احتساب قادیانیت جلد 49 · مولانا محمد عبداللہ جونا گڑھی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 49 · Maulana Muhammad Abdullah Juna Garhi
PDF 1

رَدِّ قادیانیّت

رسائل

احتساب قادیانیّت

جلد ٤٩

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٩

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

غلام حسین تبسم ختم نبوت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد انچاس (٤٩) مصنفین : حضرت مولانا محمد عبداللہ جونا گڑھی حضرت مولانا مفتی عتیق اللہ شاہ کشمیری حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ حضرت مولانا محمد عبداللہ روپڑی حضرت مولانا عبدالرحمٰن لکھویؒ حضرت مولانا حسن رضا خان قادریؒ حضرت مولانا مفتی رفاقت حسین بریلویؒ حضرت مولانا سید محمود احمد رضویؒ جناب چوہدری رحمت الٰہی صاحب حضرت مولانا محمد شریف خالد رضویؒ جناب پروفیسر شاہ فرید الحق صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر نظام الدین شامزئی حضرت مولانا ابو النور محمد بشیر راولپنڈی جناب نیاز لدھیانوی صاحب

صفحات : ٤٨٠ قیمت : ٢٥٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : اگست ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب

عرض مرتب حضرت

جماعت اسلامی پاکستان کا بیان جناب چـ

صفحہ ٣

غلام حسین ثاقب بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

احتساب قادیانیت جلد انچاس (٤٩)

حضرت مولانا محمد عبد اللہ جونا گڑھیؒ حضرت مولانا مفتی عتیق اللہ شاہ کشمیریؒ حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ حضرت مولانا محمد عبد اللہ روپڑیؒ حضرت مولانا عبد الرحمٰن لکھویؒ حضرت مولانا حسن رضا خان قادریؒ حضرت مولانا مفتی رفاقت حسین بریلویؒ حضرت مولانا سید محمود احمد رضویؒ جناب چوہدری رحمت الٰہی صاحب حضرت مولانا محمد شریف خالد رضویؒ جناب پروفیسر شاہ فرید الحق صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر نظام الدین شامزئیؒ حضرت مولانا ابو طحہٰ تیراہ پنڈی جناب نیاز لدھیانوی صاحب

٤٨٠ ٢٥٠ روپے ناصر دین پریس لاہور اگست ٢٠١٢ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٩

عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤

جماعت اسلامی پاکستان کا بیان جناب چوہدری رحمت الٰہی صاحب لاہور ٢٦٧

صفحہ ٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

الحمدلله وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی اما بعد!

قارئین کرام! لیجئے محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم واحسان سے احتساب قادیانیت کی جلد انچاس (٤٩) پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں سب سے پہلے:

عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ورفع سماوی اور نزول من السماء قرب قیامت کا انکار کرتے ہوئے ”الدلیل المحکم“ نامی پمفلٹ تحریر کیا۔ مولانا عبداللہ بن عنایت اللہ جو ناگڑھیؒ نے اس رسالہ میں قادیانی رسالہ کا جواب تحریر کیا۔ مکمل نام ”حیات مسیح، الامر قداستحکم، بجواب الدلیل المحکم“ ہے۔ یہ رسالہ ١٣٣٩ھ میں لکھا گیا۔

تھا۔ اس کا ایڈیشن راولپنڈی سے شائع ہوتا تھا۔ اس کی جلد ١١ شمارہ ١٧ اشاعت مورخہ ٢٥؍جنوری ١٩٥١ء بروز جمعہ ایک ضمیمہ شائع کیا گیا۔ جس میں ایک ہی مقالہ تھا۔ جس کا نام تھا ”آزاد کشمیر میں مرزائیوں کے ہتھکنڈے“ مقالہ نگار حضرت مولانا شمس العلماء مفتی عتیق اللہ شاہ تھے۔ جو پونچھ کشمیر کے مفتی اعظم تھے اور شمس العلماء کے خطاب یافتہ بھی۔ انہوں نے مذہبی سے کہیں زیادہ سیاسی حوالہ سے کشمیر میں قادیانی سازشوں کے بارہ میں مواد کا انبار جمع کر دیا ہے۔ اس جلد میں یہ رسالہ شامل ہے۔

مودودیؒ صاحب نے فروری ١٩٥٣ء میں ”قادیانی مسئلہ“ نامی کتابچہ تحریر فرمایا۔ درحقیقت جنوری ١٩٥٣ء میں ٢٣ نکات بائیس علماء کرام نے منظور کئے۔ ان میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ بھی تھا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت چلانے کے فیصلہ کے وقت جناب مودودی صاحب موجود تھے۔ جب تحریک چلی تو اپنے کو دور کھیتوں میں جا کھڑا کیا۔ اس زمانہ میں ٢٢ علماء کی

تحفہ قادیانیت

دستوری سفارشات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت دینے کے مطالبہ کی حمای کیا جو چھپوا کر تحریک کے زمانہ میں بھرپور تقسیم کیا۔ فوج میں بھی تقسیم ہوا۔ اعظم نے مارشل لاء لگایا تب اس پمفلٹ کی اشاعت کو بہانہ بنا کر سید ابوالا بھی دھر لیا گیا۔ مارشل لاء حکام نے آپ کے لئے موت کی سزا دی جو بعد م اسی پمفلٹ کی وجہ سے مودودی صاحب ان مراحل سے گزرے۔ ورنہ ان ک ہے کہ انہوں نے نہ صرف تحریک ختم نبوت سے لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ ان کی ج اس تحریک میں شامل ہوئے انہیں جماعت سے خارج کرنے کی سزادی۔ خی مودودی صاحب خوب لکھاری آدمی تھے۔ ان کی اس خوبی تحریر نے جماعت ا کی۔ لیکن ان کا قلم اتنا آزاد تھا کہ انبیاء علیہم السلام وصحابہ کرامؓ کے متعلق وہ ام موقف کو نظر انداز کر جاتے تھے۔ یہ رسالہ خوب معلوماتی اور معقولی دلائل کا حا جلد میں شائع کرنے کی سعادت کر رہے ہیں۔

١٩٦٢ء میں یہ رسالہ مرتب فرمایا۔ عقیدہ ختم نبوت کو نقلی وعقلی دلائل سے خوب تر ثبوت پر کئی احادیث مبارکہ لائے۔ اجماع وتواتر کے مستند ترین حوالہ جات خوب واضح کیا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی یعنی نزول من السماء الی الار عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس مناسبت سے نزول مسیح علیہ السلام کو احاد کیا۔ یہ رسالہ بھی اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔

صاحب نے آرٹیکل لکھا جسے جناب غلام نبی جانباز مرزا نے فتنہ عظیم کے نام س میں شائع کر دیا۔ اس جلد میں یہ شامل اشاعت ہے۔

١٩٥٣ء کے دوران میں یہ کتابچہ تحریر فرمایا۔ لیکن اپریل ١٩٥٤ء میں پہلی بار ش نبوت کی منیر انکوائری کمیشن کے دوران میں قتل مرتد، مسلمان کی تعریف، خدوخال زیر بحث آئے۔ مولانا موصوف نے آخر میں اس پر بحث کی ہے۔ مو اس جلد میں شائع کرنے پر خوشی ہے۔ فالحمدلله!

صفحہ ٥

دستوری سفارشات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت دینے کے مطالبہ کی حمایت میں یہ پمفلٹ تحریر کیا جو چھپوا کر تحریک کے زمانہ میں بھر پور تقسیم کیا۔ فوج میں بھی تقسیم ہوا۔ جب لاہور میں جنرل اعظم نے مارشل لاء لگایا تب اس پمفلٹ کی اشاعت کو بہانہ بنا کر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب کو بھی دھر لیا گیا۔ مارشل لاء حکام نے آپ کے لئے موت کی سزا دی جو بعد میں معاف کر دی گئی۔ اس پمفلٹ کی وجہ سے مودودی صاحب ان مراحل سے گزرے۔ ورنہ ان کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف تحریک ختم نبوت سے لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ ان کی جماعت کے جو رہنماء اس تحریک میں شامل ہوئے انہیں جماعت سے خارج کرنے کی سزا دی۔ خیر واقعہ یہ ہے کہ جناب مودودی صاحب خوب لکھاری آدمی تھے۔ ان کی اس خوبی تحریر نے جماعت اسلامی کو اساس مہیا کی۔ لیکن ان کا قلم اتنا آزاد تھا کہ انبیاء علیہم السلام وصحابہ کرامؓ کے متعلق وہ امت مسلمہ کے اجتماعی موقف کو نظر انداز کر جاتے تھے۔ یہ رسالہ خوب معلوماتی اور معقولی دلائل کا حامل رسالہ ہے جو اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت کر رہے ہیں۔

١٩٦٢ء میں یہ رسالہ مرتب فرمایا۔ عقیدہ ختم نبوت کو نقلی و عقلی دلائل سے خوب مبرہن کیا۔ عقیدہ ختم نبوت پر کئی احادیث مبارکہ لائے۔ اجماع وتواتر کے مستند ترین حوالہ جات سے اپنے موقف کو خوب واضح کیا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی یعنی نزول من السماء الی الارض بجسدہ العنصری عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس مناسبت سے نزول مسیح علیہ السلام کو احادیث سے خوب واضح کیا۔ یہ رسالہ بھی اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔

صاحب نے آرٹیکل لکھا جسے جناب غلام نبی جانباز مرزا نے فتنہ عظیم کے نام سے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ اس جلد میں یہ شامل اشاعت ہے۔

١٩٥٣ء کے دوران میں یہ کتابچہ تحریر فرمایا۔ لیکن اپریل ١٩٥٤ء میں پہلی بار شائع ہوا۔ تحریک ختم نبوت کی منیر انکوائری کمیشن کے دوران میں قتل مرتد ، مسلمان کی تعریف ، اسلامی حکومت کے خدوخال زیر بحث آئے۔ مولانا موصوف نے آخر میں اس پر بحث کی ہے۔ معلوماتی مقالہ ہے۔ اس جلد میں شائع کرنے پر خوشی ہے۔ فالحمد للّٰہ!

صفحہ ٦

غلام حسین بھاٹیہ

بٹالوی....... جوابات از مولانا عبدالرحمن صوفی محی الدین عبدالرحمن لکھوی: ١٨٩٠ء میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے ہند کے مختلف جید علماء ومفتیان سے چند سوالات بابت مرزا قادیانی کئے۔ ان میں مولانا محی الدین عبدالرحمن لکھویؒ نے جو جوابات دیئے وہ پمفلٹ کی شکل میں علیحدہ جمعیت اہل حدیث لاہور ١٩٦٨ء میں شائع کئے۔ مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا مکمل فتویٰ فتاویٰ ختم نبوت میں شائع ہو چکا ہے۔ اس پمفلٹ کی یہاں ضرورت نہ تھی۔ میرے کام کے ساتھی عزیز الرحمن رحمانی کی عقلمندی کے سامنے میں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

چیلنج اشتہار کے ذریعہ دیا۔ ان کے مقابلہ میں ایک اشتہار ”ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری“ نام سے اس پمفلٹ میں دیا گیا۔ اس کی صرف فصل اوّل اس پمفلٹ میں شائع ہوئی۔ روہیلکھنڈ گزٹ یکم جولائی ١٩٠٥ء میں قادیانی اشتہار شائع ہوا۔ وہ قادیانی اشتہار پنجہ ند قادیانی کا تھا۔ اس کا جواب مولانا حسن رضا خاں سنی، حنفی، قادری برکاتی نے دیا۔ ایک ماہنامہ شائع کرنے کا اس میں اعلان ہے۔ اس کا کیا بنا یہ مؤرخ کا موضوع ہے۔ راقم تو لکیر کا فقیر جامع ہے اور بس۔

کتاب تحریر فرمائی۔ ”قادیانی کذاب“ نام تجویز کیا۔ نام سے سن تصنیف نکلتا ہے۔ کیا خوب قادیانی کو سمجھا ہے اور اچھے انداز میں سمجھانے کی سعی مشکور کی ہے۔

لاہور کے خطیب ماہنامہ رضوان کے ایڈیٹر، دارالعلوم حزب الاحناف کے استاذ الحدیث تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ تھے اور اس کے سیکرٹری جنرل حضرت مولانا سید محمود احمد رضویؒ تھے۔ اس زمانہ میں آپ نے یہ رسالہ شائع کیا۔ جو اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔

٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے چناب ایکسپریس پر سوار طلباء کو شدید زدوکوب کیا۔ ان کو اپنی بدترین بربریت کا نشانہ بنایا۔ اس سانحہ کے ردّعمل میں تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء چلی۔ سانحہ ربوہ کی انکوائری کے لئے لاہور ہائیکورٹ

٧

ہفت روزہ ختم نبوت

کے مسٹر جسٹس صمدانی پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب چوہدری رحمت الٰہی مرحوم تھے۔ آپ نے جماعت کی طرف سے ایک تفصیلی تحریری بیان جمع کرایا۔ بعد میں اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع بھی کر دیا۔ ایک تاریخی دستاویزی حیثیت کا حامل ہے۔ جسے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔

جاتری کہنہ ضلع شیخوپورہ کا یہ رسالہ ہے۔ احادیث مبارکہ سے کثرت کے ساتھ حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔

ختم نبوت ١٩٧٤ء کے جستہ جستہ حالات کو اپنے مکتب فکر کے حوالہ سے تحریر کیا ہے۔ یرقان اور آنکھوں کے مریض کو ہر طرف ’ہریالی‘ ہی ہریالی محمول کیا جا سکتا ہے۔

میں مولانا اختر کاشمیری نے ایک مضمون میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں تحریر کیا۔ اس زمانہ میں ہمارے مخدوم حضرت علامہ ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ جامعہ بنوری ٹاؤن میں استاذ الحدیث تھے۔ متعدد فتاویٰ جات اس عنوان پر آئے۔ آپ نے ان کا جہاں اجمالی جواب دیا وہاں آپ نے حضرت مہدی علی الرضوان کے ظہور کے عقیدہ پر احادیث کو جمع کرنا شروع کیا۔ تو یہ رسالہ مرتب ہوگیا۔ اس رسالہ کے چار ابواب ہیں۔ باب اوّل...... عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں۔ باب دوم...... عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں۔ باب ثالث...... عقیدہ ظہور مہدی مفکرین اسلام کی نظر میں۔ باب چہارم...... منکرین ظہور مہدی کے دلائل پر تبصرہ۔ ابواب کی فہرست کا سرسری مطالعہ کرنے سے ہی یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا ڈاکٹر شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئیؒ نے اس عنوان کا حق ادا کر دیا ہے۔ ابن خلدون کے اعتراضات کو منکرین ظہور مہدی نے ”پرانی شراب نئی بوتل“ کے بمصداق پیش کیا۔ حضرت مؤلف رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان تمام اعتراضات کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اس علمی خزانہ کو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کر دیا ہے۔ اس کے اصل ٹھکانے کا قارئین کو سمجھانا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ خارجیوں کو دن میں تارے نظر آنے لگیں گے۔

تحریر کیا۔ قادیانیت کی تردید میں بہت ہی معلوماتی اور آسان باتیں درج ہیں۔ افادہ عام کے لئے اس جلد میں اسے شامل کر رہے ہیں۔

صفحہ ٧

غلام حسین بھاٹیا مرزائیوں کے بارے میں چند سوالات از مولانا محمد حسین : نا عبد الرحمٰن صوفی محی الدین عبد الرحمٰن لکھوی: ١٨٩٠ء میں ر کے مختلف جید علماء ومفتیان سے چند سوالات بابت مرزا قادیانی عبد الرحمٰن لکھو کے نے جو جوابات دیئے وہ پمفلٹ کی شکل میں ر ١٩٦٨ء میں شائع کئے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی کا مکمل فتویٰ فتاویٰ ۔ اس پمفلٹ کی یہاں ضرورت نہ تھی۔ میرے کام کے ساتھی عزیز سنے میں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

: مرتد بقادیان: چند لوگ قادیانی ہوئے۔ انہوں نے مناظرہ کا ا کے مقابلہ میں ایک اشتہار ”ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری“ یا۔ اس کی صرف فصل اوّل اس پمفلٹ میں شائع ہوئی۔ روہیلکھنڈ قادیانی اشتہار شائع ہوا۔ وہ قادیانی اشتہار پنچند قادیانی کا تھا۔ اس سنی، حنفی، قادری برکاتی نے دیا۔ ایک ماہنامہ شائع کرنے کا اس میں خ کا موضوع ہے۔ راقم تو لکیر کا فقیر جامع ہے اور بس۔

: کان پور کے مفتی اعظم علامہ مفتی رفاقت حسین بریلوی نے یہ کذاب‘ نام تجویز کیا۔ نام سے سن تصنیف نکلتا ہے۔ کیا خوب ز میں سمجھانے کی سعی مشکور کی ہے۔

ولانا سید محمود احمد صاحب رضوی حزب الاحناف جامع مسجد گنج بخش ن کے ایڈیٹر، دارالعلوم حزب الاحناف کے استاذ الحدیث تھے۔ س آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ صف بنوریؒ تھے اور اس کے سیکرٹری جنرل حضرت مولانا سید محمود احمد ب نے یہ رسالہ شائع کیا۔ جو اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی عدالت کے سامنے جماعت اسلامی پاکستان کا بیان: نگر ) ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے د شدید زدوکوب کیا۔ ان کو اپنی بدترین بربریت کا نشانہ بنایا۔ اس نبوت ١٩٧٤ء چلی۔ سانحہ ربوہ کی انکوائری کے لئے لاہور ہائیکورٹ

ختم نبوت ختم نبوت ختم نبوت کے مسٹر جسٹس صمدانی پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب چوہدری رحمت الٰہی مرحوم تھے۔ آپ نے جماعت کی طرف سے انکوائری کمیشن میں بیان جمع کرایا۔ بعد میں اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع بھی کر دیا۔ ایک معلوماتی ، تاریخی دستاویز ہے۔ جسے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔

جاتری کمنہ ضلع شیخوپورہ کا یہ رسالہ ہے۔ احادیث مبارکہ سے کثرت کے ساتھ استدلال کیا ہے۔

ختم نبوت ١٩٧٤ء کے جستہ جستہ حالات کو اپنے مکتب فکر کے حوالہ سے تحریر کیا ہے۔ ”ساون کے آنکھوں کے مریض کو ہر طرف ہریالی“ ہی پر اسے محمول کیا جاسکتا ہے۔

میں مولانا اختر کاشمیری نے ایک مضمون میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا انکار کیا۔ اس دور میں ہمارے مخدوم حضرت علامہ ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ جامعہ فاروقیہ کراچی میں مدرس تھے۔ متعدد فتاویٰ جات اس عنوان پر آئے۔ آپ نے ان کا جہاں اجمالی جواب تحریر کیا وہاں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے عقیدہ پر احادیث کو جمع کرنا شروع کیا۔ تو یہ کتاب مرتب ہوگئی۔ اس کے چار ابواب ہیں۔ باب اوّل ...... عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں۔ باب ثانی ...... عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں۔ باب ثالث ...... عقیدہ ظہور مہدی متکلمین کی نظر میں۔ باب چہارم ...... منکرین ظہور مہدی کے دلائل پر تبصرہ۔ ابواب کی فہرست کا سرسری جائزہ لیں تو بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا ڈاکٹر شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئیؒ نے اس عنوان کا حق ادا کر دیا ہے۔ ابن خلدون کے اعتراضات کو مولانا اختر کاشمیری نے ” پرانی شراب نئی بوتل“ کے بمصداق پیش کیا۔ حضرت مؤلف رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس جام زور و قدح کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اس علمی خزانہ کو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی خوشی کے ٹھکانہ کا قارئین کو سمجھانا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ خارجیوں کو دن میں تارے دکھلا دیے ہیں۔

تحریر کیا۔ قادیانیت کی تردید میں بہت ہی معلوماتی اور آسان باتیں درج کی ہیں۔ احتساب کی اس جلد میں اسے شامل کر رہے ہیں۔

صفحہ ٨

مشتے از خروارے غلام حسن بٹالوی

بندر روڈ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں ہوتے تھے۔ نشتر پارک میں قادیانی ظفر اللہ خان کا جلسہ ہوا۔ پھر ١٩٥٣ء کی تحریک چلی تو نیاز لدھیانوی گرفتار بھی ہوئے۔ اس تحریک کے زمانہ میں یہ کتابچہ لکھا جو احتساب قادیانیت کی اس جلد میں پیش خدمت ہے۔

غرض احتساب قادیانیت جلد انچاس (٤٩) میں:

گویا ١٤ حضرات کے کل ١٦ رسائل احتساب قادیانیت کی جلد ٤٩ میں شامل اشاعت ہیں۔ فالحمدللہ علی ذالك!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٣١ اگست ٢٠١٢ء

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

المرقد استحكم

بجواب الدلیل المحکم

حضرت مولانا محمد عبداللہ جوناگڑھیؒ

صفحہ ٨

ب نیاز لدھیانوی صاحب ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں کراچی ت کے دفتر میں ہوتے تھے۔ نشتر پارک میں قادیانی ظفر اللہ خان کا علی تو نیاز لدھیانوی گرفتار بھی ہوئے۔ اس تحریک کے زمانہ میں یہ کی اس جلد میں پیش خدمت ہے۔

انیت جلد انچاس (٤٩) میں: آگڑوی کا ١ رسالہ شاہ کشمیریؒ کا ١ رسالہ مودودیؒ کے ٣ رسائل چنیوٹیؒ کا ١ رسالہ ہلویؒ کا ١ رسالہ ن قادریؒ کا ١ رسالہ حسین بریلویؒ کا ١ رسالہ رضویؒ کا ١ رسالہ ت الہی لاہور کا ١ رسالہ الد رضویؒ کا ١ رسالہ فریدالحق کا ١ رسالہ الدین شاہ کوٹیؒ کا ١ رسالہ ولپنڈی کا ١ رسالہ نویؒ کا ١ رسالہ ........................................

١٤ حضرات کے کل ١٦ رسائل کی جلد ٤٩ میں شامل اشاعت ہیں۔ فالحمدلله علیٰ ذالک!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٣١ اگست ٢٠١٢ء

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

الامر قد استحکم

بجواب الدلیل المحکم

حضرت مولانا محمد عبداللہ جونا گڑھی

صفحہ ١١

بسم الله الرحمن الرحيم

برسوں سے سننے میں آیا تھا کہ پنجاب میں کسی مسلمان کہلانے والے نے دعویٰ نبوت و مسیحیت کیا ہے۔ تعجب تو سخت ہوا تھا کہ یہ کیسا مسلمان، مسلمان اور یہ جرأت؟ مگر ساتھ ہی اس کے یہ بھی سننے میں آتا تھا کہ بہادر علماء اسلام نے اس کا قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔ اس سے مطمئن تھا کہ شیخ شیرازی نے کہا ہے:

چوکارے بے فضولی من برآید
مرا دروے سخن گفتن نشاید

امسال سفر رنگون کا اتفاق ہوا اور اسی سفر میں چند مرزائیوں سے ملاقات ہوئی۔ دیکھا کہ ابتداء گفتگو میں یہ لوگ شیر کا سا حملہ کرتے ہیں اور اپنے مخاطب کو ذلیل سمجھ کر یہ گمان کرتے ہیں کہ اُس کو چند منٹوں میں ہم لاجواب کر دیں گے۔ اسی لئے مرزا قادیانی کے تمام دعاویٰ تسلیم کر کے بحث کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ مخاطب کے کلام پر ہنسے جاتے ہیں۔

تھوڑی دیر کے بعد جب میدان تنگ نظر آتا ہے تو پہلو بدل کر مرزا قادیانی کے دعووں سے دستکش ہو کر کہنے لگتے ہیں کہ یہ سب مرزا قادیانی پر بہتان ہے۔ نہ انہوں نے نبوۃ کا دعویٰ کیا نہ مسیحیت کا۔ البتہ مجدد بکسر دال اور محدث بفتح دال تھے۔

پانچ چھ روز ہوئے کہ ایک دوست نے میرے پاس ایک پرانا رسالہ ١٩٠٤ء کا تالیف شدہ بھیجا اور کہا کہ اس میں قرآن اور اصح الکتب صحیح البخاری سے موت مسیح ثابت کی گئی ہے۔ میں نے اس کو پڑھ کر جواب لکھا جو ہدیہ ناظرین ہے: العبد الفقیر المفتقر الی اللہ عبداللہ بن عنایت اللہ مورخہ ١٤؍ جمادی الاٰخر ١٣٣٩ھ

السلام علیکم ! آپ کا بھیجا ہوا رسالہ الدلیل المحکم پہنچا۔ جس میں مرزائی نے قرآن مجید کی تین آیات سے حضرت مسیح ابن مریم کی موت پر استدلال کیا ہے۔

پہلی آیت: ”یاعیسے انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران:٥٥)“

دوسری آیت: ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهم ، وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه ، مالهم به من علم الا اتباع الظن ، وماقتلوه يقينا ، بل رفعه الله اليه (النساء

٢

: ١٥٧، ١٥٨)“ ان دو آیات میں سے دوسری آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام حرف بھی نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ دونوں آیتوں کو ملا کر نتیجہ نکالا جائے مقرر ہو جائیں کہ یہاں پر لفظ ”متوفیک“ کے معنے سوا موت کے کچھ نہیں ہو

مرزائی صاحب کا سارا زور صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کی تفسی ”متوفیک“ کے معنے ”ممیتک“ کئے ہیں۔ ہم نے مرزائی کی خاطر صحیح بخار بھر کو اول سے آخر تک تین مرتبہ دیکھا۔ کہیں پتہ نہیں چلا۔ بلکہ یوں کہیے کہ سور امام بخاریؒ اس آیت کو لائے ہی نہیں۔ لاچار ہو کر پھر مرزائی صاحب کے رس کے آخر میں ایک تیسری آیت لایا ہے۔ جو سورۃ مائدہ کی ہے اور اس آیت کی بن عباسؓ کی روایت صحیح بخاری میں صرف اتنی آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فر دن کچھ لوگ میری امت کے لائے جائیں گے۔ وہ مجھ تک آنے سے روکے گا یہ میرے اصحاب ہیں ان کو آنے دو۔ جواب ملے گا کہ آپ کو خبر نہیں کہ ا ارتداد کیا تھا۔ یہ سن کر میں وہی بات کہوں گا جو اس نیک بندے یعنی حضرت عیسیٰ اور وہ یہ ہے: ”وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم ، فلما توفيتني عليهم ...... الخ (المائدہ: ١١٧)“ مجھے میری موجودگی میں تو ان کا حال معلو حالت کو آپ نے پہنچا دیا تو پھر آپ ہی جانیں کہ انہوں نے کیا کیا۔

اس جگہ پر ہم نے توفیتنی کے معنی اپنی زبان میں کچھ نہ کئے بلکہ چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ اگر میں اپنے تحقیق کردہ معنے لکھتا تو میاں قادیانی اور اگر قادیانی طور پر ترجمہ کرتا ہوں تو میں خدا کی کتاب کا پہلا خائن ہوتا۔

مرزائی کی رسائی یہاں تک ہوئی ہے کہ ان تین آیتوں میں سے دو آی ”توفی“ نظر آ رہا ہے۔ جس کے مختلف معانی میں سے صرف ایک معنی مو

تیسری آیت سورۃ نساء جو رسالے کے نمبر کی رو سے دوسری کو اڑایا۔ پھر تینوں کو ترتیب دے کر نتیجہ نکال لیا کہ: ”توفی عیسے ثم ارتد من ارتد من امته وقال هو ابن الله وكذا وكذا “ یعنی (١) نے وفات پائی (٢) پھر اٹھائے گئے۔ (٣) پھر ان کی امت گمراہ ہوئی۔

مسیح خدا کے سامنے لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ اس پر تائیداً حضرت محمد ﷺ سے لاعلمی کا بیان قادیانی نے کیا ہے۔ جو ہو بہو اسی عبارت میں ہے جو واقع

٣

صفحہ ١٠-١١

تحریک ختم نبوت

غلام حسن بہاولپوری

١٠ بسم الله الرحمن الرحيم میں آیا تھا کہ پنجاب میں کسی مسلمان کہلانے والے نے دعویٰ نبوت ہوا تھا کہ یہ کیسا مسلمان، مسلمان اور یہ جرات؟ مگر ساتھ ہی اس کے علماء اسلام نے اس کا قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔ اس سے مطمئن تھا کہ شیخ

کارے بے فضولی من برآید
مراد روے سخن گفتن نشاید

اتفاق ہوا اور اسی سفر میں چند مرزائیوں سے ملاقات ہوئی۔ دیکھا کا ساحملہ کرتے ہیں اور اپنے مخاطب کو ذلیل سمجھ کر یہ گمان کرتے ہیں جواب کر دیں گے۔ اسی لئے مرزا قادیانی کے تمام دعاوی تسلیم کر کے ۔ مخاطب کے کلام پر ہنسے جاتے ہیں۔

کہ جب میدان تنگ نظر آتا ہے تو پہلو بدل کر مرزا قادیانی کے دعووں کہ یہ سب مرزا قادیانی پر بہتان ہے۔ نہ انہوں نے نبوۃ کا دعویٰ کیا اور محدث بمعنی لغوی تھے۔

کہ ایک دوست نے میرے پاس ایک پرانا رسالہ ١٩٠٤ء کا تالیف آن اور اصح الکتب صحیح البخاری سے موت مسیح ثابت کی گئی ہے۔ میں ہدیہ ناظرین ہے: العبد الفقیر لمفتقر الی اللہ عبداللہ بن عنایت اللہ مورخہ ١٤ / جمادی الآخر ١٣٣٩ھ کا بھیجا ہوا رسالہ الدلیل الحکم پہنچا۔ جس میں مرزائی نے قرآن مجید ابن مریم کی موت پر استدلال کیا ہے۔ عیسی انی متوفیک ورافعك الی (آل عمران: ٥٥) “ قولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله ولكن شبه لهم ، وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه ، اتباع الظن ، وماقتلوه يقينا ، بل رفعه الله اليه (النساء ٢

١١ :٥٧، ٥٨) ”ان دو آیات میں سے دوسری آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کی نسبت ایک حرف بھی نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ دونوں آیتوں کو ملا کر نتیجہ نکالا جائے۔ بشرطیکہ پہلی کے معنی مقرر ہو جائیں کہ یہاں پر لفظ ”متوفيك“ کے معنے سوا موت کے کچھ نہیں ہیں۔

مرزائی صاحب کا سارا زور صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پر ہے کہ انہوں نے ”متوفيك“ کے معنے ”ممیتک“ کئے ہیں۔ ہم نے مرزائی کی خاطر صحیح بخاری کی کتاب التفسیر سورۂ بقر کو اول سے آخر تک تین مرتبہ دیکھا۔ کہیں پتہ نہیں چلا۔ بلکہ یوں کہیے کہ سورۂ بقر کی تفسیر میں حضرت امام بخاریؒ اس آیت کو لائے ہی نہیں۔ لاچار ہو کر پھر مرزائی صاحب کے رسالے کو دیکھا تو رسالے کے آخر میں ایک تیسری آیت لایا ہے۔ جو سورۂ مائدہ کی ہے اور اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت صحیح بخاری میں صرف اتنی آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ میری امت کے لائے جائیں گے۔ وہ مجھ تک آنے سے روکے جائیں گے۔ میں کہوں گا یہ میرے اصحاب ہیں ان کو آنے دو۔ جواب ملے گا کہ آپ کو خبر نہیں کہ انہوں نے دین سے ارتداد کیا تھا۔ یہ سن کر میں وہی بات کہوں گا جو اس نیک بندے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہی تھی اور وہ یہ ہے: ”وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم ، فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم ...... الخ (المائدہ: ١١٧) ”مجھے میری موجودگی میں تو ان کا حال معلوم تھا۔ مگر جب توفی کی حالت کو آپ نے پہنچا دیا تو پھر آپ ہی جانیں کہ انہوں نے کیا کیا۔“

اس جگہ پر ہم نے توفی کے معنی اپنی زبان میں کچھ نہ کئے بلکہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ اگر میں اپنے تحقیق کردہ معنے لکھتا تو میاں قادیانی اس کو قبول نہ فرماتے اور اگر قادیانی طور پر ترجمہ کرتا ہوں تو میں خدا کی کتاب کا پہلا خائن ہوتا۔ حاصل یہ ہے کہ مسکین مرزائی کی رسائی یہاں تک ہوئی ہے کہ ان تین آیتوں میں سے دو میں تو جناب والا کو لفظ ”توفی“ نظر آ رہا ہے۔ جس کے مختلف معانی میں سے صرف ایک معنی موت ہیں۔

تیسری آیت سورۂ نساء جو رسالے کے نمبر کی رو سے دوسری ہے۔ اس میں سے رفع کو اڑایا۔ پھر تینوں کو ترتیب دے کر نتیجہ نکال لیا کہ: ”توفى عيسى ثم رفع الى ربه ثم ارتد من ارتد من امته وقال هوابن الله وكذا وكذا “ یعنی (١) حضرت مسیح علیہ السلام نے وفات پائی (٢) پھر اٹھائے گئے۔ (٣) پھر ان کی امت گمراہ ہوئی۔ جس گمراہی سے حضرت مسیح خدا کے سامنے لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ اس پر تائید آنحضرت ﷺ کی اپنی امت کی گمراہی سے لاعلمی کا بیان قادیانی نے کیا ہے۔ جو ہو بہو اسی عبارت میں ہے جو واقعی حضرت مسیح علیہ السلام ٣

صفحہ ١٣

ختم نبوت

علی غلام حسین بھٹہ کے الفاظ ہیں۔ یہ ترتیب مقدمات قادیانی کے رسالے کی پریشان عبارتوں میں سے ہم نے قائم کی ہے۔ ورنہ اس بندۂ خدا نے تو یوں ہی مفسرین کو برا بھلا کہنے اور دانت پیسنے کے سوا کچھ نہیں کیا اور اگر وہ مانیں تو یہ ہمارا احسان ہے قادیانی کی جماعت پر کہ اس ترتیب سے بآسانی وہ ممات مسیح پر استدلال کر سکتے ہیں۔

چلئے اب ہم اپنے کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ ”متوفی“ صیغہ اسم فاعل کا ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی نسبت ادا فرمایا ہے۔ جس کا ہم قادیانی خواہش کے مطابق یوں ترجمہ کرتے ہیں۔ ”اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں اپنی طرف۔“ اسم فاعل، اسم مفعول وغیرہ کل اسماء کسی زمانہ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے۔ جس کو ایک بچہ جس نے علم صرف کی ابتدائی کتابیں پڑھی ہوں سمجھ سکتا ہے۔ البتہ فعل زمانوں میں سے کسی نہ کسی زمانہ کا محتاج ہوگا۔ پس پہلی آیت: ”انی متوفیک ورافعک الیٰ“ میں خدا نے اپنے اسماء جس میں سے دو اسموں کا استعمال فرمایا جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق وعقیدہ ہے اور رہے گا۔ بے شک اللہ رب العزت حضرت مسیح علیہ السلام کو مارنے والا ہے اور ان کے بعد جو نسلیں قیامت تک ہوں گی۔ سب کا وہی مارنے والا ہے۔ خدا کی صفتیں ازلی وابدی ہیں۔ ان کا ظہور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ کون سا مسلمان ہے جس کا عقیدہ ہو کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو نہ مارے گا اور وہ دائماً ابداً زندہ رہیں گے۔ چلئے اب حضرت ابن عباسؓ نے بالفرض متوفی کے معنی ممیت کئے بھی ہوں تو ہمارا کیا نقصان ہے۔ ہم تو پہلے سے مانے ہوئے ہیں کہ حضرت مسیح مرنے والے ہیں۔

اب رہی وہ آیت کہ جس میں بصیغہ فعل فرمایا ہے: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ پھر رفع کو موت کے بعد ثابت کرنے کے لئے قادیانی نے تیسری آیت سورۂ مائدہ پیش کی ہے: ”فلما توفیتنی“ اب یہاں مہربانی فرما کر حضرت ابن عباسؓ کو بلالاؤ تو ہم آپ کو بہادر سمجھیں۔ لاکھ بار قادیان کے منارۃ المسیح پر چڑھ کر یا بن عباسؓ، یابن عباسؓ کہہ کر گلا پھاڑو۔ جواب تک نہیں ملے گا اور کیوں ملے۔ وہ حبر الامت ہیں۔ وہ مسکین قادیانیوں کی طرح اس بات بیکار پکار سے ناواقف نہیں ہیں کہ کلام عرب میں جس مادے کے جو معنے اسم میں ہوتے ہیں انہیں معنوں کا ہونا فعل میں لازم نہیں اور یہ بھی لازم نہیں کہ ہر مادہ میں اسم فعل کے معنے متغائر ہوں۔

مثلاً ضارب اسم فاعل ہے جس کے معنے مارنے والا وغیرہ۔ اور فعل میں آ کر :”ضرب اللہ مثلاً رجلا فیہ شرکاء متشاکسون (الزمر:٢٩)“ یہاں ضرب کے معنے مثال بیان کرنے کے۔ ایسے موقع پر اگر کسی نیم ملا کو کسی معتبر مفسر کی تفسیر میں ضارب کے معنے

٤

مارنے والا پڑھنے میں آ گئے تو اسی معنے کو لے کر ان باکمال بزرگوں سے اتنے بڑے مفسر نے تو یہ معنے کئے ہیں اور تم اس کے خلاف کر رہے ہو۔ بے انصاف ہو۔ تمہاری آنکھوں پر تعصب کی پٹی پڑی ہوئی ہے۔

کہو مسلمانو ! اور خدا لگتی کہو کہ اس نیم ملا کا یہ الزام ان اکابر ع ہوگا؟ ہرگز نہ ہوگا۔ گو ہمیں اب تک بڑی تلاش کے بعد بھی صحیح البخاری آیت: ”انی متوفیک“ کے متعلق کچھ نہیں ملا۔ تاہم صحابہ کا زمانہ چہ مرزا قادیانی کو وصال منکوحہ آسمانی ابھی ابھی ہوا ہے؟ لہٰذا ان کے ام موجود ہیں۔ علماء اسماء الرجال نے فیصلہ کیا ہے کہ: ”الصحابۃ کلھم عد فیصلہ کرتے ہیں کہ نبی کے اصحاب کو جب عدول کہا گیا ہے تو متنبی کے اصح جائے؟ مگر لیجئے ہم آپ کو صدوق سمجھ کر کہتے ہیں کہ ضرور حضرت ابن عبا آپ کے کہنے کے موافق اسم فاعل ہونے کی حالت میں کی ہوگی۔ مگ آنجناب سے کچھ کہلوا دیجئے۔ تو مدۃ العمر آپ کا ممنون رہوں گا۔

جب آپ کا صرف میں کچا پن معلوم ہوا کہ اسم کو زمانہ کے سا ویسے نحوی بودا پن بھی جناب کا ظاہر ہے کہ آپ عطف واوی کو ترتیب کے ل کی کمی کے ساتھ مفتی یا مصنف بننا اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے۔ و مثلاً واو، اور فاء اور ثم۔ ان میں سے ثم بے شک ترتیب و تراخی کو چاہتا ہے اور ف کام دے جاتا ہے۔ لیکن غریب واو تو نہ الا لذی نہ اولا لذی۔ خدا کے لئے کس جا کر اس طالب علم سے پوچھو کہ جس نے نحو میں پہلا قدم رکھا ہو۔ وہ چھوٹتے کی مثال میں کہہ دے گا کہ جب عرب کہے۔ جاءنی زید وعمرو۔ تو سامع یہی کہ کا آنا بیان کر رہا ہے۔ اس کلام میں شرط نہیں کہ اگر عمر پہلے آیا تھا یا متکلم نے زی ہاں ہاں صرف و نحو پڑھنا شاید مرزائی مذہب میں ناجائز ہو۔ ان

قرآن پر ایمان ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ دیکھئے قرآن مجید کو ہاتھ میں باو ہو کر بیٹھئے۔ آدھا ادھر۔ آدھا ادھر۔ بیچ میں کھولئے سورۂ مریم کو ملاحظہ فرما حضرت زکریا اور یحییٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کا قصہ نظر آئے گا۔ اس کے بعد حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے ہونہار نونہال حضرت مسیح کلمۃ اللہ وروح ہے۔ یہ واو عاطفہ جو حضرت مریم اور حضرت زکریا کے قصوں کے درمیان وا

٥

صفحہ ١٣

سرگزشت

بقلم غلام حسین بھاٹیہ

ت قادیانی کے رسالے کی پریشان عبارتوں میں سے ہم نے قائم کی یوں ہی مفسرین کو برا بھلا کہنے اور دانت پیسنے کے سوا کچھ نہیں مان ہے قادیانی کی جماعت پر کہ اس ترتیب سے بآسانی وہ ممات

م میں مشغول ہوتے ہیں۔ ”متوفی“ صیغہ اسم فاعل کا ہے۔ جس کو ہے۔ جس کا ہم قادیانی خواہش کے مطابق یوں ترجمہ کرتے ہیں۔ نے مارنے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں اپنی طرف۔“ اسم فاعل، نہ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے۔ جس کو ایک بچہ جس نے علم صرف کی سکتا ہے۔ البتہ فعل زمانوں میں سے کسی نہ کسی زمانہ کا محتاج ہوگا۔ ك ورافعك الیٰ“ میں خدا نے اپنے اسماء جس میں سے دو اسموں لمانوں کا اتفاق وعقیدہ ہے اور رہے گا۔ بے شک اللہ رب العزت والا ہے اور ان کے بعد جو نسلیں قیامت تک ہوں گی۔ سب کا وہی زلی وابدی ہیں۔ ان کا ظہور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ کون سا مسلمان ہے زت مسیح کو نہ مارے گا اور وہ دائماً ابداً زندہ رہیں گے۔ چلئے اب متوفی کے معنی ممیت کے بھی ہوں تو ہمارا کیا نقصان ہے۔ ہم تو پہلے سیح مرنے والے ہیں۔

جس میں بصیغہ فعل فرمایا ہے: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ پھر رفع کو ، لئے قادیانی نے تیسری آیت سورہ مائدہ پیش کی ہے: ”فلما نی فرما کر حضرت ابن عباسؓ کو بلا لاؤ تو ہم آپ کو بہادر سمجھیں۔ لاکھ پڑھ کر یا بن عباسؓ، یا بن عباسؓ گلا پھاڑو۔ جواب تک نہیں ملے گا ہیں۔ وہ مسکین قادیانیوں کی طرح اس بات پکار پکار سے ناواقف ، مادے کے جو معنے اسم میں ہوتے ہیں انہیں معنوں کا ہونا فعل میں ہر مادہ میں اسم فعل کے معنے متغائر ہوں۔

فاعل ہے جس کے معنے مارنے والا وغیرہ۔ اور فعل میں آکر یہ شرکاء متشاکسون (الزمر:٢٩) ”یہاں ضرب کے معنے موقع پر اگر کسی نیم ملا کو کسی معتبر مفسر کی تفسیر میں ضارب کے معنے

٤

مارنے والا پڑہنے میں آگئے تو اسی معنے کو لے کر ان باکمال بزرگوں سے جھگڑتا پھرے گا کہ دیکھو اتنے بڑے مفسر نے تو یہ معنے کئے ہیں اور تم اس کے خلاف کر رہے ہو۔ تم کو خدا کا خوف نہیں۔ تم بے انصاف ہو۔ تمہاری آنکھوں پر تعصب کی پٹی پڑی ہوئی ہے۔

کہو مسلمانو! اور خدا لگتی کہو کہ اس نیم ملا کا یہ الزام ان اکابر علماء پر مناسب اور موزوں ہوگا؟ ہرگز نہ ہوگا۔ گو ہمیں اب تک بڑی تلاش کے بعد بھی صحیح البخاری کی سورۂ بقرہ کی تفسیر اس آیت: ”انی متوفیک“ کے متعلق کچھ نہیں ملا۔ تاہم صحابہ کا زمانہ چونکہ خیرالقرون ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کو وصال منکوحہ آسمانی ابھی ابھی ہوا ہے؟ لہٰذا ان کے اصحاب وحوارین بھی زندہ موجود ہیں۔ علماء اسماء الرجال نے فیصلہ کیا ہے کہ: ”الصحابۃ کلھم عدول“ اسی بناء پر ہم بھی فیصلہ کرتے ہیں کہ نبی کے اصحاب کو جب عدول کہا گیا ہے تو متنبی کے اصحاب کو صدوق کیوں نہ کہا جائے؟ مگر لیجئے ہم آپ کو صدوق سمجھ کر کہتے ہیں کہ ضرور حضرت ابن عباسؓ نے متوفیک کی تفسیر آپ کے کہنے کے موافق اسم فاعل ہونے کی حالت میں کی ہوگی۔ مگر مکرماً، فعل کی تفسیر میں آنجناب سے کچھ کہلوا دیجئے۔ تو مدۃ العمر آپ کا ممنون رہوں گا۔

جب آپ کا صرف میں کچا پن معلوم ہوا کہ اسم کو زمانہ کے ساتھ وابستہ کر رہے ہو۔ یہ ویسے نحوی بودا پن بھی جناب کا ظاہر ہے کہ آپ عطف واوی کو ترتیب کے لئے مفید سمجھ رہے ہو۔ علم کی کمی کے ساتھ مفتی یا مصنف بننا اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے۔ دیکھو بھائی حروف عاطفہ مثلاً واو، اور فا، اور ثم۔ ان میں سے ثم بے شک ترتیب وتراخی کو چاہتا ہے اور ف بھی کبھی کبھی ترتیب کا کام دے جاتا ہے۔ لیکن غریب واو تو نہ الا الذی نہ اولا الذی۔ خدا کے لئے کسی عربی کے مدرسے میں جاکر اس طالب علم سے پوچھو کہ جس نے نحو میں پہلا قدم رکھا ہو۔ وہ چھوتے ہی آپ کو عطف واوی کی مثال میں کہہ دے گا کہ جب عرب کہے۔ جاءنی زید وعمر۔ تو سامع یہی سمجھے گا کہ متکلم ان دونوں کا آنا بیان کر رہا ہے۔ اس کلام میں شرط نہیں کہ اگر عمر پہلے آیا تھا یا متکلم نے زید کو کیوں مقدم کیا۔

ہاں ہاں صرف ونحو پڑھنا شاید مرزائی مذہب میں ناجائز ہو۔ ان ایمان داروں کو صرف قرآن پر ایمان ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ دیکھئے قرآن مجید کو ہاتھ میں باوضو ہو کر لیجئے۔ قبلہ رخ ہو کر بیٹھئے۔ آدھا ادھر۔ آدھا ادھر۔ بیچ میں کھولئے سورۂ مریم کو ملاحظہ فرمائیے۔ سب سے پہلے حضرت زکریا اور یحییٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کا قصہ نظر آئے گا۔ اس کے بعد واو عاطفہ کے ساتھ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے ہونہار نونہال حضرت مسیح کلمۃ اللہ وروح اللہ کا ذکر شروع ہوا ہے۔ یہ واو عاطفہ جو حضرت مریم اور حضرت زکریا کے قصوں کے درمیان واقع ہوئی ہے۔ یہ تو بلا

٥

صفحہ ١٥

شعبہ قادیانی پارٹی کے مفید مدعا ہے۔ کیونکہ بلا ریب حضرت مریم صدیقہ حضرت زکریا سے موخر ہیں۔ ذرا آگے بڑھیے پھر واؤ عاطفہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کی ابتداء میں آکر مرزائی تنور پر پانی ڈال دیا۔ اب تیسرا واؤ عاطفہ نے دوبارہ قادیانی جماعت کی پشت گرم کر دی۔ کیونکہ یقیناً حضرت کلیم اللہ ، حضرت خلیل اللہ سے پیچھے بلکہ ان کی اولاد میں ہیں۔ لو مرزائیو! مبارک۔ مجھ سے جہاں تک بن سکے گا آپ کی بات بنانے کی کوشش کروں گا۔ افسوس چوتھی واؤ عاطفہ نے ساری آرزو خاک میں ملا دی کہ حضرت ذبیح اللہ کے قصے پر آپڑی۔

ارے آہ! حضرت ذبیح اللہ تو جناب کلیم اللہ سے کہیں گے۔ لو صاحب اب تو واؤ عاطفہ کو ہماری قادیانی جماعت سے کچھ دشمنی سی ہو گئی۔ دومرتبہ ہماری بہادر قوم کی حمایت کر کے اب جو مخالفت آئی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد نہایت پرانے پیشوائے پیشینیاں حضرت ادریس علیہ السلام کو لیا اور وہاں سے ترقی کر کے جناب ابوالبشر آدم علیہ السلام تک پہنچی۔ پھر وہاں سے تنزل کر کے ابوالبشر ثانی حضرت نوح علیہ السلام کی جانب توجہ فرما کر پھر ایک بار قادیانی اصحاب کو دلاسا دے گئی۔ مگر میری پیاری مرزائی جماعت ہے ذرا ہوشیار۔ جو ان کا ہو کر پھر مخالف ہو جائے۔ اس کے دم دلاسوں میں دوبارہ نہ آئیں گے۔ واؤ عاطفہ نے پہلے ان کا ساتھ دیا پھر چھوڑا۔ پھر ملی۔ پھر ٹپکا۔ ایسے بیوفا دوست سے انہوں نے ناتا کاٹا۔ اب ہزار بار واؤ عاطفہ ان کی طرفداری کرے۔ اس کی ایک نہ سنیں گے۔

دیکھا مرزائی بچو! میں آپ سے پہلے کہہ چکا تھا کہ اس معشوق ہر جائی کے بھروسے نہ رہو۔ یہ تم کو آہستہ آہستہ لے جا کر ایسے گڑھے میں گرائے گی کہ جہاں زفیر و شہیق کے سوا نہ کوئی ساتھی ہو گا نہ ہمدم۔ مگر آج گہرے دوستوں کی کون سنتا ہے۔ لو اب میں آپ کو تنہائی میں سناتا ہوں۔ وہ آپ نے جو معنے ”متوفیک“ کے حضرت ابن عباسؓ سے سنے ہیں وہ سب صحیح۔ لیکن اسمیت نے وقفیت کو کھا لیا اور واؤ عاطفہ نے ترتیب سے برائے قرآن وحدیث وصرف ونحو ، ومعنی و بیان ومحاورات عرب۔ انکار کر دیا۔ جبکہ ترتیب ہی نہ رہی تو خدارا آپ ہی کہیے کہ آپ کے پاس کون سی دلیل رہ گئی جس کی رو سے آپ متوفیک، کو رافعک الیٰ پر مقدم کر سکو۔ اب کہو خوف خدا آپ کو نہیں، یا ہم کو، اور تعصب کی پٹی چشم والا پر ہے یا ہماری گناہ گار آنکھ پر۔

اس تقریر میں آپ کی پیش کردہ دو آیتوں سے آپ کے استدلال کا جواب ہو گیا۔ بایں طور کہ حضرت ابن عباسؓ کا ترجمہ ممیتک والی آیت میں عطف واوی جب مفید نہ ہوا تو اس کے ساتھ جو لفظ ”رافعک الیٰ“ ہے۔ وہ اور دوسری آیت میں ”بل رفع اللہ الیہ“ یہ دونوں بعد

٦

الموت ہونے غیر ثابت ہوئے اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہلی آیت کا رفع بعد والی صرف ترتیب ہے۔ سو ترتیب ہی نہ رہی تو اب رفع کو بعد الموت ثابت کے ہاتھ میں کیا رہا۔ اور جب پہلی آیت والا رفع آپ کے کام کا نہ رہا تو دوس بھائی وہ کیوں آپ کی دلجوئی اور اشک شوئی کرنے لگا۔ بات وہی ہے جو م سمجھ رکھی ہے کہ آیات قرآنیہ میں رفع مسیح کو موت مسیح سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

اگر در خانہ کس است
ایں قدر بس است

لیجئے اب تیسری آیت سورۂ مائدہ کا حال سنئے۔ سورۂ مائدہ والی تین باتوں پر اپنی طاقت صرف کر دی ہے۔

فرماتے ہیں۔ حالانکہ آپ مرنے کے بعد جی کر یہ جواب دیں گے۔ پس یکساں ہے تو حالت بھی دونوں پیغمبروں کی یکساں ہونی چاہئے۔ ماشاء اللہ

میں نے اس لئے مرزائی جماعت کو بہادر کا خطاب دیا ہے۔ سنو عزیزم م نمبر وار جواب حاضر خدمت ہے۔

لفظ ”توفی“ ابواب ثلاثی مزید فیہ کا ایک مصدر ہے۔ جس کو ثلاثی سے فوت رہ جاتا ہے۔ چونکہ قوت آپ کے ہاتھ سے فوت ہو چکا ہے۔ اس لئے توفی سے اپنی تشفی کر رہے ہیں۔ سارا زور آپ کا اور آپ کی جماعت کا اس با لفظ موت کے سوا کوئی معنے رکھتا ہی نہیں اور اگر بالفرض کوئی معنے ہوں بھی تو قرآ کہیں ناطق نہیں ہوا۔ اس تقریر سے یا تو یہ پایا جاتا ہے کہ آپ قرآن دانی میں ہیں جیسے صرف ونحو وعربیت وغیرہ میں۔ یا یہ جان بوجھ کر خلق اللہ کو دھوکہ دے رہ

خدا کے لئے غصے اور غضب سے تھوڑی دیر کے واسطے کنارہ کش

اپنے اسی رسالے الدلیل محکم کے آخر میں ص ٢٣ پر جو ٣٤ مقامات قرآنی س کر ایک فہرست کی صورت میں دکھایا ہے اور جلی قلم سے زور وشور کے ساتھ سب مقامات میں توفی کے معنے موت اور قبض روح کے سوا کچھ نہیں ہوتے

٧

سرگزشت غلام حسین شالیمار

صفحہ ١٤, ١٥

غلام حسین بہاولپوری سرگزشت ہے کیونکہ بلاریب حضرت مریم صدیقہ حضرت زکریا سے موخر تھے۔ واؤ عاطفہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کی ابتداء میں آکر پھر واؤ عاطفہ نے دوبارہ قادیانی جماعت کی پشت گرم کر دی۔ حضرت خلیل اللہ سے پیچھے بلکہ ان کی اولاد میں ہیں۔ لومرزائیو! سکے گا آپ کی بات بنانے کی کوشش کروں گا۔ افسوس چوتھی واؤ لادی کہ حضرت ذبیح اللہ کے قصے پر آ پڑی۔

ابھی تو جناب کلیم اللہ سے کہیں گے۔ لو صاحب اب تو واؤ عاطفہ دشمنی سی ہو گئی۔ دومرتبہ ہماری بہادر قوم کی حمایت کر کے اب جو علیہ السلام کے بعد نہایت پرانے ، پیشوائے پیشیاں حضرت سے ترقی کر کے جناب ابوالبشر آدم علیہ السلام تک پہنچی۔ پھر وہاں حضرت نوح علیہ السلام کی جانب توجہ فرما کر پھر ایک بار قادیانی بیچاری مرزائی جماعت ہے ذرا ہوشیار ۔ جوان کا ہو کر پھر مخالف ں دوبارہ نہ آئیں گے ۔ واؤ عاطفہ نے پہلے ان کا ساتھ دیا پھر تا دوست سے انہوں نے ناتا کاٹا۔ اب ہزار بار واؤ عاطفہ ان کی ئیں گے۔

آپ سے پہلے کہہ چکا تھا کہ اس معشوق ہرجائی کے بھروسے نہ کر ایسے گڑھے میں گرائے گی کہ جہاں زفیر و شہق کے سوا نہ کوئی نے دوستوں کی کون سنتا ہے۔ لواب میں آپ کو تنہائی میں سناتا توفیک“ کے حضرت ابن عباسؓ سے سنے ہیں وہ سب صحیح ۔لیکن ؤ عاطفہ نے ترتیب سے برائے قرآن وحدیث وصرف ونحو، ومعنی یا۔ جبکہ ترتیب ہی نہ رہی تو خدارا آپ ہی کہیے کہ آپ کے پاس ے آپ متوفیک ، کو رافعك الی پر مقدم کر سکو۔ اب کہو خوف خدا اپنی چشم والا پر ہے یا ہماری گناہ گار آنکھ پر۔

لی پیش کردہ دو آیتوں سے آپ کے استدلال کا جواب ہو گیا۔

رجمہ متوفیک والی آیت میں عطف واوی جب مفید نہ ہوا تو اس کے عہ وہ اور دوسری آیت میں 'بل رفع اللہ الیہ' یہ دونوں بعد ٦

١٥ الموت ہونے غیر ثابت ہوئے اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہلی آیت کا رفع بعد الموت کو ثابت کرنے والی صرف ترتیب ہے۔ سو ترتیب ہی نہ رہی تو اب رفع کو بعد الموت ثابت کرنے کے لئے آپ کے ہاتھ میں کیا رہا۔ اور جب پہلی آیت والا رفع آپ کے کام کا نہ رہا تو دوسری آیت کا رفع اس کا بھائی وہ کیوں آپ کی دلجوئی اور اشک شوئی کرنے لگا۔ بات وہی ہے جو مسلمانوں نے پہلے سے سمجھ رکھی ہے کہ آیات قرآنیہ میں رفع مسیح کو موت مسیح سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

اگر درخانہ کس است
ایں قدر بس است

لیجئے اب تیسری آیت سورہ مائدہ کا حال سنئے۔ سورہ مائدہ والی آیت میں آپ نے تین باتوں پر اپنی طاقت صرف کر دی ہے۔

فرماتے ہیں۔ حالانکہ آپ مرنے کے بعد جی کر یہ جواب دیں گے۔ پس جبکہ جواب دونوں کا یکساں ہے تو حالت بھی دونوں پیغمبروں کی یکساں ہونی چاہئے۔ ماشاء اللہ کیا ہی استدلال ہے؟

میں نے اس لئے مرزائی جماعت کو بہادر کا خطاب دیا ہے۔ سنو عزیزمین ، آپ کے شبہات کا نمبروار جواب حاضر خدمت ہے۔

لفظ ”توفی“ ابواب ثلاثی مزید فیہ کا ایک مصدر ہے۔ جس کو ثلاثی مجرد میں لے جانے سے فوت رہ جاتا ہے۔ چونکہ فوت آپ کے ہاتھ سے فوت ہو چکا ہے۔ اس لئے آپ اس کے بھائی توفی سے اپنی تشفی کر رہے ہیں۔ سارا زور آپ کا اور آپ کی جماعت کا اس بات پر ہے کہ اوّل تو یہ لفظ موت کے سوا کوئی معنے رکھتا ہی نہیں اور اگر بالفرض کوئی معنے ہوں بھی تو قرآن مجید اس معنی میں کہیں ناطق نہیں ہوا۔ اس تقریر سے یا تو یہ پایا جاتا ہے کہ آپ قرآن دانی میں بھی ایسے عدیم المثیل ہیں جیسے صرف ونحو وعربیت وغیرہ میں۔ یا یہ جان بوجھ کو خلق اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

خدا کے لئے غصے اور غضب سے تھوڑی دیر کے واسطے کنارہ کش ہو کر کہو کہ آپ نے اپنے اسی رسالے الدلیل محکم کے آخر میں ص٢٣ پر جو ٣٤ مقامات قرآنی سے لفظ ”توفی“ کو اٹھا کر ایک فہرست کی صورت میں دکھایا ہے اور جلی قلم سے زور وشور کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ اب سب مقامات میں توفی کے معنے موت اور قبض روح کے سوا کچھ نہیں ہوتے اور ڈنکے کی چوٹ ٧

صفحہ ١٧

دعوے پر دعوے کہ جس کا جی چاہے تراجم اور تفاسیر دیکھ لے۔ اناللہ واناالیہ راجعون! برخوردار ،سعادت آثار، نیک کردار ۔ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو اتنا ہی کر دیتے کہ اس فہرست میں سے ان مقامات کو قلم انداز کر دینا چاہئے تھا۔ جن مقامات میں اگر توفی کے معنے موت اور قبض روح کے کئے جائیں تو قرآن کتاب الٰہی نہیں رہتا۔

چلئے لیجئے ! اپنے رسالے کو ہاتھ میں اور کھولئے ص ٢٣ پھر آیئے نمبر ٦ پر۔ جہاں آپ نے حوالہ سورۃ انعام کا دیا ہے۔ وہ پوری آیت یہ ہے: ”ھوالذی یتوفکم باللیل ویعلم ماجرحتم بالنهار ثم يبعثکم فيه ليقضى اجل مسمى ، ثم اليه مرجعکم ثم ينبئکم بما کنتم تعملون (الانعام: ٦٠) “ اس آیت کا ترجمہ ہم مرزائیوں کی خواہش کے مطابق کرتے ہیں۔ تاکہ ہر خوش قسمت بندہ آسانی سے سمجھ لے کہ مرزائی خواہش کے مطابق ترجمہ ہونے سے بھی مرزائیوں کو مفید نہیں ہوتا۔ بلکہ ہمارا ترجمہ ان کو کم صدمہ پہنچاتا ہے۔ لیکن ان کا ترجمہ تو ان کی ساری عمارت گرا دیتا ہے۔ چونکہ مرزائی تمام آیات قرآنیہ میں لفظ ”توفی“ کے معنے موت اور قبض روح کے کرتے ہیں۔ اس سے نہایت خوش ہیں۔ اس لئے ہمیں اور معانی کے اثبات کی تکلیف اٹھانا فضول ہے۔

لیجئے صاحب! ترجمہ حاضر ہے۔ ﴿وہ خدا جو تم کو ہر رات کو مار ڈالتا ہے اور تمہارے دن کے کاموں کو جانتا ہے پھر تم کو اس میں اٹھاتا ہے تا کہ وقت مقرر تک پہنچائے پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر تم کو تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔﴾

عطف کی بحث میں جو ہم نے کہا تھا کہ واؤ ترتیب کو نہیں چاہتی۔ البتہ ثم کا استعمال ترتیب کے لئے ہوتا ہے۔ وہی ثم صاحب یہاں آپہنچے جو اس آیت میں تین جگہ رونق افروز ہیں۔ ثم کا ترجمہ میں نے پھر کیا ہے۔ یہ ”پھر“ کا لفظ میرے ترجمہ میں تین بار آیا ہے۔ اب ترتیب قرآنی کو دیکھو کہ رات کو تمہیں مار ڈالتا ہے۔ (پھر کیا ہوتا ہے) کہ دن ہونے پر تم کو اٹھاتا ہے۔ (یہ مارنا جلانا بار بار کا کیوں ہوتا ہے تا کہ آسانی سے تم وقت مقرر تک، یعنی اصلی موت کی گھڑی تک پہنچو) پھر کیا ہوتا ہے کہ تم مر کر خدا کی طرف لوٹ جاتے ہو۔ پھر کیا ہوگا۔ خدا تم کو تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔

اس آیت میں تین جگہ پر آکر ثم نے کیا کیا۔ سب سے پہلے پہلا کام بتایا، اس کے بعد کا کام بعد میں بتایا۔ اس کے بعد اس کے بعد کا کام۔ یعنی پہلے شب و روز کا مارنا جلانا بتایا۔ پھر اصلی موت تک پہنچنا بتایا۔ پھر خدا کی طرف لوٹ جانے کا ارشاد ہوا۔ سب سے آخر میں اعمال سے آگہی پانے کی اطلاع بخشی۔ اس میں سب سے پہلے روزانہ موت کا ذکر فرمایا۔ یہی وہ ٨

”توفی“ کا ترجمہ ہے۔ اگر یہی توفی یا موت جو ہم کو اور تم کو آتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی آگئی تو اس موت سے انکار کرنے والا کون ہم خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اس موت میں جناب مسیح ایک بار ہیں۔ آپ جس موت کے آرزومند ہیں وہ یہ موت نہیں جو ہم کو تم کو ہمیشہ

اپنی اس تحریر کی اوّل سطروں سے دست کش ہوتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ موت ہی کریں گے۔ کیونکہ اوّل تو اس معنی کو ہمارے مرزائی دوستوں نے کہ یہ معنی بہ نسبت مرزائی حضرات کے ہم کو زیادہ مفید ہیں۔ دل ماشاء اللہ مضبوط لائیے اور آپ کے دوسرے استدلال کا حل سنئے۔

دوسرا استدلال آپ کا سورۃ مائدہ کی مذکورہ آیت سے یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا خدا کے سامنے لاعلمی کا اظہار کرنا اور اس لاعلمی کا عذر حضرت مسیح یوں گزارش کریں گے کہ خدایا جب تو نے مجھے مار ڈالا تو پھر تو ہی نگہبان بہت ٹھیک آپ کسی عدالت کے وکیل یا مختار رہ چکے ہیں۔

تاریخ سے آپ خفا نہ ہو آپ بے خبر ہیں۔ آپ کو تاریخ سے اتنا پتہ ہے مصلوب ومقتول کی نسبت ایسا اور ویسا تھا۔ اس لئے اللہ رب العزت نے ان کے ہونے کی نفی فرمائی۔ لیکن یہ پتہ ایسا ہی ہے جیسا کوئی مناظرے کے لئے مضمون دکھا دیتا ہے۔ حریف مسکین اس صحیح کتاب کے اتنے ہی مضمون کو بوقت مناظرہ دکھایا گیا اور ہم کو تو اس میں بھی کلام ہے کہ آیا یہودی مقتولوں اور مصلوبوں کو ملعون سمجھا کرتے تھے۔ یا صرف قادیانی متنبّی نے یہ محض احمقوں اور نادانوں کو جال میں پھانسنے کے لئے پکایا تھا۔

چونکہ پنجاب اور وسط ہند میں یہودی نہیں ہیں۔ اس لئے وہاں ان کا چل جاتا ہے۔ لیکن ہم لوگ جنوبی ہند میں رہتے ہیں۔ یہودیوں کے مسائل سب ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ ہم تو ان کو ایسا ہی پاتے ہیں جیسا کہ مسلمانوں نے پیروں اور شہیدوں سے حاجتیں مانگنا اور ان کو خدائی کا عقیدہ دین سمجھ رکھا ہے۔ یہودی بھی اپنے بزرگوں اور شہیدوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں اصحاب کو جبکہ ہم نے ایک قاعدے کی رو سے صدوق کہہ دیا ہے تو پھر یہ سچے ۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہودی کیا کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ ٩

صفحہ ١٧

یہی چاہئے تراجم اور تفاسیر دیکھ لے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون! عمدت آثار، نیک کردار۔ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو اتنا ہی کر دیتے کہ اس بات کو قلم انداز کر دینا چاہئے تھا۔ جن مقامات میں اگر توفی کے معنے موت ہیں تو قرآن کتاب الٰہی نہیں رہتا۔

اپنے رسالے کو ہاتھ میں اور کھولئے ص ٢٣ پھر آئیے نمبر ٦ پر۔ جہاں آپ نے لکھا ہے۔ وہ پوری آیت یہ ہے: ”ھوالذی یتوفکم باللیل ویعلم ما جرحتم بالنہار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمیٰ ۔ ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملون (الانعام: ٦٠)“ اس آیت کا ترجمہ ہم مرزائیوں کی خواہش کے خلاف ہر خوش قسمت بندہ آسانی سے سمجھ لے کہ مرزائی خواہش کے مطابق یہ ترجمہ معنیوں کو مفید نہیں ہوتا۔ بلکہ ہمارا ترجمہ ان کو کم صدمہ پہنچاتا ہے۔ لیکن یہ ترجمہ یہ ثابت کر دیتا ہے۔ چونکہ مرزائی تمام آیات قرآنیہ میں لفظ ”توفی“ کے معنی موت کرتے ہیں۔ اس سے نہایت خوش ہیں۔ اس لئے ہمیں اور معانی کے اختیار کرنے میں کیا تامل ہے۔

ترجمہ حاضر ہے۔ ﴿وہ خدا جو تم کو ہر رات کو مار ڈالتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے۔ پھر تم کو اس میں اٹھاتا ہے تا کہ وقت مقرر تک پہنچائے پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔﴾

سیاق میں جو ہم نے کہا تھا کہ واؤ ترتیب کو نہیں چاہتی۔ البتہ ثم کا استعمال ترتیب چاہتا ہے۔ لیجیے ثم صاحب یہاں آپہنچے جو اس آیت میں تین جگہ رونق افروز ہیں۔ ثم کے معنے ”پھر“ کے ہیں۔ یہ ”پھر“ کا لفظ میرے ترجمہ میں تین بار آیا ہے۔ اب ترتیب قرآنی کو دیکھنا ہے۔ سب سے پہلے رات کا سلانا یا مارنا بتایا۔ (پھر کیا ہوتا ہے) کہ دن ہونے پر تم کو اٹھاتا ہے۔ (یہ مارنا جلانا دنیا کا ہے جو ہر روز ہم دیکھتے ہیں) پھر وقت مقررہ تک یعنی طبعی عمر تک چھوڑتا ہے۔ (تاکہ آسانی سے تم وقت مقرر تک ”یعنی اصلی موت کی گھڑی تک پہنچو“) پھر خدا کی طرف لوٹ جاتے ہو۔ پھر کیا ہوگا۔ خدا تم کو تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔

غور فرمایے کہ ان تین جگہ پر آکر ثم نے کیا کیا۔ سب سے پہلے پہلا کام بتایا، اس کے بعد دوسرا کام اور اس کے بعد تیسرا کام۔ یعنی پہلے شب و روز کا مارنا جلانا بتایا۔ پھر طبعی موت سے مارنا بتایا۔ پھر خدا کی طرف لوٹ جانے کا ارشاد ہوا۔ سب سے آخر میں اعمال کی اطلاع بخشی۔ اس میں سب سے پہلے روزانہ موت کا ذکر فرمایا۔ یہی وہ

٨

”توفی“ کا ترجمہ ہے۔ اگر یہی توفی یا موت جو ہم کو اور تم کو ہمیشہ بستر پر لیٹتے ہی آجاتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی آگئی تو اس موت سے انکار کرنے والا پاگل خانے کا مستحق ہے۔ ہم خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اس موت میں جناب مسیح ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار مر چکے ہیں۔ آپ جس موت کے آرزومند ہیں وہ یہ موت نہیں جو ہم کو تم کو ہمیشہ آیا کرتی ہے۔ اب ہم اپنی اس تحریر کی اوّل سطروں سے دست کش ہوتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ ہم توفی کا معنی موت ہی کریں گے۔ کیونکہ اوّل تو اس معنی کو ہمارے مرزائی دوستوں نے قبول کر لیا۔ دوسرے یہ کہ یہ معنی بہ نسبت مرزائی حضرات کے ہم کو زیادہ مفید ہیں۔ دل ماشاد چشم ماروشن۔ اچھا تشریف لائیے اور آپ کے دوسرے استدلال کا حل سنئے۔

دوسرا استدلال آپ کا سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت سے یہ ہے کہ مسیحیوں کی مسیح پرستی سے حضرت مسیح علیہ السلام کا خدا کے سامنے لاعلمی کا اظہار کرنا اور اس لاعلمی کو بوجہ موت کے بتانا۔ یعنی حضرت مسیح یوں گزارش کریں گے کہ خدایا جب تو نے مجھے مار ڈالا تو پھر تو ہی ان کے حال سے خبردار تھا۔

بہت ٹھیک آپ کسی عدالت کے وکیل یا مختار رہ چکے ہیں۔ مگر دوست قرآن سے اور تاریخ سے آپ نابلد ہیں یا آپ بے خبر ہیں۔ آپ کو تاریخ سے اتنا پتہ تو ملا کہ یہودیوں کا اعتقاد مصلوب و مقتول کی نسبت ایسا اور ویسا تھا۔ اس لئے اللہ رب العزت نے ان کے مصلوب یا مقتول ہونے کی نفی فرمائی۔ لیکن یہ پتہ ایسا ہی ہے جیسا کوئی مناظرے کے وقت اپنے حریف کو کوئی مضمون دکھا دیتا ہے۔ حریف مسکین اس ضخیم کتاب کے اتنے ہی مضمون کا عالم ہوتا ہے جتنا اس کو بوقت مناظرہ دکھایا گیا اور ہم کو تو اس میں بھی کلام ہے کہ آیا یہودیوں کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ سبھی مقتولوں اور مصلوبوں کو ملعون سمجھا کرتے تھے۔ یا صرف قادیانی متنبتی کا خانہ ساز خیالی پلاؤ ہے۔ جو محض احمقوں اور نادانوں کو جال میں پھانسنے کے لئے پکایا تھا۔

چونکہ پنجاب اور وسط ہند میں یہودی نہیں ہیں۔ اس لئے وہاں کے باشندوں پر یہ جادو چل جاتا ہے۔ لیکن ہم لوگ جنوبی ہند میں رہتے ہیں۔ یہودیوں کے مساجد و مقابر، ان کی شادی غمی سب ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ ہم تو ان کو ایسا ہی پاتے ہیں جیسا اس آخر زمانہ میں بے علم مسلمانوں نے پیروں اور شہیدوں سے حاجتیں مانگنا اور ان کو خدائی کارخانے کا مالک اور مختار جاننا دین سمجھ رکھا ہے۔ یہودی بھی اپنے بزرگوں اور شہیدوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن خیر اس متنبتی کے اصحاب کو جبکہ ہم نے ایک قاعدے کی رو سے صدوق کہہ دیا ہے تو پھر متنبتی صاحب بھی ویسے ہی سچے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہودی کیا کہتے تھے اور کیا کہتے ہیں۔ ہم تو اپنے نو مسیحیوں سے

٩

صفحہ ١٩

باب چہارم

١٨ مصافحہ کرنے کو ہیں۔ جن کا علم خلافت قادیان بروزن ہادیان میں لہرا رہا ہے۔ پیارے تو مسیحیو! آؤ دیکھو یہ ہمارا تمہارا خانگی معاملہ ہے۔ کسی غیر کو دخل در معقولات کا مجاز نہیں۔

وہ جو سورۂ مائدہ کی آیت ہے۔ دوسرا استدلال قائم کرنے میں آپ کو مغالطہ ہوا ہے۔ یہ بالکل حق بجانب ہے۔ آپ ایک سیدھے سادھے ولی آدمی ہیں اور ہیں بھی حق پسند۔ قرآن کی محبت میں چکنا چور۔ ادھر عام قاعدہ ہے کہ عشق اور عقل کی بنتی نہیں۔ عشق آیا اور عقل چلی۔ پھر مصیبت یہ کہ علم کی کمی۔ پھر مصیبت پر مصیبت یہ کہ قرآن کریم کے مقامات مشکلہ میں یہ ایک مقام ہے جہاں اچھے اچھوں کی دال کم گلتی ہے۔ وہاں آپ جیسا سادہ لوح، حدیث العہد بامسیحیت جدیدہ۔ اگر ٹھوکر کھا جائے تو معذور ہے:

بہت شہسواروں کو یاں گرتے دیکھا حالی
بہت یکہ تازوں کو یاں گرتے دیکھا

کچھ مضائقہ نہیں۔ پھسلتی زمین پر پھسلنا قابل مضحکہ نہیں ہوتا۔ آئیے سنبھل بیٹھئے۔ یہ جو اس آیت شریفہ میں آپ کو دو لفظ دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک ”فلما توفیتنی“ یعنی جبکہ تو نے مجھے مار ڈالا۔ دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد میں نہیں جانتا کہ مجھے کس نے خدا بنایا اور کس نے خدا کا بیٹا۔

دیکھو اسی موقع پر آپ کو تنبہا کہا تھا کہ آپ قرآن اور تاریخ دونوں سے ناواقف ہیں۔ تاریخ پر آپ کو کس قدر عبور ہوتا تو آپ جان لیتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بعض نادان دوستوں نے ان کی زندگی ہی میں ابن اللہ کہنا شروع کر دیا تھا اور یہی وجہ زیادہ تر یہودی علماء کے غصے کا باعث ہوئی۔ جنہوں نے اپنے امراء اور حکام کو آنجناب کے قتل پر ابھارا۔ حالانکہ جناب مسیح ان نادان دوستوں کی اس نالائق حرکت سے نالاں تھے۔ مگر کرتے کیا۔ نہ طاقت تھی نہ حکومت۔ کوئی تعجب کرے گا کہ مسیح کے ماننے والوں سے خود اپنے مقتدا کی موجودگی میں یہ حرکت۔ پھر ان کے منع کرنے پر بھی باز نہ آنا خلاف عقل۔ میں ان متعجبین کو ایک لائن بتاتا ہوں کہ ذرا اپنے گھر کی تاریخ۔ تاریخ اسلام پڑھو۔ غالی شیعہ کا قصہ دیکھو۔ آج واقف کار لوگ کہتے ہیں کہ دنیا سے یہ شیاطین سب کے سب اٹھالئے گئے جو جناب اسد اللہ الغالب علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کی زندگی میں الہ کہتے تھے۔ جناب حیدرؓ کو جہاں کسی غالی شیعہ کا پتہ لگتا ضرب دُقّل سے اس کا علاج کرتے۔ اتنا ہونے پر بھی وہ اپنے ناپاک عقیدے سے باز نہیں آتے تھے اور جناب زوج بتول کی اس خفگی اور قتل کی تاویل یوں کرتے تھے کہ چونکہ آپ الہ بے شک ہیں۔ مگر اس راز کو مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ برخلاف اس کے ہم اس راز کا بے صبری سے افشاء کرتے ہیں۔ اس لئے آپ ہم کو قتل کرتے ہیں۔

١٠

علامہ اقبال اور قادیانیت

١٩ کہئے ان شقاوتوں کا کوئی علاج ہے؟ میں کہتا ہوں اس گروہ کے بقایا بعض مقاموں میں اب تک موجود ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ وہ بالکل جس مرض کا علاج شیر خدا سے اپنی حکومت اور خلافت کے ہاتھوں سے مسیح کی زبانی نصیحتوں سے کیونکر دور ہو سکتی؟

اب رہا دوسرا شبہ۔ وہ یہ کہ جب تو نے اقرار کر لیا ہے کہ مشکل کشاء اور حاجت روا مانتے تھے۔ نیز قرآن کریم بھی شہادت حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا۔ ایسی حالت میں کیونکر مانا جا کو صرف ابن اللہ ہونے کے شبہ میں مار ڈالنا چاہا۔ کیونکہ جس قوم میں ہے وہ بات ان کو غصہ نہیں دلاتی۔ اس شبے کے ازالے کے لئے ضرورت نہیں۔ اپنے ہی شہروں، بستیوں کو دیکھو کہ جہاں لاکھوں قبر جاتے ہیں۔ یہی مسلمان قرآن وحدیث اور فقہ اور اصول کے ما پرست، عہدہ پرست۔ پیر پرست، زندہ پرست، مردہ پرست۔ زن پرست لاکھوں نہیں کروڑوں پڑے ہیں۔ مصیبت کے وقت یا غوث علی۔ دریا کے سفر میں یا خواجہ خضر۔ ان کے شرک میں کسی ادنیٰ ذی ش نہیں۔ مگر باوجود اپنی اتنی ردی حالت کے ہندوؤں کی بت پرستی پر خ آتش پرستی پر ناراض ہیں۔ عیسائیوں کی مسیح پرستی پر برسر جنگ ہیں۔ جنات کے ماننے پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ حالانکہ ان تمام قوموں مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کیا۔ جو یہ کر رہے ہیں وہی وہ کر کیا۔ میاں حالی مرحوم نے کیا ہی اچھا نقشہ کھینچا ہے۔ جس میں ان تصویر مع خدوخال کے نظر آ رہی ہے:

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے
کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر کواکب می
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام

١١

صفحہ ١٩

فت قادیان بروزن ہادیان میں لہرا رہا ہے۔ پیارے تو مسیحا آؤ کسی غیر کو دخل در معقولات کا مجاز نہیں۔ ہے۔ دوسرا استدلال قائم کرنے میں آپ کو مغالطہ ہوا ہے۔ سیدھے سادھے ولی آدمی ہیں اور ہیں بھی حق پسند۔ قرآن کی حد ہے کہ عشق اور عقل کی بنتی نہیں۔ عشق آیا اور عقل چلی۔ پھر بڑی مصیبت یہ کہ قرآن کریم کے مقامات مشکلہ میں یہ ایک مقام سخت ہے۔ وہاں آپ جیسا سادہ لوح، حدیث العہد بالمسیحیت ہے :

سواروں کو یاں گرتے دیکھا
تاروں کو یاں گرتے دیکھا

چکنی زمین پر پھسلنا قابل مضحکہ نہیں ہوتا۔ آئیے سنبھل بیٹھئے۔ یہ جو دھوکے دے رہے ہیں۔ ایک ”فلما توفیتنی“ یعنی جبکہ تو نے بعد میں نہیں جانتا کہ مجھے کس نے خدا بنایا اور کس نے خدا کا بیٹا۔ کو تنبیہاً کہا تھا کہ آپ قرآن اور تاریخ دونوں سے ناواقف ہوتے تو آپ جان لیتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بعض نادان ابن اللہ کہنا شروع کر دیا تھا اور یہی وجہ زیادہ تر یہودی علماء کے اپنے امرا اور حکام کو آنجناب کے قتل پر ابھارا۔ حالانکہ جناب مسیح اس حرکت سے نالاں تھے۔ مگر کرتے کیا۔ نہ طاقت تھی نہ حکومت۔ ماننے والوں سے خود اپنے مقتدا کی موجودگی میں یہ حرکت ۔ پھر ان بے عقل ۔ میں ان مجتہدین کو ایک لائن بتاتا ہوں کہ ذرا اپنے گھر کی طرف دیکھو۔ آج واقف کار لوگ کہتے ہیں کہ دنیا سے یہ مٹ گئے جو جناب اسد اللہ الغالب علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کی زندگی میں جہاں کسی غالی شیعہ کا پتہ لگتا ضربِ درہ سے اس کا علاج کرتے۔ عقیدے سے باز نہیں آتے تھے اور جناب زوج بتول کی اس خفگی پر کہتے کہ آپ الہ بے شک ہیں۔ مگر اس راز کو مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ ظاہر میں خفا ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ ہم کو قتل کرتے ہیں۔ ١٠

کہتے ان شقاوتوں کا کوئی علاج ہے؟ میں کہتا ہوں اس گروہ کے بقایا سقایا ایران اور ہندوستان کے بعض مقاموں میں اب تک موجود ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ وہ بالکل ناپید ہو گئے۔ غور فرمائیے کہ جس مرض کا علاج شیر خدا سے اپنی حکومت اور خلافت کے ہاتھوں سے نہ ہوسکا۔ وہ بیماری جناب مسیح کی زبانی نصیحتوں سے کیونکر دور ہوسکتی؟

اب رہا دوسرا شبہ ۔ وہ یہ کہ جب تو نے اقرار کرلیا ہے کہ یہودی پیروں اور شہیدوں کو مشکل کشاء اور حاجت روا مانتے تھے۔ نیز قرآن کریم بھی شہادت دے رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا۔ ایسی حالت میں کیونکر مانا جائے کہ یہودیوں نے جناب مسیح کو صرف ابن اللہ ہونے کے شبہ میں مار ڈالنا چاہا۔ کیونکہ جس قوم میں جس بات کی عادت ہو جاتی ہے وہ بات ان کو غصہ نہیں دلاتی۔ اس شبے کے ازالے کے لئے کسی کتاب کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنے ہی شہروں، بستیوں کو دیکھو کہ جہاں لاکھوں قبریں اور چلے اور تعزیے پوجے جاتے ہیں۔ یہی مسلمان قرآن وحدیث اور فقہ اور اصول کے ماننے والے۔ گور پرست چلہ پرست رخنہ پرست ۔ پیر پرست ، زندہ پرست ، مردہ پرست ۔ زن پرست ۔ زر پرست ۔ آشنا پرست لاکھوں نہیں کروڑوں پڑے ہیں۔ مصیبت کے وقت یا غوث ۔ دشمن پر حملہ کرتے وقت یا علی ۔ دریا کے سفر میں یا خواجہ خضر ۔ ان کے شرک میں کسی ادنیٰ ذی شعور کو بھی کچھ تامل ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ مگر باوجود اپنی اتنی ردی حالت کے ہندوؤں کی بت پرستی پر خفا ہو رہے ہیں۔ پارسیوں کی آتش پرستی پر ناراض ہیں۔ عیسائیوں کی مسیح پرستی پر برسر جنگ ہیں۔ مشرکین مکہ پر ان کے لات منات کے ماننے پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ حالانکہ ان تمام قوموں نے ان شرک میں آلودہ مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کیا۔ جو یہ کر رہے ہیں وہی وہ کرتے ہیں۔ پھر خفا ہونے کی وجہ کیا۔ میاں حالی مرحوم نے کیا ہی اچھا نقشہ کھینچا ہے۔ جس میں ان نام کے مسلمانوں کی پوری تصویر مع خدوخال کے نظر آرہی ہے:

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

١١

صفحہ ٢٠

کتاب نگری

روئداد مقدمہ بہاولپور

جیسا ان شرک آلود مسلمانوں کو کوئی حق نہیں کہ کسی ہندو، عیسائی پر طعنہ زنی کریں۔ ایسا ہی ان مشرک یہودیوں کو بھی کوئی حق نہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اب اللہ کہلانے پر خفا ہوتے۔ مگر انہوں نے بلا استحقاق یہ کام کیا۔ جیسے آج کل کے نیم مسلم لوگ بلا استحقاق ہندوؤں وغیرہ کو مشرک کہہ رہے ہیں۔ امید ہے کہ ایک تاریخی واقع سے ان دو شبہوں کا ازالہ اتنا ہی بس ہوگا۔ ورنہ یار باقی صحبت باقی۔

ہم نے اوپر کے صفحات پر آپ کے خفا ہونے کی دو باتیں کہی تھیں۔ کیا کیا جائے۔ سر دست کوئی لفظ نہ ملا تو یہی کہہ دیا۔ قرآن و تاریخ ، دونوں سے آپ ناواقف ہیں۔ خدا نہ کرے کہ آپ خفا ہوں۔ ان میں سے تاریخی ناواقفی کا مسئلہ بتا کر قرآنی ناواقفی کو ہم بتانا چاہتے ہیں۔ سنئے اور لٹھ نہ اٹھائیے۔

قرآنی اسلوب بیان سے وہی شخص واقف ہو سکتا ہے جو ہر ہر مقام پر ٹھہرے اور تمام مضامین خواہ وہ فقہی ہوں یا تاریخی۔ امثال ہوں یا غیر۔ سب کو غور سے پڑھے۔ پھر سب کی تطبیق میں اجتہاد کرے۔ اپنے مذہبی مسلمات کو ان پر عرض کرے۔ ان میں سے جس مسئلہ مذہبی کو مخالف کتاب مجید کے پائے چھوڑتا جائے۔ نہ یہ کہ کتاب مجید کو اپنے مذہب کے سانچے میں ڈھالتا جائے۔ ہزار سردردیوں اور خون پسینہ ایک کرنے کے بعد قرآنی غوامض کے در شہوار کو پائے گا۔

جو آپ الزام پرانی فیشن کے مسلمانوں کو دیتے ہیں کہ وہ لوگ حدیثوں، تفسیروں اور مذہبی مقتداؤں کے کلام کے تابع آیات قرآنیہ کو کرتے ہیں۔ جیسے بن سکے توڑ مروڑ کے اپنے مسلمات اور معتقدات کے خلاف قرآن کو ایک قدم چلنے نہیں دیتے یہ بے شک۔ لیکن پیارے مرزائی دوست اس الزام سے آپ ہی بچ نہ سکے۔ آپ چراغ لے کر ڈھونڈو تو ان ہزاروں مرزائیوں میں سے ایک بھی ایسا نہ ملے گا جس نے مرزا قادیانی ملعون کی مرضی کے خلاف قرآن پاک کو ایک انچ بھی ادھر ادھر کروٹ بدلنے دی ہو۔

پھر کانا کانے کو اور لنگڑا لنگڑے کو کس چیز کا عار دلاتا ہے۔ آپ کو اگر اپنی مذہبی اشاعت کے علاوہ احوال قیامت کے دریافت کرنے کا موقع ملا ہو تو بآسانی سمجھ جائیں گے کہ اس دن کا نام یوم الفزع الاکبر کہا گیا ہے۔ اس دن تمام انبیاء صدیقین جن کے رتبے سے بالاتر کوئی رتبہ نہیں ہے۔ نفسی نفسی اور رب سلم رب سلم ۔ پکارتے ہوں گے۔ ”وترى الناس سکاری وما هم بسكارى ولكن عذاب الله شديد (الحج:٢)“ جس کا اثر محیط ہوگا۔ ہر نیک و بد پر کم وبیش اس کا اثر پہنچے گا۔ ایسی گھبراہٹ ہوگی کہ بیٹے کو باپ اور جورو کو خاوند بھول جائے گا۔ سب نظر ١٢

٢١ کے سامنے پھرتے ہوں گے مگر کسی کو پہچاننے کا نہیں۔ سورۃ معارج گھبراہٹ میں انسان کھانا یا پیاس سب بھول جائے گا۔ وہی گھبراہٹ کی امت کا معاملہ بھلا دے گی۔ وہ ان لوگوں کے شرکیہ اقوام سے بھی ان کی ٣٠ سالہ موجودگی دنیا میں ان کے حق میں کہہ گئے تھے۔

پھر تم تعجب کرو گے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیا انبیاء اور صدیقین سے اتنا نسیان کہ اپنے مشاہدات اور وجدانات سے انکار کر دیں گے۔ آپ کے تعجب کا علاج ابھی ہوا جاتا ہے۔ ذرا قرآن مجید کو پھر باوضو ہو مائدہ کی آخیر کی آیت جس میں آپ اور ہم بحث کر رہے ہیں۔ اس مقام جانب کو الٹا کر دیکھئے۔ کیا نظر آ رہا ہے۔ وہ ایک ہولناک منظر دکھائی د

يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک

(المائدہ:١٠٩) ”جس دن اللہ رب العزت سارے رسولوں کو جواب دے گئے ۔ کہیں گے خدایا ہم کچھ نہیں جانتے۔ آپ سے کوئی بات

میں پوچھتا ہوں کون ہے جو نہیں جانتا کہ حضرت نوح علیہ ا بے خبر ہے اس سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ ا السلام اور حضرت محمد ﷺ کو کیا جواب ملا۔ اور ان کی قوموں نے ان پر کیا کیا برتاؤ کئے۔ باوجود اس قدر ہدایت کے کیا بکواس کہ سچے لوگ جھو علیم و خبیر کے آگے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ!

یہ جھوٹ نہیں بلکہ اسی یوم الفزع الاکبر کی گھبراہٹ نے ان کچھ یاد نہیں رہا کہ وہ کیا کہیں۔

اگر چہ یہ گھبراہٹ کی حالت خاصان خدا پر دیر تک نہ رہے گـ میں کمی ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ انبیاء اور صدیقین کو چھو معروض کا مجاز ہو جائے گا۔ جس کا انتباہ اس آیت کریمہ میں ہے: ’یوم عن نفسها (النحل:١١١)“ جناب خاتم المرسلین ﷺ سے جناب ام المو قیامت کے دن آپ ہم کو یاد کریں گے۔ فرمایا تین جگہ پر تو کوئی کسـ ۔ کتاب ۔ میزان کے وقت۔ فرمائیے سید المرسلین ، شافع روز محشر کو بھی جـ حالت طاری ہو تو پھر کس کی بات کا ٹھکانہ ۔ جس جگہ تمام قواعد وقوانیـ ١٣

صفحہ ٢١

کے سامنے پھرتے ہوں گے مگر کسی کو پہچانے گا نہیں۔ سورۂ معارج يبصرونهم جس گھبراہٹ میں انسان کھانا پینا سب بھول جائے گا۔ وہی گھبراہٹ حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کی امت کا معاملہ بھلا دے گی۔ وہ ان لوگوں کے شرکیہ اقوال سے بھی لاعلمی ظاہر فرمائیں گے۔ جو ان کی ٣٣ سالہ موجودگی دنیا میں ان کے حق میں کہہ گئے تھے۔

پھر تم تعجب کرو گے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیا انبیاء اور صدیقین پر گھبراہٹ اور اس کے اثر سے اتنا نسیان کہ اپنے مشاہدات اور وجدانات سے انکار کر دیں گے۔ ہاں کر دیں گے۔ لیجئے آپ کے تعجب کا علاج ابھی ہوا جاتا ہے۔ ذرا قرآن مجید کو پھر باوضو ہو کر ہاتھ میں لے کر سورۂ مائدہ کی آخری آیت جس میں آپ اور ہم بحث کر رہے ہیں۔ اس مقام سے ایک دو ورق داہنی جانب کو الٹا کر دیکھئے۔ کیا نظر آ رہا ہے۔ وہ ایک ہولناک منظر دکھائی دیتا ہے جو یہ ہے: ”يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انك انت علام الغيوب (المائده:١٠٩) “ ﴿جس دن اللہ رب العزت سارے رسولوں کو جمع کر کے پوچھے گا کہ تم کیا جواب دئیے گئے۔ کہیں گے خدایا ہم کچھ نہیں جانتے۔ آپ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔﴾

میں پوچھتا ہوں کون ہے جو نہیں جانتا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو کیا جواب ملا۔ کون بے خبر ہے اس سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کو کیا جواب ملا۔ اور ان کی قوموں نے ان برگزیدہ بندگان خدا کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ۔ باوجود اس قدر ہدایت کے کیا نبیوں کے سچے لوگ جھوٹ بولیں گے اور جھوٹ بھی کسی علیم وخبیر کے آگے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ!

یہ جھوٹ نہیں بلکہ اسی یوم الفزع الاکبر کی گھبراہٹ نے ان کو از خود رفتہ کر دیا۔ انہیں کچھ یاد نہیں رہا کہ وہ کیا کہیں۔

اگرچہ یہ گھبراہٹ کی حالت خاصان خدا پر دیر تک نہ رہے گی۔ بلکہ رفتہ رفتہ غضب الٰہی میں کمی ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ انبیاء اور صدیقین کو چھوڑ کر ادنیٰ آدمی بھی اپنی عرض معروض کا مجاز ہو جائے گا۔ جس کا انتباہ اس آیت کریمہ میں ہے: ”يوم تاتي كل نفس تجادل عن نفسها (النحل:١١١) “ جناب خاتم المرسلین ﷺ سے جناب ام المومنین صدیقہؓ نے پوچھا کہ قیامت کے دن آپؐ ہم کو یاد کریں گے۔ فرمایا تین جگہ پر تو کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ حساب ۔ کتاب ۔ میزان کے وقت ۔ فرمائیے سید المرسلین ، شافع روز محشر کو بھی جب ان تین مقامات میں یہ حالت طاری ہو تو پھر کس کی بات کا ٹھکانہ ۔ جس جگہ تمام قواعد وقوانین پاس کئے ہوئے سند یافتہ

١٣

صفحہ ٢٣

باب چہارم

مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

”صم بکم“ ہو جائیں گے۔ وہاں حضرت مسیح اور جملہ انبیاء اپنے محفوظات سے غافل ہو کر انکار کریں گے کہ ہم نہیں جانتے۔ وہ جواب ایک سکر اور مدہوشی کی حالت کا ہوگا۔ جس کو آپ قیامت کے دن سے بے ڈر ہو کر استدلال میں لا رہے ہیں۔ اگر وہ جواب حضرت مسیح علیہ السلام کا واقعیت کے مطابق ہے اور سورۂ حج آیت اول: ”وتری الناس سکاریٰ وماھم بسکاریٰ“ کے اثر سے متاثر ہوئے بغیر ہوش کی حالت میں دیا ہے۔ تو اس جواب کا کیا علاج ہے جو حضرت مسیح نے جماعت انبیاء کے ساتھ شامل ہو کر دیا ہے۔ اگر وہ بھی حالت ہوش میں دیا گیا ہے اور وہ جماعت انبیاء کا جواب مطابق واقع ہے۔ تو اخبار قرآنی سب غلط ٹھہرتے ہیں۔ جن میں صریح خبریں ہیں کہ قوم نوح نے یہ کہا اور قوم ابراہیم اور قوم لوط و قوم عاد نے اپنے اپنے انبیاء کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ مشرکین مکہ کا نبی آخر الزمان کو شاعر اور ساحر وغیرہ کہنا جو قرآن میں مذکور ہے۔ سب غلط ٹھہرتا ہے اور یہ سب تصدیقیں اور تکذیبیں انبیاء مذکور کے سامنے ان کی زندگی میں ہوئی ہیں۔ جس کو وہ حضرات ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ باوجود اس قدر جاننے کے انکار ولا علمی کا سبب وہی گھبراہٹ اور بے چینی ہے جس کا لازمی نتیجہ نسیان اور ذہول۔ کبھی آپ کسی بادشاہ عالی جاہ کے دربار میں تو گئے نہ ہوں گے۔ مگر کسی عدالت کے جج کو کسی پر غصہ آتے ہوئے ضرور دیکھا ہو گا کہ غریب مدعی یا مدعا علیہ ان میں سے جس پر حاکم عدالت غصے میں آیا اور ڈانٹنا شروع کیا۔ بس وہیں وہ اپنے کام کے پختہ دلائل دے آیا تھا سب بھول گیا۔ اظہار دینے میں غلطیاں کرنے لگا۔

ہمارے دیار میں ایک جنگل ہے جس میں شیر اور درندے جانور بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس میں دیسیوں کو شیر کا شکار کرنے کی ممانعت اور یورپی اقوام کو اجازت ہے۔ صاحب بہادر اکثر شکار کے لئے آیا کرتے ہیں۔ جو ان میں سے احتیاط برتتا ہے۔ وہ تو کچھ مشکلوں سے کامیاب ہو جاتا ہے اور جس نے ذرا بے احتیاطی کی اور شیر کے سر پر جا پہنچا۔ بس پھر کیا تھا۔ شیر کے غراتے ہی پاجامہ پیشاب سے تر۔ بھری ہوئی بندوق ہاتھ سے جا پڑی۔ سارے داؤ پیچ حرف غلط۔

یہ دنیا کی ادنیٰ سی دہشت انسان کو داؤ پیچ سارے بھلا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ تو اس پچاس ہزار برس کے دل ہلا دینے والے دن کا کیا پوچھنا: ”یوم ترونھا تذھل کل مرضعة عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا (الحج:٢)“

متعدد روایتوں سے مختلف کتب حدیث میں دیکھا گیا کہ جس وقت اللہ رب العزت حضرت مسیح علیہ السلام سے پوچھے گا کہ تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنا لو اللہ کے سوا۔ یہ سوال ہوتے ہی جناب کلمۃ اللہ و روح اللہ کے بدن میں تھرتھری پیدا ہو کر تمام بالوں کی جڑوں ١٤

سے خون پھوٹ نکلے گا۔ یہی حالت ہوگی۔ جس میں کل کے کل انبیاء کے از خود رفتہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دل جوئی فرمائے گا۔ یہاں برترین جماعت شفاعت گنہگاران کا منصب حاصل کرے گی۔ جن میں عامہ کی کرسی حضرت ختم الرسل ﷺ کے لئے مخصوص ہوگی۔ اس تقریب قیامت کے دن کے اس منظر کو سامنے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح کو مخاطب طویل ہے۔ جس سے سورۂ مائدہ کے آخری دو رکوع بھر گئے ہیں اور جو سوال کے بہت مختصر ہے۔ اس دوبارہ کلام الٰہی کو دیکھنے سے آپ بآ خطاب اور اس کا جواب۔ پھر خاص خطاب اور اس کا جواب۔ دونوں ب وقت آپ میرا بے حد احسان مانیں گے۔

اب لیجئے ! تیسرے شبہ کا جواب۔ جو آپ نے فرمایا ہے کہ اپنا جواب بھی وہی فرمایا جو جواب حضرت مسیح علیہ السلام دیں گے اور یقین پس یقیناً ثابت ہوا کہ آپ پس مردن جی کر جواب دیں گے۔ اس مغا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مر کر جی کر یہ جواب دیں گے۔

سبحان اللہ! ہمارے ذہن ناقص کی رسائی اس کلام اور استدلال ہو سکتی۔ میری عقلِ مختصر کو اتنا حوصلہ نہیں کہ یہ معلوم کر سکوں کہ اس وقت آ ہے۔ یعنی اپنے رسالے کا یہ خاص جملہ کن کے سمجھانے کے لئے لکھا ہ مخاطب ہیں تو بلا سے، اور اگر یہ فہمائش آپ کی مسلمانوں کو ہے تو محض تحمیل آپ کو ملا تھا جو ناحق آپ کو ستا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ جواب ان ک آپ خاطر جمع رکھئے کہ مشرق سے مغرب تک کے مسلمان ج کہ آج تک کے مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جواب مذکورہ حضرت مسیح ابن ہوگا۔ اب وقت زیادہ ہو گیا۔ اس سے زیادہ میں آپ کی سمع خراشی کر رخصت ہوتے ہوتے سنتے جائیں۔

شاید اطراف پنجاب میں یہ دستور ہو کر مر کر جی اٹھنے کے بع آدمی نقل کرے۔ مثلاً اہل جنت کا کلام: ”الحمد لله الذی ہدانا لولا ان ہدانا الله (الاعراف:٤٣)“ بطور شکر علی الاسلام کے کہنے کے لوگ اس کی نماز جنازہ اور تجہیز و تکفین کے لئے حاضر ہو جاتے ہوں ۔ ١٥

صفحہ ٢٣

سے خون پھوٹ نکلے گا۔ یہی حالت ہو گی۔ جس میں کل کے کل انبیاء مع حضرت مسیح اور محمدﷺ کے از خود رفتہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دل جوئی فرمائے گا۔ یہاں تک کہ یہی بہترین اور برترین جماعت شفاعت گنہگاران کا منصب حاصل کرے گی۔ جن میں شفاعت عظمیٰ اور شفاعت عامہ کی کرسی حضرت ختم الرسلﷺ کے لئے مخصوص ہو گی۔ اس تقریر کے بعد پھر تکلیف کر کے قیامت کے دن کے اس منظر کو سامنے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح کو مخاطب کر لیا ہے۔ خطاب طول طویل ہے۔ جس سے سورہ مائدہ کے آخری دو رکوع بھر گئے ہیں اور جواب حضرت مسیح کا بہ نسبت سوال کے بہت مختصر ہے۔ اس دوبارہ کلام الٰہی کو دیکھنے سے آپ بآسانی سمجھ لیں گے کہ عام خطاب اور اس کا جواب۔ پھر خاص خطاب اور اس کا جواب۔ دونوں میں کیا مناسبت ہے۔ اس وقت آپ میرا بے حد احسان مانیں گے۔

اب لیجئے! تیسرے شبہ کا جواب۔ جو آپ نے فرمایا ہے کہ چونکہ آنحضرتﷺ نے اپنا جواب بھی وہی فرمایا جو جواب حضرت مسیح علیہ السلام دیں گے اور یقیناً آپ وفات پا چکے ہیں۔ پس یقیناً ثابت ہوا کہ آپ پس مردن جی کر جواب دیں گے۔ اس مشارکت جوابی سے لازم آیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مر کر جی کر یہ جواب دیں گے۔ سبحان اللہ! ہمارے ذہن ناقص کی رسائی اس کلام اور استدلال کے علو اور رفعت تک نہیں ہوسکتی۔ میری عقل مختصر کو اتنا حوصلہ نہیں کہ یہ معلوم کر سکوں کہ اس وقت آپ کا روئے سخن کس طرف ہے۔ یعنی اپنے رسالے کا یہ خاص جملہ کن کے سمجھانے کے لئے لکھا ہے۔ اگر غیر مسلم آپ کے مخاطب ہیں تو بلا سے، اور اگر یہ فہمائش آپ کی مسلمانوں کو ہے تو محض تحصیل حاصل ہے۔ کون بد بخت آپ کو ملا تھا جو ناحق آپ کو ستا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ جواب ان کی اسی زندگی میں ہوگا۔ آپ خاطر جمع رکھئے کہ مشرق سے مغرب تک کے مسلمان جناب سالار انبیاء سے لے کر آج تک کے مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جواب مذکورہ حضرت مسیح ابن مریم کا مر کر جینے کے بعد ہوگا۔ اب وقت زیادہ ہو گیا۔ اس سے زیادہ میں آپ کی سمع خراشی کرنا نہیں چاہتا۔ ذرا دو باتیں رخصت ہوتے ہوتے سنتے جائیں۔

شاید اطراف پنجاب میں یہ دستور ہو کہ مر کر جی اٹھنے کے بعد کے کلام کی اگر کوئی زندہ آدمی نقل کرے۔ مثلاً اہل جنت کا کلام: ”الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله (الاعراف: ٤٣)“ بطور شکر علی الاسلام کے کہنے لگے۔ تو آپ کے گردو نواح کے لوگ اس کی نماز جنازہ اور تجہیز و تکفین کے لئے حاضر ہو جاتے ہوں گے ہو سکتا ہے۔

١٥

PDF 25

جاء الحق وزہق الباطل

ہر ملکے وہر رسمے

ہمارے ہاں ایسا دستور نہ ہونے سے پوچھنا پڑا۔ ذرا ٹھہریئے بات ختم ہوئی جاتی ہے۔

یہاں تک تو آپ کے نقلی دلائل کا جواب ہوا، اب تھوڑا سا حضور کی عقلی حجت کے لئے بھی لیتے جائیے۔

آپ کی عقل اس کو محال سمجھتی ہے کہ سدا جینے کا رتبہ پانے کا اگر کوئی مستحق ہوتا تو جناب رسالت مآب محمدﷺ علیہ الف تحیۃ والثناء اس کے مستحق ہوتے۔

کاش میں نے آپ کے جواب کی تیاری نہ کی ہوتی اور پہلے ہی سوچ لیا ہوتا کہ ایسی پادر ہوا باتوں کا بھی ہماری محفل میں گزر ہوگا۔

میاں! جب تم آپ ہی تسلیم کر رہے ہو کہ وفات پانا نبوت و رسالت کے منافی نہیں اور نہ زندہ مع الجسم آسمان پر اٹھ جانا نبوت اور رسالت کو لازم۔

(دلیل الحکم ص ٤)

یہاں پر آپ کے رسالے کی عبارت اختصار کے ساتھ لکھی گئی۔ میں کہتا ہوں کہ کسی خبطی سے آپ کو پالا پڑ گیا تھا جس نے مسلمانوں کے معتقدات کی غلط خبریں دے کر آپ کو پریشان کر گیا۔ واقعی آپ حق بجانب ہیں۔ ان غلط خبروں کی وجہ سے آپ درہم برہم ہورہے ہیں۔ آپ اطمینان رکھیں کوئی مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کے سدا جینے کا معتقد نہیں۔ کوئی مسلمان وفات پانے کو نبوت و رسالت کے منافی نہیں مانتا۔ کوئی مسلمان زندہ مع الجسم آسمان پر اٹھ جانے کو لازمہ رسالت نہیں مانتا۔ کوئی مسلمان عمر درازی کو کمالات نبوت سے نہیں مانتا۔ محض طویل العمر ہونے کو کمالات نبوت سے جب تعلق ہی نہیں تو ایسی چیز کے لئے جناب ختم رسالت نے کب آپ کو وکیل بنایا۔ جس میں آپ حضرت مسیح علیہ السلام سے منازعت کر رہے ہیں۔ مدعی سست گواہ چست۔

ص ٢١ پر آپ نے اشہب قلم کو یوں جولانی بخشی ہے کہ قرآن شریف کے معنی اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔ آپ کے اس قول سے تمام اسلامی دنیا آپ کو مبارک باد دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ اسی روش پر آپ کو اور ہم کو رکھے۔ لیکن نور چشم! مرزا قادیانی ملعون کی قبر میں ہڈیاں آپ کو کوس رہی ہوں گی کہ یہ ناخلف ہماری تمام محنت برباد کر رہا ہے۔ ہم تو جیسے مسیح بنے تب سے قرآن کے معنے مروجہ مصطلحات کے خلاف ہی کرتے رہے۔ ہاں ہاں خوب یاد آیا۔ میں نے اپنے رسالے کو صفحہ ١٧ پر مرزائیوں کو جو الزام دیا ہے کہ وہ قرآن کریم کو مقولات مرزا کے موافق کیا کرتے ہیں۔ اس الزام سے آپ تو بری ہوگئے۔ والسلام!

