احتساب قادیانیت جلد 19 · مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 19 · Maulana Muhammad Ibrahim Mir Sialkoti
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

حضرت مولانا عبداللطیف رحمانیؒ

حضرت مولانا ظہور احمد صاحب بگویؒ

احتسابِ قادیانیت

جلد نہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

حضرت مولانا عبداللطیف رحمانیؒ

حضرت مولانا ظہور احمد صاحب بگویؒ

احتساب قادیانیت

جلد ١٩

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحیم !

احتساب قادیانیت جلد انیس (١٩) حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی حضرت مولانا عبد اللطیف رحمانی حضرت مولانا ظہور احمد صاحب بگوی

٥٩٢

٢٠٠ روپے اصغر پریس لاہور جون ٢٠٠٧ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

بسم الله الرحمن الرحیم!

عرض مرتب

لیجئے احتساب قادیانیت کی انیسویں جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے بارہ (١٢)، مولانا مفتی عبد اللطیف رحمانی کے تین (٣) اور حضرت مولانا ظہور احمد بگوی کا ایک رسالہ یعنی کل سولہ (١٦) رسائل و کتب شامل ہیں۔ پہلے نمبر پر حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے رسائل شامل اشاعت ہیں۔

ہمارے مخدوم و ممدوح حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی معروف اہل حدیث راہنماء تھے۔ مزاجاً معتدل اور صالح طبیعت کے انسان تھے۔ ایک اچھے انسان کی تمام خوبیوں کے حامل تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو خلوص وللہیت کی نعمت سے بھر پور نوازا تھا۔

تحریر و تبلیغ کی طرح فن مناظرہ کے بھی شناور تھے۔ قرآن وحدیث اور دیگر علوم دینیہ پر بھر پور دسترس رکھتے تھے۔ اپنے زمانہ میں رد قادیانیت کے امام تھے۔ آپ نے رد قادیانیت پر ”شہادت القرآن فی اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام پر دو حصوں میں کتاب لکھی۔ جو مرزا قادیانی کی زندگی میں آپ نے شائع کی۔ مرزا قادیانی اس کا جواب نہ دے پایا۔ حالانکہ اسے جواب دینے کے لئے للکارا گیا تھا۔ یہ کتاب نایاب ہو گئی تو اسے پھر قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے حکم پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت سے شائع کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر سلسلہ عالیہ قادریہ کے شیخ المشائخ حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ”میں اس مجلس میں موجود تھا جس مجلس میں حضرت رائے پوری نے حضرت جالندھری سے اس کتاب کی اشاعت کے لئے فرمایا۔ مگر کتاب کا حصول اور طباعت کی اجازت کا مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے ورثاء سے مرحلہ درپیش تھا۔ چونکہ میرا (سید نفیس الحسینی مدظلہ) آبائی تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ اس لئے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ یہ مرحلے میں طے کروں گا۔ چنانچہ علی الصبح اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سیالکوٹ چل نکلا۔ مولانا ابراہیم میر کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ آپ کے بھتیجے مولانا محمد عبد القیوم میر (والد ماجد پروفیسر ساجد

صفحہ ٥

میر) آپ کے وارث تھے۔ ان نے دروازہ پر دستک دی۔ باہر تشریف لائے۔ میں (سید نفیس الحسینی مدظلہ) نے ان سے حضرت رائے پوری کی خواہش کا اظہار کیا۔ کتاب اور اجازت اشاعت طلب کی، وہ الٹے پاؤں گھر گئے۔ لائبریری سے وہ کتاب اٹھالائے اور یہ وہ نسخہ تھا جس پر مصنف مرحوم (مولانا محمد ابراہیم میر) نے ضروری اضافے و ترامیم کی تھیں۔ لیکن اس نسخہ کے سرورق پر مصنف مرحوم کا نوٹ لگا تھا۔ ”بدلحاظ بن جاؤ لیکن کتاب کو لائبریری سے مت باہر جانے دو“ یہ نوٹ پڑھ کر کتاب کے حصول کی بابت مایوسی ہوئی۔ لیکن قدرت کا کرم کہ اگلے ہی لمحہ میں میر عبدالقیوم نے فرمایا کہ چھپوانا مطلوب ہے اور حضرت رائے پوری کا حکم ہے۔ لیجئے کتاب بھی حاضر اور چھاپنے کی بھی اجازت ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ کتاب لے کر خوشی خوشی دوپہر تک لاہور حضرت رائے پوری کی خدمت حاضر ہو گیا۔ حضرت نے اس کارروائی پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیں اور کتاب کی کتابت اپنی نگرانی میں کرانے کا حکم دیا۔ مناظر اسلام، مولانا لال حسین اختر نے اپنے ذاتی نسخہ سے کتابت کی اجازت دی اور مصنف مرحوم کے نسخہ جس میں ترامیم واضافے تھے۔ اسے سامنے رکھا گیا۔ جتنی کتابت ہوتی جاتی وہ میر عبدالقیوم صاحب کو بھجوادی جاتی۔ وہ پروف پڑھتے رہے یوں مختصر عرصہ میں کتاب چھپنے کے لئے تیار ہوگئی۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا اور اس نسخہ کے پھر کئی بار ایڈیشن مجلس نے شائع کئے۔“ اب اسے سرگودھا کا ایک اہلحدیث ادارہ شائع کر رہا ہے۔

اس کتاب کے علاوہ مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے رد قادیانیت پر کئی رسائل بھی شائع ہوئے۔ کس طرح اپنے دلی درد کا اظہار کیا جائے کہ وہ تمام رسائل میسر نہ آئے۔ بہت ساری لائبریریوں کو چھان مارا بعض حضرات کو خطوط بھی لکھے۔ لیکن سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ ملا۔ دنیا کو کیا ہو گیا ہے۔ فالی اللہ المشتکی!

حضرت مولانا پروفیسر ساجد میر خوب آدمی ہیں۔ عرصہ ہوا اپنے مخدوم مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی لائبریری دیکھنے کے لئے اجازت طلب کی۔ کئی بار خطوط کا جواب نہ ملا۔ پھر خود تاریخ مقرر کر کے حاضری کا فقیر نے اعلان پر مشتمل عریضہ لکھا۔ جواب ملا لائبریری بن رہی ہے۔ کچھ عرصہ بعد قابل استفادہ ہوگی۔ چنانچہ چھ ماہ بعد خود جا دھمکا۔

پروفیسر صاحب تو موجود نہ تھے۔ ان کے بعد جو صاحب لائبریر کے مجاز تھے انہوں نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے رسائل پر مشتمل دیکھ رکھی تھی۔ یہ نسبت کام کرگئی۔ انہوں نے آنکھوں پر بٹھایا (ا نہیں ہے۔ جس حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خوش رکھیں) لائبر مل گئی۔ تمام تھکاوٹ دروازہ سے باہر رکھ کر تازہ دم اندر قدم رکھا۔ تو پھر کمر ٹوٹ گئی کہ مکمل رسائل وہاں بھی موجود نہیں تھے۔ جو کرا دیئے۔ غالباً اس سفر میں حضرت مولانا فقیر اللہ اختر کی ہمرا اب سالہا سال بعد میسر آجانے والے رسائل کی اشاعت کی باری كله لا يترك كله کے فارمولا کے تحت ان رسائل کو شامل اشاعـ ’میرے دل میں درد سا ہے‘ کے تحت جان نکلی جا رہی ہے کہ کاش تـ کل بارہ رسائل میسر آئے۔

رسالہ فص خاتم النبوۃ پر سلسلہ تبلیغ نمبر ٢٨ درج ہے۔ باقی نمبر ٢ ہے۔ پہلی چٹھی نہ مل سکی۔ ایک رسالہ تردید مغالطات مرزائی نمبـ کے بعد والے نہ مل سکے۔ مل جاتے تو سونے پر سہاگہ ہوتا۔ اس کتـ کرم فرما حاتم طائی کے ریکارڈ کو توڑ دے تو وہ بھی کسی جلد میں شائع کر الاولون للاخرون ہی پر معاملہ چھوڑتے ہیں۔ جو بارہ رسائل مـ

قادیانی عبادت گاہ کے ابو یوسف مبارک قادیانی سے آپ کی گفتگـ شانے چت کیا گیا ہے۔ پڑھیں گے جھوم اٹھیں گے۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے ہے کہ تینوں سماوی مذاہب کے پیروکاروں میں سے ایک شخص مرحوم نے قرآن وسنت اور حالات و مشاہدات سے اس دعویٰ جامع ، بقامت کہتر و بقیمت بہتر ، کا مصداق ہے۔

صفحہ ٥

پروفیسر صاحب تو موجود نہ تھے۔ ان کے بعد جو صاحب لائبریری سے استفادہ کی اجازت کے مجاز تھے انہوں نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کی جلد دیکھ رکھی تھی۔ یہ نسبت کام کر گئی۔ انہوں نے آنکھوں پر بٹھایا (افسوس کہ اس محسن کا نام یاد نہیں ہے۔ جس حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خوش رکھیں ) لائبریری میں داخلہ کی اجازت مل گئی۔ تمام تھکاوٹ دروازہ سے باہر رکھ کر تازہ دم اندر قدم رکھا۔ متعلقہ حصہ لائبریری دیکھا تو پھر کمر ٹوٹ گئی کہ مکمل رسائل وہاں بھی موجود نہیں تھے۔ جو موجود تھے انہوں نے فوٹو کرا دیئے۔ غالباً اس سفر میں حضرت مولانا فقیر اللہ اختر کی ہمراہی کا مجھے شرف حاصل تھا۔

اب سالہا سال بعد میسر آ جانے والے رسائل کی اشاعت کی باری آئی ہے۔ مالا يدرك كله لا يترك كله کے فارمولا کے تحت ان رسائل کو شامل اشاعت کر رہے ہیں۔ لیکن ”آج میرے دل میں درد سوا ہے“ کے تحت جان نکلی جا رہی ہے کہ کاش تمام رسائل مل جاتے۔ ہمیں کل بارہ رسائل میسر آئے۔

رسالہ فیصلہ ختم النبوۃ پر سلسلہ تبلیغ نمبر ٢٨ درج ہے۔ باقی کہاں؟ ایک رسالہ پر کھلی چٹھی نمبر ٢ ہے۔ پہلی چٹھی نہ مل سکی۔ ایک رسالہ تردید مغالطات مرزائیہ نمبر ٢ درج ہے۔ پہلا نمبر اور اس کے بعد والے نہ مل سکے۔ مل جاتے تو سونے پر سہاگہ ہوتا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد کوئی کرم فرما حاتم طائی کے ریکارڈ کو توڑ دے تو وہ بھی کسی جلد میں شائع کردیں گے۔ ورنہ كم ترك الاولون للآخرون ہی پر معاملہ چھوڑتے ہیں۔ جو بارہ رسائل ملے وہ یہ ہیں۔

قادیانی عبادت گاہ کے ابو یوسف مبارک قادیانی سے آپ کی گفتگو ہے۔ قادیانی امام کو چاروں شانے چت کیا گیا ہے۔ پڑھیں گے جھوم اٹھیں گے۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ یہ ایسا دعویٰ بدیہی البطلان ہے کہ تینوں سماوی مذاہب کے پیروکاروں میں سے ایک شخص بھی اس کا قائل نہیں۔ مولانا مرحوم نے قرآن وسنت اور حالات ومشاہدات سے اس دعویٰ کو باطل قرار دیا ہے۔ مختصر مگر جامع ، بقامت کہتر و بقیمت بہتر ، کا مصداق ہے۔

صفحہ ٧

ہوا۔ پاکستان بننے کے فوری بعد مرزا محمود قادیانی ..... ٣١/اکتوبر، ١/٢/نومبر ١٩٤٨ء کو کوئٹہ گیا۔ اس دور میں مرزا محمود پر بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا بھوت سوار تھا۔ مرزا محمود کی نکیل معلم الملکوت نے تھام رکھی تھی وہ کسی کو پٹھے پر ہاتھ نہ دھرنے دیتا تھا۔ تب مولانا حافظ محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی اسے لگام ڈالنے کے لئے کوئٹہ جا دھمکے۔ آپ کے بیانات ہوئے، علماء بلوچستان کی درخواست پر ایک رات میں یہ رسالہ مرتب ہوا۔ متذکرہ تاریخوں میں قادیانی جلسہ گاہ میں یہ تقسیم کیا گیا۔ مرزا محمود دم دبا کر بھاگ آیا اور بلوچستان میں قادیانیوں کے پاؤں نہ ٹکنے پائے۔ آج بلوچستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو ملکیتی دفاتر اور مدرسہ قائم ہیں۔ جب کہ قادیانیوں کی پورے صوبہ میں ایک بھی عبادت گاہ نہیں۔ اقتدار کا نشہ ہرن ہوا۔ قادیانی بھی عنقاء ہوں گے۔ انشاء اللہ !

کفر کو واضح کیا ہے، ترتیب دیا۔

شائع ہوا۔ پنجابی اشعار میں مرزا کی موت کی حالت واقعی دِکھائی گئی ہے۔

پر مشتمل ہے۔

سے صاحب ختم نبوت کی آفاقی و عالمگیر نبوت کے دلائل کو پیش کر کے قادیانی نظریات کے لغو پن کو آشکارا کیا ہے۔

کے ساتھ سیالکوٹ میں چار مسائل۔ ١... نکاح محمدی بیگم والی پیش گوئی۔٢... حیات حضرت مسیح علیہ السلام۔ ٣... تنقید صدق و کذب مرزا ۔ ٤... ختم نبوت بر آنحضرتﷺ، پر قادیانیوں سے علماء اسلام کے مختلف نشستوں میں مناظرے ہوئے۔ ان علمائے اسلام میں مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی، مولانا لال حسین اختر اور دیگر حضرات شامل تھے۔ ان مناظرات کی جامع رپورٹ ہے۔

سے ١٩٣٧ء میں مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کے ت میں مرزا کے دعویٰ، امامت، مہدویت، مجددیت اہلِ حدیث نے شائع کیا۔

صاحب کا مکتوب مفتوح۔

رسالہ تحریر فرمایا۔

نبوت پر مولانا کے تفسیری نوٹ کو مولانا عبدالمجید سو

احتساب قادیانیت کی اس انیسویں رحمانی کے تین رسائل شامل اشاعت ہیں۔ حضر علی مونگیریؒ، بانی خانقاہ رحمانیہ مونگیر شریف کے د اپنے نام کے ساتھ انہوں نے رحمانی کا لاحقہ جز یونس علیہ السلام۔ ٣... چشمہ ہدایت کے علاود آسکا۔ اس جلد کی اشاعت کے بعد کسی کرم فرما کو جائے تا کہ کسی اور جلد میں ان کو شامل کر کے مرحو وہ تین رسائل یہ ہیں۔

مرزا قادیانی اور قادیانیت کی حمایت میں ایک عبداللطیف رحمانی نے اس رسالہ میں قادیانی ر کردیں۔ گویا عبد الماجد قادیانی کی بتیسی نکال مدت کی محنت اور دیدہ ریزی کے بعد اہل اسلا ورق میں بتیس غلطیاں اس سے سرزد ہوئی۔ ان

صفحہ ٧

١٩٢٧ء میں مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کے متذکرہ تین عنوانات پر بیانات ہوئے۔ جس میں مرزا کے دعوٰی، امامت، مہدویت، مجددیت کے بخیے ادھیڑے گئے۔ ان بیانات کو انجمن اہل حدیث نے شائع کیا۔

صاحب کا مکتوب مفتوح۔

رسالہ تحریر فرمایا۔

نبوت پر مولانا کے تفسیری نوٹ کو مولانا عبدالمجید سوہدرویؒ نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔

احتساب قادیانیت کی اس انیسویں جلد میں حضرت مولانا مفتی عبداللطیفؒ صاحب رحمانی کے تین رسائل شامل اشاعت ہیں۔ حضرت مولانا مفتی عبداللطیفؒ رحمانی، حضرت مولانا علی مونگیریؒ، بانی خانقاہ رحمانیہ مونگیر شریف کے دست و بازو اور عاشق صادق تھے۔ اس وجہ سے اپنے نام کے ساتھ انہوں نے رحمانی کا لاحقہ جزو نام بنالیا تھا۔ ١... اغلاط ماجدیہ۔ ٢... تذکرہ یونس علیہ السلام۔ ٣... چشمۂ ہدایت کے علاوہ ردّ قادیانیت پر مزید ان کا کوئی رسالہ ہمیں میسر نہ آسکا۔ اس جلد کی اشاعت کے بعد کسی کرم فرما کو مزید رسائل پر اطلاع ہو تو ہمیں بھی سرفراز فرمایا جائے تاکہ کسی اور جلد میں ان کو شامل کر کے مرحوم کے رشحات قلم کو محفوظ کیا جاسکے۔

وہ تین رسائل یہ ہیں۔

مرزا قادیانی اور قادیانیت کی حمایت میں ایک رسالہ ”القاء“ نامی لکھا۔ حضرت مولانا مفتی عبداللطیف رحمانی نے اس رسالہ میں قادیانی رسالہ القاء کے ایک ورق میں بتیس غلطیاں ثابت کر دیں۔ گویا عبد الماجد قادیانی کی بتیسی نکال دی۔ بہار میں قادیانی جماعت کا مایہ ناز مبلغ مدت کی محنت اور دیدہ ریزی کے بعد اہل اسلام کے مقابلہ میں ایک رسالہ لکھا اور اس کے ایک ورق میں بتیس غلطیاں اس سے سرزد ہوئیں۔ ان تفصیلات پر مشتمل یہ رسالہ ہے۔

صفحہ ٨

گوئیاں کیں۔ جو پوری نہ ہوئیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کذب اور افتراء کی نحوست دور کرنے کے لئے جواب گھڑا کہ انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیاں بھی پوری نہ ہوئیں۔ غلام احمد قادیانی کا انبیاء علیہم السلام پر یہ صریح الزام اور اتہام سراسر قرآن وسنت کے منافی تھا۔ جن انبیاء علیہم السلام پر مرزا قادیانی نے الزام لگایا ان میں ایک نبی حضرت سیدنا یونس علیہ السلام بھی ہیں کہ معاذ اللہ ان کی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ اس رسالہ ( تذکرہ سیدنا یونس علیہ السلام ) میں نہایت صفائی کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ اتہام دروغ بے فروغ ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی ایسی پیشن گوئی نہ کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔

کتب سے اسے جھوٹا ثابت کیا گیا ہے۔

شامل اشاعت ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ کے رشحات قلم کی مرہون منت ہے۔ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ کی پیدائش ١٩٠٠ء میں اور وفات ١٩٤٥ء میں ہے۔ بھیرہ ضلع سرگودھا میں بگوی خاندان بہت بڑا علمی خاندان ہے۔ اس کے اکابر ہمیشہ علم وفضل کا نشان تھے۔ مولانا ظہور احمد بگویؒ کا روحانی رشتہ خانقاہ سراجیہ کندیاں کے بانی حضرت مولانا ابوالسعد احمد خانؒ سے تھا۔ حضرت مولانا نے اپنے رسالہ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ میں مرزا قادیانی کے رد میں اعمال نامہ مرزا کے نام سے لکھنا شروع کیا۔

١٩٣٢ء میں مرزا محمود قادیانی کی ہدایت پر ضلع شاہ پور (اب یہ ضلع سرگودھا میں شامل ہے) سرگودھا کے علاقہ میں قادیانی مبلغین کی ٹیم کو بھیجا۔ مولانا ظہور احمد بگویؒ اپنی جماعت حزب الانصار بھیرہ کی جانب سے علماء کرام کی ایک جماعت لے کر قادیانیوں کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ قادیانیوں کو کہیں نہ ٹکنے دیا۔ ان کے ناک میں دم کردیا۔ ان قادیانیوں سے بھیرہ، سلانوالی، چک ٣٧ جنوبی میں مناظرے بھی ہوئے۔ قادیانی گروہ نے منہ کی کھائی۔ پوری روئیداد اس کتاب میں موجود ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ان مناظروں اور قادیانی تار پود بکھیرنے کی جدوجہد میں آپ کے دست وبازو حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ تھے۔ جو ان دنوں حزب

صفحہ ٩

س علیہ السلام: متنبّی پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے متعدد پیش میں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کذب اور افتراء کی نحوست دور کہ انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیاں بھی پوری نہ ہوئیں۔ غلام احمد یہ صریح الزام اور اتہام سراسر قرآن وسنت کے منافی تھا۔ جن انبیاء الزام لگایا ان میں ایک نبی حضرت سیدنا یونس علیہ السلام بھی ہیں کہ ری نہ ہوئی۔ اس رسالہ ( تذکرہ سیدنا یونس علیہ السلام ) میں نہایت ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ اتہام دروغ بے فروغ ہے۔ حضرت یونس کوئی نہ کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں ) اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی گیا ہے۔

کی اس جلد میں آخری کتاب ”برق آسمانی بر خرمن قادیانی“ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ کے رشحات قلم کی مرہون منت ہے۔ پیدائش ١٩٠٠ء میں اور وفات ١٩٤٥ء میں ہے۔ بھیرہ ضلع سرگودھا خاندان ہے۔ اس کے اکابر ہمیشہ علم وفضل کا نشان تھے۔ مولانا نقاہ سراجیہ کندیاں کے بانی حضرت مولانا ابوالسعد احمد خانؒ سے سالہ ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ میں مرزا قادیانی کے رد میں اعمال کیا۔

ود قادیانی کی ہدایت پر ضلع شاہ پور (اب یہ ضلع سرگودھا میں شامل یانی مبلغین کی ٹیم کو بھیجا۔ مولانا ظہور احمد بگویؒ اپنی جماعت حزب و کرام کی ایک جماعت لے کر قادیانیوں کے مقابلہ کے لئے نکل نہیں ٹکنے دیا۔ ان کے ناک میں دم کر دیا۔ ان قادیانیوں سے تائیس مناظرے بھی ہوئے۔ قادیانی گروہ نے منہ کی کھائی۔ پوری ب ہمیں خوشی ہے کہ ان مناظروں اور قادیانی تار پود بکھیرنے کی ہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ تھے۔ جو ان دنوں حزب

الانصار کے ناظم تبلیغ تھے۔ مولانا عبدالرحمن میانویؒ مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانیوں میں سے تھے۔ اسی طرح مناظرین میں حضرت مولانا لال حسینؒ اختر بھی تھے۔ یہ بھی مجلس کے نہ صرف بانی رہنماؤں میں سے تھے بلکہ مجلس کے چوتھے امیر مرکزیہ بھی منتخب ہوئے۔ اس کتاب میں مولانا ظہور احمد بگویؒ، مولانا لال حسینؒ اختر، مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھویؒ، حضرت مولانا محمد اسماعیل دامانی خوشابیؒ اور دوسرے اکابر کی جہاد آخریں دو ماہ کی جدوجہد کی سرگزشت قلمبند کی گئی ہے۔ مولانا ظہور احمد بگویؒ نے اس روئیداد کو تحریر فرمایا اور یوں اعمال نامہ مرزا اور مناظروں وجلسوں کی روئیداد پر مشتمل یہ کتاب ہے۔

مولانا نے مناظروں کی روئیداد پہلے حصہ میں بیان فرمادی اور ان مناظروں، قادیانیوں کے اعتراضات اور مسلمانوں کے جوابات ودلائل کو یکجا ابواب قائم کر کے دوسرے حصہ میں شائع کیا۔ اس کتاب کے دوسرے حصہ میں باب اوّل حیات مسیح علیہ السلام شائع ہوا۔ اس میں حیات مسیح علیہ السلام پر قرآن وسنت سے چالیس دلائل بیان کئے اور ان پر قادیانی اعتراضات کے جوابات تحریر فرمائے۔

افسوس کہ دوسرا باب ختم نبوت اور تیسرا باب کذب قادیانی اس کتاب میں شامل نہیں۔ نہ معلوم کہ آپ تحریر نہ کر پائے۔ یا یہ کہ وہ اشاعت پذیر نہ ہوئے۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا اس لئے کہ شمس الاسلام بھیرہ کے فائل چھان مارے۔ پوری لائبریری کھنگھال ڈالی ان کے خاندان کے حضرات کے دروازہ پر بھیرہ میں عالمی مجلس کے فاضل مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی تشریف لے گئے۔ مگر کوئی مسودہ نہ مل سکا۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ جتنا لکھا وہ شائع ہو گیا جو ہمارے مشعل راہ ہے۔ باقی دو باب نہ لکھ سکے، زندگی نے وفا نہ کی۔ اتنی ایمان پرور جدوجہد ان حضرات کا ہی حصہ تھی۔ پڑھیے اور سر دھنیے، میں نے احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں کسی خاص کتاب کو پڑھنے کے لئے عندیہ نہیں دیا۔ اس لئے کہ وہ سب پڑھنے کی چیزیں ہیں۔ البتہ مناظروں کی روئیداد اور قادیانیوں کے تعاقب کی کہانی جو اس کتاب میں ہے، پڑھنے کے لئے مناظرین ومبلغین سے ضرور درخواست کرتا ہوں۔ چلو آپ پڑھیں نہ پڑھیں میں اسی پر اجازت چاہتا ہوں۔

خاکپائے! مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ مولانا مفتی عبداللطیفؒ رحمانی، مولانا ظہور احمد بگویؒ العارض! فقیر اللہ وسایا، ١٣؍مئی ٢٠٠٧ء

صفحہ ١٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اجمالی فہرست...... احتساب قادیانیت جلد ١٩

عرض مرتب ٣

عن قبر المسیح علیہ السلام // // ٢١

مع ضمیمہ جات خلاصہ مسائل قادیانیہ // // ٣٩

بعموم و جامعیت الشریعہ // // ٨٧

PDF 11

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سبق آموز سنہری حروف سے لکھی گئی

فبہت الذی کفر

(ابو یوسف مبارک علی قادیانی سے مناظرہ)

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ١٢

فبهت الذی کفر

ابو یوسف مبارک علی قادیانی صدر بازار سیالکوٹ سے اتفاقی

مباحثہ بتاریخ ٢ شوال المکرم ١٣١٥ھ بمطابق ٢٤ فروری ١٨٩٨ء

راقم ...... اہل سنت، اہل تشیع کو کیوں برا جانتے ہیں؟

صدر بازاری ...... چونکہ اہل تشیع، صحابہؓ کے شان میں گستاخ ہیں۔ اس لئے اہل سنت جو ان کے متبعین ہیں ان کو بحکم ”ومن کفر بعد ذالك فأولئك هم الفاسقون (النور:٥٥)“ فاسق اعتقاد کرتے ہیں۔

راقم ...... چند روز سے کچھ آیات بینات میرے دل میں آ رہی ہیں جن سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اہل تشیع جادۂ ہدایت سے بمراحل بعید ہیں۔ امید ہے کہ آپ بھی سن کر ان پر صاد کریں گے اور وہ یہ ہیں۔

”فان آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم فی شقاق (بقرہ:١٣٧)“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی صحت کے لئے صحابہؓ کی موافقت کو لازم ٹھہرایا ہے۔ پس جو کوئی ان محبوبین رب العالمین سے بغض وعداوت رکھے اس کا ایمان، کہاں اور اسلام کہاں۔

”ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولی ونصله جھنم وسأت مصیرا (نساء:١١٥)“ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب نبی ﷺ کی اتباع کو ایسا لازمی کر دیا کہ درصورت خلاف ورزی باب ہدایت مسدود ہو جاتا ہے اور جہنم (جس کے عذاب سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے) جگہ ہوتی ہے۔

”والسابقون الا ولون من المهاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی الله عنھم ورضوا عنه (توبہ:١٠٠)“ اس آیت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے اپنی رضا ان کے اتباع کے لئے خاص کر لی۔ کیونکہ جب ان کی اتباع میں بحر رضوان الٰہی موج زن ہوتا ہے تو ان کی مخالفت میں غضب الٰہی جوش میں آتا ہے۔

”وعد الله الذین آمنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضے لھم ولیبد لنھم من بعد خوفھم أمنا یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا ومن کفر بعد

صفحہ ١٣

فبهت الذی کفر

نشی مبارک علی قادیانی صدر بازار سیالکوٹ سے اتفاقی اریخ ٢٧؍ شوال المکرم ١٣١٥ھ بمطابق ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء تشیع کوکیوں برا جانتے ہیں؟ ونکہ اہل تشیع، صحابہؓ کے شان میں گستاخ ہیں۔ اس لئے اہل سنت جو ان من كفر بعد ذالك فاولئك هم الفاسقون (النور:٥٥) “

کچھ آیات بنیات میرے دل میں آ رہی ہیں جن سے صاف طور پر ثابت ہدایت سے بمراحل بعید ہیں۔ امید ہے کہ آپ بھی سن کر ان پر صاد

وا بمثل ما أمنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم فی شقاق یت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی صحت کے لئے صحابہؓ کی موافقت کو لازم ٹھہرایا رب العالمین سے بغض و عداوت رکھے اس کا ایمان، کہاں اور اسلام کہاں۔

قق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل ى ونصله جهنم وسأت مصيرا (نساء: ١١٥) “ یفہ میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب نبیﷺ کی اتباع کو ایسا لازمی کر دیا کہ ب ہدایت مسدود ہو جاتا ہے اور جہنم (جس کے عذاب سے اللہ تعالیٰ تی ہے۔

ون الا ولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم عنهم ورضوا عنه (توبہ:١٠٠) “ اس آیت کریمہ میں اللہ جل تباع کے لئے خاص کر لی۔ کیونکہ جب ان کی اتباع میں بحر رضوان الٰہی مخالفت میں غضب الٰہی جوش میں آتا ہے۔

الذين آمنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم فى ف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذى ارتضى لهم وفهم آمنا يعبدوننى لا يشركون بى شيئا ومن كفر بعد

ذالك فاولئك هم الفاسقون (نور:٥٥) ”اس آیت میں اللہ جل شانہ نے صحابہؓ کے ہاتھوں سے اس پاک دین کو پکا کرنے کا وعدہ دیا ہے اور جو کوئی اس پیچھے بھی کفر کریں تو وہ پرلے درجہ کے نافرمان ہیں، اور یہ معلوم ہے کہ ہمارا دین عقائد و اعمال کا مجموعہ ہے۔ پس جو نسا عقیدہ کہ ان کے عہد سعادت مہد میں رائج و شائع نہیں ہوا وہ مستحدث ہے۔ ولهذا غير مقبول!

ان آیات اربعہ سے ایک اور بڑا عجیب نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں صحابہؓ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے ۔ خصوصاً ایمانیات ومعتقدات میں ۔

صدر بازاری....... (بڑی خوشی سے ) واہ جی عجیب استدلال ہیں۔ خوب آپ انہیں مہر نیمروز کی طرح مکان مرتفع پر چڑھ کر بیان کریں کسی کو مجال دم زدن نہ ہوگی ۔

اس کے بعد کچھ دیر تک خاموشی رہی بعدش صدر بازاری نے مجھ سے قادیانی کی نسبت کچھ سلسلہ گفتگو چلانا چاہا۔ جس پر میں نے کہا کہ میں یہاں بحث کے ارادہ پر نہیں آیا۔ اتفاقاً آ گیا ہوں۔ اس لئے آپ مجھے معاف فرمائیں اور نیز بحث سے ضد اور تعصب بڑھتا ہے۔ لہٰذا مناسب بھی نہیں۔ ہاں اگر آپ چاہیں تو کچھ دلائل نزول نبی اللہ، مسیح بن مریم علیہ السلام کے جو اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو سمجھائے ہیں۔ آپ پر پیش کرتا ہوں۔ آپ بوقت فراغت اس پر اپنے فکر رسا و تدبر کے بعد مجھ کو مطلع کرنا۔

صدر بازاری....... اچھا تو وہ مجھ کو لکھا دو۔

راقم....... لکھنے کی کچھ حاجت نہیں۔ آپ ان کو یاد رکھ سکتے ہیں۔

صدر بازاری....... نہیں جی ضرور لکھا دو۔ لکھی بات بوقت تدبر مستحضر رہتی ہے۔

راقم....... اچھا لکھئے ! پہلی دلیل تو وہی اتباع صحابہؓ ہے۔ جو آپ بڑی خوشی سے مان چکے ہیں۔ اگر صحابہؓ مسیح نبی اللہ مذکور فی القرآن کے نزول کو مانتے تھے تو بس ہمیں بھی وہی ماننا چاہئے اور اگر کسی مثیل کے منتظر تھے تو اس کی دلیل درکار ہے۔

صدر بازاری حیران رہ گیا اور بڑی تندی اور چالاکی سے کہنے لگا کہ نہیں میں نے تو اجمالی طور پر کہا تھا۔ تفصیلی طور پر نہیں مانا تھا۔ اگر مجھے آپ کا یہ پیچ پہلے معلوم ہوتا تو میں کچھ مستثنیات بیان کر لیتا۔ اچھا پیچ و ہیر پھیر میں لا کر مجھے قابو کرنا چاہتے ہو۔ مگر میں بھی تمہارے قابو نہیں آنے کا۔ کبھی ادھر دو لتا مار کر نکل جاتا ہوں کبھی ادھر، اور پیروں سے اشارہ بھی کیا۔

راقم....... بڑے افسوس سے عرض کرتا ہوں کہ آپ بات کر کے پھر پھر جاتے ہیں۔ شان اہل علم سے بہت بعید ہے، بازاری لوگ بھی تو اسے عادت قبیحہ جانتے ہیں۔ معلوم نہیں آپ کو اس پھر جانے کی قباحت میں کیوں تردد ہے اور نیز یہ عرض ہے کہ آپ اپنی مثال تو اچھی بیان کریں۔ ایسی بری مثالیں نہیں چاہئیں۔

٣

صفحہ ١٤

صدر بازاری نے بحکم

چو حجت نماند جفا جوئے را
بہ پر خاش درہم نہد روئے را

اپنی امامت کے گھمنڈ میں آکر مجھے گرم گرم باتیں کہیں تاکہ میں دب کر ٹل جاؤں ۔مگر چونکہ صید در دام کا معاملہ تھا۔ میں نے نہایت ہی لینت سے کہا اچھا اگر آپ ایسے ہی مغلوب الغضب ہیں تو مجھے معاف فرمائیں ۔ میں نے پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ بحث سے فائدہ کوئی معتد بہا نہیں ہوا کرتا ۔ آپ بعد تدبر و تفکر کے مجھے اطلاع دیں ۔

صدر بازاری ...... نہیں میں غصے نہیں ہوتا۔ میری طبیعت جوش والی ہے۔ کلام جوش سے کرتا ہوں۔ آپ پر خفگی کی وجہ سے نہیں آپ جب تک مسیح علیہ السلام کا صعود الی السماء بجسده العنصری ثابت نہ کریں تب تک نزول پر بحث نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ جب مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت نہ ہو تو ان کا نزول کس طرح متصور ہو سکتا ہے اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں تو بس مثیل کا آنا ثابت ہو گیا۔ کیونکہ فوت شدہ پھر نہیں آتے ۔

راقم ...... اس مسئلہ میں نزول اصل ہے نہ کہ فرع اور حیات ممات فرع ہے نہ اصل ۔ اس لئے اصل یعنی نزول پر بحث کرنی چاہئے ۔

صدر بازاری ...... جب صعود ہی ثابت نہیں تو نزول کس طرح ثابت ہو گیا۔

راقم ...... مسیح علیہ السلام کا فوت ہو کر بھی دنیا میں آنا تحت قدرت الہیہ داخل ہے یا نہیں؟۔

صدر بازاری نے جواب بلا فہم اپنے پیر و مرشد قادیانی کی طرح نہ دیا اور ایک لمبی تقریر اس مضمون کی شروع کر دی کہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے ۔ وہ تقریر من اولہا الی آخرہا چونکہ میرے سوال کا جواب نہ تھی۔ اس لئے میں نے سننی چاہی ۔مگر وہ بے تکی ہانکتے گئے ۔ بعدش میں نے کہا کہ میں نے سنت اللہ سے سوال نہیں کیا میں تو قدرت اللہ پوچھتا ہوں ۔ آپ اپنی تقریر دل پذیر واپس لیویں اور میرے سوال کا جواب دیویں ۔ اس پر ایک اور تقریر شروع کر دی۔ پھر بھی میں نے منع کیا۔ پھر باز نہ آئے اور وعدہ کیا کہ ایک منٹ تک انتظار کرو جواب آ جاتا ہے ۔ قریباً چھ منٹ تک صبر سے بیٹھا رہا ۔ ہرگز جواب نہ ملا پر نہ ملا اور سمجھا کہ اب اس کا جواب تو بہ تقلید مسیح خود دیں گے نہیں ۔ لہذا ان کو کسی اور ڈھنگ پر چڑھانا چاہئے ۔

راقم ...... اختلاف مسئلہ امکان نظیر نبی کے وقت غالباً آپ امکان ہی کے قائل ہوں گے ۔

صدر بازاری ...... ہاں ۔

صفحہ ١٥

راقم....... خلق نظیر نبی پر اللہ ذوالجلال قادر تھا اور مسیح علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں بھیجنے سے کیا اب عاجز ہو گیا ہے۔

صدر بازاری....... امکان ہی مانتے تھے۔ یہ تو نہیں کہ آئے گا بھی ضرور۔

راقم....... نظیر نبی کا نہ آنا بعبارۃ آیۃ خاتم النبیین ثابت ہے۔ اگر مسیح علیہ السلام کے دوبارہ نہ آنے پر بھی کوئی ایسی دلیل ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

صدر بازاری....... ہاں دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون (انبیاء: ٩٥)“ اور ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت في منا مها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى (زمر: ٤٢) “ ان آیتوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام بھی نہیں آئیں گے۔

راقم....... آپ کتب اصول مطالعہ کریں کیا عبارۃ النص اسے ہی کہتے ہیں۔ ذرا سوچیں تو سہی۔

صدر بازاری....... یہ آیتیں عام ہیں۔ لہٰذا مسیح بھی اُن میں داخل ہیں۔

راقم....... عام اپنے افراد میں مفید ظن ہوا کرتا ہے۔ ”وان الظن لا يغنى من الحق شيئا (النجم: ٢٨) “ لہٰذا آپ مسیح علیہ السلام کو یقینی طور پر ان میں داخل نہیں کر سکتے اور بحکم وما من عام الا وخص منه البعض ممکن ہے کہ مسیح علیہ السلام اس آیت سے مستثنیٰ ہوں۔

صدر بازاری....... اچھا یہ نہیں تو آیہ ”یعیسی انی متوفيك (آل عمران: ٥٥) “ تو عبارۃ النص ہی ہے۔ لو اب تو کچھ محل نزاع ہی نہیں۔ وخاتم النبیین میں بھی خاتم اسم فاعل کا صیغہ ہے اور انی متوفيك میں بھی متوفی اسم فاعل کا۔

راقم....... خاتم اسم فاعل کا صیغہ نہیں ہے۔ ذرا ہوش سے بولیں۔

صدر بازاری نے اس پر ضد کی اور قرآن شریف منگوانا چاہا۔ اس پر میں نے کہا کہ لیجئے دھیان رکھئے۔ میں نے خوب واضح طور پر پڑھا۔ خاتم فاعل کیا ان دونوں کا ایک ہی وزن ہے؟۔ پھر بھی سن کر حیرت نہ اڑی۔ میں نے مکرر بآواز بلند پڑھا۔ خاتم فاعل تب جا کر ہوش کھلی اور کہنے لگے کہ ہاں ہاں یہ اسم فاعل کا صیغہ نہیں ہے۔ کچھ اور ہوگا۔ چونکہ اس میں فاعل کا مسئلہ خارج از مبحث تھا۔ اس لئے میں اس کی طرف متوجہ نہ ہوا، اور اصل مطلب کی طرف رخ کیا اور کہا آیہ یا عيسى انی متوفيك دوبارہ نہ آنے کے لئے کوئی سی بھی دلیل نہیں ہو سکتی۔ چہ جائے کہ عبارۃ النص ہو آپ ذرا ہوش سے بولا کریں۔ کیسی بے تکی ہانک دیتے ہیں۔ کیا عبارۃ النص اسی کو کہتے ہیں کہ مدعا کا اس میں ذکر تک نہ ہو۔

صفحہ ١٦

صدر بازاری ........ (سخت ناچار ہوکر ) اچھا اگر میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا امکان مان لوں تو اس میں تمہارا کیا مطلب ہے کہئے۔

راقم ....... (بڑی بے پرواہی سے ) کچھ نہیں آپ پازیٹویلی مان لیویں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اقرار کرنے میں آپ کا کیا بگڑتا ہے اور انکار کرنے سے کیا سنورتا ہے۔ آپ صاف طور پر کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہاں مسیح علیہ السلام کا فوت ہو کر بھی دنیا میں آنا تحت قدرت الٰہی داخل ہے۔

صدر بازاری ........ اچھا میں مانتا ہوں کہ مسیح علیہ السلام کا فوت ہو کر بھی دنیا میں آنا دائرہ امکان سے باہر نہیں۔ اچھا کہئے کیا کہنا چاہتے ہیں۔

راقم ....... الحمد للہ! جب مسیح علیہ السلام فوت ہو کر بھی دنیا میں آ سکتے ہیں تو پہلے مسئلہ حیات ممات پر گفتگو کرنے کی کیا ضرورت بفرض محال اگر ثابت ہو بھی گیا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو پھر بھی بصورت امکان رجوع جو آپ مان چکے ہیں۔ نزول ہی کی طرف رخ کرنا پڑے گا۔ اس لئے پہلے ہی نزول پر بحث کیوں نہ ہو۔ اگر آنے والا مسیح علیہ السلام مثیل ثابت ہوا تو مماثلت کی شرائط دیکھے جائیں گے۔ ورنہ وہی نبی اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی نازل ہوں گے۔ جس پر کہ اس امت مرحومہ کا اجماع منعقد ہو چکا ہے اور جو جمہور مسلمین کا عقیدہ بتوارث من بدءالاسلام الی یومنا ہذا چلا آیا ہے۔

اتنے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ چونکہ مرزائیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ اس لئے میں نے خود علیحدہ جماعت کرا کر نماز پڑھی۔ بعد ادائے صلوٰۃ صدر بازاری نے مجھے اپنی بیٹھک میں بلوایا۔ جس پر میں نے بہ سبب روزہ دار ہونے کے رخصت کی درخواست کی۔ مگر صدر بازاری نے نہ مانا اور گفتگو شروع ہوئی۔

صدر بازاری ........ اچھا جی چلئے۔

راقم ....... بس وہی سوال ہے کہ صحابہ کا ایمان مسیح نبی اللہ کے نزول پر تھا۔ یا وہ کسی مثیل کے منتظر تھے۔ جو کچھ کتب معتبرہ سے ثابت ہوا اس پر فیصلہ۔

صدر بازاری ........ اچھا میں تنزلاً نزول کی بحث کو تسلیم کرتا ہوں۔ مگر اس شرط پر کہ آپ مسیح بن مریم علیہ السلام کا نزول احادیث صحیحہ سے ثابت کریں۔

راقم ....... انشاء اللہ تعالیٰ ثابت کروں گا اور یہ میرا فرض ہے۔ آپ اپنا دعوے مماثلت ثابت کریں۔

صدر بازاری ........ ( بخاری نکال کر ) حدیث كيف انتم اذ انزل ابن مريم فيكم واما مكم منكم سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسیح نہیں آئیں گے۔ کوئی امتی ہی ان کا مثیل ہو کر آئے گا۔

راقم ....... میرا سوال صحابہؓ کے مذہب کی بابت تھا۔ آپ نے حدیث مرفوع نکال دی ہے۔ جس سے کسی صحابی کا مذہب بھی ثابت نہیں ہوتا۔

٦

صفحہ ١٧

صدر بازاری ...... جب رسول اللہ ﷺ کے کلام مبارک کا مفہوم یہ ہے تو صحابہ کا ایمان بھی یہی ہو گا نہ کہ غیر ۔

راقم ...... یہ مفہوم تو آپ کا ہی اختراع کیا ہوا ہے ۔ آپ کی مراد تو تب برآوے اگر صحابہ بھی یہی معنی مراد لیں۔ یہی تو میں پوچھتا ہوں کہ آیا صحابہ نے بھی اس حدیث کے یہی معنے کئے ہیں اور اگر کئے ہیں تو کس نے کئے ہیں ۔

صدر بازاری نے اس سوال کا جواب کچھ نہ دیا ( اور حقیقت میں وہ دے بھی نہیں سکتا تھا اور نہ اب دے سکتا ہے اور نہ کوئی اور دے سکتا ہے ) اور اپنی اس واؤ تفسیر پر اڑنے لگا۔

راقم ...... یہ واؤ تفسیری نہیں ہے کیونکہ تفسیر ہمیشہ بعد اجمال کے واقع ہوتی ہے اور یہاں کوئی اجمال و ابہام نہیں ہے ۔ جس کی توضیح یا تفسیر ہونی چاہئے ۔

صدر بازاری ...... ابن مریم مجمل ہے اور امامکم بعلت اضافت مبین اس لئے امامکم ابن مریم کی تفسیر ہے۔

راقم ...... سبحان اللہ کیا کہنے ہیں ۔ ابن مریم کنیت جس میں علمیت پائی جائے وہ تو ہو مجمل اور امام جو اسم نکرہ ہے وہ اس کی تفسیر بنے اور ہو مبین سبحان اللہ اگر امامکم بعلت اضافت مبین ہے تو کیا ابن مریم مضاف مضاف الیہ نہیں ہے۔

صدر بازاری ...... عطف کبھی خاص کا عام پر لاتے ہیں اور کبھی عام کا خاص پر اور فائدہ تفصیل کا ہوتا ہے۔ جیسے آیۃ تلک آیت الکتاب وقرآن مبین میں ہے ۔

راقم ...... ان دونوں صورتوں میں سے آپ اس حدیث وامامکم منکم میں کون سی صورت مراد رکھتے ہیں ۔ عطف عام کا خاص پر یا خاص کا عام پر ۔

صدر بازاری ...... یہاں عطف عام کا خاص پر مراد ہے ۔ یعنی ( ابن مریم معطوف علیہ خاص ہے اور امامکم منکم عام ہے ۔ )

راقم ...... بس جب امامکم عام ہو گیا اور ابن مریم خاص تو آپ مراد مماثلت سے تو نامراد ہی رہے اور نیز اگر واؤ تفسیری اس صورت میں مانی بھی جائے تو کچھ چنداں فائدہ معتد بہا نظر نہیں آتا۔ لہٰذا خلاف فصاحت ہے ۔

صدر بازاری ...... نہیں نہیں میں چوک گیا یہاں عطف خاص کا عام پر ہے ۔

راقم ...... آپ کہتے ہیں ابن مریم عام ہے ۔ اگر عام ہے تو عام تو ذوی الافراد ہوتا ہے ۔ ابن مریم کے افراد کون کون سے ہیں ۔

٧

صفحہ ١٨

صدر بازاری...... ابن مریم عام باعتبار صفات ہے نہ باعتبار اشخاص کہ اس کے افراد ہوں۔ راقم...... (ان کی اس تقسیم پر ہنس کر) صفات کا اعتبار مشتقات میں ہوا کرتا ہے۔ نہ کہ شئی غیر مشتقہ میں اور اگر ہو بھی تب بھی قادیانی کے مثیل مسیح ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس صورت میں غایت الامر آپ یہی کہیں گے کہ قادیانی ان کے افراد صفاتیہ میں سے ایک فرد ہے اور آگے میں آپ کو تسلیم کرا چکا ہوں کہ عام اپنے افراد میں مفید ظن کا ہوا کرتا ہے۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئا لہٰذا قادیانی کا مثیل مسیح ہونا ایک ظنی امر ہے اور اتباع ظن بمنطوقات قرآنیہ وحدیثیہ مذموم شنیع ہے۔

اس کے جواب میں بھی صدر بازاری نے اس پرانے جوش کو بھڑکایا اور سخت زبانی سے پیش آیا۔ بازاریوں کی طرح لعن طعن کرنے لگا اور کہنے لگا کیا تو میرے سامنے مبرز آیا ہے کیا تو سیبویہ ہے کہ میں تجھے ترکیب کر کے سناؤں۔ تم لوگ جان بوجھ کر کجروی اختیار کرتے ہو۔ میں تم سے گفتگو کرنا فضول جانتا ہوں۔

راقم...... چونکہ میں آپ کے مکان پر آیا ہوا ہوں اور گھر بلائے کو آپ کا جو جی چاہے کہہ لینا آپ کا حق ہے۔ خیر اگر اتنی میں کچھ کسر رہ گئی ہو تو کچھ اور کہہ لو اور مجھے اجازت دو۔

صدر بازاری...... نہیں میں کچھ تم پر تو تھوڑا ہی غصہ ہوا ہوں۔ تمہارا تحمل و حوصلہ مجھے اب تک کلام کرنے پر مجبور کر رہا ہے تم سے پہلے بہت مولوی میرے پاس آئے۔ مگر آخر انہوں نے بہ سبب تعصب کسی بات کو پورا نہ ہونے دیا۔ مولوی ہدایت اللہ صاحب نوشہروی حال امام مسجد صدر راولپنڈی سے بھی گفتگو ہوئی۔ مگر انہوں نے بھی جلد بازی کی اور لڑ کر ہی گئے۔ غصہ صرف تعصب و کجروی پر بھڑکتا ہے کہ جس شخص کی مماثلت کی دلائل مہر نیمروز کی طرح چمک رہے ہوں۔ اس کے ماننے میں کیا شک و تردد ہے۔

راقم...... آپ کا مہر تو بہ سبب کسوف کے کالا ہو گیا ہے اور آپ سے اس کی مماثلت ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی بن نہیں آیا۔ ایک ہی ترکیب آپ نے کی اور وہ بھی غلط۔

صدر بازاری...... کیا میں سب ترکیبیں پیش کر چکا ہوں؟ کیا سوائے اس کے کوئی اور ترکیب نہیں ہو سکتی جو ہمارے مدعا کے موافق ہو۔

راقم...... اچھا جو کچھ اور ہو وہ بھی حاضر کرو انشاء اللہ تعالیٰ اس کا بھی یہی حال ہوگا۔ مگر پہلے اتنا مان لیویں کہ واؤ کو یہاں تفسیری کہنا غلط ہے۔

صدر بازاری کا مخالف کے سامنے غلطی کا اقرار کرنا مشکل تھا۔ اس لئے ضد کی اور پھر

٨

صفحہ ١٩

جوش دکھایا۔ جس پر راقم نے کلام سے اعراض کیا اور کہا کہ جب تک آپ اپنی غلطی کا اقرار نہ کرلیں میں ہرگز کلام نہیں کروں گا۔

صدر بازاری..... (بڑے اصرار کے بعد ) اچھا میں جانتا ہوں کہ یہ ترکیب غلط ہے۔ یعنی (وامامكم منكم) میں واؤ عطف تفسیری نہیں ہے۔ اس میں میری کیا کسر شان ہے لو اس حدیث سے اوپر کی حدیث میں تو صریح طور پر مماثلت ثابت ہورہی ہے۔

راقم..... اچھا دکھائیے۔

صدر بازاری..... (بخاری نکال کر) حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث پڑھنے لگا۔ عبارت صحیح نہ پڑھی گئی اور بار بار دوہرا کر مرتے مرتے وہ حدیث نصف تک ختم کی اور آگے نہ پڑھی۔

راقم..... آپ بے کھٹکے پڑھتے جائیں میں اس وقت غلطیوں کی اصلاح نہیں کروں گا۔ کیونکہ یہ بات خارج از بحث ہے اور مہربانی کر کے ذرا آگے بھی پڑھیں۔ لا تقربوا الصلوٰۃ کا معاملہ نہ کریں۔ چونکہ آگے حضرت ابو ہریرہؓ نے صاف طور پر کہہ دیا ہوا ہے کہ مسیح موعود وہی نبی اللہ ہے۔ اس لئے صدر بازاری نے وہ عبارت پڑھنے سے انکار کیا مگر میں پڑھائے بغیر کب چھوڑتا تھا پڑھا ہی لی۔

(ایک واعظ نے کسی بے نماز کو کہا کہ تو نماز کیوں نہیں پڑھتا۔ وہ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے خود نماز سے قرآن شریف میں منع کیا ہے۔ واعظ نے کہا کہ ہیں! قرآن میں کہاں منع ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ یا ایها الذین امنوا لا تقربوا الصلوٰۃ واعظ نے کہا کہ آگے بھی تو پڑھ۔ آگے کیا ہے۔ کہنے لگا کہ سارے قرآن پر تیرے باپ نے عمل کیا ہے۔ یہی حال ان مرزائیوں کا ہے۔ ایک لفظ لے کر اپنی خواہش نفسانی کے موافق اس کے معنے تراش لیتے ہیں اور آگے پیچھے دھیان نہیں کرتے۔ فافهم منه!)

صدر بازاری..... یہ ابو ہریرہؓ کی اپنی رائے ہے اور ابو ہریرہؓ صحابہ میں بے اعتبار تھا۔

راقم..... استغفر اللہ آپ کی بے اعتباری سن کر مومن مسلم کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر حضرت ابو ہریرہؓ بے اعتبار تھے تو علم حدیث ہی بے اعتبار ہے۔ کیونکہ سب سے زیادہ ١؎ روایت حضرت ابو ہریرہؓ کی ہے۔ آپ مہربانی کر کے ثابت کریں کہ حضرت ابو ہریرہؓ کو کس نے بے اعتبار کہا ہے۔ کیا قاعدہ الصحابة كلهم عدول (حاشیہ مشکوٰۃ ص ٥٥٣، باب مناقب صحابہؓ) آپ کو یاد نہیں آپ بڑا غضب ڈھاتے ہیں۔

١؎ قال فى الالفيه ابو هريرة اكثرهم یعنی ابو ہریرہؓ صحابہؓ میں سے سب سے زیادہ روایت والے ہیں اور اس کے حاشیہ پر فتح الباقی سے نقل کیا ہے اور انه روى خمسة الاف حديثا وثلثماية واربعه وسبعين حديثا یعنی انہوں نے ٥٣٧٤ حدیث روایت کی ہے۔

٩

صفحہ ٢٠

صدر بازاری........ اچھا اس کے لئے آٹھ دن کی مہلت درکار ہے۔

راقم........ لے لو۔

اس کے بعد صدر بازاری نے اپنا الحق نکال کر کہا دیکھو امام مسلم آپ کے عطف مغائرت کو کیسے بین طور پر رد کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو تو صحیح مسلم لاؤں۔

راقم........ چونکہ صحیح مسلم میں میرے مطلب کے موافق بہت سی حدیثیں تھیں میں نے کہا کہ جی ہاں مسلم ضرور لائیے۔

صدر بازاری........ مسلم اس وقت حاضر نہیں ہے۔ مگر آپ نے صحیح مسلم پڑھی ہوگی۔ اس لئے آپ کو اتنا تو یاد ہوگا کہ یہ روایت صحیح مسلم میں ہیں۔

راقم........ ہاں بفضلہ تعالیٰ میں نے صحیح مسلم پڑھی ہوئی ہے اور یہ جگہ اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے بائیں صفحہ پر شروع سے آخیر صفحے تک یہ سارا بیان ہے۔ مگر چونکہ اس میں میرا مطلب ہے۔ اس لئے صحیح مسلم کا ہونا ضروری سمجھتا ہوں۔

صدر بازاری........ دیکھو بخاری ہی میں ابن عباس متوفیک کے معنی ممیتک لکھے ہیں۔

راقم........ ممیتک معنی کرنے سے یہ تو ثابت نہیں ہوگیا کہ ان کا مذہب مثیل کے آنے کا تھا۔ باوجود ممیتک معنی کرنے کے ابن عباس تو فرماتے ہیں۔ رفع عیسی من روزنة فی البیت الى السمآ (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٣٦٨، زیر آیت بل رفعه الله الیه) اور دوبارہ آنے کی بابت بھی انکا وہی اعتقاد ہے۔ جو سب مسلمانوں کا ہے۔ اب ایک صحابی کے مذہب کا پتہ لگ گیا کہ اصل نبی اللہ مسیح ابن مریم کے آنے پر ہے اور صحابیوں کا مذہب جب تک اس کے خلاف ثابت نہ ہو تب تک آپ اپنی مماثلت کو چھپائے رکھیں۔ درصورت عدم ثبوت خلاف اوروں کا بھی یہی مذہب مانا جائے گا۔ کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سب کے سامنے بیان کرتے تھے اور کوئی بھی انکار نہ کرتا تھا۔ اب شام کا وقت ہو گیا میں رخصت کا خواستگار ہوں۔

صدر بازاری نے آج تک اپنی بے اعتباری کا ثبوت نہیں دیا۔ ٧ اگست ١٨٩٨ء کو پھر اتفاقی ملاقات ہوئی ایک جم غفیر حاضر تھا۔ سب کے سامنے استدعائے مباحثہ کیا، صدر بازاری نے انکار کیا۔

صدر بازاری نے اب لوگوں میں مشہور کیا ہوا ہے کہ راقم میرے پاس جواب لینے نہیں آتا اور گریز کرتا ہے۔ بھلا میں وہاں اس کے گھر میں جواب لینے کیوں جاؤں جواب دینا اس کا ذمہ ہے۔ وہ مجھے شہر میں آکر کیوں جواب نہیں دیتا۔ جواب لینا لازم ہے یا جواب دینا واجب ہے۔ کچھ تو انصاف چاہئے۔

١٠

PDF 21

خاتم النبيين لا نبي بعدي

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

الخبر الصحيح

عن قبر المسيح عليه السلام

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٢٢

يا ايها الذين امنوا ان جاءكم فاسق بنبا فتبينوا!

الخبر الصحيح عن قبر المسيح

بسم الله الرحمن الرحيم

”الحمدلله رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين ٠ محصى كل شئى فى كتاب مبين الذى جعل ابن مريم وامه اية واوهما الى ربوة ذات قرار ومعين والصلوة والسلام الاتمان الاكملان على رسوله محمد خاتم النبيين الذى اخبرنا بخروج الدجاجلة الكذابين قريباً من ثلثين وانباء نا بنزول عيسى بن مريم من السماء الى الارض قبل يوم الدين وقال فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر يوم يقوم الناس لرب العالمين وعلى اله الطاهرين الطيبين واصحابه الصديقين الفارقين وازواجه امهات اهل اليقين“

سبب تالیف

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب سے دعویٰ مسیحیت کیا۔ نئے نئے مسائل نکال کر ہندوستان میں شور برپا کر دیا اور بہت سی خلق خدا کو حق سے گمراہ کر دیا۔ ان نئے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتائی۔ جس کے بارہ میں نہ تو کوئی آیت ہی آئی ہے اور نہ آنحضرت ﷺ نے کوئی حدیث فرمائی اور نہ ہم نے صحابہؓ کی کوئی روایت پائی۔ قادیانی نے محض اپنا مطلب سیدھا کرنے کے لئے ادھر ادھر سے طومار توہمات جمع کیا اور اپنے ماننے والوں کو جو ان کی تقلید میں پھنس کر دین و ایمان کو ان کے ہاتھ بیچ چکے ہیں پر چلایا۔

مرزا قادیانی کی عام عادت تھی کہ اپنے مریدوں کو قائم رکھنے کے لئے اپنے غلط دعاوی اور باطل اقوال کی تائید میں کبھی تو موضوع ومنکر روایتیں پیش کیا کرتے تھے اور کبھی قرآن شریف کی آیات میں لفظی و معنوی تصرف کر کے اپنی رائے و ہوائے سے تفسیر کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے تھے۔ اس لئے خاکسار نے ضروری سمجھا کہ قادیانی کے اس فاسد خیال کا فساد اور باطل قول کا بطلان آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور آثار سلفیہ سے ظاہر کر کے عام مسلمانوں کو غلطی سے بچائے اور قادیانیوں پر حجت پوری کر کے ان کو حق وباطل میں تمیز کرنے کا موقع دے۔

اگر اب بھی نہ وہ سمجھے
تو اس بت سے خدا سمجھے

٢

عذر مؤلف

یہ رسالہ کتاب شہادت القرآن کیا گیا تھا۔ اسی لئے اس کتاب میں کسی جگہ کثرت سے متواتر سفروں اور دیگر مشاغل او امر مرهون بوقته ہر کام کے لئے خدا اب پھر اس کے طبع کا خیال آیا اور خدا کا نام اريد الا لا صلاح ما استطعت وما تو

مرزا قادیانی کی تحریر پر تنویر

مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (الہ ص٣٦٠، ٣٦١) میں لکھا ہے کہ: ”وثبت بثب كشمير بعد ما نجاه الله من الصليب حتى مات ولحق الاموات٠ وقبره هي من اعظم امصار هذا الخطۃ “

ثابت ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ملک اللہ تعالیٰ نے اپنے بڑے فضل سے نجات دی ا مر گئے اور مردوں کو جاملے اور آپ کی قبر شہر سرینگر اب تک موجود ہے۔“

اور پھر اس کے بعد کتاب اکمال ال کے لئے اس کتاب کو پڑھنا چاہئے۔ کیونکہ اس مرزا قادیانی کا یہ سارا بیان بالکل مطالعہ سے ظاہر ہوگا۔

اس بیان سے مرزا قادیانی کا مدعا ہو چکے ہیں اور فوت شدہ لوگ پھر دنیا پر نہیں آ اس سے خواہ مخواہ کوئی مثیل مسیح مراد ہے اور مرزا قادیانی کے اس بیان کا تار و پود بالکل باطل مخالف ہے۔ کیونکہ نہ تو حضرت روح اللہ علیہ ال

صفحہ ٢٣

عذر مؤلف

یہ رسالہ کتاب شہادت القرآن باب ثانی کے زمانہ تصنیف ١٣٢٥ھ ہی میں تصنیف کیا گیا تھا۔ اسی لئے اس کتاب میں کسی جگہ اس کی بابت نوٹ بھی لکھ دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کثرت سے متواتر سفروں اور دیگر مشاغل اور کئی عوائق کے سبب اس کی طبع کا موقع نہ مل سکا۔ کل امر مرھون بوقتہ ہر کام کے لئے خدا کے علم میں ایک وقت مقرر ہے۔ طبع اوّل ختم ہونے پر اب پھر اس کے طبع کا خیال آیا اور خدا کا نام لے کر مضمون پر نظر ثانی کرکے طبع کروا دیا۔ ”و ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب“

مرزا قادیانی کی تحریر پر تزویر

مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (الہدی والتبصرۃ لمن یری کے ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦٠، ٣٦١) میں لکھا ہے کہ: ”وثبت بثبوت قطعی ان عیسیٰ ھاجر الی ملک کشمیر بعد ما نجاہ اللہ من الصلیب بفضل کبیر ولبث فیہ الی مدۃ طویلۃ حتی مات ولحق الاموات ۔ وقبرہ موجود الی الان فی بلدۃ سری نکر التی ھی من اعظم امصار ھذا الخطۃ“ اور قطعی طور پر (مگر صرف مرزا قادیانی کے نزدیک) ثابت ہوچکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ملک کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ بعد اس کے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بڑے فضل سے نجات دی اور اس ملک میں بہت مدت تک بستے رہے۔ حتیٰ کہ مر گئے اور مردوں کو جاملے اور آپ کی قبر شہر سری نگر میں جو اس خطہ کے سب شہروں سے بڑا ہے۔ اب تک موجود ہے۔“

اور پھر اس کے بعد کتاب اکمال الدین کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ ”تسلی واطمینان کے لئے اس کتاب کو پڑھنا چاہئے۔ کیونکہ اس میں یہ بیان تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔“

مرزا قادیانی کا یہ سارا بیان بالکل غلط اور محض بہتان ہے۔ جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ظاہر ہوگا۔

اس بیان سے مرزا قادیانی کا مدعا صرف یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور فوت شدہ لوگ پھر دنیا پر نہیں آتے تو حدیث میں جس مسیح کی بشارت سنائی گئی ہے۔ اس سے خواہ مخواہ کوئی مثیل مسیح مراد ہے اور وہ مسیح موعود بہ حسب ادعاء خود مرزا قادیانی ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس بیان کا تار و پود بالکل باطل اور خلافِ واقع ہے اور قرآن وحدیث کے سراسر مخالف ہے۔ کیونکہ نہ تو حضرت روح اللہ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور نہ ان کے لئے کوئی

٣

صفحہ ٢٤

مرہم تیار کی گئی اور نہ وہ نصیبین طرف کو بھاگے اور نہ وہ وہاں فوت ہوئے۔ نہ ”کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر لکھا ہے اور نہ احادیث نبویہ کا مصداق کوئی مثیل ہے نہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہو سکتے ہیں۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ عزیز و حکیم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے آسمان پر اٹھا لیا اور یہودیوں کے ہاتھوں کو آپ تک نہ پہنچنے دیا اور آپ آخری زمانہ میں قیامت سے پہلے زمین پر نزول فرما ہوں گے اور مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے اور قیامت کو آنحضرت ﷺ اور آپ اسی جگہ سے اٹھیں گے۔ والله على ما نقول شهيد!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت واقع صلیب کی تردید اور آپ کے رفع جسمانی و حیات جسمانی و حیات آسمانی کا ثبوت اور ان تیس آیات کے جوابات جو مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قبل النزول کے بارے میں اپنے ازالہ میں لکھی ہیں ہمارے رسالہ صدق مقالہ شہادت القرآن میں جو اس امر میں آپ اپنی نظیر ہے۔ ایسے زبردست اور محکم دلائل سے بیان ہو چکے ہیں کہ آج تک مرزا قادیانی اور ان کے حواری اس کے جواب سے عاجز ہیں۔ اب اس رسالہ ”الخبر الصحيح عن قبر المسيح“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور آپ کے مدفن مقدس کے متعلق مدلل بحث کر کے مرزا قادیانی کے قول کی تردید کی جاتی ہے۔ تا کہ مرزا قادیانی سے رنگ مماثلت کافور ہو جائے اور ملمع مشابہت اتر جائے اور مرزا قادیانی اپنی اصلی رنگت میں لوگوں کو نظر آئیں اور وہ دھوکے سے بچ جائیں۔ ”هذا بالله اعتصم عما يصم وان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب“

مرزا قادیانی کی نئی اور پرانی تصانیف میں اختلاف

مرزا قادیانی کی مختلف کتابوں کو غور و تحقیق سے مطالعہ کرنے والے لوگ خوب جانتے ہیں کہ ان کی اکثر عبارات میں تعارض و تناقض ہوتا اور ان کی بات بات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس طرح ان کی نئی اور پرانی تصانیف حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کے متعلق بھی متفق نہیں ہیں۔ چنانچہ اوپر گزر چکا ہے کہ آپ (الہدیٰ ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٥) میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتاتے ہیں۔ لیکن (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) میں فرماتے ہیں کہ: ”سچ ہے کہ مسیح علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا۔ پھر زندہ ہو گیا۔“

٤

صفحہ ٢٥

دنیا کے نقشہ پر نظر کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ گلیل اور سری نگر میں مشرق ومغرب کا فرق ہے اور یہ دو مختلف مقامات ہیں۔ کہاں ولایت کشمیر اور کہاں علاقہ شام؟۔

اگر یہ عذر کیا جائے کہ ازالہ اوہام کا بیان پادری صاحبان کے مقابلہ میں لکھا ہے اور انہیں انجیلی حوالہ سے جواب دیا ہے۔ تو یہ عذر درست نہیں۔ کیونکہ اوّل تو انجیل کی عبارت سے ایسا مفہوم نہیں ہوتا اور اگر مرزا قادیانی نے اپنی نئی منطق سے اناجیل سے ایسا ہی سمجھا ہے تو پھر بھی عذر صحیح نہیں۔ کیونکہ اس عبارت کو آپ اس طرح شروع کرتے ہیں۔ ”یہ تو سچ ہے“ کہ جس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی مضمون بعد کی تصدیق کرتے ہیں اور اگر کہیں کہ یہ سچ انجیلی سچ ہے نہ کہ نفس الامری تو یہ بھی معقول نہیں۔ کیونکہ اسی اپنے ازالہ اوہام میں آپ نے اناجیل کے مسئلہ صلیب اور موت مسیح پر اپنی تحقیق یہ لکھی ہے کہ ”حضرت مسیح صلیب پر کھینچے تو گئے۔ مگر اس پر مرے نہ تھے۔ بلکہ نیم جان اتارے گئے تھے ۔“ پس اس کے بعد مرزا قادیانی کا حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ ماننا اور پھر گلیل میں جا کر فوت شدہ جاننا ثابت کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی اس عبارت میں اپنا ذاتی خیال ظاہر کر رہے ہیں۔ گو اس کی بنا اناجیل پر ہے۔ دیگر یہ کہ مرزا قادیانی اس موقع پر اناجیل کا مطالعہ اضطراری طور پر کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس واقعہ صلیب کے ثبوت کے لئے سوائے بیان اناجیل کے کوئی دستاویز نہیں ہے اور ان میں سے بعض امروں کو جو آپ کے خیال کے موافق ہوں تسلیم کر لیتے ہیں اور مخالف ہوں انہیں رد کرتے ہیں۔ یا تاویل کرتے ہیں۔ اس سے اتنا ثابت ہے کہ مرزا قادیانی ان کتابوں کو بالکل حق اور سراسر راست قرار نہیں دیتے۔ پس حق کو حق سمجھنے اور باطل کو باطل قرار دینے کے لئے ان کے پاس اناجیل کے علاوہ کوئی اور معیار چاہئے اور یہ مسلم ہے کہ وہ معیار مسلمانوں کے پاس قرآن شریف اور حدیث نبوی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تورات وانجیل کے ذکر کے بعد قرآن شریف کا ذکر فرمایا اور اس کی یہ صفت بیان کی و مهيمنا عليه یعنی اے پیغمبر ہم نے یہ قرآن شریف تم پر پہلی کتاب (یعنی جنس کتاب خواہ توریت ہے۔ خواہ زبور خواہ انجیل ) پر مهيمن کر کے نازل کیا ہے۔ یعنی اختلاف کو دور کر کے محکم رائے سے فیصلہ کرنے والا اور (حق کی) حفاظت کرنے والا اور اسی طرح آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا کہ پچھلی کتابوں کا بیان جو کتاب اللہ یعنی قرآن شریف کے موافق ہو۔ وہ (بوجہ تحریف سے محفوظ رہنے کے) کے قبول کر لو اور جو موافق نہ ہو۔ اسے چھوڑ دو۔

پس مرزا قادیانی پر واجب ہے کہ واقعہ صلیب کے اثبات کے لئے قرآن وحدیث میں سے کوئی دلیل پیش کریں اور بیان اناجیل پر جن کو وہ خود محرف مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ

٥

صفحہ ٢٦

مصنفین اناجیل نے کئی امور از خود بڑھا دیئے ہیں یا صرف حسن ظنی سے لکھ دیئے ہیں۔ یا پچھلی نسلوں میں سے کسی نے لکھ دیئے ہیں۔ کفایت نہ کریں کیونکہ ان پر سے امان مرفوع ہے۔

اور کہا جائے کہ ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت بے شک مرزا قادیانی کی تحقیق یہی تھی کہ مسیح علیہ السلام گلیل میں فوت ہوئے اور اب یہ تحقیق ہے کہ ان کی قبر کشمیر میں ہے اور اس کے متعلق آپ کو وحی بھی ہوچکی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی تحقیق میں نقص ہوتا ہے اور بات بات میں وہ ٹھوکریں کھاتے ہیں اور الزام سے بچنے کے لئے پچھلی عبارت کو وحی قرار دے لیتے ہیں۔ حالانکہ اس سے پیشتر کی تحریر بھی وحی یا بمنزلہ وحی مانی جاتی تھی۔ چنانچہ ازالہ اوہام کا یہی حال ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو وحی نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ ان کے ازالہ اوہام کی تصنیف اور رسائل الہدیٰ وغیرہ کی تصنیف میں کئی برسوں کا عرصہ ہے۔ اگر آپ صاحب وحی ہوتے تو اللہ تعالیٰ علیم وخبیر آپ کو اتنے سال تک اس غلطی کے اندھیرے میں نہ پڑا رہنے دیتا۔ کیونکہ پیغمبرانِ خدا اپنی غلطی کے بعد بلا مہلت متنبہ کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف اور کتب حدیث اور کتب عقائد کے مطالعہ کرنے والوں پر مخفی نہیں ہے اور یہ امر عرف شرع میں عصمت کی تعریف میں داخل ہے۔ چنانچہ طوالع الانوار میں عصمت کی تعریف میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ” وتتأكد فى الانبياء بتتابع الوحى على التذكر والاعتراض ما يصدر عنهم سهواً “

” واوينھما الی ربوۃ (مومنون: ٥٠) “ کی صحیح تفسیر مرزا قادیانی کی عام عادت تھی کہ اپنے مریدوں کو قائم رکھنے کے لئے اپنے غلط دعاوی واقوال کی تائید میں بھی تو موضوع وضعيف روایتیں پیش کیا کرتے تھے اور کبھی قرآن شریف کی آیتیں جن کو آپ کے مدعا سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے آپ کی حدیث وتفسیر دانی بخوبی معلوم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہونے کے متعلق اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنایا اور ان دونوں ” وجعلنا ابن مریم وامه آیۃ واوينھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین (مومنون: ٥٠) “ کو ایک اونچی جگہ پر جو ٹھہرنے کے قابل شاداب بھی تھی لے جا کر پناہ دی۔ اس آیت سے مرزا قادیانی اس وجہ سے استدلال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس میں خبر دی ہے کہ ہم نے مسیح کو اور اس کی ماں مریم علیہا السلام کو ایک ایسی جگہ پر پناہ دی۔ جو اونچی ہے اور شاداب ہے اور چونکہ کشمیر ان ہر دو صفتوں سے موصوف

٦

صفحہ ٢٧

ہے۔ اس لئے اس آیت میں ولایت کشمیر کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ واقعہ تب ہی ہوا جب عیسیٰ علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد مرہم پٹی کرا کر اس طرف بھاگ آئے۔

اس آیت کی تفسیر صحیح بیان کرنے سے پہلے ناظرین کی توجہ اس طرف کرانی ضروری ہے کہ اس آیت میں کشمیر وغیرہ کسی ولایت کا نام مذکور نہیں۔ بلکہ ایسے دو وصف مذکور ہیں۔ جو دنیا میں بہت سے مقامات و ولایات میں پائے جاتے ہیں اور وہ جغرافیہ دانوں سے پوشیدہ نہیں۔ پس اس مقام کی تخصیص کے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو امر کئی ایک میں مشترک ہو اس کے متعلق یہ حکم لگانا کہ اس مقام پر فلاں مقصود ہے اور فلاں مراد نہیں ہے۔ بغیر دلیل کے مقبول نہیں ہو سکتا اور مرزا قادیانی کی تحریر میں ہم نے اس آیت کے سوا کوئی آیت یا حدیث یا کسی صحابی یا مفسر کا قول نہیں دیکھا۔ جو آپ کے اس خیال کی تائید کرے۔

دوم یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیاحت کشمیر کے لئے آپ کا صلیب پر چڑھایا جانا ضروریات میں سے ہے اور جب ثابت ہو چکا کہ واقعہ صلیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بآیت قرآنی وما قتلوه وما صلبوہ (یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا) بالکل باطل اور غلط ہے تو اس کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے کیا معنے؟۔

اب ہم اس آیت کی صحیح تفسیر بیان کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے متعلق ایک امر کا اشارہ ہے اور اس مقام سے مراد بیت المقدس ہے۔ جہاں حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت پناہ لی تھی۔ اس امر کی دلیل کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے متعلق ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ہے کہ اس کے شروع میں فرمایا کہ: ”وجعلنا ابن مریم وامه آیۃ “ یعنی ہم نے ابن مریم علیہم السلام کو اور اس کی ماں کو (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنایا اور ان کا یہ نشان ہونا عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے کے اعتبار سے ہے اور اس کے بعد فرمایا کہ: ”وآوینهما الی ربوة ذات قرار ومعین “ یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ میں جو قرار کے قابل اور شاداب بھی تھی پناہ دی۔ اور ان دونوں جملوں کو حرف عطف سے وصل کیا اور لفظ آیۃ کو مفرد ذکر کیا۔ حالانکہ ذکر ان دونوں کو نشان بنانے کا ہے تو جب تک دونو اکھٹے ایک ہی امر میں نشان نہ ہوں۔ تب تک ان کو ایک نشان نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ پھر دو نشان کہنا پڑے گا۔ جیسا کہ فرمایا کہ: ”وجعلنا اللیل والنهار آیتین (بنی اسرائیل:١٢) “ بنایا ہم نے رات اور دن کو (اپنی

صفحہ ٢٨

قدرت و انتظام کے ) دونشان۔ اور وہ امر جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ دونوں اکھٹے ایک نشان ہیں۔ سوائے آپ کی ولادت بلا پدر کے اور کون سا ہے چنانچہ اس کے موافق سورۂ انبیاء میں بھی فرمایا کہ: ”وجعلنها وابنها آية للعالمين (انبياء:٩١) “ ہم نے مریم کو اور اس کے بیٹے کو (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنایا۔

سورت مؤمنون کی آیت میں مقصود عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام پر آپ کا ذکر پہلے کیا اور آپ کی ماں حضرت مریم کا ذکر پیچھے لیکن سورۂ انبیاء میں مقصود حضرت مریم کا ذکر ہے۔ اس لئے جگہ ان کا ذکر پہلے کیا اور حضرت عیسیٰ کا پیچھے۔

اسی طرح سورۂ مریم میں مذکور ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بلا پدر کی بشارت کے وقت بھی سنایا گیا تھا۔ (کہ اس کے بلا پدر پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے) کہ اس کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کا) نشان بنانا چاہتے ہیں۔

”ولنجعله اية للناس (مریم:٢١)“ اور اس طرح سورۂ زخرف میں بھی کفار کے جواب میں فرمایا کہ: ”وجعلناه مثلاً لبنی اسرائیل (زخرف:٥٩)“ ہم نے اس کو (ابن مریم کو) بنی اسرائیل کے لئے (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنایا۔

اس سارے بیان سے واضح ہو گیا کہ دوسری آیات قرآنی کی طرح اس آیت زیر بحث میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بلا باپ پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس قدر بیان کے بعد شاید میرے ناظرین یہ کہہ اٹھیں کہ دلیل تو اس امر کی دینی تھی کہ جملہ واوینهما حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بلا پدر کے متعلق ایک واقعہ کا اشارہ ہے اور تقریر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بلا پدر ہونے کی چھیڑ دی تو آپ کی حیرانی کو دور کرنے کے لئے اب اصل مطلب کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ یہ سارا بیان اصل مقصود کے ثابت کرنے سے پہلے ذکر کیا ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی حکمت تو ضرور ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ سورۂ مریم میں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ ”فحملته فانتبذت به مكانا قصياً فاجاء ها المخاض الى جذع النخلة قالت يليتنی مت قبل هذا وكنت نسياً منسياً فناداها من تحتها ان لا تحزني قد جعل ربك تحتك سرياً وهزى اليك بجذع النخلة تساقط عليك رطباً جنياً (مريم:٢٣،٢٥)“ پس جبرائیل علیہ السلام کے بشارت سناتے ہی (خدا کی قدرت سے) اس نے پیٹ میں اس بیٹے کو اٹھا لیا۔ جس کی بشارت سنائی گئی تھی۔ پس اس کو دردِ زہ

٨

صفحہ ٢٩

ں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ دونوں اکٹھے ایک لادت بلا پدر کے اور کون سا ہے چنانچہ اسی کے موافق سورۃ انبیاء میں وابنهآ اية للعالمين (انبیاء: ٩١) ”ہم نے مریم کو اور اس کے نشان بنایا۔ کی آیت میں مقصود عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام پر کی ماں حضرت مریم کا ذکر پیچھے لیکن سورۃ انبیاء میں مقصود حضرت مریم کا ذکر پہلے کیا اور حضرت عیسیٰ کا پیچھے۔ ریم میں مذکور ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ے کے وقت بھی سنایا گیا تھا۔ (کہ اس کے بلا پدر پیدا کرنے میں یہ کے لئے (اپنی قدرت کا) نشان بنایا چاہتے ہیں۔ ة للناس (مریم: ٢١) ”اور اس طرح سورۂ زخرف میں بھی کفار کے يناه مثلاً لبنی اسرائیل (زخرف: ٥٩) ”ہم نے اس کو (ابن (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنایا۔ ن سے واضح ہو گیا کہ دوسری آیات قرآنی کی طرح اس آیت زیر السلام کے بلا باپ پیدا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس قدر بیان کے انہیں کہ دلیل تو اس امر کی دینی تھی کہ جملہ و آوينهما حضرت عیسیٰ کے متعلق ایک واقعہ کا اشارہ ہے اور تقریر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پ کو حیرانی کو دور کرنے کے لئے اب اصل مطلب کی طرف رجوع ل مقصود کے ثابت کرنے سے پہلے ذکر کیا ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی ت یہ ہے کہ سورۂ مریم میں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر ه فانتبذت به مكاناً قصياً فاجاء ها المخاض الى جذع ت قبل هذا وكنت نسياً منسياً فناداها من تحتها ان لا ن تحتك سرياً وهذى اليك بجذع النخلة تساقط عليك م: ٢٣، ٢٥) ”پس جبرائیل علیہ السلام کے بشارت سناتے ہی (خدا کی میں اس بچے کو اٹھا لیا۔ جس کی بشارت سنائی گئی تھی۔ پس اس کو درد زہ

٨

کھجور کے تنے کی طرف لے پہنچا۔ کہنے لگی اے کاش! میں اس سے پہلے مر چکی ہوتی اور بھولی بسری ہو گئی ہوتی۔ اس پر اس کو اس کے نیچے سے آواز دی تو کوئی اندیشہ نہ کر۔ دیکھو تو تیرے پروردگار نے تیرے نیچے ایک چشمہ بہا دیا ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا۔ وہ تجھ پر پکی پکی تازہ کھجوریں جھاڑے گی۔

سورت مریم کی ان آیات میں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے ذکر میں چشمہ کا ذکر صاف طور پر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو اس وقت کرامت فرمایا تھا۔ پس آیت زیر بحث يعني وجعلنا ابن مريم وامه آية وآوينهما الى ربوة ذات قرار ومعين میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے ذکر کے بعد اسی کے متعلق ایک واقعہ کا ذکر ہے جو نہایت اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔

اب ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ خوشگوار پانی والا اونچا قطعہ زمین وہی علاقہ شام ہے۔ جس کی نسبت خدا تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ: واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الارض ومغاربها التي باركنا فيها (اعراف:١٣٧) ”اور وارث کیا ہم نے ان لوگوں کو جو ضعیف شمار کئے جاتے تھے۔ اس زمین کے مشرق و مغرب کا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے۔

اسی سورۂ بنی اسرائیل میں بھی فرمایا کہ: سبحان الذي اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذى باركنا حوله (بنی اسرائیل:١)“ پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے۔

سورۂ مائدہ میں اس مبارک زمین کو ارض مقدسہ بھی کہا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ: ياقوم ادخلوا الارض المقدسة التي كتب الله لكم (مائده: ٢١) ”اے میری قوم داخل ہو اس زمین پاک میں جو خدا نے تمہارے لئے لکھی ہے۔

اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ: ولسليمن الريح عاصفةً تجرى بامره الى الارض التي باركنا فيها (انبیاء: ٨١) ”سلیمان کے لئے زور کی ہوا بھی چلتی تھی۔ اس کے حکم سے اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت رکھی ہے۔

ان آیات مذکورہ بالا سے صاف واضح ہو گیا کہ اس زمین کو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف

٩

صفحہ ٣٠

میں ارض مبارکہ اور ارض مقدسہ فرمایا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ نے روحانی وجسمانی ہر طرح کی برکتیں رکھی ہوئی ہیں۔ روحانی یہ کہ اس میں بہت پیغمبر پیدا کئے۔ جسمانی یہ کہ اس میں میٹھی نہریں چلتی ہیں۔ باغات بکثرت ہیں۔ میوہ جات بافراط ہیں اور ہر دو امر ایسے ہیں کہ محتاج بیان نہیں ١؎۔ پس اس آیت زیر بحث میں بھی اس جگہ سے یہاں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جگہ ملی۔ یہی زمین مبارک مراد ہے۔ کیونکہ اس کی صفات دوسرے مقامات پر قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جو ہم نے بیان کردیں۔ تفسیر (ابن کثیر ج ٥ ص ٣١٥) میں اس قول کو اقرب اور اظہر اور مؤید بالقرآن کہہ کر لکھا ہے۔

”واقرب الاقوال فی ذالك ما رواه العوفی عن ابن عباس فی قوله وآوينهما الى ربوة ذات قرار ومعين قال المعين الماء الجارى وهوالنهر الذى قال الله تعالى قد جعل ربك تحتك سريا وكذا قال الضحاك وقتادة الى ربوة ذات قرار ومعين هو بيت المقدس فهذا والله اعلم هوالاظهر لانه المذكور فی الآية الاخرى والقرآن يفسر بعضه بعضاً “ اور سب قولوں سے اقرب وہ ہے جو عوفی نے ابن عباسؓ سے اس آیت وآوینھما کے بابت روایت کیا ہے کہ معین جاری پانی کو کہتے ہیں اور اس سے وہ نہر مراد ہے۔ جس کی بابت دوسری جگہ فرمایا کہ:”قد جعل ربك تحتك سریا (مریم)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پر جو حضرت مریم کے لئے خدا نے ظاہر کی اور اسی طرح ضحاک اور قتادہ نے کہا کہ ربوة ذات قرار معین سے مراد بیت المقدس ہے اور یہی قول اظہر ہے۔ کیونکہ یہ دوسری آیت میں مذکور ہے اور قرآن کی بعض آیتیں بعض کی تفسیر کرتی ہیں ۔“

مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اس زمین سے مراد ملک کشمیر ہے نہ تو قرآن مجید سے اور نہ حدیث شریف سے ثابت ہے اور نہ اقوال صحابہؓ اس کی تائید کرتے ہیں۔ پس ان کی اپنی رائے قرآن شریف کی آیات اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ کے مقابلہ میں ہرگز پیش نہیں ہوسکتی۔

ثانیاً یہ کہ آوینھما سے تحقق موت ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ جملہ صرف اس امر کا مفید ہے کہ خدا نے ان کو جگہ دی۔ اس سے موت کس طرح ثابت ہوسکتی ہے؟۔

شاہزادہ یوذآسف کا قصہ

چونکہ مرزا قادیانی نے کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ کا ذکر کرکے کہا ہے کہ شہزادہ کی قبر کی تصدیق کے لئے اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے اور اس سے انہوں نے خلق خدا کو سخت دھوکا

١؎ چنانچہ خاکسار بتوفیق الٰہی ١٣٣٠ھ کے سفر حج میں چشم خود دیکھ آیا ہے۔

١٠

صفحہ ٣١

دیا ہے اور یوز آسف کو یسوع بنا کر اپنا مطلب سیدھا کرنا چاہا ہے۔ اس لئے ہم اس کتاب کا کچھ ترجمہ بطور خلاصہ درج کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ اصل کتاب میں کسی اور شخص کا ذکر ہے اور مرزا قادیانی حسب عادت دھوکے سے اسے حضرت عیسیٰ کہہ کر اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔

شیخ ابن بابویہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ میں بسند خود محمد بن زکریا سے نقل کرتے ہیں کہ: ”ممالک ہندوستان میں ایک بادشاہ تھا۔ جس امر کو امور دنیا سے چاہتا تھا۔ بآسانی میسر ہوتا تھا۔ اس کی مملکت میں دین اسلام ہوچکا تھا۔ جب یہ تخت پر بیٹھا تو اہل دین سے بغض رکھنے لگا اور ان کو ستانے لگا۔ بعض کو قتل کروا دیا اور بعض کو جلاوطن کر دیا اور بعض اس کے خوف سے روپوش ہو گئے۔ ایک دن بادشاہ نے ان لوگوں میں سے جو اس کے نزدیک نظر عزت سے دیکھے جاتے تھے۔ ایک شخص کی نسبت سوال کیا تو وزراء نے جواباً عرض کیا کہ وہ چند ایام سے تارک دنیا ہو کر گوشہ نشین ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے اس کی طلبی کا حکم دیا اور اسے لباس زہاد و عباد میں دیکھ کر بہت خفگی ظاہر کی۔ اس باخدا کے ساتھ بادشاہ کی بہت باتیں ہوئیں اور اس نے بہت حکمت آموز باتیں کیں۔ لیکن بادشاہ کو کچھ اثر نہ ہوا اور اسے اپنی مملکت سے نکلوا دیا۔ بعد اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ نہ گزرا تھا کہ بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا اس کا نام یوز آسف رکھا۔ شہزادے کی ولادت پر منجموں نے اس کے طالع کی نسبت بالاتفاق کہا کہ یہ شہزادہ فرخندہ طلعت نیک اختر نہایت اقبال مند ہوگا۔ لیکن ایک بوڑھے منجم نے کہا اس کا طالع و اقبال دنیوی جاہ و حشم کے متعلق نہیں بلکہ وہ سعادت مندی عاقبت کی ہے اور گمان قوی ہے کہ شاہزادہ پیشوایان زہاد و عباد سے ہوگا۔“

بادشاہ یہ سن کر نہایت حیران و غمگین ہوا اور اس کی تربیت کے لئے حکم دیا کہ ایک شہر و قلعہ خالی کرایا جائے۔ جس میں صرف شاہزادہ اور اس کے خادم سکونت کریں اور سب کو نہایت تاکید کی آپس میں کوئی تذکرہ دین حق اور مرگ و آخرت کا ہرگز نہ کریں۔ تاکہ یہ خیالات اس کے کان میں نہ پڑیں۔

اس کے بعد کئی سو صفحوں تک شاہزادے کی تربیت اور دین حق کی طرف اس کی رغبت اور علم دین کی تعلیم اور ترک سلطنت اور اختیار فقر کا ذکر ہے۔

میں سے ایک باہدایت و با ایمان شاہزادہ ہوا ہے۔ جسے خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی راہ دکھائی۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلی پیغمبر ملک کشمیر میں آئے اور یہاں فوت ہوئے۔

١١

صفحہ ٣٢

ہم مرزا قادیانی کے مقلدوں کو پکار کر کہتے ہیں کہ وہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ کو نکال کر ہمارے سامنے کسی مجلس میں اس میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر خدا کا ذکر نکال کر دکھاویں۔ ورنہ جھوٹ کا اقرار کر لیں اور کہیں۔

جھوٹے پر خدا کی لعنت

یہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ لندن کے سرکاری کتب خانہ میں بزبان فارسی موجود ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر کا ایک خط جو انہوں نے سفر ولایت کے ایام میں لندن سے لکھا تھا۔ پیسہ اخبار لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے اس کتاب کے دیکھنے کا ذکر کیا تھا اور اس کی بعض عبارتیں اصل فارسی زبان میں نقل کی تھیں۔ جن کا ترجمہ ہماری عبارت منقولہ بالا میں آگیا ہے اور اب اس تمام کتاب کا اردو ترجمہ بنام تنبیہ الغافلین مطبع صبح صادق میں چھپ چکا ہے۔ لاہور وغیرہ سے دستیاب ہو سکتا ہے۔ مزید اطمینان کے لئے شائقین خود کتاب منگوا کر تسلی کر لیں۔

مدفن عیسیٰ

”ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن مدینہ طیبہ داخل حجرہ نبویہ ﷺ ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول کے فوت ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ شریفہ میں آپ کے ساتھ شیخین یعنی حضرت ابوبکر اور عمرؓ کے درمیان مدفون ہوں گے۔

یہ حدیث (بروايت عبدالله بن عمر وتبخريج ابن الجوزى درکتاب الوفاء مشکوٰۃ ص٤٨، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) میں موجود ہے۔ اس سے منصوصاً اور منطوقاً ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن مقبرہ نبی ﷺ ہے نہ کوئی اور موضع۔

اس حدیث کے متعلق ہم علاوہ امر مقصود کے دیگر امر بھی ذکر کرتے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کی مسیحیت ان کی اپنی زبانی بالکل درہم برہم ہو جاتی ہے۔

مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ ص٣٣٧ حاشیہ ) پر اس حدیث کو اپنی مسیحیت کی دلیل گزارتے ہیں۔ اس تقریب سے کہ اس حدیث کا شروع اس طرح ہے۔

١٢

صفحہ ٣٣

کے مقلدوں کو پکار کر کہتے ہیں کہ وہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ کو اس میں اس میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر خدا کا ذکر نکال کر دکھلائیں اور کہیں۔

ین واتمام النعمۃ لندن کے سرکاری کتب خانہ میں بزبان فارسی اور صاحب بیرسٹر کا ایک خط جو انہوں نے سفر ولایت کے ایام میں لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے اس کتاب کے دیکھنے کا نہیں اصل فارسی زبان میں نقل کی تھیں۔ جن کا ترجمہ ہماری عبارت اب اس تمام کتاب کا اردو ترجمہ بنام تنبیہ الغافلین مطبع صبح صادق بہرہ سے دستیاب ہو سکتا ہے۔ مزید اطمینان کے لئے شائقین خود

مدفن عیسیٰ

لیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی بن مریم فی بکر وعمر ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن مدینہ طیبہ داخل حجرہ یث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول کے فوت ہوں گے اور ہ میں آپ کے ساتھ شیخین یعنی حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان

ت عبداللہ بن عمر وتخریج ابن الجوزی درکتاب الوفاء عیسیٰ علیہ السلام ) میں موجود ہے۔ اس سے منصوصاً اور منطوقاً سلام کا مدفن مقبرہ نبی ﷺ ہے نہ کوئی اور موضع۔ علق ہم علاوہ امر مقصود کے دیگر امر بھی ذکر کرتے ہیں۔ جن سے پنی زبانی بالکل درہم برہم ہو جاتی ہے۔ شہور کتاب ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ ) پر دلیل گزارتے ہیں۔ اس تقریب سے کہ اس حدیث کا شروع

١٢

”ینزل عیسی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث فی الارض خمسا واربعین سنۃ ثم یموت “ اتریں گے عیسیٰ بن مریم زمین پر پس نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد پیدا ہو گی اور زمین میں پینتالیس سال رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔

اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نکاح کا جو ذکر ہے۔ اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی محمدی بیگم کے میرے نکاح میں آنے اور پھر اس سے اولاد کے ہونے کی بشارت ہے۔ چنانچہ ( ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٥٣ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) پر فرماتے ہیں کہ: ”حدیث میں اس نکاح کو مسیح موعود کی صداقت کی علامت خود حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔“

پھر اسی حدیث کا ذکر کیا ہے۔ جو ہم نے اوپر لکھی ہے۔

اول ! یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب مرزا قادیانی اس حدیث کو اپنے دعوے کے دلائل میں شمار کرتے ہیں تو یہ حدیث ان کے نزدیک صحیح اور قابل استناد ہے۔ پس جب اسی حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن مدینہ طیبہ داخل حجرہ شریفہ ہے تو مرزا قادیانی کا آپ کی قبر کی بابت یہ کہنا کہ وہ کشمیر میں ہے باطل ہے۔

دوم! یہ کہ اس حدیث میں مسیح موعود کے لئے بتایا گیا کہ وہ مدینہ طیبہ میں مدفون ہوں گے اور سب پر واضح ہے کہ مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے اور وہاں سے ریل پر سوار کر کے قادیان میں دفن کئے گئے۔ پس جب مطابق حدیث کے آپ کا دفن نہ ہوا تو آپ کو دعویٰ مسیحیت بھی باطل ہوا۔

سوم! یہ کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کے رو سے محمدی بیگم کے نکاح کو اپنی مسیحیت کا نشان قرار دیا اور معلوم ہے کہ مرزا قادیانی دنیا سے اس کے نکاح سے محروم رخصت ہوئے تو جس امر کو انہوں نے مسیحیت کا نشان قرار دیا تھا وہ پورا نہ ہوا تو مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت غلط ہوا۔

مولوی محمد احسن قادیانی نے اس حدیث نبوی پر یہ اعتراض کیا کہ اس سے اہانت نبی ﷺ کی لازمی آتی ہے۔ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک میں دفن کئے جائیں تو بالضرور قبر رسول ﷺ کا کھودنا لازم آئے گا۔ یہ بے ادبی ہے جناب اقدس رسول کریم ﷺ کی خدمت میں۔

مولوی محمد احسن قادیانی نے لیاقت علمی اور قوت نظری سے بالکل کام نہیں لیا اور تقویٰ اور ادب کو بالائے طاق رکھ دیا۔ یہ اعتراض تو رسول اللہ ﷺ ناطق بالوحی کے کلام ہدایت التیام پر

١٣

صفحہ ٣٤

ہوا نہ کہ اہل سنت کے اعتقاد پر۔ کیونکہ اہل سنت تو صرف کلمات نبویہ کے ناقل ہیں اور ان کے مطابق اعتقاد رکھنے والے افصح الفصحاء ناطق بالوحی ﷺ کے کلمات جامعہ خود اس شبہ واہی کو رد کرتے ہیں اور تصریح بین ابی بکر و عمر اسی لئے ہے کہ کسی متجاہل کو شبہ قبر کے کھودنے کا نہ پڑے۔ کیونکہ مرکب اضافی بین ابی بکر و عمر متعلق ہے۔ فعل یدفن کے نہ اقوم کے کیونکہ نقشہ روضہ پاک اس کا انکار کر رہا ہے۔ جب یہ صاف بتلا دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام شیخین خلیفتین کے درمیان مدفون ہوں گے تو شبہ کھودنے قبر کا جاتا رہا اور یہی تخصیص بین ابی بکر و عمر مفید ہے۔ اس امر کی کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے اور فی بمعنی من ہے۔ (فافہم) اس حدیث میں قبر بمعنی مقبرہ اور فی ثانی بمعنی من کی تصریح ملا علی قاری نے اسی حدیث کی شرح میں کی ہے۔ روضہ مطہرہ نبی ﷺ کا نقشہ حسب ذیل ہے۔ منقول از جذب القلوب!

نقشہ

حضرت محمد مصطفی ﷺ حضرت ابو بکر صدیق موضع قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عمر فاروق

اس کیفیت سے کہ سر مبارک حضرت ابو بکر صدیق کا محاذی معدن اسرار منبع انوار صدر شریف حضرت رسول مقبول ﷺ کے ہے اور سر مبارک حضرت خلیفہ ثانی کا بمقابلہ سینہ حضرت خلیفہ اول اور قدم مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ کے ہے اور قدم حضرت عمر کے دیوار کے بیچ میں ہیں۔ اس کیفیت سے جو موضع حضرت خلیفہ ثانی فاروق اعظم حضرت عمر کے سرہانے خالی بچی ہوئی ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی جگہ جو قادیانی کو کبھی بھی نصیب نہ ہوگی ۔ ان اللہ لا يخلف الميعاد! ١؂

یہ کیفیت قبور ثلاثہ کی شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی نے جذب القلوب میں درج فرمائی اور اسی وضع کو اصح کہا ہے ۔ حج الکرامہ میں بنقل ابن خلدون از کندی ذکر کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مدینہ میں فوت ہوں گے اور حضرت عمر کے پاس دفن کئے جائیں گے ۔ یہ بھی مروی ہے کہ

١؂ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو بروز منگل سہ شنبہ لاہور میں بعارضہ مرض ہیضہ فوت ہو گئے اور فریضہ حج ادا نہ کیا ۔ جو بوجہ تمول آپ پر فرض تھا اور بوجہ دعویٰ مسیحیت ہونا ضروری تھا۔

١٤

ابوبکر و عمر دو پیغمبروں کے درمیان سے محشور

بعدك فتأذن ان ادفن الی ـ الاموضع قبری وقبرابی بـ ص ٦٢٠ حدیث نمبر ٣٩٧٢٨) " و حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ میں کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ جاؤں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس جگہ کی ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور عیسیٰ بن مـ قلب بوجہ اکتساب انوار نبویہ از بس مجلـ رسول اکرم ﷺ کے بعد زندہ رہیں گی پر آپ نے جواب فرمایا کہ اللہ صدقـ میرے مقبرہ میں سوائے میری قبر اور ابـ یہ میرا اختیاری امر نہیں ہے۔ اللہ اکبر! جس امر کو رسول فرمائیں۔ مبطلین منکرین اس میں ترد نہیں کرتے یہ صرف بداعتقادی کا نتیجـ تیسری حدیث امام ترمذی کہ توریت میں محمد رسول اللہ ﷺ کی صـ

محمد وعيسى بن مريم يدفنـ قبر (رواه الترمذى، مشكوة صـ معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تھی اور یہ بھی کہ ان دونوں کا مدفن ا عیسیٰ بن مریم کی موت وفات رسول ملحق سے متقدم ہوتا ہے۔

صفحہ ٣٥

ابوبکر و عمر دو پیغمبروں کے درمیان سے محشور ہوں گے۔

بعدك فتاذن ان ادفن الى جنبك فقال وانى لى بذالك الموضع مافيه الاموضع قبرى وقبرا ابی بكر و عمر وعيسى ابن مريم (كنز العمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث نمبر ٣٩٧٢٨) “ دوسری حدیث کنز العمال میں تخریج ابن عساکر نقل کیا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ میں نے جناب اقدس ﷺ سے عرض کیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپؐ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس آپ اجازت فرمائیں کہ میں آپ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ اس جگہ کی نسبت میرا کچھ اختیار نہیں ہے۔ وہاں تو سوائے میری قبر اور ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ اور عیسیٰ بن مریمؑ کی قبر کے کسی کی جگہ نہیں۔ چونکہ حضرت عائشہؓ کا آئینہ قلب بوجہ اکتساب انوار نبویہ از بس مجلےٰ تھا۔ اس لئے آپ پر کرامتہً مکشوف و مشہور ہو گیا کہ آپ رسول اکرم ﷺ کے بعد زندہ رہیں گی۔ پس تمنا کی کہ آپؐ کی جنب مبارک میں مدفون ہوں۔ اس پر آپؐ نے جواب فرمایا کہ اللہ مدبر السموات والارض کی طرف سے یہی امر مقدر ہے کہ میرے مقبرہ میں سوائے میری قبر اور ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عیسیٰ بن مریمؑ کی قبر کے اور کسی کی قبر نہ ہو۔ پس یہ میرا اختیاری امر نہیں ہے۔

اللہ اکبر! جس امر کو رسول اکرم ﷺ اس وضاحت اور صفائی سے مصرح بیان فرمائیں، مبطلین منکرین اس میں ترددات و شبہات وارد کرتے ہیں اور صراط مستقیم کی طرف توجہ نہیں کرتے یہ صرف بداعتقادی کا نتیجہ ہے۔

تیسری حدیث امام ترمذی نے عبداللہ بن سلامؓ سے روایت کیا اور اس حدیث کو حسن کہا کہ توریت میں محمد رسول اللہ ﷺ کی صفت ہوئی ہے۔

محمد وعيسى بن مريم يدفن معه قال ابو مودود قدبقى فى البيت موضع قبر (رواه الترمذى، مشكوة ص ٥١٥، فضائل سيد المرسلين) “ اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ہر دو پیغمبران صلواۃ اللہ علیہما و السلام کی خبر توریت میں دی تھی اور یہ بھی کہ ان دونوں کا مدفن ایک ہوگا اور الفاظ مبارکہ يدفن معه سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیسیٰ بن مریمؑ کی موت وفات رسول اکرم ﷺ سے متاخر ہوگی۔ کیونکہ مقام وصول پر ملحق بہ، ملحق سے متقدم ہوتا ہے۔

١٥

صفحہ ٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم رسول اللہﷺ کے حجرہ میں آپ کے پاس مدفون ہوں گے۔ ”ذكر الحافظ ابوالقاسم بن عساکر فی ترجمۃ عیسیٰ بن مریم من تاریخہ عن بعض السلف انہ یدفن مع النبیﷺ فی حجرتہ (ابن کثیر ج ٢ ص ١٥ بذیل آیت وان من اهل الكتب) “

عبداللہ بن سلام سے روایت کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم رسول اللہ ﷺ اور صاحبین یعنی حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ساتھ مدفون ہوں گے۔ ”یدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعا (در منثور ج ٢ ص ٢٤٦) “ پس آپ کی قبر چوتھی ہوگی۔ اور اسی طرح امام زرقانی مالکیؒ نے (شرح مواہب لدنیہ ج ٥ ص ٣٩١) میں کہا کہ ابن عساکر نے ذکر کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات مدینہ طیبہ میں ہوگی۔ پس اسی جگہ آپ کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ اور حجرہ نبویہ ﷺ میں دفن کئے جائیں گے۔

ان احادیث واخبار سے عیسیٰ علیہ السلام کا اب تک زندہ ہونا اور پھر زمانہ میں نازل ہونا اور کئی سال کے بعد فوت ہو کر مدینہ الرسول ﷺ میں آپ ﷺ کے پاس دفن کیا جانا صاف ثابت ہے کہ اور اس امر پر امت مرحومہ کا اجماع ہے۔ پس چونکہ ان سے مرزا قادیانی کی عمارت مسیحیت بالکل منہدم اور ان کی بیخ رسالت کھوکھلی ہو جاتی ہے اور دام بیعت کا سارا تانا بانا ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا مدینہ منورہ میں پہلوئے نبی ﷺ میں مدفون ہونا تو درکنار ان پر دخول حرمین بھی حرام ہے۔ اس لئے ان الزامات سے بچنے کے لئے ایک دروغ بے سروپا گھڑا کر دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتادی۔

چونکہ مرزا قادیانی کا خروج وفتنہ مذہبی پہلو میں ہے اور ان کا ادعا مسلمانوں کی امامت کا ہے۔ اس لئے ان کو خواہ مخواہ قرآن وحدیث میں تصرف کر کے مسلمانوں کے سامنے کچھ نہ کچھ پیش کرنا پڑا ہے۔ ورنہ ان کے مسائل مخصوصہ میں ان کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں ہوتی جو قابل اعتبار ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ قرآن مجید میں صاف طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب نہ ہونے کا ذکر موجود ہے اور پھر انہوں نے اپنے مطلب کو سیدھا کرنے کے لیئے عیسائیوں کی کتابوں کی پیروی کی اور قرآن شریف کی آیت کے معنی ہی بدل دیئے۔ حالانکہ وہ معنے نہ تو لغت

١٦

کی رو سے درست ہیں اور نہ سلف وخلف میں ۔ آوينهما الی ربوۃ کو انہوں نے محض مسلمانوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا کشمیر میں ہونا بتایا۔ موت کا ذکر ہے نہ قبر کا اور نہ ملک کشمیر کا۔

علاوہ بریں یہ کہ اس آیت میں صرف آپ کی والدہ حضرت مریم کا بھی ساتھ ہی ذکر ساتھ دوسرا بھی اس حکم میں شامل ہے۔ پس اگر ہونے کے کشمیر کو بھاگ آئے تو حضرت مریم بھی چاہئے۔ کیونکہ اس آیت میں دونوں کا ذکر ہے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مدینہ طیبہ میں آنحضرتﷺ کی قبر تو بیت المقدس میں ہے۔ جہاں وہ بعد ر مرزا قادیانی کا قول سراسر باطل ہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ مرزا ق

قبر مسیح یا حیات مسیح وغیرہ کے مضامین فساد کرنے کو یہی مضمون ہے جس کا نام آخری فیص ایک اشتہار بطور آخری فیصلہ کے دیا تھا۔ جس (مرزا قادیانی اور مولوی ثناء اللہ ) میں سے جو تی ماردے۔ چنانچہ وہ اشتہار یہ ہے۔

” بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب الس اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ کذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میر

؎١ چنانچہ خاکسار سنہ ١٣٣٠ھ میں پیش

صفحہ ٣٧

کی رو سے درست ہیں اور نہ سلف وخلف میں سے کسی سے منقول ہیں۔ اسی طرح اس آیت اٰوینہما الیٰ ربوۃ کو انہوں نے محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے پیش کیا ہے اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا کشمیر میں ہونا بتایا ہے۔ حالانکہ اس میں نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذکر ہے نہ قبر کا اور نہ ملک کشمیر کا۔

علاوہ بریں یہ کہ اس آیت میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر نہیں ۔ بلکہ آپ کی والدہ حضرت مریم کا بھی ساتھ ہی ذکر ہے اور صیغہ تثنیہ کے یہی معنی ہیں کہ ایک کے ساتھ دوسرا بھی اس حکم میں شامل ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ بعد مصلوب ہونے کے کشمیر کو بھاگ آئے تو حضرت مریم بھی ساتھ ہی ہوں گی اور ان کی قبر بھی کشمیر ہی میں چاہئے ۔ کیونکہ اس آیت میں دونوں کا ذکر ہے۔ لیکن بیان بالا سے معلوم ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے روضہ پاک میں ہوگی اور حضرت مریم کی قبر تو بیت المقدس میں ہے۔ جہاں وہ بعد رفع عیسوی فوت ہوئیں اور دفن کی گئیں؎١ پس مرزا قادیانی کا قول سراسر باطل ہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ

قبر مسیح یا حیات مسیح وغیرہ کے مضامین گو ایک حد تک مفید ہیں۔ لیکن پوری طرح ازالہ فساد کرنے کو یہی مضمون ہے جس کا نام آخری فیصلہ ہے۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک اشتہار بطور آخری فیصلہ کے دیا تھا۔ جس میں آپ نے دعا کی تھی کہ الٰہی ہم دونوں (مرزا قادیانی اور مولوی ثناء اللہ) میں سے جو تیرے نزدیک جھوٹا ہے اس کو سچے کی زندگی میں مار دے۔ چنانچہ وہ اشتہار یہ ہے۔

”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علٰی من اتّبع الہدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے اپنے اس پرچہ میں مردود کذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے

؎١ چنانچہ خاکسار سفر ١٣٣٠ھ میں بچشم خود آیا ہے۔

١٨

صفحہ ٣٨

ہیں اور مجھے ان گالیوں، ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا..... یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن، رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین !...... میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ! ثم آمین ! ربنا افتح بیننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين . آمین ! (راقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واید)

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨، ٥٧٩)

اس دعا کی بابت اخبار بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی کا قول لکھا ہے کہ ’’ثناء اللہ کی بابت جو ہم نے دعا کی ہے۔ خدا نے اس کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے‘‘ چنانچہ وہ قبول ہو گئی کہ مرزا قادیانی اس دنیا سے رخصت ہوئے اور مولوی صاحب تا حال زندہ سلامت ہیں۔ الحمد للہ کیا سچ ہے۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مرگیا

المرتب خاکسار! حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

نوٹ! مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیام پاکستان کے بعد سرگودھا رہائش پذیر ہوئے۔ ١٩٤٨ء کے بعد انتقال فرمایا۔ فقیر مرتب ! ١١؍ شوال ١٤٢٧ھ

١٧

صفحہ ٣٨

تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت کذاب اور مفتری ہوں ۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ پ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا ...... یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر ور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یر جو علیم و خبیر ہے ۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور م ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں ثناء صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان آمین! ..... میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب ناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت میں مفسد اور کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو ے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ! ثم آمین ! ربنا افتح حق وانت خیر الفاتحین . آمین! الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واید)

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨،٥٧٩)

ت اخبار بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی کا قول لکھا ہے کہ ” ثناء ا ہے۔ خدا نے اس کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔“ چنانچہ وہ قبول یا سے رخصت ہوئے اور مولوی صاحب تاحال زندہ سلامت ہیں۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

المرتب خاکسار! حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ! ثناء اللہ مرتسریؒ قیام پاکستان کے بعد سرگودھا رہائش پذیر ہوئے ۔ فقیر مرتب !! ١١/شوال ١٣٢٧ھ ١٧

خاتم النبيين لا نبي بعدي

یہ آنحضرت ﷺ کی مہر ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی مذہب

بمع

ضمیمہ خلاصہ مسائل قادیانیہ

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٤٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

مرزا محمود خلیفہ قادیانی پر واجب ہے کہ وہ اس رسالہ کا جواب اپنے علماء کو مطالعہ کرانے کے بعد حکماً تحریر کرائیں۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی خود کاشتہ جھاڑی کا بے خلش کانٹا ہے۔

یہ رسالہ صدق مقالہ اوائل ماہ ستمبر ١٩٤٨ء میں مولانا ممدوح نے اپنے اور مرزا محمود قادیانی کے ایام قیام کوئٹہ بلوچستان میں صرف ایک شب کی ایک نشست میں علمائے کوئٹہ کی فرمائش پر لکھا تھا۔ جنہوں نے اس کو وہاں کوئٹہ میں طبع کرا کے تقسیم کیا اور یہاں سیالکوٹ میں ٣١؍ اکتوبر و یکم نومبر ١٩٤٨ء کو قادیانیوں کے جلسہ میں بھی تقسیم کیا گیا۔ آج تک اس کا جواب نہ کوئٹہ والی انجمن نے اور نہ سیالکوٹ والی انجمن قادیانی نے اور نہ مرزا محمود قادیانی نے مرکز سے دیا۔ اب تیسری بار اس کو قدیم انجمن اہل حدیث سیالکوٹ میانہ پورہ طبع کرا کے شائع کر رہی ہے۔

ناظم! انجمن اہل حدیث میانہ پورہ سیالکوٹ

قادیانی مذہب

بجواب قادیانی اشتہارات ”ہمارا مذہب وغیرہ“

بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

مرزا محمود قادیانی جب سے وارد کوئٹہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے تبلیغ قادیانیت میں کئی ایک پمفلٹ اور اشتہارات شائع کرائے ہیں۔ جو سیاسی نقطۂ نگاہ سے حکومت پاکستان کے وقتی مفاد کے لئے سخت خطرناک ہیں۔ کیونکہ ان کے مندرجہ مسائل ایسے ہیں۔ جو مسلمانوں کے سب فرقوں کے نزدیک کفر والحاد اور ضلالت ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ ختم نبوت کا ہے کہ قادیانی لوگوں کے نزدیک مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (والد مرزا محمود قادیانی) نبی اور رسول ہیں اور جو کوئی ان کو نبی اور رسول نہ مانے وہ کافر و جہنمی ہے۔

صفحہ ٤١

اس کے جواب میں علمائے اسلام نے ایک پبلک جلسہ میں ختم نبوت کا مسئلہ قرآن وحدیث اور خود مرزا قادیانی مدعی نبوت کی ابتدائی تحریرات سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ آنحضرت ﷺ سلسلۂ نبوت کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی جدید نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرات علماء کے ان وعظوں کا اثر اہل شہر پر بے حد ہوا۔ قادیانی گروہ سے جب ان دلائل کا جواب نہ ہوسکا تو انہوں نے پہلو بدل کر ایک اشتہار شائع کیا کہ ’’علمائے اسلام نے ایسے عقائد جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کئے ہیں۔ جن سے ہم خود بیزار ہیں اور ایسے عقائد رکھنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ۔“

(دیکھو قادیانی اشتہار ہمارا مذہب ص ١ سطر ٢، ٣)

نیز لکھا ہے کہ ’’علماء نے ہمارے متعلق اپنی تقاریر میں یہ کہا ہے کہ ہم نعوذ باللہ من ذالک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے اور یہ کہ حضرت مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کو ہم تمام انبیاء سے افضل جانتے ہیں۔“

(دیکھو اشتہار مذکور ص ١ سطر ٤ تا ٦)

نیز اس اشتہار میں اردو ترجمہ (تبلیغ ص ٣٩٢، آئینہ کمالات ص ٣٨٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) سے جو عبارت مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کی طرف سے نقل کی ہے۔ اس میں لکھتے ہیں ”اور ہمارا عقیدہ ہے کہ معجزات انبیاء حق ہیں ۔“

(اشتہار مذکور ص ٣ سطر ٤)

اس کے جواب میں عرض ہے کہ ہمارا مقصود بھی یہی ہے کہ آپ عقائد کفریہ سے بیزار ہو کر توبہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شخص زبان سے یہ کہے کہ میں کفر سے بیزار ہوں اور باوجود اس کے دل میں عقائد کفریہ رکھے اور ان کا اقرار بھی کرے تو اس کا کیا علاج ؟۔

نمبر وار ملاحظہ فرماتے جائیے اور اپنے ضمیر میں سوچتے جائیے کہ امور ذیل کفر وضلالت ہیں یا نہیں۔ لیکن باوجود اس کے آپ ان کو اسی طرح مانتے ہیں یا نہیں؟ ۔

اول ! یہ کہ علمائے اسلام نے اپنے وعظوں میں یہ نہیں کہا کہ آپ لوگ لفظ ختم نبوت سے انکار کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا کہ خاتم النبیین کے معنے (از روئے کتب لغت واحادیث نبویہ و کتب تفسیر وشروح احادیث ) آخری نبی ہیں۔ (دیکھو لسان العرب ج ٤ ص ٢٥) لیکن آپ قادیانی لوگ اس کے یہ معنی نہیں کرتے ۔ بلکہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مہر تصدیق سے مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں اور یہ تحریف معنوی ہے۔ دیکھئے کہاں خاتم الانبیاء کے معنی آخری نبی اور کہاں یہ معنی کہ آپ کی مہر تصدیق سے سلسلۂ نبوت کا اجراء قائم ہے۔ دیکھئے آپ کے خلیفہ اوّل حکیم

٣

صفحہ ٤٢

نور الدین صاحب کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ ”ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق کافر ہے۔ یہ جدا امر ہے کہ اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا ۔“ علمائے اسلام نے اس کا جواب دو طریق پر دیا تھا۔

اگر آپ (قادیانی) لوگ خاتم الانبیاء کے معنی آخری کرتے ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کسی جدید نبوت کے مدعی کو مرزا قادیانی سمیت جھوٹا جانتے ہیں۔ جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے تو بسم اللہ دل ما شاد و چشم ما روشن، مرزا محمود قادیانی سے دستخط کروا بھیجئے ۔ ہم اس خوشی میں ایک عام جلسہ کر کے پبلک کو مژدہ سنا دیں گے اور اگر آپ نے خاتم کے معنی کچھ اور کئے تو سمجھا جائے گا کہ آپ لفظوں کی آڑ میں عقائد کفریہ چھپانا چاہتے ہیں۔

دیکھئے خاتم النبیین کے معنی خود حضور سرور کائنات ﷺ نے کیا فرمائے ہیں اور آپؐ کے بعد امتی کہلا کر دعوے نبوت کرنے والے کے حق میں کیا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔

پہلی حدیث : (جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٥) میں ایک مفصل حدیث ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان میں کا زعم کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

امام ترمذیؒ اس حدیث پر فرماتے ہیں کہ ”هذا حديث صحيح“ یعنی یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث (مشکوٰۃ شریف کی کتاب الفتن باب الملاحم ص ٤٦٥ با روایت ترمذی وابو داؤد ) منقول ہے۔ جو کسی کتاب میسر ہو سکے اس میں دیکھ لیجئے۔

آئیے اس پر مرزا قادیانی کے بھی دستخط دیکھ لیجئے ۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣٣١) میں ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ: ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا ۔“ اور لا نبی بعدی کے متعلق (ایام الصلح اردو ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣) میں فرماتے ہیں کہ : ”حدیث لا نبی بعدی میں بھی لا نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر دلیری گستاخی ہے کہ خیالات ردیہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً

٤

صفحہ ٤٣

چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہوچکی ہے۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔‘‘

اور حضور سرور عالمﷺ کے بعد مدعی نبوت کو جو کذاب کہا گیا ہے۔ اس کی نسبت بھی مرزا قادیانی کی تصریحات ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں۔ ’’خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔‘‘

(اشتہار ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

نیز فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں۔‘‘

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے اس حدیث شریف کی تینوں باتیں ثابت ہو گئیں۔ یہ بھی کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہیں اور یہ بھی لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے اور یہ بھی کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا مدعی کذاب اور کافر ہے۔

دوسری حدیث، (مسند امام احمد ج ٣ ص ٢٦٧) میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا۔ ’’ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ‘‘ (یعنی بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔) اب مرزا قادیانی کے دستخط بھی انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرما لیجئے۔ آپ ازالہ اوہام میں خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

تیسری حدیث: صحیحین (بخاری و مسلم) کی حدیث میں مذکور ہے کہ ’’آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ قوم بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کے متعلق ہوتی تھی۔ ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا خلیفہ بھی نبی ہوتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ہاں خلیفے ہوں گے اور بہت ہوں گے۔‘‘

(مشکوٰۃ شریف ص ٣٢٠، کتاب الامارة والقضاء )

اس کے متعلق بھی مرزا قادیانی کے دستخط ملاحظہ ہوں۔ آپ فرماتے ہیں۔

مکتوب مرزا قادیانی ’’وحی رسالت ختم ہوگئی۔ مگر ولایت اور امامت وخلافت کبھی ختم نہیں ہوگی۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٥ ص ٦٢٧)

٥

صفحہ ٤٤

مرزا قادیانی کی ترقی کا دوسرا دور

حوالہ جات مندرجہ بالا کے خلاف نومبر ١٩٠١ء میں جب مرزا قادیانی کو کھلے طور پر دعویٰ نبوت کا شوق ہوا تو سب تحریرات پلٹ گئیں۔ ختم نبوت کے معنے پہلے اور تھے، اور اب اور کرنے پڑے۔ جو چیز پہلے کفر تھی اور دائرہ اسلام سے خارج کرنے والی تھی۔ اب اسے ایمان کی اہم جزو اور دین میں داخل ہونے کی ضروری شرط قرار دیا گیا اور پہلے ایمان کو لغو اور باطل ٹھہرایا گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:

آنحضرت ﷺ کے وحی الہیٰ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)

”آنحضرت ﷺ کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات، مخاطبات الہیہ بند ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٣)

نیز فرماتے ہیں کہ: ”وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨١، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٢ ملخص)

دیکھئے ختم نبوت کے معنے کس سہولت و سادگی سے بقول ! چوں غرض آمد ہنر پوشیدہ شد بدل دئے گئے ہیں اور جس امر کو کفر جانتے تھے۔ اسے ایمان بنایا گیا۔

اب بتائیے ازالہ اوہام وغیرہ کی مندرجہ بالا عبارتوں اور نومبر ١٩٠١ء کے بعد کی عبارتوں میں تناقض ہے یا نہیں؟۔ اہل منطق کا قول ہے کہ : ”نقیض کل شیئی رفعہ“ سابقاً جس چیز سے جن الفاظ میں انکار تھا۔ اب اسی چیز کو انہی الفاظ میں ثابت کر رہے ہیں۔

شکایت ہوگی۔ آپ فرماتے ہیں ۔ ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

اور لیجئے آپ فرماتے ہیں کہ: ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں

٦

صفحہ ٤٥

نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک متناقض کلام والا مخبوط الحواس پاگل اور مجنوں ہے یا منافق۔

ان ہر دو فتوؤں کی حقیقت بھی ملاحظہ فرما لیجئے کہ مرزا قادیانی کو مرض مراق تھا۔ جو مالیخولیا کی قسم ہے۔ نہ صرف مرزا قادیانی کو بلکہ آپ کی زوجہ محترمہ کو بھی (والدہ خلیفہ محمود قادیانی) (کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٤) اور خود خلیفہ محمود قادیانی کو بھی مراق ہے۔ ملاحظہ ہوں (رسالہ ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١١، اگست ١٩٢٦ء، سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥، روایت ٣٦٩) اس کے بعد مالیخولیا کے اثرات بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ شرح اسباب میں ہے کہ:

پیغمبری اور معجزات اور کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“

دوسرا فتویٰ: مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ متناقض کلام والا منافق ہے۔ سو یہ بھی درست ہے کہ مرزا قادیانی پہلے مسلمانوں کو اپنے ساتھ مانوس رکھنے کے لئے ختم نبوت کے معنی وہی کرتے رہے۔ جو ساری امت محمدیہ میں مسلم ہیں۔ لیکن جب دیکھا کہ لوگ پھنس گئے ہیں تو کھلم کھلا دعویٰ

٧

صفحہ ٤٦

نبوت کر دیا اور نفاق کی حقیقت یہی ہے کہ باطن میں کچھ اور ظاہر میں کچھ اور۔ یعنی ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔

دیکھئے ایسے منافقانہ ایمان واقرار کی حقیقت خدا کے نزدیک کیا ہے۔ منافق آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آ کر کہتے ۔ ”نشهد انك لرسول الله (المنافقون:١) “ ٭یعنی ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں۔٭

باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے ان منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ: ”والله يشهد ان المنافقين لكذبون (المنافقون:١)“ ٭یعنی خدا تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ۔٭ یعنی یہ لوگ محض زبان سے ایسا کہتے ہیں۔ ان کے دل میں اس پر ایمان نہیں ہے۔

اسی طرح سورۃ بقرہ کے شروع میں فرمایا کہ: ”ومن الناس من يقول أمنا بالله وباليوم الاخر وماهم بمؤمنين (البقرة:٨)“ ٭یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور پچھلے دن یعنی روز قیامت پر ایمان لے آئے ہیں اور وہ ہرگز مومن نہیں ہیں۔٭

دیکھئے باوجود خدا پر اور روز قیامت پر ایمان کا اظہار کرنے کے خدا تعالیٰ صاف الفاظ میں فرما رہا ہے کہ وہ ہرگز مومن نہیں ہیں۔

اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔ سو اس کی نسبت فرمایا کہ : ”يخدعون الله والذين أمنوا (البقرة:٩)“ ٭یعنی خدا تعالیٰ سے اور مومنوں سے فریب کاری کرتے ہیں۔٭

اسی طرح مرزا قادیانی نے از راہ منافقت مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کی تعریف کی اور آپ کو لفظاً خاتم الانبیاء بھی لکھا اور خاتم الانبیاء کے معنے اپنے دل میں چھپا رکھے۔ جب کھلا دعویٰ کر دیا۔ تو اس کے معنے پلٹ دئیے۔ پس پہلا لفظی اظہار ایمان بحکم قرآن مجید کذب اور فریب ہے۔

منافرت کا جواب : اور جو ریزولیوشن آپ لوگوں نے اپنی نام نہاد انجمن احمدیہ میں پاس کر کے شائع کیا ہے اور اس میں حکومت پاکستان کو توجہ دلائی ہے کہ علمائے اسلام ہمارے برخلاف منافرت پھیلاتے ہیں ۔ سو اس کے جواب میں گذارش ہے کہ منافرت کی بنیاد اس صوبہ بلوچستان میں آپ کے خلیفہ محمود نے رکھی ۔ جو اکہتر کروڑ یا کم و بیش مسلمانوں کو

٨

صفحہ ٤٧

قت یہی ہے کہ باطن میں کچھ اور ظاہر میں کچھ اور۔ یعنی ہاتھی کے دانت ے اور۔

منافقانہ ایمان واقرار کی حقیقت خدا کے نزدیک کیا ہے۔ منافق ت میں آ کر کہتے۔ ”نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ (المنافقون:١)“ ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں۔ ٭

خداتعالیٰ نے ان منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ: ”وَاللّٰهُ يَشْهَدُ نَ (المنافقون:١)“ ﴿ یعنی خدا تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے بان سے ایسا کہتے ہیں۔ ان کے دل میں اس پر ایمان نہیں ہے۔

ۃ البقرہ کے شروع میں فرمایا کہ: ”وَمِنَ النَّاسِ مَن يَّقُولُ آمَنَّا بِاللّٰهِ هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة:٨)“ ﴿ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور پر ایمان لے آئے ہیں اور وہ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ ٭

خدا پر اور روز قیامت پر ایمان کا اظہار کرنے کے خدا تعالیٰ صاف الفاظ ومن نہیں ہیں۔

ہے؟۔ سو اس کی نسبت فرمایا کہ : ”يُخٰدِعُونَ اللّٰهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا اتعالیٰ سے اور مومنوں سے فریب کاری کرتے ہیں۔ ٭

مرزا قادیانی نے از راہ منافقت مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ی کی اور آپ کو لفظاً خاتم الانبیاء بھی لکھا اور خاتم الانبیاء کے معنے اپنے دل دا دعویٰ کر دیا۔ تو اس کے معنے پلٹ دیئے۔ پس پہلا لفظی اظہار ایمان بحکم ب ہے۔

١ جواب : اور جو ریزولیوشن آپ لوگوں نے اپنی نام نہاد انجمن احمدیہ کیا ہے اور اس میں حکومت پاکستان کو توجہ دلائی ہے کہ علمائے اسلام ت پھیلاتے ہیں۔ سو اس کے جواب میں گذارش ہے کہ منافرت کی میں آپ کے خلیفہ محمود نے رکھی ۔ جو اکہتر کروڑ یا کم و بیش مسلمانوں کو

٨

ایک جھوٹے مدعی نبوت کے نہ ماننے کے سبب کافر قرار دینے والے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے ۔

مرزا محمود قادیانی اپنی کتاب آئینہ صداقت میں مولوی محمد علی قادیانی امیر جماعت احمدیہ لاہور کے جواب میں فرماتے ہیں۔

”تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی قادیانی) تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ: اوّل یہ کہ میں نے مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیہ اسمہ احمد کی پیش گوئی مذکورہ قرآن مجید کے مصداق ہیں۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ١٩١٤ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

خلیفہ اول مولوی حکیم نورالدین قادیانی کا فتویٰ

”اخبار الحکم بابت ١٧ اگست ١٩٠٨ء میں ہے حکیم قادیانی ممدوح کی ایک فارسی رباعی چھپی تھی۔ جو فن عروض و ادب کے لحاظ سے اس پایہ کی معلوم ہوتی ہے کہ اگر مرزا غالب مرحوم زندہ ہوتے تو اس پر سر دھنتے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

اسمِ او اسمِ مبارک ابنِ مریم مے نہند آں غلام احمد است و مرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے در شانِ او آں کافر است جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گماں

کیا کہ حضرت مرزا قادیانی کے ماننے کے بغیر نجات ہے کہ نہیں فرمایا۔ اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا قادیانی کے ماننے بغیر نجات نہیں ہو سکتی ۔“ ( کلمۃ الفصل ص ٤٩، تشحیذ الاذہان قادیان ج ٩ نمبر ١١ ص ٢٤، بابت ماہ نومبر ١٩١٤ء، واخبار بدر ج ١٢ نمبر ٢، مورخہ ١١ جولائی ١٩١٣ء)

خلیفہ ثانی مرزا محمود قادیانی کا فتویٰ اور تعلی

مرزا محمود قادیانی جنہوں نے بلوچستان میں آکر مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی۔ اپنی شان میں فرماتے ہیں کہ : ”جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے۔ اسی طرح میرا انکار

٩

صفحہ ٤٨

انبیائے بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ مرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار شاہ نعمت اللہ ولی کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار مسیح موعود کا انکار ہے۔ جنہوں نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔‘‘

(تقریر میاں محمود قادیانی مندرجہ الفضل، قادیان ج ٥ ش٢٣، ٢٤ ستمبر ١٩١٧ء)

کیونکہ وہ ایسے ہی باپ کے فرزند ہیں اور حدیث پاک میں ہے کہ: ”الولد سر لابیہ“ لیکن قادیانی اخبارات ومضمون نگاران کو اس سے بھی بڑھ کر بناتے ہیں۔ چنانچہ (اخبار الفضل قادیان ج ١٢ ش ٩٥، مورخہ ٢٨؍فروری ١٩٢٥ء) میں ایک مضمون ان کے بہمہ صفت موصوف ہونے کے متعلق چھپا تھا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”جو کمالات خدا تعالیٰ نے مختلف اہل کمال (انبیاء وغیر انبیاء) کو الگ الگ طور پر بخشے ۔ وہ سب امام جماعت احمدیہ مرزا محمود قادیانی میں جمع کر دیئے ہیں۔ ان اوصاف حمیدہ میں مضمون نویس نے حسن یوسف کا بھی ذکر کیا ہے۔ گویا خلیفہ محمود قادیانی ظاہری حسن صورت میں یوسف ثانی ہیں ۔‘‘ (ماشاء اللہ چشم بد دور) یہ شعر شاید کسی نے انہی کی شان میں کہا ہوگا۔ شعر کا مضمون یہ ہے کہ اے مخاطب تم پر خدا نے زشت روئی ایسی ختم کردی ہے۔ جیسے یوسف پر خوب روئی۔

مولوی محمد علی قادیانی لاہوری اور ان کی جماعت

لاہوری جماعت بڑے زور سے ڈھنڈورہ پیٹتی ہے۔ ہم قادیانی جماعت کی طرح مرزا قادیانی کو نبی اور ان کے انکار کے سبب مسلمانوں کو کافر نہیں جانتے اور اسی وجہ سے ہم ان سے الگ ہوگئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ بلکہ مرزائے قادیان کی زندگی میں اور پھر مولوی نور الدین قادیانی کی خلافت میں یہ سب مرزا قادیانی کو نبی اور مسلمانوں کو ان کے انکار کے سبب کافر سمجھتے تھے۔ کیونکہ نومبر ١٩٠١ء میں جب مرزا قادیانی نے کھلم کھلا دعویٰ نبوت کیا تو اس وقت احمدی رہتے ہوئے ان کو انکار کی گنجائش نہ تھی اور مولوی نور الدین قادیانی، مرزا قادیانی کی زندگی میں بھی اور اپنے عہد خلافت میں بھی اسی اعتقاد پر تھے۔ اختلاف کی صورت یہ بنی کہ مولوی نور الدین قادیانی کی وفات پر مولوی محمد علی قادیانی کو امید تھی کہ قرعۂ خلافت ان کے نام کا نکلے گا۔

١٠

لیکن مرزا محمود قادیانی نے جن کا ہاتھ اندر تھ آدمیوں یا زیادہ کی منظوری جیسا کہ مرزا م خلافت لے لی اور مولوی محمد علی قادیانی اور ان ایسے حال میں اس ناکام جما کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ بس انہوں نے کر کے یہ بیان کرنے لگے کہ ہم قادیانی جم کافر جانتی ہے۔ اگر یہی وجہ تھی تو مرزا قاد خلافت میں کیوں الگ نہ ہوئے۔ حالانکہ:

زاہد نہ داشت
کنجے گرفت و

ہم اس جگہ لاہوری جماعت ۔ کے ہیں۔ کیونکہ اختلاف کے وقت کی تحریر مبحث کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

ممتاز ہے تو یقینا ہمارا احمد (علیہ الصلوٰۃ وال ایک نبی ، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے اور ہو کر دنیا میں آئے تو یقینا احمد ایک نبی انبیاء کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا اور وہ تما میں موجود ہیں۔“ (مضمون مولوی محمد علی صہ جولائی ج٩ نمبر ٧ ص ٢٤٨)

موعود ،مہدی موعود اللہ تعالیٰ کے سچے رسو آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات

(لا ہو

مانتے ہیں۔“

صفحہ ٤٩

ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے۔ جنہوں نے خدا کی حجت البالغہ کا انکار کیا ہے۔ میرا انکار مسیح نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔‘‘

(تقریر میاں محمود قادیانی مندرجہ الفضل، قادیان ج ٥ ش ٢٣، ٢٣ ستمبر ١٩١٧ء)

مرزا محمود قادیانی بوجہ مرض مراق کے اپنی زبانی تو جو کچھ چاہیں بکیں ۔ فرزند ہیں اور حدیث پاک میں ہے کہ: ”الولد سر لابیہ“ لیکن حواریان ان کو اس سے بھی بڑھ کر بناتے ہیں۔ چنانچہ (اخبار الفضل قادیان ج ٢، ١،) میں ایک مضمون ان کے ہمہ صفت موصوف ہونے کے متعلق چھپا ہے کہ ”جو کمالات خدا تعالیٰ نے مختلف اہل کمال (انبیاء و غیر انبیاء) کو دیے ہیں وہ سب امام جماعت احمدیہ مرزا محمود قادیانی میں جمع کر دیئے ہیں۔ ان میں حسن یوسف کا بھی ذکر کیا ہے۔ گویا خلیفہ محمود قادیانی ظاہری و باطنی طور پر حسین ہیں“۔ (ماشآء اللہ چشم بد دور) یہ شعر شاید کسی نے انہی کی شان میں کہا ہے کہ اے مخاطب تم پر خدا نے زشت روئی ایسی ختم کر دی ہے۔ جیسے

لاہوری اور ان کی جماعت

بڑے زور سے دھندورہ پیٹتی ہے۔ ہم قادیانی جماعت کی طرح مرزا کے انکار کے سبب مسلمانوں کو کافر نہیں جانتے اور اسی وجہ سے ہم ان حقیقت یہ نہیں ہے۔ بلکہ مرزائے قادیان کی زندگی میں اور پھر مولوی نور الدین کی زندگی میں یہ سب مرزا قادیانی کو نبی اور مسلمانوں کو ان کے انکار کے سبب کافر جانتے تھے۔ ١٩١٤ء میں جب مرزا قادیانی نے کھلم کھلا دعویٰ نبوت کیا تو اس وقت کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہ تھی اور مولوی نور الدین قادیانی، مرزا قادیانی کی زندگی میں بھی اسی اعتقاد پر تھے۔ اختلاف کی صورت یہ بنی کہ مولوی محمد علی لاہوری اور مولوی محمد علی قادیانی کو امید تھی کہ قرعہ خلافت ان کے نام کا نکلے گا۔ ١٠

لیکن مرزا محمود قادیانی نے جن کا ہاتھ اندر تھا۔ نہایت ہی ہوشیاری سے پیش قدمی کر کے چالیس آدمیوں یا زیادہ کی منظوری جیسا کہ مرزا قادیانی رسالہ الوصیت میں تحریر کر گئے ہیں۔ بیعت خلافت لے لی اور مولوی محمد علی قادیانی اور ان کے رفقاء دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔

ایسے حال میں اس ناکام جماعت کے لئے سوائے قادیان دارالامان سے ہجرت کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ بس انہوں نے لاہور میں آ کر اپنا اڈہ جما لیا اور دیگر شہروں میں گشت کر کے یہ بیان کرنے لگے کہ ہم قادیانی جماعت سے اس لئے الگ ہوئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کافر جانتی ہے۔ اگر یہی وجہ تھی تو مرزا قادیانی کی زندگی میں اور پھر مولوی نور الدین قادیانی کی خلافت میں کیوں الگ نہ ہوئے۔ حالانکہ بیان کردہ سبب اس وقت بھی موجود تھا۔

زاہد نہ داشت تاب وصال پری رخاں
کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت

ہم اس جگہ لاہوری جماعت کے وہی اقتباس نقل کریں گے۔ جو اختلافات سے پہلے کے ہیں۔ کیونکہ اختلاف کے وقت کی تحریرات کسی فریق کو بھی مفید نہیں ہو سکتیں اور ان سے اصل بحث کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

ممتاز ہے تو یقیناً ہمارا احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اسی جماعت کا ایک ممتاز فرد ہے۔ اگر زردشت ایک نبی، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے اور اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح خدا کی طرف سے نبی ہو کر دنیا میں آئے تو یقیناً احمد ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زردشت اور دیگر انبیاء کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا اور وہ تمام علامتیں مرزا غلام احمد قادیانی فداہ ابی وامی علیہ السلام میں موجود ہیں ۔“ (مضمون مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ١٩٠٦ء بابت

جولائی ج ٩ نمبر ٧ ص ٢٤٨)

موعود، مہدی موعود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔“

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح ج ١ ذیل نمبر ٣٥، مورخہ ١٦ ستمبر ١٩١٣ء)

مانتے ہیں۔“

(لاہوری جماعت کا اخبار پیغام صلح ج نمبر ٤٤، مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)

١١

صفحہ ٥٠

”سلسلہ احمدیہ مانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کی مہر ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ سوائے اس کے جو روحانی طور پر آپ کا شاگرد ہے اور انعام نبوت کے ذریعہ سے پاتا ہے۔ یہ صرف ایک سچا مسلم ہی ہے۔ جو نبی مقدس کی پیروی کر کے نبی بن سکتا ہے۔“

(انگریزی رسالہ احمدیہ موعود، مؤلفہ محمد علی ایم ۔ اے،)

نتيجة الكلام وخلاصة المرام

تفصیل مذکورہ بالا سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی خود اور کیا ان کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین قادیانی اور کیا خلیفہ محمود اور کیا مولوی محمد علی قادیانی لاہوری اور ان کی جماعت سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ دیگروں کا خدا جانے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تحریرات کے مطالعہ سے ایک گہری نظر والا متین شخص آسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا کوئی ٹھیٹھ مذہب نہیں تھا۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار صرف اپنی مصنوعی رسالت کا اعتبار جمانے کے لئے تھا۔ کیونکہ وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ مسلمان آنحضرت ﷺ کے بعد کسی جدید نبوت کو کبھی نہیں مان سکتے۔ اس لئے انہوں نے اپنی نبوت کی یہ صورت اختیار کی کہ میں کوئی دوسرا شخص نہیں ہوں ۔ بلکہ میں عین محمد ہوں ۔ پس میں جدید نبی نہیں ہوں اور میری نبوت کے بغیر (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور اسلام ایک مردہ مذہب ثابت ہوتا ہے۔

غرض منافرت کی ابتداء مرزا محمود نے رکھی ۔ جنہوں نے ایسے عقائد کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو مرزا قادیانی کی نبوت کے قبول کرنے کی دعوت دی۔ نہ کہ مسلمانوں نے ، جنہوں نے مسئلہ ختم نبوت کو ثابت کر کے آنحضرت ﷺ کی شان اور فضیلت ثابت کی۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ نے مجھے چھ چیزیں ایسی عطاء کی ہیں کہ وہ پہلے انبیاء کو عطاء نہیں کیں۔ ایک ان میں یہ بتائی کہ ختم بی النبیون ختم کئے گئے میرے آنے پر انبیاء علیہم السلام“ اور اپنے دعوے سے پیشتر مرزا قادیانی بھی ختم نبوت کے یہی معنی لیتے تھے۔ جیسا کہ سابقاً بیان ہو چکا ہے۔

تنبیہ : تفصیل بالا میں اس خط اور ٹریکٹ کا جواب بھی آگیا ہے جو ایک مقامی لاہوری احمدی ملازم گورنمنٹ عبدالرحمٰن (سٹینو کمشنر صاحب بہادر کوئٹہ ) نے ایک حاشیہ نشین کے نام سے ایک مقامی عالم اہل سنت مولوی عبدالکریم صاحب مدرس مدرسہ عربیہ بروری روڈ کوئٹہ کو بھیجا ہے کہ

ا بس یہ بھی باطل ہے۔ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ عینیت رسول کریم ﷺ کفر و الحاد ہے اور باطل ہے۔ (میر سیا لکوٹی عفی عنہ )

١٢

صفحہ ٥١

”زمانہ کے امام کو پہچانو۔“ سوگزارش ہے کہ ہم نے آپ کے مشار الیہ امام کو پہچان لیا اور خوب پہچان لیا کہ وہ ضرور ضرور امام کفر ہے اور ان تیس کذابوں میں سے ہے۔ جن کی بابت آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ ”وہ میری امت سے ہوتے ہوئے نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔“

(جامع ترمذی ج٢ ص ٤٥)

معجزات کا بیان

قادیانی اشتہار ”ہمارا مذہب“ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے معجزات انبیاء کے ماننے کی جو عبارت نقل کی گئی ہے وہ عبارت بھی محض دھوکا ہے۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے قائل ہرگز نہ تھے اور اس کی یہ وجہ تھی کہ جب خود بدولت کا دعویٰ مسیحیت کا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل مسیح نے تو یہ معجزات کئے۔ مثیل مسیح نے کون سے معجزات دکھائے؟ تو لامحالہ مرزا قادیانی کو یہ طریق جواب اختیار کرنا پڑا کہ جب اصل مسیح کے معجزات حقیقی نہیں تو مثیل مسیح سے معجزات کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ چنانچہ وہ ازالہ اوہام کے نہایت شروع میں اسی عنوان سے سوال پیدا کر کے پھر خود اس کا جواب دیتے ہیں اور اس کے ضمن میں معجزات عیسویہ کی حقیقت یوں بتاتے ہیں۔

ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے ...... ان تمام اوہام کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں ...... اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدا تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے ان کو دے رکھی تھی ...... یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر ۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٩٦، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢ حاشیہ )

طریق پر اطلاع دے دی ہو۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور بیماری کا

١٣

صفحہ ٥٢

علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

فرمایئے یہ معجزات پر ایمان ہے یا کفار کی طرح انکار؟۔

قرآن شریف تو ان امور کو حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کے ثبوت میں پیش کرے، اور مرزا قادیانی اسے مسمریزم اور عملی صنعتیں اور معمولی تدبیریں اور مکر و فریب قرار دیں۔ یہ کہاں کا ایمان ہے؟۔

سب انبیاء پر خصوصاً سرور کائنات پر فضیلت کا دعویٰ

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ داداست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩ ، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)

نیز فرماتے ہیں۔

زنده شد هر نبی به آمدنم
هر رسولے نهان به پیراهنم

(ایضاً)

اس سے زیادہ دیکھئے کہ خود آنحضرت سرور کائنات کے مقابلہ میں کہتے ہیں۔ ”یعنی نبی کریم کے لئے (صرف) چاند کے گرہن کا نشان ظاہر کیا گیا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن کیا گیا۔ اب بھی تو انکار کرے گا۔“

(کتاب اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اس میں آنحضرت ﷺ سے مقابلہ کر کے فضیلت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور معجزہ شق القمر سے انکار بھی کیا ہے۔ اسی طرح (اخبار بدر قادیان ج ٧ ش ١٩ و ٢٠، مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ٣٧٥) میں لکھا ہے۔ ”ایک صاحب نے مرزا قادیانی سے پوچھا کہ: شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے

١٤

صفحہ ٥٣

بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ ے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ )

ایمان ہے یا کفار کی طرح انکار؟۔

تو ان امور کو حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کے ثبوت میں پیش کرے، عزم اور عملی صنعتیں اور معمولی تدبیریں اور مکروفریب قرار دیں۔ یہ کہاں کا

سرور کائنات پر فضیلت کا دعویٰ

ودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے
ر نبی راجام داد آں جام رامرا بتمام
بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)

دہ شد ہر نبی بہ آمدنم
ر رسولے نہاں بہ پیراہنم (ایضاً)

دیکھئے کہ خود آنحضرت سرور کائنات کے مقابلہ میں کہتے ہیں۔ کے لئے (صرف) چاند کے گرہن کا نشان ظاہر کیا گیا اور میرے لئے ن کیا گیا۔ اب بھی تو انکار کرے گا۔‘

( کتاب انجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

ﷺ سے مقابلہ کر کے فضیلت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور معجزہ شق القمر طرح (اخبار بدر قادیان ج ٧ ش ١٩، ٢٠ مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ نے مرزا قادیانی سے پوچھا کہ : شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے

١٤

ہیں۔ فرمایا ہماری رائے یہ ہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمۂ معرفت میں لکھ دیا ۔‘ فرمائیے یہ معجزہ کا اقرار ہے یا انکار؟ ۔

آئے ۔‘

( تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

لیکن اپنے نشانات کے متعلق فرماتے ہیں اور جو میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے ”وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠ )

آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ استغفراللہ رب العالمین !

(دیکھو مضمون ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٣٩ء ) اسی طرح اور بھی حوالہ جات بکثرت ہیں۔ لیکن بطور مشتے نمونہ از خروارے انہی چند ایک پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

خاتمۃ الکلام : کیا اب بھی احمدی جماعت کو نہ کہہ سکے گی کہ علمائے اسلام نے ہماری طرف وہ اعتقاد منسوب کئے ہیں۔ جن سے ہم بیزار ہیں؟ ۔ اچھا اگر آپ بیزار ہیں تو توبہ نامہ شائع کر دیجئے۔ ہم یہ سب باتیں آپ کی طرف سے واپس لے لیں گے۔ وما علینا الا البلاغ ! مبلغین علمائے اسلام کوئٹہ ( بلوچستان )

ضمیمہ خلاصہ مسائل قادیانیہ

قادیانی مذہب کے بنیادی مسائل چار ہیں اور چاروں ہی غلط ہیں۔

پہلا مسئلہ : یہ کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرا کے سولی دلوادیا اور وہ نیم جاں اتارے گئے اور پھر خفیہ طور پر مرہم پٹی کرواتے رہے اور آخر پوشیدگی میں کشمیر کی طرف بھاگ آئے اور وہاں آ کر فوت ہو گئے ۔

جواب : یہ بالکل باطل ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ” وما قتلوہ وما صلبوہ (نساء: ١٥٧)“ یعنی نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی دیا۔ پس جب سولی دینا ہی باطل ہے تو کشمیر میں آ کر فوت ہونا بھی باطل ہوا اور محلہ خان یار میں جو قبر ہے۔ وہ یوز آصف شہزادہ کی ہے۔ جو کشمیر کے ایک راجہ کا بیٹا تھا اور وہ مسلمان ہو گیا تھا۔ (دیکھو کتاب تنبيه الغافلین ) میں نے دو دفعہ خود اس قبر کو دیکھا ہے۔

دوسرا مسئلہ : مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے ۔ بلکہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور ان کی بجائے میں مثیل مسیح بن کے آیا ہوں ۔

١٥

صفحہ ٥٤

جواب: یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ جو کہ آیت بل رفعہ اللہ الیہ میں فرمایا یعنی بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف اور حدیث صحیح میں آتا

(کتاب الاسماء ص ٢٤٤)

ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔‘‘

(صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨)

”اور یہ بھی ہے کہ زمین پر آکر حج کریں گے۔“

نیز یہ کہ ”نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ پھر آپ فوت ہوں گے اور مدینہ

(مشکوٰۃ ص ٤٨٠)

شریف میں روضہ اطہر میں مدفون ہوں گے۔“

لیکن مرزا قادیانی میں ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں پائی گئی۔ پس ان کا آنا جانا باطل ہے۔

تیسرا مسئلہ: مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حدیثوں میں جس مہدی کی خبر ہے وہ مہدی بھی میں ہوں۔

جواب: حدیثوں میں جس مہدی کا ذکر ہے۔ اس کی ذات اور صفات اس طرح ہیں۔ ان کا نام محمدﷺ ان کے باپ کا نام عبداللہ، حسنی حسینی سادات ہوں گے۔ یعنی ماں اور باپ دونوں کی طرف سے سید ہوں گے اور ملک عرب کے بادشاہ ہوں گے اور خانہ کعبہ میں ان کی بیعت ہوگی اور وہ جہاد کر کے قسطنطنیہ فتح کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی میں ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ تھی۔ پس وہ امام مہدی بھی نہیں تھے۔

چوتھا مسئلہ: مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں اس زمانے کا رسول اور نبی ہوں۔ جو مجھ کو نہ مانے وہ کافر و جہنمی ہے۔

جواب: نبوت آنحضرتﷺ پر ختم ہے۔ آیت خاتم النبیین (الاحزاب:٤٠) اور (جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٥) میں ہے کہ ”آنحضرتﷺ نے فرمایا میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

ہاں ”تیس شخص میری امت میں سے دجال کذاب ہوں گے۔ جو نبوت کا دعویٰ

(مشکوٰۃ ص ٤٦٥، باب الملاحم)

کریں گے۔“

پس مرزا قادیانی موجب اس آیت اور حدیث کے نبی تو ہو سکتے نہیں۔ ہاں مطابق اس حدیث کے دجال و کذاب ضرور ہیں کہ امتی ہو کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ واللہ الھادی، تمت! ٢٧/ مارچ ١٩٥٠ء خادم سنت محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

١٦

PDF 55

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ۔ جو کہ آیــــت میں فرمایا یعنی بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف اور حدیث صحیح میں آتا ہے کہ آسمان سے اتریں گے ۔

(کتاب الاسماء ص ٢٤٤)

کہ زمین پر اتر کر حج کریں گے ۔

(صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨)

بھی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی ۔ پھر آپ فوت ہوں گے اور مدینہ میں دفن ہوں گے ۔

(مشکوٰۃ ص ٤٨٠)

قادیانی میں ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں پائی گئی ۔ پس ان کا آنا جانا

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حدیثوں میں جس مہدی کی خبر ہے وہ مہدی میں ہوں ۔ جس مہدی کا ذکر ہے ۔ اس کی ذات اور صفات اس طرح ہیں کہ باپ کا نام عبداللہ ، حسنی حسینی سادات ہوں گے ۔ یعنی ماں اور باپ دونوں سید ہوں گے اور ملک عرب کے بادشاہ ہوں گے اور خانہ کعبہ میں ان کی بیعت ہوگی ۔ لیکن مرزا قادیانی میں ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ تھی ۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں اس زمانے کا رسول اور نبی ہوں ۔ جو مجھ کو

نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہے ۔ آیت خاتم النبیین (الاحزاب: ٤٠) حدیث میں ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں خاتم النبیین ہوں ۔ “ اور میری امت میں سے دجال کذاب ہوں گے ۔ جو نبوت کا دعویٰ کریں گے ۔

(مشکوٰۃ ص ٤٢٥ ، باب الملاحم)

پس بموجب اس آیت اور حدیث کے نبی تو ہو سکتے نہیں ۔ ہاں مطابق حدیث کے کذاب ضرور ہیں کہ امتی ہو کر نبوت کا دعویٰ کر دیا ۔ واللّٰہ الھادی ، خادم سنت محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ! ١٦

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

صدائے حق

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ

صفحہ ٥٦

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمد لله على نعمائه والصلوٰۃ والسلام على خاتم انبيائه وعـ ـله واوليائه اما بعد!

مورخہ ٨؍ اکتوبر ١٩٣٢ء کو ایک دور اندیش خاتون نے جو ہماری مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے آتی ہیں۔ ہمارے گھر میں آکر ذکر کیا کہ جماعت احمدیہ کی بعض بیبیاں مسلمانوں کے گھروں میں جا جا کر اپنے عقائد کی تبلیغ کرتی ہیں اور اپنے فرقے کے خاص مسائل ان کے سادہ ذہنوں میں اتارنا چاہتی ہیں اور ہماری اکثر بہنیں ناخواندہ ہوتی ہیں اور جو خواندہ ہیں۔ ان میں سے بھی اکثر مذہبی مسائل سے واقف نہیں ہوتیں۔ اس لئے مجھے دیگر ہم خیال بہنوں نے آپ سے (خاکسار سے) یہ درخواست کرنے کو بھیجا ہے کہ ہمیں ایک ایسی چھوٹی سی کتاب کی ضرورت ہے۔ جس میں مختصر طور پر اس جماعت کے ضروری مسائل بیان ہوں۔ تاکہ اپنی بہنیں ان مسائل سے با دلیل واقف ہو کر گمراہی کی فریب کاری سے بچ جائیں اور طریقِ سنت پر قائم رہیں۔ والله ولی الہدایۃ!

میں نے اس نیک تحریک کو بخوشی لبیک کہا اور بہت جلد ایک مختصر سا رسالہ لکھنے کا وعدہ کیا۔ والله الموفق!

چنانچہ آج ١٢؍ اکتوبر ١٩٣٢ء کو خدا کی توفیق سے نماز تہجد سے فارغ ہو کر اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے اس کتاب کو شروع کر دیا۔ اے لو! یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور مسجد میں صبح کی اذان ہو پڑی ہے۔ خدا تعالیٰ اس کتاب کو قبول فرمائے اور اس نیک فال (اذان) کی برکت سے اسے بابرکت و نفع مند کرے۔ آمین! اور اسی اذان کی مناسبت سے جو صدائے حق ہے۔ اس کتاب کا نام اسی وقت میرے گنہگار دل پر ”صدائے حق“ القاء کیا گیا ہے۔ ”وبالله اعتصم وبه اعتصم عما يصم وان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب“

(خادم سنت رسول کریم! محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ١٠؍ جمادی الاخریٰ ١٣٥١ھ بمطابق ١٢؍ اکتوبر ١٩٣٢ء)

٢

صفحہ ٥٧

بسم الله الرحمن الرحیم!

د لله على نعمائه والصلوة والسلام على خاتم انبيائه وع

بعد!

١٢ اکتوبر ١٩٣٢ء کو ایک دور اندیش خاتون نے جو ہماری مسجد میں نماز جمعہ مارے گھر میں آ کر ذکر کیا کہ جماعت احمدیہ کی بعض بیبیاں مسلمانوں کے اپنے عقائد کی تبلیغ کرتی ہیں اور اپنے فرقے کے خاص مسائل ان کے سادہ ہتی ہیں اور ہماری اکثر بہنیں ناخواندہ ہوتی ہیں اور جو خواندہ ہیں۔ ان میں سائل سے واقف نہیں ہوتیں۔ اس لئے مجھے دیگر ہم خیال بہنوں نے آپ یہ درخواست کرنے کو بھیجا ہے کہ ہمیں ایک ایسی چھوٹی سی کتاب کی ضرورت ر پر اس جماعت کے ضروری مسائل بیان ہوں۔ تاکہ اپنی بہنیں ان مسائل ر گمراہی کی فریب کاری سے بچ جائیں اور طریق سنت پر قائم رہیں۔ واللہ

س نیک تحریک کو بخوشی لبیک کہا اور بہت جلد ایک مختصر سا رسالہ لکھنے کا وعدہ

١٢ اکتوبر ١٩٣٢ء کو خدا کی توفیق سے نماز تہجد سے فارغ ہو کر اس بندے نے س کتاب کو شروع کر دیا۔ اے لو! یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور مسجد میں صبح کی ا تعالیٰ اس کتاب کو قبول فرمائے اور اس نیک فال (اذان) کی برکت سے کرے۔ آمین! اور اسی اذان کی مناسبت سے جو صدائے حق ہے۔ اس میرے گنہگار دل پر ”صدائے حق“ القاء کیا گیا ہے۔ ”ولله اختصم وبه سم وان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله انیب“

رسول کریم ! محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ١٢ جمادی الاخریٰ ١٣٥١ھ بمطابق ١٢ اکتوبر ١٩٣٢ء)

٢

ابتداء بنام خدا

ضلع گورداسپور قادیان میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ وہاں کے ذی حیثیت زمیندار تھے اور پیشہ طبابت کیا کرتے تھے۔ گردش زمانہ سے تنگی پر تنگی آنے لگی۔ اراضی مزروعہ ہاتھوں سے نکلتی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی تلاش معاش کے لئے باہر نکلے اور سیالکوٹ میں آ کر پندرہ روپے ماہوار پر کچہری میں ملازم ہو گئے۔ دماغ میں روپیہ جمع کرنے اور ترقی کا خیال تھا۔ ایک طرف لالہ بھیم سین صاحب وکیل سیالکوٹ سے قانون انگریزی کا مطالعہ شروع کیا اور دوسری طرف دن دوپہر کو کوٹھڑی کا دروازہ بند کر کے اور چراغ روشن کر کے تسخیر کے عملیات بھی کرنے لگے۔ (چنانچہ (محلہ ٹبہ کشمیری محلہ ) مرزا قادیانی جس مکان میں رہا کرتے تھے۔ پرانے لوگ اس مکان کا محل وقوع ایسا بتاتے ہیں۔ ) مطالعہ قانون کے بعد مختاری کا امتحان دیا اور اس میں ناکام رہے۔ آخر ملازمت ترک کر کے اپنے وطن کو چلے گئے اور تصانیف کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک کتاب براہین احمدیہ کا اشتہار دیا کہ اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب چھپوانے کے لئے روپے کی ضرورت ہے۔ اہل ہمت لوگ پانچ پانچ روپے چندہ جمع کر کے امداد کریں تو کتاب چھپ جائے اور اسلام کو قوت پہنچے۔ اس کتاب میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کو صاف الفاظ میں مانا ہے۔

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

مسلمان مذہب کے نام سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ روپیہ آنا شروع ہو گیا۔ لوگوں کا رجوع دیکھ کر مرزا قادیانی نے اس سلسلہ تصنیف کے ساتھ بیعت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ کامیاب ہوتا نظر آیا تو دسمبر کی تعطیلات میں قادیان میں اپنے مریدوں کا سالانہ جلسہ شروع کر دیا۔ آخر ایک دفعہ جلسے میں کھل کھیلے کہ میں حضرت عیسیٰ کا مثیل ہو کر آیا ہوں۔ مریدوں نے اسے بھی برداشت کر لیا تو پھر صاف صاف کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ تو فوت ہو چکے ہیں۔ حدیثوں میں جو دوبارہ آنے کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق میں ہی آیا ہوں۔ لوگوں نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پہلے امام مہدی کا ہونا ضروری ہے تو جواب دیا کہ وہ مہدی بھی میں ہی ہوں۔ لوگوں نے سوال کیا کہ حضرت آپ نے تو براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا

٣

صفحہ ٥٨

خود تسلیم کیا ہے اور اس کتاب کو بھی الہامی تائید سے بتایا ہے۔ بلکہ اس میں لکھا ہے کہ یہ کتاب رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوئی۔ تو آپ نے اس کو منظور فرمایا تو کیا اس وقت وہ سطر جس میں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا تسلیم کیا ہے اور اب اسے غلط بتاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو نظر نہ آئی تھی؟۔ تو مرزا قادیانی نے جواب میں فرمایا کہ مجھے الہام تو اس وقت بھی ہوا تھا کہ مسیح موعود تو ہی ہے۔ لیکن میں اسی عقیدے پر رہا اور وحی الہٰی کی پروا نہ کی۔ حتیٰ کہ مجھے بار بار وحی آنے لگی کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ لوگ پکارتے رہے کہ اچھا جناب آپ نے تو وحی کی پرواہ نہ کی۔ لیکن اس غلطی کو رسول اللہ ﷺ نے کیوں ظاہر نہ کیا؟۔ خیر آپ تو رسمی عقیدے پر جمے رہے۔ لیکن کیا رسول اللہ ﷺ بھی رسمی عقیدے پر تھے؟۔ مگر رسول اللہ ﷺ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے۔ تو بس ہمیں بھی وہی عقیدہ رکھنا واجب ہے۔ اگر آپ کا براہین میں یہ لکھنا کہ میں نے خواب میں یہ کتاب آنحضرت ﷺ کو دکھائی اور آپ ﷺ نے قبول فرمائی درست ہے تو اب اس کے خلاف آپ کا دعویٰ غلط ہے، اور اگر آپ نے یہ خواب جھوٹ لکھا ہے تو آپ کا اب کا دعویٰ بھی جھوٹ ہے۔ مسلمانوں کے لئے تو یہ بات بالکل تسلی بخش تھی۔ لیکن پھنسے ہوئے مریدوں کو بیعت سے نکلنا دشوار تھا۔ وہ مرزا قادیانی کی اس بات میں بھی آگئے۔ جب مرید اس طرح پھنس گئے تو مرزا قادیانی نے موقع مناسب دیکھ کر کھلم کھلا دعویٰ نبوت کر دیا اور بجائے اس کے کہ کافروں کو مسلمان کرتے، الٹا مسلمانوں کو کافر کہنے لگے۔ یہ ہے حقیقت و کیفیت مرزا قادیانی کے دعوے کی۔

خلاصہ مسائل قادیانیہ

جن مسائل میں مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث کے خلاف مسلمانوں کو غلطی میں ڈالا اور ان مسائل سے ان کے دعوے کو خاص تعلق ہے اور انہی پر ان کے فرقے کی بنیاد ہے۔ وہ چار مسئلے ہیں۔

پہلا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم یہود نے گرفتار کرا کے سولی دلوا دیا۔ جہاں سے وہ نیم جاں اتارے گئے اور پھر خفیہ طور پر مرہم پٹی کراتے رہے اور پھر پوشیدہ طور پر کشمیر کو بھاگ آئے۔ جہاں پر آ چنانچہ شہر سرینگر (کشمیر) میں محلہ خان یار میں

دوسرا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت دنیا میں واپس نہیں آتے۔ اس لئے حدیثوں اس سے کوئی دیگر آدمی مراد ہے۔ جو حضرت مسیح اور مسیح موعود میں ہوں۔

تیسرا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حدیثو کے ظہور کی جو خبر دی گئی ۔ وہ امام مہدی بھی میـ

چوتھا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں ا نہیں لائے گا۔ وہ کافر و جہنمی ہے۔ (معاذ ا

ان مسائل کی تردید

مرزا قادیانی کے یہ چاروں مـ تصریحات کے خلاف ہیں اور ان کی بابت مغالطہ اور فریب کاری اور سخن سازی سے کام

چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”وما قتلـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائے گا۔ ”واذ کففت جب میں نے دور رکھا تجھ سے بنی اسرائیل کو السلام تک پہنچنے ہی نہیں دیا تو پکڑنا کیسے

صفحہ ٥٩

پوشیدہ طور پر کشمیر کو بھاگ آئے۔ جہاں پر آ کر آپ ستاسی سال زندہ رہے اور فوت ہو گئے۔ چنانچہ شہر سری نگر (کشمیر) میں محلہ خان یار میں ان کی قبر موجود ہے۔

دوسرا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور فوت شدہ لوگ دنیا میں واپس نہیں آتے۔ اس لئے حدیثوں میں جس عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی ہے اس سے کوئی دیگر آدمی مراد ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو کر آئے گا۔ چنانچہ وہ مثیل مسیح اور مسیح موعود میں ہوں۔

تیسرا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پیشتر امام مہدی کے ظہور کی جو خبر دی گئی ۔ وہ امام مہدی بھی میں ہی ہوں۔

چوتھا مسئلہ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں اس زمانے کا نبی اور رسول ہوں۔ جو کوئی مجھ پر ایمان نہیں لائے گا۔ وہ کافر و جہنمی ہے۔ (معاذ اللہ)

ان مسائل کی تردید

مرزا قادیانی کے یہ چاروں مسئلے بالکل غلط اور قرآن وحدیث اور آئمہ دین کی تصریحات کے خلاف ہیں اور ان کی بابت جو جو دلائل انہوں نے بیان کئے ہیں ان میں سراسر مغالطہ اور فریب کاری اور سخن سازی سے کام لیا ہے۔

چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”وما قتلوہ وما صلبوہ (النساء: ١٥٧)“ یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ نیز خدا تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائے گا۔ ”واذ کففت بنی اسرائیل عنك (مائدہ: ١١٠)“ یعنی یاد کر جب میں نے دور رکھا تجھ سے بنی اسرائیل کو ۔ جب احسان یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے ہی نہیں دیا تو پھر وہ کیسے ؟۔ یہ سب باتیں غلط اور مردود ہیں ۔ یہود نے تو عیسیٰ

٥

صفحہ ٦٠

دعویٰ کر کے جھوٹا فخر کیا اور نصاریٰ نے کفارہ کا مسئلہ بنانے کے لئے صلیب کو مانا۔ دونوں غلطی پر ہیں ۔ صحیح یہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔

پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سولی کا واقعہ ہی جھوٹ ہے اور قرآن شریف کی تصریح کے خلاف ہے تو مرہم پٹی اور ہجرت کشمیر کی ساری داستان جو مرزا قادیانی نے از خود بنائی ہے یہ بالکل غلط اور باطل ہو گئی ۔

خدا تعالیٰ نے مذکور بالا آیت کے اخیر ہی میں فرمایا کہ ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً (النساء:١٥٨،١٥٧)“ یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً نہیں مارا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا سب کچھ کر سکنے والا اور ساری حکمتوں کا مالک ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب پھر دنیا میں نازل ہوں گے ۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں خود تسلیم کیا ہے اور حج کریں گے اور ٤٥ سال دنیا میں رہ کر مدینہ شریف میں فوت ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ شریف میں دفن ہوں گے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔

”ینزل عیسی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوة شریف ص ٤٨٠، باب نزول عیسی علیہ السلام) “ یعنی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔ پس میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ایک ہی قبر سے اٹھیں گے ۔ درمیان ابو بکرؓ اور عمرؓ کے ۔

اس حدیث شریف میں چند باتیں قابل توضیح ہیں ۔

٦

صفحہ ٦١

ور نصاریٰ نے کفارہ کا مسئلہ بنانے کے لئے صلیب کو مانا، دونوں غلطی پر عالی نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سولی کا واقعہ ہی جھوٹ ہے اور قرآن صاف ہے تو مرہم پٹی اور ہجرت کشمیر کی ساری داستان جو مرزا قادیانی نے غلط اور باطل ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ جیسا کہ یت کے اخیر ہی میں فرمایا کہ ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه حكيماً (النساء:١٥٨،١٥٧)“ یعنی انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو للہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا سب کچھ کر سکنے والا اور ساری حکمتوں

علیہ السلام قیامت کے قریب پھر دنیا میں نازل ہوں گے۔ جیسا کہ نی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں خود تسلیم کیا ہے اور حج کریں گے اور مدینہ شریف میں فوت ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ شریف میں حدیث شریف میں وارد ہے۔

عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا م يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى بى بكر و عمر (مشکوۃ شریف ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم زمین پر اتریں گے اور کی اولاد ہوگی اور پنتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔ مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ے۔ درمیان ابوبکرؓ اور عمرؓ کے۔ شریف میں چند باتیں قابل توضیح ہیں۔

یہ کہ اس حدیث میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٦

زمین پر اتریں گے اور پنتالیس سال رہائش کرنے کے بعد فوت ہوں گے۔ جیسا کہ ثم يموت سے ظاہر ہے۔ پس چونکہ آپ ابھی تک اترے نہیں۔ اس لئے فوت بھی نہیں ہوئے۔

اور ان کی اولاد ہوگی۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) کے حاشیہ پر محمدی بیگم کے نکاح کے ذکر میں اس حدیث کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جس نکاح کا ذکر ہے۔ اس سے یہی محمدی بیگم کا نکاح مراد ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہیں ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی اسی حسرت میں مر گئے۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود بھی نہ ہوئے۔

آنحضرت ﷺ کے پاس دفن ہوں گے اور ان کی قبر آنحضرت ﷺ کی قبر کے ساتھ متصل ہوگی اور معلوم ہے کہ مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے اور قادیان ضلع گورداسپور میں دفن ہوئے۔ کہاں مدینہ شریف اور کہاں قادیان؟۔ دونوں میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔

جاتا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں شخص کے پاس دفن کرو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس کے پاس دفن کرنے کو کہا جاتا ہے۔ وہ شخص پہلے فوت شدہ ہوتا ہے اور جس کو کسی کے پاس دفن کرنے کو کہا جاتا ہے۔ وہ پیچھے فوت ہوتا ہے۔ پس جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس دفن کئے جائیں گے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پہلے فوت ہونے والے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے بعد، اور یہ بھی معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث اپنی دنیوی حیات طیبہ میں فرمائی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی زندگی تک تو فوت شدہ نہ ہوئے۔ تو اب ہم کس کے کہنے سے تسلیم کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے صدیوں پہلے کشمیر میں فوت ہو چکے ہوئے ہیں۔ کہاں کشمیر اور کہاں مدینہ شریف؟۔

ازالہ مغالطہ

بعض مرزائی عوام مسلمانوں کو یہ دھوکا دیتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ے

صفحہ ٦٢

آنحضرتﷺ کی قبر میں دفن کیا جائے گا تو کیا آنحضرتﷺ کی قبر مبارک کھود کر دفن کیا جائے گا؟۔ اس طرح تو آنحضرتﷺ کی سخت ہتک ہے کہ آپ کی قبر کھودی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محض دھوکا ہے اور بے علمی کی بات ہے۔ کیونکہ اس جگہ قبر بمعنے مقبرہ ہے اور اسم مصدر اپنے مشتقات اسم ظرف وغیرہ کے معنے میں اکثر آجاتا ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق صاحب حنفی محدث دہلویؒ اور ملاعلی قاری صاحب حنفی محدث مکیؒ نے اس حدیث کی شرح میں تصریح کی ہے کہ اس جگہ قبر بمعنے مقبرہ ہے اور اس کی تائید خود آنحضرتﷺ کے اپنے کلمات سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ آپؐ نے فرمایا یدفن معی یعنی میرے پاس دفن کئے جائیں گے اور مع کے معنی پاس اور نزدیک کے ہوتے ہیں۔ پس آپؐ کے پاس مدفون ہونے سے معلوم ہو گیا کہ آنحضرتﷺ کی قبر مبارک کھودی نہیں جائے گی۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپؐ کے پاس سے متصل ہی دفن کئے جائیں گے اور جب دوقبریں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں ایک ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں بھی روضہ شریف کے اندر آنحضرتﷺ کی قبر مبارک کے ساتھ ساتھ ہیں۔ تو ان دونوں کی نسبت مرزا قادیانی اپنی کتاب (نزول المسیح کے ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) میں فرماتے ہیں کہ: ”مگر ابوبکرؓ وعمرؓ جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں۔ بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“

پس جس صورت سے مرزا قادیانی حضرات ابوبکرؓ صدیق اور عمرؓ اور آنحضرتﷺ کی تین قبروں کو ایک قبر کہتے ہیں۔ اسی صورت میں آنحضرتﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتﷺ کے پاس متصل ہی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان دفن کئے جائیں گے اور آج تک اس موقع پر ایک قبر کی جگہ خالی پڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف ہی میں حضرت عبداللہ بن سلام کی روایت موجود ہے کہ: ”قال مكتوب في التورية صفة محمدﷺ وعيسى بن مريم يدفن معه قال ابومودود وقد بقى في البيت موضع قبر (رواه الترمذی، مشکوة ص ٥١٥، باب فضائل سید المرسلینﷺ) “ یعنی توریت میں محمدﷺ کی صفت لکھی ہوئی ہے اور اول یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ان کے

٨

ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ (ابومودودؒ) بیان تھا۔ حضرت ابوسعید خدریؓ صحابی کا ا کہتا ہے کہ روضہ اقدس میں ابھی تک ایک خاکسار محمد ابراہیم میر سیالکوٹی جگہ خالی پڑی ہوئی دیکھ آیا ہوں۔ جس کو ٥...... اس حدیث سے صرف چار قبروں کی خبر دی ہے۔ ایک ا چوتھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔ لیکن مرز ٦...... اس حدیث سے کے عہد تک بھی فوت نہیں ہوئے۔ کیونکہ ابومودودؒ کے زمانے تک خالی تھی اور ا مرزا قادیانی کے سب دعوے باطل ہوجا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ الحج والقرآن) میں موجود ہے کہ ”آنحضرت جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ عیسیٰ پکاریں گے“ اور یہ بات سب کو معلوم ۔ موجود ہوتے تو خدا تعالیٰ سب روکاوٹیں د کہ حج کرے گا پورا ہو جاتا۔ لیکن جب خ کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دعوے مسیحائی کو

١؎ دوسرے حج کے سفر ١٣٣٠ ہوئے اخیر عشرہ شعبان میں بذریعہ حمیدیہ اور رمضان کامل قیام کر کے ١٢؍ شوال کو مکہ

صفحہ ٦٣

میں دفن کیا جائے گا تو کیا آنحضرتﷺ کی قبر مبارک کھود کر دفن کیا جائے حضرتﷺ کی سخت ہتک ہے کہ آپ کی قبر کھودی جائے۔ اس کا جواب یہ بے علمی کی بات ہے۔ کیونکہ اس جگہ قبر بمعنے مقبرہ ہے اور اسم مصدر اپنے مقبرہ کے معنے میں اکثر آ جاتا ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق صاحب حنفی محدث دہلویؒ نے اس حدیث کی شرح میں تصریح کی ہے کہ اس جگہ اس کی تائید خود آنحضرتﷺ کے اپنے کلمات سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ معنی۔ یعنی میرے پاس دفن کئے جائیں گے اور مع کے معنی پاس اور نزدیک آپ کے پاس مدفون ہونے سے معلوم ہو گیا کہ آنحضرتﷺ کی قبر مبارک گی۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس کے متصل ہی دفن کئے قبریں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں بھی روضہ شریف کے اندر مبارک کے ساتھ ساتھ ہیں۔ تو ان دونوں کی نسبت مرزا قادیانی اپنی کتاب خزائن ج ١٨ ص ٣٢٥) میں فرماتے ہیں کہ: ”مگر ابوبکرؓ وعمرؓ جن کو حضرات شیعہ ہم کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“

عبارت سے مرزا قادیانی حضرات ابوبکرؓ صدیق اور عمرؓ اور آنحضرتﷺ کی کہتے ہیں۔ اسی صورت میں آنحضرتﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پاس متصل ہی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان دفن کئے جائیں گے پر ایک قبر کی جگہ خالی پڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف ہی میں حضرت حدیث موجود ہے کہ: ”قال مکتوب فی التوریۃ صفۃ محمدﷺ مریم یدفن معہ قال ابومودود وقد بقی فی البیت موضع قبر مشکوٰۃ ص٥١٥، باب فضائل سید المرسلین ﷺ)“ یعنی توریت میں ہوئی ہے اور اول یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ان کے

٨

ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ (ابومودودؒ) جو اس روایت کا راوی ہے۔ بہت بڑا عالم فاضل اور خوش بیان تھا۔ حضرت ابوسعید خدریؓ صحابی کا دیکھنے والا ہے اور خاص مدینہ شریف کا رہنے والا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ روضہ اقدس میں ابھی تک ایک قبر کی جگہ باقی پڑی ہے۔

خاکسار محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کہتا ہے کہ میں عاجز گناہ گار خود مدینہ شریف میں جا کر یہ جگہ خالی پڑی ہوئی دیکھ آیا ہوں۔ جس کو شک ہو وہ خود جا کر دیکھ لے اور تسلی کر لے۔

صرف چار قبروں کی خبر دی ہے۔ ایک اپنی، دوسری حضرت ابوبکرؓ صدیق، تیسری حضرت عمرؓ اور چوتھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔ لیکن مرزا قادیانی کی قبر کی بابت کوئی خبر نہیں ہے۔

کے عہد تک بھی فوت نہیں ہوئے۔ کیونکہ تین قبریں تو موجود ہیں اور چوتھی کی جگہ پڑی ہوئی ہے اور ابومودودؒ کے زمانے تک خالی تھی اور اب تک بھی خالی پڑی ہے۔ اس ایک ہی حدیث سے مرزا قادیانی کے سب دعوے باطل ہو جاتے ہیں۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حج کرنے کی حدیث (مسلم ج ١ ص٤٠٨، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن) میں موجود ہے کہ ”آنحضرتﷺ نے قسم کر کے فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم حج اور عمرہ کا لبیک مقام فجّ روحا سے پکاریں گے“ اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہوتے تو خدا تعالیٰ سب روکاوٹیں دور کر کے ان کو حج نصیب کراتا۔ تا کہ مسیح موعود کا یہ نشان کہ حج کرے گا پورا ہو جاتا۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے حج نصیب نہیں کرایا تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دعوے مسیحائی کو باطل کر دیا۔

١؎ دوسرے حج کے سفر ١٣٣٠ھ میں مصر، حیفہ، یافا اور بیت المقدس اور دمشق ہوتے ہوئے اخیر عشرہ شعبان میں بذریعہ حمیدیہ حجاز ریلوے جو ان دنوں جاری تھی مدینہ شریف میں پہنچے اور رمضان کامل قیام کر کے ١٢؍ شوال کو مکہ معظمہ کی طرف اونٹوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔

٩

صفحہ ٦٤

رسول ہوں گے۔ حضرت فاطمہؓ کی اولاد، امامین، حسن، حسینؓ کی اولاد سے ہوں گے۔ یعنی ننھیال اور ددھیال ہر دو کی طرف سے اصل سید ہونگے اور ملک عرب کے والی و بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔

”لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطى اسمه اسمي (ترمذی ج دوم ص ٤٧، باب ماجاء فی المهدی)“

”یعنی دنیا فنا نہ ہوگی۔ حتیٰ کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ملک عرب کا بادشاہ ہو۔ جس کا نام میرے نام پر (محمد ﷺ) ہوگا۔“ اسی طرح دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ ان کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی قوم کے مغل ہیں اور ان کا نام غلام احمد تھا اور ان کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ تھا اور مرزا قادیانی کو عرب کی بادشاہی کجا؟۔ وہاں کا سفر بھی نصیب نہیں ہوا۔ بلکہ قادیان کی نمبرداری بھی نصیب نہ ہوئی۔ حالانکہ گورنمنٹ سے خطاب پانے کی بہت کوشش کرتے رہے اور الہامات لك خطاب العزت (تذکرہ ص٣٣٩) یعنی تجھے عزت کا خطاب ملے گا، شائع کرتے رہے۔ لیکن کچھ بھی شنوائی نہ ہوئی۔

اب سوچئے! کہ کہاں امام مہدی، سید، آل رسول، محمد بن عبداللہ، ملک عرب کا بادشاہ؟ اور کہاں مغل زادہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ موضع قادیان کا ایک باشندہ؟۔

ظہور حشر نہ ہو کیوں؟ کہ کلچڑی گنجی
حضور بلبل بستاں کرے نواسنجی

نبوت اور رسالت یعنی خدا کے پیغمبر آنحضرت ﷺ پر ختم کردی گئی ہے۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص بھی رسول اور نبی نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ آیت خاتم النبیین (احزاب: ٤٠) سے ثابت ہے اور صحیح حدیثوں میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نیا رسول اور نبی نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری ج١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین، صحیح مسلم ج٢ ص ٤٨، باب ذکر کونہ ﷺ

صفحہ ٦٥

خاتم النبیین مسند امام احمد ج ٣ ص ٤٣٠ حاشیہ) اور مرزا قادیانی بھی اپنے دعوے مسیحیت کے بعد تک اور دعوے نبوت سے پہلے یہی لکھتے رہے کہ ”آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت ورسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢ مصنفہ مرزا قادیانی)

نیز لکھتے رہے کہ ”لوگ مجھ پر بہتان لگاتے ہیں کہ میں نبوت کا مدعی ہوں۔ کیا میں نبوت کا دعویٰ کر کے کافر بننا چاہتا ہوں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

کہلانے والے لوگوں میں سے قریباً تیس آدمی دجال کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرے گا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔

(صحیح بخاری ج ١ ص ٥٠٩، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج ٢ ص ٣٩٧، باب اشراط الساعۃ )

ہم مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مہدی تو مان نہیں سکتے۔ ہاں بموجب اس حدیث کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد اور آپ کا امتی ہوکر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی ان تیس مدعیان نبوت میں سے ہیں۔ جن کو آنحضرت ﷺ نے دجال و کذاب فرمایا ہے۔

دجال کے معنے ہیں۔ ایسا شخص جو بہت فریب بازی سے کام لے اور کذاب کے معنی ہیں۔ ایسا شخص جو بہت جھوٹ بولے اور مرزا قادیانی میں یہ دونوں باتیں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ فریب بازی اور سخن سازی بھی پوری پوری کرتے تھے اور جھوٹ بھی بہت بولتے تھے۔

خلاصہ بیان مذکور الصدر

جو کچھ اوپر بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے اور نہ ملک کشمیر میں گئے اور نہ فوت ہوئے۔ بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت وحکمت سے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور آپ آخری زمانہ میں دنیا میں نازل ہوں گے اور حج کریں گے اور مدینہ شریف میں فوت ہوکر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کی قبروں کے درمیان مدفون ہوں گے۔ چنانچہ اس جگہ ان کی قبر کے لئے آج تک جگہ محفوظ موجود ہے اور ان

11

صفحہ ٦٦

چار قبروں کے سوا پانچویں قبر کی وہاں پر کوئی خبر یا گنجائش نہیں۔ پس مرزا قادیانی نہ مسیح موعود ہیں اور نہ امام مہدی اور نہ نبی و رسول بلکہ بموجب رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے تیس جھوٹے مدعیان نبوت میں سے ہیں۔

تنبیہ ! اس مختصر رسالہ میں ہم نے سارے مسائل مع دلائل کے جو قرآن شریف کی آیات اور صحیح احادیث سے ہیں۔ بیان کر دیئے ہیں۔ جن کے بعد کسی پختہ ایمان والے سمجھ دار مسلمان مرد یا عورت کے لئے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن چونکہ مرزا قادیانی بموجب حدیث مذکورہ بالا ان تیس دجالوں اور کذابوں میں سے تھے۔ جن کی بابت آنحضرت ﷺ نے پہلے سے خبر دی ہوئی ہے کہ وہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے فریب کاری اور مغالطہ دہی سے لوگوں کو دھوکہ دیں گے اور مرزا قادیانی نے یہ کام نہایت عمدگی سے سرانجام دے دیا ہے اور اب ان کے بعد ان کے فریب خوردہ پیرو مرد اور عورتیں عام مسلمان مردوں اور عورتوں کو اسی روش پر قرآن وحدیث کے مطالب الٹ پھیر کر مغالطے دیتے پھرتے ہیں۔ اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ اُن کے فریبوں اور مغالطوں کو آشکارا کر کے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ان کے دام فریب سے بچایا جائے ۔ واللہ الہاد!

عرض حال

یہ رسالہ ١٢؍ اکتوبر ١٩٣٢ء کے بعد صرف دو نشستوں میں مکمل کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد مجھے متواتر لمبے لمبے سفر دہلی، اٹاوہ، بنارس، کلکتہ، جھنگ اور ملتان کے پیش آتے رہے اور دیگر اشغال جو میرے شامل حال ہیں۔ وہ بھی ساتھ رہے۔ اس لئے اس کی طباعت معرض تعویق میں پڑی رہی۔ اب آج یکم اپریل ١٩٣٣ء کو اس پر نظر ثانی کر کے اس مسودے کو نقل کر کے کاتب کو کاپی نویسی کے لئے دیتا ہوں۔

وھو حسبی ونعم النصیر! ٥ ذی الحج ١٣٥١ھ مطابق یکم اپریل ١٩٣٣ء محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

PDF 67

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

فیصلہ ربانی

بر

مرگ قادیانی

حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٦٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

فیصلہ ربانی بر مرگ قادیانی

خاکسار! حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

اوّل حمد خداوند عالی جس دے در تے سب سوالی
مارے رکھے سب دا والی ظاہر غائب سب آشکار
واہ وا غالب حکم جبار
پل وچ مارے سب سنسار
سلسلہ اک رسولاں والا کیتا جاری عجب نرالا
خلق ہدایت دِتّن چالا راہ جنت ول کرن پکار
کیتا فضل ایہ آپ غفار
اسیں عاصی اوہ بخشنہار
آدم تھیں محمد تائیں جاری رکھیا نبیاں تائیں
معجزے دتے سبہناں تائیں سچ جھوٹ نوں دین نتار
ہے ایہ قدرت رب جبار
جھوٹے معجز یوں ہون لاچار
افضل سب تھیں بھائیو سوئی ختم نبوت جس پر ہوئی
کسر شریعت وچ نہ کوئی عطاء ہوئی جس عام پکار
اوپر اوس نبی مختار
صلوٰۃ سلاماں لکھ ہزار
اسنوں رب معراج کرایا بھیج براق آسمان بلایا
سورت اسرا نجم وچ آیا کتب حدیث بھی نال شمار
عزت دِتّی رب جبار
سید رسل نبی مختار
ملیا اوس قرآن خزانہ قائم رہے تا ختم زمانہ
ہن جس ہور کوئی نبی نہ آنا نبوت بند تا روز شمار

٢

صفحہ ٦٩

بسم الله الرحمن الرحيم!

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

فیصلہ ربانی بر مرگ قادیانی

خاکسار! حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

خداوند عالی جس دے در تے سب سوالی
سب دا والی ظاہر غائب سب آشکار
واہ وا غالب حکم جبار
پل وچہ مارے سب سنسار
رسولاں والا کیتا جاری عجب نرالا
دین چالا راہ جنت ول کرن پکار
کیتا فضل ایہہ آپ غفار
اسیں عاصی اوہ بخشنہار
محمد تائیں جاری رکھیا نبیاں تائیں
سبناں تائیں سچ جھوٹ نوں دین نتار
ہے ایہہ قدرت رب جبار
جھوٹے معجزیوں ہون لاچار
سن بھائیو سوئی ختم نبوت جس پر ہوئی
نبی نہ کوئی عطاء ہوئی جس عام پکار
اوپر اوس نبی مختار
صلوٰۃ سلاماں لکھ ہزار
معراج کرایا بھیج براق آسمان بلایا
حرم وچہ آیا کتب حدیث بھی نال شمار
عزت دتی رب جبار
سید رسل نبی مختار
قرآن خزانہ قائم رہے تا ختم زمانہ
کوئی نبی نہ آنا نبوت بند تا روز شمار

٢

ہاں دتی خبر نبی سردار
جھوٹے ہون تریہہ شمار
دجل کذب ہو انہاں کما رسولی دعوے کرن تمام
ایہو اونہاں علامت عام دے پکا نشان نتار
حدیث صحیح ایہہ منیں یار
بخاری مسلم وچہ شمار
مطابق ایس حدیث رسولی کیتا دعوے کیاں فضولی
گل انہاندی کیاں قبولی رستہ پھڑیا دوزخ نار
آخر ہوئے ذلیل خوار
انہاں سبناں رب دی مار
قادیاں اندر مرزا ہویا پیغمبری دعویٰ کر کھلویا
گل گل اندر جھوٹا ہویا دتی شرم حیا اتار
ڈھیل دتی اس رب جبار
واہ وا حکم خدائے قہار
مارے لافاں دیئے دوہائی میں نہ مارے مرض وبائی
مینوں منوں سب لوکائی ورنہ آوے غضب جبار
شہرت جگ وچہ عام پکار
اسنوں سندا رب ستار
جاں اس کاسہ ہویا پر جھوٹھ گیا اس حد گزر
رب دکھاوے غیرت کر قدرت اس دی سچ شمار
تمیز کرے جو آخر کار
نشان ہووے اوہ وچہ سنسار
ثناء اللہ جو مرد خدائی اس پر دائم فضل الہٰی
جس نوں جانے سب لوکائی سندھ بنگالے تیکر یار
حامی دین نبی مختار
اس نوں رکھے رب غفار
دشمن سارے چن چن مارے دین نبی دے جو ہتیارے
چمکے وانگوں سورج تارے دین نبی نوں دے نتار

٣

صفحہ ٧٠
حجت اندر کرے لاچار
جس تھیں ہوون بہت خوار
اس نے مرزا خوب دبایا پیش گوئیاں دا راز بتایا
خلقت نوں کل راز سنایا جزا دے اس رب غفار
آخر مرزے ہو لاچار
دھمکی دتی وچہ اخبار
مرزا آکھے دعائیں کر اٹھاراں اپریل دا پڑھ بدر
یارب فیصلہ حق دا کر ثناء اللہ تے میں وچکار
جو ہو کاذب پہلے مار
طاعون ہیضہ وچہ کر لاچار
جھوٹے پر موت یا موت برابر کوئی مصیبت نازل کر
صادق سامنے زندگی تاکہ خلقت اندر کر پھٹکار
طاعون ہیضے دا کر شکار
جے میں جھوٹا مینوں مار
ثناء اللہ تے اس دیاں یاراں سنے مریداں دس بہاراں
خوشیاں کرن اوہ بیشماراں کر انہاندی چڑھدی وار
انہاں سامنے مینوں مار
جے میں کاذب دجل شعار
ورنہ میری زندگی اندر ثناء اللہ ہی جاوے مر
استھیں پچھے ایہہ اثر مرزے سندا اک پتر
مبارک احمد نام وچار
مویا اوڑک ہو بیمار
بھائیو دسو کر انصاف ہویا فیصلہ کیسا صاف
اس وچہ ناہیں لاف گزاف اس وچہ عبرت خاص شمار
رب ڈاہڈے نے کیتا خوار
دتا سامنے پتر مار
پھیر اونہے ایہہ عذر بنایا ایہہ مباہلہ ذاتی آیا
اس وچہ پتر نہ شامل پایا جھوٹھے اپر رب دی مار

٤

صفحہ ٧١
حجت اندر کرے لاچار
جس تھیں ہوون بہت خوار
مرزا خوب جواب پیش گوئیاں دا راز بتایا
کل راز سنایا جزا دے اس رب غفار
آخر مرزے ہو لاچار
دھمکی دتی وچہ اخبار
دعائیں کر اٹھاراں اپریل دا پرچہ بدر
حق دا کر ثناء اللہ تے میں وچکار
جو ہو کاذب پہلے مار
طاعون ہیضہ وچہ کر لاچار
موت یا موت برابر کوئی مصیبت نازل کر
بنے زندگی تاکہ خلقت اندر کر پھٹکار
طاعون ہیضے دا کر شکار
جے میں جھوٹا مینوں مار
تے اس دیاں یاراں ہون بیماریاں دس ہزاراں
مرن اوہ بیشماراں کر انھاں دی چڑھدی وار
انہاں سامنے مینوں مار
جے میں کاذب دجل شعار
زندگی اندر ثناء اللہ ہی جاوے مر
پچھے رہیا اثر مرزے سندا اک پتر
مبارک احمد نام وچار
مویا اوڑک ہو بیمار
کر انصاف ہویا فیصلہ کیسا صاف
نائیں لاف گزاف اس وچہ عبرت خاص شمار
رب ڈاہڈے نے کیتا خوار
دتا سامنے پتر مار
ایہہ عذر بنایا ایہہ مباہلہ ذاتی ناہا
پر نہ شامل پایا جھوٹھے اپر رب دی مار

٤

تبصرہ وچہ جو وڈا اشتہار
کیتے عذر ایہہ سب آشکار
عقلمنداں دے نیڑے بھائی ایہہ عذر نہ وزنی رائی
مرزے اپر مصیبت آئی موت پتر دی ڈاہڈی یار
دعا دے وچہ سی ایہہ پکار
کاذب اتے رب دی مار
تبصرے اندر ہور لکھایا اردو وچہ الہام بنایا
اس نوں ولوں خدا بتایا مریداں تائیں کرے پکار
نظریں رکھو اشتہار
دیکھو تبصرہ رہو ہوشیار
دشمن نے آکھے چودہ مہینے مرسی مرزا حال کمینے
خبر دتی مینوں پاک ربی نے جس دے ہتھ وچہ سبھو کار
عمر ودھاواں تیری یار
دشمن نوں دیساں سامنے مار
ثناء اللہ حق جو منگی دعا بدر ٢٥ وچہ دے لکھا
نال الہام ایہہ کراں دعا وعدہ کرے میں نال جبار
کراں قبول میں سب پکار
اس وچہ ہر گز جھوٹ نہ یار
جھوٹ اس دے وچہ شک نہ رائی وچوں تریہاں ایہہ بھی سائی
خبر نبی دی سچی پائی حدیث بخاری مسلم یار
جھوٹے تریہہ ایہہ کرن پکار
آکھن رسول خدائی یار
امر ترے ایہہ وچہ نظر رکھن سبھو اہل ہنر
دعا الہام تے ہور عمر نکاح محمدی بیگم چار
جھوٹا آکھن نال پکار
مرزا مارن کرن خوار

١؂یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی۔

٥

صفحہ ٧٢
نہ عبدالحکیم ایسائی ثناء اللہ پر فضل الہی
محمدی بیگم نہیں ویائی تے جیوندے کرن پکار
چھبی مئی نوں منگلوار
مرزا مویا ہولاچار
حقو حقی یار آشناواں شہر لاہور دا حال سناواں
راز کھول کے صاف بتاواں جھوٹ نہ اس وچ ہرگز یار
مرزا چلدا ہوا سوار
سن نہر سن خالص یار
اپریل ماہ دے آخر بھائی لاہور آن کے چھاؤنی پائی
خبر سندی کرن دوائی دار امان اس چھڈی یار
نہ معلوم جو آخر کار
مرساں بیٹھے نال لاچار
شہر لاہور دے سب رئیساں حنفیاں نالے اہلحدیثاں
سدیا کینوں کر کے ریساں تارو کرائیں خوب نتار
بحث کراں میں خوب وچار
نقلی وعقلی علموں یار
بائی مئی نوں ہوا سوار پڑھیا جمعہ لاہور وچکار
دوایا اوتھے اشتہار وعظ کراں میں نال پکار
دلیل لیاواں خوب نتار
سندے سب صغار کبار
عربی ہووے انگریزی دان بڈھے نالے نوجوان
کئی ہندو ہور مسلمان سندے دلدے نال پیار
نال دلیل جاں کراں پکار
ششدر رہن جو حاضر یار
بانجھ قرآن جے کراں بیان وعدہ کیتا کٹو زبان
چار مضمون میں کیتے عیان عالم جاہل کرن وچار

٦

کرن وچار
دلائل سچ
جنہاں حضرت عیسیٰ و
معجزات وچہ شان نرا
رفع سما
کیتی
حافظ صاحب جماعت ع
مینوں گھلن پیام د
ایہہ
کل اما
کھلے دل میں کیتی با
نال اتفاقاں دن تے را
حافظ ص
گل میر
ڈاکٹر اے سعید سیانا
مینوں ایہہ پیغام پہنچانا
ابراہیم
لکھے مر
بحث دی اسوچہ دعوت ہو
بحث تحریری اسوچہ ہو
مرزے
نال د
ڈاکٹر دی میں سن کے با
مسئلہ سولی ہور حیات

١ یعنی حیات حضرت عیسیٰ علی

صفحہ ٧٣
یم ایہاؤ ثناء اللہ پر فضل الہی
نئیں دیوانہ تے جیوندے کرن پکار
چھپی مٹی نوں منگوار
مرزا مویا ہویا خوار
یار آشناواں شہر لاہور دا حال سناواں
صاف بتاواں جھوٹ نہ اس وچہ ہرگز یار
مرزا چلدا ہوا سوار
سن خبر سن خالص یار
ے آخر بھائی لاہور آن کے چھاؤنی پائی
کرن دوائی دار امان اس چھڈی یار
نہ معلوم جو آخر کار
مرساں ہیضے نال لاچار
ے سب رئیساں حنفیاں نالے اہلحدیثاں
ر کے رہیاں تارو کرانمیں خوب نتار
بحث کراں میں خوب وچار
نقلی ،عقلی علموں یار
ں ہوا سوار پڑھیا جمعہ لاہور وچکار
تھے اشتہار وعظ کراں میں نال پکار
دلیل لیاواں خوب نتار
سندے سب صغار کبار
انگریزی دان بڈھے نالے نوجوان
ہور مسلمان سندے دلدے نال پیار
نال دلیل جاں کراں پکار
رہن جو حاضر یار
نسان وعدہ کیتا کٹو زبان
عالم جاہل کرن وچار
کرن وچار تے رہن ہشیار
دلائل عجیب عجائب یار
جنہاں حضرت عیسیٰ والا قدرت نال اس حق تعالیٰ
معجزات وچہ شان نرالا ملعون عقیدہ سولی دار
رفع سماوی کر آشکار
کیتی خوب تسلی یار
حافظ صاحب جماعت علی من اونہاں لوک ولی
مینوں گھلن پیام دلی نال اتفاق اسیں کریئے کار
ایہہ مسئلہ اجماعی یار
کل اماماں مذہباں چار
کھلے دل میں منی بات اسوچہ گزرے خوب اوقات
نال اتفاقاں دن تے رات رلن نمازیں لوک ہزار
حافظ صاحب نال پیار
گل میرے وچہ پاون ہار
ڈاکٹر اے سعید سیاناں اس پر دائم فضل رباناں
مینوں ایہہ پیغام پہنچاناں جو اک مرزائی آکھے یار
ابراہیم ہووے تیار
لکھئے مرزے خط وچار
بحث دی اسوچہ دعوت ہووے مرزا آن میدان کھلووے
بحث تحریری اسوچہ ہووے عذر کوئی نہ اسوچہ یار
مرزے تائیں کراں تیار
نال دلائل کر تکرار
ڈاکٹر دی میں سن کے بات لکھیا خط لے قلم دوات
مسئلہ سولی ہور حیات ١؂ دوہاں اندر گل ہو پار

١؂ یعنی حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

صفحہ ٧٤
ڈاکٹر لے گیا آخر کار
خط پہنچاوے ہوشیار
١؂ مرزے احسن نوں طلب کرایا کرن اکٹھاں قسم سنایا
ابراہیم سیالکوٹی آیا علماں وچہ تسی ہوشیار
بحث اندر اوس کرو لاچار
آیت ہور حدیث وچار
سید احسن بیگلافی آکھیوس میں تیار تے کافی
بھلکے دیاں جواب میں شافی بھلک چڑھیا تے ستوں یار
قدرت غالب رب قہار
مرزا ہویا سخت بیمار
سرگی ویلے مرض پچھان لگی گولی غیبوں آن
چھ بجے اس بند زبان دس بجے تاں جانوں پار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرگیا مرزا منگل وار
نہ کوئی دارو نہ علاج نہ وصیت نہ کوئی کاج
بیوی آکھے لٹیا راج سبھا روون زار وزار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
شہر اندر جاں شہرت ہوئی بہناں تائیں حیرت ہوئی
ظاہر رب دی قدرت ہوئی وچہ بازاراں شور پکار
مرض ہیضے والے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
سب طرفوں اس لعنت برسی وچہ قبر تے حشر کی کرسی
عذاب دوزخ دا کیکر جرسی اپر دجالاں رب دی مار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار

١؂ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی۔ ٨

صفحہ ٧٥
ڈاکٹر لے گیا آخر کار
خط پہنچاوے ہوشیار
بے طلب کرایا کرن اکیداں حکم سنایا
ملکوتی آیا علماں وچہ تسی ہوشیار
بحث اندر اوس کرو لاچار
آیت ہور حدیث وچار
ہیگا لانی آکھیوں میں تیار تے کافی
خواب میں شافی بھلک پڑھیا تے سننوں یار
قدرت غالب رب قہار
مرزا ہویا سخت بیمار
مرض پہچان نہ لگی کوئی نہ چوں آن
بند زبان دس بجے تاں جانوں پار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرگیا مرزا منگل وار
رہ نہ علاج نہ وصیت نہ کوئی کاج
لٹیا راج سبھا روون زار و زار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
شہرت ہوئی بہتاں تائیں حیرت ہوئی
قدرت ہوئی وچہ بازاراں شور پکار
مرض ہیضے والے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
اس لعنت برسی وچہ قبر تے حشر کی کرسی
دا کیکر جرسی اپر دجالاں رب دی مار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار

احسن صاحب احمدی امروہوی۔

٨

فمابکت ؎١ دی آیت پچھ ہور جو آیت لعنت ؎٢ پچھ
اس وچہ نہ شکایت کجھ جھوٹھیاں نال ایہہ رب دی کار
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
حال ثمودیاں عادیاں سندا ہور فرعون خدا جو بندا
خدا کہاوے ہوکے بندہ ایہناں سبھاں رب دی مار
وچہ دنیا تے روز شمار
شہدا ؎٣ اللہ بھی نال وچار
اولیاء اللہ دی عام علامت روز جنازے ہووے کرامت
نرم ہوون جو اہل عداوت دل تھیں کڈھن سب بخار
کرن دعا اوہ سب پکار
بخش ربا توں بخشن ہار
امام احمد دا دیکھو حال ابن تیمیہ بھی رکھو نال
ایہ پیارے سچ مقال روز جنازے باجھ شمار
آکھن دشمن جانی یار
بخش ربا توں بخشن ہار
عبداللہ صاحب غزنی والے میاں ؎٤ صاحب بھی دلی والے
فوت ہوئے جد خلق دوالے دوست دشمن کرن پکار
رحمت ان پر لکھ ہزار
کر ربا توں بخشن ہار
خلق خدا دی دیئے شہادت مرزے اپر کرے ملامت
اوہ سی وڈا اہل شقاوت سب طرفوں سی اوہ پکار

١؎ سورہ دخان ٢٩۔ ٢؎ ”واتبعوا فی ھذہ لعنۃ ویوم القیمۃ٠ ھود ٩٩“ ٣؎ یعنی حدیث ”انتم شھداء اللہ علی الارض٠ مسلم“ ٤؎ یعنی حضرت شیخ الکل سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی۔

صفحہ ٧٦
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
اس وچہ بھائیو وڈا نشان مرزا وڈا اہل زبان
اس پچھے نہ کھو ایمان رب سچے نے دتا نتار
مرض ہیضے وچہ کر لاچار
مرزا ماریا منگل وار
ہیضہ متلیوں دعائیں کر آخری فیصلہ وچہ بدر
خلق ساری دی وچہ نظر رب کیتا ہے خوب خوار
مرض ہیضے وچہ کر لاچار
مرزا ماریا منگل وار
مرزے سندی موت دا سال روح خبیث موافق حال
فتنہ شورش جھوٹ مقال مسئلے نویں وچہ جگت پکار
رسالت دعوے شاہد چار
لیاندے اس پر بعد وچار
آخر تائیں کھول سناواں راہ ہدایت ول بلاواں
بدعت کولوں پرے ہٹاواں بدعتی ہووے آخرکار
روسیاہ ذلیل خوار
وچہ دنیا تے روز شمار
توبہ کرو مرزائیو بھائیو راہ مرزے دے ول نہ جائیو
جھوٹھے عذر نہ مول بنائیو موجب لکھے مویا خوار
چھبی مئی نوں منگل وار
مرض ہیضے وچہ ہو لاچار
ایہو مری غرض پہچانو ہجو مقصود نہ ہر گز جانو
عبرت پکڑو نصیحت مانو فضل کریسی رب غفار
فضلاں سیتی بیڑا پار
وچہ دنیا تے روز شمار

طالب شفاعت رسول کریم ! خاکسار! ابوالیتیم محمد ابراہیم میر سیالکوٹی! ٨/ ذیقعدہ ١٣٥١ھ، ٥ مارچ ١٩٣٣ء

١٠

صفحہ ٧٦
مرض ہیضے دے نال لاچار
مرزا مویا منگل وار
کیو وڈانشان مرزا وڈا اہل زبان
رکھو ایمان رب سچے نے دتا نتار
مرض ہیضے وچہ کر لاچار
مرزا ماریا منگل وار
دعائیں کر آخری فیصلہ وچہ بدر
دی وچہ نظر رب کیتا ہے خوب خوار
مرض ہیضے وچہ کر لاچار
مرزا ماریا منگل وار
موت داسال روح خبیث موافق حال
موت مقال مسئلے نویں وچہ جگت پکار
رسالت دعوے شاہد چار
ماندے اس پر بعد وچار
گل سناواں راہ ہدایت ول بلاوواں
پچھے ہٹاواں بدعتی ہووے آخر کار
روسیاہ ذلیل خوار
وچہ دنیا تے روز شمار
مرزائیو بھائیو راہ مرزے دے ول نہ جائیو
مول بنائیو موجب لکھے مویا خوار
جہنمی مٹی توں منگل وار
مرض ہیضے وچہ ہو لاچار
غرض پچھانو ہجو مقصود نہ ہر گز جانو
نصیحت مانو فضل کریسی رب غفار
مسلماں سیتی بیڑا پار
وچہ دنیا تے روز شمار

طالب شفاعت رسول کریم ! خاکسار ابو محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ١٨ ذیقعدہ ١٣٥١ھ، ٥ مارچ ١٩٣٣ء ١٠

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہو

ختم نبوت

اور

مرزائے قادیان

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ

صفحہ ٧٨

بسم الله الرحمن الرحيم!

