کرتے رہے حالانکہ ان

صفحہ 565

ایمانداروں کو دنیاوی طور پر ان مخالفین کی احتیاج بھی ہوتی تھی لیکن وہ مسلمان خدا تعالیٰ کی رضا کو اس پر ترجیح دیتے ہوئے بائیکاٹ کرتے تھے۔ (شرح مشکوۃ، جلد 10 ص 290)

یہ بائیکاٹ قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے بلکہ سید عالم ﷺ نے عملی طور پر بھی اس کو نافذ فرمایا۔ جب غزوۂ خیبر میں آپ ﷺ نے یہودیوں کا محاصرہ کیا اور یہودی قلعہ میں محصور ہو گئے اور کئی دن گزر گئے تو ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابوالقاسم! اگر آپ مہینہ بھر ان کا محاصرہ رکھیں تو ان کو پروا نہیں کیونکہ ان کے قلعہ کے نیچے پانی ہے، وہ رات کے وقت قلعہ سے اترتے ہیں اور پانی پی کر واپس چلے جاتے ہیں، اگر آپ ان کا پانی بند کر دیں تو جلد کامیابی ہوگی۔ اس پر سید دو عالم ﷺ نے ان کا پانی بند کر دیا تو وہ مجبور ہو کر قلعہ سے اتر آئے۔ (زادالمعاد علی الزرقانی، ج نمبر 4 ص 205)

قطع تعلقی (بائیکاٹ) کے متعلق قرآن پاک میں ہے:

ترجمہ: ظالموں کی طرف میلان نہ کرو ورنہ تمھیں نارِ جہنم پہنچے گی۔

نیز قرآن پاک میں ہے:

ترجمہ: یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔

مذکورہ بالا بائیکاٹ کا حکم ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو عملی طور پر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن جو دین کے ساتھ دشمنی کریں اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی شان و عظمت پر حملے کریں، ایسے بدبختوں کے لیے سخت حکم ہے۔ ان کے ساتھ بائیکاٹ نہ کرنا، میل ملاپ، محبت، دوستی کرنا سخت حرام ہے اگرچہ وہ ماں باپ ہوں یا بیٹے بیٹیاں ہوں، بہن بھائی کنبہ برادری ہو۔

قرآن پاک میں ہے:

ترجیح دیں تو ان سے محبت و دوستی نہ کرو اور جو تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا، وہ ظالموں میں سے ہوگا۔‘‘ (التوبہ: 23)

نیز قرآن پاک میں ہے:

صفحہ 566

ہوں، وہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو دشمنی اور مخالفت کریں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے، اگرچہ وہ دشمنی کرنے والے ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا کنبہ برادری ہو۔ ایسے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرما دیا ہے اور ان کی روح سے مدد فرماتا ہے وہ انھیں ایسی بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ان بہشتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ ان سے راضی وہ خدا سے راضی۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعت ہی دونوں جہان میں کامیاب ہے۔“ (المجادلہ: 22)

آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور خدا کے رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی، یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں۔

چنانچہ تفسیر روح المعانی میں ہے: ”آیت مبارکہ میں یہ تصور دلایا گیا ہے کہ کوئی قوم مومن بھی ہو اور کفار و مشرکین کے ساتھ اس کی محبت و دوستی بھی ہو، یہ محال و ممتنع ہے۔“

نیز اسی میں ہے: ”آیت مذکورہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور خدا تعالیٰ کے دشمنوں سے الگ رہنے کی پختگی بیان کی گئی ہے۔“

خدا تعالیٰ جل مجدہ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے صحابۂ کرام کے دلوں میں ایسا ایمان نقش کر دیا تھا کہ ان کی نظروں میں حبیب خدا ﷺ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی وقعت ہی نہ تھی، خواہ وہ باپ ہو کہ بیٹا، بھائی ہو کہ بہن۔ چنانچہ سیدنا امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ نے اپنے باپ ابو قحافہ کی زبان سے سید دو عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں نازیبا جملہ سنا تو اس کو ایسا مکا رسید کیا کہ وہ گر گیا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا، افعلت یا ابابکر اے ابوبکر تو نے ایسا کیا ہے؟ عرض کی ہاں یارسول اللہ ﷺ۔ قال لا تعد قال واللہ لو کان السیف قریبا منی لضربتہ یارسول اللہ ﷺ! خدا تعالیٰ کی قسم، اگر میرے قریب تلوار ہوتی تو میں اس کو مار دیتا۔ اس پر آیت

صفحہ 567

مذکورہ نازل ہوئی۔ (روح المعانی)

اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح نے غزوۂ بدر میں اپنے کافر باپ کو مسلمانوں پر حملہ کرتے دیکھا تو آگے بڑھ کر اس کو قتل کر دیا۔ اسی طرح حضرت فاروق اعظم نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو بدر کے دن اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا اور حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا۔

خدا تعالیٰ ان پاک روحوں پر لاکھوں، کروڑوں، اربوں، کھربوں رحمتیں نازل فرمائے جنھوں نے امت کو عشق مصطفیٰ ﷺ کا درس دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے سامنے سب رشتے ہیچ ہیں۔ حضور رحمت دو عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کے سامنے نہ کسی استاد کی عزت ہے نہ کسی پیر کا تقدس رہ جاتا ہے، نہ ماں باپ کا وقار، نہ بیوی بچوں کی محبت آڑے آتی ہے، نہ مال و دولت ہی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی باہمی محبت اور کافروں سے نفرت کی بنا پر خدا تعالیٰ نے ان کے جذبات کی تعریف فرمائی ہے۔ اشداء علی الکفار رحماء بینھم یعنی وہ کافروں اور دشمنوں پر بڑے ہی سخت ہیں لیکن آپس میں رحم دل ہیں، بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور شدت کی مقدار ہی سے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت و عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ تو کرے لیکن محبوب کے دشمنوں کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھے، وہ محبت میں سچا نہیں ہے، وہ محبت، محبت ہی نہیں ہے بلکہ وہ دھوکا ہے، فریب ہے۔ الحاصل خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں۔

حدیث پاک میں ہے۔

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے دشمنی کرنا، بہترین عمل ہے“۔

یقیناً تحفظ ختم نبوت ایک بہترین عمل ہے کیونکہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں قادیانی عقائد و نظریات سے نفرت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق قادیانی عقائد و نظریات نہایت بھیانک اور روح فرسا ہیں۔ (کتاب کے شروع میں قارئین کرام اسے ملاحظہ کر سکتے ہیں)

صفحہ 568

رسول اکرم ﷺ دربار الٰہی میں یوں دعا کرتے ہیں:

کر، یا اللہ ہم کو اپنے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے والا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنے والا بنا۔ یا اللہ ہم تیری محبت کی وجہ سے، تیرے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ ان کی عداوت کی وجہ سے، ہم ان سے عداوت رکھتے ہیں۔ یا اللہ یہ ہماری دعا ہے، اسے قبول فرما“۔

ان ارشادات عالیہ کو وہ صلح کل حضرات آنکھیں کھول کر دیکھیں جو بے سوچے سمجھے جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ حضور تو کافروں کو بھی گلے لگاتے تھے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ رسول اکرم ﷺ، خدا تعالیٰ کے ارشاد مبارک يا ايها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم (توبہ: 73) کے مطابق حکم الٰہی کی تعمیل کرتے تھے یا نہیں۔ ہر مسلمان کا ایمان و ایقان ہے کہ احکام خداوندی کی تعمیل سید دو عالم ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا اور نہ کسی نے کی ہے۔

بنابریں رسول اکرم ﷺ نے مسجد نبوی شریف سے منافقوں کا نام لے کر مسجد سے نکال دیا۔ سیدنا ابن عباسؓ نے فرمایا: ”رسول اکرم ﷺ جمعہ کے دن جب خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا، اے فلاں تُو منافق ہے، لہٰذا مسجد سے نکل جا۔ اے فلاں تُو بھی منافق ہے، مسجد سے نکل جا۔ حضور ﷺ نے کئی منافقوں کے نام لے کر نکالا اور ان کو سب کے سامنے رسوا کیا“۔ (تفسیر روح المعانی ج 11، ص 11)

اور سیرت ابن ہشام میں عنوان قائم کیا ہے طرد المنافقین من مسجد رسول الله ﷺ اور اس کے تحت فرمایا کہ منافق لوگ مسجد نبوی میں آتے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر ٹھٹھے کرتے، دین کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن کچھ منافق مسجد نبوی ﷺ میں اکٹھے بیٹھے تھے اور آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے دیکھ کر فرمایا: فاخرجوا من المسجد اخراجا عنيفا. یعنی ان منافقوں کو سختی سے نکال دیا جائے۔ اس ارشاد پر حضرت ابو ایوب خالدؓ بن زید اٹھ کھڑے ہوئے اور عمر بن قیس کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر پھینک دیا، پھر حضرت ابو ایوب نے رافع بن ودیعہ کو پکڑا، اس کے گلے میں چادر ڈال کر خوب بھینچا اور اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور اس کو مسجد سے نکال دیا اور ساتھ ساتھ حضرت ابو ایوب فرماتے جاتے اف لک منافقا خبيثا ارے خبیث منافق تجھ پر

صفحہ 569

افسوس ہے۔ اے منافق، رسول اکرم ﷺ کی مسجد سے نکل جا اور اُدھر حضرت عمارہ بن حزم نے زید بن عمرو کی داڑھی کو پکڑ کر زور سے کھینچا اور کھینچتے کھینچتے مسجد سے نکال دیا اور پھر اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے ایسا مُکا مارا کہ وہ گر گیا۔ اس منافق نے کہا اے عمارہ! تو نے مجھے بہت عذاب دیا ہے۔ تو صحابی عمارہؓ نے فرمایا، خدا تجھے دفع کرے جو خدا تعالیٰ نے تیرے لیے عذاب تیار کیا ہے وہ اس سے بھی سخت تر ہے۔ فلا تقربن مسجد رسول اللہ ﷺ آئندہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد مبارک کے قریب بھی نہ آنا۔

اسی طرح بنو نجار قبیلہ کے دو صحابی ابو محمد جو کہ بدری صحابی تھے اور ابو محمد مسعود نے قیس بن عمرو کو جو کہ منافقین میں سے نوجوان تھا، گدی پر مارنا شروع کیا حتیٰ کہ مسجد سے باہر نکال دیا اور حضرت عبداللہ بن حارث نے جب سنا کہ حضور ﷺ نے منافقوں کے نکال دینے کا حکم فرمایا ہے، حارث بن عمرو کو سر کے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ منافق کہتا تھا، اے ابن حارث تُو نے مجھ پر بہت سختی کی ہے تو انھوں نے جواب میں فرمایا، اے خدا کے دشمن تُو اسی لائق ہے تُو نجس ہے پلید ہے۔ آئندہ مسجد کے قریب نہ آنا۔ ادھر ایک صحابی نے اپنے بھائی زری بن حارث کو سختی سے نکال کر فرمایا افسوس کہ تجھ پر شیطان کا تسلط ہے۔ (سیرت ابن ہشام ص 528، جلد 1)

نیز خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ تم ابراہیم علیہ السلام کی پیروی میں خدا تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے دشمنوں سے ہمیشہ نفرت اور بیزاری رکھو۔ ارشادِ خداوندی ہے:

پیروی ہے جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ہم تم سے اور تمھارے بُتوں سے بیزار ہیں۔ ہم انکاری ہیں اور ہمارے تمھارے درمیان جب تک تم خدا وحدہ پر ایمان نہ لاؤ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دشمنی ٹھن گئی ہے“۔ (الممتحنہ: 4)

اور تفسیر روح المعانی میں حدیث قدسی منقول ہے:

دوستی نہیں کرتا اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرتا، وہ میری رحمت حاصل نہیں کر سکتا“۔

اور درۃ الناصحین میں علامہ خوبوی نے یہ حدیث پاک بیان کی ہے: ”رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی

صفحہ 570

بھیجی۔ فرمایا، اے موسیٰ! تُو نے میرے لیے بھی کوئی عمل کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یا اللہ! میں نے تیرے لیے نماز پڑھی۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا، نماز تو تیرے ہی لیے برہان بنے گی۔ عرض کی یا اللہ میں نے تیرے لیے روزے رکھے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ روزہ تو تیرے لیے ہی ڈھال بنے گا۔ پھر عرض کی میں نے تیرے لیے صدقہ دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا صدقہ تو تیرے ہی لیے سایہ بنے گا۔ عرض کی میرے خدا میں نے تیرے لیے ذکر کیا ہے۔ فرمایا اے موسیٰ علیہ السلام ذکر تو تیرے لیے ہی نور ہوگا۔ بتا تُو نے میرے لیے کون سا عمل کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی میرے پروردگار تُو ہی بتا دے کہ وہ کون سا عمل ہے جو تیرے لیے ہو؟ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے پیارے موسیٰ کیا تُو نے میرے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کی ہے اور کیا تُو نے میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کی ہے؟“

(درۃ الناصحین، ص 210)

اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں خدا تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت کرنا جتنا مقبول و محبوب عمل ہے، اتنا ہی خدا تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنا بھی مقبول و محبوب عمل ہے۔ نیز خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی محبت اور ان کے دشمنوں، گستاخوں سے محبت آپس میں ضدیں ہیں، یہ دونوں بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

مخدوم الاولیا سیدنا امام ربانی خواجہ مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہٗ نے فرمایا ہے:

اجتماع ضدین محال ہے۔ اگر خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی دل میں محبت ہوگی تو خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں کی محبت دل میں نہیں آسکتی اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کی جتنی محبت و دوستی دل میں آئے گی تو خدا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اتنی ہی کم ہوجائے گی۔ (مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر 165 جلد اوّل)

والسلام کے دشمنوں کے ساتھ کمال بغض و عداوت ہو۔“ (مکتوب 1/165)

ہیں، دشمنی رکھنی چاہیے اور ان کو ذلیل و خوار کرنے میں کوشش کرنی چاہیے اور کسی طرح ان کی عزت

صفحہ 571

نہیں کرنی چاہیے اور ان بدبختوں کو اپنی مجلس میں نہیں آنے دینا چاہیے۔ (مکتوب نمبر 165)

کی عزت کرتا ہے، وہ حقیقت میں مسلمانوں کو ذلیل کرتا ہے۔ (مکتوب نمبر 163، جلد 1)

ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی، عداوت رکھی جائے) اگر اس راستہ کو چھوڑ دیا جائے تو اس دربار تک رسائی مشکل ہے“۔ (مکتوب نمبر 165، جلد 1)

اور یہ بھی مسلّم کہ سید اکرم نور مجسم فخر دو عالم ﷺ تک رسائی ہی دین ہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے:

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بُولہبی است

(یعنی تُو اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مبارک قدموں تک پہنچا دے اور اگر تُو ان تک نہ پہنچ سکا تو تیرا سب کچھ ہی ابولہب ہے۔)

قادیانیوں کے ساتھ بائیکاٹ کے متعلق چند احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں کذاب، دجال اور بہت جھوٹے دھوکے باز (مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی جیسے) آئیں گے، وہ تم سے ایسی باتیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی نہ تمھارے باپ دادا نے سنی ہوں گی لہٰذا اے میری امت! تم ان کو اپنے سے بچاؤ اور اپنے آپ کو ان سے بچاؤ۔ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں۔ کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں“۔ (صحیح مسلم شریف)

سبحان اللہ! کیا شان ہے تاجدار مدینہ ﷺ کی۔ آپ نے نور نبوت سے پہلے ہی دیکھ لیا کہ دین کے ڈاکو آئیں گے۔ بھولے بھالے مسلمانوں کو اُن سنی اور بناوٹی باتیں سنا کر اپنے دجل و فریب سے ان کے ایمان لوٹیں گے۔ لہٰذا اس شفیق امت ﷺ نے پہلے ہی سے امت کو بچنے کی تدبیر بتائی کہ اے میری امت! ان کے قریب مت پھٹکنا اور نہ ان کو اپنے قریب آنے دینا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔

سیدنا محمد بن سیرینؒ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن آپؒ بیٹھے تھے کہ دو

صفحہ 572

بدمذہب آئے اور انھوں نے عرض کی کہ حضرت اجازت ہو تو ہم آپ کو ایک حدیث پاک سنائیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر انھوں نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو ہم قرآن پاک کی ایک آیت پاک بیان کریں۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں یا تو تم یہاں سے چلے جاؤ یا میں اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ اس پر وہ دونوں خائب وخاسر ہو کر چلے گئے، تو کسی نے عرض کیا حضرت، اس میں کیا حرج تھا کہ وہ دو آدمی قرآن پاک کی کوئی آیت پاک سناتے۔ اس پر حضرت سیدنا محمد بن سیرین قدس سرہ نے فرمایا کہ یہ دونوں بدمذہب (منکرینِ ختم نبوت) تھے۔ اگر یہ آیت پاک بیان کرتے وقت اپنی طرف سے اس میں کچھ لگا دیتے تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ تحریف میرے دل میں بیٹھ جاتی (اور میں بھی بدمذہب ہو جاتا)‘‘۔ (از فتاویٰ الحرمین)

سبحان اللہ! وہ امام ابن سیرین جلیل القدر محدث، قوم کے پیشوا، وقت کے علامہ، علم کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔ وہ تو بدمذہبوں سے اتنا پرہیز کریں کہ قرآن پاک کی ایک آیت ان سے سننے کے روادار نہیں اور آج کے ان پڑھ، دین سے بے خبر اتنی بے باکی اور جرأت سے کہہ دیتے ہیں کہ جی صاحب ہر کسی کی بات سننی چاہیے۔ ولا حول ولاقوة الا بالله العلی العظیم۔ یوں ہی حضرت سعید بن جبیرؓ سے کسی نے کوئی بات پوچھی تو آپ نے اس کو جواب نہ دیا۔ کسی نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے اس کو جواب کیوں نہیں دیا؟ تو آپ نے فرمایا یہ بدمذہبوں میں سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں) فرمایا کہ اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے مت جاؤ اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے مرنے پر ان کے جنازہ وغیرہ میں مت شریک ہو، اگر تم سے ملیں تو ان کو سلام نہ کرو“۔

حضرت سیدنا سہل تستریؒ فرماتے ہیں:

”جس شخص نے اپنا ایمان درست کیا اور اپنی توحید کو خالص کیا، وہ کسی بدمذہب سے انس ومحبت نہ کرے گا نہ اس کے پاس بیٹھے گا، نہ اس کے ساتھ کھائے پیے گا، نہ اس کے ساتھ آئے جائے گا بلکہ اپنی طرف سے اس کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر کرے گا“۔

(روح المعانی ص نمبر 28/35)

نیز فرمایا: ”جو شخص کسی بدمذہب (منکر ختم نبوت) کے ساتھ خوش طبعی کا رویہ اختیار

صفحہ 573

کرے، خدا تعالیٰ اس کے دل سے نور ایمان نکال لے گا۔ جس بندے کو اس بات کا اعتبار نہ آئے، وہ تجربہ کر کے دیکھ لے‘‘۔ (روح المعانی)

تفسیر روح البیان میں ہے: ”وفات کے بعد کوئی شخص خواب میں سیدنا ابن مبارکؒ کی زیارت سے مشرف ہوا اور عرض کیا حضرت! آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کیا کیا؟ تو فرمایا مجھے عتاب فرمایا اور مجھے تیس سال، ایک روایت میں تین سال کھڑا رکھا، اور اس عتاب کا سبب یہ کہ میں نے ایک دن ایک بدمذہب (منکر ختم نبوت) کی طرف شفقت سے دیکھا تھا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن مبارک تُو نے میرے ایک دین کے دشمن کے ساتھ دشمنی کیوں نہیں کی‘‘۔ (روح البیان ص 419، ج 4)

یہ واقعہ لکھنے کے بعد صاحب تفسیر روح البیان فرماتے ہیں: ”پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو دیدہ دانستہ دین کے ظالموں کے پاس بیٹھتا ہے‘‘۔ (روح البیان صفحہ 220)

عارف باللہ حضرت علامہ حقیؒ کا ارشاد مبارک ہے کہ بُرا ہمنشین انسان کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ کافروں، منافقوں اور بدمذہبوں کی صحبت سے بچے تاکہ اس کی طبیعت میں ان کا بدعقیدہ اور برا عمل سرایت نہ کر جائے۔ (روح البیان ص 4/419)

عارف باللہ علامہ حقیؒ نے فرمایا ”حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرے گا یا ان کے کسی عمل کو پسند کرے گا، وہ انھیں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اس قوم کے ساتھ حساب میں شریک ہوگا، اگرچہ ان کے ساتھ اعمال میں شریک نہیں تھا‘‘۔

(روح البیان ص نمبر 9/494)

نیز تفسیر روح البیان میں ہے ”خدا تعالیٰ کے دشمنوں پر سختی کرنا، یہ بھی حسن خلق میں داخل ہے۔ اس لیے کہ جب سب مہربانوں سے مہربان آقا کو اعدائے دین پر سختی کرنے کا حکم ہے تو دوسرے کا کیا شمار۔ لہٰذا دشمنان دین (قادیانیوں) پر سختی کرنا، یہ دوستوں پر مہربانی کے منافی نہیں ہے، جیسا کہ خدا تعالیٰ نے صحابہؓ کرام کی مدح کرتے ہوئے فرمایا ہے ”وہ دشمنوں پر بڑے سخت ہیں اور اپنوں پر بڑے مہربان‘‘۔ (روح البیان ص 10/47)

حضرت سیدنا فضیل بن عیاضؒ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جس کسی نے کسی بدمذہب (منکر ختم نبوت) سے محبت کی، خدا تعالیٰ اس کا عمل برباد کر دے گا اور اس کے دل سے نورِ

صفحہ 574

ایمان نکال دے گا‘‘۔ (غنیۃ الطالبین ص 80)

نیز فرمایا: ’’خدا تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ فلاں بندہ بدمذہبوں (منکرین ختم نبوت) سے بغض رکھتا ہے، مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا، اگرچہ اس کی نیکیاں تھوڑی ہوں‘‘۔ (غنیۃ الطالبین ص 1/80)

سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانیؒ کا ارشاد مبارک ہے: ’’بدمذہبوں (منکرین ختم نبوت) کی ( تقریبات وغیرہ میں شرکت کر کے ) ان کی رونق نہ بڑھائے اور ان کے قریب نہ آئے اور ان پر سلام نہ کرے‘‘۔ (غنیۃ الطالبین ص 80)

نیز فرمایا: ’’یعنی بدمذہبوں (منکرین ختم نبوت) کے ساتھ نہ بیٹھے اور ان کے قریب نہ جائے اور نہ انھیں عید و شادی وغیرہ کے موقع پر مبارک دے اور جب وہ مر جائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھے بلکہ ان سے الگ رہے اور ان سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے عداوت رکھے، یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ ان کا مذہب باطل ہے اور ایسا کرنے میں ثواب کثیر اور اجر عظیم کی امید رکھے‘‘۔ (غنیۃ الطالبین، ص 80)

پھر یہ کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کرنا، یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ طریقہ پہلی امتوں سے چلا آتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ ’’اصحاب سبت جن کی بستی دریا کے کنارے واقع تھی، انھوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ کر خدا اور اس کے نبی کی نافرمانی کی تو اس قوم کے تین گروہ ہو گئے۔ ایک گروہ نافرمانی کرنے والا، ایک برائی سے روکنے والا، تیسرا خاموش۔ آخر کار فرمانبردار گروہ نے نافرمانوں سے ایسا بائیکاٹ کیا کہ درمیان میں دیوار کھڑی کر دی، نہ یہ اُدھر جاتے نہ وہ ادھر آتے۔ جب نافرمانوں کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو وہ بندر بنا کر ہلاک کر دیے گئے۔

(تفسیر مظہری جلد سوم سورہ اعراف ص 476، تفسیر روح المعانی سورہ اعراف ج 9 ص 93)

پھر طرفہ یہ کہ ہر نمازی نماز وتر کی دعا میں پڑھتا ہے: ونخلع ونترک من یفجرک (یا اللہ! ہم ہر اس شخص سے قطع تعلقی کریں گے اور علیحدہ ہو جائیں گے جو تیرا نافرمان ہے)۔ عجیب معاملہ ہے کہ مسلمان مسجد میں دربار الٰہی میں مودبانہ کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ کر عہد کرتے ہیں کہ یا اللہ ! ہم تیرے نافرمانوں، مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں گے لیکن ان میں سے بعض مسجد سے باہر آ کر ساری باتیں بھول جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو عہد پورا

صفحہ 575

کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘۔ (سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت از حضرت مفتی محمد امینؒ)

قادیانیوں سے بائیکاٹ کا انعام

علما کرام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ سے بہت محبت کرتا ہے، آپ ﷺ کی شان اقدس میں نعتیں کہتا ہے، تقریریں کرتا ہے، تحریریں لکھتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ یہ کہے کہ گستاخان رسول یا منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف ہمیں سخت رویہ اختیار یا ان کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تو ایسا شخص پرلے درجے کا منافق ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان آپ ﷺ کے گستاخوں اور منکرین ختم نبوت سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ ان سے محبت رکھنے والوں سے بھی اپنی مکمل لاتعلقی کا اظہار کرے۔ یہی دین کی اصل منشا ہے۔ اس سلسلہ میں مجاہد ختم نبوت جناب محمد قاسم لکھتے ہیں:

”رب کائنات کی اس دھرتی پر حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی سے بے پایاں محبت وعقیدت کی شمع ہر مسلمان کے دل میں روشن ہے۔ عقل والے محبّ کی اس حالت کو دیکھ کر سوال کرتے ہیں کہ محبّ ، اپنے محبوب ﷺ کی خاطر دنیا کی ہر چیز کو کیوں قربان کر دیتا ہے؟ جواب سنو عقل والو! ایک مسلمان کے لیے اپنے نبی ﷺ سے محبت وعقیدت نعمت بھی ہے اور قوت بھی، دولت بھی ہے، اور حشمت بھی، شوکت بھی ہے، اور صولت بھی، عزت بھی ہے، اور حمیت بھی، عصمت بھی ہے، اور عفت بھی، ایثار بھی ہے، اور وفا بھی، غرض کہ ایمان کے لیے پہلی شرط حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ لامحدود اور غیر مشروط محبت ہے۔ آئیے! ہم بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھتے ہیں کہ ہمارا اپنے آقا ومولا ﷺ سے محبت و وفا کا کتنا تعلق باقی ہے؟

پیارے بھائیو! جس طرح ایک بلب کو روشن کرنے کے لیے ایک ٹھنڈی اور ایک گرم تار کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح حضور رحمت عالم ﷺ سے تعلق رکھنے کے لیے بھی دو تاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تو آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کی تار ہے اور دوسری آپ ﷺ کے دشمنوں سے نفرت وبغض کی تار ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق کو باقی رکھنے کے لیے جس طرح نبی پاک ﷺ سے محبت وعقیدت ضروری ہے، اسی طرح آپ ﷺ کے دشمنوں سے نفرت وعداوت بھی نہایت ضروری ہے۔

آئیے! ایک نیک بخت خاتون کا اپنے آقا و مولا ﷺ کے دشمن سے نفرت وبغض کا

صفحہ 576

ایمان افروز واقعہ اس کی بیٹی کی زبانی سنتے ہیں:

’’اگر میں کہوں کہ ہمارا بچپن کافی دردناک اور عجیب وغریب الجھنوں کا شکار تھا تو غلط نہ ہوگا۔ اس وقت ہمیں کچھ سمجھ نہ تھی اور ہم شعور کی وادیوں سے بھی کافی دور تھے۔ میرے تین بھائی تھے اور میں تینوں سے چھوٹی اپنی والدہ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ میری والدہ محترمہ نہایت نیک سیرت، سادہ اور اَن پڑھ خاتون تھیں حتیٰ کہ وہ قرآن پاک پڑھنا بھی نہ جانتی تھیں۔ لیکن میری والدہ کو حضور خاتم النبیین ﷺ سے بہت زیادہ عقیدت ومحبت تھی۔ میں اس سلسلہ میں ایک ایمان پرور واقعہ بیان کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارے ابو گھر پر نہیں رہتے تھے۔ وہ سال میں صرف ایک دو مرتبہ، دو چار گھنٹے کے لیے گھر آتے لیکن جیسے ہی وہ آتے، امی ان سے لڑنا شروع کر دیتیں اور ہمیں بھی ان سے نہ ملنے دیتیں۔ وہ بھی امی سے لڑ جھگڑ کر واپس چلے جاتے۔ مجھے امی کی اس بات پر بہت غصہ آتا۔ میں سوچا کرتی کہ والدہ صاحبہ تو بہت نیک ہیں، پورا محلہ ان کے اخلاق کی تعریف کرتا ہے۔ لیکن ابو جب بھی آتے ہیں، امی ان سے کیوں جھگڑا کرتی ہیں۔ میں اور میرا بھائی ندیم، ابو کے جانے کے بعد امی سے اس بات پر ناراض ہوتے اور پوچھتے کہ آپ ابو کے ساتھ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ لیکن امی کوئی جواب نہ دیتیں اور چپ چاپ روئے چلی جاتیں۔ اس بات پر ہمارے دونوں بڑے بھائی بھی رونے لگتے لیکن ہمیں کچھ نہ بتاتے۔ ابو گھر میں جو پھل اور سامان ہمارے لیے لاتے، امی نہ خود اس کو استعمال کرتیں اور نہ ہمیں استعمال کرنے دیتیں۔ ایک بار میں نے امی سے چھپ کر ایک سیب کھا لیا۔ بڑے بھائی نے امی کو بتا دیا تو امی نے فوراً میرے حلق میں انگلی ڈال کر سارا سیب قے کروا دیا اور مجھ سے کہا کہ اگر آئندہ تم نے ایسا کیا تو اللہ اور اس کے پیارے رسول ﷺ تم سے ناراض ہو جائیں گے۔ میں امی کی یہ بات سن کر بہت ڈر گئی اور پھر کبھی بھی ابو کی لائی ہوئی کوئی چیز استعمال نہ کی۔

بالآخر ہم بچپن کی بے شعوریوں سے نکلے تو ہم پر یہ خوفناک انکشاف ہوا کہ ہمارے ابو، جو پہلے مسلمان تھے پھر قادیانی ہو گئے تھے اور اس وقت وہ چناب نگر (ربوہ) میں رہتے ہیں اور اپنے وسیع کاروبار کی آمدن کا کثیر حصہ مرزائی جماعت پر خرچ کر رہے ہیں۔ پھر ہمیں سمجھ آئی کہ ہماری امی کا سارا جھگڑا اسی وجہ سے ہے کیونکہ قادیانی ہمارے پیارے نبی ﷺ کے دشمن اور ختم نبوت کے منکر ہیں اور ہماری والدہ کی ابو سے لڑائی شافع محشر ﷺ کی محبت کی

صفحہ 577

وجہ سے ہے۔ بچپن ہم نے بہت غربت اور کسمپرسی میں گزارا۔ لیکن آفریں ہے کہ ہماری امی نے خود محنت کر کے ہمیں پالا پوسا۔ تمام مشقتوں اور مصائب کا اکیلے مقابلہ کیا لیکن کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور اس تنگ دستی میں بھی ابو سے کبھی کوئی معمولی سی چیز بھی لے کر استعمال نہیں کی کیونکہ وہ یہ بات جانتی تھیں کہ قادیانی، سیّد المرسلین ﷺ کے بعد مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور رسول پاک ﷺ کے دشمن ہیں۔ ان سے تعلق رکھنے سے ہمارے پیارے نبی ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔

ہماری والدہ نے بچپن میں ہمیں ایک سبق بہت یاد کروایا تھا جو اب بھی ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔ ہماری والدہ ہم سب کو روزانہ سو دانوں والی تسبیح پر یہ سبق یاد کرواتی تھیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آخری نبی ہیں، آخری نبی ہیں۔ اب ہماری والدہ انتقال فرما چکی ہیں۔ وفات کے بعد ہم نے کئی مرتبہ اپنی امی کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت الفردوس میں حوروں کے جھرمٹ میں نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے سرسبز نہایت اعلیٰ اور خوبصورت باغیچے میں بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہماری اَن پڑھ ماں اپنے پیارے نبی حضور خاتم النبیین ﷺ سے محبت کرنے اور ان کے دشمن مرزائیوں سے نفرت کرنے کی وجہ سے کتنے بلند مرتبے پر پہنچ گئیں۔ سچ کہا اقبالؒ نے......

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں‘‘

اے مسلمان کچھ اپنی حالت پر بھی نگاہ ڈال! کیا تیرے دل میں اس عورت کی محبت رسول ﷺ کا دسواں حصہ بھی موجود ہے؟ کیا تو اپنے آقا ﷺ کے دشمن قادیانیوں سے اس قدر نفرت کرتا ہے جتنا یہ عورت کرتی تھی؟ سوچ! آج تیری ذرا سی غفلت تجھے بروزِ قیامت حضور ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ کھڑا نہ کر دے۔ مرزائی قرآن کو بدل رہے ہیں، آقا ﷺ کی احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں اور کفریہ عقائد پر مبنی لٹریچر چھاپ کر تقسیم کر رہے ہیں۔ اس لٹریچر میں مرزا قادیانی کو نبی، اس کی بیوی کو ام المؤمنین، اس کی لڑکی کو سیدۃ النساء، اس کے خاندان کو اہل بیت، اس کے چیلوں کو صحابہ اور اس کی بکواسات کو احادیث لکھا جا رہا ہے (نعوذ باللہ) قادیانی مصنوعات کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے قادیانی کفریہ لٹریچر شائع کیا جاتا ہے۔ ہر قادیانی اپنی آمدنی کا 10 فیصد حصہ اپنی جماعت کو چندہ دیتا ہے اور

صفحہ 578

اس چندے کو حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کا تعلق حضور خاتم النبیین ﷺ سے توڑ کر مرزا قادیانی ملعون کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ خدارا! ذرا سوچیے! کہیں ہم قادیانی مصنوعات استعمال کر کے یا قادیانیوں سے خرید وفروخت کر کے ان کی اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف، خطرناک سرگرمیوں میں معاون بن کر اپنی آخرت کو برباد تو نہیں کر رہے؟“ (”کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں“ از محمد قاسم)

انکار کا انعام

تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر جناب شیراز قریشی (اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔) کی خدمات قابل رشک ہیں۔ انٹرنیٹ پر اسلام کے بارے میں قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے شکوک وشبہات کا رد کرنے کے لیے وہ ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ایم سی ایس کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے اس نوجوان کو آئی ٹی کی دنیا میں ایک کمال حاصل تھا۔ وہ پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ انھیں یہ ملازمت کیسے ملی؟ آئیے انکی زبانی سنتے ہیں۔

ویئر اور انٹرنیٹ ویب سائٹ تیار کرنے میں مجھے خاصی مہارت حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کام کسی بھی طرح انٹرنیشنل معیار سے کم نہیں۔ یہ خداداد صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی۔ اس کے باوجود میں ملازمت کے سلسلہ میں خاصا پریشان تھا۔ اسی دوران انگلینڈ میں مقیم میرے ایک دوست ملک اویس میرے لیے کام کی تلاش کرتے رہے۔ ایک دن ان کا فون آیا اور کہا کہ لندن کے ایک ہوٹل کی ویب سائٹ تیار کرنا ہے۔ اس ہوٹل کا ڈائریکٹر آپ سے خود بات کرے گا۔ معاوضہ زیادہ اور UK کرنسی میں طلب کرنا کیونکہ وہ نہایت امیر لوگ ہیں۔ مزید کہا کہ تمہارا کام انھیں پسند آ گیا تو وہ تم سے مستقل کام کروائیں گے کیونکہ اس کے علاوہ انگلینڈ میں ان کے کئی اور پراجیکٹ بھی ہیں۔ یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دوسرے دن ہوٹل کے ڈائریکٹر کا فون آ گیا۔ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ میرا نام ناصر رشید ہے۔ میں آپ کے دوست ملک اویس کی وساطت سے آپ سے بات کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ لندن کے ایک پوش ایریا میں ہمارا ہوٹل ہے۔ یہاں عام آدمی کھانا نہیں کھا سکتا کیونکہ یہاں ایک آدمی کے کھانے کا بل کم از کم 500 پاؤنڈ (165000/-

صفحہ 579

روپے) ہے۔ اس لیے اس ہوٹل کی بہت خوبصورت ویب سائٹ بنائیں۔ ہم آپ کو بھاری معاوضہ ادا کریں گے۔ ساری تفصیلات طے کرنے کے بعد میں نے ان سے ہوٹل کا نام پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہوٹل کا نام ہے ”شیزان انٹرنیشنل“۔ یہ سنتے ہی میں پریشان ہوگیا۔ میں نے فوراً اس سے کہا کہ یہ تو قادیانیوں کا ہوٹل ہے۔ کہنے لگا تو پھر کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ آپ منکرین ختم نبوت اور گستاخان رسول ہیں۔ اس ہوٹل کے کھانے لحم الخنزیر ہیں۔ میں اس ہوٹل کی ویب سائٹ بنانے اور آپ سے رقم لینے کو حرام سمجھتا ہوں۔ اس پر اس نے طعن و تشنیع کرتے ہوئے فون بند کر دیا۔ بعدازاں میرے دوست ملک اویس کا فون آیا اور کہا کہ تم نے اتنی بڑی کمپنی کو انکار کر کے اپنا مستقبل تاریک کر لیا ہے۔ میں نے جواباً کہا: یار ملک! تمہاری اپنی آنکھیں ہیں۔ میری اپنی آنکھیں ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: ”مومن کی فراست سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“۔ میں بہت گنہگار ہوں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ اس انکار کی وجہ سے میرا مستقبل روشن ہوگا۔ میری دُنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ میں نے مزید کہا کہ قادیانیوں کے لیے کام کرنا میری دینی غیرت و حمیت کے خلاف ہے۔ گستاخان رسول سے کاروبار کرتے ہوئے میں روز محشر کس منہ سے نبی کریم ﷺ سے شفاعت کا طلب گار ہوں گا؟ رازق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس انکار کی بدولت اللہ رب العزت میری معاش کی کوئی نہ کوئی سبیل ضرور پیدا کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

چنانچہ اس انکار کے چند ہفتوں بعد قومی اخبارات میں پنجاب حکومت کی طرف سے system Analyst کی اٹھارویں گریڈ کی ایک اسامی کے لیے اشتہار شائع ہوا۔ یاد رہے کہ پورے پنجاب میں یہ صرف ایک ہی پوسٹ ہے۔ اس اسامی کے لیے 250 سے زائد امیدواروں نے Apply کیا۔ پھر سب امیدواروں کا ایک بہت مشکل ٹیسٹ ہوا جس میں صرف 6 امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں میرا نام سرفہرست تھا۔ بعدازاں ان کامیاب امیدواروں کا بڑا ٹیکنیکل اور تفصیلی انٹرویو ہوا۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے میری اوّل پوزیشن تھی۔ یوں مجھے پنجاب حکومت کی طرف سے اٹھارویں گریڈ میں ملازمت کا لیٹر وصول ہوگیا۔ اس سلسلہ میں خاص بات یہ ہے کہ اس پوسٹ کے لیے بڑے بڑے بیورو کریٹ، سیاست دان اور اعلیٰ حکومتی شخصیات اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ بے کسوں کے والی گنبدِ خضرا کے مکیں ﷺ کے سوا میری کوئی سفارش نہ تھی۔ تحفظ

صفحہ 580

ختم نبوت اور قادیانیوں سے بائیکاٹ کی بدولت میں آج اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہوں“۔

ان ﷺ کے در سے تو سب کچھ ملے گا مگر
اپنا کردار بھی دیکھنا چاہیے

جب قدرت مہربان ہوتی ہے!

حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بعض حضرات کا انتخاب قدرت خود کرتی ہے۔ معروف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ محترم خاور شہزاد کا شمار ایسے ہی خوش نصیبوں میں ہوتا ہے۔ وہ اہم سیاسی اور سماجی شخصیت جناب چوہدری جعفر حسین سابق ایم پی اے کے صاحبزادے ہیں۔ اسلام دشمن فتنوں کی سرکوبی کرنا وہ اپنے فرائض منصبی کا حصہ سمجھتے ہوئے انٹرنیٹ پر اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کا قابل رشک کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ ؎ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

جناب خاور شہزاد اپنی ملازمت کا ایمان افروز واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ دسمبر 2004ء جب میں نے اپنی تعلیم ACCA (UK) مکمل کی تو کسی مستند ادارے میں 3 سالہ ٹریننگ / اپرنٹس شپ کا مرحلہ درپیش آیا۔ میرے ایک ٹیچر نے میری رضامندی کے بغیر ہی مجھے اپنی فرم میں ٹریننگ پر بلا لیا۔ چند ہفتوں بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ فرم قادیانیوں کی ہے۔ میں نے تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر میں کہیں پڑھا ہوا تھا کہ ”اے مسلمان! جب تو کسی قادیانی سے ملتا ہے تو گنبد خضرا میں حضور نبی کریم ﷺ کا دل دکھتا ہے“۔ چنانچہ میں نے فوری طور پر ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ میرے ایک دوسرے مسلمان استاد کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے مبارک باد دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے مجھے پاکستان کی سب سے بڑی فرم میں ٹریننگ کا لیٹر مل گیا اور میں نے یہیں سے اپنی 3 سالہ ٹریننگ مکمل کی۔ میرے وہی ٹیچر جنہوں نے ابتدا میں میرے لیے قادیانی فرم میں ٹریننگ کا لیٹر بنوایا تھا، نے اسی پہلی فرم میں مجھے نہایت پرکشش تنخواہ اور مراعات کے ساتھ منیجر کے عہدہ کے لیے پیش کش کی۔ میں نے نہ صرف اس پیشکش کو فوری طور پر رد کر دیا بلکہ کہا کہ میں قادیانی فرم میں ملازمت کرنا اپنی دینی غیرت و حمیت کے منافی سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اس انکار کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل و کرم کرتے ہوئے مجھے ایسی اہم سرکاری ملازمت سے نوازا جس کی تنخواہ اور مراعات قادیانی فرم کی پیشکش

صفحہ 581

سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اللہ اکبر! میں اس کرم پر اللہ رب العزت کا بے حد شکر گزار ہوں۔

جناب خاور شہزاد نے اپنا ایمان پرور خواب بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ روز محشر ہے اور ایک نہایت مبارک، مقدس اور نورانی شخصیت آب کوثر تقسیم کر رہی ہے میرے دل نے گواہی دی کہ آپ شافع محشر حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش! میں بھی آب کوثر پیتا۔ اتنے میں خود بخود وہاں آگے پہنچ جاتا ہوں۔ کسی نے مجھے آب کوثر کا جام عطا کیا جو میں نے نوش کیا۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ خواب میں اسے پینے کے باوجود اس کی حلاوت آج بھی میں اسی طرح محسوس کرتا ہوں۔ دنیا کا کوئی مشروب اس کے ذائقہ کا ہم پلہ نہیں۔ سچ ہے کہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اس کی پشت پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔ مزید کہتے ہیں کہ ایک رات خواب دیکھا کہ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ میرے دائیں طرف سے ایک سانپ آیا جو مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا کہ اسی اثناء میں ایک نہایت روشن چہرہ، وجیہہ اور دراز قد پُرنور شخصیت نمودار ہوتی ہے جو اپنے پاؤں تلے اس سانپ کا سر روند دیتی ہے۔ میرے ایمان نے گواہی دی کہ یہ حضور سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اس پر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ ایک بزرگ نے بتایا کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی بہت بڑی آفت آنے والی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے تحفظ ختم نبوت کی برکت سے ٹال دی۔ الحمد اللہ!

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مبارک ہے: ”جو شخص اپنی ضرورت کسی صاحب ایمان سے بیان کرے تو گویا وہ اللہ کے سامنے بیان کر رہا ہے اور اگر وہ کسی کافر کے در پر دستک دے تو سمجھ لے وہ اللہ کی شکایت اس کے پاس لے گیا ہے۔“

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی اہمیت اور فضیلت

ایمانیات میں عقیدۂ ختم نبوت سب سے افضل ہے۔ یہی وہ ستون ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ یہ اسلام کی چوٹی اور کوہان ہے۔ اس عقیدہ سے ذرا سی بھی روگردانی اپنے آپ کو ہلاکت اور تباہی میں ڈالنا ہے۔ اسلام میں عقیدۂ ختم نبوت کو وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں سر کو حاصل ہے۔ اگر سر کو جسم سے جدا کر دیا جائے تو سارا جسم بے حس و بے حرکت اور بے جان ہو جاتا ہے۔

بقول شخصے ”ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے، ختم نبوت دین کی روح و جان ہے،

صفحہ 582

ختم نبوت دین کی ناموس ہے...... جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے! وہ کلمہ طیبہ کی حفاظت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی حفاظت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید کی حفاظت کرتا ہے، وہ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کرتا ہے، وہ انبیائے سابقین (علیہم السلام) کی صداقت کی حفاظت کرتا ہے، وہ فرشتۂ وحی حضرت جبرئیل علیہ السلام کے امین ہونے کی حفاظت کرتا ہے، وہ احادیث رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتا ہے، وہ مکہ مکرمہ کی حرمت کی حفاظت کرتا ہے، وہ مدینہ منورہ کی عصمت کی حفاظت کرتا ہے، وہ حج بیت اللہ کی عظمت کی حفاظت کرتا ہے، وہ روضہ رسول ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرتا ہے، وہ صحابہ کرامؓ کی عزتوں کی حفاظت کرتا ہے، وہ اہل بیتؓ کے تقدس کی حفاظت کرتا ہے، وہ ملت اسلامیہ کے ایمان کا چوکیدار ہے، وہ وحدت امت کا نقیب ہے، وہ اسلامی فکر جہاد کا علمبردار ہے، وہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا محافظ ہے، وہ وطن عزیز کے خلاف سازشیں کرنے والے غداروں کے لیے مجاہد کبیر ہے، وہ یہود و نصاریٰ کی خطرناک چالوں کو ناکام بنانے والا بیدار مغز سپاہی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام نہیں کرتا...... افسوس! وہ ان تمام اسلامی عظمتوں سے پہلو تہی کرتا ہے...... منہ موڑتا ہے...... بے رغبتی کا مظاہرہ کرتا ہے......!!!...... کیونکہ یہی عہد حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے: یہی سب سے بڑی عبادت ہے، یہی وقت کی آواز ہے، یہی اسلام کی صدا ہے، یہی عشق رسول اللہ ﷺ کی دلیل ہے، اور یہی شفاعت رسول ﷺ کا ذریعہ ہے“۔

آج کل قادیانی پوری قوت کے ساتھ ختم نبوت پر حملہ آور ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بے شمار گستاخیوں پر مشتمل لٹریچر باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، اور پوری آزادی کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ قادیانی اپنی مذموم کارروائیوں کے ساتھ ملت اسلامیہ کو ختم اور شمع اسلام کو بجھانا چاہتے ہیں...... جبکہ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں...... خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں...... سوچیے! شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ہم کب بیدار ہوں گے؟ اسلام کی غیرت اور لاج کے لیے کب متحرک ہوں گے؟ عقیدۂ ختم نبوت پر پے در پے حملوں سے بچاؤ کے لیے کب میدان کارزار میں اتریں گے؟ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام کی بے حرمتی اور ان کی عزتوں کو پامال کرنے والے بدبختوں کے خلاف کب ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے؟

صفحہ 583

یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہو رہی ہو، وہاں ختم نبوت کی حفاظت کرنا آپ کا فرض عین ہے، اس سے ذرا سا بھی اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے کہ یہ مسئلہ شرعی نہیں ہے لیکن میرا دل کہتا ہے کہ کہوں کہ جو شخص ختم نبوت کا کام کرے اور پھر اسے چھوڑ دے، ایسا شخص مرتد ہو گیا ہے۔

ایسے بھی ہوتے ہیں خوش نصیب !

انٹرنیٹ کی حیرت انگیز ایجاد نے دنیا کو گاؤں بنا دیا ہے۔ آپ کسی بھی موضوع سے متعلق اپنے گھر بیٹھے دنیا بھر کی معلومات پلک جھپکتے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں مختلف مذاہب عالم کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر بھی کرتے ہیں۔ ان میں قادیانی سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ اپنے مذہب کو اسلام اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس طرح وہ حق کے متلاشی غیر مسلموں کو اور بعض اوقات مسلمانوں کو شکوک و شبہات اور باطل تاویلات کے ذریعے گمراہ کر کے پھانس لیتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر قدرت حق بعض افراد کا انتخاب خود کرتی ہے۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں جناب پروفیسر سمیر ملک ہیں جو اپنی مخلص ٹیم کے ساتھ انٹرنیٹ پر قادیانیوں سے مناظرے کرتے ہیں۔ اس ٹیم میں جناب عامر خورشید، جناب عبداللہ، جناب عمر شاہ اور جناب سید محمد اسامہ گیلانی نمایاں طور پر پیش پیش ہیں۔ رد قادیانیت کے ماہر یہ نوجوان حضرات نہ صرف قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے زہریلے اور باطل شکوک و شبہات کا مکمل دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہیں بلکہ برجستہ متنازعہ قادیانی عبارات پیش کر کے انھیں میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس ٹیم کے ایک دبلے پتلے لیکن ایمانی طور پر نہایت مضبوط اور متحرک نوجوان جناب سیّد محمد اسامہ گیلانی کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ وہ تحریک ختم نبوت کے نامور اور بے باک مجاہد بزرگ جناب سیّد محمد امین گیلانیؒ کے پوتے اور منفرد طرز کے معروف شاعر اسلام جناب سید سلمان گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ اسامہ گیلانی دن بھر اپنے دفتر میں کام کرتے اور رات کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ انٹرنیٹ پر تحفظ ختم نبوت کے محاذ کو سنبھالتے ہیں۔ ایک رات وہ قادیانیوں کے شکوک و شبہات کا جواب دے رہے تھے کہ اچانک ایک قادیانی نوجوان نے اسامہ گیلانی کو سوال کیا ’’آپ کہتے ہیں کہ

صفحہ 584

جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد، اللہ تعالیٰ کے گستاخ تھے۔ یہ بات آپ کے مولویوں کا پروپیگنڈا ہے۔ مرزا صاحب، اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ اس کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟‘‘ یاد رہے کہ جب اس قادیانی نوجوان نے جناب اسامہ کو یہ سوال کیا تو اس وقت انٹرنیٹ پر 100 سے زیادہ قادیانی اس بحث کو براہ راست ملاحظہ کر رہے تھے۔ بہرحال اسامہ گیلانی نے بڑی توجہ سے اس سوال کو پڑھا اور اس قادیانی نوجوان سے کہا کہ میں آپ کے سامنے مرزا صاحب کی کتاب کشتی نوح کا صفحہ نمبر 47 (مندرجہ روحانی خزائن ج 11 ص 50) کا عکس پیش کرتا ہوں۔ آپ اور باقی قادیانی حضرات سے میری گزارش ہے کہ اسے بغیر تعصب کے غیر جانبدار ہو کر غور سے پڑھیں اور دیکھیں مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی شان میں کس قدر بھیانک گستاخی کا ارتکاب کیا۔ یہ اقتباس مندرجہ ذیل تھا۔

جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا‘‘۔

(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)

پھر اسی سے متعلقہ مرزا قادیانی کے ایک مرید کی کتاب سے دوسرا حوالہ پیش کیا:

کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے‘‘۔

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)

اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ، خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ

صفحہ 585

پھکڑ اور زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اسے دنیا میں لیٹرین میں عبرتناک موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار.

قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب سے پیش کردہ عکس دیکھا، پڑھا تو وہ حیرت اور پریشانی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ اس نے نہایت پریشانی اور منت سماجت کے لہجہ میں اسامہ سے کہا: بھائی! خدارا اپنا فون نمبر دے دو۔ میں اس حوالہ کی تحقیق کے بعد آپ سے رابطہ کروں گا۔ اسامہ نے اسے اپنا موبائل نمبر دے دیا۔ تیر ٹھیک نشانے پر لگ چکا تھا۔ رات کے 2 بج رہے تھے، قادیانی نوجوان سونے کے لیے اپنے کمرے میں آ گیا مگر نیند کوسوں دور تھی۔ پریشانی کے عالم میں تمام رات بستر پر کروٹیں لیتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے اپنے جاننے والے قریبی قادیانی مبلغین سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ”مجھے اپنے مذہب پر شک ہے۔ میرے کچھ سوالات ہیں، مجھے ان کا جواب چاہیے۔ میں اپنی آخرت برباد نہیں کر سکتا“۔ قادیانی مبلغین فوری طور پر اُس کے گھر پہنچے اور کہا: بتاؤ تمہارا کون سا سوال ہے؟ اس پر قادیانی نوجوان نے مرزا قادیانی کی کتاب کشتی نوح کا مذکورہ حوالہ پیش کیا اور کہا، کیا کوئی صحیح العقل آدمی ایسی باتیں کر سکتا ہے؟ قادیانی مبلغین نے حوالہ دیکھا تو سکتے میں آ گئے اور اس کی مختلف تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ نوجوان نے کہا کہ وہ کوئی تاویل سننے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اب وہ اپنے مذہب کا غیر جانبدار ہو کر مزید مطالعہ کرے گا۔ اس پر قادیانی مبلغین بڑبڑاتے ہوئے غصے کے عالم میں چلے گئے۔ چند دنوں بعد نوجوان نے اسامہ گیلانی کو فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسامہ نے بخوشی اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس کی خوب آؤ بھگت کی، اس کے سوالات کے جواب دیے، شبہات دور کیے اور چند کتابیں ”ثبوت حاضر ہیں“، ”احمدی دوستو! تمھیں اسلام بلاتا ہے“، ”چھوٹا منہ بڑی بات“، ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ اور ”قادیانی شبہات“ کے جوابات وغیرہ پیش کیں اور درخواست کہ وہ ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرے۔ نوجوان نے وعدہ کرتے ہوئے اجازت چاہی۔ چنانچہ اُس نے مذکورہ کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور جہاں شک ہوا، وہاں متنازعہ حوالہ جات کا مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اصل قادیانی کتب سے موازنہ کیا۔ ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر

صفحہ 586

سمیر ملک اور اُسامہ گیلانی کے قادیانیوں سے مناظروں کو بھی بغور ملاحظہ کرتا رہا اور یہاں سے اہم حوالہ جات نوٹ کرتا رہا۔ تقریباً ایک ہفتہ بعد اس کا فون آ گیا۔ اس نے بھرائی ہوئی رقت آمیز آواز میں کہا: ہیلو، اسامہ! مبارک ہو! میں نے حق کو پا لیا۔ میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ اسامہ نے نہایت خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا: ’مرحبا مرحبا، مصطفی احمد صدیقی! مرحبا، اب تم میرے بھائی ہو۔ میں تمھیں لینے کے لیے خود تمھارے گھر آ رہا ہوں۔ اسامہ بجلی کی تیزی سے مصطفی احمد صدیقی کے گھر پہنچا۔ اسے گلے لگایا، ہاتھ چومے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک ٹیم کے ساتھ اسے حضرت نفیس شاہ الحسینیؒ کے ہاں لے گیا۔ جہاں حضرت کو تمام داستان سنائی۔ علالت کے باوجود حضرت نے نہایت خندہ پیشانی سے کھڑے ہو کر اس نوجوان کو گلے لگایا۔ اسے اسلام قبول کروایا اور ایمان کی اہمیت وفضیلت کے بارے میں تفصیلاً بتایا۔ اس موقع پر حضرت نے مصطفی احمد صدیقی کے اعزاز میں ایک پر تکلف چائے کا اہتمام کیا اور آخر میں ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ اسے اپنی خانقاہ سے رخصت کیا۔

ایک دفعہ مصطفی احمد صدیقی نے اپنے قریبی دوستوں کی محفل میں اپنا ایک ایمان افروز خواب بیان کرتے ہوئے کہا ”میرے والد محترم رفیق احمد صدیقی قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکے تھے۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ ایک رات وہ میرے خواب میں تشریف لائے۔ نہایت سفید رنگ کا بہترین کرتہ شلوار پہنے، ہاتھ میں تسبیح لیے، درود شریف پڑھتے ہوئے مسجد کی طرف جاتے ہوئے مجھے گلے لگایا اور آسمان سے آتی ہوئی نور بھری روشنی کی طرف اشارہ کر کے مجھے اُسے حاصل کرنے کی تلقین کی۔ گویا میرے والد محترم مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دے رہے تھے“۔

اسلام قبول کرنے کے بعد مصطفی احمد صدیقی کی کایا پلٹ چکی تھی۔ پہلے وہ قادیانیت کا دفاع کرتا تھا، اب وہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں رات بھر انٹرنیٹ پر بیٹھا رہتا اور قادیانیوں کو مناظرے اور مباحثے کی دعوت دیتا۔ انہیں قادیانی کتب سے متنازعہ عبارات پڑھنے کی ترغیب دیتا، آنجہانی مرزا قادیانی کے غلیظ کردار اور اس کے جھوٹے ہونے پر انھیں ناقابل تردید حوالے اور شواہد پیش کرتا، اس حوالے سے انہیں چیلنج کرتا اور پھر انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا۔ اس پر قادیانی اپنے جھوٹے نبی کی عادت پر عمل کرتے ہوئے اسے گندی گالیاں دیتے، نقلی مسلمان کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے اور اسے عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیتے۔ لیکن وہ یہ سب کچھ

صفحہ 587

بڑے تحمل اور صبر سے سنتا اور انھیں کہتا خدا کی قسم! میں تمہارا سچے دل سے خیر خواہ ہوں۔ میں تمھیں جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروانا چاہتا ہوں۔ مصطفیٰ احمد صدیقی مسلسل 2 سال تک انٹرنیٹ پر یہ جانگسل فرائض سرانجام دیتا رہا۔ اس دوران وہ اکثر قادیانیوں سے پوچھتا کہ تمہاری محفلوں میں ہر وقت مرزا قادیانی کا ذکر ہوتا ہے، لیکن حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا ذکر مبارک نہیں ہوتا، آخر کیوں؟ قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتا اور وہ خاموش ہو جاتے۔ مصطفیٰ احمد صدیقی اپنے گھر والوں کو دعوت اسلام دیتا مگر گھر والے اس سے انتہائی متعصبانہ اور سوتیلے پن کا برتاؤ کرتے، اُسے اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے لیکن وہ پہاڑ ایسی استقامت لیے مضبوطی سے اس پر قائم رہا۔ قادیانی مبلغین نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اس نے ہمیشہ انہیں شکست فاش دی۔ وہ اکیلا اُن سے مناظرے کرتا اور انہیں لاجواب کر دیتا۔ ایک دفعہ اُس کے ماموں طاہر، کزن نعمان (انتہائی متعصب اور جنونی قادیانی) اور مبلغین نے مصطفیٰ احمد صدیقی سے کہا کہ بتاؤ تمہیں قادیانی مذہب کی کس چیز پر اعتراض ہے؟ اس پر مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُنہیں کہا کہ مرزا قادیانی جسے آپ نبی، رسول، مسیح موعود اور مہدی وغیرہ کہتے ہیں، اس کا کردار اس قابل نہیں کہ اُسے ایک شریف انسان بھی کہا جاسکے۔ اُس کی تمام پیش گوئیاں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ پھر اس نے مرزا قادیانی کی وحیوں پر مشتمل کتاب ”تذکرہ“ سے ایک نشان زدہ صفحہ نکال کر دکھانے کی کوشش کی تو اُس کے کزن نعمان نے اُس سے زبردستی کتاب چھین لی اور اُسے برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ بعض نبیوں کی پیش گوئیاں بھی پوری نہیں ہوئی تھیں (نعوذ باللہ) اس پر مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُنہیں چیلنج کیا کہ اگر آپ قرآن وسنت سے اس کی کوئی ایک بھی مثال پیش کر دیں تو میں آپ کو منہ مانگا انعام دوں گا۔ اس پر سب کو سانپ سونگھ گیا اور وہ غصے کے عالم میں واپس چلے گئے۔

علامہ اقبال ٹاؤن میں قادیانی مبلغین کے ساتھ ایک اور مناظرے کے دوران میں جب مصطفیٰ احمد صدیقی نے مرزا قادیانی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے انہیں لاجواب کیا تو اس کے کزن نعمان نے بے اختیار اسے گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ اس کے ماموں طاہر نے کہا کہ تم مرتد ہو گئے ہو، قادیانی مبلغین نے کہا کہ مولویوں نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے۔ نوجوان نے یہ سب کچھ بڑے تحمل سے سنا، برداشت کیا اور پھر اعتماد سے کہا آپ مجھے مطمئن کرنے آئے ہیں یا ذلیل۔ کیا یہی خوش اخلاقی ہے جس کا آپ ہر وقت پوری دنیا

صفحہ 588

میں ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ آپ کا تو نعرہ ہے "Love for all hatred for none" یعنی ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“۔ لیکن آپ سب کچھ اس کے برعکس کر رہے ہیں۔ بہر حال آپ مجھے اس سے بھی زیادہ طعن و تشنیع کر لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ میرے عقیدے کا معاملہ ہے۔ آپ مجھے مطمئن کریں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔ لیکن وہ سب نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔

کچھ عرصہ پہلے مصطفیٰ احمد صدیقی نے اُسامہ گیلانی کو فون پر بتایا کہ میرے ماموں طاہر نے مستقل طور پر ایک خطرناک قادیانی مربی میرے پیچھے لگا دیا ہے۔ وہ اکثر مجھے قادیانی عبادت گاہ میں بلاتا ہے لیکن میں اکیلے نہیں جانا چاہتا۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ اُسامہ گیلانی نے جناب سمیر ملک سے رابطہ کیا تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ کسی قریبی عزیز کی شادی کے سلسلہ میں شہر سے باہر جا رہے تھے، لیکن انہوں نے گاڑی واپس اپنے گھر کی طرف موڑ لی اور تھوڑی دیر کے بعد مناظرے کے لیے بتائے ہوئے ایڈریس پر قادیانی عبادت گاہ واقع گلشن راوی پہنچ گئے۔ جناب سمیر ملک نے قادیانی مبلغ کو مناظرے کے میدان میں چاروں شانے چت کر دیا۔ مربی نے فوراً مصطفیٰ احمد صدیقی کے ماموں طاہر احمد کو فون کیا اور کہا کہ یہ لڑکا ہمارے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکا ہے اور جماعت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اُسے باقاعدہ دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔

13 فروری 2009ء کی شام مصطفیٰ احمد صدیقی اپنے دفتر سے گھر جا رہا تھا کہ سڑک پر بارش کی پھسلن سے اس کا موٹر سائیکل ایک ریہڑے سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوراً جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ اپنے خاندان میں واحد مسلمان اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کا والد کئی سال پیشتر فوت ہو چکا تھا۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے ماں اپنے بیٹے کی میت اپنے بھائی (مصطفیٰ صدیقی کا ماموں طیب قادیانی) کے گھر مرغزار کالونی لے آئی۔ جہاں تمام قادیانی رشتہ دار اکٹھے ہو گئے۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کی بڑی ہمشیرہ کینیڈا رہتی ہیں۔ اس نے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کا آخری دیدار کرنا چاہتی ہے، لہٰذا اس کی تدفین ایک دن کے لیے ملتوی کر دی جائے۔ چنانچہ مصطفیٰ احمد صدیقی کی میت عادل ہسپتال مین بلیوارڈ ڈیفنس کے سرد خانے میں رکھ دی گئی۔ ہفتہ کی رات کارکنانِ ختم

صفحہ 589

نبوت کو اس حادثہ فاجعہ کا علم ہوا تو جناب عامر خورشید صاحب نے فوراً دوستوں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں ختم نبوت لائیرز فورم (مرکز سراجیہ ) کے عہدیداروں کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی۔ اجلاس میں سب سے پہلے اس بات پر غور و خوض کیا گیا کہ کہیں یہ قتل کی واردات تو نہیں؟ اس کی فوری تفتیش کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے جائے وقوعہ سے ٹھوس شہادتیں حاصل کرنے کے بعد ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جن کے پاس مصطفیٰ احمد صدیقی صاحب کو جناح ہسپتال لے جانے کا ریکارڈ تھا۔ پھر جناح ہسپتال کی ایمرجنسی سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصطفیٰ احمد صدیقی کے سینے اور چہرے پر زخموں کے نشان تھے اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ تھا۔

اس کے بعد قادیانیوں سے مسلمان میت کے حصول کا معاملہ پیش آیا۔ چنانچہ بزرگوں سے مشورہ کرنے کے بعد کارکنان ختم نبوت کی ایک ٹیم اہل محلہ کے ساتھ قادیانیوں کے گھر گئی اور انھیں بتایا کہ چونکہ مصطفیٰ احمد صدیقی قادیانی مذہب سے تائب ہو کر مسلمان ہو چکا تھا، اس لیے اس کی تجہیز و تکفین کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ اس کی میت ہمارے حوالہ کر دیں، ہم اسے اسلامی طریقہ سے سپرد خاک کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں نے شروع میں کچھ لیت ولعل سے کام لیا مگر بعد میں کارکنان ختم نبوت کے جذبے اور تیور دیکھ کر میت برادر گرامی جناب عامر خورشید صاحب کے حوالہ کر دی۔ کارکنان ختم نبوت فرط جذبات سے میت سے لپٹ گئے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ کوئی مصطفیٰ احمد صدیقی کی پیشانی چوم رہا تھا اور کوئی اس کے پاؤں کو بوسہ دے رہا تھا۔ قادیانی یہ منظر دیکھ کر حیران ہو رہے تھے...... انھیں واقعی حیران ہونا چاہیے تھا۔ میت کو مسنون طریقے سے غسل دے کر نہایت سفید اور اجلا کفن پہنایا گیا۔ میت کے اردگرد گلاب کے ہزاروں پھول مصطفیٰ احمد صدیقی کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ کوئی یقین نہیں کر رہا تھا کہ میت پر 40 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ کیونکہ اس کے جسم سے معطر اور بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح نہایت خوبصورت اور تروتازہ تھا۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ طاری تھی۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اچانک بیدار ہو کر ابھی سب کو حیران کر دیں گے۔ جنازہ اٹھانے سے پہلے مصطفیٰ احمد صدیقی صاحب کی والدہ اور بہنوں نے چہرہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بزرگوں سے مشورہ کے بعد اس امید پر کہ شاید اللہ تعالیٰ انھیں بھی

صفحہ 590

ہدایت نصیب فرما دے، اجازت دے دی گئی۔ ان کے ساتھ اور بھی رشتہ دار خواتین تھیں۔ وہ دیر تک مصطفیٰ احمد صدیقی کے چہرے کا آخری دیدار کرتی رہیں۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کی والدہ نے جانے سے پہلے وہاں پر موجود کارکنان ختم نبوت کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا: ”آفرین ہے آپ پر، آپ لوگوں نے میرے بیٹے کو دولہا بنا دیا ہے“۔ اس پر ایک کارکن نے جواباً کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اپنے بیٹے کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے“۔

ٹھیک دو بجے جب مصطفیٰ احمد صدیقی کا جنازہ تدفین کے لیے اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ لوگ پرجوش جذبات میں نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ سینکڑوں روتی ہوئی آوازوں کا ایک تسلسل تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ یہ ایک ایسا ایمان افروز منظر تھا جسے کبھی نہ بھلایا جا سکے گا۔ قادیانیوں کا خیال تھا کہ اس نوجوان کے جنازہ میں محض گنتی کے چند لوگ شریک ہوں گے۔ ایسے موقع پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ یاد آتے ہیں جنہوں اپنے ایک مخالف کے جواب میں فرمایا تھا۔ ”حق و باطل کے درمیان ہمارے مقام کا تعین خود ہمارا جنازہ کرے گا“، مصطفیٰ احمد صدیقی کے جنازے نے فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ حق پر ہے اور اس کے مخالفین باطل۔ مجاہد ختم نبوت کی میت کو کندھا دینے کے لیے ہر شخص اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا تھا۔ نماز جنازہ مجاہد ختم نبوت ممتاز عالم دین، حضرت مولانا عبدالرحمٰنؒ نے پڑھائی۔ مرکز سراجیہ کے مہتمم جناب صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ اور مولانا محب النبی سمیت علما کرام کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت فرمائی۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کے قریبی دوستوں جناب میاں آصف جاوید صاحب اور جناب وقار الحسن صاحب کے علاوہ دنیا ٹی وی چینل کے درجنوں کارکنوں نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر احقر نے شرکاء جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے انھیں جناب مصطفیٰ احمد صدیقی کے قبول اسلام کی پوری روداد سنائی اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر اس کی گرانقدر خدمات بیان کیں۔ احقر نے عرض کیا کہ عموماً جنازے میت کی مغفرت کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ جنازہ خود شرکاء کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ یہ رتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا۔ میں نے عرض کیا کہ اس نوجوان کی عمر صرف 2 سال تھی کیونکہ اس نے 20 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور 22 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔ مصطفیٰ احمد صدیقی کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا ایک بار پھر ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر نہایت

صفحہ 591

جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ کارکنان ختم نبوت دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور الوداع الوداع مصطفی احمد صدیقی الوداع کے نعرے لگا رہے تھے۔ تب سے اب تک، وہ ایمان افروز منظر، روبرو ہے، یہ سطور لکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مصطفی احمد صدیقی نے پہلے کلمۂ شہادت پڑھ کر نبی پاک ﷺ کے آخری نبی ہونے کی گواہی دی اور دو سال بعد وہ حادثاتی موت کی شکل میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوا۔ اس وقت مجھے محترم نعیم صدیقی کی یہ نظم (ایک دو لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ ) فضا میں تلاطم برپا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔

ادب سے اس نعش کو اتارو!
رسن کا حلقہ ادب سے کھولو!
دبے دبے پاؤں، ہولے ہولے، سبک سبک طرز سے چلو یاں!
ادب سے لو سانس دھیما دھیما، بلند آواز میں نہ بولو!
تمام دیوار و در سجاؤ، تمام ماحول کو سنوارو!
درود پڑھ کر، سلام کہہ کر، یہاں پہ نذرِ وفا گزارو!
ادب سے اس نعش کو اتارو!
یہ نعش مصطفی احمد صدیقی کی ہے!
مصطفی احمد صدیقی! جس نے اذیتوں سے مئے تمنا کشید کی ہے!
مصطفی احمد صدیقی! جس نے بدن کے بدلے حیات دائم خرید کی ہے!
یہ پاک میت ہے ایک سورج! ضیاء یہ صبح امید کی ہے!
مصطفی کی نعش کے ادب میں!
تمام تاریخ رک گئی ہے!
زماں کی گردش ٹھہر گئی ہے!
ہیں علم وفن دست بستہ حاضر
مصطفی کی نعش کے ادب میں تمام تہذیب جھک گئی ہے
وہ روح سقراط آ رہی ہے جلو میں شاگرد اپنے لے کر ادھر یہ دیکھو حسینؓ بسمل !!!
یہ ابن حنبل ، امام مالک، ادھر جناب ابو حنیفہ!
کسی کے ہاتھوں میں تیغ براں ، کوئی لیے خامہ وصحیفہ!
صفحہ 592
سدابہار اپنے زخم لے کر، پرو کے زخموں کے ہار لائے!
مری نگاہیں یہ دیکھتی ہیں!
فلک سے قدسی اتر رہے ہیں!
پرے وہ باندھے ہوئے مسلسل
صلیب گہ سے گزر رہے ہیں
وہ حوریں آئیں اٹھائے پرچم
نئے مجاہد کا خیر مقدم
حکایتِ جہدِ آدمی کا یہ نعش عنوان بن گئی ہے
یہ جان ایمان بن گئی ہے! یہ حشر سامان بن گئی ہے!
ادب سے اس نعش کو اتارو!
الوداع! مصطفیٰ احمد صدیقی، الوداع!!!