١٦

تحفہ قادیانیت

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

آزاد کشمیر

میں مرزائیوں کے ہتھکنڈے

حضرت مولانا مفتی عتیق اللہ شاہ کشمیری

PDF 26

خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

سیدنا آخری نبی ﷺ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

آزاد کشمیر

میں مرزائیوں کے ہتھکنڈے

حضرت مولانا مفتی عتیق اللہ شاہ کشمیریؒ

صفحہ ٢٧

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نوائے کشمیر کوٹلی

دجال قادیان اور اس کے بیٹے کذاب ربوہ (چناب نگر) مرزا بشیر محمود کی ابلیس برادری نے ریاست جموں و کشمیر کے غیور اہلیان اور سادہ لوح مسلمانوں کی دولت ایمان پر ڈاکہ ڈالنے، ان کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کرنے اور انہیں اپنی بیس سالہ واحد قومی تنظیم سے برگشتہ خاطر اور اپنے آزمودہ و مخلص رہنماء بطل حریت رئیس الاحرار قائد ملت چودھری غلام عباس خان سے بدگمان کرنے اور ہر ممکن طریق سے انتشار پھیلا کر تحریک آزادی کشمیر کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے جہاں دجل و فریب کے بیسیوں جال پھیلائے۔

وہاں اب تحصیل کوٹلی ضلع میر پور میں ایک شیطانی چرخہ چلایا ہے۔ جس کا نام انہوں نے ”نوائے کشمیر“ رکھا ہے۔ یہ چھچھورا جسے اخبار کہنا بھی درحقیقت اخبارات کی توہین ہے۔ فرقہ ضالہ مرزائیہ کے مکروہ مقاصد کی تبلیغ اور ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لئے اگرچہ لاہور اور راولپنڈی ہی میں مرتب و مدون ہوتا ہے۔ تاہم اسے کوٹلی آزاد کشمیر سے شائع ہونا بیان کیا جاتا ہے اور علاقہ میں وسیع پیمانہ پر اس کی مفت تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ دجل و تلبیس کی مذکورہ الصدر اشاعت کا معاملہ اگر صرف تحصیل کوٹلی تک ہی محدود ہوتا تو شاید ہم یہ سطور قلمبند کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔ کیونکہ کوٹلی کے تقریباً تمام مرزائی جاہل مطلق ہیں۔ اس لئے ان کے جواب کے لئے یہی کافی تھا کہ: ”جواب جاہلاں باشد خموشی“

البتہ اگر مرزائیوں کے کسی زر خرید غلام کو اسلام کے منافی ہرزہ سرائی میں مصروف پاتے تو خود بھی لاحول پڑھتے اور اپنے سادہ لوح بھائیوں کو رفع شر کے لئے یہی آزمودہ نسخہ بتاتے اور اسے حسب ضرورت استعمال کرنے کی تاکید کرتے کہ اس سے شیاطین کا دم دبا کر بھاگنا یقینی تھا اور اگر اس طرح مرزائی اپنے منحوس اشغال اور ملعون حرکات سے باز نہ آتے تو پھر ہم کوٹلی کے مرزائی ٹولہ کے خبث باطن کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ کر ان کی ملت فروشیوں سے مسلمانان ریاست کو آگاہ کرتے۔ اسلامیان ریاست کو یاد دلاتے۔ اس روح فرسا اور زہرہ گداز واقعہ کی، جب کوٹلی کی شاہی مسجد کو ڈوگرہ حکومت نے مقفل کر دیا تھا اور مسجد کو واگزار کرانے کے لئے غازی الہی بخش، شیخ فضل لطیف اور دوسرے سرفروش مجاہدوں کی سرکردگی میں میر پور، بھمبر، پونچھ، کوٹلی میر پور وغیرہ مقامات سے جتھے آنے شروع ہو گئے۔ زعمائے مسلم کانفرنس نے پوری ریاست میں

٢

تہلکہ مچا دیا تھا اور نہایت مستعدی کے ساتھ اس مہم کو پایہ تکمیل تک پـ ہو گئے تھے کہ مرزائیوں نے اپنے قادیانی پیر طریقت کے اشارے پر دی اور یوں ڈوگرہ حکومت کو یقین دلایا کہ کوٹلی کے مسلمانوں کو اب مـ نہیں رہی بلکہ محض شرارتاً ہنگامہ آرائی کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس د ڈھائے گئے وہ کس سے پوشیدہ ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ مسجد کو تـ نے واگزار نہ کیا۔

جہاد کی مخالفت

اگر ہمارے سادہ لوح بھائیوں کو مرزائیوں کی دسیسہ کـ لئے یہ واقعہ مکفی نہ ہوتا، تو ہم انہیں بتاتے کہ موجودہ جہاد کشمیر میں مـ خدمات انجام دی ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف اس قدر بتا دینا یقیناً کـ آتش کیا جانے لگا۔ بے گناہ اور معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ ا خواتین کی بے حرمتی ہونے لگی تو ریاست کے غیرت مند مسلمانو اور کوٹلی کے جواں ہمت مجاہد اور سرفروش مسلمان غازی راجہ اکبر خا کرنل راجہ محمود خان، لیفٹیننٹ سید یوسف شاہ، لیفٹیننٹ راجہ کرم ا نامدار کی کمان میں ڈوگرہ فوج سے نبرد آزما ہوئے۔ علاقہ کے غیو کے مطابق ہمہ تن مصروف جہاد ہو گئے۔ انہوں نے اپنے اہل و عـ اسلام پر تصدق کر دینا پسند کر لیا تو کوٹلی کے مرزائیوں کو اپنے خود سا کی وہ تعلیم یاد آ گئی، جس میں اس نے کہا ہے کہ: ”اسلام میں جو مـ اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٠)

اس خیال کے مدنظر کوٹلی کے مرزائی میدان جہاد سے بـ بناسپتی قادیانی نبی کا داماد برسر اقتدار و با اختیار تھا۔ اس نے اپنے ہـ مکمل طور پرہیز کرنے کے صلہ میں عالیشان مکان، مال واسباب کپڑے کے ڈپو، لوہے فولاد کے ذخائر الاٹ کر دیئے۔ مفت راشـ اور نہ صرف یہ بلکہ ان میں سے بعض کو ایسے اختیارات بھی تفویض کـ بتا کر پاکستان کی مہاجر پروری سے ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ یہ امر مـ

٣

صفحہ ٢٧

تہلکہ مچا دیا تھا اور نہایت مستعدی کے ساتھ اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئے تھے کہ مرزائیوں نے اپنے قادیانی پیر طریقت کے اشارے پر ایک علیحدہ مسجد کی بنیاد ڈال دی اور یوں ڈوگرہ حکومت کو یقین دلایا کہ کوٹلی کے مسلمانوں کو اب اس پرانی مسجد کی کوئی ضرورت نہیں رہی بلکہ محض شرارتاً ہنگامہ آرائی کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ کس سے پوشیدہ ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ مسجد کو آخری لمحات تک ڈوگرہ حکومت نے واگزار نہ کیا۔

جہاد کی مخالفت

اگر ہمارے سادہ لوح بھائیوں کو مرزائیوں کی دسیسہ کاریوں سے آگاہ کرنے کے لئے یہ واقعہ مکفی نہ ہوتا، تو ہم انہیں بتاتے کہ موجودہ جہاد کشمیر میں کوٹلی کے مرزائیوں نے کون سی خدمات انجام دی ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف اس قدر بتا دینا یقیناً کافی ہوتا کہ جب مساجد کو نذر آتش کیا جانے لگا۔ بے گناہ اور معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا جانے لگا۔ عصمت مآب خواتین کی بے حرمتی ہونے لگی تو ریاست کے غیرت مند مسلمانوں نے طاغوتی طاقتوں کو للکارا اور کوٹلی کے جواں ہمت مجاہد اور سرفروش مسلمان غازی راجہ غنی دلیر خان، میجر ملک سردار خان، کرنل راجہ محمود خان، لیفٹیننٹ سید یوسف شاہ، لیفٹیننٹ راجہ کرم داد خان اور دوسرے غازیان نامدار کی کمان میں ڈوگرہ فوج سے نبرد آزما ہوئے۔ علاقہ کے عوام اس موقع پر تعلیمات اسلامی کے مطابق ہمہ تن مصروف جہاد ہو گئے۔ انہوں نے اپنے اہل وعیال اور جان و مال کو ناموس اسلام پر تصدق کر دینا پسند کر لیا تو کوٹلی کے مرزائیوں کو اپنے خودساختہ اور فرنگی پرداختہ قادیانی نبی کی وہ تعلیم یاد آگئی، جس میں اس نے کہا ہے کہ: ”اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے، میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج١٠ ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)

اس خیال کے مدنظر کوٹلی کے مرزائی میدانِ جہاد سے بھاگ کر راولپنڈی پہنچے۔ یہاں بناسپتی قادیانی نبی کا داماد برسر اقتدار و بااختیار تھا۔ اس نے اپنے سسر کی امت کو جہاد اسلامی سے مکمل طور پر پرہیز کرنے کے صلہ میں عالیشان مکان، مال واسباب سے بھر پور دکانیں، راشن اور کپڑے کے ڈپو، لوہے فولاد کے ذخائر الاٹ کر دیئے۔ مفت راشن، کپڑے کی مراعات دلوائیں اور نہ صرف یہ بلکہ ان میں سے بعض کو ایسے اختیارات بھی تفویض کر دیئے کہ وہ جسے چاہیں مہاجر بتا کر پاکستان کی مہاجر پروری سے ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ یہ امر کچھ کم تعجب انگیز نہیں کہ تحصیل کوٹلی

٣

صفحہ ٢٩

راولپنڈی میں مرزائیت

ختم نبوت

کے مسلم مہاجرین کا راولپنڈی میں عرصہ سے راشن بند ہے اور الاٹ منٹس منسوخ۔ لیکن اسی کوٹلی کے مرزائی بھگوڑے ابھی تک مفت راشن، کپڑا اور رہائشی مراعات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس ناجائز لوٹ کھسوٹ کے طفیل فرقہ مرزائیہ نے ہزارہا روپیہ پیدا کیا اور آزاد علاقہ میں اپنے چیلے چانٹوں کے ذریعہ دیہاتی، شہری، کشمیری، پنجابی، مہاجر انصار اور اسی نوع کے دوسرے نفاق پرور سوال پیدا کر کے مسلمانوں کی توجہ مقصد اعلیٰ یعنی آزادی کشمیر سے ہٹانے کی درپردہ تیاری مکمل کر لی۔ لیکن مسلم کانفرنس کے آزمودہ کار اور مخلص کارکنوں نے علاقہ بھر میں تنظیمی دورے کر کے اور مسلمانوں کو ایک مسلک میں منسلک کر کے مرزائی مفسدین کی منافقانہ سازشوں کا قلع قمع کر دیا۔ اتحاد و تنظیم کا یہ روح پرور سماں امت مرزائیہ کے لئے قدرتی طور پر ناقابل برداشت ہے اور وہ نہایت چالا کی سے ایسے چور دروازے تلاش کر رہے ہیں، جہاں سے گھس کر وہ مسلمانوں کی قومی، ملی تنظیم کو پارہ پارہ کر سکیں۔ لیکن خدا نے چاہا تو اب انہیں اپنے ذلیل مقاصد میں ہرگز کامیابی نہ ہو گی۔

فرض شناس اور دیانتدار حکام واہلکار

علاقہ کے مسلم عوام کی موجودہ بیداری، خود اعتمادی اور یک جہتی کا ایک سبب آزاد کشمیر حکومت کے فرض شناس اور دیانتدار حکام اور اہلکاروں کا نظم ونسق کی بحالی کے سلسلہ میں اخلاص و محبت سے سرگرم عمل ہونا اور اسلامی اصول وضوابط پر حتی الامکان عمل پیرا ہونا ہے۔ ان فرض شناس افسروں اور اہلکاروں کے رویہ نے عوام کو بڑی حد تک یقین دلایا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی اپنی حکومت ہے اور یہ نتیجہ ہے ان کے باہمی اتحاد و اتفاق کا، ان کی واحد سیاسی وقومی تنظیم آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی مسلسل ومتواتر جدوجہد کا۔

مرزائیوں کا نیا حملہ

مسلم عوام کو امن واطمینان نصیب ہونا چونکہ فرقہ باطلہ مرزائیہ کے معتقدات اور مصنوعی نبی کے خود ساختہ الہامات کو باطل ٹھہراتا ہے۔ اس لئے کوٹلی کے مرزائیوں نے سرکاری ملازموں کے خلاف بھی بے بنیاد پروپیگنڈہ کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس کی غرض وغایت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ دیانتداری سے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو ڈرا دھمکا کر، لالچ دے کر، یا منت سماجت کر کے ناجائز مراعات حاصل کی جائیں۔ جو قدرتی طور پر عامۃ المسلمین کو شاق گزریں گی اور اس طرح علاقہ میں پھر بے چینی وبے اطمینانی کا دور دورہ ہو جائے گا۔

٤

مسلمانوں کی توجہ فروعی مسائل میں الجھ جائے گی۔ ان کے خیالات انتشار پیدا ہو گا اور مرزائی ٹولہ آسانی کے ساتھ دجل فریب اور الحاد علاوہ اپنے جھوٹے نبی کے جھوٹے الہامات و پیش گوئیوں کا ڈھنڈور کی دولت ایمانی پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔ چنانچہ کہ یہ چالاک ومکار ٹولہ حصول مقصد کے لئے شروع ہی سے کم استعمال کرتا آ رہا ہے۔ لہٰذا کوٹلی کے مرزائی بھی اسی اصول پر کاربند ہیں اور انہ پھانسنے کیلئے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ارباب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ ا بے حد چالاک ٹولہ کا تازہ شکار کوٹلی کا بے چارہ ”فضل الٰہی“ ہے اور مسلمانان کوٹلی کے نزدیک غیر دیانتدار ہونے کی پاداش میں ران دہ درگاہ کو خدا جانے کون سے سبز باغ دکھا کر اسے ایک اخبار کا ما مدیر صاحب کے ذاتی کردار اور قابلیت کا یہ عالم ہے کہ آپ کوٹلی کی کی حیثیت سے انجمن کے رجسٹرار نکاح خوانی کی فیس کے ہزارو کا بہت سارا روپیہ ہضم کر چکے ہیں اور اپنی اس شرمناک خیانت کی وج ہیں اور شاید ہی درست طور پر اپنا نام لکھ سکتے ہوں۔ اخبار کے ادار تک سڑکوں پر کھڑے ہو کر سانڈے کا تیل بیچا کرتے تھے۔ اب قا میں حکیم، ایڈیٹر اور نہ جانے کیا کچھ بن چکے ہیں اور کیا کچھ بنا چاہت فضل الٰہی کے ذمہ قومی فنڈ سے تقریباً ١٠ ہزار روپیہ ہے۔ گزشتہ کا مطالبہ کیا تو صاف مکر گئے۔ مسلمان عوام سوائے اس کے سر دست غبن اور قومی غداری کے الزام سے خارج از جماعت کر کے حق تھا ایسے بے وفایان ملت اور غداران قوم کو بالآخر ذلیل ورسوا کرتا ہے۔

منافق اعظم

لیکن یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اگر کچھ لوگ مرزائی طور پر خبردار نہ ہوتے تو پھر ہم کھلے لفظوں میں انہیں بتاتے کہ کوٹلی سے زیادہ فتنہ پرداز مرزائی میر عالم درزی جسے منافق اعظم لکھنا زیا جو کپڑے ٹانکنا بھی اچھی طرح نہ جانتا تھا اور نان شبینہ تک کے ل

٥

صفحہ ٢٩

مسلمانوں کی توجہ فروعی مسائل میں الجھ جائے گی۔ ان کے خیالات میں پراگندگی اور ذہنوں میں انتشار پیدا ہوگا اور مرزائی ٹولہ آسانی کے ساتھ دجل فریب اور الحاد و زندقہ کی اشاعت کرنے کے علاوہ اپنے جھوٹے نبی کے جھوٹے الہامات و پیش گوئیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے اور سادہ لوح مسلمانوں کی دولت ایمانی پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔ چنانچہ یہ ایک نا قابل انکار واقعہ ہے کہ یہ چالاک و مکار ٹولہ حصول مقصد کے لئے شروع ہی سے کم علم اور سادہ لوح مسلمانوں کو استعمال کرتا آرہا ہے۔

لہٰذا کوٹلی کے مرزائی بھی اسی اصول پر کار بند ہیں اور انجان مسلم عوام کو اپنے جال میں پھانسنے کیلئے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ارباب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ اس غایت درجہ موقع پرست اور بے حد چالاک ٹولہ کا تازہ شکار کوٹلی کا بے چارہ ”فضل الٰہی“ ہے۔ جو مرزائیاں کوٹلی کا رشتہ دار اور مسلمانان کوٹلی کے نزدیک غیر دیانتدار ہونے کی پاداش میں راندۂ جماعت قرار پاچکا تھا۔ اس غبی بدھو کو خدا جانے کون سے سبز باغ دکھا کر اسے ایک اخبار کا مالک و مدیر بنا دیا گیا ہے۔ لیکن مدیر صاحب کے ذاتی کردار اور قابلیت کا یہ عالم ہے کہ آپ کوٹلی کی انجمن اسلامیہ کے نام نہاد صدر کی حیثیت سے انجمن کے رجسٹرار نکاح خوانی کی فیس کے ہزاروں روپے کے علاوہ تعمیر مسجد فنڈ کا بہت سا روپیہ ہضم کر چکے ہیں اور اپنی اس شرمناک خیانت کی وجہ سے جماعت سے نکالے گئے ہیں اور شاید ہی درست طور پر اپنا نام لکھ سکتے ہوں۔ اخبار کے ادارہ تحریر کے ایک اور رکن ابھی کل تک سڑکوں پر کھڑے ہو کر سانڈے کا تیل بیچا کرتے تھے۔ اب قادیانی نبی کی طرح پہلی چھلانگ میں حکیم، ایڈیٹر اور نہ جانے کیا کچھ بن چکے ہیں اور کیا کچھ بنا چاہتے ہیں۔ مالک و مدیر نوائے کشمیر فضل الٰہی کے ذمہ قومی فنڈ سے تقریباً ١٠ ہزار روپیہ ہے۔ گزشتہ ستمبر میں جب قوم نے اس رقم کا مطالبہ کیا تو صاف مکر گئے۔ مسلمان عوام سوائے اس کے سردست اور کر ہی کیا سکتے تھے کہ انہیں غبن اور قومی غداری کے الزام سے خارج از جماعت کر کے حق تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ جو ایسے بے وفایان ملت اور غداران قوم کو بالآخر ذلیل و رسوا کرتا ہے۔

منافق اعظم

لیکن یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اگر کچھ لوگ مرزائیوں کے ہتھکنڈوں سے پورے طور پر خبردار نہ ہوئے تو پھر ہم کھلے لفظوں میں انہیں بتادیں کہ کوٹلی کے مرزائیوں کا پیر استاد اور سب سے زیادہ فتنہ پرداز مرزائی میر عالم درزی جسے منافق اعظم لکھنا زیادہ موزوں ہوگا اور ابھی کل تک جو کپڑے ٹانکنا بھی اچھی طرح نہ جانتا تھا اور نان شبینہ تک کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا

٨

صفحہ ٣١

تھا۔ آج عالی شان دو منزلہ مکان، دکانیں اور ڈپو راولپنڈی میں رکھتا ہے۔ بسوں کا مالک ہے اور کوٹلی میں بھی خالص جعل سازی کی بدولت قطعے پیدا کر چکا ہے یعنی تین گز رقبہ قیمتاً خرید کر اور بہت سا رقبہ بیت المال کا شامل کر کے پختہ دکانیں تعمیر کرا چکا ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنے لڑکے منظور احمد مدیر معاون نوائے کشمیر کی آڑ میں اکابرین ملت پر بازاری انداز میں پھبتیاں کسنے اور تحریک حریت کشمیر کے خلاف آوازے کسنے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی برادری کی خوشنودی حاصل کر کے مرزائیوں کے وظیفہ پر اس کا لڑکا لاہور میں قانونی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم مسلمانان کوٹلی کی معلومات میں یہ بتا کر یقیناً مفید اضافہ کر رہے ہیں کہ نوائے کشمیر کے صفحات پر چھپنے والے مقالہ نہ تو جاہل مطلق مدیر نوائے کشمیر کے رشحات کلک ہیں اور نہ ہی سانڈے کا تیل بیچنے والے نیم حکیم صاحب کے ذہن وفکر کی پیداوار، بلکہ ان ذلیل وطویل مقالات کے مصنف کشمیر میں مرکز مرزائیت کے فرستادہ ایجنٹ عبدالاحد و عبدالغفار سابق مدیران مرزائی آرگن اصلاح سری نگر ہیں۔ جنہیں مسلمانوں میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی دیرینہ مہارت حاصل ہے اور جن کے اخبار اصلاح کی پوری زندگی مسلم اکابرین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے اور نفاق بین المسلمین سے عبارت رہی ہے۔

قصر مرزائیت کوٹلی کا دوسرا ستون

کوٹلی کی مرزائی برادری کا ایک اور رکن کرم دین پٹواری المعروف ساں جسے قصر مرزائیت کا دوسرا ستون کہنا بے جا نہ ہوگا۔ اگرچہ حروف ابجد تک سے نابلد محض ہے اور قلندروں کے بے زبان ”کرم دین“ کی طرح صرف ڈگڈگی کی لے پر رقص کرنا جانتا ہے۔ اپنے تئیں ارسطوئے ثانی تصور کرتا اور ”مولوی کرم دین“ کہلاتا ہے۔ یہ لال بجھکڑ کوٹلی کا قدیم باشندہ ہے لیکن گزشتہ برس اس نے گریہ مسکین بن کر نائب تحصیلدار ہجیرہ پونچھ کے حضور ٹسوے بہائے اور اپنے آپ کو مقبوضہ پونچھ کا باشندہ ظاہر کر کے زمین الاٹ کرانا چاہی۔ لیکن تحقیقات ضابطہ کے دوران یہ پول کھل گیا اور درخواست مسترد ہوگئی۔ اخبار تو اپنے گھر کا تھا۔ دراصل یہ ایک مرزائی کی جعل سازی کی ناکامی کا تھا۔ چنانچہ اخبار کے ذریعہ اس راندہ اسلام نے آزاد کشمیر کے نائب تحصیلدار سے لے کر مشیر مال تک پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ شروع کر دیا اور اب اپنی درخواست نگران اعلیٰ حکومت آزاد کشمیر کی خدمت میں شاید اس خیال کے تحت بھیج رکھی ہے کہ عدم استحقاق کی بناء پر جب وہاں سے بھی جواب مل جائے تو یہ بدزبان ان کی ذات والا صفات پر بھی حرف گیری شروع کر دے۔ ٦

خطرناک منصوبہ

یہ سب ڈرامہ درحقیقت ایک نہایت ہی مہلک ہے اور اس کمینہ مرزائی نے نہایت مکاری اور عیاری سے ق یعنی نوائے کشمیر کوٹلی میں اپنی مفروضہ داستان الاٹمنٹ بیان کے محل وقوع کی نشاندہی کر دی ہے اور اس طرح ایک اہم ت نوائے کشمیر کوٹلی ٢٠ اکتوبر ١٩٥٠ء ص ٢) اہم فوجی رازوں ک میں بھی جاری رہا ہے۔ ضرورت صرف مرزائیوں کے مکارا

ایک واقعہ

وادی مینڈھر پر جب دشمن کا قبضہ مکمل ہو رہا فوجوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر پناہ کے لئے پاکستان آ خفیہ مہم پر مینڈھر گیا اور وہاں بھارتی فوجوں نے اسے مسلما شخص نے انہیں بتایا کہ ”میں مسلمان نہیں بلکہ مرزائی ہ قادیانی نبی کے الہامات اور پیش گوئیاں کی رو سے قیام آپ کو گورداسپور کی مسلم اکثریت کا علاقہ دلوایا ہے اور ہما میں سکونت پذیر ہیں۔ نیز ہم ہی تو ہیں جو رتن باغ لاہور دستے بھیج کر آپ کی امداد کر رہے ہیں۔“ تو نہ صرف بھا و اکرام سے بھی نوازا اور پھر کسی خاص سمجھوتہ کے بعد اسے ہے کہ اس دن کے بعد کوٹلی سے لے کر حد متارکہ جنگ ت اور مقبوضہ علاقہ کے ساتھ ان کا لین دین اور آمد ورفت باتیں اس تعلق میں مشہور ہیں وہ غمازی کرتی ہیں کہ اس فر پاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ ایک بات یقینی ہے کہ مرزائی ا

منافقین کے مشاغل

کوٹلی کے مسلمان خوب جانتے ہیں کہ جہاد اسی قبیل کے دوسرے مرتدین مختلف حیلوں اور بہانوں س مقدمہ بازی پر نوبت پہنچانے کا کھلا کاروبار کرتے تھے ٧

صفحہ ٣٦

خطرناک منصوبہ

یہ سب ڈرامہ درحقیقت ایک نہایت ہی مہلک اور ملت کش اقتدار کے لئے رچایا گیا ہے اور اس کمینہ مرزائی نے نہایت مکاری اور عیاری سے فرقہ باطلہ مرزائیہ کی تعلیم پر عمل کیا ہے۔ یعنی نوائے کشمیر کوٹلی میں اپنی مفروضہ داستان المناک بیان کرتے ہوئے پونچھ میں ایک ہوائی اڈہ کے محل وقوع کی نشاندہی کر دی ہے اور اس طرح ایک اہم فوجی راز کا انکشاف کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو نوائے کشمیر کوٹلی ٢٠ اکتوبر ١٩٥٠ء ص ٢) اہم فوجی رازوں کے افشاء کا یہ ناپاک سلسلہ دوران جنگ میں بھی جاری رہا ہے۔ ضرورت صرف مرزائیوں کے مکارانہ طریق کار سمجھنے کی ہے۔

ایک واقعہ

وادی مینڈھر پر جب دشمن کا قبضہ مکمل ہو رہا تھا اور ستم رسیدہ مسلمان آبادی بھارتی فوجوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر پناہ کے لئے پاکستان کی سمت ہجرت کر رہی تھی۔ کرم دین کسی خفیہ مہم پر مینڈھر گیا اور وہاں بھارتی فوجوں نے اسے مسلمان سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ لیکن جوں ہی اس شخص نے انہیں بتایا کہ ”میں مسلمان نہیں بلکہ مرزائی ہوں اور بھارتی حکومت کا وفادار، اپنے قادیانی نبی کے الہامات اور پیش گوئیوں کی رو سے قیام پاکستان کا مخالف، اور یہ کہ ہمیں نے تو آپ کو گورداسپور کی مسلم اکثریت کا علاقہ دلوایا ہے اور ہمارے مرزائی درویش آزادی سے قادیان میں سکونت پذیر ہیں۔ نیز ہم ہی تو ہیں جو رتن باغ لاہور سے محاذ چھمب پر خالص مرزائیوں کے دستے بھیج کر آپ کی امداد کر رہے ہیں۔“ تو نہ صرف بھارتی فوج نے اسے رہا کر دیا بلکہ انعام واکرام سے بھی نوازا اور پھر کسی خاص سمجھوتہ کے بعد اسے سرحد پار پہنچا دیا۔ چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دن کے بعد کوٹلی سے لے کر حد متارکہ جنگ تک مرزائی نہایت اطمینان سے آباد ہیں اور مقبوضہ علاقہ کے ساتھ ان کا لین دین اور آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ بلکہ لوگوں میں جو باتیں اس تعلق میں مشہور ہیں وہ غمازی کرتی ہیں کہ اس فرقہ کے اکثر افراد دشمن سے معقول مشاہرہ پاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ ایک بات یقینی ہے کہ مرزائی بھارتی حکومت کے دوست ہیں۔

منافقین کے مشاغل

کوٹلی کے مسلمان خوب جانتے ہیں کہ جہاد آزادی سے پیشتر امیر عالم، کرم دین اور اسی قبیل کے دوسرے مرتدین مختلف حیلوں اور بہانوں سے مسلمانوں میں سر پھٹول کرانے اور پھر مقدمہ بازی پر نوبت پہنچانے کا کھلا کاروبار کرتے تھے تاکہ اس طرح ان کے نیم خواندہ بھاری ٧

صفحہ ٣٣

یادگار مجلہ

تاجدار ختم نبوت

دانشمند وکیل کی وکالت چکے، جو ان کی شکم پروری کا واحد کفیل تھا۔ اس کے علاوہ یہ لوگ سادہ لوح دیہاتیوں کی لڑکیوں کی تعلیم تبلیغ اور دولت کا دلاسہ لگا کر ورغلانے اور پھر قادیان لے جا کر ٹھکانے لگانے یعنی دام کھرے کرنے کا مدتوں کاروبار کرتے رہے۔ اس ذلیل کاروبار میں سرکارِ قادیان کا ایک یک چشم ملا مبلغ محمد حسین بھی شریک تھا۔ جو اپنی حرافہ بیوی کے توسط سے نو عمر لڑکیوں کو ورغلانے اور بھگانے کے فن میں مہارت رکھتا تھا اور ہر پھیرے ایک دو لڑکیاں اغواء کر کے قادیان لے جاتا تھا۔ ایک دو مرتبہ پولیس کے ہتھے بھی چڑھا۔ لیکن اپنے رفقائے کار کی کوشش سے صاف بچ کر نکل گیا۔ چنانچہ آج کل جو ان گنتی کے چند مرتدین و منافقین پر من برس رہا ہے اور وہ مسلمانوں کے متاعِ ایمان کو خریدنے کی ڈینگیں ہانکتے نظر آتے ہیں یہ اغواء بردہ فروشی اور پھر ضمیر فروشی سے ہتھیائی ہوئی حرام کی کمائی کا کرشمہ ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ ان کا ایک پست ہمت بھائی آج بھی ”دو پیسے پاؤ“ کا نام نہاد حلوہ بیچ کر بسر اوقات کر رہا ہے۔ خیر یہ تو تھا ایک جملہ معترضہ۔ حق بات تو یہ ہے کہ انگریز بہادر کے خود کاشت پودے قادیانی نبی کے یہ ذلیل چیلے ایمان کی پونجی بیچ کر دنیاوی مال و دولت اکٹھی کر چکے ہیں اور اپنے آقایانِ نعمت کے ادنیٰ اشارہ پر شیرازۂ ملت کو برہم کرنے اور کشمیر کا سودا چکا کر قادیان کو حاصل کرنے کے لئے رقصِ ابلیس میں مصروف ہیں۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ظاہر کیا جا چکا ہے۔ یہ فتنہ سامانیاں کوٹلی کے چند ملعون مرزائیوں اور ان کے زرخرید ایجنٹوں کے بس کی بات نہیں۔ بلکہ ان کا تعلق مرزا بشیر الدین اور ان کے پورے ٹولہ سے ہے۔ لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو بالعموم اور کوٹلی ضلع میر پور کے مسلمانوں کو بالخصوص اس حقیقت سے واقف کروایا جائے کہ مرزائیت کا ظہور کس تاریخی پس منظر میں ہوا۔ مرزائیت کے معرضِ وجود میں آنے کی غرض و غایت کیا تھا اور قیامِ پاکستان کے سلسلے میں مرزائیوں نے کس کس طرح رخنہ اندازیاں کیں اور کشمیر کی آزادی کے راستہ میں کیوں اور کب سے حائل ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ان کے خاص خاص حربے کیا ہیں۔ اور ان سے بچنے کے لئے عامۃ المسلمین کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ یہ سب کچھ اگرچہ بڑی تفصیل چاہتا ہے تاہم کوشش کی جائے گی کہ مختصر طور پر ان ساری باتوں پر آئندہ صفحات میں روشنی ڈالی جائے۔

فرنگی عہد کی پیدا کردہ عام خرابیوں میں ایک سب سے بڑی اور سب سے زیادہ نقصان دہ خرابی ہندی مسلمانوں کی تعلیماتِ اسلامیہ سے بے گانگی ہے۔ یہ دو صد سالہ دورِ غلامی جہاں ٨

اسلامی معاشرہ میں مختلف قسم کی قباحتیں پیدا کر گیا۔ وہاں علومِ درجہ تک پہنچ گئی کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے مسلمان مرزائیوں رکھنے والے متعدد گروہوں کے زمرہ میں شمار کرنے لگے۔ حا تعلق نہیں ہے۔ مرزائیت ایک ذاتی نوعیت کا خود تراشیدہ مذ احمد قادیانی کا ساختہ اور برٹش راج کا پرداختہ ایک ایسا مسل پردہ میں محض اس لئے رہنے دیا گیا کہ غیر صالح فطرت رکھنے ساتھ اسے قبول کر لیں اور مذہبی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھو زمانہ فتوحات سے حسب ضرورت استفادہ کرنے میں کوئی رکا

مرزائیت اسلام نہیں

مرزائیت درحقیقت اسلام کی ایک ایسی غیر محسوس جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اور اس کے چکر میں پھنس گہری کھائی میں گر جاتا ہے جہاں سے ابھرنا پھر اس کے مرزائیت اسلام کی موت ہے۔ اسلام و مرزائیت میں اتنا ہی بع و سپید میں، جنت و دوزخ میں۔ اسلام ایک خالص روحانی سیاسی مسلک۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور مرزائیت ذریعہ جلبِ یا مذہب حقہ اسلامیہ سے اسے ذرہ بھر مناسبت دینے وال در حقیقت دین و مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔

انگریز کا خود کاشت پودا

مرزائیت کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ دنیائے ا اور مسلمانوں کے قلوب حفاظتِ دین کے پاکیزہ جذبہ سے طالب علم بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ صلیبی لڑائیو ہاتھوں پے در پے مار کھائی تو آتش غضب و انتقام نے ان ک عیسائی دنیا جانتی تھی کہ جب تک مسلمان فلسفۂ جہاد کو سمجھتا ہ ہوئے عسکری زندگی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جب تک اس نظریہ موجود ہے۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کر ٩

صفحہ ٣٣

اسلامی معاشرہ میں مختلف قسم کی قباحتیں پیدا کر گیا۔ وہاں علوم دینی سے مسلمانوں کی بے خبری اس درجہ تک پہنچ گئی کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے مسلمان مرزائیوں کو مسلمانوں کے فروعی اختلافات رکھنے والے متعدد گروہوں کے زمرہ میں شمار کرنے لگے۔ حالانکہ مرزائیت کا اسلام سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ مرزائیت ایک ذاتی نوعیت کا خود تراشیدہ مذہب ہے۔ جو دجال قادیان مرزا غلام احمد قادیانی کا ساختہ اور برٹش راج کا پروردہ ایک ایسا مسلک ہے جسے اسلامی اصول عبادات کے پردہ میں محض اس لئے رہنے دیا گیا کہ غیر صالح فطرت رکھنے والے دنیا پرست اور جہلا آسانی کے ساتھ اسے قبول کرلیں اور مذہبی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے دین فطرت کی مشہور زمانہ فتوحات سے حسب ضرورت استفادہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

مرزائیت اسلام نہیں

مرزائیت درحقیقت اسلام کی ایک ایسی غیر محسوس تردید ہے۔ جو اندر ہی اندر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اور اس کے چکر میں پھنسا ہوا آدمی الحاد و زندقہ کی ایک ایسی گہری کھائی میں گر جاتا ہے جہاں سے ابھرنا پھر اس کے بس میں نہیں رہتا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ مرزائیت اسلام کی موت ہے۔ اسلام و مرزائیت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا تاریکی اور روشنی میں، سیاہ و سفید میں، جنت و دوزخ میں۔ اسلام ایک خالص روحانی مذہب ہے اور مرزائیت ایک خالص سیاسی مسلک۔ اسلام دین فطرت ہے اور مرزائیت ذریعہ جلب منفعت۔ اسے مذہب سمجھنے والے یا مذہب حقہ اسلامیہ سے اسے ذرہ بھر مناسبت دینے والے بیگانہ دین و مذہب ہیں اور انہیں در حقیقت دین و مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔

انگریز کا خودکاشتہ پودا

مرزائیت کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ دنیائے اسلام پر انگریز کا قبضہ مضبوط ہو جائے اور مسلمانوں کے قلوب حفاظت دین کے پاکیزہ جذبہ سے خالی ہو جائیں۔ تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ صلیبی لڑائیوں میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں پے در پے مار کھائی تو آتش غضب و انتقام نے ان کے تن بدن میں آگ سی لگا دی۔ لیکن عیسائی دنیا جانتی تھی کہ جب تک مسلمان فلسفہ جہاد کو سمجھتا ہے اور اسے اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہوئے عسکری زندگی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جب تک اس کے دل میں توحید و رسالت کا درست نظریہ موجود ہے۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔ اس لئے انگریزوں نے اول تو

٩

صفحہ ٣٤

لاجواب لاثانی

ماہنامہ لولاک

مختلف حیلوں اور بہانوں سے مسلمانوں کو تعلیمات اسلامی سے منحرف کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ زرخرید علمائے سوء سے اپنے حق میں پرچار کرایا۔ غلط سلط عقائد کی ترویج و تشہیر کی کوشش کی۔ لیکن اسے اس مقصد میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ پادریوں اور زر پرستوں کی کوششیں علمائے حق اور صوفیاء مشائخ کرام کے مواعظ حسنہ کی وجہ سے پروان نہ چڑھ سکیں۔ اسی اثناء میں مسلمانان ہند نے استخلاص وطن کے لئے ١٨٥٧ء میں ایک مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ جسے تاریخ کی کتابوں میں غدر کے نام سے موسوم کیا گیا۔ چنانچہ انگریز کو یقین ہو گیا کہ جب تک مسلمان کا قلب جذبہ جہاد اسلامی سے معمور اور نشہ وحدت ورسالت سے مخمور ہے۔ اس کا ذہنی طور پر غلام بننا اور غیر اسلامی حکومت کو دل سے تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ چنانچہ فرنگی نبض شناسوں نے کامل سوچ بچار اور گہرے غور و خوض کے بعد بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ایسا آدمی تلاش کر لیا جو فکر معاش میں ٹامک ٹوئیے مار رہا تھا اور اپنے کتابی علم کی بناء پر ان کے ڈھب کا تھا۔ یہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جو وکالت کے امتحان میں ناکام ہونے کی وجہ سے ان دنوں بے حد دل برداشتہ ہورہا تھا۔ علاقہ کے انگریز حکام اور پادریوں کے توسط سے معاملہ طے ہوا اور جلد ہی خدایان فرنگ کے اشارہ سے مرزائے قادیان نے دعوائے نبوت کی ہانک لگا دی اور انگریز کی ساختہ پرداختہ نبوت پنجاب کے اس گم نام قصبے میں فروغ پانے لگی۔

مدعی نبوت کے دعاوی

مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاں نبی، مسیح موعود، مہدی موعود، کرشن اور جانے کیا کیا ہونے کے دعوے کئے وہاں خدائی دعوے کرنے میں بھی اس فرعون بے سامان نے جھجک محسوس نہ کی۔ جہاد کو قطعاً حرام قرار دے دیا اور اپنی نبوت سے انکار کرنے والے تمام مسلمانوں کو بیک جنبش قلم کافر، مرتد، حرامزادے اور اسی قسم کے الفاظ سے یاد کر کے ان پر ایک ہزار بار لعنت بھیجی۔ زناء کو بڑے منطقی دلائل سے جائز قرار دیا اور اسلامی معتقدات کا نہایت دلیری سے مضحکہ اڑایا اور ایک ایسے ٹولہ کی بنیاد ڈال دی جن کے اعمال و اقوال حسب ذیل سطور میں رقم ہیں۔

امت مرزائیہ کے عقائد

مرزائی کسی دوسرے مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ حتیٰ کہ معصوم مسلمان بچوں تک کے جنازہ سے اجتناب کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ غیر مرزائی کو اپنی لڑکی کا رشتہ نہیں دیتے۔ مسلمان امام کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھتے۔ حضرت قائد اعظم کے جنازہ میں اس ١٠ ٣٥ فرقہ باطلہ کے افراد نے جنازہ گاہ میں موجود ہوتے ہوئے استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مکہ اور قادیان و ربوہ مقامات مقدسہ ہیں۔ عملی طور پر تمام مسلم ہے۔ حتیٰ کہ غیر مرزائی دکاندار سے ایک پیسہ کی چیز خریدنے کے متعلق ان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ: ”جہالت کی موت مرے

سیاسی عقائد

مرزائیوں کے نزدیک انگریز کی حکومت موجہ مصداق ہیں۔ موجودہ خلیفہ قادیان اکھنڈ ہندوستان کو اپنے پاکستان کی آخر وقت تک مخالفت کی۔ مسلم لیگ کی مہم جو قیا کے نزدیک ایک مخالفانہ مہم تھی جس کا اس ٹولہ نے ڈٹ ک اپنے امیدوار علیحدہ کھڑے کئے۔ تقسیم ملک کی انتہائی مخالفت جانشین اور اولی الامر تسلیم کر لیا۔ ہندوستان کی وفاداری کا لئے اپنے حلقہ میں وسیع پراپیگنڈہ کیا۔ پنجاب حد بندی کمیٹی مقابلہ پر اپنا نمائندہ بشیر احمد ایڈووکیٹ مقرر کیا گیا اور انجام کر کے گورداسپور کی مسلم اکثریت کا علاقہ بھارت کو دلوا کرانے کے سامان فراہم کئے گئے جو آج تک بھارتی فور بقول امام وقت مرزائے قادیان پر ایمان نہ لانے والے ہ کے خود ساختہ قادیانی نبی کی صداقت کا ثبوت اور الہامات ک

انگریز کی مدح

اسلامیان ہند کے سب سے بڑے محسن پا کارکنوں، علماء کرام اور صوفیائے عظام کی مساعی جمیلہ ۔ تحریک چل نکلی۔ جو انگریز اولی الامر کے اشارہ پر قادیانی ملت اور تحریک آزادی کے متعلق یوں اپنی مرتد ٹولی کو نصیحت ”میں دیکھتا ہوں کہ جاہل اور شریر لوگ مسلما حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ جن سے بغاوت کی بو آتی ہ ١١

صفحہ ٣٥

فرقہ باطلہ کے افراد نے جنازہ گاہ میں موجود ہوتے ہوئے شرکت نہیں کی۔ مرزائی حج بیت اللہ کی استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مکہ ومدینہ میں روحانیت کے چشمے سوکھ گئے اور قادیان وربوہ مقامات مقدسہ ہیں۔ عملی طور پر تمام مسلمانوں سے اس فرقہ نے مقاطعہ کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مرزائی دکاندار سے ایک پیسہ کی چیز خریدنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کے متعلق ان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ: ”جہالت کی موت مرتے ہیں۔“

سیاسی عقائد

مرزائیوں کے نزدیک انگریز کی حکومت موجب رحمت اور انگریز اولی الامر منکم کے مصداق ہیں۔ موجودہ خلیفہ قادیان اکھنڈ ہندوستان کو اپنے الہامات بتاتا ہے۔ مرزائیوں نے قیام پاکستان کی آخر وقت تک مخالفت کی۔ مسلم لیگ کی مہم جو قیام پاکستان کے لئے لڑی گئی۔ مرزائیوں کے نزدیک ایک مخالفانہ مہم تھی جس کا اس ٹولہ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مسلم لیگ کے مقابلہ میں اپنے امیدوار علیحدہ کھڑے کئے۔ تقسیم ملک کی انتہائی مخالفت کی اور تقسیم ہند کے بعد ہندو کو انگریز کا جانشین اور اولی الامر تسلیم کرلیا۔ ہندوستان کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور اس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے حلقہ میں وسیع پراپیگنڈہ کیا۔ پنجاب حد بندی کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کے نمائندہ کے مقابلہ پر اپنا نمائندہ بشیر احمد ایڈووکیٹ مقرر کیا گیا اور انجانے انداز میں ریڈکلف کے ہاتھ مضبوط کر کے گورداسپور کی مسلم اکثریت کا علاقہ بھارت کو دلوا دیا گیا اور کشمیر پر وہ عظیم مصیبت نازل کرانے کے سامان فراہم کئے گئے جو آج تک بھارتی فوج کے نام سے ارض کشمیر پر مسلط ہے کہ بقول امام وقت مرزائے قادیان پر ایمان نہ لانے والے عامۃ المسلمین پر مصائب کا نزول بھی ان کے خود ساختہ قادیانی نبی کی صداقت کا ثبوت اور الہامات کا ایک حصہ تھا۔

انگریز کی مدح

اسلامیان ہند کے سب سے بڑے محسن بابائے ملت قائد اعظم اور دوسرے قومی کارکنوں، علماء کرام اور صوفیائے عظام کی مساعی جمیلہ سے ہندوستانی مسلمانوں میں آزادی کی تحریک چل نکلی۔ تو انگریز اولی الامر کے اشارہ پر قادیان کے اس جھوٹے نبی نے مقتدر زعمائے ملت اور تحریک آزادی کے متعلق یوں اپنی مرتد ٹولی کو نصیحت کی:

”میں دیکھتا ہوں کہ جاہل اور شریر لوگ مسلمانوں میں گورنمنٹ کے مقابلہ پر ایسی ایسی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کے لوگوں کو

11

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

لاجواب مقالات

صفحہ ٣٧

جو مختلف مقاموں پر پنجاب و ہندوستان میں موجود ہیں، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری پوری اطاعت کریں۔ خدا کی مصلحت نے اس گورنمنٹ کو چن لیا ہے اور ہمارا فرقہ احمدیہ (قادیانیہ) چند سالوں میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ تم مکہ یا مدینہ میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکو گے۔ ہرگز نہیں بلکہ تمام اسلامی علماؤں کے فتوؤں کی رو سے تم واجب القتل ہو اور ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو یہی انگریز لوگ ہیں جو تمہیں ان دشمنوں سے بچاسکتے ہیں۔ یہ حکومت باعث رحمت ہے، تمہارے لئے ایک برکت ہے۔ تمہاری مخالف جو مسلمان ہیں، ان سے انگریز ہزار درجے بہتر ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج١٠ ص١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٢،٥٨٣،٥٨٤)

اسی طرح اس وقت کے وائسرائے اور گورنر پنجاب کو ایک خط میں لکھا ہے: ’’اس خود کاشتہ پودا کی نسبت اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی میرے خاندان اور فرقہ کی ثابت شدہ وفاداریوں اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص نظر اور عنایت کی نظر سے دیکھیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج٧ ص١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)

قارئین نے مصنوعی نبی کے سیاسی مسلک کا نمونہ ملاحظہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ادنیٰ ملازمین سرکاری کی ’’نظرِ خاص و نظرِ عنایت‘‘ کے لئے مرزاجی کی بے قراری کا عالم، اب ذرا شانِ نبوت ملاحظہ ہو:۔

میں فرق جانا اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٩)

’’دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں ”خدا کی مانند“ مطلب یہ کہ میں خدا کی مانند ہوں، اور دوسرے نبیوں نے مجھ کو خدا کی مانند بتایا ہے۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص٢٥، خزائن ج١٧ ص٤١٣)

’’میں نے خواب میں دیکھا کہ بعینہ اللہ ہوں اور پھر میں نے یقین کر لیا کہ میں خدا ہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ابھی کہاں، اور کمالات انگریزی نبی ملاحظہ ہوں۔ فرماتے ہیں کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

١٢

’’قرآن مجید جو احمد کی بشارت ہے وہ احمد میں ہی

(

’’خدا قادیان میں نازل ہوگا۔‘‘

(

’’خدا نے میرا نام آدم رکھا۔‘‘

(حقیقۃ

’’تو بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔‘‘

(تذ

حد ہی تو کر دی مرزا قادیانی نے ایک ہی سانس م ’’میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہ ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں ع

(تذ

اس پر بھی طبیعت سیر نہ ہوئی تو انگریز بہادر کے ل سرائی شروع کر دی کہ: ”خدا تعالیٰ نے بارہا میرے پر ظاہر ک گزرا ہے اور جس کرشن آخری زمانہ میں آنے والا ہے، وہ می

(تذ

قادیانی نبی کے سیاسی اور مذہبی عقائد کی محولہ صد نبی زادہ، مصلح موعود اور نہ جانے کیا کیا۔ یعنی مرزا بشیر الد درجات و مراتب کے مدعی ہیں، کے سیاسی عقیدے کی جھل ترجمان سے سن لیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: (قیام پاکستان سے ’’ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو و مسلم سوال ال رہیں۔ تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں (یعنی پاکستان قائم نہ مگر اس کے نتائج کبھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہ اس وسیع ملک میں ترقی کرے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حال چاہئے کہ یہ حالت جلد دور ہو جائے۔‘‘ (یعنی پاکستان کو مٹ تخیل کی تکمیل کی جائے)

اور یہ امر واقعہ ہے کہ پوری امت مرزائیہ گزشتہ کہ لاڈلے خلیفہ قادیان کی مندرجہ صدر آرزو بر آئے اور پاک

١٣

صفحہ ٣٧

”قرآن مجید میں جو احمد کی بشارت ہے وہ احمد میں ہی ہوں ۔“ (استغفر اللہ)

(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج١٠ ص٤٦٣)

”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“

(محمود الہامات مرزا تذکرہ ص ٤٤٧ طبع سوم)

”خدا نے میرا نام آدم رکھا ۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

”تو بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٠)

حد ہی تو کر دی مرزا قادیانی نے ایک ہی سانس میں یہ کہہ کر کہ :۔

”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمد ہوں ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ٨٤،٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

اس پر بھی طبیعت سیر نہ ہوئی تو انگریز بہادر کے خود کاشتۂ نبی قادیانی نے مزید ہرزہ سرائی شروع کر دی کہ : ”خدا تعالیٰ نے بار ہا میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ملک ہند میں کرشن نام کا جو نبی گزرا ہے اور جس کرشن نے آخری زمانہ میں آنا ہے، وہ میں ہی ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

قادیانی نبی کے سیاسی اور مذہبی عقائد کی محولہ صدر جھلک ملاحظہ کرنے کے بعد اب ذرا نبی زادہ، مصلح موعود اور نہ جانے کیا کیا ۔ یعنی مرزا بشیر الدین محمود جو اپنے باوا جان سے بھی بلند درجات و مراتب کے مدعی ہیں، کے سیاسی عقیدے کی بھی حقیقت خود ان ہی کی زبان وحی ترجمان سے سن لیجیے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: (قیام پاکستان سے چار ماہ پہلے)

”ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں ۔ تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں (یعنی پاکستان قائم نہ ہو) بے شک یہ کام بڑا مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد رہیں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو (یعنی پاکستان بن جائے ) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ حالت جلد دور ہو جائے ۔“ (یعنی پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت کے تانا شاہی تخیل کی تکمیل کی جائے)

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٤٧ء)

اور یہ امر واقعہ ہے کہ پوری امت مرزائیہ گزشتہ تین برس سے متواتر کوشش کر رہی ہے کہ لاڈلے خلیفہ قادیان کی مندرجہ صدر آرزو بر آئے اور پاکستان پھر سے ہندوستان میں ضم ہو کر

١٣

صفحہ ٣٩

تحفہ قادیانیت جلد ٣

خلیفہ قادیان کے دجال وقت ہونے کا ثبوت مہیا کرے۔ لیکن کیا ......... مگر نہیں۔ ہمیں سردست قادیانی نبی کے اقوال کی روشنی میں فرقہ باطلہ مرزائیہ کے ادعائے اسلام کا جائزہ لینا ہے۔

مرزائے قادیان کے اقوال متذکرہ کی بناء پر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اس کے قائم کردہ ٹولے کے ایمانی عقائد اور معاملاتِ اسلام سے کوسوں دور ہیں۔ تو پھر ان کا کلمہ طیبہ کو پڑھ لینا اور ارکانِ اسلامی روزہ، نماز وغیرہ نقل کرنا بھی محض دکھاوے کا ہے اور بہت بڑا فریب، ورنہ یہ ٹولہ اسلام سے کلیتہً خارج ہے اور انہیں رسمی طور پر بھی مسلمان سمجھنا، یا کہنا، مذہب حقہ اسلامیہ کی توہین ہے۔ بلاشبہ یہ ٹولہ کافر ہے اور مرتدین ومنافقین میں شامل ہے۔

مرزائی پاکستان کے وفادار نہیں، غدار ہیں

اسی طرح یہ حقیقت بھی مسلم ہے اور ناقابل تردید کہ یہ بد باطن گروہ پاکستان کا بھی وفادار نہیں بلکہ غدار ہے۔ بدترین غدار، کیونکہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک عارضی حالت سمجھنے والا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنے والا پاکستان کا دشمن ہی ہو سکتا ہے، دوست ہرگز نہیں۔ آخر تارا سنگھ کے عزائم اور خلیفہ قادیان کے محولہ صدر ارادے ایک ہی نوعیت کے ہی تو ہیں۔ اور رسوائے زمانہ دشمنانِ اسلام و پاکستان شیاما پرشاد مکرجی وغیرہ تو یہی بک رہے ہیں کہ پاکستان کا قیام ایک عارضی کیفیت ہے۔ جسے دور کرنا ہر ہندو، سکھ کا دھرم ہے۔

دنیا بھر کے علماء امت کا فتویٰ

اس پمفلٹ کے قارئین نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ مرزائی مبلغ جب کابل میں گئے تو وہاں کے علماء نے انہیں مرتد قرار دے کر سنگسار کرایا اور دنیا بھر کے علماء اسلام نے اس فیصلہ کی تصدیق کی۔ پاکستان کے نامور عالم دین شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی مرحوم نے بھی اپنے رسالہ ”الشہاب“ میں گروہ باطلہ مرزائیہ کو مرتد ٹھہرایا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال مرحوم اپنے ایک مشہور مقالہ میں فرماتے ہیں کہ: ”مرزائیت اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ کوئی دینی فرقہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ٹولی اور گروپ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ جہاد کا قرآنی حکم منسوخ ہو چکا ہے اور انگریز حاکم مامور من اللہ ہے۔ اس لئے اس کی اطاعت لازمی ہے۔ اس لحاظ سے مرزائی مسلمانوں سے الگ اور جدا ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔“

(حرف اقبال)

مخلصانہ مشورہ

اسلام کو کمزور و بدنام کرنے، مسلمانوں کو ذلیل و خوار اور منتشر و پراگندہ کرنے کے لئے

١٤

لاجواب باطل

مرزائے قادیان کے کارنامے اور موجودہ مرزا قادی سازشوں اور ہتھکنڈوں کی تفصیل کے لئے زیر نظر پم لئے ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں یہ مخلصا اخبار سہ روزہ آزاد سرکلر روڈ لاہور کا مطالعہ جاری رکھی آشنا اور کوائف حاضری و تعلیمات اسلامیہ سے بہرہ م ریاست جموں و کشمیر کی قومی تحریکوں میں م جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کے اندر تح

جامع الفاظ میں بانی تحریک چودھری غلام عباس خا زبانی سنیں: ”حکومت آزاد کشمیر کا قیام اس خواب کی ویلز کالج کے چند غیور طلباء نے دیکھا تھا اور مسلم یک میدان میں اتر کر پہلی بار ڈوگرہ حکومت کے سیاہ نامہ ا جموں و کشمیر کو متحد و منظم کر کے انہیں جدوجہد آزادی اور اس عظیم اور ناقابل تسخیر قوت کی بنیاد پڑی۔ جسے آ ہے اور مشکلات کے باوجود جس کے پائے ثبات میں مراحل طے کرتی رہی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈوگر گھٹنے ٹیک دینے پڑے۔ ہندو کانگریس کو کشمیر میں م اسلامیان جموں و کشمیر کی متحد و منظم صفوں میں انتشار پ کا لبادہ اوڑھنے کی دعوت دی گئی۔“

چنانچہ اس مرحلہ پر قائد ملت اور ان دھارنے کی اس منافقانہ تجویز کو ٹھکرا کر تقسیم ملت اسلامی تصور کی بناء پر تھا۔ جو آگے چل کر قیام پاکس اسلامیہ کو ہندو کانگریس کے دام میں گرفتاری سے بچا

آزاد کشمیر قرارداد کی منظوری

اسی طرح جب شیخ عبداللہ اور ان کے ح اور سستی شہرت کے حصول کے لئے ”کشمیر چھوڑ دو قیادت میں مسلم کانفرنس نے ”آزاد کشمیر“ کی انقلاب

١٥

صفحہ ٣٩

مرزائے قادیان کے کارنامے اور موجودہ مرزا قادیانی (خلیفہ قادیان یا دجال ربوہ) کی نت نئی سازشوں اور ہتھکنڈوں کی تفصیل کے لئے زیر نظر پمفلٹ کی تنگ دامانی اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں یہ مخلصانہ مشورہ پیش کرتے ہیں کہ آپ مستقل طور پر اخبار سہ روزہ آزاد سرکلر روڈ لاہور کا مطالعہ جاری رکھیں، تاکہ اس گروہ مرتدین کی شرانگیزیوں سے آشنا اور کوائف حاضرہ و تعلیمات اسلامیہ سے بہرہ مند ہوتے رہیں۔

ریاست جموں وکشمیر کی قومی تحریکوں میں مرزائیوں کا حصہ

جہاں تک ریاست جموں وکشمیر کے اندر تحریک حریت کا تعلق ہے، اس کی مختصر سی تاریخ جامع الفاظ میں بانی تحریک چودھری غلام عباس خان قائد ملت اسلامیہ ریاست جموں وکشمیر کی زبانی سنیں: ”حکومت آزاد کشمیر کا قیام اس خواب کی زندہ جاوید تعبیر ہے جو ١٩٢٨ء میں پرنس آف ویلز کالج کے چند غیور طلباء نے دیکھا تھا اور مسلم ینگ مینز ایسوسی ایشن کی شکل میں سیاست کے عملی میدان میں اتر کر پہلی بار ڈوگرہ حکومت کے سیاہ نامہ اعمال کا مواخذہ کیا تھا۔ ١٩٣١ء میں اسلامیان جموں وکشمیر کو متحد و منظم کر کے انہیں جدوجہد آزادی کے لئے تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس عظیم اور ناقابل تسخیر قوت کی بنیاد پڑی۔ جسے آج ”آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس“ کہا جاتا ہے اور مشکلات کے باوجود جس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی اور وہ راہ آزادی کے دشوار ترین مراحل طے کرتی رہی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈوگرہ حکومت کو طوعاً وکرہاً تقاضائے ملی کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پڑے۔ ہندو کانگریس کو کشمیر میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار منظور نہ تھا۔ چنانچہ اسلامیان جموں وکشمیر کی متحد و منظم صفوں میں انتشار پھیلانے کے لئے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس کا لبادہ اوڑھنے کی دعوت دی گئی۔“

چنانچہ اس مرحلہ پر قائد ملت اور ان کے رفقائے کار نے نیشنل کانفرنس کا روپ دھارنے کی اس منافقانہ تجویز کو ٹھکرا کر عظیم ملت کے لئے جو ایمان دارانہ قدم اٹھایا۔ وہ اس اسلامی تصور کی بناء پر تھا۔ جو آگے چل کر قیام پاکستان کا باعث بنا اور اس پیش بندی نے ملت اسلامیہ کو ہندو کانگریس کے دام میں گرفتاری سے بچالیا۔

آزاد کشمیر قرارداد کی منظوری

اسی طرح جب شیخ عبداللہ اور ان کے حواریوں نے اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی اور سستی شہرت کے حصول کے لئے ”کشمیر چھوڑ دو“ کا شوشہ چھوڑا تو ١٩٤٦ء میں قائد ملت کی قیادت میں مسلم کانفرنس نے ”آزاد کشمیر“ کی انقلابی قرارداد منظور کی اور اسلامیان ریاست جموں

١٥

صفحہ ٤١

و کشمیر کو اس راہ پر گامزن کر دیا جو انہیں اپنی منزل مقصود پاکستان کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلم کانفرنس نے طویل جدوجہد کے بعد ٢٤ اکتوبر ١٩٤٧ء کو آزاد کشمیر کی منظور کردہ قرارداد کا عملی طور پر سنگ بنیاد رکھا۔ یعنی آزاد علاقہ کے نظم و نسق کے لئے ایک حکومت قائم کی جو مسلم کانفرنس کے ماتحت ایک اعلیٰ اختیارات کے انتظامیہ ادارہ کی حیثیت سے علاقے کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہے۔ اس حکومتی ادارہ کے لئے مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ بمنزلہ قومی پارلیمان یا مجلس آئین ساز کے ہے اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر قائد ملت چودھری غلام عباس خان آزاد کشمیر حکومت کے نگران اعلیٰ کی حیثیت سے اسلامیان ریاست جموں و کشمیر کی قیادت فرما رہے ہیں۔

علامہ اقبال اور قادیانی

شاید پڑھنے والوں کے دل میں اس مرحلہ پر یہ سوال پیدا ہو کہ تحریک آزادی کشمیر مرزائی کب اور کیسے حائل ہوئے؟ تو اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ یہ فرقہ باطلہ ریاست میں تحریک حریت کے آغاز سے ہی مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں رکاوٹ پیدا کرتا چلا آیا ہے اور آج تک بدستور یہی منافقانہ فریضہ بجالا رہا ہے۔

اور مفصل جواب یہ کہ ١٩٣١ء میں جب تحریک حریت کشمیر کی ابتداء ہوئی اور ریاست کے باہر ستم رسیدہ کشمیری مسلمانوں کی استمداد کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی اور علامہ محمد اقبال اس کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے تو موجودہ خلیفہ قادیان بھی اپنے بااثر حواریوں کی امداد سے اس کمیٹی کے رکن بن گئے اور اپنی عادت وفطرت کے مطابق کمیٹی کو ناکام بنانے، تحریک کو ختم کرنے اور ڈوگرہ راج کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہو گئے۔ چنانچہ ان کی پس پردہ سازشوں کو علامہ اقبال نے شدت سے محسوس کیا اور اصلاح احوال کے لئے کمیٹی کے جدید انتخاب کی طرح ڈالی تاکہ مرزائیوں کا اس امدادی کمیٹی سے اخراج ہو سکے۔ قائد ملت اور ان کے رفقائے کار نے علامہ مرحوم کے اس اقدام کی پرزور حمایت کی لیکن مرزائیوں نے جو کشمیر کمیٹی پر بری طرح مسلط تھے، انتخاب جدید کو آگے بڑھنے نہ دیا اور علامہ اقبال کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اس کمیٹی کو سرے سے ختم کر دیں اور یوں مسلمانان کشمیر کو مرزائیوں کے منافقانہ عزائم کے تباہ کن اثرات سے بچالیں۔ چنانچہ یہ کمیٹی توڑ دی گئی اور ریاستی مسلمان مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے منظم ہونے کی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن صفحہ تاریخ پر یہ واقعہ پوری تفصیلات کے ساتھ رقم ہو گیا کہ مرزائیوں کی کٹ حجتی اور ڈھٹائی کی وجہ سے کشمیری مسلمان

١٦

اپنے دس کروڑ ہندی مسلمانوں کی عملی ہمدردیوں کے محروم ہو سرفروش اور جانباز رضا کاروں پر جو مظلوم مسلمانان کشمیر ہو رہے تھے۔ قید و بند کی صعوبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

در پردہ سازشیں

مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی واحد سیاسی ن کے مخلص ارکان فرقہ مرزائیہ کے ملت کش عزائم سے واقف ت میں ایسی دفعات شامل کر لی گئیں جن کی رو سے مرزائیوں کے کر دیئے گئے۔ لیکن یہ لوگ بھی کب نیچے بیٹھنے والے تھے، ا بھیج دی تھی۔ سرینگر سے اصلاح نام کا ایک ہفتہ وار اخبار جا ایک طرف تو مسلمانوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈالنے ک مسلمان اکابرین ملت اور مسلم کانفرنس کے خلاف مکروہ پرو کے رسوائے عالم جریدہ ”نوائے کشمیر“ کے پس پردہ مقالہ نو قادیان کے تنخواہ دار ایجنٹوں کی حیثیت سے ”اصلاح“ سری باطن کا سنڈاس بکھیرتے رہے اور نہایت چالاکی اور مکاری ک آگ بھڑکانے میں سرگرم عمل رہے۔ چنانچہ اخبار میں ک ”اصلاح“ نے مسلمانان کشمیر کی تحریک آزادی کو نقصان پ رکھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے ناپاک ارا بلکہ الٹا انہیں خائب و خاسر کر کے اپنے حقیقی ڈربہ میں گھسنے پر

مرزائیوں کی ایک اور کوشش

١٩٤٧ء کی تاریخی اور انقلابی قرارداد آزادی ک حکومت نے قائد ملت چودھری غلام عباس خان اور آل جمو کارکنوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو ان کی عدم موجو کہ وہ ریاستی سیاسیات میں گھس پھنس کر اپنی دیرینہ آرزوئی آزادی کے دوران میں ”فرقان بٹالین“ کے نام سے ایک ف مشتمل تھی۔ دراصل اس فوج کی ترتیب اس لئے عمل میں ل

١٧

صفحہ ٤١

اپنے دس کروڑ ہندی مسلمانوں کی عملی ہمدردیوں کے محروم ہو گئے اور مجلس احرار اسلام کے ہزاروں سرفروش اور جانباز رضا کاروں پر جو مظلوم مسلمانان کشمیر کی امداد کے لئے ریاست میں داخل ہورہے تھے۔ قید و بند کی صعوبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

در پردہ سازشیں

مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی واحد سیاسی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مخلص ارکان فرقہ مرزائیہ کے ملت کش عزائم سے واقف تھے۔ اس لئے مسلم کانفرنس کے آئین میں ایسی دفعات شامل کر لی گئیں جن کی رو سے مرزائیوں کے لئے اس جماعت کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ لیکن یہ لوگ بھی کب نیچے بیٹھنے والے تھے۔ کشمیر میں تنخواہ دار ایجنٹوں کی ایک کھیپ بھیج دی گئی۔ سرینگر سے اصلاح نام کا ایک ہفتہ وار اخبار جاری کر دیا گیا اور نہایت ہوشیاری سے ایک طرف تو مسلمانوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈالنے شروع کر دیئے گئے اور دوسری طرف مسلمان اکابرین ملت اور مسلم کانفرنس کے خلاف مکروہ پروپیگنڈہ کی بنیاد ڈال دی۔ چنانچہ کوٹلی کے رسوائے عالم جریدہ ”نوائے کشمیر“ کے پس پردہ مقالہ نویس عبدالغفار و عبدالواحد مرکز مرزائیہ قادیان کے تنخواہ دار ایجنٹوں کی حیثیت سے ”اصلاح“ سرینگر کے صفحات پر برسوں اپنے خبیث باطن کا سنڈاس بکھیرتے رہے اور نہایت چالاکی اور مکاری سے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کی آگ بھڑکانے میں سرگرم عمل رہے۔ چنانچہ اخبار بین حضرات سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ”اصلاح“ نے مسلمانان کشمیر کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کی مہم کو اخیر وقت تک جاری رکھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے ناپاک ارادوں کو کامیابی کے زینہ تک پہنچنے نہ دیا۔ بلکہ الٹا انہیں خائب و خاسر کر کے اپنے حقیقی ڈربہ میں گھسنے پر مجبور کر دیا۔

مرزائیوں کی ایک اور کوشش

١٩٣١ء کی تاریخی اور انقلابی قرارداد آزادی کے منظور کرنے کے بعد جب ڈوگرہ حکومت نے قائد ملت چودھری غلام عباس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے دوسرے ممتاز کارکنوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو ان کی عدم موجودگی میں مرزائیوں کو پھر ایک موقع مل گیا کہ وہ ریاستی سیاسیات میں گھس پھنس کر اپنی دیرینہ آرزوؤں کو پورا کریں۔ چنانچہ انہوں نے جہاد آزادی کے دوران میں ”فرقان بٹالین“ کے نام سے ایک فوج مرتب کی جو خالص مرزائیوں پر مشتمل تھی۔ دراصل اس فوج کی ترتیب اس لئے عمل میں لائی گئی کہ اس کے نام پر یہ اپنے ٹولہ منظم

١٧

صفحہ ٤٣

ملحقات قادیانیت مسلح کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی مرزائیوں نے کشمیر کے بعض ایسے اصحاب کو بھی اپنے دام تزویر میں پھانس لیا جو وقت کی غلط فہمیوں اور عبوری دور کے قحط الرجال کے طفیل بڑے بن چکے تھے۔ جنہیں قوم وملت کے اجتماعی مفاد سے کہیں زیادہ اپنے ذاتی فوائد سے کام تھا۔ چنانچہ آزاد کشمیر کے ان ابن الوقت ارباب اختیار سے ساز باز کر کے مرزائی ٹولہ ایک طرف تو حکومت کے قریب قریب تمام کلیدی عہدوں پر قابض ہو گیا تو دوسری طرف پاکستان میں پناہ حاصل کرنے کے لئے آنے والے مہاجرین میں گھل مل کر، اور ان پر اپنی منافقانہ چاپلوسی اور لفظی ہمدردی کا جادو چلا کر خاصا اثر ورسوخ پیدا کرلیا۔ بدقسمتی سے کشمیری مہاجروں کے آرام و آرائش سے متعلق پاکستانی امداد ی اداروں کے بعض با اختیار آفیسر بھی کٹر مرزائی تھے۔ ان لوگوں نے کشمیری مہاجروں کی بدحالی اور بے سرو سامانی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان میں مسلم کانفرنس کے مقابلہ میں انجمن مہاجرین کے نام سے ایک متوازی جماعت قائم کر دی۔ جس کا ظاہری مقصد تو مہاجرین کے سود و بہبود سے متعلقہ امور کی نگرانی بتایا گیا مگر درپردہ اسے مسلم کانفرنس کے اندر اس کے مخلص کارکنوں کے خلاف سادہ لوح کشمیری مسلمانوں میں منافرت کے بیج بونے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ ادھر مرزائی ارباب اختیار پاکستان نے اس نئے ادارہ کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کے اثر و رسوخ کا مہاجرین پر سکہ بٹھانے کے لئے راشن، کپڑا وغیرہ کی تقسیم، مہاجروں کی تصدیق وغیرہ تمام امور میں انجمن مہاجرین کے مرزائی ارکان کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا۔

وہ تو خدا کا فضل شامل ہوا ۔ قائد ملت اور چیدہ مسلم کارکن دشمنوں کی قید سے رہا ہو کر پاکستان پہنچ گئے اور مسلم کانفرنس کے خلاف پیدا کردہ اس طوفان بدتمیزی کا طلسم ٹوٹنے لگا اور کشمیری عوام پر ”انجمن مہاجرین“ کے مرزائیہ ہتھکنڈوں کی حقیقت کھلنے لگی۔ لیکن اب مفاد پرست اشخاص کی غالب اکثریت مرزائی ٹولہ کے زیر اثر آ چکی تھی اور ابن الوقت قسم کے بعض کشمیری حضرات راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ وغیرہ مقامات کی مرزائی ایجنسیوں کے آلہ کار بن چکے تھے۔ اس لئے انتشار و افتراق کی جڑیں کاٹنے کے لئے مسلم کانفرنس کو بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم عمل ہونا پڑا۔ مرزائی ٹولہ کے ساختہ پرداختہ خدائی خوار قدم قدم پر نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور مختلف ذرائع سے انتشار و بے چینی کو فروغ دینے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ حتیٰ کہ خود مسلم کانفرنس میں کشمیری بلاک کے نام سے ایک نئی لعنت کھڑی کر دی گئی تھی۔ سیالکوٹ ایسے مہاجر اکثریت کے ضلع سے ”جہاد“ اور ”آزاد کشمیر“ کے نام سے دو اخبار قوم میں نفاق و افتراق کے زہر یلے جراثیم بکھیرنے اور کشمیری مہاجر رائے عامہ کو مسلم کانفرنس سے بدظن کرنے کا مکروہ فریضہ ١٨

بجالا رہے تھے اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ مرزائی موقعہ پرستو حکومت پاکستان نے کشمیری مہاجروں کو مہاجر ہی تسلیم نہیں سر چھپانے کے لئے مکان تک ملنا دشوار تھا۔ ان غایت د میں قائد ملت چودھری غلام عباس خان ڈوگرہ قید سے رہا ہو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بابائے ملت حضرت قائد اعظم مہاجرین کی بے سرو سامانی اور پریشانی سے مطلع کیا۔ انہیں ابھی تک دیگر مہاجرین کی طرح رہنے سہنے کی رعایتیں حاصل

چنانچہ قائد ملت کی بروقت کوشش سے نہ صرف بلکہ قائد اعظمؒ نے مہاجرین کشمیر کی فوری اور مناسب امداد صرف کرنے کا فرمان جاری فرمایا اور تمام صوبائی حکومتوں محبوب مہمان سمجھتے ہوئے انہیں پاکستان میں زیادہ حصے ملت کی مہاجر پروری اور حضرت قائد اعظمؒ کی فیاضی اور سیر جہاں کہیں بھی ہیں۔ حکومت پاکستان کے مہمان تصور کئے زیر اثر خدائی فوج داروں نے تو اس قسم کا طرز عمل اختیار ک عقیدت ومحبت کے جذبات کھو بیٹھیں، بلکہ الٹا بدگمانیوں ک سے ان کی پاکستان کے متعلق وفاداری مشتبہ ہو جائے۔

قائد ملت نے کشمیری مہاجروں کی پرورش ا جموں وکشمیر کی صفوں کو از سر نو درست کرنے اور ”آل جماعت کی حیثیت سے عوام پاکستان اور حکومت پاکستان اور اپنی مسیحا نفسی سے جہاں پوری قوم میں حیات تازہ ک واحد نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر کی اہمیت سے حکوم نمائندگی کا بلا شرکت غیرے حق دار قرار دلوا کر قومی و جماعت سے خارج کرنے ، نسلی اور نسبتی تفوق و برتری پات اور صوبائی تعصب کی بناء پر امتیازات برتنے والے کشمیر حکومت میں فسطائی رجحانات کا خاتمہ کیا اور اسلامی کر کے اسے زیادہ سے زیادہ مفاد عامہ میں دلچسپی ل ١٩

صفحہ ٤٣

بجا لارہے تھے اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ مرزائی موقعہ پرستوں کی مجرمانہ سازش کے تحت ابھی تک حکومت پاکستان نے کشمیری مہاجروں کو مہاجر ہی تسلیم نہیں کیا تھا اور انہیں دارالامان پاکستان میں سر چھپانے کے لئے مکان تک ملنا دشوار تھا۔ ان غایت درجہ پریشان کن اور تشویشناک حالات میں قائد ملت چودھری غلام عباس خان ڈوگرہ قید سے رہا ہو کر پاکستان پہنچے اور انہوں نے آتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بابائے ملت حضرت قائد اعظمؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں کشمیری مہاجرین کی بے سرو سامانی اور پریشانی سے مطلع کیا۔ انہیں اس شرارت سے باخبر کیا کہ کشمیریوں کو ابھی تک دیگر مہاجرین کی طرح رہنے سہنے کی رعایتیں حاصل نہیں۔

چنانچہ قائد ملت کی بروقت کوشش سے نہ صرف کشمیری مہاجرین کو ”مہاجر“ قرار دیا گیا بلکہ قائد اعظمؒ نے مہاجرین کشمیر کی فوری اور مناسب امداد کے لئے کروڑوں روپیہ ریلیف فنڈ سے صرف کرنے کا فرمان جاری فرمایا اور تمام صوبائی حکومتوں کو تاکید کی گئی کہ وہ کشمیری مہاجروں کو اپنا محبوب مہمان سمجھتے ہوئے انہیں پاکستان میں زیادہ سے زیادہ آسائش مہیا کریں۔ چنانچہ یہ قائد ملت کی مہاجر پروری اور حضرت قائد اعظمؒ کی فیاضی اور سیر چشمی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیری مہاجر جہاں کہیں بھی ہیں۔ حکومت پاکستان کے مہمان تصور کئے جاتے ہیں۔ ورنہ فرقہ باطلہ مرزائیہ کے زیر اثر خدائی فوج داروں نے تو اس قسم کا طرز عمل اختیار کر رکھا تھا کہ کشمیری مسلمان پاکستان سے عقیدت ومحبت کے جذبات کھو بیٹھیں، بلکہ الٹا بدگمانیوں کا شکار ہو کر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں جس سے ان کی پاکستان کے متعلق وفاداری مشتبہ ہو جائے۔

قائد ملت نے کشمیری مہاجروں کی پرورش اور نگہداشت کا مسئلہ حل کر کے مسلمانان جموں وکشمیر کی صفوں کو از سر نو درست کرنے اور ”آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس“ کو ایک فعال جماعت کی حیثیت سے عوام پاکستان اور حکومت پاکستان سے متعارف کرانے پر توجہ مبذول فرمائی اور اپنی مسیحا نفسی سے جہاں پوری قوم میں حیات تازہ کی روح پھونکی وہاں مسلمانان ریاست کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں وکشمیر کی اہمیت سے حکومت کو آگاہ کرنے اور اسے مسلمانان کشمیر کی نمائندگی کا بلا شرکت غیرے حق دار قرار دلوا کر قومی وقار کو بحال کیا۔ مفتن و بداندیش عناصر کو جماعت سے خارج کرنے ، نسلی اور نسبتی تفوق وبرتری کے دعویداروں اور مسلمانوں میں ذات پات اور صوبائی تعصب کی بناء پر امتیازات برتنے والے منافقوں کی گوشمالی کرنے کے علاوہ آزاد کشمیر حکومت میں فسطائی رجحانات کا خاتمہ کیا اور اسلامی جمہوری بنیادوں پر جدید حکومت کی تشکیل کر کے اسے زیادہ سے زیادہ مفاد عامہ میں دلچسپی لینے کا پابند بنایا اور مرزائیوں کی پس پردہ

19

صفحہ ٤٥

اور مجاہد کشمیر

سازشوں کے طفیل آزاد کشمیر حکومت اور مسلم کانفرنس کے درمیان پیدا کردہ اختلاف کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ غرضیکہ کشمیری مسلمانوں کے محبوب رہنما اور مخلص قائد نے اپنی بے نظیر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امت مرزائیہ قادیانیہ کی ان تمام سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا جو مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کو راہ راست سے گمراہ کرنے کے لئے اس دشمن اسلام ٹولہ نے مرتب کر رکھی تھیں اور یوں اپنے قائدانہ تدبر کا دشمنوں سے بھی لوہا منوایا۔

نام نہاد فرقان بٹالین کے کرتوت

یہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ مرزائیوں نے فرقان بٹالین کے نام سے جو فوج مرتب کی تھی اس کی غرض و غایت صرف یہ تھی اس اس طریقہ سے فرقہ باطلہ مرزائیہ کو جہاں ایک مسلح ہونے کا بہانہ ہاتھ آ جائے گا۔ وہاں وہ اپنے منافقانہ منصوبوں کو بھی آسانی سے بروئے کار لاسکیں گے۔ چنانچہ یہی کچھ ہوا اور مرزائیوں کی اس فوج نے بے شمار اسلحہ حاصل کر کے اور راشن، کپڑا وغیرہ ہتھیا کر اسے نہایت بے دردی سے ضائع کیا۔ اس کے علاوہ بقول اخبار (آزاد لاہور) ”تنسیخ جہاد کا عقیدہ رکھنے والی امت مرزائیہ نے فرقان بٹالین کے نام سے مرزائیوں کی جدا فوج بنا کر جہاد کشمیر میں جو کچھ کیا اور ہندوستان کی جو خدمات انجام دیں۔ مسلم مجاہدین کی جوانیوں کا جس شرمناک طریق سے سودا چکایا۔ اس پر خون کے آنسو بہائے جائیں تو بھی کم ہیں۔ مجاہدین کے کیمپ میں جو اسکیم بنتی، فوراً ہندوستان پہنچ جاتی۔ جہاں مجاہدین مورچے بناتے، دشمن کو پتہ چل جاتا اور جہاں مجاہدین ٹھکانہ کرتے، وہیں ہندوستانی ہوائی جہاز پہنچ جاتے۔“

(آزاد لاہور ١٧ اپریل ١٩٥٠ء)

غرضیکہ فرقان بٹالین کیا تھی۔ دشمن کا مسلح و منظم پانچواں کالم تھا جو نہایت ہوشیاری سے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپتا رہا۔ یہاں تک کہ مجاہدین کے پیہم اصرار پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مقتدر زعماء نے حکومت پاکستان کو توجہ دلائی اور اس نام نہاد فوج کو ختم کر کے مجاہدین کشمیر کو اس بد بخت بٹالین کی در پردہ سازشوں سے نجات دلوائی۔

فرقان بٹالین کی غدارانہ کارکردگی کی تفصیل اگر چہ لوح تاریخ پر ثبت ہو چکی ہے اور وقت آنے پر شائع بھی ہو جائے گی۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ غایت درجہ خطرناک گروہ ایک عرصہ تک مجاہدین کے کیمپ میں گھسا رہا اور نا قابل بیان قومی وملی نقصان کا موجب بنا۔

بہر حال اتنا ضرور ہوا کہ یہ غدار اور مرتد ٹولہ مسلمانوں کو آئندہ کسی موقعہ پر دھوکہ دینے

٢٠

باغی قادیانیت

اور کسی نئے فریب میں مبتلا کرنے کے قابل نہیں رہا اور اس کا پوشیدہ نہ رہ سکا۔

سلاح خانہ مرزائیت کا آخری حربہ

اپنے شیطانی منصوبوں میں بار بار ناکام ہونے اور مرزائیوں کو یقین ہو جانا چاہئے تھا کہ وہ مسلمانان کشمیر کے اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے مقصد میں کامیاب مسلمان کے دل میں پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے راست سے گمراہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن نہیں۔ یقین ہی تو ایمان کی بن سکتا جو صاحب ایقان ہو اور حالات سے سبق حاصل کر سکتا کی سنت کے مطابق عامۃ المسلمین کو فریب دینے اور جلیل القدر کی ”تحریری“ مہم کا آغاز کر دیا اور جیسا کہ گزشتہ اوراق میں لاہور اور کوٹلی سے ”نوائے کشمیر“ کے پرفریب نام سے دو نئے کے اندر اور باہر ایک ہی مقصد کی تکمیل میں مصروف ہیں محبوب ترین مقصد۔ یعنی مسلمانوں کو ”آل جموں و کشمیر پاکستان“ سے بدظن اور بد دل کر کے آزادی کشمیر کی تحریک چھتھڑے جن اصحاب کے ملاحظہ سے گزرتے ہیں وہ مرزائیوں اور خالص مرزائیہ مغالطہ دہی پر یقیناً لعنتیں بھیجتے ہوں گے۔ اختیار کر رکھی ہے۔ مثلاً لاہور کے چھتھڑے ”نوائے کشمیر“ کی ناک پہلو“ کے زیر عنوان مجاہد دکن سلطان ٹیپو شہید سے کشمیری زدہ اور دون ہمت فرد کو نسبت دے کر سلطان شہید کی روح لئے کہ یہ ننگ وطن روپیہ اور اقتدار کی حرص میں آستانہ مرزائیت چڑھا کر جادہ حق و صداقت سے منحرف ہو چکا ہے۔

اسی طرح کوٹلی کا ناقوس خصوصی اپنی ١٧ نومبر ٥٠ء کی اشاعت میں ملت چودھری غلام عباس خان کو ان دو رسوائے زمانہ اور ناپاک کرنے کی ناپاک کوشش کرتا ہے جن میں سے ایک تو بظاہر زندہ ہے لیکن

٢١

صفحہ ٤٥

اور کسی نئے فریب میں مبتلا کرنے کے قابل نہیں رہا اور اس کا شرمناک نامہ اعمال نگاہ عالم سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔

سلاح خانۂ مرزائیت کا آخری حربہ

اپنے شیطانی منصوبوں میں بار بار ناکام ہونے اور قدم قدم پر منہ کی کھانے کے بعد مرزائیوں کو یقین ہو جانا چاہئے تھا کہ وہ مسلمانان کشمیر کے جذبہ استخلاص وطن کو ٹھنڈا کرنے اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جب کہ ہر ریاستی مسلمان کے دل میں پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے بے پایاں محبت موجود ہے اور وہ راہ راست سے گمراہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن نہیں۔ یقین ہی تو ایمان کی بنیاد ہوتا ہے۔ وہ مرزائی ہی نہیں بن سکتا جو صاحب ایمان ہو اور حالات سے سبق حاصل کر سکتا ہو۔ مرزائی ٹولہ نے اپنے مرشد کی سنت کے مطابق عامۃ المسلمین کو فریب دینے اور جلیل القدر مسلم اکابرین پر بہتان باندھنے کی ”تحریری“ مہم کا آغاز کر دیا اور جیسا کہ گزشتہ اوراق میں واضح کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے لاہور اور کوٹلی سے ”نوائے کشمیر“ کے پرفریب نام سے دو نئے اخبار جاری کر دیئے۔ جو ریاست کے اندر اور باہر ایک ہی مقصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ اور وہ مقصد ہے امت مرزائیہ کا محبوب ترین مقصد ۔ یعنی مسلمانوں کو ”آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس“ اور ”دولت خداداد پاکستان“ سے بدظن اور بد دل کر کے آزادی کشمیر کی تحریک کو کمزور کرنا۔ چنانچہ یہ ذلیل چیتھڑے جن اصحاب کے ملاحظہ سے گزرتے ہیں وہ مرزائی صحافت کی اس جدید چار سو بیسی اور خالص مرزائیہ مغالطہ دہی پر یقیناً لعنتیں بھیجتے ہوں گے۔ جو اب تک سفلہ اخبار چیوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ مثلاً لاہور کے چیتھڑے ”نوائے کشمیر“ کی ١٢؍اکتوبر کی اشاعت میں ”افسوس ناک پہلو“ کے زیر عنوان مجاہد دکن سلطان ٹیپو شہید سے کشمیر کے ایک نسلی عفریت کے آسیب زدہ اور دون ہمت فرد کو نسبت دے کر سلطان شہید کی روح کو اذیت دی جاتی ہے۔ محض اس لئے کہ یہ ننگ وطن روپیہ اور اقتدار کی حرص میں آستانہ مرزائیت پر اپنے ذہن و ضمیر کی بھینٹ چڑھا کر جادۂ حق و صداقت سے منحرف ہو چکا ہے۔

اسی طرح کوٹلی کا ناقوسِ خصوصی اپنی ١٧؍نومبر ١٩٥٠ء کی اشاعت کے صفحہ اول پر قائد ملت چودھری غلام عباس خان کو ان دو رسوائے زمانہ اور نا بکار تخریب پسندوں کی صف میں کھڑا کرنے کی ناپاک کوشش کرتا ہے جن میں سے ایک تو پکا مرزائی ہے اور آزاد کشمیر حکومت کی تشکیل

٢١

صفحہ ٤٦

راجا جہانگیر اقبال ٣ ختم نبوت

سے لے کر آج تک مسلسل مسلم کانفرنس کے متوازی جماعتیں بنانے کا کام کرتا رہا ہے اور دوسرا اس قدر بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں اور بداعمالیوں کا مرتکب ہو چکا ہے جنہیں مسلمانان ریاست کبھی معاف نہیں کر سکتے اور نہ فراموش کر سکتے ہیں۔ اس شخص نے مسند اقتدار سے اتارے جانے کے بعد مرزائیوں کے اشارہ پر اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کی خاطر اپنی جری اور بہادر برادری کو چاہ ہلاکت و بربادی میں دھکیلنے سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے قبیلہ کے معزز ترین رہنماء سردار فیروز علی خان اور دوسرے قومی کارکنوں سے سرکشی کر کے وہ کچھ کیا جو تارا سنگھ اور پٹیل ایسے مشہور دشمنان اسلام و پاکستان سے بھی بن نہ آیا تھا۔ ذرا قیاس کیجئے ”غلام نبی گلکار“ ایسے بے دم کے نمدے اور جہاد اسلامی کے منکر مرزائی کو ”غازی پاکستان انور مرحوم“ سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ اور کیا لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ جب مجاہد انور رزمگاہ کشمیر میں داد شجاعت دے رہا تھا تو ”گلکار“ بے دین پونچھ ہاؤس راولپنڈی کے ساز وسامان کو بیچ کھانے اور انجمن مہاجرین ایسے مفسد اور متعفن ادارے کی تاسیس و تشکیل میں مصروف تھا۔ وہی ”انجمن مہاجرین“ جس کے مرزائی ایجنٹوں کو مہاجر مسلمانان کشمیر نے مناسب گوشمالی کرنے کے بعد منہ کالا اور برہنہ جسم کر کے واپس بھیج دیا تھا اور اپنے کیمپوں کے قریب نہیں پھٹکنے دیا۔

مرزائی بہتان طرازوں کا منتہائے نظر

ادنیٰ حیثیت کے موقع پرست سیاسی غنڈوں کو مسلمانان ریاست کشمیر کے مخلص ترین رہنماؤں کے مقابلہ میں لاکر ان کے غیر معروف اور گم نام ناموں کے ساتھ، خود ساختہ دمیں لگانا اور انہیں بانس پر چڑھانے کے لئے مداریوں والے مضحکہ خیز طریقے اختیار کرنا اور قسم قسم کی فریب کاریوں اور حیلہ سازیوں سے مسلم کانفرنس کی موجودہ بے نظیر قیادت کے خلاف رائے عامہ کو ورغلانے کی کوششوں کو ہی معراج سیاست سمجھنا اگرچہ فرقہ باطلہ مرزائیہ کا قدیمی مشغلہ تھا۔ لیکن انہیں قائد ملت کے مقابلہ پر بار بار ناکام ہونے کے باوجود جو چیز میدان عمل میں دھکیل رہی ہے، وہ ہے جناب قائد ملت اور ان کے مخلص ترین رفیق کار فخر کشمیر جناب اے آر ساغر کی مرزائی شناسی ، مرزائیوں کا مرشد مرزا بشیر الدین یہ بھول نہیں سکتا کہ ”مسلم کانفرنس“ کی موجودہ قیادت مرزائیوں کی مسئلہ کشمیر میں مداخلت برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ہی مسلم کانفرنس اس گروہ مرتدین کو اپنی صفوں میں گھسنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ ساغر صاحب نے تو غیر مبہم الفاظ میں ان لوگوں کو بتا رکھا ہے کہ آپ کشمیر کے معاملہ میں کم یا زیادہ کسی طرح دخل نہ دیں۔ اسی طرح انہوں نے فتنہ ٢٢

٤٧ مرزائیت کے بارہ میں کہا ہے کہ ہم نے مرزائیت کو پوری طر کے خلاف پوری قوت صرف کر دی ہے اور اس ٹولہ کو بتا دیا ہے جگہ کا وفادار رہ سکتا ہے۔ وہ یا تو آزاد کشمیر سے تعلق جوڑ سکتا ہے وقت میں دو حاکموں کی تابعداری اور دو جماعتوں سے وفا ممک میں دخل انداز ہونے سے روکنے کا تعلق ہے۔ ہم ہر حد تک مرزائیوں سے متعلق یہ فیصلہ کن عزائم مسلمانان ریاست جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان حالات میں امت مرزائیہ کے لئے سوائے اس کشمیر کے معاملہ میں دخل در معقولات سے دست بردار ہو کر ال ہو جائیں اور یا پھر اپنے شیطانی ترکش کے تیر مسلم کانفرنس کی حسد و انتقام کو بجھائیں۔ چنانچہ مؤخر الذکر اور آخری چارہ کار ان کر رکھا ہے۔ مسلم کانفرنس کی صدارت کے انتخاب جدید کی ایک کڑی ہے جو مجذوب کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ جو والے انسان سے بھی یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ پاکستان مسلم اب تک نہیں ہو سکے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے بعد حالات ہیں۔ لیکن اب تک مجلس دستور ساز یا کسی صوبائی مجلس قانون کشمیر کی تحریک آزادی کی تکمیل سے پہلے اس قسم کے انتخابات ساختہ اور اضطراب انگیز افواہیں پھیلانا نہ صرف احمقوں کی جن زیب دیتا ہے بلکہ قومی وملکی مصالح کی رو سے ایک ناقابل م دھڑلے سے مرتکب ہو رہا ہے۔ قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ اس نے آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کے نمائندے سے مرکز جانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ جس کا بالفاظ دیگر یہ مدعا تھا کہ کشمیر کی حیثیت دے دی جائے۔ اس غایت درجہ مہلک فریب کاری وزیر اعظم پاکستان نے کیمپ میں بدوران تقریر چاک کر دیا ٢٣

صفحہ ٤٧

مجلس تحفظ ختم نبوت

بلا جواز ہڑتال

مرزائیت کے بارہ میں کہا ہے کہ ہم نے مرزائیت کو پوری طرح دفع کر دیا ہے۔ ہم نے قادیانیت کے خلاف پوری قوت صرف کر دی ہے اور اس ٹولہ کو بتا دیا ہے کہ ایک شخص ایک وقت میں ایک ہی جگہ کا وفادار رہ سکتا ہے۔ وہ یا تو آزاد کشمیر سے تعلق جوڑ سکتا ہے، یا ربوہ سے رشتہ رکھ سکتا ہے۔ ایک وقت میں دو حاکموں کی تابعداری اور دو جماعتوں سے وفا ممکن نہیں۔ جہاں تک مرزائیت کو کشمیر میں دخل انداز ہونے سے روکنے کا تعلق ہے۔ ہم ہر حد تک مقابلہ کو تیار ہیں۔ ظاہر ہے کہ مرزائیوں سے متعلق یہ فیصلہ کن عزائم مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی واحد سیاسی تنظیم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان حالات میں امت مرزائیہ کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ یا تو کشمیر کے معاملہ میں دخل در معقولات سے دست بردار ہو کر ہمیشہ کے لئے قعر گمنامی میں روپوش ہو جائیں اور یا پھر اپنے شیطانی ترکش کے تیر مسلم کانفرنس کی موجودہ قیادت پر برسا کر اپنی آتش حسد و انتقام کو بجھائیں۔ چنانچہ مؤخر الذکر اور آخری چارہ کار ان دنوں اس بد باطن گروہ نے اختیار کر رکھا ہے۔ مسلم کانفرنس کی صدارت کے انتخاب جدید کی بے ہنگم غوغا آرائی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو مجذوب کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ جب کہ ایک معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے انسان سے بھی یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ کے انتخابات ١٩٤٦ء کے بعد اب تک نہیں ہوسکے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے بعد حالات معمول پر آئے چار سال ہو چکے ہیں۔ لیکن اب تک مجلس دستور ساز یا کسی صوبائی مجلس قانون ساز کے انتخابات نہیں ہوئے لہٰذا کشمیر کی تحریک آزدی کی تکمیل سے پہلے اس قسم کے انتخابات کے مطالبے کرنا اور اس تعلق میں خود ساختہ اور اضطراب انگیز افواہیں پھیلانا نہ صرف احمقوں کی جنت میں بسنے والے عقل باختہ افراد کو زیب دیتا ہے بلکہ قومی وملی مصالح کی رو سے ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ جس کا مرزائی ٹولہ دھڑلے سے مرتکب ہو رہا ہے۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے ایک بار مرزائی حیلے بازوں نے آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کے نمائندے مرکزی مجلس دستور ساز پاکستان میں لئے جانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ جس کا بالفاظ دیگر یہ مدعا تھا کہ کشمیر کی موجودہ عارضی حد بندی کو عملاً مستقل حیثیت دے دی جائے۔ اس غایت درجہ مہلک فریب کاری کا پردہ عزت مآب لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان نے واہ کیمپ میں بدوران تقریر چاک کر دیا تھا۔

٢٤

صفحہ ٤٩

راہِ ہدایت

تازہ ترین فریب کاری

اسی طرح ان دنوں (جنوری ١٩٥١ء) آزادی کشمیر کے لئے ایک پانچ سالہ منصوبہ کی تیاری اور مقبوضہ کشمیر میں خفیہ تحریک کے اجراء کا احمقانہ اور منافقانہ نعرہ لگوایا جا رہا ہے۔ جس کی غرض وغایت صرف یہ ہے کہ ایک طرف تو بھارتی حکومت وادی کے مسلمانوں پر من مانے ظلم وستم کا آغاز کردے تو دوسری طرف پاکستان میں مقیم کشمیری مسلمان اور پاکستانی عوام یاس وقنوطیت کا شکار ہوکر حوصلہ ہار دیں اور آزادی کشمیر کے لئے حکومت پاکستان واکابرین پاکستان کے بلند وبانگ دعاوی سے اظہار بیزاری کریں۔ اس انتہائی طور پر خطرناک اور مہلک حماقت اور کامل طور پر مرزایانہ فریب دہی کے ڈھول کا پول پاکستان کے مشہور ومقتدر اخبار نوائے وقت لاہور نے ٢٩ نومبر (١٩٥٠ء) کی اشاعت میں کھولا ہے۔

مرزائی ٹولہ حسن سلوک کا مستحق نہیں

یہ بات کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ مسلم کانفرنس کی موجودہ صالح قیادت کے ہاتھوں فرقہ ضالہ مرزائیہ بری طرح مات کھا کر اب ذبح کئے ہوئے مرغ کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے۔ مسلم کانفرنس اگر چاہتی تو سیاسیات کشمیر سے مرزائیوں کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال باہر پھینکتی۔ لیکن ضبط وتحمل اور رواداری مسلمان کی فطرت ہے اور وہ اعدائے اسلام کو ہمیشہ اپنے اخلاق کریمانہ اور حسن سلوک سے ہی رام کرتے آئے ہیں۔ لیکن اس موقع پر ہم اپنی حکومت آزادکشمیر کے ارباب اختیار کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر آپ میں سے بعض اصحاب کا یہ خیال ہو کہ حسن سلوک سے سکھوں، یہودیوں اور مرزائیوں کو راہ راست پر لایا جاسکتا ہے۔ تو یہ ان کی بھول ہے اور بہت بڑی خود فریبی۔ اسلامی آئین میں مرزائیوں کو مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کے ارشاد کے مطابق مسلمانوں سے کلیتاً جدا اور علیحدہ اقلیت سے زیادہ رعایت نہیں دی جاسکتی۔ ریاست جموں وکشمیر کا نیا آئین مرتب ہونے سے پہلے اگر مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینا اگر مناسب نہ ہو تو کم از کم مملکت آزادکشمیر کے دفاع واستحکام کا شدید تقاضہ ہے کہ اس مرتد ٹولہ کے تمام ادارے اور اخبارات یک قلم بند کرکے ان کی معاندانہ اور تخریبی سرگرمیوں کو ختم کردیا جائے اور ان کی منافقانہ نقل وحرکت پر کڑی پابندیاں عائد کرکے ایسے انتظامات عمل میں لائے جائیں کہ یہ مفسد ٹولہ مملکت میں اپنے ناپاک مقاصد اور ذلیل عزائم کی تکمیل آسانی کے ساتھ نہ کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی اس گروہ کے مسلمہ غداروں، دشمن کے ایجنٹوں اور دغابازوں کو اسلامی عدالت کے

٢٤

تاجدار ختم نبوت زندہ باد

کٹہرے تک پہنچا کر انہیں ان کے سیاہ اعمال کی پاداش میں عبرت نا کم ایک متوقع اسلامی ریاست کے طول وعرض میں اس ٹولہ کو ا اجازت نہ ہونی چاہئے۔

آزادکشمیر کے علماء کرام پیران عظام اور مفتی صاحبان

حضرات! آپ سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ فرقہ قوت سے ریاست جموں وکشمیر کے سادہ لوح اور کم علم مسلمانوں کو م شروع کر رکھی ہے۔ مرتدین گروہ درگروہ حدود ریاست میں داخل امت محمدیہؐ کو اپنے دام منافقت وارتداد میں پھنسانے اور پیروانِ دجالِ اعظم مرزا غلام احمد قادیانی کا حلقہ بگوش بنانے کی کوشش کر ر شیطانیت کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے وقت وحالات ک کا مذہبی اور منصبی فرض بھی ہے کہ اپنے حلقہ اثر وعقیدت میں بید اور مصنوعی نبوت کے دجل وتلبیس کا پردہ چاک کرنے اور انگریز ک زہریلے خواص کو گاہ بہ گاہ طشت از بام کرنے پر توجہ مبذول فرمائیں ا اس شیطانی ٹولہ کی رہزنی سے سادہ لوح عوام اور اسلام کے پردہ ن کاروائیوں کو آئینی طور پر روکنے کے اسلامی ذرائع کو بروئے کار لا جانہ ہوگا کہ کسی بھی اسلامی مملکت میں اس بدعت کو داخل نہیں ہو آزادکشمیر کو یہی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

عامۃ المسلمین سے درخواست

اسی طرح ہم ریاست جموں وکشمیر کے عوام سے درخواس کی سربلندی، پاکستان کا استحکام اور اپنے وطن عزیز کشمیر کی آزادی ک قلب میں شہیدانِ وطن کے خون اور مجاہدین کی قربانیاں کا ذرہ ب حضرت سرور کائنات ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں اور ان ک مدعی نبوت کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، اور بقیہ س خدا را فرقہ باطلہ مرزائیہ کی قلمی، مالی، معاونت اور اشتراک ع دست کش ہو جائیں اور ان کی تباہ کن سرگرمیوں اور اسلام ک

٢٥

صفحہ ٤٩

کٹہرے تک پہنچا کر انہیں ان کے سیاہ اعمال کی پاداش میں عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ کم از کم ایک متوقع اسلامی ریاست کے طول وعرض میں اس ٹولہ کو اپنی خلاف اسلام سرگرمیوں کی اجازت نہ ہونی چاہئے۔

آزاد کشمیر کے علماء کرام پیران عظام اور مفتی صاحبان سے گزارش

حضرات! آپ سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ فرقہ ضالہ مرزائیہ نے اپنی پوری قوت سے ریاست جموں و کشمیر کے سادہ لوح اور کم علم مسلمانوں کو جادۂ مستقیم سے بہکانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ مرتدین گروہ در گروہ حدود ریاست میں داخل ہو کر اور مختلف بہروپ بھر کر امت محمدیہ کو اپنے دام منافقت وارتداد میں پھنسانے اور پیرواں حضرت خاتم الرسل ﷺ کو دجال اعظم مرزا غلام احمد قادیانی کا حلقہ بگوش بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے سلخ خانہ شیطانیت کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے وقت و حالات کا تقاضہ ہی نہیں آپ حضرات کا مذہبی اور منصبی فرض بھی ہے کہ اپنے حلقہ اثر وعقیدت میں بیسویں صدی کی اس خانہ ساز اور مصنوعی نبوت کے دجل و تلبیس کا پردہ چاک کرنے اور انگریز کے اس خود کاشتۂ پودے کے زہریلے خواص کو گاہ بہ گاہ طشت از بام کرنے پر توجہ مبذول فرمائیں اور حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ اس شیطانی ٹولہ کی رہزنی سے سادہ لوح عوام اور اسلام کے پردہ میں الحاد وزندقہ پھیلانے کی کارروائیوں کو آئینی طور پر روکنے کے اسلامی ذرائع کو بروئے کار لائے۔ یہاں یہ بیان کر دینا بے جا نہ ہو گا کہ کسی بھی اسلامی مملکت میں اس بدعت کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ اس لئے حکومت آزاد کشمیر کو یہی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

عامۃ المسلمین سے درخواست

اسی طرح ہم ریاست جموں و کشمیر کے عوام سے درخواست کریں گے کہ آپ کو اسلام کی سربلندی، پاکستان کا استحکام اور اپنے وطن عزیز کشمیر کی آزادی سے محبت ہے۔ اگر آپ کے قلب میں شہیدان وطن کے خون اور مجاہدین کی قربانیوں کا ذرہ برابر بھی احساس ہے۔ اگر آپ حضرت سرور کائنات ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں اور ان کے بعد بروئے حکم خداوندی ہر مدعی نبوت کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہی عین اسلام ہے تو خدا را فرقہ باطلہ مرزائیہ کی قلمی، مالی، معاونت اور اشتراک عمل سے فوری اور مکمل طور پر دست کش ہو جائیں اور ان کی تباہ کن سرگرمیوں اور اسلام کش کارروائیوں سے پورے طور پر

٢٥

صفحہ ٥١

چوکنے رہیں اور ان کی ہر فتنہ انگیزی کا راستہ روکنے اور ہر شرارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے مستعد و تیار ہو جائیں۔

مذہب حقہ اسلامی کو اسلام ہی کی آڑ میں تحریف، تلبیس اور مکاری سے نقصان پہنچانے والے، اسلام ہی کی شکل وصورت بنا کر اور اسلامی طرز بود و باش اختیار کر کے شجر توحید ورسالت کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے مرزائی مرتدین کے ہتھکنڈوں کے خلاف سردست مندرجہ ذیل طریقے فوری طور پر عمل میں لائے جائیں۔

شروع کریں۔

مؤثر روک تھام کرے۔

ارباب اختیار پاکستان سے گزارش!

پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کی خدمت میں اگرچہ اس سلسلہ میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ تاہم برسبیل تذکرہ یہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ آل جموں وکشمیر کانفرنس نے قائد ملت چودھری غلام عباس خان کی قیادت میں اسلامیان ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کے راستہ پر گامزن کرنے اور انتہائی نازک مواقع پر وقار ملی کو بحال رکھنے کا جو تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے وہ اس حقیقت کا شاہد و مصدق ہے کہ آگے چل کر کشمیر کا فیصلہ ووٹ سے ہو یا چوٹ سے۔ یہ تنظیم اور یہی قیادت اس مہم کو بطریق احسن سر کر سکتی ہے اور مسلمانان ریاست کے لئے موجب نجات بن سکتی ہے۔

فریب خوردگان بساط سیاست کے لئے مفید مشورہ

جو بدقسمت اقتدار کے لالچ اور ذاتی منفعت کی حرص یا مرزائیوں کے دجل و فریب اور شیطانی وسوسوں کا شکار ہو گئے ہیں اور مسلم کانفرنس سے کٹ کر سواد اعظم سے ناطہ توڑ چکے ہیں۔ ان کے لئے اس سے زیادہ مفید اور کوئی مشورہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے نفس کی سرکشی پر قابو پائیں اور خدا تعالیٰ سے اپنی سابقہ غلطیوں کی خلوص قلب سے معافی مانگ کر پھر سے اپنی قومی تنظیم سے منسلک ہو جائیں۔ یقیناً پاکستان کے ارباب بصیرت کا بھی ان کے لئے یہی مشورہ ہوگا۔ ان فریب خوردگان بساط سیاست کو معلوم ہونا چاہئے کہ مرزائی نواز انہیں جس راستے پر چلا رہے ہیں وہ

٢٦

تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے اور اس کے ڈانڈے دولت خدا سے ملتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزائیوں، مرزائی کاروں کی ملی بھگت سے دشمنان دولت خداداد پاکستان کے قدم پر ریاست جموں وکشمیر کے غیور و جسور مسلمانوں میں باہمی منافرت کی مہلک آگ بھڑکانے کے کارخانے کھولے ہوئے ہیں اور سے مسلمانوں کو ان کے آزمودہ کار اور مخلص و دیرینہ قومی خاد اور سیاسی گمراہی کے ذلیل کیچڑ میں لت پت کرنے کی مذموم شک نہیں کہ مسلمانان ریاست جموں وکشمیر کی انیس سالہ شہدائے ملت کے گرم وسرخ خون کی امانت دار آل جموں و داغدار کرنے اور اس کی قوت و طاقت کو کمزور بیان کرنے کی عمل ہیں اور سادہ لوح عوام تو درکنار، بھلے چنگے پڑھے لکھے و خطابت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن ہمیں با ہندوستان کے یہ سنہری الفاظ ہرگز نہیں بھولنے چاہئیں کہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے جھنڈ لیڈر چودھری غلام عباس خان کا دامن مضبوطی سے تھام لیں

دجل و تلبیس کے دو مختلف محاذ

(ایک تخمی مرزائی دوسرا قلمی

حق تو یہ ہے کہ فرقہ باطلہ مرزائیہ نے اسلام نہیں پہنچا سکتے۔ قادیانی وہ سانپ ہیں جو اسلام کے ہی دا جسد اطہر پر اپنے زہریلے ڈنگ چلاتے ہیں۔ یعنی وہ مار بھرے دانت چلاتے ہیں جس کی آستین اس کے لئے دا کہہ کر اسلام کے اصول وعقائد میں رخنہ اندازی کرنے حقیقت اور پر فریب مظاہرہ کر کے دین فطرت کے حقائق سے اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام کو جھٹلانے اور رحمت عالم

٢٧

صفحہ ٥١

کشمیر

علامہ محمد اقبال

انگیزی کا راستہ روکنے اور ہر شرارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے

کو اسلام ہی کی آڑ میں تحریف، تلبیس اور مکاری سے نقصان پہنچانے مت بنا کر اور اسلامی طرز بود و ماند اختیار کر کے شجر توحید و رسالت کی کوئی مرتدین کے ہتھکنڈوں کے خلاف سردست مندرجہ ذیل طریقے لیں۔

صاحبان ،وعظ خوان ،مقررین رد قادیانیت پر مواعظ حسنہ کا سلسلہ

حکومت کے شعبہ دینیات سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ فتنہ مرزائیت کی

سے گزارش !

، اقتدار و اختیار کی خدمت میں اگر چہ اس سلسلہ میں کچھ کہنا سورج ہے۔ تاہم بر سبیل تذکرہ یہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ آل جموں ھری غلام عباس خان کی قیادت میں اسلامیان ریاست جموں و عاون کرنے اور انتہائی نازک مواقع پر وقار ملی کو بحال رکھنے کا جو اس حقیقت کا شاہد و مصدق ہے کہ آگے چل کر کشمیر کا فیصلہ ووٹ ریخی قیادت اس مہم کو بطریق احسن سر کر سکتی ہے اور مسلمانان ان سکتی ہے۔

مت کے لئے مفید مشورہ

کے لالچ اور ذاتی منفعت کی حرص یا مرزائیوں کے دجل وفریب ہیں اور مسلم کانفرنس سے کٹ کر سواد اعظم سے ناتہ توڑ چکے ہیں۔ اور کوئی مشورہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے نفس کی سرکشی پر قابو پائیں اور کی خلوص قلب سے معافی مانگ کر پھر سے اپنی قومی تنظیم سے کے ارباب تدبیر کا بھی ان کے لئے یہی مشورہ ہوگا۔ ان فریب بتا چاہئے کہ مرزائی نو سر باز انہیں جس راستے پر چلا رہے ہیں وہ

٢٦

تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے اور اس کے ڈانڈے دولت خداداد پاکستان کے دشمنوں کی سرحدوں سے ملتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزائیوں ،مرزائیوں کے رشتہ داروں ،دوستوں اور آلہ کاروں کی ملی بھگت سے پاکستان دولت خداداد پاکستان کے پر شکوہ قصر مملکت کے سائے تلے قدم قدم پر ریاست جموں و کشمیر غیور و جسور مسلمانوں میں باہمی منافرت پیدا کرنے اور انتشار و افتراق کی مہلک آگ بھڑکانے کے کارخانے کھولے ہوئے ہیں اور غرض مند عناصر نہایت چابک دستی سے مسلمانوں کو ان کے آزمودہ کار اور مخلص و دیرینہ قومی خادموں اور مسلمہ رہنماؤں سے توڑنے اور سیاسی گمراہی کے ذلیل کیچڑ میں لت پت کرنے کی ”تنخواہیں“ پا رہے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی انیس سالہ جدوجہد آزادی کی واحد علمبردار اور شہدائے ملت کے گرم و سرخ خون کی امانت دار آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے دامن اثر وقار کو داغدار کرنے اور اس کی قوت و طاقت کو کمزور بیان کرنے کی مرزائی ایجنسیاں پورے طور پر سرگرم عمل ہیں اور سادہ لوح عوام تو درکنار، بھلے چنگے پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان ان کے پر فریب تکلم و تخاطب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لیکن ہمیں بانی پاکستان اور محسن اعظم اسلامیان ہندوستان کے یہ سنہری الفاظ ہرگز نہیں بھولنے چاہئیں کہ ”میں مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے منظم ہوں اور اپنے مخلص ترین لیڈر چودھری غلام عباس خان کا دامن مضبوطی سے تھام لیں۔“

دجل و تلبیس کے دو مختلف العقائد اور مفتن ٹولے

(ایک مخفی مرزائی دوسرا قلمی مرزائی)

حق تو یہ ہے کہ فرقہ باطلہ مرزائیہ نے اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ دیگر غیر مسلم نہیں پہنچا سکتے۔ قادیانی وہ سانپ ہیں جو اسلام کے ہی دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسلام ہی کے جسد اطہر پر اپنے زہریلے ڈنگ چلاتے ہیں۔ یعنی وہ مار آستین ہیں۔ جو اس شخص پر اپنے رس بھرے دانت چلاتے ہیں جس کی آستین اس کے لئے دارالامان ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر اسلام کے اصول وعقائد میں رخنہ اندازی کرنے والے اپنی اسلامیت کا مکارانہ ، بے حقیقت اور پر فریب مظاہرہ کر کے دین فطرت کے حقائق سے علانیہ انکار کرنے تلبیس کی باتوں سے اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام کو جھٹلانے اور رحمت عالم ﷺ کے ارشادات طیبہ کا مضحکہ اڑانے

٢٧

صفحہ ٥٢

رد قادیانیت

والے اگر اسلام اور مسلمانوں کے غیر مسلموں سے بھی بڑھ کر دشمن اور صریحاً کافر نہیں تو اور کون ہیں؟ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ فرقہ ضالہ قادیانیہ کا وجود اسلام اور ملت اسلامیہ کے لئے کفار ومشرکین سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

مسلمان عوام کو ہر ممکن طریق پر اپنے فریب میں مبتلا کرنے کے لئے اس فرقہ باطلہ نے دو علیحدہ گروہ بنا رکھے ہیں۔ ایک گروہ مرزا غلام احمد کو پیغمبر مانتا ہے اور دوسرا مجدد بتاتا ہے اور بظاہر دونوں گروہوں میں کٹا چھنی رہتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے نزدیک دونوں گروہ مرتد ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے الگ الگ دکانیں کھول رکھی ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے ایک گروہ قلمی ہے اور دوسرا خنجر۔ خدا تعالیٰ ان دونوں کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین

لطیفہ: مرزائیوں کے بیان کردہ دونوں گروہ خود مرزاجی کی کتابوں سے اپنے عقیدہ کو صحیح ثابت کرتے ہیں اور درحقیقت معاملہ بھی کچھ اس قسم کا ہے۔ قارئین! نے یہ ضرب المثل تو سن رکھی ہوگی کہ ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ جھوٹے مرزا کا حافظہ بھی کچھ واجبی سا تھا۔ چنانچہ حافظہ کی اس کمزوری کے تحت وہ بڑی بڑی فاش غلطیاں کر جاتا تھا۔ جو آج اس کے پیروؤں کے لئے خاصا درد سر بنی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر کہیں تو اس دروغ باف نے اپنے آپ کو نبی اللہ بتایا ہے اور اپنے منکرین کو کافر۔ کہیں واضح الفاظ میں لکھتا ہے کہ لوگ مجھ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ اس شخص نے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ میں حضرت سرور کائنات خاتم الرسل کے بعد ہر مدعی نبوت کو جھوٹا سمجھتا ہوں اور اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

غرضیکہ حافظے کی خرابی کے باعث یہ شخص ساری عمر اس قسم کے متضاد ومختلف دعوے کرتا رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری عمر میں اسے اپنی اس اعصابی کمزوری کا شدید احساس تھا اور علاج کے طور پر ایک بے حد قیمتی اور مقوی شراب موسومہ بہ ”ٹانک وائن“ استعمال کرتا رہا۔ بدبخت خود تو جہالت و گمراہی کی موت مرگیا۔ لیکن اپنے مریدوں کے لئے ایک مستقل جھگڑا کھڑا کر دیا جو اس کے کذب و بہتان کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین!

معزز ارکان جمعیت العلمائے آزاد کشمیر سے دردمندانہ اپیل

حضرات! جہاں تک میری ذاتی معلومات کا تعلق ہے۔ آزاد کشمیر کی جمعیت العلمائے اسلام آزاد کشمیر کے اغراض ومقاصد، آئین وضوابط کی ترتیب وتدوین کے دوران فرقہ باطلہ مرزائیہ کے دجل وتلبیس کا تار و پود بکھیرنے اور ریاست جموں وکشمیر میں اس جہنمی آگ کو پھیلنے سے روکنے کا مسئلہ بھی زیرغور لایا گیا تھا۔ بلکہ تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں ”رد قادیانیت“ پر زور دیا گیا

٢٨

٥٣

تھا۔ لیکن خدانخواستہ ایسا نہ بھی ہوتا ہے تو پھر بھی مطابق فرمانِ ایزدی: يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المن علمایان امت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو نیک کا ان کے اچھے برے سے مطلع کرتے رہیں۔ اس لئے میں عامۃ المسل یہ جائز گلہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ مملکت آزاد کشمیر کے واحد د کشمیر) کی حیثیت سے قادیانی فتنہ کو دبانے اور حضور رسالت مآب والے دجالی ٹولہ کے منافقانہ لیکن پرزور حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کا ثبوت نہیں دیا۔ جو علمائے آیہ کریمہ مندرجہ بالا جمعیت علمائے ا انجام دہی کے تعلق میں ریاست جموں وکشمیر کے مسلمان جمعیت کی ہر دینے کے لئے مضطرب ومنتظر ہیں۔ حضرات! دجال قادیان کے ایجن مسلمانوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں اور آپ حضرات پوشی نے ان کے حوصلے اتنے بلند کر دیئے ہیں کہ وہ اعلانیہ تکفیر وتضلی حالات دین حنیف کی عزت ووقار کا تقاضہ اور ہمارے سیاسی مفادات ہے کہ بھارتی حملہ آوروں سے احسن طور پر نمٹنے کے لئے پہلے پانچ مرزائی مفسدوں کے گھریلو اور خانہ ساز عقائد زبان حال سے علماء رہے ہیں۔ لہٰذا جمعیت العلمائے اسلام آزاد کشمیر کو یہ چیلنج قبول کر لی کاشتہ پودے کو جڑ سے اکھیڑ کر جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دینا چاہی ریاست میں ابھر نہ سکے۔ میرے ناقص خیال میں تجاویز ذیل فوری ت

پر کنٹرول کرے اور اس بداندیش گروہ کی نقل وحرکت اور سرگرمیو

میں لایا جائے اور ایک منظم منصوبہ کے تحت پورے علاقہ میں کا بھانڈا پھوڑنے کا کام شروع کیا جائے۔

٢٩

صفحہ ٥٣

علامہ اقبال

تھا۔ لیکن خدانخواستہ ایسا نہ بھی ہوتا ہے تو پھر بھی مطابق فرمان ایزدی: "ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر"

علمایان امت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو نیک کام کی طرف بلائیں ا ان کے اچھے برے سے مطلع کرتے رہیں۔ اس لئے میں عامۃ المسلمین آزاد کشمیر کی جانب یہ جائز گلہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ مملکت آزاد کشمیر کے واحد دینی ادارہ (جمعیت علماء کشمیر) کی حیثیت سے قادیانی فتنہ کو دبانے اور حضور رسالت مآبﷺ کی امت کو گمراہ والے دجالی ٹولہ کے منافقانہ لیکن پر زور حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ابھی تک اس س میں کا ثبوت نہیں دیا۔ جو دعوائے آیہ کریمہ مندرجہ بالا جمعیت علمائے اسلام پر فرض ہے اور جس انجام دہی کے تعلق میں ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان جمعیت کی ہر تجویز پر لبیک کہنے اور ہر قربانی دینے کے لئے مضطرب و منتظر ہیں۔ حضرات ! دجال قادیان کے ایجنٹ مختلف بھیس بدل کر ریاستی مسلمانوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں اور آپ حضرات کی مصلحت آمیز یا نادانستہ چشم پوشی نے ان کے حوصلے اتنے بلند کر دیئے ہیں کہ وہ اعلانیہ تکفیر و تحقیر سے بھی نہیں چوکتے۔ اندریں حالات دین حنیف کی عزت و وقار کا تقاضہ اور ہمارے سیاسی مفادات کی حفاظت کا بہ شدت اصرار ہے کہ بھارتی حملہ آوروں سے احسن طور پر نمٹنے کے لئے پہلے پانچویں کالم کا قلع قمع کیا جائے۔ مرزائی مفسدوں کے گھریلو اور خانہ ساز عقائد زبان حال سے علماء کرام کو دعوت مبارزت دے رہے ہیں۔ لہٰذا جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر کو یہ چیلنج قبول کر لینا چاہئے اور انگریز کے اس خود کاشتہ پودے کو جڑ سے اکھیڑ کر جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دینا چاہئے تا کہ وہ پھر قیامت تک حدود ریاست میں ابھر نہ سکے۔ میرے ناقص خیال میں تجاویز ذیل فوری عمل کی مستحق ہیں:

پر کنٹرول کرے اور اس بداندیش گروہ کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔

میں لایا جائے اور ایک منظم منصوبہ کے تحت پورے علاقہ میں ”مرزائیت کے دجل و تلبیس“ کا بھانڈا پھوڑنے کا کام شروع کیا جائے۔

٢٩

صفحہ ٥٤

شرمناک اور مجرمانہ کارروائی کا مناسب ترین سدباب کیا جائے۔

اسباق کا اضافہ کیا جائے۔

کیا میری اس دردمندانہ اپیل کو معزز اراکین جمعیت زیر غور لائیں گے؟

مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کو قائد اعظم کا زریں مشورہ

”خوش قسمت ہے وہ قوم جسے چودھری غلام عباس ایسا مخلص رہنما میسر ہے۔“

بانی پاکستان بابائے ملت حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا: ”مسلمانان کشمیر! میرا آپ کے لئے یہی مشورہ ہے کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے متحد اور منظم ہو جاؤ اور اپنے رہنما، چودھری غلام عباس کا دامن مضبوطی سے تھام رکھو۔“

انہوں نے فرمایا: ”خوش قسمت ہے وہ قوم جسے چودھری غلام عباس ایسا مخلص رہنماء میسر ہے۔“

”کام کرو، کام، اور اپنے وطن کو غلامی کی ذلت سے بچاؤ۔“

”غلام عباس ہی ایک ایسا شخص ہے، جو کشمیر میں ہندو کانگریس کے منصوبوں اور ڈوگرہ سامراج کی چالوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔“

آج جبکہ کشمیر کے مسلمان موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا انتہائی یاس و نا امیدی کے عالم میں مجاہدین اسلام کا راستہ تک رہے ہیں اور آزاد کشمیر و پاکستان میں بسنے والے مسلمان ہی نہیں، پوری اسلامی دنیا اپنے مجبور ومضطرب بھائیوں کو بھارت کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے بے قرار! اگر کوئی بدبخت مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے اور بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے بتائے ہوئے راستہ سے ہٹانے کی ادنیٰ ترین کوشش کرتا نظر آئے تو ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہونا چاہئے کہ اسے راہ راست پر لانے کے لئے اول تو پوری کوشش کریں اور اگر اس میں ناکامی ہو تو اسے کتے کی طرح دھتکار دیں۔ دیوانے کتے کی طرح جسے انسانی بستیوں سے دور بھگانا ہر ہوش مند شہری کا اخلاقی فرض ہے۔“

خدا کرے کہ آزاد کشمیر کے مسلمان فرقہ باطلہ مرزائیہ کی شرارتوں سے محفوظ رہیں۔

آزاد کشمیر زندہ باد، پاکستان پائندہ باد! محمد عتیق اللہ عفی عنہ!

٣٠

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

قادیانی مسئلہ

حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

راجہ جاوید اقبال

PDF 56

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

قادیانی مسئلہ

حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

صفحہ ٥٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیباچہ

اس مختصر کتابچہ میں وہ تمام دلائل جمع کر دیئے گئے ہیں۔ جن کی بناء پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ان تمام اعتراضات اور عذرات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ جو اس مطالبے کے خلاف مختلف حلقوں سے پیش کئے جاتے ہیں۔ جمہوری نظام کا یہ مسلم قاعدہ ہے کہ یا تو دلیل سے بات مانو یا دلیل سے منواؤ۔ محض طاقت کے بل پر ایک معقول و مدلل بات کو رد کرنا جمہوریت نہیں ہے۔ اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے آئین ساز حضرات یا تو دلیل سے ہماری بات مانیں۔ یا سامنے آکر دلائل پیش کریں۔ جن کی بناء پر ہماری اس بات کو نہیں مانتے۔ محض اس بھروسے پر کہ مجلس آئین ساز میں انہیں اکثریت حاصل ہے۔ اگر وہ ایک معقول عوامی مطالبے کو بلا دلیل رد کریں گے تو یہ ان کے اپنے ہی حق میں نقصان دہ ہوگا۔ عوامی مطالبہ آخر کار پورا ہو کر ہی رہے گا۔ ابوالاعلیٰ مودودی!