کل تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے ان نصوص کے صاف معنوں میں پیچیدگیاں ڈال کر اور ادھر ادھر سے کھینچ تان کر کے اس منصوص مسئلہ کو بھی محل نظر بنا دیا۔ حالانکہ منصوصات شرعیہ محل نظر نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اہل شرع کے نزدیک ویسے ہوتے ہیں جیسے اہل منطق کے نزدیک بدیہات اور علوم میں بدیہات پر بحث نہیں کی جاسکتی۔

فاتحہ کی آیت صراط الذین انعمت علیھم سے آنحضرتﷺ کے بعد بھی نبوت کے جاری رہنے کی دلیل پکڑی ہے۔ صورت استدلال یوں بیان کی ہے کہ جن لوگوں پر خدا کے انعامات ہیں ۔ وہ چار ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ: ”ومن يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقاً (نساء: ٦٩)“ یعنی جو کوئی خدا اور رسول کے کہنے پر چلے تو ان کو ان لوگوں کا ساتھ نصیب ہوگا۔ جن پر خدا نے انعام کیا ہے اور وہ انبیاء ہیں اور صدیق ہیں اور شہید ہیں اور صالحین ہیں اور سب اچھے رفیق ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”جب ہم اللہ رسول کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور صراط الذین انعمت علیھم سے دعا بھی کرتے ہیں اور اس سے ہم صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کے مقامات پر ترقی کرسکتے ہیں تو ان سب کے ساتھ انبیاء کی رفاقت کا بھی ذکر ہے۔ تو اگر آنحضرتﷺ کے بعد نبوت بالکل بند ہو اور کوئی شخص بھی نبی نہ بن سکے تو یہ دعا بھی اکارت جائے اور اطاعت بھی بے ثمر رہے گی۔ پس لازم ہے کہ اس دعا کی قبولیت اور اس اطاعت کا ثمر درجہ نبوت کی عطاء کی صورت میں بھی ہو ۔“

(اعجاز المسیح ص ١٨٠، خزائن ج ١٨ص ١٨٤ ملخص)

اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ استنباط واستدلال بچند وجوہ از سر تا پا باطل ہے۔

٢

صفحہ ٧٩

اول: اس لئے کہ یہ استنباط خلاف نص قرآنی یعنی آیت خاتم النبیین اور خلاف احادیث صحیحہ ہے اور جو استنباط خلاف نص ہو وہ باطل ہوتا ہے۔ جیسا کہ علم اصول میں مصرح ہے۔ اس قاعدہ کو آپ عام عقل سے اور روز مرہ کے استعمال سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک وکیل کمرہ عدالت میں حاکم کے سامنے بعض عبارتوں میں کھینچ تان کر کے صریح قانون کے خلاف ایک بات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا وکیل اس کے جواب میں صرف یہ کہتا ہے کہ تمہاری ساری تقریر صریح قانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ اس کے ساتھ وہ قانون بھی پیش کرتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص مرزا قادیانی کو بحیثیت مصنف غلیظ گو، دھوکہ باز وغیرہ لکھے۔ مرزا قادیانی دفعہ ٥٠٠ کے ماتحت اس پر استغاثہ کریں۔ ان کا وکیل ثابت کرے کہ مرزا قادیانی جیسے نیک نام مصنف کے حق میں یہ الفاظ سخت موجب ہتک ہیں۔ وکیل ملزم کہے گا کہ آپ کا سارا استدلال دفعہ ٥٠٠ کے مستثنیٰ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ مصنف کے حق میں ایسے الفاظ لکھنے کی اجازت ہے اس لئے کہ اس میں پبلک کا فائدہ ہے۔

تو اب بتائیے کہ حاکم کس وکیل کی دلیل تسلیم کرے گا؟۔ اس کی جو صریح قانون پیش کرتا ہے یا اس کی جو قانون کے خلاف کھینچ تان کر کے ہاتھ پاؤں مارتا ہے؟۔

یہی حال مرزا قادیانی اور ان کے پیروں کا ہے کہ وہ آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی وغیرہ کے خلاف جو جو بھی استنباطی دلیل لائیں وہ بوجہ اعلان و قانون الٰہی کے خلاف ہونے کے بالکل مردود ہے۔

دوم: اس لئے کہ آیت زیر بحث یعنی صراط الذین انعمت علیھم میں منعم علیھم کی راہ پر چلنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کی ہدایتوں پر عمل کریں اور ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں۔ جیسا کہ فرمایا کہ: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (احزاب: ٢١)“، یعنی تمہارے لئے رسول ﷺ میں قابل اقتداء عمدہ نمونہ عمل (موجود) تھا۔ پھر تم نے اس طرح کیوں نہ کیا۔ اگر انبیاء کے رستے کی پیروی کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہم نبی بن جائیں تو کیا خدا کے رستے کی پیروی سے خدا بھی بن سکیں گے۔ پھر تو بڑی بھاری اور

٣

صفحہ ٨٠

بڑی شان کی ترقی ہوگی ۔ دیکھئے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’وان هذا صراط مستقيماً فاتبعوه (انعام: ٨)‘‘ یعنی یہ میرا سیدھا رستہ ہے ۔ اسی کی پیروی کرنا اس کے جواب میں کہیں یہ نہ کہہ دینا کہ ہاں خدا بھی بن سکتے ہیں ۔ اسی لئے تو مرزا قادیانی نے اپنے (آئینہ وساوس ص ٥٦٤ ، خزائن ج ١٥ ص ایضاً) میں اپنا ایک خواب لکھا ہے ۔

’’رأيتني فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو‘‘ یعنی میں نے خواب میں اپنے آپ کو عین خدا دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں ۔

اگر کہا جائے کہ رستہ کی پیروی سے رستہ والے کا رتبہ مل سکتا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کے رستے کی پیروی سے بھی ہم صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کا رتبہ بھی پاسکیں ۔ حالانکہ یہ بالکل باطل ہے ۔ کیونکہ بہت سے پاک نفس ان مقامات پر پہنچے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت زیر بحث اس امر سے بالکل ساکت ہے ۔ رستے کی پیروی اور ان کی رفاقت جیسا کہ آیت سورۃ نساء میں وارد ہے ۔ دیگر امر ہے اور اس رتبہ پر فائز ہونا دیگر امر ہے ۔ دیکھئے خدائے تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ معیت کئی جگہ وارد ہے ۔ ’’ان الله مع الصابرين (البقره: ١٥٣) ، ان معى ربى (الشعراء: ٦٢) ، ان الله معنا (التوبه: ٤٠) ، وهو معكم اينما كنتم (الحديد: ٤) ، وهو معهم اينما كانوا (المجادلہ: ٧)‘‘

ان آیتوں میں خدا کی معیت کا صاف ذکر ہے تو نہ خدا بندہ بن جاتا ہے اور نہ بندہ خدائی کے رتبہ پر پہنچ جاتا ہے ۔ خدا خدا ہے اور بندہ بندہ ۔

اسی طرح آنحضرت ﷺ نے یتیم کے کفیل کی نسبت فرمایا ۔ ’’انا وكافل اليتيم كهاتين واشار باصبعيه ‘‘ یعنی میں اور یتیم کا کفیل ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے اور دو انگلیاں ملا کر آپ ﷺ نے اشارہ سے بتایا کہ اس طرح تو اس حدیث کا یہ مفاد نہیں ہے کہ یتیم کا کفیل اور آنحضرت ﷺ ہم رتبہ ہوں گے ۔ یا وہ کفیل محمد ﷺ بن جائے گا ۔ اعوذ بالله من زيغ القلب!

دیگر یہ کہ بے شک نبوت کے سوا دیگر مقامات کی ترقی کھلی ہے ۔ لیکن اس کی دلیل یہ ٤

صفحہ ٨١

دیکھئے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”وان هذا صراط مستقيماً “، یعنی یہ میرا سیدھا رستہ ہے۔ اس کی پیروی کرنیوالے کیا نبی بھی بن سکتے ہیں۔ اسی لئے تو مرزا قادیانی نے اپنے (آئینہ کمالات ص ٥٦٣) میں اپنا ایک خواب لکھا ہے۔

”رأيت في المنام عين الله وتيقنت اننى ھو “ یعنی میں نے خواب میں خدا کو دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔

اگر رستہ کی پیروی سے رستہ والے کا رتبہ مل سکتا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ صالحین کے رستے کی پیروی سے بھی ہم صدیقیت ، شہادت اور صلاحیت پا لیں۔ حالانکہ یہ بالکل باطل ہے۔ کیونکہ بہت سے پاک نفس ان مقامات پر پہنچے ہیں

لیکن آیت زیر بحث اس امر سے بالکل ساکت ہے۔ رستے کی پیروی اور ان کی معیت سورۃ نساء میں وارد ہے۔ یہ دیگر امر ہے اور اس رتبہ پر فائز ہونا دیگر امر ہے۔

خدا کی اپنے بندوں کے ساتھ معیت کئی جگہ وارد ہے۔ ”ان الله مع الصابرین ان معی ربی (الشعراء : ٦٢)، ان الله معنا (التوبه:٤٠)، وهو معكم اينما كنتم (الحدید:٤)، وهو معهم اينما كانوا (المجادلہ:٧)“

ان آیات میں خدا کی معیت کا صاف ذکر ہے تو نہ خدا بندہ بن جاتا ہے اور نہ بندہ خدا بن جاتا ہے۔ خدا خدا ہے اور بندہ بندہ۔

آنحضرت ﷺ نے یتیم کے کفیل کی نسبت فرمایا۔ ”انا وكافل اليتيم کہاتین “، یعنی میں اور یتیم کا کفیل ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے اور آپ ﷺ نے اشارہ سے بتایا کہ اس طرح تو اس حدیث کا یہ مفاد نہیں ہے کہ یتیم کا کفیل آپ کے ساتھ ہم رتبہ ہوں گے۔ یا وہ کفیل محمد ﷺ بن جائے گا۔ اعوذ بالله من

ذالک ۔ بے شک نبوت کے سوا دیگر مقامات کی ترقی کھلی ہے۔ لیکن اس کی دلیل یہ ٤

آیت زیر بحث نہیں بلکہ سورہ حدید کی آیت ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ : ”والذين امنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم لهم اجرهم ونورهم (الحدید:١٩)“ یعنی جو لوگ خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی خدا کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر بھی ہے اور نور بھی ہے۔ اور نبوت کے بند ہو جانے کی دلیل آیت خاتم النبیین اور احادیث صحیحہ ہیں۔ چنانچہ (مسند امام احمد ج ٣ ص ٢٤١) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت میرے بعد منقطع ہو چکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔ اسی طرح صحاح کی کئی ایک احادیث ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ قصر نبوت کی آخری اینٹ ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوگا۔ اسے ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ بادشاہ نے جن عہدوں کی آسامیاں کھلی رکھی ہیں۔ ان کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ لیکن جس عہدے کی نسبت اس کا اعلان ہو چکا ہے کہ یہ عہدہ پُر ہو چکا ہے۔ اس کی اسامی خالی نہیں ہے۔ اس کے لئے درخواست پر درخواست دیتے جائیں۔ ہرگز شنوائی نہیں ہوگی۔ بلکہ وہ درخواست بقاعدہ ”وما دعاء الكافرين الا في ضلال “ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔ کیونکہ وہ شاہی اعلان کی حد سے باہر ہے۔ پس اس طرح نبوت اور دیگر مقامات کا حال ہے کہ احکم الحاکمین نے آیت خاتم النبیین اور آیت اليوم اكملتكم لكم دینکم (المائدہ : ٣) سے اعلان کر دیا ہے کہ ہمارے آخری رسول محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بند ہے۔ ہاں بموجب آیت سورہ حدید اس پر ایمان لا کر اس کی پیروی کرو تو اپنی اپنی قابلیت سے ان دروازوں سے آنے کی کوشش کرو۔ اس اعلان کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ نبوت کی ہوس میں دعا مانگ مانگ کر سر کھپائے۔

اگر اس تصریح کے بعد بھی کسی کے دماغ میں یہ خیال سما جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یا تو وہ مراقی وغیرہ ہوگا یا کاذب وفریبی (دجال و کذاب)۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرما دیا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس کے قبضہ میں میری جان ہے ۔ قیامت نہ آئے گی ۔ جب تک میری امت (مدعیان اسلام ) میں سے قریباً تیس دجال اور کذاب نہ ہولیں۔ ہر ایک ان میں سے ٨

صفحہ ٨٢

دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا نبی اور رسول ہوں۔ (بخاری ومسلم) پس بموجب اس حدیث کے مرزا قادیانی اور ان کے اتباع میں سے احمد نور کابلی احمدی اور عبداللہ تیماپوری اور نبی بخش احمدی ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ اور عبداللطیف گناچوری اور فضل احمد احمدی جو عالم برزخ میں مرزا قادیانی سے باتیں کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جو کوئی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ملنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ سب آنحضرت ﷺ کی مذکورہ حدیث کے ماتحت آجائیں گے۔ ورنہ ہر مدعی نبوت اپنے پیروؤں کی نظر کے لحاظ سے صادق ٹھہر سکے گا۔ یا کم از کم صدق و کذب ہر دو کا محل ہو سکے گا اور اس کے صادق ہونے کی صورت میں یہ حدیث بلا مصداق رہے گی اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ نے جو خبر قسمی تاکیدوں سے دی تھی وہ غلط نکلی اور ہمارے لئے یہ بہت مشکل ہے۔ بلکہ بالکل ناممکن ہے کہ ہم اس صحیح حدیث کو غلط قرار دیں۔ بلکہ ہمارے لئے یہ بالکل آسان ہے اور واقعہ میں بھی درست ہے کہ اس حدیث کو صحیح سمجھ کر ان مدعیان نبوت کو مفتری اور دجال و کذاب قرار دیں اور ہر مدعی کی نئی سر دردی سے چھوٹ جائیں۔

اسے ایک اور طرح پر بھی سمجھ لیں کہ اگر ہم نصوص بیّنہ یعنی آیت خاتم النبیین اور احادیث ختم رسالت کو نظر انداز کر کے مرزا قادیانی کی کھینچ تان کی استنباطی دلیلوں کو تسلیم کرلیں اور تیس دجالوں والی صحیح اور متفق علیہ حدیث کا بھی لحاظ نہ کریں اور بقول مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کو آنحضرت ﷺ کے بعد بھی جائز جانیں تو مرزا قادیانی کے سوا دیگر مدعیان نبوت کے لئے بھی رستہ کھلا رہے گا اور ان کی تکذیب کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ کیونکہ جب ہم (معاذ اللہ) ختم نبوت کے دلائل کو ایک دفعہ مرزا قادیانی کے لئے بیکار کر چکے تو اب دوسروں کے مقابلہ میں وہ باکار نہیں ہوجائیں گی۔ اسی خیال نے کئی ایک احمدیوں کو جرات دلا دی کہ انہوں نے نبوت کا کھلم کھلا دعویٰ کر دیا۔ ان میں سے ایک چودھری نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ اور دوسرا ماسٹر محمد سعید سمبڑیالی، نور احمد کابلی مقیم قادیان، فضل احمد ساکن چنگا بنگیال راولپنڈی عبد اللطیف گناچور جالندھر وغیرہ قریب درجن کے احمدیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آخر ان بھلے مانسوں کی تکذیب کے لئے بھی تو کوئی دلیل چاہئے۔

٦

صفحہ ٨٢

خدا کا نبی اور رسول ہوں۔ ( بخاری و مسلم ) پس بموجب اس حدیث کے کے اتباع میں سے احمد نور کابلی احمدی اور عبداللہ تیما پوری اور نبی بخش احمدی سیالکوٹ اور عبداللطیف گناچوری اور فضل احمد احمدی جو عالم برزخ میں سا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جو کوئی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ملنے کا دعویٰ نحضرت ﷺ کی مذکورہ حدیث کے ماتحت آجائیں گے۔ ورنہ ہر مدعی نبوت کے لحاظ سے صادق ٹھہر سکے گا۔ یا کم از کم صدق و کذب ہر دو کا محل ہو سکے گا ماننے کی صورت میں یہ حدیث بلا مصداق رہے گی اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا ﷺ نے جو خبر قسمی تاکیدوں سے دی تھی وہ غلط نکلی اور ہمارے لئے یہ بہت ناممکن ہے کہ ہم اس صحیح حدیث کو غلط قرار دیں۔ بلکہ ہمارے لئے یہ بالکل س بھی درست ہے کہ اس حدیث کو صحیح سمجھ کر ان مدعیان نبوت کو مفتری اور کذاب اور ہر مدعی کی نئی سر دردی سے چھوٹ جائیں۔

اور طرح پر بھی سمجھ لیں کہ اگر ہم نصوص بیّنہ یعنی آیت خاتم النبیین اور نظر انداز کر کے مرزا قادیانی کی کھینچ تان کی استنباطی دلیلوں کو تسلیم کر لیں اور ہر متفق علیہ حدیث کا بھی لحاظ نہ کریں اور بقول مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کو بھی جائز جانیں تو مرزا قادیانی کے سوا دیگر مدعیان نبوت کے لئے بھی رستہ مذہب کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ کیونکہ جب ہم (معاذ ی کو ایک دفعہ مرزا قادیانی کے لئے بیکار کر چکے تو اب دوسروں کے مقابلہ آئے گی۔ اس خیال نے کئی ایک احمدیوں کو جرأت دلا دی کہ انہوں نے نبوت ان میں سے ایک چودھری نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ اور دوسرا احمد کابلی مقیم قادیان، فضل احمد ساکن پنڈی گکھیال راولپنڈی عبداللطیف سب درجن کے احمدیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آخر ان بھلے مانسوں کی کوئی دلیل چاہئے ۔

٦

اتنا تو آپ بھی مانیں گے کہ یہ سب احمدی ہیں اور مرزا قادیانی نے نبوت کے لئے سوائے اپنی پیروی کے کوئی اور شرط مقرر نہیں کی۔ تو اب کیا غضب ہے کہ آپ لوگ ان بیچاروں کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتے۔ دیکھئے کتنی بے انصافی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھلے الفاظ میں فرمایا کہ میرے بعد نبوت و رسالت بند ہے۔ با وجود اس کے مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تو آپ لوگوں نے تسلیم کر لیا اور مرزا قادیانی الفاظ میں لکھتے ہیں کہ میرے بعد نبوت کھلی ہے۔ ہاں صرف میری رنگت میں رنگ جانے کی ضرورت ہے اور ان بیچاروں نے مرزا قادیانی کے مٹکے میں ڈبکیاں لے لے کر یہ رنگت چڑھائی اور دعویٰ کیا تو آپ لوگ ان کو نہیں مانتے۔ حالانکہ ان لوگوں کی تکذیب کے لئے آپ کے پاس سوائے اس کے کوئی دلیل نہیں کہ 'اجی ہم ان کو نہیں مانتے۔'

اور یہ کوئی دلیل نہیں کتنا ظلم وستم ہے کہ مرزا قادیانی اپنے بعد نبوت کا دروازہ کھلا رکھیں اور قیامت تک لا تعداد انبیاء ہو سکنے کے قائل ہوں اور سوائے اپنی اتباع کے کوئی اور شرط ضروری نہ جانیں۔ اس پر مرزا قادیانی کے خالص ومخلص مریدوں میں سے چند جری اللہ ، مرزا قادیانی کو قاسم نبوت اور صاحب فیض وکرم ثابت کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں کہ ہم مرزا قادیانی کے فیض سے مقام نبوت پر پہنچ گئے ہیں۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ کر کے کہا کہ اسلام اور نبی اسلام کے حق ہونے کی زندہ دلیل یہ ہے کہ ان کی اتباع سے انسان مقام نبوت پر پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ میں اس کی زندہ مثال موجود ہوں۔ کیونکہ اگر سلسلہ نبوت کو جاری نہ سمجھیں تو ایک تو خدائے تعالیٰ کی صفت کلام کا تعطل لازم آتا ہے۔ دوسرا یہ لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے آدمی خدائے تعالیٰ کے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف حاصل نہیں کر سکتا۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کے خلفاء میں سے کئی نبی ہوئے اور آنحضرت ﷺ تو ان سے افضل ہیں تو کیا ان کے خلفاء میں سے کوئی نبی نہ ہو۔

غرض یہ سب مدعی اور آپ لوگوں میں سے ان جیسے دیگر جو آئندہ پیدا ہوں گے۔ وہ سب انہی ہتھیار سے مسلح ہو کر آئے ہیں اور آئیں گے جو مرزا جی نے خود پہنے اور ان کو پہنائے۔ پس آپ کا کوئی حق نہیں کہ ان ہتھیاروں سے مرزا قادیانی کو تیار دیکھ کر جری اللہ فی حلل

٧

صفحہ ٨٤

الانبیاء (تذکرہ ص ٧٩) مان لیں اور دیگروں کو جو اسی روپ میں انہی ہتھیاروں سے سجے ہوئے ہیں ۔ کاذب و مفتری اور جعلی و نقلی قرار دیں ۔ تلك اذا قسمة ضيزى! آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کی روک کے لئے یہی دو باتیں تھیں کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہے اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دجال و کذاب ہے۔ ختم نبوت کی باڑ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے اور استنباطی کھینچ تان کے تبر سے توڑ دی اور بجائے دجال ہو جانے کے نبی برحق بن گئے تو دیگر بیچاروں نے کیا گناہ کیا ہے کہ ان کے سامنے خاردار تار لگا دی گئی ہے کہ وہ دعوے نہیں کر سکتے ۔ بلکہ دعوے سے دجال و کذاب ہو جاتے ہیں۔ غرض اگر باب نبوت مرزا قادیانی کے لئے کھلا ہے تو انہی دلائل سے بقول مرزا قادیانی دیگروں کے لئے بھی کھلا ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم مرزا قادیانی کی تو تکذیب سے کافر قرار دئے جائیں اور دیگروں کی تصدیق سے بے ایمان ٹھہریں۔ ایں چہ؟۔

ہم آپ کو ایک اور طرف بھی سمجھاتے ہیں۔ شاید آپ کی جماعت میں کچھ سمجھدار لوگ بھی ہوں ۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو جائز رکھا۔ تو اب جو جو بھی دعویٰ کریں گے وہ تین حال سے خالی نہ ہوں گے۔ یا سب کے سب سچے یا سب کے سب جھوٹے یا بعض سچے اور بعض جھوٹے۔ اب دیکھئے آپ لوگوں کی پوزیشن کیا ہے؟ ۔ سب کو آپ سچا مانتے نہیں ۔ کیونکہ احمد نور کابلی بے چارہ قادیان میں بیٹھا ہوا دن رات ٹرا رہا ہے اور آپ سنتے نہیں اور عبداللہ تیما پوری سب سے پہلے روح القدس کے نزول کا مدعی بنا۔ لیکن آپ نے ایک نہ مانی ۔ اسی طرح وہ بے چارہ جو مرزا قادیانی سے عالم برزخ سے بھی فیض اٹھا رہا ہے اس کو بھی آپ نہیں مانتے اور آپ سب کے سب کو بھی جھوٹا نہیں مانتے ۔ کیونکہ آپ مرزا قادیانی کو نبی صادق کہتے ہیں۔ اب باقی رہی تیسری صورت کہ بعض سچے اور بعض جھوٹے۔ سو اس کے لئے آپ سوائے اپنے انکار کے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے ۔ کیونکہ جو دلائل ختم نبوت کے تھے۔ ان کو مرزا قادیانی نہایت کامیابی سے بالکل بے کار کر چکے ہیں۔ وہ کارآمد نہیں ہو سکتے اور پیش گوئیوں اور الہامات کا غلط ہونا آپ کے نزدیک موجب تکذیب ٨

صفحہ ٨٥

نہیں ہو سکتا۔ تو اب خدارا فرمائیے کہ آپ کے دین و ایمان اور علم وعقل کا کیا حال؟ ۔ دیکھئے ! نصوص قرآنیہ وحدیثیہ کے چھوڑنے سے آپ کس قدر مشکلات میں پھنس گئے ۔ عقل سے بے بہرہ ہو گئے۔ انصاف سے دور جا پڑے۔ مرزا قادیانی کو نبی اور دوسروں کو دجال مان کر کافر ہی رہے۔ خدا اور رسول کی باتوں کے چھوڑنے سے کہیں کے نہ رہے۔

آیئے ! توبہ کیجئے ! اور سیدھے سادھے مسلمان ہو جائیے۔ ہر نئے مدعی کو لاکھ کی ایک ہی بات کہہ دیجئے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوچکی ہے۔ اب آپ کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب صحیح حدیث کے دجال و کذاب ہے۔ بس اس میں آپ کو کوئی بھی مشکل نہیں پڑے گی۔ کفر آپ کے نزدیک نہیں بھٹکے گا۔ عقل آپ کی قائم رہے گی۔ علم آپ کا صحیح رہے گا اور آپ انصاف پر ہو کر ایسے سب مدعیوں کو ایک ہی حکم سنا سکیں گے ۔ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے تلے کھڑے ہو کر شفاعت کے امیدوار ہو سکیں گے۔ خدا کرے کہ آپ لوگوں کو سمجھ آ جائے ۔

تیسری وجہ مرزا قادیانی کے استدلال کے باطل ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نبوت کا حاصل ہونا دعوؤں اور التجاؤں پر نہیں رکھا۔ بلکہ وہ خود اپنے انتخاب سے جسے چاہتا رہا ہے نبی بناتا رہا ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ: ”وما کنت ترجوا ان یلقی الیک الکتاب الا رحمۃ من ربک (قصص: ٨٦) “ یعنی (اے نبی) تجھے کوئی امید نہیں تھی کہ تجھ پر کتاب نازل کی جائے گی۔ ہاں صرف خدا کی رحمت سے (اتاری گئی ہے)۔

یہ آیت سورہ قصص کی ہے اور اس سورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی رسالت محض خدا کے فضل سے بغیر دعا یا سابقہ کوشش کے ملنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ اس کی شہرت یہاں تک ہوچکی ہے کہ اس کی بابت شعر بھی بن گیا ہے۔

خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

نیز یہ آیت ملاحظہ فرمائیے منکرین کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر ﷺ پر ایمان نہیں

٩

صفحہ ٨٦

لائیں گے۔ جب تک کہ ہمیں بھی وہ کچھ نہ ملے جو خدا کے رسول کو ملتا رہا ہے۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته ، انعام ١٢٤“ یعنی خدا تعالیٰ اپنی رسالت کے موقعہ کو خوب پہچانتا ہے۔ (کسی کی آرزو اور خواہش کا اس میں دخل نہیں۔)

اسی طرح سورہ حج میں فرمایا ہے کہ: ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس (حج:٧٥)“ یعنی خدا تعالیٰ خود ہی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا رہا ہے۔ (اسی کے مطابق خدا نے اس رسول محمدﷺ کو منتخب کیا ہے۔)

لطیفہ عجیبہ: مولوی محمد علی صاحب لاہوری مرزائی نے اپنی اردو تفسیر بیان القرآن میں اسی آیت صراط الذین انعمت علیہم کے ضمن میں اس شخص کی بہت زور سے تردید کی ہے۔ جو اس دعا کی بناء پر یہ سمجھے کہ دعا سے عہدہ نبوت مل جاتا ہے اور جس طرح ہم نے اوپر لکھا ہے کہ نبوت خدا کی بخشش ہے۔ اسی امر کو ثابت رکھا کہ عہدہ نبوت خدا کی بخشش ہے۔ کسی کی دعا یا سعی کو اس میں دخل نہیں۔ پھر اس لمبی تقریر میں یہ کلمے بطور نتیجہ کلام فرمائے ہیں۔

”پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اس شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے۔ جو اصول دین سے ناواقف ہو۔“

(جلد اول ص ٦، تحت آیت صراط الذین انعمت)

ہم مولوی صاحب موصوف کے حرف حرف کی تصدیق وتائید کرتے ہیں۔ لیکن جہاں مولوی صاحب موصوف نے ایسے مستدل کے علم کا حال لکھتے ہوئے اسے اصول دین سے ناواقف قرار دیا ہے۔ اگر وہاں اس کے ساتھ کم از کم اس شخص کے دین وایمان کا حال بھی لکھ دیتے کہ وہ دین سے بے بہرہ اور ضال ومضل ہے۔ تو حق پورا ہو جاتا۔

اس کے بعد ہم مولوی محمد علی صاحب سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ زید اپنی کتاب میں یوں لکھتا ہے کہ: ”آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس منصب عظیم سے یہ امت محروم نہیں اور منصب عظیم حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ براہ راست بند ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس امت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا طریق کھلا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩ حاشیہ)

ایسے شخص کے عقائد اور اس کے ملکہ قرآن فہمی اور اصول دین سے اس کی واقفیت کی بابت آپ کیا فرماتے ہیں؟۔

١٠

صفحہ ٨٦

کہ ہمیں بھی وہ کچھ ملے جو خدا کے رسولوں کو ملتا رہا ہے۔ اس کے جواب میں ”الله اعلم حيث يجعل رسالته ٠ انعام ١٢٤“، یعنی خدا تعالیٰ خوب پہچانتا ہے۔ (کسی کی آرزو اور خواہش کا اس میں دخل نہیں۔) سورہ حج میں فرمایا ہے کہ ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن یعنی خدا تعالیٰ خود ہی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا رہا ہے۔ اس رسول محمدﷺ کو منتخب کیا ہے۔)

: مولوی محمد علی صاحب لاہوری مرزائی نے اپنی اردو تفسیر بیان القرآن میں دین انعمت علیہم کے ضمن میں اس شخص کی بہت زور سے تردید کی ہے۔ سمجھے کہ دعا سے عہدہ نبوت مل جاتا ہے اور جس طرح ہم نے اوپر لکھا ہے کہ ہے۔ اس امر کو ثابت رکھا کہ عہدہ نبوت خدا کی بخشش ہے۔ کسی کی دعا یا سعی کو ر اس لمبی تقریر میں یہ کلمے بطور نتیجہ کلام فرمائے ہیں۔ م نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اس شخص کے منہ سے نکل ین سے ناواقف ہو۔“

(جلد اول ص ٦ ، تحت آیت صراط الذین انعمت )

صاحب موصوف کے حرف حرف کی تصدیق و تائید کرتے ہیں۔ لیکن جہاں ف نے ایسے مستدل کے علم کا حال لکھتے ہوئے اسے اصول دین سے ناواقف ں اس کے ساتھ کم از کم اس شخص کے دین و ایمان کا حال بھی لکھ دیتے کہ وہ ضال ومضل ہے۔ تو حق پورا ہو جاتا۔

بعد ہم مولوی محمد علی صاحب سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ زید اپنی کتاب ”آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مکالمۂ غیب سے یہ امت محروم نہیں اور وق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ براہ راست بند ہے۔ اس لئے ت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا کھلا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩ حاشیہ )

کے عقائد اور اس کے ملکۂ قرآن فہمی اور اصول دین سے اس کی واقفیت کی ١٠

خاتم النبيين لا نبي بعدي

مما قاله النبي صلى الله عليه وآله وسلم

فص خاتم النبوة

بعموم

الدعوة وجامعية الشريعة

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٨٨

بسم الله الرحمن الرحيم! ”الحمدلله الذي ارسل رسله لاتمام الحجة وانزل الكتب لبيان الشريعة واكرم حبيبه بختم النبوة بعموم الدعوت واكمال الشريعة فصلى الله عليه وعلى اله واعوانه واصحابه لنا فيهم اسوة حسنة لحسنات الدنيوية ولاخروية“

اما بعد! یہ ایک مختصر سا رسالہ ہے۔ جو باوجود اپنی دیرینہ علالت اور ضعف بصارت کے، مسئلہ ختم نبوت کے متعلق ایک نادر طریق پر لکھوا رہا ہوں۔ دلائل تو وہی ہیں جو قرآن اور حدیث میں سب علماء کی نظر میں ہیں۔ لیکن ان کو ایسے طریق پر ترتیب دینا اور ایسے طور پر بیان کرنا کہ مخاطب کو جائے دم زدن نہ رہے۔ ہر کسی کا کام نہیں ہے اور میں بے بضاعت بھی اس امر کو انجام نہ دے سکتا تھا۔ اگر خدائے وہاب کی تائید اور توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی۔

ضروری التماس

ناظرین کرام سے التماس ہے کہ جو اصحاب دلائل ختم نبوت آگے ہی جانتے اور مانتے ہیں۔ لیکن مخالف لوگ ان کو شبہات ڈال کر حیران کرتے رہتے ہیں۔ وہ بھی اور وہ احباب بھی جو دلائل تو نہیں جانتے۔ لیکن مرزا قادیانی اور مرزائی علماء کے شبہات سے اثر پذیر ہو چکے ہیں۔ دل کو شبہات سے خالی کر کے اس رسالہ کو بہ نظر انصاف پڑھیں اور غیر جانبدار ہوکر مطالعہ کریں اور مرزائی صاحبان یہ خیال نہ کریں کہ یہ رسالہ ہمارے مشہور مخالف کے قلم سے نکلا ہے۔ کیونکہ ایسی بدظنی انسان کو قبولیت حق سے روک دیتی اور اس کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ جس سے حق ان کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں نے اس کتاب کو خداداد بصیرت سے قرآن وحدیث کے نصوص بینہ سے بغیر کسی کھینچ تان کے خدا تعالیٰ کے ہاں اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کو سامنے رکھ کر تبلیغ حق کی خالص نیت سے لوگوں کی ہدایت کے لئے لکھا ہے۔

اس لئے مجھے امید کرنی چاہئے کہ ناظرین کرام اس کتاب کو بحکم آیت ذیل بہ نظر انصاف مطالعہ کریں گے۔ آیت یہ ہے کہ: ”فبشر عباد الذين يستمعون القول فيتبعون احسنه، اولئك الذين هداهم الله واولئك هم اولوالالباب ٢

صفحہ ٨٩

(زمر: ١٨،١٧) ”یعنی (اے پیغمبر) پس بشارت سنا دیجئے میرے ان بندوں کو جو بات کو غور سے سن لیتے ہیں۔ پس پیروی کرتے ہیں بہتر اس کی، کہ یہی وہ لوگ ہیں۔ جن کو ہدایت دی اللہ تعالیٰ نے اور یہی لوگ ہیں صاحبان عقل۔“

حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

فصل اوّل

دلائل ختم نبوت از قرآن مجید

پہلی بحث: جن وجوہ پر سابق زمانے میں حضرت آدم علیہ السلام کے عہد سے سلسلہ نبوت جاری رہا۔ ہم ان کا مفصل بیان کتاب واضح البیان فی تفسیر ام القرآن میں کر چکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر جس قدر انبیاء آئے وہ سب اپنی اپنی قوم کے لئے آئے۔ جن کا دائرہ تبلیغ محدود زمانے تک رہا اور کسی کو جامع شریعت نہ دی گئی۔ لیکن آنحضرت ﷺ ساری دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے۔ آنحضرت ﷺ کو جامع شریعت دی گئی۔ جو تاقیام دنیا قائم رہے گی اور اس میں نسخ و ترمیم کی گنجائش نہ رہی۔

دیگر یہ کہ سابقہ زمانوں میں جیسا کہ قرآن شریف کے مطالعہ سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے انبیاء علیہم السلام کے حالات سے معلوم ہو سکتا ہے۔ منکرین نبوت ہلاک کر دیئے جاتے رہے۔ جس سے تکمیل شریعت کی نوبت نہ آسکی۔ لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اپنے حبیب ﷺ کو رحمۃ للعالمین کر کے بھیجا تو اس کے ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ رکھی کہ رحمۃ للعالمین کی برکت سے دنیا جہان کو بیخ کن عذاب سے بچا لیا جائے تا کہ آپ کا فیض ہدایت تمام دنیا پر پھیل جائے۔ اس لئے آپ ﷺ کے زمانے میں ”الیوم اکملت لکم دینکم (مائدہ: ٣)“ کی بشارت سنا کر آپ ﷺ کی شریعت کو کامل کر دیا۔ دیگر یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر دنیا کی حالت ایسی نہ تھی کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے تعلقات آپس میں وابستہ ہو سکیں اور تبلیغ و دعوت اور سفر کے وسائل نہایت دشوار تھے۔ اس لئے کسی نبی کی تبلیغ ساری دنیا پر نہیں پہنچ سکتی تھی۔ لیکن خدا تعالیٰ کے علم میں مقدر تھا کہ میرے حبیب ﷺ کی تبلیغ کے لئے دنیا جہان کے تعلقات آپس میں سہولت سے وابستہ ہو سکیں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سب کمالات کے ساتھ خاتم النبیین کر دیا۔ ان وجوہ کی تفسیر کے بعد کتاب واضح البیان میں سے عبارت ذیل کا مطالعہ کریں: ”الغرض پہلے زمانوں میں سلسلہ نبوت کے جاری رہنے کی جس قدر ضرورتیں تھیں وہ آنحضرت ﷺ کی مبارک آمد پر سب پوری ہو چکی ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم ﷺ کو سارے کمالات کا صاحب و جامع بنا کر اس سلسلہ کو آپ ﷺ پر ختم کر دیا۔“

٣

صفحہ ١٢

نبوت پر مہر لگادی۔ چنانچہ فرمایا کہ: ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین وکان الله بکل شئی علیما (احزاب: ٤٠)” محمد ﷺ تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں خدا کے رسول ہیں اور (رسول بھی ایسے کہ ) خاتم النبیین ہیں اور خدا تعالیٰ ہر شے (اور ہر ضرورت ) سے واقف ہے۔ ﴿یعنی جانتا ہے کہ اب ان کے بعد نبوت جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کوئی لائق نبوت پیدا کیا جائے گا۔“

دوسری بحث

ختم نبوت کی خاص دلیلوں کے بیان میں

ختم ہو جانے میں نص قطعی ہے۔ اس کی توضیح سے پہلے اس کا شان نزول بھی جاننا چاہیے کہ اسے بھی ختم نبوت سے ایک گونہ تعلق ہے۔

شان نزول

آنحضرت ﷺ نے ٥ ہجری میں اپنی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینبؓ سے نکاح کیا۔ اس سے پہلے وہ حضرت زیدؓ کے نکاح میں تھیں ۔ جو آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ غلام اور متبنّے تھا۔ حضرت زینبؓ اور زیدؓ میں موافقت نہ بنی تو حضرت زیدؓ نے ان کو طلاق دے دی۔

ملکی رسم کی رو سے متبنّے کو صلبی بیٹے کی طرح جانا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے اصل وارثوں کے حقوق پر اثر پڑتا تھا اور مصنوعی رشتے کو قدرتی رشتے پر ترجیح دی جاتی تھی۔ یا اسے اس کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا اس کو منسوخ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم کیا کہ آپ ﷺ زینبؓ سے نکاح کرلیں ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے نکاح کرلیا۔ مخالفین نے اعتراض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے بیٹے (متبنّے ) کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ تم سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں خدا کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور خدا سب کچھ جانتا ہے۔ پس اس بناء پر اعتراض بالکل لایعنی ہے۔ ہاں آپ کو رسالت کا ایک منصب حاصل ہے۔ جو اس رشتہ پدری سے بہت اونچا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے امت کی عورتوں سے آپ کا نکاح منع نہیں ہو سکتا۔

اب سوال یہ ہے۔ جواب تو اسی قدر کافی تھا۔ اس کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کی کیا ضرورت تھی کہ خدا تعالیٰ نے اسے بھی ذکر کردیا؟۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نکاح میں سب سے بڑی رکاوٹ قوم کی طعن وعار تھی کہ یہ نکاح سالہا سال کی رسم کے خلاف تھا۔ دشمن تو دشمن

رہے۔ معتقد بھی کہہ سکتے تھے کہ آنحضرت ﷺ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ سو خدا تعالیٰ نے فرما ہے۔ تکمیل شریعت کا یہی عہد ہے۔ پچھلی شریعتو یہ شریعت آخری وابدی ہے۔ جو نسخ و ترمیم کی گنجا ہے۔ کیونکہ یہ رسول خاتم النبیین ہے۔ اس امت خاتمیت کے خلاف ہے۔

لہٰذا اس اصلاح کا یہی زمانہ ہے اور یہ تھا۔ چنانچہ اس سے قبل فرمایا کہ: ”وکان امر الـ نبی ﷺ یہ سارا معاملہ یعنی زیدؓ کا یہاں آ کر فرو زینبؓ سے نکاح کرانا اور پھر اس کا اسے طلاق د سب تقدیری معاملے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ا کچھ یوں یوں ہوگا اور یہ سب کچھ اسی رسم کی اصلا

پھر فرمایا کہ: ”وکان الله بکل سب باتوں کا علم ہے۔ اس بات کا بھی کہ اس کیا جائے گا اور اس بات کا بھی کہ اب وہ ضرورت گئی ہے۔ یا ان الفاظ میں سمجھئے کہ خدا تعالیٰ کا علم اور زمانہ مستقبل میں موجود ہونے والی سب چیز بات بھی داخل ہے کہ ختم نبوت کے کیا وجوہ ہیں پس اس نے اپنی حکمت بالغہ اور علم کلی سے آگے نبوت مختصراً شروع میں مذکور ہو چکی ہیں۔

قرآن شریف سے ختم نبوت پر ایک

خدا تعالیٰ نے سورت الفرقان ۔

الفرقان علی عبده لیکون للعالم خیر کثیر والا ہے۔ وہ خدا جس نے آہستہ آ ہے۔ حق و باطل اور حلال وحرام میں اوپر اتـ کے ڈر سنانے والا۔

صفحہ ٩١

فرمایا کہ: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئی عليما (احزاب:٤٠)“ محمدﷺ تم میں سے کسی کے باپ نہیں۔ ہاں خدا کے رسول ہیں اور (رسول بھی ایسے کہ) خاتم النبیین ہیں اور ہر چیز (اور ہر ضرورت) سے واقف ہے۔ یعنی جانتا ہے کہ اب ان کے بعد کسی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کوئی لائق نبوت پیدا کیا جائے گا۔“

دوسری بحث

ختم نبوت کی خاص دلیلوں کے بیان میں

سب سے پہلی دلیل آیت مذکورہ بالا ہے جو آنحضرت ﷺ پر نبوت کے ختم ہونے پر ہے۔ اس کی توضیح سے پہلے اس کا شان نزول بھی جاننا چاہئیے کہ اسے بھی تعلق ہے۔

نبی ﷺ نے ٥ ہجری میں اپنی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینبؓ سے نکاح کیا۔ اس سے پیشتر وہ زیدؓ کے نکاح میں تھیں۔ جو آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ غلام اور متبنّےٰ تھا۔ چونکہ میاں بیوی میں موافقت نہ بنی تو حضرت زیدؓ نے ان کو طلاق دے دی۔ اس وقت جاہلیت کی رسم کے لحاظ سے متبنّےٰ کو اصلی بیٹے کی طرح جانا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے اصل وارثوں کا حق مارا جاتا تھا اور مصنوعی رشتے کو قدرتی رشتے پر ترجیح دی جاتی تھی۔ یا اسے اس کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ اس رسم کو منسوخ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم کیا کہ تم زینبؓ سے نکاح کر لیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے نکاح کر لیا۔ مخالفین نے اعتراض کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے (متبنّےٰ) کی مطلقہ سے نکاح کر لیا ہے اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ زیدؓ آنحضرت ﷺ کے بیٹے نہیں ہیں۔ ہاں خدا کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور خدا سب کچھ جانتا ہے۔ اس بناء پر اعتراض بالکل لایعنی ہے۔ ہاں آپ کو رسالت کا ایک منصب ملا ہے۔ جو رشتہ پدری سے بہت اونچا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے امت کی عورتوں سے نکاح کرنا منع نہیں۔

مخالفین کا یہ بے جا اور بے تکا اعتراض تھا۔ اس کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کی کیا مناسبت تھی جو خدا تعالیٰ نے اسے بھی ذکر کر دیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نکاح میں سب سے بڑی رکاوٹ اور طعن و عار تھی کہ یہ نکاح سالہا سال کی رسم کے خلاف تھا۔ دشمن تو دشمن

١٤

رہے۔ معترضین کہہ سکتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی پوزیشن کو معترضین کے اعتراضوں کا نشانہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ سو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ رسوم خلاف شرع کی اصلاح کا یہی وقت ہے۔ تکمیل شریعت کا یہی عہد ہے۔ پچھلی شریعتوں کے بعض احکام کی منسوخی کا یہی زمانہ ہے۔ یہ شریعت آخری و ابدی ہے۔ جو نسخ و ترمیم کی گنجائش اور تحریف و تبدیل کے اندیشے سے محفوظ ہے۔ کیونکہ یہ رسول خاتم النبیین ہے۔ اس امت کی اصلاح کو کسی اور وقت پر ڈالنا اس کی شان خاتمیت کے خلاف ہے۔

لہٰذا اس اصلاح کا یہی زمانہ ہے اور یہ کام خدا کے علم میں پہلے ہی سے اسی طرح مقدر تھا۔ چنانچہ اس سے قبل فرمایا کہ: ”وكان امر الله قدراً مقدوراً (احزاب:٣٨)“ یعنی اے نبیﷺ یہ سارا معاملہ یعنی زیدؓ کا یہاں آ کر فروخت ہونا اور آپﷺ کا اس کو متبنّےٰ بنانا اور پھر زینبؓ سے نکاح کرانا اور پھر اس کا اسے طلاق دے دینا اور پھر زینبؓ کا تمہارے نکاح میں آنا سب تقدیری معاملے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے علم ازلی میں اسی طرح مقدر کیا تھا کہ یہ سب کچھ یوں یوں ہوگا اور یہ سب کچھ اسی رسم کی اصلاح کے لئے تھا۔

پھر فرمایا کہ: ”وكان الله بكل شئی عليما (احزاب:٤٠)“ یعنی خدا تعالیٰ کو سب باتوں کا علم ہے۔ اس بات کا بھی کہ اس نبیﷺ کے بعد کوئی شخص قابل نبوت پیدا نہیں کیا جائے گا اور اس بات کا بھی کہ اب وہ ضرورتیں کلیۃً رفع ہو گئی ہیں۔ لہٰذا نبوت بالکل بند کر دی گئی ہے۔ یا ان الفاظ میں سمجھئے کہ خدا تعالیٰ کا علم محیط کل ہے۔ زمان گذشتہ و حال کے موجودات اور زمانہ مستقبل میں موجود ہونے والی سب چیزوں اور امروں پر حاوی ہے تو اس احاطہ کلی میں یہ بات بھی داخل ہے کہ ختم نبوت کے کیا وجوہ ہیں اور یہ بھی کہ آگے کو کوئی قابل نبوت پیدا نہیں ہوگا۔ پس اس نے اپنی حکمت بالغہ اور علم کلی سے آگے کے لئے نبوت کا دروازہ بالکل بند کر دیا۔ وجوہ ختم نبوت مختصراً شروع میں مذکور ہو چکی ہیں۔

قرآن شریف سے ختم نبوت پر ایک نادر استدلال

خدا تعالیٰ نے سورت الفرقان کے شروع میں فرمایا ہے کہ: ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيراً (الفرقان:١)“ یعنی بڑی برکت اور خیر کثیر والا ہے۔ وہ خدا جس نے آہستہ آہستہ نازل کیا یہ قرآن شریف جو فرق کرنے والا ہے۔ حق و باطل اور حلال و حرام میں اوپر اپنے کامل بندے محمدؐ کے، تا کہ ہو وہ واسطے تمام عالمین کے ڈر سنانے والا۔

١٥

صفحہ ٩٢

اس آیت میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تمام عالمین ارضی یعنی جن و انس عربی و عجمی کے لئے نذیر کر کے بھیجا۔ آپ ﷺ سے پیشتر جس قدر انبیاء علیہم السلام آئے۔ وہ اپنی اپنی قوم کے لئے آئے۔ جیسا کہ حدیث صحیح مسلم میں ہے کہ: ”ارسلت الی الخلق كافة و ختم بی النبیون (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٩، کتاب المساجد)“ ”یعنی میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تمام خلقت کی طرف اور ختم کئے گئے ساتھ میرے انبیاء علیہم السلام“ اور اسی سورت میں فرمایا ہے کہ : ”ولو شئنا لبعثنا فی کل قرية نذیر (الفرقان: ٥١)“ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم ہر ہر بستی میں ایک ایک نذیر مبعوث کرتے۔ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ علم میزان کی رو سے یہ قیاس استثنائی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نذیر مبعوث کرتے۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں چاہا۔ کیوں نہیں چاہا؟۔ اس لئے کہ سورت فرقان کے شروع میں فرما دیا کہ تمام عالمین کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو نذیر کر کے بھیجا ہے۔ جس سے دنیا جہان میں وحدت ملی پیدا ہو سکے گی۔ پس اس مصلحت کے لئے تمام جہان کے لئے ایک ہی نذیر بنایا گیا۔ چنانچہ امام شوکانیؒ اپنی تفسیر میں آیت ولو شئنا لبعثنا فی کل قرية نذیراً کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ: ”كما قسمنا المطر بينهم ولكن لم نفعل ذلك بل جعلنا نذيراً وهو انت یا محمدﷺ“ ”یعنی جس طرح ہم نے آسمان سے پانی ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر کے اتارا ہے۔ (اسی طرح ہم رحمت نبوت بھی ہر بستی کو تقسیم کر کے بخشتے) لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ہم نے دنیا جہان کے لئے ایک ہی نذیر بھیجا اور وہ اے محمد ﷺ آپ ہیں“ اور صاحب تفسیر رحمانیؒ نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ : ”لو شئنا لبعثنا فی کل قرية رسولا لیکون عن الكفر لهم ( نذیراً) لكن لم نشأ لانه يقتضى تفرق الامم وتكثر الاختلافات فجعلنا الواحد نذيراً للكل ليطيعوه او يقاتلهم“ ”یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ایک رسول پیدا کرتے۔ تا کہ ہوتا وہ ان سب کو کفر سے ڈرانے والا۔ لیکن ہم نے نہ چاہا۔ کیونکہ اس کا تقاضا امتوں کا تفرق اور اختلاف کی کثرت ہوتا۔ پس ہم نے ایک ہی نذیر تمام کے لئے بنایا تا کہ سب اس کی اطاعت کریں یا وہ ان سے جہاد کرے۔“ اسی طرح دیگر کئی تفاسیر میں بھی ہے۔ اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عالمین کا لفظ قرآن شریف میں کن کن موقعوں پر آیا ہے۔ اوّل شروع قرآن میں فرمایا کہ: ”الحمد لله رب العالمین (فاتحہ: ١)“ دوم کعبۃ اللہ کے لئے فرمایا ہے کہ : ”هدًى للعالمین (آل عمران: ٩٦)“ اور قرآن شریف کے لئے فرمایا کہ: ”ان هو الا ذكر للعالمین (انعام: ٩٠)“ یعنی نہیں ہے یہ قرآن شریف مگر نصیحت واسطے عالمین کے اور آنحضرت ﷺ کی شان میں فرمایا کہ : ”وما ارسلنك الا رحمة ٦

صفحہ ٩٣

میں خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو تمام عالمین ارضی یعنی جن و انس عربی عجم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپﷺ سے پیشتر جس قدر انبیاء علیہم السلام آئے ۔ وہ اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے جیسا کہ حدیث صحیح مسلم میں ہے کہ :’’ارسلت الى الخلق كافة وختم بی النبیون‘‘ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٩، کتاب المساجد) ’’یعنی میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تمام مخلوق کی طرف اور ختم کئے گئے ساتھ میرے انبیاء علیہم السلام‘‘ اور اسی سورت میں فرمایا:’’ولوشئنا لبعثنا في كل قرية نذير (الفرقان:٥١)‘‘ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم ہر بستی میں ایک نذیر مبعوث کرتے۔ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ علم میزان کی رو سے ’’لو‘‘ امتناعی ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نذیر مبعوث کرتے ۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں چاہا۔ کیوں نہیں چاہا؟۔ اس لئے کہ سورت فرقان کے شروع میں ہم فرما چکے ہیں کہ سب کے لئے محمد رسول اللہﷺ کو نذیر کر کے بھیجا ہے۔ جس سے دنیا جہان میں نذیر کا ایک ہونا ثابت ہو گیا۔ پس اس مصلحت کے لئے تمام جہان کے لئے ایک ہی نذیر بنایا گیا۔

امام رازیؒ اپنی تفسیر میں آیت ولوشئنا لبعثنا في كل قرية نذيراً کے ذیل میں فرماتے ہیں:’’كما قسمنا المطر بينهم ولكن لم نفعل ذلك بل جعلنا نذيراً وهو انت يا محمدﷺ ‘‘ یعنی جس طرح ہم نے آسمان سے پانی ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر کے برسایا ہے (اسی طرح ہم رحمت نبوت بھی ہر بستی کو تقسیم کر کے بخشتے ) لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ہم نے سب کے لئے ایک ہی نذیر بھیجا اور وہ اے محمدﷺ آپ ہیں‘‘ اور صاحب تفسیر نیشا پوریؒ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ :’’لوشئنا لبعثنا فى كل قرية رسولا يخوفهم عقاب الله لهم (نذيراً) لكن لم نشئا لانه يقتضى تفرق الامم وتكثر الخلاف فبعثنا هذا الواحد نذيراً للكل ليطيعوه او يقاتلهم ‘‘ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک رسول پیدا کرتے ۔ تاکہ ہوتا وہ ان سب کو کفر سے ڈرانے والا ۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں چاہا۔ کیونکہ اس کا تقاضا امتوں کا تفرق اور اختلاف کی کثرت ہوتا۔ پس ہم نے ایک ہی نذیر سب کے لئے بھیجا تاکہ سب اس کی اطاعت کریں یا وہ ان سے جہاد کرے ۔‘‘ اسی طرح دیگر مفسرین کے اقوال ہیں۔ اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عالمین کا لفظ قرآن شریف میں کن کن معنوں میں آیا ہے؟ اول شروع قرآن میں فرمایا کہ:’’الحمد لله رب العالمين (فاتحہ : ١)‘‘ دوم کعبۃ اللہ کی شان میں فرمایا ہے کہ :’’ هدى للعالمين (آل عمران: ٩٦)‘‘ اور قرآن شریف کے بارے میں فرمایا ہے کہ :’’ ان هو الا ذكر للعالمين (انعام: ٩٠)‘‘ یعنی نہیں ہے یہ قرآن شریف مگر نصیحت تمام جہان کے لئے اور آنحضرتﷺ کی شان میں فرمایا کہ :’’ وما ارسلنك الا رحمة

٦

للعالمين (انبيا:١٠٧) ‘‘اور اسی طرح اس جگہ آپﷺ کی شان میں سورت فرقان میں فرمایا کہ:’’ليكون للعالمين نذيراً (فرقان:١)‘‘ پہلی آیت میں تمام عالمین کے لئے ایک رب کا ہونا فرمایا۔ دوسری آیت میں دنیا جہان کے جن و انس کے لئے چاہے وہ صحرائی ہوں چاہے دریائی، چاہے پہاڑی ہوں، چاہے میدانی۔ ایک ہی کعبہ کا قبلہ ہونا فرمایا۔ تیسری آیت میں تمام جہان کے لئے ایک ہی قرآن کو نصیحت نامہ بتایا۔ چوتھی اور پانچویں آیات میں ایک ہی نبی محمدﷺ کو رحمۃ للعالمین اور نذیرا للعالمین فرمایا۔ ان سب مقاموں پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرتﷺ اکیلے تمام دنیا کے لئے رسول ہیں۔ پس اسی لئے آپﷺ پر نبوت ختم کی گئی۔ کیونکہ دنیا جہان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آنحضرتﷺ کی تبلیغ رسالت سے مستثنیٰ ہو کہ وہاں پر کسی نئے نبی کے پیدا کرنے کی ضرورت پڑے۔ چنانچہ اسی معنی میں مسند امام احمد میں حضرت مقدادؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پشت زمین پر کوئی گھر گارے یا اون کا (خیمہ ) باقی نہیں رہے گا۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ کلمۂ اسلام کو داخل کر دے گا۔ یعنی دنیا جہان کی شہری اور صحرائی آبادی میں کلمہ اسلام کی گونج پڑ جائے گی۔ چاہے اسے کوئی عزت سے قبول کرے چاہے ذلت سے اس کے تابع ہو جائے ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص ٨ کتاب الایمان ) اسی معنے میں ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا ہے ۔ جسے ہم قدرے ترمیم کے ساتھ یوں لکھتے ہیں کہ :

دنیا کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا

مزید برآں

آنحضرتﷺ سے پیشتر کی امتوں (یہود و نصاریٰ) نے اپنی آسمانی کتابوں (تورات، زبور اور انجیل) کو محفوظ نہ رکھا اور نہ اپنے انبیاء کی سنن کو محفوظ رکھا اور ہر قوم پر انقلاب کے وقتوں میں مخالف حکومت کی دست برد سے کتابوں کے نسخے جلائے گئے اور کتابوں کے جاننے والے علماء کو قتل کیا گیا۔ جس کے بعد امن کے زمانے میں تواریخی کتابوں کو جن میں شریعت کے بعض مسائل بھی تھے۔ آسمانی کتابوں کے نام سے رواج دیا گیا اور سنن انبیاء علیہم السلام کے متعلق جعلی روایتیں اور قیاسی مسائل رائج کئے گئے۔ لیکن قرآن شریف کی حفاظت کا ذمہ خود خدا تعالیٰ نے لیا۔ ’’انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩) ‘‘ بے شک یہ نصیحت نامہ ہم نے اتارا ہے اور ہم خود ہی اس کے محافظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حفاظت قرآن کا ذمہ خود لے کر اس کو عملی صورت میں یوں پورا کیا کہ ہر زمانے میں ہر طبقے کے مسلمانوں کے دلوں میں حفظ قرآن کا ایک ولولہ پیدا کر دیا۔ جس کے اثر

٧

صفحہ ٩٤

سے امیر وغریب، بادشاہ ورعیت، تاجر، کاشت کار، دستکار، آقا وخدمتگار، مزدوری پیشہ اور طالب علم، علماء وناخواندہ، چھوٹے اور بڑے، عورت ومرد، بینا ونابینا، اولیاء اللہ اور مجھ جیسے گنہگار، آئمہ اور ان کے مقتدی، غرض جس جس لحاظ سے بھی آپ مسلمانوں کو تقسیم کریں گے۔ ہر ہر قسم میں حفاظ قرآن شریف ہر زمانہ میں ہر ملک میں بکثرت ملیں گے۔

قرآن شریف کے حفظ کے بعد اپنے حبیب اکرم ﷺ کے اقوال واخلاق کی حفاظت کے لئے خدائے تعالیٰ نے یہ بات پیدا کردی کہ مسلمانوں نے اسی قوت حافظہ سے اپنے ہادی اکمل کی روایات کو پہلے اپنے سینوں میں جمع کیا اور پھر من وعن صحیح اور معتبر سندوں سے بعد کی نسلوں کے لئے ان کو کتابی صورت میں جمع کردیا۔ یہ صحیح روایات قرآن شریف کی عملی تفسیر ہیں۔ ان روایتوں (قرآن شریف اور احادیث صحیحہ) کے محفوظ ہونے سے قرآن اور دین اسلام ہر قسم کی تحریف لفظی اور معنوی سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگیا۔ والحمدللہ!

نتیجہ! پس جب قرآن شریف بھی حرفاً حرفاً محفوظ ہے اور پیغمبر قرآن کا طریق عمل اور آپ ﷺ کے آثار بھی من وعن بلا کم وکاست مکتوب ومسطور ہیں تو اس امر کی ضرورت کہ خدا کی وحی نبوت اور اس کے پیغمبر کی سنت کو قائم کرنے کے بعد اس امر کی ضرورت ہرگز نہ رہی کہ کوئی نیا اور نبی پیدا کیا جائے۔

دفع دخل : اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ تو وہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر نبی ہوچکے ہیں اور وہ گذشتہ ناپید کتابوں پر عمل نہیں کریں گے۔ بلکہ اسی قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث مرفوع میں مذکور ہے۔

جامعیت شریعت محمدیہ ومسئلہ ختم نبوت

’’ الم تر الی الذین اوتوا نصیباً من الکتاب (آل عمران:٢٣) ‘‘ کیا نہیں دیکھا آپ ﷺ نے طرف ان لوگوں کی جو دیئے گئے ایک حصہ کتاب الہی سے۔‘‘

(اے ہمارے پیارے رسول ﷺ ) الم تر کیا نہیں دیکھا آپ ﷺ نے یعنی دیکھنا چاہئے۔ الی الذین اوتوا ان لوگوں (کے حال) کی طرف جو دیئے گئے نصیباً من الکتاب ایک حصہ کتاب (الہی) سے۔

نوٹ ! اوتو نصیباً من الکتاب سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں۔ جن کے انبیاء علیہم السلام کو قرآن شریف سے پیشتر تورات، زبور، انجیل دی گئی۔

اوتوا نصیباً من الکتاب ! ان کو ایک حصہ کتاب کا ملنا اس لئے فرمایا کہ تورات

صفحہ ٩٥

اور انجیل خاص بنی اسرائیل کی ہدایت اور ضروریات کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ان کی تعلیم عالم گیر اور ہمیشہ کے لئے نہ تھی۔ اس لئے بنی اسرائیل میں سلسلہ نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک قائم رہا۔ پس ان کی کتابوں کی تعلیم ایک محدود قوم اور محدود زمانہ تک تھی۔ لیکن ان کے مقابلے میں قرآن شریف جامع اور تا قیام دنیا ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کی شریعت کامل ہے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ کی دعوت عالمگیر ہے اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد وحی نبوت و رسالت بند کر دی گئی ہے۔ ہاں ولایت اور سلسلہ الہام بغیر اسم نبوت کے جاری ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:۔ ”قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد کان فی من قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منہم احد فعمر ابن الخطاب “ یعنی نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے آدمی ہوتے تھے۔ جن سے (اللہ کی طرف سے ) کلام کیا جاتا تھا۔ بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ پس میری امت میں سے اگر کوئی ایسا آدمی ہے تو عمرؓ ہے۔“ ( صحیح بخاری ج ١ ص ٥٢١ باب مناقب عمرؓ) اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ باوجود ملہم ومحدث ہونے کے نبی نہیں کہلا سکتے۔ یہ کلیہ کہ ہر محدث وملہم بنا بر الہام نبی کہا جا سکتا ہے۔ جس پر مرزائے قادیانی کے دعوے کی بناء ہے کہ چونکہ مجھ سے خدا تعالیٰ کثرت سے کلام کرتا ہے۔ اس لئے مجھے نبی بھی کہا گیا ہے یہ کلیہ اور مرزا قادیانی کا دعویٰ منطوق حدیث مذکور الفوق کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ اگر محض الہام کی بناء پر کوئی شخص نبی کہلا سکتا ہے تو حضرت عمرؓ سب سے پہلے اس اسم سے موسوم ہونے چاہئیں۔ اس حدیث کی رو سے ہم نے جو یہ لکھا ہے کہ ملہم کے لئے بناء بر الہام ضروری نہیں کہ وہ نبی بھی ہو۔ اس پر مرزا قادیانی کی بھی تصدیق بالفاظ ذیل ملاحظہ فرمائیے :۔

”اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام، توضیح المرام، ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے ...... یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں۔ صرف سادگی سے اس کے لغوی معنوں سے بیان کئے گئے ہیں ...... مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں...... سو مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں ...... تو وہ ان کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں ...... ابتدا سے میری نیت جس کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اس سے مراد یعنی لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا کہ: ”قد کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء“

(اشتہار مرزا ص ٩١، ٩٢، حقیقت النبوۃ مصنفہ میاں محمود احمد )

صفحہ ٩٦

اور یہی معنی مرزا قادیانی اپنے شعر کہ:

من نيستم رسول ونيا وردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم وزخداوند منذرم

(ازالہ ص ١٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٥)

سے بھی ثابت ہیں کہ رسول ہونے کی اور صاحب کتاب رسول ہونے کی نفی کرتے ہیں ۔ اور دوسرے مصرعہ میں ملہم ہونے کا اثبات ۔ اگر ہر ملہم رسول اور نبی ہوسکتا ہے تو مرزا قادیانی اس شعر میں نفی اور اثبات کو جمع کرتے ہیں ۔ حالانکہ نفی اور اثبات آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔ (کتب منطق بحث تناقض) اور اس شعر کی یہ تاویل (مندرجہ اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ نومبر ١٩٠١ء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١) کہ ”میں رسول تو ہوں لیکن صاحب کتاب رسول نہیں ہوں“ اسی شعر کے دوسرے مصرعہ سے باطل ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پہلے مصرعہ میں رسول اور صاحب کتاب ہونے کا انکار کرتے ہیں ۔ صاحب کتاب ہونا لازم نہیں ہے۔ موسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب نبی تھے۔ ان کے بعد کئی ایک رسول اور نبی موسیٰ علیہ السلام اور تورات کی متابعت میں بھیجے گئے ۔ ان پر کوئی دیگر کتاب نازل نہیں کی گئی تھی۔ جیسا کہ فرمایا کہ: ”ولقد آتينا موسى الكتب وقفينا من بعده بالرسل (بقرہ:٨٧)“ اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور بھیجے ہم نے اس کے قدموں پر کئی رسول علیہم السلام ۔ نیز فرمایا کہ : ”انا انزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين اسلموا الذين هادوا والربانيون والاحبار (مائده:٤٤)“ ”تحقیق ہم نے اتاری تھی توریت بیچ اس کے ہدایت اور نور تھا حکم کرتے تھے۔ انبیاء جو خدا کے فرمانبردار تھے۔ ساتھ اس کے واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (حکم کرتے تھے ساتھ اس کے) مشائخ اور علمائے ربانی ۔“ اس آیت سے دونوں باتیں معلوم ہو گئیں۔ یہ بھی کہ توریت کی متابعت میں بنی اسرائیل میں کئی نبی بھیجے گئے۔ لیکن ان پر کوئی دیگر کتاب نہیں اتاری گئی۔ دوسرے یہ کہ مشائخ اور علمائے ربانی بھی اس کے مطابق حکم کرتے تھے اور نبی نہیں ہوتے تھے۔ حضرت عمرؓ والی حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ حضرت عمرؓ ملہم تو تھے۔ مگر نبی نہ تھے۔ یہی معنی شیخ اکبر (محی الدین ابن عربی) کی عبارات مندرجہ کتاب فتوحات مکیہ کے ہیں اور اس کے یہی معنی امام عبد الوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر میں لکھے ہیں اور سید عبد القادر جیلانیؒ سے بھی یہی معنی نقل کئے ہیں کہ ”ہماری امت کے ایسے بزرگوں کو انبیاء علیہم السلام تو نہیں بلکہ اولیاء کہتے ہیں ۔ ہم کو

صفحہ ٩٧

اسم نبوت سے روکا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہم و تمہارے باطنوں میں اپنے اور اپنے رسول کے کلام کے معانی سے آگاہ کرتا ہے۔“

(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٥ مطبوعہ مصر)

فصل دوم

در ردّ شبہات قادیانیہ

قادیانی لوگ آنحضرت ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کے لئے یہ آیت بھی پیش کرتے رہتے ہیں کہ ”یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقیٰ واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف: ٣٥) “ یعنی خدا تعالیٰ جملہ بنی آدم کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اے بنی آدم علیہ السلام کے اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں سے بیان کریں اوپر تمہارے آیتیں میری۔ پس جو کوئی پرہیز گاری کرے گا اور اصلاح کرے گا۔ پس نہیں ڈر اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وجہ استدلال کی یہ بیان کرتے ہیں کہ یاتین مستقبل خبری کا صیغہ ہے۔ جو ان شرطیہ کے بعد آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کئی ایک رسول آتے رہیں گے۔ جن کی گنتی خدا ہی کو معلوم ہے۔ کیونکہ رسل بصیغہ نکرہ جمع کا صیغہ ہے اور اسے کسی خاص معین عدد میں محصور نہیں کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے۔

قبول نہیں ہے۔ جیسا کہ کتب اصول میں مصرح ہے کہ مفہوم منطوق کے مقابلہ میں اور اشارت اور دلالت، عبارت النص کے مقابلے میں اور کوئی قیاس یا استنباط منصوص کے مقابلے میں قابل سماعت و اعتبار نہیں ہے۔ ورنہ (معاذ اللہ ) آیات قرآنیہ و احادیث رسول اللہ میں تعارض و تخالف واقع ہوگا اور یہ باطل ہے۔ (دیکھو کتب علم اصول ) مثلاً حصول مصنّفہ حضرت شیخ شیخی حضرت نواب صاحب مرحوم و نور الانوار وغیرہما ، ختم نبوت کے متعلق قرآن اور احادیث صحیحہ کے دلائل منصوص اور قطعی ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ جس استدلال کی بناء لغت پر ہو اسے دلالت کہتے ہیں۔ ( کتب علم اصول ) اور سابقاً یہ بیان ہو چکا ہے کہ کوئی دلالت یا اشارت منصوص کے خلاف قابل اعتبار نہیں ہے۔ پس قادیانیوں کا استنباط آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ٭ وكان اللہ بكل شئی علیما (احزاب: ٤٠)“ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ ”نہیں ہیں محمد ﷺ باپ تمہارے مردوں بالغ میں سے کسی کے۔ لیکن ہیں خدا کے رسول اور خاتم النبیین اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم رکھنے والا ہے۔“ (یعنی

١١

صفحہ ٩٨

رہ جاتا ہے کہ آئندہ کوئی رسول نہیں ہوگا ) اس آیت کے معنی مرزا قادیانی نے بھی یہی کئے ہیں ۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا ۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

علم اصول کے اس قاعدے کا لحاظ نہ کیا جائے تو ہر باطل پرست اپنی خواہش کے مطابق قرآن و حدیث کے خاص و عام اور مطلق اور مقید اور منطوق و مفہوم اور عبارت و دلالت میں تعارض ثابت کر کے ان میں تخالف پیدا کر سکتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نصوص اور عبارات ( معاذ اللہ ) بے کار ہو جائیں گے ۔ مثلاً قرآن شریف میں عام انسانوں کی پیدائش کے متعلق فرمایا کہ: ” انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج (دھر : ٢) “ ”تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفے سے ۔“ دوسری جگہ خاص آدم علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق فرمایا کہ: ” خلق الانسان من صلصال کالفخار (الرحمن: ١٤) “ ”اور خاص حضرت حوا علیہا السلام کے متعلق فرمایا کہ: ” وخلق منھا زوجھا (نساء : ١) “ اور خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ: ” انما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ (نساء : ١٧١) “ اگر ان آیات میں خاص اور عام کا لحاظ نہ کیا جائے تو کوئی باطل پرست اپنی خواہش کے مطابق کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آدم اور حوا علیہما السلام اور عیسیٰ علیہ السلام بھی انسان ہیں۔ اس لئے وہ بھی (معاذ اللہ) ماں اور باپ کے ملے جلے نطفے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح محرمات نکاح کی آیت میں چند رشتوں سے نکاح کی حرمت ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ” احل لکم ما وراء ذالکم (النساء : ٢٤) “ اور حلال کی گئیں واسطے تمہارے وہ جو سوائے ان (مذکورہ بالا) کے ہیں اور خاص آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کے متعلق فرمایا کہ: ” ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا (احزاب : ٥٣) “ ”اور نہ یہ جائز ہے کہ تم نکاح کرو ان کے بعد آپ ﷺ کے کبھی بھی ۔“ تو کوئی باطل پرست گستاخ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سورۂ نساء کی مذکورہ محرمات کے سوا ہیں۔ اس لئے (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ کے بعد ان سے بھی نکاح حلال تھا۔ اسی طرح اس کی مثالیں قرآن شریف میں بہت ہیں کہ خاص و عام اور منطوق و مفہوم کے مقابلے کے وقت خاص اور منصوص کا لحاظ ہوتا ہے۔ پس اس طرح ختم نبوت کے دلائل جو قرآن واحادیث میں منصوص ہیں۔ وہ عموم استدلال جن سے قادیانی استدلال پکڑتے ہیں ان سب پر مقدم ہوں گے۔

١٢

صفحہ ٩٩

رسول نہیں ہوگا ) اس آیت کے معنی مرزا قادیانی نے بھی یہی کئے ہیں ۔ محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم

(ازالہ اوہام ص ٦١٤ بخزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اس قاعدے کا لحاظ نہ کیا جائے تو ہر باطل پرست اپنی خواہش کے خاص و عام اور مطلق اور مقید اور منطوق و مفہوم اور عبارت و دلالت میں تخالف پیدا کر سکے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نصوص اور عبارات ہو جائیں گے ۔ مثلاً قرآن شریف میں عام انسانوں کی پیدائش کے متعلق نا الانسان من نطفة امشاج (دھر:٢) ’’تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو نطفہ سے‘‘ دوسری جگہ خاص آدم علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق فرمایا من صلصال كالفخار (الرحمن:١٤) ‘‘اور خاص حضرت حوا علیہا وخلق منها زوجها (نساء:١) ’’اور خاص حضرت عیسی علیہ السلام ا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القها الي نساء:١٧١) ’’اگر ان آیات میں خاص اور عام کا لحاظ نہ کیا جائے تو کوئی کے مطابق کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آدم اور حوا علیہما السلام اور عیسی علیہ السلام وہ بھی (معاذ اللہ ) ماں اور باپ کے ملے جلے نطفے سے پیدا ہوئے نکاح کی آیت میں چند رشتوں سے نکاح کی حرمت ذکر کرنے کے بعد ا وراء ذالکم (النساء:٢٤) ’’اور حلال کی گئیں واسطے تمہارے وہ جو کے ہیں اور خاص آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح کی ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا (احزاب:٥٣) ’’ ح کرو ان سے بعد آپ ﷺ کے کبھی بھی ۔‘‘ تو کوئی باطل پرست گستاخ ضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سورۂ نساء کی مذکورہ محرمات کے سوا ہیں ۔ اللہ) آپ ﷺ کے بعد ان سے بھی نکاح حلال تھا۔ اسی طرح اس کی مثالیں ہیں کہ خاص وعام اور منطوق و مفہوم کے مقابلے کے وقت خاص اور س اس طرح ختم نبوت کے دلائل جو قرآن واحادیث میں منصوص ہیں ۔ یانی استدلال پکڑتے ہیں ان سب پر مقدم ہوں گے ۔

پر یہ جواب عام اصولوں کی بناء پر ہے ۔ جس سے قادیانی علماء عموماً نا آشنا

١٢

ہیں ۔ خصوصاً مرزا قادیانی بھی اس سے نابلد محض تھے ۔ اب قرآن شریف کے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ جس سے پہلے ایک تمہید کا بیان ضروری ہے ۔ قرآن شریف مربوط اور موصول کلام ہے ۔ جس کی صحیح تفصیل کے لئے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔

فصیح و بلیغ کلام ہے ۔ پس ایسے کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کا بیان اور سلسلہ کلام باہم موصول اور مربوط ہو۔ اس کے کلمات کی شستگی اور معانی کی بلاغت کے علاوہ اس کے کلمات کی ترتیب اور آیات کا ارتباط اور بیان کا تسلسل نہایت موزوں اور مناسب صورت میں واقع ہے۔ جس کلام میں ایسے اوصاف نہ ہوں وہ کلام معجز کیا اس کا وزن فصحاء کے نزدیک کچھ نہیں ۔

شریف نے اپنے آپ کو کلام موصول اور ترتیب میں احسن ہونے کی حیثیت میں پیش کیا ہے ۔

پہلی آیت ’ولقد وصلنا لهم القول لعلهم يتذكرون (قصص:٥١) ‘‘ ’’یعنی حق تعالیٰ نے فرمایا کہ البتہ تحقیق ہم نے ان لوگوں کی (ہدایت) کے لئے اس قول (قرآن شریف) کو موصول کر کے بھیجا ہے تا کہ وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس استدلال کی تائید میں اس آیت کے ذیل میں تفاسیر ذیل ملاحظہ ہوں ۔ امام رازی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ’’ولقد وصلنا لهم القول وتوصيل القول هو اتيان بيان بعد بيان وهو من وصل البعض بالبعض (تفسیر کبیر ج ١٢ ص ٢٦٢) ‘‘ ’’یعنی توصیل کلام کے معنی ہیں لانا ایک بیان کا بعد دوسرے بیان کے اور وہ جوڑتا ہے ایک کو دوسرے کے ساتھ ۔‘‘

اسی طرح (تفسیر ابی السعود ص ١٨) میں ہے کہ: ’’ولقد وصلنا لهم القول وقرى بالتخفيف اى انزلنا القرآن عليهم متواصلا بعضه اثر بعض حسبما تقتضيه الحكمة والمصلحة ‘‘ ’’یعنی وصلنا بالتشديد وتخفیف یعنی بغیر شدت وصلنا بھی پڑھا گیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو نازل کیا ان پر کہ موصول ہے ۔ بعض اس کا پیچھے بعض کے مطابق اس کے جس کا تقاضا کرے حکمت اور مصلحت‘‘ اس آیت میں تفاسیر کے حوالہ جات سے واضح ہو گیا کہ قرآن شریف کا بیان اکھڑا پکھڑا کلام نہیں ۔ بلکہ موصول ہے اور نہایت باہم مربوط ہے۔

دوسری آیت میں فرمایا کہ ’’ورتلنه ترتیلا (فرقان:٣٢) ‘‘یعنی حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن شریف کو عمدہ ترتیب سے بیان کیا ہے۔ ترتیل کے معانی کی تحقیق کے لئے

١٣

صفحہ ١٠٠

لغت کی مندرجہ ذیل کتابوں کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں ۔

چنانچہ (لسان العرب ج ٥ ص ١٣٢) جو عربی کی سب سے بڑی لغت کی کتاب ہے ۔ اس میں لکھا ہے کہ ”الرتل حسن تناسق الشئی ورتل الكلام احسن تاليفه وابانه “ یعنی رتل کے معنے ہیں ۔ کسی شے کی ترتیب کی خوبی اور عمدگی اور رتل الکلام کے معنی ہیں ۔ اس نے کلام کی تالیف اچھی طرح سے کی اور اسے خوب واضح طور پر بیان کیا ۔ ” (قاموس ج ٣ ص ٣٩٢) میں اسی کو وضاحت کے ساتھ یوں لکھا ہے کہ محركة حسن تناسق الشئی والحسن من الكلام واطيب من كل شئی “ یعنی ر ، ت کی فتح کے ساتھ اس کے معنے ہیں ۔ کسی شے کی ترتیب کی خوبی اور عمدگی اور کلام کی جنس میں سے عمدہ کلام اور ہر شے کی نہایت پاکیزہ اور ستھری صورت ۔“

اسی طرح لغت کی دوسری کتابوں میں بھی انہی معنے کی تائید کئی محاورات سے کی ہے۔ مثلاً لغات وحیدی ، اساس البلاغت ، المصباح المنير ، صراح وغیرہ ۔ ان حوالہ جات کی تائید کے لئے ۔

تیسری آیت ملاحظہ کیجئے حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”الله نزل أحسن الحديث كتاباً متشابها مثانی (زمر :٢٣) “ یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے عمدہ کلام جو کتاب ہے۔ متشابہ یعنی جس کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے۔ اور وہ آیات مکرر سہ کرر بیان کی گئی ہیں۔ اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے چند امور ضروری ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو احسن الحدیث فرمایا یعنی سب سے عمدہ کلام یعنی اعجاز میں یگانہ ہو۔ جس کا مقابلہ انسانی مبلغ علم اور لیاقت سے بالا تر ہے اور اس کی شان میں دو وصف فرمائے ۔ متشابہ اور مثانی ۔ جس سے مراد یہ ہے کہ اس کے مضامین آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان میں تخالف نہیں ہے بلکہ ایک آیت دوسری آیت کی تائید و تصدیق و تفسیر کرتی ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ دوسرا وصف مثانی فرمایا ۔ یعنی اس کی آیات پند و نصیحت کے لئے مکرر سہ کرر بیان کی گئی ہیں۔ جن میں تخالف ہرگز نہیں ہے۔ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ قرآن شریف کے کلمات اور آیات باہم موصول ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور ان میں ہرگز تخالف اور تعارض نہیں ہے۔ اس طویل تمہید لیکن از بس مفید کے بعد واضح ہو کہ سورۃ اعراف کی آیت آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری رہنے سے متعلق نہیں ہے ۔ بلکہ آدم علیہ السلام کے بہشت سے نکالنے اور زمین پر آباد کرنے کے بعد کے زمانے سے متعلق ہے۔ جو آدم علیہ السلام کے وقت سے مستقبل میں ہونے والا تھا کہ

١٤

صفحہ ١٠١

اس زمانہ میں اور آدم علیہ السلام کی ہدایت کے لئے خدا کے رسول آتے رہیں گے ۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک آمد پر خدا تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین بھیج کر بتلا دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے بھی واضح طور پر فرما دیا کہ ” انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی شریف ج ٢ ص ٤٥ ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) “ ” یعنی میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ ہم نے یہ جو کہا کہ سورۃ اعراف کی آیت آدم علیہ السلام کے بعد اجرائے نبوت کی دلیل ہے ۔ ہم اس کو سورہ اعراف کی آیات کے سلسلہ کلام اور دیگر مقامات کی آیات کی تائیدوں سے ثابت کرتے ہیں جس کے سمجھنے کے لئے ہم نے اوپر کی تمہید کا بیان ضروری سمجھا تھا ۔ سورہ اعراف کی آیت سے پیشتر نظر کریں کہ اوپر مسلسل طور پر حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ اور اس سے متعلق ضروری ہدایات کا بیان چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح سورہ بقر پارہ پہلا میں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بھی مطالعہ کریں ۔ جس میں ان کے اور ان کی سکونت جنت اور پھر جنت سے نکالے جانے اور زمین پر اترنے اور قصور کی معافی کے ذکر کے بعد فرمایا کہ : ”قلنا اہبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (البقرۃ:٣٧) “ ” یعنی کہا ہم نے اترو اس سے سب ، پس اگر آوے تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پس جو کوئی پیروی کرے گا ۔ ہدایت میری کی ، پس نہیں ڈر اوپر ان کے ، اور وہ نہ غم کھاویں گے“ اور ظاہر ہے کہ خدا کی ہدایت خدا کے رسولوں کی معرفت آتی رہتی ہے۔ چنانچہ یہ قرآن شریف رسول خدا ﷺ کی معرفت آیا اور اس کی نسبت فرمایا ۔ ” ذٰلك الکتاب لا ریب فیہ ہدی للمتقین (البقرۃ: ٢) “ ” اور تورات اور انجیل جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی معرفت آئیں۔ ان کی بابت فرمایا ” انزل التورۃ والانجیل من قبل ہدی للناس (آل عمران : ٤،٣ ) “ یعنی قرآن شریف سے پہلے تورات اور انجیل لوگوں کی ہدایت کے لئے اتاریں۔ اس مضمون کی آیات قرآن شریف میں کثرت سے ہیں اور جیسا کہ فرمایا کہ ”ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف : ٣٥ ) “ اسی طرح سورہ بقر کی مندرجہ بالا آیت میں فرمایا کہ : ”فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (البقرہ: ٣٧) “ ” اور جو کوئی پیروی کرے گا میری ہدایت کی نہیں ہو گا ۔ کوئی خوف اوپر ان کے اور نہ وہ غم کھائیں گے ۔ دونوں جگہ رسولوں اور ہدایت ربانی کی پیروی کا نتیجہ ایک ہی فرمایا ۔ دوسرا مقام سورہ طہ میں دیکھئے کہ وہاں بھی حضرت آدم علیہ السلام کے جنت میں سکونت کرنے اور وہاں سے نکالے جانے کے ذکر کے بعد فرمایا کہ :

١٥

صفحہ ١٠٢

”فاما ياتينكم منى هدى فمن اتبع هداي فلا يضل ولا يشقى (طه:١٢٣)“ ”یعنی ہم نے فرمایا کہ ” فاما ياتينكم منى ھدى“ پس اگر آوے تم کو میری طرف سے ہدایت پس جو کوئی پیروی کرے گا۔ میری ہدایت کی پس نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔“ دیکھو ان تینوں مقامات میں آدم علیہ السلام کے بعد ہدایت ربانی کے جاری ہونے کا سلسلہ مذکور ہے۔ یہ تینوں مقامات آپس میں متشابہ یعنی ملتے جلتے اور ایک دوسرے کے مصداق ہیں۔ پس سورۂ اعراف کی پیش کردہ آیت کے ساتھ آیت خاتم النبیین کو ملانے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آدم علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری رہتے ہوئے سرور کائنات ﷺ پر آکر ختم ہوگیا۔ ہمارے اس بیان کردہ طریق سے قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ ختم نبوت میں مطابقت قائم رہتی ہے اور قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ کے منصوصات و مفہومات کی رہنمائی ایک ہی طرف رہتی ہے کہ نبوت، نبی ﷺ پر ختم کردی گئی۔ قرآن وحدیث کی نصوص بیّنہ کے بعد بھی اگر سورۂ اعراف کی آیت کے یہ معنے سمجھے جائیں کہ سلسلہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد بھی جاری ہے تو قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ میں تخالف و تعارض واقع ہوجائے گا اور قرآن شریف کی آیات اور رسول اللہ کی احادیث صحیحہ بجائے ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرنے کے آپس میں مختلف ہوجائیں گی اور اختلاف منافی صداقت ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف ہی کی صداقت کی نسبت فرمایا کہ: ”ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيراً (نساء:٨٢) ”یعنی اگر یہ قرآن شریف خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا۔ البتہ پاتے اس میں اختلاف بہت۔“ ہاں اگر لفظ خاتم کے وہ معنے جو خدا اور رسول ﷺ کی مراد ہیں۔ ان کو بدل کر اور حدیث لا نبي بعدی کے مقابلہ میں کہ لا نفي جنس کا ہے۔ شرعی اور غیر شرعی کا امتیاز کرکے صاحب شرع کی قید بڑھائی جائے۔ تو یہ تحریف معنوی اور خدا کے رسول ﷺ کی مراد کو بگاڑ کر از خود اضافہ ہوگا اور یہ ہر دو امر باطل اور حرام ہیں۔

دفع دخل مقدر

اگر کہا جائے کہ سورۂ اعراف کی آیت میں بنی آدم کو خطاب کرکے یا بنی آدم فرمایا ہے اور سورۂ بقر اور سورۂ طہ کی آیتوں میں ایسا نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ بقر اور سورۂ طہ کی آیتوں میں اما ياتينكم کے خطاب میں آدم اور حوا علیہما السلام کے ساتھ ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ دیکھیے ہر سہ مقامات پر ہدایت کی پیروی کا نتیجہ بالترتیب یوں فرمایا ہے کہ: ”فمن تبع هداي فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (البقره:٣٨)“ اور ”فمن اتقى واصلح

١٦

صفحہ ١٠٣

فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اعراف: ٣٥) ”اور فمن اتبع هداى فلا يضل ولا يشقى (طه: ١٢٣)“ اس دعویٰ کی تائید کے لئے سورۂ اعراف ہی کی آیات کو دیکھئے کہ جنت سے نکلنے کا حکم دینے کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کو فرمایا کہ ”قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فى الارض مستقر ومتاع الى حين ٠ قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف: ٢٤، ٢٥)“ یعنی فرمایا اتر جاؤ۔ بعض تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے اور واسطے تمہارے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہوگی اور زندگی کے اسباب (بھی) ایک مدت تک (نیز) فرمایا اسی میں تم زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے (قیامت کے دن قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔“ دیکھئے ان آیتوں میں خطاب آدم اور حوا علیہما السلام کو ہو رہا ہے۔ حالانکہ آدم اور حوا علیہما السلام کے درمیان دشمنی واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کی اولاد میں دشمنی ہے اور جو امر اس کے بعد ذکر کئے گئے ہیں۔ ان میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ پس اسی طرح سے سورۂ اعراف کی زیر بحث آیت یبنی ادم سے خطاب کر کے فرمانا وہ اسی لحاظ سے ہے۔ اس طریق سے سب مقامات پر خطاب کے صیغے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ سورۂ اعراف کی زیر بحث آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری رہنے کا ذکر ہے۔ نہ کہ آیت خاتم النبیین کی نص صریح کے خلاف آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد بھی۔

الحمد لله ثم الحمد لله کہ ہم نے مرزائیوں کے اس استدلال کی سب کڑیوں کو توڑ تاڑ کر مشکل امر کو مدلل طور پر آسانی سے سمجھا دیا۔ شب در میان ٤، ٥ نومبر ١٩٥٤ء کی صبح کو جمعہ مبارک ہوگا۔ مطابق ٧، ٨ ربیع الاول ١٣٧٤ھ بصورت املاء بحالت ضعف بصر ۔

ضمیمہ

آنحضرت ﷺ کا فرزند ابراہیم فوت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (ابن ماجه ص١٠٨ باب فى صلوة ابن رسول الله وذكر وفاته)“ یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ ایسا نہ فرماتے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ابن ماجہ کے حواشی پر اس حدیث کو صاف الفاظ میں ضعیف اور اس کے راوی ابراہیم بن عثمان کو متروک لکھا ہے۔ ”کذا فی الحاشیہ ابن ماجہ مجتبائی“

١٧

صفحہ ١٠٤

کے نام کے نیچے لفظ متروک لکھا ہے اور محدثین نے اس کی نسبت یہ تصریحات کی ہیں کہ یہ راوی ”متروك الحديث ضعيف ليس بثقة منكر الحديث ضعيف الحديث تركوا حديثه ساقط ضعيف لا يكتب حديثه روى مناكير ليس بالقوى كذبه شعبة كان يزيد على كتابه“ اس کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے۔ ضعیف ہے۔ ثقہ (معتبر) نہیں ہے۔ ایسی حدیث بیان کرتا ہے۔ جس کی حفاظ حدیث روایت نہیں کرتے۔ ضعیف حدیث والا ہے۔ محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا ہے۔ اعتبار سے گرا ہوا ہے۔ ضعیف ہے اس کی حدیث لکھی نہ جائے۔ روایت کیں اس نے منکر حدیثیں، قوی نہیں ہے۔ جھوٹا کہا ہے اس کو امام شعبہ نے اپنی نوشت میں (جو استاد سے لکھتا تھا) زیادتی کر لیتا تھا۔

تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب تہذیب التہذیب جلد ١ مصنفہ حافظ ابن حجر ترجمہ ابراہیم ١؎ بن عثمان۔

دیگر یہ کہ صحیح روایت جو آنحضرت ﷺ کے فرزند کی وفات کے متعلق منقول ہے اور وہ بھی ”(ابن ماجه ص١٠٨، باب فى الصلوة بن رسول الله وذكر وفاته)“ ہی میں ضعیف حدیث مذکور الفوق سے پہلے مرقوم ہے۔ یوں ہے کہ : ”لو قضی ان يكون بعد محمد نبى عاش ابنه ولكن لا نبى بعده “ ”یعنی اگر خدا کی قضا میں یہ بات ہوتی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ ﷺ کا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

یہ حدیث (صحیح بخاری ج ٢ ص٩١٤) میں بھی ہے۔ باب من سمی باسماء الانبیاء

حاصل کلام یہ کہ صحیح روایت ختم نبوت کے ثبوت کی دلیل ہے نہ کہ انکار کی۔ نیز اسی کے ہم معنی الفاظ ”(امام بغوی تفسیر معالم التنزيل امام بغوی ج ٣ ص ١٧٨)“ نے آیت خاتم النبیین کے ذیل میں حضرت ابن عباسؓ سے نقل کئے ہیں۔

”قال ابن عباسؓ يريد لو لم اختم به النبيين لجعلت له ابناً يكون بعده نبياً“ ”یعنی حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد اس آیت خاتم النبیین سے

١؎ امام شعبہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے عراق میں راویان حدیث کی پڑتال میں کلام کیا۔ ١٦٠ھ میں فوت ہوئے۔ (تقریب التہذیب)

٢؎ یہ ابراہیم بن عثمان وہی راوی ہے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کا بیس رکعات تراویح پڑھنا مروی ہے اور اسے حدیث دان حنفی علماء نے بالاتفاق ضعیف لکھا ہے۔ (دیکھئے زیلعی ج١ ص٢٩٣ نیز فتح العزیز ص١٩٨ ج١ شرح ہدایہ، مصنفہ کمال الدین ابن ہمام مطبوعہ نولکشور)

١٨

صفحہ ١٠٥

یہ ہے کہ اگر میں نے اس پر یعنی محمد ﷺ پر نبیوں کو ختم نہ کر دیا ہوتا تو میں اس کا بیٹا ایسا کرتا جو اس کے بعد نبی ہوتا ۔“

” ان الله تعالى لما حكم ان لا نبي بعده لم يعطه ولدا ذكراً يصير رجلاً (تفسیر معالم ص ١٧٨) ”لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو آپ ﷺ کو ایسا کوئی بیٹا نہیں دیا۔ جو بالغ ہوتا۔“

آخر الانبياء و مسجدى اخر المساجد (مسلم باب المساجد ج ١ ص ٤٤٦) ”یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔

پس جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد مسجدیں بننی بند نہیں ہوئیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت بھی بند نہیں ہوگی ۔

سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری ہے۔ جو کسی نبی نے بنائی ہے۔ اس کا مفاد یہ ہے کہ میرے بعد جو بھی مسجد بنے گی وہ کسی نبی کی بنائی ہوئی نہ ہوگی۔

یہ معنی میں نے اپنے پاس سے نہیں کئے بلکہ دوسری حدیث سے کئے ہیں ۔ دیکھئے (کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث ٣٤٩٩٩) میں ہے کہ: ” انا خاتم الانبياء ومسجدی خاتم مساجد الانبياء“ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔

خدائے تعالیٰ نے فرمایا۔

”ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء (آل عمران : ١٧٩) ”لیکن اللہ پسند کرے گا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے گا۔

نیز فرمایا کہ: ”الله يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس (حج : ٧٥)“ یعنی خدا تعالیٰ چنے گا۔ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی رسول۔

صورت استدلال کی یہ بیان کرتے ہیں کہ یجتبی اور یشاء اور یصطفی ہر سہ فعل مضارع کے صیغے ہیں اور فعل مضارع استقبال کے لئے بھی آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے ۔

١٩

صفحہ ١٠٦

سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ اس وجہ سے کہ نصوص صریحہ قرآنیہ وحدیثیہ کے خلاف ہے اور کوئی استدلال خلاف نصوص درست نہیں ہوتا اور صیغہ مضارع ہمیشہ استقبال کے لئے نہیں ہوتا۔ بلکہ کبھی زمانہ حال کے لئے اور کبھی استقبال کے لئے جہاں حال کے معنے ہوں گے۔ وہاں استقبال کے نہیں ہوں گے۔ کیونکہ صیغہ مضارع حال اور مستقبل کے لئے مشترک ہے اور مشترک لفظ ایک محل پر ایک ہی معنے دیتا ہے۔ دوسرے معنے نہیں دیتا اور ان مقامات پر مضارع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اگر آنحضرتﷺ جن پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ وہ خدا کے فضل سے ان آیتوں کے نزول کے وقت زندہ موجود تھے۔ پس یہاں پر مضارع کے صیغے صرف حال کے لئے ہوئے اور ان سے استقبال کا مطلب سمجھنا غلط ہے۔ پس صحیح ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ (غیب کی خبر کے لئے) اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے اور سورۂ حج والی آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے۔ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی پیغمبر، شاہ عبدالقادر شاہ رفیع الدین شاہ ولی اللہ اور ڈپٹی نذیر احمد صاحب کے تراجم دیکھئے۔ سب نے حال کے معنے لکھے ہیں۔ فقط والحمدلله!

ختم نبوت کے دلائل احادیث صحیحہ سے

”ویکون فی امتی ثلثون کذابون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (هذا حدیث صحیح ترمذی ج٢ ص٤٥، باب لاتقوم الساعة حتی یخرج الکذابون)“ اور میری امت میں (قیامت سے پہلے پہلے) تیس کذاب ضرور ہوں گے۔ ہر ایک ان میں کا دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ امام ترمذیؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔“

کی مثال یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک مکان بنایا اور اسے نہایت خوبصورت اور خوش وضع بنایا ہو۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ (چھوڑ دی ہو) پس لوگ اس مکان کے گرد پھریں اور تعجب کریں اور کہیں کہ (یہاں پر) یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ پس وہ (باقی رہی ہوئی) اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ (صحیح بخاری ج١ ص٤٩١، باب ذکر من بنی اسرائیل)

محمد ابراہیم میر سیالکوٹی!

٢٠

PDF 107

جواب یہ ہے کہ یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ اس وجہ سے کہ نصوص صریحہ کے خلاف ہے اور کوئی استدلال خلاف نصوص درست نہیں ہوتا اور صیغہ مضارع خاص نہیں ہوتا۔ بلکہ کبھی زمانہ حال کے لئے اور کبھی استقبال کے لئے پس حال وہاں استقبال کے نہیں ہوں گے۔ کیونکہ صیغہ مضارع حال اور مستقبل کے مشترک لفظ ایک محل پر ایک ہی معنے دیتا ہے۔ دوسرے معنے نہیں دیتا اور ان الفاظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جن پر یہ آیتیں نازل ہوئے ان آیتوں کے نزول کے وقت زندہ موجود تھے۔ پس یہاں پر مضارع حال کے لئے ہونے اور ان سے استقبال کا مطلب سمجھنا غلط ہے۔ پس صحیح ترجمہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ (غیب کی خبر کے لئے) اپنے رسولوں میں سے جس کو اس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے۔ فرشتوں میں سے بھی اور پیغمبر، شاہ عبدالقادر شاہ رفیع الدین شاہ ولی اللہ اور ڈپٹی نذیر احمد صاحب کے ہاں حال کے معنے لکھے ہیں۔ فقط والحمدلله!

فی احادیث صحیحہ سے

حضرت ثوبانؓ کی روایت سے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: ثلثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی

(صحیح ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج

میری امت میں (قیامت سے پہلے پہلے) تیس کذاب ضرور ہوں گے۔ یہ کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ “

بخاری میں ہے کہ ” آپ ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء نے ایک مکان بنایا اور اسے نہایت خوبصورت اور خوش وضع بنایا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو) پس لوگ اس مکان کے گرد پھریں اور تعجب کریں اور کہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پس وہ (باقی رہی ہوئی اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔“

( صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩١ ، باب ذکر من بنی اسرائیل )

محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

٢٠

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

کشف الحقائق

یعنی

روئیداد مناظرات قادیانیہ

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ١٠٨

تمہید

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد! شہر سیالکوٹ اپنی بعض خصوصیتوں کی وجہ سے ایک منتخب بستی ہے۔ فیروز تغلق شاہ دہلی کے عہد میں یہ بستی اسلامی زور آزمائی کی رزمگاہ بنی اور حضرت امام علی لاحق نے صدہا مجاہدین کے ساتھ جہاد کا مقدس فرض ادا کرتے ہوئے جام شہادت پیا۔ جمشید جاہ شاہجہان بادشاہ کے زمان برکت نشان میں ملا کمال کشمیری اور ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کے علمی کمالات کی وجہ سے ملک ہند میں ایک ممتاز درسگاہ رہی۔ جہاں سے بڑے بڑے باکمال فیض یاب و سیراب ہو کر اسلامی دنیا کے آفتاب و ماہتاب ہوئے۔ نواب سعد اللہ مرحوم نے بھی یہیں سے دین و دنیا کی سعادت حاصل کی۔ حتیٰ کہ حضرت مجدد صاحب سرہندیؒ نے بھی علمی کمالات ملا کمال صاحبؒ کی درسگاہ سے حاصل کئے۔ مشہور عالم ڈاکٹر محمد اقبال صاحب ایم۔اے۔ پی۔ایچ۔ڈی بھی انگلستان کے گل تر اور اسی زمین کے روشن چراغ ہیں۔

زمانہ حال میں تحریک کشمیر میں سیالکوٹ نے جو کام کیا اور اس نے ہندوستان میں جو نام پایا۔ وہ دیگر شہروں میں ایام گذشتہ میں کہیں کم سننے، دیکھنے میں آیا ہوگا۔ بالخصوص ان ایام میں مرزائیت کی جو حالت ہوئی۔ وہ ان کے متعین مبلغ مولوی غلام رسول قادیانی ساکن رانیکے کے اس خط سے ظاہر ہو سکتی ہے۔ جو انہوں نے اس وقت کے کوائف سیالکوٹ کے متعلق مرزا محمود خلیفہ قادیان کی خدمت میں بطور رپورٹ لکھا تھا اور ہمیں اتفاق سے ایک دوست کی معرفت اس کے مطالعہ کا موقع مل گیا تھا۔

”کہ جب سے تحریک احمدیت ہوئی یہ حالت کبھی نہیں ہوئی۔ ہم اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ آزادی سے باہر نہیں نکل سکتے۔ مسجد میں بھی رات کے وقت آتے ہیں۔“

غرض سیالکوٹ اپنی بعض خصوصیتوں کی وجہ سے ایک منتخب شہر ہے۔ سیالکوٹ میں مرزائیوں کے متعدد مناظرے ہوئے۔ بعض اہل حدیث سے بعض احناف سے بعض عیسائیوں سے۔ لیکن خدا کی قدرت جب نصیب میں ہار ہو اور ہر طرف سے خدا کی مار ہو تو ہر جہت سے شرمساری ہی شرمساری ہوتی ہے۔ چنانچہ مرزائی ہر میدان میں شکست کھاتے رہے۔ پے در پے شکستوں سے ان کا دم نکل گیا اور حوصلہ کلیتاً ٹوٹ گیا۔ چنانچہ ١٩٢١ء میں جو مناظرہ ان کا مسلمانوں

٢

صفحہ ١٠٩

سے ہوا۔ اس میں ایسے شرمسار ہوئے کہ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو مناظرے کا چیلنج دینا تو درکنار اپنا سالانہ جلسہ بھی کھلے طور پر کرنا موقوف کر دیا۔

ہمارے ملک میں میونسپلٹی اور کونسل کی ممبری کا انتخاب ایسی صورت پر عمل میں آتا ہے کہ مدت تک لوگوں کی آپس میں بے اتفاقی بلکہ عداوت اور دشمنی پڑ جاتی ہے۔ سیالکوٹ میونسپلٹی کے تازہ گذشتہ الیکشن میں بعض خود غرض لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے مسلمانوں کا نظام قائم نہ رہا۔ جس سے احرار اسلام کا اثر بہت ہلکا ہو گیا۔ قادیانی جماعت اسے اپنے مقاصد پر از مفاسد کے لئے نیک شگون سمجھی۔ ادھر حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی بھی ایک ماہ سے تبدیل آب و ہوا کے لئے ریاسی میں مقیم تھے۔ قادیانیوں نے موقع کو غنیمت جان کر باوجود شدت گرمی کے جھٹ جلسے کا اشتہار دے دیا اور اس میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو میدان مناظرہ میں آنے کی دعوت دے دی۔ انجمن اہل حدیث سیالکوٹ بھی بارہ سال کی مدت مدید سے پرانے شکاری کی تاک میں تھی۔ بپھرے ہوئے شیر کی طرح اٹھی اور قادیانی چیلنج کی منظوری کا اشتہار دے دیا۔ ادھر سے حضرت مولانا سیالکوٹی بھی سفر سے بخیریت واپس تشریف لے آئے۔ پھر کیا تھا قادیانی صاحبان لگے بغلیں جھانکنے اور مباحثے سے فرار کے بہانے بنانے۔ چنانچہ اہل حدیث کے اشتہار مورخہ ١٩ مئی ١٩٣٣ء کا جواب کئی دن بعد یعنی مورخہ ٢٣ مئی ١٩٣٣ء کو دیا اور اس میں بھاری شرط یہ لگا دی کہ مباحثہ تحریری ہوگا۔ اس سے اہل شہر سمجھ گئے کہ قادیانی مباحثہ کی دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جلسہ تو کر رہے ہیں تبلیغی، جیسا کہ ان کے اشتہار سابق میں مرقوم ہے اور اس میں جو جو مضامین بیان ہوں گے۔ وہ سب تقریری ہوں گے۔ تو یہ بات کس قدر نامعقول ہے کہ صدہا لوگوں کے سامنے ان تقریری بیان کردہ مضامین پر اگر کوئی جرح و سوال کرنا چاہے تو وہ تحریری کرے۔

دوسری طرف مرزائیوں نے ایک اور چالاکی کی کہ اس اشتہار کے ساتھ ہی اپنے جلسے کا پروگرام بھی شائع کر دیا۔ جس میں کسی مضمون پر بھی سوال و جواب کے لئے وقت نہ رکھا اور خاتمہ پر نادان لوگوں میں بات کرنے کو ایک یہ نوٹ لکھ دیا:

’ہر اجلاس کے بعد بشرط گنجائش بیان کردہ مضمون کے متعلق معقولیت سے سوال کرنے والے کو پانچ منٹ بمنظوری صاحب صدر دیئے جائیں گے۔‘

اس نوٹ نے مرزائیوں کی کمزوری کو سارے شہر میں نوٹیفائڈ کر دیا اور سب سمجھ گئے کہ مرزائی مرعوب ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اس پر ان کو ہر طرف سے ملامت ہونے لگی کہ سوال کرنے والے کو تین گھنٹے کے بعد صرف پانچ منٹ اور اس میں بھی گنجائش کی شرط اس سے صاف ظاہر ہوتا

٣

PDF 110

ہے کہ ان کے دل خوف زدہ ہو گئے ہیں اور وہ مسلمانوں کے اعتراضات سننے کی تاب نہیں رکھتے۔ مسلمانوں نے یہ دیکھ کر کہ مرزائی اپنے بیان کردہ مضامین پر ہمارے اعتراضات تقریری طور پر کھلی مجلس میں نہیں سن سکتے اور نہ ان کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ تو شہر میں منادی کرا دی اور مشتہر بھی کر دیا کہ کوئی مسلمان مرزائیوں کے جلسے میں نہ جائے۔ ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ ان کے عقائد کفریہ کو چپ چاپ ہو کر سنیں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ اور اس کا رسول پاک ﷺ ایسی مجالس میں شریک ہونے اور ان کی رونق کو بڑھانے اور کفریات کو خاموشی سے سننے سے منع فرماتے ہیں۔ دوسری طرف انجمن اہل حدیث نے کھلے میدان میں اپنا جلسہ منعقد کر دیا۔ جس میں مقامی علماء کیا حنفی اور کیا اہل حدیث اور کیا شیعہ سب بالاتفاق شریک ہوئے۔ کیونکہ مسائل قادیانیہ سب مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ مقامی علماء میں سے بعض اصحاب نے جلسہ میں تقریریں بھی کیں۔ مثلاً مولوی عبدالعزیز صاحب خطیب جامع مسجد مبارک پورہ ۔ مولوی محمد یوسف صاحب خطیب مسجد خراسیاں ۔ انہوں نے مرزائیت کے سب پول کھول کر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیئے اور اہل شہر پر ایک گہرا اثر پڑا۔

بیرون جات سے مولوی محمد اسماعیل صاحب از گوجرانوالہ، حافظ عنایت اللہ صاحب وزیرآبادی، مولوی احمد الدین صاحب گکھڑوی اور مولوی نور الٰہی صاحب گھر جاکھی تشریف لائے۔ جن کی دھواں دھار تقریروں نے مرزائیوں کے چھکے چھڑا دیئے۔ باوجو د شدید گرمی کے اہل شہر نہایت دلچسپی سے جلسے میں شریک ہوتے رہے اور ہر اجلاس میں کافی حاضری ہوتی رہی۔ بالخصوص رات کے وقت تو اتنا اثر دہام ہوتا تھا کہ سبحان اللہ ! اور ماشاء اللہ !

مرزائی ان تقریروں سے نہایت تنگ ہوئے۔ اوّل اس وجہ سے کہ ان تقریروں میں علمائے اہل سنت نے دل کھول کر مرزائیت کے بخیئے ادھیڑے اور ان کے پول کھولے۔ تو مرزائیوں کے لئے شہر کی فراخی تنگ ہو گئی۔

دیگر اس وجہ سے کہ مرزائیوں نے اپنا جلسہ اپنے قبلہ اور کعبہ قلعہ محلے پر کیا تھا کہ اپنے خداوندان نعمت کی پناہ میں رہیں۔ لیکن مسلمان اس جلسہ میں شریک نہ ہوئے۔ تو مرزائی بہت کھسیانے ہوئے اور اپنے منصوبوں کے ناکام رہنے اور خرچ کے ضائع و بیکار جانے پر حسرتیں کھانے لگے کہ یکے نقصان مایہ دیگر شماتت ہمسایہ کی مثل صادق آئی۔ آخر جب ہر طرف سے ملامت کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور ادھر سے مسلمانوں کے اشتہار پر اشتہار نکلنے لگے تو مرتا کیا نہ کرتا۔ اس شرط پر اتر آئے کہ جلسہ کے بعد ہم تقریری مباحثہ کے لئے تیار ہیں۔ بشرطیکہ اس جلسہ، مناظرہ

کے صدر وہ ہوں ایک ہمارا دوسرا تمہارا۔ مسلماں اور امیر مجلس دو ہوں۔ یہ دو عملی کیسی؟۔ لیکن قا کے بغیر ہم مباحثہ نہیں کریں گے۔ مسلمانوں اور ان کو کوئی موقعہ نہ دینا چاہئے تو ان کی اس تاریخیں ٣، ٤، ٥ / جون ١٩٣٣ء مقرر ہوئیں۔ دور ٣۔ جون کی صبح کو نکاح محمدی بیگم گھنٹے۔ پھر ٤ / جون کی صبح کو صدق و کذب مرز بیگم اور صدق و کذب مرزا میں مرزائی مدعی نبوت میں اہل حدیث مدعی اور مرزائی معترض

مباحثہ کی اجمالی کیفیت

کنسلٹنٹ ادھر ادھر کی ہانکتے رہے۔ ان کی سے بھی آیات قرآنیہ صحیح نہ پڑھی جاتی تھیں کی وجہ سے اس کا لقمہ بھی نہ پکڑ سکتے تھے۔ ج ہو کر بیٹھ جاتا تھا کہ چونکہ لوگ قہقہہ مارتے ہزاروں کا مجمع ہوتا تھا۔ بیسیوں حافظ قرآن خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔

جہت سے قابو ہو جاتا تو دوسری طرف سے پڑتا اور لطف یہ کہ ان کے صدر صاحب ( باصرار مقرر کرتے ہیں ) حمایت میں اٹھتے کے قول کے خلاف اور ہی بات بنا کر پیش س پر بھی حاضرین قہقہہ مارتے اور ان کی پر لعن طعن کرتے کہ یہ لوگ کیسے بے خوف دفعہ مکرتے ہیں۔

صفحہ ١١١

وہ ہو گئے ہیں اور وہ مسلمانوں کے اعتراضات سننے کی تاب نہیں رکھتے۔ نے یہ دیکھ کر کہ مرزائی اپنے بیان کردہ مضامین پر ہمارے اعتراضات میں نہیں سن سکتے اور نہ ان کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ تو شہر میں منادی یا کہ کوئی مسلمان مرزائیوں کے جلسے میں نہ جائے۔ ہمیں کوئی ضرورت یہ کہ چپ چاپ ہو کر سنیں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ اور اس کا رسول پاک ﷺ ونے اور ان کی رونق کو بڑھانے اور کفریات کو خاموشی سے سننے سے منع فی انجمن اہل حدیث نے کھلے میدان میں اپنا جلسہ منعقد کر دیا۔ جس میں یا اہل حدیث اور کیا شیعہ سب بالاتفاق شریک ہوئے۔ کیونکہ مسائل کے خلاف ہیں۔ مقامی علماء میں سے بعض اصحاب نے جلسہ میں تقریریں عبد العزیز صاحب خطیب جامع مسجد مبارک پورہ ۔ مولوی محمد یوسف یاں۔ انہوں نے مرزائیت کے سب پول کھول کر مسلمانوں کے سامنے ت گہرا اثر پڑا۔

سے مولوی محمد اسماعیل صاحب از گوجرانوالہ، حافظ عنایت اللہ صاحب الدین صاحب لکھوی اور مولوی نور الٰہی صاحب گھرجاکھی تشریف حار تقریروں نے مرزائیوں کے چھکے چھڑا دیئے۔ باوجود شدید گرمی کے جلسے میں شریک ہوتے رہے اور ہر اجلاس میں کافی حاضری ہوتی رہی۔ قاً اتنا اژدہام ہوتا تھا کہ سبحان اللہ ! اور ماشاء اللہ !

قریروں سے نہایت تنگ ہوئے۔ اوّل اس وجہ سے کہ ان تقریروں میں ل کھول کر مرزائیت کے بخیے ادھیڑے اور ان کے پول کھولے۔ تو فراخی تنگ ہوگئی۔

سے کہ مرزائیوں نے اپنا جلسہ اپنے قبلہ اور کعبہ قلعہ معلّٰی پر کیا تھا کہ اپنے یں رہیں۔ لیکن مسلمان اس جلسہ میں شریک نہ ہوئے۔ تو مرزائی بہت پنے منصوبوں کے ناکام رہنے اور خرچ کے ضائع و بیکار جانے پر حسرتیں مان مایہ دیگر شماتت ہمسایہ کی مثل صادق آئی۔ آخر جب ہر طرف سے لگی اور ادھر سے مسلمانوں کے اشتہار پر اشتہار نکلنے لگے تو مرتا کیا نہ کرتا۔ لسہ کے بعد ہم تقریری مباحثہ کیلئے تیار ہیں۔ بشرطیکہ اس جلسہ ، مناظرہ

کے صدر دو ہوں ایک ہمارا دوسرا تمہارا۔ مسلمانوں نے کہا کہ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ مجلس ایک ہو اور امیر مجلس دو ہوں۔ یہ دو عملی کیسی؟۔ لیکن قادیانیوں کی ضد اور ہٹ معلوم ہے۔ اینٹھ بیٹھے کہ اس کے بغیر ہم مباحثہ نہیں کریں گے۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ یہ فرار کا بہانہ ڈھونڈھ رہے ہیں اور ان کو کوئی موقعہ نہ دینا چاہئے تو ان کی اس ناجائز شرط کو بھی تسلیم کر لیا اور خدا خدا کر کے مباحثہ کی تاریخیں ٢۔٣؍جون ١٩٣٣ء مقرر ہوئیں۔ دو روز میں چار مضمون اور چار مجلسیں بدیں تفصیل کہ: ٢؍جون کی صبح کو نکاح محمدی بیگم کی پیش گوئی پر دو گھنٹے اور شام کو حیات حضرت مسیحؑ پر دو گھنٹے۔ پھر ٣؍جون کی صبح کو صدق و کذب مرزا پر دو گھنٹے اور شام کو ختم نبوت پر دو گھنٹے۔ نکاح محمدی بیگم اور صدق و کذب مرزا میں مرزائی مدعی اور اہل حدیث معترض اور حیات حضرت مسیحؑ اور ختم نبوت میں اہل حدیث مدعی اور مرزائی معترض۔

مباحثہ کی اجمالی کیفیت

کنٹ ادھر ادھر کی ہانکتے رہے۔ ان کی حواس باختگی کا بین ثبوت یہ ہے کہ ان کے کسی مناظر سے بھی آیات قرآنیہ صحیح نہ پڑھی جاتی تھیں۔ بلکہ جب مرزائی حافظ ان کو لقمہ دیتا تھا تو وہ بدحواسی کی وجہ سے اس کا لقمہ بھی نہ پکڑ سکتے تھے۔ جس سے مجلس میں قہقہہ مچ جاتا اور مرزائی مناظر کھسیانہ ہو کر بیٹھ جاتا تھا کہ چونکہ لوگ قہقہہ مارتے اور شور مچاتے ہیں۔ اس لئے ہم تقریر نہیں کر سکتے۔ ہزاروں کا مجمع ہوتا تھا۔ بیسیوں حافظ قرآن موجود ہوتے تھے۔ قرآن شریف غلط پڑھتے ۔ سن کر وہ خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔

جہت سے قابو ہو جاتا تو دوسری طرف سے سر نکالنے کے لئے اسے پہلی کہی ہوئی بات سے مکرنا پڑتا اور لطف یہ کہ ان کے صدر صاحب (جسے مرزائی خاص اسی نازک وقت کی حمایت کے لئے باصرار مقرر کرتے ہیں) حمایت میں اٹھتے تو وہ اور بھی مبہوت ہو جاتے۔ چنانچہ وہ اپنے مناظر کے قول کے خلاف اور ہی بات بنا کر پیش کر دیتے کہ ہمارے مناظر صاحب نے تو یہ کہا تھا۔ اس پر بھی حاضرین قہقہہ مارتے اور ان کی کذب بیانی پر توبہ ، اعوذ پکارتے اور ہر طرف سے ان پر لعن طعن کرتے کہ یہ لوگ کیسے بے خوف بے ایمان ہیں کہ اپنی ہر ایک باری میں دو دو چار چار دفعہ مکرتے ہیں۔

٥

صفحہ ١١٢

پڑھنے والے طوطے کی طرح احمدیہ ڈائری سے یاد کی ہوتی اور جب کوئی نئی بات پیش آ جاتی جو احمدیہ ڈائری میں درج نہ ہوتی یا جب ان کی مندرجہ بات کا جواب دے دیا جاتا تو مرزائی مناظر کو بجائے اس کے کہ پیش کردہ بات کا جواب دے۔ بار بار احمدیہ ڈائری کے حوالوں کو پیش کر کے وقت کو پورا کرنا پڑتا۔ اس پر بھی خوب مضحکہ ہوتا۔

جب مرزائی مناظر ہر طرف سے تنگ آگئے تو گالیوں پر اُتر آئے اور نہایت شوخی اور بے باکی سے انبیاء علیہم السلام خصوصاً آنحضرت ﷺ کی شان پاک میں بھی سخت کلمے کہنے پر اتر آئے۔ جن کے جواب نہایت متانت و سنجیدگی سے دیئے گئے۔ تو پھر مرزائیوں نے منہ نہ کھولا۔ اس کی مثالیں تفصیلی بیان میں مذکور ہوں گی۔ انشاء اللہ !

جس کا اثر حاضرین پر نہایت گہرا ہوا۔ اس کے جواب میں مرزائیوں نے ایک لڑکے کو کھڑا کیا کہ وہ یہ کہے کہ میں آج احمدیت کو قبول کرتا ہوں۔ لیکن اس کے جاننے والے بیسیوں آدمی موجود تھے۔ سب بیک آواز پکار اٹھے کہ مرزائی اوے ! مرزائی اوے ! یعنی لڑکا مرزائی ہے۔ مرزائی ہے۔ جس سے اس لڑکے کو سامنے ہونے اور آواز نکالنے کی جرأت نہ پڑی اور وہ سر نیچے کئے ہوئے شرمسار ہو کر بیٹھ گیا۔ مرزائی جماعت اس سے اور بھی بہت نادم ہوئی اور مجلس نے اس کا بھی متفق ہو کر قہقہہ اڑایا۔

غرض ہر مجلس میں مرزائیوں کی سخت فضیحت ہوتی رہی اور وہ اس کے بعد شرم کے مارے کئی روز تک شہر میں آزادی سے باہر نہیں نکل سکے۔ پرانے لوگ جنہوں نے اگلی بحثیں بھی سنی تھیں وہ سب بیک زبان کہتے تھے کہ قادیانیوں کی ایسی درگت آگے کبھی نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ آگے جو مناظرہ ہوتا تھا وہ صرف ایک مسئلہ پر ہوتا تھا۔ جو دو ڈیڑھ گھنٹہ کے لئے صرف ایک مجلس میں ہوتا تھا۔ لیکن یہ مناظرہ دو روز تک رہا۔ جس میں چار مضمونوں کی چار مجلسیں ہوئی۔ پس اور مناظروں کی نسبت مرزائیوں کو چوگنی مار پڑی اس لئے اس مناظرے کا اثر چوگنا ہوا۔

اس مناظرے میں بعض مرزائیوں کی توبہ کے علاوہ ایک اور فضل ربانی بھی ہوا کہ جلسہ کے بعد کئی ہفتے تک برابر قریباً ہر روز غیر مذہب کے لوگ داخل اسلام ہوتے رہے۔

کیفیت روئداد ھذا

بعدازاں نوبت بہ نوبت دس دس منٹ ملتے تھے اور آخری تقریر مدعی کی ہوتی تھی۔ اگر اس روئداد

٦

صفحہ ١١٢

میں دس دس منٹ تقسیم اوقات کی ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے تو کسی مضمون کے دلائل کا سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا۔ لہذا ہم نے ہر مقرر کی مختلف نوبتوں کی تقریروں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے کہ ناظرین کو فہم مطالب اور فیصلہ میں آسانی ہو۔

پوری طرح ادا کر دیا ہے۔ کیونکہ ایسی دس دس منٹ کی تقریروں میں ہر نوبت کے الفاظ عموماً محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ہاں اگر کسی فریق کو شکایت ہو کہ ہمارا مدعا قصور بیان کی وجہ سے کمزور دکھایا گیا ہے۔ تو اس کا حق ہے کہ وہ اسے اپنے زور دار الفاظ میں بیان کر کے اپنے مدعا اور دلائل کو واضح کر دے۔ سیالکوٹ کی پبلک دوسرے فریق کی تقریر سے خود مقابلہ کرلے گی اور دوسرے لوگ بھی سمجھ سکیں گے کہ قوی دلیلیں کس کی ہیں اور کمزور کس کی؟۔

و اعتراضات کو دہراتے رہتے تھے۔ جو ان کی احمدیہ ڈائری میں مسطور ہیں۔ اس لئے ان کی تقریروں سے پبلک پر اچھا اثر نہیں پڑتا تھا۔ جس کی وجہ سے اکثر دفعہ قادیانی مناظر بلکہ ان کا صدر بھی کھسیانا ہو جاتا تھا۔

دیگر قادیانی مناظرے

سابقاً ذکر ہو چکا ہے کہ قادیانیوں نے اپنے اس سیالکوٹی جلسہ میں ہر ملت و مذہب کے متعلق مضامین رکھے تھے۔ مسلمانوں کے، عیسائیوں کے، ہندوؤں کے، سکھوں کے، سب کے متعلق تقریریں مقرر تھیں اور سب کو مناظرے کی دعوت تھی۔ غالباً ان کے سر میں تیس مار خاں بننے کا خیال باطل ہوگا۔ لیکن جب انہوں نے مسلمانوں سے تقریری مباحثہ کرنے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں نے ان کے جلسے میں شریک نہ ہو کر اپنا جلسہ الگ کیا تو دیگر مذاہب کے لوگ بھی مرزائیوں کے جلسے میں شریک نہ ہوئے۔ بلکہ اسلامی جلسے میں کثرت سے اور شوق سے آتے رہے۔ پھر ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کی طرح اپنی اپنی جگہ مرزائیوں کی تردید میں جلسے مقرر کئے۔ مرزائیوں نے جب اپنی ایسی بے قدری اور کس مپرسی کی حالت دیکھی تو ان کا سر کھجلایا کہ کہیں سے مار تو پڑی نہیں اب چین کس طرح آئے؟۔

قادیانی اور ایک سکھ دیوی

تو اس ہوس کو پورا کرنے کے لئے ایک دن سکھوں کے جلسے میں جا دھمکے۔ وہاں سے قادیانی مولوی (گرنتھی) ایک سکھ دیوی کے سوال سے ایسا لاجواب ہوا کہ سوائے خاموشی کے کچھ

نہ

صفحہ ١١٤

بن نہ آیا۔ اصل یہ تھا کہ گورو نانک جی مہاراج کا مذہب کیا تھا؟ ۔ قادیانی مدعی ہیں کہ وہ مسلمان تھے۔ اس کی دلیل جیسا کہ ہم کو خبر پہنچی ہے۔ مرزائی مولوی نے ایک یہ دی کہ بموجب سکھوں کی مشہور روایت کے گرو جی مہاراج نے مکہ شریف کا سفر کیا۔ اگر وہ مسلمان نہیں تھے تو مکہ شریف میں کیوں گئے۔ سکھ مقرر صاحب نے کہا کہ یہ مسلمان ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ کسی جگہ کا سفر اور بات ہے اور اس جگہ کے رہنے والوں کا ہم مذہب ہونا اور بات ہے۔ درمیان میں سے ایک سکھ دیوی بول اٹھی کہ اچھا اگر مکہ شریف میں جانا مسلمان ہونے کی دلیل ہے تو تمہارا مرزا تو حج کرنے نہیں گیا وہ پھر کافر ہوا۔ اس پر قہقہہ مچا اور مرزائی صاحب خاموش ہو گئے اور وہاں سے بہت بری طرح واپس ہوئے۔ لیکن مرزائی اور ڈھٹائی دو مترادف الفاظ ہیں۔

قادیانی سناتنیوں سے جا الجھے

اسی شب کو یعنی ٢٩ مئی ١٩٣٣ء کو سناتنیوں کے جلسے میں جا کودے۔ وہاں پر کلکی اوتار کا مضمون تھا۔ اس جلسے میں ہمارا نمائندہ بھی موجود تھا۔ اس کی رپورٹ ہے اور اخبار گوردھن سیالکوٹ کے ضمیمہ یکم جون ١٩٣٣ء میں مفصل کیفیت چھپی ہے کہ پنڈت رام سرن جی صاحب کے مضمون کے بعد مرزائی مولوی محمد عمر صاحب نے ایک اردو کتاب بنام کلکی اوتار پیش کر کے کہا کہ یہ کتاب پنڈت ایشری پرشاد صاحب کی ترجمہ کردہ ہے۔ اس میں حوالہ دے کر لکھا ہے کہ جناب کرشن جی مہاراج نے فرمایا ہے کہ میں اخیر زمانے میں کلکی اوتار ہو کر آؤں گا اور میرا نام ا، ح، م، د ہوگا۔ سو اس کے مطابق جناب کرشن جی مہاراج جناب مرزا قادیانی کے جنم میں ظاہر ہوئے ہیں۔

پنڈت صاحب موصوف نے جواب میں کہا کہ اگر یہ حوالہ درست دیا گیا ہے تو یہ لیجئے اصل کتاب موجود ہے۔ اس میں سے نکال کر بتائیے کہ اس میں ا، ح،م، د یعنی احمد اور قادیانی کا نام کہاں اور قادیانی بھونچکے رہ گئے۔ بہت کہا گیا کہ نکالو اور پڑھو۔ لیکن کتاب کو ہاتھ تک نہ لگایا اور دریں چہ شک کی طرح جو کچھ گھر سے پڑھ کر آئے تھے وہی رٹتے رہے کہ یہ دیکھو اس اردو کتاب میں لکھا ہے۔ یہ تمہارے ہی پنڈت نے لکھی ہے۔ پنڈت رام سرن جی معقول آدمی تھے۔ نہایت سنجیدگی سے سمجھاتے رہے کہ مولوی صاحب! حوالہ کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصل کتاب میں من وعن موجود ہو۔ سو آپ نکالئے اصل کتاب حاضر ہے۔ لیکن مرزائی مولوی صاحب نے کتاب کو ہاتھ نہ لگانے کی قسم کھائی تھی۔ ہاتھ نہ لگایا۔

اس کے بعد پنڈت رام سرن جی نے فرمایا کہ قادیانی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ

٨

صفحہ ١١٥

بھگوان کرشن جی مہاراج اب مرزا غلام احمد قادیانی کے جنم میں ظاہر ہوئے ہیں تو یہ بات بموجب مذہب اسلام کے بدو وجہ کفر ہے۔

اول ...... اس لئے کہ ہم بھگوان جی کو پرمیشر کا اوتار مانتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی بھی ایسا ہی مانتے ہیں۔ تو یہ بات اسلام کی توحید کے خلاف ہے۔ بلکہ کفر ہے کہ خدا تعالیٰ کسی انسان کے روپ میں ظاہر ہو۔

دوم ...... اسلئے کہ اگر مرزا قادیانی کرشن جی مہاراج کو ایک انسان مانتے ہیں ۔ تو ان کا دوسرا جنم لینا تناسخ کی بناء پر ہے اور یہ بات اسلام کے رو سے کفر ہے۔ (کیونکہ اس سے قیامت کا انکار لازم آتا ہے)

ہندو، مسلمان حاضرین کا بیان ہے کہ ان ہر دو باتوں کا جواب مرزائی مولوی محمد عمر نے سوائے خاموشی کے کچھ بھی نہ دیا اور بہت بری طرح اور شرمسار ہو کر وہاں سے ایسے رخصت ہوئے ۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

نئے اور پرانے مسیحوں کی ملاقات

قادیانیوں نے اپنے جلسے کے آخری دن ایک اشتہار کلیسا سیالکوٹ کو خطاب کرتے ہوئے دیا اور اس میں یہ بھی لکھا کہ وہ ہمارے جلسہ میں آ کر سوال کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سیالکوٹ میں کوئی عیسائی مشنری صاحب مناظر نہیں ہیں۔ جب کبھی ان کا جلسہ ہو یا ان کو مناظرہ کی ضرورت ہو تو باہر کے پادری صاحبان بلائے جاتے ہیں۔ قادیانیوں نے دیکھا کہ مسلمانوں اور سکھوں کی طرف سے ہمیں شرمساری ہوئی ہے اور ہماری (لایعنی) تقریریں سننے کے لئے ہمارے حرم قلعہ میں کوئی بھی نہیں آیا۔ تو عیسائیوں کا میدان خالی دیکھ کر اپنی شرمساری دھونے کے لئے عیسائیوں کو چیلنج دے دیا۔

عیسائی بھی مدت کے منتظر تھے۔ انہوں نے ریوی رنڈ پادری عبدالحق صاحب ڈی، ڈی سے خط و کتابت کر کے ان کو بلایا۔ چنانچہ ٢١، ٢٢ اور ٢٣ جون ١٩٣٣ء کو سیالکوٹ میں انہوں نے خاص مرزائیت کے متعلق تین مبسوط تقریریں کیں اور قادیانیوں کے لئے وقت بھی رکھا کہ وہ سوال کرلیں۔ پہلے روز ایک قادیانی مولوی اپنی بیوقوفی سے تھوڑے وقت کے لئے کھڑے ہوئے اور بہت شرمسار ہوئے دوسرے اور تیسرے روز کوئی بھی قادیانی ، پادری صاحب کے سامنے نہ ہوا۔ گویا کہ سیالکوٹ میں کوئی مرزائی ہے ہی نہیں۔ ہر طرف سے مرزائیوں پر آوازے کسے جا رہے تھے کہ آج ان کو کیا ہو گیا۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ مرزا قادیانی کسر صلیب کے لئے آئے ہیں اور وہ

٩

صفحہ ١١٦

صلیب توڑ چکے ہیں۔ اب کوئی عیسائی ہمارے سامنے نہیں آ سکتا۔ لیکن ریوی رنڈ پادری عبدالحق صاحب آج سیالکوٹ میں تین روز سے گرج رہے ہیں اور قادیانی بلوں میں جا گھسے ہیں۔

غرض سابق کی طرح امسال بھی قادیانیوں کا سیالکوٹ میں آنا بہت منحوس اور نامبارک ہوا۔ غالباً اب وہ سیالکوٹ میں بہت سالوں تک پھر یہ اکھاڑہ قائم نہ کر سکیں گے۔ سیالکوٹ سے رخصت ہوتے ہوئے ان کی حالت اس شعر کی مصداق تھی۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العالمين مرتب منجانب انجمن اہل حدیث سیالکوٹ ....... ١٧؍ جولائی ١٩٣٣ء

بسم الله الرحمن الرحيم!

مفصل روئداد مناظرات قادیانیہ

پہلا روز ....... مورخہ ٣؍ جون ١٩٣٣ء پہلی مجلس صبح ٨ بجے سے ١٠ بجے تک۔ بحث ....... محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی مدعی ....... احمدی مناظر۔

قادیانی

صدر ....... مولوی علی محمد صاحب مرزائی مناظر مدعی ....... مولوی عبدالرحمن گجراتی مرزائی

مسلمان

صدر ....... شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر مناظر مجیب ....... مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی

بیان دعویٰ

حضرات! ہمارا (قادیانیوں کا) دعویٰ ہے کہ محمدی بیگم کی پیش گوئی پوری ہوگئی اور کوئی ایسی بات نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔

محمدی بیگم مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی تھی۔ جن کا خاندان خلاف اسلام عقائد میں مبتلا تھا۔ وہ احکام خدا اور رسول کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ رسول ﷺ کو گندی گالیاں دیتے تھے۔ بلکہ وہ دہریہ تھے۔ جناب مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے چاہا کہ اس خاندان میں دینداری

صفحہ ١١٧

اب کوئی عیسائی ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔ لیکن ریورنڈ پادری عبدالحق میں تین روز سے گرج رہے ہیں اور قادیانی بلوں میں جا گھسے ہیں۔ کی طرح امسال بھی قادیانیوں کا سیالکوٹ میں آنا بہت منحوس اور نامبارک ثابت ہوا۔ بہت سالوں تک پھر یہ اکھاڑہ قائم نہ کر سکیں گے۔ سیالکوٹ سے ان کی حالت اس شعر کی مصداق تھی۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آتے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمدلله رب العلمين

مرتب منجانب انجمن اہل حدیث سیالکوٹ ...... ١٧/جولائی ١٩٣٣ء

بسم الله الرحمن الرحيم!

مفصل روئداد مناظرات قادیانیہ

مورخہ ٣/جون ١٩٣٣ء پہلی مجلس صبح ٨ بجے سے ١٠ بجے تک۔

نکاح کی پیش گوئی

مدعی ....... احمدی مناظر ۔

مولوی علی محمد صاحب مرزائی شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر مولوی عبدالرحمن گجراتی مرزائی مولوی احمد دین صاحب گھکھڑوی

(قادیانیوں کا) دعویٰ ہے کہ محمدی بیگم کی پیش گوئی پوری ہوگئی اور کوئی ہوئی ہو۔

احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی تھی۔ جن کا خاندان خلاف اسلام عقائد اور رسول کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ رسول ﷺ کو گندی گالیاں دیتے جناب مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے چاہا کہ اس خاندان میں دینداری

١٠

پیدا کریں۔ سو آپ نے مرزا احمد بیگ کو خط لکھا کہ اگر وہ اپنی بیٹی محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح کر دیں۔ تو خدا ان پر کئی قسم کی برکتیں کرے گا۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ لیکن نکاح اصل مقصود نہیں تھا۔ اصل مقصود اس خاندان کی اصلاح تھی۔ جو اس شرط سے ثابت ہے جو الہام کے ساتھ ہی شائع ہوئی تھی۔

پس جب انہوں نے توبہ کی تو عذاب ٹل گیا۔ جس کی تفصیل یوں ہے کہ اس پیش گوئی کی تین جزیں تھیں۔

لڑکی کا باپ مر جائے گا۔

ڈراووں کی پرواہ نہ کی اور مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے اس لڑکی کا نکاح کر دیا۔ چھ ماہ بعد محمدی بیگم کا باپ احمد بیگ مر گیا اور اس کا اثر محمدی بیگم کے خاوند پر پڑا اور وہ ڈر گیا۔ چنانچہ اس کا ڈرنا اس خط سے ثابت ہے۔ جو اس نے جناب مرزا قادیانی کی نیک بختی اور خدمت اسلام کے متعلق لکھا تھا۔

پس یہی اس کی توبہ ہوئی اور اس کی موت ٹل گئی۔

پس جب بیوہ ہونے کے لئے خاوند کی موت ضروری تھی اور محمدی بیگم بیوہ ہونے کی صورت میں حضرت مرزا قادیانی کے نکاح میں آنے والی تھی اور اس کا خاوند بوجہ توبہ کے ہلاکت سے بچ گیا اور محمدی بیگم بیوہ نہ ہوسکی۔ تو نکاح بھی نہ ہوا۔ پس اصل بات محمدی بیگم کے خاوند کی ہلاکت تھی جو توبہ سے ٹل گئی اور توبہ و استغفار سے عذاب ٹل جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت یونس کی قوم سے ٹل گیا۔ بلکہ تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے۔ علاوہ اس کے حدیثوں سے ثابت ہے کہ دعا سے تقدیر ٹل جاتی ہے اور صدقہ وخیرات سے بھی تقدیر ٹل جاتی ہے۔

اور اشتہار ١٠/ جولائی ١٨٨٨ء میں صراحتاً کہا گیا ہے کہ ایک توبہ نہ کرے گا تو ہلاک ہوگا اور دوسرا توبہ کرے گا اور وہ بچ جائے گا اور اس کے بعد امید ہے کہ چند کتے بھونکتے رہیں گے۔ پس باپ مر گیا اور خاوند نے توبہ کر لی۔ اس لئے محمدی بیگم نکاح میں نہ آسکی اور اب احمق کتے بھونک رہے ہیں۔ محمدی بیگم کا ایک بیٹا احمدی ہو چکا ہے۔ جس سے اس خاندان کی اصلاح ثابت ہوگئی۔

جواب منجانب مولوی احمد دین صاحب اہل حدیث گھکھڑوی

مولوی عبدالرحمان قادیانی نے جو تقریر کی ہے وہ سوائے ایک کلمہ کے کہ انہوں نے

١١

صفحہ ١١٨

محمدی بیگم کے نکاح کا نہ ہونا تسلیم کر لیا ہے۔ از سر تا پا غلط اور باطل ہے اور انہوں نے جو جو عذرات کئے ہیں وہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات کے بالکل خلاف ہیں اور جو حوالے ذکر کئے ہیں وہ سب بے موقع ہیں۔ جو ان کو کسی صورت میں بھی مفید نہیں۔

تفصیل اس کی یوں ہے کہ اصل بحث محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی ہے۔ جیسا کہ پرچہ شرائط سے ظاہر ہے۔ جسے میرے مد مقابل مولوی عبدالرحمان قادیانی نے کھلے الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔ پس پیش گوئی غلط ثابت ہوگئی اور یہی مراد تھی۔

پس اس کے بعد اصل بحث گفتگو کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

لیکن مولوی عبدالرحمان نے اس کے بعد جو جو عذرات خود مرزا قادیانی مدعی کی تصریحات کے برخلاف ذکر کئے ہیں اور مغالطات سے کام لیا ہے اور قرآن وحدیث کے مطالب کو بگاڑ کر مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے۔ ہم ان کی دھجیاں اڑا کر حقیقت امر کو منکشف کرنا چاہتے ہیں۔ غور سے سنتے جائیے۔

ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠) یعنی (بقول مرزا قادیانی) خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ (کہ اے مرزا) ہم نے اس لڑکی (محمدی بیگم) کو تیری زوجہ بنا دیا۔ اس الہام میں کوئی شرط نہیں۔

لئے ہے اور نہ کسی کی ہلاکت کے لئے ہے۔

اس کا محمدی بیگم کا شوہر ہونا مرزا قادیانی کے نکاح کے لئے رکاوٹ تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے رکاوٹ دور ہونے اور مقصود بر آنے کی نسبت کہا کہ وہ اڑھائی سال تک مر جائے گا اور اس کے بعد وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ پس اصل مقصود نکاح تھا اور اس کے شوہر کی موت ایک فروعی بات تھی۔ لیکن خدا کی قدرت وہ فروعی بات بھی پوری نہ ہوئی اور مرزا کی حالت یہ ہوگئی۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

پس پیش گوئی جھوٹی نکلی اور قادیانی عبدالرحمان نے یہ جو فرمایا ہے کہ اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء میں صاف بتایا گیا ہے کہ ایک توبہ نہ کرے گا تو مر جائے گا اور دوسرا توبہ کرے گا اور وہ بچ

١٢

صفحہ ١١٩

ہونا تسلیم کر لیا ہے۔ از سر تا پا غلط اور باطل ہے اور انہوں نے جو جو عذرات کی اپنی تحریرات کے بالکل خلاف ہیں اور جو حوالے ذکر کئے ہیں وہ سب کسی صورت میں بھی مفید نہیں۔ کی یوں ہے کہ اصل مبحث محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی ہے۔ جیسا کہ ۔ جسے میرے مد مقابل مولوی عبدالرحمان قادیانی نے کھلے الفاظ میں تسلیم ہوا۔ پس پیش گوئی غلط ثابت ہو گئی اور یہی مراد تھی۔ کے بعد اصل مبحث گفتگو کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

ی عبدالرحمان نے اس کے بعد جو جو عذرات خود مرزا قادیانی مدعی کی ذکر کئے ہیں اور مغالطات سے کام لیا ہے اور قرآن و حدیث کے مطالب دھوکا دینا چاہا ہے۔ ہم ان کی دھجیاں اڑا کر حقیقت امر کو منکشف کرنا چاہتے ہیں۔

اس نکاح کے متعلق سب سے پہلا الہام زوجنکھا ہے۔ (آسمانی فیصلہ ٤٠) یعنی (بقول مرزا قادیانی) خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ (کہ اے مرزا ) ہم م) کو تیری زوجہ بنا دیا۔ اس الہام میں کوئی شرط نہیں۔

دیگر یہ کہ یہ الہام زوجیت کے متعلق ہے۔ نہ تو کسی خاندان کی اصلاح کے کت کے لئے ہے۔

تیسرے یہ کہ مرزا سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کی موت اصل مقصود نہیں ہے۔ ہونا مرزا قادیانی کے نکاح کے لئے رکاوٹ تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے مقصود بر آنے کی نسبت کہا کہ وہ اڑھائی سال تک مر جائے گا اور اس کے رح میں آئے گی۔ پس اصل مقصود نکاح تھا اور اس کے شوہر کی موت ایک دا کی قدرت وہ فروعی بات بھی پوری نہ ہوئی اور مرزا کی حالت یہ ہو گئی۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

ہوئی جھوٹی نکلی اور قادیانی عبدالرحمان نے یہ جو فرمایا ہے کہ اشتہار ١٥ جولائی پایا گیا ہے کہ ایک تو بہ نہ کرے گا تو مر جائے گا اور دوسرا توبہ کرے گا اور وہ بچ

١٢

جائے گا۔ اس کے چھ ماہ بعد احمد بیگ والد محمدی بیگم مر گیا اور سلطان محمد شوہر محمدی بیگم ڈر گیا تو اس لئے وہ بچ گیا۔ یہ سارا سلسلہ جھوٹ اور مغالطہ کا ہے۔ کیونکہ اول تو مرزا قادیانی کی تصریح کے موجب مرزا احمد بیگ کو سلطان احمد کی زندگی میں مرنا نہیں چاہئے تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ احمد بیگ کی موت آخری مصیبت ہو گی ۔ چنانچہ (آئینہ کمالات ص ٥٧٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً ) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔” فاوحی اللہ الی ان اخطب صبية الكبيرة لنفسك“ یعنی خدا نے مجھے وحی کی کہ احمد بیگ سے اس کی بڑی لڑکی کا رشتہ اپنے لئے طلب کر۔ اس کے تھوڑا بعد فرماتے ہیں ۔ ” وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنی ان انكاحها رجلا آخر لا يبارك لها ولا لك فان لم تزوج فيصب عليك مصائب وآخر المصائب موتك“ (ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) یعنی مجھے خدا نے یہ فرمایا کہ احمد بیگ سے یہ بھی کہہ دے کہ اگر تو نے میرے اس سوال رشتہ کو قبول نہ کیا تو جان لے کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ اس لڑکی کو دوسرے شخص کا نکاح کرنا اس لڑکی کے لئے بھی اور تیرے لئے بھی موجب برکت نہ ہوگا ۔ پس اگر تو اس ڈانٹ سے نہ ڈرا تو تجھ پر کئی ایک مصیبتیں برسیں گی اور سب سے آخری مصیبت تیری موت ہوگی ۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ سلطان محمد اور محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق سلسلۂ مصائب کی آخری کڑی محمدی بیگم کے باپ احمد بیگ کی موت ہے۔

علاوہ اس تصریح کے ایک زبردست قرینہ بھی اس کی تائید میں ہے کہ مرزا قادیانی احمد بیگ کی موت کی غایت تین سال مقرر کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ڈھائی سال تین سال سے پہلے گزرتے ہیں۔ پس مرزا احمد بیگ کی موت اس کے داماد کی موت کے بعد ہونی چاہئے تھی۔ جو اس طرح نہیں ہوئی ۔ اس لئے پیش گوئی کی یہ جز و بھی جھوٹی نکلی ۔

باقی رہا سلطان احمد کا ڈرنا اور تو بہ کرنا یہ بھی محض مصنوعی بات ہے۔ نہ وہ ڈرا نہ اس نے توبہ کی اس کے لئے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا قصور کیا تھا۔ جس سے اسے توبہ کرنی چاہئے تھی۔

سو یہ بات ہم اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی کے الفاظ میں بتاتے ہیں۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ پیش گوئی کو سن کر پھر نکاح کرنے پر راضی ہوئے ۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار حاشیہ ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ محمدی بیگم کے خاوند اور احمد بیگ کے داماد یعنی سلطان محمد

١٣

صفحہ ١٢٠

کا قصور محمدی بیگم سے نکاح کرنا تھا اور بس۔

اب ہم مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ توبہ کسے کہتے ہیں مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”مثلاً اگر کافر ہے تو سچا مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے تو سچ مچ اس جرم سے دست بردار ہو جائے۔“

(اشتہار ٦؍ستمبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٧)

اس کے رو سے سلطان محمد کی توبہ یہ تھی کہ نکاح کرنے کے بعد اور اپنے خسر کی بے وقت موت سے متاثر ہو کر محمدی بیگم کو طلاق دے دیتا۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ نکاح سے پہلے نہ ڈرنا تو مرزا قادیانی کی تحریر مذکورہ بالا سے بھی ثابت ہے اور نکاح سے بعد نہ ڈرنا محتاج دلیل نہیں۔ کیونکہ یوم نکاح ١٨٩٢ء سے آج ٣؍جون ١٩٣٣ء تک چالیس سال سے زائد عرصہ سے وہ اس عورت پر قابض ومتصرف ہے اور خدا نے اسے اسی محمدی بیگم کے بطن مبارک سے مرزا قادیانی کی تحریر کے خلاف ایک درجن کے قریب اولاد بھی بخشی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ اس سے دوسرے شخص کا نکاح کرنا اس لڑکی کے لئے بابرکت نہ ہوگا۔ پس پیش گوئی کی یہ جزو بھی جھوٹی نکلی۔

محمدی بیگم کا خاوند ایک مرفه الحال رئیس ہے۔ معقول پنشن لیتا ہے۔ اسے مرزا قادیانی کے خدا وندان نعمت سے باوجو د ان کے رقیب ہونے کے مربے بھی عطاء ہوئے ہیں۔ بعض فرزند بھی معقول روزگار پر ہیں۔ غرض یہ نکاح اس کے لئے بہت بابرکت ہوا ہے اور مرزا سلطان محمد مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام بستر عیش کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ لیکن ہمارے قادیانی دوست نہایت بھولے بن کر یا دنیا جہاں کے لوگوں کی نظر میں خاک ڈال کر اور ان کو بے عقل جان کر یہی ہانکے جارہے ہیں کہ مرزا سلطان محمد تائب ہو گیا۔ اس لئے وہ بچ گیا۔ جناب! اس کا گناہ کیا تھا اور اس کی توبہ کیا چاہئے تھی۔ کیا اس نے اس گناہ سے توبہ کی اس کا قصور یہی تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے بستر عیش کی خواہش وتمنا کے پورا ہونے میں حائل تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنے اس شوق وسوزش قلبی کو اور محمدی بیگم کی حالت وقامت کو ان الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ ”وكانت بنته هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذ جاوزت الخمسين“ (آئینہ کمالات ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”یعنی احمد بیگ کی یہ بیٹی جس کا رشتہ مانگا گیا تھا۔ نوعمر کنواری لڑکی تھی اور میں اس وقت پچاس سال سے اوپر تھا۔“ پس سلطان محمد نے بوجہ ایک غیرت مند مسلمان ہونے کے مرزا قادیانی کے بستر عیش کی خواہش کو پورا ہونے نہیں دیا اور اس نے برتاوے اور فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ مرزا قادیانی کے اس الہام کو ایک زٹل بلکہ نفسانی ہوس جانتا ہے۔ تو اس کے اس قول کو کہ مرزا قادیانی کو ایک خادم اسلام جانتا ہوں، توبہ کی سند بنانے سے شرم کرنی چاہئے۔

١٤

صفحہ ١٢١

مدار کار تو محمدی بیگم کا نکاح ہے۔ نہ کہ خدمت اسلام وغیرہ ۔ دیگر کاموں کے متعلق رائے زنی ۔ اگر مرزا قادیانی کی غایت تمنا نکاح نہ تھی ۔ تو الہام بستر عیش کے کیا معنے اور اس کا شان نزول اور محل وقوع بتایا جائے کہ کیا ہے؟۔

نوٹ: مرزائی مناظر نے باوجود بار بار کے مطالبہ کے اس الہام ’’بستر عیش‘‘ (تذکرہ ص ٤٩٩) کا اخیر وقت تک کچھ بھی جواب نہ دیا۔

دیگر یہ کہ یہ تو بالکل ظاہر ہے کہ مرزا سلطان محمد مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح میں ایک بھاری روک تھا۔ پس بموجب الہام کے اس کا مرنا ضروری تھا اور محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا بھی ضروری تھا۔ خواہ وہ توبہ کرتا یا نہ کرتا۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ مرزا قادیانی کا اپنے چچا زاد بھائیوں سے ایک دیوار کے متعلق مقدمہ تھا۔ جس میں انہوں نے مرزا قادیانی پر چند سوالات کئے۔ جن کے جواب میں مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفی بیان دیا۔ از انجملہ ایک امر یہ ہے۔ ”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے۔ وہ مرزا امام دین کی ہمشیرہ زادی ہے۔ جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے۔ وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیش گوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ تھی ۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جزو پوری ہوگئی ۔ اس کا خوف اس کے دوسرے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا۔ جو پیش گوئی کا ایک جزو تھا۔ انہوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خدا نے اس کو مہلت دی ۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں ۔ ہو کر رہیں گی ۔“

(اخبار الحکم قادیان ١٠؍ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ کالم ٣، کتاب منظور الٰہی ص ٢٤٤، ٢٤٥)

یہ عبارت مرزا قادیانی کے حلفی بیان کی ہے۔ جو انہوں نے عدالت میں دیا۔ مرزا قادیانی نے اس میں اپنا دعویٰ اور مدعا کمال وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ اس کے برخلاف

١٥

صفحہ ١٢٢

قادیانی عبدالرحمن یا کسی دیگر شخص کا کوئی حق نہیں کہ مرزا قادیانی کے مدعا کی تصریح کے خلاف کوئی اور تاویل کر کے مرزا قادیانی کے بیان اور مدعا کو بدل ڈالیں۔ اس حلفی بیان سے دو خاص باتیں جو اس وقت زیر نزاع ہیں۔ صاف ثابت ہیں۔

اول یہ کہ مرزا قادیانی پیش گوئی کو نکاح ہو جانے کی صورت میں پورا سمجھتے ہیں۔ دیگر یہ کہ مرزا سلطان محمد صاحب کے توبہ کرنے کے بعد بھی مرزا قادیانی محمدی بیگم سے نکاح کا ہو جانا ضروری اور یقینی امر فرمارہے ہیں۔ پس قادیانی عبدالرحمن کی تاویل و توجیہ ایسی ہے۔ جو مدعی کے بیان کے خلاف ہے۔ لہذا قابل سماعت نہیں۔

اس کے علاوہ خود مرزا قادیانی اسی نکاح کی نسبت ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: ”مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاما بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آوے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

اس حوالہ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ سب رکاوٹیں دور ہو کر آخر کار یہ نکاح ضرور ہو جائے گا اور ہم کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں اور ظاہر بھی ہے کہ سب سے بڑی روک مرزا سلطان محمد کا نکاح تھا۔ پس مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ یہ روک بھی دور ہو کر آخر کار مجھ سے اس کا نکاح ہو جائے گا۔

لہٰذا عبدالرحمن قادیانی کے سب عذرات مرزا قادیانی کی اپنی تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول و سماعت ہیں۔ ان کے علاوہ اور حوالے بھی بکثرت ہیں۔ لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں اور عبدالرحمن قادیانی کا یہ کہنا کہ توبی توبہ کی شرط تھی۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٦٢)

اول تو یہ کہ الہام حسب تحریر مرزا قادیانی محمدی بیگم کی نانی کے متعلق ہے اور توبی توبی صیغہ مونث کا بھی گواہی دے رہا ہے کہ یہ کسی عورت کے متعلق ہے اور سلطان محمد شوہر محمدی بیگم مرد ہے نہ کہ عورت۔ دیگر یہ کہ محمدی بیگم کی نانی کی توبہ بھی یہی ہونی چاہئے تھی کہ وہ اپنی نواسی مرزا قادیانی کو دینے کی سفارش کرتیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ باکرہ ہونے کی صورت میں بھی آ سکتی ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی چھوٹی بہو عزت بی بی سے جو خط اس کے باپ مرزا علی شیر بیگ کو لکھوائے اور خود بھی لکھے۔ ان سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی محمدی

١٦

صفحہ ١٢٣

بیگم کے کنواری ہونے کی حالت میں بھی نکاح کی کوشش کرتے رہے۔ پس محمدی بیگم کی نانی نے باوجود اس دھمکی کے کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی نواسی مرزا قادیانی کی خواہش کے خلاف سلطان محمد سے بیاہ دی اور اس کی نواسی محمدی بیگم پر کوئی بھی بلا نہ آئی۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا۔

اور عبدالرحمان قادیانی کا یہ کہنا کہ تقدیر مبرم ٹل سکتی ہے اور اس کی تائید میں دعا اور صدقات کا ذکر کیا۔ تو یہ سب مغالطے ہیں۔ اگر ہر تقدیر مبرم یا غیر مبرم دعا اور صدقات سے ٹل سکتی ہے۔ تو پھر مبرم اور غیر مبرم میں تمیز نہ رہی اور تقسیم بے کار ہوئی۔ ان احادیث کا صحیح مفہوم جو سب احادیث کو اور نفس مسئلہ کو ملحوظ رکھ کر ہے یہی ہے کہ دعا اور صدقات سے وہی امور ٹلتے ہیں۔ جو ان سے متعلق ہوں اور یہ سب کچھ خدا کے علم میں پہلے ہی ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کا یہ نکاح اور سلطان محمد کی موت ایسے امر ہیں کہ کسی صورت میں بھی نہیں ٹل سکتے تھے۔ ملاحظہ ہوں۔ حوالہ جات ذیل مرزا قادیانی رسالہ انجام آتھم میں فرماتے ہیں:

”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ)

نیز اس کتاب میں فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

اور مرزا قادیانی تقدیر مبرم کے نہ ٹلنے کی بابت فرماتے ہیں: ”یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات الله یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کی قدر نہ کیا۔ جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی۔ تو وہ اپنی کلام پاک کی پیش گوئی پوری کرنے کے لئے متوجہ ہوگا اور اسی طرح کرے گا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر نہیں ٹلتی اور میرے آگے کوئی انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔“

(اشتہار مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

١٧

صفحہ ١٢٤

اس بیان سے واضح ہوگیا کہ خود مرزا قادیانی کے نزدیک تقدیر مبرم اٹل ہے۔ اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہو جاتا ہے۔

عبدالرحمان قادیانی نے اپنے بیان میں نہایت صفائی سے اقرار کیا ہے اور اس اقرار میں ہم ان کی داد دیتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح کی ہر دو تقدیریں ٹل گئیں۔ اب نتیجہ صاف ہے کہ یہ پیش گوئیاں خدا کی طرف سے نہیں تھیں۔ کیونکہ بموجب مرزا قادیانی کے قول کے خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور جب ٹل گئیں تو لا محالہ ماننا پڑے گا کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تھیں۔ و ھذا ھو المراد!

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

عبدالرحمان قادیانی کا حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل جانے کو سلطان محمد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح کے ٹل جانے کی نظیر میں پیش کرنا بھی سراسر مغالطہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی مذکور نہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو خدا تعالیٰ کی وحی سے عذاب کی خبر سنائی تھی۔ تو وہ عذاب ٹل گیا۔ مرزا قادیانی نے بھی حقیقت الوحی میں لکھا ہے: ”کیا یونس کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

مرزا قادیانی کی بھی یہ تحریر بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ یہ لوگ اسی استاد ازل (ابلیس) سے سن سنا کر لکیر کے فقیر کی طرح ہانک دیتے ہیں اور اپنے علم اور ایمان سے کام نہیں لیتے۔

در پس آئینہ طوطی صفتم داشتہ اند
ہر چہ استاد ازل گفت ہماں میگوئم

جو کچھ مرزا قادیانی نے لکھا ہے اور اس کی پیروی میں عبدالرحمٰن قادیانی نے کیا ہے وہ کسی آیت و حدیث صحیح میں وارد نہیں ہوا۔ یہ سراسر بہتان ہے۔ اگر ہمت ہے تو وہ کوئی آیت یا حدیث پیش کریں۔ جس میں یہ مذکور ہو کہ حضرت یونس علیہ السلام نے خدا سے وحی پا کر کوئی پیش گوئی عذاب کی کی تھی۔ یا یہ مذکور ہو کہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا تھا۔ یا چالیس دن کی میعاد مذکور ہو۔ یہ سب کذب وافتراء ہے۔

نوٹ: اس کا جواب مرزائی مناظر نے اخیر تک کچھ نہ دیا۔ مرتب

١٨

صفحہ ١٢٥

سے واضح ہو گیا کہ خود مرزا قادیانی کے نزدیک تقدیر مبرم اٹل ہے۔ اگر ٹل ہو جاتا ہے۔

قادیانی نے اپنے بیان میں نہایت صفائی سے اقرار کیا ہے اور اس اقرار ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح کی ہر دو تقدیریں ف ہے کہ یہ پیش گوئیاں خدا کی طرف سے نہیں تھیں۔ کیونکہ بموجب ء خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور جب ٹل گئیں تو لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ خدا ۔ وهذا هو المراد!

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

قادیانی کا حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل جانے کو سلطان کے نکاح کے ٹل جانے کی نظیر میں پیش کرنا بھی سراسر مغالطہ ہے۔ قرآن ور نہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو خدا تعالیٰ کی وحی سے عذاب کی یہ ٹل گیا۔ مرزا قادیانی نے بھی حقیقت الوحی میں لکھا ہے: ’’کیا یونس کی سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ پر عذاب نازل ہوگا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

کی بھی یہ تحریر بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ یہ لوگ اسی استاد ازل رکے فقیر کی طرح ہانک دیتے ہیں اور اپنے علم اور ایمان سے کام نہیں لیتے۔

پشت آئینہ طوطی صفتم داشته اند
ہرچہ استاد ازل گفت ہماں میگوئم

دیانی نے لکھا ہے اور اس کی پیروی میں عبدالرحمن قادیانی نے کیا ہے وہ میں وارد نہیں ہوا۔ یہ سراسر بہتان ہے۔ اگر ہمت ہے تو وہ کوئی آیت یا ، میں یہ مذکور ہو کہ حضرت یونس علیہ السلام نے خدا سے وحی پا کر کوئی پیش ، یہ مذکور ہو کہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا تھا۔ یا چالیس دن کی میعاد مذکور ہو۔ یہ

جواب مرزائی مناظر نے اخیر تک کچھ نہ دیا۔ مرتب

١٨

اور عبدالرحمان قادیانی اپنی تہذیب کے ثبوت میں بار بار جو عطر افشانی کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ چند احمد بیگی کتے بھونکتے رہیں گے۔ ترکیب احمد بیگی موزوں نہیں ہے۔ مرکبات میں نسبت کی ی لگائیں تو ایک جزو حذف کر دی جاتی ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی کا نام نامی تھا۔ غلام احمد تو اپنی جماعت و امت کی نسبت کے وقت انہوں نے ان کا نام احمدی رکھا۔ اس لئے اگر احمد بیگی کتوں کی بجائے یوں کہا جائے کہ سلطان احمد جیتا رہے گا اور مرزا غلام احمد مر جائے گا اور محمدی بیگم مرزا جی کے نکاح میں نہیں آئے گی اور ان کے بعد چند احمدی کتے بھونکتے رہیں گے تو نہایت موزوں فصیح اور مطابق واقعہ ہوگا۔

نوٹ : اس وقت مرزائیوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔

الغرض میں نے عبدالرحمان قادیانی کے سب عذرات کو الگ الگ کر کے ان کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور میرے مطالبات کے جواب میں ان کی زبان بالکل بند پڑ گئی ہے اور اب وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں۔ سعدی مرحوم نے سچ کہا ہے ؎

چو حجت نماند جفا جوئے را
بہ پرخاش درہم نہد روئے را

نوٹ : خلیفہ قادیان مرزا محمود بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔ ’’جب انسان دلائل سے شکست کھا کر ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کرتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص ١٥)

اب فیصلہ پبلک کے ہاتھ میں ہے۔

نوٹ: حاضرین ہزارہا کی تعداد میں تھے۔ سب نے نعرہ تکبیر پکارا اور اسلام کی فتح منائی۔ مرزائی اپنی سٹیج کے ایک کونے میں سمٹ گئے۔ آنکھیں نیچے تھیں۔ چہروں پر شرمندگی کے نشان نمایاں تھے۔

تمام مسلمان خوش و خرم قلعہ سے واپس آئے اور سارے شہر میں مرزائیوں کی رسوائی کا جابجا چرچا ہونے لگا۔

فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمدلله رب العلمين ٩ / جولائی ١٩٣٣ء

١؎ میں اس اجلاس میں موجود تھا جو حالت اس وقت احمدی مبلغوں کی تھی۔ اگر خلیفہ قادیانی اس کو معائنہ فرماتے تو عمر بھر اس کا نقشہ ان کے سامنے رہتا۔

صفحہ ١٢٦

پہلے روز کا دوسرا مناظرہ ٥ بجے شام سے ٧ بجے تک مبحث ....... حیات حضرت مسیح علیہ السلام مدعی ....... اہل حدیث

مسلمان

صدر ....... شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر مناظر ....... جناب مولانا مولوی حافظ ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی

قادیانی

صدر ....... مولوی مناظر ....... مولوی علی محمد قادیانی

تقریر مولانا سیالکوٹی

حمد وصلوٰۃ اور اعوذ کے بعد مولانا صاحب نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔

اما بعد ! حضرات !! ہمارا دعوٰی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت تک زندہ ہیں اور اسی امر کو ثابت کرنے کے لئے خاکسار اس وقت آپ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ جو آیت میں نے خطبہ میں پڑھی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول پاک کسی امر کا فیصلہ فرما دیوے تو کسی مسلمان مرد یا عورت کو کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور جو کوئی خدا اور رسول کے فیصلے سے انحراف کرے وہ صریح گمراہی میں پڑچکا۔ (احزاب: ٣٦)

اس آیت کے رو سے میں قرآن وحدیث سے اپنے فرض یعنی اثبات حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کرتا ہوں۔ جس کے بعد کسی مسلمان مرد یا عورت کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہنی چاہئے اور اگر کسی کے دل میں اس کے بعد بھی کوئی تردد باقی رہ جائے تو اس کے ایمان کی خیر نہیں۔

حضرات ! مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر (مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عيسى عليه السلام کتاب الوفاء ص ٨٣٢، باب فی حشر عیسیٰ بن مریم مع نبینا) " ﴿حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔

صفحہ ١٢٦

پہلے روز کا دوسرا مناظرہ

٥ بجے شام سے ٧ بجے تک

حیات حضرت مسیح علیہ السلام مدعی ....... اہل حدیث شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر جناب مولانا مولوی حافظ ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی مدعا علیہ مولوی علی محمد قادیانی

(اعوذ کے بعد مولانا صاحب نے حسب ذیل تقریر فرمائی ۔)

حضرات!! ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت تک زندہ ہیں کے لئے خاکسار اس وقت آپ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ جو آیت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول پاک کسی امر کا فیصلہ مرد یا عورت کو کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور جو کوئی خدا اور رسول کے فیصلے ح گمراہی میں پڑچکا۔ (احزاب: ٣٦) رو سے میں قرآن وحدیث سے اپنے فرض یعنی اثبات حیات حضرت عیسیٰ ں۔ جس کے بعد کسی مسلمان مرد یا عورت کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی میں اس کے بعد بھی کوئی تردد باقی رہ جائے تو اس کے ایمان کی خیر نہیں۔ لوۃ شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً موت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى بكر وعمر (مشكوة ص٤٨٠ ، باب نزول عيسى عليه السلام ، باب فى حشر عيسى بن مريم مع نبينا) ’’ حضرت عیسیٰ بن مریم ح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔

٢٠

١٢٧

پھر فوت ہوں گے پس میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور عیسیٰ بن مریم ایک ہی قبر سے اٹھیں گے، درمیان ابی بکر اور عمر کے۔﴾

اس حدیث میں چند باتیں میرے استدلال کی ہیں:

جب کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص لاہور جائے گا تو اس وقت وہ شخص لاہور میں وارد شدہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو معلوم ہوا کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نہیں تھے۔ نیز یہ کہ آپ اس کے بعد اتریں گے اور یہ مضمون مستلزم ہے آپ کی حیات کو۔

پینتالیس سال دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔ جیسا کہ ثم یموت سے ظاہر ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو ابھی اترے ہیں اور نہ ان کو پینتالیس سال گزرے ہیں۔ اس لئے فوت بھی نہیں ہوئے۔ اس سے آپ کی حیات بالکل صفائی سے ظاہر ہے۔

کریں گے اور آپ کی اولاد بھی ہوگی ۔ جناب مرزا قادیانی آنجہانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ ) پر محترمہ محمدی بیگم کے نکاح کے ذکر میں اسی حدیث کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جس نکاح کا ذکر ہے۔ اس سے یہی محمدی بیگم کا نکاح مراد ہے۔ جو میرے ساتھ ہوگا۔ اور اس سے میری اولاد بھی ہوگی۔

چونکہ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ اس لئے یہ حدیث اس کے نزدیک صحیح ثابت ہوئی۔ پس میرے مد مقابل علی محمد قادیانی اس کی تسلیم سے سر نہیں پھیر سکتے۔

کے ساتھ آپ ﷺ کے روضہ اقدس میں دفن کئے جائیں گے۔ جیسا فیدفن معى فى قبرى سے ظاہر ہے۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں شخص کے پاس دفن کرو۔ تو جس کے پاس دفن کرنے کو کہا جاتا ہے وہ شخص پہلے فوت شدہ ہوتا ہے اور جس شخص کو کسی کے پاس دفن کرنے کو کہا جاتا ہے وہ اس کے پیچھے فوت ہوتا ہے۔ پس جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس دفن کئے جائیں گے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پہلے فوت

٢١

صفحہ ١٢٨

ہونے والے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپﷺ کے بعد اور یہ بھی معلوم ہے کہ آنحضرتﷺ نے یہ حدیث اپنی دنیوی حیات طیبہ میں فرمائی تھی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتﷺ کی زندگی تک تو فوت شدہ نہ ہوئے۔ بلکہ زندہ ثابت ہوئے اور یہی مراد ہے۔

ابو مودودؒ کی شہادت موجود ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج١٠ ص٢٣٣) جو صلحاء و فضلائے مدینہ شریف میں سے تھے کہ روضہ اطہر میں ابھی تک ایک قبر کی جگہ باقی موجود ہے اور یہ خاکسار بھی بچشم خود اس زمانے میں بھی دیکھ آیا ہے اور جو لوگ زیارت مدینہ منورہ سے مشرف ہوچکے ہوں وہ شہادت دے سکتے ہیں۔ چنانچہ حاضرین میں سے جو اس شرف سے مشرف تھے۔ انہوں نے شہادت دی کہ واقعی ابھی ایک قبر کی جگہ باقی موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مشہور ہے۔

اسی طرح خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے ذکر کے بعد فرمایا:

”وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیھم شہیداً (النساء: ١٥٩)“ ﴿اور نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب (یہود) میں سے مگر ایمان لے آئے گا۔ اس (عیسیٰ علیہ السلام) پر پہلے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کی موت کے اور دن قیامت کے ہوگا وہ (عیسیٰ علیہ السلام) اوپر ان کے گواہ۔﴾

حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”ونباشد ہیچ کس از اھل کتاب الا البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام و روز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ بر ایشان“

اور اس کے حاشیے میں فرماتے ہیں: ”یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ علیہ السلام را البتہ ایمان آرند“

حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے ترجمہ اور حاشیہ میں چند باتیں قابل توضیح ہیں۔ جن پر میرے استدلال کی بنا ہے۔

پھرتی ہے۔

کے نزول کے وقت حاضر ہوں گے۔

٢٢

صفحہ ١٢٩

چہارم ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان یہود کی بابت جو آپ کے نزول کے وقت آپ کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ قیامت کے دن گواہی دیں گے کہ یہ ایمان لائے تھے۔

حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہوا کہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں نازل ہوں گے اور آپ کی موت سے پیشتر سب یہود جو اس وقت حاضر ہوں گے۔ آپ کی رسالت پر ایمان لے آئیں گے؟۔

چونکہ ابھی تک عیسیٰ علیہ السلام نہ تو نازل ہوئے ہیں اور نہ سب یہود آپ کی رسالت پر ایمان لائے ہیں۔ اس لئے آپ کی وفات بھی واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس آیت میں صریح طور پر آپ کی موت سے پہلے ان امور کا واقع ہونا مذکور ہے۔

اس آیت کا جو ترجمہ اور تفسیر میں نے اختیار کیا ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے ترجمہ اور حاشیہ سے اس کی تائید و شہادت پیش کی ہے۔ جناب مرزا قادیانی آنجہانی اپنے دعویٰ مسیحیت سے پیشتر یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر دوبارہ زمین پر آئیں گے اور اس آیت کا ترجمہ بھی وہی کرتے ہیں۔ جو ہم نے کیا۔ چنانچہ آپ ضمیمہ انجام آتھم میں اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں اور ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ کو قرار دیتے ہیں ۔

(ازالہ اوہام ص ٣٧٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠)

اور ان کے پہلے خلیفہ اور ان کی جماعت میں علم وفضل میں سب سے بڑھ کر جناب حکیم نور دین صاحب بھیروی اپنی کتاب (فصل الخطاب ج ٢ ص ٧٢ حاشیہ ) میں جو انہوں نے عیسائیوں کے جواب میں بطور حجت قاطعہ اور فیصلہ کن دلیل کے لکھی تھی۔ اس میں اس آیت کا ترجمہ ہمارے موافق کرتے ہیں ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ اس دنیا میں آنے کی بابت جناب مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز الہامی کتاب براہین احمدیہ کے حاشیے میں فرماتے ہیں۔

”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا ۔“

(ص ٤٩٨ ، ٤٩٩ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٩٣)

٢٣

صفحہ ١٣٠

مرزا قادیانی کی یہ تحریر محتاج تشریح نہیں۔ آپ صریح الفاظ میں حضرت مسیح کی آمد ثانی کا اقرار کر رہے ہیں اور وہ بھی محض خیال اور رسمی عقیدے کی بناء پر نہیں بلکہ قرآن شریف کی آیت سے تمسک کر کے اقرار کرتے ہیں۔

اس کی مزید وضاحت کے لئے (براہین احمدیہ ص ٥٠٥ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج١ ص ٦٠١) کا یہی حاشیہ ملاحظہ ہو۔ جہاں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“

لطف یہ کہ اسے بھی الہام عسی ربکم ان یرحم ١؎ علیکم وان عدتم عدنا کے ماتحت لکھتے ہیں: ”اس کتاب براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت مرزا قادیانی، صاحب الہامات تھے بلکہ اس کتاب کی نسبت وہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب آنحضرت ﷺ کے دربار میں بھی پیش ہوکر وہاں سے منظور ہوچکی ہے اور اس کا نام اس عالم رؤیا میں قطبی رکھا تھا۔ اس مناسبت سے کہ یہ کتاب قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔“

( براہین احمدیہ ص ٢٤٨، ٢٤٩ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٢٧٥)

نیز مولوی نورالدین قادیانی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے قائل تھے۔

(دیکھو فصل الخطاب حصہ دوم ص ٧٢)

نوٹ: مولانا کی اس تقریر سے حاضرین پر مسرت کا ایک سماں بندھ رہا تھا اور ایک ایک وجہ استدلال پر قربان ہو رہے تھے۔

جواب از جانب مولوی علی محمد قادیانی

مولوی علی محمد قادیانی نے پہلے سورہ مائدہ کی آیت وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئی شهید پڑھی اور پھر بغیر اس آیت کے متعلق کچھ ذکر کرنے کے فرمانے لگے کہ مولانا صاحب ( سیالکوٹی ) میرے مطالبات کا جواب دیں اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مولانا صاحب ہرگز جواب نہ دے سکیں گے۔ ( جل جلالہ )

١؎ مرزا قادیانی کا یہ الہام قرآن مجید کی ایک آیت کو بگاڑ کر بنایا گیا ہے۔ قرآن شریف میں یوں ہے۔ عسٰی ربکم ان یرحمکم (بنی اسرائیل: ٨) رحم یرحم مجرد فعل کا صلہ نہیں آیا کرتا۔

٢٤

صفحہ ١٣١

فوت شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا۔ اگر وہ فوت شدہ نہیں تھے تو ان کے ساتھ کیسے ہوئے؟۔

تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے خدا مانو تو وہ کہیں گے میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا۔ جب تک میں زندہ رہا۔ تب تک ان پر شاہد رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو پھر مجھے خبر نہیں۔ لہٰذا وہ فوت ہو گئے۔

تشریف لائیں گے تو کون سے کام کریں گے۔ اگر انہوں نے آنا ہے تو جس طرح ان کی گذشتہ زندگی کے واقعات مندرج ہیں۔ آئندہ زندگی کے کام کیوں تحریر نہیں کئے۔

کس طرح تمام لوگ ان کے تابع ہو جائیں گے۔

جائے گی۔ پھر وہ سب کس طرح ایمان لے آئیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت کے مقبرہ میں دفن ہونا صحیح ہے تو حضرت عائشہ کو تین چاند کیوں دکھائے گئے۔ پھر تو چار دکھائے جانے چاہئیں تھے۔ نیز مولانا صاحب قبر کے معنے مقبرہ کسی معتبر سند سے دکھائیں۔

یہ وہ مطالبات ہیں۔ جن کے جواب مولانا صاحب ہرگز نہیں دے سکیں گے اور مولانا نے ینزل الی الارض سے جو استدلال کیا ہے وہ بھی درست نہیں کہ بلعم باعور کی نسبت قرآن میں وارد ہے ۔ولکنه اخلد الی الارض تو کیا وہ بھی زمین پر نہ تھا۔ ماسوا ان کے قرآن شریف کی کئی آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

الف لام استغراق کے لئے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سب رسول جو آنحضرت ﷺ سے پہلے تھے مر گئے۔ انہی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔

فوت کر لوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا۔ ٢٥

صفحہ ١٣٢

ہم نے زمین کافی زندوں کے لئے اور مردوں کے لئے۔ (توجہ دلانے پر پھر کہا سمیٹنے والی)

آسمان پر چڑھالیا۔

وسعہما الا اتباعی' ١؎

کے بعد وہ عقیدہ منسوخ ہوگیا۔ جس طرح آنحضرت ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن جب وحی آگئی تو بیت اللہ کی طرف پڑھنے لگے۔

اور مرزا قادیانی الہام کے بعد بھی جو بارہ برس تک حیات مسیح کو مانتے رہے تو رسمی عقیدے سے مانتے رہے اور یہ سمجھ کی غلطی تھی اور ملہم الہام کے سمجھنے میں غلطی کرسکتا ہے۔

نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے یونس بن متی پر بھی فضیلت نہ دو اور یہ بھی فرمایا کہ میں تمام نبیوں سے افضل ہوں۔ پس جب آپ کو وحی ہوئی تو آپ نے فضیلت کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح جب حضرت مرزا قادیانی کو الہام ہوا تو انہوں نے بھی دعویٰ کردیا۔

میرا حق نقض کا بھی ہے اور منع کا بھی۔

جواب الجواب از جانب مولانا محمد ابراہیم میر صاحب سیالکوٹی

نوٹ : چونکہ قادیانی مولوی صاحب نے اپنے جواب میں اصل مبحث سے تجاوز کر کے اور قواعد مناظرہ کی خلاف ورزی کر کے کئی ایک باتیں زائد کہہ دیں۔ جو ان کا حق نہیں تھا۔ اس لئے ہمیں ان کی بے قاعدگی دکھانے اور زائد از مبحث مقرر باتوں کا جواب جو مولانا ابراہیم نے دیا تھا۔ اپنے ناظرین تک پہنچانے کے لئے جواب الجواب کے الگ نقل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ (مرتب)

١؎ مولوی علی محمد قادیانی نے اسی حدیث کا حوالہ پہلے فقہ اکبر اور پھر شرح فقہ اکبر میں بتایا تھا۔ جس میں حضرت موسیٰ وعیسیٰ دونوں کا ذکر ہے اور اکیلے حضرت عیسیٰ کی بابت جو روایت شرح فقہ اکبر میں ہے۔ اس کی ضعف کا اشارہ خود اسی کتاب میں موجود ہے۔

٢٦

صفحہ ١٣٣

حضرت مولانا مدظلہ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا۔

مولوی علی محمد قادیانی نے اس جواب میں کئی ایک باتیں بے قاعدہ اور کئی ایک اصل مبحث سے زائد کہی ہیں۔ جو ان کی نو آموزی کی دلیل ہے۔

ابھی دلربائی کے انداز سیکھو
کہ آساں نہیں دل لبھانا کسی کا

قادیانی حضرات نے احمدیہ ڈائری کے اندراجات رٹے ہوئے ہیں اور ان کے معلومات اس سے پرے نہیں ہوتے اور میرے استدلال کے جوابات اس میں درج نہیں ہیں۔ اس لئے میرے مدمقابل مولوی علی محمد قادیانی نے ادھر ادھر کی باتیں کر کے اپنے وقت کو پورا کرنا چاہا اور میرے بیان کردہ دلائل کا کچھ بھی جواب نہیں دے سکے اور اس پر بھی تعلی سے کہتے ہیں کہ مولانا میرے مطالبات کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اجی ! آپ کو کیا معلوم کہ میں کیا کیا جواب دوں گا۔ اب تفصیلاً سنتے جائیے اور جواب الجواب کے لئے احمدیہ ڈائری کے ورق الٹتے جائیے۔

تفصیلاً معروض ہے کہ اصل مبحث ہے۔ حیات حضرت مسیح دیکھئے (کاغذ شرائط نامہ) اور اس کا مدعی میں ہوں۔ پس میں نے جو دلائل حیات حضرت مسیح کے ذکر کئے ہیں۔ مولوی علی محمد قادیانی کا فرض ہے کہ اس پر بشہادت دلائل جرح کریں۔ اسے اصطلاح میں نقض کہتے ہیں

یا اگر میں نے کوئی حوالہ غلط پیش کیا ہے تو مجھ سے اس کی صحت طلب کریں۔ اسے اصطلاح میں تصحیح کہتے ہیں۔ (دیکھو رشیدیہ ) اور اگر میں نے اپنے دعویٰ کی کسی جزو کو بھی بغیر دلیل کے چھوڑا ہے تو مجھ سے اس کی دلیل طلب کریں۔ اسے اصطلاح میں منع کہتے ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں نے کسی امر کو بغیر دلیل کے بیان نہیں کیا اور کوئی حوالہ غلط ذکر نہیں کیا اور مولوی قادیانی موصوف نے نہ تو میرے دلائل پر جرح کی ہے اور نہ میرے بیان کردہ حوالوں کی تصحیح کا سوال کیا ہے۔ گویا خاموشی سے انہیں تسلیم کرلیا ہے۔ اس پر بھی نہایت سادگی سے کہتے ہیں کہ میرا حق نقض کا بھی ہے اور منع کا بھی۔

یہ بھی ان کی ناواقفی کی دلیل ہے۔ لہٰذا ان کے جس قدر مطالبات ہیں سب بے کار ہیں۔

نیز یہ کہ مبحث وفات مسیح نہیں ہے اور نہ وہ اس کے مدعی ہیں کہ وہ وفات مسیح کے دلائل بیان کرسکیں۔ میں خدا کے فضل سے قاعدے اور قرینے سے چلتا ہوں۔ میری تقریر کا کوئی جز بھی بے قاعدہ اور خارج از مبحث نہیں ہے۔ مولوی قادیانی نے حدیث مشکوٰۃ کا اور آیت قرآن کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میرا استدلال حدیث میں سے لفظ ثم یموت سے تھا اور اس کی

٢٧

صفحہ ١٣٤

تصدیق میں قرآن شریف کے الفاظ قبل موتہ سے تھا۔ جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بلکہ میں نے مرزا قادیانی اور مولوی نور الدین قادیانی کی کتابوں سے دکھا دیا کہ وہ بھی اس آیت کے معنے وہی کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں اور ان معنوں کے رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی بالکل ظاہر ہے۔

مولوی علی محمد قادیانی کا یہ کہنا کہ عیسیٰ کا مع جسم کے آسمان پر جانا ثابت کریں۔ اصل بحث سے زائد ہے۔ کیونکہ بحث اثبات حیات ہے نہ اثبات رفع سماوی۔ لیکن یہ سوال چونکہ قادیانی مولوی کے منہ سے نکل گیا ہے اور پبلک کو اس سے دلچسپی ہے۔ اس لئے میں اس بات کو خدا کے فضل سے ثابت کرتا ہوں۔ دیکھئے جناب! کنز العمال میں ایک لمبی حدیث ہے۔ جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”فعند ذالك ينزل اخي عيسى بن مريم من السماء“ (برحاشیہ مسند امام احمد ج ٦ ص ٥٦ ، کنزالعمال ج ١٤ ص ٦١٩ ، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦) یعنی جب ایسے ایسے واقعات ہوں گے تو اس وقت میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے اترے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تبلیغ کے وقت زمین پر ہونا تو مسلمہ فریقین ہے۔ پس جب اس حدیث کے رو سے وہ دوبارہ آنے کے وقت آسمان سے اتریں گے تو معلوم ہوا کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔

نوٹ: اس پر حاضرین بہت محظوظ ہوئے اور عش عش کرنے لگے۔ (مرتب)

لیجئے اس پر مرزا قادیانی کے دستخط بھی کرادوں آپ براہین میں فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے“

(براہین حاشیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

دیگر یہ کہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٨١) میں فرماتے ہیں کہ: ”صحیح مسلم میں ہے کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو اس کا لباس زرد چادریں ہوں گی ۔“

(ازالہ ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

اسی طرح رسالہ تشحیذ الاذہان میں مرزا قادیانی کا قول ہے۔ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی کہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اسی طرح مجھے دو بیماریاں ہیں۔“

(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)

زرد لباس سے مراد اصل لباس ہو یا مرزا قادیانی والی بیماریاں ہوں۔ میرے مقصد سے باہر ہے۔ میرا استدلال ( الفاظ آسمان پر سے اترے گا ) سے ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ

٢٨

صفحہ ١٣٥

السلام کے آسمان سے اترنے کو مانتے رہے اور یہ آپ کے اس وقت کے مسلمات ہیں۔ جب آپ نے مثیل مسیح کا دعویٰ بھی کر دیا تھا۔

دوسرے انبیاء کے ساتھ دیکھا تو ثابت ہوا کہ وہ فوت شدہ ہیں۔ یہ استدلال درست نہیں۔ کیونکہ اس سے تو پھر یہ لازم آئے گا کہ اس وقت خود آنحضرت ﷺ بھی فوت شدہ ہوں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کو اس دنیوی زندگی میں جسمانی معراج ہوئی۔ پس جس طرح دوسرے انبیاء کی ملاقات کے وقت آنحضرت ﷺ زندہ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہیں اور اس کی نظیر حدیثوں میں آ چکی ہے۔

نوٹ: قادیانی مولوی نے اپنے وقت میں اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اخیر وقت تک پھر اس امر کو دہرا بھی نہ سکے۔

فلما توفیتنی اور اس سے ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت عیسیٰ فوت شدہ ہیں۔ سو یہ بھی درست نہیں۔ جملہ مفسرین اس جگہ توفیتنی کے معنی رفعتنی الی السماء لیتے ہیں۔ چنانچہ (تفسیر بیضاوی ج ١ ص ٢٥٣) میں ہے۔

’’ فلما توفیتنی بالرفع الی السماء...... والتوفّی اخذ الشئ وافیا‘‘ یعنی تو نے مجھے آسمان کی طرف اٹھا کر پورا پورا لے لیا اور توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔

اسی طرح تفسیر فیضی میں ہے جس کی زبان دانی تمام ہندوستان میں مسلم ہے۔ ’’اراد اعلاءہ مصاعد السماء‘‘ (سواطع الالہام ص ١٧٤، مطبع نولکشور لکھنؤ) یعنی اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی بلندیوں پر چڑھا لینا ہے۔

اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ’’پس وقتیکہ برگر فتی مرا۔‘‘ اس پر حاشیہ میں لکھتے ہیں ’’یعنی بر آسمان بردی مرا۔‘‘ یعنی مجھے تو آسمان پر لے گیا۔‘‘

اسی طرح دیگر تفاسیر معتبرہ میں بھی ہے۔ غرض سب مفسرین اس کے معنی آسمان پر اٹھانے کے کرتے چلے آئے ہیں۔ پس یہ تو ہمارے اثبات دعویٰ کی دلیل ہوئی نہ کہ ہمارے خلاف۔

جواباً معروض ہے کہ ہاں جناب جسم خاکی سے گئے۔ قرآن شریف کے سیاق کو دیکھئے کہ یہود نے کہا۔

٢٩

صفحہ ١٣٦

”اما قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله (نساء: ١٥٧)“ یعنی ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کر ڈالا۔ اور ظاہر ہے کہ قتل کے لائق یہی جسم خاکی ہوا کرتا ہے۔ روح کو نہ کوئی قتل کر سکتا ہے اور نہ وہ قابلِ قتل ہے اور یہودیوں کے اسی قول کی تردید میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (نساء: ١٥٧)“ یعنی یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے اسے اپنی طرف اوپر اٹھا لیا۔ اب سیاق کو ملحوظ رکھ کر ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب یہود کا دعویٰ قتلِ جسم کا تھا تو خدا تعالیٰ نے اس کی تردید کر کے جس چیز کو اوپر اٹھانے کا ذکر کیا ہے وہ جسم نہ ہوا تو کیا ہوا۔

نوٹ : اس پر حاضرین محظوظ ہوئے اور ہر طرف سے واہ واہ کی صدا بلند ہوئی۔

کام کریں گے۔ جناب من وہی کام کریں گے جو مرزا قادیانی نے براہین میں فرمایا ہے کہ : ”دینِ اسلام کو جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر غلبہ دیں گے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

نہ کہ مرزا قادیانی کی طرح گورنمنٹ کی خوشامد میں کیا مسلمانوں کو کیا ہندوستانیوں کو اور کیا دیگر ممالک والوں کو یہ وعظ کریں گے کہ تم سب اس محسن گورنمنٹ کے نمک خوار وفادار بنے رہو۔ جب کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتب تحفہ قیصریہ اور فریاد درد اور ضرورت الامام میں تصریحاً ارقام فرمایا ہے۔

نوٹ : اس کا جواب مولوی صاحب قادیانی نے کچھ نہ دیا اور نہ اخیر تک پھر اس کو دہرایا۔

یہودیوں میں قیامت تک دشمنی رہے گی۔ تو پھر سب کیسے ایمان لے آئیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور عداوت باہمی میں منافات نہیں ہے۔ دونوں باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ سمجھ نہ آئے تو قادیانیوں اور لاہوریوں میں دیکھ لیجئے کہ دونوں احمدی کہلاتے ہیں اور ایمان کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ لیکن آپس میں کتنی منافرت اور عداوت ہے۔

حدیث کو رد کرتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ حدیث مرزا قادیانی کے مسلّمات سے ہے۔ آپ ان کے امتی ہوتے ہوئے اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ دیگر یہ کہ اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو اس کے الفاظ ”فیتزوّج ویولدلہ“ (ضمیمہ انجام

صفحہ ١٣٧

المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ (نساء:١٥٧) ’’یعنی رسول اللہ کو قتل کر ڈالا۔‘‘ اور ظاہر ہے کہ قتل کے لائق یہی جسم خاکی ہوا کرسکتا ہے اور نہ وہ قابل قتل ہے اور یہودیوں کے اسی قول کی تردید ما قتلوه یقینا بل رفعه الله اليه (نساء:١٥٧) ’’یعنی یہود نے یقیناً قتل نہیں کیا۔‘‘ بلکہ خدا نے اسے اپنی طرف اوپر اٹھالیا۔ کر کہ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب یہود کا دعویٰ قتل جسم کا تھا تو خدا تعالیٰ چیز کو اوپر اٹھانے کا ذکر کیا ہے وہ جسم نہ ہوا تو کیا ہوا۔ حاضرین محظوظ ہوئے اور ہر طرف سے واہ واہ کی صدا بلند ہوئی۔ نے دریافت کیا کہ جب حضرت عیسیٰ دوبارہ تشریف لاویں گے تو کیا وہی کام کریں گے جو مرزا قادیانی نے براہین میں فرمایا ہے کہ : ’’دین کلی کے طور پر غلبہ دیں گے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٢٩٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

اس کی طرح گورنمنٹ کی خوشامد میں کیا مسلمانوں کو کیا ہندوستانیوں کو یہ وعظ کریں گے کہ تم سب اس محسن گورنمنٹ کے نمک خوار وفادار بنے نے اپنی کتب تحفہ قیصریہ اور فریاد درد اور ضرورت الامام میں تصریحاً

جواب مولوی صاحب قادیانی نے کچھ نہ دیا اور نہ اخیر تک پھر اس کو دہرایا۔ آپ نے یہ جو کہا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ عیسائیوں اور دشمنی رہے گی۔ تو پھر سب کیسے ایمان لے آئیں گے۔ اس کا جواب یہ اس میں منافات نہیں ہے۔ دونوں باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ سمجھ نہ آئے تو یوں دیکھ لیجئے کہ دونوں احمدی کہلاتے ہیں اور ایمان کا دعویٰ بھی کرتے نفرت اور عداوت ہے۔

آپ حضرت عائشہؓ کے تین چاند دیکھنے والے خواب سے جو اس اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ حدیث مرزا قادیانی کے مسلّمات سے ہوتے ہوئے اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ حدیث ضعیف ہے تو اس کے الفاظ ’ فیتز وّج ویولدلہ ‘ (ضمیر انجام ٣٠

آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٢٧ حاشیہ ) سے مرزا قادیانی کا محترمہ محمدی بیگم کے نکاح اور اس کے بطن سے اپنی اولاد پیدا ہونے کی تصدیق اور پھر اس پر اپنے مسیح موعود ہونے کی بنا کو کھڑا کرنا سب کچھ باطل ہو جائے گا اور اس میں آپ مرزا قادیانی کی تائید نہیں کریں گے بلکہ تردید کریں گے۔

دیگر یہ کہ حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین چاند اس لئے دکھائے گئے کہ ان کی زندگی میں تین چاند ہی ان کے حجرے میں دفن ہونے والے تھے اور وہ صرف تینوں ہی کو دیکھنے والی تھیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کو اور اپنے باپ حضرت ابوبکرؓ کو اور حضرت عمرؓ کو باقی رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو وہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں دفن ہونے والے نہیں تھے۔ اس لئے ان کو نہ دکھائے گئے۔

نوٹ : حاضرین اس نکتے پر بھی عش عش کر اٹھے اور حضرت مولانا کی عمر درازی کے لئے دعائیں کرنے لگے۔ اللهم متعنا بطول حياته! آمين !

السلام ) میں اسی حدیث میں ملا علی قاریؒ کے حوالے سے بین السطور حاشیہ میں لکھا ہے۔

دوم یہ کہ مرزا قادیانی آنجہانی بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں کہ : ’’ممکن ہے کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘

(ازالہ ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

اس حوالہ سے قبر بمعنی روضہ ( مقبرہ ) بھی مانا گیا ہے اور پاس دفن ہونا بھی مانا گیا ہے۔ وهو المراد !

الارض کو پیش کیا ہے۔ سو وہ بھی بے محل ہے۔ اخلد الی الارض میں تو اخلد خود موجود ہے کہ وہ شخص آگے زمین میں موجود تھا۔ اس نے زمینی امور سفلیات میں پڑ کر اسی میں رہنا چاہا۔

نوٹ : چنانچہ (تفسیر خازن ج ٢ ص ١٦٥) میں اس لفظ کے ذیل میں لکھا ہے۔ ” اصله من الخلود وهو الدوام والمقام “ یعنی اخلد کا اصل خلود ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ ہمیشہ رہنا اور ٹھہرنا۔

اور وفات مسیح کی جو آیات آپ نے پڑھی ہیں۔ وہ بالکل بے موقع ہیں اور بے وقت کی راگنی ہے۔ کیونکہ مبحث اثبات حیات مسیح ہے۔ جس میں مدعی میں ہوں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا اور اگر آپ اسے معارضہ قرار دیں تو معارضہ کا حق اس وقت ہوتا ہے۔ جب ٣١

صفحہ ١٣٨

فریق ثانی شک میں ہو۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے ۔ ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فأتوا بسورة من مثلہ (بقرہ:٢٣)“ ہاں آپ شک کا اقرار کر کے معارضات پیش کرتے تو معارضہ باقاعدہ ہوتا ۔ خیر اس پر بھی میں آپ کے معارضے کی دلیلوں کو ایک ایک کر کے توڑتا ہوں ۔ تاکہ عوام دھوکے سے محفوظ رہیں اور قرآن شریف اختلاف بیانی سے سالم نظر آئے سنتے جائیے۔

خلت کے معنی فوت کئے اور الف لام کو کہا استغراقی سو اس میں آپ نے مرزا قادیانی کے خلاف کیا ۔ جن کی حمایت میں آپ یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی جنگ مقدس میں عیسائیوں کے مقابلے میں اس کے معنی کرتے ہیں ۔ ”اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے ہیں۔“

(جنگ مقدس ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٨٩)

نیز مولوی نورالدین جو مرزا قادیانی کے پہلے خلیفہ تھے اور علم وفضل میں آپ کی ساری جماعت میں افضل تھے۔ عیسائیوں کے مقابلے میں اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ” پہلے اس سے بہت رسول ہو چکے۔“

(فصل الخطاب ج ١ ص ٢٥ ، حاشیہ بار دوم)

پس ان ہر دو ترجموں کے رو سے آپ کے استدلال کی دونوں بنائیں غلط ہوگئیں ۔ نہ خلت کے معنی موت رہے اور نہ الف لام استغراقی رہا۔

جناب مرزا قادیانی اس آیت کے معنی براہین میں یوں کرتے ہیں۔ ”اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر ٤ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

نیز یہ ترجمہ کرتے ہیں ۔ ”اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)

میں شمار کرنا بالکل لاحاصل ہے ۔ کیونکہ اوّل ! تو یہ آیت آپ کے مقصود یعنی وفات مسیح سے بالکل ساکت ہے ۔ کیونکہ اس کا مفاد تو یہ ہے کہ سب زندے اور مردے اس میں سما سکتے ہیں۔ پس جب زندے بھی سما سکتے ہیں تو یہ موت کے لئے دلیل نہ ہوسکی۔

دوم ! یہ کہ میں خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت کر چکا ہوں اور علم اصول

٣٢

صفحہ ١٣٩

میں مقرر و مسلم ہے کہ دلیل خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کی نظائر قرآن مجید میں بکثرت ہیں اور اہل علم کو معلوم ہیں۔ لے حاجت تفصیل کی نہیں۔

اچھا اگر اس آیت کے رو سے کوئی زندہ شخص آسمان پر نہیں جاسکتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی طرح چلے گئے ۔ جن کی بابت جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : ”یہ موسیٰ علیہ السلام مرد خدا ہے ۔ جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں نہیں ...... مگر ہم قرآن میں بغیر وفات عیسیٰ کے اور کچھ نہیں پاتے۔“

(نور الحق اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩)

اور آپ کا یہ کہنا کہ یہ زندگی روحانی ہے۔ بالکل غلط ہے اور مرزا قادیانی کی تقریر کے بالکل خلاف ہے۔ روحانی زندگی تو بعد وفات سب انبیاء کو حاصل ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے؟۔ نیز اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو حضرت عیسیٰ کو مردہ کہا تو یہ تفریق بتارہی ہے کہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ کو جسمانی زندگی سے زندہ سمجھتے تھے۔

احمدی کہلانے والے دوستو! آج آپ کیسی بہکی ہوئی باتیں کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے کلام کی توجیہات ان کی تصریحات کے خلاف بیان کرتے ہیں۔ دیکھئے میں وہی باتیں اور اسی رنگ میں بیان کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے جس رنگ میں بیان کی ہیں۔ میں تو ہرگز مرزا قادیانی کے اقوال سے ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ آج آپ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ بات بات میں مرزا قادیانی کے خلاف چلتے ہیں۔

نوٹ: اس کے بعد مرزائی مولوی نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔

ہاں آپ اس آیت کو اپنے اس سوال کا ضمیمہ بنا سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ہجرت زمین پر کیوں نہ کرائی۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا فیض ہر شخص سے اس کی فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں بھی فرق ہے تو ان

لے مثلاً یہ کہ عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا ”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (دھر:٢) “ یعنی انسان کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا اور اس کے برخلاف حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ اور حضرت حواء کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش بایں طور پر نہیں ہوئی۔ پس ان کے متعلق دلیل عام کا اعتبار نہیں کیا گیا بلکہ دلیل خاص کو ان کی نسبت تسلیم کیا گیا ہے۔

٣٣

صفحہ ١٤٠

کی ہجرت میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی پیدائش ہر دو ماں اور باپ سے ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عالم امر سے نفخ جبریلی سے ہوئی۔ اس لئے خدا کی حکمت نے تقاضا کیا کہ آپ کو وطنِ ملائکہ یعنی آسمان پر ہجرت کرائی جائے۔

نوٹ : حاضرین اس نکتے پر خوشی سے اچھل پڑے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کی صداؤں سے میدان گونج اٹھا۔ مرزائیوں کے رنگ اڑ گئے اور پھر اس سوال کو نہ دہرایا۔ (مرتب)

’’ لوکان موسٰی وعیسیٰ حیین لما وسعهما الا اتباعی ‘‘ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو فقہ اکبر حدیث کی کتاب نہیں کہ اس کے متعلق اس کا حوالہ معتبر سمجھا جائے۔ دیگر یہ کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ نے یہ بالکل غلط کہا ہے کہ یہ حدیث فقہ اکبر میں موجود ہے۔ یہ حدیث فقہ اکبر میں ہرگز نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ہے۔ سچے ہو تو نکال کر دکھاؤ۔

نوٹ : حضرت مولانا صاحب کی اس ڈانٹ پر مرزائی مولوی نے اپنی نوبت میں اس کی نسبت تسلیم کر لیا کہ یہ حدیث فقہ اکبر میں نہیں ہے۔ لیکن منہ ڈھیلا کر کے کہنے لگے کہ ہاں فقہ اکبر کی شرح میں موجود ہے۔ حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ جو حدیث تم پیش کرتے ہو وہ فقہ اکبر کی شرح میں بھی نہیں ہے۔ مرزائی اس پر مبہوت ہو گئے اور لوگ ہر طرف سے ان کی کذب بیانی اور دھوکا دہی پر ان پر ملامت اور شرم ! شرم !! کے آوازے مارنے لگے۔

حضرت مولانا نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ بلکہ فقہ اکبر میں اس کے برخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کی تصریح موجود ہے۔ چنانچہ سیدنا حضرت امام اعظمؒ جن کی تقلید کا اقرار خود مرزا قادیانی کو بھی ہے اور مولوی نور الدین قادیانی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی قبل از دعوےٰ حنفی مذہب کے پابند تھے۔ اب سنئے کہ حنفی مذہب کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ (فقہ اکبر ص٨،٩ طبع مصر) میں فرماتے ہیں کہ: ’’ ونـــزول عیســـٰی علیہ السلام من السماء ....... حق کائن ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت سب حق ہیں اور ضرور ہونے والی ہیں۔

١؎ جب مولانا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت کا نکتہ بیان فرمایا۔ اس وقت میں اتفاقاً گرمی کی شدت کے سبب باہر نکلا تو ایک شخص جس کو میں پہچانتا نہ تھا یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس ماں پر ہزار ہزار رحمتیں نازل فرمادے جس نے ایسا فرزند ارجمند جنا۔ تو میں نے آمین ۔ (مرتب)

٣٤

صفحہ ١٤١

اسی طرح ملا علی قاری صاحبؒ اس کی (شرح ص ١٣٦) میں خوب دل کھول کر اس کی توضیح کرتے ہیں۔ جس کو مولوی علی محمد مرزائی سمجھ نہیں سکے۔

دیگر یہ کہ شرح عقائد نسفی میں ہے جو حنفی عقائد کی مشہور اور درسی کتاب ہے۔ ”ونزول عيسىٰ عليه السلام من السماء...... فهو حق“ (شرح عقائد النسفیہ ص ١٧٣) یعنی سب باتیں جن کی خبر نبی ﷺ نے دی ہے۔ جن میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ہے۔ وہ سب کچھ حق ہے۔

اسی طرح ہمارے سیالکوٹیوں کے فخر جناب مولانا عبد الحکیم صاحبؒ فاضل سیالکوٹی شرح عقائد کے حاشیہ خیالی کے حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ: ”وانما اکتفى الشارح بذکر عيسىٰ لان حياته ونزوله الى الارض واستقراره عليه قد ثبت باحاديث صحيحة بحيث لم يبق فيه شبهة ولم يختلف فيه احد“ (ص ٢٥٢ عبدالحکیم مطبوعہ مصر) یعنی شارح تفتازانیؒ نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر اس لئے کفایت کی کہ ان کی حیات اور ان کا زمین پر نازل ہونا اور پھر زمین پر آباد رہنا صحیح حدیث سے ایسا ثابت ہو چکا ہے کہ اس بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ گیا اور اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے۔

دیکھئے حنفی مذہب میں تو یہ لکھا ہے۔ جو ہم نے سب کے سامنے کتابیں کھول کر سنایا۔ نہ وہ جو آپ نے جھوٹ موٹ کہہ دیا اور نکال کر نہیں بتایا۔

نیز یہ کہ مرزا قادیانی جس طرح قرآن وحدیث میں کتر بیونت کر کے ان کے مطالب کو بگاڑتے رہے۔ اسی طرح وہ حنفی مذہب کا دعویٰ کر کے بھی لوگوں کو دھوکا دیتے رہے اور اسی طرح آپ بھی ان کے بعد مذہب حنفی کی کتابوں کے غلط حوالے دیتے ہیں۔

نوٹ: حضرت مولانا صاحب (دام اللہ بقاؤہ) کی اس تقریر سے مرزائیوں پر رسوائی کی گھٹائیں چھا گئیں اور ان پر ایک عالم سکتہ طاری ہو گیا۔ تمام مسلمان خوشی سے محو حیرت تھے کہ حضرت مولانا مرزائیوں کی ہر بات کا جواب کس طرح برجستہ اور بیساختہ فوراً کتابیں نکال دکھا دیتے ہیں اور ان کی خیانت اور دھوکا بازی کو طشت از بام کر دیتے ہیں۔

حضرت مولانا صاحب نے تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مولوی علی محمد قادیانی نے مرزا قادیانی کی طرف سے اجتہادی غلطی وغیرہ کے جو عذر کئے ہیں۔ وہ سب نادرست ہیں۔ مرزا قادیانی بقول خود براہین کی تصنیف کے وقت بھی خدا کے نزدیک رسول اللہ تھے۔

(دیکھو ایام الصلح ص ٧٥ اردو، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

٣٥

صفحہ ١٤٢

پھر مرزا قادیانی کا یہ بھی قول ہے۔ ”انبیاء کی اپنی ہستی کچھ نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس طرح بکلی خدا تعالیٰ کی تصرف میں ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک کل انسان کے تصرف میں ہوتی ہے...... انبیاء نہیں بولتے جب تک خدا ان کو نہ بلائے اور کوئی کام نہیں کرتے جب تک خدا ان سے نہ کرائے...... ان سے وہ طاقت سلب کی جاتی ہے۔ جس سے خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی انسان کرتا ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں جیسے مردہ۔“

(ریویو ج٢ نمبر ٢ ص ٧٠، بابت ماہ فروری ١٩٠٣ء)

احمدی دوستو! براہین وہ کتاب ہے۔ جو بقول تمہارے نبی کے ”مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی ۔“

(اشتہار براہین احمدیہ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)

ہاں یہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا قادیانی ”آنحضرت ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر رجسٹری بھی ہو چکی اور وہ ہندوانہ ١؎ کے برابر امرود بن کر کہنیوں تک شہد بھی ٹپکا چکی۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٤٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) یہ اصلاح کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس میں فساد و شرک کا عقیدہ کیوں لکھا گیا؟۔

یہ خدا کے الہام اور امر سے لکھی گئی تھی۔ اس میں شرک و کفر کس طرح لکھا گیا۔ یہ آنحضرت کے سامنے پیش ہو کر شہد کی صورت میں بدل گئی تھی۔ اس میں یہ زہر کیسے رہ گیا؟ اور آنحضرت نے اس کفر کو کس طرح برداشت کر لیا؟۔ اس کا نام قطبی تھا اور قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم تھی۔

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ١ ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)

اس میں خاص مسئلہ جس پر مرزا قادیانی کے دعوے کی بنیاد ہے۔ وہی ریت کے ٹیلے کی طرح دھڑم کر کے کس طرح گر گیا۔ آپ ہزار ہا ہندو مسلمانوں کے سامنے ایسی متبرک کتاب کی ہتک نہ کریں۔ آپ مرزا قادیانی کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یا تردید کے لئے۔

١؎ قادیانی مولوی نے اپنی نوبت میں کہا کہ اگر مولانا صاحب براہین میں سے لفظ ہندوانہ دکھا دیں۔ تو مبلغ ٥ روپے انعام پائیں۔ مولانا صاحب نے اس پر اپنی نوبت میں براہین نکال کر دکھا دیا کہ دیکھ لو اس میں لفظ تربوز کو ہندوانہ نہ سمجھیں تو دیگر بات ہے؟۔

واضح رہے کہ حضرت مولانا صاحب پنجابی زبان میں تقریر کر رہے تھے اور پنجابی میں تربوز کو ہندوانہ کہتے ہیں۔ قادیانی مولوی صاحب نے شرمندہ ہو کر نوٹ جیب میں ڈال لیا اور حضرت مولانا صاحب نے یہ آیت پڑھی۔ ”فما اتنی اللہ خیر مما اتکم (نمل: ٣٦) “

٣٦

صفحہ ١٤٣

مرزا قادیانی کو بارہ برس تک خدا تعالیٰ سے الہام ہوتا رہے اور وہ برابر شرک میں پڑے رہیں۔ ہمیں اس کی نظیر انبیاء میں نہیں ملتی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو بتلا دیں۔

اول تو اس لئے کہ بیت المقدس کو قبلہ بنانا حسب ہدایت آیت ”فبھدھم اقتدہ“ (انعام: ٩٠) ”انبیاء سابقین کی سنت پر عمل ہے اور وہ شرک نہیں، کفر نہیں۔ حتیٰ کہ کسی قسم کا گناہ کبیرہ یا صغیرہ بھی نہیں تو وہ اس کی نظیر کس طرح بن سکتا ہے۔ جسے مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبان شرک و کفر قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ڈائری مرزا مرتبہ عبدالحمید احمدی۔

چنانچہ فرماتے ہیں! ”حضرت مسیح کو حی ماننا بھی تو ایک شرک ہے۔ پھر فرماتے ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ انبیاء جو شرک کو مٹانے آئے ہیں۔ خود شرک میں مبتلا رہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جب کہ ان (انبیاء) کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام پر چلا دیں۔ تو گویا وہ خدا کے احکام کو عملدرآمد میں لانے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ خود ہی خلاف ورزی کریں تو وہ عملدرآمد کرانے والے نہ رہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نبی نہ رہے۔ وہ خدائے تعالیٰ کے مظہر اور اس کے افعال و اقوال کے مظہر ہوتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ان کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٢ ص ٧١، ماہ فروری ١٩٠٣ء)

دیگر اس وجہ سے بے محل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ عقائد میں سے ہے اور عقائد میں تنسیخ و تبدیلی نہیں ہو سکتی اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے۔ جن میں تبدیلی اور تنسیخ ہو سکتی ہے۔ پس یہ اس کی نظیر نہیں۔

دو وجہ سے باطل ہے۔ اول اس لئے کہ مرزا قادیانی نے براہین میں اپنا یہ عقیدہ ایک الہام کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس الہام کا مفاد یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیاسی حیثیت سے ان منکروں کی سرکوبی کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے۔

دوم اس لئے کہ اگر مرزا قادیانی نے رسمی عقیدے کے طور پر لکھ دیا تو جب یہ کتاب بقول مرزا قادیانی آنحضرتﷺ کے دربار میں قبولیت حاصل کر رہی تھی۔ کیا اس وقت یہ تمام بیانات جن میں حضرت مسیح کی حیات اور رفع آسمانی اور نزول ثانی مرقوم تھے۔ براہین سے نکال کر پیش ہوئی تھی یا آنحضرتﷺ کی نظر میں نہ چڑھے تھے اور آپ نے یونہی بلا تحقیق مطالعہ ہی اس

٣٧

صفحہ ١٤٤

کو شہد کی صورت میں ٹپکا دیا تھا؟۔

قادیانی دوستو ! عقل سے کام لو۔ آپ کی ایسی حالت قابل رحم ہے اور اس کی نظیر میں جو آپ نے حضرت یونس علیہ السلام کی فضیلت والی حدیث پیش کی وہ بھی بے موقع ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یا تو یہ حدیث ضعیف ہے یا بطور تواضع وانکساری کے ایسا کہا گیا ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٣، خزائن ج ٥ ص ١٦٣)

اور آپ کا امام ابن حزمؒ اور امام مالکؒ کی نسبت یہ کہنا کہ وہ بھی حضرت مسیح کی موت کے قائل تھے۔ یہ اصولاً بھی درست نہیں اور نقلاً بھی۔

اصولاً اس لئے کہ جناب مرزا قادیانی اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ٢٩٨) میں فرماتے ہیں۔ ”ہم کسی بصری یا مصری پر ایمان نہیں لائے۔ ہم تو قرآن شریف پر اور نبی معصوم کی حدیث صحیح مرفوع متصل پر ایمان لائے ہیں۔ پس ان دونوں کے بعد سزاوار نہیں کہ ہل من مزید کہا جائے۔ (ملخصاً و مترجم)

پس جب میں نے قرآن شریف اور حدیث شریف سے حضرت عیسیٰ کی زندگی ثابت کر دی تو بموجب قول جناب مرزا قادیانی آپ کو مناسب نہیں کہ کسی امتی کی طرف کان بھی دھریں۔

قرآن وحدیث تو آپ لوگوں نے آگے ہی چھوڑ رکھا ہے۔ لیکن حیرانی ہے کہ آج آپ کو کیا ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی تصریحات سے بھی کنارہ کشی کرتے ہیں۔ مجھے دیکھئے کہ جو عذر آپ پیش کرتے اس کی رد میں میں مرزا قادیانی کی تصریح پیش کرتا ہوں۔ لیکن آپ ان کے خلاف چلتے ہیں۔ ایں چہ؟

اور نقلاً اس طرح غلط ہے کہ حافظ ابن حزم و دیگر علمائے امت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول وحیات کے برابر قائل ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی معرکۃ الآراء کتاب، کتاب الفصل میں فرماتے ہیں۔ ”فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللہ ﷺ فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان“ (کتاب الفصل ج ٣ ص ١١٤ دارالکتب بیروت) یعنی کسی مسلمان سے کس طرح جائز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کو ثابت کرے۔ الا اسے جسے رسول اللہ ﷺ نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہو۔ عیسیٰ بن مریم کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بارے میں۔

صفحہ ١٤٤

تھا؟۔ عقل سے کام لو۔ آپ کی ایسی حالت قابل رحم ہے اور اس کی نظیر میں یہ السلام کی فضیلت والی حدیث پیش کی وہ بھی بے موقع ہے۔ کیونکہ یا تو یہ حدیث ضعیف ہے یا بطور تواضع وانکساری کے ایسا کہا گیا ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٣، خزائن ج ٥ ص ١٦٣)

ابن حزمؒ اور امام مالکؒ کی نسبت یہ کہنا کہ وہ بھی حضرت مسیح کی موت درست نہیں اور نقلاً بھی۔ کہ جناب مرزا قادیانی اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ”ہم کسی بصری یا مصری پر ایمان نہیں لائے۔‘‘ ہم تو قرآن شریف پر مرفوع متصل پر ایمان لائے ہیں۔ پس ان دونوں کے بعد سزاوار نہیں

(ملخصاً و مترجم)

نے قرآن شریف اور حدیث شریف سے حضرت عیسیٰ کی زندگی ا جناب مرزا قادیانی آپ کو مناسب نہیں کہ کسی امتی کی طرف کان تو آپ لوگوں نے آگے ہی چھوڑ رکھا ہے۔ لیکن حیرانی ہے کہ آج انی کی تصریحات سے بھی کنارہ کشی کرتے ہیں۔ مجھے دیکھئے کہ جو عذر میں میں مرزا قادیانی کی تصریح پیش کرتا ہوں۔ لیکن آپ ان کے ؟ غلط ہے کہ حافظ ابن حزم دیگر علمائے امت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ ے برابر قائل ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی معرکۃ الآراء کتاب، کتاب الفصل يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبيا فی تثناه رسول الله ﷺ فی الآثار المسندة الثابتة فی يم عليه السلام فی آخر الزمان‘‘ (کتاب الفصل ج ٣ ص ١١٤ لمان سے کس طرح جائز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں اسے جسے رسول اللہ ﷺ نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہو۔ نہ میں نازل ہونے کے بارے میں۔ ٣٨

١٤٥ اسی طرح اس قول کی نسبت امام مالکؒ کی طرف بھی بے سند ہے۔ تمام مالکی آئمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یعنی اور حیات جسمانی کے قائل ہیں۔ اگر اس قول کی کوئی سند ہے تو پیش کی جائے۔

نوٹ: قادیانی مولوی نے اس کے بعد اپنی نوبت میں کوئی سند پیش نہیں کی اور نہ پھر اس کو دھرایا۔

پس میں آپ کی ایک ایک بات کا جواب قرآن وحدیث اور قواعد علمیہ اور مرزا قادیانی کی تصریحات سے دے چکا اور آپ کی کوئی بات بھی بلا جواب وبلا تردید نہیں رہی۔ لیکن برخلاف اس کے ان دلائل کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے متعلق میں نے بیان کئے ہیں۔ آپ ہرگز نہیں توڑ سکے اور نہ وہ ٹوٹ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ قرآن مجید واحادیث صحیحہ کی تصریحات سے ہیں۔ جن کے دوسرے معنے ممکن ہی نہیں اور نہ ان کی تاویل جائز ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

یہ مجلس ختم ہوگئی اور تمام مسلمان خوشی سے نعرہائے تکبیر پکارتے اور فتح کی خوشیاں مناتے واپس ہوئے۔ لیکن مرزائیوں کی عجیب حالت تھی۔ چہروں پر ذلت ورسوائی چھارہی تھی اور مارے شرم کے سر نہ اٹھا سکتے تھے۔ فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمدلله رب العالمين!