قارئین کرام! رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی ہے۔ میں اپنی لائبریری میں بیٹھا نہایت رنج والم کے عالم میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں۔ عالم تخیل میں اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ جناب مصطفیٰ احمد صدیقی میرے سامنے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ انکل متین! آپ کا اور آپ کے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ۔ میں نے کہا: بیٹا! کس بات کا؟ کہنے لگے: آپ لوگوں نے مجھے جہنم سے نکالا اور میری تجہیز وتکفین بڑے شایان شان طریقے سے کی۔ میں نے عرض کیا: یہ تو ہمارا فرض تھا۔ پھر نجانے کیوں میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ اس پر مصطفیٰ احمد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے انکل۔ کیا آپ اللہ کی رضا پر خوش نہیں؟ میں نے عرض کیا: یار صدیقی! میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہزار بار خوش ہوں۔ تم ایسا آفتاب ہو جس کی روشنی سے بے شمار تاریک دل منور ہوئے، تم ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر ہو، تم لاکھوں میں ایک ہو، تم نے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کر کے ہمارے جذبوں کو ازسرنو زندہ کیا ہے۔ اس لیے ایک کمزور انسان ہونے کے ناتے تمہاری جدائی برداشت نہیں ہو رہی۔ میں روتے ہوئے اسے کہتا ہوں، صدیقی! تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے دوست کس قدر غم سے نڈھال ہیں، وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہیں، تمہاری جدائی میں وہ مسلسل آنسو بہا رہے ہیں، تمھارے بغیر انٹرنیٹ پر بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہو رہے اور ہاں! تمہارا جگری دوست اسامہ، ابھی تک تمہاری موت کا یقین

صفحہ 593

کرنے کو تیار نہیں۔ اس پر مصطفیٰ صدیقی مجھے کہتے ہیں: ”انکل! آپ کو معلوم نہیں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کی کس قدر بارش ہو رہی ہے۔ فرشتے میری قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔ یہ محض تحفظ ختم نبوت کے کام کی برکت کا نتیجہ ہے۔ آپ سب دوستوں کو میرا پیغام دے دیں کہ آخرت میں کامیابی کا سب سے آسان راستہ صرف تحفظ ختم نبوت کا کام ہے۔ بے شمار قادیانیوں کو نہیں معلوم کہ وہ کس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؟ ان بھولے بھٹکے قادیانیوں کو دعوت اسلام دینا ہمارا اولین فریضہ ہے، اس سے ذرا سی بھی روگردانی یا کوتاہی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ناراض ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس محاذ پر پہلے سے زیادہ محنت اور مستعدی سے کام کریں۔ آپ ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے“۔ میں سسکیوں اور ہچکیوں میں مصطفیٰ صدیقی سے دست بستہ عرض کرتا ہوں! یار مصطفیٰ! روز قیامت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہماری مغفرت کے لیے بھی درخواست کر دینا۔ اس پر مصطفیٰ کہنے لگا: انکل! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آپ سب دوستوں کی مغفرت و بخشش کی ضرور درخواست کروں گا۔ پھر وہ قریب آ کر میرے کان میں سرگوشی کے انداز میں مسکرا کر کہتا ہے: میں آپ دوستوں کے بغیر جنت میں نہیں جاؤں گا۔ پھر وہ سلام کہہ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسی اثناء میں قریبی مسجد سے تہجد کی اذان بلند ہوتی ہے۔ میں اسے قبولیت کی گھڑی تصور کرتا ہوں۔ اللہم صلی علیٰ محمد خاتم النبیین و خاتم المرسلین۔

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

ملتی ہے کسی ایک کو قسمت سے یہ دولت

2004ء کا سال میرے لیے بڑی جانگسل مشکلات اور پریشانیوں کا سبب بنا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود یہ کسی سونامی کی طرح بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ ان مصائب و آلام سے نکلنے کی بظاہر کوئی سبیل نظر نہ آتی تھی۔ دوستوں اور رشتہ داروں کی بے اعتنائی نے اعصابی

صفحہ 594

طور پر مزید مضمحل کر دیا۔ دعائیں بے اثر اور زندگی بے مزہ ہوتی جا رہی تھی۔ میری حالت بقول شاعر ”دعائیں بے اثر میری صدائیں بے ہنر میری، میں نے بندگی سیکھی نہ رب سے مانگنا آیا“ والی تھی۔ اسی اثنا میں مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے در پر حاضری دوں اور اپنے نامساعد حالات اور الم انگیز روداد سناؤں۔ انہی دنوں حج کی آمد آمد تھی۔ فوری طور پر فریضہ حج کی ادائی کے لیے درخواست جمع کروادی۔ خوش بختی کہ حج ادا کرنے والے خوش نصیبوں میں میرا نام نکل آیا۔ مکہ مکرمہ پہنچا۔ حج کے ابتدائی دن تھے۔ رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ چنانچہ حطیم میں خانہ کعبہ سے لپٹ کر خوب گریہ زاری کی۔ مناجات و استغفار کے ذریعے گڑگڑا کر اپنی مشکلات کے حل کی اللہ رب العزت سے فضل و کرم طلب کرتے ہوئے خوب دعائیں کیں۔

چند دن بعد شام کو معلوم ہوا کہ کل مدینہ طیبہ روانگی ہے تو دل بلیوں اچھلنے لگا۔ فخر و انبساط کا یہ عالم تھا کہ پورا جسم نشاط آور کیف و سرور کی کیفیت میں تھا۔ میرا روآں روآں قسمت پر ناز کرنے لگا۔ دل تشکر الٰہی میں ڈوب گیا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے فرحت خیز کرب و وجد کے عالم میں رات آنکھوں میں کٹی۔ جذب و مستی اور سوز و گداز کی ایسی کیفیت طاری ہوئی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اگلے دن میں نہایت شوق اشتیاق سے جانب طیبہ روانہ ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی آرزو پوری ہونے والی تھی۔ ”شہر نبی سے کوئی حسین تر نہیں مقام۔“ بس میں بیٹھا ہر شخص ادب و احترام کی تصویر بنا ہوا تھا۔ ہر شخص کے لبوں پر درود شریف کا ورد تھا۔ نصف شب کے قریب مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوئے۔ اس شہر خوباں اور دیارِ خنک کو ”شہرت عام اور بقائے دوام“ کا درجہ حاصل ہے۔ اپنے جاودانی اور سرمدی نور سے ساری کائنات کو منور کرنے والا گنبد خضرا دور سے دکھائی دیا تو رگ و پے میں مسرتوں کی لہریں گردش کرنے لگیں اور جھرجھری سی محسوس ہوئی۔ ”اجالوں کی بارات اتر آئی تن من میں۔“ وفور جذبات سے آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ نہایت عجز و انکساری کے ساتھ اپنی آنکھوں سے نور بار گنبد خضرا کا بوسہ لیا۔ روح و جاں معطر اور دل و دماغ مصفا ہونے لگے۔ ”نکہت گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا“ یہ ایمان افروز نظارہ نہایت مسحور کن تھا۔ جنت البقیع کے عقب میں واقع اپنے ہوٹل میں سامان رکھا۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد غسل کیا، نئے کپڑے پہنے، خوشبو لگائی، نہایت مؤدبانہ اور لرزیدہ حالت میں مسجد نبوی ﷺ کی طرف چل دیا۔ شوق

صفحہ 595

مہمیز لگا رہا تھا۔ سوز و گداز کے جذبات میں تلاطم برپا ہو رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ ایک عاصی کو یہ اعزاز کیسے نصیب ہو رہا ہے؟ آنسوؤں کی برسات میں مسجد نبوی میں قدم رکھا جہاں جمال ہی جمال تھا۔ سب سے پہلے دو رکعت نماز نفل تحیۃ المسجد ادا کی، پھر سر جھکائے دوزانو ہو کر دیر تک درود شریف پڑھتا رہا۔ اتنے میں اللہ کی عظمت و کبریائی تہجد کی دل افروز اذان کی صورت میں بلند ہوئی۔ نماز تہجد ادا کرنے کے بعد دوبارہ وظائف میں مشغول ہو گیا۔ اتنے میں موذن نے دوبارہ لحن داؤدی میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول حضور خاتم النبیین ﷺ کی شہادت بلند کی۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد ایک مجرم کی طرح مواجہہ شریف کی طرف چل پڑا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ عالم خواب میں ہوں یا عالم حقیقت میں۔ ایک گنہگار امتی کس ہستی کے دربار میں جا رہا ہے۔ ایسا دربار جو ادب و احترام کے لحاظ سے عرش سے بھی نازک تر ہے، جہاں جنیدؒ و بایزیدؒ آتے ہوئے اپنے نفس گم کر بیٹھتے ہیں۔ یہ سوچتے ہی جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ پاؤں اٹھانا مشکل ہو گیا تھا۔ ندامت کے پسینے کی حدت سے میرا جسم موم کی طرح پگھلتا جا رہا تھا۔ ”کہاں میں مشت خاک کہاں یہ عالم پاک“۔ جوں جوں مواجہہ شریف قریب آ رہا تھا، دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ میں دبی زبان سے مسلسل درود شریف پڑھ رہا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر گوہر مقصود نظر آیا تو ادب و احترام کے پیش نظر ہیجان کے باوجود سسکیوں اور ہچکیوں کو بڑی مشکل سے ضبط کیا۔ ”لے سانس بھی آہستہ یہ دربار نبی ﷺ ہے“۔ جونہی سنہری جالیوں کے سامنے آیا تو غلامانہ انداز میں ہاتھ باندھے، شرم کے مارے گردن جھکائے، تھر تھراتے ہونٹوں سے بمشکل الصلوٰۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ کہہ سکا۔ میں حیرت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ جو یاد تھا، وہ یاد نہ رہا، جو سوچا تھا، وہ بھول گیا۔ دعائیں یاد رہیں نہ التجائیں۔ ساٹھ سے زائد کتابوں کے مصنف کی زبان گنگ ہو چکی تھی۔ ”آنکھوں سے بولتا ہوں دربارِ مصطفیٰ ﷺ میں“۔ پھر اسی عالم سوز و گداز میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا حضرت عمر فاروقؓ پر سلام پڑھا جو اسی مرکز تجلیات میں آرام فرما ہیں۔ مسجد سے باہر آیا تو نور کے مرکز گنبد خضرا کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ایمان و ایقان کو باغ جناں کی ٹھنڈک نصیب ہوئی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک انتہائی بلند پایہ روحانی شخصیت نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ ”حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے سید الشہدا سیدنا حضرت حمزہؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے ”سفارشی

صفحہ 596

رقعہ ضرور لے لینا، بہت فائدہ ہو گا‘‘۔ چنانچہ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سید الشہدا سیدنا حضرت حمزہؓ کے مزار پاک پر حاضر ہوا۔

جن محترم و مقدس شخصیات کی وجہ سے دین اسلام کو ایک ولولۂ تازہ اور جلوہ نور ملا، ان میں سیدنا حضرت حمزہؓ کی شخصیت سرفہرست ہے۔ آپؓ حضور نبی کریم ﷺ کی نگاہ جوہر شناس کا اولین انتخاب تھے۔ آپؓ سرفروشی و جانبازی کی اقلیم کے سلطان اور بہادری و جاں سپاری، شجاعت و بسالت، عزم و استقلال اور دینی غیرت و حمیت کے پیکر تھے۔ جرأت و جوانمردی آپ کے گھر کی لونڈی تھی۔ شہسوار ایسے کہ جن کے بغیر گھوڑ سواری کا مقابلہ کوئی اہمیت نہ رکھتا۔ آپؓ کی بے پایاں صلاحیتیں دیکھ کر بڑے بڑے عرب جنگجو ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتے۔ بار بار پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے والے شہسواروں کی تمام خوبیاں آپؓ کی ذات میں جمع تھیں۔ جنگ کے دوران آپ فولادی اعصاب کے مالک نظر آتے تھے۔ سپاہیانہ فضائل کی بنا پر آپ خاکستری اونٹ اور شیر کی طرح دشمن پر حملہ کرنے والے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا گویا آپ نے چیتے سے سپاہ گری کا فن سیکھا ہے۔ چیتے کی سی پھرتی، بہترین دفاعی انداز اور دشمن کو اپنی گرفت میں لانے جیسے سپاہیانہ اوصاف آپ میں نمایاں تھے۔ شیر کے ناموں میں سے ایک نام حمزہؓ بھی ہے، گویا اسی نام کی وجہ سے آپ کو شیر کی بہادری میں سے حصہ ملا تھا۔ آپؓ نے جنگ کے میدان میں قریش کے ان نامور شہسواروں کو قتل کیا جن کی طاقت اور سپاہ گری پورے عرب میں مشہور تھی۔ مشرکین مکہ کے ہجوم میں اسلام قبول کرنے اور بدر و اُحد کے میدانوں میں دادِ شجاعت دینے والے اسلام کے مخلص جانباز، مجاہد اور شہید حضرت حمزہؓ پر پوری امت اسلامیہ کو ہمیشہ ہمیشہ ناز رہے گا۔

حب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حمزہؓ کی حیات کا مرکز و محور تھا۔ آپؓ نے اپنی تمام زندگی حضور پاک ﷺ کے قدموں میں وار دی اور ابدی حیات پائی۔ جو محبت آقائے کائنات ﷺ کو حضرت سیدنا حمزہؓ سے تھی، ویسی کسی اور سے نہ تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ ﷺ آپس میں چچا بھتیجا ہونے کے باوجود (حضور نبی کریم ﷺ سے عمر میں چار سال بڑے تھے، اس لیے تقریباً ہم عمر ہونے کی وجہ سے) بہت بے تکلف دوست بھی تھے۔ سیدنا حمزہؓ بھی ان عظیم لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ آپؓ کے ایمان لانے سے مشرکین مکہ پر ایک رعب و دبدبہ طاری ہو گیا۔ وہ اچھی

صفحہ 597

طرح سمجھ گئے کہ اب رسول اللہ ﷺ کو قوت وحمایت حاصل ہوگئی ہے۔ اب حمزہؓ ان کی حفاظت کریں گے۔ چنانچہ بے بس اور کمزور مسلمانوں پر ان کی ستم رانیوں میں نمایاں کمی واقع ہوگئی۔

جنگ احد میں حضرت حمزہؓ بپھرے ہوئے شیر کی طرح دشمن پر اس طرح حملہ آور تھے کہ ان کے سامنے بڑے بڑے سورما پیٹھ دکھا رہے تھے۔ مشرکین پر لرزہ طاری تھا کہ کس شیر سے ان کا پالا پڑا ہے۔ حضرت حمزہؓ اس شان سے لڑ رہے تھے کہ دو دستی تلواریں چلاتے جاتے اور کہتے جاتے تھے۔ انا اسد الله و اسد رسوله میں اللہ تعالیٰ کا شیر ہوں اور میں رسول اللہ کا شیر ہوں۔ حضرت حمزہؓ میدان جنگ میں چوکھی لڑائی کے بے حد ماہر تھے۔ آپؓ کے سامنے کوئی مشرک جنگجو دم نہیں مارتا تھا۔ آپ مشرکین کے جنگجوؤں کو اپنے مقابلہ میں یوں چکرا دیتے تھے جیسے ہوا اپنے آگے خشک پتے کو چکر دیتی ہے۔ اس لیے بڑے بڑے سورما آپ کو دیکھتے ہی ہیبت زدہ ہو جاتے۔ غزوہ احد میں مشرکین کے علمبرداروں کو ڈھیر کرنے کے علاوہ بھی آپ نے بڑے زبردست کارنامے انجام دیے۔ جبیر بن مطعم کا حبشی غلام ابو دسمہ وحشی بن حرب ایک چٹان کی اوٹ میں گھات لگائے ان کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ کب حضرت حمزہؓ اس کی زد میں آئیں اور وہ اپنا ہتھیار ان پر پھینکے۔ وحشی کو جبیر بن مطعم نے اپنے چچا طعیمہ بن عدی کا انتقام لینے کے لیے حضرت حمزہؓ کے قتل پر مامور کیا تھا اور اس کام کے صلے میں اسے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ طعیمہ بن عدی کو حضرت حمزہؓ نے بدر میں قتل کیا تھا۔ وحشی بن حرب فن حربہ میں بڑا ماہر اور مشاق تھا۔ وہ اپنے چھوٹے نیزے (جس کو حربہ کہتے ہیں اور یہ حبشیوں کا ایک خاص ہتھیار ہوتا ہے) سے وار کرتا تو شاذ و نادر ہی اس کا شکار بچ پاتا۔ جنگ شروع ہو چکی تھی۔ فریقین ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے۔ اتفاق سے وحشی کو جلد ہی وار کرنے کا موقع مل گیا۔ حضرت حمزہؓ دیوانہ وار آگے بڑھے جا رہے تھے کہ یکا یک ان کا پاؤں پھسلا اور وہ پیٹھ کے بل زمین پر گر پڑے۔ اسی وقت وحشی نے تاک کر اپنا چھوٹا سا نیزہ تانا، حبشیوں کی طرح نیزے کو اونچے بازو پر تولا، توازن کیا اور اپنی پوری قوت سے حضرت حمزہؓ کے جسم میں ترازو کر دیا جو ناف میں لگا اور پار ہو گیا۔ حضرت حمزہؓ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود اٹھ کر اس پر حملہ کرنا چاہا، مگر وہ ایک گڑھے میں لڑکھڑا کر گر پڑے۔ اس کے باوجود آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن دوسرے ہی لمحے حضرت حمزہؓ الرفیق الاعلیٰ سے جا ملے اور شہادت عظمیٰ کے عظیم درجے پر فائز ہو گئے۔ بہادری اور جوانمردی کی انتہا دیکھئے کہ آخری وقت میں

صفحہ 598

بھی آپ کے قدم آگے ہی بڑھے، پیچھے نہیں ہٹے۔ حضرت حمزہؓ نے بروز ہفتہ 15 شوال 3 ہجری بمطابق 23 مارچ 625ء کو جام شہادت نوش کیا۔ اس وقت آپؓ کی عمر 57 یا 59 سال تھی۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حضرت حمزہؓ کی درد ناک شہادت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بے حد غمگین اور غصے کی حالت میں تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ سیدنا حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلبؓ پر جس طرح روئے، اس طرح میں نے ان کو کبھی روتے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ اس طرح روئے کہ آواز بلند ہوگئی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ حضرت حمزہؓ کی لاش پر آکر ٹھہرے تو اسے دیکھ کر آپ ﷺ نے (بچشم تر) فرمایا ”ایسی مصیبت جیسی حمزہؓ پر پڑی، دنیا میں کسی پر نہ پڑی ہوگی۔“ آپ ﷺ بار بار فرما رہے تھے کہ ارے! مجھے کسی بھی موقع پر اتنا غصہ نہیں آیا جتنا آج آیا ہے۔

یہ بات نہایت اہم اور مستند ہے کہ حضرت حمزہؓ روحانی طور پر مدینہ کے والی اور حاکم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں آج بھی کہیں جھگڑا ہو جائے اور دونوں فریق کسی نتیجہ پر نہ پہنچیں تو اس دوران اگر ایک فریق اپنی صفائی میں حضرت حمزہؓ کا نام لے لے تو دوسرا فریق فوراً حضرت حمزہؓ کے احترام میں اپنے موقف سے دستبردار ہو جاتا ہے اور یوں معاملہ طے پا جاتا ہے۔ اہل مدینہ کا قول ہے: ”من اراد ان یستشفع عند رسول اللہ (ﷺ) فلیستشفع بعمہ“ جو چاہے کہ رسول اکرم ﷺ کے یہاں کسی کا واسطہ لائے، اسے چاہیے کہ ان ﷺ کے عم اکرمؓ کا واسطہ لائے۔ چنانچہ اہل مدینہ کا قدیم سے یہ طریقہ چلا آ رہا ہے کہ جب کسی پر کوئی مصیبت پڑتی یا کوئی کسی مشکل میں گھر جاتا ہے تو وہ سید الشہدا حضرت حمزہؓ کی بارگاہ میں فریاد لے کر حاضر ہو جاتا ہے اور یوں عرض کرتا ہے ”اے نبی کریم ﷺ کے محبوب چچا! میں اس حالت میں نہایت مشکلات میں گرفتار ہوں، اپنے رؤف و رحیم بھتیجے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں میری سفارش فرمائیں تا کہ میری مصیبت دور اور مشکل حل ہو جائے۔ پھر وہ سیدھا حرم نبوی شریف میں مواجہہ شریف کے سامنے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کر کے التجا کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ کے فضل و کرم سے اس فریادی کی مشکل حل ہو جاتی ہے اور وہ اپنی مراد حاصل کر لیتا ہے۔

میں نے عالم استغراق میں سیدنا حضرت حمزہ کی پابوسی کی اور عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ

صفحہ 599

دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ میں آپ سے کذب بیانی کی جسارت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں آپ کے سامنے حلفاً عرض کرتا ہوں کہ جب جنگ احد میں وحشی نے آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنا نیزہ پھینکا تھا، اگر میں وہاں موجود ہوتا تو اس نیزہ کو ہر حالت میں اپنے سینے پر روکتا اور آپ کو معمولی زخم بھی نہ آنے دیتا‘‘۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ میں پاکستان جا کر آپ کی سیرت و فضائل اور شجاعت و شہادت پر ایک مبسوط کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں آپ کی نگاہ التفات کا محتاج ہوں۔ پھر میں نے بصد ادب و احترام اجازت لے کر تفصیل کے ساتھ اپنے تمام گھریلو حالات اور گھمبیر مسائل عرض کیے اور روتے ہوئے دست بستہ عرض کیا کہ آپ اپنے پیارے اور عظیم ترین بھتیجا جان (ﷺ) سے میری سفارش کر دیں۔ پھر میں دیر تک بیٹھا درود شریف پڑھتا رہا۔ اسی اثنا میں مجھے اطمینان قلب کے ساتھ شرح صدر ہوا کہ سید الشہدا سیدنا حضرت حمزہؓ نے میری درخواست قبول کر لی ہے۔ چنانچہ کیف و سرور اور سرشاری کے عالم میں فوراً مسجد نبویؐ پہنچا۔ باب السلام سے داخل ہوا تا کہ بارگاہ رسالت پناہ ﷺ میں حاضری دے سکوں۔ کانپتے لرزتے جسم کے ساتھ مواجہہ شریف کی طرف چلنا شروع کیا۔ کم مائیگی کے پسینے میں تر بتر ہو گیا۔ یقین کی اس دولت کے ساتھ کہ آپ شفیع المذنبین ہیں، منبع جود و سخا ہیں، گنہگاروں کے حاذق ہیں، آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ سلام کرتے ہوئے میں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں دیکھ سکتا لیکن آپ ﷺ تو ضرور دیکھیں گے اور سلام کا جواب بھی مرحمت فرمائیں گے۔ دبدبۂ جمال کے اس خیال سے پورا وجود لرز گیا۔ جسم پر سکتہ طاری ہو گیا۔ علامہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق رباعی ’’از نگاہِ مصطفیٰ ﷺ پنہاں بگیر‘‘ یاد آنے لگی۔ اشکوں کا طوفان امڈ آیا۔ ’’آنسو ندامتوں کے ہیں چشم تر سے جاری‘‘۔ عطر بیز فضا اور انوار و تجلیات کی بارش میں مواجہہ شریف کے سامنے آیا۔ نہایت عجز و انکساری اور تاسف و ندامت کے ساتھ مواجہہ شریف کے قریب ایک طرف ستون کی اوٹ میں بیٹھ گیا۔ ’’چھپ چھپ کے رو رہا ہوں دربار مصطفیٰ ﷺ میں‘‘۔ میرے آنسو التجا کی صورت اختیار کرتے جا رہے تھے۔ مسلسل درود شریف پڑھتے ہوئے دیر تک بخشش و کرم کی بھیک مانگتا رہا۔ پھر تحفظ ختم نبوت کے کام کی کارگزاری سنائی اور اس کا واسطہ دے کر اپنے تمام نامساعد حالات و واقعات تفصیل سے عرض کیے۔ ’’ہر گزارش ہوئی آنسوؤں سے بیاں‘‘۔ چند لمحوں بعد ایسے محسوس ہوا کہ دل پر سکینت اتر رہی ہے۔ تزکیہ نفس

صفحہ 600

اور تصفیہ قلب ہو رہا ہے، راحت و آرام کی چادر تان دی گئی ہے۔ سب کلفتیں اور تاریکیاں دور اور سب کثافتیں کافور ہو گئیں۔ کرم کے بادل برسنے لگے۔ طمانیت وسکون کی دولت سے دامن مراد بھر گیا۔ یہ قیمتی لمحات ماورائے زماں ومکاں تھے اور شاید انہیں ساری زندگی نہ بھول سکوں۔ ”خورشید بن گیا ہوں دربار مصطفیٰ ﷺ میں“۔ اس موقع پر میں نے معروف نعت گو شاعر جناب حفیظ تائب کا کلام سنانے کی سعادت حاصل کی۔

دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ
ایک شیریں جھلک، ایک نوریں ڈلک تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیؐ
اے نوید مسیحا تری قوم کا حال عیسیٰؑ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبیؐ
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
حشر میں منہ دکھائیں گے کیسے تجھے ہم سے نا کردہ کار امتی یا نبیؐ
دشمن جاں ہوا میرا اپنا لہو میرے اندر عدو میرے باہر عدو
ماجرائے تحیر ہے پرسیدنی، صورت حال ہے دیدنی یا نبیؐ
روح ویران ہے، آنکھ حیران ہے، ایک بحران تھا، ایک بحران ہے
گلشنوں، شہروں، قریوں پہ ہے پرفشاں ایک گھمبیر افسردگی یا نبیؐ
سچ مرے دور میں جرم ہے، عیب ہے، جھوٹ فن عظیم آج لاریب ہے
ایک اعزاز ہے جہل و بے رہ روی، ایک آزار ہے آگہی یا نبیؐ
راز داں اس جہاں میں بناؤں کسے، روح کے زخم جا کر دکھاؤں کسے
غیر کے سامنے کیوں تماشا بنوں، کیوں کروں دوستوں کو دکھی یا نبیؐ
زیست کے تپتے صحرا پہ شاہِ عرب، تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب
کب ہری ہو گی شاخ تمنا مری، کب مٹے گی مری تشنگی یا نبیؐ
یا نبیؐ اب تو آشوب حالات نے تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلا دیئے
دیکھ لے تیرے تائبؔ کی نغمہ گری، بنتی جاتی ہے نوحہ گری یا نبیؐ

اس کے بعد جتنے روز مدینہ طیبہ میں رہا، زیادہ تر وقت ریاض الجنۃ اور اصحاب صفہؓ کے چبوترے پر گزرا۔ نماز فجر اور عشا کے بعد روزانہ مواجہہ شریف پر حاضری دیتا، حضور نبی

صفحہ 601

کریم ﷺ اور حضرات شیخین کی خدمت میں سلام عرض کرتا۔ چند دنوں بعد واپسی کا پروگرام مل گیا۔ یہاں سے جانے کو دل نہ کرتا تھا۔ واپسی کا سن کر طوفان گریہ امڈ آیا۔ گرفتہ خاطر دل اور دیدۂ تر کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر الوداعی سلام عرض کیا اور التجا کی کہ یہ ناکارہ غلام ہر سال آپ کے در کی حاضری کا متمنی ہے، اس کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ باہر آ کر حسرت و محبت کی نگاہ سے گنبد خضرا کو سلام کیا۔ اگرچہ مدینہ شریف سے واپس جا رہا تھا لیکن اس لحاظ سے بے حد خوش اور خورسند تھا کہ منگتا خیرات سے خالی جھولی بھر کر لے جا رہا ہے:

منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے، کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے، اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو

مجھے میرے ظرف، حیثیت اور بساط سے کہیں زیادہ عطا ہوا تھا۔ میں اس کرم کے قابل نہ تھا، یہ صرف حضور ﷺ کی بندہ پروری تھی۔ درود و سلام کا نغمہ پڑھتا ہوا یہاں سے الوداع ہوا۔ دور تلک گنبد خضرا کو چشم نم کے ساتھ مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔

مکہ مکرمہ آ کر عمرہ اور چند دنوں بعد حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ پھر جلد پاکستان واپسی ہوئی۔ جہاز علی الصبح لاہور ایئر پورٹ پر اترا۔ تمام اہل خانہ رشتہ دار اور قریبی احباب ایئر پورٹ پر مجھے لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں سب کو فرداً فرداً ملا۔ لاؤنج سے باہر آیا تو اچانک اہلیہ محترمہ میرے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے لگی اور میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھنے لگی: ”متین صاحب! اللہ تعالیٰ کو آپ کی کون سی ادا پسند آگئی ہے“، میں نے پوچھا: کیوں کیا ہوا؟ دلگیر لہجے میں کہنے لگی: ”تقریباً تمام مسائل حل ہو چکے ہیں“۔ یہ سنتے ہی اظہارِ تشکر کے طور پر میری آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ بڑی مشکل سے اپنے جذبات کو ضبط کیا۔ دل سے آواز نکلنے لگی: یا اللہ! کس طرح ترے احسانات و انعامات کا شکر ادا کروں۔ کس ڈکشنری سے ایسے الفاظ تلاش کروں جو اس کرم بے پایاں کے شکریے کے قابل ہوں۔ پھر میں قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت کرنے لگا:

جائے اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں اور اے محبوب! تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔“ (النساء: 64) (بارگاہِ رسالت ﷺ میں از محمد متین خالد)

صفحہ 602

خلیفہ ہارون الرشید اور حضرت بہلولؒ

خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک بزرگ حضرت بہلول دانا تھے جو ہمیشہ مجذوبانہ کیفیت میں رہتے۔ وہ اکثر ریت کے ڈھیر پر بیٹھے رہتے اور بچوں کی طرح چھوٹے چھوٹے گھروندے بناتے پھر انھیں اچانک گرا دیتے۔ ایک دفعہ ہارون الرشید اور اس کی پاک طینت اور وفاشعار بیوی زبیدہ خاتون ہاتھی پر سوار سیر کرتے کرتے ادھر آنکلے۔ ہارون الرشید نے دیکھا کہ حضرت بہلولؒ حسب معمول ریت کے گھروندے بنا بنا کر ڈھا رہے ہیں۔ اس نے قریب جا کر از راہ مذاق حضرت بہلول سے پوچھا، حضرت کیا کر رہے ہیں؟ حضرت بہلول نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا: جنت میں محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشید نے کہا: حضرت! کیا آپ یہ محل فروخت کریں گے؟ حضرت بہلول نے جواب دیا: ہاں، ضرور فروخت کروں گا۔ ہارون الرشید نے پوچھا: کتنے کا؟ حضرت بہلول نے کہا: ایک درہم کا۔ ہارون الرشید نے اس پر قہقہہ لگایا اور چلنے کا حکم دیا۔ اتنے میں اس کی بیوی زبیدہ خاتون نے اپنی جیب سے ایک دینار نکالا اور حضرت بہلولؒ کی طرف پھینک دیا۔ حضرت بہلولؒ نے ایک لکڑی اٹھائی اور ایک گھروندے کے گرد خط کھینچتے ہوئے فرمایا: بیٹی! جنت میں تمہارا محل تیار ہو گیا ہے۔ زبیدہ خاتون اس یقین کی خوشی میں سرشار ہو گئی کہ اسے جیتے جی جنت مل گئی۔ رات ہارون الرشید نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک جنگل میں ہرن کا شکار کرتے کرتے بہت دور نکل آیا ہے اور مارے بھوک اور پیاس سے اس کی طبیعت انتہائی نڈھال ہو رہی ہے۔ اتنے میں اس نے اچانک دیکھا کہ سامنے سونے اور چاندی کا بنا ہوا ایک نہایت وسیع و عریض اور خوبصورت محل ہے۔ ہارون الرشید گھوڑے پر بھاگم بھاگ محل کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے مین گیٹ پر زبیدہ خاتون کا نام لکھا ہوا ہے۔ ہارون الرشید بے حد خوش ہوا اور محل کے اندر جانے لگا۔ اس پر محل کے پہرا داروں اور دربانوں نے اسے روک لیا اور کہا کہ تم محل کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ ہارون الرشید نے کہا کہ زبیدہ خاتون میری بیوی ہے۔ پہرا داروں نے کہا کہ یہاں کوئی رشتہ کام نہیں آتا۔ جس کا محل ہے، وہی اس کا مالک ہے۔ کسی دوسرے کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہارون الرشید نہایت مایوس اور بددل ہوا۔ اس عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ بقیہ رات بڑی بے قراری اور کرب میں گزاری۔ علیٰ الصباح حکم دیا کہ سواری تیار کی جائے۔

صفحہ 603

ہاتھی پر سوار ہارون الرشید حضرت بہلولؒ کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضرت حسب معمول اپنے کام میں مصروف ہیں، یعنی ریت کے گھروندے بنا بنا کر ڈھا رہے ہیں۔ ہارون الرشید نے پوچھا: حضرت کیا کر رہے ہیں؟ حضرت بہلول نے کہا۔ جنت میں محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشید نے کہا: حضرت بیچو گے؟ حضرت بہلول نے جواب دیا، ہاں۔ ہارون الرشید نے پوچھا: حضرت کتنے کا؟ حضرت بہلول نے کہا: تیری پوری سلطنت۔ ہارون الرشید پر سکتہ طاری ہو گیا۔ بڑی مشکل سے اپنے حواس پر قابو پایا اور لڑکھڑاتی زبان سے پوچھا: حضرت! کل تو محل کی قیمت ایک درہم تھی؟ حضرت بہلول نے بڑے پُر اعتماد لہجے میں فرمایا: ”کل تم بن دیکھے سودا کر رہے تھے۔ آج بذات خود دیکھ کر آئے ہو“۔

جو شخص تحفظ ختم نبوت کے کام کی حلاوت اور مٹھاس کو ایک دفعہ چکھ لیتا ہے، وہ لازماً جان جاتا ہے کہ یہ کام باقی تمام کاموں سے افضل ترین اور اہم ترین ہے۔ ممکن ہے اس دنیا میں ہمیں تحفظ ختم نبوت کے کام کی اہمیت و فضیلت کا احساس نہ ہو۔ مگر آخرت میں اس عظیم کام کے بدلہ میں اس قدر انعام و اکرام ملیں گے کہ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں، وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے انعامات پر بے حد خوش ہوں گے جبکہ دیگر لوگ اس سے محرومی پر بڑے افسوس اور حسرت کا اظہار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

جناب جسٹس میاں محبوب احمد چیف جسٹس (ر) لاہور ہائی کورٹ فرماتے ہیں:

پاک کے سپرد کیا گیا ہے۔ ہم اپنے قلم سے، اپنے عمل سے، اپنے آنسوؤں سے، اپنی محبت کے چراغوں سے اس کی پاسبانی کا حق ادا کرتے ہیں، اسی فریضے کی ادائیگی سے اس دنیا کا جمال اور وقار وابستہ ہے، جسے اسلامی دنیا کہتے ہیں۔ آج جبکہ فتنوں کا دروازہ کھل چکا ہے، اور بلائیں ختم نبوت کے تصور پر بھیس بدل بدل کر حملہ آور ہو رہی ہیں، اس کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو جانا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ اس سعادت کے حصول میں پاکستان صف اوّل میں ہوگا اور میدان حشر میں ان شاء اللہ جب آقائے دو جہاں ﷺ یہ سوال فرمائیں گے کہ جب میری ناموس نبوت زد پر تھی تو تم نے کیا کردار ادا کیا تھا؟ اس وقت اہل پاکستان اپنے الفاظ کا نذرانہ بھی پیش کریں گے اور اپنے لہو کا تحفہ بھی پیش کریں گے۔ خدا سے دعا ہے کہ اس

صفحہ 604

فہرستِ عاشقان میں کہیں آپ کا نام بھی درج ہو۔ کہیں اس عاجز کا نام بھی درج ہو، یہی وہ عظیم نعمت ہے جو جھولی پھیلا کر خدا کی بارگاہ سے طلب کی جاسکتی ہے اور بیشک وہ سمیع و بصیر ہے۔ (عقیدۂ ختم نبوت کے تہذیبی اثرات، از جسٹس میاں محبوب احمد)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ناموس ختم نبوت کا اجر بن دیکھے، اس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے کارکنان کی حوصلہ شکنی کرنے والوں کی سزا

تحفظ ختم نبوت اور گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں روکنے کے سلسلہ میں بڑی آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کا ایک شعر ہے:

چوں می گویم مسلمانم بہ لرزم
کہ دانم مشکلات لا الہ را

یعنی ”جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں کیونکہ مجھے کلمہ حق کہنے کی مشکلات معلوم ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ مسلمان کے فرائض کیا ہیں اور اس کی انجام دہی کیسی دشوار ہے!“

تحفظ ختم نبوت کے کام میں کڑوی باتوں اور ذلت آمیز طعنوں سے بھی آزمائش ہوتی ہے۔ اس پر صبر کرتے ہوئے کام جاری و ساری رکھنا چاہیے۔ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ غیب سے مدد فرماتے ہیں۔

بندہ مومن کی یہ شان ہے کہ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا مالک کس طرح خوش ہوگا۔ اس راہ میں چاہے لاکھ آندھیاں آئیں، جانگسل مشکلات کے ہزار دریا عبور کرنا پڑیں، وہ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ غیرت اسی کے لیے ہوتی ہے جس سے محبت و عقیدت کا معاملہ ہو۔ آپ کی غلبہ دین کی راہ میں کوشش کے سبب اگر کوئی آپ کی مخالفت کرتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی جواب دینے کی حاجت ہے کیونکہ خراب پھل کو درخت سے توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خود ہی زمین پر گر جاتا ہے۔

جو لوگ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے کارکنوں کی دل شکنی کرتے ہوئے، ان

صفحہ 605

سے مذاق اور ٹھٹھا کرتے ہیں کہ قادیانی کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں سے کئی درجہ بہتر ہیں ، ان کا اخلاق بڑا اچھا ہوتا ہے ، وہ بڑے مہمان نواز اور پڑھے لکھے ہوتے ہیں، وہ وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو ہم پڑھتے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ مزید برآں جب انھیں قادیانی مصنوعات بالخصوص شیزان کے بائیکاٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے تو وہ کارکنانِ ختم نبوت کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیوں جی ! کیا شیزان بوتل میں قادیانی داخل ہو گیا ہے جو ہم اسے پینا چھوڑ دیں اور ان کی دوسری مصنوعات کا استعمال بھی چھوڑ دیں؟ مجاہدِ ختمِ نبوت حضرت اقدس شہید مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ فرماتے ہیں: ”جس شخص نے کہا کہ قادیانی، مسلمانوں سے اچھے ہیں، وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا، مرزائیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں، بلکہ محارب کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں“۔

قادیانی نوازوں کو سوچنا چاہیے کہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنا اگر آپ کی قسمت میں نہیں ہے تو کم از کم قادیانیوں کی حمایت تو نہ کرو۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ حق کے مقابل کھڑے ہو کر باطل کے لیے تالیاں بجاتے جائیں۔

گستاخانِ رسولؐ، قادیانیوں کے خلاف کام کرنے والوں کی مخالفت یا ممانعت کرنے والوں کے لیے حدیث مبارکہ میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا تمسخر اڑاتے ہیں، قیامت کے روز ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جب ان کے قریب آئیں گے تو دروازے بند کر دیے جائیں گے، پھر دوبارہ کھول دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جب ان کے قریب آئیں گے تو پھر بند کر دیے جائیں گے، پھر تیسری مرتبہ کھول دیے جائیں گے اور انھیں کہا جائے گا، جنت میں داخل ہو جاؤ لیکن وہ ان کی طرف نہیں آئیں گے، اللہ جل شانہ ان سے فرمائیں گے تم وہ لوگ ہو جو میرے بندوں کا مذاق اڑاتے تھے، تمہارا حساب سب سے اخیر میں ہوگا، وہ گرمی میں کھڑے رہیں گے یہاں تک کہ پسینہ میں غرق ہو جائیں گے اور آواز دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس جگہ سے نجات دے دیجیے، خواہ ہمیں نارِ جہنم میں بھیج دیں، حالانکہ انھیں دوزخ کے عذاب کا خوب علم ہوگا لیکن انھیں اس وقت آگ میں داخل ہونا، اس ذلت کے عذاب سے زیادہ آسان معلوم ہوگا“۔

صفحہ 606

ایک دفعہ علامہ سرخسیؒ نے خواب دیکھا کہ بڑی دھوم دھام سے جنت کی تزئین و آرائش ہورہی ہے۔ انہوں نے فرشتوں سے پوچھا: یہ کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جنت کو مزید آراستہ و پیراستہ کیا جارہا ہے۔ علامہ سرخسیؒ نے کہا کہ یہ تو پہلے ہی نہایت خوبصورت اور حسین ہے، اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کس لیے کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ امام ابو یوسفؒ آنے والے ہیں۔ علامہ سرخسیؒ نے فرشتوں سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کو امام ابو یوسفؒ کا کونسا عمل پسند آیا کہ انہیں اس قدر عزت و اکرام سے نوازا جارہا ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ وہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرتے تھے اور لوگوں کی بے جا تنقید کو برداشت کرتے تھے................عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس عقیدہ میں اگر ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو آدمی ایمان کی دولت سے محروم ہوسکتا ہے۔ اس عقیدہ کی حفاظت دین اسلام کی سربلندی کا کام ہے۔ اس سلسلہ میں کارکنان ختم نبوت کو بے دین، سیکولر اور قادیانی نواز لوگوں کی بے جا تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر وہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجہ میں مجاہدین تحفظ ختم نبوت کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا ہے۔ اس عظیم کام کی بدولت ہر وہ شخص جو تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل کرے گا۔ ان شاء اللہ

امام محمدؒ کا شمار امام ابو حنیفہؒ کے جید شاگردوں میں ہوتا ہے۔ امام محمدؒ اپنی وفات کے کچھ عرصہ بعد اپنے ایک شاگرد کے خواب میں آئے۔ شاگرد نے پوچھا حضرت! آخرت میں حساب و کتاب کا کیسا معاملہ رہا؟ اس پر امام محمدؒ فرمانے لگے کہ جب مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ میری حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا: مانگو، کیا چاہتے ہو؟ امام محمدؒ عرض کرنے لگے۔ یا رب العالمین، صرف معافی کا طلبگار ہوں۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: محمدؒ اگر تجھے بخشا نہ ہوتا تو تمہیں فقہ کا علم عطا نہ کرتا۔ امام محمدؒ نے اپنے شاگرد کو بتایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمادیا۔

یادرکھیے! تحفظ ختم نبوت کے کام کی اہمیت و فضیلت بھی اس کے مثل ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے خوش نصیبوں کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور خاص رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ اہم کام صرف انہی لوگوں سے

صفحہ 607

لیتے ہیں جن کی بخشش اور مغفرت کرنا مقصود ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مسلمان کہلانے والے جو لوگ گستاخانِ رسول قادیانیوں سے اسی طرح کی راہ و رسم رکھتے ہیں جیسی عام مسلمانوں سے، وہ فی الحقیقت منافق ہیں۔ اسلام کے ساتھ ان کا تعلق بس واجبی سا ہوتا ہے، ورنہ خود غرضی، لالچ اور شکم پروری نے انھیں قادیانیوں کا دوست اور خیر خواہ بنا دیا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بکاؤ مال بن کر قادیانیوں کی حمایت اور مسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ’’گنگا گئے تو گنگا رام، جمنا گئے تو جمنا داس‘‘ ایسی منافقانہ پالیسی پر گامزن ہوتے ہیں‘‘۔ ایک دفعہ حضرت شمس تبریزؒ نے بھری مجلس میں فرمایا۔ ’’منافق دنیا کی تمام مخلوق میں سے بدترین ہیں۔ قرآن شریف میں ارشاد ہوتا ہے ”ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار“ (النساء: 145) ترجمہ: ’’یقیناً منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے‘‘۔ پھر ایک حدیث مبارکہ کا تذکرہ کر کے فرمایا۔ ’’دوزخ سے تمام گناہگار اپنے اپنے وقت پر نکال لیے جائیں گے، لیکن کچھ لوگ باقی رہیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا تم کون ہو؟ وہ کہیں گے ہم منافق ہیں۔ ہمارا باطن کچھ تھا اور ظاہر کچھ‘‘۔

دوزخ کے سات درجے یعنی سات منزلیں ہیں۔ علما نے لکھا ہے کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے ہاویہ میں اپنے کفر، سرکشی اور مومنوں کو تکالیف پہنچانے کی وجہ سے ہوں گے۔ حضرت کعب احبار فرمایا کرتے تھے کہ جہنم میں ایک کنواں ہے جس کے دروازے بالکل بند ہیں جو اب تک نہیں کھلے، جہنم بھی اس سے روزانہ اس خوف سے پناہ مانگتی ہے کہ اس کنوئیں میں ایسا عذاب ہے جسے کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا اور یہ جہنم کا سب سے نچلا حصہ ہے۔

امام مسلمؒ مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ہر شخص کو اسی کیفیت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہوگا‘‘۔ جو لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی، گستاخانِ رسول ﷺ سے جہاد اور اسلام مخالف مختلف فتنوں کی شرانگیزیوں کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے اس دنیائے فانی سے کوچ کر جاتے ہیں، قیامت کے دن وہ اس مقدس مشن کی حالت میں اٹھائے جائیں گے۔ اس کے برعکس ایسے لوگ جو گستاخانِ رسول ﷺ قادیانیوں کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور گلے ملنے کی حالت میں آخرت کو سدھار گئے تو وہ اسی حالت میں اٹھائے جائیں گے...... آپ خود فیصلہ کریں کہ ان

صفحہ 608

میں خوش قسمت کون ہے اور بدقسمت کون؟ مجاہد ختم نبوت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ جب اُسے موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پر تبسم ہوتا ہے جبکہ گستاخ رسولؐ اور اس سے تعلق رکھنے والوں کے چہرے لعنت الٰہی کے سبب مسخ ہو جاتے ہیں۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو معلوم کرنا ہو کہ آسماں میں میرا کیا مقام ہے تو وہ اپنے دوستوں اور متعلقین کو دیکھ لے، اگر وہ سب مسلمان ہیں تو تیرا آسماں میں مقام ہے اور اگر وہ گستاخانِ رسولؐ ہیں تو تیرا آسمان میں کوئی مقام نہیں ہے۔

جو لوگ اپنی جہالت اور کم علمی کے زور پر یہ کہتے ہوئے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں، امت میں نہ صرف تفریق اور بگاڑ پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں میں مذہبی انتشار اور شکوک و شبہات بھی پیدا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں حضور ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ قیامت میں ایک آدمی لایا جائے گا جس نے دنیا میں نماز، روزہ، حج، تبلیغ سب کچھ کیا ہوگا مگر وہ عذاب میں ڈالا جائے گا، کیونکہ اس کی کسی بات نے امت میں تفریق ڈالی ہوگی۔ اس سے کہا جائے گا پہلے اپنے اس ایک لفظ کی سزا بھگت لے جس کی وجہ سے امت کو نقصان پہنچا اور ایک دوسرا آدمی ہوگا جس کے پاس، نماز، روزہ، حج وغیرہ کی بہت کمی ہوگی اور وہ خدا کے عذاب سے بہت ڈرتا ہوگا، مگر اس کو بہت ثواب سے نوازا جائے گا۔ وہ خود پوچھے گا کہ یہ کرم میرے کس عمل کی وجہ سے ہے؟ اس کو بتایا جائے گا کہ تُو نے فلاں موقع پر ایک بات کہی تھی جس سے امت میں پیدا ہونے والا ایک فساد رک گیا اور بجائے توڑ کے جوڑ پیدا ہوگیا۔ یہ سب تیرے اسی لفظ کا صلہ اور ثواب ہے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد آتا ہے کہ پل صراط جب میری امت کو لے کر ڈانوا ڈول ہونے لگے گا تو وہ آواز دیں گے: اے محمد ﷺ! اے محمد ﷺ! میں شدتِ شفقت و رحم کی وجہ سے ان کی طرف جلدی لپکوں گا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام میری کمر پکڑے ہوں گے، میں بلند آواز سے پکاروں گا: اے میرے پروردگار! میری امت پر رحم فرمائیے، میری امت کو بچا لیجیے۔ آج میں آپ سے اپنے اور اپنی بیٹی فاطمہؓ کے لیے کوئی سوال نہیں کروں گا، اور فرشتے پل صراط کے دائیں بائیں کھڑے کہہ رہے ہوں گے: اے پروردگار بچا لیجیے، اے پروردگار سلامتی عطا کیجیے!

اس وقت کی ہولناکی بڑی عظیم اور حالات بڑے ناگفتہ بہ ہوں گے۔ نافرمان

صفحہ 609

دائیں بائیں گر رہے ہوں گے اور زبانیہ نامی فرشتے انھیں زنجیروں اور طوقوں میں جکڑ رہے ہوں گے اور فرشتے یہ آواز دے رہے ہوں گے کہ کیا تمھیں گناہوں سے منع نہیں کیا گیا تھا؟ کیا تمھیں تمھارے نبی نے دوزخ کے عذاب سے نہیں ڈرایا تھا؟ کیا انھوں نے تمھیں اچھی طرح سے خبردار نہیں کیا تھا؟

برادرانِ کرام! اس وقت کے خوف و دہشت کو یاد کیجیے جو پل صراط اور اس کی تاریکی کو دیکھ کر طاری ہوگی، پل صراط جہنم پر لگا ہوگا، جہنم کالی سیاہ ہوگی، اس کی چنگاریاں اڑ اڑ کر لوگوں پر پڑ رہی ہوں گی، اس کے چنگھاڑنے، دھاڑنے اور اللہ کے ان نافرمانوں پر غصے بھری آواز کو یاد کیجیے جو ان لوگوں پر نکل رہی ہوگی، جنھوں نے خواہ زندگی میں ایک مرتبہ ہی نافرمانی کی ہو اور توبہ قبول ہوئے بغیر مر گئے ہوں۔ اس وقت کو یاد کیجیے جب گناہوں کا بوجھ پیٹھ پر لدا ہوگا، وہ تمھیں زمین پر چلنے بھی نہ دے رہا ہوگا، تو پھر بھلا اس کو لے کر پل صراط پر چل سکو گے جبکہ وہ چلنے والوں کو لے کر حرکت کر رہا ہوگا؟ اس میں ایک زبردست لرزش ہوگی جس سے قریب ہوگا کہ ایک ایک جوڑ اکھڑ جائے، برادرِ محترم! اس وقت کو یاد کیجیے جب آپ اپنا ایک پاؤں پل صراط پر رکھیں گے اور وہ کانپنے لگے گا اور آپ صرف ایک پاؤں پر کھڑے ہوں گے، پل کی باریکی اور پل والوں کی کثرت کی وجہ سے آپ صرف ایک پاؤں پر کھڑے ہوں گے، لوگ چیونٹیوں کی طرح جہنم میں گر رہے ہوں گے، ان میں سے بعض پھسلیں گے جہنم کی آگ ان کے اطراف کو کھا جائے گی۔ یہ حالت کافی عرصہ تک چلے گی یہاں تک کہ شفاعت نصیب ہو اور رسول اکرم ﷺ اسے یاد فرما لیں۔ لہٰذا عقلمند وہ ہے جو شفاعتِ رسول ﷺ حاصل کرنے کے لیے تحفظِ ختم نبوت کا کام کرتا ہے۔

معروف سیرت نگار محترم منیر احمد ملک محبت رسول ﷺ میں گندھی ہوئی اپنی گرانقدر غیر مطبوعہ کتاب ”نامے مرے محبوب ﷺ کے نام“ میں لکھتے ہیں:

ملت بھی ہے اور وقارِ زندگی بھی۔ حضور ﷺ کے اک ثنا گر کے الفاظ میں ”ایمان کی عمارت خواہ کتنی ہی بلند و بالا کیوں نہ ہو، اگر بنیادوں میں حُبِ رسول ﷺ کی آمیزش نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ تمام بلندی پستی کا اک ڈھیر ہے اور اس ڈھیر پہ کھڑے ہو کر خوشنودی خدا کا ایک ذرہ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا“ گاہے گاہے جبینِ خیال پہ یہ سوال بے ساختہ ابھر آتے ہیں کہ من

صفحہ 610

حیث القوم ہم بے ننگ و نام کیوں ہیں؟ ہماری پستی و ادبار، عسرت و نکبت، محکومی و غلامی کی وجہ کیا ہے؟ ہماری ملت بیضا عظمت رفتہ سے محروم کیوں ہے؟ ہماری امت مسلمہ قحط الرجال کا شکار کیوں ہے؟ ذلت و رسوائی، جبر و استبداد اور ٹھوکریں قوم رسول ہاشمی ﷺ کا کیوں مقدر بن چکی ہیں؟

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیء فرشتہ ہماری جناب میں

ان سوالوں کا جواب حکیم الامت علامہ اقبال کی بصیرت اور دور رس نگاہ میں کچھ اس طرح ہے:

شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماں چِرا زارند و خوارند
ندا آمد، نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

میں ایک رات مناجات میں بارگاہِ الٰہی میں زار و قطار رو دیا اور سوال کیا کہ مسلمان اتنے زار و نزار اور عاجز و خوار کیوں ہیں؟ جواب آیا کہ تو جانتا نہیں، یہ قوم دل تو رکھتی ہے مگر دلبر نہیں رکھتی۔ یعنی ان لوگوں کے پاس دل تو ہے مگر اس دل میں بسنے والا کوئی محبوب نہیں۔

ایک دانشور کا قول ہے ”غریب وہ نہیں جس کے پاس زاد راہ نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جس کی کوئی مراد (محبوب و مطلوب زندگی) نہ ہو“۔ یعنی نامراد وہ ہے جس کا کوئی محبوب و مقصود نہ ہو اور یہ ایک بہت بڑے زیاں کا سودا ہے کہ زاد لے لیا جائے اور مراد کو چھوڑ دیا جائے۔ رزق کی خاطر رزاق کو بھلا دیا جائے، دنیا سنوارنے کی خاطر دیں کو نظر انداز کردیا جائے، نتیجتاً نہ دین باقی رہتا ہے اور نہ دُنیا ساتھ دیتی ہے۔ عرب کے ایک فصیح البیاں شاعر کا بیان ہے: ”ہم دین کا ملبوس چاک کرکے اپنی دنیا کے ملبوس کی رفوگری کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ دنیا باقی رہتی ہے اور نہ دین۔ اس نامرادی اور ایمان کی محوریت سے محرومی نے مسلمانوں کو اوج ثریا کی بلندیوں سے تحت الثریٰ کی پستیوں میں گرا دیا ہے“۔

پروفیسر محمد اقبال جاوید کے الفاظ میں ”حکیم الامت کی نظر میں ملت بیضا کا دل ایک ایسا پھول ہے جو خوشبو سے محروم ہے۔ دل تمنائے محبوب سے زندہ ہوتے اور تابندہ رہتے ہیں۔ اگر آرزو کی یہ لطافت اور یاد کی یہ چاہت چھن جائے تو نخل دل کے برگ و بار

صفحہ 611

مُرجھا جاتے ہیں اور زندگی ویرانیوں کا مرکز بن جاتی ہے، گویا دل کی بہار گل ہائے آرزو کے مہکنے سے ہے۔ اسی لیے دل کو شہر آرزو کہتے ہیں۔ شہر آرزو محبوب کے تصور سے ہی بستا ہے اور محبوب کے تصور کے بغیر دل محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اور اس دل سے نکلنے والی آواز محض بے کیف الفاظ کا مجموعہ تو ہو سکتی ہے مگر اس میں اثر آفرینی کی نشتریت پیدا نہیں ہو سکتی۔ عقل سے لے کر حکمت تک، علم سے لے کر نظر تک اور خودی سے لے کر بے خودی تک جتنی منزلیں ہیں، ان تک پہنچنے کے لیے علامہ اقبالؒ کے نزدیک اُسوہ حسنہ ہی واحد راستہ ہے۔ یہی وہ تعلق ہے جسے اپنا کر انسانی زندگی پہ مہر و ماہ رشک کرتے ہیں اور اس نسبت سے ہٹ کر زندگی بے آبروئی اور رسوائی کو اپنا مقدر بنا لیتی ہے۔

بقول تاجدارِ دار الاحساں ’’اے تہذیبِ حاضر کے متوالے! تیرا دل محبتِ رسول ﷺ سے سرشار نہیں، تیری روح میں بلالؓ کی سی تڑپ نہیں، تیرے قلب میں صدیقؓ جیسا سوز نہیں، تیرے کردار میں عمرؓ کا سا جلال نہیں، تیری نگاہ میں عثمانؓ کی سی حیا نہیں، تیرے پاس علیؓ کا فقر نہیں، تیری ہستی میں مولائے حسینؓ کے کردار کی مستی نہیں، تو کبھی ہیروں میں تلا کرتا تھا، آج تیری اتنی بے قدری کیوں؟ تیری بے قدری اُن ﷺ سے دوری کی بدولت ہے‘‘۔

تجھ سے مل کر زندگی مسجودِ مہر و مہ تھی
تجھ سے کٹ کر در بدر بے آبرو ہونے لگی

کہکشاں رنگ ’’اوج‘‘ کے نعت نمبر کے ایک تزئین کار کی خوبصورت سوچ میں:

’’زمانے کے درد و آشوب اور مصائب و آلام کے حوالے سے ملتِ اسلامیہ اپنے ادیبوں اور شاعروں کے وسیلے سے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں اپنا فسانۂ غم سناتی اور نگاہِ کرم کی طلب گار ہوتی رہی ہے۔ رومی و جامی، عرفی و خاقانی، سعدی و سینائی، قدسی و بوصیری، حالی و مینائی ایک ہی نگاہ کے تمنائی اور ایک ہی زلف کے اسیر ہیں۔ ان کے کفِ دستِ تمنا پہ حضور ﷺ کی نگاہِ التفات کے چراغ اب بھی جل رہے ہیں....... ’’چشمِ رحمت بکشا سوئے من اندازِ نظر‘‘....... ’’اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے‘‘ کی صدائے دلنواز اب بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے....... ملتِ بیضا کے آشفتہ لبوں پہ استغاثے کا رنگ اب بھی نمایاں ہے۔ کربلائے عصر کی تشنہ لبی ساقی کوثر کے درِ اقدس کی اب بھی تمنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ ہمارے قومی انحطاط اور دینی زوال کا سبب، جمال

صفحہ 612

مصطفےٰ ﷺ سے بیگانگی قرار دیتے ہیں اور قوم کے اس مرض کہن کا چارہ بھی بالآخر مولائے کائنات ﷺ کی نگاہ چارہ ساز ہی میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ ملت کے زخم بیکسی کا مرہم اور دردِ عاجزی کا دارو اُن کی نظر کرم ہی میں تلاش کرتے ہیں‘‘۔

مسلماں آں فقیر کج کلاہے
رمید از سینہ او سوز آہے
دلش نالد! چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

مسلماں وہ فقیر کج کلاہ ہے جسکے سینے سے آپ ﷺ کی محبت کا سوز رخصت ہو گیا ہے۔ اسی لیے اسکا دل محو گریہ ہے۔ وہ کیوں گریہ کناں ہے، وہ یہ نہیں جانتا۔۔۔ یارسول اللہ ﷺ!۔۔۔ اس کے حال زار پہ نگاہ کرم فرمائیے، اس پہ نظر عنایت کیجئے۔

مادیت کے اس پرفتن دور میں دین کا اثاثہ ہم سے لُٹتا اور محبت رسول ﷺ کی میراث ہم سے چھنتی جارہی ہے لیکن خاکستر دل میں شعلہ محبت رسول ﷺ کی چنگاری دبی ہے ابھی بجھی نہیں، نام مصطفےٰ ﷺ ہماری رگ جان پہ رقم ہے۔ کوشش اغیار کے باوجود زمانے کے ہاتھوں چھپا ہے، ابھی تک مٹا نہیں، محبت رسول ﷺ کی آبرو، شہیدانِ ناموس رسالت ﷺ کے دم سے قائم ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ کی عزت و ناموس پہ مر مٹنے والوں سے ابھی دنیائے رنگ و بو خالی نہیں ہوئی۔ خاکم بدہن! اگر میرے حضور ﷺ کی حرمت و تکریم پہ کہیں حرف آرائی ہو تو کوئی نہ کوئی دیوانہ غازی علم الدین شہیدؒ کی صدائے بازگشت بن کر اپنی جاں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی گریزاں نہیں ہوتا۔ جسم سے جاں کے جدا ہونے کا منظر محبت رسول ﷺ کے دیئے کی ٹمٹماتی ہوئی لَو میں تا حشر چراغاں کر جاتا ہے جس کی روشنی میں عشاق کا قافلہ سخت جاں فکر سود و زیاں سے بے نیاز سرگرم سفر رہتا ہے۔

ڈاکٹر سید محمد عبداللہ سابق پرنسپل اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور کا کہنا ہے: ’’مسلمان فراخ دل قوم ہے مگر اس کی فراخ دلی کا مذاق اڑا کر جب بھی کسی نے ان کے آقا و مولا ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو مسلمانوں نے موت کو زندگی پر ترجیح دی اور مسلمانوں کی یہ غیرت آج بھی قائم ہے۔۔۔۔ اگرچہ انگریزی تعلیم نے مسلمانوں میں بے حمیتی پیدا کر دی ہے مگر پھر بھی عوام الناس و جمہور مسلمان آج بھی اس گناہ کو برداشت نہیں کر سکتے‘‘۔

صفحہ 613

مشہور بیورو کریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے کافی حد تک صحیح لکھا ہے: ”رسول کریم ﷺ کے متعلق اگر کوئی بدزبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو اسی کا شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے، ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے، خواص میں یہ عقیدت ایک جذبے اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔“

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی امت نے بھی اپنے نبی ﷺ سے اتنی محبت نہیں کی جس قدر مسلمانوں نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ محبت رسول کے مظاہر سے مالا مال ہے۔ مسلمانوں نے آپ ﷺ کو ہمیشہ اپنے جان و مال اور اہل و عیال سے بڑھ کر چاہا اور آپ ﷺ کو اپنی تمام تر محبتوں کا مرکز و محور جانا۔ آپ ﷺ کی مقدس و مطہر حیثیت محض ایک محسن کی ہی نہیں بلکہ ایک مسلماں کا مرکز محبت بھی ہے۔ اس والہانہ عقیدت و ارادت کا نام ہی ایمان ہے اور اس کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ جس دل میں آپ ﷺ کی محبت نہیں، وہ پتھر کا ایک بے حس ٹکڑا تو ہوسکتا ہے مگر دل نہیں اور محبت بھی وہ جس کے آگے دنیا کی تمام محبتیں ہیچ ہیں۔ اس محبت کا سبب وہ دعوتِ حق ہے جس کے لیے آپ تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی اپنی ذات اس کا عملی پیکر تھی اور جس کے عملی نمونے کے سانچے میں حیاتِ انسانی کو ڈھالا جانا مقصود تھا۔

9 ہجری رمضان المبارک میں چند افراد پر مشتمل بنی ثقیف کا ایک وفد بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اس وفد کی آستانہ نبوت پہ حاضری کو تاریخ نے ایک منفرد مقام دیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسی قبیلہ کی طرف سے عروہ بن مسعود، حضور ﷺ کے پاس آئے۔ واپسی پر انھوں نے قریش کو بتایا کہ میں دنیا کے بہت سے شہنشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں لیکن محمدؐ سے ان کے ساتھیوں کو جو عقیدت و احترام، تعظیم و تکریم اور محبت ہے، وہ میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ محمدؐ وضو کرتے ہیں تو لوگ پانی پر اس طرح لپکتے ہیں کہ اُس کا ایک

صفحہ 614

قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں پاتا اور اگر وہ اپنے غنچۂ دہن سے اپنے لعاب اقدس کا زر گل زمیں کی زینت بناتے ہیں تو لوگ فرط عقیدت سے اس کو اپنے خوش بخت ہاتھوں اور زندگی افروز چہروں کا غازہ بنا لیتے ہیں۔ محمد ﷺ کے لب لعلیں پہ لفظ بوسہ دیتے ہیں تو لوگوں کے جسم و جاں ساکت وصامت ہو جاتے ہیں۔ محمد ﷺ کے لب گوہر بار کسی ارشاد کے لیے وا ہوں تو ہر جانثار اس کی تعمیل میں دیوانہ وار لپکتا تھا۔ ان کے سامنے لب کشا ہوتے ہیں تو ریشم کے سے کومل اور گداز لہجے میں ان کے سامنے دوزانو نیچی نگاہ کیے ہوئے۔

محبت کی تاریخ میں ایک اور روشن باب بھی رقم ہے کہ جنگ احد میں دشمنوں نے میرے حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کی خبر اڑا دی۔ آپ کی محبت کی ایک دیوانی اس خبر پہ گھر کی چوکھٹ سے نکل کھڑی ہوئی اور گلی گلی کی خاک چھاننے لگی۔ وہ ہر آنے والے سے میرے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھتی۔ ایک فرزانے نے کہا کہ تیری جنت تجھ سے روٹھ گئی ہے، دوسرے نے خبر دی کہ تیرا سہاگ لٹ چکا، تیسرے نے کہا کہ تیرا نام لیوا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ لیکن اس پگلی نے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر پھر وہی سوال دہرایا کہ میرے حضور ﷺ کس حال میں ہیں؟ درد مندوں نے تشفی دی کہ بخیر و عافیت ہیں مگر محبت رسول ﷺ میں بے چین دل کو چین کہاں؟ اس نے التجا کی کہ میرا محبوب نظر میری آنکھوں کو دکھا دو۔ غم گساروں نے محبوب دو جہاں ﷺ کی طرف اشارہ کیا تو دل صد پارہ کو قرار آ گیا اور آنکھ یہ کہتے ہوئے پُرنم ہو گئی۔ ؎

میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا
اے شہہ دیں ﷺ ! تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم

اسی معرکۂ احد میں جب کہ مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہوگئیں تو آپ ﷺ نے پکارا ”کون ہے جو مجھ پر جان دیتا ہے“ دفعتاً سات جاں نثار نکلے اور ایک ایک کر کے شمع رسالت پر قربان ہوگئے۔

قرآن وحدیث کے بحر بیکراں کے جواہر ریزے اس امر کی گواہی دیتے ہیں اور تاریخ اسلام کے تابندہ نقوش اس بات کے شاہد ہیں کہ محبت رسول ﷺ کی چنگاریاں ہمیشہ سے دل مومن کا عزیز ترین اثاثہ رہی ہیں۔ ایمان کا اولین تقاضا یہ ہے کہ دنیا کی ہر شے اور کائنات رنگ وبو کی تمام رعنائیاں محبوب خدا ﷺ پر نثار کر دی جائیں تو باوجود ان کے، حق تو

صفحہ 615

یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کیونکہ صفحہ ہستی اور فردوس بریں کے سب حسیں بھی اگر آپ کی خاک پاک کی گرد پر قرباں ہو جائیں تو جذبۂ صادق کی تسکین پھر بھی ممکن نہیں۔ جس شخص کا سینہ حُب رسول ﷺ کا امین نہیں، وہ سب کچھ تو ہو سکتا ہے مگر مسلماں نہیں اور جو تیرہ بخت آپ ﷺ کے دامن رحمت سے وابستگی کا دعویدار ہونے کے باوجود اپنے آقا مولا ﷺ کی ذات اقدس میں تنقیص کے پہلو تلاش کرتا پھرے، وہ مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں ہوسکتا۔ ایک سیاہ فام حبشی غلام (حضرت بلالؓ) کی کشت دل سوز و درد کی فصل سے لہلہا اُٹھی تو وہ ملت اسلامیہ کا مؤذن بنا۔ جب ایک کم سن نوجوان اسامہ بن زیدؓ یہ منشور لے کر اٹھا کہ ”غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے“ تو وہ سرکش عمائدین قریش کا سردار ٹھہرا۔

محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی

ذرا اپنی خرد کی جبیں پر فکر کا ستارہ سجا کر سوچئے اگر محبت رسول کا واسطہ درمیان سے اُٹھ جائے تو وہ کون سی دیوار ہوگی جو ہمیں کفار سے جدا رکھے گی؟ وحدت ملی اور قومی غیرت کس شے کا نام ہوگا؟ اور اگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ ان سب رشتوں اور وابستگیوں کی بنیاد حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے تو جو چیز تمہیں سید الانبیا رحمۃ للعالمین ﷺ کے دامن کرم سے جُدا کرتی ہے، ان کی عزت و احترام میں آڑے آتی ہے تو کیا وہ تمہیں ماں باپ، بہن، بھائی، مال و منال اور زندگی کی ہر اس خوشی سے محروم نہیں کرنا چاہتی جس سے تمہاری دنیاوی زندگی کے سہارے اور عاقبت کے تمام حسین تصورات وابستہ ہیں۔ ایسی طاغوتی (شیطانی) قوت جو تمہیں عشق و اطاعت رسول ﷺ اور احترام و توقیر کے تمام آداب سے تہی دامن کر دینا چاہتی ہے، کیا وہ قابل نفرت نہیں؟

اتحاد کا مرکزی تصور جب تک عشق و اطاعت رسالت مآب ﷺ نہ بن جائے، ہم ملت واحدہ نہیں بن سکتے۔ امتیازات رنگ و بو نسل و زبان و وطن اور علاقائیت کے باوجود اگر ہم تاریخی وحدت ہیں تو احکامات رسالت کی پابندی سُنتِ مطہرہ سے وابستگی اور عشق محمدی ﷺ کے جامع کلمہ کی بنا پر۔ بقول حکیم الامت ؎

دل بہ محبوب حجازی بستہ ایم
زین جہت بایک دگر پیوستہ ایم
صفحہ 616

پس ملت کے تمام طبقات کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ جو شخص حضورﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اشارتاً یا کنایتاً سوئے ادبی کرتا ہے، اُسے مسترد کر دیا جائے چاہے وہ کتنے ہی مقام و مرتبے کا مالک کیوں نہ ہو۔ کیا ہم وہی مسلمان ہیں جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھنے والی مٹی تہذیب کے چہرے کا غازہ بن جایا کرتی تھی، نہیں نہیں ! کیونکہ......... اپنی وفاؤں کا مرکز بدلنے والے پسر کبھی بھی میراث پدر کے سزاوار نہیں ہوا کرتے.......... اس نازک دوراہے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اُس گم گشتہ میراث سے ایک نئے ولولے کے ساتھ رشتۂ اُلفت جوڑیں۔ اگر ہم آج بھی اپنے اُجڑے ہوئے قلب وجگر کو مئے الفتِ رسول سے آباد کر لیں تو عظمتِ رفتہ گردش ایام کی طرح لوٹ سکتی ہے۔

اقبالؒ کے الفاظ میں......... ”یا رسول اللہﷺ ! ہماری زندگی کا راز آپؐ کے دامنِ کرم سے وابستگی میں مضمر ہے۔ آپ کا دامنِ بہار چھوڑ دینا مر جانے کے مترادف ہے۔ پھول کی طرح بادِ خزاں سے مرجھانے کے برابر ہے۔ آپ کا دامن ہمارے لیے بہار کے مانند ہے۔ جس طرح بہار سے جدائی پھولوں کے لیے موت کا پیغام ہے، اسی طرح امت مسلمہ کی زندگی آپ کے دامنِ کرم سے وابستگی اور موت اس سے علیحدگی میں ہے۔ ایک پیکر محسوس سے لافانی محبت کا اظہار، حسنِ جمال مصطفویٰﷺ کو جی بھر کے خراج تحسین اور ممدوحِ کائناتﷺ سے غیر معمولی عقیدت کا اظہار ایک مسلماں کے لیے نغمۂ بہار ہے۔ تم ریاضِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہو، بہار مصطفوی کی ہواؤں سے بڑھ کر پھول بن جاؤ۔ پہلے محبت رسول کی دل میں گرمی پیدا کرو، افعال ومقالاتِ رسول خود بخود شعار بن جائیں گے اور پھر دنیا وآخرت دونوں تمہارے دامن میں ہوں گے۔ محبتِ رسول کا دعویٰ اور خدا کی نافرمانی، مجھے اپنی جان کی قسم! یہ تو بڑی انوکھی بات ہے۔ اگر تم اپنے دعویٰ محبت میں سچے ہوتے تو اس کی اطاعت کرتے کیوں کہ محبت تو اپنے محبوب کی خشنودی کی تمنائی ہوتی ہے۔ محبت زبانی اقرار کا نام نہیں، عشق کا اولیں تقاضا اپنی ذات کو محبوب کے حوالے کر دینا ہے۔ محبت مکمل خود سپردگی مانگتی ہے اور محبوب کے رنگ میں رنگے جانا ہی محبت کا مقصود ہے“۔

بلاشبہ محبت رسولﷺ تقاضائے ایمان اور مومن کی میراث ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اپنی اس وراثت کو حرزِ جاں بنائے رکھا، ثریا ہمارا ہدف تھی اور پروین ہماری شکار گاہ، رعب و دبدبہ ہماری دلہن، عزت و سر بلندی ہمارا حصہ، موت ہماری ادا، شہادت ہماری

صفحہ 617

تمنا، فتح ہمارا مقدر، حکومت و جہانبانی ہمارا حق اور کامیابی و کامرانی ہماری لونڈی تھی۔ جب ناعاقبت اندیشی کے سبب، ہم سے محبت رسول ﷺ کی دولت چھن گئی تو یہودی جرنیل کے پاؤں کی بے دردانہ ٹھوکریں نہایت خود نمائی اور خودستائی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شکستہ قبر سے پوچھ رہی تھیں ”اب تیری تُربت کے وارث کہاں ہیں؟“ ............. ہائے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی ...... جس نے فلسطین، شام، اردن، لبنان اور مصر پر حکومت کی، بیت المقدس فتح کیا، اس کی شہادت کے بعد اس کی ذاتی جائیداد کا حساب کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کے پاس ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ، ایک دینار اور 36 درہم کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ شدید خواہش کے باوجود محض رقم نہ ہونے کی وجہ سے حج نہ کر سکا۔

ایک سچے مسلمان کے نزدیک آپ ﷺ کی غلامی پہ ہزاروں آزادیاں قربان۔ اس متاعِ گرانما کے سامنے تمام ارضی و سماوی نعمتیں ہیچ ہیں۔ یہ ایک ایسا ید بیضا ہے جس کے مقابلے پر دنیا بھر کی دولت، سحر سامری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔محبوب سے تعلق ونسبت رکھنے والی ہر چیز کا ادب و احترام، تعظیم وتکریم، تقاضائے محبت ہے اور محبت مصطفیٰ ﷺ تقاضائے تکمیل ایمان ہے۔ محبت بھی ایسی کہ جس پر والدین کی عظمتوں کے مہکتے گلاب، اولاد کی محبتوں کی شگفتہ کلیاں، بہنوں کے لطف و کرم کے سنبل و ریحاں، شاہراہ زیست پہ چلنے والے ہمسفروں کی سچی رفاقتوں اور منزہ خلوص کے شجر ہائے سایہ دار، رشتہ داروں اور اعزہ و اقربا کی پر خلوص ہمدردیاں اور وفا کیشیاں، شب و روز جہد مسلسل سے حاصل شدہ مال ومنال، کاروبار زندگی کی وسعتیں، قصر ومحلات کی زیبائیاں اور رعنائیاں، ہاں ہاں یہ سب کچھ، چشم زدن میں بغیر تامل و فکر کے نچھاور وقربان کر دیا جائے تب حضورﷺ سے معیار محبت کا میزان بنتا ہے۔ بقول مولانا محمد اسلم شیخوپوری ”جہاں تک حضور سرور عالم ﷺ کا تعلق ہے تو آپ ﷺ کی محبت ہر مسلمان کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ آپ ﷺ کی یاد آنے سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ وہ آپ ﷺ کی غلامی کو آزادی سے کہیں زیادہ عزیز جانتا ہے۔ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ناموس سے زیادہ ناموس رسالت ﷺ کو حرز جاں بنائے رکھتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بظاہر دین سے دور دکھائی دیتا ہے، اس کی شکل وصورت اور سیرت وکردار سے اس کے محمدی ہونے کا بھی ثبوت نہیں ملتا لیکن ۔

صفحہ 618
دَر دلِ مسلم مقامِ مصطفیٰ ﷺ است
آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ ﷺ است

کے مصداق دلِ مسلم میں محبت رسول ﷺ کا آبگینہ انتہائی نازک ہے۔ جب اس کو ٹھیس لگتی ہے یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، دل کے پہلو میں محبت رسول ﷺ کی سلگتی ہوئی چنگاری شعلہ جوالا بن جاتی ہے اور وہ دریدہ دہن کی گستاخ زباں کو گدی سے کھینچ لینے کے لیے تڑپنے لگتا ہے۔ یہ محبت کا معاملہ ہے جو حضور ختمی مرتبت ﷺ سے جا ملتا ہے۔

بقول جناب محمد عارف برلاس ”روحِ محمد ﷺ ہی تو وہ آکسیجن ہے جس کے بغیر ہماری زندگی بے معنی ہے، یہ آکسیجن تو DNA کی طرح ہماری رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے اور کبھی DNA بھی کسی سے تبدیل ہوا؟“

حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زیدؓ کے لیے اپنے بیٹے سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا، میرے بیٹے نے مجھ سے شکایت کی کہ کیا اسامہؓ میں مجھ سے زیادہ فضیلت ہے کہ آپ نے اس کا وظیفہ مجھ سے زیادہ مقرر کیا ہے؟ میں نے کہا اسامہؓ کو تجھ پر یہ فضیلت ہے کہ وہ زیدؓ بن حارث کا بیٹا ہے جسے حضور نبی کریم ﷺ تیرے باپ سے زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے میرے نزدیک رسولِ خدا ﷺ کا محبوب، میرے محبوب سے زیادہ افضل ہے۔

ایک روز خواجہ غلام فریدؒ کی خدمت میں ایک ضرورت مند حاضر ہوا اور اپنے سیّد ہونے کے حوالے سے امداد کا طلبگار ہوا۔ آپ نے اس کی بے حد تکریم کی، شفقت سے اپنے پاس بٹھایا، خوب تواضع کی اور کچھ رقم دے کر اُسے رخصت کیا۔ خواجہ صاحب کا ایک مرید کہنے لگا ”حضور! یہ تو علاقہ جام پور کا ایک مراثی تھا! آپ نے فرمایا، مجھے معلوم ہے لیکن وہ اس عظیم ہستی ﷺ کے وسیلے کو لے کر میرے پاس آیا تھا جس کی محبت ایمان کی علامت اور جس کا احترام اسلام کی بنیاد ہے یہ غلام اپنے آقا ﷺ کے وسیلے سے کس طرح منہ موڑ سکتا تھا۔ یہ کہا اور آبدیدہ ہو گئے۔

غالبؔ ثنائے خواجہ ﷺ بہ یزداں گزاشتیم
کہ آں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد ﷺ است
صفحہ 619

قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں:

ملازمت سے ریٹائر ہونے والا تھا۔ اس کی تین جوان بیٹیاں تھیں۔ رہنے کے لیے اپنا گھر بھی نہ تھا۔ پینشن نہایت معمولی تھی، اسے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ ریٹائر ہونے کے بعد وہ کہاں رہے گا؟ لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہوسکیں گی؟ کھانے پینے کا خرچ کیسے چلے گا؟

اس نے مجھے سرگوشی میں بتایا کہ پریشانی کے عالم میں وہ کئی ماہ سے تہجد کے بعد رو رو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادیں کرتا رہا ہے۔ چند روز قبل اسے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے اُسے فرمایا کہ تم جھنگ جاکر ڈپٹی کمشنر کو اپنی مشکل بتاؤ، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ پہلے تو مجھے شک ہوا کہ یہ شخص مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، میرے چہرے پر شکوک و شبہات اور تذبذب کے آثار دیکھ کر رحمت الہی آبدیدہ ہو گیا اور بولا جناب! میں جھوٹ نہیں بول رہا، اگر جھوٹ بولتا تو اللہ کے نام پر بولتا، حضور ﷺ کے نام پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ اس کی اس منطق پر میں نے حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے فوراً کہا آپ نے سنا نہیں کہ ؎

باخدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہشیار

یہ سن کر شہاب لکھتے ہیں کہ میرا شک پوری طرح رفع تو نہ ہوا لیکن سوچا کہ اگر یہ شخص غلط بیانی سے کام لے رہا ہے تو کیا ہوا؟ اس عظیم ہستی کے اسم گرامی کا سہارا تو لے رہا ہے جس کی لاج رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے خفیہ طور پر اس کے ذاتی حالات کی تحقیقات کروائی تو تصدیق ہو گئی کہ وہ سچ بول رہا ہے۔ چنانچہ میں نے آٹھ مربعے زمین جسے جلد از جلد کاشت میں لایا جاسکے، رحمت الہی کے نام الاٹ کردی۔ تقریباً دس سال بعد جب میں صدر ایوب کے ساتھ کراچی میں کام کر رہا تھا تو ایوان صدر میں میرے نام ایک خط آیا جو کہ ماسٹر رحمت الہی کی جانب سے تھا۔ لکھا تھا کہ زمین پر محنت کرکے تینوں بیٹیوں کی شادی کردی ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ حج کا فریضہ بھی ادا کرلیا ہے۔ اپنے گزارے اور رہائش کے لیے تھوڑی سی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا کوٹھا بھی تعمیر کرلیا ہے۔ اب اسے ان آٹھ مربعوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ اس الاٹمنٹ کے مکمل کاغذات اس خط کے ساتھ

صفحہ 620

واپس بھیج رہا ہوں۔

شہاب کہتے ہیں کہ میں یہ خط پڑھ کر سکتے میں آ گیا اور اسی طرح گم صم بیٹھا تھا کہ صدر ایوب کمرے میں آ گئے تو انھوں نے استفسار کیا۔ میں نے انھیں رحمت الٰہی کا پورا واقعہ سنا دیا۔ وہ بہت حیران ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ رحمت الٰہی جیسے ہی تو لوگ ہیں جن کو نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوتی ہے‘‘۔

علامہ عبدالرشید غازی اپنے فکر انگیز مضمون ’’طویل رات‘‘ میں مسلمانوں کی بے حسی اور بے حمیتی پر نوحہ گری کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

دُور...... کروٹ پر کروٹ بدلے جاتا ہوں...... لیکن نیند ہے کہ آتی ہی نہیں...... یہ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے......؟ اللہ نے سب کچھ تو دے رکھا ہے...... مال و متاع، گھر بار، پرہیز گار بیوی اور فرما نبردار اولاد اور وہ سب کچھ جس کی کوئی تمنا کرے...... پھر ان میں سے کچھ بھی تو کھویا نہیں کہ جس پر فکر یا رنج ہو...... لیٹے لیٹے اچانک ایک منظر نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے...... عموریہ کا بازار ہے جہاں ایک عیسائی نے ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ مار دیا...... عورت نے روتے ہوئے دُہائی دی۔ ہائے معتصم!! مجھے سمجھ نہ آیا کہ عموریہ میں رہنے والی اس عورت نے تھپڑ پر اپنے خلیفہ کو دُہائی کیوں دی؟ وہاں سے سیکڑوں میل کی مسافت پر موجود خلیفہ معتصم باللہ کا اس مسئلہ سے کیا تعلق......؟ میرے نا خوابیدہ اور بے چین ذہن نے اس گتھی کو سلجھانے کی بہتیری کوشش کی لیکن ناکام رہا...... نیند ہے کہ آتی ہی نہیں اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ ...... ہر طرف شاہی دربان ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ خلیفۂ وقت اپنے شاہانہ تخت پر بڑی شان و شوکت سے جلوہ افروز ہے...... اس کے دائیں بائیں وزیر مشیر اور دیگر خواص اپنی اپنی مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہیں...... خلیفہ معتصم باللہ کا خصوصی کارندہ انھیں معمول کے حالات بتاتے ہوئے عموریہ میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ رسید ہونے کا واقعہ سناتا ہے تو اچانک خلیفہ اپنے تخت شاہی سے اٹھ کر اونچی آواز میں ’’لبیک‘‘ کہتا ہے۔ سب حیران ہیں کہ اچانک ایسے خوشگوار ماحول میں خلیفہ اتنی معمولی سی بات پر اتنا برہم اور بیتاب کیوں ہو گیا...... پھر خلیفہ اپنے درباریوں کے سامنے اس عورت کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس ملک پر لشکر کشی کے ارادے کا اظہار کرتا ہے۔ درباری اسے روکنے کے

صفحہ 621

لیے دباؤ ڈالتے ہیں کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ معروضی حالات اجازت نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔ زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔۔ اس قسم کے اقدامات میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ شورشیں امڈ امڈ آئیں گی۔۔۔۔۔۔ خواہ مخواہ دشمنیاں، دوریاں اور بدامنیاں پیدا ہو جائیں گی۔۔۔۔۔۔ پھر ہمارے حالات بھی اجازت نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔ اسلحہ کی کمی ہے۔۔۔۔۔۔ وسائل کا فقدان ہے۔۔۔۔۔۔ اس لیے جہاں پناہ! آپ ایسا ہرگز نہ کریں۔۔۔۔۔۔ لیکن خلیفہ بضد ہے کہ اس مسلمان بہن کی پکار نے میرا سکون غارت کر ڈالا ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے اب گھر اچھا لگتا ہے نہ کھانا، نہ پینا اور نہ ہی سونا۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا جب تک اپنی مسلمان بہن کا بدلہ نہ لوں۔۔۔۔۔۔ اور پھر خلیفہ وقت کے حکم سے طبل جنگ بجا دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ دربار کا یہ منظر اگرچہ میری نگاہوں سے غائب ہو جاتا ہے لیکن تاریخ کے بہت سے اوراق پارینہ میرے ذہن پر عکس ڈالتے چلے جاتے ہیں اور مجھے تاریخ کے دھندلکے میں اسی قسم کے کئی دیگر مناظر بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ احساس ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان ایک عام مسلمان کی حرمت و تقدس پر کٹ مر جایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ تاریخ کے یہ اوراق چونکہ میرے آباؤ اجداد کے ہیں، اس لیے بھی مجھے بھلے لگتے ہیں اور انھیں یاد کر کے کچھ سکون آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن نیند ہے کہ اب بھی کوسوں دور۔۔۔۔۔۔ اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

میں سوچتا ہوں کہ ایک عام مسلمان کی عزت و ناموس کی اس طرح قدر کی جاتی تھی تو پھر جو لوگ مراتب میں زیادہ ہیں۔۔۔۔۔۔ اللہ کے ولی ہیں۔۔۔۔۔۔ ان کی حرمت کی کیا قدر کی جاتی ہوگی؟ پھر علمائے دین، محدثین کرام، تابعین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت و عظمت اور ان کی حرمت کا کیا معاملہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ اور پھر تاجدار ختم نبوت ﷺ کے تو کیا ہی کہنے۔۔۔۔۔۔ یہی سوچتے سوچتے اچانک میرے ذہن پر یورپین اخبارات میں شائع ہونے والے توہین آمیز اور شرانگیز خاکے آ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ میں لرز جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اور پورے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکنیں یک دم تیز ہوتی چلی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ آنکھوں سے ایک سیل رواں ہے کہ جاری ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ دل کرتا ہے کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں۔۔۔۔۔۔ کرب ہے کہ ناقابل بیان۔۔۔۔۔۔ کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ یوں لگتا ہے کہ دل بے قابو ہو کر باہر نکل پڑے گا۔۔۔۔۔۔ یا اللہ! یہ مجھے کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔ میں نے تو بڑے بڑے حادثات کو بھی بڑے صبر و تحمل سے سہہ لیا۔۔۔۔۔۔ مجھ پر تو میرے والد گرامی کی شہادت کا دلدوز سانحہ بھی گزر گیا۔۔۔۔۔۔

صفحہ 622

لیکن اللہ جانتا ہے کہ اس وقت بھی مجھ پر یہ کیفیت طاری نہیں ہوئی ...... میں نے اپنے آپ کو سمجھانا شروع کیا ...... مجھے اس مسئلہ پر اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے ...... میرے اندر سویا ہوا ”روشن خیال“ یک بیک انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا ...... اور اس نے مجھے سمجھانا شروع کر دیا کہ دیکھو اس معاملے میں آخر تم کر ہی کیا سکتے ہو؟ پھر یہ کہ چند مذہبی جماعتوں کی طرف سے گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں اسی مسئلہ پر بھر پور مظاہرہ بھی کیا جا چکا ہے ...... اس میں بش کے پتلے جلائے گئے ...... گستاخ مغربی ممالک کے خلاف نعرے لگائے گئے ...... ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ...... یہ سب کچھ سوچ کر میرے دل کو ایک گونہ قرار سا آ گیا ...... اور میں دوبارہ بستر پر دراز ہو کر یہی باتیں سوچ کر نیند کی حسین وادیوں میں کھونے کی کوشش کرنے لگا ...... مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں کے مناظر مجھے تھپکیاں دے کر لمحہ بہ لمحہ پُر سکون کرتے چلے جا رہے تھے ...... لیکن ...... نہیں ...... ! نہ جانے کیوں دل کے اندر ایک بے نام سی خلش ہے کہ پھر سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ...... رہ رہ کر میرے دل سے درد کی ایسی ٹیسیں اٹھتی ہیں کہ میں تھرا کر رہ جاتا ہوں ...... ذلت کا احساس ...... ایسے جیسے کسی نے راہ چلتے سرعام مجھے غلیظ ترین گالی دے دی ہو ...... مجھے بھرے بازار میں رسوا کر دیا ہو ...... میرا دل بڑی تیزی سے دھڑکنے لگا ...... اور میں ایک مرتبہ پھر بے چین ہو کر کروٹیں بدلنے لگا ...... نیند ہے کہ کوسوں دور ہے اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ اگر کسی شخص کو بھرے بازار میں ماں کی گالی دے دی جائے تو کیا وہ خون خرابے پر نہیں اتر آئے گا ...... کیا وہ یہ تذلیل برداشت کر لے گا ...... اور پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ آج آقا مدنی ﷺ کی عزت و حرمت پر حرف آچکا ہے ...... کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہو گیا ...... مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی جملہ یاد آنے لگا جب انھوں نے کہا تھا ”دین میں کمی کی جائے اور میں زندہ رہوں، یہ کیسے ممکن ہے؟“ ...... لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ہمارے وہی معمولات، پہلے جیسے شب و روز، وہی قہقہے، وہی مسکراہٹیں، وہی کاروبارِ زندگی، وہی اللہ و رسول ﷺ سے بغاوت اور نافرمانی کا چلن ...... مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا ...... ایسے لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ...... ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ وقتاً فوقتاً مظاہرے ہو جاتے ہیں، ہم نعرے لگا کر، تقریریں کر کے، قراردادیں منظور کر کے، کچھ لکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں ...... ہم سمجھتے ہیں

صفحہ 623

کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو گئے۔...... میں سوچتا ہوں کہ کیا اتنا کافی ہے؟ میرے اندر سے آواز آتی ہے نہیں اور میں پھر بے تاب ہو جاتا ہوں...... اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں...... پھر وہی کیفیت کہ نیند ہے کہ کوسوں دُور اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ اسلام تو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی ہمارے لیے ہماری جان و مال، آل اولاد اور اعزہ واقربا سے زیادہ جب تک عزیز نہ ہو جائے تب تک ہمارا ایمان ہی کامل نہیں ہوسکتا...... لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ اگر کوئی ہماری ماں کی طرف نگاہِ غلط انداز میں اٹھائے تو ہم اس کی آنکھیں پھوڑ دینے کے درپے ہو جاتے ہیں...... کسی کی زبان ہمارے والد کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہو تو ہم اسے گدی سے کھینچ لینے کا قصد کر لیتے ہیں...... کوئی ہمارے بھائی کے ساتھ لڑ پڑے تو ہم کشت وخون پر تل جاتے ہیں...... لیکن ذرا ہم سب دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے معاملے میں ہمارے دلوں کی یہی کیفیت ہے...... ہمارے جذبات میں وہی تلاطم ہے؟ ہماری غیرت ایمانی میں ایسا ہی جوش وخروش ہے؟ یہ سوچ کر احساسِ رسوائی سے میرا سر جھک جھک جاتا ہے...... مجھے شرم سے پسینہ آنے لگتا ہے...... میں سوچتا ہوں کہ روئے زمین پر بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی ذلت ورسوائی میں اب کیا کسر باقی رہ گئی ہے؟

اے رحمت مجسم ﷺ! کفار نے ہماری بے غیرتی اور بزدلی کا سہارا لیا۔ انھوں نے بے شمار مظالم اور بے تحاشا ستم رانیوں کے بعد آخر اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا لیا۔ وہ سیاہ باطن گورے آپ ﷺ کی حرمت سے کھیلنے لگے، اُن کی دریدہ دہنی اور گستاخی نے خاکوں اور کارٹونوں کی شکل اختیار کر لی۔ آپ ﷺ کے نام لیوا بے بس اور بے کس تھے لیکن اس کے باوجود مراکش سے انڈونیشیا تک۔ وہ انتقام کا عزم لے کر میدانوں میں نکل آئے۔ اگر مسلم حکمران چاہتے تو وہ ان ممولوں کو وقت کے شہبازوں سے ٹکرا دیتے اور پھر دنیا عشق مصطفیٰ ﷺ کے حقیقی نظارے دیکھتی۔

مگر اے میرے آقا ﷺ!