قادیانی مسئلہ

گزشتہ ماہ جنوری ١٩٥٣ء میں پاکستان کے ٣٣ سر برآوردہ علماء نے تازہ دستوری سفارشات پر غور و خوض کر کے جو اصلاحات اور جوابی تجاویز مرتب کی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ: ”ان تمام لوگوں کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ ایک جدا گانہ اقلیت قرار دیا جائے اور ان کے لئے پنجاب سے مرکزی اسمبلی میں ایک نشست مخصوص کر دی جائے ۔“ جہاں تک علماء کی دوسری تجاویز کا تعلق ہے۔ ان کی معقولیت تو اتنی واضح ہے کہ علماء کے مخالفین کو بھی ان پر کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوسکی اور اگر انہوں نے کچھ کہا بھی تو وہ جگر سوختہ کے دعوؤں سے زیادہ نہ تھا۔ جس کا ملک کے پڑھے لکھے اور ذی فہم لوگوں کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس خاص تجویز کے بارے میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ قادیانی مسئلے کا بہترین حل ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہوسکی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے سواء دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں، ابھی عوام الناس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ان صفحات میں پوری وضاحت کے ساتھ وہ دلائل بیان کر دیں جن کی بناء پر علماء نے بالاتفاق یہ تجویز پیش کی ہے۔

٢

ختم نبوت کی نئی تفسیر

واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے الگ لازمی منطقی نتیجہ ہے جو انہوں نے خود اختیار کی ہے۔ وہ اسباب انہیں مسلمانوں سے کاٹ کر ایک جدا گانہ ملت بنا دیتے ہیں

پہلی چیز جو انہیں مسلمانوں سے جدا کرتی ہے و مسلمانوں کی متفق علیہ تفسیر سے ہٹ کر اختیار کی۔ ساڑھے یہ مانتے رہے ہیں اور آج بھی یہی مانتے ہیں کہ سیدنا محمدﷺ بعد اب کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے۔ ختم نبوت مطلب صحابہ کرامؓ نے بھی سمجھا تھا اور اسی لئے انہوں نے چ حضورؐ کے بعد دعوائے نبوت کیا۔ پھر یہی مطلب بعد کے ہ بناء پر مسلمانوں نے اپنے درمیان کبھی کسی ایسے شخص کو بردا ہو۔ لیکن قادیانی حضرات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ”خا کریمﷺ نبیوں کی مہر ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ گا اس کی نبوت آپ کی مہر تصدیق لگ کر مصدقہ ہوگی بکثرت عبارتوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم صرف تین ح

’خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح م النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت ک ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔‘

”ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریمﷺ جو ”احسان“ کا سواد اعظم سمجھتا ہے اور جو رسول کریمﷺ کہ آپ نے نبوت کی نعمت عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کر اب وہی نبی ہوگا جس کی آپ تصدیق کریں گے...... آپ سمجھتے ہیں۔“

”خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریم مہر ہوئے ہوگا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی؟“

٣

صفحہ ٥٧

ختم نبوت کی نئی تفسیر

واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے الگ ایک امت ہونا اس پوزیشن کا ایک لازمی منطقی نتیجہ ہے جو انہوں نے خود اختیار کی ہے۔ وہ اسباب ان کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔ جو انہیں مسلمانوں سے کاٹ کر ایک جداگانہ ملت بنا دیتے ہیں۔

پہلی چیز جو انہیں مسلمانوں سے جدا کرتی ہے وہ ختم نبوت کی نئی تفسیر ہے جو انہوں نے مسلمانوں کی متفق علیہ تفسیر سے ہٹ کر اختیار کی۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے تمام مسلمان بالاتفاق یہ مانتے رہے ہیں اور آج بھی یہی مانتے ہیں کہ سیدنا محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد اب کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے۔ ختم نبوت کے متعلق قرآن مجید کی تصریح کا یہی مطلب صحابہ کرامؓ نے بھی سمجھا تھا اور اسی لئے انہوں نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے حضورؐ کے بعد دعوائے نبوت کیا۔ پھر یہی مطلب بعد کے ہر دور میں تمام مسلمان سمجھتے رہے جس کی بناء پر مسلمانوں نے اپنے درمیان کبھی کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ لیکن قادیانی حضرات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ”خاتم النبیین“ کی یہ نرالی تفسیر کی کہ نبی کریم ﷺ نبیوں کی مہر ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ حضور ﷺ کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا اس کی نبوت آپؐ کی مہر تصدیق لگ کر مصدقہ ہوگی۔ اس کے ثبوت میں قادیانی لٹریچر کی بکثرت عبارتوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم صرف تین حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔

’خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔‘

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٩٠)

”ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مگر ختم کے معنی وہ نہیں جو یہاں کا سواد اعظم سمجھتا ہے اور جو رسول کریم ﷺ کی شان اعلیٰ و ارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ نے نبوت کی نعمت عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کردیا۔ بلکہ یہ ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ اب وہی نبی ہوگا جس کی آپ تصدیق کریں گے...... انہی معنوں میں ہم رسول کریم کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٣٩ء)

”خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریمؐ مہر ہوئے تو اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی؟“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢ مئی ١٩٢٢ء)

٣

صفحہ ٥٩

باب 3

علامہ محمد اقبال

تفسیر کا یہ اختلاف صرف ایک لفظ کی تاویل وتفسیر تک ہی محدود نہ رہا۔ بلکہ قادیانیوں نے آگے بڑھ کر صاف صاف اعلان کر دیا کہ نبی ﷺ کے بعد ایک نہیں، ہزاروں نبی آ سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کے اپنے واضح بیانات سے ثابت ہے۔ جن سے صرف چند کو ہم نقل کرتے ہیں۔

”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔“

(حقیقت النبوت ص ٢٢٨)

”انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے خزانے ختم ہو گئے ۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی...... قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے، ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“

(انوار خلافت ص ٦٢)

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت

اس طرح نبوت کا دروازہ کھول کر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور قادیانی گروہ نے ان کو حقیقی معنوں میں نبی تسلیم کیا۔ اس کے ثبوت میں قادیانی حضرات کی بے شمار مستند تحریرات میں سے چند یہ ہیں:

”اور مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے بھی اپنی کتابوں میں اپنے دعویٰ رسالت و نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“ (ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) یا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں۔“ (دیکھو خط حضرت مسیح موعود بطرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا اور آپ کے یوم وصال ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں، بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

م

دعوائے نبوت کے لازمی نتائج

نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص بھی اس قرار دیا جائے۔ چنانچہ قادیانیوں نے یہی کیا۔ وہ ان تمام مسلمانو قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ اس عبارتیں یہ ہیں۔

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شا حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خار

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پ ہے۔“

”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر (بیان مرزا بشیر الدین محمود احمد باجلاس سب جج عدالت گورداسپور، مندرجہ اخبا

قادیانیوں کا مسلمانوں سے جدا مذہب

وہ صرف یہی نہیں کہتے کہ مسلمانوں سے ان کا اختلا معاملے میں ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا، ہمارا اسلام، ہما غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے جدا ہے۔ ٢١ اگست ١٩١٧ء کی تقریر طلباء کو نصائح کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ جس میں کو خطاب کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں وہ فرماتے ہیں:

”ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا ( ہمارا اور ، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ان کا حج اور ہمارا اور ۔ اختلاف ہے۔“

٣٠ جولائی ١٩٣١ء کے الفضل میں خلیفہ کی ایک اور بحث کا ذکر کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کی زندگی میں اس مسئلے ٥

صفحہ ٥٩

دعوائے نبوت کے لازمی نتائج

نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص بھی اس نبوت پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے۔ چنانچہ قادیانیوں نے یہی کیا۔ وہ ان تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں علانیہ کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ اس کے ثبوت میں ان کی چند صریح عبارتیں یہ ہیں۔

"کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔"

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

"ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

"ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔"

(بیان مرزا بشیر الدین محمود احمد با جلاس سب جج عدالت گورداسپور، مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٦، ٢٩ جون ١٩٣٢ء)

قادیانیوں کا مسلمانوں سے جدا مذہب

وہ صرف یہی نہیں کہتے کہ مسلمانوں سے ان کا اختلاف محض مرزا قادیانی کی نبوت کے معاملے میں ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا، ہمارا اسلام، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا روزہ، غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے جدا ہے۔ ١٦ اگست ١٩١٧ء کے الفضل میں خلیفہ صاحب کی ایک تقریر طلباء کو نصائح کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی جماعت کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان کیا اختلاف ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں:

"ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ان کا حج اور ہمارا اور ہے اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔"

٣٠ جولائی ١٩٣١ء کے الفضل میں خلیفہ کی ایک اور تقریر شائع ہوتی ہے جس میں وہ اس بحث کا ذکر کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کی زندگی میں اس مسئلے پر چھڑ گئی تھی کہ احمدیوں کو اپنا ایک

٥

صفحہ ٦١

رد قادیانیت

مستقل مدرسہ دینیات قائم کرنا چاہئے یا نہیں۔ اس وقت ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ نہیں کرنا چاہئے اور ان کی دلیل یہ تھی کہ: ”ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں چند مسائل کا اختلاف ہے، ان مسائل کو مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے حل کر دیا ہے اور ان کے دلائل بتا دیتے ہیں، باقی باتیں دوسرے مدرسوں سے سیکھی جا سکتی ہیں۔“ دوسرا گروہ اس کے برعکس رائے رکھتا تھا۔ اس دوران میں مرزا قادیانی آگئے اور انہوں نے یہ ماجرا سن کر اپنا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کو خلیفہ صاحب ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:۔

”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔“

نئے مذہب کے نتائج

اس ہمہ گیر اختلاف کو اس کے آخری منطقی نتائج تک بھی قادیانیوں نے خود ہی پہنچا دیا اور مسلمانوں سے تمام تعلقات منقطع کر کے ایک الگ امت کی حیثیت سے اپنی اجتماعی تنظیم کر لی۔ اس کی شہادت قادیانیوں کی اپنی تحریرات سے ہمیں یہ ملتی ہے:۔

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی کہوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩)

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

”اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟...... غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا، اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ

٦

نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے ا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ ا کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی و بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذری لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمؐ نے

یہ قطع تعلق صرف تحریر و تقریر ہی تک محدود نہیں ر کے شاہد ہیں کہ قادیانی عملاً بھی مسلمانوں سے کٹ کر ایک ساتھ نماز کے شریک، نہ جنازے کے، نہ شادی بیاہ کے۔ ا رہ جاتی ہے کہ ان کو اور مسلمانوں کو زبردستی ایک امت میں اور عمل میں فی الواقع رونما ہو چکی ہے اور پچاس برسوں سے کیوں نہ تسلیم کر لیا جائے؟

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی تحریک نے ختم نبوت سے ثابت کر دیا ہے جنہیں پہلے محض نظری حیثیت سے سمجھ شخص یہ سوال کر سکتا تھا کہ آخر کیوں محمد عربی ﷺ کی نبوت بعثت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔ لیکن اب قادیانی تجربے وحدت و استحکام کے لئے ایک نبی کی متابعت پر تمام کلمہ گو بڑی رحمت ہے اور نئی نئی نبوتوں کے دعوے کس طرح ایک ا بنانے اور اس کے اجزاء کو پارہ پارہ کرنے کے موجب ہو س

٧

صفحہ ٦١

نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا گیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت ص ٩٣،٩٤)

”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے، تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)

یہ قطع تعلق صرف تحریر و تقریر ہی تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے لاکھوں آدمی اس بات کے شاہد ہیں کہ قادیانی عملاً بھی مسلمانوں سے کٹ کر ایک الگ امت بن چکے ہیں۔ نہ وہ ان کے ساتھ نماز کے شریک، نہ جنازے کے، نہ شادی بیاہ کے۔ اب اس کے بعد آخر کون سی معقول وجہ رہ جاتی ہے کہ ان کو اور مسلمانوں کو زبردستی ایک امت میں باندھ رکھا جائے؟ جو علیحدگی نظریئے اور عمل میں فی الواقع رونما ہو چکی ہے اور پچاس برسوں سے قائم ہے، آخر اب اسے آئینی طور پر کیوں نہ تسلیم کر لیا جائے؟

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی تحریک نے ختم نبوت کی ان حکمتوں اور مصلحتوں کو اب تجربے سے ثابت کر دیا ہے جنہیں پہلے محض نظری حیثیت سے سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل تھا۔ پہلے ایک شخص یہ سوال کر سکتا تھا کہ آخر کیوں محمد عربی ﷺ کی نبوت کے بعد دنیا سے ہمیشہ کے لئے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔ لیکن اب قادیانی تجربے نے عملاً ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ کی وحدت اور استحکام کے لئے ایک نبی کی متابعت پر تمام کلمہ گویان توحید کو جمع کر دینا اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی رحمت ہے اور نئی نئی نبوتوں کے دعوے کس طرح ایک امت کو پھاڑ کر اس کے اندر مزید امتیں بنانے اور اس کے اجزاء کو پارہ پارہ کرنے کے موجب ہوتے ہیں۔ اب اگر یہ تجربہ ہماری آنکھیں ٧

صفحہ ٦٣

کھول دے اور ہم اس نئی امت کو مسلمانوں سے کاٹ کر الگ کر دیں تو پھر کسی نبوت کا دعویٰ لے کر اٹھنے اور امت مسلمہ کے اندر پھر سے قطع وبرید کا سلسلہ شروع کرنے کی ہمت نہ ہوگی ورنہ ہمارے اس ایک قطع وبرید کو برداشت کر لینے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم ایسے ہی دوسرے بہت سے حوصلہ مندوں کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔ ہمارا آج کا تحمل کل دوسروں کے لئے نظیر بن جائے گا اور معاملہ ایک قطع وبرید پر ختم نہ ہوگا۔ بلکہ آئے دن ہمارے معاشرے کو نئی نئی پراگندیوں کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔

قادیانیوں کو علیحدہ امت قرار دینے کا مطالبہ

یہ ہے وہ اصل دلیل جس کی بناء پر ہم قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس دلیل کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ مگر سامنے سے مقابلہ کرنے کے بجائے چند دوسرے سوالات چھیڑے جاتے ہیں جو براہ راست نفس معاملہ سے متعلق نہیں ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں اس سے پہلے بھی مختلف گروہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ اگر اسی طرح ایک ایک کی تکفیر پر دوسرے کو امت سے کاٹ دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے تو سرے سے کوئی امت مسلمہ باقی نہ رہے گی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں قادیانیوں کے علاوہ چند اور گروہ بھی ایسے موجود ہیں جو نہ صرف بنیادی عقائد میں سواد اعظم سے گہرا اختلاف رکھتے ہیں۔ بلکہ عملاً انہوں نے اپنی اجتماعی شیرازہ بندی مسلمانوں سے الگ کر رکھی ہے اور قادیانیوں کی طرح وہ بھی سارے مذہبی ومعاشرتی تعلقات مسلمانوں سے منقطع کئے ہوئے ہیں۔ پھر کیا ان سب کو بھی امت سے کاٹ پھینکا جائے گا؟ یا یہ معاملہ کسی خاص ضد کی وجہ سے صرف قادیانیوں ہی کے ساتھ کیا جا رہا ہے؟ آخر قادیانیوں کا وہ خاص قصور کیا ہے؟ جس کی بناء پر اس طرح کے دوسرے گروہوں کو چھوڑ کر خصوصیت سے ان ہی کو الگ کرنے کے لئے اتنا اصرار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علیحدگی کا مطالبہ تو اقلیت کیا کرتی ہے۔ مگر یہ عجیب ماجرا ہے کہ آج اکثریت کی طرف سے اقلیت کو الگ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اقلیت اس کے ساتھ رہنے پر مصر ہے۔

بعض لوگوں کے ذہن پر یہ خیال بھی مسلط ہے کہ قادیانی حضرات ابتداء سے عیسائیوں، آریہ سماجیوں اور دوسرے حملہ آوروں کے مقابلے میں اسلام کی مدافعت کرتے رہے ہیں اور دنیا بھر میں وہ اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ یہ سلوک زیبا نہیں ہے۔

٨

رد قادیانیت

اور آخر میں اب یہ بات بھی بڑے معتبر ذرائع سے خلاف یہ اقدام اٹھانا ہمارے ذمہ داران حکومت کے نزدیک پا بہت نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان کی رائے میں قادیانی وزیر خار اثر انگلستان اور امریکہ میں بہت زیادہ ہے اور ہم ان ممالک کے توسط سے مل سکتا ہے۔

ذمہ داران حکومت کا رویہ

آخری بات چونکہ ذرا مختصر ہے۔ اس لئے پہلے ہ دوسرے سوالات پر بحث کریں گے۔

اگر یہ واقعہ ہے کہ ہمارے ذمہ داران حکومت یہی ایسے کوڑ مغز اور کند ذہن لوگوں کی قیادت سے یہ ملک جتنی جل جو لوگ ایک ملک کی قسمت کو کسی ایک شخص یا چند اشخاص پر ج ہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی پاکستان کی زمام کار ان کے ہاتھ امریکہ میں کوئی سیاسی مدبر اتنا احمق نہیں ہو سکتا کہ وہ آٹھ کر الشان ملک اور اس کے ذرائع ووسائل اور اس کے جغرافیائی بجائے صرف ایک شخص کا وزن محسوس کرے اور اس ملک کے شخص کی خاطر کرے اور اس شخص کے ہٹتے ہی پورے ملک ک ایک آدمی کو ہٹا دیا جس کے پاس خاطر سے ہم تمہیں ’رو بات اگر انگلستان اور امریکہ کے لوگ سن پائیں تو وہ ہمارے بے اختیار ہنس پڑیں گے اور انہیں سخت حیرت ہو گی کہ ایسے طفل بنے ہوئے ہیں۔ جنہیں اتنی موٹی سی بات بھی معلوم نہیں ہ جو کچھ بھی اہمیت حاصل ہے پاکستان کا نمائندہ ہونے کی وجہ خاص وزیر خارجہ کے طفیل۔

اب ہم اوپر کے سوالات میں سے ایک ایک کو لے

١...... مسلمانوں میں شغل تکفیر

بلاشبہ مسلمانوں میں یہ ایک بیماری پائی جاتی ہ تکفیر کرتے رہتے ہیں۔ اب بھی بعض گروہوں کا یہ شغل ہ

٩

صفحہ ٦٣

اور آخر میں اب یہ بات بھی بڑے معتبر ذرائع سے سننے میں آئی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف یہ اقدام اٹھانا ہمارے ذمہ داران حکومت کے نزدیک پاکستان کے لئے سیاسی حیثیت سے بہت نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان کی رائے میں قادیانی وزیر خارجہ (ظفر اللہ خان قادیانی) کا ذاتی اثر انگلستان اور امریکہ میں بہت زیادہ ہے اور ہم ان ممالک سے جو کچھ بھی مل سکتا ہے۔ ان ہی کے توسط سے مل سکتا ہے۔

ذمہ داران حکومت کا رویہ

آخری بات چونکہ ذرا مختصر ہے۔ اس لئے پہلے ہم اسی بات کا جواب دیں گے۔ پھر دوسرے سوالات پر بحث کریں گے۔

اگر یہ واقعہ ہے کہ ہمارے ذمہ داران حکومت یہی خیال کرتے ہیں تو ہمارے نزدیک ایسے کوڑ مغز اور کند ذہن لوگوں کی قیادت سے یہ ملک جتنی جلدی نجات پا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ جو لوگ ایک ملک کی قسمت کو کسی ایک شخص یا چند اشخاص پر منحصر سمجھتے ہیں۔ وہ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی پاکستان کی زمام کار ان کے ہاتھ میں رہنے دی جائے۔ انگلستان اور امریکہ میں کوئی سیاسی مدبر اتنا احمق نہیں ہو سکتا کہ وہ آٹھ کروڑ کی آبادی رکھنے والے ایک عظیم الشان ملک اور اس کے ذرائع و وسائل اور اس کے جغرافیائی محل وقوع کا وزن محسوس کرنے کے بجائے صرف ایک شخص کا وزن محسوس کرے اور اس ملک کے ساتھ جو کچھ بھی معاملہ کرے۔ اس شخص کی خاطر کرے اور اس شخص کے ہٹتے ہی پورے ملک سے اس لئے روٹھ جائے کہ تم نے اسی ایک آدمی کو ہٹا دیا جس کے پاس خاطر سے ہم تمہیں ”روٹی ، کپڑا“ دے رہے تھے۔ یہ احمقانہ بات اگر انگلستان اور امریکہ کے لوگ سن پائیں تو وہ ہمارے مدبرین عظام کی عقل و خرد پر بے اختیار ہنس پڑیں گے اور انہیں سخت حیرت ہوگی کہ ایسے طفل مکتب اس بدقسمت ملک کے سربراہ کار بنے ہوئے ہیں۔ جنہیں اتنی موٹی سی بات بھی معلوم نہیں ہے کہ باہر کی دنیا میں قادیانی وزیر خارجہ کو جو کچھ بھی اہمیت حاصل ہے پاکستان کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ نہ کہ پاکستان کی اہمیت اس خاص وزیر خارجہ کے طفیل۔

اب ہم اوپر کے سوالات میں سے ایک ایک کو لے کر سلسلہ وار ان کا جواب دیتے ہیں۔

١...... مسلمانوں میں شغل تکفیر

بلاشبہ مسلمانوں میں یہ ایک بیماری پائی جاتی ہے کہ ان کے مختلف گروہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے رہتے ہیں۔ اب بھی بعض گروہوں کا یہ شغل نامبارک جاری ہے۔ لیکن اس کو حجت بنا

صفحہ ٦٥

قادیانیت اور علامہ اقبال

الفرقان ٣

کر قادیانی گروہ کو امت مسلمہ میں رکھنا کئی وجوہ سے غلط ہے۔

اولاً : اس شغل کی بعض غلط اور بری مثالوں کو پیش کر کے یہ کلیہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ تکفیر ہمیشہ غلط ہی ہوتی ہے اور سرے سے کسی بات پر کسی کی تکفیر ہونی ہی نہ چاہئے۔ فروعات کے ذرا ذرا سے اختلاف پر تکفیر کر دینا اگر ایک غلط حرکت ہے تو اسی طرح دین کی بنیادی حقیقتوں سے کھلے کھلے انحراف پر تکفیر نہ کرنا بھی سخت غلطی ہے۔ جو لوگ بعض علماء کی بے جا تکفیر بازی سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ ہر قسم کی تکفیر سرے سے ہی بے جا ہے۔ ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ہر شخص ہر حال میں مسلمان ہی رہتا ہے خواہ وہ خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے یا نبوت کا مدعی ہو یا اسلام کے بنیادی عقائد سے صریحاً منحرف ہو جائے؟

ثانیاً: مسلمانوں کے جن گروہوں کی باہمی تکفیر بازی کو آج حجت بنایا جا رہا ہے۔ ان کے سر برآوردہ علماء ابھی ابھی کراچی میں سب کے سامنے جمع ہوئے تھے اور انہوں نے بالاتفاق اسلامی حکومت کے اصول مرتب کئے تھے۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہوئے ہی یہ کام کیا۔ اس سے بڑھ کر اس بات کا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے بعض عقائد کو کافرانہ عقائد کہنے اور سمجھنے کے باوجود ایک دوسرے کو خارج از دائرہ اسلام نہ کہتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں؟ لہٰذا یہ اندیشہ بالکل فرضی ہے کہ قادیانیوں کو الگ کر دینے کے بعد مختلف گروہوں کو امت سے کاٹ پھینکنے کا سلسلہ چل پڑے گا۔

ثالثاً: قادیانیوں کی تکفیر کا معاملہ دوسرے گروہوں کی باہمی تکفیر بازی سے بالکل مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ قادیانی ایک نئی نبوت لے کر اٹھے ہیں۔ جو لازماً ان تمام لوگوں کو ایک امت بتاتی ہے جو اس نبوت پر ایمان لے آئیں اور ان تمام لوگوں کو کافر بنا دیتی ہے جو اس پر ایمان نہ لائیں۔ اسی بناء پر قادیانی تمام مسلمانوں کی تکفیر پر متفق ہیں اور تمام مسلمان ان کی تکفیر پر متفق۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بڑا بنیادی اختلاف ہے۔ جس کو مسلمانوں کے باہمی فروعی اختلافات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

٢...... مسلمانوں میں دوسرے فرقے

بلاشبہ مسلمانوں میں قادیانیوں کے علاوہ بعض اور گروہ بھی ایسے موجود ہیں۔ جو اسلام کی بنیادی حقیقتوں میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور مذہبی و معاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی جداگانہ تنظیم کر چکے ہیں۔ لیکن چند وجوہ ایسے ہیں جن کی بناء پر ان کا معاملہ قادیانیوں سے بالکل مختلف ہے۔

١٠

وہ مسلمانوں سے کٹ کر بس الگ تھلگ ہو بیٹھے ہیں

چھوٹی چھوٹی چٹانیں ہوں جو سرحد پر پڑی ہوں۔ اس لئے ان کے قادیانی مسلمانوں کے اندر مسلمان بن کر گھستے ہیں۔ اسلام کے بن کرتے ہیں۔ مناظرہ بازی اور جارحانہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں او پھوڑ کر اپنے جداگانہ معاشرے میں شامل کرنے کی مسلسل کوشش ک معاشرے میں اختلال و انتشار کا ایک مستقل فتنہ برپا ہے۔ جس ہمارے لئے وہ صبر ممکن نہیں ہے۔ جو دوسرے گروہوں کے معامل

ان گروہوں کا مسئلہ ہمارے لئے صرف ایک دینیا عقائد کی بناء پر وہ اسلام کے پیرو سمجھے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر بالفر جائیں تو جس جمود کی حالت میں وہ ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کا لئے نہ خطرہ ایمان ہے اور نہ کوئی معاشرتی ، معاشی یا سیاسی مسئل میں قادیانی مسلک کی مسلسل تبلیغ ایک طرف لاکھوں ناواقف دین بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف جس خاندان میں بھی ان کی یہ تبلیغ معاشرتی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کہیں شوہر اور بیوی میں جدائی پڑ دوسرے سے کٹ رہے ہیں اور کہیں بھائی اور بھائی کے درمیا تعلقات منقطع ہو رہے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کی جم میں ، صنعت میں ، زراعت میں ، غرض زندگی کے ہر میدان می ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرتی مسئلے کے علاوہ اور دوسرے مسائ

٣...... قادیانیوں کے سیاسی عزائم

پھر دوسرے گروہوں کے کوئی ایسے سیاسی رجحانا حیثیت سے خطرناک ہوں اور ہمیں مجبور کرتے ہوں کہ ہم فو کریں۔ لیکن قادیانیوں کے اندر بعض ایسے خطرناک سیاسی ر کسی طرح آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔

ان کو ابتداء سے یہ احساس رہا ہے کہ ایک نئی نبوت اس کا کسی آزاد و با اختیار مسلم سوسائٹی کے اندر پنپنا مشکل ہے

١١

صفحہ ٦٥

دیباچہ سید ابوالاعلیٰ مودودی

وہ مسلمانوں سے کٹ کر بس الگ تھلگ ہو بیٹھے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے چند چھوٹی چھوٹی چٹانیں ہوں جو سرحد پر پڑی ہوں۔ اس لئے ان کے وجود پر صبر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن قادیانی مسلمانوں کے اندر مسلمان بن کر گھستے ہیں۔ اسلام کے نام سے اپنے مسلک کی اشاعت کرتے ہیں۔ مناظرہ بازی اور جارحانہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اور مسلم معاشرے کے اجزاء کو توڑ پھوڑ کر اپنے جداگانہ معاشرے میں شامل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی بدولت مسلم معاشرے میں اختلال و انتشار کا ایک مستقل فتنہ برپا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے معاملے میں ہمارے لئے وہ صبر ممکن نہیں ہے۔ جو دوسرے گروہوں کے معاملے میں کیا جاسکتا ہے۔

ان گروہوں کا مسئلہ ہمارے لئے صرف ایک دینیاتی مسئلہ ہے کہ آیا اپنے مخصوص عقائد کی بناء پر وہ اسلام کے پیرو سمجھے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر بالفرض وہ اسلام کے پیرو نہ بھی مانے جائیں تو جس جمود کی حالت میں وہ ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کا مسلمانوں میں شامل رہنا ہمارے لئے نہ خطرہ ایمان ہے اور نہ کوئی معاشرتی، معاشی یا سیاسی مسئلہ ہی پیدا کرتا ہے۔ لیکن مسلمانوں میں قادیانی مسلک کی مسلسل تبلیغ ایک طرف لاکھوں ناواقف دین مسلمانوں کے لئے ایمان کا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف جس خاندان میں بھی ان کی یہ تبلیغ کارگر ہو جاتی ہے۔ وہاں فوراً ایک معاشرتی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کہیں شوہر اور بیوی میں جدائی پڑ رہی ہے۔ کہیں باپ اور بیٹے ایک دوسرے سے کٹ رہے ہیں اور کہیں بھائی اور بھائی کے درمیان شادی وغمی کی شرکت تک کے تعلقات منقطع ہورہے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کی جتھہ بندی سرکاری دفاتر میں، تجارت میں، صنعت میں، زراعت میں، غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرتی مسئلے کے علاوہ اور دوسرے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔

٣...... قادیانیوں کے سیاسی عزائم

پھر دوسرے گروہوں کے کوئی ایسے سیاسی رجحانات نہیں ہیں جو ہمارے لئے کسی حیثیت سے خطرناک ہوں اور ہمیں مجبور کرتے ہوں کہ ہم فوراً ان کے مسائل کو حل کرنے کی فکر کریں۔ لیکن قادیانیوں کے اندر بعض ایسے خطرناک سیاسی رجحانات پائے جاتے ہیں جن سے کسی طرح آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔

ان کو ابتداء سے یہ احساس رہا ہے کہ ایک نئی نبوت کا دعویٰ لے کر جو شخص یا گروہ اٹھے اس کا کسی آزاد و بااختیار مسلم سوسائٹی کے اندر پنپنا مشکل ہے۔ وہ مسلم قوم کے مزاج سے واقف

١١

صفحہ ٦٦

باب چہارم اقبال

ہیں کہ وہ طبعاً ایسے دعوؤں سے متنفر ہے جو ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان کفر و اسلام کی تفریق کے نظام دین کو اور اسلامی معاشرے کے نظام کو درہم برہم کرتے ہوں۔ وہ مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک اس طرح کے مدعیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ جہاں حکومت مسلمانوں کے

صفحہ ٦٧

اس خدا داد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی...... ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہارے لئے وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں کیونکہ وہ ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت نہیں کرنا چاہتے۔“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)

”ایرانی گورنمنٹ نے جو سلوک مرزا علی محمد باب بانی فرقہ بابیہ اور اس کے بے کس مریدوں کے ساتھ محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا اور جو ستم اس فرقے پر توڑے گئے۔ وہ ان دانش مند لوگوں پر مخفی نہیں ہیں۔ جو قوموں کی تاریخ پڑھنے کے عادی ہیں اور پھر سلطنت ٹرکی نے جو ایک یورپ کی سلطنت کہلاتی ہے جو برتاؤ بہاء اللہ بانی فرقہ بابیہ بہائیہ اور اس کے جلا وطن شدہ پیروؤں سے ١٨٦٣ء سے لے کر ١٨٩٢ء تک پہلے قسطنطنیہ پھر ایڈریا نوپل اور بعد ازاں عکہ کے جیل خانے میں کیا۔ وہ بھی اطلاع رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا میں تین ہی بڑی سلطنتیں کہلاتی ہیں (غالباً مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتیں مراد ہیں۔ یعنی ٹرکی، ایران اور افغانستان۔) اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا نمونہ اس شائستگی کے زمانے میں دکھایا وہ احمدی قوم کو یہ یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہے...... لہٰذا تمام سچے احمدی جو حضرات مرزا قادیانی کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں بدون کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ١٣ ستمبر ١٩١٤ء)

یہ عبارت اپنی زبان سے خود کہہ رہی ہے کہ کفار کی غلامی ، جو مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ مدعیان نبوت اور ان کے پیروں کے لئے وہی عین رحمت اور فضل ایزدی ہے۔ کیونکہ اس کے زیر سایہ ان لوگوں کو اسلام میں نئی نئی نبوتوں کے فتنے اٹھانے اور مسلم معاشرے کی قطع وبرید کرنے کی آزادی حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے برعکس مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومت، جو مسلمانوں کے لئے ایک رحمت ہے، ان لوگوں کے لئے وہی ایک آفت ہے ١٣

صفحہ ٦٩

علامہ اقبال 3 کیونکہ با اختیار مسلمان بہر حال اپنے ہی دین کی تخریب اور اپنے ہی معاشرے کی قطع و برید کو بخوشی برداشت نہیں کر سکتے ۔

٤...... پاکستان میں قادیانی ریاست بنانے کا منصوبہ

اس مستقل رجحان کے علاوہ اب ایک نیا رجحان قادیانی گروہ میں یہ ابھر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر ایک قادیانی ریاست کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں۔ قیام پاکستان کو ابھی پورا ایک سال بھی نہیں گزرنے پایا تھا کہ ٢٣؍جولائی ١٩٤٨ء کو قادیانی خلیفہ نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا جو ١٣؍اگست کے الفضل میں بایں الفاظ شائع ہوا ہے:

"برٹش بلوچستان ...... جو اب پاکی بلوچستان ہے، کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگر چہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے۔ یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لئے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبادی ٥۔٦ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی ١١ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے اس لئے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے...... یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری بیس مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس (BASE) مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ پس پہلے اپنی بیس (BASE) مضبوط کر لو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی بیس (BASE) بنا لو کسی ملک میں ہی بنا لو...... اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔"

یہ تقریر کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے گروہ جن کی موجودگی کا حوالہ دے کر قادیانیوں کو برداشت کرنے کا ہمیں مشورہ دیا جاتا ہے۔ کیا ان میں سے کسی کے ایسے منصوبے ہیں؟ کیا ان میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو اپنے مذہب کے لئے غیر مسلم اقتدار کو مفید سمجھتا ہو اور مسلم اقتدار قائم ہوتے ہی ریاست کے اندر اپنی ایک ریاست بنانے کی فکر میں لگ گیا ہو؟ اگر نہیں تو پھر ان کی مثال قادیانیوں پر کیوں چسپاں کی جاتی ہے؟

١٤

٥...... اکثریت کا علیحدگی کا مطالبہ

اب اس سوال کو لیجئے یعنی یہ کہ علیحدگی کا مطالبہ الٹی بات ہو رہی ہے کہ اکثریت اس کا مطالبہ لے کر اٹھی ہے کہ ان میں سے کوئی صاحب کسی سیاسی انجیل کی ایسی کوئی قانون کلی بیان کیا گیا ہو کہ علیحدگی کا مطالبہ کرنا صرف اقلیت کسی مطالبے کو پیش کرنے کی حق دار نہیں ہے؟ ہمیں بتایا جا نے اسے مقرر کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مطالبات ہمیشہ ضرورت کی بنا کرتا ہے جسے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ جا رہا ہے۔ وہ بجائے خود معقول ہے یا نہیں۔ یہاں اختلاط اقلیت کو۔ اس لئے اکثریت یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئی ہے دیا جائے جو ایک طرف عملاً الگ ہو کر علیحدگی کا پورا فائدہ اُ کا جز بن کر اختلاط کے فوائد بھی سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ و معاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی الگ جتھہ بندی کرتی ہ ہر میدان میں کشمکش کرتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں سے اپنی تعداد بڑھاتی ہے۔ مسلم معاشرے میں تفریق کا ب میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے متناسب حصے کی با ہے۔ اس صورت حال کا سراسر نقصان اکثریت کو پہنچ رہ رہی ہے۔ پھر کون سی معقول وجہ ہے کہ ایسے حالات میں ا زبردستی اکثریت کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے بٹھا علیحدگی کو رد کر دیا جائے؟

علیحدگی کے اسباب اکثریت نے نہیں بلکہ خ معاشرہ اس نے خود بنایا۔ اکثریت سے مذہبی و معاشرتی فطری تقاضا یہ تھا کہ وہ خود اس علیحدگی کو تسلیم کر لیتی جو اس تسلیم کرنے سے وہ گریز کرتی ہے تو یہ اس سے پوچھئے کہ دیکھنے والی آنکھیں دی ہیں تو خود دیکھئے کہ آخر اپنے ہی عمل

١٥

صفحہ ٦٩

٥...... اکثریت کا علیحدگی کا مطالبہ

اب اس سوال کو لیجئے یعنی یہ کہ علیحدگی کا مطالبہ تو اقلیتیں کیا کرتی ہیں۔ یہاں یہ کیسی الٹی بات ہو رہی ہے کہ اکثریت اس کا مطالبہ لے کر اُٹھی ہے۔ یہ سوال جو لوگ کرتے ہیں کیا براہِ کرم ان میں سے کوئی صاحب کسی سیاسی انجیل کی ایسی کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں جس میں یہ قانونِ کلی بیان کیا گیا ہو کہ علیحدگی کا مطالبہ کرنا صرف اقلیت ہی کے لئے جائز ہے۔ اکثریت ایسے کسی مطالبے کو پیش کرنے کی حق دار نہیں ہے؟ ہمیں بتایا جائے کہ یہ اصول کہاں لکھا ہے اور کس نے اسے مقرر کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مطالبات ہمیشہ ضرورت کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں اور وہی ان کو پیش کرتا ہے جسے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ ایک مطالبہ جس ضرورت کی بناء پر کیا جا رہا ہے۔ وہ بجائے خود معقول ہے یا نہیں۔ یہاں اختلاط کا نقصان اکثریت کو پہنچ رہا ہے نہ کہ اقلیت کو۔ اس لئے اکثریت یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئی ہے کہ اس اقلیت کو آئینی طور پر الگ کر دیا جائے جو ایک طرف عملاً الگ ہو کر علیحدگی کا پورا فائدہ اُٹھا رہی ہے اور دوسری طرف اکثریت کا جز بن کر اختلاط کے فوائد بھی سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ایک طرف وہ مسلمانوں سے مذہبی ومعاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی الگ جتھہ بندی کرتی ہے اور منظم طریقے سے ان کے خلاف ہر میدان میں کشمکش کرتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں مسلمان بن کر گھستی ہے۔ اپنی تبلیغ سے اپنی تعداد بڑھاتی ہے۔ مسلم معاشرے میں تفریق کا فتنہ برپا کرتی ہے اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے متناسب حصے کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ حصہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس صورتِ حال کا سراسر نقصان اکثریت کو پہنچ رہا ہے اور بالکل ناجائز فائدہ اقلیت اُٹھا رہی ہے۔ پھر کون سی معقول وجہ ہے کہ ایسے حالات میں اقلیت علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرتی تو اسے زبردستی اکثریت کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے بٹھائے رکھا جائے اور اکثریت کے مطالبہ علیحدگی کو رد کر دیا جائے؟

علیحدگی کے اسباب اکثریت نے نہیں بلکہ خود اقلیت نے پیدا کئے۔ عملاً اپنا الگ معاشرہ اس نے خود بنایا۔ اکثریت سے مذہبی ومعاشرتی روابط اس نے خود توڑے ۔ اس روش کا فطری تقاضا یہ تھا کہ وہ خود اس علیحدگی کو تسلیم کر لیتی جو اس نے فی الواقع اختیار کی ہے۔ اسے اگر تسلیم کرنے سے وہ گریز کرتی ہے تو یہ اس سے پوچھئے کہ کیوں گریز کرتی ہے اور خدا نے آپ کو دیکھنے والی آنکھیں دی ہیں تو خود دیکھئے کہ آخر اپنے ہی عمل کے لازمی نتائج قبول کرنے سے اسے

١٥

صفحہ ٧١

کیوں گریز ہے۔ اس کی نیت اگر دغا اور فریب سے کام چلانے کی ہے تو آپ کی عقل کہاں چلی گئی ہے کہ آپ خود اپنی قوم کو اس دغا بازی کا شکار بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

٦...... قادیانیوں کی تبلیغ کی حقیقت

آخری جواب طلب بات یہ رہ جاتی ہے کہ قادیانی حضرات اسلام کی مدافعت اور تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان سے ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔

یہ در حقیقت ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جس میں بالعموم ہمارے نئے تعلیم یافتہ لوگ بری طرح مبتلا ہیں۔ اس لئے ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ ذرا آنکھیں کھول کر مرزا قادیانی کی حسب ذیل عبارتوں کو ملاحظہ فرمائیں۔ یہ عبارتیں اس مذہب کے بانی کی نیت اور مقاصد کو خود ہی بڑی خوبی سے بیان کر رہی ہیں۔ (تریاق القلوب ص ب ،خزائن ج ١٥ ص ٤٨٩، ٤٨٨ ضمیمہ نمبر ٣ بعنوان ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست) میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ جس کے ترک سے وہ اللہ تعالیٰ کے گناہ گار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جاں نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے، دستبردار ہو جائیں اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ ان کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکر گزار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گناہ گار نہ ٹھہریں ۔“

آگے چل کر پھر اسی عاجزانہ درخواست میں لکھتے ہیں:

”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک جو بیس برس کا زمانہ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثہ بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے

١٦

ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عا ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں ہوا ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال د جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے میں دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدا ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانسنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آ ہوگا۔“

(تریاق القلوب ص ب)

پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ”سو مجھ سے پادر یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ا مسلمانوں میں سے اول درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریز خیر خواہی میں اول درجے پر بنا دیا ہے۔ (١) والد مرحوم کے احسانوں نے (٣) خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔“ (تر

انگریزی حکومت کی وفاداری

”شہادۃ القرآن ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠ کے

”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ اس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں

”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہو ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سائے میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو

مرزا قادیانی کی ایک درخواست ”بحضور نوا ہے۔ جس میں وہ پہلے اپنے خاندان کی وفاداریوں کا ذکر جوان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ خان کو کمشنر لاہور، فنانشل نے ان کی وفادارانہ خدمات کے اعتراف میں عطاء کی تھی

١٧

صفحہ ٧١

ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور باایں ہمہ جھوٹا تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔“

(تریاق القلوب ص ب، ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٩، ٤٩٠، ٤٨٨)

پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ”سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجے کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجے پر بنا دیا ہے۔ (١) والد مرحوم کے اثر نے (٢) اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے (٣) خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“

(تریاق القلوب ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

انگریزی حکومت کی وفاداری

”شہادۃ القرآن ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠ کے ساتھ ایک ضمیمہ ہے جس کا عنوان ہے ”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ اس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سائے میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

مرزا قادیانی کی ایک درخواست ”بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ“ درج ہے۔ جس میں وہ پہلے اپنے خاندان کی وفاداریوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ چٹھیاں نقل کرتے ہیں جو ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ خان کو کمشنر لاہور، فنانشل کمشنر پنجاب اور دوسرے انگریز افسروں نے ان کی وفادارانہ خدمات کے اعتراف میں عطا کی تھیں۔ نیز ان خدمات کو گنوایا گیا ہے جو ان

صفحہ ٧٣

علامہ اقبال اور قادیانیت

کے خاندان کے دوسرے بزرگوں نے انجام دیں۔ پھر لکھتے ہیں: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر کو پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)

آگے چل کر لکھتے ہیں: ”میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو مطلع کیا کہ لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)

پھر وہ اپنی کتابوں کی ایک لمبی فہرست دیتے ہیں جن سے ان کو وفادارانہ خدمات کا ثبوت ملتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں: ”گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے۔ ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذاء دینا اپنا فرض سمجھا۔ اس تکفیر اور ایذاء کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں۔ یہ باتیں بے ثبوت نہیں۔ اگر گورنمنٹ توجہ فرمائے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔ میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اول درجے کا وفادار اور جانثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٤، ١٥)

آگے چل کر پھر لکھتے ہیں: ”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)

محرکات ”تبلیغ“

تھوڑی دیر کے لئے اس سوال کو نظر انداز کر دیجئے کہ یہ زبان اور تحریر کسی نبی کی ہو بھی

١٨

سکتی ہے یا نہیں۔ ہم یہاں جس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان طویل بیانات اور وتلقین اور ”مدافعت اسلام“ کے وہ مقاصد اور محرکات ہیں۔ جن کا اقرار خود مرزا صاحب نے کیا اس کے بعد بھی یہ نام نہاد ”خدمت دین“ کسی قدر کی مستحق رہ جاتی ہے اور اگر کوئی شخص اس خدمت دین کی حقیقت نہ سمجھ سکے تو ہم اس سے گزارش کریں گے کہ وہ ذرا اپنے ان اعترافات کو آنکھیں کھول کر پڑھے:

”عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں اس (کابل) کے متعلق ایک کتاب نظر سے ہوگئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر جو افغانستان میں ملازم تھا۔ اس کتاب میں لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب (قادیانی) کو اس وجہ سے شہید کیا گیا تھا کہ وہ یہ تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اگر یہ عقیدہ پھیل گیا تو افغان کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ اس حوالہ سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب اور ان کے ساتھی انگریزوں کے خلاف کوئی لفظ نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی کیا ضرورت تھی۔“

(مرزا بشیر الدین محمود احمد کا خطبہ مندرجہ الفضل ٢٦/فروری ١٩٢١ء)

”افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل بیان شائع کیا ہے، دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیابی و ملا انور علی دکاندار قادیانی عقائد رکھتے تھے چونکہ یہ لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ لہٰذا ان پر ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف بعض خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ غیروں (انگریزوں) کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

(اخبار الفضل ٢/مارچ ١٩٢٥ء)

”روسیہ (یعنی روس) میں اگر چہ تبلیغ احمدیت کا کوئی سلسلہ نہیں مگر بایں ہمہ ہمارا اور برٹش گورنمنٹ کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ جب ہمارا کوئی مبلغ روس کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت کرنی پڑتی ہے۔“

(بیان محمد امین قادیانی مبلغ روس در اخبار الفضل ٢٨/ ستمبر ١٩٢٢ء)

”دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ جرمنی میں ایک افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔“

١٩

صفحہ ٧٣

سکتی ہے یا نہیں۔ ہم یہاں جس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اس مذہب کی تبلیغ وتلقین اور ”مدافعت اسلام“ کے وہ مقاصد اور محرکات ہیں۔ جو بانی مذہب نے خود بیان کئے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی یہ نام نہاد ”خدمت دین“ کسی قدر کی مستحق رہ جاتی ہے۔ اس پر بھی اگر کوئی شخص اس خدمت دین کی حقیقت نہ سمجھ سکے تو ہم اس سے گزارش کریں گے کہ ذرا قادیانیوں کے اپنے ان اعترافات کو آنکھیں کھول کر پڑھے:

”عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہوگئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر جو افغانستان میں ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب (قادیانی) کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔“

(مرزا بشیر الدین محمود احمد کا خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل مورخہ ٦؍ اگست ١٩٣٥ء)

”افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیانی و ملا انور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ لگ چکے تھے۔“

(اخبار الفضل بحوالہ امان افغان مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء)

”روسیہ (یعنی روس) میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش گورنمنٹ کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلے کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری بھی کرنی پڑتی تھی۔“

(بیان محمد امین قادیانی مبلغ مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٩٣٢ء)

”دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ

١٩

صفحہ ٧٥

کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔“

(خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، مندرجہ اخبار الفضل مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)

”ہمیں امید ہے کہ برٹش گورنمنٹ کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔“

(لارڈ ہارڈنگ کی سیاحت عراق پر اظہار خیال مندرجہ اخبار الفضل ١١ فروری ١٩١٠ء)

”فی الواقع حکومت برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کر دو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔ پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہو گئے ہیں اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان نکلتا آتا ہے۔“

(الفضل ١٩ اکتوبر ١٩١٥ء)

”سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ملتا ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔“

(خلیفہ قادیان کا اعلان ، مندرجہ اخبار الفضل ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)

قادیانیت کے بنیادی خدوخال

اب قادیانی جماعت کی پوری تصویر آپ کے سامنے ہے، اس کے بنیادی خدوخال یہ ہیں:

زندگی بسر کر رہے تھے۔ پنجاب میں ایک شخص نبوت کا دعویٰ لے کر اٹھا۔ جس قوم کو اللہ کی توحید اور رسالت محمدیؐ کے اقرار نے ایک قوم، ایک ملت اور ایک معاشرہ بنایا تھا۔ اس کے اندر ایک شخص نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان ہونے کے لئے توحید و رسالت محمدیؐ پر ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ میری نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور جو اس پر ایمان نہ لائے وہ توحید و رسالت محمدیؐ پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

پر ایمان لائے۔ ان کو مسلمانوں سے الگ ایک امت اور ایک معاشرے کی شکل میں منظم کرنا

٢٠

شروع کر دیا۔ اس نئی امت اور مسلمانوں کے درمیان ا ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تھی۔ وہ رہی، نہ عبادت میں، نہ رشتے ناطے اور نہ شادی وغمی میں۔

برداشت نہیں کرے گا اور نہیں کر سکتا۔ اس لئے اس نے ا پالیسی کے طور پر انگریزی حکومت کی پختہ وفاداری و خذ موقف کے فطری تقاضے سے ہی انہوں نے یہ سمجھا ک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان ہی میں نہیں۔ تمام دنی اس کے لئے کوشاں رہے کہ آزاد مسلمان قومیں بھی انگ نئے مذہب کی اشاعت کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔

کوششوں کو ناکام بنا دیا جو گزشتہ نصف صدی میں اس گئیں اور انگریزی حکومت اس بات پر مصر رہی کہ یہ کا مخالف ہونے کے باوجود ان ہی میں شامل رہے گا قادیانی جماعت کو دہرا فائدہ پہنچایا گیا۔

ہی کا ایک فرقہ اور قادیانی گروہ مسلم معاشرے ہی کا ا مسلمانوں میں پھیلنا زیادہ آسان ہو گیا کیونکہ اس کرتے ہوئے یہ اندیشہ لاحق نہ ہوتا کہ وہ اسلام سے قادیانیوں کو اس سے یہ فائدہ پہنچا کہ وہ مسلمانوں میں رہے اور مسلمانوں کو یہ نقصان پہنچا کہ ان کے معا سرطان کی طرح اپنی جڑیں پھیلاتا رہا۔ جس کی بدت خصوصیت کے ساتھ پنجاب اس کا سب سے زیادہ یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب ہی کے مسلمان اس کے

عدالت اور دوسری ملازمتوں میں اپنے آدمی دھڑ ا

بال جبریل اقبال

علامہ اقبال

صفحہ ٧٥

شروع کر دیا۔ اس نئی امت اور مسلمانوں کے درمیان اعتقاداً اور عملاً ویسی ہی جدائی پڑ گئی جیسی ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نہ عقیدے میں شریک رہی ، نہ عبادت میں ، نہ رشتے ناطے اور نہ شادی وغم میں ۔

برداشت نہیں کرے گا اور نہیں کر سکتا۔ اس لئے اس نے اور اس کے جانشینوں نے نہ صرف ایک پالیسی کے طور پر انگریزی حکومت کی پختہ وفاداری وخدمت گزاری کا رویہ اختیار کیا بلکہ عین اپنے مؤقف کے فطری تقاضے سے ہی انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کا مفاد لازماً غلبہ کفر کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان ہی میں نہیں ۔ تمام دنیا میں اس بات کے خواہش مند رہے اور عملاً اس کے لئے کوشاں رہے کہ آزاد مسلمان قومیں بھی انگریزوں کی غلام ہو جائیں تاکہ ان میں اس نئے مذہب کی اشاعت کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔

کوششوں کو ناکام بنا دیا جو گزشتہ نصف صدی میں اسے مسلمانوں سے خارج کرنے کے لئے کی گئیں اور انگریزی حکومت اس بات پر مصر رہی کہ یہ گروہ مسلمانوں سے الگ ، بلکہ ہر چیز میں ان کا مخالف ہونے کے باوجود ان ہی میں شامل رہے گا۔ اس تدبیر سے مسلمانوں کو دہرا نقصان اور قادیانی جماعت کو دہرا فائدہ پہنچایا گیا۔

ہی کا ایک فرقہ اور قادیانی گروہ مسلم معاشرے ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح قادیانیت کے لئے مسلمانوں میں پھیلنا زیادہ آسان ہو گیا کیونکہ اس صورت میں ایک مسلمان کو قادیانیت اختیار کرتے ہوئے یہ اندیشہ لاحق نہ ہوتا کہ وہ اسلام سے نکل کر کسی دوسرے معاشرے میں جا رہا ہے۔ قادیانیوں کو اس سے یہ فائدہ پہنچا کہ وہ مسلمانوں میں سے برابر آدمی توڑ توڑ کر اپنی تعداد بڑھاتے رہے اور مسلمانوں کو یہ نقصان پہنچا کہ ان کے معاشرے میں ایک بالکل الگ اور

صفحہ ٧٦

مسلمان بن کر ملازمتوں کے اس کوٹے سے حاصل کیا جو مسلمانوں کے لئے مخصوص تھا۔ مسلمانوں کو اطمینان دلایا جاتا رہا کہ یہ ملازمتیں تم کو مل رہی ہیں۔ حالانکہ وہ بڑی کثیر تعداد میں ان قادیانیوں کو دی جارہی تھیں جو مسلمانوں کے مدمقابل بن کر اپنی مخالفانہ جتھہ بندی کئے ہوئے تھے۔ ایسا ہی معاملہ ٹھیکوں اور تجارتوں اور زمینوں کے بارے میں بھی کیا گیا۔

کے بعد زیادہ دیر تک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ بہت تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ایک طرف اس کے تمام وہ افراد جو ذمہ دار سرکاری عہدوں پر ہیں۔ حکومت کے ہر شعبے میں اپنے آدمی بھرتی کرا رہے ہیں تاکہ تھوڑی مدت ہی میں ان کی طاقت اتنی مضبوط ہو جائے کہ پاکستان کے مسلمان آزاد و مختار ہونے کے باوجود ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ دوسری طرف وہ اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ کم از کم بلوچستان پر قبضہ کر کے پاکستان کے اندر اپنی ایک ریاست بنالیں۔

تمام دینی جماعتوں کا متفقہ مطالبہ

ان وجوہ سے پاکستان کی تمام دینی جماعتوں نے بالاتفاق مطالبہ کیا ہے کہ اس سرطان کے پھوڑے کو مسلم معاشرے کے جسم سے فوراً کاٹ پھینکا جائے اور سر ظفر اللہ خان کو وزارت کے منصب سے ہٹا دیا جائے۔ جن کی بدولت ملک کے اندر بھی اور باہر کے مسلم ممالک میں بھی اس سرطان کی جڑیں پھیل رہی ہیں اور قادیانیوں کو پاکستان کے کلیدی مناصب سے ہٹانے اور ملازمتوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے ان کا حصہ مقرر کرنے کی جلدی سے جلدی فکر کی جائے۔

مگر حکومت

PDF 78

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ختم نبوت

حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

صفحہ ٧٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دیباچہ

موجودہ زمانے میں اسلام کے خلاف جو فتنے رونما ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا فتنہ وہ نئی نبوت ہے۔ جس کا دعویٰ اس صدی کے آغاز میں کیا گیا تھا اور اس کی دعوت ٦٠ سال سے امت میں گمراہی پھیلانے کا بہت بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ دوسرے فتنوں کی طرح یہ فتنہ بھی دراصل صرف اس وجہ سے اٹھا اور پھیلا ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے دین سے جاہل ہیں۔ یہ جہالت اگر نہ ہوتی اور لوگ ختم نبوت کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھتے ہوتے تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ محمد ﷺ کے بعد کسی شخص کا دعوائے نبوت ایک مسلمان قوم کے اندر پھل پھول سکتا۔

آج بھی اس فتنے کا قلع قمع کرنے کی صحیح اور مؤثر ترین تدبیر اگر کوئی ہو سکتی ہے۔ تو وہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت اور دین میں اس کی اہمیت خوب سمجھا دی جائے اور اس سلسلے میں جو شبہات دلوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ انہیں معقول دلائل کے ساتھ رد کر دیا جائے۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر یہ مختصر رسالہ مرتب کیا گیا ہے۔ جو حضرات اس سے استفادہ حاصل کریں ان سے گزارش ہے کہ وہ اسے محض پڑھ کر نہ رہ جائیں۔ بلکہ اس کے پھیلانے میں حتی الوسع پورا حصہ لیں۔ ضرورت ہے کہ یہ ہر پڑھے لکھے آدمی تک پہنچے اور پڑھے لکھے لوگ اسے ان پڑھ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔ امید ہے کہ اس سے نہ صرف وہ لوگ محفوظ ہو جائیں گے جو ابھی اس گمراہی سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ جو متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بھی حق پسند لوگوں کے سامنے حق واضح ہو جائے گا۔ البتہ ان لوگوں کا کوئی علاج اللہ کے سوا کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ جو ایک غلط بات کو مان لینے کے بعد اپنے دل کے دروازے بند کر چکے ہیں۔

ابوالاعلیٰ مودودی ....... ١٢؍ فروری ١٩٦٢ء ....... لاہور

ختم نبوت

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء علیما۔ (الاحزاب: ٤٠) ”لوگو! محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔“

یہ آیت سورہ احزاب کے پانچویں رکوع میں نازل نے ان کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ جو حضـ نکاح پر طعن و تشنیع اور بہتان و افتراء کے طوفان اٹھا رہے تھے محمد ﷺ کے منہ بولے بیٹے کی بیوی تھیں اور اس بناء پر وہ حضـ طلاق دینے کے بعد محمد ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے۔ نے آیت نمبر ٣٧ میں فرمایا کہ یہ نکاح ہمارے حکم سے ہوا ہے ا لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے، جبکہ وہ انہیں طلاق کوئی حرج نہیں ہے۔

پھر آیت نمبر ٣٨، ٣٩ میں فرمایا کہ نبیؐ پر جو کام ا کوئی طاقت نبی کو باز نہیں رکھ سکتی۔ انبیاء کا کام لوگوں سے ڈر سے ان کے معاملہ میں اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ وہ کسی کی اور بلا تردد اس کے احکام بجا لائیں۔ اس کے بعد یہ آیت ا اعتراضات کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپؐ نے اپنی بہو شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جوا ابا احد من رجالکم “ ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے۔ وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی جانتے ہو کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔

ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا۔ اگر منہ بولا ب چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کر لینا زیادہ سے زیادہ بس ضروری تھا؟۔

اس کے جواب میں فرمایا گیا :”ولکن رسـ ہیں۔ یعنی ان کے لئے یہ ضروری تھا کہ جس حلال چیز کو ہے۔ اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور ا

٣

صفحہ ٧٩

یہ آیت سورۂ احزاب کے پانچویں رکوع میں نازل ہوئی ہے۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ جو حضرت زینبؓ سے سیدنا محمد ﷺ کے نکاح پر طعن و تشنیع اور بہتان و افتراء کے طوفان اٹھا رہے تھے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ زینبؓ محمد ﷺ کے منہ بولے بیٹے کی بیوی تھیں اور اس بناء پر وہ حضور کی بہو ہوتی تھیں۔ اب زیدؓ کے طلاق دینے کے بعد محمد ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر ٣٧ میں فرمایا کہ یہ نکاح ہمارے حکم سے ہوا ہے اور اس لئے ہوا ہے کہ مسلمانوں کے لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے، جبکہ وہ انہیں طلاق دے چکے ہوں، نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

پھر آیت نمبر ٣٨، ٣٩ میں فرمایا کہ نبیؐ پر جو کام اللہ فرض کر دے اس کے کرنے سے کوئی طاقت نبی کو باز نہیں رکھ سکتی۔ انبیاء کا کام لوگوں سے ڈرنا نہیں بلکہ اللہ سے ڈرنا ہے اور ہمیشہ سے ان کے معاملہ میں اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ وہ کسی کی پروا کئے بغیر اللہ کے پیغام پہنچائیں اور بلا تردد اس کے احکام بجا لائیں۔ اس کے بعد یہ آیت ارشاد فرمائی جس میں مخالفین کے تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپؐ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے۔ حالانکہ آپ کی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا: ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم“ ﴿محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں﴾۔ یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے۔ وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا؟ تم لوگ تو جانتے ہو کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔

ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا۔ اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے۔ تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کر لینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہو سکتا تھا۔ آخر اس کا کرنا کیا ضروری تھا؟۔

اس کے جواب میں فرمایا گیا: ”ولکن رسول اللہ“ ﴿مگر وہ اللہ کے رسول ہیں﴾۔ یعنی ان کے لئے یہ ضروری تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے۔ اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک

٣

صفحہ ٨١

علامہ جاوید اقبال

3

وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔

پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا: ’’وخاتم النبیین‘‘ ﴿اور وہ خاتم النبیین ہیں۔﴾ یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو در کنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ان کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دے، لہٰذا یہ اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کر کے جائیں۔

اس کے بعد مزید زور دیتے ہوئے فرمایا گیا: ’’وکان اللہ بکل شیء علیما‘‘ ﴿اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔﴾ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ اس وقت محمد ﷺ کے ہاتھوں اس رسم جاہلیت کو ختم کرانا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ وہ جانتا ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی نبی نہیں آنے والا لہٰذا اگر اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے اس نے اس رسم کا خاتمہ اب نہ کرا دیا تو پھر کوئی دوسری ہستی دنیا میں ایسی نہ ہو گی جس کے توڑنے سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے۔ بعد کے مصلحین اگر اسے توڑیں گے بھی تو ان میں سے کسی کا فعل بھی اپنے پیچھے ایسا دائمی اور عالمگیر اقتدار نہ رکھے گا کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں لوگ اس کا اتباع کرنے لگیں اور اس میں سے کسی کی شخصیت بھی اپنے اندر اس تقدس کی حامل نہ ہوگی کہ کسی فعل کا محض اس کی سنت ہونا ہی لوگوں کے دلوں سے کراہت کے ہر تصور کا قلع قمع کردے۔

١؎ منکرین ختم نبوت اس مقام پر یہ سوال کرتے ہیں کہ معترضین کا یہ اعتراض کس روایت میں وارد ہوا ہے؟ لیکن یہ سوال دراصل ان کی بے علمی کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں بیسیوں مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے اعتراضات نقل کئے بغیر ان کے جوابات دیئے ہیں اور جواب کی عبارت سے خود بخود یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اعتراض کیا تھا۔ جس کا یہ جواب دیا جا رہا ہے۔ یہاں بھی جواب خود اعتراض کا مضمون بیان کر رہا ہے۔ پہلے فقرے کے بعد ’’ولکن‘‘ (مگر) کے لفظ سے دوسرا فقرہ شروع کرنا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پہلے فقرے میں مخاطب کی ایک بات کا جواب ہو جانے کے باوجود اس کا ایک سوال یا اعتراض باقی رہ گیا تھا۔ جس کا جواب دوسرے فقرے میں دیا گیا ہے۔ پہلے فقرے میں ان کو اس اعتراض کا جواب مل چکا تھا کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض باقی تھا کہ آخر اس کام کو کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اس پر فرمایا گیا: ’’مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ زید کھڑا نہیں ہوا مگر بکر کھڑا ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’زید کھڑا نہیں ہوا‘‘ سے ایک بات کا جواب مل جانے کے بعد سائل کا یہ سوال باقی رہ جاتا تھا کہ پھر کون کھڑا ہوا ہے؟ اسی سوال کا جواب ’’مگر بکر کھڑا ہوا ہے‘‘ کا فقرہ دے رہا ہے۔

٤

قرآن کے سیاق و سباق کا فیصلہ

ایک گروہ جس نے اس دور میں نئی نبوت کا فتنہ معنی ’’نبیوں کی مہر‘‘ کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ وہ آپ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے۔ یا بالفاظ دیگر جب تک نبی نہ ہوگا۔ لیکن جس سلسلہ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی اس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، بلکہ اگر محل ہی نہیں، مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے۔ آخر ان شبہات کا جواب دیا جا رہا ہو اور یکا یک یہ بات کہہ ڈالی جا بھی بنے گا، ان کی مہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق و سباق ہے۔ بلکہ اس سے وہ استدلال الٹا کمزور ہو جاتا ہے جو م ہے۔ اس صورت میں تو معترضین کے لئے یہ کہنے کا اچھا م کوئی خطرہ نہ تھا۔ اس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ض لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گے ان میں سے کوئی اسے مٹ یہ بھی کی ہے کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی افضل النبیین ہے۔ البتہ کمالات نبوت حضور پر ختم ہوگئے ہیں۔ لیکن ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ مفہوم بھی کوئی پڑتا ہے۔ کفار و منافقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت، کم درج آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس رسم کو بھی آپ ہ

لغت کی رو سے خاتم النبیین کے معنی

پس جہاں تک سیاق و سباق کا تعلق ہے یہاں خاتم النبیین کے معنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ لیکن اسی معنی کی مقتضی ہے۔ عربی لغت اور محاورے کی رو س تک پہنچ جانے، اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جان ’’فرغ من العمل‘‘ کام سے فارغ ہوگیا۔ ’’ختم ا پر مہر لگا دی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ

٥

صفحہ ٨١

قرآن کے سیاق وسباق کا فیصلہ

ایک گروہ، جس نے اس دور میں نئی نبوت کا فتنہ عظیم کھڑا کیا ہے۔ لفظ خاتم النبیین کے معنی ”نبیوں کی مہر“ کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد جو انبیاء بھی آئیں گے وہ آپ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے۔ یا بالفاظ دیگر جب تک کسی کی نبوت پر آپ کی مہر نہ لگے، وہ نبی نہ ہوگا۔ لیکن جس سلسلہ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی اس کے اندر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو اس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی، بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ بے محل ہی نہیں، مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے۔ آخر اس بات کا کیا تک ہے کہ اوپر سے تو شکوک وشبہات کا جواب دیا جا رہا ہو اور یکا یک یہ بات کہہ ڈالی جائے کہ محمد نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ جو نبی بھی بنے گا، ان کی مہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق وسباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تکی ہے۔ بلکہ اس سے وہ استدلال الٹا کمزور ہو جاتا ہے جو اوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آ رہا ہے۔ اس صورت میں تو معترضین کے لئے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ یہ کام اس وقت نہ کرتے تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ اس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ کے بعد آپ کی مہر لگ لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گے ان میں سے کوئی اسے مٹا دے گا۔ ایک دوسری تاویل اس گروہ نے یہ بھی کی ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنی افضل النبیین کے ہیں۔ یعنی نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے۔ البتہ کمالات نبوت حضور پر ختم ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ مفہوم لینے میں بھی وہی قباحت ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق وسباق سے یہ مفہوم بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ بلکہ الٹا اس کے خلاف پڑتا ہے۔ کفار ومنافقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت، کم درجے کے ہی سہی، بہرحال آپ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس رسم کو بھی آپ ہی مٹا کر تشریف لے جاتے۔ پس!

لغت کی رو سے خاتم النبیین کے معنی

. پس جہاں تک سیاق وسباق کا تعلق ہے۔ وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبیین کے معنی سلسلۂ نبوت کو ختم کر دینے والے ہی کے لئے جائیں اور سمجھا جائے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ صرف سیاق ہی کا تقاضا نہیں ہے۔ لغت بھی اسی معنی کی مقتضی ہے۔ عربی لغت اور محاورے کی رو سے ”ختم“ کے معنی مہر لگانے، بند کرنے، آخر تک پہنچ جانے، اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔ ”ختم العمل“ کے معنی ہیں ”فرغ من العمل“ ”کام سے فارغ ہو گیا“ ”ختم الاناء“ کے معنی ہیں ”برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مہر لگا دی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو“

٥

صفحہ ٨٣

”ختم الكتاب“ کے معنی ہیں: ”خط کو بند کر کے اس پر مہر لگادی تاکہ خط محفوظ ہو جائے۔“ ”ختم علی القلب“ کے معنی ”دل پر مہر لگادی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل سکے۔“ ”ختام کل مشروب“ کے معنی ہیں: ”وہ مزا جو کسی چیز کے پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔“ ”خاتمة كل شىء عاقبته واخرته“ کے معنی: ”ہر چیز کا خاتمہ سے مراد ہے۔ اس کی عاقبت اور آخرت۔“ ”خاتم القوم ،آخرہم“ خاتم القوم“ سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی۔ (ملاحظہ ہو لسان العرب، قاموس اور اقرب الموارد)

١؎ یہاں ہم نے لغت کی صرف تین کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن بات انہی تین کتابوں پر منحصر نہیں ہے۔ عربی زبان کی کوئی معتبر لغت اٹھا کر دیکھ لی جائے۔ اس میں لفظ خاتم کی یہی تشریح ملے گی۔ لیکن منکرین ختم نبوت خدا کے دین میں نقب لگانے کے لئے لغت کو چھوڑ کر اس بات کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی شخص کو خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المفسرین کہنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جس شخص کو یہ لقب دیا گیا ہے۔ اس کے بعد کوئی شاعر یا فقیہ یا مفسر پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس فن کے کمالات اس شخص پر ختم ہوگئے۔ حالانکہ مبالغے کے طور پر اس طرح کے القاب کا استعمال یہ معنی ہرگز نہیں رکھتا کہ لغت کے اعتبار سے خاتم کے اصل معنی ہی کامل یا افضل کے ہو جائیں اور آخری کے معنی میں یہ لفظ استعمال کرنا سرے سے غلط قرار پائے۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے۔ جو زبان کے قواعد سے ناواقف ہو۔ کسی زبان میں بھی یہ قاعدہ نہیں ہے کہ اگر کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے کبھی کبھی مجازاً کسی دوسرے معنی میں بولا جاتا ہے۔ تو وہی معنی اس کے اصل معنی بن جائیں اور لغت کی رو سے جو اس کے حقیقی معنی ہیں۔ ان میں اس کا استعمال ممنوع ہوجائے۔ آپ کسی عرب کے سامنے جب کہیں گے: ”جاء خاتم القوم“ تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہ لے گا کہ قبیلے کا فاضل وکامل آدمی آگیا۔ بلکہ اس کا مطلب وہ یہی لے گا کہ پورا کا پورا قبیلہ آگیا ہے۔ حتی کہ آخری آدمی جو رہ گیا تھا وہ بھی آگیا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہئے کہ خاتم الشعراء، خاتم الفقہاء اور خاتم المحدثین وغیرہ القاب جو بعض لوگوں کو دیئے گئے ہیں۔ ان کے دینے والے انسان تھے اور انسان کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ جس شخص کو وہ کسی صفت کے اعتبار سے خاتم کہہ رہا ہے۔ اس کے بعد پھر کوئی اس صفت کا حامل پیدا نہیں ہوگا۔ اسی وجہ سے انسانی کلام میں ان القاب کی حیثیت مبالغے اور اعتراف کمال سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے متعلق یہ کہہ دے کہ فلاں صفت اس پر ختم ہوگئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے بھی انسانی کلام کی طرح مجازی کلام سمجھ لیں۔ اللہ نے اگر کسی کو خاتم الشعراء کہہ دیا ہوتا تو یقیناً اس کے بعد کوئی شاعر نہیں ہوسکتا تھا اور اللہ نے جسے خاتم النبیین کہہ دیا غیر ممکن ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی ہوسکے۔ اس لئے کہ اللہ عالم الغیب ہے اور انسان عالم الغیب نہیں ہے۔ اللہ کا کسی کو خاتم النبیین کہنا اور انسانوں کا کسی کو خاتم الشعراء وغیرہ کہہ دینا آخر ایک درجہ میں کیسے ہوسکتا ہے۔

٦

باقیات ابدال دلائل وبراہین

اسی بنا پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبیین کے لئے ہیں۔ عربی لغت ومحاورے کی رو سے خاتم کے معنی ڈاک خانے کی کہ خطوط جاری کئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جو لفافے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے اور نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔

ختم نبوت کے بارے میں نبی ﷺ کے ارشادات

قرآن کے سیاق وسباق اور لغت کے لحاظ سے اس لفظ کے نبی ﷺ کی تشریحات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر چند صحیح ترین احادیث

خلفه نبي، وانه لانبى بعدى وسيكون خلفاء (“ المناقب، باب ماذكر عن بنى اسرائيل) ”نبی ﷺ نے فرما کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مرجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔“

بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذا اللبنـ النبيين (بخاری ج ١ ص ٥٠١،کتاب المناقب، باب خاتم نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیـ جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور خاتم النبییـ کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پر کـ اس مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”فجئت فختمت الانبياء سلسلہ ختم کردیا۔“

٧

صفحہ ٨٣

اسی بناء پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے لئے ہیں۔ عربی لغت ومحاورے کی رو سے خاتم کے معنی ڈاک خانے کی مہر کے نہیں ہیں۔ جسے لگا لگا کر خطوط جاری کئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جو لفافے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے اور نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔

ختم نبوت کے بارے میں نبی ﷺ کے ارشادات

قرآن کے سیاق وسباق اور لغت کے لحاظ سے اس لفظ کا جو مفہوم ہے۔ اسی کی تائید نبی ﷺ کی تشریحات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر چند صحیح ترین احادیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

خلفه نبي، وانه لا نبي بعدى وسيكون خلفاء (بخارى ج١ ص٥٠١ ، كتاب المناقب، باب ما ذكر عن بنى اسرائيل) “ ﴿ نبی ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔ ﴾

بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخارى ج١ ص٥٠١ ، كتاب المناقب، باب خاتم النبيين، مسلم ج٢ ص٢٤٨) “ ﴿ نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے۔ مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور خاتم النبیین ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پر کرنے کے لئے کوئی نبی آئے) ﴾

اس مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل، باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”فجئت فختمت الانبياء“ ﴿ پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔ ﴾

٧

صفحہ ٨٤

تحفظ ختم نبوت

یہی حدیث انہیں الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل النبی اور کتاب الآداب، باب الامثال میں ہے۔ مسند ابوداؤد طیالسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلے میں آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: ”ختم بی الانبیاء“ ﴿میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا ۔﴾

مسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث حضرت ابی بن کعبؓ ، حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کی گئی ہیں:

”ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست، اعطیت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، واحلت لی الغنائم، وجعلت لی الارض مسجدا وطهورا، و ارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩ کتاب المساجد، ترمذی، ابن ماجه) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔ (٢) مجھے رعب کے ذریعہ نصرت بخشی گئی۔ (٣) میرے لئے اموال غنیمت حلال کئے گئے۔ (٤) میرے لئے زمین کو مسجد بھی بنا دیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کر کے وضو کی حاجت پوری کی جاسکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی۔ (٥) مجھے تمام دنیا کے لئے رسول بنایا گیا۔ (٦) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔﴾

”قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قدانقطعت فلا رسول بعدی ولانبی (ترمذی ج ٢ ص ٥٣، کتاب الرؤیا، باب ذهاب النبوة ، مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٧، مرويات انس بن مالك) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ۔﴾

”قال النبی ﷺ انا محمد، وانا احمد، وانا الماحی الذی یمحی بی الكفر، وانا الحاشر الذی يحشر الناس على عقبى، وانا العاقب الذی لیس بعده نبی (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٦١ ، كتاب الفضائل باب اسماء النبی، ترمذی ج ٢ ص ١١١، کتاب الآداب، باب اسماء النبی، مؤطا کتاب اسماء النبی،

٨

٨٥

المستدرك للحاكم، کتاب التاريخ باب ، اسماء النبی) ” میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر محو کیا جا لوگ حشر میں جمع کئے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب بس قیا ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ ﴾

”قال رسول الله ﷺ ان الله لم يبعث ن اخر الانبياء وانتم اخر الامم وهو خارج فيكم لامح الفتن، باب الدجال) ” رسول ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو ( مگر ان کے زمانے میں اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر سے ہی ن

”عن عبدالرحمن بن جبیر قال سمعت یقول خرج علینا رسول الله ﷺ يوما كالمود قاله ثلاث مرات ولانبی بعدی (مسند احمد ص ٤ عاص) ” عبدالرحمن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان آپ ہم سے رخصت ہورہے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ فرما ”اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“﴾

”قال رسول الله ﷺ لانبوة بعدی یارسول الله؟ قال الرؤيا الحسنة اوقال الرؤ مرويات ابوالطفيل، نسائى ص ١١١ باب الامر بالاجتها الدعا فی الركوع والسجود) ” رسول اللہ ﷺ نے ف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔ عرض کیا گیا وہ بشارت د ”اچھا خواب“ یا فرمایا ” صالح خواب“ (یعنی وحی کا اب کوئی اللہ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب ۔

”قال النبی ﷺ لوكان بعدی نب

٩

صفحہ ٨٥

المستدرك للحاكم، كتاب التاريخ باب اسماء النبى) ” نبی ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر مٹایا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کئے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے) اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ ﴿

اخر الانبياء وانتم اخر الامم وهو خارج فيكم لامحالة (ابن ماجه ص ٢٩٧،كتاب الفتن، باب الدجال) ” رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو (مگر ان کے زمانے میں وہ نہ آیا) اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر سے ہی نکلنا ہے۔ ﴿

يقول خرج علينا رسول الله ﷺ يوما كالمودع فقال انا محمد النبى الامى قاله ثلاث مرات ولا نبى بعدى (مسند احمد ص ١٧٢، مرويات عبدالله بن عمرو بن عاص) ” عبدالرحمٰن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے۔ اس انداز سے کہ گو آپ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ”میں محمد نبی امی ہوں۔“ پھر فرمایا: ”اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ ﴿

يارسول الله؟ قال الرؤيا الحسنة اوقال الرؤيا الصالحة (مسند احمدص ٤٥٤، مرويات ابوالطفيل، نسائى ص ١١١ باب الامر بالاجتهادفى الدعاء، ابوداؤد ج ١ ص ٨٩، باب الدعافى الركوع والسجود) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔ صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔ عرض کیا گیا وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا ”اچھا خواب“ یا فرمایا ”صالح خواب“ (یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا) ﴿

٩

صفحہ ٨٧

ج٢ ص٢٠٩، کتاب المناقب) ” آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ ﴾

بعدى (بخارى ج٢ ص٦٣٣ باب غزوه التبوك وهى غزوة العسره،مسلم ج٢ ص ٢٧٨،کتاب فضائل الصحابه) ” رسول ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:”میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ تھی۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾

بخاری ومسلم نے یہ حدیث غزوہ تبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔مسند احمد میں اس مضمون کی دو احادیث حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کی گئی ہیں جن میں سے ایک کا آخری فقرہ یوں ہے:”اَلا اِنه لا نبوة بعدى“ ﴿ مگر میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ ﴾ ابو داؤد طیا لسی،امام احمدؒ اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات نقل کی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جاتے وقت نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ طیبہ کی حفاظت ونگرانی کے لئے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتیں ان کے بارے میں کہنی شروع کر دیں۔ انہوں نے جا کر حضورؐ سے عرض کیا : ”یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ اس موقع پر حضورؐ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ”تم تو میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہوئے جو موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔اس طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لئے چھوڑے جا رہا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضورؐ کو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے۔ اس لئے فوراً آپؐ نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعد کوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔“

ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (ابوداؤد ج٢ ص١٢٧،کتاب الفتن) “ ﴿ ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“﴾

١٠

اس مضمون میں ایک اور حدیث ابو داؤد نے کتاب ا روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبانؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : ”حتی یبعث دجا ثلاثین کلهم یزعم انه رسول الله ۔“ ﴿ یہاں تک کہ فریبی جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے،

يكلمون من غيران يكونوا انبياء فان يكن ج١ ص٥٢١ مناقب عمر بن الخطاب ،کتاب المناقب) “ جو بنی اسرائیل گزرے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن وہ نبی ہوں۔میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمر ہوگا۔“﴾

مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے۔ اس میں ”محدثون“ کا لفظ ہے۔ لیکن ”متکلم اور محدث“ دونو مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہو یا جس کے ساتھ پردہ غیب سے با نبوت کے بغیر مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہونے والے بھی اگر ہو

الرؤيا، طبرانی) “ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میر بعد کوئی امت (یعنی کسی نئے آنے والی نبی کی امت) نہیں

(مسلم ج١ ص٤٤٦،کتاب الحج ،باب فضل الصلوٰة ﷺ نے فرمایا : ”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری منکرینِ ختمِ نبوت اس حدیث سے یہ استدلا مسجد کو آخر المساجد فرمایا۔ حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے میں بنی ہیں۔ اسی طرح جب آپؐ نے فرمایا کہ میں آخر آپؐ کے بعد نبی آتے رہیں گے۔ البتہ فضیلت کے ا

١١

صفحہ ٨٧

اس مضمون میں ایک اور حدیث ابو داؤد نے کتاب الملاحم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبان اور حضرت ابو ہریرہ سے یہ دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ ۔“ ﴿یہاں تک کہ اٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔﴾

یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یکن من امتی احد فعمر (بخاری ج ١ ص ٥٢١ مناقب عمر بن الخطاب، کتاب المناقب) ﴿نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمر ہوگا۔“﴾

مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے۔ اس میں ”یکلمون“ کی بجائے ”محدثون“ کا لفظ ہے۔ لیکن ”متکلم اور محدث“ دونوں کے معنی ایک ہیں۔ یعنی ایسا شخص جو مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہو یا جس کے ساتھ پردۂ غیب سے بات کی جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بغیر مخاطبہ الٰہی سے سرفراز ہونے والے بھی اگر ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوگا۔“

الرؤیا، طبرانی) ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت (یعنی کسی نئے آنے والی نبی کی امت) نہیں۔“﴾

(مسلم ج ١ ص ٤٤٦، کتاب الحج، باب فضل الصلوٰة بمسجد مکہ والمدینہ) ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد (یعنی نبوی) ہے۔﴾

منکرین ختم نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح حضور نے اپنی مسجد کو آخر المساجد فرمایا۔ حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے۔ بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مساجد دنیا میں بنی ہیں۔ اسی طرح جب آپ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپ کے بعد نبی آتے رہیں گے۔ البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپ آخری نبی ہیں اور آپ کی

١١

صفحہ ٨٩

مسجد آخری مسجد ہے۔ لیکن درحقیقت اسی طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ خدا اور رسول کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث وارد ہوئی ہے اس کے سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضور نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کس معنی میں فرمایا ہے۔ اس مقام پر حضرت ابو ہریرہؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت میمونہؓ کے حوالہ سے جو روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے۔ جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے اور اسی بناء پر صرف انہیں تین مساجد میں نماز پڑھنے کے لئے سفر کیا جانا جائز ہے۔ باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مساجد چھوڑ کر خاص طور پر ان میں نماز پڑھنے کے لئے سفر کرے۔ ان میں سے پہلی مسجد مسجد الحرام ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ دوسری مسجد مسجد اقصیٰ ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا اور تیسری مسجد مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی ہے جس کی بنیاد نبی اکرم ﷺ نے رکھی۔ حضورؐ کے ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس لئے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بننے والی نہیں ہے جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کر کے جانا درست ہو۔

منکرین ختم نبوت رسول ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں اگر کوئی چیز پیش کرتے ہیں تو وہ یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا: ”قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعده“ (یہ تو کہو کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں)۔ لیکن اوّل تو حضورؐ کے صاف صاف ارشادات کے مقابلہ میں حضرت عائشہؓ کے کسی قول کو پیش کرنا ہی سخت گستاخی و بے ادبی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف جس روایت میں یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔ وہ بجائے خود غیر مستند ہے۔ اسے حدیث کی کسی معتبر کتاب میں کسی قابلِ ذکر محدث نے نقل نہیں کیا ہے۔ تفسیر کی ایک کتاب درمنثور اور لغت حدیث کی ایک کتاب تکملہ مجمع البحار سے اس کو نقل کیا جاتا ہے۔ مگر اس کی سند کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ایسی ایک ضعیف ترین روایت اور وہ بھی ایک صحابیہ کے قول کو لا کر نبی اکرم ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہے جنہیں عام اکابر محدثین نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

١٢

یہ احادیث بکثرت صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے ر نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ س نے مختلف مواقع پر ، مختلف طریقوں سے، مختلف الفاظ میں اس ا آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت ک آپ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ وہ د الفاظ ”خاتم النبیین“ کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت ت پاک ﷺ کا ارشاد تو بجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآ تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہ سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ ختم نبو اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی قابل التفات بھی سمجھیں؟

صحابہ کرام کا اجماع

قرآن وسنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم تر ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کے نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی ت بالاتفاق جنگ کی تھی۔

اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسیلمہ کذاب ک نبی ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا۔ بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے ب ہے۔ اس نے حضور کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپ کو لکھا ت مسیلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلا م علیک“ (تاریخ الطبری ج ٢ ص ٢٠١) (مسیلمہ رسول اللہ کی ط پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے علاوہ بریں مؤرخ طبری (ج ٢ ص ١٧٦) نے یہ روا اذان دی جاتی تھی۔ اس میں: ”اشهد ان محمد رسول ا اس صریح اقرار رسالت محمدی کے باوجود اسے ک

١٣

صفحہ ٨٩

یہ احادیث بکثرت صحابہ کرامؓ نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے، مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہو چکا ہے اور آپؐ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ”خاتم النبیین“ کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہو سکتی ہے؟۔ رسول پاکﷺ کا ارشاد تو بجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کر رہا ہو تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمدﷺ سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی قابل التفات بھی سمجھیں؟

صحابہ کرامؓ کا اجماع

قرآن وسنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم ترین حیثیت صحابہ کرامؓ کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبیﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی۔ ان سب کے خلاف صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔

اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسیلمہ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔ یہ شخص نبیﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا۔ بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے حضورؐ کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیا ہے۔ اس نے حضورؐ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپ کو لکھا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلام عليك فانی اشركت فى الامر معك“ (تاریخ الطبری ج٢ ص٢٧٣) ﴿مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف۔ آپؐ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپؐ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔﴾

علاوہ بریں مؤرخ طبری (ج٢ ص٢٧٦) نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی۔ اس میں: ”اشهد ان محمد رسول الله“ کے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔

اس صریح اقرار رسالت محمدی کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا اور اس

١٣

صفحہ ٩٠

سے جنگ کی گئی۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنیفہ نیک نیتی کے ساتھ In Good Faith اس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو خود شریک رسالت کیا ہے۔ نیز قرآن کی آیات کو ان کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا۔ جو مدینہ طیبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا۔

(البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج ٥ ص ٥١)

مگر اس کے باوجود صحابہ کرامؓ نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہؓ نے ان کے خلاف ارتداد کی بناء پر نہیں بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیران جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمی بھی اگر

صفحہ ٩١

کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے یا اس کو مانے وہ کافر، خارج از ملت اسلام ہے۔ اس سلسلہ کے مزید بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں۔

”مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔“ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ ”جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول ﷺ فرما چکے ہیں کہ لا نبی بعدی “

(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہؒ، لابن احمد المکیؒ، ج ١ ص ١٦١، مطبوعہ حیدرآباد ١٣٢١ھ)

اللہ وخاتم النبیین“ کا مطلب بیان کرتے ہیں: ”الذی ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة “ ”جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی، اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا۔“

(تفسیر ابن جریر، ج ٢٢ ص ١٦)

امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں یہ عقیدہ تحریر کرتے ہیں: ”اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور خاتم الانبیاء، امام الاتقیاء سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔“

(شرح العقيدة الطحاوية ص ١١٢، ١١٣، ملخص)

وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف اور اللہ عز وجل فرما چکا ہے کہ محمد نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔“

(المحلی، ج ١ ص ٩٣، ٩٤)

عبارت کے ساتھ اس لئے نقل کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت نے اس حوالے کی صحت کو بڑے زور وشور سے چیلنج کیا ہے) ”لو فتح هذا الباب (ای باب انكار كون الاجماع) انجر الى امور شنيعة وهوان قائلا لوقال يجوز ان يبعث رسول بعد نبينا محمد ﷺ

١٥

صفحہ ٩٣

فيبعد التوقف فى تكفيره ومستند استحالة ذالك عند البحث تستمد من الاجماع لامحالة، فان العقل لا يحيله، ومانقل فيه من قوله لانبى بعدى، من قوله تعالى خاتم النبيين،فلا يعجز هذا القائل عن تاويله، فيقول خاتم النبيين اراد به اولوالعزم من الرسل ،فان قالوا النبيين عام، فلايبعد تخصيص العام، وقوله لانبى بعدى لم يرد به الرسول وفرق بين النبى والرسول والنبى اعلى مرتبة من الرسول الى غيرذالك من انواع الهذيان، فهذا مثاله لايمكن ان ندعى استحالته ،من حيث مجرد اللفظ ، فانا فى تاويل ظواهر التشبيه قضينا باحتمالات ابعد من هذه، ولم يكن ذالك مبطلاً للنصوص، ولكن الرد على هذا القائل ان الامة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ ومن قرائن احواله انه افهم عدم نبى بعده ابدا وعدم رسول الله ابدا وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص فمنكر هذا لايكون الا منكر الاجماع (الاقتصاد فى الاعتقاد ص ١٢٣،١٢٢)“

اگر یہ دروازہ (یعنی اجماع کو حجت ماننے سے انکار کا) کھول دیا جائے تو بڑی قبیح باتوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت ممکن ہے تو اس کی تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بحث کے موقع پر جو شخص اس کی تکفیر میں تامل کو ناجائز ثابت کرنا چاہتا ہو اسے لامحالہ اجماع سے مدد لینی پڑے گی۔ کیونکہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ نہیں کرتی اور جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لا نبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا۔ وہ کہے گا کہ خاتم النبیین سے مراد اولوالعزم رسولوں کا خاتم ہونا ہے اور اگر کہا جائے کہ نبیین کا لفظ عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا اس کے لئے کچھ مشکل نہ ہوگا اور لا نبی بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لا رسول بعدی تو نہیں کہا گیا، رسول اور نبی میں فرق ہے اور نبی کا مرتبہ رسول سے بلند تر ہے۔ غرض اس طرح کی بکواس بہت کچھ کی جا سکتی ہے اور محض لفظ کے اعتبار سے ایسی تاویلات کو ہم محال نہیں سمجھتے بلکہ ظواہر تشبیہ کی تاویل میں ہم اس سے بھی زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کر رہا ہے۔ لیکن اس قول کے قائل کی تردید

١٦

میں ہم یہ کہیں گے کہ امت نے بالاتفاق اس لفظ (یعنی لا نبی بع احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضور کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے بعد کبھی ن امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گن کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپ انبیاء کے خاتم ہیں۔۔۔۔۔۔ او تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کو

آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں کہ آپ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی ن علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جا گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے گے۔ گویا کہ وہ آپؐ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔“

کرے، یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کر سک سے مرتبہ نبوت تک پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔۔۔۔۔۔ ای جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم ال آنے والا نہیں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے اور ت کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے۔ اس کے معنی ومفہوم میں ک ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی اور بر بنائے نقل بھی۔“

١٧

صفحہ ٩٣

میں ہم یہ کہیں گے کہ امت نے بالاتفاق اس لفظ (یعنی لا نبی بعدی) اور نبیﷺ کے قرائن احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضور کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول، نیز امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپ انبیاء کے خاتم ہیں۔..... اور ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

(معالم التنزیل ص ١٧٨)

آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپؐ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔“

(ج ٣ ص ٥٤٤، ٥٤٥)

کرے، یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کرسکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعے سے مرتبہ نبوت تک پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں اور ایسا شخص جو نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔..... ایسے سب لوگ کافر اور نبیﷺ کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے۔ اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں۔ بربنائے اجماع بھی اور بربنائے نقل بھی۔“

(شفاء ج ٢ ص ٢٤٧)

١٧

صفحہ ٩٥

٩...... علامہ شہرستانی (متوفی ٥٤٨ھ) اپنی مشہور کتاب الملل والنحل میں لکھتے ہیں: ”اور اسی طرح جو کہے۔......کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسیٰ علیہ السلام کے) تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔“

(ج٣ ص٢٤٩)

١٠...... امام رازیؒ (٥٤٤ تا ٦٠٦ھ) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس سلسلہ بیان میں ”خاتم النبیین“ اس لئے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اسے پورا کر سکتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی مثال اس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔“

(ج ١٣ ص ٢١٢)

١١...... علامہ بیضاویؒ (متوفی ٦٨٥ھ) اپنی تفسیر انوار التنزیل میں لکھتے ہیں: ”یعنی آپؐ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔ جس نے ان کا سلسلہ ختم کر دیا یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کر دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا ختم نبوت میں قادح نہیں ہے کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ہی کے دین پر ہوں گے۔“

(ج٢ ص١٩٦)

١٢...... علامہ حافظ الدین نسفیؒ (متوفی ٧١٠ھ) اپنی تفسیر ”مدارک التنزیل“ میں لکھتے ہیں: ” اور آپؐ خاتم النبیین ہیں۔...... یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ ﷺ پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔“

(ص٤٧١)

١٣...... علامہ علاؤ الدین بغدادیؒ (متوفی ٧٢٥ھ) اپنی تفسیر ”خازن ج٥ ص٢١٨“ میں لکھتے ہیں: ”وخاتم النبیین، یعنی اللہ نے آپؐ پر نبوت ختم کر دی اب نہ آپؐ کے بعد کوئی نبوت ہے نہ آپؐ کے ساتھ کوئی اس میں شریک......وكان اللہ بکل شىء علیما ﴿یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں﴾

١٤...... علامہ ابن کثیرؒ (متوفی ٧٧٤ھ) اپنی مشہور و معروف تصنیف میں لکھتے ہیں: ”پس یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں

١٨

ہے۔ کیونکہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام رسول نہیں ہوتا...... حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس مقام ، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، خواہ وہ کیسے ہی خرق عاد اور کرشمے بنا کر لے آئے...... یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے ج ہو۔“

١٥...... علامہ جلال الدین سیوطیؒ (متوفی ٩١١ھ) تفسیر جلالین بكل شيء عليما، یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرت السلام جب نازل ہوں گے تو آپؐ کی شریعت کے مطابق عمل کر

١٦...... علامہ ابن نجیمؒ (متوفی ٩٧٠ھ) اصول فقہ کی مشہ المسیر، باب الردہ میں لکھتے ہیں: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ کیونکہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دی

١٧...... ملا علی قاریؒ (متوفی ١٠١٤ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھ نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے۔“

١٨...... شیخ اسماعیل حقیؒ (متوفی ١١٣٧ھ) تفسیر روح البیان می لکھتے ہیں: ”عاصم نے لفظ خاتم ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہ مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیں جس سے ٹھپا انبیاء میں سب سے آخر تھے۔ جن کے ذریعہ سے نبیوں کے ”مہر پیغمبران“ کہیں گے۔ یعنی آپؐ سے نبوت کا دروازہ سر کر دیا گیا۔ باقی قاریوں نے اسے ت کے زیر کے ساتھ والے تھے۔ فارسی میں اس کو ”مہر کنندہ پیغمبران“ کہیں گے ہے۔...... اب آپؐ کی امت کے علماء آپؐ سے صرف ولایت میراث آپؐ کی ختمیت کے باعث ختم ہو چکی اور عیسیٰ علیہ ال کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے کیونکہ خاتم النبیین کوئی نبی نہ بنایا جائے گا...... اور عیسیٰ علیہ السلام آپؐ سے

١٩

صفحہ ٩٥

ہے ۔ کیونکہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام ، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا......حضورﷺ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ،مفتری ،دجال ، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے ، خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے......یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو۔“

(تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٣٨١، ٣٨٢)

بکل شیء علیما ، یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو آپؐ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔“ (ص ٣٥٥)

السیر ، باب الردہ میں لکھتے ہیں: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔“

(ص ١٠٢)

نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے۔“

(ص ٢٠٢)

لکھتے ہیں: ”عاصم نے لفظ خاتم ت کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس کے معنی آلہ ختم کے جس سے مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیں جس سے ٹھپا لگایا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ انبیاء میں سب سے آخر تھے۔ جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگا دی گئی ۔ فارسی میں اسے ”مہر پیغمبراں“ کہیں گے۔ یعنی آپؐ سے نبوت کا دروازہ سربمہر کر دیا گیا اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ باقی قاریوں نے اسے ت کے زیر کے ساتھ خاتِم پڑھا ہے۔ یعنی آپؐ مہر کرنے والے تھے۔ فارسی میں اس کو ”مہر کنندہ پیغمبراں“ کہیں گے۔ اس طرح یہ لفظ بھی خاتم کا ہم معنی ہے ...... اب آپؐ کی امت کے علماء آپؐ سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے۔ نبوت کی میراث آپؐ کی ختمیت کے باعث ختم ہو چکی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا آپؐ کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے کیونکہ خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا ...... اور عیسیٰ علیہ السلام آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ

١٩

صفحہ ٩٧

نازل ہوں گے تو شریعت محمدی کے پیروکی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپﷺ ہی کے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے۔ آپ کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ ان کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکام دیں گے۔ بلکہ وہ رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔...... اور اہلسنت والجماعت اس بات کی قائل ہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اور رسول اللہﷺ نے فرما دیا ”لا نبی بعدی“ اب جو کوئی کہے کہ ہمارے نبیؐ کے بعد کوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے نص کا انکار کیا اور اسی طرح اس شخص کی بھی تکفیر کی جائے گی جو اس میں شک کرے۔ کیونکہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کر دیا ہے اور جو شخص محمدﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔“

(جلد٢٢ ص ١٨٨)

ہندوستان کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔“

(جلد ٢ ص ٢٦٣)

کو ’ت‘ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زیر کے ساتھ۔ پہلے قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخر میں آئے۔ دوسری قرأت کے معنی ہیں کہ آپ ان کے لئے مہر کی طرح ہو گئے۔ جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سر بمہر ہو گیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔“

(جلد ٤ ص ٢٧٥)

نسبت عام ہے۔ لہٰذا رسولﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپ خاتم النبیین بھی ہوں اور آپ کے خاتم الانبیاء و رسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپؐ کے متصف ہونے کے بعد اب جن و انس میں سے ہر ایک کے لئے نبوت کا وصف منقطع ہو گیا۔“

(تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٩)

”رسول اللہﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہوا اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس

٢٠

امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

”رسول اللہﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی با صاف بیان کیا۔ سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور ا اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔“

یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک او ملک کے اکابر علماء و فقہاء اور محدثین و مفسرین کی تصریحات ساتھ ان کے سنین ولادت و وفات بھی دے دیئے ہیں۔ جن کہ پہلی صدی سے تیرہویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کر لئے چھوڑ دیا کہ ان کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کر مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔ اس نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ ر قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک النبیین“ کے معنی ”آخری نبی“ ہی سمجھتی رہی ہے۔ حضورؐ کے کے لئے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متف مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخ ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ

اب یہ دیکھنا ہر صاحبِ عقل آدمی کا اپنا کام ہے ثابت ہے۔ جو قرآنی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہ فرما دی ہے۔ جس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے اور جسے صحاب تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں۔ اس ب مدعی کے لئے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش رہ جاتی جاسکتا ہے؟ جنہوں نے بابِ نبوت کے مفتوح ہونے کا دروازے سے ایک صاحب حریمِ نبوت میں داخل بھی ہو بھی لے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں تین باتیں اور قابل غور

٢١

صفحہ ٩٧

امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

(تفسیر روح المعانی ج ٨ ص ٣٨)

”رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا۔ سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔“

(تفسیر روح المعانی ج ٨ ص ٣٩)

یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک اور ترکی سے لے کر یمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء وفقہاء اور محدثین ومفسرین کی تصریحات ہیں۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنین ولادت و وفات بھی دے دیئے ہیں۔ جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کر سکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرہویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی کے اکابر ان میں شامل ہیں۔ اگرچہ ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کر سکتے تھے۔ مگر ہم نے قصداً انہیں اس لئے چھوڑ دیا کہ ان کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کر سکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔ اس لئے ہم نے پہلے کے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ”خاتم النبیین“ کے معنی ”آخری نبی“ ہی سمجھتی رہی ہے۔ حضور کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اب یہ دیکھنا ہر صاحب ع

صفحہ ٩٨

کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے۔ جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایسے ایک نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجہ اولیٰ توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا۔ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلا کھلا اعلان کراتا اور حضورؐ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی امت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضورؐ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے۔ مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا گیا۔ بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسولؐ، دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔

اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے۔ جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان

صفحہ ٩٩

اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اس شخص میں پیدا ہو جایا کرے جس نے عبادت اور عمل صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص

صفحہ ١٠١

تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ جو کتاب آپ لائے تھے۔ اس میں ایک لفظ کی بھی کمی و بیشی آج تک نہیں ہوئی نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ جو ہدایت آپ نے اپنے قول و عمل سے دی۔ اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لئے دوسری ضرورت بھی ختم ہوگئی۔

پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضور کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لئے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔

اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت، تو اگر اس کے لئے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضور کے زمانے میں آپ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہوگئی۔

اب ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے جس کے لئے آپ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے۔ اس لئے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے۔ تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لئے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے؟ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے۔ یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لئے یا اس کی تحریفات سے پاک کرنے کے لئے۔ قرآن اور سنت کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں۔ تو اب اصلاح کے لئے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ انبیاء کی۔

نئی نبوت اب امت کے لئے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے

تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا، فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیں گے وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا۔ بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا جو انہیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنا عقیدہ نہ چھوڑ دے۔ پھر ان کے لئے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے۔ کیونکہ ایک گروہ وہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بناء پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔

٢٤

ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ نبوت امت مسلمہ کے لئے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے ایک دائمی اور عالمگیر برادری بننا ممکن ہوا ہے۔ اس چیز نے سے محفوظ کر دیا ہے۔ جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب اپنا ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور قائل نہ ہو وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہر وقت ہو سکتا ہے۔ سکتی تھی۔ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا۔ کیونکہ ہر نبی کے آ

آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی پوری طرح محفوظ بھی کر دیا جائے تو نبوت کا دروازہ بند ہو جا پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لئے اہل ایمان کی ایک نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہو امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب، بہر حال جو شخ ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے مان والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایما ایک امت نہ بننے دے۔ لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے ہے۔ عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی رہنا چاہئے۔

مسیح موعود کی حقیقت

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عا کہ احادیث میں مسیح موعود کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔ بلکہ ختم نبوت ک آنا بھی برحق۔

اس سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”مسیح مو

٢٥

صفحہ ١٠١

ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لئے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالمگیر برادری بننا ممکن ہوا ہے۔ اس چیز نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے۔ جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہے۔ اب جو شخص بھی محمدﷺ کو اپنا ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہر وقت ہو سکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی۔ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا۔ کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔

آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لئے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کر دی جائے اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کر دیا جائے تو نبوت کا دروازہ بند ہو جانا چاہئے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لئے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلاضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ”ظلی“ ہو یا ”بروزی“ امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے جبکہ نبی کے بھیجے جانے کی

صفحہ ١٠٣

ہیں ۔ ان کا تو انتقال ہو چکا ہے۔ اب جس کے آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ وہ مثیل مسیح ، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مانند ایک مسیح ہے اور وہ فلاں شخص ہے جو آچکا ہے۔ اس کا ماننا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لئے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کئے دیتے ہیں۔ جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان احادیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کر سکتا ہے کہ حضورﷺ نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔

احادیث در باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام

ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لايقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا ومافيها (بخارى ج ١ ص ٤٩٠ كتاب احاديث الانبياء، باب نزول عيسى ابن مريم، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب بيان نزول عيسى، ترمذى ج ٢ ص ٤٧، ابواب الفتن ،باب فى نزول عيسى ، مسند احمد ص ٢٧٢، مرويات ابى هريرة) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر۔ پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے لے“

لے صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہو جائے گی ۔ دین عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کو صلیب پر ”لعنت“ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر خدا کی پوری شریعت رد کر دی۔ حتیٰ کہ خنزیر تک کو حلال کرلیا۔ جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کردیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ نہ میں نے صلیب پر جان دی۔ نہ میں کسی کے گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لئے سؤر حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھہرایا تھا۔ تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ ٢٦

”دوسری روایت میں حرب کی بجائے جزی مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ کے نزدیک خدا کے حضور ) ایک سجدہ کر لینا دنیا و مافیہا س

ينزل عيسى ابن مريم ....... ﴿قیامت قائم نہ ہو السلام﴾ ..... اور اس کے بعد وہی مضمون ہے جو اوپر کی ص ٣٣٦، كتاب المظالم، باب كسر الصليب ، ابن ماج

مريم فيكم وامامكم منكم ( بخارى ج ١ ص عيسى، مسلم ج ١ ص ٨٧، بيان نزول عيسى هريرة) ”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ر تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام ا

فيقتل الخنزير ويمحوا الصليب و لايقبل ويضع الخراج وينزل الروح (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠، بسلسله مرویات التمتع فى الحج والقرآن) ”حضرت ابو ہر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے پھر وہ خنزیر کو قتل کریں نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے ساقط کر دیں گے اور روحا (فج روحاء مدینہ سے ٣٥ کر کے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے۔ یا دونوں کو ان میں سے کون سی بات فرمائی تھی۔ ؎

لے دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے ملت اسلام میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح نہ جنگ آگے احادیث نمبر ٥ ، ١٥ دلالت کر رہی ہیں۔

٢ے یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ا ہو گا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔

صفحہ ١٠٣

”دوسری روایت میں حرب کی بجائے جزیہ کا لفظ ہے۔ یعنی جزیہ ختم کر دیں گے ١ ؎ اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور) ایک سجدہ کر لینا دنیا و مافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا۔“

ينزل عيسى ابن مريم ...... ﴿قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔﴾ .....اور اس کے بعد وہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے۔ (بخاری ج ١ ص ٣٤٦، کتاب المظالم، باب کسر الصلیب ،ابن ماجه ص ٢٩٩،کتاب الفتن باب فتنة الدجال)

مریم فیکم وامامکم منکم ٢ ؎ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠،کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ ،مسلم ج ١ ص ٨٧،بیان نزول عیسیٰ ،مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٢،مرویات ابی ھریرة) ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیسے ہو گے تم جبکہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔“

فيقتل الخنزير ويمحوا الصليب وتجمع له الصلوة ويعطى المال حتى لايقبل ويضع الخراج وينزل الروحاء فيحج منها ،اويعتمر، ويجمعهما “ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠،بسلسله مرویات ابی ھریرة ،مسلم کتاب الحج ،باب جواز التمتع فی الحج والقرآن) ” ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے پھر وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لئے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور روحاء (فج روحاء مدینہ سے ٣٥ میل کے فاصلے پر ایک مقام) کے مقام پر منزل کر کے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے۔ یا دونوں کو جمع کریں گے۔ (راوی کو شک ہے کہ حضور نے ان میں سے کون سی بات فرمائی تھی۔﴾

١ ؎ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ملتوں کے اختلاف ختم ہو کر سب لوگ ایک ملت اسلام میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ اس بات پر آگے احادیث نمبر ٥، ١٥ دلالت کررہی ہیں۔

٢ ؎ یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔

٢٧

صفحہ ١٠٥

يسوون الصفوف اذا قيمت الصلوة فينزل عيسى ابن مريم فامهم فاذا رأه عدو الله يذوب كما يذوب الملح فى الماء فلوتركه لانذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه حربته ( مشكوة ص ٤٦٦، كتاب الفتن ، باب الملاحم، بحواله مسلم ج ٢ ص ٢٩٢) ” حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ (دجال کے خروج کا ذکر کرنے کے بعد حضورؐ نے فرمایا) اسی اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی جا چکی ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہو جائیں گے اور نماز میں مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کا دشمن (یعنی دجال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔ ﴾

عيسى) وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ،بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون ( ابو داؤد ،كتاب الملاحم، باب خروج الدجال، مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧ ، مرويات أبوهريرة) ” ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے اور ان کے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اترنے والے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں۔ رنگ مائل بسرخی وسپیدی ہے۔ دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر وہ انتقال کر جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ ﴾

٢٨

ابن مريم عليه السلام فيقول اميرهم تعال بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مسلم، باب نزول مرویات جابر بن عبداللہ) ” حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے کہ...... پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ مسـ آپ نماز پڑھائیے۔ مگر وہ کہیں گے کہ نہیں۔ تم لوگ خود عزت کا لحاظ رکھتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اس امت کـ

الخطاب ائذن لى فاقتله يارسول اللـ هو فلست صاحبه ،انما صاحبه عيسى ابن مـ لا يكن فليس لك ان تقتل رجلا من اهل العهـ قصة ابن صياد، بحواله شرح السنه بغوى ج ٧ ص صياد )” جابر بن عبداللہؓ (قصہ ابن صیاد کے سلسلہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے اور اگر یہ وہ شخص نہیں سے ایک آدمی کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ﴾

مريم عليه السلام فتقام الصلوة فيقال امامكم فليصل بكم فاذا اصلى صلوٰة ا الكذاب ينماث كما ينماث الملح فى الماء فـ والحجر ينادى ياروح الله هذا اليهود الا قتله (مسند احمد ج ٣ ص ٣٦٨، بسلسله روایات

١؎ یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہ ٢؎ واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صحا اپنی زندگی میں نہ حج کیا نہ عمرہ۔

٢٩

صفحہ ١٠٥

ابن مريم عليه السلام فيقول اميرهم تعال صل فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مسلم، باب نزول عیسی ابن مریم،مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٥، بسلسلہ مرویات جابر بن عبداللہ) " حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ...... پھر عیسی ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ آئیے آپ نماز پڑھائیے ۔ مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ۔ تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو ۔ یہ وہ اس عزت کا لحاظ رکھتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔

الخطاب ائذن لى فاقتله يارسول الله فقال رسول الله ﷺ ان يكن هو فلست صاحبه ،انما صاحبه عيسى ابن مريم عليه الصلوة والسلام ،وان لا يكن فليس لك ان تقتل رجلا من اهل العهد (مشكوة ص ٤٧٩، كتاب الفتن،باب قصة ابن صياد، بحوالہ شرح السنه بغوى ج ٧ ص ٤٥٤ حديث نمبر ٤١٦٩ باب ذكر ابن صياد ) " جابر بن عبداللہؓ (قصہ ابن صیاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطابؓ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال ) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو ۔ بلکہ اسے تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہل عہد (یعنی ذمیوں ) میں سے ایک آدمی کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

مريم عليه السلام فتقام الصلوة فيقال له تقدم ياروح الله فيقول ليتقدم امامكم فليصل بكم فاذا اصلى صلوة الصبح خرجوا اليه، قال فحين يرى الكذاب ينماث كما ينماث الملح فى الماء فيمشى اليه فيقتله ،حتى ان الشجر والحجر ينادى ياروح الله هذا اليهودى ،فلا يترك ممن كان يتبعه احد الا قتله(مسند احمد ج ٣ ص ٣٦٨، بسلسلہ روایات جابر بن عبدالله)"

١؎ یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہئے ۔

٢؎ واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحب کو مثیل مسیح قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا نہ عمرہ ۔

٢٩

صفحہ ١٠٧

﴿ جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا) اس وقت یکا یک عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیں گے۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں! تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہئے۔ وہی نماز پڑھائے۔ پھر صبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا جب وہ کذاب، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجال کے پیروؤں میں سے کوئی نہ بچے گا جو قتل نہ کر دیا جائے۔ ﴾

١٠...... "عن النواس بن سمعان (فى قصة الدجال) فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عندالمنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهر وذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذاطأ طأ راسه قطر واذا رفعه تحد رمنه جمان كاللؤء لوء فلايحل لكافريجد ريح نفس الا مات ونفسه ينتهى الى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لدفيقتله (مسلم ج٢ ص٤٠١، ابوداؤد ج٢ ص١٣٥، كتاب الملاحم، باب خروج الدجال، ترمذى ج٢ ص٤٨، ابواب الفتن ،باب فى فتنه الدجال ،ابن ماجه ص٦٩٧، كتاب الفتن ،باب فتنة الدجال) ﴿ حضرت نواس بن سمعان کلابی (قصہ دجال بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کر رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں، سفید مینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی۔ وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔ ﴾

١؎ واضح رہے کہ لد (Lydda) فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہاں بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔

٣٠

١١...... "عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ امتى فيمكث اربعين ( لا ادرى اربعين يوما اواربعين فيبعث الله عيسى ابن مريم كانه عروة ابن مسعود ف الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة (مسلم ج٢ ﴿ عبداللہ بن عمرو عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال اور چالیس (میں نہیں جانتا چالیس دن، چالیس مہینے یا چالیس سال مریم علیہ السلام کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعودؓ (ایک صحابی) کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔ ﴾

١٢...... "حذيفه بن اسيد الغفارى قال اطلع نتذاكر فقال ماتذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لم عشرايات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع ا عيسى ابن مريم وياجوج وماجوج وثلثة خو وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب واخر تطرد الناس الى محشرهم (مسلم ج٢ ص٣٩٣، ک ابوداؤد ج٢ ص١٠٤، كتاب الملاحم، باب امارت الساعه) ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپ ۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم قیا ہرگز قائم نہ ہوگی۔ جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نشانیاں بتائیں۔ (١) دھواں۔ (٢) دجال۔ (٣) دابتہ الارض۔ ہونا۔ (٥) عیسیٰ ابن مريم علیہ السلام کا نزول۔ (٦) یاجو خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک مشرق میں۔ (٨) دوسرا مغرب میں۔ (١٠) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن محشر کی طرف لے جائے گی۔ ﴾

١؎ یہ حضرت عبداللہ بن عمرو عاصؓ کا اپنا قول ہے۔

٣١

صفحہ ١٠٧

١١...... ”عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال في امتي فيمكث اربعين ( لا ادری اربعين يوما او اربعين شهرا او اربعين عاما ) فيبعث الله عيسى ابن مريم كانه عروة ابن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة (مسلم ج٢ ص٣٠٤، ذکر الدجال) “

﴿ عبداللہ بن عمرو عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال میری امت میں سے نکلے گا اور چالیس ( میں نہیں جانتا چالیس دن، چالیس مہینے یا چالیس سال ) رہے گا۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعودؓ ( ایک صحابی ) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔ ﴾

١٢...... ”حذيفه بن اسيد الغفاريؓ قال اطلع النبي ﷺ علينا ونحن نتذاكر فقال ماتذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر ايات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى ابن مريم وياجوج وماجوج وثلثة خسوف، خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب واخر ذالك نار تخرج من اليمن تطرد الناس الى محشرهم (مسلم ج٢ ص٣٩٣ كتاب الفتن واشراط الساعة ابوداؤد ج٢ ص١٥٤ كتاب الملاحم، باب امارت الساعة) “ ﴿ حذیفہ بن اسید الغفاریؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے ۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہو رہی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی۔ جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں۔ پھر آپؐ نے دس نشانیاں بتائیں۔ (١) دھواں۔ (٢) دجال۔ (٣) دابۃ الارض۔ (٤) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (٥) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول۔ (٦) یاجوج وماجوج۔ (٧) تین بڑے خسف ( زمین میں دھنس جانا ) ایک مشرق میں۔ (٨) دوسرا مغرب میں۔ (٩) تیسرا جزیرۃ العرب میں۔ (١٠) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ ﴾

لے یہ حضرت عبداللہ بن عمرو عاصؓ کا اپنا قول ہے۔

٣١

صفحہ ١٠٩

١٣...... ”عن ثوبان مولی رسول اللهﷺ عن النبیﷺ عصابتان من امتی احرزهما الله تعالىٰ من النار، عصابة تغزوا الهند، وعصابة تكون مع عيسىٰ ابن مریم عليه السلام (نسائی ج٢ ص٥٢،غزوة باب الهند،کتاب الجهاد، مسند احمد ج٥ ص٢٧٨، بسلسله روایات ثوبان)“ نبیﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا۔ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگا۔

١٤...... ”عن مجمع بن جاریه سمعت رسول اللهﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد (مسند احمد ج٤ ص٣٩٠، ترمذی ج٢ ص٤٩، ابواب الفتن) “ مجمع بن جاریہؓ انصاری کہتے ہیں، میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔

١٥...... ”عن ابی امامة الباهلیؓ (فی حدیث طویل فی ذکر الدجال) فبینما امامهم قد تقدم یصلی بهم الصبح اذ نزل عليهم عيسىٰ ابن مريم فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليقدم عيسىٰ فيضع عيسىٰ يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانما لك اقيمت فيصلى بهم امامهم فاذا انصرف قال عيسىٰ عليه السلام افتحوا الباب فيفتح ووراءه الدجال معه سبعون الف يهودی كلهم ذو سيف محلی وساج فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح فى الماء وينطلق هاربا ويقول عيسىٰ ان لى فيك ضربة لن تسبقنى بها فيدركه عند باب لدّ الشرقى فيهزم الله يهود.....وتملاء الارض من المسلم كما يملا الاناء من الماء وتكون الكلمة واحدة فلا يعبد الا الله تعالىٰ (ابن ماجه ص٢٩٨، کتاب الفتن، باب فتنة الدجال) “ ابو امامہ باہلیؓ (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں) کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھیں۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں

٣٢

گے کہ نہیں! تم ہی نماز پڑھائو۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے کھڑی کی گئی ہے۔ پس وہی امام نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو! چنانچہ دروازہ کھولا جائے گا۔ دجال ٧٠ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی دجال کی نظر عیسیٰ علیہ السلام پر پڑے گی وہ اس طرح گھلنے لگے گا کہ جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے اور وہ بھاگ کھڑا ہوگا۔ علیہ السلام کہیں گے کہ میرے پاس تیرے لئے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہیں جا سکتا۔ وہ اسے لد کے مشرقی دروازے پر جالیں گے اور اللہ یہودیوں کو شکست دے گا..... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔ اور کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔

١٦...... ”عن عثمان بن ابی العاصؓ...... .......وينزل عيسىٰ ابن مریم علیه السلام عند صلاة الفجر فيقول له ياروح الله تقدم صل فيقول هذه الامة امراء بعضهم علىٰ بعض اميرهم فيصلى فاذا قضى صلوٰة اخذ عيسىٰ حربته فيذهب نحو الدجال فاذا يراه الدجال ذاب كما يذوب الرصاص فيضع حربته بين ثندوته فيقتله وينهزم اصحابه ليس يومئذ شى يوارى منهم احداً حتىٰ ان الشجرة لتقول يامومن هذا كافر و يقول الحجر لمؤمن يامومن هذا كافر (مسند احمد، طبرانی، مستدرك حاكم ج٤ ص٦٧٥، ٦٧٤، وقال صحيح الاسناد، ولم يخرجاه كذا فى مجمع الزوائد) “ عثمان بن ابی العاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے روح اللہ آپ نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا۔ جب نماز پوری کر چکے گا تو عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف بڑھیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے لگے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کر دیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے۔ مگر کہیں انہیں چھپنے کی جگہ نہ ملے گی۔ حتیٰ کہ درخت پکارے گا کہ اے مومن! یہ کافر یہاں موجود ہے اور پتھر پکاریں گے کہ مومن یہ کافر میرے پیچھے ہے۔ (اسے قتل کر)“

٣٣

صفحہ ١٠٩

گے کہ نہیں! تم ہی نماز پڑھاؤ۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو۔ چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ٧٠ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھلنے لگے گا کہ جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے اور وہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میرے پاس تیرے لئے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جاسکے گا۔ پھر وہ اسے لد کے مشرقی دروازے پر جالیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا ..... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنیا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔﴾

١٦....... ”عن عثمان بن ابی العاصؓ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ...... وينزل عيسىٰ ابن مریم عليه السلام عند صلوۃ الفجر فيقول اميرهم ياروح الله تقدم صل فيقول هذه الامة لامراء بعضهم على بعض فيقدم اميرهم فيصلى فاذا قضى صلوۃ اخذ عيسىٰ حربته فيذهب نحو الدجال فاذا يراه الدجال ذاب كما يذوب الرصاص فيضع حربة بين شندوبته فيقتله وينهزم اصحابه ليس يومئذ شئ يوارى منهم احد احتى ان الشعبدۃ لتقول يامومن ھذا كافر ويقول الحجر لمؤمن هذا كافر (مسند احمد ج٤ص٢١٧، طبرانی ،مستدرك حاكم ج٤ص٦٧٥، ٦٧٤، حدیث نمبر ٨٥٢٠ باب نزول عيسىٰ من السماء)“﴿عثمان بن ابی العاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ..... اور عیسیٰ علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے روح اللہ! آپ نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف بڑھیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا وہ اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے۔ مگر کہیں انہیں چھپنے کی جگہ نہ ملے گی۔ حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن یہ کافر یہاں موجود ہے اور پتھر پکاریں گے کہ مومن یہ کافر یہاں موجود ہے۔﴾

٣٣

صفحہ ١١١

فیهم عیسٰی ابن مریم فیهزمه اللہ وجنوده حتٰی ان جذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مومن هذا کافر یستتر بی فتعال اقتله (مسند احمد مستدرک حاکم ج١ ص٦٧٦ باب صلوٰۃ الکسوف، حدیث نمبر٢١٧٠)“ ﴿سمرہ بن جندبؓ (ایک طویل حدیث میں) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں پھر صبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آ جائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا۔ یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے اور اسے قتل کر﴾

امتی علی الحق ظاهرین علی من ناوأهم حتٰی یأتی امر اللہ تبارک وتعالٰی وینزل عیسٰی بن مریم علیہ السلام (مسند احمد ج٤ ص٤٣٩)“ ﴿عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فیصلہ آ جائے اور عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں۔﴾

عیسٰی علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ اماما عادلا حكما مقسطا “ (مسند احمد ج٦ ص٧٥) ﴿حضرت عائشہؓ (دجال کے قصے میں) روایت کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔﴾

عیسٰی علیہ السلام فیقتله اللہ تعالٰی عند عقبۃ افیق (مسند احمد ج٥ ص٢٢٢، الدر المنثور ج٤ ص٣٠) “ ﴿رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سفینہؓ (دجال کے قصے میں) روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دجال کو افیق کی

٣٤

گھاٹی کے قریب ہلاک کر دے گا۔﴾

بن مریم امامهم فصلی بهم فلما انصرف قا عدواللہ...... ویسلط اللہ علیهم المسلمین فیقتلو لینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمٰن یا مسلم هذا تعالٰی ویظهرالمسلمون فیکسرون الصلیب و الجزیۃ (مستدرک حاکم، مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آ ص٤٥ میں اسے صحیح قرار دیا ہے)“ ﴿حضرت حذیفہ بن یمانؓ (دجال کا ذکر کرتے ہو مسلمان نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو ان کے آ آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیر میرے اور اس دشمن خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ...... اور اللہ مسلط کر دے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گے۔ یہاں تک اے عبداللہ، اے عبدالرحمٰن، اے مسلمان یہ رہا ایک یہودی دے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑ دیں گے۔ دیں گے۔﴾ یہ جملہ ٢١ روایات ہیں جو ١٤ صحابیوں سے صحیح سن کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے علاوہ دوسری بہت لیکن طول کلام سے بچنے کے لئے ہم نے ان سب کو نقل نہیں ک ہیں جو سند کے لحاظ سے زیادہ قوی تھیں۔

١؎ افیق۔ جسے آج کل فیق کہتے ہیں۔ شام اور اس کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل جس میں سے دریائے اردن نکلتا ہے اور اس کے جنوب مغ ایک نشیبی راستہ ہے۔ جو تقریباً ڈیڑھ دو ہزار فٹ تک گہرا ہ جہاں سے دریائے اردن طبریہ میں سے نکلتا ہے۔ اسی پو گھاٹی) کہتے ہیں۔

٣٥

صفحہ ١١١

گھاٹی ١؎ کے قریب ہلاک کر دے گا۔﴾

٢١....... ”عن حذیفۃ ( فی ذکر الدجال ) فلما قاموا لیصلون نزل عیسیٰ بن مریم امامہم فصلی بھم فلما انصرف قال ھکذا خلوا بینی، وبین عدو الله....... ویسلط الله علیھم المسلمین فیقتلونھم حتی ان الشجر و الحجر لینادی یا عبدالله یا عبدالرحمن یا مسلم ھذا الیهودی اقتله فیفنیھم الله تعالیٰ ویظھر المسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر ویضعون الجزیۃ (مستدرک حاکم ، مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری جلد ٦ ص ٤٥ میں اسے صحیح قرار دیا ہے)“

﴿حضرت حذیفہ بن یمانؓ (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں کہ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اس دشمن خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ...... اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گے۔ یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے عبداللہ، اے عبدالرحمن، اے مسلمان یہ رہا ایک یہودی اسے قتل کر۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کر دے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ساقط کر دیں گے۔﴾ یہ جملہ ٢١ روایات ہیں جو ١٤ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے۔ لیکن طول کلام سے بچنے کے لئے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے۔ بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے زیادہ قوی تر ہیں۔

١؎ افیق۔ جسے آج کل فیق کہتے ہیں۔ شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجود ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طبریہ نامی جھیل ہے۔ جس میں سے دریائے اردن نکلتا ہے اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستہ ہے۔ جو تقریباً ڈیڑھ دو ہزار فٹ تک گہرائی میں اتر کر اس مقام پر پہنچتا ہے۔ جہاں سے دریائے اردن طبریہ میں سے نکلتا ہے۔ اسی پہاڑی راستے کو ”عقبہ افیق“ (افیق کی گھاٹی) کہتے ہیں۔

٣٥

صفحہ ١١٣

ان احادیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

جو شخص بھی ان احادیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی ”مسیح موعود“ یا ”مثیل مسیح“ یا ”بروز مسیح“ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نطفے سے پیدا ہو کر یہ دعویٰ کر دے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔ جس کے آنے کی سیدنا محمدﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں ان عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں۔ جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لاحاصل ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں یا زندہ کہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات ہی پاچکے ہیں تو اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھا لانے پر قادر ہے۔

جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں۔ انہیں سورۂ بقرہ کی آیت ٢٥٩ ملاحظہ فرما لینی چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو ١٠٠ برس تک مردہ رکھا اور پھر زندہ کر دیا۔ فاماته الله مائة عام ثم بعثه

وگرنہ یہ بات اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزار ہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے۔ بہر حال اگر کوئی شخص حدیث کو مانتا ہو تو اسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کا قائل ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا اور کسی چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تو لے لیا جائے احادیث سے اور پھر انہی احادیث کی اس تصریح کو نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ آنے والے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے نہ کہ کوئی مثیل مسیح۔

دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعت ٣٦

محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے۔ نہ ان کو تجدید دین کے لئے آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے اور نہ وہ اپنی امت بنائیں گے۔

علماء اسلام نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ علامہ تفتازانی (٧٢٢۔٧٩٢ھ) شرح عقائد نسفی ص١٠ میں لکھتے ہیں: ”ثبت انه قیل قد روی فی الحدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام بعد محمد علیہ السلام لان شریعته قد نسخت فلا یـ الاحکام بل یکون خلیفة رسول الله علیه السلام“ ﴿ نبی ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر کہا جائے کہ آپؐ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر حدیث میں آیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے۔ مگر وہ محمدﷺ کے تابع ہوں گے۔ کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے۔ اس لئے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔ ﴿

اور یہی بات علامہ آلوسیؒ تفسیر روح المعانی ج٢٨ جز نمبر٢٢ ص ٣٢ انه علیه السلام حین ینزل باق علی نبوته السابقة لکنه لا یتعبد بها لنسخها فی حقه وحق غیره وتکلیفه اصلاً وفرعاً فلایکون الیه علیه السلام وحی بل یکون خلیفة لرسول الله ﷺ حكماً من حكام ملته بین امته نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے۔ لیکن وہ اس پر عمل نہیں کریں گے مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے۔ کیونکہ وہ ان کے حق میں اور دوسروں کے حق میں منسوخ ہو چکی ہے اور اب وہ اصول اور فروع میں اس شریعت کے پابند ہوں گے۔ لہٰذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا حق ہوگا بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب اور آپ کی امت میں ملت محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم بن کر فیصلہ کریں گے۔ ﴿

امام رازیؒ اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس ٣٧

صفحہ ١١٣

محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے۔ نہ ان کو تجدید دین کے لئے دنیا میں لایا جائے گا۔ نہ وہ آ کر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائیں گے۔

علماء اسلام نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ علامہ تفتازانی (٧٢٢-٧٩٢ھ) شرح عقائد نسفی ص ١١٠ میں لکھتے ہیں: ”ثبت انـه اخـر الانبياء ...... فان قيل قد روى في الحديث نزول عيسى عليه السلام بعده قلنا نعم لكنه يتابع محمداً عليه السلام لان شريعته قد نسخت فلا يكون اليه وحى ونصب الاحكام بل يكون خليفة رسول الله عليه السلام “ ”یہ ثابت ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔..... اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے۔ مگر وہ محمد ﷺ کے تابع ہوں گے۔ کیونکہ ان کی شریعت تو منسوخ ہو چکی ہے۔ اس لئے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے۔ بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔“

اور یہی بات علامہ آلوسیؒ تفسیر روح المعانی ج٨ جز نمبر ٢٢ ص ٣٢ میں کہتے ہیں: ” ثــم انه عليه السلام حين ينزل باق على نبوته السابقة لم يعزل عنها بحالٍ لكنه لايتعبـدبهـا نسخها فى حقه وحق غيره وتكليفه باحكام هذا الشريعة اصلاً وفرعـاً فـلايـكـون اليه عليه السلام وحى ولا نصب احكام بل يكون خليفة لرسول الله ﷺ حاكماً من حكام ملته بين امته “ ”پھر عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے۔ بہر حال اس سے معزول تو نہ ہو جائیں گے۔ مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے۔ کیونکہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہو چکی ہے اور اب وہ اصول اور فروع میں اس شریعت کی پیروی پر مکلف ہوں گے۔ لہٰذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا۔ بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب اور آپ کی امت میں ملت محمدیہ کے حکام میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔“

امام رازیؒ اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں: ”انتها

٣٧

صفحہ ١١٥

. الانبیاء الی مبعث محمد ﷺ فعند مبعثہ انتہت تلک المدة فلا یبعد ان یصیر (ای عیسیٰ ابن مریم) بعد نزولہ تبعا لمحمد (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٠، جز نمبر ١) ”انبیاء کا دور محمد ﷺ کی بعثت تک تھا۔ جب آپ مبعوث ہو گئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد محمد ﷺ کے تابع ہوں گے ۔“

وہ صرف ایک کار خاص کے لئے بھیجے جائیں گے اور وہ یہ ہوگا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کردیں۔ اس غرض کے لئے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہوگا اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہیں۔ جو رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے ۔ جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہو گا ۔ اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ، اور جو بھی اس وقت مسلمانوں کا امیر ہو گا ۔ اسی کو آگے رکھیں گے ۔ تا کہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی بھی گنجائش نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لئے واپس آئے ہیں۔

ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اس کا کوئی امام دوسرا شخص ہو سکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہوگا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں اور اس بناء پر ان کی آمد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا۔

ان کا آنا بلا تشبیہ اسی نوعیت کا ہوگا جیسے ایک صدر ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ ایک معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایک صدر کے دور میں کسی سابق صدر کے محض آجانے سے آئین نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دو صورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔

١؎ اگر چہ دو روایتوں (نمبر ٥ ، ٢١) میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد پہلی نماز خود پڑھائیں گے۔ لیکن بیشتر اور قوی روایات (نمبر ٣_٧_٩_١٥_١٦) یہی کہتی ہیں کہ وہ نماز میں امامت کرانے سے انکار کریں گے اور جو اس وقت مسلمانوں کا امام ہوگا اسی کو آگے بڑھائیں گے۔ اسی بات کو محدثین اور مفسرین نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔

٣٨

ایک یہ کہ سابق صدر آکر پھر سے فرائض صدارت

دوسرے یہ کہ کوئی شخص اس کی سابق صدارت کا بھی انکار کر دے جواز کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا جو اس کے دور صدارت میں انجام میں کوئی بھی صورت نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیش

یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فرائض نب یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کر دے تو اس سے اللہ ت ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ ان ہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں دیتی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے۔ اس کی یہ آمد ثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لئے نہ ہوگ

اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر ایمان کوئی نہ لائے تو کافر ہ نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتداء سے ان وقت بھی ہو گی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے۔ ب ہی پر ایمان رکھیں گے ۔ جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آئن وقت ہوگی۔

آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری وہ یہ ہے کہ دجال جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لئے ح گا۔ یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو ”مسیح“ کی حیثیت حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ آخر کار ز بابل اور بنا کر زمین میں تتر بتر کر دیا تو انبیاء بنی اسرائیل نے ان کو خوشخب

٣٩

صفحہ ١١٥

ایک یہ کہ سابق صدر آ کر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص اس کی سابق صدارت کا بھی انکار کر دے۔ کیونکہ یہ ان تمام کاموں کے جواز کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا جو اس کے دور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی بھی صورت نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے محض آ جانے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آ کر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فرائض نبوت انجام دینے شروع کر دیں یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کر دے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئین نبوت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ ان دونوں صورتوں کا سد باب کیا ہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی یہ آمد ثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لئے نہ ہوگی۔

اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہوگا۔ ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر ایمان کوئی نہ لائے تو کافر ہو جائے۔ محمد ﷺ خود ان کی اس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتداء سے ان کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اس وقت بھی ہوگی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی سابقہ نبوت ہی پر ایمان رکھیں گے۔ جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے نہ اس وقت ہوگی۔

آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دجال جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا جائے گا۔ یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو ”مسیح“ کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ اس معاملے کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے مذہبی تصورات سے واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے در پے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ آخر کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بنا کر زمین میں تتر بتر کر دیا تو انبیاء بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف

٣٩

صفحہ ١١٧

سے ایک ”مسیح“ آنے والا ہے۔ جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بناء پر یہودی ایک ایسے مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہو۔ لڑ کر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لا کر فلسطین میں جمع کر دے اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کر دے۔ لیکن ان کی ان تو قعات کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کی طرف سے مسیح ہو کر آئے اور کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ہلاک کرنے کے در پے ہو گئے۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود (promised messiah) کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔ ان کا لٹریچر اس آنے والے دور کے سہانے خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔ تلمود اور ربیوں کے ادبیات میں ان کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لئے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا۔ جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا، اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لا کر اس ملک میں پھر سے جمع کر دے گا۔

اب اگر کوئی شخص مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی ﷺ کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ فوراً محسوس کرے گا کہ دجال اکبر کے ظہور کے لئے اسٹیج تیار ہو چکا ہے جو حضور کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا ”مسیح موعود“ بن کر اٹھے گا۔ فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کئے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کر دی گئی ہے۔ اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھنچ کھنچ کر چلے آ رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنا دیا ہے۔ یہودی سرمایے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنس دان اور ماہر فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں۔ ان کی یہ طاقت گرد و پیش کی مسلمان قوموں کے لئے ایک خطرہ عظیم بن چکی ہے۔ اس ریاست کے لیڈروں نے اپنی اس تمنا کو کچھ چھپا کر نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی ”میراث“ کا ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی یہودی سلطنت کا جو نقشہ وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کر رہے ہیں۔ اسے اگلے صفحے پر ملاحظہ فرمائیے۔ ٤٠

نقشہ نمبر ١

خلیج عراق شام لبنان فلسطین شرق اردن ایران سعودی عرب مصر وہ یہودی ریاست جس کا خواب اسرائیل کے ٤١

صفحہ ١١٧

ت دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بناء لڑ کر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو بردست سلطنت قائم کر دے۔ لیکن ان طرف سے مسیح ہو کر آئے اور کوئی لشکر سے انکار کر دیا اور انہیں ہلاک کرنے کے وی اس مسیح موعود (promised ان کو دی گئی تھیں۔ ان کا لٹریچر اس اور ربیوں کے ادبیات میں ان کا جو سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید ر ہوگا۔ جو دریائے نیل سے دریائے ) انہیں واپس دلائے گا، اور دنیا کے ردے گا۔

نگاہ ڈالے اور نبی ﷺ کی پیشین کہ دجال اکبر کے ظہور کے لئے اسٹیج یوں کا ”مسیح موعود“ بن کر اٹھے گا۔ ور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک کے یہودی کھنچ کھنچ کر چلے آ رہے قت بنا دیا ہے۔ یہودی سرمایے کی ز افزوں ترقی دیتے چلے جا رہے یک خطرہ عظیم بن چکی ہے۔ اس ہے کہ وہ اپنی ”میراث“ کا ملک ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کر

نقشہ نمبر ١

عراق شام لبنان بحیرہ روم فلسطین شرق اردن مصر سعودی عرب دریائے نیل بحیرہ احمر وہ یہودی ریاست جس کا خواب اسرائیل کے لیڈر دیکھ رہے ہیں ٤١

صفحہ ١١٨

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پورا شام، لبنان، پورا اردن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ترکی سے اسکندرون، مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز و نجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں۔ جس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ٹھیک اس موقع پر وہ دجال اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا۔ جس کے ظہور کی خبر دینے ہی پر حضور نے اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں پر مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ ایک دن ایک سال کے برابر محسوس ہو گا۔ اسی بناء پر آپ فتنہ دجال سے خود بھی پناہ مانگتے تھے اور اپنی امت کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین فرماتے تھے۔

اس مسیح دجال کے مقابلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اس اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا جسے دو ہزار سال پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا کر ٹھکانے لگا چکے تھے۔ اس حقیقی مسیح کے نزول کی جگہ ہندوستان یا افریقہ یا امریکہ میں نہیں بلکہ دمشق میں ہو گی۔ کیونکہ یہی مقام اس وقت عین محاذ جنگ پر ہو گا۔

شمال مشرق مغرب لبنان دمشق شام یہودی علاقہ جھیل بحیرہ طبریہ دریائے اردن فلسطین کا وہ حصہ جو اردن کے قبضہ میں ہے تل ابیب بحر متوسط أردن خلیج عقبہ مصر پیمانہ بحساب میل ٤٢