دوسرے روز کا پہلا مناظرہ

متعلق تنقید صدق وکذب مرزائے قادیانی

٨ بجے صبح سے ١٠ بجے قبل دوپہر تک

قادیانی

صدر .......... مولوی محمد سلیم صاحب احمدی مناظر (مدعی) ...... مولوی عبد الرحمٰن صاحب بی۔اے

مسلمان

صدر ........... شیخ عبد القادر صاحب بیرسٹر مناظر (مجیب) ...... مولوی لال حسین صاحب اختر لاہوری

مولوی عبد الرحمٰن صاحب احمدی (مدعی صدق مرزا) نے اپنے اثبات دعویٰ کے متعلق پہلے یہ آیت پڑھی۔ ”قل لو شاء الله ما تلوته عليكم ولا ادركم به فقد لبثت فيكم ٣٩

صفحہ ١٤٦

عمراً من قبله افلا تعقلون (يونس:١٦)“ اور اس سے مرزا قادیانی کی سچائی پر یوں استدلال کیا کہ بعد از دعویٰ تو ہر نبی پر اعتراض ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے صداقت انبیاء کے لئے یہ معیار بیان کیا ہے کہ ان کی پہلی زندگی پاکیزگی اور امانتداری والی ہوتی ہے۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ آپ نے اسی شہر سیالکوٹ میں تقریر کے اثناء میں کھلے لفظوں میں کہا کہ میں نے اسی سیالکوٹ میں کچہری میں سرکاری نوکری کی۔ اگر کسی نے مجھ میں کوئی عیب دیکھا ہو تو بیان کرو۔ لیکن کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔

”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقه:٤٤ تا٤٦)“ یعنی اگر یہ نبی محمد ﷺ کوئی بات جھوٹ موٹ ہمارے ذمے لگاتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔ آنحضرت ﷺ سچے نبی تھے۔ اس لئے ٢٣ سال دعویٰ نبوت کے بعد زندہ رہے۔ اسی طرح جناب مرزا قادیانی بھی سچے نبی تھے۔ چنانچہ وہ بھی دعویٰ کے بعد ٢٣ سال سے زائد مدت تک زندہ رہے۔

لئے تحدی کی ”وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فأتوا بسورة من مثله (بقرہ:٢٣)“ یعنی (اے منکرو!) اگر تم کو قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں شک ہے تو تم اس کی مثل کوئی سورت بنالاؤ۔

اسی طرح مرزا قادیانی نے کتاب اعجاز احمدی لکھی اور اس کے مقابلہ کے لئے سب علماء کو چیلنج کیا۔ لیکن کسی نے بھی اس کا جواب نہ لکھا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی سچے تھے اور اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کی کتاب شعروں میں ہے اور قرآن شعر نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ ”ومــــا علمنٰه الشعر وما ينبغي له (يسین:٦٩)“ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ شعر سے مراد بقول امام راغب کذب ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کو اور قرآن کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی کو شعر یعنی جھوٹ نہیں سکھایا اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال کذاب جھوٹا دعویٰ نبوت کا کریں گے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں ایسے مدعیوں کی تعداد ستر بتائی گئی ہے اور حجج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خاں صاحب اہل حدیث فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجرؒ نے ان ہر دو روایات کو ضعیف کہا ہے۔ یعنی تیس والی کو بھی اور ستر والی کو بھی۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو تو آپ کے متصل ہمارے فاضل ٤٠ ٤

صفحہ ١٤٧

تعقلون (یونس:١٦) ”اور اس سے مرزا قادیانی کی سچائی پر یوں ہر نبی پر اعتراض ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے صداقت کیا ہے کہ ان کی پہلی زندگی پاکیزگی اور امانتداری والی ہوتی ہے۔ یہی پ نے اسی شہر سیالکوٹ میں تقریر کے اثناء میں کھلے لفظوں میں کہا کہ کچہری میں سرکاری نوکری کی۔ اگر کسی نے مجھ میں کوئی عیب دیکھا ہو تو واب نہ دیا۔

ری دلیل یہ بیان کی کہ آنحضرتﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ن الاقاویل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين اگر یہ نبی محمدﷺ کوئی بات جھوٹ موٹ ہمارے ذمے لگاتا تو ہم اس رگ جان کاٹ ڈالتے۔ آنحضرتﷺ سچے نبی تھے۔ اس لئے زندہ رہے۔ اسی طرح جناب مرزا قادیانی بھی سچے نبی تھے۔ چنانچہ سے زائد مدت تک زندہ رہے۔

ری دلیل یہ بیان کی کہ قرآن شریف نے آنحضرتﷺ کی سچائی کے في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله کرو!) اگر تم کو قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں شک ہے تو تم اس کی

یانی نے کتاب اعجاز احمدی لکھی اور اس کے مقابلہ کے لئے سب علماء ں کا جواب نہ لکھا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی سچے تھے اور اگر کہا شعروں میں ہے اور قرآن شعر نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ ” وما له (يسین: ٦٩) ”تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ شعر سے مراد لوگ آنحضرتﷺ کو اور قرآن کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر نے اپنے نبی کو شعر یعنی جھوٹ نہیں سکھایا اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ رے بعد تیس دجال کذاب جھوٹا دعویٰ نبوت کا کریں گے۔ سو اس کا میں ایسے مدعیوں کی تعداد ستر بتائی گئی ہے اور حج الکرامہ میں نواب حدیث فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجرؒ نے ان ہر دو روایات کو ضعیف کہا والی کو بھی۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو تو آپ کے متصل ہمارے فاضل ٤٠

محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی تشریف رکھتے ہیں اور وہ علم وفضل میں یہاں سب سے بڑھ کر ہیں۔ ان سے دریافت کر لیجئے کہ حضور نواب صاحب نے حج الکرامہ میں لکھا ہے یا نہیں۔

نوٹ: حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب نے مولوی لال حسین کی نوبت میں شیخ عبدالقادر صاحب صدر جلسہ کی اجازت سے فرمایا کہ حج الکرامہ کے جس حوالہ میں مدار میری شہادت پر رکھا گیا ہے۔ اس کی بابت خاکسار یہ کہتا ہے کہ حافظ ابن حجرؒ کا قول قریباً تیس دجال کذاب ) والی روایت کے ضعف کے متعلق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ صحیحین یعنی صحیح بخاری وصحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے اور متفق علیہ حدیث کو کوئی بھی ضعیف نہیں کہہ سکتا۔ چہ جائیکہ حافظ ابن حجرؒ ایسے بلند پایہ محدث اسے ضعیف کہیں۔ حج الکرامہ میں جو مذکور ہے وہ ستر کاذب مدعیان نبوت والی روایت کی بابت ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس پر حاضرین عش عش کر اٹھے اور حضرت مولانا صاحب کی وسعت مطالعہ اور قوت حافظہ کی داد دینے لگے۔ یہ سماں بھی مرزائیوں کا فوٹو لینے کا تھا۔ رنگ فق ہو گئے اور چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور خجالت اور رسوائی کے آثار نظر آنے لگے اور لوگوں پر ان کی دھوکا بازی اور کذب بیانی اور کم علمی اور کوتاہ فہمی ظاہر ہو گئی۔

اور مولوی لال حسین صاحب جو حضرت مرزا قادیانی مسیح موعود کو شرک کا الزام لگاتے ہیں۔ تو ان کا اپنا نام لال حسین مشرکانہ ہے اور ٹیچی ٹیچی فرشتے پر جو پھبتی اڑائی جاتی ہے۔ اس کے لئے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی حدیث ١؎ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ملک الموت کو تھپڑ ماری تو وہ کانا ہو گیا۔ پس جس طرح فرشتہ کانا ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا نام ٹیچی ٹیچی بھی ہو سکتا ہے۔ ہم ایسی کتابوں کو نہیں مان سکتے ہیں۔ جن میں یہ مذکور ہو کہ حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے زنا کا قصد کیا اور حضرت نبی کریمﷺ حضرت زینب کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے ۔ ٢؎

١؎ جب مرزائی مولوی نے ایسا کہا تو مسلمان بیک زبان پکار اٹھے کہ اس سے معلوم ہوا کہ مرزائی لوگ حدیث کی کتابوں کو نہیں مانتے۔ پس وہ اس میں سے حدیثیں کیوں پیش کرتے ہیں۔

٢؎ مولوی عبدالرحمٰن مرزائی کی اس بد زبانی سے تمام مسلمان بھڑک اٹھے اور قریب تھا کہ وہ اس کا خمیازہ بھگت کر اس کا نتیجہ بد دیکھ لیتے۔ لیکن شیخ عبدالقادر صاحب صدر جلسہ کے حسن انتظام اور حضرت مولانا صاحب سیالکوٹی کی تلقین صبر وضبط نے مجلس کو تھام لیا۔ مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ مرزائیوں کے دل و دماغ میں مرزائے قادیانی کے مقابلے میں خدا تعالیٰ کی اور اس کے رسولوں کی کچھ بھی عزت نہیں اور ان کا ایمان کا دعویٰ کرنا محض دھوکا اور نمائش ہے۔ ٤١

صفحہ ١٤٨

جواب از جانب مولوی لال حسین اختر صاحب مسلمان

حمد وصلوٰۃ کے بعد مولوی لال حسین صاحب نے بیان فرمایا کہ مولوی عبدالرحمن نے مرزا کی صداقت کی کوئی بھی دلیل بیان نہیں کی اور جو جو آیات قرآنی انہوں نے اس مطلب کے لئے پڑھی ہیں۔ وہ سب بے محل ہیں اور ان کے جو نتائج نکالے ہیں۔ وہ سب غلط اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اپنے صدق وکذب کا معیار اپنی پیشگوئیوں کو قرار دیا ہے۔ جو میں خدا کے فضل سے ابھی بیان کروں گا۔ سردست میں ان دلائل کا جواب دینا چاہتا ہوں جو مولوی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے بیان کئے ہیں۔

پہلی دلیل کا جواب یہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی نے خود فرمایا ہے کہ ظاہری حالات پارسائی سے حقیقی پاکیزگی ثابت نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں۔

”ایک ظاہری راست باز کے لئے صرف یہ دعویٰ کافی نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام پر چلتا ہے۔ مگر ایسے دعوے سے تسلی کیونکر ہو کہ فی الحقیقت ایسا ہی امر واقع ہے۔ اگر کسی میں مادہ سخاوت ہے تو ناموری کی غرض سے بھی ہوسکتا ہے۔ ...... اور فسق و فجور سے کوئی بچ گیا ہے۔ تو تہی دستی بھی اس کا باعث ہوسکتی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ عمدہ چال چلن اگر ہو بھی تاہم حقیقی پاکیزگی پر کامل ثبوت نہیں ہوسکتا۔ شاید درپردہ کوئی اور اعمال ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم موسومہ بہ نصرۃ الحق ص ٤٨، خزائن ج ٢١ ص ٦١، ٦٢)

پس مولوی عبدالرحمن کا استدلال مدعی سست گواہ چست کی مانند ہے۔ اس لئے درست نہیں۔

دیگر یہ کہ عیب جو منافی عصمت ہیں۔ کئی قسم کے ہیں۔ ناجائز طمع کرنا، دھوکے فریب سے لوگوں سے مال بٹورنا۔ خیانت کرنا اور شرک کرنا۔ یہ سب امور منافی عصمت ہیں اور جناب مرزا قادیانی آنجہانی میں یہ سب پائے جاتے تھے۔ جن کا انکار نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ واقعات ثابت ہیں۔ محض ذہنی باتیں نہیں ہیں۔

مرزا قادیانی نے سیالکوٹ میں سرکاری نوکری کی۔ بے شک لیکن کن حالات میں کی؟۔ آپ کے گھر میں معیشت کی تنگی تھی۔ جدی زمین کا بہت سا حصہ (جو اکثر بارانی تھا) قبضے سے نکل چکا تھا۔ گھر چھوڑ کر اور دشوار گزار رستہ طے کر کے دوسرے ضلع میں یعنی سیالکوٹ میں تلاش روزگار کے لئے آنے پر مجبور ہوئے اور خدا خدا کر کے کل ١٥ روپے ماہوار پر کچہری میں محرر نقل کی حقیر آسامی پر ملازم ہوئے۔ دل میں زر اندوزی کی حرص تھی۔ مختاری کا امتحان دے دیا۔

٤٤

صفحہ ١٤٩

لیکن بدقسمتی سے ناکام رہے۔ آخر حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے پندرہ روپے کی ملازمت کے وقت جو کچھ جمع کیا تھا۔ وہ سمیٹ کر وطن کو سدھارے اور ”براہین احمدیہ“ کی تصنیف و طبع کا اشتہار دے دیا کہ میں نے آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت میں ایک کتاب جو (٣٠٠) دلائل پر مشتمل ہے لکھی ہے۔ اس کی طباعت کے لئے امداد کی ضرورت ہے۔ عالی ہمت احباب امداد فرماویں۔

لوگوں سے دس دس روپے فی کس چندہ لیا۔ ابھی کتاب طباعت شروع بھی نہ کی کہ کتاب کا حجم بڑھ جانے کا عذر کر کے پندرہ پندرہ روپے فی کس زائد طلب کئے۔ اب پورے پچیس پچیس روپے ہوگئے۔ اس امر کی دریافت کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کتاب حسب وعدہ اور مطابق اشتہار تین سو دلائل بینہ والی طبع ہوئی یا نہ ہوئی۔ اس زندگی میں تو مرزا قادیانی وہ دلائل بیان نہیں کر سکے۔ ہاں اس جہان میں جا کر فرشتوں کو سناتے ہوں تو دیگر امر ہے۔ کیا یہ دھوکا نہیں ہے؟۔

نیز یہ کہ جو کچھ بھی چھپا ہے۔ کیا اس کی قیمت ٢٥ روپے ہو سکتی ہے۔ ان دنوں تو سب کچھ ارزاں تھا۔ کیا یہ دھوکا نہیں ہے؟۔ نیز یہ کہ سیالکوٹ سے روپیہ جمع کرنے اور براہین احمدیہ کی تصنیف کے بہانے سے روپیہ بٹورنے کے بعد ایک اور حقیقت منکشف ہوئی کہ مرزا قادیانی نے اپنا باغ اپنی دوسری زوجہ محترمہ نصرت جہاں بیگم (والدہ ماجدہ جناب مرزا محمود) کے پاس بعوض پانچ ہزار روپیہ تیس سال کے لئے رہن رکھا اور رہن نامہ میں یہ بھی لکھ دیا کہ اگر اکتیسویں سال فک نہ کراؤں تو بیع بالوفا سمجھی جائے۔ ہم اس وقت اس حقیقت کو نہیں کھولنا چاہتے کہ یہ سب کچھ پہلی بیوی کی اولاد کو محروم کرنے کے لئے تھا۔ یا کس لئے؟۔ بہر حال زر رہن کی تفصیل یوں ہے کہ ایک ہزار روپیہ بصورت کرنسی نوٹ اور چار ہزار کے زیورات جو سب طلائی تھے اور جن کی فہرست رجسٹری میں بالتفصیل مندرج ہے۔١

(کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٢، ١٣٣)

اب سوال یہ ہے کہ یہ روپیہ اور یہ زیورات جناب مرزا قادیانی کی زوجہ محترمہ مذکورہ الصدر کے پاس کہاں سے آئے تھے کہ عورت کے پاس نقدی اور زیورات عموماً تو خاوند کی طرف سے ہوتے ہیں یا میکے والوں کی طرف سے۔

مرزا قادیانی کی زوجہ محترمہ کا یہ روپیہ اور یہ زیورات میکے والوں کی طرف سے تو تھا

١ اگر اس کتاب کے اخیر میں گنجائش نکلی تو ہم انشاء اللہ اس رجسٹری کو پوری نقل یا اس کا خلاصہ معہ تفصیل زیورات درج کر دیں گے۔ تا کہ مرزا قادیانی کا یہ عمل صالح عام لوگوں کو معلوم رہے اور ان کے دجل کی مثال زندہ رہے۔

٤٦

صفحہ ١٥٠

نہیں ۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب صاحب محکمہ نہر میں معمولی تنخواہ پر جو غالباً تیس روپے تھی ملازم تھے اور اس تنخواہ کا آدمی بیٹی پر اتنی داد و دہش کی بارش نہیں برسا سکتا ١؎

حاصل اس ساری تقریر کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی ایک دنیا پرست آدمی تھے۔ تحصیل مال میں جائز و ناجائز کی تمیز نہ کرتے تھے ٢؎ بلکہ یہ سارا شاخسانہ صرف تحصیل زر کے لئے کھڑا کیا تھا۔ اسی لئے مرزا قادیانی کے پاس آنے والے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی تھا۔ یعنی بوقت ضرورت عین موقع پر روپے کی خبر لانے والا۔ مرزا قادیانی لالچی اور فرشتہ ٹیچی جیسے روح ویسے فرشتے۔ اس ٹیچی فرشتے کی بابت مرزا قادیانی کا ایک اور بیان بھی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس سے دریافت کیا۔ تمہارا کیا نام ہے تو اس فرشتے نے کہا میرا نام کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر پوچھا تو کہنے لگا کہ میرا نام ہے

١؎ بلکہ میر صاحب بیچارے تو مرزا قادیانی کے اس نکاح کے بعد مدتوں تک مرزا قادیانی پر ناراض رہے اور ان کے برخلاف تحریرات شائع کرتے رہے۔ جس کی وجہ کا اظہار ہم دوسرے وقت پر رکھتے ہیں۔ پھر جب میر صاحب کی مرزا قادیانی سے صلح ہو گئی اور باپ بیٹی میں بھی ملاپ ہو گیا تو میر صاحب ملازمت سے سبکدوش ہو کر مع عیال قادیان شریف ہی میں اپنی دختر نیک اختر کے پاس آ رہے۔ اندریں حالات اس قدر نقدی اور زیورات ان کی طرف سے نہیں ہو سکتے اور خود مرزا قادیانی کے پاس بھی جائز وسائل سے اتنی آمدنی نظر نہیں آتی کہ اس سے روزانہ خرچ کرنے کے بعد اتنا مال بچا سکیں کہ ہزار روپیہ نقد اور چار ہزار کے طلائی زیورات گھر میں جمع ہو جائیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی بقول خود اپنے والد کی وفات کے بعد روٹی کی فکر (نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦) میں گھلے جاتے تھے۔ اس لئے ہم نہایت زور سے ان وسائل آمدنی کے معلوم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کی زوجہ محترمہ کے پاس ایک ہزار روپیہ نقد اور چار ہزار کے طلائی زیورات جمع ہو گئے۔ اگر ہم کو وہ وسائل قرآن کریم کی ہدایت اور حضرت رسول کریم ﷺ کی سیرت کے مطابق حلالاً طیباً معلوم ہو گئے تو واللہ ہم اپنا اعتراض واپس لے لیں گے۔ ورنہ بصورت دیگر ہمارا حق ہو گا کہ مرزا قادیانی کے مطابق حال یہ آیت پڑھیں۔ ”یایھا الذین اٰمنوا ان کثیراً من الاحبار والرہبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل الله (توبہ:٣٤)“ مسلمانو! بہت سے علماء اور مشائخ البتہ کھاتے ہیں۔ لوگوں کے مال باطل طریق سے اور روکتے ہیں خدا کی راہ سے۔

٢؎ چنانچہ ایک شخص (اللہ دیا) جس کی ہمشیرہ کُپّی کا مال مرزا صاحب نے جس حیلے اور عذر لنگ سے حلالاً طیباً بنایا وہ اس کا شاہد ہے۔

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٢٦١، روایت نمبر ٢٧٢)

٤٤

صفحہ ١٥١

ٹیچی ٹیچی۔ یعنی بوقت ضرورت عین موقع پر پہنچنے اور کام آنے والا۔ اس میں اس فرشتے نے بھی جھوٹ بولا کہ پہلے کہا میرا نام کچھ نہیں! پھر کہ میرا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ اندریں حالات ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا لالچی اور زر پرست مدعی نبوت جس کے پاس آنے والا فرشتہ بھی جھوٹ بولتا ہو۔ صادق نبی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ سراسر کاذب ومفتری ہے۔

وزیرے چنیں شہر یارے چناں کا معاملہ ہے

نیز یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنی متعدد تصانیف میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرک وکفر ہے۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠)

لیکن برخلاف اس کے وہ خود کئی سال تک اسی کفر و شرک میں رہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے رہے۔ حالانکہ بقول خود اس وقت ملہم و مامور بھی تھے۔ بلکہ خدا کے نزدیک رسول بھی تھے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٥٠٤ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، نیز ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام شرک و کفر وغیرہ کبیرہ گناہوں سے قطعاً پاک ہوتے ہیں۔ کیا قبل از نبوت اور کیا بعد از نبوت اور معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے مشرکین کو نجس فرمایا ہے۔ ”انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا (توبہ:٢٨)“ ﴿بات یہی ہے کہ مشرک (بوجہ شرک کے) پلید ہیں۔ پس وہ اس سال بعد مسجد حرام (بیت اللہ) کے نزدیک بھی نہ آنے پائیں۔﴾

پس مرزا قادیانی کی زندگی بوجہ مشرک ہونے کے پاکیزہ ثابت نہ ہوئی۔ لہٰذا مولوی عبدالرحمن قادیانی کی دلیل اثبات مدعا میں کچھ بھی کارگر نہ ہوئی۔ بلکہ الٹی ان کے خلاف پڑی۔

دوسری آیت سے مولوی عبدالرحمن قادیانی نے جو یہ استدلال کیا ہے کہ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال تک زندہ رہنے والا سچا نبی ہوتا ہے۔ یہ بھی درست نہیں۔ اول اس لئے کہ قرآن شریف میں اس قاعدے کا ذکر نہیں۔ اگر مولوی عبدالرحمن قادیانی سچے ہیں تو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھائیں ؎١۔ اگر آنحضرتﷺ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال تک زندہ رہے تو یہ ایک اتفاقی بات

؎١ یہ مطالبہ مرزائی مولوی صاحب اخیر وقت تک نہ دکھا سکے۔

٤٥

صفحہ ١٥٢

ہے کہ ایک شخص کی اتنی عمر ہوئی۔ اس سے عام قاعدہ مستنبط نہیں ہو سکتا ١؎۔

دیگر یہ کہ یہ استنباط الٹا مولوی عبدالرحمن قادیانی کے خلاف پڑتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نومبر ١٩٠١ء میں کیا اور اس سے پیشتر وہ ہمیشہ مدعی نبوت کو کافر ولعنتی، خارج از اسلام، بے ایمان، خسر الدنیا والآخرہ قرار دیتے رہے اور معلوم ہے کہ مرزا قادیانی کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بروز منگل میلہ بھدر کالی کے دن ہوئی۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت کے بعد صرف ساڑھے سات سال کی مہلت ملی اور اس کے بعد خدائے غیور نے ان کی رگ جان کاٹ ڈالی۔ پس بموجب قول مولوی عبدالرحمن قادیانی ٢٣ سال پورے نہ ہونے کی صورت میں مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ وھذا ھوالمراد!

اور اس سے پہلے الہامات کا زمانہ شامل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس عرصے میں آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر، جہنمی، لعنتی، مسیلمہ کذاب کا بھائی، ملعون، خسر الدنیا والآخرہ خارج از اسلام وغیرہ کہتے رہے۔ جس سے میرے مدمقابل مولوی عبدالرحمن قادیانی کو بھی انکار نہیں۔

١؎ کیونکہ ہر شخص میں بعض ایسے امور ہو سکتے ہیں جو دوسرے میں نہ ہوں۔ ورنہ کوئی شخص یہ کہنے کا بھی حق رکھ سکے گا کہ چونکہ آنحضرت ﷺ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال تک زندہ رہے۔ اس لئے نبی صادق کے لئے ضروری ہے کہ وہ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال ہی زندہ رہے۔ اگر کہا جائے کہ زائد کا لحاظ نہیں تو ہم کہیں گے کمتر کا بھی لحاظ نہیں۔ بات یہ ہے کہ علم منطق میں مسلم ہے۔ قضیۃ عین لا عموم لھا یعنی قضیہ شخصیہ میں عموم نہیں ہوتا۔

قادیانیوں کا یہ استدلال اس لئے بھی غلط ہے کہ کفار بنی اسرائیل نے جو حضرت یحییٰ نبی اللہ علیہ السلام کو قتل کیا تھا۔ تو وہ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ سال گذر جانے کے بعد قتل کیا تھا۔ یا پہلے۔ اگر بعد قتل کیا تھا تو اس کی سند درکار ہے۔ جو نہیں ملے گی۔ بلکہ اس کے برخلاف معلوم ہے کہ آپ دعویٰ نبوت کے تھوڑے عرصہ بعد ہی قتل کر دیئے گئے تھے اور اگر ٢٣ سال سے پہلے قتل ہوئے تھے۔ جو بالکل درست ہے تو مرزائیوں کو دو باتوں میں سے ایک بات ضروری ماننی پڑے گی یا تو معاذ اللہ حضرت یحییٰ نبی صادق نہ ہوں گے۔ یا قادیانیوں کا قاعدہ غلط ہوگا۔ جو سہل ہو۔ وہ مان لیں۔ چونکہ قاعدہ غلط ماننے سے جناب مرزا قادیانی کی نبوت کی دلیل غلط ہوتی ہے۔ اس لئے قادیانیوں کو حضرت یحییٰ کی نبوت سے انکار کر دینا سہل ہوگا۔ کیونکہ قادیانیوں کو مرزا قادیانی کے مقابلے میں نہ خدا کی پرواہ ہے نہ اس کے رسول کی جیسا کہ ان کے روزمرہ کے وطیرے سے ظاہر ہے اور اس مناظرے میں آپ آئندہ ملاحظہ کر لیں گے۔

٤٦

صفحہ ١٥٣

و بیکار ہے۔ بلکہ الٹی ان کے برخلاف ہے۔ خدا جانے ان کو کیا ہو گیا کہ وہ استدلال کے وقت مفید مطلب اور مہمل اور مضر مطلب میں تمیز نہیں کر سکتے۔ جو کچھ زبان شریف پر آتا ہے۔ بلا سوچے سمجھے اگل دیتے ہیں۔ سنئے جناب قرآن نے اپنے مقابلے کے لئے کوئی میعاد مقرر نہیں کی اور مرزا قادیانی نے کی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنا ضعف معلوم تھا کہ اس کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے ایسی قیدیں لگا دیں کہ ان کے بعد انکار کی گنجائش رہ سکے۔ فرمائیے مولانا غنیمت حسین صاحب مونگیری نے اعجاز احمدی کے جواب میں جو کتاب ابطال اعجاز مرزا لکھی۔ اس میں سوائے میعاد کے سوال کے آپ کیا عذر کر سکتے ہیں؟۔ مرزا قادیانی کے قصیدے میں انہوں نے صرفی، نحوی، ادبی اور عروضی ہر قسم کی کثیر التعداد غلطیاں نکالیں۔

لیکن ان کے قصیدے میں جو چھ سو شعر سے زائد پر مشتمل ہے۔ ایسی کوئی بھی غلطی نہیں ہے۔

؎١ نیز یہ کہ قرآن شریف نے بحیثیت کلام اللہ ہونے کے بے مثل اور خارج الطاقت بشری ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ بحیثیت کلام رسول اللہ ﷺ بلکہ قرآن شریف میں تو مصرح ہے کہ دیگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو وہ بڑا بھاری کافر و ظالم ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ: "و من اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذباً او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شئ و من قال سانزل مثل ما انزل اللّٰہ (انعام:٩٣)" اور کون بڑھ کر ظالم ہے اس سے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ مجھے وحی ہوتی ہے۔ حالانکہ اسے کچھ بھی وحی نہیں ہوتا اور یہ کہے کہ میں اتار سکتا ہوں۔ مثل اس کی جو خدا نے اتارا۔ ﴾

کتاب اعجاز احمدی کلام خدا نہیں ہے۔ بلکہ کلام مرزا ہے۔ پس اگر خود مرزا قادیانی اپنے کلام کو مثل قرآن معجز اور خارج از طاقت بشری جانتے ہیں تو وہ بڑے کافر و ظالم ہیں اور اگر مولوی عبدالرحمن قادیانی ان کے کلام کو قرآن شریف سے ملا کر معجزہ قرار دیتے ہیں تو گویا وہ مرزا قادیانی کو بڑا کافر اور بڑا ظالم قرار دیتے ہیں۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

دیگر یہ کہ قرآن شریف نے کم از کم ایک سورت سے بھی تحدی کی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تحدی کی صورت ہی نادر ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٧

صفحہ ٤٨

دیگر یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنا کمال شعروں میں دکھایا ہے اور شعر گوئی کمالات نبوت میں سے نہیں ہے۔ بلکہ شان نبوت کے لائق بھی نہیں ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) میرے شعروں کی تعداد کے برابر اشعار ہوں۔ اردو مضمون مندرجہ اعجاز احمدی کی عبارت کے برابر اردو مضمون بھی ہو۔ مرزا قادیانی کے فرمودہ اور فاسد خیالات کی تردید بھی ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ سب کچھ اور چھاپے خانے کی طباعت پھر کتاب کی تیاری اور پھر ڈاک میں پوسٹ کرنا اور پھر مرزا قادیانی کو اس کتاب کا پہنچ جانا سب کچھ چودہ روز میں پورا ہو۔ (دیکھو اعجاز احمدی ص ٣٦، خزائن ج ١٩ص ١٤٧) ورنہ منظور نہیں ہوگا۔ اب سوچئے کہ یہ سب قیود اپنے ضعف کو چھپانے کے لئے ہیں۔ یا جواب لینے کے لئے؟۔ دیگر یہ کہ قرآن شریف صرفی، نحوی اور ادبی غلطی سے پاک ہے۔ بلکہ اس کا کوئی بھی کلمہ غیر فصیح بھی نہیں ہے۔ چہ جائیکہ غلط ہو اور اسی طرح اس کا کوئی جملہ بھی غیر بلیغ نہیں ہے۔ چہ جائیکہ غلط و رکیک ہو۔

لیکن مرزا قادیانی کے قصیدہ میں صرف، نحوی، عروضی، اور ادبی ہر قسم کی اغلاط ہیں جو علماء نے طشت از بام کر دی ہوئی ہیں۔ وہ فصیح کیسے ہو سکتا ہے اور اس پر اسے تاحد اعجاز فصیح کہنے کے کیا معنے؟۔

ظہور حشر نہ ہو کیوں؟ جو کبک دری گنجی
حضور بلبل بستاں کرے نواسنجی

دیگر یہ کہ مرزا قادیانی نے مولانا اصغر علی صاحب روحی پروفیسر اسلامی کالج لاہور کی گرفت واعتراضات پر اپنے اغلاط مندرجہ کو بقلم خود تسلیم کر لیا۔ گویا ان کے سامنے اپنے دعویٰ اور تحدی کی سپر ڈالدی۔ اس کی مثل وہی ہے جو مشہور ہے کہ پٹھان کے سامنے فارسی بھول جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے یہ عذر کر کے پنڈ چھڑایا کہ میں عربی کا عالم ہوں نہ شاعر ہوں وغیرہ وغیرہ۔

ملخص تحریر مرزا قادیانی مندرجہ اخبار الحکم ج ٧ نمبر ٣٨ ص ٥، ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

لیکن قرآن کریم نے کسی کے سامنے سپر نہیں ڈالی۔ ”تنزيل الكتب من الله العزيز الحكيم (الزمر:١) “ بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا سکہ یہاں تک مانا گیا کہ آج کل بھی بیروت کے مسیحی کالجوں کے کورس میں قرآن شریف کی سورتوں کا انتخاب موجود ہے اور وہ اہل زبان ہو کر اس کی نسبت نہایت بلند رائے رکھتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے جب اپنا کلام مصر میں بھیجا تو وہاں کے ادیبوں نے اس کی دھجیاں اڑا دیں اور اسے پر از اغلاط پاکر اسے لچر اور پوچ قرار دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب احمدی میں اس کی شکایت کرتے ہیں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ١٥٥

یانی نے اپنا کمال شعروں میں دکھایا ہے اور شعر گوئی کمالات نبوت وت کے لائق بھی نہیں ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ے شعروں کی تعداد کے برابر اشعار ہوں۔ اردو مضمون مندرجہ اعجاز مضمون بھی ہو۔ مرزا قادیانی کے فرمودہ اور فاسد خیالات کی تردید کچھ اور چھاپے خانے کی طباعت پھر کتاب کی تیاری اور پھر ڈاک یانی کو اس کتاب کا پہنچ جانا سب کچھ چودہ روز میں پورا ہو۔ (دیکھو ١٤) ورنہ منظور نہیں ہوگا۔ اب سوچئے کہ یہ سب قیود اپنے ضعف کو لینے کے لئے؟۔ دیگر یہ کہ قرآن شریف صرفی، نحوی اور ادبی غلطی بھی کلمہ غیر فصیح بھی نہیں ہے۔ چہ جائیکہ غلط ہو اور اسی طرح اس کا چہ جائیکہ غلط و رکیک ہو۔ کے قصیدہ میں صرف ، نحوی ، عروضی ، اور ادبی ہر قسم کی اغلاط ہیں جو ہیں۔ وہ فصیح کیسے ہو سکتا ہے اور اس پر اسے تاحد اعجاز فصیح کہنے

شتر نہ ہو کیوں؟ جو کلچڑی گنجی
بلبلِ بستاں کرے نواسنجی

سا نے مولانا اصغر علی صاحب روحی پروفیسر اسلامی کالج لاہور کی ط مندرجہ کو بقلم خود تسلیم کر لیا۔ گویا ان کے سامنے اپنے دعویٰ اور وہی ہے جو مشہور ہے کہ پٹھان کے سامنے فارسی بھول جاتی ہے۔ کے پنڈ چھڑایا کہ میں عربی کا عالم ہوں نہ شاعر ہوں وغیرہ وغیرہ۔

الحکم ج ٧ نمبر ٣٨ ص ٥، ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

ی کے سامنے سپر نہیں ڈالی۔ "تنزيل الكتب من الله بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا سکہ یہاں تک مانا گیا کہ آج کل س میں قرآن شریف کی سورتوں کا انتخاب موجود ہے اور وہ اہل رائے رکھتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے جب اپنا کلام مصر میں دھجیاں اڑا دیں اور اسے پر از اغلاط پا کر اسے لچر اور پوچ قرار خمہ کی میں اس کی شکایت کرتے ہیں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٨

نسبت فرمایا ”وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ (یٰسین: ٦٩)“ یعنی ہم نے آنحضرت ﷺ کو شعر نہیں سکھایا اور نہ وہ شعر اس کی شان کے لائق ہے اور آپ کا ”انا النبی لا کذب“ کی بناء پر آپ کو شاعر کہنا بہت بڑی دلیری اور جسارت ہے۔ شراح حدیث نے اس کے کئی ایک جواب لکھے ہیں۔ جن میں سے حافظ ابن حجر نے اسے پسند کیا ہے کہ یہ کلام اتفاقاً موزون ہو گیا ہے۔ قصداً موزون نہیں کیا گیا اور شعر کے لئے وزن کا مقصود ہونا لازمی ہے۔

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کہ اہل مصر نے خصوصاً رسالۃ المنار نے میرے کلام کی قدر نہیں کی۔ نیز یہ کہ مرزا قادیانی کے مقابلے میں اولاً قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم پروفیسر عربی اورینٹل کالج لاہور نے قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ لکھا۔ جو انہی دنوں اخبار اہل حدیث میں چھپ گیا تھا اور وہ نہایت فصیح و بلیغ اور مطابق قواعد عروض و قوافی ہے اور صرفی ، نحوی ، عروضی و ادبی اغلاط سے پاک ہے۔ اس کے بعد مولانا غنیمت حسین صاحب مونگیری نے ابطال اعجاز مرزا کتاب دو حصوں میں لکھی۔ پہلے حصے میں مرزا قادیانی کے اشعار کی غلطیاں ظاہر کیں۔ جو صرفی ، نحوی ، عروضی ، ادبی ہر قسم کی ہیں اور دوسرے حصے میں چھ سو سے زائد اشعار کا عربی قصیدہ لکھا جو نہایت فصیح و بلیغ ہے اور اغلاط سے پاک ہے۔

١؎ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عادت میں شعر نہیں پایا گیا۔ بلکہ اگر کبھی آپ نے کسی دوسرے کا شعر بطور تمثل نقل بھی کیا ہے۔ تو اس میں ایسی تبدیلی ہو گئی۔ جس سے اس کا وزن درست نہ رہ سکا اور اس کی مثالیں حدیث جاننے والوں سے مخفی نہیں ہیں۔ پس جب شعر آپ کی عادت میں نہیں۔ بلکہ دوسرے کا شعر بھی جو موزون ہوتا ۔ پوری طرح نقل نہ کر سکتے تو معلوم ہوا کہ اگر آپ کے دہن مبارک سے کبھی کوئی موزون کلام نکل گیا تو وہ اتفاقی بات ہے اور اصطلاح کے لحاظ سے ایسا موزون کلام جو اتفاقاً موزون ہو جائے اور متکلم کا قصد نہ پایا جائے۔ اسے شعر اور اس کے قائل کو شاعر نہیں کہتے۔ چنانچہ علامہ سید دمہنوری مصری شرح کافی میں شعر کی تعریف میں کہتے ہیں کلام موزون قصداً بوزن عربی اور اس کے بعد ان قیود کے فوائد میں قصداً پر لکھتے ہیں ۔ ”وقولنا قصداً يخرج ماكان وزنه اتفاقيا اى لم يقصد وزنه فلا يكون شعرا كآيات شريفة اتفق وزنها اى لم يقصد وزنها بل قصد كونها قرآنا وذكرا كقوله تع لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون فانها وزن مجزو الرمل المسبغ فلا تكون شعر الاستحالة الشعرية على القرآن قال تع ان هو الاذكر وقرآن مبين وكمركبات نبوية اتفق وزنها اى لم (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٩

صفحہ ١٥٦

اور جو آپ نے فرمایا کہ امام راغب نے فرمایا کہ وما علمنہ الشعر میں شعر سے مراد کذب ہے یہ بھی نقصان علم کی وجہ سے ہے۔ آپ امام راغب کی عبارت کو سمجھ نہیں سکے اور مرزا قادیانی کے بچانے کے لئے ایک نامعقول عذر پیش کر دیا۔ اس کا حل اس طرح ہے کہ یہاں پر دو باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن شعر ہے یا نہیں۔ دیگر یہ کہ آنحضرت ﷺ شاعر ہیں یا نہیں۔ سو امام راغب فرماتے ہیں کہ چونکہ قرآن شریف عیاناً نثر کلام میں ہے۔ اس لئے کفار کا قرآن کو شعر کہنا بمعنی کذب ہے اور اس وقت ہماری نزاع آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے۔ سو اس کی بابت امام راغب نے ہرگز نہیں کہا اور نہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ شعر کہا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ خلاف واقع بھی ہے اور قرآن شریف کی صریح نفی کے خلاف بھی ہے۔ گو ہم امام راغب سے کفار کے قول کی توجیہ سے بھی متفق نہیں ہیں۔ لیکن اس وقت صرف ان کا مقصود بیان کرنا مقصود ہے۔ اس لئے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) يقصد وزنها بل قصد كونها ذكراً متلواً كقوله ﷺ هل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل الله ما لقیت فانه على وزن الرجز المقطوع فلا يكون شعراً قال الله تعالى وما علمنه الشعر وما ينبغى له ان هو الا ذكر وقرآن مبين“

(الشرح المبسوط ص ١٣)

نیز سمہودی اسی صفحہ میں شیخ جملؒ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے آدم علیہ السلام نے شعر کہا تھا۔ اس نے جھوٹ بولا محمد ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام سب کے سب شعر گوئی سے پاک ہونے میں برابر ہیں۔ اسی طرح اسی صفحہ پر شیخ سجاعی سے شعر کی تعریف یوں نقل کی ہے۔ ”والنظم هو الكلام المقفى الموزون قصداً ای مقصود الشعرية لقائله“ یعنی جو کلام وزن اور قافیہ کی رعایت سے شعریت کا قصد کر کے کہا جائے اس نظم (وشعر) کہتے ہیں۔

غرض تمام علمائے امت کیا محدثین اور کیا ادیب سب کے سب بالاتفاق فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بالخصوص اور تمام انبیاء بالعموم شعر گوئی سے پاک تھے۔ امام رازیؒ اور امام زمخشریؒ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ پس مولوی عبد الرحمن قادیانی کا مرزا قادیانی کو بچانے کے لئے آنحضرت ﷺ کو شاعر قرار دینا جو بنص قرآنی آنحضرت ﷺ کی شان کے لائق نہیں بہت بڑی دلیری ہے اور مولوی عبد الرحمن کے علم اور دین کی کمی اور کوتاہی کی دلیل ہے۔ قاتلهم الله انی یوفکون!

٥٠

صفحہ ١٥٧

لیجئے آپ کے دلائل جو حقیقت میں مغالطے ہیں۔ ان کی دھجیاں تو اڑ گئیں۔ اب وہ معیار سنئے جو خود مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کے لئے مقرر کیا ہے اور آپ نے اسے چھوا تک بھی نہیں۔ مرزا قادیانی نہایت تہذیب سے فرماتے ہیں۔

”بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اس کے مطابق ہم مرزا قادیانی کی بعض پیش گوئیاں بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں۔

اوّل یہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی یہ خدا کی باتیں ہیں۔ جو ٹل نہیں سکتیں۔ اس کے لئے مرزا قادیانی نے ہر طرح کی کوشش کی۔ لیکن کوئی کارگر نہ ہوئی اور محمدی بیگم کے والدین نے اس کا نکاح ایک شخص سلطان محمد نام ساکن پٹی سے کر دیا۔ تو مرزا قادیانی یوں الاپے کہ یہ نکاح مبارک نہیں ہوگا۔ یہ لڑکا یوم نکاح سے عرصہ اڑھائی سال تک مرجائے گا اور پھر محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے ہوگا۔ سلطان محمد کی موت تقدیر مبرم ہے جو ٹل نہیں سکتی۔ اگر ٹل جائے تو خدا کا قول باطل ہوتا ہے۔ لیکن واقعات مرزا جی کے الہامات کے خلاف ہوئے۔ نہ محمدی بیگم نکاح میں آئی، نہ سلطان محمد مرا۔ بلکہ مرزا قادیانی اس طرح کی ساری تمنائیں دل میں رکھے ہوئے بصد حسرت عرصہ ٢٥ سال سے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور محترمہ محمدی بیگم اپنے خاوند سلطان محمد کے ساتھ بکمال مسرت و برکت زندگی بسر کر رہی ہے۔ خدا نے اسے اولاد بھی کثرت سے دی ہے اور رزق بھی وسیع دیا ہے۔ غرض مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی ہر پہلو سے غلط ثابت ہوئی۔ پر مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیاد کے رو سے صادق نہ ہوئے بلکہ کاذب ہوئے۔ وهذا هو المراد!

دیگر یہ کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا۔ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینے میں۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥، تذکرہ ص ٥٩١ طبع سوم)

جب حرمین (حرسہا اﷲ) کے سفر کی کوئی صورت نظر نہ آئی یا نیت ہی نہ تھی۔ تو اس کی تاویل کر دی کہ ہم کو مکی فتح ہوگی یا مدنی۔ لیکن ہوا کچھ بھی نہ۔ نہ تو مرزا قادیانی مکہ شریف گئے یا مدینہ شریف۔۔ بلکہ فریضۂ الٰہی حج بھی نہ کیا اور باوجود مسیح موعود کا دعویٰ کرنے کے، حج بیت اللہ نہ کیا۔ جو بموجب حدیث شریف مسیح موعود کے نشانات میں سے ہے اور نہ آپ کو فتح مکہ کی طرح مکی فتح حاصل ہوئی، نہ مدنی۔ بلکہ عمر بھر غیروں کی غلامی کا دم بھرتے رہے اور وفاداری و نمک حلالی جتاتے رہے اور خوشامد و لجاجت کی ناک رگڑتے رہے اور مرے تو لاہور جا مرے۔ جہاں سے

٨١

صفحہ ١٥٨

مریدوں نے بصد دقت لاش کو دجال کے گدھے پر لاد کر قادیان پہنچایا۔

دیگر یہ کہ مرزا قادیانی نے ایک مبہم الہام ظاہر کیا تھا۔ شاتان تذبحان یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ جب محمدی بیگم کا باپ احمد بیگ مرا تو مرزا قادیانی نے اس الہام کے معنی یہ بیان کئے کہ ان دو بکریوں سے مراد محمدی بیگم کا باپ احمد بیگ اور اس کا خاوند سلطان محمد ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠، ٣٤١)

احمد بیگ مر گیا ہے اور سلطان محمد عنقریب مر جائے گا۔ لیکن جب کابل میں مرزا قادیانی کے دو مرید عبداللطیف اور اس کا رفیق مرتد قرار دئے جا کر سنگسار کئے گئے تو مرزا قادیانی نے پہلو بدل کر اس الہام کو ان پر لگا دیا۔ مبہم کلام، گول مول الہام کو حسب ضرورت جس طرح چاہا چسپاں کر لیا۔

مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلے رہیں پہلو دونوں

بہر حال میرا مقصود اس سے یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک سلطان محمد کی موت حتمی و قطعی تھی۔ جو واقعہ نہ ہوئی۔ پس مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔

اور مولوی عبدالرحمن صاحب نے ٹیچی ٹیچی فرشتے کے نام اور اس کے جھوٹ کے جواب میں ملک الموت کی آنکھ پھوٹ جانے کی جو نظیر پیش کی ہے۔ سو ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کی مثال ہے۔ اس کو امر زیر سوال سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ کہاں فرشتے کے نام سے سوال کہ یہ کیسا نام ہے اور اس کے اخلاقی عیب جھوٹ سے سوال کہ جھوٹ بولنے والا فرشتہ کس طرح ہو سکتا ہے اور کہاں حضرت ملک الموت کا جسمانی عارضہ کہ آنکھ پھوٹ گئی ١؎

١؎ جب مولوی عبدالرحمن صاحب مرزائی نے حضرت ملک الموت کی مثال دی تھی تو حاضرین بہت ہنسے تھے کہ اب مرزائی مولوی بہک کر عاجز ہو گیا ہے کہ ایسی بے ربط باتیں کہنے پر اتر آیا ہے۔ امام بیہقیؒ نے امام خطابیؒ سے نقل کیا کہ ملحد اور بدعتی لوگ اس حدیث میں طعن کرتے ہیں۔ پھر اس کا بہت مبسوط و مدلل جواب نقل کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صدمہ صورت بشری کی آنکھ پر وارد ہوا تھا۔ نہ کہ صورت ملکی کی آنکھ پر۔ کیونکہ حضرت ملک الموت اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس صورت بشری میں آئے تھے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس صورت بشری میں آئے۔ تو انہوں نے ان کو نہ پہچانا۔

(کتاب الاسماء والصفات ص ٤٩٣، ٤٩٤، طبع بیروت)

٥٢

صفحہ ١٥٨

کے گدھے پر لاد کر قادیان پہنچایا۔

یہ ایک مبہم الہام ظاہر کیا تھا۔ شاتان تذبحان یعنی دو بکریاں باپ احمد بیگ مرا تو مرزا قادیانی نے اس الہام کے معنی یہ ی بیگم کا باپ احمد بیگ اور اس کا خاوند سلطان محمد ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٥، ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠، ٣٣١)

ور سلطان محمد عنقریب مر جائے گا۔ لیکن جب کابل میں ا اور اس کا رفیق مرتد قرار دئے جا کر سنگسار کئے گئے تو ہام کو ان پر لگا دیا۔ مبہم کلام، گول مول الہام کو حسب ضرورت

ہم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
کہہ کہ نکلے رہیں پہلو دونوں

ا سے یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک سلطان محمد کی موت حتمی زا قادیانی کا ذب ٹھہرے۔

احب نے ٹیچی ٹیچی فرشتے کے نام اور اس کے جھوٹ کے جواب انے کی جو نظیر پیش کی ہے۔ سو ماروں گھٹنا پھوڑوں آنکھ کی مثال بھی تعلق نہیں۔ کہاں فرشتے کے نام سے سوال کہ یہ کیسا نام ہے سے سوال کو جھوٹ بولنے والا فرشتہ کس طرح ہو سکتا ہے اور کہاں رشتہ کہ آنکھ پھوٹ گئی ١؎!

رحمٰن صاحب مرزائی نے حضرت ملک الموت کی مثال دی تھی تو رزائی مولوی بہک کر عاجز ہو گیا ہے کہ ایسی بے ربط باتیں کہنے پر طائی سے نقل کیا کہ ملحد اور بدعتی لوگ اس حدیث میں طعن کرتے جواب نقل کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صدمہ صورت بشری ورت ملکی کی آنکھ پر۔ کیونکہ حضرت ملک الموت اس وقت حضرت ت بشری میں آئے۔ تو انہوں نے ان کو نہ پہچانا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور صورت بشری میں آئے۔ تو انہوں نے ان کو نہ پہچانا۔

(کتاب الاسماء والصفات ص ٤٩٣، ٤٩٤ طبع بیروت)

٥٢

پھر غضب یہ کیا کہ صحیحین کی حدیث کو استہزاء میں اڑایا۔ جو صحیح سند سے رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی صحیحین کی ہتک کرے وہ بدعتی اور گمراہ ہے۔

(حجۃ اللہ ج ١ ص ١٣٤)

حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت رسول کریم ﷺ کی نسبت جو کچھ آپ نے گستاخی اور شوخی سے جلے دل سے بوجہ عاجزی کے بدحواس ہو کر کہا ہے اور مرزا قادیانی کو بچانا چاہا ہے۔ سو معلوم ہو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام والی حدیث تو صحیحین کی ہے۔ یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے۔ جن کی توہین کا آپ نے ٹھیکہ لے رکھا ہے اور آپ اس حدیث کے مطلب کو اپنی کم علمی اور بد اعتقادی کی وجہ سے سمجھ نہیں سکے۔ کیونکہ وہ سب تعریضی ٢ باتیں ہیں۔

١؎ مرزائی لوگ مرزا کے مقابلے میں خدا رسول کی کوئی پرواہ نہیں رکھتے۔ میری ایک مرزائی کے ساتھ محمدی بیگم کی پیش گوئی کے متعلق گفتگو ہوئی تو جھٹ مرزائی نے کہہ دیا کہ تمہارے رسول کی بھی بہت سی پیش گوئیاں سچی نہیں ہوئی۔ یہ صرف مرزا کو سچا کرنا چاہتے ہیں۔ ایمان رہے یا نہ رہے۔

٢؎ امام نوویؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ تینوں باتیں تعریضی ہیں۔ جن کی حقیقت کذب کی نہیں۔ ان سے توریہ مقصود ہے۔ اسی لئے حدیث میں صاف وارد ہوا کہ یہ سب خدا کے لئے تھیں۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف خدا کے واسطے ایسی تعریضی باتیں کیں اور امام بخاریؒ نے دوسرے موقع پر ایک باب خاص اسی مسئلہ تعریض کے متعلق باندھا ہے۔ ’’المعاريض مندوحة عن الكذب‘‘ (کتاب الادب ج ٢ ص ٩١٧) یعنی تعریضات حقیقتاً جھوٹ نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان باتوں اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کا ذکر کر کے جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ’’یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغگوئی میں داخل تھا۔ یا حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے۔ تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٧، ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٥٣

صفحہ ١٦٠

اور حضرت یوسف علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی بابت آپ نے جو کچھ بدزبانی کی ہے ۔ وہ کسی مرفوع اور صحیح حدیث میں مذکور نہیں ۔ یہ سب آپ کی علم حدیث سے بے خبری کی دلیل ہے ۔ دیگر یہ کہ ان باتوں کو میری گرفت سے کیا تعلق ؟ میں تو مرزا قادیانی کی مصدقہ و مسلمہ تحریرات پیش کرتا ہوں اور آپ ان کے جواب سے عاجز ہو کر بالکل بے ربط باتوں اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت و ہتک پر اتر آئے ہیں ۔

نوٹ: مولوی صاحب قادیانی اس وقت بہت کھسیانے ہو گئے تھے اور ان کے منہ سے سوائے بدزبانی کے اور کچھ نہیں نکل سکتا تھا سخت بدحواسی کی حالت میں جو منہ میں آتا تھا کہہ جاتے تھے اور مضمون کی مناسبت اور ارتباط کو ملحوظ نہ رکھ سکتے تھے ۔

اور آپ نے میرے نام کے مشرکانہ ہونے کی ایک ہی کہی ۔ واہ صاحب! میں کیا شرک ہے۔ اچھا بالفرض اگر شرک ہے بھی تو میں مدعی نبوت نہیں کہ میری نبوت میں قدح ہو سکے ۔ لیکن آپ نے اپنے گھر کی بھی خبر لی کہ مرزاجی کا نام بچپن میں کیا تھا۔ ان کا نام سندھی تھا اور یہ ہندوانہ اور مشرکانہ نام ہے ۔

نوٹ: مولوی عبدالرحمن صاحب احمدی نے اس پر کہا کہ یہ نام والدین نے نہیں رکھا تھا ۔ اس لئے یہ الزام مرزا قادیانی پر عائد نہیں ہو سکتا اور بآواز بلند کہا کہ اگر یہ نکال کر بتا دیا جائے کہ یہ نام والدین نے رکھا تھا تو یہ دیکھو (نوٹ نکال کر) میں ١٠روپے انعام دوں گا ۔

مولوی لال حسین صاحب نے اپنی نوبت میں کتاب سیرت المہدی مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی نکال کر بتا دیا کہ یہ دیکھو اس میں صاف لکھا ہے کہ مرزاجی کو بچپن میں ان کی والدہ سندھی نام سے پکارتی تھی اور لوگ بھی ایسا ہی کہتے تھے ۔

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٤٥ روایت نمبر ٥١)

مولوی عبدالرحمن قادیانی اس حوالے سے سخت شرمندہ ہوئے اور شرمساری سے سر نیچے کر کے نوٹ جیب میں ڈال لیا اور ڈھیلے منہ سے کہنے لگے کہ میرا سوال تو والدین کے نام رکھنے سے تھا نہ کہ اکیلی والدہ کے رکھنے سے ۔

یہ نقشہ دیکھ کر سب حاضرین نے یقین کر لیا کہ مولوی عبدالرحمن قادیانی جس طرح نہایت درجے کے گستاخ و بدزبان ہیں ۔ اس طرح جھوٹے اور بے ایمان بھی پرلے درجے کے ہیں ۔ یہ مجلس بھی ختم ہوئی اور قادیانی شرم کے مارے اپنی مختصر سٹیج کے ایک کونے میں دب کر رہ گئے اور مسلمان خوشاں و فرحاں خدا کی تکبیر پکارتے اور فتح کی خوشی مناتے واپس ہوئے ۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ !

٥٤

صفحہ ١٦١

دوسرے روز کی دوسری اور آخری مجلس

مورخہ ٤/ جون ١٩٢٣ء ٥ بجے شام سے ٧ بجے تک

مبحث ، آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی

مسلمان

صدر ........... شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر مناظر (مدعی) ...... مولانا مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی

قادیانی

صدر ........... مولوی عبدالرحمن صاحب بی۔اے مناظر (مجیب) ...... مولوی محمد سلیم صاحب

مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی نے حمد وصلوٰۃ اور اعوذ کے بعد آیت پڑھی۔ "ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين . وكان الله بكل شئ عليماً (احزاب : ٤٠) " یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی بالغ مرد کا باپ نہیں ہے لیکن خدا کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتم ہے اور خدا تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ یعنی جانتا ہے کہ آگے کوئی شخص نبوت کے قابل پیدا نہیں ہو گا۔

پھر حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ صاحبان! اس وقت میرے ذمے اس بات کا ثبوت ہے کہ آنحضرت ﷺ خدا کے آخری رسول ہیں۔ دلائل شرع قرآن وحدیث اور اجماع امت اس پر شاہد ہیں۔ آیت بالا میں صاف الفاظ میں خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ خاتم انبیاء ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب اس کا ترجمہ بدیں الفاظ کرتے ہیں۔ ٭نہیں ہے (محمد ﷺ) باپ کسی کا مردوں تمہارے میں سے ولیکن پیغمبر خدا کا ہے اور ختم کرنے والا تمام نبیوں کا اور ہے اللہ ہر چیز کا جاننے والا ۔٭

اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس پر حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ یعنی بعد از وے هیچ پیغمبر نباشد

(ص ٥٦٦)

لغت کی تمام کتابوں میں خاتم کے معنی آخری لکھے ہیں۔ چنانچہ (لسان العرب ج ٤ ص ٢٥) میں ہے ۔ "وختام القوم وخاتمهم وخاتمهم آخرهم عن اللحياني

٥٥

صفحہ ١٦٢

ومحمدﷺ خاتم الأنبياء التهذيب والخاتم والخاتم من اسماء النبىﷺ وفى التنزيل العزيز ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين اى اخرهم “ یعنی ختام القوم اور خاتم القوم (بالکسر ) اور خاتم القوم (بالفتح) ہر سہ کے معنی ہیں۔ قوم کا آخری شخص اور تہذیب میں ہے کہ محمدﷺ انبیاء کے خاتم ہیں اور خاتم (بالکسر) اور خاتم (بالفتح ) ہر دو نبیﷺ کے نام ہیں اور قرآن شریف میں ہے ۔ ”ماکان محمد ابا احد ”سو اس میں خاتم النبیین کے معنی ہیں ”آخری نبی“۔

امام بغویؒ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں ایک یہ حدیث بھی نقل کی ہے۔ جو بخاری ومسلم کی روایت سے ہے اور اس میں آنحضرتﷺ نے اپنے پانچ نام بتائے ہیں۔ ایک ان میں سے عاقب ہے اور عاقب کی تفسیر اسی حدیث میں مذکور ہے۔ ”والعاقب الذی لا نبی بعدہ (مسلم ج٢ ص ٢٦١، باب فی اسمائہﷺ)“ یعنی عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

اسی طرح مسند امام احمد میں حضرت انسؓ کی حدیث ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (مسند امام احمد ج ٣ ص٢٦٦)“ رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔

اس طرح (مشکوٰۃ کتاب الامارۃ والقضا، ص ٣٢٠) میں (صحیح بخاری ج١ ص١٩١، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ) اور (صحیح مسلم ج٢ ص١٢٦، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ الاول فالاول) کی روایت سے حدیث ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ قوم بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کے متعلق ہوتی تھی۔ ایک نبی فوت ہوتا تو اس کا خلیفہ بھی نبی ہوتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ہاں خلیفے ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (الحدیث)

اس کی توضیح یوں ہے کہ نبی اللہ کے متعلق دو باتیں ہوتی ہیں۔ تعلیم شریعت اور انتظام سیاست۔ سو آنحضرتﷺ نے بنی اسرائیل کا ذکر کر کے سمجھایا کہ ان میں تعلیم شریعت اور انتظام ملکی ہر دو، ان کے انبیاء کے متعلق تھے اور اپنی بابت فرمایا کہ چونکہ میرے بعد کوئی بھی نبی ہونے والا نہیں۔ اس لئے صرف خلافت ہوگی ۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت بند اور انتظام ملکی کے لئے خلافت جاری۔

٥٦

صفحہ ١٦٣

آنحضرت ﷺ نے مسئلہ ختم نبوت کو ایسا صاف کر دیا ہے کہ اپنے بعد کے مدعی نبوت کو دجال و کذاب جیسے برے اور مکروہ القاب سے یاد کیا۔ چنانچہ جامع ترمذی میں حضرت ثوبانؓ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: ”وسيكون فى امتى ثلثون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى (حديث صحيح ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب ماجاء لاتقوم الساعة حتى يخرج كذابون)“ اور میری امت میں (قیامت سے پہلے) تیس کذاب ضرور ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (امام ترمذی کہتے ہیں) یہ حدیث صحیح ہے۔

یہ حدیث (جامع ترمذی ج٢ ص٤٥، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون اور صحیح بخاری ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام اور صحیح مسلم ج٢ ص٣٩٧، كتاب الفتن واشراط الساعة) میں حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مروی ہے اور اس میں ان مدعیوں کے دجالون کذابون دو لقب آئے ہیں۔

دجال نہایت درجے کے فریبی اور ملمع ساز کو اور کذاب نہایت درجے کے جھوٹے مکار کو کہتے ہیں۔ (منتہی الارب، لسان العرب، مصباح)

کسی کے ریب اور ملمع سازی اور جھوٹ اور مکر پر اطلاع پانا اور اس کی حقیقت پر واقف ہوجانا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے ازراہ شفقت ان کا ایک ایسا مشترک نشان بتا دیا۔ جس سے علم والے اور بے علم لکھے پڑھے اور بے پڑھے۔ شہری اور دیہاتی سب طرح کے لوگ یکساں طور پر پہچان لیں۔ وہ کہ یہ دجال و کذاب ہیں۔ یعنی ان کا آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا ہی ان کے دجال و کذاب ہونے کی دلیل بتائی۔ چنانچہ اسی بات کو واضح کرنے کے لئے ساتھ ہی فرما دیا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

نوٹ: اس حدیث سے علاوہ اس کے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دجال و کذاب ہے اور علاوہ اس کے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یہ امر بھی ثابت ہوگیا کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

مولانا صاحب نے سلسلۂ تقریر میں فرمایا کہ خاکسار (محمد ابراہیم میر سیالکوٹی) نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کی ایک ایک بات پر جناب مرزا قادیانی آنجہانی کے دستخط بھی پیش کرتا ہوں۔

٥٧

صفحہ ١٦٤

پہلی بات میں نے یہ بیان کی ہے کہ آیت خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ نبیوں کے ختم کر دینے والے ہیں۔

سو اس کی بابت مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں اسی آیت کا ترجمہ یوں ارقام فرماتے ہیں ۔ ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“

نیز فرماتے ہیں کہ: ”جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا ہے۔“ (خط مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء مطبوعہ الحکم نمبر ٢٩ ج ٣ منقول از ٹریکٹ نمبر ٨ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری مجریہ یکم مئی ١٩٣٣ء)

دوسری بات میں نے حدیث امام احمد کے حوالے سے یہ بیان کی کہ رسالت اور نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد منقطع ہوگئی ہے۔ اب کوئی نبی اور رسول نہیں ہوگا۔ سو اس کی بابت مرزا قادیانی ازالہ اوہام کی عبارت مذکور الفوق کے آگے سلسلۂ ذکر میں لکھتے ہیں۔

”ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ ’اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)، لیجئے وہی الفاظ ہیں۔

نیز (آئینہ کمالات ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”ماکان الله ان يرسل نبياً بعد نبينا خاتم النبيين وما كان ان يحدث سلسلة النبوة ثانياً بعد انقطاعها“ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین کے بعد کسی کو بھی نبی کر کے بھیجے اور نہ یہ ہوگا کہ سلسلہ نبوت کو منقطع ہو جانے کے بعد پھر جاری کرے۔

تیسری بات جو میں نے بیان کی وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عام طور پر فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣) میں فرماتے ہیں کہ: ”حدیث لا نبی بعدی میں بھی لا نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر دلیری اور گستاخی ہے کہ خیال رکیک کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہو چکی ہے۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔“

اسی طرح مرزا قادیانی کی کتب کے دیگر حوالے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ جن میں صاف اقرار ہے کہ نبوت اور رسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی اور آپؐ اس سلسلے کے آخری نبی ہیں۔

٥٨

”اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتا کیا۔ جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل تھے۔

”ويقولون ان هذا الرجل .... المرسلين لا نبي بعده وهو خا

جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سـ ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد اور میں نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مد

سے شروع ہوئی اور جناب رسول محمد صل (اشتہار ٢ /اکتوبر ٩١ء مجموعہ اشتہارا

نبوّتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کما تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٤٢، مجموعہ اشتہارات نیز فرمایا ” تمام کمالات نبـ

ان ہر دو مقامات میں فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے جو کـ پر ختم ہو گئے ۔“

صفحہ ١٦٥

نے یہ بیان کی ہے کہ آیت خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ ہیں اور آپ نبیوں سے ختم کر دینے والے ہیں۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں اسی رماتے ہیں ۔ ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ والا نبیوں کا۔“

کہ ”جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن ختم کر دیا ہے۔“ (خط مورخہ ١٧؍اگست ١٨٩٩ء مطبوعہ الحکم نمبر ٢٩ ج ٣ منقول صلح لاہور مجریہ یکم مئی ١٩٣٣ء)

نے حدیث امام احمد کے حوالے سے یہ بیان کی کہ رسالت اور نبوت قطع ہوگئی ہے۔ اب کوئی نبی اور رسول نہیں ہوگا۔ سو اس کی بابت عبارت مذکورہ الفوق کے آگے سلسلہ ذکر میں لکھتے ہیں ۔ آتا ہے کہ ’اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)، لیجئے وہی الفاظ ہیں ۔ ص ٤٧٧ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ : ”مــــا کــــان اللہ ان خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَمَا كَانَ أَنْ يُّحْدِثَ سِلْسِلَةَ النُّبُوَّةِ ثَانِياً س ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین کے بعد کسی کو بھی نبی سلسلہ نبوت کو اس کو منقطع ہو جانے کے بعد پھر جاری کرے۔

س نے بیان کی وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عام طور پر فرما دیا ہوگا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ کہ ”حدیث لا نبی بعدی میں بھی لا نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر ، رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہو چکی ہے۔ دیا جائے۔“

نفی کی کتب کے دیگر حوالے بھی پیش کئے جاتے ہیں ۔ جن میں صاف نحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی اور آپ اس سلسلے کے آخری نبی ہیں۔

٥٨

”اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحیم ہے۔ جس نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو پیدا کیا۔ جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل تھے۔“

”وَيَقُوْلُوْنَ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ ..... لَا يَعْتَقِدُ بِاَنَّ مُحَمَّدًاﷺ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ وَ مُنْتَهَى الْمُرْسَلِيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدَه وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ فَهذِهِ كُلُّهَا مُفْتَرَيَاتٌ “

جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں ۔ جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں ۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“

سے شروع ہوئی اور جناب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(اشتہار ٢ ؍ اکتوبر ٩١ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١، کتاب حقیقت النبوۃ ص ٨٩، مصنفہ مرزا محمود قادیانی)

نبوتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے ۔“ (اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٢ رستمبر ٩٥ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٥٦، نیز ص ٦٢، نوٹس بنام آریہ صاحبان )

نیز فرمایا ”تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٧)

ان ہر دو مقامات میں کمالات سے مراد کمالات نبوت ہیں ۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : ”اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں۔ وہ مجموعی طور پر ہادی کامل پر ختم ہو گئے ۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٩٠، بحوالہ کتاب دین الحق ص ٦٧)

(نجم الہدیٰ ص ٤، خزائن ج ١٤ ص ٤)

٥٩

صفحہ ١٦٦

نیز فرماتے ہیں کہ: ”کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا۔“

(ص ١٢١، آخری مرزا حصہ اول)

نیز ازالہ اوہام میں لوگوں کی طرف سے خود سوال کرتے ہیں اور خود جواب دیتے ہیں۔

”سوال: رسالہ فتح الاسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“

”الجواب: نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

اسی طرح شیخ الکل حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اور مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کا ذکر نہایت بدتہذیبی سے کر کے لکھتے ہیں کہ: ”یہ سراسر افتراء ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے۔ یا ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔ یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے۔ یا ملائک سے انکاری یا حشر ونشر وغیرہ اصولِ عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلوٰۃ وغیرہ ارکانِ اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے ہیں۔ یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور خسر الدنیا والاخرہ یقین رکھتے ہیں۔“

(انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٤٥)

چوتھی بات میں نے یہ بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد کے مدعیانِ نبوت کو دجال و کذاب فرمایا ہے۔ سو اس کی نسبت بھی مرزا قادیانی کی تصریحات بیش از بیش ہیں۔ ان میں سے چند بطور نمونہ حسب ذیل ہیں۔

ہوں۔“

(اشتہار ٢٠/اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

سمجھتا ہوں۔“

(تقریر ٢٣/اکتوبر دہلی ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

جاؤں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

٦٠

صفحہ ١٦٧

م کہ : ”کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا۔“

(ص ٢١ ڈائری مرزا حصہ اول)

میں لوگوں کی طرف سے خود سوال کرتے ہیں اور خود جواب دیتے ہیں۔ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“

ت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢١ ، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

لکل حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی اور مولانا ابو ہی کا ذکر نہایت بدتہذیبی سے کر کے لکھتے ہیں کہ: ” یہ سراسر افتراء ہے کہ ب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے۔ یا ہم ا۔ یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں ی یا حشر ونشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم وصلاۃ خلاف سے دیکھتے ہیں۔ یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے ، قائل ہیں اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور خسر الدنیا

(انجام آتھم ص ٤٥ ، خزائن ج ١١ ص ٤٥)

نے یہ بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد کے مدعیان نبوت ۔ سوا اس کی نسبت بھی مرزا قادیانی کی تصریحات پیش از پیش ہیں۔ ان ذیل ہیں۔

تم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کاذب اور کافر جانتا

(اشتہار ٢٠/ اکتوبر ١٨٩١ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج

(تقریر ٢٣/ اکتوبر دہلی ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

ا بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

ے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩ ، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

٦٠

ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا یہ قول صریح کذب ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)

شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

صاحبان! میں نے اپنی تقریر میں یہ بات بھی ذکر کی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت بند ہے اور انتظام امت وسیاست کے لئے خلافت وامارت جاری ہے۔ سو مرزا قادیانی بھی اس طرح کہتے ہیں کہ : ”بیعت کرنے والے کے لئے ان عقائد کا ہونا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کو رسول برحق اور قرآن شریف منجانب اللہ کتاب اور جامع الکتب ہے۔ کوئی نئی شریعت اب نہیں آسکتی اور نہ کوئی نیا رسول آسکتا ہے۔ مگر ولایت اور امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آئیں گے۔ ان کا شمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے۔ وحی رسالت ختم ہوگئی۔ مگر ولایت وامامت وخلافت کبھی ختم نہ ہوگی۔“

(مکتوب مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ تحفۃ الاذہان نمبرا ج ١ ص ٢٣)

مرزا قادیانی کے ان سب حوالہ جات سے یہ امور ثابت ہیں۔

ملعون، خسر الدنیا والآخرہ۔ بدبخت مفتری اور بے ایمان ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے اقوال ہیں اور ہم بھی اس پر صاد کرتے ہیں۔

جواب منجانب مولوی محمد سلیم صاحب قادیانی

مولوی محمد سلیم صاحب قادیانی جواب کے لئے اٹھے اور شروع میں یہ آیت پڑھی

”ولقد جاءکم یوسف من قبل بالبینت فما زلتم فی شك مما جاءکم بہ حتٰی اذا ھلك قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا (مؤمن:٣٤)“ یعنی (اے باشندگان مصر!) تمہارے پاس حضرت یوسف اس سے پہلے روشن دلائل لے کر آئے۔ پس تم اس سے جو وہ

٦١

صفحہ ١٦٨

لے کر آئے۔ شک ہی میں رہے۔ حتیٰ کہ جس وقت وہ فوت ہو گئے تو تم کہنے لگے کہ خدا تعالیٰ اس کے بعد ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار مصر حضرت یوسف پر نبوت کو ختم سمجھتے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ختم نبوت کا عقیدہ کفار کا ہے اور جو نبوت کو بند سمجھے وہ کافر ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ”ذلك بان الله لم يك مغيراً نعمة انعمها على قوم حتى يغيروا ما بانفسهم (انفال:٥٣)“ یعنی اللہ تعالیٰ جس قوم پر کوئی نعمت کرتا ہے تو اس سے وہ نعمت دور نہیں کرتا۔ جب تک وہ قوم اپنے حالات و نیات کو نہ بدلے۔ اگر اس امت پر خدا تعالیٰ نے یہ نعمت نبوت بند کر دی ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ امت بدکار ہو گئی اور اس میں شرارت آ گئی ہے۔

تیسری دلیل اجرائے نبوت کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ماكان الله ليذر المؤمنين على ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب وما كان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء (آل عمران:١٧٩)“ یعنی خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں ایسی حالت پر چھوڑ دے۔ جب تک کہ خبیث اور طیب میں تمیز نہ کرے اور نہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کرے۔ لیکن اللہ اپنے رسول بھیجے گا۔ جن کو غیب پر مطلع کرے گا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبوت ابھی جاری ہے۔ کیونکہ یجتبی مضارع کا صیغہ ہے۔ جو استقبال کے لئے بھی آتا ہے۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ”الله يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس (الحج:٧٥)“ یعنی خدا تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی ہمیشہ رسول چنے گا۔

اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ ہمیشہ رسول ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ یصطفی فعل مضارع کا صیغہ ہے۔ جو استقبال کے لئے بھی آتا ہے۔

١؎ مولوی محمد سلیم صاحب نے ان آیتوں کا ترجمہ اسی طرح کیا تھا۔ جس کی گرفت سے وہ اخیر تک نجات نہ پا سکے اور بالکل لاجواب ہو گئے۔ جیسا کہ آپ مولانا سیالکوٹی کے جواب الجواب میں ملاحظہ کریں گے۔

٦٢

صفحہ ١٦٩

پانچویں دلیل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا فرزند ابراہیم فوت ہوا تو آپ نے فرمایا۔ ”لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (ابن ماجه ص١٠٨، باب ماجاء في الصلوة ابن رسول الله ﷺ وذكر وفاته)“ یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ ایسا نہ فرماتے اور مولانا صاحب سیالکوٹی نے جو فرمایا کہ خاتم کے معنی آخری ہیں۔ ہم کو مسلم ہیں۔ لیکن آخر بھی تو عربی لفظ ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی نہ ہو۔ دیکھئے حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”انا آخر الانبياء ومسجدى اخر المساجد (مسلم ج ١ ص٤٤٦، باب فضل الصلوة بمسجدى مكه والمدينة)“ یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ پس جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد مسجدیں بنتی بند نہیں ہوئیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت بھی بند نہیں ہوگی۔

اور مولانا صاحب نے حضرت مرزا قادیانی کے جس قدر حوالے پیش کئے کہ وہ دعویٰ نبوت سے انکار کرتے تھے۔ تو اگر یہ درست ہے تو پھر مولانا صاحب اور ان جیسے دیگر علماء مرزا قادیانی کو کافر کیوں کہتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ علماء نے مرزا قادیانی پر اس لئے کفر کا فتویٰ لگایا کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ دیگر یہ کہ مرزا قادیانی کے یہ اقوال اس وقت کے ہیں جب آپ کو وحی نبوت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جب نبوت کا حکم ہوا تھا تو آپ نے دعویٰ کر دیا۔ جیسے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو اور یہ بھی فرمایا کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلے آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ پھر جب حکم آ گیا تو بیت اللہ کی طرف پڑھنے لگے۔

اور تیس دجال والی حدیث جو بار بار پیش کی جاتی ہے سو اس کی بابت ہم کئی دفعہ کہہ چکے کہ یہ بقول حافظ ابن حجر ضعیف ہے۔ اس پر یہ سوال بھی ہے کہ تیس کی قید کیوں لگائی؟۔

علاوہ اس کے مولانا مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند تحذیر الناس میں لکھتے ہیں کہ بالفرض اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آ بھی جاوے تو اس سے خاتمیت محمدی میں

٦٣

صفحہ ١٧٠

نیز یہ کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ تو جب مسیح آئے گا تو کیا وہ نبی نہ ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے ختم کسے کیا؟۔

دیگر یہ کہ مشکوٰۃ میں حدیث ہے کہ پہلے خلافت منہاج نبوت پر ہوگی۔ پھر ظالمانہ ملوکانہ طریق پر ہوگی۔ پھر اخیر میں منہاج نبوت پر ہوگی۔ اس سے بھی ثابت ہے کہ نبوت جاری ہے۔

نیز مشکوٰۃ میں ہے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوگی۔ جس کے اوّل میں مَیں ہوں اور اخیر میں عیسیٰ بن مریم ہے۔ چونکہ عیسیٰ بن مریم نبی ہے۔ اس لئے نبوت جاری رہی اور عاقب کے معنی ہیں جو مولانا صاحب بار بار فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ الذی لیس بعدہ نبی یہ آنحضرت ﷺ کی تفسیر نہیں ہے۔ یہ دیکھئے ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ:

"الظاہر ان التفسیر من الراوی"

جواب الجواب منجانب مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی

حمد وصلوٰۃ کے بعد مولانا ممدوح نے فرمایا کہ قادیانی مناظر بے راہ چلتے ہیں۔ موضوع ختم نبوت ہے۔ (دیکھو پرچہ شرائط) جس کا مدعی مَیں ہوں۔ مَیں نے اس کے اثبات میں ہر طرح کے دلائل یعنی قرآنی، حدیثی، لغوی اور شہادات ائمہ تفسیر وحدیث ولغت بلکہ خود جناب مرزا قادیانی کے اقوال پیش کر دیئے ہیں۔ میرے مقابل مولوی محمد سلیم نے چھوتے ہی اجزائے نبوت کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے۔ جوان کا حق نہیں تھا۔ انکا فرض یہ تھا کہ وہ میرے دلائل پر نقض کرتے۔ یا اگر ان کے خیال میں میرے حوالے غلط تھے تو ان کی تصحیح طلب کرتے۔ یا اگر میرے دعویٰ کی کوئی جزو بے دلیل رہ گئی ہے تو اس کی دلیل طلب کرتے۔ لیکن انہوں نے اپنے فرض سے سراسر پہلو تہی کر کے جواب سے عاجزی کا ثبوت دے دیا ہے۔

١۔ مولوی محمد سلیم قادیانی نے اسی طرح او تو کے صیغے سے اور بغیر حضرت وغیرہ الفاظ تعظیم کے اور بغیر علیہ السلام کہنے کے کہا تھا۔ جیسے کہ عام طور پر قادیانیوں کی عادت ہے۔ چنانچہ ان کے پہلے اشتہار جلسہ میں جو آپ کی وفات کے متعلق مضمون رکھا ہوا تھا۔ اس کی سرخی اس طرح تھی۔ وفات مسیح ناصری اور اس مباحثہ میں سب پر روشن ہوگیا کہ مرزائی عموماً انبیاء کے حق میں خصوصاً حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں سخت گستاخ ہیں۔

٦٤

صفحہ ١٧١

آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ تو جب مسیح آئے گا تو کیا وہ نبی نہیں ہوں گے کیا؟۔ میں حدیث ہے کہ پہلے خلافت منہاج نبوت پر ہوگی۔ پھر ظالمانہ ملوکانہ منہاج نبوت پر ہوگی۔ اس سے بھی ثابت ہے کہ نبوت جاری ہے۔ ہے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوگی۔ جس کے اول میں میں ہوں اور اخیر عیسیٰ بن مریم نبی ہے۔ اس لئے نبوت جاری رہی اور عاقب کے معنی فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ الذی یہ آنحضرت ﷺ کی تفسیر نہیں ہے۔ یہ دیکھئے ملاعلی قاری لکھتے ہیں کہ: ن الراوی‘‘

منجانب مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی

مولانا ممدوح نے فرمایا کہ قادیانی مناظر بے راہ چلتے ہیں۔ موضوع رائط) جس کا مدعی میں ہوں۔ میں نے اس کے اثبات میں ہر طرح اً، لغوی اور شہادات آئمہ تفسیر وحدیث ولغت بلکہ خود جناب دیئے ہیں۔ میرے مقابل مولوی محمد سلیم نے چھوتے ہی اجرائے روع کر دیئے۔ جو ان کا حق نہیں تھا۔ ان کا فرض یہ تھا کہ وہ میرے کے خیال میں میرے حوالے غلط تھے تو ان کی تصحیح طلب کرتے۔ یا لیل رہ گئی ہے تو اس کی دلیل طلب کرتے۔ لیکن انہوں نے اپنے ب سے عاجزی کا ثبوت دے دیا ہے۔

انی نے اسی طرح اور کے صیغے سے اور بغیر حضرت وغیرہ الفاظ کے کہا تھا۔ جیسے کہ عام طور پر قادیانیوں کی عادت ہے۔ چنانچہ ان کی وفات کے متعلق مضمون رکھا ہوا تھا۔ اس کی سرخی اس طرح باحثہ میں سب پر روشن ہو گیا کہ مرزائی عموماً انبیاء کے حق میں ت میں سخت گستاخ ہیں۔

٦٤

انہوں نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ چند شبہات ہیں۔ جو کم علمی یا بد اعتقادی کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ سو میں خدا کے فضل سے حاضرین کی دلچسپی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ۔ سب کا تار و پود الگ کر کے رکھ دیتا ہوں اور ملمع کا سارا رنگ ابھی اتار دیتا ہوں۔

پڑھی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کا مقولہ ذکر کیا گیا ہے۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت پر ایمان نہ لائے تھے۔ جیسا کہ ” فما زلتم فی شك (مؤمن:٣٤)“ سے ظاہر ہے۔ انہوں نے از روئے کفر کہا تھا کہ حضرت یوسف مر گئے ہیں۔ تو چھٹکارا ہوا۔ اب خدا کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔

یہ خدائی فیصلے کا ذکر نہیں ہے اور ان کا یہ قول اس لئے بھی غلط تھا کہ اس وقت خدا کے علم میں سلسلہ نبوت میں سینکڑوں نبی باقی تھے۔ تو ان کفار کا اس وقت کا قول غلط ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس وقت جب خدا تعالیٰ نے اپنے فیصلہ سے آنحضرت ﷺ کی نسبت خاتم النبیین فرما دیا اور آنحضرت ﷺ نے بھی فرما دیا کہ نبوت اور رسالت میرے بعد منقطع ہو چکی ہے اور اس امت مرحومہ کے ہزار ہا آئمہ اور اولیاء اللہ جو آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے چلے آتے ہیں اور کسی نے بھی اس سے انکار نہیں کیا۔ بلکہ ہر نئے مدعی نبوت کو کافر و دجال جانتے رہے ہیں۔ (معاذ اللہ ) یہ سب کچھ غلط ہے۔ قرآن مجید اور حدیث صحیح اور اجماع امت کے برخلاف عقیدہ رکھنا گمراہی ہے نہ یہ کہ ان کے موافق اعتقاد رکھنا کفر و گمراہی ہے۔ معاذ اللہ استغفر اللہ!!

اور دوسری آیت جو انہوں نے تغیر نعمت کے متعلق پڑھی ہے اور اس میں نہایت گستاخی اور شوخی سے کہا ہے کہ کیا یہ امت بدکار ہو گئی ہے؟ اور اس میں شرارت آ گئی؟۔ جو نبوت بند ہو گئی ہے اور اس سے یہ نعمت نبوت چھن گئی ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اس نعمت نبوت کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ دیگر دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے۔ جو آیت کے سیاق سباق سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اس آیت کے پہلے بھی اور بعد بھی فرعونیوں وغیرہ کفار کا ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کئی قسم کی نعمتیں بخشی تھیں۔ لیکن انہوں نے نافرمانی کی تو خدا تعالیٰ نے ان پر تباہی ڈالی۔ کہاں نبوت اور

چھوڑا اور قریبا ہر نوبت میں اس آیت کو دھراتے رہے۔ جس سے حاضرین کو یقین ہو گیا کہ جو کچھ یہ لوگ گھر سے یاد کر کے آتے ہیں۔ اس کے دھراتے رہنے کے سوا ان کو کچھ بھی نہیں آتا۔

٦٥

صفحہ ١٧٢

کہاں دنیا کی نعمتیں ۔ مرفہ الحالی اور حکومت وغیرہ ۔

پس مولوی محمد سلیم قادیانی نے یہ آیت بھی بے محل و بے موقع پڑھی۔

تیسری آیت جو مولوی سلیم قادیانی نے چوتھے پارے کی پڑھی ہے ۔” ولکن اللہ یجتبی من رسله من یشاء (آل عمران: ١٧٩) “ اور اس کا ترجمہ کیا ہے۔ لیکن اللہ اپنے رسول بھیجے گا۔ اس کے متعلق سوال ہے کہ بھیجے گا کس کے معنی کئے ہیں ۔ مولوی محمد سلیم قادیانی نے اپنی طرف سے ملا دیا ہے۔ قرآن شریف میں اس آیت میں کوئی لفظ نہیں ۔ جس کا یہ ترجمہ ہو۔ خیر انہوں نے تو ترجمہ میں زیادتی کی ہے۔ ان کے بڑے حضرت جناب مرزا قادیانی تو قرآن شریف کے الفاظ میں بھی زیادتی کر لیتے تھے ۔ مثلاً وہ حقیقت الوحی میں اس عبارت کو قرآن شریف کی آیت جتا کر لکھتے ہیں

(حقیقت الوحی ص١٥٤)

الذین آمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً ویجعل لکم نوراً تمشون بہ“

(آئینہ کمالات اسلام ص١٧٧)

کہ: ”وجادلھم بالحکمة والموعظة الحسنة“

(ص٢٣،٨)

سوال یہ ہے کہ یہ آیات قرآن شریف میں ان الفاظ اور اس ترتیب کے ساتھ کہاں ہیں؟ ۔ خاکسار بفضل خدا، حافظ قرآن ہو کر کہتا ہے کہ قرآن شریف میں مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق کہیں بھی نہیں۔

حوالے دیئے ہیں۔ مثلاً (ازالۃ اوہام ص٤٤، خزائن ج٣ ص١٢٤، ١٢٥) میں صحیح بخاری کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود کی نسبت فرمایا کہ: ”بل ھو امامکم منکم“

بخاری کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت یہ آواز آسمان سے آئے گی۔ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“

ان دونوں حوالوں کی نسبت بھی سوال ہے کہ صحیح بخاری میں یہ حدیثیں ان الفاظ کے

٢٦

صفحہ ١٧٣

ساتھ کہاں ہیں۔ خاکسار بفضل خدا ایک عالم حدیث ہو کر بآواز بلند کہتا ہے کہ یہ حدیثیں ان الفاظ کے ساتھ صحیح بخاری میں نہیں ہیں۔ پہلی حدیث میں مرزا قادیانی نے ’’بل ھوا‘‘ اپنے پاس سے اپنے مطلب کے لئے بڑھا لیا ہے اور دوسری تو سراسر غلط ہے۔ صحیح بخاری میں اس کا وجود ہرگز نہیں ہے۔

نوٹ: مولوی محمد سلیم قادیانی نے اپنی نوبت میں اس کا جو جواب دیا وہ ان کے ایمان وحیاء کا آئینہ ہے۔ فرمانے لگے کہ اگر مرزا قادیانی نے یہ آیتیں اس طرح لکھی ہیں اور یہ حدیثیں اس طرح بیان کی ہیں تو آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ ہر نبی نے دجال کی خبر دی ہے۔ یہ بات ہر نبی کی کتاب میں کہاں ہے؟۔

اور نیز قرآن شریف نے کہا ہے کہ مسیح نے بشارت سنائی کہ میرے بعد احمد رسول آئے گا تو انجیل میں دکھایا جائے کہ احمد کہاں لکھا ہے؟۔ حاضرین نے جب ان کی تقریر سنی تو آگ بگولا ہو گئے کہ قادیانی ایسے گستاخ ہیں کہ ان کے مرزے پر کوئی بھی اعتراض کیا جائے تو یہ لوگ مرزا جی کو بچانے کے لئے، اس کا رخ حجت آنحضرت ﷺ کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ انہوں آنحضرت ﷺ کی عزت و حرمت کی ہرگز پرواہ نہیں۔ حضرت مولانا صاحب سیالکوٹی نے نہایت متانت سے اس کا جواب دیا کہ مولوی محمد سلیم قادیانی کے جواب سے یہ لازم آتا ہے کہ اس طرح کے غلط حوالے سب جائز ہیں اور نیز یہ کہ قرآن شریف میں بھی غلط حوالے مندرج ہیں۔ تو بہ استغفر اللہ! کون مسلمان ایسا کر سکتا ہے اور ایسا کہہ کر کس طرح مسلمان رہ سکتا ہے۔ حاضرین نے بیک زبان کہا ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں ایسا شخص مسلمان نہیں ہے۔

اس کے بعد مولانا نے فرمایا کہ صاحب من! قرآن شریف سینوں میں محفوظ ہے۔ کتابت میں محفوظ ہے۔ روزمرہ تلاوت کیا جاتا ہے۔ اس کا حرف حرف اور ہر حرف کی حرکت محفوظ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک اس میں زیر زبر کی غلطی نہیں ہو سکی اور نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ قرآن میں خود خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (حجر:٩)‘‘ یعنی بے شک ہم ہی نے یہ نصیحت نامہ (قرآن) اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

اگر کسی آیات میں کتر بیونت اور کانٹ چھانٹ جائز ہو تو پھر خدا کی حفاظت کے کیا معنی؟ اور نیز یہ کہ پھر غلط حوالے کسے کہیں گے؟ اور نیز عبارت کی کمی بیشی کوئی عیب نہ رہے گا اور دجال کے بارے میں اور اسم احمد کے بارے میں جو آپ نے آنحضرت ﷺ پر اور قرآن شریف

٦٧

صفحہ ١٧٤

پر معاذ اللہ بہتان لگایا ہے کہ اس کے حوالے اگلی کتابوں میں نہیں ملتے۔ اگر بالفرض نہ ملیں تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید نے غلط حوالے دیئے۔

اس کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ کتابیں محرف ومبدل ہو گئیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی بھی چشمہ معرفت میں صاف طور پر لکھتے ہیں۔ لیکن شکر ہے کہ آپ کے مطالبات کو خدا تعالیٰ نے ان اگلی کتابوں میں بھی محفوظ رکھا۔

یہ لیجئے انجیل برنباس جس کی تصدیق مرزا قادیانی اپنی کتاب (سرمہ چشم آریہ ص٢٤٠ حاشیہ، خزائن ج٢ص٢٨٨) وغیرہ میں کرتے ہیں۔ اس میں صاف طور پر آنحضرت ﷺ کا نام مبارک لکھا ہے اور پولوس کا خط بنام تھسلنیکیوں باب٢ میں دجال اکبر کا ذکر ہے اور متی باب٢٤ آیت٢٤ میں جھوٹے مسیحوں اور جھوٹے نبیوں کا ذکر ہے۔ (کہو جی کون دھرم ہے)

مرزائی اس پر سخت نادم ہوئے اور تمام حاضرین نے بیک زبان ان پر ملامت کی بوچھاڑ چھوڑ دی اور حضرت مولانا مدظلہ کے وسعت مطالعہ اور قوت حافظہ کی داد دینے لگے۔

مولانا ممدوح نے اصل امر کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت زیر سوال یہ بات ہے کہ مولوی محمد سلیم قادیانی نے آیت ”ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران:١٧٩)“ کا ترجمہ کیا ہے۔ ”لیکن اللہ اپنے رسول بھیجے گا ۔“ اس آیت میں بھیجے گا کس کے معنی ہیں؟ ا۔ اور یہ جو انہوں نے کہا کہ مضارع استقبال کے لئے بھی آتا ہے اور یہاں استقبال کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آئندہ رسول پیدا ہونے والے تھے۔ سو یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خلاف نص قرآنی ہے اور صریح احادیث صحیحہ کے خلاف ہے اور میں بار ہا بیان کر چکا ہوں کہ کوئی استنباط خلاف نصوص درست نہیں ہوتا اور صیغہ مضارع میں ہمیشہ استقبال نہیں ہوتا۔ بلکہ کبھی زمانہ حال کے لئے اور کبھی کبھی زمانہ استقبال کے لئے ہوتا ہے۔ جہاں حال کے معنی لئے جائیں وہاں استقبال کے لئے نہیں رہتا اور جہاں استقبال کے لئے جائیں وہاں حال کے لئے نہیں رہتا۔ کیونکہ صیغہ مضارع حال اور استقبال میں مشترک ہے اور مشترک لفظ ایک محل پر ایک ہی معنی دیتا ہے۔ دوسرے معنی نہیں دے سکتا اور اسی جگہ مضارع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ خدا کے فضل

ا۔ اس کا جواب مولوی صاحب قادیانی نے اخیر وقت تک نہ دیا۔

صفحہ ١٧٥

سے اس کے نزول کے وقت موجود تھے۔ پس مضارع صرف حال کے لئے ہوا اور اس سے استقبال کے معنی منتزع ہو گئے۔ جیسا کہ میں سابقاً بیان کر چکا۔

الملائکۃ رسلاً ومن الناس (حج:٧٥)“ پیش کر کے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ ”خدا تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی ہمیشہ رسول چنے گا“ اور آیت میں لفظ ہمیشہ کے لئے کونسا لفظ ہے۔ یہ بھی مولوی محمد سلیم صاحب نے پہلی آیت کی طرح ازخود بڑھایا ہے اور اس کے مضارع کے صیغے سے جو استنباط کیا ہے۔ اس کے جواب کے لئے یجتبی کے مضارع والا ہی جواب ہے کہ جس وقت یہ آیت اتری اس وقت آنحضرتﷺ موجود تھے۔ پس یہ مضارع حال کے لئے ہوا نہ کہ استقبال کے لئے۔١

ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً “ پیش کی ہے اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ ابن ماجہ کے حاشیہ ص ١٠٨ ہی پر لکھا ہے کہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی (ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی ص١١٠) متروک الحدیث ہے۔٢

نوٹ: صحیح الفاظ جو آنحضرتﷺ کے فرزند کی وفات کے متعلق منقول ہیں یہ ہیں۔ ”لوقضی ان یکون بعد محمدﷺ نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ “ یعنی اگر خدا کی قضا میں یہ بات ہوتی کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا بیٹا (ابراہیم) زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

١؎ مولانا صاحب کے اس علمی نکتے پر علماء پھڑک اٹھے اور مرحبا مرحبا سے مولانا مدظلہ کی دقیقہ شناسی کی داد دینے لگے۔

٢؎ اس کی نسبت حافظ ابن حجرؒ نے (تقریب التہذیب ج ١ ص ٣١) میں لکھا ہے۔ متروک الحدیث اور (تہذیب التہذیب ج ١ ص ٩٥ طبع بیروت) میں آئمہ حدیث سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ ضعیف، لیس ثقۃ، منکر الحدیث، ضعیف الحدیث، سکتوا عنہ وترکوا حدیثہ، ساقط، ضعیف لا یکتب حدیثہ، روی مناکیر، لیس بالقوی، کذبہ شعبۃ، کان یزید علی کتابہ، یہ مختلف آئمہ حدیث کی شہادتیں ہیں۔

٦٩

صفحہ ١٧٦

یہ حدیث (صحیح بخاری ج٢ ص٩١٤، باب من سمی باسماء الانبیاء) میں بھی ہے اور (ابن ماجہ ص١٠٨، باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ وذکر وفاتہ) میں بھی اوپر کی حدیث سے پہلے مکتوب ہے۔ لیکن مولوی محمد سلیم صاحب کو تو نظر نہیں آئی۔ یا انہوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے اور صحیح روایت کو چھوڑ ضعیف کو بیان کر دیا ہے۔

نیز اسی کے ہم معنی الفاظ امام بغویؒ نے آیت خاتم النبیین کے ذیل میں حضرت ابن عباسؓ سے نقل کئے ہیں۔ ”قال ابن عباسؓ یرید لو لم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیاً“

نیز یہ کہ: ”ان اللہ تعالٰی لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولد ذکرا یصیر رجلاً (تفسیر معالم ج٣ ص١٧٨)“ یعنی حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی مراد اس آیت خاتم النبیین سے یہ ہے کہ اگر میں نے اس پر یعنی محمد ﷺ پر نبیوں کو ختم نہ کر دیا ہوتا تو میں اس کا بیٹا ایسا کرتا جو اس کے بعد نبی ہوتا۔ لیکن جب اللہ تعالٰی نے فیصلہ کر دیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تو آپ کو ایسا کوئی بیٹا نہیں دیا۔ جو بالغ ہوتا۔

یہ روایتیں صاف بتا رہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔

اور مولوی محمد سلیم صاحب نے خاتم کے معنی آخری مان کر بھی آخری سے مراد آخری نہیں لیا۔ بلکہ اس کے لئے بھی المساجد والی حدیث پیش کی ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری ہے۔ جو کسی نبی نے بنائی۔

اس کا مفاد یہ ہے کہ میرے بعد جو بھی مسجد بنے گی وہ کسی نبی کی بنائی ہوئی نہ ہوگی۔ یہ معنی میں اپنے پاس سے نہیں کئے۔ بلکہ دوسری حدیث سے کئے ہیں۔ یہ دیکھئے کنز العمال میں ہے۔ ”انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (کنز العمال ج١٢ ص٢٧٠، حدیث نمبر٣٤٩٩٩)“ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔ لیجئے اب تو گھر پورا ہو گیا۔ اسی حدیث کے درست نہ سمجھنے سے آپ کو الجھن تھی۔ اب تو وہ بھی صاف ہوگئی۔ اب کیا عذر ہے؟۔

اور مولوی محمد سلیم صاحب نے مرزا قادیانی کے انکار نبوت کے متعلق جو سوال کیا کہ اگر

٧٠

صفحہ ١٧٧

انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ کیوں لگایا؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علماء کے فتوے کا ذکر نہیں ۔ بلکہ مرزا قادیانی کے اپنے فتوے کا ذکر ہے کہ اگر وہ ان تصریحات کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ بموجب اپنے فتوے کے کافر ، لعنتی ، خارج از اسلام ، بے ایمان ، خسر الدنیا والآخرہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور اگر آپ ان کو مدعی نبوت اور نبی جانتے ہیں تو آپ ان کو انہی فتوے کا مصداق گردانتے ہیں۔

اور یہ عذر کہ اقوال دعویٰ نبوت سے قبل کے ہیں۔ چند وجوہ سے درست نہیں۔ اوّل اس لئے کہ ان ایام میں بھی مرزا جی صاحب الہامات تھے اور کہتے تھے کہ اس الہام میں میرا نام خدا نے رسول رکھا ہے۔

(ایام الصلح ص ٧٥ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

اور اس کی نظیر انبیائے سابقین میں پائی نہیں جاتی کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ بذریعہ الہام رسول کہے اور وہ سالہا سال تک ایسے قول و دعوے کو کفر و بے ایمانی مانتا رہے اور پھر بھی خدا اس کو الہامات کے ذریعے سے بار بار کہتا رہے کہ تو رسول ہے۔

دوم اس لئے کہ آپ کا یہ عذر آپ کی ٢٣ سال سے زائد زندہ رہنے والی دلیل کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس میں آپ ان الہامات کے زمانے کو داخل رسالت کرتے ہیں اور اس عذر میں اس زمانے کو نبوت سے خارج بتاتے ہیں۔ گویا جو امر ہم آپ کو سابقاً مناتے تھے کہ مرزا قادیانی نے نومبر ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس حساب سے مرزا قادیانی بعد از دعویٰ ساڑھے سات سال تک زندہ رہے اور آپ نہیں مانتے تھے اس وقت آپ نے نہایت صفائی سے مان لیا۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

اور بیت المقدس کی منسوخی کا عذر بھی ناواقفی کی وجہ سے ہے۔ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے۔ جن کا نسخ جائز ہے۔ لیکن رسالت عقائد و ایمانیات میں سے ہے اور ایمان و عقائد کا نسخ جائز نہیں۔

اور حضرت یونس علیہ السلام کی فضیلت والی حدیث بھی آپ نے یوں ہی پیش کر دی یہ تو ، کچھ نہ پوچھو کہ مرزا قادیانی اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ ”یا تو یہ حدیث ضعیف ہے یا کسر نفسی

ہے

صفحہ ١٧٨

اور تواضع پر محمول ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پس بموجب قول مرزا قادیانی یہ عذر آپ کو مفید نہ ہوا۔ آج آپ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ حمایت کو تو کھڑے ہوئے ہیں مرزا قادیانی کے۔ لیکن ان کی تصریحات کو نظر انداز کر جاتے ہیں اور اپنے پاس ہی سے جو جی میں آتا ہے کہے جاتے ہیں۔

نوٹ: ان بیچاروں کو کیا معلوم تھا کہ کس سے مقابلہ پڑے گا۔ اگر معلوم ہوتا تو جلسہ کیوں کرتے اور چیلنج کر کے اس مصیبت میں کیوں پھنستے۔

سمجھ کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں
کہ اس نواح میں سودائے برہنہ پا بھی ہے

اور قریباً ٣٠ دجالوں والی حدیث کو ضعیف کہنا جو صحیحین کی متفق علیہ حدیث ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات کا مصداق ہے اور اس کے لئے آپ نے حافظ ابن حجر کا جو حوالہ ذکر کیا۔ اسے آپ سمجھ نہیں سکے۔ جیسا کہ میں صبح کے اجلاس میں مولوی عبدالرحمٰن صاحب قادیانی کے فرمانے کے مطابق شہادۃً ذکر کر چکا ہوں کہ جناب حافظ صاحب ستر دجال والی روایت کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ دو طریق سے مروی ہے اور ان دونوں کی اسناد ضعیف ہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ قریباً تیس والی اور ستر والی ہر دو روایات ضعیف ہیں۔ حج الکرامہ کی عبارت کو سمجھنا اگر آپ کے لئے مشکل ہو تو اصل کتاب فتح الباری دیکھئے۔ جو حافظ صاحب کی اپنی تصنیف ہے۔ اس میں وہ نہایت صفائی سے لکھتے ہیں۔ ”وفی رواية عبدالله بن عمرو عند الطبراني لا تقوم الساعة حتى يخرج سبعون كذاباً وسندها ضعيف وعند ابي يعلى من حديث انس نحواه وسنده ضعيف ايضاً (فتح الباری ج ١٣ ص ٧٦) “ کہ عبداللہ بن عمرو کی روایت میں امام طبرانی کے نزدیک یہ وارد ہے کہ ستر کذاب نکلیں گے اور اس کی سند ضعیف ہے اور ابو یعلیٰ کے نزدیک حضرت انس کی حدیث سے بھی اسی طرح ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔

اس عبارت کو علامہ عینی حنفی نے بھی اپنی شرح صحیح بخاری میں اسی طرح نقل کیا ہے اور مسئلے کو صاف کر دیا ہے کہ ستر کی تعداد والی ہر دو روایات جو طبرانی اور ابو یعلیٰ نے روایت کی ہیں وہ دونوں ضعیف ہیں۔

(عینی ج ١١ ص ٣٦٨)

نوٹ: جب مولانا سیالکوٹی نے فتح الباری کی عبارت مذکورہ بالا پڑھ کر سنائی تو لوگ

٧٢

صفحہ ١٧٩

حضرت مولانا ممدوح کی وسعت مطالعہ اور تبحر علمی سے حیران رہ گئے کہ جس امر کو حضرت مولانا نے صبح کی مجلس میں بغیر کتاب دیکھنے کے زبانی بیان کیا تھا۔ اس وقت کتاب میں سے عین بعین وہی نکلا۔ مرزائی اس وقت سخت شرمسار تھے کہ دھوکا کارگر نہیں ہو سکا اور کوئی مغالطہ چل نہیں سکا۔ آخر محمد سلیم قادیانی شرمندگی دھونے کو کہنے لگے کہ لائیے کتاب! حضرت مولانا صاحب نے فتح الباری کی وہ جلد بھیج دی۔ جس میں عبارت زیر سوال مذکور تھی اور ساتھ ہی یہ بھی للکار کر کہا کہ چاروں صاحب (یعنی غلام رسول صاحب، محمد سلیم صاحب، عبدالرحمن صاحب اور علی محمد صاحب) سر جوڑ کر اس کا مطالعہ کریں۔

جب حضرت مولانا صاحب نے کتاب مرزائیوں کی طرف بھیجی تو آپ سے مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی نے کہا کہ مولانا ان کو کتاب نہیں دینی چاہئے۔ اس لئے کہ ایک دفعہ میں نے ان کو کتاب بھیجی تھی تو انہوں نے صرف مطلب والا ورق درمیان میں سے پھاڑ ڈالا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کی اس قیمتی کتاب کو نقصان پہنچائیں۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ نہیں یہ لوگ مجھ سے ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔ خصوصاً غلام رسول صاحب کی موجودگی میں کہ اوّل تو وہ مسن بزرگ ہیں۔ دیگر یہ کہ میں نے ان کو چنیوٹ میں مار پیٹ سے بچایا تھا اور وہ اس وقت سے اپنی بزرگی کی وجہ سے احسان مانتے ہیں اور میں بھی ان کی عزت کرتا ہوں۔ خیر قادیانی مربی سر جوڑ کر کتاب کا مطالعہ کرنے لگے اور شرمندگی کو اندر ہی اندر پینے لگے۔ اس کے بعد ان کو کئی نوبتیں تقریر کے لئے ملیں اور مولانا صاحب نے کئی دفعہ مطالبہ کیا کہ فتح الباری کے حوالے کا کیا جواب ہے۔ لیکن قادیانی نے اخیر تک جواب نہ دیا۔ بلکہ کتاب بھی خاتمہ پر واپس کی۔ حضرت مولانا صاحب نے کتاب رکھ لی اور کھول کر نہ دیکھی کہ اسے کچھ نقصان پہنچایا ہے یا نہیں۔ کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ وہ مجھ سے ایسا سلوک نہیں کریں گے۔

مولوی احمد الدین صاحب سچے

اس کے چند دن بعد جب مولانا صاحب کو فتح الباری کی اس جلد کے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ وہ ورق سچ مچ پھٹا پڑا ہے۔ لیکن چونکہ اس کی جلد موٹی تھی اور اس کی سلائی باہر کی تھی۔ اس لئے وہ ورق نکل نہیں سکا اور ٹیڑھا پھٹنے سے چوری ظاہر ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو اسی طرح اٹکا ہوا رہنے دیا ہے۔ مولانا صاحب نے خطبہ جمعہ میں وہ کتاب صد ہا حاضرین کو دکھائی اور

٧٣

صفحہ ١٨٠

سارا مذکورہ بالا ماجرا مع مولوی احمد دین صاحب گھگڑوی کی دور اندیشی اور سابقہ تجربے کے سنایا۔ حضرت مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالرحمن قادیانی (کیونکہ کتاب اتنی دیر تک انہی کے ہاتھ میں رہی تھی) کی بدتہذیبی اور گندہ زبانی کا قائل ہوں۔ اسی طرح ان کی بددیانتی کا بھی قائل ہوگیا ہوں۔ کیونکہ یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے ایسی شرارت کی۔ پہلی شرارت یہ تھی کہ مباحثہ روپڑ میں جب انہوں نے سورہ انفال کی آیت غلط پڑھی تو میں نے اس کی تصحیح کے لئے اپنی حمائل مترجم ڈپٹی نذیر احمد صاحب مرحوم ان کے پاس بھیجی۔ اس وقت بھی غلام رسول صاحب ان کے پاس تھے۔ باوجود بار بار مطالبہ کرنے کے نہ تو وہ آیت کی غلطی کا اقرار کریں اور نہ حمائل واپس کریں۔ آخر بہت اصرار کے بعد غلام رسول صاحب نے واپس دلوائی۔ اب عبدالرحمن صاحب نے میری کتاب کو اس طرح نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ان کی نہایت پاجیانہ شرارت ہے۔ حضرت مولانا صاحب نے خطبہ جمعہ میں یہ بھی فرمایا کہ ایسی شرارت میں جماعت مرزائیہ پر شرعاً چار الزام قائم ہوتے ہیں۔

امانت ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ) اس لئے وہ خیانت کے مرتکب ہوئے۔

کوشش کی جو چوری ہے۔

کوائف اور کتاب کی یہ حالت دیکھ کر حیران رہ گئے اور قادیانیوں سے ان کی بے ایمانیوں کے بعد ان کی شرارتوں کی وجہ سے بھی سخت متنفر ہو گئے۔ چنانچہ اب سیالکوٹ میں قادیانی سخت ذلیل وخوار اور حقیر و شرمسار ہیں۔

کی عبارت کے جواب میں فرمایا کہ محمد سلیم صاحب اس عبارت کو سمجھ نہیں سکے۔

فرضی طور پر کسی امر کو مان کر اس کی تردید کرنے سے اس کا امکان وقوعی ثابت نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے قرآن مجید میں ہے۔ ”قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین (زخرف:٨١)“ یعنی اگر خدا کا کوئی فرزند ہو تو میں سب سے پہلا عابد ہوں۔ (عابد بمعنی پرستار

٧٤

صفحہ ١٨١

یا بیزار) تو کیا آپ اس کے رو سے خدا کے لئے فرزند بھی ممکن کہہ سکیں گے!۔ ایسے طریق کو اصطلاح میں تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔ جسے آپ غالباً نہیں جانتے۔ دیگر یہ کہ حضرت مولانا نانوتویؒ خاتمیت کے درجہ فضیلت ہونے پر بحث کر رہے ہیں۔ نہ کہ نبوت کے اجراء پر۔ فافہم!

مولوی محمد سلیم صاحب مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ جب آئیں گے تو کیا وہ نبی نہ ہوں گے۔ اس سے ان کا یہ منشا ہے کہ اگر وہ نبی ہوں گے تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا آنا مانا گیا اور اسی کے رو سے مرزا قادیانی نبی کہلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور اگر حضرت مسیح نبی نہ ہوں گے تو ان کی نبوت کا چھینا جانا لازم آیا جو باطل ہے۔ سو اس کے جواب میں معروض ہے کہ یہ آپ لوگوں کا مغالطہ ہے۔ بحث اس امر پر ہو رہی ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی اور اسی کے اثبات کے لئے میں نے قرآن شریف، حدیث شریف، لغت عرب اور امت محمدیہ کے اجماع کی دلیلیں بیان کی ہیں۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ کسی کو جدید نبوت ملے گی اور نہ کوئی جدید نبی ہوگا اور اسی کے متعلق جناب مرزا قادیانی کی تصریحات بیان کی گئی ہیں۔ جن کو آپ نے تسلیم کر لیا اور ظاہر ہے اور مسلّم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے پیشتر نبوت ملی تھی۔ نہ یہ کہ آپ کے پیچھے ملے گی اور وہ اسی سابقہ نبوت سے آئیں گے نہ یہ کہ نئی نبوت سے آئیں گے۔ یہ نکتے کی بات ہے جو آپ کی سمجھ سے بالا ہے۔ دیکھئے علمائے سابقین نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ چنانچہ علامہ زمخشریؒ آیت خاتم النبیین کے ذیل میں خود ہی سوال کرتے ہیں اور خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں۔

”(فان قلت) كيف كان آخر الانبياء وعيسى ينزل فی آخر الزمان (قلت) معنى كونه آخر الانبيآء أنه لا ينبأ أحد بعده وعيسى ممن نبئ قبله (تفسیر کشاف ج ٢ ص ٥٤٤)“ اگر تو کہے کہ آپؐ کس طرح آخری نبی ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰؑ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے تو اس کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ آپؐ کے آخری نبی ہونے کے معنے یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی بنایا نہیں جائے گا اور حضرت عیسیٰؑ ان میں سے ہیں۔ جو آپؐ سے پہلے نبی بن چکے ہیں۔

١؎ مرزا قادیانی تو اسے بھی بطور مجاز واستعارہ جائز جانتے ہیں۔ چنانچہ ان کا الہام ہے۔ ”انت منی بمنزلة اولادی“

(دافع البلا ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

٧٥

صفحہ ١٨٢

اسی طرح دیگر مفسرین نے بھی لکھا ہے اور حافظ ابن حزمؒ کی عبارت کل حیات مسیح کے مناظرے میں بیان کر چکا ہوں۔

اور مولوی علی محمد قادیانی بار بار جو خلافت کے متعلق فرما رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں خلافت منہاج نبوت پر ہوگی اور اس سے وہ نبوت کے جاری رہنے کی دلیل پکڑ رہے ہیں۔ یا تو تجاہل عارفانہ ہے۔ یا غایت درجے کی جہالت ہے۔ جناب! خلافت کے طریق نبوت پر جاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جس طریق پر امور سیاسیہ کو آنحضرت ﷺ نے چلایا۔ اسی طرح آپ کی سنت کے مطابق آخری زمانہ کا امام مہدی چلائے گا۔ کہاں کسی امر کا مطابق سنت ہونا اور کہاں نبوت کا جاری رہنا۔

دیگر یہ کہ اسی حدیث میں آپ کے بعد متصل ہی شروع میں خلافت کا منہاج نبوت پر ہونا مذکور ہے اور اس سے مراد بالخصوص حضرات ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی خلافت ہے۔ ان زمانوں میں آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق عملدرآمد ہوتا رہا اور معلوم ہے کہ یہ چاروں حضرات نہ نبی ہیں اور نہ ان میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ پس یہ حدیث اجرائے نبوت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

اور مشکوۃ کی حدیث میں جو آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہوگی۔ جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم ہوگا۔

(مشکوۃ ص ٥٨٣، باب ثواب هذه الامة)

اوّل تو اسے اجرائے نبوت سے کیا تعلق؟۔ دیگر یہ کہ اس میں سے آپ امام مہدی کا ذکر کیوں چھوڑ گئے۔ کیونکہ اس میں یہ بھی ہے کہ وسط میں مہدی ہے۔ غالباً آپ اس لئے چھوڑ گئے کہ اس حدیث سے مہدی اور عیسیٰ دو الگ الگ شخصیتیں ثابت ہوتی ہیں اور مرزا قادیانی آنجہانی ایک ہی ذات شریف ہر دو عہدوں کے مدعی ہیں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ یہ حدیث آپ کے خلاف ہے۔ آپ اس میں سے امام مہدی کا ذکر چھوڑ گئے۔ یہی آپ کی کارستانیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے آپ لوگوں کا اعتبار نہیں رہا۔ جس امر کا بھی آپ حوالہ دیتے ہیں۔ اس میں دھوکا فریب اور خیانت ہوتی ہے۔ اب میں آپ کے جملہ دلائل کا جو حقیقت میں شبہات ہیں۔ تار و پود الگ کر کے ان کی دھجیاں اڑا چکا ہوں اور آپ سے میرے دلائل کا کچھ بھی جواب نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث کی نصوص بیّنہ ہیں اور ان کے متعلق امت کے علماء اور صلحاء کا اجماع ہے اور مسلّم ہے کہ قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف سراسر گمراہی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے

٧٦

صفحہ ١٨٣

فرمایا: ”ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الہدیٰ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولیٰ ونصلہ جہنم وساءت مصیراً (النساء: ١١٥)“ کہ جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے گا۔ بعد اس کے کہ اس پر ہدایت ظاہر ہوچکی اور مومنوں کے رستے کے سوا رستے کی پیروی کرے گا۔ ہم اسے اسی طرح پھیرے رکھیں گے۔ جس طرح وہ پھرا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری بازگشت ہے۔

اور عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں۔ وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے خود ہی فرمائے ہیں اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ: ”وقع فی روایۃ سفیان بن عیینہ عند الترمذی وغیرہ بلفظ الذی لیس بعدی نبی (فتح الباری ج ٦ ص ٤٠٦، باب ما جاء فی اسماء رسول الله)“ امام سفیان بن عیینہ کی روایت میں امام ترمذیؒ وغیرہ کے نزدیک یہ الفاظ یوں ہیں۔ میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

پس یہ الفاظ مرفوع ہوئے نہ کہ کسی راوی کے!۔

آپ (قادیانی) لوگوں نے علم حدیث کسی محدث استاد سے نہیں پڑھا اور نہ آپ کو اس علم کا پورا مطالعہ ہے۔ اس لئے آپ حدیث کے مطالب کو نہیں سمجھ سکتے اور ہمیشہ ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔

خاکسار نے یہ علم اس زمانے کے ماہر ترین محدثوں سے پڑھا ہے اور خدا کی توفیق سے عمر کا بیشتر حصہ اسی علم کی خدمت میں صرف کیا ہے۔ اس لئے جو کچھ کہتا ہوں۔ اس فن کے ماہر آئمہ کی تصریحات سے کہتا ہوں۔

نوٹ: مولانا صاحب مدظلہ کی اس آخری تقریر پر لوگ محو حیرت تھے کہ معلومات کے یہ جواہرات کس خزانے سے نکل رہے ہیں۔ متعنا الله بطول بقآئہ وافاض علینا من برکاتہ! آمین!!

سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علیٰ المرسلین والحمد لله رب العالمین! خاتمہ بالخیر!

اس تقریر کے خاتمے پر حاضرین کی خوشی اور مسرت کی کوئی حد نہیں تھی اور قادیانیوں کی

١؎ قاضی عیاضؒ نے بھی (شفاء ج ١ ص ١٤٦ مطبوعہ مصر) میں ان الفاظ کو متکلم کے صیغے سے ذکر کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ یہ تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے۔

٧٧

صفحہ ١٨٤

حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ ان کی شرمندگی اور خجالت ہم الفاظ میں نہیں بتا سکتے۔ اس عام شرمندگی کے علاوہ جو ہر وقت ان کے چہروں پر نمایاں رہتی تھی۔ خاص اس خاتمے کے قریب جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔ تو ان پر اپنی کرتوت کی وجہ سے اس قدر خوف چھا گیا تھا کہ انہوں نے دفتر پولیس میں فوراً اطلاع کر دی۔ جو چند قدموں کے فاصلے پر سامنے تھا۔ جن سے قریباً سارے شہر کی پولیس اسی وقت جمع کر لی گئی۔ پولیس نے قادیانیوں کو گھیرے میں ڈال لیا۔ حقیقت تو یہ حفاظت تھی۔ لیکن دیکھنے سے حراست کی صورت نظر آتی تھی۔ یہ سماں بھی دیکھنے کا تھا کہ چند مرزائی اپنی مختصر سی سٹیج کے ایک کونے میں دبکے ہوئے کھڑے ہیں اور پولیس جو ان کی تعداد سے تعداد زیادہ تھی۔ ان کے گرد گھیرا ڈالے کھڑی ہے۔ بعض دوستوں نے مولانا صاحب سے عرض کیا کہ قادیانیوں کی اس حالت کا فوٹو لے لینا چاہئے۔ مولانا نے فرمایا عالم مثال میں اس کا فوٹو کھنچ گیا ہے۔ قادیانیوں کو پولیس کے پہرے میں دیکھ کر مسلمان ان سے اور بدظن ہو گئے اور ان کے خیالات پایہ ثبوت تک پہنچ گئے۔ تمام مسلمان خوشی سے تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے واپس ہوئے اور قادیانی بصورت بالا پولیس کی حفاظت یا حراست میں کھڑے رہ گئے۔ فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمدلله رب العالمين۔

علمائے سیالکوٹ کی تصدیقات

اگرچہ ہم نے خود بھی واقعات کو نہایت احتیاط سے لکھا ہے۔ لیکن تائید کے لئے مقامی علماء کی تصدیقات بھی نقل کی جاتی ہیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفیٰ! اما بعد!

چونکہ میں اس مناظرہ میں اوّل سے آخر تک شریک رہا اور فریقین کے دلائل نہایت اطمینان سے سنتا رہا۔ اس لئے نہایت وثوق اور دیانت سے کہتا ہوں کہ فرقہ ضالہ مرزائیوں کو شکست فاش ہوئی اور طائفہ حقہ (اہلِ سنت وحدیث) نے جس خوبی سے اس عظیم الشان مناظرہ میں مرزائیوں کے زہریلے اثر اور بے جا حملوں کی جس قدر فاضلانہ عالمانہ طرز اور تحقیق تدقیق سے مدافعت کی ہے۔ وہ محتاج بیان نہیں۔ مجھے بہت مسرت ہوئی۔ اوّل اس لئے کہ اجوبہ نہایت معقول اور مدلل طور پر پیش کئے گئے۔ دوم یہ کہ طرز تقریر نہایت مہذب، اسلامی اخلاق اور اسلامی

٧٨

صفحہ ١٨٥

تہذیب کا پورا لحاظ طائفہ حقہ نے رکھا تھا۔ سوم اس لئے کہ ناواقفوں کے لئے دھوکا کھانے کا موقع نہ رہا اور واللہ لا یہدی کید الخائنین کا مصداق ہوگیا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ طائفہ حقہ کو بالعموم اور مولانا مولوی الحاج الحافظ محمد ابراہیم صاحب صدر شریعت غزالی سیالکوٹی کو بالخصوص عزت کی زندگی میں اضافہ فرما کر اسلام کو ان سے نفع پہنچائے اور طالبین حق کے لئے ان کو ذریعہ ہدایت بنائے ۔ آمین ! یارب العالمین !! دستخط خادم العلماء امجد عبدالحنان حنفی المذہب مدرس و خطیب جامع مسجد کٹہاراں سیالکوٹ

اہل حدیثوں کا اگر مناظرہ ہو تو ہم ان کو امداد دے سکتے ہیں۔ بمقابلہ مرزائیاں ہمارا ہو۔ یعنی حنفیوں کا مرزائیوں کے ساتھ تو اگر اہل حدیث ہمیں امداد دیں تو بڑی خوشی سے لے سکتے ہیں۔ کیونکہ مرزائیوں کے متعلق ہمارا سب کا اتفاق ہے۔ ان کو وہ بھی کافر جانتے ہیں اور ہم بھی۔ چنانچہ اسی اصول کے ماتحت حال میں مناظرہ قلعہ پر مرزائیوں کے ساتھ اہل حدیثوں کا ہوا تو ہم سب علماء مناظرہ میں متفق تھے۔ گو مناظرہ میں مجھ کو وقت نہیں دیا گیا تھا۔ کم سے کم ایک گھنٹہ مجھے بھی دیا جاتا۔ خیر مجھے کچھ افسوس نہیں ہے۔ جو کچھ ہوا سیالکوٹ کی پبلک پر واضح ہے۔ مرزائیوں نے سخت پرلے درجے کی شکست کھائی۔ مولوی سلیم وغیرہ جو مولانا مولوی حافظ محمد ابراہیم میر صاحب کے مقابلے پر تھے۔ ان کو کوئی جواب بن نہ آیا۔ بلکہ حوالے کے لئے فتح الباری مرزائیوں نے مولانا موصوف سے عاریۃً منگوائی تھی۔ چنانچہ ان کو دی گئی۔ مگر اس کا حوالہ پڑھ کر انہوں نے مطلق نہ سنایا اور بجائے اس کے کہ وہ حوالہ پڑھ کر سناتے انہوں نے ظلم یہ کیا کہ اس کا ورق ہی پھاڑ کر کتاب کو داغدار بنا دیا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزائی پرلے درجے کے خیانت کرنے والے ہیں۔ لہذا آج سے میں نے بھی اپنے دل میں عہد کر لیا ہے کہ میں انہیں کبھی کوئی کتاب عاریۃً نہیں دوں گا۔ دستخط خاکسار سید محمد نور اللہ شاہ خطیب محلہ کشمیریاں (سیالکوٹ)

کہ یہ واقعات درست اور صحیح ہیں۔ فقط بقلم ابو یوسف نور الحسن عفا اللہ عنہ خطیب جامع مسجد کلاں تحصیل بازار سیالکوٹ

ہیں۔ ”مرزائی جماعت ہمیشہ حق کے سامنے فرار ہونے والی جماعت ہے۔ موجودہ مناظرہ میں بھی

٧٩

صفحہ ١٨٦

مصداق جاء الحق وزهق الباطل کے ایسی منہ کی کھائی کہ امید ہے کہ آئندہ سیالکوٹ میں دوبارہ مناظرہ کی جرات نہ کریں گے۔ دستخط ! محمد یوسف عفی عنہ

اس جلسہ میں ہر وقت موجود رہا ہے۔ جو واقعات ہیں سب صحیح ہیں۔ مناظرہ فیصلہ کن ہوا تھا۔“ العبد ابو رشید محمد عبد العزیز عفی عنہ خطیب مسجد جدید کلاں جامع مسجد حنفیہ صوفیہ مبارک پورہ (سیالکوٹ)

الرحیم ! مرزائی جماعت باوجود سعی فرار کے طوعاً و کرہاً اس مناظرہ میں آ گئی۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب میر کی مناظرانہ تیر اندازی نے مخالفین کے سینوں کو غربال بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت حقہ کے مقابلہ میں فرقہ باطلہ مرزائیہ کو ایسی شکست اور ہزیمت ہوئی کہ مرزائی لوگ اختتام مناظرہ پر یہ شعر پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے ہوں گے۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آتے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

دستخط ! حکیم محمد صادق، صادق، شہر سیالکوٹ

خاکسار اس جلسہ میں موجود تھا۔ واقعات سب صحیح درست ہیں۔ دستخط ! امام الدین رائے پوری خطیب جامع مسجد صدر سیالکوٹ بقلم خود

حاضر تھا۔ جو کچھ تحریر لکھی گئی ہے۔ جہاں تک میری یاداشت کام دے سکتی ہے۔ بالکل درست اور صحیح ہے۔“ دستخط ! بقلم خود محمد عبدالغنی خطیب امام

الرحمن الرحیم ! الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على محمد خاتم النبيين اما بعد! خاکسار ان تمام مناظروں میں شریک رہا۔ فریقین کی تقاریر کو بگوش ہوش سنا۔ مسلمان مقرروں نے سیالکوٹ کے مسلمانوں کے دلوں کو ضیائے ایمان سے منور کر دیا۔ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر کی عمر درازی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ جن کے وجود باجود کی برکت سیالکوٹ کے خطے کو ہمت حاصل ہے۔ اللهم متعنا بطول حياته !آمین !! دستخط ! نیاز آگین ابو محمد حسین محمد الدین (منشی فاضل) خطیب مدرس جامع مسجد شہر سیالکوٹ

٨٠

PDF 187

ق الباطل کے ایسی منہ کی کھائی کہ امید ہے کہ آئندہ سیالکوٹ کریں گے۔" دستخط ! محمد یوسف عفی عنہ مولانا مولوی قاضی عبدالعزیز صاحب ارقام فرماتے ہیں۔ "فقیر ہے۔ جو واقعات ہیں سب صحیح ہیں۔ مناظرہ فیصلہ کن ہوا تھا۔" العبد ب مسجد جدید کلاں جامع مسجد حنفیہ صوفیہ مبارک پورہ (سیالکوٹ) کیم محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ بسم الله الرحمن ۔ جو دستی فرار کے طوعاً وکرہاً اس مناظرہ میں آ گئی۔ مولانا محمد ابراہیم یق نے مخالفین کے سینوں کو غربال بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ طلہ مرزائیہ کو ایسی شکست اور ہزیمت ہوئی کہ مرزائی لوگ اختتام صت ہوئے ہوں گے۔

ے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

دستخط ! حکیم محمد صادق، صادق، شہر سیالکوٹ

انا حاجی امام الدین صاحب رائے پوری تحریر فرماتے ہیں۔ عات سب صحیح درست ہیں۔

لدین رائے پوری خطیب جامع مسجد صدر سیالکوٹ بقلم خود غنی صاحب ارقام فرماتے ہیں۔ "خاکسار تمام اجلاسوں میں ہاں تک میری یاداشت کام دے سکتی ہے۔ بالکل درست اور دستخط ! بقلم خود محمد عبدالغنی خطیب امام

مولوی محمد الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ بسم الله ب العالمين والصلوة والسلام على محمد خاتم مناظروں میں شریک رہا۔ فریقین کی تقاریر کو بگوش ہوش سنا۔ مسلمانوں کے دلوں کو ضیائے ایمان سے منور کر دیا۔ حضرت ی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ جن کے وجود باجود کی ا ہے۔ اللہم متعنا بطول حياته ! آمین !! لدین (منشی فاضل) خطیب مدرس جامع مسجد شہر سیالکوٹ

٨٠

خاتم النبیین لا نبی بعدی

نبی آخر الزمان شفیع روز جزا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں قصیدہ

امام الزمان

مہدی منتظر

مجدد دوراں

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ١٨٨

تعارف

بسم الله الرحمن الرحيم ، نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

حضرت مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب (دامت برکاتہم) نے جنوری ١٩٣٧ء میں سکندر آباد دکن میں جو ایک ماہ تک قیام کیا تو اس عرصہ میں جناب ممدوح نے مختلف مجالس میں کئی ایک علمی عنوان پر جن کی زمانہ میں اشد ضرورت ہے۔ قابل قدر مضامین اپنے مخصوص انداز میں اور خدا داد طرز پر استدلال سے بیان فرمائے تھے۔ سکندر آباد کی مقامی انجمن اہل حدیث نے ان مضامین کو تحریر میں لے آنے کا انتظام خاص طور پر کر رکھا تھا۔ چنانچہ بعض مضامین اخبار اہل حدیث میں گذشتہ سال ہی چھپ گئے اور بعض رسائل کی صورت میں جمعیت تبلیغ اہل حدیث پنجاب کی طرف سے شائع ہو چکے ہیں اور ابھی بہت سے نادر علمی مضامین باقی پڑے ہیں۔ ان میں سے تین اہم مضامین یعنی امام زماں، مہدی منتظر اور مجدد دوراں جن کی فتنہ قادیانی کے مقابلہ میں سخت ضرورت ہے۔ ان اوراق کی زینت کا موجب ہوتے ہیں۔ ہم انجمن اہل حدیث سکندر آباد دکن کے شکر گذار ہیں۔ جن کی سعی جمیلہ سے مولانا صاحب ممدوح کے یہ آبدار جواہر ریزے محفوظ ہوئے اور ہم تک پہنچے۔ کاش دیگر مقامات کے احباب اہل حدیث بھی انجمن اہل حدیث سکندر آباد کے نقش قدم پر چلیں اور مولانا ممدوح کی تقریر کے وقت مضمون کو کتابت میں لے آیا کریں اور نظر ثانی کے لئے حضرت مولانا صاحب کے پاس سیالکوٹ بھیج دیا کریں۔ تاکہ اس کو طبع کرا کر دیگر مقامات کے احباب کو بھی مستفیض کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا صاحب سیالکوٹی کی صحت قائم رکھے اور اس صحت میں آپ کو علمی خدمات کی توفیق مزید عطاء فرمائے اور تشنگان توحید و سنت کو ان کے فیوض و برکات عمیم سے تادیر بہرہ ور کئے رکھے۔ آمین ثم آمین!

خاکسار / خادم سنت محمد عبد اللہ ثانی ناظم جمعیت اہل حدیث پنجاب!

مولانا ممدوح (افاض الله علينا من برکاتہم) نے بعد خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: ’’حضرات! آج کے مضمون کا عنوان امام زماں، مہدی منتظر اور مجدد دوراں‘‘ ہے۔

٢

صفحہ ١٨٩

یہ مسئلہ جس قدر آسان ہے اسی قدر جھوٹے مدعیوں کی خود غرضی نے اسے مشکل بنا دیا ہے۔ جن کے اثر سے لکھے پڑھے انسان بھی بھول بھلیوں میں پڑ گئے ہیں۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے یہ عاجز جس طریق پر اس کو بیان کرے گا اس سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ یہ مسئلہ کس قدر سہل اور صاف ہے۔ ”وما توفیقی الا بالله“ اس مسئلے میں جو دشواری اور اشکال ڈالے گئے ہیں وہ دو طرح پر ہے۔ اوّل امام وقت کی حدیث سے جو یہ ہے۔

”من مات بغير امام مات ميتةً جاهلية (مسند احمد ج٤ ص٩٦، کنز العمال ج١ ص١٠٣، حدیث نمبر ٤٦٤، مسند ابی داؤد ج٢ ص٤٢٥، حدیث نمبر ٢٠٢٥) ”جو شخص مر گیا درآں حال کہ نہیں پہچانا اس نے اپنے زمانے کے امام کو وہ حالت جاہلیت کی موت پر مرا۔

دوسرا اشکال مجدد کی حدیث سے ڈالا گیا ہے جو یہ ہے کہ: ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (ابوداؤد ج٢ ص١٣٢، كتاب الملاحم) ”تحقیق اللہ تعالیٰ مبعوث فرماتا رہے گا واسطے اس امت کے ہر صدی کے سر پر ایسے شخص جو تازہ کر دیں گے واسطے اس امت کے دین اس کا۔ سو پہلے میں مسئلہ امامت کو کسی قدر تفصیل اور تشریح سے بیان کرتا ہوں۔ اس کے بعد مسئلہ مہدویت اور سب کے بعد مسئلہ مجدد دوراں کا۔ وما توفیقی الا بالله!

سو معلوم ہو کہ لفظ امام کے معنے پیشواء ہیں اور اس کا اطلاق تین طرح پر ہے۔ امام نماز، امام علم، کہ دیگر لوگ علم میں اس کے محتاج اور پیرو ہوں۔ جیسے آئمہ اربعہؒ اور آئمہ محدثین رحمہم الله!

تیسرے امام جہاد جو جہاد میں صاحب امر ہو کہ اسلامی لشکر اس کے اشارے پر جان لڑا دے۔ اسی کے متعلق دوسری حدیث میں آیا ہے۔

”انما الامام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به (الحديث متفق عليه، بخاری ج١ ص٤١٥ باب يقاتل من وراء الامام، مشكوة ص٣١٨، كتاب الامارة والقضاء، مسلم ج٢ ص١٢٦، باب الامام جنة يقاتل من ورائه ) ”امام ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے ہو کر قتال کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دشمنوں سے بچاؤ پکڑا جاتا ہے۔

٣

صفحہ ١٩٠

پس حدیث مذکورہ بالا یعنی ”من مات ولم یعرف امام زمانہ“ میں جس امام کی معرفت کا ذکر ہے اس میں وہی امام مراد ہے۔ جس کا ذکر دوسری حدیث الامام جنۃ میں کیا گیا ہے۔ مطلق امام مراد نہیں ہے اس امامت کو امامت کبریٰ کہتے ہیں۔ دیگر سب امامتیں اس کے تابع ہیں۔

دونوں حدیثوں کو سامنے رکھنے سے صاف کھل جاتا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ اپنی امت کا نظام قائم رکھنے کے لئے فرمارہے ہیں کہ جس زمانے میں کوئی امام وقت یعنی صاحب امر ہو اور وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کرتا ہو۔ واجب ہے کہ ہر شخص قلباً و عملاً اپنی اپنی حالت کے مطابق اس کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو اور اس کی پیروی کرے۔ ورنہ جو شخص بھی اس جماعت مجاہدین سے الگ ہو کر مرے گا۔ وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ امام نوویؒ شرح صحیح مسلم میں حدیث الامام جنۃ کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ:

”قولہ ﷺ الامام جنۃ ای كالستر لانہ یمنع العدو من اذی المسلمین ویمنع الناس بعضهم من بعض ویحمی بيضۃ الاسلام ویتقیہ الناس ويخافون سطوتہ ومعنی یقاتل من ورآئہ ای یقاتل معہ الكفار والبغاة والخوارج وسائر اهل الفساد وينصر علیهم ومعنی یتقی بہ ای یتقی سر العدو وشر اهل الفساد والظلم مطلقا (حاشیہ مسلم ج ٢ ص ١٢٦)“

آنحضرت ﷺ کے قول الامام جنۃ کے معنے یہ ہیں کہ امام مثل ڈھال کے ہیں۔ کیونکہ وہ دشمن کو روکتا ہے۔ مسلمانوں کو تکلف پہنچانے سے اور مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے روکتا ہے اور اسلام کے دارالخلافہ کی حفاظت کرتا ہے اور لوگ اس کی حکم عدولی سے ڈرتے اور اس کی سطوت سے خوف کھاتے ہیں اور یقاتل من ورائہ کے معنے یہ ہیں کہ اس کے ساتھ ہو کر کفار سے اور باغیوں سے اور اطاعت سے خارج ہونے والوں اور دیگر اہل فساد سے قتال کیا جائے اور ان پر فتح حاصل کی جائے اور یتقی بہ کے معنے یہ ہیں کہ اس کے ساتھ اسلام اور مسلمین کے دشمنوں اور اہل فساد اور اہل ظلم کے شر سے بچاؤ پکڑا جائے۔

ان احادیث کا جو مطلب بیان ہوا۔ وہ دیگر احادیث میں بھی صاف صاف مذکور ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:

”من رایٰ من امیرہ شیئاً یکرهہ فلیصبر فانہ لیس احد یفارق

٤

صفحہ ١٩١

مذکورہ بالا معنی ”من مات ولم يعرف امام زمانه“ میں جس امام میں وہی امام مراد ہے۔ جس کا ذکر دوسری حدیث الامام جنة میں مراد نہیں ہے اس امامت کو امامت کبریٰ کہتے ہیں۔ دیگر سب امامتیں اس کو سامنے رکھنے سے صاف کھل جاتا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ اپنی امت کے لئے فرمارہے ہیں کہ جس زمانے میں کوئی امام وقت یعنی صاحب امر اللہ کے لئے جہاد کرتا ہو۔ واجب ہے کہ ہر شخص قلباً وعملاً اپنی اپنی استطاعت کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو اور اس کی پیروی کرے۔ ورنہ جو شخص بھی الگ ہو کر مرے گا۔ وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ امام نوویؒ شرح صحیح مسلم کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ:

الامام جنة اى كالستر لانه يمنع العدو من اذى المسلمين ويمنعهم من بعض ويحمى بيضة الاسلام ويتقيه الناس ويتقى ومعنى يقاتل من ورآئه اى يقاتل معه الكفار والبغاة واهل الفساد وينصر عليهم ومعنى يتقى به اى يتقى شر الفساد والظلم مطلقاً (حاشيه مسلم ج ٢ ص ١٢٦) “

امام جنة کے معنے یہ ہیں کہ امام مثل ڈھال کے ہیں۔ کیونکہ وہ دشمن کو ایذا پہنچانے سے اور مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے روکتا ہے اور اسلام کی حفاظت کرتا ہے اور لوگ اس کی حکم عدولی سے ڈرتے اور اس ہیں اور یقاتل من ورآئہ کے معنے یہ ہیں کہ اس کے ساتھ ہو کر کفار اطاعت سے خارج ہونے والوں اور دیگر اہل فساد سے قتال کیا جائے اور ويتقى بہ کے معنے یہ ہیں کہ اس کے ساتھ اسلام اور مسلمین کے کے شر سے بچاؤ پکڑا جائے۔

مطلب بیان ہوا۔ وہ دیگر احادیث میں بھی صاف صاف مذکور ہے۔

روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”من راى من اميره شيئاً يكرهه فليصبر فانه ليس احد يفارق

٤

الجماعة شبراً فمات الا مات ميتة جاهلية (متفق عليه، مشكوة ص ٣١٩، كتاب الامارة والقضاء) ” جو شخص اپنے امیر سے کوئی ایسا امر دیکھے جسے وہ ناپسند جانتا ہے۔ تو چاہئے کہ صبر کرے۔ کیونکہ ایسا کوئی نہیں کہ جماعت مسلمین سے ایک بالشت برابر بھی جدا ہو اور وہ مر جائے مگر جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ اس میں امام کی جگہ امیر کا لفظ آیا ہے۔ ایک اور

حدیث شریف میں ہے۔ ”من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية (رواہ مسلم مشكوة ص ٣١٩، كتاب الامارة القضاء) “

امیر جہاد کی معرفت واطاعت واجب فرمارہے ہیں اور اس کے امر سے خارج ہونے والے کی موت کو جاہلیت کی موت بتارہے ہیں۔ لیکن مزید تشریح کے لئے ہم ان احادیث کی تائید قرآن شریف سے بھی بیان کرتے ہیں۔

”رب اشرح لی صدری ویسرلى امرى واحلل عقدة من لساني يفقهوا قولی ...... آمین! (طہ:٢٥، ٢٨) “

١۔....... خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ذکر میں سورہ بقر میں فرمایا کہ: ”اذقالوا لنبى لهم ابعث لنا ملكاً نقاتل في سبيل الله (بقره:٢٤٦) “

بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اپنے وقت کے نبی سے عرض کیا کہ ہمارے لئے ایک امیر و امام ١ مقرر کیجئے کہ ہم اس کے نظام میں ہو کر قوم عمالقہ سے کہ انہوں نے ہمارا ملک دبا لیا ہے۔ فی سبیل اللہ جنگ کریں۔

اس نبی نے خدا کے حکم سے حضرت طالوت کو امیر مقرر کیا۔ موقع جنگ پر اکثر لوگوں نے اپنے امیر کی اطاعت نہ کی اور اس کے ساتھ ہو کر اپنے اخوان مسلمین بنی اسرائیل سے مظالم دور کرنے اور اپنے ملک کو دشمنوں کے تغلب سے چھڑانے کے لئے جہاد میں شریک نہ ہوئے۔

خدا تعالیٰ نے امیر کی اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کو ظالم کے لفظ سے یاد کیا ہے ٢ اور ان کی بزدلی کے کلمات یوں ذکر کئے ہیں۔

١ تفاسیر میں اس جگہ ملکا کے معنے صاحب امام ہی لکھتے ہیں۔

٢ جیسا کہ فرمایا کہ: ”فلما کتب علیهم القتال تولوا الا قليلاً منهم والله بالظلمين (بقره:٢٤٦) “

٥

صفحہ ١٩٢

”قالوا لا طاقة لنا اليوم بجالوت وجنوده (البقرة:٢٤٩) “انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت ١؎ دشمن بنی اسرائیل اور اس کے لشکروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔

٢.......... اسی طرح جنگ احد کے ذکر میں منافقوں کی نسبت فرمایا کہ: ”وطائفة قد همتهم انفسهم يظنون بالله غير الحق ظن الجاهلية يقولون هل لنا من الامر من شئی (آل عمران: ١٥٤) “اور ایک دوسری جماعت تھی جن کو فکر میں ڈال رکھا تھا۔ ان کی اپنی جانوں نے وہ اللہ کے ساتھ غیر واقعی یعنی جاہلیت کا گمان کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ کیا اس امر میں ہمارے بس کی بھی کوئی بات ہے؟۔

اس آیت میں صاف بتلا دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دل چرانے والے کی ذہنی تراش جاہلیت کی ہے اور اس کا قول بھی جاہلیت کا ہے۔

اس کا نتیجہ بالکل صاف ہے کہ قوم کو موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھ کر اپنی جان کی فکر میں پڑنے والے کی ذہنیت وقول جب ایسا ہے تو وہ جاہل ہے۔ جو نہیں سمجھتا کہ میری زندگی وموت قوم کے ساتھ ہے۔ اگر قوم مرگئی تو میں زندہ کیسے رہوں گا اور اگر بالفرض انفرادی حیات سے زندہ رہا بھی تو قوم کو میری زندگی سے کیا فائدہ؟۔

پس ایسی حالت میں اس کی موت بھی جاہلیت کی موت ہے۔ کیونکہ آدمیت کی تین صورتیں ہیں۔ ذہنیت، قول اور حالتِ عملی۔ جس میں اس کی زندگی گذرتی اور موت واقع ہوتی ہے۔ جب اس کی ذہنیت جاہلیت کی ہے اور قول بھی جاہلیت کا ہے اور قوم سے الگ ہو کر اس کی طرز زندگی بھی جاہلیت کی ہے تو اس کی موت بھی جاہلیت کی کیوں نہ ہوگی؟۔ ”عليك بهذا فانه دقيق ولطيف جداً“

پس اسی نکتے کو آنحضرت ﷺ سمجھا رہے ہیں کہ جس نے اپنے وقت کے امام یعنی صاحب امر کی معرفت حاصل نہیں کی اور وہ اس کی معیت میں ہو کر حفاظت دین حراست قوم میں لگ کر اپنی جان سے بے پرواہ نہیں ہوا اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو سمجھو کہ وہ جاہلیت کی موت مرا۔

١؎ بنی اسرائیل کی مخالف فوج کے سردار کا۔

٦

صفحہ ١٩٣

قرآن کریم میں اسی جاہلیت کی ذہنیت کو دوسرے مقام پر عدم فقاہت اور فقدانِ دانش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ جنگ تبوک کے سفر میں کوتاہ ہمتی دکھانے والے منافقوں اور بہانہ بازوں کی نسبت فرمایا۔

دونوں آیتوں کا حاصل مطلب

لا يفقهون (التوبہ: ٨٧) “ وہ اسی بات پر خوش ہو گئے ہیں کہ گھروں میں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھ رہیں۔ پس وہ فقاہت ( گہری سمجھ ) اور علم ( حقیقت شناسی ) سے کورے ہیں ۔

فهم لا يعلمون (توبہ: ٩٣) “

اسی طرح جن لوگوں نے باوجود وعدہ کرنے کے حدیبیہ کے سفر میں آنحضرت ﷺ کی جماعت کی رفاقت نہ کی تھی۔ ان کی نسبت فرمایا کہ:

”بل كانوا لا يفقهون إلا قليلاً (فتح: ١٥) “ یعنی حقیقت ویسی نہیں جیسی یہ لوگ کہتے ہیں۔ بلکہ بات یوں ہے کہ یہ لوگ بہت تھوڑی سمجھ رکھتے ہیں۔

ان سب آیات سے واضح اور روشن ہو گیا کہ ضرورت کے وقت جو شخص بغیر عذر کے جہاد سے تقاعد اور کوتاہ ہمتی کرتا ہے اور قوم کو مظالم کے گھاٹ پر دیکھ کر الگ رہتا اور اپنی جان کی فکر میں رہتا ہے ۔ اس کی ذہنیت جاہلیت کی ہے۔ وہ فقاہت و علم سے کورا، عقل و دانش سے بے بہرہ اور انجام بینی سے اندھا ہے۔ قوم کی موت کے وقت وہ اپنے آپ کو زندہ سمجھتا ہے ۔ وہ جہالت کا پتلا ہے ۔ اگر اسے اپنے اخوان مسلمین کی عزت و زندگی کی پرواہ نہیں تو اسلام اور مسلمین کو بھی اس کی حیات کی حاجت نہیں۔ اسی معنی میں دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ :

”ان الله لا يجمع امتى على ضلالة ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ فى النار (مشکوۃ: ص ٣٠ ، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) “ خدائے تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور خدا کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو اکیلا رہے گا ۔ وہ اکیلا ہی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا کہ :

”ان الشيطن ذئب الانسان كذئب الغنم ياخذ الشاذة والقاصية والناحية واياكم والشعاب وعليكم بالجماعة والعامة (رواه احمد، مشكوة

٧

صفحہ ١٩٤

ص ٣١، باب الاعتصام بالكتاب والسنة ) ”بیشک شیطان انسان کا بھیڑیا ہے۔ مثل بکری کی جو اکیلی اور ریوڑ سے دور رہی ہوئی اور ریوڑ سے ایک جانب ہٹی ہوئی بکری کو پکڑ لے جاتا ہے۔ یعنی اسی طرح شیطان جماعت مسلمین سے الگ رہنے والے انسان کو گمراہی کے پنجے میں گرفتار کر لیتا ہے اور بچو تم پگڈنڈیوں سے (یعنی چھوٹے چھوٹے خودساختہ رستوں سے بچے رہو اور شاہراہ سنت پر چلے جاؤ ) اور لازم پکڑو عام جماعت کو۔

الغرض مذکورہ بالا آیات و احادیث سے دوپہر کے سورج کی طرح روشن ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ مسلمانوں پر اجتماعی زندگی واجب قرار دے رہے ہیں اور چونکہ اجتماع کو منظم رکھنے کے لئے کسی ناظم اور صاحب امر کی ضرورت ہے اور بغیر اس کی اطاعت وفرمانبرداری کے اجتماع اور نظام کے فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا اس کی اطاعت اور بوقت ضرورت اس کی رفاقت بھی واجب ہے اور اس نظام سے الگ رہنے والا اور اسی حالت پر مر جانے والا جاہلیت کی موت مرتا ہے۔

حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ حدیث میں ”من مات ولم یعرف امام زمانہ “ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ: ” ظاہر است کہ اہل جاہلیت اتباع رئیس واحد نداشتند و ہر فرقہ برائے خود رئیس می کرد (فتاوٰی عزیزیہ جلد دوم ص ٧٧) “ یعنی اہل جاہلیت کسی ایک سردار کے تابع نہ ہوتے تھے۔ بلکہ ہر فرقہ اپنا سردار الگ مقرر کئے رکھتا تھا۔ اسی طرح جو شخص عام جماعت مسلمین سے الگ رہ کر زندگی گزارتا ہے اور اسی حالت پر مر جاتا ہے۔ اس کی موت زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی سی ہے۔

اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس طرح تسبیح میں سو ١٠٠ دانے ایک دھاگے کے اندر منظم ومرتب ہوتے ہیں اور اس دھاگے کے دونوں سروں پر ایک بڑا سا دانہ ہوتا ہے۔ اس بڑے دانے کو بھی امام کہتے ہیں کہ وہ سب دانوں کا سربند ہوتا ہے اور دانوں کو بکھرنے سے روکے رکھتا ۔ اگر کوئی دانہ اس تسبیح میں سے خارج ہو جائے تو وہ اس تسبیح میں شمار نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ ایسے ہی ضائع ہو جائے گا۔ لیکن جو دانے اس تسبیح میں منظم ہیں وہ محفوظ رہتے ہیں۔ اسی طرح جو انسان اس صاحب امر امام کی پیروی اور تابعداری کے ڈورے میں منسلک ہو گیا۔ وہ محفوظ ہو گیا اور اس نے اپنی جان حصار میں کرلی۔ صحیح مسلم کی حدیث مذکورہ میں الفاظ ویتقی کے بھی یہی معنی ہیں۔

حاصل یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں امام کے ساتھ رہ کر زندگی بسر کرنے کا حکم کر کے یہ سبق دیا ہے کہ مسلمان اجتماعی زندگی بسر کریں اور الگ الگ ہو کر اپنے آپ کو ضائع نہ

٨

صفحہ ١٩٥

کریں۔ اسی امر کو خدا تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ: "واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا (آل عمران: ١٠٣) " یعنی مسلمانو! تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقہ اندازی مت کرو۔

نظام ملی کی عملی تعلیم

ان لفظی تاکید بلیغہ کے علاوہ عملی طور پر بھی مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کا سبق دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے نماز ہے۔

پنج وقتی نماز میں جماعت کی اس وجہ سے سخت تاکید کی گئی ہے کہ اجتماعی زندگی مسلمانوں کا قومی اور مذہبی شعار سمجھا جائے۔ حالانکہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اپنے مکان کے اندر تنہا نماز پڑھنے میں بہت سہولت ہے۔ نہ اس میں وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ نہ طبیعت پر بوجھ پڑتا ہے نہ مصارف کا بار برداشت کرنا پڑتا ہے کہ ہزاروں روپے لگا کر مسجد تعمیر کرانی پڑیں۔ پھر ان میں روشنی، پانی، امام ومؤذن، چٹائیوں اور دریوں کے روزانہ اخراجات اٹھائے جاتے ہیں اور اگر اسے عامیانہ صوفیانہ نیک نیتی سے جو حقیقت میں نیکی کے رنگ میں شیطانی وسوسہ ہے۔ دیکھا جائے تو اکیلے ہو کر نماز پڑھنا ریا کاری سے دور اور حضور قلب کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ باوجود اس کے شریعت غرا نے جس کا ہر ایک حکم حکیمانہ اور پر از مصالح ہے، مسجد میں جا کر جماعت سے نماز پڑھنا واجب قرار دیا اور بغیر عذر کے گھر میں تنہا نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا "لا صلوة لجار المسجد الا فى المسجد (سنن دارقطنی ص ٤٢٠ ج ١ ) " یعنی نہیں ہوتی نماز مسجد کے ہمسایہ کی مگر مسجد میں۔

نیز فرمایا کہ جو لوگ آذان سن کر جماعت میں حاضر نہیں ہوتے۔ ان کی نسبت میں قصد کر چکا ہوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ۔ (متفق علیہ بلوغ المرام)

اس کی بھاری وجہ یہی ہے کہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے میں نظام ملی اور مساوات قومی کا عملی سبق ملتا ہے اور چونکہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے میں حرج اور خرچ ہر دو اٹھانے پڑتے ہیں ۔ اس لئے نماز باجماعت کا ثواب پچیس یا ستائیس درجے زیادہ رکھا ہے۔ (بلوغ المرام)

گویا بتا دیا کہ تم خدا کی راہ میں جس قدر محنت اٹھاؤ گے۔ اسی قدر اجر بھی حاصل کرو گے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا تھا کہ تجھے

٩

صفحہ ٩٦

تیرے حج کا اتنا ہی ثواب ملے گا۔ جتنا تو اس میں خرچ کرے گی اور جتنی مشقت اٹھائے گی۔

(صحیح بخاری)

الغرض اہل محلہ کے لئے دن میں پانچ بار اجتماعی زندگی کا عملی سبق ہے۔ اسی نقطۂ خیال سے ہر محلہ میں مسجد بنانے کا حکم کیا گیا ہے۔ (بلوغ المرام بروایت عائشہؓ)

پھر اس کے بعد اجتماعی زندگی کا عملی سبق جمعہ کے قائم کرنے سے بھی کر دیا ہے کہ ہفتہ میں ایک دفعہ یعنی جمعہ کے دن اہل شہر یا کئی محلے مل کر وہاں کی بڑی مسجد میں نماز جمعہ ادا کریں تا کہ سارے شہر یا اکثر حصہ شہر کی اجتماعی زندگی کے مظاہرے سے مسلمانوں کی شان وشوکت دوبالا ہو اور اس اجتماع عظیم سے ان کے دلوں میں حرکت وزندگی پیدا ہو اور وہ خطبہ سے اپنی گذشتہ فروگذاشتوں پر متنبہ ہوسکیں اور آئندہ ہفتہ کا عملی پروگرام بھی سمجھ لیں۔

ہفتہ وار اجتماع کے بعد عیدین کے دو اجتماع ہیں کہ سال میں دو دفعہ یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن تمام شہر کے افراد مسلمین اجتماعی حیثیت سے دربارِ خداوندی میں یعنی عیدگاہ میں جو شہر سے باہر ہو حاضر ہو کر اجتماعی زندگی کا مظاہرہ کریں۔ زیب وزینت اور عمدہ پوشاک میں نکلتے ہوئے تکبیریں پکارتے جائیں اور جس راستے سے عیدگاہ میں جائیں اس سے دوسرے راستے سے واپس آجائیں۔ تا کہ ہر طرف کے لوگوں کے لئے اس اسلامی جلوس کا نظارہ مؤثر ہو سکے۔

پھر اس کے بعد ایک چوتھا منظر بھی ہے۔ جس میں سارا شہر نہیں ملک کے ایک دو شہر نہیں دنیا کے ایک دو ملک نہیں بلکہ دنیا جہاں کے تمام ممالک کے اہل استطاعت مسلمین مرکز اسلام یعنی مکہ شریف میں جمع ہوں۔ جس کو اجتماعی زندگی اور قومی حیات کے ابھارنے میں بہت زیادہ دخل ہے۔ یعنی حج بیت اللہ کہ اس میں تمام دنیا کے مسلمان نمائندے جمع ہو کر اجتماعی زندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہاں مرکز اسلام میں جو قیامت تک خطرات سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ ہر شخص اپنے دوسرے بھائی سے ملاقات کر کے انس ومحبت کا تعلق قائم کرنے اور تبادلۂ خیالات کرنے اور ایک دوسرے کے حالات سے اطلاع پالینے کا موقع پاسکتا ہے۔

واقعی اسلام اور مسلمین کی شان حج ہی کے موقع پر نظر آسکتی ہے کہ تمام مسلمان حاضرین خواہ کسی ملک اور کسی نسل وقوم اور کسی زبان اور کسی رنگ وحلیہ کے ہوں ایک ہی لباس

١٠

صفحہ ١٩٧

(احرام کی دو چادروں) میں ملبوس اور ایک ہی انداز اور ایک ہی حالت میں ہو کر ایک ہی نعرہ اللہم لبیک اللہم لبیک (خداوندا! میں تیری جناب میں حاضر ہوں) سب کی زبان پر ہوتا ہے۔

نکتہ: حج کے اجتماع عظیم کو خدا تعالیٰ نے تصور وتخیل پر نہیں رکھا۔ بلکہ اسے عملی طور پر ادا کرنے کی حکمت کی نسبت خاص الفاظ میں فرمایا کہ : "لِیشہدوا منافع لہم (حج: ٢٨)" یعنی لوگ پیدل چل کر اور سواریوں پر ہو کر حج کو آویں۔ تا کہ وہ اس جگہ اپنے دینی اور دنیوی منافع کو آنکھوں سے دیکھ لیں۔

اسلام کے پانچ عملی ستونوں میں سے ایک ستون زکوٰۃ بھی ہے۔ اس میں بھی ایک پہلو قومی نظام اور اجتماعی زندگی کا ہے کہ اس کے مصارف سے اجتماعی زندگی کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ان مصارف کی نسبت فرمایا کہ :

"انما الصدقت للفقراء والمساکین والعاملین علیہا والمؤلفة قلوبہم وفی الرقاب والغارمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضة من اللہ واللہ علیم حکیم (توبہ: ٦٠)" سوائے اس کے نہیں کہ صدقات (زکوٰۃ) محتاجوں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کے لئے جو ان کی تحصیل پر عامل مقرر ہیں اور ان کے لئے جن کی تالیف قلوب مطلوب ہے اور (غلاموں کی) گردنوں (کے آزاد کرنے) میں اور مقروضوں کے قرض ادا کرنے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کی حاجت روائی میں خرچ کئے جائیں۔ خدا کے مقرر کردہ حصے ہیں اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ اس آیت جامعہ میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بتائے گئے ہیں۔ یہ آٹھوں مصارف تین قسم پر منقسم ہو سکتے ہیں۔

اوّل : وہ جن کی ذاتی مصلحت میں مال زکوٰۃ دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ فقراء، مساکین، ابناء سبیل اور مقروض۔ ان کی حاجات میں مال خرچ کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو ذلیل ہونے اور تلف ہونے سے بچایا جائے۔ نیز ان کے متعلق یہ اندیشہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی امیر قوم ان کو مالی طمع دے کر اپنی طرف کھینچنا چاہے تو وہ شدت حاجت کی وجہ سے دین اسلام سے مرتد ہو جائیں۔ جیسا کہ ہم اپنے ملک میں اس زمانہ میں عیسائیوں کی ہمت وسعی دیکھ رہے ہیں۔

نکتہ: مخالفین اسلام کی اس کوشش کو سامنے رکھ کر آیت ذیل کو دیکھو کہ کس قدر وضاحت سے اس امر کو بیان کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ :

١١

PDF 198

” ود كثير من اهل الكتب لويردونكم من بعد ايمانكم كفاراً حسداً من عند انفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى يأتى الله بامره ان الله على كل شئی قدير واقيموا الصلوة واتوا الزكوة وما تقدموا لا نفسكم من خير تجدوه عندالله ان الله بما تعملون بصير (بقره:١٠٩، ١١٠) “

اہل کتاب میں سے بہت لوگ دلی آرزو رکھتے ہیں کہ کاش وہ تم (مسلمانوں) کو تمہارے ایمان لے آنے کے بعد کافر کر کے مرتد بنادیں۔ (اور یہ کوشش) حسد کے رو سے (کرتے ہیں) اپنے نفسوں کے پاس سے بعد اس کے کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے۔ پس تم (اے مسلمانو! سردست) عفو و درگزر سے کام لو۔ حتیٰ کہ خدا تعالیٰ اپنا جہادی حکم کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور تم جو کچھ بھی نیکی کی جنس میں سے اپنے نفسوں کے لئے آگے بھیجو گے اسے خدا کے پاس (جزاء کی صورت میں موجود پاؤ گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔)

اس آیت میں صاف فرما دیا کہ بہت سے اہل کتاب مشنری ١؎ تم کو دین اسلام سے مرتد کرنے کی آرزو رکھتے ہیں اور تمہاری روز افزوں ترقی اور کثرت پر حسد کھا رہے ہیں۔ سو تم ان کی اس سعی کے مقابلہ میں سردست ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ بلکہ خدا کے حکم (جہاد) کے منتظر رہو اور سردست نماز کے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے ادا کرنے پر کار بند رہو۔

اس مقام پر خدا تعالیٰ نے مخالفین کی مادی و مالی کوشش کے جواب میں مسلمانوں کو ایک تو روحانی علاج بتایا ہے اور دوسرا مالی۔ روحانی تو نماز ہے اور مالی زکوٰۃ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالفین مسلمانوں کو دو طرح پر دین سے پھیرنا چاہتے ہیں۔ اوّل کتابوں کی اشاعت اور مناظرات اور جلسوں کی تقریروں سے کہ ان میں شبہات و مغالطات و اعتراضات ذکر کئے جاتے ہیں۔ دوم مالی منافع و ملازمت وغیرہ کا طمع دے کر سو علمی شبہات و مغالطات و اعتراضات کے جواب میں نماز کا حکم فرمایا۔ کیونکہ اوّل تو جو نماز سنت کے مطابق پڑھی جائے اس سے روحانی قوت حاصل ہوتی ہے اور دل میں خدا کا نور اور حلاوت ذکر پیدا ہوتی ہے۔ اور شبہات پیدا نہیں ہو سکتے۔

١؎ اہل کتاب کا اسلامی مفہوم یہود و نصاریٰ ہیں۔ عرب میں یہی لوگ تھے ہمارے ملک میں آریہ لوگ بھی اپنی کتاب وید کی نسبت الہامی ہونے کے مدعی ہیں اور مسلمانوں کو مرتد کرنے میں ان کی کوشش عیسائی مشنریوں سے کم نہیں ہیں۔ پس مسلمانوں کو ان سب دشمنان دین و مسلمین کے دسائس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔

دوم: یہ کہ نماز ا میں شامل ہونے سے ان شبہا اور مالی منافع و فقراء اور مقروضوں کی خود کرنے کا موقع نہ پاسکیں۔ معاذ بن جبل کو یمن کا عامل تھا۔ یہ حکم بھی لکھ کر دیا تھا۔ ” ان الله قد وترد على فقرائهم (بـ ص١٦٥، كتاب الزكو ہے۔ جو مسلمان اغنیاء سے ملت کو خستگی سے محفوظ رکھنے کا ا دوسری قسم جن ذکر کیا جو مال زکوٰۃ کے وصو اور ان کو محافظین میں اس بیت المال کی معموری پر مبنـ میں شمار ہو سکتے ہیں۔ دیگر لوگ اس قـ ہیں۔ جو حفاظت اسلام میں ہتھیاروں اور گھوڑوں اور ذ خیروں میں شامل ہے۔ چناں ” واعد والـ الله عدوكم وآخرين في سبيل الله يوف مقابلہ کے لئے جو کچھ کر سکو خدا کے دشمنوں کو اور اپنے

صفحہ ١٩٩

اهل الكتب لويردونكم من بعد ايمانكم كفاراً حسداً ند ماتبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى يأتى الله شى قدير واقيموا الصلوة واتوا الزكوة وما تقدموا لا عندالله ان الله بما تعملون بصير (بقره:١٠٩، ١١٠) “

دلی آرزو رکھتے ہیں کہ کاش وہ تم (مسلمانوں) کو تمہارے ایمان تد بنا دیں۔ (اور یہ کوشش) حسد کے رو سے (کرتے ہیں) اپنے کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے۔ پس تم (اے مسلمانو! سر دست) ا تعالیٰ اپنا جہادی حکم کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور اپنے نفسوں کے لئے آگے بھیجو گے اسے خدا کے پاس (جزاء کی - اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔)

فرما دیا کہ بہت سے اہل کتاب مشرکین تم کو دین اسلام سے ر تمہاری روز افزوں ترقی اور کثرت پر حسد کھا رہے ہیں۔ سوتم ان ت ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ بلکہ خدا کے حکم (جہاد) کے منتظر رہو اور سر دست وا کرنے پر کار بند رہو۔

نے مخالفین کی مادی و مالی کوشش کے جواب میں مسلمانوں کو ایک عملی۔ روحانی تو نماز ہے اور مالی زکوٰۃ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ام سے پھیرنا چاہتے ہیں۔ اوّل کتابوں کی اشاعت اور مناظرات میں شبہات ومغالطات واعتراضات ذکر کئے جاتے ہیں۔ دوم دے کر علمی شبہات ومغالطات واعتراضات کے جواب میں نماز سنّت کے مطابق پڑھی جائے اس سے روحانی قوت حاصل حلاوت ذکر پیدا ہوتی ہے۔ اور شبہات پیدا نہیں ہو سکتے۔

مفہوم یہود و نصاریٰ ہیں۔ عرب میں یہی لوگ تھے ہمارے ملک کی نسبت الہامی ہونے کے مدعی ہیں اور مسلمانوں کو مرتد کرنے سے کم نہیں ہیں۔ پس مسلمانوں کو ان سب دشمنان دین ومسلمین کے

دوم: یہ کہ نماز کی وجہ سے نمازی صحبت علماء میں حاضر رہتا ہے اور جمعہ اور مجالس وعظ میں شامل ہونے سے ان شبہات کو دور کر سکتا ہے۔

اور مالی منافع کے لالچ کے جواب میں زکوٰۃ کا حکم فرمایا کہ جب ہم اپنے مساکین وفقراء اور مقروضوں کی خود دستگیری کریں گے تو مخالفین ان کو اس وجہ سے دین اسلام سے برگشتہ کرنے کا موقع نہ پاسکیں گے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس حکمنامہ میں جو آپ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا عامل مقرر کرنے کے وقت ان کو زکوٰۃ کے دستور العمل کی نسبت لکھوا کر دیا تھا۔ یہ حکم بھی لکھ کر دیا تھا۔

”ان الله قدا فترض عليهم صدقة فى اموالهم توخذ من اغنيا ئهم وترد على فقرائهم (بخارى ج ١ ص ٢٠٣، باب اخذالصدقة من الاغنياء، بلوغ المرام ص ١٦٥، كتاب الزكوة) “ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے۔ جو مسلمان اغنیاء سے لی جائے اور مسلمان فقراء کو دی جائے۔ غرض اس دستگیری میں بھی نظام ملی کو خستگی سے محفوظ رکھنے کا ایک پہلو ہے۔ عليك بهذا فانه لطيف جداً

دوسری قسم جن پر مال زکوٰۃ خرچ کیا جاتا ہے۔ محافظین ہیں اور اس قسم میں عاملین کا ذکر کیا جو مال زکوٰۃ کے وصول اور جمع کرنے پر مقرر ہوں کہ ان کو اسی فنڈ میں سے تنخواہ دی جائے اور ان کو مد محافظین میں اس لئے شمار کیا گیا ہے کہ بیت المال کی معموری ان کی کوشش سے ہوگی اور بیت المال کی معموری پر مہمات ملکی اور ضروریات ملی کا انحصار ہے۔ پس یہ لوگ محافظین اسلام کی مد میں شمار ہو سکتے ہیں۔

دیگر لوگ اس قسم میں مجاہدین ہیں۔ جو قرآن شریف کے لفظ فی سبیل اللہ میں داخل ہیں۔ جو حفاظت اسلام میں سب سے اوّل نمبر پر ہیں۔ ان کی ذات پر ان کے عیال پر ان کے جنگی ہتھیاروں اور گھوڑوں اور خوراک کی بہم رسانی پر جو کچھ بھی خرچ کیا جائے وہ سب کچھ حفاظت دین متین میں شامل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جنگی گھوڑوں اور آلات جہاد کی نسبت فرماتا ہے۔

” واعد والهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون عدو الله وعد وكم وآخرين من دونهم لا تعلمو نهم الله يعلمهم وما تنفقوا من شيء فى سبيل الله يوف اليكم وانتم لا تظلمون (انفال:٦٠) “ مسلمانو! تم ان کفار کے مقابلہ کے لئے جو کچھ کر سکو تیار رکھو۔ قوت سے اور گھوڑوں کے رسالے سے ڈراؤ گے۔ تم اس سے خدا کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو اور ان کے سوا دیگروں کو بھی جن کو تم اس وقت نہیں جانتے۔

١٣١

صفحہ ٢٠٠

لیکن خدا ان کو جانتا ہے اور تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تم کو اس کا (ثواب) پورا پورا دیا جائے گا اور تم کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔

اس آیت سے صاف صاف معلوم ہو گیا کہ گھوڑوں کے رسالے اور آلات جہاد کا ہر وقت موجود رکھنا مسلمانوں پر لازم ہے اور یہ بھی کہ اس میں اسلام کی شوکت کا ظہور ہے اور اس سے مخالفین پر اسلامی سلطنت کی دھاک پڑتی ہے اور یہ بھی کہ اس مد میں جو کچھ بھی تھوڑا یا بہت خرچ کیا جائے وہ عاقبت میں موجب اجر و ثواب ہے۔

نیز آنحضرت ﷺ نے غازیوں کے مال اور ان کے اہل وعیال کی نگہداشت و خبر گیری اور ان کی ضروریات جہاد میں اعانت کرنے والوں کی نسبت فرمایا۔

”من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في اهله بخير فقد غزا (صحيح مسلم ج ٢ ص ١٣٧، باب فضل اعانت المغازی فی سبیل اللہ ) ”جس نے خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا ۔ تو اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے گھر میں نیکی کے ساتھ اس کی خلافت و نیابت کی اس نے بھی جہاد کیا۔

”حرمة نساء المجاهدين على القاعدين كحرمة امهاتهم (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٣٨، باب حرمة نساء المجاهدین ) ”مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر میں بیٹھنے والوں پر ان کی ماؤں کی طرح ہے۔

تیسری قسم میں مؤلفۃ القلوب ہیں۔ یعنی وہ لوگ کہ مالی امداد سے ان کی تالیف قلوب کر کے اسلام اور قوم مسلمین کی قوت کو مضبوط کیا جائے اور فتنوں سے بچایا جائے ۔ اس کی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان ضعیف الاعتقاد ہو اور وہ مالی امداد پا کر مسلمانوں سے مانوس رہے اور اس کا اعتقاد بوجہ مسلمانوں کی اخلاقی ہمت و ہمدردی کے پختہ ہو جائے ۔ دوم یہ کہ کوئی شخص داخل اسلام تو نہ ہو ۔ لیکن اسلام اور مسلمانوں سے انس رکھتا ہو ۔ مگر دنیا کے بعض منافع اسے قبول اسلام سے روکتے ہوں ۔ تو مال سے اس کی تالیف کر کے اس کو اسلام کا حلقہ بگوش کر لیا جائے ۔

سوم : یہ کہ کوئی غیر مسلم چال باز اور صاحب اثر ہو ۔ اس کی عیاری کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ یا اس کے اثر سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ تو اس کے نقصان کو روکنے کے لئے یا فائدہ حاصل کرنے کے لئے اس سے مالی سلوک کیا جائے ۔

تنبیہ : اس عاجز کی عمر کا اکثر حصہ تبلیغی خدمات دینیہ میں گزرا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا

١٤

صفحہ ٢٠١

کہ کتنے ہزار غیر مسلم اس عاجز کے ہاتھ پر اسلام لا چکے ہیں۔ میں نے تبلیغ میں مد مؤلفة القلوب کو بہت مؤثر پایا ہے۔

اگر مسلمان اپنے اخراجات باقاعدہ رکھیں اور زکوۃ وصدقات کو بانظام جمع کریں تو روز مرہ کے چندوں کی ضرورت نہ رہے اور سب کام باقاعدہ چلتے رہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے اس عاجز کی آواز میں اثر رکھا ہے کہ ضرورت کے وقت سینکڑوں روپے خدمات دینیہ کے لئے جمع کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

ان سب اقسام اور ان سب امور میں آپ غور کریں کہ ان سب میں خالصاً اسلام اور مسلمین کی خدمت اور خیر خواہی ہے۔

الغرض زکوٰۃ اسلام میں ملی قوت کو مضبوط کرنے کا ایک عظیم اور قومی ذریعہ ہے۔

والله ولی التوفیق!

٢....... تقرر امام

تفصیل بالا گو طویل ہوگئی ہے۔ لیکن جب مقصود یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اجتماعی زندگی بتائی جائے۔ تو میں نے اپنے آپ کو تفصیل سے روکنا نہیں چاہا۔ وما توفیقی الا بالله!

جب تفصیل بالا سے آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام میں اجتماعی زندگی خاص طور پر ملحوظ ہے، تو اب سمجھنا چاہئے کہ اجتماع کے فوائد خود اس امر کے مقتضی ہیں کہ ان کے حاصل کرنے کے لئے کسی نظام کی اور اس کو درست رکھنے کے لئے ایک ناظم وسردار یا صاحب امر کی بھی ضرورت ہے۔ جس کے ہاتھ میں اس نظام کی باگ ڈور ہو اور وہ اپنی قوت و تدبیر سے احکام شرعیہ کو نافذ کر کے اندرونی طور پر تو مسلمانوں میں نظام قائم رکھ سکے اور بیرونی طور پر ان کو اور ممالک اسلامیہ کو غیروں کی دستبرد سے بچا سکے۔

حضرت شاہ ولی اللہ (قدس سرہ) نے اپنی بے نظیر کتاب ازالۃ الخفاء میں خلافت کبریٰ کی تعریف یوں کی ہے۔

"هي الرياسة العامة في التصدى لاقامة الدين باحياء العلوم الدينية واقامة اركان الاسلام والقيام بالجهاد وما يتعلق به من ترتيب الجيوش والفرض للمقاتلة واعطائهم من الفئ والقيام بالقضاء واقامة

١٥

صفحہ ٢٠٢

الحدود ورفع المظالم والامر بالمعروف والنهي عن المنكر نيابة عن النبیﷺ (ازالۃ الخفاء ج١ ص١٣) ”خلافت نام ہے عام سرداری کا۔ جو دین کے قائم کرنے کے لئے علوم دینیہ کے زندہ رکھنے سے اور ارکانِ اسلام کے قائم کرنے سے اور جہاد اور اس کے متعلقات کے قائم کرنے سے یعنی لشکروں کے ترتیب دینے اور غازیوں کے حصے مقرر کرنے اور ان کو فئے میں سے عطاء کرنے سے اور قضاء کو قائم کرنے اور حدودِ شرعیہ کے قائم کرنے اور مظالم کے دور کرنے اور نیکیوں کا حکم کرنے اور برائیوں سے منع کرنے سے آنحضرتﷺ کی نیابت میں۔

اس تعریف میں جس قدر امور ذکر کئے گئے ہیں۔ ان پر حضرت شاہ صاحبؒ نے خود سیر کن بحث کی ہے اور ان قیود کے فوائد بتائے ہیں۔ ہم مضمون کی طوالت سے نہ ڈرتے ہوئے چاہتے ہیں کہ ان تشریحات کا ترجمہ بطور حاصلِ مطلب یہاں بیان کر دیں۔ کیونکہ اس ملک میں ہمارے زمانے میں جتنے بھی مدعیانِ خلافت ہیں ان کی امامت کا خاتمہ اسی ترجمہ سے ہو جائے گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کا اندازِ بیان محتاجِ تعریف نہیں ہے۔ آپؒ کے علم کی ثقاہت اور دماغ کی فقاہت اور بیان کے وقت غیبی تائید اور شرحِ صدر مسلمِ کل ہے۔ لہٰذا ہمارے ناظرین و سامعین حضرت شاہ صاحبؒ کے ان کمالات کو مدنظر رکھ کر ذیل کی سطروں کو پڑھیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ”اس تعریف کی تفصیل یوں ہے کہ ملتِ محمدیہﷺ سے قطعی طور پر معلوم ہو چکا ہے کہ جب آنحضرتﷺ مبعوث ہوئے تو آپؐ نے عام خلق اللہ (کی ہدایت) کے لئے لوگوں سے معاملات بھی کئے اور تصرفات (احکام و مناہی) بھی فرمائے اور ہر معاملہ کے لئے اپنے نائب بھی مقرر فرمائے اور ہر معاملہ میں نہایت درجہ کا اہتمام ملحوظ رکھا۔ جب ہم ان معاملات کی جستجو اور پڑتال کریں اور جزئیات سے کلیات اور ان کلیات سے ایک کلی کی طرف جو سب پر شامل ہو انتقال کریں تو اس کی جنسِ اعلیٰ اقامتِ دین ہوگی۔ جو سب کلیات کی متضمن ہے اور اس کے تحت دیگر جنسیں ہیں۔ ایک ان میں سے علومِ دینیہ کا زندہ کرنا ہے۔ جو قرآن و حدیث اور تذکرہ و موعظت ہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”هو الذی بعث فی الامیین“ یعنی خداوند تعالیٰ وہ ذاتِ پاک ہے جس نے برپا کیا۔ امی لوگوں میں ایک (عظیم الشان) رسول انہی میں سے جو پڑھتا ہے۔ ان پر آیتیں اس کی (قرآن) اور پاک کرتا ہے۔ ان کو اور سکھاتا ہے۔ ان کو کتاب (قرآن) اور حکمت (طریقِ عمل یعنی اپنی سنت) اور یہ بھی عام طور پر معلوم ہو چکا ہے کہ

١٦

صفحہ ٢٠٣

آنحضرت ﷺ صحابہؓ کی تذکیر و موعظت میں بہت کوشش کرتے تھے اور دوسری جنس ارکانِ اسلام کو قائم کرنا ہے۔ کیونکہ یہ بھی عام طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آپؐ جمعوں اور عیدوں اور عام نمازوں کی جماعت میں امامت بنفسِ نفیس کراتے تھے اور محلوں میں امام بھی مقرر کرتے تھے اور زکوۃ کی وصولی بھی کرتے تھے اور اسے مصارف میں خرچ بھی کرتے تھے اور اس امر کے لئے عمال کو مقرر بھی کرتے تھے اور اسی طرح ہلالِ رمضان اور ہلالِ عید کی شہادت بھی سنتے تھے اور ثبوتِ شہادت کے بعد روزے اور افطار کا حکم بھی صادر فرماتے تھے اور حج کو بھی آپؐ نے خود قائم کیا اور نویں سال میں جبکہ آپؐ کی تشریف برآری مکہ شریف میں محقق نہ ہوسکی تو آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ صدیق کو بھیج دیا کہ وہ حج قائم کریں۔ (یعنی حضرت ابوبکرؓ صدیق کو امیرِ حج مقرر کرکے بھیجا۔ آنحضرت ﷺ کا جہاد کو قائم کرنا اور لشکروں کے امیر مقرر کرنا اور لشکروں کو جہاد پر) بھیجنا اور آپؐ کا فصلِ خصومات کرنا اور اس کے لئے اسلامی شہروں میں قاضیوں کو مقرر کرنا اور حدود شرعیہ کو قائم کرنا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کرنا ایسے مشہور امور ہیں کہ کسی تنبیہ یا تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ رفیقِ اعلیٰ میں انتقال فرما گئے تو دین کا قائم کرنا اسی تفصیل سے جو اوپر مذکور ہوئی ۔ واجب ہوا اور دین کا قائم کرنا موقوف ہوا ایک ایسے شخص کے مقرر کرنے پر جو اس امر میں نہایت درجے کا اہتمام کرے اور آفاق و اطراف میں اپنے نائبین کو بھیجے اور ان کے حالات سے اطلاع رکھے اور وہ اس امر سے (سرمو) تجاوز نہ کریں اور اس کے اشارے پر چلیں اور وہ شخص آنحضرت ﷺ کا خلیفہ اور آپؐ کا نائب مطلق کہلائے۔ پس اس تعریف کے کلمۂ ریاستِ عامہ سے خارج ہوگئے وہ علمائے مسلمین جو علومِ دینیہ کی تعلیم میں مشغول ہیں اور شہروں کے قاضی اور لشکروں کے امیر بھی جو خلیفہ کے حکم سے مقرر ہوکر یہ کام انجام دیتے ہیں۔ عصرِ اوّل میں وعظ تذکیر خلافت کا ضمیمہ تھا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں وعظ بیان کرتا۔ مگر امیر یا مامور (جسے امیر کی اجازت ہو) یا متکبر (جو خود بخود میاں مٹھو بن بیٹھے) اور لفظ فِی التصدّی لِا قامۃ الدین سے وہ شخص خارج ہوگیا۔ جو اہلِ آفاق پر کسی وجہ سے غلبہ و حکومت حاصل کر لے اور شرعی وجہ کے سوا لوگوں سے خراج حاصل کرنے کے درپے ہو جائے۔ مثلِ جابر و متغلب بادشاہوں کے اور لفظ تصدی سے وہ شخص باہر ہوگیا۔ جو ہرچند کہ دین کو قائم کرنے کی قابلیت کامل طور پر رکھتا ہو اور اپنے اہلِ زمانہ سے افضل بھی ہو۔ لیکن بالفعل اس کے ہاتھ سے امور مذکورہ بالا میں کچھ بھی سرزد نہ ہوتا ہو۔ پس پوشیدہ اور غیر منصور اور بے تسلط شخص (نوابِ بے ملک) خلیفہ نہیں ہوسکتا اور

١٧

صفحہ ٢٠٤

قید نیابۃ عن النبیﷺ مفہوم خلافت سے نکال دیتی ہے۔ انبیاء سابقین علیہم السلام کو ہر چند کہ قرآن شریف میں حضرت داؤد علیہ السلام کو خلیفہ کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس مقام پر آنحضرتﷺ کی خلافت کا ذکر ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام (جو آنحضرتﷺ سے پیشتر ہوئے ہیں ۔ آپؐ کے خلیفہ نہیں بلکہ) خلیفہ اللہ ہیں۔ اس لئے حضرت ابوبکر صدیق اسم خلیفۃ اللہ سے راضی نہ ہوئے۔ بلکہ آپ نے فرمایا کہ مجھے خلیفہ رسول اللہﷺ کہا کرو۔‘‘

(انتہی مترجما ازالۃ الخفاء ج١ ص١٣ تا١٦ فصل اوّل)

توضیح

ہم چاہتے ہیں کہ بیان بالا کو ایک اور طریق پر بھی واضح کردیں تاکہ ہر طبقہ کے لوگ اس کی ضرورت اور اس کے فوائد کو سمجھ کر حدیث زیر بحث کا اصلی مفہوم درست طور پر سمجھ جائیں اور جھوٹے مدعیوں کے فریب سے بچ جائیں سو معلوم ہو کہ جس طریقہ سے خود اس عالم کا نظام صانع عالم پر دلالت کر رہا ہے اور یہ اتنا بڑا کارخانہ اس امر کو بتلا رہا ہے کہ کوئی نہ کوئی اس کا منتظم اور چلانے والا ضرور موجود ہے۔ (یعنی باری تعالیٰ عزاسمہ)

پس اسی طرح اس نظام قومی واجتماعی زندگی کے لئے بھی ایک امام کی ضرورت ہے۔ جس کے ذریعے امن وامان قائم رہے۔ سب سے ضروری چیز نظام کے لئے یہی ہے کہ قوم میں امن وامان ہو اور فساد برپا نہ ہونے پائے اور اگر کوئی بیرونی طاقت فساد پر آمادہ ہو اور چاہے کہ اس نظام واجتماعی شان وشوکت کو تہ وبالا اور زیروزبر کرکے رکھ دے تو پورا نظام اور اجتماع اپنے امیر کے حکم پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مردانہ وار پروانہ کی طرح قربان ہو جائے۔ اسی سے یہ امر بھی معلوم ہو گیا کہ اگر نظام نہیں ہے اور افراد تنہا تنہا ہیں تو مخالف قوت ایک ایک کرکے سب کو فنا کر دے گی۔ کیونکہ ان میں نظام معدوم ہے۔ ہر شخص تنہا ہو کر کچھ نہیں کر سکتا۔ انسان کو جناب باری عزاسمہ نے بنایا ہی متمدن ہے کہ وہ اپنے ہمجنسوں سے ملکر اپنی زندگی پوری کرے۔ کیونکہ اس کے معنے ہیں مل کر ایک جگہ رہنا۔ اسی لئے مدینہ شہر کو کہتے ہیں کہ اس جگہ بہت لوگ مل کر رہتے ہیں۔ پس اس طرح قوم سے الگ رہنے کے متعلق فرمایا کہ اگر اسی طرح رہو گے اور اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانو گے اور اس کے مطیع نہ ہوگئے اور ایک رشتہ اور سلسلہ میں منسلک نہ ہوگے تو تم کو ہر شخص جاہلیت کی موت ماردے گا۔ اگر کسی کو کسی شخص نے نہ مارا اور وہ طبعی موت سے مرا تب بھی وہ جاہلیت ہی کی موت مرا۔ بانظام اجتماعی زندگی اور تمدن معاشرت کی موت تو یہ ہے کہ اس کی ایسے

١٨

صفحہ ٢٠٥

حالات میں پرواز کرے کہ اس کا دل حفاظت اسلام کے لئے امیر المومنین اور خلیفہ اسلام کی اطاعت میں لگا ہوا ہو۔

٣....... تصویر کا دوسرا رخ

صاحبان! آپ پر واضح ہو چکا ہے کہ تقرر امام کی غرض وغایت کیا ہے اور کون شخص اس منصب عظیم کے لائق ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ امام وہ ہے۔ جس کے ہاتھ میں حکومت ہو اور اس کے زیر فرمان فوجیں اور رسالے ہوں اور مسلمانوں کے نظام داخلی کو درست رکھ کر ان کو اور اسلامی ممالک کو غیروں کی دستبرد سے محفوظ رکھ سکتا ہو۔

اس خلاصہ کو دماغ میں رکھ کر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب امام زمان ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو وہ جاہلیت کی موت پر مرنے سے ڈراتے ہیں تو اب دیکھنا چاہئے کہ آیا انہوں نے اس امامت کا دعویٰ کیا ہے جو حدیث زیر غور میں مراد ہے۔ یا یہ کہ وہ اس قسم کے دعوے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ دیگر یہ کہ آیا انہوں نے امت محمدیہ کی خیر خواہی اور ان کے عروج کے لئے وہ خدمات انجام بھی دی ہیں؟۔ جو اس امام زمان یا خلیفہ اسلام کے متعلق سابقاً بالتفصیل مذکور ہو چکی ہیں۔ یا حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی عمر امت محمدیہ ﷺ کی بدخواہی میں اور غیر اسلامی حکومت کی خوشامد میں اور اس سے اغراض واکرام حاصل کرنے میں صرف کر دی۔ میں ان امروں کی شہادت میں بے بنیاد بدظنیاں اور خیالی تہمتیں اور عوام الناس کے خیالات پیش نہیں کروں گا۔ بلکہ خدا کے فضل سے مرزا قادیانی کی اپنی تصریحات اور دیگر قادیانی مصنفین کا لٹریچر پیش کروں گا۔

١....... اقتباس اوّل ..... خاندانی خدمات

میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیساں پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکاری انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر

١٩

صفحہ ٢٠٦

میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر قادیانی خدمات سرکار میں مصروف رہا اور جب تمون کی گذر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔

کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنے قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی مخالفت کے بارہ میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپے خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب، بلاد شام، روم، مصر، بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا ...... اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب، بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی۔“ ( حوالہ کتاب البریہ ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٤ تا ٨ ) بالکل سچ ہے اسلام دشمنی اسی کا نام ہے۔ میر سیالکوٹی !

برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں ١؎ اپنے خون بہائے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“ ( درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب، تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

١؎ قرآن میں مومن و کافر کی پہچان یہ ہے۔

”الذين امنوا يقاتلون في سبيل الله والذين كفروا يقاتلون في سبيل الطاغوت (النساء: ٧٦) “ یعنی جو مومن ہیں وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ غیر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔

٢٠

صفحہ ٢٠٧

ت کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر قادیانی خدمات سرکار میں ا گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار میں شریک تھا۔

ں (خود بدولت مرزا غلام احمد قادیانی) اپنے والد اور بھائی کی وفات خا۔ تا ہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنے قلم رس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی مخالفت کے بارہ ں اور پھر میں نے مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا تابیں عرب، بلاد شام، روم، مصر، بغداد اور افغانستان میں شائع کی کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا...... اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ ں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب، بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ ی توقع تھی۔“ (حوالہ کتاب البریہ ص ٢٨٢، خزائن ج ١٣ ص ٢٨٣) بالکل

۔ میر سیالکوٹی!

ں ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس فادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ اس خود کاشتہ پودا کی قیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں ا سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔“

(درخواست مرزا قادیانی

لغ رسالت ج ٧ ص ١٩، ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

افر کی پہچان یہ ہے۔

يقاتلون في سبيل الله والذين كفروا يقاتلون في

( یعنی جو مومن ہیں وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں۔

٢٠

..... ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ

اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

٢...... پچاس الماری

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

٣...... بے نظیر کارگذاری

”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہاد کی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے اور پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں۔ کوئی نظیر ہے؟ کوئی نہیں۔“

(کتاب البریہ اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٨)

این کار از تو آید و مردان چنین کنند

٤...... اسلامی ممالک پر توجہ

”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین (مکہ شریف و مدینہ شریف) اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص ١٥٢ پر جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“

(تحفہ قیصریہ التجا، تاریخ ١٨ نومبر ١٩٠١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٢)

٢١

صفحہ ٢٠٨

٥....... حکومتوں کا فرق

ا....... ”ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث ہے۔“

(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٥ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٩٥)

ب....... ”بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزر ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں ۔ تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں ۔“

(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٦)

ج....... ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں ١؂ اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ ٢؂ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ لہٰذا وہ اس الہام میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں ۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔“

(اشتہار مرزا قادیانی ٢٢؍ مارچ ١٨٩٧ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩ ، مجموعہ

اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠، ٣٧١) سبحان اللہ ! یہ منہ اور مسور کی دال ۔ ؎ میر سپاہی بکوتی !

٦....... شکایت وعنایت

”اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں ۔ صرف ایک رنج اور درد وغم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے۔ جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٢٣)

٧....... راز کا مشورہ

”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے

١؂ مکہ معظمہ میں اس لئے نہیں چلا سکتے کہ وہاں الحاد پھیلانے والے کی نسبت حکم ہے ۔ ”ومن يرد فيه بالحاد بظلم نذقه من عذاب اليم (الحج: ٢٥) “

٢؂ اور مدینہ منورہ میں اس لئے نہیں چلا سکتے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ دجال یہاں پر داخل نہیں ہو سکے گا۔

٢٢

صفحہ ٢٠٩

نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی...... ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ و نشان یہ ہیں۔“ ١؎

(تحریر مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

٨....... قادیانی فرض ...... فداہ کاری

”بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیرخواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ پس کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ اس محسن گورنمنٹ کا ان تمام تعریفوں کے ساتھ دنیا میں نام پھیلے اور اس کی محبت دور دور تک دلوں میں جاگزین ہو۔“

(البلاغ (جس کا دوسرا نام فریاد درد ہے۔) ص ٣٢، ٣٣ ، خزائن ج ١٣ ص ٤٠٠، ٤٠١)

”یہ سچ ہے کہ چونکہ ہم اس گورنمنٹ کی رعایا ہیں اور دن رات بیشمار احسانات دیکھ رہے ہیں ٢؎۔ اس لئے ہمارا یہ فرض ہونا چاہئے کہ سچے دل سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کریں اور اس کے مقاصد کے مددگار ہوں ٣؎ اور اس کے مقابل پر ادب اور غربت اور فرمانبرداری کے ساتھ زندگی بسر کریں ٤؎ مگر چاہئے کہ اعتقادی امور میں جو دار آخرت سے متعلق ہیں وہ طریق اختیار کریں۔ جس کی صحت اور درستی پر ہماری عقل ہمارا کانشنس ہماری فراست فتویٰ دیتی ہو ٥؎۔ ہم تو بار بار خود گواہی دیتے ہیں کہ نہایت ہی بدذات وہ ٦؎ لوگ ہیں جو متواتر احسانات اس گورنمنٹ کے دیکھ کر اور اس کے زیر سایہ اپنے مال اور جان اور عزت کو محفوظ پا کر پھر بغاوت کے خیالات دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔“

(البلاغ فریاد درد مصنفہ مرزا قادیانی ص ٥٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٢٦)

١؎ مہدی اور مسیح بننے کے لئے اس سے زیادہ مسلمانوں کی خیر خواہی یا بالفاظ دیگر بدخواہی کیا ہوگی۔ حدیث میں وارد ہے کہ: ”المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه (مشکوۃ ص ٤٢٢ ، باب الشفقة والرحمة علی الخلق )“ یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم کے لئے کسی دیگر کے سپرد کرتا ہے۔

٢؎ دن رات بے شمار احسانات کرنا تو خدا کی شان ہے۔ بندے سے یہ نہیں ہوسکتا۔

٣؎ شاید اس سے مراد اسلامی بلاد کو فتح کرنا ہو۔ (بقیہ حاشیہ ٤ تا ٧ اگلے صفحہ پر)

٢٣٤

صفحہ ٢١٠

کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں ۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ص ٩،خزائن ج١٥ص ١٢٠)

اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ہند ص ١٠،خزائن ج ١٥ص ١٢١)

مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں ۔ جو ان کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا ۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ص ١٠،خزائن ج ١٥ص ١٢١)

ہے ۔

(ستارہ قیصرہ ص ١١،خزائن ج ١٥ص ١٢٢)

نتیجہ الکلام

غرض اس قسم کے بیسیوں حوالے ہیں ۔ جن سے آفتاب دوپہر کی طرح ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس امامت کا ہرگز دعویٰ نہیں کیا ۔ جو حدیث رسول اللہ ﷺ میں مراد ہے اور ان

(بقیہ حاشیہ ٤ تا ٧ ،گزشتہ صفحہ) ٤؎ ایسی زندگی امام زمان و امام مہدی کی شان کے خلاف ہے ۔

٥؎ یہ اسلامی طریق نہیں ہے کیونکہ دین جو عاقبت میں کام آنے والا ہے ۔ اس کی بناء وحی پر ہے نہ کہ ایسے شخص کی کانسنس پر ۔

٦؎ قادیانی مہدی کی شیریں زبانی حدیث میں آیا ہے کہ امام مہدی سیرت و اخلاق میں آنحضرت ﷺ کے مشابہ ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی نسبت حدیث میں وارد ہے کہ آپؐ کسی کو گالی نہیں دیتے تھے ۔ نہ غصہ رنج کی حالت میں نہ کسی اور طرح سے ۔

٧؎ یہ غیب دانی کا دعویٰ ہے جو غلط ہے ۔ مرزا قادیانی کا اصل مطلب گورنمنٹ کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا ہے ۔ جو بدخواہی اور چغلی ہے اور دعویٰ مہدیت کے خلاف ہے ۔

١؎ اگر مرزا قادیانی مسلمانوں کو اپنی قوم سمجھتے تو ان کے عقیدہ کو حکومت کے سامنے بدظن کر دینے والے طریق میں پیش کر کے ان کی بدخواہی نہ کرتے اپنا بن کر دشمنی کرنا اسی کا نام ہے ۔ یہ بات امام زمان کی شان سے بعید ہے ۔

٢٤

صفحہ ٢١١

حوالہ جات سے یہ بھی ثابت ہے کہ مرزا قادیانی قوم مسلمین کے پکے دشمن تھے اور وہ ہندوستان میں قادیان یا جہاں کے مسلمانوں کی خود مختار اور با اقتدار حکومت کے بھی سخت مخالف تھے۔ اگر کہا جائے کہ وہ اپنے مخالفوں کی خیر خواہی نہیں کر سکتے تھے اور جن لوگوں نے ان کی بیعت کر لی ان کی حمایت و حفاظت میں انہوں نے ممانعت جہاد کے وقت ان کا روپیہ اور تصنیف کے وقت اپنا پسینہ بہا دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روپیہ اور پسینہ قادیانیوں کو بھی اس معراج پر پہنچانے میں نہیں بہایا گیا۔ جو حدیث کا منشاء ہے۔ چناچہ جیسا کہ بالا حوالوں سے معلوم ہوا کہ ستائیس برس کی محنت و برداشت اخراجات اور تصنیفات سے ان غرض صرف مخالفت جہاد اور گورنمنٹ انگلشیہ کی خدمت گذاری رہی ہے۔

پس مرزا قادیانی اپنی جماعت میں بھی ہمیشہ کی ماتحتی اور زبردستی کی روح پھونک گئے ہیں اور ان پر ضربت عليهم الذلۃ کی مہر لگائے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے۔ ”لا ينبغی للمومن ان يذل نفسه ا (مجمع البحار ج ٥ ص ٤٧١) یعنی مومن کو جائز نہیں کہ اپنے آپ (اسلامی وقار ) کو ذلیل کرے۔

ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب مرحوم نے عنوان ”حکمت فرعونی“ کے ماتحت مرزا قادیانی کی زندگی اور موت کا نقشہ ان شعروں میں صاف صاف کھینچ دیا ہے۔

شیخ او لرز فرنگی را مرید گرچه گوید از مقام بایزید
گفت دیں را رونق از محکومی است زندگانی از خودی محرومی است
دولت اغیار را رحمت شمرد رقصها گرد کلیسا کرد و مرد

ا عربی میں محاورہ ہے کہ :”دابۃ ذلول بینه الذل وذللها صاحبها “ (اساس البلاغۃ) امثال میدانی میں ہے۔ ”اذل من بعير سانیۃ وهو البعير الذی يستقى عليه الماء“ ان سب میں ذلت کا لفظ ماتحت ہونے اور مسخر ہونے کے لئے مستعمل ہے۔ اس کے مطابق قرآن شریف میں بنی اسرائیل والی گائے یا بیل کے لئے لا ذلول آیا ہے۔

٢٥

صفحہ ٢١٢

دفع دخل، ہمارا اعتراض اس جہت سے نہیں ہے۔ کہ مرزا قادیانی نے اپنی سابقہ پچاس سالہ موروثی اور خاندانی گورنمنٹی وفاداری کیوں ازسرنو قائم کرنی چاہی اور ایسی مبتذل اور خوشامدانہ تحریرات سے گورنمنٹ انگلشیہ کی رعایتیں کیوں لینی چاہئیں۔ کوئی اپنی مطلب برآری کرے اور کسی طریق سے کرے ہمیں کیا؟ نہ ہمیں گورنمنٹ سے پرخاش اور نہ مرزا قادیانی سے ان کے ذاتی مفاد کے خلاف شکایت، بلکہ ہمارا اعتراض اس لحاظ سے ہے کہ مرزا قادیانی نے امام زمان اور مہدی ہونے کا دعویٰ کر کے خدا کی زمین میں خدا کی شریعت کو قائم کرنے کی بجائے امت مرحومہ کو ہمیشہ کے لئے غیروں کے ماتحت رہنے کا جو سبق دیا وہ شان مہدویت کے خلاف ہے اور بس۔

نیز یہ کہ امت محمدیہ کی حمایت و حفاظت کرنے کی بجائے مرزا قادیانی ہمیشہ گورنمنٹ انگلشیہ کو مسلمانوں کی طرف سے یہ لکھ کر بدظن کرتے رہے کہ مسلمان ایک خونی مہدی اور خونی مسیح کے منتظر ہیں اور ان کا یہ عقیدہ خطرناک ہے اور مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے۔

مرزا قادیانی کی یہ ساری سعی خود غرضی پر مبنی تھی۔ جس کی تکمیل کے لئے ان کو امت مرحومہ کی بدخواہی ضروری نظر آئی۔ جیسا کہ ان کی تحریرات مذکورہ بالا سے واضح ہے۔ بنابریں مرزا قادیانی مہدی منتظر نہیں ہو سکتے۔ بس ہمارا مقصد اس اعتراض سے صرف اتنا ہی ہے اور مرزا قادیانی کا بار بار یہ لکھنا کہ ہم پر گورنمنٹ کے احسانات ہیں کہ اس نے ہم کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی طرف سے گورنمنٹ کو اس وحشت میں ڈالنا کہ وہ ایک خونی مہدی کے منتظر ہیں۔ اس میں انہوں نے دو مختلف امور کو یکجا کر کے گورنمنٹ کو یہ دھوکا دینا چاہا ہے کہ مسلمان باوجود یہ کہ ان کو ہر طرح کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پھر بھی اپنے دلوں میں بغاوت کا خیال پوشیدہ رکھتے ہیں اور یہ بات سراسر غلط اور حقیقت سے خالی ہے۔

اوّل اس لئے کہ گورنمنٹ کی ساری مسلمان فوج فاطمی سید امام مہدی کی منتظر ہے۔ جس کے وجود مسعود کو آپ گورنمنٹ کی نظر میں ایک ہوا بنا کر گورنمنٹ کو وحشت میں ڈالنا چاہتے ہیں اور یہ عقیدہ ان کو نہ تو گورنمنٹ کی فوجی ملازمت سے روک رہا ہے اور نہ بغاوت پر آمادہ کر رہا ہے۔ صورت واقعی کے خلاف کہنا سراسر بہتان نہیں تو اور کیا ہے؟۔

دوم اس لئے کہ احسان کا شکریہ الگ امر ہے اور مذہبی عقیدہ میں محسن سے جدا ہونا الگ امر ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی، مذہب میں گورنمنٹ انگلشیہ سے جدا ہیں اور مطلب پرست شکر گذار بھی اوّل درجے کے ہیں۔

٢٦

صفحہ ٢١٣

دعویٰ مہدویت

بیان سابق سے واضح ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی نے نہ تو صاحب سیف امام مسلمین ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ انہوں نے اس منصب کی خدمات بحق سیاست اسلامی وقوم مسلمین انجام دیں۔ بلکہ وہ ساری عمر ایک غیر مسلم حکومت کی ماتحتی میں امت محمدیہ کی بدخواہی کرتے رہے۔ پس وہ امام زمان یا خلیفتہ المسلمین نہیں ہو سکتے۔

اب ہم ان کے اس دعوے کو دیکھتے ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ میں مہدی موعود ہوں۔ جس کے ظہور کی احادیث نبویہ میں خبر ہے۔

سو معلوم ہو کہ بیان سابق ہی سے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی باطل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ امام مہدی موعود بھی منجملہ آنحضرت ﷺ کے خلفاء کے ایک خلیفہ اور امام ہوں گے۔ جو صاحب سیف اور حاکم عادل اور مجاہد و غازی ہوں گے۔

پس جب مرزا قادیانی والی حکومت ہی نہ ہوئے تو امام مہدی کس طرح ہو سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں تفصیلی بیان یوں ہے کہ (سنن ابی داؤد ج ٢ ص ١٣١، اول کتاب المہدی اور جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٧، باب ماجاء فی المہدی وغیرہما) کتب حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ وغیرہ ؎١ صحابہ سے امام مہدی کے متعلق جو احادیث مذکورہ ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا ظہور قریب قیامت کے علامات میں سے ہے اور ان کی شان یہ ہوگی کہ:

(مشکوٰۃ ص ٤٧٠، باب اشراط الساعۃ ذکر حضرت مہدی)

(مشکوٰۃ ص ٤٧٠، باب اشراط الساعۃ ذکر حضرت مہدی)

رسول اللہ ﷺ کے دو فرزندوں امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ باپ کی طرف

ایاسؓ، علی الہلالی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور امہات المومنین میں سے حضرت ام حبیبہؓ اور حضرت ام سلمہؓ۔

٢٧

صفحہ ٢١٤

سے ایک کی اولاد میں سے اور ماں کی طرف سے دوسرے کی اولاد میں سے یعنی حسنی حسینی ۔‘‘

(ابن ماجہ ص ٣٠٠، باب خروج المہدی)

ان تینوں امروں میں مرزا قادیانی فیل نظر آتے ہیں۔ آپ کا نام سندھی اور پھر غلام احمد تھا اور آپ کے باپ کا نام حکیم غلام مرتضیٰ تھا اور آپ قوم مغل سے تھے۔ نہ کہ اہل بیت رسول اللہ ﷺ سے۔ جیسا کہ لفظ مرزا بتا رہا ہے۔

٤....... ’’پھر یہ کہ امام مہدی ملک عرب کے والی حکومت ہوں گے۔‘‘

(مشکوٰۃ ص ٤٧٠، باب اشراط الساعۃ فصل الثانی)

اور مرزا قادیانی عرب کے بادشاہ کجا؟۔ قادیان کے نمبردار بھی نہ تھے۔

٥....... ’’ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کی روایت میں ہے کہ امام مہدی کی بیعت بین الرکن والمقام ہوگی۔ یعنی خانہ کعبہ کے رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگی۔ لوگ ان کی بیعت کرنا چاہیں گے اور وہ بیعت لینے سے بھاگیں گے۔ لیکن پھر لوگوں کے اصرار سے بیعت لیں گے اور جہاد قائم کریں گے۔

(مشکوٰۃ ص ٤٧١، ذکر حضرت امام مہدی باب اشراط الساعۃ)

ادھر مرزا قادیانی کو دیکھئے کہ خود لوگوں کے پیچھے پڑتے ہیں کہ مجھ کو امام مانو اور میری بیعت کرو۔ لیکن جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ اب موقوف ہے جو اس کا نام لے وہ کافر قرآن ہے۔

اس حدیث کے رو سے جب امام مہدی علیہ الرضوان کی بیعت کا رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان واقع ہونا مسلم ہے تو معلوم ہوا کہ امام مہدی طواف کعبہ بھی کریں گے۔ لیکن دوسری طرف دیکھو تو مرزا قادیانی کو حج ہی نصیب نہیں ہوا۔ ساری عمر قادیان کے گول کمرے ہی میں بیعت لیتے رہے۔ نہ خانہ کعبہ پہنچے نہ وہاں جاکر بیعت لی۔

دیگر یہ کہ حضرت امام مہدی بیعت جہاد کے لئے لیں گے۔ جیسا کہ ان کے بعد واقعات سے ثابت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی محض پیری مریدی کے لئے بیعت لیتے رہے اور تحصیل زر کرتے رہے۔ جو حقیقت الوحی میں مذکور ہے اور اس طریق سے حاصل کردہ روپیہ زندگی میں ذات خاص اور اپنے اہل وعیال کے مصارف میں خرچ کرتے رہے اور بعد موت کے اپنے وارثوں کے لئے چھوڑ گئے۔

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا والذی نفسى بیدہ یعنی مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ

٢٨

صفحہ ٢١٥

حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج روحاء سے حج کا لبیک پکاریں گے۔ (مختصراً) اس حدیث سے مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت بھی باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا مذکور ہے اور مرزا قادیانی بغیر حج کئے مر گئے !۔ افسوس مرزا قادیانی کو یہ نہ سوجھی کہ انگریز پرستی کے صلہ میں جدہ میں انگریزی قونصل کے ہمراہ چلے جاتے تو اپنی خاص روش سے خدمت بھی اچھی طرح انجام دیتے اور حج بھی کر آتے۔ بلکہ چند ہندی مریدوں کو ساتھ لے جا کر رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت بھی لے لیتے اور سب کام بخوبی انجام پا جاتے۔ لیکن جس کی سمجھ خدا مار دے اسے کون راہ پر لائے اور ایسا سلوک خدا تعالیٰ نے ان سے اس لئے کیا کہ وہ دعویٰ میں جھوٹے ثابت ہوں۔

چھٹی حدیث جس میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر اجمال اور اشارہ سے آتا ہے۔ صحیح مسلم کی ہے کہ آپ علم جہاد بلند کر کے اور مدینہ شریف کی فوج کو کہ اس وقت خیار اہل ارض ہوگی۔ ساتھ لے کر قسطنطنیہ پر کہ اس وقت غیر مسلموں کی حکومت میں ہوگا۔ حملہ کر کے اسے فتح کریں گے اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔

(مشکوٰۃ ص ٤٧١، ذکر مہدی)

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام دو الگ الگ شخص ہیں۔ ایک ہی شخص کے دو اوصاف نہیں ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی عیسویت اور مہدویت ہر دو کا دعویٰ کرتے ہوئے فاتح قسطنطنیہ نہ ہوئے۔ پہلے زمانہ میں جب قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے سے نکلا۔ تو سلطان صلاح الدینؒ نے کل یورپ کے مقابلہ میں جہاد قائم کر کے قسطنطنیہ واپس لیا اور اس زمانہ میں غازی مصطفیٰ کمال ؒ نے۔ لیکن مرزا قادیانی کی امت قسطنطنیہ کو نصاریٰ کے قبضے سے نہ چھڑا سکی۔ اگر ان کی امت یہ کام کر دکھاتی تو کہا جاسکتا تھا کہ ان کے مسیح ومہدی نے تو موقع نہیں پایا۔ لیکن ان کی امت نے کر دکھایا ہے۔ تو مجازی طور پر یہ کام صاحب امت کی طرف منسوب ہو سکتا تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے مرزائیوں کو اس کام کی توفیق نہ دی اور توفیق ملتی بھی کیسے؟۔

ہم اس وقت ان سب عذرات کو جو مرزائیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے حج نہ کرنے کے متعلق کئے جاتے ہیں۔ نظر انداز کرتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت اصل مقصود علامات مہدی کا بیان ہے۔ اگر مرزا قادیانی مہدی ہوتے تو یہ علامت انہی میں ضرور پوری ہوتی اور خدائے تعالیٰ سب موانع کو دور کر کے ان کو حج کرواتا "واذ لیس فلیس" آہ! آج وہ مرحوم فوت شدہ ہیں۔

٢٩

صفحہ ٢١٦

کیونکہ مرزا قادیانی تو ستائیس سال تک قسطنطنیہ وغیرہ بلاد اسلامیہ میں یہی ہوا پھیلاتے رہے کہ جہاد حرام ہے۔ یہ کام نہ کرنا اور ظاہر ہے کہ مفتوحہ علاقہ کا واپس لینا بغیر جہاد کے نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ نے یہ توفیق غازی مصطفیٰ کمال کو بخشی کہ اس نے ہاتھوں سے نکلا ہوا قسطنطنیہ جہاد کر کے واپس لے لیا۔ جس کی بابت مرزا قادیانی ترکوں کو یہ وعظ سناتے رہے کہ اب جہاد حرام ہے۔ اگر ترک مرزا قادیانی کے کہے میں آجاتے تو قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے میں واپس نہیں آسکتا تھا۔ اس سے مرزا قادیانی کی اسلامی دشمنی ظاہر ہے۔ پس وہ مہدی منتظر و مسیح موعود نہیں ہو سکتے ۔

تنبیہ: قسطنطنیہ کی واپسی کے بعد امام مہدی کے ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پیشتر ایک اور دفعہ قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے سے نکل جائے گا۔ اس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام بموجب احادیث صحیحہ کے اسے فتح کر کے غیروں کے قبضے سے نکالیں گے۔

ساتویں حدیث (صحیح مسلم ج ١ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) میں حضرت جابرؓ کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ان کے ایک امیر (امیر المومنین) کی بھی خبر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے نزول پر وہ امیر المومنین کہے گا۔ ”تعال صل لنا “ یعنی حضرت ! آیئے اور ہمیں نماز پڑھایئے ۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ : ” لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة “ یعنی میں جماعت نہیں کراؤں گا۔ تمہارا امیر تم میں سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے (یہ امامت) اسی امت کے لئے صورت عزت بنائی ہے۔

اس حدیث سے سب سے پہلا مقصود تو لفظ امیر کی تشریح ہے کہ اس سے مراد امام مہدی علیہ السلام ہیں۔ جو دیگر احادیث میں بالتصریح مذکور ہے۔ چنانچہ علامہ قسطلانی صحیح بخاری کی حدیث ”وامامكم منكم “ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ : ” وامامكم فى الصلوة منكم كما في مسلم انه يقال له صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله لهذه الامة “ علامہ قسطلانیؒ کی عبارت کا اصل یہ ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث میں جس امام کا ذکر ہے وہ وہی ہے۔ جس کا ذکر صحیح مسلم کی حدیث زیر شرح میں ہے۔ اس طرح حافظ ابن حجرؒ نے بھی شرح بخاری میں لکھا ہے کہ : ”ابوالحسن خسعی ابدی نے مناقب الشافعی میں کہا کہ یہ امر متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مہدی اس امت میں سے ہوگا اور یہ بھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس

صفحہ ٢١٧

کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اس کے بعد حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ امام ابوالحسن نے یہ اس حدیث کی تردید کے لئے کہا ہے جو ابن ماجہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور اس میں یہ مذکور ہے ۔ ولا مهدی الا عیسیٰ ! عیسیٰ علیہ السلام کے سوا دوسرا مہدی نہیں ہے ۔“

(فتح الباری شرح بخاری ج ٦ ص ٣٥٨)

دوسرا فائدہ اس حدیث سے یہ ہے کہ نازل ہونے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس امت میں سے نہیں ہیں ۔ کیونکہ اگر وہ امت کے افراد میں سے ہوں تو جماعت نہ کرانے کے عذر میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ امامت اس امت کے لئے موجب عزت ہے ۔

آٹھویں حدیث حضرت ابوسعیدؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ایسی مصیبت کا ذکر کیا جو اس امت کو پہنچے گی ۔ حتیٰ کہ ان کو بوجہ ظلم کے کہیں پناہ نہ ملے گی تو اس حالت میں خدا تعالیٰ میری عترت اور میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو برپا کرے گا ۔ جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا ۔

(مشکوٰۃ ص ٤٧٠، باب اشراط الساعۃ)

اس حدیث میں امام مہدی علیہ السلام کے اہل بیت سے ہونے کے علاوہ یہ بھی مذکور ہے کہ ان کا ظہور ایسے وقت میں ہو گا کہ عام طور پر امت محمدیہ ﷺ ایسی سختی اور تنگی میں مبتلا ہو گی کہ ان کو کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔ ایسے وقت میں امام مہدی کا ظہور امت مرحومہ کے لئے باعث مسرت ہو گا کہ وہ امت کو اس ذلت و ماتحتی سے نکال کر عروج شاہانہ پر لے آئیں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔

لیکن مرزا قادیانی سختی کے وقت میں مبعوث نہیں ہوئے ۔ بلکہ امن و آسائش کے وقت میں جیسے کہ وہ عمر بھر گورنمنٹ انگلشیہ کی مداحی کے گیت گاتے رہے ۔ پس مرزا قادیانی مہدی نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ مہدی تو وہ ہو جو امت مرحومہ کو سختی کے وقت پناہ دے ۔ نہ کہ وہ جو خود دوسرے کی

١؎ مزید بحث اس روایت کے متعلق آئندہ فصل مرزا قادیانی کے دلائل مہدویت کی فصل میں دیکھو ۔

٢؎ اس حدیث کا حوالہ صاحب مشکوٰۃ سے چھوٹ گیا ہے ۔ لیکن حاشیہ میں بحوالہ مرقاۃ لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ مستدرک اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ہے ۔ حضرت ابوسعیدؓ کی اس حدیث کی نسبت اس میں لکھا ہے ۔ ”ھذا حدیث صحیح الاسناد“

(ج ٤ ص ٤٦٥)

٣٠

صفحہ ٢١٨

پناہ کے سہارے زندگی بسر کرے اور اپنے گاؤں میں اپنی اور اپنے عیال اور اپنے مریدوں کی حفاظت کے لئے دوسروں سے حفاظتی پولیس مانگے۔

۔ دیگر یہ کہ مرزا قادیانی اپنی عمر کا اکثر حصہ اپنے منصب یعنی مہدی ہو کر امت مرحومہ کو پناہ دینے کے برخلاف الٹی ان کی شکایتیں کر کے گورنمنٹ انگلشیہ کو ان سے بدظن کرنے میں خرچ کر گئے کہ مسلمان ایک خونی مہدی اور خونی مسیح کے منتظر ہیں اور یہ عقیدے خطرناک ہیں۔ نیز یہ شکایت اس رنگ میں بھی کی کہ جب سے میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر سنائی ہے کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے بلکہ ایک شخص صلح کاری کے ساتھ آنے والا تھا جو میں ہوں۔ اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں ١؎۔

جب مرزا قادیانی کی عملی ہستی یہ ہے کہ وہ امت مرحومہ کو پناہ دینے کی بجائے ان کی چغلیاں کر کر کے حکومت وقت کو ان سے بدظن کرتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ان پر سختی کرانا چاہتے ہیں اور یہ بدخواہی ہے نہ کہ خیر خواہی۔

تنبیہ و دفع دخل

اگر کہا جائے کہ کیا وہ مسلمان جو کسی غیر اسلامی حکومت کے ماتحت ہیں۔ قانون ملکی میں اس غیر مسلم حکومت کی اطاعت نہیں کرتے؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت اور رعیت کے معاملات کو خوش معاملگی سے نبھانا اور امن و آسائش سے زندگی بسر کرنا امر دیگر ہے اور کسی امر کو اعتقادی و مذہبی امر جان کر کرنا جو اجر و ثواب آخرت کی نیت سے ہوتا ہے۔ امر دیگر ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ اس ملک کے غیر اسلامی حکام کی اطاعت آیت ”واطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء:٥٩)“ کی تعمیل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خلاف منشائے ربانی کتاب اللہ کی معنوی تحریف کی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ : اطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم اولوالامر سے مراد جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس

١؎ تحفہ قیصریہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی جو ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کی شصت سالہ جوبلی کے موقع پر تحفۃً یا بالفاظ دیگر خوشامدانہ طریق پر نذر کیا گیا تھا۔

٣١

صفحہ ٢١٩

سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے اور وہ ہم میں سے ہے۔ اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“

(رسالہ ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٤)

قرآن شریف کا منشاء اس کے اپنے الفاظ محکم سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں مسلمان حکام کی اطاعت کا حکم ہے ١؎ اور اس میں کسی غیر مسلم کو داخل کرنا یا تو ظاہری خوشامد اور بناوٹی لجاجت ہے۔ یا باطنی بیماری اور یہ دونوں امر شان امامت کبریٰ اور منصب مہدویت کے منافی ہیں۔

دیگر یہ کہ جو رعیت ہو اسے تو اطاعت کرنی پڑی خواہ ہماری طرح خوش معاملگی کے لئے خواہ مرزا قادیانی کی طرح بناوٹی اعتقاد و مذہب جتانے کے لئے۔ لیکن افغانستان، ایران، عراق، عرب، مصر اور قسطنطنیہ کے مسلمانوں کو بھی یہی سبق دینا اور ان کی مادری زبان فارسی وعربی میں تصنیف کر کے ان کے جہادی جذبات کو مٹانا اور اسلامی عمارت کے کنگرے ٢؎ کو پست کرنا یہ کونسی امامت ومہدویت ہے؟۔ پس مرزا قادیانی کا ان خدمات کے ہوتے امامت کبریٰ اور مہدویت کا دعویٰ بالکل باطل ہے۔

اس ساری تفصیل کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ناظرین کی سہولت کے لئے ایک نقشہ بنا کر ایک کالم میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شان اور دوسرے میں مرزا قادیانی کے اوصاف تحریر کریں تا کہ تعرف الاشیاء باضدادھا سے حقیقت کھل جائے اور جملہ اشتباہات دور ہو جائیں ۔ واللہ ولی التوفیق!