آج ہم میں کوئی محمدؓ بن مسلمہ نہیں، کوئی عبداللہؓ بن عتیک نہیں، کوئی عبداللہؓ بن انیس نہیں، کوئی نورالدین زنگیؒ نہیں، کوئی صلاح الدین ایوبیؒ نہیں، ہاں آقا ﷺ! آج ہماری صفوں میں کوئی علم دینؒ، کوئی مرید حسینؒ، کوئی عبدالقیومؒ، کوئی عبدالرشیدؒ، کوئی بابو معراج دینؒ، کوئی

صفحہ 624

حاجی مانکؔ اور کوئی عامر چیمہؔ بھی نہیں، آقا ﷺ! کوئی بھی نہیں جو آپ ﷺ کے گستاخوں کے وجود سے اس صفحۂ ہستی کو پاک کر سکے۔

کاش آج کفر کی ان چالوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ریگستانِ عرب کے باسیوں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وفا کے سچے گیت گانے والوں، شعلوں کی باڑھ میں جسموں کو جھلسا دینے والوں، ننگی تلواروں کے سائے میں غیرت ایمانی رکھنے والوں کا سا ایمان مل جائے جو عظمتِ رسول ﷺ کی خاطر، توہینِ رسالت ﷺ کا انتقام لینے کے لیے سرفروشی اور جانثاری کا حق ادا کر کے، محبت رسول ﷺ کی عظیم ادائیں، تاریخ کے صفحات پر روایتی الفاظ سے نہیں، سطحی روایتوں سے نہیں بلکہ اپنے چھالوں سے نیلگوں پانی اور اپنے تازہ خون کے سرخ قطروں سے تحریر کروا سکیں۔ ڈھونڈھ اے چشمِ عبرت ڈھونڈھ! شاید تجھے کہیں سے فاروقیؓ کردار کے حامل جوان مل جائیں جن کے سینوں میں غیرتِ حق کی کوئی رمق باقی ہو۔ کوئی زبیر بن عوامؓ کا سا پیکر مل جائے جس کے سینے میں غیرتِ حق نے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کی آگ بھر دی ہو‘‘۔

نامور اسلامی سکالر جناب پروفیسر سیّد عبدالرحمٰن بخاری ’’ناموس رسول ﷺ اور عہدِ جدید کا چیلنج‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

’’دنیا بھر کے کافروں کو اگر سچ مچ کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ مسلمانوں کا جذبۂ عشقِ رسول ﷺ ہے۔ انھیں ڈر ہے تو شہیدانِ ناموس رسالت ﷺ کے لہو کی سرخی سے۔ وہ کانپتے ہیں غازی علم دین شہیدؒ کی تڑپ اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے جذبوں سے۔ غازی مرید حسین شہیدؒ کی امنگوں اور غازی محمد صدیق شہیدؒ کے ولولوں سے۔ وہ گھبراتے ہیں غازی میاں محمد شہیدؒ کے جوش بے پایاں اور غازی عبداللہ شہیدؒ کے عزمِ جواں سے۔ ان کا بدن لرزتا ہے غازی عبدالرشید شہیدؒ کی جرأت اور غازی عامر چیمہ شہیدؒ کی للکار سے۔ وہ جانتے ہیں عالمِ کفر کی موت جن مسلمانوں کے ہاتھوں لکھی ہے، وہ شمع رسالت ﷺ کے ایسے ہی پروانے ہیں۔

چودہ صدیوں پر پھیلی تاریخ گواہ ہے کہ شمع رسالت ﷺ کے انھی پروانوں نے شجرِ اسلام کی آبیاری ہر دور میں اپنے لہو سے کی ہے۔ اسلام انھی کے دم سے ہر عہد میں تابندہ رہا ہے۔ صحابیتؓ اسی جذبۂ عشق مصطفیٰ ﷺ اور والہانہ سرفروشی سے دمک رہی ہے۔ اہلِ بیتؓ کی جاں نثاری نے ریگ زارِ کربلا میں اپنے لہو کی جو سرخی نچوڑی تھی، آج بھی اسلام کے گلشن میں

صفحہ 625

ساری بہار اسی کی ہے۔ یہ عشق مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ ہی ہے جو ایمان کی کھیتی کو ہرا بھرا رکھتا ہے۔ اس بات کو جتنا کفار جانتے ہیں، اتنا شاید مسلمان بھی نہیں جانتے۔ اس لیے دنیا بھر کے کفار سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے اس جذبۂ عشق رسول ﷺ سے ڈرتے ہیں اور وہ صدیوں سے اپنی ساری توانائیاں اسی ایک نقطے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اہل ایمان کے دل سے جذبۂ عشق رسول ﷺ کی تپش مٹا دیں۔ یہی ان کا منصوبہ کل بھی تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا اور یہی ہے عہد جدید کا سب سے بڑا چیلنج عاشقان رسول ﷺ کے لیے۔

چنانچہ علامہ اقبالؒ نے عہد حاضر کی ابلیسی طاقتوں کے دجل وفریب، مکر و سازش اور فتنہ و آزار کی تمام پرتیں کھول کر دکھا دی ہیں۔ اپنے ایک شعر میں وقت کے اس نباض نے عہد جدید میں امت مسلمہ کے سب سے بڑے اضطراب اور المیہ کو یوں اجاگر کیا ہے ؎

عصر ما، ما را زما بیگانہ کرد
از جمال مصطفیٰ ﷺ بیگانہ کرد

ترجمہ: ہمارے زمانے نے ہم کو ہم سے بے گانہ کر دیا ...... اور جمال مصطفیٰ ﷺ کے عرفان سے بے گانہ کر دیا۔

جمال مصطفیٰ ﷺ سے اہل ایمان کو بیگانہ کرنے کی سازش کہاں سے پھوٹی اور کیسے پروان چڑھی، یہ عالم آشکار ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام دشمن قوتیں تاریخ کے مختلف ادوار میں دین حق کو مٹانے کے لیے اپنے سب حربے آزما چکیں، لیکن اسلام مٹنے کے بجائے مزید ابھرتا گیا۔ سکڑنے کے بجائے اور پھیلتا گیا۔ دبنے کے بجائے سب پر حاوی ہوتا گیا۔ دیکھو مدعیان نبوت ابھرے اور دم توڑ گئے۔ مرتدین بھاگے اور مٹ گئے یا لوٹ آئے۔ سبائی، فتنے لے کر اٹھے اور خود بھی فتنوں سمیت معدوم ہو گئے۔ خارجی بگڑے اور لڑ لڑ کر ختم ہو گئے۔ یورپ کے صلیبی لشکر طوفان اٹھاتے ہوئے آئے اور صدیوں تک آتے رہے لیکن مجاہدین اسلام کے گھوڑوں کی اڑائی ہوئی گرد میں ڈوب گئے۔ تاتاری صحرائے گوبی سے اٹھے اور آندھی بگولے کی طرح ہر سو چھا گئے، مگر جب وہ اہل اسلام کی کھوپڑیوں کے مینار بنا چکے، تو یکبارگی پلٹے اور سب کے سب حلقہ بگوش اسلام ہو کر کعبہ کی دہلیز پر جھک گئے۔ بقول اقبال ؎

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
صفحہ 626

تاریخ کے یہ سب ادوار جب دشمن دیکھ اور بھگت چکا تو اس نے فیصلہ کیا کہ اب اپنے ترکش کا آخری تیر چلا دینا چاہیے تا کہ امت مسلمہ کا سینہ ایسا گھائل ہو کہ پھر یہ زخم مٹ نہ سکے۔ یہ تیر کون سا تھا، اور یہ کس زہر ہلاہل میں بجھا ہوا تھا؟ اس کا رمز شناس بھی دانائے عصر علامہ اقبالؒ ہی ہے۔ وہ بیسویں صدی میں استعمار کی حکمرانی کا راز فاش کر رہا ہے اور ابلیس کا اپنے فرزندوں کے نام سے سب سے بڑا حکم سنوا رہا ہے۔ لیجئے سنیے! ابلیس کا سب سے بڑا حکم کیا تھا؟

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

یہ حکم بیسویں صدی کے آغاز میں جاری ہوا اور پھر شیطان کی ذریت اس آخری مشن کی تکمیل میں لگ گئی۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جھوٹی نبوت کا دعویدار آنجہانی مرزا غلام قادیانی ابھرا اور اپنے پیچھے ایک ایسی نجس تاریخ چھوڑ گیا ہے جس کے تعفن سے ہمیشہ انسانیت کا دم گھٹتا رہے گا۔ فتنہ مرزائیت، اسلام کے خلاف انگریزوں کی ایسی بدترین سازش ہے جسے انھوں نے محض شروع ہی نہیں کیا بلکہ آج تک اسے پال رہے ہیں اور ایک سو سال سے زیادہ عرصہ پر پھیلی ہوئی اس سازش کی مسلسل لمحہ لمحہ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔..... مرزا قادیانی تو نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد 7 سال کے اندر اندر مر گیا۔ لیکن اس کے مکر وفریب کا پردہ اسی وقت پوری طرح چاک ہو گیا تھا اور یہ بات اس کے سر پرستوں کے لیے بہت پریشانی کا باعث تھی۔ ان کی سازش پہلے ہی لمحے ناکامی کے خطرے سے دوچار ہو گئی تھی۔ بس یہی وہ مرحلہ تھا جب انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اس خود کاشتہ پودے کو آخر تک انھیں خود سنبھالنا ہوگا۔ لمحہ لمحہ اس کی نگہداشت کرنی ہوگی۔ اسے ہر موسم کی سختی سے، ہر باد مخالف کے تھپیڑے سے، ہر خطرے اور ہر اندیشے سے بچانا ہوگا اور داد دیجئے کہ اب تک وہ اپنے اس فریب کو پوری طرح نبھا رہے ہیں اور بڑی کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

انگریز اچھی طرح اس بات کو جانتے ہیں کہ آج اگر انھوں نے مرزائیت کی سر پرستی چھوڑ دی تو یہ فتنہ لمحوں میں اپنی موت آپ مرجائے گا۔ انھیں یہ بھی احساس ہے کہ مرزائیت کی موت، یہود و نصاریٰ کی ایک اور بدترین صلیبی شکست ہو گی۔ کیونکہ مرزائی امت مسلمہ کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں، یہ ان کی اپنی نہیں، صلیبیوں کی جنگ ہے۔ کیا بد نصیبی ہے

صفحہ 627

مرزائیوں کی۔ خدا نے انھیں فاران کے چاند سید المرسلین ﷺ کے سایۂ رحمت سے نوازا، مگر انھوں نے مہتاب عرب ﷺ کی ٹھنڈی، میٹھی، کومل چاندنی کو ٹھکرا کر نصرانیت کی صلیب اٹھا لی اور امت مسلمہ کے خلاف بیسویں صدی کی سب سے مکروہ صلیبی جنگ شروع کر دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر پچھلی صلیبی جنگ کی طرح بالیقین اس تازہ صلیبی جنگ میں بھی آخری فتح اسلام ہی کی ہوگی اور تاریخ انسانیت کی بدترین شکست کا داغ بالآخر قادیانیوں کے مکروہ چہرے پر ثبت ہوگا کہ یہی خدا کا اٹل فیصلہ ہے۔

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (بنی اسرائیل: 81)

حق آگیا اور باطل نابود ہو گیا بیشک باطل کو نابود ہونا ہی تھا۔

ذرا بیسویں صدی کی تاریخ پڑھیے۔ واقعات کا تسلسل دیکھیے۔ حالات کے نشیب و فراز میں جھانکیے۔ زندگی کی پاتال میں اتریے۔ افراد کو جانچیے۔ ملت کو پرکھیے۔ قدم قدم اسی امتحان عشق کا سفر طے ہوتا نظر آئے گا۔ لمحہ لمحہ اسی آزمائش میں گزرتا محسوس ہوگا اور نفس نفس اسی ابتلا کا گداز ہوگا۔ دیکھیے، بیسویں صدی کا سورج چمکتے ہی خدا نے قادیان کے ملعون مرزا قادیانی کو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے سامنے امتحان بنا کر کھڑا کر دیا۔ 1901ء تک مرزا خود کو مہدی اور مسیح موعود کہتا رہا۔ 1901ء میں برملا اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور یہ دعویٰ خاتم الانبیا حضرت محمد ﷺ کو ماننے والے ہر مسلمان کے جذبۂ عشق کا امتحان تھا۔ مرزا کے خبیث ذہن کی سازش، اس کے وجود کی ہر حرکت اور اس کی زبان کی ہر جنبش اہل محبت مسلمانوں کا امتحان بن گئی۔ وہ جب تک زندہ رہا، اس کی ہر سانس محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیوانوں کا امتحان تھی اور جب وہ مر گیا تو اس کی ہر یادگار ہمارے جذبۂ عشق رسول ﷺ کے لیے سراپا چیلنج بن گئی اور جب تک اس دھرتی کے سینے پر ایک بھی مرزائی سانس لیتا رہے گا، اہل محبت کا امتحان باقی رہے گا۔

انگریز برصغیر میں اترا تو اسے یہاں دو قوتیں نظر آئیں، ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ انگریز نے فیصلہ کیا وہ ان دونوں قوموں کو باہم لڑاتا اور خود ان پر حکومت کرتا رہے گا۔ بس پھر کیا تھا۔ انگریز نے ہندو مسلم لڑائی شروع کرا دی۔ مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑی لڑائی، ان کے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ ہے، اور انگریز نے ایسے ہندو ڈھونڈ لیے جو سرور کائنات محسن انسانیت ﷺ کی ناموس اطہر پر حملے کرنے لگے۔ کہیں راجپال سامنے آیا اور کہیں نتھو رام، کہیں چرن داس اٹھا اور کہیں پالا مل سنار۔ کہیں چلیپل سنگھ

صفحہ 628

بڑھا اور کہیں رام گوپال ۔ کہیں نینوں مہاراج ابھرا اور کہیں لیکھ رام ۔ غرض یہ کہ شردہانند اور اس کے چیلے میرے آقا ومولا رحمت دو جہاں ﷺ کی توہین کرتے رہے اور اہل عشق ومحبت کے لیے امتحان گاہ سجاتے رہے۔

خدا کا شکر ہے، امت اس امتحانِ عشق رسول ﷺ میں سرخرو ٹھہری اور خاص طور پر برصغیر کے مسلمان ۔ بیسویں صدی کے ہر طلوع ہوتے سورج کی پہلی کرن، ہر ڈھلتی شام کی آخری لو، ہر شب چاند کی سندر کومل چاندنی، ہر فصل بہار کی شادابی، ہر کھلتے پھول کی رعنائی، ہر بہتے دریا کی روانی، ہر چہچہاتے طائر کی نغمہ خوانی، ہر چہرۂ جمال کی تابانی، ہر خاموش روح کی ترنگ اور ہر دھڑکتے دل کی امنگ اس بات کی شہادت دے گی کہ رحمت کائنات سرور دو جہاں ﷺ کے غلاموں نے عشق کے ہر امتحان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وفا کی لاج نبھائی ہے۔

ادھر راجپال، چرن داس، نتھو رام، پالامل، چنچل سنگھ، رام گوپال، نینوں مہاراج، لیکھ رام اور شردہانند نے سر اٹھایا اور ادھر شمع رسالتؐ کے پروانے علم الدین، عبدالرشید، مرید حسین، میاں محمد، عبدالقیوم، محمد صدیق، خدا بخش، عبداللہ اور عبدالرحمٰن یکے بعد دیگرے اٹھے اور ان گستاخوں کے سر کچل کر خود پروانہ وار اپنے آقا ومولا ﷺ کی ناموس اطہر پر قربان ہو گئے۔ کیا امتحان عشق میں اس سے بڑھ کر سرخروئی کی اور کوئی ادا ہوگی! ان شہیدوں نے اپنے خون سے محبت اور وفا کی وہ انمول داستان لکھی ہے جس پر زمین کے سب ذرّے اور آسمان کے سب تارے ہمیشہ ناز کرتے رہیں گے۔

عالمی سطح پر اس وقت اغیار کی دسیسہ کاریوں نے جو سب سے بڑی گھمبیر سازش اسلام کے خلاف بُنی ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف طرح طرح کے ان تازہ حملوں میں جھلک رہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ عہدِ موجود میں اہل ایمان کی غیرتِ دِینی کے شعلے بجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، علامہ اقبال کے الفاظ میں؎

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

آج دنیا میں ایک سو پچیس کروڑ مسلمان سانس لے رہے ہیں اور ہر سانس میں دُکھ کی آگ بھری ہے۔ ہر مسلمان کا سینہ چھلنی ہے۔ ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یا اللہ ! یہ

صفحہ 629

دن بھی آنا تھا کہ ہم جی رہے ہیں اور ہمارے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے ۔

اے غیرت ایمانی جاگ ذرا
میرے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے

اے دین حق کے متوالو!...... شمع رسالت ﷺ کے پروانو!...... کیا ہمارا ضمیر اب کبھی جاگ نہ پائے گا...... کیا رب کی دھرتی پر اب کبھی ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی شمعیں نہیں جلیں گی...... کیا اب ہمارے ایمان کی کھیتی سدا بنجر ہی رہے گی...... کیا حرمت رسول ﷺ پر جان نچھاور کرنے کے جذبے صرف ایک بھولی بسری تاریخ بن کر رہ جائیں گے...... ”حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے“ کے نعرے صرف دیواروں پر ہی سجے رہیں گے...... کیا ہمارے لہو کی بوندوں میں اب کبھی عشق رسول ﷺ کی بجلیاں رقص نہیں کریں گی...... کیا ہماری پلکوں میں اب کبھی یاد مصطفیٰ ﷺ کی نمی نہیں اترے گی...... کیا ہم خود کو شفاعت مصطفیٰ ﷺ کی آرزو سے ہمیشہ محروم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں......؟ کیا کہا...... نہیں!...... تو پھر...... قارئین کرام...... نکلیے اپنے گھروں سے باہر...... تھام لیجیے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا البیلا پرچم...... تا آنکہ چند کرنیں عشق مصطفیٰ ﷺ کی ہمارے وجود کی پہنائیوں میں تھرتھرانے لگیں...... اور ہمارے ایمان کو ایک بار پھر سہارا مل جائے...... نسبتِ رسول ﷺ کی بہاروں کا......

(”توہین رسالت ﷺ کے فتنے، تاریخ کے آئینے میں“ از پروفیسر سیّد عبدالرحمٰن بخاری)

جناب پروفیسر محمد اکرم رضا اپنے فکر انگیز مضمون ”تعلق بالرسول ﷺ کی ابدی گواہی، فدائے ناموس مصطفیٰ ﷺ غازی علم الدین شہید“ میں لکھتے ہیں:

”محبت رسول خدا ﷺ اہلِ ایمان کے لیے سرمایۂ اعزاز بھی ہے اور وجہ افتخار بھی۔ محبت رسول ایسی خوشبو کے مانند ہے جو کسی خوش بخت کے قلب و جاں میں بس کر نہ صرف اس کی حیات مستعار کو مہکا دیتی ہے بلکہ اس کی لطافت آفرینی سے وہ خوش بخت زمانے بھر کے لیے قابل صد رشک بن جاتا ہے۔ حضور ﷺ کی محبت اہلِ ایمان سے جن عملی رفعتوں کی متقاضی ہوتی ہے، ان میں سب سے اہم تقاضا ناموس مصطفوی ﷺ پر ہدیۂ جان نچھاور کرنا ہے۔ چودہ صدیوں سے زائد عرصہ پر محیط تاریخِ اسلام پر نگاہ ڈالیں تو مختلف ادوار میں عشاق دلنواز ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر متاعِ جاں تصدق کرتے نظر آتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا

صفحہ 630

دور قدسی ہو یا بعد کے ادوار، ہر جگہ اور ہر مقام پر فرزندان اسلام محبت وعقیدت کی عملی تفسیر پیش کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ہر مسلمان کے قلب و جان میں یہی حقیقت ابدی جلوہ گر نظر آتی ہے کہ زندگی وہی زندگی ہے جو شمع ناموس رسول ﷺ پر پروانہ وار قربان ہو جائے۔

زمانے کے افق پر ضوفشانی کے مظہر ایسے بے شمار عشاق رسول کے اسمائے گرامی دلوں کو حرارت ایمانی عطا کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے عظمت وشان مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء پر متاع حیات نثار کر کے نہ صرف محبت رسول ﷺ کے حقیقی تقاضوں کی بجا آوری کا حق ادا کر دیا بلکہ بارگاہ خداوندی میں خود کو حیات دائمی کا حقدار بھی ٹھہرا لیا۔ بزم عالم شاہد ہے کہ حق و باطل کی آمیزش میں غلامان مصطفیٰ نے حق کی سر بلندیوں کے لیے اپنی زندگیوں کی کبھی پروا نہیں کی۔ حضور ﷺ کی ذات گرامی، مرکز ومحور ایمان ہے، اس لیے باطل، عظمت اسلام پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمیشہ ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ضرب کاری لگانے کی کوشش کرتا ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بو لہبی

تاریخ عشق وعقیدت کے روشن اوراق گواہ ہیں کہ عشاق رسول کی لازوال قربانیوں کی بدولت ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع کی لو کبھی بھی مدھم ہونے نہیں پائی۔ جب بھی شرار بولہبی نے کسی شاتم رسول کے قالب میں سما کر عظمت وشان حضور ﷺ پر ضرب لگانی چاہی، اسی وقت کسی صاحب ایمان نے حبیب و زید رضی اللہ عنہما کی داستانوں کو دہراتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت اسلامیہ کے دلوں کی دھڑکنوں میں بسا دیا‘‘۔

جناب محمد اسامہ سروانوی اپنے ایمان پرور مضمون ”اک عشق مصطفیٰ ﷺ ہے، اگر ہو سکے نصیب“ میں لکھتے ہیں:

”ایک مسلمان کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ گناہگار ہے، روسیاہ ہے، خدا کا مجرم ہے لیکن وہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی ہاتھ ناموس رسالت ﷺ کے دامن کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ پھر مغربی تہذیب میں رنگے اس مسلمان پر سے مغربی مے کا نشہ ایک لمحے میں ہرن ہو جاتا ہے۔ ایمان کی چنگاری جس پر کروڑوں گناہوں کی دھول جمی ہوتی ہے، ایمانی غیرت کے ایک جھونکے سے سلگنے لگتی ہے اور سلگ کر

صفحہ 631

شعلہ جوالہ بن جاتی ہے۔ جذبات کا تلاطم پھر اس کے بس میں نہیں رہتا۔ وہ نیند کی حسین وادیوں میں کھونے کی کوشش کرتا ہے لیکن حرمت مصطفیٰ ﷺ کی پکار اسے جھنجھوڑنے لگتی ہے اور اس کا سکون تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔ پھر راکھ کے اس ڈھیر سے کروڑوں چنگاریاں جنم لیتی ہیں۔ توہین رسالت ﷺ کی چبھن اس میں بیداری کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ وہ بپھر جاتا ہے۔ سر پر کفن باندھ کر میدان عمل میں آ جاتا ہے۔ پھر یہ جنگ عقل کے دائرے سے نکل کر عشق کا غلاف اوڑھ لیتی ہے۔ پھر خرد کا نہیں، جذبات کی تپش کا معرکہ شروع ہو جاتا ہے۔ دشمن، وقت کے سمندر میں پتھر پھینکتا ہے لیکن جذبۂ عشق و محبت مدھم تک نہیں ہوتا، جب بھی اس بحر سکون پذیر کو حرکت دی گئی تو اس کی موجیں مخالف کو تنکا سمجھ کر بہا لے گئیں، شمع رسالت ﷺ کا کوئی پروانہ، میدان وفا میں قدم رکھتا ہے تو انجام و عواقب سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ آکسیجن کا نہیں، عشق رسول ﷺ کا سانس لیتا ہے۔ صفحۂ دہر میں ہر انسان پانی پی کر جیتا ہوگا لیکن مسلمان حب رسول ﷺ کی آب و ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن یاد رسول ہے۔ اس کی رگوں میں محبت رسول ﷺ گردش کرتی ہے۔ یہ آزادی کا نہیں، غلامیٔ رسول ﷺ کا طلب گار رہتا ہے۔ یہ ہر چیز کو ایمان اور عشق مصطفیٰ ﷺ کے ترازو میں تولتا ہے۔ یہ اپنے مقصود زندگی کو بیان کرتا ہے تو اس پیرائے میں

اک عشق مصطفیٰ ﷺ ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہانِ خراب میں

اور اس کے جذبات صرف الفاظ تک محدود نہیں رہتے بلکہ وقت آنے پر یہ سر بیچ کر اس متاع دل و جاں کو خرید کر دکھا دیتا ہے۔ اس کے نزدیک نعل نبی ﷺ کی نوک، تاج شاہی سے زیادہ معظم ہے۔ یہ حضور ﷺ کے نقش کف پا کو سجدہ گاہِ عشق سمجھتا ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ آب حیات، آپ ﷺ کے قدموں کی دھوون ہے اور خلعتِ شاہی آپ ﷺ کے لباس کی اُترن! یہ دیارِ حبیب ﷺ کے کوچوں کو جنت کے باغیچے سمجھتا ہے، یہ آقا کی گلی کے گدا کو اپنا امام سمجھتا ہے۔ یہاں آ کر اس کے پاؤں مصلحت کی بیڑیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس کے شکستہ اور مجروح جذبات کا ملبہ، کفر کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ اسی ذات پاک ﷺ سے ہماری حیات مستعار کی ہر آبرو وابستہ ہے جو جمال الٰہی کا آئینہ اور دست فطرت کا وہ عظیم شاہکار ہے جس پر حسن آفریں

صفحہ 632

بھی ناز کرتا ہے۔ یہ لفظوں کی شطرنج بچھانے سے زیادہ عمل کا جام پینے پر یقین رکھتا ہے۔ جب فکر وعمل کا چمن نہ ہو، ذوق کی رعنائی نہ ہو، شوق کی زیبائی نہ ہو، سجدوں کا کیف نہ ہو، آنسوؤں کی جھڑی نہ ہو، الغرض زندگی سراب بھی ہو اور خراب بھی تو پھر یہ احساس اسے اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ ذاتِ اقدس ﷺ میں کسی ماتھے کی سلوٹ، کسی نگاہ کا زاویہ اور کسی ہونٹ کی حرکت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس وفا کا سوز اسے کندن بنا دیتا ہے، بقول شاعر ؎

محبت جس کو خاکستر کرے گی، کیمیا ہو گا

ارے یہی احساس ہی تو ہے جس نے سوا چودہ سو سالہ تاریخ کے حاشیوں کو جانثاروں کے لہو سے گلرنگ کر دیا۔ اسی احساس نے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ”اسد اللہ“ کے لقب سے نواز کر حلقہ بگوش اسلام کیا تھا۔ آدمیت کے سروں کا جھومر بھتیجا جس پر ابو جہل کا ہاتھ اُٹھتا ہے اور جب اس کی اس حرکت کا علم فخر موجودات کے اس چچا کو ہوتا ہے جو غیرت وحمیت کا پتلا تھا تو بیت اللہ کے سامنے ابو جہل کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں: کیا تم نے میری موت کی خبر سن لی تھی، اس لیے میرے بھتیجے پر ہاتھ اُٹھایا؟ کان کھول کر سن لو، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی اتنے لاوارث نہیں ہوئے۔ محمد ﷺ کی توہین اگر اس لیے کی ہے کہ وہ نیا دین لے کر آئے ہیں تو حمزہ کی زبان سے بھی سن لو ”اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ و اشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ“۔ اسی احساس کی کوکھ سے عبداللہ بن عتیک جیسے مجاہد جنم لیتے ہیں جنھوں نے شقی القلب ابو رافع یہودی کے ناپاک وجود سے کرۂ ارض کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا تھا۔ یہی احساس محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو منظر کائنات پر لایا جنھوں نے گستاخ رسول کعب بن اشرف کو نارِ جہنم کا ایندھن بنا دیا تھا اور حرمتِ رسول ﷺ پر فدا ہونے کا سلسلہ صرف اسی دور کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ فدایانِ محمد ﷺ کا یہ لشکر ہر زمانے میں رہا ہے۔ آریہ سماج حیدرآباد کے سیکرٹری نتھو رام نے تاریخ اسلام کے نام سے کتاب لکھی جس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا، یہ بات غازی عبدالقیوم تک پہنچی تو انھوں نے کہا سندھ میں اس قدر مسلمان ہیں لیکن کسی نے یہ پوچھا تک نہیں کہ اس بدزبان کو شانِ اقدس میں یاوہ گوئی کی جرأت کیسے ہوئی؟ اس مردود کا فیصلہ انگریز کی عدالت میں نہیں، عبدالقیوم کا خنجر کرے گا۔ پھر واقعتاً ایسا ہی ہوا۔ کمرۂ عدالت میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ غازی عبدالقیوم بھی گئے اور نتھو رام کے قریب بیٹھ گئے۔ پھر

صفحہ 633

یکا یک خنجر نکالا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ نتھو رام بری طرح زخمی ہو گیا۔ اس کے ناپاک وجود سے ناپاک خون بہنے لگا اور علاج معالجہ سے قبل ہی وہ فنا فی النار ہو گیا۔ جج نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ غازی عبدالقیوم نے کہا اس خنزیر کی اولاد نے میرے آقا و مولا ﷺ کی گستاخی کی ہے اور اس کی سزا صرف یہی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں آئندہ بھی گستاخان رسولؐ کے لیے یہی کارروائی عمل میں لاؤں گا، جس کا مظاہرہ میں نے نتھو رام کے ساتھ کیا ہے۔ 13 اکتوبر 1933ء کو کراچی کی عدالت سے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ کیا منظر تھا! ادھر سے غازی کو موت کا پروانہ آتا ہے اور ادھر وہ بآواز بلند ”الحمدللہ“ کا نعرہ لگاتا ہے۔ عدالت کے کٹہرے سے نکلا تو نعرہ تکبیر بلند کرتا ہوا نکلا۔ 14 اکتوبر کو صبح دس بجے رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ والدہ محترمہ بھی موجود تھیں۔ رب کعبہ کی قسم! ہم اس ماں پر ناز نہ کریں تو کیا کریں جس کے لخت جگر کو چند لمحوں بعد تختہ دار پر جھولنا تھا، لیکن تاریخ ہمیشہ اس عظیم ماں کے الفاظ اپنے دامن امانت میں سنبھال رکھے گی جس نے کہا تھا۔ ”بیٹا! میں بہت خوش ہوں کہ تم نے ناموس سرور کونین ﷺ پر اپنے آپ کو قربان کر دیا ہے“۔ پھر چشم فلک نے وہ لمحہ بھی دیکھا کہ غازی نے لواحقین کو وصیت کرتے ہوئے کہا: ”میں شہید کر دیا جاؤں تو نہایت صبر سے کام لینا، اگر تم میں سے کسی نے آنسو بہائے تو میں بارگاہ سرور دو عالم ﷺ میں اس سے شرمندہ ہوں گا“ اور پھر اس عاشق صادق کی بے قرار روح پھانسی کے پھندے پر قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ پھانسی کے پھندے پر جھومتی ہوئی غازی کی لاش بزبان حال کہہ رہی تھی ؎

کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں

بالیقین غازی عبدالقیوم! تم نے عشق کا حق ادا کر دیا۔ عشق کی انتہا جان کی بازی لگا دینا ہے۔ سو وہ تم نے لگا دی۔ تمھیں نیا سفر مبارک ہو۔ بہشت کی نعمتیں مبارک ہوں لیکن میرے آقا ﷺ کی روح تو آج بھی تڑپ رہی ہے۔ آج تیرا کردار کون دہرائے گا؟ آج تجھ جیسی تاریخ کون رقم کرے گا؟ میرے آقا ﷺ! معاف کرنا! آپ ﷺ کی گستاخی پر گستاخی ہو رہی ہے لیکن ہم کچھ نہ کر سکے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ مغرب کے بھنگیوں کو، کوڑھ دماغوں کو نتھو رام بننے کا شوق ہے تو میرے آقا ﷺ! آپ ﷺ کی امت کا کوئی فرد بھی غازی

صفحہ 634

عبدالقیوم کی تاریخ دہرانا اپنے لیے سعادت سمجھے گا ۔

تیرے دماغ میں، تیرے دل میں اور تیری رگ رگ میں
نبی ﷺ کے عشق کا سودا نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘

حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ اپنے گرانقدر مضمون ’’ناموس رسول ﷺ اور سرفروشان اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ابھی اس وقت کی یاد ہمارے دلوں میں محفوظ ہے، جب ہمارے اقبال کا پرچم دنیا کے بڑے حصہ پر لہرا رہا تھا۔ انسانی آبادی کا بڑا رقبہ ہمارے زیرنگیں تھا۔ زمین کے گوشہ گوشہ پر اسلامی شوکت وسطوت کا ڈنکہ بج رہا تھا۔ اقتدار ہمارا غلام تھا، دولت ہماری کنیز اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں تھی کہ مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتی۔ لیکن ہماری بداعمالیوں اور سیہ کاریوں کی بدولت وہ حالت قائم نہ رہی۔ ہمارا اقبال رخصت ہوا، ہمارا عروج، زوال سے بدل گیا، ہمارا کارواں لٹ گیا، ہماری سلطنت تاراج ہوئی، ہم سے دولت چھن گئی، ہم مفلس اور دنیا والوں کی نظروں میں ذلیل ہو گئے اور بے شک آج ہم بیکس ہیں، محروم ہیں۔ لیکن الحمد للہ کہ خدا کا یقین اور اس کی عظمت، رسول ﷺ پر ایمان اور اس کی محبت جو غیر فانی دولت اور ازلی امانت ہے، ہمارے سینوں میں محفوظ ہے اور یہی وہ چیز ہے جو نہ صرف ہر مسلمان کے لیے طغرائے امتیاز ہے بلکہ وہ اس کو دنیا و مافیہا اور حتیٰ کہ اپنے دل و جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے۔

مسلمان سے اس کی دولت وثروت چھینی جاسکتی ہے، اس کی آبرو ریزی کی جاسکتی ہے، اس کے ماں باپ کو گالیاں دی جاسکتی ہیں، اس کو مارا پیٹا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی جان بھی لی جاسکتی ہے اور ان تمام چیزوں پر وہ صبر بھی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ اس کے سامنے اس کے روحانی سرتاج، اس کے آقا ومولا ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کیا جائے اور وہ اسے برداشت کرسکے۔ کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی عظمت وعزت کی حفاظت دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر سب سے زیادہ مقدم ہے۔ ہر مؤمن کا خدا سے معاہدہ ہے کہ تیرے نام کی عزت اور تیرے رسول ﷺ کے ناموس کے لیے جان تک کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کروں گا اور مسلمان زندگی میں جتنی بار ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پڑھتا ہے، درحقیقت وہ اس معاہدے کی تجدید کرتا ہے۔ قرآن نے اس کو بتلایا ہے کہ

صفحہ 635

مسلمان اسی وقت تک حقیقی ایمان کا حامل ہے، جب تک کہ وہ اپنی دولت، مکانات، باغات، عزیز واقارب، بھائی بہن، ماں باپ، بیوی بچے، حتیٰ کہ اپنی عزیز جان تک کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کے راستہ میں قربان کرنے کے لیے بالکل تیار ہو اور اگر ان چیزوں میں سے کسی کی وقعت خدا اور اس کے رسول ﷺ کی عزت وعظمت کے مقابلہ میں غالب آ گئی تو قرآن کی اصطلاح میں وہ مؤمن نہیں، منافق ہے۔

ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ ناموسِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے سلسلہ میں جو موت آئے، درحقیقت وہ موت نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی ہے۔

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اُن ﷺ کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

حضرت امام مالکؒ نے خلیفہ ہارون رشیدؒ کے اس خط کے جواب میں جس میں انھوں نے ایک گستاخ رسولؐ کے متعلق استفسار کیا تھا، اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا

”ما بقاء امة بعد سب نبيها“ نبی کو گالیاں دیے جانے کے بعد امت کی کیا زندگی ہے؟

ہمارا یہ محض زبانی دعویٰ ہی نہیں بلکہ تاریخ اسلام کا ہر صفحہ دنیا کے سامنے اس کے عملی نمونے پیش کر رہا ہے۔ غزوۂ اُحد میں شہید ہونے والے مسلمانوں میں ایک بزرگ صحابی حضرت سعدؓ بن ربیع انصاری ہیں، یہ دشمنانِ اسلام کی تلواروں سے شدید زخمی ہوئے، ایک طرف پڑے ہیں۔ ایک دوسرے انصاری صحابی اُبیؓ بن کعب، رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اس وقت ان کے پاس پہنچتے ہیں جبکہ ان کی مقدس روح اس خاکی قفس سے پرواز کر کے ملاء اعلیٰ میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بس خفیف سی کچھ رمق باقی ہے۔ حضرت اُبیؓ نے اس شہید ہونے والے بسمل نیم جان سے کہا ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے تم کو دیکھنے کے لیے بھیجا ہے؟“ یہ مبارک نام سنتے ہی نہ معلوم بدن میں کیا برقی طاقت سی دوڑ گئی، آنکھیں کھولیں اور فرمایا۔ میں بظاہر اس دنیا سے جانے والوں میں ہوں۔ پس حضور نبی کریم ﷺ کو میرا آخری سلام پہنچا دینا اور میری طرف سے انصار سے کہہ دینا کہ سعدؓ مرتے مرتے یہ کہہ گیا ہے کہ: ”لا عذر لكم عند الله تعالیٰ ان يخلص الى نبيكم وفيكم عين تطرف“ جب تک تم میں ایک مسلمان بھی زندہ ہے، اگر دشمن حضور ﷺ تک پہنچ گیا تو تم اللہ کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے کیونکہ تم نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ پر فدا ہونے کی

صفحہ 636

بیعت کی تھی‘ ۔ یہ فرمایا اور بس حضرت سعدؓ کی سعید روح منزل مقصود پر پہنچ گئی۔

اللہ اللہ جانکنی کے اس نازک وقت کو دیکھو اور سعدؓ کے ان والہانہ جذبات کو، پھر کیا یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے یہ سرفروشانہ جذبات (جو درحقیقت ان کو حضرت زیدؓ اور حضرت سعدؓ جیسے اسلاف سے وراثتاً ملے ہیں) کسی تدبیر سے دبائے جاسکتے ہیں:

یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے

مسلمان جب تک مسلمان ہے اور اس دنیا میں زندہ ہے، یہ ناممکن ہے کہ کوئی اس کے رسول ﷺ کی عزت پر حملہ کرے اور وہ برداشت کر سکے۔ یہ اس کی ذات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیارے اور مقدس دین کا معاملہ ہے۔ اس کی دینی غیرت کو یقیناً زبردست چرکا لگے گا۔ اس کی دینی حمیت کی آگ ضرور بھڑک اٹھے گی اور اس وارفتگی کے عالم میں وہ سب کچھ کر گزرے گا جو قانوناً اس کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لہٰذا اگر دنیا چاہتی ہے کہ مسلمان اپنی سرفروشی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ کوئی اس کے رسول ﷺ کی توہین کر کے اس کی دینی غیرت اور حمیت کو چیلنج نہ دے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو مسلمان کے دل کے نہایت نازک گوشہ میں نازک ترین مقام حاصل ہے۔ کسی دشمن اسلام کا اس میں قدم رکھنا بلکہ ترچھی نگاہ سے اس کی طرف دیکھنا بھی ایک آفت ہے۔

مسلمان کا مطالبہ یہ نہیں کہ ساری دنیا اس کے دین میں داخل ہو کر اس کے خدا کو خدا اور رسول ﷺ کو رسول ماننے لگے۔ اس کو اس پر بھی اصرار نہیں کہ تمام انسان خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اتنی ہی عزت کرنے لگیں جتنی کہ وہ خود کرتا ہے۔ بلکہ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کا نام دنیا میں عزت سے لیا جائے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ مسلمان ہی کا مطالبہ نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن کچھ بدقسمت، بدسرشت، وہ بھی ہیں جو انسانیت و شرافت کے اس معقول مطالبہ کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتے اور رحمت عالم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور پھر انجام وہ ہوتا ہے جو راجپال اور نتھو رام کا ہوا۔ اس پر حقیقت سے نا آشنا بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان دیوانہ ہے، وحشی ہے، بہیمانہ حرکتیں کرتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ کہنے والے خود احمق ہیں۔ ان کو مسلمانوں کے جذبات اور احساس کا اندازہ ہی نہیں، تہذیب و تمدن کے روشن خیال یہ مدعی ذرا مجھے بتلائیں کہ اگر کوئی بد نصیب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی

صفحہ 637

والدہ کے ساتھ بجبر حرام فعل کرے تو ان کی غیرت کا تقاضا کیا ہوگا؟ کیا اس وقت ان کی فطرت قانونی زنجیریں توڑنے پر مجبور نہ کرے گی؟ کیا وہ اس ناپاک حرام کار شخص کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا خود مٹ جانے کے لیے تیار نہ ہوں گے؟ اگر ان کی فطرت ماؤف نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور کر گزریں گے۔ تو پھر اس مسلمان کا کیا قصور ہے، جس کے دل و جان سے زیادہ عزیز، ماں باپ سے زیادہ قریب، حضور خاتم النبیین ﷺ کی توہین کر کے اس کے انتقامی جذبہ بلکہ اس کی اسلامی فطرت اور ایمانی غیرت کو خطرناک چیلنج دیا گیا ہو۔ میں غیر اسلامی دنیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے پیغمبر کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر کہ اور لوگوں کو اپنے ماں بہن کی عصمت دری کی۔

ہم تو یہی کہیں گے کہ اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں امن و امان رہے تو مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے مت کھیلو، ورنہ یقین رکھو کہ ہر راجپال کی گستاخیاں غازی علم الدین شہیدؒ، اور ہر نتھو رام کی گالیاں غازی عبدالقیوم شہیدؒ پیدا کریں گی اور پھر ملک کا امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا۔ اگر حکومت وقت چاہتی ہے کہ اس کی سلطنت میں اس قسم کی وارداتیں نہ ہوں تو اس کو چاہیے کہ روحانی پیشواؤں (حضرات انبیا علیہم السلام) کی عزت و حرمت کے قوانین کو سخت بنا کر پہلے راجپالوں اور نتھو راموں کی پیداوار روک دے۔ اس کے بعد خدا نے چاہا تو علم الدینؒ اور عبدالقیومؒ کی پیداوار خود ہی بند ہو جائے گی۔ لیکن جب تک یہ آگ نہیں بجھتی، غیرت مند مسلمان اس کو بجھانے کے لیے اپنی جانوں پر کھیلنے کے لیے ہمیشہ کمر بستہ رہیں گے‘‘۔

(ماہنامہ لولاک ملتان فروری 2007ء)

جناب میاں عبدالرشیدؒ اپنی کتاب ’’نور بصیرت‘‘ میں ایک ایمان پرور واقعہ لکھتے ہیں:

ایک سازش کے تحت ہندوؤں اور عیسائیوں نے حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں باقاعدگی سے دریدہ دہنی شروع کر رکھی تھی۔ دراصل غیر مسلموں کو مسلمانوں کی دو باتوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے، ایک عشق رسول پاک ﷺ سے اور دوسرے جذبہ جہاد سے۔ اس لیے ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے حضور ﷺ کی محبت اور جذبہ جہاد اور شہادت کا شوق نکال دیں۔

صفحہ 638

میرے ایک دوست فہد احمد اُن دنوں انگلستان سے ڈاکٹری پاس کر کے آئے اور بالم پور کے ہندو علاقہ میں بطور اسسٹنٹ سول سرجن تعینات ہوئے۔ بالکل مغربی وضع قطع میں رہتے تھے، داڑھی مونچھ مُنڈی ہوئی۔ مونہہ میں پائپ، نماز روزہ سے لاتعلق۔ مسجد سے دُور، کلب لائف کے رسیا، بالم پور کے آفیسرز کلب میں ان کے سوائے باقی سب افسر غیرمسلم تھے، ایک روز کلب میں ایک لمبے تڑنگے ہندو فارسٹ افسر نے حضور رسالت مآب ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ ہمارے دوست اگرچہ مغرب زدہ تھے، مگر برداشت نہ کر سکے۔ اس ہندو افسر کو پکڑا اور فرش پر دے مارا اور پھر لاتوں اور گھونسوں سے اس کی خوب مرمت کی، وہاں بہت سے ہندو افسر موجود تھے، مگر کسی نے آگے آنے کی جرأت نہ کی۔ اس ہندو افسر نے دوسرے روز خود بھی معافی مانگی۔

حضور ﷺ کے نام پر غیرت دکھانے کا یہ اثر ہوا کہ اس نوجوان مسلم افسر پر حضور ﷺ کی نظر کرم ہوگئی۔ خود بخود دین سے رغبت پیدا ہوگئی۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کی نماز باجماعت قائم ہوگئی، پھر دینی کتب کا شوق پیدا ہوا۔ خواب میں کعبۃ اللہ کی زیارت ہوئی۔ دو برس بعد جدہ میں ملازمت مل گئی، ساڑھے چار برس وہاں رہے۔ حج کیے۔ حضور ﷺ کے روضہ مبارک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ایک بزرگ کے وسیلہ سے روحانی دولت پائی۔ حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ بعد کی زندگی میں دنیوی اور دینی ہر دو نعمتوں سے مالا مال ہوئے، بیٹوں نے اعلیٰ عہدے پائے، بیٹیاں اچھے گھروں میں بیاہی گئیں اور یہ سب کچھ حضور ﷺ کے نام پر غیرت دکھانے سے پایا۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے

(نور بصیرت از میاں عبدالرشیدؒ)

نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرے ﷺ

حضور نبی کریم ﷺ کے اسم گرامی کی چاشنی کے سبب ”طول دادم داستانے را“ کے مصداق پروفیسر انور رومان کی زبانی پھول کلیوں سے مُرصع یہ روایت لب اظہار کی زینت ہے۔...... ماسٹر صاحب بولے ”ابے او چھوٹو بیٹھ جاؤ“...... بچے نے کھڑے ہو کر کہا ”جناب ! میرا نام چھوٹو نہیں ہے“، ”تو پھر کیا نام ہے تمھارا“ ماسٹر صاحب نے جھلا کر پوچھا ”جناب میرا نام

صفحہ 639

محمد جان ہے‘‘، ’’تو بیٹھ جاؤ جان صاحب‘‘ ماسٹر صاحب نے طنزاً کہا۔ ’’جناب! میرا نام جان صاحب نہیں، محمد جان ہے! محمد جان!‘‘ بچے نے زور دے کر کہا ’’تو آپ بیٹھ جائیں محمد جان!‘‘ ماسٹر صاحب ملائمت سے بولے تو بچہ اپنے نام کی نسبت کی چاشنی میں ڈوب کر یہ سوچتا ہوا بیٹھ گیا:

ہر چند کہ خاکِ کفِ پا بھی نہیں ہوں
نازاں ہوں کہ نسبت ہے مجھے نام سے تیرے

محمدﷺ کے نام پر......!

اللہ ایک مٹھاس بھرا لفظ ہے جس میں ساری کائنات کی شیرینی سما جاتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بکریوں کا ریوڑ چرا رہے تھے کہ ایک شخص قریب سے گزرا۔ گزرتے ہوئے اس نے اللہ کی شان میں ”سبحان الذی الملک والملکوت سبحان ذی العزة والعظمة والھیبة والقدرة والكبرياء والجبروت (ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس کی زمین و آسمان پر بادشاہی ہے، پاک ہے وہ ہستی جو عزت وعظمت، ہیبت و قدرت، بڑائی و دبدبے والی ہے) کے الفاظ بآواز بلند کہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے پیارے محبوب حقیقی کی تعریف اتنے خوبصورت انداز میں سنی تو دل مچل اٹھا، فرمایا ’’اے میرے بھائی!...... یہ الفاظ ذرا ایک مرتبہ اور کہہ دینا‘‘ اس نے کہا ’’مجھے اس کے بدلے میں کیا دیں گے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’آدھا ریوڑ‘‘ اس نے یہ الفاظ دہرا دیئے تو آپ کو اتنا حظ محسوس ہوا کہ بیقرار ہو کر فرمایا ’’اے بھائی! یہ الفاظ ایک مرتبہ پھر کہہ دیجئے‘‘ اس نے پھر کہا ’’اب مجھے اس کے بدلے میں کیا دیں گے؟‘‘ آپ علیہ السلام نے فرمایا ’’بقیہ آدھا ریوڑ‘‘ اس نے یہ الفاظ سہ بار دہرا دیئے۔ آپ کو محبوب کی تحسین سے اتنا کیف وسرور ملا کہ بے ساختہ کہہ اٹھے ’’اے بھائی! یہ الفاظ ایک مرتبہ اور کہہ دیجئے‘‘۔ اس نے کہا ’’اب تو آپ کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں، اب آپ مجھے کیا دیں گے؟‘ آپ نے فرمایا ’’میں تیری بکریاں چرایا کروں گا، تم ایک مرتبہ میرے محبوب کی تعریف اور کردو‘‘ اس نے کہا ’’اے ابراہیم خلیل اللہ! آپ کو مبارک ہو، میں تو ایک فرشتہ ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے کہ جاؤ میرے خلیل کے سامنے میرا نام لو اور دیکھو کہ وہ اپنے محبوب کے نام کے کیا دام لگاتا ہے؟‘‘

اب محبت کی اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ اللہ رب العزت کو اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ پیار اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہے۔ جس کا اظہار قرآن

صفحہ 640

مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ پر کیا ہے۔ جو شخص حضور کریم ﷺ سے محبت وعقیدت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمٰن سخن سرا ہیں کہ ایک دفعہ گورڈن کالج راولپنڈی کے انگریز پرنسپل مسٹر گورڈن فلیش مین ہوٹل میں ایک مذاکرے میں مدعو تھے۔ مذاکرے کی کارروائی کے بعد عشائیہ میں اُس وقت کی علمی ادبی شخصیات بھی مدعو تھیں۔ دوران گفتگو موضوع کا رُخ پاکستان میں موجود لیڈرشپ کی طرف مڑ گیا۔ ہر کوئی لیڈرشپ پر حرف آرائی میں سبقت لے جانے میں بڑھ چڑھ کر دلائل پیش کر رہا تھا جبکہ وہ انگریز پرنسپل سب کی باتوں کو بغور سن رہا تھا لیکن بحث میں حصہ لینے سے گریزاں تھا۔ اچانک ایک دانشور نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”مسٹر گورڈن!...... آپ بھی کسی شخصیت سے متاثر ہیں؟ انھوں نے فوری ہاں میں جواب دیا، سب اُن کی طرف دیکھنے لگے اور ان کی پسندیدہ شخصیت کو جانچنے کے لیے انتہائی بے تابی کا اظہار کرنے لگے۔ محفل میں خاموشی چھا گئی، آخر سکوت کو توڑتے ہوئے اس دانشور نے سوال کیا ”کیا آپ ان کا نام بتانا پسند کریں گے؟“ اُنہوں نے زیر لب مسکراتے ہوئے جواب دیا ”نام تو مجھے بھی معلوم نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان میں میرے طویل مدتی قیام میں اس جیسا سچا اور خوددار مسلمان میں نے نہیں دیکھا۔ سب نے تفصیل جاننا چاہی تو مسٹر گورڈن نے بتایا کہ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ گورڈن کالج سے متصل پارک میں (جو اب لیاقت باغ کے نام سے موسوم ہے)، میں روزانہ شام کو چہل قدمی کے لیے جایا کرتا تھا، ایک روز جونہی میں مین گیٹ کے اندر داخل ہوا اور جوگنگ کے لیے چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ ایک فقیر میلے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ میں کشکول اُٹھائے میرے سامنے آن کھڑا ہوا اور بڑی ہی لجاجت سے مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا ”بابا! یسوع مسیح (علیہ السلام) کے نام پر کچھ دے دو“۔ میں سنی ان سنی کر کے جوگنگ کے لیے چل پڑا، وہ یسوع مسیح کا نام ورد کرتا ہوا میرے مذہبی جذبات کو اپنے مطلب کے حصول کے لیے اُبھارتے ہوئے مسلسل میرا پیچھا کر رہا تھا، میں اُس کی اس حرکت پر سخت زچ ہو گیا اور اُس سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے میں نے بے ساختہ کہا ”تونے جو سارا دن مانگ مانگ کر اپنا آدھا کشکول سکوں سے بھر رکھا ہے، یہ سارے سکے محمد (ﷺ) کے نام پر مجھے کیوں نہیں دے دیتے؟“

اتنا کہنے کی دیر تھی کہ اُس مفلوک الحال شخص نے پورا کشکول میرے سامنے اُلٹ دیا

صفحہ 641

اور بچوں کی طرح میری منتیں کر کے انتہائی لجاجت سے کہنے لگا ”صاحب! میرے دن بھر کی یہ ساری کمائی خدارا لے لیجیے، مجھ پر آپ کا احسان عظیم ہوگا“ میں نے ہر ممکن کوشش کی اور ہر حربہ استعمال کیا کہ کسی طرح وہ اپنی ریزگاری واپس لے لے۔ بالآخر میں نے سارے سکے سمیٹ کر اس کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ وہ یہ جا وہ جا گیٹ سے باہر نکل چکا تھا لیکن اس کے کہے ہوئے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہے ہیں ”صاحب! ایک عیسائی نے میرے محبوب محمد ﷺ کے نام پر معمولی سی ریزگاری مانگی ہے۔ میرے لیے اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہوگی؟ کاش صاحب! آپ مجھ سے جان دینے کی بات کرتے تو بخدا اُن ﷺ کا یہ ادنیٰ امتی آپ کو بتاتا کہ ہمارے عشق کی انتہا کہاں تک ہے“۔

میری بینائی اور میرے ذہن سے محو ہوتا نہیں
میں نے روئے محمد ﷺ کو سوچا بہت اور چاہا بہت
میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں
میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت

(نامے میرے محبوب کے نام از منیر احمد ملک، ماہنامہ ”کاروان نعت“ لاہور اگست، 2011ء)

جناب قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں محبت رسول ﷺ سے لبریز ایک واقعہ لکھتے ہیں:

اسلام ﷺ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خاص جذباتی لگاؤ نہ تھا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث میکانکی طور پر کلمہ جانتا تھا اور دینیات کے استاد کے خوف سے نماز کی سورتیں اور دعائیں طوطے کی طرح رٹ رکھی تھیں۔ آبادی سے دور ایک مجنوں صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا اور ہمہ وقت ”لا الہ الا اللہ“ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست ”لا الہ الا اللہ“ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی غلط قافیے جوڑ کر مذاق بھی اُڑایا کرتے تھے۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتا ہوا گزرا جس کا ایک مصرع یہ تھا ع

محمد نہ ہوتے تو دنیا نہ ہوتی
صفحہ 642

یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا اور اس نے اسم محمد ﷺ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کے سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ اس زمانے میں شعوری طور پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے ساتھ یکساں بیگانگی تھی۔ پھر لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ یوں بھی عام مشاہدہ یہی ہے کہ اگر کوئی ہمیں گالی دے تو غصہ آتا ہے۔ ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو اور زیادہ غصہ آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف زبان طعن دراز کرے تو دل کڑھتا ہے اور گالی گلوچ تک نوبت آسکتی ہے لیکن رسول خدا ﷺ کے متعلق بد زبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ جذبہ یا جنون نہ تو کسی منظم تحریک کی پیداوار ہے اور نہ ہی کسی خاص برین واشنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس یہ تو ایک خود کار تخلیقی عمل کی طرح جنم لے کر فطرتِ انسانی کے ایسے نہاں خانوں میں پوشیدہ رہتا ہے جس کا بسا اوقات ہمیں خود بھی علم نہیں ہوتا۔ زیادہ نیک لوگوں میں عقیدتِ رسول ﷺ کی حدت پائی جاتی ہے اور نسبتاً کم نیک لوگوں میں عقیدتِ رسول ﷺ میں شدت پائی جاتی ہے۔ عقیدت کی حدت اور شدت کا یہ وسیع و عریض ہمہ گیر پھیلاؤ یقیناً اس آیت کریمہ کی منہ بولتی تفسیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بشارت دی ہے: ”ورفعنالک ذکرک: ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا“ (الم نشرح، 4)۔ ظاہری طور پر اس بشارت کا مظہر وہ ذکرِ رسول ہے جو درود و سلام اور اذان اور نماز میں بار بار ہر جگہ ہر آن لازمی طور پر کیا جاتا ہے لیکن باطنی طور پر اس کا کھلا مظہر احترامِ رسالت ﷺ کی وہ پوشیدہ حقیقت ہے جو ہر اچھے یا برے مسلمان کے لاشعور میں اسی طرح جاری و ساری رہتی

صفحہ 643

ہے جس طرح کہ خون اس کی رگوں میں گردش کرتا ہے‘۔ (شہاب نامہ: ص1217)

بقول شخصے ”شہاب نامہ“ میں واقعات دھیمے مگر تیکھے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ جناب قدرت اللہ شہاب کا یہی نیم طنزیہ انداز واقعہ کو لطیفہ کا رنگ دے دیتا ہے اور اگر واقعہ مرزائیوں سے متعلق ہو تو یہ طنز تیر کا کام دیتا ہے۔ ایوبی دور کا ایک دلچسپ واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔

تو ایک سینئر افسر وجد کی کیفیت میں آ کر جھومتے ہوئے اٹھے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر عقیدت سے بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”جناب آج تو آپ کے افکار عالیہ میں پیغمبری شان جھلک رہی تھی“۔ یہ خراج وصول کرنے کے لیے صدر ایوب نے بڑی تواضع سے گردن جھکائی۔ یہ سینئر افسر مرزائی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ معاً مجھے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں صدر ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ کے اڑن کھٹولے میں سوار ہو کر بھک سے اوپر کی طرف نہ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبارے کی ہوا نکالنے کے لیے میں بھی اس طرح عقیدت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا اور نہایت احترام سے گزارش کی ”جناب ان صاحب کی باتوں میں بالکل نہ آئیں، کیونکہ انھیں صرف خود ساختہ پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے“۔

(شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب صفحہ 874)

ایک اور موقع پر جناب قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں:

ہم سور کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا ایک من بھاتا ”کھاجا“ قیمہ کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خاں (سابق قادیانی وزیر خارجہ) بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکے اور رائی کی چٹنی میں ڈبو ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے، میں نے عفت سے کہا آج تو چوہدری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوایا ہوگا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو، پہلے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دونوں چوہدری صاحب کے پاس گئے۔ عفت نے پوچھا، چوہدری صاحب، یہ تو

صفحہ 644

آپ کی ریسپشن (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہوگا؟ چوہدری صاحب نے جواب دیا۔ ریسپشن (Reception) کی انتظامیہ کا محکمہ الگ ہے، قیمہ اچھا ہی لائے ہوں گے۔ لو یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا تو چوہدری صاحب بولے ”بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے“ دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا، یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟“

(شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب صفحہ 1068)

کالی کملی والا ﷺ

”معزز حاضرین! ہم صدق دل سے آپ کی یہاں تشریف آوری اور پوری دلجمعی سے شرکت پر شکر گزار ہیں۔ ایسی محفلیں دنیا داری کی مجلسوں سے ہزار گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہیں۔ ان میں شمولیت انسان کی عظمت و رتبے میں بلندی اور سعادت کا باعث بنتی ہیں۔

شرکائے مکرم! جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج کے اس نعتیہ مقابلے میں حصہ لینے والے تمام ثناء خوان اپنی پرسوز آواز میں انتہائی خوش الحانی سے نعت خوانی کر چکے ہیں۔ ہمارے معزز جج صاحبان آج کے نعتیہ مقابلے کے نتائج مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارا یہ پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے باہمی اشتراک سے آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

احباب معظم! چونکہ آج کے نعتیہ مقابلے کے تمام نعت خواں حضرات نے بہت محبت اور عمدہ طریقے سے نعتیہ کلام سنایا۔ ان میں سے کسی بھی نعت خواں کے انداز یا آواز کو دوسرے سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے ہمارے جج صاحبان کو بھی انعامی نتائج مرتب کرنے میں قدرے دقت پیش آ رہی ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک جج صاحبان فیصلہ مرتب نہیں کرتے، سامعین میں سے کسی صاحب کو نعتیہ کلام کا ذوق ہو تو وہ اسٹیج پر تشریف لے آئے...... خاموشی...... چونکہ پروگرام براہ راست دکھایا جا رہا ہے، اس لیے وقت کو انتہائی قیمتی سمجھتے ہوئے میں عرض گزار ہوں کہ جسے بھی عشق نبی ﷺ کا دعویٰ ہو، دل میں آپ ﷺ کی محبت ہو اور لب سے نعت کے پھول جھڑنے کو بے تاب ہوں تو وہ اسٹیج پر آ جائے اور نعت رسول مقبول ﷺ سنانے کی سعادت حاصل کرے......

صفحہ 645

ٹھک...... ٹھک...... ٹھک۔

سب حاضرین، پروڈیوسر، کیمرہ مین، ڈائریکٹر سمیت نعتیہ مقابلے کے کمپیئر سید زاہد گیلانی آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک اسی پچاسی سال کا ضعیف، سفید بالوں والا بابا لاٹھی کی ٹھک ٹھک کے ساتھ اسٹیج کی طرف آرہا تھا۔ ان کا دوسرا ہاتھ چودہ پندرہ سالہ بچے نے تھاما ہوا تھا۔ یہ کیا......؟ یہ کون ہے......؟ کیا یہ نعت سنائے گا جس کے منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت...... عشقِ نبی ﷺ کی اس عظیم الشان مجلس میں سرگوشیوں نے مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسا شور پیدا کیا۔

پروگرام لائیو تھا، اس لیے کوئی آگے بڑھ کر ان کو نہ روک سکا۔ جناب کمپیئر صاحب آگے بڑھے۔ دلی ناگواری اور بیزاری ان کے لہجے میں گھس آئی۔ تاہم چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کیمرہ کی طرف منہ کر کے بولے۔

’’ار...... رے! آپ بابا جی کہاں آ رہے ہیں، یہ نعتیہ مقابلہ ہے‘‘۔ چار پانچ گھنٹوں سے کرسیوں پر بیٹھے عاشقانِ رسول ﷺ بھی کوفت سی محسوس کر رہے تھے۔

’’پتا نہیں بابا جی کو کیا وخت پڑا ہے، پوپلے منہ سے کیا پڑھیں گے؟‘‘ دوسری آواز آئی۔

کیمرہ کے سامنے آنے اور جلوے دکھانے کے لیے یہی بابا رہ گیا تھا؟

ان کی ظاہری ہیئت اور حلیے کو دیکھتے ہوئے کسی من چلے نے فقرہ کسا...... ’’ہاں بھئی گلیوں میں مانگ مانگ کر گلا صاف اور سُر نکھر گیا ہوگا‘‘۔

پروڈیوسر نے کمپیئر کو آنکھیں دکھائیں۔

’’گیلانی کے بچے! تجھے کس حکیم نے مشورہ دیا تھا حاضرین کو پیشکش کرنے کا‘‘۔

کمپیئر نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا، انھوں نے کوشش کی کہ جلدی سے مائیک پر قبضہ جمالیں تاکہ نہ رہے بابا نہ رہے بابا کی نعت...... لیکن کسی غیر مرئی قوت نے ان کی ٹانگوں میں رکاوٹ ڈال دی۔

بابا جی اس لڑکے کی مدد سے اسٹیج پر پہنچ چکے تھے۔

’’مائیک پر آ کر اب وہ بڑی متانت، شائستگی اور شستگی سے سلام دعا کے بعد درود پاک پڑھ رہے تھے۔

’’لمبا پروگرام لگتا ہے......‘‘ پروڈیوسر نے اندازہ لگایا۔

صفحہ 646

کیا پروگرام بغیر نتائج کے ختم کر دیا جائے؟ ان کی سات سالہ ٹی وی ملازمت اور پانچ سالہ پروڈکشن میں ایسی نازک صورت حال پہلی دفعہ پیدا ہوئی تھی۔ رہ رہ کے وہ گیلانی صاحب کو کوسنے لگتے۔ روشنی کی کرن نے جھلک دکھائی۔ جج صاحبان سے نتیجہ لے کر سنا دیا جاتا ہے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد جو ہوگا، دیکھا جائے گا...... پروڈیوسر صاحب جج صاحبان کی طرف بھاگے۔

اتنے میں بابا جی گلا کھنکھار کر صاف کر چکے تھے۔

سرگوشیاں، تبصرے، فقرے ماحول قابو سے باہر ہو رہا تھا۔

مینوں لگدیاں اے چنگیاں

سفید داڑھی والے بابا جی نے سر پکڑا۔

آوازوں کا شور کچھ مدھم ہو گیا۔

صبح سے بیٹھے دل جلوں اور کچھ من چلوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔

مینوں لگدیاں اے چنگیاں، مدینے دیاں پاک گلیاں۔

پورے ہال پر سناٹا چھا گیا۔

جج صاحبان کے قلم تھم گئے، کمپیئر زاہد گیلانی کے چہرے پر چمک آ گئی۔

حاضرین دل و جان سے متوجہ ہو گئے، کیمرہ مین اور ٹی وی کے عملے نے بابا جی کو فوکس کیا۔

آواز تھی یا جادو کی ایک لہر...... سر تھا یا بہتا دریا، کیا لے تھی جو سب کو ساتھ بہائے جا رہی تھی آواز میں کوئی نوآموزی یا کپکپاہٹ نہیں تھی۔ بلاشبہ یہ وہی آواز تھی جو دیواروں سے گلے مل کر واپس آ جاتی ہے۔

ایکا ایکی ہر طرف...... گونج ہی گونج...... سوز ہی سوز...... گداز ہی گداز...... چشم نم سے بابا جی نے سب کو دیکھا۔

سبحان اللہ، سبحان اللہ...... یکبارگی اک وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ پرندے سنتے تو جھوم جھوم کر داد دیتے...... بابا جی نے پھر آغاز کیا۔

مینوں لگدیاں ایں چنگیاں مدینے دیاں پاک گلیاں
سارے جگ نالوں چنگیاں مدینے دیاں پاک گلیاں

چند منٹ قبل بیزار، کوفت زدہ، اکتائے لوگوں کی مجلس، اب فرشتوں کے پروں میں

صفحہ 647

گھری رحمت و سکنیت کی محفل بن چکی تھی۔ نبی ﷺ کی مدحت پر مبنی اس شہر کے تذکرے سے سجی یہ نعت کب ختم ہوئی؟ کب بابا جی نے مائیک آف کیا؟ کب وہ اسٹیج سے اترے؟ کسی کو ہوش نہ رہا۔ حواس بحال ہوئے تو سب کے دل محبوب خدا ﷺ کے ذکر سے مشکبار اور آنکھیں اشک بار تھیں۔

گیلانی صاحب کو چہرے پر کوئی نامانوس سی چیز محسوس ہوئی، شاید مکھی آ گئی تھی۔ انھوں نے بے خیالی میں ہاتھ چہرے پر پھیرا، ان کو علم ہی نہ ہوا تھا کہ کب ان کی آنکھوں نے آنسوؤں سے ان کا چہرہ بھگو دیا۔

پروڈیوسر صاحب ایک طرف ٹشو سے رخسار صاف کرتے پائے گئے۔ لرزتی آواز کے ساتھ گیلانی صاحب نے مائیک سنبھالا، سبحان اللہ، جزاک اللہ۔ شاہِ دوسرا، محبوب خدا، وجہ تخلیق کائنات ﷺ کے حضور نعتیہ کلام پیش کرنے کی یہ سعادت ہمارے ایک بہت محترم بزرگ نے حاصل کی...... اشک آنکھ سے نکلیں تو نعت ہوتی ہے...... محض لفظوں کی جادوگری سے نعت ممکن نہیں۔ میں ناچیز بزرگوارم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ انھیں مزید توصیف و ثنا کی توفیق دے۔ میں واپس اپنے جج صاحبان کی طرف پلٹتا ہوں جو یقیناً اپنے نتائج مرتب کر چکے ہوں گے۔

تشریف لاتے ہیں جناب زکریا محمود صاحب، جو کہ مشہور نعت خواں، گولڈ میڈلسٹ اور محبت نبی ﷺ میں پور پور ڈوب کر نعت پڑھنے کے لیے پہلی آڈیو کیسٹ کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

معزز حاضرین! درود پاک کا زیر لب ورد جاری رکھیں۔ تقریب اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، بس تھوڑی سی ساعتیں اور ہیں...... زکریا محمود صاحب مائیک کے سامنے آئے...... گم صم پھر گلا صاف کرتے ہوئے بولے: میں معذرت خواہ ہوں کہ نتائج مرتب کرنے میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔ بلاشبہ جو نعتیں، نعت خواں حضرات نے پڑھیں انھوں نے داؤدی الحان میں سماں باندھ دیا۔ میں یہی سوچتا رہا کہ کس کو پہلے، دوسرے اور تیسرے انعام کا حقدار قرار دیا جائے۔ جب ہم نے یہ فیصلہ کر لیا...... تو ہال سے ہمارے کوئی معزز بزرگ تشریف لائے۔ ان کا نعتیہ کلام سننے

صفحہ 648

کے دوران بارہا مجھے اپنا دل پہلو سے نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ مدینے کی گلیوں کے تذکرے پر میں نے اپنے آپ کو طیبہ کی فضا میں محسوس کیا۔ میں نے چشم تصور میں اپنے آپ کو روضہ رسولؐ پر گناہوں کے بوجھ تلے دبے موجود پایا۔

میرے ذہن میں ...... میرے دماغ میں ...... میری آنکھوں کے سامنے زندگی میں پہلی دفعہ وہ تصوراتی منظر آیا جیسے تمام صحابہ کرام کے درمیان میرے آقا، میرے مدنی سرکار، میرے محبوب ہادی ﷺ تشریف فرما ہیں۔ میں نے ان کے تاجدار گیسو، میں نے ان کے ضیائے چشم زہرہ، میں نے ان کا تابناک حسن اپنی آنکھوں سے دیکھا ...... جج صاحب نے آنکھوں کو ٹشو پیپر سے صاف کیا۔

میں نے تمام عمر اپنے آپ کو نعتیں پڑھنے میں مصروف رکھا۔ میں نے ہر طرح کی آواز میں نعتیں سنیں، وجد طاری ہوا، میں عشق نبیؐ میں روتا بھی رہا ...... لیکن ایسی کیفیت کبھی نہیں ہوئی۔ یہ کوئی اعجاز تھا میرے رب کا یا کچھ اور معاملہ؟ میں نہیں جانتا ...... میں آج کی محفل کا صدر، آج کی اس سعادت مند تقریب کا مہمان خصوصی انھی بزرگ کو سمجھتا ہوں ...... جنہوں نے یہ محفل لوٹ لی ہے ...... جج صاحب تقریر کر رہے تھے کہ انھیں کمپیئر کی چٹ موصول ہوئی۔ پلیز نتائج کا اعلان کر دیا جائے کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔‘‘

جج صاحب نے چٹ پڑھ کر ایک طرف رکھی۔ چند لمحوں کے لیے حاضرین کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولے۔

نبی ﷺ کی محبت میں کوئی پہلے، دوسرے یا تیسرے نمبر پر نہیں ہوتا، ہاں آواز و انداز کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں ...... میں اس کے لیے اپنے دوسرے معزز بھائی اکرم فیض ہاشمی صاحب کو مدعو کرتا ہوں، وہ آ کر نتائج کا اعلان کریں۔

پہلے جج صاحب نیچے اترے، دوسرے جج صاحب نے مائیک سنبھالا۔ دن کے اڑھائی بج رہے تھے۔

میں اپنی قلبی کیفیات کو ویسے ہی محسوس کرتا ہوں جیسے مجھ سے پہلے میرے محترم کہہ چکے ہیں۔ نعت خوانی کے اس مقابلے میں سچ پوچھیں تو ان بزرگ کی آمد کے بعد کسی اور کا چراغ جل ہی نہیں سکتا ...... میں دعوے سے کہتا ہوں خالی اچھی آواز یا سُر اور لے، تان گانے بجانے کے لیے تو کافی ہو سکتے ہیں لیکن نعت خوانی کے لیے بنیادی شرط عشق رسول ﷺ کے

صفحہ 649

علاوہ ان کی سنت پر عمل ہے۔ ضرور یہ بزرگ ان سے مالا مال ہوں گے۔ بہر حال آج کی محفل ان کے نام ہے، تاہم قواعد و ضوابط کے مطابق یہ صاحبان پہلے، دوسرے، تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ میں ان کو حکومت پاکستان اور پی ٹی وی کی طرف سے مبارکباد اور پانچ پانچ ہزار کے چیک پیش کرتا ہوں اور اپنی جیب سے ان بزرگ کی خدمت میں نہایت معمولی، بہت حقیر سا نذرانہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ اپنی قلبی کیفیات اور اپنا تعارف ضرور پیش کریں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو! اس شعر کے ساتھ آج کے نعتیہ مقابلے کی پرنور محفل برخاست ہوتی ہے۔

بنے ہیں دونوں جہاں شاہ دوسرا کے لیے
سجی ہے محفل کونین مصطفیٰ ﷺ کے لیے

میرا نام نور محمد ہاشمی ہے میں فیصل آباد ڈویژن کے ایک دور دراز کالج کا پرنسپل رہا ہوں۔ اپنے علاقے میں، میں ڈاکٹر نور ہاشمی کے نام سے جانا جاتا ہوں اور قلمی حوالے سے میرا نام ن۔ م ہے۔

حاضرین ظہرانے اور نماز کے بعد پھر کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ سوائے ان اکا دکا لوگوں کے، جو دور دراز شہروں سے آئے تھے اور انھیں رات ہونے سے قبل واپس اپنے ٹھکانے پر پہنچنا تھا۔ بس اب پروگرام آن ایئر نہیں جا رہا تھا۔...... فرق صرف اتنا تھا کہ اب حاضرین ہی ناظرین تھے۔ ن۔ م اور ڈاکٹر نور ہاشمی کے نام پر لوگ چونکے۔

ارے...... یہ فلاں اخبار میں کالم لکھتے ہیں......

اوہ...... انھوں نے تو فلاں فلاں موضوع پر فلاں ڈائجسٹ میں بہت اچھا لکھا تھا۔ چند گھنٹے قبل بھیک مانگتے ہوئے گلا صاف ہونے کی پھبتی کسنے والے خود ہی ندامت کے دریا میں غرق تھے۔

”آپ میری آپ بیتی سننا چاہتے ہیں، مجھے نہیں علم، اس میں آپ کے لیے کیا کشش ہوگی، حالانکہ میں نے اپنی زندگی میں آج پہلی دفعہ نعت پڑھی ہے، کسی مجلس میں اس سے قبل نعت پڑھنے کا کوئی تجربہ نہیں“۔

”زبردست“، ”نا قابل یقین“ جیسے تبصرے ہوا میں پھیلے۔ یہ سب تو میں نے آج اپنی مرحومہ اماں کو یاد کرتے ہوئے بے ساختہ کیا...... مجھے آج اپنی اماں بہت یاد آرہی

صفحہ 650

تھیں۔۔۔۔۔۔ میں رہ نہ سکا، حالانکہ آج کا ردِعمل خوشگوار نہیں تھا‘‘۔ وہ کہتے کہتے رکے۔

اس کی داستان سے آپ کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جو پاکستان بننے سے بیس سال قبل شیخوپورہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا تو اس کا باپ آنکھ کھولنے سے قبل دنیا سے رخصت ہو چکا ہو۔ کوئی دادا نانا، چچا ماموں جیسی محبت بھری ہستی اس کو میسر نہ ہو۔ بس اک ماں..... کل کائنات...... اس بچے نے ہوش سنبھالی تو طاعون، گلٹی، وبا جیسے الفاظ کثرت سے سننے کو ملتے جنہوں نے اس کے پورے خاندان کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ ماں کی جتنی زیادہ توجہ کسی بچے کو میسر آئے، وہ اتنا ہی چڑچڑا ہوتا جاتا ہے۔ بے حد لاغر، پچکے منہ، پھولے پیٹ اور لمبی لمبی بانسی تیلیوں جیسی ٹانگیں، ایسا بچہ جو دو لقمے نہیں کھا سکتا...... کھانے کے دوران ہی پیٹ کا درد اور قے اسے کھانے سے متنفر کراتے جا رہے ہیں۔ ماں دن کو چرخہ کاتتی ہے اور کھچڑی، دلیہ، دہی زبردستی بنا بنا کر اسے کھلاتی ہے۔ وہ بچہ ہے یا بیماریوں کی پوٹ!

اس کی ماں اب بھی اس بچے کے تصور کی دنیا کو آباد کرتی ہے تو بیٹھے بیٹھے ہچکیوں سے رونا، بے قراری سے تڑپنا، بلکنا یاد آتا ہے۔ کچھ ذہن پر زور ڈالے تو اب بھی اس بچے کو یاد ہے وہ توتلی آواز میں ماں سے پوچھتا ہے:

’’بے بے تو تیوں لوتی ہے؟‘‘

’’کچھ نہیں‘‘۔ کہہ کر ماں کا دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھنا بھی یاد ہے۔۔۔۔۔۔ وہ مریل مدقوق بچہ چھ سال کا ہوا تو تین میل کے فاصلے پر ماں اسے اسکول داخل کرانے جاتی ہے۔ دو تین دن وہ بچہ اسکول گیا پھر رونے بیٹھ گیا۔

’’بے بے اسکول نہیں جاؤں گا‘‘۔

مرغی کی طرح ہر وقت پروں میں سمیٹنے والی محبتوں کے دریا نچھاور کرنے والی ماں شیر کی طرح دھاڑتی ہے۔

’’کیوں اسکول نہیں جائے گا؟‘‘

’’مجھ سے اتنی دور پیدل نہیں جایا جاتا، میں تھک جاتا ہوں‘‘۔ وہ بچہ جواب دیتا ہے۔

’’میں صدقے، میں واری، ماں نے طاقچے سے سرسوں کا تیل نکالا، بازو اوپر چڑھائے اور گھنٹہ لگا کے خوب مالش کی پھر گرم پانی سے نہلایا، دھلے کپڑے پہنا کر سرمہ لگا کر اسے آئینے کے سامنے کھڑا کیا۔

صفحہ 651

’’رج کے پیارا ہے میرا پترا، اب چیتے کی طرح بھاگتا دوڑتا جائے گا اسکول......‘‘ اس مالش نے بمشکل ہفتہ بھر اثر کیا پھر اتنا راستہ طے کرتے کرتے ٹانگیں لوہے کی بن جاتیں، سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا اور آدھے راستے میں ہمت جواب دے جاتی...... باقی سفر وہ رک رک کر دن ڈھلے تک طے کر کے گھر پہنچتا تو ماں گلی کی نکر میں صدقے واری کرتی اسے گھر لے آتی۔

وہ روتا، بلبلاتا...... ’’اب تو میں نے کل سے اسکول بالکل نہیں جانا...... جو مرضی ہو جائے میں کسی دن گر کر مرجاؤں گا تجھے پتا بھی نہیں چلے گا......‘‘ وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے زہر انڈیلتا ہے......