اس میں آپ دیکھیں گے کہ اسرائ فاصلے پر ہے۔ پہلے جو احادیث ہم نقل کر آئے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہو گی کہ مسیح دجال ٧٠ ہزار کے سامنے جا پہنچے گا۔ ٹھیک اس نازک موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح دم نازل ہوں گے لے کر نکلیں گے۔

ان کے حملے سے دجال پسپا ہو کر ا طرف پلٹے گا اور وہ اس کا تعاقب کریں گے ہاتھ سے مارا جائے گا۔

(حدیث نمبر ١٥،١٤،١٠) اس کے

یہود کا خاتمہ ہو جائے گا۔

(حدیث نمبر ٢١،١٥،٩) عیسائیت

حقیقت ہو جانے کے بعد ختم ہو جائے گی۔

(حدیث نمبر ٦،٤،٢،١) اور تمام امتی

(حدیث نمبر ١٥،٦) یہ ہے وہ حقیقت

ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی ہمارے ملک میں پھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سب سے مضحکہ انگیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب ہیں۔ انہوں نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ ”اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے

صفحہ ١١٩

اس میں آپ دیکھیں گے کہ اسرائیل کی سرحد سے دمشق بمشکل ٥٠-٦٠ میل کے فاصلے پر ہے۔ پہلے جو احادیث ہم نقل کر آئے ہیں۔ ان کا مضمون اگر آپ کو یاد ہے تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوگی کہ مسیح دجال ٧٠ ہزار یہودیوں کا لشکر لے کر شام میں گھسے گا اور دمشق کے سامنے جا پہنچے گا۔ ٹھیک اس نازک موقع پر دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح دم نازل ہوں گے اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کو اس کے مقابلے پر لے کر نکلیں گے۔

ان کے حملے سے دجال پسپا ہو کر افیق کی گھاٹی (ملاحظہ ہو حدیث نمبر ٢١) اسرائیل کی طرف پلٹے گا اور وہ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخر کار لد کے ہوائے اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔

(حدیث نمبر ١٥،١٤،١٠) اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کئے جائیں گے اور ملت یہود کا خاتمہ ہو جائے گا۔

(حدیث نمبر ٢١،١٥،٩) عیسائیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے اظہار حقیقت ہو جانے کے بعد ختم ہو جائے گی۔

(حدیث نمبر ٢١،٦،٤) اور تمام ملتیں ایک ہی ملت مسلمہ میں ضم ہو جائیں گی۔

(حدیث نمبر ١٥،٦) یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ کے بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ ”مسیح موعود“ کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک میں پھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اس جعل سازی کا سب سے مضحکہ انگیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بننے کے لئے یہ دلچسپ تاویل فرمائی ہے۔

”اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش

٤٣

صفحہ ١٢٠

پائی ...... پھر ...... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ ہوگئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا ، اور آخر کئی مہینے کے بعد ، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں ، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

یعنی پہلے مریم بنے۔ پھر خود ہی حاملہ ہوئے۔ پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریم بن کر تولد ہو گئے۔ اس کے بعد یہ مشکل پیش آئی کہ عیسیٰ ابن مریم کا نزول تو احادیث کی رو سے دمشق میں ہونا تھا جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور و معروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لطف تاویل سے یوں رفع کی گئی :۔ ”واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٥)

”یہ قصبہ قادیان بہ وجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)

پھر ایک اور الجھن یہ باقی رہ گئی کہ احادیث کی رو سے ابن مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترنا تھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آکر اپنا منارہ خود بنوالیا۔ اب اسے کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے منارہ وہاں ابن مریم کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہئے تھا اور یہاں وہ مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیا گیا۔

ان تاویلات کو جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ جھوٹے بہروپ کا صریح ارتکاب ہے۔ جو علی الاعلان کیا گیا ہے۔

٤٤

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

فتنۂ عظیم

حضرت مولانا سید ابو

PDF 122

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ

فتنۂ عظیم

حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

صفحہ ١٢٣

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان و ہندوستان کی تشکیل سے پہلے جب انگریز یہاں حکومت کرتے تھے۔ اس وقت باشندگان ملک حکمران گروہ کے لئے اجنبی تھے اور حکمران گروہ باشندگان ملک سے بیگانہ تھا۔ ان کے لئے ایک دوسرے کی نفسیات اور جذبات و احساسات کو سمجھنا مشکل تھا۔ حکمران عام باشندوں سے الگ اپنی کوٹھیوں اور کلبوں کی دنیا میں رہتے تھے۔ ان کے پاس ملک کے حالات کو جاننے کا کوئی ذریعہ سی آئی ڈی کی رپورٹوں اور پائونیز اور اسٹیٹسمین جیسے اخباروں کے سوا نہ تھا۔ ان دونوں ذرائع سے گزر کر باشندوں کے احساسات کو سمجھنے کے لئے اگر کوئی پیمانہ ان کے پاس تھا تو صرف یہ کہ کون سا مسئلہ ایسا ہے۔ جس پر ملک میں عام ایجی ٹیشن برپا ہوتا ہے۔ جلسے اور جلوس اور ہنگامے رونما ہوتے ہیں۔ لاٹھی چارج اور فائرنگ کی نوبت آتی ہے۔ اس طرح صرف ایک عام ہیجان ہی سے انہیں اس بات کا ثبوت ملا کرتا تھا کہ فلاں مطالبے کے پیچھے عوام کی بہت بڑی تعداد ہے اور اسی بنیاد پر نہ کہ مطالبے کے نفس مضمون اور ان کی صحت و معقولیت کی بنیاد پر وہ اسے وزن دیا کرتے تھے۔

پاکستان قائم ہونے کے بعد جب حکومت کا انتظام ہماری اپنی قوم کے افراد کو سونپا گیا تو ہمیں بجا طور پر یہ توقع تھی کہ ان حکمرانوں کی روش سابق حکمرانوں کی روش سے مختلف ہوگی۔ وہ اپنی قوم کے جذبات و احساسات کو براہ راست خود سمجھیں گے اور محسوس کریں گے۔ اس کے مطالبات کو ایجی ٹیشن کے پیمانے سے نہیں بلکہ ان کی عقلی، علمی اور نفسیاتی بنیادوں کے لحاظ سے پرکھیں گے۔ جو بات صحیح ہوگی۔ اسے خود مانیں گے خواہ اس کی پشت پر کوئی ایجی ٹیشن ہو یا نہ ہو اور اپنی قوم کے مزاج کے خلاف کوئی چیز طاقت کے بل پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں گے۔ مگر بڑے درد کے ساتھ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ آج ہمارے اپنے بھائی بھی حکومت کی کرسیوں پر بیٹھ کر وہی روش اختیار کر رہے ہیں جو کل اجنبی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی تھی۔ وہی ملک کے باشندوں سے الگ تھلگ رہنا، وہی سی آئی ڈی کی رپورٹوں اور ڈان اور سول جیسے اخباروں پر معلومات کا انحصار، وہی مطالبات کو ان کی ذاتی قدر کی بجائے ایجی ٹیشن کے پیمانوں سے ماپنا اور وہی قوم کے خلاف مزاج چیزوں کو اس کے حلق سے زبردستی اتروانے کی کوششیں۔ ان حرکات میں سے کسی میں بھی

٢

کل کی بہ نسبت آج کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ فرق اگر ہے تو بس روش فطری تھی اور قومی حکمرانوں کے لئے بالکل غیر فطری۔ والوں نے سراسر مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ایسا بنا لیا ہے۔ اس کی افسوسناک مثالیں آئے روز سامنے آتی رہتی طرز عمل ہے جو قادیانیوں کے معاملے میں ہمارے حکمرانوں پنجاب میں حکومت نے جو رویہ اس معاملے میں اختیار کیا ۔ سے اس پورے قضیے کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے ہمارا یہ انداز قادیانیوں کے بارے میں نہ تو مسلمانوں کے عام جذبات اسباب سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں جو ان جذبات کی تہہ میں حکمرانوں کی طرح محض سطح پر چیزیں دیکھ کر سارے معاملے اور سراسر غلط اندازوں پر ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جن کے بجائے اور زیادہ بگڑتا چلا جائے گا۔

اولین چیز جس سے کسی مسلمان کو ناواقف نہ ہو ایسے مسئلے میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے متصادم ہوتی کے تیرہ سو سال کے اجماع سے ثابت ہے اور جس کے مخا میں آج تک کسی انحراف کو برداشت نہیں کیا ہے۔

قرنِ اول سے تمام مسلمان آج تک اس بات ہیں۔ ان پر سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے اور ان کے بعد کوئی پوری تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے درمیان کسی نئی جہاں کہیں اس فتنے نے سر اٹھایا۔ سارے مسلمانوں نے میں مسلمان پچاس برس تک اس کڑوے گھونٹ کو صرف غیر مسلم حکومت ان پر مسلط تھی۔ جس کا آئین کسی نئی نبوت

اس بات سے بھی کوئی مسلمان ناواقف نہیں جانے کے بعد یہ ممکن نہیں رہتا کہ اس کے بارے میں

٣

صفحہ ١٢٣

کل کی بہ نسبت آج کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ فرق اگر ہے تو بس یہ کہ اجنبی حکمرانوں کے لئے یہ روش فطری تھی اور قومی حکمرانوں کے لئے بالکل غیر فطری۔ باہر والے مجبوراً ایسے تھے۔ مگر گھر والوں نے سراسر مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ایسا بنالیا ہے۔

اس کی افسوسناک مثالیں آئے روز سامنے آتی رہتی ہیں اور اسی کی ایک تازہ مثال وہ طرز عمل ہے جو قادیانیوں کے معاملے میں ہمارے حکمرانوں سے ظہور میں آ رہا ہے۔ کراچی اور پنجاب میں حکومت نے جو رویہ اس معاملے میں اختیار کیا ہے اور اب حکمران گروہ جس نظریے سے اس پورے قضیے کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے ہمارا یہ اندازہ ہے کہ ان لوگوں کو قادیانیت اور قادیانیوں کے بارے میں نہ تو مسلمانوں کے عام جذبات کا علم ہے اور نہ یہ ان گہرے بنیادی اسباب سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں جو ان جذبات کی تہ میں کارفرما ہیں۔ انہوں نے بالکل اجنبی حکمرانوں کی طرح محض سطح پر چیزیں دیکھ کر سارے معاملے کے متعلق کچھ قیاسات قائم کئے ہیں اور سراسر غلط اندازوں پر ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جن سے سخت اندیشہ ہے کہ معاملہ سلجھنے کے بجائے اور زیادہ بگڑتا چلا جائے گا۔

اولین چیز جس سے کسی مسلمان کو ناواقف نہ ہونا چاہئے تھا۔ یہ ہے کہ قادیانیت ایک ایسے مسئلے میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے متصادم ہوتی ہے جو قرآن، حدیث اور پوری امت کے تیرہ سو سال کے اجماع سے ثابت ہے اور جس کے معاملے میں مسلمانوں نے اپنی پچھلی تاریخ میں آج تک کسی انحراف کو برداشت نہیں کیا ہے۔

قرن اول سے تمام مسلمان آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان پر سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے اور ان کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے درمیان کسی نئی نبوت کے دعوے کو کبھی نہیں چلنے دیا اور جہاں کہیں اس فتنے نے سر اٹھایا۔ سارے مسلمانوں نے بالاتفاق اس کا سر کچل دیا۔ مگر ہندوستان میں مسلمان پچاس برس تک اس کڑوے گھونٹ کو صرف اس مجبوری سے نگلتے رہے کہ یہاں ایک غیر مسلم حکومت ان پر مسلط تھی۔ جس کا آئین کسی نئی نبوت کے دعوے میں مانع نہ تھا۔

اس بات سے بھی کوئی مسلمان ناواقف نہیں رہ سکتا کہ ایک دعوائے نبوت پیش ہو جانے کے بعد یہ ممکن نہیں رہتا کہ اس کے بارے میں غیر جانبداری یا تغافل کی روش اختیار کی

٣

صفحہ ١٢٤

جاسکے۔ اس کے بعد تو ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا اسے مانئے یا جھوٹا قرار دیجئے۔ جو اس کو مانے وہ لامحالہ تکذیب کرنے والوں کے نزدیک کافر ہوگا۔ کیونکہ جھوٹے نبی کو نبی ماننا کفر ہے اور جو اس کو نہ مانے وہ بلا ریب ماننے والوں کے نزدیک کافر ہوگا۔ کیونکہ سچے نبی کو جھوٹا کہنا کفر ہے۔ اس لئے قادیانیت نے نہ صرف یہ کہ ایسا مسئلہ مسلمانوں کے درمیان پیدا کر دیا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ بلکہ اس مسئلے نے عملاً ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی جس کے ہوتے ہوئے یہ دونوں گروہ کسی طرح بھی ایک امت میں جمع نہ ہو سکتے تھے۔ مزید برآں جب کہ قرآن، حدیث اور اجماع امت کی بناء پر عام مسلمانوں کے نزدیک باب نبوت قطعی بند تھا۔ تو یہ بات بالکل ناگزیر تھی کہ ایک گروہ قلیل کے سوا مسلمانوں کا سواد اعظم مرزا قادیانی کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دے اور اس بناء پر سواد اعظم اس گروہ قلیل کے نزدیک کافر ہو اور وہ گروہ قلیل سواد اعظم کے نزدیک کافر ٹھہرے۔

یہ کڑوا گھونٹ مسلمان ہرگز حلق میں نہ اتارتے اگر اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوتے۔ لیکن اختیارات ایک ایسی قوم کے ہاتھ میں تھے جس کو مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے یا ان کی قومی سالمیت سے کوئی دلچسپی کیا معنے ، ہمدردی تک نہ تھی۔ اس لئے ایک امت کے اندر دوسری امت بنتی بھی رہی اور پھر اسی امت میں شامل بھی رہی جس سے کاٹ کاٹ کر وہ افراد کو اپنے ساتھ ملا رہی تھی۔ انگریز کے لئے وہ سب لوگ یکساں تھے جن کے نام مسلمانوں کے طریق تسمیہ پر رکھے جاتے ہوں۔ ان کو اس سے کچھ بحث نہ تھی کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے لحاظ سے اب یہ نوخیز امت، امت مسلمہ میں شامل رہ سکتی ہے یا نہیں۔ وہ برابر اسی بات پر مصر رہے کہ دونوں کو ایک ہی امت شمار کیا جائے اور مسلمانوں میں یہ طاقت نہ تھی کہ ان کے جابر آقا جس عنصر کو زبردستی ان کی امت میں ٹھونس رہے ہیں۔ ان کو اپنے سے الگ کر سکیں۔ اس صورتحال سے ایک دینی مسئلے کے علاوہ طرح طرح کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسئلے پیدا ہوتے چلے گئے۔ جن کی تلخی چالیس پینتالیس سال میں بڑھتے بڑھتے مسلمانوں کے لئے ایک مستقل درد سر بن گئی۔

قادیانیوں اور عام مسلمانوں کو نئی نبوت کی جس چھری نے ایک دوسرے سے کاٹا تھا۔ وہ سینکڑوں اور ہزاروں خاندانوں کو اس طرح کاٹتی چلی گئی کہ بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے، شوہر بیوی سے کٹ کر الگ ہو گئے اور ان کے درمیان توارث، مناکحت، معاشرتی میل جول حتیٰ

٤

صفحہ ١٢٥

کہ ایک دوسرے کے جنازوں کی شرکت تک کے تعلقات منقطع ہونے لگے۔

پھر چونکہ قادیانیوں کی نئی امت مسلمانوں کے درمیان ان کی عام نفرت مزاحمت اور مخالفت کے ماحول میں بن رہی تھی۔ اس لئے انہوں نے اپنے حالات کے قدرتی تقاضوں سے اپنی مضبوط جتھہ بندی شروع کر دی جس کی بنیاد قادیانی اور غیر قادیانی کی تمیز اور مسلمانوں کے مقابلہ میں قادیانیوں کی باہمی معاونت پر قائم تھی۔ انہوں نے ملازمتوں میں ایک دوسرے کی مدد سے گھسنا اور عام مسلمانوں پر اپنے آدمیوں کو ترجیح دینا اور مل جل کر اپنے آدمیوں کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ انہوں نے جہاں کہیں بھی انہیں کچھ سرکاری اثرات حاصل ہوئے مسلمانوں کو دبانا اور اپنے گروہ کی طاقت کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ انہوں نے زمینداری میں ، تجارت میں، صنعت و حرفت میں، ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف جتھہ بندی کر لی۔ اس طرح ان کے اور مسلمانوں کے درمیان منافرت کے وہ تمام اسباب پیدا ہوتے چلے گئے۔ جنہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت کو بڑھا کر آخر کار اتنا تلخ کر دیا کہ تقسیم ملک تک نوبت پہنچ گئی۔

یہ صورت حال کسی ایک جگہ یا ایک حصہ آبادی تک محدود نہ تھی۔ بلکہ وسیع پیمانے پر سارے ملک میں موجود تھی۔ ہزار ہا خاندان اس سے متاثر تھے اور لاکھوں آدمیوں کو اس کی تلخیوں میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ملا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کے اختیارات آئے۔ اگر وہ عام مسلمانوں سے الگ تھلگ اور اسلامی عقائد سے بے پروا اور اپنی قوم کے احساسات سے نا آشنا نہ ہوتے تو وہ اس مسئلہ کو ان مسائل کی فہرست میں رکھتے جنہیں اولین فرصت میں حل کرنا چاہئے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے وہ بالکل اپنے انگریز پیش روؤں کے جانشین بن کر رہے اور انہوں نے نہ صرف سابق حالت کو برقرار رکھا بلکہ ان اسباب میں اور زیادہ اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ جو مسلمانوں کو پہلے ہی قادیانیوں کے خلاف کافی غضبناک کر چکے تھے۔

انہوں نے پاکستان میں ربوہ (اور اب اس کا نام چناب نگر ہے۔ مرتب) کے نام سے ایک دوسرا قادیان بنوا دیا اور قادیانیوں کو وہاں وہ سہولتیں فراہم کر دیں جو مسلمانوں کی کسی جماعت اور کسی ادارے کو فراہم نہیں کی گئیں۔ آج اس ربوہ سے جھنگ، لائل پور، گوجرانوالہ اور سرگودھا کے ملحق علاقے اس قدر تنگ ہیں کہ گویا ایک خنجر ان کے سینے میں پیوست کیا گیا ہے۔ وہاں وہ تمام

٥

صفحہ ١٢٧

کیا ہے؟ نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھتے ہیں پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ جواب: ...... کیا ”محمد“ نام محمد“ کے نام کے سا

سوال: حضور اکرم صلی اللہ علیہ و مبارک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی اللہ لکھنا چاہئے، صرف ”ص“ کا اشارہ اور علا لگانا درست نہیں ہے۔ اگر لفظاً بھی کسی استعمال کریں تو اس پر درود شریف لکھیں اور نہیں، کیونکہ اب یہ نام

جانے کا سبب ہے۔ بعض غیر مردوں سے ما کہ دل میں طمع ولا لچ پیدا ہو جس سے ممانعت آئی اس لئے اس امت میں بھی زمین میں ہوئے اور پتھروں کی بارش کے جب ایک صحابیؓ مرد نے پوچھا ب ہوگا؟ آپ علیہ الصلوٰۃ ل گانے والی عورتوں اور کثرت سے شرابیں پی کے ساتھ ہو یا بغیر گانے کے لئے بھی

مسائل غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ فعل حرام اور غیر مناسب حرکت ہے۔ چلنا میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ :”گانے کی محبت دل میں اس طرح پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا (مشکوۃ ص: ٤١١) حضرت عمران بن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ میں اس امت میں بھی زمین میں ہوئے اور پتھروں کی بارش کے سلام کرنا یا محبت کا اظہا دور رہنا چاہئے، ہوشیار رہنا چا چھیننے کی ایک شرم و حیاء جو ایک ہیں بلکہ بے شرمی

حالات رفتہ رفتہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں جو کبھی قادیان میں تھے اور ہم نے اس علاقے کے مسلمانوں میں وہی احساسات پائے ہیں جو فلسطین میں وطن یہود کی بنیاد پڑتے وقت ملحقہ عرب آبادی میں پائے جاتے تھے۔

انہوں (مسلم لیگ) نے فوج میں اور سول محکموں میں قادیانیوں کو پہلے سے زیادہ ذمہ دار عہدوں پر فائز کیا اور پھر ان لوگوں نے پوری جتھہ بندی کے ساتھ مزید قادیانیوں کو ملازمتوں میں داخل کرنا اور عام مسلمانوں کو دھکیل دھکیل کر قادیانیوں کی ترقی کے لئے راستہ صاف کرنا شروع کر دیا۔

انہوں (مسلم لیگ) نے انتخابات میں بے تکلف اپنی پارٹی کے ٹکٹ قادیانیوں کو دیئے جس کے صاف معنی یہ تھے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے جو ملک کی حکمران بھی ہے۔ قادیانیوں کو نہ صرف مسلمان بلکہ مسلمانوں کی نمائندگی کا حقدار تک تسلیم کر لیا۔ ان سے زیادہ سخت غلطی انہوں نے یہ کی کہ سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کا ذمہ دارانہ عہدہ سونپ دیا۔ یہ صاحب ملازمتوں میں قادیانیوں کو گھسانے اور اپنی سرکاری پوزیشن کو قادیانیت کی تبلیغ میں استعمال کرنے کے لئے پہلے ہی سخت بدنام تھے۔ اب اس پوزیشن پر آ کر ان کی ذات قادیانیت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بن گئی اور اس پر مزید ایک فتنہ کا اضافہ یوں ہوا کہ جب وزیر خارجہ پاکستان ہونے کی حیثیت میں ان کو متعدد مسلمان ممالک کی وکالت و حمایت کے مواقع ملے۔ تو اس سے قادیانیوں نے پورا فائدہ اٹھا کر باہر کے مسلمان ملکوں میں بھی اپنی تبلیغ کا دائرہ کار وسیع کرنا شروع کر دیا۔ اس چیز کی وجہ سے وہ آگ جو قادیانیت کے خلاف پاکستان میں بھڑک رہی تھی۔ بیرون ملک میں بھی بھڑک اٹھی اور متعدد مسلمان ملکوں کی طرف سے یہ شکایات آنے لگیں کہ تمہاری حکومت کی یہ غلطی اب ہم پر بھی اس فتنے کو مسلط کر رہی ہے۔ مفتی مصر کا تازہ فتویٰ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد جب ہمارے حکمرانوں کے سامنے ان کی حماقتوں کے مجموعی نتائج ایک عام ہیجان کی شکل میں نمودار ہو گئے تو اب بھی وہ اس ہیجان کو اور اس کے حقیقی اسباب کو سمجھنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں اور اس کے متعلق ایسے غلط اندازے کر رہے ہیں۔ جو کسی ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کے نہیں۔ بلکہ نادان بچوں ہی کے شایان شان ہو سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی

٦

سطحی واقعہ ہے جو عارضی طور پر محض احرار کے اکسانے مقامات پر دفعہ ١٤٤ لگا کر اور کچھ پکڑ دھکڑ اور لاٹھی چارج اتفاق رائے کو ختم کر سکیں گے جو قادیانیوں کے معاملے رہی ہیں کہ یہ حضرات اس مسئلے کی تاریخ سے، اس کے سے اور عام مسلمانوں کے تلخ احساسات کی گہرائیوں سے ان کی معلومات کا انحصار سرسری آئی ڈی کی رپورٹوں او پر ہے۔ ایسے لوگ اگر اسی سرمایہ علم و فہم کے ساتھ اس مل جانتا ہے کہ کب کسی صدمہ عظیم سے ہم کو دو چار ہونا پڑے

بلاشبہ کوئی معقول آدمی بھی یہ پسند نہ کرے گا فساد انگیز طریقوں سے حل کیا جائے۔ ایسے طریقے اگر ہے کہ ان کو روکے اور ہر امن پسند شہری کا فرض ہے کہ ایک جمہوری حکومت کے فرائض صرف پولیس ڈیوٹی تک تو ہے کہ اجتماعی زندگی میں اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہو تو فساد بننے سے پہلے اس کا علاج کرے۔ آخر یہ کسی عقلم معاشرے میں نصف صدی سے ایک سخت پیچیدگی پی بنیادوں میں ہر وقت ایک غیر محسوس اضطراب برپا رہتا اور صرف وقتاً فوقتاً ان کے پیدا کردہ ابال کو اوپر سے لا جاتا رہے؟ اس تدبیر سے ممکن ہے کہ تھوڑی دیر کے لے ہوگا کہ اس کے حقیقی اسباب اندر ہی اندر گھٹ کر ایک آ روک دینا کسی انسانی طاقت کے بس میں نہ ہوگا۔

ایک امت کے اندر دوسری امت کا وجود ب کسی انسان کے معدے میں مکھی کو زبردستی نہیں روکا جا دوسری امت کے بننے اور پھیلنے کو برداشت نہیں کر سکتی۔ گی اور جتنی جلدی یہ ختم ہوا اتنا ہی پاکستان کے حق میں ب

٧

صفحہ ١٢٧

سطحی واقعہ ہے جو عارضی طور پر محض احرار کے اکسانے سے رونما ہو گیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس چند مقامات پر دفعہ ١٤٤ لگا کر اور کچھ پکڑ دھکڑ اور لاٹھی چارج کر کے اور کچھ خطیبوں کو ڈرا دھمکا کر وہ اس اتفاق رائے کو ختم کر سکیں گے جو قادیانیوں کے معاملے میں پایا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ یہ حضرات اس مسئلے کی تاریخ سے، اس کے دینی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی پہلوؤں سے اور عام مسلمانوں کے تلخ احساسات کی گہرائیوں سے ناواقف ہیں اور اجنبی حکمرانوں کی طرح ان کی معلومات کا انحصار سراسر سی آئی ڈی کی رپورٹوں اور ڈان اور سول جیسے اخبارات کے کالموں پر ہے۔ ایسے لوگ اگر اسی سرمایہ علم وفہم کے ساتھ اس ملک کا نظم ونسق چلاتے رہے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کب کسی صدمہ عظیم سے ہم کو دو چار ہونا پڑے گا۔

بلاشبہ کوئی معقول آدمی بھی یہ پسند نہ کرے گا کہ اس مسئلہ کو یا کسی دوسرے اجتماعی مسئلے کو فساد انگیز طریقوں سے حل کیا جائے۔ ایسے طریقے اگر اختیار کئے جائیں تو یقیناً ہر حکومت کا فرض ہے کہ ان کو روکے اور ہر امن پسند شہری کا فرض ہے کہ ان کو روکنے میں حکومت کی مدد کرے۔ مگر ایک جمہوری حکومت کے فرائض صرف پولیس ڈیوٹی تک محدود نہ ہونے چاہئیں۔ اس کا یہ فرض بھی تو ہے کہ اجتماعی زندگی میں اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہو تو اسے اور اس کے اسباب کو سمجھے اور موجب فساد بننے سے پہلے اس کا علاج کرے۔ آخر یہ کیسی عقلمند حکومت کا کام ہو سکتا ہے کہ جو اسباب معاشرے میں نصف صدی سے ایک سخت پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں اور جن سے معاشرے کی بنیادوں میں ہر وقت ایک غیر محسوس اضطراب برپا رہتا ہے۔ ان کو جوں کا توں قائم رہنے دیا جائے اور صرف وقتاً فوقتاً ان کے پیدا کردہ ابال کو اوپر سے لاٹھیاں برسا کر اور زباں بندیاں کر کے روکا جاتا رہے؟ اس تدبیر سے ممکن ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے فساد رک جائے۔ مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے حقیقی اسباب اندر ہی اندر گھٹ کر ایک آتش فشاں پیدا کر دیں گے۔ جسے پھٹنے سے روک دینا کسی انسانی طاقت کے بس میں نہ ہوگا۔

ایک امت کے اندر دوسری امت کا وجود بہر حال ایک غیر فطری چیز ہے۔ جس طرح کسی انسان کے معدے میں مکھی کو زبردستی نہیں روکا جا سکتا۔ اسی طرح کوئی امت بھی اپنے اندر دوسری امت کے بننے اور پھیلنے کو برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ غیر فطری حالت بہرحال ختم کرنی پڑے گی اور جتنی جلدی یہ ختم ہو اتنا ہی پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا۔

٧

صفحہ ١٢٨

جہاں تک حکومت اور اس کے نظم و نسق کو چلانے والے اصل ذمہ دار ادارے (یعنی مرکزی پارلیمنٹ اور دستور ساز اسمبلی) کا تعلق ہے۔ ہماری قطعی رائے یہ ہے کہ اسے ایک قومی حکومت اور قومی پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے اپنے فرض کو پہچاننا چاہئے اور اس مسئلے کو جلدی سے جلدی حل کر کے اس اضطراب کو ختم کر دینا چاہئے جو ملک میں حقیقی اسباب کی بناء پر پیدا ہوا ہے۔ لیکن ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر وہ اپنا فرض نہ پہچانے تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟

اس سوال کا جواب میرے نزدیک وہی ہے جو جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ اس سے پہلے دے چکی ہے اور وہ یہ کہ یہاں ایک قادیانی فتنہ ہی موجود نہیں ہے۔ بے شمار فتنے ہیں۔ جو ایک صحیح اسلامی حکومت کے موجود نہ ہونے اور قوانین شرعیہ کے معطل رہنے کی وجہ سے پرورش پا رہے ہیں۔ اس حالت میں یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے کہ اس ضمنی اور طفیلی فتنوں کے خلاف الگ الگ محاذ آئے دن قائم کئے جاتے رہیں اور اصل بنائے فساد کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جڑ کی اصلاح پر اپنی تمام کوششیں مرکوز کر دیں۔ یعنی ساری قوم اپنی متحدہ طاقت کے دباؤ سے یہاں ایک خالص اسلامی دستور بنوائے اور پھر اس دستور کے مطابق حکومت کا انتظام چلانے کے لئے صالح لوگوں کو منتخب کرے۔ اس کے بعد بیک وقت سارے ہی فتنوں کا سد باب ہو جائے گا۔ جن میں سے ایک یہ قادیانی فتنہ بھی ہے۔ ورنہ ہمیں یہ سخت اندیشہ ہے کہ اگر مختلف چھوٹے چھوٹے مسائل کو چھیڑ کر توجہات اور کوششوں کو منتشر کر دیا گیا تو نہ اصل مسئلہ ہی حل ہو سکے گا اور نہ اس کے شاخسانوں ہی میں سے کسی کی قطع و برید میں کامیابی ہوگی۔

اس سلسلے میں ہمیں ایک اور بات بھی اپنے برادران دین سے کہنی ہے وہ یہ کہ آپ خواہ کوئی تحریک کسی مقصد کے لئے بھی چلائیں۔ بہر حال اس کے چلانے میں نظم وضبط کی سختی کے ساتھ پابندی کریں اور کبھی اشتعال میں آ کر بے قابو نہ ہوں۔ آگ کی موجودگی تو بلاشبہ کسی نہ کسی درجے میں ضروری ہے۔ مگر آگ وہی کام کی ہے جو حد میں رہے اور حسب ضرورت بھڑکائی اور بجھائی جا سکے ورنہ بے قابو آگ تو گھر ہی جلا سکتی ہے۔ کھانا نہیں پکا سکتی۔

☆ ............ ☆ ............ ☆ ٨

خاتم النبیین

مرزائیت

اور

اسلام

حضرت مولانا محمد عبدال

PDF 130

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی

یہاں اگر ضرورت سمجھی جائے تو کوئی مختصر عبارت لکھی جائے

مرزائیت

اور

اسلام

حضرت مولانا محمد عبداللہ درپڑی

صفحہ ١٣٠

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ضروری گزارش

اس رسالہ کا مضمون قریباً مارچ ١٩٥٣ء کا لکھا ہوا ہے۔ جبکہ تحریک ”راست اقدام“ زوروں پر تھی۔ چنانچہ قارئین کرام کو اس مضمون کے پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا۔ انشاء اللہ چند در چند عوارض کے باعث اس کی اشاعت میں تاخیر ہوتی گئی۔ چونکہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے۔ اس کی اہمیت اور افادیت کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اس لئے اب بھی اس کی اشاعت اتنی ہی ضروری ہے، جتنی کہ پہلے تھی۔

اس مختصر مضمون میں مسئلہ ختم نبوت اور لفظ ”خاتم النبیین“ کے معنے پر بھی معقول بحث کی گئی ہے۔ اخیر میں مسلمان اور مرتد کی تعریف اور راعی و رعیت کے متعلقہ چند مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مرزائیت کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مطالبات کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ مضمون انشاء اللہ مشعل راہ ہوگا۔ واللہ الموفق ! عبداللہ امرتسری روپڑی

مسئلہ ختم نبوت اور موجودہ تحریک

حکومت پاکستان کا اس کے متعلق نظریہ

ہم نہ احراری ہیں۔ نہ حکومت کے آدمی ہیں۔ ہماری حیثیت یہاں ایک ہمدرد عالم یا مفتی خیر خواہ کی ہے۔ ہمارے معمول میں یہ چیز داخل ہے کہ حسب طاقت الجھے ہوئے مسائل کو سلجھائیں اور ان میں غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے صحیح مسلک پر روشنی ڈالیں:

اگر بینی کہ نابینا و چاہ است
اگر خاموش بنشینی گناہ است

موجودہ تحریک (ڈائریکٹ ایکشن یا راست اقدام) کے متعلق حکومت کے دو نظریے ہیں۔ اوّل! یہ کہ موجودہ تحریک کو ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ مسئلہ ختم نبوت خالص مذہبی چیز ہے اور موجودہ تحریک سیاسی۔

دوم! یہ کہ موجودہ تحریک خاص جماعت احرار کی اٹھائی ہوئی ہے۔ جس کو مذہبی رنگ دے کر عوام کے جذبات کو مشتعل کیا گیا تاکہ اس ذریعہ سے اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔ اس لئے بعض دوسری جماعتیں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔ جن کا مقصد یہی سیاسی اقتدار حاصل کرنا تھا۔

٢

صفحہ ١٣١

اس بیان کی تصدیق کے لئے روزنامہ احسان لاہور مورخہ ٢٣؍مارچ ١٩٥٣ء کا پرچہ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے صفحہ اول پر زیر عنوان ”پنجاب میں راست اقدام کی تحریک ایک خطرناک سازش تھی“۔ گورنر پنجاب کی نشریاتی تقریر شائع ہوئی۔ جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں۔

”گورنر پنجاب مسٹر اسمعیل ابراہیم چندریگر نے آج شام ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا کہ: ”بدامنی کی حالیہ تحریک بظاہر ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شروع کی گئی لیکن اس تحریک کے نام پر جو مطالبات پیش کئے گئے وہ سراسر سیاسی تھے اور عوام کو فریب دینے کے لئے انہیں مذہبی رنگ دیا گیا۔۔۔۔۔ گورنر موصوف نے کہا یہ پروپیگنڈہ بالکل غلط ہے کہ حکومت یا اس کے وزراء ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ لیکن اس مسئلہ کو بدامنی کی دلیل بنانا اور ”ڈائریکٹ ایکشن“ کی ابتداء کرنا ایک خطرناک سازش تھی۔ جس کی بیشتر ذمہ داری جماعت احرار پر عائد ہوتی ہے۔

مسٹر اسماعیل چندریگر نے کہا یہ وہ جماعت ہے جو شروع سے پاکستان کی دشمن رہی اور قیام پاکستان سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا حربہ ہو جسے اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ بانی پاکستان کی شخصیت پر بھی حملے کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

گورنر پنجاب نے کہا اس تحریک کا اصل مقصد ملک میں انتشار و بدامنی پھیلانا تھا۔ اس لئے غدارانہ سازش میں بعض اور جماعتیں بھی شامل ہو گئیں۔ جن کا مدعا ان ذرائع سے سیاسی اقتدار حاصل کرنا تھا۔ صوبہ کے سادہ لوح عوام کو غلط راستہ پر ڈالنے کے لئے ان کی آنکھوں پر مذہب کی پٹی باندھ دی گئی اور ان کے جذبات کو اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکایا گیا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ حکومت کا نظام معطل ہو جائے اور ملک میں انتشار اور افراتفری پھیل جائے۔“

اس تقریر میں حکومت اور وزراء کا عقیدہ ختم نبوت بتایا گیا اور اس کے ساتھ ہی مذکورہ الصدر دو نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ یعنی ایک!! تو اس تحریک کا مسئلہ ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوم!! یہ تحریک احرار کی پیداوار ہے۔ جس کا مقصد موجودہ نظام کو درہم برہم کر کے اپنا اقتدار قائم کرنا ہے۔

پیشتر اس کے کہ ان نظریوں کے متعلق کچھ کہا جائے۔ مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے۔

ختم نبوت کا مسئلہ

ختم نبوت کوئی فروعی یا جزوی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ایمان و اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور کفر و اسلام میں حد فاصل ہے۔ جیسے سچے نبی کی تکذیب اور انکار کرنا کفر ہے۔ ایسے ہی کسی جھوٹے

٣

صفحہ ١٣٣

کاذب کو نبی ماننا کفر ہے۔ اس پر بے شمار دلائل معقولی اور منقولی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ چونکہ اتفاقی ہے۔ اس لئے ہم ایک دو آیات پر اکتفا کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

جھنم مثوی للکافرین (زمر: ٣٢) “اس سے بڑا ظالم کون ہے، جو خدا پر جھوٹ باندھے اور سچ کو جھٹلائے جب کہ سچ اس کے پاس آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہے؟“

فی جھنم مثوی للکافرین (عنکبوت: ٦٨) ”اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ اس کے پاس حق آ گیا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہے؟“

ان آیات میں جیسے سچے نبی کی تکذیب اور اس کا انکار کرنے والے کو کافر کہا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنے اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کافر فرمایا ہے۔ پس اس فرمان کی بناء پر مرزائیوں کے کفر میں کوئی شک نہ رہا اور یہ فرمان مرزائیوں کے کفر پر صریح دلیل ہے اور اس دلیل کی ترتیب منطقی طور پر بصورت شکل اول یوں ہوئی۔

”مرزائی جھوٹی نبوت کا مدعی ہے۔ ..... اور جھوٹی نبوت کا مدعی کافر ہے۔ نتیجہ صاف ہے کہ مرزائی کافر ہے۔ یہ تو کفر کا ثبوت ایک طریق سے ہوا۔“ دوسرا طریق یہ ہے۔

”مرزائی خدا کے سچے نبی ﷺ کا منکر ہے۔ (کیونکہ آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا)“

یہ اصول مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ وہ اسی بناء پر ہم مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی ہے اور سچے نبی کو نہ ماننے والا کافر ہے۔ چنانچہ

کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہے۔“

(اخبار الفضل ٢٦، ٢٩ جون ١٩٢٢ء)

عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود .......(مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

٤

جس نے مرزا کا نام نہیں سنا وہ بھی کافر

مرزائیوں کے نزدیک وہ شخص بھی کافر سنا۔ چنانچہ بشیر الدین محمود فرماتے ہیں: ”کل مسلما بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت ص ٣٥) گویا مرزا کی کی ذات پر ہے۔ جو اس کو نبی مانے وہ مسلمان، باقی س

کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے ان کا حج ہے۔“

میں ہے۔ مسیح موعود نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رسو غرض آپ نے تمام تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز می

اس ہمہ گیر اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائ ایک ”نئی امت“ کی حیثیت سے اپنے مذہبی معاشرتی ا سکیم کا نتیجہ تھا کہ ظفر اللہ خان نے بانی پاکستان مسٹر محمد تو کہا: ”میرے نزدیک وہ کافر ہے۔“ (چنانچہ ان د بہت تذکرہ ہو چکا ہے)

غور فرمائیے!

ظفر اللہ کے بانی پاکستان کے ساتھ کتنے ممنون تھے۔ وزارت خارجہ کا عہدہ بھی انہی کا عنایت ک روابط توڑ دیئے۔ سب احسانات فراموش کر دیئے اور ب کا حق ظفر اللہ نے یوں ادا کیا کہ پاکستان کو کفرستان دیکھئے کہ یہ حضرات پھر بھی ان لوگوں کے اسلام ہی ک بشیر الدین مقاطعہ کی سکیم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے

٥

صفحہ ١٣٣

جس نے مرزا کا نام نہیں سنا وہ بھی کافر

مرزائیوں کے نزدیک وہ شخص بھی کافر ہے۔ جس نے مرزا غلام احمد کا نام تک نہیں سنا۔ چنانچہ بشیر الدین محمود فرماتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“ (آئینہ صداقت ص ٣٥) گویا مرزائیوں کے نزدیک کفر و اسلام کا مدار مرزا غلام احمد کی ذات پر ہے۔ جو اس کو نبی مانے وہ مسلمان، باقی سب کافر!

کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ۔ ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور ہے۔ اسی طرح ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(الفضل ٢١ اگست ١٩١٧ء)

میں ہے ۔ مسیح موعود نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تمام تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔“

(الفضل ٣٠؍جولائی ١٩٣١ء)

اس ہمہ گیر اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کا پورا مقاطعہ کر دیا اور ایک ”نئی امت“ کی حیثیت سے اپنے مذہبی معاشرتی اور سیاسی تمام تعلقات الگ کر لئے۔ اس سکیم کا نتیجہ تھا کہ ظفر اللہ خان نے بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا۔ اس پر سوال ہوا تو کہا : ”میرے نزدیک وہ کافر ہے ۔“ (چنانچہ ان دنوں اخبارات (زمیندار وغیرہ) میں اس کا بہت تذکرہ ہو چکا ہے )

غور فرمائیے!

ظفر اللہ کے بانی پاکستان کے ساتھ کتنے گہرے تعلقات تھے اور یہ ان کے کئی طرح ممنون تھے۔ وزارت خارجہ کا عہدہ بھی انہی کا عنایت کردہ تھا۔ مگر مرزائیت کی سکیم مقاطعہ نے تمام روابط توڑ دیئے۔ سب احسانات فراموش کر دیئے اور پاکستان کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ظفر اللہ نے یوں ادا کیا کہ پاکستان کو کفرستان بنا دیا۔ لیکن ہمارے ارباب اقتدار کا حال دیکھئے کہ یہ حضرات پھر بھی ان لوگوں کے اسلام ہی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کچھ اور بھی سنئے مرزا بشیر الدین مقاطعہ کی سکیم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

٥

صفحہ ١٣٥

١......مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے ۔ اتنی ہی دفعہ میں یہ جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩)

٢......غیر احمدی مسلمان نہیں

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیوں کہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

٣......مسلمان بچے کا جنازہ نہ پڑھو

”اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

٤......مسلمانوں کو رشتہ نہ دو

”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے ۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی بٹھائے رکھو ۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی ۔ تو خلیفہ اول نور الدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت ص ٩٤،٩٣)

مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:

مسلمان یہودی وعیسائی ہیں

”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے ۔ جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا ۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے

٦

ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔ جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت جواب دیا ہے۔“

مقام غور!

ان عبارات کو پڑھئے۔ بار بار پڑھئے اور غور کی یہ سکیمیں ہوں۔ ان کو مسلمانوں میں شامل کرنا انصاف

آپس میں تکفیر کا مسئلہ

مذکور بالا عبارت سے مرزائیوں کی سکیم مقاط بھی ہو گیا۔ جو عام طور پر کیا جاتا ہے اور بظاہر معقول جماعتوں میں بھی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً بریلوی بریلویوں کو۔ اس طرح اہلحدیث کے ساتھ ان کا اختلا ہے اور علیٰ ہذا القیاس دوسری جماعتوں کو سمجھ لیا جائے ۔ ا جائے اور امت مسلمہ سے الگ کیا جائے ۔ تو پھر مسلما

جواب!! اس امر کا یہ ہے کہ کفر و اسلام کی ا پر ہوتی ہے۔ جیسے عیسائیوں میں اور یہودیوں میں عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ لیکن مسلمان حضرت محمد ﷺ کو سید المرسلین تسلیم کرتے ہیں ہیں اور ایک تفریق کسی شخصیت میں اختلاف کی بنا وصاحب الہام مانتے ہیں اور اسی کی وحی والہام کو کلام کے ثبوت ، عدم ثبوت یا اس کے معنے و مفہوم می لاہوری اور قادیانی ہر دو گروہ مرزا غلام احمد کو صاحب و

اے ہمارے ”روشن خیال“ حضرات اسلامی کہ اس عبارت مرزائیہ کو خاص غور سے پڑھیں۔

٧

صفحہ ١٣٥

ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کا جواب دیا ہے۔“

(کلمۃ الفضل ص ١٦٩،١٧٠)

مقامِ غور!

ان عبارات کو پڑھئے۔ بار بار پڑھئے اور غور کیجئے کہ جن لوگوں کی مسلمانوں سے مقاطعہ کی یہ سکیمیں ہوں۔ ان کو مسلمانوں میں شامل کرنا انصاف اور عدالت کا خون نہیں تو اور کیا ہے؟۔ ١؎

آپس میں تکفیر کا مسئلہ

مذکور بالا عبارت سے مرزائیوں کی سکیم مقاطعہ کی وضاحت کے علاوہ ایک شبہ کا جواب بھی ہو گیا۔ جو عام طور پر کیا جاتا ہے اور بظاہر معقول سمجھا جاتا ہے۔ وہ شبہ یہ ہے کہ دوسری جماعتوں میں بھی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً بریلوی ، دیوبندیوں کو کافر سمجھتے ہیں اور دیوبندی بریلویوں کو۔ اس طرح اہلحدیث کے ساتھ ان کا اختلاف ہے۔ نیز شیعہ سنی نزاع بھی اسی رنگ کا ہے اور علیٰ ہذا القیاس دوسری جماعتوں کو سمجھ لیا جائے۔ اگر اسی طرح کی تکفیر سے ایک دوسرے کو کاٹا جائے اور امت مسلمہ سے الگ کیا جائے۔ تو پھر مسلمان کون رہا۔؟

جواب!! اس امر کا یہ ہے کہ کفر واسلام کی ایک تفریق کسی شخصیت میں اختلاف کی بناء پر ہوتی ہے۔ جیسے عیسائیوں میں اور یہودیوں میں، عیسائیوں اور مسلمانوں میں تفریق ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ لیکن یہودی اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت محمد ﷺ کو سید المرسلین تسلیم کرتے ہیں اور عیسائی و یہودی آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور ایک تفریق کسی شخصیت میں اختلاف کی بناء پر نہیں ہوتی ۔ بلکہ دونوں اس کو صاحب وحی وصاحب الہام مانتے ہیں اور اسی کی وحی والہام کو دلیل میں پیش کرتے ہیں۔ تکفیر صرف الہامی کلام کے ثبوت ، عدم ثبوت یا اس کے معنے ومفہوم میں اختلاف کی بناء پر ہوتی ہے۔ جیسے مرزائی لاہوری اور قادیانی ہر دو گروہ مرزا غلام احمد کو صاحب وحی وصاحب الہام مانتے ہیں۔ ان کے قول

١؎ ہمارے ’روشن خیال‘ حضرات اسلامی غیرت نہ سہی کم از کم انسانی حمیت کو ملحوظ رکھ کر اس عبارت مرزائیہ کو خاص غور سے پڑھیں۔

٧

صفحہ ١٣٧

سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن معنے ومطلب میں ان کا اس قدر اختلاف ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو کافر کہتا ہے۔ اسی طرح دوسری جماعتوں کی آپس میں تکفیر صرف معنی مفہوم میں اختلاف کی بناء پر ہے۔ ورنہ نبی سب کا ایک ہے۔ سب اسی کی وحی والہام کو دلیل اور حجت سمجھتے ہیں۔ منکرین حدیث کا بھی نبی جدا نہیں ہے۔ ان کو صرف حدیث کے وحی اور الہامی کلام ہونے میں اختلاف ہے۔ یہ تفریق اگرچہ کفر تک پہنچ گئی ہے۔ مگر اس میں وہ بُعد نہیں جو پہلی تفریق میں ہے۔ جس کی دو وجہ ہیں۔

اوّل ! یہ کہ نبی براہ راست اللہ تعالیٰ سے پیغام حاصل کرتا ہے اور جب نبی جدا ہو تو جڑ سے ہی جدائی اور تفریق ہوگئی۔ ایسا اختلاف قوم کو مستقل دو امتیں بنا دیتا ہے اور نبی ایک ہونے کی صورت میں دونوں کا رجوع اسی نبی کی طرف ہوگا۔ پس وہ دو مستقل امتیں نہ ہوں گی۔

دوسری! وجہ یہ ہے کہ جب نبی جدا ہوا اور اس کو جھٹلایا جائے تو یہ گویا نبی پر کفر کا فتویٰ ہے اور نبی ایک ہونے کی صورت میں اگر ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ ہو تو یہ امتی کا امتی پر فتویٰ ہے اور ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔

افسوس ہے کہ اس مسئلہ پر کما حقہ غور کیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزائیت کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کا مدار صرف کفر واسلام کی بحث پر نہیں۔ بلکہ یہ نبوت کی تبدیلی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس مطالبہ کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ امتیں ہمیشہ نبوت کے تابع ہوتی ہیں۔ نبوت کے بدل جانے سے امت بھی علیحدہ ہو جاتی ہے۔ یہودی عیسائی مسلمانوں سے اس لئے علیحدہ ہیں کہ ان میں اور مسلمانوں میں نبوت کی تفریق ہے۔

دوسری جماعتوں کا آپس میں سلسلہ تکفیر خواہ کسی حد تک بھی کیوں نہ پہنچ جائے۔ مرکز نبوت سب کا ایک ہے۔ تمام فرقے صدہا اختلافات کے باوجود نبوت محمدیہ پر متفق اور متحد ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر سب کا اجماع ہے۔

مرزائیوں نے چونکہ اپنی نبوت علیحدہ کر لی ہے اور اسی نبوت کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں سے کلی مقاطعہ کیا ہے۔ اس بناء پر مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ مرزائیوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔ مختصر یہ کہ مرزائیوں کو دوسری جماعتوں کے اختلاف پر قیاس کرنا غلط ہے۔ مرزائی مسلمانوں سے اپنی نئی نبوت کی وجہ سے علیحدہ ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا عبارات مرزائیہ کو پھر پڑھ جائیے۔ مرزائی خود اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان اور مرزائی کی تفریق بالکل اسی طرح کی ہے جیسے مسلمانوں اور عیسائیوں و یہودیوں کی تفریق ہے۔

٨

اور اصولی لحاظ سے مرزائیوں کا یہ اعلان صحیح ہے مسلمانوں سے علیحدہ رہیں۔ کیونکہ ان کی نبوت علیحدہ ہے۔ ا وغیرہ تو اقلیت میں ہوں اور مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کیا ج

گول میز کانفرنس شملہ میں مسٹر جناح نے تقسیم ملک ک ایک قوم کا خدا ہے اور دوسری قوم کی خوراک ہے۔ لہٰذا یہ دونوں ق اس پر ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اب اس اصول کو یہاں لیجیے ک ہے۔ نبی سے بڑھ کر خدا کا کوئی مقرب نہیں۔ جب ایک قوم ا کہے تو اس کے اجتماع کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس لئے مطا طرح مرزائیوں کو بھی اقلیت قرار دیا جائے۔

چند باتیں یہاں اور قابل توجہ ہیں

اوّل ! یہ کہ دوسری جماعتوں کے آپس میں خواہ ک ان میں سے کوئی بھی اسلامی حکومت پر کفر کی حکومت کو ترجیح ن یہ چاہتی ہے کہ کفر کی حکومت برقرار رہے۔ چنانچہ مرزا غلام ا ص ٣٧٠) میں لکھتے ہیں: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چ میں ۔ نہ شام میں ۔ نہ ایران میں ۔ نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمن کرتا ہوں ۔“

الفضل ١٣ ستمبر ١٩١٤ء میں ہے: ”سونو انگریز کی ح ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور اس خدا کی طرف س اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا در

اسی پرچہ میں آگے چل کر لکھا ہے: ”سچے احمدی ا سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزد کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں ۔“

ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزائیت ا نہیں۔ اسی لئے کہیں کفر کی حکومت کو سایہ رحمت ایزدی بتلایا ج ترقی کے لئے دعائیں ہو رہی ہیں۔ آخر یہ کیوں؟ یا تو اس ل نہیں۔ یا پھر اس لئے کہ اس میں اسلامی معاشرے کی تخریب ہ

٩

صفحہ ١٣٧

اور اصولی لحاظ سے مرزائیوں کا یہ اعلان صحیح ہے۔ ان کا حق ہے کہ وہ ہر امر میں مسلمانوں سے علیحدہ رہیں۔ کیونکہ ان کی نبوت علیحدہ ہے۔ اندریں صورت کیا وجہ ہے کہ عیسائی وغیرہ تو اقلیت میں ہوں اور مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کیا جائے۔

گول میز کانفرنس شملہ میں مسٹر جناح نے تقسیم ملک کی بڑی وجہ یہ پیش کی تھی کہ گائے ایک قوم کا خدا ہے اور دوسری قوم کی خوراک ہے۔ لہٰذا یہ دونوں قومیں اکٹھی کسی طرح رہ سکتی ہیں؟ اس پر ملک کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ اب اس اصول کو یہاں لیجئے۔ نبوت کمال بشریت کا آخری درجہ ہے۔ نبی سے بڑھ کر خدا کا کوئی مقرب نہیں۔ جب ایک قوم کے نبی کو دوسری قوم دجال و کذاب کہے تو اس کے اجتماع کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عیسائیوں وغیرہ کی طرح مرزائیوں کو بھی اقلیت قرار دیا جائے۔

چند باتیں یہاں اور قابل توجہ ہیں

اوّل! یہ کہ دوسری جماعتوں کے آپس میں خواہ کتنے اور کیسے ہی اختلافات ہوں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اسلامی حکومت پر کفر کی حکومت کو ترجیح نہیں دیتا۔ بخلاف اس کے مرزائیت یہ چاہتی ہے کہ کفر کی حکومت برقرار رہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص٣٧٠) میں لکھتے ہیں: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح کر سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں۔ نہ شام میں۔ نہ ایران میں۔ نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“

الفضل ١٣؍ ستمبر ١٩١٤ء میں ہے: ”سنو انگریز کی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور اس خدا کی طرف سے وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔“

اسی پرچہ میں آگے چل کر لکھا ہے: ”سچے احمدی بدوں کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔“

ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزائیت کے لئے کسی مملکت اسلامیہ میں جگہ نہیں۔ اسی لئے کہیں کفر کی حکومت کو سایہ رحمت ایزدی بتلایا جا رہا ہے اور کہیں اس کے اقبال اور ترقی کے لئے دعائیں ہورہی ہیں۔ آخر یہ کیوں؟ یا تو اس لئے کہ نئی نبوت کا اسلام میں وجود ہی نہیں۔ یا پھر اس لئے کہ اس میں اسلامی معاشرے کی تخریب قطع برید اور ملک میں انتشار و بدامنی

٩

صفحہ ١٣٩

کے خطرات اس قدر ہیں کہ کوئی اسلامی حکومت اس کو برداشت نہیں کر سکتی۔

آہ! ہماری بدقسمتی اور بدبختی کی انتہاء ہے کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا قادیانی نبوت پاکستان کے حصہ میں آگئی۔ جس کی بدولت ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔ سینکڑوں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ بالخصوص لیڈران قوم پر شدید مصائب آئے کئی شہید ہوئے اور بہت سے اب تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ کیا یہ امر قابل افسوس نہیں کہ جس نبوت کاذبہ کا وجود ہی کوئی اسلامی حکومت کسی حیثیت سے برداشت نہیں کرسکتی۔ نہ اسلامی حیثیت سے نہ سیاسی حیثیت سے حکومت پاکستان اس کو اقلیت قرار دینے میں بھی پس و پیش کررہی ہے۔ الی اللہ المشتکی!

دوسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے اندر مرزائیت کو اپنی علیحدہ سٹیٹ کا فکر ہوا۔ حالانکہ حکومت نے اس کے ساتھ بہت سے خصوصی احسان کئے۔ ملک تقسیم ہوتے ہی نصف حکومت کے اختیارات اس کے حوالے کر دیئے۔ ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنادیا جس کی وجہ سے بیرونی اختیارات کلی طور پر مرزائیت کے ہاتھوں میں آگئے اور اندرونی طور پر بھی ہر محکمہ میں بہت زیادہ اقتدار پیدا کر لیا اور مستقل مرکز بنانے کے لئے ربوہ کا جنگل دے دیا گیا۔ مگر مرزائیت ایسی احسان فراموش واقع ہوئی کہ اپنی علیحدہ اسٹیٹ حاصل کرنے کی دھن میں مگن رہی۔ چنانچہ ٢٣؍ جولائی ١٩٤٨ء کو مرزا محمود نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا۔ جو ٢٣؍ اگست ١٩٤٨ء کے ”الفضل“ میں شائع ہوا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: ”برٹش بلوچستان ...... جو اب پاکی بلوچستان ہے۔... کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جسے افراد کی قیمت ہوتی ہے۔ یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی کانسٹی ٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لئے اپنے ممبر منتخب کرتی ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبادی ٥، ٦ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے۔ اس لئے اسے بہت اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ ...... یادرکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہماری بیس مضبوط نہ ہو۔ پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی بیس مضبوط کرو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی بیس بنالو۔ کسی ملک میں ہی بنالو...... اگر ہم سارے صوبے کو

١٠

احمدی بنالیں۔ تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“

اس عبارت میں جس ریاست مرزائیہ کے جارہا ہے کہ اس کی ساری آبادی پر مرزائیت اس طر گویا مرزائی، مسلمانوں کو بطور اقلیت کے بھی برداشت نفرت ہو کہ یہودیت اور عیسائیت کو بھی اسلام سے مطالبہ تو بہت ہی معمولی اور ہلکا مطالبہ ہے۔

کاش! حکومت حقائق کا جائزہ لے او غور کرے۔

تیسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ تحریک راس میں چودھری ظفر اللہ کے چار خطوط شائع ہوئے تھے میں غیر ممالک کے اندر مرزائیت کی تبلیغ کا ذکر تھا۔ یہ سے روپیہ مسلمانوں کا صرف ہو رہا ہے اور تبلیغ ونما کارروائیاں ہی تو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتی وہ شخص ہو۔ جس کو اسلامی حکومت کے نصف حصے کا مختا مسلمان آخر غیور قوم ہے۔ وہ ایک مرز دینا بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس پر غیر ممالک میں کی مثال ہے۔

حقیقت یہ ہے

کہ دوسری جماعتوں کی آپس میں تکفیر کو کوئی نرالی نہیں۔ یہ قطعا بے محل ہے۔ آخر یہ بھی تو سو آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرنے والی تمام جماع دیا۔ وہ یہی تو ہے کہ مرزائی ایک نئی امت ہے۔ جس ہیں۔ ”ان (یعنی مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمار اور ہے ان کا حج اور اسی طرح ان کی ہر بات میں اختلا

١١

صفحہ ١٣٩

احمدی بنالیں۔ تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا۔ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“

اس عبارت میں جس ریاست مرزائیہ کے مشورے ہو رہے ہیں۔ اس کا نقشہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی ساری آبادی پر مرزائیت اس طرح چھا جائے کہ کوئی غیر مرزائی نہ رہے۔ گویا مرزائی، مسلمانوں کو بطور اقلیت کے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ جس گروہ کو مسلمانوں سے اتنی نفرت ہو کہ یہودیت اور عیسائیت کو بھی اسلام سے اتنی نفرت نہیں۔ اس کے حق میں اقلیت کا مطالبہ تو بہت ہی معمولی اور ہلکا مطالبہ ہے۔

کاش ! حکومت حقائق کا جائزہ لے اور مسلمانوں کے جائز مطالبات پر پورا غور کرے۔

تیسری بات قابل توجہ یہ ہے کہ تحریک راست اقدام سے چند روز پہلے اخبار ”زمیندار“ میں چودھری ظفر اللہ کے چار خطوط شائع ہوئے تھے۔ جو نجی طور پر خلیفہ قادیان کو لکھے گئے۔ ان میں غیر ممالک کے اندر مرزائیت کی تبلیغ کا ذکر تھا۔ یہ کہاں کی انصاف پرستی ہے کہ پاکستانی خزانہ سے روپیہ مسلمانوں کا صرف ہو رہا ہے اور تبلیغ و نمائندگی مرزائیت کی ہو رہی ہے؟ ایسی تخریبی کارروائیاں ہی تو مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتی ہے۔ خصوصاً جبکہ ان کارروائیوں کا مرتکب وہ شخص ہو۔ جس کو اسلامی حکومت کے نصف حصے کا مختار بنا دیا گیا ہو۔

مسلمان آخر غیور قوم ہے۔ وہ ایک مرزائی کو سیاسی اعتبار سے ایسی کلیدی آسامی دینا بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس پر غیر ممالک میں تبلیغ مرزائیت کا اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کی مثال ہے۔

حقیقت یہ ہے

کہ دوسری جماعتوں کی آپس میں تکفیر کو یہاں پیش کرنا اور یہ کہنا کہ مرزائیوں کی تکفیر کوئی نرالی نہیں۔ یہ قطعاً بے محل ہے۔ آخر یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ وہ کون سی چیز ہے۔ جس نے آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر کرنے والی تمام جماعتوں کو مرزائیت کے خلاف ایک سٹیج پر جمع کر دیا۔ وہ یہی تو ہے کہ مرزائی ایک نئی امت ہے۔ جس کی بابت اس کے نبی مرزا غلام احمد فرماتے ہیں: ”ان (یعنی مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور اسی طرح ان کی ہر بات میں اختلاف ہے ۔“

(الفضل ٢١؍ اگست ١٩١٧ء)

١١

صفحہ ١٤١

کیوں نہ ہو جب نبوت ہی الگ ہو گئی تو باقی سب کچھ خود بخود الگ ہو گیا اور جیسے یہودی، عیسائی ہم سے ہر معاملہ میں الگ ہیں۔ ایسے ہی مرزائی ہیں۔ چنانچہ گزشتہ صفحات میں حسب ضرورت تفصیل ہو چکی ہے۔

لاہوری مرزائی کا کفر!

گزشتہ بیان سے یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ اس بناء پر لاہوری مرزائی کافر نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ ختم نبوت کا قائل ہے اور مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا۔ اول تو یہ شبہ یہاں مضر نہیں۔ اس لئے کہ لاہوری مرزائی اقل قلیل ہے اور مقابلہ اس وقت قادیانی سے ہے۔ اس کے علاوہ لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں۔ جس کے کئی دلائل ہیں۔

اوّل ..... یہ کہ مسیح موعود کے متعلق امت کا متفقہ عقیدہ ہے اور احادیث میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ نبی ہے۔ مگر لاہوری مرزائی اس کی نبوت سے منکر ہیں۔ اس بناء پر وہ بھی کافر ہیں۔

دوم ..... امت کا اجماع ہے اور قرآن وحدیث اس پر متفق ہیں کہ آنے والے مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ ایسے قطعیات کا منکر کافر ہے۔

سوم ..... مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت میں شک نہیں۔ چنانچہ مرزا محمود نے اپنی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ میں اس کے لئے ضرورت سے زیادہ مواد جمع کر دیا ہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے۔ وہ صرف اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ”نبی“ سے مراد محدث ہے۔ لیکن ”محدث“ کی تشریح وہی نبی والی کرتے ہیں کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ جو دخل شیطانی سے محفوظ ہوتی ہے اور انبیاء کی طرح وہ مامور ہوتا ہے۔ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے (یعنی دعویٰ کرے) اور اس کا منکر مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور آیت سورۂ جن کی : ”الا من ارتضیٰ من رسول“ اس کو شامل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے رسولوں پر غیب کی خبریں کھولتا ہے۔

یہ سب حوالہ جات کتاب ”نبوۃ فی الاسلام“ مصنف مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور میں موجود ہیں۔ خصوصاً اس کا باب چہارم قابل ملاحظہ ہے۔ پس جب محدث کی تشریح نبی والی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ درحقیقت مرزائی دونوں گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے

لے نبوت فی الاسلام کے ص ١٦٤ میں ہے کہ: ”محدث نبی بالقوہ ہے اور اس کی مثال تخم درخت سے دی ہے کہ اس میں درخت بننے کی استعداد ہے۔ بالفعل درخت نہیں ۔“ لیکن محدث کی جو تشریح اوپر کی گئی ہے۔ اس پر یہ مثال چسپاں نہیں آتی۔ کیونکہ یہ تشریح اس کو بالفعل ہی بناتی ہے۔

١٢

ہیں۔ لہٰذا مرزائی لاہوری اور قادیانی میں کوئی فرق نہیں قادیانیوں کی طرح مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔

چہارم ...... مولوی محمد علی نے ( ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص ١٠٥) مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ حوالہ ذکر کیا ہے کہ : ”میرا نام نبوت محمد کی نبوت ہے۔ خواہ بطور عکس ہو۔“ اور ظاہر ہے میں ہوتے ہیں۔ پس عکس کا انکار اصل کا انکار ہے اور نزدیک بھی کفر ہے۔ پس عکس کا انکار بھی کفر ہوا۔ نتیجہ ظاہ احمد کو وہی درجہ دیتے ہیں۔ جو قادیانی دیتے ہیں۔ لفظ قادیانی ایک ہی ہیں۔“

پنجم ...... مولوی محمد علی نے ( ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٣) ص ٢٥٤) مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کہ تورات، انجیل اور قرآن پر ۔“ پس جب یہ وحی ایسی ہی مذکورہ کی طرح ان کا منکر بھی کافر ہوا۔ نتیجہ وہی ہے جو ابھی

ششم ...... ( ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص ١٩ ، ازالہ اوہام ص ٥٣٤ ، خز خلاصہ لکھا ہے کہ: ”خواہ موجودہ احکام ( اسلامی عقائد وم جبریل وحی نبوت سکھائے جائیں۔ تو یہ ایک نئی کتاب اللہ ہ ( ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٣) میں (بحوالہ اربعین ہے: ”خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید د صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو شریعت ہے۔ جو مسیح موعود کا ہی کام ہے۔“

( ضمیمہ النبوت فی الاسلام کے ص ١٤٤، بحوالہ تریاق ا لکھا ہے : ” یہ نکتہ بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا کی طرف سے شریعت اور شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں ۔ گو وہ کیسی مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں

١٣

صفحہ ١٤١

ہیں ۔ لہذا مرزائی لاہوری اور قادیانی میں کوئی فرق نہیں رہا۔ کیونکہ درحقیقت لاہوری بھی قادیانیوں کی طرح مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔

چہارم ....... مولوی محمد علی نے (ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص ١٠٥) پر بحوالہ اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ حوالہ ذکر کیا ہے کہ: ”میرا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ کیونکہ میری نبوت محمد کی نبوت ہے۔ خواہ بطور عکس ہو۔“ اور ظاہر ہے کہ عکس انہی کمالات کا مظہر ہے جو اصل میں ہوتے ہیں۔ پس عکس کا انکار اصل کا انکار ہے اور اصل کا انکار تو لاہوری مرزائی کے نزدیک بھی کفر ہے۔ پس عکس کا انکار بھی کفر ہوا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ لاہوری مرزائی بھی مرزا غلام احمد کو وہی درجہ دیتے ہیں۔ جو قادیانی دیتے ہیں۔ لفظ خواہ محدث بولیں یا نبی ۔ پس لاہوری قادیانی ایک ہی ہیں۔“

پنجم ....... مولوی محمد علی نے (ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٣) میں بحوالہ (اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے، جیسا کہ تورات، انجیل اور قرآن پر ۔“ پس جب یہ وحی ایسی ہی قطعی ہے جیسی کتب مذکورہ ۔ تو پھر کتب مذکورہ کی طرح ان کا منکر بھی کافر ہوا۔ نتیجہ وہی ہے جو ابھی ذکر ہوا۔

ششم ....... (ضمیمہ نبوۃ فی الاسلام ص ١٩، ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) سے نقل کر کے بطور خلاصہ لکھا ہے کہ: ”خواہ موجودہ احکام (اسلامی عقائد وصوم وصلوٰۃ زکوٰۃ حج وغیرہ) ہی بذریعہ جبریل وحی نبوت سکھائے جائیں۔ تو یہ ایک نئی کتاب اللہ ہوگی۔“

(ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٤) میں (بحوالہ اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦) لکھا ہے: ”خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو۔ خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا شریعت ہے۔ جو مسیح موعود کا ہی کام ہے۔“

(ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام کے ص ١٣٢، بحوالہ تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢ حاشیہ) لکھا ہے: ”یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں شانِ اعلیٰ اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

١٤٣

صفحہ ١٤٣

مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ حرام ہے اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہیے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ ” گانے کی محبت دل میں اس کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا (ابن ماجہ : ٥٠) حضرت عمران بن مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں پتھروں کی بارش کے صحابہؓ نے پوچھا آپ علیہ الصلوٰۃ عورتوں اور

میں اس کی ممانعت آئی سلام کرنا یا محبت کا دور رہنا چاہیے ہوشیار رہنا چا چھینٹے کی ایک شرم و حیاء جو ایک دین بلکہ سلے بو

جائے گا، جب کہ محمد ”نام“ کے س: ...... کیا ”محمد“ نام علیہ وسلم یا ”محمد“ نام نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھیں پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ ج: ...... حضور اکرم صلی اللہ علیہ و ایک جگہ یہ لکھا جائے گا پورا درود صلی اللہ بجائے صرف ”ص“ کا اشارہ اور مختصر لکھنا گناہ اور درود شریف لکھنا

ان عبارتوں کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ وہ صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہے۔ جس کو وہی احکام بطور تجدید ملے۔

کہ : ”میں اس پہلے مسیح سے اپنی تمام تر شان میں بہت بڑھ کر ہوں ۔“ اور (ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٦٢، بحوالہ حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) لکھا ہے : ”آنے والا مسیح جو آخری زمانہ میں آئے گا۔ اپنے جلال اور قوی نشانوں کے لحاظ سے پہلے مسیح یا پہلی آمد سے افضل ہے۔“

ان عبارات کا مطلب واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کے نشان پہلے مسیح سے زیادہ قوی، زیادہ شان و شوکت اور جاہ و جلال رکھتے ہیں۔ پس جب پہلے مسیح کا منکر کافر ہے تو جس کی شان پہلے مسیح سے بڑی ہے۔ اس کا منکر بطریق اولیٰ کافر ہوا۔

: ”لاشك ان من امن بنزول المسيح الذى هو نبى من بنى اسرائيل فقد كفر بخاتم النبيين“ کوئی شک نہیں کہ جو شخص اس مسیح کے نزول پر ایمان لایا جو بنی اسرائیل سے ایک نبی ہے۔ وہ خاتم النبیین کے ساتھ کافر ہے۔“

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے تمام مخالفوں کو کافر کہا ہے اور لاہوری مرزائی اس کو پیش کر رہے ہیں اور یہی قادیانیوں کا عقیدہ ہے۔ پس لاہوری اور قادیانی ایک ہی ہوئے۔

آئے گا۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی تصریح ہے کہ وہ حکم ، عدل یعنی با انصاف حاکم ہوگا۔ جنگ کرے گا۔ دجال کو قتل کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے متواتر اور متفقہ عقیدہ کا منکر کافر ہے۔ پس لاہوری مرزائی بھی کافر ہوئے۔ کیونکہ وہ بجائے ایسے شخص کو مسیح موعود مانتے ہے جو حکومت اور سیاست کے ساتھ نہیں آیا۔

کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام آسمان پر اب زندہ ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص الحبیر میں اس پر اجماع نقل فرمایا ہے۔ لاہوری مرزائی ان قطعیات کے منکر ہیں۔ لہٰذا وہ بھی قادیانیوں کی طرح کافر ہیں۔ ”تلك عشرة كاملة“ اس قسم کی اور بھی بہت وجوہات ہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں خود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ لاہوری مرزائیوں کو بھی مسلم ہے کہ صاحب شریعت کی نبوت کا انکار کفر ہے۔ (ملاحظہ

ہو النبوۃ فی الاسلام ص ٧٥، ٧٦) خلاصہ یہ کہ مرزائی لاہوری

حکومت پاکستان کا نظریہ

اب حکومت پاکستان کے نظریوں پر غور

حکومت پاکستان اسلامی حکومت ہے یا غیر اسلامی، ایک ہی شے ہے۔ تقسیم ملک بے کار ہو گئی اور لاکھوں کون کرے گا اور اگر اسلامی حکومت ہے۔ جیسا کہ حکومت کہا جاتا ہے۔ تو پھر اسلامی حکومت کی تعری کو جمہوری حکومت کہتے ہیں۔ یعنی اکثر افراد کی حکوم از کم کلیدی آسامیاں (جن میں مسلم غیر مسلم دون ہونی چاہئیں۔ ورنہ حکومت اسلامی محض ایک فریب یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں اسلامی قانون را خوش فہمی ہے۔

یہ تو بالکل سطحی نظریہ ہے کہ کلیدی آسام منطق کا مشہور مسئلہ ہے کہ نتیجہ ”اخص ارذل“ کے ناقص ہو تو ساری ناقص کہلاتی ہے۔ مثلاً پورے ساتھ کفر ہو تو وہ کافر کہلائے گا۔ اسی طرح تمام انبی ہے۔ یہودی عیسائی اسی لئے کافر ہیں۔ پس حکوم کا لحاظ کرتے ہوئے ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے

ملت اسلامیہ کا مشترکہ ہے اور اسی مسئلہ کا تقاضا قرار پائے۔ تو پھر اس میں احرار یوں کی کیا خص شریک ہو گئیں۔ یہاں اقتدار غیر اقتدار کا سوال غیر اسلامی کا مسئلہ پیش نظر ہے۔ جس پر غور کر اسلامی ہونے کا ثبوت پیش کر سکے۔ خلاصہ یہ کہ مسئلہ ختم نبوت بے شک م

صفحہ ١٤٤

ہو (نبوۃ فی الاسلام ص٧٥، ٧٦) خلاصہ یہ کہ مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی۔ دونوں کافر ہیں۔

حکومت پاکستان کا نظریہ

اب حکومت پاکستان کے نظریوں پر غور فرمائیے: پہلا نظریہ: کہ موجودہ تحریک کو مسئلہ ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان اسلامی حکومت ہے یا غیر اسلامی۔ اگر غیر اسلامی ہے تو پھر بھارت اور پاکستان ایک ہی شے ہے۔ تقسیم ملک بے کار ہوگئی اور لاکھوں قربانیاں برباد ہوگئیں۔ ایسا کہنے کی جرات تو کون کرے گا اور اگر اسلامی حکومت ہے۔ جیسا کہ پاکستان کو اسلامی حکومتوں میں سب سے بڑی حکومت کہا جاتا ہے۔ تو پھر اسلامی حکومت کی تعریف اس پر صادق آنی چاہئے۔ چونکہ آپ اس کو جمہوری حکومت کہتے ہیں۔ یعنی اکثر افراد کی حکومت جو رائے عامہ کے تحت ہو۔ اس کے لئے کم از کم کلیدی آسامیاں (جن میں مسلم غیر مسلم دونوں کی نمائندگی کے اختیارات ہوں) مسلمان ہونی چاہئیں۔ ورنہ حکومت اسلامی محض ایک فریب ہوگا۔ جس کو مذہبی رنگ دیا گیا ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں اسلامی قانون رائج نہ ہو۔ اس کو اسلامی حکومت کہنا صرف ایک خوش فہمی ہے۔

یہ تو بالکل سطحی نظریہ ہے کہ کلیدی آسامیاں کافر ہوں اور حکومت اسلامی کہلائے۔ علم منطق کا مشہور مسئلہ ہے کہ نتیجہ ”اخس ارذل“ کے تابع ہوتا ہے۔ یعنی مرکب شے میں ایک چیز ناقص ہو تو ساری ناقص کہلاتی ہے۔ مثلاً پورے قرآن مجید پر ایمان لاکر صرف ایک آیت کے ساتھ کفر ہو تو وہ کافر کہلائے گا۔ اسی طرح تمام انبیاء علیہ السلام کو مان کر ایک کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ یہودی عیسائی اسی لئے کافر ہیں۔ پس حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اپنے نام اور مقام کا لحاظ کرتے ہوئے ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے سبکدوش کر دے۔

دوسرا نظریہ: کہ یہ تحریک دراصل احرار کی ہے۔ اس پر سوال یہ ہے کہ جب مسئلہ ختم نبوت پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ ہے اور اسی مسئلہ کا تقاضا ہے کہ وزارت خارجہ تبدیل ہو اور مرزائیت اقلیت قرار پائے۔ تو پھر اس میں احراریوں کی کیا خصوصیت رہی؟ اس لئے تمام جماعتیں اس میں شریک ہوگئیں۔ یہاں اقتدار غیر اقتدار کا سوال نہیں۔ بلکہ پاکستان کے متعلق حکومت اسلامی یا غیر اسلامی کا مسئلہ پیش نظر ہے۔ جس پر غور کرنا حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے تاکہ اپنے اسلامی ہونے کا ثبوت پیش کر سکے۔

خلاصہ یہ کہ مسئلہ ختم نبوت بے شک مذہبی چیز ہے اور موجودہ تحریک سیاسی۔ لیکن جب

١٥

صفحہ ١٤٥

چاہیے نیز عليه وسلم نام مسلمان کیا ”محمد“ نام پر درود لکھنے کی بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ ج:....... حضور اکرم صلی اللہ علیہ و ایک جگہ لکھا جائے تو پورا درود صلی اللہ چاہیے، صرف ”ص“ کا اشارہ اور نہیں ہے۔ اگر لفظ محمد کی کسی اور وہ درود شریف

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یہ مخلوط تعلیم اور غیر محرمانہ لباس سے شرکت چھوڑ دی جائے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں کہ سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ”گانے کی محبت دل میں اس کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ١٠:٩: ہ) حضرت عمران بن مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں پتھروں کی بارش کے صحابہؓ نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ گانے بجانے عورتوں اور شرابیں پی جائے گا جب

حکومت اسلامی ہے اور اسلام خود ایک مذہب ہے۔ تو پھر ایک کو دوسرے سے جدا کیسے کر سکتے ہیں؟ اصل میں ایک عام وبا پھیل گئی ہے۔ جو انگریزی دور کی پیداوار ہے کہ مذہب اور سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اسی سے ہماری حکومت متاثر ہے۔ حالانکہ اسلام کا عملی حصہ مجموعہ سیاست ہے۔ جس کے تین شعبے ہیں۔

اگر حکومت اسلامی نظریے کے تحت مرزائیوں سے غیر مسلم والا سلوک کرتی تو نہ کوئی جانی نقصان ہوتا نہ مالی۔ نہ مارشل لاء لگانے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن جب حکومت نے اپنے فرض کا احساس نہ کیا تو اس تحریک کے ذریعہ اظہار ناراضگی کیا گیا۔ جس سے حکومت نے یہ سمجھا کہ اس تحریک کا مقصد ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے۔ حاشا وكلا !

یہ تو موجودہ تحریک کی طرف سے صفائی پیش کی گئی ہے۔ لیکن ہمارا ایک مشورہ حدیث نبوی کی روشنی میں اس سے بالاتر ہے۔ جس کا کئی دفعہ ہم وعظوں، تقریروں میں اظہار کر چکے ہیں۔ حضور خاتم النبیین کا ارشاد ہے: ”عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ تعالى يقول انا الله لا اله الا انا مالك الملك ومالك الملوك قلوب الملوك فى يدى وان العباد اذا اطاعونى حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرافة وان العباد اذا عصونى حوّلت قلوبهم بالسخطة والنقمة فسامرهم سوء العذاب فلا تشغلوا انفسكم بالدعاء على الملوك ولكن اشغلو انفسكم بالذكر والتضر كى اكفيكم ملوکكم رواه ابونعيم فى الحلية (مشكوة كتاب الامارة الفصل الثالث ص ٣٢٢) “ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں مالک الملک ہوں۔ شہنشاہوں ، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں اور میرے بندے جب میری اطاعت کرتے ہیں تو میں بادشاہوں کے دل بندوں کے حق میں نرم کر دیتا ہوں۔ پس وہ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے ہیں اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں۔ تو میں بادشاہوں کے دل بندوں کے حق میں سخت کر دیتا ہوں۔ پس وہ ان کو سخت تکلیف دیتے ہیں۔ تم بادشاہوں کو بددعا دینے کی بجائے خدا کو یاد کرو اور اس کے حضور میں گریہ زاری کرو۔ خدا ان کی طرف سے تمہاری کفایت کرے گا۔ ﴿

١٦

یہ صادق المصدوق سردار دو جہاں کا فرما ہے اور پھر اس پر عمل کرنا بھی سہل ہے۔ تمام مشکلا ہے۔ جو قادر مطلق ہے۔ بادشاہوں کے دلوں کا مالک سہل اس لئے ہے کہ ہمارے اختیار کی شے ہے۔ ہما

الموفق!

خاتم النبیین کا معنی

آخر میں ہم چاہتے ہیں کہ اس لفظ کے مع دھوکہ دیتے ہیں اور اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جنا ہیں۔ یعنی آئندہ وہ نبی ہوگا جس پر آپ کی اتباع ک مانتے ہیں۔ کیونکہ ان کو دعویٰ ہے کہ وہ سردار دو جہاں

آج تک نہ کسی صحابی کو سمجھ آئے۔ نہ تابعی نہ تبع تابعی آئندہ نبی وہ ہوگا جس پر سردار دو جہاں ﷺ کے اتباع سلف صالحین سے اس کا ثبوت پیش کریں اور جو اختراع (من گھڑت) ہے۔ تو پھر کامل متبع تو کی اور مسلمان ہی نہ رہے۔

قرأتیں ہیں۔ (١)...... خاتم النبيين ۔ (٢). نبينا ختم النبيين ۔ ملاحظہ ہو (تفسیر مدارک النسفی ر عربی زبان میں خاتِم اور خاتَم کے دو اگر یہاں پہلا معنی مراد ہے۔ تو مطلب واضح ہے کہ ر کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور اگر دوسرے معنی ہوں تو پھر اس پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس صورت میں بھی مطلب بند ہے اور تیسری قرأت اس کو مؤید ہے۔ کیونکہ ختم ال نبیوں کو ختم کر دیا۔ دوم یہ کہ آپ نے نبیوں پر مہر لگا دی صورت میں یہاں تین چیزیں چاہئیں۔ ایک مہر.....

١٧

صفحہ ١٤٥

سرے سے جدا کیسے کر سکتے ہے کہ مذہب اور سیاست دو سلام کا عملی حصہ مجموعہ سیاست : لم والا سلوک کرتی تو نہ کوئی کن جب حکومت نے اپنے ا سے حکومت نے یہ سمجھا کہ لا ! ن ہمارا ایک مشورہ حدیث وں میں اظہار کر چکے ہیں۔ سول اللہ ﷺ ان الله لوك قلوب الملوك في ليهم بالرحمة والرأفة النقمة فساموهم سوء ولكن اشغلو انفسكم الحلية (مشکوٰة کتاب اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی میرے قبضہ میں ہیں اور ا بندوں کے حق میں نرم کر جب بندے میری نافرمانی تا ہوں۔ پس وہ ان کو سخت اور اس کے حضور میں گریہ

یہ صادق المصدوق سردار دو جہاں کا فرمان ہے۔ جس میں ہماری جملہ مشکلات کا حل ہے اور پھر اس پر عمل کرنا بھی سہل ہے۔ تمام مشکلات کا حل اس لئے ہے کہ خدا کی طرف رجوع ہے۔ جو قادر مطلق ہے۔ بادشاہوں کے دلوں کا مالک ہے اور ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے اور سہل اس لئے ہے کہ ہمارے اختیار کی شے ہے۔ ہمیں کسی سخت دل کے حوالے نہیں کیا۔ واللہ الموفق!

خاتم النبیین کا معنی

آخر میں ہم چاہتے ہیں کہ اس لفظ کے معنے واضح کردیں۔ کیونکہ مرزائی عموماً اس میں دھوکہ دیتے ہیں اور اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جناب سرور کونین ﷺ نبیوں کی تصدیق کی مہر ہیں۔ یعنی آئندہ وہ نبی ہوگا جس پر آپ کی اتباع کی مہر ہوگی اور اس بناء پر مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ کیونکہ ان کو دعویٰ ہے کہ وہ سردار دو جہاں کے کامل متبع ہیں۔

آج تک نہ کسی صحابی کو سمجھ آئے۔ نہ تابعی نہ تبع تابع۔ نہ آئمہ دین میں سے کسی نے یہ معنے کئے کہ آئندہ نبی وہ ہوگا جس پر سردار دو جہاں ﷺ کے اتباع کی مہر ہوگی۔ اگر مرزائیوں میں ہمت ہے تو سلف صالحین سے اس کا ثبوت پیش کریں اور جب یہ لفظ کا معنی ہی نہیں۔ بلکہ مرزا کا اپنا اختراع (من گھڑت) ہے۔ تو پھر کامل متبع تو کجا سرے سے اتباع ہی سے خارج ہوگئے اور مسلمان ہی نہ رہے۔

قرأتیں ہیں۔ (١)....... خاتَم النبیین ۔ (٢)....... خاتِم النبیین ۔ (٣)....... ولکن نبیناخاتم النبیین ۔ ملاحظہ ہو (تفسیر مدارک النسفی ج ٣ ص ٣٨٩) وغیرہ!

عربی زبان میں خاتَم اور خاتِم کے دو معنی ہیں۔ خاتِم آخری شے اور خاتَم مہر۔ اگر یہاں پہلا معنی مراد ہے۔ تو مطلب واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور اگر دوسرے معنی ہوں تو پھر مراد ایسی مہر ہوگی۔ جیسے کسی شے کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ اس صورت میں بھی مطلب وہی ہو گیا کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور تیسری قرأت اس کو مؤید ہے۔ کیونکہ ختم النبیین کے دو معنی ہیں۔ اوّل یہ کہ آپ نے نبیوں کو ختم کردیا۔ دوم یہ کہ آپ نے نبیوں پر مہر لگادی۔ دوسرا معنی یہاں نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس صورت میں یہاں تین چیزیں چاہئیں۔ ایک مہر...... ایک مہر لگانے والا...... ایک جس پر مہر لگائی

١٧

مسائل غیروں کی مشابہت اختیار کرنے پر منع فرمایا ہے، یہ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہئے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ اس قوم میں سے ہے۔“ (ابو داؤد: ٤٠٣١)

حضرت عمران بن حسینؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے، چہروں کے مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے عذابات آئیں گے۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب گانے والی عورتوں اور آلات موسیقی کا عام رواج ہو جائے گا“۔ (ترمذی: ٢٢١٢)

س....... کیا ”محمد“ نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ”ص“ لکھنا ضروری ہے یا نام کے ساتھ صرف ”ص“ لکھ دیا جائے تو درود شریف کا ثواب پورا درود لکھے بنا مل جائے گا یا درود لکھنا ضروری ہے اور کیا پڑھنا بھی ضروری ہے اگر پڑھ لیا جائے اور لکھا نہ جائے تو کیا کافی ہے؟

ج....... حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی جہاں بھی لکھا جائے پورا درود صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا چاہئے، صرف ”ص“ یا ”صلعم“ لکھنا مناسب نہیں ہے۔ اگر یہاں پر فقط ”ص“ کا اشارہ اور درود شریف پڑھ لیا

صفحہ ١٤٧

جاتی ہے۔ جب آپ مہر لگانے والے ہوئے تو خود مہر نہ ہوئے۔

حالانکہ پہلی دو قرآتوں میں آپ کو مہر کہا گیا ہے۔ پس یہ معنے پہلے دونوں کے خلاف ہوا۔ اس لئے پہلا مراد ہوگا۔ تاکہ تینوں قرأتوں کا مطلب ایک ہو جائے۔ یعنی پہلی دو قرآتوں کی رو سے آپ چونکہ مہر ہیں اور مہر لگنے سے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے آپ نبیوں کو ختم کرنے والے ہوئے اور یہ مہر خدا کی طرف سے لگائی گئی۔ اس لئے خدا مہر لگانے والا ہوا۔

٣.......

پھر ( بخاری ج ٢ ص ٢٧٨ باب ذکر کونه و خاتم النبیین، مسلم ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین ) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انبیاء علیہم السلام کو ایک مکان سے تشبیہ دی۔ جس میں ایک اینٹ کی کمی ہے اور فرمایا میں بھی وہی اینٹ ہوں۔ ”ختم بی النبیون“ ﴿میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ۔﴾ اس طرح کی اور بھی بہت سی احادیث میں۔ اس سے بھی معلوم ہوا۔ کہ آپ کے ساتھ نبوت ختم ہو گئی۔ آپ تصدیق کی مہر نہیں۔ جیسا کہ مرزائیوں کا خیال ہے۔

٤.......

حضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے: ”انا خاتم النبیین لانبي بعدی“ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴿اس حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی خود بیان فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس آپ کا بیان فرمودہ معنے سب پر مقدم ہے۔ اس کے مقابلہ میں کسی معنی کا اعتبار نہیں۔

٥.......

بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں: ”انی اخر الانبياء وان مسجدى اخر المساجد (مسلم ج ١ ص ٤٤٦ باب فضل الصلوة بمسجدی مكة المدينه )“ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ یعنی نبیوں کی مساجد میں سے۔ ﴾

اسی کے قریب نسائی وغیرہ میں الفاظ پائے جاتے ہیں اور کنز العمال میں بحوالہ دیلمی وغیرہ خاتم مساجد الانبیاء کے الفاظ ہیں۔ یعنی میری مسجد نبیوں کی آخری مسجد ہے۔ اس حدیث سے معاملہ بالکل صاف ہو گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔

٦.......

پھر مہر کے معنے لے کر مرزائیوں نے جو مراد لی ہے۔ وہ عام دستور کے بھی خلاف ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ تصدیق کے لئے مہر مضمون وغیرہ کے بعد لگائی جاتی ہے۔ اگر کسی کو کہا جائے کہ پہلے مہر لگا دے یا دستخط کر دے۔ تو فوراً اس کے دل میں ٤٢٠ کا خطرہ دوڑ جاتا ہے۔ ہاں فیس کی مہر پہلے ہوتی ہے۔ جیسے اسٹامپ وغیرہ۔ مگر یہاں فیس سے کوئی تعلق نہیں۔

اس بناء پر خاتم النبیین میں نبیوں سے مراد نئے نبی نہیں ہو سکتے۔ بلکہ گزشتہ نبی مراد

١٨

ہوں گے۔ کیونکہ نئے نبیوں کا تو اس وقت وجود ہی نہیں نہیں کہا جاسکتا۔

پاکٹ بک مرزائیہ مرتبہ عبدالرحمٰن خادم مجری زینت کے بھی کئے ہیں اور مرزا محمود نے تحقیقاتی عدالت اخبار امروز ١٨/جنوری ١٩٥٣ء میں بھی یہی معنے کئے ہیں۔ ثبوت پیش نہیں کیا اور بعض نے مجمع البحرین کا حوالہ دیا۔ مرزائیہ میں مجموعہ نبھانی جز ٣ کے حوالہ سے ابن معتوق شاع

طوق الرسالة تاج الر
بل زينة لعباد

اس شعر کے دوم مصرعہ میں لفظ ”بل“ اور اس دھوکہ کھایا ہے کہ پہلے مصرعہ میں طوق ۔ تاج اور خاتم تینوں یہ کئی وجوہ سے غلط ہے۔

سے بلند ہے۔

طوق اور تاج ( مالا ) بنانے کی اصل غرض ز زینت ہے۔ مگر خاتم کی اصل غرض قدیم دستور میں صرف عرب میں خاتم کے معنے زینت نہیں آئے۔ اس سے وا کے صرف دو الفاظ طوق اور تاج کو ملحوظ رکھ کر استعمال کیا

اگر مہر صرف انبیاء کی زینت نہیں۔ بلکہ تمام بند آپ انبیاء علیہم السلام کے لئے زینت ہوئے تو دوسر ہوئے۔ ایسے معنے کو لفظ ”بل“ کے ساتھ بیان نہیں باپ کو اف تک نہ کہو۔ اس سے گالی دینے کی ممانعت یوں بیان کرے کہ ماں باپ کو اف نہ کہو بلکہ اس کے اس سے معنے مطلب میں ترقی نہیں بلکہ تنزل ہوا۔ ب

١٩

صفحہ ١٤٧

ہوں گے۔ کیونکہ نئے نبیوں کا تو اس وقت وجود ہی نہیں تھا۔ تو اس کے لحاظ سے آپ کو خاتم نہیں کہا جاسکتا۔

پاکٹ بک مرزائیہ مرتبہ عبدالرحمن خادم گجراتی میں خاتم النبیین کے معنے نبیوں کی زینت کے بھی کئے ہیں اور مرزا محمود نے تحقیقاتی عدالت میں جو بیان دیا ہے۔ اس کی قسط مندرجہ اخبار امروز ١٨؍ جنوری ١٩٥٤ء میں بھی یہی معنے کئے ہیں۔ لیکن کسی معتبر لغت عرب سے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور بعض نے مجمع البحرین کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ وہ معتبر نہیں اور پاکٹ بک مرزائیہ میں مجموعہ نبہانی جز ٤ کے حوالہ سے ابن معتوق شاعر کا ایک شعر پیش کیا ہے:

طوق الرسالة تاج الرسل خاتمهم
بل زينة لعباد الله كلهم

اس شعر کے دوم مصرعہ میں لفظ ”بل“ اور اس کے بعد لفظ ”زینة“ سے مرزائیوں نے یہ دھوکہ کھایا ہے کہ پہلے مصرعہ میں طوق ۔ تاج اور خاتم تینوں الفاظ کے معنے زینت کے ہیں۔ حالانکہ یہ کئی وجوہ سے غلط ہے۔

سے بلند ہے۔

طوق اور تاج (مالا) بنانے کی اصل غرض زینت ہوتی ہے اور خاتم میں۔ اگرچہ بالتبع زینت ہے۔ مگر خاتم کی اصل غرض قدیم دستور میں صرف مہر ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اصل لغت عرب میں خاتم کے معنے زینت نہیں آئے۔ اس سے واضح ہوا کہ شاعر نے ”بل“ کا لفظ پہلے مصرعہ کے صرف دو الفاظ طوق اور تاج کو ملحوظ رکھ کر استعمال کیا ہے۔ نہ کہ خاتم کے لحاظ سے۔

اکرم ﷺ صرف انبیاء کی زینت نہیں۔ بلکہ تمام بندوں کی زینت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب آپ انبیاء علیہم السلام کے لئے زینت ہوئے تو دوسرے لوگوں کے لئے بطریق اولیٰ زینت ہوئے۔ ایسے معنے کو لفظ ”بل“ کے ساتھ بیان نہیں کیا جاتا۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے۔ ماں باپ کو اف تک نہ کہو۔ اس سے گالی دینے کی ممانعت بطریق اولیٰ سمجھی جاتی ہے۔ اس کو اگر کوئی یوں بیان کرے کہ ماں باپ کو اف نہ کہو بلکہ اس کے ساتھ گالی بھی نہ دو۔ تو یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اس سے معنے مطلب میں ترقی نہیں بلکہ تنزل ہوا۔ ہاں یوں کہنا صحیح ہے کہ ماں باپ کو گالی نہ دو

١٩

صفحہ ١٣٩

آپ کے مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے؟ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینے میں ہے اور تمیز نہ کرنا گناہ حرام ہے۔ اس کے بارے میں اہل سنت و جماعت کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ ” گانے کی محبت دل میں اس پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا (سنن ابی داؤد، ج:٥، ص:١٠٩، رقم: ٤٩٢٧) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ اس امت میں بھی زمین میں اور پتھروں کی بارش کے صحابی نے پوچھا آپ علیہ الصلوۃ کی عورتوں اور شرابیں پی ناجائز بغیر

کافی ہے؟ ج:..... حضور اکرم صلی اللہ علیہ نام سلطان اپنے لئے ہی رکھے پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ علیہ وسلم یا ”ص“ لکھنا ضروری س:..... کیا ” محمد “ نام ”محمد “ نام کے ساتھ ج:..... یہ جانے کا سبب کہ دل میں طمع و لالچ پیدا ہو لحن میں غیر مردوں سے میں اس کی ممانعت آئی سلام کرنا یا محبت کا دور رہنا چاہئے ہوشیار رہنا پھینکنا ایک شرم و حیاء جو اس میں بلکہ سب

رک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی اللہ علیہ چاہئے صرف ”ص“ کا اشارہ اور مستحب ہے۔ اگر لفظ محمد کسی کی میں ہے اور

بلکہ اف تک بھی نہ کہو۔ اس بناء پر اس شعر میں یوں کہنا چاہئے تھا کہ نہ صرف تمام ہندوں کی زینت ہیں۔ بلکہ انبیاء کی بھی زینت ہیں۔ پس یہ شعر عربیت کی رو سے غلط ہے اور اس سے استدلال کرنا واقعی مرزائیت کا کمال ہے۔

اس کے علاوہ خاتم بمعنے زینت سے بھی نبی ﷺ کا آخری نبی ہونا لازم آجاتا ہے۔ کیونکہ خاتم جس کی زینت بنائی جاتی ہے۔ وہ پہلے ہوتا ہے اور یہاں نبی اکرم ﷺ کے لئے زینت ہیں۔ وہ انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پس وہ آپ سے پہلے ہوئے اور آپ ان سب کے بعد۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت آخری نبی ہیں۔ سچ ہے:

عباراتنا شتی وحسنک واحد
فکل الی ذاک الجمال یشیر

مرزائیوں کی دورنگی

مرزائیوں کے الفضل اخبار کا ایک نمبر ٢٧؍ جولائی ١٩٥٢ء کو خاتم النبیین کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ صاحب شریعت نبی نہیں ہو سکتا۔ گویا اس لفظ میں نبیوں سے مراد صاحب شریعت نبی ہوئے اور وہ گزشتہ نبی ہیں اور یہ مرزائیوں کے مذکورہ بالا معنی کے خلاف ہیں۔ کیونکہ اس میں آئندہ نبی مراد لئے ہیں۔ جن پر تصدیق کی مہر ہو۔ اصل میں جھوٹے کی بات کوئی ٹھکانے کی نہیں ہوتی۔

دورنگی کی ایک اور مثال مرزائی ادھر تو کہتے ہیں۔ صاحب شریعت نبی نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ نبی وہ آسکتا ہے۔ جس پر رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی مہر ہو۔ حالانکہ صاحب شریعت نبی کو بھی اتباع کا حکم ہے۔ تو گویا صاحب شریعت بھی آسکتا ہے۔ محمد رسول جو صاحب شریعت نبی ہیں۔ ان کو بھی اتباع کا حکم ہو رہا ہے: ”فبھداھم اقتدہ“ (جسے اے محمد! تو پہلے نبیوں کی اتباع کر) اور دوسری جگہ ارشاد ہے:۔ ”ثم اوحينا اليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفا“ (یعنی اے محمد! تو ملت ابراہیمی کی اتباع کر۔)

خاتم النبیین میں الف لام کا معنی

الف لام کے چار معنی آتے ہیں:

رب ہے تمام جہانوں کا۔)

٢٠

جنس خدا کے لئے ہے۔ ﴾

معین رسول موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی۔ ﴾

بھیڑیے نے یوسف علیہ السلام کو کھا لیا۔ ﴾

اب سوال یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین میں تو مراد نہیں ہوسکتیں۔ چوتھی اس لئے کہ غیر معین نبیوں قسم مراد ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ تعین کے لئے مراد ہوں گی اور معنی یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ تمام نبی کے خاتم ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی شے کی جنس ہی اب یہ کہنا کہ غیر تشریعی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس آیت ک

نوٹ: مرزائی بعض دفعہ کہا کرتے ہیں چاہئے۔ لیکن آپ صاحب شریعت نبی کا آنا خود ہی رحمت نہیں۔ مرزائیوں کے دلائل ایسے ہی بے سروپا ہو مگر ان کو پتہ نہیں لگتا۔

مغالطہ دہی

اس نمبر میں بعض بزرگان سلف اور اہل سنت نہیں آسکتا۔ غیر صاحب شریعت نبی آسکتا ہے۔ حا عبارتوں کا غلط مفہوم لیا گیا ہے۔ مقصد ان کا یہ ہے صاحب شریعت نبی ہیں۔ مگر ان کی دوبارہ آمد صاح شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے اور بعض بزرگوں کا مقصد اللہ نبوت کے درجہ میں انبیاء کو پہنچ گئے ہیں۔ گویا آپ ہے کہ جب شے انتہائے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔ تو ختم آپ کے بعد نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یعنی نئی نبوت کا درو چکے ہیں۔ اس لئے نئی نبوت کی گنجائش نہیں اور اسی بنا دیتے ہوئے خود کو آخری اینٹ فرمایا ہے۔ چنانچہ پہلے

٢١

صفحہ ١٤٩

جنس خدا کے لئے ہے۔﴾

معین رسول موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی۔﴾

بھیڑیے نے یوسف علیہ السلام کو کھا لیا۔﴾

اب سوال یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین میں الف لام کون سی قسم ہے۔ آخر کی دو قسمیں تو مراد نہیں ہوسکتیں۔ چوتھی اس لئے کہ غیر معین نبیوں کے خاتم ہونے کا کوئی مطلب نہیں اور تیسری قسم مراد ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ تعین کے لئے پہلے کوئی قرینہ چاہئے۔ پس پہلی دو قسمیں مراد ہوں گی اور معنے یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔ یا حقیقت اور جنس انبیاء کے خاتم ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی شے کی جنس ہی ختم ہو جائے۔ تو اصل شے بھی خاتم ہوگئی۔

اب یہ کہنا کہ غیر تشریعی نبی پیدا ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے صریح خلاف ہے۔

نوٹ: مرزائی بعض دفعہ کہا کرتے ہیں کہ نبوت رحمت ہے۔ رحمت بند نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن آپ صاحب شریعت نبی کا آنا خود ہی بند کر رہے ہیں۔ کیا یہ صاحب شریعت نبی رحمت نہیں۔ مرزائیوں کے دلائل ایسے ہی بے سروپا ہوتے ہیں۔ اپنی تردید آپ ہی کرتے ہیں۔ مگر ان کو پتہ نہیں لگتا۔

مغالطہ دہی

اس نمبر میں بعض بزرگان سلف اور اہل سنت کا یہ عقیدہ لکھا ہے کہ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا۔ غیر صاحب شریعت نبی آسکتا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ان بزرگوں کی عبارتوں کا غلط مفہوم لیا گیا ہے۔ مقصد ان کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ آئیں گے۔ اور وہ صاحب شریعت نبی ہیں۔ مگر ان کی دوبارہ آمد صاحب شریعت کی حیثیت سے نہیں ہوگی۔ بلکہ شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے اور بعض بزرگوں کا مقصد یہ ہے کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں کہ رسول اللہ نبوت کے درجہ میں انتہاء کو پہنچ گئے ہیں۔ گویا آپؐ پر نبوت کے کمالات کا خاتمہ ہو گیا اور ظاہر ہے کہ جب شے انتہائی کمال کو پہنچ جاتی ہے۔ تو ختم ہو جاتی ہے۔ پس اس سے بھی لازم آیا کہ آپؐ کے بعد نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یعنی نئی نبوت کا دروازہ بند ہے۔ کیونکہ سارے منازل طے ہو چکے ہیں۔ اس لئے نئی نبوت کی گنجائش نہیں اور اسی بناء پر آپؐ نے سلسلہ نبوت کو مکان سے تشبیہ دیتے ہوئے خود کو آخری اینٹ فرمایا ہے۔ چنانچہ پہلے حدیث گزر چکی ہے۔

٢١

صفحہ ١٥٠

بہرصورت ان بزرگوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نئی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ جیسے مرزائیوں کا خیال ہے۔ اگر ہمت ہے تو کوئی صریح ایسی عبارت دکھاؤ کہ جس میں انہوں نے خاتم النبیین کا یہ معنے کیا ہو کہ سرکار دو جہاں ﷺ آئندہ نبیوں کی مہر ہیں اور اگر کسی نے ایسا کیا ہو۔ تو اہل سنت نہیں۔ بلکہ گمراہ ہے۔ کیونکہ وہ قرآن وحدیث اور خیر قرون کے خلاف ہے۔

حضرت عائشہؓ اور مسئلہ ختم نبوت

اسی نمبر میں تکملہ مجمع البحار کے حوالہ سے حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو: ”لانبی بعدہ“ (آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے) اور اس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے نزدیک نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اگر خاتم النبیین سے آئندہ نبیوں کی نفی ہوئی تو پھر حضرت عائشہ صدیقہؓ ”لانبی بعدہ“ کہنے سے کیوں روکتیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اس قول کی سند کا ہی اعتبار نہیں۔ ایسے غیر معتبر قول پر اتنے بڑے مسئلہ کی عمارت کھڑی کرنا کون سی عقل مندی ہے۔ دوم حضرت عائشہؓ کا اس ”لانبی بعدہ“ سے روکنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی طرف اشارہ ہے۔ نہ کہ نئی نبوت کا اجراء۔ چنانچہ تکملہ مجمع البحار میں اسی مقام میں اس کی تصریح کی ہے۔ مگر مغالطہ دینا مرزائیوں کی فطرت ہے۔ اس لئے تکملہ کی پوری عبارت نقل نہیں کی۔

البتہ پاکٹ بک مرزائیہ میں پوری عبارت نقل کی ہے۔ لیکن اس کا مطلب غلط لیا ہے۔ تکملہ کی پوری عبارت یہ ہے۔

”قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعده هذا ناظر الی نزول عیسیٰ وهذا ايضاً لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لانه اراد لا نبی ینسخ شرعہ“

(تکملہ ص ٨٥)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ خاتم الانبیاء کہو اور لا نبی بعدہ ، یہ نہ کہو۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا فرمان نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی بناء پر ہے اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام حدیث لانبی بعدی کے بھی خلاف نہیں ہے۔

کیونکہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آپؐ کے بعد نہیں۔ جو آپؐ کی شریعت منسوخ کرے۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام آپؐ کی شریعت کو منسوخ نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کو جاری کریں گے۔ اس لئے نزولِ عیسیٰ اس حدیث کے خلاف نہیں اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نیا نبی صاحب شریعت نہ ہو۔ وہ آسکتا ہے۔

٢٢

جیسا کہ پاکٹ بک مرزائیہ کا خیا شریعت نبی نہیں آئے گا۔ صرف نزول عیسیٰ علیہ اس لئے بعض علماء نے اس حدیث کا مطلب گی۔ یعنی نیا نبی نہیں آئے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام حدیث کے خلاف نہیں۔ ملاحظہ ہو (تفسیر کشاف میں صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ملحوظ رکھا گیا اس کے اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا۔ تو پھر ن سب مرزائیوں کی مغالطہ دہی ہے۔ ورنہ تکملہ کی

حضرت علیؓ اور مسئلہ ختم نبوت

ایسے ہی الفضل کے اس نمبر میں تہ ہے کہ ابو عبدالرحمٰن سلمیؓ ، حسنؓ ، حسینؓ کو قر کہ خاتم النبیین میں خاتم کو ت کے زبر کے س خاتم زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنے ختم کر کے معنے مہر کے ہیں اور نبوت چونکہ ختم نہیں ہو کی ہدایت فرمائی۔ حالانکہ یہ وجہ نہ تھی۔ بلکہ ساتھ پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ ورنہ خاتم اگر بھی اس کا مطلب وہی ہے جو زیر کے ساتھ بھی قرآن مجید کی ایک قرأت ہے۔ اس لئے میں مخالفت نہ ہو۔ لیکن مرزائیوں کو اس کی کیا خدا ان فتنوں سے بچائے۔ آمین

مسلمان اور مرتد کی تعریف

تحقیقاتی عدالت میں مسلمان کی عدالت کے بڑے رکن مسٹر محمد منیر نے یہ ہوئے۔ ملاحظہ ہو

حالانکہ یہ بنیادی چیز ہے اور بنیا جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ

آپ کے مسائل غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے؟ رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں چھوڑنا حرام ہے۔ اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ”گائے کی محبت دل میں اس طرح بیٹھتی ہے۔ جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے“ (ابن ماجہ: ١٠٩٠) حضرت عمرانؓ بن سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ صلی اللہ نے فرمایا کہ بارش کے میں بھی نبی کی زبان میں اس امت میں بھی زمین میں اور پتھروں کی بارش کے صحابہؓ نے پوچھا آپ علیہ الصلوۃ کے دل میں رچ بس گئی ہے؟ میں اس کی ممانعت آئی ہے؟ سلام کرنا یا محبت کا دور رہنا چاہئے ہوشیار رہنا چاہئے شرم و حیاء جو ایک کی عورتوں اور شرطیں یا ناجائز بغیر پورا درود کافی ہے؟ ج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ پر درود بھیجا جائے پورا درود صلی اللہ چاہئے صرف ”ص“ کا اشارہ اور لکھنے کی بجائے ثواب سے محروم رہنا ہے، اس لئے نام علیہ وسلم یا صلی اللہ علیہ نام کے ساتھ پورا درود لکھنا ضروری کیا ”محمد ﷺ“ نام کے جانے کا سبب یہ ہے۔

صفحہ ١٥١

جیسا کہ پاکٹ بک مرزائیہ کا خیال ہے۔ بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔ صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے۔ نہ کہ نئی نبوت کی خاطر۔ اس لئے بعض علماء نے اس حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ یعنی نیا نبی نہیں آئے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ پہلے کے نبی ہیں۔ اس لئے ان کا نزول اس حدیث کے خلاف نہیں۔ ملاحظہ ہو (تفسیر کشاف ج ٣ ص ٥٤٣، ٥٤٥) وغیرہ ۔ خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں صرف نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اجراء نبوت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ اس کے اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا۔ تو پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کی کیا ضرورت تھی؟ الغرض یہ سب مرزائیوں کی مغالطہ دہی ہے۔ ورنہ تکملہ کی عبارت کا مطلب بالکل واضح ہے۔

حضرت علیؓ اور مسئلہ ختم نبوت

ایسے ہی الفضل کے اس نمبر میں تفسیر در منثور کے حوالہ سے حضرت علیؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ ابو عبد الرحمن السلمیؓ ، حسنؓ ، حسینؓ کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ تو حضرت علیؓ نے ان کو فرمایا کہ خاتم النبیین میں خاتم کو ت کے زبر کے ساتھ پڑھاؤ اور اس سے حضرت علیؓ کا مقصد یہ تھا کہ خاتم زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنے ختم کرنے والے کے ہیں اور اگر خاتم زبر کے ساتھ ہو تو اس کے معنے مہر کے ہیں اور نبوت چونکہ ختم نہیں ہوئی۔ اس لئے حضرت علیؓ نے زبر کے ساتھ پڑھانے کی ہدایت فرمائی ۔ حالانکہ یہ وجہ نہ تھی۔ بلکہ اس کی قرأت زبر کے ساتھ تھی۔ اس لئے زبر کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ ورنہ خاتم اگر زبر کے ساتھ ہو اور اس کے معنے مہر کے ہوں۔ تب بھی اس کا مطلب وہی ہے جو زیر کے ساتھ ہے۔ چنانچہ اوپر ذکر ہو چکا ہے اور چونکہ زیر کے ساتھ بھی قرآن مجید کی ایک قرأت ہے۔ اس لئے دونوں کا مطلب ایک ہونا ضروری ہے۔ تاکہ آپس میں مخالفت نہ ہو۔ لیکن مرزائیوں کو اس کی کیا پرواہ۔ وہ مغالطے دے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ خدا ان فتنوں سے بچائے ۔ آمین

مسلمان اور مرتد کی تعریف

تحقیقاتی عدالت میں مسلمان کی تعریف میں بھی بڑا اختلاف ہوا ہے۔ یہاں تک کہ عدالت کے صدر مسٹر محمد منیر نے یہ کہہ دیا کہ دو علماء بھی مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ہوئے۔ ملاحظہ ہو

(اخبار آثار مورخہ ٢٦ صفر ١٣٧٣ھ مطابق ٥ نومبر ١٩٥٣ء)

حالانکہ یہ بنیادی چیز ہے اور بنیادی چیز میں اختلاف اصل شے کو متزلزل کر دیتا ہے۔ جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ دنیا میں اسلام ایک ایسا مہمل لفظ ہے۔ جس کے معنے

٢٣

صفحہ ١٥٣

چاہئے۔ جس میں اول نمبر نماز کا ہے۔ جس کی امامت بھی اس کی ٹریننگ دی گئی۔ جیسے اس کی فرضیت سب گئی۔ ایسی ہی اس کی ٹریننگ کی بھی صورت نرالی ہے کہ لحاظ سے اس قسم کی خصوصیات کی بنائے پر اس کی اہمیت دین کا ستون بن گئی۔ یہاں تک کہ کلمہ توحید کی صحت کے مسلمان وہ ہے...... جو...... لااله الاالله کے ماتحت ماننے والا اور اقرار کرنے والا ہے اور اس اختلاف ہے۔ مثلاً نماز کلمہ توحید کی صحت کے لئے شرط اس میں اختلاف ہے۔ لیکن کلام الٰہی کی اہمیت کے سوال رسول کی طرف لوٹاؤ...... یہ اختلاف آسانی سے مٹ بابت کفر بواح (صریح کفر) کا فیصلہ بدل آئے گا۔ ان کہ کلمہ توحید زیر تعلیمات قرآنیہ تسلیم کرنے کے بعد نما حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ کلمہ توح اجزائ ایمان میں ہے۔ وہب بن منبہ سے کسی نے سوال کیا کنجی دندانے بغیر نہیں ہوتی۔ اگر دندانوں والی کنجی لائے گویا ان کا اشارہ اسی طرف تھا کہ کسی عمل کا شوشہ کلمہ توح میں اوّل نمبر نماز ہے)

اور اگر کوئی زبردستی اس میں اختلاف کرے مٹا دے۔ اس کو اختلاف نہیں کہنا چاہئے۔ بلکہ اس کا نام زیر تعلیمات قرآنیہ ماننا اور اقرار کرنا۔ اس کے تسلیم پر متفقہ تعریف ثابت ہوگئی۔ اصل میں جو عدالت میں علام وجہ سے اور سیاسیات میں زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے عوام وہ بڑے مولانا مشہور ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

مرتد کی تعریف

مسٹر محمد باقر امیر جماعت اسلامی ملتان... ہے: ”جو ان بنیادی اصولوں کو جن پر اسلامی مملکت کی

٢٥

صفحہ ١٥٤

چاہئے۔ جس میں اول نمبر نماز کا ہے۔ جس کی امامت کے لئے جبرئیل علیہ السلام آئے۔ گویا محمدؐ کو بھی اس کی ٹریننگ دی گئی۔ جیسے اس کی فرضیت سب احکام سے نرالی ہے کہ آسمان پر بلا کر کی گئی۔ ایسی ہی اس کی ٹریننگ کی بھی صورت نرالی ہے کہ پہلے نبی ﷺ کو اس کی ٹریننگ دی گئی۔ عملی لحاظ سے اس قسم کی خصوصیات کی بنائے پر اس کی اہمیت بڑھ گئی اور سب اعمال پر مقدم ٹھہری اور دین کا ستون بن گئی۔ یہاں تک کہ کلمہ توحید کی صحت کے لئے شرط ہو گئی ...... خلاصہ یہ کہ:

مسلمان وہ ہے ... جو .... لا اله الا الله محمد رسول الله ... کو قرآن کی تعلیم کے ماتحت ماننے والا اور اقرار کرنے والا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کے بعد کچھ اختلاف ہے۔ مثلاً نماز کلمہ توحید کی صحت کے لئے شرط اور اسلام کی تعریف میں داخل ہے یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے۔ لیکن کلام الہی کی اہمیت کے موافق کہ جب کسی امر میں نزاع ہو۔ تو خدا اور رسول کی طرف لوٹاؤ..... یہ اختلاف آسانی سے مٹ سکتا ہے۔ چنانچہ آگے میں ترک نماز کی بابت کفر بواح (صریح کفر) کا فیصلہ مدلل آئے گا۔ انشاء اللہ پس ”مسلمان کی صحیح تعریف یہ ہوئی کہ کلمہ توحید زیر تعلیمات قرآنیہ تسلیم کرنے کے بعد نماز کی پابندی کرنے والا ۔“ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ کلمہ توحید جنت کی کنجی ہے۔ چنانچہ مشکوۃ کتاب الایمان میں ہے۔ وہب بن منبہ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا کلمہ توحید جنت کی کنجی نہیں؟ فرمایا: ” کنجی دندانے بغیر نہیں ہوتی۔ اگر دندانوں والی کنجی لائے گا تو جنت کا دروازہ کھلے گا، ورنہ نہیں۔“ گویا ان کا اشارہ اسی طرف تھا کہ کسی عمل کا شوشہ کلمہ توحید کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ (جس میں اوّل نمبر نماز ہے)

اور اگر کوئی زبردستی اس میں اختلاف کرے۔ (حالانکہ جس اختلاف کو قرآن، حدیث مٹا دے۔ اس کو اختلاف نہیں کہنا چاہئے۔ بلکہ اس کا نام غلطی یا کچھ اور رکھنا چاہئے) تو چلو کلمہ توحید زیر تعلیمات قرآنیہ ماننا اور اقرار کرنا۔ اس کے تسلیم پر تو اتفاق ہے۔ پس بہر صورت مسلمان کی متفقہ تعریف ثابت ہو گئی۔ اصل میں جو عدالت میں علماء جاتے ہیں۔ ان سے اکثر اپنی تقریروں کی وجہ سے اور سیاسیات میں زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے عوام میں خاص کر انگریزی خواں حضرات میں وہ بڑے مولانا مشہور ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

مرتد کی تعریف

مسٹر محمد باقر امیر جماعت اسلامی ملتان ..... نے عدالت میں مرتد کی تعریف یہ کی ہے: ”جو ان بنیادی اصولوں کو جن پر اسلامی مملکت کی اساس (بنیاد) رکھی گئی ہو۔ تباہ کرنے یا

٢٥

صفحہ ١٥٤

س کے؟ ج:..... حضور اکرم صلی اللہ علیہ جب بھی لکھا جائے تو درود صلی اللہ وسلم پورا۔ حرف ”ص“ کا اشارہ اور مخفف لکھنا صحیح نہیں ہے۔ اگر لفظ محمد کسی اور کا نام ہو تب تو درود شریف

پورا درود لکھا جائے ورنہ صرف ”ص“ کافی ہے؟ نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھتے علیہ وسلم“ یا ”ص“ لکھنا ضروری نام کے ساتھ آنا چاہئیے

”مجھ“ کے نام کے جانے کا سبب یہ کہ دل میں طمع اور دنیا پیدا ہو جس میں غیر مردوں سے میل جول کی ممانعت آئی میں اس کی ممانعت کا سلام کرنا یا محبت کا دور رہنا چاہئیے ہوشیار رہنا بچنے کی ایک شرم و حیاء جو ایک میں بلکہ مسلم عورت

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، فضل عام اور غیر فانی ہے، سب پر رحمت چھوڑنی چاہیے، اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں نبی رحمت کی وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے (سنن ابو داؤد: ٤٩٠٩) حضرت عمران بن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں دھنسنے، پتھروں کی بارش کا عذاب ہوگا جب کہ لوگ موسیقی اور گانے والی عورتوں اور شراب کو اپنا لیں گے۔ (سنن ترمذی: ٢٢١٢)

نقصان پہنچانے کی کوشش کرلے۔

(اخبار آثار مورخہ ١٩ صفر ١٣٧٣ھ مطابق ٢٩ اکتوبر ١٩٥٣ء)

یہ تحریف اسلامی رواداری بیان کرتے ہوئے کی ہے۔ مطلب یہ کہ اسلامی حکومت میں خواہ کوئی اسلام ترک کردے۔ اس کو بھی قتل نہیں کرسکتے۔ جب تک بغاوت نہ کرے۔ گویا مرتد کو دوسرے کفار کی طرح سمجھتے ہیں کہ جیسے وہ حکومت اسلامی میں رہ سکتے ہیں۔ مرتد بھی رہ سکتا ہے۔ حالانکہ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ارتداد سے دوسروں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور کفر کا راستہ کھلتا ہے اور پہلے سے کافر ہونے والے میں یہ بات نہیں۔ چنانچہ قرآن مجید پارہ ٣ رکوع ١٦ میں اس کا بیان ہے اور پھر آج تک کسی نے مرتد کی یہ تعریف نہیں کی۔ نیز یہ حدیث کے بھی صریح خلاف ہے۔ چنانچہ بخاری میں حدیث ہے: ”من بدل دينہ فاقتلوه “ (مشكوة ص ٣٠٧، باب قتل اهل الردة فصل اول) ﴿جو دین بدل دے اس کو قتل کردو۔﴾

اور رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا۔ وہاں وہ ابو موسیٰ کو ملے۔ ان کے پاس ایک شخص مشکیں باندھے پڑا ہوا تھا۔ معاذ ابھی سواری سے نہیں اترے تھے کہ فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا...... ”یہ دین سے پھر گیا ہے۔“..... فرمایا...... واللہ میں سواری سے نہیں اتروں گا۔ جب تک یہ قتل نہ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے: ”من بدل دينہ فاقتلوه “ جب قتل کر دیا گیا تو پھر سواری سے اترے۔ یہاں دین بدلنے پر قتل کا حکم ہو رہا ہے اور مسٹر محمد باقر نے بغاوت کی شرط رکھ دی اور اس بناء پر مرتد کی تعریف بدل دی۔ حالانکہ بغاوت کا مسئلہ اس سے الگ ہے۔ اور اس میں بھی قتل ہے۔ مسٹر محمد باقر نے خلط ملط کر کے ایک ہی کر دیا۔ انا للہ...... خدا ان کو سمجھ دے اور ہدایت دے کہ ایسے مسائل میں خود دخل دینے کی بجائے ان کو اہل علم کے...... حوالے کردیں۔

بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قتل مرتد آیت کریمہ : ”لا اكراه فی الدین “ کے خلاف ہے۔ حالانکہ ”لا اكراه “ کے معنے ہیں کہ دین منوانے میں کسی پر جبر نہیں اور قتل مرتد دین منوانے پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس بناء پر ہوتا ہے کہ دوسرے کے دلوں میں شکوک نہ بپا ہوں اور کفر کا راستہ نہ کھلے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے۔ والحمد لله رب العالمين !