امام مہدی منتظر علیہ السلام کے اوصاف

١؎ مرزا قادیانی نے خوشامد کے لئے ناحق قرآن شریف کی تحریف کی۔ امن کی شکر گذاری اور وفاداری کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ ہم آیت قرآنی میں ان کو بھی شمار کر لیں۔ جو اس میں داخل نہیں ہیں اور صاف مفہوم قرآنی کو بگاڑ دیں۔ کیونکہ احسان کے معاوضہ میں شکر گذاری اور رعایت معاہدات کی احادیث اس مطلب کے لئے کافی ہیں۔

٢؎ یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں جہاد کو ذروۃ سنام الاسلام الجہاد فی سبیل اللہ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٥) کہا ہے۔ یعنی جہاد اسلام کی کوہان کا اوپر کا کنگرہ ہے۔

٣٢

صفحہ ٢٢٠

پر حلیم و بردبار۔

بیعت ہوگی اور وہاں سے لشکر تیار کر کے جہاد قائم کریں گے۔

افواج کفار پر غلبہ پا کر امت مسلمہ کو سیاسی عروج پر پہنچانا اور شریعت محمدیہ کے آئین پر دنیا کا نظم و نسق چلانا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے اوصاف

چندھیائی ہوئی آنکھیں۔ جو کسی قدر ٹیڑھی بھی تھیں۔ پیشانی ابھری ہوئی جو مذکورہ بالا آنکھوں کو اور بدزیب کر دیتی تھی۔

مشائخ کو گالیاں دیتے تھے۔ نہایت درجہ کے ملحد، پیری مریدی سے لاکھوں روپے جمع کئے۔ غیر اسلامی حکومت کے ہاں مسلمانوں کی چغلیاں کرنا ان کا خاص مشن تھا۔

گول کمرے میں پیری مریدی کی بیعت لیتے تھے نہ جہاد کی۔

کے ادنیٰ ادنیٰ عہدیداروں کے سامنے خوشامدانہ عرضداشتیں کرنا اور ان کی پناہ ڈھونڈنا اور ممانعت جہاد کے رسائل شائع کرنا۔ ان کا کام رہا مسلمانوں کو آزار اور ممالک از دست

٣٣

صفحہ ٢٢١

سید حسنی حسینی

گوری رنگت ، خوبصورت موٹی آنکھیں ۔ بے طمع ، فیاض ، نرم طبع ، نیکو خصائل ، آنحضرت ﷺ کی سیرت پر حلیم و بردبار ۔ رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان حرم کعبہ میں جہاد کی بیعت ہوگی اور وہاں سے لشکر تیار کر کے جہاد قائم کریں گے ۔ ملک عرب کا والی اور پھر فاتح عالم ”خصوصا فاتح قسطنطنیہ“ افواج کفار پر غلبہ پا کر امت مسلمہ کو سیاسی عروج پر پہنچانا اور شریعت محمدیہ کے آئین پر دنیا کا نظم و نسق چلانا ۔

صاف غلام احمد غلام مرتضیٰ مغل سرخی نما سانولہ رنگ کم تعداد اور چھوٹی چھوٹی پلکوں والی چندھیائی ہوئی آنکھیں ۔ جو کسی قدر ٹیڑھی بھی تھیں ۔ پیشانی ابھری ہوئی جو مذکورہ بالا آنکھوں کو اور بدزیب کر دیتی تھی ۔ زود رنج ، کینہ دوز ، سخت زبان ، عام مسلمانوں اور علماء اور مشائخ کو گالیاں دیتے تھے ۔ نہایت درجہ کے طماع ، پیری مریدی سے لاکھوں روپے جمع کئے ۔ غیر اسلامی حکومت کے ہاں مسلمانوں کی چغلیاں کرنا ان کا خاص مشن تھا ۔ حرم کعبہ میں گزر بھی نہیں ہوا ۔ اپنے مکان واقعہ قادیان کے گول کمرے میں پیری مریدی کی بیعت لیتے تھے نہ جہاد کی ۔ اس امر میں مرزا قادیانی بالکل صفر ہیں ۔ غیر اسلامی حکومت کے ادنیٰ ادنیٰ عہدیداروں کے سامنے خوشامدانہ عرضداشتیں کرنا اور ان کی پناہ ڈھونڈنا اور ممانعت جہاد کے رسائل شائع کرنا۔ ان کا کام رہا مسلمانوں کو آزاد اور ممالک از دست

٣٣

رفتہ کو واپس لینا اور اسلامی شریعت کو نافذ کرنا خاص کر قسطنطنیہ کو فتح کرنا کہاں ہوا اور جہاد کی ممانعت سے یہ کام کس طرح ہو سکتا ہے ۔

ناظرین ! اس نقشہ کی دونوں جانبوں کو نظر میں رکھ کر خود دیکھ لیں کہ کیا مرزا قادیانی ان اوصاف و خدمات کے ساتھ مہدی منتظر ہو سکتے ہیں ؟ ۔ اور امت مرحومہ ایسے مسیح اور ایسے مہدی کے ساتھ ہو کر اپنی گئی ہوئی عظمت پھر حاصل کر سکتی ہے ؟ ۔

ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب مرحوم نے ایرانی اور قادیانی نبوت کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ :

رفت ازو آں مستی و ذوق و سرور
دین او ندر کتاب و او بگور
صحبتش با عصر حاضر در گرفت
حرف دیں راز دو پیغمبر گرفت
آں زایراں بود و ایں ہندی نژاد
آں ز حج بیگانہ و ایں از جہاد
تا جہاد و حج نہ ماند از واجبات
رفت جاں از پیکر صوم و صلوٰۃ
روح چوں رفت از صلوٰۃ و از صیام
فرد نا ہموار و ملت بے نظام
سینہ ہا از گرمئے قرآن تہی
از چنیں مردار چہ امید بہی
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگ حشیش
جس میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

مہدی برحق

دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار

امامت کبریٰ

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

الہام و آزادی

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

(ماخوذ از ضرب کلیم)

٣٤

صفحہ ٢٢٢

سر سید صاحب اور مرزا قادیانی ١؎

ہم چاہتے ہیں کہ اس مقام پر امام مہدی کے متعلق بعض امر میں سرسید صاحب اور مرزا قادیانی کی موافقت و اشتراک اور بعض امر میں ہر دو میں فرق بھی بتا دیں۔

سو معلوم ہو کہ اس ملک ہندوستان میں انکار مہدی کا مسئلہ سب سے پہلے سرسید صاحب علی گڑھی نے نکالا۔ اس کی ضرورت یہ پڑی کہ سرسید صاحب انگریزوں کے دوست تھے۔ جیسا کہ ان کی زندگی کی مساعی اور خاص کر خطاب سر سے نوازا جانے اور ان کے فرزند ارجمند سید محمود مرحوم کے الہ آباد ہائیکورٹ کا جج ہونے اور انڈین نیشنل کانگریس کے مقابلہ میں انگریزوں کی مدد و حمایت کرتے رہنے سے ظاہر ہے۔

ادھر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی امید میں مسلمانوں کے سینوں میں جوش بھرا رہتا تھا اور ان کے جہادی جذبات ہر دم تازہ رہتے تھے۔ اس سے انگریزوں کو خوف ہو سکتا تھا کہ یہ چنگاری کبھی نارِ عظیم نہ بن جائے۔

١؎ یہ عنوان سکندر آباد کی تقریر میں بیان نہیں ہوا تھا۔ نہ اس وقت سوجھا تھا۔ اب مضمون کو طبع کرانے کے لئے بعض جگہ محو و اثبات کی اور بعض جگہ اختصار و الحاق کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ مسودہ کی عبارت ایک دوسرے شخص نے لکھی تھی۔ لکھتے لکھتے یہ عنوان بھی خدا نے دل میں ڈال دیا۔ اس لئے اسے مفید و کارآمد جان کر یہاں الحاق کر دیا گیا۔ مرزا قادیانی سرسید کی موافقت کو بعض جگہ سنداً پیش کرتے تھے۔

٢؎ میرا تمام مسلمانوں کی طرح یہی عقیدہ ہے کہ امام مہدی کا ظہور ضرور ہوگا۔ وہ مجاہد وغازی اور صاحب سیف حاکم عادل ہوں گے۔ اور خدا کی مدد سے ہمراہی عیسیٰ علیہ السلام قومِ مسلمین اور دینِ اسلام کو سیاسی طور پر سب ادیان پر غالب کر دیں گے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ دیگر قومیں اسلام قبول کر لیں جیسا کہ جنگ شروع کرنے کے پیشتر دعوت الی الاسلام کا حکم ہے۔ اس صورت میں حکومت اور صاحب حکومت قوم میں انقلاب نہیں ہوتا۔ ہاں شاہی قوم کے مذہب میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ جس کا اس قوم کی قوت و سیاست پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا۔ دیگر یہ کہ کوئی قوم خلیفہ اسلام سے برسر پیکار ہو کر مغلوب ہو جائے اور ماتحتی اختیار کرلے۔ اس صورت میں بھی قومی حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اول تو ہمیں یہ معلوم نہیں کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ہوگی۔ یا کس کی؟۔ اور اگر اس وقت ہو بھی تو یہ معلوم نہیں کہ انگریز صلح سے دینِ اسلام قبول کرلیں گے۔

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٣٥

صفحہ ٢٢٣

٢٢٢

ام پر امام مہدی کے متعلق بعض امر میں سرسید صاحب اور بعض امر میں ہر دو میں فرق بھی بتا دیں۔ ہندوستان میں انکار مہدی کا مسئلہ سب سے پہلے سرسید ورت یہ پڑی کہ سرسید صاحب انگریزوں کے دوست تھے۔ س کر خطاب سر سے نوازا جائے اور ان کے فرزند ارجمند سید ہونے اور انڈین نیشنل کانگرس کے مقابلہ میں انگریزوں کی

م کے ظہور کی امید میں مسلمانوں کے سینوں میں جوش بھرا دم تازہ رہتے تھے۔ اس سے انگریزوں کو خوف ہو سکتا تھا کہ لئے

ریزمیں بیان نہیں ہوا تھا۔ نہ اس وقت سوجھا تھا۔ اب مضمون بات کی اور بعض جگہ اختصار والحاق کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ نے لکھی تھی ۔ لکھتے لکھتے یہ عنوان بھی خدا نے دل میں ڈال کر یہاں الحاق کر دیا گیا ۔ مرزا قادیانی سرسید کی موافقت کو

طرح یہی عقیدہ ہے کہ امام مہدی کا ظہور ضرور ہوگا ۔ وہ مجاہد ہوں گے ۔ اور خدا کی مدد سے ہمراہی عیسیٰ علیہ السلام قوم سب ادیان پر غالب کر دیں گے ۔ اس کی دو صورتیں ہیں ۔ جیسا کہ جنگ شروع کرنے کے پیشتر دعوت الی الاسلام کا ر صاحب حکومت قوم میں انقلاب نہیں ہوتا ۔ ہاں شاہی قوم جس کا اس قوم کی قوت و سیاست پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا ۔ دیگر بار ہو کر مغلوب ہو جائے اور ماتحتی اختیار کر لے ۔ اس صورت نہیں ہوتی ۔ اول تو ہمیں یہ معلوم نہیں کہ امام مہدی کے ظہور حکومت ہوگی ۔ یا کس کی ؟ ۔ اور اگر اس وقت ہو بھی تو یہ معلوم کر لیں گے ۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٣٥

٢٢٣

پس ایسے ضروری وقت میں سرسید صاحب نے مذہبی و علمی تحقیقات کی صورت میں انتظار مہدی کے مسئلہ پر اثر ڈالنے کے لئے یا ان جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جن سے نار عظیم بھڑکنے کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔ احادیث مہدی پر خامہ فرسائی شروع کی اور ان سب کو ضعیف قرار دیا۔ حالانکہ ان میں سے بعض کو آئمہ محدثین نے صحیح کہا ہے اور بعض کو حسن کہا ہے۔ بے شک بعض کو ضعیف بھی کہا ہے۔ لیکن خاص اس سند کی رو سے اسی روایت کو ضعیف کہا ہے۔ جس سے وہ روایت مروی ہے۔ نہ کہ بلحاظ ثبوت مسئلہ کے۔ یہ وہ آئمہ حدیث ہیں ۔ جن کے سامنے سرسید صاحب کا نام لینا محض ان بزرگوں کی نہیں بلکہ علم حدیث کی بھی ہتک اور ناقدر شناسی ہے۔

سرسید صاحب نے یہ طریق کیوں اختیار کیا ؟ ۔ حالانکہ یہ ان کا منصب نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی مذہبی اعتقاد پر اثر ڈالنے کے لئے لازم ہے کہ اس مسئلہ کے خلاف مذہبی پہلو

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) یا لڑائی سے مغلوب ہو کر ماتحتی اختیار کریں گے۔ بہر حال یہ سب خطرات قبل از وقت محض درجہ وہم میں ہیں ۔ بلکہ ہمارا تو اعتقاد جازم ہے کہ انگریز اس وقت بلا مقابلہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے ۔ کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ ایک ہی ہے اور جہادوں میں ہر دو شامل ہوں گے ۔ جیسا کہ فتح قسطنطنیہ کی حدیث سے جو (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعۃ ) میں مذکور ہے۔ ثابت ہوتا ہے اور آیت ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به (النساء: ١٥٩)“ سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ تمام مذہبی عقائد چھوڑ کر اور شرک و کفر ترک کر کے مسلمان ہو جائیں گے۔ پس قوم انگریز کے جو اس وقت عیسائی ہیں۔ اس وقت مسلمان ہو جائیں گے۔ پس امام مہدی کے ظہور و عروج سے خائف ہونے کے کوئی معنی نہیں ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ قوم انگریز جو اس وقت عیسائی ہو کر حکومت کرتی ہے۔ امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت اگر اس وقت تک ان کی حکومت قائم رہی تو مسلمان ہو کر حکومت کرتی رہے۔ ترک کسی زمانہ میں بدترین دشمنان اسلام تھے ۔ لیکن اب صدیوں سے بہادر ترین محافظین اسلام ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”عسی الله ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منهم مودة والله قدیر والله غفور رحیم (ممتحنہ:٧) “ یعنی مسلمانو ! تم امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم میں اور ان لوگوں میں سے بعض میں جو اس وقت تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کر دے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم بھی ہے۔

٣٧

صفحہ ٢٢٤

اختیار کیا جائے اور جن دلائل پر اس مذہبی عقیدہ کی بنیاد ہو۔ ان کو علمی شبہات سے عوام کی نظر میں ضعیف کر کے دکھایا جائے۔

سرسید صاحب اس سکیم میں بہت سے نو تعلیم یافتہ لوگوں کے خیالات پلٹنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن چونکہ آپ مذہبی پیشوا نہ تھے۔ اس لئے ان کی تحریرات کا اثر آئمہ مساجد اور مسجدوں کے حاضر باش نمازیوں اور عام مسلمانوں پر نہ پڑا۔ بلکہ علمائے وقت نے ان سب شبہات کے دور کرنے میں تحریراً و تقریراً ہر طرح کی سعی کی جو سید صاحب نے پھیلائے تھے اور جن کی حیثیت غلط فہمی اور مغالطہ دہی سے اوپر نہیں تھی۔ 'فجزاهم الله عنا خير الجزاء'

سرسید صاحب کی انہی مساعی جمیلہ کے وقت مرزا غلام احمد قادیانی نے نشوونما پایا۔ انہوں نے دیکھا کہ انتظار مہدی کے مسئلہ میں مسلمانوں کے خیالات میں تبدیلی کرنے سے حکومت وقت کی دوستی حاصل ہو سکتی ہے اور ہمارا خاندان جو سابقاً سکھوں کے عہد میں سرکار انگریزی کی خدمات بجالا چکا ہے۔ اب مفلوک الحال ہے۔ اس تدبیر سے زائل شدہ عزت پھر حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے مذہبی پیشوا ہونا ضروری ہے۔ تا کہ عوام اور مذہبی طبقہ میں بھی قبولیت ہو سکے۔ کیونکہ یہ کوشش کرنا کہ مہدی کا عقیدہ ایک فرضی اور وہمی بات ہے۔ مسلمانوں کے دلوں سے نکالنا نہایت مشکل امر ہے۔ اس لئے انہوں نے اس سکیم کی شکل ہی تبدیل کر دینی چاہی اور سیالکوٹ سے انگریزی ملازمت جو نہایت حقیر سی یعنی پندرہ روپے ماہوار کی تھی ترک کر کے اپنے گاؤں قادیان ( ضلع گورداسپور ) میں چلے گئے اور مذہبی لائن اختیار کر لی ١؎۔

اور مذہبی کتب ورسالے اور شدہ شدہ الہامات و بیعت کے اشتہارات چھپوانے شروع کر دیئے۔ جن کی وجہ سے آئمہ مساجد اور مسجدوں کے حاضر باش نمازی اور مذہبی مذاق رکھنے والے بعض نو تعلیم یافتہ لوگوں اور عوام میں رسوخ ہو گیا اور لوگ مرید ہونے لگ پڑے۔

جب مرزا قادیانی پیری مریدی کی سکیم میں کامیاب ہو گیا تو چند سال بعد مہدویت وعیسویت و مجددیت کا دعویٰ بھی کر دیا۔ بایں طور کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ امام مہدی پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا ہے۔ سب کچھ درست ہے۔ لیکن اس صورت میں نہیں جس طرح مسلمان مانتے ہیں۔ بلکہ اس صورت

١؎ ممکن ہے کہ سیالکوٹ کی ملازمت کے ایام میں یہ منصوبہ گانٹھا گیا ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا اپنے مشن کو گورنمنٹ کا خود کاشتہ پودا قرار دینا اس کی شہادت میں پیش ہو سکتا ہے۔

٣٨

صفحہ ٢٢٥

میں کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے ان کا مثیل مراد ہے اور مہدی بھی کوئی الگ شخص نہیں ہوگا۔ بلکہ وہی مثیل مسیح امام مہدی بھی ہوگا۔ یعنی ایک ہی شخص دو صفتوں کا مالک ہوگا اور وہ میں ہوں اور اس صدی کا مجدد بھی میں ہی ہوں اور جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور امام مہدی غازی و مجاہد ہوں گے۔ یہ بھی غلط ہے۔ میں امن پسند مسیح اور بے ہتھیار مہدی ہوں اور گورنمنٹ انگلشیہ کی نصرت میرا فرض ہے۔ کیونکہ مجھے ان کی سلطنت میں وہ امن ملا ہے جو بلد الامین یعنی خدا کے امن والے شہر مکہ شریف اور رسول اللہ ﷺ کے شہر مدینہ منورہ میں نہیں مل سکتا اور یہ بات کہ کوئی خونی مہدی اور خونی مسیح آئے گا۔ بالکل باطل ہے اور دنیا کے لئے خطرناک ہے۔

مرزا قادیانی کی یہ سکیم سید صاحب کے مقابلہ میں بدرجہا چل نکلی۔

اول ! اس وجہ سے سید صاحب نے محض تخریبی کام کیا تھا۔ یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے رخصت کر دیا اور ان احادیث کو جو نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق ہیں۔ بیان قرآنی کے خلاف سمجھ کر اعتبار سے گرا دیا۔ کیونکہ احادیث جن میں نزول مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے وہ اسی عیسیٰ علیہ السلام کی بابت خبر دیتی ہیں۔ جسے قرآن کریم میں عیسیٰ مسیح، ابن مریم، روح اللہ اور رسول اللہ کہا گیا ہے۔ کیونکہ مختلف احادیث نزول میں آنے والے مسیح علیہ السلام کے یہی نام وارد ہوئے ہیں اور ان کے ہوتے کسی غیر کے لئے مثیل بن کر دعویٰ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ پس وہ جس کا احادیث میں ذکر ہے جب فوت ہو چکا ہے اور فوت شدہ ہمیشہ کے لئے دنیا میں واپس نہیں آتے تو وہ جملہ احادیث جن میں نزول مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ خلاف عقل و نقل قرآنی ہونے کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں ہیں اور اگر واقعی وہ احادیث آنحضرت ﷺ کے دہن مبارک سے نکلی ہوئی ہیں تو ان سے سوائے اصلی مسیح علیہ السلام کے کوئی نقلی مسیح مراد لینا رسول اللہ ﷺ کے کلام کو معنوی طور محرف کرنا ہے۔ جو سراسر گمراہی ہے۔

پس جب اصیل نہیں آسکتا اور مثیل ہو کر دعوے کرنے کی گنجائش ہی نہیں تو یہ بھی باطل ہے اور ظہور مہدی کی احادیث کو جب سید صاحب نے ساقط الاعتبار قرار دے دیا ہے تو کسی

؎ ١ یہ مرزا قادیانی کی تقریر کا خلاصہ ہے۔ جن میں بعض حوالہ جات سابقاً لفظ بہ لفظ نقل ہو چکی ہیں۔

٣٩

صفحہ ٢٢٦

غازی، مہدی یا خوشامدی مہدی کا انتظار عبث و بیکار ہے۔ ١؎

مگر سید صاحب کے ایسے بیانات عام مسلمانوں میں مؤثر نہ ہوئے۔ کیونکہ جن عقائد کو مسلمان قرآن وحدیث کی شہادت کے علاوہ بطریق توارث ابا عن جد اور نسلاً بعد نسلٍ سلف امت صحابہ و خیار تابعین سے لے کر اپنے زمانہ تک بلا اختلاف مشرق ومغرب کے مسلمانوں میں مسلم پاتے آئے ہیں۔ ان عقائد کو سر سید صاحب کے بیانات سے کیسے چھوڑ دیں۔ جن کی حقیقت شبہات ووساوس کے سوا کچھ بھی نہیں اور جن کا علم ان علمائے متقدمین ومتاخرین کے سامنے نام لینے کے قابل بھی نہیں ہے۔

لیکن مرزا قادیانی نے سید صاحب کے مقابلہ میں گورنمنٹی خدمات کے انجام دینے میں تخریب وتعمیر ہر دو طرح کے کام کئے۔ تخریب میں تو وہ سید صاحب کے نقش قدم پر چلے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ تو فوت ہو چکے ہیں اور وہ دوبارہ نہیں آسکتے اور حسنی وحسینی مہدی جس کا مسلمانوں کو انتظار ہے کہ وہ مسلمانوں کے از دست رفتہ ممالک کو فتح کر کے پھر زیر نگین اسلام کردے گا۔ بالکل غلط ہے۔ لیکن تعمیری کام میں مرزا قادیانی سید صاحب سے بالکل الگ چال چلے بلکہ اس کے موجد بنے کہ یوں کہا کہ ہاں احادیث میں جو ذکر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو ان کا مصداق میں ہوں اور حضرت مسیح کے نام پر اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ امت محمدیہ کو جو یہودی صفت ہو گئی ہے۔ راہ راست پر لاؤں اور گورنمنٹ انگلشیہ کی جس کا مذہب عیسویت ہے۔ سچی اطاعت سکھاؤں۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحفہ قیصریہ کے نہایت شروع میں لکھتے ہیں کہ:

”یہ عریضہ مبارکبادی اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھوڑانے کے لئے آیا ہے...... اور اپنے بادشاہ ٢؎ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں۔ سچی اطاعت کا طریق ٣؎ سمجھائے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)

١؎ یہ تقریر سید صاحب کے طریق استدلال کی تصویر ہے۔ جس میں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی رفع وحیات سماوی کی آیات اور احادیث نزول کو ساقط الاعتبار کرنے میں بوجہ فساد عقیدہ وقلت علم سخت غلطی کھائی ہے۔

٢؎ قادیانی سلطان القلم مؤنث (ملکہ معظمہ) کے لئے الفاظ اپنے بادشاہ لکھتے ہیں۔ لفظ اپنے بھی مذکر اور بادشاہ بھی مذکر یہ عریضہ یا تحفہ ملکہ معظمہ وکٹوریہ آنجہانی کے جشن شصت سالہ پر پیش کیا گیا تھا۔

(بقیہ حاشیہ نمبر ٣، اگلے صفحہ پر)

٤٠

صفحہ ٢٢٧

اور ظہور مہدی کی احادیث کے مصداق بھی خود بدولت بنے اور اس میں مسلمانوں سے گزر کر گورنمنٹ کو بھی سخت دھوکا دیا اور اپنے مریدوں کی آنکھوں میں بھی نمک چھڑک دیا۔ جو یہ کہا کہ مہدی بھی میں ہی ہوں۔ لیکن غازی اور مجاہد نہیں ہوں۔ امام زمان بھی میں ہی ہوں ۔ لیکن بالکل بے دست و پا ہوں۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوتا ہے۔

(رسالۃ ضرورت الامام ص ٦ ، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٧)

نیز یہ کہا کہ: ’’ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے جو نادانی اور دھوکہ سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں۔‘‘

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ص ١٩٣)

پس جب وہ تمام احادیث جن میں مہدی کے بنی فاطمہ میں سے ہونے کا ذکر ہے۔ (معاذ اللہ ) موضوع ہیں تو مرزا قادیانی کے دعوے کی بنیاد کن احادیث پر ہے؟ ۔ جملہ صحیح احادیث اس امر پر متفق ہیں کہ مہدی منتظر خاتون جنت حضرت فاطمہ لخت جگر رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس امر میں کوئی اختلاف نہیں۔ بعض ان احادیث میں سے صحیح ہیں اور بعض حسن ہیں۔ پس اگر یہ سب احادیث موضوع اور بے اصل اور بے بنیاد ہیں تو اس کا نتیجہ تو یہ چاہئے کہ مہدی کے ظہور کا مسئلہ ہی بے بنیاد اور بے اصل اور بناوٹی ہو۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کے لئے مہدی بننے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ کسی حدیث صحیح میں یہ مذکور نہیں کہ وہ مہدی کوئی مغل بچہ ہوگا۔

(بقیہ حاشیہ نمبر ٣ گذشتہ صفحہ) ٣؎ شاہ وقت کے ان قوانین میں جن میں مذہبی امور میں مداخلت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو سبق دینے کی ضرورت نہیں ہے اور جو خصوصی طریق مرزا قادیانی سمجھاتے ہیں یعنی ذلیل طریق سے خوشامد و لجاجت کر کے مطلب برآری کرنا اور قوم مسلمین کی چغلی اور بدخواہی کر کے اپنے اکرام کی خواہش کرنا سو یہ طریق شرافت خودداری سے بعید اور بالخصوص دعوے مہدویت و امامت کبریٰ کے منافی ہے۔

١؎ امام ترمذی نے امام مہدی کے اہل بیت میں سے ہونے کی حدیث دوطریق ذکر کر کے ان دونوں کو حسن صحیح کہا اور امام حاکم نے آنحضرت رسول اللہ ﷺ میں سے ہونے کی حدیث روایت کر کے اسے صحیح کہا۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث کے بھی اقوال ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مرزاجی کا احادیث مہدی کو موضوع کہنا اس شے کی طرح ہے جیسے کہتے ہیں کہ وہ نہ زمین میں ہے اور نہ آسمان میں۔

٤١

صفحہ ٢٢٨

دوسری ! وجہ سید صاحب کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی کامیابی کی یہ ہوئی کہ سید صاحب مذہبی پیشوا نہیں تھے۔ وہ گورنمنٹ کے زیر سایہ مسلمانوں کی دنیوی ترقی کے خواہاں تھے۔ تخت دہلی کی شان وشوکت بھی ان کی نظر میں تھی اور زمانہ غدر میں جو مسلمانوں کا نقصان ہوا اس کو بھی انہوں نے آنکھوں سے دیکھا تھا اور آئندہ گورنمنٹ کے خدشات کو بھی سمجھتے تھے۔ حالات کو مساعد نہ جانتے ہوئے انہوں نے یہ راہ اختیار کی اور اسی طریق سے مسلمانوں کی بگڑی حالت کو سنوارنے لگے۔ لیکن چونکہ انہوں نے بعض اعتقادی امور میں مسلمانوں سے اختلاف کیا۔ اس لئے وہ ایسی صورت میں نہ تو گورنمنٹ کی پوری خدمت کر سکے اور نہ عوام مسلمانوں میں قبولیت حاصل کر سکے۔ ١؎

لیکن مرزا قادیانی نے اس شطرنج کی چال ہی بدل دی اور مذہبی پیشوائی کا چولہ پہن کر اور امام مہدی کی سیاسی حیثیت کا انکار کر کے خود مہدی بن گئے۔ اس لئے انہوں نے دونوں کام ایک ہی ہاتھ سے کر دکھائے۔ یعنی گورنمنٹ کو بھی راضی کر لیا اور لوگوں کے اذہان کو امام مہدی کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف مصروف کر لیا اور خود امن پسندی کا خیالی جامہ پہن کر موقوفی جہاد کا اعلان کر دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ’’وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدین كله لله (انفال:٣٩)‘‘

لیکن سید صاحب اور مرزا قادیانی کی روش میں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے۔ وہ یہ کہ سید صاحب بیشک انگریزوں کے دوست تھے۔ لیکن مسلمانوں کے دلی خیرخواہ بھی تھے۔ وہ لجاجت پسند اور خوشامدی بھی نہ تھے اور مبتذل طریقوں سے منت سماجت کرنے والے بھی نہ تھے۔ انہوں نے انگریزوں کے سامنے اسلامی عظمت ووقار کو برابر قائم رکھا اور قوم کے عروج کا خیال آخری دم تک ان کے دل ودماغ میں رہا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس کے برخلاف انگریزوں کی دوستی خوشامد کے رنگ میں کی اور اسلامی عظمت ووقار کو کھو دیا اور اپنی غرض کے لئے غلط تحریروں سے گورنمنٹ انگلشیہ کو قوم مسلمین سے بدظن کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اس میں نہ تو کذب وافتراء سے پرہیز کی اور نہ خوشامد ولجاجت سے بچے۔ اسلوب بیان سے واقف اور سخن شناس احباب قادیانی مسیح دوران، مہدی زمان اور امام اور ان کے مقولہ بالا کلام لجاجت آمیز پر دوبارہ نظر ڈالیں گے تو خدا کے فضل سے ہمارے بیان کی تصدیق کریں گے۔ جس کے اتنے بڑے دعوے ہوں۔ وہ قلبی

١؎ اگر سید صاحب مذہبی امور میں دخل نہ دیتے تو مسلمانوں کے لئے بے نظیر ثابت ہوتے۔

٤٤

صفحہ ٢٢٩

ارادتمندی سے ایک دنیوی حکومت کے سامنے اتنا مبتذل نہیں ہوسکتا اور خلافت کبریٰ کا مدعی جس کا فرض تجہیز جیوش اور سد ثغور اسلام ہے۔ وہ ایک غیر اسلامی حکومت کے ادنیٰ ادنیٰ ملازموں کے سامنے نہایت گرے ہوئے الفاظ میں عاجزانہ عرضداشتیں نہیں گذار سکتا۔ پس مرزا قادیانی کی ساری خوشامدانہ سعی اور قوم مسلمین کی بدخواہی پر یہی اعتراض ہے کہ آپ ان دعاوی کے ساتھ ایسی مبتذل حرکتیں نہیں کر سکتے۔ ورنہ عام دنیا دار لوگ حکام وقت کے سامنے خوشامدیں کیا ہی کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ: ”لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه (مجمع البحار ج ٥ ص ٤٧١)“ یعنی مومن اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ نیز حدیث صحیح میں ہے کہ: ”المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه (مشكوة ص ٤٢٢، باب الشفقة والرحمة على الخلق)“ یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ تو وہ اس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اسے کسی کے سپرد کرتا ہے کہ وہ اس پر ظلم کرے۔ قادیانی امام ومہدی ومجدد ومسیح نے یعنی مرزا قادیانی نے یہ دونوں کام کئے اپنے آپ کو خوشامد ومنت وسماجت کا خوگر بھی بنایا اور مسلمانوں کی جھوٹی چغلیاں کر کے گورنمنٹ کو ان کی طرف سے بدظن کرنا بھی چاہا۔ پس ایسے امام زمان اور مہدی دوران کو مسلمان دور ہی سے سلام کہتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے دلائل مہدویت

مرزا قادیانی کے دلائل عموماً ملمع سازی کے ہوتے ہیں۔ جس طرح بن پڑے اپنا مطلب سیدھا کر لیتے تھے۔ کسی روایت کا صحیح ہونا یا اس معنے کا درست ہونا یا طریق استدلال کا مطابق قواعد ہونا ان کے نزدیک ضروری نہیں تھا۔ اپنے مطلب کے خلاف سچی سے سچی بات میں شکوک وشبہات پیدا کر لینے اور اپنے مطلب کی جھوٹی سے جھوٹی بات کی تائید وتقویت کے لئے ہوائی اور خیالی قلعے بنا لینے ان کے بائیں ہاتھ کے کھیل تھے۔ اس قبیل سے ان کے دلائل مہدویت ہیں۔

چنانچہ ان کی چوٹی کی دلیل یہ روایت ہے کہ: ”لا مهدي الا عيسى (ابن ماجه ص ٢٩٢، باب شدة الزمان)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کوئی دیگر مہدی نہیں۔ چونکہ مابدولت عیسیٰ موعود ہیں۔ اس لئے ہمارے سوا کوئی دیگر مہدی نہیں ہوگا۔ ہر چند کہ یہ حدیث باتفاق آئمہ حدیث ناقابل اعتبار ہے۔ پھر بھی مرزا قادیانی اپنے مطلب کے لئے

٤٣

صفحہ ٢٣٠

اس کی ہوا اس طرح باندھتے ہیں۔ مہدی کی حدیثیں سب ناقابل اعتبار اور قرآن شریف کے خلاف ہیں۔ ان میں اگر صحیح حدیث ہے تو یہی ہے کہ: ”لا مہدی الا عیسیٰ (اخبار الحکم ٢٣ / جولائی ١٩٠٠ء ص ٥ کالم : ٢)“ جن احادیث کو محدثین صحیح و حسن کہیں وہ مرزا قادیانی کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار اور جس کو تمام محدثین بالاتفاق ناقابل اعتبار کہیں اور مرزا قادیانی کا کام بنتا ہو وہ صحیح۔ سبحان الله !

اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ یہ روایت باتفاق آئمہ حدیث ناقابل اعتبار ہے۔ کسی نے اسے موضوع کہا۔ کسی نے منکر قرار دیا اور کسی نے ضعیف۔ سب سے پہلے خود امام حاکم صاحب کتاب کا فیصلہ سنئے۔ جو مستدرک میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

”میں نے اس روایت کو اس کتاب میں اس کی (بے اعتباری کی) علت معلوم کر کے از روئے تعجب ذکر کیا ہے۔ نہ کہ شیخین (امام بخاری و مسلم کی کتابوں) پر استدراک کے لئے۔ کیونکہ اس مقام پر اس سے زیادہ لائق ذکر امام سفیانؒ، امام شعبہؒ اور امام زائدہؒ وغیرہم آئمہ مسلمین کی حدیث ہے۔ جو عبداللہ بن مسعودؓ سے اس طرح مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ (دنیا کے بقاء کے) دن اور رات نہ گزریں گے۔ حتیٰ کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ہوگا۔ جس کا نام میرے نام پر (محمد) اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر (عبداللہ) ہوگا۔ وہ زمین کو انصاف و عدل سے بھر دے گا۔ جس طرح کہ وہ زیادتی اور ظلم سے بھری ہوگی۔“

(مستدرک ج ٤ ص ٤٣٠ ، حدیث نمبر ٨٤١٣)

توضیح امام حاکم کی اس سے یہ غرض ہے کہ احادیث سے ثابت ہو چکا ہے کہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ اشخاص ہیں اور اس روایت سے امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص معلوم ہوتا ہے۔ نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی ہیں نہ کہ آل محمد ﷺ۔ اس لئے یہ روایت قطعاً نا قابل اعتبار ہے۔

مہدی الا عیسیٰ موضوع“ یعنی روایت لا مہدی الا عیسیٰ بناوٹی ہے۔

ذہبیؒ (میزان الاعتدال ج ٦ ص ١٣٦ طبع بیروت) میں اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ: ”قال الازدی

٤٤

صفحہ ٢٣١

منکر الحدیث ، قال ابو عبداللہ الحاکم مجہول “ یعنی امام ازدیؒ نے کہا کہ یہ راوی منکر حدیثیں روایت کیا کرتا ہے اور امام حاکم نے کہا کہ یہ راوی مجہول ہے۔ اس کے بعد امام ذہبیؒ اسی راوی محمد بن خالد جندی کی خاص اسی روایت لا مہدی الا عیسیٰ کی نسبت لکھتے ہیں کہ : ”حدیثہ لا مہدی الا عیسی بن مریم وہو خبر منکر اخرجہ ابن ماجہ “ یعنی اس راوی (محمد بن خالد جندی) کی روایت کردہ حدیث لا مہدی الا عیسی بن مریم اور وہ منکر روایت ہے۔ اسے امام ابن ماجہؒ نے روایت کیا ہے۔ اس کے بعد امام ذہبیؒ نے اس روایت کے منقطع ہونے کے وجوہ مفصل لکھے ہیں۔ غرض اسے ہر طرح نا قابل اعتبار قرار دیا ہے۔

امام ابن تیمیہؒ جن کو سب مرزائی ساتویں صدی کا مجدد مانتے ہیں (عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٤) فرماتے ہیں کہ : ”والحدیث الذی فیہ لا مہدی الا عیسی بن مریم رواہ ابن ماجہ ضعیف (منہاج السنۃ ج ٢ ص ١٣٤) “

امام مہدی کا انکار کیا ہے اور دیگر آئمہ حدیث کی تصحیح وتحسین کو نظر انداز کر دیا ہے۔ خاص کر اس روایت لا مہدی ...... الخ کی نسبت محمد بن خالد جندی کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”وبالجملۃ فالحدیث ضعیف مضطرب (مقدمہ ابن خلدون ص ٣٢٢ طبع بیروت) “ یعنی حاصل کلام یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور بوجہ بھی کسی طرح اور کبھی کسی طرح روایت کرنے کے مضطرب بھی ہے۔

کے اقوال اس روایت کی تضعیف میں ذکر کئے ہیں۔ جو بخوف طوالت ہم نقل نہیں کر سکتے۔

دوسری دلیل

مرزا قادیانی کی مہدویت کی یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں۔ وہ کبھی واقع نہیں ہوئیں کہ چاند کو گرہن لگے گا۔ رمضان کی پہلی رات کو اور سورج کو گرہن لگے گا اس کے نصف میں

٤٥

صفحہ ٢٣٢

اور یہ دونوں امر نہیں ہوئے۔ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں!۔

(سنن دار قطنی الجز الثانی ص٦٥، باب صفۃ صلاۃ الخسوف والکسوف)

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرے زمانہ میں ماہ رمضان شریف ہی میں آفتاب کو بھی اور ماہتاب کو بھی گرہن لگا۔ گویا دونوں گرہن ٹھیک ان تواریخ پر نہیں لگے۔ جو اس حدیث میں مذکور ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان تواریخ پر گرہن لگا ہی نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ہمیشہ چاند کی راتوں میں لگا کرتا ہے۔ تو اس حدیث کی بیان کردہ تواریخ سے یہ معنے ہیں کہ چاند کو گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو چاند کو گرہن لگے گا۔

سو اس کا جواب کئی طریق پر ہے۔ اوّل یہ کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے۔ بلکہ امام محمد بن علی یعنی امام باقر کا قول ہے۔ پس مرزا قادیانی یا ان کی امت کا اسے حدیث رسول اللہ ﷺ کہنا فریب کاری ہے۔ مرزا قادیانی کے خاص حواری مرزا خدا بخش صاحب نے مرزا قادیانی کی زندگی میں کتاب عسل مصفیٰ لکھی اور اس میں اسے رسول اللہ ﷺ کی حدیث قرار دیا۔ جو سراسر دھوکا ہے۔

دوم یہ کہ روایت امام باقر سے بھی صحیح اسناد سے مروی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر نیچے دو راوی (استاد و شاگرد) یعنی عمرو بن شمر اور جابر جعفی ضعیف ہیں اور قابل احتجاج نہیں ہیں۔ چنانچہ (التعلیق المغنی شرح سنن دار قطنی ص٦٥ ج٢) میں لکھا ہے۔

یحتج بھما" یعنی عمرو بن شمر کی جابر سے روایت ہے کہ یہ دونوں ضعیف ہیں اور حجت پکڑنے کے لائق نہیں ہیں۔

١؎ امام عطاء بن ابی رباح امام مالک کے دادا استاد ہیں۔ امام ذہبی ان کی بابت لکھتے ہیں کہ ''سید التابعین علماً واتقاناً فی زمانہ بمکۃ...... اخذعنہ ابو حنیفۃ وقال مارایت مثلہ (میزان الاعتدال ج٥ ص٩٠، طبع بیروت) ''یہ وہی عطاء ہیں جن سے صحیح بخاری میں امین کی بابت مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی امامت میں مقتدی اتنی زور سے آمین کہتے تھے کہ مسجد میں آوازیں مل کر لہر پیدا کر دیتی تھیں۔

٤٦

صفحہ ٢٣٣

حضرت امام ابو حنیفہؒ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: ”ما رایت فیمن رایت افضل من عطاء ولا اکذب من جابر الجعفی“ یعنی میں نے کئی آدمی دیکھے ان میں سے عطاءؒ سا تابعی سے بڑھ کر کسی کو صاحب فضیلت نہیں دیکھا۔ جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں دیکھا۔

رافضی“ یعنی ضعیف ہے اور رافضی ہے۔

موجب طوالت ہے۔ لیکن اس کا خلاصہ ہم ان الفاظ میں بتا دیتے ہیں ۔

”لیس بشیء، زائغ کذاب، رافضی یشتم الصحابة ویروی الموضوعات عن الثقات منکر الحدیث لا یکتب حدیثہ، یضع للروافض“ پس اس حدیث سے سند پکڑنا اور اسے اپنے دعویٰ کی دلیل میں پیش کرنا علم حدیث سے ناواقفی کا نتیجہ ہے۔

(میزان الاعتدال ج ٢ ص ٣٢٧)

سوم یہ کہ جو تواریخ اس روایت میں گرہن کی بتائی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی کے پیش کردہ گرہن ان تواریخ پر واقع نہیں ہوئے۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ روایت کی مذکورہ تواریخ میں گرہن ہوا نہیں کرتا۔ درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس روایت میں یہی تو کہا گیا ہے کہ ان تواریخ پر گرہن جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں کبھی نہیں ہوئے۔ صرف امام مہدی منتظر کے لئے بطور نشان ان تواریخ پر گرہن لگیں گے۔ پس یہ عذر روایت کے الفاظ سے باہر ہوتے ہوئے قابلِ سماعت نہیں ہے۔

اس کے جواب میں قادیانیوں کی طرف سے بتلقین مرزا قادیانی یہ کہا جاتا ہے کہ پیدائش دنیا سے لے کر اس وقت تک اس نشان کے نہ ہونے کی صورت یہ ہے کہ ایسا کسوف وخسوف جو ماہ رمضان شریف میں ہی نہیں ہوا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ چاند اور سورج ہر دو کے گرہن کا ایک مہینہ میں واقع ہونا اس حساب کے ماتحت ہے۔ جو خدائے عزیز وحکیم نے ان کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ جب وہ حساب پورا ہو جاتا ہے تو دونوں کو ایک ہی ماہ میں گرہن لگ جاتا ہے۔ اسی قاعدے کے ماتحت جس طرح باقی گیارہ مہینوں میں ہر دو کے گرہن جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ماہ رمضان میں بھی جمع ہو جاتے ہیں اور ماہ رمضان ہی میں ایسے

٤٧

صفحہ ٢٣٤

اجتماعات علمائے ہیئات کے نزدیک کئی دفعہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی نے مرزائیت سے تائب ہونے کے بعد مرزا قادیانی کی تردید میں بہت سے رسالے شائع کئے اور ایک رسالہ خاص اسی مسئلہ میں لکھا اور اس میں بتایا کہ آج تک سابق زمانہ میں کتنے اجتماعات کسوف وخسوف کے ماہ رمضان شریف میں ہو چکے ہیں۔ پس مرزا قادیانی اور قادیانی کا یہ عذر بھی قابل سماعت نہیں۔

حالت حاضرہ

ہمارے قدیمی دوست مولوی غلام رسول صاحب قادیانی آف راجیکے ۔ جو شاید قادیانیوں میں اجتہاد کا درجہ رکھتے ہیں اور اسی لئے ادھر ادھر کی ہانکنے میں بہت مشاق ہیں۔ آج کل سیالکوٹ میں نزول فرما ہیں۔ وہ یکے بعد دیگرے قادیانیت کی دعوت میں نمبر وار ٹریکٹ نکلواتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ٹریکٹ نمبر ٢ میں آں ممدوح نے لکھا ہے کہ: ”٥۔ قرآن کریم کی سورہ تکویر، سورہ نحل، سورہ قیامت، سورہ زلزال وغیرہ اور صحیح مسلم وغیرہ کتب حدیث میں مسیح موعود کے زمانہ کے لئے یہ نشان بطور پیشگوئی قرار پائے تھے کہ ...... چاند سورج کو رمضان کی معین تاریخوں میں گرہن لگے گا۔“

اس حوالہ میں سورہ القیامۃ کا بھی ذکر ہے اور اس سے مراد ان کی یہ ہے کہ اس سورت میں وخسف القمر وجمع الشمس والقمر جو آیا ہے۔ تو اس سے مراد یہی اجتماع کسوف وخسوف اور ماہ رمضان ہے۔ جو مسیح موعود کے لئے ایک نشان ہے۔

ہم نے اس کے جواب میں اشتہار کھلی چھٹی میں مولوی صاحب موصوف سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ نے جو یہ دعویٰ کیا ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے علماء اور دیگر مسلمانوں کے سامنے آپ قرآن مجید کی سورتوں میں سے جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ ایسے الفاظ دکھا دیں جن کا ترجمہ یہ ہو کہ یہ نشانات مسیح موعود کے زمانہ ظہور کے ہیں۔

مولانا مولوی غلام رسول قادیانی نے ہماری کھلی چھٹی کا جواب ناصواب تو شائع کرایا لیکن اس میں ہمارے مطالبہ کا ہاں یا نہ میں کچھ بھی ذکر نہیں فرمایا۔ معلوم نہیں کیا سبب ہو گیا۔ ورنہ وہ تو (بنے یا نہ بنے) کسی بات کے جواب سے رکتے نہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ہمارا مطالبہ مجلس علماء اور دیگر مسلمانوں کے سامنے نکال کر دکھانے کا ہے اور یہ بات ان سے ہو نہیں سکے گی۔

٤٨

صفحہ ٢٣٥

اس لئے خاموشی مناسب جانی۔ اپنی جگہ بیٹھ کر ٹریکٹ شائع کر دینا اور بات ہے اور مجلس علماء میں حریف کے سامنے قرآن شریف کھول کر دکھانا اور بات ہے۔

عام چیلنج

ہم اپنی صداقت کی بناء پر کھلے طور پر عام علمائے قادیانی کو چیلنج کرتے ہیں کہ مولانا مولوی غلام رسول صاحب اور دیگر جو جو بھی اوپر کی باتوں میں ان سے موافقت رکھتے ہیں وہ علمائے اسلام کی مجلس میں قرآن شریف میں سے اس مفہوم کے الفاظ دکھائیں کہ یہ نشانات مسیح موعود کے زمانہ ظہور کے ہیں۔ بس ہمارا مطالبہ پورا ہو جائے گا ورنہ ظاہر ہو جائے گا کہ قادیانی گروہ اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ پر افتراء باندھتے ہیں اور قرآن وحدیث میں تحریف کرتے ہیں۔

قادیانی لٹریچر میں دلائل مہدویت کا مدار کار انہی دو روایتوں پر ہے۔ جن کو ہم نے بدلائل و تصریحات آئمہ محدثین سراسر ناقابل اعتبار ثابت کر دیا ہے۔ بس مرزا قادیانی کا ادعائے مہدویت سراسر باطل ہے۔

مجدد دوراں

مرزا قادیانی کی امامت و مہدویت کا تو فیصلہ ہو گیا۔ اب رہی یہ بات کہ شاید آپ مجدد دوراں ہوں ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ہر صدی کے سرے پر مجدد ہونے کی بشارت دی ہے اور مرزا قادیانی نے اس منصب کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ سو اس کی نسبت بھی معلوم ہو کہ مرزا قادیانی کی یہ ہوس بھی بے جا ہے اور خیال باطل ہے۔ کہاں مجددیت اور کہاں مرزا قادیانی۔ مرزا قادیانی محدث فی الدین ہیں نہ کہ مجدد۔ اس کی تفصیل دو طرح پر ہے۔ اوّل حدیث کی رو سے فرائض مجدد کے۔ دوم سابق مجددین کے احوال سے۔ مرزا قادیانی ان دونوں معیاروں پر پرکھنے سے کھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

طریق اوّل: یعنی حدیث کی رو سے فرائض مجدد کا بیان یوں ہے کہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: "ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (ابوداؤد ج ٢ ص ٤٢٤، اول كتاب الملاحم ) ” بیشک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے مبعوث کرتا رہے گا۔ ہر صدی کے سر پر ایسے شخص جو تازہ کر دیا کریں گے واسطے اس امت کے دین اس امت کا ۔

٤٩

صفحہ ٢٣٦

شیخ شیوخنا حضرت سید نواب صاحب ”حجج الکرامہ“ میں اس حدیث کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ: ”قد اتفق الحفاظ على تصحيح هذا الحديث (حجج الكرامه ص ١٤٣) “ یعنی اس حدیث کی تصحیح پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔

اس کے بعد معلوم ہو کہ اس حدیث کے رو سے اس امر کے سمجھنے میں کوئی بھی مشکل نہیں کہ آنحضرت ﷺ دین کو تازہ کرنے کی بشارت سنا رہے ہیں نہ کہ دین میں نئے مسئلے ایجاد کرنے کی۔ کیونکہ آپ ﷺ کے الفاظ ہیں۔ دِینَھَا۔ یعنی اس امت کا دین اور اس امت کا دین وہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر عرفات میں حجۃ الوداع کے دن آیت ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (مائدہ: ٣) “ نازل فرما کر تکمیل دین اور اسلام کو بلحاظ دین پسند کرنے کا مژدہ سنایا۔ نیز اس امت کا دین وہ ہے جس کی بابت آنحضرت ﷺ تاکید کر کے فرما گئے ۔

”تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنة رسوله (مشکوٰۃ ص ٣١ باب الاعتصام بالكتاب والسنة) “ میں چھوڑ چلا ہوں تم میں دو چیزیں تم گمراہ نہ ہو گے۔ جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔

اس آیت اور حدیث سے صاف معلوم ہو گیا کہ دینداری نام ہے قرآن وحدیث کی تابعداری کا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ نے دین میں نئے مسائل اختراع کرنے سے بہت ڈرایا اور اسے ضلالت قرار دیا اور نئے مسائل نکالنے والے کی نسبت فرمایا کہ جتنے آدمی اس کی ایجاد کردہ بدعت پر عمل کریں گے ان سب کے گناہوں کے مثل اس پر بھی بوجھ ہوگا اور ان عمل کرنے والے کو بوجھ سے کچھ بھی ہلکا نہیں کیا جائے گا۔

پس اگر مرزا قادیانی کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ بجائے مجدد ہونے کے محدث ( بدعتیں نکالنے والے ) ثابت ہوتے ہیں۔

کا مکمل ہو جانا قرآن میں منصوص ہے۔ ختم نبوت کی احادیث نہایت کثرت سے نہایت واضح الفاظ میں صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہیں۔ جن میں نہ تو کسی طرح کے کلام کی گنجائش ہے اور نہ کسی

٥٠

صفحہ ٢٣٧

واب صاحب ”حجج الکرامہ“ میں اس حدیث کو نقل کر کے حفاظ على تصحيح هذا الحديث

(حجج الكرامه

صحیح پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔ کہ اس حدیث کے رو سے اس امر کے سمجھنے میں کوئی بھی مشکل نہیں نے کی بشارت سنا رہے ہیں نہ کہ دین میں نئے مسئلے ایجاد کرنے ہیں۔ دینھم یعنی اس امت کا دین اور اس امت کا دین وہ ہے حضرت ﷺ پر عرفات میں حجۃ الوداع کے دن آیت 'اليوم تممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا دین اور اسلام کو بلحاظ دین پسند کرنے کا مژدہ سنایا۔ نیز اس امت حضرت ﷺ تاکید کر کے فرما گئے ۔ مرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنة ب الاعتصام بالكتاب والسنة ) ”میں چھوڑ چلا ہوں تم میں دو ۔ ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے خدا کی کتاب اور اس کے

سے صاف معلوم ہو گیا کہ دینداری نام ہے قرآن وحدیث کی ﷺ نے دین میں نئے مسائل اختراع کرنے سے بہت ڈرایا عل نکالنے والے کی نسبت فرمایا کہ جتنے آدمی اس کی ایجاد کردہ گناہوں کے مثل اس پر بھی بوجھ ہو گا اور ان عمل کرنے والے کو ۔ س کسوٹی پر پرکھا جائے تا وہ بجائے مجدد ہونے کے محدث تے ہیں۔ آیت قرآن شریف میں صاف الفاظ میں موجود ہے۔ دین ہے۔ ختم نبوت کی احادیث نہایت کثرت سے نہایت واضح ہیں۔ جن میں نہ تو کسی طرح کے کلام کی گنجائش ہے اور نہ کسی ٥٠

تاویل کی صورت۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنے مطلب کے لئے سب نصوص کو بالائے طاق رکھ کر صاف صاف الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ دین کی تجدید ہے یا تخریب؟۔ اس نقطۂ نگاہ سے آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد کئی ایک کے دعوے نبوت کرنے کی پیش گوئی بھی فرما دی ہے اور ان سب کے کاذب ہونے کی ایک یہی دلیل فرمائی کہ وہ دعوے نبوت ورسالت کریں گے۔

پس مرزا قادیانی کا مجرد دعوے نبوت کرنا ہی ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ ان سے ان کی نبوت کی صداقت کے دلائل طلب کرنے اور ان کی تردید کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے دیگر عقائد باطلہ بھی پیدا کئے جو ان کے کاذب مدعی نبوت ہونے کے بعد بیان کرنے ضروری نہیں۔

دوسرا طریق: یعنی سابق مجددین کے احوال سے مرزا قادیانی کا ابطال۔ سو اس کا بیان اس طرح ہے کہ تجدید دین اسے کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد لوگوں کی غفلت یا درازی زمانہ یا قلت علم یا ظہور بدعات کی وجہ سے دینداری میں سستی پیدا ہو جائے تو کوئی بندہ خدا یا مختلف علاقوں میں مختلف مقبولان بارگاہ لوگوں میں دین داری کی روح پھونک دیں۔ بدعات کو دور کر کے سنت رسول اللہ ﷺ کو قائم کر دیں۔ جہالت کو علم سے بدل دیں اور ان کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کی حالت پر لے آئیں اور سو ١٠٠ سال کی معیاد اس لئے رکھی کہ ١٠٠ سال کے بعد نسلیں بدل جاتی ہیں۔ عادات میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ پس امت کو اصل طریق سنت پر لانے کے لئے ایسے صاحب برکت آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سو خدا تعالیٰ ان کو پیدا کر کے اور اپنی تائید ان کے شامل حال کر کے دین کو قوی اور تازہ کر دیتا ہے۔

تقویت دین اسلام کا ایک پہلو تو وہ ہے۔ جس کا بیان ہوا کہ علم وعمل بالسنت کو رواج دیا جائے۔ لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی سستی یا غلبۂ کفار کی وجہ سے مسلمانوں میں جو ضعف آ گیا ہو اسے دور کر کے مسلمانوں کو قوی و مضبوط کر کے مذہب اسلام اور سیاست اسلامیہ کو محفوظ رکھا جائے۔ کیونکہ بعض وقت غلبہ کفار مذہبی امور اور قومی مقاصد میں مزاحم ہو جاتا ہے۔ پس جب تک اس مزاحمت کو دور نہ کیا جائے۔ مقاصد پورے نہیں ہو سکتے اور یہ معلوم وظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بوجہ آپ کے سید المرسلین اور خاتم النبیین ہونے کے دو پہلو ہیں اور آپ کی شریعت مطہرہ جامع دین ودنیا ہے۔ ایک پہلو علم شریعت کا ہے۔ جس سے اصلاح وعقائد ٥١

صفحہ ٢٣٨

واعمال اور تہذیب اخلاق و تزکیہ نفوس ہوتا ہے اور دوسرا سیاست ملکی کا ہے کہ اس کے متعلق یہ امور ہیں ۔ عدل و انصاف کو قائم کرنا جور و استبداد اور ظلم و تعدی کو دور کرنا لوگوں کے مال و جان اور ان کی عزت و ناموس اور ان کے باہمی حقوق و معاملات کی حفاظت کرنا ۔ فحش کاری و بدکاری، قمار بازی و مے خواری ، سِرقہ و رہزنی ، فتنہ و بغاوت وغیرہ ۔ برائیوں کا انسداد جن سے امن عامہ اور نظام ملک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان فرائض کی ادائیگی بغیر حکومت کے نہیں ہو سکتی اور خدا نخواستہ اگر حاکم ظالم ہوں یا ان برائیوں سے جن کا اوپر ذکر ہوا خود ملوث ہوں ۔ تو وہ دنیا میں عدل و انصاف سے حکومت نہیں چلا سکتے اور لوگوں کے ناموس محفوظ نہیں رہ سکتے اور وہ امت و آسائش میں رہتے ہوئے باعزت زندگی نہیں گزار سکتے ۔ اس لئے لازم ہے کہ ان کے ظلم و استبداد کے توڑنے اور لوگوں کو ان کی دستبرد سے آسائش دینے کے لئے قوت و شوکت حاصل کی جائے اور حکومت کی باگ ڈور ان افراد کے ہاتھ میں دی جائے جو خدا سے ڈرنے والے اور عدل و انصاف سے لوگوں کے حقوق و ناموس کی حفاظت کرنے والے ہوں ۔ چنانچہ جب غریب مسلمانوں پر کفار مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے اور وہ بے چارے اپنے مالوف وطن چھوڑ کر پردیس میں ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے اور ان ظالموں نے وہاں مدینہ شریف میں بھی ان کو امن نہ لینے دیا تو ان مظلوموں کو اپنی حفاظت کرنے اور ظالموں کی مزاحمت دور کرنے کے لئے جہاد کی اجازت دی گئی اور آئندہ کے لئے بشارت بھی سنا دی گئی۔

”الذین ان مکناهم فی الارض اقاموا الصلوٰة واتوا الزکوٰة وامروا بالمعروف ونهوا عن المنكر ولله عاقبة الامور (الحج: ٤١)“ وہ مہاجرین کہ اگر ہم نے ان کو زمین میں با اختیار کیا تو وہ سرکش نہیں ہوں گے بلکہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ بھی دیا کریں گے اور نیک کاموں کا حکم اور برے کاموں سے منع کیا کریں گے اور سب کاموں کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔

اس آیت میں جہاں غریب مہاجرین اور مظلوم مسلمانوں کو بشارت فتوحات سنائی جا رہی ہے اور ان کے نیک کردار اور نیکی کی اشاعت کرنے والے اور برائیوں سے پرہیز گار بلکہ ان سے روکنے والے ہونے کی خبر بھی دی جا رہی ہے وہاں ان کی اصولی طور پر حکومت کے فرائض بھی بتائے جا رہے ہیں اور انہی امور کو ہم نے بالاجمال گن گن کر اوپر بتا دیا ہے۔

٥٢

صفحہ ٢٣٩

پس جیسا کہ سابقاً مضمون امامت و خلافت کبریٰ میں بالتفصیل بیان ہو چکا ہے۔ اسی طرح آپ یہاں بھی سمجھ لیں کہ مجدد وقت کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سیاسی ضعف کو دور کر کے ان کو قوی و توانا بنادے۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے بعض مجددین سے احیائے سنت کے پہلو کا کام لیا اور بعض سے احیائے ملت کا اور بعض سے ہر دو کا ہر دو پہلو میں شریعت اسلامیہ کو قائم کرنے والا خلیفہ اکبر ہوتا ہے۔ اسے خلیفہ اکبر کہیں یا خلیفۃ المسلمین یا امیر المومنین یا امام وقت یا امام زماں۔ یہ سب القاب ایک ہی منصب کے فرائض بجا لانے والی بابرکت ہستی کے ہیں۔ یہ منصب محض ادعائی اور ذہنی و خیالی یا زبانی جمع خرچ کے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حقیقت اور حقیقت عمل و خدمت سے تعلق رکھتی ہے۔

ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند

سورہ حج کی آیت جو ہم نے اوپر لکھی ہے۔ اس پر دوبارہ نظر ڈالیں کہ اس میں یہ فرائض عمل سے متعلق کئے گئے ہیں اور ان کو حقائق کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یا محض ادّعا اور ذہنی تخیلات کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ اے بھولے مسلمان! جب خدا نے تیرے دل کو نور ایمان سے منور کیا ہے تو تو بصیرت کی آنکھ سے حقائق کو دیکھ اور محض ادعائی خیالی جمع خرچ والے مدعیان مجددیت کے دام فریب سے بچا رہو!

اب ہم حقائق مذکورہ بالا کو واقعات کی روشنی میں دکھاتے ہیں۔ پہلی صدی کے مجدد اعظم بالاتفاق خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں۔ آپ خلیفہ اکبر بھی تھے۔ ملت و ملک کے نظام کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں تھی۔ عدل و انصاف کے مجسمہ تھے۔ اس امر میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اسی سبب سے انکا زمانہ خلافت باوجود چہار یار کے بہت بعد ہونے کے بھی خلافت راشدہ میں گنا جاتا ہے۔ علاوہ اس کے علم و عمل بالسنت میں بھی خصوصیت سے یاد کئے جانے کے قابل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے یہ دفاتر جو آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جن سے آنحضرت ﷺ کی سیرت اور عملی زندگی کی ایک ایک حرکت و ادا دوپہر کے سورج کی طرح نمایاں اور آپ کے انفاس طیبہ کا ایک ایک کلمہ فضائے عالم میں گونج رہا ہے۔ صرف آپ کی فرائض شناسی اور حسن خدمت کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ ”آپ نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث (کی جنس) سے جو کچھ بھی ہو اسے دیکھو اور اسے کتابت میں کر لو۔ کیونکہ مجھے (اس) علم کے مٹ جانے اور علماء کے چلے جانے کا خوف ہے اور سوائے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے کچھ بھی قبول نہ

٥٣

صفحہ ٢٤٠

کیا جائے اور چاہیے کہ علماء علم کو عام کریں اور اس کی مجالس قائم کریں۔ حتیٰ کہ وہ شخص جو علم نہیں جانتا علم سیکھ جائے۔ کیونکہ علم ہلاک نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ وہ پوشیدہ ہو جائے۔“ (تو گم ہو جاتا ہے)

(صحیح بخاری کتاب العلم ص ٢٠ ج ١، باب کیف یقبض العلم)

ناظرین! آپ نے دیکھا کہ خلیفۂ وقت نے جو بالاتفاق پہلی صدی کا مجدد ہے۔ شریعت اسلامیہ کے ہر دو پہلوؤں کی حفاظت کی۔ دوسری صدی کے بالاتفاق مسلم مجدد امام شافعیؒ ہیں۔ مختلف علوم عربیہ کی جامعیت میں آپ کو اپنے زمانہ اور اس سے پیشتر کے سب علماء پر فوقیت ہے۔ خصوصاً علوم حدیث اور علوم ادبیہ میں تو کوئی بھی امام مذہب آپ کا ہم پلہ نہیں ہوا۔ آپ کے زمانہ تک مختلف اسباب سے جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں ہے۔ روایت حدیث میں بعض بے احتیاطیاں پیدا ہو گئیں تھی اور تنقید اسناد کے بعض تاریک گوشوں پر متقدمین کی نظر بوجہ قرب عہد کے نہ پڑ سکی تھی اور استنباط و قیاس کے اصول کتابی طور پر مدون نہ ہونے کی وجہ سے فقاہت میں بھی شخصی رائے و قیاس کا رواج ہو گیا تھا اور خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں امام محمد بن حسن شیبانی کے قاضی اور امام ابو یوسفؒ کے قاضی القضاۃ ہونے کے سبب حنفی مذہب کے فتووں پر فیصلے ہوتے تھے اور عام علمائے عراق کا قلیل الحدیث ہونا مسلم کل امر ہے اور اس بات کے سمجھنے میں کوئی بھی مشکل نہیں کہ جس قاضی و مفتی کے پاس ذخیرہ حدیث کم ہو گا وہ رائے وقیاس سے زیادہ کام لے گا اور جب زمانہ میں استنباط تفقہ کے قواعد بھی منضبط نہ ہوں تو قیاس میں بھی بے احتیاطی کا احتمال ہے۔ خواہ ان کے ذہن روشن اور ان کی نیتیں نیک ہوں۔ لیکن حالات زمانہ کے تاثر اور عوارض بشریہ سے بغیر خدا کی وحی کے معصوم رہنا مشکل ہے۔ نیز یہ کہ عالمگیر فتوحات اسلامیہ کے باعث صحابہؓ و کبار تابعینؒ مختلف بلاد مفتوحہ میں پھیل گئے اور ہر ایک نے اپنے علاقہ میں اپنے مسموعات روایت کئے تو ان مختلف روایتوں میں مطابقت و موافقت پیدا کرنے یا وجوہ ترجیح کے قواعد بھی مدون نہ ہونے کے سبب مسائل میں بھی اختلاف عام ہو گیا اور ان سب مرویات کو یکجا جمع کرنے کے لئے مختلف بلاد کا سفر ضروری تھا اور قواعد جمع و تطبیق کے بیان کی شدید حاجت تھی۔

ایسے حالات میں خدا تعالیٰ نے خاندان قریش سے امام شافعیؒ کو پیدا کیا۔ زبان عرب کی قابلیت جن کی گھٹی میں تھی اور ان کی ذات میں اتنے کثیر علوم جمع کر دیئے اور قرآن و حدیث سے براہ راست استنباط کرنے کی ایسی باریک سمجھ عطاء کی کہ آپ سے پہلے یہ کیفیت کسی دیگر امام میں پیدا نہیں کی تھی۔ اس امر میں ہرگز اختلاف نہیں کہ جامعیت علوم اور ذخیرہ حدیث اور دقت فہم

٥٤

صفحہ ٢٤١

میں آپ ائمہ سابقین پر فوقیت رکھتے تھے۔ آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اصول فقہ مدون کئے ١؎ اور مختلف احادیث میں جمع وتطبیق اور ترجیح کے قواعد منضبط کئے ٢؎ اور تنقید روایت کی باریکیاں سمجھائیں اور مختلف علاقوں کا سفر کر کے اور حدیث کے بڑے بڑے استادوں سے روایت کر کے اپنے سابق لوگوں سے زیادہ ذخیرہ حدیث جمع کیا۔ آپ کی کتاب کتاب الام ان سب امور کی زندہ شہادت موجود ہے ٣؎۔ حدیث اور فقہ کو ایسے طور پر لکھا ہے کہ اس کے مطالعہ کرنے سے یہ آیت یاد آتی ہے۔ ”مرج البحرین یلتقیان بینہما برزخ لا یبغیان (الرحمن: ٢٠،١٩)“

علم حدیث کی ایسی ہی خدمات کی وجہ سے آپ کا لقب ناصر الحدیث تھا۔ آپ نے علم حدیث کی وہ خدمت کی کہ پہلوں کی فروگذاشتیں ظاہر ہوگئیں اور آپ اپنے پچھلوں کے لئے مسلم کل مقتداء قرار پائے۔ جمہور محدثین تنقید حدیث میں آپ ہی کے نقش قدم پر ہیں۔ غرض آپ کا نام ان مجددین کی فہرست میں نمبر اوّل پر ہے۔ جن سے خدا تعالیٰ نے احیائے سنت نبویہ کا کام لیا۔

امام شافعیؒ کی مجددیت قادیانیوں میں بالاتفاق مسلم ہے ٤؎ اب ہم ان حضرات سے جو مرزا قادیانی کو مجدد کہتے ہیں پوچھتے ہیں کہ کیا مرزا قادیانی نے امام شافعیؒ کے مقابل میں علم حدیث کی کوئی خدمت کی ۔ خدمت کیا کرتے؟۔ وہ سرے سے اس فن سے واقف ہی نہ تھے۔ بلکہ وہ تو خود ارقام فرماتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں مجھے اس فن سے انس ہی نہ تھا۔ نیز یہ کہ

١؎ صاحب کشف جو حنفی مذہب ہے۔ علم اصول فقہ کے بیان میں لکھتا ہے۔ ”اوّل من صنف فیہ الامام الشافعی، ص ١١٤“

٢؎ شرح نخبۃ الفکر خاتمۃ الحفاظ ص ٣٢

٣؎ یہ کتاب مصر میں چھپ چکی ہے اور سات مطبوعہ جلدوں میں ختم ہوئی ہے۔ الحمد للہ ! کہ اس عاجز کے پاس موجود ہے۔

٤؎ دیکھو کتاب عسل مصفّے مصنفہ مرزا خدا بخش قادیانی ج ١ ص ١٦٢ سے ص ١٦٥ تک فہرست مجددین ۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کی زندگی میں قادیانی نورالدین صاحب کے کتب خانہ کی مدد سے تیار ہوئی۔ مرزا قادیانی نے اس کا لفظ بلفظ گوش ہوش سے سنا اور مصنف کی داد دی، لاہوری اور قادیانی ہر دو گروہ اس کی تعریف کرتے ہیں۔

٥٥

صفحہ ٢٤٢

واقعہ بھی یہی ہے کیونکہ ان کے طالب علمی کے ایام میں پنجاب میں کوئی درسگاہ تکمیل حدیث کے لئے نہ تھی اور مرزا قادیانی تحصیل علوم کے لئے پنجاب سے باہر نہیں گئے۔ یہ تو ان کے علم کا حال ہے۔ اب حدیث کے متعلق ان کے عمل واعتقاد کا حال بھی معلوم کیجئے کہ اپنے مطلب کے لئے بالا تفاق ضعیف اور منکر بلکہ موضوع روایتوں سے بھی دلیل پکڑ لیتے تھے اور مطلب کے خلاف صحیحین کی متفق علیہا احادیث سے بھی صاف انکار کر جاتے تھے۔ حاصل یہ کہ مطلب کے بندے تھے۔ حدیث کے متبع نہ تھے۔ جب ان کا اپنا اعتقاد و عمل سنت کے مطابق نہیں اور اس کا علم بھی نہیں تو پھر آپ کس بناء پر ان کو مجدد مانتے ہیں۔ یا وہ خود کس برتے پر مجددیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ صاحب حکومت وہ نہ تھے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کی طرح نہ تو اسلام کی سیاسی خدمت کی نہ ان کی طرح نہ امام شافعیؒ کی طرح علم سنت کی کوئی خدمت کی۔ تو مجددیت کی حرص میں ان کے منہ میں کیوں پانی بھر آیا۔

.......٣....... اچھا ایک تیسرے مجدد کا بھی حال سنیے۔ جسے مرزا قادیانی مجدد مانتے ہیں! اور خود مرزا قادیانی ان کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ ہیں جو ساتویں صدی ہجری کے مجدد ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود آپ کی بابت لکھتے ہیں: ”فاضل ومحدث ومفسر بن تیمیہؒ جو اپنے وقت کے امام ہیں۔“ (کتاب البریہ ص ٢٠٣ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١) ١؂ ان کے علمی اور عملی کارنامے لکھنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ گو وہ صاحب حکومت نہ تھے۔ ایک عدیم المثال امام علوم تھے۔ لیکن سپاہیانہ رنگ میں تلوار سے اور عالمانہ رنگ میں قلم اور زبان سے وہ خدمات بجا لائے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں ٹھٹھک کر رہ گئیں اور بعد والے ان کی علمی خدمات اور حق گوئی اور جہادی مساعی سے حیران وششدر رہ گئے کہ خدا تعالیٰ نے اس مرد حق پرست کو کیسی جامع الاضداد طبیعت بخشی تھی۔ آپ (منقولی ومعقولی) جملہ فنون عربیہ میں بے مثل عالم ہوئے ہیں اور ترویج سنت میں جو گرم جوشی اور اس کے ساتھ حق گوئی کی جو جرأت آپ کو تھی۔ وہ مخالف واموافق ہر دو طرح کے لوگوں میں مسلم ہے۔ اس کے علاوہ آپ صاحب قوت وشجاعت سپاہی اور صاحب عزم واستقلال مجاہد بالسیف بھی تھے۔ شام اور مصر کے کاہل وبزدل حکام کو اپنی انقلاب پیدا کرنے والی تقریروں سے ابھار کر ان میں جہادی قوت کی روح پھونکی اور ترکوں کے سیلاب عظیم کے مقابلہ میں جو اس وقت غیر مسلم قوم تھی۔ صف آرائی کر کے مذہب اسلام اور قوم مسلمین کی حفاظت کی اور فتنہ تاتار کو فرو کیا۔ کیا ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کوئی علمی یا فوجی خدمت بجالائے؟۔ جس سے اسلام وقوم مسلمین کو نفع پہنچا ہو۔ جب نہیں تو کیوں ان کا نام لے کر مجددیت

٥١

صفحہ ٢٤٣

کے نام کی ہتک کرتے ہو؟ ۔ وہ بیچارے تو ساری عمر نصاریٰ کی منت و خوشامد کرتے اور ان کے سامنے امت مرحومہ کی چغلیاں کھاتے رہے اور جہاد کو قائم کرنے کی بجائے دنیا جہان کے مسلمانوں سے جہادی قوت زائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جیسا کہ آپ کو مضمون امام زمان میں ان کی اپنی تصریحات سے معلوم ہو چکا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ مجددیت بھی سراسر باطل ہے۔

دوسرا طریق

مرزا قادیانی کی مجددیت کے پرکھنے کا دوسرا مجددین سابقین سے عقائد میں موافقت یا مخالفت ہے۔ اس کا بیان اس طرح ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ہی دین سکھایا۔ اس دین میں باطل کے لئے کوئی راہ نہیں۔ اس کے بیان میں کوئی کجی نہیں، مسائل میں مخالفت نہیں۔ ان میں ریب و شک کی گنجائش نہیں۔ جو بات ہے دو ٹوک ہے۔ جزم و یقین سے بیان کی گئی ہے۔ اس میں نفی واثبات کو برابر نہیں رکھا گیا اور کفر و اسلام میں اشتباہ نہیں ڈالا جو بات ایک وقت میں ہدایت ہے وہ دوسرے وقت میں ضلالت نہیں ہو سکتی اور جو بات ایک وقت میں اسلام ہے۔ وہ دوسرے وقت میں کسی خاص شخص کی شخصیت سے کفر نہیں ہو سکتی۔

جب اصولی طور پر آپ نے یہ بات سمجھ لی تو اب دیکھنا چاہئے کہ اگر مرزا قادیانی واقعی سچے مجدد تھے تو ان کے عقائد سابق مجددین کے موافق چاہئیں یا مخالف؟۔ اگر آپ کی بے لوث ضمیر موافقت کی شہادت دیتی ہے تو آئیے اس معیار پر دیکھیں کہ پہلے مجددین کے عقائد دربارہ رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کیا تھے۔ ہم ان میں سے بعض کی تصریحات ذیل میں لکھتے ہیں اور یہ یاد رہے کہ ہم اس جگہ صرف انہی کی تصریحات نقل کریں گے۔ جو مرزائیوں کے نزدیک مسلم مجدد ہیں اور ان کی قابل فخر کتاب (عسل مصفیٰ کی جلد اول کے ص ١٦٣ سے ١٦٥) تک جو فہرست مجددین کی لکھی گئی ہے۔ اس میں ان بزرگوں کے اسمائے گرامی بھی درج ہیں۔

اپنی مایہ ناز کتاب (الاسماء والصفات ص ٤٢٤ طبع بیروت) میں خدا تعالیٰ کے لئے جہت علو ثابت کرنے کے باب میں آیت ”انی متوفیک ورافعک“ کے ذیل میں اپنی روایت سے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں۔

”عن ابی ھریرةؓ انہ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم“ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم اس وقت

٥٧

صفحہ ٢٤٤

کیسے ہو گے جب کہ تم میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔

صدی کے مسلم مجدد ہیں۔ ان کی تفسیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کے حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ خصوصیت سے چند حوالے درج ذیل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ”ہکذا وقع فان المسیح علیہ السلام لما رفعہ اللہ الی السماء تفرقت اصحابہ شیعاً (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠)“ اور یہ بات اسی طرح واقع ہوئی۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تو آپ کے اصحاب گروہ گروہ ہو گئے۔

اسی طرح آیت ”وان من اھل الکتاب (النساء:١٥٩)“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”بل المراد بھا الذی ما ذکرناہ من تقریر وجود عیسیٰ علیہ السلام وبقاء حیاتہ فی السماء وانہ سینزل الی الارض قبل یوم القیمۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٣)“ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ جو ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان میں زندہ موجود ہونے کی بات بیان کی اور یہ کہ آپ روز قیامت سے پیشتر زمین پر ضرور بضرور نازل ہوں گے۔

اسی طرح آپ آیت ”وانہ لعلم للساعۃ (زخرف: ٦١)“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہ ﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیمۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧)“ اور آنحضرت ﷺ سے احادیث تواتر سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روز قیامت سے پیشتر نازل ہونے کی خبر دی۔

غرض سب امور کی تصریح صاف الفاظ میں بکثرت موجود ہے اور ایک مقام بھی ایسا نہیں جس میں اپنا عقیدہ اس کے خلاف لکھا ہو۔

١؎ حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت جابرؓ کی روایت جو کتاب میں گزر چکی ہے اس سے بھی یہی عیاں اور واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کا اس وقت کا امام زمان دو الگ الگ شخص ہوں گے اور بموجب دیگر احادیث کی تصریحات کے جو امام ترمذیؒ اور ابوداؤدؒ نے روایت کی ہیں۔ وہ امام مہدیؒ ہیں۔

صفحہ ٢٤٥

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع اور نزول آخر الزمان کے متعلق ان کی تصریحات سے ان کی تفسیر کبیر بھری پڑی ہے اور اس مسئلہ کو اس تفصیل وبسط سے امام رازیؒ کے برابر شاید کسی دوسرے نے نہ لکھا ہوگا۔ آپ کی صرف ایک عبارت جو ہر دو امر کی جامع ہے۔ یہاں نقل کی جاتی ہے۔ "قدثبت الدليل انه حى وورد الخبر عن النبى ﷺ انه سينزل ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذالك (تفسیر کبیر ج٨ ص٧٢) " تحقیق دلیل سے ثابت ہو چکا ہے کہ آپ زندہ ہیں اور آنحضرت ﷺ سے بھی حدیث وارد ہوئی ہے کہ وہ ضرور نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اس کے بعد آپ فوت ہوں گے۔

مجدد ہیں۔ آپ کی متعدد تصانیف میں رفع عیسیٰ کا ذکر آتا ہے۔ چنانچہ آپ اپنی قابل قدر کتاب منہاج السنہ میں فرماتے ہیں کہ: "فان المسيح عليه السلام رفع ولم يتبعه خلق كثير (منهاج ج٢ ص٢٦١) " کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام ایسے حال میں مرفوع ہوئے کہ زیادہ خلقت آپ کی پیرو نہ ہوئی تھی۔

اپنی مختلف تصانیف میں رفع اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں۔ بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا انکار کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مصدق نہیں ہو سکتا۔ (اقسام القرآن ص٢٢) نیز آپ اپنی کتاب اجتماع الجیوش الاسلامیہ میں خدا تعالیٰ کے فوق العر ش اور فوق السمٰوات ہونے کے قرآنی دلائل میں آیت یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی کو بھی ذکر کرتے ہیں۔

ہیں۔ ان کی شرح صحیح بخاری کا باب نزول عیسیٰ علیہ السلام تو رفع اور نزول فی اخر الزمان کے دلائل سے بھرا پڑا ہے۔ جن کا استیعاب بھی موجب طوالت ہے۔ صرف ایک حوالہ پر کفایت کی جاتی ہے۔ آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ: "لان عيسى ايضاً قد رفع وهو حى على الصحيح (فتح الباری ج٦ ص٢٦٧) " تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی صحیح مذہب کے مطابق زندہ ہی اٹھائے گئے ہیں۔

٥٩

صفحہ ٢٤٦

ہیں۔ ان کی تفسیر میں صاف الفاظ موجود ہیں۔ چنانچہ آپ آیت سورۂ آل عمران کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔

”ومکراللہ بہم بان القی شبہ عیسیٰ علی من قصد قتلہ فقتلوہ ورفع عیسیٰ واللہ خیر الماکرین اعلمہم بہ اذکر اذقال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک قابضک ورافعک الی من الدنیا بغیر موت (جلالین مجتبائی ص ٥٢ ) “

اور خدا نے بھی ان کے ساتھ تدبیر کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہہ اس شخص پر ڈال دی۔ جس نے آپ کو قتل کرنے کا قصد کیا تھا۔ پس انہوں نے اسے قتل کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اٹھالیا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر والا ہے۔ یعنی ان سے بہتر تدبیریں جانتا ہے۔ (اے نبی) یاد کر جب کہا خدا نے اے عیسیٰ تحقیق میں لے لینے والا ہوں۔ تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی دنیا سے بغیر موت کے۔

اسی طرح آپ اپنی دوسری تفسیر اکلیل میں آیت ورفعك الیٰ میں فرماتے ہیں کہ:

”فیہ اشارة الی قصة رفع عیسیٰ الی السماء (تفسیر اکلیل مطبوعہ مطبع فاروقی ، تفسیر جامع البیان ص ٨٣ ) “اس میں اشارہ ہے کہ عیسیٰ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے قصہ کی طرف۔

اور آپ کی مبسوط تفسیر الدر المنثور وہ تو احادیث نزول عیسیٰ اور تصریحات صحابہؓ و تابعینؒ کی روایات سے بھری پڑی ہے۔

کی تصریحات دربارہ رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام بیش از بیش ہیں۔ اس جگہ ہم صرف شرح فقہ اکبر کے حوالہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

”ونزول عیسیٰ من السماء کما قال اللہ تعالیٰ وانه ای عیسیٰ لعلم للساعة ای علامة القیامة وقال اللہ وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ بعد نزولہ عند قیام الساعة ....... عند نزول عیسیٰ من السماء فیجتمع عیسیٰ بالمہدی (شرح فقہ اکبر ص ١٣٦ ) “اور نزول عیسیٰ کا جیسا

کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ علامت ہیں قیامت کی نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا، نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لے آئے گا۔ پیشتر اس کے یعنی عیسیٰ علیہ

٦٠

صفحہ ٢٤٧

السلام کی موت کے بعد آپ کے نازل ہونے کے قیامت قائم ہونے کے قریب....... یہ امر واقع ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ جمع ہوں گے۔

٩....... شیخ محمد طاہر پٹنی گجراتیؒ بھی قادیانیوں کے نزدیک دسویں صدی کے مسلم مجدد ہیں۔ آپ مجمع البحار میں فرماتے ہیں کہ:

”متوفيك ورافعك على التقديم والتاخير وقد يكون الوفاة قبضاً ليس بموت او متوفيك مستوفى كونك فى الارض (مجمع البحار ج ٥ ص ٩٩)“

پورا کر لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا تجھ کو اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور کبھی پورا لے لینا بغیر موت کے بھی ہوتا ہے۔ یا یہ معنے ہیں کہ دنیا میں تیرے رہنے کی مدت پوری کروں گا۔

١٠....... حضرت شیخ احمد صاحب سرہندیؒ قادیانیوں کے نزدیک گیارھویں صدی کے مسلم مجدد ہیں۔ آپ کے مکتوبات میں متعدد جگہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔

چنانچہ آپ خان جہان کے لئے بعقائد اہل سنت ارقام فرماتے ہیں ۔

”خـاتـم انبيـاء مـحـمـد رسـول الله ﷺ است ودین او ناسخ ادیانِ سابق است وکتاب او بہترین کتب ماتقدم است وشریعت او راناسخِ نخواهد بـود بلکـه تـاقیـام قیامت خواهد مانده عیسیٰ علیٰ نبینـا وعلـیٰ الصـلوٰة والسلام كـه نـزول خواهد نمـود عمـل بشریعت او خواهد کرد وبعنوان امت خواهد بود (مکتوب نمبر ٦٧ ج ٢ ص ١٨٥،١٨٤) “ خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کا دین سب سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور آپ ﷺ کی کتاب (قرآن مجید) کتب سابقہ سے بہتر کتاب ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ تاقیام قیامت قائم رہے گی اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو آپؐ ہی کی شریعت پر عمل کریں گے اور آپؐ کے امتی ہو کر رہیں گے۔

١١....... حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ بارھویں صدی میں قادیانی کے نزدیک مسلم مجدد ہیں۔ مرزا قادیانی ان کی شان میں رئیس المحدثین کامل ولی اور صاحب خوارق وکرامات بزرگ ایسے الفاظ لکھتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور نزول آپ کی متعدد تصانیف میں مرقوم ہے۔

ترجمہ قرآن میں آیت ’ وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته

٦١

صفحہ ٢٤٨

(النساء: ١٥٩)‘‘ کے ترجمہ میں قبل موتہ کی ضمیر کے مرجع کی نسبت کھول کر لکھتے ہیں۔ البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسی اور اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ ”مترجم گوید یعنی یہودے کہ حاضر شوند نزول عیسی را البته ایمان آرند‘‘ یعنی وہ یہود جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے وہ سب آپ پر ایمان لے آئیں گے۔

اسی طرح آپ الفوز الکبیر عربی میں لکھتے ہیں کہ: ”وايضاً فمن ضلالة اولئك انهم يجزمون انه قتل عيسى عليه الصلوة والسلام وفى الواقع وقع اشتباه فى قصته فلما رفع الى السماء ظنوا انه قد قتل ويروون هذا الغلط كابراً عن كابر فازال الله سبحانه هذه الشبهة فى القرآن العظيم وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (الفوز الكبير في اصول تفسير ص ١٩)‘‘ نیز نصاریٰ کی گمراہی میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کر دیئے گئے تھے اور واقعی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو آپ کے متعلق اشتباہ واقع ہو گیا تھا۔ پس جب آپ آسمان کی طرف اٹھائے گئے تو انہوں نے ظن کیا کہ وہ مقتول ہو گئے ہیں اور غلط بات وہ اپنے بڑوں سے زمانہ بزمانہ روایت کرتے آئے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو قرآن عظیم میں دور کر دیا کہ فرمایا نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ صلیب دیا۔ لیکن وہ تشبیہ دیا گیا واسطے ان کے۔

اسی طرح تاویل الاحادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ: ”كان عيسى كانه ملك يمشى على وجه الارض فاتهمه اليهود بالزندقة واجمعوا على قتله فمكروا مكر الله والله خير الماكرين فجعل له هيئة مثالية ورفعه الى السماء (ص ٦٠)‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے تھے گویا کہ ایک فرشتہ روئے زمین پر چلتا ہے۔ پس یہود نے آپ پر (معاذ اللہ) بے دینی کی تہمت تراشی اور آپ کے قتل کا پختہ قصد کر لیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ پس آپ پر عالم مثال کی ایک ہیئت طاری کی اور آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

امام شوکانیؒ بھی قادیانیوں کے نزدیک بارہویں صدی کے مسلم مجدد ہیں۔ آپ کی تفسیر فتح القدیر عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور نزول عیسیٰ کے بارے میں بھری پڑی ہے۔ ہم اختصار

کی وجہ سے صرف ایک حوالہ ذکر کر ”تواترت الاح (فتح البيان ج٢ ص ٢٩٣)‘‘ متعلق احادیث بالتواتر ثابت ہیں

١٣....... شاہ عبدا کے مسلم مجدد ہیں۔ آپ تفسیر موش قبل موته (النساء: ١٥٩) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان کا بتانے والا۔ اس کے بعد فا چوتھے آسمان پر جب یہودیوں یہود ونصاریٰ سب ان پر ایمان

اسی طرح آپ آ فرماتے ہیں ’’اور بیشک عیسیٰ عل ایک نشانی ہے۔ قیامت کی دو دجال کو قتل کریں گے۔ پھر با عیسیٰ علیہ السلام مومنوں کو ۔ نشانی ہیں قیامت کی ۔‘‘

ناظرین! آپ ۔ اور لاہوری) مجدد تسلیم کر چکی متعلق کیا ہے۔ لیکن مرزا قاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسما آئیں گے اور جس کے آنے علم میں کامل سنت رسول اللہ بھی مجدد مانتے ہیں۔ سب خدا تعالیٰ میری ساری امت والسنة ) تعجب ہے کہ م

صفحہ ٢٤٩

کی وجہ سے صرف ایک حوالہ ذکر کرتے ہیں۔ ”تواترت الاحاديث بنزول عيسى جسما اوضح ذلك الشوكانی“ (فتح البيان ج ٣ ص ٢٩٣) ”زندگی اور جسم کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث بالتواتر ثابت ہیں۔

کے مسلم مجدد ہیں۔ آپ تفسیر موضح القرآن میں آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء: ١٥٩)“ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں اور جتنے فرقے ہیں کتاب والوں کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاویں گے۔ ان کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا۔ ان کا بتانے والا ۔ اس کے بعد فائدہ میں لکھتے ہیں ”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ چوتھے آسمان پر جب یہودیوں میں دجال پیدا ہوگا۔ تب اس جہان میں آن کر اسے ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب ان پر ایمان لاویں گے کہ موئے نہ تھے زندہ تھے۔“

اسی طرح آپ آیت ”وانه لعلم للساعة (زخرف: ٦١)“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”اور بیشک عیسیٰ علیہ السلام خبر دینے والا ہے۔ قیامت کی یعنی انکا اترنا آسمان سے ایک نشانی ہے۔ قیامت کی دجال کے پیدا ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آویں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر یاجوج ماجوج پیدا ہو کر سارے عالم کو خراب کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مؤمنوں کو لے کر کوہ طور پر جا کر چھپیں گے۔ غرض یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہیں قیامت کی ۔“

ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ گذشتہ مجددین جن کو مرزائی جماعت بالاتفاق ( قادیانی اور لاہوری) مجدد تسلیم کر چکی ہے۔ ان سب کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کے متعلق کیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی ان سب کے خلاف عقیدہ رکھ کر مجدد بنتے ہیں۔ یعنی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ نہیں اٹھائے گئے۔ بلکہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور دنیا میں نہیں آئیں گے اور جس کے آنے کی خبر ہے وہ میں خود ہوں اور ظاہر ہے کہ تیرہ صدیوں کے مجددین جو علم میں کامل سنت رسول اللہ کے عامل اور تقویٰ و دیانت میں ممتاز تھے اور جن کو خود مرزا قادیانی بھی مجدد مانتے ہیں۔ سب کے سب گمراہی پر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ میری ساری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (مشکوٰة ص ٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) تعجب ہے کہ صالحین کی ایک جماعت ایک امر کو ایمان کہے تو وہ بھی مجدد، اور ایک اکیلا

٦٣

صفحہ ٢٥٠

شخص جس کے بیسیوں عقیدے خلاف قرآن وحدیث ہوں اور اس کا علم بھی ناقص ہو اور وہ باوجود استطاعت کے فریضہ حج کا بھی تارک ہو اور اس کی روزی کا انحصار حیلہ اور فریب سے لوگوں کے چندے پر ہو اور وہ ان سب صالحین کے برخلاف اسی عقیدہ کو کفر و شرک قرار دے تو وہ بھی مجدد یہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔

پس صحیح یہی ہے کہ مرزا قادیانی دعوے مجددیت میں بھی مثل دعوے رسالت اور دعوے امامت کبریٰ اور دعوے مہدویت اور دعوے مسیحیت کے کاذب ہیں۔

سوال اوّل: سرصدی سے کیا مراد ہے؟۔

الجواب: مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”چونکہ میرا نشو و نما چودھویں صدی کے اوائل میں ہوا ہے۔“ اس لئے سرصدی سے مراد صدی کا آغاز ہے اور یہ غلط ہے۔ کیونکہ حساب نمبر ١ سے شروع ہوا کرتا ہے نہ کہ نمبر ١٤ سے۔ اس کی تشریح یوں ہے کہ پہلی صدی کے مجدد بالاتفاق خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں۔ ان کی وفات سنہ ١٠١ھ میں ہوئی اور علم حدیث کو صدی کے اخیر میں جمع کرایا اور دوسری صدی کے مجدد بالاتفاق امام شافعی اور ان کی وفات ٢٠٤ھ میں ہوئی۔ آپ کی علمی خدمات بھی صدی کے آخری حصے میں ہیں۔ پس سرصدی سے مراد صدی کا آخری حصہ ہے۔ چنانچہ (عون المعبود شرح سنن ابی داؤد ج ٤ ص ١٧٨) میں ہے اور اس امر کی واضح دلیل کہ سرصدی سے مراد اخیر صدی ہے۔ نہ کہ ابتداء یہ ہے کہ امام زہریؒ وغیرہما علمائے متقدمین ومتاخرین اس بات پر متفق ہیں کہ پہلی صدی کے سر پر عمر بن عبدالعزیزؒ ١٠١ھ میں چالیس برس کی عمر میں فوت ہوئے اور ان کی عمر چون ٥٤ برس کی تھی۔

سوال دوم: کیا مجدد کے لئے صاحب الہام ہونا ضروری ہے؟۔

الجواب: ہرگز ضروری نہیں۔ نبوت ختم ہو چکی سنت قائم ہو چکی۔ آنحضرتﷺ رخصت ہوتے وقت قرآن وحدیث کی پیروی کی تاکید کر گئے۔ نئی وحی اور الہام کی کیا ضرورت؟۔ پس مجدد قرآن وحدیث کا علم کامل حاصل کرنے کے بعد انہی کی پیروی سکھاتا ہے۔

”تمّ والحمد للّٰہ المعبود والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ صاحب المقام المحمود وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین الی الیوم المشہود وانا العبد الاثیم الحقیر الناسوتی محمد ابراہیم میر السیالکوٹی“

بتاریخ ١٤؍ شوال مکرم ١٣٥٧ھ مطابق ٧؍ دسمبر ١٩٣٨ء بعد از نماز ظہر ختم شد۔

PDF 251

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھلی چٹھی نمبر ٢

بخدمت

مولوی غلام رسول راجیکی قادیانی

حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٢٥٢

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

کھلی چٹھی نمبر ٤

بخدمت دوست قدیمی مولوی غلام رسول صاحب قادیانی حال وارد سیالکوٹ آپ نے میری کھلی چٹھی نمبر ١ کا جواب ارقام فرمانے کی تکلیف اٹھائی اس کا شکریہ ہے۔ آپ نے اس کا نام ’’جواب باصواب‘‘ رکھا ہے۔ لیکن وہ از روئے حقیقت سراسر ناصواب ہے۔ حقیقت کے چھپانے اور اس کے اعتراف سے کترانے میں بہت کوشش کی گئی ہے۔ اس کی وضاحت یوں ہے۔

آپ نے میری اس شکایت کو تو تسلیم کر لیا کہ مجھے ٹریکٹ نمبر ٥ جس میں میرے نام کی چٹھی درج ہے بھیجا نہیں گیا۔ لیکن لگتے ہاتھ آپ نے اپنی طرف سے بھی شکایت کر دی کہ میں نے بھی آپ کو کھلی چٹھی نہیں بھیجی۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ کھلی چٹھی آپ کی خدمت میں بدست مستری محمد صادق بھیجی گئی تھی۔ لیکن آپ اس وقت تشریف نہ رکھتے تھے۔ یہ بات ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح آپ اس ’’جواب باصواب‘‘ کے (ص٤) کے اخیر میں زیر عنوان نوٹ لکھتے ہیں کہ ’’مولوی صاحب کی خدمت میں ہم نے بروقت اپنے ٹریکٹ کی دو کاپیاں بدست غلام حسن بھیج دی تھیں۔ لیکن مولوی صاحب موصوف ساھو والے تشریف لے گئے ہوئے تھے۔‘‘

آپ نے اس ارسال کردہ ٹریکٹ کا نمبر نہیں لکھا کہ کون سا ٹریکٹ بھیجا تھا۔ میری شکایت ٹریکٹ نمبر ٥ کی بابت ہے۔ ٹریکٹ نمبر ٥ کے نہ ارسال کرنے کو آپ نے ان الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔

خیر ہم سے جو ہوا سو ہوا۔ (ص١) نیز غفلت برتی گئی ہے۔ (ص١) لیکن اس میں بھی آپ نے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ یہ کہ اس کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’بفرض محال اے جناب والا! جب واقعہ یہ ہے کہ آپ نے وہ ٹریکٹ یعنی نمبر ٥ جس میں میرے نام کی چٹھی درج ہے۔ مجھے نہیں بھیجا۔ خواہ غفلت سے خواہ عمداً تو پھر بفرض محال کہنے کا کیا موقع؟ اور اگر مگر کی کیا گنجائش۔‘‘

صفحہ ٢٥٣

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ اس کو کہتے ہیں نمبر ٢۔ جناب مرزا جی آنجہانی کو صحیح قرآن نہ جاننے کی زد سے بچانے کے لئے آپ نے دو روایتیں ذکر کی ہیں۔ پہلی یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس شخص پر رحم کرے کہ فلاں فلاں سورت کی فلاں فلاں آیت جو میں بھول گیا تھا مجھے یاد دلا دی۔

جواب

اس کا جواب تفصیل سے سنئے کہ آپ نے دو مختلف اور غیر متجانس امروں کو ہم جنس بنانے میں سخت غلطی کھائی یا لوگوں کو غلطی میں ڈالنا چاہا۔ کیونکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریرات میں جو تصنیفی صورت میں ہیں۔ کثرت سے ایسی عربی عبارتیں پائی جاتی ہیں۔ جن کو آیات قرآنیہ ظاہر کیا گیا ہے اور وہ ان الفاظ اور اس ترتیب سے جو مرزا قادیانی نے لکھی، قرآن شریف میں نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں آپ کا یہ کہنا کہ کسی وقت میں آنحضرت ﷺ کے خیال سے کبھی ایک آیت اتر گئی تھی اور وہ کسی صحابی کے پڑھنے سے آپ ﷺ کو یاد آئی درست نہیں۔ کیونکہ اول تو خیال سے کسی بات کا اتر جانا امر دیگر ہے اور اپنی یاد سے غلط طور پر اسے بیان کرنا امر دیگر ہے۔ مرزا قادیانی کا آیات کو غلط طور پر لکھنا آنحضرت ﷺ کے کسی واقعہ کی نظیر اس صورت میں بن سکتا ہے کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ بھی کسی آیت کو مرزا قادیانی کی طرح غلط طور پر تبلیغ کریں۔ جب آپ اسے کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتے اور روایت پیش کردہ میں یہ صورت نہیں ہے تو پھر اسے پیش کرنا اپنی غلط فہمی یا دوسروں کو مغالطہ دینا نہیں تو اور کیا ہے؟۔

آنحضرت ﷺ کے اس واقعہ کا درست بیان یوں ہے کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک رات آنحضرت ﷺ گھر میں تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے اور ایک صحابی (عباد بن بشرؓ نام) مسجد میں نماز تہجد اونچی قرأت سے پڑھ رہا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی قرأت سن کر مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ آواز عباد کی ہے۔ میں نے کہا ہاں! یا حضرت! آپؐ نے فرمایا خدا عباد پر رحم کرے۔ اس کے پڑھنے سے خدا نے مجھے ایک آیت یاد کرا دی۔ جو میرے ذہن سے اتر گئی تھی۔

(بخاری ج ١ ص ٣٦٢ باب قراءۃ الاعمی وامرہ وتکلمہ)

صفحہ ٢٥٤

اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو غلط طور پر پڑھا تھا اور عبادؓ کے پڑھنے سے آپ نے اس کی صحت کی۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے والا پڑھتا جاتا ہے اور سننے والا اسے سنتا ہے۔ جس طرح پڑھنے والے کے تمام دماغی قویٰ پوری طرح متوجہ ہوتے ہیں۔ اس طرح سننے والے کے نہیں ہوتے۔ خاص کر جب وہ اپنے شغل میں مصروف ہو اور وہ شغل بھی خاص نماز کا ہو تو وہ اپنے دل ودماغ کو دوسری طرف متوجہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ایسی حالت میں بھی اگر کوئی اونچی آواز اس کے کان میں پڑ جائے تو بوجہ فطری قوت سماعت اور قوت فہم کے آواز سنی اور سمجھی جا سکتی ہے اور یہ بات بھی یاد رہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سننے والے کا خیال پڑھنے والے کے ساتھ ساتھ نہیں چلتا۔ بلکہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بات اس کے ذہن سے اتر سکتی ہے۔ جو اسے پڑھنے والے کے پڑھنے سے یاد آجاتی ہے۔ بس یہی حقیقت ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اس واقعہ کی کہ آپ نماز کی حالت میں مشغول تھے۔ اپنی قرأت یا تسبیحات میں مصروف تھے۔ اس وقت آپ ﷺ نے مسجد سے ایک شخص کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی۔ نماز کی مشغولی کی وجہ سے آپؐ ادھر توجہ نہیں دے سکتے تھے اور وہ قرآن پڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے حال میں اگر عبادؓ نے کوئی آیت پڑھی۔ جس میں اس وقت آپؐ کا خیال عبادؓ کی قرأت کے ساتھ نہ چل سکا۔ تو یہ مرزا قادیانی کی غلط آیات لکھنے کی نظیر نہیں بن سکتی۔

”وانی ھذا من ذاک ۔ فافہم ولا تکن من القاصرین“ دیگر یہ کہ آنحضرت ﷺ کو کسی آیت کا کسی خاص وقت میں نسیان ہو جانا امر تبلیغ میں نسیان نہیں ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کو تبلیغ دین میں سہو ونسیان نہیں ہوتا۔ چنانچہ شیخ کمال الدین ابن ہمام کتاب المسایرہ میں فرماتے ہیں۔

”واما فیما طریقہ الابلاغ فہم معصومون فیہ من السہو والغلط“

(مطبوعہ مصر ص ٢٠٠)

اسی طرح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ منہاج السنۃ میں فرماتے ہیں کہ فانہم متفقون علی ان الانبیاء معصومون فی تبلیغ الرسالۃ

(ج دوم ص ٨٣)

اسی طرح صحیح بخاری کی ہر سہ شروح (فتح الباری، عمدۃ القاری اور ارشاد الساری) میں بھی خاص اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے۔

صفحہ ٢٥٥

لیکن مرزا قادیانی کی حالت اس کے برخلاف ہے۔ کیونکہ انہوں نے غلط آیات تبلیغی سلسلے میں لکھی ہیں۔ چنانچہ بعض تو ایسی کتابوں میں ہیں۔ جن کا نام ہی تبلیغ رسالت ہے اور بعض کا نام حقیقت الوحی ہے اور بعض کا نام البلاغ ہے اور بعض کا نام براہین احمدیہ ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کا نسیان اور جنس سے ہے اور مرزا قادیانی کی غلطی اور جنس ہے۔ ”فافترقا فلا یقاس احدہا علی الآخر“ اور دوسری روایت حضرت ابیؓ والی جو آپ نے پیش کی ہے اس میں تو آپ نے غضب ڈھادیا ہے۔ آپ لوگوں کی عام عادت ہے کہ مرزا قادیانی کو بچانے کے لئے منہ پھاڑ کر آنحضرت کی ذات اقدس پر وہی بات لے آتے ہیں۔ جس سے ایک مومن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح مورخہ ٢٣؍ جون ١٩٣٣ء کو جو چار مناظرے میدان قلعہ سیالکوٹ میں ہوئے تھے۔ ٢٤؍ جون کے مناظرے ختم نبوت میں میرے اس اعتراض کے جواب میں کہ مرزا قادیانی قرآن شریف اور احادیث کے الفاظ میں بھی زیادتی کر لیتے تھے اور اس کی مثال میں مرزا قادیانی کی تصنیفات حقیقت الوحی اور آئینہ کمالات اور فریاد درد میں سے وہی غلط آیتیں پیش کی تھیں۔ جو کھلی چٹھی نمبر ١ میں درج کی گئی ہیں۔ جن کے جواب میں آپ کے مولوی محمد سلیم قادیانی نے یہ کہا کہ اگر مرزا قادیانی نے یہ آیتیں اسی طرح لکھی ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ ہر نبی نے دجال کی خبر دی ہے۔ یہ بات ہر نبی کی کتاب میں کہاں ہے؟۔ اور نیز قرآن شریف نے کہا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے بشارت سنائی کہ میرے بعد احمد رسول آئے گا تو انجیل سے دکھایا جائے کہ احمد کہاں لکھا ہےا۔

اسی طرح آپ نے بھی یہی لکھ مارا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ایسی آیات پڑھیں : جو قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ یہ بڑا بھاری افتراء اور بہتان ہے۔ جو آپ نے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر لگایا۔

اب اس کا تحقیقی جواب سنئے کہ قرآن شریف کی قرآنیات کا مدار احادیث کے بیان پر نہیں ہے۔ کیونکہ احادیث میں سوائے چند محدود آیتوں کے دیگر آیات کا ذکر نہیں آتا تو کیا اس کا

ا جب اناجیل سے یہ حوالے دکھائے گئے تھے تو آپ سب کے منہ پر مہر لگ گئی تھی۔

صفحہ ٢٥٦

یہ نتیجہ نکلنا چاہئے کہ جتنی آیات احادیث میں مذکور ہیں۔ قرآن شریف اتنا ہی ہے۔ اگر یہ نتیجہ درست ہے۔ تو ان چند آیات کے سوا جو دیگر ہزاروں آیات ہیں۔ ان کو آیت کہاں سے اور کس دلیل سے قرآن قرار دیں گے؟۔ مثلاً حدیث میں آیا کہ آنحضرت ﷺ بعض وقت جمعہ کے خطبے میں اور عیدین اور فجر کی نماز میں سورہ ق والقرآن المجید بھی پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح عیدین کی نماز میں بعض وقت سورہ ق ، سورہ قمر اور بعض وقت سورہ سبح اسم ربك الاعلى اور هل أتك حديث الغاشیة بھی پڑھا کرتے تھے اور جمعہ کے روز فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں الم سجدہ اور دوسری میں سورہ دھر پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح دیگر نمازوں میں دیگر سورتوں کا بھی ذکر ہے تو کیا آپ ان سورتوں کی آیات احادیث سے ثابت کر سکتے ہیں؟۔ اگر نہیں کر سکتے اور یقیناً نہیں کر سکیں گے تو پھر ان سورتوں کی آیات کہاں سے حاصل کریں گے؟۔ جہاں سے حاصل کر سکنے کی بابت آپ کہیں گے۔ وہاں سے سورہ بینہ میں وہ الفاظ جن کو آپ آیات قرار دیتے ہیں۔ دکھا دیں تو ہم تسلیم کر جائیں گے کہ واقعی آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ کو قرآن شریف کی آیات قرار دے کر پڑھا تھا۔

آپ میرے قدیمی دوست ہیں اور حافظ قرآن نہیں ہیں۔ اس لئے میں آپ کو اس مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ قرآن شریف کی قرآنیت کا ثبوت کس بات پر ہے۔ لہذا اس مشکل کو آپ کی پاس خاطر سے میں خود ہی حل کر دیتا ہوں۔ اس کے لئے سب سے پہلے قرآن شریف کی تعریف نظر میں رکھیں جو یہ ہے۔

”القرآن كتاب الله المنزل على محمدﷺ المكتوب فى الصحف المحفوظ فى الصدور المقروء على الالسنة المنقول عنه نقلاً متواتراً لا شبهة فيه “ اس تعریف میں جس قدر قیود ہیں وہ سب قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں۔ مگر ہم اس وقت صرف قید تواتر و بلاشبہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے مقصود کو زیادہ تر تعلق اسی سے ہے۔

سو اس کا بیان اس طرح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بحکم آیت ”يايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك (مائده:٦٧)“ اور ”بموجب آیت ويعلمهم الكتب والحكمة

٦

صفحہ ٢٥٧

حادیث میں مذکور ہیں۔ قرآن شریف اتنا ہی ہے۔ اگر یہ نتیجہ لے سوا جو دیگر ہزاروں آیات ہیں۔ ان کو آپ کہاں سے اور کسی مثلاً حدیث میں آیا کہ آنحضرت ﷺ بعض وقت جمعہ کے خطبے سورہ ق والقرآن المجید بھی پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح سورہ ق، سورہ قمر اور بعض وقت سورہ سبح اسم ث الغاشیۃ بھی پڑھا کرتے تھے اور جمعہ کے روز فجر کی نماز میں ر دوسری میں سورہ دھر پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح دیگر کر ہے تو کیا آپ ان سورتوں کی آیات احادیث سے ثابت کر ٹھا نہیں کر سکیں گے تو پھر ان سورتوں کی آیات کہاں سے حاصل رسکنے کی بابت آپ کہیں گے۔ وہاں سے سورہ بینہ میں وہ الفاظ دکھا دیں تو ہم تسلیم کر جائیں گے کہ واقعی آنحضرت ﷺ نے قرار دے کر پڑھا تھا۔ ست ہیں اور حافظ قرآن نہیں ہیں۔ اس لئے میں آپ کو اس شریف کی قرآنیّت کا ثبوت کس بات پر ہے۔ لہذا اس مشکل کو حل کر دیتا ہوں۔ اس کے لئے سب سے پہلے قرآن شریف کی

نہ المنزل علیٰ محمد ﷺ المکتوب فی الصحف قر وعلیٰ الالسنۃ المنقول عنہ نقلاً متواتراً لا بقدر قیود ہیں وہ سب قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں۔ مگر ہم تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے مقصود کو زیادہ تر تعلق

ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بحکم آیت ”یاایھا الرسول بلغ ٦٧) “ اور بموجب آیت ويعلمهم الکتب والحكمة

٦

ہزارہا صحابہؓ کو قرآن شریف کی تبلیغ میں پڑھ کر سنایا اور سبقاً پڑھایا لکھایا اور احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نزول قرآن کے وقت اپنے بعض کاتبین قرآن کو جو مقرر تھے بلوا کر آیات منزلہ لکھوا دیا کرتے تھے اور ان کا موقع محل بھی بتا دیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج٢ ص ٧٤٦، باب كاتب النبىّ وسنن ابی دائود) علاوہ بریں یہ کہ آپ نے ہزار ہا صحابہؓ کو پڑھ کر سنایا اور سکھایا۔ اس کے علاوہ خود روزانہ منزل کے طور پر تلاوت بھی کرتے تھے۔ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے۔ خطبوں میں بھی قرآن پڑھ کر وعظ فرماتے تھے۔ سونے کے وقت بسترے پر کئی ایک بڑی بڑی لمبی سورتیں پڑھ کر سوتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے صدہا صحابہؓ کو قرآن حفظ کرایا۔ جن کی صحیح تعداد صرف خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ چاہ معونہ پر جن حفاظ قرآن کو مشرکین نے قتل کر ڈالا تھا۔

(بخاری ج ٢ ص ٥٨٦)

فتح الباری اور عمدۃ القاری میں ان کے علاوہ اٹھائیس حفاظ صحابہؓ کے اسماء ذکر کئے ہیں اور عمدۃ القاری میں اس کے بعد کہا ہے کہ : ”وقد ظھر من ھذا ان الذین جمعوا القرآن على عهده ﷺ لا یحصیھم احد ولا یضبطھم عدد “ کہ اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ کے عہد میں قرآن مجید حفظ تھا۔ ان کو کوئی گن نہیں سکتا اور نہ کوئی خاص عدد ان کو ضبط کر سکتا ہے۔

آنحضرت ﷺ کے بعد صحابہؓ نے بھی قرآن شریف کو محفوظ رکھنے کے وسائل وہی جاری رکھے۔ جن کی بنیاد وہ رسول اللہ ﷺ قائم کر گئے تھے۔ یعنی خود حفظ کرنے کے بعد اپنی اولاد کو حفظ کروایا اور ان نوشتوں سے جو آنحضرت ﷺ اپنے مبارک عہد میں لکھوا گئے تھے۔ نقل کروا کر چار دانگ عالم میں پھیلا دیا اور ان کے بعد تابعین نے بھی اس سنت کو قائم رکھا اور ان کے بعد عھد بعھد الى یومنا ھذا مسلمانوں کا یہی دستور چلا آیا ہے۔

اس تفصیل سے ظاہر ہو گیا کہ قرآن شریف نبی ﷺ سے بتواتر نقل ثابت ہے۔ پس جن الفاظ میں تواتر نہ پایا جائے۔ وہ جزو قرآن نہیں ہیں۔

نور الانوار میں ملا احمد استاد حضرت اورنگزیب عالمگیرؒ نے نقلاً متواتراً بلاشبہ کی شرح میں فرمایا کہ : ”واحترز بقوله متواتراً عما نقل بطریق الآحاد كقراءة ابی فی قضاء رمضان فعدة من ایام اخر متتابعات وعما نقل بطریق الشھرة كقراءة ابن

صفحہ ٢٥٨

مسعود في حد السرقة فاقطعوا ايمانها وفى كفارة اليمين فصيام ثلثة ايام متتابعات وقوله بلاشبة تاكيد على مذهب الجمهور لان كل مايكون متواترا يكون بلاشبهة وعند الخصاف هو احتراز عن المشهور لان المشهور عنده قسم من المتواتر لكن مع شبهة وهذا كله على تقدير ان يكون اللام في المصاحف للجنس واما اذا كان للعهد فتخرج القراءة الغير المتواترة كلها بقوله في المصاحف ويكون قوله المنقول عنه الى اخره بياناً للواقع (ص٩)

پس اگر آپ حضرت ابیؓ والی روایت سے یہ سمجھے ہیں کہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ نے یہ عبارت ١؎ یعنی ان الدين عند الله الحنفية المسلمة ولا اليهودية ولا النصرانية ...... الخ! "باوجود قرآن شریف میں نازل ہونے کے قرآن کی آیت قرار دے کر پڑھی تھی تو آپ آنحضرت ﷺ کی زبان پاک سے ثابت کردیں کہ آپؐ نے اسے قرآن شریف کی آیت قرار دیا تھا۔ صاحب من! یہ آنحضرت ﷺ پر سراسر بہتان وافتراء ہے۔ نہ آنحضرت ﷺ نے اسے قرآن کا جزو قرار دیا۔ نہ حسب تفصیل بالا کاتبین کو قرآنی مثل میں تحریر میں لانے کا حکم کیا۔ نہ صحابہؓ کو سکھائی اور نہ حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں ان پاک فرشتوں کے نقل کرنے میں جو آنحضرت ﷺ خود لکھوا گئے تھے۔ یہ عبارت پائی گئی اور نہ کسی دیگر حافظ صحابی نے ہزارہا حفاظ میں سے سوائے حضرت ابیؓ کے اسے روایت کیا تو اس کا تواتر کہاں ثابت ہوا؟۔ کیا صرف ایک شخص کے لفظ قرء سے آپ ان الفاظ کی قرآنیت ثابت سمجھتے ہیں؟۔ اگر ایسا سمجھتے ہیں تو ملا احمد مرحوم کی عبارت مذکور الفوق کا پھر مطالعہ کریں۔

اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بعض وقت تفسیری نوٹ بھی فرماتے تھے۔ کیونکہ جس طرح تبلیغ الفاظ قرآن آپ کا ذمہ ہے۔ اسی طرح بیان مقاصد قرآن بھی آپ ہی کا ذمہ ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ: "وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس مانزل اليهم (نحل: ٤٤) " اور جیسے کہ حدیث خطبہ جمعہ میں آیا ہے کہ: "يقرء القرآن ويذكر الناس (مسلم ج ١ ص ٢٨٣ ، كتاب الجمعة) " یعنی آپؐ خطبہ جمعہ میں قرآن شریف بھی پڑھا کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ بھی کرتے تھے۔ پس اس طرح سورت بینہ کی قرأت کے وقت آپ نے مخلصین له

١؎ مطابق تحریر ٹریکٹ مرزائیہ ص ٢۔

صفحہ ٢٥٩

الدین حنفاء کی تفسیر میں یہ بھی فرما دیا کہ خدا کا دین وہ ہے جو حنیفی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے قائم شدہ ہے اور اس میں سب غیر اللہ سے بیزاری ہے۔ یہودیت اور نصرانیت بصورت موجودہ خدا کا دین نہیں ہے۔

چونکہ الفاظِ قرآن اور بیان مقاصدِ قرآن ہر دو ایک ہی زبانِ پاک سے صادر ہوتے تھے اور ایک ہی زبانِ عربی میں ہوتے تھے۔ اس لئے اگر کسی سامع کو الفاظِ قرآن اور آپ کے تفسیری بیان میں بوجہ مشابہت مضمون والفاظ اشتباہ پڑ جائے تو یہ اس کی اپنی سمجھ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ اقدس اس سے بری ہے۔ اس کی مثالیں کتب حدیث میں بہت ہیں اور بعض صحابہؓ سے بعض الفاظ ایسے منقول ہیں۔ جن سے وہم پڑ سکتا ہے کہ وہ قرآن کا جزو سمجھے جاتے تھے۔ ان کی حقیقت بس یہی ہے کہ وہ احادیث کی عبارتیں ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ نے کسی آیت قرآنی کی تفسیر فرمائیں اور کسی نے ان کو اس اشتباہ سے جو اوپر مذکور ہوا۔ ان الفاظ کو آیت قرآنی سمجھ لیا۔ چنانچہ (صحیح بخاری ج٢ ص٩٥٢) میں حدیث لوکان لابن آدم الخ کے آخر میں ہے کہ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ: ”کنا نری ھذا من القرآن حتٰی نزلت الھکم التکاثر (بخاری ج٢ ص٩٥٣، کتاب الرقاق) ”ہم اسے قرآن میں سے گمان کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سورت الھکم التکاثر۔

اس مقام پر حضرت انسؓ نے بتا دیا کہ پہلے ہمارا گمان ایسا تھا۔ لیکن پیچھے نہ رہا۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ: ”فلما نزلت ھذہ السورة وتضمنت معنی ذلک مع الزيادة علیہ علموا ان الحدیث من کلامہ ﷺ والذی لیس قرآناً (مطبوعہ مصر ج٩ ص٢٤٠) ”جب یہ سورت اتری اور اس میں یہی مضمون مع کچھ زیادتی کے آ گیا۔ تو صحابہؓ نے جان لیا کہ یہ آنحضرت ﷺ کے کلام سے ایک حدیث ہے اور قرآن نہیں ہے۔

فتح الباری میں بھی اس طرح ہے اور اسی کو اولیٰ کہا ہے۔ فافہم وتدبر، آنحضرت ﷺ کے علاوہ صحابہؓ کی نسبت بھی ایسی بہت سی روایتیں ہیں کہ انہوں نے بعض الفاظِ قرآن کی تشریح وتوضیح میں کوئی دوسرا لفظ کہا تو وہ بھی ایک قرأت سمجھی گئی۔ یا کسی مسئلہ فقہی والی آیت کو نظر بر دیگر دلائل کسی قید سے مقید کیا۔ تو اسے بھی ایک قرأت سمجھا گیا اور یہ باتیں صرف فقہائے صحابہؓ کی

١؎ حضرت ابیؓ کے نمبر ٢ جواب میں بھی ان الفاظ کا ذکر ہے۔

٩

صفحہ ٢٦٠

روایات میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حضرت ابی اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور ام المومنین حضرت عائشہؓ ۔ چنانچہ ائمہ مرحومین عبارت مذکورہ فوق میں جن الفاظ کو قرأت سمجھا گیا ہے۔ ان کی حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے محض تفسیر اور حل مسئلہ کے متعلق وہ الفاظ ذکر کئے ہیں۔ یہی حقیقت حضرت عائشہؓ کی خمس رضعات والی روایت کی ہے اور بس۔

اس ساری تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ ہمارے قدیمی دوست مولوی غلام رسول قادیانی نے جناب مرزا قادیانی کے ڈیفینس میں جو روایات ذکر کی ہیں۔ وہ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے اور نہ اس بات کو سمجھ سکے ہیں کہ مرزا قادیانی والی غلط آیات کو ان روایات سے کوئی بھی تعلق نہیں دعویٰ اور دلیل میں مطابقت جاننا علم منطق سے ہوتا ہے اور ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے قدیمی دوست مولوی غلام رسول علم منطق سے مرزا قادیانی کی طرح مطلقاً کورے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی باوجود خود منطق نہ جاننے کے تھوڑی سی منطق دانی کو ضروری جانتے تھے۔

ان روایات کے علاوہ آپ نے دوسرا عذر مرزا قادیانی کی غلط آیات کی بابت یہ کیا ہے کہ کاتب کی غلط نویسی ہے۔ صاحب من! اس کی نسبت تو میں نے پہلے ہی صاف صاف لکھ دیا تھا کہ ان اغلاط میں کاتب کی غلطی کا عذر صحیح نہیں ہوگا۔ کیونکہ اوّل تو بعض آیات مرزا قادیانی نے متعدد جگہ اسی طرح لکھی ہیں۔ کاتب ہر جگہ پر عین وہی غلط الفاظ نہیں لکھا کرتا۔ دیگر اس لئے کہ مرزا قادیانی نے جو ترجمہ خود لکھا ہے وہ عربی عبارت محررہ کے مطابق ہے۔ کیا اسے بھی کاتب نے بدل ڈالا۔ اس کا جواب آپ نے کیا دیا؟۔ صرف یہ کہ جن عذروں کا جو آپ کرنے والے تھے۔ میں نے خود ذکر کر کے ان کے جواب بھی لکھ دیئے تھے۔ آپ نے دوبارہ ان کو دھرا دیا اور آپ نے جو یہ عذر کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنی کتب میں فرمایا ہے کہ بوجہ عجلت نظر ثانی ان سے نہیں کی جاسکی اور پروف غور سے نہیں پڑھے گئے۔ اس کا جواب کئی طرح پر ہے۔

اول یہ کہ محاورہ ”نظر ثانی ان سے نہیں کی جاسکی“ کے سمجھنے سے میں قاصر ہوں کہ لفظ ”سے“ کے یہاں کیا معنی ہیں؟۔ دوم یہ کہ آپ نے اس عبارت کا حوالہ نہیں لکھا، اخیر میں صرف اتنا لکھ دیا ہے۔ (ملخص)

کیا ملخص مرزا قادیانی کی کتاب کا نام ہے؟۔ اگر ہے تو اس کا نمبر صفحہ لکھیں اور اگر نہیں ہے اور آپ نے خود اس ساری عبارت کا خلاصہ کیا ہے تو آپ کی عادت سے واقف ہوتے ہوئے میں آپ کے ملخص کا اعتبار نہیں کر سکتا۔ اصل کتاب کا نام درج کر کے نمبر صفحہ بھی لکھیں۔

صفحہ ٢٦١

سوم یہ کہ ان اغلاط کا جو عذر مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی کو لوگوں کی روک ٹوک سے معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے قرآن شریف صحیح یاد نہیں ہے اور میری کتابوں میں بہت سی آیات غلط لکھی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تلاوت قرآن مجید کی مزاولت نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے جاہلوں کو پرچانے کے لئے پیش بندی کے طور پر لکھ دیا کہ بوجہ عجلت کے نظر ثانی نہیں کی جاسکی اور پروف غور سے نہیں پڑھے گئے۔ چہارم یہ کہ اس عذر سے بھی مرزا قادیانی کی خلاصی نہیں ہوتی۔ کیونکہ کاتب نے متعدد جگہ جو ایک ہی عبارت لکھی تو از خود نہیں لکھی۔ بلکہ اسی صورت میں لکھی کہ مصنف نے اس ان مواقع پر اسی طرح لکھا تھا۔ کیونکہ کاتب متعدد جگہ ایک دوسری زبان کی عبارت از خود بنا کر نہیں لکھ سکتا۔ دیگر اس لئے کہ بعض غلط آیات ایسی ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی مختلف کتابوں میں ایک ہی طرح پر پائی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان کے کاتب اور سال طبع اور مطابع مختلف ہیں۔ تو اگر وہ سہو کاتب سے غلط لکھی گئیں تو کیا ان کاتبوں نے باوجود اس کے کہ وہ ایک دوسرے سے الگ زمانے میں اور الگ مقام پر لکھتے رہے۔ کہیں ایک جا بیٹھ کر مشورہ کر لیا تھا کہ مرزا قادیانی کی تصانیف میں ہم از خود غلط آیات لکھ کر بدنامی ان کے سر جڑ دیں۔ مولوی صاحب! مرزا قادیانی تو صاحب غرض تھے۔ انہوں نے تو ایسا لکھ دیا لیکن آپ کو تو چاہیے کہ مرزا قادیانی کی بات کو دانش اور تجربہ کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور پھر دہن مبارک یا قلم مبارک سے نکالیں۔ اچھا میں فیصلہ کی ایک سہل تجویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اسے منظور فرمائیں گے۔ وہ یہ کہ کاتبوں اور مصنفوں کی ایک مجلس قائم کریں اور ان کے سامنے اس امر کو رکھا جائے۔ میں اپنے دلائل بیان کروں گا کہ اس قسم کے اغلاط مصنف کی غلط نویسی سے ہوتے ہیں۔ آپ ان کا جواب دیں۔ پھر میں ان کا جواب الجواب دوں گا اور فیصلہ منصفین کی کثرت رائے پر ہوگا۔ بس روزمرہ کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔

آپ نے یہ بھی ارقام فرمایا ہے کہ مولوی صاحب نے یعنی اس عاجز محمد ابراہیم میر نے صرف سات غلطیوں پر اکتفاء کی ہے۔ جناب والا! مرزا قادیانی آنجہانی نے صرف سات غلط آیات نہیں لکھیں۔ بلکہ میرے پاس جو انتخاب ہے۔ وہ پچاس اور دس یعنی ساٹھ غلط آیات پر مشتمل ہے۔ جو تھوڑی تعداد میں شائع ہوتی رہیں گی اور کیا جانیں کہ کسی اور مقام سے کوئی اور ایسی آیت بھی معلوم ہو جائے جو غلط ہو۔

اور یہ جو آپ نے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے انہی آیات کو بعض دیگر تصانیف میں صحیح

صفحہ ٢٦٢

طور پر لکھا ہے۔ اس میں بھی آپ نے خلق خدا کی آنکھوں میں خاک ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ دیگر ہو سکتی ہیں۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی نے پہلی تصانیف میں غلط لکھیں۔ دوسری تصنیف کے وقت تک کسی نے مرزا قادیانی کو غلطی پر متنبہ کر دیا تو مرزا قادیانی نے تحریف یا غلط یا دھوکے کے الزام کو دور کرنے کے لئے اس کی اصلاح کر کے اپنی غلط نویسی کو بیگناہ کے سر مڑھ دیا۔ دوم یہ کہ بعض کتابیں جو مرزا قادیانی کے وقت میں چھپیں ان میں تو مرزا قادیانی ہی کے بیاض کی نقل سے غلط آیات لکھی گئیں۔ لیکن جب مرزا قادیانی کی وفات کے بعد وہ کتاب دوبارہ یا سہ بارہ چھپی تو کسی مصحح نے ان کو صحیح کر دیا۔ تا کہ اگر مرزا قادیانی پر اعتراض کریں تو ان کو جدید الطبع کتابیں دکھا کر سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا کیا جاسکے۔ جناب یہ کھیل آپ کے روزمرہ کے ہیں اور واقف کار لوگ اسے خوب جانتے ہیں۔ چنانچہ ہم انشاء اللہ کسی موقع پر ایسی آیات بھی لکھیں گے۔ جو مرزا قادیانی کے بیاض سے نقل کی ہوئی کتابوں میں تو غلط لکھی ہوئی ہیں۔ لیکن ان کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ کسی غیر کی اس تصحیح سے مرزا قادیانی پر جو قرآن صحیح نہ جاننے کا الزام ہے دور نہیں ہو سکتا۔

ہاں یہ تو بتائیے کہ ہماری کھلی چٹھی میں نمبر اوّل پر جو غلط آیت آئینہ کمالات کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے۔ اس کو کیوں چھوڑ گئے۔ جواب میں اسے کیوں ظاہر نہیں کیا اور اس کی نسبت بھی سہو کاتب کا عذر کیوں نہیں کیا۔ اب ہی بتا دیجئے کہ اس میں بھی سہو کاتب ہے۔ اس کا صحت نامہ تو اس کے ساتھ ہی چھپا ہوا ہے۔ اس میں تو اس آیت یعنی ”یایھا الذین آمنوا ان تتقوا اللہ“ کو بھی شمار کیا ہوا ہے۔ اس میں تو آپ کو اچھا خاصہ کیا کرایا عذر مل سکتا تھا۔ اسے کیوں چھوڑ دیا۔ مولوی صاحب میں آپ کو اپنی قدیمی دوستی کے حق پر کہتا ہوں کہ ضمیر کی آواز کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے کہ آپ کو اندر سے آواز آ رہی ہے کہ اس غلط آیت میں اس کے باوجود صحت نامہ میں درج ہونے کے اور مرزا قادیانی کی آنکھوں کے سامنے اس صحت نامہ کے تیار ہونے کے اور اصل کتاب کے ساتھ ہی شامل ہو کر کتاب کے شائع ہونے کے سہو کاتب کا عذر نہیں ہو سکتا۔ پس خدا سے ڈریئے اور حق گوئی کی جرأت کر کے صاف الفاظ میں اعلان کر دیجئے کہ ہاں واقعی! یہ آیت مرزا قادیانی کو اسی طرح یاد تھی اور آپ اسے قرآن مجید کی آیت جانتے رہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اس ترتیب سے جس سے مرزا قادیانی نے لکھی ہے موجود نہیں ہے۔

اور میری کھلی چٹھی میں نمبر ٤ پر اور آپ جواب ناصواب میں نمبر ٤ پر جو غلط آیت ”یوم

١٢

صفحہ ٢٦٣

ياتي ربك في ظلل من الغمام " (بحوالہ حقیقت الوحی ص ١٥٤) لکھی۔ اس کے جواب میں تو آپ نے کمال کر دکھایا۔ جو یہ لکھا کہ مرزا قادیانی نے نہیں لکھا کہ یہ قرآن مجید کی آیت ہے۔ (ص ٣) جناب ! کسی عبارت کو قرآن مجید کی طرف نسبت کرنے کے لئے صرف یہی الفاظ رجسٹری شدہ نہیں ہیں کہ کسی آیت کی تلاوت یا تحریر کے ساتھ لفظ قرآن مجید ہی لکھا جائے۔ بلکہ کسی عبارت کو جزو قرآن قرار دینے کے لئے کئی الفاظ ہیں۔ جن میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ یوں لکھا جائے کہ خدا فرماتا ہے کہ: لیجئے جناب مرزا قادیانی نے بھی یہی لفظ لکھے ہیں۔

(دیکھو حقیقت الوحی ص ١٥٤ سطر ٨، ٩، ١٢)

(نوٹ اب قادیانیوں نے آیات کی خزائن میں تصحیح کر کے پہلے کے تمام قادیانی مناظرین کے تمام عذرات پر سیاہی مل دی کہ وہ سب جھوٹ بولتے رہے۔ نیز خزائن میں آیات کی تصحیح کی مگر ترجمہ کو نہیں بدلا۔ اللہ تعالیٰ کی شان کہ مرزا کی جہالت و تحریف قرآنی قادیانیوں کی موجودہ تصحیح کے باوجود بھی موجود ہے کہ وہ محرف قرآن تھا۔ فقیر مرتب ١٢ شوال ١٣٦٧ھ )

اور میری کھلی چٹھی کی ترتیب میں نمبر ٥ اور آپ کے جواب ناصواب کی ترتیب سے نمبر ٦ پر جو آیت بحوالہ حقیقت الوحی ص ١٣٠ لکھی ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے بھی آپ نے لوگوں کی نظر میں خاک ڈالنے کی کوشش بے کار کی ہے۔ جناب والا! اگر کاتب نے غلطی سے عربی عبارت غلط لکھی تھی تو کیا اس عبارت کے مطابق اردو ترجمہ جو اس عبارت کا صحیح ترجمہ ہے۔ وہ بھی کاتب نے بنالیا تھا۔ جناب! کچھ تو غور فرمایا کریں اور آپ کا یہ کہنا کہ ترجمہ میں جہنم کا لفظ ہے۔ یہ عذر بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس جگہ نار سے جہنم ہی مراد ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی نے نار کا ترجمہ جہنم لکھا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کی یاد میں اس جگہ لفظ بھی جہنم کا تھا۔ کیونکہ عبارت يدخله ناراً خالداً فيها کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں کیا ہے۔ خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا۔ اگر مرزا قادیانی کے بیاض میں یوں لکھا ہوتا " فان لہ نار جہنم جو صحیح ہے۔ تو اس کا ترجمہ مرزا قادیانی کے قلم سے یوں لکھا ہوا ہونا چاہئے تھا۔ پس واسطے اس کے یا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے یا ہوگی۔ نہ کہ یہ داخل کرے گا۔ اسے جہنم میں صاف ظاہر ہے کہ یہ ترجمہ اسی بے جا آیت کا ہو سکتا ہے۔ نہ کہ صحیح آیت کا۔

باقی رہا آپ کا قصیدۂ عربیہ کے جواب کا مطالبہ۔ سو اس کی نسبت یہ گزارش ہے کہ اس کے لئے جلدی نہ مچائیے ہر امر اپنے وقت پر اور اپنی ترتیب پر مناسب ہوتا ہے۔ انشاء اللہ عنقریب

١٣

صفحہ ٢٦٤

اس کی عروضی اور نحوی اغلاط شائع کر کے اور اس کے مقابلہ میں فصیح زبان میں اور مطابق قواعد قصیدہ پیش کر کے آپ کو ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔ لیکن آپ کا مقصود یہ ہے کہ خلط مبحث کر کے لوگوں کے اذہان اس طرف لگا دیئے جائیں کہ میدان مشاعرہ میں کون بڑھ کر ہے۔ یہ عاجز محمد ابراہیم یا مولوی غلام رسول قادیانی۔ کیونکہ اصل مبحث یہ ہے کہ مرزا قادیانی کثرت سے غلط آیات لکھتے تھے۔ یا تو بہ نیت تحریف، یا بوجہ صحیح یاد نہ ہونے کے سو آپ کے علامہ تحتانی ہونے سے مرزا قادیانی کی تحریف کردہ یا غلط تحریر کردہ آیات صحیح نہیں ہو جائیں گی۔

دیگر یہ کہ آپ نے اپنے ”جواب ناصواب“ کے صفحہ ٤ میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے تحریر کروایا ہے۔

”اب آسان طریق فیصلہ یہ ہے کہ آپ القصیدۃ العربیۃ کا جواب تحریر کر کے دنیا کو بتادیں کہ آپ حق پر ہیں۔“ اگر آپ کا یہ طریق فیصلہ درست ہے تو بتائیے۔ اگر اسی طرح حضرت لبید بن ربیعہ شاعر یا حضرت حسانؓ شاعر ایک ایک قصیدہ لکھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر کے کہتے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو ہمارے مقابلہ میں قصیدہ لکھیں جو کچھ جواب آنحضرت ﷺ دیتے یا آپ خود آنحضرت ﷺ کی طرف سے درست تجویز کریں۔ وہی آپ اپنے قصیدہ کے جواب میں تصور فرمائیں۔

مولانا! (غلام رسول قادیانی) سچ سمجھئے کہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت اور آپ لوگوں کی ایسی ایسی تحریرات سے مسلمانوں کو کامل یقین ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوے اور آپ لوگوں کی غلط حمایت کا لازمی نتیجہ آنحضرت ﷺ کی نبوت حقہ میں شکوک وشبہات کا پیدا کرنا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کا یہ مطالبہ کہ میری سچائی آپ کے قصیدہ کا جواب لکھنے پر منحصر ہے۔ لوگوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ شاعرانہ قابلیت ہی حقانیت کی دلیل ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ شاعر نہ تھے۔ اس لئے معاذ اللہ (خاک ان منہوں میں جو اس طریق مقابلہ کو فیصلہ کن سمجھیں)

بس خوب یاد رکھئے کہ قادیانی نبوت کی دھجیاں اڑانی اور اس کا تار و پود الگ الگ کر کے دکھانا ہمارا اصل مقصود ہے اور ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے اور نہ دوسروں کو بھولنے دیں گے۔ اس لئے خدا کے فضل سے ہم سب کچھ باقاعدہ کریں گے، بے قاعدہ نہیں چلیں گے۔

محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ...... از مقام امرتسر ! ١٠؍ اکتوبر ١٩٣٨ء

١٤

PDF 265

انا خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

تردید مغالطات

مرزائیہ نمبر ٢

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ؒ

صفحہ ٢٦٦

”الحمد لله ذی المجد والثناء والصلوة والسلام علی رسولہ محمد آخر الانبیاء وعلی الہ اھل الکساء واصحابہ الاصفیاء وعلی تابعیہم الاتقیاء“

ومسیحیت اور نبوت کی تردید میں علمائے اسلام کم و بیش ایک ماہ سے متواتر تقریریں فرما رہے ہیں۔ لیکن مرزائیوں نے ان باتوں کے جواب سے اعراض کر کے یہ دستور اختیار کر رکھا ہے کہ ان اعتراضوں کے جواب کی طرف مطلقاً رخ نہیں کرتے۔ بلکہ نہایت گہری چال سے ہر روز کوئی نہ کوئی اشتہار یا ٹریکٹ شائع کرتے رہتے ہیں۔ جن کے عنوان تو مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن مضمون قریباً ایک ہی ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ان پر لازم ہے کہ ان اعتراضات اور الزامات کا جواب دیں۔ جو علمائے اسلام مرزا قادیانی کے ان دعاوی پر وارد کرتے ہیں۔ کیونکہ مذکور الفوق دعاوی کے لئے سب سے پہلی شرط صحت اعتقاد صدق احوال اور کفر و بدعت اور کذب و خیانت سے بری ہونا ہے۔ جب مرزا قادیانی قرآن وحدیث کی رو سے صحیح الاعتقاد اور صادق الاحوال نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی ضد کفر و شرک اور کذب و خیانت سے موصوف ہیں۔ تو وہ اپنے دعاوی میں کیسے صادق ٹھہر سکتے ہیں۔

کے ان اشتہارات کے تحریری جوابات بھی ہونے چاہئیں۔ تا کہ لوگ فرصت کے وقت مقابلتاً مرزائیوں کے ان اشتہاری مغالطوں کا صحیح جواب پا کر مرزائیوں کی فریب کاری کو سمجھ سکیں۔

کل ١٩؍ ستمبر ١٩٥٢ء کو ایک دوست نے ہمیں امت مرزائیہ کے شائع کردہ دو اشتہار دیئے۔ ان میں سے ایک میں یہ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے فرزند حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر فرمایا تھا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا اور دوسرا عنوان آخری مسجد ہے۔ جس میں یہ مذکور ہے کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔ اس اشتہار میں یہ حاشیہ آرائی کی گئی ہے کہ کیا مسجد نبوی کے بعد دنیا میں کوئی مسجد نہیں بنائی گئی؟۔

ان دونوں اشتہاروں کا جواب میں نے خطبہ جمعہ ١٩؍ ستمبر ١٩٥٢ء میں سامعین کو سنا دیا کہ یہ ہر دو امر وہ ہیں۔ جو مرزائیوں کی طرف سے جون ١٩٣٣ء کے مباحثہ میں بمیدان قلعہ

٢

صفحہ ٢٧

سیالکوٹ مرزائی مولوی محمد سلیم نے بیان کئے تھے اور ان کے شافی اور مفصل جوابات اس عاجز ( محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ) نے اس وقت رو در رو مسلمانوں کے پانچ سات ہزار کے مجمع میں ایسے دئے تھے کہ مولوی محمد سلیم کو جواب کی سکت نہ رہی تھی۔ سیالکوٹ کے وہ چاروں مناظرات جو دو دن تک ہوتے رہے تھے۔ ان کی روئیداد انہی ایام میں حرف بہ حرف بصورت رسالہ بنام کشف الحقائق شائع کر دی گئی تھی۔ بیس سال کا عرصہ ہونے کو ہے۔ مگر آج تک امت مرزائیہ کی طرف سے اس رسالہ کا کوئی جواب شائع نہیں ہوا۔ حیرانی ہے کہ قادیانی لوگوں میں کتنی جرات ہے۔ کیا ان کو یاد نہیں کہ یہ وہی شہر سیالکوٹ ہے۔ جہاں سے ان کو ان باتوں کا مفصل اور مدلل جواب مل چکا ہے اور جواب دینے والا بھی خدا کے فضل سے تا حال زندہ و سلامت ہے۔ اس حقیقت کو سن کر سامعین جمعہ بہت خوش ہوئے اور بعض احباب نے مجھے توجہ دلائی کہ ان ہر دو اشتہاروں کا جواب اسی کتاب کشف الحقائق میں سے نقل کر کے دوبارہ شائع کر دیا جائے تا کہ وہ احباب بھی جو انقلاب حکومت کے سبب بیرونجات سے سیالکوٹ میں آکر سکونت پذیر ہو چکے ہیں۔ نیز وہ نوجوان جو اس وقت بچے تھے یا ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور اب وہ جوان ہیں۔ اس مباحثہ کی کیفیت سے واقف ہو جائیں۔ مولوی محمد سلیم صاحب قادیانی نے مباحثہ جون ١٩٣٣ء میں اجرائے نبوت کے جو دلائل برخلاف اصول مناظرہ بیان کئے تھے۔ ان میں پانچویں دلیل یہ تھی۔

پانچویں دلیل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا فرزند ابراہیم فوت ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ”لوعاش (ابراهيم) لكان صديقاً نبياً“ یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔

(ابن ماجہ ص ١٠٨)

اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ ایسا نہ فرماتے اور مولانا صاحب سیالکوٹی نے جو فرمایا کہ خاتم کے معنی آخری ہیں۔ ہم کو مسلم ہیں۔ لیکن آخر بھی تو عربی لفظ ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی نہ ہو۔ دیکھئے حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”فانی آخر الانبیاء وان مسجدی آخر المساجد “ یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔

(مسلم ج ١ ص ٢٧٦)

پس جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد مسجدیں بننی بند نہیں ہو گئیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت بھی بند نہیں ہو گئی۔

(از تقریر مولوی محمد سلیم قادیانی مندرجہ کشف الحقائق ص ١١٤، ١١٥ مطبوعہ ثنائی پریس امرتسر جون ١٩٣٣ء)

اس کا جواب جو میں اس مجلس میں بالمشافہہ دیا تھا۔ وہ کشف الحقائق ص ١٢٥ سے ١٢٨ تک یوں مرقوم ہے اور مولوی محمد سلیم قادیانی نے پانچویں دلیل میں جو حدیث ”لو عـــاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً“ پیش کی ہے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ ابن ماجہ کے

٣

صفحہ ٢٦٨

حاشیہ ہی پر لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی (ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی ص ١٠٨) متروک الحدیث ہے۔

نوٹ! صحیح الفاظ جو آنحضرت ﷺ کے فرزند کی وفات کے متعلق منقول ہیں یہ ہیں۔ ”لوقضى ان يكون بعد محمد ﷺ نبی عاش ابنه ولكن لا نبی بعده“ یعنی اگر خدا کی قضاء میں یہ بات ہوتی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا بیٹا (ابراہیم) زندہ رہتا۔ لیکن آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ حدیث صحیح (بخاری ج ٢ ص ٩١٤) میں بھی ہے اور (ابن ماجہ ص ١٠٨) میں بھی اوپر کی حدیث سے پہلے مکتوب ہے۔ لیکن مولوی محمد سلیم صاحب کو یا تو نظر نہیں آئی یا انہوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا اور صحیح روایت کو چھوڑ کر ضعیف کو بیان کر دیا ہے۔ نیز اسی کے ہم معنی الفاظ امام بغویؒ نے آیت خاتم النبیین کے ذیل میں حضرت ابن عباسؓ سے نقل کئے ہیں۔ ”قال ابن عباس يريد لو لم اختم به النبيين لجعلت له ابنا يكون بعده نبياً“ نیز ”ان الله تعالى لما حكم ان لا نبي بعده لم يعطه ولدا ذكراً يصير رجلا (تفسیر معالم التنزیل ج ٣ ص ١٧٨) “ یعنی حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد اس آیت خاتم النبیین سے یہ ہے کہ اگر میں نے اس پر یعنی محمد ﷺ پر نبیوں کو ختم نہ کر دیا ہوتا تو میں اس کا بیٹا ایسا کرتا جو اس کے بعد نبی ہوتا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو آپ کو ایسا کوئی بیٹا نہیں دیا جو بالغ ہوتا۔ (یہ روایتیں صاف بتا رہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔)

اور مولوی محمد سلیم نے خاتم کے معنی آخری مان کر بھی آخری سے مراد آخری نہیں لی۔ بلکہ اس کے لئے بھی المساجد والی حدیث پیش کی ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری ہے۔ جو کسی نبی نے بنائی ہے۔ اس کا مفاد یہ ہے کہ میرے بعد جو بھی مسجد بنے گی وہ کسی نبی کی بنائی ہوئی نہ ہوگی۔ یہ معنے میں نے اپنے پاس سے نہیں کئے۔ بلکہ دوسری حدیث سے کئے ہیں۔ یہ دیکھئے (کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ٣٤٩٩٩ فضل الحرمین) ہے کہ ”انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء “ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔ لیجئے اب تو گھر پورا ہو گیا۔ اس حدیث کے درست نہ سمجھنے سے آپ کو الجھن تھی۔ اب تو وہ بھی صاف ہو گئی اب کیا عذر ہے۔

مرزائیوں کے ٹریکٹ نمبر ٤٧ کا جواب

مرزائیوں نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٤٧ میں ابن ماجہؒ کی اس حدیث کے متعلق جس کا ذکر

صفحہ ٢٦٠

مولوی محمد سلیم صاحب قادیانی کی مذکور الفوق تقریر کے ضمن میں گذر چکا ہے۔ ایک نیا حوالہ تفسیر بیضاوی محشی شہاب خفاجی کی طرف سے یہ دیا ہے۔ اما صحة الحديث فلاشبهة فيها لانه رواه ابن ماجة وغیرہ۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ شہاب خفاجی محدث نہیں ہیں کہ کسی حدیث پر صحت یا ضعف کا حکم لگا سکیں۔ وہ صرف متکلم ہیں۔ جب آئمہ حدیث اس حدیث کے راوی ابراہیم بن عثمان عبسی کی نسبت یہ تصریحات کرتے ہوں کہ وہ ( راوی) متروك الحديث، ضعيف، ليس بثقة، منكر الحديث، ضعيف الحديث، تركوا حديثه، ساقط، ضعيف لا يكتب حديثه، روى مناكير، ليس بالقوى، كذبه شعبة، كان يزيد على كتابه ہے۔ تو اس کے متعلق کسی غیر محدث کو کس طرح حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی صحت کے متعلق حکم دے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (کتاب تہذیب التہذیب جلد اول مصنفہ حافظ ابن حجر ترجمہ ابراہیم بن عثمان )

دوم یہ کہ شہاب خفاجی کا اس حدیث کو اس بناء پر صحیح کہنا کہ وہ سنن ابن ماجہ میں ہے۔ ان کے علم حدیث میں ضعیف النظر ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ امام ابن ماجہ نے اپنی اس کتاب میں امام بخاری و امام مسلم کی طرح صحت کا التزام نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی اس کو صحیحین کا درجہ دیا کہ محض اس میں درج ہونے کی وجہ سے اس کو صحیح مان لیا جائے۔ بلکہ آئمہ حدیث نے تصریح کی ہے کہ ابن ماجہ میں بہت سی ضعیف اور منکر اور بعض موضوع احادیث بھی ہیں۔ اسی بناء پر بعض محدثین نے ابن ماجہ کو صحاح ستہ میں شمار نہیں کیا اور جس نے کیا ہے۔ تغلیباً کیا ہے۔ دیکھئے (مقدمہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی مشمولہ مشکوۃ شریف ص ٧ ) دیکھئے کتاب (اتحاف النبلاء مقدمہ اول ص ٨٩) بلکہ ابن ماجہ مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی کے حواشی پر اس حدیث کو صاف الفاظ میں ضعیف اور اس کے راوی ابراہیم بن عثمان کو متروک لکھا ہے۔ بلکہ نفس متن میں بھی بین السطور اس راوی کے نام کے نیچے لفظ متروک لکھا ہے۔

٣ ......... شہاب خفاجی کا یہ کہنا کہ اس کو ابن ماجہ کے علاوہ اوروں نے بھی روایت کیا ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو شہاب خفاجی نے کسی امام کا نام نہیں لکھا۔ دیگر یہ کہ ابن ماجہ کے سوا جس کسی نے اس حدیث کو روایت کیا۔ آیا اس نے اس راوی ابراہیم بن عثمان کے سوا کسی دیگر ثقہ راوی سے روایت کیا یا اسی ابراہیم بن عثمان کی روایت سے۔ اس کی تخریج کا حوالہ قادیانیوں کے ذمہ ہے۔ جب تک اس حدیث کو با اسناد پیش نہ کیا جائے۔ وہ معرض استدلال میں پیش نہیں ہو سکتی۔ ( کما تقرر فی اصول الحدیث )

فتوحات مکیہ وغیرہ کی جو عبارتیں آپ اپنے اشتہاروں میں بار بار نئے نئے رنگ میں شائع کرتے رہتے ہیں تو ان کا جواب گذشتہ دنوں میں ماہ اگست میں جلسہ واقعہ امام باڑہ میں دیا جا چکا ہے اور انہی حوالوں کی تحقیقات کے لئے ہم نے آپ سے مطالبہ کیا ہے کہ علماء کی مجلس میں آپ ان کتابوں کو پیش کریں۔ تا کہ پبلک پر واضح ہو جائے کہ اُن حوالہ جات کے مصنفین کے

٥

صفحہ ٢٧٠

عقائد آپ کے موافق یا مخالف ہیں؟۔

پمفلٹ دعوت مناظرہ کا جواب الجواب

مگر آپ نے اپنے مطبوعہ اشتہار میں جو میرے مطالبہ کے جواب میں شائع کیا ہے۔ میرے مطالبہ کو اس عذر سے ٹالنا چاہا ہے کہ میں حکام ضلع سیالکوٹ سے مباحثہ کی تحریری اجازت حاصل کروں۔ جواباً معروض ہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ جب سے تحریک مرزائیت سیالکوٹ میں شروع ہوئی ہے۔ اس وقت سے لے کر جون ١٩٣٣ء تک مناظروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس امر کی ضرورت کبھی نہ پڑی نہ مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ بریں آج کل بھی حکومت کی طرف سے مناظروں اور جلسوں پر کوئی پابندی نہیں اور نہ کسی لائسنس یا اجازت نامہ کی ضرورت ہے۔

آپ نے اپنے اشتہار میں حاضرین مجلس مناظرہ کی تعداد ہر فریق کی طرف سے پچیس پچیس تحریر کی ہے۔ سو جواباً معروض ہے کہ اشتہار تو آپ تقسیم کریں۔ لاکھوں آدمیوں کے درمیان اور ان کا جواب سنایا جائے صرف پچیس کو۔ ایں چہ؟۔

مباحثہ تحریری ہو یا تقریری مجمع عام میں ہونا چاہئے۔ جیسا کہ پہلے ہوتا رہا ہے۔ باقی رہا میری حیثیت کا سوال تو وہ آج بھی وہی ہے۔ جو آج سے ساٹھ سال پہلے تھی۔ جب مرزا قادیانی مسیحیت کا نیا نیا دعویٰ کر کے سیالکوٹ میں وارد ہوئے تھے اور ان سے بالمشافہ مسجد میر حسام الدین صاحب میں گفتگو ہوئی تھی اور اس کے علاوہ سیالکوٹ اور دیہہ جات میں بیسیوں مناظروں میں رہی ہے۔ اپنے مطبوعہ پمفلٹ کی شرط نمبر ١ میں جو آپ نے بذریعہ اشتہار جواب مانگا ہے۔ سو یہ رو در رو مناظرہ کو ٹالنے کا ایک حیلہ ہے۔ جب آپ کتب محولہ مجلس میں پیش کریں گے تو آپ ہی سے ان عبارتوں کو پڑھوا کر بتا دیا جائے گا کہ وہ عبارتیں آپ کے خلاف ہیں۔ نیز آپ کو یاد رہے کہ جیسا کہ سیالکوٹ میں مرزا قادیانی سے رو در رو گفتگو کرنے والا سب سے پہلے یہی عاجز ہے۔ اسی طرح جس کے آخری خطاب پر لاہور میں مرزا قادیانی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہی عاجز ہے۔ جس کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ میں نے ٢٥؍ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں مرزا قادیانی کو دعوت مناظرہ کا خط لکھا اور مرزا قادیانی نے وہ خط جواب کے لئے مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمد احسن امروہوی کے سپرد کیا۔ لیکن خدا کی قدرت ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کی صبح ہوتے ہی مرزا قادیانی اس جہان سے چل بسے۔ اس واقعہ کی روئیداد بنام فیصلہ ربانی بر مرگ قادیانی انہی دنوں میں پنجابی نظم میں لکھی گئی تھی۔ جو دو دفعہ چھپ چکی ہے۔ اس میں سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔

(نوٹ ! ”فیصلہ ربانی برمرگ قادیانی“ مکمل احتساب کی اسی جلد میں موجود ہے۔ اس لئے اس طویل اقتباس کی عدم ضرورت کے باعث حذف کر دیا ہے۔ فقیر مرتب)

٦

PDF 271

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مسئلہ ختم نبوت

مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ

صفحہ ٢٧٢

حرف اول

حضرت مولانا الحاج حافظ محمد ابراہیم صاحب میر فاضل سیالکوٹی نے قرآن کریم کی ایک تفسیر تبصیر الرحمٰن للمبتدی شروع کی تھی۔ تیسرے پارہ میں آیہ مبارکہ الم تر الی الذین اوتوا نصیباً من الکتاب (نساء: ٤٤) کے تحت مسئلہ ختم نبوت بھی آ گیا۔ جس پر آپ نے سیر حاصل بحث کی اور بطرز بدیع ایسے ایسے علمی نکات لکھے کہ ہم نے اسے الگ رسالہ کی صورت میں شائع کرنا از حد مفید سمجھا۔ چنانچہ وہی مضمون اس رسالہ کی شکل میں نذر ناظرین ہے۔ امید ہے کہ بہت پسند کیا جائے گا۔

(عبدالمجید خادم سوہدروی۔ یکم مئی ١٩٥٦ء)

مسئلہ ختم نبوت

اوتوا نصیباً من الکتاب (نساء: ٤٤) سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں۔ جن کے انبیاء علیہم السلام کو قرآن شریف سے پیشتر تورات، زبور، انجیل دی گئی۔ ان کو ایک حصہ کتاب کا ملنا اس لئے فرمایا کہ تورات اور انجیل خاص بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ان کی تعلیم عالمگیر اور ہمیشہ کے لئے نہ تھی۔ اس لئے بنی اسرائیل میں سلسلۂ نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک قائم رہا۔ پس ان کی کتابوں کی تعلیم ایک محدود قوم اور محدود زمانہ تک تھی۔ لیکن ان کے مقابلے میں قرآن شریف جامع کل اور تا قیام دنیا ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کی شریعت کامل ہے۔ کیونکہ رسول کریم کی دعوت عالمگیر ہے اور آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد وحی نبوت ورسالت بند کر دی گئی ہے۔ ہاں ولایت اور سلسلۂ الہام بغیر اسم نبوت کے جاری ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ قال النبی ﷺ قد کان فی من قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منہم احد فعمر بن الخطاب (بخاری ج ١ ص ٥٢١، باب مناقب عمر) یعنی نبی نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے آدمی ہوتے تھے جن سے (اللہ کی طرف سے) کلام کیا جاتا تھا۔ بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ پس میری امت میں سے اگر کوئی ایسا آدمی ہے تو عمرؓ (اولیٰ) ہے۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمر باوجود ملہم ومحدث ہونے کے نبی نہیں کہلا سکتے۔ یہ کلیہ کہ ہر محدث وملہم بناء بر الہام نبی کہلا سکتا ہے۔ جس پر مرزائے قادیانی کے دعوے کی بنا ہے کہ ”چونکہ مجھ سے خدا تعالیٰ کثرت سے کلام کرتا ہے۔ اس لئے مجھے نبی بھی کہا گیا ہے۔“ (حقیقت

صفحہ ٢٧٣

الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) یہ کلیہ اور مرزا قادیانی کا دعویٰ منطوق حدیث مذکور الفوق کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ اگر محض الہام کی بناء پر کوئی شخص نبی کہلا سکتا ہے۔ تو حضرت عمرؓ سب سے پہلے اس اسم سے موسوم ہونے چاہئیں۔ اس حدیث کی رو سے ہم نے جو یہ لکھا ہے کہ ملہم کے لئے بناء بر الہام ضروری نہیں کہ وہ نبی ہو۔ اس پر مرزا قادیانی کی بھی تصدیق بالفاظ ذیل ملاحظہ فرما لیجئے۔

"اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام توضیح المرام ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے ...... یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ۔صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ...... سو مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں تو وہ ان کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں ...... ابتداء سے میری نیت جس کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اس سے مراد یعنی لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔ جس کے معنے آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا۔ لقد كان في من قبلكم من بنى اسرائيل يكلمون من غير ان يكونوا انبياء“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)

اور یہی معنی مرزا قادیانی کے اپنے شعر ۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم و خداوند مکلم

(ازالہ اوہام ص ١٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٥) یہاں مرزا قادیانی سے بھی ثابت ہے کہ وہ پہلے مصرعہ میں رسول ہونے اور صاحب کتاب ہونے کی نفی کرتے ہیں اور دوسرے مصرعہ میں ملہم ہونے کا اثبات ، اگر ہر ملہم رسول اور نبی ہو سکتا ہے تو مرزا قادیانی اس شعر میں نفی اور اثبات کو جمع کرتے ہیں۔ حالانکہ نفی اور اثبات آپس میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ( کتب منطق بحث تناقض ) اور اس شعر کی یہ تاویل مندرجه اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، نومبر ١٩٠١ء) کہ "میں رسول تو ہوں ۔لیکن صاحب کتاب رسول نہیں ہوں ۔" اسی شعر کے دوسرے مصرعہ سے باطل ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پہلے مصرعہ میں رسول اور صاحب کتاب ہونے کا انکار کرتے ہیں اور معلوم رہے کہ ہر رسول اور نبی کے لئے صاحب کتاب ہونا لازم نہیں ہے۔ موسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب نبی تھے۔ ان کے بعد کئی ایک رسول اور نبی موسیٰ علیہ السلام اور تورات کی متابعت میں بھیجے گئے۔ ان پر کوئی دیگر کتاب نازل نہیں کی گئی تھی۔ جیسا کہ فرمایا "ولقد اتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (بقرہ:٨٧) " اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور بھیجے ہم نے اس کے قدموں پر کئی رسول، نیز فرمایا ”انا انزلنا التوراة فيها هدى ونور .

٣

صفحہ ٢٧٤

يحكم بها النبيون الذين اسلموا للذين هادوا والربانيون والاحبار (مائده: ٤٤) ”تحقیق ہم نے اتاری تھی تورات بیچ اس کے ہدایت اور نور تھا۔ حکم کرتے تھے انبیاء علیہم السلام جو خدا کے فرمانبردار تھے۔ ساتھ اس کے، واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور حکم کرتے تھے ساتھ اس کے) مشائخ اور علمائے ربانی۔“ اس آیت سے دونوں باتیں معلوم ہوگئیں۔ یہ بھی کہ تورات کی متابعت میں بنی اسرائیل میں کئی نبی بھیجے گئے۔ لیکن ان پر کوئی دیگر کتاب نہیں اتاری گئی۔ دوسرے یہ کہ مشائخ اور علمائے ربانی بھی اس کے مطابق حکم کرتے تھے اور نبی نہیں ہوتے تھے۔ حضرت عمرؓ والی حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ ملہم تو تھے۔ مگر نبی نہیں تھے۔ یہی معنی شیخ اکبر (محی الدین ابن عربی) کی عبارات مندرجہ کتاب فتوحات مکیہ کے ہیں اور اس کے یہی معنی امام عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر میں لکھے ہیں اور سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ سے بھی یہی معنی نقل کئے گئے ہیں کہ ہماری امت کے ایسے بزرگوں کو انبیاء تو نہیں۔ بلکہ اولیاء کہتے ہیں ہم کو اسم نبوت سے روکا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہم کو ہمارے باطنوں میں اپنے رسول کے کلام کے معانی سے آگاہ کرتا ہے۔

(اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ٣٩، فصل في كون محمد خاتم النبيين)

ختم نبوت کی دلیل میں حضرت عمرؓ کے متعلق دوسری حدیث

نبوت خدا تعالیٰ کی بخشش ہے ادعائی یا کسبی نہیں ہے۔ یعنی نہ تو محض اپنے دعوے سے ثابت ہو سکتی ہے اور نہ کسب اور عمل سے ملتی ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی بخشش اور احسان ہے۔ جس کو چاہتا ہے عطاء کرتا ہے۔ فرمایا ”قالت لهم رسلهم ان نحن الا بشر مثلكم ولكن الله يمن على من يشاء من عباده (ابراهيم: ١١)“ کفار کو ان کے رسولوں نے جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ کہا کہ ہم نہیں مگر بشر مثل تمہارے لیکن اللہ تعالیٰ احسان کرتا ہے اوپر جس کے چاہے اپنے بندوں میں سے، حضرت عمرؓ کے حق میں باوجود ان کی کمال صلاحیت عمل اور صفائی قلب اور تقویٰ طہارت کے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔ جیسا کہ (جامع ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩، باب مناقب عمرؓ بن خطاب) میں حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں قال رسول الله ﷺ لوكان نبي بعدى لكان عمر بن خطاب یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔ اس حدیث کو ذکر کر کے امام ترمذیؒ کہتے ہیں۔ ھذا حدیث حسن اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔ آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ خواہ وہ کتنا ہی نیکوکار کیوں نہ ہو۔ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ حدیث مذکور قیاس استثنائی کی صورت میں ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نبی نہ ہوئے۔ اس

٤

صفحہ ٢٧٥

لئے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی ہونے والا نہیں تھا۔ اس لئے حضرت عمرؓ نبی نہیں ہوئے۔ ورنہ اگر یہ امر مانع نہ ہوتا تو حضرت عمرؓ ضرور نبی ہوتے اور یہ معلوم ہے کہ حضرت عمرؓ نبی نہیں تھے۔ نہ انہوں نے دعوٰی کیا اور نہ صحابہؓ یا دیگر علمائے امت میں سے کسی نے ان کے متعلق یہ اعتقاد سکھایا۔

قرآن شریف سے ختم نبوت پر ایک نادر استدلال

خدا تعالیٰ نے سورت فرقان کے شروع میں فرمایا ”تبارك الذي نزل الفرقان علٰی عبده لیكون للعٰلمین نذیرا (الفرقان:١)“ یعنی بڑی برکت اور خیر کثیر والا ہے۔ وہ خدا جس نے آہستہ آہستہ نازل کیا یہ قرآن شریف جو فرق کرنے والا ہے۔ حق و باطل اور حلال و حرام میں اوپر اپنے کامل بندے محمد ﷺ کے تاکہ ہو وہ واسطے تمام عالمین کے ڈر سنانے والا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تمام عالمین ارضی یعنی جن و انس عربی و عجمی کے لئے نذیر کر کے بھیجا۔

آپ سے پیشتر جس قدر انبیاء آئے۔ وہ اپنی اپنی قوم کے لئے آئے۔ جیسا کہ حدیث صحیح مسلم میں ہے ”ارسلت الی الخلق كافة وختم بي النبیون (صحیح مسلم ج١ ص١٩٩، کتاب المساجد)“ یعنی میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تمام خلقت کی طرف اور ختم کئے گئے ساتھ میرے انبیاء علیہم السلام، اور اسی سورت فرقان: ٥١ میں فرمایا۔ ”ولو شئنا لبعثنا في كل قرية نذيراً “

یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم ہر ہر بستی میں ایک ایک نذیر مبعوث کرتے۔ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ علم میزان کی رو سے یہ قیاس استثنائی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نذیر مبعوث کرتے۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں چاہا کیوں نہیں چاہا۔ اس لئے کہ سورت فرقان کے شروع میں فرما دیا کہ تمام عالمین کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو نذیر کر کے بھیجا ہے۔ جس سے دنیا جہان میں وحدت ملی پیدا ہوسکے گی۔ پس اس مصلحت کے لئے تمام جہان کے لئے ایک ہی نذیر بنایا گیا۔ چنانچہ

امام شوکانیؒ اپنی تفسیر میں آیت ”ولو شئنا لبعثنا في كل قرية نذيرا “ کے ذیل میں لکھتے ہیں۔ ”كما قسمنا المطر بينهم ولكنا لم نفعل ذالك بل جعلنا نذيراً واحداً وهو انت يا محمد “ یعنی جس طرح ہم نے آسمان سے پانی ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر کے اتارا ہے۔ (اسی طرح ہم رحمت نبوت بھی ہر بستی کو تقسیم کر کے بخشتے) لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ ہم نے دنیا جہان کے لئے ایک ہی نذیر بھیجا اور وہ اے محمد ﷺ آپ ہیں اور صاحب تفسیر رحمانی نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔ ”(لو شئنا لبعثنا في كل قرية) رسولاً ليكون عن الكفر لهم (نذيرا) لكن لم نشئ لانه يقضى تفرق الاقوام وتكثر الاختلافات فجعلناك واحداً نذيراً للكل ليطيعوه او يقاتلهم “ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک رسول پیدا کرتے تاکہ ہوتا وہ ان

٥

صفحہ ٢٧٦

سب کو کفر سے ڈرانے والا۔ لیکن ہم نے نہ چاہا۔ کیونکہ اس کا تقاضا امتوں کا تفرق اور اختلافات کی کثرت ہوتا۔ پس ہم نے ایک ہی نذیر تمام کے لئے بنایا تا کہ وہ سب اس کی اطاعت کریں۔ یا وہ ان سب سے جہاد کرے۔ اسی طرح دیگر کئی تفاسیر میں بھی ہے۔

عالمین کا مفہوم

اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عالمین کا لفظ قرآن شریف میں کن کن موقعوں پر آیا ہے۔

کے لئے فرمایا: ”ان ھو الا ذکری للعلمین (انعام: ٩٠)“ یعنی نہیں ہے یہ قرآن شریف مگر نصیحت واسطے عالمین کے، اور آنحضرت ﷺ کی شان میں فرمایا: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین (انبیاء:١٠٧)“ اور اسی طرح آپ کی شان میں سورت فرقان میں فرمایا: ”لیکون للعلمین نذیرا (فرقان: ١)“ پہلی آیت میں تمام عالمین کے لئے ایک رب کا ہونا فرمایا۔ دوسری آیت میں دنیا جہان کے جن و انس کے لئے چاہے وہ صحرائی ہوں چاہے دریائی چاہے پہاڑی ہوں چاہے میدانی ایک ہی کعبہ کا قبلہ ہونا فرمایا۔ تیسری آیت میں تمام جہان کے لئے ایک ہی قرآن کو نصیحت نامہ بتایا۔ چوتھی اور پانچویں آیات میں ایک ہی نبی محمد ﷺ کو رحمۃ للعلمین اور نذیراً للعلمین فرمایا۔ ان سب مقاموں پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اکیلے تمام دنیا کے لئے رسول ہیں۔ پس اسی لئے آپ پر نبوت ختم کی گئی۔ کیونکہ دنیا جہان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو آنحضرت ﷺ کی تبلیغ رسالت سے مستثنیٰ ہو کہ وہاں پر کسی نئے نبی کے پیدا کرنے کی ضرورت پڑے۔ جب رب العلمین کے ہوتے ہوئے کسی رب کی ضرورت نہیں اور قرآن کے ہوتے ہوئے کسی قرآن کی ضرورت نہیں۔ کعبہ کے ہوتے ہوئے کسی کعبہ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے کسی نبی کی ضرورت نہیں بلکہ آپ سب عالمین کے لئے کافی وافی ہیں۔ چنانچہ اس معنے میں (مسند امام احمد ج٦ ص٤) میں حضرت مقدادؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پشت زمین پر کوئی گھر گارے یا اون (خیمہ) کا باقی نہیں رہے گا۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ کلمۂ اسلام کو داخل کر دے گا۔ یعنی دنیا جہان کے شہری اور صحرائی آبادی میں کلمۂ اسلام کی گونج پڑ جائے گی۔ چاہے اسے کوئی عزت سے قبول کرے چاہے ذلت سے اس کے تابع ہو جائے۔ (مشکوٰۃ شریف ص ١٢، کتاب الایمان) اسی معنے میں ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا ہے۔ جسے ہم قدرے ترمیم کے ساتھ یوں لکھتے ہیں۔

دنیا کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
صفحہ ٢٧٧

ایک آیت کی تفسیر

قادیانی لوگ آنحضرت ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کے لئے یہ آیت بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ ”يٰبنى اٰدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم ايتى فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (اعراف:٣٥)“ جو خدا تعالیٰ جملہ بنی آدم کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اے بیٹو! آدم علیہ السلام کے اگر آویں تمہارے پاس رسول تم میں سے بیان کریں، اوپر تمہارے آیتیں میری، پس جو کوئی پرہیز گاری کرے گا اور اصلاح کرے گا۔ نہیں ڈر اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، وجہ استدلال کی یہ بیان کرتے ہیں کہ یاتین مستقبل کا صیغہ ہے۔ جو ان شرطیہ کے بعد آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کئی ایک رسول آتے رہیں گے۔ جن کی گنتی خدا ہی کو معلوم ہے۔ کیونکہ رسل بصیغہ نکرہ ہے اور اسے کسی خاص معین عدد میں محصور نہیں کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی مفہوم یا اشارہ یا دلالت یا قیاس یا استنباط خلاف نص قطعی کے قابل قبول نہیں ہے۔ جیسا کہ کتب اصول میں مصرح ہے کہ مفہوم منطوق کے مقابلہ میں اور اشارت اور دلالت عبارت النص کے مقابلے میں اور کوئی قیاس یا استنباط منصوص کے مقابلے میں قابل سماعت اور اعتبار نہیں ہے۔ ورنہ (معاذ اللہ) آیات قرآنیہ و احادیث رسول اللہ میں تعارض وتخالف واقع ہوگا اور یہ باطل ہے۔ (دیکھو کتب علم اصول) مثلاً حصول المحصول مصنفہ شیخنا نواب صاحب مرحوم ونور الانوار وغیرہ ختم نبوت کے متعلق قرآن واحادیث کے دلائل صحیحہ منصوص اور قطعی ہیں اور یہ بھی معلوم رہے جس استدلال کی بنا لغت پر ہو اسے دلالت کہتے ہیں اور سابقاً یہ بیان ہو چکا ہے کہ کوئی دلالت یا اشارت منصوص کے خلاف قابل اعتبار نہیں ہے۔ پس قادیانیوں کا استنباط آیت ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شىء عليما (احزاب:٤٠)“ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ ﴿ نہیں ہیں محمد ﷺ باپ تمہارے بالغ مردوں میں سے کسی کے۔ لیکن ہیں خدا کے رسول اور خاتم النبیین اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم رکھنے والا ہے۔﴾ (یعنی وہ جانتا ہے کہ آئندہ کوئی رسول نہیں ہوگا) اس آیت کے معنی مرزا قادیانی نے بھی یہی کئے ہیں۔ چنانچہ وہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔ ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اگر علم اصول کے اس قاعدے کا لحاظ نہ کیا جائے تو ہر باطل پرست اپنی خواہش کے مطابق قرآن وحدیث کے خواص وعام اور مطلق ومقید اور منطوق ومفہوم اور عبارت ودلالت میں کھینچ تان کر کے ان میں تخالف پیدا کر سکے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نصوص اور عبارات (معاذ اللہ) بیکار ہو جائیں گی۔ مثلاً قرآن شریف میں عام انسانوں کی پیدائش کے متعلق فرمایا: ”انا خلقنا الانسان ٧

صفحہ ٢٧٨

من نطفة امشاج (دھر:٢) ”تحقیق پیدا کیا ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفے سے۔“ دوسری جگہ خاص آدم علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق فرمایا: ”خلق الانسان من صلصال كالفخار (الرحمٰن:١٤)“ ”اور خاص حضرت حوا علیہا السلام کے متعلق فرمایا۔ ”وخلق منها زوجها (نساء:١) “اور خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: ”انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القهآ الى مريم وروح منه (نساء:١٧١) “اگر ان آیات میں خاص اور عام کا لحاظ نہ کیا جاوے تو کوئی باطل پرست اپنی خواہش کے مطابق کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آدم اور حوا علیہما السلام اور عیسیٰ علیہ السلام بھی انسان ہیں۔ اس لئے وہ بھی (معاذ اللہ) ماں اور باپ کے ملے ہوئے نطفے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اسی طرح محرمات نکاح کی آیت میں چند رشتوں سے نکاح کی حرمت ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ ”واحل لكم ما وراء ذلكم (نساء:٢٤)“ ”اور حلال کی گئیں واسطے تمہارے وہ جو سوائے ان (مذکورہ بالا) کے ہیں۔“ اور خاص آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کے متعلق فرمایا: ”ولا ان تنكحوا ازواجه من بعده ابداً (احزاب:٥٣)“ ٭اور نہ یہ جائز ہے کہ تم نکاح کرو۔ ان سے بعد آپ کے کبھی بھی۔“

تو کوئی باطل پرست گستاخ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات سورت نساء کی مذکورہ محرمات کے سوا ہیں۔ اس لئے (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ کے بعد ان سے بھی نکاح حلال تھا۔ اسی طرح اس کی مثالیں قرآن شریف میں بہت ہیں کہ خاص و عام اور منطوق ومفہوم کے مقابلے کے وقت خاص اور منصوص کا لحاظ ہوتا ہے۔ پس اسی طرح ختم نبوت کے دلائل جو قرآن و احادیث میں منصوص ہیں۔ وہ عموم استدلال سے جن سے قادیانی استدلال پکڑتے ہیں۔ ان سب پر مقدم ہوں گے۔

نوٹ! اوپر کا جواب علم اصول کی بناء پر ہے۔ جس سے قادیانی علماء عموماً نا آشنا ہیں۔ خصوصاً مرزا قادیانی بھی اس سے نابلد محض تھے۔ اب قرآن شریف کے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ جس سے پہلے ایک تمہید کا بیان ضروری ہے۔ قرآن شریف مربوط اور موصول کلام ہے۔ جس کی صحیح تفصیل کے لئے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

وبلیغ کلام ہے۔ پس ایسے کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کا بیان اور سلسلہ کلام باہم موصول اور مربوط ہو۔ اس کے کلمات کی شستگی اور معانی کی لطافت کے علاوہ اس کے کلمات کی ترتیب اور آیات کا ارتباط اور بیان کا تسلسل نہایت موزوں اور مناسب صورت میں واقع ہو۔ جس کلام میں ایسے اوصاف نہ ہوں۔ وہ کلام معجزہ کیا اس کا وزن فصحاء عرب کے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے۔

٨

صفحہ ٢٧٩

٢....... اس قاعدے کی تائید میں آیات ذیل ملاحظہ ہوں کہ جن میں قرآن شریف نے اپنے آپ کو کلام موصول اور ترتیب میں احسن ہونے کی حیثیت میں پیش کیا ہے۔ پہلی آیت ”ولقد وصلنالهم القول لعلهم يتذكرون (قصص:٥١)“ یعنی حق تعالیٰ نے فرمایا: البتہ تحقیق ہم نے ان لوگوں (کی ہدایت) کے لئے اس قول یعنی قرآن شریف کو موصول کر کے بھیجا ہے۔ تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ اس استدلال کی تائید میں اس آیت کے ذیل میں تفاسیر ذیل ملاحظہ ہوں۔

امام رازی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”ولقد وصلنا لهم قول وتوصيل القول هو ايتان بيان بعد بيان وهو من وصل البعض بالبعض (تفسير كبير ج ٢٤ ص ٢٦٢)“ اور توصيل کلام کا معنی ہے۔ ایک بیان کا بعد دوسرے بیان کے اور وہ جوڑنا ہے ایک کو دوسرے کے ساتھ، اسی طرح (تفسیر ابی السعود ج٧ ص١٨) میں ہے۔ ”ولقد وصلنالهم قول وقرى بالتخفيف اى انزلنا القران عليهم متواصلاً بعضه اثر بعض حسبما تقتضيه الحكمة والمصلحة “ یعنی وصلنـا (بتشدید) کو تخفيف یعنی بغیر شد کے بھی وصلنا پڑھا گیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو نازل کیا موصول ہے۔ بعض کا پیچھے بعض کے مطابق اس کے جس کا تقاضا کرے۔ حکمت اور مصلحت اس آیت اور تفاسیر کے حوالجات سے واضح ہوگیا کہ قرآن شریف کا بیان اکھڑا اکھڑا کلام نہیں۔ بلکہ موصول ہے اور نہایت باحکمت ربط سے ہے۔

دوسری آیت سورت (فرقان:٣٢) میں فرمایا: ”ورتلناه ترتيلاً“ یعنی حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن شریف کو عمدہ ترتیب میں بیان کیا ہے۔ ترتیل کے معانی کی تحقیق کے لئے لغت کی مندرجہ ذیل کتابوں کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

چنانچہ (لسان العرب ج ٥ ص١٤٢) جو عربی زبان کی سب سے بڑی لغت کی کتاب ہے۔ اس میں لکھا ہے ”الرتل حسن تناسق الشئى ...... ورتل الكلام احسن تاليفه وابانه “ یعنی رتل کے معنی ہیں کسی شے کی ترتیب کی خوبی اور عمدگی اور رتل الکلام کے معنی ہیں۔ اس نے کلام کی تالیف اچھی طرح سے کی اور اسے خوب واضح طور پر بیان کیا۔ (قاموس ج ٣ ص ٣٩٢) میں اسی کی وضاحت کے ساتھ یوں لکھا ہے۔ ”محركة حسن تناسق الشئى ...... والحسن من الكلام والطيب من کل شئى “ یعنی رتل ت کی فتح کے ساتھ اس کے معنی ہیں۔ کسی شئے کی ترتیب کی خوبی اور عمدگی اور کلام کی جنس میں سے عمدہ کلام اور ہر شئے کی نہایت پاکیزہ اور ستھری صورت اس طرح لغت کی دوسری کتابوں میں بھی انہی معنی کی تائید کئی محاورات سے کی ہے۔ مثلاً لغات وحیدی، اساس البلاغت، مصباح المنیر، صراح وغیر ہا ان حوالہ جات کی تائید کے لئے، تیسری آیت ملاحظہ کیجئے۔ جو سورت زمر

٩

صفحہ ٢٨٠

میں ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ”الله نزل احسن الحديث كتابا متشابهاً مثانى (زمر:٢٣)“ یعنی اللہ نے اتارا سب سے عمدہ کلام جو کتاب ہے۔ متشابہ یعنی جس کی ایک آیت دوسری کی تفسیر کرتی ہے اور وہ آیات مکرر سہ کرر بیان کی گئی ہیں۔ اس آیت کی کچھ وضاحت کے لئے چند امور ضروری ہیں۔ اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو احسن الحدیث فرمایا۔ یعنی سب سے عمدہ کلام جو اعجاز کو پہنچا ہوا ہے۔ جس کا مقابلہ انسانی علم اور لیاقت سے بالا ہے اور اس کی شہادت میں دو وصف فرمائے۔ متشابہ اور مثانی جس سے مراد یہ ہے کہ اس کے مضامین آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان میں تخالف نہیں ہے۔ بلکہ ایک آیت دوسری آیت کی تائید و تصدیق اور تفسیر کرتی ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، دوسرا وصف مثانی فرمایا۔ یعنی اس کی آیات پند و نصیحت کے لئے مکرر سہ کرر بیان کی گئی ہیں۔ جن میں تخالف ہرگز نہیں ہے۔ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ قرآن شریف کے کلمات اور آیات باہم موصول ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں اور ان میں ہرگز تخالف اور تعارض نہیں ہے۔ اس طویل تمہید لیکن از بس مفید کے بعد واضح ہوا کہ سورت اعراف کی آیت آنحضرتﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری رکھنے کے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ آدم علیہ السلام کے بہشت سے نکالنے اور زمین پر آباد کرنے کے بعد زمانے کے متعلق ہے۔ جو آدم علیہ السلام کے وقت سے مستقبل میں ہونے والا تھا کہ اس زمانے میں اولاد آدم علیہ السلام کی ہدایت کے لئے خدا کے رسول آتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ جاری رہا، حتیٰ کہ رسول اللہﷺ کی مبارک آمد پر خدا تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین بھیج کر بتلا دیا کہ محمد رسول اللہﷺ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں اور آنحضرتﷺ نے بھی واضح طور پر فرما دیا۔ ”انا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ترمذى ج٢ ص٤٥، باب لاتقوم الساعة حتى يخرج كذابون)“ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ہم نے یہ جو کہا کہ سورت اعراف کی آیت حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اجرائے نبوت کی دلیل ہے۔ اس کو ہم سورت اعراف کی آیات کے سلسلہ کلام اور دیگر مقامات کی آیات کی تائیدوں سے ثابت کرتے ہیں۔ جس کے سمجھنے کے لئے ہم نے اوپر کی تمہید کا بیان ضروری سمجھا تھا۔ آپ سورت اعراف کی آیت سے پیشتر نظر کریں کہ اوپر مسلسل طور پر حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ اور اس سے متعلقہ ضروری ہدایات کا بیان چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح (بقرہ:٣٨) میں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بھی مطالعہ کریں۔ جس میں ان کے اور ان کی سکونت جنت اور پھر جنت سے نکالے جانے اور زمین پر اترنے اور قصور کی معافی کے ذکر کے بعد فرمایا ”قلنا اهبطوا منها جميعاً فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون “ یعنی کہا ہم نے اترو اس سے سب ۔ پس اگر آوے تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پس جو کوئی پیروی کرے گا ہدایت میری

١٠

صفحہ ٢٨١

کی۔ پس نہیں ڈر اوپر ان کے اور نہ وہ غم کھاویں گے۔ ﴾ اور ظاہر ہے کہ خدا کی ہدایت خدا کے رسولوں کی معرفت آتی رہی ہے۔ چنانچہ یہ قرآن شریف رسول خدا ﷺ کی معرفت آیا اور اس کی نسبت فرمایا: ”ذالك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين (بقرہ:٢) “ اور تورات اور انجیل جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معرفت آئیں۔ ان کی بابت فرمایا: ”انزل التوراۃ والانجيل من قبل هدى للناس (آل عمران:٤) “ یعنی قرآن مجید سے پہلے تورات اور انجیل لوگوں کی ہدایت کے لئے اتاریں۔ ﴾ اس مضمون کی آیات قرآن مجید میں کثرت سے ہیں اور جیسا کہ سورت (اعراف:٣٥) میں فرمایا: ”ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون“ اسی طرح سورت (بقرہ:٣٨) کی مندرجہ بالا آیت میں فرمایا: ”فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون “ اور جو کوئی پیروی کرے گا میری ہدایت کی نہیں ہوگا۔ کوئی خوف اوپر ان کے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔ دونوں جگہ رسولوں اور ہدایت ربانی کی پیروی کا نتیجہ ایک ہی فرمایا۔ دوسرا مقام سورت طہٰ میں دیکھئے کہ سکونت کرنے اور وہاں سے نکالے جانے کے ذکر کے بعد فرمایا: ”فاما ياتينكم منى هدى فمن اتبع هداى فلا يضل ولا يشقى (طه:١٢٣)“ ﴾ یعنی (ہم نے فرمایا) ”فاما ياتينكم منى هدى“ پس اگر آوے تم کو میری طرف سے ہدایت۔ پس جو کوئی پیروی کرے گا۔ میری ہدایت کی پس نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ بد بخت ہوگا۔ ﴾

دیکھو ان تین مقاموں میں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ہدایت ربانی کے جاری ہونے کا سلسلہ مذکور ہے۔ یہ تینوں مقامات آپس میں متشابہ یعنی ملتے جلتے اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں۔ پس سورت اعراف کی پیش کردہ آیت کے ساتھ خاتم النبیین کو ملانے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری رہتے ہوئے حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ پر آکر ختم ہوگا۔ ہمارے اس بیان کردہ طریق سے قرآن شریف کی آیات اور احادیث مبینہ ختم نبوت میں مطابقت قائم رہتی ہے اور قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ کے منصوصات ومفہومات کی رہنمائی ایک ہی طرف رہتی ہے کہ نبوت حضور رسول مقبول ﷺ پر ختم کر دی گئی ۔ قرآن وحدیث کی نصوص بینہ کے بعد بھی اگر سورت اعراف کی آیت کے یہ معنی سمجھے جائیں کہ سلسلہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد جاری ہے تو قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ میں تخالف و تعارض واقع ہو جائے گا اور قرآن مجید کی آیت اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث صحیحہ بجائے ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرنے کے آپس میں مختلف ہو جائیں گی اور اختلاف منافی صداقت ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف ہی کی صداقت کی نسبت فرمایا۔ ”لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه

صفحہ ٢٨٢

اختلافاً كثيراً (نساء:٨٢) ”یعنی اگر یہ قرآن شریف خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو البتہ پاتے اس میں اختلاف بہت۔ ہاں اگر لفظ خاتم کے وہ معنی جو خدا اور رسول ﷺ کی مراد ہیں۔ ان کو بدل کر اور حدیث لا نبی بعدی کے مقابلہ میں مقید معانی جنس ہے۔ شرعی اور غیر شرعی کا امتیاز کر کے صاحب شرع کی قید بڑھائی جائے تو یہ تحریف معنوی اور خدا کے رسول ﷺ کی مراد کو بگاڑ کر از خود اضافہ ہوگا اور یہ ہر دو امر باطل اور حرام ہیں۔ دفع دخل مقدر ”اگر کہا جائے کہ سورت اعراف کی آیت میں بنی آدم کو خطاب کر کے یبنی آدم فرمایا ہے اور سورت بقر اور سورہ طہٰ کی آیتوں میں ایسا نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورت بقر اور سورت طہٰ کی آیتوں میں اما یاتینکم کے خطاب میں حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کے ساتھ ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ دیکھئے ہر سہ مقامات پر ہدایت کی پیروی کا نتیجہ بترتیب یوں فرمایا ہے۔” فمن تبع هدای فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (بقرہ:٣٨)“ اور ”فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اعراف:٣٥) “ اور ”فمن اتبع هدای فلا يضل ولا يشقى (طه:١٢٣)“ اس باریکی کی تائید کے لئے سورت اعراف : ٢٤ ہی کی آیات کو دیکھئے کہ جنت سے نکلنے کا حکم دینے کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کو فرمایا ”قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين ٠ قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون “ یعنی فرمایا اتر جاؤ! بعض تمہارے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے اور واسطے تمہارے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہوگی اور زندگی کے اسباب (بھی) ایک مدت تک (نیز) فرمایا۔ اس میں تم زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے (قیامت کے دن قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔

دیکھئے ان آیتوں میں خطاب آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کو ہورہا ہے۔ حالانکہ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کے درمیان دشمنی واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کی اولاد میں دشمنی ہے اور جو امر اس کے بعد ذکر کئے گئے ہیں۔ ان میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ پس اسی طرح سے سورت اعراف کی زیر بحث آیت میں یبنی آدم سے خطاب کر کے فرمایا اور اسی لحاظ سے ہے۔ اس طریق سے سب مقامات پر خطاب کے صیغے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ سورت اعراف کی زیر بحث آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد میں سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا ذکر ہے۔ نہ کہ آیت خاتم النبیین کی نص صریح کے خلاف حضور رسول مقبول ﷺ کی بعثت کے بعد بھی۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ ہم نے مرزائیوں کے استدلال کی سب کڑیوں کو توڑ تاڑ کر مشکل معمہ کو مدلل طور پر آسانی سے سمجھا دیا ہے۔ فللہ الحمد !

١٢

PDF 283

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں

اغلاط ماجدیہ

حضرت مولانا مفتی عبداللطیف رحمانی ؒ

صفحہ ٢٨٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اغلاط ماجدیہ جس میں مولوی عبد الماجد قادیانی کے رسالہ القاء کے ایک ورق میں بتیس غلطیاں دکھائی گئی ہیں اور خدا کی قدرت کا نمونہ ظاہر کیا ہے کہ جو شخص صوبہ بہار میں مرزائی جماعت کا مایہ فخر ہو پھر وہ مدت کی جان کاہی اور دیدہ ریزی کے بعد اہل حق کے مقابلہ میں ایک رسالہ لکھے اور اس کے ایک ورق میں بتیس غلطیاں ہوں ۔

مرزائی گروہ کے بڑے مولوی پر چیلنجوں کی بوچھاڑ

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

چونکہ گروہ مرزائی جھوٹے مدعی کا پیرو ہے اس لئے ان کا سرمایہ جھوٹ اور دروغ گوئی نظر آتا ہے۔ ان کے ایک اشتہار میں بہت جھوٹ دیکھے اس میں ایک یہ بھی تھا۔ ہماری طرف سے چیلنج پر چیلنج دیا جاتا ہے اور مخالف خاموش ہیں۔ یہ ایسا صریح جھوٹ ہے کہ جو حضرات ہماری تحریروں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ صرف جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب کی طرف سے چھ چیلنج مولوی عبد الماجد کے مقابلہ میں اور ایک اس کے مرشد اور مرشد زادے کے مقابلہ میں شائع ہو چکا ہے اور یہاں سے قادیان تک کسی نے جواب نہیں دیا اب:

ساتواں چیلنج

اس رسالہ کے اخیر میں دیا گیا ہے۔ اگر قادیانی مولوی صاحب میں کچھ بھی ہمت اور اپنے مذہب کی حمایت کا جوش ہے تو مرد میدان بنیں اور سامنے آویں، مولانا محمد عبدالشکور صاحب مدیر النجم نے کس زور و شور سے چیلنج دیا اور ”تابخانہ باید رسانید“ پر پورا عمل کیا مگر مولوی عبد الماجد قادیانی سامنے نہ آئے باوجود یکہ ان کے بھاگنے کی تمام شرطیں منظور کر لی گئیں اور صرف خط و کتابت ہی نہیں ہوئی بلکہ مناظرہ کے طے کرنے کیلئے بارہ معززین ان کے مکان پر گئے۔ مگر بجز باتیں بنانے کے سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی۔

٢

صفحہ ٢٨٥

بسم الله الرحمن الرحیم!