ماں جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی۔

’’ناں، ناں میرے نور محمد، ایسے نہیں کہتے۔ علم کی حفاظت تو فرشتے کرتے ہیں تو درود پڑھتا جایا کر، تجھے کچھ بھی نہیں ہوگا، دیکھ لینا‘‘۔ وہ یقین سے کہتی۔

’’درود میں کیا طاقت کی گولیاں رکھی ہیں جو مجھے کچھ نہیں ہوگا......‘‘ وہ بچہ جھلا کر کہتا۔

ہاں دماغ کی طاقت، دل کی راحت، آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کی چاہت سب کچھ تو اس میں ہے...... وہ پیار سے کہتی...... اور کوئی نہ کوئی لالچ دے کر منا کر ہی دم لیتی۔

روتے دھوتے وہ بچہ دوسری کلاس میں پہنچ گیا لیکن بدقسمتی سے اسے ٹائیفائیڈ ہو گیا...... حکیموں اور معالجوں نے اسے زیادہ چلنے سے منع کیا تو وہی کمزور سی ماں اسے گود میں اٹھا کر تین میل دور اسکول میں پہنچاتی...... اسکول کے احاطے میں بیٹھ کر اپنا کام کاج نمٹاتی، پھر کبھی کندھوں پر لاد کے کبھی کمر پر سوار کر کے کبھی گود میں بٹھا کے واپس لاتی تو وہ خود صدیوں کی بیمار لگتی۔ وہ بچہ ناسمجھی سے کہتا۔

’’بے بے تو اسکول سے ہٹا کیوں نہیں لیتی مجھے؟ اتنی کھیچل (مشقت) میں خوامخواہ پڑتی ہے اور پھر راتوں کو اٹھ اٹھ کر کندھے دباتی ہے...... روتی کرلاتی ہے۔ کیا رکھا ہے، پڑھائی میں؟‘‘

ماں کی آنکھوں سے چھم چھم آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی...... ’’پتر ایک ہی تو خواب دیکھا ہے ساری حیاتی...... تو پڑھے گا نہیں تو بڑا افسر کیسے بنے گا؟ کیسے کمائی کرے گا؟ کیسے مجھے میرے کالی کملی والے آقا ﷺ کے پاس لے کر جائے گا......؟ میں تو دن گن گن کر گزارتی ہوں‘‘۔

’’ہائیں، یہ کالی کملی والا کون ہے......؟‘‘ بچے نے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھا۔ ’’اور یہ

صفحہ 652

رہتا کہاں ہے؟“

”کالی کملی والا ہی تو سب کچھ ہے......اور میرے دل میں رہتا ہے......“ اس نے سرگوشی کی اور ایک دم قطعیت سے کہنے لگی ”بس اب تو ٹھیک ہو جائے گا تو تجھے میں تانگہ لگوا دوں گی یا ماسٹر جی کے سائیکل پر چلے جایا کرنا......“ ماسٹر جی ہمارے پڑوسی تھے۔

رو دھو کے اس نے پانچ جماعتیں پاس کر لیں لیکن اب اس کی ماں بیمار ہو گئی۔ زندگی کی امید نہ رہی، سارا دن وہ چارپائی پر کھانستی رہتی یا تھوڑا بہت کام کرتی...... پھر تھک کر لیٹ جاتی۔

اس بچے نے جو اب عمر میں زیادہ سیانا ہو گیا تھا، ماں کی یہ حالت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ پڑھائی چھوڑ کر ماں کے علاج کے لیے لاہور جایا جائے جب اس نے ماں کو اپنا خیال بتایا تو ماں کو جیسے کرنٹ لگا۔

توبہ توبہ، نہ پت، میں پڑھائی چھوڑنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ میں نے تو یہ سوچا تھا کہ کمائے گا اور ایک دفعہ بس ایک دفعہ سوہنے محبوب ﷺ کے روضے پر لے جائے گا لیکن لگتا ہے یہ مجھ گنہگار کے نصیب میں نہیں......میری آنکھیں مدینہ کو دیکھے بغیر ہی بند ہو جائیں گی...... پتر...... پتر نور محمد، رب کی سونہہ (قسم) تو میرے مرنے کے بعد ضرور جانا۔ تو ضرور اللہ کے رسول ﷺ کے در پر حاضری دینا...... ان سے کہنا...... ان سے کہنا...... کھوں کھوں کھوں کھوں۔

کھانستے کھانستے وہ بے دم ہو کر گر پڑی...... وہ بچہ اب نوجوانی کی دہلیز پر دستک دے رہا تھا۔ اس کی مدقوق صحت اور بانسی ٹانگوں پر صحت کا پانی پھر گیا تھا۔

ماں کو اللہ نے سانسوں کی ڈوری سے باندھے رکھا لیکن صحت سے وہ کوسوں دور ہوتی چلی گئی۔ کئی دفعہ وہ کھانستے اور بلغم تھوکتے تھوکتے ایک پوٹلی کھول کر دکھانے لگتی۔

”نور محمد، اگر میرے کالی کملی والے کے در پر جانے کے لیے پیسہ پورا نہ ہو تو یہ جمع جتھہ کر رکھا ہے، یہ ضرور شامل کر لینا۔“

نور محمد اب اپنی بستی کا واحد لڑکا تھا جو لاہور پڑھنے کے لیے گیا۔ پاکستان بن چکا تھا۔ اس کے بچپن کی سنہری یادوں میں اس کی ماں کی یہ خواہش بھی شامل تھی کہ مجھے مدینے لے کر جانا...... وہ لاڈ سے اب بھی ماں سے پوچھتا۔

”بے بے تجھے اگر ایسی بہو ملی جو تیرے شوق میں روڑے ڈالے تو پھر......؟“

صفحہ 653

اس کی بے بے کی آنکھوں کا نور تیزی سے ختم ہوتا جا رہا تھا...... لیکن بڑی آس و امید کے ساتھ بولی:

”تو کیا ہوا؟ تیری پڑھائی میں بھی تو رکاوٹ آئی تھی۔ تُو رکا؟ اگر مجھے سچا شوق اور چاہت ہوگی تو تیرے لے جائے بغیر بھی پہنچ جاؤں گی“۔

شرارت سے بی اے کے طالب علم بیٹے نے پوچھا۔

”بے بے تو یہیں بیٹھ کر درود پڑھ لے“۔

ہونہہ! غصے سے اس بوڑھے وجود نے ہنکارا بھرا...... ”ارے بے وقوف تیرے باپ کی جدائی نے مجھے اتنا نہیں رلایا جتنا مدینہ کی تڑپ نے رلایا ہے“۔

”لیکن تجھے نظر تو آتا نہیں اب، تو وہاں جا کر کیا کرے گی؟“

”میں دل کی آنکھوں سے دیکھوں گی۔ اس کے دیدار کی حسرت اور پیاس جسم کی آنکھوں سے نہیں، دل کی آنکھوں سے بجھتی ہے۔ پتر میں اس کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھوں گی...... سورج چاند سے زیادہ حسین چہرے والے تاجدار ختم نبوت ﷺ کے در پر جاؤں گی“۔ وہ بھل بھل رونے لگی۔

وہ بچہ جانتا تھا کہ اس کی ماں کے دن کی ابتدا اور انتہا اسی کے ذکر سے ہوتی۔ وہ اس کے لیے دنیا کے ہر خونی رشتے سے بڑھ کر تھا۔ اس کی چاہت پر وہ دنیا کی ہر چاہت قربان کر سکتی تھی۔ وہ بچہ اب جانتا تھا کہ روتے روتے ماں، آنکھ میں تنکا پڑ گیا ہے، کہہ کر جو اسے ٹالتی تھی وہ تنکا نہیں...... جدائی کا، ہجر کا شہتیر ہوتا تھا جو دل میں گڑا ہوا تھا...... وہ بن پانی کی مچھلی جب تک مدینہ طیبہ کی سرزمین کو نہیں چھو لے گی، بے قرار رہے گی۔ وہ مائی حلیمہ کے سوہنے لعل کی دھنوں سے جو ساری زندگی دل کو بہلاتی رہی ہے...... اب اسے جانا ہی جانا ہے...... چاہے آج یا کل۔

کچھ اخبارات، رسائل میں مضامین لکھنے، کسی دکان پر دو چار گھنٹے لگا کر، ایک دو لڑکوں کو گھروں میں ٹیوشن پڑھا کر اس کے پاس اتنی رقم ہو چکی تھی کہ وہ ماں کی خواہش کو پورا کر سکتا تھا۔

پاسپورٹ، ٹکٹ ضروری کاغذات مکمل ہوئے تو ماں دونوں آنکھوں کی بصارت سے محروم ہو چکی تھی۔ جس نے ساری زندگی اپنی بستی اور تین میل دور شیخوپورہ سے آگے سفر

صفحہ 654

نہیں کیا تھا، اسے اب ہزاروں میل کا سفر درپیش تھا۔ شیخوپورہ سے لاہور اور لاہور سے کراچی کا سفر تین دن میں پورا ہوا۔ کراچی کے سمندری ساحل پر پہنچ کر اس بچے نے مذاق سے کہا۔

”بے بے تین دن لگے ہیں مدینہ پہنچنے میں......“

اندھی آنکھوں اور کسی حد تک قوتِ گویائی سے محروم ماں نے ناک سکوڑ کر کہا۔

”یہ ہوا میرے نبی ﷺ کے شہر کی نہیں، خوامخواہ مخول نہ کر“۔

”تو کیا تجھے مدینے کی ہوا کی پہچان ہے؟“ بیٹے نے پوچھا۔

”ہاں...... میں مدینہ گئی نہیں۔ میں نے اس شہر نور کو نہیں دیکھا، پر میں ساری زندگی اسی شہر میں رہی ہوں“۔ عجیب سے درد بھرے لہجے میں ماں بولی۔

نہ بحری جہاز کے سفر نے ماں کو تھکایا، نہ بیماری قریب پھٹکی۔ بحری جہاز پر لمبے سفر کے اثرات نے بھی ماں کو تنگ نہ کیا۔ زیر لب درود پڑھتے پڑھتے وہ دن بھی گزار دیتی اور رات بھی۔

چھ فٹ کا وہ بیٹا ماں کے چہرے کی الوہی چمک کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔

یہ شاید اسی نور کی ایک معمولی سی کرن تھی جو اس کے آقا ﷺ کو عطا ہوا تھا۔

آٹھ دن اور نو راتیں گزریں تو جدہ آیا......

جوانی کی عمر کے باوجود وہ لڑکا تھکن اور بخار محسوس کر رہا تھا لیکن ستر پچھتر سالہ ماں بڑے ولولے سے دیواریں ٹٹول ٹٹول کر دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی۔

”پتر کے مدینے نہیں جانا...... یہاں کیوں بیٹھا ہے“۔

پتر نے کہا ”بے بے تجھے کیا علم کہ یہ مکہ مدینہ نہیں ہے؟“

یہ تو مجھے نہیں علم کہ یہ کون سا شہر ہے، پر یہ میرے رسول ﷺ کا شہر نہیں...... اللہ کے واسطے پتر دیر نہ کر......!“ آٹھ دن خانہ کعبہ میں رہنے کے بعد جب وہ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو اُس کو ماں کے عشق کا امتحان مقصود ہوا...... بغیر بتائے وہ ماں کو لے کر سفر پر روانہ ہوا۔...... پہلی جگہ پڑاؤ تھا۔

بیٹے نے کہا ”بے بے مدینہ آ گیا!“

بے بے نے انکار میں سر ہلا دیا...... ”پتر، تو مجھے نہ بتا، میں تجھے بتاؤں گی مدینہ کب آئے گا...... میری روح تو وہیں ہے، میں خالی اینٹوں کا کھنڈر ادھر ہوں...... وہاں پہنچی تو تجھے خود ہی پتا چل جائے گا“۔

صفحہ 655

پتر نور محمد نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ لیکن وہ سوچتا رہا۔ ساری زندگی جس خواب کے تانے بانے بنے تھے۔ جس کی آس پر زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا، جب اسے وہ تعبیر ملے گی تو کیا ہوگا؟

ماں دن بھر کے سفر سے نڈھال پانی پینے کے لیے سڑک پر آئی۔ بیٹے نے پانی کا گلاس ماں کو تھمایا۔

پتا نہیں کیا سوچ کر ماں نے انکار کر دیا...... ”اب تو نبی ﷺ کے دربار میں جا کر پیاس بجھے گی۔“

جب بس کی خرابی اور دو گھنٹے عربی ڈرائیور کی گمشدگی اور بازیابی کے بعد بس چلی...... نیند کے ٹھنڈے میٹھے جھونکے سب کو اپنی گرفت میں لے چکے تھے...... کوئی ایک فرد ایسا نہ تھا جو اونگھ نہ رہا ہو۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی، ماں پنجرے میں قید پرندے کی طرح پھڑپھڑائی۔

میرے سوہنے نبی ﷺ کا دیس آ گیا۔

پتر نور محمد، میرے رب کے محبوب ﷺ کا گھر آ گیا۔

میرے آقا، کالی کملی والے...... میرے محبوب...... تاجدار ختم نبوت ﷺ کا شہر......

ہڑبڑا کر تمام سواریاں اٹھ بیٹھیں...... عربی ڈرائیور نے سب کو مخاطب کر کے کچھ کہا جس کا ترجمہ معلم نے یہ کیا کہ آپ کو مبارک ہو، دیار نبی ﷺ کی حدود شروع ہوچکی ہیں...... درود پڑھیے احترام کے ساتھ...... محبت کے ساتھ تیاری کیجیے۔

وہ کیا جنون تھا، وہ کیا جذبہ تھا، جوانوں کو مات کر کے اس ماں نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی۔

مسجد نبویؐ میں پہلی نماز جمعہ کی پڑھی اور دوسری جانب سلام پھیرا تو...... پنجرہ خالی ہو چکا تھا...... پرندہ اڑ چکا تھا......

روح جسم کی قید سے آزاد ہوچکی تھی۔ اس ماں کی زندگی کی ریاضتوں کا حاصل حصول ہی یہی تھا کہ موت آئے تو تیرے در پر آئے...... اس کے عشق کی داستان محبوب ﷺ کے آستانے پر جا کر ختم ہوگئی۔ میں نمانا اپنے آپ کو ان کی توجہ کا مرکز سمجھتا رہا، وہ کسی اور کی توجہ کا مرکز تھیں۔ لیکن جب کہیں میں نعت سنتا ہوں...... جب کہیں مدینے کا ذکر ہوتا ہے، میرا غم مجھے جینے نہیں دیتا۔ میں کیا کروں...... میرے بس میں نہیں رہتا۔ میں تڑپتا ہوں...... روتا

صفحہ 656

ہوں...... اک سوز کی آگ ہے جو مجھے سلگاتی ہے۔ اک عشق ہے جو مجھے تڑپاتا ہے...... محبوب ﷺ کے ساتھ ساتھ میری ماں کا چہرہ بھی تو نظروں میں ہوتا ہے۔ میرے اندر کا زخم ہرا ہو جاتا ہے۔...... میرا لوں لوں، نعت ہو جاتا ہے، میری بوٹی بوٹی نعت بن جاتی ہے اور میں اس کی زبان بن جاتا ہوں۔‘‘ (ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل، کراچی 27 اکتوبر، 2006ء)

سلطان محمود غزنوی اور سومنات کا بُت

فتح مکہ کے بعد حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے تمام بتوں کو توڑنے کا حکم دیا۔ ’’منات‘‘ نام کا بت سمندر کے قریب نصب تھا۔ عرب کے بت پرستوں کے ہندوستان کے بت پرستوں کے ساتھ تجارتی اور دوسرے تعلقات تھے اور بت پرستی بھی ان کے درمیان قدرِ مشترک تھی۔ اس لیے عرب کے بت پرست (منات کا پجاری) منات کو توڑے جانے سے بچانے کے لیے اسے براستہ سمندر ہندوستان لے گئے۔ ہندوستان کے بت پرستوں نے اسے ہندوستانی علاقہ گجرات میں ساحل سمندر پر ایک مندر بنا کر اس میں نصب کر دیا۔ عرب سے آئے ہوئے اس بت کی شہرت تمام ہندوستان میں پھیل گئی۔ ہندوؤں نے منات کے اس بت سے مندر کا نام ’’سومنات کا مندر‘‘ رکھ دیا اور منات کے بت کی، جو اب سومنات بن چکا تھا، زور وشور سے پوجا شروع کر دی۔ اس بت کو غسل دینے کے لیے سیکڑوں میل دور دریائے گنگا سے جسے ہندو مقدس سمجھتے تھے، روز پانی لایا جاتا تھا۔ سومنات کے معنی ہیں، عظیم ’’منات‘‘۔ سو کا لفظ ہندی میں فضیلت ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔ جیسے دیشی سے ’’سودیشی‘‘، راج سے ’’سوراج‘‘، منتر سے ’’سومنتر‘‘ وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا کہ عرب کا کوئی بت ٹوٹنے سے بچ جائے۔ اس لیے افغانستان کے محمود غزنوی کے خواب میں اشارہ ہوا کہ عرب کا ایک بت ہندوستان آگیا ہے۔ اسے توڑو مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں ہے؟ محمود غزنوی نے بت کی تلاش میں ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔ آخری حملے میں ہندوؤں کے درمیان دور تک گھس کر اور اپنی جان پر کھیل کر اس بت کو توڑ کر چھوڑا۔ اس کے بعد اس نے ہندوستان پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ اسے اشارا ہو گیا تھا کہ اس نے اپنا مشن مکمل کر دیا ہے۔ اس طرح ہندوستان پر حملے کی ابتدا نہایت مبارک تھی۔ قارئین کرام! ’’پاکستان کا روشن مستقبل‘‘ کے مصنف جناب ظفر عمر خاں فانی نے

صفحہ 657

مزید تفصیل تو نہیں بتائی کہ منات کے اس بت کی ہندوستان میں کس طرح ”اوور ہالنگ“ ہوئی اور اس کے شکم میں کس قدر قیمتی ہیرے جواہرات کی مقوی غذا رکھی گئی ۔ تاہم تاریخ میں یہ واقعہ پوری صحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جس وقت سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت کو پاش پاش کرنے کا ارادہ کیا تو اس وقت برہمنوں کے طبقے نے معززین سلطنت کے توسط سے سلطان سے درخواست کی کہ اس بت کو نہ توڑا جائے اور یونہی چھوڑ دیا جائے ۔ ہندوؤں نے اس کے عوض دولت کی ایک بہت بڑی مقدار دینے کا وعدہ کیا ۔ معززین سلطنت نے ہندوؤں کی اس درخواست کو سلطان تک پہنچاتے وقت یہ خیال ظاہر کیا کہ اس درخواست کو قبول کر لینے میں ہمارا فائدہ ہے ۔ بت کو توڑ ڈالنے سے نہ تو بت پرستی کی رسم اس شہر سے مٹ سکتی ہے اور نہ ہمیں کوئی فائدہ ہو گا لیکن اگر ہم اس بت کو نہ توڑنے کے معاوضے میں کوئی معقول رقم قبول کر لیں گے تو اس سے غریب مسلمانوں کا فائدہ ہوگا ۔ اس کے جواب میں محمود نے ان سے کہا ، تم جو کہتے ہو وہ صحیح ہے ، لیکن اگر تمھارے کہنے پر چلوں گا تو میرے بعد دنیا مجھے ”محمود بت فروش“ کے نام سے یاد کرے گی اور اگر میں اس بت کو پاش پاش کروں گا تو مجھے ”محمود بت شکن“ کے نام سے یاد کرے گی ۔ مجھے تو یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں مجھے محمود بت شکن پکارا جائے ، نہ کہ ”محمود بت فروش“ ۔ محمود کی نیک نیتی اسی وقت رنگ لائی اور جس وقت اس بت کو توڑا گیا تو اس کے پیٹ میں سے بے شمار اور بیش قیمت ہیرے جواہر نکلے ۔ ان سب جواہرات کی قیمت برہمنوں کی پیش کردہ رقم سے سو (100) گنا زیادہ تھی ۔

محمود غزنوی نے جب سومنات کے بت پر کاری ضرب لگانے کا ارادہ کیا تو اس بت کا بے حد عقیدت مند پجاری ، محمود کے سامنے آ گیا اور کہا کہ اگر تم نے اس بت کو کوئی نقصان پہنچایا تو میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا ۔ یہ سن کر محمود غصے میں آ گیا اور پوری قوت سے اپنی تلوار اس پجاری کے سر پر ماری ۔ پجاری تیزی سے پیچھے ہٹا لیکن تلوار اس کے بائیں کندھے پر لگی جس نے اس کا پورا جسم کاٹ کر رکھ دیا ۔ پجاری کی لاش زمین پر پڑی تھی اور اس کا دل واضح طور پر نظر آ رہا تھا ۔ محمود غزنوی اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے دیکھا کہ پجاری کے دل پر ”سومنات بت“ کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ محمود غزنوی یہ دیکھ کر کافی دیر تک روتا رہا کہ ایک بت پرست اپنے بت سے اتنی گہری محبت و عقیدت رکھتا تھا کہ اس نے اپنے دل میں اس کی تصویر سجا لی تھی اور ایک ہم ہیں کہ اپنے رسول ﷺ کی محبت و

صفحہ 658

عقیدت میں نعرے لگاتے ہیں ’’غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے ۔ جو ہو نہ عشق مصطفیٰ ﷺ تو زندگی فضول ہے ۔ غلام ہیں غلام ہیں رسول ﷺ کے غلام ہیں ، ہم اپنے نبی ﷺ کے دیوانے ، مگر افسوس ...... صد افسوس! قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی گئی توہین و گستاخی کے جواب میں ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہم عاشق رسول ﷺ کہلاتے ہیں اور آخرت میں نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے طالب بھی ہیں ۔

؎ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

آئیے تھوڑی دیر کے لیے ہم بھی اپنی محبت رسولؐ کا امتحان لیتے ہیں ۔ کیا ہم آپ ﷺ کے گستاخوں سے نفرت کرتے ہیں ؟ کیا ہم قادیانیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں ؟ کیا ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ؟ کیا ہم تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر مبنی لٹریچر پڑھتے اور اسے دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں ؟ کیا نبی کریم ﷺ ہمارے والدین ، بچوں ، دوست ، کاروبار حتی کہ اپنی جان سے واقعی زیادہ عزیز ہیں ؟ کیا شان رسالت ﷺ میں توہین کا کوئی واقعہ سن کر ہمیں غصہ آتا ہے ؟ کیا اس سلسلہ میں ہم اپنے کسی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آپ بہت خوش قسمت ہیں اور اگر نفی میں ہے تو یاد رکھیے! رحمت خدا سے آپ کوسوں دور ہیں ۔

حضرت سفینہؓ اور شیر

مشکوٰۃ شریف کتاب الکرامات میں ہے کہ حضرت سفینہؓ روم میں گرفتار ہو گئے ۔ یہ حضور نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ زمانہ فاروقیؓ میں جب لشکر اسلام روم کی زمین میں پہنچا ، ان کو قید خانے میں کسی طرح یہ خبر پہنچی کہ اس ملک میں لشکر اسلام آیا ہوا ہے ، وہ موقع پا کر راتوں رات قید سے بھاگ نکلے ، مگر راستہ سے واقف نہ تھے ، یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ لشکر کہاں ہے ؟ راستہ میں بھاگے جا رہے تھے کہ سامنے جنگل میں سے شیر نکل آیا ، حضرت سفینہؓ نے اس سے فرمایا کہ ’’اے شیر! تو جانتا ہے کہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہوں اور راستہ بھول گیا ہوں‘‘۔ یہ جملہ سنتے ہی شیر کی ساری رعونت اور درندگی کافور ہو گئی اور وہ ایک سدھائے ہوئے پالتو کتے کی طرح دم ہلاتا ہوا ان سے آگے آگے چل دیا ، یہاں تک کہ لشکر اسلام تک پہنچا دیا ۔

صفحہ 659
میں فقط خاک ہوں مگر نام محمد سے نسبت ہے میری
یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بدل دیتا ہے

حضرت عقبہ بن نافعؓ اور جنگل کے جانور

50ھ میں غلامانِ مصطفیٰ ﷺ افریقہ کے صحراؤں تک اسلام اور انسانیت کا پیغام لے کر پہنچ چکے تھے، دس ہزار مجاہدین کا لشکر جب اس جگہ خیمہ زن ہوا۔ جہاں بعد میں قیروان کے نام سے ایک شہر آباد ہوا تو اس جگہ جنگل میں غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کو ایک فوجی چھاؤنی قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ جگہ خونخوار درندوں، خوفناک سانپوں اور جنگلی جانوروں کا مسکن تھی۔ فاتح افریقہ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ جو امیر لشکر تھے، اس مشکل کو خاطر میں لائے بغیر ایمانی قوت سے سرشار جنگل کے کنارے پر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے ساکنانِ جنگل کو خطاب کیا جیسے کوئی انسانوں سے مخاطب ہو۔ فرمایا:

فمن وجدناه بعد ذالك قتلناه. (کامل ابن اثیر، جلد 3، صفحہ 466)

ترجمہ: ”اے سانپو اور درندو! ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کے غلام ہیں اور غلامانِ مصطفیٰ ﷺ ہو کر تم کو حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاؤ، کیوں کہ ہم یہاں چھاؤنی بنانا چاہتے ہیں، آج کے بعد ہم نے کسی کو بھی یہاں دیکھ لیا تو قتل کر دیں گے۔“

اس روز وہاں کے مقامی باشندوں نے دیکھا کہ غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کا حکم سننا تھا کہ سانپ جا رہے تھے، بچھو بھی جا رہے تھے، شیر بھی جا رہے تھے، زہریلے جانور بھی جا رہے تھے یہاں تک کہ جانور اپنے بچے پشتوں پر لاد کر جنگل سے نکل رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا جنگل خالی ہو گیا۔ یہ حیرت انگیز اور عجیب منظر دیکھ کر مقامی لوگ مسلمان ہو گئے۔

قارئین کرام! ان واقعات سے ثابت ہوا کہ جانور بھی نبی کریم ﷺ کے غلاموں کو پہچانتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں۔ قارئین کرام! ہم بھی ”غلامانِ محمد ﷺ“ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر کبھی ہمارے سامنے کوئی شیر یا کوئی دوسرا جانور آ جائے تو کیا ہم اسے اس حیثیت سے اپنا تعارف کروا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
صفحہ 660
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
تمہارے آستاں سے جس کو نسبت ہوتی جاتی ہے ......

جناب ڈاکٹر اسعد تھانوی کہتے ہیں: ”میں 1980ء میں اپنے دو دوستوں کے ہمراہ مدینہ طیبہ گیا۔ وہاں کے ایک میزبان ہمیں کھانے کے لیے کسی ریسٹورنٹ لے گئے۔ کھانا کھاتے ہوئے ایک کتا ہماری طرف منہ کر کے سامنے بیٹھ گیا۔ ایک ساتھی نے مرغی کی ران کا ایک ٹکڑا اس کے سامنے پھینکا تو کتے نے منہ موڑ لیا، مرغی کی ران کو منہ تک نہیں لگایا اور ہماری طرف کمر کر کے بیٹھ گیا، گویا ناراض ہوگیا۔ میزبان کی جب نظر پڑی تو وہ فوراً اٹھے۔ ویٹر سے ڈسپوزبل پلیٹ منگوائی۔ مرغی کی ران اٹھا کر اس میں رکھی اور پلیٹ کتے کے سامنے رکھ دی تو کتے نے کھانا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر اسعد تھانوی فرمانے لگے کہ ہم یہ منظر دیکھ کر سکتے میں آگئے اور بہت حیران ہوئے تو میزبان نے کہا: کہ اللہ کے بندو! یہ مدینہ طیبہ ہے، یہاں کے کتوں کا بھی ادب ہے، یہاں ان کو بھی اگر کوئی کھانے کو دیتا ہے تو اس طرح ادب سے دیتا ہے ورنہ یہ نہیں کھاتے۔

حضرت جنید بغدادیؒ اور آل رسول ﷺ کا احترام

معروف بزرگ حضرت جنید بغدادیؒ پہلے پہل ایک مشہور پہلوان تھے۔ وقت کے بڑے بڑے سورما ان کی طاقت اور فن کا لوہا مانتے تھے۔ ڈیل ڈول، قد و قامت اور رعب و دبدبے میں، وہ اپنی مثال آپ تھے۔ ساری مملکت میں ان کا کوئی حریف نہ تھا۔ انھیں خلیفہ کے دربار میں خاص کرسی ملتی جہاں وہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ خلیفہ کے دائیں طرف بیٹھتے۔ ایک دفعہ دربار لگا ہوا تھا کہ ایک چوبدار نے آ کر اطلاع دی کہ ایک لاغر و نیم جاں شخص آیا ہے اور برابر اصرار کر رہا ہے کہ میرا چیلنج جنید تک پہنچا دیں کہ میں اس سے کشتی کرنا چاہتا ہوں۔ خلیفہ وقت اور اہل دربار کا تجسس بڑھا۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ اسے حاضر کیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص حاضر ہوا۔ ضعف و نقاہت سے اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ خلیفہ نے پوچھا، کیا کہنا چاہتے ہو؟ ”جنید سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں“۔ اس شخص نے جواب دیا۔ اسے بہت سمجھایا گیا کہ ساری ریاست میں جنید کا کوئی مدمقابل نہیں۔ ایسی مضحکہ بات نہ کرو کہ دنیا تمہارا تماشا دیکھے۔ وہ شخص بار بار اصرار کرتا رہا، بالآخر کشتی کا وقت مقرر ہو گیا۔ ہر جگہ اس مقابلہ کا تذکرہ ہونے لگا۔ آخر کار وقت مقررہ پر بغداد کے وسیع تر میدان میں لاکھوں تماشائی اکٹھے ہو

صفحہ 661

گئے۔ مقابلہ شروع ہوا تو حضرت جنیدؒ نے زور آزمائی کے لیے پنجہ بڑھایا، اجنبی شخص نے دبی زبان سے کہا: کان قریب لائیے، مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے، یہ سنتے ہی حضرت جنیدؒ پر سکتہ طاری ہو گیا، پھر اپنا کان اس شخص کے قریب کیا تو اس نے کہا کہ میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ایک سیّد گھرانے کا فرد ہوں، غربت کا یہ عالم ہے کہ سیدانیوں کے جسم پر کپڑے بھی سلامت نہیں۔ بچے بھوک کی شدت سے نڈھال ہیں، خاندانی شرم و حیا کی وجہ سے کسی سے بھیک بھی نہیں مانگ سکتا، آج اگر تم مجھ سے چاروں شانے چت ہو جاؤ تو میری آبرو بچ جائے گی، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ کل میدان قیامت میں اپنے نانا جان (حضور نبی کریم ﷺ) سے کہہ کر تمھارے سر پر فتح کی دستار بندھواؤں گا۔ حضرت جنیدؒ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اس کے ہاتھوں دوسرے ہی لمحے چاروں شانے چت ہو گئے۔ لوگوں نے اس شخص کے حق میں تحسین و آفرین کے نعرے لگانے شروع کر دیے اور اس پر انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خلیفہ وقت نے بھی اسے بے شمار انعامات سے نوازا۔ اسی رات حضرت جنیدؒ کے خواب میں حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور انھیں اپنے مبارک سینے سے لگاتے ہوئے فرمایا: جنید! تم نے میرے خاندان کے ایک فرد کی عزت و آبرو کا تحفظ کیا اور خود شکست سے دوچار ہو گئے۔ اس کے صلے میں، میں تمھارے لیے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں، آج سے تمھیں علم و عرفان کی مسند پر فائز کیا جاتا ہے۔

برادران گرامی! غور فرمائیں کہ آل رسول ﷺ میں سے کسی کی عزت و آبرو کے لیے قربانی دینے کا کتنا بڑا صلہ ہے اور اگر کوئی شخص براہ راست حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کوئی قربانی دیتا ہے، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور نوازشات کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟

جو ہم سے معاملہ کرتا ہے، نفع پاتا ہے!

حضرت ربیع بن سلیمانؒ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی ہم دونوں ایک قافلے کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جا رہے تھے۔ جب ہم کوفہ کی سرزمین پر پہنچے تو میں نے ضروریات سفر خریدنے کے لیے بازار کا رخ کیا۔ بازار جب پہنچا تو میں نے وہاں پہ دیکھا کہ ایک ویران سی جگہ پر ایک خچر مرا ہوا پڑا تھا اور ایک عورت جس کے کپڑے بہت پرانے اور بوسیدہ ہو چکے تھے، وہ عورت چاقو سے اس کے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر ایک

صفحہ 662

ٹوکری میں رکھ رہی تھی۔ میرے دل نے سوچا کہ یہ مردار گوشت لے کے جارہی ہے، جو سراسر حرام ہے، اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے، ہوسکتا ہے کہ یہ عورت کوئی بھٹیاری ہو اور یہی مردار گوشت پکا کر لوگوں کو کھلا دے۔ میں آہستہ آہستہ اس کے پیچھے ہولیا۔ وہ عورت ایک مکان پر پہنچی اور دروازے پر دستک دی، دروازہ کھلا اور اندر سے چار لڑکیاں باہر آئیں، ان کے حلیے سے بھی بدحالی، پریشانی اور مصیبت کے آثار واضح نظر آرہے تھے۔ اس عورت نے اندر جاکر مردار گوشت سے بھری ہوئی ٹوکری اپنے سر سے اتار کر ان لڑکیوں کے سامنے رکھ دی اور روتے ہوئے کہا کہ ”اسی کو پکا لو، اور اللہ کریم کا شکر ادا کرو، اللہ کریم کا اپنے بندوں پر اختیار ہے۔ بندوں کے دل اسی کے قبضے میں ہیں“۔ وہ لڑکیاں اس گوشت کو آگ پر بھوننے لگیں، یہ سب دیکھ کر مجھے دلی رنج ہوا اور مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے کہا ”اے اللہ کی بندیو! خدا کے لیے اس گوشت کو نہ کھانا“۔ وہ بولی: ”تو کون ہے؟“ میں نے کہا: ”ایک پردیسی ہوں“۔ وہ بولی: ”اے پردیسی ہم تو خود مقدر کے قیدی ہیں، تین سال سے ہمارا کوئی معاون اور مددگار نہیں ہے، تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟“ میں نے کہا: ”مردار کھانا جائز نہیں ہے“۔ وہ بولی ”ہم خاندان نبوت ﷺ کے شریف سید ہیں۔ ان لڑکیوں کا باپ بڑا نیک تھا اور وہ اپنے ہی جیسوں سے اپنی ان بیٹیوں کا نکاح کرنا چاہتا تھا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ اپنی حسرت دل ہی میں لیے اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ جو ترکہ اس نے چھوڑا تھا، وہ بھی اب ختم ہوگیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ مردار کھانا جائز نہیں ہے، لیکن فاقہ کشی میں یہ جائز ہوجاتا ہے اور ہماری حالت نے اس امر پر مجبور کیا ہے“۔ خاندان نبوت کے یہ حالات سن اور دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔ میں روتے ہوئے انتہائی بے چینی اور بے قراری کے عالم میں وہاں سے رخصت ہوا اور واپس آ کر اپنے بھائی سے کہا: ”بھائی جان میرا حج کرنے کا ارادہ نہیں ہے“۔ اس نے مجھے بہت سمجھایا اور حج بیت اللہ کے فضائل و برکات بتائے کہ جب کوئی بندہ حج کر کے واپس لوٹتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں نے اپنے کپڑے، احرام کی چادریں اور جو سامان میرے پاس موجود تھا جس میں 600 درہم نقد بھی تھے، سب کچھ لے کر بازار آیا، 100 درہم کا آٹا خریدا اور 100 درہم آٹے میں چھپا کر سادات کرام کے گھر پہنچا اور سارا سامان وغیرہ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس عورت نے اللہ کریم کا شکر ادا کیا اور اس طرح مجھے دعا سے نوازا: ”اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے، تجھے حج کا ثواب عطا

صفحہ 663

فرمائے، جنت میں جگہ عطا فرمائے اور اس کا ایسا بدل عطا فرمائے جو تجھ پر ظاہر ہو جائے‘‘۔ سب سے بڑی بیٹی نے یوں دعا دی: ’’اللہ تعالیٰ تیرا اجر دگنا کر دے اور تیرے گناہ معاف فرمائے۔ دوسری لڑکی نے یوں دعا دی: ’’اللہ کریم تجھے اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے جتنا تو نے ہمیں دیا ہے‘‘۔ تیسری لڑکی نے ان الفاظ میں دعا دی: ’’اللہ کریم ہمارے نانا کریم حضور اقدس ﷺ کے ساتھ تیرا حشر فرمائے‘‘۔ چوتھی جو سب سے چھوٹی تھی، اس نے اس طرح سے دعا دی: ’’اے اللہ کریم! جس نے ہم پر احسان کیا، تو اس کا نعم البدل اس کو جلد عطا فرما اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما‘‘۔ خاندانِ نبوت کی دعائیں میں اپنے دامن میں سمیٹ کر واپس اپنے ٹھکانے پر آیا۔ پھر حجاج کرام کا قافلہ حج کے لیے روانہ ہو گیا اور میں کوفہ میں ہی مجبوراً پڑا رہا، یہاں تک کہ وہ سب لوگ حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آنے لگے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں درِ رسول ﷺ پہ حاضری دینے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کا جا کر استقبال کروں اور ان سے دعائیں لوں۔ ہو سکتا ہے کہ ان بندگانِ خدا میں سے کسی کی دعا میرے حق میں قبول ہو جائے۔ جب حجاج کرام کا قافلہ میری آنکھوں کے سامنے آیا تو فرطِ جذبات سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں نے ان سے کہا ’’اللہ کریم تمہارا حج اپنی بارگاہِ مقدس میں قبول فرمائے اور تمہارے اخراجات کا بدل عطا فرمائے‘‘۔ ان حجاج میں سے ایک نے یہ سن کر کہا ’’یہ دعا کیسی ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’یہ ایک ایسے شخص کی دعا ہے کہ جو دروازے تک پہنچ کر بھی درِ رسول ﷺ کی حاضری سے محروم رہا‘‘۔ وہ کہنے لگا: ’’بڑے تعجب اور حیرانگی کی بات ہے کیا تو ہمارے ساتھ عرفات کے میدان میں نہیں تھا؟ کیا تو نے ہمارے ساتھ شیطان کو کنکریاں نہیں ماری تھیں؟ کیا تو نے ہمارے ساتھ طواف نہیں کیا تھا؟‘‘ میں اس کی یہ باتیں سن کر حیران ہوا اور اتنے میں میرے شہر کے حاجیوں کا قافلہ بھی آن پہنچا۔ میں نے ان سے کہا ’’اللہ کریم تمہاری سعی اور تمہارا حج کرنا اپنی بارگاہِ مقدس میں قبول اور منظور فرمائے‘‘۔ وہ کہنے لگے: ’’کیا تو ہمارے ساتھ عرفات میں نہ تھا؟ تو نے رمی (جمرات) نہیں کی؟‘‘ دوسرے نے کہا کہ ’’بھائی! کیا بات ہے؟ کیا تم ہمارے ساتھ مکہ اور مدینہ شریف میں نہیں تھے؟ یہ دیکھو تمہارے ساتھ ہونے کا ثبوت! جب ہم روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کر کے بابِ جبریل سے باہر آ رہے تھے تو اس وقت رش کے باعث تم نے یہ تھیلی مجھے بطور امانت دی تھی جس کی مہر پر لکھا ہوا تھا ’جو ہم سے معاملہ کرتا ہے، نفع پاتا ہے‘ یہ لو اپنی تھیلی‘‘۔

صفحہ 664

حضرت ربیع بن سلیمانؒ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے اس تھیلی کو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا، میں نے تھیلی لے کر اپنے پاس رکھ لی۔ نماز عشاء سے فارغ ہو کر میں نے اپنا وظیفہ مکمل کیا اور انہی خیالات و تصورات میں جاگتا رہا کہ آخر یہ قصہ کیا ہے؟ اسی دوران میری آنکھ لگ گئی...... تو میں نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی، میں نے سلام عرض کیا اور دست بوسی کی سعادت حاصل کی۔ رحمت عالم ﷺ نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”اے ابن ربیع! آخر ہم اور کتنے گواہ اس پر قائم کریں کہ تو نے حج کیا ہے، مگر تو مانتا ہی نہیں۔ سن! بات یہ ہے کہ جب تو نے اس خاتون پر جو میری اولاد میں سے تھی، احسان کیا اور اپنا زادِ راہ ایثار کر کے اپنا حج ملتوی کر دیا تھا تو میں نے اللہ کریم سے دعا کی کہ وہ تجھے اس کا نعم البدل عطا فرمائے، تو اللہ کریم نے ایک فرشتہ تیری صورت پر پیدا فرمایا اور حکم دیا کہ وہ قیامت تک ہر سال تیری طرف سے حج کیا کرے۔ ان لوگوں نے جو کہ تجھے حاجی کہہ رہے ہیں، مکہ و مدینہ شریف میں اپنے ساتھ اس تیرے ہم شکل فرشتے کو دیکھا ہے، نیز دنیا میں تجھے یہ عوض دیا ہے کہ 600 درہم چاندی کے بدلے 600 دینار سونے کے عطا فرمائے، تو اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ“۔ پھر حضور نبی کریم ﷺ نے بھی وہی الفاظ ارشاد فرمائے ”جو ہم سے معاملہ کرتا ہے، نفع پاتا ہے“۔ حضرت ربیع بن سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں سو کر اٹھا اور اس تھیلی کو کھول کر گنا تو اس میں پوری 600 اشرفیاں موجود تھیں۔

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے ہر خوش نصیب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا معاملہ بھی اللہ رب العزت اور حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہے، اور اس کے صلے میں دنیا و آخرت میں وہ اُسے مایوس نہیں کریں گے۔ جو ان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، نفع پاتا ہے۔ یہ ایک ایسی آزمودہ چیز ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بلبل

علامہ آلوسیؒ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کو پیغام حق سنایا اور راہِ مستقیم دکھائی تو وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دلائل و براہین سے لاجواب ہو کر اس کو جو ندامت اور ذلت ہوئی، اس سے وہ سخت غضبناک ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذا اس کے لیے ایک وسیع و عریض جگہ مخصوص کی گئی اور اس میں مسلسل کئی روز تک آگ دہکائی گئی

صفحہ 665

جس کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے اور اس کے اثر سے قرب و جوار کی اشیا تک جھلسنے لگیں۔ آگ کی شعلہ سامانی کا یہ عالم تھا کہ چڑیوں نے ادھر سے گزرنا چھوڑ دیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں ڈال کر پھینک دیا گیا۔ کہتے ہیں اس وقت ایک بلبل دور دراز ایک چشمہ سے اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ لے کر آتی اور اوپر اڑتی ہوئی آگ پر وہ قطرہ گراتی تاکہ آگ بجھ جائے۔ کسی نے پوچھا، اے بلبل: بھلا تمھاری اس کوشش سے کبھی آگ بجھ سکتی ہے؟ بلبل نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ”میری اس حقیر کوشش سے آگ بجھے یا نہ بجھے، میں تو فقط دوستی کا حق ادا کر رہی ہوں“۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام پر اپنی سوزش کا اثر نہ کرے اور ناری عناصر کا مجموعہ ہوتے ہوئے بھی میرے نبی کے حق میں سلامتی کے ساتھ سرد پڑ جائے۔ آگ اسی وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں ”برد و سلام“ بن گئی اور دشمن ان کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے چاہنے والوں کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام دہکتی آگ میں سالم و محفوظ دشمن کے نرغہ سے نکل گئے۔ سچ ہے کہ

دشمن اگر قوی است، نگہباں قوی تر است

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ باطل کی طاغوتی طاقتوں کے بالمقابل استقامت کا پہاڑ بن جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غیبی امداد کی جاتی ہے۔

مولانا مودودیؒ نے کیا خوب کہا تھا: ”حق کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ وہ بجائے خود ’حق‘ ہے۔ وہ ایسی مستقل اقدار کا نام ہے جو سراسر صحیح اور صادق ہیں۔ اگر تمام دنیا اس سے منحرف ہو جائے تب بھی وہ حق ہی ہے؛ کیونکہ اس کا حق ہونا اس شرط سے مشروط نہیں ہے کہ دنیا اس کو مان لے۔ دنیا کا ماننا نہ ماننا سرے سے حق و باطل کے فیصلے کا معیار ہی نہیں ہے۔ دنیا حق کو نہیں مانتی تو حق ناکام نہیں ہے بلکہ ناکام وہ دنیا ہے جس نے اسے نہ مانا اور باطل کو قبول کر لیا۔ ناکام وہ قوم ہوئی جس نے انھیں رد کر دیا اور باطل پرستوں کو اپنا راہنما بنایا۔ ............. ہمارا کام بہر حال اندھیروں میں چراغ جلانا ہی ہے اور ہم مرتے دم تک یہی کام کرتے رہیں گے۔ ہم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم بھٹکنے یا بھٹکانے والوں میں شامل ہو جائیں۔ خدا کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں اندھیروں میں چراغ جلانے کی توفیق بخشی۔ اس احسان کا شکر یہی ہے کہ ہم چراغ ہی جلاتے جلاتے مر جائیں“۔

صفحہ 666

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قادیانیوں کو چونکہ یہود و نصاریٰ کی سرپرستی حاصل ہے، اس لیے وہ بہت منظم اور مضبوط ہیں، لہٰذا اس فتنہ کے خلاف کام کرنا بہت مشکل ہے۔ مزید برآں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس فتنہ کے خلاف کام کرنے والوں کو بہت کم کامیابی ملتی ہے کیونکہ یہ فتنہ حکومتی سرد مہری کی وجہ سے ہر شعبہ ہائے زندگی میں مضبوط جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اس لیے اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ قادیانی فتنہ خواہ کتنا ہی خطرناک اور مضبوط ترین کیوں نہ ہو اور اس کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کرنے سے کامیابی ملتی ہے یا نہیں ملتی۔ ہمیں تو صرف حضور نبی کریم ﷺ کا ایک سچا امتی ہونے کا حق ادا کرنا ہے اور جب تک ہماری سانسوں میں سانس ہے، ہم یہ حق ادا کرتے رہیں گے۔

ہوا کرتی ہے اپنا کام اور شمعیں بجھاتی ہے
ہم اپنا کام کرتے ہیں، نئی شمعیں جلاتے ہیں

حضرت یوسف علیہ السلام اور غریب بڑھیا

کہتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو غلام سمجھ کر مصر کے بازار میں فروخت کیا جارہا تھا تو ان کے خریداروں میں ایسے ایسے امیر و کبیر لوگ بھی شامل تھے جن کے خزانوں کی چابیاں اونٹوں پر لادی ہوئی تھیں۔ ان خریداروں میں ایک کمزور اور غریب بڑھیا بھی شامل تھی جس کے پاس صرف سوت کی ایک معمولی اٹی تھی جس کی قیمت ایک آدھ درہم سے زائد نہ تھی۔ کسی نے بڑھیا سے پوچھا۔ بی بی! تم اس معمولی سی چیز سے حضرت یوسف علیہ السلام کو آخر کیسے خریدو گی؟ غریب بڑھیا نے بڑا ایمان افروز جواب دیا، بیٹا: درست ہے کہ میں بڑے بڑے امیر لوگوں کی موجودگی میں شاید حضرت یوسف علیہ السلام کو نہ خرید سکوں لیکن میں صرف حضرت یوسف کے خریداروں کی فہرست میں اپنا نام درج کروانے آئی ہوں تاکہ بارگاہ خداوندی میں مقبول ہو سکوں۔

یہ عقیدت بھی عجب شے ہے کہ اکثر
مفلس کو بنا دیتی ہے یوسف کا خریدار

ہم اعتراف کرتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کے معاملہ میں ہم مجاہد اوّل تحفظ ختم نبوت سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ، جنگ یمامہ کے شہدا اور غازیوں کی جوتیوں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے، ہم تحریک

صفحہ 667

ختم نبوت 1953ء کے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کے بھی پاسنگ نہیں۔ ہم تو صرف بارگاہ خداوندی میں (اس بڑھیا کی طرح) تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں تاکہ قیامت کے دن منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کرنے والوں میں ہمارا شمار ہو جائے اور ہم شفاعت محمدی ﷺ کے حق دار بن جائیں۔

حضور نبی رحمت ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اگر مسلمان ہو جائیں تو اس سے اسلام کو اس قدر فائدہ نہیں، جتنا نقصان اس بات سے پہنچتا ہے کہ کوئی (ایک بھی) مسلمان اسلام چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب میں چلا جائے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہم سے یہ نہ پوچھے کہ ہم نے کتنے قادیانیوں کو مسلمان کیا، بلکہ یہ پوچھے کہ ہم نے کتنے مسلمانوں کو قادیانی ہونے سے بچایا۔

اللہ تعالیٰ کا عذاب کیوں نہیں آتا؟

علما نے لکھا ہے کہ اگر حضور خاتم النبیین ﷺ کا ظہور نہ ہوتا تو تمام نبیوں کی نبوت باطل ہو جاتی۔ اس سے آپ حضور خاتم النبیین ﷺ کے مقام و مرتبہ، عزت و ناموس اور تقدس وعظمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کا امتی ہونا بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یہ انعام مفت میں مل گیا۔ ہم تو اس نعمت عظمیٰ کا ذرا سا حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔ ایک دفعہ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ سے کسی نے پوچھا۔ حضرت! پہلی قومیں جب بڑے بڑے گناہوں (شراب، جوا، زنا، قتل، چوری، فحاشی وعریانی وغیرہ) کا ارتکاب کرتی تھیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا تھا، بستیاں الٹا دی جاتی تھیں، آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش ہوتی تھی، ان کی شکلیں مسخ کر دی جاتی تھیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ آج امت محمدیہ بھی انہی گناہوں میں ملوث ہے مگر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا؟ مولانا نے سوال سنا تو جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ پھر فرمایا: اللہ کا عذاب اب بھی آتا ہے لیکن گنبد خضرا کو دیکھ کر واپس چلا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے امتیوں پر نازل ہوں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دو بندوں کو اللہ جل مجدہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ حکم دیں گے کہ میرے ان دونوں بندوں کو جنت میں لے جاؤ۔ اس پر وہ دونوں

صفحہ 668

بہت خوش ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب! ہم جنت میں داخل ہونے کا ذرا سا بھی حق نہیں رکھتے کیونکہ جنتیوں کا سا کوئی بھی عمل ہمارے نامہ اعمال میں نہیں ہے۔ ہم اس عزت و اکرام کا سبب معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ جل جلالہ فرمائیں گے کہ تم میرے محبوب کے ہم نام ہو۔ لیکن تم نے دنیا میں اس نام کی لاج نہیں رکھی۔ تمھیں اس نام کے ساتھ میری نافرمانی کرتے وقت شرم بھی نہ آئی۔ لیکن مجھے حیا آتی ہے کہ تمھیں عذاب دوں کیونکہ تمہارا نام میرے محبوب ﷺ کے نام پر ہے۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انھیں جنت میں لے جاؤ۔ لیکن ایک ہم ہیں کہ ہمارے سامنے ہمارے پیارے آقا و مولا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین ہوتی ہے اور ہم خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ برداشت کرتے رہتے ہیں۔

توہینِ رسالت ﷺ پہ اے مسلم تیری خاموشی
کیا محبت شاہ لولاک ﷺ کا معیار یہی ہے؟

حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

پانچ سوالوں کا جواب نہ لیا جائے۔ ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گزاری؟ دوسرا یہ کہ اس نے اپنی جوانی کس شغل میں برباد کی؟ تیسرا یہ کہ اپنا مال کہاں سے کمایا؟ چوتھا یہ کہ مال کہاں خرچ کیا اور پانچواں یہ کہ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟“

مسلمان بھائیو! اگر ہماری عمر، جوانی، مال اور علم سب تحفظ ختم نبوت کے لیے استعمال ہوا تو آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ شفاعت رسول کریم ﷺ کا پروانہ ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ (ان شاء اللہ) اور اگر خدانخواستہ ہماری عمر، جوانی، مال اور علم کا استعمال اس کے برعکس ہوا تو سوائے ناکامی، حسرت اور ذلت و رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ دیکھیے! کمرۂ امتحان میں پرچہ کے سوالات پہلے سے کسی کو معلوم نہیں ہوتے۔ چنانچہ اس کی تیاری کے سلسلہ میں بہت سخت محنت اور کوشش کرنا پڑتی ہے جبکہ آخرت کے امتحان کے پرچہ کے سوالات ہمیں پہلے ہی دے دیے گئے ہیں۔ اگر ہم پھر بھی اس کی تیاری کر کے کامیاب نہیں ہوتے تو یہ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہوگی۔

اس ضمن میں علم و عقل، فہم و فراست، قوت بیان اور دیگر صلاحیتوں کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ یہ صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، انہیں ضائع نہ کریں۔ حدیث مبارکہ ہے

صفحہ 669

کہ جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ گویا صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ آپ انہیں کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یہ آپ کا کڑا امتحان ہے۔ اگر آپ اس امتحان میں سو فیصد کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو تحفظ ختم نبوت میں کھپا دیں، اللہ تعالیٰ آپ کو بغیر حساب کے کامیاب و کامران قرار دے دے گا۔

ایک دفعہ شہرہ آفاق ہیوی ویٹ باکسر محمد علی نے کہا تھا: ”میں سگریٹ نہیں پیتا مگر ایک ماچس ضرور اپنی جیب میں رکھتا ہوں۔ جب کبھی گناہ کرنے کو دل چاہتا ہے تو ماچس جلا کر ہتھیلی اس کے اوپر رکھ دیتا ہوں اور اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد علی تم تو یہ آگ برداشت نہیں کر سکتے تو دوزخ کی آگ کیسے برداشت کرو گے“۔

اگر ایک آدمی کی عمر 70 سال ہو تو اس میں سے تقریباً 24 سال نیند میں گزر جاتے ہیں۔ 14 سال ملازمت یا کاروبار میں گزر جاتے ہیں۔ 8 سال تفریح وغیرہ میں گزر جاتے ہیں۔ 6 سال کھانے پینے میں گزر جاتے ہیں۔ 5 سال سفر وغیرہ میں گزر جاتے ہیں۔ 4 سال گفتگو وغیرہ میں، 3 سال تعلیم حاصل کرنے میں، 3 سال مطالعہ میں، 3 سال ٹی وی وغیرہ دیکھنے میں گزر جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص پانچ وقت نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے تو یہ پیریڈ 5 ماہ بنتا ہے۔ بحیثیت ایک مسلمان اسلام کی سربلندی، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنوں کی سرکوبی کے سلسلہ میں ہم کتنا وقت استعمال کرتے ہیں؟ ہر مسلمان کو اس اہم سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

دیکھیے! آج اگر اعلان ہو جائے کہ ایک دن کے لیے لوہے کا بھاؤ سونے کے برابر ہو گیا ہے، تو لوگ اپنے گھر کے دروازوں، کھڑکیوں اور اس کی کنڈیاں نکال نکال کر بیچ ڈالیں گے اور اس کی کیلیں بھی بیچ ڈالیں گے کہ بعد میں دیکھا جائے گا پہلے لوہے کا بھاؤ سونے سے حاصل تو کر لیں۔ ہم دنیا کے معاملے میں بہت زیادہ مستعدی دکھاتے ہیں کہ اس کی قیمت وصول کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں لیکن آخرت کے حوالے سے تحفظ ختم نبوت کا کام جو عام نیکیوں سے ہزار گنا زیادہ بڑا ہے، اس سے لاپروائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا مبارک ارشاد ہے:

صفحہ 670

کے ثواب اسے ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔ اول صدقہ جاریہ، دوم وہ علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچتا رہے، سوم وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے‘‘۔

جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اپنی تقریروں یا تحریروں سے مسلمانوں میں ختم نبوت کا شعور بیدار کرتا ہے، اپنی اولاد کو بھی اس کام کی ترغیب اور تربیت کرتا ہے تو یقیناً وہ قبر وحشر میں ہر قسم کے خوف سے آزاد ہوگا۔ (ان شاء اللہ )

ارشاد خداوندی ہے:

’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا‘‘۔

(محمد: 7)

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے کاموں میں پڑ گیا، اللہ اس کے کاموں میں پڑ گیا‘‘۔ یعنی جو شخص تسلسل سے نیکی کا کام کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہر دنیاوی مشکل سے محفوظ رکھیں گے اور ظاہر ہے تحفظ ختم نبوت کا کام سب سے بڑی نیکی اور عبادت ہے۔

شیخ تقی الدین ابن دقیق العید بہت بڑے عارف باللہ اور صاحب کشف و کرامات تھے۔ جب مسجد بغداد میں داخل ہوتے تو منہ پر نقاب ڈال لیتے۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: ’’جب میں مسجد میں جاتا ہوں تو کوئی کتا نظر آتا ہے اور کوئی خنزیر نظر آتا ہے تو میں منہ پر نقاب ڈال لیتا ہوں تاکہ مسلمانوں سے بدظنی پیدا نہ ہو‘‘۔

آج کا مسلمان تعلیم انگلینڈ میں حاصل کرنا چاہتا ہے، ملازمت امریکہ میں کرنا چاہتا ہے، رہنا کینیڈا میں چاہتا ہے، بات انگریزی میں کرنا چاہتا ہے، کھانا چائنیز رائس، اٹالین پیزا اور رشین سلاد چاہتا ہے، مصنوعات جاپانی استعمال کرنا چاہتا ہے، چھٹیاں یورپ میں گزارنا چاہتا ہے، فلمیں ہالی ووڈ کی دیکھنا چاہتا ہے، موسیقی انڈین سننا چاہتا ہے، لیکن، زندگی کے اختتام پر، مرنا مکہ میں چاہتا ہے، تدفین مدینہ میں چاہتا ہے، اور موت کے بعد زندگی جنت میں گزارنا چاہتا ہے...... کیا سادگی ہے......!!! ہمارا المیہ ملاحظہ ہو کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں پیدا ہونے کی خیالی اور شاعرانہ خواہشیں تو رکھتے ہیں لیکن موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے طریقے پر زندگی نہیں گزارتے۔

یہ حقیقت آج بھی موجود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم میں قول وفعل کا تضاد

صفحہ 671

ہے۔ ہم حضور نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت وعقیدت کا دعویٰ کرتے ہیں، خود کو عاشق رسول ﷺ کہلواتے ہیں، آپ ﷺ کا ذکر مبارک سنتے ہی بے اختیار رونا شروع کر دیتے ہیں، میلاد شریف کے پروگراموں میں لاکھوں خرچ کر ڈالتے ہیں، نعت خوانوں پر کرنسی نوٹ بارش کی طرح نچھاور کرتے ہیں، لاؤڈ سپیکر سے بھی زیادہ، بلند آواز میں نعرے لگاتے ہیں، فیضان سنت پر تقریریں کرتے ہیں، میٹھی میٹھی سنتوں کا تذکرہ کرتے ہیں، دین اسلام کے لیے تبلیغی گشت پر مہینوں گھر سے باہر رہتے ہیں، معمولی مسلکی اختلاف پر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں...... لیکن پیارے آقا حضور پُرنور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے دیکھ کر ہمیں چپ لگ جاتی ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے اس قدر بیگانگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ گویا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ (نعوذ باللہ) سرکارِ دو جہاں ﷺ کے گستاخوں اور باغیوں (قادیانیوں) سے ہر طرح کے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے کیا خوبصورت فرمایا: ’’تیرا عمل تیرے عقائد کی دلیل ہے اور تیرا ظاہر تیرے باطن کی دلیل ہے‘‘۔

تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ آپ نے اس فرض کی ادائیگی میں کیا کردار ادا کیا؟ کونسی ذمہ داری پوری کی؟ یہ سوال ہر اس شخص کے سوچنے کا ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اس سوال پر آپ کو غور کرنا ہے اور سب سے پہلے کرنا ہے۔ یہ ہر ضرورت سے زیادہ اہم ضرورت اور ہر مسئلہ سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے انجام کی فکر ہے، اگر آپ اپنی عاقبت کے بارے میں سنجیدہ ہیں، اگر آپ واقعی اپنے خیر خواہ ہیں، اگر آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ذرا سا بھی تعلق رکھتے ہیں تو آپ اس سوال کو ٹال نہیں سکتے۔ بے فکری سے سر جھٹک کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آپ کو رک کر سوچنا ہوگا۔ اس سوال سے آپ کی دنیا و آخرت میں کامیابی یا ناکامی وابستہ ہے۔ آپ کی دائمی سرخروئی یا رسوائی وابستہ ہے۔ ہر سوال سے زیادہ آپ کے لیے یہ ایک سوال ہے۔ اس سوال سے لاپروائی اپنے انجام سے لاپروائی ہے۔ اس سوال کی تحقیر اپنی زندگی کی تحقیر ہے اور اس سوال سے صرف نظر کرنا اپنی ذات کے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ روئے زمین پر اس شخص سے زیادہ بدقسمت، نادان اور تباہ حال اور کون ہوگا جسے تحفظ ختم نبوت کی کوئی پروا نہ ہو، اور اس اہم ذمہ داری کی ادائیگی سے غافل ہو۔ سوچنا چاہیے کہ آدمی کو اپنی جان، اپنی مرغوبات، اپنے احساسات اور میلانات زیادہ عزیز

صفحہ 672

ہیں یا حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی۔ اپنے کاروبار، اپنے مشغلے اور اپنے دھندے زیادہ محبوب ہیں یا شفاعت محمدی ﷺ۔ اپنے بیوی بچوں سے زیادہ محبت ہے یا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے۔ اپنے مال اور جائیداد کو تحفظ ختم نبوت پر قربان کر کے مسرور ہوتا ہے یا ختم نبوت پر ڈاکا زنی ہوتے دیکھ کر ان کو بچاتا ہے۔ یاد رکھیے! آزمائش کی ان گھڑیوں میں ایک سچے مسلمان کے درجات دیکھتے ہی دیکھتے احسن تقویم کی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کے تصور سے روح جھوم اٹھتی ہے۔ اس سے بلند مقام اور کیا ہوسکتا ہے کہ کسی شخص پر حضور نبی کریم ﷺ کی نظر کرم ہو جائے۔ درخت اگر پھلوں سے پہچانا جاتا ہے تو ایک مسلمان کو جانچنے کا معیار بھی اس کے اعمال ہیں۔ اگر اس کی گفتار اور کردار میں دینی غیرت و حمیت دکھائی دے تو اسے ایمان کی علامت کہا جاسکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’غیرت ایمان کا حصہ ہے‘‘۔ اس شخص کے متعلق آپ کیا رائے قائم کریں گے جو حضور نبی کریم ﷺ سے محبت، عشق اور عقیدت کا دعویٰ بھی کرے، اپنی تقریر و تحریر سے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہو کہ آپ ﷺ سے زیادہ اسے کوئی چیز عزیز نہیں لیکن آپ ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر اپنا معمولی سا مفاد بھی قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہو؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایسی مصنوعی محبت کس کام کی؟ کیا ایسے شخص کو حضور نبی کریم ﷺ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے؟ حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کے کچھ تقاضے ہیں جنھیں پورا کرنا ازحد ضروری ہے۔ ان تقاضوں کو نظر انداز کر دینے سے محبت رسول ﷺ کے دعوے محض فریب ہیں۔ تکمیل ایمان کے لیے تکمیل محبت ضروری ہے۔ محبت میں کھوٹ ہو تو ایمان میں کھوٹ ظاہر ہو کر رہے گا۔ اپنا نقصان کر کے اپنے آقا ﷺ کا بول بالا کرنا محبت کا شیوہ ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’جیسا عمل کرو گے ویسی عادت بنے گی اور جیسی عادت بنے گی، ویسی سیرت ہوگی اور جیسی سیرت ہوگی، ویسی قسمت پاؤ گے‘‘۔

ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ اگر ہماری کسی سے ان بن ہو جائے، اس پر غصہ آ جائے تو طیش میں تمام اخلاقی حدود عبور کر جاتے ہیں۔ جذبات کی رو میں نجانے کیا کیا مغلظات سنا دیتے ہیں، پھر ہفتوں کیا مہینوں اس سے سلام کلام ترک کر دیتے ہیں۔ توجہ دلانے پر بھی وہ ہماری ہر بات سنی ان سنی کر دیتے ہیں حالانکہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی

صفحہ 673

سے قطع تعلق کیے رہے“۔ اس کے برعکس گستاخان رسول سے ہماری دوستی میں فرق نہیں آتا۔ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان سے اپنے ذاتی اور کاروباری تعلقات قائم رکھتے ہیں۔ یاد رکھیے! ایسے لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگاہ کرم سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے دل محبت رسول ﷺ کی لازوال نعمت سے خالی ہو جاتے ہیں۔ ان سے حق پذیری کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔ وہ نور حق کو پہچاننے والی قوت و بصارت سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ وہ عقل و شعور سے عاری نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے لوگ دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔

شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

امام مالکؒ فرماتے ہیں۔ ”جس آدمی کا قول اس کے فعل کے موافق ہوا تو وہ نجات پا گیا اور جس کا قول اس کے فعل کے موافق نہ ہوا تو وہ ہلاک ہو گیا“۔

فیصلہ آپ خود کیجیے! حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے سلسلہ میں قول و فعل کے تضاد کے حوالہ سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟

بادشاہ اور بہروپیا

مکر و فریب سے نا آشنا، بھولے بھالے مسلمان بھائیو! تمہاری غیرت کو کیا ہوا؟ تمہاری فہم و فراست اور ایمان و ایقان کو کیا ہوا؟ تمھارے دلوں سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت ختم ہو گئی یا تمھارے ذہن عاشقان رسول ﷺ کے ایمان افروز واقعات فراموش کر چکے؟ آپ کو کیوں نہیں پتہ چلتا کہ قادیانی منافق اور آستین کے سانپ ہیں۔ یہ گندم نما جو فروش، مغالطہ آمیز ظاہری خوش اخلاقی کے لبادے میں آپ کے قیمتی ایمان کے دشمن اور رہزن ہیں۔ فتنہ قادیانیت جسد اسلام میں سرطانی پھوڑے کی حیثیت رکھتا ہے جس کا گھاؤ اندر ہی اندر کام کرتا رہتا ہے۔ افسوس! آپ نے مرزائیت کا صحیح مطالعہ ہی نہیں کیا؟ قادیانیت کے باطن کی تصویر آپ کے وہم و خیال سے کوسوں دور ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے عقائد و نظریات اس قدر خطرناک ہیں کہ اس کے تصور سے روح لرزہ بر اندام ہو جاتی ہے اور مرزائیت ایسی بھیانک نظر آتی ہے کہ پاس پھٹکنے سے خوف آتا ہے۔ بخدا! منافق سے مخالف ۱ کروڑ درجہ بہتر ہے کیونکہ مخالف کے داؤ

صفحہ 674

میں بھولے پن سے آیا نہیں جاتا مگر منافق وہ میٹھی چھری ہے جو پیٹ میں بھونک جانے کے بعد پتہ دیتی ہے۔ بیگانت سے ہر کوئی آشنا اور محتاط رہتا ہے۔ مگر یگانت وہ نامراد چیز ہے جس سے ہر چیز اعتبار کے پردے میں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کا بھیدی آسانی سے ہر مشکل امر میں کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ وہ شک کی نظروں سے دیکھا نہیں جاتا۔ اس موقع پر مجھے ایک نہایت دلچسپ واقعہ یاد آیا جو ضیافت طبع میں سرور پیدا کرے گا۔

عالمگیر اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کے دربار میں ایک بہروپیا ایک مدت تک بہروپ بھرتا رہا مگر ہر موقع پر جہاں پناہ کی نباض نگاہیں اسے بھانپ جاتیں اور بہروپ کافور ہو جاتا۔ بیچارے نے بڑی کوشش کی اور طرح طرح سے کولہے مٹکائے مگر ہر مرتبہ ناکامی و نامرادی نے پاؤں چومے۔ آخر بادشاہ نے ایک بڑے انعام کا وعدہ دے کر کہا کہ اگر تیرے بہروپ میں، میں آ جاؤں یعنی میری نگاہیں دھوکا کھا کر تجھے نہ پہچان سکیں تو یہ بیش بہا انعام تیرا ہے۔ گرانقدر انعام کے وعدے پر بہروپیے کی باچھیں کھل گئیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے منہ میں پانی بھر آیا۔ فکر و تدبر کے دریائے زخار میں غواصگی کی، عقل و ہنر کے صحراؤں میں بادہ پیما ہوا، فہم و ادراک کے گھوڑے دوڑائے اور آخر ایک سنہرے نتیجہ پر پہنچ کر بڑی مستعدی سے اس پر گامزن ہوا۔

شہنشاہ عالمگیر کی بے پناہ فوجیں دشت و جبل کو روندتی ہوئیں، فتح کے پھریرے اڑاتی ہوئیں، مرہٹوں کی سرکوبی و گوشمالی کے لیے جا رہی تھیں۔ شاہ عالم بنفس نفیس بھی ساتھ تھے۔ خاور افق اپنی پوری منزلیں طے کرنے کے بعد مغرب میں پناہ گزیں ہو رہا تھا۔ اس کی سنہری و روپہلی کرنیں درختوں کے پتوں سے چھن چھن کر بساط عالم کو رنگین کر رہی تھیں۔ طائران خوش الحان نواسنجی کو فراموش کیے اپنے بسیروں کو بڑی عجلت سے جا رہے تھے۔ عروس شام تاریکی کا لباس پہن چکی تھی اور ہر طرف ظلمت کے حصار، نور کی فوجوں کو محصور کر کے کھڑے ہو گئے۔

دن بھر کے تھکے ماندے سپاہیوں نے آرام کے لیے اپنی کمریں کھولیں۔ خیمے نصب کر کے الاؤ جلائے۔ شکم پوری کی اور نماز سے فراغت ہوتے ہی وجعلنا اللیل لباساً کی گود میں آرام کیا۔ شاہ عادل دیر تک وظائف میں مشغول رہنے کے بعد اُٹھے اور اپنی فوج کا جائزہ لیا۔ اطمینان ہونے کے بعد خیمے کو لوٹے تو سامنے دور جنگل میں روشنی نظر آئی۔ ہرکارے دوڑائے تو معلوم ہوا کہ ایک فقیر کی جھونپڑی ہے جس میں دیا ٹمٹما رہا ہے اور فقیر مراقبہ کھینچے یاد الٰہی میں

صفحہ 675

بیٹھا ہے۔ مگر کسی کے استفسار کا جواب نہیں دیتا۔ بادشاہ کو اشتیاق ملاقات اور دعائے فتح کا خیال رات بھر ستاتا رہا۔ صبح ہوئی نماز سے فارغ ہوئے اور فقیر کی کٹیا کو چند مصاحبوں کی ہمراہی میں چل دیے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ فقیر نورانی صورت میں سفید لباس زیب تن کیے، بڑے فقر و استغنا سے بیٹھا ہے۔ شاہ عادل نے سلام عرض کیا اور دعا کی آرزو پیش کی۔ فقیر نے ایک ہلکا سا تبسم کرتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ بادشاہ نے اشرفیوں کی تھیلی نذر میں پیش کرتے ہوئے اجازت طلب کی تو فقیر کامل نے جواب دیا، بابا یہ سونے کے سکے میرے کس مصرف کے، ہم اللہ والوں کو ان سے کیا کام، اس کو اٹھاؤ اور چلتے بنو۔ شاہ عالم نے ہزار کوشش کی مگر فقیر رضامند نہ ہوا...... شاہ عادل واپسی پر ابھی تھوڑی ہی مسافت طے کرنے پائے تھے کہ وہی فقیر راستہ روکے سامنے کھڑا یہ صدا دے رہا تھا۔

”حضور کا اقبال قائم! میرا انعام دلوائیے“۔

شاہ عالم حیران و ششدر رہ گیا اور اس کے فن کمال کا معترف ہو کر بولا کہ تم نے اس وقت جبکہ میں نے انعام سے دس گنا زیادہ دینے کا اصرار کیا تو کیوں نہ قبول کیا۔ اس پر بہروپیے نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا، بادشاہ سلامت! اس وقت میں نے فقر کی گدی پر اپنے آپ کو ایک ولی اللہ کے بہروپ میں ظاہر کیا تھا۔ میری غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ فقر کی مسند بدنام ہو، اس لیے تم ہزار گنا زیادہ بھی دیتے تو کبھی نہ لیتا اور اس وقت جو مانگ رہا ہوں، یہ میرے فن کی قیمت ہے۔ یہ جواب سن کر بادشاہ پر ایک سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔ عالم تحیر میں دیر تک وہ خاموش رہا۔ تھوڑی دیر بعد جب حیرت کا طلسم ٹوٹا تو ارشاد فرمایا: ”آج میں نے تسلیم کر لیا کہ تم اپنے فن میں کامل ہو۔ اب اس خوشی میں کہ تم نے میرے اوپر فتح حاصل کر لی ہے، اشرفیوں کی یہ تھیلی قبول کرلو۔ تمہارے فن کا صحیح حق اس وقت ادا کروں گا جبکہ قلعہ معلیٰ دہلی میں تم مجھ سے ملاقات کرو گے۔ دکن کی مہم سے فارغ ہو کر جب میں دارالخلافہ کو واپس لوٹوں گا تو تمہارا نہایت شدت سے انتظار کروں گا“۔

یہ کہتے ہوئے جیسے ہی بادشاہ نے قدم آگے بڑھایا۔ بہروپیے نے دامن تھام لیا۔ جہاں پناہ! اشرفیوں کی یہ تھیلی لے کر اب میں کیا کروں گا؟ اب تو دل کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔ آج تک حقیقت کے جس چہرے پر بے شمار پردے پڑے ہوئے تھے۔ اب کھلی آنکھوں سے اُسے بے نقاب دیکھ رہا ہوں۔ فقیر درویش کی نقل میں جب یہ تاثر ہے کہ کشور ہند کے شہنشاہ

صفحہ 676

کی معزز پیشانی میرے آگے جھک گئی تو اصل کی طرف اگر میں رُخ کر لوں تو کسی اور اعزاز کی ہمیں ضرورت کیا ہے؟

یہ کہتے ہوئے ایک چیخ ماری اور جیب و گریباں کی دھجیاں اُڑاتا ہوا چشم زدن میں نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ بادشاہ پر پھر ایک سکتہ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس رقت انگیز واقعہ کے تاثر سے آنکھیں بھیگ گئیں اور غار کی تنہائی میں دیر تک سوچتے رہے۔

خدا کی شان بھی کیسی بندہ نواز، بے نیاز ہے۔ کوئی عمر بھر جھک مارتا ہے تو دروازہ نہیں کھلتا اور کسی کے لیے ایک ہی لمحہ آتشیں زندگی بھر کی غفلتوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

پھر بادشاہ کی توجہ تصویر کے دوسرے رخ کی طرف مبذول ہوئی۔ آہ! خدا شناسی اور فقیر درویشی کے نقالوں نے دنیا میں کیسے کیسے لوٹا ہوگا۔ کون جانتا ہے؟ اس راہ کا فریب خوردہ ایک میں ہی نہیں تھا۔ میری طرح لاکھوں افراد شیطان کے مکر کا شکار ہوتے ہوں گے۔ صد حیف! کہ اس راہ کے فریب سے بچنا کتنا مشکل ہے؟ تسبیح و مصلیٰ، تقدیس و تہلیل اور ریاضت و عبادت کے چمکدار سکون پر کون نہیں ریجھ جائے گا؟ پروردگار! تو ہی اپنے محبوب کی بھولی بھالی امت کو وقت کے فریب کاروں سے بچانا۔

افسوس تو یہ ہے کہ ایک ادنے بہروپیے نے ایک ولی اللہ کی مسند کو داغدار کرنا گوارا نہ کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو حد ہی کر دی۔ بیٹھنے کو تو وہ نبوت کی مسند پر بیٹھا مگر احترام ایک بہروپیے جیسا بھی نہ کیا۔ ؎ کیا بلندی تھی، کیا پستی ہے

حمیت نام ہے جس کا......

غلام قادر روہیلہ، نواب نجیب الدولہ کا پوتا، شہر نجیب آباد کا بانی ایک ظالم حکمران تھا۔ جولائی 1788ء میں اس نے خواجہ سرا منظور علی خاں کی سازش اور غداری کی بنا پر مغل شہنشاہ شاہ عالم (جس کا سلسلہ نسب تیمور سے جا ملتا ہے) کا تختہ الٹ کر اسے قید کر لیا۔ پھر دس دن بعد اس کی دونوں آنکھیں نکلوا دیں۔ شہزادوں کو کوڑے لگوائے۔ بچوں کو بھوکے مار دیا گیا۔ شاہی خاندان کی انتہائی خوبصورت اور نازک اندام خواتین کو اپنے خاص دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب تمام خواتین دربار میں حاضر ہو گئیں تو غلام قادر نے انھیں رقص کرنے کا حکم دیا۔ عفت مآب مغلیہ بیگمات، ملکائیں اور شہزادیاں اس کے حکم کی تعمیل میں فوراً رقص کرنے لگیں۔ اس اثنا میں غلام قادر روہیلہ نے حفاظتی ٹوپ اپنے سر سے اتار کر ایک طرف

صفحہ 677

رکھ دیا۔ پھر اپنا خنجر اور تلوار نیام سے نکال کر سامنے میز پر رکھ دی اور دونوں آنکھیں بند کر کے سستانے کے موڈ میں کرسی پر ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ اس دوران میں رقص جاری رہا۔ تھوڑی دیر بعد غلام قادر اچانک اٹھا اور شاہی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تمھیں اپنے مقدر سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے، میرا مسند پر سونا ایک چال اور بناوٹ تھا۔ سپاہی کبھی نہیں سوتا۔ میرے اس طرح فرضی اور بناوٹی سونے کا مقصد محض یہ تھا کہ کوئی شہزادی مجھے غافل سمجھ کر اچانک آگے بڑھ کر میرے خنجر یا تلوار سے میرا سر قلم کر دے مگر کسی نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ میں غیرت و حمیت ختم ہو چکی ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے بانگ درا میں اس پورے واقعہ کو نظم کی صورت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے

جن لوگوں کے دلوں سے غیرت و حمیت رخصت ہو جائے، زمانہ انھیں بے غیرت کے نام سے یاد کرتا ہے اور جو لوگ اپنے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی پر میدان عمل میں نہیں آتے، اپنی اسلامی و دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ دنیاوی مفاد کی خاطر دشمنان رسولؐ کے ساتھ دوستیاں اور تعلقات رکھتے ہیں، زمانہ انھیں کس نام سے یاد کرے گا...... یہ فیصلہ آپ خود کیجیے!

خلافت عثمانیہ کا سقوط ہو چکا تھا۔ ترکی کے جنوبی علاقے قہرمان مرعش کے ایک بازار میں فرانسیسی جنرل فتح کے نشے میں مست جا رہا تھا کہ اس کی نظریں باپردہ ترک خواتین پر پڑیں۔ جنرل رکا اور ان سے مخاطب ہوا کہ خلافت عثمانیہ ختم ہو چکی ہے۔ اب تم ہمارے ماتحت ہو، اپنے حجاب اتار دو۔ خواتین نے جنرل کو ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ جنرل کو یہ انکار پسند نہ آیا۔ اس نے اپنا ہاتھ ایک خاتون کے حجاب کی طرف بڑھایا کہ حجاب نوچ لے۔ بازار میں قریب ہی ایک دودھ فروش یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کا نام ”سوتجو“ تھا۔ اس دودھ فروش کی غیرت ایمانی نے جوش مارا۔ وہ چیتے کی طرح لپکا اور فرانسیسی جنرل کا پستول چھین کر اسے زمین پر ڈھیر کر دیا۔ دودھ فروش کی دکان کے پاس لوگ جمع ہوئے۔ یہیں سے ایک زبردست تحریک نے جنم لیا۔ دودھ فروش نے اس تحریک کی قیادت کی۔ وہ راتوں رات دودھ فروش سے آزادی کا ایک لیڈر بن کر ابھرا اور تھوڑے ہی عرصے میں پورے قہرمان مرعش کو فرانسیسی

صفحہ 678

استعمار سے آزاد کروا لیا۔ وہ دودھ فروش پوری ترک قوم کا ہیرو بن گیا۔ لوگ اُسے ’امام سوتچو‘ کے نام سے پکارنے لگے۔ شاہراہوں پر اس کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کے مجسمے نصب کیے گئے۔ ترک نصابوں میں اس کا تذکرہ پڑھایا جانے لگا۔ آج ترکی میں ’جامع امام سوتچو‘ کے نام سے باقاعدہ ایک یونیورسٹی قائم ہے، جبکہ کئی فلاحی ادارے، تنظیمیں، مدارس اور این جی اوز امام ساتجو کے نام سے قائم ہیں۔

یاد رکھیے! تاریخ بہادروں کو یاد رکھتی ہے، جھوٹوں اور بزدلوں کو نہیں!!!

خوش نصیب جھنڈا

آپ نے شاید کبھی نہ سنا ہوگا کہ حکومت کا جھنڈا کسی مقام پر نصب ہے اور اس کی حفاظت کے لیے کوئی سپاہی موجود نہیں، لیکن دشمن کو اس کے پاس آنے اور اُکھاڑنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ ہسپانیہ کی اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ بھی مذکور ہے جو دسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اس وقت ابن ابی عامر محمد ”منصور باللہ“ ہسپانیہ کی اموی سلطنت کا سپہ سالار تھا۔

منصور نے ہسپانوی ریاستوں سے جو عہدنامے کر رکھے تھے، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ان کی حدود میں کوئی مسلمان قیدی نہ رہنے پائے۔ ایک مرتبہ اس کا ایلچی شمالی ہسپانیہ کی ایک ریاست میں گیا۔ سیر و سیاحت کرتے ہوئے اُسے معلوم ہوا کہ چند پادریوں نے ایک مسلمان عورت کو قیدی بنا کر کلیسا کے کام پر لگا رکھا ہے۔ منصور کو یہ اطلاع ملی تو خود فوج لے کر اس صوبے میں پہنچ گیا۔ حاکم نے حاضر ہو کر حلف اٹھایا کہ مجھے اس خاتون کی اسیری کا علم نہ تھا اور اس نے مجرموں کو سخت سزائیں دیں۔

یہی منصور ایک مرتبہ لڑائی کے لیے گیا۔ فوج کے دستوں نے جگہ جگہ اپنے اپنے جھنڈے نصب کر رکھے تھے۔ جنگ ختم ہو گئی اور فوج کو واپسی کا حکم ملا تو اتفاق سے ایک جھنڈا، جو پہاڑی پر نصب تھا، بدستور وہیں لگا رہ گیا۔ اگرچہ پوری فوج واپس چلی گئی تھی اور کوئی شخص جھنڈے کے پاس موجود نہ تھا، لیکن دشمن کو اسے اکھاڑنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس نے یہی سمجھا کہ اگر اسے اُکھاڑ لیا تو منصور سخت سزا دے گا۔

جھنڈا کیا ہے؟ لکڑی کا ایک ڈنڈا اور دو گز کپڑا، لیکن جب وہ ایک فوج، ایک ملک اور ایک قوم کی عزت کا نشان بن جائے، تو ہزاروں بہادر اس کے سائے میں اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ کس قدر خوش نصیب تھا وہ جھنڈا، جسے اپنے جانبازوں کی فیروزمندی کے طفیل

صفحہ 679

وہ بلند مقام حاصل ہوا کہ اگرچہ ایک بھی متنفس اس کی حفاظت کے لیے موجود نہ تھا، تاہم کسی کا ہاتھ اس کی طرف نہ بڑھا۔

قارئین کرام! غور فرمائیں، ایک وقت تھا کہ مسلمان اپنے معمولی جھنڈے کی حفاظت کے لیے کتنے حساس تھے اور کسی کافر کی جرأت نہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے جھنڈے کی توہین کا ارتکاب کرے یا اس کے بارے میں سوچے لیکن آج مسلمان، شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی توہین پر ماضی کی طرح اتنے حساس اور ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ بعض دفعہ تو وہ چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں جو ان کی بے حمیتی، بے غیرتی اور بے حسی کا بین ثبوت ہوتا ہے۔ یاد رکھیے! غیرت سیپ کا موتی ہوتا ہے۔ موتی سیپ سے نکل جائے تو وہ کوڑی کی رہ جاتی ہے۔ ایک مسلمان کا موتی اس کی دینی غیرت وحمیت ہے۔

بعض نام نہاد مسلمانوں کی ضمیر فروشی اور بے غیرتی کا یہ عالم ہے کہ وہ گستاخان رسولؐ قادیانیوں سے اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور میل ملاقات رکھتے ہیں۔ بعض نام نہاد مسلمان بے غیرتی اور بے حمیتی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ وہ ان کی شادیوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے جنازوں میں شامل ہوتے ہیں۔ پیٹ اور پلیٹ کی خاطر قادیانیوں سے دوستی رکھنے والا مسلمان آخر کس منہ سے روز قیامت حضور نبی کریم ﷺ سے شفاعت کا امیدوار ہوگا۔ نبی رحمت عالم ﷺ سے محبت اور قادیانیوں سے محبت دو متضاد چیزیں ہیں۔ دونوں محبتیں ایک مسلمان کے دل میں کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ بالکل اس طرح، جس طرح پانی اور آگ کا اکٹھا ہونا محال اور ناممکنات میں سے ہے۔

بخاری اور مسلم شریف کی ایک حدیث ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا اچھے اور بُرے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک فروخت کرنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ مشک والا یا تو تجھے یونہی مشک دے دے گا یا تُو اس سے خریدے گا اور یا کم از کم پاکیزہ خوشبو ہی سونگھ لے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا یا بری بُو تو تجھے سونگھنی ہی پڑے گی۔ یعنی گستاخان رسولؐ قادیانیوں سے معمولی سا بھی تعلق ہلاکت ایمان کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ لاکھ احتیاط کے باوجود بھی کوئی شخص ان کی نحوست اور لعنت کے مہلک اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ان سے قطع تعلقی بے حد لازم ہے۔ حضور خاتم النبین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”دل کا اندھا پن سب سے بڑا اندھا پن ہے“۔ یعنی اندھا پن آنکھوں کا

صفحہ 680

اندھا ہونا نہیں ہے بلکہ دل کا اندھا ہونا یا بصیرت سے محروم ہونا ہے۔ قادیانی اور قادیانی نواز دونوں دل کے اندھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی صحبت سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

تحفظ ختم نبوت ...... جنت کا راستہ

حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا تحفظ اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ اس سے معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں، رزق میں برکت پیدا ہوتی ہے، یہ عظیم الشان کام قبر میں چراغِ نجات ہے، اندھیرے میں روشنی ہے، جہنم کی آگ کے لیے آڑ ہے، پل صراط سے جلدی سے گزارنے والا ہے، جنت کی یقینی ضمانت ہے۔ تحفظ ختم نبوت اور جنت الفردوس لازم وملزوم ہے۔ اس حقیقت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا ہر شخص جنتی ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ جب ملعون مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار جہنم میں ہوں گے اور فرض کریں کہ وہاں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا کوئی شخص بھی موجود ہو تو مرزا قادیانی اس شخص کو طعنہ دے گا کہ ”میں تو جھوٹے دعویٰ نبوت کے جرم میں یہاں آیا ہوں۔ تم دنیا میں میرے دعویٰ کی تکذیب اور سرکوبی میں پیش پیش تھے، تمھیں کیا ملا؟ میں دعویٰ نبوت کے جرم میں جہنمی اور تم تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے پر جہنمی، تو پھر فرق کیا ہوا؟“ خدا کی قسم! ایسا ممکن ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم ﷺ کو یہ گوارا ہی نہیں کہ کوئی شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرے اور وہ جہنم میں جائے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے ایک ارشاد پاک کا مفہوم ہے ”اگر کسی نے ہم پر کوئی احسان کیا ہے تو ہم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے سوائے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے کہ ان کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ دے گا“۔ یہ قاعدہ وقانون اب بھی موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت وناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ السلام اس کے اس فعل سے نہ صرف بے حد خوش ہوتے ہیں بلکہ آپ ﷺ ، اس شخص کے اس احسان کا بدلہ قیامت کے دن اپنی شفاعت کے ذریعے ادا فرمائیں گے۔ ..... ایک گنہگار امتی کو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام چاہیے!