١؎ مودودی صاحب کا یہی نظریہ ہے۔ ملاحظہ ہو بیان مودودی در تحقیقاتی عدالت قسط ٢ زیر عنوان ”مرتد کی سزا اسلام میں“ مندرجہ روز نامہ نوائے پاکستان لاہور ٢٨ اپریل ١٩٥٤ء

٢؎ بغاوت اور ارتداد میں دو طرح سے فرق ہے۔ ایک یہ کہ ارتداد میں قتل واجب ہے اور بغاوت میں قاضی کو اختیار ہے۔ دوم بغاوت مسلمانوں کو بھی شامل ہے۔

٢٦

حکومت مرزائیوں کو ایک الگ ج

علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے سے پاک کیا تھا اور کشمیر کمیٹی کی رکنیت اس قادیانی رہا۔ پھر علامہ اقبالؒ نے اس وقت اس کا خود کاشتہ پودا تھا، مطالبہ کیا کہ وہ مر ”حرفِ اقبال“ سے عبارت کا ضروری حصہ

”انسان کی تمدنی زندگی میں م ص ١٤٢) ”اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط سکتا ہے۔ میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے باغی ہے۔ لیکن موخر الذکر اسلام کی م لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد

”مسلمانوں نے قادیانی تحری جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ”ملا ز کا ثبوت دے رہا ہے۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذ اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشور

”حکومت کو موجودہ صورتح وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام م وحدت خطرے میں ہو تو اس کے سوائ مدافعت کرے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ا وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ لبریز ہو۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی حاجت ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا دوسرے پر الحاد کا فتویٰ ہی دیتے ہیں۔“

قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی

صفحہ ١٥٥

حکومت مرزائیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے

علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے ایک مذہبی ادارہ انجمن حمایت اسلام لاہور کو مرزائیت سے پاک کیا تھا اور کشمیر کمیٹی کی رکنیت اس وقت تک قبول نہ کی۔ جب تک کہ اس کا صدر مرزا محمود قادیانی رہا۔ پھر علامہ اقبالؒ نے اس وقت کی فرنگی حکومت سے جو خود فتنہ مرزائیہ کی بانی تھی اور یہ اس کا خود کاشتہ پودا تھا، مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ چنانچہ کتاب ”حرف اقبالؒ“ سے عبارت کا ضروری حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

”انسان کی تمدنی زندگی میں غالباً ختم نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔“ (حرف اقبال ص ١٢٢) ”اس کا صحیح اندازہ مغربی اور وسط ایشیاء کے مؤبدانہ تمدن کی تاریخ کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن موخر الذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٣)

”مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے۔ وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دنوں سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ”ملا زدہ“ کا خطاب دیا تھا۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمان نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٤)

”حکومت کو موجودہ صورت حال پر غور کرنا چاہئے اور اس اہم معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے۔ عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بے شمار مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کا فتویٰ ہی دیتے ہیں۔“

(حرف اقبال ص ١٢٦، ١٢٧)

قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاشرت

٢٧

صفحہ ١٥٦

کیے جاتے ہیں، کہ اگر لفظ کفر

صیغہ معروف ”دُعِیَ“ پڑھا درود صلی اللہ

میں پہلا کلمہ پڑھا جاتا ہے

پورا درود لکھیے، بجائے صرف ”ص“

کافی ہے؟

ج: ...... حضور اکرم صلی اللہ علیہ

علیہ وسلم یا ”ص“ لکھنا، ضروری

نام سلطان اپنے لئے نبی

چھوڑنے کا نام کسا

و، کیا ...... ”محمد“ نام

جاتا ہے۔ یہ سب

باتیں پی

کریں

اور

کی بارش سے

زمین میں

نبی کریم صلی اللہ

میں بھی امت

اللہ کا

نے

طریقے

سے

مرد عورتوں سے

پوچھے تو پردے

صحابہؓ نے پوچھا

آپ صلی اللہ

کی دل میں طمع و لالچ پیدا

بچہ میں غیر مردوں سے

میں اس کی ممانعت آئی

سلام کرنا محبت کا

دور رہنا چاہ

ہوشیار رہنا چا

پھٹنے کی ایک

شرم و حیاء جو اک

شاد فرمایا کہ: ”مجھے حق کی وصیت دی میں اس

کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا

فرمایا: (صحیح بخاری: ٥١٠٩) حضرت عمران بن

میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں

سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے

فضل و کرم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہئے اور

مسائل

میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے۔ خود حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں اور مجھے اس احساس میں حکومت کے سکھوں کے متعلق رویہ سے بھی تقویت ملی۔ سکھ ١٩١٩ء تک آئینی طور پر علیحدہ سیاسی جماعت تصور نہیں کئے جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد ایک علیحدہ جماعت تسلیم کر لئے گئے۔ حالانکہ انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں۔ اب چونکہ آپ نے یہ سوال پیدا کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کے متعلق جو برطانوی اور مسلم دونوں کے زاویہ نگاہ سے بہت اہم ہے۔ چند معروضات پیش کروں۔ آپ چاہتے ہیں۔ میں واضح کروں کہ حکومت جب کسی جماعت کے مذہبی اختلافات کو تسلیم کرتی ہے۔ تو میں اسے کس حد تک گوارا کر سکتا ہوں۔ سو عرض ہے:

اولاً ..... اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے۔ جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعے وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔

ایران میں ”بہائیوں“ نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔

میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں۔ یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ جائیں۔

ثانیاً ..... ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بابی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت

٢٨

٧ کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ علاوہ بریں ان کا دین کے بنیادی اصولوں سے انکار قیام نماز سے قطع تعلق۔ نکاح وغیرہ کے معاملات بڑھ کر یہ اعلان کہ تمام دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہاں واقع یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوؤں ٹالنا ..... اس امر کو سمجھتے ہوئے کسی خاص ذہانت مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی ا میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟

علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا بھی نہیں مل سکتی۔

یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میں کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔

ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا۔ تو مسلمانوں کو شک گزرے کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبے کے

(حرف اقبال)

پاکستان کے طول و عرض میں اقبالؒ کی با کرنا۔ یوم اقبالؒ منانا۔ اقبالؒ کے فلسفہ، حکمت، علم وناز کرنا۔ مگر اقبالؒ کے مسلک ومذہب کو عملاً ٹھکرا د ہے۔

٢٩

صفحہ ١٥٧

کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا دین کے بنیادی اصولوں سے انکار۔ اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق ۔ نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ تمام دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقع یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ، ہندوؤں سے۔ کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔ ثالثاً...... اس امر کو سمجھتے ہوئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟

علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے اس کی موجودہ آبادی جو ٥٦٠٠٠ (چھپن ہزار) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی اور اس لئے انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی۔

یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ قادیانیوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مجالس قانون ساز میں ان کی نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ نئے دستور میں ایسی اقلیتوں کے تحفظ کا علیحدہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں قادیانی حکومت سے بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔

ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا۔ تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبے کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبے کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٣٥ تا ١٣٨ بحوالہ اخبار سٹیٹس مین ١٠رجون ١٩٣٥)

پاکستان کے طول و عرض میں اقبال کی یاد میں یوم اقبال منایا جاتا ہے۔ اقبال سے پیار کرنا۔ یوم اقبال منانا۔ اقبال کے فلسفہ، حکمت، علم اور فکر کی صحت وصداقت و وسعت و رفعت پر فخر و ناز کرنا ۔ مگر اقبال کے مسلک و مذہب کو عملاً ٹھکرا دینا۔ انصاف و اخلاص کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں ہے۔

(مقولہ از حکیم اہل سنت ہفت روزہ لاہور)

٢٩

صفحہ ١٥٩

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، رسول اکرم ﷺ نے ایسی حرکت چھوڑ دینے کا کہا ہے اور میوزک کا سننا حرام کہا ہے۔ اس کے بارے میں میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا (ابوداؤد: ج١،ص١٠٩) حضرت عمران بن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں چہروں کی بارش کے صحابہ کرامؓ نے پوچھا آپ علیہ الصلوۃ عورتوں اور باتیں،

دور رہنا چاہئے ہوشیار رہنا چاہ چھیننے کی ایک شرم و حیاء جو اک ہیں، بلکہ یہ

القاسم سلام کرنا چاہئے میں اس کی ممانعت آئی ہ بعض غیر مردوں سے کہ دل میں طمع ولالچ پیدا ہ جانے کا سبب ہے۔

”گھر کے کام کاج“ کہ: ”کیا مجھ پر کام

عام مسلمان اپنا ”وصی“ لکھنا ضروری پر درود نہ لکھے جانے کی مجھ سے بحث گالی ہے؟ میں: ”..... حضور اکرم صلی اللہ علیہ پر درود نہ لکھے جانے پر بحث و تکرار نے ”وصی“ کا اشارہ اور میں ہے، اگر لفظ مجھ کو اور مؤقف یکدم

متعلقہ چند مسائل

راعی اور رعیت میں کشمکش کے بہت سے اسباب ہیں۔ کوئی دینی کوئی دنیوی۔ دینی مثال کے طور پر یہی ”تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ“ ہے اور دنیوی جیسے اقتدار پسند جماعتوں میں اکثر ہوتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سبب انتخاب کا صحیح نہ ہونا ہے۔ یا انتخاب کے بعد اپنے فرائض سے ناواقفیت یا غفلت ہے۔ اس لئے ہم قرآن وحدیث اور اسلامی روایات سے اس پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں۔ تاکہ راعی اور رعیت اپنے فرائض کو سمجھیں اور ایسے حالات پیدا کرنے سے احتراز کریں۔ جو: ” خسر الدنيا والاخرة “ کا باعث بنیں۔ واللہ الموفق !

تقرر امارت تین طرح سے ہوتا ہے۔ ایک انتخاب سے...... خواہ انتخاب قوم کی طرف سے ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلافت کے لئے منتخب کیا گیا۔ یا مرنے والا اس کو منتخب کر جائے....... جیسا حضرت عمرؓ کی خلافت...... حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب سے ہوئی اور حضرت عثمانؓ کی خلافت بھی اس کے قریب تھی۔ کیونکہ حضرت عمرؓ نے وفات کے وقت خلافت چھ صحابہ کے سپرد کی تھی کہ یہ اپنے میں سے جس کو چاہیں، خلیفہ منتخب کرلیں۔ عثمانؓ ،علیؓ ،طلحہؓ ، زبیرؓ ، عبدالرحمن بن عوفؓ، سعدؓ۔

یہ چھ صحابہ عشرہ مبشرہ سے تھے۔ یعنی دس صحابہ جن کے نام لے کر رسول اللہ ﷺ نے ان کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ یہ چھ ان میں سے ہیں۔ آخر الذکر چار تو خلافت سے دستبردار ہو گئے۔ باقی حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ رہے۔ ان کو عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا تم اپنا معاملہ میرے سپرد کر دو۔ میں جس کو چاہوں۔ تم میں سے خلیفہ بنا دوں۔ انہوں نے سپرد کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضرت عثمانؓ کو منتخب کیا اور حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ کی خلافت قوم کے انتخاب سے ہوئی۔

چنانچہ کتب تاریخ وغیرہ میں ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنا حق فائق بتانے کے لئے حضرت معاویہؓ کو لکھا کہ مجھے ان لوگوں نے امیر بنایا ہے۔ جنہوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ کو امیر بنایا تھا، یعنے مہاجرین اور انصار اور حضرت علیؓ کی فوقیت کے بعض اور وجوہ بھی ہیں۔ اس بناء پر حضرت معاویہؓ کی خلافت کا ابتدائی حصہ صحیح نہیں رہتا۔ البتہ حضرت علیؓ کی وفات کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت صحیح ہوگئی۔ کیونکہ قریباً سب ان کی خلافت پر متفق ہو گئے اور حدیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حسنؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا...... میرا یہ بیٹا سید ہے۔ اس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا ظہور یوں ہوا کہ حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر

٣٠

بیعت ہوئی اور حضرت حسنؓ بڑی جمیعت (چالیس مقابلہ میں آئے۔ قریب تھا کہ ان کے اور معاویہؓ طرف سے فیصلہ کے لئے قرآن مجید پیش کیا گیا۔ اب آخر حضرت حسنؓ معاویہؓ کے حق میں خلا حیات معاویہؓ خلیفہ رہیں۔ ان کے بعد حضرت حسنؓ معاویہؓ کی زندگی ہی میں رحلت فرما گئے اور معاویہؓ نے شروع کر دی اور حضرت حسینؓ اس وقت اگرچہ حیات حضرت حسنؓ سے ناراض تھے۔ اس لئے معاویہؓ بھی خیال کیا کہ خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بعد کس حضرت عمرؓ کو خلیفہ مقرر کیا۔ چنانچہ اس خیال کے مطابق میں بیعت لینے کی غرض سے اپنا آدمی بھیجا تو اس ب دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ ”یہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی سنت حضرت عائشہؓ کے بھائی عبدالرحمن بن ا کسروانیہ “ یہ حضرت صدیق اور فاروق کی سنت کوئی وراثت نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا مستحق ہو۔ نہ عمرؓ نے خلافت کا معاملہ جن چھ صحابہؓ کے سپرد فرمایا۔ جو کی کے لئے مشورہ میں شامل کر لیتا۔ لیکن خلافت معاویہؓ کا انتخاب میں غلطی لگی۔ انتخاب خواہ قوم کی طرف انتخاب ایسے شخص کا ہو۔ جو باوجود اہلیت کے امارت رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”واللہ ان ولااحداحرص علیه (متفق علیه مشکو ہم عہدی امارت ایسے شخص کے سپرد نہیں کریں ۔ یزید کی دینی حالت بہت کمزور تھی۔ باو حسنؓ کو ان کی بیوی سے اسی نے زہر دلوایا۔ تاکہ وہ اس کی خلافت قائم ہو جائے۔ چنانچہ حسنؓ آخر کار ا معاویہؓ کو اس زہر کا علم ہوا یا نہیں۔

صفحہ ١٥٩

بیعت ہوئی اور حضرت حسن بڑی جمعیت (چالیس ہزار کی فوج) کے ساتھ حضرت معاویہ کے مقابلہ میں آئے۔ قریب تھا کہ ان کے اور معاویہ کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔ مگر معاویہ کی طرف سے فیصلہ کے لئے قرآن مجید پیش کیا گیا۔ ادھر سے کیا دیر تھی۔ فوراً منظوری دے دی گئی۔

آخر حضرت حسن معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے اور طے پایا کہ تاحین حیات معاویہ خلیفہ رہیں۔ ان کے بعد حضرت حسن خلیفہ ہوں۔ لیکن خدا کی شان حضرت حسن معاویہ کی زندگی ہی میں رحلت فرما گئے اور معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس کے لئے بیعت لینی شروع کر دی اور حضرت حسین اس وقت اگر چہ حیات تھے۔ لیکن یہ معاویہ کو خلافت سپرد کرنے پر حضرت حسن سے ناراض تھے۔ اس لئے معاویہ بھی ان کی خلافت نہیں چاہتے تھے اور معاویہ نے خیال کیا کہ خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کرے۔ جیسے حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ مقرر کیا۔ چنانچہ اس خیال کے مطابق معاویہ نے جب اہل مدینہ سے یزید کے حق میں بیعت لینے کی غرض سے اپنا آدمی بھیجا تو اس نے اہل مدینہ کو یزید کی بیعت کے لئے ترغیب دیتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ ”یہ ابوبکر اور عمر کی سنت ہے۔“

حضرت عائشہ کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے اس کے جواب میں فرمایا: ”هذا کسروانیہ“ یہ حضرت صدیق اور فاروق کی سنت نہیں۔ بلکہ کسریٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ خلافت کوئی وراثت نہیں کہ باپ کے بعد بیٹا مستحق ہو۔ نہ حضرت صدیق اور عمر نے ایسا کیا۔ بلکہ حضرت عمر نے خلافت کا معاملہ جن چھ صحابہ کے سپرد فرمایا۔ ان کو وصیت فرمائی کہ میرے بیٹے عبداللہ کو دل جوئی کے لئے مشورہ میں شامل کر لینا۔ لیکن خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ دراصل حضرت معاویہ کو انتخاب میں غلطی لگی۔ انتخاب خواہ قوم کی طرف سے ہو یا خلیفہ کرے۔ دونوں صورتوں میں انتخاب ایسے شخص کا ہو۔ جو باوجود اہلیت کے امارت کا حریص نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”والله لانولى على هذا العمل احدا سأله ولا احدا حرص عليه (متفق عليه مشکوۃ کتاب الامارة ص ٣٢٠، الفصل الاول) “

﴿ہم عہدہ امارت ایسے شخص کے سپرد نہیں کریں گے، جو اس کا طالب یا حریص ہو۔﴾

یزید کی دینی حالت بہت کمزور تھی۔ باوجود اس نااہلیت کے حریص اتنا تھا کہ حضرت حسن کو ان کی بیوی سے اسی نے زہر دلوایا۔ تاکہ وہ ختم ہو جائیں اور معاویہ کے بعد ان کی بجائے اس کی خلافت قائم ہو جائے۔ چنانچہ حسن آخر کار اسی زہر سے شہید ہو گئے۔ البتہ یہ معلوم نہیں کہ معاویہ کو اس زہر کا علم ہوا یا نہیں۔

٣١

صفحہ ١٦١

مگر یہ چیز تو مخفی نہیں رہ سکتی کہ یزید ایک اقتدار پسند دنیا دار اور حریص انسان ہے اور ایسا انسان طمع نفسانی کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہے۔ اس سے عدل وانصاف کی توقع بہت کم ہے۔ اگر حضرت حسینؓ سے ناراضگی تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نااہل کو اس پر ترجیح دی جاتی۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ معاویہؓ کی حیات میں بظاہر یزید کی دینی حالت اتنی پست نہ تھی۔ جتنی بعد میں ہو گئی۔ لیکن پھر بھی حسینؓ سے اس کو کیا نسبت تھی۔ معاویہؓ کو چاہئے تھا کہ نفس پر بوجھ ڈال کر ناراضگی کا خیال نہ کرتے ہوئے خلافت کا معاملہ حسینؓ پر چھوڑ جاتے۔ مگر افسوس! کہ وہ اتنی قربانی نہ کر سکے۔ البتہ یزید کو یہ وصیت کی کہ حسینؓ اگر تمہارے خلاف بھی ہو جائے ۔ تو قرابت نبوی کا خیال کرتے ہوئے ان سے درگزر کرنا۔ یہ ہے صحابیت اور رسول اللہ ﷺ کی دعا (کہ یا اللہ اس کو ہادی مہدی کر، مشکوٰۃ وغیرہ) کا اثر تھا۔ ورنہ ہمارے ایسے شاید اتنا بھی نہ کر سکتے۔ پھر آخری وقت ان کو کچھ اس کا زیادہ احساس ہوا تو فرماتے ...... کاش! میری زندگی مکہ مکرمہ میں گزرتی اور میں خلافت میں حصہ نہ لیتا۔

پھر کچھ تبرکات کا سہارا ڈھونڈا۔ چنانچہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے تین کپڑے تھے۔ تہ بند، قمیص، چادر اور کچھ بال ...... اور ناخن تھے۔ وفات کے وقت وصیت کی کہ ان کپڑوں میں مجھ کو کفنانا اور بال اور ناخن میرے نتھنوں اور منہ میں دے دینا اور کچھ سجدے کے اعضاء پر رکھ دینا اور مجھے ارحم الراحمین کے حوالے کر دینا۔ خیر جو کچھ ہونا تھا۔ ہو گیا۔ خدا معاف کرے۔ آمین!

خلاصہ یہ کہ تقرر امارت کی تین صورتوں میں ایک صورت انتخاب ہے۔ لیکن اس میں حریص آدمی اور سائل آدمی سے حتی الامکان پرہیز رکھنا چاہئے۔ پھر اس میں یہ بھی شرط ہے کہ انتخاب کرنے والے اہل حل والعقد (سیاست شرعی کے ماہر) ہوں اور ان میں وہ مقدم ہیں۔ جو زیادہ متدین ہوں اور جن کی قربانیاں زیادہ ہوں۔ جیسے حضرت علیؓ نے اپنا حق فائق جتانے کے لئے معاویہؓ کو لکھا کہ مجھے ان لوگوں نے امیر انتخاب کیا ہے۔ جنہوں نے ابوبکرؓ اور عمرؓ کا انتخاب کیا ہے۔ یعنی انصار اور مہاجرین، اور تاریخ الخلفاء وغیرہ میں ہے کہ جب قاتلین عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو امیر منتخب کرنا چاہا تو اس وقت بھی حضرت علیؓ نے یہی جواب دیا کہ یہ حق مہاجرین اور انصار کا ہے۔ جس کو وہ امیر بنائیں گے، وہی امیر ہوگا اور عام صورت انتخاب کی یہی ہے اور احادیث میں بھی اسی کا ذکر ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”تین مسلمان بھی جو جنگل میں رہتے ہوں ۔ وہ جب تک اپنے میں سے کسی کو اپنا امیر مقرر نہ کرلیں۔ ان کا رہنا حلال نہیں۔“ (بیہقی)

٣٢

اس حدیث میں انتخاب کا حق انہی کو دیا حل والعقد مقدم ہوں گے۔ جیسے ابھی ذکر ہوا۔ و کتاب اور اس کے حدود احکام کو ضائع ہوتے ہو سنبھالنے کی کوشش کرے۔ یا اس کا سوال کرے۔ ج خزائن الارض انی حفیظ علیم (یوسف مجھے وزیر خزانہ بنا دو۔ کیونکہ میں محافظ واقف کار ہوں حضرت حسینؓ امارت کی کوشش کرتے آ ان کی امارت قائم ہو جاتی۔ تو وہ بھی اسی قسم کی ہوتی نے کتاب اللہ ہاتھ میں لے کر کہا: ”یا اللہ! تو جانتا ہ کتاب کو ضائع کر دیا۔ میں اس کو قائم کرنا چاہتا ہوں تیسری صورت یہ کہ کوئی اقتدار پسند ا ساتھ امیر بن جائے۔ جیسے یزید کی امارت اسی قسم حدود اللہ قائم کرنا۔

بیعت یا حلف وفاداری

پہلی دو صورتیں تقرر امارت کا صحیح طریق میں شمولیت ضروری ہے۔ اگر ایسی امارت کی بیعت ایسے شخص کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ چنانچہ قرآ (النساء :٥٩) ” اور حدیث شریف میں ہے :” م

ص ٣٢٠ الفصل اوّل) “

رہی تیسری صورت سو اس کا حکم اوپر بیا بجائے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ تا کہ خدا جائیں۔ کیونکہ مصائب کا اصل باعث انسان کے ا ”کما تکونون کذالك یؤمر علیکم ( الثالث) “ تم جیسے ہوگے، ویسے ہی تم پر امیر مقرر ایسے امراء سے بیعت یا حلف وفاداری اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ بیعت کرلی اور آ

٣٣

صفحہ ١٦١

اس حدیث میں انتخاب کا حق انہی کو دیا ہے۔ جن پر امارت ہو گی۔ لیکن ان میں اہل حل والعقد مقدم ہوں گے۔ جیسے ابھی ذکر ہوا۔ دوسری صورت تقرر امارت کی یہ ہے کہ اللہ کی کتاب اور اس کے حدود احکام کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھ کر کوئی انسان امارت کی باگ دوڑ سنبھالنے کی کوشش کرے۔ یا اس کا سوال کرے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے: ”قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (یوسف: ٥٥)“ ﴿یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کو کہا مجھے وزیر خزانہ بنا دو۔ کیونکہ میں محافظ واقف کار ہوں۔﴾

حضرت حسینؓ امارت کی کوشش کرتے کربلا کے میدان میں شہید ہو گئے۔ اگر ان کی امارت قائم ہو جاتی۔ تو وہ بھی اسی قسم کی ہوتی۔ چنانچہ تاریخ ابن جریر وغیرہ میں ہے کہ انہوں نے کتاب اللہ ہاتھ میں لے کر کہا: ”یا اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے امارت کی حرص نہیں۔ یزید نے تیری کتاب کو ضائع کر دیا۔ میں اس کو قائم کرنا چاہتا ہوں ۔“

تیسری صورت یہ کہ کوئی اقتدار پسند انسان تغلب (زور بازو یا لطائف الحیل) کے ساتھ امیر بن جائے۔ جیسے یزید کی امارت اسی قسم سے ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد اقتدار تھا۔ نہ کہ حدود اللہ قائم کرنا۔

بیعت یا حلف وفاداری

پہلی دو صورتیں تقرر امارت کا صحیح طریقہ ہے اور شرعی حدود کے اندر ہے۔ اس لئے اس میں شمولیت ضروری ہے۔ اگر ایسی امارت کی بیعت سے گریز کرے یا حلف وفاداری نہ اٹھائے۔ تو ایسے شخص کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ”واولی الامر منكم (النساء :٥٩)“ اور حدیث شریف میں ہے: ”مات ميتة جاهلية (مشكوة كتاب الامارة ص ٣٢٠ الفصل الاول) “

رہی تیسری صورت سو اس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے کہ بادشاہوں کو لعن طعن کرنے کی بجائے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ تاکہ خدا ان کے دل نرم کرے اور تمام مشکلیں حل ہو جائیں۔ کیونکہ مصائب کا اصل باعث انسان کے اپنے اعمال ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”كما تكونون كذالك يؤمر عليكم (مشكوة كتاب الامارة ص ٣٢٣ الفصل الثالث) “﴿تم جیسے ہو گے، ویسے ہی تم پر امیر مقرر ہوں گے ۔﴾

ایسے امراء سے بیعت یا حلف وفاداری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ عبداللہ بن عمرؓ نے یزید اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ بیعت کر لی اور لکھا کہ خدا اور رسول کی اطاعت پر بیعت ہے اور

٣٣

صفحہ ١٦٣

کیسے لکھا گیا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو درود صلی اللہ علیہ وسلم جس کا “ اشارہ اور پڑھیں اگر لفظ محمد کی اور اور تحریف کیسے کی گئی

پڑھا اور درود لکھتے بجاے صرف ”و“ کافی ہے؟ نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھے علیہ وسلم یا ”ص“ لکھنا ضروری کی....... کیا ”محمد“ نام کے ساتھ ”ص“ کا نام کے لکھنے کا سبب، بجائے مکمل درود لکھیں نیز مردوں کے کانوں میں بالیاں پہننا، سلام کرنا، محبت میں اس کی ممانعت آیا دور رہنا چاہیے ہوشیار رہیں پہننے کی ایک شرم و حیاء جو ہیں بلکہ یہ

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یہ فعل گمراہ اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینے کے قابل ہے کیونکہ منشا حرام ہے۔ اس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح پیدا ہوتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے“ (ابوداؤد: ج١،ص١٠٩)۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنس جانے، شکلیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے عذاب آئیں گے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کب ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گانے والی عورتوں اور آلات لہو و لعب ظاہر ہوں گے“ (ترمذی، ج٢، ص٤٤)

حضرت حسنؓ، عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالرحمن بن ابو بکرؓ وغیرہ سے بیعت نہیں کی اور عبداللہ بن عمرؓ نے بھی اس وقت بیعت کی۔ جب سب لوگ قریباً ایک امیر پر متفق ہو گئے۔ جب تک اختلاف رہا۔ علیحدہ رہے۔ ملاحظہ ہو: (بخاری جلد ٢ کتاب الفتن ص ١٠٥٣، کتاب الاحکام ص ١٠٦٩ مع فتح الباری وغیرہ)

نکث بیعت یا نقض حلف برداری

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑے کے خلاف چھوٹے کی بات نہیں مانی جاتی۔ مثلاً پٹواری تحصیلدار کے خلاف یا سپاہی تھانیدار کے خلاف یا کسی اور محکمے کا آدمی اپنے افسر کے خلاف کوئی حکم دے۔ وہ قابل سماعت نہیں ہوتا۔ خدا چونکہ احکم الحاکمین ہے۔ اس لئے جہاں اس کا حکم آ جائے۔ وہاں دنیا کے بڑے سے بڑے کا حکم ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ”ان الحکم الا لله“ ﴿حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔﴾ اور حدیث شریف میں ہے: ”لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (مشکوٰة شریف)“ ﴿یعنی جہاں خدا کی نافرمانی ہو وہاں مخلوق کی کوئی تابعداری نہیں۔﴾

اگر کوئی حکومت اس کے خلاف مجبور کرے۔ تو وہ طاغوتی حکومت ہوگی اور اس کے متعلق قرآن مجید کا فیصلہ ہے: ”واجنتبوا الطاغوت (النحل: ٣٦)“ ﴿یعنی طاغوت سے بچو اور اس سے الگ ہو جاؤ۔﴾

دوسرے لفظوں میں اس کی بیعت یا حلف برداری توڑ دو۔ احادیث میں اس کی کچھ زیادہ وضاحت ہے۔ (مشکوٰة شریف کتاب الامارة ص ٣١٩ الفصل الاول) کی چند احادیث ملاحظہ ہوں:

”وعن عبادة بن الصامت قال بايعنا رسول الله ﷺ على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى اثرة علينا وعلى ان لاننازع الامر اهله وعلى ان نقول بالحق اينما كنا لانخاف في الله لومة لائم وف رواية وعلى ان لاننازع الامر اهلم الا ان تروا كفر ابواحا عندكم من الله فيه برهان“ (متفق علیہ) ﴿رسول اللہ ﷺ نے ہم سے تین باتوں پر بیعت لی (الف) حکم سننا اور فرماں برداری کرنا۔ خواہ تنگی ہو یا نرمی، خوشی ہو یا ناخوشی اور خواہ ہم پر دوسرے کو ترجیح دی جائے۔ (ب) جو حکومت کا اہل ہے۔ اس سے حکومت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ مگر یہ کہ صریح کفر دیکھو۔ جس کے ثبوت پر خدا کی طرف سے تمہارے پاس قطعی دلیل ہو۔ (ج) ہر جگہ حق کہیں خدا کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں۔ (بخاری مسلم)﴾ ٣٤

ام سلمہؓ (زوجہ نبی کریم ﷺ) فرماتی ہیں: ” الله ﷺ يكون عليكم امراء تعرفون وتنكرون فمن عرف فقد سلم ولكن من رضى وتابع قالوا افلا لا ما صلوا اى من كره بقلبه وانكر بقلبه ص ٣١٩ الفصل الاول)“ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم دیکھو گے۔ جس شخص نے بری باتوں پر انکار کیا، وہ بر رہا۔ لیکن جو راضی رہا اور ان کی موافقت کی۔ وہ ہلاک ہو ہم جنگ نہ کریں؟ فرمایا نہ جب تک نماز پڑھیں۔ نہ سے مراد دل سے انکار اور دل سے برا جاننا ہے۔ (مسلم

عوف بن مالک اشجعیؓ سے روایت ہے۔ رسو بن مالك الاشجعى من رسول الله ﷺ ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون علي ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم قال قلن ذالك قال لا ما اقاموا فيكم الصلوة لا ماقا وال فرأه ياتى شيئا من معصية الله فليكره ولاينزعن يدا من طاعة (مشکوة ص ٣١٩ کت بہتر امام وہ ہیں۔ جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محب تمہارے لئے دعائیں کریں اور بدترین امام وہ ہیں۔ ج پر لعنت کرو۔ وہ تم پر لعنت کریں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ جنگ نہ کریں؟ فرمایا نہ، جب تک تم میں نماز قائم کری جس پر کوئی حاکم مقرر کیا جائے اور دیکھے کہ وہ کوئی گناہ بیعت نہ توڑے ۔﴾

یہ تینوں احادیث قریباً ایک ہی مضمون کی ہیں

حکومت اسلامی کی اطاعت ضروری ہ نافرمان ہو۔

گناہ کے کام میں حکومت سے تعاون نہ کر ٣٥

صفحہ ١٦٤

الله ﷺيكون عليكم امراء تعرفون وتنكرون فمن انكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضى وتابع فقد هلك قالوا افلا نقاتلهم قال لا ماصلوا لاماصلوا اى من كره بقلبه وانكر بقلبه (مسلم، مشكوة كتاب الامارة ص٣١٩ الفصل الاول) “ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ تم پر امیر ہوں گے جن کی اچھی بری باتیں تم دیکھو گے۔ جس شخص نے بری باتوں پر انکار کیا ، وہ بچ گیا اور جس نے ان کو برا جانا وہ سلامت رہا۔ لیکن جو راضی رہا اور ان کی موافقت کی۔ وہ ہلاک ہو گیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا ایسے امیروں سے ہم جنگ نہ کریں؟ فرمایا نہ جب تک نماز پڑھیں۔ نہ جب تک نماز پڑھیں۔ انکار اور برا جاننے سے مراد دل سے انکار اور دل سے برا جاننا ہے۔ (مسلم)﴾

بن مالك الاشجعی عن رسول اللهﷺ قال خيار أمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار ائمتكم الذين تبغضونهم ويبغضو نكم وتلعنو نهم ويلعنونكم قال قلنا يارسول الله افلا ننا بذهم عند ذالك قال لاما اقاموا فيكم الصلوة لاماقاموا فيكم الصلوة الامن ولى عليه وال فرأه ياتى شيئا من معصية الله فليكره ماياتى من معصية الله ولا ينزعن يدا من طاعة (مشكوة ص٣١٩ كتاب الامارة الفصل الاول) ” تمہارے بہتر امام وہ ہیں۔ جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو اور وہ تمہارے لئے دعائیں کریں اور بدترین امام وہ ہیں۔ جن کو تم برا جانو اور وہ تمہیں برا جانیں۔ تم ان پر لعنت کرو۔ وہ تم پر لعنت کریں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اس وقت ایسے حکام کے ساتھ اعلان جنگ نہ کریں؟ فرمایا نہ، جب تک تم میں نماز قائم کریں نہ جب تک تم میں نماز قائم کریں۔ خبردار جس پر کوئی حاکم مقرر کیا جائے اور دیکھے کہ وہ کوئی گناہ کا کام کرتا ہے۔ تو گناہ کو برا جانے اور اس کی بیعت نہ توڑے ۔﴾

یہ تینوں احادیث قریباً ایک ہی مضمون کی ہیں۔ ان سے حسب ذیل باتیں ثابت ہوئیں:

نافرمان ہو۔

٣٥

صفحہ ١٦٥

اور حق بیان کرنے سے نہ رکے، اور اس بارے میں کسی کا دباؤ نہ مانے۔ نہ کسی کی پرواہ کرے۔

ہو۔ تو بیعت یا حلف وفاداری توڑ دے۔ کیونکہ ایسی صورت میں حکومت اسلامی نہیں۔ بلکہ کفر کی حکومت ہے۔ جس کے مٹانے کے لئے اسلام آیا ہے، اور جس سے حسب طاقت جنگ کا حکم ہے۔

کفر صریح کی جگہ ترک نماز کا ذکر ہے اور پہلی حدیث میں صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ بغیر کفر صریح کے حکومت سے نزاع کی اجازت نہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ ترک نماز کفر صریح ہے۔

کافی نہیں۔ بلکہ اس کے ذمہ لوگوں میں نماز قائم کرنا بھی ہے۔ جیسے تیسری حدیث میں تصریح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر حکومت اس ذمہ داری کو چھوڑ دے اور تارکین نماز سے تعرض یا باز پرس نہ کرے۔ تو یہ بھی اسلامی حکومت نہیں۔

حکومت پاکستان کے لئے یہ کتنی خطرناک چیز ہے۔ وہ تو تحفظ ختم نبوت میں پس و پیش کر رہی ہے۔ یہاں تحفظ نماز پر بھی وہی دفعہ لگ رہی ہے۔ خدا حکومت پاکستان کو سوچ و سمجھ دے اور اس کو اسلام کی محافظ بنائے۔ آمین!

یزید کی بیعت

یزید اگر نمازی تھا تو حسین اور عبداللہ بن زبیر نے اس کی بیعت کیوں نہ کی؟ اور اگر تارک نماز تھا، تو عبداللہ بن عمر کیوں اس کے ساتھ شامل ہو گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یزید کا تارک نماز ہونا ثابت نہیں۔ ہاں شراب خوری وغیرہ کا ذکر فتح الباری اور بعض دیگر کتب میں ہے اور ٦٠ ھ میں جو اہل مدینہ کی طرف سے یزید کی بغاوت ہوئی اور یزید نے ان پر فوج کشی کی۔ اس کی وجہ بھی یہی شراب خوری وغیرہ لکھی ہے۔ اگر تارک نماز ہوتا تو بغاوت کی یہ وجہ (ترک نماز) چھوڑ کر صرف شراب خوری وغیرہ کے ذکر پر علماء اکتفا نہ کرتے اور یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اہل مدینہ پر اعتراض کیا کہ یہ بہت بڑا غدر ہے۔ کہ ایک شخص سے بیعت کر کے پھر علم بغاوت بلند کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣ میں ذکر ہے: ”رہا حسینؓ وغیرہ نے کیوں بیعت نہ کی؟ اس کی تین وجہیں ہیں:

٣٦

روکا ہے۔ تا کہ انتشار اور بدامنی نہ پھیلے۔ بیعت کے بـ

تک صریح کفر نہ پایا جائے۔ اس کی اجازت نہیں۔ وغیرہ نے تو شروع سے ہی بیعت نہیں کی۔ کیونکہ ان لئے وہ بیعت کے لئے مجبور نہیں کئے جاسکتے تھے۔

معاویہؓ نے وفات کے وقت یزید کو وصیت کی کہ اہـ گے۔ مگر قرابت نبوی کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے بلکہ اہل مکہ کی بھی حمایت حاصل تھی۔ تو ان حالات کہ اس کا الٹ۔

علیؓ اور معاویہؓ اور حضرت عائشہؓ کے جھگڑے میں ج ٢ ص ١٠٥٢ مع فتح الباری وغیرہ) اور حضرت علیؓ اگر چہ جانبدار ہی رہے۔ جن کو اس استحقاق کا علم نہیں ہوا جھگڑا چل رہا تھا۔ اس لئے کئی لوگ علیحدہ رہے اور کہ اختلاف جھگڑے میں غیر جانبدار رہنا ہے۔ چـ فتح مکہ میں عبداللہ بن زبیرؓ اور شام میں عبداللہ برسر اقتدار ہو گئے۔ تو عبداللہ بن عمرؓ علیحدہ رہے او بن زبیرؓ سے بیعت کر لی۔ جب شام والوں نے زبیرؓ ان سے ناراض ہوئے اور کہا کہ ایک طرف فیـ جب لوگ قریباً عبدالملک بن مروان پر متفق ہو گـ سے بیعت کر لی۔ ملاحظہ ہو

اس بناء پر چاہئے تھا کہ عبداللہ بن عـ اس پر متفق نہ ہوتے۔ مگر چونکہ معاویہؓ کی حیات ایک یہ تھی کہ معاویہؓ کی زندگی میں یزید کے حالات دوسرے حضرت علیؓ کے بعد معاویہؓ کـ

٧

صفحہ ١٦٥

روکا ہے۔ تا کہ انتشار اور بدامنی نہ پھیلے۔ بیعت کے لئے یا حلف وفاداری کے لئے مجبور نہیں کیا۔

تک صریح کفر نہ پایا جائے۔ اس کی اجازت نہیں۔ وہ احادیث مذکورہ کا یہی منشاء ہے اور حسینؓ وغیرہ نے تو شروع سے ہی بیعت نہیں کی۔ کیونکہ ان کی نظر میں یزید کا انتخاب ہی صحیح نہیں تھا۔ اس لئے وہ بیعت کے لئے مجبور نہیں کئے جاسکتے تھے۔

معاویہؓ نے وفات کے وقت یزید کو وصیت کی کہ اہل عراق تمہارے مقابلہ میں حسینؓ کو کھڑا کریں گے۔ مگر قرابت نبوی کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے درگزر کرنا۔ جب اتنی دنیا حسینؓ کے ساتھ تھی۔ بلکہ اہل مکہ کی بھی حمایت حاصل تھی۔ تو ان حالات میں یزید کو حسینؓ کی بیعت کرنی چاہئے تھی۔ نہ کہ اس کا الٹ۔

علیؓ اور معاویہؓ اور حضرت عائشہؓ کے جھگڑے میں کئی صحابہ غیر جانبدار رہے۔ ملاحظہ ہو (بخاری ج٢ ص١٠٥٢ مع فتح الباری وغیرہ) اور حضرت علیؓ اگرچہ حق پر تھے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غیر جانبدار رہے۔ جن کو اس استحقاق کا علم نہیں ہوا اور یزید پر بھی لوگ متفق نہیں ہوئے تھے۔ ابھی جھگڑا چل رہا تھا۔ اس لئے کئی لوگ علیحدہ رہے اور بیعت نہیں کی اور عبداللہ بن عمرؓ کا مذہب یہی ہے کہ اختلاف ، جھگڑے میں غیر جانبدار رہنا ہے۔ چنانچہ (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣) میں ہے کہ ...... جب فتنہ میں عبداللہ بن زبیرؓ اور شام میں عبداللہ بن زیاد اور مروان بن حکم اور بصرہ میں قراء برسراقتدار ہوگئے۔ تو عبداللہ بن عمرؓ علیحدہ رہے اور مسند احمد میں ہے کہ ابوسعید خدریؓ نے عبداللہ بن زبیرؓ سے بیعت کرلی۔ جب شام والوں نے مجبور کیا۔ تو ان سے بھی کرلی۔ اس پر عبداللہ بن زبیرؓ ان سے ناراض ہوئے اور کہا کہ ایک طرف فیصلہ ہونے کی انتظار کیوں نہ کی۔ پھر اس کے بعد جب لوگ قریباً عبدالملک بن مروان پر متفق ہوگئے۔ تو پھر عبداللہ بن عمرؓ نے عبدالملک بن مروان سے بیعت کرلی۔ ملاحظہ ہو

(صحیح بخاری ج ٢ ص ١٠٥٣)

اس بناء پر چاہئے تھا کہ عبداللہ بن عمرؓ یزید سے بھی بیعت نہ کرتے۔ جب تک لوگ اس پر متفق نہ ہوتے۔ مگر چونکہ معاویہؓ کی حیات میں یزید کی بیعت منظور کرچکے تھے۔ جس کی وجہ ایک یہ تھی کہ معاویہؓ کی زندگی میں یزید کے حالات اتنے مخدوش نہ تھے۔ جتنے بعد میں ہوگئے۔ دوسرے حضرت علیؓ کے بعد معاویہؓ کی خلافت پر سب لوگ متفق ہوگئے تھے اور یزید کی

٣٧

صفحہ ١٦٦

”محمد“ کے نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا کیسا ہے؟ س: ...... کیا ”محمد“ نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری ہے یا یہ کہ صرف ”محمد“ نام لکھنا بھی کافی ہے؟ ج: ...... حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا چاہئے، صرف ”ص“ کا اشارہ اور رمز لکھنا مکروہ ہے، اگر لفظ محمد کسی کی طرف منسوب نہ ہو تو پھر صرف لکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

دور رہنا چاہئے سلام کرنا یا محبت میں اس کی ممانعت آئی مجہول غیر مردوں سے کے دل میں طمع و لالچ پیدا جانے کا سبب ہے۔

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہئے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے“۔ (ابوداؤد: ج١، ص١٠٩) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے اور شکلیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات رونما ہوں گے“۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کب ہوگا؟“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گانے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شرابیں پی جائیں گی“۔ (ترمذی)

ہوشیار رہنا شرم و حیاء جو پھینکی گئی ایک ہیں بلکہ

بیعت معاویہ ہی نے لینی شروع کی تھی۔ ان حالات میں بظاہر یہی توقع تھی کہ معاویہؓ کی کوشش کامیاب ہو کر یزید پر اتفاق ہو جائے گا۔ اس لئے عبداللہ بن عمرؓ نے اور اکثر اہل مدینہ نے منظوری دے دی۔ نیز جب معاویہؓ کی خلافت پر اتفاق ہو گیا اور ان کی خلافت صحیح ہو گئی۔ تو وہ واجب الاطاعت امیر بن گئے۔ اس لئے بھی منظوری ضروری تھی۔ یہ ٥٦ ہجری کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد معاویہؓ چار سال زندہ رہے اور ٦٠ ہجری میں وفات پائی۔

ان کی وفات کے بعد اہل مدینہ کی طرف سے یزید کے پاس ایک نمائندہ جماعت گئی۔ جو عبداللہ بن غسیل الملائکہ اور عبداللہ بن ابی عمروؓ و دیگر پر مشتمل تھی۔ یزید انہیں بڑے اکرام و احترام سے پیش آیا اور مہمان نوازی کا پورا حق ادا کیا۔ جب یہ واپس مدینہ آئے تو انہوں نے یزید کی حالت ابتر بتلائی۔ اس کی شراب خوری وغیرہ کی شکایت کی۔ اس پر مدینہ والوں نے اس کی بیعت توڑ کر بغاوت کر دی۔ مگر عبداللہ بن عمرؓ اپنی بیعت پر قائم رہے۔ کیونکہ بغیر کفر صریح کے بیعت توڑنے کی اجازت نہیں۔

لیکن یہ بڑی (مستقل حکومت والی) امارت کا حکم ہے۔ کیونکہ اس سے بغاوت میں کشت وخون کا زبردست خطرہ ہے۔ برخلاف چھوٹی امارت کے جس میں اس قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں کفر صریح کی شرط نہیں۔ بلکہ چھوٹے جرم پر بھی معزول کر سکتے ہیں۔ کیونکہ خواص کا اثر عوام پر پڑتا ہے۔ اگر خاص کی حکمت عملی صحیح نہ ہو تو عوام دلیر ہو جاتے ہیں۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں قبلہ کی طرف تھوکنے پر امامت سے معزول کر دیا۔ ملاحظہ ہو

(مشکوٰۃ باب المساجد فصل ٣)

اور بخاری فتح الباری وغیرہ میں ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر سعد بن عبادہؓ جو انصار کے امیر تھے۔ انہوں نے ابوسفیان بن حرب کو ٹھہرایا یہ الفاظ کہے کہ آج جنگ عظیم کا دن ہے اور آج کعبہ کی حرمت مٹادی جائے گی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کو معزول کر کے اس کے بیٹے کو امیر بنایا اور فرمایا: ”آج کعبہ کی تعظیم ہوگی اور اس کو غلاف پہنایا جائے گا“۔

خلاصہ یہ کہ چھوٹی امارت کو بڑی امارت پر قیاس نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بادشاہ کی عملی کمزوری کا اتنا نقصان نہیں۔ جتنا معزول کرنے میں ہے اور چھوٹے امیر کی معزولی میں اتنا نقصان نہیں جتنا عملی کمزوری میں ہے۔ فتفکروا

خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ایسے اختلافات اور جھگڑوں کے موقع پر حق سجھائے اور اس پر چلنے کی توفیق بخشے اور اسی پر خاتمہ کرے۔ آمین!

٣٨

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

خاتم النبیین

حضوری باغ روڈ ملتان

مرزا قادیانی اور مرزائیوں

چند سوالات از مولانا

جوابات از مولانا عبدالرحمن صوفی

حضرت مولانا عبد

PDF 168

خاتم النبیین لا نبی بعدی

عن انس بن مالک قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا نبی بعدی

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے بارے میں

چند سوالات از مولانا محمد حسین بٹالویؒ

جوابات از مولانا عبدالرحمن صوفی محی الدین عبدالرحمن لکھوی

حضرت مولانا عبدالرحمن لکھویؒ

صفحہ ١٦٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حرف اوّل

یہ بات ١٨٩٠ء مطابق ١٣٨٨ھ کی ہے کہ حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ متوفی ١٣٣٨ھ نے مرزا قادیانی اور ان کی امت اور ایسے لوگوں کے بارے میں جو ان دنوں مرزا قادیانی کے متعلق قدرے نرم رویہ رکھے ہوئے تھے۔ متحدہ ہند کے سب علماء سے فتاویٰ حاصل کئے تھے۔ جو موصوف کے ماہ نامہ ”اشاعۃ السنۃ لاہور“ کے چھ شماروں یعنی نمبر ٤، نمبر ٥، نمبر ٦، نمبر ٧، نمبر ١١، نمبر ١٢، نمبر ١٣ میں شائع ہوئے۔

مولانا محمد حسینؒ نے کچھ سوالات مرتب کئے تھے اور ہر طبقے کے علماء نے ان کے جوابات دیئے تھے۔ ان لکھنے والوں میں ایک بزرگ لکھوکے ضلع فیروز پور (مشرقی پنجاب) کے رہنے والے حضرت مولانا صوفی محی الدین عبدالرحمٰن بھی تھے۔ جس پر ان کے والد حضرت مولانا محمد صاحب مصنف تفسیر محمدی (پنجابی) متوفی ١٣١٣ھ کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ ان کی اس مبارک تحریک کی اشاعت کی سعادت جمعیت اہل حدیث لاہور کو حاصل ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے۔ آمین۔ واضح رہے کہ اس تحریر کی زبان ٨٠ سال پرانی ہے۔ ہم نے اس میں تصرف مناسب نہیں سمجھا۔

ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور شعبان ١٣٨٨ھ، نومبر ١٩٦٨ء

سوالات ...... از: حضرت مولانا محمد حسین صاحب بٹالویؒ

علماء دین مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مقربوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ جن کے عقائد حسب ذیل ہیں۔

(توضیح المرام ص ٣٨ تا ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧٠، ٧١)

جو صورت جبرئیل کی انبیاء دیکھتے ہیں۔ وہ (خارج میں نہیں بلکہ) انبیاء کے خیال میں متمثل ہو جاتی ہے۔“

(توضیح المرام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ٨٨)

قبض ارواح ہوتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧٧)

٢

٦٩

ہیں۔“

بہشت اور دوزخ ہوگا وغیرہ۔ یہ مشرکانہ اعتقاد ہے۔

گئے ہیں اور اب تک وہاں زندہ ہیں۔ مشرکانہ اعتقا اٹھائی گئی ہے۔ جیسا کہ اور انبیاء کی۔“

کے خلاف ہے۔“

موضوع بھی ہیں۔“

(جا

اس سے زیادتی نہیں ہو سکتی۔“

جوابات ...... از: حضرت مولانا محی الدی

الحمدللّٰه فاطر السموات و مثنی وثلث ورباع يزيد فی الخلق مايش والسلام على رسوله الامين محمد المبع المبين وعلى اله واصحابه اجمعين ومن

جو عقائد کفریہ مرزا قادیانی کے سوال ن ہونے کے لئے کافی وافی ہے۔ معاذ اللہ اس کا ہیں۔ جیسا کہ اس نے بعض اشتہاروں میں صاف مقابلے میں مرتدانہ کلام کرتا ہے اور کھلم کھلا کافر ہو

اب یہاں یہ مسئلہ حقہ یاد رکھنا ضروری نے باتحقیق صحیح ثابت کیا ہے۔ واجب القبول و

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یہ فعل حرام اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینے کی ترغیب ہے میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا (ابوداؤد: ٤٩٠٩، عن حضرت عمران بن حصینؓ) ایک مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں بھی زمین میں دھنس جانے پتھروں کی بارش کے عذاب آئیں گے صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! کب؟ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: عورتوں اور گانے بجانے کے آلات کی کثرت ہو جائے چاہتا ہے کہ ہیں

کہ دل میں نفاق پیدا اس میں ممانعت آئی کہ جس میں غیر مردوں سے سلام کرنا یا میت کا دور رہنا چاہئے ہوشیار رہنا

صفحہ ١٦٩

ہیں ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)

(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)

بہشت اور دوزخ ہوگا وغیرہ ۔ یہ مشرکانہ اعتقاد ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٥١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

گئے ہیں اور اب تک وہاں زندہ ہیں۔ مشرکانہ اعتقاد ہے اور درحقیقت ان کی صرف روح آسمان پر اٹھائی گئی ہے۔ جیسا کہ اور انبیاء کی ۔“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)

کے خلاف ہے۔“

موضوع بھی ہیں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٨،٢٩، خزائن ج ٧ ص ٢١٠، ٢١١ حاشیہ)

اس سے زیادتی نہیں ہو سکتی۔“

(مباحثہ لدھیانہ ص ٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٠)

جوابات...... از: حضرت مولانا محی الدین عبدالرحمن بن مولانا حافظ محمد لکھویؒ

الحمدلله فاطر السموات والارض جاعل الملئکة رسلا اولی اجنحة مثنی وثلاث ورباع یزید فی الخلق مایشاء ان الله علی کل شئ قدیر، والصلوة والسلام علی رسوله الامین محمد المبعوث فی الامیین بجوامع الکلم والکلام المبین وعلی اله واصحابه اجمعین ومن تبعهم الی یوم الدین ٠ امابعد!

جو عقائد کفریہ مرزا قادیانی کے سوال میں مرقوم ہیں۔ ہر ایک کفرِ مذکور اس کے کافر مرتد ہونے کے لئے کافی وافی ہے۔ معاذ اللہ اس کا مذہب ہے کہ میرے الہام قطعی کتاب اللہ کے ہیں۔ جیسا کہ اس نے بعض اشتہاروں میں صاف صریح لکھا ہے۔ لہٰذا وہ احادیث صحیحہ صریحہ کے مقابلے میں مرتدانہ کلام کرتا ہے اور کھلم کھلا کافر ہو جاتا ہے۔

اب یہاں یہ مسئلہ حقہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر حدیث صحیح مرفوع جس کو علماء حدیث نے با تحقیق صحیح ثابت کیا ہے۔ واجب القبول والعمل بالاجماع ہے۔ اس کا منکر، مکذب، اپنی

٣

صفحہ ١٧٠

رائے سے موضوع و باطل کہنے والا کافر و مرتد ہے۔ اس میں بہانہ قول امام کا یا کشف والہام کا یا عقل نافرجام کا کچھ کام نہیں آتا۔ اگر حدیث متواتر ہے تو منکر کافر قطعی ہے۔ ورنہ ظنی کافر ہے۔ پس میری تحقیق میں یہ ملحد قادیانی اشد المرتدین عجیب کافر، منافق لاثانی ہے۔ اس لئے کہ اس نے (ازالہ اوہام ص٤٦٧، خزائن ج٣ ص٢٥٢) پر سب اہل ایمان کو جو صحابہؓ سے لے کر اب تک ہیں۔ ملحد صریح اور سخت بے ایمان بنا دیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کی پوچ تاویلیں قابل التفات نہیں اور نہ لائق اعتبار ہیں۔ بلکہ فی الحقیقت تاویلیں نہیں۔ صاف تمسخر منافقانہ اور استہزاء کافرانہ ہے۔ مثلاً دعویٰ الہام اس کا کہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول موعود کا مصداق ہوں۔ استعارے کے طور پر، سراسر باطل و مردود ہے۔ کیونکہ استعارہ مجاز کا قسم ہے اور مجاز میں قرینہ مانعہ ارادۂ معنی موضوع لہ سے ہوتا ہے اور یہاں کوئی قرینہ مانعہ ارادہ معنی حقیقی سے نہیں ہے۔ جو وجود مبارک عیسیٰ علیہ السلام کا تتمہ ہے: ”والمجاز مفرد و مرکب أما المفرد فهی الکلمة المستعملة فی غیر ماوضعت له فی اصطلاح به التخاطب علی وجه یصح مع قرینة عدم ارادته ارادة الموضوع له (مختصر المعانی مع متنه تلخیص المفتاح) والاستعارة تفارق الکذب بوجهین بالبناء علی التاویل ونصب القرینة علی خلاف الظاهر فی الاستعارة لما عرف انه لابد للمجاز منقرینة مانعة عن الارادة الموضوع له (مختصر المعانی مع متنه)“ اور ملحد صاحب نے کوئی قرینہ مانعہ معنی حقیقی سے ظاہر نہ دیا میں قرائن نہیں دیا اور اپنے الہام ضد اسلام پر ایمان لا کر خلاف تصریح کا کفر حدیث متواتر کا اختیار کیا۔ معاذ اللہ۔ فی تفسیر ابن کثیر وقوله سبحانه وتعالیٰ وانه لعلم للساعة، تقدم تفسیر

ا؎ اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ اس قول خداوندی ”وانہ لعلم للساعۃ“ کی تفسیر ابن اسحاق سے مذکور ہو چکی ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں۔ جیسے مردے کو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھے اور کوہڑے کو اچھا کرنا۔ مگر یہ محل اعتراض ہے۔ اس سے بعید تر وہ تفسیر ہے۔ جو قتادہ سے منقول ہے۔ کہ اس سے قرآن مجید مراد ہے۔ اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مراد ہے۔ چنانچہ دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ جو اہل کتاب ہیں۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ اس معنی کی مؤید دوسری قرأت ”انہ لعلم للساعۃ“ ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نکلنا قیامت کی علامت ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر) ٤

ابن اسحق ان المراد من ذلك احیاء الموتی وابراء الاکمه والابر وابعد منه ماحکاه قتاده عن الحـ انه عائد علی القرآن بل الصحیح فان السیاق فی ذکره ثم المراد بـ وتعالی وان من اهل الکتاب الا لیؤ الصلوٰة والسلام ثم یوم القیـ القرئة الاخری انه لعلم للساعا مجاهد وانه لعلم للساعة ای آیة للـ قبل یوم القیامة وهذا روی عن ا مالك وعکرمة والحسن وقتاده و عن رسول اللہ ﷺ انه اخبر بـ اماما عادلا وحکما مقسطا (انتهی جب تک یہ دعویٰ الہام کا اس اہل اسلام کے تھا۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ ص پس ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث کی حقیقت بـ جیسا کہ اس نے خود آپ تعلـ رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں ہی قرینہ مجاز کا اس کے زعم میں ثابت ہـ ہے۔ پس لازم آئے گا کہ قرینہ مجاز کا تیر ناتمام کو تمام کیا اور مفید مطلب واقعی کے فصاحت و بلاغت کجا بلکہ ضلالت و ضلال (بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) چنانچہ ابو ہریرہؓ، ابـ ضحاک وغیرہ سے مروی ہے اور آنحضرتؐ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امـ

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یہ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہیے اور مبارک سننا حرام ہے اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کہ: ”جس کی محبت دل میں اس کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ١٠٩:٥) حضرت عمران بن مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں پتھروں کی بارش کے صحابہؓ نے پوچھا آپؐ علیہ الصلوٰۃ عورتوں اور

صفحہ ١٧١

حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے لئے ”نبی“ کا لفظ اور درود صلی اللہ ”ص“ کی طرف اشارہ اور الفاظ بھی لکھے ہیں اور تعریف بھی

کافی ہے؟ پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ نام سلمان ہے تو نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری نہیں....... کیا ”محمد“ نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا جائز ہے جب کہ محمد کے نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نام محمد سلمان ہے۔ کیا اس کے نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری ہے؟ اگر نہ لکھیں تو کیا گناہ گار ہوں گے؟ جبکہ بعض لوگ ”محمد“ نام کے ساتھ ”ص“ کی پابندی کرتے ہیں۔ (مستفتی : محمد سلمان)

الجواب باسم ملهم الصواب واضح رہے کہ محمد نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری نہیں، اور نہ ہی اس پر درود بھیجنا ضروری ہے۔ لہٰذا محمد نام کے ساتھ ”ص“ نہ لکھنے سے گناہ گار نہیں ہوگا۔ اور جو لوگ محمد نام کے ساتھ ”ص“ کی پابندی کرتے ہیں وہ درست نہیں۔ ہاں اگر

شرعی مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ فعل سر تا سر حرام اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہئے اور میوزک سننا تو ویسے ہی حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق اگاتی ہے جس طرح پانی سبزه اگاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد: ٤٩٢٧) حضرت عمران بن حصینؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے، چہروں کے مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے عذابات آئیں گے“، کسی صحابیؓ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کب ہوگا؟ فرمایا ”جب گانے بجانے کے آلات اور آلات موسیقی عام ہو جائیں گے“ (سنن ترمذی: ٢٢١٢) موسیقی بجانے والے، سننے والے، اس کی تجارت کرنے والے سب گناہ گار ہیں۔ میوزک چاہے کسی بھی قسم کا ہو۔ گانا بجانا سننے، سنانے کے علاوہ اس کا کاروبار کرنے، سکھانے اور اس کی اجرت لینے کے حوالے سے احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گانے والیوں کو نہ بیچو اور نہ ان کو خریدو اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ اور ان کی قیمت (لینا) حرام ہے۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ (ترجمہ) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو بیہودہ باتیں خریدتے ہیں (تاکہ لوگوں کو) اللہ کے راستے سے گمراہ کریں“۔ (جامع ترمذی: ٣١٩٥) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میوزک سننا اور اس کی تجارت کرنا سخت گناہ اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

اس میں بہانہ قول امام کا یا کشف و الہام کا یا ہے تو منکر کافر قطعی ہے۔ ورنہ ظنی کافر ہے۔ کافر بمنافق لاحق ہے۔ اس لئے کہ اس نے اجماع کو جو صحابہؓ سے لے کر اب تک ہے۔ ملحد کے معجزوں پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس ہیں۔ بلکہ فی الحقیقت تاویلیں نہیں۔ صاف مدعی اس کا کہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول باطل و مردود ہے۔ کیونکہ استعارہ مجاز کی قسم تا ہے اور یہاں کوئی قرینہ مانعہ ارادہ معنی حقیقی ہے: ”والمجاز مفرد مستعمل فى غير ما وضعت له فى اصطلاح به رادته ارادة الموضوع له (مختصر الا استعاره تفارق الكذب بوجهين ی خلاف الظاهر فى الاستعارة لما عن الارادة الموضوع له (مختصر مانعہ معنی حقیقی سے ظاہر نبویہ میں قرار نہیں دیا انکار حدیث متواتر کا اختیار کیا۔ معاذ اللہ۔ وانه لعلم للساعة ، تقدم تفسير راوندی ”وانہ لعلم للساعة“ کی تفسیر ابن اسحاق کے معجزات مراد ہیں۔ جیسے مردے کو زندہ کرنا راض نے۔ اس سے بعید تر وہ تفسیر ہے۔ جو ۔ اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے قیامت نانچہ دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ جو اہل پہلے ان پر ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے ”انہ لعلم للساعة“ ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

ابن اسحق ان المراد من ذالك ما بعث به عيسى عليه الصلوة والسلام من احياء الموتى وابراء الاكمه والابرص وغير ذالك من الاسقام ، وفى هذا نظر وابعد منه ما حكاه قتاده عن الحسن البصرى وسعيد بن جبير ان الضمير فى انه عائد على القران بل الصحيح انه عائد على عيسى عليه الصلوة والسلام فان السياق فى ذكره ثم المراد بذالك نزوله قبل يوم القيامة كما قال تبارك وتعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه الصلوة والسلام ثم يوم القيامة يكون عليهم شهيدا . ويؤيد هذا المعنى القراءة الاخرى انه لعلم للساعة ،اى امارة ودليل على وقوع الساعة . قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة وهذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتاده والضحاك وغير هم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماما عادلا وحكما مقسطا (انتهى)

جب تک یہ دعویٰ الہام کا اس نے نہیں کیا تھا۔ اس کا اعتقاد بھی اس مسئلہ میں موافق اہل اسلام کے تھا۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ ص ٣٩٨، ٣٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣ حاشیہ) میں مرقوم ہے۔ پس ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث کی حقیقت پر ایمان لانے سے الہام ہی اس کو مانع ہوا۔

جیسا کہ اس نے خود آپ تصریح کی ہے (ص اول توضیح المرام میں) تیرے اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں تنبیہات الہام سے قائم کیا گیا ہوں ...... الخ۔ تو الہام ہی قرینہ مجاز کا اس کے زعم میں ثابت ہوتا ہے اور کوئی قرینہ عقلی اہل اسلام کے طور پر نہیں ہے۔ پس لازم آئے گا کہ قرینہ مجاز کا تیرہ سو برس بعد آنحضور ﷺ کے قائم ہوا اور آپ کی کلام ناتمام کو تمام کیا اور مفید مطلب واقعی کے بنایا۔ ورنہ پہلے وہ کلام مفید خلاف مطلب کے تھی۔ فصاحت و بلاغت کجا بلکہ ضلالت در ضلالت تھی۔ یہ تمسخر منافقانہ اور استہزاء نہیں تو کیا ہے؟ قال

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) چنانچہ ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ اور ابوالعالیہ، ابو مالکؓ، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک وغیرہ سے مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث اس بات میں آچکی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل ہو کر آئیں گے۔

٥

صفحہ ١٧٢

الله تعالى: ”ذالك جزاءهم جهنم بما كفروا واتخذوا ايتى ورسلى هزوا“ اور یہ امر آنحضرت ﷺ کی کمال فصاحت و بلاغت کو داغ لگانے کے لئے کمال شیطنت ہے اور آپ کی فصاحت و بلاغت جس طرح موافق و مخالف کے نزدیک مشہور ہے۔ اسی طرح حدیث صحیح میں بھی ثابت و مذکور ہے : ” بعث بجوامع الكلم ..... الخ ۔ متفق عليه اور فضلت على الانبياء بست اعطیت جوامع الكلم رواہ مسلم کمافی المشكوة فى باب فضائل سيد المرسلين صلوة الله وسلامه عليه وعلى اله واصحابه اجمعين وفي الحديث المتفق عليه ، ايضاً ان رسول الله ﷺ لم يكن يسرد الحديث كسرد كم كان يحدث حديثا لوعده عاد لاحصاه كمافي المشكوة في باب اخلاقه ﷺ وفى صحيح البخارى كان النبي ﷺ اذا تكلم بكلمة اعادها ثلثا حتى تفهم عنه كمافى كتاب العلم من المشكوة وفى صحيح مسلم في خطبة النبي ﷺ اما بعد فان خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد ﷺ “

پس یہ صاف ظاہر ہے کہ ان احادیث صحیحہ مذکورہ سے آنحضرت ﷺ تقریر تعلیم و افہام تفہیم میں سب انبیاء علیہم السلام پر فوقیت رکھتے تھے۔ تو آپ کی کلام کے مقابلے میں محدثین ملہمین کی عبارات الہامات کی کیا حقیقت رہی۔ چہ جائیکہ الہامات اس محدث فی الدین مرتد بالیقین کے۔ معاذ اللہ!

اور تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ہے :”واتيناه الحكمة وفصل الخطاب ٠ قال ابن عباس الكلام كمافى المعالم “ یعنی عطا کی ہم نے داؤد علیہ السلام کو دانائی اور کھلی بات کرنی ۔ جس کو ہر ایک بلا تکلف سمجھے ۔ پس ہمارے حضرت محمدؐ بالاولیٰ اس کمال میں اعلیٰ و ادنیٰ ہیں۔ ” لقوله عليه السلام فضلت على الانبياء ..... الخ وقوله عليه السلام خير الهدى هدى محمد ﷺ “ مختصر معانی میں ہے ۔ ” وفصل الخطاب، اى الخطاب المفصول البين الذى يتبينه كل من يخاطب به ولا يلتبس عليه ٠ وهكذافي المطول “

کفر اعظم قادیانی

” علماء مفسرین و محدثین جو ظاہر علم تفسیر و حدیث کا ہمیشہ پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔ یہ

٦

بے مغز خبطتیں ہیں اور تمام خدا تعالیٰ کے نزدیک اُ (فتح اسلام ص ٨ ، خزائن ج ٣ ص ٧ حاشیہ) قال الله تعال نخوض ونلعب ٠ قل أبالله وايته ورسله تم بعد ايمانكم “ ﴿ جو کوئی دین کی باتوں میں ٹھٹھ البتہ منافق ہوا۔ دین کی بات میں ظاہر و باطن باادب اللہ اکبر! دین کی بے ادبی سے آدمی کا معاذ اللہ ۔ اگر اعتقاداً ہو جیسا کہ اس ملحد نے دین کی ا شک ہے۔ انواع بارک اللہ رحمہ اللہ میں لکھا ہے :

دینی علم یا عالماں
یا کرے اہانت شروع و

اور عیسیٰ علیہ السلام کو اس ملحد نے بتقلید ن قرآنی کا کیا ہے۔ قال الله تعالیٰ : ” وما صلبوه “ لکھا ہے۔ یہ بھی صریح کفر ہے۔ قرآن وحدیث کا ص انکار۔ بہت نصوص قرآنیہ اور احادیث صریحہ کا صاف اعظم کو کہ قرآن شریف اللہ کی کلام نہیں ۔ بلکہ : ” ان ہ نہ کوئی جبرائیل آیا نہ آنحضرت ﷺ کو اس نے کچھ الواقع اپنی کلام دے کر زمین پر بھیجا نہ اتارا۔

پس قرآن بشر کی کلام ہوئی۔ پیغمبر الخارج خود نہیں فرمائی ۔ نہ جبرائیل کو پڑھائی اور سلف ان القران مخلوق فهو كافر“

اور خروج یاجوج ماجوج کا انکار بھی کفر صری کا انکار اور دعویٰ رسول مرسل نبی اللہ ہونے کا اور احمد مبش علیہ السلام کو ابن اللہ ماننا۔ اس ملحد کی نصرانیت اور اپنی (ان کا قول تھا: ”نحن انبياء الله واحباءه “

ا۔ یہ پنجابی زبان کا شعر ہے۔ اس کا اردو تر کی اہانت کرے۔ وہ کافر ہو جاتا ہے۔

٧

سے صرف ”دس“ کا اشارہ اور پھر انگشت شہادت کی انگلی کھڑی بدعت و خرافات کے مرتکب کرتے؟....... حضور اکرم صلی اللہ علیہ گا؟....... کیا ایسے ہی مرتے مرتے ”دس“ کاں ہے؟....... کیا ”محمد“ نام پر درود پڑھنے لگے تو کیا ضروری نام کے پہلے ”سیدنا“ اور علیہ وسلم کا ”محمد“ نام لکھنا کیسا ہے ”محمد“ کے نام کے ساتھ ”ص“ جانے کا سبب ہے۔ کہ دل میں طمع ولا لچ پیدا مجلس غیر مردوں سے میں اس کی ممانعت آئی سلام کرنا یا محرمیت کا دور رہنا چاہ ہوشیار رہنا بیٹھنے کی ایک شرم وحیاء جو میں بلکہ سا

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے: “ بقول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہئے اور متروک سننا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے سخت وعید آئی ہے۔ اس کے بارے میں فرما دیا گیا کہ ”جس نے نبی کی بیعت دل میں اس کرنی ہے جس طرح بانی مباہلہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں سے کسی نبی اس میں تجلی حق بقروں کی بارش کے مرضی ہے پوچھا آپ علیہ الصلوٰۃ مجالس عورتوں اور مردوں اور

صفحہ ١٧٤

بے مغز خدمتیں ہیں اور تمام خدا تعالیٰ کے نزدیک استخواں فروشی ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔" (فتح اسلام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٧ حاشیہ ) قال اللہ تعالیٰ : "ولـئـن سـألـتـهـم لـيـقـولـن انـمـا كـنـا نخوض ونلعب . قل أبااللہ وآیتہ ورسلہ کنتم تستہزء ون . لاتعتذر واقد کفر تم بعد ایمانکم ۔" ﴿جو کوئی دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو کافر ہوا نہیں البتہ منافق ہوا۔ دین کی بات میں ظاہرو باطن با ادب رہنا ضروری ہے۔ (تفسیر : القرآن)﴾ اللہ اکبر! دین کی بے ادبی سے آدمی کافر ومنافق ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اعتقاداً نہ ہو۔ معاذ اللہ ۔ اگر اعتقاداً ہو جیسا کہ اس ملحد نے دین کی اہانت کی ہے۔ تو پھر کفر و نفاق اس کے میں کیا شک ہے۔ انواع بارک اللہ رحمہ اللہ میں لکھا ہے:

جے کوئی١؎ علم یا عالماں کرے اہانت کو
یا کرے اہانت شرع دی اوہ بھی کافر ہو

اور عیسیٰ علیہ السلام کو اس ملحد نے بتقلید نصاریٰ صلیب پر چڑھایا ہے اور کفر وانکار نص قرآنی کا کیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ : "وما صلبوہ " اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے۔ یہ بھی صریح کفر ہے۔ قرآن وحدیث کا صاف انکار ہے اور فرشتوں کے عروج ونزول کا انکار۔ بہت نصوص قرآنیہ اور احادیث صریحہ کا صاف انکار کفر صریح ہے اور یہ مستلزم ہے۔ اس کفر اعظم کو کہ قرآن شریف اللہ کلام نہیں۔ بلکہ : "ان ھذا الا قول البشر " ہے۔ کیونکہ فی الخارج۔ نہ کوئی جبرائیل آیا نہ آنحضرت ﷺ کو اس نے کچھ پڑھایا۔ نہ خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو فی الواقع اپنی کلام دے کر زمین پر بھیجا نہ اتارا۔ پس قرآن بشر کی کلام ہوئی۔ پیغمبر ﷺ کے خیال میں خدا تعالیٰ نے پیدا کی۔ فی الخارج خود نہیں فرمائی۔ نہ جبرائیل کو پڑھائی اور سلف صالح کا یہ مشہور مسئلہ ہے۔ کہ : "من قال ان القران مخلوق فھوکافر۔" اور خروج یاجوج ماجوج کا انکار بھی کفر صریح ہے اور خروج دجال کے مسیح قادیانی کذاب کا انکار اور دعویٰ رسول مرسل نبی اللہ ہونے کا اور احمد مبشر بالقرآن ہونے کا بھی کفر صریح ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ ماننا۔ اس ملحد کی نصرانیت اور اپنی ذات کو ابن اللہ کا لقب دینا اس کی یہودیت (ان کا قول تھا : "نحن ابنیاء اللہ واحباء ہ " یعنی ہم خدا کے بیٹے اور دوست ہیں ) ہے

١؎ یہ پنجابی زبان کا شعر ہے۔ اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ جو شخص علم یا علماء دین یا شرع کی اہانت کرے۔ وہ کافر ہو جاتا ہے۔

صفحہ ١٧٥

اور جو موحدین ان کفریات صریحہ کو برحق مانتے ہیں۔ وہ بھی کافر مرتد ہیں اور جو خود برحق نہیں جانتے۔ مگر مرزا سے محبت اور دل و جان سے کرتے ہیں اور اس پر بزرگی کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ہرگز ان کے کفریات صریحہ مذکورہ پر غیرت ایمانی کو راہ دل میں نہیں دیتے۔ ان میں بھی رائی کے دانے برابر ایمان نہیں۔

"عن ابن مسعودؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ما من نبي بعثه الله في امته قبلي الا كان له في امته حواريون واصحاب ياخذون بسنته ويقتدون بامره ثم انها تخلف من بعدهم خلوف يقولون مالايفعلون ويفعلون مالا يؤمرون فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن ومن جاهد بلسانه فهو مؤمن وليس وراء ذالك من الايمان حبة خردل (رواہ مسلم)"

اور جو ملحد کو اپنے مکانوں میں جگہ دیتے ہیں اور اس کی مدد میں سرگرم رہتے ہیں۔ وہ اس حدیث کے مصداق ہیں: "لعن اللہ من اوى محدثا (رواہ مسلم)" ؎١ یعنی خدا کی لعنت ہے

؎١ یہ لاہوری اور امرتسر کے بعض ایسے لوگوں....... کی طرف اشارہ ہے۔ جو ان باتوں کو حق نہیں جانتے۔ مگر قادیانی کو باوجود ان عقائد کے بزرگ وملہم مانتے ہیں۔ ان کو اگر کوئی قادیانی کے ایسے عقائد سناتا ہے۔ تو کہتے ہیں۔ ہم اس کے رسائل کو نہیں دیکھتے۔ اس کے جواب میں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ عقائد واقوال اس کی کتابوں میں موجود اور شہرہ آفاق ہیں اور علماء ان پر فتویٰ لگاتے ہیں۔ تو پھر تم کیوں ان کتابوں کو نہیں دیکھتے اور فتویٰ علماء کی تصدیق کر کے قادیانی کے بزرگ وملہم ہونے کا اعتقاد کیوں نہیں چھوڑتے۔ تو اس کا وہ کوئی جواب نہیں دیتے۔ ان لوگوں کے سرکردہ ایک قرآن کے حافظ مگر اور علوم دین کے جاہل ہیں۔ آپ رفع یدین و آمین بالجہر کرتے ہیں۔ ذرا الہامی ہونے بھی مدعی ہیں اور اس ذریعہ سے وہ ان لوگوں کے مقتداء ہوئے ہیں اور ان کو گمراہ کر رہے ہیں۔

؎٢ حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو نبی گزرا ہے۔ اس کے حواری اور اصحاب گزر چکے ہیں۔ جو اس کی سنت وطریق کو لیتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے۔ وہ بات کہتے جو خود نہ کرتے اور وہ کام کرتے۔ جس پر مامور نہ ہوتے۔ جو ان کے ساتھ ہاتھ کے ہاتھ مقابلہ کرے۔ وہ مؤمن ہے۔ جو زبان کے ساتھ مقابلہ کرے۔ وہ مؤمن ہے۔ جو دل سے ان کا مخالف ہو۔ وہ مومن ہے۔ اس کے بعد یعنی اگر دل میں بھی ان کی مخالفت نہ ہو تو دانہ رائی کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔

٨

اس پر جو بدعتی ملحد فی الدین کو جگہ دیتا ہے۔ ؎١ رد نیچری

بک کفر عقیدہ جو حق جانے ہے مرتد، ملعون
جیویں انکار فرشتیاں یا انکار جناں شیطاناں
یا معجزیاں دا منکر ہووے من تاویلاں خاماں
یا آکھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تائیں کہے یوسف دا جایا
یا آکھے عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھیا سنے قول نصاریٰ

اور تاویلیں ملحدانہ اس ملحد کی استہزاء و تمسخر کہ اللہ ورسول کو سمجھانا نہیں آتا اور میرے الہامات تاویلیں لی جائیں تو مرزا اور مرزائی ضرور تسخر سمجھیں ابن مریم" (ازالۃ الاوہام ص ٥٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩) لکھے ہیں۔ مفتی) مسیح کے کذاب ہیں اور یہی معنی ہا ہے کہ اس ملحد کی والدہ مومنہ تھی اور یہ ملحد مسلمانوں کو کہ مسیح سے مراد وزن فعیل کا ہے۔ جو بمعنی ہے: ”مسیح

؎١ ’’رد نیچری‘‘ مولانا محمد بن بارک اللہ کے اشعار منقولہ بالا کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ جو شخص ملـ وجود ملائکہ یا جنوں سے انکار کرنا۔ تھوڑے سود کو حلال آنحضرت ﷺ کا کلام قرار دینا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ علیہا السلام کے قصہ رؤیت جبرائیل و بشارت فرزند السلام کی نسبت یہ کہنا کہ وہ صلیب پر چڑھ گئے وغیرہ

؎٢ یعنی جیسے کہ جموں کے مجذوب کا الہام بن عبداللہ غزنوی نے بیان کیا۔ اس کو عبد الواحد والا مجذوب سے سنا۔ یہ مجذوب وہ شخص ہے۔ جس کا ا ج ٤ ص ٢٣٧) میں کیا ہے۔ اس مجذوب کو حکیم نور دی آسمانی پر لے گیا۔ وہاں پر مجذوب صاحب نے خوام

٩

صفحہ ١٧٥

اس پر جو بدعتی ملحد فی الدین کو جگہ دیتا ہے۔ ١؎ رد نیچری میں لکھا ہے:

ہک کفر عقیدہ جو حق جانے ہے مرتد بالیقین اس وچ شک نہ شبہ کوئی ہے صاف ایمانوں ویہون
جیویں انکار فرشتیاں یا انکار جناں شیطاناں یا تھوڑی بیاج حلال پچھانے یا منکر آسماناں
یا معجزیاں دا منکر ہووے من تاویلاں خاماں یا کہے قرآن کلام محمد کافر باجھ کلاماں
یا آکھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تائیں ہے یوسف دا جایا وچہ قرآن جو قصہ مریم جھوٹا سفنا آیا
یا آکھے عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھیا منے قول نصاریٰ ہک آیت دا منکر کافر جیوکر سب دا یارا

اور تاویلیں ملحدانہ اس ملحد کی استہزاء و تمسخر ہے خدا اور رسول کو۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ورسول کو سمجھانا نہیں آتا اور میرے الہامات بینات ہیں۔ اگر اس کے الہاموں کی ایسی تاویلیں لی جائیں تو مرزا اور مرزائی ضرور تمسخر سمجھیں گے۔ مثلاً الہام ”انا جعلناک المسیح ابن مریم“ (ازالہ اوہام ص٥٧٣، خزائن ج٣ ص٤٠٩) میں معنی (قاموس میں سیح کے معنی کذاب بھی لکھے ہیں۔ مفتی) مسیح کے کذاب ہیں اور یہی معنی بالتحقیق مراد ہیں اور ابن مریم لطیف استعارہ ہے کہ اس ملحد کی والدہ مومنہ تھی اور یہ ملحد مسلمانوں کی نسل سے قطع ہو گیا اور الطف استعارہ یہ ہے کہ مسیح سے مراد وزن فعیْل کا ہے۔ جو خنزیر ہے: کما یشھد بہ الہام المجذوب الجمونی٢؎

١؎ ”رد نیچری“ مولانا محمد بن بارک اللہ کی تصنیف ایک پنجابی نظم کا رسالہ ہے۔ اس کے اشعار منقولہ بالا کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ جو شخص ایک عقیدہ کفر کو حق جانے، وہ مرتد ہے۔ جیسے وجود ملائکہ یا جنوں سے انکار کرنا۔ تھوڑے سود کو حلال جاننا۔ یا معجزات کا انکار کرنا۔ یا قرآن مجید کو آنحضرت ﷺ کا کلام قرار دینا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا کہنا۔ یا حضرت مریم علیہا السلام کے قصہ رؤیت جبرائیل و بشارت فرزند کو ایک خواب قرار دینا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ کہنا کہ وہ صلیب پر چڑھ گئے وغیرہ۔

٢؎ یعنی جیسے کہ جموں کے مجذوب کا الہام شہادت دیتا ہے۔ جو مجھ سے عبد الغفور بن محمد بن عبداللہ غزنوی نے بیان کیا۔ اس کو عبد الواحد داماد حکیم نور دین نے بتایا۔ انہوں نے خود اس مجذوب سے سنا۔ یہ مجذوب وہ شخص ہے۔ جس کا ذکر قادیانی نے (آسمانی فیصلہ ص١٦ سطر ١٤، خزائن ج٤ ص٣٢٧) میں کیا ہے۔ اس مجذوب کو حکیم نور دین جموں سے قادیان میں جلسہ برائے فیصلہ آسمانی پر لے گیا۔ وہاں پر مجذوب صاحب نے خواب دیکھا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ١٧٦

حدثنى به عبدالغفور قال حدثنى به عبدالواحد قال عبدالغفور حدثه به المجذوب بنفسه“

اور میں نے فکر کیا۔ ساتویں تاریخ ماہ رجب حال میں بعد نماز فرض عشاء کے مرزائیوں کے حق میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کیا ہے۔ الہام ہوا: ”اولئك هم الكفرون حقا ، هكذا تطبیق الهامه بالقرآن والحديث وهكذا تطبيقه بالهامی ، اللهم رب جبرائيل وميكائيل واسرافيل فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون ، اهد نى لما اختلف فيه من الحق باذنك انت تهدى من تشاء الى صراط مستقيم“

ان ملحدوں کے حق میں مجھ کو یہ بہت الہام ہوا ہے: ”ان يقولون الا كذبا “ حرره العبد الضعیف عبدالرحمن المدعو محی الدین لکھو کے جواب سوال المولوی محمد حسین الجواب اصح ۔ یہ جواب صحیح ہے۔ الملتجی الی اللہ محمد بن مخدومی بارک اللہ مرحوم فیروز پور پنجاب (مصنف تفسیر محمدی انواع محمدی وغیرہ) ”مرزا قادیانی کو یہ عاجز پہلے اچھا سمجھتا تھا۔ جب سے اس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نبوت کا مدعی ہوا ہے۔ تب سے میں اس کو ملحد دجال اور کذاب سمجھتا ہوں۔“ (محمد حسن بن مولانا حافظ محمد بن بارک اللہ مرحوم ساکن لکھو کے ضلع فیروز پور (پنجاب)

(ماخوذ از مجله اشاعت السنه ص ٣٣٣ تا ٣٤٤ مجریہ رجب ١٣٠٨ھ ١٨٩٠ء)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کہ ان کو کشف ہوا کہ قادیانی کی ڈیوڑھی میں ایک سفید گھوڑی ہے۔ پھر وہ گدھی بن گئی ۔ جس پر کسی نے کہا کہ نور دین گدھی کی خدمت کر رہا ہے۔ مجذوب صاحب بعارضہ برص یا جذام بیمار ہیں۔ قادیان میں ان کو حکیم نور دین اس امید پر لے گیا تھا کہ وہاں ان کو شفاء ہو گی۔ وہ وہاں سے واپس آئے تو ان کی بیماری اور بڑھ گئی۔ آگے وہ چلتے پھرتے تھے۔ اب اس سے معذور ہو گئے ہیں۔ یہ بات خاکسار نے مولوی غلام حسن صاحب امام اہل حدیث سیالکوٹ سے سنی ہے۔ (ایڈیٹر اشاعت السنہ)

١؂ یعنی اس کے الہام کی قرآن وحدیث سے یونہی موافقت ہو سکتی ہے۔ جو بیان ہوئی ہے کہ مسیح سے مرزا کا کاذب ہونا اور قادیانی کا گدھی کی صورت میں دکھائی دینا۔

١٠

التأليفات المنيريه

قهر الد

على

مرتد بقـ

حضرت مولانا حسن

PDF 178

خاتم النبیین لا نبی بعدی

فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

قہر الدیان

علیٰ

مرتد بقادیان

حضرت مولانا حسن رضا خان قادری

صفحہ ١٧٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله وكفى سمع الله لمن دعا ليس وراء الله منتهیٰ ان ربى لطيف لما يشاء، صلوٰته العلى الاعلى، وتسليماته المنزهة عن الانتهاء وبركاته التى تنمى وتنمى على خاتم النبيين جميعًا فمن تنبأ بعده تاما او ناقصا فقد كفر وغوى الله اكبر على من عاث وعتا و تمرد وعصى وهوى هواه حولى اللهم اجرنا من ان نذل ونخزى او نزل ونشقى ربنا وانصر نا بنصرك على من طغى وبغى وضل واضل عن سبيل الاهتداء، صل على المولى واله وصحبه ابدا ابدا واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له احدا صمدا وان محمدا عبده ورسوله بالحق ودين الهدى صلى الله تعالى عليه وعلى اله وصحبه دائما سرمدا ١

الله اكبر على من عتا وتكبر

مدتی این مثنوی تاخیر شد مهلتی بایست تا خون شیر شد ٢

اللہ عزوجل اپنے دین کا ناصر، اپنے بندوں کا کفیل، وحسبنا الله ونعم الوکيل! رسالہ ماہواری رد قادیانی کی ابتداء حکمت الہیہ نے اس وقت پر رکھی تھیں کہ یہاں دو چار جاہلان محض اس کے مرید ہو آئے مسلمانوں نے حسب حکم شرع شریف ان سے میل جول ارتباط ، سلام کلام ، اختلاط یک لخت ترک کر دیا۔ دین میں فساد مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والوں نے یہ ’’العذاب الادنی دون العذاب الاکبر‘‘ چکھا۔ مسلمانوں پر حملے میں اپنی چلتی کوئی کمی نہ کی۔ بس نہ چلا تو متواتر عرضیاں دیں کہ ہمارا پانی بند ہے ہم پر زندگی تلخ ہے۔ بیدار مغز حکومت ایسی لغویات کو کب سنتی۔ ہر بار جواب ملا کہ مذہبی امور میں دست اندازی نہ ہوگی۔ سائلان آپ اپنا انتظام کریں۔ آخر بحکم آنکہ:

دست بگیرد سر شمشیر تیز

ایک بے قید پرچے روہیلکھنڈ گزٹ میں اشتہار چھاپا کہ عمائد شہر اگر علماء طرفین سے مناظرہ کرائیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ دونوں طرف سے خود وہی منتظم رہیں۔ تو ہمیں اطلاع دیں کہ ہم بھی اپنے مرزائی ملاؤں کو بلالیں اور اس میں علماء اہل سنت کی شان میں کوئی دقیقہ بدزبانی

١؂ اس کی طرح جو اپنی موت مرا ٢؂ قریب ہے کہ تم ناگوار سمجھو

واکاذیب بہتانی وکلمات شیطانی کا اٹھا نہ رکھ بعونہ تعالیٰ خود مرزا کے حق میں کالباحث عن

سست بازو
پنجہ بام

مگر از انجا که عسیٰ ان برانگیزد که خیر مادران باشد!

یہ ایک غیبی تحریک خیر ہوئی۔ جس کا جواب اشتہاروں میں دیا گیا۔ مناظرہ ہولناک اقوال ادعائے رسالت ونبوت وا گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز قادیانی تو ہمیشہ سے اللہ ورسول وانبیائے عبارات اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکورہ متعدد پرچوں میں اشاعت منظ رکھا گیا۔ اس میں دعوت مناظرہ شرائط مناظ اس مختصر تحریر نے اپنی سلک منیر میں متعدد ورسولان رحمانی ومحبوبان یزدانی ۔ سلسلہ قادیانی ۔ سلسلہ دجالی وتعلیمات قادیانی۔ سلسلہ سوالات اور واقعی وقتی ضرورت مختلف رسائل الٹ پھیر کر انہیں ڈھاک کے تین سلاسل کا انتظام احسن واولے اب بعونہ ت تعالیٰ مدد فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد د مناسب کہ جو کلام جس سلسلے کے متعلق آتا جو نیا کلام ان سلاسل سے جدا شروع ہو تازیانے جن کا شمار خدا جانے اول تا آخر ا

صفحہ ١٧٩

واکاذیب بہتانی و کلمات شیطانی کا اٹھا نہ رکھا۔ یہ حرکت نہ فقط ان بے علم، بے فہم مرزائیوں بلکہ بعونہ تعالیٰ خود مرزا کے حق میں کالباحث ١؂ عن حتفہ بظلفہ سے کم نہ تھی:

سست بازو بجهل میفگند
پنجه با مرد آهنین چنگال

مگر از انجا کہ عسیٰ ان تکرہوا شیئا وہو خیرلکم ٢؂ خدا شرے برانگیزد کہ خیر ما دران باشد!

یہ ایک غیبی تحریک خیر ہو گئی۔ جس نے اس ارادۂ رسالہ کی سلسلہ جنبانی فرمادی۔ اشتہار کا جواب اشتہاروں میں دیا گیا۔ مناظرہ کے لئے ابکار افکار مرزا قادیانی کو پیام دیا۔ اس کے ہولناک اقوال ادعائے رسالت و نبوت و افضلیت من الانبیاء وغیرہ ہا کفر و ضلال کا خاکہ اڑایا۔ گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز کیا۔ صرف اتنا دکھایا کہ تمہاری گالی آج کی نرالی نہیں۔ قادیانی تو ہمیشہ سے اللہ و رسول و انبیائے سابقین و آئمہ دین سب کو گالیاں سناتا رہا ہے۔ ہر عبارت اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکور ہوئی۔ مضمون کثیر تھا۔

متعدد پرچوں میں اشاعت منظور ہوئی۔ ”ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری“ نام رکھا گیا۔ اس میں دعوت مناظرہ شرائط مناظرہ طریق مناظرہ منادی مناظرہ سب کچھ موجود ہے۔ اس مختصر تحریر نے اپنی سلک منیر میں متعدد سلاسل لئے سلسلہ دشنامہائے قادیانی بر حضرت ربانی و رسولان رحمانی و محبوبان یزدانی۔ سلسلہ کفریات ضلالات قادیانی سلسلہ تناقضات و حماقات قادیانی۔ سلسلہ دجالیات و تلبیسات قادیانی۔ سلسلہ جہالات و بطالات قادیانی۔ سلسلہ تاویلات سلسلہ سوالات اور واقعہ یہ کہ ضرورت مختلف مضامین پر کلام کی مقتضی ہوتی ہے اور اس کے اکثر رسائل الٹ پھیر کر وہیں ڈھاک کے تین پات کے حامل۔ لہذا ہر رسالہ جداگانہ رو سے انہیں سلاسل کا انتظام احسن واولیٰ اب بعونہ تعالیٰ اسی ہدایت نوری سے ابتدائے رسالہ ہے اور مولیٰ تعالیٰ مدد فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً رسائل و مضامین حسب حاجت اندراج گزیں مناسب کہ جو کلام جس سلسلے کے متعلق آتا جائے۔ یہ شمار سلسلہ اس کی سلک میں انسلاک پائے۔ جو نیا کلام ان سلاسل سے جدا شروع ہو اس کے لئے تازہ سلسلہ موضوع ہو۔ اعتراضات کے تازیانے جن کا شمار خدا جانے اول تا آخر ایک سلسلے میں منضود اور ہر اعتراض حاشیہ پر تازیانہ یا اس

١؂ اس کی طرح جو اپنی موت اپنے کھر سے کرید کر نکالے۔ ٢؂ قریب ہے کہ تم نا گوار سمجھو گے بعض چیزیں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہوں گی۔

٣

صفحہ ١٨١

مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے: فعل حرام اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہیے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں احادیث وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”گانے کی محبت دل میں اس طرح پیدا ہوتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے “ (سنن ابوداؤد:٥٠٩٠) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس امت میں زمین میں دھنسائے جانے ، پتھروں کی بارش کے اور شکلیں مسخ ہونے کا عذاب آئے گا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کب ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جب گانے بجانے والی عورتوں اور گانے بجانے کے آلات کی کثرت ہو جائے گی اور شرابیں پی جانے لگیں گی

عذاب کے چپکے چپکے شرم و حیاء جوہر ہیں بلکہ ہوشیار رہنا چا دور رہنا چاہ سلام کرنا چاہیے میں اس کی ممانعت آ ہے، جن غیر مردوں سے کسی دل میں طمع ولاچ پیدا جانے کا سبب ۔

رکھے ، تو کیا حکم ہے؟ س:...... کیا ”محمد “ نا م کے ساتھ ”محمد“ لکھنا ضروری ج:...... اپنے نام کے ساتھ محمد لکھنا ضروری تو نہیں البتہ برکت کے لیے اگر نام سے پہلے ”محمد“ کا اضافہ کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ، بلکہ اچھی بات ہے۔ س:...... اگر کوئی

عورت اپنے دستخط میں شوہر کا نام لکھے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ ج:...... عورت اگر اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام شناخت کے لیے لکھتی ہے تو یہ جائز ہے۔

کی علامت ت لکھ کر خداوند و مسلمانوں سے تو بفضلہ تعالیٰ یقینی امید مدد و موافقت ہے۔ مرزائی بھی اگر تعصب چھوڑ کر خود خدا اور روز جزا سامنے رکھ کر دیکھیں تو بعونہ تعالیٰ امید ہدایت ہے۔

وماتوفيقي الا بالله، عليه توكلت واليه انيب، وصلے اللہ تعالیٰ
على سيدنا محمد وآله وصحبه انه هو القريب المجيب!

ہدایت نوری ...... بجواب اطلاع ضروری

بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلى على رسوله الكريم،
خاتم النبيين واله وصحبه اجمعين!

اس میں قادیانی کو دعوت مناظرہ اور اس کے بعض سخت ہولناک اقوال کا تذکرہ ہے: اللہ عزوجل مسلمانوں کو دین حق پر استقامت اور اعدائے دین پر فتح ونصرت بخشے۔ آمین ! روہیل کھنڈ گزٹ مطبوعہ یکم جولائی ١٩٠٥ء میں تصور حسین بچہ بند کے نام سے ایک مضمون بعنوان ”اطلاع ضروری“ نظر سے گزرا۔ جس میں اولاً علمائے اہل سنت نصرہم اللہ تعالیٰ پر سخت زبان درازی وافتراء پردازی کی ہے۔ کوئی دقیقہ توہین کا باقی نہیں رکھا اور آخر میں عمائد شہر کو ترغیب دی کہ علماء طرفین میں مناظرہ کرا دیں کہ حق جس طرف ہو ظاہر ہو جائے۔ ہر ذی عقل جانتا ہے کہ بچہ بند صاحب جیسے بے علم فاضل کیا کلام وخطاب کے قابل۔ بلکہ فوج کی گاڑی آندھی کی پچھاڑی مشہور ہے۔ جس فوج کی یہ گاڑی یہ ہراول اس کی پچھاڑی معلوم از اول۔ مگر اپنے دینی بھائیوں سے دفع فتنہ لازم ۔ لہٰذا دونوں باتوں کے جواب کو یہ ہدایت نوری دو عدد پر منقسم آئندہ حسب حاجت اس کے شمار کا اللہ عالم (پہلے عدد میں ) ان گالیوں کا جواب سنیں جو علمائے اہل سنت کو دی گئیں۔ پیارے بھائیو ! عزیز مسلمانو !! کیا یہ خیال کرتے ہو کہ ہم گالیوں کا جواب گالیاں دیں۔ حاشا للہ ہر گز نہیں ۔ بلکہ ان دل کے مریضوں اور ان کے ساختہ مسیح مرزا قادیانی کو گالی کے جواب میں یہ دکھائیں گے۔ ان کی آنکھیں صرف اتنا دکھا کر کھولیں گے کہ شستہ دہنو تمہاری گندی گالی تو آج کی نئی نرالی نہیں ۔ قادیانی بہادر ہمیشہ سے علماء وائمہ کو سڑی گالیاں دینے کا دھنی ہے۔ استغفر اللہ علماء وائمہ کی کیا گنتی۔ وہ کون سی شدید خبیث ناپاک گالی ہے ۔ جو اس نے اللہ کے محبوبوں ، اللہ کے رسولوں بلکہ خود اللہ واحد قہار کی شان میں اٹھا رکھی ہے۔ یہ اطلاع ضروری کی پہلی بات کا جواب ہوا۔ دوسرے عدد میں بعونہ تعالیٰ قادیانی مرزا کو دعوت مناظرہ ہے۔ اس میں شرائط مناظرہ مندرج ہیں اور نیز اس کا طریق مذکور ہے۔ جو نہایت متین ومہذب اور احتمال فتنہ سے یکسر دور ہے۔ اس میں قادیانی کی طرح فریق مقابل پر

٤

شرائط میں کوئی سختی نہ رکھی گئی ۔ بلکہ قادیانی کی باگ ڈ میں بحولہ تعالیٰ شرائط کے ساتھ مبادی بھی ہیں ۔ جو مکا کاشف اور مناظرہ حسنہ کے ہادی بھی ہیں ۔ ایک مد دن اس پر اترتے رہتے ہیں ۔ جمع کر رکھے اور اپنی حال لئے ملالے۔

ہاں ! ہاں ! قادیانی کو تیار ہو رہنا چاہئے ۔ مدد مسلمانوں کے لئے نازل فرمائے گا اور جھوٹی سچی

گا ۔ وماذلك على الله بعزيز ، لقد عزنصرمـ
الغلبون ، ولن يجعل الله للكفرين على
المسلمین !

یہ دوسرا عدد بحولہ تعالیٰ اس کے متصل ہی ہے۔ وماتوفيقى الا بالله عليه توكلت والـ کے رسولوں حتیٰ کہ خود اللہ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار مسلمانو ! اللہ تمہارا مالک ومولیٰ تمہیں کفر سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تحفہ مشق رسول اللہ دکھا ہے اور واقعی اسے اس کی ضرورت بھی تھی۔ وہ مثیل عیسیٰ اوتار بنا ہے۔ عیسیٰ کی تمام صفات اپنے میں بتاتا ہے حمیدہ سے اپنے آپ کو خالی اور اپنے تمام نتائج ذمیمہ لہٰذا ضرور ہوا کہ ان کے معجزات ان کے کمالات سے حالتوں کی ان پر بوچھاڑ کرے۔ جب تو اوتار بننا ثا کروں تو دفتر ہو ۔ لہٰذا اس کی خروار سے مشت نمونہ پیش

فصل اوّل ...... رسول ا

اور ان کی ماں علیہا الصلوٰۃ والسلا

(اعجاز احمدی ص١٣، خزائن ج١٩ ص ١٢٠) پر صا

قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کو

٥
صفحہ ١٨١

شرائط میں کوئی سختی نہ رکھی گئی۔ بلکہ قادیانی کی باگ ڈھیلی کی اور اس کی تنگی کھول دی گئی ہے۔ اس میں بحولہ تعالیٰ شرائط کے ساتھ مبادی بھی ہیں۔ جو کمال تہذیب و متانت سے ضلالت ضال کے کاشف اور مناظرہ حسنہ کے ہادی بھی ہیں۔ ایک مدعی وحی کو لازم کہ اپنے وحی کنندوں کو جو رات دن اس پر اترتے رہتے ہیں۔ جمع کر رکھے اور اپنی حال کی اور پچھلی قوت سب حق کا وار سہانے کے لئے ملا لے۔

ہاں! ہاں! قادیانی کو تیار ہو رہنا چاہئے۔ اس سخت وقت کے لئے جب واحد قہار اپنی مدد مسلمانوں کے لئے نازل فرمائے گا اور جھوٹی مسیحی، جھوٹی وحی کا سب جال پیچ بعونہ کھل جائے گا۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز، لقد عز نصر من قال وقوله الحق ، ان جندنا لهم الغلبون، ولن يجعل الله للكفرين على المؤمنين سبيلا، والحمدلله رب العلمين!

یہ دوسرا عدد بحولہ تعالیٰ اس کے متصل ہی آتا ہے۔ اب بعونہ پہلے عدد کا آغاز ہوتا ہے۔ وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب! (عدد اوّل) اللہ کے محبوبوں! اللہ کے رسولوں حتیٰ کہ خود اللہ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار گالیاں۔

مسلمانو! اللہ تمہارا مالک و مولیٰ تمہیں کفر و کافرین کے شر سے بچائے۔ قادیانی نے سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تختہ مشق رسول اللہ وکلمۃ اللہ وروح اللہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بنایا ہے اور واقعی اسے اس کی ضرورت بھی تھی۔ وہ مثیل عیسیٰ بلکہ نزول عیسیٰ یا دوسرے لفظوں میں عیسیٰ کا اوتار بنا ہے۔ عیسیٰ کی تمام صفات اپنے میں بتاتا ہے اور حقیقت دیکھو تو مسیح صادق کی جمیع صفات حمیدہ سے اپنے آپ کو خالی اور اپنے تمام شنائع و ذمیمہ سے اس پاک مبارک رسول کو منزہ پاتا ہے۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ ان کے معجزات ان کے کمالات سے یک لخت انکار اور اپنی تمام شنیع خصلتوں ذمیم حالتوں کی ان پر بوچھاڑ کرے۔ جب تو اوتار بننا ٹھیک اترے۔ میں یہاں اس کی گالیاں جمع کروں تو دفتر ہو۔ لہٰذا اس کی خروار سے مشت نمونہ پیش خدمت ہے۔

فصل اوّل ...... رسول اللہ عیسیٰ بن مریم

اور ان کی ماں علیہما الصلوٰۃ والسلام پر قادیانی کی گالیاں

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠) پر صاف لکھ دیا کہ یہود عیسیٰ کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ

٥

صفحہ ٦

مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ رسول اکرم اور غیر مشابہ حرکت چھوڑ دی جائے۔ میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا ”گانے کی محبت دل میں اس کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے۔ (سنن بیہقی) حضرت عمر ابن مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں بھی زمین میں پتھروں کی بارش کے جیسے مرد مسخ ہو کر صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ہوگا ؟ فرمایا ” جب گانے کا سبب ہے۔

..... ” خیر کے نام سے ..... :” کیا کوئی “ علیہ وسلم یا ”حق“ لکثرت ضروری نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھ پورا درود لکھے کہ بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے لئے پورا درود یعنی صلی اللہ اور اگر لفظ ” محمد “ کی لکھنے کی فض

ابطال نبوت پر مبنی دلائل قائم ہیں ۔“ یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے۔ جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں۔ (٢) کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے ۔“ (اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣) (٣) ”ان کی اکثر پیش گوئیاں غلطی سے پر ہیں۔“ (اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣) یہ بھی صراحۃً نبوت عیسیٰ علیہ السلام سے انکار ہے۔ کیونکہ قادیانی خود اپنی ساختہ (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر کہتا ہے ۔ ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“ نیز پیش گوئی لکھ کر بمقام آخر (آئینہ کمالات ص ٣، خزائن ج ٥ ص ٦٥١) پر کہتا ہے کہ : ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١) پر کہا گیا کہ : ”اس کے سوا اور کسی چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔“ اور (کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦) میں اپنی نسبت یوں لکھتا ہے : ”اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیش گوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسے نہیں ملے گی۔ جس کی نسبت وہ کہتا ہو کہ خالی گئی۔“ تو مطلب یہ ہوا کہ اس کے لئے تو بھاری عزت ہے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے وہ خواری و ذلت ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں ۔ : ”الا لعنۃ اللہ علی الظلمین۔“

ہیں۔ کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم ! مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا۔ ”رسول اللہ اور وہ بھی ان پانچ مرسلین اولوالعزم سے کہ تمام رسولوں سے افضل ہیں۔ یعنی ابراہیم و نوح و موسیٰ وعیسیٰ و محمد ﷺ۔ اس کی صرف اتنی قدر ہے کہ ایک راست باز آدمی تھا۔ جو ان کی خاک پا کے ادنیٰ غلاموں کا بھی پورا وصف نہیں۔ تو بات کیا ۔ وہی کہ عیسیٰ کی نبوت باطل ہے۔ فقط ایک نیک شخص تھا۔ وہ بھی نہ ایسا کہ کسی دوسرے کو نجات ملنے کا واقعی سبب ہو سکے۔ بلکہ حقیقی نجات دہندہ نبی ﷺ تھے اور اب قادیانی ہے کہ اس کے متصل کہتا ہے کہ ”حقیقی منجی“ وہ ہے۔ جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی آیا۔ مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد قادیان ۔“

اور اپنے بہت سے اہل زمانہ سے اچھا ہونا یقینی تھا کہ بیشک اور البتہ کے ساتھ کہا۔ نوٹ میں چل کر وہ یقین بھی زائل ہو گیا۔ ( دافع البلاء ص ٣ ٹائٹل پیج، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩) میں کہا کہ: ” یہ ہمارا بیان محض یک ظنی کے طور پر ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ عیسیٰ کے وقت میں بعض راست باز اپنی راست بازی میں عیسیٰ سے بھی اعلیٰ ہوں۔“ اے سبحان اللہ !

ایمان ..... یقین حسن ..... ظن

ج ١٨ ص ٢١٩) پر کہا: ”عیسیٰ کو کوئی کامل شریعت نہ

ایضاً ( دافع البلاء ص ٤، ٹائٹل پیج، خزائن ج ١٨ ص زمانے کے راست بازوں سے بڑھ کر شا ہے۔ کیونکہ وہ (یعنی مسیحی) شراب نہ پیتا تھا او سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپ بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی ت رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے ا

لکھا: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت ہے۔ (یعنی عیسیٰ بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک عطر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں آدمی ہو سکتا ہے۔“ اس رسالہ میں تو (ضمیمہ انج کی آڑ لے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے اللہ عزوجل کے سچے مسیح عیس

بخیل ١٧...... جھوٹا ١٨...... چور ١٩..... والا ٢١...... گندی گالیاں دینے پیرو شیطان ٢٥...... علمی قوت میں بہت ک

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧،

صفحہ ١٨٣
ایمان یقین شعار باید
حسن ظن تو بکار آید

ج ١٨ ص ٢١٩) پر کہا ”عیسیٰ کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے۔“

ایضاً (دافع البلاء ص ٤، ٹائٹل پیج، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانے کے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ (یعنی یحییٰ) شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

لکھا: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ (یعنی عیسیٰ بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے) ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ اس رسالہ میں تو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ تا ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٢) تک مناظرہ کی آڑ لے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔

اللہ عزوجل کے سچے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو ٩...... نادان اسرائیلی۔ ١٠...... شریر۔ ١١...... مکار۔ ١٢...... بدعقل۔ ١٣...... زنانے خیال والا۔ ١٤...... فحش گو۔ ١٥...... بدزبان۔ ١٦...... بخیل۔ ١٧...... جھوٹا۔ ١٨...... چور۔ ١٩...... عملی قوت میں بہت کچا۔ ٢٠...... خلل دماغ والا۔ ٢١...... گندی گالیاں دینے والا۔ ٢٢...... بدقسمت۔ ٢٣...... نرا...... فریبی۔ ٢٤...... پیرو شیطان۔ ٢٥...... علمی قوت میں بہت کچا وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجال نے دیے۔

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) (٢٧) ”اس زمانے میں بڑے بڑے

٧

صفحہ ١٨٥

نشان ظاہر ہوتے تھے۔ آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی ہو تو آپ کو نہیں اس تالاب کا ہے۔ آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔“ ”آپ کا خاندان بھی نہایت ناپاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔“ (ایضاً) انا لله وانا اليه راجعون ! خدائے قہار کا حلم کہ رسول اللہ کو با حیلہ و بے حیلہ یہ ناپاک گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ ان شدید ملعون گالیوں کے آگے ان لچھیدار شرافتوں کا کیا ذکر جو پنجہ بند صاحب نے علمائے اہل سنت کو دیں اور ان کے پیر نے تو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو معاف نہ کیا۔ لعنة الله على الظالمین! (٢٩) وہ پاک مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اللہ جسے اللہ نے بغیر باپ کے پیدا کیا نشانی سارے جہاں کے لئے۔ قادیانی نے اس کے لئے دادیاں بھی گنادیں اور ایک جگہ لکھا کہ: ”اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی ہیں۔“ ظاہر ہے کہ مادر زادی حقیقی نہیں۔ سگے بھائی اس کے ہو سکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو۔ ...... قرآن عظیم کی تکذیب اور طاہرہ مریم کو سخت گالی ہے۔ (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ص ١٨، ١٩) پر لکھا: ”مسیح تو مسیح میں اس کے چار بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی دونوں ہمشیروں کو بھی مقدم سمجھتا ہوں۔“ اور خود ہی اس کے فٹ نوٹ میں لکھا۔ ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف نجار کی اولاد تھے۔“ دیکھو کیسے کھلے الفاظ میں یوسف بڑھئی کو سیدنا عیسیٰ کلمۃ اللہ کا باپ بتا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایک پادری کے لکھ جانے پر اکتفا کیا۔ ہاں ہاں! یقین جانو آسمانی قہر سے کاٹا جائے گا۔ واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا۔ جو ایک پادری کی بات سے قرآن کو رد کرتا ہے۔

دوبارہ دنیا میں نہیں بھیج سکتا۔ جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“ یہ ان گالیوں کے لحاظ سے عیسیٰ علیہ السلام کو تو ایک ہلکی سی گالی ہے کہ اس کے فتنہ نے دنیا کر دی۔ مگر اس میں دو شدید گالیاں اور ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ فصل سوم میں مذکور ہوئی۔

مرسلین اولوالعزم کا کامل ہادی ہونا بالائے طاق پورے مہدی بھی نہ ہوئے اور کامل کون ہیں۔ جناب قادیانی۔

٨

يوقدر الله رجوع عيسى الذى هو من اليهود لرجع العزة الى ہے نہ کہ نسب کا۔ کیا مرزا ...... پارسیوں کی اولاد ہے؟

لکھ دے کہ عیسیٰ کافر تھا۔ بلکہ اس کے مقدمات متفرق عیسیٰ کی سخت رسوائیاں ہوئیں اور (کشتی نوح ص١٨، خز صاف کرتے ہیں۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے ہیں۔ دیکھو کیسا صاف بتا دیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے على الكفرین ! قصد تھا کہ فصل اوّل ختم کردی جا۔ کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابل تماشہ ہیں۔

کئے۔ تو صاف جواب دیتا ہے (ازالہ اوہام ص ٤، خزائن ج احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے۔ دیکھو وہ ظاہر کے ساتھ بیان فرمایا اور آیت اللہ ٹھہرایا۔ ”قادیانی م کچھ چیز نہیں۔ پھر اس کے متصل کہتا ہے۔ ”ماسوائے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ جو محض افتراء یا غلط فہمی بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں۔ میں ن شبہات ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رو ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦) دیکھو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا کہہ کر ان تالاب کے قصے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر ۔ ”زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی کے معجزہ دکھا نہیں سکتا۔ پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزا غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کے سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے بھی نہیں کہہ سکتے۔ قطعا کافر مرتد زندیق بے دین چڑھے۔ الا لعنة الله على الکفرین ! اور اس کی ٩

صفحہ ١٨٥

ں اس تالاب کا ہے۔ آپ کے

ادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اناللہ وانا الیہ راجعون ! ں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں کیا ذکر جو پنچہ بند صاحب نے ت نہ کیا۔ لعنة الله علی نے بغیر باپ کے پیدا کیا نشانی دیں اور ایک جگہ لکھا کہ: ”اس ا۔ سگے بھائی اس کے ہو سکتے یم کو سخت گالی ہے۔ (کشتی نوح بیٹوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ رت میں لکھا۔ ”یسوع مسیح کے نہیں تھیں۔ یعنی یوسف نجار کی اللہ کا باپ بنا دیا اور اس صریح جا لو آسمانی قہر سے کاٹا جائے آن کو رد کرتا ہے۔ ”خدا ایسے شخص کو کسی طرح رویا ہے۔“ یہ ان گالیوں کے یا کر دی۔ مگر اس میں دوشدید

مہدی نہ موسیٰ تھا۔ نہ عیسیٰ ان نہ ہوئے اور کامل کون ہیں۔

دیا کہ: ”عیسیٰ یہودی تھا۔

مسائل

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے فعل حرام اور غیر شرعی حرکت چھوڑنی چاہئے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ امت میں خسف ، زمین میں میں پتھروں کی بارش کے صحابہ نے پوچھا آپ علیہ الصلوٰۃ عورتوں اور تراش لی

پہنچنے کی وعید جو ہوشیار بنا دور رہنا چاہ میں اس کی ممانعت آ سلام کا بھیجنا اجنبی غیر مردوں سے کے دل میں طمع و لالچ پیدا جانے کا سبب ہے۔ ’شجرے‘ کے نام سے س: .... کیا ”محمد“ نام علیہ وسلم کی ”ذات“ میں نام مسلمان اپنے لئے بھی ضروری پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ ج:....... حضور اکرم صلی اللہ علیہ ساتھ خاص ہے پورا درود صلی اللہ صرف ”ص“ کا اشارہ اور کا مخفف لکھنا بھی تشریف لانے کی خ میں لکھی جا شرم و حیاء جو

یقیناً ان رجوع عیسیٰ الذی ہو من الیہود لمرجع العزة الی تلک القوم۔ ظاہر ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے نہ کہ نسب کا۔ کیا مرزا ...... پارسیوں کی اولاد ہے۔ مجوسی ہے۔

٣٣....... حد یہ کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کر دی۔ مرزا اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے کہ عیسیٰ کافر تھا۔ بلکہ اس کے مقدمات متفرق کر کے لکھے۔ یہ تو دشنام سوم میں سن چکے کہ عیسیٰ کی سخت رسوائیاں ہوئیں اور (کشتی نوح ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠) پر کہتا ہے: ”جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے۔“ کون خدا پر ایمان لایا۔ صرف وہی جو ایسے ہیں۔ دیکھو کیسا صاف بتا دیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے۔ لیکن عیسیٰ کو رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ الا لعنة الله علی الکفرین ! قصد تھا کہ فصل اوّل ختم کر دی جائے کہ اتنے میں قادیانی کی ازالہ اوہام ملی۔ اس کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابل تماشہ ہیں۔

٣٤....... یہ جو مثیل مسیح بنا اور اس پر لوگوں نے مسیح کے معجزے مثلاً مردے کو جلانا۔ اس سے طلب کئے۔ تو صاف جواب دیتا ہے (ازالہ اوہام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٣) : ”احیائے آسمانی کوئی چیز نہیں۔ احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے۔ دیکھو وہ ظاہر باہر جسے قرآن عظیم نے جا بجا کمال تعظیم کے ساتھ بیان فرمایا اور آیت اللہ ٹھہرایا۔“ قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تحقیر کرتا ہے کہ وہ کچھ چیز نہیں۔ پھر اس کے متصل کہتا ہے۔ ”ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی نے الگ کر کے دیکھا جائے۔ جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گھڑے ہیں۔ تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پر ایسے شبہات ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦، ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦) دیکھو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا کہہ کر ان کے تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کیا اور تالاب کے قصے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر میں لکھا (ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦) ”زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی کے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا۔ پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔“

غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کھلے طور پر تمام معجزات و تصریحات قرآن عظیم سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے کا دعویٰ۔ مسلمان تو مکذب قرآن کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے۔ قطعاً کافر مرتد زندیق بے دین ہے۔ نہ کہ نبی و رسول بن کر اور کفر پر کفر چڑھے۔ الا لعنة الله علی الکفرین ! اور اس کذاب کا کہنا کہ مسیح علیہ السلام خود اپنے معجزے

٩

صفحہ ١٨٦

سے منکر تھے۔ رسول اللہ پر محض افتراء اور قرآن عظیم کی صاف تکذیب ہے۔ قرآن عظیم تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے: ”انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق من الطین کهیئۃ الطیر فانفخ فیه فیکون طیرا باذن الله وابری الاکمه والا برص واحی الموتی باذن الله وانبئکم بماتاکلون وماتدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین“ (آل عمران: ٤٩) (بے شک میں تمہارے پاس رب سے یہ نشان لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی صورت بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ وہ خدا کے حکم سے پرند ہو جاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں خبر دیتا ہوں۔ جو تم کھاتے اور جو گھروں میں بچا رکھتے ہو۔ بیشک اس میں تمہارے لئے نشان ہے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو۔) پھر مکرر فرمایا: ”وجئتکم بآیۃ من ربکم فاتقواالله واطیعون“ (میں تمہارے پاس رب کی طرف سے یہ نشان لے کر آیا تم اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو ، اور یہ قرآن کا جھٹلانے والا کہتا ہے۔ انہیں اپنے معجزات سے انکار تھا۔ کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانی؟ ضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذاب جھوٹا۔ کیوں مسلمانو! جو قرآن کی تکذیب کرے۔ وہ مسلمان ہے یا کافر؟ ضرور کافر ہے۔ ضرور کافر بخدا۔

اللہ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اللہ و کلام اللہ سے مسخرگیاں کیں۔ جن کی حد و نہایت نہیں۔ صاف لکھ دیا کہ: ”جیسے عجائب انہوں نے دکھائے۔ عام لوگ کر لیتے تھے۔ اب بھی لوگ ویسی باتیں کر دکھاتے ہیں۔“

تھا۔ اس سے یہ کلیں بنانی آگئی تھیں۔“

١٠

(ازالہ اوہام ص ٣٠١، ٣٢٢ حاشیہ، خزائن

ہیں۔ ایک محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں صرح من قواریر بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طر(ح) ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو سانپ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ مسیح کے وقت تعالیٰ نے مسیح کو عقلی طور پر سے ایسی طریق پر دبانے یا پھونک مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو۔۔ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کرنے رہا ہے۔ جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو۔ ایس(ا) اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ جو ہم نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے بہت اڑتی ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے ہیں اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزی طریقے سے مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں۔ سو یہ پرندہ بنا کر پرواز کرتا دکھادے تو کچھ بعید نہیں انتہاء ہے۔ سلب امراض عمل الترب (مسمریزم

١؎ اس کا باپ دیکھئے۔ یوسف نجار شوہر مریم ٢؎ اس کا کام وہی جو بدمعاش دے سکتا ہے ٣؎ یہاں تو مسیح کا معجزہ کل کے ذ(ریعہ) ٤؎ یہاں تک مسیح علیہ الصلوۃ و(السلام) معجزات کا بھی انکار کر دیا۔

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یہ فعل حرام اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہیے اور میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح پیدا ہوتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے“ (ابو داؤد، ابن ماجہ: ١٠٩) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں خسف بھی ہو گا، مسخ بھی ہو گا اور پتھروں کی بارش کے ساتھ عذاب بھی۔ ایک صحابی مرد نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کب ہو گا؟ فرمایا جب گانے بجانے والی عورتوں اور آلات موسیقی کا عام رواج ہو جائے گا۔ ترمذی: ٢٢١٢

بچہ کا نام کیسے رکھیں؟ س:...... کیا ”محمد“ نام عام مسلمانوں کا رکھنا درست ہے، بچے کے لئے بھی رکھ سکتے ہیں اور درود لکھتے بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟ ج:...... حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھا کرو اور صرف ”ص“ کا اشارہ نہ کرو پورے حرف لکھیں ورنہ ثواب کسے ملے گا

صفحہ ١٨٧

(ازالہ اوہام ص ٣٠١، ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣، ٤٦٤)

”انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہیں ۔ ایک محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر و عقل کو کچھ دخل نہیں ۔ جیسے شق القمر ۔ دوسرے عقلی جو خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں ۔ جو الہام سے ملتی ہے۔ جیسے سلیمان کا معجزہ ۔ صرح ممرد من قواریر بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے۔ جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ مسیح کے وقت میں عام طور پر ملکوں میں تھے سو کچھ تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو عقلی طور پر سے ایسی طریق پر اطلاع دے دی ہو ۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا پھونک مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو ۔ جیسے پرندہ یا پاپڑوں سے ملتا ہو ۔ کیونکہ مسیح اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے۔ جس میں کلون کے ایجاد میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔ پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو ۔ ایسا معجزہ عقل سے بعید نہیں۔ حال کے زمانہ میں بھی اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ جو بولتی بھی ہیں۔ ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں ۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے ہیں ۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزی طریقے سے جو لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۔ کیونکہ مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں ۔ سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرندہ بنا کر پرواز کرتا دکھا دے تو کچھ بعید نہیں۔ کیونکہ کچھ اندازہ نہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تک انتہاء ہے۔ سلب امراض عمل الترب (مسمریزم) کی شاخ ہے۔

معجزات کا بھی انکار کر دیا۔

١١

صفحہ ١٨٨

ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ جو اس عمل سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں۔ بعض نقشبندی وغیرہ نے بھی ان کی طرف بہت توجہ کی تھی۔ محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی۔ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے ہیں اور یقینی طور پر ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا۔ تو ان عجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ اس عمل کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے۔ وہ روحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامت کے دلوں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔ جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات ، جھوٹی جھلک نمودار ہو جاتی تھی۔ تو ہم اس کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پھونک میں وہی کیفیت ہو جائے۔ جو اس دخان میں ہوتی ہے۔ جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا۔ وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے۔ بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ وہ ایک فطری طاقت تھی۔ جو ہر فرد بشر میں ہے۔ مسیح کی کچھ خصوصیات نہیں۔ چنانچہ اس کا تجربہ اسی زمانے میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے۔ جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج ، مبروص ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعض بعد کے زمانوں میں جولوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے۔ اس وقت تو کوئی تالاب نہ تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر تھی۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“

مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اللہ عزوجل کے سچے نبیوں کو کیسی غلیظ گالیاں دی ہیں۔ اس شیطان نے وہ گالیاں حق میں اٹھا رکھی ہیں کہ الامان۔ ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لھوولعب اور شعبدہ ٹھہرایا۔ بلکہ ابرائے اَکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ ہونا میں تین احتمال پیدا کئے۔ یا مٹی کی کل پر یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر اور اسے صاف گوسالا کا بچھڑا بتا دیا۔ بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے تو اسب جبرائیل کی خاک سم اٹھائی۔ وہ اس

١٢

نظر آئی۔ دوسرے نے اس پر خاک ڈال وافقبضت قبضة من اثر الرسول بولا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہیں آیا۔ تو کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا۔ تف کہ تب ایک دست مال تھا۔ جس سے دنیا جو کی کرامات شہرہ آفاق تھی۔ تو اللہ کا رسول یقی وقت میں بھی ایسے شعبدہ تماشے بہت ہو معجزات کے انکار ، قرآن کی تکذیب اور پھر بڑے دعوے کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں ۔ انبیاء وعدو الرحمن کا امام وقت و مسیح ومہدی مان

گر مسیح اینس

اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے میں جناب مرزا کو کافر نہیں کہتا۔ خطا پر جانتا انبیاء اللہ کی تعظیم کرے۔ کلام اللہ کی تصدیق د العظيم . كذلك يطبع الله على كل بحمدہ تعالیٰ ان جھوٹے عذروں کا بھی رد ہو گیا کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلا

حقیقت الوحی ، مواہب الرحمٰن میں ایسی الخبث

گالیاں دی جائیں۔

خلاف ہو نہیں آسکتا۔ قرآن مجید میں تو حکم ہ فلیسبوا الله بغير علم ”کافروں کے بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اللہ عزوجل

صفحہ ١٨٩

نظر آئی۔ دوسرے نے اس پر خاک قال الله تعالى: ”قال بصرت بما لم يبصر وافقبضت قبضة من اثر الرسول فنبذتها وكذالك سولت لی نفسی“ سامری بولا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہیں آیا۔ تو میں نے اس پر رسول کی خاک قدم سے ایک مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا۔ نفس امارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔ اگر مسیح کا کرتب ایک دست مال تھا۔ جس سے دنیا جہان کو خبر تھی۔ مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھی۔ تو اللہ کا رسول یقیناً اس کافر جادو گر سے بہت کم رہا اور مزید یہ کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبدہ تماشے بہت ہوتے تھے۔ پھر معجزہ کیا ہوا۔ اللہ اور رسولوں کو گالیاں ، معجزات کے انکار ، قرآن کی تکذیب اور پھر اسلام باقی ہے؟ اس پر تعجب نہیں کہ ہر مرتد جو اتنے بڑے دعوٰی کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں سے چارہ نہیں ہے۔ پھر اتنے بڑے مکذب قرآن و دشمن انبیاء و عدو الرحمن کو امام وقت و مسیح و مہدی مان رہی ہے۔

گر مسیح اینست لعنت بر مسیح

اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے۔ جو شد مد پڑھ کر ، اس کی صریح کفروں کو دیکھ کر کہے میں جناب مرزا کو کافر نہیں کہتا۔ خطا پر جانتا ہوں۔ ہاں شاید ایسوں کے نزدیک کافر وہ ہوگا۔ جو انبیاء اللہ کی تعظیم کرے۔ کلام اللہ کی تصدیق و تکریم کرے۔ لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم . کذالك يطبع الله على كل قلب متكبر ! مرزا کا عقیدہ ازالہ کی عبارتوں سے بحمدہ تعالٰی ان جھوٹے عذروں کا بھی رد ہو گیا جو ضمیمہ انجام آتھم کی نسبت مرزائی پیش کرتے ہیں کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں۔

حقیقت الوحی ، مواہب الرحمن میں ایسی اہانت کی وہ کس عیسائی کے مقابلہ میں کی۔

گالیاں دی جائیں۔

خلاف ہو نہیں آ سکتا۔ قرآن مجید میں تو حکم ہے: ”لا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله بغير علم “ ﴿کافروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو کہ وہ اس کے جواب میں بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اللہ عزوجل کی جناب میں گستاخی کریں گے ۔﴾ مرزا اپنی وہ وحی

١٣

صفحہ ١٩٠

بتائے جس نے قرآن کے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔

رابعاً! مرزا کو ادّعا ہے وہ مصطفیٰ ﷺ کے قدم بقدم چل رہا ہے۔ (التبلیغ ص ٤٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتا ہے: ”من آیات صدقی انه تعالى وفقنى باتباع رسوله واقتداء نبيه ﷺ فما رأيت اثر من آثار النبي الا قفُوته“۔ بتائے تو کہ مصطفیٰ ﷺ نے کس دن عیسائیوں کے مقابلہ معاذ اللہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ کو گالیاں دی ہیں۔

خامساً! مرزا کی اولاد نے مرزائیوں کی اکبر کفر کا کامل ازالہ کر دیا۔ ازالہ کی یہ عبارتیں تو کسی عیسائی کے مقابل نہیں۔ ان میں وہ کون سی گالی ہے۔ جو ضمیمہ انجام آتھم سے کم ہو۔ حتیٰ کہ چور اور ولد الزنا کا بھی اثبات ہے۔ وہاں چوری کسی مال کی نہ بتائی تھی۔ بلکہ علم کی۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ حاشیہ، ص ٢٩٠)

”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو یہودیوں کی کتاب طالمود سے پڑھ کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ ازالہ میں اس سے بدتر چوری معجزہ کی چوری مانی کہ تالاب کی مٹی لا کر بے پرکی اڑاتے اور اپنا معجزہ ٹھہراتے رہے۔ ولادت زنا وہ اس نے اس بائبل محرف کے بھروسے پر لکھی۔ برائے نام کہہ سکتا تھا کہ عیسائیوں پر الزامات پیش کی۔ اگرچہ مرزا کی عملی کارروائی صریحاً اس کی مکذب تھی کہ وہ اپنے رسائل میں بکثرت مسلمانوں کے مقابل اسی بائبل محرف کو نزول الیاس وغیرہ کے مسئلہ میں پیش کرتا ہے۔ مگر ازالہ میں تو صاف تصریح کر دی کہ قرآن عظیم اسی بائبل محرف کی طرف رجوع کرنے اور اس سے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٦، ٦١٧، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

آیت ہے: ”فاسئلو اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون“ ”یعنی تمہیں علم نہ ہو تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو۔ ان کی کتابوں پر نظر ڈالو۔ اصل حقیقت منکشف ہو گی ہم نے موافق حکم اس آیت کے یہود و نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا۔ تو معلوم ہوا کہ مسیح کے فیصلے کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے۔ دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملاکی نبی اور انجیل تو ثابت ہوا کہ یہ توریت وانجیل بلکہ تمام بائبل موجودہ اس کے نزدیک سب بحکم قرآن معتمد ہے۔ تو جو کچھ اس سے لکھا ہرگز الزاما نہ تھا۔ بلکہ اس کے طور پر قرآن سے ثابت اور خود اس کا عقیدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ دجالوں کا پردہ یوں ہی کھولتا ہے۔ والحمدلله رب العلمين!