حامداً و مصلیاً

شہرت اور صحت دو ایسے لفظ ہیں جو اپنے معنی اور نیز مصداق کی رو سے جدا جدا ہیں ۔ اگر چہ کسی موقع پر دونوں کا اجتماع بھی ہو جاتا ہے مگر اس سے یہ سمجھنا سخت غلطی ہے کہ شہرت اور صحت دونوں ایک ہیں اور مشہور بات ضرور صحیح ہوتی ہے آج دنیا میں بہت سی باتیں اس درجہ پر شہرت یافتہ ہیں کہ قبولیت عام کی سند حاصل کر چکی ہیں لیکن کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ تمام صحیح ہیں اور واقعیت کی حدود میں ان کا کوئی نشان بھی ہے؟ جو لوگ محض شہرت کو واقعیت اور صحت کی سند بنا لیتے ہیں اور اپنے معلومات کی عمارت اسی بنیاد پر اٹھاتے ہیں وہ بڑے مغالطہ میں پڑ جاتے ہیں اور صراط مستقیم سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے طالب حق اور محقق کا یہ منصب ہے کہ کبھی شہرت اس کی طلب اور تحقیق کی آخری حد نہ ہو بلکہ اس کی طرف اس کو اصلاً توجہ نہ ہونی چاہئے ۔ ورنہ یہ اس کے لئے سدراہ ہوگی ۔ اس لئے میں نے بھی شہرت کو کبھی اپنے علم کا مبنی نہیں ٹھہرایا ۔

مولوی عبدالماجد قادیانی جن کی ذات مونگیر بھاگلپور کی قادیانی جماعت کے لئے فخر اور مایہ ناز ہے ۔ اور جن کو اپنے فضل و کمال کا بڑا ادّعا ہے ۔ میرا پہلا تعارف ان سے یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کے واعظوں کی فہرست میں میں نے ان کا نام دیکھا ۔ آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کسی انجمن یا مدرسہ کے واعظوں کی صف میں جگہ پانے سے اہل علم اور صاحب فضل و کمال کی نگاہ میں ایسا شخص علم و کمال میں کس درجہ کا مستحق ہوگا ۔ آیا محض اس فہرست میں نام داخل کرانے سے علماء کی مجلس کا رکن اور عالم کے خطاب کا اصلی مستحق قرار پاسکتا ہے یا نہیں؟ کیا ہمیں یہ نہیں معلوم کہ آج کل زیادہ تر انجمن اور مدرسہ کے واعظوں میں ایسے ہی علماء نظر آتے ہیں جو بدنام کنندہ نکو نامے چند کا پورا پورا مصداق ہیں ۔ اس کے بعد جب میں مونگیر حاضر ہوا تو عوام میں ان کی شہرت عقیدت کے ساتھ پائی‘ لیکن عوام کی اس شہرت وعقیدت نے بھی میرے معلومات میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جس سے میرا خیال متاثر ہو کر متغیر ہوتا اور اپنی حدودِ سابق سے ایک انچ بھی تجاوز کرتا کیونکہ عوام کیا خواص میں بھی شہرت اور عقیدت کو میں اپنے علم کا ذریعہ نہیں ٹھہراتا‘ تا وقتیکہ میں خود اپنے طور سے اسے نہ سمجھ لوں ۔ اسی لئے میں عبدالماجد قادیانی کے علم کے متعلق کسی قسم کی رائے قائم کرنے سے معذور رہا ۔ اگرچہ میرے بعض خاص ان احباب نے جو اہل علم سے ہیں موصوف کی طباعی وغیرہ کی

٣

صفحہ ٢٨٦

تعریف کی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جب میں پھر مونگیر حاضر ہوا تو ہر چہار طرف سے میرے کانوں میں یہ صدا پہنچی اور ہر خاص و عام اعلیٰ ادنیٰ کی زبان سے سنا کہ مولوی صاحب موصوف نے اپنا مذہب بدل دیا اور اب وہ مسلمان سے قادیانی ہو گئے لیکن انہیں زبانوں سے پہلے میرے کانوں میں چونکہ مولوی صاحب کے فضل وکمال کی طویل داستان پہنچی تھی پھر انہیں زبانوں سے اس طولانی داستان کا الٹا اور قضیہ نامرضیہ سنا اور ہر شخص کو پہلی شہرت کی غلطی کا مقر اور اپنی عقیدت کی خطاء کا معترف پایا۔ تو مجھے ان لوگوں پر نہایت تعجب و افسوس کے ساتھ ہوا کہ کیوں وہ اول بلا سمجھے اور بغیر تحقیق ایک رائے ایسی قائم کر لیتے ہیں جو عقیدت کے درجہ تک پہنچ جائے اور جب حق کی روشنی سے اس جہالت کی سیاہی کا پردہ تار عنکبوت کی طرح پارہ پارہ ہو جاتا ہے جس پر ان کی عقیدت کی عمارت قائم تھی تو پھر وہ حیرت سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے خلاف خود ہی فیصلہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن مجھے اس شہرت سے بھی اپنے اصول کے موافق کسی قسم کا استفادہ نہ ہوا۔ ہاں عبد الماجد قادیانی موصوف کے تبدیلی مذہب اور مسلمان سے قادیانی ہو جانے کا جب مجھے اپنے طور پر یقین ہو گیا اور میری تحقیق نے اس میں کسی قسم کے شبہ اور تاویل کی گنجائش نہ رہنے دی، تو عبد الماجد قادیانی کا یہ تغیر وتبدل میرے لئے ایسا آئینہ شفاف ہوا جس میں عبد الماجد قادیانی موصوف کے فضل وکمال اور علمی قابلیت کا پورا پیکر مجسم ہو کر سامنے آ گیا اور ہر خط وخال صاف صاف نظر آنے لگا۔ یہ ان کا تبدل وتغیر میرے ہی لئے آئینہ نہیں ہے بلکہ ہر اہل علم وفضل بلکہ طالب علم اور جاہل سمجھدار بھی جب مرزا قادیانی کے دعوٰی پر سے تزویر وتلبیس کی چادر اٹھا کر دیکھے گا تو اس کو یہ امر نہایت روشن نظر آئے گا کہ کوئی علم والا تو کیا جاہل سمجھدار بھی اپنے پاک دل کے صفحات میں ان دعوؤں کو ایک لمحہ کے لئے بھی جگہ دینا پسند نہ کرے گا اور اپنے اعتقاد کی طہارت ونزاکت کو اس سے آلودہ و کثیف نہ ہونے دے گا۔ مثلاً ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ جناب سرورِ انبیاء آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔ قرآن وحدیث اور تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (الاحزاب: ٤٠)“ اپنے ظاہر معنی پر ہے اور لغتِ عرب میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی تمام انبیاء کے آخر میں آنے والے، آپؐ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس میں کوئی تاویل نہیں اور نہ کسی شبہ کی گنجائش ہے لیکن مرزا قادیانی بھی مدعی نبوت ہیں اور بہت سے انبیاء سے مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے کو افضل اور اعلیٰ کہتے ہیں اور محض یہی نہیں کہ اپنے کو نبی خیال کرتے ہوں بلکہ صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ہے جس نے مرزا قادیانی کی ٤

صفحہ ٢٨٧

کتابیں دیکھی ہیں اس پر یہ بات ظاہر ہے ہاں جنہوں نے نہیں دیکھیں وہ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦، ٧ منگوا کر ملاحظہ فرمائیں۔ ( احتساب قادیانیت ج ٥ میں صحائف رحمانیہ ١ تا ٢٢ یکجا شائع ہو چکے ہیں۔ فلحمد للہ ! مرتب ) اس سے مرزا قادیانی کے عقائد معلوم ہو جائیں گے تو اب ایسی حالت میں کوئی ذی علم مسلمان مرزا قادیانی کے ان خیالات کی تصدیق کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ایسے ہی مسلم اور نا مسلم عالم و جاہل یہ جانتا ہے کہ نبی ہدایت و راستی کا آفتاب ہے جس کی شعاعوں سے گمراہی جھوٹ و فریب کی تاریکی کا پردہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہباءً منثوراً ہو جاتا ہے اس کے اقوال اس کے اعمال اس کے اخلاق اس کے معاملات عالم کے لئے اسوۂ حسنہ بن کر چمکتے ہیں اور اسی کی روشنی سے تمام خلق منزل مقصود پر پہنچتی ہے اور اس کا قول وہی ہوتا ہے جو اس کا عمل ہے اور عمل بھی قول پر پورا منطبق ہوتا ہے قول و فعل میں سر مو تفاوت اور اختلاف کا رائحہ بھی نہیں ہوتا اب جو شخص مرزا قادیانی کے اقوال اعمال اخلاق معاملات کو اس منہاج نبوت پر پرکھے گا تو بے اختیار بول اٹھے گا۔ ’’ان ھی الا افک افتری‘‘ فیصلہ آسمانی میں اسی منہاج نبوت پر تول کر دکھلایا گیا ہے۔ تاکہ اس سے ذی علم سے لے کر امی تک اور مسلم و نامسلم تمام کو یکساں فائدہ ہو اور اس روشن اور کھلی ہوئی بات کو ہر شخص سمجھ لے یعنی منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی جو کہ مرزا قادیانی کی موت کا نہایت عظیم الشان جھنڈا تھا۔ اور نیز اس میں یہ بھی دکھلایا ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنی اس پیشین گوئی پر خود بھی کامل وثوق اور اعتبار نہ تھا ورنہ حالت بے اختیاری میں بذریعہ خطوط کے منکوحہ آسمانی کے باپ سے وہ تحریکات اور معروضات نہ فرماتے اور خوف و رجاء کا پھاٹک نہ دکھلاتے جو ان سے ظہور میں آیا۔ یاد رکھو اور خوب سمجھ لو کہ آسمانی آواز سے بڑھ کر نبی کے لئے کوئی شئے باعث اطمینان قلب اور تسکین خاطر نہیں ہو سکتی اب محمدی بیگم کے نکاح کی صدا اگر آسمانی صدا تھی تو وہ ضرور پوری ہو کر رہتی اور اس نامرادی کے عالم میں تڑپ تڑپ کے مرزا قادیانی کی روح پرواز نہ کرتی اور نہ مرزا قادیانی سے یہ مضطربانہ تحریرات ان فطرتی جذبات سے وقوع میں آتیں جنہوں نے مرزا قادیانی کی قوت اختیاریہ کو کلیتہً زائل کر دیا تھا اب جس شخص کا قول کچھ ہو اور فعل کچھ ہو اور دونوں کی ڈنڈوں میں بون بعید ہو تو اس پر اس منہاج نبوت سے جو فتویٰ ہو سکتا ہے فیصلہ آسمانی

________________________ ١؎ عالم اسباب میں تدابیر انبیاء بھی کرتے ہیں مگر تدابیر کے اقسام اور اس کے مواقع ہیں جس قدر الہامات مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی نسبت بیان کئے ہیں اور کامل وثوق ان الہاموں میں دلایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ پریشانی اور بے اطمینانی جیسی مرزا قادیانی کے خطوط سے ظاہر ہے کسی اہل اللہ کو نہیں ہو سکتی۔ فیصلہ آسمانی حصہ اول غور سے دیکھئے۔

٥

صفحہ ٢٨٨

میں جماعت احمدیہ کو خصوصاً اور مسلمانوں کو عموماً اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ الغرض مولوی صاحب موصوف کا قادیانی ہونا تو ایسا ہے جس سے خود مولوی صاحب کو بھی انکار نہیں اور مسلمہ فریقین ہے اور یہ مقدمہ بھی نہایت واضح اور بدیہی ادعٰی ہے کہ کوئی ذی علم اور سمجھ دار قادیانی نہیں ہو سکتا جیسا کہ میرے بیان سابق سے اس پر پوری روشنی پڑتی ہے اور فیصلہ آسمانی خاص اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ ان دونوں باتوں سے جس یقین اور اعتقاد کے فطرتاً ہر انسان قریب ہو جاتا ہے اور جو صورت اس آئینہ میں نظر آتی ہے میں بھی مولوی صاحب کے متعلق اس اعتقاد رکھنے پر مجبور تھا اور واقعی اس میں ان کے فضل و کمال اور علم کی اصلی صورت نظر آئی اس کے سوا بھی میرے پاس بہت سے ایسے دلائل قاطعہ ہیں جن سے اس اعتقاد و یقین کی بنیادیں نہایت ہی مضبوط اور غیر متزلزل ہو جاتی ہیں جن میں سے بعض کو میں یہاں بیان کرتا ہوں۔

وہ میرے سامنے ہے اس میں شک نہیں کہ اس کے دیکھنے سے پہلی بات جو ہر شخص پر مہر نیمروز کی طرح ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ نہایت نیک نیتی اور اخلاص سے لکھا گیا ہے اس کے ہر ہر فقرہ اور جملہ سے اس کے مصنف کا اخلاص اور اسلامی ہمدردی ٹپکتی ہے اور اس کی بناء اعلاء کلمۃ اللہ کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتی۔ دوسرے اس میں صرف اس امر کو ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو نبوت کا ادعا کیا ہے اس کی تصدیق اور تکذیب میں ہمیں کسی خارجی دلائل پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی خود ہی اپنی زبان اپنے قلم سے آپ ہی مکذب ہیں اور اپنے ہی کلام سے خود علیٰ رؤس الاشہاد منادی کر رہے ہیں کہ میرا یہ دعویٰ غلط ہے اور میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں اب جبکہ مرزا قادیانی کو خود اپنے اس دعویٰ نبوت پر ایمان اور یقین نہیں تو افسوس ہے ان لوگوں کی فہم اور ایمان پر جو ان پر ایمان لائے ہیں اور ان کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔

پہلی بات کہ مرزا قادیانی نے ادعا نبوت کیا ہے ان کی کتابوں اور رسالوں سے ایسی ثابت ہے جس میں کوئی تردد و شبہ نہیں اور جس کو اس میں شک ہو وہ صحیفہ نمبر ٦، ٧ کو دیکھے، رہا دوسرا امر یعنی مرزا قادیانی خود ہی اپنے کلام سے اپنے مکذب ہیں اور جھوٹے ٹھہرتے ہیں اور اس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی کی پیشگوئی کی اور اسے اپنی صداقت کا اتنا بڑا جھنڈا بنایا کہ جس کا سر عرش معلیٰ تک ہے لیکن پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور جھوٹی نکلی تو اب اپنے

٦

صفحہ ٢٨٩

ہی قول سے مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ یہ دو باتیں ایسی ہیں جو فیصلہ آسمانی میں اس طور سے ثابت ہیں کہ اس کے دیکھنے کے بعد ان میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ اور ان کا یقین ہو جاتا ہے اور ان کی صحت اور واقعیت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے اب جو شخص واقعات اور امور حقہ کی مخالفت کرے اور ان کو جھٹلائے وہ سوا اس کے کچھ نہیں کہ اپنی اندرونی تاریکی پر روشنی ڈالتا ہے اور اپنے لئے ایک مضبوط شہادت قائم کرتا ہے۔ مثلاً اقلیدس نے ثابت کیا ہے کہ مثلث کے دو ضلعوں کا مجموعہ تیسرے ضلع سے ہمیشہ زیادہ ہوگا اور کبھی مثلث کا تنہا ایک ضلع دو ضلعوں سے نہیں بڑھ سکتا، یا دو اور دو چار نہیں ہوتے تو ایسے دعوے کرنے والے کے متعلق قبل اس کے کہ اس کی دلیل پر غور کریں کیا رائے قائم کی جائے گی اور اہل علم اور صاحب فہم اس کو کیا سمجھیں گے؟۔ ایسے ہی فیصلہ آسمانی کا جو کہ اپنے نام کی طرح واقعی آسمانی فیصلہ ہے۔ الاسماء تتنزل من السماء مشہور بات ہے اگر کوئی جواب دے اور اس کی مخالفت کرے تو اس کو بھی عقلاء علماء اسی کے پہلو بہ پہلو بٹھائیں گے جو مثلث کے تنہا ایک ضلع کو دو سے بڑا کہے یا دو اور دو کے مجموعہ کو چار نہ کہے۔ اسی لئے مجھے جب یہ معلوم ہوا کہ عبدالماجد قادیانی موصوف فیصلہ کا جواب لکھ رہے ہیں تو اس یقین کو جو ان کے تبدیل مذہب سے مجھے ہوا تھا اور زیادہ مدد ملی اور اب یہ سمجھا کہ خدا خیر کرے مرض لاعلاج ہے کیونکہ وہ بسیط نہیں بلکہ مرکب ہے۔

پر روکا کہ وہ اپنے امام کے ساتھ ایک جداگانہ جماعت قائم کرنا چاہتے تھے قادیانی جماعت نے اپنے استقرار حق کا استغاثہ عدالت میں دائر کیا۔ مستغیث کی طرف عبدالماجد قادیانی موصوف بھی گواہوں میں تشریف فرما ہوئے۔

اب یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں۔ اول تو یہ کہ آج کل عدالت میں گواہ کہاں تک اپنی صداقت اور راست گفتاری سے کام لے سکتا ہے اور ایک عالم راستباز اس منصب کے لئے کس درجہ کا استحقاق رکھتا ہے اور کیا علماء کا یہی کام ہے کہ وہ حال کی عدالتوں میں گواہی دیا کریں؟۔ دوسرے یہ کہ اس مقدمہ میں عبدالماجد قادیانی کو یہ خیال کرنا اور سمجھنا ضروری تھا کہ ان کی گواہی کی کیا ضرورت ہے اور مقدمہ کے متعلق وہ کیا شہادت دے سکتے ہیں میں نے خود بھی جماعت سے کہا کہ اس مقدمہ میں علماء کی شہادت کی ضرورت نہیں بلکہ مضر ہے۔ مگر عبدالماجد قادیانی نے اسے نہ سمجھا اور گواہی دے کر اپنا رہا سہا بھرم بھی کھو دیا۔ اسی لئے اہل حق نے اپنی طرف

٧

صفحہ ٢٩٠

نے اس محاکمہ واہی میں پیش نہیں کیا اور ان کے علماء نے فرمایا کہ مسائل کے لئے کتابیں بہتر گواہ ہیں ۔ مسائل کے سوا اس مقدمہ میں ہمارے بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس واقعہ سے علم کے تبحر اور عبد الماجد قادیانی کی فہم و فراست پر بھی کامل روشنی پڑتی ہے کہ کمالات علمیہ کے سوا ماشاء اللہ موصوف بڑے معاملہ فہم اور ذی ہوش اور فہمیدہ ہیں۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

معلوم ہوا کہ اس کی اشاعت سے غرض صرف عوام کا فریب ہے اور ان کو یہ دکھانا ہے کہ ہم بھی پانچویں سواروں میں ہیں۔ ورنہ حقیقت میں فیصلہ کا جواب دینا تو کارے دارد۔ اس کے مطالب کا جواب عبد الماجد قادیانی کے پرواز فہمی سے کہیں بالاتر ہے اور سبقاً سبقاً پڑھنے سے بھی مرحلہ کے طے ہونے کی امید وہم کی حدود سے آگے نہیں بڑھتی۔ اسی بناء پر بذریعہ اعلان حقانی یہ چاہا گیا کہ عبد الماجد قادیانی حکم مقرر کر کے زبانی اس کا فیصلہ کریں کہ فیصلہ کا جواب اس میں ہے یا نہیں؟

غرض اس سے صرف یہ ہے کہ یہ راز سربستہ منظر عام میں رونما ہو ۔ مگر یہاں تو موصوف نے بڑی دور اندیشی سے کام لیا اور سامنے آنے کی ہمت نہ کی۔ اور یہ فرمایا کہ ہم بھی اس کے لئے اپنے شاگرد مقرر کریں گے اہل حق نے اسے بھی تسلیم کیا اور کہا کہ ہمیں اس میں بھی عذر نہیں کہ آپ کا شاگرد ہی اس کا فیصلہ کرے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ آج تک آپ نے کسی کو تمام کتب درسیہ پڑھا کر سند عطا فرمائی بھی ہے یا نہیں؟۔

قابل رحم ہے اس شخص کی رسوائی بھی
پردے پردے ہی میں کمبخت جو رسوا ہو جائے

جب دیکھا گیا کہ عبد الماجد قادیانی اور شاگرد صاحب دونوں سامنے نہیں آتے تو میر فیض علی صاحب صندلپوری کو اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ قادیانی موصوف کی دعوت کریں اور اس میں عبد الماجد قادیانی اور میر صاحب اور ایک شخص اہل حق سے ہو اور ان کے سوا کوئی اور نہ ہو اور پھر وہاں عبد الماجد قادیانی سے اس میں گفتگو ہو۔ چنانچہ میر صاحب نے قادیانی موصوف کی دعوت کی اور اس نے اسے قبول کیا اور آئندہ ہفتہ میں آنے کا وعدہ کیا اور حسب وعدہ آئندہ ہفتہ میں خوشی خوشی ٹھیک وقت مقررہ پر عبد الماجد قادیانی بھاگلپور سے مونگیر پہنچے اور یہاں پہنچ کر کسی طرح سے اس کا پتہ عبد الماجد قادیانی کو چل گیا کہ میر صاحب کے یہاں یہ محض کھانے کی ہی

٨

صفحہ ٢٩١

دعوت نہیں ہے بلکہ سربستہ راز کے تھیلہ کی گرہ کشائی کی تقریب بھی ہے اور القاء کے صفحات میں فیصلہ کے انوار کو جس سیاہ چادر سے چھپا کر عوام کو فریب دیا گیا ہے آج آفتاب صداقت کے طلوع سے وہ صبح کاذب کی طرح حق کی روشنی سے پاش پاش ہو جائے گی۔ پس اب تو خرمن تمنا پر بجلی گر گئی اور خوشی اور مسرت کی جگہ پر افسردگی اور ناکامی نے اپنا قبضہ جمایا۔ اور فوراً ہی عبدالماجد قادیانی نے بذریعہ رقعہ میر صاحب کو اطلاع دی کہ اگر آپ کو مجھ سے کچھ نصائح سننا منظور ہوں تو خیر! ورنہ اگر مناظرہ مقصود ہے تو میں آپ کے یہاں نہیں آ سکتا اور اس طرح سے وہ سربستہ راز کا تھیلہ محفوظ بچا کر واپس لے گئے۔

کہہ رہی ہے حشر میں وہ آنکھ شرمائی ہوئی
اس بھری محفل میں کیسی ہائے رسوائی ہوئی

مقدمہ مسجد کے دوران میں وکیل عبدالحمید صاحب اور قاضی ابوالظفر صاحب کے روبرو کہا گیا کہ آج عبدالماجد قادیانی بھی یہاں موجود ہیں بہتر ہو کہ زبانی گفتگو سے فیصلہ کر لیا جائے۔ حکیم محمد خلیل صاحب نے اول تو منع کیا مگر کچھ دیر بعد عبدالماجد قادیانی راضی ہو گئے اور قاضی صاحب کے مکان پر شام کو گفتگو قرار پائی لیکن عبدالماجد قادیانی شام کے قبل ہی چار بجے بھاگلپور روانہ ہو گئے اور اس کے بعد پھر آخر مقدمہ تک عبدالماجد قادیانی عدالت میں نظر نہ آئے حالانکہ اُس کے بعد بہت روز تک مقدمہ رہا اور اس کے قبل ہر پیشی پر عبدالماجد قادیانی عدالت میں نظر آتے تھے۔ کیا ناظرین ان حالات پر واقفیت کے بعد بھی عبدالماجد قادیانی کے فضل و کمال فہم و فراست سے روشناس نہ ہونگے۔ نہیں نہیں ضرور ہونگی بقول حافظ شیرازیؒ ۔

نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلھا

مگر یاد رہے کہ عبدالماجد قادیانی اگر فیصلہ کا جواب نہ دیتے تو شاید کچھ روز یہ پہیلی اور نہ حل ہوتی مگر سچ ہے۔

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکان برد

الحاصل جب یہ یقین ہو گیا کہ عبدالماجد قادیانی کبھی سامنے ہو کر رو برو فیصلہ نہ کریں گے اور خفیہ راز کا پردہ فاش نہ ہونے دیں گے اس لئے مجبور پھر ہمیں کاغذی صفحات کی طرف رجوع کرنا پڑا اور اسی کے ذریعے سے عبدالماجد قادیانی کے ان مضامین کو جو القا میں لکھے گئے ہیں

٩

صفحہ ٢٩٢

داد دینی پڑی۔ یہاں اول یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ محرر، کاتب کے لئے یہ لازمی ہے کہ اس کا املاء صحیح ہو۔ اس کی تحریر اور انشا میں بدنما داغ نہ ہو۔ املاء کی صحت یہ ایسی شئے ہے کہ ہر کاتب کے لئے یہ پہلی منزل ہے جس میں املاء کی صحت نہ ہو وہ اس قابل ہی نہیں کہ وہ معمولی روز مرہ کا کام خط و کتابت بھی کر سکے۔ فن تحریر میں اوّل بچوں کو املاء کی صحت بتلائی جاتی ہے اس کے بعد مصنف پر خصوصاً اس شخص کے لئے جو کسی کا جواب دینا چاہئے۔ دو باتیں ضروری ہیں۔

اول! یہ کہ جس کا جواب دے اس کے کلام کو سمجھے اور اس کی غرض اور مقصود پر مطلع ہو، تا کہ خود غلطی میں نہ پڑے۔

دوسرے! یہ کہ دعوے اور دلیل میں فرق کرے اور دلیل کا معیار سمجھے کہ دلیل کو دعوے پر انطباق تام ہے یا نہیں اور اس کو مستلزم ہے یا نہیں۔

تیسرے! یہ کہ اپنے مبلغ استعداد اور جس کے مقابلہ میں لکھے یا جس مسئلہ پر بحث کرے اس میں موازنہ کرے اور ان تمام سے مقدم یہ ہے کہ فہم کی استقامت اور طبیعت کی سلامتی سے آراستہ ہو۔ القاء ربانی کے دیکھنے سے جو امر اس کے نالائق مصنف کی بابت ہر منصف ذی علم پر روشن طور پر نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان تمام امور مذکورہ بالا سے مصنف عبد الماجد قادیانی موصوف معرا ہے اور ان کی جگہ ان کے اضداد نے لے لی ہے۔ ان اوصاف کے نہ ہونے سے قلم کا مسافر اپنی حرکت میں اس سطح پر جس قدر ٹھوکریں کھا سکتا ہے مصنف مذکور کو چونکہ وہ تمام ٹھوکریں لگی ہیں اور اس منزل کی حدود سے ایک انچ بھی اس نے طے نہیں کیا بلکہ ٹھوکروں کی کثرت نے اسے اوندھا گرا دیا ہے اس لئے اس دلدل سے اسے نکالنا تو ناممکن ہو گیا ہے۔ ہاں اس کے پھسلنے اور اوندھا گرنے کے مواقع بتا دئے اور راہ پر مشعل ہدایت رکھ دینا ممکن تھا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس کی ہر ٹھوکر اور پھسلنے کی جگہ کو دکھاؤں مگر چونکہ ہر مبحث میں ان کی تعداد بہت ہے اس لئے ناظرین کی سہولت کے لئے اور نیز عبد الماجد قادیانی کے غور و خوض کے لئے یہ بہتر سمجھا کہ القاء کی ہر ہر بحث کو علیحدہ علیحدہ دکھاؤں ورنہ تمام کو ایک بار دکھانے میں کتاب بہت بڑھ جائے گی جس کے دیکھنے میں وقت کا بڑا حصہ صرف کرنا ہوگا۔

مولوی عبد الماجد قادیانی نے اپنی کتاب القاء میں فیصلہ آسمانی کے مضامین کو تین اعتراضوں پر منقسم کیا ہے اس میں سے پہلے اعتراض کو ضمنی قرار دے کر اس میں گیارہ غلطی گنائی ہیں۔ اب میں یہاں ان کی پہلی ہی غلطی سے شروع کرتا ہوں اور مولوی قادیانی سے نہایت ادب

١٠

سے کہتا ہوں کہ بندہ کا قصور معاف ذمہ عائد کرنا چاہتے ہیں۔ ”خو جائیے اور گوش ہوش سے میری مع

اس پہلی غلطی میں م اختصار سے وہ مواقع دکھلاتا ہوں

١....... مولوی عبد الماج

اوّل ! میں یہاں ا جماعت کے طالب علم بھی واقف تفعیل کا جیسے تصلیہ سے مصلیٰ ، کو مقفہ ہائے ہوز سے لکھا ہے۔

٢٠ القاءے ربانی (اعجاز المسیح میں کوئی تعلق ہی نہیں) یہاں سے

سمجھی ہونے کو بھی کلام کی خوبی آنحضرت ﷺ نے اس کو ناپ

اب جس شخص کا علم فارسی دان بھی جانتے ہیں۔ اور کرام کے سامنے کہنے کی جرأ سے دریافت کرتے ہیں کہ مقط ہے؟۔ اگر آپ اسی کو بتلا دیں یہ تو ہمارے درجہ کا جواب معمولی ایسے موقع میں غریب کاتب کی ہاتھ کا مسودہ جس سے کاتب وقت غریب کاتب ہی قابل نفر

١....... اول:

صفحہ ٢٩٣

سے کہتا ہوں کہ بندہ کا قصور معاف ہو، یہ غلطی آپ کے فہم کی ہے جسے نافہمی سے آپ دوسروں کے ذمہ عائد کرنا چاہتے ہیں۔ ”خود غلط بود آنچه ماپنداشتیم“ اب آپ ذرا سنبھل جائیے اور گوش ہوش سے میری معروضات کو سنیئے۔

اس پہلی غلطی میں مولوی عبد الماجد قادیانی نے جس قدر ٹھوکریں کھائی ہیں نہایت اختصار سے وہ مواقع دکھلاتا ہوں۔

١...... مولوی عبد الماجد قادیانی کو پہلی ٹھوکر املاء میں

اول ! میں یہاں ایک ایسا قاعدہ بیان کرتا ہوں جس سے عربی مدارس کے ابتدائی جماعت کے طالب علم بھی واقف ہیں اور وہ یہ کہ مقفیٰ اسم مفعول ہے تقفیہ سے جو مصدر ہے باب تفعیل کا جیسے تصلیہ سے مصلیٰ ،تزکیہ سے مزکیٰ، تخلیہ سے مخلیٰ لیکن مولوی عبد الماجد قادیانی نے مقفیٰ کو مقفہ ہائے ہوز سے لکھا ہے۔ یہاں میں ان کی بعینہ عبارت نقل کرتا ہوں ۔ ملاحظہ ہو صفحہ ٩ سطر ٢٠ القائے ربانی (اعجاز المسیح میں جس طرح مقفہ اور مسجع عبارت ہے اس سے مدارج السالکین کو تو کوئی تعلق ہی نہیں ) یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مولوی قادیانی کے نزدیک عبارت کے مقفیٰ اور مسجعی ہونے کو بھی کلام کی خوبی اور اعجاز میں دخل ہے۔ حالانکہ محض مقفے ہونا کوئی عمدگی نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا ہے۔ حدیث مثل ذالك يبطل ملاحظہ ہو۔

اب جس شخص کا علمی معیار یہ ہو کہ اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ لفظ مقفیٰ ہے یا مقفہ جس کو فارسی دان بھی جانتے ہیں۔ اور قرآن خواں بھی سمجھتا ہے افسوس ہے اس کی فراست پر کہ وہ علمائے کرام کے سامنے کہنے کی جرات کرے اور اپنی حالت پر نہ شرمائے۔ ہم عبد الماجد قادیانی مولوی سے دریافت کرتے ہیں کہ مقفیٰ کیا لفظ ہے اور اس کے کیا معنی ہیں اور اس کا کس لفظ سے اشتقاق ہے؟۔ اگر آپ اس کو بتلادیں تو اس سے آپ کی علمیت کا پتہ اور قابلیت کا انکشاف ہو جائے گا اور یہ تو ہمارے درجہ کا جواب معمولی ہے کہ کاتب کی غلطی ہے لیکن اہل فہم اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ایسے موقع میں غریب کاتب کی کہاں تک دست رس ہو سکتی ہے۔ مگر ہاں قادیانی مولوی نے اپنے ہاتھ کا مسودہ جس سے کاتب نے نقل لی ہے ۔ دکھلائیں اور وہ کاتب غلطی کی تصدیق کرے تو اس وقت غریب کاتب ہی قابل نفرین ہو گا یہاں مولوی قادیانی نے حقیقت میں چار غلطیاں کی ہیں۔

١...... اول علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ کی تفسیر کی عبارت کی فصاحت اور بلاغت کو نہیں

١١

صفحہ ٢٩٤

سمجھے اور اس کی خوبی اور عمدگی سے جاہل رہے اور اپنی اس جہل کو علم سمجھا

فصاحت و بلاغت سے کوئی تعلق نہیں اسے تو اہل علم خوب سمجھتے ہیں۔

فصاحت سے کچھ تعلق نہیں۔

قادیانی عبد الماجد یہاں مجھے آپ سے یہ بھی دریافت کرنا ہے کہ کسی جاہل کی جہالت کا پردہ فاش کرنا بھی علمی اعتراض ہو گا یا نہیں۔

٢...... مولوی عبد الماجد قادیانی کو دوسری ٹھوکر الفاظ کی ترکیب میں

قادیانی مولوی فرماتے ہیں کہ اس وقت اس کے معجزانہ دعوے کو ...... الخ ! (القادیانی ص ٨) کیا مولوی صاحب دعویٰ خود معجزہ ہے جیسا کہ آپ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے یا اعجاز کا دعویٰ ہے؟۔ مگر غالباً آپ کے نزدیک تو معجزانہ دعویٰ اور دعویٰ اعجاز میں کچھ فرق ہی نہیں ہو گا ورنہ معجزانہ دعوے کا لفظ آپ کے قلم سے نہ نکلتا اس امتیاز و فرق کے لئے تو فہم کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ تھوڑا سا علم بھی درکار ہے خدا کی قدرت ہے کہ جس شخص کے علمی پایہ کا مینار اس قدر روشن ہے کہ معجزانہ دعوے اور دعویٰ اعجاز اس کی روشنی میں ایک نظر آتی ہیں وہ فیصلہ آسمانی کا جواب لکھے؟ اور یہ کہے کہ اس میں کوئی نیا علمی اعتراض نہیں ہے جب اس روشنی میں یہ تیزی اور صفائی ہے کہ الفاظ کے معنی کا امتیاز نہیں رہتا تو پھر اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ فیصلہ آسمانی میں نیا علمی اعتراض نظر نہ آئے؟۔

٣...... مولوی عبد الماجد قادیانی کو تیسری ٹھوکر اسی وادی میں

قادیانی مولوی لکھتے ہیں۔ (مدارج السالکین محدثین کے اصول بیان وطرز بحث پر ایک کتاب ہے) (القادیانی ص ٩) ناظرین با انصاف کیا مدارج السالکین میں محدثین کے بیان و بحث کے اصول وقواعد کو لکھا ہے کہ ان کا بیان اور بحث کن کن اصول کے تحت میں ہوتا ہے۔

افسوس ہے کہ جو شخص اپنے مافی الضمیر کے ادا پر بھی قادر نہ ہو اور جو خود کہے اسے بھی نہ

١٢

صفحہ ٢٩٥

سمجھے وہ اہل علم کے مقابلہ میں آنے سے نہ شرمائے اب جس شخص کا املاء غلط ہو الفاظ غلط ہوں نہ لکھنا جانے نہ بولنا وہ نیا علمی اعتراض کیا سمجھے گا؟۔

٤......... چوتھی ٹھوکر مسلک محدثین

قادیانی مولوی لکھتے ہیں (اکثر مسائل برطبق مسلک محدثین )

(اتمائے ربانی ص ٩)

ناظرین ! ذرا اس جملہ کو ملاحظہ فرمائیے کہ یہ فارسی ہے۔ یا عربی یا اردو ہے یا ترکی؟۔ اے صاحب آپ تو کتاب اردو میں لکھ رہے ہیں۔ اردو لکھتے لکھتے برطبق مسلک محدثین پر کہاں پہنچ گئے؟۔ اسی بناء پر نئے علمی اعتراض کی تلاش ہے ابھی اردو لکھنا سیکھئے پھر علمی نیا اعتراض خود نظر آنے لگے گا۔

٥......... پانچویں ٹھوکر مطلب نہ سمجھنے سے

ہمیں جماعت قادیانیہ سے عموماً اور مولوی قادیانی سے خصوصاً امید نہیں کہ وہ اصل بات کو سمجھیں اگر وہ سمجھتے اور راستی انصاف سے کام لیتے تو آج وہ قادیانی نہ ہوتے خاص کر آسمانی فیصلہ کے بعد تو وہ ضرور علیحدہ ہو جاتے اور یلقی الشیطان فی امنیتہ کی نوبت نہ آتی لیکن عام مسلمانوں کی واقفیت اور انصاف پرستوں کے لئے پہلے میں یہاں فیصلہ آسمانی کے مطلب کو لکھتا ہوں جس سے ناظرین خود فیصلہ کریں گے کہ مولوی صاحب نے فیصلہ کو سمجھا ہے یا نہیں اصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ دعوے کیا ہے کہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی معجزہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ان دونوں کے معجزہ ہونے کے یہی معنی ہیں کہ یہ دونوں کلام معجز ہیں۔ دیکھو قرآن کی نسبت مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے اور خود قرآن نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ قرآن کلام معجز ہے اور کلام معجز کے یہ معنی ہیں کہ اس کلام بلیغ کی بلاغت اس مرتبہ کی ہو کہ انسانی طاقت سے بالا ہو اور کوئی انسان ایسے بلیغ کلام پر قادر نہ ہو اور مبدء فیاض نے انسانوں میں جو ملکہ اور قوت ودیعت کیا ہے وہ ایسے کلام کے ترتیب اور ترکیب سے عاجز ہو اور یہ مرتبہ اس کی قوت سے باہر اور اعلیٰ ہو۔ چنانچہ کوئی اہل علم اس سے ناواقف نہیں علامہ تفتازانی مطول شرح تلخیص میں لکھتے ہیں۔”وهو ان يرتقي الكلام في بلاغته الى ان يخرج عن طوق البشر ويعجزهم عن معارضته“ یعنی کلام کا اعجاز یہ ہے کہ اس کی بلاغت اس حد کی ہو جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ اب مرزا قادیانی کا ان دونوں کتابوں کو اعجاز کہنا اس کے

١٤

صفحہ ٢٩٦

یہی معنی ہیں کہ یہ دونوں کلام اپنی بلاغت میں اس درجہ پر ہیں کہ فطرت انسانی اس کے مقابلہ سے عاجز ہے اور یہ ان کی طاقت سے باہر ہے۔ جس طرح سے قرآن پاک معجز ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ ایسا کلام انسان کی مجال نہیں کہ بنا سکے اور ہر اہل علم اس سے بھی ناواقف نہیں کہ کلام کی بلاغت میں یہ بھی منجملہ اور باتوں کے لازمی ہے کہ اس میں صرفی، نحوی اور لغت اور اصطلاحات کی اغلاط نہ ہوں۔ جس کلام میں صرفی غلطی ہو یا نحوی ہو یا لغت کی ہو۔ یا اصطلاحات کی ہو وہ کلام بلیغ بھی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ معجز ہو۔ اس جگہ غالباً مجھے یہ ظاہر کر دینا بھی نامناسب نہیں ہو گا کہ مرزا قادیانی کے ان دونوں رسالوں میں ان تمام قسم کی غلطیاں کثرت سے ہیں اور علماء نے خود مرزا قادیانی کو بھی اس سے مطلع کیا تھا اور ”ابطال اعجاز مرزا“ جو چھپا ہے اسے ناظرین ملاحظہ فرمائیں اور پھر ہمارے اس دعوے کو دیکھیں اور معلوم ہو گا کہ مرزا قادیانی نے یہ محض عوام کو فریب دیا ہے۔

الحاصل: مرزا قادیانی نے ان دونوں کے اعجاز کا دعوے تو کیا لیکن اپنے اس دعوٰی پر کوئی دلیل نہیں بیان کی اور نہ آج تک کسی قادیانی نے اس دعوے کو دلیل سے منور کیا۔ اس وقت تک یہ دعوٰی محض تاریکی میں ہے اور یہ نہایت موٹی اور کھلی ہوئی بات ہے جس کو ہر شخص جانتا ہے کہ محض دعوٰی قابل سماعت نہیں تا وقتیکہ شہادت سے اسے ثابت نہ کیا جائے اور اسی لئے ہر طالب حق کو یہ استحقاق ہے کہ وہ مدعی سے اس کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کرے۔ اسی لئے فیصلہ آسمانی میں مرزا قادیانی کے اس دعوٰی پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ میں یہاں فیصلہ آسمانی سے اس کی بعینہ عبارت نقل کرتا ہوں جس سے ناظرین کو ہمارے اس بیان کی تصدیق ہو گی۔ اور اس کا پتہ چلے گا کہ قادیانی مولوی افسوس ہے کہ اردو ہی نہیں سمجھتے فیصلہ آسمانی حصہ دوم صفحہ ٤ کی سطر دوم میں ہے (ایک اور حیرت یہ ہے کہ دو کتابیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں ایک کا نام اعجاز المسیح اور دوسری کا نام اعجاز احمدی ہے۔ ان دونوں رسالوں کو معجزہ مانا جاتا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے خیال میں ان کے مضامین ایسے عالی اور مفید خلائق ہیں کہ دوسرا عالم لکھ نہیں سکتا یا اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ دوسرا ادیب نہیں لکھ سکتا یا دونوں باتیں ہیں) صاحبو! یہ عبارت نہایت صاف اور واضح ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان دونوں کا اعجاز روشن اور ظاہر تو نہیں ہے جس کو مان لیا جائے۔ بلکہ یہ دعوٰی بیان کا محتاج ہے اور جبکہ یہاں عام معجزہ میں بحث نہیں ہے بلکہ خاص معجزہ میں گفتگو ہے۔ یعنی اس کلام میں جو معجزہ ہے اور جس کے اعجاز کا دعویٰ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کلام معجزہ ہی ہو سکتا ہے جو انسانی طاقت سے بالا ہو۔ تو ان رسالوں کے معجز ہونے کے بھی یہی معنی ہوں گے

١٤

صفحہ ٢٩٧

کہ ایسا لکھنا انسانی طاقت سے باہر ہے ورنہ معجزہ نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے فیصلہ میں اس کا مطالبہ کیا گیا کہ ان کی وجہ اعجاز کو بیان کرنا ضروری ہے اور اسی کے ضمن میں اس دعوے کے نظری ہونے کی تائید میں یہ بھی کہا گیا کہ ان میں نہ اعجاز بلحاظ مضامین ہے اور نہ بلحاظ عبارت کیونکہ مدارج السالکین اور اعجاز البیان کیا، بلحاظ مضامین اور کیا بلحاظ عبارت دونوں اعتبار سے ان دونوں سے کہتر ہیں بلکہ اہل علم و فضل کی نگاہ میں مرزا قادیانی کے رسالے بدرجہا گھٹیا ہیں۔ پھر ایسی حالت میں مرزا قادیانی کا دعویٰ اعجاز بہت زیادہ محتاج بیان ہو جاتا ہے اور اس قابل نہیں کہ بلا دلیل اس کو مان لیا جائے۔ اب مرزا قادیانی یا کسی قادیانی کا یہ کہنا کہ رسالے اس زمانہ کے علماء کے مقابلہ میں لکھے گئے ہیں اور ایک وقت معین تک اس کا اعجاز ہے۔ یہ بات اگرچہ عوام اور ناواقفوں کے دام میں لانے کے لئے گو کچھ کام آوے مگر اہل علم کے سامنے وہی کہہ سکتا ہے جو آنکھوں پر پٹی باندھ لے یا خود جاہل ہو۔ ورنہ اگر کسی قادیانی میں غیرت و شرم ہے تو وہ دکھلائے کہ کسی نے بھی کلام معجز کے یہ معنی بیان کئے ہیں جو قادیانی جماعت کہتی ہے اور اگر کلام معجز کے یہ معنی جماعت قادیانیہ کی خود من گھڑت اور ان کے اپنے دماغ کا نتیجہ ہے تو اس میں ہمیں کلام نہیں، جیسے کسی نے اپنی مرغی کا نام نور جہاں بیگم رکھ لیا تھا تو کیا فی الحقیقت وہ نور جہاں بیگم ہو گئی؟۔ علاوہ اس کے ہندوستان کے علماء کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کا لکھنا اور ان سے اس کی مثل عبارت طلب کرنا یہ بھی ایک بڑا فریب ہے۔ اس لئے کہ ہندوستان کے علماء اہل زبان نہیں دوسرے مرزا قادیانی جانتے تھے کہ اب ہندوستان میں وہ علماء نہیں جنہیں ادب میں کمال ہو۔ تیسرے مرزا قادیانی یہ بھی سمجھتے تھے کہ جو دو چار علماء ہیں ادیب اور فہمیدہ ہیں تو ایسی مزخرف عبارت کی طرف متوجہ نہ ہوں گے اور ان سب سے زیادہ امر یہ ہے کہ مرزا قادیانی اگر اہل زبان اور ایسے اہل کمال کے سامنے جو فصاحت و بلاغت میں کامل ہوتے ایسا دعویٰ کرتے جس طرح کہ قرآن نے اہل کمال کے روبرو ایسا دعویٰ کیا تھا تو البتہ قابل اعتبار تھا ورنہ یہ دعویٰ تو ایسا ہو گا جس طرح کوئی اعلیٰ درجہ کا عبارت نگار اردو کی عبارت لکھے اور گاؤں والوں سے اس کا مثل چاہے۔

مؤلف القاء جو یہ لکھتے ہیں کہ ”اس کے معجزہ ہونے کو منع کیا ہے۔“ یہ محض ناواقفی اور فنون علمیہ سے بے خبری اور صحبت علماء سے محرومی کا باعث ہے۔ ورنہ یہ بات تو ادنیٰ سا طالب علم بھی سمجھتا ہے کہ منع دعویٰ کا نہیں کیا جاتا۔ یہی تو مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ یہ معجزہ ہے پھر اس کو کس طرح منع کر سکتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اسی دعویٰ کو بلا دلیل تسلیم کرنے والوں پر افسوس کیا ہے

١٥

صفحہ ٢٩٨

اور اس دعویٰ کی دلیل طلب کی ہے۔

٦ ...... چھٹی ٹھوکر

سمجھ میں ہی نہیں آتی ہے کوئی بات ذوق اس کی
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے کوئی جانے تو کیا جانے

قادیانی مولوی آپ کو کیا ہو گیا ہے جب آپ کو اتنی بھی خبر نہیں کہ نقض اجمالی مدعی کے دعوے کی دلیل پر ہوتا ہے فیصلہ میں فرمائیے تو سہی کہ کیا دعویٰ کیا گیا ہے اور پھر اس پر کون سی دلیل قائم کی ہے؟ یا بلا دعویٰ و دلیل ہی آپ کا یہ نقض اجمالی (کہ اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ حضرت الخ ! (القائے ربانی ص ٨)) جاری ہے عوام یا آپ کی جماعت جو کہ آپ کی طرح بھولی بھالی ہے آپ کے اس دقت نظری اور دقیقہ رسی اور قابلیت کی داد دے تو دے مگر اہل علم کے نزدیک تو یہ ضرور مضحکہ خیز اور قابل حیاء ہے۔ شرم ...... شرم !

٧ ...... ساتویں ٹھوکر

قادیانی مولوی جی ! یہ ضرور ہے کہ معجزہ سے خصوصاً کلام معجز سے جب ایسی شے جو کہ معجزہ نہیں یا کلام معجز نہیں بڑھ جائے تو اس سے لازمی یہ نتیجہ نکلے گا کہ یہ دعویٰ اعجاز باطل اور ابلہ فریبی ہے۔ اس لئے کہ کلام معجز وہی ہو سکتا ہے جس پر انسان قادر نہ ہو اور جب کسی انسان کا کلام اس کلام سے جس کے معجز ہونے کا دعویٰ کیا جائے فائق ہو خواہ وہ کلام کسی وقت کا ہو تو ایسی حالت میں اس کو معجزہ کہنا یا مان لینا حمقاء کا کام ہے۔ یا جناب والا کا ، اب اس تسلیم کے بعد بھی کہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی یہ دونوں رسالے عمدہ اور بہتر ہیں اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کو کلام معجز تسلیم کر لینا بھی مرزا قادیانی کا اعجاز ہے کہ انہوں نے عقل و حواس کو معطل کر دیا اور عبد الماجد قادیانی سے منوا لیا۔

٨ ...... آٹھویں ٹھوکر

عبد الماجد قادیانی جو القاء میں لکھتے ہیں کہ ”اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا چڑیوں کو پیدا کرنا، محمد رسول اللہ کے معجزہ سے بڑھ کر ہے۔“ (ص ٨ سطر ٧) میں کہتا ہوں کہ عیسائیوں ہی سے تو آپ نے یہ اعتراض سیکھا ہے لیکن افسوس ہے کہ

١٦

صفحہ ٢٩٩

اعتراض تو دیکھا لیکن علماء اسلام نے جو اس کا جواب دیا ہے وہ نہ دیکھا تعجب ہے کہ اسلام کا دعویٰ اور کسر صلیب کا ادّعا۔ مگر دماغ میں عیسائی اعتراض بسے ہوئے ہیں کیا اہل اسلام کی وہ کتابیں جو عیسائیوں کے مقابلہ میں لکھی گئی ہیں، نہیں دیکھیں یا وہ جوابات سمجھ میں نہیں آئے۔ خیر آپ نے نہیں دیکھیں تو ہم سے سنئے۔ اگر کوئی عیسائی ایسا کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ جناب سرور عالم کے معجزہ سے بڑھ کر ہے تو پہلے ہم اس سے کہیں گے کہ یہ تمہارا دعویٰ ہے اس کو دلیل سے ثابت کرو دوسرے یہ بھی بتلاؤ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ رسول خدا کے تمام معجزات سے بڑھ کر ہے یا بعض سے۔ اگر بعض سے ہے تو پھر اس کو بیان کرنا چاہئے کہ آنحضرت کے وہ بعض معجزات کون ہیں جن سے یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بڑھ کر ہے ہم تو کہتے ہیں کہ آنحضرت کے بعض معجزات ایسے ہیں جو آج تک کسی نبی سے نہیں ہوئے اور وہ تمام انبیاء کے معجزات سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مثلاً آنحضرت کا یہ معجزہ کہ ایک جاہل اور نا تربیت یافتہ قوم کو آپ نے ایک نظر میں ایسا بنا دیا کہ آج کل فلاسفہ بھی ان کی تقلید کو اپنا فخر سمجھتے ہیں۔

تیسرے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تمام معجزات اسی درجہ کے ہیں یا ان میں باہم کچھ فرق ہے اگر فرق ہے تو کیا وہ معجزہ جو افضل نہیں معجزہ نہیں؟ اور اگر تمام یکساں ہیں تو اسے ثابت کرو۔ چوتھے جماعت قادیانیہ سے ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے تمام معجزات کو ایک درجہ پر بتایا ہے یا کچھ فرق کیا ہے اور بعض کو نہایت ہی عظیم الشان کہا ہے۔

سخن شناس نہ ای دلبرا خطا اینجا ست

سنو اور سمجھو کہ ایک ہی نبی کے معجزات میں یا دو نبیوں کے معجزات میں فرق سے معجزہ کا انکار کوئی ذی عقل تو نہیں کر سکتا۔ ہاں جماعت قادیانیہ کرے تو کرے۔ کیا انبیاء میں فرق مراتب کیا جائے اور کہا جائے کہ فلاں نبی فلاں سے افضل ہے تو کیا جماعت قادیانیہ مفضول نبی کی نبوت سے انکار کرے گی؟۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ غیر نبی، نبی سے نہیں بڑھ سکتا اور اسی طرح غیر معجزہ، معجزہ سے نہیں بڑھ سکتا البتہ اعجاز کلام میں اگر کوئی کلام کسی معجز کلام سے بڑھ جائے تو اس کا اعجاز باطل ہو جائے گا یہاں اس معجزے کو دوسرے معجزوں سے تشبیہ دینا غلط ہے۔

کہو اب بھی سمجھے یا نہیں اور اب تو یہ ایسا علمی اعتراض ہوا جو کہ آپ کے دماغ میں اس وقت تک نہیں آیا تھا۔ کیا آپ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ باہم معجزوں کی تفاصیل کو اس تفاصیل پر قیاس

١٧

صفحہ ٣٠٠

صحیح نہیں جو کلام غیر معجز کو کلام معجز پر ہو۔ پھر یہ کس قدر فریب اور مغالطہ ہے کہ غیر معجز کلام کی فضیلت کلام معجز پر دے کر اس کو دو معجزوں کی باہمی فضیلت پر قیاس کیا جاتا ہے۔

" واعجباہ من حکومہ الجہل و شیوع الغوایۃ فمن لم یجعل اللہ لہ نوراً فمالہ من نور "

٩....... نویں ٹھوکر

قولہ ’’ معجزہ یا کرامت موجودہ زمانہ میں مخالفین کو عاجز کرنے اور خدائی نصرت اپنے ساتھ دکھانے کے لئے ہوتا ہے۔‘‘ (القاء صفحہ ٨ سطر ١٠) معجزہ کے یہ معنی کہ جو موجودہ زمانہ میں مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے صادر ہو جماعت قادیانیہ کے یہاں گڑھے گئے ہیں یا کسی دوسرے اہل علم نے بھی لکھے ہیں پہلی صورت میں وہی مرغی کی نور جہاں بیگم کا قصہ ہے اور دوسری صورت میں ضروری تھا کہ ائمہ فن اور علماء کے اقوال سے اسے ثابت کیا ہوتا ۔ ورنہ میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ عبدالماجد قادیانی کے تمام افعال و اقوال معجزہ ہیں کیونکہ معجزہ وہی ہے جو عبدالماجد قادیانی سے صادر ہو اب عبدالماجد کو بھی دعوے نبوت کرنا چاہئے اور مرزائی جماعت کو اس کی تصدیق، یہ بھی تعجب نہیں کہ آئندہ ایسا کریں۔

١٠....... دسویں ٹھوکر

اگر آپ کی خاطر سے میں معجزہ کی وہ تعریف جو آپ کے فکر کا نتیجہ ہے مان بھی لوں اور تھوڑی دیر کے لئے امر واقعی کو چھوڑ بھی دوں تو ایسی حالت میں بھی کلام معجز تو اس میں داخل نہ ہو گا۔ کیونکہ کلام معجز کی حقیقت میں یہ معتبر ہے کہ انسانی قوت سے بالا ہو تو پھر گزشتہ اور آئندہ اور موجودہ زمانہ میں کوئی انسان اس کے مثل بھی نہیں لا سکتا۔ چہ جائیکہ اس سے بہتر؟ ورنہ وہ کلام معجز نہ رہے گا کلام پاک چونکہ کلام معجز ہے اسی لئے اس کی نسبت مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ کوئی کلام خواہ گزشتہ ہو یا موجودہ یا آئندہ اس کے مثل نہیں ہو سکتا اس طرح میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے یہ دونوں رسالے اگر کلام معجز ہوں تو پھر یہ ضروری ہے کہ کوئی کلام خواہ گزشتہ ہو یا آئندہ یا موجودہ اس کے مثل بھی نہ ہو۔ ورنہ کوئی کلام ان دونوں کے مثل ہو یا ان سے زیادہ ہو تو پھر مرزا قادیانی کے رسالے ایسے نہ ہوں گے جو قوت انسانی سے عالی ہوں اور جب عالی نہ ہوئے تو کلام معجز نہ ہوئے یہاں بحث کلام معجز میں ہے نہ عام معجزہ میں افسوس ہے کہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ بحث کس امر

١٨

صفحہ ٣٠١

میں ہے اور میں کیا کہہ رہا ہوں۔ بقول شخصے ”سوال از آسمان جواب از ریسمان“

گر ہمیں مکتب ہمیں ملا
کار طفلاں تمام خواہد شد

فرمائیے یہ بھی کوئی جدید اعتراض ہوا یا نہیں۔

١١...... گیارھویں ٹھوکر

قولہ کہ ”ابو احمد صاحب یا کوئی مخالف مولوی صاحب میعاد مقررہ کے اندر ایسی تفسیر لکھ کر پیش کر دیتے (القا صفحہ ٨) افسوس کہ مولوی صاحب کو اردو لکھنا تک تو آتا نہیں پر اہل علم کے سامنے منہ کھولتے ہیں۔ نظر میں ملاحظہ فرمائیں کہ اس عبارت میں جو مخالف مولوی صاحب کا لفظ ہے اس کے کیا معنی ہیں۔ لفظ مخالف اگر لفظ مولوی کی طرف مضاف ہے تو معنی غلط اور اگر موصوف ہے تو عبارت غلط یوں کہنا تھا کہ مولوی صاحب مخالف۔

١٢....... بارھویں ٹھوکر

اس پر سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشد۔ ابھی تو دو سطر قبل میں بتلایا گیا ہے کہ ( معجزہ موجودہ زمانہ میں مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے صادر ہوتا ہے ) اس میں تو یہ نہیں کہا گیا کہ موجودہ زمانہ کے مخالفین کے عاجز کرنے کے لئے اس میں میعاد بھی مقرر کی جاتی ہے پھر یہ کس مقدمہ کا نتیجہ ہوا کہ معجزانہ دعوے اسی وقت باطل ہوتا جب میعاد مقررہ میں تفسیر پیش کی جاتی ۔ کیا موجودہ زمانے کے مخالفین اگر بعد میعاد کے معجزہ کا مقابلہ کریں تو معجزانہ دعوے باطل نہ ہوگا۔ پہلے تو آپ نے معجزہ میں میعاد کی قید نہیں کی ۔ یہ قید لگانا ہی تو اعلیٰ درجہ کا فریب ہے۔ اس لئے کہ میعاد ایسے مقرر کی کہ اس میں علماء کو لکھنا تو درکنار اطلاع ہونا بھی دشوار تھا اور حضرت اقدس ابو احمد صاحب کو تو برسوں اس کا علم ہی نہ ہوا۔ مگر ہاں آپ تو مطلق العنان ہیں اس لئے آپ کو یہ کہنے کا حق ہے کہ اگر پہلے نہیں تو اب کرتا ہوں کیونکہ یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔

١٣...... تیرھویں ٹھوکر

قولہ ” ناظرین حضرت مرزا صاحب نے صاف اسی اعجاز احمدی کے ٹائٹل پیج میں لکھ ہے ۔ (القاء ص ٨ سطر ١٥) ہاں قادیانی مولوی ہی کے ناظرین شاید اس اشارہ کنایہ کو سمجھتے ہوں۔ اور قادیانی مولوی ہی کے ناظرین اس راز و نیاز کو جانتے ہوں ۔ ورنہ عبارت میں اگر کچھ مطلب ہوتا

١٩

صفحہ ٣٠٢

تو غالباً قادیانی مولوی بھی ناظرین کو مخاطب نہ کرتے جو عبارت عربی مرزا قادیانی کی میں نے نقل کی ہے اس کا حاصل صرف اسی قدر ہے کہ میرے اس رسالے سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی ظاہر ہوتی ہے جو مجھے اور میری جماعت کو جاہل سمجھتے ہیں۔ اس عبارت کے قبل قادیانی مولوی نے چار باتیں بیان کی ہیں۔

باطل ہوتا۔

اب ذی ہوش و حواس سمجھیں کہ اس عربی کو ان چاروں باتوں میں سے کس سے تعلق ہے اور وہ کیا تعلق ہے؟ یہ ظاہر ہے کہ پہلی دو باتوں سے تو اسے کچھ تعلق نہیں رہا تیسرا امر یعنی معجزہ کی تعریف اس سے بھی اسے کچھ تعلق نہیں ہے اور اسی طرح چوتھی بات کے اعتبار سے بھی یہ بے جوڑ ہے۔ ہاں شاید ناظرین ہی اسے کچھ سمجھتے ہوں مگر یہ امر بھی دریافت طلب ہے کہ ناظرین مرزا قادیانی اسے سمجھیں گے یا ناظرین مولوی صاحب۔ ممکن ہے کہ قادیانی عبد الماجد کا مطلب اس عبارت کی نقل سے مرزا قادیانی کے کلام معجز کا نمونہ دکھلانا ہے اس لئے میں بھی اس کا اعجازی پردہ اٹھا کر منظر عام پر لاتا ہوں اور دکھاتا ہوں کہ فی الحقیقت یہ اعجاز ہے یا عجز ہے۔

صاحبو! اس ایک سطر کی عبارت عربی میں مرزا قادیانی نے بلاغت و فصاحت کی وہ داد دی ہے کہ عرب کے بڑے بڑے نام آور فصحاء و بلغاء کی بھی روح قبر میں شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ واہ سبحان اللہ کیا بلاغت ہے۔ اور اس کے گلے میں اعجاز کا ہار کتنا خوش نما ہے کہ اہل فضل و کمال تو دیکھ کر عش عش کر جائیں؟ ہاں عبد الماجد قادیانی اگر مرزا قادیانی کے کلام معجزہ کا یہی نمونہ ہے تو واقعی اب اس کے معجز ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن یہ خیال رہے کہ کلام کے دو طرف ہیں اعلیٰ اور دوسرا ادنیٰ، یعنی وہ حد کہ اس سے کلام گرا ہوا ہو تو وہ بھی انسانی قوت سے باہر ہو اور چرند پرند جانور وں کی آواز ہو جس پر انسان قادر نہیں، تو مرزا قادیانی کی یہ عبارت اگر چہ اعلیٰ طرف میں داخل نہیں، جیسا کہ ابھی میں ظاہر کروں گا لیکن اس میں کسی ذی فہم و علم کو کب کلام ہو سکتا ہے کہ یہ

٢٠

کی دوسری طرف سے یہ عـ تانا یہ کمال حماقت ہے سنئے ۔

اس عبارت میں

ان تینوں جملو بات کو تین بار کہنا عجز نہیں تو یہاں تاکید کا مقام نہیں کیو ہے تو اسے دکھلائیے کہ مخالـ تکرار کافی تھا۔

اس عبارت مـ یصبغون کا لانا خلاف رہا نہیں پھر جس شخص کو جملہ ہے کہ وہ ایسے نا موضوع کا

’لیس عذ بلیغ ہے کیونکہ یہ اس سے اختیار کیا ہے۔

بل عصبة طول لا طائل ہے اسی لئے

صفحہ ٣٠٣

کی دوسری طرف سے یہ عبارت نہ دراصل ہر مرتبہ اعجاز میں پہنچ گئی ہے اور اصوات حیوانات سے تشابہ کامل رکھتی ہے سنئے۔

١٤...... مرزا قادیانی کے اعجاز کا نمونہ

اس عبارت میں تین جملے ہم معنی ہیں۔

(اعجاز المسیح ص ٧٨ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ١)

ان تینوں جملوں کا حاصل ایک ہے پھر محض مشق اور کاغذ سیاہ کرنے کے سوا ایک ہی بات کو تین بار کہنا عجز نہیں تو کیا ہے اگر کہا جائے کہ تاکید کے لئے ایسا کیا گیا تو اہل فہم سمجھتے ہیں کہ یہاں تاکید کا مقام نہیں کیونکہ جس مضمون کا رد کیا جائے اس کی تاکید کے کیا معنی اور اگر نقل کلام ہے تو اسے دکھلائیے کہ مخالفین نے کہاں ان تین جملوں کا استعمال کیا ہے علاوہ بریں تاکید کے لئے تکرار کافی تھا۔

١٥...... مرزا قادیانی کی دوسری غلطی

اس عبارت میں جملہ یجهلونا الخ! اور یقولون الخ! کے درمیان جملہ یصیغون کا لانا خلاف بلاغت ہے کیونکہ پہلے دونوں جملے باہم مرتبط ہیں اور درمیانی جملہ کو وہ ربط نہیں پھر جس شخص کو جملوں کی مناسبت کا بھی علم نہ ہو اور اپنے کلام میں اس کا لحاظ نہ رکھے تعجب ہے کہ وہ ایسے ناموضوع کلام کو معجز سمجھے۔

١٦...... مرزا قادیانی کی تیسری غلطی

”ليس عندهم من علم شئ“ سے ”ليس لهم من علم“ زیادہ فصیح اور بلیغ ہے کیونکہ یہ اس سے مختصر بھی ہے اور نفی علم پر زیادہ دال ہے اور اسی لئے قرآن میں اسی کو اختیار کیا ہے۔

١٧...... مرزا قادیانی کی چوتھی غلطی

بل عصبة من مفاليس بجائے اضافت کے اظہار من میں کوئی نفع نہیں بلکہ یہ طول لاطائل ہے اسی لئے ادباء ایسے موقع میں من کو ظاہر نہیں کرتے اور محض اضافت ہی پر اکتفا

٣١

صفحہ ٣٠٤

کرتے ہیں حریری نے کہا ہے۔ ”صلیت المغرب فی تفلیس مع زمرة مفالیس“ نابغہ کے شعر میں ہے ”عصابة طير تهتدى بعصائب“ ہاں اس کو بتائیں کہ من سے کیا بات ایسی پیدا ہوگی جو بلا اس کے ناتمام رہتی؟۔

١٨...... مرزا قادیانی کی پانچویں غلطی

ليس عندهم من علم بل عصبة من مفاليس میں بل کا استعمال صحیح نہیں کیونکہ بل اضراب کے لئے ہے اور بل کے بعد اگر جملہ ہو جیسا کہ یہاں ہے تو اس وقت بل سے مضمون سابق کا ابطال ہوگا۔ جس طرح ”ام يقولون به جنة بل جاء هم بالحق“ یہاں سے مضمون سابق یعنی جنون کی نفی ہوگی۔ اس لئے اب مرزا قادیانی کے کلام کے یہ معنی ہوئے کہ وہ عالم ہیں لیکن ان کے پاس علم نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کلام کس قدر مہمل ہے؟۔ بلکہ اس میں اجتماع نقیضین ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں مالدار ہے لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے۔ یہی وہ اعجاز ہے جس پر مرزا قادیانی نے شور مچا رکھا ہے اور اپنی ہستی سے باہر ہیں اور عبد الماجد قادیانی جیسے عقلاء نے اسے مان لیا ہے؟ سچ ہے۔ ”اذا المرء لم يدنس من اللؤم عرضه ، فكل رداء يرتديه جميل“ مرزا قادیانی کی اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں لیکن طوالت کے خیال سے بطور نمونہ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اگر عبد الماجد قادیانی کی طرف سے هل من مزيد کی صدا بلند ہوگی تو مجبوراً اس سے زیادہ خدمت کے لئے بھی ہم حاضر ہیں۔ اور اگر العاقل تكفيه الاشارة سے قادیانی مولوی نے سبق لیا تو خیر وہ مرزا قادیانی پر بہت ہی احسان کریں گے۔

١٩...... انیسویں ٹھوکر

اس عبارت کے ترجمہ میں عبد الماجد قادیانی نے جو اردو عبارت لکھی ہے اس سے ان کی عربی دانی پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ ”بریں عقل و دانش بباید گریست“ ایک سطری عربی عبارت کا اردو میں ترجمہ نہ ہوسکا اور عبارت بھی وہ جو معمولی ہے۔ جس میں کان يكون کے سوا کوئی لغت نہیں، اغلاق نہیں، اسم موصول کا ترجمہ اسم اشارہ سے کرنا اور ان دونوں میں فرق نہ کرنا یہ آپ کی قابلیت علمی کا کہلانا کہاں کی شان ہے۔ يصبغون التلبيس کا یہ ترجمہ (فریب و مکر سے باتوں کو رنگین کرتے ہیں) نہایت ہی قبیح ہے واقعی جب آپ کی قابلیت علمی کا مینارہ اس قدر بلند ہے تو مرزا قادیانی کا اعجاز اگر آپ کو نظر آئے تو اس میں کوئی تعجب خیز امر نہیں۔ لولا

٢٢

صفحہ ٣٠٥

الحمقا، لخربت الدنيا!

قولہ ”اور اس کی مانند انہیں ستر دنوں میں“ (القا، صفحہ ٨ سطر ٢٢) ہاں عبد الماجد قادیانی آپ نے اور نہ آپ کے مرزا قادیانی نے، یہ تو بتلایا نہیں کہ معجزانہ طاقت کوئی انجن کی بھاپ ہے یا گھڑی کی کوک ہے جو ستر دن کے بعد فنا ہو جائے گی۔ یا کھل جائے گی ایسی باتوں سے اگر چہ دل کے اندر بے دام فریب میں پھنس جائیں۔ مگر کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ ایسی بات کہی جائے جو اپنی کمزوری اور تلبیس ابلیس کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ہو۔ کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ معجزانہ طاقت ستر دن کے بعد اور وہ بھی وہ ستر دن جن کو مرزا قادیانی نے تعین کیا ہو فنا ہو جاتی ہے۔ اے جماعت قادیانیہ ذرا شرم کرو اور خدا سے ڈرو آخر ایک روز مرنا ہے اور خدا کے سامنے جانا ہے اور یاد رکھو کہ معجزانہ طاقت کسی زمانہ اور موسم سے مقید نہیں زمانہ خواہ کتنا ہی گزر جائے اور کتنے ہی پلٹے کھائے۔ مگر معجزانہ طاقت بدستور ویسی ہی رہے گی اور کوئی کسی وقت میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں یہ شرط ضرور ہے کہ وہ سچے نبی کا ہو، نہ مرزا قادیانی کا۔

قولہ ”ناظرین با انصاف اگر ان دونوں کتابوں کو جو سینکڑوں برس قبل تصنیف ہوئی ہیں ...... الخ! (القا، صفحہ ٩ سطر ٤) افسوس کہ سیکڑوں کا املاء بھی معلوم نہیں کہ اس میں کاف کے پہلے نون نہیں۔ واقعی یہ مرزا قادیانی قادیان ہی کے کلام کا اعجاز ہے کہ اس سے عمدہ کلام ہونے پر بھی وہ نہیں شرماتا اور اپنی بے حیائی اور ڈھٹائی سے سامنے ڈٹا ہوا ہے کیا کلام معجز کلام بھی کہلائے گا۔ جس کلام سے عمدہ اور بہتر انسان کا کلام ہو۔ عبد الماجد قادیانی اگر آپ خود سمجھ سکیں اور اتنی ہمت کریں تو تلخیص المفتاح ہی کو دیکھئے ورنہ کسی اہل علم سے کلام معجز کے معنی دریافت کیجئے کلام معجز کے معنی اگر معلوم ہوتے تو پھر ضرور ان رسالوں کے عمدہ ہونے کے بعد اعجاز المسیح کا دجل آپ کو بھی نظر آ جاتا یہ محض ناواقفی سے آپ ایسا کہہ رہے ہیں دیکھئے ہم نے پہلے ہی مطول سے کلام معجز کے معنی لکھ دیئے ہیں اور اس کا ترجمہ بھی کر دیا ہے تا کہ عربی سمجھنے کی دقت بھی نہ رہے پھر اس پر بھی یہاں ٹھوکر کھانا اور سنبھلنے سے بھی سیدھا نہ ہونا موت کی علامت ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قلبی حیات کا نام و نشان بھی نہیں رہا۔

٢٣

صفحہ ٣٠٦

٢٢....... بائیسویں ٹھوکر

قولہ ’’اس اعجاز المسیح کے اعجاز میں جو مقابلہ ابو احمد صاحب اور دیگر علمائے مخالفین موجودہ کے لکھی گئی ..... الخ!‘‘ (القاء صفحہ ٨ سطر ٦) کلام میں کسی قوم یا گروہ کے اعتبار سے بھی اعجاز لیا جائے تو اس وقت ہر ایک کا کلام معجزہ ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ کوئی شخص مشق کے ذریعہ سے تحریر و تقریر کا ملکہ پیدا کرے اور پھر ایسے لوگوں کے مقابلہ میں جس میں یہ ملکہ نہیں اپنے اعجاز کا دعویٰ کرے تو کیا کوئی ذی شعور اسے اعجاز کہے گا آج دنیا میں ہر زبان میں بہت سے کلام اور دیوان ایسے ہیں کہ بعض جماعتیں ان کے مقابلہ سے عاجز ہیں تو کیا یہ معجزہ ہو جائیں گے۔ نعوذ بالله من تلك الهفوات والخرافات!

٢٣....... تئیسویں ٹھوکر

قولہ ’’ دیکھنا ہے کہ ابو احمد صاحب اس کو کہاں تک تسلیم کرتے ہیں‘‘ (القاء صفحہ ٩ سطر ١٢) انسانوں میں انبیاء کے سوا کوئی معصوم نہیں غلطی اور خطاء بھول چوک سے کوئی شخص بچا ہوا نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی کی بھلائی اور صواب اس کی برائی اور خطاء پر غالب ہے اور کسی کی برائی اور خطاء اس کی صواب اور بھلائی پر حاوی ہے۔ اب ایسی حالت میں کسی سمجھدار سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کے کچھ اقوال یا افعال کو سراہے تو پھر وہ اس کے تمام ہی اقوال وافعال کو سراہے بلکہ منصف اور محقق کی یہ شان ہے کہ حق و باطل کے میزان پر انصاف سے ہر شے کو جانچے اور ’’فانظر الى ماقال ولا تنظر الى من قال.“ پر عمل کرے۔ اب کسی محقق یا منصف سے یہ امید سراسر حماقت ہے کہ اس نے اگر ابن قیم اور صدر الدین کے ان دونوں رسالوں کو سراہا تو پھر وہ ان کے تمام اقوال وافعال کو بلا جانچے اور دیکھے سراہے یا ان کے تمام اساتذہ کے اور تمام خاندان کے اقوال و افعال اور کتابوں کو سراہا، یا کسی کے ایک قول کو رد کرے تو پھر اس کے تمام اقوال کو رد کرے اور اس کے تمام متعلقین کو رد کرے۔ یہ ملازمہ عقلی تو نہیں ہے ہاں قادیانی ہو تو ہمیں علم نہیں غالباً عبدالماجد قادیانی نے یہ جو کچھ کہا ہے وہ جماعت قادیانی کے مسلک پر کہا ہے کیونکہ مرزا قادیانی کی پیشنگوئی کے گودام میں لاکھوں من پیشین گوئیاں بوریوں میں بھری ہوئی رکھی تھیں اور روزانہ ہزاروں من مشین میں ڈھلتی تھیں اتفاقاً غلط بر ہدف زند تیرے کے موافق اس انبار ناپیدا کنار میں ایک آدھ سچی بھی برآمد ہوگی الکذوب قد يصدق جھوٹا کبھی سچ بھی بول دیتا ہے پس اس پر

٢٤

صفحہ ٤٠٧

جماعت قادیانیہ نے آنکھ بند کر کے تمام گودام کو بلا دیکھے بھالے خرید لیا اور کھرا کھوٹا کچھ نہ دیکھا۔ بئسما اشترو بہ انفسھم ! اور ایک کو کیا سراہا تمام ہی کو سراہ لیا بلکہ مرزا قادیانی کے تمام متعلقین کی باتوں کو سراہ لیا اسی بناء پر عبدالماجد قادیانی اہل حق سے یہی امید رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں۔ ( ابن قیم اور صدر الدین کو غنیمت ہے کہ آج بہت سراہتے ہیں مگر کیا......الخ ! مولوی صاحب یہ آپ کا خیال خام ہے خدا اور رسول کے بعد ہر شخص کا قول قابل تنقید ہے جو شریعت کے معیار پر صحیح اتر جائے علی الرأس والعین ورنہ قابل رد۔ کیا حضرت مجدد صاحب رحمہ اللہ کا مقولہ آپ کو یاد نہیں رہا۔ افسوس ہے کہ موقع ہی پر آپ بھول جاتے ہیں اور ویسے بے پر کی بہت اڑاتے ہیں دیکھو اور خوب یاد کرو مجدد صاحب کہتے ہیں ”قائل آں سخنان شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی کلام محمد عربی ﷺ در کارست نہ کلام محی الدین عربی و صدر الدین قونوی“ مجدد صاحب کا یہ مقولہ سنہرے حرفوں میں بہت جلی قلم سے ہمارے دل پر نقش کالحجر ہے اور اسی پر ہمارا عمل ہے۔ گر فرق مراتب نکنی زندیقی حق حق ہے اور باطل باطل اس میں خدا اور رسول کے بعد کوئی تخصیص نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے جو بعض اقوال صحیح ہیں اس کو بھی حضرت اقدس ابواحمد صاحب نے سراہا ہے جیسا کہ دوسری شہادت آسمانی میں بھی مرزا قادیانی کے ایک قول کو لکھا ہے کہ یہ آب زر لکھنے کے قابل ہے۔

٢٤....... چوبیسویں ٹھوکر

قولہ کہ ”ان دونوں کے استاد و پیر محی الدین ابن عربی، ابن تیمیہ رحم اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ جیسے علماء نے کیا سلوک کیا ہے......الخ! اولاً عبدالماجد قادیانی کو یہ بتانا چاہئے کہ حضرت مولانا ابواحمد صاحب نے ان دونوں کے پیر کی نسبت کیا برا سلوک کیا؟ اور میں کہتا ہوں کہ ہرگز مولانا ابو احمد صاحب جیسے علماء نے ان کی نسبت کوئی برا فتویٰ نہیں صادر فرمایا یہ عبدالماجد قادیانی کا افتراء اور محض جھوٹ ہے۔ ثانیاً اگر ابن قیم اور صدر الدین قونوی کے یہ دونوں رسالے اچھے اور عمدہ ہیں تو اس سے یہ کس طرح لازم آیا کہ ان کے پیر و استاد شیخ محی الدین عربی اور ابن تیمیہ کے تمام مسائل صحیح اور مسلم ہیں۔ اگر کوئی اہل حق یہ کہے کہ مرزا قادیانی اور مولوی نور الدین صاحب کے رسالے اور مسائل کو آج جماعت قادیانیہ بہت سراہتی ہے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان دونوں کے استادوں اور پیروں کے تمام مسائل کو جماعت قادیانیہ تسلیم کرتی ہے حالانکہ شاہ عبدالغنی صاحب

٢٥

صفحہ ٣٠٨

مہاجر رحمۃ اللہ علیہ جو مولوی نور الدین قادیانی کے پیر ہیں اور ان کے اکابر اساتذہ قائل ہیں کہ رسول خداﷺ کے بعد نبوت کا مدعی دجال وکذاب ہے اب عبد الماجد قادیانی کو چاہئے کہ مرزا قادیانی کی نبوت سے ہاتھ دھو لیں اور بتائیں کہ آج شاہ صاحب مرحوم وغیرہ کے کتنے محققانہ مسائل کے جماعت قادیانیہ پیرو ہیں؟ اور آپ جیسے قادیانیوں نے ان کے ہم عقائد مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے کیا فتویٰ صادر فرمایا ہے کیا آپ لوگوں نے صادر فرمایا ہے آپ کو یاد نہیں؟۔

٢٥....... پچیسویں ٹھوکر

قولہ ”آپ جیسے علماء نے کیا سلوک کیا ہے۔۔۔۔۔الخ !“ علمائے اسلام پر یہ اتہام ہے یا عناد یا جہل کا فساد کہ آپ یہ فرماتے ہیں حضرت شیخ محی الدین عربی اور ابن تیمیہ کے محققانہ مسائل کے کتنے علماء منکر ہیں حالانکہ محققین علماء نے ان کی تنقید و تحقیق کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے اور ان کے مدح اور دادِ تحقیق میں ان کا قلم وجد میں آجاتا ہے اگر آپ کو ان علماء کرام کے نام معلوم نہ ہوں اور ان کی کتابوں سے واقفیت نہ ہو تو کسی واقف سے دریافت فرمائیے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آج ان دونوں کی ذات پر محققین علمائے اسلام کو فخر ہے۔ البتہ مرزا قادیانی اور جماعت احمدیہ کی یہ حالت ضرور ہے کہ نہ خدا کی سنیں نہ رسول کی، جو حدیث مرزا قادیانی کے الہام کے خلاف ہو تو وہ بھی ردی کی ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ صحابہؓ جن کا علماء اسلام کے یہاں نبیﷺ کے بعد دوسرا مرتبہ ہے وہ بھی غبی اور معمولی انسان ہیں۔ سید الشہداء جناب سیدنا ومولانا حضرت امام حسینؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جناب اقدس میں تو مرزا قادیانی نے جس جرأت کو کام فرمایا ہے اس سے کوئی انسان ناواقف نہیں پھر نہایت شرم اور افسوس کی بات ہے کہ آپ تمام مسلمانوں کو اپنے پر قیاس کرتے ہیں۔

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیرو شیر

٢٦....... چھبیسویں ٹھوکر

قولہ ”ہم نے دونوں اسی کتاب میں نقل کی ہیں“ افسوس ہے کہ آپ کو اہل حق اور علمائے اسلام کا مسلک معلوم نہیں اسی لئے یہ عامیانہ باتیں بتا رہے ہیں سمجھو اور خوب یاد رکھو کہ آپ دو قول نہیں دو ہزار بلکہ دولاکھ قول نقل کرتے تو ہمیں ان کے تسلیم میں کوئی تامل نہ ہوتا خواہ آپ دیکھیں یا اندھے ہو جائیں۔ مگر بشرطیکہ وہ حضرت مجدد صاحب کے معیار پر پورے اتریں

٢٦

صفحہ ٣٠٩

ہاں جماعت قادیانیہ کی طرح ہم سے کبھی یہ امید نہ کرنی چاہئے کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور کانوں میں ڈاٹ دے کر تمام گودام کو خرید لیں۔

٢٧....... ستائیسویں ٹھوکر

قولہ ”جس میں سورہ فاتحہ کے ذریعہ اسلام کے اکثر مسائل برطبق مسلک محدثین بیان کئے ہیں۔ (القاء صفحہ ٩ سطر ١٦) آپ نے مدارج السالکین دیکھی نہیں ورنہ کوئی واقف کار یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں اسلام کے اکثر مسائل ہیں۔ ہاں میں بھولا آپ کو اسلام کے مسائل ہی معلوم نہیں عبدالماجد قادیانی ذرا سمجھ کر فرمائیے اسلام کے اکثر مسائل تو کیا اس کے عشر عشیر کے لئے یہی مدارج السالکین جیسی کئی جلدیں درکار ہیں کیا مسائل اسلام بھی پیشگوئی کا تھیلہ ہے جو بوقچہ میں لپیٹا اور پھینک دیا۔ واقعی آپ کی اس تحقیق نے (کہ سورۃ فاتحہ کے ذریعے اسلام کے اکثر مسائل برطبق مسلک محدثین بیان کئے ہیں ) اس امر کا یقین دلا دیا کہ مدارج السالکین کو ضرور بغور پڑھا ہے مگر یہ تو فرمائیے کہ جس مدارج السالکین کو آپ نے پڑھا ہے وہ علمائے اسلام کے کتب خانہ کی تھی یا قادیان کی؟

٢٨....... اٹھائیسویں ٹھوکر

قولہ ”غیر متفق مسائل کی تردید کی ہے“ (القاء ص ٩ سطر ١٧) تردید مصدر ہے تفعیل کا، اسے میزان خوان طفل مکتب بھی جانتا ہے جس کے معنی دائر کرنے کے ہیں اب عبدالماجد قادیانی فرمائیں کہ اس عبارت کے کیا معنی ہوئے (غیر متفق مسائل کی تردید کی ہے) یعنی غیر متفق مسائل کو دائر کیا ہے۔ عبدالماجد قادیانی صاحب جب آپ کو تردید اور رد میں بھی امتیاز نہیں تو تعجب ہے کہ آپ نے کس جرات پر فیصلہ آسمانی کے جواب کا قصد کیا۔ اور ابھی تک عامیانہ الفاظ آپ کے زبان پر چڑھے ہوئے ہیں۔

٢٩....... انتیسویں ٹھوکر

قولہ ”اعجاز المسیح میں جس طرح مقفیٰ اور مسجع عبارات ہے۔.....الخ !“ (القاء صفحہ ٩ سطر ٢٠) اگر کوئی قادیانی کہے کہ جس طرح اعجاز المسیح میں مقفیٰ اور مسجع عبارت ہے قرآن میں نہیں تو کیا عبدالماجد قادیانی یہ فتویٰ دیں گے کہ اعجاز المسیح قرآن سے اعجاز میں زیادہ ہے۔ سنئیے حضرت یہاں میں آپ کو اس مقفیٰ اور مسجع پر حضرت سرور انبیاء کا فتویٰ سناتا ہوں ایک حمل کے ضائع کرنے پر جناب سرور کائناتؐ نے اس کے عوض میں غرہ دلایا۔ اس پر اس نے جس سے دلایا تھا کہا۔ ”کیف اغرم من لا شرب ولا اکل ولا نطق ولا استھل فمثل ذلک بطل“ اس پر

٢٧

صفحہ ٣١٠

سرور کائنات نے فرمایا۔ انما ھذا من الکھان اور ایک روایت میں ہے ’’السجع کسجع الاعراب‘‘ یعنی یہ مقفی اور مسجع کاہنوں کا شیوہ ہے یا گاؤں کے گنواروں کا۔ بس اسی حدیث سے مرزا قادیانی کے مقفی اور مسجع کا یہی فیصلہ کر لیجئے۔

اب میں سردست عبد الماجد قادیانی کی ایک ہی غلطی کے نمونہ پر اکتفا کرتا ہوں۔ اور اسی پر ناظرین اوروں کو بھی قیاس کر سکتے ہیں۔

قیاس کن زگلستان من بہار مرا

ہاں اگر عبد الماجد قادیانی نے اس کا جواب دیا تو آئندہ میں بھی ان کی ایک ایک غلطی پر لکھوں گا۔

چونکہ جماعت قادیانیہ خصوصاً مولوی عبد الماجد قادیانی نے عوام کے روبرو بہت کچھ دعوے کیے اور اہل حق پر اتہام لگایا اس لئے میں نے پہلے فیصلہ کے لئے اعلان حقانی شائع کیا تھا۔ اور یہ خیال تھا کہ عبد الماجد قادیانی سامنے آ کر فیصلہ کریں گے لیکن آج تک کوئی صدا فیصلہ کے لئے مرزائی جماعت سے برآمد نہیں ہوئی۔ مناظرہ کو صحیفہ تبلیغیہ میں عبد الماجد قادیانی نے لکھا تھا۔ یہاں سے فوراً صحیفہ رحمانیہ نمبر ٣ میں اس کا جواب دے کر یہ صاف لکھ دیا کہ آپ خود مناظرہ کریں یا اپنے کسی شاگرد کو مناظرہ کے لئے آمادہ فرمائیں۔ ہم مستعد ہیں مگر آپ کا صحیفہ تبلیغہ تو مرزا قادیانی کے پاس پہنچ کر پھر واپس ہی نہ آیا اور صحیفہ رحمانیہ بفضلہ تعالیٰ نمبر ١٢ تک پہنچ گیا اور مرزائی جماعت اب گویا مناظرہ کا نام ہی بھول گئی اتماماً للحجۃ پھر میں اس اعلان کو شائع کرتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ اب بھی اگر کسی مرزائی کو ہمت ہے اور اپنے دعوے کو ثابت کر سکتا ہے تو سامنے آ کر فیصلہ کرے ورنہ اتہام اور بہتان لگانے سے باز آئے۔ فقط عبد اللطیف رحمانی۔

مسلمانو اپنے ایمان کی حفاظت کرو

اس وقت میں ایک بڑا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے مگر خدا کا شکر ہے کہ ذیل کے رسائل نے ان کی حالت کو آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھا دیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اسے ضرور دیکھیں اس میں شک نہیں کہ واقعی یہ رسالے گمراہوں کے لئے سرچشمہ ہدایت اور بیمار دلوں کے لئے آب حیات ہیں اور ایسے پر زور دلائل سے لکھے گئے ہیں کہ اگر ساری دنیا کے قادیانی مل کر چاہیں کہ ان کا جواب دیں یہ قیامت تک نہیں ہو سکتا۔

فیصلہ آسمانی: یہ رسالہ تین حصوں میں ہے اور ہر ایک حصہ ایک علیحدہ مستقل رسالہ

٢٨

صفحہ ٣١١

ہے جو مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے نہایت کافی ہے اس وقت پہلا شائع ہو گیا ہے اب دوبارہ زیر طبع ہے۔

دوسری شہادت آسمانی: اس میں مرزا قادیانی نے ان نشانیوں کو مٹایا ہے جس کو انہوں نے اپنے لئے آسمانی نشان قرار دیا تھا اور ایک موضوع روایت کو حدیث قرار دیکر اس سے سند پکڑی تھی اور اس کے غلط معنی بیان کر کے اپنے اوپر چسپاں کیا تھا ان کی غلط فہمی دکھائی ہے۔

اطلاع عام

تمام مسلمانوں اور خصوصاً جماعت قادیانیہ سے خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ مرزائی جماعت کے عبد الماجد قادیانی بڑے عالم کہلاتے ہیں اور وہ تو اپنے تئیں بہت ہی کچھ سمجھتے ہیں مگر ان کی قابلیت اور علمیت کی حالت دیکھئے کہ ان کے القائے نفسانی کے دوصفحوں میں بتیس غلطیاں بطور نمونہ میں نے آپ کو دکھائیں۔ اب اسی پر ان کی ساری کتاب کو قیاس کیجئے اور ان کی قابلیت کی حالت کو معلوم کر لیجئے میں متعدد بار انہیں چیلنج دے چکا ہوں کہ سامنے آئیے اور فیصلہ آسمانی کے متعلق فیصلہ کر لیجئے۔ مگر کچھ جواب نہ دیا پہلے اعلان حقانی میں میں نے چیلنج دیا اس کے بعد صحیفہ تبلیغیہ میں انہوں نے ایک شرط لگائی میں نے اسے منظور کر کے پھر اعلان دیا صحیفہ رحمانیہ نمبر ٣ دیکھئے اس کے بعد کا ذکر اس رسالہ کے شروع میں کیا گیا مگر سامنے نہ آئے۔ اب تھوڑے روز ہوئے ہیں کہ خلیفہ المسیح صاحب کو ایک چیلنج چھپوا کر میں نے بھیجا اور ایک مولوی حکیم یعقوب صاحب نے بھیجا اور یہ دونوں چیلنج ان کے پاس بھیجے گئے مگر انکو یہ بھی غیرت نہ ہوئی کہ ہمارے خلیفہ کو چیلنج دیئے جاتے ہیں ہمیں ان کی آبرو رکھنا چاہئے میں نے اپنے چیلنج میں مرزا قادیانی کی نبوت کا فیصلہ کرنا چاہا ہے اور کلام خدا سے اور کلام رسول سے دکھا دیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پیغمبر آخر الزمان ہیں ان کے بعد جو نبوت کا دعوے کرے وہ جھوٹا ہے وحی نبوت منقطع ہو گئی حکیم صاحب نے یہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو چاند گرہن اور سورج گرہن کے اجتماع کو اپنے مہدی ہونے کی شہادت ٹھہرایا ہے اور بڑا غل مچایا ہے یہ محض غلط ہے کسی ضعیف حدیث سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہو سکتا ہے۔ مگر مرزا محمود تو آتے آتے رہ گئے ۔ حیرت تو یہ ہے کہ عبد الماجد قادیانی یہاں موجود ہیں۔ انہیں بھی اتنی جرات نہیں ہوتی کہ سامنے آکر جواب دیں۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو بذریعہ تحریری جواب دیا ہوتا۔ یہ کیسی بدیہی دلیل ہے کہ مرزائی جماعت اپنے مذہب کی حقانیت ثابت نہیں کر سکتی بالکل عاجز ہے مگر عار اور بت پرستوں کی طرح باطل مذہب کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔

٢٩

صفحہ ٣١٢

اب ساتویں مرتبہ چیلنج دیتا ہوں

کہ اگر آپ کو اپنے مذہب کی حقانیت اور مرزا قادیانی کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے تو فیصلہ آسمانی حصہ اول اور حصہ دوم اور حصہ سوم میں جو مرزا قادیانی کے نہایت پختہ اقرار سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اس کا جواب دیجئے ۔ شہادت آسمانی میں جو مرزا قادیانی کا کاذب ہونا متعدد طور سے ثابت کیا ہے ۔ اور ان کی بے علمی اور فریب دہی علانیہ طور سے دکھائی ہے اس کا جواب کیوں نہیں دیتے اور اظہار حق کیوں نہیں کرتے ۔ اس خاکسار کو آپ اپنے برابر نہیں سمجھتے تو قرآن و حدیث سے کہیں بھی دکھا دیجئے کہ اظہار حق برابر والے کے سامنے ضروری ہے کم رتبہ والے کے سامنے ضروری نہیں ہے اس کے علاوہ مذکورہ رسالے تو انہیں بزرگ کے ہیں جن کی برابری کا دعویٰ کر کے آپ فخر کرنا چاہتے ہیں پھر کیوں نہیں جواب دیتے یہ نہایت روشن دلیل ہے کہ آپ اور آپ کی ساری جماعت جواب سے عاجز ہے ۔

قادیانی جماعت اپنے مولوی کو آمادہ کرے ہم ہر طرح سے آمادہ ہیں جس طرح سے یا جس طریقہ سے اظہار حق ہو سکے اور اہل فہم انصاف پسند حضرات تسلیم کر لیں میں اس کی چند صورتیں بیان کرتا ہوں ۔

میں غیر مذہب والے بھی ہوں ۔ میں یا کوئی دوسرا ذی علم انہیں دلائل میں سے ایک دلیل کو پیش کرے جو اب تک لکھے جا چکے ہیں اور کسی قادیانی نے جواب نہیں دیا اور مولوی عبد الماجد قادیانی یا وہ اپنی طرف سے جس ذی علم کو مقرر کر دیں وہ جواب دے پھر اس جواب میں جو غلطی ہوگی اسے ہم ظاہر کریں گے ۔ یہ تینوں بیان لکھ کر پیش کئے جائیں یا زبانی بیان ہو اور کوئی لکھتا جائے اور آخر میں طرفین کے دستخط ہو جائیں اور حاضرین نے ان بیانوں کو سن کر جو فیصلہ کیا وہ ان سے لکھوا لیا جائے اور مشتہر کر دیا جائے ۔ مدعی کو جواب الجواب کا حق ہونا نہایت ظاہر اور عقلی بات ہے ۔ حاکم وقت کے یہاں بھی ایسا ہی برتاؤ ہے ۔ بیان مدعی کے بعد صرف مدعا علیہ کے بیان پر حاکم فیصلہ نہیں دیتا بلکہ مدعی کا جواب سن کر فیصلہ لکھتا ہے ۔

باطل ہونے کی تحقیق میں نہایت تہذیب سے یہاں تک گفتگو کی جائے کہ ایک فریق بند ہو جائے یعنی حاضرین کے نزدیک اسے کچھ کہنے کا موقع نہ رہے ۔ ان دونوں صورتوں میں ضرور ہے کہ طرفین میں کوئی شخص فضول باتیں نہ کرے اور اس کے لئے سب میں زیادہ قابل کو حکم کیا جائے کہ

٣٠

صفحہ ٣١٣

وہ جب طرفین میں سے کوئی فضول بات کہنا شروع کرے وہ روک دے۔

شائع کیجئے مگر اپنے برادر خلیل احمد قادیانی کی طرح علانیہ دروغ گوئی نہ کر دیجئے گا کہ ہماری طرف سے سب کا جواب دیا گیا ہے۔ ایک رسالہ ہم پیش کریں بلکہ اس کا اصل اعتراض لکھ کر ہم آپ کے پاس بھیجیں اور آپ اس کا جواب دیں جس طرح شہادت آسمانی کا اصل اعتراض مولوی حکیم یعسوب صاحب نے لکھ کر آپ کو اور آپ کے خلیفہ کو بھیجا ہے۔ آپ اس کا جواب دیں۔ اور ہمارے پاس بھیج دیں ہم اس کی غلطی کا اظہار کریں گے۔ مگر نہایت ظاہر ہے کہ جب ان کی قابلیت اور علمیت کا یہ حال ہے جیسا کہ اس رسالہ میں اور دوسرے رسالوں میں ذکر کیا گیا تو ان کو سامنے آنے کی جرأت کیونکر ہو سکتی ہے؟۔ البتہ اپنے گروہ کے بے وقوفوں کے تھامنے کے لئے اسوقت یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے کسی ذی علم کے بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمارے ادنیٰ ادنیٰ گفتگو کر سکتے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ اب تک کوئی ادنیٰ واعلیٰ سامنے تو نہ آیا۔ ہمیں تو کسی سے عار نہیں ہے۔ ہر ایک کے سامنے اظہار حق کرنے کو حاضر ہیں ہم قادیانی جماعت سے کہتے ہیں کہ یہ حیلہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہمارے سامنے نہیں آ سکتے اور خوب جانتے ہیں کہ جو رسالے ہماری طرف سے لکھے گئے ہیں۔ ان میں ایسے دلائل قاطعہ سے مرزا قادیانی کو کاذب ثابت کر دیا ہے کہ ان کا جواب نہیں ہو سکتا قادیانی جماعت اس کو خوب سمجھ لے کہ ہر ایک رسالہ مفصل اور نہایت زور کا چیلنج ہے جو کئی برس سے ہماری طرف سے دیا جاتا ہے اور اس طرف صداے برنمی خواست کا مضمون ہے اور الحق یعلو ولا یعلی کا ثبوت اور جاء الحق وزھق الباطل کا ظہور ہو رہا ہے اور اب جو بھاگلپور میں چیلنج دیا ہے وہ کس قدر فریب آمیز اور ان کے عجز کی دلیل ہے حضرت عالی نے تو متعدد رسالے لکھ کر دنیا میں مشتہر کر دیئے اور خاص وعام کے لئے مثل آفتاب کے روشن کر کے دکھا دیا کہ مرزا قادیانی کاذب ہیں اور ان کا کاذب ہونا ایک دلیل سے نہیں متعدد دلیلوں سے نہایت ظاہر کر کے دکھا دیا پھر اب ان سے کیا بیان کرانا چاہتے ہو۔ ان کا لکھا ہوا تو دنیا دیکھ رہی ہے اگر ہیبت حق سے آپ نہیں دیکھ سکتے تو مجمع خاص میں یا عام میں جس طرح مناسب ہو ہم حضرت ہی کی تحریر کو پڑھ کر سنائیں مگر اس کے بعد آپ ایک گھنٹہ کھڑے ہو کر جھوٹی باتیں اناپ شناپ کہہ کر چلے جائیں یہ نہیں ہو سکتا اس کے بعد ہم بھی آپ کے بیان کی غلطیاں اور کذب بیانیاں ضرور دکھلائیں گے۔ بغیر اس کے اظہار حق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خیر خواہ مسلمین ! عبداللطیف رحمانی

٣١

صفحہ ٣١٤

کھلا ہوا آسمانی فیصلہ

مرزا قادیانی کے دعوے قرآن‘ حدیث‘ اجماع‘ عقل‘ نقل کے چونکہ مخالف ہیں اس لئے وہ خود اپنے جھوٹے ہونے پر ایسی کھلی نشانی اور سچا گواہ رکھتے ہیں کہ پھر ان کے مفتری ہونے پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی اس یقین کے لئے کافی ہے کہ مرزا قادیانی نبی تو کیا وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتے۔ لیکن قرآن وحدیث سے عام مسلمان اول تو پورے واقف ہی نہیں دوسرے مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث کے معانی میں بہت کچھ سیاہ کاری کو کام فرمایا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ قرآن وحدیث کے صحیح معانی سے لوگوں کو واقف کرے اور مرزا قادیانی کی ملمع سازی کی پوری قلعی کھولے اسی لئے اس وقت تک بہت سے علماء دیندار خدا پرستوں نے اس کام کو انجام دیا۔ خصوصاً اس صوبہ بہار میں مونگیر سے بہت سے رسالے اشتہار کتابیں اس بارے میں شائع ہوئیں خصوصاً فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ و شہادت آسمانی وغیرہ جن میں روزِ روشن کی طرح مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔ اور ان کی وجہ سے بہت سے وہ مسلمان جو تذبذب میں تھے وہ مرزا قادیانی اور ان کے مذہب سے متنفر ہو گئے اور بہت سے مرزائیوں نے اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کی ان رسالوں کے مقابلہ میں یہاں سے قادیان تک کسی ایک قادیانی نے بھی کچھ جواب نہیں لکھا اور جو دو ایک تحریریں اب تک اس جماعت کی طرف سے شائع ہوئی ہیں اسے ناظرین دیکھ کر خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان میں ہماری باتوں کا جواب دیا یا وہ مرزا قادیانی کی اعلیٰ تعلیم کا نمونہ ہے حال میں بھی اس جماعت نے اعلان ہامانی شائع کیا ہے اسے ناظرین دیکھیں اور اس جماعت کی تہذیب اور مرزا قادیانی کی تعلیم اور قادیانی مذہب کی اصلاح و تقویٰ کی داد دیں۔ جس میں انہوں نے مرزا قادیانی کی اور کافروں کی پیروی کی ہے کہ جب وہ عاجز ہوتے تھے تو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کو گالیاں دینے لگتے تھے اسی طرح مرزائیوں نے بھی اس اشتہار میں اپنے مذہب کی تعلیم کا عملی ثبوت دیا ہے اور ایسے مقاموں پر انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ نے آیت ”انما اشكوا بثی وحزنی الی الله (یوسف:٨٦)“ اور ”ان الله بصير بالعباد (مومن:٤٤)“ کو پڑھ کر صبر کیا ہم نے بھی اسے پڑھا اور اس کا فیصلہ اسی قادر مطلق پر چھوڑ دیا جو بڑا توانا اور ہر شے پر قادر ہے۔

٣٢

PDF 315

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

تذکرۂ

سیدنا یونس علیہ السلام

حضرت مولانا مفتی عبداللطیف رحمانیؒ

صفحہ ٣١٦

تذکرہ حضرت یونس علیہ السلام

مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نشان اپنی پیشین گوئیوں کو قرار دیا تھا مگر جب ان کی عظیم الشان پیشین گوئیاں غلط ہوئیں تو انہوں نے انبیاء علیہم السلام پر اتہام لگا کر اپنی برأت کرنا چاہی ان اتہاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے رسالوں میں بہت جگہ حضرت یونس علیہ السلام کی نسبت یوں لکھا ہے کہ انہوں نے عذاب آنے کی پیشین گوئی کی تھی۔ مگر پوری نہیں ہوئی اس رسالہ میں نہایت صفائی سے ثابت کیا ہے کہ یہ الزام محض غلط ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ عبداللطیف رحمانی!

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

"لا نعبد الا ایاہ ونرغب عمن سواہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ نصلی علی رسولہ خاتم الانبیاء و نعوذ بک ممن تنباء بعدہ یا مولاہ"

اسلام سچائی اور اصلی نیکی کی عمارت ہے اور ایسی مستحکم اور بلند ہے جو چودہ سو برس سے اب تک اپنی آب و تاب سے قائم ہے۔ کیا اسلام کسی شعبدہ باز کا شعبدہ ہے یا کسی دجل و فریب کا پردہ یا کسی مکار و فتن کا جھوٹا ڈھکوسلا کہ جس کی بنیادوں کو کوئی شعبدہ یا دجل و فریب یا مکر و خدع متزلزل کر دے؟۔

نہیں نہیں جھوٹ اور چالاکی کی عمارت کو اس قدر استحکام کہاں جو اتنی طویل زمانہ تک ٹھہرے۔ دجل و فریب کے ملمع کاری کو اس قدر بقاء کہاں ہے۔ جو اب تک باقی رہے کیا مسلمان واقعی جھوٹے کرشموں اور شعبدوں کے پوجاری ہیں کہ جب کسی نے کوئی شعبدہ دکھایا یا کرشمہ بنایا اس کے ساتھ ہولئے اس پر ایمان لے آئے اس کو خدا کا رسول سمجھنے لگے۔ ہرگز نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے اور بانی اسلام جناب محمد رسول اللہ (روحی فداہ)ﷺ نے ہمیں اس کی خبر دی ہے کہ میرے بعد دجال، کذاب، دغا باز، مکار، فریبی، شیاطین الانس آئیں گے اور شعبدے اور کرشمے دکھائیں گے۔ دیکھو خبر دار تم ان کے فریب کے جال کا شکار نہ ہو جانا اور ان کو اپنا نبی نہ ٹھہرانا۔ اب اگر کوئی آسمان پر اڑنے لگے اور آسمان سے مینہ برسائے۔ زمین سے سبزہ اگائے

٢

صفحہ ٣١٧

مردہ کو زندہ بنائے اور ایک پیشین گوئی نہیں بلکہ سرتاپا پیشین گوئی کا مجسمہ پیکر بن کر آئے تب بھی مسلمان اس کی جانب نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گے۔ بشرطیکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کے ساتھ نور ایمان اور عقل کامل عنایت کی ہو۔ کیا اس پیشین گوئی کے مطابق آپ کے بعد جھوٹے نبی نہیں ہوئے اور انہوں نے شعبدے اور کرشمے نہیں دکھائے کیا رسول خدا نے نہیں فرمایا کہ میرے بعد دجال آئے گا جو مردہ کو زندہ اور زمین کو سرسبز اور آسمان سے بارش برسائے گا تو کیا سچے مسلمانوں کو دجال کا یہ شعبدہ راہ مستقیم سے بال بھر ہٹا سکے گا؟ ہرگز ہرگز نہیں۔

مسلمانو! اگر کوئی شخص تمام عمر پیشین گوئی کرے اور اس کی تمام پیشین گوئیاں صحیح ہو جائیں اور اس کو وہ اپنی نبوت کا نشان قرار دے تو کیا تم واقعی اس کو نبی مان لو گے اور یہ اس کی سچائی کا نشان ہوگا؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں دجال کی خدائی سے انحراف کرو گے؟ کیا نبوت کی عمارت انہی پیشین گوئیوں پر قائم ہے؟ ۔ آج دنیا میں سینکڑوں علوم ہیں جن کے ذریعے سے آئندہ کی خبریں معلوم کرلی جاتی ہیں تو کیا کوئی شخص اگر ان میں سے کسی علم میں پوری مہارت رکھتا ہو اور ایسی مشق ہو کہ کبھی اس کے حساب میں غلطی نہ ہو اور پھر وہ ہر روز آئندہ کی صحیح صحیح خبریں دیا کرے اس وجہ سے نبوت کا دعویٰ کرے تو محض اس پیشین گوئی کی وجہ سے وہ نبی ہو سکتا ہے اور کوئی عاقل اس کی نبوت پر ایمان لے آئے گا؟۔

صفحات تاریخ پر جہاں تک ہماری نظر ہے اس کی بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی نبی نے پیشین گوئی کو اپنا معیار نبوت نہیں ٹھہرایا اور نہ اپنی پیشین گوئیاں قوم کے روبرو شمار کرائیں اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ پیشین گوئی ہرگز معیار نبوت نہیں ہے۔ پیشین گوئی جھوٹی اور سچی دونوں کرتے ہیں اور عجوبہ باتیں بھی دونوں سے ہوتی ہیں۔ یہ امور کبھی نبی اور غیر نبی میں فرق اور جدائی کرنے والے نہیں ہیں اور نہ یہ نشان نبوت قرار پاسکتے ہیں بلکہ قرآن پاک نے خود اس کا فیصلہ کر دیا ہے اور جناب سرور کائنات ﷺ کے نبوت کا یہ نشان قرار دیا ہے کہ اس نے اندھوں کو بینا گمراہوں کو راہ پر لگایا اور دنیا کو نور اور حکمت سے بھر دیا یعنی اصول تمدن اخلاق کو بتلایا اور نیکی کو پھیلایا۔ اس مختصر تمہید کے بعد تمام مسلمانوں سے عموماً اور جماعت قادیانیہ سے خصوصاً گزارش ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو مان لیا جائے کہ خوارق عادات کے دیوتا اور پیشین گوئی کے پیکر مجسم تھے۔ اور قصیدہ اعجازیہ اور تفسیر فاتحہ ان کی بے نظیر ہے اور کوئی اس کے مثل نہیں لاسکتا تو کیا ان کے محض یہی کارنامے ان کی نبوت کی نشانی قرار پاسکتے ہیں اور کیا مرزا قادیانی کے سوا کوئی اور ایسا نہیں ہوا جس نے پیشین گوئیاں کی ہوں اور اپنے کلام کے بے

صفحہ ٣١٨

نظیر ہونے کا مدعی ہو تو کیا مرزا قادیانی ان کو نبی مان لیں گے اور اگر وہ نبی نہیں تھے تو پھر مرزا قادیانی اور ان میں کیا فرق ہے؟ اور نبی کا جو اصلی کام ہے یعنی گمراہ کو راہ دکھانا اور نور حکمت پھیلانا اس میں مرزا قادیانی نے کس قدر حصہ لیا اور کتنے بے راہوں کو راستہ پر لگایا اور وہ کیا نور و حکمت ہے جسے مرزا قادیانی نے پھیلایا؟۔ مسلمانو! اگر سچائی اور انصاف سے غور کرو گے اور اس معیار نبوت پر مرزا قادیانی کو جانچو گے تو پھر تم بھی وہی فیصلہ کرو گے جس کی خبر خود سرور کائنات ﷺ نے دی ہے۔ مسلمانو! یہ خوب سمجھو کہ نبی کی بڑی نشانی اور اس کے صداقت کی دلیل اس کے اقوال اس کے احوال اس کے افعال ہیں جس کا قول، فعل، حال اور اس کی نبوت کی تصدیق پر مجبور کرے وہ واقعی نبی ہے اور تم ہی انصاف کرو کہ جو اپنے اقوال میں جھوٹا، معاملات میں خود غرض اور دغا باز ہو تو کیا ایسا شخص نبی، مہدی، مسیح کے گرامی عہدہ کا اہل ہے؟۔ میرے نزدیک ہر ایک سچا خدا پرست راستی کا طالب اس کا جواب نفی میں دے گا۔

غرض جس طرح نبی کے اقوال وافعال وغیرہ اس کی سچائی کے لئے دلیل ہیں۔ دیکھو نبی عربی روحی فداہ ﷺ نے مسجد کے حجرے میں سکونت اختیار فرمائی ۔ مسجد خام کھجور سے پٹی ہوئی تھی دو وقت متواتر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، اکثر جو کا استعمال فرماتے اور وہ بھی بلا چھانے ہوئے۔ اہل حق مرزا قادیانی کے حالات کو اس معیار نبوت پر پیش کریں جس طرح رسول ﷺ کے حالات نبوت اور صداقت کی روشن علامت ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے اقوال اور افعال اور احوال ان کی گمراہی اور باطل پرستی کی کھلی علامت ہیں اور اب اس مقابلہ کے بعد کسی تحریر کے ذریعہ سے اس کے اظہار کی حاجت نہیں رہتی لیکن اس پر بھی ان بھولے بھالے مسلمانوں کے نفع اور خیر خواہی کے لئے جو مرزا قادیانی کے فنون کید سے واقف نہیں ہمارے علماء نے تحریروں اور رسالوں اور اشتہاروں کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو مطلع کیا خصوصاً مولوی انوار اللہ صاحب استاذ حضور نظام کے افادة الافھام اس بارے میں قابل دید کتاب ہے اور حال ہی میں حضرت رئیس الفقہاء والمحدثین ناصح الاسلام والمسلمین سید العلماء والمجددین مولانا ابو احمد رحمانی متع اللہ المسلمین بطول بقائہم نے جو رسائل مرزا قادیانی کے متعلق تحریر فرمائے ہیں ان کے دیکھنے کے بعد ہر شخص کو خواہ وہ عالم ہو یا جاہل پورا اطمینان ہو جاتا ہے اور مرزا قادیانی کی تحریرات یا کسی بری صحبت سے جو تاریکی اس کے دل میں آگئی ہے وہ ان سچی اور خیر خواہانہ تحریرات کے نور سے بالکلیہ محو ہو جاتی ہے اور دیکھنے والا بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔ ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً“ حضرت مولانا ممدوح نے نصحاً للمسلمین اوّل فیصلہ آسمانی لکھا

٤

صفحہ ٣١٩

جس کے اس وقت تک تین حصہ ہیں پہلے حصہ میں نہایت روشن طریقہ سے دکھایا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعوٰی مہدویت اور مسیحیت وغیرہ میں سچے نہ تھے اور اس دعوے کے ثبوت میں مرزا قادیانی نے جو نہایت عظیم الشان نشان پیش کیا تھا یعنی مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی سے اپنے نکاح کی پیشین گوئی کی تھی اور اسی پیشگوئی کو اپنے جھوٹ و سچ کا معیار قرار دیا تھا۔

اس پیشگوئی کے ہر پہلو کو صاف اور روشن کر کے دکھایا ہے کہ یہ کسی طرح سے سچی اور پوری نہیں ہوئی اور یہ پیشگوئی جھوٹ کا گندہ ڈھیر ہے جس میں سچائی کا رائحہ تک بھی نہیں۔ اور اس میں مرزا قادیانی کی تمام ملمع کاریوں کی قلعی کھولی ہے اور دوسرے حصہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال اور اقرارات کو ان کے کذب کا آئینہ کیا ہے۔

جس میں مرزا قادیانی کی اصلی صورت روز روشن کی طرح صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد تیسرا حصہ امر تنزیہ باری میں خدائے پاک کا کذب اور وعدہ خلافی کی آلودگی سے پاک ہونا قرآن اور احادیث اور اجماع امت اور ادلہ عقلیہ سے ثابت کیا ہے، اور ہر معیار صداقت میں تماما اس کو ثابت کیا ہے۔ ان رسائل کے بعد اس بارہ میں راستی کے طالبوں کے لئے اضافہ کی ضرورت نہیں اور خود غرض ہوا پرستوں باطل کے طالبوں کے لئے آفتاب کی روشنی بھی ناکافی ہے لیکن حسب ارشاد جناب ممدوح میں نے ان اوراق میں حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی پر روشنی ڈالی ہے کیونکہ مرزا قادیانی کی بعض وہ الہامی پیش گوئیاں جن کا تمام جماعت قادیانیہ میں شور و غل تھا اور نہایت پر زور لفظوں میں اور بڑے وثوق اور یقین کے ساتھ ان کا اشتہار دیا گیا تھا جب غلط ہوئیں اور واقعات کے ہاتھوں نے اس تلبیسی اور بناوٹی پردے کی دھجیاں اڑائیں اور جماعت قادیانیہ کی ہتک ہوئی تو مرزا قادیانی نے اس پر فریب اور دجل کی سوئی سے رفو کیا۔

مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیش گوئی کی اور اس موت کے لئے وقت مقرر کیا لیکن یہ پیش گوئی جھوٹی ہوئی اور وقت مقررہ پر پوری نہ ہوئی اور اس کا جھوٹا ہونا چونکہ مثل روز روشن تھا جس کو ملمع کی سیاہی کا پردہ بھی نہ چھپا سکتا تھا مجبوراً مرزا قادیانی کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ ”اس وعید کی میعاد میں تخلف ہو گیا ۔“

(انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

لیکن اس اقرار کے ساتھ ہی مرزا قادیانی نے ایک دستاویز پیش کی ہے جس سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ خدا کبھی جھوٹی پیشگوئی کر دیتا ہے اور نبی کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو مقرر وقت پر عذاب کے نازل ہونے کی قطعی طور سے خبر دے دیتا ہے اور پھر اس وقت پر عذاب نہیں آتا چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”جیسا کہ یونس نبی کو قطعی طور سے چالیس دن تک عذاب نازل ہونے

٥

صفحہ ٣٢٠

کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی جیسا کہ تفسیر کبیر صفحہ ١١٦ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے“

(انجام آتھم ص ٣٠ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣٠)

اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”قرآن اور توریت کی رو سے بھی یہ امر متواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے۔“ (انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩)

مرزا قادیانی نے یہاں اول یہ دعویٰ کیا ہے کہ قوم یونس کے لئے خدا نے چالیس دن تک عذاب آنے کا قطعی بلا کسی شرط کے وعدہ کیا تھا اور اس دعویٰ میں تفسیر کبیر اور درمنثور سے احادیث کو پیش کیا ہے۔ دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے اور اس دعویٰ کو متواترات سے کہا ہے اور نیز یہ کہ یہ امر قرآن اور توریت سے ثابت ہے۔

مرزا قادیانی نے پہلے دعویٰ کے اثبات میں یہ سخت دھوکا کھایا کہ اس کے ثبوت میں جو احادیث تفسیر کبیر اور درمنثور سے نقل کی ہیں۔ ان کی صحت کا دعویٰ کیا کیونکہ اب تو ان کو بجز ناکامی اور رسوائی اور افتراء کے کچھ حاصل نہ ہوگا اس سے یہ بہتر تھا کہ مرزا قادیانی اس کے ثبوت میں اپنا الہام اور وحی پیش کرتے اور یہ دلیل جماعت قادیانیہ کے لئے غالباً قابل اطمینان اور مخالفین کے لئے مسکت ہوتے اور مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ مرزائی سفید الہام کے سامنے کسی حدیث اور آیت سے استدلال صحیح نہیں۔

مرزا قادیانی نے تو اپنے اس سپید اور چمکتے ہوئے الہامات کی چادر کو اکثر جگہ جھوٹ کی گندہ ناپاک ڈھیر پر ڈال کر چمکایا ہے معلوم نہیں وہ کیوں اپنے اور اپنے ملہم الہ کی سنت مستمرہ قدیمہ کو جس میں جھوٹ جیسی ناپاک شے اور خلاف وعدہ اور جال و فریب سب ہی ثواب ہے چھوڑ کر دلدل میں آ پھنسے اور ہلاک ہوئے ۔ اے جماعت قادیانیہ یاد رکھو اور خوب سمجھو کہ تم مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کے ثبوت میں ایک صحیح حدیث بھی تو نہیں لا سکتے ۔ ” ولوکان بعضهم لبعض ظهيراً (بنی اسرائیل: ٨٨) “ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة (البقرہ:٢٤) “ مسلمانو! جو شخص ایک محسوس اور ظاہر اور تاریخ کی نقل میں اس قدر دلیری اور بے باکی سے جھوٹ بولے تو اُس کے الہامات اور وحی پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟۔ جو شخص اپنی رسوائی سے نہ ڈرے جو شخص جھوٹ کو سچ کرنے سے نہ شرمائے رسول کریم ﷺ کی خواب کو جھوٹا ٹھہرائے خدا پر خلاف وعدگی کا عیب روا رکھے دھوکے فریب اور ہر ممکن کوشش سے لوگوں کا عزیز مال ان کے جیب سے نکلوائے ۔ دنیا کی حقیر رقم پر جنت کا ٹھیکہ نامہ

٦

صفحہ ٣٢١

لکھ دے تو ایسے شخص کی نبوت جس درجہ پر ہوسکتی ہے؟ اس کا فیصلہ مسلمانو تم خود کر لو۔

اے جماعت قادیانیہ کیا میں تم سے یہ امید رکھ سکتا ہوں کہ تم انصاف کرو گے اور خدا سے ڈرو گے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز آؤ گے اور اگر میں یہ ثابت کر دوں کہ حضرت یونس نبی سے چالیس دن کا وعدہ ہرگز نہیں کیا گیا اور کسی حدیث صحیح سے یہ ثابت نہیں تو کیا تم اپنے آنکھوں سے غشاوہ اٹھا کر دیکھو گے اور کانوں کے ڈاٹ نکال کر سنو گے اور دلوں کی مہر توڑ کر سمجھو گے؟ یا یہ خدائی پردہ اور مہر بدستور تم پر قائم رہے گی میں کہتا ہوں ضرور رہے گی اور یہ جماعت ہرگز ایمان نہ لائے گی۔ کیونکہ خدا سچا ہے اور اس کا کلام سچا ہے۔ وہ خود فرماتا ہے۔ ” ان الذین کفروا سواء علیہم انذرتہم ام لم تنذرہم لا یؤمنون ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ (البقرہ: ٦، ٧) “

اب اگر ہم مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ان کا فریب اور دجل مہر نیمروز سے بھی روشن کریں تو دل کے اندھے اور کان کے بہرے راستہ پر نہیں آسکتے اور جماعت قادیانیہ سے مجھے یہ امید نہیں کہ وہ میری اس تحریر پر کان دھرے اور ٹھنڈے دل سے دیکھے لیکن بعض ان مسلمانوں کو جو یونس علیہ السلام کے اصل واقعہ سے ناواقف ہیں ان کو یونس علیہ السلام کے قصہ سے مطلع کرنا چونکہ نفع سے خالی نہیں۔ اس لئے نصحا للمسلمین میں اس رسالہ میں محض حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ لکھتا ہوں اور قرآن اور حدیث صحیحہ سے جو ثابت ہے اس کو بیان کرتا ہوں۔

لیکن مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت کو اپنی قرآن دانی پر چونکہ بہت دعویٰ ہے اور قرآن میں اسی جدت کو کام میں لاتے ہیں جو آج تک کسی نے نہیں کی اس لئے بقول شخصے آہن بآہن توان کرد نرم ہم نے بھی یونس علیہ السلام کے واقعہ کے متعلق جو آیات قرآن میں ہیں اور اس کے معنی بیان کرتے ہیں تاکہ مرزائیوں کو معلوم ہو اور ان کی آنکھیں کھلیں کہ جدید معنی دوسروں کو بھی کرنے آتے ہیں لیکن سلف کے معنی چونکہ اسلم ہیں اس لئے علماء نے انہیں اختیار کیا مگر مجبورا ہم نے مرزا قادیانی کی روش اختیار کی مگر ناظرین انصاف سے ہمارے ان معانی کو مرزا قادیانی سے مقابلہ فرمائیں اور دیکھیں کہ جو ہم نے آیات قرآنی کے معنی کئے ہیں وہ الفاظ قرآن پر زیادہ چسپاں ہیں یا جو مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں؟ میں جماعت مرزائی سے کہتا ہوں کہ ہم بھی قرآن کے جدید معنی بیان کرتے ہیں اس کو غلط ثابت کریں اور کہیں کہ اس میں کیا نقصان ہے اور اس کا کیا جواب ہے۔ قرآن میں حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ ان چار سورتوں میں ہے۔

سورہ یونس سورہ انبیاء سورہ صافات سورہ نون اب میں ان

٧

صفحہ ٣٢٢

چاروں مقامات کی آیات نقل کر کے جو ان سے ثابت ہوتا ہے اسے لکھتا ہوں۔

پہلی آیت

......١ "فلو لا كانت قرية آمنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما امنو كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا و متعنا هم الى حين (یونس:٩٨) ''یعنی کسی آبادی کے تمام آدمی ایسے نہیں ہوئے جو اپنے نبی پر وہ سب کے سب ایمان لانے سے مستفید ہوئے ہوں ہاں یونسؑ نبی کی تمام قوم اس پر ایمان لائی اور ہم نے انہیں عذاب یعنی دنیا کے چند روزہ زندگی میں رسوائی اور ذلت سے نجات دی۔ جس میں وہ قبل ایمان لانے کے مبتلا تھے۔ اور عزت و راحت کی زندگی عطا کی گئی۔

اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں اوّل ! یہ کہ یونسؑ نبی کی قوم دیگر نبیوں کی قوم سے اس امر میں ممتاز ہے کہ یہ تمام قوم یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئی بخلاف دوسری قوموں کے کہ وہ تمام یا بالکل یہ اپنے نبی پر ایمان نہیں لائیں۔ چنانچہ قرآن میں الا قوم یونس کا لفظ اس امر پر کافی شہادت ہے کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قوم یونس ایمان لائی۔ اور جب قوم یونس میں کوئی تخصیص نہیں تو تمام ہی مراد ہوگی ورنہ تخصیص کے لئے کوئی دلیل ہونی چاہئے اسکے علاوہ سورہ صافات میں ہے''وارسلناه الى مائة الف او يزيدون فامنوا (صافات:١٤٨،١٤٧)'' یعنی یونسؑ جس قوم کی طرف بھیجا گیا وہ تمام ایمان لے آئے اس سے بھی معلوم ہوا کہ یونسؑ کی تمام قوم (یعنی جس کی طرف وہ نبی بنا کر بھیجا گیا تھا) ایمان لائے چنانچہ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں''والغرض انه لم يوجد قرية آمنت بكمالها نبيهم ممن سلف من القرى الا قوم يونس (ج٤ ص٢٥٨)'' یعنی کوئی بستی یونس کے قوم کے سوا ایسی نہیں ہے جو تمام اپنے نبی پر ایمان لائے ہوں۔

الغرض قوم یونس کا استثناء جو اس آیت میں ہے وہ صرف اس اختصاص اور امتیاز کی وجہ سے ہے کہ وہ تمام بلا استثناء ایمان لائے اس کے سوا کوئی اور دوسری وجہ استثناء کی نہیں جیسا کہ خیال ہے کہ عذاب کے وقت ایمان کا معتبر ہونا قوم یونس کا خاصہ ہے اور یہ خیال اس لئے صحیح نہیں کہ یونس علیہ السلام کی قوم کے سوا بھی دیگر قوموں کا ایمان ایسی حالت میں معتبر ہوا ہے جیسا کہ آئندہ معلوم ہوگا۔

دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ قوم یونس ایمان کے پہلے ایسے عذاب میں مبتلاء تھے جس نے انہیں خوار و ذلیل بنا رکھا تھا یعنی وہ نہایت ذلیل اور خوار اور

٨

صفحہ ٣٢٣

مصائب میں گرفتار تھے اور جب وہ ایمان لے آئے تو اب ان کو دوسری زندگی عطا ہوئی اور ایمان کی وجہ سے انہوں نے ہر قسم کی ترقی کی اور چین و آرام کی زندگی بسر کرنے لگے چنانچہ اس آیت کے یہ الفاظ لما امنوا کشفنا عنہم العذاب اس پر صاف طور سے دلیل ہیں کیونکہ لغت عربی (المنجد ص ٨٨٠ عربی ) میں لفظ کشف کے معنی کسی موجودہ شے کے ہٹانے اور زائل کرنے کے ہیں۔ اقرب الموارد میں ہے ”کشف الشئی ای رفع عنہ مایواریہ یغطیہ“

اس کے علاوہ خود مرزا قادیانی نے تفسیر کبیر کی جس حدیث صحیح سے چالیس روز کی قطعی مدت اور وعدہ بیان کیا ہے اس میں قوم یونس پر عذاب ہونا مذکور ہے تو ایسی حالت میں کسی قادیانی کا یہ کہنا کہ قوم یونس پر عذاب نہیں تھا خود مرزا قادیانی کی تکذیب ہے اور نومن ببعض ونکفر ببعض کے قبیلہ سے ہے۔

مسلمانو ! جماعت قادیانیہ کو دیکھو کہ ان کی خواہش اور ہوس کے جو خلاف ہو خواہ وہ حدیث سے ثابت ہو یا قرآن سے تو اسے ردی بنا کر پس پشت ڈال دیتے ہیں اور جو ادنیٰ وساوس کے موافق ہو خواہ کیسی ہی ضعیف اور کمزور آواز کیوں نہ ہو، اسے مہر نیمروز بنا دیتے ہیں اور ایک ہی حدیث کے دو حصوں پر مختلف رائے دیتے ہیں۔ خیال کرو کہ قوم یونس پر عذاب کا بیان صرف اسی جگہ ہے؟ پھر کیا اس آیت میں کوئی ایسا لفظ ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ عذاب کی وعید کے بعد تھا اور خدا نے یا یونس علیہ السلام نے پہلے سے انہیں وعدہ دے دیا تھا اور انہیں منتظر بنا رکھا تھا ہرگز نہیں بلکہ یہاں سے تو صاف ظاہر ہے کہ قوم یونس پہلے سے دنیا کی ذلت و رسوائی کے عذاب میں مبتلا تھی اور ایمان لانے سے وہ عذاب دور ہو گیا اس کے سوا یہاں نہ کسی وعید کا پتہ ہے نہ وعدے کا۔ اے جماعت قادیانیہ! اگر تم اپنے اس دعوٰی میں سچے ہو کہ یونس نبی علیہ السلام نے بذریعہ وحی کے پیش گوئی عذاب کی دی تھی تو بتلاؤ کہ اس میں کونسا وہ لفظ ہے جس سے یہ پیشگوئی معلوم ہوا، اور اگر قرآن سے یہ پیش گوئی وعید کی ثابت نہیں تو پھر کیا محض احادیث سے قطعی وعید ثابت ہوگی یہ تو کہو کہ امر قطعی کس دلیل سے ثابت ہوتا ہے؟۔

دوسری آیت:.............. ”ذوالنون اذذهب مغاضبا فظن ان لن نقدر عليه فنادى فى الظلمات ان لا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین فاستجبنا له ونجيناه من الغم وکذلک ننج المؤمنین (انبیاء:٨٧،٨٨) “یعنی یونس علیہ السلام نے ہجرت کی اور اس خیال سے کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔ اس نے مصیبت میں مجھ سے فریاد کی اور کہا کہ اے قدوس یکتا پاک اور بے عیب تو ہی ہے اور میں تو قصور وار ہوں

٩

صفحہ ٣٤٤

تب ہم نے اس کی فریاد سنی اور اس کے رنج و غم کو دور کیا اور ایمان والوں سے ہم ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں۔

اس آیت میں مغاضباً کے معنی مراغماً یعنی مہاجراً کے ہیں چنانچہ (تاج العروس ج ٦ ص ٢٨٩) میں ہے۔ ”غاضبة راغمة وبه فسر قوله وذالنون اذ ذهب مغاضباً اى مراغماً لقومه“ (لسان العرب ج ١٠ ص ٧٨) میں ہے ”غاضبه راغمه“ (تاج العروس ج ١٦ ص ٢٩٥) میں ہے۔

وارغمهم نابذهم وخرج عنهم وهجرهم وعاداهم “ (لسان العرب ج ٥ ص ٢٦٠) میں ہے۔ ”وراغمهم هجرهم“ بعض نے اس کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ یونس علیہ السلام خدا پر غصہ ہو کر بھاگے لیکن جب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا پر غصہ تو عام مسلمان کی شان سے بعید ہی نہیں بلکہ کفر ہے اور یونس علیہ السلام تو نبی تھے ان کی طرف ایسے خیال سے بھی جسم پر لرزہ آتا ہے اور دل کانپتا ہے اور دیکھو مرزا قادیانی ہی (انجام آتھم ص ٢٢٦ خزائن ج ١١ ص ١) میں بھی لکھتے ہیں۔ ”ولا يليق لاحدان يغضب على رب العالمين“ ”هیچکس را نمی سزد که برخدائے تعالیٰ خشمناک شود“ یعنی کسی کو خدا پر غصہ کرنا درست نہیں۔

اے جماعت قادیانیہ! بتلاؤ تو جب تمہارے پیغمبر کے نزدیک عامی شخص کو بھی خدا پر غصہ سزاوار نہیں تو پھر اپنے پیغمبر کو کیا کہو گے جو وہ یہ کہتا ہے کہ ”لاجل ذلك ذهب يونس مغاضباً من حضرة الكبريا“ (انجام آتھم ص ٢٢٥ خزائن ج ١١ ص ایضاً ) یعنی اسی لئے یونس نے خدا پر غصہ کیا۔

کیا مرزا قادیانی کے نزدیک یونس علیہ السلام نبی نعوذ باللہ عامی سے بھی گرے ہوئے تھے۔ جو خدا پر غصہ کیا یہاں حافظہ نباشد کی مثال نہایت چسپاں ہوتی ہے اصل یہ ہے کہ ایسے لکھنے سے خود مرزا قادیانی کا ضمیر ان پر ملامت کرتا ہوگا اور حقیقت یہ ہے جو کچھ مرزا قادیانی نے حضرت یونس علیہ السلام کے شان میں لکھا ہے وہ واقعات نہیں بلکہ یہ ان کی دلی کیفیت کا آئینہ ہے لیکن یاد رہے کہ کوئی شخص اپنے تلبیسات کی سیاہی سے سچائی کی روشنی کو نہیں چھپا سکتا۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن کے کسی حرف سے اس کا نتیجہ ہی نہیں ملتا کہ خدا نے یونس علیہ السلام نبی سے عذاب کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے جھوٹ پر روغن قاز مل کر یوں چمکاتے ہیں کہ جب خدا نے یونس علیہ السلام سے وعدہ کیا اور پھر وعدہ خلافی کی تو یونس خدا پر غصہ ہوا اور اپنی کج فہمی سے ہمت اور راستی کو چھوڑ دیا۔

١٠

صفحہ ٣٢٥

”ولماترك يونس بسوء فهم الاستقامة والاستقلال قواتهم“ (ص ٢٢٥ خزائن ج ١١ص ایضاً) میں پڑھو۔ مرزا قادیانی نے اپنی بات بنانے کے لئے یونس علیہ السلام کو کج فہم گمراہ خدا سے غصہ کرنے والا ٹھہرایا۔ (معاذ اللہ)

ناظرین! ذرا انصاف اور ایمان اور خوف خدا کی روشنی میں مرزا قادیانی کے ان الہامات کو ملاحظہ فرمائیں کہ ایک نبی برگزیدہ راستی کا ستون ہدایت کا چشمہ انہیں اوصاف سے یاد کیا جا سکتا ہے اور کیا انبیاء جو لوگوں کیلئے آفتاب ہدایت بن کر چمکتے ہیں انہیں کثافات اور آلودگیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں؟۔ ”واللہ مايقولون الا كذباً“

تیسری آیت

المشحون ٠ فساهم فكان من المدحضين ٠ فالتقمه الحوت وهو مليم فلولا انه كان من المسبحين ٠ للبث في بطنه الى يوم يبعثون ٠ فنبذنه بالعرآء وهو سقيم ٠ انبتنا عليه شجرة من يقطين وارسلنه الى مائة الف او يزيدون ٠ فامنو فمتعنهم الى حين (صافات: ١٣٩ تا ١٤٨)“

یعنی یونس علیہ السلام بلاشبہ اپنے عہد رسالت میں ایک بھری ہوئی کشتی پر بھاگ کر آیا اور باہم قرعہ اندازی ہوئی پھر یونس علیہ السلام پھسلا اور مچھلی اسے نگل گئی جس پر یونس علیہ السلام کے ضمیر نے اسے ملامت کی۔ یونس علیہ السلام اگر عبادت گزار بندوں میں سے نہ ہوتا تو وہ قیامت تک یہاں ٹھہرا رہتا۔ لیکن ہم نے اسے اس سے نجات دی اور خشکی کے ایک میدان میں درخت کے سایہ تلے پہنچایا اور وہ نہایت ہی ضعیف بیمار کی طرح ہو گیا تھا۔ ہم نے یونس علیہ السلام کو ایک لاکھ سے زائد کی طرف بھیجا اور وہ تمام اس پر ایمان لائے اور ایک زمانہ تک ہم نے انہیں نفع پہنچایا۔

ادحاض متعدی ہے جس کے معنی ازلاق کے ہیں اور انسان کے افعال میں چونکہ خدا تعالیٰ کو بھی دخل ہے اس لئے یہاں یونس علیہ السلام کے پھسلنے اور لغزش کو خود یونس علیہ السلام کی طرف نسبت نہیں کیا گیا بلکہ یہ فعل خدا نے اپنی طرف نسبت کیا اور یونس نبی کو مدحضین سے ٹھہرایا یعنی مفعول قرار دیا اور یونس علیہ السلام کی طرف نسبت کی تاکہ معلوم ہو کہ یہ امر خدا کے حکم اور

١١

صفحہ ٣٢٦

ارادے سے ہوا لیکن ہم نے ترجمہ میں حال بیان کیا ہے۔

یہاں سے معلوم ہوا کہ یونس علیہ السلام دریا میں گرائے گئے اور قصداً نہیں گرے ورنہ ان پر اقدام قتل اور خودکشی کا جرم عائد ہوگا اور یہ عام مسلمان سے بھی بعید ہے اور وہ تو نبی تھے بلکہ لفظ مدحضین سے تو صاف معلوم ہوا کہ یہ فعل یونس علیہ السلام کا تھا ہی نہیں اور ان سے قصداً اور بالاختیار ایسا نہیں ہوا تھا اور جب کہ خودکشی حرام ہے اور سخت گناہ ہے اور قانوناً بھی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے لئے سخت سے سخت سزا ہے تو پھر کسی نیک دل خدا پرست کے خیال میں اس قسم کا وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ یونس علیہ السلام نے خودکشی کی ہوگی اور ایک اولو العزم برگزیدہ خصوصاً نبی۔ کیا اتنے بھاری ارتکاب جرم اور گناہ کا ارتکاب کرے گا اور کیا جو شخص دنیا سے جرائم اور برائی کے مٹانے اور محو کے لئے آئے اور خلق کا سرچشمہ ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور نیکی کا علمبردار ہو تو وہ خود بھی جرائم کی نجاست سے آلودہ ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں میرا اور تمام اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء معصوم ہیں اور ان کی عقل ان کے عمل پر حاکم ہے اس لئے ان سے کسی گناہ کا ہونا ناممکن ہے۔ اب مرزا قادیانی کی رام کہانی اور وسوسہ شیطانی سنیئے آپ (انجام آتھم کے ص ٢٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں فرماتے ہیں: ”وما رائی طريقا يختاره فألقى نفسه فى البحر الذخار وهيچ راهی ندید که آنرا اختيار کند ناچار خویشتن را بدریا در انداخت“ یعنی مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یونس نے اس خیال سے کہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے اور طعن اور تشنیع کریں گے خودکشی کی اور دریا میں گر پڑے جماعت قادیانیہ سے یہاں میں چند باتیں معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

خدا کے اس وعدہ کے موافق لوگوں کو عذاب کی خبر دی تھی جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں تو یونس علیہ السلام اس خبر میں صادق اور نہایت صاف تھے اور واقع میں وہ جھوٹ کی آلودگی سے پاک تھے اور یہ امر ظاہر ہے کہ جس کو خود یونس علیہ السلام بھی جانتے ہوں گے اور انبیاء کیا بلکہ ہر خدا پرست کی یہ کوشش ہوتی ہے بلکہ یہی اس کا اعلیٰ مقصد ہے کہ اس کا معاملہ خدا سے صحیح اور درست رہے۔ خواہ دنیا کے لوگ کچھ کہیں وہ ان کی کہنے سننے کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔ ”لا يخافون لومة لائم (مائدہ: ٥٤)“ ان کی ادنیٰ صفت ہے صلحاء اور انبیاء اور خدا پرستوں کے واقعات اس پر شاہد عدل ہیں کہ اوپر نیچے اتہام لگائے گئے جادوگر، کذاب، مفتری وغیرہ وغیرہ خطابات سے یاد کئے گئے۔

١٢

صفحہ ٣٢٧

کیا دنیا میں کوئی ایسا نبی ہوا ہے جس پر اس کی قوم نے اتہام نہیں لگایا اور طعن نہیں کیا جھوٹا نہیں بنایا یہ تو عوام جہال، کفار، فساق کی سنت قدیمہ ہے پھر یہ تعجب ہے کہ یونس علیہ السلام نے محض اس خیال سے کہ کفار انہیں طعن کریں گے جھوٹا کہیں گے خود کشی کی۔ کیا بخیال مرزا قادیانی اس واقعے کے قبل یہ لوگ یونس علیہ السلام پر طعن نہیں کرتے تھے اور ان کی تکذیب نہیں کی پھر اس وقت یونس علیہ السلام کیونکر ان الفاظ کے متحمل ہوئے؟۔ مرزا قادیانی خدا سے ڈر کے اور ایمان سے تو کہیے کہ ایسا شخص جو برے الفاظ کا بھی متحمل نہ ہو سکے۔ وہ نبوت کے بار گراں کا اہل ہے؟۔ یہ تو یونس علیہ السلام پر الزام نہیں بلکہ خدا پر ہے۔ بقول شخصے چندیں سال خدائی کردی وگاؤ خر را نشناختی۔

عادت قدیمہ حضرت باری جل اسمہ کی ہے اور تخویف اور انذار کی وعیدیں تقدیر مبرم کی طرح نہیں ہوتیں اور چونکہ یہ سنت اللہ مستمرہ اور قدیمہ ہے اس لئے انذار اور تخویف کے الہامات میں کچھ ضرور نہیں ہوتا کہ شرط کے طور پر اس سنت اللہ کا الہام میں بھی ذکر کیا جائے کیونکہ کوئی الہام اس سنت اللہ کے مخالف ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسا مرزا قادیانی کے اشتہار مورخہ ٦ ستمبر ١٨٩٤ء (مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٠) میں ہے تو پھر ہم پوچھتے ہیں کہ یونس علیہ السلام کو اس سنت اللہ اور عادت مستمرہ بلکہ متواترہ اور بدیہی کا علم تھا یا نہیں۔ اگر علم تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یونس علیہ السلام نے اس وعید کو ایسا قطعی سمجھ لیا جس میں تخلف ممکن نہیں جیسا مرزا قادیانی (انجام آتھم کے ص ٢٢٧، خزائن ج١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں۔ ”استیقن ان العذاب قطعی لا یرد وانہ سیقع فی المیعاد“ اور کیوں یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو وعید کی خبر دیتے وقت اس سنت اللہ کو بیان نہ کیا تاکہ دوسرے وقت پر جھوٹ کے الزام سے بچتے اور کس لئے یونس علیہ السلام نے خدا پر غصہ کیا کیونکہ خدا نے سنت قدیمہ مستمرہ کے موافق جس کا علم یونس علیہ السلام کو تھا اس وعید کو ٹال دیا پھر اس میں یونس علیہ السلام کے غصہ کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس سنت قدیمہ مستمرہ متواترہ کا علم یونس کو نہ تھا تو اول تو یہ امر نہایت ہی حیرت خیز ہے کہ جس کا علم مرزا قادیانی کو ہو اور سنت اللہ ہو اور خدا کی عادت قدیمہ ہو مگر یونس علیہ السلام جیسے برگزیدہ نبی کو اس کا علم نہ ہو یاللعجب! مگر اس پر بھی دریافت طلب یہ امر ہے کہ جب یونس علیہ السلام کو اس کا علم نہ تھا تو خدا نے کیوں وعید کے وقت اس سنت کا ذکر نہ کر دیا تاکہ یونس علیہ السلام اس رسوائی اور ذلت سے بچتے اور خودکشی نہ کرتے، وائے برحال جماعت قادیانیہ کو جو سنت مستمرہ ہو، عادت قدیمہ ہو۔ جس کا ذکر تمام کتابوں میں ہو اور تمام الہام

١٣

صفحہ ٣٢٨

اس سنت کے موافق ہوں۔ پھر یونس نبی کو نہ خود اس کا علم ہو اور نہ خدا ہی اس کو بتلائے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ یونس علیہ السلام لوگوں میں جھوٹے ٹھہریں اور خودکشی کریں۔ ” نعوذ بالله من ذلك الهفوات والخرافات “

رہی اس لئے کہ یونس علیہ السلام تو وعید کی پیشین گوئی ٹل جانے پر محض اس خیال سے کہ ان کی قوم طعن و تشنیع کرے گی اور جھوٹا ٹھہرائے گی دریا میں ڈوب گئے اور مرزا قادیانی نے تو ایسا نہ کیا باوجود یکہ قوم نے ان کو جھوٹا، دغا باز ، مکار، نفس پرست، بندہ شہوت کہا شرم وحیا میں بھی نہ ڈوبے سب کچھ کہہ دیا۔

ان تداركه نعمة من ربه لنبذ بالعراء وهو مذموم فاجتبه ربه فجعله من الصالحين (القلم:٤٨ تا ٥٠)“ اور تم یونس کی طرح نہ ہو جب کہ اس نے مصیبت میں فریاد کی اگر خدا اس پر رحم نہ فرماتا تو وہ میدان میں کس مپرسی کی حالت میں پڑا رہتا لیکن اس کے رب نے اسے نوازا اور صالحین سے بنا دیا۔

قرآن میں ان چار مقام میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہے ان آیات سے جو امر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یونس بھی مثل دیگر رسولوں کے خدا کے رسول تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے مخصوص کیا اور صالحین سے ٹھہرایا۔ یونس علیہ السلام نے اپنی جگہ سے ہجرت کی اور راستہ میں ایک ایسی کشتی پر پہنچے جو بھری ہوئی تھی اور چونکہ اس میں جگہ کم تھی اور آدمی زیادہ لہذا رفع نزاع کے لئے اس پر سوار ہونے کے لئے باہم قرعہ ڈالا گیا۔ اور یہ ٹھہرا کہ جس کا نام قرعہ میں آئے وہ سوار ہو۔ اس میں یونس پھسل کے دریا میں جا گرے اور مچھلی ان کو کھا گئی۔ اس وقت یونس علیہ السلام نے خدا کے ساتھ حسن ظن کیا اور یہ سمجھا کہ خدا مجھ پر سختی نہ کرے گا اور وہ ضرور مجھے اس مصیبت سے رہائی بخشے گا یہ سمجھ کر خدا سے فریاد کی اور حمد وثناء کے بعد اپنے عجز اور اس کی قدرت کا اظہار کیا اس پر خدا نے اپنی رحمت سے انہیں خشکی میں درخت کے سایہ میں پہنچا دیا اگر خدا اس وقت اپنا رحم نہ کرتا تو بظاہر کوئی صورت یونس علیہ السلام کے بچنے کی نہ تھی کیونکہ وہ تو ہلاک ہو ہی چکے تھے۔ پھر خدا نے ایک لاکھ سے زائد کی طرف ان کو بھیجا تا کہ ان کو خدا کے احکام پہنچائیں اور یہ قوم قسم قسم کے مصائب اور تکالیف دنیاوی اور ذلت ورسوائی میں گرفتار تھی۔ لیکن جب ایمان لے

١٤

صفحہ ٣٢٩

آئے تو خدا تعالیٰ نے ان تمام مصائب و رسوائی وغیرہ کو ان سے دور کیا اور پھر نہایت چین اور راحت کی زندگی عطا فرمائی۔ مفسرین کو اس بارے میں اختلاف ہے کہ یونس علیہ السلام اپنی قوم کی طرف مچھلی کے واقعے کے بعد میں گئے تھے یا پہلے۔ ابن عباسؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی کا واقعہ قبل کا ہے لیکن زیادہ علماء کی رائے یہی ہے کہ مچھلی کا واقعہ بعد میں پیش آیا اور یونس علیہ السلام اس کے قبل اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے لیکن قرآن سے اس کا تعین مشکل ہے اور جو روایات اس کے متعلق ہیں اگر ان کی سندوں پر نظر نہ بھی کی جائے تب بھی ان میں جو اختلاف ہے وہ بجائے خود اس شہادت کے ناکافی ہونے کے لئے پوری ضمانت ہے۔

یونس علیہ السلام کا دریا میں گرنا اس میں بھی مفسرین کو اختلاف ہے بعض کہتے ہیں دوسرے لوگوں نے ان کو دریا میں چھوڑ دیا۔ اور بعض کا بیان ہے کہ یونس علیہ السلام خود گر پڑے اور حضرت یونس علیہ السلام کا یہ گرنا بدرجہ مجبوری تھا جبکہ کشتی کو تلاطم کی وجہ سے غرق ہونے کا قوی اندیشہ ہوا۔ نہ اختیاری، جیسا مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے لیکن قرآن کے لفظ سے اس معنی کی کامل تائید ملتی ہے کہ وہ لغزش سے گرے جیسا پہلے ہم لکھ آئے ہیں قرآن نے اپنے بیان میں اس امر پر بھی روشنی نہیں ڈالی کہ مچھلی سے یونس علیہ السلام کس طرح برآمد ہوئے اور خشکی پر پہنچے اس میں مفسرین کی حدیثوں کو باور کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ان کی سندوں پر غور کیا جائے کہ سند کہاں سے حاصل کی گئی اور لائق اعتبار ہے یا نہیں۔ محدثین کے عام اصول کے موافق ان سندوں کا اختلاف ان کے ضعیف ہونے کی کافی شہادت ہے۔

یہاں پر یہ امر زیادہ توجہ کے لائق ہے کہ قوم یونس کے ایمان سے عذاب دور ہونے کی کیا صورت ہوئی۔ اس میں جب ہم قرآن کے الفاظ کو دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ارسال رسل کے قانون کو پڑھتے ہیں تو وہ جس نتیجہ اور جس فیصلہ پر پہنچاتا ہے وہ نہایت ہی صاف اور روشن ہے اس نتیجہ سے پہلے مجھے ارسال رسل کے قانون کو بھی دہرا دینا مناسب ہے۔

یہ امر تو ظاہر ہے کہ انبیاء دنیا سے فساد مٹانے اور تمدن اور اخلاق کی اصلاح کیلئے مبعوث کئے گئے۔ جس قوم میں فساد کے شرارے تیز ہوں اور یہ تباہ کن آگ مشتعل ہو اور اخلاق اور تمدن دونوں کا ان میں نشان نہ ہو۔ اس قوم سے بڑھ کر بد نصیب اور مصیبت زدہ اور مبتلائے عذاب کون ہو سکتا ہے اور انسان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا تکلیف اور عذاب ہوگا کہ انسان کی زندگی چوپاؤں سے بھی گری ہوئی ہو۔ اور نہایت ہی ذلت اور رسوائی کی زندگی ہو

١٥

صفحہ ٣٣٠

لیکن ایمان کی بارش ہوتے ہی ان میں انقلاب عظیم ہو جاتا ہے اور تمام ویران اور اجڑا ہوا تمدن اور اخلاق کا قطعہ سرسبز اور شاداب ہو جاتا ہے اور فساد کی آگ ایک بارگی بجھ جاتی ہے اور نکبت اور فلاکت اور ذلت کے عمیق غار سے نکل کر فلاح اور کامیابی اور عزت اور کمال کے زریں تخت پر سلطنت کرنے لگتی ہے۔

اس کی تصدیق کے لئے دور نہ جاؤ عرب ہی کے تاریخی صفحات پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ قبل نبوت عرب کی قوم کی کیا حالت تھی اور ایمان کے بعد وہی قوم کیا سے کیا ہو گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان سے پہلے یونس علیہ السلام کی قوم کی حالت بھی ہر طرح تباہ تھی یعنی اخلاق تمدن دونوں کا ان میں نشان نہ تھا جس کی وجہ سے وہ ذلیل اور نہایت ہی نحوست اور ادبار اور ہلاک وغیرہ میں مبتلاء تھے اور اسی وجہ سے ان میں حضرت یونس علیہ السلام رسول بنا کر بھیجے گئے جیسا سنت اللہ ہے اور عادت قدیمہ خدا تعالیٰ کی ہے کہ جب کسی قوم کے معاملات اور اخلاق وغیرہ خراب ہو جاتے ہیں اور وہ اس کی وجہ سے دنیا کی ذلت اور رسوائی کے عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو اس عذاب سے نجات دینے کے لئے اس میں رسول کو بھیجتا ہے اور جب یہ قوم حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لائی اور اس روشنی سے ان کے دل روشن ہو گئے تو اب ایمان کی بارش نے ان کے دینی اور دنیاوی مقاصد کی زراعت کو سرسبز اور شاداب کر دیا اور کامرانی کے ساتھ وہ عزت کی زندگی کے ہمکنار ہوئے چنانچہ قرآن نے اس معنی کو نہایت صاف لفظوں میں ادا کیا ہے اس موقع پر ہم پھر آپ کو قرآن کے الفاظ کی طرف توجہ دلاتے ہیں ان کو پڑھو اور خوب غور سے پڑھو۔ ”لما امنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناہم الی حین (یونس:٩٨)“ یعنی قوم یونس جو دنیا کی زندگی میں ذلت اور رسوائی کے عذاب میں مبتلا تھی وہ ذلت و رسوائی ایمان کی وجہ سے زائل ہو گئی اور اب وہ کامیابی اور عزت کی زندگی بسر کرنے لگے۔

ایمان کی وجہ سے یہ تغیر وتبدل کچھ قوم یونس ہی سے مخصوص نہیں بلکہ یہ ایمان کا خاصہ لازمہ ہے اور یہ اس کا ممتاز اور روشن اثر ہے اور جن قوموں میں انبیاء آئے ہیں ان تمام میں یہی جزر و مد ہوا ہے لیکن جس امر کی وجہ سے قوم یونس قابل ستائش اور ذکر ہوئی وہ صرف یہی ہے کہ یہ تمام قوم بلا انکار اول ہی بار ایمان لے آئے چنانچہ اس آیت سے ”و ارسلناہ الی مائۃ الف او یزیدون فامنوا (صافات: ١٤٨،١٤٧)“ یہ امر نہایت روشن ہے کہ قوم یونس تمام بلا انکار کے ایمان لے آئی کیونکہ عرب میں فا تراخی بلا مہلت کے لئے ہے اور جبکہ کوئی امر ایسا نہیں جس کی

١٦

صفحہ ٣٣١

وجہ سے ہم اس کے خلاف معنی لیں تو آیت اپنے ظاہر معنی پر لی جائے گی۔ قرآن میں کسی جگہ سے بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یونس کی قوم نے یونس علیہ السلام کی مخالفت کی اور تکذیب کی اور باہم مخالفت کی آگ بھڑکی اور وعدہ وعید تک نوبت پہنچی ۔

ہاں تفسیروں میں ایسی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یونس کی قوم نے پہلی بار تکذیب کی اور ان پر عذاب آیا اور انہیں روایات میں سے کسی روایت میں یہ بھی ہے کہ یونس نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا چونکہ ان روایات میں سخت اختلاف ہے اور یہ اختلاف اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے اصل واقعہ نہایت ہی تاریکی میں آ جاتا ہے اور واقعات سے گزر کر خبطیات میں داخل ہو جاتا ہے اور ان گواہوں کے اس قدر اختلاف کے بعد حاکم ان تمام گواہوں کی شہادت کو جعلی ٹھہرانے پر اور فیصلہ کے لئے دوسرے دلائل کی طرف توجہ کرنے پر بے اختیار ہو جاتا ہے اس لئے وہ قابل اعتبار نہیں خصوصاً اس وقت میں جبکہ وہ قرآن کے بھی خلاف ہوں اور خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ اور عادت مستمرہ کے بھی خلاف اب میں یہاں ان گواہوں کے بیانات کو لکھتا ہوں تاکہ ناظرین انصاف سے دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کی یہ روایات قابل اعتبار ہیں یا نہیں اور ایسی گواہی قابلِ وثوق ہو سکتی ہے یا نہیں ۔

شاہد اوّل

حدیث ابن عباسؓ کی پہلی روایت

تفسیر کبیر نے ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ یونس علیہ السلام پر خدا نے وحی کی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ اگر وہ ایمان میں داخل نہ ہوگی تو عذاب میں مبتلا کی جائے گی جب قوم نے نہ مانا تو یونس وہاں سے نکل گئے اور قوم نے یونس کو جب نہ دیکھا تو نادم ہوئی اور ایمان لائی ۔

”عن ابن عباس فاوحی الله تعالیٰ الیہ قل لہم ان لم تؤمنوا جاء کم العذاب فابلغہم فابوا فخرج من عندہم فلما فقدوہ ندموا علی فعلہم، وآمنو بہ (تفسیر کبیر ج ١١ ص ٢١٣)“

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یونس علیہ السلام نے قطعی عذاب کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ عذاب نہ ایمان لانے سے مشروط تھا۔ دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ عذاب کے لئے کوئی وقت بھی متعین نہیں کیا تھا۔

اب مرزا قادیانی کی جرأت کو ملاحظہ فرمائیے کہ وہ لکھتے ہیں کہ یونس علیہ السلام نے جو

١٧

صفحہ ٣٣٢

وعدہ عذاب کا کیا تھا اس میں شرط نہیں تھی اور اگر کسی حدیث وغیرہ میں شرط ہے تو دکھاؤ چنانچہ (انجام آتھم ص٢٢٦ خزائن ج١١ ص ایضا) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”یونس کا قصہ پہلی کتب اور قرآن وحدیث میں ہے لیکن کسی شرط کا ذکر نہیں اور اگر نہ مانو تو شرط دکھاؤ کہ کہاں ہے۔“ اور جان بوجھ کر نادان نہ ہو واقعی یونس علیہ السلام کے وعدہ عذاب میں شرط نہ تھی۔

” وان قصة یونس موجودة فی القرآن والکتب السابقة ولا حادیث النبویة ولیس ھناک ذکر شرط مع ذکر العقوبة وان لم تقبل فعلیک ان ترینا شرطاً فی تلک القصة فلا تکن کالاعمی مع وجود البصارة واعلم ان الشرط لم یکن اصلا فی القصة المذکورة “

اور اسی کتاب کے حاشیہ (انجام آتھم ص ٤٠ خزائن ج١١ ص ایضا) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی جیسا کہ (تفسیر کبیر ج١١ ص١٦٤) میں اور امام سیوطیؒ کی درمنثور میں احادیث صحیحہ کے رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔“

مسلمانو ! دیکھو مرزا قادیانی نے کس طرح پر زور الفاظ میں دعویٰ کیا ہے کہ یونس علیہ السلام سے بلا شرط قطعی عذاب کا وعدہ تھا اور کسی حدیث میں شرط کا ذکر نہیں؟ اب آپ ابن عباسؓ کی اس حدیث کو جو تفسیر کبیر سے ہم نے نقل کی ہے پڑھو کہ اس میں شرط ہے یا نہیں نہایت تعجب ہے کہ مرزا قادیانی ایسے دعوے زور سے کر دیتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جانچ میں جب ان کی ملمع سازی اور قلعی کھل جائے گی تو وہ دیکھنے والے جن کے سامنے یہ کھوٹی متاع پیش کرتا ہوں میری نسبت کیا رائے قائم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اب جماعت قادیانیہ دیکھے کہ اس حدیث میں شرط ہے یا نہیں؟ اور مرزا کا فرمانا کہ کسی حدیث میں شرط نہیں ہے اور بلا قطعی وعدہ تھا یہ جھوٹ اور فریب اور دھوکا ہے یا نہیں کیا مرزا قادیانی نے تفسیر کبیر نہیں دیکھی پھر کیوں جان بوجھ کر حق کو چھپایا اور حق پر تلبیس کی سیاہ چادر ڈالی۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ سچائی کے نور کے سامنے یہ سیاہی ٹھہر نہیں سکتی ناظرین اس حدیث میں ان تین باتوں کو خصوصیت سے یاد رکھیں۔

کیا تھا بلکہ یہ عذاب مشروط تھا ایمان میں داخل نہ ہونے پر۔

١٨

صفحہ ٣٣٣

ابن عباسؓ کی دوسری روایت

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے بددعا کی تو خدا نے ان پر یہ وحی کی کہ صبح کو ان پر عذاب نازل ہو گا۔ یونس علیہ السلام کی قوم کو یقین ہو گیا اور باہم یہ مشورہ ٹھہرا کہ اپنے بچوں کے ساتھ ہر جانور کے بچے باہر لے کر نکلیں اور خدا سے دعا کریں کیا بعید ہے کہ خدا ان کی وجہ سے رحم فرمائے پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور بچوں کو آگے رکھ لیا جب عذاب آیا اور انہوں نے دیکھا تو خدا کی طرف متوجہ ہو کر دعا کی اور عورتیں اور بچے رونے لگے اور جانور بھی معہ اپنے بچوں کے چلائے تب تو خدا نے رحم فرمایا اور عذاب ہٹا کر آمد کے پہاڑوں کے باشندوں پر بھیجا جو قیامت تک ان پر رہے گا۔

" واخرج ابوالشيخ عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما دعا يونس على قومه اوحى الله اليه ان العذاب مصبحهم فقالوا ماكذب يونس وليصبحنا العذاب فتعالوا حتى نخرج سخال كل شىء فنجعلها مع اولادنا فلعل الله ان يرحمهم فاخرجوا النساء معهن الولدان واخرجوا الابل معها فصلا نها واخرجوالبقر معها عجا جيلها واخرجوالغنم معهاسخالها فجعلوه امامهم و اقبل العذاب فلما ان رأوه جأروا الى الله ودعواوبكى النساء والولدان ورعت الابل وفصلا نها، وخارت البقروعجاجيلها وثغت الغنم و سخالها فرحمهم الله فصرف عنهم العذاب الى جبال آمد، فهم يعذ بون حتى الساعة (درمنثور جز ٤ ص ٣١٨) "

پہلی اور یہ دوسری حدیث یعنی دونوں حدیثیں ابن عباسؓ کی ہیں اور ایک ہی صحابی سے روایت ہے لیکن ان دونوں روایتوں میں سخت اختلاف ہے۔ جس میں سے بعض کی طرف ہم بھی توجہ دلاتے ہیں۔

کی وحی کی، پہلی میں بددعا کا ذکر نہیں۔

عذاب مشروط ہے۔

تعین نہیں۔

صفحہ ٣٣٤

ذکر ہے پہلی حدیث میں ان کا ایمان لانا ثابت ہے۔

عذاب ہو رہا ہے اور پہلی حدیث میں عذاب کے آنے نہ آنے کا کچھ ذکر نہیں۔

ابن عباسؓ کی تیسری روایت

درمنثور میں ابن عباسؓ سے ہے کہ یونس علیہ السلام نے جب اپنے قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی تب خدا نے وحی کی کہ عذاب صبح کو نازل ہوگا یونس علیہ السلام نے ان سے جب یہ کہا تو انہوں نے اس کا یقین کیا اور وہی مشورہ کیا جو دوسری حدیث میں ہے۔ تب خدا نے عذاب اٹھا لیا جس پر یونس علیہ السلام غصہ ہو کر بولے کہ میں تو جھوٹا ہو گیا اور اس پر غصہ ہو کر چل دیئے۔

"واخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباس رضی الله عنهما قال لما دعا يونس قومه اوحى الله اليه ان العذاب يصبحهم فقال لهم فقالوا اما كذب يونس وليصبحنا العذاب فتعالوا نخرج الى آخر مارواه ابو الشيخ حتى قال فصرف ذلك العذاب و غضب يونس فقال كذبت فهو قوله مغاضبا فمضى الى البحر (درمنثور ج ٤ ص ٣٣٣) "

اس حدیث کے بیان میں بھی قبل کی حدیث سے اختلاف ہے۔

میں یونس کی بددعا سے۔

آمدی قوم پر پہنچا دیا گیا۔

ابن عباسؓ کی چوتھی روایت

ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ یونس ایک بستی میں نبی بنا کر بھیجے گئے۔ جب وہاں کے لوگوں نے انکار کیا اور نہ مانا تب خدا نے وحی کی کہ ان پر فلاں دن عذاب آئے گا۔ تو ان سے علیحدہ ہو جا۔ یونس نے یہ ان سے کہہ دیا قوم نے کہا۔ یونس علیہ السلام اگر باہر گیا تو ضرور عذاب آئے گا۔ اسے دیکھتے رہو جو روز عذاب کا تھا اس کی شب میں یونس علیہ السلام نے ان سے کنارہ کیا تب تو قوم کو خوف ہوا اور باہر جنگل میں مع جانوروں اور بچوں کے نکلے اور توبہ اور استغفار کی اور خدا سے

٢٠

صفحہ ٣٣٥

اس کی وجہ سے ان پر رحم کیا اور یونس علیہ السلام راستہ پر منتظر انتظار میں ٹھہرے رہے اور راہ گیر سے دریافت کیا کہ قوم کا کیا حال ہوا اس نے کہا جب ان کا نبی انہیں چھوڑ کے چلا گیا تو انہیں عذاب کا یقین ہو گیا تب وہ جنگل میں مع اپنے بال بچوں اور جانوروں کے توبہ واستغفار میں مشغول ہوئے۔ اس لئے ان سے عذاب ہٹا لیا گیا اسی پر یونس علیہ السلام چلے گئے اور کہا کہ اب میں ان کے پاس نہ جاؤں گا کیوں کہ میں ان کے نزدیک جھوٹا ہو گیا۔

”واخرج ابن جرير و ابن حاتم عن ابن عباس قال لما بعث يونس عليه السلام الى اهل قرية فردوا عليه ماجاء هم فامتنعوا منه فلما فعلوا ذلك اوحى الله اليه انى مرسل عليهم العذاب فى يوم كذا وكذا فاخرج من بين ظهرهم فاعلم قومه الذى وعد الله من عذابه اياهم فقالوا ارمقوه فان هو خرج من بين اظهر كم فهو والله كائن ماوعدكم فلما كانت الليالي التى وعد العذاب فى صبحيتها اولج ، فراه القوم فحذروا فخرجوا من القرية الى براز من ارضهم وفرقوا بين كل دابة وولدها ثم عجوا الى الله وانابوا واستقالوا فاقالهم الله وانتظر يونس عليه الخبر عن القرية واهلها حتى مر مار فقال مافعل القرية قال فعلوا ان نبيهم لما خرج من بين اظهرهم عرفوا انه قد صدقهم ما وعدهم من العذاب فخرجوا من قريتهم الى براز من الارض ثم فرقوا بين كل ذات ولد وولدها ثم عجوا الى الله وتابوا اليه فقبل منهم واخر عنهم العذاب فقال يونس عليه السلام عند ذلك لا ارجع اليهم كذاباً ابدا ومضى على وجهه

(درمنثور جز ٥ ص ٢٨٧)“

اس حدیث کے بیان میں بھی پہلی حدیثوں سے اختلاف ہے۔

تعین نہیں۔

کی خبر دی تو ان کو اس کا یقین نہیں ہوا بلکہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس تاریخ پر یونس علیہ السلام چلا جائے تو سمجھو صحیح ہے ورنہ نہیں۔ پہلی حدیثوں سے ثابت ہے کہ انہیں یونس علیہ السلام کی اس خبر کا یقین ہو گیا تھا۔

٢١

صفحہ ٣٣٦

سے علیحدہ ہو جا چنانچہ یونس علیہ السلام ان سے علیحدہ ہو گئے پہلی حدیثوں میں صرف عذاب کی وحی ہے اور یونس علیہ السلام کے نکلنے کا ذکر نہیں۔ مسلمانو! ابن عباسؓ کی یہ حدیث جو نہایت ہی مختلف البیان ہے صحاح میں نہیں ہے اور اس کی سند قابل تنقید اور بحث ہے جب معیار حدیث کے ترازو میں جانچنے کے بعد یہ پوری اور صحیح ہو۔ اس وقت البتہ قابل استدلال ہے مرزا قادیانی یا جماعت قادیانیہ اس حدیث سے اگر استدلال کریں تو ان کو اس کی سند پیش کرنی چاہئے تاکہ اس پر رائے قائم کرسکیں۔ اس کے سوا بھی سند کو چھوڑیئے اس کا اختلاف ہرگز اس لائق نہیں جو اس کے صحت پر پورا اور قوی اثر کر کے اسے ایسا کمزور اور ناتواں نہ بنادے کہ پھر دعوے کے بارگراں کے برداشت کی متحمل نہ ہو۔ کیا جس شہادت میں اس قدر اختلاف ہوا اور جو گواہ اپنے بیان میں اس قدر تناقض کو دخل دے اور مضطرب ہوا۔ وہ اس کے بعد بھی قابل سماعت اور لائق وثوق ہے اور فیصلہ کے لئے کافی شہادت کا کام دے سکتا ہے؟۔ زمانہ حال میں بھی دیکھو کہ باوجود اس کے کہ جھوٹ کا بازار گرم ہے اور گواہ اکثر جھوٹی شہادتیں دیتے ہیں لیکن کسی گواہ کا اختلاف اس کے جعلی اور جھوٹے ہونے پر خود مضبوط گواہ ہے۔ کیا مرزا قادیانی کے عدالت میں مخبوط و مجنون اور مضطرب الحال کی شہادت بھی مقبول ہے؟ اور جس طرح مرزائی مذہب عقل سے باہر ہے ان کے مذہب کی شہادتیں بھی عقل کے خلاف ہیں۔

شاہد دوم

حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ

ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یونس علیہ السلام کی قوم، یونس علیہ السلام پر ایمان نہ لائی تب یونس علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ فلاں روز عذاب آئے گا۔ پھر یونس ان سے رخصت ہوا اور یہی انبیاء کا دستور رہا ہے کہ جب قوم کو عذاب کا وعدہ دیتے ہیں تو ان سے رخصت ہو جاتے ہیں یونس علیہ السلام کی قوم کو جب عذاب نے آلیا تب وہ باہر معہ عورتوں اور جانوروں کے نکلے اور بچوں کو ان کی ماں سے علیحدہ کر کے فریاد کرنے لگے اور جب ان کی سچائی ظاہر ہوئی تو خدا نے ان سے عذاب ہٹالیا۔ یونس علیہ السلام راستہ میں ان کی خبر کے لئے ٹھہرے رہے اور راہ گیر سے دریافت کیا تو یہ تمام واقعہ معلوم ہوا تب تو یونس علیہ السلام غصہ میں یہ کہہ کر چل دیئے کہ اب میں اس قوم میں جھوٹا ہو کر نہ رہوں گا۔

٢٢

صفحہ ٣٣٧

”عن ابن مسعودؓ عن النبى ﷺ قال ان يونس دعا قومه فلما ابوا ان يجيبوه وعدهم العذاب فقال انه ياتيكم يوم كذا وكذا ثم خرج عنهم وكانت الانبياء عليهم السلام اذا وعدت قومها العذاب خرجت فلما اظلهم العذاب خرجوا ففرقوا بين المرءة وولدها بين السخلة واولادها وخرجوا يعجون الى الله علم الله عنهم الصدق فتاب عليهم وصرف عنهم العذاب وقعد يونس فى الطريق يسال عن الخبر فمر به رجل فقال مافعل قوم يونس فحدثه بما صنعوا فقال لا ارجع الى قوم قد كذبتهم وانطلق مغاضباً يعنى مراغماً (درمنثور ج ٣ ص ٣١٨)“

ابن مسعودؓ کی اس حدیث میں یہ نہیں کہ خدا نے عذاب کی وحی کی، بخلاف ابن عباسؓ کی حدیث کے دوسرے اس حدیث سے ثابت ہے کہ عذاب کے وعدہ کے بعد تمام انبیاء کا دستور رہا ہے کہ وہ چلے جاتے ہیں ابن عباسؓ کی حدیث میں یہ نہیں ہے۔ ابن مسعودؓ سے ایک حدیث (درمنثور جلد٥ ص ٢٨٨) میں نقل کی ہے جس میں عذاب کا وقت تین روز تک کا بیان کیا ہے اور تین روز کی تعین ابی نجم کے قول سے بھی ثابت ہوتی ہے جس کو (تفسیر ابن جریر طبری جلد ١١ ص ١١٠) میں نقل کیا ہے۔

شاہد سوم

حدیث حمید بن ہلالؒ

حمید سے روایت ہے کہ یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی مگر انہوں نے نہ مانا تخلیہ میں ان کے لئے دعا بھی کی یونس کی قوم نے یونس علیہ السلام کی نگرانی کے لئے ایک شخص مقرر کیا تھا جب یونس علیہ السلام سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے تو ان کے حق میں بددعا کی اور اس کے جاسوس نے اس قوم سے کہا کہ یونس علیہ السلام نے چونکہ تمہارے لئے بددعا کی ہے اس لئے بلاشک تم پر عذاب آئے گا۔ اب جو کچھ تمہیں کرنا ہو کرو اور یونس علیہ السلام یہ سمجھ کر کہ ضرور ان پر عذاب نازل ہوگا ان سے علیحدہ ہوگئے اور وہ قوم مع بہائم کے باہر نکلی اور توبہ کی اور خدا نے رحم کیا پھر یونس علیہ السلام اس لئے واپس آئے کہ دیکھیں کس طرح کا عذاب ان پر آیا ہے جب آئے تو دیکھا کہ بدستور آباد ہیں کسی قسم کا عذاب نہیں آیا۔

”عن حميد بن هلال قال كان يونس عليه السلام يدعوا قومه

٢٣

صفحہ ٣٣١

فيابون عليه فاذاخلا دعا الله لهم بالخير وقد بعثوا عليه عينا فلما اعيوه دعا الله عليهم فاتاهم عينهم فقال ماكنتم صانعين فاصنعوا فقد اتاكم العذاب فقد دعا عليكم فانطلق ولا يشك انه سياتيهم العذاب فخرجوا ففرقوا بين البهايم عن الاولاد فخرجوا تائبين فرحمهم الله و جاء يونس عليه السلام ينظر باى شىء اهلكها فاذا الادمن مسودة منهم بدون العذاب

(درمنثور ج ٥ ص ٢٩٠) “

اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ:

بناء پر عذاب کا یقین ہو گیا اور انہیں چھوڑ کے چل دیئے۔

جاسوس نے بددعا کی خبر دی اور اس سے عذاب کا انہیں بھی یقین ہو گیا۔

حدیث بھی پہلی حدیثوں کے مخالف ہے۔

مفسرین نے بہت حدیثیں اس بارے میں نقل کی ہیں جس میں سے تین شخصوں کی حدیثیں یعنی ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، مجمع بن ہلالؓ کی میں نے یہاں نقل کی ۔ ان حدیثوں کا بیان بھی بہت مختلف ہے جیسا کہ پہلے بتلایا گیا ہے اور حمید کی حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے ہرگز عذاب کا وعدہ نہیں کیا اور نہ خدا نے یہ وعدہ کیا تھا بلکہ یونس علیہ السلام نے بددعا کی جس سے ان کو عذاب کا یقین ہو گیا۔ اب مسلمانوں سے عموماً اور جماعت قادیانیہ سے خصوصاً مخلصانہ ہمدردی سے یہ کہنا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے وعدہ کا قرآن میں کسی جگہ ذکر نہیں اور جو احادیث اس بارے میں ہیں وہ صحاح کی حدیثیں نہیں بلکہ مفسرین کی حدیثیں ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ مفسرین نے چونکہ محض صحیح حدیثوں کا التزام نہیں کیا اس لئے ان کی روایت کردہ حدیثوں میں تنقیح کی ضرورت ہے اگر ان روایات میں اختلاف بھی نہ ہوتا تو اس وقت میں بھی ان سے استدلال کی یہی صورت تھی کہ حدیثیں مع سند کے نقل کی جائیں ۔ اور ان کی سند کے رو سے ان کی صحت پر روشنی ڈالی جائے اور جب کہ ان حدیثوں کی سند بھی بیان نہیں کی گئی اور نہ ان کی صحت پر روشنی ڈالی تو ان کے صحیح ہونے کا دعویٰ زبانی جمع خرچ ہے جو کسی طرح قابل سماعت نہیں اور صحت سند کے بعد بھی ان حدیثوں میں اس قدر اختلاف ہے کہ جس کا اٹھانا اور اتفاق بلا

٢٤

صفحہ ٣٣٩

تکذیب بعض کے ناممکن ہے تو ایسی حالت میں ان احادیث سے استدلال اور کسی مدعا کا اثبات حق پرست اور سچائی کے طالب کے لئے قابل اطمینان اور شرح صدر کا موجب نہیں ہوسکتا اور دل خلش و اضطراب کا یہ علاج نہیں ہے۔ کیونکہ یہ حدیثیں متناقض اور متضاد ہیں اور ضرور ایسی صورت میں جس امر کو لیا جائے گا تو اس کے مخالف روایت کو غلط کہنا ہوگا اور اس تصحیح اور تغلیط میں ایسی شہادتوں کی احتیاج ہو گی جس سے کسی حدیث کی ترجیح ہو سکے اب دریافت طلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس اس حدیث سے استدلال کے لئے کوئی مضبوط دلیل ہے۔ جس میں عذاب کے وعدہ کا ذکر اور چالیس روز اس کی میعاد ہے۔ حالانکہ ایسی حدیثیں بھی ہیں جن سے نہایت واضح طور پر ثابت ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے وعدہ نہیں کیا اور نہ خدا نے اس کی وحی کی ۔ بلکہ حضرت یونس علیہ السلام نے بددعا کی تھی۔ پھر مرزا قادیانی کا عذاب کو قطعی بلا شرط ٹھہرانا اور اس حدیث کی طرف توجہ نہ کرنا جن میں عذاب قطعی نہیں بیان کیا گیا بلکہ نہ ایمان لانے سے مشروط تھا۔ کیا یہ تحکم نہیں ہے اور اس کے لئے کیا وجہ ہیں؟۔ جن کی بناء پر وعدہ قطعی ہو جاتا ہے اور وہ حدیث ابن عباس کی جس میں عذاب شرطی ہے قابل احتجاج نہیں رہتی؟۔

تعجب ہے کہ جس حدیث کی بناء پر مرزا قادیانی نے عذاب کو قطعی ٹھہرایا ہے اور چالیس روز کی مدت بیان کی ہے وہ حدیث تفسیر کبیر کے حوالہ سے نقل کی ہے اور وہ حدیث بھی جس میں عذاب قطعی نہیں بلکہ شرطی ہے تفسیر کبیر میں موجود ہے تو کیا مرزا قادیانی کی نظر اس حدیث پر نہ پڑی ہوگی ۔ ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑی ہو گی لیکن دیدہ دانستہ انہوں نے اس سے تجاہل کیا اور اپنی ذلت اور رسوائی سے نہ شرمائے ۔ علاوہ اس کے میں کہتا ہوں کہ حضرت یونس علیہ السلام پر یہ اعتراض کوئی نیا اعتراض نہیں ہے جس کو مرزا قادیانی سے بھی مخصوص کیا جائے بلکہ مرزا قادیانی کے قبل بھی بیدینوں اور ملحدوں نے یہ اعتراض کیا ہے اور انہیں کی پیروی مرزا قادیانی نے کی ہے چنانچہ شفاء (ج ٢ ص ١٠٦) میں قاضی عیاض لکھتے ہیں اس جگہ میں شفاء کی عبارت بعینہ مع ملاعلی قاری کی شرح کو لکھتا ہوں ۔ ”وقد توجهت ههنا لبعض الطاعنين اي في الدين، سوالات ای من الملحدین (شرح شفاء ج ٢ ص ٢٢٠، طبع بیروت)“ یعنی یہاں بعض ملحدوں دین پر طعن کرنے والوں نے چند اعتراض کئے ہیں اس کے بعد قاضی صاحب نے چند اعتراض ملحدوں کے نقل کئے ہیں جن میں قصہ حدیبیہ اور نوح علیہ السلام وغیرہ کے واقعہ پر اعتراض بھی نقل کیا ہے جو مرزا قادیانی نے ان پر کیا ہے منجملہ انہیں اعتراضوں کے یونس علیہ السلام پر یہ اعتراض نقل کیا ہے اور اس کا جواب بھی دیا ہے چنانچہ قاضی صاحب کے بعینہ الفاظ یہاں نقل کرتا ٢٥

صفحہ ٣٤٠

ہوں معہ الفاظ شرح ملاعلی کے ”(ومن ذلك) اى من سوالات بعض الطاعنين فى مراتب النبيين مروى من قصه يونس عليه السلام انه وعد قومه العذاب عن ربه فلما تابوا كشف عنهم العذاب فقال لا ارجع اليهم كذابا ابداً (شرح شفاء ج٢ ص٢٣٩) ”جولوگ انبیاء علیہ السلام پر طعن کرتے ہیں اور ان کی عظمت اور کمال کی تنقیص کرتے ہیں ان کے اعتراضوں میں ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا پھر قوم کی توبہ سے وہ عذاب ان سے ہٹا لیا گیا اس پر یونس علیہ السلام نے قسم کھائی کہ اب میں اپنی قوم میں واپس نہ جاؤں گا کیونکہ میں ان کے نزدیک جھوٹا ہو گیا ملحدوں کے اس اعتراض کو نقل کرنے کے بعد قاضی صاحبؒ اس کے جواب میں لکھتے ہیں۔ ”انه ليس في خبر من الاخبار الواردة فى هذا الباب لا فى السنة ولا فى الكتاب ان يونس عليه السلام قال لهم انه اى الله سبحانه مهلكهم...... وانما فيه انه دعا عليهم بالهلاك والد عا ليس بخبر يطلب صدقه من كذبه لكنه قال لهم ان العذاب مصبحكم وقت كذا وكذا فكان ذلك (شرح شفاء ج٢ ص٢٣٩) “یعنی کوئی ایسی حدیث نہیں جس سے یہ ثابت ہو یا اس پر دلالت کرے کہ یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ تم کو عذاب سے ہلاک کرے گا اور تم تمام اس عذاب سے ہلاک ہو جاؤ گے اور نہ کوئی قرآن میں ایسی آیت ہے جس سے یہ ثابت ہو بلکہ یونس علیہ السلام نے ان کے لئے بددعا کی اور فرمایا کہ صبح کو تم پر خدا کا عذاب آنے والا ہے۔ چنانچہ عذاب ان پر آیا اور جو یونس علیہ السلام نے فرمایا تھا وہ ہوا پھر یونس علیہم السلام کسی طرح اپنی بات میں کاذب نہیں ہو سکتے۔

ناظرین! غور کرو کہ مرزا قادیانی نے درحقیقت یہ اعتراض اور نیز حدیبیہ والا اعتراض پہلے ملحدوں دہریوں سے لیا ہے اور ان کی طرح وہ نبوت پر حملہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہایت بددیانتی ہے کہ ان کا اعتراض تو نقل کیا مگر ان اعتراض کا جو جواب علماء نے دیا ہے وہ نقل نہیں کیا یہ کیوں محض عوام کے فریب دینے کو اور گمراہ کرنے کو، اب اگر ان حدیثوں کو بھی صحیح مان لیا جائے جس سے مرزا قادیانی نے استدلال کیا ہے اور قرآن اور دوسری حدیثوں کو چھوڑ دیا جائے جیسا کہ مرزا قادیانی نے یہاں قرآن کو بھی چھوڑ دیا اور دوسری حدیثوں سے بھی آنکھ بند کر کے پٹی باندھ لی تب بھی میں کہوں گا کہ مرزا قادیانی تمہاری خاطر سے تمہاری بات مانے لیتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ یہی صحیح ہے کہ یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے چالیس دن تک قطعی طور سے عذاب نازل

٢٦

صفحہ ٣٤١

ہونے کا وعدہ کیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تو اس پر بھی تو وہ وعدہ نہیں ٹلا اور خلاف نہیں ہوا کیونکہ وعدہ عذاب کے نازل ہونے کا تھا نہ ہلاک اور تباہ ہونے کا پس حسب وعدہ وہ عذاب آیا لیکن جب قوم نے توبہ کی تو وہ اٹھا لیا گیا جیسا کہ آیت ”لما آمنوا کشفنا عنهم عذاب الخزی“ سے ثابت ہوتا ہے تو اب فرمائے کہ وہ وعدہ خلافی کیا ہوئی اور یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی یا صحیح؟ حرف بحرف پوری ہوئی۔

مرزا قادیانی کا دوسرا دعویٰ

مرزا قادیانی نے دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ وعید کی معیاد توبہ اور خوف سے ٹل جاتی ہے اور یہ امر متواترات سے ہے جو قرآن اور توریت سے ثابت ہے۔ جو قرآن کہ نبی عربی (روحی فداہ) ﷺ پر نازل ہوا ہے اس میں تو کسی مقام میں یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ وعدہ خلافی کرتا ہے بلکہ قرآن کی اکثر آیات صاف اور یقینی علی رؤس الاشہاد منادی کر رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے نہ کبھی وعدہ خلافی کی اور نہ آئندہ وہ کسی صورت اور وقت میں کرے گا۔ متعدد مقامات میں بتاکید اس کا یقین دلایا گیا ہے کہ خدائے قدوس ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ کیا مرزائی جماعت نے سمجھ لیا ہے کہ بس دنیا کی زندگی کے سوا دوسری زندگی نہیں اور وہ دن آنے والا نہیں جس میں خدائے قدوس کے روبرو پیشی ہوگی۔ اگر انہیں قیامت اور جزاء کا یقین ہے تو پھر کیوں وہ خدا سے نہیں ڈرتے اور خدا پر ایسی افتراء پردازی سے کیوں خوف نہیں کرتے ہم مسلمانوں کا بلکہ تمام اہل کتاب کا یہ عقیدہ ہے کہ خدائے برتر تمام صفات ذمیمہ سے پاک ہے اور اس کے دامن قدوسیت پر کسی قسم کی برائی اور قباحت کا دھبہ نہیں اور یہ بھی ہر شخص تھوڑی سی عقل والا سمجھتا ہے کہ وعدہ خلافی بدترین صفات سے ہے پاک انسان بھی ہمیشہ اس سے اپنے سچائی کو محفوظ رکھتے ہیں اور کبھی وعدہ خلافی کرنے والا انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ شاید یہاں کسی کو یہ خیال ہو کہ خطا کار گنہگار مجرم کی معافی کمال و کرم ہے نہ نقصان اور یہ بھی معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام جرائم کی سزائیں بیان کر دی ہیں اور ہر جرم کے مقابلہ میں ایک سزا اور عذاب مقرر کر دیا ہے اب اس جرم سے درگزر یا گناہوں کا عفو، خلف وعید نہیں تو کیا ہے جب یہ مسئلہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں تو خلف وعید بھی انہیں نصوص قطعیہ سے یقیناً ثابت ہے اور توبہ اور خوف سے جب خدا تعالیٰ نے ہزاروں گناہ معاف کئے اور کرے گا تو اس میں کیا شک ہے کہ وعید توبہ اور خوف سے ٹل جاتی ہے اور خدا کی یہ سنت مستمرہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ظاہر میں یہ خیال صحیح اور قوی نظر آتا ہے اور خلف وعید کے لئے یہ نہایت مستحکم اور غیر متزلزل حصار ہے جس کے سامنے تمام ہتھیار آلات ناکارہ و کند معلوم

٢٧

صفحہ ٣٤٢

ہوتے ہیں۔ مگر اہل فہم اور دقیق نظریں سمجھتی ہیں کہ جس کو آہنی حصار سمجھے ہوئے ہیں وہ راکھ کا تودہ ہے اور جو لہرا تا ہوا بحر مواج خیال کیا گیا ہے وہ ریگستان ہے۔ عفو اور شفاعت کو خلف وعید کی دلیل سمجھنا سخت غلطی ہے جس کی بنیاد آیات عذاب ثواب کے معنی سے بے خبری ہے کیونکہ ان آیات کو وعدہ وعید سمجھنا ہی غلط ہے۔ اصل یہ ہے کہ جن آیات میں کسی جرم یا مجرم کی سزا کا بیان ہے اس سے غرض جرم کی نوعیت اور قدر کا اظہار ہے اور بتلایا گیا ہے کہ اس قسم کے جرم سے مجرم ایسی سزا کا مستحق ہو جاتا ہے یعنی یہ جرم اس مرتبہ کا ہے کہ اس کے لئے یہ سزا مناسب ہے اور جس کے وہ لائق ہے اس کی قابلیت اور استحقاق کو بیان کیا ہے نہ یہ کہ سزا اور عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وعید اور استحقاق مجرم دو جدا جدا امر ہیں۔ وعید وعدہ کنندہ کا فعل ہے اور استحقاق مجرم کی حالت اور کیفیت ہے۔ اب دونوں کو ایک سمجھنا کیسی عظیم غلطی ہے کیا گورنمنٹ نے اپنے قانون میں جرائم کی سزائیں بیان کی ہیں وہ گورنمنٹ کی طرف سے وعید کہی جاسکتی ہیں اور کوئی شخص بھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ یہ گورنمنٹ کا وعدہ ہے اب اگر گورنمنٹ کسی مجرم کو چھوڑ دے اور سزا نہ دے تو یہ اس کی وعدہ خلافی ہوگی؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ قانون اور وعید دو علیحدہ علیحدہ امر ہیں مجرموں کی سزائیں قانون ہیں نہ وعید ۔ اور مفتی محمد صادق صاحب مرزائی نے تو اپنی تاریکی کا یہ اعلیٰ ثبوت دیا ہے کہ حکم اور وعید میں فرق نہیں کیا اور برق آسمانی کے مصنف کو تو کیا کہا جائے جس نے اس جواب کو فخریہ پیش کیا ہے کیونکہ وہ تو اس قسم کے امور کے سمجھنے سے غریب معذور ہے وہ کیا جانے کہ وعید کیا مرض ہے اور حکم کس کو کہتے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کا مفتی بھی مفت ہی کا ہے جس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مجرم کو دس پانچ سال کی سزا کرنا حکم ہے اور کسی وجہ سے قبل از معیاد چھوڑ دینا اس حکم کا نسخ ہے احکام میں نسخ صحیح ہے اور وعید خبر ہے جس میں کہ نسخ صحیح نہیں ۔ بھلا جس قوم کے مفتی ایسے گمراہ ہوں جو خبر اور انشاء میں فرق نہ کریں تو اس قوم کی ہدایت اور راستی کا اندازہ اسی سے کر سکتے ہیں۔

قادیانی خدا کے وعدہ خلافی اور جھوٹ کے ثبوت میں یہی آیت بھی پیش کرتے ہیں۔ ”يصبكم بعض الذي يعدكم (المومن: ٢٨)“ ہم نہیں سمجھتے کہ اس سے خدا کی خلاف وعدگی اور جھوٹ کیونکر ثابت ہوتا ہے؟ ۔ اس میں تو کوئی بات ایسی نہیں جیسا کہ آگے معلوم ہوگا اب جب کہ ان دونوں باتوں پر عقل اور نقل دونوں گواہ ہیں یعنی وعدہ خلافی عیب ہے۔ اور ہر عیب سے خدا پاک ہے تو ایسی حالت میں کیا کوئی خدا پرست اس کہنے کی جرات کرے گا کہ خدا وعدہ خلافی کرتا ہے اگر مرزا قادیانی یا کوئی مرزائی اپنے اس دعوے کے ثبوت میں کہ وعید کی معیاد ٹل جاتی ہے کوئی قرآن کی آیت بتلا سکتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ خدا کی وعید خوف سے ٹل جاتی

٢٨

صفحہ ٣٤٣

ہے یا کوئی واقعہ ایسا ہو جس میں خدا کی وعید ہو پھر وہ اپنے وقت پر پوری نہ ہوئی ہو۔ یہ یقینی ہے۔ تمام مرزائیوں نے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ پر غل مچایا ہے لیکن اس کی حقیقت ابھی بیان ہوئی۔ چونکہ یہاں مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا کا وعدہ خلافی کرنا قرآن سے ثابت ہے اس لئے میں تمام قادیانیوں سے با آواز بلند کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ محض غلط ہے اور مرزا قادیانی اس میں نہایت کاذب اور مفتری اور خدائے قدوس پر اتہام کرنے والے ہیں ورنہ کوئی مرزائی قرآن سے اس کا ثبوت دے۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں کلام محض قرآن میں ہے اس لئے اسی سے اس کا ثبوت کیا جائے۔ قرآن پر ثبوت کا انحصار محض مرزا قادیانی کے دعوے کی وجہ سے کرتا ہوں۔ ورنہ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کے سوائے یہ امر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاں جب مرزائی یہ اقرار کریں کہ قرآن سے یہ امر ثابت نہیں اس میں بے شک مرزا قادیانی کاذب ہیں تو اس کے بعد دوسری دلیل اگر کوئی مرزائی بیان کرے تو اس کے متعلق عرض کیا جائے گا۔

قرآن میں جو آیات اس قسم کی ہیں کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شئے خدا کی قدرت اور اختیار میں ہے یا وہ ہر قسم کی تبدل وتغیر پر قادر ہے یا محو واثبات کی اسے قدرت ہے۔ یہ تمام آیات اگرچہ بظاہر عام ہیں لیکن جو چیزیں عقلاً یا کسی آیت قطعی سے ان میں داخل نہیں ہو سکتی وہ ان سے ضرور خارج ہوں گی۔ ان آیات میں وہی امور داخل ہیں جو کہ کسی طرح محال نہیں نہ ان میں استحالہ بالذات ہے نہ بالعرض مثلاً قرآن میں ہے۔ ان الله على كل شىء قدير (البقره:٢٠) اب اس کے عموم سے یہ استدلال صحیح نہیں کہ خدا اپنی ذات کے فناء پر بھی قادر ہے۔ یا اپنے شریک و سہیم کو بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح " يمحوا الله ما يشاء و يثبت (رعد:٣٩) " سے یہ کوئی عاقل نہیں سمجھ سکتا کہ خدا اپنی ذات کے محو یا اپنے شریک کے اثبات پر قادر ہے آیت ”ان الله يغفر الذنوب جميعاً (الزمر:٥٣)“ میں باوجود یہ کہ الف ولام استغراقی ہے۔ اور جمیعاً سے اس کی تاکید ہے لیکن اس پر بھی شرک اس میں داخل نہیں کیونکہ شرک کے لئے قرآن ناطق ہے کہ وہ معاف نہ ہوگا یہی مثال بعینہ وعید کی ہے کہ نصوص صریحی اور قطعی سے ثابت ہے کہ خدا ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اس لئے محو واثبات وغیرہ میں خلف وعید داخل نہیں۔ یہ مرزائیوں کا کیسا فریب اور دجل ہے کہ اس قسم کی آیات سے خلف وعید کو ثابت کرتے ہیں اور ان نصوص سے اندھے ہو جاتے ہیں۔ جن میں قطعی طور سے صاف صاف کہا گیا ہے کہ خدا اپنے وعید کے خلاف نہیں کرتا۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے ایسے روشن امر کی مخالفت کی اور اپنی تاریکی کا ثبوت دیا اور ہمارے نزدیک تو جب مرزا قادیانی کے ثبوت اور الہام دونوں جھوٹے ہیں اور خدا کی طرف سے نہیں بلکہ وہ وسواس ٢٩

صفحہ ٣٤٤

شیطانی ہیں اور اُن کا معبود واللہ ان کی خواہش نفسانی ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس خدا کی سنت مستمرہ ضرور خلف وعید کی ہے اور یہ امر قرآن سے یقیناً ثابت ہے کہ شیطان سے خلف ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ سے خلف ممکن نہیں گو مرزا قادیانی کی اس پر قطعی شہادت ہو لیکن وہ قرآن جو مسلمانوں کا قرآن اور رسول عربی پر آیا ہے اس میں حاشا کہ ایسے امر کی طرف اشارہ بھی نہیں۔ اس جگہ کسی کو اگر یہ خیال ہو کہ خدا تعالیٰ گناہوں کو معاف کرتا ہے اور آئندہ بھی قیامت میں اس کے عفو کی صفت کا ظہور ہوگا اور مجرموں کی شفاعت بھی ہوگی ۔ مجرم سے درگزر اور معافی بڑی عمدہ صفت ہے اور یہ اہل کرم کے مناسب ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وعید خوف سے ٹل جاتی ہے اور یہ خدا کی عادت مستمرہ ہے مجھے قادیانیوں کے ایک پیر مغاں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ بعد سلام کے میری ان سے یہ گفتگو ہوئی۔

میں، آیت: ” یصبکم بعض الذی یعدکم (المؤمن:٢٨)“ سے خلف وعید کس طرح ثابت ہوتا ہے۔

قادیانی: سکوت کے بعد کہا کہ اس سے صاف معلوم ہوا کہ بعض وعید پورے ہوں گے۔

میں: بلاشک اس سے معلوم ہوا کہ بعض وعید پورے ہوں گے لیکن بعض وعیدوں کا پورا ہونا ہی تو معلوم ہوا یہ کیسے معلوم ہوا کہ بعض وعید پورے نہ ہوں گے۔

قادیانی: حضرت آپ نے خیال نہیں کیا ذرا توجہ سے کام لیجئے جب بعض وعیدوں کا پورا ہونے کا حکم کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ بعض اس حکم سے خارج ہیں۔

میں: افسوس آپ کو اس قدر تو علم کا دعویٰ ہے لیکن آپ کو یہی معلوم نہیں کہ بعض پر حکم سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے بعض میں یہ حکم نہیں ورنہ ایجاب جزئی منافی ہوگا ایجاب کلی کے حالانکہ ایجاب جزئی عام ہے ایجاب کلی سے، یہ تو ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس کو مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے کہ موجبہ جزئیہ عام ہے موجبہ کلیہ سے، دوسرے آپ کے نزدیک جب وعید خوف اور توبہ سے ٹل جاتی ہے تو ایسی صورت میں ایک وعید بھی پوری نہ ہوگی اس لئے کہ جو شخص یا قوم خوف سے توبہ کرے گی اس سے تمام وعیدیں ٹل جائیں گی اور جس میں خوف کی حالت پیدا نہ ہوگی وہاں پر تمام وعیدیں پوری ہوں گی کسی قوم یا شخص پر بعض وعیدوں کا پورا ہونا اور بعض کا نہ ہونا کس طرح ہو سکتا ہے اور اس تفریق کا کیا باعث ہے اور یہ قول کہ تم کو بعض وعید یں پہنچیں گی اور بعض نہیں کیونکر صحیح ہوگا؟ ۔ اس لئے کہ خدا کی اس سنت مستمرہ کے موافق کہ وعید توبہ اور خوف سے ٹل جاتی ہے اور تمام وعیدیں شرطی ہیں۔ اس قوم سے تمام وعیدات ٹل جانی

٣٠

صفحہ ٣٤٥

ضرور ہیں اگر وہ خوف سے توبہ کرے اور خوف سے توبہ نہ کرنے کی صورت میں تمام وعیدات پوری ہوں گی۔ الغرض یا تو تمام وعیدات پورے ہوں گی یا کوئی بھی نہ ہوں گی۔ البتہ بعض تو پوری ہوں اور بعض نہ ہوں یہ عجیب بات ہے۔ شاید آپ کا یہ مطلب ہو کہ نصف توبہ اور خوف میں نصف وعیدات ہوں گے اور نصف نہیں۔

اس کے بعد ان پیر مغان نے فرمایا کہ یہ تو آپ نے منطقی اور عقلی باتیں شروع کر دیں ہم ان جھگڑوں کو نہیں جانتے کہ ایجاب جزئی عام ہے اور کلی خاص اگر آپ کو ایسی گفتگو منظور ہے تو میں خلیفۃ المسیح کے پاس آپ کو لے چلوں گا۔ اس وعدہ کی معیاد بھی ٹل گئی لیکن اس وقت تک اس پیر مغاں نے خبر نہ لی۔ اگر خلیفۃ المسیح کے جواب سے مطلع کریں تو عنایت ہوگی۔

رد قادیانی کی چند کتابیں

میں نہایت دردمندی سے کہتا ہوں کہ یہ وقت نہایت نازک ہے ہمارے مقدس مذہب اسلام کے مٹانے والے، ہمارے ایمان کے تباہ کرنے والے، بہت ہو گئے خصوصاً مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت۔ پس ایسے وقت میں آپ کو چاہئے کہ علماء کاملین کی صحبت کا شرف حاصل کریں اور ان کتابوں کو دیکھیں جو ان جدید مسیحی حضرات کے جواب میں لکھی گئی ہیں میں یہ بھی کہوں گا کہ صرف اپنے دیکھنے پڑھنے تک قناعت نہ فرمائیں بلکہ اپنے احباب کو اس طرف متوجہ کریں تاکہ ان دونوں گروہوں کے فتنہ سے بچیں ان کتابوں میں سے بعض یہ ہیں ۔

اس میں مرزا قادیانی کے پختہ اقراروں سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اور ان کی عظیم الشان دلیل کا بطلان نہایت محققانہ طور سے کیا ہے۔ اس کا پہلا حصہ تیسری بار زیر طبع ہے تیسرا حصہ ختم ہو گیا۔

اس میں مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کو نہایت تحقیق و تفصیل سے غلط ثابت کیا ہے اور ان کی ناگفتہ بہ باتیں دکھائی ہیں پہلی شہادت آسمانی مختصر تھی یہ ١٩٨ صفحہ پر ہے۔

اس میں نہایت خوبی سے مرزا کا اور اس کے خاص مرید خواجہ کمال کا صریح جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔

٣١

صفحہ ٣٤٦

اس میں اور باتوں کے علاوہ بعض صلحاء اور سابقہ قادیانی کے عبرتناک خواب ہیں جن سے مرزا کی حالت معلوم ہوتی ہے اور ان طالبین حق کا ذکر ہے جو مذہب قادیانی سے تائب ہوئے ہیں۔

اس میں مولوی عبد الماجد بھاگلپوری قادیانی کے القاء شیطانی کے ایک ورق میں ٣٢ غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ اس وقت تک چھ رسالے القاء کی غلطی کے اظہار میں طبع ہو چکے ہیں اور کئی رسالے زیر طبع ہیں۔

اس بے نظیر رسالہ میں اسرار نہانی والے خواب کا نہایت عمدہ جواب ہے جسے مولوی عبد الماجد قادیانی بار بار پیش کرتے ہیں اور مرزا کا جھوٹا ہونا ان کے اقراروں سے نہایت کامل طور سے ثابت کیا ہے نہایت لائق دید رسالہ ہے۔

مرزا کی پیشین گوئیاں جب غلط ہوئیں تو اس نے عوام کے فریب دینے کو یہ جواب تراشا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیبیہ والی پیشین گوئی بھی پوری نہیں ہوئی تھی اس کا یہ جواب ہے اور نہایت عمدہ جواب ہے مگر اب تک طبع نہیں ہوا۔

یہ بے نظیر رسالہ حضرت مسیح کی حیات کے ثبوت میں ہے اور قرآن وحدیث سے اور نیز مرزا کے مسلمات سے اس دعوے کو ثابت کیا ہے مگر ابھی چھپا نہیں ہے۔

یہ رسالہ مولوی عبد الحلیم قادیانی کے رسالہ نبی کی پہچان کا مدلل جواب ہے۔ ملنے کا پتہ : محمد اسحاق عفی عنہ خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پور مونگیر !