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیا حضور نبی اکرم ﷺ طواف فرما رہے تھے۔ ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر ”یا کریم یا کریم“ کی صدا تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی پیچھے سے یا کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف

صفحہ 681

جاتا تو پڑھتا یا کریم ، سرکار دو عالم ﷺ بھی پیچھے سے پڑھتے یا کریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا تو پڑھتا یا کریم ، سرکار دو عالم ﷺ بھی اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے یا کریم پڑھتے.......! اعرابی نے تاجدار کائنات ﷺ کی طرف دیکھا اور کہا: ”اے روشن چہرے والے! اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں......“ سید دو عالم ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا آپ اپنے نبی کو پہچانتے ہیں......؟“ عرض کیا: ”نہیں......“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر آپ ایمان کیسے لائے......؟“ عرض کیا: ”بن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے ان کی رسالت کی تصدیق کی“...... آپ ﷺ نے فرمایا: ”مبارک ہو، میں دنیا میں آپ کا نبی ہوں اور آخرت میں آپ کی شفاعت کروں گا“...... وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: ”میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کیجیے جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں، اللہ نے مجھے متکبر و جابر بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا: ”اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اس اعرابی کو بتا دیں کہ ہم اس کا حساب لیں گے“...... اعرابی نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ!...... کیا اللہ میرا حساب لے گا“؟...... فرمایا: ”ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا“...... عرض کیا کہ : ”اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں بھی اس کا حساب لوں گا“...... آپ نے فرمایا: ”تم کس بات پر اللہ سے حساب لو گے“؟...... اس نے کہا: ”اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لے گا تو میں اس کی بخشش کا حساب لوں گا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اس کی بخشش......؟ اگر اس نے میری نافرمانیوں کا حساب لیا تو میں اس کی معافی کا حساب لوں گا۔ اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لوں گا......“ حضور اکرم سید عالم ﷺ یہ بات سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول (ﷺ) اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں، نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اس کا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنا دیں، یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا“......

(کتاب مسند احمد بن حنبل)

صفحہ 682
کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

اس کے برعکس ایک دوسرے پہلو پر بھی غور فرمائیں کہ جب مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار جہنم میں ہوں گے اور فرض کریں کہ وہاں کچھ مسلمان بھی ہوں گے تو مرزا قادیانی ان سے پوچھے گا کہ میں تو جھوٹے دعویٰ نبوت کے جرم میں یہاں آیا ہوں، آپ کس جرم میں یہاں آئے ہیں؟ اس پر وہ کہیں گے کہ تم نے دعویٰ نبوت کیا، اسلام اور اس کی تعلیمات کا تمسخر اڑایا۔ اسلامی مقدس شخصیات کا مذاق اڑایا۔ تمھارے پیروکار سرعام اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرتے رہے جس کے نتیجہ میں ہمارے سامنے ہمارے مسلمان بھائی ارتداد کا شکار ہوتے رہے، ہم یہ سب کچھ بڑے آرام سے دیکھتے رہے، اس سلسلہ میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا، اس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض کیا۔ نتیجتاً سزا کے طور پر آج ہم یہاں جہنم میں آپ کے ساتھ ہیں۔

گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں سے نفرت کرنا اس طرح فرض ہے، جس طرح حضور نبی کریم ﷺ سے محبت و عقیدت رکھنا۔ جب تک گستاخان رسولؐ قادیانیوں سے دشمنی اور نفرت نہ ہو، اس وقت تک حضور شافع محشر ﷺ سے صحیح طور پر دوستی اور گہری محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ہر مسلمان کو قادیانیوں سے کراہت اور نفرت کرنی چاہیے۔ گستاخ رسول ﷺ سے دوستی کا مطلب اپنے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رخصت کرنا ہے۔ صحابہؓ کرامؓ نے تو حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ میں اپنی معمولی متاع حیات سے لے کر اپنی زندگی کا عزیز ترین ساز و سامان بھی لٹا دیا تھا۔ ایک ہم ہیں کہ اپنے پیارے نبی ﷺ کے گستاخوں کے ساتھ دوستی ختم نہیں کر سکتے۔ یاد رکھیے! جب تک مسلمان گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتے رہیں گے، ان کے لیے اپنے دل میں ہمدردی کے جذبات پالتے رہیں گے، اس وقت تک وہ ہر قسم کی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار رہیں گے۔ ناکامیاں ان کا مقدر رہیں گی۔ ذلت و رسوائی اور بے بسی کا عذاب ان پر مسلط رہے گا۔

انسانی زندگی میں جو مشکلات پیش آتی ہیں، وہ انسان کے اپنے گناہوں اور برائیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

(الشوریٰ: 30)

صفحہ 683

ترجمہ: ”تمہیں جو بھی مشکل درپیش ہوتی ہے، وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو تمہاری بہت سی لغزشیں معاف کر دیتا ہے“۔

یہ آیت اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ انسانوں کو اس کائنات میں جو مصائب اور مشکلات درپیش ہوتی ہیں، وہ کسی اور کی نازل کردہ نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اس سے بڑا گناہ اور کیا ہوگا کہ ہمارے سامنے حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی شان اقدس میں توہین ہو اور ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کریں۔ قادیانی ہمارے سامنے مسلمانوں کا رشتہ پیارے آقا ﷺ سے توڑ کر ملعون آنجہانی مرزا قادیانی سے جوڑیں اور ہمیں اس کی سنگینی کا احساس تک نہ ہو، قرآن مجید میں تحریفات ہوں اور ہم اس کا ذرا سا بھی نوٹس نہ لیں، اس غفلت کے نتیجہ میں ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر مصائب اور مشکلات کا شکار ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کاش! ہمیں اس کا احساس ہو۔

حضور نبی کریم ﷺ اسلام قبول کرنے والے لوگوں سے جب بیعت لیتے تو فرماتے: ”میں تم سے اس پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میرے ساتھ حفاظت و خیال کا وہی معاملہ کرو گے جو تم اپنے اہل و عیال کے ساتھ کرتے ہو“۔ عجیب بات ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو ہم مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں...... کوئی ہماری بیوی کی بے حرمتی کرے تو ہم غیرت کے نام پر ہر قدم اٹھا لیتے ہیں...... کوئی ہماری بیٹی کو میلی آنکھ سے دیکھے تو ہم اس کی آنکھ پھوڑ دیتے ہیں...... کوئی ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچائے تو ہم اس سے مستقل دشمنی مول لے لیتے ہیں...... بعض اوقات معاملات تھانوں اور عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں...... لیکن اگر کوئی بدبخت ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرے تو ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں...... ہمیں غصہ آتا ہے نہ ہم پریشان ہوتے ہیں...... یہاں ہماری رگ حمیت نہیں پھڑکتی...... نہ ہمارے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے...... ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں، جیسے ہمارا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں...... حضور نبی کریم ﷺ کی لخت جگر حضرت سیدہ فاطمہؓ سے کوئی واسطہ نہیں...... صحابہ کرامؓ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں...... قارئین کرام! کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ سے محبت ہی نہیں رہی، ہم مذہبی غیرت و حمیت سے الگ ہو گئے، یا ناموس رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کے جذبے سے ہم محروم ہو چکے...... دراصل ہم اسے اپنا مسئلہ سمجھتے ہی نہیں...... یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھروں میں

صفحہ 684

پریشانیوں اور بیماریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

ایک سردار کے لطیفے نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ مکمل طور پر قائل کر دیا کہ سدا بہار لطیفے دراصل اپنے اندر ایک پوشیدہ جہاں رکھتے ہیں۔ ایک سردار جی نہایت اہتمام سے چائے پی رہے تھے۔ وہ ایک گھونٹ بھرنے کے بعد چائے کو ایک چمچ سے خوب ہلاتے۔ چمچ چائے میں پھیر کر ایک گھونٹ بھرتے اور پھر مسکرانے لگتے۔ وہ یہ عمل بار بار دہراتے رہے۔ ہر گھونٹ کے بعد چائے کو چمچ سے ہلاتے، ایک اور گھونٹ بھرتے اور مسکرانے لگتے۔ نزدیک بیٹھے ایک صاحب نے پوچھا کہ سردار جی! آپ ہر بار چائے کو چمچ سے ہلا کر گھونٹ بھرنے کے بعد مسکراتے کیوں ہیں؟ سردار جی نے کہا کہ ایک بات آج ثابت ہوگئی ہے، چائے میں اگر چینی نہ ڈالو تو لاکھ اسے چمچ سے ہلاؤ، وہ میٹھی نہیں ہوتی۔............. اسی طرح اگر اخلاص کی چینی آپ کی حیات میں نہ ہو تو آپ لاکھ عبادتیں کریں، تسبیح پھیریں، فیصلہ تو اخلاص کی چینی سے ہوگا ورنہ روز حشر آپ کی پوری زندگی پھیکی ہی رہے گی۔

اشک بے تاثیر سے کہہ دو نہ ٹپکے آنکھ سے
جھوٹے موتی کی طرح بے آبرو ہو جائے گا

ایک ناقابل یقین یادگار واقعہ جس نے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں۔ مدینہ کے ہر گھر میں جہاد کی تیاریاں زوروں پہ تھیں۔ ایک گھر میں ایک صحابیہؓ اپنے معصوم بچے کو گود میں لیے زار و قطار رو رہی تھی۔ اس کا خاوند پہلے کسی جہاد میں شہید ہوگیا تھا۔ اب گھر میں کوئی بھی ایسا مرد نہ تھا کہ جس کو وہ تیار کر کے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں بھیجتی۔ جب بہت دیر تک روتی رہی اور طبیعت بھر آئی تو اپنے معصوم بیٹے کو سینے سے لگایا اور مسجد نبوی ﷺ میں نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئی۔ اپنے بیٹے کو نبی ﷺ کی گود میں ڈال کر کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بیٹے کو جہاد کے لیے قبول فرمائیں۔ نبی ﷺ نے حیران ہو کر فرمایا، یہ معصوم بچہ جہاد میں کیسے جاسکتا ہے؟ وہ رو کر کہنے لگی کہ میرے گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں کہ جس کو بھیج سکوں، آپ ﷺ اسی کو قبول کرلیں۔ آپ ﷺ نے کہا یہ بچہ کیسے جہاد کرے گا؟ وہ صحابیہؓ کہنے لگی کہ میرے اس بچے کو کسی ایسے مجاہد کے حوالے کر دیجیے جس کے ہاتھ میں ڈھال نہ ہو تاکہ جب وہ مجاہد کفار کے مقابلے کے لیے جائے اور کفار تیروں کی بارش برسائیں تو وہ مجاہد تیروں سے

صفحہ 685

بچنے کے لیے میرے بیٹے کو آگے کر دے۔ میرا بیٹا تیروں کو روکنے کے کام آ سکتا ہے۔ سبحان اللہ! تاریخ انسانیت ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے کہ عورت اور ماں جیسی شفیق ہستی فرمانِ نبوی ﷺ کو سن کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے اتنی بے قرار ہوئی ہے کہ معصوم بچے کو شہادت کے لیے پیش کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ تاریخ میں اپنی مثال آپ بن گیا۔ سوچیے! کیا ہم میں ایسے جذبے کا ایک ذرہ برابر حصہ بھی موجود ہے؟

حضرت ابن انیسؓ اور گستاخ رسولؐ خالد الہذلی

درج ذیل واقعہ پر بار بار غور کیجیے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی صحبت و معیت کے لیے ان تابندہ و درخشاں جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتخاب فرمایا۔ ماہ محرم 4ھ کی 5 تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی، نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کے لیے فوج جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اپنے محب صادق جاں نثار صحابی حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خالد الہذلی میرے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا ہے۔ حضرت ابن انیسؓ نے کہا: روحی لروحک فداء مرنی بما تشاء ۔ میری جان آپ ﷺ پر قربان، حکم کیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس لے کر آؤ۔ اللہ اکبر! ابن انیسؓ نے یہ نہیں کہا: میں اکیلا کیسے اس کا مقابلہ کر سکوں گا، مجھے کچھ افراد درکار ہیں، میرے پاس اسلحہ نہیں ۔ یہ بڑی مشکل اور پُر خطر مہم ہے، نہیں نہیں...... ابن انیسؓ تن تنہا، اللہ رب العزت کی ذات عالیہ پر بھروسا رکھتے ہوئے مکہ گئے اور 18 روز باہر رہ کر 23 محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ لائے تھے۔ آج ہماری حالت تو یہ ہے کہ مرغی یا بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم وہ جوانمرد، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور نبی ﷺ کے گستاخوں کی گردنیں کاٹنے کے خوگر تھے۔ جب خدمت نبوی ﷺ میں پیش ہو کر انھوں نے خالد الہذلی کا سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ابن انیسؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہوا اور انھیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا، کہ یہ میرے اور تمھارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب حضرت ابن انیسؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے وصیت کی کہ یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔ (زاد المعاد 108/2، وابن ہشام 719/2-720)

صفحہ 686

برادران گرامی! کل قیامت کے دن جب ابن انیسؓ وہ عصا لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ عصا اللہ کے رسول ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی علامت ہے۔ بتائیے! آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کرسکیں گے؟

اونچی جس کی لہر نہیں ہے وہ کیسا دریا
جس کی ہوائیں تند نہیں وہ کیسا طوفان

مسلمان کے زندہ رہنے کے لیے ایک مقصد ہونا چاہیے کہ جس کے لیے وہ مر سکے۔ اس سلسلہ میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ سے بڑھ کر اعلیٰ وارفع مقصد اور کیا ہوسکتا ہے؟ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ جنگ یمامہ کے شہدا کی پیروی میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جو موت آئے، درحقیقت وہ موت نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی ہے۔

عقل والوں کے مقدر میں کہاں ذوق جنوں
عشق والے ہیں جو ہر چیز لٹا دیتے ہیں

حدیث الغار

جن نفوس قدسیہ کو خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت وحمایت کے لیے صبح ازل چن لیا تھا اور وہ نبوت کے مخاطب اوّل قرار پائے تھے، ان کا ہر قول وفعل زندگی کی شاہراہوں میں مشعلِ ہدایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ مجسم عمل بن کر سامنے آئے تھے اور ان کے اقوال بھی ظلمتوں میں مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

صحابہ کرامؓ کا امت پر یہی کرم کیا کم ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً حضور نبی کریم ﷺ سے دقیق مسائل کے متعلق استفسار فرماتے رہتے تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے سوالات کے جو جواب دیتے تھے، وہ پوری امت کے لیے فوز وفلاح کے ضامن ہیں۔

صحابہ کرامؓ کی توجہ اپنے ذاتی مسائل کی الجھنوں کے حل کرنے پر مرکوز نہ تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وہ جو سوال بھی کرتے تھے، وہ نوع انسانی کی فلاح وفوز سے متعلق ہوتا تھا۔ ایک دن حضور نبی کریم ﷺ صحابہ کرامؓ میں تشریف فرما تھے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! اگلی اُمتوں میں سے کوئی عجیب واقعہ بیان فرمائیے۔

حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: اگلے زمانے کے تین آدمی مل کر سفر کو روانہ

صفحہ 687

ہوئے، شام کو انھیں پناہ کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انھوں نے ایک غار میں قیام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ غار میں وہ قیام پذیر تھے کہ ایک پتھر گرنے کے باعث غار کا منہ بند ہو گیا اور ان کے باہر نکلنے کی راہ مسدود ہو گئی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی اور اب ہماری موت یقینی ہے۔ ایک تجویز میرے ذہن میں آئی ہے کہ ہم میں سے جس شخص نے کوئی نیک عمل کیا ہے، اسے وسیلہ بنا کر خدا کی بارگاہ میں دعا مانگے کہ وہ ہمیں نجات دے۔

چنانچہ یہ تجویز پسند کر لی گئی اور ان میں سے ایک بولا کہ میرے ماں باپ بہت ضعیف تھے۔ میں انتہائی مفلس تھا۔ میرا معمول یہ تھا کہ جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتا اور اس کی قیمت سے غذا لا کر ان بکریوں کے دودھ میں بھگو دیتا جو میرے پاس موجود تھیں۔ غذا نرم ہو جاتی تو بوڑھے ماں باپ کو کھلاتا۔ ایک دن مجھے لکڑیاں لانے میں دیر ہو گئی۔ جب میں نے غذا لا کر دودھ میں بھگونے کے بعد نرم کی اور میں اپنے والدین کو کھلانے کے لیے گیا تو وہ سو چکے تھے۔ مجھے سخت قلق ہوا اور میں غذا کا پیالہ لے کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ ان کے بیدار ہونے کے انتظار میں صبح تک کھڑا رہا۔ وہ سو کر اٹھے تو میں نے غذا پیش کی۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اس نے کہا کہ ہماری ظاہری اور باطنی کیفیات کو جاننے والے قادر و قیوم، اگر میں اپنے اس بیان میں صادق ہوں تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اس شخص کی دعا خدا نے قبول کی اور غار کے دہانہ سے تھوڑا سا پتھر سرک گیا۔ لیکن سوراخ اتنا نہ تھا کہ وہ باہر نکل سکتے۔

ان میں سے دوسرے نے کہا۔ مجھے اپنی چچا زاد سے عشق تھا۔ لیکن وہ میری طرف التفات نہ کرتی۔ ایک دفعہ میں نے اسے حیلوں بہانوں سے راضی کر لیا اور ایک معقول رقم بھی پیش کی جب وہ رات کے وقت میری خلوت میں آئی اور میں نے بدی کا ارادہ کیا تو میرے دل پر خدا کا خوف غالب آ گیا اور مجھے خدا نے معصیت سے محفوظ رکھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اس نے خدا سے نصرت چاہی اور پتھر تھوڑا سا اور سرک گیا لیکن ابھی تک وہ باہر نہیں نکل سکتے تھے۔

تیسرے نے کہا کہ میرے پاس کچھ مزدور کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مزدور اجرت لیے بغیر چلا گیا۔ میں نے اس کی بہت تلاش کی لیکن وہ نہ ملا۔ اس کی اجرت کے

صفحہ 688

پیسوں سے میں نے ایک بھیڑ خرید لی اور چند سال تک اسے اپنے پاس رکھا۔ اس دوران میں اس کے جتنے بچے پیدا ہوئے، انھیں بھی اس کے ساتھ محفوظ رکھا چند سال بعد مزدور نے آ کر مجھ سے اجرت کا مطالبہ کیا تو میں نے ان بھیڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری اجرت یہ ہے۔ لہٰذا میں نے یہ تمام بھیڑیں اس کے حوالے کردیں۔

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے اس عمل کا ذکر کرنے کے بعد اس نے دعا مانگی تو وہ قبول ہو گئی اور غار کا پتھر سرک گیا اور وہ تینوں باہر نکل آئے، یہ حدیث مبارکہ احادیث کے مجموعوں میں ”حدیث الغار“ کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں جو بصیرتیں پوشیدہ ہیں، وہ اہل دل سے مخفی نہیں۔

برادرانِ گرامی! اس طویل حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی میں اگر کوئی پریشانی یا مشکل پیش آ جائے تو اپنے کسی نیک عمل کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ کے حضور خوب گڑگڑا کر دعا مانگی جائے تو اس عمل کی وجہ سے مشکل یا پریشانی ختم ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیے! موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا تحفظ اور گستاخان رسول ﷺ کی سرکوبی ایسے اعلیٰ و ارفع اعمال ہیں جن کو آپ اپنی دعا میں وسیلہ بنا کر ہر مرحلۂ زندگی میں آنے والی ہر طرح کی پریشانیوں اور مشکلات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے!!! آزمائش شرط ہے!

ہمیں ہر روز سوتے وقت اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ آج رات اگر ہمیں قبر میں گزارنی پڑے تو کیا ہم ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔۔ قبر میں جب حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک شبیہ دکھا کر سوال کیا جائے گا کہ بتاؤ یہ کون ہیں؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟ کہیں ہمارا حال اس طوطے جیسا نہ ہو جسے ایک صاحب نے بڑی محنت سے ”اللہ اللہ“ بولنا سکھایا۔ طوطا ہر وقت ”اللہ اللہ“ کی صدائیں، ندائیں لگاتا تو ایک سماں باندھ دیتا۔ ایک روز پنجرہ کھلا رہ گیا۔ بلی آئی، اس نے دبوچا اور گھسیٹتی لے بھاگی۔ طوطے نے ٹیں ٹیں کا شور مچایا لیکن بلی اپنا کام کر گئی۔ وہ صاحب بہت حیران ہوئے کہ میں نے تو اسے ”اللہ اللہ“ سکھایا تھا۔ یہ اب ٹیں ٹیں کا ورد کر رہا ہے۔ ایک بزرگ ملنے آئے تو انھوں نے واقعہ سنایا اور اپنی حیرت بیان کی۔ بزرگ کہنے لگے اس میں حیران و پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔ آپ نے محنت کی، طوطے کو ”اللہ اللہ“ سکھایا۔ اس کی زبان پر تو ”اللہ اللہ“ تھا لیکن دل میں ٹیں ٹیں تھی۔ اب جو مصیبت آئی اور موت دکھائی دی تو اس کی زبان سے وہی کچھ نکلا جو اس کے دل میں تھا۔

صفحہ 689

دل میں حضور نبی کریم ﷺ سے سچی محبت اور ان کے دشمنوں سے واقعتاً نفرت ہوگی تو ہمیں جواب آئے گا ورنہ کہا جائے گا کہ اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو...... دوزخ کی کھڑکی کھول دو...... آگ کے کپڑے پہنا دو...... اسے پیپ اور کھولتا ہوا پانی پلاؤ...... (استغفر اللہ)

سوچیے! اگر قیامت کے دن حضور نبی کریم ﷺ نے ہم سے پوچھ لیا کہ تمھارے سامنے میری ختم نبوت پر ڈاکا زنی ہوتی رہی...... میری شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے رہے...... قرآن مجید میں تحریفات ہوتی رہیں...... میرے صحابہؓ کا مذاق اُڑایا جا رہا تھا...... میرے اہل بیتؓ کی توہین کی جا رہی تھی...... میرے امتیوں کو مرتد بنایا جا رہا تھا...... مگر تم آرام سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے...... تمھیں کوئی فکر لاحق نہیں ہوئی...... اب کس منہ سے میرے پاس شفاعت کے لیے آئے ہو...... تو بتائیے ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کہاں جائیں گے؟ کون ہمیں پناہ دے گا؟

عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ
معمارِ حرم! باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں، خواب گراں، خواب گراں خیز!
از خواب گراں خیز!

(سارا جہان فرنگیوں کی چیرہ دستیوں سے ویران ہوا پڑا ہے۔ اے حرم کے معمار! دنیا کی تعمیر کے لیے دوبارہ اُٹھ کھڑا ہو۔ گہری نیند سے جاگ! گہری نیند سے جاگ!)

وفادار عمل

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے تین ساتھی ہیں: ایک اُس کا پیسہ، ایک اولاد اور ایک عمل۔ پیسہ موت تک، اولاد قبر تک اور عمل حشر تک ساتھ رہیں گے۔ تو کون سا ساتھی ہے جو اصل اور وفادار ہے، حضرت عبداللہؓ کہنے لگے، یا رسول اللہ ﷺ اجازت ہو تو کچھ عرض کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہو، تو انہوں نے چند اشعار کہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی کی موت کا وقت آ گیا ، رشتے دار کھڑے ہیں، پیسہ بھی موجود ہے، گھر بھی ہے تو اب وہ کہتا ہے کہ میرے ساتھیو، مجھے بچاؤ، کوئی میری مدد کرو، مجھے بچانے کے لیے تم کیا کر سکتے ہو؟ پیسہ بولا بھئی میں تو تیرا موت تک کا ساتھی ہوں، ادھر تجھے موت جھٹکا دے گی، اُدھر میں پرایا ہو جاؤں گا۔ پھر وہ بیٹوں سے کہنے لگا کہ تم بولو کہ تم مجھے بچانے کے لیے کیا کر سکتے ہو؟ وہ بولے ہم تو آپ کے لیے بڑی محنت کریں گے، ہسپتال لیکر جائیں گے، علاج کرائیں گے، پیسہ خرچ

صفحہ 690

کریں گے۔ لیکن جب موت آئے گی تو آپ کی جگہ ہم نہیں مر سکتے ۔ ہاں ایک کام کر سکتے ہیں، آپ کے لیے روئیں گے، جو تعزیت کے لیے آئے گا ، آپ کی تعریف کریں گے کہ ہمارا باپ بڑا اچھا تھا۔ آپ کا جنازہ لے کر چلیں گے، بولا کدھر؟ کہا اُس گھر جہاں آپ جانا نہیں چاہتے اور ہم آپ کو زبردستی لے کر جائیں گے، پھر کیا ہوگا؟ پھر ہم واپس آجائیں گے کہ ہمیں اور بھی بہت کام ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آئے گا، آپ یوں بھلا دیئے جائیں گے، جیسے آپ کبھی اس گھر میں آئے ہی نہیں تھے۔ کبھی ہم مل بیٹھے ہی نہیں تھے۔ یاد ہی بھول جائے گی۔ پھر عمل بولا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ پیچھے ہٹ جاؤں۔ بلکہ جب آپ کو موت جھٹکا دے گی تو میں مزید ساتھ ہو جاؤں گا تا کہ آپ کی تکلیف کو میں برداشت کرلوں اور موت کے جھٹکوں کی جو تکلیف ہوگی ، اُس کو میں روکوں گا اور آپ پہ آنچ بھی نہیں آئے گی اور میں قبر میں تیرے آنے سے پہلے پہنچ چکا ہوں گا۔ تیرا استقبال کروں گا اور یہ سب تجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ جب منکر نکیر آئیں گے، میں درمیان میں آجاؤں گا۔ میں تیری وکالت کروں گا۔ تیرے سوالات کا جواب صحیح صحیح دلواؤں گا۔ تیسری گھاٹی آخرت کی ہے۔ قیامت کے دن تیرے ترازو کے پلڑے میں خود بیٹھوں گا اور تیری نیکیوں کو جھکا دوں گا اور تجھے اللہ سے ملا دوں گا۔ لہٰذا مجھے نہ چھوڑنا، چاہے سب کچھ چھوڑنا پڑ جائے، چھوڑ دینا لیکن مجھے نہ چھوڑنا اور یاد رکھئے! تحفظ ختم نبوت سب سے بڑا نیک عمل بلکہ تمام نیکیوں کا سردار ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وفادار عمل ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا جذبہ آفاقی خصوصیات سے ہم آہنگ ہے۔ یہ کام کرنے سے رضائے الٰہی اور حضور نبی کریم ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان میں مضبوطی اور رزق میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ نیکو کاروں کے دلوں میں محبت جبکہ منکرین ختم نبوت کے دلوں میں ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ الغرض مجاہدین ختم نبوت کو تمام نعمتوں سے نوازا جاتا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام دین پر استقامت کی علامت ہے۔ بقول شخصے : زم زم جیسا کوئی پانی نہیں، نماز جیسی کوئی عبادت نہیں، اسلام جیسا کوئی دین نہیں ، قرآن جیسی کوئی کتاب نہیں، مدینے جیسا کوئی شہر نہیں، درود پاک جیسا کوئی خزانہ نہیں، جمعہ جیسا کوئی دن نہیں، تحفظ ختم نبوت جیسی عبادت نہیں۔

حضرت بشر حافیؒ

بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ شراب خانے کے مالک نے نشے میں دھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اس کے سامنے سادہ

صفحہ 691

لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا۔ مالک نے اکتائے لہجہ میں کہا: ”معذرت چاہتا ہوں، سب ملازم جاچکے ہیں۔ یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے، آپ کل آئیے گا‘‘ اس سے پہلے کہ مالک پلٹتا، اجنبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ”مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے، اس کے نام بہت اہم پیغام ہے۔‘‘ شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا: بولیے! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے۔ اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا : کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں؟؟ مالک نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا: کیوں کوئی شک؟؟ اجنبی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا: سنو بشر بن حارث ! مجھے خواب میں حکم ملا ہے کہ ”میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی، وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی۔‘‘

اتنا سننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب ایک دن حسب معمول وہ نشے میں چلے جارہے تھے کہ اس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے ایک کاغذ پر پڑی جس پر اسم ”اللہ‘‘ لکھا تھا، بشر نے اس کاغذ کو بڑے ادب واحترام سے چوما، آنکھوں کو لگایا اور صاف کر کے خوشبو لگائی اور کسی بلند اور پاک جگہ پر رکھ دیا اور کہا: ”اے مالک عرش العظیم! یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے، تمہارا نہیں‘‘ بس یہی ادا بشر بن حارث کو ”بشر حافی‘‘ بنا گئی۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا، آپ اس وقت ننگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پاؤں گزار دی۔ آپ جن گلیوں سے گزرتے تھے، ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہوں۔ وہی بشر حافیؒ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبلؒ فرمایا کرتے تھے: ”لوگو! جس اللہ کو احمد بن حنبلؒ مانتا ہے، بشر حافیؒ اسے پہچانتا ہے‘‘۔ آپ کا شمار ان باکمال اور خدا رسیدہ اولیاء کرام میں ہوتا ہے کہ ان کے ہم مرتبہ اولیاء کم ہی ملتے ہیں۔ آپ کو کشف و مجاہدات میں مکمل دسترس حاصل تھی اور اصول شرع کے بہت بڑے عالم تھے اور اپنے ماموں علی حشرم کے ہاتھ پر بیعت تھے۔ ایک روز آپ حضرت سیدنا معروف کرخیؒ سے ملنے تشریف لے گئے۔ راستے میں دریائے دجلہ حائل تھا۔ آپ سطح آب پر اس طرح چلے جس طرح کوئی خشکی پر چلتا ہے صبح تک حضرت سے باتیں کرتے رہے پھر اسی طرح واپس چلے آئے۔

سوچیے ! حضرت بشر حافیؒ کو یہ اعزاز کس خدمت کے صلہ میں عطا ہوا۔ یہی ناں کہ انہوں نے کوڑے کے ڈھیر پر ایک کاغذ دیکھا جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا تھا جس پر وہ تڑپ

صفحہ 692

اُٹھے۔ بڑے احترام سے کاغذ اُٹھایا، آنکھوں کو لگایا، اچھی طرح صاف کیا، خوشبو لگائی اور کسی پاک جگہ پر رکھ دیا ...... حضرت بشر حافیؒ کے اس عمل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اُن کی کایا پلٹ دی۔ یاد رکھیے! آج بھی یہ فیضان جاری ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتا ہے، اپنی دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کی سربلندی اور عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کرتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی خاص خوشنودی اور نبی رحمت ﷺ کا خصوصی قرب حاصل ہوتا ہے۔ یہ آزمودہ نسخہ آزما کر دیکھیے ۔

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ دان کے لیے

غیرت مند کتا اور عیسائی پادری

آج وقت پھر کسی معاذؓ و معوذؓ، ابن انیسؓ اور صحابہ کرامؓ جیسے قابل فخر غلامان محمد ﷺ کا منتظر ہے؟ یہ واقعہ سنیے اور آئیے ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی پر روئیں۔ ہلاکو خان کے نام سے کون واقف نہیں۔ تاریخ کے اس جابر تاتاری جنگجو حکمران کی ایک بیوی کا نام ظفر خاتون تھا۔ ظفر خاتون عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور اس کی وجہ سے ہلاکو خان کے زیر تسلط علاقوں اور رعایا میں عیسائیت کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا تھا۔ عورتوں کی آڑ میں اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کلیسا کا پرانا مشغلہ رہا ہے اور ایسے کسی بھی موقع سے فائدہ اُٹھانے سے اہل صلیب کم ہی چوکتے ہیں۔ بہرکیف ہلاکو خان کی حکومت عیسائیت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہی تھی۔ ایک دفعہ عیسائیوں کی کوشش سے ہلاکو خان کے ایک اہم جنگی سردار نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ شخص حکومت وقت میں اتنے اہم کردار کا حامل تھا کہ پوری عیسائی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کلیسا نے اس سردار کو عیسائیت میں خوش آمدید کہنے کے لیے ایک تقریب جشن کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے مرکزی کلیسا کے کئی پادری خصوصی نمائندے بن کر آئے۔

تقریب کا آغاز ہوا تو مختلف پادریوں نے باری باری اُٹھ کر تقریریں کیں اور عیسائیت کے فضائل بیان کیے۔ اسی دوران ایک پادری کی باری آئی تو اس بدبخت نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتاری سپاہی کا شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پہنچے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آ گیا اور پھر اس نے اپنی رسّی

صفحہ 693

چھڑا کر پادری پر حملہ کر دیا لیکن عین اسی لمحے لوگ آگے بڑھے، پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلائی اور کتے کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا گیا۔

یہ صورتحال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہا کہ تم نے ایک عظیم اور قابل احترام ہستی کے بارے میں نازیبا باتیں کیں، اس لیے کتے نے تم پر حملہ کر دیا لیکن اس بدبخت کا اصرار تھا کہ میں چونکہ تقریر کے دوران اشارے کر رہا تھا، اس لیے کتا یہ سمجھا کہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگا ہوں۔ بس اسی لیے، اس نے مج مجھ پر حملہ کر دیا۔ یہ کہہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی اور کچھ دیر بعد پھر رسول اللہ ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی شروع کر دی۔ اُدھر کتے نے دوبارہ یہ الفاظ سنے تو پھر طیش میں آ گیا۔ اس نے اپنی رسی چھڑائی اور شیر کی طرح جست لگا کر اس بدبخت پادری پر حملہ آور ہو گیا۔ اب کی بار کتے نے اس کی گردن کو دبوچ لیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک کہ وہ بدطینت انسان تڑپ تڑپ کر جہنم واصل نہیں ہو گیا۔ اس طرح اللہ رب العزت نے ایک بے سمجھ جانور کو گستاخِ رسولؐ پر حملہ کے لیے آمادہ کر دیا اور اپنی قدرت کاملہ کا مظاہرہ کیا کہ ہم کسی کے محتاج نہیں، بے سمجھ جانوروں سے بھی اپنے محبوب کا بدلہ لے سکتے ہیں۔ (الدرر الکامنہ از امام حجر ابن عسقلانی ج 1، ص 202، اس واقعہ کو محدث علامہ ذہبیؒ نے صحیح اسناد کے ساتھ ’’معجم الشیوخ‘‘ صفحہ 387 پر بھی نقل کیا ہے۔)

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

شاید آپ نے پڑھ رکھا ہو کہ جس طرح ابولہب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا، ویسے ہی اس کا بیٹا عتیبہ بھی گستاخ تھا۔ اس بدبخت نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی تکلیف پہنچائی کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی..... ’’اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا مسلط فرما‘‘۔ اُسے جب اس بددعا کا پتا چلا تو باوجود کافر ہونے کے اس کی نیند حرام ہو گئی۔ ہر وقت خطرے سے دوچار رہتا کہ کب محمد (ﷺ) کی بددعا رنگ لائے گی اور قدرت اُس سے انتقام لے گی۔ ایک دفعہ تجارتی قافلے کے ہمراہ محو سفر تھا کہ رات کا اندھیرا چھا گیا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے قافلے کا سامان میرے اردگرد رکھ دو اور خود بھی میرے آس پاس حلقہ بنا کر پڑاؤ ڈالو تاکہ کوئی جانور حملہ نہ کر سکے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، مگر رات کے کسی پہر نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعون شخص کو چیر پھاڑ کر چلا گیا۔ دلچسپ

صفحہ 694

بات یہ ہے کہ اس درندے نے ملعون عتیبہ کا ناپاک خون پیا اور نہ اس کا پلید گوشت کھایا۔ اللہ کے بندو! سوچو......! نبی اکرم ﷺ کی توہین پر ایک کتا غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے اپنے غیرت مند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آج ہماری غیرت کہاں رخصت ہوگئی؟ اللہ کی قسم! جمادات وحیوانات بھی رسول پاک ﷺ کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے، کیا آج یہ شوق ہمارے اندر سے بالکل ختم ہو چکا ہے؟

عصر ما مارا ز ما بیگانہ کرد
از جمال مصطفی بیگانہ کرد

(اس فتنہ پرور زمانے نے ہمیں اپنے آپ سے اور جمال مصطفیٰ ﷺ کی معرفت سے بیگانہ کر دیا ہے)

ایک ایسے وقت میں...... جب بے بسی نے ہماری کمر توڑ ڈالی ہے، بزدلی نے ہمارے دلوں میں گھر کر لیا ہے، مصلحتوں کے جال میں ہم بے دست و پا ہو چکے ہیں اور سرحدوں نے ہمارے قدم جکڑ لیے ہیں، ہم اپنے آقا ﷺ کی حرمت و ناموس کا انتقام لینے کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے تو آیئے! سب مل کر یہ دعا کریں کہ...... ”اے اللہ! ان گستاخوں میں سے ہر ایک پر اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتا مسلط فرما!“ (آمین)

وضاحت کر نہیں سکتا مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونین ﷺ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموسِ نبی ﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے

چور کی ثابت قدمی اور امام احمد بن حنبلؒ

”ابوالہیثم، کون بزرگ ہیں جن کا ذکر آپ اتنی عقیدت سے کرتے ہیں؟“ بیٹے کا سوال سن کر امام احمد بن حنبلؒ نے گہری سرد آہ بھری، آنکھیں اشک بار ہوگئیں، ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد انہوں نے انکشاف کیا، وہ ایک ڈاکو تھا۔ ”کیا کہا...... ڈاکو...... بیٹے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، ”ہاں بیٹا! وہ ایک ڈاکو تھا مگر اس نے میرے ساتھ جس قدر ہمدردی اور خیر خواہی کی، وہ دوستوں سے بھی نہ ہوسکی۔ ابتلاؤں اور آزمائشوں میں میری ساری ثابت قدمی اسی شخص کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔ وہ کیسے ابا جان؟ بیٹے نے

صفحہ 695

تجسس سے پوچھا۔ ”خلق قرآن کے مسئلہ پر جب جلاد مجھے کوڑے مارنے کے لیے لے جارہے تھے، راستے میں مجھے ابوالہیثم ملا، وہ درد بھری آواز میں مجھ سے مخاطب ہوا: ”اے احمد! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں عراق کا نامور ڈاکو ہوں، بار بار مجھے چوری سے روکنے کے لیے سزائیں دی گئیں، صرف کوڑوں کی مار کو شمار کیا جائے تو اٹھارہ ہزار ضربیں اعتراف جرم کے لیے کھا چکا ہوں، لیکن اس کے باوجود میں نے جرم کا اقرار نہیں کیا۔ حالانکہ میں خود جانتا ہوں کہ سراسر باطل پر ہوں لیکن امام صاحب: آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ حق پر ہیں، یہ قرآن کی عزت کا معاملہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں کوڑوں کی ضربات سے گھبرا کر ایمان ہی ضائع کر بیٹھیں۔ ثابت قدم رہنا اور مردانگی سے مصائب برداشت کرنا۔ میری ثابت قدمی دنیا جیسی ناپاک چیز کے لیے تھی، ہزار افسوس آپ پر....... اگر آپ اللہ کے لیے اتنی بھی ہمت نہ دکھا سکیں! یاد رکھو! کہیں کل اللہ آپ سے یہ سوال نہ کرے کہ تم میری راہ میں ایک چور ابن الہیثم سے بھی کم ثابت قدم تھے“ اور یہ بات میرے لیے کس قدر ذلت آمیز ہوتی کہ میں راہِ حق میں ایک چور سے بھی بزدل ثابت ہو جاؤں۔ یاد رکھو! کہیں کل اللہ تم سے یہ سوال نہ کرے کہ تم میری راہ میں ایک چور ابن الہیثم سے بھی کم ثابت قدم تھے۔

کیا یہ سوال آج کے علما، فقہا، مشائخ اور سجادہ نشینوں سے نہیں پوچھا جائے گا، کیا آج کا دور معتصم باللہ اور اکبر و جہانگیر کے ادوار سے زیادہ معزز و محترم ہو گیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر لاکھوں کے اجتماع، کانفرنسیں، مجمعے، ہجوم اور لوگوں سے بھرے پنڈال کے سامنے آ کر اگر کوئی ابن الہیثم کھڑا ہو گیا اور کہا میں بدمعاش ہوں، قاتل ہوں، چور ہوں، لیکن ثابت قدم ہوں۔ مطلق العنان بادشاہ کی نہیں مانتا تو کتنے اس مجمعے میں اٹھ کر کہیں گے کہ ہم تم سے زیادہ ثابت قدم بننا چاہتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں ثابت قدم ہیں۔ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنے کاروبار، اپنی دولت حتیٰ کہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اس پر ثابت قدم ہیں؟ سوچیے....... ضرور سوچیے!

جو نام نہاد مسلمان قادیانیوں سے میل جول اور تعلقات رکھتے ہوئے ان کو اپنی تقریبات میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، یا ان کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں یا کاروباری میل ملاپ رکھتے ہیں یا ان سے خرید وفروخت کرتے ہیں، وہ سخت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب کام حرام بلکہ اسلامی غیرت وحمیت کے خلاف ہیں۔ ان کا مرتکب قیامت

صفحہ 696

کے دن حضور نبی کریم ﷺ کا مجرم ہوگا۔

موذن کہہ چکا ”حی علی الحق“
ہے بہرے پن میں اب اپنا خسارہ

یاد رکھیے! دنیا میں اللہ تعالیٰ کا سب سے محبوب ترین اور مقرب بندہ وہ ہے جو اس کے حبیب ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ عتبہ بن عبید سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے، موت کے دن تک برابر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے سجدہ میں پڑا رہے، تو قیامت کے دن اپنے اس عمل کو بھی وہ حقیر سمجھے گا۔ (مسند احمد) حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دن بھر روزہ رکھے، رات بھر نوافل پڑھے اور ہر روز ایک قرآن ختم کرے اور لاکھوں روپے روزانہ تقسیم کرے، پھر بھی اس شخص کے اجر و ثواب تک نہیں پہنچ سکتا جو دین اسلام میں تحریف اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے خلاف جہاد کرتا ہے، کیونکہ ایسے شخص کا جہاد کرنا لاکھوں لوگوں کو گمراہ ہونے سے بچانے کا ذریعہ ہے۔

یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکا زنی ہو رہی ہو، وہاں آپ ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت کرنا فرض عین ہے۔ اس سے ذرا سا بھی اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ختم نبوت پر ڈاکا زنی دیکھتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کو گنبد خضرا میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھ کر منکرین ختم نبوت کی تکذیب کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ ہے۔

انگریزوں کے زمانے میں ایک عالم بغاوت کے الزام میں بند تھے، جمعے والے دن نہا دھو کر تیل کنگھی کر کے انتظار میں رہتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی تیز تیز قدموں سے چلتے جیل کے مین گیٹ پر کھڑے رہتے، پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر سنتے اور پھر واپس آ جاتے۔ انگریز جیلر جو ان کا یہ معمول دیکھ رہا تھا، آخر اس نے حافظ صاحب کو دفتر طلب کیا اور پوچھا کہ ”تم یہ کیا تماشا کرتے ہو، ہر جمعے والے دن؟ جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ بند ہے اور تم اس سے باہر نہیں جاسکتے تو پھر اتنے دور چل کر جانے کا کیا مقصد ہے؟“ حافظ صاحب نے جواب دیا۔ ”جیلر صاحب! میرے رب کا مجھے حکم ہے کہ جب جمعے

صفحہ 697

کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جھٹ پٹ مسجد پہنچو! میں جہاں تک یہ حکم پورا کر سکتا ہوں، کر دیتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ آگے میری مجبوری کو دیکھ کر میرا رب میری حاضری خود لگا دے گا کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ وہ کسی کی استطاعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا، مجھے امید ہے میرا رب مجھے جمعے کا اجر عطا فرما دے گا، اگرچہ میں جیل میں ظہر پڑھتا ہوں، جو چیز آپ کو تماشا لگتی ہے، وہ میرے لیے دین اور ایمان کا مسئلہ ہے‘‘۔ بس ہمارا معاملہ بھی یہی ہو، جہاں تک ہماری ہمت اور طاقت ہو، تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے رہنا چاہیے۔

کیا ہم غلام محمد ﷺ کہلوا سکتے ہیں؟

حضرت مولانا نور الدین عبدالرحمٰن جامیؒ جلیل القدر فارسی شاعر، نامور عالم دین اور برگزیدہ صوفی بزرگ تھے۔ تصوف و عرفان میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کی نعتیہ شاعری اعلیٰ ترین معیار پر تسلیم کی جاتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے!

ز مہجوری بر آمد جان عالم
ترحم یا نبی اللہ ترحم

ترجمہ: آپ ﷺ کے فراق سے آج کائنات کا ذرہ ذرہ جاں بلب ہے اور دم توڑ رہا ہے۔ اے آقا ﷺ کرم فرمائیے یا نبی اللہ ﷺ رحم فرمائیں!

نہ آخر رحمۃ للعالمین
ز محروماں چرا فارغ نشین

ترجمہ: آپ یقیناً رحمۃ للعالمین ہیں، ہم بے نصیبوں کو آپ کیسے بھول سکتے ہیں۔

بروں اور سر از برد یمانی
کہ روئے تست صبح زندگانی

ترجمہ: اپنا سر انور برد یمانی سے باہر نکالیے اس لیے کہ آپ کا چہرہ انور صبح زندگانی ہے۔

یہ فریاد لکھنے کے بعد مولانا جامیؒ حج پر چلے گئے اور دل میں ارادہ کیا کہ یہ اشعار سرور کونین ﷺ کے روضہ پُر انوار کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کروں گا۔ چنانچہ حج بیت اللہ شریف کے لیے عازم ہوئے۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ کی حاضری کی نیت کی۔ امیر مکہ کو خواب میں تاجدار مدینہ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ ﷺ نے حکم فرمایا، اے امیر مکہ! جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب نہ آنے دینا۔ امیر مکہ نے حضور اکرم ﷺ کے حکم پر مولانا جامی پر پابندی

صفحہ 698

عائد کردی کہ وہ مدینہ طیبہ نہیں جاسکتے۔ ایک عاشق صادق، وصال محبوب کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا۔ راستے میں کتنے ہی سمندر کیوں نہ ہوں، وہ ان کو پھلانگنے کی مرتے دم تک کوشش جاری رکھتا ہے، ہاں بھلے سے کتنے ہی پہاڑ حائل کیوں نہ ہوں، وہ ان کو بھی سر کرتا ہوا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ مولانا جامی بھی ان مشتاقین میں سے تھے۔ ان کے دل پر شوق نبی اور عشق نبی ﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے۔

کچھ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ مولانا جامیؒ قافلے میں ایک صندوق میں بند ہوگئے لیکن پھر بھی امیر مکہ نے نہ جانے دیا اور کچھ لکھتے ہیں بھیڑوں کے ریوڑ میں ان کی کھال اوڑھ کر چلتے چلتے مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے پھر بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ جب دوبارہ امیر مکہ کو حضور نبی کریم ﷺ نے خواب میں زیارت کروائی اور فرمایا جامی کو میرے روضہ پر نہ آنے دینا۔ چنانچہ اس نے اپنے آدمی دوڑائے جو مولانا جامی کو مدینہ کے راستے سے پکڑ کر لے آئے اور امیر مکہ نے مولانا جامی علیہ الرحمہ کو سختی سے جیل میں بند کردیا۔ چنانچہ تیسری مرتبہ پھر حضور پرنور، شافع یوم نشور محبوب رب غفور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا! جامی کوئی مجرم نہیں بلکہ ہم اس لیے اسے اپنے روضے پر آنے سے روکتے ہیں کہ اس نے کچھ نعتیہ اشعار ہماری شان میں لکھے ہیں جن کو وہ میری قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ مدینہ طیبہ پہنچ گیا اور میرے روضہ پر حاضر ہوکر اس نے یہ اشعار پڑھے تو مجھے اپنی مرقد سے نکل کر اس سے مصافحہ کرنا پڑے گا کیونکہ وہ ہماری محبت کی انتہائی منزل میں پہنچا ہوا ہے۔ چنانچہ امیر مکہ نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو قید خانے سے نکالا اور بڑی عزت و تکریم کے ساتھ پیش آیا۔

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

قارئین کرام! اس واقعہ سے آپ حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کریں۔ ایک مرتبہ حضرت جامیؒ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی نہایت خوبصورت نعت لکھی جس کے ایک شعر میں انہوں نے خود کو ”غلام محمد ﷺ“ قرار دیا۔ رات سوئے تو خواب میں حضور سرور کائنات ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ کا لب و لہجہ جلالی تھا۔ آپ ﷺ نے مولانا جامیؒ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، جامی! تمہیں کس طرح جرأت ہوئی ہے کہ خود کو ہمارا غلام کہلوا

صفحہ 699

سکو۔ تم نے اپنی کن خدمات اور کس حیثیت سے خود کو غلام محمد (ﷺ) کہا ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارا غلام بننے کے لیے کیا کیا قربانیاں دینا پڑتی ہیں؟ کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے؟ ہمارے غلام تو حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ایسے ہیں جن پر مصائب و تکالیف کے پہاڑ توڑے گئے مگر انہوں نے لازوال استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اف تک نہ کی۔ اس سرزنش پر حضرت جامیؒ پر لرزہ طاری ہوگیا اور آنکھ کھل گئی۔ ساری رات زار و قطار روتے رہے۔ تہجد کی نماز سے فارغ ہوئے تو کانپتے ہاتھوں سے نعت کا مصرع تبدیل کرتے ہوئے ”غلامِ محمد“ کے بجائے ”غلامِ غلامانِ محمد ﷺ“ کر دیا۔

منم ادنیٰ ثنا خوان محمد ﷺ
غلام از غلامان محمد ﷺ
محمد ﷺ ہست مہمان خداوند
دو عالم ہست مہمان محمد ﷺ
تمامی انبیا و اولیا ہم
نمک خوردند از خوان محمد ﷺ
محمد ﷺ جان کونین است جامیؔ
حسینؓ ابن علیؓ جان محمد ﷺ

مزید فرماتے ہیں:

جہاں روشن است از جمال محمد
دلم زندہ شد از وصال محمد
خوشا چشم کو بنگرد مصطفیٰ را
خوشا دل کہ دارد خیال محمد
بوصف رخش والضحیٰ گشتہ نازل
چو واللیل شد وصف خال محمد
خوشا منبر و مسجد و خانقا ہے
کہ در وے بود قیل وقال محمد
صفحہ 700
بُود در جہاں ہر کسے را خیالے
مرا از ہمہ خوش خیال محمد
بروئے زمیں گشتہ سلطانِ عالم
ہر آں کو بود پائمال محمد
بہ آفاق دیدم ہمہ خوبرویاں
نمی یافتم جز جمال محمد
بہ صدق و صفا گشتہ بے چارہ جامی
غلام غلامانِ آل محمد

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جو حضور نبی کریم ﷺ کے غلام کہلواتے ہیں، کیا ہم اس کڑے معیار پر پورا اترتے ہیں؟ ہم تو گستاخان رسول قادیانیوں سے تعلقات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرتے اور دعویٰ ہے محمد ﷺ کی غلامی کا۔ جو لوگ قادیانیوں سے دوستی رکھتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ آپ کے کتنے دل ہیں؟ کیونکہ ایک دل میں دو دوست کس طرح رہ سکتے ہیں؟ جیسا کہ ایک ہی جگہ آگ بھی اور پانی بھی۔ اس سے بڑھ کر اور منافقت کیا ہوگی؟ سوچیے ...... ضرور سوچیے ......!

ذلت کو عزت میں تبدیل کرنے کا نسخہ

میں ہر خوشی میں گھرا ہوا، ہر یاد سے غافل، اپنی مست زندگی میں مگن، زیست سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس دنیا میں موجود ہر آسائش حاصل تھی۔ کیا رزق اور کیا دولت؟ ہیرے، جواہرات، مخمل و گلاب، دوست اور غلام ہر چیز میرا مقدر تھی۔ بھائی، بہن، ماں باپ، یار دوست تمام رشتے اور ناتے موجود تھے۔ کسی چیز کی بھی کمی نہ تھی۔ ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ سب سے بڑی خوش قسمتی کی بات یہ کہ میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کے لیے کچھ محبت تھی۔ الغرض میں اپنی زندگی سے ہر طرح سے مطمئن تھا۔ چونکہ ہر عروج کے بعد زوال ہوتا ہے میرے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا۔ قسمت نے پلٹا کھایا۔ دولت لٹی، عزت خوار ہوئی، مخمل و گلاب کانٹوں میں بدلے، امیری سے فقیری مقدر ہوئی، تمام رشتے ٹوٹے، بھائی بہن، رشتہ دار سب نے رُخ موڑا، جسم پر عبا کی جگہ گدڑی آئی، ہاتھ میں طشتِ زر کی جگہ کاسہ نے لی،

صفحہ 701

محل، دشت و ویراں میں بدلے اور میں خوار خوار پھرتا رہا، حاصل کچھ بھی نہ ہوا۔

ایک شام گلیوں میں صدا لگانے کے بعد جب روٹی کے چند ٹکڑے ملے تو اپنی کٹیا کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر ان خشک نوالوں کو، پانی کے گھونٹوں کی مدد سے حلق سے نیچے اتارا اور سوچ میں ڈوب گیا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ جب ہر چیز نے ساتھ چھوڑ دیا تو لازماً اب مجھے اس شے کی طرف رخ کرنا چاہیے جو ابھی تک میرے پاس ہے۔ سچ تو یہ کہ میں عشق کی وادیوں سے کبھی نہ گزرا تھا۔ مجھے محبت کا پتہ تھا نہ ادب کا پاس تھا۔ بس دل میں ایک عقیدت تھی جسے میں محبت کا نام دیا کرتا اور وہ عقیدت بھی اتنی کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آتا تو کبھی میرا پورا جسم لرز جاتا، کبھی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تو کبھی پلکیں جھک جاتیں یا کبھی لبوں پر ”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ آ جاتا۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ تھا۔ میں ان کی یاد میں درود و سلام پڑھتے ہوئے دن گزارتا نہ ان کے دیدار کی خواہش میں تڑپ تڑپ کر راتیں گزارتا اور نہ ہی میں نے ان کو پانے کی جستجو میں خود کو گنوایا۔ کچھ بھی نہیں تھا، یہ سب کچھ بھی نہیں تھا میری زندگی میں۔ پھر بھی وہ جو بے نام عقیدت تھی، میں اس کو محبت کا نام دے کر خود کو مطمئن محسوس کرتا۔ لہذا میں نے سوچا کہ مجھے ان حالات میں اپنے محبوب کے در پر چلنا چاہیے تا کہ اس حالت زار میں وہی مجھ پر رحم کرے اور مجھے ان مصائب سے نجات دلوائے۔ سو میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل پڑا۔

جسم پر گدڑی، ہاتھ میں کاسہ، پاؤں میں آبلے، ہونٹوں پر پپڑی، ٹانگوں میں لرزش، اس حالت میں تو کوئی فقیر بھی میں اپنے دروازے پر برداشت نہ کرتا۔ مگر اب خود ہی اس حالت میں چلا جا رہا تھا۔ ابھی درِ محبوب کی چوکھٹ تک پہنچا ہی تھا کہ آنکھوں سے آنسو چشمے کی طرح رواں ہو گئے۔ ابھی کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ مجھے دور سے کوئی آتا ہوا دکھائی دیا۔ آنکھوں میں آنسوؤں نے اس کی شکل کو دھندلا دیا اور میں اسے پہچان نہ سکا۔ آنے والا گزر گیا۔ میں نے کاسہ بلند کیا اور التجا کی۔

”میرے محبوب! میں دنیا کا ٹھکرایا ہوا ترے دربار میں آیا ہوں۔ مجھے زمانے نے شاہ سے گدا کر دیا ہے۔ اے شہنشاہ، مجھے حالات بدل دے“۔

مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی: ”اے سائل! ترا محبوب تو رزق کی طلب سے بے نیاز تھا۔ اس کے گھر میں اناج نہ ہونے کے برابر ہوتا۔ اس نے تو کبھی جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ

صفحہ 702

کھائی ۔ وہ پانی کے گھونٹوں پر سحری کرتا ، وقتِ افطار اگر کبھی کھانا میسر بھی ہوتا تو سائل کی صدا سے پہلے اسے پیش کر دیتا۔ دوسروں کو شکم سیر کرتا اور خود پیٹ پر پتھر باندھتا۔ اس کا اوڑھنا بچھونا تو فقر تھا اور تم ہو کہ فکر میں ہو ۔ ایک تم ہو کہ محبت بھی کرتے ہو اور رزق کے بھی طالب ہو جبکہ تمہارا محبوب اس سے مستغنی ہے‘‘۔

میں نے کہا: ”میرے محبوب ! میری حاجتیں پوری ہوں‘‘۔

مجھے جواب ملا:

’’اے سائل ! جس حاجت روا نے خود تکلیفوں اور مصیبتوں کو برداشت کر کے تمھارے لیے ایمان کی حقیقی خوشیاں خریدی ہوں ، جس نے اپنی ضروریاتِ زندگی کو پس پشت رکھ کر دوسروں کی حاجت کشائی کی ہو ، اس کے دربار میں حاجت کشائی کی دوری کی بات کرنا کتنی عجب بات ہے جبکہ وہ تمہارا محبوب بھی ہو؟ تمہارا محبوب تو ننگے فرش پر اینٹ یا ہاتھ کا سرہانا بنا کر سو جاتا اور تم ہو کہ مخملوں کی طلب میں کاسہ لیے اس کے در پر آ کھڑے ہو !‘‘

میں نے کہا: ”میرے محبوب ! میری حالتِ زار دیکھ ، مجھ سے رسوائیاں برداشت نہیں ہوتیں مجھے ذلتوں سے بچا‘‘۔ وہ مانوس آواز میرے کانوں سے دوبارہ ٹکرائی : جب لوگوں نے تیرے محبوب کی عصمت پر انگلی اٹھائی ، تیرے محبوب کی شان میں گستاخیاں کیں، تیرے نبی کی عزت پر حملے کیے، ان کی نبوت پر ڈاکے ڈالے، تب تجھے احساس نہ ہوا۔ اگر تو مسیلمہ کذاب کے دور میں نہ تھا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے دور میں تو تھا۔ تیرے دور میں سلمان رشدی جیسے ملعون بھی جنم لیتے رہے جو تیرے محبوب کی ناموس پر حملے کرنے کے ساتھ ساتھ تیرے دین کو بدنام کرتے رہے تو اس وقت تجھے رسوائیوں کی فکر کیوں نہ ہوئی۔ وہ تیرا محبوب ، وہ ماہِ مبین جس نے تمھیں اندھیروں سے نکال کر شمعِ حق سے روشناس کروایا، تمھیں پستیوں کی ذلتوں سے اٹھا کر بلند مقام و مرتبہ دیا، تمھیں ایک اعلیٰ و ارفع شناخت دی، تمھیں قرآن دیا، ہدایت دی، تمھارے حقوق دیے، اسلام دیا، شریعت دی، سب سے بڑی بات کہ تمھیں خدا سے قریب تر کر دیا، ان کے ہزاروں احسان تھے تم پر پھر کیا بات تھی کہ تری ذات ان کی عظمت اور عزت کی محافظ نہ ہو سکی؟

ترے محبوب ! یعنی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر غلط بیانی کی گئی۔ امہات المومنینؓ کی عصمت کی چادریں تار تار کی گئیں، احادیثِ مبارکہ کو غلط رنگ دیے گئے

صفحہ 703

قرآن پاک میں تحریف کی گئی، حضرت امام حسینؓ کی شان میں گستاخی کی گئی، صحابہ کرامؓ کی عزت پر آوازیں کسی گئیں، دین اسلام کو مجروح کیا گیا اور تو چپ ہی رہا؟ حتیٰ کہ وہ ترے نبی کا دشمن، وہ ملعون مرزا غلام احمد قادیانی، اس نے جب تمھیں، تمہاری اولاد، تمھارے ماں باپ، تمھارے بھائی بہن، یعنی مرزا کے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہا تو تیرے محبوب کا دل گنبدِ خضرا میں تڑپتا رہا اور تجھے احساس تک نہ ہوا؟ افسوس کہ تجھے تو اپنے محبوب کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا تھی مگر یہاں پر تیری اپنی ذات بھی مرزا قادیانی کے تیروں کا نشانہ بنتی رہی اور تجھے کچھ ہمت نہ ہوئی، تو خوابِ خرگوش کے مزے لیتا رہا۔

اے سائل! ”اگر تجھے رسوائیوں سے بچنا ہے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کا منہ بند کر۔ ان کی عزت کی حفاظت کر۔ یہی بات تمہاری عزت کی امین ہے۔ پھر تو رسوائیوں سے ڈر کر عزتوں کو نہیں تلاش کرے گا بلکہ عزتیں خود تجھے سرفراز کرنے کے لیے تری تلاش میں نکلیں گی“۔

میں نے کہا ”میرے محبوب! میں گناہگار ہوں، میں خطاوار ہوں، شرمسار ہوں، میں خدا سے مغفرت کا طلبگار ہوں“۔

مجھے وہی آواز دوبارہ سنائی دی:

”تو نے اللہ سے معافی مانگنے سے پہلے یہ سوچا کہ تیرا محبوب تجھ سے خوش ہے کہ نہیں؟ کیا تو نے ساری زندگی وہی عمل کیے جو تیرا محبوب تجھ سے چاہتا ہے؟ کیا تیری زندگی کا کوئی فعل تیرے محبوب کے اسوۂ حسنہ سے ہٹ کر تو نہیں؟ اگر اپنے محبوب کی پیروی کرنا اور اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کام کرنا تیرا فرض اولین تھا، تو جا، مغفرت کیا، زمین و مکاں، جنت دوزخ، کرسی و عرش، جن و انس ہر چیز تیرے تابع ہے:

؎ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں

اور اگر تیرا محبوب، تجھ سے راضی نہیں تو جا، کچھ بھی نہیں تیرا، نہ یہ کون و مکاں، نہ زمین و آسمان، نہ تیرا محبوب اور نہ ہی تیرا اپنا آپ“۔

یہ جواب سن کر میری ہچکی بندھ گئی۔ میں گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے بولا: ”نہیں میرے محبوب نہیں۔ میں نے اپنی زندگی تیرے احکامات کے تابع نہیں

صفحہ 704

گزاری اور نہ ہی تیری عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے کام کیا۔ میں نے تیرے دشمنوں سے عداوت نہیں کی مگر میرے محبوب مجھ پر رحم کر۔ مجھے یوں خالی ہاتھ اپنے در سے نہ لوٹا‘‘۔ اتنے میں وہ درویش، جو میرے پاس سے گزرا تھا اور میرے تمام سوالوں کے جواب دے رہا تھا، میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور بولا: وہ در، درِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اس در پر جب جامی آتا ہے تو ماسوا محبوب کے ہر طلب کو مٹا کر آتا ہے، خود کو فنا فی الرسول کر کے آتا ہے۔ اس کو اپنے تن کی خبر ہوتی ہے نہ مَن کی اور جب اس بارگاہ میں خود کو آ کر غلام کہتا ہے تو اس پر جو گزرتی ہے اس کیفیت کو امیر خسرو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

؎ گفتمش ”بندہ ایم“ گفت ”خموش
تو چہ دانی کہ بندہ چون باشد“

میں نے اُس (محبوب) سے کہا ”ہم غلام ہیں“ اُس نے کہا۔ چپ ہو جا تجھے کیا معلوم کہ غلام کیسے ہوتے ہیں۔ جامی کو یہ بات تڑپا دیتی ہے اور صبح اٹھ کر خود کو:

”غلام از غلامانِ آلِ محمدؐ “

کی نسبت سے ظاہر کر کے معافی کا طلبگار ہوتا ہے۔

درویش بولا میری نصیحت ہے کہ خود کو اس در کا غلام بنا۔ اس کی باتیں سن کر میں اپنے کہے پر بہت نادم ہوا۔ میرے ہاتھ سے کاسہ گر کر ٹوٹ گیا اور درویش مجھے چھوڑ کر چل دیا۔ میں نے وہیں درِ رسول ﷺ کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگی اور دل میں تہیہ کیا کہ اپنی زندگی کو اُسوۂ رسول کے مطابق گزاروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بائیکاٹ کروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کے تن من دھن کی قربانی دوں گا۔ اس کے بعد میں واپس اپنی کٹیا کی طرف پلٹ آیا۔ آ کر دیکھا تو میری طلب کی ہر چیز میرے دروازے پر موجود تھی۔ کسی چیز کی بھی حاجت نہ تھی۔ سب کچھ جو میں نے مانگا تھا، وہ مل گیا تھا کیونکہ میں جس بارگاہ میں گیا تھا، وہ کریم کی بارگاہ تھی اور اسے اپنے کرم کی لاج رکھنا تھی۔ اسے یہ تو نہیں دیکھنا تھا کہ مانگنے والا کون ہے اور اس کے اعمال کیا ہیں؟ اسے تو صرف عطا کرنا تھا۔ ہاں، مگر ایک سچ اور ...... وہ یہ کہ ...... وہ درویش ...... میرا اپنا ہی ضمیر تھا اور اب میں خود ماسوا محبوب کے، اور اس کی رضا

صفحہ 705

کے، ہر طلب سے بے نیاز تھا اور وہی روز میرے لیے روزِ عید تھا۔ (عبداللہ)

ملاوٹ

گوالیار (مدھیہ پردیش، بھارت) میں ایک مسلمان دودھ والا تھا۔ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی سمیت جو کوئی بھی اُس کی دکان سے دودھ لینے آتا ، وہ اُسے دودھ بیچتا لیکن کسی قادیانی کو وہ دودھ نہیں بیچتا تھا۔ چونکہ دودھ خالص بیچتا تھا، اس لیے قادیانی بھی چاہتے تھے کہ ہمیں بھی یہ دودھ بیچے، مگر وہ کسی قیمت پر قادیانیوں کو دودھ فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ ایک دن قادیانیوں کی مقامی جماعت کا مربی اُس کے پاس آیا اور بولا کہ تم ہندو، سکھ، عیسائی سمیت ہر کافر کو دودھ بیچتے ہو۔ ہم تو مسلمان ہیں ، ہمیں کیوں نہیں بیچتے؟ دودھ والا بولا، ”یہی تو مسئلہ ہے کہ تم خود کو مسلمان کہتے ہو!“ قادیانی بولا، ”ہم مسلمان ہیں کیونکہ ہم حضرت محمدؐ پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں اور قرآن اللہ کی کتاب ہے“۔ دودھ والا مسکرایا اور بولا: ”جس طرح میں موسیٰ علیہ السلام اور توریت، عیسٰی علیہ السلام اور انجیل پر ایمان رکھنے کے باوجود یہودی اور عیسائی نہیں ہو سکتا، اسی طرح تم بھی ہمارے حضورﷺ اور قرآن شریف پر ایمان رکھنے کے باوجود مسلمان نہیں ہو سکتے کیونکہ تم جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہو“۔ قادیانی لاجواب ہو کر ”اگر مگر“ کرنے لگا تو دودھ والا بولا، ”جاؤ میاں جاؤ، اپنا کام کرو، یہ سمجھو کہ جو شخص دودھ میں ایک قطرہ پانی کی ملاوٹ نہیں کر سکتا تو وہ اپنے حضور ﷺ کی نبوت میں ملاوٹ کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟“

کیا چیز محبت ہے سرکارِ دو عالم ﷺ کی

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ کا فتویٰ

امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ نادر روزگار، عظیم المرتبت فقیہ اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ ان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے وقف تھی۔ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ آپ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے اور انہیں نفرت و حقارت سے ہمیشہ ”غلامیہ“ لکھتے اور کہتے رہے۔ مرزائیوں اور مرزائی نوازوں کے بارے میں ان کا شہرۂ آفاق فتویٰ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ عشق رسول ﷺ اور دینی غیرت و حمیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

صفحہ 706

مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ یا کسی نبی کی توہین کرتا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے، اس کا ذبیحہ محض نجس، مردار اور حرام قطعی ہے، مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب کسی قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و ناحق سمجھنے والا نام نہاد مسلمان اسلام سے خارج ہے“۔

(احکام شریعت ص 112، 122، 177، از اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)

سب تعلق ان سے قطع کردیں۔ بیمار پڑے تو پوچھنے کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا بھی حرام“۔

(فتاویٰ رضویہ ص 51 ج 2 از مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)

اے شمع ختم نبوت ﷺ کے پروانو! آؤ ہم بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں، کیا ہمارے قادیانیوں کے ساتھ معاشی اور معاشرتی تعلقات تو نہیں؟ کیا ہمارا کوئی دوست مرزائی تو نہیں؟ کیا ہم قادیانیوں کے ساتھ کھاتے پیتے تو نہیں؟ کیا ہمارا کسی قادیانی کے ساتھ کوئی کاروبار تو نہیں؟ کیا ہم قادیانیوں کی مصنوعات مثلاً شیزان وغیرہ کا استعمال تو نہیں کرتے؟ کیا ہم قادیانیوں کے بیاہ شادیوں و دیگر تقریبات میں شریک تو نہیں ہوتے یا انھیں اپنے ہاں مدعو تو نہیں کرتے؟ کیا وہ ہمارے کسی عزیز کی نمازِ جنازہ تو نہیں پڑھتے اور اپنے کسی مردے کو ہمارے قبرستان میں دفن تو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو پھر سوچیے! کیا ہم مسلمان ہیں؟ کیا ہم نبی آخرالزمان ﷺ کے امتی ہیں؟ کیا ہمیں بروز محشر شفاعت محمدی ﷺ نصیب ہوگی؟ خدارا غور کیجیے اور فکر کیجیے! حضرت علیؓ کا ارشاد ہے: ”ایک گھڑی کا فکر زندگی بھر کی عبادت سے بہتر ہے“۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ محض ختم نبوت پر ایمان لانے سے اپنا ایمان معتبر نہیں ہوگا بلکہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ اور ان کی سرکوبی بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قادیانیوں کے ساتھ معاشی و معاشرتی تعلقات رکھے گا، ان کی ہر خوشی و غمی میں شریک ہوگا، ہر موقع پر ان کا ساتھ دے گا تو بلاشبہ ایسے شخص کا انجام بھی قادیانیوں کے ساتھ ہی ہوگا۔

بلاشبہ فتنہ قادیانیت، ”طاغوت“ ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں 8 مقامات پر مذکور ہے

صفحہ 707

اور تمام مقامات پر اس سے بچنے، اس کا انکار کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ قادیانی ...... جو حق سے منحرف ہو، انبوہ شیاطین میں گھرا ہو، آشفتہ مزاج اور آوارہ خصلت ہو، سافل و غافل ہو، کفر کی غلامی میں جکڑا ہو، رذالت و خرابات کا حامی ہو، نکبت میں مگن ہو، بد باطن و بد خو ہو،

تو راہ قادیاں پر ہے جو گم ہوتی ہے مکے میں
تری پرواز کا کیونکر گزر ممکن ہے مکے میں

قادیانیت نوازی ایسی منحوس وملعون چیز ہے کہ یہ مسلمان کے اندر محبت رسول ﷺ کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔ اس سے دل سیاہ، دماغ مفلوج اور چہرہ پر نحوست کے آثار جلد ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایسا شخص شفاعت رسول ﷺ ایسی لازوال نعمت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کی (سچی توبہ کرنے پر) سفارش تو فرمائیں گے مگر اپنے دشمنوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی سفارش ہرگز نہ فرمائیں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو، قادیانی نواز جو مار ہائے آستین ہیں، سے بہت احتیاط لازم ہے۔ شیخ سعدیؒ نے فرمایا: ”ایسے دوست سے ہاتھ دھو لینا بہتر ہے جو تیرے دشمنوں کے ساتھ بیٹھتا ہے“۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا: ”ظالموں سے کہہ دو کہ وہ میرا نام نہ لیا کریں۔ کیونکہ جو میرا ذکر کرتا ہے، میں اُس کا ذکر کرتا ہوں اور جب ظالم میرا نام لیتا ہے تو بدلے میں، میں اُس پر لعنت بھیجتا ہوں“۔ اگر حضرت علیؓ کا ہاتھ کسی یہودی کو لگ جاتا تو آپ وضو دوبارہ کیا کرتے تھے اور فرماتے کہ یہ یہودی پلید ہیں۔

حضرت علیؓ کا فہم و فراست سے بھرپور سبق آموز اہم فیصلہ

اس ضمن میں سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فہم و فراست سے بھرپور ایک فیصلہ نہایت قابل غور اور ہم سب کے لیے عبرتناک بھی ہے۔ ایک دفعہ آپ کی عدالت میں ایک قاتل لایا گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے قتل کیوں کیا؟ قاتل نے کہا یا امیر المومنین! مقتول مجھے ورغلا کر اپنے گھر لے گیا جہاں اور کوئی دوسرا شخص نہ تھا۔ وہاں اس نے میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی مذموم کوشش کی۔ میرے بار بار انکار اور منت سماجت کے باوجود وہ اپنے ناپاک ارادے پر اڑا رہا اور زبردستی میرے کپڑے اتارنے کی کوشش کی۔ اس پر مجبوراً میں نے اپنی مدافعت میں قریب ہی پڑے ہوئے لوہے کے ایک ہتھیار سے اس کے سر پر حملہ کر دیا

صفحہ 708

جس کے زخم سے وہ تاب نہ لا کر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اس سارے واقعہ کا کوئی گواہ ہے؟ قاتل رونے لگا اور کہا یا امیرالمومنین! اس واقعہ کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ واقعہ ایک ایسے مکان میں ہوا ہے جہاں کوئی دوسرا شخص موجود نہ تھا اور میں بحیثیت مسلمان حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے، وہ مبنی بر حقیقت ہے۔ حضرت علیؓ قاتل کا بیان سن کر گہری سوچ میں چلے گئے پھر اچانک فرمایا! ”مجھے مقتول کی قبر پر لے چلو۔ وہاں جاکر آپ نے قبر کشائی کا حکم دیا اور فرمایا کہ لاش قبر سے باہر نکالی جائے۔ چنانچہ قبر کھودی گئی اور یہ دیکھ کر وہاں پر موجود تمام لوگ حیران و پریشان ہو گئے کہ لاش قبر میں موجود نہ تھی۔ حضرت علیؓ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور فرمایا: ”قاتل باعزت طور پر بری کیا جاتا ہے“۔ لوگوں کا اس پر مزید تجسس بڑھا اور بڑی حیرانی سے حضرت علیؓ سے پوچھا: یا امیرالمومنین! یہ کیا ماجرا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: چونکہ یہ شخص (مقتول) قوم لوط کا فعل کرتا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر شہر سدوم کے قبرستان میں منتقل کر دی ہے۔

اس فکر انگیز اور عبرتناک واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ جو شخص جس قوم سے تعلق رکھے گا یا ان کے طور طریقے اپنائے گا، اس کا انجام اسی قوم کے مطابق ہوگا۔

صحبت کا اثر

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: ”اہلِ ایمان کی ارواح اکٹھے لشکروں کے مانند ہیں جو ان سے جان پہچان کر لیتا ہے وہ ان سے مل جاتا ہے اور جو ان سے جان پہچان نہ کرے وہ ان سے جدا ہو جاتا ہے“۔

کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، باز با باز

یہ حقیقت ہے کہ انسان جس کے ساتھ محبت کرتا ہے، اس کے دین پر ہوتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے اسے دیکھنا چاہئے کہ کس سے دوستی لگا رہا ہے“۔ (سنن ابوداؤد: 4833)

قادیانیوں سے محبت بھرے تعلقات اور دوستی رکھنے والوں کے لیے یہ حدیث لمحہ فکریہ ہے۔

صفحہ 709

ہمیں چاہیے کہ گستاخان رسول قادیانیوں سے ہمیشہ دور رہیں بلکہ ان کے سائے سے بھی بچتے رہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر کرتی ہے۔ اگر ہم ان کی صحبت میں رہیں گے، ان سے اپنا میل جول برقرار رکھیں گے تو یہ ہمارے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے کہ یہ خود تو گمراہ ہیں، دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گستاخوں سے دوستی اور ان کی صحبت ایمان کے لیے زہر قاتل ہے کہ حضور نبی کریم، رؤف و رحیم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ترجمہ: ”تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کریں اور فتنے میں نہ ڈال دیں“۔

(مقدمہ صحیح مسلم صفحہ 9، حدیث 8)

حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہمیں یہ درس حاصل کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گستاخان رسول قادیانیوں سے ہماری دوستی، ہماری رشتہ داری ہمیں ایمان سے خارج نہ کردے اور ہماری تمام نیکیاں برباد نہ کردے۔ دنیا و آخرت میں رسوا نہ کردے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے دور نہ کردے۔ لہٰذا ان سے مسلمانوں کو ہمیشہ دور رہنا چاہیے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی محبت بنیاد ایمان ہے، اگر اس میں کوئی کمی ہوئی تو سمجھ لو کہ ایمان نہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی محبت اصل ایمان ہے اگر اس میں کوئی کمی واقع ہو جائے تو ہر شے نامکمل ہے، جیسا کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

حضور ﷺ کی محبت، سب محبتوں سے اعلیٰ و اتم ہے، اس لیے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دوستوں سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے، لہٰذا اگر حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا باپ ہے تو یہ نہ سوچو کہ یہ میرا باپ ہے، اس نے میری پرورش کی ہے، لہٰذا خیر ہے۔ نہیں! بلکہ حضور ﷺ سے دشمنی کرنے والا اگر باپ ہے تو اس سے بھی دشمنی کی جائے، اس سے بھی نفرت کی جائے کیونکہ اس وقت باپ کی محبت نہیں بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سامنے ہونی چاہیے اور آپ ﷺ کی محبت ہی اغلب ہونی چاہیے۔ جیسا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان ہمیں درس دے گئے اور انہوں نے یہ بتا دیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سب محبتوں سے اولیٰ، اعلیٰ و اتم ہے۔ جیسا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی محبت کا ثبوت دیا کہ ایک مرتبہ جب کہ ابھی آپ رضی اللہ عنہ کے

صفحہ 710

والد نے کلمہ نہیں پڑھا تھا، دوران گفتگو حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں معمولی گستاخی کی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو یوں تھپڑ مارا کہ وہ منہ کے بل گر پڑے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں، اور عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ ﷺ ! آج آپ کے بارے میں میرے والد کے منہ سے کچھ الفاظ نکل گئے تھے تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں نے اپنے والد کے منہ پر تھپڑ مار دیا ہے اور وہ منہ کے بل گر پڑے ہیں، تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا! اے صدیق! کیا تم نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ ﷺ ! ایسا ہی کیا ہے (چونکہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں اور رحمت کا تقاضا بھی یہی تھا) آپ ﷺ نے فرمایا: اے صدیق! آئندہ ایسا نہ کرنا۔ لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! آج میرے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں تھی، مجھے اللہ عزوجل کی قسم! جس نے آپ کو سچا نبی بنایا ہے، اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اپنے باپ کا سر اُتار دیتا۔

(فہم دین، جلد 4، 430)

جرنیل تحفظ ختم نبوت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لیے یہ اصول مقرر کر دیا کہ گستاخی کرنے والا اگرچہ تمہارا باپ ہی کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا اور اس کو کبھی معاف نہ کرنا۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کرنے والا، آپ ﷺ سے عداوت رکھنے والا اگرچہ بیٹا ہی کیوں نہ ہو، ایک مسلمان اس کو کبھی معاف نہیں کرتا اور فوراً انتقام لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، عاشق رسول ﷺ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ میرا بیٹا ہے بلکہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کو دیکھتا ہے اور آپ ﷺ کی محبت کو اپنے بیٹے کی محبت پر فوقیت دیتا ہے، اس کی مثال بھی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت بھری زندگی سے ملتی ہے۔ بدر کے دن مسلمانوں اور کافروں کی صف آرائی ہوئی، مسلمانوں کی صف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ سامنے کفار کی صف میں آپ کا بیٹا عبدالرحمٰن جو کہ ابھی ایمان نہیں لایا تھا اور کفار کی طرف سے لڑنے آیا تھا، جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کھڑا دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی، یا رسول اللہ ﷺ ! ابھی جنگ کا آغاز نہیں ہوا، ابھی جنگ کا نقارہ نہیں بجا، اس سے پہلے کہ جنگ شروع ہو جائے اور جنگ کے ہنگامے میں کفار کی پہچان نہ رہے، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ مقابلے کو

صفحہ 711

نکلوں جو کہ آپ ﷺ کے خلاف جنگ کے لیے آیا ہے اور اس سے بدلہ لوں اور اس کو آپ کی مخالفت کا مزا چکھاؤں۔ تو حضور اکرم ، نور مجسم، شاہ بنی آدم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اے ابوبکر! تم اپنی جان سے ہمیں فائدہ دو۔ تم میرے نزدیک بمنزلہ کان اور آنکھوں کے ہو‘‘۔

گویا کہ آپ ﷺ ارشاد فرما رہے ہیں کہ جنگ تو ہوتی رہے گی اور معاملات بھی ہوتے ہی رہیں گے، مگر تم ہمارے نزدیک کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہو، یعنی جس طرح کان اور آنکھوں کی بندے کو ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اسلام کو تمہاری ابھی ضرورت ہے، لہٰذا تم اپنی جان کے ذریعے ہمیں فائدہ پہنچاؤ، اس سے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت کو بھی اُمت کے سامنے اجاگر کر دیا۔ بہرحال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے دعوائے محبت میں پورا اترے اور اپنا تن، من دھن، سب کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قربان کر دیا اور آنے والی نسلوں کو یہ درس دے گئے کہ حضور ﷺ کے مخالف اگر باپ یا بیٹا بھی ہو تو اسے کبھی معاف نہ کرنا اور انہیں انجام بد تک پہنچا کر رہنا اور جب تک ایسی والہانہ محبت تمہارے دلوں میں اُجاگر نہیں ہوگی ، تمہارا ایمان کامل نہیں ہوگا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت کا یہ انداز ایسا پسند آیا کہ قرآن کریم کی آیت نازل فرما دی:

کرے ان سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی خواہ وہ (مخالفین) ان کے باپ ہوں یا ان کے فرزند ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبہ والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں نقش کر دیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان اور تقویت بخشی ہے انہیں اپنے فیض خاص سے اور داخل کرے گا انہیں باغوں میں، رواں ہیں جن کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں۔ اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ان سے اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ (بلند اقبال) اللہ کا گروہ ہیں۔ سُن لو! اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران ہے‘‘۔ (المجادلہ: 22)

اللہ تعالیٰ نے پوری روئے زمین کے مسلمانوں کے لیے یہ ضابطہٴ حیات بنا دیا کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ اور اس رسول ﷺ سے محبت رکھنی ہے تو ان کے گستاخوں کے ساتھ دوستی

صفحہ 712

نہیں بلکہ دشمنی والا رویہ اختیار کرنا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملہ میں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور گستاخانِ رسول کا ہمیشہ تعاقب کرتے ہوئے انہیں انجامِ بد تک پہنچانا چاہیے۔

بزرگ فرماتے ہیں کہ صحبت ضرور رنگ لاتی ہے، اگر اچھی صحبت ہوگی تو اچھائی کی طرف دل مائل ہوگا اور نیکیاں کرنے کا ذہن بنے گا اگر بری صحبت ہوگی تو اس میں دنیا و آخرت کی بربادی ہی بربادی ہے۔ کافروں سے دوستی ایمان کے لیے زہر قاتل کی طرح ہے اور اس سے ایمان برباد ہونے کا خدشہ ہے۔

نسلِ انسانی خو پذیر (تقلید کرنے والی یا عادتیں اپنانے والی) ہے۔ پس نیک کی صحبت ہاتھ سے نہ دے کیونکہ نیک کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی۔ فصلِ بہار سے باغوں کی صحبت ہوا کو ہر وقت عطر بیز اور خوشبودار کر دیا کرتی ہے۔ شیخ سعدی کا فرمان ہے:

گلے خوشبوئے در حمام روزے
رسید از دست محبوبے بدستم
کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتا من گل ناچیز بودم
و لیکن مدتے بہ گل نشستم
جمال ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

ترجمہ: ایک دن ایک نہایت ہی خوشبودار مٹی حمام میں مجھے ایک محبوب کے ہاتھ سے ہاتھ میں آئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو مشک یا عبیر کہ میں تیری دل آویز خوشبو سے مست ہوگیا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں ایک ناچیز سی مٹی ہوں لیکن مدتوں گلاب کے ساتھ رہی۔ جمال ہم نشیں نے مجھ پہ اثر کیا وگرنہ میں تو وہی بے مایہ سی مٹی ہوں جو تھی، یہ خوشبو اُس کی رفاقت کا اثر ہے۔ اسی مناسبت سے صالح لوگ کہتے ہیں کہ طالب کو کامل کی ایک دن کی صحبت وہ کر دیتی ہے جو چالیس برس کا مجاہدہ دریافت نہیں کر سکتی۔

عقبہ بن محیط، حضور اکرم نور مجسم ﷺ کے پاس آ کے بیٹھا کرتا تھا، ایک دن وہ حضور نبی کریم ﷺ سے اصرار کرنے لگا کہ آپ ﷺ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے

صفحہ 713

چلیں، چونکہ میں دوسرے لوگوں کی بھی دعوت کیا کرتا ہوں اور آج آپ ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں، جب اس نے اپنی اس دعوت پر اصرار کیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تب تمہاری دعوت قبول کروں گا جب تم اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت کو تسلیم کر لو گے تو عقبہ بن معیط نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ ﷺ اس کے رسول ہیں۔

امیہ بن خلف اور عقبہ بن معیط چونکہ آپس میں گہرے دوست تھے، جب امیہ بن خلف گستاخ کو عقبہ بن معیط کے اسلام لانے کی خبر ملی تو وہ اس کے پیچھے پڑ گیا کہ تم نے دین اسلام کیوں قبول کیا۔ پھر اُسے اس کے باپ دادا کے حوالے سے طعنے اور نسلی تعصب پر لیکچر دیئے۔ چنانچہ عقبہ بن معیط اپنے ایمان کو مضبوط نہ رکھ سکا، کیونکہ ابھی ابتدائی مرحلہ تھا اور مکمل طور پر ایمان پر پختگی حاصل نہیں ہوئی تھی اور اس نے اسلام کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور مرتد ہو گیا، یوں وہ دنیا و آخرت کی ذلت ورسوائی کا حقدار بن گیا، اور بروز قیامت وہ افسوس کرتا ہو گا کہ کاش! میں اس گستاخ کی صحبت اختیار نہ کرتا اور نہ اس کے ساتھ دوستی قائم کرتا اور حضور نبی کریم ﷺ کی دوستی کو ہی اپنائے رکھتا۔

قادیانی زندیقوں سے دوستی تو درکنار ان کے پاس بیٹھنے میں بھی ایمان کو خطرہ ہے اور نقصان ہی نقصان ہے۔

حدیث میں ہے: حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب دجال نکلے گا، کچھ (افراد) اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہو گا؟ وہ وہاں جا کر ویسے ہی ہو جائیں گے‘‘۔ (سنن ابوداؤد)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے، اس کا حشر اسی کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (المعجم الاوسط للطبرانی جلد 5 صفحہ 19، حدیث 645)

قارئین کرام! اگر آپ ایمان کی قدر و قیمت جانتے ہوئے اس کی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں تو قادیانیوں سے قیام و طعام، میل جول ختم کر دو اور ان سے ہر معاملہ ختم کر دو کہ جو نبی ﷺ سے وفا نہیں کرتے، ان (ﷺ) کا ادب و احترام نہیں کرتے، وہ تم سے کیسے وفا کریں گے؟ اور کیسے اپنے دعویٰ محبت میں پورا اتریں گے۔

کچھ سادہ لوح دوست یہ کہتے ہیں: ارے بھائی! وہ بھی تو قرآن وحدیث کی ہی بات کرتے ہیں، انہیں سننے میں حرج ہی کیا ہے؟ قادیانیوں کا چینل دیکھنے میں مضائقہ ہی کیا

صفحہ 714

ہے؟ یو ٹیوب پر قادیانی ویڈیوز دیکھنے میں آخر نقصان کیا ہے؟ ان سے درخواست ہے کہ شیطانی بہکاوے میں آنے میں دیر نہیں لگتی اور ہر ایک کے پاس اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ جب کوئی قرآن وحدیث میں غلط واردات کرے تو وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر سکیں۔ ذیل کے واقعہ کو پڑھیے کہ اتنے بڑے امام اور علم ہونے کے باوجود انہوں نے گمراہ لوگوں کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ جلد 15 صفحہ 106 پر نقل فرماتے ہیں:

حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نہیں سنوں گا۔ دونوں نے کہا: اچھا چلئے! قرآن کریم کی ایک آیت ہی سن لیجیے۔ فرمایا: نہیں سنوں گا، تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ ورنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں، آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے (حیرت سے) عرض کی: اے ابوبکر! آپ اگر ان سے ایک آدھ حدیث پاک یا آیت قرآنی سن لیتے تو اس میں آخر کیا حرج تھا؟ فرمایا: مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن وحدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں گے اور وہ میرے دل میں رہ جائے گی"۔

محترم قارئین! قرآن وحدیث برحق ہیں، اور ان کی ایک ایک بات حق سچ ہے، لیکن امام ابوبکرؒ نے اس لیے سننے سے انکار کر دیا کہ کہیں ان کی اپنی طرف سے کی گئی تاویل یا کسی قسم کی غلط واردات میرے دل میں نہ بیٹھ جائے، دل میں غلط وسوسے نہ پیدا ہو جائیں اور میں ہلاک ہو جاؤں۔

ایک فکر انگیز تاریخی واقعہ ......