☆ ............. ☆ ............. ☆

١٤

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”من تشبه بقوم میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے“ (سنن ابی داود: ٤٩٢٧) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے، شکلیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے عذابات آئیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ یہ کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گانے والیوں اور باجوں کا ظہور ہوگا اور شرابیں پی جائیں گی“ (سنن ترمذی: ٢٢١٢)

نام مسلمان، حلیہ ”میسی“، ”مائیکل“ پر درود بھیجنے کے بجائے صرف ”ص“ لکھنے سے بھی دریغ کرتے ہیں؟

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے فضائل اور اس کا اجر و ثواب اور نہ بھیجنے پر وعیدیں احادیث میں اس لیے بعض محققین کے نزدی

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

قادیانی

کذاب

حضرت مولانا مفتی رفاقت

PDF 192

خاتم النبیین لا نبی بعدی

شفاعت نصیب ہو جس کا یہ عقیدہ ہو

قادیانی

کذاب

حضرت مولانا مفتی رفاقت حسین بریلوی

PDF 193

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! الله تبارک تعالیٰ جو تمام کائنات کا خالق ہے۔ اس نے انسان سے دنیا کو آباد کیا اور ان کی ہدایت کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ قائم فرمایا۔ جن میں سے سب سے اول حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخر احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ چونکہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والے نہیں۔ آپ نے انسان کی ہر ضرورت اور نجات کے تمام شعبوں کو نہایت واضح طور پر ظاہر فرما دیا اور ارشاد ربانی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی سے مؤکد کر کے سنا دیا کہ وحی ربانی تمام حاجات انسانی کی متکفل ہو چکی۔ کوئی مسئلہ ایسا نہیں۔ جس پر نجات کا مدار ہو اور اس کا روشن بیان وحی ربانی میں نہ ہو۔ دین مکمل ہو چکا۔ جو کمی اور کسر ادیان سابقہ میں تھی۔ خاتم النبیین سے پوری ہو گئی اور خاتم النبیین ﷺ کی ذات گرامی ہی مدار نجات ٹھہری۔ آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کو دین کا اصل اصول قرار دیا گیا۔

لہٰذا مسلمان کا فرض ہوا کہ حضور کے فرامین و احکام کو معلوم کر کے اپنا دستور العمل بنائے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایک حدیث کی روایت حضرت عمر فاروق سے کی ۔ فرماتے ہیں۔ ”ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ ایک شخص نہایت صاف شفاف کپڑے پہنے، کالے کالے بال، نہ تو مسافر کی شکل تھی۔ نہ ہم میں سے کوئی انہیں پہچانتا تھا۔ آئے اور حضور ﷺ کے قریب گھٹنا ٹیک کر ہاتھوں کو ران پر رکھ کر بیٹھ گئے اور پوچھا۔ یا رسول اللہ ﷺ ! بتائیے۔ اسلام کیا ہے؟ حضور نے فرمایا: ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، بشرط استطاعت حج کرنا۔“ سائل نے کہا سچ فرمایا آپ نے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس کے سوال اور تصدیق نے اور تعجب میں ڈال دیا۔ پھر سوال کیا اچھا بتائیے ، ایمان کیا ہے؟ حضور نے فرمایا: ”اللہ کو، ملائکہ کو، اللہ کی کتابوں کو، رسولوں کو اور قیامت کو ماننا اور تقدیر پر ایمان رکھنا۔“ سائل نے کہا سچ فرمایا آپ نے۔ پھر پوچھا بتائیے ، احسان کیا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو یہ یقین رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ پھر پوچھا بتائیے، قیامت کب آئے گی؟ فرمایا! جس سے سوال کیا جا رہا ہے۔ وہ اس مسئلہ کو سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔‘ (یعنی دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ وقت قیامت پردۂ راز میں

٢

ہے ) پھر پوچھا، تو اس کی علامات اور نشانیاں گا۔ دولت کی کثرت ہوگی۔ بے عزت بڑی بڑ ہیں، وہ تو پوچھ کر چلے گئے۔ مگر میری پریشانی و عمرؓ ! جانتے ہو یہ کون صاحب تھے؟ میں نے عرض نے فرمایا : ”یہ جبرائیل تھے۔ تمہیں تمہارا دین سکھا

ان ہی امام بخاری نے ایک اور حد الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو یہ م میں انہیں امن کے چند مہینوں میں حاضر ہو سکتے کیونکہ قبائل مشرکین بیچ میں حائل ہیں۔ لہٰذا ہم نجات کے لئے کافی ہو اور ایک سوال شراب کے الا الله محمد رسول الله“ پر ایمان لائیں کے روزے رکھیں اور جہاد کے مالِ غنیمت میں ان چار برتنوں کو استعمال میں نہ لاؤ۔ حنتم، دبا، نق نجات کا طالب ہوا اسے بتا دو۔“

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا ک اللہ“ کی گواہی دینا۔ قیامت، فرشتوں، کتب زکوٰۃ، حج، جہاد کے مجموعہ کا نام ہے۔ ان میں ب عملی چیزیں تھیں۔ وہ بھی عمل میں آگئیں۔ ایک جو چیزیں کرنے یا ماننے کی تھیں۔ ان کا وقوع اور اس کی شکل واضح ہو گئی۔

مگر جس کا وقوع نہیں ہوا اور اس پر مشتبہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح لوگ بیٹھے ہوئے مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی کری ہے؟ سبھوں نے عرض کیا قیامت کا چرچا تھا۔ تک اس سے پہلے یہ دس باتیں نہ ہولیں ۔

فاسق و فاجر کی تعریف

ایسے شخص کو کیا کہیں فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس جو مسلمان ہونے کے باوجود دن تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث کہ بعض احکام یا تمام احکام میں وہ فاسق ہی کہلائے گا بے شرع کے کاموں میں مبتلا ہو ایسی قوم کی کیا ضرورت گناہ کرلوں یا وہ گناہ کہ شریعت کا حکم یہ سے بچنے کا اہتمام جان بوجھ کر گناہ کہ اللہ تعالیٰ گے؟

شرم و حیاء ہوشیار رہنا چا چھینٹے کی ایک دور رہنا چاہئے سلام کرنا یا محبت میں اس کی ممانعت آ کہ دل میں طمع ولاچ پید جانے کا سبب ہے۔

”محمد“ کے نام کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری ہے؟

س: ... کیا ”محمد“ کے ساتھ ”ص“ لکھنا ضروری نام مسلمان اپنے لئے بھی رکھ پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ”ص“ کافی ہے؟

ج: ... حضور اکرم صلی اللہ علیہ مبارک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی اللہ لکھنا چاہئے، صرف ”ص“ کا اشارہ اور لگانا درست نہیں۔ اگر لفظ محمد کسی اور استعمال کریں تو اس پر درود شریف لکھنے کی ضر نہیں، کیونکہ اب یہ نام حضور صلی اللہ علیہ کے لئے بھی

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ فعل حرام اور غیر مناسب حرکت چھوڑنی چاہئے اور ناچنا میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اُگاتا ہے۔“ (درمنثور، ص: ١٠٩، ج: ٥) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے، صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہوں گے۔ اس پر ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول یہ کب ہوگا؟ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہوگا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔ (ترمذی، ص: ٤٣، ج: ٢) اسی طرح ناچنا بھی حرام ہے۔

صفحہ ١٩٣

ج..... حضور اکرم صلی اللہ مبارک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی لکھنا چاہئے ، صرف ”ص“ کا اشارہ اور لگانا درست نہیں ہے۔ اگر لفظ محمد کی اور استعمال کریں تو اس پر درود شریف لکھنے کی نہیں، جیسے کسی کا نام محمد ہو تو اس پر درود

”محمد“ کے نام کے سا س...... کیا ”محمد“ علیہ وسلم یا ”ص“ لکھنا ضرورو نام سلمان اپنے لئے بھی رکھ پورا درود لکھنے کے بجائے صرف ” کافی ہے؟

ہیں بلکہ شرم و حیا پھینکی گئی ہوشیار بننا چا دور رہنا چاہ سلام کرنا باعث میں اس کی ممانعت کہیں غیر مردوں مجلس میں طبع ولا لچ کے جانے کا سبب ہے۔

فاسق و فاجر کی تعریف

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے؟ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہئے اور یہ ناچنا میوزک سننا حرام ہے۔ اس کے بارے میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ” گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے۔“ (درمنثور:ص١٥٩، ج:٥) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے ، صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہوں گے۔ اس پر ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول! یہ کب ہوگا؟ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہوگا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔ (ترمذی: ص ٢ / ٤٤) اسی طرح ناچنا گانے والی عورت کے ساتھ ہو یا بغیر گانے کے، کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔ (کفایت المفتی : ج ٩، ص ٢١٥)

گناہوں میں مبتلا ہو وہ فاسق ہی کہلائے گا جب تک کہ اعلانیہ گناہ کا مرتکب نہ ہو یا گناہوں میں ملوث ہونے کے باوجود دین کی اصطلاح میں فاسق اس کو کہتے ہیں جو صغیرہ گناہ پر اصرار کرے یا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو یہ ہے کہ گناہ کا اہتمام کرے ۔ جیسے کہ آج کل عام ہے کہ لوگ گناہ کر کے پھر ڈھٹائی سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ یہ گناہ کی انتہا ہے۔

مسائل

الکریم ! ..... نے انسان سے دنیا کو آباد کیا اور ان میں سے سب سے اول حضرت آدم ۔۔ چونکہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ ضرورت اور نجات کے تمام شعبوں کو لت لکم دینکم واتممت علیکم انسانی کی متکفل ہو چکی۔ کوئی مسئلہ ایسا میں نہ ہو۔ دین مکمل ہو چکا۔ جو کمی خاتم النبیین ﷺ کی ذات گرامی ہی اصول قرار دیا گیا۔ کام کو معلوم کر کے اپنا دستور العمل روایت حضرت عمر فاروق سے کی۔ میں حاضر تھے۔ ایک شخص نہایت شکل تھی ۔ نہ ہم میں سے کوئی انہیں کو ران پر رکھ کر بیٹھ گئے اور پوچھا۔ الہ الا اللہ محمد رسول ے روزے رکھنا، بشرط استطاعت حج ہیں کہ اس کے سوال اور تصدیق نے ہے؟ حضور نے فرمایا: ”اللہ کو، ملائکہ ایمان رکھنا ۔“ سائل نے کہا سچ فرمایا نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس تو یہ یقین رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا سے سوال کیا جارہا ہے۔ وہ اس مسئلہ ہیں کہ وقت قیامت پردۂ راز میں

ہے) پھر پوچھا: تو اس کی علامات اور نشانیاں بتائیے؟ فرمایا: ”ماں باپ کا احترام اٹھ جائے گا۔ دولت کی کثرت ہوگی۔ بے عزت بڑی بڑی عزت کی جگہ لے لیں گے ۔“ حضرت عمر فرماتے ہیں، وہ تو پوچھ کر چلے گئے۔ مگر میری پریشانی نہ گئی۔ حضور نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ عمر ! جانتے ہو یہ کون صاحب تھے؟ میں نے عرض کیا، اللہ جانے اور اللہ کا رسول جانے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ” یہ جبرائیل تھے۔ تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔“

ان ہی امام بخاریؒ نے ایک اور حدیث لکھی کہ : ”قبیلہ عبدالقیس کا وفد جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو یہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم لوگ حضور کی خدمت میں انہیں امن کے چند مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ ہر ضرورت کے وقت حاضری ناممکن ہے۔ کیونکہ قبائل مشرکین بیچ میں حائل ہیں۔ لہذا ہم لوگوں کو ایسی حتمی اور ختمی بات بتا دیجئے ۔ جو ہماری نجات کے لئے کافی ہو اور ایک سوال شراب کے برتن کے متعلق کیا۔ حضور نے حکم دیا کہ: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان لائیں۔ نماز قائم کریں۔ زکوٰۃ ادا کریں۔ رمضان شریف کے روزے رکھیں اور جہاد کے مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ہمارے پاس بھیجو اور شراب کے ان چار برتنوں کو استعمال میں نہ لاؤ۔ حنتم، دبا، نقیر ، مزفت ، پھر فرمایا۔ اسے اچھی طرح یاد کر لو اور جو نجات کا طالب ہو اسے بتا دو۔“

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دین اسلام : ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کی گواہی دینا۔ قیامت، فرشتوں ، کتب الہی ، انبیاء علیہم السلام اور تقدیر کو ماننا، نماز ، روزہ، زکوٰۃ ، حج، جہاد کے مجموعہ کا نام ہے۔ ان میں سے ہر ایک اعتقاداً تو اسی وقت مان لئے گئے اور جو عملی چیزیں تھیں ۔ وہ بھی عمل میں آگئیں۔ ایک مسئلہ قیامت کا رہ گیا۔ جو بعد میں آنے والا تھا۔ جو چیزیں کرنے یا ماننے کی تھیں۔ ان کا وقوع حضور کے زمانہ میں ہو گیا تو سب کو اطمینان ہو گیا اور اس کی شکل واضح ہوگئی۔

مگر جس کا وقوع نہیں ہوا اور اس پر ایمان لانا ضروری تھا۔ تو وہ خوف کی چیز تھی کہ کہیں مشتبہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں، ”ہم لوگ بیٹھے ہوئے مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ فرمایا کیا گفتگو ہورہی ہے؟ انہوں نے عرض کیا قیامت کا چرچا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” قیامت یوں نہ آجائے گی، جب تک اس سے پہلے یہ دس باتیں نہ ہولیں۔ ١.... قدرتی دھواں نکلے گا۔ ٢..... دجال نکلے گا۔ ٣

صفحہ ١٩٥

١٩٤

٣....... دابۃ نکلے گا۔ ٤...... آفتاب پچھم سے نکلے گا۔ ٥....... عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے۔ ٦....... یاجوج ماجوج نکلے گا اور تین خسف ہوگا۔ ٧....... ایک مشرق میں ، ٨....... ایک مغرب میں، ٩....... ایک جزیرۃ عرب میں ، اور سب کے آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی۔ جولوگوں کو ہنکا کر اس کے حشر کی جگہ پہنچائے گی۔“

دوسری حدیث ابوداؤد شریف میں ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا ختم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت سے ایک شخص جو میرا ہم نام ہوگا۔ سارے عرب کا مالک نہ ہو جائے ۔“ پھر فرمایا: ”مہدی ہم سے ہوگا۔ تمام دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ سات برس تک اس کی حکومت ہوگی ۔“

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی تشریف لائیں گے۔ نیز دجال وغیرہ کے خروج کا بھی یہی زمانہ ہے۔

پھر کیا تھا۔ بہت سے بوالہوں ان بشارتوں کو سن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ کسی نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ دوسری صدی میں مہدی و مسیح کی صدا گونجنے لگی۔ عیسیٰ بن مہرویہ نے مہدویت کا دعویٰ کیا۔ عیسیٰ نام ہی تھا۔ اعلان کرنے کی دیر تھی۔ اعلان کرتے ہی لاکھوں آدمی ساتھ ہوگئے۔ آخر خلیفہ مکتفی باللہ نے قتل کرادیا۔ اسلامی حکومت تھی۔ اس لئے جہنم رسید ہوگیا۔ ورنہ نامعلوم کب تک سلسلہ قائم رہتا اور کتنے گمراہ ہوتے ۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ

پھر کئی محمد نامی نے عراق کی طرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ سب قتل کئے گئے یا تائب ہوئے۔ ہندوستان میں بھی کئی آدمی مہدی بن بیٹھے۔ مگر سب سے بڑا وہ ہے۔ جو پنجاب کے ایک قصبہ قادیان میں پیدا ہوا اور چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔ جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ عیسیٰ بن مریم ہوں ۔ آدم ہوں۔ نبی ہوں۔ رسول ہوں۔ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ میں معجزات دکھلاتا ہوں۔ دجال کا یاجوج کا ماجوج کا قاتل ہوں۔ سید الکونین ہوں ۔ مجدد ہوں۔ جہاد کو حرام کرتا ہوں۔ قوم نصاریٰ (انگریزوں) کا ہلاک کرنے والا ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل اور بڑھ کر ہوں۔ زمانہ رسول ﷺ و زمانہ صحابہ میں تحقیق فطرۃ اللہ مفقود تھی ۔ میرے ساتھی صحابہ کے درجے پر ہیں۔ یہ اس کے مذہب کا نمونہ ہوا۔ جتنے عقائد و خیالات میں نے اسکے لکھے ہیں۔ ضروری ہے کہ پہلے اس کی عبارتیں بتاؤں پھر اس کے دعوے کے ایک ایک جزو کو قرآن وحدیث کے ترازو پر تولہ جائے۔ اگر صحیح نکلے مقبول، ورنہ مردود۔

٤

١٩٥

پہلا دعویٰ ....... مسیح ابن مریم مہدی موعود

مسیح ابن مریم مہدی موعود کے متعلق قادیانی خزائن ج ٣ ص ٤٤٢): ”جعلناك المسيح ابن مریم (فتح اسلام ص ١٠، ١١، خزائن ج ٣ ص ٨) ”میں شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا اور سب باتوں مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا۔ تا سمجھے والوں پـ ج ٣ ص ٤٦٤) ”اس نے محض اپنے فضل سے بغیر دم پیدائش اور روحانی زندگی بخشی ۔“

”جیسا کہ اس نے خود اپنے الہام میں فرما القرون الاولى وجعلناك المسيح بن کے کہ جو پہلے قرنوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور تجھے ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩) ”اور جو شخص سمجھ سکتا ہـ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مـ ص ٤٧٥) پر لکھا۔ ہر ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ و ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کسی نے نہیں کیا اور اس ا رسالہ نور الدین خلیفہ اول قادیان ص ٢٨ وہ مہدی ہوا۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ..... مسیح موعود ہیں مصنفے قادیانی ص ٥٤١) ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ: ”مہدی ان کتابوں کے حوالہ جات سے یہ اچھی عیسیٰ بن مریم ، مسیح موعود اور آدم ہونے کا اور وحی کا پیدا ہوا۔

دوسرا دعویٰ ...... نبوت

اب نبوت ورسالت وحی و معجزہ کا دعویٰ چاہیئے۔ (فتح اسلام ص ٦ ، خزائن ج ٣ ص ٦): ”اس بـ سے مشرف اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معـ

٥

صفحہ ١٩٥

پہلا دعویٰ...... مسیح ابن مریم مہدی موعود

مسیح ابن مریم مہدی موعود کے متعلق قادیانی پر یہ وحی نازل ہوئی (ازالہ اوہام ص ٦٣٢، خزائن ج٣ ص ٤٤٢): ”جعلناك المسيح ابن مريم ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔“ (فتح اسلام ص ١٠، ١١، خزائن ج ٣ ص ٨) ”میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا اور سب باتوں میں اسی زمانے کے ہم شکل زمانہ میں اترا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا۔ تا سمجھنے والوں کے لئے نشانی ہو۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٧٤، خزائن ج ٣ ص٤٦٤) ”اس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے اس ابن مریم کو روحانی پیدائش اور روحانی زندگی بخشی۔“

”جیسا کہ اس نے خود اپنے الہام میں فرمایا: ”ثم احييناك بعد ما اهلكنا القرون الاولى وجعلناك المسيح بن مريم“ یعنی پھر ہم نے تجھ کو زندہ کیا۔ بعد اس کے کہ جو پہلے قرنوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور تجھے ہم نے مسیح ابن مریم بنایا۔ (ایضاً) (ازالہ اوہام ص٦٨٣، خزائن ج٣ ص٤٦٩) ”اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اسی (ازالہ ص ٦٩٥، خزائن ج٣ ص٤٧٥) پر لکھا۔ ہر ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔ کیونکہ اول تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔ رسالہ نورالدین خلیفہ اوّل قادیان ص ٢٨ وہ مہدی جس کا یہ نشان (چاند گہن، سورج گہن) ظاہر ہوا۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی...... مسیح موعود ہیں۔ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ (لعنۃ اللہ علیہ ) (عسل مصفےٰ قادیانی ص ٥٢١) ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ: ”مہدی اور مسیح ایک ہی شخص ہے۔ الگ الگ نہیں۔“ ان کتابوں کے حوالہ جات سے یہ اچھی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی مہدی موعود عیسیٰ بن مریم، مسیح موعود اور آدم ہونے کا اور وحی کا مدعی ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بلا باپ کے پیدا ہوا۔

دوسرا دعویٰ...... نبوت

اب نبوت ورسالت وحی و معجزہ کا دعویٰ بھی قادیانی کتابوں سے اور واضح طور پر سن لینا چاہئے ۔ (فتح اسلام ص ٦، خزائن ج ٣ ص ٦): ”اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکات خاصہ سے مشرف اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف ودقائق ساتھ دیئے ۔“

٥

صفحہ ١٩٦

اسی کتاب (فتح اسلام ص ٢٢ بقیہ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤) پر : ”اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور ان کے اترنے کی نمایاں تاثیر تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوں کی جنبش کو معمول سے زیادہ نہ پایا۔ تو تم سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔ لیکن اگر یہ سب ظہور میں آگئیں تو تم اس سے انکار سے باز آؤ تا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک سرکش قوم نہ ٹھہرو۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر اپنے لئے کہتا ہے: ”وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور علوم غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہوتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔“

(فتح اسلام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٣٤) پر لکھتے ہیں : ” مجھے کون پہچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا (رسول) ہوں اور مجھے اسی طرح قبول کرتا ہے۔ جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔ دنیا مجھے قبول نہیں کرسکتی۔ کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں۔“

تبلیغی کلام قادیانی ص ٣: ”میں نے خدا کی طرف سے کثرت مکالمہ ومخاطبہ کی نعمت سے مشرف ہو کر نبی کا لقب پایا۔ تمام دنیا کا وہی خدا ہے۔ جس نے میرے پر وحی نازل کی ۔“ اس کے ص ٤ پر لکھتا ہے : ” اگر میرے دعوے کی نسبت شبہ اور حق جوئی بھی ہو تو اس شبہ کا دور ہونا بہت سہل ہے۔ کیونکہ ہر ایک نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک عقل سے، دوسرے پہلے نبی کی پیشین گوئی سے، تیسرے نصرت الہی تائید آسمانی سے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) پر لکھا: ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے ۔“

ان حوالوں سے اچھی طرح ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو مہدی، مسیح، ابن مریم، آدم، صاحب وحی، صاحب معجزات، نبی و رسول کہتا ہے اور یہی اس کا عقیدہ ہے۔ جیسا کہ اس کی مذکورہ عبارات سے واضح اور ظاہر ہے۔ اب مرزا کی عیاری و مکاری ملاحظہ ہو۔ مرزا سے کسی نے سوال کیا۔

٦

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ہے؟“ جواب: ”نبوت کا دعویٰ نہیں، ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس یہ دونوں باتیں کہ نبی ہے ہی صحیح ہوگی اور دونوں باتیں خدا کی طر باتیں سچی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا معلوم ہو رہا ہے کہ خدا کی بات ہے۔ تو مرزا م نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”من ا کر ظالم کافر کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر اف کافر مرتد، بے دین ہوا۔

پہلا کذب

مزید وضاحت کے لئے ( اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر و اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا ک جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثب بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو

دوسرا کذب

ابھی آپ تبلیغی کلام مرزا فرمایا گیا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ یہ معنے ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امـ کثرت مکالمہ ومخاطبہ کی نعمت سے مشر ان عبارتوں کو دیکھ کر ہم ک دجال نے فتویٰ سنا دیا کہ میں ختم المر کاذب جانتا ہوں ۔ اب اس کے کاف سے مسلمان ہی نہیں وہ مسلمانوں کا نبی

صفحہ ١٩٧

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) پر لکھتے ہیں: ”سوال: آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟“ جواب: ”نبوت کا دعویٰ نہیں، بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) پر یہ لکھا: ”خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

یہ دونوں باتیں کہ نبی ہے اور نبی نہیں ہے۔ سچ نہیں ہو سکتیں۔ ان دونوں میں سے ایک ہی سچ ہوگی اور دونوں باتیں خدا کی طرف سے بتاتا ہے اور خدا کی ہر بات سچی ہے۔ یہاں دونوں باتیں سچی نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی خدا کی بات نہیں۔ مرزا کہہ رہا ہے کہ خدا کی بات ہے۔ تو مرزا مفتری علی اللہ ہوا۔ اور مفتری علی اللہ نبی کیا معنی، مسلمان بھی نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ“ ”اس سے بڑھ کر ظالم کافر کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے، جھوٹ باندھے۔“ مرزا قادیانی اپنے قول سے کافر مرتد، بے دین ہوا۔

پہلا کذب

مزید وضاحت کے لئے (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) ملاحظہ ہو: ”نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر ہوں۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں۔ جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمدﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

دوسرا کذب

ابھی آپ تبلیغ رسالت مرزا کے ص ١٢ پر پڑھ چکے۔ ”آنحضرتﷺ کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ آپؐ کے بعد دروازہ مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنے ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی۔ اس کے ص ٣ پر لکھا: ”میں نے خدا کی طرف سے کثرت مکالمہ ومخاطبہ کی نعمت سے مشرف ہو کر نبی کا لقب پایا۔“

ان عبارتوں کو دیکھ کر ہم کسی دوسرے کے فیصلہ کے محتاج نہیں رہتے۔ کیونکہ خود اس دجال نے فتویٰ سنا دیا کہ میں ختم المرسلینﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کافرو کاذب جانتا ہوں۔ اب اس کے کافر وکاذب لعنتی مفتری ہونے میں کیا شبہ رہا؟ جو شخص سرے سے مسلمان ہی نہیں وہ مسلمانوں کا نبی یا امام مجدد کیسے ہو سکتا ہے؟

٧

صفحہ ١٩٨

پھر مرزا کی غسل مصفے والی عبارت کہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں اور ازالہ اوہام والی عبارت دونوں کو ملائیے ۔ (ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩): ”اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں ۔“ اس کاذب مرزا نے خود اپنے کذب وافتراء ظاہر کر دیا کہ تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کا یہ خیال نہ تھا۔ جو مرزا نے پیدا کیا اور یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ میرا عقیدہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ کوئی قادیانی بتائے کہ تیرہ سو نہیں چودہ سو برس میں کسی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ تھا یا ہے کہ جو مرزا قادیان میں چراغ بی بی کے پیٹ سے پیدا ہوگا۔ وہی مسیح ابن مریم ہوگا۔

قادیانی کا ایک فیصلہ اور سن لیجئے۔ (انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ص ٢٧ حاشیہ ):”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ “ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں ۔“

اسی مرزا کا عقیدہ اور دعویٰ اس کتاب سے سن چکے کہ میں نے نبی کا لقب پایا۔ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔ ایک اور سن لیجئے۔ جب مرزا کو لوگوں نے دجال اور کذاب کہا اور پنجاب میں طاعون پھیلا تو جھٹ مرزا نے ایک الہام تراشا اور کہا کہ ”مجھے پر وحی نازل ہوئی ہے ۔“ دیکھئے (دافع البلاء ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦، ٢٢٥) وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوئی ۔ اس کی عبارت یہ ہے: ”ان الله لا یغیر مابقوم حتی یغیر وامابانفسهم اوی القریة یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا کہ اس بلا طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا۔ جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کریں۔ جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا ۔ تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا ۔“

(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) پر براہین احمدیہ کی وحی یوں لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا تاکہ میں ان خبیثوں اور شریروں کے منہ بند کروں جو میرے رسول کو گالیاں دیتے ہیں ۔“

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) پر لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون

دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے۔ قا اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ مگر جب قادیان میں اس کا کوئی رسول نہیں۔ تو اشہاد میں ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٩) میں ہے ۔ پناہ میں لے لے گا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص رسول بھیجا۔“ ان عبارتوں کے ساتھ کس نبوت ورسالت کو کافر و کاذب جاننا ہو ہونے میں شک نہیں ہو سکتا اور نہ کسی قاد کیونکہ یہ اسی مدعی نبوت کا فیصلہ ہے کہ کہے کہ مرزا کو نبی و رسول نہیں مانتے ۔ ب ہاں امام ہو سکتا ہے۔ مگر کافروں کا ام ”لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولی بناؤ﴾ اور مرزا خود لکھ گیا ہے کہ کیا ایسا ب شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ مرتد ، بے دین ہے امامت یا اسلام ہی کو تسلیم کرے گا۔ خود مر قادیانی خود اپنے ہی اقوال سے کافر مرتد

قرآنی اعلان

اب قرآنی اعلان سنئے۔ ار النبیین “ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے اسلام کے نزدیک قطعاً اجماعاً کافر ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے با کا منکر ہوا۔ خاتم النبیین علیہم الصلوٰۃ و کو مانتا ہوں۔ ایک پیشینگوئی حضرت آفت زدہ مرزا نے بھی اس کو تسلیم کیا ۔

٨

صفحہ ١٩٩

دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ مگر جب قادیان میں طاعون پھیلا اور خدا نے ظاہر کر دیا کہ قادیان میں اس کا کوئی رسول نہیں۔ تو ظالم مرزا نے جھٹ ایک دوسرا الہام تراشا جو (تذکرہ الشہادتین ص ٦ ،خزائن ج ٢٠ص٩) میں ہے۔ ”اس گاؤں کو جو قادیان ہے۔ کسی قدر ابتلاء کے بعد اپنی پناہ میں لے لے گا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ص ٢٣١) پر لکھا : ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ ان عبارتوں کے ساتھ عسل مصفےٰ کی عبارت ملا لیجئے کہ: ”ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت و رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔“ اب تو کسی مسلمان کو قادیانی مرزا کے کافر مرتد دجال ہونے میں شک نہیں ہو سکتا اور نہ کسی قادیانی ہی کو قادیانی مرزا کافر ہونے میں شک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اسی مدعی نبوت کا فیصلہ ہے کہ مدعی نبوت و رسالت کافر ہے۔ اب کوئی قادیانی اگر یہ بھی کہے کہ مرزا کو نبی و رسول نہیں مانتے۔ بلکہ امام مجدد مانتے ہیں۔ تو کیا کافر دجال، امام مجدد ہوگا؟ ہاں امام ہو سکتا ہے۔ مگر کافروں کا اور مسلمانوں کا امام نہیں ہو سکتا۔ قرآن کا ارشاد ہے : لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء ”خدا کے دشمن مفتری کذاب کو اپنا ولی امام پیشوا نہ بناؤ“ اور مرزا خود لکھ گیا ہے کہ کیا ایسا بد بخت مفتری جو نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہی ہم اہلسنت و جماعت بھی کہتے ہیں کہ ہرگز ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ مرتد ، بے دین ہے۔ پھر مجدد اور امام المسلمین کس طرح ہوگا؟ بلکہ جو اس کی امامت یا اسلام ہی کو تسلیم کرے گا۔ خود مرتد کافر ہو جائے گا۔ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی خود اپنے ہی اقوال سے کافر مرتد کذاب ہے۔ قرآن کا منکر ہے۔

قرآنی اعلان

اب قرآنی اعلان سنئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین“ ”محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں“ یہ قرآنی حکم ہے جس کا منکر اہل اسلام کے نزدیک قطعاً اجماعاً کافر ہے اور اس قادیانی کے نزدیک بھی کافر ہے۔ قرآن نے بتا دیا کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی مدعی نبوت ہوا تو وہ فرمان الٰہی سے باغی ہوا۔ خدا کا منکر ہوا۔ خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا منکر ہوا۔ چاہے وہ دن رات کہا کرے کہ سب کو مانتا ہوں۔ ایک پیشینگوئی حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی سن لیجئے۔ جو انجیل میں آئی آفت زدہ مرزا نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور اپنی کتاب میں درج کر گیا ہے۔

٩

صفحہ ٢٠٠

میں اسی مرزا کی کتاب سے نقل کرتا ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بہتیرے میرے نام پر اٹھیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔ پر سچا مسیح ان سب کے آخر میں آئے گا اور مسیح نے اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم آخر کار منتظر رہنا میرے آنے کا۔“ قادیانیو! اگر تم نے خدا اور رسول کے لئے قادیانیت اختیار کی ہے تو ذرا اس پیشین گوئی کو دیکھو جو تمہارے امام قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھی۔ کتنا صاف اور واضح بیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے کہ میرے نام پر یعنی مسیح ابن مریم بن کر بہتیرے آئیں گے۔ مگر سب سے آخری میں ہوں گا۔ میرا انتظار کرنا اور ان بہتیرے جھوٹوں کا جھوٹا کذاب دجال سمجھنا۔“

اب اتنا اور ڈھونڈ لو کہ کتنوں نے مسیح ابن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ اس قادیانی سے پہلے کیا۔ اگر تین چار بھی پہلے آگئے ہوں۔ تو کسی قدر احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید یہی قادیانی مسیح ہو۔ جب تک اس کے تفصیلی احوال نہ معلوم ہو جائیں اور اگر اس سے پہلے کسی ایک نے بھی مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ تو بلا شبہ سمجھ جاؤ کہ یہ وہی کذاب دجال ہے۔ جسکی پیشینگوئی انجیل میں آئی۔ سنو یہی تمہارا قادیانی اس ازالہ کے (ص ٤٨٣، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩) پر لکھتا ہے:

”اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“ اب تو کوئی شبہ نہ رہا کہ یہ پہلا مدعی ہے۔ کذاب ہے۔ مفتری ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ابھی اور بھی آئیں گے۔ کیونکہ بہتیرے کا لفظ ہے۔ جس کے لئے کم از کم تین تو ضرور ہونے چاہئیں۔ یہ خدا کی پھٹکار ہے جو مرزا پر پڑتی چلی جاتی ہے۔ خود دعویٰ کرتا ہے اور خود اپنے کفر، اپنے دجل، اپنے کذب کا فتویٰ دیتا جاتا ہے۔ اس کے کذب پر علاوہ اس کے اقوال کے قرآن مجید اور انجیل کی بشارت گزر چکی۔

اب ابوداؤد شریف کی حدیث (ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن) سنئے۔ فرمایا رسول خدا ﷺ نے: ”وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔“ ”میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اس حدیث شریف کی رو سے مرزا کا نام کذاب ہوا۔ لہٰذا اب ہم اس کی حدیث آسمانی نام سے یاد رکھیں

گے۔ کیونکہ اس نے بھی آسمانی ہی نام کا اعلان اس کا الہامی نام چراغ دین تھا۔ گو اس کی ماں ب

(بخاری شریف ص ٥٠٩، ج ١، باب علام

دجالون کذابون قریبا من ثلثین وقت تک نہ آئے گی۔ جب تک تقریباً تیس مدعی ہو گا کہ میں رسول ہوں“ اس حدیث میں یہ وہی بخاری شریف ہے۔ جس لہٰذا اب اس کو اسی آسمانی نام سے میں بھی یاد شہادت قرآن مجید، انجیل شریف، حدیث شر دی کہ وہی دجال کذاب بھی ہے۔ مگر یہ سب عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ظاہر اور مسیحیت، مہدویت، نبوت ورسالت پر دلائل انکار و اغواء کے وقت کام آئیں۔

پیش گوئیاں

مرزا دجال نے اپنی نبوت ورسالت قرار دیا ہے۔ پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے استدلال کیا ہے۔ پھر سابقین کی پیشینگوئیوں ص ٨٠٩ ۔ ”اب ہم پوچھتے ہیں کہ پیش از وقت مقدور ہے۔ لہٰذا کچھ شک نہیں کہ حضرت مرزا مرزا کذاب کی بہت سی پیشینگو سوائے خدا کے رسول کے اور کون کر سکتا ہے نے بہت سی پیشینگوئی کر کے اپنی رسالت ہوں۔ جن کے صادق ہونے نہ ہونے کو بخ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٦٣٢، ٦٣٥، خزائن ج ٣ نمونہ کے پیشینگوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیق یہی کافی ہیں۔ خود لوگ ظہور کے وقت اند

آیات و احادیث کی روشنی میں گانے بجانے کا کام کرنے والوں کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم پہننے کو، شراب پینے کو اور گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھیں گے۔“

(بخاری شریف)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ: ”مجھے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں آلات موسیقی اور بتوں کو توڑ دوں۔“

(مسند احمد)

گانا بجانا سخت ترین گناہ ہے، بلکہ اس کی وجہ سے انسان کے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے۔

اور غنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ قرآن پاک کی سورہ لقمان میں گانے بجانے کی حرمت نازل ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ”لہو الحدیث“ سے مراد گانا ہے

(تفسیر ابن کثیر)

گانا بجانا

صفحہ ٤٠١

غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ فضول رسم اور غیر مناسب حرکت چھوڑ دینی چاہیے اور یقیناً میوزک سننا حرام ہے، اس کے بارے میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اُگاتا ہے۔“ (درمنثور: ٥/ ١٥٩، ط: دارالمعرفۃ) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے، صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہوں گے۔ اس پر ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول ! یہ کب ہوگا؟ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہوگا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔ (ترمذی: ٢/ ٤٣، ایضاً) اسی طرح ویڈیو فلموں کا گانے بجانے کے ساتھ جو باقاعدہ اہتمام ہے، اس کی بھی کوئی گنجائش شرعاً نہیں ہے۔

...... حضور اکرم صلی اللہ علیہ مبارک جب لکھا جائے تو پورا درود صلی لکھنا چاہیے، صرف ”ص“ کا اشارہ دینا لکھنا، نادرست ہے۔ اگر لفظ محمد کسی اور استعمال کریں تو اس پر درود شریف نہیں، مگر........

”محمدؐ“ کے نام کے

ساتھ ”ص“

س...... کیا ”محمد“ نام کے ساتھ بغیر پورا درود لکھے، صرف ”ص“ لکھنا، کافی ہے؟ ج...... نام کے ساتھ ”ص“ یا ”صلعم“ لکھنا مکروہ ہے، پورا درود صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا چاہیے۔

فاسق و فاجر کی تعریف

س......کراچی فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟ ج...... شرعی اصطلاح میں فاسق اس مسلمان کو کہتے ہیں جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کے احکام کا پابند نہ ہو، گناہ یا گناہوں میں ملوث ہو، جو شخص دین کے بعض احکام یا تمام احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو وہ فاسق ہی کہلائے گا اور جو شخص اعلانیہ طور پر گناہوں میں مبتلا ہو اسے فاجر کہتے ہیں۔

اوہام ص ٦٨٤، خزائن ج ٣ ص ٤٧٩) اُٹھیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم رسول کے لئے قادیانیت اختیار کی اپنی کتاب میں لکھی۔ کتنا صاف یعنی مسیح ابن مریم بن کر بہتیرے نا اور ان بہتیرے جھوٹوں کا جھوٹا

السلام ہونے کا دعویٰ اس قادیانی پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید یہی قادیانی کہ اس سے پہلے کسی ایک نے بھی کذاب دجال ہے۔ جسکی پیشینگوئی ئن ج ٣ ص ٤٧٩) پر لکھتا ہے: موجود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس ود سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی کی شبہ نہ رہا کہ یہ پہلا مدعی ہے۔ آئیں گے۔ کیونکہ بہتیرے کالفظ کی پھٹکار ہے جو مرزا پر پڑتی چلی کذاب کا فتویٰ دیتا جاتا ہے۔ اس ت گزرچکی۔ ن) سنئے۔ فرمایا رسول خدا ﷺ لهم یزعم انه نبی الله وانا راب ہوں گے۔ جن میں سے ہر بعد کوئی نبی نہیں۔“ اس حدیث حدیث آسمانی نام سے یاد رکھیں

گے۔ کیونکہ اس نے بھی آسمانی ہی نام کا اعلان کیا ہے۔ ورنہ اس کی ماں چراغ بی بی کی نسبت سے اس کا الہامی نام چراغ دین تھا۔ گو اس کی ماں نے اس کا نام غلام احمد رکھا تھا۔ (بخاری شریف ص ٥٠٩، ج ٢، باب علامات النبوة فی الاسلام) میں ہے: ”حتی یبعث دجالون کذابون قریبا من ثلثین کلهم یزعم انه رسول الله“ ﴿قیامت اس وقت تک نہ آئے گی۔ جب تک تقریباً تیس دجال کذاب نہ پیدا ہولیں۔ جن میں سے ہر ایک مدعی ہوگا کہ میں رسول ہوں﴾ اس حدیث میں مدعی رسالت کا نام دجال اور کذاب ہوا۔ یہ وہی بخاری شریف ہے۔ جس کی حدیثوں کی صحت کا مرزا کذاب بھی قائل ہوا۔ لہٰذا اب اس کو اسی آسمانی نام سے میں بھی یاد کروں گا۔ مرزا دجال کذاب کے کاذب ہونے کی شہادت قرآن مجید، انجیل شریف، حدیث شریف سے گزری اور حدیث نے ایک بات اور بھی بتا دی کہ وہی دجال کذاب بھی ہے۔ مگر یہ سب ذریت ہے۔ اس دجال اکبر کی جو سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ظاہر اور مقتول ہوگا۔ مرزا کذاب دجال نے جو اپنی مسیحیت، مہدویت، نبوت و رسالت پر دلائل قائم کئے ہیں۔ انہیں سنئے تا کہ دجالی ذریت کے افکار و اہواء کے وقت کام آئیں۔

پیش گوئیاں

مرزا دجال نے اپنی نبوت و رسالت کے ثبوت میں سب سے بڑی دلیل پیشینگوئی کو قرار دیا ہے۔ پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے حالات و واقعات والی حدیثوں سے استدلال کیا ہے۔ پھر سابقین کی پیشینگوئیوں کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ عسل مصفیٰ قادیانی ص ٨٠٩۔ ”اب ہم پوچھتے ہیں کہ پیش از وقت ایسی باتوں کی خبر دینا سوائے خدا کے کسی انسان کا مقدور ہے۔ لہٰذا کچھ شک نہیں کہ حضرت مرزا قادیانی خدا کے مرسل اور خدا کے محدث ہیں۔“ مرزا کذاب کی بہت سی پیشینگوئیاں لکھنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ ایسی پیشینگوئی سوائے خدا کے رسول کے اور کون کر سکتا ہے؟ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں۔ معلوم ہوا کہ مرزا نے بہت سی پیشینگوئی کر کے اپنی رسالت کا ثبوت دیا ہے۔ لہٰذا میں ان پیشینگوئیوں کو لکھتا ہوں۔ جن کے صادق ہونے نہ ہونے کو بہت ہی زور دار طور پر اپنی نبوت کا مدار ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٦٤٢، ٦٤٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤) پر لکھا ہے: ”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشینگوئیاں بیان کی ہیں۔ در حقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہیں۔ خود لوگ ظہور کے وقت اندازہ کرلیں گے کہ کون شخص مقبول الٰہی ہے اور کون ١١

صفحہ ٢٠٣

مردود۔‘‘ یہ قاعدہ تو اسی مرزا دجال کا بنایا ہوا ہے ۔اسے یاد رکھو اور اس کی پیشینگوئی کو پرکھو اور خدا توفیق دے تو توبہ کرو، صراطِ مستقیم اختیار کرو۔

مرزا قادیانی کی پہلی پیش گوئی موت آتھم

پہلی پیشین گوئی مرزادجال کی جب ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عبداللہ آتھم سے مناظرہ ہوا۔ تو مرزا نے ہلاکت کی یہ پیش گوئی کی کہ عبداللہ آتھم اگر مجھ پر ایمان نہ لایا تو پندرہ مہینہ کے اندر مر جائے گا اور جہنم کے طبقہ ہاویہ میں گرا دیا جائے گا اور اس کی آخری معیاد ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء رکھی گئی۔ اس اشتہار کا مضمون یہ ہے۔ (انوار اسلام ص ١، خزائن ج ٩ ص ١) ’’جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٤ ماہ تک ہاویہ میں گرا دیا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچ خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے ہو جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص ٢٢، ج ٢)

اس پیشگوئی کے وقوع کا ہر ایک کو انتظار رہا اور فریقین نہایت بے چینی سے ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء کے دن گن رہے تھے۔ اس درمیان میں عبداللہ آتھم پر تین دفعہ مختلف اوقات میں حملے کئے گئے ۔ جب دن ختم ہونے کے قریب آئے ۔ تو قادیانیوں میں ہیجان پیدا ہوا کسی کو شکوک ہونے لگے۔ کوئی اپنی جگہ جما رہا۔ لوگوں کا یہ حال دیکھ کر جھٹ مرزا نے ایک الہام تراشا اور معتقدین کی تسلی کرائی : ”لن تجد لسنة الله تبديلا“ (تذکرہ ص ٢٦٠ طبع ٣) اللہ تعالیٰ کا وعدہ ٹلتا نہیں ، ہو کر رہے گا۔ معتقدین مطمئن ہو گئے ۔مگر ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء ختم ہو گیا اور عبداللہ آتھم بدستور زندہ رہا اور بڑا جشن منایا گیا۔ اب تو قادیانی مرزا کے سر ہو گئے۔ اللہ کا وہ وعدہ بھی اٹل، کیوں ٹل گیا ۔ یہ تو نبوت مرزا کی دلیل تھی۔ اب نبوت جاتی ہے یا کوئی وجہ معقول بتاؤ کہ کیا اسباب ہوئے ۔ کیوں وعدہ پورا نہ ہوا؟

مرزا قادیانی نے کہا: ”ہم نے اپنی پیشگوئی میں یہ قید لگا دی تھی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور اس نے رجوع کر لیا۔ اس لئے بچ گیا۔ اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو آتھم صاحب قسم کھا لیں۔‘‘ (انجام آتھم ص ٢، خزائن ج ١١ ص ٢) ”آتھم نے نالش اور قسم سے پہلو تہی کر کے اپنے اس طریقہ سے صاف جتلا دیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا۔‘‘ معتقدین مرزا کے لئے اس

١٢

بات سے کچھ ڈھارس بندھی۔ مگر ادھر روز کے جشن جلسے جلوس، مرزا پر در طرف نعرے، بہت سے قصیدے، نظمیں مرزا کی شان میں لکھی گئیں۔ جن سن لیجئے۔

غضب تھی تجھ پر ستم گر چھٹی ستمبر کی نہ دیکھی تو نے
ذلیل وخوار ندامت چھپا رہی تھی کہ تھا تیرے مریدوں
مسیح ومہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی ہے

آخر قادیانی کہاں تک صبر کرتے۔ پھر مرزا کے پاس فریادی چہروں سے ظاہر ۔ مرزا ندامت آلود چہرے کے ساتھ اپنی ذلت ورسوائی رہی تھی ، سنتا رہا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا ۔ (انجام آتھم ص ٢، خزائن ج ١١ ص ٢): کھالیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے، جس کے ساتھ کوئی بھی شر ’’اب مریدین مرزا کو بڑا سہارا ملا اور دنیا میں کہتے پھرے کہ اب اگر قطعی وعدہ ہے اور وہ بھی تقدیر مبرم ، جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ اب کی پہ سال کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسے پہلے پیشگوئی کی طرح نہ سمجھو۔ وہ جو ضرور ہو کر رہے گی۔ قسم کھائے یا نہ کھائے۔‘‘ (انوار الاسلام ص ١١، خزا کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔‘‘

جو اس کی نبوت پر ایمان لا چکے تھے۔ تقدیر مبرم کا نام سن کـ دجال کذاب جانتے تھے۔ وہ پہلے پیشینگوئی سے مرزا کی ذلت ورسـ پاچکے تھے۔ اعلان عام ہو رہا تھا۔ مرزائی دم بخود تھے۔ کچھ بنائے نہ بن کے لئے وہ خباثت کچھ کام آ گئی۔ یعنی ایک برس کا انتظار ۔ قادیانیو جواب یہی تھا کہ سال بھر صبر کرو۔ مرزا کی نبوت ثابت ہوئی جاتی ہے۔ کو دیکھ کر اور پھر برملا اعلان ان کی مخالفت کرتا ہوا دیکھ کر کب خاموش ر آتھم نے حق قبول کر لیا ۔ آتھم کہتا تھا کہ جیسا تجھے پہلے دجال سمجھتا تھـ اب زیادہ یقین کے ساتھ ۔ بہر حال اس پیشگوئی کے بعد دنیا بھر میں ایـ کچھ اس نے پیشگوئی میں کہا تھا۔ وہ اس کے لئے پوری ہوئی۔ چنانچہ ا (ضمیمہ آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧) میں لکھتا ہے: ’’امرتسر اور بہـ

١٣

صفحہ ٢٠٣

بات سے کچھ ڈھارس بندھی۔ مگر ادھر روز کے جشن جلسے جلوس، مرزا پر دجال، کذاب کے ہر چہار طرف نعرے، بہت سے قصیدے، نظمیں مرزا کی شان میں لکھی گئیں۔ جن میں چند اشعار آپ بھی سن لیجئے۔

غضب تھی تجھ پر ستم گر چھٹی ستمبر کی نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی
ذلیل وخوار ندامت چھپا رہی تھی کہ تھا تیرے مریدوں پر محشر چھٹی ستمبر کی
مسیح ومہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی ہے گھر گھر چھٹی ستمبر کی

آخر قادیانی کہاں تک صبر کرتے۔ پھر مرزا کے پاس فریادی آئے۔ بیزاری ان کے چہروں سے ظاہر۔ مرزا ندامت آلود چہرے کے ساتھ اپنی ذلت ورسوائی جو چار دانگ عالم میں ہو رہی تھی، سنتا رہا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا ۔ (انجام آتھم ص٢، خزائن ج١١ ص٢٨٩): ’’اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے، جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔ ‘‘اب مریدین مرزا کو بڑا سہارا ملا اور دنیا میں کہتے پھرے کہ اب اگر باز نہیں آیا تو ایک سال کا قطعی وعدہ ہے اور وہ بھی تقدیر مبرم، جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ اب کی پیشگوئی تقدیر مبرم ہے۔ اب سال کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسے پہلے پیشگوئی کی طرح نہ سمجھو۔ وہ مشروط تھی اور یہ مبرم ہے۔ جو ضرور ہو کر رہے گی۔ قسم کھائے یا نہ کھائے۔‘‘ (انوار الاسلام ص ١١، خزائن ج ٩ ص ٣١): ’’اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔‘‘

جو اس کی نبوت پر ایمان لا چکے تھے۔ تقدیر مبرم کا نام سن کر مطمئن ہو گئے اور جو اس کو دجال کذاب جانتے تھے۔ وہ پہلے پیشگوئی سے مرزا کی ذلت وہزیمت کو بچشم خود دیکھ کر طمانیت قلبی پاچکے تھے۔ اعلان عام ہو رہا تھا۔ مرزا جی دم بخود تھے۔ کچھ بنائے نہ بن پڑتا تھا۔ مگر آنسو پونچھنے کے لئے وہ خباثت کچھ کام آگئی۔ یعنی ایک برس کا انتظار ۔ قادیانیوں کی طرف ہر اعتراض کا جواب یہی تھا کہ سال بھر صبر کرو۔ مرزا کی نبوت ثابت ہوئی جاتی ہے۔ مگر ان کے مخالف زندہ آتھم کو دیکھ کر اور پھر بالاعلان ان کی مخالفت کرتا ہوا دیکھ کر کب خاموش رہ سکتے تھے۔ مرزا کہتا تھا کہ آتھم نے حق قبول کر لیا۔ آتھم کہتا تھا کہ جیسا مجھے پہلے دجال سمجھتا تھا۔ اب بھی سمجھتا ہوں۔ بلکہ اب زیادہ یقین کے ساتھ۔ بہر حال اس پیشگوئی کے بعد دنیا بھر میں اس کی انتہائی ذلت ہوئی۔ جو کچھ اس نے پیشگوئی میں کہا تھا۔ وہ الٹی پوری ہوئی۔ چنانچہ اپنے مخالف کے لئے خود مرزا (ضمیمہ آتھم ص٣، خزائن ج١١ ص٢٨٧) میں لکھتا ہے: ’’امرتسر اور بہت سے دوسرے شہروں میں

١٣

صفحہ ٢٠٥

نہایت شوخی سے ناچتے پھرے کہ ہماری فتح ہوئی اور ان کے نہایت پلید اور بدذات لوگوں نے گالیاں دیں اور سخت بد زبانی کی۔“

دیکھئے! یہ مرزا ہمہ شان نبوت اپنے مخالف کو کس طرح منہ بھر کر سنا رہا ہے۔ سچ ہے کھیانی بلی کھمبا نوچے۔ یہی خیریت ہے جو اس نے اس کو وحی الہی نہ کہا۔ اس کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اس کو پیشگوئی کے بعد کیسی ذلت ہوئی۔ مگر توبہ نہ کرنی تھی ، نہ کی۔ حالانکہ پیشگوئی کے کذب کو اپنے کا ذب ہونے کی دلیل بنا چکا تھا۔ اعلان کر چکا تھا۔ آخر کذب ہی تو ٹھہرا۔ اچھا سنئے ٥/ جون ١٨٩٢ء پندرہ مہینے کے اندر موت کی پیشگوئی جو ٥/ ستمبر ١٨٩٤ء کو ختم ہوئی۔ پھر بھی آتھم کو موت نہ آئی۔ اب تو قادیانیوں میں بڑا تہلکہ مچا۔ مرزا کی آنکھوں تلے اندھیرا آ گیا۔ اب کوئی تدبیر تلبیس بنائے نہ بنی۔ سوچتا رہا۔ آخر سوچ کر وہ صورت نکالی کہ سننے والے دنگ رہ گئے اور تمام شیطان الانس نے گردنیں جھکا دیں کہ ہاں حضرت جب اوپر سے ہوتا چلا آیا ہے۔ تو آپ کا کیا قصور؟ بلکہ اس سے تو آپ کی شان اور بالا ہو گئی کہ پہلے کے مثیل ہونے میں اب کوئی شبہ کی گنجائش بھی نہ رہی۔ اس دجال نے اپنی امت کو اپنی نبوت قائم رکھنے کے لئے دو باتیں پڑھائیں۔ ایک تو یہ کہ خدا وعدہ کر کے کبھی کبھی ٹال دیتا ہے۔ پورا نہیں کرتا۔ دوسری یہ پیشگوئی کے سمجھنے میں بڑے بڑوں سے غلطی ہوئی۔ یہاں تک کہ سید المرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم سے غلطی ہوئی ہے۔ پھر میں کب اس غلطی سے بچ سکتا تھا۔ جس سے دوسرے نبی نہ بچے۔ آخر میں بھی تو ایک نبی ہوں۔ (لعنة الله عليه)

مرزا دجال (ازالہ اوہام ص ٤١١، خزائن ج ٣ ص ١٧٢) پر لکھتا ہے: ”پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود انبیاء سے امکان غلطی ہے۔ پھر امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔“ اس سے بھی بڑھ کر خباثت (ازالہ اوہام ص ٤١٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) پر کی ہے۔ لکھتا ہے: ”اکثر پیشگوئیوں میں ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ قبل از ظہور پیشگوئی خود انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آسکتی۔ چہ جائیکہ دوسرے لوگ ان کو یقینی طور پر سمجھ لیں۔ دیکھو جس حالت میں ہمارے سید ومولیٰ (خاتم المرسلین) آپ اس بات کا اقرار کرتے ہوں کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کسی اور صورت پر سمجھا اور ظہور ان کا کسی اور صورت پر ہوا۔“ اس عبارت میں اس دجال نے اتنی قید لگائی کہ قبل ظہور پیشگوئی انبیاء نہیں سمجھ پاتے۔ تو معلوم ہوا کہ بعد ظہور ضرور سمجھ جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا مذہب یہ نہیں ہے کہ کسی نبی کی تعریف و توصیف ہو اور خاص کر جہاں اپنی بات بنانی ہو۔ کیونکہ اس پر تو کھلا اعتراض موجود تھا کہ اگر قبل ظہور وقت پیشگوئی سمجھ میں جناب

١٤

کے نہیں آیا تو نہ آئے۔ اب تو پندرہ ماہ اور پورا سال گزر گیا۔ اب تو اس نے اصل مذہب بیان کر دیا کہ: ”انبیاء علیہم السلام کو بہت سی پیشگوئیوں میں ہوتی ہے نہ بعد ظہور۔“

بعض دفعہ انبیاء پر بھی ان کی حقیقت نہیں کھلتی اور صحیح اس کے مصداق نہیں پاسکتے ۔ مصداق ماصدق علیہ ہے۔ یعنی جس پر پوچھے کہ پیشگوئی تھی کس کام کے لئے؟ اور اس صورت میں وہ کا تو عبث ٹھہرے گی اور فعلِ خدا عبث نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ حکیم ہے اس کتاب سے اس کا جواب بھی پڑھ لیجئے۔ (عسل مصفیٰ ص ٦٣) ” کے اخبار سے یہ بھی مقصود ہوتا ہے کہ اس شخص کی خلق اللہ میں جن مامور کرتا ہے۔ عزت اور عظمت ظاہر ہو اور معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ساتھ کیسی محبت ظاہر ہوتی ہے۔ اس لئے وہ پیش از وقت کے اس وا جہاں میں ظاہر کراتا ہے اور جب اس کا وقوع اسی طرح ہو جاتا ہ نے ابتداء ہی میں بتا دیا تھا۔ تو پھر ان لوگوں میں اس خدا کے بھیجے بیٹھ جاتی ہے اور وہ اس کے نقشِ قدم پر چل کر اس ناپاک اور گندی زندگی کے وارث بن جاتے ہیں۔“

اس قادیانی کی دونوں باتیں جو ایک ہی مسئلہ پر ہیں۔ ہے ۔ اس دوسری عبارت کا ماحصل یہ ہوا کہ پیشگوئی سے نبی کی ص باری تعالیٰ ہوتا ہے۔ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے نبی کی زبانی ا ہونے والا ہے۔ پھر جب لوگ اسے ویسا ہی دیکھ لیتے ہیں جیسا اس کہنے سے سمجھا تھا۔ تو اس نبی کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کی تو شان بڑ نبی نے سنایا سب ہی سمجھ گئے اور سب پر اس کی حقیقت ظاہر گئی جس سے مطابق پا کر نبی مان لیا اور مطیع ہو گئے۔

اور پہلی عبارت میں لکھتا ہے کہ نبی پر بھی بعض دفعہ پیشگو تو میں پوچھتا ہوں پھر وہ نبی پیشگوئی کاہے کی کرتے ہیں۔ جس کو وہ

١٥

صفحہ ٢٠٥

کے نہیں آیا تو نہ آئے۔ اب تو پندرہ ماہ اور پورا سال گزر گیا۔ اب قبل ظہور کی قید کیا کام دے گی۔ تو اصل مذہب بیان کر دیا کہ: ”انبیاء علیہم السلام کو بہت سی پیشینگوئیوں کی حقیقت نہ قبل ظہور معلوم ہوتی ہے نہ بعد ظہور۔“

(عسل مصفےٰ ص ٦٤)

بعض دفعہ انبیاء پر بھی ان کی حقیقت نہیں کھلتی اور صحیح انکشاف کے ساتھ ان بشارات کے مصداق نہیں پاسکتے۔ مصداق ماصدق علیہ ہے۔ یعنی جس پر وہ پیشگوئی ظاہر ہوئی وہ کیا ہے؟ کیسی ہے؟ کب ظاہر ہوئی؟ اس کی حقیقت کو نبی کے لئے بھی ثابت نہیں مانتا۔ پھر اس سے پوچھئے کہ پیشگوئی تھی کس کام کے لئے؟ اور اس صورت میں وہ کام ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوگا تو عبث ٹھہرے گی اور فعل خدا عبث نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ حکیم ہے۔ خود یہ لکھنے والا عبث ہوگا۔ اس کتاب سے اس کا جواب بھی پڑھ لیجئے۔ (عسل مصفےٰ ص ٦٣) ”اللہ تعالیٰ کا ایسی پیشگوئیوں کے اخبار سے یہ بھی مقصود ہوتا ہے کہ اس شخص کی خلق اللہ میں جن کی ہدایت کے لئے وہ اس کو مامور کرتا ہے۔ عزت اور عظمت ظاہر ہو اور معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کو اس مامور من اللہ کے ساتھ کیسی محبت ظاہر ہوتی ہے۔ اس لئے وہ پیش از وقت کسی ذریعہ سے ایک غیب کی بات جہاں میں ظاہر کراتا ہے اور جب اس کا وقوع اسی طرح ہو جاتا ہے۔ جیسا اس خدا کے مرسل نے ابتداء ہی میں بتا دیا تھا۔ تو پھر ان لوگوں میں اس خدا کے بھیجے ہوئے کی گہری محبت دل پر بیٹھ جاتی ہے اور وہ اس کے نقش قدم پر چل کر اس ناپاک اور گندی زندگی سے نجات پا کر ابدی زندگی کے وارث بن جاتے ہیں۔“

اس قادیانی کی دونوں باتیں جو ایک ہی مسئلہ پر ہیں۔ ملا کر دیکھئے کہ کیا انمل کہتا ہے۔ اس دوسری عبارت کا ماحصل یہ ہوا کہ پیشگوئی سے نبی کی صداقت وعظمت کا اظہار مقصود باری تعالیٰ ہوتا ہے۔ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے نبی کی زبانی لوگوں کو بتا دیا جاتا ہے کہ ایسا ہونے والا ہے۔ پھر جب لوگ اسے ویسا ہی دیکھ لیتے ہیں جیسا اس کے ہونے سے پہلے نبی کے کہنے سے سمجھا تھا۔ تو اس نبی کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور تابعداری میں لگ کر کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کی تو شان بڑی ہے۔ جس قوم یا افراد کو اس نبی نے سنایا سب ہی سمجھ گئے اور سب پر اس کی حقیقت ظاہر ہو گئی جب تو ان لوگوں نے اسے واقعہ سے مطابق پا کر نبی مان لیا اور مطیع ہو گئے۔

اور پہلی عبارت میں لکھتا ہے کہ نبی پر بھی بعض دفعہ پیشگوئی کی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی۔ تو میں پوچھتا ہوں پھر وہ نبی پیشگوئی کاہے کی کرتے ہیں۔ جس کو وہ خود نہ جانیں اور جب خود نہیں

١٥

صفحہ ٢٠٧

جانتے تو دوسروں کو کیا کہہ کر بتائیں گے۔ جب کوئی نہ سمجھا تو اس پیشگوئی کا جو مقصد تم نے بیان کیا رہی فوت ہو گیا اور پیشگوئی عبث و بیکار ٹھہری اور یہ ناممکن ، معلوم ہوا کہ تمہارا گھڑا ہوا اصول تمہارے ہی ہاتھوں برباد ہو گیا۔ وكذلك العذاب

سنو! پیشگوئی جن معنوں میں متعین کی جائے گی۔ انہی معنوں میں اس کا وقوع بھی ہوگا اور وہ پیشگوئی جو تعین یوم اور سنہ کے ساتھ ہو اس کا اسی روز اسی سن سے ظاہر ہونا ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی انسان ایسی کوئی پیشگوئی کسی نبی کی نہیں دکھا سکتا۔ جس میں تاریخ مقرر کی گئی ہو اور اس تاریخ پر اس کا وقوع نہ ہوا ہے۔ دن بجائے ٢٤ گھنٹہ کے ٥٠ گھنٹہ کا ہو سکتا ہے۔ مگر وہ دن نہیں ٹل سکتا۔

حدیث شریف میں حضور ﷺ نے پیش گوئی بیان فرمائی: ”لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطى اسمه اسمى“ دنیا ختم نہیں ہو سکتی ۔ جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص جو میرا ہم نام ہو گا عرب کا مالک نہ ہولے۔ پھر فرمایا: ”لولم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلاً من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى ، يملاء الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا “ اگر دنیا کے تمام دن ختم ہو جائیں اور آخری ایک دن رہ جائے اور وہ امام نہ آئے۔ تو خدا تعالیٰ اس دن کو اتنا بڑھا دے گا جس میں وہ آ جائیں۔ وہ میرے اہل بیت ہوں گے۔ وہ میرے ہم نام اور ان کے والد میرے والد کے کے ہم نام ہوں گے۔ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی۔

اس حدیث سے پیشگوئی موقت کا حال معلوم ہوا کہ وہ اپنے وقت سے ٹل نہیں سکتی۔ جس طرح فرمایا اسی طرح ہو کر رہے گی اور اس حدیث سے دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ حضرت امام مہدی کے والد ماجد کا نام عبداللہ ہو گا اور امام مہدی کا نام محمد ہوگا۔ رضی اللہ عنہ !

مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کی حقیقت

قادیانی دجال نے جو اپنا امام مہدی ہونا بیان کیا ہے۔ وہ رسول پاک ﷺ کے اس فرمان کے سراسر منافی ہے۔ اس کا نام غلام احمد ہے۔ اس کے باپ کا (اگر وہ مانیں) غلام مرتضیٰ ہے۔ مرحوم۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ پیشگوئی جس طرح کی جائے اسی طرح کی واقع ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پیشگوئی میں لفظ ہو انسان کا مراد ہو پتھر۔ یا لفظ ہو موت کا مراد ہو زندگی۔ پھر خاص کر وہ پیشگوئی جو تصدیق رسالت کے لئے موقوف علیہ قرار دی گئی ہو۔ اس کو تو یقیناً ویسا ہی ہونا چاہئے ١٦

جیسا تمہاری عسل مصفےٰ کی عبارت منقولہ سے معلوم ہوا۔ اس اعتراض کی تفصیل رسول پاک ﷺ پر بہتان باندھا ہے۔

آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی

پہلے حضور ﷺ کی ایک پیشگوئی سنئے: ”قال ان الله اوحى الثلاثة نزلت فهى دار هجرتك المدينة اوالبحرين اوقنسرين وحی کی ہے کہ ان تینوں مقامات سے جس مقام کی طرف آپ ہجرت کریں دارالہجرت ہو گا۔ مدینہ طیبہ ، بحرین قنسرین۔ اس میں اصلی پیشگوئی ہجرت بھی ان تینوں میں محدود اور اس کو معین کرنا رائے رسول پر مفوض۔

اب وہ حدیث سنئے جس سے جھوٹا مرزا رسول پاک کا کذب بیان کرتا ہے (معاذ اللہ) مسلم شریف میں ہے : ” عن النبي ﷺ رأيت في المنام مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة اوالهجر يثرب۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ مکہ معظمہ سے ہجرت پر پہنچا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ خیال ہوا کہ شاید یہ مقام یمامہ یا مدینہ تھا ۔ “

اس سے قادیانی نے اپنا مطلب یہ نکالا کہ رسول اللہ پر ہجرت کی اقرار فرمایا کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کچھ سمجھا اور واقع کسی اور صورت بحرین، نکلا مدینہ ! یہ رسول پاک پر افتراء ہے۔ کیونکہ حدیث تو یہ بتاتی ہے کہ کہ میں ہجرت کر کے ایسے مقام پر پہنچا ہوں جہاں کھجور کے پیڑ ہیں۔ چونکہ لئے نامزد تھے۔ فرمایا! میرا خیال اسی خواب میں تینوں مقام کی طرف گیا کہ پس معلوم ہو گیا کہ مدینہ ہے۔

پوری جماعت مل کر حدیث دکھلائے کہ حدیث کے کس لفظ کا معنی مولیٰ کو خود اس بات کا اقرار ہے کہ : ”پیشگوئی کو میں نے کچھ سمجھا اور ہوا کچھ ”اہاجر“ مخفی رہا یا من مكة يا الى الارض ...... کی حقیقت حضور کی سمجھ میں نہ آئی غلط پیشگوئی کے ثبوت کے لئے اس حدیث سے یہ مطلب نکالا کہ رسول فرمائی کہ میں ہجرت کروں گا ۔ مگر حضور کو خود معلوم نہ ہو سکا کہ کہاں ہجرت کرنی ہے سے سمجھے بیٹھے تھے کہ یمامہ یا ہجر مراد ہے۔ جب ہجرت واقع ہو گئی۔ تب ١٧

صفحہ ٢٠٧

جیسا تمہاری عسل مصفےٰ کی عبارت منقولہ سے معلوم ہوا۔ اس اعتراض کی تفصیل سنئے جو اس نے رسول پاک ﷺ پر بہتان باندھا ہے۔

آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی

پہلے حضور ﷺ کی ایک پیشگوئی سنئے: ”قال ان الله اوحى الى اى هولاء الثلاثة نزلت فهى دارهجرتك المدينة اوالبحرين اوقنسرين“ فرمایا اللہ نے مجھے وحی کی ہے کہ ان تینوں مقامات سے جس مقام کی طرف آپ ہجرت کریں گے۔ وہی آپ کا دارالہجرت ہوگا۔ مدینہ طیبہ، بحرین قنسرین۔ اس میں اصلی پیشگوئی ہجرت کی ہے۔ رہا مقام تو وہ بھی ان تینوں میں محدود اور اس کو معین کرنا رائے رسول پر مفوض۔

اب وہ حدیث سنئے جس سے جھوٹا مرزا رسول پاک کا کذب ثابت کرنا چاہتا ہے۔ (معاذ اللہ) مسلم شریف میں ہے: ”عن النبى ﷺ رأيت فى المنام انى اهاجر من مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة اوالهجر فاذاهى المدينة يثرب۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے ایسے مقام پر پہنچا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ خیال ہوا کہ شاید یہ مقام یمامہ یا ہجر ہے۔ پس ناگاہ وہ مدینہ تھا۔“

اس سے قادیانی نے اپنا مطلب یہ نکالا کہ رسول اللہ پر ہجرت کی پیشگوئی مشتبہ رہی اور اقرار فرمایا کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کچھ سمجھا اور واقع کسی اور صورت پر ہوئی۔ یعنی ہجر یا بحرین، نکلا مدینہ! یہ رسول پاک پر افتراء ہے۔ کیونکہ حدیث تو یہ بتاتی ہے کہ حضور نے خواب دیکھا کہ میں ہجرت کر کے ایسے مقام پر پہنچا ہوں جہاں کھجور کے پیڑ ہیں۔ چونکہ تین مقام ہجرت کے لئے نامزد تھے۔ فرمایا! میرا خیال اسی خواب میں تینوں مقام کی طرف گیا کہ ان میں سے کون ہے۔ پس معلوم ہو گیا کہ مدینہ ہے۔

پوری جماعت مل کر حدیث دکھلائے کہ حدیث کے کس لفظ کا ترجمہ ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ کو خود اس بات کا اقرار ہے کہ: ”پیشگوئی کو میں نے کچھ سمجھا اور ہوا کچھ۔“ اس کے علاوہ کیا لفظ ”اہاجر“ مخفی رہا یا من مکۃ یا الی الارض۔۔۔۔۔۔ کی حقیقت حضور کی سمجھ میں نہ آئی؟ قادیانی نے اپنی غلط پیشگوئی کے ثبوت کے لئے اس حدیث سے یہ مطلب نکالا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی کہ میں ہجرت کروں گا۔ مگر حضور کو خود معلوم نہ ہوسکا کہ کہاں ہجرت کروں گا۔ بلکہ اپنی طرف سے سمجھے بیٹھے تھے کہ یمامہ یا ہجر مراد ہے۔ جب ہجرت واقع ہو گئی۔ تب سمجھے کہ مدینہ مراد تھا۔ ان

١٧

صفحہ ٢٠٩

دونوں میں سے کوئی نہ تھا۔ جو حضورؐ نے سمجھا غلط تھا۔ اس حدیث کے متعلق دو باتیں قابلِ اظہار ہیں ۔ ایک حدیث کے اردو معنیٰ جو مذکور ہوئے ۔ دوسرے اس حدیث کے صدور کا وقت ۔ یہ دوسرا امر دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو حضورؐ نے یہ حدیث مکہ معظمہ میں بیان فرمائی یا مدینہ طیبہ میں ۔ اگر مدینہ طیبہ میں بیان کی تو پیشگوئی نہ ہوئی اور اگر یہ کہو کہ پوری حدیث مکہ معظمہ میں بیان فرمائی اور ”فاذا ہی المدینۃ“ کا لفظ مدینہ طیبہ میں بیان کیا۔ جیسا کہ قادیانیوں کے مسلک سے معلوم ہوتا ہے۔ تو دیکھو اس حدیث کے راوی حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ ہیں۔ جو مکہ میں اسلام لائے ۔ ”اسلم بمکۃ وہاجر الی ارض الحبشۃ ثم قدم مع اہل السفینۃ ورسول اللہ ﷺ بخیبر“ اور تقریباً آٹھ سال سنہ ہجری میں پہلے حبشہ ہجرت کر گئے اور ٧ سنہ ہجری میں مدینہ آئے ۔ اس وقت حضورؐ خیبر میں تشریف فرما تھے ۔ یا تو جیسے ہی حضرت ابوموسیٰ حاضر ہوئے ویسے ہی حضورؐ کو علم ہوا کہ ہماری پیشگوئی غلط تھی۔ اس کے ازالہ کے لئے فوراً ”فاذا ہی المدینۃ“ فرمایا ۔ یا سال دو سال کے بعد ، بہر صورت کم از کم چودہ برس تک تو ضرور غلطی میں مبتلا رہے ۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟

یہ سوال کسی مسلمان سے کرنے کی حاجت نہیں۔ کیونکہ وہ ایسے مزخرفات کا قائل ہی نہیں۔ یہ قادیانی سے پوچھئے ۔ (عسل مصفےٰ ص١٠٦) پر انبیاء علیہم السلام کی غلطی کے متعلق لکھتا ہے: ”مگر ان کو اس خطا پر بہت جلد متنبہ کیا جاتا ہے اور دیر تک ان کو اس حالتِ غلطی پر نہیں رکھا جاتا۔“ یعنی انبیاء علیہم السلام سے اگر غلطی ہو بھی جاتی ہے ۔ تو جلد متنبہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شکل بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ یہاں تو کوئی سال چھ ماہ کی دیر نہیں پورے چودہ سال تاریکی میں رکھا گیا۔ جو اس کے مذہب کی بناء پر جائز نہیں ۔ اب ایک صورت رہ گئی کہ پوری حدیث تمام اجزا کے ساتھ مکہ معظمہ میں بیان فرمائی ۔ تو اس میں کوئی استبعاد نہیں ۔ پیشگوئی بھی ہو گئی اور بیک ساعت تینوں محتمل صورتوں کو بیان کر کے مقام و مراد کو متعین بھی فرما دیا۔ اس میں غلطی کیا ہوئی؟ ہاں! تمہاری غلطی خود تمہاری عبارت سے ظاہر ہو گئی۔ انبیاء علیہم السلام کی ذات اس سے پاک ہے۔ ان کا خواب اور بیداری سب یکساں ہیں۔ ان پر شیطانی تسلط نہیں ہوتا خصوصاً سید المرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم جو کچھ حال میں احکام فرمائیں ۔ سب وحی الٰہی ہے۔ ممکن ہی نہیں کہ اس میں خطا ہو۔ پھر انبیاء کی پیشگوئی تو وعدۂ الٰہی ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”ولا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ“ ﴿ہرگز ایسا گمان بھی نہ کرو کہ خدا اپنے رسولوں سے وعدہ کر کے پورا نہیں کرے گا﴾ جو وعدہ کرے گا۔ ضرور پورا فرمائے گا۔ خدا

١٨

تعالیٰ نے اپنے ختم المرسلین ﷺ کو بشارت دی کہ آپ ہجرت کریں گے ہجرت ہو کے رہی۔ اگر یہ قادیانی بھی رسول تھا اور اس کو بھی خدائی بشا تمہارا دشمن آتھم پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ جہنم میں پہنچ جائے گا۔ تجھ کو تو آتھم زندہ کیوں رہا؟ اور بجائے اس کے مرزا کیوں دنیا میں رسوا کذاب رسول نہ تھا۔ خدا کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ وہ اپنے رسول سے جھو کے خلاف نہیں کرتا اور جب خلاف ہوا تو معلوم ہو گیا کہ اس کو خ ہوئی ۔ بلکہ اس کا استاد ابلیس اس کے کان میں پھونک گیا اور مسلمانو دعویٰ کر دیا کہ خدا کی طرف سے وحی آئی۔ غیرت الٰہی نے اس کو پکڑ کیا۔ اس آیت سے مرزا کی پہلے توجیہ بھی کہ کبھی خدا تعالیٰ وعدہ ٹال بھ اور ثابت ہو گیا کہ خدا نے اس سے کوئی وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔ شیطانی وہی اس کے وعدے کا ہوا۔ اچھی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا کی پیشگوئی اس کے مسلمان ہونے کی بھی دلیل نہ ہو سکی چہ جائیکہ اس سے نبوت کا اور ارتداد کا بین ثبوت ہوا۔

ابھی مرزا کے پاس کذاب وافتراء کو کمال نبوت ثابت کر ہیں ۔ مگر میں پہلے اس کی ایک اور پیشگوئی سنادوں۔ تو پھر اس کے بقیہ

مرزا کی دوسری پیش گوئی محمدی بیگم

مرزا جی کو تقریباً پچاس سال کی عمر میں عشق بازی سوجھی ۔ آگے ظاہر ہو گا اور یہ بوالہوسی ۔ معاذ اللہ ۔ : ”مرزا جی لکھتے ہیں (اخبار جو خط اس راقم کا چھپا ہے ۔ وہ ربانی اشارہ سے لکھا گیا۔ ایک مدت (مرزا احمد بیگ) نشان آسمانی کے طالب تھے۔ طریقہ اسلام سے انح مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو جانتے تھے اور مجھ سے کا کئی دفعہ ان کے لئے دعا کی گئی۔ دعا قبول ہو کر خدائے تعالیٰ نے یہ تق کا ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا ...... قریب تھا کہ ہم دیتے ۔ لیکن استخارہ کر لینا چاہا۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا ۔ آسمانی کی درخواست کا وقت آ پہنچا ۔ اس قادر حکیم نے مجھ سے فرمایا سلسلۂ جنبانی کر اور ان سے کہہ دے کہ تم سے تمام سلوک ومروت اسی

١٩

صفحہ ٢٠٩

تعالیٰ نے اپنے ختم المرسلین ﷺ کو بشارت دی کہ آپ ہجرت کریں گے۔ ہزار ہا مواقع آئے۔ مگر ہجرت ہو کے رہی۔ اگر یہ قادیانی بھی رسول تھا اور اس کو بھی خدائی بشارت ہوئی تھی کہ اے مرزا تمہارا دشمن آتھم پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ جہنم میں پہنچ جائے گا۔ تجھ کو اطمینان نصیب ہو جائے گا۔ تو آتھم زندہ کیوں رہا؟ اور بجائے اس کے مرزا کیوں دنیا میں رسوا و خوار ہوا؟ معلوم ہوا کہ یہ کذاب رسول نہ تھا۔ خدا کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ وہ اپنے رسول سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا۔ یا وعدہ کر کے خلاف نہیں کرتا اور جب خلاف ہوا تو معلوم ہو گیا کہ اس کو خدا کی طرف سے وحی نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کا استاد ابلیس اس کے کان میں پھونک گیا اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ دعویٰ کر دیا کہ خدا کی طرف سے وحی آئی۔ غیرت الٰہی نے اس کو پکڑ لیا اور دنیا کے سامنے ذلیل کیا۔ اس آیت سے مرزا کی یہ توجیہ بھی کہ کبھی خدا تعالیٰ وعدہ ٹال بھی دیتا ہے۔ ہباء منثور ہو گئی اور ثابت ہو گیا کہ خدا نے اس سے کوئی وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔ شیطانی وعدہ تھا۔ جو حال شیطان کا وہی اس کے وعدے کا ہوا۔ اچھی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا کی پیشگوئی معہ اس کے دلائل و توجیہ کے اس کے مسلمان ہونے کی بھی دلیل نہ ہوسکی چہ جائیکہ اس سے نبوت کا ثبوت ہو۔ ہاں اس کے کفر اور ارتداد کا بین ثبوت ہوا۔

ابھی مرزا کے پاس کذب وافتراء کو کمال نبوت ثابت کرنے کے لئے اور بھی دلائل ہیں۔ مگر میں پہلے اس کی ایک اور پیشگوئی سنادوں۔ تو پھر اس کے بقیہ دلائل کی طرف توجہ دوں گا۔

مرزا کی دوسری پیش گوئی محمدی بیگم

مرزا جی کو تقریباً پچاس سال کی عمر میں عشق بازی سوجھی۔ یہ عمر، پھر تندرستی کا وہ حال جو آگے ظاہر ہوگا اور یہ بوالہوسی۔ معاذ اللہ ۔: ”مرزاجی لکھتے ہیں (اخبار نور افشاں ١٠مئی ١٨٨٨ء) میں جو خط اس راقم کا چھپا ہے۔ وہ ربانی اشارہ سے لکھا گیا۔ ایک مدت سے قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نشان آسمانی کے طالب تھے۔ طریقہ اسلام سے انحراف رکھتے تھے۔...... یہ لوگ مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو جانتے تھے اور مجھ سے کوئی نشانی آسمانی مانگتے تھے۔ کئی دفعہ ان کے لئے دعا کی گئی۔ دعا قبول ہو کر خدائے تعالیٰ نے یہ تقریب پیدا کی کہ والد اس دختر کا ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا...... قریب تھا کہ ہم اس کی درخواست پر دستخط کر دیتے۔ لیکن استخارہ کر لینا چاہا۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا۔ گویا نشان آسمانی کی درخواست کا وقت آ پہنچا۔ اس قادر حکیم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی دختر کلاں کے لئے سلسلۂ جنبانی کر اور ان سے کہہ دے کہ تم سے تمام سلوک ومروت اسی شرط پر کیا جاوے گا۔ اگر نکاح

١٩

صفحہ ٢١١

سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا۔ جس دوسرے شخص سے وہ بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال اور ایسا ہی والد اس کے تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٦،١٥٨)

اس پورے مضمون کا ماحصل یہ ہوا کہ محمدی بیگم (جس کو مرزا چاہتا ہے۔ وہ مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی ہے) کا نکاح مرزا سے ہونا چاہئے۔ ورنہ خدائی فرمان ہے کہ جس روز احمد بیگ اپنی دختر کلاں محمدی بیگم کا نکاح کسی اور سے کر دے گا۔ تو خود مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم اس روز سے تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور ہونے والا شوہر نکاح کے دن سے اڑھائی برس کے اندر مر جائے گا اور اس لڑکی محمدی بیگم کا انجام بہت برا ہو گا۔ اس مضمون کو پڑھنے سے معلوم ہوا کہ انکار کی صورت میں یعنی مرزا قادیانی سے اگر محمدی بیگم کا نکاح نہ ہوا تو دو آدمی مر جائیں گے۔ مگر ایک ساتھ نہیں۔ ایک پہلے مرے گا پھر دوسرا۔ پہلے محمدی بیگم کا ہونے والا شوہر مرے گا۔ پھر محمدی بیگم کا باپ مرزا محمد بیگ مرے گا۔

خلاصہ پیشگوئی کا یہ ہوا کہ اگر مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوا تو دو آدمی مر جائیں گے۔ پہلے اس کا شوہر، پھر اس کا باپ۔ اس پیشگوئی کے جھوٹے ہونے کی ایک صورت تو یہ ہوئی کہ میعاد کے اندر کوئی نہ مرے ۔ دوسری صورت یہ ہو کہ ترتیب الٹ جائے۔ پہلے باپ مرے بعد میں شوہر۔ یا ایک میعاد کے اندر مرے۔ دوسرا بعد میعاد۔ تو ان تینوں صورتوں میں پیشگوئی جھوٹی ہوئی اور اس پیشگوئی میں تیسری صورت ہوئی۔ لہٰذا یہ پیشگوئی غلط ہوئی۔

ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ مرزا کا دعویٰ ہے کہ احمد بیگ میری پیشگوئی کے مطابق مر گیا۔ میں کہتا ہوں بالکل جھوٹ۔ ایک وجہ تو اس کے جھوٹ کی معلوم ہو گئی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صاحب زبان پر روشن ہے کہ اگر کوئی کہے کہ فلاں چیز ڈھائی روپیہ کے اندر ملے گی اور فلاں چیز تین روپیہ کے اندر۔ تو یہ ڈھائی تین کا مقابلہ بتا رہا ہے کہ دوسری چیز اڑھائی کے اندر نہیں مل سکتی۔ اس صورت میں الفاظ پیش گوئی کا مطلب یہ ہوا کہ والد محمدی بیگم مرزا احمد بیگ دو سال چھ ماہ بعد ساتویں یا آٹھویں یا نویں یا دسویں یا گیارھویں مہینے مرے گا۔ مگر ہوا یہ کہ نکاح کے چھٹے مہینے مر گیا۔ لہٰذا اس جزو میں بھی پیشگوئی صحیح نہ اتری۔ بہر صورت ١٨٨٨ء سے ١٨٩١ء تک ہزاروں تدبیریں کی گئیں۔ مرزا جی نے تمام اعزاء و اقرباء سے زور دلوایا۔ مگر کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا اور محمدی بیگم کی بات چیت سلطان محمد بیگ سے پختہ ہو گئی۔ یہاں مرزا کے وہ خطوط بھی قابل لحاظ ہیں۔ جو مرزا نے پیشگوئی سے ناامید ہو کر لڑکی کے باپ اور بااثر اعزاء کے پاس لکھے۔

٢٠

ہزاروں منت و سماجت کی۔ مال و دولت کی طمع دِلا لے کر غیرت دلائی۔ احمد بیگ کے رشتہ کی جتنی لق کی دھمکی دی۔ اپنے بیٹے کو عاق کیا۔ پہلی بیوی کو طلا مرزا جی کے اس خط کے چند جملے بطو انتہائی لجاجت کے ساتھ احمد بیگ کو لکھے۔ وہ یہ ہ خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ اعز درجہ موجب رحمت ہو گا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہ ہوگی۔ آپ کو معلو مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس ا ہے۔ ہزاروں پادری منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹ میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے بعد پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے معاون بنیں تا کہ

خدا غریق رحمت کرے احمد بیگ کو بھی نہ سنی اور کسی طرح مرتد کو اپنی لڑکی دینا گوار اس کے قدم ڈگمگا نہ سکا۔ اس خط سے قارئین کو تھا۔ اگر خدا کی طرف سے سمجھتا تو یقین رکھتا کہ پ کی کیا حاجت تھی؟ مگر وہ تو اپنی حقیقت جانتا تھا کہ پیشگوئی کر دی۔ مگر احمد بیگ نہیں مانے اور کہاں؟ اور کیسی ذلت و رسوائی؟ پھر ایک خط ا غلام احمد کذاب کے لڑکے فضل احمد کو بیاہی ہوئی پہنچی ہے کہ چند روز تک مرزا احمد بیگ کی لڑکی ک ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناتے توڑ دل سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ ک سکتی ہو اس کو سمجھا دو۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج ہ ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احم

صفحہ ٢١١

ہزاروں منت وسماجت کی۔ مال ودولت کی طمع دلائی۔ ناتہ رشتہ توڑنے کی دھمکی دی۔ اسلام کا نام لے کر غیرت دلائی۔ احمد بیگ کے رشتہ کی جتنی لڑکیاں اس کے رشتہ داروں کے پاس تھی۔ طلاق کی دھمکی دی۔ اپنے بیٹے کو عاق کیا۔ پہلی بیوی کو طلاق دے دی۔

مرزا جی کے اس خط کے چند جملے بطور تفنن طبع سن لیجئے۔ جو اس نے حالت یاس میں انتہائی لجاجت کے ساتھ احمد بیگ کو لکھے۔ وہ یہ ہیں:۔ ”اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں۔ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب رحمت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں ۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہ ہوگی ۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔ ہزاروں پادری منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ ہزار ہا مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے معاون بنیں تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔“

(کلمہ فضل رحمانی)

خدا غریق رحمت کرے احمد بیگ کو۔ اس نے اپنے ایمان کے مقابلہ میں مرزا کی ایک بھی نہ سنی اور کسی طرح مرتد کو اپنی لڑکی دینا گوارہ نہ کیا۔ نہ دولت کی طمع نہ موت کا خوف ۔ کوئی بھی اس کے قدم ڈگمگا نہ سکا۔ اس خط سے قارئین کو پورا اندازہ ہوگا کہ اس پیشگوئی کو خود مرزا کیا سمجھ رہا تھا۔ اگر خدا کی طرف سے سمجھتا تو یقین رکھتا کہ ہو کر رہے گی۔ اس میں ہزار ذلت کی، منت سماجت کی کیا حاجت تھی؟ مگر وہ تو اپنی حقیقت جانتا تھا اور اپنے اثرات پر نازاں تھا۔ ہونے والی بات سمجھ کر پیشگوئی کر دی۔ مگر احمد بیگ نہیں مانے اور عقد کی تاریخ مرزا کے کے سر پر آگئی تو عاشق کو صبر کہاں؟ اور کیسی ذلت ورسوائی؟ پھر ایک خط احمد بیگ کی بہن کو لکھا جس کی لڑکی عزت بی بی مرزا غلام احمد کذاب کے لڑکے فضل احمد کو بیاہی ہوئی تھی۔ سنئے! ”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناتے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں مولوی نور الدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور

٢١

صفحہ ٢١٣

اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید کرتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا جائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا نکاح غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے ، عزت بی بی کو تین طلاقیں ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا نکاح کسی دوسرے سے ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرعی طلاق ہے۔ اور مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا۔ پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہتا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی ۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدائے تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔"

(راقم مرزا غلام احمد از لودہانہ اقبال گنج ٢ مئی ١٨٩١ء، مندرجہ کلمہ فضل رحمانی)

شاباش! کیا شان نبوت ہے۔ کیا کیا ہتھکنڈے ہیں۔ سب جتن کر ڈالے۔ مگر افسوس! جو ناکامی بے چارے کی تقدیر میں لکھی تھی، غالب رہی۔ نہ فضل احمد نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور نہ محمدی بیگم کا نکاح غیر سے رکا۔ مگر مصیبت آئی اس بڑھیا جنتی مرزا قادیانی کی پہلی بیوی فضل احمد کی ماں پر۔ کیونکہ اس نے اپنے لڑکے کا ساتھ دیا۔ کیونکہ سوت کی بھیانک تصویر نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فضل احمد عاق کیا گیا اور دکھ میں اس کی ماں جنت سے نکالی گئی۔ اس کو بھی تین طلاقیں دے کر علیحدہ کر دیا گیا۔ اس خبیث کذاب مرزا نے ذرا سا خدا کا بھی خیال نہ کیا۔ ابھی تو لوگوں کو سنا چکا تھا کہ میرے اوپر وحی آئی ہے: ”یٰاٰدم اسکن انت وزوجك الجنۃ۔ (تذکرہ ص ٧٠ طبع سوم) اے مرزا تو اور تیری بیوی ، فضل کی ماں ، جنتی ہے۔“ کچھ دیر بھی نہ لگی کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت سے باہر کر دیا۔ اس کو مرزا کی نافرمانی کی وجہ سے ہی طلاق دی گئی اور نبی کا نافرمان کبھی جنتی نہیں ہو سکتا اور مرزا نے دعویٰ کیا کہ وحی میں اس کو جنتی بتایا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا کا دعویٰ نبوت باطل اور اس کا کذاب ہونا ثابت۔ مرزا کی دنیا ماتم کدہ بنی ہوئی ہے۔ مدت کی غمخوار بیوی گئی۔ ہونہار بیٹا ہاتھ سے گیا۔ جس امید پر زندگی کے دن پورے کر رہے تھے۔ وہ خاک میں ملی۔

٢٢

اب تو مرزا کی جان پر بن آئی۔ برداشت چوٹ جو ٹھہری۔ ادھر اس کے خلاف منصوبہ۔ شادی پائی سنبھالی۔ خود مرزا جی اپنا حال کہتے ہیں۔ (ازالۃ اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب پیشگوئی معلوم ابھی ١٦؍ اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد کہ قریب پر موت کی نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہوا والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا نہ سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الممترین۔ یہ بات میرے رب کی طرف سے سچ ہے

ہائے عشق تیرا سہارا۔ جاں کندنی کا وقت دکھائی دے رہی ہے۔ مگر آہ رٹ ہے تو اسی کی۔ خیال وقت آ گیا اور کان میں کہہ گیا۔ گھبراتا کیوں ہے؟ آخر ہے؟ آخر دنیا کی ذلتیں کون جھیلے گا؟ اتنا سننا تھا کہ مرزا لئے انتہائی منحوس ثابت ہوا۔ محمدی بیگم کا عقد سلطان محمد مرزا کے دل پر کیا گزری وہی جانے۔ مگر مخالفین کے حملے اور جشن تو علیحدہ ہی رہے۔ معتقدین کیسا خدا کا وعدہ تھا؟ وعدہ کیا آپ سے اور دلا دیا مریدوں کو مرزا پر کچھ بھی ترس نہ آیا۔ باوجود یکہ اس دوہری فکر تھی۔ ایک گئی تو گئی یہ دوسری جماعت تو نہ

تھا بڑا سیانا: جھٹ ایک الہام گھڑا اور بگڑے ہوئے مریدوں ص ٢٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) ”خدائے تعالیٰ ہر طرح ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو دور کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ یہ الہام بڑا کیونکہ اس کی امید تا زیست رہ سکتی ہے۔

مگر بتا دیا یقینی در یقینی کہ آج نہ سہی، بیوہ ہو کر ضرور آئے

٢٣

صفحہ ٢١٤

اب تو مرزا کی جان پر بن آئی۔ برداشت نہ کر سکا اور کیسے برداشت کرتا۔ عشق کی چوٹ جو ٹھہری۔ ادھر اس کے خلاف منصوبہ۔ شادی کی تیاری ہونے لگی۔ ادھر عاشق ناکام نے چار پائی سنبھالی۔ خود مرزا جی اپنا حال کہتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، ٣٠٦) ”اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب پیشگوئی معلوم ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦ اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب بہ موت کی نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہ سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا: ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ۔ یہ بات میرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“

ہائے عشق تیرا سہارا۔ جاں کندنی کا وقت ہے۔ وصیت ہوچکی۔ موت سر پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر آہ رٹ ہے تو اسی کی۔ خیال ہے تو اسی کا۔ مگر واہ رے استاد خوب مرتے وقت آ گیا اور کان میں کہہ گیا۔ گھبراتا کیوں ہے؟ ہوگا وہی جو پہلے بتا چکا تو سخت جان ابھی مرتا ہے؟ آخر دنیا کی ذلتیں کون جھیلے گا؟ اتنا سننا تھا کہ مرزا نے سنبھالا لیا۔ مگر افسوس! ١٨٩٢ء مرزا کے لئے انتہائی منحوس ثابت ہوا۔ محمدی بیگم کا عقد سلطان محمد بیگ سے ہو گیا۔

مرزا کے دل پر کیا گزری وہی جانے۔ مگر یہ کیا تھوڑی مصیبت بالائے مصیبت تھی۔ مخالفین کے حملے اور جشن تو علیحدہ ہی رہے۔ معتقدین نے ناطقہ بند کر دیا۔ حضور کیسی پیشگوئی تھی؟ کیسا خدا کا وعدہ تھا؟ وعدہ کیا آپ سے اور دلا دیا سلطان محمد کو۔ یہ کیسا نشان آسمانی تھا؟ ان مریدوں کو مرزا پر کچھ بھی ترس نہ آیا۔ باوجودیکہ اس کا اترا ہوا چہرہ ان کے سامنے تھا۔ مگر اسے تو دوہری فکر تھی۔ ایک کٹی تو کٹی یہ دوسری جماعت تو نہ جائے۔ ورنہ سارا گھروندہ ٹوٹ جائے گا۔ تھا بڑا سیانا جھٹ ایک الہام گھڑا اور بگڑے ہوئے مریدین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ (ازالہ اوہام ص٣٩٦، خزائن ج ٣ ص٣٠٥) ”خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے ہٹادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ یہ الہام بڑا زور دار نکالا۔

کیونکہ اس کی امید تازیست رہ سکتی ہے۔ بیوہ کے ساتھ نکاح کی کیا میعاد ہو سکتی ہے۔ مگر بتا دیا یقینی در یقینی کہ آج نہ سہی ، بیوہ ہو کر ضرور آئے گی۔ خدائے تعالیٰ اس کو ہر طرح ہم کو

٢٣

صفحہ ٢١٥

دلائے گا۔ ہر رکاوٹ کو دور کرے گا۔ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ تاکید در تاکید سے مریدین کے آنسو پونچھ گئے۔ کیونکہ ابھی تو اس کے بیوہ ہونے کی میعاد باقی تھی۔ یعنی ڈھائی برس یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں کہ خدا فرمائے اور وہ بھی چار تاکید کے ساتھ۔ یقین ہو ہی گیا۔

مگر جب ڈھائی سال گزر گئے۔ تین سال گزر گئے اور سلطان محمد بیگ بدستور زمین پر چلتا پھرتا دکھائی پڑتا تھا۔ محمدی بیگم راحت کی زندگی گزار رہی ہے۔ یہ جانکاہ مصیبت؟ نہ پوچھئے مرزائیوں کا کیا حال تھا اور خود مرزا کے الہام کی کیا درگت ہو رہی تھی۔ مگر پھر بھی یہ سب ہیچ ہیں اور اس مجسمۂ تصور کے سامنے جو مرزا جی کی آنکھوں میں ناچ رہا تھا کہ خفیہ کی خبر پا کر جان میں جان آگئی تھی۔ اب وہ بھی گئی۔ میعاد بیوہ کی ختم ہو گئی۔

ادھر مریدین کا گھر سے نکلنا دوبھر ہو گیا۔ جدھر نکلے پیش گوئی یاد دلائی گئی۔ کوئی دجال قادیانی کا نعرہ لگاتا۔ کوئی کذاب کہتا۔ پھر مرزا قادیانی کی جان سے لگ گئے۔ بہت سے تائب ہو کر اپنے پرانے اسلام پر قائم ہو گئے۔ یہ اجڑتا ہوا بازار دیکھ کر پھر مرزا نے کروٹ لی اور بولا۔ ’’اس پیشگوئی کا ایک جز یعنی مرزا احمد بیگ کا مرنا، وہ تو پورا ہو گیا۔ رہا دوسرا جز یعنی اس کے داماد کا مرنا اور بیوہ کا اس کے پاس آنا۔ تو اس کے متعلق (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پڑھو۔ یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہ رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔ براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام جو براہین کے ص ٤٩٦ میں مذکور ہے: ’’یٰا ادم اسكن انت وزوجك الجنة يامريم اسكن انت وزوجك الجنة يااحمد اسكن انت وزوجك الجنة‘‘ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوج کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں میرا نام مریم رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ٢٤

ابتلاء پیش آیا تھا۔ اور تیسری زوجہ جس کا انتظار ہے اس احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور ثنا جس کا سر اس وقت خدائے تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ہے کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اسی پیشگوئی کی طرف یہ الہام تو ”کماً وکیفاً“ تمام سابق الہاموں مات کر دیا۔ کیوں نہیں۔ انسان تو ہیں۔ پوری قوت سے محمد بیگ ضرور ضرور میعاد کے اندر مر جائے گا۔ مگر ایک یہ کہ اگر یہ پیشگوئی صحیح نہ ہوئی تو مرزا قادیانی غلام احمد نہیں اسے اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے۔ مگر یہ امر اس کے مریدین نے اس کو بھی نہ مانا اور عذر بھی معقول کو صحیح مان لیں؟ اگر ٥ فیصدی بھی صحیح اترتی تو اس کا اثر تک سراپا کذب ہی کذب تھا۔ ایک بات اس کی مانیں بھگتان تو کسی جنم میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور باقی مریدین مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مرزا نے اپنی زندگی میں نہ ہو تو شیطان سے بدتر ہے۔ اس پیشگوئی کی تاکید پیشگوئی ہے۔ خدا کی وحی بتاتے ہیں اور اتنی تاکید کے اس کا بھی یقین کر لیجئے کہ تیس دجالوں میں سے ایک یہ ہے۔ ہاں وہ تاکیدی نمبر گنئے۔۔۔۔۔۔۔١۔ یہ پیشگوئی انسان کاروبار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔٣۔ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ ٤۔۔۔۔۔۔کسی مفتری ہے۔٦۔۔۔۔۔۔تین بیواؤں کے لئے وحی آئی ہے۔٧۔۔۔۔۔۔ اس تاکیدی الہام میں دو باتوں کا انتظار چاہئے۔ ایک تو سلطان محمد بیگ کے مرنے کا۔ دوسرا تیسری بیوی ہونے کا۔ اور اس وحی میں یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جوانی میں مریم اور آخری دور بڑھاپے میں احمد ہے۔ آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ) پر ہے۔: ’’میں بارہا ٢٥

صفحہ ٢١٥

ابتلاء پیش آیا تھا۔ اور تیسری زوجہ جس کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے جس کا سر اس وقت خدائے تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔‘‘

یہ الہام تو ”کماً وکیفاً“ تمام سابق الہاموں سے بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گرگٹ کو مات کر دیا۔ کیوں نہیں۔ انسان تو ہیں۔ پوری قوت سے یقین دلایا کہ احمد بیگ مرحوم کا داماد سلطان محمد بیگ ضرور ضرور میعاد کے اندر مر جائے گا۔ مگر ایک پیشگوئی اس میں بہت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ وہ یہ کہ اگر یہ پیشگوئی صحیح نہ ہوئی تو مرزا قادیانی غلام احمد ہر ایک بد سے بدتر ٹھہرے گا۔

اسے اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے۔ مگر یہ امید عبث۔ مرزا نے ہزارہا اس کو الہام کہا۔ مگر اس کے مریدین نے اس کو بھی نہ مانا اور عذر بھی معقول ہے کہ مرزا کی کون سی بات صحیح ہوئی جو اس کو صحیح مان لیں؟ اگر ٥ فیصدی بھی صحیح اترتی تو اس کا اسی پانچ میں شمار کر لیتے۔ مگر وہ تو سر سے ناخن پا تک سراپا کذب ہی کذب تھا۔ ایک بات اس کی مان لی کہ اس کی نبوت کا اقرار کر لیا۔ اس کا بھگتان تو کسی جنم میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور باتوں کی طرف کون نظر اٹھائے۔ خیر ان کے مریدین مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مرزا نے اپنی زندگی میں ایک صحیح بات کہی ہے کہ میری پیشگوئی پوری نہ ہو تو شیطان سے بدتر ہے۔ اس پیشگوئی کی تاکید کو گن لیجئے اور پھر اندازہ لگائیے کہ کتنی پکی پیشگوئی ہے۔ خدا کی وحی بتاتے ہیں اور اتنی تاکید کے ساتھ۔ پھر بھی پوری نہ ہو تو از روئے دلیل اس کا بھی یقین کر لیجئے کہ تیس دجالوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ جس کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے۔ ہاں وہ تاکیدی نمبر گنئے۔ ١..... یہ پیشگوئی انسان کا افتراء نہیں۔ ٢..... خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ ٣..... خدا کا سچا وعدہ ہے۔ ٤..... کسی صورت ٹل نہیں سکتا۔ ٥..... ذوالجلال کا ارادہ ہے۔ ٦..... تین بیویوں کے لئے وحی آئی ہے۔ ٧..... یہ خدا کا بھید ہے، جو اس پر ظاہر ہوا۔

اس تاکیدی الہام میں دو باتوں کا انتظار ہے۔ جسے بہت اچھی طرح محفوظ رکھنا چاہئے۔ ایک تو سلطان محمد بیگ کے مرنے کا۔ دوسرا محمدی بیگم کے بیوہ ہو کر غلام احمد قادیانی کی تیسری بیوی ہونے کا۔

اور اس وحی میں یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مرزا کا نام ابتدائی بچپن میں آدم تھا اور جوانی میں مریم اور آخری دور بڑھاپے میں احمد ہے۔ اس کے ساتھ پیشگوئی بھی پڑھ لیجئے جو (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ) پر ہے۔ : ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی

٢٥

صفحہ ٢١٧

تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں ۔ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی ۔“ لیجئے ! یہ تو کہنے کا نہ رہا کہ مرزا جی دوسروں کے مرنے کی پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ اب تو بے چارے اپنی جان سے تنگ آ کر یہ کہہ بھاگے کہ مرزا کو اس وقت کذاب دجال کہنا جب اس پیشگوئی سے پہلے مر جاتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پیشگوئی پوری ہونے سے پہلے دجال قادیانی مر گیا۔ کیا قادیانی جماعت کو مرزا کے کذاب ہونے میں اب بھی شبہ ہے؟ نہ معلوم ان لوگوں نے مرزا کو کیا مانا اور کیسا مانا۔ نبی ماننا جیسا کہ ان کی کتابوں سے سمجھا جاتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ نبی ماننے کے معنی تو یہ تھے کہ اس کے ہر حکم کو سر آنکھوں پر لیا جائے۔ اس کے حکموں کی تعمیل کی جائے ۔ مگر کتنا غضب ہے کہ وہ بے چارہ کہے کہ بجائے غلام احمد کے کذاب کہو اور یہ لوگ اس کی مخالفت میں نبی کی رٹ لگائے جاتے ہیں۔ خیر اس دوسری پیشگوئی سے آٹھویں تاکید شمار میں رہے کہ موت سلطان محمد بیگ تقدیر مبرم ہے۔ جس میں کسی قسم کا تغیر وتبدل ممکن نہیں ۔ اگر بدل جائے تو مرزا کذاب ہے۔ مفتری ہے۔ خبیث ہے۔

ان تمام تاکیدوں کو ذہن میں رکھئے کہ کیا اب پیشگوئی ٹل سکتی ہے؟ جس میں بار بار کہا جائے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے۔ ٹل نہیں سکتا۔ خدا نے کہا کہ یہ میرا وعدہ ہے۔ جو ٹل نہیں سکتا۔ وحی کے الفاظ یہ ہیں : ” لا یرد وقت العذاب عن القوم المجرمین “ ان پر سے عذاب کا وقت ہرگز نہیں ٹالا جاسکتا۔۔ اب جبکہ میعاد ختم ہو گئی اور سلطان محمد بیگ مع محمدی بیگم عیش وراحت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا ہوا ہوگا ؟ کتوں کو ایمان نصیب ہوا؟ مرزا پر نفرین کرتے لعنت بھیجتے ہوئے اس کے حلقہ تزویر سے باہر آتے اور شاہراہ اسلام پر لگتے اور قریب تھا کہ اس کے بازار کی پوری رونق ختم ہو جائے ۔ تب اس نے وہی پرانے حربے پھر استعمال کئے اور بات بنائی کہ کیا کروں۔ اس کا داماد ، خسر کی موت سے بہت گھبرا گیا۔ ڈر گیا۔ اس لئے خدا نے کچھ دنوں کے لئے اس کی موت کو ٹال دیا۔ دیکھو ( انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٩) ”رہا اس کا داماد سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ گویا قبل از موت مر گیا اور اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ جب ایک ہی پیشگوئی دو شخص کی موت کی خبر دیوے اور ایک ان میں سے مر جائے تو دوسرے پر اس موت کا طبعاً وفطرتاً اثر پڑ جاتا ہے۔ سو اس جگہ ایسا ہی ہوا۔ لہذا سنت اللہ کے مطابق جس کا ذکر ہم بار ہا پڑھ چکے ہیں۔ اس وعید کی میعاد میں تخلف ہو گیا ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧) پر لکھا کہ : ” اس کے داماد کی موت وہ الہامی ٢٦

شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا۔“ دیکھا آپ نے کہاں سلطان محمد بیگ کی موت تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی صورت ٹل نہیں رہے گا۔ وہ آسمانی منکوحہ ہے۔ مرزا وحی سنا چکا تھا۔ زوجنکھا کہ محمدی بیگم سے کر دیا۔ ان تمام باتوں کے بعد جب وقت ختم ہو گیا بتا رہا ہے کہ اس کا داماد خوف زدہ ہو گیا۔ اس لئے اس کو موت تھوپتا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر قائم ہے۔ معاذ اللہ !

او خبیثو ! سنت اللہ تو یہ ہے جو قرآن مجید میں لکھا ہے: وعده رسله “ ﴿ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ کر کرتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس خبیث کذاب نے وعدہ خلافی کو سخت انسان بھی اپنے لئے عیب سمجھتا ہے۔ : ”سبحن الله عما یصفون یہاں مرزا ایک خاص الہام اسی صفحہ پر لکھتا ہے : ”أیتها البلاء على عقبك. یعنی اے عورت ( عورت سے مراد احمد بیگ ہے ) تو بہ تو بہ تیری دختر اور دختر دختر پر بلا نازل ہونے والی ہے بیگ فوت ہو گیا اور بنت العنت کی بلا باقی ہے۔ جس کو خدا نے تعالیٰ ص ٣،٤، خزائن ج ١١ ص ٣١٤) ”الهام توبي توبي فان البلاء ہوا تھا۔ اب اس کذاب کی کذب بیانی ملاحظہ ہو۔ نکاح کا خیال ١٨٨٨ء شادی ١٨٩٢ء میں ہوئی اور ان مظلومین پر تو بی تو بی کا ١٨٨٦ء اس تذکرہ بھی نہ تھا اور وہ بھی صیغہ خطاب ساتھ اس عربی پیشگوئی کا رٹ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیری پیٹھ پر ہے۔ یا تیرے پیچھے ہے۔ مرزا اس بیوی کی ماں مراد لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی لڑکی اور لڑکی ہے ۔ “ پھر لکھتا ہے ” سو ایک بلا ٹل گئی کہ احمد بیگ مر گیا۔“ دو کا مور د بھی بتایا۔ ایک والدہ زوجہ احمد بیگ کی لڑکی اور دوسرے لڑکی ۔ پھر لکھتا ہے کہ : ” ایک بلا نازل ہو گئی ۔ یعنی لڑکی مرگئی ۔“ جو ہے اور مرنے والے کا نام بتایا احمد بیگ ۔ جو نہ لڑکی ہے نہ اس کا لڑکا متعلق سوال کرتا ہے کہ لوگ مجھے مجنوں کیوں کہتے ہیں۔ بجائے اس کرتا تو ہر پیش گوئی صادق آتی اور اچھی خاصی نبوت جگمگا اٹھتی اور ٢٧

صفحہ ٢١٧

شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا۔" دیکھا آپ نے کہاں تو وہ زور شور کہ ربانی وحی ہے۔ سلطان محمد بیگ کی موت تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی صورت ٹل نہیں سکتی۔ خدا کا وعدہ ہے۔ پورا ہو کر رہے گا۔ وہ آسمانی منکوحہ ہے۔ مرزا وحی سنا چکا تھا۔ زوجنکھا کہ خدائے تعالیٰ نے مرزا کا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ ان تمام باتوں کے بعد جب وقت ختم ہو گیا۔ تو خبیث اس حتمی وعدہ کو شرطی بنا رہا ہے کہ اس کا داماد خوف زدہ ہو گیا۔ اس لئے اس کو موت نہیں آئی اور پھر یہ الزام خدا پر تھوپتا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر قائم ہے۔ معاذ اللہ!