الحمد للہ ان تمام کتب مذکورہ کو احتساب قادیانیت کی جلد ٧٥ میں دوبارہ شائع کرنے کی سعادت آپ کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ ملتان نے حاصل کی ہے۔ من شاء فليطالع ! فقیر اللہ وسایا ١١/ شوال ١٤٢٧ھ

٣٢

PDF 347

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

چشمۂ ہدایت

(مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں)

حضرت مولانا مفتی عبداللطیف رحمانیؒ

صفحہ ٣٤٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ضرور ملاحظہ فرمائیے

دنیا میں مذہب حقہ اسلام کے مٹانے والے متعدد گروہ مستعد ہو گئے ہیں۔ بعض علانیہ مخالف ہیں۔ جیسے آریہ جو اپنی گمراہی پھیلانے میں نہایت کوشاں ہیں اور بعض در پردہ مخالف ہیں۔ جیسے گروہ بابی اور قادیانی، احمدی اس آخری گروہ کا فتنہ تمام ہندوستان اور ملک افریقہ میں بہت خطرناک ہے ہمدردان اسلام کو اس طرف کامل توجہ کرنی چاہئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو مسلمان کہہ کر اسلام کی بیخ کنی کی ہے۔ مگر الحمد للہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے حمایت اسلام میں ایسے لاجواب رسالے نکلے ہیں۔ جن کے جواب سے تمام دنیا کے مرزائی عاجز ہیں۔ کیونکہ ان رسالوں میں نہایت خوبی اور صاف بیانی سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن مجید کی آیات صریحہ، توریت مقدس کے نہایت صاف بیان سے، ارشاد نبوی یعنی احادیث صحیحہ سے، یہاں تک کہ خود ان کے متعدد اقراروں سے نہایت روشن کر کے دکھا دیا ہے۔ اس کی صداقت کے لئے فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ اور دوسری شہادت آسمانی اور اس رسالہ چشمۂ ہدایت کا دیکھنا کافی ہے۔

مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں

مولانا عبداللطیف رحمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

دردمندان اسلام! اس وقت اسلام کے مٹانے کے لئے مخالفین اسلام کے علاوہ بہت مدعیان اسلام کھڑے ہو گئے ہیں اور اسلام کی اصل صورت جو خدا اور رسول ﷺ نے بیان فرمائی ہے اسے مٹا کر اپنی فرضی اور خیالی صورت کو اسلام کہہ کر دوسرے مسلمانوں کو اپنے خیال کی طرف بلاتے ہیں اور اس میں سرگرمی سے کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ان میں سخت گمراہ اور اسلام کو اور مسلمانوں کو نہایت مضرت رساں گروہ قادیانی ہے۔ یہ گروہ بظاہر اسلام کو مان کر مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے پر نجات کا مدار بتاتا ہے اور مرزا قادیانی کو صاحب وحی والہام کہتا ہے۔ مرزا قادیانی کی حالت ان کی تصانیف سے قابل اہل علم معلوم کر سکتے ہیں اور خصوصاً ان کی

٢

صفحہ ٣٤٩

آخری تصانیف سے کہ انہیں خدا اور رسول سے کچھ واسطہ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی جھوٹی باتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خدا پر اور اس کے رسولوں پر بہت کچھ الزام لگائے ہیں اور کم علموں اور ناسمجھوں کے لئے دام تزویر پھیلا کر خدا کی قدرت وقدوسیت کو اور اس کے برگزیدہ رسولوں کی عصمت کو خاک میں ملایا ہے اور ان کی عظمت و شان کو مٹایا ہے اور مخالفین کو اعتراضات کا موقع دیا ہے۔ اس کی تشریح میں بہت رسالے نکلے ہیں۔ خصوصاً خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے، مگر افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہبی ضروری امور سے بھی تعلق بہت ہی کم ہے۔ اس عظیم الشان فتنہ کو مثل معمولی جھگڑوں کے سمجھ کر کچھ توجہ نہیں کرتے۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارا سچا اور مقدس مذہب اسلام ہمارے ہاتھ سے جاتا ہے۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارا مذہب اسلام جو ہمیں دائمی عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ ہمارے بھائیوں کے ہاتھ سے چھینا جا رہا ہے۔ قادیانی ہمارے ایمان کے سخت دشمن ہیں۔ جانی و مالی ہر طرح کی کوشش برادران اسلام کے ایمان لینے میں ساری دنیا میں کر رہے ہیں۔ اور چونکہ جھوٹ بولنے اور فریب دینے کی انہیں خوب تعلیم دی گئی ہے۔ اس لئے جس مقام پر جیسا موقع دیکھتے ہیں اسی طرح کی جھوٹی باتیں بنا کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور ناواقفوں کو فریب دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی حالت میں اور ان کے جھوٹے دعوؤں کی تشریح میں بہت رسالے اہل حق نے لکھے ہیں۔

غرض حجت تمام کر دی گئی ہے۔ مگر بعض احمدی حضرات نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر مرزا قادیانی کے اقرار سے انہیں جھوٹا ثابت کر دیا جائے تو ہم ان سے علیحدہ ہو جائیں گے اور انہیں جھوٹا جان لیں گے۔ اس لئے راقم الحروف بنظر خیر خواہی اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے وہ اقوال جمع کر کے دکھاتا ہے۔ جن سے وہ اپنے نہایت صاف اور پختہ اقراروں سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں اور یہ وہ طریقہ فہمائش کا ہے کہ عام و خاص ہر ایک سمجھ سکتا ہے۔ کوئی بڑی قابلیت اور علم کی ضرورت نہیں ہے۔

اس مختصر تحریر میں دو طرح کے اقوال پیش کئے جائیں گے۔ ایک یہ کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جو کام مسیح موعود کا خود انہوں نے متعدد جگہ اپنے رسالوں میں بیان کیا ہے۔ اس کا شمہ بھی ان کے زمانے میں اور ان کے ذریعہ سے اس وقت تک ظہور میں نہیں آیا۔ بلکہ اس کے خلاف ظاہر ہو رہا ہے۔ اس لئے وہ اپنے بیان سے مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ بلکہ وہ اپنے اقوال سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

٣

صفحہ ٣٥٠

دوسرے وہ اقوال ہیں جن میں خود انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا ہے۔ وہ اقرارات حسب ذیل ہیں۔

پہلا اقرار، ایام صلح میں لکھتے ہیں ۔ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر بکثرت پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی ۔“ (ایام الصلح ص ١٣٦، خزائن ج ١٤ص ٣٨١) اس قول کو مکرر دیکھئے اس میں مرزا قادیانی نزول مسیح کی تین علامتیں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان پر اتفاق ہو گیا ہے۔

١؎ اس کے بعد دوسرا اور تیسرا قول بھی ملاحظہ کیجئے ۔ جسے رسالہ اہلحدیث مطبوعہ یکم مارچ ١٩١٨ء میں فاتح قادیان صاحب نے نقل کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے کام کا پروگرام بصورت عہدہ مسیح موعود یوں بتایا تھا۔ جو ان ہی کے لفظ میں ہم سناتے ہیں۔

دوسرا اقرار ...... ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق لیظهره على الدین کله “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

یہ پروگرام مسیح موعود کا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی خود ہی اس عہدے پر فائز ہو کر انچارج ہوئے تو اس پروگرام میں کوئی تبدیلی کمی و بیشی کی نہیں فرمائی۔ بلکہ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے صاف الفاظ میں اعلان فرمایا جو خود مرزائی الفاظ میں درج ذیل ہے۔ فرماتے ہیں۔

تیسرا اقرار...... ”چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوام آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈالدی ، جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا۔ جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی ﷺ کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو۔ جب تک وہ پیدا نہ ہولے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤

صفحہ ٣٥١

پہلی علامت یہ ہے کہ اس وقت اسلام دنیا میں پھیل جائے گا۔ یہ تو نزول مسیح کی علامت ہے۔ اب ان کے نزول کا وقت معلوم کرنا چاہئے۔ اس کا جواب بھی مرزا قادیانی دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ١٨٩١ء میں باعلام الہی یہ اعلان دیا گیا کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے۔

(تحفہ سالانہ یعنی رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ص ٩، مرتبہ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

اس قول سے معلوم ہوا کہ مسیح کا نزول تو نہیں ہوا بلکہ خروج ہوا۔ کیونکہ زمین سے نکلنے والے کو نزول نہیں کہتے ہیں خروج کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے دجال کی نسبت حدیث میں خروج کا لفظ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس خروج کے بعد سترہ برس تک مرزا قادیانی نے کوشش کی۔ مگر یہ فرمائیے کہ کیا نتیجہ ہوا بجز اس کے کہ دنیا میں جس قدر اسلام پھیلا تھا اس کے ماننے والوں کی تعداد تیس چالیس کروڑ شمار کی جاتی تھی۔ وہ نیست و نابود ہو گیا اور اس تیس چالیس کروڑ میں سے تین چار لاکھ بقول آپ کے رہ گئے اور اسلام گویا مٹ گیا اور وحدت قومی کا ظہور مطلق نہیں ہوا۔ سیاست ملکی کے عالمگیر غلبہ کا تو نشان بھی نہیں پایا گیا۔ اب اگر کوئی مرزائی محمودی یا کمالی اس علانیہ بات سے انکار کرے تو بتائیے کہ مرزا قادیانی کے خروج سے اسلام کہاں پھیلا ۔ کون سی نئی دنیا ہے جہاں مرزا قادیانی نے اسلام پھیلایا۔ اسے بتائیے اور کون سے باطل دین کو مرزا قادیانی نے ہلاک کیا؟ اور اگر نہیں بتا سکتے اور یقینا نہیں بتا سکتے تو کیا وجہ ہے کہ ان کے اس متفق علیہ قول کو مان کر ان کے مسیح موعود ہونے سے انکار نہیں کرتے۔ مسیح موعود جو کام اور جو علامت وہ خود بیان کررہے ہیں وہ تو ان میں نہیں پائی گئی۔ یا یہ بتائیے کہ عیسائی دنیا میں کس جگہ اسلام پھیلا ، ہندوستان کے ہندو و آریہ کس قدر داخل اسلام ہوئے۔ اے عزیزو! اس کا کچھ جواب دے سکتے ہو؟ ذرا سر جھکا کر سوچو اور شرمندہ ہو۔

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ”ھو الذی ارسل بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہوا۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ٨٢ ، خزائن ج ٢٣ ص ٩١) (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٥

صفحہ ٣٥٢

دوسری علامت یہ ہے کہ ادیان باطلہ مثلاً دین یہود ونصاریٰ وہنود نیست و نابود ہو جائیں گے۔

کہو بھائیو! مرزا قادیانی کی بیس پچیس برس کی کوشش سے کون باطل دین ہلاک ہوا اور ہلاک ہونا تو بڑی بات تھی۔ کسی باطل دین میں کچھ کمی دکھائی جائے۔ مگر کوئی دکھا نہیں سکتا۔ اب جو حضرات انہیں مسیح موعود یا نبی مانتے ہیں وہ اس کا جواب دیں؟ مگر نہیں دے سکتے۔ اس کا حال بھی وہی ہے جو پہلی علامت کا ہے۔ یعنی جس طرح پہلی علامت مرزا قادیانی کے وجود سے نہیں پائی گئی۔ اسی طرح یہ دوسری علامت بھی نہیں پائی گئی۔ یعنی ایک باطل مذہب بھی ان کی وجہ سے ہلاک نہیں ہوا۔ بلکہ ترقی ہے۔ البتہ نہایت افسوس وصدمہ کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ جس مقدس دین کے غلبہ اور اشاعت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اسے گویا نیست ونابود کردیا اور چالیس کروڑ مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دے دیا۔ خواہ جس طرح دیا ہو۔

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) اہلحدیث! اس اقتباس سے جہاں مسیح موعود کا پروگرام معلوم ہوتا ہے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسیح موعود خود بدولت، اعلیٰ حضرت (مرزا قادیانی) ہی ہیں۔ پس اب ہم اس پروگرام کو دیکھتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی اپنے کام میں کامیاب گئے؟ پروگرام کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں دنیا کے تمام اطراف میں اسلام پھیل کر تمام قومی افتراقات اٹھ جائیں گے اور سب مختلف قومیں ایک قوم (مسلمان) بن جائے گی۔ اب سوال بالکل آسان ہے کیا ایسا ہوگیا؟ کیا یورپ سارا مسلمان ہوگیا؟ کیا ہندوستان کی مختلف قومیں مسلمان ہوگئیں؟ آپ! کیا چھوٹی سی بستی قادیان ہی میں ایسا ہوا کہ تمام قومیں (ہندو، سکھ، آریہ وغیرہ ایک مسلمان قوم بن گئے؟) آہ! کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جواب نفی میں ملتا ہے۔ (یعنی نہایت چھوٹی بستی کے مختلف مذہب کے لوگ بھی متفق ہوکر مسلمان نہیں ہوئے) ہاں عکس القضیہ تو ضرور ہوا کہ مسیح موعود (مرزا) کے آنے سے سابقہ مسلمان یعنی کل دنیا کے مسلمان کافر ہوگئے۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا) کا فتویٰ ہے کہ ”جو مجھے نہیں مانتا وہ کافر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

یہاں تک مسیح موعود کے بیان میں مرزا قادیانی کے تین قول ہوئے۔ ایک اصل رسالہ میں اور دو حاشیہ میں۔ پہلے قول میں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت میں ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ دوسرے قول کا حاصل یہ ہے کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دین اسلام کا کامل غلبہ ہوگا۔ اس کا ثبوت مرزا قادیانی آیت قرآنی سے بتاتے ہیں۔ تیسرے قول میں لکھتے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت تمام قومیں ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گی۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٦

صفحہ ٣٥٣

تیسری علامت یہ بیان کی کہ ”راستبازی ترقی کرے گی۔“ کہئے جناب آپ ایمان سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وجہ سے ان کے وقت میں راستبازی میں ترقی ہوئی؟ آپ نے اپنے تجربہ سے یا دوسروں کے تجربہ اور مشاہدہ سے یہ معلوم کیا کہ ساری دنیا کے علاوہ خود مرزا قادیانی اور اس کے خاص صحابی اور اس کے عام پیرو راستباز، صادق القول ہیں۔ ان میں راستبازی کی کچھ بھی بو پائی جاتی ہے؟۔ اس کے جواب میں ہر ایک سچا غیر متعصب یہی کہے گا کہ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں!! مرزا قادیانی کے جھوٹے اقوال علانیہ دکھا دیئے گئے ہیں۔ (صحیفہ محمدیہ نمبر ١٣٨ ملاحظہ ہو) دوسری شہادت آسمانی ص ٧٧، ٧٦، فیصلہ آسمانی ص ٣٤، ٣٩ دیکھئے خود ان کے مریدین علانیہ ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ کسی پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ ان کے مولوی کچہری میں جا کر برسر اجلاس جھوٹ بولتے ہیں پھر راستبازی کو ترقی کیا ہوئی۔۔ یہ وقت تو وہ ہے کہ جھوٹ اس قدر شائع ہو گیا ہے کہ اسے عیب ہی نہیں سمجھتے۔ بلکہ اپنے مطلب کے لئے بہت جھوٹی باتیں بنانے والے کو بہت ہوشیار اور لائق سمجھا جاتا ہے۔

بھائیو! اب تو آپ معلوم کر چکے کہ مسیح موعود کی جو علامتیں خود مرزا قادیانی نے اپنے قلم سے لکھی تھیں وہی ان میں نہیں پائی گئیں۔ خیال کیجئے کہ باوجود اس شور و غل اور نشانات اور معجزات کے دعوؤں کے سو دو سو باطل مذہب والوں کو بھی انہوں نے داخل مذہب اسلام نہیں کیا۔ حالانکہ تین قول ان کے نقل کئے گئے۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور مذاہب باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ مگر آنکھ اٹھا کر دیکھئے کہ دنیا کی کیا حالت ہے۔ معزز تعلیم یافتہ حضرات فرمائیں کہ دنیا کے گروہ باطلہ میں سے کوئی گروہ ہلاک ہوا؟ آپ کا معائنہ آپ کی دیانت ہرگز اس کا اقرار نہ کرے گی بلکہ بے تامل یہی کہے گی کہ بلاشبہ کوئی

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) پھر اسی قول میں لکھتے ہیں کہ وحدت اقوام کی خدمت اسی نائب النبوۃ یعنی مسیح موعود کے عہد سے کی گئی ہے۔ اس کے بعد آیت سے ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود کے ذریعہ سے اسلام کو ہر قسم کے دین پر غالب کر دے گا اور ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے گا۔ اس کے بعد آیت مذکورہ کی تفسیر میں اس بات کو متفق علیہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا کام یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے اور ایک عالمگیر غلبہ اسے حاصل ہو اور دنیا میں ساری قومیں مٹ کر ایک قوم مسلمان کی رہے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ غلبہ جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر ہوگا۔ اب مرزا قادیانی کے مسیح موعود ماننے والے بتائیں کہ ان کے ذریعہ سے اسلام کہاں پھیلا؟

٧

صفحہ ٣٥٤

گروہ باطل ہلاک نہیں ہوا۔ بلکہ کروڑوں کی ترقی ہوگئی۔ کیونکہ اس مسیح موعود نے تو دنیا کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو بجز چند لاکھ کے سب کو کافر قرار دے کر گروہ باطلہ میں شامل کر دیا اور اسلام کو دنیا سے گویا خالی کر دیا۔ گروہ باطلہ میں سے سب تو کیا ہلاک ہوتے ایک آدھا گروہ بھی ہلاک نہیں ہوا؟ قوموں کا اختلاف روز بروز زیادہ ہو رہا ہے۔ خود مرزائی گروہ میں اختلاف ایسا ہوا کہ بہت تھوڑے زمانے میں ایک کے چار ہو گئے۔ فرقہ بابی اور گروہ بہائی اور وہ جماعت (یہ تینوں گروہ اس وقت رنگون میں موجود ہیں) جو سارے جہاں کے مذاہب کی کھچڑی بنا کر ایک نیا مذہب بنا رہی ہے۔ مرزا قادیانی کے وجود کے وقت موجود تھے اور اب ان کی ترقی ہو رہی ہے۔ پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ جن کی چشم ظاہر اور دیدۂ دل کچھ بھی روشن ہیں۔ وہ بے اختیار اس کا اقرار نہ کریں کہ بلاشک وشبہ مرزا قادیانی اپنے کامل معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے اور مسیح موعود کی جو علامتیں متفق علیہ مرزا قادیانی نے بیان کی تھیں وہ ان میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے وہ اپنے پختہ اقرار اور مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ مگر افسوس ہے کہ جماعت مرزائی اس نہایت روشن دلیل پر نظر نہیں کرتی اور میاں محمود وغیرہ ایسے علانیہ کذب کے ماننے کے لئے ساری مسلمانوں کو دعوت دے رہے ہیں۔ اب اسی مضمون کی تائید اور تشریح میں اور اقوال ملاحظہ کیجئے۔

چوتھا اقرار ...... جس میں مضمون مذکورہ کی کچھ تشریح کر کے مخالفوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں اور اپنا اثر پھیلانے کے لئے حقانی گروہ کو خاموش کرتے ہیں اور ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ”اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح موعود کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے۔ جس سے اسلام کا بول بالا ہوا اور جس سے ہر ایک کی طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠ تا ٣٥ خزائن ج ١١ ص ٣١٤ تا ٣١٩)

ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے قول میں لکھا ہے کہ مسیح کے وقت میں تمام ادیان باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ حاشیہ کے پہلے قول کا حاصل یہ ہے کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دین اسلام کا کامل غلبہ ہوگا۔ (کامل غلبہ پر خوب نظر رہے) اور دوسرے قول میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں دنیا کی تمام قومیں ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گی۔ یعنی سب مسلمان ہو

صفحہ ٣٥٥

جاویں گے۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ جھوٹے دینوں پر یہ موت میرے ذریعہ سے آئے گی۔ غرضیکہ یہاں تک چار قول مرزا قادیانی کے بیان ہوئے۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ان کے ذریعہ سے تمام ادیان باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور دین اسلام کو ایسا غلبہ ہوگا کہ دنیا کی تمام قومیں ایک ہو جائیں گی۔ یعنی سب مسلمان ہو کر ایک قوم کہلائے گی۔ اس پر خوب نظر رہے کہ ان اقوال میں صرف ایک دین عیسائی یا موسوی کے نیست و نابود کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ بلکہ تمام باطل دینوں کے نیست و نابود کرنے کا دعویٰ ہے اور اس کی ابتدائی حالت یہ بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے گا۔ یعنی اسلام سے کوئی خارج نہ ہوگا۔ بلکہ ہر طرف سے اس میں داخل ہوں گے۔ یہ مقولہ غالباً ١٨٩٧ء کا ہے۔ اس کے بعد دس برس سے زیادہ مرزا قادیانی زندہ رہے۔ ماہ مئی ١٩٠٨ء میں ان کا انتقال ہے۔ اب انہیں مسیح موعود ماننے والے فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ مگر جو کام ان کا بیان کیا تھا یا اس کی ابتدائی حالت لکھی تھی کہ ہر طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس کا وجود پایا گیا؟ ذرا منہ سامنے کر کے جواب دیجئے۔ اس بیان کے بعد خاص دین عیسوی کی نسبت کہتے ہیں کہ ”عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا رنگ نہ پکڑ جائے تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے کو کاذب خیال کرلوں گا۔“ اس جملہ سے یہ بھی بخوبی ثابت ہے کہ مذکورہ امور ان کے وقت میں ظاہر ہوں گے۔ پہلے تمام ادیان باطلہ کے فنا ہونے کا لکھا تھا۔ اس میں عیسائی مذہب کا فنا ہونا بھی آ گیا تھا۔ مگر اس کے بعد خاص طور پر اس کا ذکر کرنا اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اکثر دنیا پر اس کا غلبہ ہے۔ اس لئے یہ دکھایا ہے کہ مسیح موعود کی وہ شان ہے کہ دنیا کے تمام بادشاہ ان کے آگے سرنگوں ہو جائیں گے۔ یعنی اسلام لا کر مسیح موعود کے مطیع ہوں گے۔ آخر جملہ بھی اسی مطلب کا مؤید ہے۔ دنیا کا اور رنگ پکڑ جانا یہی ہوگا کہ اس سے پہلے دنیا کفر سے بھری تھی۔ اس وقت مرزا قادیانی کی وجہ سے اسلام سے بھر جائے گی۔ اس علانیہ اور روشن دعوے کے بعد قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر مسیح موعود کے مذکورہ علامات کا ظہور میرے ذریعہ سے نہ ہو تو میں اپنے آپ کو جھوٹا سمجھ لوں گا۔ اس قسم کے بعد مرزا قادیانی گیارہ برس سے زیادہ زندہ رہے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے خوب دیکھا کہ جو علامتیں مسیح موعود کی انہوں نے خود بیان کی تھیں وہ ان میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے انہیں اپنے دعوے سے دست بردار ہو جانا تھا۔

مگر افسوس کہ ایسا نہیں کیا۔ اپنے جھوٹے دعوے پر قائم رہے۔ اس لئے بالضرور بموجب اپنے اقرار کے جھوٹے اور مفتری ہوئے اور اب اس مرزائی قسم کو اکیس برس ہو گئے اور

صفحہ ٣٥٦

تمام مرزائی دیکھ رہے ہیں کہ مسیح موعود کی جو علامتیں مرزا نے بیان کی تھیں۔ ان کا ظہور کسی طرح نہ ہوا۔ مگر پھر بھی کذب پرستی کر رہے ہیں۔

مہربانو! کچھ تو خیال کرو کہ جن باتوں کے ظہور کا مرزا قادیانی نے اپنے ذریعہ سے بیان کیا تھا۔ ان کا ظہور کس طرح ہوا؟ کوئی دین باطل فنا ہوا؟ سب دیکھنے والے یہی کہیں گے کہ ہرگز نہیں ہوا۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ یہود اپنے دین پر بدستور ہیں۔ مذہب نصاریٰ کو ترقی ہے۔ آریہ اور ہنود کا وہی زور ہے۔ بالفعل آرہ کا واقعہ اور ہنود کی جابجا شورش مرزا قادیانی کو کیسا جھوٹا ثابت کر رہی ہے۔ وحدت قومی کا ظہور کہاں ہوا۔ مرزا قادیانی کی وجہ سے ادیان باطلہ کے لوگ کس وقت اور کس مقام پر داخل اسلام ہوئے؟ یہ تو کچھ نہیں ہوا۔ اس لئے مرزا قادیانی کو اپنی قسم کو سچا کرنا اور اپنے آپ کو جھوٹا سمجھنا ضرور تھا اور ان کے پیروؤں کو ان سے علیحدہ ہونا لازم تھا۔ مگر ان کی شوخ چشمی اور کذب پر دلیری اس درجہ کو پہنچ گئی تھی کہ باوجود اس اقراری ڈگری کے اپنی زبان سے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار نہیں کیا اور اس مدت کے بعد چار برس سے زیادہ زندہ رہے۔ اب اس میعاد کو بھی چودہ برس گزر گئے اور ادیان باطلہ ہلاک تو کیا ہوتے، انہیں ترقی ہو رہی ہے۔ مگر ان کے مریدین ان کی قسم کو پورا نہیں کرتے اور اب بھی انہیں جھوٹا نہیں سمجھتے۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ ان کی قسم انہیں جھوٹا بتا رہی ہے اور زمانے کی حالت انہیں جھوٹا کہہ رہی ہے۔ خواجہ کمال کی جھوٹی اشاعت اسلام اور مفتی محمد صادق کا سبز عمامہ لندن میں بیٹھ کر کچھ کام نہیں آ سکتا اور مرزا قادیانی کو سچا نہیں کر سکتا۔ دعویٰ کا زمانہ گزر گیا اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ہو گئے۔ لندن میں بیٹھ کر مسلمانوں کو فریب دینے سے مرزا قادیانی سچے نہیں ہو سکتے اور انہیں مسیح اور مہدی ماننے والے اور انہیں رسول اور نبی اعتقاد کرنے والے دونوں گروہ جھوٹے اور جھوٹے کے پیرو ہیں۔ اگر صداقت کا دعویٰ ہے تو دکھائیں کہ مرزا قادیانی کے وجود سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا۔ مسلمانوں کو بجز مضرت جانی و مالی اور نقصان دینی اور دنیاوی کے کوئی فائدہ ہوا؟ ہرگز نہیں، ہر گز نہیں۔ دنیا میں جس قدر کفار تھے وہ بدستور قائم رہے۔ چالیس کروڑ جو مسلمانوں کا شمار تھا مرزا قادیانی نے ان سب کو کافر کر کے کفار کا شمار بہت زیادہ کر دیا۔ قادیانی گروہ تو نہایت صاف طریقہ سے سب کو کافر کہتا ہے۔ لاہوری جماعت خواجہ کمال وغیرہ بھی کافر سمجھتے ہیں۔ مگر ظاہر میں انکار کرتے ہیں۔ ہندوستان کے تعلیم یافتہ حضرات کو خوب بے وقوف بنایا ہے۔ خواجہ کمال نے تو اپنے رسالہ صحیفہ آصفیہ میں صاف صاف مرزا قادیانی کو نبی اور خدا کا رسول اپنے خیال میں قرآن مجید کی آیات سے ثابت کیا ہے اور ان کے منکر کو جہنمی ٹھہرایا ہے۔

(ص١٠، ١١، ١٢، ١٣، ٣٠، ٣١ دیکھا جائے)

١٠

صفحہ ٣٥٧

مگر ان دنوں لاہوری امیر المومنین کا خط ایک احمدی نے دکھایا۔ اس میں مرزا قادیانی کا فتویٰ لکھتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو کافر نہیں بنایا۔ مگر مسلمانوں نے ہمیں کافر کہا اس لئے وہ خود کافر ہوگئے۔ حاصل یہ کہ چالیس کروڑ مسلمان کافر ہوگئے۔ اب ان کا کافر ہونا کسی وجہ سے ہو۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی وجہ سے کافر ہوئے اور انہی کی وجہ سے دنیا اسلام سے گویا خالی ہوگئی۔ نہ وہ ایسے جھوٹے دعوے کر کے مسلمانوں کو فریب دیتے نہ علمائے اسلام ان کے کفر کا اظہار کرتے۔

اب وہ بتائیں کہ آپ کے مسیح موعود نے تو اپنا کام یہ بتایا ہے کہ ہماری وجہ سے ساری دنیا میں اسلام کا غلبہ ہوگا اور ایسا غلبہ بتایا ہے کہ ساری دنیا کی قومیں ایک قوم یعنی مسلمان ہو جائیں گی اور اس دعوے کو قرآن مجید کی آیت سے ثابت کیا ہے۔ حاشیہ کا پہلا اور دوسرا قول دیکھا جائے۔ پھر یہ کیسا اندھیر ہے کہ مرزا قادیانی مسلمانوں کو کافر بنا کر اسلام کو مٹا رہے ہیں اور کفر کا غلبہ دکھا کر اپنے کو خود جھوٹا بتا رہے ہیں۔ مگر افسوس ماننے والوں پر ہے کہ یہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور آفتاب روشن کو چھپانا چاہتے ہیں اور دن کو رات کہتے ہیں۔ یہ ضمنی بات تھی اصل مدعا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا کام یہ بیان کیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کا غلبہ ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مسلمان ہو جائیں گی۔ جتنے ادیان باطلہ ہیں وہ فنا ہو جائیں گے۔ اس کے ثبوت میں چار قول نقل کئے گئے۔ ایک ایام الصلح سے، دوسرا براہین احمدیہ سے، تیسرا چشمہ معرفت سے، چوتھا انجام آتھم سے، ان اقوال کو پیش نظر رکھ کر پانچواں قول ملاحظہ کیجئے۔

پانچواں اقرار...... ”میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(اخبار البدر قادیان ج٢ نمبر ٢٩، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص١٦٢)

مرزا قادیانی کا یہ پانچواں قول ہے۔ جس میں وہ مسیح موعود کا کام اور ان کی علامت

١١

صفحہ ١٤٥

بیان کرتے ہیں۔ مگر پہلے چاروں اقوال میں تمام دینوں کا ہلاک ہونا اور اسلام کا غلبہ ساری دنیا میں ہو جانا مسیح موعود کا کام بتایا تھا۔ اس قول میں خاص دین عیسوی کے ہلاک ہونے کی نسبت لکھتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور اس لئے کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔ پہلے اقوال کو پیش نظر رکھ کر جب اس قول کو دیکھا جائے تو نہایت صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میری کوشش اور میرے ذریعہ سے تثلیث کے ماننے والے موحد یعنی مسلمان ہو جائیں گے۔ چونکہ تثلیث پرست تمام دنیا پر غالب ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا میں عیسائیوں کو غلبہ ہے۔ ان کی سلطنت اور بادشاہت ہے۔ اس لئے اس قول میں خاص دین عیسوی کے مٹانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر مٹائے اسلام کو غلبہ نہیں ہو سکتا۔ جس کا ذکر پہلے اقوال میں بار بار کیا ہے۔ اب اسلام کے غلبہ کی یہی صورت ہے کہ تثلیث پرست مسلمان ہو جائیں اور تثلیث کی جگہ توحید پھیل جائے۔ اسی کو مرزا قادیانی حمایت اسلام اور مسیح موعود کا کام بتاتے ہیں اور اسی کام کے پورا ہو جانے کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ کام میں نے اپنی زندگی میں نہ کیا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے قول کی صداقت پر کمال درجہ کا وثوق ہے۔ یہ بھی مدنظر رہے کہ اس قول کے پورا کرنے کے لئے کوئی شرط بھی مرزا قادیانی نے نہیں بیان کی۔ اس کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جس وقت یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس وقت تک یہ کام انہوں نے نہیں کیا تھا۔ کیونکہ پہلے وہ یہ کہتے ہیں کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ اس کو خاص و عام سب سمجھتے ہیں کہ کام کے لئے کھڑا ہونے کے یہی معنی ہیں کہ اب تک کام کیا نہیں ہے۔ بلکہ کرنے کے لئے مستعد اور آمادہ ہوئے ہیں اور آخر میں شرط کے ساتھ کہتے ہیں۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ کیا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ اس جملہ سے اظہر من الشمس ہے کہ جس وقت مرزا قادیانی یہ قول لکھ رہے تھے اس وقت تک انہوں نے وہ کام نہیں کیا تھا۔ آئندہ اس کے کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ وعدہ مرزا قادیانی نے کب کیا ہے۔ اس کا تصفیہ حوالے سے بخوبی ہوتا ہے۔ یعنی یہ قول ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء کے اخبار البدر میں چھپا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کے اقوال برابر چھپتے تھے۔ اس قول کی

١٢

صفحہ ٣٥٩

تائید مرزا قادیانی نے اپنے الہامی اعلان سے کی ہے۔ جس کو انہوں نے اپنی کتاب حقیقت الوحی مطبوعہ ١٥ مئی ١٩٠٧ء کے آخر میں مشتہر کیا ہے اس کی عبارت یہ ہے۔

”میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو۔ اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔“ (حقیقت الوحی میں مندرجہ اشتہار اعلان حق نمبر ١ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ص ٤٢٨)

اس عبارت نے کامل طور سے فیصلہ کر دیا کہ مسیح موعود کا جو کام ہے یعنی ان کے ذریعہ سے تمام دنیا میں اسلام کا پھیل جانا وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا ہو جائے گا۔ مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ پورا نہ ہوا اور ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کی جو علامت انہوں نے بیان کی وہ ان میں نہیں پائی گئی اور اپنے قول سے جھوٹے ثابت ہوئے۔

مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔ اس لئے ان کے حصہ میں حمایت اسلام کی خدمت مقرر تھی اور حمایت اس طریقہ سے کہ تثلیث پرستوں کو مسلمان بنائیں۔ مگر یہ خدمت ١٩٠٧ء تک پوری نہیں ہوئی تھی اور یہ بھی اس قول سے نہایت ظاہر ہو رہا ہے کہ اس خدمت کا پورا ہونا اپنی زندگی میں بتا رہے ہیں اور الہام الہیٰ سے کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا کام اپنی زندگی میں پورا کروں گا۔ جب تک میرا کام پورا نہ ہوگا میں ہرگز نہ مروں گا۔ کیونکہ یہ وعدہ الہیٰ ہے اور وعدہ الہیٰ ٹل نہیں سکتا (یہ جملہ نہایت یاد رکھنے کے قابل ہے) یہ معلوم کر کے آپ یہ بھی معلوم کیجئے کہ اس قول کے کتنے دنوں بعد مرزا قادیانی دنیا سے تشریف لے گئے ہیں اور یہ وعدہ الہیٰ پورا ہوا یا نہیں۔ مرزا قادیانی کا انتقال ایسا امر نہیں ہے۔ جس کی تاریخ دن مشتہر نہ ہوا ہو۔ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں جناب والا عالم برزخ میں بھیجے گئے۔ یعنی مذکورہ اعلان میں جو وعدہ الہیٰ ہوا ہے۔ اس کے پورے ایک سال کے بعد مرزا قادیانی دنیا سے اٹھا لئے گئے۔ اب اس ایک سال میں مرزا قادیانی کا کوئی کارنامہ ایسا دیکھا جاسکتا ہے۔ جس سے اسلام کو غلبہ ساری دنیا میں ہو گیا ہو۔ اے مرزائیو! کیا اس کا جواب کچھ دے سکتے ہو؟ مگر تمہارا کانشنس اور معائنہ کے ساتھ دلی حالت بے اختیار کہے گی کہ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے خیر خواہانہ میں دریافت کرتا ہوں کہ آپ اپنے مرشد کے ارشاد کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی

١٣

صفحہ ٣٦٠

کیوں نہیں دیتے۔ اس میں آپ کو کیا عذر ہے۔ جس طرح آپ نے ان کے کہنے سے انہیں مسیح موعود مانا تھا۔ اسی طرح ان کے کہنے سے انہیں جھوٹا ماننا آپ کو ضرور ہے۔ آٹھ نو برس سے آپ کانوں میں تیل ڈال کر مہر بلب کیوں بیٹھے ہیں، کیا مرنا نہیں؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ آپ علمائے حقانی کی کسی دلیل کو ملاحظہ کریں میں تو آپ کے مرشد ہی کے قول کو پیش کر رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ اسے مانئے اور اپنی آئندہ کی حالت کو یاد کر کے خدا سے ڈرئیے اور جھوٹے سے علیحدہ ہو جائیے۔ طاغوت سے علیحدہ ہونا ایمان باللہ سے مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”ومن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى (بقرہ:٢٥٦) “ یعنی جو طاغوت سے علیحدہ ہوا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی تھامی۔ اس آیت میں ایمان باللہ سے پہلے طاغوت سے علیحدہ ہونے کا ارشاد ہے۔ اس کے بعد میں یہ چاہتا ہوں کہ اس اعتراض کے جواب میں جو آپ کو دھوکا دیا گیا ہے۔ اس کا ازالہ بھی صاف طور سے کردوں۔ تثلیث پرستی کے ستون توڑنے کی حقیقت آپ سے یہ بیان کی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید سے مسیح کی موت خوب ثابت کر دی ہے۔ اس لئے صلیب پرستی کا ستون ٹوٹ گیا۔ افسوس میں ایسے عقل و فہم پر کہ ایسے غلط جواب سے آپ کی تسکین ہو جاتی ہے اور ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔ افسوس!

اول تو یہ نہیں دیکھتے کہ مسیح علیہ السلام کی موت تو مرزا قادیانی ازالۃ الاوہام میں ثابت کی ہے۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے اوائل تصانیف میں ہے۔ اور ١٨٩١ء میں مشتہر ہوا ہے اور مرزا قادیانی کا یہ قول کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ ١٩٠٦ء کے آخر کا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس سن تک وہ ستون ٹوٹا نہیں تھا۔ بلکہ توڑنے کے لئے مستعد ہوئے تھے اور مسیح علیہ السلام کی موت ثابت کئے تو پندرہ برس گزر گئے۔ اب اس کے لئے مستعد ہونا چہ معنی دارد؟ بیانِ سابق پر پھر غور کیجئے۔ اس قول کے بعد ان کے الہامی اعلان سے یہ بھی ثابت کر دیا گیا کہ اپنے مرنے سے ایک سال قبل تک انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا، آئندہ کریں گے۔ اس لئے یہ جواب مرزا قادیانی کے الہام سے غلط ثابت ہوا۔

دوسرے یہ کہ موت ثابت کرنے سے عیسائیوں کی تثلیث باطل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اگر موت ثابت کی تو قرآن شریف سے کی۔ پھر اس سے عیسائیوں پر کیا الزام

١٤

صفحہ ٣٦١

ہوا؟ عیسائی قرآن کو کب مانتے ہیں۔ جو اس کے مضمون سے انہیں الزام ہوسکے اور اس الزام سے ان کی صلیب کیونکر ٹوٹ گئی۔ کیا قلم کے گھس گھس کرنے سے صلیب ٹوٹ سکتی ہے۔ ذرا شرم کرنا چاہئے۔ صلیب ٹوٹنے کا مطلب تو اس سے پہلے خود مرزا قادیانی نے اپنے متعدد اقوال میں بیان کر دیا ہے۔ انہیں مکرر دیکھو۔

تیسرے یہ کہ موت کے ثبوت سے ان کی تثلیث باطل نہیں ہوسکتی۔ آپ ان کی تثلیث کو نہیں سمجھتے۔ عیسائی جس طرح خدا تعالیٰ کی ذات کو ازلی اور ابدی اعتقاد کرتے ہیں اسی طرح تثلیث کو بھی سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح کا جسمانی وجود تو انیس سو برس سے ہوا، اور تثلیث کا وجود ان کے خیال میں ہمیشہ سے ہے۔ یہ نہیں ہے کہ جس وقت سے ان کے جسم کا وجود ہوا اس وقت سے تثلیث قائم ہوئی۔ اب اگر انہیں جسمانی موت آجائے تو ان کی تثلیث اسی طرح قائم رہے گی۔ جس طرح ١٨٩١ء سے پہلے قائم تھی۔ کیونکہ اگر موت آئی تو جسم کو آئی، روح کو نہیں آئی، عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کی روح کو خدا یا خدا کا جز کہتے ہیں۔ جسم کو نہیں کہتے۔ وہ روح جس طرح حضرت مسیح کے پیدا ہونے اور دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے موجود تھی اور ان کے نزدیک خدا کا جز تھی۔ ویسے ہی ان کے جسم کے فنا ہونے کے بعد بھی ان کے خیال میں باقی رہے گی اور تثلیث جیسے ان کے پیدا ہونے سے پہلے ان کی روح کی وجہ سے تھی۔ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے خیال میں قائم رہے گی۔ ان کی پیدائش سے پہلے اور مرنے کے بعد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر ان کی موت ثابت کرنے سے صلیب پرستی کا ستون کیسے ٹوٹ جائے گا۔ یہ نہایت ظاہر بات ہے۔ مگر مرزائیوں کی عقل پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ انہیں نہایت روشن بات بھی نہیں سوجھتی۔

اے عزیزو! اس پر یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے محض ہدایت اور گمراہی سے بچانے کے لئے ایک کاذب کے کذب کو اس کے علانیہ اقراروں سے ظاہر کر دیا۔ اب اس پر بھی توجہ نہ کرنا بہت زیادہ موجب عتاب الٰہی ہوسکتا ہے۔ اس پر غور کرو۔ اس قول میں مرزا قادیانی نے دو دعوے کئے ہیں۔ ایک یہ کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں گا۔ دوسرے یہ کہ آنحضرت ﷺ کی جلالت و شان دنیا پر ظاہر کروں گا۔ پہلے دعوے کا جھوٹا ہونا تو بخوبی ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے توحید کہیں نہیں پھیلائی۔ بلکہ چالیس کروڑ موحدوں کو کافر بنا دیا۔ اب دوسرے دعوے کی حالت معلوم کیجئے۔ جس سے کامل یقین ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی نے

١٥

صفحہ ٣٦٢

حضور انورﷺ کی نہایت مذمت و منقصت کی ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ جھوٹے دعوے کر کے مسلمانوں کو فریب بھی دیا ہے۔

مرزائی اقوال سے حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثنا کی مذمت

مرزا قادیانی شاعر بھی تھے اس لئے ابتدا میں حضرت محمدﷺ کی مدح سرائی کی ہے۔ جس طرح شاعر کیا کرتے ہیں اور خیالی معشوق کی دلربائی بیان کرتے ہیں۔ اگر چہ ان کے دل کیسے ہی سخت ہوں اور عشق و محبت کی بو بھی ان کے دل میں نہ ہو۔ اس کی صداقت مرزا قادیانی کی باتوں سے بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔ حضور انورﷺ کی منقصت اور اپنی تعلی مختلف طور سے کی ہے۔ یہاں چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔

پہلا قول : مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ جس نے مجھے نہ مانا، وہ کافر اور جہنمی ہے۔ اس کی تشریح مرزا محمود نے اپنے رسالے حقیقت النبوۃ میں کی ہے۔ وہاں دیکھئے اس دعوے سے کمال منقصت حضورﷺ کی اس طرح ثابت ہوئی کہ امت محمدیہﷺ کے کروڑوں افراد جو آپﷺ کو مان کر آپ کے طفیل سے جنت کے مستحق ہو چکے تھے۔ تیرہ سو برس کے بعد ان کا غلام یہ کہتا ہے کہ میری وجہ سے وہ سب جہنمی ہو گئے۔ جناب رسول اللہﷺ کا ماننا ان کے کام نہ آیا۔ یہ کیسی عظیم الشان منقصت ہے کہ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثنا جن کی خاص صفت اللہ تعالیٰ ”رحمۃ للعالمین“ قرآن مجید میں بیان فرماتے ہیں۔ ان کی امت ان کے جاں نثار جہنم میں ڈالے جائیں اور ارشاد خداوندی اور عظمت نبوی پامال کر دی جائے۔ یہی اظہار عظمت و شان حضرت محبوب رب العالمین ہے۔ استغفر اللہ!

دوسرا قول : (تحفہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) میں ”خدا کی قسم کھا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو دس لاکھ تک پہنچتے ہیں“ اور اخبار البدر مطبوعہ جولائی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں کہ ”جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ دس لاکھ سے زیادہ ہیں“ (براہین پنجم ص ٥٤، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گذرتا۔ اس میں در پردہ یہ کہتے ہیں کہ میری عظمت و شان جناب رسول اللہﷺ سے سو حصہ بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں کہ تین ہزار معجزے

١٦

صفحہ ٣٦٣

ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے ۔ ان دونوں قولوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے معجزات کو سو حصے زیادہ بیان کرتے ہیں ۔ اب سمجھنے والے سمجھ لیں کہ یہ کیسی تحقیر جناب رسول اللہ ﷺ کی مرزا قادیانی نے کی ہے کہ ایک غلام جس کے جھوٹ و فریب کا انبار دکھا دیا گیا ہے ۔ وہ اپنی عظمت کو سو حصے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت سے بیان کرتا ہے اس سے زیادہ کسر شان اور کیا ہوگی ۔

تیسرا قول : (حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) میں دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھے الہام خداوندی ہوا ۔ ’ لولاک لما خلقت الافلاک ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے کچھ پیدا نہ کرتا ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر انبیائے کرام اور اولیائے عظام آئے اور انہیں مراتب عالیہ عنایت ہوئے ۔ یہ سب مرزا قادیانی کے طفیل سے ہوا ۔ تمام انبیاء اور اولیاء مرزا قادیانی کے طفیلی اور زلہ ربا ہیں اس میں سرور عالم ﷺ بھی ہیں ۔ نعوذ باللہ !

بھائیو! حضرت سرور انبیاء ﷺ کی عظمت و شان کو ملاحظہ کرو اور مرزا کی اس ہتک اور بے وقعتی کو دیکھو کہ ایک ادنیٰ غلام ہو کر سرور دو جہاں علیہ صلوات الرحمٰن کو اپنا طفیلی کہتا ہے اور پھر دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت ﷺ کی عظمت و شان ظاہر کروں گا۔ یہ کیسا علانیہ جھوٹ اور نادانوں کو فریب دینا ہے ۔ اس قسم کے آٹھ اقوال رسالہ دعویٰ نبوت مرزا میں لکھے گئے ہیں ۔ ناظرین اس میں ملاحظہ کریں ۔

بیان مذکور سے مرزا قادیانی کی مسیحیت کا تو کامل طور سے خاتمہ ہو گیا اور پورے طور سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے ۔ اب ان کی مہدویت کا خاکہ اڑتا بھی ملاحظہ کر لیجئے ۔ اس دعوے کے ثبوت میں جو انہوں نے آسمانی نشان کا بہت غل مچایا تھا اسے تو دوسری شہادت آسمانی نے خاک میں ملا دیا اور ثابت کر دیا کہ وہ اپنے بیان سے بالیقین جھوٹے اور سخت فریبی ہیں ۔ یہاں میں ان کا ایک علانیہ فریب اور ایک وہ قول نقل کرتا ہوں ۔ جس میں انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا ہے ۔ مرزا قادیانی کے اس آسمانی نشان کی بنیاد ایک موضوع اور جھوٹی روایت ہے ۔ جس کا جھوٹا ہونا پورے طور سے ثابت کر دیا گیا ہے ۔

(دوسری شہادت آسمانی ص ٥٤، ٥٥)

١٧

صفحہ ٣٦٤

اب اس جھوٹی روایت کی صحت میں ضمیمہ انجام آتھم اور حقیقت الوحی میں بڑا زور لگایا ہے ۔ مگر صرف علانیہ مغالطہ اور صریح فریب کے اس کی صحت ہرگز ثابت نہیں کر سکے ۔ اہل علم اور فہمیدہ حضرات ملاحظہ کریں کہ اس معمولی گہن ہو جانے کے بعد مختلف طور سے یہ لکھا ہے کہ حدیث کی صحت کو معائنہ نے ثابت کر دیا ۔ کہیں کہتے ہیں کہ حدیث نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر دیا ۔ کہیں لکھتے ہیں کہ حدیث کی صحت کو چشم دید نے ثابت کر دیا ۔ اب اس میں زبردستی اور ابلہ فریبی کو دیکھا جائے کہ تیرہ سو برس کے بعد معائنہ اور چشم دید سے حدیث کی صحت کیونکر ثابت ہو سکتی ہے ۔ اہل دانش غور فرمائیں کہ معائنہ اگر ہوا تو معمولی گہنوں کے اجتماع کا ہوا ۔ یہ فرمائیے کہ یہ کس نے معائنہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گہنوں کو امام مہدی کا نشان فرمایا ہے ۔ اس کا معائنہ تو وہی کر سکتا ہے ۔ جس نے جناب رسول اللہ ﷺ کو معائنہ کیا ہو اور عالم بیداری میں آپ کی زیارت سے مشرف ہوا ہو اور اس روایت کو بیان فرماتے سنا ہو ۔ بغیر اس کے روایت کی صحت کا معائنہ بتانا صریح فریب نہیں تو کیا ہے ۔ البتہ اب ہم بآواز بلند کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دجل وفریب کو ان کے رسائل کے معائنہ نے دکھا دیا اور چشم دید نے ثابت کر دیا کہ وہ علانیہ فریب دے رہے ہیں ۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور مرزا قادیانی کے فریب کا معائنہ کرے تو یہ ان کا فریب تھا ۔ اب ان کے دوسرے فریب کے ساتھ ان کی اقراری ڈگری بھی ملاحظہ کیجئے ۔ جس سے ظاہر ہو جائے کہ جس طرح وہ اپنے پختہ اقرار سے مسیح موعود نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ اپنے اقرار سے جھوٹے ہیں ۔ اسی طرح وہ مہدی بھی نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ اپنے اقرار سے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ وہ اقرار ملاحظہ ہو ۔

چھٹا اقرار: ضمیمہ انجام آتھم میں فرماتے ہیں کہ ”اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف وکسوف کسی اور مدعی کے وقت میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں ۔ اس سے بے شک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج١١ ص ٣٣٢) اس قول میں مرزا قادیانی اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ ١٣١٤ھ سے پہلے اس قسم کا خسوف وکسوف ہوا ہو ۔ یعنی رمضان کے ١٣ اور ٢٨ کو اور ان گہنوں کے وقت کوئی مدعی مہدویت ونبوت بھی ہوا ہو ۔ اب تمام مرزائیوں کی جماعت سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ کے مرشد نے ایک جھوٹی روایت کے سچا بنانے میں فریب دیا ۔ پھر اس کے مطلب کے بیان کرنے میں عوام کو فریب دیا ۔ ان فریبوں کی

١٨

صفحہ ٣٦٥

بنیاد روایت کے الفاظ سے ہو سکتی ہے۔ مگر مدعی کی شرط یعنی گہنوں کے وقت کوئی مدعی بھی ہو اس وقت یہ گہن مہدی کی علامت ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی مدعی اس وقت نہ ہو تو یہ معمولی گہن ہیں۔ مہدی کی علامت نہیں ہیں۔ یہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا اگر کوئی مدعی ہے تو بتائے جن حدیثوں سے مہدی کا آنا ثابت کیا جاتا ہے۔ ان میں تو ایسی علامتیں ان کی بیان ہوئی ہیں کہ انہیں دعوٰی کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ بلکہ وہ اپنے کو چھپانا چاہیں گے۔ مگر ان کے چہرے کے قدرتی انوار مسلمانوں کے دلوں کو ایسا ہی کھینچیں گے۔ جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ پھر انہیں دعوٰی کی کیا ضرورت ہوگی۔ رسالہ البرہان دیکھو یہی وجہ ہے کہ اس روایت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے صراحۃً یا اشارۃً یہ قید ثابت ہوتی ہو۔ اس لئے یہ قطعی بات ہے کہ اس روایت میں مرزا قادیانی کا یہ یقینا صریح الافتراء ہے۔ اس کے بعد راقم ان کی اقراری ڈگری کی شرط پورا کرنے کے لئے حوالہ پیش کرتا ہے ملاحظہ ہو۔

دوسری صدی کے شروع یعنی ١٢٧ھ میں طریف مدعی مغرب میں ہوا اور ١٢٧ھ میں اس کا بیٹا صالح مدعی ہوا، اور ان دونوں کے وقت میں اسی طرح کے گہن ہوئے۔ بلکہ صالح کے وقت میں دو مرتبہ ہوئے۔ جس طرح مرزا قادیانی کے وقت میں دو مرتبہ ہوئے اور چوتھی صدی ہجری میں ابو منصور عیسٰی مدعی ہوا۔ اس کے عہد میں اسی طرح کے گہن ہوئے۔ دوسری شہادت آسمانی میں اس کی تفصیل اور تحقیق ملاحظہ کر کے ظلوم مرزا کے پیرو مرزا قادیانی کے اس قول پر ایمان لائیں اور اس میں شک نہ کریں۔ یعنی یقیناً سمجھیں کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے۔ کیونکہ ان سے پہلے کئی مدعی ایسے گزرے ہیں۔ جن کے وقت میں گہنوں کا اجتماع اسی طرح ہوا۔ جس طرح مرزا قادیانی کے وقت میں ہوا۔ البتہ اس کے سمجھنے کے لئے کچھ علم ہیئت کے جاننے کی بھی ضرورت ہے۔ کہیں غصہ میں آ کر حواس باختہ نہ ہو جائیے گا۔ دوسری شہادت آسمانی کے ساتھ رسالہ عبرت خیز بھی دیکھ لیجئے گا۔ اس میں بھی ان مدعیوں کا ذکر ہے اور تاریخ پر زیادہ نظر وسیع کرنے سے اور نظیریں بھی ملیں گی۔

یہاں تک چھ قول مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے۔ ان قولوں نے دو طرح سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا۔ ایک یہ کہ مسیح موعود کا جو کام خود مرزا قادیانی نے بیان کیا تھا وہ انہوں نے ہرگز نہیں کیا اور جو علامتیں انہوں نے مسیح موعود کی بیان کیں وہ ان کے وقت میں نہیں

١٩

صفحہ ٣٦٦

پائی گئیں۔ مثلاً متفق علیہ یہ بات بتائی ہے کہ اس وقت تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور ادیان باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ نہایت ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں پائی گئی۔ اس لئے انہیں کے قول سے ان کا دعویٰ غلط ہوا اور دوسرے یہ کہ انہوں نے خود کہا کہ اگر صلیب پرستی کے ستون کو نہ توڑ دوں اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو ظاہر نہ کروں تو جھوٹا ہوں اور ثابت کر دیا گیا کہ ان دونوں کاموں میں سے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت سرور انبیاء ﷺ کی نہایت تحقیر کی اور مخالفین اسلام سے تحقیر کرائی۔ اس لئے وہ اپنے کامل اقرار سے جھوٹے ہوئے۔ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا اور ہرگز نہیں دے سکتا۔

اب ان کے وہ اقوال نقل کئے جاتے ہیں جن سے اقراری جھوٹے ہونے کے علاوہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور آیات صریحہ ان کے جھوٹے ہونے کے شاہد ہیں۔ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی یقیناً جھوٹی ہوئی اور اس کے ساتھ کم سے کم دس بارہ پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔ جس کا ثبوت قطعی طور سے فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں اور تیسرے حصہ میں دیا گیا ہے۔

١؎ اس پیشین گوئی کا اشتہار مرزا قادیانی نے ١٨٨٨ء کے شروع سے دینا شروع کیا تھا اور متعدد اشتہاروں میں اس کا غل مچایا تھا اور (ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں اس کا ذکر ان الہامی الفاظ سے کیا ہے۔ جن سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ یہ وعدہ ایسا پختہ اور حتمی ہے کہ بغیر پورا ہوئے رک نہیں سکتا۔ وہ الفاظ ملاحظہ ہوں ۔ ١...... ”احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی ۔“ اس میں لفظ انجام کار پر نظر رہے۔ ٢...... ”لوگ کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا ۔“ اس جملہ میں لفظ آخر کار مد نظر رہے۔ ٣...... ”خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔“ اس جملہ میں لفظ ہر طرح پر غور کیجئے ۔ ٤...... ”اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔“ اس میں مرزا قادیانی کی شرط بھی آ گئی اور وعید کا ٹلنا بھی آ گیا اور معلوم ہو کہ اگر شرط وغیرہ کی روک تھی تو وہ بھی دور ہو جائے گی۔ ٥...... ”اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ اس الہامی جملہ نے کامل فیصلہ کر دیا کہ منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ کوئی شے اسے روک نہیں سکتی۔ یہاں پانچ جملے نقل کئے گئے۔ ہر ایک جملہ میں ایسا لفظ ہے جس سے حتمی طور سے وعدہ الٰہی ثابت ہوتا ہے کہ انجام کار منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ مگر یہ وعدہ پورا نہیں اور بموجب نص قطعی لا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ کے مرزا قادیانی یقیناً جھوٹے ثابت ہوئے۔

٢٠

صفحہ ٣٦٧

یہ وہ پیشین گوئی ہے جس کے جھوٹی ہونے سے مرزا قادیانی نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کا پختہ اور قطعی وعدہ جھوٹا ہو گیا اور وعدہ ہی جھوٹا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا فریب دینا یا عاجز ہونا ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ مدتوں ایسا قطعی وعدہ کرتا رہا اور کہتا رہا کہ ضرور پورا کروں گا کوئی اسے روک نہیں سکتا اور پھر پورا نہ کیا۔ یا یوں کہو کہ پورا نہ کر سکا۔ اس پیشین گوئی کے ساتھ احمد بیگ کے داماد والی پیشین گوئی بھی جھوٹی ہوئی۔ یعنی ڈھائی برس کے اندر اس کے مرنے کی پیشین گوئی کی تھی۔ مگر اس میں وہ نہ مرا اس کے بعد بہت جھوٹی باتیں بنائیں۔ حضرت یونس علیہ السلام پر جھوٹی پیشین گوئی کا افتراء کیا اور اپنے مریدوں کو دام میں رکھنے اور مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے دوسری پیشین گوئی اس طرح کی۔

ساتواں اقرار: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض پیشین گوئیوں میں دونوں کے سال بتائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)

یہ مرزا قادیانی کا بعینہ قول ہے۔ اس میں چار جملوں میں سے پہلے اور چوتھے قول میں قطعی طور سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ محمدی کے شوہر کا میرے سامنے مرنا خدا کے علم میں قرار پا چکا ہے۔ اس کے خلاف نہیں ہو سکتا اور کوئی سبب ایسا نہیں ہو سکتا۔ جس کی وجہ سے ان کی موت رک جائے اور میرے سامنے وہ نہ مرے۔ کیونکہ پہلے اسے تقدیر مبرم کہا ہے اور تقدیر مبرم اسی کو کہتے ہیں جس کا ہونا علم الٰہی میں قطعاً قرار پا چکا ہو۔ یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ اس کے معلوم کرنے میں انبیاء کو غلطی نہیں ہو سکتی۔ البتہ اولیاء اللہ کو ہو سکتی ہے۔ (مکتوبات امام ربانی دیکھا جائے) یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شے کے ہونے کو اولیاء اللہ تقدیر مبرم سمجھیں۔ مگر در حقیقت وہ تقدیر مبرم نہ ہو۔ مگر جو خدا کا رسول ہے وہ تقدیر مبرم کسی واقعہ کو اسی وقت کہے گا جس وقت خدا تعالیٰ نے اسے اطلاع دی ہوگی۔ اس لئے اس کے بیان میں غلطی نہیں ہو سکتی۔ اگر ایسے بیان میں رسول غلطی کرے تو اس کی تمام باتوں سے یقین و اعتبار جاتا رہے اور اگر

٢١

صفحہ ٤٦٨

کو اجتہادی غلطی سمجھنا سخت جہالت ہے اور علمائے محققین تو یہ لکھتے ہیں کہ انبیاء سے اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوتی۔ (شفاء ملاحظہ ہو) اور چوتھے جملہ میں تو مرزا قادیانی نے نہایت صاف طور سے کہا ہے کہ اس بات کا ظہور خدا کی طرف سے ٹھہر چکا ہے۔ اس کا ہونا ضرور ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے تو بالضرور خدائے پاک کو جھوٹا اور وعدہ خلاف اور فریب دہندہ کہنا ہوگا۔ یا ماننا ہو گا کہ وہ عالم الغیب نہ تھا عاجز تھا۔ کن فیکون کا اختیار اسے ہرگز نہ تھا، اور مرزا قادیانی کو کن فیکون کا اختیار دینا اور محمدی کا نکاح آسمان پر کہہ دینا مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ایک فریب تھا۔ کیونکہ مختلف طریقے سے وعدہ کی پختگی بیان کی۔ مگر وہ پورا نہ کیا۔ اب اہل اسلام ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کو سچا ماننے سے خدائے پاک پر اتنے الزامات آتے ہیں۔ اب جس کا ایمان خدائے تعالیٰ سے اتنے عیوب کو قبول کرے وہ مرزا قادیانی کو مانے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اسی قول میں اپنے صدق و کذب کا معیار بیان کرتے ہیں اور اس معیار سے وہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی اور ان کا ملہم خدا دونوں ان کے اقوال سے جھوٹے ٹھہرے وہ معیار دوسرے جملہ میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”(احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے)۔ بلکہ میں اس کے سامنے مر جاؤں اور اپنے سچے ہونے کا یہ معیار بتاتے ہیں کہ اس کی موت کی پیشین گوئی اسی طرح پوری ہو۔ جس طرح احمد بیگ اور آتھم کی پوری ہوئی ۔“ یعنی وہ میرے سامنے مرے۔ مدعی نبوت کا اس طرح کہنا اسی وقت ہو سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے اسے یقینی علم دیا گیا ہو۔ مگر اس زور و شور کے دعوے کے بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہیں مرا۔ بلکہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس ہو گئے اور وہ اب تک زندہ ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی ہوئی اور وہ اپنے قطعی اور یقینی اقرار سے جھوٹے ثابت ہوئے اور جو اپنے جھوٹے ہونے کے معیار انہوں نے بیان کی تھی۔ اسی کے بموجب وہ کاذب قرار پائے اور جو انہوں نے اپنے سچے ہونے کا معیار بیان کی تھی۔ وہ ان میں نہیں پائی گئی۔ اس لئے دو طرح سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے اور معلوم ہوا کہ اس زور سے اس کی موت کی پیشین گوئی کرنا اور اسے علم الٰہی بتانا محض لوگوں کو فریب دینے کی غرض سے خدا پر افتراء کیا تھا اور خیال کر لیا تھا کہ اگر اس کا ظہور ہو گیا تو ہزاروں

٢٢

صفحہ ٣٦٩

مسلمان میرے اوپر ایمان لے آئیں گے اور اگر میں مر گیا تو جس طرح میں نے اپنی زندگی میں بہت سی پیشین گوئیوں کے جھوٹے ہونے میں باتیں بنائی ہیں اور میرے ماننے والے میرے ماننے سے ہٹے نہیں۔ اسی طرح میرے بعد بھی ہوگا۔ مگر اسے خوب سمجھ لینا چاہئے کہ نبی کی تو بڑی شان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے کسی مقبول بندے کو بھی ایسا جھوٹا ہرگز نہیں کرتا۔ اس لئے مرزا قادیانی خدا کے مقبول بندے ہرگز نہ تھے۔ بلکہ جھوٹے ، مفتری ، فریب دینے والے اس قول سے ثابت ہوئے اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا ہے۔ دیکھا جائے کہ ان کے تمام مریدین جواب سے عاجز ہیں۔ اب جو ان میں زیادہ پاجی ہیں وہ بزرگوں کو ، نائبان رسول کو گالیاں دے کر خواب و خیال کو اپنا متمسک بنا کر اپنے جہلاء میں پھیلاتے ہیں اور انہیں جہنم کی راہ پر قائم رکھتے ہیں۔ مگر الحمد للہ ہمارے دعوے کی بنیاد کوئی خواب و خیال نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے نبی کے اقوال ہیں۔ آنکھیں کھول کر دیکھو۔

اسی قول کی تائید اور مذکورہ پیشین گوئی کی صداقت کا اظہار مرزا قادیانی دوسرے قول سے کرتے ہیں اور قدرت خدا ان کے جھوٹے ہونے کے دلائل مختلف طریقوں سے خلق پر ظاہر کرتی ہے اور ان کے جھوٹ کو آفتاب کی طرح چمکا کر یہ دکھاتی ہے کہ دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں کہ دیکھتے ہوئے آفتاب نیمروز کو نہیں دیکھتے مرزائیوں کا یہی حال ہے۔

آٹھواں اقرار: جس سے مرزا قادیانی کے کذب کا فیصلہ ہوتا ہے یہ ہے بقلم جلی لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

آخر کے تین جملوں پر خوب نظر رہے جو مرزائیوں کی ساری باتوں کو غلط بتا کر مرزا قادیانی کو یقینی جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ اس قول میں مرزا قادیانی ، احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی کے پورا ہونے کو دوسرے طریقہ سے نہایت زور دار الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں

٢٤

صفحہ ٣٧٠

کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اس سے پہلے قول میں تو یہ کہا تھا کہ اگر وہ میرے سامنے نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں گا۔ یہاں اپنی بڑائی میں ترقی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ جھوٹے ہونے سے ہر بد سے بدتر ہونا نہایت سخت ہے اور مرزا قادیانی کے لئے یہ جملہ زیادہ مناسب ہے اور اس علام الغیوب حکیم نے اس جملہ کا مصداق انہیں ایسا ٹھہرایا کہ جائے دم زدن نہ رہی، کیونکہ مرزا قادیانی کو احمد بیگ کے داماد کے سامنے نہ موت دی اور ان کی پیشین گوئی کو پورا نہ کیا۔ یہاں اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے وثوق پر اس وعید کی پیشین گوئی کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ الٰہی بہ نسبت وعید کے زیادہ قابل اعتبار ہے اور اس کے پورا ہونے پر انہیں زیادہ اطمینان ہوگا۔ کیونکہ وعید کے ٹل جانے پر تو مرزا قادیانی کا بڑا زور ہے۔ مختلف طور سے انہوں نے اس کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر وعدے میں بھی ان کے داہنے فرشتہ یہ کہہ چکے ہیں ۔ ”یعد ولا یوفی“ یعنی اللہ تعالیٰ کسی وقت وعدہ پورا نہیں کرتا۔ اس لئے مرزا قادیانی اس وعید کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ یعنی ان وعدوں میں نہیں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پورا نہیں کرتا اور وہ جھوٹے ہو جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سچا وعدہ ہے ضرور پورا ہوگا۔ کوئی شرط وغیرہ اسے روک نہیں سکتی۔

بہر حال اس پیشین گوئی کے پورا ہونے پر مرزا قادیانی کو نہایت وثوق ہے اور کوئی چون و چرا کی جگہ باقی نہیں ہے۔ مگر ان مرزائی مولویوں پر افسوس ہے کہ باوجود ان اقوال کے پھر بھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ پیشین گوئی شرطی تھی۔ وہ اپنی عاجزی اور خوف کی وجہ سے نہ مرا۔ اس لئے پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ اے دل کے اندھو! دیکھو کہ تمہارے مرشد کس زور سے اس کے مرنے کو خدا کا سچا وعدہ بیان کرتے ہیں اور یہ معلوم کر لو کہ اللہ تعالیٰ جس وعدہ کو یا وعید کو اپنے رسول کی زبان سے کہلاتا ہے وہ ضرور پوری ہوتی ہے وہ رونے اور خوف سے اور توبہ واستغفار سے ہرگز نہیں ٹلتی اور یہ خیال کہ اعمال حسنہ اور توبہ واستغفار سے بلا ٹل جاتی ہے۔ یہ ہوتا ہے مگر اس کو وعید نہیں کہتے ۔ اس کو وعید کہنا جہالت یا فریب ہے۔ وعید وہ ہے جو خدا کا رسول بالہام الٰہی کسی خاص شخص کو یا کسی قوم سے کسی عذاب کا وعدہ کرے کہ تجھ پر یہ عذاب آئے گا۔ یعنی تو فلاں وقت مرے گا۔ یا تجھ پر یہ آفت آئے گی تو اس وقت اس کا مرنا اور اس آفت کا آنا ضرور ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس رسول کی بات پر ہرگز اعتبار نہ رہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں بہت ٢١٤

صفحہ ٣٧١

جگہ ارشاد ہے۔ ” ان اللہ لا يخلف الميعاد “ یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی ہرگز نہیں کرتا۔ اس میں وعدہ اور وعید دونوں شامل ہیں۔ اس سے پہلے جو آیت منقول ہوئی اس میں خاص قرینہ وعید کا زیادہ ہے۔ جس میں صاف مذکور ہے کہ ایسا گمان و خیال بھی کوئی نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے وعید کرے اور پوری نہ ہو۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔

اب یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ اصل پیشین گوئی مرزا قادیانی نے ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں کی ہے اور یہ قول جو میں نے ضمیمہ انجام آتھم سے نقل کیا ہے یہ اس کے دس برس کے بعد کا ہے۔ کیونکہ اس رسالہ کے آخر میں سلام کے بعد ٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء لکھا ہے اب حساب کر کے دیکھ لو۔

غرضیکہ اس مدت کے بعد بھی مرزا قادیانی کو اپنے اس الہام پر ویسا ہی وثوق ہے۔ جیسا کہ مسیح موعود ہونے کے الہام پر تھا اور یہی وجہ ہے کہ اسے اپنا معیار صدق وکذب ٹھہراتے ہیں۔ مگر خدا کا ہزاروں شکر ہے کہ اس نے ہزاروں مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا اور مرزا قادیانی کو ان کے نہایت پختہ اقرار سے انہیں جھوٹا اور بدترین خلائق ثابت کر دیا اور گمراہوں پر حجت تمام کر دی۔ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے متعدد اقراروں سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ مرزا قادیانی سلطان القلم کہلاتے ہیں۔ یعنی ایک ہی مطلب کو مختلف پیرایہ سے سینکڑوں جگہ دہراتے ہیں۔ اس پیشین گوئی کی نسبت بھی بہت کچھ اپنی سلطان القلمی دکھائی ہے اور سمع خراشی کی ہے۔ خصوصاً جب سے ان کی پہلی پیشین گوئی جھوٹی ہوگئی تھی اس وقت سے اس جھوٹ کے سچا کر دکھانے میں وہ وہ باتیں بنائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔

زبان اردو کے دو اقرار تو آپ ملاحظہ کر چکے۔ اب اسی رسالہ انجام آتھم میں اس پیشین گوئی کا اعادہ عربی اور فارسی زبان میں کرتے ہیں اور اپنی قابلیت کا اظہار فرماتے ہیں ص ١١٠ سے احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق پیشین گوئی کا ذکر رنگ برنگ سے کر کے ص ٢١٦ پر پہنچ کر اس طرح تشریح کرتے ہیں۔

نواں اقرار

”خدا تعالیٰ مرا دربارہ قبیلۂ من مخاطب کردہ گفت کہ ایں مردم مکذب آیات من ہستند

٢٥

صفحہ ٣٧٢

و بدانها استہزا می کنند پس ایشان را نشانے خواہم نمود و آں زن را کہ زن احمد بیگ را دختر ست باز بسوے تو واپس خواہم آورد، یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ است باز بتقریب نکاح تو بسوے قبیلہ رد کردہ خواہد شد، در کلمات خدا وعدہ ہائے او ہیچکس تبدیل نہ توان کرد، خدائے تو ہرچہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ بمعرض التوا ماند خدائے تعالیٰ بہ لفظ فسيكفيكهم الله این امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد از میرانیدن مانعان بسوی من واپس خواہد کرد و اصل مقصود میرانیدن بود، و تو میدانی کہ ملاک ایں امر میرانیدن است ۔“

(انجام آتھم ص ٢١٦، ٢١٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مطلب: اللہ تعالیٰ نے میرے قبیلہ کی نسبت مجھے خطاب کر کے فرمایا کہ یہ لوگ میرے نشانوں کے منکر ہیں اور ہنسی اور مذاق میں انہیں اڑاتے ہیں۔ اس لئے میں انہیں ایک خاص نشان دکھاؤں گا ( وہ یہ کہ احمد بیگ کی لڑکی کو تیری طرف واپس لاؤں گا ) یعنی چونکہ وہ لڑکی ایک اجنبی غیر کفو کے نکاح میں آ جانے سے اپنے قبیلہ سے باہر ہو گئی ہے۔ اس لئے پھر تیرے نکاح میں آ جانے کی وجہ سے اپنے قبیلے یعنی کفو میں آ جائے گی۔ یہ خدا کا ارشاد اور اس کا وعدہ ہے اور خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کا ہونا ہر حال میں ضرور ہے۔ (کسی کا رونا یا ڈرنا اسے روک نہیں سکتا) ممکن نہیں کہ خدا کی بات اور اس کا وعدہ ملتوی ہو جائے ۔ یہ الہامی تین جملے ہیں ۔ جن سے نہایت ظاہر ہے کہ منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی ۔ اس کے بعد مرزا قادیانی الہام سابق کی شرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لفظ فسيكفيكهم الله سے اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مانعین نکاح کے مارنے کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کو میرے نکاح میں لائے گا اور اصل مقصود خداوندی ( مانعین نکاح کا ) مارنا ہے۔ (پھر بغرض تاکید کہتے ہیں کہ ) تو جانتا ہے کہ اس امر کی بنیاد ( مانعین نکاح کا ) مارنا ہے۔ یہ دونوں جملے بھی نہایت تاکید سے بتا رہے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کے شوہر وغیرہ مانعین نکاح کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا نہایت ضرور ہے۔ کیونکہ اگر وہ نہ مرے اور وہ منکوحہ نکاح میں نہ آئے تو خدا تعالیٰ کی باتیں بدل جائیں اور اس کا عاجز ہونا ثابت ہو جائے۔ کیونکہ وہ اپنے مقصود کو پورا نہیں کر سکا۔

اب مکرر اس عبارت میں غور کیا جائے ۔ اس میں بموجب ان کے الہام کے خدا تعالیٰ

٢٦

صفحہ ٣٧٣

کے متعدد وعدے اور ان وعدوں کی توثیق ہے۔ یعنی کسی وجہ سے وہ وعدے بدل نہیں سکتے۔ ضرور پورے ہوں گے۔ پہلا وعدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے عزیزوں کو نشان یعنی معجزہ دکھائے گا۔ دوسرا وعدہ یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی سے تیرا نکاح ہوگا اور یہ ایک بڑا نشان ہوگا اور تیسرا وعدہ یہ ہے کہ اس ذریعہ سے وہ لڑکی اپنے کفو میں لوٹ کر آئے گی۔ ان تینوں وعدوں کو بیان کر کے ان کی توثیق اس طرح کرتے ہیں کہ ”در کلمات خدا و وعدہائے او هیچکس تبدیل نتواں کرد۔“ اس مقام پر یہ جملہ اسی غرض سے لکھا گیا ہے کہ مذکور تینوں وعدے وعدہ خداوندی ہیں اور اس کے وعدے بدل نہیں سکتے۔ ضرور پورے ہوتے ہیں۔ دوسرا جملہ توثیق کا یہ ہے کہ ”خدا تو ہر چہ خواہد ممکن نیست کہ بمعرض التواء بماند“ (پہلے الہامی عبارت سے ظاہر ہوا تھا کہ مرزا قادیانی کے اقارب کو معجزہ دکھانا مشیت الٰہی میں ہے اور وہ معجزہ یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی) اس الہام سے قطعی طور سے ظاہر ہے کہ وعدہ الٰہی ضرور پورا ہوتا ہے۔ وہ کسی طرح ملتوی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے جو وعدے الٰہی یہاں بیان ہوئے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے۔ (مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ وعدے پورے نہ ہوئے نہ ان کے قبیلہ نے وہ نشان دیکھا نہ وہ لڑکی ان کے نکاح میں آئی اور اس وعدے کی توثیق میں جو کچھ کہا تھا وہ مرزا قادیانی کی بناوٹ تھی، الہامی بات نہ تھی) اس کے بعد مرزا قادیانی اپنے الہام کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح سے جو روک رہے ہیں۔ ان کے مرنے کے بعد وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ اس کے بعد مرزا قادیانی اس کے شوہر کے مرنے پر اس قدر اعتماد و وثوق بیان کرتے ہیں کہ اس پیشین گوئی سے خدا تعالیٰ کا مقصود اصلی اس کے شوہر وغیرہ کا مارنا ہے۔ مگر جب دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی کی تمام زندگی میں وہ نہ مرا تو ثابت ہوا کہ وہ ذات پاک جسے تمام دنیا قادر مطلق مانتی ہے۔ وہ بالکل عاجز ہے۔ اپنے وعدہ کو اور اپنے مقصود کو پورا نہیں کر سکا اور عاجز رہا۔ اس سے مرزائیوں کی حالت معلوم کرنا چاہئے کہ وہ خدائے پاک سے کیسا اعتقاد رکھتے ہیں اور باوجود ایسے الزامات کے مرزا قادیانی کو جھوٹا نہیں سمجھتے۔ مگر اس میں کسی طرح کا شک نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی اپنے اس قول سے بھی جھوٹے ہوئے۔ کیونکہ جو وعدے الٰہی انہوں نے بیان کئے تھے وہ پورے نہ ہوئے۔ حالانکہ وہ خود کہتے ہیں کہ وعدہ الٰہی میں نہ تبدیل ہو سکتی ہے نہ التواء ہو سکتا ہے اور یہاں تو وعدہ الٰہی کا کسی طرح ظہور ہی نہ ہوا۔

٢٧

صفحہ ٣٧٤

اس کے بعد جب اس لڑکی کا باپ احمد بیگ مر گیا اور داماد نہ مرا۔ جس کے ڈھائی برس کے اندر مرنے کی پیشین گوئی کی تھی تو انجام آتھم کے ص٢٢٢ تک اس پر روغن قاز ملا ہے کہ اس مدت میں وہ کیوں نہ مرا اور بار بار اس فرضی خوف کو خوب رنگ چڑھا کر پیش کیا ہے اور شرط کا لفظ بھی کئی جگہ لکھا ہے۔ یعنی معینہ پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بیان کی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ٢٢٣ میں یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ پیشین گوئی اگرچہ مقررہ مدت میں پوری نہ ہوئی۔ مگر یہ نہ سمجھو کہ معاملہ اسی پر ختم ہو گیا اور احمد بیگ کا داماد مرنے سے بچ گیا اور وہ وعدہ الٰہی پورا نہ ہوا۔ نہیں نہیں ضرور پورا ہوگا۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

دسواں اقرار

”باز شما را ایں نہ گفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر اختتام رسید و نتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد و حقیقت پیش گوئی بر ہماں ختم شد بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است و ہیچ کس با حیلہٴ خود اورا رد نہ تواند کرد و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آن خواہد آمد پس قسم آن خدائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ را برائے ما مبعوث فرمودہ اورا بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است و عنقریب خواہی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گردانم و من نہ گفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم و بہ تحقیق قبیلہٴ من بار دوم سوئے فساد رجوع خواہند کرد و در خبث عناد ترقی خواہند نمود پس آن روز امر مقدر از خدائے تعالیٰ نازل خواہد شد و ہیچکس قضائے اورا رد نہ توان کرد و عطائے اورا منع نہ توان نمود (اس قول سے بھی معلوم ہوا کہ اس کا مرنا وعدہ الٰہی ہے اور وہ ضرور پورا ہوگا) و من می بینم کہ اوشان سوئے عادتہائے پیش میل کردہ اند و دلہائے ایشاں سخت شد و سوئے زیادتی و تکذیب عود نمودند پس عنقریب امر خدا بر ایشاں نازل خواہد شد۔“

(انجام آتھم ص٢٢٢،٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

مطلب: میں نے تم سے نہیں کہا کہ یہ مقدمہ اسی پر ختم ہو گیا اور اس پیشین گوئی کا آخری نتیجہ یہی تھا۔ کہ خوف کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل گیا اور احمد بیگ کا داماد نہ مرا یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات یعنی اس کا مرنا اور پیشین گوئی کا پورا ہونا ضرور ہے۔ کوئی شخص اسے کسی تدبیر سے نہیں روک سکتا۔ کیونکہ میرے سامنے اس کا مرنا خدا کی طرف سے تقدیر مبرم ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔ اس کا وقت عنقریب آنے والا ہے۔ اس خدا کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا اور اس کو بہترین مخلوقات بنایا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ حق ہے۔ اس کا

٢٨

صفحہ ٣٧٥

ظہور ضرور ہوگا اور عنقریب تو اس کے مرنے کو دیکھ لے گا۔ میں اس پیشین گوئی کو اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیتا ہوں۔ یعنی اگر یہ پیشین گوئی پوری ہو جائے تو میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور اگر پوری نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور جو کچھ میں نے اس باب میں کہا ہے۔ وہ اپنی طرف سے اور اپنے اجتہاد و قیاس سے نہیں کہا بلکہ وہی کہا ہے جس کی اطلاع میرے پروردگار نے مجھے دی ہے۔ (یعنی جو کچھ کہا ہے وہ الہام الٰہی کہا ہے۔ اپنی طرف سے نہیں کہا) میں دیکھ رہا ہوں کہ احمد بیگ کے داماد وغیرہ مانعین نکاح نے اپنی پہلی عادت کی طرف میلان کیا ہے اور ان کے دل سخت ہو گئے ہیں اور پھر زیادتی اور تکذیب کرنے لگے ہیں۔ اس لئے عنقریب حکم الٰہی ان پر نازل ہونے والا ہے۔ یعنی وہی موت کا حکم ہے جو اس قول میں اور مذکورہ قولوں میں بیان ہوا ہے وہ عنقریب ظہور میں آئے گا۔ یعنی یہ سب مانعین نکاح میرے سامنے مر جائیں گے۔ دیکھئے اب اس پیشین گوئی کے ظہور میں کوئی عذر باقی نہیں رہا۔

دیکھا جائے کہ اس قول میں سب اقوال سے زیادہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے پر زور دیا ہے اور متعدد طریقوں سے اس پر وثوق ظاہر کیا ہے۔

تدبیر سے ٹال نہیں سکتا۔

پیشین گوئی پوری ہوئی تو میرا دعویٰ سچا اور اگر میں مر گیا اور یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا۔

یعنی میں نے جو امام ہونے، مجدد ہونے، نبی ہونے، مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا اقرار ہے۔ جس کی تشریح بیان کی گئی۔ آخر میں یہ بھی دعویٰ ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ بالہام الٰہی کہا ہے۔ اپنی طرف سے یا اپنے اجتہاد سے نہیں کہا۔ آخر میں یہ بھی ظاہر کر دیا کہ احمد بیگ کے داماد کو جو خوف و دہشت ہو گئی تھی اب وہ نہیں رہی۔ بلکہ پھر سرکشی اور مخالفت پر وہ آمادہ ہو گیا۔ اب عنقریب اس کی موت کا حکم الٰہی نازل ہونے والا ہے۔ اب کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ الحمد للہ یہاں بھی مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے احمد بیگ کے داماد کے سامنے انہیں موت دی اور ان زور دار جملوں کو اور ان کی قسم کو جھوٹا ثابت کر کے ان کے دعوے کو ان کے اقرار سے جھوٹا کر کے دکھا دیا۔

٢٩

صفحہ ٣٧٦

اب لاہوری مرزائی اور قادیانی فدائی اپنے مرشد کے قول کو کیوں نہیں مانتے۔ ایسے پختہ اقراروں کے بعد ان کے جھوٹے ہونے میں آپ کو کیا عذر ہے۔ بیان کیجئے ۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ آپ کوئی سچا عذر پیش نہیں کر سکتے ۔ اب اس پر خوب غور کیجئے ؟

یہاں تک دس اقرار مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے۔ پہلے پانچ اقراروں سے ان کے دعوے مسیحیت کا خاتمہ ہو گیا اور یقیناً ثابت ہوا کہ جو علامتیں مسیح موعود کی خود مرزا قادیانی نے بیان کی تھیں وہ ان میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے وہ قطعاً جھوٹے ثابت ہوئے ۔ چھٹے اقرار سے ان کے مہدی ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا اور اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے۔ پچھلے چار اقراروں میں جس شرط کے پائے جانے پر وہ اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیتے ہیں وہ شرط یقیناً پائی گئی۔ اب مرزائی مولویوں سے دریافت کر لیجئے کہ نہایت مشہور جملہ اذا وجد الشرط وجد المشروط صحیح ہے یا نہیں؟ یعنی جس وقت شرط پائی جائے گی تو مشروط ضرور پایا جائے گا۔ اس لئے جب مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹے ہونے کے لئے یہ شرط بیان کی تھی کہ یہ پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے۔ بلکہ میری موت آ جائے۔ اس کا ظہور ہو گیا کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس ہو گئے اور وہ اب تک زندہ ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ثابت ہوئے ۔ اس جملہ کے سچے ہونے میں کسی صاحب فہم کو تامل نہیں ہو سکتا۔

آخر کے چار قولوں کو مع اس کی شرح کے دیکھنے سے اصحاب فہم یہ بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی پر جس قدر زور لگایا ہے اور اپنی صداقت میں بار بار اسے پیش کیا ہے۔ اس قدر کسی پیشین گوئی کو پیش نہیں کیا۔ اس کی ابتدائی حالت تو فیصلہ آسمانی حصہ اوّل میں ملاحظہ کیجئے کہ ١٨٨٨ء میں اس کی نسبت متعدد اشتہار دیئے ہیں اور شہادۃ القرآن میں اس پیشین گوئی کو خاص مسلمانوں کے لئے نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا ہے اور اس کے چھ جز بیان کئے ہیں۔ جن میں ایک جز احمد بیگ کے داماد کا مرنا ہے۔ اس لئے سمجھدار مسلمانوں کو اس خاص پیشین گوئی کی طرف توجہ کرنا ضرور تھا۔ اسی وجہ سے توجہ کی گئی اور اس کا جھوٹا ہونا مختلف طور سے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا گیا اور تمام دنیا کے مرزائی احمدیوں کو عاجز ولاجواب پایا۔ مذکورہ چار قولوں کو ملاحظہ کیجئے کہ کس کس طرح مرزا قادیانی اس پیشین گوئی کے وقوع پر اپنا یقین ظاہر کرتے ہیں اور اس یقین اور اطمینان کا اظہار صرف ایک دو مرتبہ نہیں کیا ۔ بلکہ اکیس بائیس برس تک یعنی اپنی موت تک خدا جانے کتنی مرتبہ کیا ہے۔ ان کے پانچ قول اس رسالہ

٣٠

صفحہ ٣٧٧

میں نقل کئے گئے ہیں۔ انہیں کو ملاحظہ کیجئے کہ کس زور سے اپنا یقین اس پیشین گوئی کی صداقت پر ظاہر کر رہے ہیں۔ اس لئے ضرور تھا کہ ہم اسی پیشین گوئی کو کامل طور سے جانچیں اور کس طرف توجہ نہ کریں۔ کیونکہ کوئی پیشین گوئی اس کے مثل نہیں ہے۔ جس پر مرزا قادیانی اس قدر زور لگایا ہو اور ایسا عظیم الشان نشان اسے ٹھہرایا ہو اور جب ان کی ایسی مستحکم پیشین گوئی جھوٹی ہوگئی اور اس کا کذب اس طرح عیاں ہو گیا کہ خاص و عام سب سمجھنے والے سمجھ گئے اور خوبی یہ ہوئی کہ کسی امر کی تلاش اور تحقیق کی بھی حاجت نہ ہوئی۔ اس لئے ہمیں دوسری پیشین گوئی یا دوسرے نشان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ انسان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تو ایک ادنیٰ جھوٹ بھی کافی ہوتا ہے۔ پھر دوسرے جھوٹ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور یہاں تو نہایت عظیم الشان جھوٹ ثابت کر دیا۔ پھر اب دوسری طرف توجہ کرنا فضول ہے۔ اس سے صرف جھوٹے ہی ثابت نہیں ہوئے بلکہ بد نیت اور خدا پر الزام لگانے والے بھی ثابت ہوئے۔

اب جماعت احمدیہ سے التماس ہے کہ آپ کا منکوحہ آسمانی کے ذکر سے خفا ہونا اور اسے فضول بتانا کس قدر بے جا اور نا سمجھی ہے اور یقیناً آپ کے تنخواہ یاب مولویوں کا فریب ہے۔ تاکہ فریب خوردہ حضرات اس علانیہ امر حق پر متنبہ ہو کر ہمارے دام تزویر سے علیحدہ نہ ہو جائیں۔ یہاں تو اللہ کے لئے آپ کی خیر خواہی کی جاتی ہے اور کمال دردسری اٹھا کر آپ کو متنبہ کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس رسالہ میں کئی طریقوں سے آپ کو سمجھایا گیا ہے اور مختلف اقوال آپ کے سامنے پیش کئے۔ اب برائے خدا غور سے ملاحظہ کیجئے اور مرزائی دام سے علیحدہ ہو جئے۔

اب یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ مرزا قادیانی جس طرح اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اسی طرح توریت مقدس اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے بھی ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا۔ کیونکہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کی وعید دونوں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ ہرگز نہیں ٹلتیں، مثلاً سورہ ابراہیم کے رکوع سات میں ہے۔ ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله ط ان الله عزيز ذو انتقام“ اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ایسا گمان ہرگز نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زبردست غالب ہے انتقام لینے والا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کے گمان و خیال کو سختی سے منع فرماتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے کوئی وعدہ یا وعید کرے اور پھر اسے پورا نہ کرے۔ بلکہ ضرور پورا کرتا ہے اور اس کی قدوسیت اور متانت کا یہی مقتضاء ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو

٣١

صفحہ ٣٧٨

اس کے کسی وعدہ ووعید پر اعتبار نہ رہے۔ اس آیت کے پہلے مضمون سے اور اس کے آخری جملہ سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں وعید مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اگر اپنے رسول پر وحی کرے کہ فلاں شخص یا فلاں قوم پر میرا عذاب آئے گا تو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ عذاب نہ آئے، بلکہ ضرور آئے گا۔ اسے ایمان لانے کی توفیق ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ اس عالم الغیب کی جتنی باتیں ظہور میں آتی ہیں ان کی بنا دور اندیشی اور مصلحت پر ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے علم غیب سے جس بندہ کو وعید کا مستحق سمجھ لیتا ہے اسی وقت وہ اپنے رسول کے ذریعے سے اس پر وعید کا اظہار کرتا ہے اور اس کے پورا ہونے کو اس کا نشان معجزہ قرار دیتا ہے۔ اب اگر اس بندے کی حالت بدل جائے تو اس علام الغیوب پر ناواقفتی کا الزام آئے اس میں شبہ نہیں کہ وہ کریم ہے۔ مگر اس کے ساتھ وہ حکیم اور متین اور غیور بھی ہے۔ اس لئے ایسی جگہ اس کا کرم نہیں ہوسکتا۔ جہاں کرم کا ظہور ان صفتوں کے خلاف ہو۔ کرم کے لئے بے شمار گنہگار ہیں۔ ان پر وہ کرم کرتا ہے اور کرے گا۔ ایسی جگہ کرم نہیں ہوسکتا۔ جہاں اس کی متانت اور غیوری کے علاوہ اس کا رسول جھوٹا ہوجائے۔ اس کی تمام وعیدیں غیر معتبر ہو جائیں اور یہ کہنا کہ رونے دھونے اور صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہے اور وعید کو اس پر قیاس کرنا سخت جہالت یا فریب ہے۔ انسان پر ہر طرح کی تکلیفیں اور بلائیں آتی ہیں۔ مگر وہ وعیدیں نہیں ہیں۔ جنہیں اس کے رسول نے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا ہو۔ ان بلاؤں کا دور کرنا اس کے کرم کا مقتضاء ہوسکتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ وعید وہ ہے جو رسول خدا کے ذریعہ سے کسی تکلیف کا وعدہ کیا جائے۔ وہ ہرگز نہیں ٹلتی۔ اس دعوے کے ثبوت میں یہاں صرف ایک آیت بغرض اختصار نقل کی گئی ہے۔ ورنہ اس وقت قرآن شریف کے ٢٦ نصوص قطعیہ میرے روبرو موجود ہیں۔ جن میں صاف طور سے بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور وعید ہرگز نہیں ٹلتا۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ وعید ٹل جاتی ہے اور وعدے کے اندر کبھی مخفی شرط ہوتی ہے۔ محض غلط اور خدا تعالیٰ پر افتراء ہے۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو خدا تعالیٰ پر سخت الزام آئے اور اس ذات مقدس کذب ثابت ہو۔ نعوذ باللہ !

البتہ اگر اس رسول پر یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ایمان نہ لائے گا تو اس پر عذاب آئے گا۔ اس صورت میں اگر وہ شخص یا وہ جماعت ایمان لے آئے گی تو اس پر عذاب نازل نہ ہوگا۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم علانیہ ایمان لانے کی وجہ سے بچ گئی۔ اس کا ثبوت فیصلہ آسمانی حصہ اوّل کے ص ٩٥ وغیرہ میں دیکھنا چاہئے اور کامل تفصیل اس کی تذکرہ یونس علیہ السلام میں کی گئی ہے اور یہ کہنا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب کی پیشین گوئی کی تھی اور پوری

٣٢

صفحہ ٣٧٩

نہیں ہوئی۔ محض غلط ہے مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک خدا کے رسول پر افتراء کیا ہے اور جا بجا وعید کے ٹلنے کو سنت اللہ کہا ہے۔ مگر یہ دعویٰ غلط اور خدا پر افتراء ہے۔ توریت مقدس میں جھوٹے مدعی کی یہ پہچان لکھی ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ حصہ دوم فیصلہ آسمانی میں اس کی عبارت نقل کی گئی ہے ناظرین اسے ملاحظہ کریں۔

الغرض مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا اس کے متعدد پختہ اقراروں سے اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح کی حیات و ممات کی بحث کو پیش کرنا مرزا قادیانی کے علانیہ کذب پر پردہ ڈالنا ہے۔ اب لاہوری پارٹی یا قادیانی گروہ کا حضرت مسیح کی حیات و ممات پر لیکچر دینا اور مناظرہ کے لئے اس بحث کو ضروری بنانا در پردہ اس کا ثبوت دینا ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہیں۔ مگر عوام کے فریب دینے کے لئے اس بحث کو پیش کرتے ہیں اور اس فریب کا نام باقاعدہ گفتگو رکھا ہے۔ یہ دوسرا فریب ہے ہم با آواز بلند کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کا مفتری اور کاذب ہونا قرآن مجید سے توریت مقدس سے اور خود مرزا قادیانی کے اقراروں سے ثابت کر دیا اور کوئی مرزائی اس کا جواب نہ دے سکا اور ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ یہاں سے لے کر قادیان تک کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکتا اور مرزا قادیانی کو ایک مسلمان صالح بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ اب اگر حضرت مسیح موعود نہ ہوں اور ان کا عہدہ خالی ہو اور ان کے عہدہ پر کوئی دوسرا امتی آئے تو ضرور ہے کہ وہ کم سے کم مرد صالح اور صادق القول مسلمان ہو گا۔ مرزا قادیانی کی طرح مفتری و کذاب ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے طالب حق کے لئے ضرور ہے کہ پہلے مرزا قادیانی کو سچا صادق القول ثابت کرے اور جو الزام انہیں دیئے گئے ہیں اور انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے ان کا جواب دے۔ اس کے بعد دوسری گفتگو کرے۔ سرکاری عہدہ خالی ہونے پر اسی کو جگہ ملتی ہے جو سرکاری پاس حاصل کئے ہو اور بغیر پاس کئے ہوئے اسے وہ عہدہ نہیں مل سکتا۔ مرزا قادیانی تو اسلامی سرکار میں صداقت کا بھی پاس نہیں کیا۔ جو ہر سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ پھر وہ دربار اسلام میں ایسے معزز عہدہ پر کیونکر ممتاز ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ایسا شخص تو بجرم افتراء اور فریب خلائق سزا کے لائق ہے۔

اس بحث کے غیر ضروری ہونیکی دوسری وجہ یہ ہے کہ جن حدیثوں سے مسیح موعود کا آنا ثابت کیا جاتا ہے ان میں مسیح موعود کے کام اور ان کے زمانے کی حالت بھی نہایت صاف طور سے بیان ہوئی ہے۔ آپ کے مسیح قادیان آئے اور دنیا میں پچیس تیس برس رہ کر دنیا بھر میں غل مچایا اور قلم اور کاغذ کے گھوڑے دوڑائے اور بہت دفتر سیاہ کئے۔ مگر مسیح موعود کی جو علامتیں حدیثوں میں

٣٣

صفحہ ٣٨٠

مذکور ہیں ان کا نشان بھی نہیں پایا گیا۔ ذرا زمانے کی حالت دیکھو اور سر بگریباں ہو۔ میں ان حدیثوں کے معنی میں کچھ گفتگو نہیں کرتا۔ بلکہ جو مطلب مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے اسی پر قناعت کرتا ہوں۔ وہ مطلب پہلے تین قولوں میں بیان ہوا ہے۔ جو علامتیں مرزا قادیانی نے مسیح موعود کی بیان کی ہیں۔ ان میں سے تو ایک بھی نہیں پائی گئی۔ نہ اسلام کا شیوع ہوا، نہ ادیان باطلہ ہلاک ہوئے، نہ راست بازی میں ترقی ہوئی۔ بلکہ بالکل برعکس معاملہ مرزا قادیانی کے وجود سے ہوا۔ خود مرزا قادیانی ہی کے مریدوں کی حالت دیکھ لو اور تجربہ کر لو انہیں تو جھوٹ بولنے پر اس لئے دلیری ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ انبیاء بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی بولے۔ جس چودہویں صدی کے نبی کی یہ تعلیم ہو تو اس کے وقت میں اس کے مریدوں میں راست بازی کی ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ بھائیو! کچھ تو غور کرو کہ جب مرزا قادیانی کے اقوال نے فیصلہ کر دیا کہ جو علامتیں مسیح موعود کی حدیثوں میں آئی ہیں اور متفق علیہ ہیں وہ ان میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ پھر اب مسیح علیہ السلام کی حیات وممات پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے بیان سے آپ کا ناطقہ کیوں بند ہے۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤ آپ نے دیکھا ہوگا یہ تو سمجھتے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کو مان لیا جائے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ کوئی دوسرا مسیح آئے گا مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مرزا ہوں۔ کیونکہ مسیح موعود کی جو علامتیں تھیں وہ ان میں نہیں پائی گئیں۔ یہ دوسری وجہ ہے مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی فہمیدہ حضرات نے معلوم کیا ہوگا کہ جس قدر لکھا گیا۔ مرزا قادیانی کی حالت کے اظہار میں وہ طالب حق کو نہایت کافی ہے۔ مگر جس طرح نہایت مہتم بالشان امر کے لئے زیادہ شواہد پیش کئے جاتے ہیں اسی طرح میں چند اقوال اور بھی پیش کرتا ہوں۔ جن سے روشن ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقراروں سے جھوٹے مفتری، اشر الناس ثابت ہوتے ہیں ملاحظہ ہو۔

گیارہواں اقرار: (قصیدہ اعجازیہ ص ٥٨، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠) میں پہلے تو مسیح موعود اور رسول خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”وما انا الا مرسل عند فتنة“ اور میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ دوسرے شعر میں کہتے ہیں۔ تخیرنی الرحمن من بین خلقہ خدا نے مجھے اپنی مخلوقات سے چن لیا ہے۔ اب خیال کیا جائے کہ اس دعوے رسالت اور فضیلت اور مقبولیت کے بعد اپنے مخالفوں کے لئے پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ”و انی لشر الناس ان لم یکن لہم . جزاء اہانتہم صغار یصغر“ میں بدتر انسانوں کا ہوں گا۔ اگر اہانت کرنے والے اپنی اہانت نہیں دیکھیں گے۔ یعنی اپنی اہانت کی جزا وسزا نہ دیکھ

٤٤

صفحہ ٣٨١

لیں گے۔ کیونکہ جو حضرات اپنا فرض منصبی سمجھ کر اہانت تحقیر کر رہے تھے وہ اپنے کام کو دیکھ رہے تھے۔ پھر اہانت کے دیکھنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ بجز اس کے کہ اپنی اہانت کرنے کا بدلہ اور اس کی سزا نہ دیکھ لیں۔ اب جماعت مرزائی احمدی بتائے کہ علاوہ عام مخالفوں کے خاص ان کے برا کہنے والے ان کی سخت اہانت کرنے والے مثلاً جناب فاتح قادیان جو ان کی زندگانی میں ان کے ناک میں دم کرتے رہے۔ جن سے عاجز ہو کر آخری فیصلہ انہوں نے شائع کیا تھا۔ جس کی نقل عنقریب آئے گی۔ اس کے بعد انہیں عالم برزخ میں بھیج کر ان کی جماعت کا ناک میں دم کر رہے ہیں اسی طرح ڈاکٹر عبدالحکیم خان اپنی پیشین گوئی سے انہیں ذلت کی موت مار کر ان کے کمال اہانت اور رد میں رسالے شائع کر رہے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جنہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں مرزا قادیانی کی بری گت بنائی ہے اور علمائے حرمین شریفین سے بلکہ اکثر علمائے دنیا سے ان کے کفر پر فتوے لکھوا کر مسلمانوں پر ان کی حالت ظاہر کی ہے۔ اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب غزنوی ہیں۔ جنہوں نے ان سے مباہلہ کیا تھا۔ جس کا اثر مرزا قادیانی کی موت نے دیکھا دیا۔

یہ چاروں حضرات نہایت خیر و خوبی سے زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کی اہانت کا نہایت عمدہ بدلہ دنیا کو دیکھا رہے ہیں اور تمام دیکھنے والے راستی اور سچائی کی عینک سے دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے متعدد اقراروں سے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہو چکے تھے۔ اس قول سے ان کی یہ خاص صفت معلوم ہوئی کہ وہ اشر الناس بھی ہیں۔ یعنی تمام دنیا کے شریروں اور بدذات لوگوں سے زیادہ شریر ہیں۔ یہ باتیں کوئی دوسرا شخص نہیں کہتا بلکہ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ اب جماعت احمدیہ اپنے مرشد کو اس قول میں کیوں کاذب مانتی ہے اور جیسا اپنے آپ کو بتا رہے ہیں ویسا کیوں نہیں مانتے اور اشر الناس کا مصداق مرزا قادیانی کو کیوں نہیں جانتے۔ خدا کے لئے اس کا جواب دے یا اپنی غلطی کا اقرار کرے۔ مگر یہ تو حق طلب اور سچوں کا کام ہے۔ انہیں تو کاذب کی پیروی نے جھوٹ کو خوش آئند اور پسندیدہ کر دیا ہے۔ وہ جھوٹ اور جھوٹے سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ مگر وہی جس کے لئے دائمی راحت قادر کریم نے مقدر کر رکھی ہے۔ الحمد للہ ! بہتوں کو نصیب ہوئی اور ہونے والی ہے۔

نہایت مشہور ہے اور بہت مرتبہ چھپ کر شائع ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے مولانا فاتح قادیان سے نہایت عاجز ہو کر آخری فیصلہ شائع کیا تھا۔ اس میں چار اقرار مرزا قادیانی کے ہیں۔ جن سے وہ نہایت صفائی سے کاذب و مفتری ثابت ہوتے ہیں۔ اس اشتہار کا عنوان یہ ہے۔

٣٥

صفحہ ٣٨٢

”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“

اس کے نیچے مرزا قادیانی لکھتے ہیں آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ (ان الفاظ سے مرزا قادیانی کا نہایت دلی صدمہ ظاہر ہے ) مگر نتیجہ دیکھئے۔

بارہواں اقرار: ١...... ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“ (دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اپنے کذاب اور مفتری ہونے کا اقرار ہے اور جس شرط پر یہ اقرار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کر کے ان کا کذاب ومفتری ہونا دنیا کو دکھا دیا یعنی مولوی صاحب کی زندگی میں مرزا قادیانی ہلاک ہوئے اور اپنے اقرار سے کذاب ومفتری ثابت ہوئے۔ )

تیرہواں اقرار: ٢...... ”پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“ (یہاں بھی مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ اگر مولوی صاحب ان کی زندگی میں ہیضہ وغیرہ میں نہ مرے تو میں خدا کی طرف سے نہیں اور دنیا نے دیکھ لیا کہ بفضلہ تعالیٰ مولوی صاحب تو کسی بیماری میں ہلاک نہیں ہوئے۔ مرزا قادیانی ہی ہیضہ میں مبتلا ہو کر ان کے سامنے حسرت و ذلت کی موت سے ہلاک ہوئے اور اپنے لئے اقرار کر گئے کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ )

چودھواں اقرار: جس میں مرزا قادیانی خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عاجزی سے اس طرح دعاء کرتے ہیں۔

٣...... ”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔ آمین!“ اس قول میں مرزا قادیانی نے نہایت عاجزی سے شرطیہ دعا کی تھی کہ اگر تیری نظر میں میں مفسد اور کذاب ہوں تو مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کی دعاء کو قبول فرما کر خلق پر مرزا قادیانی کی حالت کو ظاہر کر دیا اور وہ اپنے قول سے مفتری ، مفسد ، کذاب ثابت ہوئے۔ یہ خدائی فیصلہ ہے۔ جسے عقل کے ساتھ ایمان ہے وہ اس فیصلہ کو ضرور مانے گا۔

٣٦

صفحہ ٣٨٣

پندرھواں اقرار : اسی فیصلہ کے آخر میں مرزا قادیانی نہایت ہی عاجز ہو کر رحمت الٰہی کا دامن پکڑ کر اس طرح دعا کرتے ہیں ۔

رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے اے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین!“

یہ فیصلہ اخبار الحکم ج ١١ نمبر ١٣ میں ١٧؍ اپریل ١٩٠٧ء مجموعہ اشتہار ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩ میں چھپا ہے۔ اس دعاء میں پہلی دعا سے بھی زیادہ عجز ونیاز اور رحمت کی خواستگاری ہے اور صادق اور کاذب میں خود ہی امتیاز متعین کر کے اس کی قبولیت کے ملتجی ہیں ۔

یہ فیصلہ اور یہ دعائیں مولوی صاحب یا کسی مخالف کی خواہش پر نہیں ہیں ۔ بلکہ اپنے مخالف سے عاجز آ کر اور اپنی مقبولیت کے جوش میں اس فیصلہ کا اشتہار دیا ہے۔ جس طرح منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا بڑے زور وشور سے مکرر اعلان دیا تھا۔ مگر اس عادل منصف نے مرزا قادیانی کی زبان سے سچا فیصلہ فرما کر دنیا پر ظاہر کر دیا کہ مولوی صاحب صادق ہیں اور مرزا قادیانی مفسد وکذاب۔ یہاں دامن رحمت پکڑنے کا نتیجہ اس رحیم نے یہ دکھلا دیا کہ تمام خلق پر رحمت کی کہ ایک مفسد وکذاب کے فریب میں نہ آئیں اور یہ وہ کذاب ہے۔ جس کے کذب کا فیصلہ اسی کی زبان سے ہو گیا ہے۔ اب تعجب اور نہایت تعجب اس پر ہے کہ اس علانیہ خدائی فیصلہ سے یہ کہہ کر منہ پھیرا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے مباہلہ چاہا تھا۔ مگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے منظور نہیں کیا۔ اس لئے کچھ نہیں ہوا۔ مگر یہ سخت زبردستی اور ابلہ فریبی ہے۔ کیونکہ اوّل تو یہ امر محقق ہے کہ مباہلہ وہ فیصلہ ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ سے مخصوص تھا۔ امت کے لئے عام نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مباہلہ کا طریقہ وہی ہے جو قرآن مجید میں مذکور ہے۔ ”نــــدْعُ ابــــنــــاءنــــا وابــــنــــاءکــــم“ یہ طریقہ نہیں کہ گھر بیٹھے فیصلہ مشتہر کیا جائے ۔ ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے مباہلہ کیا تھا۔ جس کا ظاہری نتیجہ اس وقت تو یہ ہوا کہ ہر ایک اپنے کو کامیاب کہنے لگا۔ طرفین کے اعلان موجود ہیں ۔ مگر انجام اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ مولوی صاحب کے سامنے مر کر داخل عالم برزخ ہوئے اور مولوی صاحب اب تک زندہ بخیر وخوبی موجود ہیں ۔ اسی طرح یہاں بھی ہوا۔ اب اسے مباہلہ کہو یا نہ کہو اور اس دعا کو الہامی کہو یا

٣٧

صفحہ ٣٨٤

نہ کہو۔ ہمارا مدعا صرف اس قدر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے پختہ اقراروں سے مفسد، کذاب، مفتری ثابت ہوئے اور ان کی مقبولیت کے تمام الہامات اور قبولیت دعا کا دعویٰ محض غلط اور افتراء ثابت ہوا۔ کیا کوئی مرزائی دنیا میں کسی مقبول خدا اور مجدد یا نبی کی ایسی حالت دیکھ سکتا ہے کہ انہوں نے اس طرح کے اقرار کئے ہوں اور وہ اپنے اقراروں سے جھوٹے ہوئے ہوں اور انہوں نے اپنے مخالف سے عاجز آ کر خدا تعالیٰ سے اس طرح دعا کی ہو۔ جس طرح مرزا قادیانی نے کی اور وہ اس کے حسب خواہ قبول نہ ہوئی ہو؟ کیا جماعت احمدی کی یہ مجال ہے کہ کسی بزرگ کے ایسے اقوال دکھا سکے؟ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں!! جب نہیں دکھا سکتے تو مرزا قادیانی کو جھوٹا ماننے میں اسے کیا عذر ہے۔ بیان کر کے جھوٹی اور مہمل باتیں نہ بنائے۔

صحیفہ رحمانیہ کے ص٢٣ سے ٣١ تک اس کی تفصیل دیکھو۔ اس میں تین مقبولان خدا کے اقوال و دعا دکھائی گئی ہیں۔ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ خدا اپنے مقبول بندوں کو کس طرح سچا کرتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے نہایت سادے طور سے دعا کی کہ اے پروردگار تو کسی کافر کو زمین پر آباد نہ چھوڑ ۔ دیکھئے کیسی عظیم الشان تمام دنیا کی انسانی آبادی کے نیست و نابود ہونے کی دعاء کی وہ قبول ہوئی اور سارے کافر نیست و نابود ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے صرف ایک مخالف کی موت کی دعا کی اور وہ قبول نہ ہوئی اور وہ صرف دعاء ہی نہ تھی۔ بلکہ ان کے صدق و کذب کی معیار اس میں تھی۔ اس معیار سے مرزا قادیانی کاذب قرار پائے۔ حضرت عمرؓ نے دریا کے جاری ہونے کے لئے دعا کی تھی وہ دریا جاری ہو گیا۔ مقبولان خدا کی ایسی دعاء ہوتی ہے۔ ان باتوں کو دیکھ کر بھی مرزائیوں کو شرم نہیں آتی۔ دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی کا مقولہ ہے اور معمولی مقولہ نہیں ہے۔ بلکہ ایک مخالف سے عاجز و تنگ آ کر اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر نہایت عاجزی سے اپنی موت کی دعاء کرتے ہیں۔ (مخالف سے تنگ آنے کی انتہا ہو گئی ہے) اور عاجزی کی دعاء ان کی ہے۔ جن کا دعویٰ ہے کہ میں سچا ہوں اور سچا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ جھوٹا کامیاب نہیں ہوتا۔ یہی حضرت اپنی نسبت یہ الہام الٰہی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری نسبت فرماتا ہے کہ میں تیری کل دعائیں قبول کروں گا (تذکرہ ص ٢٦) اور یہ بھی ان کا الہام ہے کہ ”انت بمنزلۃ ولدی“ (حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٩٨) یعنی تو بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے اور وہ یہ بھی الہام ہے کہ ”انت منی وانا منک“ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ اس الہام سے تو مرزا قادیانی خدا کے بیٹے اور ٣٨

صفحہ ٣٨٥

باپ دونوں ہو سکتے ہیں۔ یہاں سے تو انہیں قدرت کاملہ کا بھی دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ جس طرح کن فیکون کے الہام سے ظاہر ہے۔ (تذکرہ ص ٥١٧، ٦٦١) باوجود ان عظیم الشان دعوؤں کے اور ایسی عاجزی کی دعاء کے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن ہی کو خوش کیا اور مرزا قادیانی مولوی صاحب کی زندگی میں ہلاک ہو کر اپنے اقرار سے مفسد اور کذاب ثابت ہوئے اور مولوی صاحب سچے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولوں سے ایسا معاملہ ہر گز نہیں کرتا۔

یہاں تک پندرہ اقرار مرزا قادیانی کے ہوئے۔ اب سولہویں اقرار کی تمہید ملاحظہ ہو۔ یہ دعائیں ١٩٠٧ء میں تو خاص فاتح قادیان کے مقابلہ میں کی تھیں۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کا خاتمہ ہی کر دیا۔ اس سے پہلے جولائی ١٩٠٠ء میں پیر مہر علی شاہ صاحب سے مناظرہ کا اعلان دیا تھا۔ (کیونکہ شہرت اور ترقی کا موجب تھا) اور اس میں لکھا تھا کہ ”میں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا اس صورت میں متصور ہوگا کہ جب کہ پیر مہر علی شاہ صاحب بجز ایک ذلیل قابل شرم اور رکیک عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی نہ لکھ سکیں اور ایسی تحریر کریں ۔ جس پر اہل علم تھوکیں اور نفرین کریں۔ کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعاء کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔ (کیسے جھوٹے دعوے پر زور ہے) اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بھی اپنے تئیں مومن اور مستجاب الدعوات جانتے ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں۔ (اس سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کو اپنے مستجاب الدعوات ہونے کا یقین تھا) اور یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعاء ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ خدا کے مامور اور مرسل کے دشمن ہیں۔ اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٠)

یہاں بھی مرزا قادیانی اپنی دعاء کی قبولیت اور مخالف کی عدم قبولیت پر پورا اطمینان ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی دعاء کے لئے الہامی ہونا ضروری نہیں ہے۔ ان کی کل دعائیں مقبول ہیں۔ مگر دو دعاؤں کی مقبولیت تو بیان ہوئی۔ جن سے ان کا خاتمہ ہی ہو گیا۔ اس تیسری دعاء کا حشر یہ ہوا کہ اس کے اثر سے مرزا قادیانی تمام پنجاب میں بہت ذلیل ہوئے۔ کیونکہ پیر صاحب مناظرہ کے لئے آمادہ ہو گئے اور ٢٤؍ اگست ١٩٠٠ء کو مع جماعت کثیر کے لاہور آئے اور مرزا قادیانی باوجود نہایت حتمی وعدے کے گھر سے باہر نہ نکلے اور پیر صاحب کی نسبت جو کچھ انہوں نے اپنا الہام یا خیال ظاہر کیا تھا۔ وہ محض غلط نکلا۔ اس کے سواء مرزا قادیانی کی اس اشتہار بازی میں خدا کی طرف سے یہ سزا ہوئی کہ انہوں نے اپنی صداقت کے زعم میں مناظرہ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا۔

٣٩

صفحہ ٣٨٦

سولہواں اقرار: اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں (یعنی مرزا) مردود، جھوٹا اور ملعون ہوں۔ اس قول میں مرزا قادیانی نے اپنی تین صفتیں بیان کی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اسی نے مرزا قادیانی کو مناظرہ میں جانے کی ہمت نہ دی اور ان کے اقرار سے انہیں مردود، جھوٹا اور ملعون، دنیا پر ثابت کر دیا۔

(رسالہ حق نما ص ١٩ تا آخر)

یہ ان کا سولہواں اقرار ہے۔ جس سے وہ جھوٹے اور ملعون ثابت ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو اظہار مسرت کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کاذب کے کذب کا اظہار اس کی زبان سے، قلم سے کس کس طریقہ سے کرایا ہے۔ تا کہ مخالفین حق کو اس سے پرہیز کرنے میں کس طرح کا تامل نہ رہے۔ مگر ماننے والوں پر حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی علانیہ باتوں پر نظر نہیں کرتے اور یہ خیال نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندے کو اس کے اقرار سے اسی طرح جھوٹا اور ملعون ٹھہراتا ہے اور دنیا میں کسی سچے اور پیارے بندے سے ایسا واقعہ ہوا ہے؟ اور کوئی مجدد یا نبی اپنے ایسے پختہ اقرار سے جھوٹا ہوا ہے؟ ہرگز نہیں، کوئی نظیر اس کی پیش نہیں ہو سکتی۔

سترہواں اقرار: ٥ نومبر ١٨٩٩ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا تھا کہ ”اے میرے مولا، قادر خدا، اب مجھے راہ بتلا۔“ اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے۔ جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہو۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے، کافر، کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔ اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہوکر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلاوے اور اپنے بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں۔ تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا۔ جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری دعاء قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود وملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧٧، ٧٨ سے عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے)

اس قول میں بھی مرزا قادیانی نہایت عاجزانہ دعا کرتے ہیں۔ اس کے سوا اور بھی کئی

صفحہ ٣٨٦ ٣٨٧

لڑیں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں (یعنی ہے۔ اس قول میں مرزا قادیانی نے اپنی تین صفتیں بیان کی ہیں۔ خدا بانی کو مناظرہ میں جانے کی ہمت نہ دی اور ان کے اقرار سے انہیں ت کر دیا۔

(رسالہ حق نما ص ١٩ تا آخر )

قرار ہے۔ جس سے وہ جھوٹے اور ملعون ثابت ہوتے ہیں۔ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کاذب کے کذب کا اظہار اس کی زبان سے کرایا ہے۔ تاکہ طالبین حق کو اس سے پرہیز کرنے میں کس طرح وں پر حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی علانیہ باتوں پر نظر نہیں تعالیٰ اپنے مقبول بندے کو اس کے اقرار سے اسی طرح جھوٹا اور سچے اور پیارے بندے سے ایسا واقعہ ہوا ہے؟ اور کوئی مجدد یا نبی وا ہے؟ ہرگز نہیں، کوئی نظیر اس کی پیش نہیں ہو سکتی۔ مبر ١٨٩٩ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دے دیا تھا کہ ”اے میرے ۔“ اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی ہوں۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے۔ کافر، کاذب نہیں ہوں تو ان تین تم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ نشان نہ دکھلاوے اور اپنے بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو ہیں اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں۔ تو میں تجھے گواہ کرتا سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں لگائے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر ) مردود وملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے ( مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧، ١٧٨ عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے) قادیانی نہایت عاجزانہ دعا کرتے ہیں۔ اس کے سوا اور بھی کئی باتیں لیتے ہیں۔ اپنے آپ کو مستجاب الدعوات کہتے ہیں اور اعجاز احمدی کے ص ٨٨ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ الہامی پیشین گوئی ہے۔ اس دعاء کی قبولیت پر اپنی صداقت کو منحصر بتاتے ہیں۔ دعاء یہ ہے کہ تین برس کے اندر ایسا نشان ظاہر ہو۔ جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ اگر اس معیاد میں ایسے نشان کا ظہور نہ ہو تو مرزا قادیانی خدا کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو ان پانچ لفظوں کا مستحق سمجھوں گا۔ یعنی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ اس اشتہار کی بنیاد اور اس کی تفصیل الہامات مرزا مطبوعہ بار چہارم ص ٩٣ میں دیکھئے۔ میں اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اس کلام سے یہ بخوبی معلوم ہوا کہ نومبر ١٨٩٩ء سے پہلے مرزا قادیانی سے کوئی ایسا نشان نہیں ہوا تھا۔ جس سے انہیں اپنی صداقت کا یقین ہوتا اور نہ کوئی انہیں ایسا یقینی الہام ہوا تھا۔ جس سے وہ اپنے آپ کو سچا مسلمان وراست باز اعتقاد کرتے۔ کیونکہ اگر کسی قطعی الہام یا کسی نشان سے اپنی صداقت کا یقین انہیں ہو گیا تھا۔ تو پھر اس نشان کے ظاہر ہونے سے پہلا یقین کیونکر جا سکتا ہے۔ اس لئے اس قول نے پہلے نشانات والہامات کو بے کار ثابت کر دیا اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے ملعون وکافر ثابت ہوئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا اقرار تھا کہ اگر ١٩٠٠ء سے آخر ١٩٠٢ء تک کوئی نشان میری صداقت کے ثبوت میں ظاہر نہ ہو تو ملعون و کافر ہوں اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اس عرصہ میں ان کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس تین برس کی مدت آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ہوتی ہے۔ اس میں آخر نومبر تک مرزا قادیانی کے اقرار سے اس نشان کا ظہور نہیں ہوا تھا۔ اس مہینے میں جب موضع مد میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے مناظرہ میں مرزائیوں کو سخت ذلت پہنچائی ہے۔ اس وقت ماہ دسمبر ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ اعجاز احمدی کا اظہار کیا اور دس ہزار روپے کا اشتہار دیا کہ جو کوئی اس کا جواب پانچ روز کے اندر دے زیادہ سے زیادہ بیس روز کے اندر چھپوا کر میرے پاس بھیج دے تو میں اسے دس ہزار روپیہ دوں گا۔ اعجاز احمدی میں اس کی تفصیل دیکھنا چاہئے۔ مگر یہ اشتہار ایک فریب تھا۔ یہ رسالہ معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ اس کا قطعی ثبوت رسالہ حقیقت رسائل اعجازیہ میں نہایت تفصیل سے دیا گیا ہے۔ یہ رسالہ پانچ جز میں ہے۔ اس سال کے شروع میں چھپا ہے اور پندرہ دلیلوں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے آخر میں یہ دکھایا ہے کہ درحقیقت وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتے تھے۔ چونکہ مسلمانوں کے سوا کسی اور مذہب والے نے انہیں نہیں مانا۔ اس لئے وہ دین اسلام کا اقرار کرتے رہے اور مسلمانوں کے فریب دینے کے لئے انہوں نے نعتیہ اشعار لکھے اور بہت سی باتیں بنائیں۔ مگر الحمد للہ ! اس رسالہ ٤١

صفحہ ٣٨٨

میں تو انہی کے اقوال سے قطعی طور پر انہیں کاذب ثابت کر دیا گیا۔ پہلے اقوال سے یقینی فیصلہ ہو گیا کہ مسیح موعود کی جو علامتیں انہوں نے اپنے متعدد رسالوں میں بیان کی ہیں وہ ان میں بالیقین نہیں پائی گئیں اور اپنے قول سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے۔ آخری قول سے تو مردود، ملعون اور کافر وبے دین بھی ہو گئے۔ آج کل کوئی نیا قادیانی ظاہر ہوا ہے۔ اس نے یہ ظاہر کیا کہ فلاں فلاں مولوی صاحب انہیں کافر نہیں کہتے۔ بعض ان کے کفر میں تامل کرتے ہیں۔ ان باتوں سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ اکثر علماء مرزا قادیانی کی واقعی حالت سے بالکل بے خبر ہیں۔ اس لئے ان کے کفر میں تامل کرنا مقتضائے حقیقت ہے۔ مگر جس وقت ان علماء کو مرزا کا پورا حال معلوم ہو جائے گا تو پھر انہیں ہرگز تامل نہ ہوگا اور کاتب مضمون ھداہ اللہ تعالیٰ الی سبیل الرشاد کو فیصلہ آسمانی اور صحیفہ انوار یہ دیکھنے کے بعد بھی انہیں مرزا قادیانی کے کذب کا روشن آفتاب نظر نہ آیا تو معلوم ہوا کہ وہ ازلی ختم الله على قلوبهم کے مصداق ہیں۔ جس مدعی کی پیشین گوئیاں بالیقین غلط ہوئی ہوں۔ جس کے الہاموں سے خدا کا جھوٹا اور وعدہ خلاف ہونا ثابت ہو گیا ہو۔ جس کے جھوٹے ہونے پر توریت اور قرآن گواہی دیتا ہو۔ جس نے انبیاء کی توہین کر کے جھوٹی باتیں فریب دینے کی غرض سے بنائی ہوں۔ جو مدعی اپنے متعدد اقوال سے کاذب ثابت ہو اس کے کذب میں تو کسی صاحب عقل کو تامل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ رہا ان کا کفر وہ بھی ان کے قول سے ثابت ہے۔ ایک قول تو ابھی نقل کیا گیا۔ دوسرا قول اور ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی (حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں لکھتے ہیں۔ ’’ماکان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘ یعنی یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔ اس قول میں مرزا قادیانی نہایت صفائی سے کہہ رہے ہیں کہ نبوت کا دعویٰ کرنا اسلام سے خارج ہونے اور کافروں سے مل جانے کا باعث ہے۔ اب ان کے اقرار کے بموجب ان کے کفر کا ثبوت ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ بغیر نئی شریعت کے رسول اور نبی ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی ۔“

(اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

اور صرف دعویٰ نبوت ہی نہیں بلکہ قمر الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے۔ چنانچہ (انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ان کا الہام ہے۔ ”یاتی قمر الانبیاء“ اور اسی انجام آتھم میں یہ بھی ہے۔ ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور

صفحہ ٣٨٩

کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔‘‘

(حاشیہ ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اس قول کو اچھی طرح دیکھا جائے۔ اس میں وہ صاف فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ بدبخت مفتری ہے۔ اس کا ایمان قرآن شریف پر نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ جو آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام بالیقین جانتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کا حاصل بھی وہی ہے جو پہلے قول کا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا منکر قرآن اور کافر ہے۔

لیجئے جناب! مرزا قادیانی اپنے متعدد اقوال سے کافر ہیں۔ پھر کسی مولوی صاحب کے کہنے کی کیا حاجت ہے اور دنیا کے علماء نے پہلے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ مولانا محمد حسین صاحب کا رسالہ اشاعۃ السنۃ ج ١٣ نمبر چہارم لغایۃ ہشتم و نمبر یازدہم و دوازدہم اور مولانا محمد سہول صاحب کا رسالہ القول الصحیح فی مکائد المسیح ملاحظہ کیجئے۔

میاں ارادت قادیانی! کہو اب تو مرزا قادیانی نے آپ کے رسالہ کو محض غلط بتا دیا اور خاتم النبیین کے غلط معنی پر جو آپ نے بیہودہ باتیں بنائی ہیں۔ ان کی غلطی پر صاد کر کے آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو ختم نبوت پر نص قطعی قرار فرما دیا اور ص ٢٨ میں ان کا یہ جملہ ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔ یعنی نبی کا لفظ اگر کہیں کہا گیا ہے وہ بطور استعارہ اور مجاز کے ہے۔ اولیاء کو بھی کسی وقت کہہ دیا گیا ہے۔ حقیقی نبی خاتم الانبیاء رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نہیں ہوگا۔ یہ ان کا اٹھارواں اقرار ہے۔

دس ہزار کا چیلنج

اے صادقان روزگار، اے حامیان ملت سید ابرار اس اندھیر اور ابلہ فریبی کو ملاحظہ کیجئے کہ ایسے بدترین روزگار کو جو اپنے الہاموں اور پختہ اقرار سے جھوٹا، ہر بد سے بدتر ملعون، کافر، ثابت ہو چکا ہو اور ایک ہی اقرار سے نہیں بلکہ اٹھارہ اقراروں سے وہ ان بدترین صفات کا مستحق ہو چکا ہو۔ اس کا جھوٹ اور فریب آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھا دیا ہو۔ اس کے جھوٹے دعوؤں پر حیدرآبادی مرزائی چیلنج دیتے ہیں اور ان کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ اے فریب خوردہ حضرات ہم تمام مرزائیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے مرزا قادیانی کے اقراروں

٣٠

صفحہ ٣٩٠

سے ان کا جھوٹا اور ملعون اور کافر ہونا ثابت کر دیا۔ تم اگر اسی طرح کسی نبی یا مجدد یا بزرگ کا جھوٹا ہونا ثابت کر دو (اور یہ تو غیر ممکن ہے) یہی ثابت کر دو کہ جھوٹے مدعیان نبوت و مہدویت جتنے گزرے ہیں ان میں سے فلاں جھوٹا اپنے متعدد اقراروں سے ان ملعونہ صفات کا مستحق ہوا ہے تو ہم دس ہزار روپیہ دینے کے لئے حاضر ہیں۔ راقم عبداللطیف رحمانی!

مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی قطعی دلیل

ان کی نہایت معرکہ کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئیں ١؎ اور ان کے جواب سے مرزائی ایسے عاجز ہوئے کہ ان کے جھوٹے ہونے کو مان لیا۔ چنانچہ ایک رسالہ نبی کی پہچان قادیان میں چھپا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی دس پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور خواجہ کمال کی پارٹی تو یہ کہہ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کی سو پیشین گوئیوں میں ساٹھ جھوٹی ہوئیں ٢؎ اور یہ بات توریت مقدس اور قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہے کہ جس مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو وہ جھوٹا اور مفتری ہے۔ چنانچہ توریت مقدس میں یہ حکم ہے کہ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے۔ جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے۔ (یعنی جس طرح تعزیرات ہند میں قاتل کی سزا پھانسی ہے۔ اسی طرح توریت مقدس کا حکم جھوٹے مدعی نبوت کی سزا قتل ہے) اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے۔ (یعنی پیشگوئی کرے) اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر۔“ اور یہی مضمون قرآن شریف کے نص صریح سے ثابت ہے۔ ”لا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ“ یعنی اللہ تعالیٰ نہایت تاکید سے فرماتا ہے کہ ایسا گمان و خیال ہرگز نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے تمام وعدے اور وعیدیں پوری کرتا ہے۔ جس مدعی کے بیان سے اس کا ایک وعدہ یا ایک وعید بھی پوری نہ ہو تو یقین کرنا چاہئے کہ وہ جھوٹا ہے۔ ان دونوں کلام مقدس کے بموجب مرزا غلام احمد قادیانی یقینی جھوٹے ہیں۔

١؎ جن کی تفصیل فیصلہ آسمانی اور الہامات مرزا وغیرہ میں لکھی گئی ہیں۔ ٢؎ چنانچہ اخبار اہل حدیث مورخہ ١٩؍ محرم ١٣٣٧ھ نمبر ٥١، ج ١٠ میں اخبار الفضل مورخہ ١٨؍ اکتوبر سے نقل کیا گیا ہے۔

٤٤

PDF 391

بسم اللہ الرحمن الرحیم

برق آسمانی

بر

خرمن قادیانی

حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ

صفحہ ١٧

بسم الله الرحمن الرحيم! الحمدلله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على رسوله محمد وعلى آله واصحابه اجمعين!

امابعد ! مخبر صادق آقائے نامدار فخر موجودات محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے فرمان کے مطابق آج کل مسلمان فتن و حوادث میں مبتلا ہیں۔ سرور عالم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق ہر صدی میں کاذب مدعیان نبوت ظاہر ہوتے رہے اور ان میں سے بعض مثلاً سلیمان قرمطی، عبیداللہ مہدی افریقہ، حسن بن صباح، عبدالمومن، ابن تومرت، حاکم بامراللہ، مہدی جونپوری، بہاءاللہ ایرانی وغیرہ اپنے ناپاک مقاصد میں پوری طرح کامیاب ہو کر اپنی طبعی موت مرے اور اپنے لئے جانشین بھی چھوڑ گئے۔ مگر چودھویں صدی میں قادیانی فتنہ جس دجالت کا مظہر ثابت ہورہا ہے۔ اس کی نظیر سابق دجالوں میں بھی پائی نہیں جاتی۔ انسانی طبائع میں آزادی مذہب کا میلان دیکھ کر مرزائے قادیان نے ہوا کے رخ پر چلنا شروع کیا۔ اسلامی تعلیم کو مسخ کرنے فلسفہ اور سائنس جدید کو خواہ مخواہ دینی مسائل میں گھسیٹنے سے انگریزی خوانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا اور چند ایسے مولوی جو پہلے بھی سبیل المومنین اور سواد الاعظم کو ترک کر کے غیر مقلد، چکڑالوی یا نیچری بن چکے تھے۔ اس کے ہم نوا ہو گئے اور ایک پوری تجارتی کمپنی قائم ہوگئی۔ جس نے سلطنت برطانیہ کا سہارا لے کر مشرق و مغرب میں اپنا دام تزویر پھیلا دیا۔ انیسویں صدی میں سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم اور سید جمال الدین افغانی کی مساعی جمیلہ سے اتحاد عالم اسلام (پین اسلام ازم) کی مبارک تحریک کا آغاز عمل میں آیا۔ مسلمانوں میں جہاد کی روح پیدا کرنے اور اسلام کا سیاسی اقتدار از سر نو بحال کرنے کے لئے نئے سرے سے جدوجہد شروع کی گئی۔ اقوام یورپ اس تحریک سے لرزہ براندام تھیں۔ مدبرین برطانیہ اس تحریک سے مضطرب اور پریشان ہو رہے تھے۔ مرزائے قادیان اور اس کے ایجنٹوں نے اس موقع سے فائدہ حاصل کیا اور عالم گیر اتحاد اسلامی کو پارہ پارہ کرنے اور جہاد کو حرام قرار دینے میں ایڑی سے لے کر چوٹی تک زور لگایا۔ اس موضوع پر تصانیف لکھ کر بلاد اسلامیہ میں ہزاروں کی تعداد میں شائع کیں۔ اس طرح حکومت کی ہمدردی حاصل کر کے یہ فرقہ دن بدن بڑھتا گیا اور یہ شجر خبیثہ آج کل ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر

صفحہ ٣٩٣

چکا ہے۔ حکومت برطانیہ کے مقاصد کی اشاعت کے لئے ممالک غیر میں مبلغین بھیجے جاتے ہیں اور دوسری طرف تبلیغ اسلام کا نام لے کر مسلمانوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ سادہ لوح مسلمان انہیں مال وزر سے امداد دیتے ہیں اور اسی روپیہ سے یہ قادیانی کمپنی اور ان کا خلیفہ عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مٹی فی التوم، مقصورات اور کنار بیاس کے مشاغل انہیں چندوں کا نتیجہ ہیں۔ غرض اغیار کی سازش سے سادہ لوح مسلمان دام فریب میں آ گئے اور اپنا مال و متاع بلکہ ایمان تک مرزائے قادیان کی نذر کر بیٹھے۔ یہ حالات عبرت انگیز ہیں۔

سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

مولوی ظفر علی خان صاحب نے مرزائیوں کے ہتھکنڈوں سے واقف ہو کر خوب لکھا ہے۔

یہ فتنہ پرداز قادیانی نئے نئے گل کھلا رہے ہیں
ادھر رقیبوں سے مل رہے ہیں۔ ادھر ہمارے گھر آ رہے ہیں
منافقوں کی یہ ہے نشانی زبان پہ دیں ہو تو کفر دل میں
اسی نشانی سے قادیانی تعارف اپنا کرا رہے ہیں
یہ مجلے ”سیرۃ النبی“ کے یہ زمزمے عشق مصطفیٰ کے
جنہیں سمجھتے ہیں دل سے کافر انہیں کو کلمہ سنا رہے ہیں
رسول مقبول کی شریعت کے نام پر دیں ہمیں نہ دھوکا
اسی شریعت کی آڑ لے کر وہ سب کو الو بنا رہے ہیں
پڑا ہے چندے کا جب سے پھندا گلے میں ان قادیانیوں کے
ہمارے ہی گھر سے بھیک لے کر ہمیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں

حال ہی میں قادیانی تبلیغی وفد مرزا کی نبوت منوانے کے لئے ضلع شاہپور (سرگودھا) میں وارد ہوا۔ ارکان حزب الانصار (بھیرہ) کی مخلصانہ مساعی سے اس فتنہ کا ہر جگہ مؤثر مقابلہ کیا گیا اور ڈیڑھ ماہ کی جدوجہد کے بعد صحیح معنوں میں ضلع ہذا میں مرزائیت کی موت واقع ہو گئی۔ مناظروں اور تعاقب کی مفصل روئیداد شائقین کے اصرار سے مرتب کی گئی ہے۔ مگر تمام واقعات وحالات کی صحیح کیفیت کا ضبط تحریر میں لانا نہایت مشکل امر ہے۔ بظاہر یہ پورے طور پر ضبط نہیں ہو سکیں۔ اس لئے تمام کاروائی کا خلاصہ درج کرنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ بھیرہ، سلانوالی اور چک نمبر ٣٧ جنوبی تین جگہ مناظرے ہوئے۔ چونکہ عام طور پر طرفین کے پیش کردہ دلائل ہر جگہ

صفحہ ٤

وہی تھے۔ اس لئے تکرار اور اعادہ سے بچنے کے لئے تمام حوالے ایک ہی جگہ بطور ضمیمہ درج کئے گئے ہیں اور تعاقب کی مفصل روئیداد کے ساتھ ہی مرزائے قادیان اور اس کے خلفاء کے سوانح واعمال نامے ان کے اپنے الفاظ میں نقل کئے جاتے ہیں۔ تا کہ قارئین مرزا کے الفاظ سے ہی قادیانی گروہ کے ناپاک عزائم کا اندازہ کر سکیں۔ اعمالنامہ مرزا میں سوائے ضروری تشریحات کے اپنی طرف سے کوئی لفظ لکھا نہیں گیا۔ بعض جگہ مرزا قادیانی کے کلام کا مفہوم درج کیا گیا ہے۔ روئیداد مرتب کرنے میں کافی عرصہ صرف ہوا۔ قارئین کے لئے انتظار کی گھڑیاں اضطراب افزا تھیں۔ مگر دیر آید درست آید کے مطابق اس تاخیر میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ تھیں۔ مرزائیوں کے اخبار الفضل وغیرہ میں عرصہ ڈیڑھ ماہ کے بعد مناظرہ کا ایک گمراہ کن بیان شائع ہوا۔ جس نے مرزائیوں کی اخلاقی موت کا بھی ثبوت پیش کر دیا۔ انشاء اللہ آئندہ اس فرقہ کو باقاعدہ پروگرام بنا کر دورہ کرنے کی جرأت نہ ہوگی۔

حزب الانصار کی مالی امداد کا اہم مسئلہ اس وقت ہر مسلمان کے پیش نظر ہونا چاہئے۔ اغیار کا دام فریب دور تک پھیلا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں حزب الانصار کے لئے مسلمانوں کی اقتصادی ، علمی ، اخلاقی ، و عملی اصلاح کا عظیم الشان لائحہ عمل موجود ہے۔ مگر مالی کمزوریاں ہر قسم کے اقدام کے لئے سنگ گراں ثابت ہو رہی ہیں۔

شکریہ

عالیجناب حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب، مولانا مولوی ابوسعید محمد شفیع صاحب سرگودھوی، مولوی محمد اسماعیل صاحب دامانی، و دیگر علمائے کرام کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے حزب الانصار کی درخواست کو شرف قبولیت بخش کر دینی خدمت کو اپنے آرام و آسائش پر ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ ایسے خادمان اسلام کو تادیر زندہ رکھے۔

اعتذار

”اعمالنامہ مرزا قادیانی“ خلاف توقع لمبا ہو گیا اور پھر بھی مرزا قادیانی کی زندگی کے اکثر پہلوؤں پر مکمل روشنی ڈالی نہیں جاسکی۔ چونکہ مناظرہ کے دلائل میں مرزا قادیانی کے جھوٹ پیشگوئیاں اور الہامات وغیرہ نقل کئے گئے ہیں۔ اس لئے انکا ذکر اعمالنامہ میں تفصیل کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ اگر شائقین نے قدردانی سے کام لیا تو انشاء اللہ ایڈیشن ثانی میں تمام تلافی کر دی جائے گی۔ وما توفیقی الا بالله! (ظہور احمد بگوی وکان الله له)

صفحہ ٣٩٨

حصہ اول

سوانح مرزا، از زبان مرزا، المعروف اعمالنامہ مرزا

اسرائيل: ١٤) ”اپنا اعمالنامہ پڑھ لے، آج خود اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے۔ ﴿

نسب و خاندانی حالات

”میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، یہ ہماری قوم مغل ١ برلاس ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)

”میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی اور میں ان دونوں مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

”الہام میرے نسبت یہ ہے کہ :’لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس“ یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا کہ یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جا کر اس کو لے لیتا۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٥، خزائن ج ١٣ ص ١٦٣ حاشیہ در حاشیہ)

”الہام سے ایک لطیف استدلال میرے بنی فاطمہ ہونے پر ہوتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٧)

”بخاری ٢ یا سمرقندی الاصل ہوتا ...... یہ دونوں علامتیں صریح اور بین طور پر اس عاجز میں ثابت ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١١٩، خزائن ج ٣ ص ١٥٩ حاشیہ)

١ مرزا قادیانی قوم کے مغل اور تاتاری الاصل ہیں۔ جن کو ابو داؤد کی حدیث میں نبی ﷺ نے امت کا ہلاک کنندہ فرمایا ہے۔ چنگیز خان اور ہلاکو خان اسی نسل سے تھے۔ مغل منگولیا سے آئے تھے۔

٢ تریاق القلوب میں مرزا قادیانی اپنا تعلق چین سے ظاہر کرتے ہیں۔ نیز ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں نیز بنیامینم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار۔ (درثمین ص ٧٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣) معلوم نہیں چینی الاصل، سمرقندی الاصل، بخاری الاصل اور فارسی الاصل میں سے کون سی بات صحیح ہے اور ایک آدمی کی بے شمار نسلیں کیسے ہو سکتی ہیں؟ کبھی اسرائیلی بنتے ہیں اور کبھی فاطمی، اور کبھی مغل برلاس کہلاتے ہیں۔ (مؤلف)

٥

صفحہ ٣٩٠

”شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی ۔“

(ازالہ ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦١)

”سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔ جن کے پاس اس وقت ٨٥ گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے ...... میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد پر سکھ غالب آئے اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے۔ رام گڑھی سکھوں نے قبضہ کر کے قادیان کو تباہ کر دیا۔ سکھوں نے ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ پھر رنجیت سنگھ کے زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیان میں واپس آئے اور انہیں کچھ گاؤں واپس ملے۔ غرض ہماری پرانی ریاست ١؎ خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔“

(کتاب البریہ ص ١٤٧ تا ١٥٨ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٥ تا ١٧٦ ملخصاً)

”قادیان کو خدا تعالیٰ نے دمشق سے مشابہت دی اور یہ بھی اپنے الہام میں فرمایا کہ اخرج منہ الیزیدیون “

(ازالہ اوہام ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٧)

”جس میں ایسے لوگ ٢؎ رہتے ہیں جو یزید الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٦، خزائن ج ٣ ص ١٣٥)

”(انگریزی سلطنت کے زمانہ میں) میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں مشہور رئیس تھے۔ گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے ...... اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بصلہ خدمات عمدہ عمدہ چٹھیا جات خوشنودی مزاج انکو ملی تھیں۔“

(کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

١؎ بخاری شریف کتاب الجہاد میں ہے کہ ابوسفیانؓ سے ہرقل شہنشاہ روم نے حضور اقدسﷺ کے متعلق جو سوالات کئے تھے۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا ۔ ”اس کے باپ دادا سے کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ “ ابوسفیانؓ نے کہا ”نہیں“ ہرقل نے اس جواب پر کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھ لیتا کہ نبوت کے بہانے سے باپ دادا کی سلطنت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ فافہم !مؤلف ۔

٢؎ ایسے لوگ کون تھے؟۔ اس سوال کا جواب مرزائی لٹریچر سے ملے گا۔ اہل بیتؓ اور حضرت امام حسینؓ کی مرزا نے سخت توہین کی ہے۔ اس لئے ہم بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ واقعی قادیان میں یزیدی الطبع لوگ پیدا ہوئے تھے۔ (مؤلف)

صفحہ ٣٩٧

”گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں۔ اس لئے نہ کسی تکلف سے بلکہ میرے رگ وریشہ میں شکرگذاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کے سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں۔ جو وہ خلوص دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجالائے۔ انہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گذاری اور اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو۔ دکھلا نہیں سکتا۔ ١٨٥٧ء کے مفسدہ میں جبکہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیا۔ تب میرے والد بزرگوار نے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چودہ سوار سے خدمت گذاری کی اور انہیں مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے۔ انہوں نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گذاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی ...... اور بعد اس کے اس عاجز کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر جب تک زندہ رہا اس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم بقدم چلا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں بدل و جان مصروف رہا۔“

(شہادۃ القرآن ص٨٢، خزائن ج٦ ص٣٧٨)

پیدائش

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔“

(کتاب البریہ ص١٥٩، خزائن ج١٣ ص١٧٧ حاشیہ)

”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص١٦٦، خزائن ج١٧ ص٢٥٢ حاشیہ)

”واضح ہو کہ الف ششم ١٢٧٠ھ کو ختم ١؎ ہوا تھا۔“

(الحکم مورخہ ٦ جنوری ١٩٠٨ء)

”میں توام پیدا ہوا تھا۔ ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی چند دن کے بعد فوت ہو گئی۔“

(کتاب البریہ ص١٥٩، خزائن ج١٣ ص١٧٧ حاشیہ، برحاشیہ)

”میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا اور نہ اپنے دوسرے

١؎ اس حساب سے مرزا کی پیدائش ١٨٣٩ء مطابق ١٢٥٦ھ ثابت ہوتی ہے۔

صفحہ ٣٩٨

بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصہ پایا...... میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست اور ملک داری لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آ کر بالکل ختم ہو گیا۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٠، ١٦١، خزائن ج ١٣ ص ١٧٨، ١٧٩)

تعلیم

”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی ١؎ خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا...... میں نے صرف کی کچھ کتابیں اور قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو، منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد سے پڑھیں ٢؎ ۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١ حاشیہ)

”میرے استاد ایک بزرگ شیعہ تھے۔“

(دافع البلاء ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٣)

١؎ انبیاء کی شان یہ ہوتی ہے کہ ان کا دنیا میں کوئی استاد نہیں ہوتا اور دنیا میں امی کہلاتے ہیں۔ خداوند کریم ان پر علوم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ امام مہدی دینی علوم میں کسی کا شاگرد نہ ہوگا۔ مہدویت اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے مرزا قادیانی اپنے استادوں کو بھول گئے اور نہایت بے حیائی سے اعلان کرنے لگے۔

دگر استاد را نامے ندانم
کہ خواندم در دبستان محمدؐ

(درثمین ص ٩٦، آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٢؎ مرزا قادیانی نے بغرض ترقی روزگار جبکہ وہ سیالکوٹ کی عدالت خفیفہ پر پندرہ روپیہ ماہوار پر محرر تھے۔ مختاری کا امتحان دیا تھا۔ مگر اس میں فیل ہوگئے۔ (عشرہ کاملہ) گویا ترقی کے تمام ذرائع سے مایوس ہو چکے تھے۔ تب دعویٰ نبوت کیا۔

صفحہ ٣٩٩

شباب

”ان دنوں میں ١؎ مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔۔۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباء و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا، ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور ان کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہ تھا۔ اس لئے اکثر ٢؎ والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ بنتا رہا۔۔۔ ایک دفعہ ایک صاحب کمشنر نے قادیان آنا چاہا۔ میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئے۔ مگر میری طبیعت نے نہایت ٣؎ کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا۔ اس لئے نہ جا سکا۔ پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٣ تا ١٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨١ تا ١٨٣)

”چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت (محکمہ عدالت خفیفہ) میں بسر ہوئی۔۔۔ اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔ بہتوں کو تکبر، بدچلنی اور لاپرواہی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ اور شیطان کے بھائی پایا اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ

١؎ اغلباً یہ کتابیں بہاء اللہ ایرانی و دیگر کاذب مدعیان نبوت یا کاذب بانیاں مذاہب کی کتابیں ہوں گی اور انہی کتابوں سے نیا مذہب ایجاد کرنے کی تجاویز سوچی ہوں گی تا کہ آبائی ریاست کے بدلہ میں کسی قسم کا اقتدار حاصل ہو سکے۔ مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے کہ:

بہر مذہبے غور کردم بسے
ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے

(دُرّثمین ص ٣٠، براہین احمدیہ ص ٩٥، خزائن ج ١ ص ٤٥)

٢؎ قبل دعوٰی نبوت کی زندگی مرزا قادیانی کی بالکل غیر معروف ہے۔ مگر اس عبارت سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی مقدمہ بازی میں گذری اور والد کی ناراضگی کا نشانہ بھی بنتے رہے۔

٣؎ انگریزوں کی اطاعت و خوشامد جب عین اسلام تھی۔ پس مرزا قادیانی اسلام سے نکل گئے اور والد کی نافرمانی کر کے والدین سے عاق ٹھہرے۔

٩

صفحہ ١٠

حاصل نہ ہوں۔ اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے ایسے رہنا پڑا۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٦ تا ١٦٨ حاشیہ ،خزائن ج ١٣ ص ١٨٤ تا ١٨٦)

”حیات مسیح کا عقیدہ مشرکانہ شے ہے۔“ (دافع البلا ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥) ”حیات مسیح کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠)

”(اور جب میں) حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا۔ جس کا انجام آخر سناٹا ہی تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن واضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقع حاصل ہوتا تھا۔۔۔ فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخری حصہ

١؎ ایسے گندے ماحول میں رہنے سے ہی مرزا قادیانی کے حالات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب لجۃ النور میں زبان بازاری کے حالات اس قدر بسط سے درج کئے ہیں کہ بغیر کسی واقف راز و محرم اسرار کے قلمبند نہیں ہو سکتے۔ اغلباً ان کی صحبت کا بھی تجربہ ہوا ہوگا۔ شاید گھر کے بھیدی مرزا ناصر نواب مرزا قادیانی کے خسر نے انہیں صحبتوں کے طرف اشارہ کر کے کہا ہو۔

بدمعاش اب نیک از حد بن گئے
بوسیلہ آج احمد بن گئے

٢؎ مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق اپنی عمر کے ٥٢ برس حیات مسیح کے عقیدہ پر قائم رہ کر مشرک رہے۔

٣؎ خسر الدنیا والاخرۃ شہیدان دہلی کے خون بے گناہ کا صلہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا؟۔

٤؎ یعنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کے لئے دوسرے ذرائع اختیار کرنا یعنی نبوت مہدویت کے دعاوی کے لئے دلائل تجویز کرنا۔

صفحہ ٤٠١

زندگی کا مصیبت اور غم و حزن میں ہی گذرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر ناکامی تھی۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٩ تا ١٧٢ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٧ تا ١٩٠)

”(والد کی وفات سے پہلے) تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا۔ ”والسماء والطارق“ یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضاء و قدر کا مبداء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو ١؎ جائے گا ۔“

(کتاب البریہ ص ١٩٣ ، خزائن ج ١٣ ص ١٩٣ حاشیہ )

نبوت و مسیحیت کے دعاوی سے اصل غرض

”پھر ان دونوں (والد اور بھائی) کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا ۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا ۔۔۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے۔ بجز اس کے عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطاء کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دئے گئے ۔۔۔ سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں ۔ اگر چہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو

١؎ مرزا قادیانی کے حصہ میں بھی ناکامی و نامرادی لکھی تھی۔ محمدی بیگم کے عشق میں جلتے رہے اور نکاح آسمانی کی حسرت لئے ہوئے دنیا سے چل بسے ۔ کوئی کام بھی ان کا پورا نہ ہوا۔ لاہور میں مرے اور خر دجال پر لاد کر قادیان میں جا کر دفن ہوئے ۔ یہ اغلباً اپنی حالت بیان کر رہے ہوں گے۔

نوٹ : مرزا قادیانی سے پہلے حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکیؒ و مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ ، مولوی آل حسن صاحب مرحوم ، مولوی سید ابوالمنصور دہلویؒ ، امام فن مناظرہ و ڈاکٹر وزیر علی صاحب کی لاجواب کتب عیسائیوں اور آریوں کے رد میں شائع ہو چکی تھیں ۔ جن سے مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں مدد لی اور ان کے دلائل کا سرقہ کیا۔ مرزا قادیانی کو خود بھی اقرار ہے کہ انہوں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٠)

٢؎ مرزا قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ٤٨ ، خزائن ج ١٧ ص ١٦٧) پر لکھتے ہیں ۔ ”ہم کو تجربہ ہے اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں ۔“ یہ تجربہ غالباً اپنی ذات پر کیا ہوگا اور یہ ذکر اپنی حالت کے متعلق فرمایا ہوگا۔

١١

صفحہ ٤٠٢

نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور دعا سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اس زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہ کروں گا۔ جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو۔ جن کا شکر ہر مسلمان پر واجب ہے۔‘‘

(نور الحق حصہ اول ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٨، ٣٩)

کتابیں لکھنے سے اصل غرض

’’سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہر ایک کتاب میں، میں نے لکھا ہے دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے اور مسلمانوں کی اولاد کی ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان میں سے جائز نہیں۔ جو اس پر خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ ان پر اس گورنمنٹ کا شکر واجب ہے اور اس کی اطاعت ضروری ہے ........ جو شخص آدمیوں (انگریزوں) کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اس نے خدا کا بھی شکر ادا نہیں کیا ........ سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو یعنی دور دور ولایتوں میں بھیجا ہے۔ جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں۔ تا کہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے راہ راست پر آ جائیں اور تا کہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں ........ یہ میرا کام اور یہ میری خدمت ہے ........ پس اسی وجہ سے میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا تا کہ اس ١؎ کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کو دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری کتاب حمامۃ

١؎ یعنی اسلامی حکومتوں سے بغاوت کر کے انگریزی حکومت کی ماتحتی قبول کر لیں۔ افسوس کہ علمائے کرام آج تک حیات مسیح وغیرہ کی بحثوں میں مرزائیوں سے الجھے رہے ۔مرزائی جماعت ہرگز مذہبی فرقہ نہیں ہے۔ بلکہ مذہب کی آڑ میں ایک خطرناک پولیٹیکل جماعت ہے۔ جو اقصائے عالم میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور اغیار کا غلام بنانے اور جذبہ جہاد کو فنا کرنے میں مشغول ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ موقوف مگر جنگ یورپ اور جنگ افغانستان میں ترکوں اور افغانوں کے خلاف لڑنا سب سے بڑا کار ثواب سمجھا گیا۔ میاں محمود نے کہا تھا کہ ’’اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو اس جنگ میں بحیثیت رضا کار شریک ہوتا۔‘‘ (انوار خلافت ص ٩٦) گویا ایسی مقدس جنگ سے محروم رہنے کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی۔ فافہم! (مؤلف)

١٢

صفحہ ٤٠٣

البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر کچھ رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے۔ تا کہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ خطاء پر ہیں۔‘‘

(نور الحق حصہ اول ص ٣٠، ٣١ خزائن ج ٨ ص ٤٠ تا ٤٢)

’’اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو پے در پے پہنچتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر ے کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہو گئے۔ جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان امیدوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔‘‘

(نور الحق ص ٣٢، خزائن ج ٨ ص ٤٤)

’’اول یہ کتابیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٢)

’’میں نے شکرگزاری کے لئے بہت سی کتابیں اردو اور عربی اور فارسی میں تالیف کر کے اور ان میں جناب ملکہ معظمہ کے تمام احسانات کو جو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے شامل حال ہیں۔ اسلامی دنیا میں پھیلائی ہیں اور ہر ایک مسلمان کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دی ہے۔ لیکن میرے لئے ضروری تھا کہ یہ تمام کارنامہ جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں پہنچاؤں۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥)

ہوسکتا ہے۔ اس جاسوس اعظم نے وہ وہ کام کئے جس سے مسلمانوں کے دلوں میں ناسور پڑ چکے ہیں۔ خلافت اسلامیہ کی بربادی جزیرۃ العرب کا صلیب کے زیر اثر ہو جانا سب اسی جماعت کے کارنامے ہیں۔ امیر حبیب اللہ مرحوم کا قاتل مصطفی صغیر کانپوری انگورہ میں مصطفی کمال پاشا کو قتل کرنے کی سازش میں گرفتار ہو کر قتل کیا گیا تھا۔ عدالت میں اس نے بیان کیا تھا کہ میں عقیدتاً مرزائی ہوں۔ جرمن میں قادیانی مشن اسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا۔ مگر ہندوستان کے سادہ لوح عوام ابھی اس گروہ کے عزائم و مقاصد سے بے خبر ہیں۔ (مؤلف)

١٣

صفحہ ٤٠٤

مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ

”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں ۔ جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے ۔“

(ازالہ ص٥٦ حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٣٠)

”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات (برطانیہ کی ) میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچائے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچائے اور تو ان میں ہو۔ پس اگر اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں ۔“

(نور الحق ص٣٤،٣٣، خزائن ج٨ص٤٥)

”اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تمام مسلمانوں میں اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں ۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ ا....... والد مرحوم کے اثر نے ۔٢....... گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے ۔٣....... خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص٣، خزائن ج١٥ ص٤٩١)

”یہ عریضہ اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھوڑانے کے لئے آیا ہے ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ امن اور نرمی سے دنیا میں سچائی قائم کرے....... اور اپنے بادشاہ ملکہ معظمہ سے جس کی وہ رعایا ہیں ۔ سچی اطاعت کا طریق سکھائے ۔“

(تحفہ قیصریہ ص١، خزائن ج١٢ ص٢٥٣)

”خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ برطانیہ ہے۔ سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے ۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کی پابند ہیں ۔“

(تحفہ قیصریہ ص١١، خزائن ج١٢ ص٢٦٣)

”اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی نسبت پہلے نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک ایسا زمانہ ہوگا کہ دو قسم کے ظلم سے بھر جائے گا ۔ ایک ظلم مخلوق کے حقوق کی نسبت ہوگا اور دوسرا ظلم خالق کے حقوق کی نسبت ....... یہ ظلم ہوگا کہ جہاد کا نام لے کر نوع انسان کی خونریزی ہوگی ۔ یہاں تک کہ جو شخص ایک بے گناہ کو قتل کرے گا وہ خیال کرے گا کہ گویا وہ ایسی خونریزی سے وہ ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سواء اور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے

١٤

صفحہ ٤٠٥

بہانہ پر نوع انسان کو پہنچائی جائیں گی۔ چنانچہ وہ زمانہ یہی ہے۔ کیونکہ ایمان اور انصاف کے رو سے ہر ایک خدا ترس کو اس زمانہ میں اقرار کرنا پڑتا ہے ....... غرض مخلوق کے حقوق کی نسبت ہماری قوم اسلام میں سخت ظلم ہو رہا ہے۔ ..... پس خدا نے آسمان پر اس ظلم کو دیکھا۔ اس لئے اس نے اس کی اصلاح کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی خو اور طبیعت پر ایک شخص کو بھیجا ..... اور ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے صلح کاری کا پیغام لے کر آیا ....... جس حالت میں اسلامی قوموں میں سے کروڑ ہا لوگ روئے زمین پر ایسے پائے جاتے ہیں۔ جو جہاد کا بہانہ رکھ کر غیر قوموں کو قتل کرنا ان کا شیوہ ہے۔ مگر بعض تو اس محسن گورنمنٹ کے زیر سایہ رہ کر بھی پوری صفائی سے ان سے محبت نہیں کر سکتے ........ اس لئے حضرت مسیح کے اوتار کی سخت ضرورت تھی۔ سو میں وہی اوتار ہوں۔“

(درخواست بنام وائسرائے رسالہ جہاد ص ١ تا ٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٣ تا ٢٦)

مرزا قادیانی کی مناجات

”اے قیصرہ ملکہ معظمہ! ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند! ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں۔ جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لئے کر سکتا ہے۔ ہماری طرف سے تیرے حق میں قبول ہو۔ خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبال کا سلسلہ تاقیامت جاری رکھے اور تیری اولاد اور ذریت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھلاوے اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے ہم اس رحیم و کریم خدا کا بہت بہت شکر کرتے ہیں ...... جس نے ایسی محسنہ رعیت پرور، دادگستر بیدار مغز ملکہ کے زیر سایہ ہمیں پناہ دی اور ہمیں اس مبارک عہد سلطنت کے نیچے یہ موقع دیا ٢۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، ١٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٦، ٢٦٧)

”اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ۔ جیسا کہ ہم اس سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں اور اس سے نیکی کر۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٦)

کلمات ربی ...... ١٦ “ (مؤلف)

کرو حضور ﷺ نے تحریر فرمایا تھا ۔ اسلم تسلم ، اسلام لا سلامت رہے گا۔

١٥

صفحہ ٤٠٦

”میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں۔ یا الٰہی اس مبارکہ قیصریہ ہند دام ملکہا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

” (اے قیصریہ ) سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا۔ تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)

”اے ملکہ معظمہ قیصریہ ہند! خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔ تا کہ سب ملک کو رشک بہار بنادیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کا قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے ...... اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت ١؎ اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ہند ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩، ١٢٠)

”ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔“

(شہادۃ القرآن ضمیمہ ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

”گورنمنٹ کو یاد رہے کہ ہم تہ دل سے اس کے شکر گزار ہیں اور ہمہ تن اس کی خیر خواہی میں مصروف ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ضمیمہ ص ٨٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

”شائستہ مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاونت سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دین و دنیا کے لئے دلی جوش اور

١؎ ”لاتجد قوماً یؤمنون باللہ والیوم الاخر یؤادون من حاد اللہ ورسولہ (مجادلہ:٢٢)“ ﴿جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ (اے رسول) آپ اُن کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں۔﴾ اس آیت سے یعنی قرآن مجید کی نص سے مرزا کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔

١٦

صفحہ ٤٠٧

بہبودی وسلامتی چاہیں تا ان کے گورے اور سپید منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں۔ آخرت میں بھی نورانی اور منور ہوں۔‘‘

(اشتہار متعلق براہین احمدیہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥)

’’اے قیصریہ ہند خدا تجھ کو آفتوں سے نگاہ میں رکھے ...... ہم مستغیث بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔‘‘

(نور الحق ص ١٢٣ اول، خزائن ج ٨ ص ٣٢)

خدا کی تقدیس و تمجید

’’اس وجود اعظم کے بیشمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں۔ عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

’’اے ١؎ ربنا عاج، ہمارا رب عاجی ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)

’’مسیح اور عاجز کا مقام ایسا ہے۔ جسے استعارہ کے طور پر ابنیت کے الفاظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٤)

’’اور ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو خالق اور مخلوق میں پیدا کرنا اور مادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الہی کی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔ اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢ ملخصاً)

’’تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے اور مجھے ایسا ہی ہے۔ جیسے میری توحید اور مجھ سے اس اتحاد میں ہے۔ جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے ...... جس طرف تیرا منہ اس طرف خدا کا منہ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ٢؎ ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ...... اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر مجھے اپنے وجود میں پنہاں کرلیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ پھر میں ہمہ مغز ہوگیا۔ جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا کہ جس میں کوئی میل بھی نہیں تھی۔

١؎ لغت میں عاج استخوان فیل کو کہتے ہیں۔ ٢؎ (تحفہ گولڑویہ ص ٨٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٢) پر لکھتے ہیں کہ ’’دجال پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا۔‘‘ ثابت ہوا کہ مرزا دجال اکبر کے بروز تھے۔

١٧

صفحہ ٤٠٨

الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی…… اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی چیز چاہتے ہیں۔ سو پہلے تو میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے خلق پر قادر ہوں ۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ” انا زينا السماء الدنيا بمصابيح “

( کتاب البریہ ص ٨٦ تا ٨٧ ، خزائن ج ١٣ ص ١٠١ تا ١٠٨)

” ایک دفعہ انگریزی میں زور دار الہام ہوا۔ جس سے میرا بدن کانپ گیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی انگریز بول رہا ہے۔“

( براہین احمدیہ ص ٤٨٠، ٤٨١، خزائن ج ١ص ٥٧١، ٥٧٢)

” اللہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٥)

”میں خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کروں تو صحیح ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤ ملخصاً)

” خدا نے الہام کیا میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ۔“

(بشریٰ جلد ٢ ص ٧٩، تذکرہ ص ٤٦٠)

”ایک دفعہ خدا کو میں نے کہا کہ الہام میں میرا نام ظاہر کر دے۔ خدا تعالیٰ کو میرا نام لینے سے شرم دامنگیر ہوئی اور شرم کے غلبہ سے نام زبان پر لانا روک دیا اور بڑے ادب سے صرف مرزا صاحب کہا ۔“

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ٣٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٩ ملخص )

ملائکہ

”جبرائیل خدا سے سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور سے نسبت رکھتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ٩٢ ملخصاً)

”و بانفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں ۔“

(توضیح المرام ص ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠)

١؎ قرآن مجید میں ہے کہ ”لا تاخذه سنة ولا نوم“ مگر مرزا کا ملہم سوتا بھی ہے اور جاگتا بھی ہے۔

نوٹ: مرزا قادیانی کے پاس جو فرشتہ آیا کرتا تھا۔ اس کا نام ”ٹیچی ٹیچی“ تھا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

١٨

صفحہ ٤٠٩

عبادت

”جس بادشاہ کے زیر سایہ ہم بامن زندگی بسر کریں اس کے حقوق کو نگاہ رکھنا فی الواقعہ خدا کے حقوق کو ادا کرنا ہے اور جب ہم ایسے بادشاہ کی دلی صدق سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اس وقت عبادت ادا کر رہے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

”مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٤٥)

”اب حج کا مقام قادیان ہے۔“

(برکات خلافت ص ٥)

توہین انبیاء

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

”حضرت مسیح کے اجتہاد جو اکثر غلط نکلے اس کا سبب شاید یہ ہوگا کہ اوائل میں جو آپ کے ارادے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

”جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہاد میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

اگر کسی کو علم نہ ہو تو میں اسے اطلاع دیتا ہوں کہ ہندوستان سے باہر عربی بولنے والی دنیا آج احمدی جماعت کی حیثیت کو ایک جاسوس جماعت کی حیثیت سمجھتی ہے۔ جو گورنمنٹ کی خدمت کے لئے پیدا ہوئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جماعت کی آج وہ عزت نہیں رہی جو پہلے تھی۔“

الحمد للہ کہ مسلمان مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہو رہے ہیں اور مرزائیوں کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی عبادت و تبلیغ سے اطاعت نصاریٰ، قبلہ سے مراد انگریزی حکومت اور خدمت اسلامی سے مراد خدمتِ نصاریٰ ہے۔ اہلِ اسلام کو دھوکہ دینے والے الفاظ کے صحیح معنوں سے باخبر رہنا چاہئے۔

مرزا محمود الفضل ١٦؍ اکتوبر ١٩١٧ء میں لکھتا ہے کہ : ”تمام انبیاء کا مرزا کی ذات میں جمع تھا۔ وہ یقیناً محمد رسول اللہ جمیع کمالاتِ قدسیہ کا جامع ہے۔ وہ (مرزا قادیانی) خدائے برگزیدہ نبی جاہ و جلال کا نبی، عظیم الشان نبی، ایک لاکھ چوبیس ہزار کے شان رکھنے والے نبی، انت منی وانا منك ظهورك ظهوری ! مخاطب نبی تھا۔“

(زمیندار ٦؍ نومبر ١٩٣٢ء)

١٩

صفحہ ٤١٠

”دوسروں کے پانی جو امت میں سے تھے خشک ہو گئے ۔ مگر ہمارا چشمہ آخری دنوں تک بھی خشک نہیں ہوگا ۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٨ ، خزائن ج ١٩ص ١٧٠)

”اس (نبی کریمﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا ۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١ ، خزائن ج ١٩ص ١٨٣)

”(یسوع ) اگر وہ میرے زمانہ میں ہوتا تو اس کو انکسار کے ساتھ میری گواہی دینی پڑتی ۔“

(سراج منیر ص ٨٠ ، خزائن ج ١٢ص ٨٢)

”یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا ۔“

(ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ص٢٩١)

”یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے ۔ بلکہ چوروں ١؎ کی طرح کسی اور راہ سے آ گئے ۔“

(نزول المسیح ص ٣٥، خزائن ج ١٨ص ٤١٤ حاشیہ )

”(نبی ﷺ) اجتہادی غلطیوں سے محفوظ نہ تھے ۔“

(حقیقت الوحی ص ٤٠٥ ، خزائن ج ٢٢ص ٤٠٥)

”انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہو و خطا ہے ۔“

(ازالہ ص ٣٩٩، خزائن ج ٣ص ٣٠٧ ملخصاً )

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے ۔“

( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ص ٢٤٠ )

”عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم ، میں بعض رسولوں سے بھی افضل ہوں ۔“

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٨ ملخصاً )

”مسیح کے معجزات مسمریزم ٢؎ یا عمل الترب کا نتیجہ تھے ۔ اگر میں اس قسم کے شعبدوں

١؎ اس میں تمام انبیاء کو چور کہہ کر سب کی توہین کی ہے ۔ کسی کی تخصیص نہیں کی ۔

٢؎ مگر تحفہ قیصریہ میں ملکہ معظمہ کو خطاب کرتے ہوئے ٹوڈیانہ لہجہ میں لکھتے ہیں کہ: ”در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )

٢٠

صفحہ ٤١١

ٹوکرہ وہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔ ١؎

(ازالۃ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ ، ٢٥٧)

”مسیح بوجہ مسریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ ناکام رہے ۔“

(ازالۃ ص ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨ حاشیہ)

”ایک مرتبہ ٤٠٠ نبی کو شیطانی ٢؎ الہام ہوا اور ان کی پیشگوئیاں ٣؎ غلط ہوئیں ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٨ ملخص، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

”(یسوع) آپ کا خاندان بھی نہایت پاک ومطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”ایسے (یعنی مسیح) ایسے ناپاک متکبر راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرارنہیں دے سکتے ۔ چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

”مسیح کے حالات پڑھو تو یہ شخص اس لائق نہیں ہوسکتا کہ نبی بھی ہو ۔“

(الحکم ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٦)

”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں ۔ یہ سب یسوع کے حقیقی ٤؎ بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں ۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ)

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔۔۔ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان و ہند کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢، ٢٧٣)

واقعی مرزا قادیانی صرف ملکہ معظمہ اور اس کی حکومت کے لئے عزرائیل کی طرف سے تحفہ تھے۔ مگر افسوس ہے کہ یہ تحفہ خواہ مخواہ مسلمانوں کے گھروں میں گھس گیا۔

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

کیا ہے۔ مرزائی تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے۔

٢١

صفحہ ٤١٤

”حق بات یہ ہے کہ مسیح سے معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ،خزائن ج ١١ ص ٢٣٣ حاشیہ)

”خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ٢٣ ،خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”ایسا ہی اپنے امت کے سمجھانے کے لئے بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں خود اپنا غلطی کھانا (نبی کریم ﷺ نے) بھی ظاہر فرمایا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٠ ،خزائن ج ٣ ص ٣١١)

”پیش گوئیاں سمجھنے میں نبیوں نے بھی غلطی کھائی ہے۔ آنحضرت ﷺ پیش گوئی کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے۔“

(ازالہ ص ٣٩٥ ،خزائن ج ٣ ص ٣٠٤)

”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے مو بہ مو منکشف نہ ہوئی ..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“ (ازالہ ص ٦٩١ ،خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

”آسمان سے کئی تخت اترے۔ پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩ ،خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

جس نے مجھ میں اور مصطفیٰ میں فرق کیا۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩ ،خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

”خدا نے مجھے ٢ علم اولین و آخرین عطا کیا ہے۔“ (لجۃ النور ص ٦٣ ،خزائن ج ١٦ ص ٣٩٩)

نوٹ: مرزائی اپنے گرو سے توہین میں بڑھ گئے ہیں۔ حسب ذیل حوالے مرزا محمود موجودہ خلیفہ کی کتب سے دئے جاتے ہیں۔

١؎ مگر دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”ملہم سے زیادہ الہام کے معنی کوئی نہیں سمجھ سکتا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧ ،خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)

اس کے باوجود جب ذاتی غرض اور مطلب نکالنا چاہا تو نزولِ مسیح کی حقیقت کے متعلق لکھ دیا۔ ”اب خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر اس قول کی حقیقت ظاہر کر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کر دیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٥٩ ،خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)

٢؎ اولین و آخرین کا علم تو ایک طرف ذرہ مرزائی بتائیں کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:” قادیان لاہور سے جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔“

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ،مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

یہ کس جغرافیہ میں لکھا ہے؟۔

٢٢

صفحہ ٤١٣

اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ”آخرین منھم“ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اسلام کی اشاعت کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

”ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٣)

”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمدﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل نمبر ٥ ج ١٠ ص ١٥، ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)

”مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرتﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرتﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔“

(ریویو ج ٢٨ نمبر ٦ ، جون ١٩٢٩ء)

”مرزا قادیانی سے پہلے محمدﷺ کی روح دنیا میں موجود نہ تھی۔“

(الفضل نمبر ٧٠ ج ١٧ ص ٩، ١١ مارچ ١٩٣٠ء)

”رسول کریم کی کئی دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔“

(الفضل ج ١٤ نمبر ٧٠ ص ٥، ٤ مارچ ١٩٢٧ء)

”اب دیکھو نبی کریمﷺ جیسا انسان بھی بعض باتوں کو لوگوں کے ابتلا سے ڈر کر چھپالیتا تھا اور بعض امور کو محض لوگوں کے ابتلا کے ڈر سے چھوڑ دیتا تھا۔“

(تشحیذ الاذہان ماہ اکتوبر ١٩١٤ء)

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) باعتبار کمالات نبوت ، رسالت کے محمد رسول اللہ ہی ہیں۔“

(الفضل ج ٣ نمبر ١٠، ١٥ جولائی ١٩١٥ء)

”مرزا قادیانی عین محمد تھے۔“

(ذکر الٰہی ص ٦٠)

”مسیح موعود کی روحانیت (آنحضرتﷺ سے) اقویٰ ، اکمل اور اشد ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٤٧ ملخصاً)

”کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا ؎ ١ ۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

١؎ مرزائے قادیان کا ایک مرید یوں بکتا ہے کہ:

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٢٣

صفحہ ٤١٤

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا تھا۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٣)

مرزا قادیانی ١؎ اپنے متعلق لکھتا ہے کہ: ”مقام او مبیں از راہ تحقیر پیش رسولاں ناز کردند“

(تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)

”نبی کریم سے تین ٢؎ ہزار معجزات ظاہر ہوئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ ملخصاً)

”روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک ...... میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار۔“

(درثمین ص ٨٤، براہین احمدیہ ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)

”میں اور پیغمبر ﷺ ایک ذات ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

”معراج اس جسم کثیف ٣؎ کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (مرزا قادیانی) کو تجربہ ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ)

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(بدر نمبر ٤٣ ج ٢ ص ١٤، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٩ء)

١؎ مرزا قادیانی نے اپنے لڑکے مرزا محمود کے لئے کہا تھا کہ:

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد

(تذکرہ ص ١٦٥)

٢؎ مگر اپنے معجزے سمندر کے ریت کے ذروں کے برابر ظاہر کرتے ہیں۔

(تجلیات الٰہیہ ص ١٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١)

٣؎ اس گستاخ نے آنحضرت ﷺ کے جسم مبارک کو کثیف کہا اور معراج کی اعلیٰ درجہ کا کشف بتا کر خود بھی کئی دفعہ صاحب معراج ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

٤٢

صفحہ ٤١٥
آدمم نیز احمد مختار
در برم جامه همه بابرار
آنچه داد است هر نبی را جام
داد آں جام را تماما بتمام ١؂

( درثمین ص ١٧١، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

”مسیح شراب پیا کرتا تھا۔“

(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

”مسیح ایک کھاؤ پیؤ نہ عابد نہ زاہد نہ حق کا پرستار۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣،٢٤، نور القرآن نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٨٧)

صحابہ کرامؓ واہل بیتؓ

”ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ سوچ لو اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنار عاطفت میں ہوں۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٢ ، ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤، ١٨١)

”حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کو پورا ہوتے نہ دیکھ کر چند ٢؂ روز ابتلا میں رہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)

”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلا ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”بخدا اے (حسین میں ) کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٠، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

١؂ ان اشعار سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو افضل المرسلین ہونے کا دعویٰ تھا اور ہر نبی کے کمالات ان کی ذات میں جمع تھے۔ استغفر الله!

٢؂ بالکل غلط اور افتراء ہے۔

٢٥

صفحہ ٤١٦

”کوئی صحابہ میں سے یہی سمجھ بیٹھا تھا کہ ابن مریم سے ابن مریم ہی مراد ہے۔ تو تب بھی کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا۔“

(ازالہ ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧)

”میں وہی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ابوبکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بھی افضل ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

”حق بات تو یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔...... اس نے جوش میں اگر غلطی کھائی...... حضرت معاویہ بھی تو اصحابی ہی تھے جنہوں نے خطا پر جم کر ہزاروں آدمیوں کے خون کرائے۔“

(ازالہ ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

”یہ کیا جہالت ہے کہ صحابہ کو بکلی غلطی اور خطاء ١ سے پاک سمجھا جائے۔“

(ازالہ ص ٥٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

”صحیح مسلم میں نواس بن سمعان صحابی سے دجال ونزول مسیح علیہ السلام کے متعلق جو حدیث ہے اس کا یہ جواب دیا۔ بانی مبانی اس تمام روایت کا صرف ٢ نواس بن سمعان ہے اور کوئی نہیں ہے۔“

(ازالہ ص ٢٠٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٩ حاشیہ)

”آنحضرت ﷺ کے رفع جسمی کے بارے میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ ٣ کا یہی اعتقاد تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧)

”کیا ہمارے نبی ﷺ کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھنا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا ایسا عقیدہ نہیں ہے۔ جس پر صدر اوّل کا اجماع تھا؟۔“

(ازالہ ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٨)

١؎ صحابہ کے وہی اقوال جو مرزا قادیانی کے دعاوی کے خلاف ہیں۔ اس سے مراد ہوں گے ورنہ صحابہ کے سوا غیر معروف اشخاص کے غلط اور موضوع اور بالکل لغو غیر شرعی اقوال پیش کر کے ان سے اپنی صداقت ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔

٢؎ گویا مرزا قادیانی کے نزدیک صحابہ بھی جھوٹے تھے اور حدیثیں اپنی طرف سے گھڑا کرتے تھے۔

٣؎ مگر مرزا قادیانی فلسفہ و سائنس جدید کی آڑ لے کر معراج جسمانی کے منکر ہیں۔ جن لوگوں نے نبی ﷺ سے بلا واسطہ علم حاصل کیا ہو اور جن کی تعریف قرآن مجید کر رہا ہو جو شرف صحابیت سے مشرف ہوئے ہوں۔ ان سے بڑھ کر کون؟ مگر ان کو بے سمجھ جانا۔

٢٦

صفحہ ٤١٧

”حضرت فاطمہؓ...... (نے عین بیداری میں آ کر) اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ١١٨)

قرآن

”قرآن خدا کی کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

”(مکہ مدینہ اور قادیان) تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف ؂١ میں درج ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

”میں نے اپنے بھائی غلام قادر کو قرآن مجید میں انا انزلناہ قریباً من القادیان پڑھتے ہوئے سنا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

”قرآن مجید میں ان هذا من السا حران! از روئے موجودہ صرف ونحو غلط ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٤ خزائن ج ٢٢ ص ٣١٧ حاشیہ)

آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا بری ہمیں ست ایمانم

(درثمین ص ٧٢، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

”کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی ودماغی قویٰ پر اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کی ضروری ہے کہ اس کی نئی ؂٢ اور صحیح ؂٣

؂١ چونکہ موجودہ قرآن مجید میں قادیان کا نام درج نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے پاس کوئی اور قرآن ہے۔

؂٢ یعنی رسول اکرمﷺ کی بیان کردہ تفسیر کے خلاف نئی تفسیر۔ مؤلف

؂٣ اس نئی تفسیر کا بھی نمونہ سن لیجئے۔ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٧٢٢، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩، ٤٩٠ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ: ”آیت انا علی ذهاب به لقادرون میں ١٨٥٧ء کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد سے ثابت ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن مجید زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ یعنی انہیں ایام میں مسلمانوں نے ناجائز و ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ٤١٨

تفسیر کی جائے ۔ کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی اور نہ ایمانی حالت پر اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ فطری سعادت اور نیک روشی کی مزاحم ہو رہی ہے۔‘‘

(ازالہ ص ٢٦٦ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٤٩٤)

ازالہ میں ایک مجذوب کی بڑ درج کی ہے کہ ”مسیح لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔‘‘

(ازالہ ص ٧٠٨ خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)

”قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر لعنتیں کرتا ہے اور گندی گالیاں دیتا ہے۔“

(ازالہ ص ٤٢٦ ملخصاً حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١١٥)

”قرآن آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔ میں قرآن کو دوبارہ لایا ۔“

(ازالہ ص ٢٧٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)

احادیث نبوی

” ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی۔ اس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے۔ ورنہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔ ان الظن لا يغني من الحق شيئا ..... ماسوا اس کے اگر نہایت ہی نرمی کریں تو ان حدیثوں کو ظن کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدثین کا مذہب ہے اور ظن وہ ہے جس کے ساتھ کذب کا احتمال لگا ہوا ہے۔ مسیح موعود کے لئے بخاری میں حکم کا لفظ آیا ہے ..... حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے ۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٨، ٢٩ خزائن ج ١٩ ص ١٣٧ تا ١٣٩)

”ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کر سکتے ہیں ۔ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) نمک خوار کے رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔ حالانکہ یہ ان کے لئے جائز نہ تھا۔ ان لوگوں نے چوروں قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کر دیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔ پس اس حکیم وعلیم کا قرآن مجید میں بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے ۔ سورۃ فاتحہ میری صداقت کا نشان ہے۔ کیونکہ اس میں محمد کا لفظ موجود ہے۔ جس سے میرا نام احمد مشتق ہوا ہے۔

(اعجاز المسیح ص ١٣٥ خزائن ج ١٨ ص ١٣٩)

١؎ مگر دوسری طرف جب نیچریوں سے واسطہ پڑا اور نیچریوں نے کہہ دیا کہ مسیح موعود کی ضرورت نہیں اور مسیح موعود کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے تو کہنے لگے اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ”خدا کا کلام سمجھنا مشکل ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦١ خزائن ج ١٩ ص ١٧٣)

اور جب ضرورت پڑی تو موضوع ضعیف اور متروک احادیث سے بھی کام نکال لیا۔

صفحہ ٤١٩

اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

”ہم نے اس سے لیا جو حی و قیوم اور واحد لا شریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٧ ، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

”ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو اور کیا قصے دیکھنے والے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩ ، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

”جو شخص حَکَم ہو کر آیا......اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠ ، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

”کیوں جائز نہیں کہ راویوں نے عمداً ١؎ یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطا کی ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٠ ، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

میاں محمود احمد موجودہ خلیفہ قادیان الفضل نمبر ١٣٣ ، ج ٢ ص ٦ ، ٢٩؍ اپریل ١٩١٥ء میں لکھتا ہے کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنی۔“

مرزا لکھتا ہے کہ: ”الہام کیا گیا کہ ان علماء ٢؎ نے میرے گھر کو بدل ڈالا اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)

”سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادت آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٧٥ ، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)

”کسی معتبر عالم کا کتاب میں لکھ دینا قابل اعتماد ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٧٢ ، خزائن ج ٣ ص ٥٧٥ ملخصاً)

”گو اجمالی طور پر قرآن ، اکمل و اتم کتاب ہے۔ مگر ایک حصہ کثیرہ کا اور طریقہ

١؎ مذکورہ بالا حوالوں سے قارئین نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ علماء ، کون تھے جو کترنا تو درکنار ردی کی ٹوکری میں احادیث کو ڈال رہے تھے۔ نور الدین ، عبدالکریم ، احسن امروہی وغیرہ مرزائی مولویوں نے اسلام کے گھر کو بدل ڈالا۔

٢؎ یعنی جہاں اپنے مطلب کے موافق کوئی غلط اور موضوع قول کسی آدمی کا ملا اسے نقل کر دیا اور جہاں مطلب نکلتا نہ دیکھا وہاں صحیح احادیث کو بھی ٹھکرا دیا۔

٢٩

صفحہ ٤٢٠

”عبارات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے پتہ ہم نے لیا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

”کیا یہ اندھیر کی بات نہیں کہ محدثین کی تنقید اور توثیق کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ گویا ان سب کا لکھا ہوا نوشتہ تقدیر ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤١، خزائن ج ١٧ ص ١٥٦)

”محدثین سے بعید تھا کہ وہ ایک حدیث کو اپنے صحاح میں داخل کرتے باوجود اس بات کہ وہ جانتے تھے کہ وہ حدیث بے اصل ہے۔۔۔۔۔ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ دارقطنی اور تمام راوی اس حدیث کے اور تمام وہ لوگ جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا اور حدیثوں میں ملایا۔ اوّل زمانہ سے اس زمانہ تک مفسد اور فاسق ہی گزرے ہیں اور صالح آدمی نہیں تھے۔“

(نور الحق حصہ دوم ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٠٧)

”اور اہل حدیث خوب جانتے ہیں کہ صرف محدثین کا فتویٰ قطعی طور پر کسی حدیث کے صدق یا کذب کا مدار نہیں ٹھہر سکتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

چھوڑ کر فرقان کو آثار مخالف پر جمے سر پر مسلم اور بخاری کا دیا ناحق کا بار
جب کہ ہے امکان کذب و جرح اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہیں پر انحصار
جبکہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جبکہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار
پھر یقین کو چھوڑ کر کیونکر گمانوں پر چلیں خود کہو رویت ہے بہتر یا نقول پر غبار
تفرقہ اسلام میں لفظوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار

(در ثمین ص ٨٦، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦، خزائن ج ٢١ ص ١٤٦)

مرزائی تعلیم کا خلاصہ

”یہ گورنمنٹ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی ایک روحانی سرگرمی اور حق کی تلاش کا اثر ساتھ لائی ہے اور بلاشبہ یہ اس ہمدردی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ جو ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے دل میں برٹش انڈیا کی رعیت کی نسبت مرکوز ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٩)

”سو ہمارے لئے جناب باری تعالیٰ جل جلالہ نے دولت عالیہ برطانیہ کو نہایت ہی مبارک کیا کہ ہم اس بابرکت سلطنت میں اس ناچیز دنیا کی صدہا زنجیروں اور اس کے فانی تعلقات سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور خدا نے ہمیں ان امتحانوں اور آزمائشوں سے بچا لیا کہ جو دولت اور

١؎ دروغ گو را حافظہ نباشد ابھی حدیث کو ظن کا درجہ دے رہے تھے۔ ابھی تعریفیں شروع کر دیں۔

صفحہ ٤٢١

حکومت ریاست اور امارت کی حالت میں پیش آتے اور روحانی حالتوں کا ستیاناس کرتے ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٩ خزائن ج ١٢ ص ٢٧١)

”خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے۔ جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں۔ یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا..... جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے..... خدا تعالیٰ ہمیں صاف ٢؎ تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کرو۔ اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بنے رہو۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ اس صورت میں ہم سے زیادہ بددیانت کون ہوگا۔“

(شہادۃ القرآن ضمیمہ ص ٨٤ خزائن ج ٦ ص ٣٨١،٣٨٠)

”گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران رحمت بھیجا ہے۔ الہی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٢، ٩٣ خزائن ج ٦ ص ٣٨٩،٣٨٨)

”پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران

١؎ حکومت و سلطنت کا چھن جانا اور اغیار کا غلام ہونا بھی مرزا قادیانی کے مذہب میں خدا کی طرف سے انعام ہے۔ مؤلف

نوٹ: مگر اپنی مسیحیت کے ثبوت میں (ازالہ ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٧) ہر ایک مجذوب کا غیر شرعی الہام نقل کیا ہے۔ جس کے راویوں میں ٹھا کر داس پٹواری، بوٹا جھیور، سوبھا بھگت کے نام درج ہیں۔ مرزائیوں کی حدیث کی کتاب سیرۃ المہدی میں بڑے بڑے معزز راوی ہیں۔ مثلاً بیان کیا مجھ سے سردار جھنڈا سنگھ نے۔

٢؎ کیا کوئی مرزائی قرآن کی کسی آیت سے یہ صاف حکم دکھا سکتا ہے۔ (مؤلف)

صفحہ ٤٢٢

رحمت بھیجی ہے۔ جس سے پودہ ١؎ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٧، خزائن ج ٦ ص ٣٩٠ حاشیہ)

”سو اس عاجز نے جس قدر انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا۔ بلکہ قرآن شریف اور احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں۔ مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ضمیمہ ص ٩٧، خزائن ج ٦ ص ٣٩٣ حاشیہ)

”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے اس کے مطیع رہیں۔“ (ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)

”اسلامی سلاطین کا وجود اسلام کے حق میں بڑی مصیبت ہے اور دین کے لئے ان کے دن سخت ہی منحوس ہیں۔..... ان عیش پسند بادشاہوں کا وجود مسلمانوں پر بھاری غضب ٢؎ ہے۔ جو ناپاک کیڑوں کی طرح زمین پر لگ گئے ۔“

(الھدی وتبصرہ لمن یری ص ٤٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٨٥، ٢٨٦)

”سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی سے زیادہ وفاداری اور اطاعت دکھانی چاہئے۔ اس سلطنت کے ہمارے سر پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے۔ ہرگز نہیں ہو سکتے۔“

(کشف الغطاء ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٢)

”دیکھو میں حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب تلوار سے جہاد کا خاتمہ ہے ۔ مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی۔ بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔“

(رسالہ جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥)

اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی
بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی
یہ حکم سن کے جو بھی لڑائی پہ جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا

(درثمین ص ٢١، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٩)

١؎ اس سے مراد غالباً قادیانی دھرم ہوگا۔ (مؤلف)

٢؎ چنانچہ یہ سلاطین یورپ کی استعماری حکمت عملی میں سنگ گراں ثابت ہو رہے تھے اور مرزائیوں کے آقایان کی نظروں میں خار کی طرح کھٹک رہے تھے۔ اس لئے ان کی بدگوئی کئی جگہ مرزا نے اپنی کتب میں کی۔ (مؤلف)

٣٢

صفحہ ٤٢٣

”فمن الحكم التي اودع هذا الدين ليزيد هدى المهتدين هو الجهاد الذي امر به في صدر زمن الاسلام ثم نهی ١؎ عنه في هذه الايام“

(اشتہار تحفہ گولڑویہ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٨١)

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧) پر یوں گوہر فشانی کرتے ہیں کہ:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

”جب حضرت مسیح علیہ السلام کو اس زہریلی ہوا کا پتہ لگ گیا جو عیسائیوں میں چل رہی تھی، تو آپ کی روح نے آسمان سے اترنے کے لئے حرکت کی اور یاد رکھو کہ وہ روح ٢؎ میں ہی ہوں۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٥٤ ملخص ، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤)

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ نے آہستہ آہستہ کم کرنا کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبیﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا ..... اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف ٣؎ کر دیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

١؎ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا کو ناسخ شریعت محمدیہ ہونے کا دعویٰ تھا۔ جہاد کا حکم اس کے زمانہ میں منسوخ ہو گیا تھا۔ یعنی مرزا کہتا ہے کہ جہاد جس کا حکم ابتدائے زمانہ اسلام میں تھا۔ وہ اس زمانہ میں میرے آنے سے اس سے منع کیا گیا ہے۔

٢؎ اس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی تناسخ کے قائل تھے۔

٣؎ گویا مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی اور ناسخ شریعت محمدیہ تھے۔ لہٰذا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ان کا دعویٰ غیر تشریعی نبی ہونے کا تھا۔ بالکل غلط ہے۔ مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) پر لکھتے ہیں کہ : ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

٤٢٣

صفحہ ٤٤٤

”میرے وقت میں خدا نے حج کو جانا بند کر دیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٦ ملخص)

عقائد کی سوداگری و تبادلہ (سمجھوتہ)

”(ہندو) ہمارے نبی ﷺ کو سچا مان لیں ...... تو میں سب پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر تیار ہوں کہ ہم احمدیہ سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے۔“

(پیغام صلح ص ٢٥، ٢٦، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٥)

”(اے اہل اسلام) جبکہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کر لو گے تو ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دور کر کے ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کر لیں گے....... یہ تفرقہ جو گائے کی وجہ سے ہے اس کو بھی درمیان سے اٹھا دیا جائے۔ جس چیز کو ہم حلال جانتے ہیں ہم پر واجب نہیں کہ ضرور اس کو استعمال کریں۔“

(پیغام صلح ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٨)

”ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔“

(پیغام صلح ص ٣٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)

”ہم خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں۔“

(پیغام صلح ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤)

مرزا قادیانی کی خدمات اسلام

”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے۔ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے

لے مندرجہ بالا حوالوں سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی آریہ امت اور اسلام کو ملا کر ایک نیا مذہب بنانا چاہتے تھے۔ جس کے وید کو منجانب اللہ الہامی کتاب مانیں اور تمام رشیوں کو مانتے ہوئے پیغمبر اسلام کو بھی تصدیق کریں اور گائے کے گوشت سے پرہیز کریں۔ دین کو بھی مرزا قادیانی نے دنیاوی معاملہ سمجھ کر سمجھوتہ سے کام لینا چاہا؟۔ فافہم! (مؤلف)

نوٹ : اگر چاہتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ آگے چل کر اسے سمجھوتہ کے طور پر بطور شرط پیش کرتا ۔

٣٤

صفحہ ٤٢٥

اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیال چھوڑ دئے ۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں ۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص ٤ ،خزائن ج ١٥ص ١١٤)

’’میں تمام امراء کی خدمت میں بطور عام اعلان کے لکھتا ہوں کہ اگر ان کو بغیر آزمائش ایسی مدد میں تامل ہو تو وہ اپنے مقاصد اور مہمات اور مشکلات کو اس غرض سے میری طرف لکھ بھیجیں۔۔۔۔۔ کہ وہ مطلب پورا ہونے کے وقت کہاں تک ہمیں اسلام کی راہ میں مالی ١؎ مدد دیں گے۔۔۔۔۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ بشرطیکہ تقدیر مبرم ٢؎ نہ ہو ۔ ضرور خدا تعالیٰ میری دعا سنے گا۔‘‘

(برکات الدعاء ص ٣٦،٣٥ ،خزائن ج ٦ ص ٣٦،٣٥)

’’میرے آنے سے اور میرے دعوٰیٰ کے بعد (اور ’’مسلمانوں کے باہمی تعلقات ٹوٹ گئے اور بھائی بھائی سے اور بیٹا باپ سے علیحدہ ہو گیا۔ سلام ترک کیا گیا۔‘‘

(سراج منیر ص ٥٤، خزائن ج ١٢ص ٥٦)

’’دنیا میں مسلمانوں کی تعداد چورانوے کروڑ ہے۔‘‘

(ست بچن ص ١٧، خزائن ج ١٠ص ١٩١)

١؎ کیا کسی نبی یا ولی نے دعائیں فروخت کی ہیں؟۔

٢؎ یہ شرط خوب لگائی ہے ۔ اس اشتہار کو دیکھ کر صاحب غرض اشخاص سے سینکڑوں روپیہ مرزا قادیانی نے وصول کر لیا ۔ کسی کا اگر کام ہو گیا تو رقم حاصل ہوگئی اور اگر اس کی مطلب برآری نہ ہوئی تو کہہ دیا کہ تقدیر مبرم ٹل نہیں سکتی ۔ سید امیر شاہ رسالدار سے ٥٠٠ روپیہ لے کر بیٹا پیدا ہونے کی دعا کی ۔ مگر ان کا کوئی بیٹا پیدا نہ ہوا ۔ اسی طرح کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں ۔ قادیانی کمپنی کا چیف ڈائرکٹر (مرزا قادیانی) لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے فن میں پورا مشاق تھا۔ (مؤلف)

٣٥

صفحہ ٤٢٦

مگر مرزا قادیانی کے زمانہ میں ”یہ تعداد چار لاکھ ١؎ رہ گئی ۔“

(پیغام صلح ص٢٦، خزائن ج٢٣ص٤٥٥)

”میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس میں جس قدر کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تحریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس امر مخالفت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم ومصر اور بغداد وافغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔“

(کتاب البریہ ص٦، ٧، ٨، خزائن ج١٣ص ایضاً)

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے۔ میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے اور میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دینے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ص١٥٥، ١٥٦)

یہ حکم سن کے جو بھی لڑائی میں جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
اک معجزہ ٢؎ کے طور پر یہ پیش گوئی ہے
کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

(درثمین ص٢٠، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٨، خزائن ج١٧ص٧٩)

١؎ باقی ٩٣ کروڑ چھیاسی لاکھ مسلمان بوجہ انکار مرزا حسب عقائد قادیانی کافر ہو چکے تھے۔ لہٰذا مرزا صاحب سے یہ بڑی خدمت اسلام ظاہر ہوئی۔

٢؎ انبیاء کے معجزوں سے مردے زندہ ہوا کرتے تھے۔ دین حق کا بول بالا ہوا کرتا تھا۔ ان کے معجزے دین کی ترقی کے لئے ہوا کرتے تھے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٣٦

صفحہ ٤٢٧

”آج کل یہ کوشش ١ ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہے کم کر دیا جائے اور بدسرشت ٢ مولویوں کے حکم و فتویٰ سے دین اسلام سے خارج کر دیئے جائیں اور اگر ہزار وجہ اسلام کی پائی جائے تو اس سے چشم پوشی کر کے ایک بیہودہ اور بے اصل ٣ وجہ کفر کی نکال کر ان کو ایسا کافر ٹھہرایا جائے کہ گویا وہ ہندوؤں ٤ اور عیسائیوں سے بھی بدتر ہیں...... ایسے مادہ کے لوگوں کو الہام ٥ بھی ہو رہے ہیں کہ فلاں مسلم کافر ہے اور فلاں مسلم جہنمی ہے اور فلاں ایسا کفر میں غرق ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہ ہو گا اور درندگی کے جوشوں کی وجہ سے لعنتوں ٦ پر بڑا زور دیا جاتا ہے اور لعنت بازی کے لئے باہم مسلمانوں کے مباہلہ کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔“

(ازالہ ص ٥٩٥ خزائن ج ٣ ص ٤٤١)

”اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لاپرواہی کی۔ اس کا نام بھی (مریدوں سے) کاٹ دیا جائے گا۔“ ٧

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٩)

”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ١٢٩)

”ریاست کابل میں ٨٥ ہزار آدمی مریں گے۔“

(الحکم ٣٠ ستمبر، ملفوظات ج ٩ ص ٤٠٠)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) مرزا قادیانی کے معجزے دین حق کی تذلیل کفار کی فتح و نصرت اور مسلمانوں کی ہزیمت کی شکل میں صادر ہوئے۔ خواجہ کمال الدین نے اپنی کتاب مجدد کامل کے صفحہ ١٢٢ پر عالم اسلام کی تباہی کو اس پیشگوئی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ (مؤلف)

١ قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کوشش کرنے والے کون تھے۔ ان کا سرغنہ کون تھا۔ جس نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر قرار دیا اور صرف اپنی تعلیم اور بیعت کو مدار نجات قرار دیا۔ فافھم فتدبر !