جناب عبداللہ ایک فکر انگیز تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ سلطنت مغلیہ کا خورشید اقبال ڈوب چکا تھا۔ اس سرحد سے لے کر مدراس کے ساحل تک سارا کشور ہند انگریزی اقتدار کے زیر نگیں تھا۔ لکھنو میں ایک انگریز کمشنر متعین کیا گیا۔ چونکہ اس وقت کی دفتری زبان فارسی تھی۔ اس لیے کمشنر کو فارسی زبان سیکھنے کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی اور اس کے لیے لکھنو کے مشہور فارسی داں ملا سراج الدین کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔ ملا جی! روزانہ شام کو چار بجے انگریز کمشنر کو ٹیوشن پڑھانے آتے تھے۔ موصوف عصر اور مغرب کی نماز، کمشنر صاحب کی کوٹھی ہی پر ادا کرتے تھے۔

صفحہ 715

کمشنر کی ایک نو جوان لڑکی تھی۔ ہزاروں لالہ رخوں اور زہرہ جمالوں کی کہانیاں اس کی ایک ایک ادا میں سمٹ آئیں تھیں، سرشار آنکھوں سے شراب کے پیمانے چھلکتے، ماہتاب کی طرح درخشاں پیشانی ہر وقت موج نور میں غرق رہتی۔ چلتی تو فتنہ حشر جگاتی، باتیں کرتی تو پھول جھڑتے، جمال و رعنائی اور حسن و دلکشی کا وہ ایک مجسمہ تھی کہ مغربی تہذیب کے گھرانے میں وہ ہر وقت پردے میں رہتی تھی۔ ایک تو ماں باپ کی اکلوتی بیٹی! اس پر مزاج میں نفاست، طبیعت میں لطافت اور ناز و نعمت کی زندگی، سارے خاندان کی راج دلاری بن گئی تھی۔ شرم و حیا، علم و ہنر، ذہانت و دانائی اور متانت و سنجیدگی میں دور دور تک اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ سارا قبیلہ اس کے حسن اخلاق سے مسخر تھا۔ غیرتِ فطری ہی کا نتیجہ تھا کہ والدین کے اصرار کے باوجود کبھی وہ گرجا گھر نہیں جاتی تھی۔

سن شعور میں قدم رکھتے ہی اس نے باہر کی درسگاہ سے اپنا سلسلۂ تعلیم منقطع کر لیا تھا، اور اب گھر پر ہی شریف معلمات کے ذریعہ اس کی تعلیم کا بندوبست کر دیا گیا تھا۔ علوم وفنون کی مختلف شاخوں میں مہارت رکھنے والی معلمات اپنے وقت پر آتی تھیں اور سبق دے کر چلی جاتی تھیں۔ تدریس کا یہ سلسلہ صبح آٹھ بجے سے شام کے چار بجے تک جاری رہتا تھا۔

ملا جی کو آئے ہوئے کئی مہینے گزر چکے تھے۔ کمشنر صاحب فارسی کی ابتدائی کتابیں ختم کر چکے تھے اور اب حضرت سعدیؒ کی گلستان چل رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ ملا جی بہت خوش الحان قاری بھی تھے۔ جب مغرب کی نماز میں وہ جہر سے قرآن پڑھتے تو کمشنر صاحب کی پوری کوٹھی عالمِ قدس کے نغموں سے گونج اٹھتی تھی۔

ایک دن کمشنر صاحب کی صاحبزادی ٹھیک مغرب کے وقت اس کمرے کے قریب سے گزری جہاں ملا جی نماز پڑھ رہے تھے۔ قرآن کی آواز سن کر اس کے قدم اچانک رک گئے۔ چند ہی لمحے کے بعد دروازے کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ قرآن کے سحر جلال سے دل کے گھائل ہونے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ آنِ واحد میں طیب و طاہر روح، تجلیاتِ قرآنی کی بارش میں شرابور ہو گئی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اس نغمۂ حیات سے اس کے کان آشنا ہوئے تھے۔ ایک نامعلوم کیف سے وہ بے خود ہو گئی۔ عالمِ اشتیاق میں پھر وہ آگے بڑھی اور پردے کی اوٹ سے ملا جی کو ایک نظر دیکھا۔ نماز کی ہیئت عبادت دیکھ کر وہ حیرت میں ڈوب گئی۔ ہاتھ باندھ کر ساکت و مودب کھڑا رہنا، پھر سرنگوں ہو جانا اور اس کے بعد ماتھا ٹیکنا، عجز و نیاز کی

صفحہ 716

یہ ادائیں، اس کی آنکھوں کے لیے اچنبھے سے کم نہیں تھیں۔ اب سے پہلے اس کی آنکھوں نے یہ روح پرور مناظر کبھی نہیں دیکھے تھے۔ جب تک ملا جی نماز پڑھتے رہے، وہ تصویر حیرت بنی دیکھتی رہی۔ نماز ختم ہو جانے کے بعد جب وہ واپس لوٹی تو جذبات کے سمندر میں ایک تلاطم سا تھا۔

دل از خود اندر سے کسی نامعلوم سمت کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔ اس دن ساری رات اپنے بستر پر کروٹیں بدلتی رہی۔ آیات قرآنی کا کیف اور نماز کی روحانی کشش ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ذہن سے اوجھل نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ساری رات یہ سوچتی رہی کہ شیریں نغموں کی سحر طرازی مسلم، لیکن قرآنی نغمے کا یہ اثر جس نے دل کے کشور کو تہ و بالا کر دیا ہے، اسے صرف خوش الحان آواز کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یقیناً اس کے پیچھے کوئی ایسی حقیقت بول رہی ہے جس کا رشتہ روح انسانی کے ساتھ منسلک ہے۔ پھر اگر نماز نشست و برخاست ہی کا نام ہے تو پھر میرے دل کو کیا ہو گیا ہے؟ قیام وقعود کے سوا انسانوں کی زندگی میں ہے کیا؟ پھر دنیا میں کتنے دل ہیں جو کسی نشست و برخاست پر عاشق ہوئے ہیں۔ اگر واقعتاً نماز کی یہی حقیقت ہے تو دل دیوانہ کی لغزش میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پھر سوچتی کہ اتنی آسانی سے دل کی تقصیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہو نہ ہو یہ نماز بھی اسی عالم کی چیز ہے جہاں انسانی روحوں کا مزاج ڈھلتا ہے اور جہاں سے معنوی حیات کے چشموں کا دھارا پھوٹتا ہے۔

سوچتے سوچتے سحر ہو گئی۔ لیکن روحانی اضطراب کی آگ ویسے ہی سلگتی رہی۔ اپنا حال خود اپنی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ صبح طلوع ہوئی، دن نکلا۔ لیکن آج کتابوں میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ سارا دن شام کے انتظار میں کٹا۔ حسب معمول عصر کے وقت ملا جی ٹیوشن پڑھانے کے لیے تشریف لائے۔ جوں ہی ان کے قدموں کی آہٹ سنی تو فرط شوق سے صاحبزادی کا دل اچھلنے لگا۔ بڑی مشکل سے سورج ڈوبا اور ملا جی مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ صاحب زادی قبل از وقت ہی پس پردہ کان لگائے کھڑی تھی۔ قرآن کی آواز کان میں پڑتے ہی دل کا حال بدلنے لگا۔ روح، نغمۂ جاوید کے کیف میں ڈوب گئی۔ آج دل ہی متاثر نہیں تھا بلکہ آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔ کئی بار رومال سے بہتے ہوئے آنسو خشک کیے لیکن چشمۂ سیال کی طرح اس وقت تک سیلاب امنڈتا رہا جب تک ملا جی نے نماز ختم نہیں کر لی۔

اسی عالم کرب میں کئی مہینے گزر گئے۔ دل کے شور محشر سے کوئی واقف نہ تھا۔ ہر روز مغرب کی نماز کے وقت وہ در سے لگی ہوتی۔ جذبات کے تلاطم کا جو طوفان امنڈتا تھا، خود ملا

صفحہ 717

جی کو بھی اس کی خبر نہیں تھی۔ اب کئی مہینے کے عرصے میں مسیحی گھرانے کی دوشیزہ نامعلوم طور پر اسلام کے بہت قریب ہوگئی تھی۔ نماز اور قرآن کے عشق نے اب اسے اس راستے پر لاکر کھڑا کر دیا تھا جو کسی بھی وارفتہ حال مسافر کو ذرا سی دیر میں مدینے تک پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دل اس رسول (ﷺ) کی غائبانہ عقیدت سے سرشار ہوتا جا رہا تھا جس نے دنیا کو قرآن اور نماز جیسی نعمت لازوال سے بہرہ اندوز کیا۔

اکثر رات کو تنہائی میں سوچا کرتی تھی کہ جس رسول (ﷺ) کے لائے ہوئے پیغام میں یہ کشش ہے خود اس رسول (ﷺ) میں کتنی کشش ہوگی۔ بلاوجہ عرب کے صحرانشین اس پر شیفتہ نہیں تھے۔ اس کی زیبائی کا یہی جلوہ کیا کم ہے کہ آج اس کے نادیدہ عشاق سے ساری دنیا بھر گئی ہے۔ یقیناً محمد عربی ﷺ عظمت و راستی کی ایک سراپا حقیقت کا دوسرا نام ہے۔ ناز کی پلی ہوئی لاڈلی بیٹی روزانہ صبح نئے کپڑے زیب تن کر کے باپ کو آداب کیا کرتی تھی۔ باپ کے دل کی شادابی اور روح کی آسودگی کا یہ سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ آج وہ بڑی سج دھج سے آداب کرنے آئی تھی۔ آداب سے فارغ ہو کر مچلتے ہوئے ناز میں کہا...... ”فادر! ایک درخواست پیش کروں؟ قبول فرمائیے گا!“

بیٹی کے ان الفاظ پر باپ کی روح جھوم اٹھی۔ شفقت پدری کا جذبہ پھوٹ پڑا۔ فرط محبت میں بے قابو ہو کر جواب دیا...... ”میری لخت جگر! ساری زندگی یہ آرزو رہی کہ دوسرے بچوں کی طرح تم بھی کچھ فرمائش کرو اور میں اسے پوری کر کے تمہاری مسرتوں کا تماشہ دیکھوں۔ لیکن نہ جانے تمہاری افتاد طبع کیسی واقع ہوئی ہے کہ یہ آرزو تشنہ ہی رہی۔ اب جبکہ زندگی میں پہلی بار اپنے ارمان کے اظہار کے لیے تمہاری زبان کھلی ہے تو کیا اب بھی یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ میں اسے قبول کروں گا یا نہیں؟ تمھارے علاوہ کون میری زندگی کی امیدوں کا مرکز ہے جس کے لیے کوئی بات اٹھا رکھوں گا۔

بیٹی نے نگاہ نیچی کی، رکتے، جھجکتے ہوئے بڑی مشکل سے اتنے الفاظ ادا کیے مجھے اجازت دیجیے کہ ملا جی سے میں فارسی کی تعلیم حاصل کروں...... باپ نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور بیٹی کو تھپکاتے ہوئے کہا!...... اتنی ذرا سی بات کے لیے تم نے اتنی زبردست تمہید باندھی۔ میرا تو گمان تھا کہ تم کوئی بہت اہم فرمائش کرنے والی ہو۔ تمھیں اجازت ہی نہیں بلکہ تحسین و آفرین بھی ہے کہ تمھارے اندر حصول علم کا شوق جاگ اٹھا ہے۔

صفحہ 718

دوسرے دن ملا جی بعد نماز مغرب صاحبزادی کو بھی فارسی کی تعلیم دینے لگے۔ محنت و ذہانت نے تھوڑے ہی عرصے میں فارسی زبان سے اچھی طرح روشناس کر دیا۔ دوران تعلیم ہی ایک دن صاحبزادی نے ملا جی سے کہا ...... اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت پر مسلمان مصنفین کی چند کتابیں میرے لیے فراہم کر دیجیے ...... ملا جی کو اس عجیب و غریب فرمائش پر حیرت تو ضرور ہوئی لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکے۔ دوسرے دن چند مستند اور مفید کتابیں لا کر حوالے کر گئے۔ ...... نماز و قرآن والے پیغمبر اعظم کی زندگی سے واقف ہونے کا موقع حاصل کر کے صاحبزادی کی مسرتوں کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ جذبہ شوق کے عالم میں کتاب کا پہلا ورق کھولا اور کائنات کی سب سے معظم ترین ہستی کی زندگی کا مطالعہ شروع کر دیا ...... ورق ورق پر فضل و رحمت، جلال و جمال، عظمت و زیبائی، طہارت و تقدس، صبر و تحمل، جود و کرم، زہد و عبادت، فقر و ایثار، علم و حکمت، اعجاز و توانائی، قدرت و اختیار، قرب الٰہی کی جلوہ آرائی اور آسمان شوکت و اقتدار کے مناظر دیکھ کر دل کی دنیا جگمگا اٹھی۔ فرط شوق میں پلکوں پہ موتیوں کے قطرے جھلملانے لگے۔ لالہ کی پنکھڑی جیسے ہونٹ حرکت میں آئے اور ایک ننھی سی آواز فضا میں گونجی ...... ”محمد ﷺ کے خداوند! تو گواہ رہنا کہ مسیحی مذہب سے نکل کر تجھ پر اور تیرے آخری رسول ﷺ پر ایمان لاتی ہوں۔ اے قادر و توانا معبود! تیرے محبوب پیغمبر ﷺ کا واسطہ، میری آنے والی زندگی کو کفر کی یلغار سے محفوظ رکھنا“۔

دل میں عشق محمدی ﷺ کا چراغ جل چکا تھا۔ اب ایمان بالغیب کی ایک نئی دنیا نظر کے سامنے تھی۔ حیات سرور کونین کی 63 سالہ تاریخ ذہن میں گھوم رہی تھی۔ اب وہ نظر کے سامنے تھی۔ کوٹھی کے قریب ہی ایک مسجد تھی۔ جیسے ہی مؤذن نے اشهد ان لا اله الا الله اور اشهد ان محمد رسول الله کا کلمہ فضا میں نشر کیا، آنکھیں کھل گئیں ...... کلمۂ اسلام سن کر دل بے تاب ہو گیا۔ ایمان کی امنگیں جاگ اٹھیں۔ آج چہرہ بشاشت سے کھلا جا رہا تھا۔ کونین کی ارجمندی بال بال سے پھوٹ رہی تھی۔ ایک لالہ رخ حسینہ کا اپنا ہی جمال کیا کم تھا کہ وہ چشمۂ نور میں غوطہ لگا کر آ گئی تھی۔ اب تو گل کدہ فردوس کی حور معلوم ہو رہی تھی۔ فرط تابندگی سے چہرہ پر نظر جمانا مشکل تھا۔ حسن و دلکشی کی یہ نمایاں تجلی دیکھ کر ماں باپ کو بھی حیرت ضرور تھی لیکن وہ اسے حضرت مریمؑ کی عقیدت کا فیضان سمجھ رہے تھے۔ اس دن کافی انتظار کی زحمت اٹھانے کے بعد ملا جی تشریف لائے۔ نماز مغرب سے فراغت کے

صفحہ 719

بعد صاحبزادی پڑھنے کے لیے حاضر ہوئی۔ جوں ہی چہرے پر نظر پڑی۔ ملا جی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

صاحبزادی نے کہا۔ حیرت نہ کیجیے مجھے کلمہ پڑھا کر میرے اسلام کے گواہ بن جائیے اور دیکھیے میں نے اپنا نام فاطمہ رکھ لیا ہے۔ آئندہ مجھے اسی نام سے یاد کیجیے گا۔ ملا جی بہت کمزور دل آدمی تھے۔ بڑھاپے میں کمشنر صاحب کو پڑھانے کا جو موقع مل گیا تھا، اسے وہ بہت غنیمت سمجھتے تھے۔ پھر صاحبزادی کے حالات سے بے خبر تھے۔ ملا جی نے لرزتے ہوئے صاحبزادی کو جواب دیا...... ”دل کا مسلمان ہو جانا خدا کے نزدیک نجات کے لیے کافی ہے۔ صاحبزادی نہ بھی اپنے اسلام کا آپ اعلان کریں جب بھی فلاح اخروی کا استحقاق کہیں نہ جائے گا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں آپ کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کر لوں اور اس کی اطلاع کمشنر صاحب کو ہو گئی تو ہم پر بھی وبال آ جائے گا اور آپ کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی“ ...... صاحبزادی ملا جی کی کمزوری سے واقف تھی، یہ سن کر خاموش ہو گئی۔

فارسی کی تعلیم ختم ہو جانے کے بعد فاطمہ نے قرآن مجید کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ ملا جی کی آمد و رفت کا سلسلہ منقطع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسے توقع تھی کہ مستقبل کی کوئی ضرورت بھی ان سے متعلق ہو سکتی ہے۔ اب فاطمہ گھر والوں کی نظروں سے چھپ چھپا کر نماز بھی پڑھنے لگی تھی۔ صبح کے وقت قرآن کی تلاوت بھی کر لیا کرتی تھی۔ چونکہ اس کے کمرے میں ابتدا ہی سے کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے اس کی زندگی کا اکثر حصہ صیغہ راز میں تھا۔ دل کے خاموش انقلاب کی گو والدین کو خبر نہیں تھی۔ لیکن باطن کی تطہیر اور روحانی تقدیس کا اثر نامعلوم طور پر اس کے گرد و پیش میں نمایاں تھا۔ خاندان کے دلوں میں صرف اس کی محبت و شفقت ہی کا نہیں توقیر و احترام کا جذبہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ اس کی شخصیت کا اثر بغیر کسی ظاہری سبب کے لوگوں کے تحت الشعور پر چھایا جا رہا تھا۔ وہ رات کی تنہائی میں اپنی خواب گاہ کے اندر کیا کرتی تھی۔ اس کی خبر کسی کو نہ تھی۔ لیکن ملا جی کو صرف اتنا معلوم ہو سکا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو سرور کونین ﷺ کی زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کا بہت زیادہ اہتمام کرتی تھی۔

سب کے سو جانے کے بعد وہ اپنا کمرہ اندر سے بند کر کے عشاء کی نماز پڑھتی اور اس کے بعد سو جاتی۔ پھر تہجد کے لیے اٹھتی اور تادم سحر گریہ و مناجات تسبیح و تہلیل اور درود و سلام میں مشغول رہتی۔ اس کے دل کا آئینہ اتنا شفاف ہو گیا تھا کہ عالم غیب کے انوار و اسرار

صفحہ 720

کا وہ کھلی آنکھوں سے تماشا دیکھا کرتی تھی۔ اب آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا رشتہ دوسرے مشاغل سے ٹوٹتا جا رہا تھا۔ گھنٹوں وہ کھوئی کھوئی سی رہنے لگی۔ اس کی روح کی لطافت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کئی کئی دن بغیر کسی ضعف ونقاہت کے وہ روزے میں گزار دیتی تھی۔

ایک دن جب شام کے وقت ملا جی پڑھانے آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ صاحبزادی آج کچھ علیل ہیں۔ اس لیے وہ نہیں پڑھیں گی۔ جوں ہی واپس جانا چاہتے تھے کہ آیا نے اطلاع دی۔ صاحبزادی اپنے حجرۂ خاص میں آپ کو بلا رہی ہیں۔ ملا جی ہمت کر کے کمرے کے اندر داخل ہوئے تو دیکھا۔ فاطمہ بستر پر دراز تھی۔ قدم کی آہٹ پاتے ہی اٹھ کے بیٹھ گئی اور نہایت سرگوشی کے ساتھ ملا جی سے کہا...... ”آپ کے احسانات سے میری گردن ہمیشہ بوجھل رہے گی کہ آپ کی وجہ سے مجھے ایمان نصیب ہوا اور حبیب خدا ﷺ کی دولتِ عشق سے میری زندگی کیف وسرور کے ایک نئے عالم میں داخل ہوئی۔ اب میں روحانی قرب کی اس منزل میں ہوں جہاں ایک لمحہ کے لیے بھی میرے سرکار آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتے۔ آثار وقرائن شہادت دے رہے ہیں کہ اب میں حیات کے آخری لمحے سے گزر رہی ہوں۔ عالمِ قدس کا پیامی جلد ہی آنے والا ہے۔ میں بھی منتظر آنکھوں سے اس کی راہ دیکھ رہی ہوں۔ رخت سفر باندھ کر میں نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اپنے انجام کی فیروز بختی پر دل اتنا مطمئن ہے کہ مسکراتے ہوئے پیک اجل کا خیر مقدم کروں گی۔ صرف ایک آرزو ہے جس کے لیے میں نے آپ کو اس وقت زحمت دی ہے۔ اگر بعد مرگ میری وصیت پوری کرنے کا یقین دلائیں تو عرض کروں۔ اتنا کہتے کہتے اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ملا جی اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے اور وہ بھی اشک بار ہو گئے۔ بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔

”خدا آپ کی زندگی کا اقبال بڑھائے! آپ کی عمر کی برکتوں کو دراز کرے! نصیب دشمناں مرگ ناگہاں کی خبر سننے کے لیے ہم ہرگز تیار نہیں ہیں۔ لیکن علم الٰہی میں اگر یہی مقدر ہو چکا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ آپ اپنی آرزو کا برملا اظہار فرمائیے۔ میں اس کی تعمیل کا آپ کو یقین دلاتا ہوں“۔

صاحبزادی نے راز دارانہ لب و لہجے میں کہا۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے قبولِ اسلام کی خبر گھر والوں کے علم میں نہیں ہے۔ تا ہنوز مجھے اپنے آبائی مذہب کا پیرو سمجھ رہے ہیں گو میں نے آج تک گرجا میں قدم نہیں رکھا ہے۔ لیکن وہ اسے میری غیرتِ حیا پر محمول کرتے

صفحہ 721

ہیں ۔ اس سے مجھے یقین ہے کہ وہ بعد مرگ میری تجہیز و تکفین مسیحی مذہب کے مطابق کریں گے اور مسیحی قبرستان میں میرا مدفن بنائیں گے ۔ میں نہیں چاہتی کہ اپنا اسلام ظاہر کر کے میں آپ اور یہاں کے دوسرے مسلمانوں کو آفات کا نشانہ بناؤں۔ اس لیے میری مودبانہ گزارش ہے کہ بعد مرگ جب وہ مجھے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کر دیں تو رات کے کسی حصے میں میرا تابوت نکال کر اسلامی طریقے کے مطابق مجھے کسی مسلمان قبرستان میں دفن کر دیں تاکہ اہلِ ایمان کے جوار میں رہ کر میری روح کو دائمی سکون حاصل ہو ۔

ملا جی نے برستی آنکھوں سے وصیت کی تعمیل کا یقین دلایا ۔ فاطمہ نے آخری سلام کرتے ہوئے کہا کہ اب قیامت ہی کے دن فاتح محشر کے لواء الحمد کے نیچے ہماری آپ کی ملاقات ہو گی ۔ یہ کہتے ہوئے ملا جی کو رخصت کیا ۔

صبح کے وقت سارے شہر میں کہرام مچا ہوا تھا ۔ کمشنر صاحب کی لاڈلی بیٹی کی وفات کی خبر ہر طرف پھیل گئی تھی ۔ احباب و اقارب اور غمگساروں کے ہجوم سے کوٹھی میں تل رکھنے کی جگہ باقی نہیں تھی ۔ اس اچانک حادثہ سے سارے خاندان پر غم کے بادل چھا گئے تھے ۔ ماں باپ کی حالت نہایت قابل رحم تھی۔ شدت الم سے وہ پاگل ہو گئے تھے۔ اکلوتی بیٹی کی مرگ ناگہاں ان کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی ۔ ماتم و فغاں کے شور میں دوپہر کے وقت جنازہ اٹھا۔ عیسائی مذہب کے رسوم کے مطابق لاش ایک تابوت میں بند کر دی گئی تھی ۔ جنازہ کے ساتھ ساتھ ملا جی بادیدہ پرنم چل رہے تھے۔ عیسائی قبرستان پہنچ کر تابوت کو ایک پختہ قبر میں اتارا گیا اور اوپر سے سنگ مرمر کی سل رکھ کر قبر کا کھلا ہوا حصہ بند کر دیا گیا ۔ دفن کی آخری رسم ادا ہو جانے کے بعد لوگ قبرستان سے واپس لوٹ گئے۔ ملا جی اپنے ذہن میں قبر کا نشان اچھی طرح محفوظ کر کے سب کے بعد واپس ہوئے۔ سیدھے کمشنر صاحب کی کوٹھی پر پہنچے اور ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ کلمہ تعزیت کہہ کر گھر واپس چلے آئے ۔

آج انھیں پوری رازداری کے ساتھ ایک اہم فرض سرانجام دینا تھا۔ اقدام اتنا سنگین تھا کہ ہر قدم پر خطرات کے اندیشے راہ میں حائل تھے ۔ رات کی تنہائی میں لوگوں کی نظر سے بچ کر عیسائی قبرستان سے کسی لاش کو منتقل کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا ۔ حالات کی نزاکت سوچ کر ملا جی کانپ گئے ۔ لیکن ایک مرنے والی سے کیے ہوئے وعدے کی تکمیل بھی ضروری تھی۔ اسلام کا رشتہ اخلاص بھی اس امر کا متقاضی تھا کہ جیسے بھی ہو اس فرض کو سرانجام

صفحہ 722

دیا جائے۔ ملا جی کا ضمیر اندر سے جاگ اٹھا تھا۔ آخر بسم اللہ پڑھ کر انھوں نے اس مہم کا آغاز کر ہی دیا۔ اپنے چند قابل اعتماد دوستوں کو گھر لے گئے اور شروع سے آخر تک ان سے سارا ماجرا بیان کیا۔ واقعہ سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ انھوں نے کف افسوس ملتے ہوئے ملا جی سے کہا۔ صد حیف کہ اسی شہر میں اسلام کی فتح و صداقت کا اتنا عظیم الشان واقعہ رونما ہوا اور آپ نے کانوں کان کسی کو خبر نہ ہونے دی۔ خیر جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب جس طرح بھی ہو، آج ہی شب وعدے کی تکمیل ضروری ہے۔

ٹھیک اسی وقت جبکہ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ ہر طرف خاموشی کا سناٹا طاری تھا۔ ملا جی کے علاوہ چار آدمی عیسائیوں کے قبرستان میں داخل ہوئے۔ یہ اقدام انتہائی خطرناک تھا۔ لیکن اسلامی ہمدردی کے جوش میں خطرے کا قطعاً کوئی احساس نہیں ہو رہا تھا۔ ملا جی کی رہنمائی میں چاروں آدمی قبر تک پہنچے۔ سنگ مرمر کی سل ہٹائی اور قبر میں اتر کر تابوت کو باہر نکالا۔ جوں ہی لاش نکالنے کے لیے تابوت کا تختہ کھولا۔ ملا جی کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ لوگ حیرت سے ان کا منہ تکنے لگے۔ بڑی مشکل سے حواس پر قابو پانے کے بعد لوگوں کو بتایا کہ لاش بدل گئی ہے۔ ہم لوگوں نے غلطی سے دوسری قبر کا تابوت نکال لیا ہے۔ یہ لاش کسی اور کی ہے۔ لیکن ملا جی نے پھر دوبارہ جو غور سے دیکھا تو قبر کا نشان وہی تھا۔ جسے دن کے وقت دیکھ گئے تھے۔ قبر کا نیا پن بھی بتا رہا تھا کہ یہ بالکل تازہ قبر ہے۔ اب یہ گتھی کسی سے نہیں سلجھ رہی تھی کہ کمشنر صاحب کی بیٹی کے تابوت میں دوسرے کی لاش کیسے آ گئی اور خود اس کی لاش کہاں چلی گئی؟ صورت حال کی تفتیش کے لیے چاروں آدمی آگے بڑھے اور جھک کر دیکھ ہی رہے تھے کہ ان میں سے ایک شخص بے ساختہ چیخ پڑا۔ ”یہ لاش تو بارہ بنکی کے مرزا جی کی ہے“۔

یہ منظر دیکھ کر لوگ حیرت میں ڈوب گئے۔ جلد جلد کفن کو درست کیا۔ تختے لگائے اور مٹی برابر کر کے قبرستان سے باہر نکل آئے۔ مارے ہیبت کے سانس پھول رہی تھی۔ قیام گاہ پر پہنچ کر ایک ہولناک سکتے کی کیفیت سب پر طاری تھی۔ قدرت کا یہ عجیب و غریب تماشہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر کمشنر کی لڑکی کی لاش کہاں غائب ہو گئی؟

نیند کچھ زیادہ گہری نہیں تھی، صرف پلک جھپکی تھی کہ ملا جی نے ایک نہایت حسین و دلکش خواب دیکھا۔ وہی کمشنر کی بیٹی فاطمہ حوران خلد کے جھرمٹ میں سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ قریب آ کر اس نے سلام کیا۔ عالم برزخ کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے اس نے کہا۔ میری

صفحہ 723

روح جب عالم بالا کی طرف لائی گئی تو رحمت الہی نے مجھے ڈھانپ لیا۔ میرے کفن کا تار تار بارش نور میں بھیگ گیا۔ میرے گمان سے زیادہ رحمت نے میری توقیر و اعزاز کا اہتمام فرمایا۔ حوران خلد نے مجھے چشمہ نور میں غوطہ دیا اور میں نکھر گئی۔ میرے حسن کی چاندنی جنت کے میدانوں میں ہر طرف بکھر گئی۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ عالم برزخ میں ہر طرف شوکت محمدی ﷺ کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں۔ سارے انبیائے مرسلین ان کے دربار کے نیاز مند حاضر باش ہیں۔

جب میری روح ان ﷺ کی بارگاہ میں لائی گئی تو تجلیات کی تیز بارش سے آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ ان کی ناز بردار رحمتوں نے میری ہستی کا فروغ بڑھا دیا۔ حکم ہوا کہ میری لاش طیبہ کی سرزمین پر منتقل کر دی جائے۔ اسی خطہ قدس میں جہاں اسی ہزار عاشقان جمال آسودہ خواب ہیں۔ جس دن میری لاش عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کی گئی، اسی دن تین لاشیں اپنی اپنی قبروں سے منتقل کی گئیں۔

مدینہ طیبہ میں ایک عرب سوداگر جسے ہندوستان بے حد پسند تھا۔ عرصہ قدیم سے اس کی آرزو تھی کہ وہ یہاں بود و باش اختیار کرے۔ جب وہ مر گیا اور لوگوں نے اس کی لاش کو جنت البقیع میں دفن کیا تو عالم برزخ کے کار پردازوں کو حکم ہوا کہ مدینے میں رہ کر ہندوستان میں سکونت اختیار کرنے کی آرزو رکھتا تھا۔ مدینے کی زمین اس کی نگاہ میں عزیز نہیں تھی۔ اس لیے اس کی لاش کو ہندوستان منتقل کر دیا جائے۔ اسے یہاں پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے...... دوسری لاش بارہ بنکی کے مرزا جی کی تھی۔ عیسائیوں کے ساتھ غایت درجہ الفت کی وجہ سے وہ زندگی بھر انگلستان جانے کی تمنا میں مرتے رہے۔ بھول کر بھی انھیں دیارِ عرب کا خیال نہیں آیا۔ جب ان کی لاش دفن کی گئی تو حکم ہوا، اسلام سے بیگانہ ہو کر اس نے جس عیسائی قوم کے ساتھ زندگی کے دن گزارے ہیں، اسے اسی قوم کے قبرستان میں منتقل کر دیا جائے۔ امواتِ مسلمین کے ساتھ اسے ہرگز نہیں رکھا جا سکتا۔ اپنا سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے فاطمہ نے خواب ہی میں کہا کہ فرمانِ غیب کے مطابق مدینہ کے احاطہ نور سے عرب کی لاش بارہ بنکی کے قبرستان میں منتقل کی گئی اور اس کی خالی شدہ قبر میں لکھنو سے میری لاش پہنچا دی گئی اور مرزا جی کی لاش کو عیسائیوں کے قبرستان میں میری جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔

فاطمہ نے کہا کہ عالم برزخ کے ان واقعات پر حیرت کی کوئی وجہ نہیں۔ موت کے بعد

صفحہ 724

انسان کے اعتقاد اور عمل کا اثر اس کی برزخی زندگی پر یقیناً پڑتا ہے۔ یہاں پر ہر آن اس طرح کے مناظر نگاہوں سے گزر رہے ہیں۔ میں واضح طور پر محسوس کر رہی ہوں کہ اس عالم میں کسی عمل کو بھی وہ اعزاز حاصل نہیں ہے جو عشق رسول ﷺ کو ہے۔ میری روحانی آسائش و تکریم کی ساری ارجمندی عشق رسول ﷺ ! کا ہی صدقہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ رحمت و کرم کی تسخیر کے لیے اس سے زیادہ زود اثر نسخہ بنی نوع انسان کو اب تک میسر نہیں آ سکا ہے۔ کاش! خاکدانِ گیتی کے رہنے والے اس راز کو سمجھ سکتے۔ اتنا کہنے کے بعد فاطمہ کی روح نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ ملا جی کی جب آنکھ کھلی تو ان پر ایک رقت انگیز کیفیت طاری تھی۔ بار بار وہ سینہ پیٹتے تھے کہ ہائے میں نے فاطمہ کی قدر نہیں پہچانی۔

اس خواب نے غفلت کا سارا خمار اتار دیا۔ جس نے سنا، دم بخود ہو کر رہ گیا۔ برزخ کے حالات پر لوگوں کا یقین تازہ ہو گیا۔ قبر کے بھیانک انجام سے لوگ ڈرنے لگے۔ کہتے ہیں کہ ان پانچوں آدمیوں پر چشم دیدہ واقعات کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ ان سب کی زندگی اچانک بدل گئی۔ وہ ترکِ دنیا کر کے یادِ الٰہی میں مصروف ہو گئے‘‘۔

قارئین کرام! ان تاریخی واقعات پر غور و فکر کریں تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں کے ساتھ اپنا تعلق رکھیں گے، ان کی خوشی غمی میں شریک ہوں گے، ان کے ساتھ خرید و فروخت کریں گے تو پھر ہمارا انجام بھی وہی ہوگا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔ لوگ ہمیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے لیکن ہماری مرزائیت نوازی کی وجہ سے راتوں رات ہماری لاش ربوہ یا قادیان کے قبرستان میں پہنچا دی جائے گی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

بدعتی کی عزت......؟

دین میں نئی بات ایجاد کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیں۔ ایسا شخص فاسق و فاجر تو ہوتا ہے مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود علماء و فقہا لوگوں کو اہل بدعت سے ہمیشہ بچنے اور ان سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ چنانچہ قاضی ابو یعلیٰ فرماتے ہیں کہ اہل بدعت سے قطع تعلقی پر صحابہؓ و تابعینؒ کا اجماع ہے۔ فضیل بن عیاضؒ نے فرمایا ہے کہ بدعتی کے ساتھ بیٹھنے والے سے بھی بچو اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرے اور بدعتی کے درمیان لوہے کا مضبوط قلعہ ہو۔ امام ابن قدامہؒ کا بیان ہے کہ اہل بدعت کی مجالس اختیار کرنے، ان کی کتب کا

صفحہ 725

مطالعہ کرنے اور ان کا کلام سننے سے ہمیشہ سلف صالحین منع کرتے رہے ہیں۔ یقیناً آئمہ سلف کی درج بالا نصیحتوں پر عمل کرنے میں ہی خیر ہے اور جو ان پر عمل نہیں کرتا، خدشہ ہے کہ کہیں اس کا خاتمہ بُرا نہ ہو جائے۔ جیسا کہ امام ذہبیؒ نے ابن الریوندی زندیق کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ وہ ملحد حضرات سے بہت میل جول رکھتا تھا اور جب اسے روکا جاتا تو کہتا کہ میں تو صرف ان کے اقوال جاننا چاہتا ہوں۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ بالآخر وہ خود بھی ملحد وزندیق ہو گیا اور دین اور اہل دین سے دور ہو گیا۔

اہل بدعت کی حمایت سے بھی پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان اللہ کی لعنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بدعت کرے یا بدعت کرنے والے کو جگہ دے اس پر اللہ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت۔ اس کی کوئی عبادت فرض ہو یا نفل قبول نہ کی جائے گی“۔ (صحیح بخاری، جلد دوئم، حدیث نمبر 413 باب الجہاد)

سوچنا چاہیے کہ اگر بدعتی سے تعلقات رکھنے پر اس قدر وعید اور ممانعت آئی ہے تو گستاخان رسولؐ قادیانیوں سے تعلقات رکھنے پر کس قدر ممانعت ہو گی؟

حضور شافع محشر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی بدعتی کی عزت کرے گا تو (اس کا مطلب ہے کہ گویا) اس نے اسلام کو ڈھانے میں مدد دی۔ (مشکوٰۃ) اسی طرح مشکوٰۃ ہی میں حضرت عمران بن حصینؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے: لا تجالس أهل الأهواء فان مجالستهم ممرضة للقلب باطل پرستوں کی صحبت اختیار نہ کرو، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا دلوں میں روگ پیدا کرتا ہے۔ مشہور تابعی ابوقلابہؒ کا قول ہے کہ اہل فتنہ کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ ان سے بحث و مباحثہ کرو، مجھے خوف ہے کہ وہ تمہیں بھی گمراہ کر دیں گے یا (کم از کم) تمہارے عقائد تم پر مشتبہ کر دیں گے۔ یہاں حضرت مصعب بن سعدؒ کی زریں ہدایات بھی پیش نظر رہنی چاہئیں، فرماتے ہیں کہ فتنہ گر آدمی کے ساتھ نہ بیٹھو ورنہ دو باتوں میں سے ضرور ایک ہوگی، یا تو تمھیں گمراہ کر کے اپنا متبع بنا لے گا اور یا اس سے جدا ہونے سے پہلے آپ کو کوئی گزند پہنچا دے گا۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ باطل پرست آدمی کی مجلس اختیار مت کرو، یا تو تمھیں اپنا ہم نوا بنا کر گمراہ کر دے گا اور یا کم از کم تمھارے دل کو بیمار کر دے گا

صفحہ 726

اگرچہ تم ان کی مخالفت ہی کیوں نہ کرو۔ دوسری صدی ہجری کے مشہور ثقہ عالم فضیل بن غزوان فرماتے ہیں: ”گمراہ آدمی کی مجلس میں نہ بیٹھو ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے“۔ قرآن مجید کی آیت وذر الذين اتخذوا دينهم لعبا ولهوا (الانعام:70) (اور ان لوگوں کو چھوڑ دیجیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے) کے بارے میں امام ابن سیرینؒ فرماتے ہیں: ”یہ حکم اہل ہوی اور باطل فرقوں کے لیے ہے“۔ اس آیت کی تفسیر میں علامہ شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں عظیم نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو کلام اللہ میں تحریف اور سنت رسول کے ساتھ تلاعب کے مرتکب افراد، جن کا مشغلہ قرآن وسنت کو اپنی گمراہ کن آرا اور غلط عقائد کے موافق موڑنا ہوتا ہے، کی مجالس میں بیٹھنے کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، جب ان پر نکیر نہیں کر سکتے اور ان کو غلط عقائد سے نہیں ہٹا سکتے تو پھر کم از کم درجہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کر دے۔ ہمارے اسلاف کے تعامل کا درخشندہ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایسے مخالفین کو بحث ومباحثہ کا موقع فراہم نہیں کرتے اور نہ اپنے متعلقین کو عمومی طور پر ان سے بحث ومباحثہ، ان کی کتب کا مطالعہ اور باتیں سننے کی اجازت دیتے۔ علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں: ”ابو عمران نخعیؒ کا اس قسم کے ایک آدمی سے واسطہ پڑا، اس نے ابو عمران نخعی سے کہا: میری ایک بات سنیے، آپ نے انکار کیا اور کہا: ایک کیا، آدھی بات سننے کو تیار نہیں ہوں“۔ (تفسیر قرطبی) امام احمد ابن حنبلؒ کو ان کے متعلقین میں سے کسی نے خط بھیجا اور باطل فرقوں کے ساتھ بحث و مباحثے اور مناظرے کی اجازت چاہی، آپ نے عجیب جواب دیا: ”ہم نے اہل علم اسلاف کا تعامل یہ دیکھا اور سنا ہے کہ وہ باطل پرست اور کج رو لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور بحث ومباحثہ سے گریز کرتے تھے، کامیابی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی اطاعت اور پیروی میں ہے، اہل باطل کے ساتھ بیٹھنے اور ان پر رد کرنے میں نہیں، یہ تو اپنے عقیدے سے باز آئیں گے ہی نہیں، تمھیں پریشان کر دیں گے، لہٰذا سلامتی اسی میں ہے کہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور بحث ومباحثہ ترک کیا جائے“۔ اہل باطل کی کوشش ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ اہل حق حضرات کو ان بحث ومباحثوں میں الجھائیں اور دین کی تعمیری کوششوں سے ان کو مصروف رکھیں، اسی لیے ایوب سختیانیؒ فرماتے ہیں: لست ترد عليهم بشيء أشد من السكوت ان کو جواب ہی نہ دینا ان پر سب سے بھاری گزرتا ہے۔

خلافت فاروقی میں ایسا ہی ایک شخص تھا جو بصرہ میں رہتا تھا اور ہر وقت متشابہات

صفحہ 727

کے درپے رہتا، وہ مصر بھی پہنچ گیا، وہاں اس وقت حضرت عمرو بن عاص گورنر تھے، انہوں نے اس بابت امیر المومنین کو عریضہ لکھا، حضرت عمر نے اس شخص کو مدینہ طلب فرمایا، حضرت عمرؓ نے اس سے سوال کیا: تو کون شخص ہے؟ اس نے کہا: اللہ کا بندہ ”صبیغ“ ہوں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ عمر ہوں اور تروتازہ خچروں سے مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ سارا بدن لہولہان ہو گیا، جب زخم اچھا ہونے لگا، پھر مارنا شروع کیا، اس نے عرض کیا: امیر المومنین! اگر آپ میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو سیدھے طریقے سے قتل کیوں نہیں کروا دیتے ہیں اور اگر میرے دماغ کے فتور کی وجہ سے یہ معاملہ کر رہے ہیں تو اللہ شاہد ہے کہ وہ نکل چکا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسے بصرہ یعنی گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائی مگر لوگوں کو میل جول سے منع کر دیا، ابوعثمان نہدی کہتے ہیں: وہ شخص ہم لوگوں کے مجمع میں اگر آجاتا تو ہم سب وہاں سے کھسک لیتے، یہ اس پر بہت شاق گزرتا تھا، بالآخر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے دارالخلافہ عریضہ روانہ کیا کہ اس کی حالت اچھی ہو چکی ہے تب جا کر حضرت عمرؓ نے ملنے جلنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (اسلامی سیاست، مؤلف شیخ زکریا 217 بحوالہ درمنثور)

قارئین کرام! آپ اس سے خود اندازہ لگا لیں کہ بدعتی اور فاسق شخص گنہگار ہونے کے باوجود اسلام کے دائرے میں رہتے ہیں اور مسلمان کہلوانے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں حکم ہے کہ نہ ان کی عزت کی جائے اور نہ ان کی کوئی دعوت ہی قبول کی جائے۔ گویا ان کے مکمل بائیکاٹ کا حکم ہے...... اس کے برعکس قادیانیوں کی تمام تر سرگرمیوں اور عزائم کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نقصان پہنچانا ہے، ہم ان کے ساتھ ہر قسم کے سوشل تعلقات رکھتے ہیں، محبت و احترام کی پینگیں بڑھاتے ہیں بلکہ بعض مواقع پر ان کی حمایت بھی کرتے ہیں...... ہماری ان حرکات پر کیا نبی کریم ﷺ کا دل نہیں دکھتا...... کیا آپ ﷺ اس پر رنجیدہ نہیں ہوتے...... کیا ہمیں روزِ محشر ان سے شفاعت کی امید رکھنی چاہیے؟ سوچیے...... ضرور سوچیے......!

حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کا مکالمہ

امام فخر الدین رازیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر قرآن میں بڑا فکر انگیز واقعہ تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ”ایک عرصہ دراز کے بعد جب حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اپنے والد محترم سے کہا: ”ابا حضور! آپ کو میری وجہ سے بہت پریشانی ہوئی۔ آپ نے میری جدائی میں

صفحہ 728

اتنے آنسو بہائے کہ چالیس برس تک مسلسل رونے سے آپ کی بینائی بھی ختم ہو گئی ۔ اگر دنیا میں میری آپ سے ملاقات نہ بھی ہوتی تو ہم آخرت میں ضرور ملتے ۔ آپ میری جدائی میں اتنا کیوں روئے ؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: بیٹا ! میں تمہاری جدائی میں نہیں رویا۔ میں تو محض اس لیے روتا رہا کہ جب تم مجھ سے جدا ہوئے تو تم ابھی بچے تھے۔ مجھے ہر وقت یہی خدشہ رہتا تھا کہ کہیں تم ایسے ماحول میں نہ چلے جاؤ یا ایسے باطل خیال لوگوں کی صحبت اختیار نہ کر لو جو تمھیں خاندانِ نبوت سے دور کر دیں‘‘۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں ایسے باطل خیال لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا یا ان کی صحبت اختیار کرنا ایمان کے لیے نہایت مہلک اور خطرناک ہے۔ لہٰذا ان سے مکمل اجتناب بے حد ضروری ہے۔

علامہ اقبالؒ ، نامہ اعمال اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

علامہ اقبالؒ کو حضور خاتم النبیین ﷺ سے والہانہ عقیدت تھی ۔ ایک دفعہ اُن کے ہاں سیرت نبوی ﷺ پر گفتگو ہو رہی تھی ۔ علامہ اقبالؒ نے خاص انداز میں ایک واقعہ سنایا....... فرمانے لگے: ”ایک معرکہ میں مسلمان سپہ سالار کا گھوڑا زخمی ہو گیا ، زخموں کی یہ حالت تھی کہ گھوڑے کا میدان کارزار میں کھڑا رہنا دشوار تھا ، وہ بیٹھنا چاہتا تھا ، دوسری طرف کافر یلغار کرتے ہوئے چلے آ رہے تھے ، اس عالم میں سپہ سالار نے گھوڑے کو مخاطب کر کے کہا ” اگر تم نے اس نازک وقت میں میرا ساتھ چھوڑ دیا ، تو اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے تمہاری شکایت کروں گا‘‘۔ یہ سن کر گھوڑا قائم ہو گیا ، آخر تک ساتھ نبھایا اور کفار کو شکست ہوئی‘‘۔ یہ واقعہ بیان کر کے ڈاکٹر صاحب زار و قطار رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔

آخری سالوں میں علامہ اقبالؒ کی یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا نام مبارک آتے ہی ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہو جاتا اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ علامہ اقبالؒ اس بات سے سخت ڈرتے تھے کہ میں قیامت کے روز حضور نبی کریم ﷺ کا سامنا کیسے کروں گا ۔ وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کی وجہ سے رسوا ہونے کو عذاب جہنم سے بھی زیادہ تکلیف دہ سمجھتے تھے۔ وہ ہر سزا بھگتنے کو تیار تھے مگر اس پر قطعاً تیار نہ تھے کہ ان کا نامہ اعمال سرکار دو جہاں ﷺ کے سامنے پیش ہو۔ وہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:

صفحہ 729
مکن رسوا حضور خواجہ ﷺ ما را
حساب من زِ چشم او نہاں گیر

اے خدا، تو مجھے میرے آقا ﷺ کی نگاہ میں رُسوا نہ کرنا۔ میری فرد حساب آپ ﷺ سے پوشیدہ رکھنا۔

اسی مفہوم کو دوسرے الفاظ میں عرض کرتے ہیں:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ (ﷺ) پنہاں بگیر

اے خدا......

تو غنی ہے، میں فقیر، قیامت کے دن میرا نامۂ اعمال جب پیش ہو تو میرا عذر قبول فرما اور مغفرت فرما دے، لیکن اگر تو یہ چاہتا ہے کہ میرا نامۂ اعمال پیش ہو اور اس کے مطابق مجھے جزا و سزا ملے، تو میرے مولا ! اسے نگاہ مصطفےٰ ﷺ سے پوشیدہ رکھنا۔

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی اپنے کالم ”از نگاہ مصطفی (ﷺ) پنہاں بگیر“ میں لکھتے ہیں :

”ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی۔اے کے بعد بی۔ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے اور سرکار انگلیسیہ کا ملازم ہونے کے باوجود کبھی دیسی لباس ترک نہ کیا۔ چہرہ سنت رسول (ﷺ) سے سجا تھا۔ ہمیشہ ہاتھ میں ایک موٹی سوٹی اور کندھے پر بڑا سا رومال ڈالے رکھتے ۔ فارسی اور اردو کے شعر کہتے۔ علامہ اقبالؒ کے عشاق میں سے تھے۔ ان کے کئی اشعار پر تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی ۔ مولانا فیض محمد شاہ جمالیؒ کے مرید اور حضرت خواجہ نظام الدین تونسویؒ کے حلقہ نشین تھے۔ ایک نوجوان، عطا محمد جسکانی سے گہرے لگاؤ کے باعث عطائی تخلص اختیار کیا اور محمد رمضان عطائی کہلانے لگے۔

صفحہ 730

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب عطائی ڈیرہ غازی خان کے گورنمنٹ اسکول میں تعینات تھے۔ انہی دنوں ان کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی بھی ڈیرہ غازی خان کے سب جج تھے۔ ابراہیم ناگی ایک درویش منش اور صاحب علم شخصیت تھے۔ آپ انیس ناگی کے والد اور معروف صحافی واصف ناگی کے دادا تھے۔ علامہ اقبال سے گہری محبت رمضان عطائی اور ابراہیم ناگی کے درمیان دوستانہ قربت کی قدر مشترک تھی۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبالؒ سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے، علامہ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سر شام معمول کی محفل جمی۔ علامہ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولانا نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا۔ یہ علامہ کی اپنی تحریر تھی۔ مولانا کہنے لگے۔ لو عطائی! علامہ صاحب کی تازہ رباعی سنو۔ پھر وہ ایک عجب پر کیف انداز میں پڑھنے لگے۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفٰے(ﷺ) پنہاں بگیر

مولانا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لیکن محمد رمضان عطائی کی کیفیت روتے روتے دگرگوں ہو گئی۔ اسی عالم وجد میں فرش پر گرے۔ چوٹ آئی اور بے ہوش ہو گئے۔ رباعی ان کے دل پر نقش ہو کے رہ گئی۔ اٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہے۔ انہی دنوں حج پر گئے۔ خود اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جب حجاج اوراد و وظائف میں مصروف ہوتے تو وہ زار و قطار روتے اور علامہ کی رباعی پڑھتے رہتے۔

حج سے واپسی پر دل میں ایک عجب آرزو کی کونپل پھوٹی۔ ”کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی“ یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا ” آپ سر ہیں، فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی“ انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ”فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی مجھے عطا فرما دیں۔“ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انہیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:

صفحہ 731

جناب محمد رمضان صاحب عطائی۔ سینئر انگلش ماسٹر۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ غازی خان۔

لاہور: 19 /فروری 1937

جناب من: میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی ، شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلا تکلف وہ رباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

فقط: محمد اقبال۔ لاہور

علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ’’ارمغان حجاز‘‘ کے لئے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انہوں نے اسے کتاب سے خارج کر کے، تقریباً اسی مفہوم کی حامل ایک نئی رباعی کہی جو ’’ارمغان حجاز‘‘ میں شامل ہے۔

بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضور خواجہ ما را
حساب من زچشم او نہاں گیر

(اے میرے رب ! روز قیامت) یہ جہان پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور ہر پوشیدہ تقدیر ظاہر ہو جائے تو اس دن مجھے میرے آقا و مولا کے حضور رسوا نہ کرنا اور میرا نامہ اعمال آپ کی نگاہوں سے چھپا رکھنا)

ایم اے فارسی کا امتحان دینے لاہور گئے تو عطائی ،شکریہ ادا کرنے علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہمراہ جانیوالے چوہدری فضل داد نے تعارف کراتے ہوئے کہا ’’یہ بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے‘‘ علامہ ایک کھری جھلنگا چار پائی پر احرام نما سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بولے ۔’’عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘ رباعی کا ذکر چل نکلا۔ عطائی نے جذب و کیف سے پڑھنا شروع کیا۔ تو غنی از ہر دو عالم، علامہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔ اتنا روئے، اتنا روئے کہ سفید چادر کے پلو بھیگ گئے۔ آخری ملاقات علامہ کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر 1937 میں ہوئی۔ انہوں نے علامہ سے کہا ’’سنا ہے جناب کو دربارِ نبوی ﷺ سے بلاوا آیا ہے‘‘ علامہ آبدیدہ ہو گئے۔ آواز بھرائی۔ بولے ’’ہاں! بے شک لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے، آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے، یار کے دیدار کا لطف دیدہ طلبگار

صفحہ 732

کے بغیر کہاں۔“ عطائی نے کہا ”جانا ہو تو دربارِ نبوی ﷺ میں وہ رباعی ضرور پیش فرمائیے گا۔ جو اب میری ہے“ علامہ زار و قطار رونے لگے۔ سنبھلے تو کہا ”عطائی! اس رباعی کو بہت پڑھا کرو۔ ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے“۔

21 اپریل 1938 کو علامہ انتقال فرما گئے۔ عرصہ بعد شاہی مسجد کے احاطے میں ان کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی تو ہر ہفتے اور اتوار کو ایک مجذوب شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پر آ بیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پہ نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکا یک زاری شروع کر دیتا۔ کبھی طواف کے انداز میں مزار کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا نام محمد رمضان عطائی تھا۔ مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے ”ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گوہر تو اڑا لے گیا۔ بخدا اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نواز (علامہ اقبالؒ) اتنی فیاضی کریں گے تو میں اپنی تمام جائیداد دے کر یہ رباعی حاصل کر لیتا اور مرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا“۔

محمد رمضان عطائی، سینئر انگلش ٹیچر 1968 میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا۔ ”میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا۔“ مجھے معلوم نہیں کہ پس مرگ ان کے کسی وارث نے اس عاشق رسول کی پیشانی پہ وہ رباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ”ملا قائد شاہ“ میں کوئی بیالیس برس پرانی ایک قبر کے سرہانے نصب لوح مزار پر کندہ ہے۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ ﷺ پنہاں بگیر

اگر علامہ اقبالؒ ایسا عاشق رسول ﷺ قیامت کے دن اپنا نامۂ اعمال حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہے تو سوچنا چاہیے کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کس بل بوتے پر آپ ﷺ کے سامنے حساب دیں گے؟ کیا ہم نے اس کے لیے کوئی تیاری کر رکھی ہے؟ یاد رکھیے! صرف ایک ہی عظیم عمل ہے جس کی ادائیگی پر رسول رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے امتی پر بے پناہ خوش ہوتے ہیں اور اسے اپنی شفاعت کا مستحق سمجھتے ہیں اور

صفحہ 733

وہ عمل ہے تحفظ ختم نبوت کا کام۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے تذکرہ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں دعا مانگی تھی: یا اللہ! قیامت کے دن اگر میرے مقدر میں معافی لکھی ہوئی ہے تو میری آنکھوں کی بینائی سلامت رکھنا اور اگر خدانخواستہ میرے نامۂ اعمال میں معافی کی گنجائش نہیں ہے تو مجھے اندھا کر دینا، کیونکہ میں اس وقت حضور خاتم النبیین ﷺ کا سامنا نہیں کر سکتا‘‘۔

دعا کیجیے! یا اللہ ہماری زندگی کا اختتام ایسا ہو جو تیرے پیارے حبیب مکرم حضور خاتم النبیین ﷺ سے ملاقات کے لائق ہو۔

حضرت امام حنبلؒ کی ستر پوشی

معتصم باللہ کے دور میں جب ”خلق قرآن“ کا فتنہ اٹھا تو سب سے پہلے حضرت امام حنبلؒ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی جس کی پاداش میں آپ کو لوگوں کے ایک جم غفیر کے سامنے بے تحاشا کوڑوں کی سزا دی گئی۔ کوڑوں کی ضرب بڑی شدید اور تکلیف دہ تھی۔ حضرت امام حنبلؒ کو جب کوڑے مارے جارہے تھے تو اس اثنا میں ازار بند ٹوٹنے سے آپ کا پاجامہ نیچے گر گیا۔ آپ کے ہاتھ اور پیر بندھے ہوئے تھے، قریب تھا کہ لوگ آپ کا ستر دیکھ لیتے اور آپ شرمندہ ہوتے مگر اسی وقت آپ نے حسرت بھری نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی۔ یا الہ العالمین یا غیاث المستغیثین اور عرض کی۔ یا اللہ! اگر تجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں حق کے لیے یہ مشقت برداشت کر رہا ہوں تو میری ستر پوشی کر۔ امام صاحب کی اس دعا نے اثر کیا۔ رحمت خداوندی جوش میں آئی اور پاجامہ فوراً آپ کا ستر ڈھانپتے ہوئے سرک کر اپنی اصل جگہ پر آ گیا۔

حقیقت بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کسی بھی حالت میں لوگوں کے سامنے رسوا نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون دنیا و آخرت دونوں میں یکساں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں ہر قسم کی شرمندگی و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ (آمین)!

اُونٹوں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے والہانہ محبت وعقیدت

مشکوٰۃ شریف کتاب الحج باب الہدی میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر کچھ اونٹ

صفحہ 734

آپ ﷺ کے سامنے قربانی کے لیے پیش کیے گئے۔ جانوروں کا قاعدہ ہے کہ وقت ذبح گھبراتے اور ڈرتے ہیں۔ مگر اونٹوں کا یہ حال تھا کہ ہر ایک چاہتا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے دست مبارک سے اس کی قربانی پہلے فرمادیں۔ وہ آپس میں لڑتے تھے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے تھے۔ صحابہ کرامؓ یہ منفرد منظر دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ اندازہ لگائیں وہ جانور ہوکر حضور نبی کریم ﷺ کی نگاہ کرم میں آنا چاہتے تھے اور ہم انسان ہوکر بلکہ مسلمان ہوکر اپنے شفیق نبی ﷺ سے بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قربانی تو بڑی دور کی بات ہے، ہم تو آپ ﷺ کے دشمنوں سے بول چال بند نہیں کرسکتے؟

بیل کی دُم اچھی یا......؟

ملا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں فرمایا کہ حضرت بایزید بسطامیؒ سے ایک عورت پوچھا کرتی تھی کہ آپ کی داڑھی اچھی ہے یا میرے بیل کی دم، تو آپ فرماتے کہ بی بی! اگر میرا خاتمہ بالخیر ہوگیا، تو میری داڑھی تیرے بیل کی دم سے بدرجہا اچھی، اور اگر وقتِ موت میں ایمان سے پھسل گیا، تو تیرے بیل کی دُم میری داڑھی سے کہیں بڑھ کر اچھی کہ پھر جہنم میرے لیے ہے نہ کہ تیرے بیل کے لیے۔ حضرت بایزید بسطامیؒ نے بڑی خوبصورت اور فکر انگیز بات کہی۔ اسے آپ اس طرح سمجھ لیں، اگر ہمیں روز محشر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شفاعت نصیب ہو جائے تو ہم کامیاب اور اگر خدانخواستہ ہم اس سے محروم ہوگئے تو ہم مسلمان ہونے کے باوجود جانوروں سے بھی بدترین ٹھہرے۔ حضور نبی رحمت ﷺ کی شفاعت حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کریں اور منکرین ختم نبوت کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنادیں۔

بس ایک خواہش ہے کہ بروز حشر شافع روز جزا ہم معصیت کاروں کو اپنے دامن تلطف وترحم کی چھاؤں میں کھڑا ہونے کا اذن مرحمت فرمادیں۔

سلطان محمود غزنوی اور غلام ایاز

سلطان محمود غزنویؒ کی خدمت میں پسر ایاز ہمہ وقت کمر بستہ رہتا۔ اس فرزند ایاز کا نام محمد تھا۔ ایک دن سلطان نے حکم صادر کیا کہ ایاز کے بیٹے سے کہو کہ وضو کے لیے پانی لائے........... ایاز نے یہ سخن سنا تو تفکرات کے سمندر میں ڈوب گیا...... خدا جانے میرے فرزند ارجمند سے کونسی خطا ہوئی ہے جو سلطان معظم کی ناراضگی کا سبب بنی...... تبھی تو سلطان

صفحہ 735

نے اُس کا نام نہ لیا......سلطان وضو سے فارغ ہوا، دیکھا کہ ایاز کے چہرے پر حزن وملال اور تفکرات و حیرت کی گھٹا ٹوپ گھٹائیں چھا رہی تھیں۔ سلطان معظم نے پوچھا، ایاز! تمہارے چہرے پر یہ درد و الم کے بادل کیسے؟ ایاز نے حالِ دل کہہ سنایا اور دکھ کی بپتا عرض کردی۔ سلطان کے لبوں پر مسکراہٹوں کے پھول کھل اٹھے۔ ارشاد فرمایا: ”اے ایاز! اپنے دل کو مکدر نہ کر، تیرے فرزند سے کسی غلطی کا صدور نہیں ہوا۔ حقیقت صرف اس قدر ہے کہ میرا وضو نہ تھا۔ تیرے لختِ جگر کا نام محمد ہے اور یہی نام مالکِ کون و مکاں فخر دو جہاں ﷺ کا ہے۔ مجھے حیا دامن گیر ہوئی کہ بے وضو اس نام کو لبوں کی دہلیز پہ لا کے بے ادبوں کے زمرے میں داخل نہ ہو جاؤں“۔

ایک بار سلطان محمود غزنویؒ نے درباریوں کو حکم دیا کہ تم لوگ میرے محل میں جو کچھ ہے وہ لوٹ لو، سب لوگ مال اکٹھا کرنے میں مشغول ہو گئے، مگر سلطان محمود کا غلام ایاز اس کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ سلطان نے کہا کہ ایاز تم کیوں نہیں کچھ لوٹتے؟ عرض کیا کہ سب نے تو مال کو لیا، میں تو آپ کو لیتا ہوں جو مالک ہیں۔ سلطان نے کہا۔ تم نے مجھ کو لیا، میں نے بھی تم کو لیا، تم میرے اور میں تمہارا۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام دعاؤں سے تو دنیا ملتی ہے۔ مگر تحفظ ختم نبوت کے کام سے سرکار دو جہاں یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ملتے ہیں، جب آپ ﷺ مل گئے تو پھر کمی کس چیز کی ہے۔ دنیا میں بھی کامیابی، آخرت میں بھی کامیابی۔

فضلِ رب العلیٰ اور کیا چاہیے
مل گئے مصطفیٰ ﷺ اور کیا چاہیے

یہ ہے احترام رسول ﷺ

حضور نبی کریم ﷺ کا احترام، اللہ کا احترام ہے۔ حضور ﷺ کے احترام سے خالی دل ایمان وتقویٰ سے خالی ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی سر زمین پر بہت سے حکمرانوں نے حکومت کی ہے مگر ان میں سلطان ناصر الدینؒ جیسا کوئی نہ ہوگا۔ ناصر الدین، سلطان التمشؒ کے بیٹے تھے۔ وہی التمشؒ جن کی پرہیز گاری کا مشہور واقعہ ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی وصیت کے مطابق، ان کا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی نمازِ تہجد قضا کی ہو اور نہ کسی غیر محرم عورت پر نگاہ ڈالی ہو۔ ان کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں مشائخ، علما، رؤسا اور عام افراد موجود تھے مگر ان شرائط پر کوئی بھی پورا نہ اترتا تھا۔ آخر سلطان التمش آگے بڑھے اور حضرت خواجہ

صفحہ 736

قطب الدین بختیار کاکیؒ کی نماز جنازہ پڑھائی کہ وہ حضرت خواجہؒ کی شرائط پر پورے اترتے تھے۔ سلطان ناصر الدینؒ اسی پرہیز گار باپ سلطان التمشؒ کا بیٹا تھا۔ ملکی امور میں مہارت کے علاوہ پرہیز گاری اور اطاعت خداوندی میں بھی کامل تھا، قرآن کریم کی کتابت کر کے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔ سرکاری خزانہ سے ایک پائی بھی اپنے گھریلو اخراجات میں خرچ نہ کی۔ ناصر الدین بائیس سال تک ہندوستان پر حکمران رہا۔ ان کے دور حکمرانی میں ان کی بیوی گھر کا سارا کام کاج خود کرتی، کھانا پکانا، جھاڑو دینا اور برتن دھونا، ان کے معمولات تھے۔ ایک دفعہ روٹی پکاتے ہوئے اس کا ہاتھ جل گیا، اور سلطان ناصر الدین سے کہا کہ گھر کے کام کاج کے لیے لونڈی خرید لیجیے، سلطان نے جواب دیا کہ میری مالی حالت ایسی نہیں، سرکاری خزانہ کا میں نگران اور رعیت کا خادم ہوں، سرکاری خزانہ سے لینے کا حقدار نہیں ہوں۔ صبر کرو، اللہ تمھیں محنت کا اجر دے گا۔ آج پاکستان میں سرکاری خزانہ کو ہمارے حکمران اپنے باپ کی جاگیر اور وراثت سمجھتے ہیں اور ملکی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

سلطان ناصر الدینؒ کے درباری بھی اس کی طرح عابد و زاہد تھے۔ ایک دن سلطان نے اپنے قریبی درباری کو اس کے اصلی نام کے بجائے وقتی طور پر فرضی نام سے پکارا، درباری فرضی نام سن کر حیران ہوا کہ بادشاہ کو میرا نام تک یاد نہیں۔ مجھے فرضی نام سے پکار کر میری تذلیل کی ہے اور اس غصہ میں تین دن تک دربار میں جانا چھوڑ دیا۔ چوتھے دن حاضر ہوا تو سلطان ناصر الدین نے اس سہ روزہ غیر حاضری کا سبب پوچھا۔ درباری نے جواب دیا: آپ نے اس دن میرے نام سے نہ پکارا تو میں سمجھا کہ آپ ناراضگی کی وجہ سے میرا نام لینا نہ چاہتے ہیں، سلطان ناصر الدین نے کہا، واللہ! ایسا نہیں تھا، یہ فرضی نام کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ اس وقت نام نہ لینے میں یہ حکمت تھی کہ میں اس وقت بے وضو تھا، چونکہ یہ آقائے نامدار، شافع محشر حضور خاتم النبیین ﷺ کا ہمنام تھا۔ اس لیے مجھے شرم آئی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام مبارک ایسی حالت میں میری زبان سے ادا ہو جبکہ میں بے وضو تھا۔ حضور ﷺ کے نام کی یہ توقیر، یہ احترام سبحان اللہ۔ بات وہی ہوئی۔

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

یاد رکھیے! کوئی بھی عزت مند اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دروازے سے منہ

صفحہ 737

موڑے گا تو اسے کہیں بھی عزت نہ ملے گی۔ عزت و احترام کے مستحق خدا اور اس کا رسول ﷺ ہیں اور انھی کے ساتھ محبت و وابستگی میں ہماری عزت کا دارو مدار ہے۔

ایک مجذوب نے کہا تھا کہ محبت کس سے کی جائے؟ دنیا سے، یہ تو عارضی ہے، پھول سے، یہ تو مرجھا جاتا ہے۔ دولت سے، یہ تو رشتے ختم کر دیتی ہے، بلندی سے، یہ تو منہ کے بل گرا دیتی ہے، خوشی سے، یہ تو وقتی ہوتی ہے، لوگوں سے، یہ تو بے وفا ہوتے ہیں، تو پھر آخر محبت کس سے کی جائے؟ مجذوب نے کہا: صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جو اس دن بھی ساتھ نبھائیں گے جب ماں باپ، بیوی حتیٰ کہ اپنی سگی اولاد بھی بھول جائے گی۔ اسی لیے تو ہم دعا کرتے ہیں۔ یا اللہ! دل میں عشق مصطفیٰ ﷺ، سینے میں محبت مصطفیٰ ﷺ، پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺ، قبر میں پہچان مصطفیٰ ﷺ، حوض کوثر پر جام مصطفیٰ ﷺ، آخرت میں شفاعت مصطفیٰ ﷺ اور جنت میں رفاقت مصطفیٰ ﷺ عطا فرما۔ آمین!

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

باسی روٹی کی اہمیت

کہتے ہیں ایک نانبائی روٹیاں بیچا کرتا تھا، آواز لگاتا، تازہ روٹی ایک پیسہ اور باسی روٹی دو پیسے، ایک شخص نے یہ انوکھی آواز سنی تو پاس جا کر پوچھا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ تازہ روٹی سستی اور باسی روٹی مہنگی ہو۔ نانبائی نے کہا، بھائی ہمارا تو یہی نرخ ہے۔ تم تازہ روٹی لے لو۔ اس شخص نے کہا مجھے اس الٹے نرخ کا راز معلوم کرنا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ باسی روٹی کیوں مہنگی ہے؟ نانبائی نے بتایا: باسی روٹی رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ایک دن قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ بابرکت اور قیمتی ہے جبکہ تازہ روٹی ایک دن دوری کی وجہ سے وہ برکت و سعادت نہیں رکھتی۔ خریدار یہ سن کر چیخ اٹھا اور کہا پھر تو یہ اور بھی سستی ہے، سبحان اللہ! حضور ﷺ کے ساتھ سچی محبت کرنے والوں کا جذبہ کہ وہ اتنی سی بات میں بھی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

اے دوست اس چمن سے ایسے گلوں کو چن
ہر شخص داد دے تیرے انتخاب کی
صفحہ 738

کھجور کا تنا اور ہم

احادیث کی کتابوں میں صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد نے ایک واقعہ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں جہاں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، وہاں آپ کے سہارے کے لیے بطور منبر، کھجور کا ایک خشک تنا گاڑ دیا گیا تھا (اسے استوانہ حنانہ اور استوانہ مخلقہ کہتے ہیں) جب خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے منبر تیار ہو گیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے تنے کا سہارا لینا چھوڑ دیا، اس پر کھجور کا وہ خشک تنا آپ کی جدائی میں بلبلا اٹھا۔ مشکوٰۃ شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ جس طرح درد سے تڑپتا ہوا بچہ روتا ہے، کھجور کا تنا ایسے ہی رو رہا تھا۔ اس کے یوں رونے سے مسجد نبوی ﷺ کی فضا سوگوار ہو گئی۔ اس رونے کی آواز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی سنی مگر وہ حیران تھے کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ ستون رسول اللہ ﷺ سے جدائی کے غم میں اس طرح رویا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے کھو جانے پر روتا ہے۔ اونٹ کے بچے کے اس طرح رونے کو عربی میں ’حنانہ‘ کہتے ہیں۔ اس ستون کو ’استوانہ مخلقہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مبارک مقام پر ایک مرتبہ کسی شخص نے لاعلمی میں تھوک دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو ناپسند فرمایا۔ اس کے بعد خطبے کے اس تنے کو صاف کر کے بے انتہا خوشبو لگائی گئی جس کی وجہ سے اسے ’استوانہ مخلقہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں ’مخلقہ‘ خوشبو کو کہتے ہیں۔ یہ ستون مسجد نبوی کے حصہ ’ریاض الجنہ‘ میں محراب رسول اللہ ﷺ سے بالکل قریب ہے۔ جب یہ کھجور کا تنا رویا تو حضور سرور کائنات ﷺ تنے کی طرف تشریف لے گئے، اسے سینے سے لگایا تو وہ بچوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگا، تنا خاموش ہو گیا اور مطمئن نظر آنے لگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، میں نے اسے تسلی دی، ورنہ قیامت تک روتا رہتا۔ حضور ﷺ سے زیادہ درد کا درماں کرنے والا اور کون ہے؟ آپ ﷺ نے تنے سے پوچھا کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے سابقہ ماحول میں لوٹ جاؤ اور پھر سے سرسبز و شاداب ہو جاؤ تو میں تمھارے حق میں دعا کرتا ہوں۔ اگر چاہتے ہو کہ خدائے بزرگ و برتر تجھے جنت میں کوئی مقام عطا فرمائے تو اس کی دعا کروں۔ صحابہ کرامؓ منتظر تھے کہ تنا کون سا مقام پسند کرتا ہے؟ تھوڑی دیر بعد زبان مبارک سے نکلا کہ اس تنے نے دنیا کی چند روزہ بہاروں اور شادابی کے بجائے جنت الفردوس کو پسند کیا ہے۔ چنانچہ مسجد نبوی کی ابتدائی صفوں میں جگہ کھود کر تنے کو دفن کر دیا گیا۔

صفحہ 739

حضور ﷺ کے ساتھ کھجور کا خشک تنا اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ آپ ﷺ کی دوری و جدائی میں تڑپتا اور بے قرار ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے دنیا کی چند روزہ بہاروں کے بجائے جنت کی پائیدار، سرسبزی و شادابی نصیب ہوتی ہے تو کیا ہم حضور ﷺ پر ایمان لانے والے، آپ ﷺ سے محبت و عقیدت کے دعویدار انسان، آپ ﷺ سے محبت و عقیدت کی وہی کیفیت اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے جس کے نتیجہ میں دنیا کی چند روزہ بہاروں اور شادابیوں کے بجائے حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کو ترجیح دے کر جنت حاصل کریں اور آپ ﷺ کی شفقت و شفاعت کے مستحق بن جائیں۔

یہ ستون آج بھی مسجد نبوی میں اسی نام سے موجود ہے جو محبت رسول کی یاد دلاتا ہے۔ کھجور کی ایک لکڑی کو رسول اللہ ﷺ سے اس قدر محبت تھی لیکن ہم ان کے امتی کہلانے والے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر کتنا عمل پیرا ہیں۔

ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ صبح و شام غلامی رسول کا نعرہ لگانا بھی ہمارا ایمان ہے لیکن اس سے پہلے غلامی کی حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ غلام اپنی مرضی، خواہشات کو آقا کے حکم پر قربان کر دیتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہماری بھی یہی کیفیت ہے؟

کی محمد ﷺ سے وفا......

حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

من انصاری الی الله۔ اللہ کے دین کی خاطر میری مدد کرنے والے کون ہیں؟

سوچیے! ہم میں کتنے ہیں جو اس آواز پر لبیک کہتے ہیں؟ بعض روحانی بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت سرکار دو عالم، امام الانبیا، خاتم الرسل احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہم سب مسلمانوں سے ناخوش ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس ہماری غفلت، کوتاہی اور سرد مہری سے مضطرب و نالاں ہے کیونکہ دین اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارے اندر قادیانی، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسے بے پناہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے دن رات مشغول ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے مگر ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کریں گے تو کل روز محشر حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے کیونکر حقدار ہوں گے؟ اگر خدانخواستہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قیامت کے دن ہم سے منہ پھیر لیا تو ذلت و خواری کے سوا ہمیں کچھ

صفحہ 740

حاصل نہ ہوگا۔ لہٰذا یاد رکھیے! تحفظ ختم نبوت کا کام دنیا و آخرت میں حضور نبی کریم ﷺ کی توجہات حاصل کرنے کا آسان ترین راستہ ہے۔

کوثر ہے دل میں ایک ہی اعزاز کی ہوس
کہہ دیں آپ ﷺ حشر میں، یہ ہمارا غلام ہے

حضور نبی کریم ﷺ نے ہجرت سے پہلے اہل مدینہ (انصار) سے بیعت لیتے وقت اس عہد کا پابند کیا۔

’’ہر حال میں بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے۔ جب میں تمھارے پاس آ جاؤں گا تو میری مدد کرو گے اور جس چیز سے اپنی جان اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو، اس سے میری بھی حفاظت کرو گے۔ (اس خدمت کے بدلے میں) تمھارے لیے جنت ہے۔‘‘

(مسند احمد)

حضور نبی کریم ﷺ کا یہ حکم آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتا ہے۔ جس طرح ہم اپنی، اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کی ہر طریقے سے حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اللہ کے پیارے نبی ﷺ کا پکا وعدہ ہے کہ اس کا بدلہ جنت ہے اور ظاہر ہے کہ جنت ایسی نعمت حاصل کرنے کے لیے یہ سودا مہنگا نہیں۔

تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے لوگ دراصل حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے وکیل ہیں۔ دشمنان رسول ﷺ اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو لوگ ان بدبختوں کو جواب دیتے ہیں، ان کے جھوٹے الزامات کا رد کرتے ہیں، دراصل وہی لوگ شان رسالت ﷺ کے وکیل ہیں۔ ایسے خوش نصیبوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رحمت ہر وقت اپنی آغوش میں لیے رکھتی ہے۔ بلاشبہ یہ بڑے کرم کے فیصلے اور بڑے نصیب کی بات ہے۔

ایک دفعہ حضور سرور کائنات ﷺ نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا۔ خرید و فروخت کے وقت کوئی موجود نہیں تھا۔ گھوڑا بیچ کر اعرابی مکر گیا۔ لوگوں نے ہزار سمجھایا کہ تیری نیت خراب ہو گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سچ کے سوا دوسری بات نہیں نکل سکتی۔ اس نے جواب دیا۔ سچ ہے تو گواہ پیش کرو۔ لیکن صحابہؓ واقعہ کے وقت موجود نہ تھے۔ اس لیے گواہی نہ

صفحہ 741

دے سکے۔ اتنے میں کہیں سے حضرت خزیمہؓ آ گئے۔ انھوں نے اعرابی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے اپنا گھوڑا سرکار کے ہاتھ بیچا ہے“۔ اعرابی خاموش ہو گیا اور گھوڑا سرکار کے حوالے کرنا پڑا۔ سرکار مدینہ ﷺ حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا۔ ”خزیمہ! تم اس واقعہ کے وقت موجود ہی نہیں تھے، تم نے شہادت کیسے دی؟“ خزیمہؓ نے جواب دیا۔ ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی زبانِ حق سے سن کر جب آسمان کی خبر پر ہم شہادت دیتے ہیں تو زمین کی خبر پر ہمیں شہادت دینے میں کیا تامل ہو سکتا ہے؟ یقین کا چشمہ حقیقی آپ ﷺ کی زبان ہے۔ ہماری آنکھ نہیں“۔ سرکار یہ جواب سن کر بے حد مسرور ہوئے اور انعام خسروانہ کے طور پر اس دن سے یہ قانون بن گیا کہ حضرت خزیمہؓ کی ایک گواہی دو گواہوں کے برابر ہے۔

آج بھی جو شخص یہ گواہی دیتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ آپ ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص دعویٰ نبوت کرتا ہے تو وہ جھوٹا، دجال اور کذاب ہے، تو اس گواہی پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بے حد خوش ہوتے ہیں اور انعام خسروانہ کے طور پر ایسے شخص کو شفاعت محمدی ﷺ کا پروانہ نصیب ہوتا ہے۔ بلاشبہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے خوش نصیب اس انعام کے حق دار ہیں۔

یہ ہماری کس قدر خوش بختی اور اعلیٰ قسمت ہے کہ شافع محشر حضور نبی مکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ ملاقات اور ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سیدنا حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وددت انا قد راينا اخواننا“ میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انتم اصحابی و اخواننا الذين لم ياتوا بعد“ تم میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ مجھ پر بن دیکھے ایمان لائے اور میری نبوت اور رسالت کی تصدیق کی“۔ (صحیح مسلم)

حضور اکرم ﷺ نے ایک بار صحابہؓ سے پوچھا کہ کس کا ایمان عجیب ہے؟ صحابہؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ آپ کا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میرا ایمان کیسے عجیب ہوا، مجھ پر تو براہ راست وحی آتی ہے۔ صحابہؓ نے کہا: پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا ایمان عجیب کیوں کر ہو سکتا ہے، تمہارے سامنے تو میں موجود ہوں۔ صحابہؓ نے سوال کیا کہ پھر ایمان

صفحہ 742

کس کا عجیب ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان ان لوگوں کا عجیب ہوگا جنہوں نے مجھ کو دیکھا نہیں ہوگا مگر وہ مجھ پر ایمان لائیں گے۔

ایک روایت میں آیا ہے نبی اکرم ﷺ نے دعا مانگی کہ اے اللہ! مجھے میرے احباء سے جلدی ملا دے۔ حضرت ثوبانؓ یہ سن کر حیران ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہم لوگ تو حاضر خدمت ہیں، آپ ﷺ کن سے ملنے کی دعا کر رہے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ثوبان تم نے مجھے دیکھا ہے، وحی نازل ہوتے دیکھی ہے، فرشتوں کو اترتے دیکھا ہے، میری صحبت میں رہنے کا شرف پایا ہے، لہٰذا تمہارا ایمان بہت قیمتی ہے تاہم قربِ قیامت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ انھوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا۔ فقط کتابوں میں میرے تذکرے پڑھے ہوں گے لیکن ان کو مجھ سے اس قدر والہانہ محبت وعقیدت ہوگی کہ اگر ممکن ہوتا کہ وہ اپنی اولادوں کو بیچ کر میرا دیدار کرسکتے تو وہ یہ بھی کر گزرتے۔ ثوبان میں اپنے اُن احباء سے ملنے کی دعا کر رہا ہوں۔

کتنے اعزاز واکرام کی بات ہے کہ صاحب لولاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہم ایسے گنہگاروں، سیاہ کاروں، نالائقوں اور بے وفا امتیوں کو اپنا بھائی اور دوست فرما رہے ہیں۔ یہ شانِ رحمۃ للعالمینی ہے۔ اس کے برعکس ہم نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وفا کا کیا حق ادا کیا؟ سوچ کر بتائیے! کیا ہم حضور ﷺ کے دوست کو دوست اور آپ ﷺ کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں؟ ان کے گستاخوں کے خلاف کوئی جدوجہد کرتے ہیں؟ شاتمان رسول ﷺ قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوں کو روکتے ہیں؟ کیا ان کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں؟ کیا کبھی اپنے کسی عمل سے یہ ثابت کیا کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے سچے امتی ہیں؟ یا صرف محبت کے زبانی کھوکھلے دعووں سے خود کو عاشق رسول ﷺ کہلواتے رہے۔ افسوس!

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا، اسے میں نے دل سے بھلا دیا
میں ترے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
ترے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

مسلمان بھائیو! بتائیے کل جب آپ نبی اکرم ﷺ کے پاس حوض کوثر پر جائیں گے تو امام الانبیا حبیب رب کبریا ﷺ آپ سے پوچھیں گے، بتاؤ دشمنان اسلام نے میری

صفحہ 743

عزت و حرمت پہ ڈاکے ڈالے، مجھے خوب اذیتیں پہنچائیں تو تم نے میری عزت و آبرو، حرمت و ناموس کے دفاع میں کیا کردار پیش کیا؟ کیا ہمارے پاس اس سوال کا جواب ہے؟

سنا تھا ہم نے لوگوں سے محبت چیز ایسی ہے
چھپائے چھپ نہیں سکتی، دبائے دب نہیں سکتی
یہ چہرے سے جھلکتی ہے، یہ لہجے میں مہکتی ہے
یہ آنکھوں میں چمکتی ہے، یہ راتوں کو جگاتی ہے
یہ آنکھوں کو رُلاتی ہے مگر یہ سب اگر سچ ہے!
تو اے لوگو! محمدﷺ سے تمہیں کیسی محبت ہے؟
نہ چہروں سے جھلکتی ہے نہ لہجوں میں مہکتی ہے
نہ آنکھوں کو رُلاتی ہے نہ راتوں کو جگاتی ہے
بتاؤ! یہ تمہیں آقائے مدنیﷺ سے
بھلا کیسی محبت ہے، بھلا کیسی محبت ہے؟

آدھا کلو شہد بنانے کے لیے شہد کی مکھی بیس لاکھ پھولوں کا رس چوستی ہے اور تقریباً 75 ہزار میل (120,000 کلومیٹر) کا سفر کرتی ہے۔ یہ سفر پوری دنیا کے گرد تین چکر لگانے کے برابر ہے۔ یہ پندرہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتی ہے۔ مکھی جب شہد بنا لیتی ہے تو اس میں 80 فیصد پانی ہوتا ہے تو مکھی اپنے پروں کو بڑی تیزی سے پھڑ پھڑاتی ہے۔ ایک سیکنڈ میں دو سو دفعہ اس کے پر ہلتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے سارا پانی اُڑ جاتا ہے اور خالص شہد تیار ہوتا ہے۔ 2000 سال کی تحقیق کے مطابق شہد کی مکھی سب سے بہترین معمار ہے۔ شہد کے چھتے کا ہر سوراخ اور ہر سوراخ کی 6 دیواریں سب کا سائز ایک جیسا ہوتا ہے اور یہ دیواریں 120 ڈگری پر مڑی ہوتی ہیں۔ ان سوراخوں کی پانچ دیواریں بھی ہو سکتی تھیں لیکن سائنس نے یہ ثابت کیا کہ شہد کو جمع کرنے کے ان 6 دیواروں والے چھتے سے بہتر کوئی گودام ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ہے آدھا کلو شہد تیار کرنے کے لیے ایک معمولی مکھی کی محنت اور جدوجہد۔ سوچنا چاہیے کہ اس کے مقابلہ میں اشرف المخلوقات ............ انسان اور سب سے بڑھ کر مسلمان ............ عاشق رسول ہونے کا دعویدار ............ دین اسلام کی سربلندی، عقیدہ ختم نبوت اور حضور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی کیا ذمہ

صفحہ 744

داریاں پوری کرتا ہے؟ مقام تاسف ہے! کم از کم ایک مکھی، جتنی تو محنت کرنی چاہیے۔

اہل علم کا کہنا ہے کہ فتنوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ انھیں سمجھنا، ان کے رد کے لیے منصوبہ بندی کرنا پھر ان کے سدباب کی خاطر حکمت سے جدوجہد کرنا اور ان کو کیفر کردار پہنچانے تک ان کا مقابلہ کرنا اہل علم کا فریضہ ہے، ”فتن فی الدین“ والوں (قادیانیوں) کی اگر سزا کڑی ہے تو ان کا رد کرنے والوں اور مقابلہ کرنے والوں اور دین کا دفاع کرنے والوں کا اجر بھی صحابہ کرامؓ کے اعمال کے برابر ہے۔ تفصیل کے لیے اس حدیث میں غور فرمالیں:

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا

ھذہ الامۃ قوم لھم مثل اجر اولھم یا مرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و یقاتلون اھل الفتن۔

(دلائل النبوۃ جلد 6 صفحہ 513)

ترجمہ: یہ حدیث مجھے اس شخص نے سنائی جس نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس امت کے آخری دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے اعمال کا ثواب پہلے دور کے لوگوں کی شرح کے مطابق ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں گے اور اہل فتن سے معرکہ آرائی کرتے ہوں گے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اسلام مخالف فتنوں سے جہاد کرتے ہیں“۔

مذکورہ حدیث مبارکہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مسیلمہ کذاب سے مسیلمہ پنجاب (مرزا قادیانی) تک ہر جھوٹے نبی اور اس کے پیروکاروں سے مصروف جہاد رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ جہاد کا مفہوم عام ہے۔ باطل کا مقابلہ خواہ زبان سے کیا جائے خواہ قلم یا تلوار سے، یہ سب اقسام جہاد کے مفہوم میں داخل ہیں۔

یقیناً کارکنان تحفظ ختم نبوت کا شمار انہی مذکورہ خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ سب سے زیادہ محبت اپنے باڈی گارڈ سے کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنی جان سے بڑھ کر اس کی زندگی کی حفاظت کے لیے کوشش کرتا ہے اور بادشاہ کا جو قرب ایک باڈی گارڈ کو حاصل ہوتا ہے، وہ شاید کسی اور کو نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہر وقت بادشاہ کی نگاہوں کے سامنے رہتا

صفحہ 745

ہے، اس طرح جو لوگ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں، دراصل وہ حضور نبی کریم ﷺ کے باڈی گارڈز ہیں۔

ورقہ بن نوفل، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچازاد بھائی تھے۔ وہ نصرانی مذہب کے نہایت جید عالم اور بزرگ تھے۔ انہوں نے کتب بینی میں ایک زمانہ گزارا تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ نے اپنے چشم دید حالات کا ان سے ذکر کیا تھا کہ دو فرشتے آپ ﷺ پر سایہ فگن رہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: ”اے خدیجہ رضی اللہ عنہا! اگر یہ واقعات صحیح ہیں تو حضرت محمد (ﷺ) اس امت کے نبی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ بات ضرور ہونے والی ہے۔ اس امت کے لیے ایک نبی ہونے والا ہے جس کا انتظار ہے اور یہی اس کا زمانہ ہے“۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پہلی وحی نازل ہوئی تو بعد ازاں آپ ﷺ کی ملاقات ورقہ بن نوفل سے ہوئی۔ ورقہ بن نوفل نے آپ کو دیکھتے ہی کہا کہ آپ (ﷺ) اللہ کے وہ سچے رسول ہیں جن کا انتظار تھا۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کی شان میں درج ذیل اشعار پڑھے:

بان محمدا سيسود فينا
ويخصم من يكون له حجيجا
فيلقى من يحاربه خسارا
ويلقى من يسالمه فلوجا

ترجمہ: محمد (ﷺ) ہم میں عنقریب سردار ہو جائیں گے اور ان کی جانب سے جو شخص کسی سے بحث کرے گا، وہی غالب رہے گا۔ جو آپ سے جنگ کرے گا، وہ نقصان اٹھائے گا اور جو آپ سے مصلحت کرے گا، وہ فتح مند رہے گا۔

مجاہدین ختم نبوت کے لیے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ انھیں ہمہ وقت حضور نبی کریم ﷺ کا قرب حاصل رہتا ہے۔ وہ ہر وقت آپ ﷺ کی نگاہ کرم میں رہتے ہیں۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ اے انسان! تو یہ فخر نہ کر کہ تو بادشاہ کی خدمت کرتا ہے۔ بادشاہ کے لیے لاکھوں خدمت گزار ہیں، تیرا کیا احسان ہے کہ تو بادشاہ کی خدمت کرتا ہے۔ بادشاہ کا تجھ پر احسان ہے کہ کسی اور کو خدمت پر نہیں لگایا، تجھے ہی لگا لیا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔

صفحہ 746

(شعبہ الایمان از امام بیہقی جلد اول ص 388)

ترجمہ: جو شخص جس چیز سے محبت کرتا ہے، وہ اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے۔

اس حدیث مبارکہ کی رو سے ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ ختم نبوت سے محبت کرتے ہیں اور ہر محفل میں اسی کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے تحفظ ختم نبوت ایسی عظیم الشان خدمت ہمیشہ ہمیشہ لیتا رہے۔

اتحاد بین المسلمین...... وقت کی اہم ترین ضرورت

دین اسلام ہمارے اتحاد کی اصل بنیاد ہے۔ یہ مسلمانوں کی وحدت ملی اور فکر وعمل کا نام ہے۔ مسلمانوں کا باہمی اتحاد اور محبت شریعت کے اہم مقاصد میں سے ہے، اسی باہمی اتحاد اور اُلفت کے ذریعے دین و دنیا کی بھلائیاں اور باہمی مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے۔ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان میں کسی قسم کی تفرقہ بازی جائز نہیں۔ اس لیے ہر قسم کے انتشار وافتراق اور فرقہ بندی کے سدِ باب کے لیے قرآن مجید میں بار بار مسلمانوں کو متحد رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا (آل عمران: 103) ترجمہ: ”اور مضبوطی سے پکڑ لو اللہ کی رسی سب مل کر اور جُدا جُدا نہ ہونا‘‘۔ حضور نبی رحمت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے اس مکان کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط رکھتا ہے۔ یہ فرما کر نبی اکرم ﷺ نے اپنے ایک دست مبارک کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں پیوست کر کے بتایا کہ سارے مسلمان اس طرح باہم مربوط ہیں ۔“ یہی وہ مضبوط تعلق تھا، یہی وہ نظریہ تھا اور اسی کی بنیاد پر یہ جذبہ ایثار کار فرما تھا کہ ہجرت مدینہ کے موقع پر مدینے کے میزبانوں نے مکے کے مہمانوں کو گلے لگا لیا، اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں حاضر کر دیا، ایک مدنی صحابی نے اپنے مکی بھائی سے عرض کی کہ میری دو بیویاں ہیں، ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس سے تم نکاح کر لو۔ یہ ہے مواخات مدینہ کا وہ منظر اور یہ ہے ملی یک جہتی کی وہ مثال کہ جس کی کوئی نظیر نہیں۔ ملی یک جہتی کا یہی وہ فلسفہ تھا کہ ایک خاتون کی پکار پر فاتح سندھ محمد بن قاسم دیبل کے ساحل پر آپہنچا تھا۔

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

حضور سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی باہمی محبت اور رحمت ومودت

صفحہ 747

کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ہی جسم ہو، جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم) جس طرح ایک جسم کے مختلف اعضاء اپنی جدا گانہ حیثیت اور انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے درپے آزار نہیں ہوتے، بلکہ پورے جسم کے لیے تقویت کا باعث بنتے ہیں، بعینہ حضور نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق تمام امت مسلمہ ایک جسم کے مانند ہے اور اس کے افراد بمنزلہ اعضاء۔ جسم کا ایک عضو بھی تکلیف اور درد میں مبتلا ہو تو بقیہ سارے اعضاء چین اور آرام سے نہیں رہ سکتے۔ درد بے شک جسم کے کسی ایک حصے میں ہو، اس کے لیے آنکھ اشکبار ہوتی ہے۔ یہی رشتہ ایک مسلمان فرد کا ملت اسلامیہ سے ہونا چاہیے جو آنکھ کا پورے جسم سے ہوتا ہے:

مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے، کسی شخص کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل کرے، مسلمان کا خون، مال اور عزت ہر چیز دوسرے مسلمان پر حرام ہے“۔ (صحیح بخاری) آپ ﷺ ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ”میں تمہیں پانچ ایسی چیزوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے: 1۔ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ منسلک رہنا۔ 2۔ بات سننا۔ 3۔ اطاعت کرنا۔ 4۔ جہاد کرنا۔ 5۔ ہجرت کرنا۔ کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی، سوائے اس کے کہ وہ دوبارہ جماعت کی طرف لوٹ آئے“۔ (مسند احمد) ہمارا دین اسلام ان تمام امور کی وضاحت کرتا ہے جو محبت اور اتحاد کو تقویت دیتے ہیں اور بغض و نفرت کے اسباب ختم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قطع تعلقی سے منع کیا ہے، کیونکہ یہ بغض اور نفرت کا سبب بنتی ہے، نیز کینہ، عداوت، اختلاف اور فرقہ واریت کو جنم دیتی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے“۔ (صحیح بخاری) حضرت ابوالدرداء کی روایت ہے کہ

صفحہ 748

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو ثواب کے لحاظ سے روزہ، نماز اور صدقہ جاریہ سے بڑھا ہوا ہے، صحابہ کرام نے فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! ضرور بتلائیے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں مصالحت کرا دینا جبکہ باہم فساد ڈالنا تمام نیکیوں کو ختم کرنے والی چیز ہے۔ (ابوداؤد) حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے کسی پر کفر کی تہمت لگائی، تو یہ اسے قتل کرنے کے مانند ہے“۔ ایک اور صحیح حدیث میں ارشاد ہے: ”جس نے اپنے کسی بھائی کو کافر کہہ کر پکارا تو دونوں میں سے کوئی ایک ضرور کافر ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی کسی شخص پر فسق اور کفر کے تیر نہ چلائے، کیونکہ اگر مذکورہ شخص ویسا نہیں ہے تو اس کفر و فسق کا گناہ کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔ (بخاری شریف)

مذکورہ آیت اور احادیث مبارکہ ہر مسلمان کو دعوت فکر دیتی ہیں کہ اتحاد بین المسلمین عصر حاضر کا اساسی تقاضا ہے۔ نفاق، انتشار، باہمی آویزش، مناقشات اور چپقلش ملت اسلامیہ کے لیے سم قاتل ہیں۔ تاریخ پاک و ہند کے عمیق مطالعہ سے یہ حقیقت ہم پر بخوبی آشکار ہو جاتی ہے کہ برصغیر میں انگریز کے منحوس قدم آنے سے قبل مسلمانان ہند واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا پر پورے استحکام کے ساتھ عمل پیرا تھے۔ غیر منقسم ہندوستان میں ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک اسلامی سلطنت قائم رہی۔ تمام اسلامیان ہند کا ایک ہی مسلک رہا۔ لیکن مغلیہ سلطنت کے سقوط اور برطانوی راج کے بعد مسلمانان ہند اغیار کی محکومیت میں بے شمار معاشی، معاشرتی، سیاسی اور مذہبی مسائل کا شکار ہو گئے۔ انگریز بڑا عیار اور شاطر تھا۔ اس نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان باہم متحد و متفق ہیں اور اخوت و محبت، بھائی چارے کے زریں اصول اپنائے ہوئے ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت و عقیدت ہر مسلمان کے رگ و پے میں شامل ہے۔ ہر مسلمان نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لامحدود اور غیر مشروط محبت و احترام کرتا ہے اور آپ ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس پر جان قربان کرنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ یہی چیز دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے اسی ایمانی جذبہ سے خائف تھیں اور ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مسلمانوں میں تفرقہ بازی کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ (Divide and Rule) کا ورلڈ آرڈر

صفحہ 749

جاری کیا گیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کے درمیان معمولی اور فروعی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ نفرت اور تعصب کی آگ کو بھڑکایا گیا۔ الغرض مسلمانوں کے باہمی اتحاد کو توڑنے کی سازشیں ہونے لگیں۔ چنانچہ اس فرقہ واریت کی بدولت کئی مسلمان اجتماعی اور ملی مفاد سے اختلاف کرنے لگے۔

حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

قرآن مجید میں فرقہ بندی کے حوالے سے سخت وعید ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الى الله ثم ينبئهم بما كانوا يفعلون

(الانعام:159)

ترجمہ: ”بے شک وہ جنھوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہو گئے کئی گروہ (اے نبی ﷺ) نہیں ہے آپ کا اُن سے کوئی تعلق، ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ بتائے گا انہیں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے“۔

اس آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے کوئی سروکار اور تعلق نہ رکھیں، جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی جمعیت کا شیرازہ منتشر کر ڈالا۔ اس سے بڑھ کر فرقہ پرستی کی مذمت اور کیا ہوگی؟ فریقین کے درمیان تعلق کا ٹوٹنا کبھی ایک فریق کی جانب سے ہوتا ہے اور کبھی دوسری جانب سے۔ اساطیر قرآنی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر ایسا ہوا کہ پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنی بداعمالیوں کی بنا پر خود اپنے نبی سے اپنا تعلق منقطع کر لیا اور وہ فسق و فجور اور کفر و طغیان کے اندھیروں میں بھٹک گئے۔ لیکن یہ بدبختی کی انتہا ہے کہ امت کے لوگ اخلاقی بے راہروی میں اس حد تک ملوث ہو جائیں اور دین کی اصل تعلیم سے اس طرح ہٹ جائیں کہ ان کا نبی حکم خداوندی سے خود ان امتیوں سے قطع تعلق کر لے۔ یہ اتنی بڑی حرمان نصیبی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ذرا غور کیجیے! فرقہ پرستی کو قرآن نے کیسی بدبختی سے تعبیر کیا ہے۔ دینی وحدت کو پارہ پارہ کرنا اور باہمی نفرت و انتشار کو ہوا دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں نبی خود ایسے امتیوں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ گویا امت کا تعلق اپنے نبی کے دامن سے اسی وقت برقرار

صفحہ 750

رہ سکتا ہے، جب تک امتی اپنے آپ کو ایک وحدت سے منسلک رکھیں۔ فرقہ واریت کی مذمت میں اللہ رب العزت قرآن مجید میں مزید فرماتے ہیں:

(الانفال:46)

ترجمہ: ”آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، صبر سے کام لو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اولئک لهم عذاب عظیم

(آل عمران:105)

ترجمہ: ”کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایت پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔“

یہاں بھی قرآن حکیم ملی وحدت اور ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کی تعلیم دے رہا ہے اور بھی متعدد مقامات پر ایسے احکام صادر ہوئے ہیں جن میں مسلمانوں کو تفرقہ و انتشار سے اجتناب کرنے اور اتحاد و یک جہتی کو فروغ دینے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے نصوص ہیں، جو اجتماعیت کا حکم دیتی ہیں اور اختلاف اور فرقہ واریت سے منع کرتی ہیں۔ اس اصول کو اختیار کرنے والے اجتماعیت کے پیکر ہیں، جبکہ اسے چھوڑنے والے گروہ بندی کا شکار ہیں۔

مرشد قلب و نظر، اتحاد امت کے نقیب، ضیاء الامت حضرت پیر جسٹس محمد کرم شاہ الازہریؒ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ”ضیاء القرآن“ میں لکھتے ہیں: ”یہ ایک بڑی دلخراش اور روح فرسا حقیقت ہے کہ مرورِ زمانہ سے اس امت میں بھی افتراق و انتشار کا دروازہ کھل گیا جسے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ امت بھی بعض خود غرض اور بدخواہ لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے متنازع گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور جذبات میں آئے دن کشیدگی اور تلخی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس پراگندہ شیرازہ کو یک جا کرنے کا یہی طریقہ ہو سکتا ہے کہ انہیں قرآن حکیم کی طرف بلایا جائے اور اس کی تعلیمات کو نہایت شائستہ اور دلنشین پیرایہ میں پیش کیا جائے۔ پھر ان کی عقل سلیم کو اس میں غور و فکر کی دعوت دی جائے۔ ہمارا اتنا ہی فرض ہے اور ہمیں یہ فرض بڑی دل سوزی

صفحہ 751

سے ادا کرنا چاہیے۔ اس کے بعد معاملہ خدائے بزرگ وبرتر کے سپرد کر دیں۔ وہ حی و قیوم چاہے تو انہیں ان شبہات اور غلط فہمیوں کی دلدل سے نکال کر راہِ ہدایت پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اس باہمی اور داخلی انتشار کا سب سے المناک پہلو اہلسنت والجماعت کا آپس میں اختلاف ہے جس نے انہیں دو گروہوں (بریلوی، دیوبندی) میں بانٹ دیا ہے۔ دین کے اصولی مسائل میں دونوں متفق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ذاتی اور صفاتی، حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت، قرآن کریم، قیامت اور دیگر ضروریاتِ دین میں کلی موافقت ہے۔ لیکن بسا اوقات طرزِ تحریر میں بے احتیاطی اور اندازِ تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور باہمی سوء ظن ان غلط فہمیوں کو ایک بھیانک شکل دے دیتا ہے۔ اگر تقریر وتحریر میں احتیاط واعتدال کا مسلک اختیار کیا جائے اور اس بدظنی کا قلع قمع کر دیا جائے تو اکثر و بیشتر مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے اور اگر چند امور میں اختلاف باقی رہ بھی جائے تو اس کی نوعیت ایسی نہیں ہوگی کہ دونوں فریق عصر حاضر کے سارے تقاضوں سے چشم پوشی کیے، آستینیں چڑھائے، لٹھ لیے ایک دوسرے کی تکفیر میں عمریں برباد کرتے رہیں۔ ملتِ اسلامیہ کا جسم پہلے ہی اغیار کے چرکوں سے چھلنی ہو چکا ہے۔ ہمارا کام تو ان خونچکاں زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔ ان رستے ہوئے ناسوروں کو مندمل کرنا ہے۔ اس کی ضائع شدہ توانائیوں کو واپس لانا ہے۔ یہ کہاں کی دانش مندی اور عقیدت مندی ہے کہ ان زخموں پر نمک پاشی کرتے رہیں۔ ان ناسوروں کو اذیت ناک اور تکلیف دہ بناتے رہیں۔‘‘

فرقہ واریت دین کے لیے زہر قاتل ہے۔ اسلام اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ جو شخص اسلام میں کوئی فرقہ بناتا ہے، قرآن مجید اُسے مشرک گردانتا ہے جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔

الذین فرقوا دینہم و کانوا شیعا کل حزب بما لدیہم فرحون ۝ (الروم: 31، 32)

ترجمہ: ”(اے غلامانِ مصطفیٰ ﷺ تم بھی اپنا رُخ اسلام کی طرف کرلو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور قائم کرو نماز کو اور نہ ہو جاؤ (ان) مشرکوں میں سے، جنہوں نے پارہ پارہ کر دیا اپنے دین کو اور خود فرقہ فرقہ ہو گئے۔ ہر گروہ جو اس کے پاس ہے، وہ اسی پر خوش ہے“۔

صفحہ 752
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

دوسری طرف قرآن وسنت کی روشنی میں کسی مسئلہ میں تحقیق واجتہاد کے نتیجہ میں فقہا و علمائے کرام کے درمیان اختلاف کو جائز کہا گیا ہے بلکہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی تحسین بھی فرمائی ہے۔ اس لیے کہ وہ اختلاف خود اس بات کا پتا دیتا ہے کہ اکابرین امت میں غوروفکر، تحقیق وتجسس اور فہم وادراک کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان کی ذہانتیں مسائل زندگی کا حل قرآن وسنت سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر سے ہی تلاش کرتی ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘۔ اس میں ایک فریق دوسرے فریق کا اختلافی نقطہ نظر خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے۔ جنگ وجدال کا منظر پیش نہیں کرتا اور نفرت وعداوت کا ماحول پیدا نہیں کرتا۔ اختلاف اُس وقت مذموم بنتا ہے جب ایک فریق اپنی رائے کو دوسروں پر مقدم رکھتا ہے اور دوسروں کو گمراہ سمجھتا ہے۔ یہیں سے اصل خرابی پیدا ہوتی ہے۔ عدالت میں کھڑے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے دلائل دینے والے وکلا کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ اختلاف ...... ایک ہی واقعے اور ایک ہی قانون کی تشریح اور اطلاق پر معزز عدالت کے ججز صاحبان فیصلہ دیتے وقت کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ اختلاف ...... پارلیمنٹ کے اندر سالہا سال قانونی مسودوں پر حکومت اور اپوزیشن میں کیا بحث وتمحیص ہو رہی ہوتی ہے، اختلافی آرا کا اظہار...... ایک ہی مریض کی بیماری کے بارے میں تمام مصدقہ میڈیکل رپورٹوں کی روشنی میں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی آرا میں اختلاف ہوتا ہے...... جب دو سائنس دانوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو وہ اختلاف کو دور کرنے کے لیے ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ جس کو ٹھوس اور واضح ثبوت مل جاتے ہیں، وہ راست قرار پاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم دونوں غلطی پر ہو سکتے ہیں ...... اور تو اور، تین چار دوست آپس میں چند لمحے بیٹھ کر گفتگو کرنے لگیں تو اختلاف واتفاق کی کئی صورتیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ ہماری سماجی زندگی میں قدم قدم

صفحہ 753

پر اختلاف کا پایا جانا ایک نا قابل تردید و ناگزیر حقیقت ہے...... غور کیجیے تو خود سماجی ارتقا بھی بڑی حد تک اختلاف کا مرہون منت ہے۔ اگر لوگ ایک ہی طرح سوچتے اور پہلے سے مروج موقف، نظریے اور فکر سے مختلف فکر، زاویہ نظر اور خیال کو نہ پیش کرتے تو انسان اتنی ترقی کبھی نہ کر پاتا...... اصل بات یہ ہے کہ اختلاف مذہبی ہو یا دیگر نوعیت کا، ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر منتج نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ان مسلکی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر سیکولر اور بے دین لوگ اپنے زہریلے پروپیگنڈے سے ہماری نوجوان نسل کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔ یوں نوجوانوں کی اکثریت تیزی سے اسلام سے برگشتہ ہورہی ہے۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی شاید کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ نئی نسل پریشان ہے کہ حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کے بلاوے پر کس مسلک کی مسجد میں جائے جبکہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں۔ ہمارے اس باہمی انتشار و خلفشار پر ابلیس شاداں و فرحاں ہے جبکہ حضور نبی کریم ﷺ بے حد افسردہ و رنجیدہ ہیں۔ کوئی ہے جو اس پر سوچے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواب میں انہیں تلقین کرتے ہوئے خصوصی تاکید فرمائی: ”اپنے آپ کو فروعی اختلافات میں نہ الجھانا۔ اتحاد کی دعوت دیتے رہنا۔ مجھے امت کا ہر وہ شخص پسند ہے جو اتحاد کا داعی ہو۔“

رسول اللہ ﷺ جانتے ہیں کہ اس امت کی بقا اس پر موقوف ہے کہ جو دل اللہ کی محبت میں اکٹھے ہوئے ہیں، ان کی آپس میں الفت و محبت قائم و دائم رہے، کیونکہ اگر ایک مرتبہ دلوں میں دوری اور کدورت پیدا ہوگئی تو یہ چیز امت کی تباہی و بربادی پر منتج ہوگی۔ اسی لیے آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کو اختلاف برائے اختلاف سے باز رہنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: لاتختلفوا فتختلف قلوبکم اختلاف برائے اختلاف سے بچو، ورنہ تمہارے دل بھی اختلاف و منافرت کا شکار ہو جائیں گے۔ صحابہ کرامؓ بھی یہ بات خوب جانتے تھے کہ اختلاف برائے اختلاف کا نتیجہ کبھی بھی بہتر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ شر ہی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا صحابہ کرامؓ اختلاف سے بچنے کی کوشش کرتے اور ان کی یہ شدید کوشش ہوتی کہ اختلاف سرے سے پیدا ہی نہ ہو سکے۔ جب اختلاف کے معقول اسباب ہوتے (جیسے کسی سنت یا حدیث کے بارے میں معلومات میں کمی بیشی یا کسی نص کے فہم میں اختلاف وغیرہ) تو وہ حدود اختلاف سے آگے نہ بڑھتے اور حق بات فوراً قبول کر لیتے اور اپنی غلطی کے اعتراف میں کوئی عار محسوس نہ کرتے۔ صحابہ کرامؓ علم و فضل اور تفقہ

صفحہ 754

کے حامل حضرات کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور کوئی اپنے مرتبے سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔ ہر ایک کا یہ خیال ہوتا کہ رائے ایک مشترکہ معاملہ ہے، ہوسکتا ہے کہ جو رائے اس نے اختیار کی ہے وہ درست ہو، جس کی وجہ سے اسے ترجیح دیتا ہے، البتہ وہ اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کہ اس کے بھائی کی رائے جسے وہ مرجوح (کمزور) سمجھ رہا ہے، ممکن ہے وہی صحیح ہو۔ وہ اسلامی اخوت اور بھائی چارے کو، جس کے بغیر دین کا قیام ممکن نہیں، اسلام کی اہم بنیاد سمجھتے تھے اور اسے اجتہادی مسائل میں اتفاق واختلاف سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔

حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے درمیان بھی تقریباً سو مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے انہوں نے کبھی ایک دوسرے کو گمراہ، کافر اور دین سے خارج نہیں کہا بلکہ جتنا ان کے درمیان اختلاف ہوتا تھا، اتنی ہی یہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ لڑائی جھگڑے سے دور رہا کرو، کیونکہ یہی وہ لمحہ ہے جب عالم جاہل بن جاتا ہے اور اسی موقع پر شیطان اس کو اچکنے کا موقع ڈھونڈ لیتا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں: ”ہم نے کسی فقیہ کو جھگڑتے ہوئے نہیں دیکھا“۔ مزید فرماتے ہیں: ”مومن مدارات سے کام لیتا ہے جھگڑا نہیں کرتا، اس کی زبان سے حکمت کے موتی نکلتے ہیں، اگر قبول ہو جائیں تو الحمد للہ! اگر رد ہو جائیں تو بھی الحمد للہ“۔ محمد بن الحسین فرماتے ہیں: حکما کے نزدیک جھگڑوں کی کثرت سے بھائیوں کے دل بدل جاتے ہیں، الفت جدائی میں اور محبت نفرت میں بدلنے لگتی ہے۔ بقول شخصے: ”نصف ارب سے زیادہ تعداد والی برادری مسلمانوں میں جو اہل سنت والجماعت کے نام سے پائی جاتی ہے، اس میں شک نہیں کہ بعض علاقوں کے مسلمان حنفی کہلاتے ہیں اور بعض کے شافعی، ان میں کچھ مالکی کے نام سے موسوم ہیں اور ان ہی میں بعضوں کو حنبلی بھی کہتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ صرف نام ہی کا یہ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چاروں طبقات کی فقہ میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں اور کافی اختلافات، لیکن سوال یہ ہے کہ ان اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں کے ایک مسلک نے اپنے دین کو کیا دوسرے مسلک کے دین سے کبھی کسی زمانہ میں ایک لمحہ کے لیے بھی جدا کیا یا جدا سمجھا ہے؟ خود ان بزرگوں کے باہمی تعلقات اور ان کے احترامی حسن سلوک سے جو ناواقف ہیں، وہ نہیں جانتے کہ امام شافعیؒ امام مالکؒ کے تلمیذ رشید تھے یا احمد بن حنبلؒ امام شافعیؒ کی رکاب تھام کر بغداد کے بازاروں میں گھومتے تھے۔ امام شافعیؒ نے ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام محمد

صفحہ 755

بن حسن الشیبانی سے کتنا سیکھا اور کیا کیا سیکھا، امام ابوحنیفہؒ کے مرقد انور پر پہنچ کر امام شافعی نے کیا کیا تھا۔ ان ناواقفوں کو کم از کم اس کا تو اندازہ کرنا چاہیے کہ حنفی مسلمان جب امام شافعی کا ذکر کرتا ہے تو امام ہی کے لفظ سے ان کا ذکر کرتا ہے۔ امام مالک کا نام امام کے لفظ بغیر بول ہی نہیں سکتا، امام احمد حنبل کی داستان صبر و ابتلا کو سن کر حنفی مسلمان بھی اسی قدر آب دیدہ ہو جاتا ہے، جتنا متاثر خود کوئی حنبلی مسلمان ہوسکتا ہے اور یہی کیا، کون نہیں جانتا کہ تمام حنفی مسلمانوں کے نزدیک خدا رسیدہ بزرگوں میں احترام کا جو مقام ایک حنبلی بزرگ کو حاصل ہے، یعنی غوث اعظم قطب الاقطاب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وہ حنبلی تھے، یا حجۃ الاسلام غزالی، فخر الاسلام رازی باوجود شافعی المذہب ہونے کے حنفیوں کے بھی مالکیوں کے بھی، حجۃ الاسلام ہیں، جلال الدین رومی حنفی ہونے کے باوجود سارے اسلامی طبقات میں مقبول ہیں، مجدد الف ثانی کو ہندوستان میں تو صرف حنفی مسلمان دین کا مجدد تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہندوستان سے باہر نکل کر عراق میں، شام میں عرب میں لاکھوں، لاکھ کی تعداد میں شوافع مالکیہ حنابلہ حضرت مجددؒ کے ماننے والے آپ کو مل جائیں گے“۔

امام الاولیا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے کسی مرید کو خلافت عطا کر کے تبلیغ دین کے لیے بھیجنے لگے تو اسے اس بات کی وصیت فرمائی کہ خدائی اور نبوت کا دعویٰ مت کرنا۔ اس نے حیرت سے پوچھا: ”حضرت! سالہا سال تک آپ کی صحبت کا فیض پایا ہے۔ کیا اب بھی اس بات کا امکان ہے کہ میں خدائی اور نبوت کا دعویٰ کرنے لگوں گا؟ انہوں نے فرمایا: ”خدا وہ ہے کہ جو وہ کہہ دے، وہی اٹل ہو اور اس کے خلاف ممکن نہ ہو۔ پس جو انسان اپنی رائے کو یہ حیثیت دے کہ اس سے اختلاف ناممکن ہو تو اس سے بڑھ کر خدائی کا دعویٰ اور کیا ہوگا؟ اسی طرح نبی وہ ہے کہ جو بات وہ کہے، وہی سچ ہو اور اس میں جھوٹ کا احتمال نہ ہو، پس جو شخص اپنے قول کے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ یہی سچ ہے اور اس کے خلاف ممکن نہیں تو اس سے بڑھ کر نبوت کا دعویٰ اور کیا ہوگا۔“

اختلاف رائے کے باوجود خیر خواہی اور رواداری کی سب سے عمدہ مثال حضرت امام شافعیؒ کی ہے کہ آپ کو جب بغداد جانے کا موقع ملا اور بغداد میں انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے مزار کے قریب مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی تو امام شافعیؒ نے اس میں قنوت نہیں پڑھی، حالانکہ امام شافعی کے نزدیک قنوت واجب ہے، اور یہ سب جانتے ہیں کہ شافعی حضرات

صفحہ 756

واجب اور فرض کا فرق نہیں کرتے۔ ان کے ہاں فرض اور واجب ایک ہی قسم ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، گویا ان کے ہاں قنوت پڑھنا فرض ہے اور شافعیہ کے نزدیک اگر قنوت نہ پڑھی جائے تو فجر کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ امام شافعی کا نقطہ نظر تھا لیکن انہوں نے اس میں قنوت نہیں پڑھی اور یہ کہا کہ مجھے اس میں بڑی شرم وحیا آئی کہ امام ابوحنیفہؒ کے مزار کے قریب نماز پڑھوں اور ان کے نقطہ نظر کے خلاف کروں۔ اس کا مطلب ہے کہ امام شافعی جیسے آدمی یہ سمجھتے تھے کہ یہ فقہائے کرام کی اجتہادی آرا اس کا امکان رکھتی ہیں کہ مبنی برخطا ہوں یا مبنی برصواب ہوں، اور اس پر اتنا اصرار کرنا کہ ان کو نصوص کا درجہ دینا، یہ دراصل نصوص کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ جس چیز کے بارے میں شارع نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے، اس لیے اختیار کیا ہے کہ اس میں مسلمانوں میں اختلاف نہ ہو اور جس چیز کے بارے میں شارع نے دوٹوک مؤقف اختیار نہیں کیا اور اس کو کھلا چھوڑا ہے تو اپنی رحمت کی وجہ سے کھلا چھوڑا ہے۔ کسی بھول چوک کی وجہ سے نہیں چھوڑا اور وہ اس لیے دلائل کے ساتھ اس کو اختیار کر سکتا ہے اور اس پر قائم بھی رہ سکتا ہے، اس پر عمل بھی کر سکتا ہے۔

مذکورہ واقعات پر غور کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارے اکابرین اور بزرگوں میں اختلاف رائے اور سیاسی مخالفت کے باوجود کس قدر رواداری پائی جاتی تھی اور وہ باہمی احترام اور عزتِ نفس کو کس قدر ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ انھوں نے اختلاف رائے کو کبھی اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ وہ عظیم المرتبت شخصیت تھے جن کی دور بینی اور نکتہ شناسی کی مثال صحابہ کرامؓ کے بعد کی تاریخ آج تک دکھانے سے قاصر ہے۔ ان کے جلیل القدر شاگرد امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ نے مسائل کے استنباط میں اپنے استاد کی آرا سے بے تکلف اختلاف کیا۔ اسی طرح امام شافعیؒ، امام مالکؒ کے اور امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ کے شاگرد تھے۔ اس کے باوجود ان شخصیات نے مختلف مسائل میں ایک دوسرے سے مکمل اختلاف کیا۔ تمام تر اختلافات کے باوجود کسی ایک امام نے بھی دوسرے امام کی توہین یا تنقیص نہیں کی۔ انہوں نے انتہائی خلوص کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا۔ دوسروں کی رائے کو احترام کے ساتھ سنا اور اس کی تردید بھی احترام سے کی اور بعض اوقات اپنی رائے سے رجوع بھی کیا اور اپنی رائے کو چھوڑ کر دوسروں کی رائے کو ترجیح بھی دی۔ ان مخلصین نے کہیں بھی اپنی ذاتی رائے کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ ہمیں اختلافات کے ساتھ

صفحہ 757

زندہ رہنے کا فن سیکھنا ہے۔ یہی ہماری آزمائش ہے اور اسی میں ہماری بقا اور سلامتی ہے۔

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے؟

ملت اسلامیہ اپنی تاریخی شخصیات، اکابرین امت، فقہائے امت اور آئمہ تصوف پر آج تک ناز کرتی چلی آئی ہے۔ یہ سبھی بزرگ اپنے اپنے دور میں ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے تھے لیکن ان سب کا احترام امت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ سلسلہ تصوف میں قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ، اویسیہ وغیرہ معروف سلاسل ہیں۔ ان سلاسل کے ایک دوسرے سے کئی اختلافات ہیں مگر ان کے بزرگوں کا احترام ہر مسلمان کرتا ہے۔ کوئی سلسلہ کسی دوسرے سلسلہ کی توہین و تضحیک نہیں کرتا، کسی دوسرے بزرگ کی پگڑی نہیں اچھالتا۔ یہی وہ طرز عمل ہے جس سے پورا معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

قارئین کرام! یہاں ایک بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ امام اولیا، غوث اعظم، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانیؒ کے عقیدت مند پوری دنیا بالخصوص پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی اکثریت کا تعلق حنفی مسلک سے ہے۔ آپؒ کا وصال مبارک 11 ربیع الثانی 561ھ کو ہوا۔ اس دن کی مناسبت سے حضرت شیخؒ سے عقیدت رکھنے والے ہر ماہ باقاعدگی سے ”گیارہویں شریف“ کا ختم دلاتے ہیں اور کھانے پینے کا سامان غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہر سال 11 ربیع الثانی کو جلوس نکالتے ہیں اور بڑی بڑی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرواتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حنبلی مسلک کے پیروکار تھے۔ آپ اپنی کتابوں خصوصاً ”غنیۃ الطالبین“ میں جا بجا اُنہی کے حوالے دیتے ہیں اور اکثر جگہ حضرت امام حنبلؒ کو ”ہمارے امام“ کے الفاظ سے خطاب کرتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ حنبلی مسلک میں نماز سمیت دیگر عبادات کا طریقہ کار حنفی مسلک سے قدرے مختلف ہے۔

پاکستان میں مسلمانوں کے کئی مسالک ہیں۔ بعض اوقات ان مسالک کے لوگ معمولی اختلاف رائے پر آپس میں دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔ بغیر کسی تحقیق کے ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگا کر باہمی نفرتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ جبکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ ”جو لوگ دین میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں اور

صفحہ 758

مختلف ٹولیوں میں بٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گمراہ ہیں اور اپنی خواہشات کے بندے۔ ان کی توبہ قبول نہیں۔ میں اُن سے اور وہ مجھ سے بری ہیں۔‘‘ اس تقسیم در تقسیم نے پاکستان کو قعر مذلت میں گرا دیا ہے۔ ان حالات میں اسلام سے سچی محبت رکھنے والا ہر شخص تڑپ اٹھتا ہے اور اتحاد امت کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتا ہے۔ یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک ایک ادا کو قیامت تک محفوظ رکھنا ہے۔ ہر مسلک نے اپنے علم وفہم کے مطابق قرآن وحدیث سے استنباط کر کے آپ ﷺ کی مختلف اداؤں کو اپنایا ہوا ہے اور یہ سارے راستے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں محبت رسول ﷺ کی شاہراہ سے گزرتے ہوئے اُخروی نجات اور جنت کی طرف جاتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ خطبات بہاولپور میں رقمطراز ہیں کہ ”اللہ تبارک وتعالیٰ کو اپنے پیارے محبوب حضرت محمد ﷺ کی تمام ادائیں اور طریقے محبوب تھے، اس لیے ان کے تمام طریقوں کو محفوظ کرنے اور معمول بنانے کے لیے مختلف مسالک بنادیے تاکہ تمام طریقے محفوظ و مامون رہیں۔“

دین کیا ہے، آپ ﷺ کی الفت کے سوا؟
دین کا بس اک یہی معیار ہے

یاد رکھیے! اسلام فتویٰ سے نہیں، تقویٰ سے پھیلا ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: ”کوئی تمہاری راہ میں کانٹے بچھائے تو تم جواب میں کانٹے مت بچھاؤ، ورنہ دنیا میں کانٹے ہی کانٹے رہ جائیں گے اور پھولوں کا نام ونشان تک مٹ جائے گا۔ اس لیے میں کانٹے چنتا ہوں، بچھاتا نہیں ہوں“۔ ایک مرتبہ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی خدمت میں ان کے ایک عقیدت مند نے بطور نذر قینچی پیش کی تو آپؒ نے فرمایا: ”مجھے قینچی نہ دو میں کاٹنے والا نہیں ہوں، مجھے سوئی دو کہ میں جوڑنے والا ہوں“۔

ہمارے زوال کا اصل سبب آپس میں تفرقہ بازی اور گروہ بندی ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف مسالک کے علمائے کرام کو آپس میں لڑوایا جائے تاکہ ان کی قوت مضبوط نہ ہوسکے۔ اس سلسلہ میں اسلام دشمن طاقتیں غیر مرئی طریقے سے ہر قسم کے وسائل بروئے کار لاتی ہیں۔ چنانچہ جب مسالک کے درمیان نفرت و عداوت کی آگ بھڑکتی ہے تو ان کے درمیان اتحاد واتفاق ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے سر پھٹول پر اتر آتے ہیں۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر اسلام کے خلاف نئے نئے

صفحہ 759

فتنے سر اٹھانے لگتے ہیں جس میں سراسر نقصان صرف اسلام اور مسلمانوں کا ہوتا ہے۔ کاش تفرقہ بازی کی تعلیم دینے والوں کو معلوم ہوتا کہ کسی کو مسلمان بنانا کتنی محنت، مشقت، ریاضت اور دلسوزی کا کام ہے اور پل بھر میں کسی کو کافر بنا دینا کتنی بڑی جسارت ہے۔ انسان کانپ اٹھتا ہے کہ حضرات انبیا ورسل علیہم السلام نے جانیں کھپا دیں لوگوں کو مسلمان بنانے میں اور ہم زبان کی ایک ہی حرکت سے لاکھوں مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ ابن انشاء نے لکھا تھا: ”دائروں کی کئی اقسام ہیں۔ ایک دائرہ اسلام کا بھی ہے۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا۔ اب عرصہ ہوا داخلہ بند ہے، صرف خارج کیا جاتا ہے“۔ کاش! ہم میں سے کسی نے اپنے کردار، اخلاق، علم، عمل اور محبت کے ساتھ کسی غیر مسلم کو حلقہ بگوش اسلام کیا ہوتا تو ہمیں اُس کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا۔ فرقہ واریت کا ناسور ہمارے معاشرے میں کس قدر سرایت کر چکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج کا مسلمان ...... خود کو مسلمان کہلوانے کے بجائے اپنے مسلک کو ترجیح دیتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے حالانکہ قرآن مجید نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔ افسوس! فرقہ واریت کا کینسر آج غیر مسلموں کے اسلام میں داخلے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ہندو ازم چھوڑ کر دین اسلام قبول کرنے والے معروف سکالر، دانشور اور مجاہد اسلام جناب غازی احمدؒ (سابق کرشن لعل) کے حالاتِ زندگی نہایت ایمان افروز اور عزیمت سے بھر پور ہیں۔ ان کا تعلق میانی بوچھال کلاں ضلع چکوال سے تھا۔ انہیں یہ اعزاز اور سعادت حاصل ہے کہ انہوں نے عالم رؤیا میں سید المرسلین، حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں اپنے مبارک سینے سے لگایا اور نہایت شفقت فرمائی۔ وہ اپنے ہر خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فتنہ قادیانیت کا رد بھی کرتے۔ آئیے! ایک دلخراش واقعہ ان کی زبانی سنتے ہیں:

”ایک دفعہ مجھے ملتان سے ایک نو مسلم عیسائی کا خط موصول ہوا جس میں اُس نے لکھا کہ وہ میری کتاب ”من الظلمات الی النور، کفر کے اندھیروں سے نور اسلام تک“ پڑھ کر مسلمان ہو گیا ہے لیکن اب پریشانی یہ ہے کہ مجھے کس مسلک میں جانا چاہیے کیونکہ ہر مسلک دوسرے کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج گردانتا ہے۔ میں اُس کا خط پڑھ کر شدید صدمے میں

صفحہ 760

مبتلا ہوا۔ کچھ دنوں بعد ملتان میں اپنے ایک دوست کو خط لکھ کر اس نومسلم سے رابطہ کرنے کو کہا جس نے جواب میں دل ہلا دینے والی بات بتائی کہ وہ نومسلم مسلمانوں کے مختلف مسالک کی آپس میں لڑائی سے دلبرداشتہ ہو کر واپس عیسائی ہو گیا ہے۔ اس بات سے مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تمام علمائے کرام سے پوچھتا ہوں کہ خدارا بتایا جائے کہ اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟

؎ شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے!

یہ بات نہایت اہم ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں جو مابہ الامتیاز ہے، وہ اتنا نمایاں، اتنا اہم اور بنیادی ہے کہ اس کے مقابلے میں جو مابہ الاختلاف ہے، وہ بہت ہی برائے نام، بہت سطحی اور بہت فروعی قسم کا ہے، یعنی دنیا کے تمام مسلمان، قرآن مجید کے کلام الہی ہونے پر متفق ہیں، تمام دنیا کے مسلمان، رسول اللہ ﷺ کے عبدہ رسولہ ہونے پر متفق ہیں، دنیا کے تمام مسلمان عقیدہ ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمان، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو واجب التعمیل مانتے ہیں، ضروریات دین جو قرآن وسنت سے ثابت ہیں، اس پر تمام مسلمان متفق اللفظ ہیں کہ نمازیں پانچ ہیں اور اسلام کے پانچ ارکان ہیں وغیرہ ان کے مابین جو اختلاف ہے، وہ صرف تفصیلات میں ہے۔ کافی عرصے کی بات ہے، مشہور بزرگ، دانشور اور محقق ڈاکٹر حمید اللہ جو پیرس میں رہتے تھے، وہیں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک عرب نوجوان، ایک دوسرے عرب نوجوان کو ان کے پاس لے کر آیا اور کہا کہ صاحب یہ میرا دوست ہے، میں اس کو لے کر آیا ہوں، یہ اسلام سے مرتد ہونا چاہتا ہے اور اس نے کئی بار کہا ہے کہ میں اسلام چھوڑ کر عیسائی ہونا چاہتا ہوں، میں نے کہا کہ تم حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب سے تبادلہ خیال کرلو، تو میں اسے تبادلہ خیال کے لیے لایا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھئی کیا بات ہے، اسلام سے کیوں برگشتہ ہو؟ کیوں چھوڑنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ اسلام میں بہت زیادہ فرقے ہیں، بڑے اختلاف ہیں، آپس میں مسلمان کسی ایک نکتے پر جمع نہیں ہوتے، اس لیے میں اسلام سے ہٹنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پھر اسلام چھوڑ کر کس مذہب میں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: عیسائی ہونا چاہتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب نے کہا: عجیب بات یہ ہے کہ تمہیں شاید عیسائیت کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ اس پیرس شہر میں، پوری دنیا کی بات نہیں، پورے یورپ کی بات نہیں، پورے فرانس کی

صفحہ 761

بات نہیں، صرف پیرس شہر کی بات کرتا ہوں، صرف پیرس میں عیسائیوں کے ایک سو آٹھ فرقے موجود ہیں اور وہ فرقے ایسے ہیں کہ ان کے الگ الگ چرچ ہیں، الگ الگ ان کے پادری ہیں، ایک پادری، دوسرے فرقے کے عیسائی کو رہنمائی نہیں دے سکتا، ایک فرقے کا عیسائی دوسرے فرقے کے چرچ میں نہیں جاسکتا، ایک فرقے کا عیسائی دوسرے فرقے کی مذہبی کتابیں نہیں پڑھتا۔ بائبل کی تشریحات اور تفصیلات، جو ایک فرقے نے کی ہیں، وہ دوسرے فرقے کا آدمی نہیں پڑھتا، تو تم پہلے یہ طے کرو کہ ان 108 فرقوں میں سے کس فرقے میں جانا چاہتے ہو؟ اور کیا اسلام میں 108 سے بھی زیادہ فرقے ہیں؟ بہرحال خلاصہ یہ کہ اس کی تسلی ہو گئی اور وہ اسلام پر قائم ہو گیا، لیکن بتانے کا مقصد ہے کہ عیسائیت میں، جس کے بارے میں عام طور پر تاثر یہ ہے کہ دو یا تین سے زیادہ فرقے نہیں، اس میں بھی سیکڑوں فرقے وہ ہیں، جو اس وقت موجود ہیں اور خود ہمارے پاکستان میں، جو عیسائی موجود ہیں، ان میں درجنوں فرقے موجود ہیں، اگر سیکڑوں نہیں تو درجنوں تو لازمی ہیں۔

ہندو ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں رہتے ہیں۔ ہندوؤں کے بارے میں عام طور پر تاثر یہ ہے کہ ہندوؤں میں کوئی فرقہ نہیں ہوتا، بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہندوؤں میں کوئی فرقہ نہیں ہوتا اور ہندو ساری کی ساری ایک قوم ہے۔ یہ ہندوازم اور ہندومت سے انتہائی ناواقفیت کی دلیل ہے۔ ہندومت میں اتنے فرقے اور اتنے متعارض نقطۂ نظر موجود ہیں کہ دنیا کے کسی مذہب، کسی فلسفے، کسی ثقافت، کسی تمدن میں شاید نہ ہوں اور وہ ایک دوسرے سے اتنے زیادہ متصادم ہیں، اتنے زیادہ ایک دوسرے سے متعارض نظریات رکھتے ہیں کہ محققین کے لیے بڑی مشکل پیش آتی ہے کہ ہندومت کی کوئی جامع تعریف کرسکیں۔ ہندومت کی آج تک کوئی جامع تعریف اس لیے نہیں ہوسکی کہ جامع تعریف کے لیے ضروری ہے کہ سارے ہندوؤں کے فرقے اس تعریف میں شامل ہو جائیں، یعنی وہ تعریف جامع بھی ہو اور مانع بھی ہو۔ جامع مانع تعریف ہندوازم کی آج تک نہیں ہوسکی۔ ہندوازم میں وہ فرقے بھی ہیں، جو گائے کو دیوتا مانتے ہیں، وہ فرقے بھی ہیں، جو گائے کو ناپاک سمجھتے ہیں، ہندوازم میں وہ فرقے بھی ہیں، جو وید کو اللہ کا کلام مانتے ہیں، وہ بھی ہیں جو وید کو افسانہ سمجھتے ہیں، ہندوازم میں وہ لوگ بھی ہیں جو تری مورتی (یعنی ان کے مشہور تین دیوتا ہیں، جن کی مورتی کو آپ نے ہندوستان کے ڈاک کے ٹکٹوں پر دیکھا ہوگا، شیر کی شکل

صفحہ 762

ہے، اس کے تین منہ ہیں، ایک ادھر، ادھر اور ایک سامنے) کو گردن زدنی سمجھتے ہیں اور وہ بھی ہیں، جو تری مورتی کو دیوتا سمجھتے ہیں۔ یعنی بالکل ایک دوسرے سے متعارض نظریات ہندوازم میں موجود ہیں اور اتنے کہ سیکڑوں نہیں، ہزاروں، بلکہ لاکھوں فرقے اور لاکھوں مذہبی نقطۂ نظر ان میں موجود ہیں۔ 1921ء کی ہندوستانی مردم شماری میں مختلف مذاہب کے بارے میں الگ الگ بریف دیا ہوا ہے۔ اس میں ہندوازم کے بارے میں جو بریف دیا ہے، اس میں آپ ہندوازم کی تعریف پڑھ کے دیکھیں تو بڑی دلچسپ تعریف ہے، اس لیے کہ لکھنے والے نے اس پر لکھا ہے کہ اس کے علاوہ ہندوازم کی کوئی تعریف نہیں ہوسکتی، ہندوازم کی تعریف اس نے اس طرح کی کہ ہندوازم وہ ہے جو ہندو اصلاً ہندوستان کا رہنے والا ہو، یعنی کہیں باہر سے آکر نہ بسا ہو، اصلاً ہندوستان کا رہنے والا ہو اور نہ مسلمان ہو، نہ عیسائی ہو، نہ سکھ ہو اور نہ یہودی ہو، جو یہ نہیں ہے اور ہندوستان کا رہنے والا ہے، وہ ہندو ہے۔ اب آپ یہ سمجھئے کہ اس تعریف کی رو سے کوئی عقیدہ، کوئی نظریہ، کوئی مذہبی خیال، کوئی مذہبی تصور، یہ سب غیر متعلق ہے، اس لیے کہ اتنا متعارض اور اتنا متصادم کہ اس کو کسی ایک تعریف کے دائرے میں لایا نہیں جا سکتا۔ بدقسمتی سے فرقہ بندی کا یا فرقہ واریت کا تصور بھی مسلمانوں میں پیدا ہوگیا اور مسلمانوں کے اختلافات نے اس تصور کو زیادہ ہوا دی ہے اور زیادہ گہرا کیا ہے جو گزشتہ ڈیڑھ دو سو سال کے زمانے میں ہوئے۔ اسلام میں کبھی بھی کوئی فرقہ نہیں رہا اور نہ فرقے مسلمانوں میں کبھی پائے گئے، اگر فرقے سے وہ مراد لیا جائے جو عیسائیوں میں پایا جاتا ہے یا فرقے سے مراد وہ چیز لی جائے، جو ہندوؤں میں پائی جاتی ہے تو اس اعتبار سے مسلمانوں میں فرقے نہیں ہیں، یعنی مسلمان جتنے بھی نقطۂ نظر کے حامل ہوں، وہ کسی خاص فقہی مسلک کے پیروکار ہوں، یا کسی خاص کلامی مسلک کے پیرو ہوں، یا روحانی طور پر کسی خاص مسلک کے حامل ہوں، یا کسی اور اعتبار سے ان کے خیالات اور ان کے نظریات میں فرق پایا جاتا ہو، لیکن جو ان کے کلیات، بنیادی اصول اور بنیادی ماخذ ہیں، ان میں سب مسلمان آپس میں متفق اللفظ اور متحد الکلمہ ہیں۔ یہ بات کسی اور فرقے میں، کسی اور قوم کے فرقوں میں نہیں پائی جاتی، ہندوؤں میں تو بالکل نہیں پائی جاتی، حتی کہ عیسائیوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ عیسائیوں کے فرقوں میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو حضرت عیسیٰ کو واقعی نبی مانتے ہیں اور اللہ کا بیٹا بھی نہیں کہتے اور ایسے لوگ بھی ہیں، جو انہیں اللہ کا بیٹا کہتے ہیں، اسی طرح سے اور بے شمار اختلافات ہیں، حتیٰ کہ

صفحہ 763

بائبلوں کے بارے میں بھی خوب اختلافات ہیں، کچھ فرقے ہیں جو ان چار بائبلوں کو مانتے ہیں، کچھ فرقے ہیں جو ان چار بائبلوں کو جھوٹا مانتے ہیں تو اس لیے خود بائبل، حضرت عیسیٰ کی ذات، عیسائیت کے بنیادی عقائد، کسی چیز میں بھی دنیا کے سارے عیسائی متفق نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بالکل غلط بات ہے کہ ہم کہیں کہ جس طرح سے عیسائیت میں فرقے ہیں، ہندو ازم یا دوسری اقوام میں فرقے ہیں، اس طرح کے فرقے مسلمانوں میں بھی ہیں۔

دین اسلام کی سربلندی کے لیے ہر فرد اپنا کلیدی کردار نبھا سکتا ہے تاہم شرط یہ کہ وہ نگہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے بنیادی اصولوں سے بھی واقف ہو۔ یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے کہ فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو ”انکل ابراہیم“ کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کے لیے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں۔ اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کے لیے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی، ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا: ”جاد......! آج چاکلیٹ نہیں اٹھاؤ گے کیا......؟“ انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کے لیے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا: ”آپ اگر مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا“ مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا: ”اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، روزانہ دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔“ اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا......! وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کے لیے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی

صفحہ 764

کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا......! اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابراہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گئے......! انہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کے لیے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، ان کی وصیت تھی کہ: ”اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دے دی جائے.......!“ جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا......! جاد، انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آگھیرا، ”آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آ جاتا“ جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسو نکل آئے.......! ”کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں......!“ کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا، لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ: ”مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ“ مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا : ”یہ کیسی کتاب ہے.......؟“ تیونسی نے کہا : ”یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے.......!“ جاد نے پوچھا: ”مسلمان کیسے بنتے ہیں.......؟“ تیونسی نے کہا: ”کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں.......!“ جاد نے کہا: ”تو پھر کلمہ پڑھاؤ۔ تیونسی دوست نے اُسے کلمہ پڑھایا۔ لا اله الا الله محمد رسول الله، یوں جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لیے ”جاد اللہ القرآنی“ کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کی.......! یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے ارد گرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل

صفحہ 765

کے دستخط کیے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ ......!“ جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کے لیے وصیت ہو۔ جاد اللہ نے اسی وقت اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی، اور ساتھ ہی جاد اللہ نے یورپ کو خیر باد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا، دعوتِ حق کے لیے ہر مشکل اور پر خطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا ......! جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون (54) سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے ......! جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا......! جاد اللہ اکثر کہا کرتے تھے کہ انکل ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نہ تھا ......! آپ کے سامنے اس واقعے کے بیان کرنے کا فقط اتنا مقصد ہے کہ کیا مجھ سمیت ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار ”انکل ابراہیم“ جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر جاد اللہ القرآنی“ بن کر دین اسلام کی اس عمدہ طریقے سے خدمت کر سکے ......

علما کرام و مشائخ عظام سے درخواست ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت کی خاطر اتحاد امت کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالیں۔ حضور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کے لیے خلوص و یگانگت کا اظہار کریں۔ اختلافی مسائل سے اجتناب کیا جائے۔ کسی فروعی مسئلہ کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ ”اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ!“ کے اصول پر عمل کیا جائے۔ مسلمانوں کی تکفیر سے گریز کیا جائے۔ زبان اور قلم سے کوئی ناشائستہ اور دل آزار جملہ نہ ادا کیا جائے۔ دینی مدارس کے مہتمم حضرات، مسالک کے خلاف منافرت کے پھیلانے کے رجحان کو سختی سے روکیں۔ مسلک کی تنگ نظر چار دیواری کو توڑ کر قرآن کی تعلیم ”انما المومنون اخوۃ“ کا عملی ثبوت پیش کیا جائے:

؎ فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں، اور بیرون دریا کچھ نہیں
صفحہ 766

گولڑہ شریف (راولپنڈی) کی سرزمین حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ ایسی نابغہ عصر ہستی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور و معروف ہے۔ حضرت پیر صاحبؒ کو قدرت نے تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے بطور خاص تیار کیا تھا۔ آپ نے اس سلسلہ میں بے حد علمی اور عملی جدوجہد کی جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمان قادیانیت کے ارتداد کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ آپ کی یہ خدمت تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ حضرت پیر صاحب اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسالک کے لوگ ان کا دلی احترام کرتے ہیں۔ جولائی 1900ء میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہؒ کو مباحثہ کا چیلنج دیا تو آپ نے اسے فوری قبول کرتے ہوئے (مرزا قادیانی کی شرائط پر) 25 اگست 1900ء کو لاہور آنے کا وعدہ کیا۔ جس پر مرزا قادیانی اور اُس کے پیروکاروں کو سانپ سونگھ گیا اور مباہلہ، مناظرہ اور مباحثہ سے راہ فرار اختیار کر لی۔ مہر منیر (سوانح حیات حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ) میں لکھا ہے: ”اس معرکہ میں تمام اسلامی مسالک کے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ سنی، اہل حدیث اور اہل قرآن کے علاوہ لاہور اور سیالکوٹ کے شیعہ مجتہدین نے بھی قادیانیت کے محاذ پر حضرت پیر صاحبؒ گولڑہ شریف کو اپنا سربراہ و نمائندہ ہونے کا اعلان کیا۔ بالکل وہی صورت حال پیدا ہوئی جو پاکستان کے وجود میں آنے کے وقت ہندو کفر کے مقابلے میں اسلامی سیاسی پلیٹ فارم پر پیدا ہو گئی تھی اور یہی صورت آج سے تیرہ سو سال قبل قیصر روم کے اسلامی ممالک پر حملہ کے خطرہ کے وقت بھی پیدا ہوئی تھی۔ جب حضرت امیر معاویہؓ نے رومی سلطنت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اندرونی اختلاف کے پیش نظر اسلامی سلطنت پر حملہ کیا گیا تو سب سے پہلا سپاہی جو حضرت علیؓ کے لشکر سے تمہارے مقابلہ کے لیے نکلے گا، وہ معاویہؓ بن ابوسفیانؓ ہوگا“۔

؎ اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ

چنانچہ پیر صاحب وعدہ کے مطابق 24 اگست 1900ء کو لاہور پہنچ گئے اور کئی دن مرزا قادیانی کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آیا۔ یوں چشم فلک نے ”جَاءَ الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقاً“ کا عظیم الشان نظارہ ملاحظہ کیا۔ 27 اگست کو بادشاہی مسجد لاہور میں حضرت پیر صاحبؒ کی صدارت میں مسلمانوں کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں تمام

صفحہ 767

مسالک کے علمائے کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی۔ چنانچہ اِس عظیم الشان فتح کی یاد میں گولڑہ شریف میں ہر سال باقاعدگی سے ”عالمی خاتم النبیین کانفرنس“ منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے تمام مسالک کے جید علما و مشائخ اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو شرکت اور خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ اجتماع اتحاد بین المسلمین کا فقید المثال مظاہرہ ہوتا ہے۔ 114 ویں سالانہ عالمی خاتم النبیین کانفرنس منعقدہ 25 اگست 2014ء بمقام گولڑہ شریف کے اعلامیہ میں کہا گیا: ”ہمیں تمام تر مسلکی فرقہ واریت، سیاسی اختلافات، گروہی و لسانی تعصبات کو ترک کر کے باطل قوتوں کے سامنے ملی وحدت کے ساتھ سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے۔“

جس طرح ملتے ہیں لب، نام محمد ﷺ کے سبب
کاش ہم مل جائیں سب، نام محمد ﷺ کے سبب

بعض شرپسند فرقہ باز جن کا روزگار صرف فرقہ واریت کے فروغ سے ہی وابستہ ہے، ایک وفد کی صورت میں سجادہ نشینانِ گولڑہ شریف کی خدمت میں حاضر ہوا اور کانفرنس میں مخالف مسالک کے علما و مشائخ اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کے خطابات پر شدید اعتراض کیا۔ گولڑہ شریف کے بزرگوں نے نہایت تحمل اور برداشت سے اُن کی بات سنی اور فرمایا کہ ہمارے اور دوسرے مسالک کے درمیان فروعی اختلافات موجود ہیں اور شاید ہمیشہ موجود رہیں لیکن حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کی خاطر تمام فروعی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ختم نبوت کی حفاظت سب مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ معمولی اختلافات کی خاطر سب سے بڑے مقدس مشن کو نہیں چھوڑا جا سکتا ورنہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے کھلا میدان مل جائے گا اور گمراہی و ارتداد کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا۔ اس پر فرقہ باز گروہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور اب یہ لوگ اپنے جلسے جلوسوں میں گولڑہ شریف کے پیر صاحبان کے متعلق اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں:

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے!