او خبیثو! سنت اللہ تو یہ ہے جو قرآن مجید میں لکھا ہے: ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ ﴿خدائے تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ کر کے کبھی خلاف نہیں کرتا﴾ جو وعدہ کرتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس خبیث کذاب نے وعدہ خلافی کو سنت اللہ بنادیا۔ جسے ایک معمولی انسان بھی اپنے لئے عیب سمجھتا ہے۔ ”سبحن الله عما يصفون“

یہاں مرزا ایک خاص الہام اسی صفحہ پر لکھتا ہے: ”ايتها المراة توبى توبى فان البلاء على عقبك. یعنی اے عورت (عورت سے مراد احمد بیگ ہوشیار پوری کی بیوی کی والدہ ہے) توبہ توبہ تیری دختر اور دختر دختر پر بلا نازل ہونے والی ہے۔ سو ایک بلا تو نازل ہوگئی کہ احمد بیگ فوت ہو گیا اور بنت العقب کی بلا باقی ہے۔ جس کو خدائے تعالیٰ نہیں چھوڑے گا۔“ (مکتوب احمد ص ٢١٤، خزائن ج: ١١ ص ٢١٤) ”الهام توبى توبى فان البلاء على عقبك“ ١٨٨٦ء میں ہوا تھا۔ اب اس کذاب کی کذب بیانی ملاحظہ ہو۔ نکاح کا خیال ١٨٨٨ء میں پیدا ہوا۔ محمدی بیگم کی شادی ١٨٩٢ء میں ہوئی اور ان مظلومین پر توبی توبی کا الہام ١٨٨٦ء اس وقت آیا جب اس نکاح کا کوئی تذکرہ بھی نہ تھا اور وہ بھی صیغہ خطاب ساتھ اس عربی پیشگوئی کا صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ”اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیری پیٹھ پر ہے۔ یا تیرے پیچھے ہے۔ مرزا اس عورت سے مرزا احمد بیگ کی بیوی کی ماں مراد لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر بلا نازل ہونے والی ہے۔“ پھر لکھتا ہے ”سو ایک بلا ٹل گئی کہ احمد بیگ مر گیا۔“ دو بلاؤں کے متعلق بتایا اور دونوں کا مورد بھی بتایا۔ ایک والدہ زوجہ احمد بیگ کی لڑکی اور دوسرے والدہ زوجہ احمد بیگ کی لڑکی کی لڑکی۔ پھر لکھتا ہے کہ: ”ایک بلا نازل ہوگئی۔ یعنی لڑکی مرگئی۔“ جبکہ لڑکی کی لڑکی پر اب آنے والی ہے اور مرنے والے کا نام بتایا احمد بیگ۔ جو نہ لڑکی ہے نہ اس کا لڑکا۔ یہ ہے مرزا کا جنوں جس کے متعلق سوال کرتا ہے کہ لوگ مجھے مجنوں کیوں کہتے ہیں۔ بجائے اس کے اگر مرزا قادیانی یہ تاویل کرتا تو ہر پیش گوئی صادق آتی اور اچھی خاصی نبوت جگمگا اٹھتی اور کہیں سے کوئی پیشگوئی اکھڑنے

٢٧

صفحہ ٢١٨

نہ پاتی چاہے وہ اپنی پیشگوئی میں بجائے اتنے ابہام کے تاریخ اور دن اور ساعت کی بھی قید لگا دیتے ۔ جب بھی ڈگری اس کی مرزا کے ساتھ ہوتی اور قاعدہ کے لحاظ سے غلط بھی نہیں ۔ بلکہ جتنی دور از کار تحریف قرآن کی تاویل نام رکھ کر کی ہے۔ اس سے یہ کہیں قریب فہم ہے۔ سنو! تاویل یہ ہے کہ پیشگوئی مرزا احمد بیگ، تین سال کے اندر مر جائے گا۔ اس سے اہل محلہ احمد بیگ یا اہل شہر احمد بیگ مراد ہیں۔ کیا ایک آدمی بھی تین سال کے اندر اس محلہ میں نہ مرا ہوگا۔ بس پیشگوئی پوری ہو گئی۔ مگر یہ بے چارے کو نہ سوجھی اور وہ سوجھی جس سے دنیا بھر میں ذلت خواری ہوئی۔ ہر عقل سلیم رکھنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا مورد وہ عورت نہیں اور نہ قاعدہ کے لحاظ سے تخاطب صحیح ہو سکتا ہے۔ اس جملہ کے مخاطب کا بوقت الہام ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اب اس کی اصل مجھ سے سنئے۔ اس میں تو شک نہیں کہ یہ الہام مرزا پر ہوا ۔ مگر مرزا قادیانی اس کے معنی نہ سمجھ سکا۔ چنانچہ اس کا اعتراف ازالہ اوہام میں مرزا نے خود کیا ہے اور سبق کی عبارتوں سے آپ نے بھی جانا تو اس الہام کے معنی بھی اگر اس کی سمجھ میں نہیں آتے تو کیا جائے ۔ تعجب ہے یا سمجھا مگر اظہار مناسب نہ جانا ہو۔ اس کی واقعی صورت یہ ہے کہ مرزا پر تین دور گزرے۔ ایک بچپنا کا جس میں اس کا نام آدم تھا۔ دوسرا زمانہ شباب کا ، جس میں اس کا نام مریم تھا۔ تیسرا اور آخری دور جس میں اس کا نام احمد تھا۔

پھر سید علی گڑھی سے دب کر غلام احمد ہوا۔ یہ نہیں بتا سکتا کہ غلام کے یہاں پر لغوی معنی ہیں یا اصطلاحی؟ اگر انہوں نے کہیں بیان کئے ہوں تو میری نگاہ سے نہیں گزرا۔ اس پچھلے دور کا تخاطب وہ ہے۔ جو الہامی کتاب (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٧، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں درج ہے۔ ”یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة“ اس کی پوری وضاحت مرزا کے ان اشعار سے معلوم کیجئے۔

آں خدائے قادر ورب العباد در براہِیں نام من مریم نہاد
مدتے بودم برنگ مریمی دست نادیدہ مرا در ہمدمی
بچو بکرے یافتم نشو نما از رفیق و ہمسرے نا آشنا
بعد ازاں آں قادر ورب مجید روحِ عیسیٰ اندراں مریم دمید
پس ز عیسیٰ رنگ دیگر شد عیاں زاد آں مریم مسیح ایں زماں
ایں ہمہ گفت است رب العالمیں گرنمی دانی براہِیں را ببیں

(حقیقت الوحی ص ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٢)

٢٨

صفحہ ٢١٩

ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ خدائے قدوس نے کتاب براہین احمدیہ میں مرزا غلام احمد کا نام مریم رکھا۔ ایک زمانہ تک وہ مریم رنگ میں رہا۔ کسی نے کوئی دست درازی نہ کی۔ بلکہ باکرہ لڑکیوں کی طرح پرورش ہوتی رہی۔ اس وقت کوئی آشنا تھا نہ حق کا راستہ معلوم تھا۔

اس کے بعد خدا نے اسی مریم میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونک دی۔ اس پھونک سے دوسرا رنگ پیدا ہو گیا (حاملہ ہو گیا) تو اس مریم (غلام احمد) نے اس زمانے کے مسیح موعود (غلام احمد) کو جنم دیا۔ اگر اس میں سننے والوں کو کچھ شک یا تعجب معلوم ہو تو براہین احمدیہ دیکھیں جس میں یہ باتیں خدا کی کہی ہوئی ہیں۔ مرزا نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ اب تو سامعین کو یقین کرنا چاہئے کہ ایک دور میں مریم تھے اور صرف یہی نہیں کہ تانیث معنوی تھی۔ بلکہ حقیقی وہ بھی باردار رنگ بھی دیگر ہو گیا تھا۔ زچگی کے دن بھی خیریت سے گزرے۔ بہر صورت کوئی پہلو ثبوت نسائیت میں اشتباہ ہی نہیں۔ اسی دور میں جب انہوں نے وحی ربانی کا دعویٰ کیا اور حمل نفخ سے ثابت کیا۔ تو یہ الہام ہوا ”یاایتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك “ اے عورت توبہ کر توبہ۔ کیونکہ بلا تیرے پیچھے ہے۔ اگر توبہ نہ کرے گی تو ذلیل ہوگی۔ رسوا ہوگی۔ اور یہی ہوا بھی۔ کیونکہ اس نے توبہ تو کی نہیں۔ بلکہ مریم سے ابن مریم بنا۔ مسیح موعود بنا۔ نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا۔ تب اس پر بلا نازل ہوئی۔ بیوی چھوٹی۔ بڑھاپے کا سہارا چھوٹا۔ ایک ہی لونڈا تھا۔ وہاں سے بھی راندہ درگاہ ہوا۔ مناظرہ میں شکست کھائی۔ پیشگوئی میں جھوٹا ہوا۔ دیکھو اب یہ الہام کہاں کا تھا۔ لگایا اس نے کہاں۔ بھلا جوڑ کھاتا تو کیونکر۔ جب سرکشی اس کی بڑھتی چلی گئی۔ تو پھر الہام ہوا جو براہین احمدیہ میں لکھا ہوا ہے۔ ”ازیب من یریب “ اے مرزا اگر تو خاتم النبیین میں شک کرتا رہا تو میں تجھے پگھلا دوں گا۔

اب کسی طبیب سے معلوم کرو کہ پگھلانے والے کون کون مرض ہیں اور ان میں سے کوئی مرض مرزا کذاب کو لاحق تھا یا نہیں؟ اگر لاحق تھا تو پیش گوئی پوری ہوگئی اور اگر ایسا کوئی مرض لاحق نہ ہوا ہو تو پھر ڈھونڈو کہ وہ کون تھا۔ آدمی کو دھیرے دھیرے پگھلانے والے یہ دو مرض ہیں۔ ایک تپ دق کہ پگھلتے پگھلتے ہڈی چمڑا رہ جاتا ہے۔ دوسرا ذیابیطس۔ اس میں بھی انسان روز بروز دبلا اور ضعیف اور پگھلتا جاتا ہے۔ اب قادیانی دلیل سنئے۔ عسل مصفےٰ ص ٨٥ : ”ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت اقدس کو الہام ہوا کہ تیرے نکاح میں ایک باکرہ اور ایک بیوہ آئے گی اور باکرہ شریف خاندان سادات سے ہوگی۔ یہ بات اپنے دوستوں اور واقفوں سے ظاہر بھی کر دی تھی۔ مگر چونکہ تپ دق کی بیماری اور گوشہ گزینی کی وجہ سے اس قدر کمزور تھی کہ نکاح کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی

٢٩

صفحہ ٢٢١

تھی۔“ اس عبارت میں تو بہت سی دلچسپ باتیں ہیں۔ یہ ضعف کا عالم کہ دیکھنے والے شادی کی ضرورت قطعی نہ سمجھیں۔ مگر آپ ہیں کہ حرص میں دیوانے ہوئے نت نئے الہام شادی کے تراش رہے ہیں۔ کبھی باکرہ کر کے دل کو خوش کر لیا۔ کبھی اپنی کمزوری کا کچھ احساس کر کے ثیبہ کا الہام بنالیا۔ مجھے تو یہاں پر صرف اتنا بتانا تھا کہ قہر خداوندی تپ دق اور ذیابیطس کی شکل میں مرزا پر آنے والا تھا آیا یا نہیں؟

تو بحمد اللہ تعالیٰ مرزا کے خاص صحابی ان نو عدد مخصوصین میں سے صاحب عسل مصفے نے شہادت دی کہ مرزا تپ دق میں مبتلا تھا۔ اب رہ گیا ذیابیطس کا معاملہ تو جب ایک بلا واقعی آگئی تو دوسری بھی ہو گئی۔ مگر تخمیناً نہیں۔ اس کا بھی حوالہ سن لیجئے ۔ وہی گواہ پھر آدھمکے۔

(عسل مصفے ص ٧٢٠) ”حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح دو زرد رنگ کی چادر پہنے ہوئے نازل ہوں گے۔ یہ بات بھی اس امام میں صادق ہے۔ چونکہ یہ کشفی کلام ہے۔ زرد چادروں کے معنی لغات کشفی میں لکھا ہے۔ دو بیماریاں ہوں گی۔ سو یہ دونوں بیماریاں ساتھ لے کر مسیح موعود نازل ہوئے۔ اس میں ایک تو ذیابیطس کی بیماری ہے۔ جو بدن کے نیچے حصہ کی چادر ہے۔“ اس حدیث کے بیان کرنے میں جو اس دجال کے شاگرد نے خباثت کی ہے۔ کہ حضور ﷺ حدیث بیان فرمائیں اور یہ اپنا مطلب بنانے کے لئے خواب خیال بتائے اور لغات کشفی کا حوالے دے۔ کیا کوئی قادیانی ہے جو لغات کشفی یا کسی لغت میں زرد چادر کے معنی بیمار کے دکھلائے؟ اگر غیرت ہو ۔ مجھے تو یہاں صرف اتنا بتانا ہے کہ مرزا دجال قہر الہی سے پگھلنے والے مرض ذیابیطس میں مبتلا تھا۔ عسل مصفے سے ثابت ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ شروع ہی سے ہے۔ جیسا الہام کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ مدعیت میں جب اس نے توبہ نہ کی اور دعوی نبوت کیا۔ اس وقت سے عذاب الہی میں مبتلا ہو گیا۔

چنانچہ خود مرزا نے حقیقت الوحی میں دوران ذیابیطس کی ابتداء دعویٰ نبوت سے تسلیم کی ہے۔ جو بطور نشانی آسمانی ہے اور مرتے دم تک اس سے نجات نہیں ملی اور نجات ملتی بھی کیسے؟ وہ تو توبہ پر موقوف تھی اور توبہ ہوئی نہیں۔ اسی میں پگھلتا رہا اور پگھلتے پگھلتے ایک دن چل بسا جہاں اس کا ٹھکانا تھا۔

دیکھا آپ نے خود اس کے الہام میں لکھا ہوا تھا کہ اگر تو شک نہ چھوڑے گا اور یقینی طور پر خاتم النبیین مان کر اپنی نبوت ورسالت والہام وحی کے دعوے سے توبہ نہ کرے گا تو پگھلا دیا جائے گا۔ یہ پیشگوئی بالکل ہو بہو صادق آئی اور اس کے صحابیوں نے اس کے پگھلنے کی شہادت

٣٠

دی۔ جو معنی پیش گوئی کے میں نے بتائے ہیں۔ اس کے بعینہ پڑی۔ جس میں اس نے اس الہام کے معنی لکھے ہیں۔ گودوسرے نے لکھی۔ (دافع البلا ص ٢٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٣) پر لکھتا ہے: ”آخ کردوں گا۔ غارت کردوں گا۔ میں غضب نازل کردوں گا۔ آخ نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوٰی سے توبہ نہ کی۔ آخر گیا۔ فی الحال یہ دو الہامی وحی اس کی شیطنت اور مقہور الہی ہو لئے یہی کافی ہے کہ اگر ان کے نبی کا الہام ہے۔ جس کا ماننا ان کہ توبی توبی سے مراد احمد بیگ کی بیوی کی والدہ نہیں۔ بلکہ خود ت بیگ کے بچنے کی وجہ بتائیں کہ جب پیشگوئی اس کی موت کی اتھ پر مرزا نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ اتری۔ تو میں ہر ایک وعدہ ہے۔ اس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تو کیسے ٹل گئی اور برسوں سے بدتر ہوا کہ نہیں؟ خدا کو جھوٹا بنایا کہ نہیں؟ اس کے وعدہ کو جھ اپنی حقیقت ظاہر کر گیا کہ مفتری ہے۔ خبیث ہے۔ شیطان ہے۔ اپنے نبی کے بتائے ہوئے لقب سے اس کو یاد کریں۔ یا اس ہے۔ اس کو غلط ثابت کریں۔

مگر میں تم کو بتائے دیتا ہوں کہ محمدی بیگم کا بیوہ ہونا۔ کی موجودگی میں مرزا پر لعنت بھیجتی ہوئی رخصت ہوگئی اور سلطان نے کی تھی۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی اور میرا ہوا اور سلطان محمد بیگ نے اپنی آنکھوں سے مرزا کذاب کا جنا مکر و زور اور روز روز کے جھوٹے الہام سے نجات پائی۔ قصہ کو تھی۔ مگر بے حیائی تیرا برا۔ کیسے کیسے منصوبے گانٹھے گئے؟ کیسی اب تو ثابت ہو گیا کہ مرزا کا وہ تسلی والا الہام معتقدین بچنے لئے محمد، مرزا احمد بیگ کی والدہ کی توبہ سے بچ گیا۔

اگر یہ ہوتا بھی کہ والدہ احمد بیگ توبہ کر لیتی تو اس جب کہ وہ آخری سانس تک مرزا کو کذاب کہتا رہا۔ اور مرزا مرزائی یہ کہہ سکتا ہے کہ سلطان محمد بیگ نے کسی وقت ایک لمحہ

٣١

صفحہ ٢٢١

دی۔ جو معنی پیش گوئی کے میں نے بتائے ہیں۔ اس کے بعد میری نگاہ مرزا قادیانی کی تحریر پر پڑی۔ جس میں اس نے اس الہام کے معنی لکھے ہیں۔ گو دوسرے کے لئے مگر بات وہی ہے جو میں نے لکھی۔ (دافع البلاء ص ٢٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٣) پر لکھتا ہے: ”انی ادیب من یریب“ فنا کردوں گا۔ غارت کردوں گا۔ میں غضب نازل کردوں گا۔ اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعویٰ سے توبہ نہ کی۔ آخر یہی ہوا اور یہ خبیث گھل گھل کر مر گیا۔ فی الحال یہ دو الہامی وحی اس کی شیطنت اور مقہور الٰہی پر روشن دلیل ہیں اور قادیانیوں کے لئے یہی کافی ہے کہ اگر ان کے نبی کا الہام ہے۔ جس کا ماننا ان کے لئے ضروری ہے۔ یہ تو کھل گیا کہ توبی توبی سے مراد احمد بیگ کی بیوی کی والدہ نہیں۔ بلکہ خود قادیانی دجال ہے۔ اب سلطان محمد بیگ کے بچنے کی وجہ بتائیں کہ جب پیشگوئی اس کی موت کی اتنی قطعی تھی۔ جو ٹل نہیں سکتی تھی۔ جس پر مرزا نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ اتری۔ تو میں ہر ایک بدتر سے بدتر ہوں۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تو کیسے ٹل گئی اور برسوں گزر گئے۔ اپنے منہ سے شیطان سے بدتر ہوا کہ نہیں؟ خدا کو جھوٹا بنایا کہ نہیں؟ اس کے وعدہ کو ٹلتا ہوا دکھایا کہ نہیں؟ اپنے منہ سے اپنی حقیقت ظاہر کر گیا کہ مفتری ہے۔ خبیث ہے۔ شیطان سے بدتر ہے۔ قادیانیوں کو چاہئے کہ اپنے نبی کے بتائے ہوئے لقب سے اس کو یاد کریں۔ یا اس کی کتابوں سے جو کچھ میں نے لکھا ہے۔ اس کو غلط ثابت کریں۔

مگر میں تم کو بتائے دیتا ہوں کہ محمدی بیگم کا بیوہ ہونا خدا نے لکھا ہی نہ تھا۔ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں مرزا پر لعنت بھیجتی ہوئی رخصت ہو گئی اور سلطان محمد اس پیشگوئی کا منتظر رہا جو مرزا نے کی تھی۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آجائے گی۔ بحمد اللہ ایسا ہی ہوا اور سلطان محمد بیگ نے اپنی آنکھوں سے مرزا کذاب کا جنازہ نکلتے دیکھ لیا اور دنیا نے اس کے مکر و زور اور روز روز کے جھوٹے الہام سے نجات پائی۔ قصہ ختم ہو گیا۔ سب کو توبہ کر لینی چاہئے تھی۔ مگر بے حیائی تیرا برا۔ کیسے کیسے منصوبے گانٹھے گئے؟ کیسی کیسی چالیں چلی گئیں۔ الامان! مگر اب تو ثابت ہو گیا کہ مرزا کا وہ تسلی والا الہام معتقدین بچانے کے لئے بھی کارآمد ثابت نہ ہوا کہ سلطان محمد، مرزا احمد بیگ کی والدہ کی توبہ سے بچ گیا۔

اگر یہ ہوتا بھی کہ والدہ احمد بیگ توبہ کر لیتی تو اس کا اثر سلطان محمد بیگ پر کیسے پڑتا۔ جب کہ وہ آخری سانس تک مرزا کو کذاب کہتا رہا۔ اور مرزا آخر تک اس کو ستاتا رہا۔ کیا کوئی مرزائی یہ کہہ سکتا ہے کہ سلطان محمد بیگ نے کسی وقت ایک لمحہ کے لئے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی

٣١

صفحہ ٢٢٣

نبوت کو تسلیم کر لیا تھا۔ ہرگز نہیں۔ جب یہ پیشگوئی مرزا کذاب پر ہر طرح سے کذب الہی ثابت ہوئی اور کوئی بات بنائے نہ بنی۔ ہر جگہ جھوٹا کذاب مشہور ہو گیا۔ تو اس دجال نے اعلان کیا کہ اس پیشگوئی کے پورے نہ ہونے میں میرا کوئی قصور نہیں۔ ”خدا نے جھوٹ بولا“ (معاذ اللہ) اس پر لے دے ہوئی تو ایک قصہ تراشا کہ حضرت یونس علیہ السلام سے خدا نے قطعی وعدہ کیا کہ تمہاری قوم پر چالیس دن کے اندر عذاب نازل ہوگا۔ چنانچہ حضرت یونس نے اپنی قوم کو نزول عذاب کا دن بتایا۔ مگر عذاب نہ آیا۔ تو حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے خفا ہو کر یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ خداوند تو مجھے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ مجھ سے قطعی وعدہ بلا شرط کر کے پھر مجھ کو ذلیل کیا۔ اب کیا منہ لے کر قوم کے سامنے جاؤں۔

(عسل مصفے ص ٨١٠) اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کو وحی کی کہ نینوا کو جا کر انذار کہ تم پر چالیس روز میں عذاب نازل ہوگا۔ مگر چالیس روز گزر گئے اور کوئی عذاب نازل نہ ہوا اور نہ اس بارہ میں ان کو کوئی وحی ہوئی۔ گویا مرزائی نے خدا کے جھوٹ بولنے کی یہ مثال بنا کر دلیل قائم کر دی اور ایک آیت قرآن مجید کی لکھ دی: ”فلولا کانت قرية امنت فنفعها ايمانها الا قوم یونس لما امنو کشفنا عنهم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناهم الی حین “ ﴿ کیونکہ کوئی بستی ایمان نہ لے آئی تا کہ ایمان کا لے آنا اس کو فائدہ مند پڑتا مگر یونس کی قوم ہی ایک ایسی قوم تھی کہ جب وہ ایمان لائی تو ہم نے ذلت اور رسوائی کا عذاب ان سے ٹال دیا اور ایک مدت تک ان کو دنیا میں رہنے دیا﴾ پھر آگے لکھتا ہے: ”یہ لوگ (قوم یونس ) عذاب سے ڈر کر سرکشی سے باز آتے اور ایسے ثابت قدم ہوئے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ غرض ان کی اس طرح کی توبہ سے عذاب ٹل گیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو گئے کہ میری بات جھوٹی ہو گئی۔ اب یوں لوگوں میں رہنا حرام ہے۔ بلکہ بے بس کر پکار اٹھے کہ میرا مرنا جینے سے بہتر ہے۔ اپنی جھوٹی پیشگوئی الہام الہی ثابت کرنے کے لئے خدا کو بھی جھوٹا بنایا اور حضرت یونس علیہ السلام کی بھی شدید توہین کی اور مرزا نے (انجام آتھم ص ٢٢٥، خزائن ج ١١ ص ٢٢٥) پر لکھا: ”ان قوم یونس عصوا امن العذاب مع انه لم يكن شرط التوبة في نباء الله رب الارباب ۔ قوم یونس سے عذاب ٹل گیا۔ حالانکہ پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ بلکہ قطعی اور مبرم تھی۔“

جتنی عبارتیں میں نے قادیانی کی نقل کیں۔ وہ سب اس کی طبع زاد اور خانہ ساز ہیں۔ نہ حدیث میں پتہ ، نہ قرآن مجید میں۔ یہ تو آپ کو یاد ہوگا کہ یہ دلیل گھڑی کیوں گئی۔ اس لئے تا کہ ثابت ہو جائے کہ سلطان محمد بیگ موت سے ڈر گیا۔ اس لئے عذاب ٹل گیا۔ اس پر موت نہ

٣٢

آئی۔ جیسے قوم یونس ڈر گئی تو اس پر عذاب نہ آیا۔ اس نبوت گئی اور نہ مرزا کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی مرزا کی پیشین گوئی یہ ہے کہ محمدی بیگم کا جس سے نکاح ہو اس کا مرنا قطعی تقدیر مبرم ہے۔ خدا کا وعدہ ہے جو کسی صو دیئے جائیں اور پیشین گوئی کا ایک الہامی جملہ صرف پیش سوال یہ ہے کہ خوف کی وجہ سے یا توبہ کی وجہ سے یا تم کو ن اس وجہ سے یہ پیشین گوئی ٹل گئی یا نہیں ) ضرور ٹل گئی۔ تو ب نہیں سکتا) اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ الہام ہے۔ وحی ہے

اور حضرت یونس علیہ السلام کی اگر پیشین گوئی نہیں مانتی تو تجھ پر عذاب الہی نازل ہوگا۔“ میں نے یہ حضرت یونس علیہ السلام کا یہ پیشین گوئی کرنا قرآن وحد یہ تو ان کا کام ہی ہے۔ ہر نبی آئے۔ تشریف لائے کہ فر سنائیں اور نافرمان باغیوں کو عذاب الیم سے ڈرائیں کیا۔ اب دونوں پیشین گوئیاں ایک جگہ جمع کیجئے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی

”اے قوم ! اگر تو نہیں مانتی تو تجھ پر عذاب ا

مرزا دجال کی پیشین گوئی

”محمدی بیگم کا جس سے نکاح ہوگا۔ ڈھائی کے نکاح میں آئے گی۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ تقدیر مب نہیں سکتا۔“

اگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب وزاری میں لگی۔ توبہ کی اور وہ بھی ایسی توجہ جس کی میں حضرت یونس علیہ السلام کی کیا تکذیب ہوئی؟ ان کی توبہ سچی نہ کرو گے تو عذاب نازل ہوگا۔ توبہ سچے کر لی۔ کے کفر کے ساتھ۔ جب کفر چھوڑا عذاب سے چھوٹ گ

٣٣

صفحہ ٢٢٣

آئی۔ جیسے قوم یونس ڈر گئی تو اس پر عذاب نہ آیا۔ اس سے نہ صرف حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت گئی اور نہ مرزا کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ مرزا کی پیشین گوئی یہ ہے کہ محمدی بیگم کا جس سے نکاح ہوگا۔ وہ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا اور اس کا مرنا قطعی تقدیر مبرم ہے۔ خدا کا وعدہ ہے جو کسی صورت ٹل نہیں سکتا (اگر تمام جملے نظر انداز کر دیئے جائیں اور پیشین گوئی کا ایک الہامی جملہ صرف پیش نظر ہو کہ کسی صورت سے ٹل نہیں سکتا۔ تو سوال یہ ہے کہ خوف کی وجہ سے یا توبہ کی وجہ سے یا تم کو نبی ماننے کی وجہ سے بہر صورت کوئی وجہ مانو اس وجہ سے یہ پیشین گوئی ٹل گئی یا نہیں) ضرور ٹل گئی۔ تو یہ خدا کا کلام نہ ہوا (کہ کسی صورت سے ٹل نہیں سکتا) اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ الہام ہے۔ وحی ہے۔ لہذا مرزا قادیانی کاذب مفتری ہوا۔

اور حضرت یونس علیہ السلام کی اگر پیشین گوئی مان لی جائے۔ تو یہ ہوگی: ”اے قوم اگر تو نہیں مانتی تو تجھ پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔“ میں نے یہ کہا اگر مان لی جائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کا یہ پیشین گوئی کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ انذار ثابت ہے اور یہ تو ان کا کام ہی ہے۔ ہر نبی آئے۔ تشریف لائے کہ فرمانبرداروں کو جنت اور رضائے الٰہی کا مژدہ سنائیں اور نافرمان باغیوں کو عذاب الیم سے ڈرائیں۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام نے ایسا کیا۔ اب دونوں پیشین گوئیاں ایک جگہ جمع کیجئے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی

”اے قوم! اگر تو نہیں مانتی تو تجھ پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔“

مرزا دجال کی پیشین گوئی

”محمدی بیگم کا جس سے نکاح ہوگا۔ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا۔ محمدی بیگم مرزا کے نکاح میں آئے گی۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ تقدیر مبرم ہے۔ کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ کوئی روک نہیں سکتا۔“

اگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا اور آپ کی قوم گریہ وزاری میں لگی۔ توبہ کی اور وہ بھی ایسی توبہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ یوں عذاب ٹل گیا تو اس میں حضرت یونس علیہ السلام کی کیا تکذیب ہوئی؟ ان کی تو پیشین گوئی یہی تھی کہ ایمان نہ لاؤ گے۔ توبہ صحیحہ نہ کرو گے تو عذاب نازل ہوگا۔ توبہ صحیحہ کر لی۔ عذاب ٹل گیا۔ عذاب کا آنا مشروط تھا ان کے کفر کے ساتھ۔ جب کفر چھوڑا عذاب سے چھوٹ گئے۔

٣٣

صفحہ ٢٢٥

اس میں حضرت یونس علیہ السلام کیسے جھوٹے ہوئے؟ اپنی بات بنانے کے لئے بے ایمان مرزا نے یہ جڑ دیا کہ حضرت یونس خدا سے خفا ہوکر بھاگ گئے اور خدا فرماتا ہے: ”وذاالنون اذذهب مغاضبا “ حضرت یونس علیہ السلام قوم سے خفا ہوکر کہ قوم نے اس وقت تک ان کا کہا نہیں مانا تھا۔ چلے گئے۔ یہ خبیث کہتا ہے کہ خدا سے ناخوش ہوگئے۔ اس بے لگام کو کیا کہا جائے اور کہاں کہاں اصلاح کی جائے۔ سر سے پاؤں تک ایک ہی قسم کی غلاظت سے آلودہ ہے۔

قوم یونس علیہ السلام کا اصل واقعہ جو قرآن مجید وتفاسیر سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہے کہ یہ قوم نینوا میں مقیم تھی۔ کفر وشرک ان کا مذہب تھا۔ حضرت یونس علیہ السلام ان کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے۔ آپ نے بت پرستی سے روکا اور ایمان لانے کی تلقین فرمائی۔ ان لوگوں نے انکار کیا اور انکار پر مصر رہے اور آپ کی تکذیب کرنے لگے۔ آپ نے اس قوم کو متنبہ کیا۔ دیکھو ! ایمان لے آؤ ورنہ عذاب الٰہی نازل ہوگا۔ یہ سن کر لوگ آپس میں کہنے لگے حضرت یونس تو جھوٹ بولتے نہیں۔ جب انہوں نے عذاب کی خبر دی ہے تو آ کر رہے گا۔ پتہ لگاؤ، حضرت یونس علیہ السلام رات میں نینوا میں گزارتے ہیں، یا چلے گئے۔ اگر چلے گئے تو یقیناً عذاب آئے گا۔ حضرت یونس کو نہ پایا اور صبح ہوتے ہی تمام شہر میں سیاہ دھواں چھا گیا۔ جو عذاب کی نشانی تھی۔ لوگ گھبرائے اور یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے۔ کیونکہ نشانی ظاہر ہوگئی۔ اب سب کے سب حضرت یونس علیہ السلام کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے۔ مگر وہ نہ ملے۔ اب اندیشہ اور قوی ہو گیا۔ تو پوری قوم معہ اپنی عورتوں، بچوں، جانوروں کے آبادی سے باہر نکل گئی۔ بادشاہ وقت اور گدا سب ہی اس میں شامل ہوئے۔ زیبائش اور آرائش کے کپڑے ہر ایک نے اتار پھینکے اور موٹے موٹے کپڑے اپنی بے کسی ظاہر کرنے کے لئے پہن لئے اور توبہ کرنے لگے۔ نہایت خشوع وخضوع سے توبہ کی اور ایمان لے آئے۔ اقرار کیا کہ اے اللہ ! جو کچھ حضرت یونس علیہ السلام ہم لوگوں کے پاس لے کر آئے ہم اس پر ایمان لائے اور توبہ صحیح کر کے لوٹا ہوا مال واپس کیا۔ جو جو مظالم تھے۔ سب سے توبہ کی۔ معافی چاہی۔ یہاں تک کہ ایک پتھر اگر کسی کا لے کر اپنے مکان میں لگائے ہوئے تھے۔ تو چنا اکھاڑ کر اس کا پتھر واپس کیا۔ گویا پورے خلوص سے توبہ کی۔ خدائے قدوس وغفار نے ان پر رحم فرمایا۔ دعا قبول ہوئی اور عذاب اٹھالیا گیا۔ یہی حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب نازل ہوگا۔ ایمان لے آئے بچ گئے۔

اب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی تفصیلی طور پر تو ورق پلٹ کر پڑھ لیجئے۔ مگر اجمالاً میں

٣٤

دہرائے دیتا ہوں۔ مرزا کا اصل واقعہ جو مرزا کی کتا نکاح کرنا چاہا۔ بہت کچھ زور دیا مگر نہیں ہوا۔ کبھی ج یہ ہیں:

”(١) زوجنا کھا۔ (٢) امر من لـ فلا تكونن من الممترين (٣) لا تبديل لكـ پانچ الہامات ہوئے۔

پھر جب اس کی شادی ہوگئی تو یہ الہام فسكفيكهم الله ويردها اليك. (٧) ولن الولد (٩) لا تخف سنعيدها سيرتـ استجارتك فاجرها (١٢) ان شانئـ (١٣) لا يرد وقت العذاب من القوم المجـ

چودھویں صدی کے دجال کے صرف سن لیجئے:

”ہم نے آسمانوں پر تیرا نکاح اس کی بات ہے اس میں شبہ نہ کرو۔ اللہ کی بات پلـ تجھے واپس لیں گے۔ اللہ ان سب سے بدلہ لے میں ہر پھیر نہیں۔ تجھے اس سے لڑکا بھی ہوگا۔ ( تیرے پاس آئے تو رکھ لینا۔ تیرے دشمن ہلاک ان مخالفین سے عذاب کا وقت ٹل نہیں سکتا۔“

یہ تو مرزا کی پیشین گوئی ہوئی۔ ان کـ لڑکا ہونا تو الگ رہا، شادی ہی نہ ہوئی۔ دشمن کی گیا۔ بیوی چھوٹی، بچے چھوٹے، دائمی قہر و عذا ایمان ہے کہ خدا کا کوئی وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ جو ٹل قادیانی گر گئے اور خود مرزا مسلمانوں کو دھوکہ د وعدہ کے خلاف کرنا تو ہرگز جائز نہیں۔ مگر وعید کـ

صفحہ ٢٢٥

دہرائے دیتا ہوں۔ مرزا کا اصل واقعہ جو مرزا کی کتابوں میں ہے۔ یہ ہے کہ اس نے محمدی بیگم سے نکاح کرنا چاہا۔ بہت کچھ زور دیا مگر نہیں ہوا۔ کبھی عربی الہام سنایا۔ کبھی اردو میں۔ عربی کے الہام یہ ہیں:

”(١)زوجنکھا۔(٢)امر من لدنا انا کنا فاعلین ۔ (٣)الحق من ربک فلا تکونن من الممترین (٤)لا تبدیل لکلمات اللہ (٥)ان ربک فعال لما یرید“ پانچ الہامات ہوئے۔

پھر جب اس کی شادی ہوگئی تو یہ الہام ہوئے۔: ”(٦)انــــــا اردهـــــــا الیک فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک۔ (٧)ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (٨)یولد لک الولد (٩)لاتخف سنعیدھا سیرتھا الاولیٰ (١٠)انااردھاالیک (١١)ان استجارتک فاجرھا (١٢)ان شانئک ھو الابتر (١٣)لامبدل لکلماتہ (١٤)لایرد وقت العذاب من القوم المجرمین“

(انجام آتھم ص ٥٨ تا ٦١،خزائن ج ١١ص ایضاً)

چودھویں صدی کے دجال کے صرف چودہ الہام پر اکتفا کرتا ہوں۔ ترتیب وار ترجمہ سن لیجئے:

”ہم نے آسمانوں پر تیرا نکاح اس لئے کر دیا، یہ ہماری بات ہے، ہو کر رہے گی۔ خدا کی بات ہے اس میں شبہ نہ کرو۔ اللہ کی بات پلٹ نہیں سکتی۔ خدا کا چاہا ٹل نہیں سکتا۔ بیوہ کر کے تجھے واپس لیں گے۔ اللہ ان سب سے بدلہ لے گا اور مسماۃ کو تیرے پاس لوٹائے گا۔ اللہ کی بات میں ہیر پھیر نہیں۔ تجھے اس سے لڑکا بھی ہوگا۔ (دسویں جملہ کا ترجمہ اس کی ہوس پرستی کا نمونہ ہے) تیرے پاس آئے تو رکھ لینا۔ تیرے دشمن ہلاک ہو جائیں گے۔ اللہ کی بات کوئی نہیں روک سکتا۔ ان مخالفین سے عذاب کا وقت ٹل نہیں سکتا۔“

یہ تو مرزا کی پیشین گوئی ہوئی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی صحیح نہ اتری۔ سب غلط ہوئی۔ لڑکا ہونا تو الگ رہا، شادی ہی نہ ہوئی۔ دشمن کی ہلاکت کون دیکھے، خود مرزا دین و دنیا دونوں سے گیا۔ بیوی چھوڑی، بچے چھوڑے، دائمی قہر و واویلا میں مبتلا ہوا۔ دنیا میں بھی رسوا و خوار ہوا۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ خدا کا کوئی وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ جو ٹلنا بتائے وہ بے ایمان ہے۔ مسلمان نہیں۔ اس جگہ قادیانی گر گئے اور خود مرزا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ توجیہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کے خلاف کرنا تو ہرگز جائز نہیں۔ مگر وعید کا خلاف جائز ہے اور مرزا کی یہ پیش گوئی وعید ہے۔

٣٥

صفحہ ٢٢٧

اگر ٹل گئی تو ناجائز نہیں نہ کوئی قباحت ہوئی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ بھی فریب اور سراسر فریب ہے۔ اولاً تو وعید کا ٹلنا مسلم نہیں۔ ثانیاً اس پیشین گوئی کو وعید کہنا اور روز روشن کو رات بتانا ہے۔ یہاں صرف چودہ جملے مرزا کی پیشین گوئی کے جمع کئے ہیں۔ پوری جماعت احمدیہ کو چیلنج ہے کہ ان پیشین گوئیوں کا وعید ہونا ثابت کریں اور مجھ سے انعام لیں۔

”زوجنا کھا۔ امر من لدنا انکنا فاعلين۔ الحق من ربك فلا تكونن من الممترين۔ لا تبديل لكلمات اللہ ۔ ان ربك فعال لما يريد۔ انا رادوھا اليك۔ لن تجد لسنته الله تبديلا۔ يولد لك الولد۔ لا تخف سنعيدھا سيرتها الاولى ۔ ارادھا اليك ان استجارتك فاجرھا۔ لا مبدل لكلمات“

چودہ الہاموں میں سے یہ گیارہ تو خالص وعدہ کے ہیں۔ باقی تین میں دو حیثیتیں ہیں۔ ہم آپ کی رعایت سے یہ تینوں چھوڑ دیتے ہیں۔ گیارہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ مرزائیوں کے اس اعتراض سے اتنا فائدہ ہوا کہ وعدہ کا ٹلنا محال مان لیا۔ اگر اس کو بھی اپنے مذاق میں جائز الوقوع کہہ بھاگتے تو کون ان کی زبان کاٹ لیتا؟ پڑھے لکھے قادیانی تو سمجھ گئے ہوں گے۔ ان پڑھ لوگوں کیلئے تھوڑی سی وضاحت کردوں۔ وعدہ کہتے ہیں خوشی اور انعام کی خبر کو اور وعید کہتے ہیں عذاب والم کی خبر کو۔ مرزا کہتا ہے کہ خدا نے میرے پاس وحی بھیجی ”زَوَّجْنٰكَهَا“ ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے آسمان پر کیا۔ بولو یہ خوشخبری ہوئی یا بدخبری؟ یقیناً خوشخبری ہے کہ اے مرزا تیری تمنا بر آئے گی۔ دلی مراد پوری ہوگی۔ سکون کی زندگی بسر ہوگی اور ہوا کچھ بھی نہیں۔ تو وعدہ کے خلاف ہوا...... اور خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ خدا کا وعدہ نہیں، تو کھل گیا کہ مرزا مفتری کذاب ہے۔ اسی طرح ہر جملہ کو سمجھو اور جمع کرلو۔ تو اسی صفحہ میں گیارہ کذب مرزا کا اسی تحریر سے ثابت ہوا۔ اتنا بڑا جھوٹا بھی نبی یا امام ہو سکتا۔ استغفر اللہ ولا حول ولا قوة الا باللہ!

تیسری پیش گوئی فرزند کے تولد کی

مرزا کو ہزار ذلتیں اٹھانی پڑیں۔ مگر تھا بے چارہ اپنی طبیعت سے مجبور۔ کچھ پیشین گوئی کا چسکا پڑ گیا تھا۔ بیٹھے بٹھائے پھر دور کی سوجھی۔ اپنے سلسلہ کی بقاء کا جب خیال آیا تو ابلیسی الہام نے پھر انگڑائی لی اور ایک تازہ الہام سنایا۔ (انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج ١١ص٦٢) ”وبشرک بغلام عليم مظهر الحق والعلاء.“ مرزا کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ جو مظہر حق اور بلند رتبہ ہوگا۔ مگر خدا کی شان پیدا ہوئی لڑکی۔ مگر بے حیائی تیرا سہارا۔ پھر الہام ہوا ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو ایک پیشین گوئی بدیں مضمون کی کہ موجودہ

حمل یا اگلے حمل سے جو ایک حمل کی مدت سے تجاوز نہیں کرے گا۔ ٧ اگست ١٨٨٧ء کو وہ لڑکا دوسرے ہی حمل سے جو ایک حمل اور وہ لڑکا بشیر اول تھا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ جس کی وہ موعود لڑکا فوت ہو گیا۔ حالانکہ الفاظ اشتہار سے یہ بات بھی ہے۔“

عسل مصفےٰ والا پہلے حمل کو اڑا گیا۔ یہ لکھا ہی نہیں کہ کا وہم تھا یا مرزا کی تسلی کے لئے اس کی بیگم نے اس کو ایسا ہی ہوا یا بندریا۔ خود مرزا قادیانی ہی مسئلہ حلول کی مشق کر رہا تھا۔ پیشین گوئی میں تھا لڑکا ہونا اور پیدا ہوئی لڑکی۔ اب ظاہر کہ پیشین گوئی میں پہلا کذب ہوا۔ پھر دوسرے حمل میں خدا خدا کر کے ”مبشرک“ اس لئے اس کا نام بشیر رکھا اور خوب جشن منایا۔ کو یہ پہلا موقع تھا۔ بہت اچھلے کودے۔ مریدوں کی تو پوچھے کیا اور دھڑا دھڑ نومولود کی منقبت میں الہام بنا ج ١١ص ٥٨) ” یاتی قمر الانبیاء وامرك یاتی ٹیول ہو جائیں گے۔“ پھر اور مگن ہوئے تو بے دھڑک ج ١١ص٦٢)”كان الله نزل من السماء یہ پسر گویا خدا ہی جب اس خبیث نے اپنے بیٹے منا کو خدا بنا دیا ہوگا ؟ غیرت الٰہی جوش میں آئی۔ مرزائی جشن منا رہے تھے اعلان کر رہے تھے۔ ادھر اس نومولود کی روح قبض کر لی گئی کذاب ہوا۔ حد ہوگئی۔ خدا بن کر بھی زندہ نہ رہ سکا۔ لڑکا رہنے والا کب تھا۔ جو شاید آپ سمجھے ہوں کہ دودفعہ لڑکی تو خود مرزا نے بتائی۔ بلکہ تین لاکھ سے زیادہ اس نے پیشین سہارے کہ شاید اب کوئی پوری ہو جائے۔ مگر اس کو تو الہام ہوا (انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ص٦٢) ”لینبذن ڈالا جائے گا ۔“ مگر مرزا نے سمجھا کوئی اور ہوگا۔ جس کے معنی لڑکے کے لئے تھے۔ ”اِنا نبشرک “کے ساتھ تھا۔ جیسے

صفحہ ٢٢٧

حمل یا اگلے حمل سے جو ایک حمل کی مدت سے تجاوز نہیں کرے گا، ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ چنانچہ ٧؍اگست ١٨٨٨ء کو وہ لڑکا دوسرے ہی حمل سے جو ایک حمل کی مدت سے متجاوز نہیں تھا۔ پیدا ہوا اور وہ لڑکا بشیر اول تھا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ جس کی وفات پر دشمنوں نے بڑا شور مچایا کہ وہ موعود لڑکا فوت ہو گیا۔ حالانکہ الفاظ اشتہار سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی کہ وہی موعود لڑکا ہے۔“

عسل مصفےٰ والا پہلے حمل کو اڑا گیا۔ یہ لکھا ہی نہیں کہ نفخ شکم تھا۔ ریح کی بیماری تھی یا مرزا کا وہم تھا یا مرزا کی تسلی کے لئے اس کی بیگم نے اس کو ایسا ہی بتایا۔ آخر وہ حمل ہوا۔ کیا سانپ پیدا ہوا یا بندریا۔ خود مرزا قادیانی ہی مسئلہ حلول کی مشق کر رہا تھا۔ کچھ ظاہر نہیں کیا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ پیشین گوئی میں تھا لڑکا ہونا اور پیدا ہوئی لڑکی۔ اب ظاہر کرے تو کس منہ سے؟ مرزا کا اس پیشین گوئی میں پہلا کذب ہوا۔ پھر دوسرے حمل میں خدا خدا کر کے لڑکا پیدا ہوا۔ چونکہ الہامی لفظ تھا: ”مبشرک“ اس لئے اس کا نام بشیر رکھا اور خوب جشن منایا۔ عرصہ دراز کے بعد بلکہ زندگی میں مرزا کو یہ پہلا موقع تھا۔ بہت اچھلے کودے۔ مریدوں کی تو پوچھئے نہیں۔ خود مرزا مارے خوشی کے بوکھلا گیا اور دھڑا دھڑ نومولود کی منقبت میں الہام بنانے لگا۔ (انجام آتھم ص٥٨، خزائن ج١١ص٥٨) ”یاتی قمر الانبیاء و امرک یاتی نبیوں کا چاند ہوگا اور تیرے تمام کام پورے ہو جائیں گے۔“ پھر اور مگن ہوئے تو بے دھڑک بول اٹھے۔ (انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ص٦٢) ”کان اللہ نزل من السماء یہ بشیر گویا خدا ہے جو آسمان سے اتر آیا“ نعوذ باللہ!

جب اس خبیث نے اپنے بیٹے منا کو خدا بنا دیا۔ تو نہ معلوم اس کذاب باپ کا کیا درجہ ہوگا؟ غیرت الٰہی جوش میں آئی۔ مرزائی جشن منا رہے تھے۔ پیشین گوئی کے صدق پر نبوت کا اعلان کر رہے تھے۔ ادھر اس نومولود کی روح قبض کر لی گئی۔ بولو مرزائیو! یہی واقعہ ہے نا؟ یہ دوسرا کذاب ہوا۔ حد ہوگئی۔ خدا بن کر بھی زندہ نہ رہ سکا۔ لڑکا بھی گیا۔ ایمان بھی گیا۔ مگر مرزا چپ رہنے والا کب تھا۔ جو شاید آپ سمجھے ہوں کہ دو دفعہ زک اٹھا کر خاموش ہو گیا ہوگا۔ تین ہزار کی گنتی تو خود مرزا نے بتائی۔ بلکہ تین لاکھ سے زیادہ اس نے پیشین گوئی کی اور معجزات دکھلائے اور اسی سہارے کہ شاید اب کوئی پوری ہو جائے۔ مگر اس کو تو الہام پہلے ہی ہو چکا تھا۔ کودن سمجھا نہیں۔

(انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ص٦٢) ”لینبذن فی الحطمۃ اسے مرزا تو جہنم میں ڈالا جائے گا۔“ مگر مرزا نے سمجھا کوئی اور ہوگا۔ جس کے لئے جہنم کا حکم ہوا ہے۔ حالانکہ یہ الہام اسی کے لئے تھا۔ ”انا نبشرک“ کے ساتھ تھا۔ جیسے قرآن مجید میں بشر کے لفظ سے جہنم کی

٣٧

صفحہ ٢٢٨

خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اس بناء پر تو اس کو گناہوں کا ایک ڈھیر جمع کرنا ہی تھا۔ اپنی اور اپنی بیگم کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے کہ متحمل حمل ہے۔ پھر پیشین گوئی سنائی۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) "يولدلك الولد ويدنى منك الفضل تیرے لڑکا ہوگا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔" اب کی مرزا نے کچھ سنبھل کر الہام سنایا۔ اس ہونے والے بیٹے کو خدائی کے درجے سے نیچے اتار لایا اور یوں بولا۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) "خدا کا نور بہت جلد آنے والا ہے۔"

دنیا کو تعجب ہوتا ہے کہ ابولہب ایک لفظ خلاف شان خاتم النبیین ﷺ بولا۔ پوری سورۃ سخت کرخت لہجہ میں نازل ہو گئی اور یہ خبیث اپنے بیٹے کو "نور من اللہ" کہہ رہا ہے اور حضور ﷺ کی ایک صفت کو مسخ کر رہا ہے اور خدا نے کچھ نہ بولا تو سنو! سنت الہیہ جو قائم ہو چکی۔ بدل نہیں سکتی۔ وہ جب بھی تھی۔ اب بھی ہے۔ دیکھو مرزا پر الہام قہر نازل ہوا۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) "عجل جسدله خوار فله نصب وعذاب یہ نور نہیں مٹی کی مورت گائے کی بچھیا ہے۔ چلایا کرے اسے دھتکار اور جہنم کا عذاب اس کے لئے ہے۔" "اذا فكشف السر عن ساقه يومئذ يفرح المومنون" "ہم حقیقت کو اس کی پنڈلی سے کھول دیں گے تب مومن اس کو جہنم میں دیکھ کر خوش ہوں گے۔

یہ سب الہام اس مرزا کو ہوئے۔ مگر وہ متنبہ نہ ہوا۔ دیکھا آپ نے الہام کا لہجہ کتنا سخت ہے۔ مرزا نے نور کہا۔ الہام میں بیل کا بچہ سنایا گیا۔ مرزا نے فضل و کمال والا کہا۔ الہام نے ذلیل و جہنمی قرار دیا۔ بولو مرزائیو! یہ الہام تمہاری کتابوں میں ہے کہ نہیں اور خود مرزا کی مصنفہ کتابوں میں ہیں کہ نہیں۔ اگر ہیں تو کیا بعد وضوح حق اب بھی جہنمیوں کا ساتھ نہ چھوڑو گے؟ "ما بعد الحق الا الضلال" جب مرزا کا افتراء حد سے بڑھا تو اس کو واضح غیر مبہم الفاظ میں الہام ہوا۔ مگر دجال نے کچھ بھی اس کا لحاظ نہ کیا۔ (انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢) "هـــــل انبئكم على من تنزل الشياطين تنزل على كل افاك اثيم ۔" اے مرزا تجھے ہم بتائیں گے کہ شیطان کس پر اترتا ہے۔ شیطان ہر مفتری کذاب پر اترتا ہے۔ کوئی قادیانی جو الہام سے انکار کرے یا اس کے معنی کچھ اور بتائے جو مرزا پر اترا۔

مرزا کی عبارتوں نے بتایا کہ مرزا قادیانی اول درجہ کا مفتری کذاب ہے۔ شیطان کا چیلا ہے۔ شیطان اس کے کان میں پھونکتا ہے اور یہ اپنے مریدین کے دل میں اتارتا ہے۔ مرزا

٣٨

صفحہ ٢٢٩

کی عبارتوں سے مرزا کا الہام تو ثابت ہوا۔ مگر کون سا الہام؟ الہام شیطانی ثابت ہوا اور وہ بھی بایں خوبی کہ خود الہام شیطانی الہام ہونے کو بتاتا ہے۔ یہ تو مرزا کے ثبوت پر مرزا کے ذاتی دلائل تھے۔ جسے پیشین گوئی کے نام سے اس نے پیش کیا اور ثبوت نبوت کو اس پر منحصر ٹھہرایا۔ اب وہ قرائن سنئے جن سے مرزا نے اپنی نبوت ومسیحیت کو قرین قیاس کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بہت سی علامتیں حدیثوں میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ دجال ظاہر ہوگا۔ یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا۔ حضرت امام مہدی ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب توڑیں گے۔ جزیہ ختم کریں گے۔ لڑائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ اسلام ہی اسلام دکھائی دے گا۔ تو مرزا قادیانی کو حاجت ہوئی کہ ان تمام پیشین گوئیوں کو اپنے اوپر چسپاں کریں۔

مسیح علیہ السلام کی علامات

چنانچہ (توضیح المرام ص١٢، ١٣، خزائن ج٣ ص٥٧) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”شاید آخری عذر ہمارے بھائیوں کو یہ ہوگا کہ بعض الفاظ جو صحیح حدیثوں میں حضرت مسیح کے علامات میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان کی تطبیق کیونکر کریں۔ مثلاً لکھا ہے کہ مسیح جب آئے گا تو صلیب توڑے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا اور خنزیروں کو قتل کردے گا اور اس وقت آئے کہ جب یہودیت اور عیسائیت کی ہر خصلتیں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہوں گی ۔“ مرزا کی اس عبارت سے اتنا معلوم ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کی علامتیں صحیح حدیثوں میں ہیں اور مسلمان حدیث پر ایمان رکھتا ہے۔ اب ہر علامت کے متعلق مرزا قادیانی کی عبارت پڑھئے:

(ازالۃ الاوہام ص٤٨٢، خزائن ج٣ ص٣٥٩) اور اس حدیث میں دجال کا یہ قول: ”وانی انا المسيح وانى ان يوشك ان يؤذن لى فى الخروج“ جو زیادہ تر اس کے مسیح دجال ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ بظاہر تو اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ آخری زمانے میں وہ نکلنے والا ہے۔ لیکن بہت آسانی سے یہ شبہ رفع ہو سکتا ہے جب کہ اس طرح پر سمجھ لیں کہ عیسائی دجال بطور مورث اعلیٰ کے اس دجال کے لئے ہے۔ جو عیسائی گروہ میں پیدا ہوگا اور گرجا ہی سے نکلے گا۔

دجال

اور (ازالۃ الاوہام ص٤٩٥، خزائن ج٣ ص٣٦٦) ”یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح دجال جو گرجا سے نکلنے والا ہے۔ یہی (عیسائی) لوگ ہیں ۔“ یہ معلوم ہوا کہ مرزا کے نزدیک دجال عیسائی ہے۔

٣٩

صفحہ ٢٣١

گئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یاجوج ماجوج عیسائی برطانوی اور فرمان بھی آپ نے سن لیا کہ اے امت مرزا! جب یاجوج ماجوج انگریزوں کے ساتھ ہو جانا۔

اب (ازالہ اوہام ص ٤٩٥ ، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦) کی عبارت سے مراد یہی عیسائی ہیں۔ جو گرجا سے نکلنے والا ہے۔ ’’اب دونوں عم کے جمع کر لیجئے۔ عیسائی دجال ہیں۔ جب عیسائی اور روس کی جنگ نتیجہ یہ نکلا کہ اے امت قادیان ! جب یاجوج ماجوج یعنی روس اور انگریز ہو تو انگریز کا ساتھ دینا جو دجال ہے۔ یعنی مرزائی دجال کے ساتھ کاروبار اسی دجال کے سہارے اور زیر سایہ ہے۔ میرا بھی خیال یہی بلکہ انہیں میں سے ایک ہے۔

چوتھی پیش گوئی ...... دو بکریاں ذبح ہوں گی

اب اگر ہم کہیں مرزا دجال ہے تو اس میں مرزائیوں کے ہے۔ خود مرزا نے اپنی جماعت کو دجال بتایا۔ کیا قادیانی امت مرزا قادیانی زندگی میں ایک دفعہ بھی سچ نہ بولے؟ تف ہے ایسی ام جو اپنے ماننے والوں کو دجال کا ساتھی بتائے۔ ایک الہام مرزا کا اسی چلوں کہ مرزا قادیانی کا سلوک جو مریدین کے ساتھ ہے۔ اچھی طر کی مرزا احمد بیگ اور سلطان محمد بیگ سے چل رہی تھی۔ تو یہ الہام ص ٥٦ ، خزائن ج ١١ ص ٣٤١ ، ٣٤٠) ’’شاتان یذبحان‘‘ اس کے ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ! ہے۔ ’’یہ دونوں مرزا کے دشمن اور مخالف تھے۔ جن کو ذبح کرنے کی پھر بھی مرزا (تذکرہ الشہادت ص ٦٧ ، خزائن ج ٢٠ ص ٦٩) ’’شاتان قد بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ یہ پیشین گوئی شہید مرحوم و مولوی محمد عبدالرحمن کے بارے میں ہے۔‘‘ یہ واقعہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے۔ جس کتاب تذکرۃ الشہادتیں دیکھئے۔ میں اس عبارت کو سمجھنے کے لئے ایک شخص مرزا کے پاس آیا۔ جو مولوی عبداللطیف کابلی کا شاگر گیا۔ مرزا کو نبی تسلیم کر کے اس کے مخصوص مسائل محفوظ کر کے کابلی

٤١

صفحہ ٢٣١

کے زمانہ میں حکمران تھی اور دجال کے متعلق صحیح حدیث شریف کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔

ظاہر کئے اور ایک دوسری عبارت سنئے ۔ (ازالہ اوہام ص ٥٠٦، خزائن کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے۔ جو دنیا کی دو بلند اقبال قومیں ہیں۔ روس ہیں ۔“ اہل سنت و جماعت کے نزدیک حدیث سے ثابت یاجوج ظاہر ہوں گے ۔ ان کی سرکشی اتنی بڑھ جائے گی کہ خدا سے طرف تیر چلائیں گے ۔ مگر قدرت خدا کہ ان کے تیر خون آلودہ فرمائے گا کہ خدا کے لشکر کو ہلاک کر دیا ۔ وہ اسی حال میں ہوں گے مجبور بھی اور ہلاکت بھی یاجوج ماجوج دونوں نافرمان قوموں میں ہلاک ہوں گی۔

۔ (ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) ان دونوں قوموں اس لئے سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت نادان اور سخت نالائق مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے پایا اور پارہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی اسی نقطہ نظر سے یاجوج ماجوج کی حقیقت آپ کو معلوم ہو گئی اور بھی یاجوج ماجوج کی حقیقت معلوم ہو گئی ۔ نے کیا ہیں کہ جب یاجوج ماجوج کی جنگ ہو تو اے قادیانیو ! تم بنانا اور انہی کی فتح کی دعا کرنا ۔ کیونکہ انگریزوں کا مرزا پر بہت سایہ رہ کر مرزا کو راحت ہی راحت ملی ۔ جو ان عیسائی انگریزوں ن، نالائق، ناشکرگزار ہوگا اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ خدا کا کیوں ہے؟ مرزا خود لکھتا ہے کہ جس سکون کے ساتھ ہم اپنے اسلامی حکومت میں نہیں چلا سکتے ۔ یہ راز شاید جرمنی والوں کو قادیانی گورنمنٹ برطانیہ کا ایجنٹ ہے۔ اچھا تو آپ سمجھ

٤٠

گئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یاجوج ماجوج عیسائی برطانوی اور روس ہیں اور امت کے نام فرمان بھی آپ نے سن لیا کہ اسے امت مرزا ! جب یاجوج ماجوج ظاہر ہوں تو تم یاجوج یعنی انگریزوں کے ساتھ ہو جانا۔

اب (ازالہ اوہام ص ٤٩٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦) کی عبارت ملاحظہ فرمائیے کہ : ”دجال سے مراد یہی عیسائی ہیں ۔ جو گرجا سے نکلنے والا ہے۔“ اب دونوں عبارتوں کو مع مرزا کے حکم نامہ کے جمع کر لیجئے ۔ عیسائی دجال ہیں۔ جب عیسائی اور روس کی جنگ ہو تو عیسائیوں کا ساتھ دینا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اے امت قادیان ! جب یاجوج ماجوج یعنی روس اور انگریز (جو دجال ہے) کی جنگ ہو تو انگریز کا ساتھ دینا جو دجال ہے۔ یعنی مرزائی دجال کے ساتھ رہیں۔ کیونکہ مرزا کا سب کاروبار اسی دجال کے سہارے اور زیر سایہ ہے۔ میرا بھی خیال یہی ہے کہ مرزا دجال اکبر نہیں ۔ بلکہ انہیں تیس میں سے ایک ہے۔

چوتھی پیش گوئی ...... دو بکریاں ذبح ہوں گی

اب اگر ہم کہیں مرزا دجال ہے تو اس میں مرزائیوں کے برا ماننے کی کون سی بات ہے ۔ خود مرزا نے اپنی جماعت کو دجال بتایا۔ کیا قادیانی امت یہ چاہتی ہے کہ بے چارہ مرزا قادیانی زندگی میں ایک دفعہ بھی سچ نہ بولے؟ تف ہے ایسی امت پر اور تف ہے ایسے نبی پر جو اپنے ماننے والوں کو دجال کا ساتھی بتائے ۔ ایک الہام مرزا کا اسی معاملہ میں سنادوں پھر آگے چلوں کہ مرزا قادیانی کا سلوک جو مریدین کے ساتھ ہے۔ اچھی طرح ظاہر ہو جائے گا۔ جب مرزا کی مرزا احمد بیگ اور سلطان محمد بیگ سے چل رہی تھی ۔ تو یہ الہام گھڑا۔ دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣١ ، ٣٣٠) ”شاتان یذبحان “ اس کے بعد یوں ہوگا کہ دونوں بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور دوسری سے مراد اس کا داماد ہے۔ ”یہ دونوں مرزا کے دشمن اور مخالف تھے۔ جن کو ذبح کرنے کی وعید سنائی گئی ۔ جو قہر الٰہی ہے۔ پھر بھی مرزا (تذکرۃ الشہادت ص ٢٧ ، خزائن ج ٢٠ ص ٦٩) شاتان تذبحان تیری جماعت سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ یہ پیشین گوئی شہید مرحوم ومولوی محمد عبداللطیف اور ان کے شاگرد عبدالرحمٰن کے بارے میں ہے۔“ یہ واقعہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے۔ جس کو تفصیل مطلوب ہو مرزا کی کتاب تذکرۃ الشہادتیں دیکھئے ۔ میں اس عبارت کو سمجھنے کے لئے ملخص لکھتا ہوں۔ عبدالرحمٰن نامی ایک شخص مرزا کے پاس آیا۔ جو مولوی عبداللطیف کابلی کا شاگرد تھا۔ مرزا کا جادو اس پر چل گیا۔ مرزا کو نبی تسلیم کر کے اس کے مخصوص مسائل محفوظ کر کے کابل پہنچا اور اعلان شروع کیا کہ

٤١

صفحہ ٢٣٣

ایک نبی قادیان میں پیدا ہوئے ہیں۔ جو جہاد کو حرام کہتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ جو انہیں مانے گا۔ مسلمان ہوگا اور جو انہیں چھوڑے گا وہ خدا اور رسول کا چھوڑنے والا سمجھا جائے گا۔ بغیر ان کے مانے ہوئے مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جب یہ خبر پھیلی تو امیر کابل نے اس کو علماء کرام کے سامنے کیا اور تحقیقات کی۔ قاضی صاحب نے حکم شرعی سنا دیا مار ڈالا گیا۔ کیونکہ اس پر بہت سے شرعی جرم قابل کشتنی تھے۔ پیغمبر کی توہین ، جہاد کی فرضیت سے انکار۔ غلام مرزا کی نبوت کا اقرار ۔ ان جرائم کی وجہ سے وہ قتل کیا گیا۔ پھر مولوی عبد اللطیف مرزا کے پاس آئے اور یہی سب سبق پڑھ کر کچھ دنوں کے بعد یہ بھی اپنے وطن کابل لوٹے اور مرزائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہ بھی گرفتار ہوئے۔ مگر آدمی پڑھے لکھے تھے۔ انہیں مناظرہ کی سوجھی۔ اسلامی سلطنت تھی۔ انتظام ہوا، مناظرہ ہوا اور مناظرہ میں عبداللطیف مذکور کا مرتد ہونا قرآن و حدیث کا منکر ہونا ظاہر ہو گیا۔

توبہ کی فہمائش کی۔ مگر بدبختی غالب آئی۔ انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ مار ڈالا گیا۔ انہیں دونوں کے متعلق مرزا قادیانی نے وہ پیشین گوئی سنائی کہ ”شاتان تذبحان“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ ، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠) یہ دونوں اللہ کے دشمن ذبح کئے جائیں گے۔ دیکھی آپ نے مرزا کی حرکت جو اس کی مخالفت میں دن رات لگا رہے ، جو اس کو جھوٹا مکار سمجھے۔ اس کے لئے جو پیشین گوئی کی تھی۔ وہی اس کے لئے بھی سنادی جو رات دن اس کا کلمہ پڑھتا تھا۔ اسی کا دم بھرتا تھا۔ اسی کے نام پر جان سے گیا۔ اس کو بھی مرزا یہی سناتا ہے کہ تو تھا ہی ذبح ہونے کے قابل۔ قہر خداوندی میں مبتلا ہونے کے لائق ۔ سبحان اللہ و بحمدہ!

سچ فرمایا خدائے قدوس نے قرآن مجید میں کہ حساب کے دن جب لوگ شیطان کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اسی نے ہم کو گمراہ کیا۔ تو اس وقت شیطان جواب دے گا:”لوموا انفسکم“ مجھے کیوں ملامت کرو اپنے اوپر لعنت ملامت کرو تم تو تھے ہی اس قابل کہ جہنم میں جھونکے جاتے۔ یہی حال بعینہ مرزا کا ہے کہ پہلے عبد الرحمن، عبداللطیف کو خدا کے راستہ سے پھیرا اور اپنی راہ پر لگایا اور جب قتل ہونے کی باری آئی تو صاف کہہ کر بھاگ نکلا کہ تم تھے ہی اس قابل کہ ذبح کئے جاؤ۔

اتنا نہیں سمجھے کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں ۔ تیرہ سو برس سے قائم ہے۔ جس میں بڑے بڑے درجے اور کمالات والے مسلمان گزرے مگر نبوت کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا۔ نماز ، حج یا جہاد کسی نے حرام نہیں کیا۔ پھر ایک شخص کے کہنے پر تم نے غیر نبی کو نبی اور حلال کو حرام سمجھ لیا۔ یہ تمہارا

٤٢

ہی قصور ہے یا دعویٰ کرنے والے کا؟ جاؤ، قہر الٰہی کا مزا چکھو ”مقد آتھم ص ٥٦ ، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠) تمہارے ہی لئے ہے۔ ایک ا متعلق اور سن لیجئے۔ (تذکرۃ الشہادتین ص ٥٢ ، خزائن ج ٢٠ ص ٥٣ گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں اور یہ بات مولوی عبداللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حا جہاد کا نہیں۔“

سنا آپ نے؟ مرزا نے میدانِ محشر سے پہلے ہی ا میاں عبداللطیف کی سزا، عبد اللطیف کی غلطی پر ہوئی ہے۔ بھ کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ پھر اس مقام پر آئیے جہا جماعت کا ساتھ دینے کا حکم کیا ہے۔ اب یہ کیا کہ مرزا قادیان دیا ہے تاکہ انگریز خوش ہو جائیں یا الہامی طور پر یہ حکم دیا ہے؟

(جلسہ طاعون ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦) ”ہما بڑا ہی افسوس ہے جو گورنمنٹ کی تجاویز اور ہدایات پیش کر اور جہاں تک الفاظ ملتے تھے۔ اس بات پر بہت ہی زور دیا ک و جان اطاعت کرنی چاہئے اور فرمایا کہ یہ اطاعت صرف اب اطاعت فرض کرتا ہے۔ اب تو کوئی شبہ نہ رہا کہ قادیانی مذہ دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ دنیا میں بہتیرے باطل مذہب ہو اور مذہب نے یہ اعلان نہیں کیا کہ ہماری جماعت دجال ک تعمیل ہم پر فرض ہے۔ اسے بھی اس کے ساتھ ملا لیجئے۔ جہا ہونے میں اب بھی شک ہو سکتا ہے؟ اگر مخالفین مرزا شک ک نہیں پہنچتا کہ دجال کی اطاعت سے روگردانی کریں۔

یہ ہے وہ ہاویہ جس میں مرزا نے اپنے مرید کیا جہنم میں جاؤ اور نہ مانو تو بھی منکر اطاعت ہو کر جو فرض ہے؟ دھندہ بنایا کہ اس کے مریدین چاہے جو کچھ کریں۔ مگر گھوم

٤٣

صفحہ ٢٣٣

ہی قصور ہے یا دعویٰ کرنے والے کا؟ جاؤ، قہر الٰہی کا مزا چکھو ”شاتان تذبحان“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠) تمہارے ہی لئے ہے۔ ایک بات مرزا کی عبداللطیف مذکور کے متعلق اور سن لیجئے۔ (تذکرۃ الشہادتین ص ٥٢، خزائن ج ٢٠ ص ٥٣) ”امیر کابل نے خیال کیا کہ یہ اس گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ قضاء و قدر کی کشش سے مولوی عبداللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حالت میں بھی جتلا دیا کہ اب یہ زمانہ جہاد کا نہیں۔“

سنا آپ نے؟ مرزا نے میدان محشر سے پہلے ہی اسی قادیان کے بیان میں بتلادیا کہ میاں عبداللطیف کی سزا، عبداللطیف کی غلطی پر ہوئی ہے۔ بھلا غلطی کی سزا پانے والے کو بھی شہید کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ پھر اس مقام پر آئیے جہاں مرزا نے اپنے مریدین کو دجالی جماعت کا ساتھ دینے کا حکم کیا ہے۔ اب یہ کیا کہ مرزا قادیانی نے یونہی دجال کا ساتھ دینے کو کہہ دیا ہے تا کہ انگریز خوش ہو جائیں یا الہامی طور پر یہ حکم دیا ہے اور واقعی یہی ان کا مذہب ہے۔

(جلسہ طاعون ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٩) ”ہمیں ان لوگوں کی جہالت اور نادانی پر بڑا ہی افسوس ہے جو گورنمنٹ کی تجاویز اور ہدایات پیش کردہ کو شکر کے ساتھ قبول نہیں کرتے“ اور جہاں تک الفاظ ملتے تھے۔ اس بات پر بہت ہی زور دیا کہ گورنمنٹ انگریز کی ہدایات کی بہ دل و جان اطاعت کرنی چاہئے اور فرمایا کہ یہ اطاعت صرف اپنے طور پر نہیں جو اللہ تعالیٰ ہم پر اس کی اطاعت فرض کرتا ہے۔ اب تو کوئی شبہ نہ رہا کہ قادیانی مذہب میں دجال کی اطاعت فرض ہے۔ دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ دنیا میں بہتیرے باطل مذہب ہوئے اور ہیں۔ مگر آج تک کسی جماعت اور مذہب نے یہ اعلان نہیں کیا کہ ہماری جماعت دجال کی جماعت ہے اور دجال کے احکام کی تعمیل ہم پر فرض ہے۔ اسے بھی اس کے ساتھ ملا لیجئے۔ جہاں مرزا کی جماعت کے دجالی جماعت ہونے میں اب بھی شک ہو سکتا ہے؟ اگر مخالفین مرزا شک کریں تو کریں مگر مرزائیوں کو تو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ دجال کی اطاعت سے روگردانی کریں۔

یہ ہے وہ ہاویہ جس میں مرزا نے اپنے مریدین کو لا جھونکا۔ اگر مان جاؤ تو دجالی بنو۔ جہنم میں جاؤ اور نہ مانو تو بھی منکر اطاعت ہو کر جو فرض ہے جہنم میں جاؤ۔ مرزا قادیانی نے وہ گورکھ دھندہ بنایا کہ اس کے مریدین چاہے جو کچھ کریں۔ مگر گھوم گھما کر وہی جہنم کی سرٹیفکیٹ۔ ”مریدین

٤٣

صفحہ ٢٣٥

کو مخصوص ہدایت ص ٤ ”اب ایسا وقت ہے جس میں مناسب ہے کہ ہماری جماعت سرکار انگریزی کے منشاء کی پوری اطاعت کر کے اپنی نیک نہادی اور نیک چلنی کا ثبوت دیں اور نہ صرف یہی کریں کہ آپ ان ہدایتوں کے پابند ہوں ۔ بلکہ بڑی گرم جوشی سے اوروں کو بھی سمجھا دیں اور نادانوں کی بدگمانیاں اور بد خیالیاں دور کریں ۔ ایسی تابعداری کہ جو دل سے بھی ہو اور جان سے بھی ۔ ظاہری بھی ہو اور باطنی بھی ۔ ایسا نہ ہو کہ دکھاوے کے لئے ظاہری تابعداری ہو اور دل میں برا سمجھو ۔“

یہ ہے مرزا قادیانی کا بہترین فوٹو ۔ جو مسلمانوں کی آگاہی کے لئے پیش کیا گیا ۔

اس دجال قادیانی نے دین متین کو نیست و نابود کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے۔ خود مانا کہ انگریز دجال ہیں اور خود ہی اس دجال کی اطاعت فرض بتائی اور تاکید کی کہ اے بدچلن مرزائیو ! اپنی چال چلن دجال سے مطابق کر کے کامل تابعداری کی اس سے سند حاصل کرو ۔ (تحفہ قیصریہ ص ٣ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥) ”مگر میں دیکھتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے اور دوسروں کو بھی اسی راہ پر لگانے کے لئے سرتوڑ کوشش کرو کیونکہ اس کی کامیابی اپنی کامیابی ہے ۔ انگریزوں کی جماعت کوئی غیر نہیں ۔ اگر فرق ہے تو تابع متبوع کا ۔“ یہ ہے دجال کی الوہیت اور اس کی فرمانبرداری کا اعلان ۔

یہاں پر یہ جملہ بھی ملحوظ رہے جو مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے خدائے تعالیٰ کا نام لیا ہے ۔ ورنہ اس کا خدا تو دجال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس کی اطاعت فرض کی ہے۔ دجال جس کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ اس کی اصلی تصویر بھی مرزا کی زبانی سن لیجئے ۔

(ازالہ اوہام ص ٤١٨ ، خزائن ج ٣ ص ٤٠٨) ”پھر دجال ایک اور قوم کی طرف جائے گا اور اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دے گا ۔ پھر وہ لوگ اس کی دعوت قبول نہیں کریں گے ۔ العظمۃ للہ ! اب پھر جملوں کو ترتیب دے لیجئے ۔ عیسائی دجال ہے اور دجال دعویٰ خدائی کرے گا ۔ تمام مرزائیوں پر انگریزوں کی اطاعت فرض ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ تمام مرزائیوں پر فرض ہے کہ دجال کو اپنا خدا مانیں ۔ اسی کے ساتھ مرزا قادیانی نے ہم لوگوں کا حال بھی بیان کر دیا ۔ ان کی مہربانی جس کا شکریہ ۔ فرماتے ہیں دجال ایک اور قوم یعنی اہلسنت والجماعت کی طرف جائے گا اور اپنی خدائی کا اقرار اہل سنت سے بھی کرانا چاہے گا ۔ مگر اہلسنت اس کو دجال کہیں گے اور اس کی دعوت قبول نہیں کریں گے ۔ اے مرزائیو ! یہ موقع غنیمت ہوگا ۔ تم انتہائی سرگرمی سے اس کا پرجوش و پرخلوص خیرمقدم کرنا اور اس کی تابعداری میں لگ جانا ۔ یہ ہے اصلی تصویر مرزا اور مرزائیت کی ۔ جو ابھی

٤٤

تک بہتوں کی نگاہ سے اوجھل تھی ۔ جی چاہتا ہے کہ مرزا قادیانی جنگ دجال اور اہل سنت کے متعلق مرزا نے لکھا ہے۔ ایمان تازہ ہو جائے گا۔

یہ تو نصف النہار کی طرح روشن ہو گیا کہ مرزائی بھی عیسائیوں کا ساتھ دیں گے ۔ کیونکہ ان کی اطاعت ان پر فرض

کی ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٧)

رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی بھی اس کے پورے ہونے پر کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخر زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا ۔ اس وقت عیسائیوں آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے اترتا ہے ۔“

اب تو کسی سمجھدار کو اشتباہ نہ رہ گیا ۔ اگرچہ مرزا کوششیں کیں ۔ مگر یہ کیا کم ہے کہ جو اخیر میں حق ناحق کا کہ معین و حامی کہلاتے پھریں گے کہ عیسائی دجال حق پر قادیانی نے بتا دیا اور اشارہ کر دیا کہ گو اس ظاہری دنیا میں ازلی میں اس کا نام شیطان ہے اور آسمانی آواز یعنی خدائی ہے۔ بولو مرزائیو ! کس کا ساتھ دو گے؟

سیدنا مہدی علیہ الرضوان

اس سلسلہ میں مناسب ہوگا کہ حضرت امام مہدی جی کے اصل عقیدہ کو ظاہر کر دیا جائے ۔ مرزا جی کا عقیدہ یہ آدمی نہیں ۔ بلکہ مرزا ہی مسیح اور مہدی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٥٧٢ ، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩) ”وہی (مہدی) آئے گا یا عیسیٰ ابن مریم آئے گا ۔ دراصل ایک حضور اکرم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ ہماری اولاد میں امام دیں گے ۔ عیسائیت و شرک و کفر کا خاتمہ کر دیں گے اور مرزا

٤٥

صفحہ ٢٣٥

تک بصیرتی نگاہ سے اوجھل تھی۔ جی چاہتا ہے کہ مرزا قادیانی کا وہ فیصلہ بھی یہاں سنا دیا جائے جو جنگ دجال اور اہل سنت کے متعلق مرزا نے لکھا ہے۔ ایماندار سن کر مسرور اور مرزائی سن کر مبہوت ہو جائے گا۔

یہ تو نصف النہار کی طرح روشن ہو گیا کہ مرزائی مذہب میں عیسائی دجال ہیں اور مرزائی عیسائیوں کا ساتھ دیں گے۔ کیونکہ ان کی اطاعت ان پر فرض ہے اور اسی کا ڈھنڈورا بھی پیٹیں گے کہ عیسائی کی اطاعت فرض ہے۔ یہی برحق جماعت ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص٢، خزائن ج١١ ص٢٨٨،٢٨٧) ”اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی بھی اس کے پورے ہونے سے پوری ہو گئی۔ کیونکہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخر زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ حق آل محمدﷺ کے ساتھ ہے۔“

اب تو کسی سمجھدار کو اشتباہ نہ رہ گیا۔ اگرچہ مرزا نے اسلام کو تباہ کرنے کے لئے ہزار ہا کوششیں کیں۔ مگر یہ کیا کم ہے کہ جو اخیر میں حق ناحق کا فیصلہ خود کر گیا کہ اخیر دور میں عیسائیوں کے معین و حامی چلاتے پھریں گے کہ عیسائی دجال حق پر ہے۔ چلانے والوں کا اصلی نام بھی مرزا قادیانی نے بتا دیا اور اشارہ کر دیا کہ گو اس ظاہری دنیا میں اس جماعت کا نام مرزائی ہے۔ مگر علم ازلی میں اس کا نام شیطان ہے اور آسمانی آواز یعنی خدائی فیصلہ یہ ہوگا کہ حق مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ بولو مرزائیو! کس کا ساتھ دو گے؟

سیدنا مہدی علیہ الرضوان

اس سلسلہ میں مناسب ہوگا کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے متعلق مرزا جی کے اصل عقیدہ کو ظاہر کر دیا جائے۔ مرزا جی کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ الرضوان کوئی مستقل آدمی نہیں۔ بلکہ مرزا ہی مسیح اور مہدی ہے۔

(ازالہ اوہام ص٧٥٦، خزائن ج٣ ص٤٠٩) ”واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد عبداللہ (مہدی) آئے گا یا عیسیٰ ابن مریم آئے گا۔ دراصل اپنی مراد و مطلب میں ہم شکل ہیں۔“ مگر حضور اکرم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ ہماری اولاد میں امام مہدی ہوں گے۔ جو دنیا کو عدل سے بھر دیں گے۔ عیسائیت و شرک و کفر کا خاتمہ کر دیں گے اور مرزا لکھتا ہے کہ ہم رسول کو مانتے ہیں۔ پھر

٤٥

صفحہ ٢٣٧

انکار کیسے کر سکتا ہے۔ تو مرزائی اس کا جواب یہ دیں گے کہ مرزا قادیانی رسول اکرم ﷺ کو مانتے ہیں ۔ مگر خدا کے بعد رسول کا درجہ ہے ۔ اگر رسول کا کوئی حکم خدا کے حکم کے خلاف پڑے تو رسول کی بات چھوڑ دی جائے گی۔ یہ تو دنیا کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسائی کو دجال کہا اور دجال دعویٰ الوہیت کرے گا تو عیسائی حکومت خدا کی ہوئی یا نہیں ؟ تو پھر پہلے عیسائی حکومت کا فرمان دیکھیں گے پھر اور کسی کا اور عیسائی حکومت کا امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق کیا خیال ہے۔ دیکھو (اشتہار مرزا، پنجابی مولویوں کے نام ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠٨) ”گورنمنٹ ایسے لوگوں کو خطرناک سمجھتی ہے جو ایسے مہدی کے آنے کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔“ اب آپ ہی کہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی بات مان کر کیوں خطرہ مول لیا جائے ؟ اسی غلطی کی وجہ سے مرزا قادیانی ان تمام حدیثوں کا انکار کر دیا یا ایسا مطلب بنایا جو ان کے خدا کے خلاف نہ پڑے۔

اس میں مرزا نے غلطی کیا کی جو دنیا بھر کا الزام ان کے سر تھوپا جا رہا ہے؟ آخر اہلسنت کے ہاں بھی تو یہی مسئلہ ہے کہ خدا کے حکم کے خلاف بظاہر اگر حدیث معلوم ہو تو قرآن کے موافق ترجمہ کرو۔ یہی مرزا نے کیا۔ صرف فرق اتنا ہے کہ اہلسنت خدا کو ”وحدہ لا شریک لہ“ مانتے ہیں اور مرزا قادیانی ایک جماعت کو خدا مانتے ہیں۔ بولئے ! یہ واقعہ ہے یا محض تفنن، مرزائی کا جواب کیسا رہا؟

مرزا کی ان مختلف الخیال اور اوٹ پٹانگ تحریر و عقائد کو دیکھ کر خیال ہی نہیں ۔ ظن غالب بلکہ یقین محکم ہوتا ہے کہ مرزا قادیان کا توازن دماغی قائم نہ تھا۔ مگر پہلے میں ایک کہانی سنا دوں ۔ پھر میرے خیال پر تنقید کیجئے۔ (عسل مصفے ص ٥٣) ”ریواڑی ضلع گڑگانوہ کا رہنے والا ایک شخص مولوی اصغر حسین نامی جس کی عمر ٦٠ سال سے متجاوز تھی۔ دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں۔ یہ شخص قوم کے سید اور صاحب علم بھی ہیں ۔ کسی زمانہ میں ان کے بزرگ آسودہ حال تھے ۔ مگر گردش زمانہ سے وہ نحیف الحال ہو گئے اور کافی خوراک نہ ملنے اور پھر کثرت مطالعہ کی وجہ سے ان کے دماغ میں خشکی پیدا ہو گئی اور جنون اٹھا کہ میں مہدی موعود ہوں اور چودھویں صدی کا مجدد بھی ہوں ۔ اس پر وہ تلوار اور ایک جھنڈا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو جہاد کی طرف بلانے لگے۔ آخر کو یہ جنون سمایا کہ اول تھانہ پر یورش کی جائے۔ جب تھانہ قبضہ میں آ جائے گا تو پھر ضلع پر حملہ کر دوں گا اور پھر رفتہ رفتہ تمام ملک پر قابض ہو جاؤں گا۔ چنانچہ اس ارادہ پر وہ تھانہ میں گئے اور تھانیدار سے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ اس نے ہتھکڑی لگا کر ضلع میں بھیج دیا۔ آخر مجنوں شمار ہو کر چار ماہ کی حوالات کے بعد رہا کر دیا گیا اور اس کے بھائی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس کی نگرانی کریں ۔ یہ وہی مولوی اصغر حسین ہیں جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام پر ایک ہزار روپیہ کی نالش داغ دی تھی

٤٦

کہ میں حضرت موصوف کے اشتہار کا جواب جو میرے مخاطب تھے ۔ جواب دیا ہے۔ عدالت میں سوال کر عدالت میں اس سے ثبوت پوچھا گیا کہ تم کس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو برحق نبی مانتا ہوں اس لئے میں عیسائی سوال کیا تم عیسائی ہو یا مسلمان ۔ تو اس نے کہا کہ ہیں اور جو تثلیث کے پجاری ہیں ۔ وہ عیسائی نہیں عیسائیوں کو کہا ہے نہ کہ نصرانیوں کو ۔ جب وکیل نے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلما ہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ ”لا الہ الا اللہ محمد ر کلمہ صرف ”لا الہ الا اللہ“ ہے ۔ وہی پڑھتے ہیں نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا داخل کرنا شرک میں داخل متعجب رہ گئے اور مجسٹریٹ ہی بول اٹھا کہ تو جھوٹ مہدی کا دعویٰ کرتا تھا ۔ عدالت نے اس کے دعوے اس کی مہدویت ہی بھول گئی ہے ۔“

یہ اس قادیانی کی نظر میں بھی خائب و خاسر قادیانی نے بیان کی ہے ۔ اس کو سلسلہ وار جمع کیجئے:

ہو گیا ۔ چودھویں صدی کے مجدد اور مہدی موجود ہو لیجئے ۔ (ازالۃ اوہام ص ١١٩ تا ١٣١ حاشیہ ملخص، خزائن ج ٣ ص ہوتا ہے کہ اپنے آباء کی لائف یعنی سوانح زندگی کسی وقت میں جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا۔ بڑ ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے اور ان دی

صفحہ ٢٣٧

کہ میں حضرت موصوف کے اشتہار کا جواب جو عیسائیوں کی نسبت ہے اور عیسائی ہی اس کے مخاطب تھے۔ جواب دیا ہے۔ عدالت میں سوال کرنے پر کہنے لگا کہ میں بھی عیسائی ہوں۔ جب عدالت میں اس سے ثبوت پوچھا گیا کہ تم کس طرح عیسائی ہو؟ تو جواب دیا کہ میں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برحق نبی مانتا ہوں اس لئے میں عیسائی ہوں۔ حضرت اقدس کے وکیل نے سوال کیا تم عیسائی ہو یا مسلمان۔ تو اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمان فی الاصل عیسائی ہیں اور جو تثلیث کے پجاری ہیں۔ وہ عیسائی نہیں بلکہ نصرانی ہیں اور مرزا قادیانی نے مخاطب عیسائیوں کو کیا ہے نہ کہ نصرانیوں کو۔ جب وکیل نے دوسرا سوال کیا کہ عیسائی وہی نماز پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں اور وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ سب کام کرتے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھا کرتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ کلمہ صرف ”لا الہ الا اللہ“ ہے ۔ وہی پڑھتے ہیں۔ مگر ”محمد رسول اللہ“ کلمہ میں شامل نہیں ہے۔ بلکہ اس کا داخل کرنا شرک میں داخل ہے۔ سب مسلمان جو عدالت میں تھے۔ سن کر متعجب رہ گئے اور مجسٹریٹ ہی بول اٹھا کہ تو جھوٹ کہتا ہے۔ الغرض یہ حال اس مولوی کا ہے جو مہدی کا دعویٰ کرتا تھا۔ عدالت نے اس کے دعوے کو خارج کر دیا اور وہ خائب و خاسر چلا گیا۔ اب اس کی مہدویت ہی بھول گئی ہے۔“

یہ اس قادیانی کی نظر میں بھی خائب و خاسر ہوا۔ مگر اس کے دعویٰ کرنے کی جو وجہ اس قادیانی نے بیان کی ہے۔ اس کو سلسلہ وار جمع کیجئے:

ہو گیا۔ چودھویں صدی کے مجدد اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے ساتھ مرزا کی بھی سن لیجئے۔ (ازالہ اوہام ص ١١٩ تا ١٣١ حاشیہ ملخص، خزائن ج ٣ ص ١٥٩ تا ١٦٦) ”اس جگہ مجھے قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آباء کی لائف یعنی سوانح زندگی کسی قدر اختصار کے ساتھ لکھوں...... بابر بادشاہ کے وقت میں جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا۔ بزرگ اجداد اس نیاز مند الٰہی کے خاص سمرقند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا۔ ہجرت اختیار کر کے دہلی آئے...... چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات بطور جاگیر کے انہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے اور ان دیہات کے وسط میں ایک میدان میں انہوں نے

٤٧

صفحہ ٢٣٩

قلعہ کے طور پر ایک قصبہ اپنی سکونت کے لئے آباد کیا۔ جس کا نام اسلام پور ہے۔ جو اب قادیان کے نام سے مشہور ہے۔ اس قصبہ کے گردا گرد ایک فصیل تھی۔ جس کی بلندی بیس فٹ کے قریب ہوگی اور عرض اس قدر تھا کہ تین چھکڑے ایک دوسرے کے برابر چل سکتے تھے۔ چار بڑے بڑے برج تھے۔ جن میں قریب ایک ہزار کے سوار و پیادہ فوج رہتی تھی...... شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی...... یہ طرز حکومت اس وقت تک قائم و برقرار رہی کہ جس وقت تک پنجاب کا ملک دہلی کے تحت کا خراج گزار رہا۔ لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ چغتائی گورنمنٹ میں بباعث کاہلی وسستی وعیش پسندی و نالایقتی ، تخت نشینوں کے بہت سا فتور آ گیا اور کئی ملک ہاتھ سے نکل گئے۔ انہی دنوں میں اکثر حصہ پنجاب کا گورنمنٹ چغتائی سے منقطع ہو گیا۔ یہ ملک ایک ایسی بیوہ عورت کی طرح ہو گیا۔ جس کے سر پر کوئی سر پرست نہیں اور خدائے تعالیٰ کی عجوبہ قدرت نے سکھوں کی قوم کو جو دہقان بے تمیز تھی۔ ترقی دینا چاہا۔ چنانچہ ان کی ترقی اور تنزل کے دونوں زمانے پچاس برس کے اندر ختم ہو کر ان کا قصہ بھی خواب و خیال ہو گیا..... انہیں ایام میں بفضل واحسان الٰہی اس عاجز کے پردادا صاحب مرزا گل محمد مرحوم اپنے تعلقہ زمینداری کے ایک مستقل رئیس اور طوائف الملوک میں سے بن کر ایک چھوٹے سے علاقہ کو جو صرف چوراسی یا پچاسی گاؤں رہ گئے تھے۔ کامل اقتدار کے ساتھ فرمانروا ہو گئے اور اپنی مستقل سیاست کا پورا پورا انتظام کر لیا اور دشمنوں کے حملے روکنے کے لئے کافی فوج اپنے پاس رکھ لی اور تمام زندگی ان کی اسی حالت میں گزری کہ کسی دوسرے بادشاہ کے ماتحت نہیں تھے اور نہ کسی کے خراج گزار۔ بلکہ اپنی ریاست میں خود مختار حاکم تھے...... اور پانچ سو کے قریب قرآن شریف کے حافظ وظیفہ خوار تھے...... اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ اردگرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے...... بالآخر سکھوں نے قادیان پر بھی قبضہ کر لیا اور دادا صاحب مرحوم مع اپنے تمام لواحقین کے جلاوطن کئے گئے...... پھر انگریزی عہد سے کچھ پہلے یعنی ان دنوں جب رنجیت سنگھ کا عام تسلط پنجاب پر ہو گیا تھا۔ اس عاجز کے والد صاحب یعنی مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم دوبارہ اس قصبہ میں آکر آباد ہوئے اور پھر بھی سکھوں کی جور و جفا کی نیش زنی ہوتی رہی۔ ان دنوں میں ہم لوگ ایسے ذلیل وخوار تھے کہ ایک گائے کا بچہ جو دو یا ڈیڑھ روپیہ کا آ سکتا تھا۔ صد ہا درجہ ہماری نسبت بنظر عزت دیکھا جاتا تھا۔“

مرزا خدا بخش مصنف عسل مصفےٰ تو مر گئے۔ مگر ابھی بہت سے قادیانی اس زمین پر چل پھر رہے ہیں۔ دونوں مرزا کی تحریریں ملائیں اور دونوں مہدی کو ایک ترازو ایک ہی پلہ سے تول

٤٨

دیکھیں۔ میں توازن قائم کئے دیتا ہوں۔ ناظرین تبصرہ کر لیں۔ وجوہ تو آپ کے ذہن میں ہیں۔

اب مرزا قادیانی مدعی نبوت ومہدویت کے وجوہ وعلل

اپنی کثرت کتب بھی لکھا۔

دونوں کے حالات ملائیے ۔ کہاں کھاتا پیتا اصغر حسین بھلا شہزادوں کے عیش وعشرت کو ایک کسان یا زمیندار کا لڑکا پہنچ ہوئی تو اصغر حسین معمولی انسان بن کر رہ گیا اور جب مرزا کی حال کے بچہ سے بھی بے عزت ہو گیا۔ سچ کہئے اگر اصغر حسین کو اس وا کو ڈبل جنون نہیں ہو سکتا؟ ضرور ہو سکتا ہے۔ بلکہ ہوا۔ جب تو ا نہیں کیا۔ بلکہ ڈبل جنون کا ثبوت دیتے ہوئے مہدی بھی بنے عقلی طور پر ہوا جو مرزائیوں کے لئے یقینی دلیل ہے۔ کیونکہ انہو میں قرآن مجید تک کو خیر باد کہہ دیا مگر جو لوگ مرزا قادیانی کی نبا تسلی کے لئے مرزا قادیانی کی یہ عبارت حاضر ہے:

(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٧ ) ”اور میں ہوں اور درد سر کی بیماری مجھے مدت تیس سال سے ہے۔“ ا ہوئیں۔ دوسری مصیبت یہ کہ علاوہ دیگر امراض کے مخصوص دیما پھر بے چارے کے جنوں میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس ب عارضہ تھا۔ مرزا نے کہاں لکھا کہ جنون اور بیہوشی کا مرض تھا وہ اس کے ساتھ کہتے تھے۔

اچھا تو دیکھئے (سیرت المہدی ص ١٥،١٤، بروایت بسمہ

٤٩

صفحہ ٢٣٩

دیکھیں۔ میں توازن قائم کئے دیتا ہوں۔ ناظرین تبصرہ کر لیں۔ ایک مہدی بننے والا اور اس کے وجوہ تو آپ کے ذہن میں ہیں۔

اب مرزا قادیانی مدعی نبوت ومہدویت کے وجوہ وعلل کو جمع کیجئے:

اپنی کثرت کتب بھی لکھا۔

دونوں کے حالات ملا لیجئے۔ کہاں کھاتا پیتا اصغر حسین اور کہاں شاہزادہ مرزا غلام احمد۔ بھلا شہزادوں کے عیش وعشرت کو ایک کسان یا زمیندار کا لڑکا پہنچ سکتا ہے۔ پھر جب حالت دگرگوں ہوئی تو اصغر حسین معمولی انسان بن کر رہ گیا اور جب مرزا کی حالت بدلی تو انسانیت سے گر کر گائے کے بچہ سے بھی بے عزت ہو گیا۔ سچ کہئے اگر اصغر حسین کو اس وجہ سے جنون ہو سکتا ہے۔ تو کیا مرزا کو ڈبل جنون نہیں ہو سکتا؟ ضرور ہو سکتا ہے۔ بلکہ ہوا۔ جب تو اس نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ ڈبل جنون کا ثبوت دیتے ہوئے مہدی بھی بنے اور نبی بھی۔ مگر یہ فرق اور ثبوت تو عقلی طور پر ہوا جو مرزائیوں کے لئے یقینی دلیل ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو اپنی ناقص عقل کے مقابلہ میں قرآن مجید تک کو خیر باد کہہ دیا مگر جولوگ مرزا قادیانی کی زبانی ہر بات سننا چاہتے ہیں۔ ان کی تسلی کے لئے مرزا قادیانی کی یہ عبارت حاضر ہے:

(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٧ ) ”اور میں تو اکثر عوارض لاحقہ سے بیمار رہتا ہوں اور دردسر کی بیماری مجھے مدت تیس سال سے ہے۔“ ایک وہ مصیبتیں تھیں۔ جو پہلے مذکور ہوئیں۔ دوسری مصیبت یہ کہ علاوہ دیگر امراض کے مخصوص دماغ ہی کی بیماری تیس برس سے ہے۔ پھر بے چارے کے جنوں میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے۔ مگر اب بھی یار لوگ کہہ سکتے ہیں کہ دردسر کا عارضہ تھا۔ مرزا نے کہاں لکھا کہ جنون اور بیہوشی کا مرض تھا؟ بلکہ جو کچھ مرزا کہتے تھے۔ ہوش وحواس کے ساتھ کہتے تھے۔

اچھا تو دیکھئے (سیرت المہدی ص ١٢، حصہ ١، بروایت نمبر ١٩) ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ

٤٩

صفحہ ٢٤١

ماجدہ نے حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھوایا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرماتے گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ ماجدہ نے فرمایا تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کیسی ہے۔ شیخ حامد نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ مگر اب افاقہ ہے۔‘‘

اب مرزا قادیانی کی بے ہوشی اور دورہ میں شبہ نہ رہا۔ ہاں! مرزا قادیانی اپنی بے ہوشی کے دورہ کو ہسٹریا ہی کہتے تھے تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ مرزا قادیان میں رہتے تھے مردوں کے لباس میں اور دنیاوی نام بھی مردانہ ہی تھا۔ مگر ان میں نسوانی علامتیں پائی جاتی تھیں۔ پھر جب مرزا قادیانی کا حاملہ ہونا۔ بچہ جننا تعجب خیز نہ ہوا۔ تو ہسٹریا کا دورہ کیوں مستبعد سمجھا جائے۔ بہر صورت مرزا کا خلل دماغی بالکل ظاہر ہو گیا۔ اسی مدہوشی میں جو کچھ کہہ گئے۔ مریدین نے اس کا نام الہام رکھ لیا۔ یا جو کچھ مرزا نے حالت جنون میں کہہ دیا۔ اسے وحی الٰہی سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ بسا اوقات مرزا قادیانی نے بتا بھی دیا تھا کہ میرے اوپر شیطان آتا ہے۔ مگر مریدین مرید ہی تو تھے۔ پیر میاں جو کچھ کہیں یا کریں، سب حسن ظن سے حسن ہے۔ بجائے شیطان، جبرائیل امین سمجھ بیٹھے۔

(معیار المذاہب ص ١٨، خزائن ج ٩ ص ٣٨٢، ٤٨٢) ’’صحت اور تندرستی کی حالت میں ایسے مکروہ تخیلات پیدا نہیں ہو سکتے۔ بہتوں کو اس بات کی ذاتی تحقیقات ہے کہ مرگی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں۔ وہ بعینہ ایسا ہی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان فلاں فلاں جگہ لے گیا اور یہ عجائبات دکھلائے اور مجھے یاد ہے کہ شاید چوبیس برس کا عرصہ گزرا ہو گا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ شیطان سیاہ رنگ اور بدصورت کھڑا ہے۔‘‘ کیسا صاف اور واضح بیان ہے کہ بیمار اور کمزور آدمی اس کو شیطان لگتے ہیں اور مرزا قادیانی تو دائمی مریض تیس برس تک جس کو دماغی خرابی اور مرگی (ہسٹریا) کے بار بار دورے پڑیں۔ اس بے چارے کے

٥٠

جنون کا کیا ٹھکانہ ہو گا اور جب معمولی بیمار کو شیطان لگتے ہوں تو بھی چاہئے تھا۔ ہر وقت اور ہر ساعت سانس کے ساتھ شیطان ہے۔ اگر چہ مرزا قادیانی اس کی حرکتوں کو کثرت اعداد کی وجہ سے بتا ہی دیا کہ دس لاکھ دفعہ سے زیادہ ان کو الہام (شیطانی دورے گئے۔ کہیں کہا میں نبی ہوں۔ کہیں کہ نبی بننے والے پر لعنت۔ کہی کہ دجال کی اطاعت ہم پر فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتیں ب بھی نہیں کہہ سکتا۔ چہ جائیکہ مرزا جو بظاہر کلمہ گو ہے۔

مرزا نے اپنے جنون کے اسباب ذرا تفصیل کے سامعین کی بصیرت کے لئے یہاں نقل کر دوں۔ (فتح الاسلام ص جگہ یہ عجیب قصہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک دفعہ مجھے علی گڑھ میں دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں اسماعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے در لوگ مدت سے آپ کے شائق ہیں۔ بہتر ہے کہ سب لوگ آپ وعظ فرمادیں۔ چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہی کروں۔ اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول ک اسلام کی حقیقت بیان کروں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جای تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صح خدائے تعالیٰ نے نہ چاہا تو زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسما وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ای حالت میں ایک نبی گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو مل کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو؟ اس سے تم بیمار ہو یہ ایک روک تھی۔ جس کا مولوی صاحب کی خدمت میں عذ لوگوں نے میری اس بیماری کے سخت سخت دورے دیکھے ہیں ا

٥١

صفحہ ٢٤١

جنون کا کیا ٹھکانہ ہوگا اور جب معمولی بیمار کو شیطان لگتے ہوں تو اس دائم المرض کو دائم الشیطان ہونا بھی چاہئے تھا۔ ہر وقت اور ہر ساعت سانس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہونا چاہئے اور یہ واقعہ بھی ہے۔ اگر چہ مرزا قادیانی اس کی حرکتوں کو کثرت اعداد کی وجہ سے ٹھیک شمار نہ کر سکے۔ پھر بھی اتنا تو بتا ہی دیا کہ دس لاکھ دفعہ سے زیادہ ان کو الہام (شیطانی دورے ) ہوئے اور جو پھونکتا گیا کہتے گئے۔ کہیں کہا میں نبی ہوں۔ کہیں کہ نبی بننے والے پر لعنت۔ کہیں کہا دجال شیطان ہے۔ کہیں کہا کہ دجال کی اطاعت ہم پر فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتیں ہوش و حواس میں کوئی کافر سے کافر بھی نہیں کہہ سکتا۔ چہ جائیکہ مرزا جو بظاہر کلمہ گو ہے۔

مرزا نے اپنے جنون کے اسباب ذرا تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ سامعین کی بصیرت کے لئے یہاں نقل کر دوں۔ (فتح الاسلام ص ٢٩، ٢٨ خزائن ج ٣ ص ١٧، ١٨) ”اس جگہ یہ عجیب قصہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک دفعہ مجھے علی گڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض ضعف دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ پڑ چکا تھا۔ میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حالت ہے کہ میں زیادہ بات کرنی یا حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں علی گڑھ کے ایک مولوی صاحب اسماعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپ کے شائق ہیں۔ بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ وعظ فرماویں۔ چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہش ہے کہ حق باتوں کو لوگوں پر ظاہر کروں۔ اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے مجمع عام میں اسلام کی حقیقت بیان کروں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اس کو کیا سمجھ رہے ہیں؟ اور مولوی صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائے گی۔ لیکن بعد اس کے میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسمانی بلا میں پڑوں۔ اس لئے اس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا۔ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت کے کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو؟ اس سے تم بیمار ہو جاؤ گے۔ بہرحال خدا کی طرف سے یہ ایک روک تھی۔ جس کا مولوی صاحب کی خدمت میں عذر کیا گیا اور یہ عذر واقعی سچا تھا۔ جن لوگوں نے میری اس بیماری کے سخت سخت دورے دیکھے ہیں اور کثرت فکر یا خوض و فکر کے بعد بہت

٥١

صفحہ ٢٤٣

جلد اس بیماری کا برا نتیجہ ہونا چشم خود مشاہدہ کیا ہے ۔ وہ اگرچہ بباعث ناواقفیت میرے الہامات پر یقین نہ رکھتے ہوں۔ لیکن ان کو اس بات پر کلی یقین ہوگا کہ مجھے فی الواقعہ یہی مرض لاحق ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین صاحب جو لاہور کے آنریری مجسٹریٹ بھی ہیں اور اب تک میرا علاج کرتے ہیں۔ ان کی طرف سے ہمیشہ یہی تاکید ہے کہ دماغی محنتوں سے تا قیام مرض بچنا چاہئے۔‘‘

مرزا کی گزشتہ عبارتوں سے ،مرزا کا یہ دعویٰ ظاہر ہوچکا ہے کہ خدا نے اس کو تبلیغ پر مامور کیا اور نبی بن کر آیا اور اس عبارت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ باوجود مرزا کی دلی خواہش اور وعدہ واعلان کے خدا نے اس کو روک کر جھوٹا مشہور کرا دیا۔ ضعف دماغی کا تسلسل اور مدہوشی کے دورے، تبلیغ کے لئے جانا اور بالقصد وارادہ بغیر تبلیغ کئے خائب وخاسر واپس ہونا۔ یہ سب کچھ معلوم ہونا مگر اس سے بڑھ کر عبرت کا مقام یہ ہے کہ کسی کو کسی چیز سے روکنا، یا تو دنیاوی ضرر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یا دینی ضرر کی وجہ سے۔ اگر دینی نقصان ہے تو اسے روکنے والا خدائے تعالیٰ ہے یا انبیاء علیہم السلام اور ان کے نائبین اور اگر دنیاوی نقصان ہے یا بدنی نقصان ہے یا مالی۔ اگر مالی نقصان ہے تو حکام اور منتظمین دنیا اس سے روکتے ہیں اور اگر بدنی نقصان ہے تو حکیم اور ڈاکٹرز روکتے ہیں۔ اگر مریض طبیب کی ہدایات پر نہیں کار بند ہوتا تو اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے اور مرض ترقی پکڑ جاتا ہے اور اگر خدا اور رسول کا حکم نہیں مانتا اور منکر ہو جاتا ہے۔ بلکہ بغاوت کے لئے خلاف حکم کرنے کو کھڑا ہو جاتا ہے تو باغی منکر کافر مرتد کہلا کر اپنے کردار کی سزا بھگتنے کو جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مرزا خود لکھتا ہے کہ خدا نے اس کو تبلیغ سے روکا۔ مگر یہ نہ رکا۔ صرف علی گڑھ میں کسی مصلحت سے زبان بند رکھی۔ مگر پھر وہی حرکت جاری رہی۔ انبیاء کرام نے روکا مگر اس نے نہ مانا۔ یہ دینی حیثیت سے روکنا جو خدا اور رسول نے روکا اور مرزا منکر و باغی بن کر کافر و مرتد ہوا۔ پھر دنیاوی حیثیت سے ڈاکٹر نے روکا اور سخت تاکید کی۔ مگر مرزا نہ رکا۔ اس صورت میں مرض بڑھتا گیا اور اس بد پرہیزی اور حکم عدولی کی وجہ سے دیوانہ ہو گیا۔ یہ کوئی قیاس و اٹکل نہیں مرزا کی ذاتی تحریر ہے۔ اس نے اپنا حال بلا تقیہ یہاں پر ظاہر کر دیا۔ ہے کوئی قادیانی کان جو سن سکے؟

صاحب عسل مصفےٰ نے اصغر حسین مہدی بننے والے کے اس جملہ پر بڑا مذاق اڑایا کہ کلمہ صرف (لا الہ الا اللہ) ہے۔ ذرا مرزا قادیانی کی جھولی کھول کر دیکھئے۔ دیکھئے (تحفہ قیصریہ ص٢٩،خزائن ج١٢ص٢٨١) ”یہ بھی عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے، دین اسلام کے حصے صرف دو ہیں۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دو بڑے مقاصد پر مشتمل ہے۔ اول ایک خدا

٥٢

کو جاننا۔ جیسا کہ وہ فی الواقع موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور جان کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت ومحبت ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہمدردی میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا اور بادشاہ سے لے کر ادنیٰ تک شکر گزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ دینا۔ اسی لئے ایک سچا خیر خواہ اس گورنمنٹ کی نسبت جس کی ظل عاطفت کے نیچے رہتا ہے ہمیشہ اخلاص اور اطاعت کا خیال رکھتا ہے۔‘‘

کہئے ! اب کیا حکم ہے؟ اس مرزا کے لئے جس کے ایک خدا کو جاننا، دوسرے حکومت برطانیہ کی اطاعت۔ اس اصغر نے یہ بات کہی تھی۔ جس کی تاویل بشرط ایمان ممکن تھی۔ مگر انہوں نے تو خود اپنا حقیقی اندرونی مذہب ظاہر کر دیا۔ کیا اس کے دجال اصغر ہونے میں شبہ ہو سکتا ہے؟ میرا مشورہ اور صحیح مشورہ یہی ہے کہ مرزا کو ان وجوہ کی بناء پر مریضوں میں لکھے۔ مرزائی لوگ اسے مرفوع القلم سمجھ کر اس کا پیچھا چھوڑ دیں تو دنیا کے لئے نہ سہی پر ان کے لئے تو مفید ثابت ہوگا۔ مرزا نے اپنی نبوت کی زبردست دلیل یہ بیان کی ہے کہ کسی جھوٹے مدعی نبوت نے اتنی عمر نہیں پائی۔ یہ ایک سچی اور یقینی بات ہے کہ جھوٹے مدعی کو خدا مہلت نہیں دیتا۔

(عسل مصفےٰ ص٥٠) ”جہاں تک تاریخ گواہی ہے۔ جس قدر مدعیان نبوت گزرے ہیں جن پر کوئی وحی من جانب اللہ نازل نہیں ہوتی اور وہ اپنے تئیں خدا کی طرف سے لوگوں کے آگے پیش کرے اور اسی بناء پر لوگوں کو دعویٰ کرے کہ میں ایک سچا اور راست باز خدا کا مرسل ہوں، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو وہ مہلت کبھی نہیں ملتی جو ایک سچے اور راست باز خدا کے مرسل کو ملتی ہے۔ بلکہ وہ جلد تباہ کیا جاتا ہے اور اس کی جماعت ضلال اور گمراہی کے کنویں میں ہلاک ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک سچی اور یقینی بات ہے کہ کذاب ہرگز وہ عمر نہیں پاسکتے جو صادقوں کو ملتی ہے۔‘‘

یہ تو مرید کی گواہی ہے جو اول درجہ کا صحابی ہے۔ خود مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر٤ ص٧،خزائن ج١٧ص٤٣٤) ”کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ جھوٹے دعویٰ دار کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افتراء پر بیس برس سے زیادہ مدت گزر جائے اور وہ ایک دنیا کو تباہ کر دے؟ کیا ایک سچے آدمی کے لئے یہ نشان کافی نہیں کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہ کیا اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جنہیں میں شمار نہیں کر سکتا۔‘‘

٥٣

صفحہ ٢٤٣

کو جاننا۔ جیسا کہ وہ فی الواقع موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور اس کی سچی اطاعت میں اپنے وجود کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت ومحبت ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت و ہمدردی میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا اور بادشاہ سے لے کر ادنیٰ انسان تک جو احسان کرنے والا ہو، شکرگزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ دینا۔ اسی لئے ایک سچا مسلمان جو اپنے دین سے واقعی خبر رکھتا ہو۔ اس گورنمنٹ کی نسبت جس کی ظل عاطفت کے نیچے امن کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور ہمیشہ اخلاص اور اطاعت کا خیال رکھتا ہے۔“

کہئے ! اب کیا حکم ہے؟ اس مرزا کے لئے جس کے دین میں صرف دو باتیں ہیں۔ ایک خدا کو جاننا، دوسرے حکومت برطانیہ کی اطاعت۔ اس اصغر مہدی نے تو صرف ایک ہی بات بتائی تھی۔ جس کی تاویل بشرط ایمان ممکن تھی۔ مگر انہوں نے تو پورا کلمہ دونوں جزو والا بیان کر دیا اور اپنا حقیقی اندرونی مذہب ظاہر کر دیا۔ کیا اس کے دجال اصغر ہونے میں اب بھی قادیانیوں کو شبہ ہو سکتا ہے؟ میرا مشورہ اور صحیح مشورہ یہی ہے کہ مرزا کو ان وجوہ کی بناء پر جو اس نے اپنے ذاتی حالت مرض میں لکھے۔ مرزائی لوگ اسے مرفوع القلم سمجھ کر اس کا پیچھا چھوڑ دیں۔ یہ مرزا قادیانی کے لئے نہ سہی پر ان کے لئے تو مفید ثابت ہوگا۔ مرزا نے اپنی نبی اور مسیح موعود برحق ہونے کی بڑی زبردست دلیل یہ بیان کی ہے کہ کسی جھوٹے مدعی نبوت نے اتنی لمبی زندگی نہیں پائی، جتنی مرزا نے اور یقینی بات ہے کہ جھوٹے مدعی کو خدا مہلت نہیں دیتا۔

(عسل مصفےٰ ص٥٠)

”جہاں تک تاریخ گواہی ہے۔ ہمیں یہی ثابت ہوتا ہے کہ کسی مدعی نبوت کو جس پر کوئی وحی من جانب اللہ نہ ہوتی ہو، اور کہے مجھے وحی ہوتی ہے اور اپنی مفتریات کو لوگوں کے آگے پیش کرے اور انہی بناء پر لوگوں کو دعوے کرے۔ تو اتنی مہلت نہیں دی گئی جتنی راست باز خدا کے مرسل کو ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معیار نہ ہوتا تو خلق خدا بکثرت ضلال اور گمراہی کے کنویں میں ہلاک ہوتی۔ لیکن اس نے تو اپنی سنت قدیمہ سے مہر لگادی ہے کہ کذاب ہرگز وہ عمر نہیں پاسکتے جو صادقوں کو ملتی ہے۔

یہ تو مرید کی ہوئی جو ادنیٰ درجہ کا صحابی ہے۔ خود مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ (انجام آتھم ص٥٠، خزائن ج١١ ص٥٠) ”کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بے باک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افتراء پر بیس برس سے زیادہ گزر جائے۔ سو ایک تقویٰ شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ میرے ظاہر و باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جنہیں میں شمار نہیں کرسکتا۔ میں جوان تھا جب خدا

٥٣

صفحہ ٢٤٥

کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتدائے دعویٰ پر بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔ بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے۔ اور مجھے اس نے عمر دراز بخشی اور ہر ایک مشکل میں میرا متکفل اور متولی رہا۔ پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔

یہ عمر درازی یا رسی دراز ہے۔ اس سے کوئی مطلب نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ مرزا مسیح موعود بننے کے بعد قریب ستائیس سال بعد دعویٰ مسیحیت زندہ رہا اور حدیث شریف نے بتایا کہ مسیح علیہ السلام بعد نزول پینتالیس برس اس دنیا میں زندہ رہیں گے۔ یہ مرزا قادیانی کے کذاب ہونے کی روشن دلیل ہوئی۔ جس کو مرزا اپنے صدق نبوت کی دلیل بتا رہا ہے ”خسر ھنالك المبطلون“ کہو اب درازی عمر کا مطلب سمجھے؟

اس موقع پر ایک اور سوال و جواب بھی سن لیجئے۔ (عسل مصفےٰ ص٥٥٢) ”بعض عقل کے دشمن یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے رسول ﷺ کے زمانہ میں دعویٰ نبوت کیا تھا۔ لیکن رسول ﷺ کا انتقال ہو گیا اور وہ زندہ رہا۔ افسوس کہ ان کی عقل کو کیا ہو گیا۔ یہ نہیں سمجھتے کہ اس نے گو دعویٰ کیا تھا۔ لیکن نبی آخر الزمان علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب تو نہیں کی تھی۔ یہی کہا تھا کہ تم بھی نبی ہو اور میں بھی نبی ہوں۔“

خلاصہ مطلب اس مرزائی کے جواب کا یہ ہوا کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بہت دنوں تک زندہ رہا۔ یہ اس کی سچائی کی دلیل ہے۔ اعتراض ہوا کہ اگر یہی دلیل ہے تو مسیلمہ کذاب کو بھی سچا نبی مانو۔ کیونکہ زیادہ دن زندہ رہا۔ اس کا جواب مرزائی نے دیا کہ جو اپنی نبوت کا دعویٰ کرے اور دوسرے نبی کو جھٹلائے وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا اور مسیلمہ کذاب نے گو دعویٰ کیا۔ مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا نہیں۔ اس لئے زیادہ دنوں تک زندہ رہا تو دلیل سے دو صورتیں پیدا ہوئیں۔ ایک واضح صورت یہ ہوئی کہ مرزا نے خود دعویٰ نبوت کیا اور خاتم المرسلین کو جھٹلایا اور پھر زندہ رہا۔ یہ مرزا کی حقانیت کی دلیل ہے۔ جو مسیلمہ کذاب کو میسر نہیں۔ گو اس نے دعویٰ نبوت کیا۔ مگر خاتم المرسلین کو تو نہیں جھٹلایا، پھر مرزا کی برابری کیسی؟ تف بریں مذہب ناپاک!

دوسری صورت یہ ہوئی کہ جیسے مسیلمہ کذاب نے حضور کی تکذیب نہیں کی۔ ویسے ہی قادیانی کذاب نے بھی حضور کی تکذیب نہیں کی۔ لہٰذا دونوں کی رسی ڈھیلی کر دی گئی۔ مسیلمہ نے کہا تھا کہ تم بھی نبی ہو، میں بھی نبی ہوں۔ یہی مرزا کذاب نے کہا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں

اور میں بھی نبی ہوں۔ بات دونوں کی ایک ہی ہے۔ لئے حکم ہے وہی اس کے لئے بھی۔ وہ کذاب جہنمی ، یہ

ایک دلچسپ لطیفہ پڑھئے۔ (دافع البلاء ص ساکن جموں چراغ دین نام کی نسبت اپنی تمام جماعت ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا ہوں۔ جو بیعت کر چکا ہے۔ طاعون کے بارے میں سرسری کچھ حصہ اس کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی تھا کہ اس کے چھپنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کے حاشیے میں تھے۔ اس کو میں کثرت لوگوں اور و اور محض نیک نیتی سے ان کے چھپنے کی اجازت دی اور مضمون پڑھا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ کرادے اور قرآن وانجیل کا تفرقہ باہمی دور کرے کرے اور رسول کہلاوے۔ جائے غیرت ہے کہ ا پر لاوے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں علی الکافرین!

جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دوسرا ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے۔ نفس امارہ کی غلطی نے تاریخ سے وہ ہماری جماعت منقطع ہے۔ جب تک ناپاک رسالت کے دعوے سے ہمیشہ سے مستعفی نہ ہو

دیکھا آپ نے چراغ دین کے رسول ہو اور کس طرح اس کو اپنی جماعت سے کاٹ پھینکا او ص١٢٧) پر لکھتا ہے: ”جس دین میں نبوت کا سلسلہ ظاہر ہے کہ نبی کا ہوتے رہنا فرض اور سب سے اہم ٥٥

صفحہ ٢٤٥

اور میں بھی نبی ہوں۔ بات دونوں کی ایک ہی ہے۔ جو اس نے کہا اس نے بھی کہا۔ جو اس کے لئے حکم ہے وہی اس کے لئے بھی۔ وہ کذاب جہنمی ، یہ بھی کذاب جہنمی۔

ایک دلچسپ لطیفہ پڑھئے۔ (دافع البلاء ص ١٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١،٢٣٢) پر لکھا ”ایک شخص ساکن جموں چراغ دین نام کی نسبت اپنی تمام جماعت کو ایک عام اطلاع، چونکہ اس شخص نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا دعویٰ کر کے کہ میں خود فرقہ احمدیہ میں سے ہوں۔ جو بیعت کر چکا ہوں۔ طاعون کے بارے میں ایک دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں نے سرسری کچھ حصہ اس کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی نہیں سنا تھا۔ اس لئے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعوے جو اس کے حاشیے میں تھے۔ اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہیں سکا اور محض نیک نیتی سے ان کے چھپنے کی اجازت دی۔ اب جو رات اس شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لئے مضر ہے اور سرے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ لکھا ہے تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کرا دے اور قرآن وانجیل کا تفرقہ باہمی دور کرے اور ابن مریم کا ایک حواری بن کر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے۔ جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہا کر یہ ناپاک کلمہ منہ پر لاوے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں کا مصالحہ کراؤں ۔ لعنة الله علی الکافرین !

جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا اور صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہادی کے سبب پیرو ہیں۔ کسی کو دعویٰ نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے۔ نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے۔ جب تک کہ مفصل طور پر اپنی توبہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوے سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔“

(دافع البلاء ص ٢١،٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١، ٢٣٢)

دیکھا آپ نے چراغ دین کے رسول ہونے کے دعویٰ پر ہی مرزا کا پارہ کہاں چڑھ گیا اور کس طرح اس کو اپنی جماعت سے کاٹ پھینکا اور استغفار کی تو ایک نہ سنی۔ (ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) پر لکھتا ہے: ”جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔“ اس عبارت سے تو صاف ظاہر ہے کہ نبی کا ہوتے رہنا فرض اور سب سے اہم فرض ہے۔ ورنہ دین اسلام مردہ ہوگا۔ پھر

٥٥

صفحہ ٢٤٧

چراغ دین نے دعویٰ کیا تو تمہارے قاعدہ کے خلاف ہو گیا جو آپے سے باہر ہو گئے اور لعنۃ اللہ علی الکافرین! سنا دیا۔ کیا تمہارا یہ قانون تمہاری ذات کے لئے نہیں ہے؟ یقیناً ہے اور جو تم نے اس جھوٹے نبی چراغ دین ثانی کے لئے پڑھا وہی تم جھوٹے مرزا چراغ دین اول کے لئے اہل سنت پڑھتے ہیں۔ لعنۃ اللہ علی الکافرین!۔ پھر ذراسی بدتمیزی پر دھیان دو:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من برتبہ نہ کمترم ز کسے

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اگرچہ انبیاء بہت سے آئے، مگر میں کسی سے کم نہیں۔ عسل مصفےٰ میں اس کا صحابی لکھتا ہے:

مہبط روح الامیں شد درگہ تو اے امین
خاک پایت توتیا شد بہر ہر شاہ و گدا
زندہ کر دی دین احمد بلکہ احمد مصطفٰیؐ
زندہ کر دی نورِ قرآن بلکہ جملہ انبیاء
زندگی دادی ہمہ اقطاب را ابدال را
مرحبا اے سید کونین جاں بر تو فدا

پہلے شعر سے تو معلوم ہوا کہ مرزا دجال کسی پیغمبر سے کم نہیں اور پچھلے تین شعر میں تو دعویٰ خدائی ہے۔ لکھا ہے دین احمد ﷺ مردہ تھا۔ مرزا دجال نے اس کو زندہ کیا۔ پھر کہتا ہے کہ دین ہی نہیں بلکہ خود مصطفیٰ کو مرزا نے زندہ کیا اور ایک اکیلے ختم المرسلین ہی کو نہیں۔ بلکہ ابدال کو اقطاب کو قرآن اور سارے انبیاء و مرسلین کو اس جہنمی مرزا کذاب نے زندہ کیا۔

کیا اب بھی اس کے لعنۃ اللہ علی الکافرین! کا مصداق بننے میں شبہ ہے؟ اس کے خبیث مرید نے تو نبی ورسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پر راندۂ درگاہ بنایا گیا اور اس مرزا نے تو سب سے اپنے کو بلند و برتر کیا۔ بلکہ تمام پیغمبروں کو زندگی دینے والا بن بیٹھا۔

خاتم النبیین ﷺ کے لئے لکھتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٧٦، خزائن ج ٣ ص ٤٦٥) ”سیفی فتح کوئی چیز نہیں۔ چند روزہ اقبال دور ہونے سے وہ فتح معدوم ہو جاتی ہے۔ سچی اور حقیقی فتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو۔ سو وہ یہ فتح ہے جو اب اسلام کو نصیب ہورہی ہے۔“ اللہ کی پناہ اتنا بڑا کافر تو کلمہ پڑھنے والوں میں اس آسمان کے نیچے کبھی پیدا

٥٦

نہیں ہوا اور خود اس دجال کو بھی اقرار ہے کہ اس تیرہ سو نے کہا او انسان نما ابلیس جب رسول پاک کی تعلیم ناق میں کہاں سے کمال آ گیا؟ تو تو خود لکھتا ہے، مجھے پی کے پاس تھا ہی نہیں تو تجھے کہاں سے ملا؟ (معاذ اللہ )

مرزا دجال نے اپنے دعوے کے ثبوت می بھی لکھی ہیں۔ جو سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ص ١٠، ١٢، خزائن ج ٣ ص ٣٧١، ٣٧٣) پر لکھتا ہے: ”اب غ متعلق ہیں۔ مع شرح ذیل میں لکھے ہیں:

دور او چوں شود
پسرش یادگارو

یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ یادگار رہ جائے گا۔ یعنی مقدر یوں بنے کہ خدائے تعا نمونہ پر ہوگا اور اسی کے رنگ سے رنگین ہوگا اور وہ ا عاجز کی اس پیش گوئی کے مطابق ہے۔ جو ایک لڑکے پیشین گوئی ہے جو ١٨٨٧ء کو پیدا ہوا اور تمہارے سام یہ پیشین گوئی بھی مرزا پر نہ چپک سکی۔

شاہ صاحب موصوف کے قصیدہ کا ایک ش نعت اللہ کے اس موضوع پر تین قصیدے ہیں۔ جن ایک شعر میں لکھتا ہوں:

دو کس بنام احمد
ساز نداز دل خود

اخیر زمانہ میں دو آدمی احمد نام کے ہوں بے شمار مخلوق کو گمراہ کریں گے۔ بولو مرزا نیو! تمہارے تفسیر کر کے دنیا کو گمراہ کیا یا نہیں؟

مرزا قادیانی نے اپنے صدق کے ثبوت اس کا اقرار کیا ہے کہ اگر یہ نشان ظاہر نہ ہو تو م

٥٧

٧

صفحہ ٢٤٧

نہیں ہوا اور خود اس دجال کو بھی اقرار ہے کہ اس تیرہ سو برس کے اندر کبھی کسی نے وہ نہیں کہا جو مرزا نے کہا او انسان نما ابلیس جب رسول پاک کی تعلیم ناقص تھی، فتوحات بے سود اور کچھ نہ تھی۔ تو تجھ میں کہاں سے کمال آ گیا؟ تو تو خود لکھتا ہے، مجھے یہ سب کچھ حضور کی اتباع سے ملا۔ جب حضور کے پاس تھا ہی نہیں تو تجھے کہاں سے ملا ؟

( معاذ اللہ )

مرزا دجال نے اپنے دعوے کے ثبوت میں اسلاف بزرگانِ دین کی وہ پیشین گوئیاں بھی لکھی ہیں۔ جو سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے کی گئی تھیں۔ اپنی کتاب ( نشان آسمانی ص ١٠، ١٢، خزائن ج ٤ ص ٣٧١ ، ٣٧٣) پر لکھتا ہے: ”اب چند اشعار نعمت اللہ ولی کے جو مہدی ہند کے متعلق ہیں۔ مع شرح ذیل میں لکھے ہیں:

دور او چوں شود تمام بکام
پسرش یادگارِ می بینم

یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا۔ یعنی مقدر یوں بنے کہ خدائے تعالیٰ اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا۔ جو اسی کے نمونہ پر ہوگا اور اسی کے رنگ سے رنگین ہوگا اور وہ اس کے بعد اس کا یادگار ہوگا۔ یہ حقیقت اس عاجز کی اس پیش گوئی کے مطابق ہے۔ جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے۔ ہاں بیشک وہی پیشین گوئی ہے جو ١٨٨٧ء کو پیدا ہوا اور تمہارے سامنے ہی سال بھر کے اندر ١٨٨٨ء میں مر گیا۔ یہ پیشین گوئی بھی مرزا پر نہ چپک سکی۔

شاہ صاحب موصوف کے قصیدہ کا ایک شعر میں لکھتا ہوں جسے قصداً مرزا چھوڑ گیا۔ شاہ نعمت اللہ کے اس موضوع پر تین قصیدے ہیں۔ جن میں سے ایک کے چند اشعار مرزا نے لکھے اور ایک شعر میں لکھتا ہوں:

دو کس بنام احمد گمراہ کنند بیحد
سازند از دل خود تفسیر فی القرآنہ

اخیر زمانہ میں دو آدمی احمد نام کے ہوں گے۔ جو من گھڑت قرآن مجید کی تفسیر کر کے بے شمار مخلوق کو گمراہ کریں گے۔ بولو مرزائیو! تمہارے آقا نے تمام مفسرین کے خلاف من گھڑت تفسیر کر کے دنیا کو گمراہ کیا یا نہیں؟

مرزا قادیانی نے اپنے صدق کے ثبوت میں ایک بہت ہی واضح نشانی بیان کی ہے اور اس کا اقرار کیا ہے کہ اگر یہ نشان ظاہر نہ ہو تو مرزا قادیان کو کذاب سمجھنا۔

( ضمیمہ انجام آتھم

٥٧

صفحہ ٢٤٩

ص ٣٠ تا ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٤١٦، ٤١٩) ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدائے تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلامی بول بالا ہو اور جن سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کروں گا اور خدا جانتا ہے کہ میں ہرگز کاذب نہیں ہوں۔“

مرزا قادیانی نے ١٨٩٦ء میں یہ اعلان کیا اور ١٩٠٨ء میں بارہ برس نہ معلوم کیا کیا حسرتیں لے کر اس دنیا سے چل بسا۔ اب دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ سات برس نہیں بلکہ پورے پچاس برس میں بھی عیسائیت فنا ہوئی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو کہو مرزا کا فیصلہ مرزائیوں کے لئے قابلِ عمل ہے یا نہیں؟ دوسری پیشین گوئیوں میں تو غلط تاویل نکالی گئی۔ اب روزِ نیم روز کو کیا کہو گے؟ دن یا رات؟ یہ منظر تو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب تو انگریزوں کی حکومت بھی ہندوستان میں نہیں رہی۔ مگر کیا دنیا سے عیسائیت فنا ہو گئی؟ یہ مرزا قادیانی کا قطعی فیصلہ ہے کہ اگر عیسائیت فنا نہیں ہوئی تو مرزا کذاب ہے۔ کیا ایسا کذاب نبی ہو سکتا ہے یا نبی بن سکتا ہے؟ نعوذ باللہ من ذالك !