٢ یعنی مولوی نور الدین، عبد الکریم، مرزا محمود، احسن امروہی وغیرہ مرزائی مولویوں کے حکم سے۔

٣ یعنی انکار مرزا۔

٤ یعنی ...... مرزا نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہندوؤں کے لئے پیغام صلح لکھا تھا۔ مگر مسلمانوں سے جو سلوک کیا وہ اظہر من الشمس ہے۔

٥ ”جیسے یہ الہام کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(خط مرزا بنام ڈاکٹر عبدالحکیم، حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) (بقیہ حاشیہ ٦، ٧ اگلے صفحہ پر)

٣٧

صفحہ ٤٢٨

انبیاء و دیگر پیشوایان مذہب کی توہین کا نتیجہ

”اے عزیزو! قدیم تجربہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ مختلف قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو توہین سے یاد کرنا اور ان کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ١؎ ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے۔ بلکہ روح کو بھی ہلاک کر کے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے۔ وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبر دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت عرفی میں مشغول ہیں اور ان قوموں میں ہرگز ہی اتفاق نہیں ہو سکتا۔ جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یا رشی اور اوتار کو بدی یا بد زبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔ اپنے نبی یا پیشوا کی ہتک سن کر کس کو جوش نہیں آتا۔“

(پیغام صلح ص ٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٢)

”اور ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہرگز ٢؎ بدزبانی نہیں کرتے۔“

(پیغام صلح ص ٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٢)

”ومن او را بکلمات درد رساننده در غضب آوردم والفاظ دل ٣؎ آزار گفتم تاباشد کہ او برائے جنگ من برخیزد“

(انجام آتھم ص ٢٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ٦؎ مرزا قادیانی لعنت بازی میں بڑے مشاق تھے اور لعنت لکھنا اور دینا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ اپنی کتابوں میں کئی جگہ لعنت لعنت لعنت سینکڑوں دفعہ لکھتے گئے ہیں۔ کتاب (نورالحق ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢) میں ہزار دفعہ علیحدہ علیحدہ لعنت لکھی ہے۔ (مؤلف)

٧؎ یعنی غریب مسلمانوں سے چندہ لیا اور عیش کیا۔ جس نے چندہ نہ دیا وہ بیعت سے خارج یعنی کافر۔ کیا کسی نبی نے ایسی گداگری کی ہے۔ لا اسئلکم علیہ کہنا انبیاء کی سنت ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے گداگروں کی سنت پر عمل کیا۔

١؎ یہی زہر پھیلانے کے لئے مرزا قادیانی نے انبیاء کو گالیاں دیں اور ملک کے امن و آرام کو برباد کیا۔ ستیارتھ پرکاش میں چودھویں باب کا اضافہ کرایا۔ (مؤلف)

٢؎ دریں چہ شک قارئین ذرا توہین انبیاء میں مرزا قادیانی کی تہذیب اور صداقت کا ملاحظہ کر لیں۔ ایسے سفید جھوٹ کے عادی کو نبی ماننا مرزائیوں کا ہی کام ہے۔

٣؎ مرزا قادیانی (ازالہ ص ٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩) میں لکھتے ہیں کہ: ”جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اسے سب یا دشنام کہتے ہیں۔“ گویا مرزا قادیانی اپنا گالی دینا اور بد زبانی کرنا تسلیم کرتے ہیں۔

صفحہ ٤٢٩

”اور سخت الفاظ استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوجاتے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٩،خزائن ج ٣ ص ١١٧)

”ہندوؤں کی قوم کو سخت الفاظ سے چھیڑنا نہایت ضروری ہے۔“

(ازالۃ ص ٢٩،خزائن ج ٣ ص ١١٧ ملخصاً)

”ایسی مہذب (ہندو) قوم کی کتاب اور رشیوں کو برے الفاظ سے یاد کر کے آنحضرتﷺ کو گالیاں دلائیں۔ ایسی گالیاں تو درحقیقت انہیں لوگوں کی طرف ١؎ منسوب کی جائیں گی۔“

(پیغام صلح ص ٢٧،خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٥)

(نوٹ ذیل میں ملاحظہ ہو) ”سخت زبانی میں یہ بات داخل ہوگی کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ان الفاظ سے یاد کرے کہ وہ دجال ہے۔ یا بے ایمان ہے یا فاسق ہے۔ مگر یہ کہنا کہ اس کے بیان میں غلطی ہے یا وہ خاطی یا مخطی ہے۔ سخت زبانی میں داخل نہیں ہوگا۔“

(الصلح خیر مرزا کا اشتہار حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٩٩)

اخلاق مرزا

(اگر کوئی سخت الفاظ) ”اور عین محل پر چسپاں اور عندالضرورت ہو تو وہ اخلاقی حالت کے منافی نہیں ہے۔“

(ضرورۃ الامام ص ٧،خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

(امام زمان) ”پر آیت انك لعلى خلق ٢؎ عظیم کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے۔“

(ضرورۃ الامام ص ٨،خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

بدتر ہر ایک بد سے ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں ہے نجاست بیت الخلاء وہی ہے

(در ثمین ص ١٢، قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١،خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٨)

١؎ گویا آنحضرتﷺ کو جس قدر گالیاں آریوں نے دی ہیں وہ دراصل مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے دی ہیں۔

٢؎ خلق عظیم کا اندازہ اس سلوک سے ہو سکتا ہے۔ جو مرزا قادیانی نے اہل اسلام سے کیا ہے۔ جس کا ذکر اس کتاب میں دوسری جگہ درج ہے۔ انبیاء کرام کو جس قدر گالیاں دی ہیں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ عیسائیوں کو یک چشم، دجال، یاجوج ماجوج، مردہ پرست، گوہ کھانے والے، طوائف کی طرح لعنتی وغیرہ کے القاب دیئے اور آریوں کو اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ، شحنہ حق، و چشمہ معرفت میں نہایت کثرت سے گالیاں دی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک سخت فحش گالی دی کہ ”ہندوؤں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٠٦،خزائن ج ٢٣ ص ١١٤)

٣٩

صفحہ ٤٣٠

”مولوی سعد اللہ لدھیانوی فاسق، شیطان، خبیث، منحوس، نطفہ سفہاء، رنڈی کا بیٹا اور ولدا لحرام ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

”امیر اہل حدیث محمد نذیر حسین دہلوی، ابولہب نالائق ہے۔“

(مواہب الرحمن ص ١٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٨ ملخصاً)

اسی طرح مرزا کی تمام کتابیں بد اخلاقی کا مظاہرہ ہیں۔ نوٹ: مرزا قادیانی کی طرح مرزائی بھی جیسا موقعہ دیکھتے ہیں عمل کرتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی لکھتا ہے کہ: ”شیخ یعقوب علی تراب قادیانی نے ولائت جاتے ہوئے مجھے جہاز میں کہا کہ ہمیں یعنی جماعت قادیان کو آج سمجھ آگئی کہ غیر احمدیوں سے ہمارا اجتناب غلط ہے اور ہم اس کا ازالہ کریں گے۔ میاں محمود احمد صاحب اب دوسروں کو کافر کہنے میں متامل ہیں۔ اب ضرورت یا وقت نے یا شاید کسی کے اشارہ نے انہیں مجبور کیا کہ اس مسئلہ کو چھوڑ دیا ۔“

(مجدد کامل ص ٦٣)

اہل اسلام سے سلوک

”ہمارے مخالف حرامزادے ہیں۔“

(انوارالاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١ ملخصاً)

”مسلمان جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیاوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

علمائے اسلام کی شان میں یوں گوہر افشانی فرمائی۔ اے بدذات فرقہ مولویان، اندھیرے کے کیڑو، اندھے، نیم دہریہ، ابولہب، جنگل کے وحشی، نابکار، پلید، دجال بدبخت، مفتریو، اعمیٰ، اشرار، اوباش، پلید طبع، بدذات، بدچلن، باطنی جذام، ثعلب چوہڑے چمار، حمقاء، یہودیت کا خمیر رکھنے والے، خنزیر سے زیادہ پلید، خاکی گدھے، دل کے مجذوم، ڈوموں کی طرح سخرہ ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کردیں گے۔ زندیق، سگ بیگان، رئیس الدجالین، روسیاہ، روباہ باز، رأس المعتدین، رأس الغاوین، سفلی ملا بے بصر، سانپ، سفہاء، شریر، مکار، طالع منحوس، عقارب، غول الاغویٰ، بہیمت یا عبدالشیطان، کتے، کینہ ور، کمہا مادر زاد اندھے، گندی روحو، منافق مخذول، مہجور، مجنون، درندہ، نجس طینت، مولویوں کی بک بک نجاست سے بھرے ہوئے۔ وحشی طبع، ہامان، ہالکین، ہندو زادہ، علیہم نعال لعن اللہ ١ مسلمانوں کو ایسے منافق اور چال باز پارٹی سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

صفحہ ٤٣١

الف لعنۃ ١؎ الف مرۃ۔ (نقل از عصائے موسیٰ)

نوٹ: مرزا قادیانی نے اپنے تمام مخالفین کو ذریۃ البغایا قرار دیا اور بغایا کا ترجمہ کتاب (حجۃ اللہ ص ٣٥، خزائن ج ١٢ ص ٣٧١) پر زنان زانیہ اور (ص ٩٢، خزائن ج ١٦ ص ٤٢٨) پر زنان بازاری اور (ص ٩٥، خزائن ج ١٦ ص ٤٣١) پر زنان فاحشہ کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے ہزار ہا مقدس انسانوں کی ماؤں کو ایسی گندہ گالی دی ہے اور ایک ایسا الزام لگایا ہے۔ جس کی بناء پر وہ شریف انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔

مرزا محمود قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

”کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

”مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں۔“

(برکات خلافت ص ٧٣ تا ٧٥ ملخصاً)

”کسی مسلمان کے بچے کا بھی جنازہ نہ پڑھو۔“

(انوار خلافت ص ٩٣ ملخصاً)

”اب مسیح (مرزا قادیانی) اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین ٢؎ کو موت کے گھاٹ اتارے۔“

(عرفان الہٰی ص ٩٤)

”اللہ تعالیٰ نے آپ (مرزا قادیانی) کا نام عیسیٰ رکھا ہے۔ تاکہ پہلے عیسیٰ علیہ السلام کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا۔ مگر آپ اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔“

(تقدیر الہٰی ص ٢٩)

١؎ مسلمان درود ہزاری پڑھتے ہیں اور مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے بجائے درود ہزارہ کے ہزار ہزار لعنتیں نکلتی ہیں۔

٢؎ ١٩٣٤ء میں بمقام بھیرہ مرزائیوں نے ایک مسلمان کو بے گناہ قتل کر دیا تھا۔ حال ہی میں بمقام ڈیرہ بابا نانک مسلمانوں کے سروں کی اینٹوں اور لاٹھیوں سے مرزائیوں نے تواضع کی جلسہ اسلامیہ کے موقعہ پر بمقام قادیان نہتے بے گناہ مسافروں کو زدوکوب کیا گیا اور جہاد بالسیف کو حرام کہنے والوں نے جہاد بالاٹھی پر عمل کر کے گیس لیمپ پر اپنی قوت صرف کر دی۔ کار کنان مباہلہ پر جس قدر ظلم عظیم ہوا اس کی حقیقت دنیا پر آشکارا ہے۔ ان کے مکان جلا دیئے گئے اور ان کے ایک فرد مستری محمد دین کو مرزا محمود کے خاص مرید نے قتل کر دیا۔ غرض اس جماعت کی سفاکیاں دن بدن ناقابل برداشت صورت اختیار کر رہی ہیں۔ قادیان میں کسی مسلمان کا مال و جان و آبرو محفوظ نہیں۔ (مؤلف)

صفحہ ٤٣٢

”ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہی ہمدردی کرنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ تا کہ ان پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ شکاری کو کبھی غافل نہ ہونا چاہئے اور اس امر کا برابر خیال رکھنا چاہئے کہ شکار بھاگ نہ جائے یا ہم پر ہی حملہ نہ کر دے۔“

(تقریر مرزا محمود از الفضل ٢٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)

”خطبہ الہامیہ میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے آنحضرت کی بعثت اوّل اور ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر (یعنی مرزا کے نہ ماننے والے مسلمان) بعثت اوّل کے کافروں (کفار عرب) سے بڑھ کر ہیں۔“

(الفضل ج٣ ص١٠، مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء)

مرزائیت کی ترقی کے اسباب

”اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔ لیکن یہ دولت برطانیہ عالیہ اور با سیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے۔ خدا اس کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے۔“

(نور الحق ص٤، حصہ اوّل ،خزائن ج٨ ص٦)

”سو اِس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت میں جگہ دی۔ جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگر چہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٣، ٢٨٤)

”اکثر دور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں۔ چنانچہ بعض کو تیس تیس یا چالیس ١؎ چالیس روپیہ دینے کا اتفاق ہوا ہے اور دو دو چار چار تو معمول ہے۔“

(اشتہار انعقادِ جلسہ ملحقہ شہادۃ القرآن ،خزائن ج٦ ص ٣٩٩)

”انگریزوں نے ہمارے دین کو ایک قسم کی وہ مدد دی ہے کہ جو ہندوستان کے اسلامی بادشاہوں کو بھی میسر نہیں آسکی۔“

(ضرورۃ الامام ص٢٣، خزائن ج١٣ص٤٩٤)

١؎ رشوت۔ (مؤلف)

صفحہ ٤٣٣

”اگر براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا کچھ بھی ذکر نہ ہوتا اور صرف میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہوتا تو وہ شور جو سالہا سال بعد پڑا اور تکفیر کے فتوے تیار ہوئے یہ شور اسی ١؎ وقت پڑ جاتا۔“

(اعجاز احمدی ص ٩، خزائن ج ١٩ ص ١١٥)

”پھر میں بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی ٢؎ عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا ٣؎ کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”مجھے اس گورنمنٹ کی پرامن (برطانیہ) سلطنت اور ظل حمایت میں جو دل خوش ہے۔ نہ مکہ میں ہے، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ کابل میں، نہ ایران میں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠ حاشیہ)

-

گورنمنٹ کو مسلمانوں سے بدظن کیا

”حسین کامی سفیر روم قادیان میں میری ملاقات کے لئے آیا اور اس نے مجھے اپنی گورنمنٹ کے اغراض سے مخالف پا کر ایک سخت مخالفت ظاہر کی۔ وہ تمام حال بھی میں نے اپنے اشتہار مورخہ ٢٤ مئی ١٨٩٧ء میں شائع کر دیا ہے۔ وہی اشتہار تھا جس کی وجہ سے بعض مسلمان

١؎ مرزا نے حکمت عملیوں سے اسلام کے لباس میں آہستہ آہستہ اپنا اثر قائم کیا۔ درجہ بدرجہ دعویٰ کا اظہار کیا۔ پہلے مصلح قوم بنے۔ پھر مجدد، پھر مہدی اور پھر مسیح اور آخر کار اعلانیہ دعویٰ نبوت کر دیا۔ سادہ لوح عوام بتدریج مرزائی عقائد کو قبول کرتے گئے۔ (مؤلف)

٢؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”میں اپنے وحی یا الہام میں ذرا بھر بھی شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔ (تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢) مگر اس جگہ اقرار کرتے ہیں کہ بارہ برس کافر رہے۔ اب مرزائی کسی منہ سے لبثت فیکم عمرا والا استدلال پیش کرتے ہیں؟۔ کیا مرزا کی کافرانہ زندگی صداقت کی دلیل بن سکتی ہے؟۔

٣؎ یعنی زمین تیار ہو چکی۔ عقل کے اندھوں کی جماعت قائم ہو چکی۔ مریدین ومعتقدین کا جمگھٹہ ہو گیا اور حالات موافق ہو گئے۔ نیز اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ وفات مسیح کا عقیدہ صرف الہام کی بناء پر ہے۔ ورنہ قرآن وحدیث میں کسی جگہ وفات مسیح کا ذکر نہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی پہلے ہی متنبہ ہو جاتے۔ (مؤلف)

٤٣

صفحہ ٤٣٤

ایڈیٹروں نے بڑی مخالفت ظاہر کی اور بڑے جوش میں آ کر مجھ کو گالیاں دیں کہ یہ شخص سلطنت انگریزی کو سلطان روم پر ترجیح دیتا ہے اور رومی سلطنت کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس شخص پر خود قوم اس کی ایسے ایسے خیالات رکھتی ہے اور نہ صرف اختلاف اعتقاد کی وجہ سے بلکہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے سبب سے بھی ملامتوں کا نشانہ بن رہا ہے کیا اس کی نسبت یہ ظن ہو سکتا ہے کہ وہ سرکار انگریزی کا بدخواہ ہے؟ ۔ یہ بات ایک ایسی واضح تھی کہ ایک بڑے سے بڑے دشمن کو بھی جو محمد حسین بٹالوی ہے۔ اپنی شہادت کے وقت میری نسبت بیان کرنا پڑا .... کہ یہ سرکار انگریزی کا خیر خواہ اور سلطنت روم کا مخالف ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص ٩، ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠،٩)

’’میں نے اپنی تالیف کردہ کتابوں میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو کچھ نادان مولوی تلوار کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امر سچے مذہب کے لئے دوسرے رنگ میں گورنمنٹ برطانیہ میں حاصل ہے۔ مسلمان لوگ ایک خونی مسیح کے منتظر تھے اور نیز ایک خونی مہدی کی بھی انتظار کرتے تھے اور یہ عقیدے اس قدر خطرناک ہیں کہ ایک مفتری کاذب مہدی موعود کا دعویٰ کر کے ایک دنیا کو خون میں غرق کر سکتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں میں اب تک یہ خاصیت ہے کہ جیسا وہ ایک جہاد کی رغبت دلانے والے فقیر کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ ایسی تابعداری بادشاہ کی بھی نہیں کر سکتے۔ پس خدا نے چاہا کہ یہ غلط خیالات دور ہوں۔ اس لئے مجھے مسیح موعود اور مہدی موعود کا خطاب دے کر میرے پر ظاہر فرمایا کہ کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کا انتظار کرنا سراسر غلط ہے۔... افسوس کہ جس وقت سے میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر سنائی ہے کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے ... اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھ کو کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ یہ لوگ بنی نوع کی خون ریزی سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، ١٣، ١٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٥،٢٦٤)

’’بعض نادان مسلمانوں کا چال چلن اچھا نہیں اور نادانی کی عادات ان میں موجود ہیں ۔ جیسا کہ بعض وحشی مسلمان ظالمانہ خون ریزیوں کا نام جہاد رکھتے ہیں۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص ٢٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٠)

’’مسلمانوں میں دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں۔ کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر

٤٤

صفحہ ٤٣٥

مسلمانوں کا اصلاح پذیر ہوگیا ہے اور ہزارہا مسلمانوں کے دل میری بائیس تئیس سال کی کوششوں سے صاف ہوگئے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں۔ گویا ان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اور جبر کو ہی سمجھ لیا ہے....... افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے۔ جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔ دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو ان کے زعم میں دنیا کو خون سے بھر دے گا۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص ٩، ١٠ خزائن ج ١٥ ص ١٢٠، ١٢١)

’’اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہبی تعصب ان کے عدل وانصاف پر غالب آگیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جہالت سے ایک ایسے خون خوار مہدی کی انتظار میں ہیں کہ گویا وہ زمین کو مخالفوں کے خون سے سرخ کردے گا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اس غرض سے اتریں گے کہ جو مہدی کے ہاتھ سے یہود و نصاریٰ زندہ رہ گئے ہیں ان کے خون سے بھی زمین پر ایک دریا بہا دیں گے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

’’بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں اس مضمون کی بابت ...... اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ٩٦، خزائن ج ٦ ص ٣٩٢ حاشیہ)

’’ان لوگوں (مسلمانوں) کے مخفی اعتقاد اگر دیکھنے ہوں تو صدیق حسن کی کتابیں دیکھنی چاہئیں۔ جن میں وہ نعوذ باللہ ؎١ ملکہ معظمہ کو بھی مہدی کے سامنے پیش کرتا ہے اور نہایت برے اور گستاخی کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ جن کو ہم کسی طرح اس جگہ نقل ؎٢ نہیں کر سکتے۔ جو

؎١ نعوذ باللہ کا لفظ قابل غور ہے گویا ایسا خیال کرنا بھی یا ایسے خیال کو بھی نقل کرنا اللہ کا غضب لاتا ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک یہ کلمہ کفر کا ہوگا۔ (مؤلف)

؎٢ ہاں رب لندن کی توہین کے ذکر سے کلیجہ شق ہوتا ہوگا۔ مگر کتاب البریہ میں عیسائیوں اور آریوں کے وہ تمام بکواس اور گالیاں جو انہوں نے اپنی تصانیف میں اسلام اور داعی اسلام ﷺ کو دی ہیں۔ بغیر نعوذ باللہ کہے نہایت بے حیائی سے نقل کر دی ہیں۔ مؤلف

٤٥

صفحہ ٤٣٦

چاہے ان کی کتابوں کو دیکھ لے یہ وہی صدیق حسن ہے۔ جس کو محمد حسین نے مجدد بنایا ہوا تھا۔ بھلا کیونکر اور کس طرح سے اپنے مجدد سے ان کی رائے الگ ہو سکتی ہے۔۔۔۔ اب ان کی متناقض کتابیں جو گورنمنٹ کے سامنے کچھ بیان ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ اندرون حجرے کچھ بیان یہ ان کے منافقانہ طریق کو ثابت کر رہی ہیں اور منافق خدا کے نزدیک بھی ذلیل ہوتا ہے اور مخلوق کے نزدیک بھی یہی لوگ درحقیقت مشکلات میں ہیں۔ ان کے تو کئی عقیدے گورنمنٹ کے مصالح کے برخلاف ہیں۔ اب اگر منافقانہ طریق اختیار نہ کریں تو کیا کریں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٣٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤، ١٤٥)

’’بار بار اصرار ان (علماء) کا اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ ملک دارالحرب ہے اور اپنے دلوں میں جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں۔۔۔۔ جو شخص اس عقیدہ جہاد کو نہ مانتا ہو اور اس کے برخلاف ہو۔ اس کا نام دجال رکھتے ہیں اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ میں بھی مدت سے اس فتویٰ کے نیچے ہوں اور مجھے جو اس ملک کے بعض مولویوں نے دجال اور کافر قرار دیا اور گورنمنٹ برطانیہ کے قانون سے بھی بے خوف ہوکر میری نسبت ایک چھپا ہوا فتویٰ شائع کیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور اس کا مال لوٹنا بلکہ عورتوں کو نکال کر لے جانا بڑے ثواب ١؎ کا موجب ہے۔ اس کا سبب کیا؟۔ یہی تو تھا کہ میرا مسیح موعود ہونا اور ان کے جہادی مسائل کے مخالف وعظ کرنا اور ان کے خونی مسیح اور خونی مہدی کے آنے کو جس پر ان کو لوٹ مار کی بڑی بڑی امیدیں تھیں۔ سراسر باطل ٹھہرانا ان کے غضب اور عداوت کا موجب ہو گیا۔‘‘

(رسالہ جہاد ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ایضاً)

’’اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں کچھ گذارش کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ وہ مولوی جن کے عقائد میں یہ بات داخل ہے کہ غیر مذہب کے لوگوں اور خاص کر عیسائیوں کو قتل کرنا موجب ثواب عظیم ہے اور اس سے بہشت کی وہ عظیم الشان نعمتیں ملیں گی کہ وہ نہ نماز سے مل سکتیں ہیں۔ نہ حج سے نہ زکوٰۃ سے اور نہ کسی اور نیکی کے کام سے۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ درپردہ عوام الناس کے کان میں ایسے وعظ پہنچاتے رہتے ہیں۔ آخر دن رات ایسے وعظوں کو سن کر ان لوگوں کے دلوں پر جو حیوانات میں اور ان میں کچھ تھوڑا ہی فرق ہے۔ بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور وہ درندے ہو جاتے ہیں اور ان میں ایک ذرہ رحم باقی نہیں رہتا اور ایسی بے رحمی سے خونریزیاں کرتے ہیں۔ جن سے بدن کانپتا ہے اور اگرچہ سرحدی اور افغانی ملکوں میں اس قسم کے مولوی بکثرت بھرے پڑے ہیں۔ جو ایسے ایسے وعظ کیا کرتے ہیں۔ مگر میری رائے تو یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان بھی ایسے

١؎ جھوٹ اور افتراء کیا کوئی مرزائی ان الفاظ میں چھپا ہوا فتویٰ دے سکتا ہے۔ مولف

٤٦

صفحہ ٤٣٧

مولویوں سے خالی نہیں۔ اگر گورنمنٹ عالیہ نے یہ یقین کرلیا ہے کہ اس ملک کے تمام مولوی اس قسم کے خیالات سے پاک اور مبرا ہیں تو یہ یقین بے شک نظرثانی کے لائق ہے۔ میرے نزدیک اکثر مسجد نشین نادان مغلوب الغضب ملا ایسے ہیں کہ ان گندہ خیالات سے بری نہیں ہیں...... میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ گورنمنٹ کے احسانات کو فراموش کر کے اس عادل گورنمنٹ کے چھپے ہوئے دشمن ہیں۔"

(رسالہ جہاد ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ١٦)

"بعض مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ بجائے اس کے وہ اپنے دشمنوں سے پیار کریں۔ ناحق ایک قابل شرم مذہبی بہانہ سے ایسے لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں۔"

(رسالہ جہاد کا ضمیمہ بنام وائسرائے ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥)

"گورنمنٹ کے یہ سلوک اور احسان میں مسلمانوں کی طرف سے اس کا عوض یہ دیا جاتا ہے کہ ناحق بے گناہ بے قصور ان حکام کو قتل کر دیتے ہیں۔ جو دن رات انصاف کی پابندی سے ملک کی خدمت میں مشغول ہیں۔"

(ضمیمہ رسالہ جہاد بنام وائسرائے ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٤)

متضاد دعاوی

شد پریشان خواب من از کثرت تعبیرہا

(اشتہار براہین احمدیہ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢)

(ازالہ اوہام ص ٣٤٠، ٣٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨، ٣٣١)

(ازالہ اوہام ص ٥٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩ ملخص)

(ازالہ اوہام ص ٣٩، ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ١٢٢، ٣٣١)

(ضرورۃ الامام ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٤)

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

لے کیا چشم فلک نے اس سے بڑھ کر اپنی قوم سے غداری کی مثال پیش کی ہے۔ اس بظاہر ٹوڈی اعظم اور جاسوس اعظم بلکہ درپردہ برطانیہ کے سب سے بڑے دشمن کا بس چلتا تو ایک مسلمان بھی زندہ نظر نہ آتا۔ تمام علماء کو پھانسی دی جاتی۔ تب اسے صبر و قرار حاصل ہوتا۔ غدر کے بعد سے اب تک حکومت برطانیہ کی ہندونواز پالیسی اور مسلمانوں کو ہر میدان میں ٹھکرا دینے کی ذمہ داری اسی (مرزا قادیانی) پر عائد ہوتی ہے۔ اب تک انگریزوں کے دل مسلمانوں سے صاف نہیں ہوئے۔ مسلمانوں کی ہر طرح کی بربادی کا ذمہ دار یہی حسن بن صباح ثانی ہوا ہے۔ (مؤلف)

٤٧

صفحہ ٤٣٨

(اربعین نمبر ٤ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٥)

(آئینہ کمالات ص ٥٦٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(تذکرہ ص ٤٢٢)

(شہادۃ القرآن ص ٦٤، خزائن ج ٦ ص ٣٦٠)

(البشریٰ ص ١١٨، تذکرہ ص ٦٧٢)

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

(تذکرہ ص ٣٨١)

(تذکرہ ص ٣٦)

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٦)

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٦)

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٦)

(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(ازالہ اوہام ص ٧٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤١)

(شہادۃ القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)

(تذکرہ ص ٣٨٤)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

(تذکرہ ص ١٠٥)

(تذکرہ ص ٢٠٣)

(تذکرہ ص ٥٢٧)

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

٤٨

صفحہ ٤٣٩

(خطبہ الہامیہ ص ٥١ تا ٥٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

(البشری ج دوم ص ١٦، تذکرہ ص ٦٥٣)

(البشری ص ١١٨، تذکرہ ص ٢٧٢)

(مقدمہ براہین ص ١٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٣١)

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ، نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢ ملخصاً)

(خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ ملخصاً)

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥ حاشیہ)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥ حاشیہ)

نوٹ: مولوی محمد بشیر کوٹلوی نے خوب لکھا ہے کہ: کبھی احمد، کبھی آدم، کبھی عیسیٰ، کبھی مریم۔ یہ استقلال نہ ہونا ہی جھوٹوں کی نشانی ہے۔ مرزائیوں کے تمام فرقوں کو چیلنج ہے کہ وہ مرزا قادیانی کا دعویٰ متعین کر دیں کہ وہ کون تھے کیا تھے اور ان کا خاص دعویٰ کیا تھا۔ آج تک کسی نبی کے پیروؤں میں اپنے ہادی کا دعویٰ متعین کرنے میں اختلاف رونما نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آج تک لاہوری و اروپی، قادیانی و گناچوری، تیماپوری، چن بسویشوری وغیرہ۔ وہ صرف مرزا قادیانی کے اصل دعویٰ پر ہی جھگڑ رہے ہیں۔ دراصل مرزا قادیانی کے دعاوی اس کثرت سے ہیں کہ امت مرزائیہ میں ان کی بناء پر اختلاف کا ہونا لازمی امر تھا۔ دنیا کا کوئی عہدہ یا عزت ایسی نہیں۔ جسے حاصل کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے سعی نہ کی ہو۔

٤٩

صفحہ ٤٤٠

متضاد اقوال

بطور نمونہ چند اقوال ذیل ہیں کہ:

مسیح کی قبر گلیل میں ہے۔

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں ہے۔

(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے۔

(راز حقیقت ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧١، ١٨٢)

دجال دہریہ لوگ ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤٧ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٣)

با اقبال قومیں دجال ہیں اور ریل ان کا گدھا ہے۔

(ازالہ ص ٤٢٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤)

پادری دجال ہیں۔

(ازالہ ص ٧٢٢، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)

ابن صیاد ہی ١؎ دجال ہے۔

(ازالہ ص ٢٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢١١)

”خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا۔“

(کرامات الصادقین ص ٨، خزائن ج ٧ ص ٥٠)

”خدا اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)

”مسیح موعود اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٥ ملخصاً)

”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے۔ وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“

(ازالہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

”ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔“

(ازالہ ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

”آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولا نے نبوت کی شرط نہیں ٹھہرائی۔“

(توضیح المرام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ٥٩)

١؎ کیا یہی وہ حقیقت ہے جو آنحضرت ﷺ پر بقول مرزا منکشف نہ ہوئی تھی اور مرزا پر موبمو منکشف ہوئی۔ صرف دجال کی حقیقت کے متعلق چار مختلف اقوال مرزا کے موجود ہیں۔

٥٠

صفحہ ٤٤١

"وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔"

(ازالہ ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)

"جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے اس کا انہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

(ایام الصلح ص ١١٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٥١)

"صرف دو گھنٹے گزرے تھے۔"

(مسیح ہندوستان میں ص ٢٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٢)

"صرف چند منٹ گزرے تھے۔"

(ازالہ ص ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)

ہے۔"

(آئینہ کمالات ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨)

ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ حاشیہ)

(ریویو، نمبر ٩، ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٢)

"مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ)

(ازالہ ص ٦٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)

"حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے۔"

(ضمیمہ براہین حصہ ٥ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٤)

(الحکم ٤ نومبر ١٩٠٢ء)

"بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے ۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔"

(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠ حاشیہ)

تلک عشرۃ کاملہ

مرزا قادیانی کی کتب متضاد اور متناقض اقوال سے بھر پور ہیں۔ قارئین اس کتاب میں کئی جگہ اس اختلاف کا ملاحظہ کر چکے ہوں گے۔ اب ایسے اقوال کے قائل کے حق میں بھی مرزا قادیانی کا فیصلہ سنئے۔

٥١

صفحہ ٤٤٢

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان یا پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ص ١٤٣)

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی ہے کہ کھلا کھلا تناقض اپنی کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ص ١٩١)

”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی دو ایسے متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“

(ازالہ ص ٢٣٩، خزائن ج ٣ص ٢٢١)

”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین حصہ ٥ص ١١١، خزائن ج ٢١ص ٢٧٥)

نشانات صداقت

”مسیح موعود کے متعلق جو احادیث میں آیا ہے کہ ان پر ہر دو چادریں ہوں گی۔ ان سے مراد حسب تاویل تعبیر خواب دو بیماریاں ہیں۔ جو بندہ میں موجود ہیں۔ دوران سر اور کثرت پیشاب مؤخر الذکر اس شدت سے ہے کہ رات کو سو سو دفعہ پیشاب کرتا ہوں۔ اس کی وجہ سے خفقان اور ضعف قلب اس قدر ہے کہ ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر قدم رکھتا ہوں۔ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں اب مرا کہ مرا۔ اب جس شخص کو ہر وقت خوف جان لاحق ہو اور موت سامنے نظر آ رہی ہو۔ اس کو کب جرأت ہو سکتی ہے کہ خدائے لم یزل کی نسبت افترا پردازی سے کام لے۔ ڈاکٹروں نے تسلیم کیا ہے کہ کثرت پیشاب کا مریض مسلول و مدقوق کی طرح موت کے نرغہ میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اور گھل گھل کر اس کا تمام بدن لاغر ہو جاتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، ٥ خزائن ج ١٧ص ٤٧١)

حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”اس کی پیشگوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دنوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ حاشیہ)

”طاعون میری صداقت کا نشان ہے۔ طاعون میری نصرت کے لئے بھیجی ہے تاکہ نشان پورے ہوں۔“

(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ص ١٢٧)

٥٢

صفحہ ٤٤٣

"سورہ فاتحہ میری صداقت کی گواہ ہے۔ کیونکہ اس میں لفظ الحمد ہے۔ جس سے میرا نام احمد مشتق ہوا ہے۔"

(اعجاز المسیح ص ١٣٥، خزائن ج ١٨ ص ١٣٩)

"ایک دفعہ آپ نے گرم لقمہ چبایا تھا۔ تو بے ساختہ ران پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ تتا تتا تو اس وقت یہ پیش گوئی پوری ہوئی تھی کہ امام مہدی لکنت کی وجہ سے ران پر ہاتھ مار کر کلام کیا کریں گے۔ مسیح علیہ السلام کے وقت میں شیر اور بکری کا ایک جگہ مل کر پانی پینا۔ انگریزی حکومت کے کارڈوں پر مندرجہ تصویر سے ظاہر ہے۔"

(کادیج ا ص ٣٥٦)

"میری طاقت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا...... میں نے کشفی طور دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوا میں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی...... اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔"

(تریاق القلوب ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣، ٢٠٤)

شجاعت مرزا

"جب تک خدا کسی کے ساتھ نہ ہو یہ استقامت اور یہ بذل مال ہرگز وقوع میں آ ہی نہیں سکتی۔ کبھی کسی نے اس زمانہ کے کسی مولوی کو دیکھا یا سنا کہ اس نے دعوت اسلام کے لئے کسی اسسٹنٹ کمشنر انگریز کی طرف ہی کوئی خط بھیجا۔ لیکن اس جگہ صرف اس قدر بلکہ پارلیمنٹ لندن اور شہزادہ ولی عہد ملکہ معظمہ اور شہزادہ بسمارک کی خدمت میں بھی دعوت اسلام کے اشتہار اور خطوط بھیجے گئے۔"

(شہادۃ القرآن ص ٧٤، خزائن ج ٦ ص ٣٧٠)

جب گورنمنٹ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تو سابقہ رویہ چھوڑ کر نصیحت کرنے لگے کہ: "میں اس وقت بطور نصیحت اپنی جماعت کو خصوصاً اور تمام مسلمانوں کو عموماً کہتا ہوں کہ وہ اس طریق سخت گوئی سے اپنے تئیں بچاویں اور غیر قوموں کی باتوں پر پورے حوصلہ کے ساتھ صبر کر کے اپنے نیک اخلاق اور درگذر اور صبر کو گورنمنٹ پر ظاہر کریں...... سو یہی نصیحت ہے کہ اپنے طور پر کوئی اشتعال اور کوئی سختی مت کرو اور کسی آزار اٹھانے کے وقت حکام سے استغاثہ کرو۔"

(کتاب البریہ ص ٢٤٢، خزائن ج ١٣ ص ٣١٢)

گورنمنٹ کی تنبیہ سے مرعوب ہو کر لکھا کہ: "آئندہ میں پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انذاری پیش گوئی کی جائے۔ بلکہ آئندہ کے لئے ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ ہر کوئی ایسی انذاری پیش گوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں

٥٣

صفحہ ٤٤٤

کی جائے گی۔ جب تک وہ ایک تحریری حکم اجازت صاحب مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے۔‘‘

(کتاب البریہ، اشتہار واجب الاظہار ص ١١، خزائن ج ١٣ ص ١١)

’’میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ میں گالیاں نہ دیں۔‘‘

(رازِ حقیقت ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٥٣)

’’ہم نے صاحب ڈپٹی کمشنر کے سامنے یہ عہد کرلیا ہے کہ ہم آئندہ سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔‘‘ حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مدظلہ العالی کو خود ہی لاہور میں مقابلہ کی دعوت دی۔ جب پیر صاحب لاہور میں پہنچ گئے تو مرزا قادیانی مقابلہ میں نہ آئے اور اشتہار دیا کہ میں ’’بہر حال لاہور پہنچ جاتا......مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور ایسا ہی لاہور میں کمینہ اور سفلہ طبع لوگ گلی کوچوں میں گالیاں دیتے پھرتے ہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٠)

مگر دوسری طرف کہتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا کہ: ’’والله يعصمك من الناس‘‘ خدا تجھے لوگوں سے بچائے گا۔

(تذکرہ ص ٢٨٠)

اس سے مرزا قادیانی کے توکل علی الله اور الہام کی صداقت پر عدم ایمان کا ثبوت ملتا ہے اور اپنے آپ کو جری الله فی حلل الانبیاء لکھتے ہیں۔

نقل حکم عدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ

’’جی ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت سے مورخہ ٢٣؍اگست ١٨٩٧ء بمقدمہ سرکار بذریعہ ڈاکٹر کلارک بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان حسب ریمارک فیصلہ میں ہوئے۔ جو تحریرات عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ فتنہ انگیز ہے۔ انہوں نے بلاشبہ طبائع کو اشتعال کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ پس مرزا غلام احمد قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرات استعمال کریں۔ ورنہ بحیثیت صاحب مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کاروائی کرنی پڑے گی۔‘‘

(کتاب البریہ ص ٢٦١، خزائن ج ١٣ ص ٣٠١، ٣٠٢)

اس کے بعد عادت کی بناء پر مجبور ہو کر مرزا قادیانی سے نہ رہا گیا۔ اس لئے مسٹر ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر گورداسپور کی عدالت میں مورخہ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء مرزا غلام احمد قادیانی کو حسب ذیل حلفی اقرار نامہ داخل کرنے پر مجبور کیا گیا۔

میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر جان کر باقرارِ صالح

٥٢

صفحہ ٤٤٥

اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:۔

طور سے حقارت (ذلت) سمجھی جائے۔ یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔

دعا کی جائے کہ کسی شخص کو حقیر (ذلیل) کرنے کے واسطے جس سے ایسا نشان ظاہر ہو کہ وہ شخص مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مباحثہ مذہبی میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔

(ذلیل) ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے اظہار کے وجوہ پائے جائیں۔

کسی دوست یا پیرو کے خلاف گالی گلوج کا مضمون یا تصویر لکھوں یا شائع کروں۔ جس سے اس کو درد پہنچے ...... میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے یا اس کے کسی دوست یا پیرو کے برخلاف ...... اس قسم کے الفاظ استعمال کروں ۔ جیسا کہ دجال، کافر، کاذب، بطالوی میں کبھی اس کی آزادانہ زندگی یا خاندانی رشتہ داروں کے برخلاف کچھ شائع نہ کروں گا جس سے اس کو آزار پہنچے۔

مباہلہ کے لئے بلاؤں۔ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔ نہ میں اس محمد حسین یا اس کے دوست یا پیرو کو اس بات کے لئے بلاؤں گا کہ وہ کسی کے متعلق کوئی پیشگوئی کریں۔ (دستخط مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود)

(بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور فیصلہ ٢٥؍فروری ١٨٩٩ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ 1/3 سرکار دولتمدار بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان)

مرزا کی فتوحات

”عین کچہری میں اسے کرسی مانگنے پر اسے (مولوی حسین بٹالوی کو ) وہ ذلت اس کے نصیب ہوئی جس سے ایک شریف آدمی مارے ندامت کے مر سکتا ہے۔ یہ ایک صادق کی ذلت

نوٹ: اقرار نامہ ایک ایک لفظ غور سے پڑھ کر مرزا قادیانی کے اعتماد علی اللہ ! توکل اور شجاعت وغیرہ کی خفت اور صداقت کے نشانات کا مطالعہ کریں۔

٥٥

صفحہ ٤٤٦

چاہنے کا نتیجہ ہے۔ کرسی کی درخواست پر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑکیاں دیں اور کہا کہ کرسی نہ کبھی تجھ کوملی اور نہ تیرے باپ کو اور جھڑک کر پیچھے ہٹایا اور کہا کہ سیدھا کھڑا ہو جا اور اس پر موت پر موت یہ ہوئی کہ ان جھڑکیوں کے وقت یہ عاجز صاحب ڈپٹی کمشنر کے قریب ہی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ جس کی ذلت دیکھنے کے لئے وہ آیا تھا اور مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ اس واقعہ کو ١؎ بار بار لکھوں کچہری کے افسر موجود ہیں اور ان کا عملہ موجود ہے۔ ان سے پوچھنے والے پوچھ لیں۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ٤١، خزائن ج ١٣ص٥١٢)

’’مخالفوں کی بدظنی اور شتاب کاری سے ایک دوسری شکست بھی ان کو نصیب ہوئی اور وہ یہ کہ راقم سے ایک صد ستاسی روپے آٹھ پیسے انکم ٹیکس تشخیص ہو کر اس کا مطالبہ ہوا……سو اس نے ان تیرہ خیال لوگوں کی یہ مراد بھی پوری نہ ہونے دی اور بعد تحقیقات کامل ……انکم ٹیکس ٢؎ معاف کیا گیا۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ٣٥، خزائن ج ١٣ص٥٠٦)

نوٹ: مرزا قادیانی نے انجام آتھم و دیگر کتب میں اپنی ایک اور فتح کا بھی شدومد سے ذکر کیا ہے کہ صوفی عبدالحق غزنوی، مرزا قادیانی سے مباہلہ کرنے کے بعد خدائی غضب کا ایسا مورد بنا کہ اس نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی اور اسے کسی کنواری لڑکی سے نکاح کرنے کا موقعہ نہ ملا۔ مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء میں خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ ’’اے خدا تیرہ مہینوں کے اندر شیخ محمد حسین بٹالوی اور جعفر زٹلی اور تقی کو ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٦٠) تیرہ ماہ کے اندر ہی مولوی محمد حسین صاحب کو گورنمنٹ کی طرف سے مربے مل گئے اور ہر سہ اصحاب کی کسی قسم کی ذلت نہ ہوئی۔ تو مرزا قادیانی نے ١٧؍دسمبر ١٨٩٩ء میں اشتہار دیا کہ مولوی محمد حسین کو ذلت کی مار پڑ گئی۔ کیونکہ اس کو زمین مل گئی یہ بھی ذلت ٣؎ ہے۔

١؎ آپ کیوں نہ بار بار لکھیں۔ زندگی بھر میں یہ موقع ملا اور اپنے سفیر خدا سے ایک جھڑک مولوی صاحب کو دلوا کر اپنے خیالات میں اینٹورپ فتح کرلیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ اپنی اس عظیم الشان فتح کا ذکر کیا ہے۔ قارئین اس مرزا قادیانی کا سفلہ پن اور سفلہ مزاج ہونا معلوم کر سکتے ہیں۔ (مؤلف)

٢؎ دوسری فتح عظیم کو خاص عنوان اور خاص شان سے بعنوان انکم ٹیکس اور تازہ نشان بڑا اس نے شائع کیا تھا۔ ایسے نشان دیکھ کر مرزائیوں نے مرزا کو نبی تسلیم کیا۔

بریں عقل ودانش بباید گریست

٣؎ مرزا قادیانی کئی پشت سے زمیندار تھے۔ پس اپنے قول سے ہمیشہ سے ذلیل چلے آتے تھے۔

٥٦

صفحہ ٤٤٧

کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جس گھر میں کھیتی کے آلات داخل ہوں وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔ نیز کہنا کہ متنبی اور جعفر زٹلی بوجہ اتباع بٹالوی اس ذلت میں شریک ہیں۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١٥)

عدم ایفائے عہد

قیمت لوگوں سے لے لی مسلمانوں نے چندے دیئے۔ مگر ٥٠ جلدوں کی بجائے صرف ٥ جلدیں طبع ہوئیں۔ اس کے بعد یہ جلدیں کئی دفعہ طبع ہوئی۔ مگر مرزا قادیانی اشتہاری کتب فروشوں کی طرح دنیا کی نظر میں گندم نما جو فروش ہی ثابت ہوئے۔

کے لئے چندہ جمع کیا۔ مگر نہ رسالہ ماہوار نکلا اور نہ ہی تفسیر شائع ہوئی۔

کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے اور مجھے پھانسی دیا جائے ۔“ وغیرہ وغیرہ مگر آتھم میعاد میں نہ مرا، سنا ہے کہ عیسائی رسہ لے کر گئے۔ مگر مرزا قادیانی نے وعدہ پورا نہ کیا اور گھر سے باہر نہ نکلے۔ انہیں چاہئے تھا کہ وعدہ کے مطابق خوشی سے رسہ اپنے گلے میں ڈال کر پھانسی پر لٹک جاتے تاکہ مخلوق خدا ان کے دام فریب سے آزاد ہوتی۔

مگر شرم چہ شے است کہ پیش مرزا آید

پانچ سو روپیہ شائع کیا۔ جس میں یہ لکھا کہ: ”اگر کوئی ایسے مفتریوں کا ثبوت دے گا جس نے خدا کا مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور اس دعوے کے بعد ٢٣ برس جیتا رہا ہو۔ تو اس کو مبلغ پانچ سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔“ اس کے جواب میں حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر نے رسالہ قطع الوتین شائع کیا۔ جس میں ایک چھوڑ کئی ایسے کاذب مدعیان نبوت پیش کئے جو طبعی موت سے ٢٣ برس دعویٰ کرنے کے بعد مرے۔ مگر مرزا قادیانی نے وعدہ پورا نہ کیا اور انعام نہ دیا۔

روپیہ کا انعامی چیلنج دیا۔ علماء نے جوابات بھی دیئے خصوصاً مولانا ابو القاسم محمد حسین صاحب جو متواتر بیس برس سے اس رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر مرزائی حلقوں میں برابر سناٹا طاری ہے۔

٥٧

صفحہ ٤٤٨

عام حالات

مرزا قادیانی عام طور پر نماز پنجگانہ اور صوم رمضان کے پابند نہ تھے۔ بلکہ اپنی زندگی کے آخری تین سالوں میں بالکل روزہ نہیں رکھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٦، روایت نمبر ١٨)

مولوی خدا بخش مرحوم وامق امرتسری کا بیان ہے کہ:

تے مرزا جمعہ جماعت کولوں تارک سنیا جاوے
حجرے دیوچہ رھے ہمیشہ مسجد وچہ نہ آوے

(کلمہ فضل رحمانی ص ١٥)

مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”اکثر سفر میں نمازوں کو جمع کر لیتا ہوں اور وقت پر نہیں پڑھ سکتا اور مسجدوں میں جانا کراہت سمجھتا ہوں۔“ (فتح اسلام ص ٤٠، ٤١، خزائن ج ٣ ص ٢٥ ملخصاً حاشیہ)

مرزا قادیانی کا بدری مرید منشی عبدالعزیز نمبر دار بٹالہ اپنی کتاب کاشف اسرار نہانی ص ٨٥ میں لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی محض علمائے اسلام کے سب وشتم کی تحریرات کرتے وقت بہتر بہتر نمازیں جمع کر کے ضائع کر دیتے ہیں۔

مریدوں کے اعتراض پر کہا کہ: ”میری طبیعت کی افتاد ایسی واقع ہوئی ہے....... کہ تقاضائے قلب نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کرنے کا مشورہ دیا....... ہم اس وقت روحانی جنگ میں مصروف ہیں....... پانچوں نمازوں کے جمع کرنے کی راہ کھل گئی ہے۔“

(ملخصاً مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٦٣)

١٨٩١ء میں جامع مسجد دہلی میں دوسرے لوگوں نے نماز عصر ادا کی مگر مرزا قادیانی مع اپنے خدام کے علیحدہ بیٹھے رہے۔ مرزا قادیانی نے ماہ رمضان کے دنوں میں بمقام لدھیانہ ایک جلسہ عام میں روزہ توڑ دیا۔ مقامی اخبار نے ان کا لطیفہ ظاہر کیا کہ مرزا قادیانی نے علی الاعلان علماء اسلام کی شکایت کرتے ہوئے کہ ان کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں۔ دریافت کیا کہ کیوں وہ ایسا کرتے ہیں۔ کیا ہم تلاوت قرآن نہیں کرتے یا نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ لطف یہ کہ مرزا قادیانی ہر دس منٹ کے بعد ایک جرعہ دودھ کا نوش فرماتے تھے اور ان کے حواری اور مرید بھی بطور تبرک انکا پسماندہ ایک ایک جرعہ پیتے جاتے تھے۔ گویا مرزا کے ساتھ

٥٨

صفحہ ٤٤٩

ان کے مریدوں نے بھی روزہ نہیں رکھا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے اس سوال پر کہ ہم روزہ نہیں رکھتے۔ سامعین تبسم کو ضبط نہیں کر سکے۔ وہی اخبار لکھتا ہے کہ امرتسر میں اور بھی درگت پیش آئی۔ یہاں ٩ نومبر کو ایک وسیع مکان میں آپ کا لیکچر ہوا تھا۔ ابھی آدھ گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا کہ مرزا قادیانی نے چاء نوشی شروع فرمائی۔ لوگوں نے تالیاں پیٹ کر آوازیں دیں کہ روزہ کیوں نہیں رکھا۔ (بحوالہ اخبار عام مورخہ ١٧؍ نومبر ١٩٠٥ء منقول از کتاب فیصلہ عدالت آسمانی) مرزا نے اپنی تصویر کھچوا کر عام شائع کیں اور اپنے مریدوں کو دیں۔ اس طرح اعلانیہ احکام اسلام کی خلاف ورزی کی، باوجود استطاعت تمام عمر حج نہیں کیا۔ اپنی کتابوں کے لئے رقم زکوۃ طلب کر کے کتابوں کی قیمت اصل مصارف سے سہ چند چہار چند رکھ کر نفع اپنے صرف میں لاتے رہے۔ کتب فروش اچھے تھے۔ انعامی اشتہار دینے اور ناجائز شرائط اپنی طرف سے پیش کرنے کے فن میں یکتا اور موجد تھے۔ آپ سے پہلے لوگ فلسفہ انعام سے نا آشنا تھے۔ مناظرہ کرنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی۔ مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی سے ایک دفعہ تحریری مناظرہ کیا۔ مگر ناتمام چھوڑ کر قادیان بھاگ گئے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی سے تحریری مناظرہ پر آمادہ ہوئے۔ مگر ابتدائی شرائط طے کرنے میں ہی جان بچا گئے۔ حضرت قبلہ سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مدظلہ العالی کو تفسیر نویسی کے لئے مقابلہ کی دعوت دی۔ حضرت ممدوح معہ چالیس علمائے کرام لاہور میں رونق افروز ہوئے۔ مرزا قادیانی کو تاریں پر تاریں دی گئیں۔ مگر اسے میدان میں آنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ مرزا کے پاس ہزاروں روپیہ رہتے تھے۔ مگر کبھی زکوۃ دینا ثابت نہیں ہوا۔ چال چلن کے متعلق ایک رسالہ ”عشق مجازی اور قادیانی کی بوسہ بازی“ مرزا قادیانی کی زندگی میں شائع ہوا۔ اس کا جواب دینے کا کسی کو حوصلہ نہ ہوا اور مرزا نے اس الزام سے کسی جگہ اپنی بریت ظاہر نہیں کی۔ حال ہی میں انجمن مباہلہ امرتسر کی طرف سے ایک ٹریکٹ بعنوان ”پنجابی نبی کی درویشیانہ زندگی کے چند دلچسپ نمونے“ شائع ہوا ہے کہ جس میں مرزا قادیانی کے خطوط سے مرزا کی پر تکلف زندگی اور عیش و عشرت ثابت کی ہے۔ زیورات، ریشمی کپڑے، جالی کی قمیضوں، کلاک، فینسی اشیاء، تانبے کے حمام، کابلی گرم پوستین، عمدہ بنکمی پان، انگریزی پاخانے، عمدہ بستر اور شاندار خیموں کی فرمائشوں کے ذکر کے بعد مرزا کے کئی آرڈر مفرح عنبری، مشک خالص کے درج کیا گیا ہے اور ساتھ ہی سردار دو عالم سید المرسلین ﷺ کی پاکیزہ اور سادہ زندگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگوں پر مرزا قادیانی کے دعوٰی مثیل محمد کی حقیقت واضح ہو سکے۔

٥٩

صفحہ ٤٥٠

مرزا کی ناکامی

”اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جائے گا نہ اِنہ کرشن، نہ حضرت مسیح علیہ السلام۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

”میں صاف صاف بیان کرنے سے نہیں رک سکتا کہ (تفسیر) شائع کرنا میرا کام ١؂ ہے اور دوسرے سے ہرگز نہ ہوگا۔“

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٥١٧)

”میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور تثلیث کی جگہ توحید پھیلاؤں ۔ حضور ﷺ کی جلالیت دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑہا نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے وہ کام کر دکھلایا جو مسیح یا مہدی نے کرنا تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں ٢؂ جھوٹا ہوں۔“

(بدر ج ٢ نمبر ٢٩، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٦ حصہ اوّل ص ١٦٦)

”لک خطاب ھو العزۃ۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٧٤)

شدھی مسلمانوں کو جذب کرنے کے واقعات سے اپنے گورو کی صداقت کا اندازہ کرلیں۔

نوٹ : علاوہ ازیں مرزا قادیانی اپنے ہر مقصد ومدعا میں ناکام رہے۔ جس کی تفصیل آگے معلوم ہوگی۔ مثلاً: ١......... آتھم میعاد میں نہ مرا۔ ٢...... محمدی بیگم کے نکاح کی حسرت دل میں رکھے ہی چل بسے۔ ٣...... ڈاکٹر عبدالحکیم ومولوی ثناء اللہ وحضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مدظلہ العالی ودیگر مخالفین کی زندگی ہی میں مر کر ہلاک ہوگئے۔ ٤...... مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مرزائی ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

میں حاصل ہوا ہے اور عیسائیوں کی تعداد میں حیرت انگیز ترقی مرزا کو جھوٹا کرنے کے لئے کافی ہے۔

اگر کوئی مرزائی کہے کہ انہیں خطاب حاصل کرنے کا شوق نہ تھا تو اس کا کہنا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے اس الہام کو بطور پیشگوئی شائع کیا تھا۔ مرزا قادیانی کو عدالت میں ایک دفعہ حاکم نے کرسی دے دی تھی۔ اس کا ذکر بطور فخر بیسیوں جگہ اپنی کتابوں میں کیا ہے۔

٦٠

صفحہ ٤٥١

"عنقریب ہے کہ خدا اس ملکہ (وکٹوریہ) نورانی وجہ کے دل اور اس کے شہزادوں کے دلوں میں نور توحید ١ ڈال دے...... میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ (انگریز) اسلام کے انڈے ہیں اور عنقریب انہیں سے اس ملت کے بچے پیدا ہوں گے اور ان کے منہ الٰہی دین کی طرف پھیرے جائیں گے ۔"

(نور الحق ص ٤٤، خزائن ج ٨ ص ٦٠)

"قرآن شریف میں ہے کہ آخری زمانہ میں قرنا میں آواز پھونکی جائے گی ۔ تب سب قومیں ایک قوم بن جائیں گی اور ایک ہی مذہب پر جمع ہو جائیں گی ٢ ۔"

(چشمہ معرفت ص ٦٧، خزائن ج ٢٣ ص ٧٥ حاشیہ ملخص)

"قرنا مسیح موعود (مرزا) ہے ۔"

(چشمہ معرفت ص ٧٨، خزائن ج ٢٣ ص ٨٦)

"مسیح موعود کے ذریعہ خدا تعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا ۔"

(چشمہ معرفت ص ٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ٨٨)

"پس خدا نے تمام قوموں کو ایک بنانے اور سب کا ایک مذہب بنانے کے لئے ایک امت میں سے ایک نائب (مرزا قادیانی) مقرر کیا ۔"

(چشمہ معرفت ص ٨٢، خزائن ج ٢٣ ص ٩٠، ٩١ ملخصاً)

"مجھے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا ۔"

(برکات الدعاء ص ٣٥، خزائن ج ٦ ص ٣٥)

"پھر بعد اس کے عالم کشف میں دو بادشاہ دکھلائے گئے ۔ جو گھوڑوں پر سوار ٣ تھے ۔"

(تجلیات الٰہیہ ص ١٧، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٩ حاشیہ)

"الہام ہوا حجت قائم کی جائے گی اور فتح ٤ کھلی کھلی ہوگی ۔"

(ازالۃ اوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٦)

"الہام ہوا تیری طرف نور ٥ جوانی کی قوتیں لوٹائی جائیں گی اور تیرے پر زمانہ جوانی

١ مگر ملکہ نے مرزائی مذہب قبول نہ کیا اور مرزا قادیانی رخصت ہوئے ۔

٢ چشمہ معرفت وہی کتاب ہے جس کی تاریخ طباعت کے چھ دن بعد مرزا مر گیا ۔ اب اہلِ انصاف غور کریں کہ مرزا اپنے مشن میں کہاں تک کامیاب ہوا؟ ۔

٣ مرزائی بتائیں وہ بادشاہ کہاں ہیں ۔

٤ مرزائیو! بتاؤ وہ ملک کون سا ہے جہاں مرزا قادیانی کو فتح ہوئی ۔

٥ بعد اس کے دو سال بعد مرزا قادیانی بڑھاپے ہی میں مر گئے ۔

٦١

صفحہ ٤٥٢

کا آئے گا۔ اور تیری بیوی کی طرف بھی ترو تازگی واپس کی جائے گی۔‘‘

(بدر ١٣ مئی ١٩٠٦ء تذکرہ ص ٦١٧ حاشیہ طبع سوم)

’’ہم مکہ١؎ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘

(میگزین ١٩ جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٥٩١)

برکات مرزا

’’اس برس چار ہزار عیسائی ہوئے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ج ١ خزائن ج ١ ص ٢٨)

’’جب تیرہویں صدی کچھ نصف ٢؎ سے زیادہ گزر گئی تو ایک دفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا۔ پھر ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ اس صدی کے اواخر میں بقول پادری ہیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں کرسٹان شدہ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی اور اندازہ کیا گیا کہ قریباً بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٩١ خزائن ج ٣ ص ٣٦٤)

’’تھوڑے عرصہ میں اس ملک میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔‘‘

(آئینہ کمالات ص ٥١ خزائن ج ٥ ص ٥١)

’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر طبقہ کے مسلمان عیسائی ہوچکے ہیں اور ایک لاکھ سے بھی ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔‘‘

(لیکچر لدھیانہ ص ١٦ خزائن ج ٢٠ ص ٢٦٤)

١؎ مگر لاہور ہی مرے۔

نوٹ: مرزا قادیانی کو ایک لاکھ فوج کا خواب آیا تھا اور فرشتہ نے پانچ ہزار سپاہی دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس فوج کا سردار منصور بھی کشف سے دکھلایا گیا تھا۔

(ازالہ ص ٤٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٩ حاشیہ)

مگر مرزا قادیانی کا یہ خواب پورا نہ ہوا۔ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ مگر مرزا کی یہ خواب بھی غلط نکلی اس طرح محمود ابن مرزا کو بھی افواج ہند کا کمانڈر انچیف بنائے جانے کا خواب آیا تھا ۔مگر پورا نہ ہوا۔

(برکات خلافت ص ٤٥)

٢؎ مرزا کی پیدائش ١٢٥٩ھ میں ہوئی لہٰذا مرزا قادیانی کی تشریف آوری کے ساتھ ہی ارتداد کی وباء پھیل گئی۔ مرزا قادیانی جوں جوں ترقی کرتے گئے۔ فتنہ بڑھتا گیا۔ مہدویت کے ادعا کے بعد بارہ سال کے اندر ایک لاکھ آدمی عیسائی ہوگیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ مرزا قادیانی مجددیت ومہدویت سے ترقی کر کے مسیحیت کے حقدار بن رہے تھے۔ مسیح قادیان کے آنے سے حالت بد سے بدتر ہوتی گئی۔ گورنمنٹ کی مردم شماری کے

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٦٢

صفحہ ٤٥٣

مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”آج اسلام کی (١٩١٤ء میں) کیا حالت ہے۔ ملک پر ملک مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے نہیں بلکہ سب ملک وہ اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہیں۔“

(تحفۃ الملوک ص١٠)

”اسلام کے لئے تھوڑے دنوں کے بعد کوئی جگہ سر چھپانے کی نہ ہوگی۔“

(تحفۃ الملوک ص١٥)

”اس وقت اسلام کی حالت ایسی کمزور ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔“

(تحفۃ الملوک ص٦٢)

”نام ہی اسلام کا رہ گیا ورنہ کام کے لحاظ سے تو اسلام کا کچھ باقی نہیں رہا۔“

(تحفۃ الملوک ص١٩)

”ہزاروں مسلمان ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر چکے ہیں...... خود سادات میں بیسیوں خاندان مسیحی ہو چکے ہیں۔“

(تحفۃ الملوک ص٢٩)

”زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ان ایام میں مسلمان ہی نہیں بلکہ اسلام کا تنزل ہو رہا ہے۔ کیونکہ اسلام دلوں سے مٹ چکا ہے۔“

(تحفۃ الملوک ص٣٠)

مرزائی جماعت کی خصوصیات

”وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جس کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص١٢، خزائن ج١٢ ص٢٦٤)

”کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اب تک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا...... ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت ؎١ اور تہذیب اور پاک دلی

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) کاغذات کے مطابق ١٨٨١ء یعنی مرزا قادیانی کے مسیح بننے کے وقت پنجاب میں عیسائیوں کی مجموعی تعداد ٣٧٩٦ تھی۔ اس میں فوجی انگریز بھی شامل تھے اور اس وقت غالباً یہاں کوئی ہندوستانی عیسائی نہ تھا۔ مگر مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ١٩١١ء میں صرف ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد پنجاب میں ١٦٣٩٩٤ بنی۔ جو ١٩٢١ء میں ٣٤٦٢٥٩ تک پہنچ گئی ہے۔

؎١ سچ ہے جیسے گورو ویسے چیلے، مرزائی جماعت اقصائے عالم میں تبلیغ اسلام کی علمبردار کہلاتی ہے۔ مگر گھر کا بھیدی خواجہ کمال الدین لاہوری مرزائی لکھتا ہے کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٦٣

صفحہ ٤٥٤

اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ بعض حضرات ایسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیکم نہیں کرسکتے..... انہیں سفلہ اور خودغرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خودغرضی کی بناء پر ایک دوسرے سے لڑتے اور دست بگریبان ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔ بلکہ بسااوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کرلیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں..... میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا کیا حال ہے یہ کون سی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہیں نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں..... بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہوں۔“

(اشتہار التوائے جلسہ ملحقہ شہادت القرآن ص١٠٠، خزائن ج٦ ص٣٩٤ تا ٣٩٦)

”ہم پر اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ کے ہمیشہ مددگار رہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج٣ ص ١٦٦ حاشیہ)

”اس پاک باطن جماعت (یعنی مرزائی) کے وجود سے گورنمنٹ برطانیہ کو خدا و عزوجل کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ یہ لوگ سچے دل اور دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیرخواہ اور دعا گو ہوں گے۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٤٩، خزائن ج٣ ص ٥٦١ حاشیہ)

مرزا کے خلف و خلیفہ مرزا محمود نے مرزائیوں کو حسب ذیل سرٹیفکیٹ عطاء کئے۔

”اس (مرزائی) جماعت کے بعض افراد کی اولاد نہایت ہی گندہ اور شرمناک نمونہ اخلاق کا دکھا رہی ہے اور وہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے دنیا کے خبیث ترین وجودوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ کیا تم قیامت کے دن وہ لعنتیں لے کر کھڑے ہو گے جو تم نے دنیا میں

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ”ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ آریہ جماعت کے مقابل میں ہمارے قلم سے کہاں تک مستقل لٹریچر نکلا۔ چند ورقوں کے پمفلٹ یا ہنگامی پوسٹر نکال لینا ویسے ہی بے سود چیزیں ہیں۔ جیسے ہنگامی جوش کے ماتحت لوگوں کے اعمال وافعال ہوا کرتے ہیں۔“

(مجدد کامل ص ١٧)

٦٤

صفحہ ٤٥٥

کمائیں ۔ کیا تم نے کبھی شیشہ میں منہ بھی دیکھا ہے کہ تمہارے چہروں پر وہ رقت وہ نور وہ نرمی وہ محبت بھی پائی جاتی ہے ۔ جو دلوں کی اصلاح کر سکے تم بھیڑیوں کے چہرے لے کر فرشتوں کا کام کرنا چاہتے ہو تم اصلاح کے طریق نکالتے نکالتے قرآن مجید کو اس طرح چھوڑ رہے ہو ۔ جس طرح نعوذ باللہ ایک پرانی جوتی کو اتار کر پھینک دیا جاتا ہے۔ خربوزے کو خربوزہ دیکھ کر رنگ بدلتا ہے۔ تم خود گندے ہو گئے ۔ اس لئے تمہیں دیکھ کر تمہاری اولادیں بھی گندی ہوگئیں ۔‘‘

(الفضل ٢؍ جون ١٩٣٢ء)

مرزائیوں کو یہ سنہری سند مبارک ہو۔ کیا اسی جماعت کو قائم کرنے کے لئے مرزا قادیانی مبعوث ہوئے تھے؟۔ وہ بقول مرزا محمود دنیا کے خبیث ترین وجودوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جو بھیڑیوں کا چہرہ لے کر فرشتوں کا کام کرنا چاہتی ہے۔ جو اصلاح کا طریق نکالتے نکالتے قرآن کو منسوخ قرار دے رہی ہے۔ جن کے افراد گندے اور ان کی اولادیں بھی گندی ہیں کیا اثر صحبت کا نتیجہ نکلنا تھا؟ اور اس پر سید المرسلین ﷺ کی ہمسری کا دعویٰ۔ (معاذ اللہ )

انجام مرزا

میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا ۔

(تذکرہ ص ٥٣٥ طبع سوم)

’’کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا ۔‘‘

(البشریٰ حصہ دوم ص ١٢١ ، تذکرہ ص ٦٨٣ )

’’میرے لئے فیصلہ ہوا کہ گرایا جائے ۔‘‘

(البشریٰ حصہ اول )

دانیال کی پیش گوئی نقل کر کے کہا۔ ’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) تیرہ سو پینتیس ہجری تک اپنا کام چلائے گا ۔ یعنی چودھویں صدی میں سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا ! ۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٢ حاشیہ )

’’(میری عمر ) اسی برس ١؎ چار پانچ کم یا چار پانچ زیادہ ۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

١؎ مرزا قادیانی بمقام لاہور ١٣٢٦ھ میں میلہ بھدر کالی کے دن بند ہیضہ (الاؤس) کی بیماری سے آناً فاناً مر گیا۔

٢؎ مگر مرزا قادیانی ٦٨ سال کی عمر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں مر گئے ۔ ان کا سال پیدائش ١٨٤٠ء بحوالہ کتاب البریہ پہلے درج ہو چکا ہے انبیاء جہاں فوت ہوتے ہیں ۔ وہیں دفن ہوتے ہیں ۔ مگر مرزا قادیانی کی لاش کو خر دجال پر سوار کرا کر قادیان لایا گیا اور وہاں جوہڑ کے کنارے دفن کیا گیا۔

٦٥

صفحہ ٤٥٦

نوٹ : ماہ مئی میں بمقام لاہور رسالہ پیغام صلح لکھنے میں مصروف تھے اور اپنی کتاب چشمہ معرفت کی تکمیل سے بھی ٢٠ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں فارغ ہوئے ۔ اسی کتاب میں ڈاکٹر عبدالحکیم کی اپنے سامنے ہلاکت اور اپنی سلامتی کی پیش گوئی کی تھی اور ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشگوئی کہ مرزا ٤ اگست ١٩٠٨ء تک مرجائے گا ۔ نقل کر کے لکھا تھا کہ ’اب یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے اختیار میں ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٢،٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)

حضرت صوفی پیر سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری بھی قضائے مبرم کی طرح لاہور پہنچ گئے اور انہوں نے بمقام شاہی مسجد بروز جمعہ ٢٢ مئی ١٩٠٨ء مرزا کو مقابلہ و مناظرہ کے لئے للکارا اور اس کی ہلاکت کے لئے مجمع عام میں دعا کی اور فرمایا کہ مرزا کو تین دن کی مہلت ہے۔ پیر صاحب کی طرف سے روزانہ آدمی مرزا کے پاس آتے جاتے رہے۔ آخر بروز اتوار پیر صاحبؒ نے کہلا بھیجا کہ اب صرف ایک دن کی مہلت ہے۔ توبہ کر لو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ مرزا کو مقابلہ میں آنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ سنا گیا ہے ۔ بروز دوشنبہ خربوزہ کھانے کے بعد ہیضہ ہوگیا اور مارفیا کی ڈبل خوراک کھانے کی وجہ سے الاؤس کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ آخر کار مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دی۔ پیغام صلح کی تصنیف ناتمام رہی اور چشمہ معرفت میں جس مقدمہ کا ذکر کیا تھا۔ اس کا خدا نے چھ دن کے اندر ہی فیصلہ فرما دیا اور سنا گیا ہے کہ اہل ہنود مرزا کے مکان پر حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمارے کرشن مہاراج کو جلانے کے لئے ہمارے حوالہ کرو۔ لاہور کی فضاء کو ناموافق دیکھ کر نورالدین نے لاش کو قادیان لے جانے کا فیصلہ کیا اور خچر گاڑی کا ایک ڈبہ ریزرو کرا کر بٹالہ لے گئے اور وہاں سے لے کر ایک جوہڑ کے کنارے سپرد خاک کیا۔

حصہ دوّم

مرزائیوں کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین بھیروی کے حالات

ابتدائی حالات

مرزا قادیانی کے دست راست اور مرزائی سلسلہ کے معاونِ اعظم حکیم نور الدین کی پیدائش بھیرہ میں ہوئی۔ نسب کے متعلق متضاد اقوال لوگوں میں مشہور ہیں۔ ابتدائی تعلیم بھیرہ میں حاصل کی۔ اسی زمانہ میں استاذ الکل شیخ العصر اور رأس الفقہاء والمحدثین، سید العابدین، سلطان

٦٦

صفحہ ٤٥٧

التارکین جدی و مولائی حضرت مولانا احمد الدین ١؎ بگوی رحمۃ اللہ علیہ بھیرہ میں رونق افروز ہوئے۔ نورالدین نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور حضرت ممدوح کی خدمت میں بغرض افاضہ تعلیم حاضر ہوا اور اس چشمہ عرفان سے محروم نہ رہا اور علوم عربیہ سے سند فراغت حاصل کی۔ ایسے لوگ ابھی زندہ موجود ہیں۔ جنہوں نے اپنے کانوں سے حضرت استاذ الکل کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ کلمات سنے تھے کہ ”نور الدین مجھے تم سے بو آتی ہے۔ تم دین سے دور ہو جاؤ گے اور مذہب اسلام میں کسی فتنہ کا باعث بنو گے ۔“ اس کے بعد ہندوستان میں کئی جگہ مصروف تعلیم رہنے کے بعد مکہ معظمہ و مدینہ منورہ پہنچے۔ مدینہ منورہ میں حضرت شاہ عبدالغنی مرحوم کی سفارش سے کتب خانہ شیخ الاسلام عارف آفندی سے ایک کتاب ٢؎ برائے مطالعہ حاصل کی اس کتاب کا دنیائے اسلام میں ایک ہی نسخہ تھا وہ کتاب لے کر ہندوستان چلے آئے۔ حضرت شاہ عبدالغنی مرحوم نے خطوط لکھے۔ آدمی بھیجے۔ مگر وہ کتاب واپس نہ ہوئی اور صرف اسی کتاب کے گم ہونے پر مخالفین کتب خانہ اور شاہ صاحب ممدوح حکومت ترکیہ کے زیر عتاب رہے۔

ترک تقلید

حرمین سے واپسی پر نورالدین نے وہابیت اختیار کی اور ترک تقلید پر وعظ کئے اور عدم جواز تقلید پر کتابیں تصنیف کیں۔ بھیرہ میں ہیجان عظیم برپا ہو گیا۔ حضرت مولانا غلام نبی صاحب للویؒ، ومولانا غلام رسول صاحب چوہدریؒ، مولانا غلام مرتضیٰ صاحب پیر بلویؒ، حضرت زبدۃ

١؎ حضرت مرحوم خاکسار مؤلف کے جدّ امجد تھے۔ ظاہری علوم حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ومولانا شاہ محمد اسحٰقؒ سے حاصل کئے تھے اور فیض باطنی حضرت مجدد مائۃ الحاضرہ شاہ غلام علی شاہ دہلویؒ سے حاصل کیا تھا۔ جامع کمالات صاحب کشف و کرامات تھے۔ پنجاب میں تنویر قلوب واشاعت و ترویج علوم دینیہ میں آپ کا نمایاں حصہ ہے۔ سکھوں کے عہد مظلمہ میں حضرت مرحوم اور حضرت کے بڑے بھائی مولانا غلام محی الدین بگویؒ نے پنجاب میں علوم دینیہ کی نہریں بہا دیں۔ جامع مسجد بھیرہ حضرت مرحوم کی علو ہمتی و ایثار کی عظیم الشان یادگار ہے کم و بیش دو ہزار علماء و فضلاء نے آپ سے حدیث کی سند حاصل کی آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی۔ تیس سال لاہور میں درس دیا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام بھیرہ میں گزارے۔ آپ کا مزار مبارک جامع مسجد بھیرہ میں زیارت گاہ ہے۔

٢؎ کہتے ہیں کہ وہ کتاب امام طحاویؒ کی تصنیف تھی جو بالکل نایاب تھی۔

٦٧

صفحہ ٤٥٨

العارفین مولانا عبدالعزیز بگویؒ کے دستخطوں سے ایک فتویٰ غیر مقلدین کے خلاف شائع ہوا اور محلہ پراچگاں بھیرہ میں فیصلہ کن مناظرہ کے بعد غیر مقلدین کا بھیرہ میں ناطقہ بند ہو گیا اور نور الدین بھیرہ کی رہائش ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہاں سے بھاگ کر بھوپال اور وہاں سے جموں پہنچے اور ایک امیر کی سفارش سے مہاراجہ جموں کے ہاں بحیثیت طبیب ملازم ہو گئے۔

نیچریت

ان دنوں سرسید احمد علی گڑھی کی تفسیر شائع ہوئی اور مذہب نیچریت کا فروغ ہوا۔ نور الدین نے اس مذہب کو برضا و رغبت قبول کیا اور اس کی تائید میں منہمک ہو گئے۔ چندے بھی دیئے اور کتابیں بھی فروخت کرائیں۔

چکڑالویت

بعد ازاں مولوی غلام نبی چکڑالوی کے دعاوی سن کر حدیث کے منکر ہو گئے۔ مگر ابھی اپنے چکڑالوی ہونے کا اعلان کرنے میں مذبذب تھے کہ مرزائیت میں پھنس گئے۔

دہریت و الحاد

دراصل نور الدین صاحب شروع سے آزادی کے دلدادہ تھے۔ مذہبیت سے انہیں لگاؤ نہ تھا۔ سادہ مزاج سادہ لوح اور موٹی عقل رکھنے والے تھے۔ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لینا ان کا معمول تھا۔ مجھے جموں کے ایک معتبر وکیل نے بیان کیا کہ ایک دفعہ نور الدین قادیانی نے مجھے اپنی ایک تصنیف دکھائی۔ جس میں یہ ثابت کیا تھا کہ مذاہب عالم کو مٹائے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ دہریت و الحاد کے اس پلندہ کو وہ شائع کرنا چاہتے تھے۔ مگر بعد ازاں جمہور کی مخالفت کے اندیشہ سے شائع نہ کر سکے۔

مرزا کی مریدی

مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کا اشتہار دیا۔ مرزا کی کتابوں کا مطالعہ کر کے نور الدین کو انسیت پیدا ہوئی اور مدت سے جس بات کی تلاش میں تھے وہ مل گئی۔ مرزائی تعلیم انہیں اپنی طبیعت و مزاج کے موافق معلوم ہوئی۔ مرزائی تعلیم وہابیت، نیچریت، چکڑالویت، دہریت و الحاد کا ایک مرکب یا نچوڑ تھی۔ جسے نور الدین قادیانی نے فوراً قبول کر لیا۔ انہیں دنوں میں ارکان حکومت کشمیر کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو رہے تھے۔ اس لئے اپنے مطب وغیرہ کے لئے کسی نئے میدان کی تلاش تھی۔ آخر کار مہاراجہ نے انہیں ملازمت سے سبکدوش کر دیا اور ان کا

٦٨

صفحہ ٤٥٩

ریاست کی حدود سے جبرا اخراج عمل میں آیا۔ نور الدین وہاں سے بھاگ کر قادیان میں فروکش ہو گئے اور مرزا قادیانی کے گلے لگ کر کہا۔

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

تائید مرزائیت

اس کے بعد مرزائی مذہب کی تائید میں نورالدین نے اپنا تمام زور قلم صرف کر دیا۔ بعض اصحاب کی رائے ہے کہ مرزا کی تصانیف کا اکثر حصہ نورالدین کی امداد سے مرتب ہوا۔ محمد احسن امروہی، عبد الکریم سیالکوٹی وغیرہ نورالدین کے ہم خیال قادیان میں جمع ہو گئے اور مرزا کے الہام کے مطابق اسلام کے گھر کو بدلنے اور نبی ﷺ کی احادیث کو کترنے میں مشغول رہے۔

نورالدین کا ایک بچپن کا دوست حکیم فضل دین بھیروی بھی وہاں جا پہنچا۔ مرزا نے دعاؤں سے اور نور الدین نے دواؤں سے پوری سعی کی مگر فضل دین کے گھر کوئی اولاد نہ ہوئی۔ دوسری شادی بھی کرادی مگر فضل دین ناکام و نامراد دنیا سے رخصت ہوا۔ نورالدین نے مرزا قادیانی کی نبوت کی دوکان چلانے کے لئے جب تین ہزار روپیہ دیا تو مرزا قادیانی خوشی سے جھومنے لگے اور یہ شعر پڑھنے لگے۔

چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دین بودے
ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے

(نشان آسمانی ص ٤٧، خزائن ج ٤ ص ٤٠٧)

عام حالات

حکیم نورالدین قادیانی سے ملنے والے بیان کرتے ہیں کہ مرزائی مذہب کی کامیابی کا دارو مدار نورالدین کی سادہ زندگی ، حلم، مہمانداری اور لوگوں کی آؤ بھگت اور خوش اخلاقی پر مبنی تھا۔ سادہ لوح عوام اس کی ملاقات کا گہرا اثر لے کر جاتے تھے۔ نورالدین ایک باکمال اور کامیاب طبیب تھا۔ دور دراز سے لوگ اس کے مطب میں حاضر ہوتے تھے اور مرزائیت کا اثر لے کر جاتے تھے۔ نورالدین اکثر احادیث و تفاسیر کی کتابوں پر پاؤں رکھ کر یا ان پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا کرتا تھا اور وہ ان کے آداب کا چنداں قائل نہ تھا۔ یوز آصف کی قبر کو قبر مسیح ثابت کرنا نورالدین کا ہی حصہ تھا۔ نورالدین کا عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام بے پدر پیدا نہیں ہوئے۔ مگر مصلحتاً اس کا اظہار نہیں کیا۔

(عصائے موسیٰ ص ٣٨١)

٦٩

صفحہ ٤٦٠

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نورالدین پر مادہ حسن ظنی ایسا غالب تھا کہ اس کے سبب یا غلبہ فطرت کے باعث عمداً مکار، دغا باز اور فریبیوں کے فریب میں بھی آجاتا رہا اور ان کے کہنے کی تعمیل ، دھوکہ کھا کر بعد تجربہ بھی کرتا رہا۔ ایسے مواقع کا ذکر اس نے اپنے کئی دوستوں سے کیا۔ اس لئے یہ بات سب میں اس کے دوستوں تک مشہور ہے کہ اس میں مردم شناسی کا مادہ نہ تھا۔ مرزا کی صحبت میں رہ کر مزاج میں کس قدر تلون ، درشتی ، تعلی وغیرہ پیدا ہوگئی تھی۔

کرامات

لاہور میں مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٠٠ء مضمون امساک باران پر وعظ کیا اور بڑی بڑی قسمیں کھا کر مرزا قادیانی کو صادق ثابت کرنے کی سعی کی اور کہا کہ مسلمان جب تک مرزا قادیانی کو امام وقت نہ مانیں گے ہرگز بارش کا منہ نہ دیکھیں گے اور کئی اور بلیات دیکھیں گے اور بجائے بارش کے خاک و گرد و بجائے ٹھنڈک کے ان پر آگ برسے گی ۔ دوسرے دن نورالدین لاہور سے چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد نزول باران رحمت کا شروع ہو گیا اور اخیر جولائی تک چھ مرتبہ پر زور بارش ہوئی اور خداوند کریم نے اپنی عاجز مخلوق کو اغوا اور تذبذب سے نجات دلائی ۔

(عصائے موسیٰ بحوالہ اخبار اپیل گزٹ ١٦ جولائی ١٩٠٠ء ص ٣)

تفقہ وعلمی کمالات

نورالدین نے فتویٰ دیا کہ میری تحقیق میں نکسیر ، قے اور قہقہ سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔

(حج المصطفیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٣٧)

نورالدین نے ایک کتاب کا نام فصل الخطاب لمقدمتہ الکتاب رکھا تھا۔ اس نام کے خلاف محاورہ عربی غلط ہونے کا اکثر چرچا رہا ۔ شاید اپنے گرو کی سنت پر عمل کر کے غلط نویسی سے کام لیا ہو گا۔

(عصائے موسیٰ)

ایک دفعہ مفتی غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم میانوی سے بمقام لاہور بتاریخ ١٠؍ مئی ١٩٠٨ء مکالمہ ہوا ۔ جس میں نور دین نے اپنے دعوائے مات عیسیٰ یقیناً کے ثابت کرانے کے لئے کوئی ایسی دلیل بیان نہ کر سکے ۔ جس میں تقریب تام ہونے کا دعویٰ کر سکتے اور لا جواب ہو کر خاموش ہو گئے ۔

(الظفر الرحمانی ص ٢٠٧)

اسی طرح ایک دفعہ مولانا ابو القاسم محمد حسین صاحب کو بٹالوی کے سوالات کے جواب میں بمقام قادیان ایسے بدحواس ہوئے کہ اپنے گورو سے پوچھ کر بتانے کا وعدہ کیا ۔ مولانا ممدوح تین دن وہاں مقیم رہے ۔ مگر ان کا بیان ہے کہ نورالدین موٹی عقل کا آدمی اور

٧٠

صفحہ ٤٦١

بالکل سادہ لوح انسان تھا اور حسن ظنی کی بناء پر یا مرزا کے عقائد کو اپنے مذہب کے موافق پا کر مرزائی دلدل میں پھنسا رہا۔

دینی رنگ

مرزائیوں کی مایہ ناز کتاب (عسل مصفی ج ١ ص ٧٠) میں لکھا ہے کہ نورالدین نے خواب میں دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی داڑھی منڈی ہوئی ہے۔ (استغفر اللہ ) مولوی کرم الدین صاحب رئیس بھیں کے مقدمات جو مرزا قادیانی کے ساتھ ہوئے۔ ان میں نورالدین کی شہادتیں ہوئیں۔ شہادتوں میں اس قدر جھوٹ بولے کہ لوگ حیران رہ گئے۔ روئیداد مقدمات بنام ”تازیانہ عبرت“ طبع ہو چکی ہے۔ اس میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ پیغمبر صاحب کے زمانہ میں یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ یہ اغلبًا بدحواسی کے عالم میں کہا ہوگا۔ جھوٹوں کی تعداد صرف ایک ہی بیان میں دس کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف مرزا قادیانی کی صحبت کا اثر تھا۔

مرزا سے عقیدت

اکثر معتبر اشخاص سے سنا گیا ہے کہ مرزا کی عقیدت کا جذبہ کئی دفعہ نورالدین کے دل سے جاتا رہا۔ مگر چونکہ حسن ظنی کا مادہ غالب تھا اور توفیق ایزدی شامل حال نہ تھی۔ اس لئے توبہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ دراصل حضرت امام اعظمؒ کی تقلید ترک کرنے اور ان کی شان میں برا بھلا کہنے کا نتیجہ بارگاہ خداوندی سے اسی دنیا میں مل گیا۔ امام حقؒ کی تقلید سے نکل کر امام ضلالت کی غلامی کا پٹہ گلے میں ڈال لیا اور عقل وعلم سے بے بہرہ ہو کر دین وایمان سب اس کے حوالہ کر دیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کہا کہ: ”میرا تو یہ ایمان ہے کہ اگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو پھر بھی مجھے انکار نہ ہوگا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٩٨، ٩٩، روایت نمبر ١٠٩)

مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق یہ جواب دیا کہ میرے نزدیک اگر مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی زمانہ میں کسی کا نکاح محمدی بیگم کی اولاد میں سے کسی لڑکی کے ساتھ ہو گیا تو پیشین گوئی پوری ہو جائے گی۔

(ریویو ج ٧ نمبر ٦، ص ٢٧٦ تا ٢٧)

خدا جسے گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے۔ جان بوجھ کر جو اندھا بنے اور کنوئیں میں گرے اس کا کوئی علاج نہیں۔ نورالدین عقل وعلم وخرد مرزا قادیانی کے حوالہ کر چکا تھا اور عقل سے کسی جگہ کام لینا جائز نہ سمجھتا تھا۔

٧١

صفحہ ٤٦٢

مرزائیوں میں درجہ

مرزائے قادیانی نے اپنی تصانیف میں کئی جگہ نورالدین کی بڑی تعریف کی ہے۔ اسے فاروق اور حکیم الامۃ کا خطاب دیا گیا۔ (عسل مصفیٰ ص ٦٦، ٦٧) میں لکھا ہے کہ اس کا مرتبہ صدیق اکبرؓ و دوسرے صحابہ کے برابر تھا۔ مرزا قادیانی نے ایک دفعہ کہا تھا۔ جس نے ابوبکرؓ کو دیکھنا ہو، عمر فاروقؓ کو دیکھنا ہو، ابوہریرہؓ، ابوذرؓ، سلیمانؓ، عثمانؓ اور علیؓ کو دیکھنا ہو وہ نورالدین کو دیکھ لے۔

(استغفراللہ چہ نسبت خاک را با عالم پاک)

مرزا کے مرنے کے بعد بالاتفاق نورالدین خلیفہ قرار پایا۔ چھ سال خلیفہ رہا۔ اس کی زندگی میں کسی قسم کا اختلاف مرزائیوں میں رونما نہ ہوا۔ اس کی افضلیت سب کے نزدیک مسلم تھی۔ اس لئے کسی دعویدارِ خلافت کو مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔

مرزا قادیانی نے نہایت ہوشیاری سے نورالدین کے ذریعہ اپنے مشن کو کامیاب بنایا۔ ہر وقت ان کا دل بہلانے میں (خود اور اہل خانہ سمیت) مصروف رہتا تھا۔ جب کبھی نورالدین کہیں باہر جاتا تھا۔ تب بھی اسے خوش رکھنے کے لئے خطوط کا سلسلہ جاری رکھتا تھا۔ جن میں اس کی حد درجہ خوشامد کی جاتی تھی۔ چنانچہ ذیل میں مرزا کے دو خط بنام نورالدین نقل کئے جاتے ہیں۔ جن میں نورالدین کو ازواج مطہرہ کا معزز خطاب دیا گیا ہے۔

مخدومی و مکرمی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یقین کہ آں مکرم بخیر وعافیت بھیرہ ١؎ میں پہنچ گئے ہوں گے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ بہر حال آپ سے بہتر معاملہ کرے گا۔ میں نے کتنی دفعہ جو توجہ کی تو کوئی مکروہ امر میرے پر ظاہر نہیں ہوا۔ بشارت کے امور ظاہر ہوتے رہے اور دو دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ”انی معکما اسمع واری“ ایک دفعہ دیکھا گیا کہ گویا ایک فرشتہ ہے۔ اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور وہ مہر دائرہ کی شکل پر تھی۔ اس کے کنارہ پر محیط کی طرف اعلیٰ کے قریب لکھا تھا۔ نور دین اور درمیان میں یہ عبارت تھی۔ ازواج مطہرہ میری دانست میں ازواج دوستوں اور رفیقوں کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نورالدین خالص دوستوں میں سے ہیں۔ کیونکہ اسی رات اس سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ فرشتہ نظر آیا کہ وہ کہتا ہے کہ تمہاری جماعت کے لوگ پھرتے جاتے ہیں۔ فلاں فلاں اپنے اخلاص پر قائم نہیں

١؎ مرزا قادیانی کو فکر دامنگیر ہوا کہ کہیں نورالدین بھیرہ میں رہ کر کسی نیک صحبت کا اثر قبول کر کے مرزائیت ترک نہ کردے۔ اس لئے یہ خوشامد سے بھرا ہوا خط لکھا۔

٧٢

صفحہ ٤٦٣

رہا ۔ تب میں اس فرشتہ کو ایک طرف لے گیا اور اس کو کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں ۔ تم اپنی کہو کہ تم کس طرف ہو تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو تمہاری طرف ہیں ۔ تب میں نے کہا کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ میری طرف ہے تو مجھے اس کی ذات کی قسم ہے کہ اگر سارا جہان پھر جائے تو مجھے کچھ پرواہ نہیں ۔ پھر بعد اس کے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو اور آنکھ کھل گئی اور ساتھ الہام کے ذریعہ سے یہ جواب ملا کہ ”اجئنی من حضرۃ الوتر“ میں نے سمجھا کہ چونکہ اس بیان سے جو فرشتہ نے کیا وتر کا لفظ مناسب تھا کہ وتر تنہا اور طاق کو کہتے ہیں ۔ اس لئے خدا تعالیٰ کا نام الوتر بیان کیا ۔ اس خواب اور اس الہام سے کچھ مجھے بشریت سے تشویش ہوئی ١؎ اور پھر سو گیا ۔ تب پھر ایک فرشتہ آیا اور اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور نقش مہر جو چھپ گیا دائرہ کی طرح تھا اور وہ اس قدر دائرہ تھا ۔ جو ذیل میں لکھتا ہوں اور تمام شکل یہی تھی ۔

نور دین ازواج مطہرہ

مجھے دل میں گذرا کہ یہ میری دل شکنی کا جواب ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ایسے خالص دوست بھی ہیں ۔ جو ہر ایک لغزش سے پاک کئے گئے ہیں ۔ جن کا اعلیٰ نمونہ آپ ہیں ۔ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان بخدمت اخویم حکیم فضل دین صاحب السلام علیکم !

مرزا کا دوسرا خط

مخدومی و مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب سلمہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! عنایت نامہ پہنچ کر باعث مشکوری ہوا ۔ عام طور پر لوگ آن مکرم کے استقلال کو بڑی تعجب ٢؎ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ درحقیقت اللہ جل شانہ کے بندے جو اس کی ذات پر توکل رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے خدا تعالیٰ کافی ہے ۔ کسی راجہ رئیس کی کیا پرواہ ہے ۔ جبکہ اس بات کو مان لیا خدا ہے اور ان صفتوں والا کہ ایک طرفۃ العین میں جو چاہے کر دیوے ۔ تو پھر ہم کیوں غم کریں اور زید وعمر کی بے التفاتی سے ہمارا کیا نقصان آپ کو اپنے بہت سے برکات کا مورد بنادے کہ آپ نے اس عاجز کی للہ وہ خدمت کی ہے کہ جس کی نظیر اس زمانہ میں ملنا مشکل

١؎ معلوم ہوا کہ پہلے جو قسم کھائی تھی کہ مجھے پرواہ نہیں وہ قسم جھوٹی تھی ۔ مرزا قادیانی قسمیں کھانے کے عادی تھے ۔ ان کی دوسری قسموں کا حال بھی اس سے معلوم ہو سکتا ہے ۔

٢؎ مرزا کو خود بھی تعجب تھا ۔ دل میں خوشی ہو گی کہ عجب آدمی ہاتھ آیا ہے ۔ جس میں عقل خرد کا نام نہیں ۔

٧٣

صفحہ ٤٦٤

ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ چونکہ انسان کے بعض اخلاق مخفیہ کا خلقت پر ظاہر ہونا کسی قسم کی تکلیف پر موقوف ہے۔ اس لئے وہ رحیم و کریم اپنے مستقیم الحال بندوں پر حوادث بھی نازل کرتا ہے۔ تا ان کے دونوں قسم کے اخلاق جو ایام راحت اور ایام رنج سے متعلق ہیں ظاہر ہو جاویں۔ اسی وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کی مشیت میں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ تا جو کچھ ہمارے اندر ہے ظاہر ہو جاوے۔ اس عاجز کا پہلا خط جس میں ایک دو الہام درج ہیں۔ شاید پہنچ گیا ہوگا۔

والسلام ! خاکسار! غلام احمد قادیان ٣ ستمبر ١٨٩٢ء منقول از زمیندار ١٩ نومبر ١٩٣٢ء

انجام: حکیم نور الدین قادیانی نے اپنے مرنے سے چند روز پہلے میرے اخ مکرم حضرت زبدۃ العارفین مولانا محمد ذاکر بگوی کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا۔ جس میں خاندان بگویہ کے اخلاق کریمانہ و عنایات کا ذکر کرنے کے بعد اپنے لئے دعا کی درخواست کی تھی اور اپنی عمر کے آخری افعال سے ندامت کا اظہار کیا تھا اور اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا تھا کہ نورالدین کو تنبیہ ہو چکی ہے۔ سنا گیا ہے کہ مرنے سے آٹھ دن پہلے حجرہ کے اندر ہی رہا۔ میرے حضرت بھائی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ یقیناً توبہ کر کے مرا ہے۔ واللہ اعلم بحقيقة الحال!

حکیم نور الدین قادیانی نے ١٩١٤ء میں انتقال کیا اور اس کے بعد امت مرزائیہ میں افتراق و انشقاق کا بازار گرم ہو گیا۔

حصہ سوم

مرزائیوں کے فرقے

حکیم نورالدین قادیانی کی وفات کے بعد امت مرزائیہ اختلاف عقائد کی بناء پر کئی حصوں میں منقسم ہو گئی۔ ان میں سے اگر چہ لاہوری و قادیانی زیادہ مشہور ہیں ۔ مگر دوسرے فرقے بھی اپنی تفرقہ انداز سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس لئے ان کا مختصر تذکرہ قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا لڑکا مرزا محمود احمد اس گروہ کا امام یا پیشوا ہے (آج کل دسمبر ٢٠٠٦ء میں پانچواں سوار مرزا مسرور قادیانی ان کا چیف گرو ہے۔ مرتب) یہ لوگ مرزا کی نبوت کا

٤٧٤

صفحہ ٤٦٥

اعلانیہ پرچار کرتے ہیں اور مرزا کے تمام دعاوی کو اس کے اصلی الفاظ میں صحیح و درست تسلیم کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعوے من فرق بینی وبین المصطفٰی ما عرفنی وما رآی کے مطابق قادیانی کو محمدﷺ کا بروز سمجھتے ہیں اور وللاخرۃ خیر لک من الاولٰی کے مطابق مرزا کی بعثت کو بعثتِ اوّل یعنی رسالت مآبﷺ سے افضل اعتقاد کرتے ہیں۔ اس جماعت کا ایک شاعر کہتا ہے کہ:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)

مرزا محمود احمد کو یہ لوگ فخر المرسلین لکھا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے اپنے اس لڑکے کی تعریف میں لکھا تھا کہ:

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدہ از راہ دور آمدہ

(تذکرہ ص ١٦٥ طبع سوم)

مرزا محمود کے عقائد دربارہ مرزا غلام احمد قادیانی ملاحظہ ہوں۔

مرزا قادیانی بلحاظ نبوت کے ایسے ہیں جیسے اور پیغمبر اور ان کا منکر کافر ہے۔

(الفضل ٤؍نومبر ١٩٢٢ء ص ٨)

جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔

(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٠ اپریل ١٩١١ء)

مرزا قادیانی نے اس کو بھی کافر ٹھہرایا ہے۔ جو سچا تو جانتا ہے۔ مگر بیعت میں توقف کرتا ہے۔

(تشحیذ الاذہان ج ٩ نمبر ٣ ص ١٣٠، اپریل ١٩١٣ء)

مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے۔

(الفضل ج ٣، ٩ جنوری ١٩١٥ء)

مرزا قادیانی عین محمد تھے۔

(ذکر الٰہی ص ٦٠)

”اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا انکار بھی کفر ہے۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ اس لئے اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں

٧٥

صفحہ ٤٦٦

ہے تو نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر۔ مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ، اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٤٦)

’’کیا اس بات میں شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا...... جب تک یہ آیت کریمہ قرآن میں موجود ہے اس وقت تک تو مجبور ہے کہ مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

’’مرزا قادیانی بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)

’’تمام انبیاء علیہم السلام (جس میں نبی کریمﷺ بھی شامل ہیں) پر فرض ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لائیں تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔‘‘

(الفضل ج ٣ ص ٦ نمبر ٣٨ مورخہ ١٩ ستمبر ١٩١٥ء)

’’کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ لا نفرق بین احد من رسلہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام کو شامل کرتے ہیں۔ وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١١٧)

’’مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں بعثت ثانی کو بدر کا نام رکھا ہے اور بعثت اوّل کو ہلال جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کا کافر بعثت اوّل کے کافروں سے بدتر ہے۔‘‘

(الفضل ص ٤، ١٥ جولائی ١٩١٥ء)

مرزا محمود اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ: ’’جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے اسی طرح میرا انکار تمام انبیاء بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی۔‘‘

(الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٣، ٢٢ ستمبر ١٩١٧ء)

’’وہ خلیفہ اسلامی جس کی اتباع تمام مشرقی و مغربی دنیا پر فرض ہے۔ وہ میں ہوں۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ١٠ ص ٣٥، اکتوبر ١٩٢٤ء)

اپنے والد کے متابعت میں مرزا محمود نے جنگ عظیم کے دوران میں برطانیہ کی وفاداری کے راگ الاپے اور کہا کہ اگر مجھ پر بارِ خلافت نہ ہوتا تو میں رنگروٹ بن کر فوج میں بھرتی ہو جاتا۔ ١٩١٩ء میں جنگ افغانستان کے موقع پر افغانستان کو کچلنے کے لئے احمدی رجمنٹیں بھرتی کرنے کا ارادہ کیا۔ بغداد و بیت المقدس کے فتح ہونے پر قادیان میں جشن چراغاں منایا گیا۔ اس دن منارۃ الگھنٹہ قادیان پر گیس کے ہنڈے روشن تھے اور جزیرۃ العرب پر غیر مسلموں کے قابض ہو جانے

٧٦

صفحہ ٤٦٧

کی خوشی میں ہر قادیانی فرط مسرت سے پھولے نہ سماتا تھا۔ انہیں اپنے نبی کے مشن کا ثمرہ نظر آ رہا تھا۔ مرزا محمود کے چال چلن و اخلاق کے متعلق کئی روایات مشہور ہیں۔ اس کے عہد شباب اور لڑکپن کے کئی قصے زبان زد خلائق ہیں۔ مرزا غلام احمد کے سامنے بھی اس کے برے چال چلن کی شکایتیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ اسی زمانہ میں ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلق کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔ عہد خلافت میں بھی مرزا محمود کے مشی فی النوم، کنار بیاس، کے خاص مشاغل مدرسہ نسوان وغیرہ کے متعلق اخبارات میں کئی بیان شائع ہو چکے ہیں۔ مولانا عبدالکریم صاحب ایڈیٹر مباہلہ امرتسر اور ان کا خاندان پکا مرزائی تھا اور وہ بہشتی مقبرہ کا ٹکٹ بھی حاصل کر چکے تھے۔ مگر مرزا محمود کی عیاشیوں اور دیگر کاروائیوں سے واقف ہو کر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور خدا کے فضل و کرم سے انہیں دوبارہ داخل اسلام ہونے کی توفیق حاصل ہوئی۔ مولانا ممدوح نے بذریعہ اخبار مباہلہ مرزا محمود کو مباہلہ کے لئے چیلنج دیا۔ مگر مرزا محمود نے مباہلہ قبول کرنے کی بجائے ارکان انجمن مباہلہ کے خلاف اپنے مریدوں کو اشتعال دلایا۔ آخر کار مولانا کو اعلاء کلمۃ الحق کی پاداش میں قادیان سے جلا وطن ہونا پڑا۔ ان کے مکانات سورج کی روشنی میں دن کے وقت جلائے گئے۔ ہزار ہا روپیہ کا سامان نذر آتش کر دیا گیا اور مولانا عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کے ایک ہمراہی مستری محمد حسین صاحب بٹالوی شہید کر دیئے گئے۔ مگر الحمد للہ کہ مولانا ممدوح نہایت صبر و استقامت کے ساتھ امرتسر میں رہ کر اخبار مباہلہ کے لئے قادیان کے سربستہ رازوں کا انکشاف کر رہے ہیں۔

مرزا محمود انگلستان کی سیاحت بھی کر چکا ہے۔ وہاں اس نے احمدیت یعنی مرزائیت پر ایک لیکچر دیا تھا اور لنڈن کے لڈگیٹ میں اقامت اختیار کی تھی۔ مرزائیوں نے اسی وقت اعلان کر دیا کہ احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح علیہ السلام دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ وہ پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ مرزا محمود نے انگلستان کے اخبارات میں ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے اپنی ذات کے متعلق پراپیگنڈا کیا۔ لنڈن کے اخبارات میں ہز ہولی نیس خلیفۃ المسیح (تقدس مآب خلیفۃ المسیح ) کے لقب سے اس کا ذکر کیا گیا۔ عوام نے سمجھا کہ دراصل خلیفہ صاحب کا نام ہز ہولی نیس ہے۔ کیونکہ انگریزی میں ہز ہولی نیس شائع ہوا تھا۔ اس لئے اس کا نام ہز ہولی نیس مشہور ہو گیا۔

١۔ کتب لغت اور کتب احادیث میں لد ایک گاؤں کا نام ہے۔ جو فلسطین میں ہے۔ مرزائیوں نے فن تاویل میں تمام گذشتہ ملحد فرقوں سے فوقیت تامہ حاصل کر لی ہے۔ دمشق سے مراد قادیان ابن مریم سے مراد غلام احمد لد سے لنڈن کا لڈگیٹ مینارۂ شرقی سے مراد قادیان کا مینارۂ ۔ غرض مرزائیوں کے نزدیک محمد ﷺ کی تعلیم ایک معمہ تھی۔

٧٧

صفحہ ٤٦٨

١٩٢٢ء میں قادیانیوں میں بہائیت کا چرچا ہونے لگا۔ محفوظ الحق علمی مولوی فاضل قادیانی اور کئی دیگر اشخاص نے اعلانیہ بہائی مذہب قبول کر لیا اور اعلان کر دیا کہ مرزا غلام احمد نے بہاء اللہ کی تعلیمات بہائی عقائد و طرز استدلال سے فائدہ حاصل کیا تھا۔ ورنہ دراصل مسیح موعود اور مہدی اور زمانہ کا رسول بہاء اللہ ہی تھا۔ مرزا محمود نے اس زبردست تبدیلی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو عاجز پا کر مقاطعہ کے ہتھیار سے کام لیا۔ علمی و دیگر بہائی قادیان کی رہائش ترک کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے کوکب ہند کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ جو ملک ہند میں بہائیت کی تبلیغ کرنے والا واحد پرچہ ہے۔ اس میں قادیانی مذہب کی تردید بھی نہایت عمدگی سے کی جاتی ہے۔

مذہب مرزائیت کی تبلیغ اور پراپیگنڈا کے فن میں مرزا محمود اپنے والد سے زیادہ ماہر اور ہوشیار ثابت ہوا ہے۔ گورنمنٹ برطانیہ کو ہر حال میں اپنے موافق رکھنے کے لئے خوشامد و چاپلوسی اور اظہار وفاداری میں کوئی غدار ملت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ممالک غیر میں اس کے کئی مبلغین خدمات خصوصی پر مامور ہیں اور ان کی خدمات کو خدمات اسلام ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ اکثر بے خبر جاہل اور نئی روشنی کے دلدادہ مسلمین انہیں مبلغ اسلام اور خادم اسلام سمجھ کر ان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر ان کو چندہ دینے لگتے ہیں۔ سرمد شہید نے عالم کشف میں شاید ان ہی لوگوں کو دیکھ کر کہا ہو کہ:

یاراں چہ عجب راہ دورنگی دارند
مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند

مرزائیوں کی غیر ممالک میں تبلیغ کی حقیقت حسب ذیل تصریحات سے واضح ہو سکتی ہے۔ قارئین بعد ازاں الفاظ کا مطالعہ کر کے اندازہ لگا لیں۔

خواجہ کمال الدین مرزائی لکھتا ہے کہ: ”قادیانی بھائیوں نے جا کر ولایت میں کہا کہ احمدی فرقہ دوسرے مسلمانوں سے الگ ہے ...... قادیانی دوستوں نے ماسٹر پیغمبر (محمد ﷺ) اور شاگرد پیغمبر (مرزا صاحب) کا فلسفہ بھی انگلستان میں پیش کر کے دیکھ لیا۔ یہ بیہودہ امر ہی انگلستان میں انکی ترقی کی روک کا باعث ہو گیا ...... قادیانی مبلغین میں سے ایک نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اتوار کے دن وہ واٹرلو اسٹیشن پر آجاتے ...... اور اس ٹوہ میں رہتے کہ کون لندن سے مسجد دوکنگ کی طرف جا رہا ہے۔ اگر انہیں کسی ایسے شخص کا پتہ چل جاتا تو اس کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھ جاتے اور دوکنگ تک حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی تلقین کرتے۔

٧٨

صفحہ ٤٦٩

چنانچہ ایک دن ملک بلجیم کی ایک نو مسلم خاتون اپنے بچوں کو لے کر دوکنگ آ رہی تھی۔ تو اس کے ساتھ قادیانی مبلغ بھی بیٹھ گئے اور نبوت ١؎ مرزا پر زور دینے لگے۔ اس پر خاتون نے کہا..... کہ بڑی سے بڑی بات جو تمہاری تقریر سے مجھے نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ محمد کے ماتحت ایک چھوٹا پیغمبر پیدا ہوا۔ ہم تو اب تک بڑے پیغمبر سے عہدہ برآ نہیں ہوئے جس وقت ہم بڑے پیغمبر کی تعلیم پر پورے عامل ہو جائیں گے اس وقت چھوٹے پیغمبر کا بھی خیال کر لیں گے۔ یہ الفاظ ..... قادیانی جماعت کے غور کرنے کے قابل ہیں۔ وہ عملی رنگ کو اپنے سامنے رکھیں۔ آخر انہوں نے دیکھ تو لیا کہ جن ٢؎ وجوہ سے انہوں نے اوّل جرمن اور بعد میں اپنے امریکن مشن کو بند کیا۔ وہ ہی صورت ان کی انگلستانی مشن کی ہو رہی ہے۔‘‘

(مجدد کامل ص ٨٧، ٨٨)

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میں گورنمنٹ کی پولیٹیکل خدمت وحمایت کے لئے ایسی جماعت تیار کر رہا ہوں جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلے میں نکلے گی اور گورنمنٹ کے متعلق مجھے یہ الہام ہوا کہ جب تک تو گورنمنٹ کی عملداری میں ہے۔ خدا گورنمنٹ کو کچھ تکلیف نہ دے گا اور جدھر تیرا منہ ہو گا اسی طرف خدا کا ہو گا اور میرا منہ ٣؎ گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف ہے۔ لہٰذا خدا کا منہ بھی اسی گورنمنٹ کی طرف ہے۔‘‘

(البدر قادیان نمبر ٨ ص ٥)

”ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص ٤؎ زیادہ ہیں۔ اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص ١٨٦، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٤ حاشیہ)

١؎ مرزائیوں کی یہی اسلامی خدمات ہیں جن کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور سادہ لوح عوام انہیں ممالک فرنگ میں اسلامی مبلغ تصور کر لیتے ہیں اور انہیں چندہ دیتے ہیں اور مرزائی جھوم جھوم کر کہتے ہیں کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے مغرب میں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا ہے۔ فافہم! (مؤلف)

٢؎ یعنی اہل جرمن و امریکہ قادیانی جماعت کو انگریزی جاسوس سمجھنے لگے اور مرزا غلام احمد کی نبوت کا پرچار نہ ہو سکا۔

٣؎ یعنی مرزا اور مرزائیوں کا قبلہ انگریز ہیں۔ فافہم!

٤؎ (بخاری ج ١ ص ٣١٣ کتاب الجہاد، باب دعا النبی ﷺ الی الاسلام والنبوة) میں روایت ہے کہ قیصر روم نے ابوسفیان سے دریافت کیا کہ پیغمبر اسلام کے ماننے والے مسکین غریب لوگ زیادہ ہیں یا سردار اور قوی لوگ؟۔ ابوسفیان نے جواب دیا۔ مسکین اور غریب لوگ ہرقل نے اس جواب پر کہا کہ ہر ایک نبی کے پہلے ماننے والے مسکین غریب لوگ ہی ہوتے رہے ہیں۔

٧٩

صفحہ ٤٧٠

مرزا محمود کہتا ہے کہ: ”گورنمنٹ کی ایسی خدمت کرتے ہیں جو پانچ پانچ ہزار روپیہ تنخواہ پانے والے نہیں کرتے۔“

(الفضل قادیان ج١٧ نمبر ٧٦، یکم اپریل ١٩٣٠ء)

مرزا محمود ١٩١٤ء سے لے کر ١٩٢٤ء تک اہل اسلام سے ترک تعاون پر عمل پیرا رہا۔ اس نے مسلمانان عالم کو کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور ان سے رشتہ ناطہ و برادری کے تعلقات قائم کرنا۔ ان کی شادی یا غمی کی رسومات میں شریک ہونا۔ بلکہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک پڑھنا اپنے مریدوں کے لئے ناجائز و حرام قرار دیا۔ مگر ١٩٢٤ء کے بعد کسی پولیٹیکل مصلحت سے مسلمانان ہند کی قیادت و رہنمائی کا شوق اس کے دل میں سما چکا ہے۔ انہیں کافروں، مرتدوں اور بے دینوں کی بھلائی و بہبودی کا فکر بقول مرزائیان اسے ہر وقت بے چین کئے رکھتا ہے۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں بے شمار مرزائی حلقہ ارتداد میں مبلغین اسلام بن کر پہنچے۔ علمائے اسلام اسی وقت ان کے عزائم کو تاڑ گئے تھے۔ مگر مدعیان قیادت یعنی نئی ظلمت کے شیدائیوں نے ہر جگہ علمائے اسلام کا استخفاف کیا اور قادیانیوں کی اسلامی ہمدردی کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مرزائیوں نے تبلیغ و انسداد فتنۂ ارتداد کے لئے لاکھوں روپیہ مسلمانوں سے وصول کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ١٩٢٣ء کے جلسہ قادیان میں اعلان کیا گیا کہ سانڈھن (حلقہ ارتداد) سے احمدیوں کا قافلہ غلام احمد کی جئے کے نعرے لگاتا ہوا قادیان پہنچا ہے اور احمدیت وہاں اچھی طرح پھیل رہی ہے۔ گویا آریہ بننے سے بچ کر ملکانوں کی ایک جماعت مسلمانوں کے لاکھوں روپیہ کے صرف سے مرزائی بن گئی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت سے نکل کر قادیانی نبی کی امت میں شامل ہو گئے۔

لاہور کے ایک ہندو راجپال نے ایک دل آزار کتاب رنگیلا رسول تصنیف کی جس سے مسلمانان ہند میں ایک ہیجان عظیم برپا ہو گیا۔ قادیانیوں نے قیادت کا موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بڑے بڑے لمبے پوسٹر ہر ہفتہ مرزا محمود کی طرف سے شائع ہو کر بڑے بڑے شہروں کے در و دیوار پر چسپاں ہونے لگے۔ جن میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے ساتھ معاشرتی و تجارتی مقاطعہ کی تلقین کی جاتی تھی۔ اس زمانہ میں عام طور پر لوگ مرزائیوں کو نبی اکرم ﷺ کے عاشق اور اسلام کے بہادر سپاہی خیال کرتے تھے۔ مرزا محمود نے اپنی جماعت کی وسیع تنظیم کے ذریعہ اپنی قیادت کا ڈھنڈورہ پٹوایا اور سادہ لوح مسلمانوں سے لاکھوں کی تعداد میں دستخط کرا کر ایک میموریل وائسرائے کے نام بھجوایا۔ جس میں انبیاء و بانیان مذاہب کی توہین کو جرم قرار دینے کے لئے کسی خاص قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ گورنمنٹ نے تعزیرات ہند میں مجوزہ ترمیم کو قبول کر لیا۔

١٠٨

صفحہ ١٧١

مسلمانوں کی خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ مگر اس چالبازی اور فریب کی حقیقت جلد ہی ظاہر ہوگئی۔ مرزائیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی بانیان مذاہب اور انبیاء میں ظاہر کیا اور اس کی ذات پر بھی نکتہ چینی بموجب قانون جرم قرار دی گئی۔ اب تک کئی خادمان اسلام اس قانون کی زد میں آچکے ہیں۔ مگر بدگو ومفسد اشخاص ابھی تک محفوظ ہیں۔ غازی علم الدین شہیدؒ کے خنجر نے راجپال فتنہ کا خاتمہ کردیا اور اس سچے عاشق رسول نے اپنی جان عزیز اس مقصد کے لئے قربان کردی۔ مسلمانوں کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ جب انہوں نے مدعیان تحفظ ناموس شریعت یعنی قادیانیوں اور ان کے پیشوا مرزا محمود کی زبان سے علم الدین کی مذمت کے الفاظ سنے اور قادیان کے سرکاری صحیفہ الفضل میں اعلان کیا گیا کہ علم الدین اپنے گناہ سے توبہ کرے۔ اس سے ایسی حرکت سرزد ہوئی ہے جو شرعاً قابل معافی نہیں۔

(الفضل قادیان ج ١٦ نمبر ٨٤ ص ٧، ٨ مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٢٩ء)

اس کے برعکس حاجی مستری محمد حسین صاحب بٹالوی شہیدؒ کے قاتل محمد علی مرزائی کی تعریفیں کی گئیں اور پھانسی کے بعد اس کا جنازہ کو مرزا محمود نے کندھا دیا اور اسے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔

(الفضل قادیان ج ١٨ نمبر ١٣٣ ص ٢١، ١٩؍مئی ١٩٣١ء)

مرزائیوں کے اس فعل سے ثابت ہوچکا ہے کہ ان کے دلوں میں نبی اکرمﷺ سے زیادہ مرزا محمود کی محبت وعزت موجزن ہے۔ مرزا محمود کے دشمن کا قاتل ان کے نزدیک جنتی ہے اور نبی کریمﷺ کو گالیاں دینے والے کو اگر کوئی مسلمان غضب میں آکر قتل کردے تو ان کے نزدیک وہ شرعی مجرم ہے۔ گناہ گار ہے اور مستحق دار ہے اور اسے توبہ کرنی چاہئے اور ایسے شخص کو اگر پھانسی دی جائے تو اسے شہید کہنا جائز نہیں۔ مرزا محمود کے نزدیک سیاسیات میں دخل دینا ناجائز تھا۔ وہ اعلان کرچکا تھا کہ ”مسلمانوں کے لئے سیاسیات کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جسے کھا کر بچنا محال بلکہ ناممکن ہے۔“

(برکات خلافت ص ٥٩)

ان لوگوں کو جانے دو جو سیاسیات میں پڑتے ہیں۔

(برکات خلافت ص ٦٩)

خواجہ صاحب (کمال الدین) باوجود مسیح موعود کے سخت ناپسند فرمانے کے مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔

(الفضل ١٧؍فروری ١٩١٧ء)

مگر اب مرزا محمود نے سیاسیات میں عملی حصہ لینا شروع کردیا ہے۔ اس کے مرید ظفر اللہ ومفتی محمد صادق مسلم لیگ و مسلم کانفرنس کے ہر اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور سیاسیات کے متعلق مسلمانوں کو مشورے دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو ایسے خطرناک مفسدین سے ہوشیار رہنا

٨١

صفحہ ٤٧٢

چاہئے۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ آئندہ زمانہ میں سکھوں کی طرح اپنی ایک علیحدہ سیاسی حیثیت گورنمنٹ سے تسلیم کرالیں اور اپنی تعداد بڑھا کر مسلمانوں کے لئے مستقل خطرہ ثابت ہوں۔ یہ پولیٹیکل گرگٹ کئی رنگ بدل رہے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا تھا کہ ”اللہ تعالیٰ ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے۔ اس لئے اس کی منشاء کی کیوں مخالفت کی جائے۔ جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے بار بار ان میں گھسنا یہی تو اس کی منشاء کے مخالف ہے“۔

(البدر مورخہ ٢٠ فروری ١٩٠٣ء)

مگر جب مرزا محمود کو قیادت کا شوق سمایا اور مصلحت وقت سے کام لینا چاہا تو ہمدرد اسلام بن کر مسلمانوں کے سامنے نمودار ہوا اور ٢٦؍جون ١٩٢٥ء کو نیا روپ بدلا اور تقریر میں کہا کہ : ”میں نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اب تک ہماری جماعت سے ایک غلطی ہوئی ہے۔ میں نے بار ہا اس سے روکا بھی ہے مگر اس جماعت نے جو اخلاص میں بے نظیر ہے تاحال اس پر عمل نہیں کیا اور وہ یہ کہ مباحثات کو ترک کر دو۔ میرے نزدیک وہ شکست ہزار درجہ بہتر ہے۔ جو لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو۔ بہ نسبت اس فتح ؂١ کے جو لوگوں کو حق سے دور کر دے۔ پس ایک دفعہ پھر جب کہ ہمارے مبلغ تبلیغ کے لئے جارہے ہیں انہیں اور دوسروں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ مباحثات کو چھوڑ دیں اور ایسا طرز اختیار کریں جس سے دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور خدا تعالیٰ سے خشیت ظاہر ہو۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ مبلغ کی حیثیت سے نہیں جارہے۔ بلکہ مدبر کی حیثیت سے جارہے ہیں۔ ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس ملک میں کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے“۔

(الفضل ١١؍ جولائی ١٩٢٥ء)

کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم ہوا۔ مظلومین کی ہمدردی کے جذبہ سے مسلمانان ہند بے چین تھے۔ ایسی حالت میں مرزا محمود نے شملہ میں چند نام نہاد لیڈروں کو جمع کر کے کشمیر کمیٹی قائم کی اور اس کی صدارت کے فرائض اپنے ذمے لئے اور اس کا سیکرٹری اپنا ایک مرید عبدالرحیم درد کو بنایا اور کمیٹی کا صدر مقام قادیان میں مقرر کر کے طول وعرض ہند میں چندہ کی اپیلیں شائع کیں

؂١ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائیوں کو ہر جگہ مناظروں میں ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مرزائیت کی حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے۔ اس لئے مرزا محمود کو نئے طریقہ سے کام لینا پڑا اور منافق بن کر ظاہری ہمدردی دکھا کر تدبیر وحکمت سے لوگوں کے دل و دماغ میں اپنا اثر قائم کرنا چاہا (مؤلف)

٨٢

صفحہ ٤٧٢

اور کئی لاکھ ١؎ روپیہ غریب مسلمانوں نے اپنے کشمیری مظلوم بھائیوں کی امداد کے لئے دیا۔ مگر وہ روپیہ مرزائیت کی تبلیغ پر صرف ہوا۔ کمیٹی کی صدارت کے نام سے ناجائز فائدہ حاصل کیا گیا۔ مرزائیوں نے کشمیر میں پراپیگنڈا کیا کہ مرزا محمود کو مسلمانان ہند نے اپنا پیشوا خلیفہ اور امیر تسلیم کرلیا ہے۔ معصوم کشمیری بچوں کے جلوس نکالے گئے اور ان سے مرزا بشیر الدین محمود زندہ باد کے نعرے لگوائے گئے۔ کشمیری زعماء کو مالی اعانت سے اپنا ہمنوا بنایا گیا۔ چنانچہ سنا گیا ہے کہ کشمیر کے ہر بڑے قصبہ میں سرکردہ مسلم پیشوا یا سردار کو قادیان سے ماہواری رقم موصول ہوتی ہے۔ اس طرح تالیف قلوب سے کام لے کر مرزائیت کے بیسیوں مبلغ دیہات وقصبات میں دورہ کر رہے ہیں۔ حکومت کشمیر پر بھی مرزائیوں کا اثر ہے۔ اس لئے مرزائیت کے مخالفین کی زبان بندی کرائی جاتی ہے۔ ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ نوجوان ذہن اور مستعد طلباء فراہم کرکے بغرض تعلیم قادیان روانہ کئے جاتے ہیں۔ تاکہ انہیں مبلغ بنا کر ان کے وطن میں واپس بھیجا جائے۔ صرف علاقہ شوپیاں (کشمیر) سے دس طلباء بھیجے جاچکے ہیں۔ مرزائیت کے خلاف آواز بلند کرنے والے کا گلا اتحاد کی رٹ لگا کر دبانے والے ہر جگہ موجود ہیں اور اگر چند دن یہی حالت رہی تو اندیشہ ہے کہ تمام کشمیر میں مرزائیت کی جڑیں نہایت محکم واستوار ہو جائیں گی۔ علمائے کرام کا فرض ہے کہ اس فتنہ کو فتنہ شدھی سے زیادہ خطرناک سمجھ کر مردانہ وار میدان عمل میں آئیں۔ ورنہ بعد میں پچھتانے سے کچھ نہ بنے گا۔

تحریک احرار نے کسی حد تک قادیانی فتنہ کے سدباب میں حصہ لیا۔ مگر گورنمنٹ نے اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس کے بعد مرزا محمود نے نیا رنگ اختیار کیا۔ یوم سیرت کے نام سے ہر سال مقررہ تاریخوں پر طول وعرض ہند میں ہر جگہ جلسے منعقد کرائے۔ جن میں نبی کریمﷺ کی سیرت کے پردہ میں مرزائیت کی تبلیغ کی گئی۔ عاشقان سید المرسلینﷺ جوق در جوق ان جلسوں میں شامل ہوئے اور سادہ لوح عوام نے مرزائیوں کو مداح رسول سمجھا۔ علمائے کرام میں سے بھی اکثر اس رو میں بہ گئے مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزائیوں کا مقصد ان جلسوں سے سوائے جلب زر، حصول منفعت اور ذاتی جاہ واقتدار کے کچھ نہ تھا۔ اپنے آپ کو سید المرسلینﷺ کا محب ظاہر کر

١؎ صرف شہر بھیرہ سے کئی سو روپیہ اعانت مظلومین کا نام لے کر بعض فریب خوردہ اشخاص نے جمع کیا اور قادیان میں ارسال کیا۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ تمام ہندوستان سے کس قدر رقم فراہم ہوئی ہوگی۔

٨٣

صفحہ ٤٧٤

کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اور غیر ممالک میں تبلیغ کی کہ مرزا محمود ہندوستان کے مسلمانوں کا پیشوائے اعظم ہے۔ اس کے اشارہ پر سات کروڑ مسلمان ایک وقت اور ایک ساعت میں ہر جگہ جلسے منعقد کیا کرتے ہیں۔ اس طرح غیر ممالک اور دیگر اقوام میں مرزائی جماعت کا وقار حاصل کیا گیا۔

منافقانہ حکمت عملیوں میں ناکامی کا منہ دیکھ کر مرزا محمود نے ١٩٣٢ء کے آخر میں تمام پنجاب و یو۔پی میں مبلغین کے وفود بھیجے۔ ان کے مبلغین نے جہاں میدان خالی دیکھا۔ مناظرہ کی دعوت دی اور جہاں خادمان اسلام کو مقابلہ کے لئے آمادہ پایا۔ وہاں سے فرار ہوگئے۔ ضلع شاہ پور میں حزب الانصار کی سرگرمیوں کی وجہ سے مرزائیت کا قلع قمع ہورہا تھا۔ اس لئے اپنے چوٹی کے مناظر اور مبلغ صاحبان اس علاقہ میں دورہ کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے جن کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا محمود یعنی باپ اور بیٹے کے خیالات میں جس قدر اختلاف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سلسلہ کی بنیاد ہی عقلی ڈھکوسلوں پر ہے اور دروغ گورا حافظہ نباشد کی مثل ان پر صادق آتی ہے۔ جناب بابو حبیب اللہ صاحب کلرک نہر امرتسر نے چند امور پر روشنی ڈالی ہے۔ جن میں بیٹے نے باپ کے خلاف رائے ظاہر کی ہے۔ جن کو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

اقوال مرزا محمود احمد قادیانی

قدر آپ پر خدا کے فضل اور احسان ہیں۔ اسی قدر آپ عبادت اور شکر گذاری میں بھی سب سے بڑھ کر تھے۔ نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کہ : کرمہائے تو مارا کرد گستاخ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج٤ نمبر٥٨۔٢٣؍جنوری ١٩١٧ء ص١٣)

شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبوت پائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ اس غلطی کو دور کروایا اور بتایا کہ یہ تعریف قرآن کریم میں تو نہیں ۔“

(حقیقت النبوۃ ص١٣٣)

اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وما ارسلنا من رسول الا

٨٤

صفحہ ٤٧٥

لیطاع باذن اللہ اور اس آیت سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب بسبب قلت تدبر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود دوسری جگہ فرماتا ہے کہ انا انزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون یعنی ہم نے تورات اتاری ہے۔ جس میں ہدایت و نور ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت سے انبیاء یہودیوں کے فیصلہ کرتے رہے ہیں۔ اب بتاؤ اگر ایک نبی دوسرے نبی کے ماتحت کام نہیں کر سکتا تو بہت سے انبیاء تورات کے ذریعے فیصلہ کیوں کر کرتے رہے ہیں۔ ان کا توریت پر عمل پیرا ہونا بتاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے وہ پیرو تھے۔ گو یہ ایک اور بات ہے کہ انہوں نے موسیٰ کے ذریعہ نبوت حاصل نہیں کی۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ١٥٥)

سے پہلے جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان میں وہ قوت قدسیہ نہ تھی۔ جس سے وہ کسی شخص کو نبوت کے درجے تک پہنچا سکتے اور صرف ہمارے آنحضرتﷺ ہی ایک ایسے انسان کامل گزرے ہیں جو نہ صرف کامل تھے بلکہ مکمل تھے۔ یعنی دوسروں کو کامل بنا سکتے تھے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٣٩، ٤٠)

(مرزا قادیانی) دونوں نبی ہیں۔ فیضان پانے کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری نے براہ راست فیضان پایا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٧)

آنحضرتﷺ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے اور نواس بن سمعانؓ کی حدیث میں نبی اللہ کر کے آپ کو پکارا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٩)

موعود کو یہ درجہ حاصل ہوا تو آنحضرتﷺ کی غلامی سے ہی حاصل ہوا ہے۔ مگر چونکہ آنحضرتﷺ کو گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے نام نہیں دیئے گئے تھے۔ اس لئے لوگ مسیح وغیرہ کے منتظر رہے اور اب بھی ہیں۔ مگر آپ کے منتظر نہیں۔‘‘

(الفضل ١٦؍ جون ١٩١٧ء ص ٥)

’’حضرت یحییٰ علیہ السلام کو صرف ایک نبی کا نام دیا گیا۔ مگر مسیح موعود کو جن کے لئے حضرت یحییٰ علیہ السلام ایک دلیل کے طور پر ہیں تمام گذشتہ انبیاء کے نام دیئے گئے ہیں۔‘‘

(الفضل ١٦؍ جون ١٩١٧ء ص ٦)

٨٥

صفحہ ٤٧٦

بعدی اسمہ احمد “ میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں۔ تب بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے۔ کیوں کہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہوگئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٢٣)

نزدیک آپ ہی اس پیشین گوئی کے مصداق ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٢٥)

”غرض اسمہ احمد کے ساتھ فارقلیط والی پیشین گوئی کا کوئی تعلق نہیں ...... ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشین گوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔“

(انوار خلافت ص ٢٧)

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

مارا کرد گستاخ ! اے میرے خدا مجھ کو میرے غم سے نجات بخش۔ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢ ، ٦٦٣ حاشیہ)

میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کروائیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩)

اللہ کہلاتا ہے اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بالکل ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ : ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

١٩٢٩ء ص ١٧ اور الفضل مورخہ ٢٢ نومبر ١٩٢٩ء ص ٨) پر مرزا قادیانی کا قول یوں درج ہے۔ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔“

صفحہ ٤٧٧

٥ ...... ”اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ملی ...... کیونکہ مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی۔ پس قرآن کی رو سے مسیح کے منجی پاک ہمارے نبی ﷺ ہیں ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١٢)

٦ ...... ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠ ، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)

”وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریحاً ثابت ہوتا ہے کہ نواسؓ نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٧ ، خزائن ج ٣ ص ٢٢٠)

”اور مسلم میں اس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص مراد ہو جو محدثیت کا مرتبہ رکھتا ہو تو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی ۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٦ ، ٥٨٧ ، خزائن ج ٣ ص ٤١٦ ، حاشیہ ص ٧٠١)

٧ ...... ”بات یہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٣ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٨ ...... ”حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا۔ یاتی من بعدی اسمہ احمد ، من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ الفاظ نہیں کہے بلکہ انہوں نے محمد رسول الله والذین امنوا ١؎ معہ اشداء ...... میں حضرت رسول کریم ﷺ کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب بہت سے مومنین کی معیت ہوئی۔ جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کا نام محمد بتایا ﷺ ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خود بھی جلالی رنگ میں تھے اور عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کا نام احمد بتایا ۔ کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔“

(اخبار الحکم ٣١؍جنوری ١٩٠١ء ص ١١ ، ملفوظات ج ٢ ص ٢٠٨)

٩ ...... ”بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تو کسی شخص کا اعتراض پیش کیا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ: جب فارقلیط کے معنی حق و باطل میں

١؎ پارہ ٢٦ سورہ فتح کی آخری رکوع کی آیت ہے اس میں لفظ آمنوا نہیں ہے۔

٨٧

صفحہ ٤٧٨

فرق کرنے والا ہے تو قرآن کریم میں جو مبشر برسول یاتی من بعد اسمہ احمد والی پیشین گوئی مسیح علیہ السلام کی زبانی بیان فرمائی گئی ہے۔ وہ انجیل میں کہاں ہیں؟۔ فرمایا! یہ ہمارے ذمہ ضروری نہیں کہ ہم انجیل میں سے یہ پیشین گوئی نکالتے پھریں۔ وہ محرف مبدل ہو گئی ہے جو حصہ اس کا قرآن مجید کے خلاف نہیں اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے وہ ہم مان لیں گے ۔‘‘

(ملفوظات ج ٤ص ٢٩٧ ملخص)

”فارقلیط کی پیشین گوئی انجیل میں ہے اور اس کے معنی حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کا نام ہے کیونکہ قرآن کا نام اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور آپ صاحب القرآن ہیں اور پھر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم میں لفظ بسیط بھی آگیا ہے۔ جس کے معنی شیطان کے ہیں۔ بہر حال فارقلیط آنحضرت ﷺ کا نام ہے اور آپ کا نام جو احمد ہے۔ احمد کے معنی ہیں خداوند تعالیٰ کی بہت حمد کرنے والا اور آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر خدا کی حمد کرنے والا اور کون ہوگا۔ کیونکہ حق اور باطل میں آپ فرق کرنے والے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہی حمد کر سکتا ہے۔ جو حق و باطل میں فرق کرے۔ احمد وہی ہے جو شیطان کا حصہ دور کر کے خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال قائم کرنے والا۔ پس آپ فارقلیط ٹھہرے اور دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ آپ احمد ہی ہیں۔ گویا فارقلیط کی پیشین گوئی بھی احمد ہی کے حق میں ہے ۔‘‘

(اخبار بدر ٢١ نومبر ١٩٠٢ء ص ٢٩، ملفوظات ج ٢ ص ١٩٧، ١٩٨ ملخصا )

لاہوری پیغامی یا اندلسی گروہ

حکیم نورالدین قادیانی کی وفات کے بعد مسئلہ خلافت کے متعلق امت مرزائیہ میں اختلاف پیدا ہوا۔ بڑی بحث و تمحیص کے بعد حکیم محمد احسن صاحب امروہی خلیفہ قرار پائے ۔مگر حکیم محمد احسن صاحب نے مرزا محمود کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ تم لوگوں نے مجھے انتخاب کیا ہے اور میں اس صاحبزادہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں ۔اس پر سب لوگوں نے مرزا محمود سے بیعت کر لی۔ مگر مسٹر محمد علی ، خواجہ کمال الدین اور ان کے ہم خیال اشخاص کو پہلے ہی مرزا محمود سے اختلاف رہا کرتا تھا اور ان کے دلوں میں اس کا وقار علمی بہت کم تھا۔ اس لئے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا اور قادیان کی رہائش ترک کر کے لاہور میں اقامت اختیار کر لی ۔ اس کی خلافت کا انکار کر دیا اور اپنی جماعت کی علیحدہ تنظیم قائم کی اور مسٹر محمد علی ایم اے کو اپنا امیر منتخب کر لیا۔ کچھ عرصہ کے بعد حکیم محمد احسن امروہی بھی اس جماعت میں شامل ہو گئے ۔ اس وقت سے مرزائیوں کے یہ دو

٨٨

صفحہ ٤٧٩

بڑے گروہ قادیانی ولاہوری کے نام سے موسوم ہوئے۔ چونکہ قادیان مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق دمشق کا قائم مقام ہے۔ اسی نسبت سے قادیانیوں کو آج کل دمشقی اور لاہوریوں کو اندلسی بھی کہا جاتا ہے۔ ہر دو گروہ ایک ہی شجرۂ خبیثہ کی دو شاخیں ہیں۔ ان میں بلحاظ عقائد کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ ان کا باہمی اختلاف محض لفظی واصطلاحی ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے لاہوری گروہ زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا منافقانہ طرز عمل اکثر اشخاص کو صراط مستقیم سے علیحدہ کر دیتا ہے اور لوگ انہیں مسلمان سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مقتدا پیشوا، مجدد وقت محدث، مسیح موعود، کرشن، امام الزمان سب کچھ مانتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزائی تعلیمات پر ہم ہی لوگ قائم ہیں۔ مگر انصاف یہ ہے اس معاملہ میں قادیانی گروہ برسرِ حق ہے۔ یعنی مرزا کی تعلیمات پر اسی کا عمل ہے۔ لاہوری پارٹی کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور مرزا نے جن الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس سے مراد محدثیت ہے۔ مگر دراصل یہ گروہ حقیقت حال کو پوشیدہ رکھنے کے لئے دور از کار تاویلات سے کام لے رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لاہوریوں نے دیکھا کہ مسلمان دعویٰ نبوت سے بھڑکتے ہیں اور ایسے متوحش ہوتے ہیں کہ پھر کسی طرح ان کے شکار کی امید نہیں کی جاسکتی اور ظاہر ہے کہ چندہ وغیرہ جو کچھ وصول ہو سکتا ہے وہ یا تو مسلمانوں سے یا مرزائیوں سے مگر مرزائیوں کی غالب اکثریت مرزا محمود کے ساتھ تھی۔ اس لئے مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور اعلان کر دیا کہ ہم مرزا کو نبی نہیں مانتے اور مرزا کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہتے۔ چنانچہ اس پالیسی سے وہ بہت کچھ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سادہ لوح مسلمان جس قدر جلد ان کے فریب میں آجاتے ہیں قادیانی پارٹی کے فریب میں نہیں آتے۔ نواب شاہ جہاں بیگم والیہ بھوپال کی تعمیر کردہ مسجد ووکنگ لندن ان کے قبضہ میں ہے اور لندن مشن کے اخراجات سب مسلمانوں کے چندوں سے پورے ہورہے ہیں۔ مسٹر محمد علی نے قرآن مجید کا انگریزی زبان میں ترجمہ مع تفسیری نوٹوں کے شائع کیا ہے۔ جس کی طباعت کے لئے حنفی وسنی تاجران رنگون نے یکمشت سولہ ہزار روپیہ دیا تھا۔ مسٹر محمد علی نے اب قرآن مجید کی تفسیر اردو میں بھی شائع کی ہے۔ تفسیر وترجمہ سرسید اور مرزا کے تمام باطل عقائد، تحریفات معنوی تاویلات معجزات کے انکار وغیرہ سے بھر پور ہیں۔ اس ترجمہ اور تفسیر نے ہندوستان میں روح الحاد کو زندہ کر دیا ہے۔ انگریزی خوان طبقہ سوائے انگریزی کے اور کسی چیز کا مطالعہ کرنا پسند

٨٥

صفحہ ٤٨٠

نہیں کرتا۔ اس لئے یہ ترجمہ ان میں رائج ہو رہا ہے اور ان کے دینی عقائد کو متزلزل کر کے انہیں دہریت و الحاد کی جانب لے جا رہا ہے۔ افسوس ہے کہ آج تک ہندوستان کی کسی مقتدر اسلامی سوسائٹی نے اس خطرناک زہر کے علاج کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔

لاہوری جماعت کے مبلغین غیر ممالک میں اپنے پیشوا یعنی مرزا کی سنت پر عمل کر رہے ہیں اور شاید اسی سنت پر عمل کرنے کی بدولت ان کی مرکزی انجمن کو کئی مربعے اراضی زرعی علاقہ منٹگمری میں گورنمنٹ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔ خواجہ کمال الدین نے اپنی تصنیف ’’مجدد کامل‘‘ میں اقرار کیا ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے نزدیک ہماری حیثیت انگریزی جاسوس سے زیادہ نہیں رہی۔ لاہوری جماعت کے ممتاز اراکین مرزا کی نبوت کے قائل تھے اور اب بھی ہیں۔ صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اور اہل اسلام میں اپنا وقار حاصل کرنے کے لئے انکار کر رہے ہیں۔ ورنہ لاہوری جماعت کے امیر مسٹر محمد علی نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی ایڈیٹری کے زمانہ میں لکھا تھا۔ ’’آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص ( مرزا قادیانی) کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور و نبی کر کے بھیجا ہے۔ وہ بھی شہرت پسند نہیں۔‘‘

(ریویو اردو ج ٥ نمبر ٤ ص ١٣٢، اپریل ١٩٠٦ء)

’’یہی وہ آخری زمانہ ہے جس میں موعود نبی کا نزول مقدر تھا۔‘‘

(ریویو اردو ج ٦ نمبر ٣ ص ٨٣، مارچ ١٩٠٧ء)

’’آیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت لکھی ہے انہیں آخرین کہا گیا ہے۔‘‘

(ریویو ج ٦ نمبر ٣ ص ٩٦، مارچ ١٩٠٧ء)

’’نبی آخر الزمان کا ایک نام رجل من ابناء فارس بھی ہے۔‘‘

(ریویو ج ٦ نمبر ٣ ص ٩٨، مارچ ١٩٠٧ء)

١؎ شیخ غلام حیدر صاحب ہیڈ ماسٹر پنشنر سرگودھا نے مسٹر محمد علی مرزائی کے انگریزی ترجمہ پر نہایت عمدہ ریویو لکھا ہے۔ جو صاحب ممدوح سے اغلباً بقیمت ١٢؍ مل سکتا ہے۔ اس ریویو کی عام اشاعت کا ہونا ضروری ہے۔ بلکہ ہیڈ ماسٹر صاحب ممدوح کو چاہئے کہ اس کا ترجمہ انگریزی میں کر دیں۔ تاکہ انگریزی خوان طبقہ اس کا مطالعہ کر کے گمراہی سے بچے۔ تمام اسلامی مجالس کو چاہئے کہ اس دینی خدمت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کی حوصلہ افزائی اور امداد کریں۔ (بحمدہ تعالیٰ اسے بھی احتساب قادیانیت میں شامل کیا جائے گا۔ مرتب)

٩٠

صفحہ ٤٨١

”ایک شخص (مرزا قادیانی) جو اسلام کا حامی ہو کر مدعی رسالت ہو۔“

(ریویو ج ٥ نمبر ٥ ص ١٦٦، مئی ١٩٠٦ء)

مگر مسٹر محمد علی اور ان کے متبعین دنیا کی آنکھ میں خاک جھونکنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کو کبھی نبی تسلیم نہیں کیا۔ نورالدین قادیانی کی زندگی میں ایک دفعہ اس جماعت کے بعض افراد پر الزام لگایا گیا تھا کہ یہ لوگ نبوت مرزا سے منکر ہیں۔ اس الزام کو دور کرنے کے لئے انہوں نے تین بار اعلان کیا تھا کہ ”معلوم ہوا کہ بعض احباب کو غلط فہمی میں ڈالا گیا ہے۔ کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے اصحاب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح سے تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔“

(اخبار پیغام صلح ج ١ و ٢ ص ٢٤، ١٦، اکتوبر ١٩١٣ء)

”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ مسیح موعود یعنی (مرزا قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔“

(پیغام صلح ج ١ ص ٣٥، ٧ ستمبر ١٩١٣ء)

ان دو بڑے فرقوں کے علاوہ اور بھی کئی مرزائی فرقے ہیں۔ جن کی تعداد اگرچہ قلیل ہے تاہم ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا تذکرہ بھی مختصراً درج کیا جاتا ہے۔

اروپی یا ظہیری

اس فرقہ کا پیشوا محمد ظہیر الدین اروپی ہے۔ یہ فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صاحب شریعت اور مستقل نبی مانتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ مرزا ناسخ شریعت محمدیہ تھا۔ ان کا کلمہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ ہے۔

تیماپوری

اس فرقہ کا پیشوا عبداللہ تیماپوری ہے۔ تیماپور ریاست حیدر آباد دکن میں واقع ہے۔

٩١

صفحہ ٤٨٢

پہلے یہ شخص مرزائی تھا۔ اب اپنے آپ کو مظہر اول قدرت ثانی فی الارض خلیفۃ اللہ وفی السماء محمد عبداللہ مامور من اللہ یمین السلطنۃ حکم وعدل مہدی معہود صاحب قرآنی تیماپوری کے لقب سے ملقب کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے سب سے پہلے یہ وحی ہوئی۔ یا ایھا النبی تیماپور میں رہیو۔ اس کی جماعت ریاست میسور و دکن میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔ جاہل اشخاص اس کے قابو میں آ رہے ہیں۔ ١٣٢٤ھ میں اس نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ اس کو دعوٰی کئے ہوئے ٢٧ سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ”محاکمہ آسمانی“ مطبوعہ ١٣٣٤ھ نعمت پریس دکن کے صفحہ ٣١ پر مرزائیوں کو اس نے حسب ذیل الفاظ میں چیلنج دیا ہے۔

”اللہ پاک کا آسمانی قانون ہے کہ مفتری علی اللہ اور جھوٹا مامور من اللہ یمین السلطنت اور حکم وعدل ہونے کا دعویٰ کرے۔ پھر اپنی صداقت میں الہام حق کے جاری کرے اور لوگوں کو اطاعت حق میں اپنے اتباع کی طرف بلائے۔ ماننے والوں کو خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو عذاب حق سے ڈراوے۔ ایسا شخص سرکار آسمانی کا باغی ہے۔ ایسے مدعی کا دست یمین گرفت کر کے رگ گردن کاٹ دی جائے گی۔ اس عاجز پر صحیفہ آسمانی نازل ہوئے۔ دسواں ١٣٢٤ھ سال ہے۔ اللہ پاک نے خاکسار کے عروج کے لئے دس پانچ پندرہ سال کا الہام نازل کیا ہے۔ اگر کسی دشمن خلافت کو مقابلہ منظور ہے تو اس کے لئے میدان مباہلہ موجود ہے۔ اگر حوصلہ ہو تو آئیں۔“

اس چیلنج کے جواب میں مرزائیوں کو مقابلہ کا حوصلہ نہ ہوا۔ تیماپوری نے اپنے سلسلہ کا نام سلسلہ محمدیہ رکھا ہے۔ اسی کتاب محاکمہ آسمانی کے ص ١٦ پر لکھتا ہے ۔”یہ کتاب ١٣٣٤ھ میں لکھی گئی۔ اس سے قبل ٤٠ سال سے الہامات شروع تھے۔ مگر ١٣٢٤ھ سے وحی کا اعلیٰ مرتبہ شروع ہوا۔“ مرزا غلام احمد کے متعلق لکھتا ہے کہ ”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کا مرتبہ ظہور تک عروج تھا۔ مقام محمود تک ان میں رسائی نہ تھی۔ خاکسار نے ہر دو کو اپنے درجہ میں صحیح پایا۔ اس لئے دونوں مراتب کا جامع قرار پا کے ظل محمد واحمد بن کر ہر دو مراتب کا مظہر بنا ہے۔ اللہ پاک نے اس عاجز کے سلسلہ کا نام طریقہ محمدیہ رکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات میں اسی راز کی طرف اشارہ ہے۔ ”کان اللہ نزل من السماء وجائك النور وھو افضل منك “ یعنی وہ یحییٰ مظہر خدا ہوگا اور بعض کمالات کے استعداد یہ ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے افضل ہوگا۔ اے قوم احمدی میرے حق ظاہر کرنے پر غصہ مت ہو۔ کیا خدا کے کلام پورے ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ آخر مسیح کا الہام پورا ہونا ہے یا نہیں۔“

(محاکمہ آسمانی ص ٨ حاشیہ)

٩٢

صفحہ ٤٨٣

”باوجود ان تمام خوشخبریوں کے خاکسار کو اس انعام الٰہی کا اقرار ہے کہ حضرت غلام احمد مسیح موعود اور یہ خاکسار مہدی موعود ہر دو خدا کی طرف سے مامور و مرسل ہونے کی وجہ سے ہم دونوں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک دوسرے کے ظل ہو کر ایک میوے کے دو پھانک ہیں۔ یا ایک تخم کے دو دال دانے۔ ہمارے ہر دو کے ملاپ کے دور ثانی عروج اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ جو لوگ ہم میں تفریق کرتے ہیں۔ وہ ہم میں سے نہیں۔ بلکہ اپنے ایمان کے تخم میں تفریق کرتے ہیں۔ ”یا ایها الذین آمنوا آمنوا بالله ورسوله!“

(محاکمہ آسمانی ص١٩)

”یہ (مرزا قادیانی) وہی انسان ہے جس کے لئے ساری دنیا انتظار کر رہی تھی۔“

(محاکمہ ص١٩)

”اس طرح حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کی نبوت اور خاتم النبیین کی نبوت اور مرتبہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔“

(محاکمہ آسمانی ص٢٠)

”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کا علمی اکتساب اعلیٰ درجہ پر تھا۔ کئی استاد آپ کو ایک زمانے تک تعلیم ٢؎ دیتے رہے۔ لیکن وحی ظلِ نبوت جو آپ پر نازل ہوئی۔ وہی ہے کہ خاکسار کی استدعاء اور نزول وحی دونوں وہی ہیں۔“

(محاکمہ ص١٨)

”مامور کو تیس سے چالیس مردوں کی قوت عشق عطاء ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض حالت میں وہ انزال کے لئے جب تک اپنی رضامندی ظاہر نہ کرے۔ انزال نہیں ہوتا۔ اس سے میں نے حوران بہشت کے راز کو پایا ہے۔ یہ سب خدا کا فضل ہے۔“

(محاکمہ ص١٩)

”میرے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا عکس دکھایا گیا۔“

(محاکمہ ص١٧)

”اللهم صلى على محمد عبدالله“

(محاکمہ ص١٦)

”میں مرزا قادیانی کو ظلی نبی مانتا ہوں۔“

(رحمت آسمانی ص٢٥)

کذاب تیماپوری نے ١٣٣٩ھ میں کتاب ”سود کا مسئلہ اور قدسی فیصلہ“ شائع کیا تھا۔

١؎ اس سے ثابت ہوا کہ تیماپوری اپنے آپ کو خاتم النبیین ﷺ سے افضل سمجھتا ہے اور مرزا کو خاتم النبیین کا ہم مرتبہ ظاہر کر کے اپنے کو مرزا سے افضل سمجھتا ہے۔ اللهم احفظنا من شرور الکاذبین (مؤلف)

٢؎ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میرا استاد کوئی نہیں۔ (مؤلف)

٩٣

صفحہ ٤٨٤

جس میں ظاہر کیا کہ سودی شرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں نہ ہونے پائی تھی۔ وہ اس زمانہ کے لئے خدا کے مامور کے ذریعہ ہونا تھا۔ مجھے الہام ہوا کہ سینکڑہ ساڑھے بارہ روپیہ سالانہ سود کی آخری حد ہے۔ جس کی اجازت ہے۔ تیماپوری نے اپنی امت کے لئے کئی آسانیاں بہم پہنچائی ہیں۔ اپنی کتاب رحمت آسمانی صفحہ ٧ پر لکھتا ہے کہ ”ماہ رمضان کے تیس روزوں کی بجائے تین روزے کافی ہیں۔ عورتوں کو بے پردہ رہنے کی اجازت ہے۔ ساڑھے بارہ روپیہ سینکڑہ سالانہ سود لینا جائز ہے۔“ عبداللہ تیماپوری پر اعتراض ہوا کہ تم ناسخ شریعت محمدیہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہو۔ اس پر اس نے وہی جواب دیا۔ جو مرزائی دیا کرتے ہیں۔ یعنی میں بروزی طور پر عین محمد ہوں۔ لہٰذا میں کچھ نہیں جو کچھ ہے وہ ہے۔ اس لئے محمد ﷺ خود اپنی شریعت میں ترمیم کر رہے ہیں۔ اس پر کسی کو اعتراض نہ ہونا چاہئے۔ کذاب تیماپوری کی تصانیف میں سے تفسیر فاتحہ، طوفان کفر، تقریر آسمانی، مبشرات آسمانی، صحیفہ آسمانی، شانِ تعالیٰ، حقیقت وحی الہ، اسلامی گیت، ام العرفان، تفسیر قصہ آدم، قدرت ثانی، رحمت آسمانی، ارشادات، توحید آسمانی، شناخت آسمانی، مکار مرشدوں کے ارشادات، فرمانِ محمدی، کسر صلیب، رسمی شادی وغیرہ کئی کتابیں طبع ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا معاون میر حسن مرزائی میل کنٹریکٹر موٹر سروس منگلور صوبہ دکن ہے۔ یہ شخص تیماپوری کی دعاوی کی اشاعت میں بیدریغ روپیہ صرف کر رہا ہے۔“

چن بسویشور

یہ شخص نہایت چالاک مفتری اور خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اس کا اصلی نام صدیق تھا۔ اس نے اپنا تخلص دیندار رکھا اور اس کے پیرو دیندار کہلاتے ہیں۔ اہل ہنود کو اپنے کسی موعود چن بسویشور کا انتظار تھا۔ یہ مدعی ہے کہ چن بسویشور میں ہی ہوں۔ یہ شخص پہلے مرزائی تھا۔ اس کا اصلی وطن گدک علاقہ بیجاپور دکن ہے۔ قادیان میں کچھ مدت مقیم رہنے کے بعد نبوت کے دعویٰ کا شوق دل میں سمایا۔ وہ اپنی کتاب ”خادم خاتم النبیین“ میں لکھتا ہے کہ ”قادیانی جماعت نے مرزا غلام احمد کو نبی قرار دے کر حضور سرور عالم ﷺ پر ایسا حملہ کیا ہے۔ جو اب تک کسی غیر نے یا اپنے والے نے نہیں کیا تھا۔ اس حملہ کے دفعیہ کے لئے ایسا زبردست پہلو ہونا چاہئے تھا۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ جس بزرگ کی شان میں غلو کیا گیا ہے۔ اس کا ایک ہم پلہ انسان پیدا ہو اور اپنے وجود و میزان کے پلے میں برابر تول کر دکھائے اور باور کرائے کہ باوجود اس شان و شوکت کے حضور ﷺ کے بعد

٥٤

صفحہ ٤٨٥

میں نبی نہیں بن سکتا تو مرزا قادیانی کی کیا مجال ہے کہ وہ نبی بن سکے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ٦)

مگر اس دعویٰ کے باوجود وہ لکھتا ہے کہ ”میں میاں محمود احمد صاحب کو دکن کی بشارتوں کی بناء پر خلیفہ جماعت احمدیہ مانتا ہوں۔ گو لاہور کی جماعت مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ جس کا ظہور ہو چکا ہے اس کا انکار کیسا۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ٧٣)

”چند دن کے بعد دنیا دیکھ لے گی کہ وہ (محمود) اولوالعزم مختلف اقوام کا سردار ہوگا۔ فقیر جانتا ہے کہ وہ متقی مرد ہے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ٥ دیباچہ)

”مرزا غلام احمد مامور وقت کرشن اوتار تھا۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ٥ دیباچہ)

تیاپوری کی طرح یہ بھی مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہے کہ لو تقول علینا (الآیہ) سے ثابت ہے کہ کون انسان ہے جو خدا پر افتراء باندھے اور بچ جائے۔ میرے دعویٰ ماموریت یعنی ١٩٢٣ء ؎١ سے برداشت کا مادہ وحی کا بڑھتا گیا۔ اس وقت یہ حال ہے کہ متعدد جملے الہاماً نازل ہوتے ہیں۔

(خادم خاتم النبیین ص ٣، ٤)

”ایک زمانہ سے اللہ تعالیٰ کا مکالمہ مجھ سے جاری ہے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ٣٠)

”مرزا قادیانی نے ٨؍اپریل ١٨٨٦ء میں یہ اعلان کیا کہ ایک مامور قریب میں پیدا ہونے والا ہے۔ یعنی آج سے ایک مدت حمل میں دنیا میں آئے گا۔ وہ روح حق سے بولے گا۔ اس کا نزول گویا خدا کا آنا ہے۔ وہ ایک عظیم الشان انسان ہے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص ١٧)

اگر میں احمدیوں کا مامور و موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے۔

(خادم خاتم النبیین ص ١٨)

”میرے متعلق اس کثرت سے نشان بیان کئے گئے ہیں کہ مسلمانوں میں مہدی اور مسیح کے بھی نہیں اتنی عظمت اس مامور کو اس وجہ سے دے گئی ہے کہ وہ بڑی خدمت کرنے والا

؎١ یعنی ١٩٢٣ء میں چن بسویشور کو دعویٰ کئے ہوئے دس سال ہو چکے ہیں۔ اس کی جماعت بھی ترقی کر رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مرزائی اسے اپنے مقرر کردہ، بیان کردہ معیار کے مطابق سچا نہیں سمجھتے۔ اسی طرح کذاب تیاپوری کو دعویٰ کئے ٢٨ سال ہو چکے ہیں۔ مگر ابھی تک زندہ موجود ہے اور اپنے مشن کو کامیاب بنا رہا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک کسی مفتری علی اللہ کا دیر تک زندہ رہنا اس کی صداقت کا نشان نہیں ہو سکتا۔ سچے انبیاء کئی قتل ہوئے اور تیاپوری کی طرح کئی کذابوں کو لمبی عمریں ملیں۔ (مؤلف)

٩٥

صفحہ ٤٨٦

ہے، حضورﷺ کی ذات پاک پر جو حملہ ہو رہا ہے اور بے عزتی و ہتک ہو رہی ہے۔ اس کے دور کرنے کے لئے ایسے شان و شوکت سے اتنے ہی نشانوں سے اتنی ہی دھوم دھام سے ایک شخص مختلف اقوام کے لئے رحمت کا نشان بن کر اشاعت اسلام کا بہترین ذریعہ بن کر ساری اقوام کا پیارا بن کر آنا چاہئے تھا کہ اللہ پوری طاقت کے ساتھ آسمان سے آتا ہوا نظر آئے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص١١)

’’خود اس مجدد (مرزا قادیانی) سے بڑھ کر زمین اور آسمان نے میرے لئے نشانات ظاہر کئے تا کہ اتمام حجت میں کوئی کسر نہ رہے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص٢١)

عید منائیو اے احمدیو سب مل کر
منتظر جس کے تھے تم آج وہ موعود آیا

(خادم خاتم النبیین ص٩)

’’خدا نے اپنے فضل سے مجھے پیشوا بنایا ہے۔ میں اپنے اندر سارے عالم کو دیکھتا ہوں اور میں خود کو سارے عالم میں بھرا ہوا پاتا ہوں۔ میری تبلیغ عام ہے۔ میری تلقین و ارشادات عام ہیں۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص١٥)

مرزا قادیانی نے میرے متعلق خبر دی تھی کہ:

باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا
آئی ہے باد صباء گلزار سے مستانہ وار
آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار

’’فرزند گرامی ارجمند مظہر الاول و الآخر مظہر الحق والعلا ، كان الله نزل من السماء‘‘

(خادم خاتم النبیین ص٥٥)

’’اس کو حضرت (مرزا قادیانی) کے مکان کا بچہ خیال کرنا نادانی ہے۔ کیونکہ اس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فعل سے غلط ثابت کیا ہے۔ یعنی اس بشارت کے بعد مکان میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوتے ہیں۔ لڑکا کم سنی میں مر جاتا ہے۔‘‘

(خادم خاتم النبیین ص٥٧)

’’اے جماعت احمدیہ کے فریسیو اور دانشمندو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہ نسبت

٩٦

صفحہ ٤٨٧

دوسروں کے۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٦٩)

”میں پکا قادیانی ہوں ۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٣٩)

مرزا غلام احمد کی اتباع میں چن بسویشور کے دعاوی بھی متضاد ہیں اور وہ سب کچھ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر ہوشیاری ومکاری سے دعویٰ نبوت کا انکار کر دیتا ہے۔ ایک جگہ لکھتا ہے کہ میں کیا ں ہوں ۔

سارے قوموں کے میرے سامنے ہیں اصل اصول
جگ کی ہر قوم کے دنگل کا پہلواں ہوں میں
یعنی عیسائی وموسائی وزردشتی ہوں
آریہ ہوں ولنگائیت ہوں وقرآں ہوں میں
چھتری ہوں ویش ہوں شودر ہوں برہمن ہوں میں
سکھ کائتھ ہوں در حلقہ بھگوان ہوں میں
قادیانی ہوں ولاہوری ونجدی ہوں میں
نیچری ہے میرا مذہب اس سے فرحاں ہوں میں

(کتاب خادم خاتم النبیین ص ٤٠)

ایک جگہ لکھتا ہے کہ ”کیا اللہ پر بھی جادو ہوسکتا ہے۔ میرا وجود میرا نہیں۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٤٣)

”میں خود قرآن ہوں ۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٤٦)

تیما پوری کذاب کی طرح چن بسویشور بھی اپنی کتاب میں فخریہ ذکر کرتا ہے کہ ”فلاں عورت میری روحانیت کے اثر سے مجھ پر اس قدر فریفتہ ہوگئی کہ وہ جس طرف دیکھتی تھی اسے چن بسویشور ہی نظر آتا تھا۔ مرغ کی اذان بچہ کے رونے غرض ہر آواز سے چن بسویشور کے الفاظ ہی سنتی تھی۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٤٧)

”ایک عورت تنہائی میں رات کے وقت میرے پاس آیا کرتی تھی اور فلاں عورت آدھی رات کے وقت پھول وزیورات سے آراستہ ہو کر میرے لحاف میں آ گھسی اور میرے منہ پر منہ رکھ دیا۔“

(خادم خاتم النبیین ص ٦٦)

٩٧

صفحہ ٤٨٨

”یہ شخص اپنے آپ کو صدیق دیندار یوسف موعود چن بسویشور کہلاتا ہے اور اپنے آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام سے چھ امور میں افضل قرار دیتا ہے۔“ (خادم خاتم النبیین ص ٦٦، ٦٧) قادیانی ولاہوری ہر دو جماعتیں اس کی حوصلہ افزائی وامداد میں منہمک ہیں اور تعجب ہے کہ میر حسن میل کنٹریکٹر موٹر سروس ٹمکور اس کی بھی امداد کرتا ہے اور اس نے پانچ ہزار روپیہ اس کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ص ٧٨ پر لکھتا ہے کہ ”حضرت مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے ایک خط میں مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے ہماری جماعت کا ہر فرد خوش ہے۔“ نیز اسی صفحہ پر قادیان کے ایک خط کی نقل شائع کی ہے۔ جس میں ناظر دعوت و تبلیغ قادیان نے لکھا ہے کہ ”آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد بھیجنے اور آپ کے کام میں دلچسپی پیدا کرنے کی خاص کوشش کی جائے گی۔ بہر حال آپ کام کرتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنے وقت پر ضرور پورے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو کام کی رپورٹ براہ کرم ضرور بھیج دیا کریں۔“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دراصل مرزائی فرقے عقائد و مقاصد میں متفق ہیں اور سب مرزا غلام احمد کے قائم کردہ شجرہ خبیثہ کی شاخیں اور ثمر ہیں اور اپنے اصل کی طرف راجع ہیں۔

گنا چوری

اس فرقہ کا پیشوا عبداللطیف ساکن گنا چور ضلع جالندھر ہے۔ اس نے ١٩٢١ء میں دعوٰی نبوت کیا۔ یہ امام آخر الزمان ومہدی معہود ہونے کا مدعی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کرتا ہے۔ اس نے ایک کتاب ٥٠٠ صفحات کی ”چشمہ نبوت“ تالیف کی ہے۔ جس میں اپنی صداقت کی ٣٦٠ دلیلیں دی ہیں۔ اس کے دلائل عام طور پر وہی ہیں جو مرزا قادیانی نے اپنے لئے دیئے ہیں۔ عبداللطیف نے مرزا محمود کو اور اپنے تمام مخالفین کو دعوت مباہلہ بھی دی تھی۔

رجل یسعی

یہ شخص چیچاوطنی ضلع منٹگمری (ساہیوال) میں پٹواری ہے۔ اپنے آپ کو احمد محمد عبداللہ حارث حراث مہدی آخر الزمان رجل یسعی کہلاتا ہے۔ اس نے ایک کتاب ”ہدایت العالمین“ تالیف کی ہے۔ جس کے تین حصے شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے دعاوی والہامات نہایت عجیب وغریب ہیں۔ اپنے آپ کو کئی انبیاء سے افضل سمجھتا ہے اور قرآن فہمی میں اپنا کمال بیان کرتا ہے۔

٩٨

صفحہ ٤٨٩

قرآن مجید میں ہے کہ : ” وجاء من اقصی المدینۃ رجل یسعی“ ایک آدمی شہر کے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ رجل یسعیٰ میں ہوں۔

احمد نور کابلی

قادیان کے نبی خیز قطعہ سے ایک اور شخص مدعی نبوت ظاہر ہوا ہے۔ اس کا نام احمد نور کابلی ہے۔ یہ شخص مبروص ہے اور اس نے پنساری کی دوکان کھول رکھی ہے۔ بنفشہ و گاؤ زبان بیچتے بیچتے نبی بن گیا۔ اس کے ایک پیرو عبدالرحمٰن ساکن ہولا گنج نکھرہ کان پور نے اس کا ایک اعلان مطبع احمد المطابع کان پور سے طبع کرا کر شائع کیا ہے جو بجنسہ نقل کیا جاتا ہے۔

اعلان

”اے اللہ تعالیٰ کے ماننے والو! اور رسولوں کے ماننے والو! اے تمام آدم علیہ السلام کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت خبر دیتا ہوں کہ میں اللہ کی طرف سے مامور ہو گیا ہوں۔ دنیا کے واسطے رسول اور نبی مامور من اللہ ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا ویسا ہی رسول ہوں۔ جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام ، جیسے موسیٰ علیہ السلام، جیسے عیسیٰ علیہ السلام، جیسے محمد ﷺ ، جیسے مسیح علیہ السلام مرزا صاحب میری آمد تمام انبیاء کی آمد ہے۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا مط ہوں۔ میرے ساتھ وہ خدا جو تمام انبیاء کے ساتھ کلام کیا ہے کلام کرتا ہے۔ اس نے فرمایا کہ میری رضا کی خاطر خبر دو کہ اگر اللہ کی محبت کرتے ہو تو میری بات مان لو۔ میری تابعداری کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ محبت کرے گا۔ میں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے خبر دیا۔ جو مانے گا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث بنے گا۔ باقی اللہ تعالیٰ انعام جس کو وہ پسند کرتا ہے ۔“

اعلان کرنے والے اللہ تعالیٰ کے رسول احمد نور کابلی احمدی

اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں کے ماننے والے

”میں ایمان کا درخت ہوں۔ جیسا کہ تمام انبیاء اور جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام اور جیسے موسیٰ علیہ السلام ، جیسے کہ عیسیٰ علیہ السلام، جیسے کہ محمد ﷺ ، اور جیسا کہ مسیح علیہ السلام الغرض تمام انبیاء ایمان کے درخت ہیں۔ سب کے ماننے سے ایمان کا پھل ملتا ہے اور ‘

٧٩

صفحہ ٤٩٠

خدا تعالیٰ کا قرب ملتا ہے اور جنت ملتی ہے۔ میں بھی اسی طرح ایمان کا درخت ہوں۔ میرا انکار اسی طرح زہر قاتل ہے۔ جیسا تمام انبیاء کا انکار زہر قاتل ہے۔ احمد نور، کابلی احمدی اللہ کا رسول، مقام قادیان پنجاب ۔‘‘

’’میری آواز پر لبیک کرنا اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کرنا ہے۔ وہ آدمی لبیک کرنے والا اپنے گھر بیٹھا ہوا خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث بن سکتا ہے۔ جیسا کہ ہر ایک نبی کا ماننے والا اپنے گھر قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث بنتا ہے اور میرے نہ ماننے والا اپنے گھر میں خدا تعالیٰ کو ناراض کرتا اور باغی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز سے غافل اور غفلت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ میں مجنون نہیں ہوں۔ مجنون کے ساتھ اللہ کا کلام نہیں ہوتا اور اس کو اللہ تعالیٰ رسول کے نام سے ہادی کے نام اور نبی کے نام سے نہیں پکارتا ہے۔ دنیا کے لوگو! اللہ کی رضا لو۔ اللہ کو ناراض مت کرو۔‘‘

معراجکے

ایک شخص مسمی نبی بخش مرزائی ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ نبوت کا مدعی ہے۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ ’’میں نبی ہوں، میرے والدین نے میرا نام نبی بخش اسی لئے رکھا تھا اور میرے مولد و مسکن کا نام معراجکے ہیں، کسی ظریف الطبع نے جس کا نام خدا بخش تھا۔ اس کے جواب میں اعلان کیا کہ میں نے نبی بخش کو نبی نہیں بنایا۔ اس لئے وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

سمبڑیالی

اس فرقہ کا پیشوا، محمد سعید مرزائی سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا ہے۔ مرزا غلام احمد نے کہا تھا۔ سیاتی قمر الانبیاء محمد سعید کہتا ہے کہ میں قمر الانبیاء ہوں۔ اس کو گلہڑوں کی بیماری ہے۔ یعنی ٹھوڑی کے نیچے گردن پر نہایت بد نما ورم ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ مہر نبوت ہے۔

علاوہ ازیں امت مرزائیہ میں اور کئی مدعیان نبوت پیدا ہو گئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔

مرزا کے خاص مرید مولوی محمد فضل چنگوی (چنگا بنگیال گوجر خان راولپنڈی) نے حال ہی میں دعویٰ نبوت کیا ہے۔ غازی جہلمی، محکم الدین پٹیالوی محمد زمان سندھی و دیگر کاذب مدعیان نبوت پہلے مرزائی تھے درسگاہ مرزا سے انہوں نے افتراء علی اللہ کا سبق سیکھا۔ حیرت ہے کہ مرزائی جب اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ ان مدعیان نبوت کو راستباز تسلیم نہیں کرتے؟۔

١٠٠

صفحہ ٤٩١

مرزائیوں کی تعداد

مرزائیوں کی عادت ہے کہ جہاں کسی ناواقف سے گفتگو کا موقع ملے۔ اپنی کثرت تعداد کا ذکر شاندار الفاظ میں کرتے ہیں۔ مرزائیوں کی تعداد بھی ایک چیستان اور معمہ بنی ہوئی ہے۔ مرزائیوں کے اقوال اس قدر مختلف اور متضاد ہیں کہ صحیح اندازہ کرنا دشوار ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی آخری تصنیف پیغام صلح میں لکھتے ہیں کہ ”اس وقت میرے ماننے والوں کی تعداد چار لاکھ ہے۔“

(پیغام صلح ص ٢٦، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٥)

ان کا ایک مرید عبدالعزیز بھٹہانوی نے اپنی کتاب ”کوکب دری“ میں پانچ لاکھ بیان کی ہے۔ مقدمہ اخبار مباہلہ میں مرزائیوں نے اپنی تعداد دس لاکھ بیان کی تھی۔ مگر کوکب دری کا مصنف لکھتا ہے کہ ١٩٣٠ء میں احمدیوں کی تعداد بیس لاکھ ہے۔ مناظرہ بھیرہ میں مولوی مبارک احمد مرزائی نے مجمع عام میں اعلان کیا تھا کہ سلسلہ مرزائیہ میں اس وقت پچاس لاکھ آدمی موجود ہیں۔ مولوی مذکور نے اپنی تحریر بنام مولانا ابوالقاسم صاحب میں بھی مرزائیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی ہے۔ مگر مرزا محمود قادیانی اپنے خطبہ مندرجہ (اخبار الفضل ج ١٨ نمبر ١٠٥ ص ٥، ٢٧؍ جون ١٩٣١ء) میں بیان کرتے ہیں کہ ”آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ اپنی تعداد کے لحاظ سے مخالفین کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ۔ پنجاب میں ہماری جماعت سب سے زیادہ ہے۔ پنجاب میں ٥٥ ہزار احمدی قرار دیئے گئے۔ قادیان میں پانچ ہزار دوسو احمدی ہیں۔ بٹالہ کی ساری تحصیل کے کل احمدی (مرزائی) ٨ ہزار مردم شماری میں لکھے گئے ۔“

مرزا محمود قادیانی کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مرزائیوں کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے اور وہ سب سے بڑی تعداد بھی ٥٥ ہزار سے زیادہ نہیں۔ یہ تعداد بھی مرزائیوں کی بیان کردہ ہے۔ ورنہ دراصل تعداد اس سے بھی کم ہے۔ اب قارئین مولوی مبارک احمد مرزائی کی ایمانداری اور راست بازی کا اندازہ کرلیں اور اسی سے مرزا غلام قادیانی سے لے کر اس کے ہر چھوٹے بڑے مرید کی راست پسندی کا حال معلوم ہوسکتا ہے۔

خلاصہ

اخبار زمیندار لاہور مورخہ ٦؍ نومبر ١٩٣٢ء میں سید سرور شاہ صاحب گیلانی کا مرتبہ ایک نقشہ شائع ہوا تھا۔ جس سے مرزائی تعلیم اور مرزائیت کے نتائج نہایت واضح ہوتے تھے۔ وہ نقشہ کسی قدر تصرف کے ساتھ درج ذیل ہے۔ اس نقشہ میں کتاب ھذا میں مندرجہ حوالوں کا خلاصہ مل سکتا ہے۔

١٠١

صفحہ ٤٩٢

مثل كلمة خبيثة اجتثت من فوق الارض مالها من قرار

القاديان وما القاديان وما ادريك ما القاديان

ایشیاء میں غلامی کی سب سے بڑی تربیت گاہ قادیان

شجرہ خبیثہ غلامانہ ذہنیت پست ہمت خفیہ تنظیم خفیہ فنڈ یہودیوں کی جماعت تبلیغ انگریزوں کے لئے پیدا کئے گئے فرقہ بندی قادیانی لاہوری نیا لاہوری نیو قادیانی کپور تھلوی اروپی احمد کوٹلی ظفر نیازی جلالی معراجکے عیسائیوں کی جماعت مقاطعہ جاسوسی خفیہ پولیس مشنریز صیہونیت

نتیجه خسر الدنيا والآخره

ضلع شاہ پور میں مرزائیوں کا حزب الانصار بھیرہ کی قادیان نے اس کے احیاء کے لئے نے ضلع بھر میں تبلیغ کا ایک پروگرام ضلع کا دورہ کرنے کے لئے منتخب مقامی علماء کو دعوت مناظرہ دے کر کی حقیقت سے قطعا ناواقف ہیں عزت کے تحفظ کے لئے مقابلہ پر ان کے لئے سدراہ ثابت ہوگی۔ مبلغین کے کامل تعاقب اور مقابلہ مزید مصارف کے لئے کہیں سے محض خدا کے بھروسہ پر ایک تبلیغی اور ہر جگہ مناظرہ کی دعوت قبول حسین صاحب کوٹارڑوی، مو عبدالرحمن میانوی صاحب مبلغ و دیگر کئی حضرات نے دورہ میں تک مرزائیوں کا تعاقب جاری میں مسلمانوں کو خداوند کریم نے

پہلا معرکہ! میانی

بھیرہ سے جانب نام مرتضی صاحب مرحوم میں شمس قادیانی کی درگت بلوں سے نکل آئے اور انہو ٣١ اگست ١٩٣٢ء شام کی گا

صفحہ ٤٩٣

حصہ چہارم

ضلع شاہ پور میں مرزائیوں کا دورہ

حزب الانصار بھیرہ کی مساعی جمیلہ سے مرزائیت کی تحریک مردہ ہو رہی تھی۔ ارباب قادیان نے اس کے احیاء کے لئے پوری سرگرمی سے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انجمن مرزائیہ سرگودھا نے ضلع بھر میں تبلیغ کا ایک پروگرام بنایا اور قادیان سے دو مبلغ مولوی احمد خان و مولوی عبداللہ اعجاز ضلع کا دورہ کرنے کے لئے منتخب ہوئے۔ قادیانیوں کا ارادہ تھا کہ دو ماہ مسلسل دورہ کر کے ہر جگہ مقامی علماء کو دعوت مناظرہ دے کر پریشان کیا جائے۔ وہ جانتے تھے کہ علمائے کرام قادیانی مذہب کی حقیقت سے قطعاً ناواقف ہیں۔ اس لئے وہ یا مناظرہ پر آمادہ نہ ہوں گے اور اگر اسلام کی عزت کے تحفظ کے لئے مقابلہ پر آمادہ بھی ہوئے تو مرزائی عقائد و مرزائی علم کلام سے ناواقفیت ان کے لئے سدراہ ثابت ہوگی۔ حزب الانصار نے وقت کی اہم ضرورت کا احساس کر کے مرزائی مبلغین کے کامل تعاقب اور مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ مالی مشکلات نے کارکنان کو پریشان کر رکھا تھا اور مزید مصارف کے لئے کہیں سے روپیہ حاصل ہونے کی امید نہ تھی۔ مگر تحفظ اسلام کی غرض سے محض خدا کے بھروسہ پر ایک تبلیغی وفد مرتب کیا گیا۔ تاکہ وہ ضلع بھر میں ہر جگہ مرزائیوں کے تعاقب اور ہر جگہ مناظرہ کی دعوت قبول کرنے کا کام سرانجام دیں۔ اس وفد کے ارکان مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کوٹلہ رڑوی، مولانا محمد شفیع صاحب خوشابی، خاکسار مؤلف کتاب ھذا، مولوی عبدالرحمن میانوی صاحب مبلغ حزب الانصار قرار پائے۔ علاوہ ازیں مولوی محمد اسماعیل صاحب و دیگر کئی حضرات نے دورہ میں ساتھ رہ کر ممنون فرمایا۔ یکم ستمبر ١٩٣٢ء سے لے کر ١٠؍اکتوبر ١٩٣٢ء تک مرزائیوں کا تعاقب جاری رہا۔ اس عرصہ میں ان کے ساتھ دس معرکے پیش آئے۔ ہر معرکہ میں مسلمانوں کو خداوند کریم نے فتوحات عطا فرمائیں۔

پہلا معرکہ! میانی

بھیرہ سے جانب مشرق ٩ میل کے فاصلہ پر قصبہ نمک میانی، آباد ہے۔ جہاں کے مفتی غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم نے حکیم نورالدین قادیانی کو لاہور میں لاجواب کیا تھا اور مناظرہ ہریا میں شمس قادیانی کی درگت بنائی تھی۔ مفتی صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد مرزائی چوہے اپنے بلوں سے نکل آئے اور انہوں نے میدان خالی دیکھ کر اپنا اثر واقتدار جمانا چاہا۔ چنانچہ مورخہ ٣١؍اگست ١٩٣٢ء شام کی گاڑی سے قادیانی مبلغین وہاں پہنچے۔ دوسرے دن صبح حزب الانصار

١٠٣

صفحہ ٤٩٤

کے وفد کے اراکین بھی میانی جا پہنچے۔ مرزائیوں پر بدحواسی طاری ہو گئی۔ مسلمانوں میں اس قدر بیداری پیدا ہونے کی انہیں توقع نہ تھی۔ مسلمانان میانی نے علمائے کرام کا شاندار استقبال کیا اور بمقام چتلی شاہ جلسہ کے لئے پنڈال بنایا گیا تھا۔ میانی کے مرزائی کئی دن سے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دے رہے تھے۔ اس لئے علمائے اسلام نے مرزائیوں کا چیلنج قبول کر کے انہیں تصفیہ شرائط کے لئے پیغام بھیجا۔ مگر مرزائی عبداللہ واحمد خان نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر مورخہ یکم، ٢ ستمبر ١٩٣٢ء یہ دو روز صبح سے لے کر شام تک مسلمانوں کے شاندار جلسے منعقد ہوئے۔ جن میں مرزائیت کے پرخچے اڑائے گئے اور دعویٰ مرزا والہامات مرزا کی حقیقت کھولی گئی۔ مرزائیوں کو مناظرہ کی دعوت پر دعوت دی گئی۔ مگر انہیں مقابلہ میں آنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ان کے جلسہ میں حاضرین کی تعداد دس یا بارہ سے زیادہ نہ ہوسکی۔ یہ حالت دیکھ کر انہوں نے قادیان میں تاریں دیں اور ان حالات میں تبلیغی دورہ کے التواء کی خواہش ظاہر کی۔ مگر مرزا محمود نے اپنے مبلغین کا حوصلہ قائم رکھنے کے لئے بہترین مناظر و مبلغ بھیجنے کا وعدہ کیا۔ قادیانی مبلغین مورخہ ٢ ستمبر کو میانی سے بھیرہ پہنچے۔ علمائے اسلام بھی شام کی گاڑی میانی سے روانہ ہو کر شاندار جلوس کے ساتھ بھیرہ میں وارد ہوئے۔

دوسرا معرکہ! بھیرہ

دریائے جہلم کے کنارے شہر بھیرہ ایک قدیم تاریخی قصبہ ہے۔ سکندر اعظم کا یہاں سے گذر ہوا۔ سلطان محمود غزنوی کے مجاہدین نے اس کی دیواروں پر بزور شمشیر علم اسلام نصب کیا۔ بابر نے اپنے تزک میں اس شہر کا ذکر نہایت عمدہ الفاظ میں کیا ہے۔ جہانگیر نے کابل جاتے ہوئے اس جگہ اقامت اختیار کی تھی اور یہاں کے علماء ومشائخ و فقراء کو داد ودہش سے مالا مال کیا تھا۔ سکھوں کے عہد میں یہ قصبہ اہل ہنود کے قبضہ میں تھا اور مسلمانوں کی حالت نہایت ہی کمزور تھی۔ شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ جامع مسجد کھنڈرات کا ڈھیر ہوئی تھی اور سکھوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ مگر سید العلماء والمحدثین ، استاذ الکل حضرت مولانا احمد دین بگوی کے قدوم میمنت لزوم سے اسی بھیرہ سے علوم دینی کے چشمے جاری ہوئے۔ ہر طرف علم کی نہریں جاری ہوئیں۔ ہزار ہا اشخاص اس چشمہ علم سے سیراب ہوئے۔ سر زمین پنجاب اس خطہ کی بدولت دوبارہ منور ہوئی۔ مسلمانوں کی حالت نے پلٹا کھایا۔ ابر رحمت نے آبپاشی کی۔ حضرت مرحوم کی باطنی توجہ اور ہمت سے جامع مسجد کی شاندار عمارت تعمیر ہوئی اور ہر گھر میں دینی چرچا ہونے لگا۔ مولانا غلام قادر صاحب بھیروی ، مولانا غلام رسول صاحب چوہوی اور زبدۃ العارفین حضرت قبلہ مولانا

١٠٤

صفحہ ٤٩٥

عبدالعزیز بگویؒ نے اپنی عمریں خدمت اسلام میں بسر کیں۔ مگر جہاں گل ہوتے ہیں وہاں خار بھی ہوتا ہے۔ افسوس یہی شہر حکیم نورالدین قادیانی کی بدولت دنیا بھر میں بدنام ہوا اور نورالدین کے اثر سے جو لوگ غیر مقلد ہو چکے تھے وہ مرزائی بن گئے۔ مرزائیوں کے نزدیک قادیان کے بعد بھیرہ ایک مقدس شہر ہے اور وہ لوگ اسے مدینۃ خلیفۃ المسیح کہا کرتے ہیں۔ مرزائی ایک ماہ سے اپنے مبلغین کی آمد کی خبر سنا کر اپنے خیال میں لوگوں کو خوف زدہ کر رہے تھے۔ اعلانیہ کہا جاتا تھا کہ ہمارے شیر آ رہے ہیں۔ کسی کی ہمت ہو تو ان کے مقابلہ پر آئے۔ مگر علمائے اسلام کے ورود اور میانی میں حسرت ناک ناکامی کی خبر سن کر گھبراہٹ کا عالم طاری ہو گیا۔ قادیان میں تاریں دی گئیں۔ ٢؍ستمبر کا دن انہوں نے کرب واضطراب میں کاٹا۔ انہیں جلسہ کرنے کا بھی حوصلہ نہ ہوا۔ دوسرے دن صبح کی گاڑی قادیان سے مرزائی مبلغین کا نیا قافلہ بسرکردگی مولوی محمد سلیم قادیانی پہنچ گیا اور مرزائیوں کی جان میں جان آئی اور انہوں نے اپنے جلسہ کا اعلان نہایت زور شور سے کیا۔ منادی کرنے والے کے ہاتھ میں تلوار تھی اور اس کا رویہ نہایت اشتعال انگیز تھا۔ اس منادی میں کھلے لفظوں کے ساتھ علمائے کرام کو دعوت مناظرہ دی گئی۔

مرزائیوں کے ساتھ خط و کتابت

مرزائیوں نے ندائے حق کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا۔ جس میں علمائے اسلام پر ناجائز الزام لگائے گئے۔ اس کے جواب میں دعوت حق کے عنوان سے سیکرٹری جماعت اسلامیہ کی طرف سے اشتہار شائع ہوا۔ بعد ازاں مرزائیوں کی طرف سے حسب ذیل تحریر موصول ہوئی ۔

جناب مولوی ظہور احمد صاحب! السلام علی من اتبع الہدی مشمولہ رقعہ ھذا اطلاعاً! آپ کی خدمت میں اتمام حجت کے لئے ارسال کیا جاتا ہے۔ ٣/٩/١٩٣٢ سیکرٹری انجمن احمدیہ محمد الدین کریم

باسمہ سبحانہ

صاحبان ! عرصہ دراز سے علماء حنفیہ کی طرف سے جماعت احمدیہ پر ناجائز حملے کئے جا رہے ہیں۔ اتفاق سے آج کل علمائے جماعت احمدیہ میں چند مبلغین تبلیغی جلسہ کے لئے بھیرہ میں تشریف لائے ہیں ۔اس لئے ہم تمام متلاشیان حق کو عموماً اور بھیرہ کے صاحب وقار اصحاب کی خدمت میں خصوصاً اپیل کرتے ہیں کہ وہ حفظ امن کی باقاعدہ طور پر ذمہ داری اٹھا کر مولوی ظہور

١٠٦

صفحہ ٤٩٦

احمد صاحب بگوئی یا ان کے کسی نمائندہ کو تبادلہ خیالات کے لئے میدان عمل میں لائیں۔ بعد ازاں شیخیاں مارنی فضول ہوں گی۔ مورخہ ٣/٩/١٩٣٢ء

٢٤۔ ماہ ستمبر حال کی شام تک فیصلہ ہونا لازمی ہوگا۔ نوٹ: مندرجہ بالا مضمون کی شہر بھیرہ میں منادی کرائی جارہی ہے۔ پوسٹل اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری انجمن احمدیہ بھیرہ!

اس کے جواب میں سیکرٹری صاحب تبلیغ جماعت اسلامیہ کی طرف سے حسب ذیل تحریر مرزائیوں کو بھیجی گئی۔

اتمام حجت

بنام اسیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ بھیرہ

السلام علی من اتبع الہدیٰ ! جناب کی طرف سے ایک اشتہار بعنوان ”شاندار جلسہ“ شائع ہوا ہے اور سیکرٹری تبلیغ احمدیہ نے ندائے حق کے نام سے اشتہار شائع کیا ہے۔ ابھی ابھی ایک اشتہار منجانب سیکرٹری انجمن انصار اللہ احمدیہ موصول ہوا ہے۔ ان ہر سہ اشتہارات میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے اور اگر مگر اور خوشنما الفاظ کی آڑ میں مناظرہ کرنے سے انکار و اقرار اور فرار کے لئے راہیں محفوظ رکھی گئی ہیں۔ اس لئے بذریعہ تحریر ہذا جناب کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر ہمت ہے تو اپنے علماء کو شیران اسلام یعنی علمائے اسلام کے سامنے لانے کی جرأت کریں اور صاف لفظوں میں مناظرہ پر آمادگی کا اعلان کر دیں اور مقام و شرائط کے تصفیہ کے لئے اپنے دو معتبر اشخاص نامزد کر دیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کے فرار کی حقیقت عالم آشکارا ہو جائے گی۔ چونکہ آپ کی طرف سے زبانی چیلنج مناظرہ اہل اسلام کو مدت سے مل رہا ہے۔ اس لئے حفظ امن کا انتظام وغیرہ بھی آپ کے ذمہ ہوگا۔

عبدالرحمٰن سیکرٹری تبلیغ جماعت اسلامیہ جامع مسجد بھیرہ!

اسی روز حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کولو تارڑوی کی طرف سے ذیل کا اشتہار شائع ہو کر شہر کی دیواروں پر چسپاں ہو گیا۔

مرزائیت کی موت

جملہ مرزائیوں کو اور خصوصاً مرزائیان بھیرہ کو واضح ہو کہ میں نے ستمبر ١٩٢٨ء کے العدل میں ایک مکتوب مفتوح بنام مرزا محمود احمد قادیانی شائع کیا تھا کہ میں مرزا کے انعامی اشتہار دربارہ لفظ توفی کی دوسری شق کے مطابق ثابت کر دوں گا کہ اس کے معنی جسم مع روح کو بہیئت کذائی

صفحہ ٤٩٧

وصورت مجموعی اپنے قبضہ میں لے لینے کے ہیں۔ آپ میرے ساتھ منصفانہ شرائط طے کرنے کے بعد فیصلہ کر لیں۔ لیکن مرزائیت کے علمبردار نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد مختلف مواقع پر مرزائی مولویوں کو مناظروں میں فیصلہ کی دعوت دی گئی۔ مگر صدائے برخواست مارچ ١٩٣٢ء کے رسالہ شمس الاسلام میں مکرر بعنوان اتمام حجت اس مضمون کو مشتہر کیا گیا۔ لیکن مرزائیوں کی طرف سے کوئی آمادگی نہ ہوئی۔ العدل وشمس الاسلام کے پرچے بذریعہ رجسٹری خلیفہ قادیان کے پاس بھیجے گئے۔ پھر بھی انہیں مقابلہ کا حوصلہ نہ ہوا۔ حق کا رعب ان کے دلوں پر مسلط ہو چکا ہے۔ لہٰذا ان میں جرأت نہیں ہے کہ اس فیصلہ پر آمادہ ہوں۔ جملہ مرزائیوں کو لازم ہے کہ اپنے خلیفہ کو اس فیصلہ پر آمادہ کریں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ مرزائیت مرگئی۔ لہٰذا اس کی تجہیز وتکفین کر کے میرے ہاتھ پر توبہ کر لیں۔ حجت تمام ہو چکی۔ خدا کے حضور میں تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ اگر تمہارے مولوی جو قادیان سے آئے ہیں۔ فیصلہ پر آمادہ ہوں تو فوراً بذریعہ تار اپنے خلیفہ سے اپنی نیابت کی تصدیق کرائیں اور خلیفہ صاحب لکھ دیں کہ ان علماء کا ساختہ پرداختہ میرا ساختہ پرداختہ ہے۔ ان کی فتح میری فتح اور ان کی شکست میری شکست ہے۔

ابو القاسم محمد حسین عفی عنہ، مولوی فاضل از کوٹلہ تارڑ حال وارد بھیرہ!

نوٹ: یہ چیلنج لفظ توفی کے متعلق ہے۔ سیکرٹری تبلیغ اسلامیہ کی طرف سے جو چیلنج مناظرہ کا دیا گیا تھا اس کے لئے نیابت کی سند کی ضرورت نہیں۔ اس کے لئے ہم ہر طرح سے تیار ہیں۔ مرزائیوں نے اس کے جواب میں حیلہ سازی اور ٹال مٹول سے کام لینا چاہا اور علمائے اسلام کو عبادت گاہ مرزائیہ میں شرائط کے تصفیہ کے لئے مدعو کیا۔ مگر اپنی طرف سے دو نمائندگان منتخب نہ کئے۔ اس حالت میں حسب ذیل خط سیکرٹری تبلیغ جماعت اسلامیہ کی طرف سے انہیں بھیجا گیا۔

بخدمت جناب جنرل سیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ بھیرہ

والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ! جناب کا رقعہ موصول ہوا۔ جواباً التماس ہے کہ آپ نے اپنی طرف سے دو معتبر اشخاص نامزد نہ کر کے خواہ مخواہ معاملہ کو تاخیر میں ڈالنا چاہا ہے۔ آج بوقت منادی آپ کی جماعت کے افراد کا تلواروں اور سنگینوں سے مسلح ہو کر اشتعال انگیز الفاظ بکنا نہایت شرمناک وخطرناک حرکت ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ اپنی جماعت کو ایسی مفسدانہ حرکات سے باز رکھیں ورنہ اس کے نتائج کے آپ ہر طرح کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر آپ واقعی تحقیق حق کے خواہشمند ہیں تو اپنی طرف سے دو نمائندوں کے اسماء سے مطلع فرمائیں۔ ہماری

١٠٧

صفحہ ٤٩٨

طرف سے مولوی محمد قاسم صاحب ومولانا مولوی ظہور احمد صاحب تصفیہ شرائط کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔ ان کا ساختہ پرداختہ ہم سب کو منظور ہوگا۔ عبادت گاہ احمدیہ بحالات موجودہ بہت غیر موزوں مقام ہے۔ کسی غیر جانبدار مقام کا تعین کرکے اطلاع دیں۔ عبدالرحمن سیکرٹری تبلیغ جماعت اسلامیہ بھیرہ، ٣؍ ستمبر ١٩٣٣ء

دوسرے دن صبح آٹھ بجے مسٹر ایم۔ ڈی کریم صاحب مرزائی مع اپنے چند ہمراہیوں کے مقام کا تصفیہ کرنے کے لئے جامع مسجد پہنچے اور آخر کار انہوں نے میاں محمد رحیم صاحب درویشانہ پراچہ کا بنگلہ واقع محلہ پراچگان بھیرہ میں گیارہ بجے دن پہنچ کر شرائط کا تصفیہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ عین گیارہ بجے دن خاکسار مع مولانا مولوی محمد قاسم صاحب مقام مقررہ پر پہنچ گیا۔ مگر مرزائیوں کی طرف سے صرف ایم۔ ڈی کریم صاحب پہنچے اور ان کے ساتھ ہی بابو محمد امین پراچہ مرزائی ، محلہ پراچگان کے سر برآوردہ معزز اشخاص کو ہمراہ لے کر پہنچا۔ تمام پراچوں نے بالاتفاق درخواست کی کہ مناظرہ میں فساد کا احتمال ہے اور مسلمانوں کے آئندہ امن وچین کی زندگی پر اس کا برا اثر پڑے گا۔ اس لئے مناظرہ کو ملتوی کیا جائے۔ بابو محمد امین پورے جوش وخروش سے ان کی وکالت کر رہا تھا۔ خاکسار نے کہا کہ قادیانیوں نے جو چیلنج دیا ہے اس کے قبول کرنے کے لئے ہم مجبور ہیں۔ اس لئے اگر ایم۔ ڈی کریم صاحب ان کی طرف سے اس چیلنج کو واپس لے لیں تو میں بخوشی التواء مناظرہ پر رضامند ہوسکتا ہوں۔ اس پر ایم۔ ڈی کریم صاحب نے میرے اس بیان کی تردید کی اور کہا کہ چیلنج جماعت اسلامیہ کی طرف سے دیا گیا اور جماعت احمدیہ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اس پر ایم۔ ڈی کریم کی تحریر (جس کی نقل پہلے درج ہوچکی ہے) اسے دکھائی گئی۔ جس پر اس نے غیر متعلق سلسلہ گفتگو شروع کردیا۔ خاکسار نے کہا کہ ایم۔ ڈی کریم صاحب صرف یہ لفظ لکھ دیں کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے چیلنج نہیں دیا گیا۔ مگر اس نے اس سے بھی انکار کردیا اور اپنی طویل تقریر میں علمائے اسلام پر تفرقہ اندازی وفرقہ بندی کا الزام عائد کیا اور رسالہ شمس الاسلام میں حیات مسیح علیہ السلام وتردید مرزا میں شائع شدہ مضامین کا حوالہ دیا۔ جس کے جواب میں خاکسار نے تمام معززین کے سامنے حسب ذیل تجویز پیش کیں۔

ایسا نہ ہوگا اور کسی جگہ کوئی ایسی تقریر نہ ہوگی جس میں حیات مسیح علیہ السلام ،ختم نبوت یا تکذیب مرزا کا ذکر ہو۔ نیز رسالہ شمس الاسلام میں بھی آئندہ ایسے مسائل پر کبھی بحث نہ ہوگی۔

١٠٨

صفحہ ٤٩٩

بشرطیکہ : ایم ڈی کریم صاحب، تمام مرزائیوں کی طرف سے اس بات کا ذمہ لیں کہ وہ کبھی بھیرہ میں کوئی جلسہ ایسا نہ کریں گے جس میں وفات مسیح علیہ السلام، اجرائے نبوت یا صداقت دعویٰ مرزا کے متعلق تقاریر ہوں اور کوئی مرزائی آئندہ ان مسائل پر کسی سے جھگڑا نہ کرے گا۔ نیز مرزائی اخبارات و رسائل بھی ان اختلافی مسائل کے تذکرہ سے پاک رہیں گے۔

خاکسار کی اس تجویز کو معززین قصبہ نے بے حد پسند کیا۔ مگر ایم۔ ڈی کریم صاحب نہایت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم سے ایسا کبھی نہ ہوگا۔ ہم اپنے عقائد کی ضرور تبلیغ کریں گے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ زہر کا اثر دور کرنے کے لئے تریاق کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ مدافعانہ کارروائی کے ذریعہ مرزائیوں کی زہریلی تبلیغ کے اثر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھیں۔ اس گفتگو سے فریب خوردہ اشخاص پر مرزائیوں کی اتحاد پسندی کی حقیقت ظاہر ہوگئی اور مرزائیوں کے ساتھ شرائط مناظرہ طے کرنے کے لئے حکیم شاہ محمد صاحب رئیس اعظم شیخوپورہ کا مکان تجویز ہوا۔ جہاں بعد دوپہر ٣ بجے خاکسار اور مولانا محمد قاسم صاحب نے مرزائیوں کے نمائندوں ایم۔ ڈی کریم اور مولوی عبداللہ انچارج کا انتظار کیا۔ ساڑھے تین بجے مرزائیوں کے نمائندے وہاں پہنچے اور شرائط مناظرہ طے کرنے کے لئے گفتگو شروع ہوئی۔

عبداللہ نے نہایت ہی اشتعال انگیز دلآزار اور گستاخانہ رویہ اختیار کیا اور اگر ایم۔ ڈی کریم صاحب مصلحت اندیشی سے کام نہ لیتے تو یقیناً یہ تمام گفتگو بے نتیجہ رہتی۔ اس عرصہ میں مرزائیوں نے اپنے مناظر مولوی محمد سلیم کو بھی بلا لیا اور چار گھنٹہ کی مسلسل بحث کے بعد حسب ذیل شرائط پر فریقین کے نمائندوں نے دستخط کر دیئے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! شرائط مناظرہ مابین جماعت احمدیہ و جماعت اسلامیہ بھیرہ

١٠٩

صفحہ ٥٠٠

مدعی جماعت احمدیہ اسلامیہ ہوگی۔

گھنٹہ بقیہ تقاریر آخر تک پندرہ پندرہ منٹ ہوں گی۔ اگر ضرورت پیش آجائے تو ہر ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد دس منٹ کا وقفہ دیا جائے گا۔

کا ذمہ دار ہوگا اور اس کا فرض ہوگا کہ وہ مناظرین سے شرائط کی پابندی کرائے۔

دلائل صرف قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے پیش ہوں گے۔ اقوال مرزا صاحب جماعت احمدیہ کے لئے حجت ہوں گے اور اقوال امام اعظمؒ جماعت اسلامیہ کے خلاف احمدی مناظر اپنی تائید میں پیش کرسکتا ہے۔

تک ہوگا۔ دوسرا اسی دن ساڑھے تین بجے شروع ہوگا۔ نماز عصر کے لئے نصف گھنٹہ کا وقفہ ساڑھے پانچ بجے سے دیا جائے گا۔ تیسرا مناظرہ ٦؍ستمبر ١٩٣٢ء صبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ہوگا۔

فرض ہوگا۔

ظہور احمد بگوی !

محمد قاسم منجانب جماعت اسلامیہ

جماعت اسلامیہ بھیرہ ۔٤؍ستمبر ١٩٣٢ء

بقلم محمد عبداللہ اعجاز (مولوی فاضل)... منجانب جماعت احمدیہ اسلامیہ بھیرہ ۔٤؍ستمبر ١٩٣٢ء

بقلم خود ایم ذکی کریم احمدی بھیرہ ۔٤؍ستمبر ١٩٣٢ء

شرائط کی توضیح

احمدیہ ہے۔ اس لئے ان کے زعم کی بناء پر ١؎ کی جماعت کا نام جماعت اسلامیہ احمدیہ تحریر

١؎

صفحہ ٥٠١

کیا گیا مگر افسوس ہے کہ محمد سلیم قادیانی نے اسی روز بعد نماز مغرب اپنے جلسہ میں اعلان کیا کہ علمائے اسلام نے ہمارا اہل اسلام میں سے ہونا تسلیم اور اس طرح مرزائیت کو پہلی عظیم الشان فتح حاصل ہوچکی ہے۔ مرزائیوں نے اس پر بے انتہا مسرت کا اظہار کیا۔ بریں عقل و دانش بباید گریست۔ علمائے اسلام کو اس واقعہ سے عبرت حاصل کر کے مرزائیوں کے ساتھ خط و کتابت کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

السلام کا انکار کیا تھا اور اپنی کتابوں میں وضاحت کے ساتھ اس اسلامی عقیدہ کی تردید میں زور قلم صرف کر دیا تھا۔ بہاء اللہ ایرانی نے بھی وفات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اختیار کر کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی سرسید اور بہاء اللہ ایرانی کی کتابوں کا مطالعہ کر کے ان کے پیش کردہ دلائل کو ترتیب دے کر وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے کی سعی کی اور بہاء اللہ کے نقش قدم پر چل کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اگر فوت شدہ تسلیم کیا جائے تب بھی مسیحیت کے دو دعویدار بہاء اللہ، مرزا غلام احمد میں باہمی رسہ کشی باقی رہ جاتی ہے۔ وفات مسیح کے اثبات سے مرزا کی صداقت کا کوئی تعلق نہیں۔ مرزا کی شخصیت کو بے نقاب ہونے سے بچانے کے لئے اس مسئلہ سے سپر کا کام لیا جاتا ہے۔ مرزائی ہمیشہ توفی، رفع، توفیتنی وغیرہ الفاظ کی آڑ لے کر اور قرآن کی آیات سے مغالطہ دے کر اصل حقیقت پر پردہ ڈالنے کے عادی ہیں۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام کی حیات وفات سے مرزا کے دعاویٰ کا کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی مسلمان نہ تھے۔ بلکہ وہ انسانیت کے عام معیار پر بھی پورے نہیں اترتے۔ مسیح موعود کے لئے کم از کم مسلمان ہونا ضروری ہے۔ مرزائیوں کا فرض ہے کہ انہیں پہلے مسلمان ثابت کریں۔ اس کے بعد مہدویت ومسیحیت وغیرہ کے دعاویٰ پیش کریں۔

بھیرہ میں مرزائیوں سے کہا گیا تھا کہ طول کلام سے بچنے کے لئے صرف دعویٰ مرزا پر مختصر مناظرہ ہو جائے اور اگر مرزا قادیانی کو آپ راستباز اور صادق ثابت کر دیں تو ہمیں نبوت اور وفات مسیح علیہ السلام تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ مگر انہوں نے اس سے صاف انکار کر دیا اور حیات وممات مسیح علیہ السلام کو ہی موضوع مناظرہ قرار دینے پر اصرار کیا۔ بالآخر حیات مسیح علیہ السلام، ختم نبوت اور صداقت دعاویٰ مرزا پر سہ امور پر مناظرہ ہونا قرار پایا۔

١١٢

صفحہ ٥٠٢

مستفید نہ ہو سکتے تھے۔ اس لئے بحث ومباحثہ کے بعد عبداللہ اعجاز سے طے پایا کہ رسالہ شمس الاسلام بھیرہ کے ساتھ تحریری مناظرہ کے لئے اپنے کسی جریدہ کو آمادہ کریں گے اور عبداللہ صاحب نے رسالہ شمس الاسلام میں شائع شدہ مضامین کی تردید کا ذمہ لیا۔ مگر انہوں نے آج تک اپنے وعدے کا ایفا نہیں کیا اور مناظرے کے بعد مبارک احمد صدر جماعت احمدیہ نے اس طریقہ سے تحریری مناظرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اصل قرار دیتے ہیں۔ عقائد کے لئے صحیح معیار قرآن مجید اور حدیث صحیح کے بغیر کوئی اور قرار دینا کھلی گمراہی اور ضلالت ہے۔ ہمارے نزدیک بزرگ وہ ہے جس کا عقیدہ صحیح ہو۔ مگر مرزائی ہم سے منوانا چاہتے تھے کہ عقیدہ صحیح وہ ہے جو کسی بزرگ کا ہو۔ ہم حیران تھے کہ استدلال کے طور پر اقوال بزرگان پیش کرنے سے مرزائیوں کا کیا مقصد ہے؟۔ مگر حالات وواقعات نے بتا دیا کہ بزرگان کے عام لفظ سے فائدہ حاصل کر کے نتھو پھتو اور مکوڑی شاہ و گنڈا شاہ کے اقوال پیش کر کے اور بعض مسلمہ بزرگ ہستیوں کے اقوال کو توڑ موڑ کر اور بعض صوفیائے کرام کے شطحیات پیش کر کے یہ جماعت عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ حالانکہ عقائد کے بارہ میں قرآن وحدیث صحیح کے سوا اور کسی چیز کا ذکر ہماری کتب عقائد میں نہیں ہے۔ عقیدہ ہی صحیح ہو سکتا ہے جو کسی معصوم کا ہو۔ ہم اولیاء اللہ کو معصوم قرار نہیں دیتے اور شطحیات کی بناء پر کوئی عقیدہ قائم کرنا مرزائیوں کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ امام الصوفیہ حضرت مجدد الف ثانی سرہندیؒ فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ کا کشف حجت نہیں بلکہ فرمایا ”مارا نص در کار است نہ فص“ بعض بزرگان دین سے حالت سکر میں بعض کلمات سرزد ہوئے۔ مگر ہوش میں آنے کے بعد فرمایا کہ جب ہم ایسے الفاظ کہیں تو ہمیں روک دیا کرو۔

فقہ میں امام ابوحنیفہؒ اور تصوف میں صوفیائے کرام اور منطق میں شیخ الرئیس وغیرہ کے اقوال پیش ہو سکتے ہیں۔ مگر عقائد کے بارہ میں کسی کا قول اہل سنت پر حجت نہیں ہو سکتا۔ جب تک اس قول کی تائید ہمیں قرآن اور حدیث صحیح سے نہ ملے مرزائیوں نے تین گھنٹہ اسی بحث میں ضائع کر دئیے۔ وہ چاہتے تھے کہ قرآن وحدیث اور بزرگان ہر سہ سے استدلال کرنے کا موقع

١١٤

صفحہ ٥٠٣

مل سکے۔ مگر انہیں کہا گیا کہ اگر تم تحریر کر دو کہ قرآن وحدیث ہمارے دعویٰ کے اثبات کے لئے کافی نہیں ہیں۔ تو ہم تمہاری یہ استدعا قبول کر سکتے ہیں۔ مگر ایسا لکھنا ان کے لئے پیام موت ثابت ہورہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ حنفیوں کے لئے اپنے امام کا قول حجت ہے۔ ہم نے کہا کہ فقہ میں حضرت امام اعظمؒ کے ہم مقلد ہیں۔ مگر عقائد کے بارہ میں آپ ان کا کوئی قول کسی قرآنی یا حدیثی دلیل کی تائید میں پیش کریں تو ہم تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مرزائیوں نے کہا کہ اقوال بزرگان تمہیں منظور نہیں تو تم کو اقوال مرزا پیش کرنے کا بھی حق نہیں ہوسکتا۔ خاکسار نے ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کہا کہ آپ اگر تحریر کر دیں کہ مرزا قادیانی صرف بزرگ تھے۔ نبی نہ تھے تو ہم اقرار کرتے ہیں کہ ان کی کتب سے کوئی حوالہ پیش نہ کریں گے اور اگر وہ نبی تھے تو نبی کا قول اپنی امت پر حجت ہوتا ہے۔ اس لئے آپ کو ان کے اقوال تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے۔ اس پر مرزائی مبہوت ہوگئے۔

آخری تقریر کے اختتام سے پہلے فریقین میں سے جو فریق اٹھ کر چلا جائے گا۔ وہ شکست خوردہ سمجھا جائے گا۔ مگر اس سے پہلے مناظرہ مجوکا میں اس شرط کی حقیقت آشکارا ہوچکی تھی۔ مسلمانوں کے مجمع میں سے کچھ دیہاتی جو دور دراز سے آئے تھے اپنے گھروں کو واپس جانے کے لئے بیقرار تھے۔ سورج غروب ہونے والا تھا۔ مگر مرزائیوں کا یہ اصرار تھا کہ اگر آپ کی جماعت کا ایک آدمی بھی چلا گیا تو آپ کی شکست سمجھی جائے گی۔ صدر جلسہ حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ نے بار بار کہا کہ یہ لوگ ثالث کی حیثیت رکھتے ہیں اور فریق سے حضرات علمائے کرام ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ مگر مرزائیوں نے کہا کہ شرط میں ذمہ دار کا لفظ موجود نہیں۔ ہم نے بھیرہ میں سابقہ تجربہ کی بناء پر ذمہ دار صاحب کے الفاظ اس شرط میں درج کرالئے۔

٥؍ستمبر کی صبح

٥؍ستمبر ١٩٣٢ء کی صبح آٹھ بجے سے پہلے اہل اسلام میدان مناظرہ میں پہنچ گئے۔ وہاں ہیڈ کانسٹیبل صاحب ایک پروانہ لئے ہوئے پہنچے۔ جس میں مناظرہ کے التواء کا حکم درج تھا۔ میرے استفسار پر ایم۔ ڈی کریم صاحب اور تمام مجمع کے سامنے ہیڈ کانسٹیبل صاحب نے اعلان کیا کہ احمدی صاحبان ہمارے پاس صبح سویرے یہ استدعا لے کر گئے تھے کہ ہمیں نقض امن کا خطرہ

١١٣

صفحہ ٥٠٤

ہے۔ اس لئے پولیس اپنی کارروائی کے لئے مجبور ہے۔ مرزائیوں میں باہمی تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ ایم۔ ڈی کریم صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مجمع بادلِ ناخواستہ منتشر ہو گیا اور ذمہ دار حضرات کا ایک وفد سب انسپکٹر صاحب سے ملا اور انہوں نے حالات سے مطلع ہو کر مناظرے کی اجازت دے دی اور اس طرح مرزائی اپنی سازش میں ناکام رہے۔

پہلا مناظرہ

٥ ستمبر ١٩٣٢ء بعد نمازِ ظہر ساڑھے تین بجے حضرت سبحان شاہؒ کے روضہ کے سامنے بنگلہ حضرت پیر انور امیر شاہ صاحب کے چبوترہ پر ہر دو فریق کے لئے اسٹیج تیار کئے گئے اور سامعین کے لئے وسیع میدان موجود تھا۔ مگر مرزائیوں نے چبوترہ سے نیچے میدان میں اپنا اسٹیج منتقل کر لیا۔ اس طرح ان کا زیرِ نظر ہو جانا نیک علامت سمجھی گئی۔ مرزائیوں کی طرف سے صدر حافظ مبارک احمد قادیانی پروفیسر مدرسہ احمدیہ قادیان منتخب ہوئے اور اہلِ اسلام نے خاکسار کو صدر منتخب کیا۔ حافظ مبارک احمد قادیانی نے کھڑے ہو کر کہا: مبارک احمد! اہلِ سنت کی طرف سے مناظرہ کون کرے گا؟۔

خاکسار! ہماری طرف سے حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کولو تارڑوی مناظر ہوں گے۔

مبارک احمد! ہماری دیرینہ آرزو تھی کہ مولوی ظہور احمد صاحب کے ساتھ ہوتا۔ کیونکہ ان کی علمی حیثیت مسلمانوں میں مسلمہ ہے اور ان کے ساتھ مناظرہ کرنے سے حق و باطل میں امتیاز ہو جاتا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ مولوی صاحب مناظرہ سے گریز کر رہے ہیں؟۔

خاکسار! ہماری بھی یہ دیرینہ آرزو تھی کہ میاں محمود احمد کے ساتھ مناظرہ ہوتا۔ کیونکہ وہ جماعت قادیان کے مسلمہ خلیفہ ہیں۔ ان کے ساتھ مناظرہ کرنے سے احقاقِ حق میں مدد ملتی۔ کیا آپ ان کو میدانِ مناظرہ میں لا سکتے ہیں؟۔

مبارک احمد! (نہایت غصہ کی حالت میں) آپ کا کیا حق ہے کہ پچاس ١؎ لاکھ احمدیوں کے مسلمہ خلیفہ کو اپنے مقابلہ میں بلائیں؟۔

١؎ مبارک احمد نے اپنی تقریر و تحریر میں مرزائیوں کی تعداد مناظرہ بھیرہ میں پچاس لاکھ بتائی ہے۔ مرزائیوں کی صحیح مقدار کے متعلق گذشتہ صفحات پر لکھا جا چکا ہے۔ قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرزائی مناظر جھوٹ بولنے میں کیسے مشاق ہوتے ہیں۔

١١٤

صفحہ ٥٠٥

خاکسار! آقائے نامدار فخر موجودات سید المرسلین ﷺ کے غلاموں کے خاک پا ہونے کی حیثیت سے میرا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ مرزا محمود بھی میرے مقابلہ میں کھڑا ہونے کی جرات نہیں کر سکتا۔ ابو جہل کو قتل کرنے والے دو کم سن لڑکے تھے۔ رستم ایرانی کو قتل کرنے والا ایک بدوی تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ امت اسلامیہ کا ہر فرد کفر کے علمبرداروں کے لئے پیام موت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پر مبارک احمد قادیانی نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر ان کے مرزائی دوستوں نے انہیں خاموشی کی تلقین کی اور تین بج کر چالیس منٹ پر حضرت مولانا ابوالقاسم صاحب نے حیات مسیح علیہ السلام پر تقریر شروع کی۔ مولانا کی تقریر اس قدر واضح، مدلل اور دلچسپ تھی کہ تمام حاضرین فرط مسرت سے جھوم رہے تھے۔ مولانا کی چھ تقریریں ہوئیں اور مرزائی مناظر مولوی محمد سلیم کی پانچ ہوئیں۔ تمام تقاریر کا خلاصہ اسی کتاب میں بطور ضمیمہ درج ہے۔ محمد سلیم قادیانی کی آخری تقریر میں آندھی کا طوفان آیا۔ مگر خدا کے فضل و کرم سے اسلامی اسٹیج اس کے اثر سے محفوظ رہا۔ مرزائیوں کے چہرے گرد آلود ہو گئے اور ان کے مناظر کا منہ مٹی سے بھر گیا۔ ان کا سائبان اکھڑ گیا۔ ان پر بدحواسی کا عالم طاری تھا۔ حاضرین نے جنگ خندق والا سماں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ٧ بجے شام مرزائی اپنے سر و سینہ اور منہ سے گرد جھاڑتے ہوئے گھروں کو سدھارے۔ مرزائیوں نے تمام رات دعا اور عبادت میں گذاری تھی اور صدقہ و خیرات سے بھی کام لیا۔ مگر آج کی واضح شکست اور ان کے مایہ ناز مسئلہ کی حقیقت واضح ہونے پر ان کی کمر ہمت ٹوٹ گئی۔ عبادت گاہ مرزائیہ میں مغرب و عشاء کی اذان بھی دینے کی توفیق نہ ہوئی اور تمام رات نہایت کرب و اضطراب سے بسر کی۔ حاضرین پر مرزائی مذہب کی حقیقت واضح ہو گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قرآن و حدیث اور مسلمات مرزائیہ سے مولانا ابوالقاسم صاحب نے اس قدر وضاحت سے ثابت کی کہ ان کے دلائل کا مرزائی مناظر کوئی جواب نہ دے سکا۔ مناظرہ کے اختتام پر ایم ۔ ڈی کریم صاحب اسسٹنٹ سیکرٹری انجمن مرزائیہ بھیرہ نے اقرار کیا کہ حیات مسیح ثابت کرنے میں مولانا کو زبردست کامیابی ہوئی ہے اور اس نے مولانا کو اس کامیابی پر مبارک باد دی۔

دوران مناظرہ میں صدر جماعت مرزائیہ نے لفظ مرزائی کے استعمال سے اسلامی مناظر کو روکنا چاہا مگر مولانا ممدوح نے فرمایا کہ تم مرزائی ہو۔ تمہارے نبی کا نام خدا نے الہام میں مرزا بتایا ہے۔ اسے الہام ہوا تھا کہ: ”سنفرغ یامرزا “ (تذکرہ ص١٢٩) مرزائی مناظر

١١٥

صفحہ ٥٠٦

قرآن کی آیات غلط پڑھتا تھا اور اس کی آخری تقریر نہایت ہی مہمل تھی۔ بدحواسی کے آثار اس کے چہرہ پر رونما تھے۔ خدائی قہر کا نشان یعنی آندھی مٹی سے اس کے منہ کو پر کرنے میں مصروف تھی۔ چہرہ خاک آلود تھا۔ مرزائی مناظر نے ریشمین پگڑی سر پر باندھ رکھی تھی اور داڑھی کٹی ہوئی تھی۔ اس کا رویہ نہایت ہی دل آزار تھا۔ اس نے صاف الفاظ میں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کیا بلا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ توہین سن کر قریب تھا کہ مجمع جوش غضب سے بے قابو ہو جاتا۔ مگر خاکسار نے لوگوں کو صبر وتحمل کی تلقین کی۔

دوسرا مناظرہ

مورخہ ٦ ستمبر صبح ساڑھے آٹھ بجے ختم نبوت پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔ اسلامی مناظر مولانا ابوالقاسم محمد حسین کوٹلوی صاحب نے ١٨ آیات قرآنیہ ، دس احادیث صحیحہ اور دو اقوال مرزا سے ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ مرزائی مناظر کی امداد کے لئے اسی روز ملک عبدالرحمن خادم قادیان سے پہنچ گیا تھا۔ مرزائی چاہتے تھے کہ کسی طرح کوئی فرار کا راستہ نکالیں۔ مگر مولانا ابوالقاسم نے دلائل کے زبردست شکنجہ میں انہیں جکڑے رکھا۔

مبارک احمد نے دعویٰ کیا کہ میں نحو مجسم ہوں۔ یہ سن کر مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب دامانی کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ تمام مرزائی مولوی مل کر اس عبارت کی ترکیب کر دیں۔ ورنہ دعویٰ علم سے مجمع کے سامنے توبہ کریں۔ ”جاء رجل علی باب نحوی فقرع الباب فخرج الصبی فقال اباک ابوک ابیک قال لا لولی“ تمام مرزائی اس کے جواب سے عاجز آ گئے اور اپنا سا منہ لئے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

تیسرا اور آخری مناظرہ

مورخہ ٦ ستمبر ١٩٣٢ء بعد نماز ظہر مرزائیوں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن مناظرہ دعاوی مرزا کے متعلق تھا۔ اس میں مرزائی مدعی تھے اس لئے پہلی اور آخری تقریر کا حق انہیں حاصل تھا۔ محمد سلیم کی کمر ہمت ٹوٹ چکی تھی اور مرزائیوں نے ملک عبدالرحمن خادم گجراتی کو اپنی طرف سے مناظر مقرر کیا۔ اہل اسلام کی طرف سے حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب نے حسب سابق نہایت قابلیت سے حق نمائندگی ادا کیا۔ عبدالرحمن خادم نے فحش کلامی۔ دریدہ دہنی اور گندہ مذاقی کا ثبوت دیا اور حقائق کا منہ چڑانے اور جی بھر کر گالیاں دینے سے اپنی شکست کا بدلہ لینا

١١٦

صفحہ ٥٠٧

چاہا۔ اسے کئی دفعہ روکا گیا۔ مگر وہ اپنی عادت سے مجبور تھا۔ اس نے تمام سامعین کو جن میں معززین بھی موجود تھے بھانڈ اور میراثی کہہ دیا۔ اس پر مجمع میں اشتعال پیدا ہوا اور ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے عبدالرحمن گجراتی کو ان الفاظ کے واپس لینے پر مجبور کیا۔ یہ آخری مناظرہ مرزائیت کے لئے پیام موت ثابت ہوا۔ حق کا نور چمکا اور باطل بھاگ نکلا۔ مناظرہ کے اختتام پر فقیر آزاد بھیروی نے خوش الحانی سے اپنی فی البدیہہ نظم سنائی جس کے پہلے دو شعر یہ تھے۔

ہو مبارک مومناں نوں آج خوش ایام دی
ہے ایہہ سب برکت خدا دی تے خدا دے نام دی
لاکھ مرزائی کرن توڑے پئے ڈھنگ بازیاں
بجھ نہیں سکدی کدی نوری شمع اسلام دی

علمائے اسلام شاندار جلوس کے ساتھ جامع مسجد پہنچے اور مرزائی کرسیاں سر پر رکھے ہوئے گھروں کو سدھارے۔

شہر بھیرہ کے اندر پیر و جواں بلکہ ہر بچہ کا دل بھی جذبہ مسرت سے لبریز تھا۔ کئی روز تک حق کی عظیم الشان فتح اور باطل کی نمایاں ہزیمت کا تذکرہ ہر مسلم وغیر مسلم کے ورد زبان رہا۔ لوگ مرزائیوں کی ڈھٹائی و بے حیائی اور ان کی ضد پر حیران تھے۔ مرزائیوں کی کثیر تعداد مذبذب ہوچکی تھی۔ اس لئے دوسرے روز مرزائیوں نے جلسہ کیا۔ جس میں محمد سلیم و عبدالرحمن نے اپنی جماعت کو ثابت قدم رکھنے کے لئے کذب بیانی تدلیس وتلبیس سے کام لیا اور بزرگان دین کی طرف غلط حوالے واقوال منسوب کئے اور علمائے کرام کے خلاف سب وشتم سے کام لیا۔

اس کے باوجود ایک مرزائی فضل داد کو مرزائیت سے توبہ کرنے کی توفیق ہوئی اور اس نے حسب ذیل اشتہار طبع کرا کر تقسیم کیا۔

میں کیوں مرزائیت سے تائب ہوا؟

”عرصہ سے کفر وضلالت کے گڑھے میں پڑا ہوا صراط مستقیم کا متلاشی تھا۔ جب دیکھتا تھا کہ روحانی موت قریب آرہی ہے اور قادیانی بھول بھلیوں سے نکلنا دشوار نظر آرہا ہے تو تائید ایزدی شامل حال ہوئی اور خضر راہ نے دستگیری کی کہ سرزمین بھیرہ میں عظیم الشان مناظرہ ہوا اور مولانا محمد حسین صاحب فاتح قادیان کی بصیرت افروز اور قادیانیت شکن تقریر نے میرے دل کے

١١٧

صفحہ ٥٠٨

قفل کو کھول دیا اور میں نے اس کے بعد کھلے بندوں اعلان کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ تا کہ اور بھائیوں کو بھی ہدایت ہو۔ لیکن مرزائی پٹھو میرے پیچھے پڑ گئے اور ہر جائز و ناجائز طریقہ سے مجھے اسلام قبول کرنے سے باز رکھا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ جب تک مرزائیت کا جواء اتار نہ پھینکوں گا۔ شفاعت محمد ﷺ سے محروم رہوں گا۔ پس میں نے بغیر کسی لالچ کے محض خوف خدا اور رسول کی وجہ سے جامع مسجد میں جا کر صراط مستقیم اختیار کیا۔ مرزائی دوستوں کے مغالطوں کو دور کرنے کے لئے اصل کارڈ بیعت کی نقل پیش کرتا ہوں۔“

نقل مطابق اصل

بسم اللہ الرحمن الرحیم! مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ! آپ کی درخواست بیعت موصول ہوئی۔ خلیفۃ المسیح الثانی ایداللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما کر آپ کی استقامت کے لئے اور دینی و دنیاوی بہتری کے لئے دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آپ اس پر عمل کریں۔ احمدیوں سے میل جول رکھیں۔ انشاء اللہ رشتہ بھی مل جائے گا۔

دستخط پرائیویٹ سیکرٹری! المشتہر فضل داد عفی اللہ عنہ!

مناظرہ بھیرہ پر غیر مسلم اصحاب کی آراء

میں تصدیق کرتا ہوں کہ مناظرہ جو کہ احمدی صاحبان کی طرف سے بھیرہ میں مورخہ ٥ ستمبر ١٩٣٢ء ، ٦ ستمبر ١٩٣٢ء کو مولوی صاحب محمد سلیم قادیانی اور مولوی محمد حسین صاحب جماعت اہل سنت کی طرف سے مقرر تھے۔ ذیل کے مضامین پر ہوا۔

بدلائل ثابت کیا اور مولوی سلیم قادیانی کو ان دلائل کے توڑنے کی جرات نہ ہوسکی۔ (پادری) سندر داس...... بھیرہ!

١١٨

صفحہ ٥٠٩

احمدی سنی مناظرہ

مورخہ ٥، ٦ ستمبر کو پیر صاحب کے متبرک روضہ پر علمائے سنی اور احمدی صاحبان کے درمیان چند مذہبی مسائل پر مناظرہ منعقد ہوا۔ حاضرین کی تعداد کئی ہزار اشخاص پر مشتمل تھی۔ جن میں ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ ہر فرقہ کے اصحاب شامل تھے۔ مضمون مباحثہ درج ذیل تھے۔

احمدی صاحبان کی طرف سے قادیان وغیرہ جگہ سے پانچ یا چھ مولوی بغرض شمولیت تشریف لائے تھے اور سنی صاحبان کی طرف سے مولوی ظہور احمد صدر مناظرہ کے علاوہ مولوی محمد حسین و دیگر حضرات مضامین پر بحث کر رہے تھے۔ چونکہ بندہ عربی زبان سے ناواقف تھا۔ اس لئے تمام دلائل کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر رہا۔ البتہ مولوی محمد حسین صاحب جو سنی حضرات کی طرف سے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ اپنا حق نہایت قابلیت سے ادا کر رہے تھے۔ میرے خیال میں تمام سوالات اور اعتراضات کا پر دلائل، پر تاثیر اور پر تہذیب پیرایہ سے جوابات دے رہے تھے۔ مجھے ان کے جوابات سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک نہایت ہی فاضل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جج کے سامنے بحث کر رہے ہیں۔ بھیرہ پبلک پر ان کی دلائل کا گہرا اثر ہوا۔

میں نے مناظرہ میں چند شرمناک قابل اعتراض واقعات کو دیکھا۔ جن کو بطور شہر بھیرہ کا باشندہ ہونے کے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا ہم وطن ہونے کے دل سے محسوس کرتا ہوں اور ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے زیادہ قابل اعتراض بات پیر احسن صاحب پیر کے متبرک روضہ پر لٹھ بند پولیس کی نمائش تھی۔ جو ہر وقت موجود رہتی تھی۔

درخواست دے کر ان کو طلب کیا ہے۔ میں نے مولوی دل پذیر ماسٹر خادم حسین و دیگر برگزیدہ احمدی احباب سے خاص طور سے دریافت کیا۔ لیکن مجھے جواب دیا گیا کہ یہ ہمارے خادم ہیں۔ ان سے مذہبی مجالس میں کام لینا کیا حرج ہے۔ سوال کا دوسرا حصہ کہ پیر صاحب کے روضہ پر یہ ناواجب ہے۔ اس کا جواب خاموشی میں تھا۔ الغرض ہمارے مذہبی تبادلہ خیالات میں پولیس کی

١١٩

صفحہ ٥١٠

مداخلت اور نمائش ہماری متبرک درسگاہوں میں میرے خیال میں نہایت قابل اعتراض ہے۔ جس کے لئے مجھے اپنے احمدی بھائیوں سے (اگر واقعی درخواست ان کی طرف سے تھی یا ان کے ایما پر بلائی گئی تھی ) موزوں شکایت ہے۔ مجھے امید ہے یا تو وہ اپنے مذہبی تبادلہ خیالات میں ضرور ان باتوں کا خیال رکھیں گے یا وہ ایسی مجالس کو بند کر دیں گے۔ جو بغیر پولیس کے ڈنڈے کے سرانجام نہ پاسکیں۔ ایسے موقعوں پر پولیس کی امداد اپنے دلائل کی کمزوری کا اعتراف ہے۔

ہے۔ جن میں انہوں نے بھیرہ کی مہذب پبلک کو لفظ میراثی بھنڈ سے مخاطب کیا اور باوجود ہمارے اعتراض کے واپس لینے سے انکار کر دیا۔ مولوی محمد حسین صاحب نہایت تہذیب اور شرافت سے بھیرہ پبلک کو دونوں دن مخاطب کرتے رہے اور آداب مجلس کو پوری طرح ملحوظ رکھا۔ لیکن میرے احمدی بھائیوں میں یہ کمی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ میرے خیال میں آئندہ ان باتوں کا ضرور خیال رکھا جائے گا۔

الراقم! جوندہ رام بی۔ اے ایل ایل بی۔ سٹوڈنٹ بھیرہ

مرزائیوں کی شرمناک کذب بیانی

مسلمانان بھیرہ مرزائیوں کے صحیفہ الدجل قادیان کے منتظر تھے۔ اس واضح وبین شکست کو فتح قرار دینے میں مرزائیوں کے دلائل کا نہایت بے تابی سے انتظار کیا جارہا تھا۔ الدجل نے کامل ڈیڑھ ماہ خاموشی سے کام لیا اور مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ ابھی مرزائیوں میں کسی قدر شرم وحیا کا جوہر موجود ہے۔ مگر ٢٠؍ اکتوبر ١٩٣٢ء کے (الفضل ج٢٠ش٤٨ ص٨) میں احمدیت کی عظیم الشان فتح کے عنوان سے بھیرہ کے مناظرہ کا حال پڑھ کر لوگوں کے غیض وغضب کی انتہاء نہ رہی۔ عوام الناس حیران تھے کہ اس قدر سیاہ جھوٹ سے کام لینا مرزائیوں کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ صحیفہ الدجل میں دجالیت کا مظاہرہ حسب ذیل طریقہ سے کیا گیا۔

کہ علماء سلف اہل سنت والجماعت کی کتب اور ان کی تحریریں ان کے خلاف پیش ہوسکیں۔ گویا اپنے بزرگوں کی تحریروں سے انکار کر دیا۔

حالانکہ الدجل کے ان الفاظ ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائی قرآن وحدیث صحیح سے اپنے دعاوی کو ثابت کرنے سے عاجز تھے اور گمنام وبعض غیر معروف اشخاص کو بزرگ ظاہر کرکے

١٢٠

صفحہ ٥١١

ان کے اقوال پیش کر کے عوام کو مغالطہ دینا چاہتے تھے۔ مرزائی مناظر محمد سلیم نے سلانوالی کے مناظرہ میں ایک بزرگ سردار گنڈا سنگھ کے اشعار بطور استدلال وفات مسیح پر پیش کئے تھے اور مرزائیوں کی حدیث کی کتاب سیرۃ المہدی میں ان کے کئی معتبر راوی سردار جھنڈا سنگھ جیسے ہیں۔ مرزائیوں کی اصلی غرض یہ تھی کہ غیر معتبر کتب سے بعض اقوال بیان کر کے ان کتب کے معتبر ہونے یا ان اشخاص کے بزرگ ہونے کی غیر متعلق بحثوں میں ہی وقت ضائع ہو جائے۔ مگر ان کا یہ دجل وزور بھیرہ کے مناظرہ میں کامیاب نہ ہوسکا اور قرآن کریم وحدیث کے دائرہ کے اندر رکھ کر ان کے لئے موت کا سامان فراہم کیا گیا۔ بھیرہ میں طے شدہ شرائط کی سختی انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔ خوشاب، سرگودھا، سلانوالی، چک نمبر ٣٧ غرض کسی جگہ بھی انہوں نے شرائط بھیرہ پر مناظرہ کرنا گوارا نہ کیا اور انشاء اللہ کسی بھی جگہ انہیں ان شرائط کے ماتحت مناظرہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن وحدیث سے انہیں کوئی دلیل نہیں مل سکتی۔

آگے چل کر لکھتا ہے کہ:

کے واقعہ کے ساتھ آسمان کا لفظ اور لفظ جسد عنصری اور زندگی کو ثابت کردے تو مقرر شدہ انعام لے۔ یہ مطالبہ آخر تک کیا گیا۔ لیکن فریق مخالف اس کی تردید نہ کر سکا۔

حیات مسیح علیہ السلام کا اثبات قرآن سے سمجھانے کا تعلق جہاں تک زبان سے ہے وہاں تک تو اسلامی مناظر نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ مگر قلندر کے بندر کی طرح سر ہلا کر بار بار یہ کہنا کہ میں نہ مانوں۔ اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کا بہترین جواب ہم ان کو کہاں دے سکتے تھے قبر کے اندر منکر ونکیر سے مرزائیوں کو مل سکے گا۔ مولانا ابوالقاسم کولو تارڑوی کے دلائل اسی کتاب میں درج کئے گئے ہیں۔ قارئین خود فیصلہ فرمالیں کہ مولانا نے اس سوال کا جواب کس خوبی سے دیا اور الدجل کا یہ بیان کس قدر کذب وافتراء سے مملو ہے۔

مخالف نے اختیار کیا کہ سارا دارو مدار کتب مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر رکھا۔

اس میں شک نہیں کہ اسلامی مناظر نے کتب مرزا کے حوالوں سے ثابت کیا کہ قرآن دانی کا دعویٰ کرنے کے بعد بھی مرزا حیات مسیح کا معتقد رہا اور مرزا کا دعویٰ ہے کہ اس

١٤١

صفحہ ٥١٢

نے اس عقیدہ میں تبدیلی قرآن کی بناء پر نہیں کی ۔ بلکہ اس تبدیلی کی بناء الہام و وحی بیان کی ہے ۔ اسلامی مناظر نے اس سے ثابت کیا کہ قرآن مجید میں کسی جگہ وفات مسیح کا ذکر نہیں ۔ ورنہ مرزا قادیانی ضرور ہی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل پہلے سے ہی ہوتے ۔ مولانا کے اس اچھوتے طرز استدلال سے مرزائی مناظر اپنا رٹا ہوا سبق بھول گیا اور اسے سخت پریشانی لاحق ہوئی ۔ مگر مولانا نے اس کے علاوہ بھی متعدد آیات قرآنیہ و احادیث سے اپنا دعویٰ ثابت کیا ۔ جس کا جواب مرزائی مناظر سے بن نہ پڑا ۔

پبلک نے غیر احمدی مناظر کی ناکامی کو محسوس کر لیا ۔ “

خاص اثر ہونے میں شک نہیں ۔ مگر وہ خاص اثر ہی تھا ۔ جس کی بناء پر آپ کی جماعت کے اسسٹنٹ سیکرٹری ایم ۔ ڈی کریم صاحب نے صاف الفاظ میں اسلامی مناظر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ : ” میں آپ کے طرز استدلال سے بہت محظوظ ہوا ۔ آپ دلائل دینے اور اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس پر میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں ۔ مگر فی الحال میرا نام ظاہر نہ کیا جائے ۔ “

ایم ۔ ڈی کریم صاحب اگر اس کا انکار کریں تو مؤکد بعذاب حلفیہ اشتہار شائع کریں ۔ مگر امید نہیں کہ انہیں ایسا کرنے کی ہمت ہو سکے ۔

حسین کے چیلنج کے جواب میں کہ توفی کے متعلق ایک ہزار روپیہ چیلنج کو پورا کرنے کو تیار ہوں ۔ ان کے چیلنج کو منظور کر لیا گیا اور نقد ایک ہزار روپیہ پیش کیا گیا ۔ “

لعنة الله على الكاذبين ! مولانا محمد حسین صاحب کا مطالبہ تھا کہ مرزائی مناظر اپنے پیشوا احمد سے سند نمائندگی حاصل کر کے مسئلہ توفی کے متعلق شرائط مناظرہ طے کریں ۔ مگر مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر مناظرہ ہو جانے کے بعد ختم نبوت کے مسئلہ پر مناظرہ کرتے ہوئے مرزائی مناظر نے جیب سے کچھ کاغذ نکال کر کہا تھا کہ یہ ایک ہزار روپیہ موجود ہے ۔ مولانا محمد حسین صاحب نے اس وقت فرمایا کہ کسی غیر جانبدار آدمی کے پاس رکھو ۔ مگر فوراً ہی مرزائی مناظر نے وہ

١٤٢

صفحہ ٥١٣

کاغذ جیب میں ڈال لئے۔ پبلک کو معلوم بھی نہ ہو سکا کہ ان کاغذات میں کیا چیز لپٹی ہوئی تھی۔ دراصل اسلامی مناظر کا منشا ایک ہزار روپیہ حاصل کرنے کا نہ تھا۔ بلکہ وہ بانی مذہب مرزائیت کی تحدی کو توڑنا چاہتے تھے اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ان کا مد مقابل میاں محمود احمد خلف وخلیفہ مرزا کا مصدقہ نمائندہ ہو۔ مگر مرزائیوں نے آخری دم تک ان شرائط کو قبول نہ کیا۔ نیز حیات مسیح کے مناظرہ میں مرزائیوں نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور ختم نبوت کی بحث میں اس غیر متعلق امر کا ذکر کر کے غلط مبحث سے کام لینا چاہا۔“

باتوں میں ٹالا اور کوئی دلیل ختم نبوت کے متعلق پیش نہ کی۔“ اس کے جواب میں ہم چیلنج دیتے ہیں کہ ١٨؍ آیات قرآنیہ اور ١٠؍ احادیث اور ٢؍ اقوال مرزا کل تیس دلائل جو ختم نبوت پر مولانا نے پیش کئے تھے ان کا جواب مرزائی دنیا مل کر بھی قیامت تک نہیں دے سکتی۔

کا شرافت و متانت کے ساتھ جواب دیا گیا۔ مرزائی لغت میں شرافت و متانت سے مراد فحش کلامی ہوگی۔ معزز حاضرین کو میراثی اور بھانڈ کہنا اور منہ چڑانا اور مرزائی مناظر کی قابل نفرت حرکات سے تمام سامعین بیزار ہو رہے تھے۔ شہر بھیرہ کے ایک معزز ہندو لالہ جوندہ رام صاحب بھاٹیہ بی۔ اے کی شہادت اس بارہ میں قابل غور ہے۔

احمدیہ میں آکر ہمارے مبلغین سے گفت و شنید عقائد احمدیت کے متعلق کرتے رہے اور کئی لوگوں نے کتب احمدیہ کے پڑھنے کا وعدہ کیا ہے۔“ ان الفاظ کو دراصل اس طریقہ سے قلمبند کرنا چاہئے تھا۔ اس مناظرہ کا ہی اثر تھا کہ شہر بھیرہ کا بچہ بچہ ہمارے بڑے بڑے مبلغین سے بحث کرنے پر تیار ہو چکا ہے۔ نوجوانوں نے ہمارے مبلغین کو ہر جگہ پریشان کیا۔ چھوٹے بچوں نے گلی و کوچہ میں اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی اور کئی لوگوں نے ہمارے مذہب کی تردید کے لئے ہماری کتابوں کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

١٢٣

صفحہ ٥١٤

الفضل کی ایک بدحواسی قابل داد ہے۔ لکھتا ہے کہ مناظرہ ١٥؍ستمبر کو ہوا۔ حالانکہ مناظرہ ٥، ٦؍ستمبر کو ہوا تھا۔

مرزائیوں سے خط و کتابت

مناظرہ کے بعد یاددہانی کی غرض سے مولانا ابوالقاسم نے شیخ مبارک احمد مرزائی کو لفظ توفی کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے خط لکھا۔ جس کے جواب میں مرزائیوں نے مرزا محمود کی سند نمائندگی حاصل کرنے سے انکار کیا اور لکھا کہ مولانا ابوالقاسم صاحب عالم اسلام کے علماء سے سند نمائندگی حاصل کر لیں۔ اس کے بعد ہم سے سند نمائندگی دکھانے کا مطالبہ کریں۔ اس کے جواب میں مولانا ابوالقاسم صاحب نے حسب ذیل آخری خط مبارک احمد کے نام بھیجا۔ جس کے جواب میں انہوں نے کامل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

از بھیرہ! ٨؍ستمبر ١٩٣٢ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

مکرمی مولوی مبارک احمد صاحب!