ابن ماجہ کی روایت حضرت انس بن مالکؓ سے ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک کچھ لوگ خیر کے حق میں کنجی ہیں اور شر کے حق میں تالا ہیں اور کچھ

صفحہ 768

لوگ خیر کے لیے تالا ہیں اور شر کے لیے کنجی ہیں، تو اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جس کے ہاتھ پر اللہ نے خیر کی کنجی رکھی ہے اور بربادی ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھ میں شر کی کنجی اللہ نے دی“۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب کے نام پر منبر و محراب سے تفرقہ بازی کا درس دینے والے نام نہاد علما جب امن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے گورنر، وزیر اعلیٰ، ڈی سی یا ڈی پی او کے دفتر میں جمع ہوتے ہیں تو سب اپنے اپنے اختلافات بھلا کر آپس میں شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مصافحہ بلکہ معانقہ کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں کے بچھڑے ہوئے بھائی اب ملے ہیں۔ ایک ہی میز کے اردگرد بیٹھ کر سب مل کر چائے پیتے اور ایک دوسرے کو بسکٹ پیش کرتے ہیں۔ اپنی اپنی تقاریر میں پرجوش انداز میں امن و امان اور مسلمانوں کے درمیان محبت و اخوت اور اتفاق و یگانگت کے فروغ کے لیے اپنی اپنی قیمتی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ ایسا نا قابل یقین منظر پیش ہوتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبان جبہ و دستار میں کبھی دوری تھی نہ رنجش، سب ایک ہی فیملی کے ممبر معلوم ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس! صد افسوس!! جونہی یہ حضرات واپس اپنے اصل مقام پر پہنچتے ہیں تو پھر وہی پرانا گورکھ دھندا، وہی طعن و تشنیع، وہی تفرقہ بازی، وہی مسلکی مناقشات۔ کیا یہ مذہب کے نام پر جھوٹ، ملمع کاری اور منافقت کا مظاہرہ نہیں؟

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ایک دوسرے کے بارے میں عموماً جو غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں، ان کے ازالے کے لیے مختلف سطحوں پر باہمی رابطوں کا کام بہت اہم ہے۔ بالخصوص سماجی نوعیت کے رابطے جن میں کسی مذہبی معاملے کا حوالہ نہ ہو۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے طلبہ کے درمیان کھیلوں کے میچز ہو جائیں، مشترکہ سیاحتی ٹورز ہو جائیں۔ دینی حوالے سے بھی مشترکہ نوعیت کی تقریبات منعقد ہو جائیں۔ مثلاً مشترکہ محافل قرأت، محافل نعت وغیرہ ہو جائیں۔ روابط ہمیشہ دلوں کی دوریاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کی اعلیٰ قیادت کی سطح پر تو رابطے بھی ہوتے ہیں، اکٹھے مل بیٹھنا بھی ہوتا ہے، ایک ٹیبل پر کھانا

صفحہ 769

بھی ہوتا ہے، اصل ضرورت ان روابط کو نیچے کی سطح تک منتقل کرنے کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک فائیو سٹار ہوٹل یا اعلیٰ ترین سرکاری عمارت کی ایک چھت کے نیچے مختلف مسالک کے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں تو کسی شہر، قصبے کے مدرسے کی سادہ سی عمارت میں اگر اپنے طور پر اس طرح لوگ جمع ہو جائیں تو اس سے مسلک پر حرف کیسے آجائے گا؟ اگر اعلیٰ ترین ہوٹل یا اعلیٰ سطح کی سرکاری ضیافت میں ایک جگہ ایک ہی کھانا کھایا جا سکتا ہے تو کسی مدرسے یا مسجد وغیرہ میں اکٹھے بیٹھ کر دال روٹی کھانے سے کسی مسلکی پختگی میں کمی کیسے واقع ہو جائے گی؟ آج کل عملاً صورت حال یہ ہے کہ کسی مکتب فکر کا آدمی دوسرے کی مسجد میں نہیں جاتا، خود میرے محلے میں ہر مکتب فکر کی مسجد ہے، لیکن میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی مکتب فکر کا آدمی دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقتدیوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ دوسرے مسالک سے ہمارا اختلاف ہے اور اختلاف سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اپنے مخالفین سے نہیں ملتے۔ حالانکہ یہ کفر و اسلام کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ فروعی اختلاف ہے لیکن لفظ اختلاف نے اس اختلاف میں بے حد شدت بھر دی۔ یہی چیز اتحاد امت میں بڑی رکاوٹ ہے۔

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے

پاکستان میں منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق سب سے پہلے 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی جس کی قیادت حضرت مولانا سید ابوالحسنات شاہؒ نے کی جبکہ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ وغیرہ نے اُن کی قیادت و صدارت میں بھر پور کام کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے فرزند ارجمند سید غلام محی الدین شاہؒ المعروف ’’بابو جی‘‘ 1953ء کی تحریک میں تمام مسالک کی یکجہتی کے لیے مجلس مشاورت کے ایک اہم ترین اجلاس میں لاہور تشریف لائے۔ تمام مسالک کے علما نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔ یہ حضرت بابو جیؒ ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر جو بعض فروعی جھمیلوں کے باعث کبھی اکٹھا نہ ہوتے تھے، اس تحریک میں اکٹھے ہو کر قادیانیت سے ٹکرا گئے۔ یہ دوسرا موقعہ تھا کہ اس تحریک میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث ایک ہو کر قادیانیت کے خلاف متحد العمل ہوئے۔ اسی طرح 1974ء کی تحریک ختم نبوت جس کے نتیجہ میں ملک کی منتخب اسمبلی نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اس کی

صفحہ 770

قیادت حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے کی جبکہ حضرت علامہ سید محمود احمد رضویؒ، حضرت میاں جمیل احمد شرقپوریؒ اور مولانا عبدالقادر روپڑیؒ وغیرہ نے ان کی قیادت وصدارت میں بھر پور کام کیا۔ اِسی طرح 1984ء میں جب تحریک ختم نبوت چلی جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو خود کو مسلمان کہنے، اپنے مذہب کو اسلام کہنے اور شعائرِ اسلامی استعمال کرنے سے قانونی طور پر روک دیا گیا۔ اُس کی قیادت شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمدؒ نے کی جبکہ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے اُن کی قیادت میں بھر پور کردار ادا کیا۔ قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ہر سال ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) میں خطاب کے لیے تشریف لاتے جس سے قادیانیوں کے ہاں صف ماتم بچھ جاتی۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر اُس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوگی جب تک مسلمان اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر متحد ومتفق نہ ہوں گے:

؎ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

ملت اسلامیہ کے بدترین دشمنوں میں سے قادیانی جماعت ایک خطرناک سازشی سیاسی گروہ ہے۔ قادیانیوں کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے براہِ راست رابطہ ہے۔ وہاں ان کے مشن قائم ہیں جہاں سے وہ باقاعدہ ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ عرصہ ہوا قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے دھمکی دی تھی کہ ”عنقریب پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور یہاں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے“ قادیانیوں نے اپنے سربراہ کی ”پیش گوئی“ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار بنائے رکھنے کی مذموم کوششیں کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں وہ پاکستان کے امن وامان کو تباہ کرنے کے لیے فرقہ ورانہ فسادات پیدا کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ کے حکم پر ہر سال قادیانی بجٹ میں کروڑوں روپے کی رقم مختص کی جاتی ہے۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور اور ملتان ان کے خاص ٹارگٹ ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی وجہ سے یہ منصوبے آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ محرم الحرام اور ربیع الاوّل کے مقدس مہینوں میں قادیانی وسیع پیمانے پر شیعہ سنی اور بریلوی دیوبندی فساد کا خطرناک منصوبہ بناتے ہیں۔ گذشتہ سال انہی مواقع پر فرقہ وارانہ پمفلٹ کثیر

صفحہ 771

تعداد میں شائع کروا کر تقسیم کیے گئے جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور اشتعال پیدا کرنا تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش تھی کہ اس کی آڑ میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی فساد ہو جائے تاکہ یہ مسالک تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر الگ الگ ہو جائیں۔ علمائے کرام کو قادیانیوں کی بھیانک سازش کا نہ صرف بروقت علم ہوگیا بلکہ ان کی دور اندیشی اور نور بصیرت سے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر فساد پھیلنے سے رک گیا۔ 1989ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں QSF کے صدر انس احمد قادیانی طالب علم کے کمرے سے ایسے ہزاروں پمفلٹ برآمد ہوئے۔ پولیس تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ سارا لٹریچر ربوہ سے لاہور میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دارالذکر واقع گڑھی شاہو میں آیا جو شہر میں تقسیم کرنے کے لیے سرگرم قادیانی نوجوانوں کو دیا گیا۔

فروری 1997ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑا تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کا نہ صرف بھاری مالی نقصان ہوا بلکہ پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ حکومت پنجاب نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس تنویر احمد خاں کی سربراہی میں یک رکنی تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا جس نے ستمبر 1997ء میں پنجاب حکومت کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار قادیانی جماعت خانیوال کا صدر نور احمد ہے جس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم عیسائی تصادم کروایا۔ افسوس! حکومت نے اس سانحہ کے ذمہ دار قادیانی شرپسند کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

آج کل قادیانی پوری قوت کے ساتھ ختم نبوت پر حملہ آور ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بے شمار گستاخیوں پر مشتمل لٹریچر باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، اور پوری آزادی کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ قادیانی اپنی مذموم کارروائیوں کے ساتھ ملت اسلامیہ کو ختم اور شمع اسلام کو بجھانا چاہتے ہیں...... جبکہ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں...... خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں...... سوچیے ! شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ہم کب بیدار ہوں گے؟ اسلام کی غیرت اور لاج کے لیے کب متحرک ہوں گے؟ عقیدۂ ختم نبوت پر پے در پے حملوں سے بچاؤ کے لیے کب میدان کارزار میں اتریں گے؟ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی بے حرمتی اور ان کی

صفحہ 772

عزتوں کو پامال کرنے والے بدبختوں کے خلاف کب ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے؟ یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت پر شب خون مارا جا رہا ہو، وہاں ختم نبوت کی حفاظت کرنا آپ کا فرض عین ہے، اس سے ذرا سا بھی اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے:

؎ قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اُجالا کر دے

ہمیں غور و فکر سے کام لے کر سوچنا چاہیے کہ کیا قبر میں ہمیں ہمارے مسلک کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ کیا محشر میں فروعی اختلافات کے بارے میں دریافت کیا جائے گا؟ اگر شفیع المذنبین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں محشر میں پوچھ لیا کہ میری ختم نبوت پر حملے ہو رہے تھے، میری عزت و ناموس پر کتے بھونک رہے تھے، تم نے کیا کیا؟ ہمارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ آئے روز دنیا بھر میں اسلام، قرآن اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین و تضحیک کی جاتی ہے مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور اگر کوئی شخص اس سلسلہ میں کام کرتا ہے تو اس پر مخالف مسلک کے آدمی ہونے کا الزام لگا کر اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ افسوس! ہم نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا محاذ دشمنان اسلام کی یلغار کے لیے خالی چھوڑ دیا۔ ہمیں لڑنا کسی اصل محاذ پر چاہیے تھا جبکہ ہم نے طاقت کسی اور محاذ پر لگا دی۔ معمولی فروعی اختلافات کی حدود توڑ کر جنگ و جدال اور نفرت و عداوت تک پہنچ جاتے ہیں۔ افسوس! یہ سب کچھ خدمت اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے۔ مسلکوں کی لڑائی کو جہاد کہا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں بات ماننا تو کجا، کوئی سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اس رویے کو صحیح احادیث میں قوموں کی گمراہی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں ایک منٹ کے لیے تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ کیا یہ وہی مسائل ہیں جن کے لیے قرآن مجید نازل ہوا؟ کیا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھی مسائل کے لیے مبعوث ہوئے تھے؟ کیا صحابہ کرامؓ نے ان مسائل کے لیے عظیم الشان قربانیاں دی تھیں؟ کیا اولیا کرامؒ نے ان مسائل کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں؟ جس ملک میں قادیانی اپنی پوری قوت اور وسائل کے ساتھ اس پر حکمرانی کے خواب دیکھتے ہوں، کھلے بندوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین ہو رہی ہو، اسلام اور قرآن کی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا ہو،

صفحہ 773

وہاں فروعی اختلافات میں الجھ کر رہ جانا بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ جب ہم ان معمولی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچیں گے تو ہمیں سخت ندامت ہوگی۔ ہم اپنی سوچ کا رخ بدلنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے نہ صرف امت کی بہت سی مشکلات حل ہو جائیں گی بلکہ پورا معاشرہ جن مہلک خرابیوں کے غار میں جا چکا ہے، ان سے نجات مل جائے گی:

ہوا کرتی ہے اپنا کام اور شمعیں بجھاتی ہے
ہم اپنا کام کرتے ہیں، نئی شمعیں جلاتے ہیں

معروف روحانی بزرگ حضرت صوفی برکت علیؒ (سالار شریف والے) اتحاد امت کے بارے میں بڑی دلسوزی اور دردمندی سے فرماتے ہیں: ”اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم پکار ہے۔ اے مسلمان! اے میری جان! اتحاد وقت کی اہم ترین پکار ہے۔ قومیت و فرقہ وارانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے مابین اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہو جا۔ ظلم و جارحیت کو مٹانے کے لیے متحد ہو جا۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہو جا۔ اللہ کے دین اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہو جا اور ضرور ہو جا۔ یہ اختلافات بھی کوئی اختلافات ہیں۔ ان سب کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کے برکت والے نام پہ، اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند تر کرنے کے لیے متحد ہو جا اور ضرور ہو جا، ہر قیمت پہ ہو جا۔ جس طرح بھی ہو سکے ہو جا۔ اگر اس راہ میں تیری جان کی بھی ضرورت پڑے تو گریز نہ کر“۔

ہمیں چاہیے کہ کسی مسلک کی رائے اور فکر کو ترجیح دیتے وقت خوش اسلوبی کا دامن نہ چھوڑا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلھم بالتی ھی أحسن“ (النحل: 125) اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارا اختلاف رائے ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے کہ پھر مقابل سے کسی طرح کا تعلق رکھنا بھی گوارا نہیں ہوتا اور اس کے نام سے بھی ہمیں نفرت ہو جاتی ہے اور اس طرح مخالف کے لیے ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانا بہت سہل اور آسان ہو جاتا ہے اور یہی وہ مذموم اختلاف ہے جس سے اللہ رب العزت نے مؤمنین کو بچنے کی تاکید فرمائی ہے: ”ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم“ (سورۃ الانفال: 46) کہ آپس میں تنازع اور فساد کی صورتیں نہ پیدا کرو ورنہ تم بزدل

صفحہ 774

ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی (اور مخالف تم پر آسانی سے قابو پا لے گا)۔ بہرحال اتنی بات تو طے ہے کہ کوئی بھی قوم یا جماعت اس وقت تک اپنے مشن میں مکمل طور سے کامیابی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ اس قوم یا جماعت کے افراد میں اتحاد و اتفاق نہ ہو، اس لیے آج اگر ہم امت کی زبوں حالی کو سرخ روئی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اس کو ایک نئے انقلاب کی راہ دکھلانا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے ہمیں آپسی تنازعات اور تفرقہ بازیوں کو ختم کر کے اتحاد و اتفاق کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہوگا، پھر اس کے بعد ہی ہم امن اور چین کی زندگی گزار سکیں گے۔

ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امت میں جوڑ پیدا کیا جائے اور اجتماعیت کو قائم کیا جائے اور اپنی رائے یا مسلک سے اختلاف کرنے والوں کی عزت کی جائے۔ ایک سبق آموز واقعہ ملاحظہ کیجیے: قاہرہ سے دور ایک گاؤں کی مسجد میں ماہ رمضان کی ایک شب نمازیوں کے درمیان تکرار ہورہی تھی۔ ”تراویح کی رکعتیں بیس ہی ہیں“؟ ”نہیں حضور نبی کریم ﷺ سے صرف آٹھ ہی ثابت ہیں“۔ ”حضرت عمرؓ کے دور میں صحابہؓ نے بیس رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا کی تھیں، کیا انہوں نے غلط کیا“؟ ”بیس کی دلیل کمزور ہے، ہم نے تو اپنے بزرگوں کو آٹھ پڑھتے ہی دیکھا ہے“۔ ”آٹھ کی دلیل کمزور ہے، ہم تو بیس ہی پڑھیں گے“۔ اس سے پہلے یہ کہ تکرار لڑائی تک پہنچتی، ایک اجنبی آدمی جو انہیں شکل وصورت سے علمی وجاہت کا حامل نظر آتا تھا، اٹھا اور با آواز بلند کہنے لگا۔ ”ایھا الاخوان! اجنبی کی آواز کی گھن گرج کچھ ایسی تھی کہ بحث کرنے والے اس کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ میں تراویح کے مسئلہ پر آپ کی بحث کافی دیر سے سن رہا ہوں، مسجد میں شور و غل کرنا آداب مسجد کے خلاف ہے جبکہ آپ کی بحث، جھگڑے اور لڑائی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ مسئلہ بجائے سلجھنے کے الجھتا جا رہا ہے۔ اگر آپ میرے دو سوالوں کا جواب دے دیں تو شاید مسئلہ سلجھ جائے۔ کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں گے“؟ ”جی جی آپ فرمائیے مسئلہ سلجھنا چاہیے“۔ کئی آوازیں مختلف اطراف سے بلند ہوئیں۔ ”سوال یہ ہے“۔ اجنبی نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ”تراویح کا شرعی حکم کیا ہے؟ یعنی یہ فرض ہے سنت موکدہ ہے یا نفل ہے“؟ ”یہ نفل ہے، یہ نفل ہے“۔ بیک وقت کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ ”بہت خوب! اچھا! اب یہ بتائیے کہ اسلام میں مسلمانوں

صفحہ 775

کے اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت کے بارے میں کیا حکم ہے۔ یہ فرض ہے یا نفل،؟ ”فرض ہے، فرض ہے‘۔ لوگوں نے جواب دیا۔ ’ایھا الاخوان! نفل وہ فعل ہے کہ اگر کسی وقت اسے نہ کیا جائے تو آدمی گناہ گار نہیں ہوتا جبکہ فرض وہ چیز ہے جس کے ضائع ہونے سے انسان گناہ گار ہوتا ہے‘۔ کیا میں نے صحیح کہا؟ ”جی بالکل ٹھیک‘۔ مجمع نے پوری توجہ سے جواب دیا۔ ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً و لا تفرقوا“ (آل عمران: 103) کا ارشاد الٰہی ہمیں اس کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے اور فرقہ فرقہ ہونے سے منع کرتا ہے کیونکہ جھگڑے اور تنازع سے مسلمانوں میں کم ہمتی پیدا ہوگی اور ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ ”ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم“ (الانفال:46) تراویح نفل ہے، اتحاد فرض ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ جو شخص ایک نفل کے قیام کے لیے مسلمانوں کے درمیان تفریق اور انتشار پیدا کرے، ایسا شخص دین و ملت کا خیرخواہ ہوگا یا دشمن؟ ”دشمن! دشمن‘ پورا مجمع بیک زبان ہو کر بولا ۔ ”تمہارا دشمن تمہارا اتحاد چاہتا ہے یا انتشار‘؟ ”انتشار‘۔ ”اب سوچئے! جو شخص حضور اکرم ﷺ کی امت میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ حضور اکرم ﷺ کا صحیح پیروکار ہوسکتا ہے‘؟ ”حضور اکرم ﷺ کا پیروکار نہیں، وہ دشمن کا ایجنٹ ہی ہوسکتا ہے‘۔ ایک نوجوان نے کھڑے ہوکر جذبات سے مغلوب آواز میں کہا۔ ”اب جو لوگ ایسا کام کریں تمہارا کام انہیں روکنا اور سمجھانا ہے یا ان کا ساتھ دینا ہے‘؟ ”ہم انہیں روکیں گے‘۔ ”تمہیں آٹھ اور بیس تراویح کا مسئلہ زیادہ عزیز ہے یا مسلمانوں کا اتحاد‘؟ ”اتحاد، اتحاد‘۔ ’ایھا الاخوان! اگر تم اتحاد چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہیں تھوڑی سی قربانی دینا ہوگی۔ کیا تم یہ قربانی دو گے‘؟ ”ہم ہر طرح کی قربانی دیں گے‘۔ ”قربانی صرف اتنی ہے کہ تمہیں جس امام یا اپنی تحقیق پر اعتماد و اطمینان ہے، اس پر عمل کرو۔ دوسروں کو دلیل سے سمجھاؤ لیکن دوسرے کا بھی اس کی رائے اور تحقیق پر چلنے کا حق تسلیم کرو کیونکہ ہر مسلمان اپنے موقف کی سچائی کے ثبوت کے لیے قرآن و سنت سے ہی دلیل پیش کرتا ہے۔ کوئی انجیل یا تورات سے استدلال نہیں کرتا۔ تعبیر و تشریح میں اختلاف ہونا فطری امر ہے۔ فروعی مسائل میں جو جس رائے کو مناسب سمجھے، اس پر عمل کرے جبکہ دین کے بنیادی اور متفقہ مسائل کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے تمام لوگ مل جل کر زور لگائیں۔ تمہارا دشمن انگریز ہو یا یہودی، وہ تم پر گولی چلاتے ہوئے یہ فرق نہیں کرے گا کہ فلاں شافعی ہے اور فلاں حنفی۔ فلاں آٹھ تراویح پڑھتا

صفحہ 776

ہے اور فلاں ہیں۔ اس کی نظر میں تمام کلمہ گو اس کے دشمن ہیں۔ اس کی کامیابی اس میں ہے کہ تمہیں آپس میں لڑائے رکھے۔ اس لیے آج ضرورت یہ ہے کہ ہم فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر کفر وظلم کے خلاف متحد ہو جائیں اور خود کو صحیح مسلمان بنائیں‘‘۔ اجنبی کی تقریر ختم ہوئی تو لوگ کھڑے ہو کر انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ اسے ملنے لگے۔ گاؤں کا ایک وجیہہ شخص جو اپنے لباس اور چہرے سے ایک متمول اور معزز آدمی دکھائی دیتا تھا، آگے بڑھا اور اس نے اجنبی سے پوچھا: ”میں آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوا، آپ اپنا تعارف کروائیں تو مہربانی ہوگی“۔ ”میرا نام حسن البنا ہے اور میں قاہرہ میں رہتا ہوں!!

موجوں کے اتحاد کا عالم نہ پوچھیے
قطرہ اٹھا اور اٹھ کے سمندر اُٹھا لیا

فرقہ واریت اور اختلاف جو اجتماعیت اور بھائی چارے کو ختم کرتے ہوئے باہمی بغض وعَداوت کا باعث بنے، سراسر حرام ہے۔ اسی طرح دوسروں پر طعن وتشنیع کرنا یا ان کی عیب جوئی اور غیبت کرنا بھی سراسر حرام ہے۔ اجتماعیت اور باہمی محبت کا پاس رکھنا دین کا بنیادی اصول ہے جبکہ کسی جزوی مسئلے میں اختلاف، فروعی اختلافات کے زمرے میں آتا ہے، جسے کسی صورت میں بنیادی اصول پر مقدم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلکی اختلافات آگے چل کر مزید گروہوں اور فرقوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہر مسلک نظریات میں دوسرے سے اختلاف کرتا ہے۔ ان اختلافات میں آدابِ گفتگو کی رعایت نہ کرنا بھی فساد کا باعث بنتا ہے۔ جس سے قوم داخلی انتشار اور مہلک تنازعات کی دلدل میں پھنس جاتی ہے۔ ہر مسلک اپنے موقف کو مستحکم کرنے اور باقی مسلکوں کو ختم کرنے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے، حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ یہ توانائیاں دین اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے میں صرف ہوتیں۔ امتِ مسلمہ کی یہ افسوس ناک صورت حال دشمن کے سامنے ہوتی ہے اور وہ موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کب مسلمانوں کی باہمی دشمنی اور جھگڑے عروج پر پہنچیں، جس کے نتیجے میں وہ کمزور اور عاجز ہو جائیں اور وہ انہیں مکمل طور پر ختم کر دیں۔ ...... راستے میں کنکر ہی کنکر ہوں تو ایک اچھا جوتا پہن کر اس پر چلا جا سکتا ہے، لیکن ایک اچھے جوتے کے اندر ایک بھی کنکر ہو تو ایک اچھی سڑک پر چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، یعنی باہر کے چیلنجز سے نہیں بلکہ ہم اپنے اندر کی کمزوریوں سے ہارتے ہیں۔ ...... ایک گاؤں والا شہر میں کچھ لوگوں کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کو حیرت ہوئی کہ اتنے

صفحہ 777

سارے لوگ مل کر ایک فٹبال کو کیوں لاتوں سے مار رہے ہیں؟ اس نے ایک بزرگ سے پوچھا ”چاچا! اس گیند کی کیا غلطی ہے جو سارے مل کر اسے ٹھڈوں سے مار رہے ہیں؟“ چاچا نے جواب دیا ”کہ اس کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ یہ اندر سے خالی ہے۔ اگر یہ اندر سے خالی نہ ہوتو کسی کی مجال نہ ہوتی اسے ٹھڈا مارنے کی“۔ آج ہم تمام مسلمانوں کا یہی حال ہے!

امام آجری نے اپنی کتاب ”اخلاق العلما“ میں لکھا ہے کہ کسی عالم سے جب کوئی ایسا مسئلہ پوچھا جائے اور اسے معلوم ہو کہ ان مسائل سے فتنہ و فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے تو اسے چاہیے کہ سائل سے معذرت کر لے اور اسے ان مسائل کی طرف متوجہ کرے جو زیادہ ضروری اور اہم ہیں۔ اسی طرح علما کو عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے سامنے ایسے فروعی مسائل ہرگز بیان نہیں کرنے چاہئیں جس سے فتنے کا اندیشہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایسے لوگوں کے بارے میں جو ملت کا شیرازہ منتشر کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے مزعومہ عزائم کی تکمیل کے لیے آیات قرآنی کی معنوی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں، فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ مخلوق خدا میں سب سے زیادہ شریر ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ان قرآنی آیات کو جو کفار ومشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، بڑی بے باکی اور بے تکلفی سے عام مسلمانوں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے اس معاملے میں انتہائی احتیاط برتی ہے، امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جب ستر علما نے میری اہلیت کی گواہی دی، تب میں نے فتویٰ دینا شروع کیا۔

بخشش اور مغفرت کا دارومدار کسی طبقے یا مسلک کے عنوان کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہر شخص کے ذاتی عقیدے اور عمل صالح کے باعث خدا کے فضل و کرم پر ہے۔ نجات کی کسوٹی یہ نہیں کہ وہ کس فرقہ یا مسلک میں سے ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کی تعلیمات کے کتنا قریب ہے۔ حضور سرورِ دوجہاں ﷺ کی محبت و اطاعت میں کس قدر سچا ہے اور اپنے فکر وعمل سے دین اسلام کا کس قدر متبع اور وفادار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وحدت ملی کے تصور کو فرقہ پرستی کے ہاتھوں ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور پہنچ رہا ہے۔ یہ لعنت ہماری زندگی کے لیے زہر ہلاہل کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ ہم نے اپنے علمی اختلافات ونزاعات کا موضوع بھی ذات مصطفےٰ ﷺ کو بنا لیا ہے۔ (نعوذ باللہ)

کون ہے تارک آئین رسول مختار ﷺ؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
صفحہ 778
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہو گئی کس کی نگاہ طرز سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

آپس میں جھگڑا اور تکرار کس قدر نقصان دہ ہے، اس کا اندازہ آپ اس اہم واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔ حضرت عبادہؓ کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ (اپنے حجرہ مبارک سے) اس لیے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرما دیں مگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس لیے آیا تھا کہ تمہیں شب قدر کی خبر دوں مگر فلاں فلاں شخصوں میں جھگڑا ہو رہا تھا کہ جس کی وجہ سے اُس کی تعیین اُٹھا لی گئی۔ جھگڑا اس قدر سخت بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے شب قدر کی تعیین اُٹھا لی گئی اور صرف یہی نہیں بلکہ جھگڑا ہمیشہ برکات سے محرومی کا سبب ہوا کرتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا: کیا میں تمہیں نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ سب سے افضل چیز بتلاؤں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ضرور بتائیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپس کا سلوک سب سے افضل ہے اور آپس کی لڑائی دین کو مونڈنے والی ہے یعنی جیسے استرے سے سر کے بال ایک دم صاف ہو جاتے ہیں، آپس کی لڑائی سے دین بھی اسی طرح صاف ہو جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کی آبرو ریزی کو بدترین سود اور خبیث ترین سود ارشاد فرمایا ہے لیکن ہم لڑائی کے زور میں نہ مسلمان کی آبرو کی پروا کرتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے سچے رسول ﷺ کے ارشادات کا خیال۔ آج وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کا وقار گھٹانے کی فکر میں رہتے ہیں، تنہائی میں بیٹھ کر غور کریں کہ خود وہ اپنے وقار کو کتنا صدمہ پہنچا رہے ہیں اور اپنی ان ناپاک اور کمینہ حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کتنے ذلیل ہو رہے ہیں اور پھر دنیا کی ذلت بدیہی۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھے، اگر اس حالت میں مر گیا تو سیدھا جہنم میں جائے گا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر پیر و جمعرات کے دن اللہ کے حضور بندوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے (نیک اعمال کی بدولت) مشرکوں کے علاوہ اوروں کی مغفرت ہوتی رہتی ہے مگر جن دو میں جھگڑا ہوتا ہے، ان کی مغفرت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو چھوڑے رکھو

صفحہ 779

جب تک صلح نہ ہو۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر پیر و جمعرات کو اعمال کی پیشی ہوتی ہے، اس میں توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول ہوتی ہے اور استغفار کرنے والوں کی استغفار قبول کی جاتی ہے مگر آپس میں لڑنے والوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ شب برات میں اللہ کی رحمت عامہ خلقت کی طرف متوجہ ہوتی ہے (اور ذرا ذرا سے بہانہ سے) مخلوق کی مغفرت فرمائی جاتی ہے مگر دو شخصوں کی مغفرت نہیں ہوتی، ایک کافر اور دوسرا وہ جو کسی سے کینہ رکھے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبولیت کے لیے ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی، جن میں آپس میں لڑنے والے بھی شامل ہیں۔

مؤرخ جب بھی ہماری تاریخ لکھے تو الفاظ ضائع نہ کرے بس اتنا لکھ دے کہ گھر جل رہا تھا اور مکین آپس میں کافر کافر کھیل رہے تھے۔ 656 ہجری کا دور تھا۔ خلافت عباسیہ اپنے آخری سانس پورے کر رہی تھی۔ فرقہ پرستی کا بازار گرم تھا اور مسلکوں کی باہمی کشمکش اور آویزش اپنے عروج پر تھی۔ بغداد کے گلی کوچے مناظروں اور بحث و تکرار کا مرکز بن چکے تھے۔ سب باہم دست و گریباں تھے اور سارا بغداد تفرقے کی آگ میں جل رہا تھا۔ اس اندرونی خلفشار سے مسلمانوں کی طاقت کمزور ہوتی گئی اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ منگولوں اور تاتاریوں کا فتنہ اسلامی خلافت کی سرحدوں پر منڈلانے لگا۔ ہلاکو اور طوفانی دستے اس صورت حال میں فائدہ اٹھاتے ہوئے سیلاب کی طرح بڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بغداد کی عظیم سلطنت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے۔ تاتاریوں نے عظیم الشان اسلامی تہذیب و تمدن کی روشن شمعوں کو آنِ واحد میں گل کر دیا۔ ظلم و بربریت کے وہ پہاڑ توڑے کہ ایک اندازے کے مطابق بیس بائیس لاکھ افراد تہہ تیغ کر دیئے گئے اور دریائے دجلہ کا پانی تین دن تک ان کے خون سے سرخ رہا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق تاتاریوں کو بغداد پر حملے کی دعوت بھی کچھ ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے ہی اپنے فرقہ وارانہ تعصب کی آگ بجھانے کی خاطر دی تھی، ورنہ خلافت بغداد کا دبدبہ باوجود سیاسی کمزوریوں کے چار دانگ عالم پر چھایا ہوا تھا اور کسی کو اسلام کے اس مرکز پر حملہ کرنے کی جرأت نہ تھی۔ اس رستاخیز سفاکیت کے عالم میں تمام مسالک یکساں طور پر تاتاریوں کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنے اور ان کی عبادت گاہیں، مسجدیں، محراب و منبر اور علمی مراکز تباہ و برباد کر دیئے گئے۔ تاریخ کی زبان صرف زوالِ بغداد کے حوالے سے ہی نہیں، بلکہ دوسرے حوالوں سے بھی ہمکلام ہو رہی ہے کہ جب بھی دشمن کو اہل

صفحہ 780

اسلام پر غلبہ حاصل ہوا، اس کا ہدف کوئی خاص مسلک نہ تھا بلکہ بلا امتیاز سب مسلمان تھے۔

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں!
ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار مجھ سے ہے!

شیخ سعدیؒ نے کہا تھا: چڑیاں اگر متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال اُتار سکتیں ہیں۔ آپ ایک پتھر لیجیے اور اسے کتے کو ماریں، آپ دیکھیں گے کہ کتا ڈر کر بھاگ جائے گا۔ اب پھر وہی پتھر لیجیے اور شہد کی مکھی کے چھتے پر دے ماریں۔ پھر دیکھئے شہد کی مکھیاں آپ کا کیا حال کرتی ہیں؟ پتھر وہی ہے اور آپ بھی وہی ہیں۔ بس فرق صرف اتنا سا ہے کہ کتا اکیلا تھا اور مکھیاں متحد۔ حالانکہ کتا جسم کے لحاظ سے قوی اور طاقتور ہوتا ہے مگر مکھیاں کمزور اور جسم بھی معمولی، لیکن اتحاد نے قوی اور طاقتور بنا دیا۔ اتفاق اور اتحاد میں ہی طاقت ہے۔ اگر ہم ایک نہ ہوئے تو پھر نہ ہماری قوم بدلے گی نہ ہمارا معاشرہ جبکہ دشمن تو موقع کی تلاش میں ہی ہوتا ہے۔

امت مسلمہ کا اتحاد، یگانگت اور یکجہتی سب سے بڑا سرمایہ ہے جبکہ مذہبی اور معاشرتی فرقہ واریت سب سے بڑی لعنت ہے۔ ایک پھل بیچنے والے سے پوچھا: اس انگور کے گچھے کی قیمت؟ بولا صاحب: 120 روپے کلو۔ پاس ہی الگ سے کچھ مختلف ٹوٹے ہوئے انگوروں کے دانے بھی پڑے ہوئے تھے، اس کا بھاؤ؟ وہ کہنے لگا: 45 روپے کلو۔ میں نے پوچھا: اتنا کم دام کیوں؟ وہ بولا: ہیں تو وہ بھی بہت عمدہ! لیکن یہ گچھے سے ٹوٹ گئے ہیں۔ اسی وقت میرے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی کہ اپنے مسلکی بنیادوں پر الگ ہونے پر ہماری قیمت آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ واقعتاً اتحاد و اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد جب مٹی نے کیا تو اینٹ بن گئی، اینٹوں نے اتحاد کیا تو دیوار بن گئی، دیوار نے اتحاد کیا تو گھر بنا، یہ بے جان چیزیں ہیں، یہ جب ایک ہو سکتے ہیں تو ہم متحد کیوں نہیں ہو سکتے جبکہ ہم انسان ہیں بلکہ سب سے بڑھ کر مسلمان ہیں۔ ذرا سوچیے گا...... حضرت مولانا محمود حسنؒ نے بجا فرمایا: ”میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے: ایک ان کا قرآن چھوڑ دینا، دوسرے ان کے آپس میں اختلاف اور خانہ جنگی“۔ آج ہم میں ایسا کوئی نہیں ہے جو صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین سے زیادہ دین پر استقامت رکھتا ہو، واستقم کما امرت (الشوریٰ: 15) کی تعمیل نے ان کو وقت سے پہلے بوڑھا بنا دیا تھا اور ان کی ہڈیوں کے گودوں کو گلا دیا تھا،

صفحہ 781

ان کا موقف واضح تھا کہ اجتماعیت اور بھائی چارہ دین اسلام کا بنیادی ستون ہے جس کی خاطر فروعات کو قربان کیا جا سکتا ہے جبکہ اختلاف اور فرقہ پرستی دین و دنیا کے بگاڑ کا باعث ہے۔

دور حاضر میں بعض اختلافات نے انتہائی بھیانک شکل اختیار کر لی ہے اور ان اختلافات کے بھڑکنے اور بھڑکانے کی وجہ سے امت اسلامیہ زار و نزار ہے، اس کی وحدت پارہ پارہ ہو رہی ہے اور دشمنان اسلام ان اختلافات کو بھڑکا کر امت مسلمہ کی تباہی و بربادی دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں، مثلاً دور حاضر میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کے اختلافات نے بڑی شدت اختیار کر لی ہے اور ان کے باہمی نزاعات انتہائی ناگوار شکلیں اختیار کر چکے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ایک امت ہیں، ان کا کلمہ ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، ان کا قبلہ ایک ہے، ان کی کتاب اور ان کا رسول ایک ہے، عقیدہ آخرت بھی تمام مسلمانوں کا یکساں ہے، لیکن بعض اعتقادی، نظریاتی اور اجتہادی مسائل کی وجہ سے مسلمان گروہوں، جماعتوں اور مسلکوں میں بٹ گئے، علاقائی و لسانی تفریق اور برادری و خاندانی تقسیم نے بھی مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت امت مسلمہ افتراق و انتشار کا شکار ہے۔ جس امت کی تعلیمات میں اتحاد ملت اور اس کے نظام زندگی میں وحدت امت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو، وہ آج گروہی تصادم، مسلکی اختلاف، علاقائی و لسانی تفریق، برادری و خاندانی تقسیم میں بٹی ہوئی ہے۔ عام لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے خود علما کا طبقہ مختلف قسم کے تحفظات کا شکار نظر آ رہا ہے۔ اس کی ایک تعداد مسلکی تفاخر کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر تنقید و تبصرے میں مشغول نظر آتی ہے۔ خالص علمی اور تحقیقی بحثوں میں بھی ایک دوسرے پر تنقید و تذلیل فراخ دلی سے ہوتی رہتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ دشمنان اسلام امت مسلمہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور ان کو بے وزن کرنے میں پوری طرح کامیاب ہو رہے ہیں...... یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت پورا عالم اسلام جن مشکلات سے دوچار ہے، شاید اس سے قبل کی تاریخوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

کہاوت و مثل ہے: ”زبان شیریں ملک گیری، زبان ٹیڑھی ملک بانکا“ یعنی نرم زبانی سے بہت کام نکل جاتے ہیں جبکہ سخت کلامی سب کو دشمن بنا دیتی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلک یا رائے و قول کو ترجیح دیتے وقت دوسری رائے یا مسلک پر طنز و تشنیع نہ کرے، دوسری رائے رکھنے والوں کی تحقیر و توہین سے مکمل اجتناب کرے اور نازیبا کلمات کے استعمال

صفحہ 782

سے مکمل گریز کیا جائے۔ کسی قول یا مسلک کی ترجیح کے وقت ہمیشہ اعتدال کی راہ اپنائی جانی چاہیے اور خوش اسلوبی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر کوئی آپ کی رائے یا مسلک کے خلاف عمل کر رہا ہو تو اس پر نکیر نہ کی جائے اور اسے قلبی بعد ونفرت کا باعث نہ بنایا جائے۔ ترجیح دیتے وقت مثبت انداز اختیار کیا جائے، دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے اور تضاد و تناقض سے بچا جائے۔ ایک شخص کی غلطی کو بس اس کی ذات تک محدود رکھا جائے، اس کی وجہ سے پوری جماعت یا تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ جس نے غلطی کی ہے وہی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ کسی قول کو ترجیح دیتے وقت چیلنج کرنے والا اسلوب اختیار نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اشتعال دلانے اور برانگیختہ کرنے والے اسلوب سے پرہیز کیا جانا چاہیے تاکہ دوسرے فریق میں ضد یا کسی بات پر اصرار کرنے یا اڑ جانے کا جذبہ پیدا نہ ہو۔ اسلام کے داعیوں کا اصل اور سب سے اہم کام، امت میں متفق علیہ امور پر توجہ مرکوز کرنے میں ہے اور انھی امور متفق علیہ میں آپس میں تعاون وقت کی اہم ضرورت اور دینی فریضہ ہے۔ ہر مسلک پر یہ لازم ہے کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے دوسرے کی دل آزاری ہو۔ امت کا اتحاد علما کے اتحاد پر موقوف ہے۔ ایک امت بن کر زندگی گزارنے کے فوائد سے لوگوں کو باخبر کیا جائے، اس کے لیے مختلف مسلک کے لوگ ایک پلیٹ فارم سے عوام کو اتحاد کا پیغام سنائیں اور اختلافات کی خرابیاں اور اس کے نقصانات سے لوگوں کو باخبر کیا جائے۔ قرآن وسنت دین کی اساس ہیں اور ان میں ہر طرح کے احوال سے متعلق ہدایات واحکام موجود ہیں، ہر مسلک و مکتب فکر کے ماننے والوں کو یہ بات سمجھانی ہوگی کہ فروعی مسائل قرآن واحادیث سے ہی ائمہ مجتہدین نے اخذ کیے ہیں، اختلاف نصوص میں نہیں، بلکہ ”سمجھ“ میں ہے۔ اس لیے فروعی مسائل میں اپنے اپنے امام کی سمجھ پر عمل کریں، البتہ اسے وجہ نزاع نہ بنائیں۔ ایک امت بن کر زندگی گزارنے کے فوائد سے لوگوں کو باخبر کیا جائے، اس کے لیے مختلف مسلک کے لوگ ایک پلیٹ فارم سے عوام کو اتحاد کا پیغام سنائیں اور اختلافات کی خرابیاں اور اس کے نقصانات سے لوگوں کو باخبر کیا جائے، اتحاد بین المسلمین کی دعوت دی جائے اور فروعی مسائل پر بحث کرنے کے بجائے اسے عمل کا جز بنایا جائے۔

مفکر اسلام حضرت علامہ اقبالؒ جو اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی اور نقیب تھے، مسلمانوں کی وحدت اور یگانگت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور بڑی دلسوزی کے

صفحہ 783

ساتھ دعا مانگتے ہیں:

رشتۂ وحدت چو قوم از دست داد صد گرہ بر روئے کار مافتاد
ما پریشاں در جہاں چوں اختریم ہمدم و بیگانہ از یک دیگریم
باز ایں اوراق را شیرازہ کن باز آئین محبت تازہ کن

(اے ذاتِ باری تعالیٰ! جب سے قوم نے اتحاد و اتفاق کا رشتہ چھوڑ دیا تو ہمارے دینی و سماجی کاموں میں سیکڑوں گرہیں پڑ گئیں۔ ہم دنیا میں ستاروں کی طرح منتشر ہو کر رہ گئے۔ اگرچہ ہم سب اکٹھے رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے لاتعلق اور نا آشنا ہیں۔ یا اللہ! ان بکھرے ہوئے اوراق کی پھر سے شیرازہ بندی کر دے اور پھر سے محبت کے دستور کو تازہ کر دے۔)

فتنۂ قادیانیت...... مارِ آستیں

بقول علامہ خالد محمود ”فتنۂ قادیانیت وہ مارِ آستیں ہے جس کی زہرناکیوں نے اسلام کو بے حد نقصان پہنچایا۔ یہود و نصاریٰ یا ہندو ہمیں وہ نقصان نہیں پہنچا سکے جو دعویٰ اسلام کے ساتھ ہماری صفوں میں گھس آنے والے قادیانی منافق ہمیں پہنچا رہے ہیں۔ ان کے ہمارے اندر آنے سے ہماری وحدت کی صفیں ٹوٹیں گی اور جتنے لوگ ہم میں سے نکلیں گے، وہ ہماری ہی کاٹ ہوگی۔ یہ امت ٹوٹے گی تو اس سے دوسری امتیں نکلیں گی، پہلے اگر ہم سو تھے تو اب ہم نوے یا اسی رہ جائیں گے۔

برادرانِ اسلام! آپ ہی غور کریں کہ تحریک قادیانیت سے کس قوم کی گنتی کم ہو رہی ہے؟ یہ کس کی وحدت دو حصوں میں بٹ رہی ہے؟ ہندوؤں کی وحدت ٹوٹی تو ان سے سکھ قوم نکل کر الگ ہوئی۔ مسلمانوں کی وحدت ٹوٹی تو ان سے قادیانی احمدی کا نام اختیار کر کے نکلے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے اب دودھ خشک ہو چکا ہے۔ انھوں نے قادیان کو اپنے عقیدے کا مرکز بنایا۔ ان کی نمازیں اور جنازے مسلمانوں سے کٹے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے خود اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا جو اس پر ایمان نہ لایا تھا۔ دونوں قوموں میں نکاح اور وراثت کی دراڑیں پڑتی گئیں یہاں تک کہ عالم اسلام کی متفقہ آواز رابطہ عالم اسلامی نے ان کے مسلمانوں سے علیحدہ ایک قوم ہونے کا اعلان کر دیا اور ان پر لا یدخلوا المسجد الحرام کی پابندی عائد کر دی گئی۔

برادرانِ اسلام! آپ خود سوچیں کہ یہ کاٹ کن لوگوں میں واقع ہوئی؟ قوم کن کی تقسیم

صفحہ 784

ہوئی، مسلمانوں کی گنتی کن کے نقصان میں آئی؟ مسلمانوں کی، ان کی اصل ہم تھے اور یہ ہم سے نکل کھڑے ہوئے، اس سے یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں نے اگر ہمیں نقصان پہنچایا ہے تو ہمارے افراد کو اور ہمارے مفادات کو، اور ظاہر ہے کہ افراد مرتے ہیں، قومیں نہیں مرتیں لیکن قادیانیوں نے ہمیں جو نقصان پہنچایا ہے، وہ اس امت کو پہنچایا ہے۔ ہماری وحدت میں انھوں نے کاٹ کی ہے اور ملت اسلامیہ کو اپنے مرکز کعبہ سے ہٹانے کے لیے یہ ایک عالمی سطح کی سازش ہے جو قادیانیوں نے یہود و نصاریٰ کے اکسانے سے کی ہے۔

ان حالات میں ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی قومی وحدت کو بچانے کے لیے ہم ہر جگہ مسلمانوں کو جگائیں اور بتلائیں کہ تمہاری قومی وحدت کس چھپے انداز میں کٹ رہی ہے اور جتنے مسلمان ان کے ارتداد کی گود میں گر رہے ہیں، اسی نسبت سے امت محمدیہؐ میں کاٹ ہورہی ہے۔ ہماری ملت ان سے ہر آن معرض خطر میں ہے اور ہماری دیواروں میں نہایت خطرناک قسم کی دیمک لگ چکی ہے۔ مسلمان پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور قادیانی بھی اپنے مراکز دنیا میں کھولے ہوئے ہیں۔ یہ کیوں؟ یہ اس لیے کہ اس امت کو ہر طرف سے کٹاؤ میں گھیرا جائے اور اس امت کو ہر طرف سے کم کیا جائے۔

اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے، اس امت کو مزید ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ ایک ہزار نئے آدمی صف اسلام میں داخل نہ ہوسکیں، یہ ہمارے لیے اتنا بڑا صدمہ نہیں، جتنا صدمہ یہ ہے کہ اس امت کا کوئی فرد اس کے دائرہ سے نکل جائے۔ دوسروں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دینے کے بجائے اپنے گھر کے لوگوں کو سنبھالنا زیادہ ضروری ہے۔ وہ بھی کوئی قوم ہے جو اپنی قومی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکے“۔

قادیانیوں کا طریقہ واردات بہت خطرناک ہے۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ایسا مہلک اور کاری وار کرتے ہیں جو بڑے بڑے دشمنان اسلام سے بھی شائد ممکن نہیں۔ ڈاکو، پولیس کی وردی میں ملبوس ہو کر ڈاکا ڈالے تو اس کا کام مزید آسان ہو جاتا ہے۔ شکاری فقیر کا روپ دھار لے تو اسے شکار میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ واقعات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ہدہد کا جوڑا کسی درخت پر بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ اچانک (ہدہد) نر کی نظر ایک فقیر پر پڑی۔ وہ چونکا اور خوفزدہ ہو کر اپنی مادہ سے کہنے لگا کہ مجھے یہ فقیر شکاری معلوم ہوتا ہے۔ مادہ نے نر کا خوف دور کرتے ہوئے

صفحہ 785

کہا کہ تمہیں غلط فہمی ہو رہی ہے۔ یہ فقیر ہے۔ بیچارہ سائے کی تلاش میں ادھر آ نکلا ہے۔ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ دونوں پھر گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ اچانک ایک تیز رفتار پتھر آیا جو نر کے سر پر لگا۔ وہ درخت سے نیچے گرا اور موقع پر ہلاک ہو گیا۔ مادہ ہد ہد کے لیے یہ واقعہ نہایت غیر متوقع اور حیران کن تھا۔ وہ حواس باختہ ہو کر دوسرے درخت پر جا بیٹھی۔ چند لمحے سوچا اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور سارا ماجرا عرض کیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہد ہد سے کہا کہ ہماری شریعت میں شکار جائز ہے اور شکاری نے ایسا کوئی خلاف شریعت کام نہیں کیا۔ مادہ ہد ہد نے عرض کیا، اے اللہ کے سچے نبی! میرا استغاثہ یہ نہیں کہ اس نے شکار کیوں کیا بلکہ میری شکایت یہ ہے کہ اس نے شکاری کے روپ میں فقیر کا روپ دھار رکھا تھا۔ یہ دھوکا دہی ہے اور دھوکا دہی آپ کی شریعت میں حرام ہے۔

یہی طریقہ کار قادیانیوں کا ہے جو دھوکا دہی سے مسلمانوں کے ایمان کا شکار کرتے ہیں۔ قادیانی بظاہر نماز پڑھتے، روزہ رکھتے، بلکہ تمام شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کا سب سے بڑا اور اہم عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے قادیان کے ایک مخبوط الحواس شخص مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ وہ آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“، اس کی بیوی کو ”ام المومنین“، اس کی بیٹی کو ”سیدۃ النساء“، اس کے خاندان کو ”اہل بیت“، اس کے ساتھیوں کو ”صحابہ کرام“، اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ”قرآن مجید“، اس کی گفتگو کو ”احادیث رسول“، اس کے آبائی گاؤں قادیان کو ”مکہ“، ربوہ کو ”مدینہ“ اور اس کے مرگھٹ کو ”جنت البقیع“ قرار دینا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور باقی سب کافر۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جبکہ دھوکا دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔

(ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718)

تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ میں ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ذمہ

صفحہ 786

داری پوری کرے۔ لہٰذا:

اگر آپ عالم دین ہیں تو

آپ تحسین کے مستحق ہیں کہ قرآن وحدیث میں آپ کی قدرومنزلت اور بلند مرتبہ بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی ہے کہ عالم اور جاہل کسی صورت برابر نہیں ہو سکتے۔ (الزمر: 9) حدیث مبارکہ میں آپ کو انبیاء عظام علیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام وراثت میں دولت وغیرہ نہیں چھوڑتے بلکہ علم دین چھوڑتے ہیں جس نے اس ورثہ کو پا لیا، اس نے حظ وافر پا لیا۔ (مسند احمد، ترمذی) آپ کا مقام عابد سے بھی بلند و بالا ہے۔ موجودہ دور میں آپ کی ذمہ داریاں نہایت اہم ہیں۔ یہ فتنوں کا دور ہے۔ سب سے بڑا فتنہ، منکرین ختم نبوت قادیانیوں کا ہے۔ آپ غیرت صدیقیؓ کے حاملین میں سے ہیں جنہوں نے نامساعد حالات میں منکرین ختم نبوت کے فتنوں کی شر انگیزیوں کے جواب میں تاریخی جملہ کہا تھا: أَيُنْقَصُ الدِّيْنُ وَأَنَا حَيٌّ ؟ (دین میں کجی آجائے اور میں زندہ رہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟) آج جو دین اسلام اپنی اصلی شکل میں ہمارے سامنے ہے، وہ غیرت صدیقیؓ کا نتیجہ ہے۔ آج آپ کے سامنے قادیانی، دین اسلام کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ ان حالات میں آپ کا فرض اولین ہے کہ اپنے علم کو نافع بناتے ہوئے اپنے خطبات میں خواص وعوام کو عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت اور فتنہ قادیانیت کی ریشہ دوانیوں اور شر انگیزیوں کے بارے میں آگاہ کریں۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے شرمناک کردار اور کرتوتوں کے بارے میں بھی عوام الناس کو بتائیں تاکہ کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ اگر کوئی قادیانی شعائر اسلامی کی توہین کا مرتکب ہو تو فوری طور پر معززین علاقہ کے ہمراہ تھانہ جا کر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی اور 295 سی کے تحت مقدمہ درج کروائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہو۔ نیز قادیانیوں کے قبرستان میں قادیانی قبروں کے اوپر لگے ہوئے کتبوں پر کلمہ طیبہ یا قرآنی آیات وغیرہ لکھنا غیر قانونی ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی آپ کا فرض ہے۔ اگر حق کا متلاشی کوئی قادیانی اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو اس سلسلہ میں اس سے رابطہ کریں۔ اس کے سوالوں کا بڑے اخلاق اور تحمل سے علمی جواب دیں۔ اسے آنجہانی مرزا قادیانی کی متنازعہ کتب سے اصل حوالہ جات دکھائیں۔ یاد رکھیے! آپ کی کوششوں سے اگر ایک بھی قادیانی واپس دین اسلام میں آجاتا ہے تو روز محشر آپ کی مغفرت و بخشش کے لیے یہی نیکی کافی ہے۔

صفحہ 787

اگر آپ خطیب ہیں تو

آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ خطابت ورثہ پیمبری ہے۔ ایک اچھا خطیب جب اپنی خطابت میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے تو دلوں کی بنجر زمین پر کشت ایمان و ایقان لہلہا اٹھتی ہے۔ خطابت کی چاشنی سے سامعین کے اذہان کے بند دریچے کھلتے جاتے ہیں۔ صوتی آہنگ کی مدد سے وہ اپنی علمی وفکری گہرائی و گیرائی کے خوبصورت نقوش مرتسم کر کے سامعین کو ایک جہان حیرت میں پہنچا دیتا ہے۔ میری آپ سے دردمندانہ درخواست ہے کہ آپ اپنے جلسوں بالخصوص خطبات جمعہ میں اپنی ولولہ انگیز خطابت سے لوگوں کے دلوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت وعقیدت کے چراغ روشن کریں، انھیں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے آگاہ کریں اور اس محاذ پر مجاہدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں۔ بالخصوص جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز شخصیت اور اس کے غلیظ کردار کو اپنی جوش خطابت کا لازمی حصہ بنائیں۔ قادیانیوں کے عقائد وعزائم سے عوام الناس کو روشناس کروائیں تاکہ کوئی سادہ لوح مسلمان اپنی متاع ایمان نہ کھو بیٹھے۔

اگر آپ پیر، سجادہ نشین یا روحانی بزرگ ہیں تو

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ، حضرت پیر جماعت علی شاہؒ، پیران سیال شریف، پیران تونسہ شریف، حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ، حضرت خواجہ خان محمدؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن، حضرت مولانا محبّ اللہ اور دیگر مشائخ عظام کی گراں قدر خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ آپ اکابرین اسلام کی دینی غیرت وحمیت کے امین ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام ومرتبہ دیا ہے، وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کے طفیل ہے۔ آپ ﷺ کا آپ پر بہت زیادہ حق ہے۔ اس حق کو ادا کرنے کے لیے آپ اپنے آستانہ پر ہر سال ہونے والی عرس کی تقریب کو تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں تبدیل کر دیں۔ آپ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوع پر ایک جامع کتاب یا کتابچہ تحریر کریں اور اسے اپنے آستانہ سے شائع کروا کر مریدین میں تقسیم کریں۔ اپنے تمام عقیدت مندوں کو حکم جاری کریں کہ وہ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے دن رات ایک کر دیں اور اگر کوئی مرید ایسا نہیں کرتا

صفحہ 788

تو اس کی بیعت فسخ ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ وہ آپ کی سرپرستی میں اپنے اپنے علاقوں میں تحفظ ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کریں۔ اپنے عقیدت مندوں سے قادیانیوں کے مکمل معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کا حلف لیں۔

اگر آپ کا تعلق سیّد فیملی سے ہے تو

یاد رکھیے! یہ آپ کے نانا جان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کا معاملہ ہے۔ ایک عام مسلمان کی نسبت آپ پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ کا اوّلین فریضہ ہے کہ آپ رسم شبیریؓ ادا کرتے ہوئے میدان عمل میں آ کر حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کریں اور اپنے سیّد ہونے کا حق ادا کریں۔

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا

اگر آپ کسی عدالت میں جج ہیں تو

یاد رکھیے! آپ سب سے پہلے مسلمان اور بعد میں جج ہیں۔ روز قیامت ایک بڑا جج بھی ہے جس کی عدالت میں آپ کو حاضر ہونا ہے۔ اس لیے کوئی دباؤ، سفارش، رشوت، اثر ورسوخ یا دوستی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مقدمہ میں آڑے نہیں آنی چاہیے۔ یاد رہے کہ قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں بہت فرق ہے۔ ان سے متعلقہ اسلامی احکامات دیگر عام کافروں (عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ) سے علیحدہ ہیں۔ اس اہم نکتہ کو سامنے رکھتے ہوئے قادیانیوں سے متعلقہ کسی بھی مقدمہ میں آپ عین شریعت کے مطابق انصاف پر مبنی فیصلہ صادر فرمائیں۔ قادیانیت کے خلاف پارلیمنٹ، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلوں سے آپ فکری راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ وکیل ہیں تو

عدالت کے ایوانوں میں اپنی تمام تر صلاحیتیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے وقف کر دیں۔ اس طرح آپ وکیل ختم نبوت کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔ ختم نبوت کے تمام کیسوں کی بغیر کسی فیس کے اپنا کیس سمجھ کر پیروی کریں۔ آپ یوں

صفحہ 789

سمجھیے کہ شفاعت رسول ﷺ خود چل کر آپ کے پاس آ گئی ہے۔ آپ اسے اپنی خوش بختی اور سعادت سمجھیں۔ اس کے برعکس جو وکلا حضرات قادیانی کیسوں کی پیروی کرتے ہوئے عدالت میں ان کے کفریہ عقائد و عزائم کا دفاع کرتے ہیں، دراصل وہ حضور نبی کریم ﷺ سے اپنی لاتعلقی اور دنیا و آخرت میں اپنی بدبختی کے پروانے پر دستخط کرتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرماتے ہیں:

طرف آنجہانی مرزا قادیانی کا۔ وہ لوگ یا وکلا جنھوں نے دین محمدی ﷺ کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن مرزا قادیانی کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے، لیکن شعائر اسلامی کے مسئلہ پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی حضرت محمد ﷺ کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ کا دین ہے اور دوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دین محمدی ﷺ کے مقابلہ میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ کی امت میں شامل نہیں ہوگا، خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر یا حاکم وقت"۔

ایک اور ضروری بات کہ جب کوئی قادیانی اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں آتا ہے تو قادیانی اس سے بدلہ لینے کی خاطر اسے ہراساں کرتے ہیں، اسے دھمکیاں دیتے ہیں اور بالآخر ملی بھگت سے اس پر جھوٹا پرچہ درج کروا دیتے ہیں۔ ایسے نو مسلم کی قانونی معاونت کرنا آپ کا بنیادی فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں اس کار خیر کا اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ

اگر آپ پولیس آفیسر ہیں تو

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (2) 160 اور (3) 260 میں اس کا مستقل اندراج کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا

صفحہ 790

قادیانی کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید اور محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا ، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر اور شعائر اسلامی وغیرہ استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنے علاقہ میں قادیانیوں کو آئین ، قانون اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا پابند بناتے ہوئے انھیں شعائر اسلامی کی توہین کرنے سے باز رکھیں۔ اس سلسلہ میں قادیانیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ یاد رکھیں! قادیانی، اقلیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثریت کی دل آزاری کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ تمام سفارشوں اور قادیانی اثر و رسوخ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف قانون پر عمل درآمد کروائیں۔ یہ آپ کی شرعی ، آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔

اگر آپ اعلیٰ سرکاری آفیسر ہیں تو

آپ سے گزارش ہے کہ آپ قادیانیوں کی شعائر اسلامی کے استعمال اور شان رسالت ﷺ میں توہین کے ضمن میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے تمام فیصلہ جات’ پی ایل ڈی‘ سے ضرور مطالعہ فرمائیں اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائیں کیونکہ قادیانی اپنے خلیفہ کی ہدایت پر آئین اور قانون کا مذاق اور تمسخر اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان جبکہ تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جس سے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

اگر آپ صاحب اقتدار ہیں تو

یاد رکھیے! یہ عہدہ اور منصب آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ بقول حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ”یہ عہدے کوئی چیز نہیں۔ خدا سے اپنا معاملہ درست رکھو۔ آج

صفحہ 791

کسی کا ہارٹ فیل ہو جائے تو قبر میں اگر پوچھا گیا کہ ختم نبوت کے لیے کیا کیا تھا؟ تو کیا جواب دو گے؟ وہاں تو قادیانیوں کی دوستی کام نہیں آئے گی۔ وہاں مرزائیوں کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ حکومتی عہدیداروں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر مرزائیوں کی حمایت کرو گے تو قبر جہنم کا گڑھا بنے گی۔‘‘

صفحۂ کونین سے حرف غلط ہو جاؤ گے
تم نے شورش کی اگر ختم نبوت سے دغا

اگر آپ ایم این اے یا ایم پی اے ہیں تو

ملک بھر میں قادیانیوں کی خلاف قانون سرگرمیوں، شعائر اسلامی کے استعمال اور اس کی بے حرمتی پر اسمبلی میں ”توجہ دلاؤ نوٹس“ کے ذریعے حکومت کو متنبہ کریں اور متعلقہ علاقہ کی انتظامیہ کو فریق بنائیں کہ انہوں نے قادیانیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کو کیوں نہ روکا؟ اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان سے پوچھیں کہ اگر قادیانیوں کی شر انگیزیوں کی وجہ سے علاقہ میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی تو کون ذمہ دار ہوتا؟ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کے خلاف کی گئی قانون سازی پر مکمل عمل درآمد کے لیے اسمبلی میں بھر پور آواز اٹھائیں۔ مزید برآں اسمبلی میں مرتد کی شرعی سزا کا بل پاس کروائیں تاکہ بھولے بھالے مسلمانوں کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ آپ کا یہ کارنامہ سنہری حروف سے لکھا، اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو روز محشر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شفاعت نصیب ہوگی۔

اگر آپ ملکی یا مقامی سیاست دان ہیں تو

اس میدان میں آپ کو مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ اور مولانا ساجد میر ایسے صاحبان فہم و فراست اور دینی غیرت و حمیت کے حامل جید سیاستدانوں کی تقلید کرنی چاہیے۔ اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے قادیانی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ حکومت کی قادیانیت نوازی پر بھر پور آواز اٹھائیں۔ حکومت سے اپنے تعاون کو تحفظ ختم نبوت اور مرتد کی شرعی سزا کے نفاذ کے ساتھ مشروط کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے علاقہ کے کسی قادیانی کا نام

صفحہ 792

مسلم ووٹروں کی فہرست میں درج نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اس خطرناک ہتھیار اور سازش کے ذریعے لادین اور قادیانی نواز سیاستدانوں سے اپنے ووٹوں کا سودا کر کے ان سے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اپنے علاقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اگر کوئی قادیانی آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو اشعائر اسلامی کا استعمال کرتا ہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا ہے یا خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے تو فوری طور پر اس کا نوٹس لیں اور تمام صورت حال کو انتظامیہ کے نوٹس میں لائیں تاکہ ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298-C کے تحت قانونی کارروائی ہو سکے۔

اگر آپ صحافی ہیں تو

اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے قلم کی جولانیوں سے ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانی سازشوں کو بے نقاب کریں اور اس موضوع پر مستقل کالم اور مضامین لکھ کر مختلف اخبارات و رسائل میں شائع کروائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس عقیدہ کے بارے میں روشناس ہو سکیں۔ ہر سال 7 ستمبر کو یادگار دن کے طور پر منانے کے لیے اخبارات و رسائل کے خصوصی ایڈیشن شائع کروانے کے لیے اپنی پوری کوششیں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

اگر آپ شاعر یا ادیب ہیں تو

حضرت حسانؓ بن ثابت کی پیروی میں گستاخانِ رسولؐ کے خلاف اپنی شاعری کو وقف کریں۔ حضور نبی کریم ﷺ سے محبت وعقیدت، عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوع پر ولولہ انگیز نظموں اور قادیانیت شکن اشعار کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کو ایک نئی جلا بخشیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”مومن اپنی تلوار سے جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی“ یہ فرما کر آپ ﷺ نے مسلمان شعرا و ادبا پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے۔ آج ہمیں جس فکری اور ثقافتی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب اگر ہمیں اس کو روکنا ہے اور اپنی تہذیب، اپنے نظریات اور اپنی قدروں کے ساتھ جینا ہے تو اس کے لیے جہاد بالسیف کے ساتھ ساتھ جہاد بالقلم کی بھی ضرورت ہے۔ اب یہ مسلمان اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فکری اور ثقافتی یلغار کے آگے بند باندھ لیں اور حقِ قلم ادا کریں۔

صفحہ 793

اگر آپ والدین ہیں تو

اپنے بچوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی محبت سکھائیں۔ ان کے سامنے پیارے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ (فدا روحی وابی و امی) کی عظمت اور احترام کی باتیں کریں۔ شہیدان ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کے ایمان پرور واقعات پڑھ کر بچوں کو سنایئے اور پھر بعد میں ان سے اُن کی زبانی سنیے۔ ان کے دلوں کی خالی تختیوں پر محبت رسول ﷺ کو نقش کر دیجیے تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل میں ناموس رسول ﷺ پر جانیں فدا کرنے کا جذبہ سلامت رہے اور وہ دنیاوی خرافات میں پڑنے کے بجائے اپنی زندگیوں کو سنت مطہرہ کے نور سے منور کریں۔ آج کفار بالخصوص قادیانی مختلف حیلوں بہانوں سے مسلمان بچوں کو گمراہ کر کے امت مسلمہ میں ایک فکری اور عملی خلاء پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو رسول اللہ ﷺ کا سچا اور وفادار امتی بنا کر ان تمام سازشوں کو ناکام بنادیں۔ انہیں ”تحفظ ختم نبوت کورس“ کروانے کا اہتمام کریں تاکہ زندگی کے کسی بھی مرحلہ میں وہ اپنی متاع ایمان نہ کھو بیٹھیں۔ مزید برآں انہیں تقریباً 250 سے زائد اہم سوالات کے جوابات پر مبنی قیمتی کتابچہ ”معلومات ختم نبوت“ ضرور پڑھنے کے لیے دیں۔

اگر آپ خاتون خانہ ہیں تو

یقین مانیے کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ پر مردوں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس محاذ پر آپ کا کردار بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ قدرت نے آپ کو کئی روپ عطا کیے ہیں۔ آپ ماں ہیں، بہن ہیں، بیوی ہیں، بیٹی ہیں۔ آپ ہر روپ میں ہر لحاظ سے معزز اور محترم ٹھہری ہیں۔ آپ کا فطری تقدس، پاکیزگی اور نسوانی حرمت صرف اور صرف اسلام کی مرہون منت ہے۔ سب سے پہلے آپ کو چاہیے کہ آپ تحفظ ختم نبوت سے متعلقہ بنیادی لٹریچر ضرور پڑھیں۔ پھر اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو اپنے حلقہ اثر میں پھیلائیں۔ اپنے شوہر، بچوں اور بہن بھائیوں کو تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی خوب ترغیب دیں۔ انہیں ختم نبوت کانفرنسز، کورسز، سیمینارز، کوئز مقابلوں اور انعام گھر وغیرہ میں شرکت کے لیے آمادہ کریں۔ ہر ماہ گھر کا سامان خریدتے وقت قادیانی مصنوعات بالخصوص شیزان کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ آپ جب بھی اپنی کسی بیٹی یا بہن کا رشتہ کہیں طے کریں تو سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ (سسرال والے) مسلمان ہیں اور ان کا

صفحہ 794

قادیانیوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ کے محلہ میں کوئی قادیانی فیملی ہے تو اُن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ ان کی خواتین ہماری مسلمان خواتین کو اپنے باطل مذہب کی تبلیغ نہ کریں۔ قانون کے مطابق کوئی قادیانی مرد یا عورت اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں سکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اُس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-298 کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔ اگر قادیانی خواتین ایسا کریں تو آپ فوری طور پر دو کام کریں۔ سب سے پہلے آپ اپنی قریبی خواتین کو ساتھ لے کر علاقہ بھر میں گھر گھر جا کر ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی شر انگیزیوں کے بارے میں آگاہ کریں۔ دوسرا یہ کہ ان قادیانی خواتین کی خلاف قانون سرگرمیاں علاقہ کے معززین (دینی و سیاسی شخصیات) کے نوٹس میں لائیں تاکہ اس سلسلہ میں اُن کے خلاف قانونی اقدامات ہوسکیں۔ آپ کی ان کاوشوں کے بدلے آپ کو حضور خاتم النبیین ﷺ کی ازواج مطہرات اور بالخصوص آپ ﷺ کی لخت جگر شہزادی کونین سیدۃ النسا حضرت فاطمۃ الزہرا کا خصوصی قرب حاصل ہوگا۔ اگر یہ عظیم ہستیاں آپ کے کام سے خوش ہو جائیں تو آپ کو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام چاہیے؟

اگر آپ کسی سرکاری یا نجی کالج، اکیڈمی یا سکول میں استاد ہیں تو

باقاعدگی سے اپنے شاگردوں کو عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کے بارے میں ضرور بتایا کریں اور اس سلسلہ میں اپنے ادارہ میں تقریری و تحریری مقابلہ جات اور انعام گھر کی طرز پر کوئز پروگرام منعقد کروایا کریں تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں اس موضوع کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ شوق پیدا ہو۔ جب آپ کا پیریڈ ختم ہو تو آخر میں زوردار آواز میں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگوائیں۔

اگر آپ کسی سکول، کالج، اکیڈمی یا دینی مدرسے میں طالب علم ہیں تو

اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت سے متعلقہ رسائل، لٹریچر، کتب وغیرہ کا خود بھی مطالعہ فرمائیں اور اپنے دوستوں کو بھی اس کی ترغیب و دعوت دیں۔ آپ کے لیے نہایت ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے ختم نبوت خط و کتابت کورس کریں۔ تحفظ ختم نبوت کے مختلف ادارے یہ کورس کرواتے ہیں۔ اس سے آپ کو عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور فتنہ قادیانیت سے متعلق حیرت انگیز معلومات اور چشم کشا انکشافات سے آگہی ملے گی۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ قانون کے مطابق کوئی قادیانی استاد مسلمان

صفحہ 795

طالب علموں کو اسلامیات کا مضمون نہیں پڑھا سکتا۔ بدقسمتی سے اگر آپ کے ادارہ میں ایسا ہو تو آپ نا صرف اس سے اسلامیات پڑھنے سے انکار کر دیں بلکہ اس بات کو ادارہ کے سربراہ کے نوٹس میں بھی لائیں۔ بہت سے قادیانیوں نے مختلف علاقوں میں ”فری ٹیوشن سنٹر“ بنا رکھے ہیں جس کی آڑ میں وہ مسلمان نوجوانوں کو ملازمت، غیر ملکی ویزا، قرض اور رشتہ کا لالچ دے کر انہیں مرتد بنا لیتے ہیں۔ قادیانیوں کی ایسی شکار گاہوں پر کڑی نظر رکھنا آپ کا اولین فرض منصبی ہے۔

اگر آپ کمپیوٹر یا انٹرنیٹ جانتے ہیں تو

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوعات پر مرکز سراجیہ گلبرگ لاہور کی تیار کردہ مختلف علمائے کرام اور دانشوروں کے ایمان افروز بیانات آڈیو اور ویڈیو سی ڈیز خود بھی سنیں اور اپنے دوستوں، عزیز رشتہ داروں، بالخصوص اپنے اہل خانہ کو بھی ضرور سنائیں تاکہ انہیں اس اہم مسئلہ سے آگاہی ہو سکے۔ مزید برآں آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹس باقاعدگی سے وزٹ کیا کریں (اپنے دوستوں کو بھی اس کی بھر پور دعوت و ترغیب دیں)۔ یہاں آپ کو تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر بے شمار اہم کتب، کتابچے اور مضامین پڑھنے کو ملیں گے۔ آپ انہیں آن لائن پڑھ سکتے ہیں، ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور ان کا پرنٹ بھی لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں آپ کو دین اسلام کے خلاف جدید فتنوں کی شر انگیزیوں کے بارے میں بھی معلومات ملیں گی۔

www.youtube.com/c/ktvofficial www.ktvnews.com.pk www.endofprophethood.com www.khatmenubuwwat.org www.difaekhatmenabowat.com

آپ سے درد مندانہ درخواست ہے کہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان ویب سائٹس کو مزید معلوماتی، جامع، خوبصورت اور مفید بنانے کے لیے بھر پور تعاون کریں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں۔

اگر آپ ڈیزائنر ہیں تو

جدید ٹیکنالوجی اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت پر مبنی لٹریچر (کتب، پمفلٹس) کے جاذب

صفحہ 796

بطور ٹائٹل، بہترین خطاطی میں خوبصورت سٹیکرز اور بہترین ڈیزائننگ میں دیدہ زیب سالانہ کیلنڈر تیار کریں۔ اس موضوع پر آپ کا بنایا ہوا منفرد ڈیزائن نہ صرف لاکھوں میں شیئر ہوگا بلکہ یہ آپ کے لیے بہترین صدقہ جاریہ کا بھی کام دے گا۔

اگر آپ پبلشر ہیں تو

براہ کرم اپنے ادارہ سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ، تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر معیاری کتب شائع کریں۔ کتاب کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ ساتھ اسے بغیر نفع ونقصان کے فروخت کریں۔ کسی کتاب میلہ میں اپنے سٹال پر اس موضوع پر اپنی اور دیگر اداروں کی زیادہ سے زیادہ کتب رکھیں تاکہ لوگوں کو اس موضوع سے مکمل شعور و آگہی حاصل ہو۔ ایسی تمام کتب جو قادیانیت نوازی پر مبنی یا اسلامی تعلیمات کے خلاف یا لادینیت اور فحاشی کو فروغ دیتی ہوں، انہیں اپنی دوکان سے فوری طور پر ہٹا دیں۔ اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں بے شمار نعمتوں اور رحمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ ان شاء اللہ

اگر آپ کسی ہاسٹل میں رہتے ہیں تو

اپنے ہاسٹل فیلوز کو تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں اور قادیانی طلبہ کی شر انگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اپنے دوستوں کے ہمراہ ہاسٹل وارڈن سے ملاقات کر کے انھیں اس حساس مسئلہ سے آگاہ کریں اور ’’میس‘‘ میں قادیانی طلبہ کے برتن علیحدہ کرنے پر اصرار کریں۔

اگر آپ کسی کاروبار سے وابستہ یا دکاندار ہیں تو

آپ کی دینی غیرت وحمیت کا تقاضا ہے کہ آپ ہر قسم کے لین دین اور خرید و فروخت میں قادیانیوں کی تمام تر مصنوعات بالخصوص شیزان وغیرہ کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شیزان مرزائیوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کی آمدنی کا ایک کثیر حصہ دارالکفر ربوہ جاتا ہے۔ مسلمان اپنی کم علمی کی بنا پر اس کے مشروبات اور دیگر مصنوعات خرید کر کم از کم 30 فیصد رقم ربوہ فنڈ میں جمع کرواتے ہیں اور اس طرح اپنے آقا ومولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ، دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانے کے بھیانک جرم میں شریک ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ شیزان کی تمام اشیاء حرام اور لحم الخنزیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔

صفحہ 797

معروف سابق قادیانی مرزا محمد حسین نے ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیزان کمپنی کے مالک شاہنواز قادیانی کی خصوصی ہدایت پر اس کی تمام مصنوعات میں ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ کی ناپاک مٹی بطور تبرک استعمال ہوتی ہے۔ لہٰذا شیزان کی تمام تر مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہر غیور مسلمان عاشق رسول ﷺ کا دینی وملی فرض ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کی نظر میں کوئی دوسری قادیانی کمپنی یا آپ کے شہر میں کوئی دکان ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کیجیے۔ یہ آپ کی دینی غیرت وحمیت کا اولین تقاضا ہے۔ یاد رکھیں! ہر نفع ونقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر آپ کی وجہ سے قادیانیوں کو منافع اور فائدہ پہنچ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں میں مالی طور پر بالواسطہ آپ بھی شامل ہورہے ہیں۔ یہ چیز آپ کی آخرت کو برباد کردے گی۔ لہٰذا اس سے اجتناب کریں۔ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس تاریخی دن کو یادگار بنانے کے لیے آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہر سال 7 ستمبر کو اپنے کاروبار یا دوکان کی اشیاء پر خصوصی سیل لگائیں تاکہ اس حوالے سے لوگوں کو آگہی ہو۔ تحفظ ختم نبوت کے لیے آپ کا یہ عمل روز محشر آپ کی بخشش ومغفرت کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاء اللہ

اگر آپ صاحب حیثیت اور مخیّر ہیں تو

یاد رکھیے! عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے خرچ کرنا سب سے بہترین اور بے حد اجر وثواب کا حامل ہے۔ اس کے بدلے آپ کو اللہ تعالیٰ 700 گنا زیادہ ثواب سے نوازیں گے۔ چنانچہ تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر ہر سال کیلنڈر اور لٹریچر شائع کروا کر تقسیم کیجیے تاکہ لوگوں کو اس اہم عقیدہ سے متعلق آگاہی ہو اور ان کا ایمان محفوظ رہے۔ یہ صدقہ جاریہ ہے جو ہمیشہ آپ کے کام آئے گا اور بالخصوص آخرت میں آپ کی نجات کا وسیلہ بنے گا۔

اگر آپ کسی فیکٹری یا مل وغیرہ میں کام کرتے ہیں تو

آپ فارغ وقت میں تمام مزدوروں کو اس مسئلہ سے آگاہ کریں اور انھیں تحفظ ختم نبوت کے ایمان افروز واقعات سنائیں۔ نیز انھیں قادیانی فتنہ کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے مضحکہ خیز کردار کے بارے میں بھی آگاہ کریں لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب آپ کا اس موضوع پر وسیع مطالعہ ہوگا۔

صفحہ 798

اگر آپ کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا بیکری وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں تو

اس کے مرکزی دروازے پر جلی حروف سے لکھ کر یہ تحریر لگائیں کہ ”یہاں گستاخان رسول قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے!“ اس سے آپ کے کاروبار میں بے حد برکت اور ترقی آئے گی اور آپ چند ہی روز میں خود اس کا مشاہدہ کر لیں گے۔

اگر آپ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں تو

اپنی خداداد صلاحیتوں کو تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف کر دیں۔ قادیانی سوشل میڈیا پر اپنے روایتی دجل وفریب اور باطل تاویلات کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کے دلوں میں شکوک شبہات پیدا کرتے ہیں۔ آپ اس موضوع پر وسیع مطالعہ کے بعد نہایت علمی و تحقیقی انداز میں ان شکوک وشبہات کا مسکت جواب دیں۔ ان کے کفریہ عقائد وعزائم کو بے نقاب کریں۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے غلیظ کردار کو عام کریں۔ سوشل میڈیا پر نئے نئے آئیڈیاز کے ذریعے ایسی منفرد پوسٹیں بنا کر شیئر کریں کہ جس سے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت ہو اور قادیانی لاجواب ہو کر اپنے مذہب پر تین حرف بھیجنے پر مجبور ہو جائیں۔ آپ کی یہ خدمت قبر وحشر میں چراغ راہ کا کام دے گی۔ ان شاء اللہ

کیا ہم اپنے آقا ومولا احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (فداہ روحی وابی وامی) کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے یہ بالکل آسان اور بے ضرر اقدامات بھی نہیں کر سکتے؟ کیا ہمارے مسلمان ہونے کا اتنا تقاضا بھی نہیں کہ تحفظ ختم نبوت کی خاطر کچھ نہ کچھ کر گزریں؟ سید امین گیلانیؒ نے بہت پہلے ہمیں یاد دلایا تھا:

حرمت دین محمدﷺ کے نگہبانو! اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے
مشعل نور محمدﷺ کو بجھانے کے لیے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لیے
غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموس محمدﷺ کے نگہبان یاد ہے
تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں یاد ہے
صفحہ 799

اس وقت اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کو خوش و مسرور کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ ہر مسلمان عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے خود بھی کام کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ کرے کیونکہ تحفظ ختم نبوت کا کام صحابۂ کرام کا کام ہے۔

یہ کام بلاشبہ اس وقت کا جہادِ عظیم ہے۔ پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت ہمارا کوئی کام اس کام سے زیادہ محبوب نہیں اور ہمارا کوئی عمل حضور نبی کریم ﷺ کو اس عمل سے زیادہ خوش کرنے والا نہیں۔ اگر یہ کام اخلاص و محبت سے کیا جائے تو دنیا و جہان کی تمام کامیابیاں ہمارے پاؤں چومیں گی۔ کاش اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان کام کی عظمت و افادیت ہر مسلمان پر منکشف کردے!

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ راہ رکھ دیا

آخر میں جناب سیّد منظور الحسن کی سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی نظم ”تمھیں محمد ﷺ کا عشق اب بھی پکارتا ہے“ پیش خدمت ہے۔ اس نظم کو غور و فکر سے پڑھیے...... اور سوچیے...... کہ ہم کہاں کھڑے ہیں...... بحیثیت مسلمان، ہماری کیا ذمہ داری ہے؟...... اور کیا ہم اپنی اس ذمہ داری کو پورا کر رہے ہیں......؟؟؟

تمھیں محمد ﷺ کا عشق اب بھی پکارتا ہے!

سنو محمد ﷺ کا نام نامی زبان اپنی پہ لانے والو
اسی کے صدقے سے ملنے والی کتابِ ہستی سجانے والو
اسے حرا میں رُلانے والو
اُس سے محبت جتانے والو
مگر محمد ﷺ کے دشمنوں سے محبتوں کو بڑھانے والو
تمھارے اندر نبی ﷺ کی اُلفت کی اک رمق بھی نہیں رہی ہے؟
تمھارے چہرے پہ اُس کی یادوں کی ایک جھلک بھی نہیں رہی ہے؟
نبی ﷺ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
ذرا محمد ﷺ کے پیار کا اپنے واسطے تم مقام دیکھو
گریباں اپنے بھی جھانک دیکھو
صفحہ 800
اُسی نبی ﷺ کی محبتوں کا مقام دیکھو
کہ جس نے امت سے پیار کرنے پہ چمن طائف میں زخم کھائے
وہی محمد ﷺ کہ جس نے اپنے
تمام آنسو خدا کے آگے تمہاری خاطر ہی ہیں بہائے
شہید دندان بھی کرائے! شدید صدمات بھی اٹھائے
وہی محمد ﷺ کہ جس نے تم کو ہیں درس انسانیت سکھائے
وہی محمد ﷺ کہ جس نے تمھارے پیار کی خاطر ہی اپنا آبائی شہر چھوڑا
وہی محمد ﷺ کہ جس نے فاقے تو کر لیے پر نہ تم سے عہد وفا کو توڑا
وہی محمد ﷺ کہ جس کے ہونٹوں سے پتھروں کے عوض دعاؤں کے پھول برسے
وہی محمد ﷺ کہ جس کی چند مسکراہٹوں پر خدا تمھارے گناہ بخشے
اسی کی روح عظیم تمہاری الفتوں کو تلاش کرنے میں سرگرم ہے
مگر تمہاری محبتوں کے خزانے خالی پڑے ہیں لوگو!
تمھارے آقا ﷺ تمہاری غیرت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو!
نبی کے دشمن کمینے ہیں لوگو، کفر کے پہرے کڑے ہیں لوگو!
مگر ہم اپنی محبتوں پر
رسول ﷺ سے بیوفائیوں کے لبادے اوڑھے کھڑے ہیں لوگو!
ہمارے آقا ﷺ ہماری چاہت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو!
سنو! محمد ﷺ کا نام سنتے ہی آنسو بہانے والو!
سنو! محمد ﷺ کے منہ سے نکلے حروف کو بیچ کھانے والو!
سنو نبی ﷺ کے نقوش پا کی تلاش میں نکلے راستوں کو مٹانے والو!
سنو محمد ﷺ کے دشمنوں سے محبتوں کو بڑھانے والو!
تمھیں ذرا بھی خبر نہیں ہے
کہ قادیانی تمھارے آقا ﷺ کی عظمتوں کو
طویل مدت سے ماند کرنے میں سرگرم ہیں
وہ کب سے تمہاری بے بسی اور بے حسی پر
صفحہ 801
خوشی کے نعرے لگا رہے ہیں
نبی ﷺ کا دین مٹانے میں کوشاں ہیں
تمھیں تمھارے عظیم آبا سے ملنے والی
میراث عشق محمدی ﷺ کو مٹا رہے ہیں
سنو محمد ﷺ کا دیں بچانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
تفرقہ بازی کے بت گرانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نجاست قادیاں مٹانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نبی ﷺ سے عہد وفا نبھانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
سنو محمد ﷺ کے بے وفاؤ!
تمھیں کو اپنے نبی ﷺ سے وعدے نبھانے ہوں گے
تمھیں کو اُمت کو ایک رستے پہ لانا ہوگا
تمھیں کو دشمنان اُمت دبانے ہوں گے
تمھیں کو فتنہ قادیاں کو مٹانا ہوگا
نبی ﷺ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
تمھیں محمد ﷺ کا عشق اب بھی پکارتا ہے
خدا بھی بھٹکے ہوؤں کے رستے سنوارتا ہے
چلو خدارا!
منافقت کے قبیح لبادے اُتار ڈالیں
نبی ﷺ کے اعدا کو اجاڑ ڈالیں
خدا کی رحمت پہ کر کے بھروسا
چلو کہ فتنہ قادیاں کو
جڑوں سے اُس کی اکھاڑ ڈالیں
چلو کہ اپنے لہو کو عشق محمد ﷺ پہ نثار کر ڈالیں
صفحہ 802

مآخذ

Wait Wait Let me fix that last line.

Let me rewrite the exact sequence.

مآخذ

Wait, I will generate it correctly without internal thoughts breaking the text. Ah, my bad.

مآخذ

صفحہ 803
صفحہ 804

رسائل و جرائد

صفحہ 805

❁......۞......❁

صفحہ 806

رشتے محبت کے

ماں، باپ، بیوی، بیٹی اور بہن ایسے انمول رشتوں سے متعلق آنکھوں کے راستے دل میں اُتر جانے والی محبت و عقیدت میں ڈوبی ہوئی اثر انگیز اور ایمان افروز تحریریں جن کا عمیق مطالعہ آپ کے جذبوں کو ایک نئی جلا بخشے گا!

محمد متین خالد

تذکرہ جس کے مطالعہ سے قلوب و اذہان معطر و منور ہو جاتے ہیں۔

آنسوؤں اور لازوال قربانیوں سے لبریز دل نشیں تحریریں

پرونے والی روح پرور تالیف

انسانی کا خلوص فطرۃً کارفرما رہا ہے۔

اثرات مرتب کرنے والا سحر انگیز اسلوب

سے زندگی کی جھلکیاں نمودار ہیں۔

اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں، آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے اور یہی اس کتاب کا تقاضا ہے

ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے

صفحہ 807

قانون تحفظ ناموس رسالتﷺ

قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالتﷺ منظور کیے جانے کی مکمل کارروائی

محمد متین خالد

وجدانی کیفیت طاری ہوتی ہے، گویا وہ قومی اسمبلی میں بیٹھا براہ راست خود یہ کارروائی دیکھ رہا ہے۔

کہا، کس نے حمایت کی، کس نے مخالفت کی، کس نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی، تمام پوشیدہ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔

و مؤثر جوابات جس سے تمام شکوک وشبہات کا مؤثر ازالہ ہو جاتا ہے۔

علمی و تحقیقی مضامین کا خوبصورت انتخاب جس کا مطالعہ نہ صرف آپ کی بصارت و بصیرت کو ایک نئی جلا بخشے گا بلکہ آپ کو اس نوع کی تمام کتب سے بے نیاز کر دے گا۔

معروف کالم نگار و اینکر پرسن جناب غلام نبی مدنی اور وکیل تحفظ ناموس رسالتﷺ جناب محمد نوید شاہین (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) کی گرانقدر اور فکر انگیز تقاریظ کے ساتھ

لمحہ بہ لمحہ چشم کشا حقائق و واقعات ...... پہلی بار منظر عام پر ایک ایسی قومی و تاریخی دستاویز جس کا مدتوں سے انتظار تھا پڑھیے اور تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے آگے بڑھیے!

ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے

PDF 809

کارکنانِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے لیے ایک گرانقدر تحفہ

تحفظ ختم نبوت اہمیت اور فضیلت

دینی غیرت وحمیّت پر مبنی ایک فکر انگیز دستاویز

ایک ایسی تاریخی وتحقیقی کتاب

محمد متین خالد

ایمانی جرأت وبسالت سے لبریز ولولہ انگیز حقائق و واقعات سے مزین ہے۔

اور چشم کشا مشاہدات و تجربات پر مبنی ہے۔

تذکرہ ہے۔

پُرنَم آنکھوں سے براہ راست دیکھتا ہے۔

جذبات و احساسات اجاگر ہو جاتے ہیں۔

کا سبق لیے ہوئے ہے۔

نئے ولولے اور تازہ جذبے کے ساتھ اس محاذ پر برسر پیکار رہتے ہیں۔

آنکھوں کے راستے دل میں اتر جانے والی یہ کتاب ہر مسلمان کے لیے ایک گرانقدر تحفہ ہے ...... اسے پڑھئے ...... سمجھئے ...... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے ...... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!

علم وعرفان پبلشرز

الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ 37223584 '37232336 '37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/ilmoirfanpublishers