سلام علی من اتبع ! آپ کا رقعہ میرے رقعہ کے جواب میں پہنچا آپ وقت کو ضائع نہ فرمادیں۔ براہ مہربانی پہلے آپ مرزا قادیانی کے چیلنج کو ملاحظہ فرماویں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ اس چیلنج میں کہیں بھی یہ نہ پائیں گے کہ جواب دینے والا روئے زمین کے مسلمانوں کا یا کسی مرکزی جماعت کا نمائندہ ہو۔ پھر آپ کا یہ شرط زیادہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟۔ باقی رہا یہ امر کہ میں نے جناب کو سند نیابت نمائندگی حاصل کرنے کی کیوں تکلیف دی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلنج کا جواب دینا ہے۔ نہ آپ کے کسی احمدی کا۔ اگر آپ کی تحدی اصالتاً ہوتی تو سند نمائندگی و نیابت کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جب کہ آپ مرزا قادیانی کی طرف سے نیابت کے طور مقابلہ میں آنے والے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس صورت میں سند نیابت از بس ضروری و لازمی ہے۔ ورنہ بصورت دیگر ممکن بلکہ اغلب ہے کہ جناب مرزا محمود احمد صاحب خلف و خلیفہ جناب مرزا قادیانی فرماویں کہ یہ فیصلہ ہمیں منظور نہیں ہے۔ پس آپ اس صورت میں ”مان نہ مان میں تیرا مہمان“ کا مصداق قرار پاتے ہیں۔ لہٰذا سند نیابت حاصل کرنا از بس ضروری ہے۔ ورنہ فیصلہ ناطق نہیں ہوسکتا اور جب کہ آپ کو سند نیابت کے

صفحہ ٥١٥

حصول کا پورا اعتماد ہے، تو آپ اس سے پہلو تہی کیوں کرتے ہیں اور اس میں آپ کا کیا نقصان ہے؟۔ براہ مہربانی تضیع اوقات اور ٹال مٹول چھوڑ کر تحریر فرمائیں کہ میں سند نیابت حاصل کروں گا۔ بعدہ آج ہی بقیہ شرائط طے کر کے تیار ہو جائیں۔ سند نیابت آ جانے پر گفتگو شروع ہو جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اور اگر آپ اس ضروری شرط سے بھی پہلو تہی کریں اور سیدھی راہ پر نہ آویں تو پھر فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے سے خاموشی بہتر ہے۔ میری طرف سے اتمام حجت ہو چکی۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ والتزم متابعۃ المصطفیٰ ﷺ! ابوالقاسم محمد حسین کولو تارڑوی

مرزائیوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ مرزائیوں کو تحریری مناظرہ کا بہت شوق تھا۔ مگر انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ خاکسار کی حافظ مبارک احمد قادیانی کے ساتھ تحریری مناظرہ کے متعلق حسب ذیل خط و کتابت ہوئی۔

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

مکرمی مولوی مبارک احمد صاحب!

سلام على من اتبع الہدیٰ! جناب کی جماعت تحریری مناظرہ کرنے کی خواہش مند تھی۔ اس کے لئے میں نے آپ کے نمائندوں ایم۔ ڈی کریم اور محمد عبداللہ اعجاز قادیانی کو لکھا تھا کہ رسالہ شمس الاسلام کے صفحات اس کے لئے وقف ہو سکتے ہیں۔ جناب کے ہر سوال پر اعتراض یا ہر مضمون کا حامل المتن جواب رسالہ میں شائع ہوا کرے گا۔ بشرطیکہ جناب بھی اپنے کسی مدیر جریدہ کو اس پر آمادہ کر سکیں کہ وہ ہمارے مضامین یا اعتراضات کا حامل المتن جواب شائع کرنے کا حتمی وعدہ کرے۔ عام پبلک پر اس طرح حق واضح ہو جائے گا۔ مولوی اعجاز قادیانی نے اس چیلنج کو قبول کر لیا تھا۔ اب آپ کا فرض ہے کہ اس وعدہ کا ایفا کریں اور بہت جلد کسی مرزائی اخبار کے مدیر کی تحریر میرے پاس بھجوادیں۔ تا کہ اس سے تبادلہ کیا جا سکے اور ماہ اکتوبر سے تحریری مناظرہ شروع کر دیا جائے۔ اگر آپ کی جماعت نے ایسا نہ کیا تو ثابت ہو جائے گا کہ تحریری مناظرہ سے صرف تضیع اوقات مقصود تھا ورنہ آپ کو تحقیق حق مطلوب نہیں۔ آپ کا یہ گریز بھی مشتہر کر دیا جائے گا۔ ظہور احمد بگوی! مدیر جریدہ شمس الاسلام و صدر جماعت تبلیغ اسلامیہ بھیرہ

١٢٥

صفحہ ٥١٦

مرزائیوں کے نام حسب ذیل آخری تحریر غیرت دلانے کے لئے بھیجی گئی۔ مگر اس پر بھی ان کو آمادگی کی جرأت نہ ہوسکی۔

بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم! از جامع مسجد بھیرہ! ٨ ستمبر ١٩٣٢ء جناب مولوی مبارک احمد صاحب! سلام علٰی من اتبع الہدٰی! جناب کا رقعہ کل ملا پڑھ کر تعجب ہوا۔ آپ اپنے اخبارات کے صفحات کو باطل سے ہی مملو دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے لغو، لایعنی، اور مغالطوں سے بھرپور تحریروں کے سوا اور کسی مضمون کا شائع ہونا آپ کو منظور نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جماعت مرزائیہ صرف خرافات کی وجہ سے ان اخبارات کی خریدار ہے۔ تحقیق حق سے انہیں غرض نہیں۔ حق کے اندراج سے آپ کو قیمتیں کم ہونے کا خطرہ لاحق ہورہا ہے۔ شمس الاسلام کے سامنے ان خیرہ چشموں کا ٹھہرنا ناممکن ہے۔ آپ نے شمس الاسلام کے مضامین کو پادرہوا لکھا ہے۔ حالانکہ:

نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
چو غلام آفتابم ہمہ زآفتاب گویم

شمس الاسلام کی ظلمت شکن کرنیں مرزائی ظلمت وضلالت کی گھٹاؤں کے لئے پیغام موت ثابت ہورہی ہیں۔ ہمت ہے تو اپنے قادیانی چیتھڑوں اور رسوائے عالم جرائد کو سامنے لانے کی جرأت کریں۔ آپ کبھی بھی نہ لاسکیں گے اور یہ ایک پیشین گوئی ہے۔ جو پوری ہوکر رہے گی۔ ظہور احمد بگوی کان اللہ لہ...... صدر جماعت اسلامیہ بھیرہ

تیسرا معرکہ! خوشاب

بھیرہ میں شرمناک ہزیمت حاصل کرنے کے بعد مرزائی مبلغین مولوی احمد خان وعبداللہ اعجاز رات کی تاریکی میں بھیرہ سے فرار ہو کر جھاوریاں چلے گئے۔ حزب الانصار کے

مرزائیوں نے کسی طرح بھی تحریری مناظرہ کی یہ صورت قبول نہ کی اور اگر اب بھی مرزائیوں کو ہمت ہو تو تحریری مناظرہ پر اپنے کسی جریدہ کو آمادہ کریں۔ افسوس ہے کہ مولوی اعجاز قادیانی نے وعدہ کا ایفاء نہ کیا۔ ورنہ دنیا پر حق وباطل آشکارا ہوجاتا۔

١٢٦

صفحہ ٥١٧

کارکنوں کو ان کے فرار کا علم نہ ہو سکا۔ جھاوریاں میں مسلمانان قصبہ نے ان کی تقریر سننے سے انکار کر دیا۔ وہاں سے مرزائی وفد مورخہ ٩؍ستمبر ١٩٣٢ء کو خوشاب میں وارد ہوا۔ خوشاب بھیرہ سے شمال مغربی جانب ٣٥ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ مسلمانان خوشاب کی درخواست پر حزب الانصار کا تبلیغی وفد ١٠؍ستمبر کی صبح کو بھیرہ سے روانہ ہو کر اسی روز دن کے گیارہ بجے خوشاب پہنچا۔ ریلوے اسٹیشن پر حضرت مولانا محمد شفیع صاحب (سرگودھوی) کی سرکردگی میں مسلمانان خوشاب نے شاندار استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں علمائے کرام کی فرودگاہ پر پہنچایا گیا۔ مرزائیوں کی امداد کے لئے قادیان سے مولوی غلام رسول آف راجیکی بھی اسی گاڑی سے وارد خوشاب ہوا۔ مگر اسلامی قافلہ کا رعب مرزائیوں پر غالب ہو چکا تھا۔ انہوں نے خلیفہ قادیان سے بذریعہ تار مزید کمک طلب کی۔

مؤرخہ ١٠، ١١؍ستمبر ہر دو روز عیدگاہ میں شاندار اسلامی جلسے منعقد ہوتے رہے۔ جن میں مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب، خاکسار اور مولوی عبدالرحمن صاحب میانوی، مولانا محمد شفیع صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب دامانی کی مرزائیت شکن تقریریں ہوئیں۔ مرزائیوں کے جلسے ناکام رہے اور انہیں مناظرہ کا چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ مورخہ ١١؍ستمبر ١٩٣٢ء ملک عبدالرحمن خادم گجراتی مرزائیوں کی امداد کے لئے قادیان سے پہنچ گیا۔ شرائط مناظرہ کے تصفیہ کے لئے مجلس منعقد ہوئی۔ بھیرہ میں طے شدہ شرائط پر مرزائیوں نے مناظرہ کرنا گوارہ نہ کیا اور ملک عبدالرحمن خادم نے خاکسار کے ساتھ گفتگو کرنے یا شرائط مناظرہ طے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ مرزائیوں نے کئی گھنٹہ شرائط طے کرنے میں صرف کر دیئے۔ ٥ گھنٹے کی مسلسل بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حسب ذیل شرائط طے ہوئیں۔

شرائط مناظرہ

مدعی جماعت احمدیہ ہوگی۔

صفحہ ٥١٨

اجماع امت بقول مستند بلفظ اجماع حجت ہوگا۔ نیز اقوال جناب مرزا قادیانی جماعت احمدیہ پر حجت ہوں گے۔

عام دلیل بھی پیش ہو سکے گی۔

منٹ کا وقفہ ہوگا۔ اگر نماز کا وقت درمیان میں آئے آدھ گھنٹہ وقفہ ہوگا۔ لیکن یہ وقت مناظرہ میں شامل نہ ہوگا۔ پہلی ہر دو تقاریر نصف نصف گھنٹہ اور بعد کی تقاریر پندرہ پندرہ منٹ ہوں گی۔

ہوگی۔ خلط ادلہ نہ ہوگا۔ تاکہ حاضرین بخوبی قوت دلیل کا موازنہ کرسکیں۔

استعمال نہ کرے گا اور ہر مناظر دوسرے کے متعلق ذاتیات کی بحث سے پرہیز کرے گا۔

مناظر کو پابند شرائط کرے گا۔

منجانب ! جماعت احمدیہ خوشاب....... تحصیل ! ایضاً....... ضلع ! سرگودھا۔ عمر خطاب احمدی سیکرٹری تبلیغ....... حال خوشاب

تصفیہ شرائط کی خبر سن کر تمام شہر میں مسرت و خوشی کے نعرے بلند کئے گئے۔ حق و باطل کے امتیاز کی توقع پیدا ہوگئی۔ مگر مرزائیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ملک عبدالرحمن اور اس کے رفقاء نے عمر خطاب قادیانی کو لعنت و ملامت کی اور انہوں نے ان شرائط کو بھیرہ والی شرطوں سے بھی زیادہ تباہ کن سمجھا۔ تمام رات مسلمانان خوشاب نے اسٹیج و جلسہ گاہ کی آرائش و تزئین میں صرف کی۔ مگر مرزائی اپنے بستروں پر بے چینی سے کروٹیں بدلتے ہوئے فرار کے حیلے تراشتے

١٤٨

صفحہ ٥١٩

رہے۔ صبح سویرے مرزائی نمائندے تھانہ دار صاحب کے ہاں پہنچے اور وہاں مناظرہ بند کرنے کی درخواست دی اور بیان کیا کہ ہمیں نقض امن کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا مناظرہ بند ہونا چاہئے۔ مورخہ ١٢؍ستمبر ساڑھے سات بجے صبح کو شیران اسلام عالیشان سائبان کے نیچے میدان مناظرہ میں جلوہ افروز ہوئے۔ ہزارہا اشخاص دور دراز مقاموں سے جمع ہوئے۔ مرزائیوں کا رنگ زرد، حواس گم تھے۔ عین وقت پر سب انسپکٹر صاحب پولیس نے جلسہ گاہ میں آکر مناظرہ روک دیا اور ہجوم کو منتشر ہونے کا حکم دیا۔ سب انسپکٹر صاحب نے کہا کہ مرزائی مناظرہ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے اپنی حفاظت طلب کی ہے۔ اس لئے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ حکیم حافظ چن پیر احمد صاحب و سیٹھ عبدالرسول صاحب میونسپل کمشنر نے اہل اسلام کی طرف سے پانچ پانچ ہزار روپیہ کی ضمانتیں داخل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور مرزائیوں کو حفظ امن کا یقین دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ مگر مرزائی مناظر جلسہ گاہ سے چلے گئے اور انہوں نے فرار ہی میں اپنی مصلحت دیکھی اور تانگہ پر سوار ہو کر مجوکہ کی طرف چل دیئے۔

رات کو جامع عید گاہ میں اہل اسلام نے شاندار جشن فتح منایا۔ علماء کرام کی بصیرت افروز تقریریں ہوئیں۔ شعراء نے مبارکباد کے قصائد پڑھے۔ مرزائیوں کے اس واضح فرار سے ان کے مذہب کی حقیقت ظاہر ہوگئی۔ والحمد علی ذلک!

چوتھا معرکہ ! مجوکہ

خوشاب سے چالیس میل کے فاصلہ پر دریائے جہلم کے دائیں کنارہ پر مجوکہ آباد ہے۔ سرداران مجوکہ کسی زمانہ میں علاقہ تھل کے رؤسا میں شمار ہوتے تھے۔ مجوکہ کی آبادی زراعت پیشہ ہے۔ پچیس سال ہوئے ایک غیر مقلد مولوی نے وہاں اپنے چند متبعین پیدا کئے۔ علیحدہ مسجد تیار کرائی اور احناف کو مشرک قرار دیا۔ چند سال کے بعد مجوکہ کے غیر مقلدین نے کل جدید لذیذ پر عمل پیرا ہو کر مذہب مرزائیت قبول کر لیا۔ تحصیل خوشاب میں مجوکہ مرزائیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ آبادی کا تہائی حصہ مرزائی ہو چکا ہے۔

فروری ١٩٣٢ء میں وہاں ایک فیصلہ کن مناظرہ ہوا تھا۔ جس میں مرزائیوں کو شاندار شکست ہوئی تھی اور ٧ مرزائی تائب ہوئے تھے۔ مناظرہ کے بعد وہاں مرزائیت کا سد باب ہو چکا ہے۔ خوشاب سے فرار ہو کر مورخہ ١٣؍ستمبر ١٩٣٢ء کو مرزائیوں کا قافلہ تانگہ و لاری کے ذریعہ شام کو مجوکہ پہنچا۔ اسلامی وفد سے خلاصی پانے کی خوشی میں مرزائیوں نے رات آرام سے بسر کی۔ مولوی

١٢٩

صفحہ ٥٢٠

محمد سلیم بھی قادیان سے وہاں پہنچ گیا۔ خوشاب میں رات کے ایک بجے جشن فتح سے فارغ ہو کر مجاہدین اسلام کا قافلہ بذریعہ کشتی عازم مجوکہ ہوا۔ دریا میں پانی کم تھا۔ اس لئے کشتی کی رفتار سست رہی۔ کشتی میں خاکسار کے ہمراہ مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب و ابوسعید مولانا محمد شفیع صاحب خوشابی، مولوی عبدالرحمن صاحب میانوالی، سیٹھ عبدالرسول صاحب میونسپل کمشنر خوشاب و دیگر احباب سوار تھے۔ سفر کی دلنواز اور عجیب کیفیت بیان کرنے سے قلم عاجز ہے۔ صبح کی نماز دریا کے کنارے خوشاب سے دس میل کے فاصلہ پر ادا کی گئی۔ بھرکہ سے گذرنے کے بعد خورشید کی سنہری کرنوں کی ضوریزی نے پانی میں اپنا عکس ڈال کر کشتی والوں کے صبر و استقامت کا امتحان لینا چاہا۔ ہوا بند تھی۔ گرمی کی شدت ناقابل برداشت تھی۔ دن کے ١١ بجے موضع پھٹھی کے کنارہ پر چند منٹ آرام کیا۔ خدا کے فضل سے جنگل میں کھانے کا انتظام ہو گیا۔ کھانا کھانے کے بعد کشتی پر سوار ہو کر چپو چلانے کی مشق کی۔ مرزائیوں کے جلسہ کی کامیابی کا خیال ہمارے لئے دھوپ سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ علماء کرام خصوصاً مولانا محمد شفیع صاحب (سرگودھوی) کئی گھنٹے اپنے ہاتھ سے چپو چلاتے رہے۔ بوقت عصر موضع جوڑہ کے قریب ایک پرندہ دیکھا گیا۔ جس نے ایک بہت بڑی مچھلی کو دم سے پکڑ کر کنارہ پر پھینک دیا۔ کشتی کے قریب پہنچنے پر پرندہ اڑ گیا۔ مچھلی کو دادۂ خدا سمجھ کر مجاہدین اسلام نے کشتی میں رکھ لیا۔ کشتی سے اتر کر نماز مغرب مجوکہ سے دو میل کے فاصلہ پر ادا کی گئی۔ یہ فاصلہ پیدل طے کیا گیا۔ مجوکہ میں مرزائیوں کا جلسہ ہو رہا تھا۔ مولوی محمد سلیم قادیانی پر جوش لہجہ میں تقریر کر رہا تھا۔ مجوکہ کے مرزائی وہاں کے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دے رہے تھے۔ ٩ بجے شام نعرہائے تکبیر کے ساتھ مجاہدین اسلام مجوکہ میں وارد ہوئے۔ مرزائی لیکچرار کی آواز پست ہو گئی۔ مسلمانوں کے حوصلہ بڑھ گئے۔ اسی وقت مسجد کی چھت پر خاکسار نے تقریر کی۔ مرزائی لیکچرار نے اپنی تقریر بند کر دی۔ خاکسار نے مرزائیوں کو ثابت قدم رہنے کی تاکید کی اور ان کے چیلنج کو قبول کر کے مناظرہ پر آمادگی ظاہر کی۔ اہل قصبہ کو کہا کہ صبح مرزائیوں کو بھاگنے کا موقع نہ دینا اور انہیں مجبور کرو کہ بغیر مناظرہ کئے یہاں سے ہرگز نہ جائیں۔

۔ مورخہ ١٥ ستمبر ١٩٣٢ء بعد نماز صبح مسمی رمدانہ مرزائی، مولانا ابوالقاسم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے بیان کیا کہ ہمارے مولوی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے

١٣٠

صفحہ ٥٢١

کہ مہدی کے زمانہ میں کسوف وخسوف ہوگا اور وہ چودہویں صدی میں ہوگا۔ ان احادیث کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے دعویٰ تسلیم کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ ہر دو نشان مرزا قادیانی کے زمانہ میں پورے ہوچکے ہیں اور آج تک کوئی اور مدعی مہدویت ظاہر نہیں ہوا۔ مولانا ابوالقاسم صاحب نے حسب ذیل تحریر لکھ کر رمضان مذکور کو دی اور اسے کہا کہ اس کا جواب ان سے تحریر کرا کر لے آؤ۔

باسمه سبحانه!

حدیث نہیں ہے۔

پر لکھتا ہے کہ: ”آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ”کان فی الهند نبیاً اسود اللون اسمه کاهنا“ یہ بھی حدیث نہیں ہے۔“

مرزائی صاحبان اس کا حدیث ہونا ثابت فرمائیں اور کسی حدیث صحیح مرفوع متصل سے بیان کریں۔ یا کسی حدیث کی کتاب ملتزم الصحۃ سے یہ حدیث دکھائیں۔

ابو القاسم محمد حسین عفی عنہ! بھکوکہ..... ١٥؍ستمبر ١٩٣٢ء

اس کا جواب جو مرزائیوں کے طرف سے موصول ہوا۔ وہ بلفظہ نقل کیا جاتا ہے۔ اس سے قارئین مرزائیوں کی حق پسندی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

کرے اور اس کا روزہ بھی نہیں ٹوٹتا۔

ستہ یعنی حدیث کی کسی صحیح کتاب سے بسند صحیح ومرفوع سے فرمان نبی کریمﷺ ثابت کرو۔ ورنہ خدا سے ڈرو۔

١٤١

صفحہ ٥٢٢

جب تین مندرجہ امور کا آپ جواب دے دیں گے۔ تو آپ کے سوالوں کا اس الزامی جواب کے علاوہ بھی دے دیا جائے گا۔ محمد نذیر ..... مولوی فاضل !

قادیانی مولوی فاضلوں کی ذہنیت کا اظہار اس تحریر کے ہر لفظ سے ہوتا ہے۔ جلسہ عام میں یہ تحریر سنائی گئی۔ لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا مگر انہیں صبر وسکوت سے کام لینے کی تاکید کی گئی اور مرزائیوں کو جواب تحریر کیا گیا کہ: ”ان ہر سہ مسائل کے جائز کہنے والے کو ہم کافر اور ملعون سمجھتے ہیں۔ اس لئے ہم سے جواز کی سند طلب کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟۔ مرزائیوں نے اس کے بعد کامل خاموشی اختیار کر لی۔ گاؤں کے باہر درختوں کے سائے میں علمائے اسلام نے مرزائیت کو سراسر باطل ثابت کیا اور مجوکہ کے مرزائیوں کو انصاف سے کام لینے کی اور حق قبول کرنے کی دعوت دی۔ دو مرزائی طیش میں آ کر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے خاکسار کو کہا کہ بھاگ نہ جانا۔ ہمارے مولوی مناظرہ کے لئے آ رہے ہیں۔ ایک گھنٹہ کے انتظار کے بعد مرزائی مبلغین سامان اٹھائے ہوئے کھیتوں کے کنارہ پر نمودار ہوئے۔ محمد سلیم، محمد نذیر، عبداللہ اعجاز، احمد خان وغیرہ ہم کو دیکھ کر مجاہدین اسلام نے سمجھا کہ مناظرہ کرنے کے لئے آ رہے ہیں۔ مگر مرزائی مبلغین خاموشی سے سر جھکائے ہوئے موضع نتھوکا کی طرف چل دیئے اور آہستہ آہستہ نظروں سے غائب ہو گئے۔

جاء الحق فزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا
ظفر المسلم ہرب المرزا ان المرزا کان کذوبا

اسلامی جلسہ نماز مغرب تک قائم رہا اور رات کو بھی مولانا محمد شفیع صاحب کی ختم نبوت پر معرکۃ الآراء تقریر ہوئی۔

پانچواں معرکہ! سلانوالی

مجوکہ سے مرزائیوں کا قافلہ نتھوکا، ساہیوالا سے ہوتا ہوا سلانوالی پہنچا۔ مجاہدین اسلام نے ان کا تعاقب جاری رکھا اور ان کے قدم کسی جگہ جمنے نہ دیئے۔ ساہیوال جاتے ہوئے سیال شریف میں حضرت مخدوم العالم قبلہ حافظ مولوی قمر الدین صاحب سجادہ نشین ادام اللہ تعالیٰ برکاتہم کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ممدوح حزب الانصار کے اس قابل فخر کارنامے سے بہت خوش ہوئے اور مجاہدین کی کامیابی کے لئے دعا فرمائی۔

١٣٢

صفحہ ٥٢٣

ضلع شاہ پور میں سلانوالی ایک نو آباد منڈی ہے۔ مولوی محمد دلپذیر صاحب مرزائی کا لڑکا ڈاکٹر منظور احمد کے ذریعے سے وہاں مرزائیت کا کافی اثر پھیل چکا ہے۔ مرزائی مقرروں نے وہاں پہنچ کر جلسے کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ مقامی مرزائیوں نے وہاں کی انجمن محمدیہ کو مناظرہ کا چیلنج بھی دے دیا اور اپنے جلسے کا اعلان بھی کر دیا۔ کارکنان انجمن محمدیہ انتہائی پریشانی کے عالم میں اس ناگہانی مصیبت کا علاج سوچ رہے تھے۔ رات کے دس بجے مجاہدین اسلام بذریعہ لاری وہاں پہنچے اور جاتے ہی شہر میں منادی کرائی گئی کہ مرزائیوں کا فرض ہے کہ بغیر مناظرہ کئے ہرگز یہاں سے کسی جگہ نہ جائیں۔ مرزائیوں کی تمام تجاویز خاک میں مل گئیں۔ ان کی امیدوں کا سرسبز باغ پامال ہو گیا۔ ان کی طبیعتیں سرد ہو گئیں۔ دوسرے دن مرزائیوں سے حسب ذیل خط و کتابت ہوئی۔

خط و کتابت

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ سلانوالی! السلام علی من اتبع الہدیٰ ! قادیانی مبلغین ہمارے ساتھ خوشاب میں مناظرہ کے شرائط طے کر کے آخری وقت پر بغیر مناظرہ کئے بھوکہ کی طرف چلے گئے تھے۔ بھوکہ میں بھی انہوں نے مناظرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو تین سوال ان پر کئے گئے تھے ان کا جواب ہمیں موصول نہیں ہوا۔ اس لئے اگر آپ تحقیق واظہار حق کے خواہش مند ہوں تو اپنے مبلغین کو ہمارے بھوکہ والے سوالات کا جواب دینے پر آمادہ کریں۔ نیز خوشاب میں طے شدہ شرائط پر سلانوالی مناظرہ کرنے پر تیار کریں۔

امید ہے کہ جناب ہمارا اور اپنا قیمتی وقت فضول خط و کتابت میں ضائع نہ فرمائیں گے۔ ہماری اس تحریر کے جواب میں ہمارے بھوکہ میں پیش کردہ سوالات کے جوابات اور مناظرہ پر آمادگی کی تحریر اپنے مبلغین سے بھجوا دیں گے۔ وما علینا الا البلاغ!

ظہور احمد بگوی عفی عنہ ...... ١٧؍ ستمبر ١٩٣٣ء

اس خط کے جواب میں ڈاکٹر منظور احمد نے مناظرہ پر آمادگی ظاہر کی۔ جس کے جواب میں حسب ذیل خط ہماری طرف سے بھیجا گیا۔

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ سلانوالی! السلام علی من اتبع الہدیٰ ! مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ اپنے مولویوں کو بھیرہ کی شرائط پر یا خوشاب کی شرطوں پر مناظرہ کرنے کے لئے آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مناظرہ

١٣٣

صفحہ ٥٢٣

ہوا تو ہماری کئی دن کی آرزو پوری ہوگی۔ آپ نے نقل شرائط طلب کی ہے۔ خوشاب میں طے شدہ شرائط کی نقل ارسال خدمت ہے۔ مہربانی کر کے آج ہی وقت اور مقام کا تصفیہ فرما کر ممنون فرمائیں۔ نیز جناب نے ہمارے پیش کردہ سوالات کا جواب اپنے مبلغین سے نہیں دلوایا۔ شاید آپ کو علم نہ ہو بجو کہ میں حسب ذیل سوالات بھیجے گئے تھے۔

ہے۔ مرزائی صاحبان ان کا حدیث ہونا ثابت کریں۔ بسند صحیح مرفوع متصل یا کسی حدیث کی کتاب ملتزم الصحہ سے دکھائیں۔ مہربانی کر کے ان کے جوابات بھی مناظرہ سے پہلے تحریر کر کے بھجوا دیں۔ اس میں صرف چند منٹ صرف ہوں گے۔

ظہور احمد عفی عنہ..... صدر تبلیغ جماعت اسلامیہ ضلع شاہپور! از سلانوالی ...... ١٧؍ ستمبر ١٩٣٢ء!

اس خط کے جواب میں ڈاکٹر منظور احمد نے خوشاب میں طے شدہ شرائط پر مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا اور لیت ولعل سے کام لینا چاہا۔ مجبور ہو کر انہیں یہ آخری خط بھی بھیجا گیا۔

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ سلانوالی!

السلام على من اتبع الهدى! آپ نے مناظرہ سے پہلو تہی کر کے افسوس ناک روش اختیار کر رکھی ہے۔ تحقیق حق کی غرض سے میں خدا اور رسول کا واسطہ دے کر آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ فضول باتوں کو چھوڑ کر کل کے دن مناظرہ کا انتظام کریں۔ اگر بھیرہ یا خوشاب میں طے شدہ شرائط سے آپ کو انکار ہو تو پھر وقت اور مقام مقرر فرمائیں خاکسار آپ کے پاس حاضر ہو کر تصفیہ شرائط کے متعلق گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ شاید اس ملاقات کا نتیجہ اچھا نکل آئے۔

جواب جلد دیں! جماعت اسلامیہ کی طرف سے خاکسار اور مولانا محمد شفیع صاحب نمائندے ہوں گے۔ آپ بھی اپنی جماعت کی طرف سے دو نمائندوں کا انتخاب کر کے ان کے اسماء سے مطلع فرمائیں۔ کسی تیسرے شخص کو بولنے کا حق نہ ہوگا۔

ظہور احمد بگوی ...... مورخہ ١٧؍ ستمبر ١٩٣٢ء

بمورخہ ١٧؍ ستمبر ١٩٣٢ء ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے مکان پر تین گھنٹہ بحث و تمحیص کے بعد حسب ذیل شرائط طے ہوئیں

١٤٤

شرائط مناظره

چوتھے مضمون میں مـ

کی اور باقی سب تقـ

نماز کا وقت آ جا مناظروں وغیرہ جائے گا اور اس

حضرت مرزا قا

کی تائید میں د

کریں گے۔

مانگ سکتا۔ سکے گا۔ منا نمائندگان

صفحہ ٥٢٥

شرائط مناظرہ

چوتھے مضمون میں مدعی جماعت احمدیہ ہوگی۔

کی اور باقی سب تقریریں پندرہ پندرہ منٹ کی ہوں گی۔ آخری تقریر پندرہ منٹ کی مدعی کی ہوگی۔

نماز کا وقت آ جائے تو نصف گھنٹہ۔ لیکن یہ وقت اور اس کے علاوہ جو وقت پریذیڈنٹوں اور مناظروں وغیرہ کی تکرار میں صرف ہوگا۔ وقت مناظرہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ منہا کر دیا جائے گا اور اس طرح سے مناظرے کا وقت پونے تین گھنٹہ پورا کیا جائے گا۔

حضرت مرزا قادیانی جماعت احمدیہ پر حجت ہوں گی۔

کی تائید میں دلیل عام بھی پیش کی جائے گی۔

کریں گے۔

مانگ سکتا ہے۔ لیکن دوسرے مناظر کی پیش کردہ باتوں کا جواب وہ اپنے وقت میں ہی دے سکے گا۔ مناظر اور پریذیڈنٹ کے سوا کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔

نمائندگان کل صبح کریں گے۔

١٣٥

صفحہ ٥٢٦

صرف شرائط کی پابندی کرانا ہوگا۔

احقر ملک عبدالرحمن خادم بی اے گجراتی..... نمائندہ جماعت احمدیہ سلانوالی محمد سلیم عفی عنہ (مولوی فاضل)..... نمائندہ جماعت احمدیہ ١٧؍ ستمبر ١٩٣٢ء ظہور احمد بگوئی کان اللہ لہ ، ابوسعید محمد شفیع عفی عنہ نمائندگان جماعت اسلامیہ حنفیہ (سلانوالی)

کیفیت مناظرہ

مورخہ ١٨، ١٩، ٢٠؍ ستمبر ہر روز مرزائیوں کے ساتھ فیصلہ کن مناظرہ ہوا۔ حق و باطل میں امتیاز پیدا ہو کر رہا۔ آفتاب صداقت کے طلوع سے کذب وافتراء کی تاریکیاں دور ہو کر رہیں۔ حیات مسیح علیہ السلام پر مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کے دلائل کا کوئی معقول جواب مرزائی مناظر محمد سلیم نہ دے سکا۔ اجراء نبوت پر ملک عبدالرحمن خادم مدعی تھا۔ اسلامی مناظر مولانا ابوسعید محمد شفیع صاحب نے اس کے دلائل کے پرخچے اڑا دیئے۔ مورخہ ١٩؍ ستمبر بعد دوپہر ختم نبوت پر مولانا ابوالقاسم صاحب کے ساتھ محمد سلیم کا مناظرہ ہوا۔ مرزائی مناظر نے خلط مبحث اور خلاف ورزی شرائط سے کام لینا چاہا۔ مرزائی صدر ملک عبدالرحمن خادم فحش کلامی پر اتر آیا۔ اس نے معزز حاضرین کو غلیظ اور گندی گالیاں دیں۔ ملک عباس خان ہیڈ کانسٹیبل پولیس نے مداخلت کر کے امن قائم کر دیا۔ ورنہ لوگوں کا مشتعل ہو جانا یقینی تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل صاحب نے ملک عبدالرحمن کو شرافت اور انسانیت کا واسطہ دیا اور اسے بدزبانی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ مورخہ ٢٠؍ ستمبر کو صبح ٩ بجے دعاوی مرزا پر مولانا ابوالقاسم کے ساتھ ملک عبدالرحمن کا مناظرہ ہوا۔ اس میں مرزائی مناظر کو شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مرزائی مولوی فاضلوں کی علمیت بے نقاب ہوگئی۔ مولانا ابوالقاسم صاحب نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب سے انا مهلکو اہلھا پڑھا۔ محمد سلیم وغیرہ نے شور مچایا کہ لام کو مکسور پڑھنا جائز نہیں۔ اس پر ان کو چیلنج دیا گیا کہ اس جگہ اہلھا جائز ثابت کر دیں۔ مرزائی یہ سن کر مبہوت ہو گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔ خادم مرزائی قرآن مجید کی آیات صحیح نہ پڑھ سکا۔ اس مناظرہ نے مرزائیوں کا رہا سہا وقار خاک میں ملا دیا۔ فریقین کے دلائل اس کتاب میں دوسری جگہ ہیں۔ قارئین وہاں مرزائیوں کے دلائل کا بودا پن معلوم فرمائیں۔ الحمد للہ کہ نواح سلانوالی میں مرزائیت کا خاتمہ ہو گیا اور ان کی ترقی کی رفتار رک گئی۔

١٣٦

صفحہ ٥٢٧

چھٹا معرکہ! سرگودھا

سلانوالی میں مجاہدین اسلام نے مرزائیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی نہایت سعی و اہتمام سے کی۔ مورخہ ٢١ ستمبر ١٩٣٢ء کی صبح کو مرزائی مبلغین ریلوے اسٹیشن پر پہنچے اور سرگودھا کا ٹکٹ خرید کر ٹرین پر سوار ہو گئے۔ مجاہدین اسلام بھی اسی ٹرین پر سرگودھا کے ٹکٹ خرید کر روانہ ہوئے راستہ میں ہر اسٹیشن پر مرزائیوں کی نگرانی کی گئی۔ سرگودھا کے ریلوے اسٹیشن پر مرزائیوں نے اپنا سامان اتارا۔ مجاہدین اسلام بھی پلیٹ فارم پر گاڑی کی روانگی کا انتظار کرتے رہے۔ گاڑی کے وسل دینے پر مجاہدین اسلام بھی پلیٹ فارم سے باہر چلے گئے۔ گاڑی آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ مرزائی مولوی میدان خالی دیکھ کر دوڑ کے گاڑی کے پائیدانوں پر کھڑے ہو گئے۔ ان کا سامان ریلوے پلیٹ فارم سرگودھا پر پڑا رہا۔ مجاہدین اسلام نے بصد حسرت و یاس اس منظر کو دیکھا اور کف افسوس ملتے ہوئے شہر سرگودھا کی جامع مسجد میں ڈیرہ لگا دیا۔

سرگودھا سے مرزائی چک نمبر ٩ شمالی تحصیل بھلوال میں گئے اور وہاں مرزائیت کی علی الاعلان تبلیغ کی۔ عبدالرحمن خادم قادیان چلا گیا اور بقایا قافلہ مورخہ ٢٣ ستمبر ١٩٣٢ء کو واپس سرگودھا میں وارد ہوا۔ سرگودھا میں ان کے جلسہ کا اعلان بذریعہ اشتہارات ہو چکا تھا۔ اس لئے ان کی واپسی ضروری تھی۔ ٢٢، ٢٣، ٢٤، ٢٥ تاریخوں میں روزانہ گول چوک میں مسلمانوں کے شاندار جلسے منعقد ہوتے رہے۔ مرزائی مبلغین کو کھلے میدان میں جلسہ منعقد کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ان کے جلسوں میں حاضرین کی تعداد ٢٠، ٢٥ سے زیادہ نہ ہوسکی۔ جماعت اسلامیہ سرگودھا نے انہیں مناظرہ کا چیلنج دیا ۔ مگر مرزائیوں نے تقریری مناظرہ سے صاف انکار کر دیا۔

انہوں نے نقض امن کا اندیشہ بھی ظاہر کیا۔ اہل اسلام کی طرف سے حافظ محمد سعید صاحب مستند مدرسہ طبیہ دہلی نے پانچ ہزار روپیہ کی نقد ضمانت پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مگر مرزائیوں نے فراری میں اپنی بہتری سمجھی۔ مرزائی جانتے تھے کہ سرگودھا کی تعلیم یافتہ پبلک میں مناظرہ کے بعد ان کا تمام اثر واقتدار زائل ہو جائے گا۔ اس لئے انہیں مناظرہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ علمائے اسلام کی تقریروں نے مسلمانان سرگودھا میں بیداری کی حیرت انگیز روح پھونک دی اور سینکڑوں بد مذہب راہ راست پر آ گئے۔ الحمد للہ علی ذلک!

مورخہ ٢٥ ستمبر کو صبح ٩ بجے سے بارہ بجے تک کمپنی باغ سرگودھا میں شاندار جشن فتح منایا گیا۔ جس میں شرفاء و معززین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کی حیات مسیح علیہ السلام کے اثبات میں معرکۃ الآراء تقریر ہوئی۔ خاکسار نے تمام خط و کتابت کا خلاصہ سنا

١٣٧

صفحہ ٥٢٨

کر لوگوں سے فیصلہ طلب کیا۔ تمام حاضرین نے مرزائیوں کے واضح فرار اور ان کے مفسد دجال ہونے کا اقرار کیا۔ مرزائیت مردہ باد، اسلام زندہ باد اور اللہ اکبر کے غلغلہ انداز نعروں کے درمیان جلسہ برخاست ہوا۔

خط و کتابت کا خلاصہ

سیکرٹری جماعت مرزائیہ کے نام پہلا خط!

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ سرگودھا!

السلام علی من اتبع الہدی ! جناب کی جماعت کے مبلغین کل سے شہر سرگودھا میں اپنے عقائد کی اشاعت کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے آپ کی جماعت کے ممتاز رکن حافظ عبدالعلی صاحب نے مسلمانوں کو اپنے مولوی منگوانے کا چیلنج دیا تھا۔ آج صبح کے جلسہ میں بھی آپ نے مناظرہ پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے متمنی ہیں کہ کل صبح بتاریخ ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء بروز اتوار ٨ بجے اپنے مبلغین کو مناظرہ کرنے پر آمادہ کر کے اطلاع دیں۔ مناظرہ کمپنی باغ میں ہونا مناسب ہوگا۔ شرائط جو بھیرہ یا خوشاب میں طے ہوئی تھیں ان پر ہی مناظرہ کر لیا جائے۔ تاکہ تصفیہ شرائط میں وقت ضائع نہ ہو۔ اگر آپ نے دوبارہ تصفیہ شرائط پر زور دیا یا کسی قسم کے حیلے تلاش کئے تو مناظرہ سے صریح فرار سمجھا جائے گا۔

مناسب یہ تھا کہ بحالات موجودہ آپ کی جماعت اپنی تفرقہ انداز پالیسی سے مجتنب رہتی۔ لیکن آپ کی جماعتی تبلیغ کا مؤثر جواب دینے پر اہل اسلام مجبور ہو چکے ہیں۔

حکیم محمد مظہر ! سیکرٹری جماعت اسلامیہ سرگودھا ٢٤ ستمبر ١٩٣٢ء

مرزائیوں کا جواب

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت اسلامیہ سرگودھا!

السلام علی من اتبع الہدی ! آپ کی چٹھی با تاریخ آج مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٣٢ء کو بوقت ساڑھے چار بجے شام کے جبکہ ہمارے آج کے جلسہ کا وقت تھا۔ موصول ہوئی۔ جواباً عرض ہے کہ حافظ عبدالعلی صاحب کے بیان کے متعلق ہمیں کوئی علم نہیں اور نہ ہی آج تک کی کسی تقریر میں مناظرہ کے لئے ہماری طرف سے کوئی چیلنج دیا گیا ہے اور آپ کی یہ چٹھی بھی ہمیں ایسے تنگ وقت میں پہنچی ہے کہ جس کے بعد ہمارے جلسے کا صرف ایک ہی دن بموجب پروگرام کے باقی رہ جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیں یہی نظر آ رہا ہے کہ آپ ایسے تنگ وقت میں اس قسم کی چٹھی بھیج کر شرائط وغیرہ کی الجھنوں میں باقی ماندہ وقت صرف کرنے سے مناظرہ سے بچنے کی پیش بندی کر

١٣٤٨

صفحہ ٥٢٩

رہے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے ہم آپ کے چیلنج مناظرہ کو اس شرط پر منظور کرتے ہیں کہ مناظرہ تحریری ہو۔ جو بعد میں اسی ترتیب سے پبلک کو سنایا جائے۔ سب سے پہلی اور بنیادی شرط اس مناظرہ کی یہ ہوگی کہ مناظرہ تحریری ہو۔ محمد عبداللہ سیکرٹری انجمن احمدیہ...... سرگودھا!

دوسرا خط

بخدمت جناب سیکرٹری جماعت احمدیہ سرگودھا!

السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ ! آپ کی چٹھی ہماری تحریر کے جواب میں ٢٤ ستمبر رات کے ٩ بجے موصول ہوئی۔ جناب نے شاید ہماری تحریر کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ شرائط وغیرہ کی الجھنوں سے بچنے کے لئے بھیرہ یا خوشاب میں طے شدہ شرائط پر ہی مناظرہ کرنے پر ہم نے آمادگی ظاہر کی تھی۔ آپ کے مبلغین اور ہمارے علماء کرام وہی ہیں جو بھیرہ میں تھے۔ اس لئے شرائط کے متعلق جو تصفیہ ان کا باہمی بھیرہ میں ہوا تھا وہی کافی ہے۔ آپ اپنی چٹھی کے آخر میں شرائط کا تصفیہ کرنے کی دعوت دے کر خود نئی الجھنیں پیدا کر رہے ہیں۔ اس طرح مناظرہ سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ مناظرہ پر آمادہ ہوں تو آج بمقام کمپنی باغ ساڑھے آٹھ بجے صبح بھیرہ یا خوشاب والی شرائط پر مناظرہ کرنے کے لئے اپنے علماء کو لائیں۔ وقت اور مقام کے متعلق اگر کوئی بات بحث طلب ہو تو حامل رقعہ ہذا سید ولایت شاہ صاحب ہماری طرف سے مختار اور مجاز ہیں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ کی مرضی۔ وما علینا الا البلاغ ! ولایت شاہ بقلم خود...... ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء برائے سیکرٹری جماعت اسلامیہ سرگودھا!

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت اسلامیہ سرگودھا!

السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ ! میری شب گذشتہ کے ساڑھے آٹھ بجے لکھی ہوئی چٹھی کا جواب آج صبح ساڑھے آٹھ بجے موصول ہوا۔ جبکہ ہمارے جلسہ کا وقت تھا۔ آپ نے اس میں میرے متعلق شکایت کی ہے کہ میں نے آپ کی تحریر کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ آپ نے میرے خط کو سرسری نظر سے بھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ میں نے اپنی چٹھی میں پہلی اور بنیادی شرط یہ رکھی تھی کہ مناظرہ تحریری ہو۔ جو بعد میں بصورت تقریر پبلک کو سنا دیا جائے۔ لیکن آپ نے اس ضروری امر کا اپنی چٹھی میں ذکر تک نہیں کیا اور بغیر اس ضروری امر کو منظور کرنے کے وقت اور مقام کا فیصلہ کرنے تک آ پہنچے۔ اگر آپ نے پہلے میرے خط کی طرف توجہ کی نہیں تو میں اب آپ کو کھول کر لکھ دیتا ہوں کہ ہمیں آپ کا چیلنج مناظرہ منظور ہے۔ بلکہ ہم دوہرا مناظرہ منظور

١٣٩

صفحہ ٥٣٠

کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں خواہ مخواہ آپ ہمارے ذمہ عذر رکھ کر اپنے لئے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اگر اس مناظرہ میں آپ کو کوئی مشکل یا تکلیف نظر آتی ہے تو ہمارے لئے بھی وہ مشکل مساوی صورت میں موجود ہے۔ باقی شرائط کے متعلق میں اس قدر عرض کر دیتا ہوں کہ اگر آپ کو تحریری و تقریری مناظرہ منظور ہے تو باقی شرائط سلانوالی کے مناظرہ والے ہمیں منظور ہیں۔ جو کہ بھیرہ اور خوشاب کے بعد ہوا ہے۔ مناظرین بھی وہی ہیں۔ اس واسطے سلانوالی کے مناظرہ والی شرائط کی منظوری میں آپ کو کوئی عذر یا حیلہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خاکسار ! محمد عبداللہ سیکرٹری انجمن احمدیہ! سرگودھا بتاریخ ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء بوقت ساڑھے نو بجے دن

مرزائیوں کی یہ چھٹی جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ مسلمانان سرگودھا نے تحریری مناظرہ اور اس میں وقت کے ضائع ہونے اور مناظرہ کے طوالت پکڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا۔ اس لئے مرزائیوں کو حسب ذیل تحریر بھیجی گئی۔

تیسرا خط

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ سرگودھا! السلام علی من اتبع الہدیٰ! شکر ہے کہ جناب نے مناظرہ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اب دیر نہ فرمائیں فوراً اپنے علماء کو لے کر کمپنی باغ پہنچ جائیں۔ ہم بالکل تیار ہیں۔ باقی سلانوالی کے شرائط میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا بحث کا دروازہ کھول دے گا۔ ہمیں سلانوالی والی تمام شرطیں منظور ہیں۔ کسی قسم کا عذر نہیں۔ آپ بھی تحریری کی نئی قید نہ بڑھائیں۔ اگر چہ وہ شرائط ہمارے لئے نامنصفانہ تھیں۔ مگر ہمیں منظور ہیں۔ ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء ولایت شاہ بقلم خود برائے سیکرٹری! جماعت اسلامیہ ...... سرگودھا

مرزائیوں کا جواب

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت اسلامیہ سرگودھا! السلام علی من اتبع الہدیٰ ! آپ کی چھٹی موصول ہوئی۔ ہم نے تو اپنے پہلے ہی خط میں آپ کے چیلنج مناظرہ کو منظور کر لیا تھا۔ مگر اس شرط پر کہ مناظرہ تحریری ہو۔ جو بعد میں اسی ترتیب سے پبلک کو سنا دیا جائے۔ ماسوائے اس کے ہم نے اپنی طرف سے کوئی الجھن مزید شرائط کے متعلق نہیں ڈالی۔ بلکہ وقت کی تنگی اور جلدی تصفیہ کرنے کی خاطر سلانوالی والے طے شدہ شرائط

١٤٠

صفحہ ٥٣١

کو ہی منظور کر لیا تھا۔ لیکن آپ نے اب تک ہماری بنیادی و ضروری شرط کو منظور نہیں کیا۔ حالانکہ یہ شرط جانبین کے واسطے یکساں واجب العمل تھی اور اس کے وجوہات بھی عرض کئے جا چکے ہیں۔ لیکن آپ نہ تو اس کو منظور ہی کر رہے ہیں اور نہ ہی انکار کی وجہ پیش کر سکے ہیں۔ گویا لفظی آمادگی تک ہی آپ کا جواب محدود ہے۔ لیکن عملی قدم مناظرہ کی آمادگی کا نہ اُٹھایا۔ مختصر یہ کہ اگر آپ بواپسی تحریری مناظرہ کی منظوری کا دو حرفی جواب لکھ بھیجیں تو پھر یہ معاملہ قریباً طے شدہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ورنہ دوسرے معنوں میں آپ کا فرار سمجھا جائے گا۔

خاکسار عبداللہ سیکرٹری انجمن احمدیہ! سرگودھا ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء

چوتھا خط

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب احمدیہ انجمن سرگودھا!

السلام علی من اتبع الہدی! افسوس آپ فضول خط و کتابت میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اب دو حرفی جواب دیں کہ آپ تقریری مناظرہ کرنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔ سرگودھا کی پبلک فضول چٹھا بازی یعنی تحریری مناظرہ کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر آپ نے جواب نہ دیا تو آپ کا صریح و بین فرار سمجھا جائے گا۔ ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء

ولایت شاہ بقلم خود برائے سیکرٹری جماعت اسلامیہ سرگودھا!

پانچواں خط

بخدمت جناب سیکرٹری انجمن احمدیہ سرگودھا!

السلام علی من اتبع الہدی! ١٩٣١ء اپریل میں مولوی محمد اسماعیل صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے میرے ساتھ تحریری مناظرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اخبار فاروق قادیان کے مدیر کو رسالہ شمس الاسلام بھیرہ میں مطبوعہ مضامین کے جواب لکھنے پر آمادہ کرنے کا ذمہ لیا تھا۔ چنانچہ آٹھ ماہ رسالہ مولوی صاحب مذکور کے نام جاری بھی رہا۔ مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ بعد ازاں للیانی کے ایک مرزائی پٹواری نے بھی اخبار فاروق کے مدیر کو اس پر آمادہ کرنے کا ذمہ لیا۔ مگر صدائے برنخاست بھیرہ میں بھی آپ کے مولویوں خصوصاً مولوی مبارک احمد قادیانی کو تحریری مناظرہ کا چیلنج دیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کی تحریر یہاں میرے پاس موجود ہے۔ تعجب ہے کہ اب آپ پھر تحریری مناظرہ پر اصرار کر رہے ہیں۔ پہلے اپنے مولویوں سے مشورہ کر

١٤١

صفحہ ٥٣٢

لیں۔ جو صورت میں نے عرض کی ہے وہ فیصلہ کن ہے۔ اس وقت صرف تقریری مناظرہ ہو جائے۔ سرگودھا کی پبلک حق و باطل کا فیصلہ کر لے گی۔ بعد ازاں آپ اخبار فاروق یا الفضل کے مدیر کو تحریری مناظرہ پر آمادہ کر کے اطلاع دیں۔ آپ کے مضامین رسالہ شمس الاسلام میں بلا معاوضہ شائع ہوا کریں گے۔ بشرطیکہ ان مضامین کے جوابات آپ کی جماعت کا کوئی اخبار مکمل شائع کرنے کا ذمہ لے۔ پرچوں کی تعداد مقرر کرلیں اور اگر آپ چاہیں تو جلسہ کر کے پبلک میں وہ مضامین سنائے بھی جا سکتے ہیں۔ اس طریقہ سے کثیر التعداد قارئین فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ اس سے بہتر اور کوئی طریقہ تحقیق حق کا نہیں ہو سکتا۔ مگر افسوس ہے کہ آپ نہ تحریری مناظرہ کرنا چاہتے ہیں۔ نہ تقریری۔

وما علینا الا البلاغ!

ظہور احمد بگوی ..... مدیر شمس الاسلام ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء

آخری اتمام حجت

خدمت جناب سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ سرگودھا!

السلام علی من اتبع الہدیٰ! آپ کا رقعہ پانچ بجے شام ملا۔ میں نے صرف دو حرفی جواب طلب کیا تھا۔ آپ نے خوش نما الفاظ کی آڑ لے کر راہ فرار اختیار کیا ہے۔ ہمیں پہلے بھی یقین تھا کہ آپ اپنے علماء کو میدان مناظرہ میں نہ لاسکیں گے۔ حق کے سامنے انہیں کھڑے ہونے کی جرأت نہیں رہی۔ کیا بھیرہ، خوشاب، سلانوالی میں شاندار شکست حاصل کر کے تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ کیا بھیرہ وغیرہ میں انہیں ہوش نہ تھا۔ ہمیں صرف سرگودھا کی پبلک کی تسلی درکار ہے۔ جس کے لئے تحریری مناظرہ میں تضیع اوقات ہمیں گوارا نہیں۔ کتب و رسائل مطبوعہ موجود ہیں۔ ہر شخص مطالعہ کر سکتا ہے۔ اگر تحریری مناظرہ کا طبع کرانا مقصود ہو تو مناظرہ ہذا کافی ہے۔ افسوس کیا یہی صداقت تھی جس کا پرچار کرنے کے لئے آپ نے اپنے مبلغین کو بلایا ہے۔ آپ کا فرض تھا کہ میدان میں آکر اپنی صداقت ثابت کرتے۔ مگر اب آپ کی شکست اور فرار اور مغلوبیت دنیا پر آشکار ہو چکی ہے۔ اب آپ کا آئندہ مسلمانوں کو خطاب کرنے کا کوئی حق نہ ہوگا اور اب آپ کی کسی لغو تحریر کا جواب نہ دیا جائے گا۔

ولایت شاہ بقلم خود! برائے سیکرٹری جماعت اسلامیہ سرگودھا

ساتواں معرکہ! چک نمبر ٣٧ جنوبی

ہماری آخری تحریر کا جواب دئے بغیر مرزائی مبلغین مورخہ ٢٥ ستمبر کی شام کو سرگودھا

١٤٢

صفحہ ٥٣٣

سے بذریعہ موٹرلاری روانہ ہوگئے۔ مجاہدین اسلام کا قافلہ بھی ان کے تعاقب میں روانہ ہوا۔ مرزائیوں نے چک نمبر ٣٧ جنوبی میں جاکر قیام کیا اور وہاں اپنے تبلیغی جلسہ کا اعلان کردیا۔ ٢٦ ستمبر کو مجاہدین اسلام کے ورود سے مسلمانان چک کے حوصلے بڑھ گئے اور مرزائیوں کو سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ باشندگان دہ نے مجاہدین اسلام سے مشورہ کئے بغیر مرزائیوں کی نامنصفانہ شرائط منظور کر کے مناظرہ کا فیصلہ کر لیا۔ مرزائیوں نے سادہ لوح مسلمانوں سے اپنے حسب منشاء شرطیں کرالیں۔ مولوی لال حسین صاحب اختر سابق مبلغ جماعت مرزائیہ لاہور اور مولوی احمد دین صاحب گھکڑوی بھی مسلمانان علاقہ کی درخواست پر پہنچ گئے اور اسلامی کیمپ میں تازہ کمک سے مرزائیوں کے رہے سہے حوصلے بھی جاتے رہے۔ مگر دیہات کی سادہ لوح آبادی اور حاضرین تعلیم یافتہ طبقہ کی عدم موجودگی سے ان کی ڈھارس بندھی رہی۔ حیرت ہے کہ سرگودھا جیسے تعلیم یافتہ شہر میں ان کی زبانیں گونگی رہیں۔ مگر دیہات میں تقریری مناظرہ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ مرزائی جانتے تھے کہ طبقہ جہلاء میں ان کی ذلت و رسوائی پوری طرح آشکارا نہ ہوگی۔

شرائط مناظرہ: جو نمائندگان ہر دو جماعت جن کے دستخط نیچے ثبت ہیں فیصل ہوئے۔ جن پر کار بند ہونا ہر ایک جماعت کا فرض ہوگا۔ جو جماعت اس فیصلہ پر کار بند نہ ہوگی وہ شکست خوردہ سمجھی جائے گی۔ مضامین مناظرہ حسب ذیل ہوں گے۔

ہر ایک مدعی کی پہلی و آخری تقریر بموجب پروگرام ہوگی۔ ہر ایک جماعت کی طرف سے ایک ایک اپنا پریذیڈنٹ ہوگا۔ جو انتظام جلسہ کا ذمہ دار ہوگا کہ اختتام جلسہ تک کسی قسم کی کوئی تالی، تمسخر، یا نعرہ، یا جلوس وغیرہ کسی قسم کی کوئی کاروائی ناجائز نہیں کی جائے گی اور اہل جلسہ خاموشی سے تا اختتام جلسہ، جلسہ گاہ میں بیٹھے رہیں گے اور جلسہ ختم ہونے کے بعد جلسہ گاہ سے خاموشی کے ساتھ چلے جائیں گے۔ اگر کوئی ایسی حرکت کرے گا تو جلسہ گاہ سے فوراً نکالا جائے گا۔ صداقت مسیح موعود کے مناظرہ کے وقت علاوہ اپنے اپنے پریذیڈنٹ کے چوہدری منظور حسن و چوہدری خوشی محمد چک نمبر ٣٦ جنوبی کو اس بات کا اختیار دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی فریق دوسرے کے مسلمہ پیشوا اور

١٤٣

صفحہ ٥٣٤

بزرگ کے حق میں کوئی ناواجب وتوہین آمیز کلمات کہے تو ہر دو اشخاص کو اختیار ہوگا کہ اس کی تقریر کو فوراً روک دے۔ ہر ایک فریق احادیث صحیحہ آنحضرت ﷺ واقوال بزرگان سلف مسلمہ فریقین و کتب مرزا قادیانی سے اپنے اپنے دعویٰ و جواب دعویٰ کے ثبوت میں پیش کر سکتے ہیں۔ اگر فریق مخالف حوالہ کتب طلب کرے تو کر سکتا ہے۔ پروگرام حسب ذیل ہوگا۔

مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٩٣٢ء حیات و ممات مسیح ناصری اڑھائی بجے دوپہر سے شروع ہو کر ساڑھے پانچ بجے شام تک تین گھنٹہ۔

مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٩٣٢ء اجرائے نبوت بعد از آنحضرت ﷺ آٹھ بجے شام سے گیارہ بجے رات تک تین گھنٹہ۔

٢٨؍ستمبر ١٩٣٢ء ختم نبوت آٹھ بجے صبح سے ١١ بجے دن تک تین گھنٹہ ٢٨؍ستمبر ١٩٣٢ء صداقت مسیح موعود ٢ بجے دوپہر سے ٥ بجے شام تک تین گھنٹہ۔

دستخط نمائندہ جماعت احمدیہ ...... شاہ محمد چک نمبر ٣٣ دستخط نمائندہ جماعت حنفیہ ...... ولیداد بقلم خود

تنبیہ! ان شرائط میں چار صدر تجویز کئے گئے تھے اور سادہ لوح حنفیوں نے صداقت مسیح موعود جیسے الفاظ پر دستخط کر دیئے۔ ہمارے نزدیک حضرت مسیح ابن مریم ناصری علیہ السلام کے سوا اور کوئی مسیح موعود نہیں ہے۔ مسیح موعود کوئی شرعی اصطلاح نہیں۔ استدلال میں اقوال بزرگان سلف مسلمہ فریقین تسلیم کرنا مسلمانان کی خطرناک شدید غلطی ہے۔ مرزائیوں کو اسی میں فرار کا موقعہ ملتا ہے۔ عقائد کے بارہ سوائے قرآن وحدیث اور کسی کا قول ہم پر حجت نہیں ہو سکتا۔ غیر معتبر اقوال غیر معتبر اشخاص کی تصانیف مرزائی نقل کر کے بحث کو طول دینے کے عادی ہیں اور سامعین کو خلط ادلہ سے دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے مناظرین اسلام کا فرض ہے کہ مرزائیوں کی چالبازی اور دھوکہ دہی سے بچیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ کسی جگہ بھی اسلامی مناظرین کے مشورہ کئے بغیر شرائط طے نہ کیا کریں۔

کیفیت مناظرہ

مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٩٣٢ء بعد نماز ظہر ٣ بجے حیات مسیح علیہ السلام پر مولانا ابوالقاسم صاحب کا مولوی محمد سلیم قادیانی سے مناظرہ ہوا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت سے حدیث معراج (مسند امام احمد ج ١ ص ٣٧٥) کے حوالے سے پیش کی گئی۔ اس حدیث کا کوئی جواب نہ دے

١٤٤

صفحہ ٥٣٥

سنے پر محمد سلیم نے کہا کہ یہ روایت عبداللہ بن مسعودؓ ا سے مروی ہے۔ اس لئے غیر معتبر ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ غیر معتبر اور جھوٹا اور مفتری تھا۔ (نعوذ بالله من هذه الهفوات) مسلمانوں کے تمام مجمع میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی۔ رسول اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی کی شان میں یہ گستاخی مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ مگر افسوس کہ شرائط کے مطابق مرزائی صدر نے اپنے مناظر کو اس دریدہ دہنی سے نہ روکا۔ مسلمانوں کے قلوب مجروح ہو گئے۔ آج تک کسی شیعہ کو بھی ایسی تبرا بازی کی مجمع عام میں ہمت نہیں ہوئی۔ اہل سنت والجماعت کے فیصلے کے مطابق صحابہ تمام جرح وغیرہ سے پاک و بری اور راوی ہونے کے لحاظ سے ثقہ اور عادل ہیں۔ صحابہ پر جرح وغیرہ کر کے دراصل مرزائیوں نے تمام احادیث کا انکار کر دیا۔

مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٩٣٢ء صبح ٩ بجے سے بارہ بجے تک مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی کے ساتھ مولوی محمد نذیر ملتانی کا اجراء نبوت پر مناظرہ ہوا۔ مولوی احمد دین صاحب کے ظرافت آمیز بیان سے لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ مولوی صاحب نے مرزائیوں کے دلائل کا نہایت عمدگی سے رد کیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ مرزائیوں نے دوسرے وقت میں ختم نبوت پر مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

بعد دوپہر ٣ بجے مولانا لال حسین اختر صاحب کا محمد سلیم قادیانی کے ساتھ دعویٰ مرزا پر زبردست مناظرہ ہوا۔ قادیانی مناظر مولانا اختر صاحب کے ١٣٦ اعتراضات کا آخر وقت تک کوئی جواب نہ دے سکا۔

مرزائیوں کی اس شاندار ہزیمت کا تمام علاقہ پر نہایت اچھا اثر ہوا۔ کئی بد مذہب تائب ہو گئے۔ بعد نماز عصر مسجد میں جشن فتح منایا گیا۔ خاکسار اور مولوی لال حسین اختر صاحب کی مرزائیت شکن تقریریں ہوئیں۔ رات کو بھی مولوی عبدالرحمن صاحب میانوی کا وعظ ہوا۔ ان تقریروں نے مرزائیت کے زہریلے جراثیم کے لئے تریاق کا کام کیا۔

ا ؎ صحابہ کرامؓ میں چار حضرات ایسے ہیں۔ جنہیں عبادلہ اربعہ کہا جاتا ہے۔ ان چاروں کی جلالت شان دنیا پر آفتاب کی طرح روشن ہے۔ ان کی وجہ سے دنیا میں حدیث، تفسیر اور فقہ کے علوم پھیلے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم۔ ان کا وجود اسلام کے لئے باعث فخر ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ آنحضرت ﷺ کے خاص خدام میں سے تھے۔ فقہ حنفی کا دارو مدار تمام تر آپ کی روایات پر ہے۔

١٤٥

صفحہ ٥٣٦

رات کے وقت شیخ محمد دین صاحب رئیس سرگودھا نے مرزائیوں کے پاس جا کر انہیں سرگودھا کی دعوت دی۔ شیخ صاحب نے کہا کہ سرگودھا میں ایک ایسے مناظرہ کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہاں کے لوگ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں۔ شیخ صاحب نے مبلغ ایک سو روپیہ قادیانی مناظرین کو بطور سفر خرچ دینا قبول کر لیا۔ مگر مرزائیوں نے سرگودھا میں مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا اور اسلامی مناظرین کو قادیان میں مناظرہ کرنے کی دعوت دی۔ خاکسار نے یہ دعوت ان کی قبول کر لی اور شرائط و تاریخ کا فیصلہ کرنا چاہا۔ مگر محمد سلیم نے آئیں بائیں شائیں میں ٹال دیا اور کہا کہ اپنے خلیفہ کی منظوری کے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

آٹھواں معرکہ! مڈھ رانجھا

مرزائیوں کی طرف سے مورخہ ٢٩، ٣٠ ستمبر ١٩٣٢ء کی تاریخوں میں بمقام چھنی ریحان جلسہ کرنے کا اعلان مطبوعہ اشتہاروں کے ذریعہ ہو چکا تھا۔ مگر اسلامی مجاہدین کی ہیبت ان کے دلوں پر ایسی مستولی ہوئی کہ چھنی کا پروگرام منسوخ کر کے واپس سرگودھا کی طرف چل دیئے۔ مورخہ ٢٩ ستمبر کی صبح کو ان کی موٹر سرگودھا کی سڑک پر جاتے ہوئے دیکھ کر مجاہدین اسلام حیران رہ گئے۔ بالآخر مجاہدین اسلام بھی موٹر میں سوار ہو کر ان کے تعاقب میں سرگودھا پہنچے۔ سرگودھا میں مرزائی مبلغین غائب ہو گئے ۔ محمد سلیم صاحب اسی روز قادیان چلے گئے اور محمد نذیر، احمد خان ، عبداللہ اعجاز وغیرہ دوسرے روز مڈھ رانجھا کی طرف روانہ ہوئے ۔ چھنی ریحان کے مرزائیوں کے اشتہار کی نقل درج ذیل ہے۔

از چھنی تاجہ ریحان

بحوالہ اشتہارات تبلیغی جلسہ واقعہ ٣٠ ستمبر و یکم اکتوبر ١٩٣٢ء عرض ہے کہ چونکہ بعض امورات ایسے پیش آگئے ہیں کہ اندیشہ فساد کا نظر آتا ہے اور ہماری برادری کے حالات ناپسندیدہ معلوم ہوئے ہیں۔ اس لئے کوئی جلسہ تبلیغی بمقام چھنی تاجہ ریحان نہ ہوگا۔ جس صاحب کو مناظرہ کرنے یا سننے کا شوق ہو وہ چک نمبر ٣٧ جا سکتا ہے۔ یا تقاریریں سننا ہوں تو مڈھ رانجھا جہاں جلسہ ہوگا۔ یکم اور دوم اکتوبر ١٩٣٢ء کو جا سکتے ہیں۔ ٢٣ ستمبر ١٩٣٢ء! خاکسار حسین خان ریحان بقلم خود ..... از چھنی تاجہ ریحان!

مرزائیوں کی حرکت مذبوحی

حزب الانصار کی پے در پے فتوحات اور مرزائیوں کی متواتر ہزیمتوں سے مرزائیوں کے گھروں میں سرگودھا سے قادیان تک صف ماتم بچھ گئی۔ دلائل سے غلبہ نہ پا کر مرزائی اوچھے اور

١٤٦

صفحہ ٥٣٧

کمینے ہتھیاروں پر اتر آئے۔ مرزائیان سرگودھا نے سپرنٹنڈنٹ کے پاس جا کر شکایت کی۔ خلیفہ محمود نے اپنی وفاداری کا راگ گا کر اور جہاد حرام قرار دینے کی اجرت طلب کر کے گورنمنٹ سے مدد مانگی۔ ایک ماہ کے دورہ میں کسی جگہ مرزائیوں کا بال تک بیکا نہ ہوا۔ مگر مڈھ رانجھا میں نقص امن کا اندیشہ ظاہر کر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ضروری کاروائی کرنے پر مجبور کیا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے سب انسپکٹر پولیس متعینہ تھانہ مڈھ کو خاکسار کی گرفتاری کے لئے احکام بھیج دیئے۔ میاں خدا بخش صاحب رئیس و نمبر دار جلہ مخدوم یہ خبر سن کر بذریعہ موٹر سرگودھا پہنچے انہوں نے مجاہدین اسلام کو مڈھ رانجھا جانے سے روکا اور کہا کہ ہم اپنے علمائے کرام کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ سب انسپکٹر پولیس افسران بالا کے احکام کی تعمیل کے لئے مجبور ہوگا۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ مڈھ رانجھا کا دورہ ملتوی کیا جائے۔

مجاہدین اسلام نے مجلس شوریٰ مرتب کی قرآن کریم سے تفاؤل کیا گیا تو یہ آیت نکلی۔

”الذین قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل ٠ فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله والله ذوفضل عظيم ٠ انما ذلكم الشيطن يخوف اولياءہ فلا تخافوهم وخافون ان كنتم مومنين

(آل عمران: ١٧٣ تا ١٧٥)“

﴿یہ ایسے لوگ ہیں کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ ان لوگوں نے تمہارے لئے سامان جمع کیا ہے۔ سو تم کو ان سے اندیشہ کرنا چاہئے۔ تو اس نے ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیا اور کہہ دیا کہ ہم کو حق تعالیٰ کافی ہے اور وہی سب کام سپرد کرنے کے لئے اچھا ہے۔ پس یہ لوگ خدا کے فضل سے بھرے ہوئے واپس آئے کہ ان کو کوئی ناگواری در پیش نہیں آئی اور وہ لوگ رضائے حق کے تابع رہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ یہ شیطان ہے کہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ سو تم ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرنا۔ اگر تم ایمان والے ہو ۔﴾

ان آیات کا ایک ایک لفظ مجاہدین اسلام کے لئے مسرت و شادمانی کا پیغام ثابت ہوا۔ ہمتیں بندھ گئیں۔ عزم راسخ ہو گیا۔ مورخہ ٣٠؍ستمبر ١٩٣٢ء بعد نماز ظہر سرگودھا سے موٹر پر سوار ہو کر قریباً ٣٠ میل کا سفر کر کے عصر کے وقت مڈھ رانجھا میں مجاہدین اسلام کا ورود ہوا۔ مرزائیوں کے کیمپ میں کھلبلی پڑ گئی۔ لوگ خاکسار کی گرفتاری کے منتظر تھے۔ مسلمانوں کے چہروں پر خوف و ہراس نمایاں تھا۔

١٤٧

صفحہ ٥٣٨

تائید غیبی کا ظہور

سب انسپکٹر صاحب پولیس کے پاس جو حکم پہنچا تھا۔ اس میں یہ الفاظ لکھے تھے کہ ظہور احمد جو احمدی ہے۔ اس کو مڈھ رانجھا پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے۔ چونکہ موجودہ زمانے میں مرزائی فرقہ احمدی کہلاتا ہے۔ اس لئے پولیس کو مرزائیوں کے کیمپ میں ظہور احمد کی تلاش رہی۔ کوئی ظہور احمد احمدی وہاں نہ پہنچا۔ اس لئے پولیس اس کی تلاش میں ناکام رہی۔ مرزائی اپنی تجاویز میں ناکام رہے اور خادم اسلام کی توہین کا نظارہ دیکھنے کی حسرت ان کے دل میں ہی رہی اور قرآن کریم کی پیش گوئی پوری ہو کر رہی۔

مڈھ میں مرزائیت کا استیصال

مورخہ یکم اکتوبر کو بعد نماز ظہر کھلے میدان میں شاندار اسلامی جلسہ منعقد ہوا۔ مولوی عبدالرحمن صاحب میانوی۔ ابوالقاسم مولانا محمد حسین صاحب ومولانا محمد شفیع صاحب کی زبردست معرکہ آراء تقریروں نے مرزائیت کی بیخ کنی کر دی۔ رات کو بھی جلسہ ہوا۔ مڈھ کے ذمہ دار حضرات نے حفظ امن کا ذمہ لے کر مرزائیوں کو مناظرہ کی دعوت دی۔ انہیں ہر طرح اطمینان دلایا گیا۔ ان کی پیش کردہ شرائط بھی تسلیم کر لی گئیں۔ مگر مرزائیوں کو مناظرہ کا نام لینے کا بھی حوصلہ نہ ہوا۔

مڈھ چونکہ مرزائیوں کا اس ضلع میں آخری مقام تھا۔ اس لئے وفد اسلامی کے اراکین نے بھی اپنے اپنے گھروں کو جانا چاہا۔ مولانا ابوالقاسم صاحب مڈھ رانجھا سے ہی رخصت ہو گئے۔ مڈھ رانجھا سے واپسی پر ایک شب جلہ مخدوم میں قیام ہوا۔ وہاں سے سرگودھا پہنچ کر مولانا شفیع صاحب خوشاب چلے گئے۔ خاکسار مع مولوی عبدالرحمن صاحب سرگودھا سے بھلوال پہنچا۔

معرکہ نہم ! کوٹ مومن

بھلوال میں سنا گیا کہ مرزائی مبلغین کوٹ مومن میں پہنچنے والے ہیں۔ خاکسار بمع مولوی عبدالرحمن صاحب میانوی تانگہ پر سوار ہو کر کوٹ مومن پہنچا۔ ہمارے جانے کے ایک گھنٹہ بعد مولوی محمد نذیر وغیرہ مرزائی مبلغین وہاں پہنچے۔ خاکسار کے ورود کا ذکر سن کر فوراً باہر نکل کر اڈے پر پہنچے۔ سب اسسٹنٹ سرجن صاحب انچارج شفا خانہ کوٹ مومن ودیگر حضرات نے انہیں قیام کرنے اور تقریر کرنے کی دعوت دی۔ مگر مرزائیوں نے وہاں قیام کرنا گوارا نہ کیا۔ فوراً تانگہ پر سوار ہو کر بھلوال کی طرف چل دیئے۔

١٤٨

صفحہ ٥٣٩

مورخہ ٤ اکتوبر ١٩٣٢ء کوٹ مومن میں بعد نماز ظہر جامع مسجد میں اسلامی جلسہ منعقد ہوا۔ خاکسار نے ختم نبوت ، حیات مسیح علیہ السلام اور دعاوی مرزا پر مدلل تقریر کی۔ مولوی عبدالرحمن صاحب میانوی نے بھی وعظ فرمایا۔ مسلمانان کوٹ مومن پر مرزائیوں کی واضح فرار کی حقیقت ظاہر ہوگئی۔ الحمد لله على ذلك!

دسواں معرکہ! چک نمبر ٩ شمالی

بھلوال سے مرزائی مبلغین ریلوے ٹرین پر سوار ہو کر کسی نامعلوم مقام کی طرف چل دیئے۔ خاکسار بھی سوا مہینہ کی غیر حاضری کے بعد بھیرہ پہنچا۔ بھیرہ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ چک نمبر ٩ شمالی میں مرزائیت ترقی پذیر ہے۔ سرگودھا میں مجاہدین اسلام کو دھوکہ دے کر مرزائی مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٣٢ء چک نمبر ٩ میں پہنچے تھے۔ ان کی تبلیغ سے چار اشخاص مرزائی مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ یہ خبر سن کر خاکسار مورخہ آٹھ اکتوبر کو بھیرہ سے روانہ ہو کر وہاں پہنچا۔ دو روز متواتر تقریریں ہوئی۔ مرزائیوں کا ایک مبلغ وہاں رہتا ہے۔ اس نے بیماری کا بہانہ کر کے گھر سے باہر نکلنا گوارا نہ کیا۔ الحمد للہ کہ چاروں اشخاص نے مرزائیت سے توبہ کی اور کئی بد مذہب راہ راست پر آگئے اور مرزائیوں کا اثر اس علاقہ سے جاتا رہا۔

ضلع شاہ پور میں مرزائیت کا استیصال

الحمد للہ کہ حزب الانصار کے عاجز و درماندہ کارکنوں کی مساعی جمیلہ بارآور ثابت ہوئیں اور ضلع بھر میں مرزائیوں کے اس بے نظیر تعاقب نے مرزائیوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ حزب الانصار کے اس قابل فخر کارنامہ اور تاریخی حیثیت رکھنے والے اقدام پر تمام ملک میں مسرت کا اظہار کیا گیا۔ اخبارات نے اطلاعات کو نہایت فراخ دلی سے شائع کیا۔ سینکڑوں خطوط مبارک باد کے موصول ہوئے۔ حضرت استاذ العلماء مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی شیخ الجامعہ عباسیہ ریاست بہاولپور کا حسب ذیل نوازش نامہ موصول ہوا۔

از بہاولپور ...... مہر منزل ...... محلہ گنج ٣٠ ستمبر ١٩٣٢ء

ایں کار از تو می آید مردان چنین کنند

مکرمی و معظمی جناب مولانا ظہور احمد صاحب دام مجدہم!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مزاج گرامی!

آپ کی مساعی جمیلہ جو طائفہ طاغیہ قادیانی کے برخلاف آپ نے مبذول فرمائی ہیں۔ اخباروں میں پڑھ کر نہایت خوشی ہوئی ۔ بالخصوص جو تعاقب جناب نے اس جماعت کا کیا

١٤٦

صفحہ ٥٤٠

اور کہیں بھی انہیں اطمینان سے بیٹھنے نہ دیا۔ یہ کام اپنی نظیر آپ ہے۔ اس قسم کی کوشش ہی اس جماعت کو نیچا دکھاسکتی ہے۔ الحمدللہ اس کامیابی پر میں جناب کو دلی مبارک باد عرض کرتا ہوں۔ قبول فرما کر مشکور فرمائیں۔ والسلام! غلام محمد گھوٹوی ..... حال ساکن بہاولپور!

اس قسم کے خطوط علمائے کرام اور رؤسائے عظام کی طرف سے موصول ہوئے۔ ضلع شاہپور سے فارغ ہونے کے بعد حزب الانصار کے کارکنوں نے ضلع سے باہر فتنہ مرزائیت کے انسداد کے لئے کام کرنے کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ بیسیوں مقامات پر تبلیغ کی گئی اور کئی مناظرے بھی ہو چکے ہیں۔ بعد کی کارروائیوں کا خلاصہ بھی کتاب ہذا میں درج کیا جاتا ہے۔

گیارھواں معرکہ کلکتہ

بنگال میں مرزائیوں کی تبلیغی سرگرمیاں کئی سال سے جاری ہیں۔ ان کی انجمن کا صدر دفتر بمقام کلکتہ بینگ اسٹریٹ میں واقع ہے۔ شہر کلکتہ میں عرصہ سے مرزائیت کی تبلیغ ہو رہی ہے۔ البرٹ ہال میں ان کے کئی تبلیغی جلسے منعقد ہوچکے ہیں۔ کئی سادہ لوح اشخاص ان کے دام تزویر میں پھنس چکے ہیں۔

خاکسار مورخہ ١١؍ مارچ کو وہاں پہنچا اور ٢٤؍ مارچ ١٩٣٣ء کو ناخدا کی مسجد جامع میں ختم نبوت پر تقریر کی۔ مرزائیوں کے ساتھ چار مرتبہ تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔

گفتگو ہوئی۔ فضل کریم کا دعویٰ تھا کہ لیکھ رام کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہوئی ہے۔ خاکسار نے مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق پیش گوئی کا پورا نہ ہونا ثابت کر دیا۔ پیش گوئی کے الفاظ یہ تھے ۔ ’’عجل جسد لہ خوار، لہ نصب وعذاب‘‘ اور مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ لیکھ رام پر چھ سال کے اندر خارق عادت عذاب نازل ہوگا۔ جو انسانی ہاتھ سے بالا ہوگا اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہوگا۔ (سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ص ١٥) مگر لیکھ رام پر ایسا کوئی عذاب نہیں آیا۔ جس کو خارق عادت انسانی ہاتھ سے بالا اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھنے والا کہا جاسکے۔ سرحد و پنجاب میں سیکڑوں قتل واقعات ہوتے رہتے ہیں اور کوئی ایسے واقعات ہیں جن میں قاتلوں کی سراغ رسانی میں پولیس ناکام رہتی ہے۔ آخر فضل کریم صاحب لاجواب ہوکر تشریف لے گئے۔

١٥٠

صفحہ ٥٤١

علاوہ ازیں خاکسار نے ایک ٹریکٹ ”مرزائیت کی حقیقت“ تالیف کیا۔ جس کو ایک ہزار کی تعداد میں طبع کرا کر حزب الانصار کی شاخ کلکتہ نے مفت تقسیم کیا۔ اس ٹریکٹ کے انگریزی و بنگالی زبان میں ترجمے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بارہواں معرکہ! ممبو (ملک برما)

ملک برما میں پنجاب کے مرزائی ملازمت پیشہ اشخاص کے ذریعہ مرزائیت کی تبلیغ ہوتی رہتی ہے۔ برما میں مرزائیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ مگر تبلیغی لحاظ سے ان کی جماعت کو نمایاں اقتدار حاصل ہو رہا ہے۔ خاکسار کے ساتھ مورخہ ٩، ١٠/ اپریل ١٩٣٣ء بمقام ممبو مولوی سید عبد اللطیف مبلغ جماعت مرزائیہ رنگون کا فیصلہ کن مناظرہ ہوا۔ جس میں عبداللطیف قادیانی قبل اختتام مناظرہ کتابیں بغل میں دبا کر بھاگ نکلے اور ممبو کے علاقہ میں مرزائیت کا اثر زائل ہو گیا۔

شرائط مناظرہ

مقام ممبو ، ملک برما جامع مسجد ممبو !

١٥١

صفحہ ٥٤٢

ہوں گے۔

٢ بجے سے ٥ بجے تک مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٣٣ء صبح آٹھ بجے سے لے کر گیارہ بجے تک۔ ہر مناظرہ کے لئے وقت تین گھنٹہ ١٠ منٹ ہوگا۔ کل تقریریں سات ہوں گی۔ جن میں سے چار مدعی کی اور تین مجیب کی۔ پہلی اور آخری تقریر مدعی کی ہوگی۔

بات نئی پیش کی تو فریق ثانی کو جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔

ہو سکے گا۔ اگر کوئی مناظر سوائے قرآن کے کوئی حوالہ پیش کرے گا تو اس کی شکست سمجھی جائے گی۔

فرض ہوگا کہ فریقین سے شرائط کی پابندی کرائیں۔

کرے گا۔

خاص دلیل کے مقابلہ میں خاص دلیل اور عام دلیل کے مقابلہ میں عام دلیل پیش ہو سکے گی۔

سید محمد لطیف....... منجانب ! جماعت احمدیہ ! ممبو ٨؍اپریل ١٩٣٣ء

کیفیت مناظرہ

مورخہ ٩؍اپریل ١٩٣٣ء صبح آٹھ بجے بمقام جامع مسجد مناظرہ کا آغاز ہوا۔ خاکسار نے ١٣ آیات قرآنیہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی۔ مرزائی مناظر نے اپنے فرسودہ اعتراضات کو دہرایا۔ مگر خاکسار کی جوابی تقریر نے اس کا ناطقہ بند کر دیا۔

بعد نماز ظہر ٣ بجے ختم نبوت پر مناظرہ ہوا۔ خاکسار نے ٢٣ آیات قرآن مجید سے ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہیں مل سکتا اور کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس مناظرہ میں مرزائی مناظر مبہوت ہو گیا اور وہ کسی ایک دلیل کا بھی جواب نہ دے سکا۔

مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٣٣ء دعاوی مرزا پر مناظرہ ہوا۔ عبداللطیف نے مرزا قادیانی کی

١٥٢

صفحہ ٥٤٣

صداقت ثابت کرنے کے لئے ایڑی سے لے کر چوٹی تک زور لگایا۔ مرزا کو بشارت اسمہ احمد کا مصداق ظاہر کیا۔ لبثت فیکم عمراً من قبلہ الآیہ اور لو تقول علینا (الآیہ ) کو مدعیان نبوت کی صداقت کے لئے معیار ثابت کرنا چاہا۔ خاکسار نے جوابی تقریر میں مرزائی مناظر کے بودے استدلال کی قلعی کھول دی اور چودہ آیات قرآنیہ سے جھوٹے ملہموں کی نشانیاں بیان کر کے مرزا کا کاذب ہونا ثابت کر دیا اور پچیس ١؎ ایسے مطالبات پیش کئے جن کا جواب مرزائی مناظر سے بن نہ سکا اور اختتام مناظرہ سے قبل میدان مناظرہ سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔

تیرھواں معرکہ! اینا جاؤں (برما)

مسلمانان مگوئی کی درخواست پر خاکسار ممبو سے روانہ ہو کر ١٣؍ اپریل کو مگوئی پہنچا۔ مگوئی میں مرزائیت کے ابطال اور ختم نبوت پر اڑھائی گھنٹہ تقریر ہوئی۔ وہاں سے سیٹھ عبداللہ صاحب بملا آف اولا کمپنی کی دعوت پر اینا جاؤں جانے کا موقع ملا۔ عبداللطیف ممبو سے بھاگ کر وہاں پناہ گزیں ہوا تھا۔ اینا جاؤں میں عبداللطیف نے ظاہر کیا کہ مجھے ممبو میں فتح و نصرت حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے اس کی مزید سرکوبی ضروری سمجھی گئی۔

مورخہ ١٥؍ ستمبر ١٩٣٣ء سید علی شاہ صاحب رئیس کے مکان پر معززین و شرفاء کی موجودگی میں عبداللطیف قادیانی سے ملاقات ہوئی اور ان سے یوں گفتگو کا آغاز ہوا۔

خاکسار! سنا ہے کہ آپ نے یہاں آ کر بیان کیا ہے کہ مجھے ممبو میں فتح و نصرت حاصل ہوئی ہے۔

عبداللطیف! نہیں ہرگز نہیں میں نے کسی سے نہیں کہا۔

مولوی محمد ابراہیم صاحب ایلوی! نہیں ! تم نے کہا ہے اور تمہارے کہنے کے گواہ موجود ہیں۔

خاکسار! (مولوی محمد ابراہیم صاحب سے ) مولوی صاحب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ عبداللطیف قادیانی شریف آدمی ہیں۔ اس قدر غلط بیانی اور کذب و افتراء کا اظہار ان سے نہیں ہو سکتا۔ ممبو اور اینا جاؤں میں صرف ٤٠ میل کا فاصلہ ہے۔ اس قدر سفید جھوٹ کی انہیں کیسے جرات ہو سکتی تھی۔ عبداللطیف قادیانی جیسے با حیاء انسان سے ایسی توقع نہیں ہو سکتی۔ یہ ایسے با حیاء ہیں کہ انہوں نے مناظرہ میں لاجواب ہو کر دوسرے مرزائیوں کی طرح بے حیائی سے کھڑا رہنا پسند نہ کیا اور میدان سے چلے آئے۔

١؎ تمام دلائل کا خلاصہ اس کتاب کے جلد دوم میں درج کیا گیا ہے۔ قارئین وہاں ملاحظہ فرمالیں۔

١٥٣

صفحہ ٥٤٤

عبداللطیف! آپ کچھ بھی کہیں میں نے یہاں آکر کسی سے اپنی کامیابی کا ذکر نہیں کیا۔ خاکسار! آپ کر بھی کیسے سکتے تھے۔ آپ کی فطری شرافت ایسی شرمناک کذب بیانی سے مانع تھی۔

تمام حاضرین پر اس گفتگو کا نہایت عمدہ اثر ہوا اور عبداللطیف قادیانی کا رنگ زرد ہو گیا۔ حواس باختہ ہو گئے۔ جن لوگوں کے سامنے انہوں نے لاف زنی کی تھی۔ ان سے آنکھ ملانے کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔ سید علی صاحب رئیس و سیٹھ عبداللہ صاحب کی تحریک پر اپنا جاؤں میں بمقام اولا بال کے ایک مناظرہ قرار پایا۔ جس کے لئے حسب ذیل شرائط طے ہوئیں۔

مناظرہ اپنا جاؤں مابین جماعت اسلامیہ و جماعت مرزائیہ

مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٣٣ء بمقام اولا بال اپنا جاؤں ۔

شرائط مناظرہ

بارہ بجے تک ہوگا۔

جماعت مرزائیہ ہوگی۔

مناظر نئی بات پیش نہ کرسکے گا۔ اگر وہ پیش کرے تو جواب کے لئے بھی دوسرے مناظر کو وقت دیا جائے گا۔ جو فریق اختتام مناظرہ سے قبل میدان سے چلا جائے گا اس کی شکست سمجھی جائے گی۔ دوران تقریر میں کسی کو بولنے کا حق نہ ہوگا۔ ایک مناظر دوسرے مناظر سے حوالہ طلب کر سکتا ہے اور شرائط کی پابندی کی طرف پریذیڈنٹ کو توجہ دلانے کا اسے حق حاصل ہوگا۔ پہلی ہر دو تقریریں پون پون گھنٹہ کی ہوں گی۔ بعد کی دو تقریریں نصف نصف گھنٹہ۔ بعد کی تقریریں پندرہ پندرہ منٹ کی ہوں گی۔ کل نو تقریریں ہوں گی۔

کا اصرار تھا کہ اقوال بزرگان سلف بھی حجت سمجھے جائیں۔ خاکسار نے کہا کہ اہل سنت کی کتب اصول وعقائد میں سوائے قرآن وحدیث کے عقائد کے بارہ میں اور کسی چیز کا ذکر موجود نہیں۔

عبداللطیف! کیا آپ بزرگوں کو نہیں مانتے؟۔

خاکسار! ہم تمام اولیاء اللہ کو مانتے ہیں۔ مگر ماننے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے ہر امر

١٥٤

صفحہ ٥٤٥

میں مقلد سمجھے جائیں۔ ہم حضرت امام شافعی ، امام احمد و امام مالک رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی جلالت شان کے معترف ہیں۔ مگر مسائل و احکام میں ان کے فتوؤں پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اسی طرح خاندان چشت کے متوسلین تمام سلاسل کے بزرگوں کو اپنا ہادی و رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر اپنے طریقہ اور اپنے شیخ کے بتائے ہوئے وظائف واعمال پر ہی عمل کیا کرتے ہیں۔ ہم اس شخص کو بزرگ سمجھتے ہیں۔ جس کا عقیدہ صحیح ہو۔ مگر آپ ہم سے تسلیم کرانا چاہتے ہیں کہ عقیدہ صحیح وہ ہے جو کسی ایسے شخص کا ہو۔ جس کو بعض افراد امت بزرگ مانیں ۔

عبداللطیف! میں چاہتا ہوں کہ قرآن مجید و حدیث صحیح کا وہی مطلب بیان کیا جائے جس کو آج سے پہلے بزرگان دین سمجھا ہو۔

خاکسار! چشم ماروشن و دل ماشاد۔ قرآن مجید کی جو آیت بھی پیش کی جائے اس کا وہی ترجمہ صحیح سمجھا جائے گا۔ جو آج سے پہلے کسی بزرگ نے کیا ہو۔

عبداللطیف! میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کا غلط ترجمہ کر کے حاضرین کو دھوکہ دیا کرتے ہیں۔ کیا آپ سے پہلے اور کسی نے قرآن مجید کو نہیں سمجھا۔

خاکسار! آپ کا ارشاد صحیح ہے۔ لہذا شرائط میں یہ الفاظ لکھ دیئے جائیں کہ آج سے پہلے جن بزرگوں نے قرآن کا ترجمہ کیا ہے۔ ان میں جو اردو لفظ ترجمہ کے لکھے ہوئے ہیں وہ دونوں مناظروں کو آیات پیش کرتے وقت بیان کرنے ہوں گے ۔

عبداللطیف! مجھے یہ ہرگز منظور نہیں۔ ترجمہ سب نے غلط کیا ہے۔

خاکسار! کیا آپ سے پہلے کسی نے قرآن مجید کو نہیں سمجھا۔ کیا وجہ ہے کہ اب آپ بزرگان دین سے منحرف ہو رہے ہیں ۔

عبداللطیف! دو لفظی جواب دیں۔ اگر آپ مناظرہ کرنا چاہتے ہیں تو اقوال بزرگان ضرور پیش ہوں گے۔ اگر آپ کو یہ منظور نہ ہو تو میں مناظرہ کرنا نہیں چاہتا۔

خاکسار! آپ جس جس بزرگ کا قول پیش کرنا چاہتے ہوں ان کے اسماء تحریر کردیں نیز جن کتب سے ان بزرگوں کے اقوال نقل ہوں گے وہ بھی تحریر کرادیں۔ ورنہ نتھوشاہ و پکوڑے شاہ کے اقوال پیش کر کے آپ حاضرین کو دھوکا دے سکتے ہیں لہذا مناظرہ سے پہلے دو باتوں کا فیصلہ ہو جانا ضروری ہے ۔

١٥٥

صفحہ ٥٤٦

عبداللطیف! مجھے لمبی گفتگو سے نفرت ہے۔ اقوال بزرگان کا لفظ لکھ دینا ہی کافی ہے۔

خاکسار! میں آپ کا کوئی عذر باقی نہیں رہنے دوں گا۔ آپ کو اختیار ہے کہ قرآن مجید حدیث صحیح کے علاوہ اپنے دلائل کی تائید میں ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ میں سے کسی صحابی کا فرمان آئمہ مجتہدین میں سے کسی امام کا اجتہاد، اہل سنت کے مفسرین سے کسی مفسر کی تفسیر اور سلاسل اربعہ چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ کے مشائخ میں سے کسی شیخ کا قول پیش کر سکتے ہیں۔

عبداللطیف! مجھے یہ تحدید گوارا نہیں۔ میرے لئے صرف یہ نام کافی نہیں ہیں۔ اقوال بزرگان کا لفظ شرائط میں رہنا چاہئے۔

اس موقع پر سید علی شاہ صاحب رئیس نے فرمایا کہ شرائط کی بحث فی الحال ملتوی رکھی جائے اور میری تسلی و اطمینان کے لئے صداقت مرزا قادیانی پر اس وقت ڈیڑھ گھنٹہ مناظرہ رہے۔ تاکہ احقاق حق ہو سکے۔ خاکسار نے اسی وقت مناظرہ پر آمادگی ظاہر کی۔ جناب مرزا احمد بیگ صاحب رئیس و تاجر مکوئی صدر جلسہ قرار پائے۔ پندرہ پندرہ منٹ تقریر کے لئے مقرر ہوئے۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی مختصر گفتگو نے حاضرین پر مرزائی مذہب کی حقیقت کھول دی۔ مرزا احمد بیگ صاحب اپنے غصہ کو ضبط نہ کر سکے۔ انہوں نے عبداللطیف کو کہا کہ اثبات دعویٰ کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔ ورنہ ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ عبداللطیف اپنی ہر تقریر میں اپنے ایک دعویٰ کی تائید میں دوسرا دعویٰ اور دوسرے دعوے کی تائید میں تیسرا دعویٰ پیش کرتا گیا۔ خاکسار نے اس کی تمام تقاریر میں ٢٦ دعاوی شمار کئے۔ مگر اپنے کسی دعوے کی تائید ایک دلیل بھی پیش نہ کر سکا۔ بعد ازاں پبلک کے لئے اولڈ ہال میں مناظرہ قرار پایا۔ خاکسار نے عبداللطیف کی تمام شرائط تسلیم کر لیں۔ شام کو سید علی شاہ صاحب کو رقعہ بھیجا گیا کہ عبداللطیف کو کل صبح دس بجے اولڈ ہال میں پیش کریں۔ اس کی تمام شرائط منظور ہیں۔ رات کے گیارہ بجے سید علی شاہ صاحب کا رقعہ موصول ہوا۔ جو کہ درج ذیل ہے۔

جناب عبداللہ صاحب!

السلام علیکم! آپ کا رقعہ موصول ہوا۔ مولوی محمد لطیف صاحب تو رفو چکر ہو گئے۔ بڑی خوشی کی بات ہوئی کہ مولانا صاحب یہاں پر تشریف لائے اور ہم سب پر حالات ظاہر ہو گئے۔ میں انشاء اللہ ٩ یا ساڑھے نو بجے حاضر ہوں گا۔ کیونکہ اتوار کے دن مجھے فرصت بہت کم ہوتی ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مولانا کا لیکچر ہوگا۔ جس سے مسلمانوں کو ہدایت ہو جائے گی۔ امید ہے کہ مولوی صاحب یہاں پر دو تین روز ٹھہریں گے اور قادیانیوں کے جال میں پھنسنے سے لوگ بچ

١٥٦

صفحہ ٥٤٧

جائیں گے۔ یہ بات مجھے پسند ہوئی جب مولوی صاحب نے کہا کہ مرزا قادیانی مسلمان بھی ہیں؟۔ پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا۔ ازحد آداب، آپ کا دعا گو! سید علی شاہ! دوسرے دن بمقام اوکاڑہ ہال شاندار جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں ختم نبوت وصداقت اسلام پر خاکسار کی اڑھائی گھنٹہ تقریر ہوئی۔

چودھواں معرکہ! لکھانوالی ضلع سیالکوٹ

یہ مناظرہ ١٣، ١٤، اپریل ١٩٣٣ء کو خاکسار کی عدم موجودگی میں ہوا۔ حزب الانصار کی طرف سے مولانا محمد نصیر الدین صاحب بگوی ومولوی عبدالرحمٰن صاحب میانوی نے مناظرہ کے جملہ انتظامات کئے۔ لکھانوالی کے علاقہ میں مرزائیوں کی تبلیغی سرگرمیاں زوروں پر تھیں۔ کئی اشخاص صراط مستقیم سے مذبذب ہوچکے تھے۔ مولانا محمد مسعود صاحب البزوی نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔ حیات مسیح پر مولانا حافظ محمد شفیع صاحب سکھروی کا دل محمد قادیانی کے ساتھ مناظرہ ہوا۔ دل محمد مسلمانوں کے دلائل کا جواب دینے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ مولانا کے زبردست دلائل نے ان کا ناطقہ بند کردیا۔ دعاویٰ مرزا پر مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب کا مولوی علی محمد قادیانی کے ساتھ فیصلہ کن مناظرہ ہوا۔ سب انسپکٹر صاحب پولیس وتحصیلدار صاحب انتظام کے لئے جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ مولانا نے مبلغ پانچ روپیہ تحصیلدار صاحب کے حوالہ کردیا اور کہا کہ مرزائی مناظر رسول اللہ ﷺ کا فرمان کسی صحیح حدیث سے دکھا دے کہ مہدی کے زمانہ میں کسوف وخسوف ہوگا۔ تو یہ انعام اس کے حوالہ کردیا جائے۔ دل محمد نے دارقطنی سے محمد ابن علی کا قول پیش کیا۔ تحصیلدار صاحب نے دریافت کیا کہ کیا یہ محمد رسول اللہ ﷺ کا قول ہے۔ اس پر مرزائی مناظر مبہوت ہوگیا۔ مولانا ابوالقاسم صاحب نے مرزائیوں کے تمام دلائل توڑ کر رکھ دیئے اور مناظرہ کا اختتام نہایت خیروخوبی کے ساتھ ہوا۔

لکھانوالی میں مولانا ابوسعید محمد شفیع صاحب خوشابی، مولوی محمد اسماعیل صاحب دابانی، مولوی محمد مسعود صاحب البزوی، مولانا نصیرالدین صاحب بگوی، مولوی عبدالرحمٰن صاحب میانوی کی زبردست تقاریر نے مرزائیت کا خاتمہ کردیا ہے۔ اب اس علاقہ میں مرزائیوں کا دجل وزور کامیاب نہیں ہوسکتا۔ لکھانوالی کے مناظرہ کا تمام اہتمام ومصارف وغیرہ کا ذمہ چوہدری خدا بخش پٹواری نے کیا تھا۔ جس کے لئے جملہ مسلمانان علاقہ کو شکرگزار ہونا چاہئے۔

پندرہواں معرکہ! میعاوی (تحصیل نارووال)

مورخہ ١٤، ١٥؍ مئی ١٩٣٣ء بمقام میعاوی تحصیل نارووال ضلع سیالکوٹ خاکسار کی

١٥٧

صفحہ ٥٤٨

صدارت میں مرزائیوں کے ساتھ شاندار مناظرہ ہوا۔ مرزائیوں کی طرف سے مولوی ظہور الحسن ومولوی عبدالغفور ومولوی دل محمد نے مناظرہ کیا۔ مولوی غلام رسول آف راجیکے بھی ان کی امداد کے لئے وہاں موجود تھا۔ ہر سہ (٣) مسائل پر دو روز مناظرہ ہوا۔ اسلامی مناظر مولانا حافظ محمد شفیع صاحب سکھروی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور مرزائے قادیانی کا کاذب ومفتری ہونا ثابت کیا۔ مولوی غلام رسول صاحب مجاہد موضع گلدبھاراں نے مسئلہ ختم نبوت پر مرزائی مناظر دل محمد کو لاجواب وساکت کیا۔ مرزائی معلمین کو قادیان میں بے حیائی وڈھٹائی کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ اس فن میں کامل ماہر ہو جاتے ہیں۔ ورنہ اگر ان میں حیاء کا مادہ موجود ہوتا تو کبھی مناظروں میں شامل نہ ہوتے۔

برق آسمانی بر خرمن قادیانی

جلد دوم...... دلائل وبراہین

مناظروں میں جس قدر دلائل فریقین کی طرف سے پیش ہوئے ان کی تفصیل کے لئے یہ مختصر کتاب کافی نہیں ہوسکتی۔ تقاریر کی مکمل یاداشتیں ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ چونکہ مناظروں میں دلائل کا تکرار ہوتا رہا ہے۔ اس لئے تمام دلائل یکجا شائع کئے جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ رد مرزائیت کے لئے مرزائیوں کی پاکٹ بک کا بہترین جواب ثابت ہوگا اور منصف مزاج اور سلیم الفطرت انسانوں کے لئے ہدایت ورہنمائی کا باعث ہوگا۔ اس میں تین باب ہیں۔ باب اوّل دراثبات حیات مسیح علیہ السلام، باب دوم ختم نبوت، باب سوم درابطال دعویٰ مرزائے قادیان۔ ہر باب میں اسلامی مناظروں کے دلائل مرزائیوں کے اعتراضات نیز مرزائیوں کے پیش کردہ دلائل اور جو جوابات اسلامی مناظروں نے دئے تھے ان کا خلاصہ درج کیا گیا ہے۔

باب اوّل...... حیات مسیح علیہ السلام

پہلی دلیل

اسلامی مناظر: ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (نساء:١٥٨) “ اور (یہود کے) اس کہنے کی وجہ سے کہ قتل کیا۔ ہم نے مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا۔ (حالانکہ انہوں نے) نہ ان کو قتل کیا

١٥٨

صفحہ ٥٤٩

اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا۔ لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ ان کے بارہ میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں۔ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔ ﴾

اول: ان آیات میں خداوند کریم نے یہود کے عقائد باطلہ کا رد فرماتے ہوئے ان کے زعم قتل مسیح کا رد فرمایا اور قتل مسیح کے بجائے رفع مسیح کا اثبات کیا۔ رفع اجسام میں حقیقی طور پر اوپر کی طرف انتقال مکانی مراد ہوتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ۔ ”رفع ابویہ علی العرش (یوسف:١٠٠)“ نیز ماقتلوہ و ما صلبوہ وما قتلوہ یقیناً میں تینوں ضمیریں منصوب متصل ہیں ان کا مرجع المسیح ہے۔ جس پر بزعم یہود قتل کا وقوع ہوا ہے اور یہ امر واضح ہے کہ قتل کے قابل زندہ انسان ہوتا ہے نہ فقط روح یا جسم۔ پس رفع جس چیز کا ہوا وہ المسیح یعنی وہ زندہ انسان کی روح و جسم میں یہود بذریعہ قتل جدائی کرنا چاہتے تھے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری اٹھائے گئے۔ مرزائیوں کو یہ تسلیم ہے کہ جس چیز کا رفع ہوا وہ آسمان کی طرف ہوا۔

جیسے مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٢٦٤، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”صریح اور بدیہی طور پر سیاق و سباق قرآن مجید سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے فوت ہونے کے بعد ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔“ پس جب ہم نے ثابت کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسم مع الروح ہوا۔ مرزائی تصدیق واقرار کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔

مرزائی مناظر: بل رفعہ اللہ الیہ میں رفع روحانی مراد ہے۔ جیسے خدا تعالیٰ کسی کا رفع کرتے ہیں تو اس سے رفع روحانی مراد ہوتا ہے۔ جیسے ”یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات (المجادلہ :١١)“ اور ”فی بیوت اذن اللہ ان ترفع (نــــــور:٣٦)“ میں درجات کا رفع مراد ہے۔ کیا اینٹوں سمیت مکان اٹھایا جاتا ہے۔ کیا سب ایماندار آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں۔ (لسان العرب ج ٥ ص ٢٦٨) میں ہے کہ: ”وفی اسماء اللہ تعالیٰ الرافع ھوالذی یرفع المومن بالاسعاد واولیائہ بالتقریب “ اس کے سوا اور کوئی معنی خدا تعالیٰ کے نام رافع کے نہیں۔ جبکہ مفعول ذی روح انسان ہو اور رفع کا فاعل خدا تعالیٰ ہو۔ پس مسیح کے لئے بھی رفع روحانی ثابت ہوتا ہے۔

١٥٩

صفحہ ٥٥٠

اسلامی مناظر : (تاج العروس شرح قاموس ج ١١ ص ١٧١) میں مذکور ہے کہ: ”امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ لفظ رفع جب ایسے اجسام میں مستعمل ہو کہ وہ اجسام زمین پر موجود ہوں تو اس وقت رفع سے مراد زمین سے اٹھا لینا ہوگا۔ جیسا کہ بنی اسرائیل پر کوہ طور زمین سے اٹھا کر کھڑا کیا گیا۔ ”ورفعنا فوقكم الطور۔ (البقرة: ٦٣)“ تاکہ وہ شرارت سے باز آجائیں قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے ”رفع السمٰوت بغير عمدٍ (الرعد:٢)“ کہ آسمان بغیر ستونوں کے کھڑا کر دیا اور اگر لفظ رفع تعمیرات میں مستعمل ہو تو اس وقت تطویل بناء مراد ہوگی۔ جیسے کہ ”اذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت (البقرة:١٢٧)“ اور اگر اس کا متعلق ذکر یا درجہ ہو تو اس وقت اس سے رفع مراتب مراد ہوگا۔ جیسے ”ورفعنا لك ذكرك (الم نشرح: ٤)“ اور دوسری جگہ پر ہے۔ ”رفعنا بعضهم فوق بعض درجات (زخرف: ٣٢)“ یعنی بعض کو بعض پر فضیلت۔ اس سے ظاہر ہے کہ جس جگہ لفظ رفع کا مورد اور مفعول جسمانی شے ہو تو اس جگہ یقینا رفع جسمانی مراد ہوگا اور اگر اس کا مفعول ذکر یا درجہ یا منزلۃ ہو تو اس وقت رفع مرتبہ مراد ہوگا۔ رفع روحانی یا عزت کی موت اس کا پتہ لغت عرب میں نہیں ملتا۔ قرآن مجید یا حدیث نبی کریم ﷺ میں یہ لفظ جب کبھی جسمانیت میں مستعمل ہوا ہے تو بلا کسی قرینہ صارفہ کے اس سے رفع جسمانی مراد لیا گیا ہے۔ آپ کے پیش کردہ نظائر بھی ہمارے مخالف نہیں رفعناه مكانا علیاً میں خود مکان علیا قرینہ ہے۔ ”يرفع الله الذين اٰمنوا (المجادلہ: ١١)“ میں خود بلندی درجات کا ذکر ہے۔ ”فی بیوت اذن الله (نور: ٣٦)“ میں بیوت کا لفظ موجود ہے۔ آپ کوئی ایسی آیت دکھائیں جو قرآئن سے خالی ہو اور جسم کا رافع اللہ تعالیٰ ہو اور اس سے رفع روحانی مراد ہو۔ آپ قیامت تک کوئی ایسی آیت پیش نہ کر سکیں گے۔ جس سے آپ کا مدعا ثابت ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”ثم رفعت الی سدرة المنتهیٰ (صحيح البخاری ج ١ ص ٥٤٩ ، باب الاسراء والمعراج و مشكوة ص ٥٢٧)“ اس میں رفع کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح انسان ہے اور اس سے مراد جسمانی رفع ہے۔“

دوسری دلیل

اسلامی مناظر : ”ماقتلوه يقينا بل رفعه الله الیه“ میں کلمہ بل لایا گیا۔ زبان عرب میں لفظ بل جب نفی کے بعد آتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ مضمون سابق جس کی نفی کی گئی ہے۔ اس کے خلاف مضمون بل کے بعد بیان کیا گیا ہے اور اٹھا لینا قتل کے منافی جب ہی ہوسکتا ہے کہ جب زندہ مع جسم اٹھا لینا مراد لیا جائے۔ ورنہ مرتبہ کا بلند کرنا جیسا کہ مرزائی کہتے

١٦٠

صفحہ ٥٥١

ہیں، قتل کے منافی ہرگز نہیں بلکہ قتل فی سبیل اللہ تو بلندی رتبہ کا بہترین ذریعہ ہے اور کئی انبیاء راہ خدا میں قتل ہوئے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے کہ: ”ويقتلون النبيين بغير حق (آل عمران:٢١)“ اور ”قتلهم الانبياء بغير حق (النساء:١٥٥)“ پس قتل ہونا شان نبوت کے خلاف نہیں بلکہ قتل کے ذریعہ مراتب بلند ہوتے ہیں۔ اس آیت میں جو کلمہ بل ہے اس کو کلام عرب میں بل ابطالیہ کہتے ہیں۔ جو صفت مثبتہ اور صفت مبطلہ کے درمیان واقع ہوا ہے۔ صفت مبطلہ قتل المسیح اور صفت مثبتہ رفع المسیح ہے اور بل ابطالیہ میں ضروری ہے کہ صفت مبطلہ اور صفت مثبتہ کے درمیان تنافی وضدیت ہو۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ۔”وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحنه بل عباد مكرمون (الانبياء:٢٦)“ اس جگہ ولدیت اور عبودیت میں تنافی وضدیت ہے۔ اب اگر رفع المسیح کے معنے روحانی رفع کے لئے جائیں تو مطلق تنافی اور ضدیت نہیں رہتی۔ کیونکہ شہداء یعنی خدا کے راہ میں مقتولین کی روحیں بھی عزت واحترام کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائی جاتیں ہیں۔ پس قتل اور روحانی رفع کا جمع ہونا ممکن ہے۔ اس لئے تنافی وضدیت جب ہی متصور ہوگی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان کی طرف اٹھایا جانا تسلیم کیا جائے۔ آج تک کسی مناظرہ میں بھی کوئی مرزائی مناظر اس دلیل کا کوئی جواب پیش نہیں کر سکا۔

تیسری دلیل

اسلامی مناظر :”ماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه “ میں قصر قلب ہے۔ قصر قلب میں بموجب تحقیق اہل معانی یہ ضروری ہے کہ ایک وصف دوسرے وصف کو ملزوم نہ ہو۔ تاکہ مخاطب کا اعتقاد برعکس متکلم متصور ہو اور یہ بات نہایت صاف طور پر ظاہر ہے کہ جو مقتول بارگاہ خداوندی میں مقرب ہو اس کے قتل کے ساتھ رفع روحانی لازم ہے۔ پس بقاعدہ قصر قلب اس جگہ رفع روحانی مراد لینا کسی طرح جائز نہیں اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان کی طرف اٹھایا جانا ثابت ہوتا ہے۔ مرزائی مناظرین نے ہر جگہ اس دلیل کے جواب میں خاموشی سے کام لیا اور کوئی غلط جواب بھی پیش نہ کر سکے۔

چوتھی دلیل

اسلامی مناظر: قرآن مجید اہل کتاب کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے۔ حق کی تائید اور باطل کی تردید کرتا ہے۔ وہ تفصيل لكل شئی ہے۔ یہود و نصاریٰ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے متعلق اختلاف تھا۔ قرآن کے نزول کا ایک مقصد ليحكم بينهم ہے (آل عمران:٢٣) قرآن مجید نے اس اختلاف کا فیصلہ فرمادیا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ: ”انا قتلنا

١٦١

صفحہ ٥٥٢

المسیح ”ہم نے مسیح کو قتل کر دیا اور عیسائیوں کا دعویٰ تھا کہ مسیح ١؂ زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔ قرآن مجید نے ماقتلوہ یقینا فرما کر یہود کے عقیدہ کی بطالت ظاہر فرمائی۔ اگر نصاریٰ کا عقیدہ بھی باطل ہوتا تو قرآن مجید میں اس کی واضح تردید ہوتی۔ مگر قرآن مجید نے بل رفعہ اللہ الیہ فرما کر ان کے عقیدہ کی تائید کر دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ مرزائیوں نے اس دلیل کا بھی کسی مناظرہ میں کوئی جواب نہیں دیا۔

پانچویں دلیل

اسلامی مناظر : رفع اس وقت ہوا کہ جب یہود قتل کرنا چاہتے تھے۔ قتل مسیح کی بجائے قرآن سے رفع مسیح ثابت ہے۔ اگر رفع کے معنے عزت کی موت یا رفع روحانی لئے جائیں تو یہود سچے قرار دیئے جاسکتے ہیں اور معاذ اللہ کلام خدا کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ موت کا سامان وہی تھا جو یہودیوں نے تیار کر رکھا تھا۔ اس سے یہودیوں کا دعویٰ قتل مسیح ثابت ہوتا ہے۔ پس رفع سے مراد عزت کی موت لینا کسی طرح جائز ٢؂ نہیں۔ مرزائی اس کے جواب میں بھی ساکت و صامت رہے۔

١؂ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح نے سولی پر جان دے دی۔ (یوحنا ١٩، ٣٠) اور اس کے بعد تیسرے دن قبر سے جی اٹھا اور اپنے شاگردوں کے سامنے زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔ (لوقا ٢٤، ٥١) قرآن مجید نے ماصلبوہ کے ذریعہ واقعہ صلیب کی نفی کی۔ ماقتلوہ فرما کر یہودیوں کے دعویٰ کا ابطال کیا اور رفعہ اللہ الیہ فرما کر زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کی تائید فرمائی۔ اسی طرح عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کی بھی تردید فرمائی۔ صلیب دیئے جانے کا انکار کر کے عیسائیوں کے بنیادی مسئلہ کفارہ کو رد فرمایا۔ مگر مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی گئی۔ مگر وہ وہاں مرے نہ تھے۔ بلکہ مثل مردہ ہو گئے تھے۔ مرزائیوں کا یہ عقیدہ قرآن وحدیث شہادت بائیبل اور اہل کتاب کے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔ مرزا قادیانی (توضیح المرام ص ١، روحانی خزائن ج ٣ ص ٥١) پر لکھتے ہیں کہ ”مسلمانوں اور عیسائیوں کا کس قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔“

٢؂ مرزائی کہتے ہیں کہ بائبل کے مطابق صلیبی موت سے مرنے والا لعنتی ہے۔ حالانکہ بائبل میں صرف یہ ہے کہ ”اگر کسی نے گناہ کیا جس سے اس کا قتل واجب ہے اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت پر لٹکائے تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے۔ بلکہ تو اسی دن اسے گاڑ دے۔ کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے۔“ (استثناء ٢١، ٢٢) (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

١٦٢

صفحہ ٥٥٣

چھٹی دلیل

اسلامی مناظر: ”قل فمن يملك من الله شيئاً ان أرادان يهلك المسيح ابن مريم وأمه ومن فى الارض جميعا (مائده: ١٧)“ کہہ دیجئے کہ کون اختیار رکھتا ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں اگر چاہے کہ ہلاک کر دے۔ مسیح ابن مریم کو اور (جیسے کہ ہلاک کر دیا ) اس کی ماں کو اور وہ ان تمام لوگوں کو جو کہ زمین میں ہیں۔ ﴾

عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود خدا ہیں۔ اس عقیدہ الوہیت کی تردید کے لئے حضورﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ان کو سمجھا دیجئے کہ اگر خدا تمام باشندگان زمین کو اور مسیح علیہ السلام کو مار ڈالے تو کون اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے اور جب حضرت مسیح کی والدہ کو موت خدا نے دی تھی تو اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام نے خدا کا کیا بگاڑ لیا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اگر آپ خدا ہوتے تو ضرور مقابلہ کرتے۔ اس آیت سے یہ تو یقیناً ثابت ہو گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو حضرت مسیح علیہ السلام اس وقت ضرور زندہ تھے۔ ورنہ یہ دھمکی درست نہیں رہتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی بجائے اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک خداوند کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مارنے کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہوتے تو قرآن مجید میں الوہیت کو باطل ثابت کرنے کے لئے صاف درج ہوتا کہ مسیح کو ہم نے ہلاک کر دیا ہے۔ مگر اس جگہ ان اراد اگر خدا ارادہ ہلاکت کا کرے کے الفاظ سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہے۔

مرزائی مناظر : اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ماں کا بھی ذکر ہے۔ لہٰذا ماں کو بھی زندہ مانو۔ نیز من فی الارض جميعا کے مطابق مولوی صاحب کے دادا اور والد کو بھی زندہ مانو۔ گویا ابھی تک خدا نے کسی کی ہلاکت کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ آپ کے قول کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے علاوہ ان کی والدہ اور تمام انسانوں کا زندہ ہونا ثابت ہوتا

(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) اس میں صرف مجرم کا ذکر ہے۔ بے گناہ مصلوب کے لئے لعنتی ہونے کا حکم موجود نہیں۔ مرزائیوں کی تفسیر کے مطابق یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو لعنتی موت مارا ہے۔ مگر مسیح کے ملعون ہونے کے نصاریٰ بھی قائل ہیں۔ (گلتیوں ١٣٫٣) اس میں دونوں گروہ متفق ہیں۔ ان میں اختلاف صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان کی طرف اٹھائے جانے کا تھا۔ اس مقدمہ میں قرآن مجید نے نصاریٰ کی تائید کی اور باقی مسائل میں دونوں کے باطل عقائد کی تردید بھی کر دی۔ (مؤلف ١٢)

١٦٣

صفحہ ٥٥٢

ہے ۔ حالانکہ اس کا غلط ہونا ظاہر ہے ۔ نیز حرف شرط ان اس جگہ بمعنے اذ ہے۔ جو فعل مضارع کو ماضی بنا دیتا ہے۔

اسلامی مناظر : حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ان کی والدہ کو بھی زندہ مان لینے سے عقائد اسلامیہ میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ۔ ہمیں ان سے کوئی عداوت نہیں ۔ لیکن اس آیت میں قد اهلک امہ فعل محذوف ہے اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت ملتے ہیں۔ جیسے کذلك يوحی اليك والى الذين من قبلك (شوری:٣) میں اوحی فعل محذوف ہے۔ ورنہ پہلوں کی طرف وحی اس وقت نہیں ہوتی تھی اور وامسحوا برؤسكم وارجلكم (مائده:٦) کے درمیان واغسلوا فعل محذوف ہے۔ فاجمعوا امر کم وشركاء کم (یونس : ٧١) میں دراصل وادعوا شرکاء کم یعنی وادعوا فعل محذوف ہے۔ اوجز المسالک میں اس کی وضاحت موجود ہے۔

من فی الارض جمیعا کے مطابق تمام باشندگان روئے زمین کو اکٹھا ہلاک کرنے کا خدا نے اب تک ارادہ نہیں کیا۔ آپ نے جمیعا کے لفظ پر غور نہیں کیا۔ ان اگر چہ قد کا معنے دے سکتا ہے اور اذ کا معنے نہیں دیتا۔ مگر یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ آیت کا بھی یہ معنی ہے کہ مسیح مر گئے اور ماں سمیت سارے مر گئے ۔ کیونکہ ایک وقت معا سب کا مر جانا کسی تاریخ سے ثابت نہیں ۔

ساتویں دلیل

اسلامی مناظر: ’’ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)‘‘ ﴿نہیں ہیں محمد مگر پیغمبر تحقیق گزرے ہیں ۔ پہلے آپ سے کئی پیغمبر ۔ ﴾ ’’ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل (مائده: ٧٥) ‘‘ ﴿نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر پیغمبر گزرے ہیں آپ سے پہلے کئی پیغمبر۔ ﴾

ان آیات میں صرف اسماء کا اختلاف ہے۔ جس طرح پہلی آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔ کہ بوقت نزول آیت محمد ﷺ زندہ تھے۔ اسی طرح دوسری آیت سے بھی ظاہر ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ تھے۔ ورنہ اگر دوسری آیت سے وفات مسیح ثابت کی جائے ۔ تو پہلی آیت کا نزول بھی بعد وفات نبی کریم ﷺ ماننا پڑے گا۔

مرزائی مناظر : آیت ’’ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران ١٤٤) ‘‘ کے نزول کے وقت نبی کریم ﷺ زندہ تھے۔ اس لئے آپ کی زندگی ثابت

١٦٤

صفحہ ٥٥٥

ہوتی ہے۔ مگر دوسری آیت کے نزول کے وقت مسیح علیہ السلام کو زندہ ماننے کی آپ کے پاس کون سی دلیل ہے۔ ان آیات سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ الرسل میں الف لام استغراق کا ہے اور خلت کا معنے ہے مر گئے۔ پس اس کا ترجمہ یہ ہوا کہ نبی کریمﷺ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے تھے۔

اسلامی مناظر : آپ میری تقریر کو نہیں سمجھے اور نہ ہی طرز استدلال پر غور کیا ہے۔ میں نے بمقتضائے عربیت یہ بات ثابت کی ہے کہ جیسا کہ (ما محمد الا رسول) آیت کے نزول کے وقت حضور علیہ السلام کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ ایسا ہی ما المسیح ابن مریم (الآیہ) کے نازل ہونے کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ دونوں آیتوں میں صرف اسماء مختلف ہیں۔ خلت کے معنے فوت ہو گئے۔ کرنا اور الف لام کو استغراقی بنانا ۔

مرزا قادیانی کی تصریح کے برخلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے (جنگ مقدس ص٧، خزائن ج٦ص٨٩) میں اس کے معنے یوں کئے ہیں۔ ’’اس سے پہلے رسول بھی آتے رہے ۔‘‘ نیز حکیم نور الدین نے جو مرزائیوں میں علم وفضل کے لحاظ سے سب سے افضل تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ’’پہلے اس سے بہت رسول آچکے۔‘‘

(فصل الخطاب ج ١ ص ٢٥ حاشیہ)

اخبار بدر ج ١٣ نمبر ١٢،٢٢ مئی ١٩١٣ء ص ١٤ پر مولوی نور الدین خلیفہ مرزا کا ارشاد ہے کہ ’’لفظ جمع کا ہو تو اس سے مراد کلہم اجمعون نہیں ہوگا۔ جب تک کہ تصریح نہ ہو۔ بلکہ مراد بعض سے ہوتی ہے۔‘‘

آٹھویں دلیل

اسلامی مناظر : ’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا (آل عمران:٤٦)‘‘ خداوند کریم فرماتا ہے کہ مسیح لوگوں سے گہوارہ اور سن کہولت (بڑی عمر میں) کلام کریں گے۔ کلام مجید وفصاحت و بلاغت سے مملو ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی درج نہیں جو بے معنے ہو۔ کہولت میں کلام کرنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ ہمیشہ ہر شخص چھوٹی اور بڑی عمر میں کلام کیا کرتا ہے۔ اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے کوئی خاص فضیلت پائی نہیں جاتی۔ قرآن کریم میں تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سن کہولت کا کلام بھی اسی طرح کا خارق عادت ہوگا۔ جس طرح گہوارہ کا کلام تھا۔ ’’قالوا کیف نکلم من کان فی المہد صبیا (مریم:٢٩)‘‘ یہود نے حضرت مسیح کی حالت شیر خوارگی میں کلام کرنا تسلیم نہیں کیا تھا اور حضرت مریم علیہا السلام سے کہا تھا کہ ہم گہوارہ

١٦٥

صفحہ ٥٥٦

میں شیر خوار بچے سے کیسے کلام کریں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارہ سے جواب دیا تھا۔ ”قال انی عبدالله (مریم : ٣٠)“ جس طرح کلام مہد بطور اعجاز تھا۔ اسی طرح آخری زمانہ میں آسمان سے نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام خرق عادت میں داخل ہوگا۔ جس طرح یہود نے مہد میں بچے کے کلام پر اظہار تعجب کیا تھا۔ اسی طرح زمانہ حال کے متبعین یہود کہتے ہیں کہ مسیح اتنے سو سال کیسے زندہ رہ سکتا ہے اور اتنے سو سال کے بعد نازل ہو کر دنیا میں کیا کام کر سکتا ہے۔ بقول قائلین وفات مسیح ٣٣ سال میں واقعہ صلیبی پیش آیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع سن کہولت سے پہلے ہوا۔ لہٰذا اس آیت سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہے۔ ورنہ مرزائی ان کے بڑھاپے کا کلام بھی دکھائیں۔

مرزائی مناظر: مجمع البحار میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سن کہولت گزار چکے ہیں۔ اس لئے آپ کا دعویٰ باطل ہے۔

اسلامی مناظر: مجمع البحار کی عبارت پڑھنے میں خیانت کی ہے۔ مجمع البحار میں ہے کہ: ”ویکلم الناس فی المهد وكهلا بالوحی والرسالة واذا نزل من السماء فی صورة ابن ثلث وثلثین (مجمع البحار ج ٤ ص ٤٥٨)“ اگر آپ کے نزدیک ٣٣ سال کی زندگی کہولت کی ہے تو آپ ان کا اعجازی کلام اس عمر میں ثابت کریں۔

نویں دلیل

اسلامی مناظر: ”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ ﴿اور نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب (یہود) میں سے مگر ایمان لے آئے گا۔ اس (عیسیٰ علیہ السلام) پر پہلے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کی موت کے۔﴾

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”نباشد هیچ کس از اهل کتاب الا البته ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ“

یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر روشن دلیل ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا۔ جب اس وقت کے تمام اہل کتاب ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو نازل ہوئے ہیں اور نہ سب یہود آپ کی رسالت پر ایمان لائے ہیں۔ اس لئے آپ کی وفات بھی واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس آیت میں صریح طور پر آپ کی موت

١؎ مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اپنی کتاب فصل الخطاب ج ٢ ص ٧٢ حاشیہ میں اس آیت کے بھی یہی معنی کئے ہیں۔

١٦٦

صفحہ ٥٥٧

سے پہلے ان امور کا واقع ہونا ضروری ہے۔ لیؤمنن میں نون تاکید کی ہے اور نون تاکید مضارع کو استقبال کے ساتھ خاص کر دیتا ہے اور ضمیر بہ اور موتہ ہر دو کا مرجع عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ سیاق کلام اسی کو چاہتا ہے۔ اگر موتہ کی ضمیر کا مرجع کتابی کا اقرار کر دیا جائے تو جو ایمان نزع کی حالت میں لایا جائے وہ شریعت میں معتبر نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر دو ضمیروں کا مرجع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔

مرزائی مناظر : بیضاوی میں قرأت قبل موتہم کا ذکر ہے۔ جس میں ثابت ہے کہ کتابی کی موت مراد ہے۔ نون تاکید سے ہمیشہ استقبال مراد لینا جائز نہیں۔ ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “ (عنکبوت ٦٩) کا آپ کیا ترجمہ کریں گے۔ کیا خدا کے راستہ میں کوشش کرنے والے کسی آئندہ زمانے میں ہدایت یافتہ بنیں گے۔ نیز قیامت سے پہلے تمام لوگوں کا مسلمان ہو جانا عقلاً و نقلاً ممکن نہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔ ” فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیامۃ (مائدہ : ١٤) “ اس سے ثابت ہے کہ قیامت تک یہود و نصاریٰ باہم دشمن رہیں گے۔ نیز ضمیر موتہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دینا صحیح نہیں۔

اسلامی مناظر : موتہم والی قرآۃ شاذہ ہے۔ جو قرأت متواترہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ محمد ابن علی کرم اللہ وجہہ نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ جو بھی اہل کتاب ہیں۔ اپنی موت سے پہلے ان کو پورا انکشاف ہو جاتا ہے اور تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام نبی برحق تھے اور وہ زندہ ہیں اور پھر اخیر زمانہ میں نازل ہو کر اسلام کی خدمت کریں گے اور کسی یہودی یا مجوسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤١) لہٰذا اس قرأت سے بھی مرزائیوں کا مدعا پورا نہیں ہوتا اور آیت والذین جاھدوا (الآیہ) میں الذین حرف موصولات سے ہے۔ جو متضمن شرط ہے اور جزا ہمیشہ شرط سے متاخر ہوتی ہے۔ لہٰذا نون تاکید کا معنی اپنے محل پر واقع ہے۔ یہودی باہمی عداوت کا الیٰ یوم القیٰمۃ سے مراد طویل زمانہ ہے۔ ورنہ یہ آیت متعارض ہوگی۔ ” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ (توبہ : ٣٣) “

مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١) پر لکھتے ہیں کہ : ”عالمگیر غلبہ اسلام مسیح موعود کے وقت میں ہوگا۔“ نیز ایمان اور عداوت باہمی میں منافات نہیں ہے۔ دونوں باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ جیسے مرزائیوں کے دونوں گروہوں لاہوری و قادیانیوں میں باہمی عداوت موجود ہے۔ مگر مرزا پر دونوں گروہ ایمان رکھتے ہیں۔ تفسیر (ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١) پر ہے۔ ” وقال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اھل الکتاب

١٦٧

صفحہ ٥٥٨

الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى والله انه لحى الان عندالله ولكن اذا نزل امنوا به اجمعون “ پس رئیس المفسرین حضرت حسن کا یہ فیصلہ قطعی ہے۔

دسویں دلیل

اسلامی مناظر : ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا (زخرف:٦١)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی علامت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”ہر آئینہ عیسیٰ (علیہ السلام) نشان ست قیامت را پس شبہ مکنید در قیامت “، ابن کثیر نے اس کے معنے یہ کئے ہیں۔ لہٰذا اس آیت سے عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا ثابت ہے۔

مرزائی مناظر : (سلیم) اس آیت میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے نہ کہ مسیح، حضرت امام حسن ابن علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ قرآن قیامت کی نشانی ہے۔ حضرت حسنؓ جیسا جوانان بہشت کا سردار جو ترجمہ کرے اس کے مقابلہ کوئی ترجمہ مقبول نہیں ہو سکتا۔

اسلامی مناظر : (مولانا ابو القاسم صاحب) آپ نے مجمع عام میں جھوٹ بولا ہے اور حاضرین کو سخت مغالطہ دیا ہے۔ حضرت حسن ابن علی کرم اللہ وجہہ کا قول آپ کبھی دکھا نہ سکیں گے۔ آپ کے نزدیک جہاں حسن کا لفظ آئے۔ اس سے مراد اگر امام حسن ابن علیؓ ہی ہو سکتے ہیں۔ تو سنو! ابن کثیر میں حسن سے مروی ہے۔ حدثنا الحسن انه (عیسی) لحی الان یعنی حضرت حسن نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں۔ اب آپ کو حضرت حسن کا فرمان تسلیم کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے؟۔

گیارہویں دلیل

” ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل (آل عمران:٤٨)“ ﴿اور سکھائے گا (خدا) اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو کتاب اور حکمت تورات اور انجیل﴾ اس آیت میں خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الكتاب والحكمة اور التوراة والانجيل سکھانے کا وعدہ کیا ہے۔ انجیل تو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ واتينہ الانجیل اس لئے انجیل کا صحیح مطلب ومفہوم سکھلانا ضروری تھا۔ تا ایسا نہ ہو کہ کسی آیت کے مفہوم و مطلب کے سمجھنے میں مسیح کو دقت ہو۔ تورات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کی نازل شدہ تھی۔ وہ اس لئے سکھلانا ضروری ہوا کہ وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا اور بنی اسرائیل کے پاس کتاب تورات تھی۔ مگر وہ غلط معنے کرتے اور يحرفون الكلم عن مواضعه

١٦٨

صفحہ ٥٥٩

کے عادی تھے اور ناحق پر جھگڑا کرنے والے تھے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو تورات نہ سکھاتا تو یہودی آپ کی کوئی بات تسلیم نہ کرتے اور مسیح علیہ السلام ان سے بحث میں مغلوب ہو جاتے۔ تیسری چیز جس کا علم حضرت مسیح علیہ السلام کو دیا گیا ۔ وہ الکتاب والحکمة ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی یہ لفظ اکٹھا آیا ہے۔ اس سے مراد قرآن اور بیان قرآن یعنی تفہیم قرآن یا تفسیر قرآن وغیرہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ خداوند کریم حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن مجید اور اس کی تفسیر کی خود تعلیم دے گا اور وہ اس میں کسی کے شاگرد نہ ہوں گے۔ نیز حضرت مسیح کا نزول قرآن تک زندہ ہونا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔ ورنہ اگر نزول قرآن سے پہلے انہیں علم دیا گیا ہو تو ماننا پڑے گا کہ قرآن حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن مجید سکھلانا اب اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور قرآن مجید پر عمل کریں گے۔

مرزائی مناظر : ”اذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة (آل عمران:٨١)“ سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کو کتاب و حکمت عطا کی گئی۔ لہذا اس سے قرآن مراد لینا جائز نہیں۔

عظیما (نساء:٥٤)“ سے ثابت ہے کہ آل ابراہیم کو الکتاب والحکمة دی گئی۔ حالانکہ قرآن صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔

مراد الخط ہے۔

اسلامی مناظر !: ”اذ اخذ الله میثاق النبیین“ میں الکتاب والحکمة کا ذکر نہیں۔ نیز من تبعیضیہ ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نبی کو کتاب و حکمت کا کچھ نہ کچھ علم دیا گیا ہے۔ ”فقد اتینا آل ابراهیم“ میں آل ابراہیم سے مراد اہل اسلام ہیں۔ کیونکہ ماقبل وما بعد میں مسلمانوں کا ذکر ہے اور اہل کتاب کے حسد کرنے کا بیان ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے حاسدوں کو جلانے کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آل ابراہیم کو الکتاب والحکمة اور ملک عظیم عطاء کیا ہے۔ حضور ﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ اس لئے خداوند کریم نے اہل کتاب کو جتلایا کہ محمد ﷺ بھی آل ابراہیم ہیں۔ پھر اس لئے بھی آل ابراہیم کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعاء کی تھی کہ یا رب مکے والوں میں ایسا رسول پیدا کر

١٦٩

صفحہ ٥٦٠

جو ان کو الکتاب والحکمۃ سکھلاوے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آلِ ابراہیم کو الکتاب والحکمۃ دینے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے اگلی آیت میں ہے ۔”فمنھم من اٰمن بہ ومنھم من صد عنہ“ یعنی بعض اہل کتاب تو اس الکتاب والحکمۃ پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض خود بھی ایمان نہیں لاتے اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں۔ اگر الکتاب والحکمۃ سے صحائف سابقہ مراد لئے جائیں تو اہلِ کتاب تو ان کو مانتے ہیں۔ پھر ان میں روکنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟۔ مرزائے قادیان کے خاص مرید مولوی محمد علی لاہوری نے اپنی تفسیر بیان القرآن حصہ اوّل ص ٣٥٢ پر اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے ۔”یہاں آلِ ابراہیم کو یعنی مسلمانوں کو دو چیزیں دینے کا ذکر کیا ۔ کتاب اور حکمت اور ملکِ عظیم ۔“ تفاسیر کے صد ہا حوالے پیش کئے جائیں۔ آپ تسلیم نہیں کرتے۔ کیا تفاسیر کو صحیح تسلیم کرتے ہو۔ اسی جلالین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ذکر موجود ہے۔ افسوس کہ مطلب کی بات لے کر باقی تمام امور کا انکار کر دیتے ہیں۔ تمام تفاسیر میں مفسرین کرام کا حیاتِ مسیح علیہ السلام پر اتفاق ہے۔ مگر آپ ان تفاسیر کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن مجید میں الکتاب والحکمۃ سے قرآن و بیانِ قرآن مراد ہے۔

بارھویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانہ وتعالیٰ (لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللّٰہ) (نساء:١٧٢)“ ٭ مسیح ہرگز خدا کا بندہ ہونے سے انکار نہیں کرے گا۔ اس آیت میں یستنکف مضارع کا صیغہ ہے۔ اس پر بموجب قواعدِ عربیت حرف لن ہونے سے اس کے معنی مستقبل کے لئے خاص ہو چکے ہیں۔ یعنی زمانہ آئندہ میں ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب مسیح اپنے عبد اور بندہ ہونے کا اظہار کرے گا۔ اس وقت دنیا میں مسیح کو معبود قرار دیا جاتا ہے۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تھے تو قرآن میں اس کا ذکر بصیغہ ماضی ہونا چاہئے تھا۔ یہاں استقبال کے معنوں میں خاص ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کے نزول کے وقت زندہ تھے اور احادیث کے بموجب آخری زمانہ میں نازل ہو کر خدا کی عبودیت کا اقرار کریں گے۔

نوٹ! یہ دلیل میعادی کے مناظرہ میں مولانا محمد شفیع سکھروی نے پیش کی تھی۔ مگر مرزائی مناظر نے آخری وقت تک اس کا کوئی جواب نہ دیا۔

١٧

صفحہ ٥٦١

تیرھویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانه وتعالى وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين (آل عمران:٤٥)“ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام دنیا و آخرت میں ذی وجاہت ہیں اور خدا کے مقرب فرشتوں میں داخل ہیں۔ (فتح البیان ج ٢ ص ٢٤٦) اور (تفسیر ابی السعود ج ٢ ص ٣٧) میں اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملکوتی زندگی یعنی آسمان پر زندہ موجود ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ آپ کی پہلی زندگی میں آپ کو سلطنت نہیں ملی۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ آپ زندگی ہی میں بعد نزول صاحب سلطنت ہوں گے۔ قرآن مجید میں مقربین سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش چونکہ نفخ جبرائیل سے ہوئی تھی۔ اس لئے آپ کو ملائکہ سے نسبت حاصل ہے۔

چودھویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانه وتعالى واذا كففت بني اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات (مائدہ: ١١٠)“ ﴿اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔﴾

خداوند کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا ذکر فرماتے ہوئے بنی اسرائیل کے شر سے ان کو محفوظ رکھنے کا بھی ذکر فرماتے ہیں۔ مرزائیوں کی تفسیر کے مطابق یہودیوں نے حضرت مسیح کو پکڑ کر ذلیل و رسوا کیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ حالانکہ اس جگہ خداوند کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہودیوں کے شر دور کرنے کا ذکر فرما رہے ہیں۔ مرزائیوں کے عقائد کے مطابق پھر یہودیوں کو روک کونسی ہوئی۔ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور یہودیوں کے شر و تجویز سے محفوظ رہنے کی زبردست دلیل ہے۔

نوٹ! یہ دلیل بھی بمقام مبوہ پیش کی گئی تھی۔ مگر مرزائی مناظر اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔

پندرھویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانه وتعالى ومكروا ومكر الله والله خير الماکرین (آل عمران:٥٤)“ ﴿تدبیر کی انہوں نے اور تدبیر کی اللہ نے اور اللہ کی تدبیر سب سے بہتر ہے۔﴾

اس آیت میں خداوند کریم نے یہود کی تدبیر (توہین، صلیب و قتل مسیح) کے مقابلہ میں

١٧١

صفحہ ٥٦٢

فرمایا کہ ہم نے بھی تدبیر کی۔ قواعد عربیہ میں یہ بات مسلم ہو چکی ہے کہ جملہ خبریہ فعلیہ یا اسمیہ بحکم نکرہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے جملہ نکرہ کی صفت میں واقع ہوتا ہے۔ ورنہ اگر معرفہ کے حکم میں ہوتا تو نکرہ کی صفت واقع ہونا ممکن نہ تھا۔ نیز باجماع اہل عربیہ جملہ خبریہ حال واقع ہو سکتا ہے۔ جس کے لئے نکرہ ہونا شرط ہے۔ لہٰذا جملہ مکروا، و جملہ ومکر اللہ کا بحکم نکرہ ہونا ثابت ہوا اور قواعد عربیہ میں یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جب نکرہ کا نکرہ اعادہ کیا جائے تو ثانیہ کے غیر اولیٰ مراد ہوتا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کی تدبیر ان کی تدبیر کے بالکل مغائر تھی اور یہ مغائرت جب ہی ہو سکتی ہے کہ جب تدبیر الٰہی سے رفع جسمانی مراد ہو۔ ورنہ تدبیر الٰہی بقول مرزائیاں بمعنی رفع روحانی یا رفع عزت تدبیر قتل اور صلیب کے بالکل منافی نہیں نیز مکر کے معنی تدبیر خفی کے ہیں اور ظاہر ہے کہ قتل اور صلیب یا بقول مرزائیاں صلیب سے اتار لینا کوئی خفی تدبیر نہیں۔ مخفی تدبیر سوائے رفع جسمانی کے کچھ نہیں ہو سکتی۔ نیز حق تعالیٰ نے اپنی صفت اس مقام پر خیر الماکرین ذکر فرمائی ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی تدبیر سب سے بہتر تھی اور صلیب سے اتار لینا یہ کوئی عمدہ تدبیر نہیں۔ اس کو تو یہود بھی کر سکتے تھے۔ حق تعالیٰ کا خیر الماکرین کی صفت و مقام حمد میں ذکر فرمایا ہے۔ اس طرف مشیر ہے کہ یہ ایک نرالی تدبیر ہے اور ظاہر ہے کہ رفع جسمانی سے زائد اور کوئی نرالی تدبیر نہیں ہو سکتی۔ اگر مرزائیوں، یہودیوں یا عیسائیوں کی طرح مانا جائے تو خدا کی حکمت عملی کا ثبوت نہیں ملتا۔

نوٹ ! ممبو (برما) میں یہ دلیل پیش کی گئی تھی۔ مرزائی مناظر مبہوت ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔

سولہویں دلیل

اسلامی مناظر : ”من يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت مصيراً (نساء: ١١٥) ”جو کوئی رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس پر ہدایت ظاہر ہو چکی اور مؤمنوں کے رستے کے سوا رستے کی پیروی کرے گا۔ ہم اسے اسی طرف پھیرے رکھیں گے۔ جس طرف وہ پھرا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری بازگشت ہے۔“

نبی کریم ﷺ کے طریقہ کی مخالفت کرنے والے گروہ کی ایک علامت صحابہ کے سوا کسی اور راستہ پر چلے گا۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم میں بتایا

١٧٢

گیا ہے۔ مرزا قادیانی کو تسلیم نے بھی امت محمدیہ میں سے ہے۔ جیسا کہ سترہویں دلیل حیات مسیح کے خلاف عقیدہ

مرزائی مناظر

اجماع امت کبھی نہیں ہوا۔

اسلامی مناظر

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ا مرزا قادیانی کے قول کے تھے۔ ابن حزم اپنی کتاب اقرار کرتے ہیں۔ نیز حضر کی طرف کوئی قول اگر و آپ کا مدعا ثابت نہیں ہو

سترھویں دلیل

اسلامی مناظر

ضرور ایک شخص آنے احادیث نبویہ اس بار قدر قطعی اور یقینی طور

حضرت مسیح بن مریم

یہ جسد عنصری کے سا ادریس بھی ہے۔ نسبت عہد قدیم

صفحہ ٥٦٣

گیا ہے۔ مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے لے کر تیرہ سو سال تک کسی شخص نے بھی امت محمدیہ میں سے وفات مسیح کا اقرار نہیں کیا۔ تمام امت محمدیہ کا حیات مسیح پر اجماع رہا ہے۔ جیسا کہ سترہویں دلیل کے ضمن میں ان کی کتب کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ پس حیات مسیح کے خلاف عقیدہ رکھنے والے اسی آیت کے مطابق گمراہ اور جہنمی ہیں۔

مرزائی مناظر : ”ابن حزم اور امام مالک وفات مسیح کے قائل تھے۔ حیات مسیح پر اجماع امت کبھی نہیں ہوا۔ یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔

اسلامی مناظر: آپ کا کوئی حق نہیں کہ اس مسئلہ پر اجماع امت سے انکار کریں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (التبلیغ ص ٥٥٢، خزائن ج ٥ ص ٥٥٢) پر اس مسئلے کو تسلیم کرچکے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے قول کے مقابل میں آپ کا قول معتبر نہیں ہو سکتا۔ نیز ابن حزم حیات مسیح کے قائل تھے۔ ابن حزم اپنی کتاب (الفصل فی الملل والنحل ج ٣ ص ١١٤) میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار کرتے ہیں۔ نیز حضرت امام مالک اور تمام مالکی حیات مسیح کے قائل ہیں۔ حضرت امام مالک کی طرف کوئی قول اگر وفات مسیح کا منقول ہو تو اس کی سند پیش کرو ورنہ ایسی بے دلیل باتوں سے آپ کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔

سترھویں دلیل

اسلامی مناظر : مرزا غلام احمد قادیانی کے حسب ذیل بیانات قابل غور ہیں۔

ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا ...... جس قدر طرق متفرقہ کے رو سے احادیث نبویہ اس بارہ میں مدون ہو چکی ہیں۔ ان سب کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے بلاشبہ اس قدر قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)

حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔“

(توضیح المرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١)

وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے

١٧٣

صفحہ ٥٦٤

گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

(تبلیغ ص ٥٥٢، ٥٥٣، خزائن ج ٦ ص ٥٥٢، ٥٥٣) پر لکھتے ہیں کہ مجھے الہام کیا گیا کہ: ”ان النزول فی اصل مفهومه حق ولكن ما فهم المسلمون حقيقة لان الله تعالى اراد اخفاء ه فغلب قضاء ه ومكره وابتلائه على الافهام فصرف وجوههم عن الحقيقة الروحانية الى الخيالات الجسمانية وكانوا بها من القانعين وبقى هذا الخبر مكتوماً مستوراً كالحب في السنبلة قرنا بعد قرن حتى جاء زماننا ..... فكشف الله الحقيقة علينا ...... فاخبرنی ربی ان النزول روحانی لاجسمانی “ نزول اپنے اصل مفہوم میں حق ہے لیکن مسلمانوں نے اس کی مراد کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اخفاء کا ارادہ کیا۔ پس اس کی تدبیر ابتلاء قضاء فہموں پر غالب رہی۔ اس نے ان کے دلوں کو حقیقت روحانی سے خیالات جسمانی کی طرف پھیر دیا اور وہ اسی پر قانع رہے اور یہ خبر لکھی ہوئی ان کے پاس خوشہ دانہ کے اندر کی طرح مخفی رہی۔ کئی زمانوں تک حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آیا۔ پس اللہ نے ہم پر حقیقت کھول دی اور مجھے میرے رب نے خبر دی کہ نزول روحانی ہے جسمانی نہیں۔“

”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کلہ “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیحؑ کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ در حاشیہ)

”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے ۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١ حاشیہ در حاشیہ)

”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰؑ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر

١٧٤

صفحہ ٥٦٥

اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ص ١١٣)

مندرجہ بالا عبارتوں پر غور کرنے سے حسب ذیل نتائج واضح ہوتے ہیں۔

الف ....... نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے لے کر مرزا کے زمانے تک تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہ رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور ان کا یہ عقیدہ انہی احادیث کی بناء پر تھا۔ جنہیں تواتر کا درجہ حاصل تھا۔ بائبل اور اخبار سے بھی اس عقیدہ کی تائید ہوتی ہے۔

(ملاحظہ ہو نمبر ١،٢،٣)

ب ....... حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ خداوند کریم نے مسلمانوں کے دلوں میں مستحکم کیا۔ کیونکہ اس کا ارادہ اخفاء کا تھا۔ اس کی قضاء اور تدبیر غالب رہی۔ اس نے ان کے دلوں کو حقیقت روحانی کی طرف سے پھیر کر رفع جسمانی کی طرف کر دیا اور مرزا قادیانی کے زمانہ تک یہ حقیقت خوشہ کے اندر دانہ کی طرح مخفی رہی۔ پھر مرزا قادیانی کو الہام کے ذریعہ وفات مسیح کی حقیقت سے مطلع کیا گیا۔

(ملاحظہ ہو نمبر ٤)

ج ....... مرزا قادیانی بھی ملہم ہونے کے بعد بارہ سال تک یعنی ٥٢ سال کی عمر تک مسلمانوں کے عقیدہ کے پابند رہے۔ بلکہ قرآن مجید کی آیات سے بھی سمجھے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور مرزا قادیانی تو حیات مسیح علیہ السلام کا استدلال قرآن سے دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔ پھر ٥٢ سال کی عمر میں ان کو تواتر سے الہام ہوا۔ جس کی بناء پر انہوں نے عقیدہ تبدیل کر لیا۔

(ملاحظہ ہو نمبر ٥،٦،٧)

لہٰذا ثابت ہوا کہ قرآن وحدیث آثار صحابہ اقوال سلف صالحین اجماع امت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا، مرزا قادیانی بھی قرآن حدیث و آثار صحابہ اقوال سلف صالحین اور اجماع امت کے ماتحت اسی عقیدہ کے پابند رہے۔ عالم قرآن ہو کر بھی انہیں قرآن سے بھی یہی عقیدہ صحیح معلوم ہوا۔ لہٰذا مرزائیوں کا کوئی حق نہیں کہ وفات مسیح علیہ السلام پر کوئی آیت کوئی حدیث یا کوئی قول پیش کریں۔ مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ صرف اپنے الہام کی بناء پر تبدیل کیا ہے۔ اس کے سوا تبدیلی عقیدہ کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے اور مرزا قادیانی کا الہام ان کے مریدوں کے لئے حجت ہو سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے ان کا الہام حجت نہیں۔ جو آیات

١؎ مولوی نور الدین قادیانی بھی جب قرآن اور حدیث پر عامل تھے۔ ان کا عقیدہ حیات مسیح کا تھا۔

(ملاحظہ ہو فصل الخطاب حصہ دوم ص ٧٢)

١٧٥

صفحہ ٥٦٦

مرزائی پیش کیا کرتے ہیں ۔ یہ پہلے بھی موجود تھیں ۔ اگر ان کا تعلق کسی قسم کے وفات مسیح علیہ السلام سے ہوتا تو مرزا قادیانی الرحمٰن علم القرآن کا الہام پا کر قرآن مجید کی آیات کو حیات مسیح علیہ السلام کے لئے بطور دلیل پیش نہ کرتے ۔

مرزائی مناظر: آپ کے لئے مرزا قادیانی کی عبارتوں کا پیش کرنا مفید نہیں ہو سکتا ۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ پہلے میں مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کا پابند تھا۔ آپ کا یہ عقیدہ الہام سے پہلے تھا۔ الہام کے بعد وہ عقیدہ منسوخ ہو گیا۔ نبی کریم ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن جب وحی آگئی تو بیت اللہ کی طرف پڑھنے لگے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی الہام کے پابند تھے۔ مرزا قادیانی الہام کے بعد بھی جو بارہ برس تک حیات مسیح کو مانتے رہے۔ یہ سمجھ کی غلطی تھی اور ملہم الہام کو سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے۔ براہین احمدیہ دعویٰ نبوت سے پہلے کی ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔

اسلامی مناظر: آپ نے تسلیم کر لیا ہے کہ قرآن وحدیث آثار صحابہ اقوال سلف صالحین اور اجماع امت کی موجودگی میں مرزا قادیانی حیات مسیح علیہ السلام کے قائل رہے اور ان کے ذریعہ انہیں وفات مسیح کا علم نہ ہو سکا۔ پس میرا مقصد یہی ہے۔ شکر ہے کہ آپ نے تسلیم کر لیا کہ مرزا قادیانی کے عقیدہ کی تبدیلی قرآن وحدیث کی بناء پر نہیں ۔ بلکہ الہام کی بناء پر ہوئی۔ پس مابہ النزاع امر صرف یہی رہا کہ مرزا قادیانی دعویٰ الہام میں سچے تھے یا کاذب، نبی کریم ﷺ کامل و مکمل شریعت لے کر آئے تھے۔ آپ نے سابقہ شرائع کو منسوخ کر دیا۔ سابقہ شریعتوں میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی جاتی تھی۔ ”فول وجهك شطر المسجد الحرام (البقرة : ١٤٤)“ کی آیت نازل ہونے سابقہ احکام منسوخ ہو گئے۔ آپ نے یہ مثال دے کر ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی ناسخ شریعت محمدیہ تھے۔ جو امر شریعت محمدیہ سے ثابت تھا۔ وہ ان کے الہام سے بدل گیا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نسخ عقائد واخبار میں بھی ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پہلے زندہ تھے اور مرزا قادیانی پر الہام کے وقت فوت ہو گئے تھے۔ تیسرا امر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وہ نمازیں جن میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تھا درست تھیں۔ اسی طرح آپ کو ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ الہام سے پہلے صحیح تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود تھے۔ اس کے بعد اگر ان کی وفات ہوئی ہو تو اس کا بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے۔ عقائد میں سے نہیں۔ ان میں تبدیلی

١٧٦

صفحہ ٥٦٧

ہو سکتی ہے۔ نیز مرزا قادیانی کے نزدیک ’حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مشرکانہ ہے۔‘

(دافع البلا ص ١٥، خزائن، ج ١٨ ص ٢٣٥ ملخصاً)

مگر بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شرک نہ تھا۔ لہٰذا یہ مثال بالکل بے محل ہے۔ براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت بقول خود مرزا قادیانی ”خدا کے نزدیک رسول تھے۔“

(ایام الصلح ص ٧٥، خزائن، ج ١٤ ص ٣٠٩)

مرزا قادیانی کا اپنا قول ہے کہ وہ انبیاء کی اپنی ہستی کچھ نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس طرح بالکل خدا کے تصرف ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایک کل انسان کے تصرف میں ہوتی ہے۔..... انبیاء نہیں بولتے جب تک خدا ان کو نہ بولائے اور کوئی کام نہیں کرتے جب تک خدا ان سے نہ کرائے...... ان سے وہ طاقت سلب کی جاتی ہے۔ جس سے خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی انسان کرتا ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں جیسے مردہ۔

(ریویو)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ براہین احمدیہ میں لکھا تھا وہ خدا کی مرضی کے مطابق تھا۔ اس میں اجتہادی غلطی کا اثر نہیں ہو سکتا نیز براہین احمدیہ کی تصنیف سے پہلے مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا۔ ”الرحمٰن علم القرآن یعنی خدا نے تمام علوم قرآن کا علم انہیں عطاء کیا تھا۔ وہ بقول خود مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی۔“

(اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ آخر میں)

پھر یہ کتاب بقول مرزا قادیانی ”آنحضرتﷺ کے دربار میں پیش ہو کر منظور ہوئی اور اس کا نام عالم رویا میں قطبی رکھا گیا۔ اس مناسبت سے کہ یہ کتاب قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔“

(انتہی ملخصاً حاشیہ براہین احمدیہ ص ٢٤٨، ٢٤٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)

نیز بقول مرزا قادیانی نے انہیں کتاب تفسیر دی تھی۔

پس مرزا قادیانی نے بقول مرزائیاں خدا سے علم قرآن سیکھ کر حضرت علیؓ سے کتاب تفسیر لے کر ملہم، مامور اور رسول اللہ ہو کر براہین احمدیہ کو تالیف کیا اور بعد تالیف یہ کتاب آنحضرتﷺ کے دربار میں پیش ہو کر منظور ہو چکی۔ اس کا نام قطبی رکھا گیا۔ کیونکہ اس میں مندرجہ مسائل ایسے تھے جو قطبی ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم تھے۔ پس تعجب ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام جیسا مشرکانہ عقیدہ اس میں کیسے باقی رہا اور اس مشرکانہ عقیدہ کی تائید میں قرآن مجید سے آیات بھی نقل ہوئیں اور وہ آیات (جواب مرزائی وفات مسیح پر پیش کرتے ہیں) مرزا قادیانی کی نگاہ سے غائب رہیں۔

١٧٧

صفحہ ٥٦٨

مرزائیوں کے لئے دو راستے ہیں۔ یا تو تسلیم کر لیں کہ مرزا قادیانی اپنے دعاوی الہام علم قرآن وغیرہ میں کاذب تھے۔ یا حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ قرآن مجید کے رو سے صحیح تسلیم کر لیں۔ کیونکہ اس عقیدہ پر قرآن اور آنحضرت ﷺ کی تصدیق حاصل ہو چکی ہے اور وہ اسماء اسی کتاب میں درج ہے۔ جو بموجب الہام قطبی ستارے کی طرح ہے۔

مرزا قادیانی بارہ سال تک بقول خود مشرک رہے۔ حالانکہ لکھتے ہیں کہ ”یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جب کہ ان انبیاء کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام پر چلاویں۔“ تو گویا خدا کے احکام کو عملدرآمد میں لانے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ خود ہی خلاف ورزی کریں تو وہ عملدرآمد کرنے والے نہ رہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نبی نہ رہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے مظہر اور اس کے افعال واقوال کے مظہر ہوتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ان کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔

(ریویو)

آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی رسمی عقیدہ کے طور پر حیات مسیح علیہ السلام کے قائل رہے۔ یہ بھی دو وجہ سے باطل ہے۔ اول اس لئے کہ مرزا قادیانی نے براہین میں اپنا یہ عقیدہ ایک الہام کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس الہام کا مفاد یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیاسی حیثیت سے ان منکروں کی سرکوبی کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے۔ دوم اس لئے کہ مرزا قادیانی نے رسمی عقیدہ کے طور لکھ دیا تو جب یہ کتاب بقول مرزا قادیانی آنحضرت کے دربار میں قبولیت حاصل کر رہی تھی۔ کیا اس وقت یہ تمام بیانات جن میں حضرت مسیح کی حیات اور رفع آسمانی اور نزول ثانی مرقوم تھے۔ ان کا اخراج عمل میں آیا تھا اور ان بیانات کی موجودگی میں یہ کتاب آنحضرت ﷺ سے تصدیق حاصل کر چکی ہے؟۔

اٹھارویں دلیل

اسلامی مناظر : ”قال سبحانہ وتعالیٰ وما انزلنا عليك الكتاب الا لتبين لهم الذی اختلفوا فیہ (النحل : ٦٤)“ ٭ اور ہم نے اتاری آپ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنائیں ان کو کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں۔

”وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم (النحل : ٤٤)“ ٭ اتارا ہم نے آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ بیان کر دیں لوگوں کو جو کچھ نازل کیا گیا ان کی طرف۔

خداوند تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دنیا میں اس لئے بھیجا۔ تاکہ ہر گمراہی و بدعت کا قلع قمع فرمادیں۔ قرآن مجید کی آیات کے مطالب واضح کر کے سمجھائیں۔ اس لئے ناممکن تھا کہ نبی کریم ﷺ کوئی

١٧٨

صفحہ ٥٦٩

ایسی بات فرماتے۔ جس سے کسی قسم کی غلط فہمی یا گمراہی پھیلنے کا خطرہ ہو سکتا۔ نبی کریم ﷺ کو قرآن مجید میں مومنین کے لئے حریص علیکم اور رؤف و رحیم فرمایا گیا ہے۔

حضور ﷺ اپنی امت پر رفیق و شفیق تھے اور ”علمك مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما (نساء:١١٣)“ کی آیت حضور ﷺ کے وسعت علم پر دال ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صدہا احادیث میں فرمایا کہ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ احادیث میں مسیح ابن مریم عیسیٰ بن مریم یا ابن مریم تین الفاظ موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک دفعہ بھی غلام احمد ابن چراغ بی بی نہیں فرمایا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے تھے تو کیا وجہ ہے کہ کسی ضعیف سے ضعیف حدیث بلکہ کسی موضوع حدیث میں بھی کسی صحابی کا یہ سوال کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ نزول مسیح سے کیا مراد ہے۔ منقول نہیں ہے۔ صحابہ کرام جو دین کے معاملہ میں بہت محتاط تھے کیا وجہ ہے کہ تمام عمر سنتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور کسی موقعہ پر انہیں اس کی حقیقت معلوم کرنے کا اشتیاق پیدا نہ ہو اس سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور تمام صحابہ کرام کا عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی آخری زمانہ میں تشریف لائیں گے۔ دین ایک معمّہ نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کے سامنے معمّے پیش نہیں کئے۔ بلکہ کھول کھول کر تمام مسائل بیان فرمائے ہیں۔

نوٹ! کسی مرزائی مناظر نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

انیسویں دلیل

اسلامی مناظر : علم معانی کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ لا استعارة فی الاعلام اعلام میں استعارہ نہیں ہوتا۔ لفظ مسیح علم (Propernoun) ہے بموجب علم معانی اس سے استعارہ مراد لینا کسی طرح جائز نہیں آنحضرت ﷺ نے احادیث میں مسیح ابن مریم عیسیٰ ابن مریم یا ابن مریم کے آنے کی خبر دی ہے۔ لہٰذا مسیح بن مریم سے کسی دوسرے شخص کو مراد لینا جائز نہیں۔ غلام احمد ابن چراغ بی بی مراد نہیں ہو سکتا۔ مختصر المعانی میں ہے۔ ”لاتكون الاستعارة علما من انها تقتضی ادخال المشبه فی جنس المشبه به الا اذا تضمن العلم نوع وصفیة اس کے حاشیہ دسوقی میں ہے۔ المتضمن نوع وصفیة هو ان يكون مدلوله مشهورا بوصف بحيث متی اطلق ذلك العلم فهم منه ذلك الوصف فلما كان العلم المذكور بهذه الحالة جعل كانه موضوع لذات المستلزمة“

١٧٩

صفحہ ٥٧٠

بیسیویں دلیل

”عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة“

(ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠ تحت آیت انی متوفیک وابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩ تحت آیت انی متوفیک)

روایت ہے کہ حضرت حسنؓ سے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے یہودیوں سے کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں ہیں اور وہ ضرور قیامت سے پہلے تمہاری طرف آنے والے ہیں۔

مناظر مرزائی: یہ حدیث معتبر نہیں مرسل ہے۔

اسلامی مناظر : ابن کثیر اور ابن جریر جیسے جلیل القدر مفسرین نے اس کو نقل کیا ہے اور اس پر جرح نہیں کی تہذیب التہذیب میں ہے کہ مرسلات حسن سب صحیح ہیں۔

اکیسویں دلیل

اسلامی مناظر :”عن الربيع قال النبى ﷺ الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى يأتى عليه الفناء (ابن جریر ج ٣ ص ١٦٣، تحت آیۃ الکرسی وابن ابی حاتم) “ حضرت ربیعؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے (نجران کے عیسائیوں) سے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے۔ وہ مرے گا نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔﴿

نجران کے عیسائی حضور علیہ السلام سے مدینہ پاک میں مناظرہ کو آئے تھے تو حضورﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کی تردید میں بیان فرمایا تھا کہ خدا تو زندہ ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔ تو پھر کیسے خدا ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں اور پھر مریں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے ہوتے تو نبی کریمﷺ الوہیت مسیح کے ابطال کے لئے مر جانے کا ذکر فرماتے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ تھے اور مردوں میں داخل نہ تھے۔

مرزائی مناظر : یہ حدیث مرسل ہے اور قابل حجت نہیں

اسلامی مناظر : اس حدیث کا نا قابل استناد یا نا قابل حجت ہونا کسی دلیل سے ثابت کرو۔ ورنہ صرف آپ کے کہنے سے ایسی حدیث جس کو مفسرین نے صدہا احادیث میں سند صحیح کے ساتھ درج کیا ہے۔ وہ مجروح نہیں ہوسکتی۔

١٨٠

صفحہ ٥٧١

بائیسویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانه وتعالى اذ قال الله ياعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران:٥٥)“ ترجمہ: (از حضرت شاہ عبد القادر صاحب دہلویؒ) جس وقت کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو بھر لوں گا اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا کافروں سے اور جنہوں نے تیری پیروی کی انہیں ان پر جنہوں نے انکار کیا فوقیت دینے والا ہوں قیامت کے دن تک۔ ﴾

یہ آیت اس بات پر زبردست اور محکم دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ آیت میں لفظ عیسیٰ مراد ہے۔ نہ فقط جسم اور نہ ہی فقط روح بلکہ جسم مع الروح یعنی زندہ عیسیٰ۔ ہر چہار ضمیروں کے خطاب کے مخاطب وہی ایک عیسیٰ زندہ بعینہ ہے۔ کیونکہ ضمیر خطاب معرفہ ہے اور بوجہ تقدیم عطف و تاخیر ربط اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ چاروں واقعات (توفی، رفع، تطہیر، غلبہ تابعین) قیامت سے پہلے پہلے بعینہ حضرت عیسیٰ زندہ کے ساتھ ہو جائیں گے اور صیغہ اسم فاعل آئندہ کے لئے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے: ”وانا لجاعلون ماعليها صعيداً جرزا (کہف:٨)“ یعنی ہم یقیناً اسے جو اس (زمین) پر ہے ہموار میدان سبزہ سے خالی بنانے والے ہیں۔“ اور مرزا قادیانی کو بھی اس آیت ياعيسى انى متوفيك کا الہام ہوا تھا۔ (براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) حالانکہ مرزا قادیانی اس الہام کے بعد بھی زندہ رہے اور مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) کے حاشیہ پر اس کا ترجمہ لکھا ہے: ”اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔“ اور دوسری جگہ اسی (براہین احمدیہ ص ٥٥٧ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٥) میں اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”اے عیسیٰ میں تجھ کو کامل اجر بخشوں گا۔“

امام فخر الدین رازیؒ نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ توفی کی تین نوع ہیں۔ ایک موت۔ دوسری نوم۔ تیسری اصعاد الی السماء یعنی آسمان پر اٹھانا۔ اس جگہ پر آسمان پر اٹھانا مراد ہے۔

توفی کے حقیقی معنے ایک چیز کو پورا پورا لینا۔ اخذ الشئی وافيا استيفاء شئی یا اتمام شئے ہے جس جگہ بھی موت کے معنے لئے گئے ہیں۔ وہ بطور کنایہ کے ہیں۔ قرآن میں جس جگہ بھی توفی کا لفظ موت کے معنوں میں آیا ہے وہاں قرینہ موجود ہے۔ توفی ایک جنس ہے۔ لہٰذا اس کے تعیین اور ازالہ وہم کے لئے کسی قرینہ کی حاجت ہوگی۔ (سلم العلوم) اور پہلی دلیل کے ضمن

١٨١

صفحہ ٥٧٢

میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ بل رفعه الله الیہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ہوا۔ اس جگہ خداوند کریم نے انی متوفیک کا ذکر فرمایا ہے۔ امام فخر الدین رازیؒ تفسیر (کبیر ج ٨ ص ٧٢) پر فرماتے ہیں: ان التوفی اخذ الشئ وافيا ولما علم الله تعالى ان الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله تعالى هو روحه ولا جسده وذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة و السلام رفع بتمامه الى السماء وبروحه وبجسده “

٭ یعنی توفی کے معنے کسی شے کو بجمیع اجزاء لے لینے کے ہیں۔ چونکہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگوں (جیسے مرزائیوں کو) یہ وسوسہ پیش آئے گا کہ حق تعالیٰ نے صرف روح کو اٹھایا اور بدن کو نہیں۔ اس لئے متوفیک فرمایا۔ تا کہ معلوم ہو جائے کہ بروحہ وبجسدہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ٭

آگے چل کر امام ممدوح اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر یہ شبہ کیا جائے تو جب توفی اور رفع جسمانی کا ایک ہی مصداق ہے اور دونوں شئی واحد ہیں۔ تو رفعک کا ذکر کرنا تکرار ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ توفی ایک جنس کا مرتبہ ہے۔ تاوقتیکہ اس کے ساتھ کوئی قید منضم نہ کی جائے۔ اس وقت تک اس کی مراد نہیں معلوم ہو سکتی۔ اس لئے غور کیا گیا کہ وہ کون سی قید ہے کہ جو اس جنس سے ساتھ منضم ہو سکتی ہے۔ معلوم ہوا کہ قبض روح مع الارسال اور قبض روح مع الامساک اور اصعاد الى السماء ، اول کا نام نوم ہے اور ثانی کا نام موت ہے اور ثالث کا نام رفع جسمانی ہے۔ چونکہ تینوں نوع اسی ایک جنس توفی کے تحت میں درج تھیں۔ اس لئے ایک نوع متعین کرنے کے لئے لفظ رفعک آیت قرآنی میں اضافہ کیا گیا۔ تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ توفی کی کون سی نوع مراد ہے۔ اگر توفی سے مراد نوم لی جائے تو اس کے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ اے عیسیٰ ہم تمہیں سلا دیں گے اور آسمان کی طرف اٹھا لیں گے۔ جیسا کہ تفسیر معالم التنزیل اور درمنثور میں ہے کہ بوقت رفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام حالت نیند میں تھے۔ علامہ زمخشری نے (اساس البلاغہ جلد دوم ص٣٠٢ مطبوعہ مصر اور تاج العروس شرح قاموس ج ١٠ ص ٣٠١) پر ہے کہ توفی سے مراد موت لینا معنے مجازی ہے۔ ومن المجاز ادركته الوفاة اور معنی مجازی مراد لینا وہاں جائز ہے۔ جہاں حقیقت متعذر ہو۔ مجاز کی طرف جب ہی رجوع کیا جاتا ہے کہ جب معنی حقیقی کا ارادہ ناجائز اور ممتنع ہو جائے ورنہ جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہوگا۔ اس وقت تک مجاز کی طرف ہرگز رجوع نہیں کیا جائے گا۔ (مسلم الثبوت)

شرح عقائد نسفی میں ہے النصوص تحمل على ظواهرهاوصرف النصوص عن

١٨٢

صفحہ ٥٧٣

ظواهرها الحاد جو بظاہر نص سے پھیر دینا قطعی کفر ہے اور اس سے تجاوز کرنا ناجائز و حرام ہے۔ بلکہ الحاد اور زندقہ ہے۔ لہٰذا اس آیت میں توفی کے حقیقی معنے لئے جائیں گے اور موت کے معنے میں اس جگہ یہ لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔

پس اس آیت سے ثابت ہوا ہے کہ خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قرآن میں لفظ التوفی سے ان کے رفع جسمانی کو ظاہر فرمایا۔

مرزائی مناظر : مرزا قادیانی نے براہین میں متوفیک کے جو معنے کئے ہیں وہ مامور و مرسل ہونے اور وفات مسیح کے الہام سے پہلے کے ہیں۔ لہٰذا آپ انہیں ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکتے ۔

کہ اللہ فاعل ہو اور مفعول ذی روح ہو ۔ باب تفعل ہو اور وہاں نوم کا قرینہ موجود نہ ہو تو جو شخص لفظ توفی سے موت کے سوا کوئی اور معنی قرآن یا لغت عربیہ سے ثابت کر دے گا۔ اس کو ایک ہزار روپیہ نقد انعام دیا جائے گا۔ اس چیلنج کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ آج تک کسی کو یہ انعام حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ آپ میں بھی ہمت ہے تو یہ انعام حاصل کر لیں ۔

کئے ہیں۔ دیکھو تعلیقات بخاری ۔ پس حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے مقابلہ میں کسی کی تفسیر معتبر نہیں ہو سکتی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے دعا کی تھی اور صحیح بخاری اصح الکتب ہے۔ اس میں یہ قول موجود ہے۔

ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تین گھنٹہ یا سات گھنٹہ مر گئے تھے ۔

اسلامی مناظر : پہلے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت مرزا قادیانی ملہم مامور اور مجدد ہونے کے مدعی تھے اور الرحمن علم القرآن کا انہیں الہام ہو چکا تھا۔ مگر آپ کی اطمینان کے لئے (سراج منیر ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٣ حاشیہ ) کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ سراج منیر لکھتے وقت مرزا قادیانی مدعی رسالت اور حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔ حاشیہ مذکور پر اس الہام یا عیسیٰ انی متوفیک کے متعلق لکھتے ہیں کہ الہام کے یہ معنے ہیں کہ ”میں تجھے اپنی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا ۔“ پس ثابت ہوا کہ متوفیک کے معنے موت سے بچانے کے ہیں ۔ پس مرزائیوں کا کوئی حق نہیں کہ اُس جگہ توفی کے معنی موت مراد لیں۔

١٨٣

صفحہ ٥٧٤

میں مرزائے قادیان کی اس تحدی کو توڑنے کے لئے آمادہ ہوں۔ مرزائیوں کو چیلنج دیئے گئے مرزا محمود کو رجسٹری کر کے خط لکھے۔ ’’عدل‘‘ میں مکتوب مفتوح شائع کیا۔

رسالہ شمس الاسلام میں اتمام حجت کے لئے کھلا چیلنج دیا۔ ہر مناظرہ میں اعلان کیا جاتا ہے۔ مگر مرزائی حلقوں میں موت کا سناٹا طاری ہے۔ کسی جانب سے کوئی آواز نہیں آتی۔ ہر مناظرہ میں للکار کر کہا جاتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو تحدی کرنے والے کے خلف وخلیفہ مرزا محمود کی سند نمائندگی و نیابت حاصل کر کے بعد تصفیہ شرائط میرے ساتھ فیصلہ کرو۔ مگر کیا وجہ ہے کہ طوطے کی طرح ہر جگہ ایک ہی سبق رٹنا آپ نے اپنا شعار بنالیا ہے۔ عوام الناس کے سامنے اس چیلنج کا ذکر کر کے ان کو مغالطہ دینا آپ کا شیوہ ہو چکا ہے۔ مرزائیو! مرد میدان بنو۔ اگر کچھ شرم وحیا ہے تو اس چیلنج کا کبھی نام نہ لو۔ یا اگر ہمت ہے تو میرے ساتھ آخری فیصلہ کرو۔

نوٹ! مناظروں میں کسی جگہ مولانا ابوالقاسم کے چیلنج کو قبول کرنے کی مرزائیوں کو ہمت نہ ہوئی۔ اشتہار بھی طبع کرا کر تمام پنجاب میں تقسیم کئے گئے۔ ١٩٣٢ء کے جلسہ قادیان پر کئی سو اشتہار تقسیم ہوئے۔ مگر مرزائی ساکت وصامت ہیں۔

ہیں۔ (طبقات ابن سعد ج١ ص ٤٥) پر حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ: ’’ان اللہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الآن وسیرجع الی الدنیا فیکون فیہا ملکًا ثم یموت کمایموت الناس‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم کے ساتھ اٹھالیا اور وہ یقیناً زندہ ہیں اور دنیا پر پھر آئیں گے اور اس میں بادشاہی کریں گے۔ پھر عام آدمیوں کی طرح وفات پائیں گے۔

ایسی ہی صحیح روایت تفسیر (روح المعانی ج ٣ ص ١٨١، تفسیر ابی السعود ج ٢ ص ٤٣، تفسیر فتح البیان ج ١٣ ص ٣٦٨) پر موجود ہے۔

پس مرزائیوں کا فرض ہے کہ رئیس المفسرین کی تفسیر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو جائیں۔ ممات کی یہ تفسیر حضرت ابن عباسؓ سے ثابت نہیں۔ حافظ ابن جریر طبری نے اس قول کو (جلد ٣ ص ٢٩٠) پر نقل کیا ہے۔ اس میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرنے والے راوی کا نام علی بن طلحہ ہے جس کی نسبت (میزان الاعتدال ج ١ ص ١٦٣) میں اور (تہذیب التہذیب ج ٢ ص ٢١٣) میں ضعیف الحدیث لکھا ہے۔ نیز ضعیف الحدیث اور منکر الحدیث

١٨٤

صفحہ ٥٧٥

ہونے کے علاوہ حضرت ابن عباس سے اس کا سماع بھی ثابت نہیں۔ اس نے حضرت ابن عباس کو دیکھا بھی نہیں۔ پس یہ روایت روایات صحیحہ کے مقابلہ میں پیش نہیں ہو سکتی۔

بخاری کے اصح الکتب ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کتاب کی حدیث مرفوعہ نہایت صحیح اور قابل اعتماد ہیں۔ اس پر اجماع ہے۔ مگر تعلیقات اور موقوفات کے متعلق یہ اجماع نہیں ہے۔ یہ روایت تعلیقات میں سے ہے۔ پس یہ اس اجماع سے خارج ہے۔ حافظ ابن صلاح کے (مقدمہ علم الحدیث ص ٣٠) میں اس امر کی تصریح موجود ہے۔

تفسیر (فتح البیان ج ٢ ص ٢٤٦) پر اس قول کے بعد درج ہے۔ وفيه ضعف اور تفسیر (ابن کثیر ج ٢ ص ٤٩) پر ہے: ”والنصارى يزعمون ان الله تعالى توفاه سبع ساعات ثم احياه“ یعنی نصاریٰ کا یہ گمان ہے کہ حق تعالیٰ نے سات گھنٹہ (مسیح کو ) مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا اور تفسیر (روح المعانی ج ٣ ص ١٥٨) پر اس قول کے متعلق ہے کہ: ”انها من زعم النصارى“ یہ نصاریٰ کے گمان میں ہے اور ماهو الا افتراء وبهتان عظيم ! اور یہ افتراء اور بہتان عظیم ہے۔ مفسرین کرام کا اتفاق ہے کہ:

”والصحيح كما قاله القرطبى ان الله تعالى رفعه من غير وفاة ولا نوم وهو اختيار الطبرى والرواية الصحيحة عن ابن عباس (روح المعانى ج ٣ ص ١٥٨) ٭اور امام قرطبی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو بغیر موت اور نیند کے زندہ اُٹھا لیا اور عبداللہ بن عباس کا صحیح قول یہی ہے۔٭

قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے در پے تھے۔ قتل کا سامان تیار تھا۔ اس وقت خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے ان سے توفی ورفع کا وعدہ فرمایا۔ اب اگر توفی کے معنی موت کے لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہودی مارنے کے در پے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا سے التجا کی۔ خدا نے بھی فرمایا کہ میں تمہیں مارنے والا ہوں۔ بتاؤ اس میں کونسی تسلی ہے؟ اور قرآن میں اس جگہ موت کے معنی کرنے سے کلام میں کونسی خوبی پیدا ہوتی ہے؟۔ جبکہ محافظ حقیقی بھی مارنے پر آمادہ ہو چکا ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تسلی و اطمینان کا کونسا موقع ہو سکتا تھا؟۔ پس اس جگہ موت کے معنی لینا قواعد عربیت سیاق وسباق قرآن اور رفعک کی قید کے ہوتے ہوئے لینا کسی طرح جائز نہیں۔

١٨٥

صفحہ ٥٧٦

نیز قرآن میں توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہے اور آیت بل رفعه الله الیه کے مطابق رفع فتنہ صلیبی کے وقت ہوا۔ اگر اس جگہ توفی کے معنی موت کے لئے جائیں تو یہود کا قول انا قتلنا المسیح سے ثابت ہوتا ہے۔ موت کا سامان اس وقت وہی تھا جو یہودیوں نے تیار کر رکھا تھا اور اگر سوائے قتل کے موت کا اور ذریعہ تسلیم کیا جائے تب بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فتنہ صلیبی کے وقت فوت ہوئے تھے۔ اس سے کشمیر کی زندگی کا قصہ باطل ثابت ہوتا ہے۔ مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فتنہ صلیبی کے بعد کشمیر میں ٨٧ سال زندہ رہنے کے قائل ہیں۔ لہٰذا ان کے عقیدہ کے مطابق بھی اس جگہ توفی کے معنی موت کے نہیں لئے جاسکتے۔

تئیسویں دلیل

اسلامی مناظر: ”قال سبحانه تعالیٰ وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (مائدہ: ١١٧) ﴿میں اس پر نگہبان رہا۔ جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر مطلع رہا۔﴾

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن امت کے بارہ میں سوال ہوگا تو یہ ارشاد فرمائیں گے کہ جب تک میں زندہ رہا۔ اس وقت تو میں نگہبان رہا اور جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا اس وقت آپ ہی نگہبان تھے۔ اس میں لفظ توفیتنی کا ترجمہ حضرت شیخ سعدیؒ نے ”مرا گرفتی“ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ”برگرفتی مرا“ کیا ہے۔ تفسیر (فتح البیان ج ٢ ص ٩٣) میں اس کا معنی ”فلما رفعتنی الی السماء“ کیا گیا ہے۔ (روح المعانی ج ٧ ص ٦٠) پر مذکور ہے : ”فلما توفیتنی“ ای قبضتنی بالرفع الی السماء ۔ تفسیر (خازن ج ١ ص ٥٤٢) پر مرقوم ہے: ”فلما توفیتنی“ یعنی فلما رفعتنی فالمراد بہ وفاة الرفع لاالموت!

پس اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا ثابت ہے۔

مرزائی مناظر: اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ قیامت کے دن میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کہوں گا: ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (صحیح بخاری) “ میں آنحضرتﷺ نے اپنے لئے بھی حضرت مسیح کی طرح توفیتنی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح نبی کریمﷺ کی توفی ہوئی اسی طرح مسیح علیہ السلام کی بھی ہوئی۔ رفع آسمانی مراد لینا کسی طرح جائز نہیں۔

١٨٦

صفحہ ٥٧٧

کا عقیدہ بگڑنے کا علم نہیں۔ بلکہ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ورنہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب غلط ہوگا۔ کیونکہ بعد نزول وہ نصاریٰ کے عقیدہ سے مطلع ہو چکے ہوں گے۔

نیز اسی آیت سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی زندگی میں عیسائی نہیں بگڑے۔ پس اب وجود تثلیث کے ہوتے ہوئے ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں۔

بعد توفی جس کے متعلق فرمائیں گے کہ کنت انت الرقیب علیھم! تیسری کسی زندگی کا اس آیت میں ذکر نہیں۔ پس اس آیت کے مطابق جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے اپنے حواریوں میں موجود رہے ۔ آسمان کی زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

اسلامی مناظر: توفی کی بحث بائیسویں دلیل کے ضمن میں ہو چکی ہے۔ اس آیت سے توفیتنی سے مراد ”جبکہ تو نے مجھے مار دیا“ لینا از روئے قواعد عربیت جائز نہیں۔ صحیح بخاری کی جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس میں نبی کریمﷺ نے اپنے قول کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور یہ نہیں فرمایا ”فاقول ماقال العبد الصالح“ بلکہ ”فاقول کما قال“ فرمایا۔ کیونکہ عبارت اولیٰ کا مطلب تو یہ ہے کہ میں وہی کہوں گا جو حضرت عیسیٰ کہیں گے اور عبارت ثانیہ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کی مانند کہوں گا۔ لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ نبی کریمﷺ کی توفی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کے بالکل مغائر ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ مسلم ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ مغائر ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ کی توفی بذریعہ موت ہوئی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی قطعاً یقیناً رفع جسمانی اور اصعاد الی السماء کے ذریعہ سے ہونی چاہئے۔ قرآن کریم میں ہے:”انا ارسلنا الیکم رسولا شاھداً کما ارسلنا الی فرعون رسولا (المزمل:١٥)“ یعنی ہم نے تمہاری طرف رسول شاہد بھیجا۔ جیسا کہ فرعون کی طرف رسول بھیجا گیا تھا۔ اب مرزائیوں کے قول کے مطابق نبی کریمﷺ کی رسالت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت ایک جیسی ہونی چاہئے۔ کیونکہ ان کے نزدیک مشبہ اور مشبہ بہ میں مشارکت تام ہونی چاہئے۔ حالانکہ رسول اللہﷺ کی رسالت عامہ اور موسیٰ علیہ السلام رسالت خاصہ ہے۔

علیہ السلام نصاریٰ کے بگڑنے سے لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال

١٨٧

صفحہ ٥٧٨

اشاعت تثلیث کا نہ ہوگا۔ بلکہ تعلیم تثلیث کے متعلق پوچھا جائے گا کہ أنت قلت للناس! کیا تم نے اس کی تعلیم دی تھی؟۔ تم ہو یا کوئی اور؟ اس کا جواب آپ نفی میں دیں گے۔ علم کے متعلق کوئی سوال ہی مذکور نہیں ۔ مرزا قادیانی نے (کشتی نوح ص ٦٠ ،خزائن ج ١٩ ص ٧٥ ملخص حاشیہ) پر تسلیم کیا ہے کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ہی میں ( قیام کشمیر کے دوران میں ) حواریوں میں تثلیث کا عقیدہ رائج ہوگیا تھا ۔“ مزید ملاحظہ کریں۔ ( چشمہ معرفت ص ٢٥٤ ،خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦ ،تحفہ گولڑویہ ص ١٢ ، خزائن ج ١٧ ص ٣١١) لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح کی زندگی میں یہ عقیدہ نہیں پھیلا۔ مرزا قادیانی کی تصریح کے خلاف ہے اور آیت قرآنی سے آپ کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ نیز مرزا قادیانی ( آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٨ ،خزائن ج ٥ ص ایضاً حاشیہ ) میں تسلیم کرتے ہیں کہ ” نصاریٰ کی ابتری کا حال آسمان پر بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو معلوم ہے۔“ پس کذب بیانی کا الزام بموجب تعلیم مرزا پہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔

لئے وہ ترتیب کا فائدہ دیتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مادمت فيهم فوراً بعد توفی ہوئی۔ پس بموجب عقیدہ مرزائیہ فتنہ صلیبی کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہوئی۔ مگر مرزا قادیانی فتنہ صلیبی کے بعد کشمیر میں ٨٧ سال کی زندگی کے قائل ہیں۔ نیز أنت قلت للناس میں لام تبلیغ کے لئے ہے۔ للناس سے مراد حواری ہیں۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تمام عمر حواریوں میں رہنا ضروری ہے۔ مگر مرزائی اس کے برعکس مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روپوش ہو کر کشمیر چلے گئے اور وہاں ٨٧ سال زندہ رہ کر فوت ہوئے۔ پس آپ جہاں سے ٨٧ سال زندگی ثابت کریں گے وہیں سے آسمان کی زندگی بھی ہم ثابت کر دیں گے۔ جس طرح آپ ایک تیسری زندگی کے قائل ہیں اسی طرح ہم بھی ہیں۔ اس سے ماننا پڑتا ہے کہ اس جگہ توفیتنی سے موت کے معنے لینا کسی طرح جائز نہیں۔

نوٹ : مولانا ابوالقاسم کے اس الزامی جواب کا کوئی معقول یا غیر معقول جواب کسی مناظرہ میں کسی مرزائی مناظر نے نہیں دیا۔

چوبیسویں دلیل

اسلامی مناظر : ’ ’قال سبحانه تعالى هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله (توبہ: ٣٣)‘‘ ٭ خدا وہ ہے کہ جس نے اپنا رسول ہدایت دے کر بھیجا۔ تاکہ تمام مذاہب پر دین حق کو غالب کرے۔ ٭

١٨٨

صفحہ ٥٧٦

اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کا ارشاد ہے۔ کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے عہد میں اسلام ہی اسلام ہوگا۔ دوسرے مذاہب کا نشان تک نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) پر اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔

مرزائی مناظر : یہ آیت مرزا قادیانی کے حق میں پیشین گوئی تھی۔ مرزا قادیانی کے ذریعہ دنیا کے تمام مذاہب پر اسلام کی فوقیت ظاہر ہوئی۔ دلائل و براہین اسلام کی صداقت میں جو مرزا قادیانی نے لکھے ہیں ان کے ذریعہ غلبہ اسلام کو ہوا۔

اسلامی مناظر : مرزا قادیانی کے ذریعہ جو کچھ اسلام کی فوقیت دنیا پر ظاہر ہوئی اس کی حقیقت ظاہر کرنے کا موقع نہیں۔ آپ کی یہ تفسیر مرزا قادیانی کی تفسیر کے خلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے۔ (حوالہ بالا)“ بتائیے مرزا قادیانی کو سیاست ملکی میں کونسا غلبہ حاصل ہوا۔ تمام عمر انگریزوں کی غلامی پر فخر و ناز کرتے رہے۔ اس لئے یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی پر چسپاں نہیں ہوسکتی۔

پچیسویں دلیل

اسلامی مناظر : ”قال سبحانہ وتعالی عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا (بنی اسرائیل: ٨)“ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے لئے پیشین گوئی موجود ہے۔ یعنی ایک وقت آئے گا جب کہ مخلوق خدا ظلم و گمراہی کی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ اس وقت کے لئے مرزا قادیانی (براہین احمدیہ جلد چہارم ص ٥٠٥ ، خزائن ج ١ ص ٦٠١ حاشیہ) پر اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں: ”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“

مرزائی مناظر : یہ پیشین گوئی بھی مرزا قادیانی کے ظہور سے پوری ہوچکی ہے۔

اسلامی مناظر : مرزا قادیانی کی تصریح کے مطابق مسیح موعود کا جلالیت کے ساتھ آنا ضروری ہے اور اس کے ذریعہ دنیا میں شدت، عنف، قہر و سختی کا ہونا ضروری ہے۔ مگر مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں جمالی رنگ میں آیا ہوں۔ پس مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہوسکتے۔

١٨٩

صفحہ ٥٨٠

چھبیسویں دلیل

امام احمد نے اپنی (مسند ج ٢ ص ٤٠٦ میں اور ابوداؤد ج ٢ ص ٤٣٨ باب خروج الدجال) اور ابن جریر نے حدیث نقل کی ہے جس کے متعلق (فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧) میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد سب صحیح ہیں۔ وہو ہذا:

عن ابی ہریرۃؓ قال النبیﷺ:

”الانبياء اخوة العلات امهاتهم شتى ودينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن نبى بينى وبينه وأنه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوا رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعوا الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال وتقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لاتضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون“

﴿نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ مائیں ان کی مختلف ہیں ۔ دین (اصولاً) سب کا ایک ہے اور میں اور عیسیٰ بہت ہی قریب ہیں۔ کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ ضرور قیامت کے دن نازل ہوں گے ۔ میانہ قد ہوں گے ۔ سرخی اور سفیدی کے مابین ہوں گے اور ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے ۔ گویا ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے ۔ اگر چہ کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہے۔ صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ کو اٹھا دیں گے اور سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے اور حق تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام ملتوں کو منسوخ فرمائیں گے۔ پھر روئے زمین پر امن ہو جائے گا ۔ حتیٰ کہ شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیل کے ساتھ اور بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال ٹھہریں گے اور اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔﴾

ستائیسویں دلیل

اسلامی مناظر : (مشکوٰۃ شریف ص ٣٨٠ ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ) میں ایک حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ : ”ینزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد

١٩٠

صفحہ ٥٨١

له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابي بكر وعمر " حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔ پس میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور عیسیٰ بن مریم ایک ہی قبر سے اٹھیں گے۔ درمیان میں ابی بکرؓ اور عمرؓ کے۔ ﴾

اس حدیث میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور جب کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص لاہور جائے گا تو اس وقت وہ شخص لاہور میں وارد شدہ سمجھا نہیں جاتا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر موجود نہیں ہیں اور آخری زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے اور کئی سال دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔ دنیا میں رہ کر نکاح کریں گے۔ صاحب اولاد ہوں گے۔ بعد وفات آنحضرت ﷺ کے روضہ اقدس میں دفن کئے جائیں گے۔ ثم یموت کے لفظ سے ظاہر ہے کہ ابھی تک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔

(ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ باب ما جاء فی فضل النبی ﷺ ) میں ابو مودودؓ سے روایت ہے کہ : "وقد بقي فى البيت موضع قبر " یعنی روضہ نبویہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ فی قبری سے موضع قبر یعنی مقبرہ مراد ہے۔

مرزائی مناظر: یہ حدیث صحیح نہیں۔ کیونکہ کون بے غیرت مسلمان ہے جو حضور نبی کریم ﷺ کا روضہ کھود کر آپ کی نعش مبارک کو ننگا کر کے حضرت عیسیٰ کو دفن کرے گا۔ قبر بمعنے مقبرہ کسی لغت سے ثابت نہیں۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رؤیا میں صرف تین چاندوں کو روضہ میں دفن ہوتے دیکھا۔ (موطا امام مالکؒ) وہاں تین قبریں موجود ہیں۔ چوتھے چاند کا وہاں دفن ہونا اس رؤیا کے خلاف ہوگا۔ علامہ عینی نے لکھا ہے يدفن في الارض المقدسة اس سے ثابت ہوا کہ علامہ عینی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں دفن ہوں گے۔ الی الارض کا لفظ آسمان سے اترنے کو مستلزم نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید میں بلعم بعور کی نسبت وارد ہے: "ولا كنه اخلد الارض (الاعراف: ١٧٦) " کیا وہ بھی زمین پر نہ تھا۔

اسلامی مناظر: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت کی تصدیق مرزا قادیانی بھی کر چکے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) کے حاشیہ پر اس حدیث کے ایک جملہ یتزوج ويولد له کو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہیں اور اس سے مراد محمدی بیگم سے نکاح اور اس کے بطن سے اولاد حاصل ہونا مراد لیتے ہیں اور اپنے مسیح موعود ہونے کا اسے ایک نشان قرار دیتے ہیں۔

١٩١

صفحہ ٥٨٢

اس لئے مرزائیوں کا کوئی حق نہیں کہ اس حدیث کی صحت پر اعتراض کریں۔

قبر بمعنے مقبرہ (مشکوٰۃ شریف ص ٤٨٠) ملاعلی قاری کی (مرقات ج ١٠ ص ٢٣٣) کے حوالہ میں درج ہے۔ نیز مرزا قادیانی نے بھی ان معنوں کو تسلیم کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آ جائے جو آنحضرتﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢ حاشیہ ) اس حوالہ سے قبر بمعنے روضہ (مقبرہ) بھی مانا گیا ہے اور پاس دفن ہونا بھی مانا گیا ہے۔

ینزل الی الارض! کے بجائے ’اخلد الی الارض (اعراف: ١٧٦)‘ پیش کرنا بے محل ہے۔ اخلد الی الارض میں تو اخلد خود موجود ہے کہ وہ شخص پہلے ہی زمین پر موجود تھا۔ اسی طرح علامہ عینی کا لکھنا بھی ہمارے خلاف نہیں۔ کیا روضہ نبویہ ارض مقدس نہیں؟ ۔ حضرت عائشہؓ کو جو تین چاند دکھائے گئے تھے۔ اس کے مطابق تین چاند ابوبکرؓ، عمرؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام روضہ مبارک میں مدفون ہوں گے۔ نبی کریمﷺ چاند نہ تھے۔ سورج تھے۔ جس کی ضیاء سے یہ چاند روشن ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں صرف تین قبریں تیار ہونے والی تھیں۔ اس لئے صرف تین چاند آپ کو دکھائی دیئے۔ چوتھے چاند حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ ان کی زندگی میں نازل ہوئے اور نہ ہی دفن ہوئے۔ اس لئے رؤیا میں وہ آپ کو نہ دکھائے گئے۔

اٹھائیسویں دلیل

”عن عبداللہ ابن سلام یدفن عیسیٰ ابن مریم مع رسول اللہﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٩، در منثور ج ٢ ص ٢٤٦ ومثلہ فی التاریخ الکبیر للبخاری ج ١ ص ٢٦٣ ثم قال مکتوب فی التوراۃ صفۃ محمدﷺ وعیسی بن مریم یدفن معہ، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ باب فضل النبیﷺ)“ عبداللہ ابن سلامؓ سے روایت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم رسول اللہﷺ اور آپ کے دونوں صحابیوں کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ نیز فرمایا کہ توریت میں محمدﷺ کی صفت درج ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ان کے ساتھ دفن ہوں گے۔ پس اس حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر روضہ اقدس میں چوتھی ہوگی۔

انتیسویں دلیل

”عن عائشہ قالت قلت یارسول اللہﷺ انی اریٰ ان اعیش بعدک

١٩٢

صفحہ ٥٨٣

فتأذن لى ان ادفن الى جنبك فقال انى لك بذالك الموضع مافيه الا موضع قبرى وقبر ابى بكر وعمر وعيسى ابن مريم (المجلد ٦ ص ٥٧ منتخب كنز العمال، ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٥٤ ، کنز العمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث ٣٩٧٢٨) ”حضرت عائشہؓ نے (مرض موت) میں عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں تو مجھے اپنے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت عطا فرمائیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تیرے لئے اس موضعہ میں جگہ نہیں ہے۔ اس میں صرف میری قبر، ابوبکر، عمر اور عیسیٰ بن مریم کی قبر کی جگہ ہے۔ ﴾

تیسویں دلیل

"عن ابا هريرة قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السمآء فيكم وامامكم منكم (کتاب الاسماء والصفات للبيهقى ص ٤٢٤) “

نازل ہوں گے اور حالانکہ تمہارا امام تم میں سے موجود ہوگا۔ ﴾

یعنی ادھر دجال ہوگا ادھر امام مہدی جماعت کو لے کر کھڑے ہوں گے۔ لڑائی تیار ہوگی اور اس طرف نزول مسیح ہوگا تو یہ ایک عجیب کیفیت ہوگی۔ مرزا قادیانی نے امامکم منکم کو ابن مریم پر معطوف بنا کر یوں معنی کیا ہے کہ جب ابن مریم اترے گا اور تمہارا امام جو تم میں سے ہوگا اس طرح ترجمہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ عیسیٰ ابن مریم مسلمانوں میں سے پیدا ہوگا۔ مگر معطوف اور معطوف علیہ دو الگ الگ ہوتے ہیں۔ تو معنے صحیح یوں ہوگا کہ عیسیٰ ابن مریم بھی اتریں گے۔ اب اگر اترنے کا معنے بقول مرزا قادیانی پیدا ہونا ہے تو مرزا قادیانی سے پہلے امام مہدی کا پیدا ہونا ضروری ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی امام بھی خود ہی بنتے ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ عطف تفسیر ہے۔ غلط ہے۔ کیونکہ عربی میں عطف تفسیری عطف بیان کو کہتے ہیں۔ وہاں حرف عطف نہیں ہوتا اور واؤ تفسیر کے لئے کبھی نہیں آئی۔ پس ثابت ہوا کہ محض خیالی تفسیر سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ اس کا ترجمہ جو اوپر لکھا گیا ہے وہی صحیح ہے۔ حضرت مسیح بن مریم بذاتہ علیہ السلام ہی نازل ہوں گے۔

اکتیسویں دلیل

اجماع امت سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔ امت محمدیہ کا اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔ اب تک زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے۔

(تفسیر بحرالمحیط ج ٢ ص ٤٧٦ ، زیر آیت اذقال اللہ یعیسی انی متوفیک) پر ہے: ”قال

١٩٣

صفحہ ٥٨٤

ابن عطية واجمعت الامة على ماتضمنه الحديث المتواتر ان عیسى فى السماء حیى وانه ينزل فى آخر الزمان ”تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث متواترہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔“

علامہ آلوسی (تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢) تحت آیت خاتم النبیین پر اس سوال کے جواب میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ختم نبوت کے بعد کیسے تشریف لاسکتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”ولا يقدح ذلك مااجتمعت الامة واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منکره کالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام آخر الزمان لانه كان نبيا قبل تحلی نبيناﷺ بالنبوة فى هذه النشاة“

حضرت امام اعظمؒ (فقہ اکبر ص ١٠٨) میں فرماتے ہیں: ”ونزول عيسى عليه السلام من السماء حق کائن“ (شرح عقائد نسفی ص ١٧٣) میں ہے: ”ونزول عيسى عليه السلام من السماء ....... فهو حق“

اہل سنت والجماعت کے نزدیک دین کے چار مآخذ ہیں۔ کتاب، سنت، اجماع امت اور قیاس آئمہ مجتہدین۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج تک امت محمدیہ کا اس پر اجماع چلا آرہا ہے۔

بتیسویں دلیل

”عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللهﷺ لن تهلك امة انا فى اولها وعيسى ابن مريم فى آخرها والمهدى فى اوسطها (احمد ج ٦ ص ٣٠، كنزالعمال ج ١٤ ص ٢٦٦، حدیث نمبر ٣٨٦٧١، ابونعيم الحاوى للفتاوى ج ٢ ص ٦٤) ”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ وہ امت ہرگز ہلاک نہ ہوگی جس کے اول میں میں موجود ہوں اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم اور میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان مہدی۔“

اس حدیث میں اس امت کے تین محافظ الگ الگ بیان کئے گئے ہیں۔ اول تو خود حضور نبی کریمﷺ۔ دوم عیسیٰ علیہ السلام اور تیسرے امام مہدی علیہ الرضوان جو پہلے دو کے درمیان آئیں گے۔ اب اگر ایک کو دوسرے میں داخل کریں۔ جیسا کہ مرزائی از روئے بروز کرتے ہیں تو تین ہستیاں الگ الگ نہیں رہ سکتیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

١٩٤

صفحہ ٥٨٥

زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں اس امت کی حفاظت کریں گے۔

تینتیسویں دلیل

”عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ فعند ذلك ينزل اخی عیسی بن مريم من السمآء (كنزالعمال ج١٤ ص٦١٩ حديث نمبر ٣٩٧٢٦)“

اس حدیث میں آسمان سے نزول صاف طور پر مذکور ہے۔

چونتیسویں دلیل

”عن ابی هريرةؓ قال قال رسول الله ليهلن عیسی ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمراً أو يثنينهما (مسلم شریف ج١ ص٤٠٨ باب جواز التمتع فى الحج والقرآن) “ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فج روحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔

اس حدیث میں مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ حج کریں گے۔ نقلی مسیح (مرزا) نے تمام عمر حج نہیں کیا۔

پینتیسویں دلیل

”عن ابی هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها (بخاری ج١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسی ابن مريم ومسلم ج١ ص ٨٧، باب نزول عیسی بن مريم عليه السلام حاكماً بشريعة نبينا) “ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے۔ پھر وہ عیسائیت کی صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال و متاع سے اچھا معلوم ہوگا۔

یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحاح میں روایت کی ہے۔ اس میں ابن مریم علیہ السلام کے جو نشان بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نشان بھی مسیح کاذب (مرزا قادیانی) میں پایا نہیں جاتا۔

١٩٥

صفحہ ٥٨٦

چھتیسویں دلیل

”عن جابرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم فيقول امير هم المهدي تعال صل بنا فيقول الا وان بعضكم على بعض امراء (الحاوی للفتاوى ج٢ ص ٦٤)“ ﴿حضرت جابر سے روایت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو لوگوں کا امیر انہیں نماز پڑھانے کے لئے کہے گا۔ پس وہ انکار کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم میں سے بعض بعض کے امام ہیں۔﴾

اس حدیث سے ثابت ہے کہ امامكم منكم اور امير هم سے مراد امام مہدی علیہ الرضوان ہیں اور امام مہدی کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔

سینتیسویں دلیل

”عن ابى هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ يوشك من عاش منكم ان يلقى عيسى ابن مريم اماماً مهدياً حكماً عدلا (مسند امام احمد ج٢ ص٤١١)“ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے گا۔ جو امام ہوگا ہدایت یافتہ منصف اور عادل﴾

اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کریں گے۔ کیونکہ باتفاق محدثین آپ اس وقت تک زندہ تھے۔

اڑتیسویں دلیل

”عن ابى هريرةؓ مرفوعاً ليهبطن ابن مريم حكماً عدلًا (درمنثور ج٢ ص٢٤٥، زير آيت وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به، مستدرك للحاكم ج٣ ص٤٩٠ حديث نمبر ٤٢١٨، باب هبوط عيسى عليه السلام وقتل الدجال) “ یعنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابن مریم حَکم اور عدل ہو کر اترے گا۔ اس جگہ ہبوط کا لفظ ہے۔ نزول کا لفظ نہیں۔ اس میں مرزائیوں کی کوئی تاویل نہیں چلتی۔ ورنہ یہ ثابت کریں کہ ہبوط بمعنی ولادت ہے۔

انتالیسویں دلیل

مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف (سرمہ چشم آریہ ص٢٩٣، ٢٨٧، ٢٨٨، خزائن ج٢ ص٢٣٧، ٢٣٩، ٢٤٣، کشف الغطاء ص٢٦ حاشیہ، خزائن ج١٤ ص٢١١، مسیح ہندوستان میں ص١٦، ١٧، خزائن ج١٥ ص ایضاً، تریاق القلوب ص٥٠، خزائن ج١٥ ص٢٣٨، چشمہ مسیحی ص٣، خزائن ج٢٠ ص٣٣٩) پر انجیل

١٩٦

صفحہ ٥٨٧

برنباس کی تصدیق کی ہے۔ اور اس کے حوالے دیے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس مصدقہ انجیل شریف کے فصل ٢١٥ میں فتنہ صلیبی کا حال اس طرح درج کیا ہے:

”اور جبکہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس جگہ یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ تب اس لئے وہ ڈر کر گھر چلا گیا اور گیاروں شاگرد سو رہے تھے۔ پس جبکہ اللہ نے اپنے بندہ کو خطرہ میں دیکھا، اپنے سفیروں، جبرائیل اور میخائیل، رفائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیویں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ اب تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے ۔“

نیز اس انجیل کے فصل نمبر ٢١٦ و ٢١٧ میں ہے۔ یہودا الخریوطی کا مسیح علیہ السلام کا ہم شکل بن جانے اور پھانسی دیئے جانے کا ذکر ہے۔

چالیسویں دلیل

اسلامی مناظر: ”عن عبداللہ ابن مسعودؓ قال لما کان لیلۃ اسریٰ برسول اللہ ﷺ لقی ابراھیم وموسیٰ وعیسیٰ فتذاکروا الساعۃ فبدوا بابراھیم فساءلوہ عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سئالوا موسیٰ فلم یکن عندہ منھا علم فردو الحدیث الیٰ عیسیٰ ابن مریم فقال قد عھد الیٰ فیما دون وجبتھا فاما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللہ فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتلہ (ابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) “

❁ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ شب معراج کو نبی کریم ﷺ کی ملاقات موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ہوئی۔ قیامت کا تذکرہ ہوا۔ حضرت ابراہیم نے لاعلمی ظاہر کی تب حضرت موسیٰ سے دریافت کیا گیا۔ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر بات حضرت عیسیٰ ابن مریم پر آئی۔ انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے ظہور کا صحیح علم اللہ کو ہی ہے۔ پھر دجال کے خروج کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اتر کر اسے قتل کروں گا۔ ❁

اس حدیث میں اس کونسل یا میٹنگ کا ذکر کیا گیا ہے جو شب معراج کو چار اولوالعزم انبیاء ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام ومحمد ﷺ میں ہوئی۔ اس آسمانی کونسل کے فیصلہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں زمین پر اتر کر دجال کو قتل کریں گے جس مسیح کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ وہی آخری زمانہ میں قاتل دجال ہے۔ اب اگر

١٩٧

صفحہ ٥٨٨

مرزائی ثابت کر دیں کہ اس وقت مرزا قادیانی آسمان پر موجود تھے تو ہم قائل ہو جائیں گے۔ ورنہ اس حدیث سے روز روشن کی طرح آسمان پر مسیح ابن مریم علیہ السلام کی زندگی اور آخری زمانہ میں زمین پر نزول ثابت ہے۔

مرزائی مناظر: یہ ابن مسعود کا قول ہے۔ حدیث نہیں ہے۔ ابن مسعودؓ نے ہرگز نہیں کہا کہ میں یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ پس یہ حدیث قابل حجت نہیں۔

اسلامی مناظر: یہ حدیث مرفوع اور صحیح ہے۔ صحابیؓ نے واقعہ معراج کا ذکر کیا ہے۔ معراج میں وہ ہمراہ نہ تھا۔ یقیناً اس نے جو کچھ بھی نبی کریم ﷺ سے سنا ہے وہی بیان کیا ہو گا۔ مگر آپ کا شک مٹانے کے لئے (مسند امام احمد ج ١ ص ٣٧٥) سے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل میں یہ حدیث اس طرح درج ہے: ”عن ابن مسعودؓ عن رسول الله ﷺ قال قال“ یعنی عبداللہ ابن مسعودؓ نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔

مرزائی مناظر: (محمد سلیم بمقام چک نمبر ٣٥) یہ حدیث عبداللہ ابن مسعودؓ کا بکواس ہے۔ وہ غیر معتبر راوی ہے۔ ہم اس کی روایت کو نہیں مانتے۔ (معاذ اللہ)

نوٹ: حاضرین کی طرف سے پیہم لعنت و ملامت پر محمد سلیم نے یہ الفاظ واپس لئے۔

ضروری گزارش

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے صد ہا دلائل ہیں جن میں سے ان چالیس کا انتخاب درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے حسب ذیل دلائل مناظروں میں پیش ہوئے:

١٠، ١٣، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٣، ٢٤، ٢٥، ٣١، ٤٠ پیش ہوئے۔

١٥، ١٦، ٢١، ٢٢، ٢٣ پیش کئے گئے۔

٣٤ پیش ہوئے۔

کسی مناظرہ میں پیش نہیں ہو سکے۔ مگر ان سے حیات مسیح علیہ السلام کے اثبات میں مدد ملتی ہے۔ مناظرہ کے محدود اور تنگ وقت میں زیادہ دلائل پیش نہیں ہو سکے۔ مثلاً دلائل نمبر: ٢٦، ٢٧، ٢٨، ٢٩، ٣٠، ٣٢، ٣٣، ٣٥، ٣٦، ٣٧، ٣٨، ٣٩۔

١٩٨