مرزا قادیانی کذاب تھا۔ کچھ تو اس کی قسم کا اعتبار کریں۔ (انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٥٣) پر ہے: ”انا انزلناه قريبا من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا اور حق کے ساتھ اتارا اور حق کے ساتھ اترا۔“ یہ وحی مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے ثبوت میں بتائی جو اس کے نزدیک قادیانی نبوت پر صراحتاً دلالت کرتی ہے۔ مگر ہر معمولی عربی دان پر روشن ہے کہ یہ وحی ایک ایسے نبی کو بتا رہی ہے جو قادیان میں نہیں۔ جس کی سکونت یا ولادت قادیان میں نہیں۔ بلکہ قادیان کے قریب کسی اور گاؤں یا قصبہ میں ہے اور مرزا قادیانی، قادیان میں پیدا ہوا۔ قادیان میں سکونت رہی۔ ہاں! مرزا البتہ دوسری جگہ۔ یہ بھی خدا کی طرف سے بہت بڑی نشانی تھی۔ مگر اندھے مرزائی اسے بھی نہ دیکھ سکے کہ نبی جہاں وفات پاتا ہے۔ وہیں اس کی قبر ہوتی ہے اور مرزا کہاں مرا اور کہاں گھسیٹ کر لایا گیا؟ ہے کوئی قادیانی کان جو سن سکے؟ معلوم ہوا کہ یہ الہام مرزا قادیانی کے لئے نہیں اور یہ واقعہ بھی ہے۔ کیونکہ قادیان میں نبی کا ہونا یوں بھی محال ہے۔

٥٨

سنئے! مرزا قادیانی شاید اپنی زندگی میں وہ ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٥) ”جس قدر رفقاء و علماء گئے اور مختلف بلاد و امصار میں جا کر آباد ہو گئے اور یہ جگہ ا ہو گئی جن کے خیالات بجز بدکاری کے اور کچھ نہیں۔“ شا قادیانی بدکار، حرام کار، یزیدی، شریر بھلا نبی ہو سکتا ہے؟ شیطانوں کے لئے جگہ خالی کر گئے۔ (ازالۃ اوہام ص ٧٢ حاش ایک وحی بھی اتار لی۔ اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مش نسبت مجھے یہ الہام ہوا کہ ’اخرج منه اليزيد يو ہیں۔ اس جگہ اس قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا۔ جس میں کی عادت اور خیالات کے پیرو ہیں۔ ان کے دلوں میں الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔“

اس مرتد کذاب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کمتر ٹھہرایا ہے:

ابن مریم کے ذکر
اس سے بہتر غلا

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) میں لکھ بت پرستی ہے اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا ہو کوشلیا، رام چندر کی ماں کا نام ہے۔ مرزائیو! کچھ غیرت بھی اس کے ایمان کی گواہی دیتے جاؤ گے؟ اس کی ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) میں لک ہمیشہ قحط نہیں پڑتے؟ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا؟“

پھر (ازالۃ اوہام ص ٧٠٦، خزائن ج ٣ ص ٤٨ گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں

٥٩

صفحہ ٢٤٩

سنئے! مرزا قادیانی شاید اپنی زندگی میں دوسری بار سچ بول رہے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ١٣١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٥) ”جس قدر فقراء وعلماء وشرفاء قادیان میں موجود تھے۔ سب نکل گئے اور مختلف بلاد وامصار میں جاکر آباد ہوگئے اور یہ جگہ ان شریروں اور یزیدی الطبع لوگوں سے پر ہوگئی جن کے خیالات بجز بدکاری کے اور کچھ نہیں۔“ شاباش مرزا قادیانی! کیا پتے کی بات کہی۔ قادیانی بدکار، حرام کار، یزیدی، شریر بھلا نبی ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ شرفاء باحیاء تو پہلے ہی کمینوں، شیطانوں کے لئے جگہ خالی کر گئے۔ (ازالہ اوہام ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٨) پر مرزا قادیانی نے ایک وحی بھی اتار لی۔ اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا کہ ’اخرج منہ الیزید یون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔ اس جگہ اس قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا۔ جس میں ایسے لوگ ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادت اور خیالات کے پیرو ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔“

اس مرتد کذاب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے سے کم بتایا۔ بلکہ بت پرستوں سے بھی کمتر ٹھہرایا ہے:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) میں لکھتا ہے: ”ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسیٰ پرستی، بت پرستی ہے اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا، کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“ کشلیا، رام چندر کی ماں کا نام ہے۔ مرزائیو! کچھ غیرت ہے یا نہیں؟ مرزا کا بکواس سنتے ہو۔ اب بھی اس کے ایمان کی گواہی دیتے جاؤ گے؟ اس کی زبان درازی اور بے ایمانی تو بالکل بے نظیر ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) میں لکھتا ہے: ”کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آئے؟ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے؟ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا؟“ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا؟“

پھر (ازالہ اوہام ص ٧٠٦، خزائن ج ٣ ص ٤٨٦) پر لکھتا ہے: ”مسیح کے معجزات اور پیشین گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور

٥٩

صفحہ ٢٥٠

نہیں کرتا؟ اور پیشین گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کوئی پیشین گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے ، مری پڑے گی ، لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں اس قدر مسیح نہیں نکل سکیں۔“

مرزائیو! اول تو ٹھنڈے دل سے اس بات کی پڑتال کرو کہ تمہارے سے مرزا دجال نے کاہے کی پیشین گوئی کی ہے۔ جہاں دیکھو مری پڑی ہے۔ عبداللہ آتھم کو کہا مر جائے گا۔ مرزا احمد بیگ کے مرنے کی پیشین گوئی کی۔ سلطان محمد بیگ کو مرنے کی پیشین گوئی کی۔ پنڈت لیکھ رام کو مرنے کی پیشین گوئی کی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم کو مرنے کی پیشین گوئی کی اور ساری دنیا کو موت کی پیشین گوئی کی۔ تمہیں یاد ہوگا جب مرزا نے کہا تھا کہ اگر لوگ ہم کو نہ مانیں گے تو طاعون سے مر جائیں گے اور جو ہم کو مان جائے گا، بچ جائے گا۔ یہ تو عالمگیر موت کی پیشین گوئی تھی۔ اگر یہ پیشین گوئی معجزہ نہیں تو مرزا کی نبوت جو اسی پر موقوف تھی۔ بولو اب بھی ختم ہوئی یا نہیں؟

پھر ایک اولوالعزم پیغمبر کو نادان اسرائیلی کہنا اور اس کے معجزات کو جھٹلانا خدا کی تکذیب نہیں ہوتی۔ کیا مرزا مرتد اب بھی مسلمان رہا؟ (ضمیمہ انجام آتھم ص٢٣، بقیہ حاشیہ در حاشیہ خزائن ج١١ ص٢٨٨ تا٢٩٠ ملخص) پر اپنی پیشین گوئی بنا کر لکھتا ہے:

”یسوع کی تمام پیشین گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے۔ اگر ایک پیشین گوئی بھی اس پیشین گوئی کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔......یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی ہو جائیں۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا...... آپ کی عقل بہت ہی موٹی تھی...... ہاں آپ کو گالیاں دینے کی عادت تھی...... یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی...... بہر حال آپ علمی عملی قوٰی میں بہت کچے تھے۔ عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔

نبی کی تعلیم کا یہ اثر بتاتا ہے۔ پھر (معیار المذہب ص١٦) پر لکھتا ہے: ”چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور پر دادی بھی تھی۔ یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی اور دوسری نانی جو ایک طور پر دادی بھی تھی، اس کا نام تمر ہے۔ یہ خانگی بدکار ڈومنی کی طرح حرام کار تھی اور ایک نانی یسوع کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی ، بنت سبا کے نام سے موسوم ہے، یہ وہی پاک دامن تھی جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا۔“لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین!

٦٠

٢٥١

یہ ہے مرزا قادیانی کا دین! جس میں نبی کی عصـ ہے۔ اس مفتری نے کیا کیا افتراء نہ کیا۔

(انجام آتھم ص٨

جس نے شراب خوری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں ایک کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اس کو ر منہ لگا دے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتو لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنی کتاب ( لکھتا ہے:”خدا تو بے شک اپنے وعدوں پر قادر ہے۔ لیکن ایـ لا سکتا ، جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کر دیا ۔“ اس ہے۔ اس بکواس سے قرآن مجید کی متعدد آیات کا انکار کیـ بیان فرماتا ہے۔ یہ دجال منکر ہے۔”وان تخلق من الـ فتکون طیرا باذنی“ پھر فرمایا ”واذ قالت الملائـ اسمه المسیح بن مریم وجیها فی الدنیـ فرمایا ”واتینا عیسی ابن مریم البینت وایدناه السلام کو معجزات دیئے۔ دنیا و آخرت میں عزت و جاہت حقـ فرمائیں۔ خدائے تعالیٰ فرمائے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزہ نہیں۔ خدا فرماتا ہے عزت وجاہت دی۔ یہ کذاب امـ

جب مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ تم نے حضـ وقار کو گھٹایا تو نور القرآن میں یہ حیلہ تراشا کہ عیسائیوں خدائی کا دعویدار تھا۔ مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھی کو اچھا کر بناتا تھا۔ سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضیـ ایک عاجز بندہ عیسیٰ بن مریم جو نبی تھا۔ جس کا ذکر قرآن میں ہر گز مراد نہیں۔

خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ جن کو مرزا نے گالیاں

٦١

صفحہ ٢٥١

یہ ہے مرزا قادیانی کا دین ! جس میں نبی کی معصوم شخصیت کو اس طرح رسوا کیا جا رہا ہے۔ اس مفتری نے کیا کیا افتراء نہ کیا۔ (انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ص٢٨٩) پر لکھتا ہے:”اور جس نے شراب خوری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اس کو یہ موقع دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگا دے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔“ لعنۃ اللہ علی الکاذبین!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنی کتاب (دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ص ٢٣٥) پر لکھتا ہے: ”خدا تو پابندی اپنے وعدوں پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا، جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کر دیا۔“ اس قسم کی بہت سی گندی گھناؤنی بکواس کی ہے۔ اس بکواس سے قرآن مجید کی متعدد آیات کا انکار کیا گیا۔ خدائے قدوس ان کے معجزات بیان فرماتا ہے۔ یہ دجال منکر ہے۔ ”واذ تخلق من الطين كهيئة الطير فتنفخ فيها فتکون طيرا باذنی“ پھر فرمایا ”واذ قالت الملائكة يا مريم ان الله يبشرك بكلمة اسمه المسيح بن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المقربين“ پھر فرمایا ”واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معجزات دیئے۔ دنیا و آخرت میں عزت وجاہت عطا فرمائی۔ روح القدس سے ان کی تائید فرمائی۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ بن مريم کو معجزات دیئے اور یہ دجال کہتا ہے کہ کوئی معجزہ نہیں۔ خدا فرماتا ہے عزت و جاہت دی۔ یہ کذاب انہیں جھوٹا فحش گو بتاتا ہے۔

جب مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ تم نے حضرت مسیح کی توہین کی۔ ان کی شان اعلیٰ وارفع کو گھٹایا تو نور القرآن میں یہ حیلہ تراشا کہ عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویدار تھا۔ مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھی کو اچھا کرنا، نابینا کو بینا کرنا، باذن اللہ اپنا معجزہ بتاتا تھا۔ سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ بن مریم جو نبی تھا۔ جس کا ذکر قرآن میں ہے، وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔

خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ جن کو مرزا نے گالیاں دی ہیں۔ وہ یسوع ہے جو پیغمبر نہیں اور

٦١

صفحہ ٢٥٣

عیسیٰ علیہ السلام بن مریم نبی ہیں۔ ان کو مرزا نبی مانتا ہے۔ گویا یسوع مسیح اور ہے اور عیسیٰ مسیح اور ہیں۔ مگر دل کی خباثت پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ زبان قلم پر آ ہی جاتی ہے۔ دیکھئے یہ مرزا خود حضرت یسوع کو پیغمبر لکھ رہا ہے۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) ”بالجملہ اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

کہئے! اب تو خود اقراری ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم یسوع ہیں اور نبی ہیں۔ جن کی شان میں اس دجال نے تبرا بازی کی اور زنا، بدکار سب کچھ بک گیا۔ قرآنی حکم سے مرزا کافر مرتد ہوا یا نہیں؟ اور وہ حیلہ باطل ٹھہرایا نہیں؟ جو اس نے اپنے بچاؤ چھڑانے کو کہہ دیا کہ عیسیٰ مسیح اور ہیں اور یسوع مسیح اور۔

پھر یہی مرزا تقیہ باز (تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥) پر لکھتا ہے: ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے۔ وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے۔ کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔“

اس عبارت سے تو صاف واضح ہو گیا کہ حضرت یسوع مسیح علیہ السلام مسلمانوں کے عقیدہ کی رو سے نبی ہیں۔ واجب الاحترام ہیں اور انہیں کی مرزا قادیانی نے انتہائی بے حرمتی کی ہے۔ تو نبی کی توہین کرنے والا کافر مرتد ہوا یا نہیں؟

اچھا اگر دوسری توجیہ مرزا کی مان لی جائے کہ یسوع مسیح اور ہے اور معاذ اللہ یسوع بے دین ہے، حرام کار ہے، فحش گو ہے، کسبیوں کی اولاد ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے۔ تو بولو مرزا میں یہ تمام اوصاف پائے گئے یا نہیں؟ بنظر اس کی تحریر کے مطابق پائے گئے۔ حرام کار، کسبیوں کی اولاد، خدائی کا مدعی، فحش گو، بے دین، یہ سب مرزا قادیانی کے ذاتی اوصاف ہیں۔ اس کے نام کے ساتھ لگا لو۔ کیا ہی عمدہ فیصلہ مرزا اپنے لئے کر گیا۔ اگر یہ الفاظ گراں محسوس ہوں تو ایک ہلکے پھلکے لفظ کا پتہ بتائے دیتا ہوں۔ (تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤) ”ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے دائمی محبوب اور

٦٢

دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے۔ یہودیوں نے کے برے برے مفہوم کو جائز رکھا۔“ اس عبارت سے معلوم مقبول کو برا کہنے والا یہودی ہے۔

اب (معیار المذہب، انجام آتھم، ازالہ اوہام) کی عبا مرزا اپنی زبان سے یہودی ہوا یا نہیں؟ یہ بہت ہی ہلکا اور سبک مرزائیوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ ہیں اور یسوع اور۔ کیونکہ مرزا نے سب صاف کر دیا۔ عیسیٰ ، کے نام ہیں۔ ان کو برا کہنے والے شریر، بے ایمان یہودی صریح کذب وافتراء کو دیکھتے ہوئے پڑھے لکھے انسان اس د ”من یضلل اللہ فلا ھادی لہ“ راندہ درگاہ کے لئے اسلام میں چند فرائض ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد۔ جہاں دیگر فرائض مقرر فرمائے، وہاں جہاد کو بھی فرض کیا۔ مگر اور بہت سے رسالے کتابیں جہاد کی حرمت پر لکھیں۔ بلکہ ا دیکھی ہیں۔ سب میں جہاد کی ممانعت اور حرمت موجود ہے جوئی کا اعلان بھی ہے۔ چند اشعار ان کے سنئے:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے دین
لوگوں کو یہ بتائیے وقت مسیح ہے اب

نہ معلوم قرآن مجید میں کتنی آیات ہیں۔ جو د مسلمان کو معلوم ہے کہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہ اسی مرزا قادیانی کی تحریریں دیکھئے۔ لکھتا ہے کہ احادیث خ مگر مرزا اعلان کر رہا ہے کہ اب ہم نے جہاد کو حرام کر دیا ہ تھا۔ اس نے تو انکار ہی نہیں بلکہ حکم جدید بالمقابل حکم خداون

٦٣

صفحہ ٢٥٣

دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے۔ یہودیوں نے اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے برے مفہوم کو جائز رکھا۔‘‘ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت یسوع خدا کے دائمی مقبول کو برا کہنے والا یہودی ہے۔

اب (معیار المذہب، انجام آتھم، ازالہ اوہام) کی عبارتوں پر نظر ڈالئے اور فیصلہ کیجئے کہ مرزا اپنی زبان سے یہودی ہوا یا نہیں؟ یہ بہت ہی ہلکا اور سبک نام ہوا، اس دجال کا۔

مرزائیوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور عیسیٰ اور ہیں اور یسوع اور۔ کیونکہ مرزا نے سب صاف کر دیا۔ عیسیٰ، مسیح، یسوع تینوں ایک ہی بزرگ پیغمبر کے نام ہیں۔ ان کو برا کہنے والے شریر، بے ایمان یہودی ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایسے صاف و صریح کذب وافتراء کو دیکھتے ہوئے پڑھے لکھے انسان اس دجال کے پھیر میں کیسے آگئے؟ سچ ہے ”من یضلل اللہ فلا ھادی لہ“ راندہ درگاہ کے لئے کوئی دستگیر نہیں۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام میں چند فرائض ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد۔ یہ پانچ ارکان ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے جہاں دیگر فرائض مقرر فرمائے، وہاں جہاد کو بھی فرض کیا۔ مگر مرزائی دھرم اس کے سخت مخالف ہے اور بہت سے رسالے کتابیں جہاد کی حرمت پر لکھیں۔ بلکہ مرزا کی جتنی کتابیں میں نے آج تک دیکھی ہیں۔ سب میں جہاد کی ممانعت اور حرمت موجود ہے اور جہاد کو حرام کر کے حکومت کی رضا جوئی کا اعلان بھی ہے۔ چند اشعار ان کے سنئے:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
لوگوں کو یہ بتائیے وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام و قبیح ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٨٠)

نہ معلوم قرآن مجید میں کتنی آیات ہیں۔ جو دین کے جہاد کو فرض بتا رہی ہیں اور یہ ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہے۔ بیچ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ خود اسی مرزا قادیانی کی تحریریں دیکھئے۔ لکھتا ہے کہ احادیث نبویہ قرآن مجید کی ناسخ نہیں ہو سکتیں۔ مگر مرزا اعلان کر رہا ہے کہ اب ہم نے جہاد کو حرام کر دیا۔ جہاد حرام اور قبیح ہو گیا۔ فرض کا انکار کفر تھا۔ اس نے تو انکار ہی نہیں بلکہ حکم جدید بالمقابل حکم خداوندی نافذ کر دیا۔ کہئے اس کے کافر ہونے

٦٣

صفحہ ٢٥٥

میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ اور یہ میرا ہی فتویٰ نہیں مرزا قادیانی کی بھی سن لیجئے کہ اپنے اوپر کیا فتویٰ لگا گئے۔ اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا کہ احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیل یا تغیر کر سکتا ہے۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔ بولو! مرزا ملحد ، کافر ، جماعت مومنین سے خارج ہے یا نہیں؟

خاتمہ

قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ پر ہم اپنی تحریر کو ختم کرتے ہیں: ”ومن یبتغ غیر سبیل المؤمنین نوله ماتولی ونصله جهنم وساءت مصيرا“ ﴿جو شخص مسلمانوں کی راہ کے سوا راہ اختیار کرے گا تو ہم اس کی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھرا ہے اور اس کو جہنم میں پہنچا دیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔﴾ اس آیت کریمہ نے واضح طور پر بتا دیا کہ عام مسلمانوں کے مسلک کے خلاف جو راستہ نکالے گا۔ وہ اسی راستہ پر رہ کر سیدھے جہنم میں پہنچ جائے گا۔ مرزا نے سینکڑوں آیات کا ترجمہ اور مطلب وہ بیان کیا جو تیرہ سو برس تک امت مسلمہ میں نہیں سنا گیا۔ سینکڑوں حدیثوں کا مطلب وہ بیان کیا جو تمام مسلمانوں کے عقائد و معمولات کے خلاف ہے۔ اگر یہ واقعہ ہے تو اس کے جہنمی ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے جبکہ نص صریح موجود ہے۔ اس کا ثبوت کہ تمام امت اکابر اسلاف کے خلاف مرزا نے راستہ اختیار کیا۔ خود مرزا قادیانی کی تحریر ہے۔ اصل کتاب سے ملا دیکھو، توفیق ملے تو صراطِ مستقیم اختیار کرو۔ مرزا قادیانی (دافع البلاء ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٦) پر لکھتا ہے: ”لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا یہ معنی قرآن وحدیثوں کے جو تم کرتے ہو، ہمارے پہلے علماء اور اکابرین کو معلوم نہ تھے اور تمہیں معلوم ہو گئے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ ہاں! حقیقت میں یہی ہوا اور ہونا بعید نہیں ہے، تمہارے علماء تو کچھ نبی نہیں تھے۔“

یہ ہے مرزا کا اقراری کفر۔ جہنمی ہونے کی دلیل۔ اہلسنت کے اکابر صحابہ کرام، تابعین عظام، آئمہ مجتہدین اور علماء ملت ان میں سے کوئی نبی نہ تھا۔ پھر وہ سمجھتے تو کس طرح؟ اور مرزا قادیانی پر وحی آئی۔ اس لئے اس نے تمام مسلمانوں کے خلاف عقیدہ گھڑا۔ قرآن وحدیث کا من مانا ترجمہ کیا۔ اب تو کوئی قادیانی نہیں کہہ سکتا کہ اس قرآن وحدیث پر ان کا عمل ہے۔ جس پر تمام اہل سنت شروع سے عامل رہے ۔ یہ ہے قادیانی مذہب کے صحابہ کرام سے لے کر آج تک کوئی قرآن

٦٤

وحدیث نہ سمجھ سکا اور جب سمجھ نہ سکا تو عمل کیا کرتا رہی۔ پھر یہ ہوا تو یہی مرزا قادیانی دجال ”لعنة اللہ خدائے تعالیٰ اس اعتراض کا جواب دے رہا ہے کہ پوچھو مجھکو قادیانی سے ۔ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ تو ارشاد فرما مان گئے اور انہوں نے تعمیل حکم بھی کیا۔ ارشاد ہوتا ہے: تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر ہیں اور برائی سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اللہ تبارک و گڑھ کو انہیں جاہل ثابت کرے۔ مرزا کی ایک یہ عبارت اس کے تمام کارن جس سے ہر سمجھدار انسان جس کا ایمان قرآن مجید پر یقیناً سبیل مؤمنین سے ہٹا ہوا مفتری کذاب ہے۔ ہرگ نبی نہیں ہے۔ اے میرے رب تو رحم فرما اور بھٹکے ہوئے مولانا محمد خاتم النبيين صلى الل واصحابه المكرمين المعظمين وبارك وسلم

مرزا قادیانی پر فاضل بریلویؒ کا فتویٰ کفر!

ذیل میں مرزا قادیانی کی وہ عبارت نقل بریلویؒ نے اسے کافر و مرتد قرار دیا۔ قادیانی کی عبا ملاحظہ فرمائیے۔ یہ اقتباس اعلیٰ حضرت کی تصنیف ”ال کفر اول: مرزا قادیانی کا ایک رسالہ ہے جس کا نام ج٣ ص ٣٦٣) پر لکھتا ہے: ”میں احمد ہوں جو آیت ”مب احمد“ میں مراد ہے۔ آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہار تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوا جو میر پاک ”احمد“ ہے۔ ازالہ کے قول ملعون میں ص افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے ۔ معاذ اللہ ! مرزا قا

٦٥

صفحہ ٢٥٥

فاسق و فاجر کی تعریف

اکیسویں اپیل

س:...... فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ج:...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتا رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام کو مانتا ہے اور بعض احکام چھوڑ دیتا ہے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ نافرمانیاں کرتا ہو اور ڈٹ کر برے کام کرتا ہو، کسی کی پرواہ نہ کرتا ہو، وہ گناہ بے حد کرتا ہو۔ پس فاجر وہ ہے جو گناہ کبیرہ میں بے باک ہو کروں تو مجھ پر گناہ ہو گا، جب شرم و حیا ختم ہو جائے کہ ایک مسلمان ڈھیٹ ہو کر گناہوں سے نہ بچے، گناہ کا اہتمام کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گا۔

تاویل باطل، جاہلانہ اسلام کیسا ہے؟

س:...... تاویل باطل کیا ہے؟ اس کی تقریب میں کیا، مجلس میں کیا، محفل وغیرہ میں طرح شادی بیاہ کے موقع پر، مجالس و جلوس، محافل، دست طرح ناچ گانا، بے ہودہ شرک کرنا، مسلمانوں ان کی حیاء، اقدار اور مذاق کا طریقہ

بھی نہ سمجھے کہ اپنے اوپر کیا فتویٰ لگا احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین ہونے سے خارج ہے یا نہیں؟

کرتے ہیں: ”من يبتغ غير وسائت مصیرا“ ﴿جو شخص پھیر دیں گے جدھر وہ پھرا ہے یت کریمہ نے واضح طور پر بتا دیا اسی راستہ پر رہ کر سیدھے جہنم میں بیان کیا جو تیرہ سو برس تک امت کیا جو تمام مسلمانوں کے عقائد و نے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے جبکہ نص خلاف مرزا نے راستہ اختیار کیا۔ ملے تو صراط مستقیم اختیار کرو۔ مرزا یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا یہ اکابرین کو معلوم نہ تھے اور جنہیں امت میں یہی ہوا اور ہونا بعید نہیں

امت کے اکابر صحابہ کرام، تابعین ارہ سمجھتے تو کس طرح؟ اور مرزا وہ گھڑا۔ قران وحدیث کا من مانا پر ان کا عمل ہے۔ جس پر تمام اہل م سے لے کر آج تک کوئی قرآن

وحدیث نہ سمجھ سکا اور جب سمجھ نہ سکا تو عمل کیا کرتا لہٰذا تمام امت مسلمہ علم و عمل دونوں سے خالی رہی۔ پھر بوجھ بجھکڑ مرزا قادیانی دجال ”لعنة الله عليه“ کس ڈھٹائی سے یہ الہام گھڑا کہ خدائے تعالیٰ اس اعتراض کا جواب دے رہا ہے کہ ہاں! واقعی کسی نے نہیں سمجھا۔ اگر سمجھا تو اس بوجھ بجھکڑ قادیانی نے ۔ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ تو ارشاد فرمائے: ”آمنو وعملوا الصلحت“ کہ وہ مان گئے اور انہوں نے تعمیل حکم بھی کیا۔ ارشاد ہوتا ہے: ”کنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر“ کہ وہ نیک و بد کو بیان کرنے کی تبلیغ کرتے ہیں اور برائی سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو مبلغ فرمائے اور مرزا الہام گڑھے کہ انہیں جاہل ثابت کرے۔

مرزا کی ایک یہ عبارت اس کے تمام کارنامے اور عقائد و خیالات کو ظاہر کر رہی ہے۔ جس سے ہر سمجھدار انسان جس کا ایمان قرآن مجید پر ہے۔ بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ مرزا یقینا سبیل مؤمنین سے ہٹا ہوا مفتری کذاب ہے۔ ہرگز ہرگز نبی اور امام اور مجدد ہونا درکنار، مسلمان بھی نہیں ہے۔ اے میرے رب تو رحم فرما اور بھٹکے ہوئے کو راہ پر لگا: ”بجاہ حبيبک سيدنا و مولانا محمد خاتم النبيين صلى الله عليه وعلى اله الكاملين الطيبين واصحابه المكرمين المعظمين وبارك وسلم والحمدلله رب العالمين“

مرزا قادیانی پر فاضل بریلوی کا فتویٰ کفر!

ذیل میں مرزا قادیانی کی وہ عبارت نقل کی جاتی ہے جن کی بناء پر اعلیٰ حضرت فاضل بریلویؒ نے اسے کافر و مرتد قرار دیا۔ قادیانی کی عبارات پر اعلیٰحضرت کا فتویٰ کفر ساتھ ساتھ ملاحظہ فرمائیے۔ یہ اقتباس اعلیٰ حضرت کی تصنیف ”السوء العقاب“ سے ماخوذ ہیں۔

کفر اول: مرزا قادیانی کا ایک رسالہ ہے جس کا نام (ازالہ اوہام) ہے۔ اس کے (ص ٧٣، بحوالہ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) پر لکھتا ہے: ”میں احمد ہوں جو آیت ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ میں مراد ہے۔ آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی عیسیٰ بن مریم روح اللہ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے۔ جس کا نام پاک ”احمد“ ہےﷺ ۔ ازالہ کے قول ملعون میں صراحۃً ادعاء ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے ۔ معاذ اللہ ! مرزا قادیانی ہے۔

٦٥

صفحہ ٢٥٦

کفر دوم: (توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر لکھتا ہے کہ: ”میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک وجہ سے نبی ہوتا ہے۔“

کفر سوم: (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر لکھتا ہے: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

کفر چہارم: ”مجیب پنجم نے نقل کیا و نیز می گوید کہ: ”خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

ان اقوال خبیثہ میں اولاً کلام الٰہی کے معنی میں صریح تحریف کی کہ معاذ اللہ آیت کریمہ میں یہ شخص مراد ہے نہ حضورﷺ۔ ثانیاً...... نبی اللہ ورسول اللہ وروح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افتراء کیا کہ وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے ہیں۔ ثالثاً...... اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس شخص کی بشارت دینے کے لئے بھیجا...... رابعاً...... اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اللہ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا ہے۔ الیٰ آخرہ اختصاراً!

کفر پنجم: (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے۔

کفر ششم: اسی رسالہ کے (ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) پر لکھا ہے:

ابن مریم کا ذکر چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

کفر ہفتم: اشتہار معیار الاخیار میں لکھا کہ : ”میں نبیوں سے بھی افضل ہوں ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) یہ ادعاء بھی باجماع قطعی کفر وارتداد یقینی ہے۔ جیسا کہ کثیر کتب کے نصوص سے یہ بات ثابت ہے کہ باجماع مسلمین کوئی ولی ، کوئی غوث ، کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد ہے (الیٰ آخرہ اختصاراً) وغيرها من التكفيرات!

السو العقاب کے ص ٢٠ پر فیصلہ کن انداز میں لکھتے ہیں: ”اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واللہ واللہ وہ یقیناً کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر ۔“ اس سے اگلی عبارت میں اس کے پیروکاروں کو مرزا قادیانی کے ان ارتدادات پر اطلاع کے باوجود امام پیشوا جاننے اور ماننے پر فتویٰ کفر وارتداد دیا ہے۔

١؎ یہ منقول ہے اس فتویٰ کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں۔ بلاشبہ وہ یقیناً کافر مرتد ہے۔

PDF 258

فاسق و فاجر کی تعریف

ایس۔ اے مکی

س: ...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق کسے کہتے ہیں؟ ج: ...... فاسق وہ کہلاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کی باتوں پر عمل نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہو۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑ دے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہی کہلائے گا اور فاجر وہ شخص ہے جو خلاف شرع کاموں میں مبتلا ہو اور قیدِ شرع سے باہر ہو گیا ہو، گویا کہ اس کو باک نہ ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں، جب کہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے ۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س: ...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج: ...... تقریب میں یا فنکشن میں یا بچوں کے کھیل وغیرہ میں خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں ہے، کفار اور فساق کی طرح ہاتھ پیٹ کر شور مچانا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے، کفار مکہ طواف

سے گزریں جن میں کو مرزا قادیانی کے ان کے اشغال پر مطلع ہو کر اقوال مرزا کی تحریروں من التکفیرات! سی نبی سے افضل نہیں کتب کے نصوص سے یہ وں“ (مجموعہ اشتہارات غلام احمد ہے سے اپنی برتری کا اظہار لی نے براہین احمدیہ میں نے بھیجا ....... رابعاً ....... اپنی ہیں۔ ثالثاً ....... اللہ تعالیٰ مدّ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کہ معاذ اللہ آیت کریمہ

٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

ابن احمدیہ میں اس عاجز ی ہے جس نے قادیان حدث ہوں اور محدث بھی

خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

صلى الله تعالى عليه وعلى آله وصحبه وسلم

فتنۂ قادیانی

حضرت مولانا سید محمود احمد رضویؒ

صفحہ ٢٥٩

فاسق و فاجر کی تعریف

ایڈوکیٹ کراچی

س:......... فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ج:......... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام کو تو مانتا ہے اور ان پر عمل بھی کرتا ہے لیکن بعض احکام کو کھلے عام چھوڑ دیتا ہے اور دانستہ ان پر عمل نہیں کرتا۔ ایسا شخص اور فاجر وہ ہے جو دین و شریعت کے احکام کی صریحاً اور دیدہ دلیری سے برسرِ عام ان کی خلاف ورزی کرتا ہو اور اپنے گناہ پر فخر بھی کرتا ہو، ایسا شخص فاجر کہلاتا ہے۔

اگر کوئی شخص جو فاسق و فاجر ہے، اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کرے، معافی مانگے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے تو اس کا گناہ معاف ہو سکتا ہے، بشرطیکہ توبہ کے بعد اس نے دوبارہ اس گناہ کا اعادہ نہ کیا ہو

عورتوں کا سلام کیسے کیا جاتا ہے؟

س:......... عورتوں کا سلام کیسے کیا جاتا ہے؟ ج:......... سلام میں جو کچھ کہا جاتا ہے، اس کی تفصیلات تو کتابوں میں مل جاتی ہیں، لیکن یہاں پر ہم ایک عورت کا سلام کرنے کا طریقہ بیان کریں گے، جو کہ درست ہے، اس طریقہ پر عمل کیا جائے تو سلام کا طریقہ درست

ہوتی ہے۔ اگر ان کی پابندی کی جائے تو درست ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ان پر عمل مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس پر عمل کی نماز کا طریقہ اور اس کی طریق

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

ختم نبوت اور وحدت اسلامی

یہودی امت کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر تھی۔ عیسائی قوم کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر تھی اور امت محمدیہ کی بنیاد حضرت محمدﷺ کی نبوت پر ہے۔ قیامت تک اس امت کی وحدت کا راز حضورﷺ کی ختم نبوت میں پنہاں ہے۔ حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا دراصل وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کا مدعی اور متمنی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور جماعت احمدیہ

برطانوی حکومت میں آج سے تقریباً ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان میں اپنی استعماری مصلحتوں کے تحت جہاد کو حرام قرار دلانے، مسلمانوں میں افتراق و انتشار کی تخم ریزی کرنے اور برطانوی حکومت کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کے لئے اسلام کے بنیادی اور مرکزی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ایک سازش کی اور اس سازش کے تحت مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

نبوت کا دعویٰ

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کو اس دعویٰ پر مبنی کیا کہ ”میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی پاک وحی ہے جیسے دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح خدا کا کلام اور خطاؤں سے پاک اور منزہ ہے اور جس طرح محمد رسولﷺ کو قرآن پر یقین تھا اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور جو شخص اس وحی کو جھٹلاتا ہے وہ جہنمی لعنتی ہے۔“ اور یہ الہام شائع کیا کہ: ”جو (نزول المسیح ص٩٩، ١٠٠، خزائن ج١٨ ص٤٧٨، ٤٧٧) شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)

اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اعلان بھی کیا کہ: ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر٤، حاشیہ ٦، خزائن ج١٧ ص٤٣٥)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو صاحب شریعت نبی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔

٢

پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں بھی۔“

مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ نبوت پر ہی محمد رسول اللہ ہوں۔ قرآن مجید کی آیات ذیل کو حسب ہے: ”وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس ہیں۔ چنانچہ میری وحی اللہ ہے۔“ ”محمد رسول رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور

دعویٰ نبوت کے بعد مرزا قادیانی نے یہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے کفر باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔ اور اگر غور قسم میں داخل ہیں۔“

فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر

یا محمدﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو

مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت

مرزا قادیانی کے پیرو مسلمانوں سے شادی

صفحہ ٢٥٩

پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤، ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

مرزا قادیانی نے صرف دعویٰ نبوت پر ہی قناعت نہیں کی۔ بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں محمد رسول اللہ ہوں۔ قرآن مجید کی آیات ذیل کو حسب عادت اپنے لئے وحی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ”وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ چنانچہ میری وحی اللہ ہے۔“ ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٦)

دعویٰ نبوت کے بعد مرزا قادیانی نے یہ بھی تصریح کی کہ جو شخص میری نبوت کو نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا کفر یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کے باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ پکا کافر ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ١١٠)

مسلمانوں سے شادی بیاہ کی ممانعت

مرزا قادیانی کے پیرو مسلمانوں سے لڑکیاں لینا جائز سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو لڑکیاں

٣

صفحہ ٢٦١

فاسق و فاجر کی تعریف

ایسے ہی ایک س: ......... فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ج: ......... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑے ہوئے اور فواحش میں وہ مبتلا ہو اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شرع کی مخالفت کرے اور اعلانیہ گناہ کرنے میں بے باک ہو اور اس کو کچھ پرواہ نہ ہو کہ میں گناہ کروں گا، الہیٰ غیظ و غضب کا نشانہ بنوں گا، پھر بھی وہ پرواہ نہ کرے اور کھلم کھلا گناہ کرے۔ ایک مسلمان جو ہر گناہ سے بچے گا یقینا وہ گناہ سے بچنے کا اہتمام کرے گا اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س: ......... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج: ......... تالیاں بجانا بالکل ناجائز ہے کیونکہ یہ تقریب میں تالیاں بجانا ایک لہو و لعب کا حصہ ہے اس طرح تالیاں بجانے کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں ہے لہٰذا تالیاں بجانے کا یہ طریقہ کفار اور فاسق کا طریقہ ہے۔

دینا ناجائز خیال کرتے ہیں۔ گویا مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے کو وہی پوزیشن دیتے ہیں جو اسلام نے اہل کتاب کو دی ہے۔

احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی۔ تو حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔"

(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤)

دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی پر فرض ہے۔"

(برکات خلافت ص ٧٥)

غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے، وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے؟ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔"

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)

"ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے، جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔"

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)

مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی ممانعت

اور جو کچھ لکھا گیا، اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار مسلمانوں کے ساتھ عبادت میں بھی شریک نہ ہوں۔ چنانچہ ذیل کی عبارت سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ نہ نماز میں شریک ہو سکتے ہیں اور نہ کسی مسلمان کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔

(قول مرزا)

مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بلکہ

کیونکہ ہمارے نزدیک وہ اللہ اور ایک نبی کے منکر ہی

جائز نہیں۔"

(انوار خلافت ص ٩٣، مورخ

فائدہ

چودھری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکس شریک نہ ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اسلامی اخو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ: " اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا ج احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا نہیں۔"

(ٹریکٹ نمبر ٢٢، بعنوان علماء کی راست گوئی

صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

الگ دین الگ امت

مرزائیوں کی تحریرات سے یہ واضح کرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے:

آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگ مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی ذات رسو یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں

صفحہ ٢٦١

اپنے کو وہی پوزیشن دیتے ہیں جو کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیر کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا اس نے اس کی توبہ قبول نہ کی۔

(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤)

احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ

(برکات خلافت ص ٧٥)

کے لئے نہایت ضروری ہے، وہ نہیں حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا ایسا بے دین ہے کہ کسی ہندو یا معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے دیتے ہو۔"

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)

اس کے ساتھ صرف وہی سلوک اس لئے ہماری نمازیں الگ کی گئیں سے روکا گیا۔ دینی تعلقات کا ی ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)

غلام احمد کے پیروکار مسلمانوں سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔

(قول مرزا غلام احمد مندرجہ اخبار الحکم قادیان ١٠ اگست ١٩٠٦ء)

مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔"

(اربعین نمبر ٣، ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ)

کیونکہ ہمارے نزدیک وہ اللہ اور ایک نبی کے منکر ہیں۔"

(انوار خلافت ص ٩٠)

جائز نہیں۔"

(انوار خلافت ص ٩٣، مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء و الفضل مورخہ ١٠ جولائی ١٩٣١ء)

فائدہ

چودھری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ: "جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔" (ٹریکٹ نمبر ٢٢، بعنوان علماء کی راست گوئی کا نمونہ، الناشر مہتمم نشر و اشاعت نظارت دعوت و تبلیغ صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

الگ دین الگ امت

مرزائیوں کی تحریرات سے یہ واضح ہے کہ وہ خود کو مسلمانوں سے ایک الگ امت تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے:

آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی ذات رسول کریم ﷺ قرآن ، نماز، روزہ، حج ، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔"

(خطبہ محمود احمد، الفضل ج ١٩ نمبر ١٣)

٥

فاسق و فاجر کی تعریف

اویس کراچی س ...... فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟ نیز ج...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑے، دونوں صورتوں میں فاسق ہی کہلائے گا اور فاجر وہ شخص ہے جو خلاف شرع کاموں میں مبتلا ہو اور توحید سے ہٹ کر ایسا کام کرے جس سے گناہ لازم آتا ہو جس کے بعد اس میں اگر اس کی تو بہ کی گنجائش نہ ہو تو کفر میں گمراہ کر دے گا، یعنی یہ گناہ اس کو عادی گناہ کرا کے ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر کے کفر میں گرائے گا اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س ...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کسی تقریب میں یا فنکشن میں یا بچوں کو کھیل وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے یا نہیں، گناہ اور نفاق کا طریقہ

صفحہ ٢٦٣

فاسق و فاجر کی تعریف

اکیسواں ...

س...... فاسق و فاجر کسے کہا جاتا ہے نیز یہ؟

ج...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کے کسی حکم کا انکار نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہو۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑ دے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہی کہلائے گا۔

اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شریعت کی خلاف ورزی کرتا ہو اور تقویٰ سے منہ موڑ کر کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرے، شریعت کی پابندی کو اپنے لیے عار سمجھے، جس کے لیے یہ کہنا بھی درست ہے کہ وہ شخص جو گناہوں پر دلیری کرے یا گناہوں میں منہمک ہو۔

قادیانیوں کا سلام لینا کیسا ہے؟

س....... قادیانیوں کا سلام لینا کیسا ہے؟

ج....... قادیانیوں کا سلام لینا جائز نہیں۔ نیز ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے ہاں خوشی یا غمی میں شریک ہونا، ان سے شادی بیاہ کرنا، ان کے جنازوں میں شریک ہونا، غرضیکہ ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز و حرام ہے۔

سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے؟“

(الفضل ج ٥، شمارہ ٦٩، ٧٠)

کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری گوت تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦، ٤٧)

پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ الفضل ١٤ نومبر ١٩٤٦ء)

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ خود مرزائی عام مسلمانوں کو اپنے سے الگ تصور کرتے ہیں۔ نہ صرف الگ بلکہ تمام مسلمانوں کو کافر، خارج از اسلام تصور کرتے ہیں۔ اس بناء پر مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، ایک صحیح و درست مطالبہ ہے۔

انتہائی اشتعال انگیز اور دل آزار تحریریں

صرف یہی نہیں کہ احمدیت کی تحریک نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کر کے ارتداد اور افسوسناک مذہبی کشمکش کے دروازے کھول دیئے۔ بلکہ بانی تحریک اور اس کے پیروؤں نے اپنی تحریروں میں انبیاء کرام اور بزرگان دین کی دل آزارانہ توہین کی اور انتہائی بدزبانی سے کام لیا اور ان دل آزارانہ اور اشتعال انگیز تحریروں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ذیل میں ہم مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کی اشتعال انگیز اور دل آزارانہ تحریروں کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں۔

میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

٦

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
ترجمہ: میں مسیح ہوں اور موسیٰ کلیم خدا ہوں

چربی اس میں پڑتی ہے۔“

کیا۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا:” کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔“

اس مذکورہ قصیدے کے دو اشعار ملاحظ

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی تھیں۔ ج

متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ سے۔“

صفحہ ٢٦٣
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

ترجمہ: میں مسیح ہوں اور موسیٰ کلیم خدا ہوں، احمد مجتبیٰ ہوں۔

(تریاق القلوب ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

(براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

چربی اس میں پڑتی ہے۔“

(مندرجہ اخبار الفضل، قادیان ٢٢ فروری ١٩٣٣ء)

کیا۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا: ”جزاکم اللہ تعالیٰ“ یہ کہہ کر اس خوشخط قطعہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔“

(الفضل ٢٢ اگست ١٩٤٤ء)

اس مذکورہ قصیدے کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(مندرجہ اخبار بدر قادیان ٢٥/اکتوبر ١٩٠٦ء)

دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٨٩ احمدیہ ایڈیشن دوم)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

٧

صفحہ ٢٦٥

فاسق و فاجر کی تعریف

س... فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟ ج... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شریعت کا مذاق اڑاتا ہو اور توہین کرتا ہو، شریعت کی پرواہ نہ کرتا ہو، گناہ جان بوجھ کر کرتا ہو اور اس پر فخر کرتا ہو۔ جب کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلمان پر وحشت طاری ہو، گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج... تقریب میں تالیاں بجانا کفار کا فعل ہے۔ اس طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں، مسلمانوں کا یہ طریقہ نہیں۔ کفار اور منافق کا طریقہ ہے۔

٢٦٤

پس علاج کے لئے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت ص ٦٧، خزائن ج ١٩ ص ٣٣٥، ٣٣٤)

ہے اور خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

حضرت علیؓ کی توہین

میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ١٤٢)

حضرت فاطمہؓ کی توہین

”حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

حضرت حسینؓ کی توہین

ترجمہ: میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

٨

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت اما دی ہے۔

مکہ اور مدینہ کی توہین

”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا آئے گا۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ

مسلمانوں کی توہین

ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال

علاوہ ازیں احمدیت کے پیرو دین اسلام کی کے مقررہ موقع اور محل کے سوا جو قرآن پاک، احادیث نب ہے۔ دوسرے مواقع اور محلات پر استعمال کر کے مسلمان مرتکب بنتے رہتے ہیں۔

جو مسلمانوں کے ہاں محض انبیائے کرام کے لئے مختص ہ

ہے۔ حالانکہ یہ اصطلاح حضرت رسول ﷺ کے صحابہ س

اصطلاح حضرت نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے

٩

صفحہ ٢٦٥

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت امام حسین کے ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔

مکہ اور مدینہ کی توہین

"حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا کہ جو بار بار یہاں نہ آئے گا۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا۔ وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟"

(حقیقت الرؤیا ص٣٦)

مسلمانوں کی توہین

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

ہے اور حلال زادہ نہیں۔"

(انوار الاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١)

اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال

علاوہ ازیں احمدیت کے پیرو دین اسلام کی اور مسلمانوں کی مقدس اصطلاحوں کو ان کے مقررہ موقع اور محل کے سوا جو قرآن پاک، احادیث نبوی اور امت کے تواتر عمل سے طے ہو چکا ہے۔ دوسرے مواقع اور محلات پر استعمال کر کے مسلمانوں کی دل آزاری اور اشتعال انگیزی کے مرتکب بنتے رہتے ہیں۔

جو مسلمانوں کے ہاں محض انبیائے کرام کے لئے مختص ہے۔

ہے۔ حالانکہ یہ اصطلاح حضرت رسول ﷺ کے صحابہ کے لئے مختص ہو چکی ہے۔

اصطلاح حضرت نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہے۔

PDF 267

فاسق و فاجر کی تعریف

ایڈوکیٹ اکیڈمی

س...... فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟

ج...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے، شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑ دے ، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شریعت کا مذاق اڑائے اور ڈنکے کی چوٹ پر گناہ کرے کہ اس کو کسی کی پرواہ نہ ہو کہ بعد میں توبہ کرلوں گا، بس ایک یہ گناہ کروں یا وہ گناہ کروں، تو ہم یہ کہیں گے جب کہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے فوراً توبہ و استغفار کرے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کسی تقریب میں یا خوشی میں یا بچوں کا سکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے یا نہیں؟

ج...... تالیاں بجانا کفار اور منافق کا طریقہ ہے، اس سے بچنا ہر ایک مسلمان پر

حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرا کے لئے مختص ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد مرزائی کافر و مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہیں

حال ہی میں مورخہ ١٦، ١٧ اپریل ١٩٧٤ء کو مکہ مکرمہ میں عالمی اسلامی تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں پوری دنیا کی اسلامی تنظیموں کے سربراہوں، علماء و مشائخ نے شرکت کر کے یہ فیصلہ دیا۔ ترجمہ:

مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کریں۔“

سے مقامات مقدسہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔

کیا جائے۔ ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ ان سے ہر طرح کافروں جیسا سلوک کیا جائے۔

عائد کی جائے۔ ان کے لئے کلیدی اسامیوں پر ملازمتوں کا دروازہ بند رکھا جائے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی فراخ دلی سے کام نہ لیا جائے۔

قرآن کا تقابل کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سد باب کیا جائے۔“

انجمن حزب الاحناف پاکستان لاہور نے حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد صاحب مدظلہ العالی امیر حزب الاحناف کی زیر سرپرستی تبلیغ کا شعبہ قائم کیا ہے۔ جس کے ماتحت ہر ماہ تبلیغی کتابچہ شائع ہو کر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ کتابچہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ اس نیک کام میں تعاون فرمائیں۔ تبلیغی ٹریکٹ خود چھپوائیں یا انجمن کے زیر اہتمام چھپوا کر تقسیم فرمائیں۔ فی زمانہ تبلیغ کی بہت ضرورت ہے اور مسلمانوں کو احکام خداوندی سے روشناس کرانا دین اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے۔

١٠

واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی عدالت

میں

جماعت اسلامی

کا

بیان

جناب چوہدری رحمت الہی

ناشر: مکتبہ جماعت اسلامی

PDF 268

فاسق و فاجر کی تعریف

ایم۔ نون، کراچی س...... فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ج...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کے بعض احکام پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ یا شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام کو چھوڑ دے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شریعت کی نافرمانی کرے اور اقرار و تکبر سے یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں جرأت ہے کہ میں یہ کام کروں گا، میں یہ گناہ کروں گا، اور ضرورت پڑے گی تو یہ کروں گا۔ پس ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ گناہ نہ کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا خوشی میں بچوں کے اسکول وغیرہ میں؟ ج...... کسی بھی تقریب میں تالیاں بجانا درست نہیں، یہ کفار اور فساق کا طریقہ ہے۔

مۃ الزہراء کے لئے سے خارج ہیں ملی اسلامی تنظیموں کا و مشائخ نے شرکت کر کے انوں اور دوسرے تمام اور ان کے پھیلائے ہوئے ب کریں۔ نیوں کے اس جرم کی وجہ سے ان سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کو سلوک کیا جائے۔ تب و رسائل پر پابندی لگائی جائے اور اس سلسلہ یں اور ان کے تراجم کا سد باب کیا جائے۔

ت سید احمد صاحب کے ماتحت ہر ماہ تبلیغی دورہ ہا ہے۔ آپ کا فرض ہے نے زیر اہتمام چھپوا کر بندی سے روشناس کرائیں

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے

جماعت اسلامی پاکستان کا

بیان

جناب چوہدری رحمت الٰہی صاحب

صفحہ ٢٦٩

فاسق و فاجر کی تعریف

سوال....... فاسق و فاجر کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ جواب....... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کی پروا نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہی کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو کھلم کھلا شریعت کا مذاق اڑاتا ہو اور توہین کرے، یہ بھی کفر ہی کی ایک صورت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا تو اسے فاسق کہیں گے اور اگر یہ کہے کہ کیا نماز؟ کیسا روزہ؟ کیا رکھا ہے ان چیزوں میں، تو وہ فاجر کہلائے گا۔

قادیانیوں کا اسلام میں کیا درجہ ہے؟

سوال....... قادیانیوں کا اسلام میں کیا درجہ ہے؟ جواب....... قادیانی چونکہ ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے ساتھ اسلامی اور سماجی تعلقات قائم رکھنا جائز نہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں۔ ان کے ساتھ رشتہ ناطہ، شادی بیاہ کرنا یا ان کا جنازہ پڑھنا کسی طرح جائز نہیں۔ ان کے ذبیحہ کا گوشت کھانا مسلمانوں کے لئے حلال نہیں۔

٢٦٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ اس بیان کا مکمل متن ہے جو جناب چودھری رحمت الہی صاحب قیم جماعت اسلامی پاکستان نے واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی عدالت ١٩٥٤ء میں اپنے وکیل جناب ایم اے رحمان صاحب کی معرفت جناب جسٹس صمدانی کو پیش کیا۔ اس بیان کے ساتھ قادیانی افسروں کے ناموں کی فہرست شائع نہیں کی جاسکی۔ کیونکہ اس کی اشاعت پر ٹربیونل کی طرف سے پابندی لگا دی گئی ہے۔

واقعہ ربوہ کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک اسے قادیانیوں کی تاریخ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے رویے کے پس منظر میں رکھ کر نہ دیکھا جائے۔ قادیانیوں کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان پہلے سکھوں کا وفادار رہا اور اس کے بعد اس نے اپنی وفاداریاں انگریزوں کے ساتھ وابستہ کرلیں۔ جس کا اعتراف خود مرزا قادیانی نے حسب ذیل تحریروں میں کیا ہے:

”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریز کی خوشنودی کے لئے کی ہیں۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں............ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال متواتر تجربہ سے ایک وفادار پکے جانثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیوں میں گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں تاکہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔“

(تبلیغ رسالت جلد ہشتم، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠، ٢١)

مرزاغلام احمد قادیانی شروع سے عیسائی پادریوں کے خلاف مناظروں کے لئے مشہور ہوئے۔ لیکن ان مناظروں اور عیسائیت کے رد میں ان کی تحریر و تقریر کا مقصد وہ خود اس طرح بیان کرتے ہیں: ”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر

نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی۔ با لدھیانہ سے لکھتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ مخا کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مسیح اور پاک نہا کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریروں کا کسی قد انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ کیونکہ میرے کانسنس (ضمیر) نے قطعی طور جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غصہ کار کافی ہوگا۔...... مجھ سے پادریوں کے مقابل پر بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔“

(تریاق

عیسائیوں اور آریا سماجیوں کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی، مجدد، مسیح موعود اور بالآخر نبی ہونے ان کی وفاداری میں کوئی فرق نہ آیا۔ بلکہ انہوں نے والوں کے ایمان کا جز، اپنے الہام کا نتیجہ اور ایک ٢٤ اکتوبر ١٨٩٦ء کے علاوہ قادیانی خلیفہ کے حسب ”حضور عالی! ہماری فرمانبرداری مذہبی ہے سے قدرے اختلاف کریں۔ کبھی اس کے خلاف خود اپنے عقیدے کی رو سے مجرم ہوں گے اور کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہز رائل ہائی

”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تمام مسلما

صفحہ ٢٦٩

اسلامی پاکستان نے صاحب کی معرفت وں کی فہرست شائع تا ہے۔ تاریخ اور مسلمانوں پیشوا مرزا غلام احمد انگریزوں کے ساتھ ۔ ین روانہ کرتا ہوں۔ ے بزرگوں نے محض لتے کی ہیں۔ عنایت ان کی نسبت جس کو ہے اور جس کی نسبت گواہی دی ہے کہ وہ ے کی نسبت نہایت وہ بھی اس خاندان خاص عنایت اور پنے خون بہانے اور ات گزشتہ کے لحاظ شخص بے وجہ ہماری ات ج ٣ ص ٢٠، ٢١) لئے مشہور ہوئے۔ ں کرتے ہیں: ئی مشنریوں کی تحریر

نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی۔ بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا۔ (وغیرہ من الخرافات) تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں میں جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو، تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا اور عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریروں کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا کہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بد زبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانسنس (ضمیر) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں بہت سے وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیض وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کار کافی ہوگا...... مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ۔"

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ٧ ب، ج خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠)

عیسائیوں اور آریا سماجیوں کے خلاف لکھنے اور مناظرے کرنے سے رفتہ رفتہ مرزا غلام احمد قادیانی، مجدد، مسیح موعود اور بالآخر نبی ہونے کے دعوے کرتے چلے گئے۔ لیکن انگریزوں سے ان کی وفاداری میں کوئی فرق نہ آیا۔ بلکہ انہوں نے انگریز کی وفاداری کو اپنے اور اپنے ماننے والوں کے ایمان کا جز اپنے الہام کا نتیجہ اور ایک مذہبی فریضہ قرار دیا۔ اس سلسلے میں منیر رپورٹ ص ١٩٦ کے علاوہ قادیانی خلیفہ کے حسب ذیل اقتباسات قابل توجہ ہیں:

"حضور عالی! ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے اگر حکومت کی پالیسی سے قدرے اختلاف کریں، کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدے کی رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود حجت قائم کرے گا۔ حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے۔ جس میں سیاسی حقوق ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں ۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم اپنی ہر چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی ۔"

(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہز رائل ہائی نس پرنس آف ویلز ، مندرجہ اخبار الفضل ٢٠/ مارچ ١٩١٤ء)

"میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تمام مسلمانوں میں اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ٣

فاسق و فاجر کی تعریف

ابو یحییٰ زکریا س: ...... فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟ ج: ...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو بے دھڑک محرمات شرعیہ کا مرتکب ہو اور قوتِ سرکشی سے ہر بدکام کرگزرے، یہ بھی کہا گیا کہ شریعت کے پابند بن کر گناہوں کی کیا ضرورت کہ میں گناہ کروں یا وہ گناہ کروں، فخر یہ کروں، جب کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س: ...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کسی تقریب میں تالیاں بجانا کیسا عمل ہے، نیز کسی طرح شادی کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے یا نہیں؟ الجواب : تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ

صفحہ ٢٧١

فاسق و فاجر کی تعریف

س: ..... فاسق و فاجر کسے کہتے ہیں؟ ج: ..... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دین کی خلاف ورزی کرے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملوث رہتا ہو۔ شریعت کے بعض احکام یا تمام احکام چھوڑ دے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق کہلائے گا۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شریعت کی خلاف ورزی کرے اور گناہ صغیرہ پر اصرار کرے یا گناہ کبیرہ کا کھلم کھلا ارتکاب کرے۔ یہ شخص بھی فاسق کہلاتا ہے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س: ..... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج: ..... تقریب میں تالیاں بجانا کھوکھلا پن ہے اور غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اسلام میں بالکل ناپسندیدہ ہے۔

تالیاں بجانا، اور فاسق کا طریقہ

٢٧٠ ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ پر پہنچایا ہے۔ اول والد مرحوم کے اثر نے، دوم گورنمنٹ کے احسانوں نے اور تیسرے خداوند کے الہام نے۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

”مگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو ہم جماعت کو ملک معظم کا نہایت وفادار اور سچا خادم پائیں گے۔ چونکہ (یہ) وفاداری جماعت احمدیہ کی شرائط بیعت میں ایک شرط رکھی گئی ہے اور بانی سلسلہ نے اپنی جماعت کو وفاداری حکومت کی اس طرح بار بار تاکید کی ہے کہ ان کی ٨٠ کتابوں میں سے کوئی کتاب بھی نہیں جس میں اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔“

(قادیانی جماعت کا ایڈریس جناب میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب، مندرجہ الفضل مورخہ ٢٤ نومبر ١٩١٩ء)

”فی الواقع گورنمنٹ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کرو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔ پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ کے ساتھ متحد ہو گئے اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پہنچتی جاتی ہے۔ ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان ...... ہے۔“

(الفضل ١٥ اکتوبر ١٩١٥ء)

”سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے۔ وہ تمام جماعتوں سے زائد ہے۔ ہمارے حالات اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے اور اس کو اگر خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔“

(الفضل ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)

”روسیہ (یعنی روس) میں اگرچہ تبلیغ احمدیہ کے لئے گیا تھا، لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اس لئے جہاں میں اپنے سلسلے کی تبلیغ کرتا تھا، وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری بھی کرنی پڑتی تھی۔“

(بیان محمد امین صاحب قادیانی مبلغ مندرجہ اخبار الفضل ٢٨ ستمبر ١٩٢٢ء)

”سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے، تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے وہ تمہاری سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور تمہارے مخالفین جو مسلمان ہیں، ہزار درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔“ (تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢) ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ٤

٢٧١ ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اتنـ ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چـ میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں ۔

(تبلیغ رسـ

”بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسـ ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں، تو پھر کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“ اس سلسلہ میں جرمن اور افغان حکومتوں کی شمـ ”دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کـ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے

(خلیفہ قادیان کا

”افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیابی و ملا نور علی دکاندار قاد اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے ہـ دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغـ

انگریز کی اس کھلی، گہری اور غیر مشروط وفـ جہاد کی تنسیخ کا اعلان کیا (منیر رپورٹ ص ٩٣) اور عیسائـ ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد یہ بات صاف ہو جاتی ہـ مصالح حکمرانی کو تقویت پہنچانے والی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں انگریز کے جذبہ جہاد کی وجہ سے ان کی طرف سے شدید مزاحمـ ٥

صفحہ ٢٧١

ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات طبع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔"

(تریاق القلوب ص ٢٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

’’میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا گو ہوں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

’’بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں، تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٤٣)

اس سلسلہ میں جرمن اور افغان حکومتوں کی شہادتیں بھی خود قادیانیوں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

’’دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔‘‘

(خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢ نومبر ١٩٣٤ء)

’’افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیانی و ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔‘‘

(اخبار الفضل بحوالہ امان افغان ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء)

انگریز کی اس کھلی، گہری اور غیر مشروط وفاداری کے ساتھ مرزا غلام احمد نے جس طرح جہاد کی تنسیخ کا اعلان کیا (منیر رپورٹ ص ١٩٢) اور عیسائیوں کے خلاف تبلیغ کا جو مقصد اوپر بیان کیا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہ ساری سرگرمیاں انگریز اور اس کے مصالح حکمرانی کو تقویت پہنچانے والی تھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں انگریزی سامراج کو مختلف مسلم ممالک میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کی وجہ سے ان کی طرف سے شدید مزاحمت سے سابقہ پیش آ رہا تھا۔ ادھر ہندوستان میں

٥

صفحہ ٢٧٢

١٨٥٧ء کی جنگ آزادی اور اس کے بعد تحریک مجاہدین اور شمال مغربی سرحد پر پٹھانوں اور افغانوں کی کارروائیوں کا تجربہ انہیں ہو چکا تھا۔ مسلمان علماء انگریزوں کے زیر تسلط ہندوستان کو دارالحرب قرار دے چکے تھے اور انگریز سیاست دان یہ جان گئے تھے کہ جب تک مسلمانوں کا زور نہ توڑا جائے ، سلطنت برطانیہ کو استحکام نصیب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے دیگر تدابیر کے علاوہ مسلمانوں کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات اور سرگرمیاں ایک مؤثر حربے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف مسیح موعود اور نبی ہونے کا دعویٰ کر کے (منیر رپورٹ (انگریزی) ص ١٨٩) امت مسلمہ میں افتراق پیدا کیا۔ بلکہ مسلمانوں کے اساسی معتقدات (کتاب اللہ پر ایمان، ملائکہ پر ایمان، تخلیق آدم، ختم نبوت، جہاد، حج وغیرہ) کے بارے میں انوکھی بحثیں چھیڑ کر ان میں پراگندہ خیالی اور فکری انتشار پیدا کیا۔ ان کے جوش و جذبہ جہاد کو سرد کر کے انگریز کی اطاعت اور وفاداری پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

مرزا غلام احمد اور اس کے ماننے والوں کی یہ روش مسلمانوں میں ان کے خلاف بیزاری اور نفرت پیدا کرنے کے لئے کافی تھی۔ لیکن انہوں نے اسی پر بس نہ کی بلکہ قرآن میں لفظی اور معنوی تحریف کی (قادیانی امت از محمد شفیع جوش میر پوری ص ٢٢ تا ٥٨) ان صفحات میں قادیانی لٹریچر میں تحریف شدہ آیات کے عکس دیئے گئے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، امام حسینؓ اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ (مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ) کی توہین کی۔ رسول اکرم ﷺ ، اہل بیت، صحابہ کے لئے مخصوص اصطلاحات کو اپنے لئے استعمال کیا (منیر رپورٹ ص ١٩٧) مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دیا (منیر رپورٹ ص ٢٠٠) اور مسلمانوں کی شکست اور انگریزوں کی فتح پر قادیان میں جشن مسرت منایا گیا۔

(منیر رپورٹ ص ١٩٦)

مسلمانوں پر شدید اشتعال انگیز حملے کئے گئے۔ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود اور نبی نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا (منیر رپورٹ ص ١٩٠) مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنا، ان کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان سے شادی بیاہ کرنا ناجائز اور حرام قرار دیا۔ (منیر رپورٹ ص ١٩٨، ١٩٩) لیکن ان سب کے باوجود وہ معاشی اور سیاسی میدانوں میں انگریز کی سر پرستی میں مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ان میں گھسے رہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اگرچہ بظاہر اپنی سرگرمیوں کا رنگ مذہبی رکھا لیکن وہ اور ان کے متبعین اس مذہبی چہرے کے پیچھے شروع سے ہی سیاسی عزم رکھتے تھے۔ جیسا کہ ان کی حسب ذیل تحریروں سے واضح ہے:

صفحہ ٢٧٣

”پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں، وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہوتی ہے، وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ پس اس سیاست کے مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا ہے۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل ١٣ اگست ١٩٢٦ء)

”ہم میں سے ہر ایک احمدی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں، لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف علمی برتری حاصل ہوگی، بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز و انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل ١٨ اکتوبر ١٩٤٦ء)

”میرا خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں، عدم تعاون سے نہیں۔“

(الفضل ١٨ جولائی ١٩٣٥ء)

”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو سیاسیات، اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ و تعلیم کے ذریعے حکومتوں پر قبضہ کی کوشش نہ کریں، ہم اسلام کی ساری تعلیم کو جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل ٥ فروری ١٩٣٧ء)

”پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہونا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا خدا ہے۔ اس لئے تمہیں آنے والے کا معلم بننے کے لئے ابھی سے کوشش کرنی چاہئے۔....... جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

(خطبہ خلیفہ محمود، الفضل ١٨ مارچ ١٩١٢ء)

قادیانی ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کو اپنا بیس بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس غرض کے لئے ہندوؤں سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ ان کی مذہبی شخصیات کی تعریفیں کیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کا استقبال اور غیر معمولی پذیرائی کی اور اسے اس قدر متاثر کیا کہ اس نے انہیں مسلمانوں کا بہترین گروہ قرار دیا۔ کیونکہ ان کا نبی اور مقام مقدس قادیان دونوں ہندی ہیں۔

٧

صفحہ ٢٧٥

فاسق و فاجر کی تعریف

ایڈمن، کراچی

س: ..... فاسق و فاجر کی کیا تعریف ہے؟ ج: ...... شریعت کی اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود دن دہاڑے شریعت کے بعض احکام بالخصوص ان احکام کی کھلے عام خلاف ورزی کرتا ہو جن میں اس کو کوئی شرعی عذر نہ ہو اور فاجر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اعلانیہ گناہ کرے اور اس پر کوئی ندامت اور توبہ نہ کرے۔ پس ہر فاجر فاسق ہے اور چھوٹے بڑے دونوں صورتوں میں فاسق ہی کہلائے گا گناہ پر ڈٹے رہنا، شرک و بدعت کے اعمال میں ملوث توبہ کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ کہ ایک مسلمان ہر وقت سچے دل سے توبہ کرتا ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

ان سیاسی عزائم کے ساتھ وہ ایک طرف انگریز کی سرپرستی سے فائدہ اٹھا کر زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے قدم جماتے رہے اور دوسری طرف مسلمانوں کے سواد اعظم کی سیاسی تمناؤں کے خلاف کام کرتے رہے: ”حقیقت میں وہ انگریز کے ہندوستان سے رخصت ہونے کے بعد اس کے جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ قیام پاکستان کے مخالف تھے اور اگر کسی طرح ملک تقسیم ہوتا ہے تو اسے دوبارہ متحد کرنے کے عزائم رکھتے تھے۔“

(منیر رپورٹ ص ١٩٦)

لیکن جب بالآخر پاکستان بن گیا تو انہوں نے سروسز میں نفوذ، سازشوں اور بیرونی طاقتوں کی مدد سے پاکستان میں مسلمانوں پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی جدوجہد شروع کردی۔ اس غرض کے لئے انہوں نے ایک طرف بلوچستان کو اپنے بیس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا (منیر رپورٹ ص ١٩٩) اور دوسری طرف مختلف سروسز میں منصوبہ بندی کے ذریعے نفوذ اور ملازمین حکومت اور عام لوگوں کو مرزائی بنانے کی مہم شروع کردی (منیر رپورٹ ص ٢٠٠) اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے انگریز کی سرپرستی اور ملازمین حکومت میں اپنے نفوذ کے ذریعے ضلع جھنگ میں ایک ہزار ایکڑ سے زائد اراضی بطور گرانٹ برائے نام قیمت پر حکومت سے حاصل کی اور ”ربوہ“ کے نام سے اپنی ایک بستی بنائی جس میں عام مسلمانوں کا داخلہ قادیانیوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

ربوہ کو انہوں نے اپنا مرکز بنایا اور وہاں ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کرلی۔ جس میں ایک مکمل سیکرٹریٹ کے تمام شعبے بشمول امور خارجہ، داخلی امور، امور عامہ، شعبہ اطلاعات و پروپیگنڈہ وغیرہ قائم کئے گئے۔

(منیر رپورٹ ص ١٩٨)

اس مرکز میں سیکرٹریٹ کے علاوہ خدام احمدیہ، انصار اللہ اور قربان بٹالین کے نام سے نیم عسکری تنظیمیں بھی قائم کی گئیں (منیر رپورٹ ص ١٩٨) نیز خلیفہ بشیر الدین نے قادیانیوں کو فوجی تیاری اور تربیت کی تلقین کی (الفضل ١١؍اپریل ١٩٥٠ء) اس طرح گویا انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے اور اس سے پہلے ایک چھوٹے پیمانے پر ریاست چلانے کا تجربہ کرنے کی تیاری شروع کردی۔

راولپنڈی سازش کیس میں بھی ان کے سیاسی عزائم کی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ جس میں بعض قادیانی افسروں نے سوشلسٹوں سے مل کر بزور حکومت پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ قادیانی اگر زیرِ زمین سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے آپ کو ایک خالص مذہبی اور غیر سیاسی جماعت ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان کے سیاسی عزائم وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی مثالیں اوپر دی جا چکی ہیں اور ایسی ایک مثال وہ پریس کانفرنس ہے جو لندن میں کی گئی۔ جس میں ظفر اللہ خان بھی موجود تھے اور جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ اگر پاکستان میں ہماری حکومت قائم ہو

٨

گئی تو ہم کیا تبدیلیاں لائیں گے۔

”اسی طرح ١٩٧٠ء کے عام انتخابات معاہدہ کر کے جس طرح انتخابات میں نہ صرف عل فیصلے کے تحت تمام قادیانیوں کے ووٹ دلائے بلکہ

انگریزوں کی وفاداری کا جو تذکرہ اوپر آ اور مذہبی فریضہ تھا۔ اس لئے وہ انگریزوں کے ہمنوا سکتا۔ بلکہ انگریز اور قادیانی مشترک مفاد قائم ودائم ملکوں میں جو انگریز کے زیر نگیں یا زیر اثر رہے ہی کرتے رہے ہیں۔ خود پاکستان میں ظفر اللہ خان اداروں میں ان کی پذیرائی بھی اسی سرپرستی کی غماز اسرائیل کے مکمل مقاطع کے باوجود اسرائیل میں درمیان وقفے وقفے سے افراد کا تبادلہ اور حال ہی سے شکوک و شبہات ابھارتا ہے۔ اس ضمن میں ظف زاہد ڈپٹی لیگل ایڈوائزر حکومت پاکستان لائق تو مورخہ ٧؍ جون ١٩٧٤ء میں شائع ہوا ہے اور اس پاکستان کو ایک پارسل بھیجنے کے ساتھ مکتوب الیہ کو میں بھجوائیں۔ پھر روزنامہ نوائے وقت لاہور مور روداد شائع ہوئی ہے جو ٥؍ جون ١٩٧٤ء کو ظفر اللہ صرف سراسر غلط معلومات بین الاقوامی پریس کو فر جماعت امریکہ کی وزارت خارجہ سے برابر رابط انگلستان میں احمدی لوگ برطانوی دفتر خارجہ۔ کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائیں تا کہ برطا

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ ایک الگ امت کی طرح رہتے ہوئے مسلمانو بزور سیاسی تسلط حاصل کرنے کے لئے مسلمانو

صفحہ ٢٧٥

گئی تو ہم کیا تبدیلیاں لائیں گے۔

(روزنامہ جنگ راولپنڈی ٤ اگست ١٩٦٥ء)

”اسی طرح ١٩٧٠ء کے عام انتخابات میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کر کے جس طرح انتخابات میں نہ صرف پیپلز پارٹی کی مالی اور افرادی مدد کی اور اس ایک فیصلے کے تحت تمام قادیانیوں کے ووٹ دلائے بلکہ اپنے متعدد امیدوار بھی کامیاب کرائے۔“

(روزنامہ ندائے ملت لاہور ٢٩ دسمبر ١٩٧٠ء)

انگریزوں کی وفاداری کا جو تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ اس کی رو سے چونکہ یہ الہام کا نتیجہ اور مذہبی فریضہ تھا۔ اس لئے وہ انگریزوں کے ہندوستان سے رخصت ہو جانے کے ساتھ ختم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ انگریز اور قادیانی مشترک مفاد قائم و دائم ہے اور قیام پاکستان کے بعد اب تک کئی ایسے ملکوں میں جو انگریز کے زیر نگیں یا زیر اثر رہے ہیں۔ ان میں قادیانی مشن ان کی سرپرستی حاصل کرتے رہے ہیں۔ خود پاکستان میں ظفر اللہ خان، ایم ایم احمد اور عبدالسلام کی ترقی اور بین الاقوامی اداروں میں ان کی پذیرائی بھی اسی سرپرستی کی غماز ہے۔ پھر پاکستانی قوم اور حکومت کی طرف سے اسرائیل کے مکمل مقاطع کے باوجود اسرائیل میں قادیانی مشن کا سرگرم رہنا ربوہ اور قادیان کے درمیان وقفے وقفے سے افراد کا تبادلہ اور حال ہی میں ظفر اللہ خان کا سفر بھارت ذہن میں بہت سے شکوک و شبہات ابھارتا ہے۔ اس ضمن میں ظفر اللہ خان کا خط مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٩٧٢ء بنام مسٹر زاہد ڈپٹی لیگل ایڈوائزر حکومت پاکستان لائق توجہ ہے۔ اس خط کا عکس روزنامہ جسارت کراچی مورخہ ٧ جون ١٩٧٤ء میں شائع ہوا ہے اور اس میں ظفر اللہ نے مسٹر یحییٰ ایڈوائزر اطلاعات حکومت پاکستان کو ایک پارسل بھیجنے کے ساتھ مکتوب الیہ کو تاکید کی ہے کہ مسٹر یحییٰ کا جواب انہیں سفارتی ڈاک میں بھجوائیں۔ پھر روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ١٩ جون ١٩٧٤ء میں اس پریس کانفرنس کی پوری روداد شائع ہوئی ہے جو ٥ جون ١٩٧٤ء کو ظفر اللہ خان نے لندن میں کی گئی۔ اس میں انہوں نے نہ صرف سراسر غلط معلومات بین الاقوامی پریس کو فراہم کی ہیں بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ امریکہ میں ہماری جماعت امریکہ کی وزارت خارجہ سے برابر رابطہ میں ہے۔ آگے چل کر فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ انگلستان میں احمدی لوگ برطانوی دفتر خارجہ سے تعلق پیدا کریں اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائیں تا کہ برطانوی حکومت بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔“

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں سے ایک الگ امت کہتے ہوئے اور عملاً ایک الگ امت کی طرح رہتے ہوئے مسلمانوں کے معاشی اور سیاسی حقوق غصب کرنے اور ان پر بزور سیاسی تسلط حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کا سیاسی جزو بن کر رہنے پر مصر ہیں۔ ان کی مثال

٩

صفحہ ٢٧٧

ہور میں ١٧ اپریل ١٩٧٤ء کو پھر اس مطالبے کو دہرایا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اق لیت قرار دے کر انہیں کلیدی اسامیوں سے ہٹایا جائے۔

ے کے حق میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ا س ہڑتال سے ثابت ہو گیا کہ اس بارے میں پوری ملت پاکستان متفق اور یکسو ہے۔

ر پر ایک قرارداد پاس کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

١٩٧٠ء کے عام انتخابات اور پھر سقوط مشرقی پاکست ان (جس میں قادیانی ایم ایم احمد صاحب کا کردار اخبارات میں آتا رہا ہے) کے بعد مسلما نوں کا احساس عدم تحفظ بہت بڑھ گیا ہے۔ پاکستان ایئر فورس سے جھوٹے ب ہانے بنا کر مسلمان افسروں کو نکالا گیا اور ایئر فورس کو قادیانی فورس بنانے کی کوشش ک ی گئی۔ اس سلسلے میں بھٹو صاحب کو جو مداخلت کرنا پڑی، وہ اب ایک کھلا راز ہے۔

اگرچہ پاکستان کے چیف آف سٹاف ایئر مارشل ظف ر احمد چوہدری کو ریٹائر کیا گیا تاہم ابھی تک بہت سے قادیانی سینئر افسران ایئر فورس میں ک لیدی اسامیوں پر موجود ہیں۔

معلوم ہوا کہ گروپ کیپٹن سجاد حیدر پاکستان ایئر فو رس کے بعض ریٹائرڈ قادیانیوں کی اس سازش کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بتایا ہے کہ قادیانیوں نے بڑے پیمانے پر نفوذ کیا ہے اور بہت ساری ک لیدی اسامیاں ہتھیا لی ہیں۔ قادیانیوں نے پاکستانی افواج میں یہ پوزیشن باقاع دہ منصوبہ بندی سے حاصل کی ہے۔ جیسا کہ ان کے خلیفہ کے حسب ذیل بیان سے واضح ہے:

”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی مسلح کئے جائیں تو یہ بہت بڑی طاقت ہونی چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فو ج کی حیثیت میں نہ ہوں کچھ نہیں کریں گے“۔

سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قادیانی پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی بیرونی رابطوں اور سازشوں کی بناء پر اپنے آپ کو قوی محسوس کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اقلیت ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ان کا رویہ بہت جارحانہ ہو گیا ہے

١١

صفحہ ٢٧٧

١٩٧٤ء میں پھر اس مطالبے کو دہرایا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی اسامیوں سے ہٹایا جائے۔

مکمل ہڑتال کی گئی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس ہڑتال نے یہ بات واضح کر دی کہ اس بارے میں پوری ملت پاکستان متفق اور یکسو ہے۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

١٩٧٠ء کے عام انتخابات اور پھر سقوط مشرقی پاکستان (جس کے بارے میں ایم ایم احمد صاحب کا کردار اخبارات میں آتا رہا ہے) کے بعد مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں کا رویہ بہت جارحانہ ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئر فورس سے جھوٹے مقدمے بنا کر جس طرح مسلمان افسروں کو نکالا گیا اور ایئر فورس کو قادیانی فورس بنانے کی کوشش کی گئی اور بالآخر وزیر اعظم کو خود اس میں مداخلت کرنا پڑی، وہ اب ایک کھلا راز ہے۔

اگرچہ پاکستان کے چیف آف سٹاف ایئر مارشل ظفر چودھری کو اسی بناء پر ریٹائرڈ کر دیا گیا تاہم ابھی تک بہت سے قادیانی سینئر افسران ایئر فورس میں کلیدی اسامیوں پر موجود ہیں۔

معلوم ہوا کہ گروپ کیپٹن سجاد حیدر پاکستان ایئر فورس ہیڈ کوارٹر پشاور ایئر فورس میں قادیانیوں کی اس سازش کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ اسی طرح بری اور بحری فوج میں بھی قادیانیوں نے بڑے پیمانے پر نفوذ کیا ہے اور بہت ساری کلیدی اسامیوں پر فائز ہیں۔

قادیانیوں نے پاکستانی افواج میں یہ پوزیشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حاصل کی ہے۔ جیسا کہ ان کے خلیفہ کے حسب ذیل بیان سے واضح ہے:

’’پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لئے جائیں تو ٩ ہزار احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے، کام کس طرح کریں گے۔‘‘

(الفضل ١١/ ١٩٥٠ء)

سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قادیانی پاکستان کو کمزور اور افواج میں اپنی مضبوط پوزیشن اور بیرونی رابطوں اور سازشوں کی بناء پر اپنے آپ کو قوی محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیت ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ان کا رویہ بہت جارحانہ ہو گیا ہے۔ اس قادیانی جارحیت کی کئی مثالیں

١١

صفحہ ٢٧٨

اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں اور اب ربوہ میں نہایت سفاکی کے ساتھ اور پوری منصوبہ بندی سے انہوں نے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ نشتر کالج ملتان کے طلبہ نے ٢٢ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ اسٹیشن سے گزرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کچھ نعرہ بازی کی تھی۔ جس کے نتیجے میں جوابی نعرہ بازی اور ردعمل اسی روز ہو گیا تھا۔ لیکن آٹھ دن بعد ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو دو تین ہزار آدمیوں کا مجمع جن میں سے ایک بڑی تعداد مسلح تھی۔ طلبہ کی اس پارٹی کو سبق سکھانے کے لئے گاڑی آنے سے قبل ہی اسٹیشن پر جمع تھا۔ جو گاڑی پہنچتے ہی حملہ آور ہو گیا اور طلبہ کو اس بے دردی سے ڈبوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر مارا گیا کہ ان کی بڑی تعداد زخمی ہوگئی۔ جن میں سے متعدد شدید مجروح ہوئے۔ یہ واقعہ واضح طور پر پیشگی منصوبہ بندی سے ہوا۔

ربوہ میں قادیانیوں کا جو سخت نظام اور ڈسپلن ہے، اس کے تحت اتنا بڑا واقعہ ان کی جماعت اور ان کے سربراہ کے علم و منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا اور یہ بات بھی عام طور پر سنی جارہی ہے کہ وہ ملک میں ایک عام ہنگامہ کھڑا کر کے فوج میں اپنی مضبوط پوزیشن سے فائدہ اٹھانے کے عزائم رکھتے ہیں یا بھارت سے ساز باز کر کے اپنے مقدس مرکز قادیان کے ساتھ جڑنا اور اپنے اس عزم کی تکمیل چاہتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے قیام پاکستان کے خلاف ١٩٤٧ء میں کیا تھا۔

(منیر رپورٹ (انگریزی) ص ١٩٦)

قادیانیوں کے سلسلے میں مسلمانوں کے مطالبات یہ ہیں:

دے کر ان کے حقوق متعین کر دیئے جائیں۔

قیمت پر قادیانیوں کو بطور گرانٹ دی گئی تھی، اسے واپس لیا جائے اور اہل اسلام اور پاکستان کے خلاف اس خطرناک سازشی اڈے کو ختم کیا جائے۔

ہیں، ان سے انہیں ہٹا کر مسلمانوں کی حق رسی کی جائے تاکہ مسلمانوں کی جو حق تلفی تقریباً ایک صدی سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اس کا ازالہ ہوسکے۔

نیم عسکری تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔

پاکستان کارروائیوں، ان کی آمرانہ تنظیمی ہیئت، ان کے غیر ملکی مشنوں کے پردے میں کھیلے جانے اور پاکستان پر تسلط جمانے اور اسے بھارت سے ملانے کے منصوبوں کی پوری چھان بین کرے۔

PDF 280

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

خاتم النّبیین

حضرت مولانا محمد شریف خالد رضوی

صفحہ ٢٨١

فاسق وفاجر کی تعریف

ایڈیٹر س......... فاسق وفاجر کسے کہتے ہیں؟ ج......... شریعت کی اصطلاح میں فاسق شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ملو رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام کا ظاہراً تارک چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہی کہلائے گا اور فاجر وہ شخص ہے جو خلافِ شرع کاموں میں کمال جرا اور بے باکی سے کام کرتا ہو، گویا کہ فاجر کی شرارت و حد سے بڑھی ہوتی ہے، جب کہ ایک فاسق کی حد گزروں گا فاجر کہلائے گا۔ جب تک کہ اس کی شرارت کم نہ ہو جائے کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ واستغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س......... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجا لیتا ہوں، کیا یہ عمل درست ج......... کھیل وغیرہ میں، اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں۔ کیا تالیاں بجانا کا یہود کی مشابہت کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے؟ س......... تالیاں بجانا کافر اور منافق کا طریقہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمدلله وحده والصلوٰة والسلام على من لانبي بعده وعلى اله واصحابه اجمعين ، اما بعد!

حمد وصلوٰۃ کے بعد میرے معزز مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ جس انسان پر بذریعہ ملائکہ اپنا کلام نازل فرما کر اور اپنے ظاہری و باطنی علوم عطا کر کے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے منتخب فرماتا ہے۔ اس شخصیت کو نبی یا رسول کہتے ہیں۔ اس لئے تعلیم انبیاء علیہم السلام جھوٹ اور لغویات سے پاک ہوتی ہے۔ وہ اپنے قول و فعل میں سچے ہوتے ہیں۔ ان کی زبان جھوٹ وافتراء سے محفوظ ہوتی ہے۔ جماعت انبیاء علیہم السلام کے امام سید الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام احمد مجتبیٰ ﷺ کی صداقت کا تو یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ کے خون کے پیاسے آپ کی صداقت کو دیکھ کر صادق و امین کہنے پر مجبور ہوگئے۔ چونکہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہوگا۔ اس لئے آپ نے دین ودنیا کے تمام مسائل حل فرما دیئے تا کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رہے اور کسی مسئلے میں الجھ کر تفرقہ بازی کا شکار نہ ہو جائیں۔ حتیٰ کہ آپ نے قیامت تک کے ہونے والے تمام واقعات بیان فرما دیئے اور تفرقہ باز اور جھوٹے نبی اور مفسد رہنماؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ سنئے اور ایمان تازہ کیجئے:

”عن حذيفة قال قام رسول الله ﷺ مقاما ماترك شيئايكون فى مقامه ذالك الى قيام الساعة الاحدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قدعلمه اصحابى هولاء وانه ليكون منه الشئ قدنسيته فاراه فاذكروه كماينكر الرجل وجه الرجل اذاغاب عنه ثم عرفه “ (رواه البخارى ومسلم ومشكوة ص ٤٦٠ كتاب الفتن) ﴿ روایت ہے حضرت حذیفہؓ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں رسول ﷺ نے ایک جگہ قیام فرمایا۔ آپ نے اس جگہ میں قیامت تک ہونے والی کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ مگر اس کی خبر دے دی جس نے اسے یاد رکھا۔ اس نے یاد رکھا جو بھول گیا۔ وہ بھول گیا۔ یہ بات میرے دوست جانتے ہیں۔ ان واقعات میں سے کوئی چیز ہوتی ہے جسے میں بھول چکا ہوں۔ پھر اسے دیکھتا تو اسے یاد کر لیتا ہوں جیسے کوئی شخص کسی کا چہرہ پہچان لیتا ہے۔ جب وہ اس سے غائب رہا ہو پھر جب اسے دیکھے تو پہچان لے۔ ﴾

فائدہ ..... اس حدیث سے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ نے حضو تمام واقعات کا علم عطا ء فرمایا ہے اور ایک ہی مجلس میں معجزہ ہے اور صحابہ کرامؓ ان واقعات کو اچھی طرح جانتے ہ

ماادرى انسى اصحابى ام تناسواوالله مات الى ان تقضى الدنيا يبلغ من معه ثلث ما واسم ابيه واسم قبيلته (ابوداؤد ومشكوه ص سے فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے رسول ﷺ نے دنیا ہونے تک تمام فتنہ گروپ کو جو تین کے نام بتا دیئے۔ اس کے نام ، اس کے باپ کا نام اور ا

فائدہ ..... حضور ﷺ نے فتنہ برپا کرنے والوں کی تعد واضح کر دیا تا کہ لوگ ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں۔

نوٹ ..... ان فتنہ گروں سے مراد جھوٹے نبی اور بے ایجاد کر کے لوگوں میں فتنہ برپا کریں اور گمراہ بادشاہ مرا گے۔

”وعن ثوبانؓ قال ،قال رسول ال لم ترفع عنها الى يوم القيامة ولا تقوم ال بالمشركين وحتى تعبد قبائل من امتى الاو ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خ طائفة من امتى على الحق ظاهرين لايض (رواه ابوداود وترمذى مشكوة ص ٤٦٠ ك ﴿ روایت ہے حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں ک امت میں تلوار رکھ دی جائے تو قیامت کے دن تک ا حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں پرستی کریں گے اور میری امت میں عنقریب ٣٠ جھوٹ

صفحہ ٢٨١

فائدہ ...... اس حدیث سے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو قیامت تک کے ہر چھوٹے بڑے تمام واقعات کا علم عطاء فرمایا ہے اور ایک ہی مجلس میں سب کو بیان فرما دینا سرکار دو عالم ﷺ کا معجزہ ہے اور صحابہ کرام ان واقعات کو اچھی طرح جانتے تھے۔ : ”عن حذيفة قال والله ما ادرى انسى اصحابى ام تناسوا والله ماترك رسول الله ﷺ من قائد فتنة الى ان تقضى الدنيا يبلغ من معه ثلث مائه فصاعد الاقد سماه لنا باسمه واسم ابيه واسم قبيلته (ابوداؤد ومشكوة ص ٤٦٣) “ ﴿روایت ہے حضرت حذیفہؓ سے فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے یا بھلا بیٹھے ۔ اللہ کی قسم رسول ﷺ نے دنیا ہونے تک تمام فتنہ گروپ کو جو تین سو یا کچھ زیادہ ہیں ، نہیں چھوڑا ۔ مگر ہم کو ان کے نام بتا دیئے ۔ اس کے نام ، اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلہ کا نام ۔﴾

فائدہ ...... حضور ﷺ نے فتنہ برپا کرنے والوں کی تعداد ان کے نام اور اس کے قبیلہ کا نام لے کر واضح کر دیا تا کہ لوگ ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں۔

نوٹ ...... ان فتنہ گروں سے مراد جھوٹے نبی اور بے دین عالم جو نئے مذہب اور بری بدعتیں ایجاد کر کے لوگوں میں فتنہ برپا کریں اور گمراہ بادشاہ مراد ہیں ۔ جن سے لوگوں میں دینی فتنے پھیلیں گے۔

" وعن ثوبانؓ قال، قال رسول الله ﷺ اذا وضع السيف فى امتى لم ترفع عنها الى يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من امتى بالمشركين وحتى تعبد قبائل من امتى الاوثان وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله (رواه ابوداود وترمذى مشكوة ص ٤٦٥٠) “ ﴿روایت ہے حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے تو قیامت کے دن تک اس سے نہ اٹھے گی اور قیامت قائم نہ ہوگی ۔ حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں گے اور حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبیلے بت پرستی کریں گے اور میری امت میں عنقریب ٣٠ جھوٹے ہوں گے ۔ وہ سب گمان کریں گے کہ وہ

٣

صفحہ ٢٨٢

اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا۔ سب پر غالب ،ان کا مخالف انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے۔ ﴾

فائدہ...... ان سے مراد وہ تیس جھوٹے ہیں جنہیں لوگوں نے نبی مان لیا اور ان کا فساد پھیل گیا۔ دیکھو ہمارے ملک میں مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کا فتنہ بہت پھیلا۔ دوسرے اس قسم کے مدعیان نبوت جن میں کسی نے نہ مانا ، وہ بکواس کر کے مر گئے۔ وہ جھوٹے نبی تو سو سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ میرے مسلمان بھائیو! اس سے بڑا مقام حیرت اور کیا ہو سکتا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے واضح ارشادات کے ہوتے ہوئے جھوٹے نبی، بے دین عالم گمراہ کرنے والے لیڈر اور بادشاہوں کے غلط نظریات قبول کئے جائیں اور سرعام ان کی پرچار کی جائے۔ بلکہ ستم تو یہ ہے کہ قرآن کریم کو موڑ توڑ کر غلط نظریات کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ بقول علامہ اقبال:

خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

یعنی جب کوئی جھوٹا نبی یا بے دین ملا یا گمراہ لیڈر جن کی خبر مخبر صادق حضرت محمد ﷺ نے دی ہے۔ غلط نظریہ پیش کرتا ہے۔ تو پھر اپنے خود ساختہ دین کو قرآن مجید سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ قرآن وسنت کو تسلیم نہ کرے تو اس کی حقیقت کھل جاتی ہے اور عوام اس کے دھوکے سے بچ جاتے ہیں۔ اس لئے وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر قرآن وسنت کے غلط ترجمے کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے حضور ﷺ نے اپنی وفات شریف سے پہلے مسلمانوں کو خبر دار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اوصیکم تقوی الله والسمع والطاعة وان كان عبدا حبشيا فانه من يعش منكم بعدی فسیری اختلافاً كثيرا فعليكم بسنتی وسنت الخلفاء الرشدين المهديين تمسكو ابھاو عضوا عليها بالنوا جذا ايلكم ومحدثات الامورفان كل محدثه بدعة وكل بدعة ضلالة (رواه احمد ابوداؤد ترمذی وابن ماجه ،مشكوة ص٣٠)“

فرمایا اللہ سے ڈرو اور سلطان کے سننے اور فرمانبرداری کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اگرچہ حبشی غلام ہو کیونکہ میرے بعد تم سے جو جیئے گا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا۔ لہٰذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت مضبوط پکڑ رہو، ہرنئی چیز اور ہر بدعت گمراہی ہے۔﴾

فائدہ...... حضور نبی ﷺ نے اپنی امت کو ہو جائیں اور مسلمانوں کو گمراہی کی دعوت دیں صحابہ کی سنت کی پیروی کرنا یعنی اہلسنت وجماعت ہے۔ جب حضور ﷺ نے فرمایا: ”عن معاذ الشيطان ذئب انسان كذئب الغنم وعليكم بالجماعة“ (رواه احمد ومشكوة) ﴿ فرما فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑ والی کو پکڑتا ہے۔ تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت

فائدہ...... اس حدیث سے معلوم ہوا، الگ تھ مسلمانوں کی بڑی جماعت کو چھوڑنا گمراہی کو اہلسنت و جماعت ہی ہے جو صحابہ کرامؓ سے م وہ جو پہلے حدیث میں ہے کہ وہ سنت نبی ﷺ تعالیٰ کے فضل سے حق پر ہے اور رہے گی۔

اس مضمون کی تائید میں ایک اور حا رسول الله ﷺ اتبعو السواد الاعظم ومشكوة ص ٣٠) ﴿ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں جماعت ) کی پیروی کرو کیونکہ جو الگ رہا وہ ا

سبحان اللہ! اس فرمان نبی آخر رہنماؤں کی قلعی کھول دی کیونکہ حضور ﷺ فرما جماعت کے ہوں۔ اب یہ حقیقت ہر مسلمان سے لے کر آج تک بڑی جماعت اہلسنت و اہل اسلام کو ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد وا

صفحہ ٢٨٣

ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت مضبوط پکڑو۔ اسے دانت سے مضبوط پکڑ لو نئی باتوں سے دور رہو، ہر نئی چیز اور ہر بدعت گمراہی ہے۔﴾

فائدہ...... حضور نبی ﷺ نے اپنی امت کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا جب گمراہ کن رہنماء پیدا ہو جائیں اور مسلمانوں کو گمراہی کی دعوت دینی شروع کریں تو یاد رکھو۔ میری سنت اور میرے خلفاء صحابہ کی سنت کی پیروی کرنا یعنی اہلسنت و جماعت رہنا۔ اس معنی کی تائید اس حدیث سے ہو رہی ہے۔ جب حضور ﷺ نے فرمایا: ”عن معاذ ابن جبل قال قال رسول الله ﷺ ان الشيطان ذئب للانسان كذئب الغنم ياخذ الشاة والقاصية والناحية والشعاب وعليكم بالجماعة“ (رواہ احمد ومشکوۃ) ﴿روایت ہے حضرت معاذ ابن جبلؓ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے۔ جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور کنارے والی کو پکڑتا ہے۔ تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو (رواہ احمد ومشکوۃ)

فائدہ...... اس حدیث سے معلوم ہوا، الگ تھلگ رہنا یا نئی جماعت قائم کرنا شیطانی کام ہے اور مسلمانوں کی بڑی جماعت کو چھوڑنا گمراہی کو دعوت دینا ہے۔ بڑی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اہلسنت و جماعت ہی ہے جو صحابہ کرامؓ سے لے آج تک تمام گمراہ لوگوں سے بڑی ہے اور اُن کی نشانی وہ جو پہلے حدیث میں ہے کہ وہ سنت نبی سنت صحابہ پر عامل ہوگی۔ یعنی اہلسنت و جماعت جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حق پر ہے اور رہے گی۔

اس مضمون کی تائید میں ایک اور حدیث سنئے: ”عن ابن عمر ؓ قال قال رسول الله ﷺ اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فى النار“ (رواہ ابن ماجہ ومشکوۃ ص ٣٠) ﴿حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بڑے گروہ (بڑی جماعت) کی پیروی کرو کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا۔﴾

سبحان اللہ! اس فرمانِ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے گمراہ فرقوں اور جھوٹے رہنماؤں کی قلعی کھول دی کیونکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ وہ عقیدے اختیار کرو جو مسلمانوں کی بڑی جماعت کے ہوں۔ اب یہ حقیقت ہر مسلمان پر بالکل واضح ہوچکی ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک بڑی جماعت اہلسنت ہی ہے۔ جس کا مخالفین بھی اعتراف کر چکے ہیں۔ لہٰذا اہلِ اسلام کو ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد واعمال بڑی جماعت یعنی اہل سنت کے اختیار کریں۔

صفحہ ٢٨٤

فاسق و فاجر

ایوان س:........ فاسق و فاجر شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ج:........ شریعت کی رہتا ہے۔ شریعت کے احکام چھوڑنے دونوں صورتوں میں وہ فا اور نافرمان ہے۔ اور جو شخص بے خوف و خطر شریعت کا ہے بعد میں کرلوں گا ابھی کیا عمر ہے کروں گا پھر کروں گا، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کا کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س:........ تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجانا بالکل بے غیرتوں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح گانا بجانا؟ یہ ایک رسم ہے، مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج:........ تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ ہے جو کہ حضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مسلمانوں

کیونکہ باقی گمراہ فرقوں کے متعلق حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”عن عبدالله ابن عمرقال قال رسول الله ﷺ لياتين على امتى كما اوتى على بنى اسرائيل حذوالنعل بالنعل حتى ان كان منهم من اتى امه علانية لكان فى امتى من يصنع ذالك وان بنى اسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة وتفترق امتى على ثلث وسبعين ملة كلهم فى النار الاملة واحدة قالو من هى يارسول الله قال ماانا عليه واصحابی (رواه الترمذي وفي رواية احمد وابى داؤد ”عن معاويه ثنتان وسبعون في النار وواحدة في الجنة وهى الجماعة وانه سيخرج فى اقوام تتجارى الكلب بصاحبه لايبقى منه عرق ولا مفصل الا دخله“

روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے، فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت میں بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے۔ جیسے جوتی کی جوتی سے برابری، حتیٰ کہ اگر کسی نے اپنی ماں سے زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو ایسا کرے گا۔ یقیناً بنی اسرائیل ٧٢ فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ سوا ایک ملت کے سب دوزخی ہوں گے۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ ”فرمایا وہ جس پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں۔ اسے ترمذی نے روایت کیا اور احمد وابو داؤد ومعاویہؓ کی روایت یہ ہے کہ بہتر دوزخی اور ایک جنتی ہے اور مسلمانوں کی بڑی جماعت ہے۔ میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں ان کے خود ساختہ دین ایسے سرایت کر جائیں گے جیسے دیوانے کتے کا زہر کاٹے ہوئے میں کہ جس کی کوئی رگ اور جوڑ بغیر سرایت کئے نہیں بچتا۔“

فائدہ:...... اس حدیث میں اللہ کے محبوب علیہ السلام نے فیصلہ ہی فرما دیا کہ مسلمانوں کی بڑی جماعت یعنی اہلسنت وجماعت کے سوا باقی سب فرقے گمراہ ہوں گے اور دوزخ میں جائیں گے۔ اس کی تائید قرآن پاک کی اس آیت سے ہو رہی ہے: ”ومن يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم وساءت مصيرا“ ”اور جو رسولؐ کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔“ ٦

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وجماعت) کے خلاف کر گیا ہم اس کو دو جو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی سنت اور قرآن کریم کہلائے گی۔ ایسی تفسیر کرنے قادیانی خاتم النبیین کی تفسیر کرتا ہے۔ ” اور جماعت مؤمنین خاتم النبیین کے معنی آ محمد ابااحدمن رجالكم ولكن ر عليما“ ”محمد رسول ﷺ تمہارے مر سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کو کچھ ج مبارک سے سنئے: ”وانه سيكون فى امتى خاتم النبيين لانبى بعدى ( (رواه ابوداؤد ،ترمذی ،مشکوٰۃ وہ سب گمان کریں گے کہ وہ اللہ کے نبی ہی اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا گا۔“ دیکھو حضور ﷺ جن پر اللہ تعالیٰ نے ہوئے فرمایا: ”آخری نبی ہوں، میرے بع امتی کہلانے والے نبوت کا دعویٰ کریں ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا نبی پیدا نہیں ہو

حدیث نمبر ٢

”عن ابى هريرة ق كمثل قصرا احسن بنيانه ترك حسن بنيانه الاموضع تلك ال البنيان وختم بي الرسل وفى

صفحہ ٢٨٥

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو میرے رسول کی سنت اور جماعت مومنین (اہلسنت وجماعت) کے خلاف کر گیا ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے۔ معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تفسیر جو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی سنت اور جماعت مومنین کے عقائد واعمال کے خلاف ہو وہ تحریف قرآن کریم کہلائے گی۔ ایسی تفسیر کرنے والا اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی خاتم النبیین کی تفسیر کرتا ہے۔ ”نبیوں کی زینت وافضل“ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور جماعت مومنین خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کرتے ہیں۔ دیکھو ارشاد باری تعالیٰ :”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شي عليما “ ﴿ محمد رسول ﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں۔ ہاں! اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔“ اب اس کی تفسیر حضور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے سنئے:

”وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لانبى بعدى ولاتزال طائفة لايضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله (رواه ابوداؤد ، ترمذی ، مشکوٰۃ “ ﴿اور بے شک میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے وہ سب گمان کریں گے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا۔ سب پر غالب اس کا مخالف انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“ دیکھو حضور ﷺ جن پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا ہے۔ خاتم النبیین کی تفسیر فرماتے ہوئے فرمایا: ”آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ بلکہ میری امت سے یعنی میرے امتی کہلانے والے نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ وہ جھوٹے اور کذاب ہوں گے کیونکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا نبی پیدا نہیں ہوگا۔“

حدیث نمبر ٢

”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك موضع لبنة فطاف به النظار ويتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل وفي رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری

٧

صفحہ ٢٨٧

علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام اور ٢ آسمان پر علیہ السلام۔ ان کی زندگی حضور انور ﷺ کے خاتم النبیین اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضـ نہ بشانِ نبوت رہا۔ سب سے اول سب سے آخر ایک مخلوق ہیں اور آخری نبی ہیں۔

جواب نمبر ٢...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں حـ کیونکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”عن عبداللہ ابن ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتز قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبـ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء ومشکوۃ ) “

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں۔ فر (آسمان سے ) زمین کی طرف اتریں گے۔ نکاح کریـ سال قیام کریں گے۔ پھر وفات پائیں گے۔ میرے کئے جائیں گے ۔ تو ہم اور عیسیٰ ابن مریم ؑ ، ابوبکر گے (مشکوٰۃ) اسی مضمون کی ایک اور حدیث سنئے :

”عن عبداللہ ابن سلام قال یـ عیسیٰ ابن مریم یدفن معہ قال ابومو (رواہ الترمذی ومشکوۃ ص ٥١٥) “ روایت ہیں کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی صفت مذکور ہے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابومـ باقی ہے۔ ﴿

میرے مسلمان بھائیو! میں نے شروع میں حل فرما دیئے ہیں تاکہ اہل اسلام میں اتحاد کی فضا پیـ نے کتنی تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح حـ

٩

صفحہ ٢٨٧

علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام اور ٢ آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ان کی زندگی حضور انور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں بھی کوئی انسان پیدا نہ ہوا نہ بشان نبوت رہا۔ سب سے اول سب سے آخر ایک ہی ہوسکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اول مخلوق ہیں اور آخری نبی ہیں۔

جواب نمبر٢ ....... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں حضرت عیسیٰ ہوں۔ حالانکہ یہ بھی غلط ہے۔

کیونکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”عن عبدالله ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد ویمکث فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (رواه ابن الجوزی فی کتاب الوفاء ومشکوة)“

﴿حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰ ابن مریم (آسمان سے) زمین کی طرف اتریں گے۔ نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس ٤٥ سال قیام کریں گے۔ پھر وفات پائیں گے۔ میرے ساتھ میرے مقبرہ (گنبد خضریٰ) میں دفن کئے جائیں گے ۔ تو ہم اور عیسیٰ ابن مریم ؑ ، ابو بکرؓ و عمرؓ کے درمیان ایک مقبرہ سے اٹھیں گے (مشکوٰۃ)﴾ اس مضمون کی ایک اور حدیث سنئے:

”عن عبدالله ابن سلام قال مکتوب فی التوراة صفة محمد و عیسیٰ ابن مریم یدفن معه قال ابو مودود وقد بقی فی البیت موضع قبر (رواه الترمذی ومشکوة ص ٥١٥) “ ﴿روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سلام سے فرماتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کی صفت مذکور ہے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام حضور پرنور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ حجرہ انور میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ ﴾

میرے مسلمان بھائیو! میں نے شروع میں عرض کیا ہے کہ حضور ﷺ نے تمام مسائل حل فرمادیئے ہیں تاکہ اہل اسلام میں اتحاد کی فضا برقرار رہے۔ دیکھو اس حدیث میں حضور ﷺ نے کتنی تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح حیات بیان فرمائیں۔ اب اگر کسی کو شک وشبہ

٩

صفحہ ٢٨٨

ہو تو مدینہ منورہ جا کر مل سکتا ہے۔ کیونکہ حضرت محمد ﷺ کے روضہ اطہر میں حضور کے فرمان کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ کی قبریں موجود ہیں اور ایک قبر کی جگہ خالی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے۔ مرزا قادیانی مرا تو لاہور دفن ہوا قادیان میں، اور اس کی والدہ کا نام چراغ بی بی ہے۔ وہ کیسے عیسیٰ علیہ السلام ہو سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم علیہا السلام ہیں اور وہ اب آسمان پر تشریف فرما ہیں۔ قیامت کے قریب تشریف لا کر شادی کریں گے۔ اولاد ہو گی اور حج کریں گے اور پھر مدینہ منورہ تشریف لائیں گے۔ روضہ اطہر میں دفن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآن وحدیث کی صحیح فہم عطاء فرمائے۔ اب خاتم النبیین کے مفہوم کے چند ارشادات نبوی سنئے:

"عن العرباض ابن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال اني عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينته وساخبركم باول امرى دعوة ابراهيم وبشارة عيسى ورؤيا امى التى رأت حين وضعتني وقد خرج لها نور واضاءت منه قصور الشام“ (رواه في شرح السنة ورواه احمد مشكوة) ”روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہؓ سے کہ رسول ﷺ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخری نبی لکھا ہوا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر میں ہی پڑے تھے۔ یعنی ان کا پتلا بھی تیار نہ ہوا تھا۔ میں تم کو اپنی پہلی حالت بتاتا ہوں۔ میں دعا ابراہیم علیہ السلام ہوں۔ بشارت عیسیٰ علیہ السلام، میں اپنی والدہ کا وہ نظارہ ہوں۔ جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لئے شام کے محل چمک گئے۔“

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے:

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ

(بال جبریل)

١٠

صفحہ ٢٨٩

”عن ابی هریرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا وطهورا وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبیون (رواه مسلم ومشکوة ص ٥١٢) ”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ کو تمام پیغمبروں پر چھ چیزوں سے بزرگی دی گئی۔ مجھے جامع الفاظ دیئے گئے۔ ہیبت سے میری مدد کی گئی۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لئے ساری دنیا مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنائی گئی اور میں ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور مجھ سے نبی ختم کر دیئے گئے۔﴾

”عن جابر ان النبی ﷺ قال انا قائد المرسلین ولا فخر وانا خاتم النبیین ولا فخر وانا اول شافع ومشفع (رواه الدارمی ومشکوة) ”روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں رسولوں کا قائد یعنی پیشرو ہوں۔ فخریہ نہیں کہتا۔ میں نبیوں میں آخری ہوں۔ فخریہ نہیں کہتا میں پہلا شفاعت والا ہوں اور مقبول الشفاعت ہوں۔ فخریہ نہیں کہتا۔﴾

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری نبی ہونا مقام فضیلت ہے جو حضور ﷺ کو عطاء کیا گیا۔ لہٰذا حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی۔ جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے۔ سنیے:

”بین کتفیه خاتم النبوة وهو خاتم النبیین (مشکوة) ”آپ کے کندھوں کے بیچ مہر نبوت تھی اور آپ خاتم النبیین ہیں“ (ترمذی و مشکوٰۃ)

اب لفظ خاتم کی تشریح بھی سنئے۔ خاتم ختم سے بنا ہے جس کے معنی ہیں مہر لگانا۔ اصطلاح میں اس کے معنی ”تمام کرنا“ ”ختم کرنا“ ”بند کرنا“ کیونکہ مہر یا تو مضمون کے آخر پر لگتی ہے جس سے مضمون بند ہو جاتا ہے۔ یا پارسل بند ہونے پر لگتی ہے۔ جب نہ کوئی شے اس میں داخل ہو سکے نہ اس سے خارج۔ اس لئے تمام ہونے کو ختم کہا جاتا ہے۔ اس معنی کی تائید قرآن کریم سے

١١

صفحہ ٢٩١

ہوتی ہے:

تعالیٰ حضور کریم ﷺ کو فرماتے ہیں اے میرے محبوب علیہ السلام! آپ ان کفار کو وعظ فرمائیں یا نہ وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ نے ان کفار کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر مہر لگادی ہے۔ یعنی ہدایت قبول کرنے کے تمام راستے ختم ہو گئے ہیں۔﴾

بما كانوا يكسبون“ ﴿آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے۔﴾ جب مجرم دربار خداوندی میں اپنے برے اعمال سے انکاری ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگادیں گے۔

جائیں گے جو مہر کی رکھی ہوئی ہے۔ اس کی مہر مشک پر ہے۔ یعنی جنت میں شراب طہور ایسے برتنوں سے پلائی جائے گی۔ جن پر حفاظت کے لئے مہر ہوگی تاکہ کوئی توڑ کر نہ باہر سے آمیزش کر سکے نہ اندر سے باہر نکال سکے۔ ان جیسی تمام آیات میں ختم بمعنی مہر استعمال فرمایا گیا ہے۔ اس پر قادیانی مندرجہ ذیل اعتراض کرتے ہیں:

خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں سے افضل نبی۔ جیسے کہا کرتے ہیں فلاں شخص خاتم الشعراء یا خاتم المحدثین ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ شاعروں اور محدثوں میں آخری شاعر یا محدث ہے۔ بلکہ محدثوں میں افضل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: ”خاتم المهاجرین“ تم مہاجرین میں خاتم یعنی افضل ہو۔ نہ یہ کہ آخری مہاجر ہو۔ کیونکہ ہجرت تو قیامت تک جاری رہے گی۔ ایک اور حدیث میں حضرت محمد ﷺ اپنی مسجد کے متعلق فرماتے ہیں: ”انى اخر الانبياء ان مسجدى آخر المساجد“ یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری یہ

١٢

مدینہ والی مسجد آخری مسجد ہے۔ حالانکہ بعد میں ہ نبی آسکتے ہیں۔ ہاں! آپ سب سے افضل ہیں اور

جواب ....... خاتم ختم سے بنا ہے جس ک قلوبهم“ کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ نے کافروں کا دل تو خاتم میں جو اس سے مشتق ہے۔ یہ معنی کہاں س ہوتا ہے۔ گویا اب اس شان کا شاعر نہ آئے گا۔ کیو کلام مبالغہ اور جھوٹ سے پاک ہے۔ حضرت عبا مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، آخری ہوئی۔ جس کے بعد یہ ہجرت بند ہو گئی۔ لہٰذا وہاں فرمایا ”لا هجرة بعد الیوم“ ﴿ آج کے بعد اگر وہاں خاتم کے معنی افضل ہوں تو لا بھی افضل ہو جائیں۔ کیونکہ حضور ﷺ بھی مہاجر ہے صرف آپ کی غلط فہمی ہے۔ سرکار ﷺ تو فرما ر کی مساجد میں یہ میری آخری مسجد ہے۔ یعنی اب نبوی تعمیر کرے۔ جیسے حضور ﷺ سے حضرت ابر اور حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ وحدیث کی صحیح فہم عطاء فرمادے۔

اگر حضور کریم ﷺ کی غلامی اور تابعد ہے۔ تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ قائم کیں جو اسلامی تاریخ میں امتیازی حیثیت ر ہیں: ”عن عقبة بن عامر قال قال النبی

صفحہ ٢٩١

مدینہ والی مسجد آخری مسجد ہے۔ حالانکہ بعد میں ہزار ہا مساجد تعمیر ہورہی ہیں۔ لہذا آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں۔ ہاں! آپ سب سے افضل ہیں اور خاتم النبیین کے معنی یہ ہی ہیں۔

جواب...... خاتم ختم سے بنا ہے جس کے معنی افضل نہیں۔ ورنہ ”ختم اللہ علی قلوبهم“ کے معنی یہ ہو کہ اللہ نے کافروں کا دل افضل کر دیا۔ جب ختم میں افضلیت کے معنی نہیں تو خاتم میں جو اس سے مشتق ہے۔ یہ معنی کہاں سے آگئے۔ لوگوں کا کسی کو خاتم الشعراء کہنا مبالغہ ہوتا ہے۔ گویا اب اس شان کا شاعر نہ آئے گا۔ کہا کرتے ہیں فلاں پر شعر گوئی ختم ہو گئی۔ رب کا کلام مبالغہ اور جھوٹ سے پاک ہے۔ حضرت عباسؓ ان مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، آخری مہاجر ہیں۔ کیونکہ ان کی ہجرت فتح مکہ کے دن ہوئی۔ جس کے بعد یہ ہجرت بند ہوگئی۔ لہٰذا وہاں بھی خاتم کے معنی آخر کے ہیں۔ سرکارﷺ نے فرمایا ”لا هجرة بعد اليوم“ ﴿آج کے بعد اب مکہ سے ہجرت نہ ہوگی۔﴾

اگر وہاں خاتم کے معنی افضل ہوں تو لازم آئے گا کہ حضرت عباسؓ نبی کریمﷺ سے بھی افضل ہوجائیں۔ کیونکہ حضورﷺ بھی مہاجر ہیں۔ دوسری حدیث میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے صرف آپ کی غلط فہمی ہے۔ سرکارﷺ تو فرما رہے ہیں میں نبیوں میں آخری نبی ہوں اور انبیاء کی مساجد میں یہ میری آخری مسجد ہے۔ یعنی اب میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ جو آکر مسجد نبوی تعمیر کرے۔ جیسے حضورﷺ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام کعبہ شریف اور حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی۔ اللہ تعالیٰ قرآن وحدیث کی صحیح فہم عطاء فرمائے۔

اگر حضور کریمﷺ کی غلامی اور تابعیت سے نبوت ملتی۔ جیسا کہ آپ کا خیال باطل ہے۔ تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جنہوں نے اطاعت مصطفیﷺ کی وہ مثالیں قائم کیں جو اسلامی تاریخ میں امتیازی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرکار حضرت عمرؓ کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: ”عن عقبة بن عامر قال قال النبى ﷺ لوكان بعدى نبى لكان عمر ابن

١٣

صفحہ ٢٩٢

خطاب ”فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو جناب عمر بن خطاب ہوتے۔“ یعنی اگر ہمارے بعد کسی نبی کا ہونا ممکن ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ کیونکہ ان کے دل میں رب کی طرف سے الہام اور القاء بہت ہوتا ہے اور انہیں وحی سے بہت ہی مناسبت ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی بہت سی آیات آپ کی رائے کے مطابق آئیں۔ جیسے پردہ، شراب کی حرمت، بدر کے قیدیوں کے بارے میں آیات نازل ہوئیں۔ سرکار دو عالم ﷺ جب غزوہ تبوک کو جانے لگے تو حضرت مولا علیؓ کو اہل مدینہ کی حفاظت پر مامور فرمایا تو حضرت مولا علیؓ نے جہاد کی خواہش فرمائی تو حضور ﷺ نے فرمایا: ”عن سعد ابن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لعلی انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لانبی بعدی (بخاری ومسلم ومشکوۃ ص ٥٦٣“ روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جناب حضرت علیؓ سے کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو کہ جو حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھا۔ بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

یعنی تم میں اور جناب ہارون علیہ السلام میں فرق یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ بھی تھے اور نبی بھی۔ تم میرے خلیفہ ہو نبی نہیں۔ کیونکہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکی۔ اب نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہو نہ میرے بعد۔

ان احادیث سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ تشریعی یعنی (صاحب شریعت نبی یا غیر تشریعی یعنی نبی شریعت نہ لائے یا ظلی یعنی پہلے نبی کے تابع ہو کر) ہو جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر اور ملعون اور ان کذابوں دجالوں میں سے ہوگا۔ جن کی خبر مخبر صادق نبی مکرم احمد مجتبیٰ ﷺ نے پہلے ہی فرمائی ہے۔ صحابہ کرامؓ سے لیکر آج تک اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے۔ اسی پر مضمون ختم کرتا ہوں کیونکہ اس مختصر رسالے میں زیادہ مضمون کی گنجائش نہیں ہے۔ آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس راستہ پر چلائے جو اس کے نیک بندوں کا ہے اور اس زمانہ کی ہواؤں سے ہمارا ایمان محفوظ رکھے۔

١٤

PDF 294

فاسق و فاجر ایویں س:۔ فاسق و فاجر ج:۔ شریعت کی ا شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہ پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ن دیتا ہے۔ شریعت کے بعض اح چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ ف اور فاسق وہ شخص ہے جو خلاف شرع کا اور دیندار کے پیروکار کہلائے تو یہ کی ج: بعد میں کرلوں گا، ابھی سے کیا ہے کہ اندر کرلوں پھر توبہ کرلوں گا، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچے گا کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کرے اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔

س:۔ تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج:۔ تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے کی تقریب میں یا فنکشن میں یا بچوں کا دل خوش اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیاں بجا کر گانا میوزک سننا، کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج:۔ تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں

ہوتا تو جناب عمرؓ بن خطاب ہوتے۔ ﴿ حضرت عمرؓ ہوتے۔ کیونکہ ان کے دل وحی سے بہت ہی مناسبت ہے۔ اس مطابق آئیں۔ جیسے پردہ، شراب کی

ور فرمایا تو حضرت مولا علیؓ نے جہاد کی ابی وقاص قال قال رسول ألا انه لا نبي بعدي (بخاری عدا بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ اس درجہ میں ہو کہ جو حضرت ہارون ر کوئی نبی نہیں۔﴿ یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نکہ نبوت مجھ پر ختم ہوچکی۔ اب نہ تو

حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کا ز بھی یعنی نبی شریعت نہ لائے یا ظلی گا وہ کافر اور ملعون اور ان کذابوں ا نے پہلے ہی فرمائی ہے۔ صحابہ کرامؓ تم کرتا ہوں کیونکہ اس مختصر رسالے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس راستہ سے ہمارا ایمان محفوظ رکھے۔

خاتم النبيين لا نبي بعدي

صلى الله عليه وعلى آله واصحابه وسلم

قادیانیت پر آخری

ضرب

جناب پروفیسر شاہ فرید الحق صاحب

صفحہ ٢٩٤

فاسق و فاجر

ایوان س:...... فاسق و فاجر شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہ مگر...... شریعت کی پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ن دیتا ہے۔ شریعت کے بعض ا چھوڑے اور دونوں صورتوں میں گناہ و فا اور ظاہرہ فحش ہے جو خلاف شرع ہو۔ اور قہقہہ مار کر ہنسے یا صریحاً کوئی گناہ کبیرہ کرے۔ بعد میں اگر کوئی یہ کہے گ کرلوں تو پھر توبہ کرلوں گا۔ جب کہ شریعت ک کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے ک کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ ک ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کرے اللہ تعال معاف کرے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س:...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا مجلس میں یا محفل اور دیگر محافل م اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیوں کا بجانا شرعاً مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج:...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور یہ کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ہو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جناب پروفیسر شاہ فرید الحق جمعیت علماء پاکستان کے ایک قابل فخر رہنما ہیں۔ سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے جو بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا اعتراف کون نہیں کرتا۔

شاہ صاحب سیاسیات کے پروفیسر رہے ہیں اور اس مضمون کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان دنوں وہ قرآن مجید کا آسان اور سلیس انگریزی ترجمہ کر رہے ہیں۔

شاہ صاحب نے حالیہ قادیانی تحریک اور قومی اسمبلی کے فیصلے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ تاکہ پاکستان کی زندگی کے یہ تاریخی لمحات ہمیشہ کے لئے تاریخ کا حصہ بن جائیں۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات، جمعیت علماء پاکستان

٢٢ مئی ١٩٧٤ء کو نوجوانان اسلام نے (چناب نگر) ربوہ اسٹیشن پر حضور ﷺ کے مقام کے تحفظ کا نعرہ لگا کر جھوٹے مدعی نبوت کی جھوٹی امت کے دل پر ایک کچوکہ لگایا۔ بھلا کفار کو برداشت کی کہاں طاقت۔ حالانکہ کفار اور مشرکین اپنے انجام سے باخبر ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جب بھی وہ دین اسلام سے نبرد آزما ہوئے منہ کی کھائی۔ یہ بات اور ہے کہ بعض وقت مسلمانوں کے نقصان کی وجہ سے کبھی کبھی شکست ظاہری فتح معلوم ہوئی۔ ربوہ کے منافقین اور کفار کو یہ بات گراں گزری کہ نبی کریم ﷺ کو آخری نبی قرار دیا جائے یا ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں۔

٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو جب کہ نوجوانان اسلام سفر سے واپس ہو رہے تھے۔ ان منافقین اور مرتدین نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ان پر حملہ کر کے زدوکوب کیا۔ ان کے لہو بہائے۔ بعض کو شدید ضربات پہنچائیں اور انہیں کافی دنوں تک ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔ کسی کا منہ توڑا گیا۔ کسی کی ناک کی ہڈی توڑی گئی۔ غرض یہ کہ بربریت کا سماں تھا۔ ٹرین باضابطہ روک کر یہ ساری کارروائی ان نام نہاد بہادر منافقین اور مرتدین نے چند نوجوان مسلمان طلبہ کے خلاف کی۔

قدرت کو جو منظور ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کا خون رنگ لایا۔ ان مرتدین اور منافقین کے خلاف دیا ہوا لاوا پھوٹ پڑا۔ پورے ملک میں آگ لگ گئی۔ بالخصوص پنجاب

٢

کے نوجوان طلباء میدان میں آ گئے۔ ربوہ ک نتیجہ یہ ہوا کہ جوابی کارروائی شروع ہوگئی۔ پو اس آگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ م مصطفیٰ ﷺ کی آگ تھی۔ یہ پانی سے نہیں ب پاکستان میں سواد اعظم مقام مصطفیٰ ﷺ کے لگانے کو تیار ہے۔ باوجود تمام برائیوں اور گنا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے خلاف نہ کوئی بات لوگوں سے جو منافقت کا لبادہ اوڑھ کر بزعم پہچانیں۔ قرآن کی کھلی آیات اور اس کے م بنائیں۔ تواتر سے جو عقیدہ مسلمانوں کے در سے چند مٹھی بھر افراد نبرد آزما ہوں اور مسل صدیق اکبر کا زمانہ نہیں ہے۔ ورنہ غلام احمد م طرح مسلمانوں کے ملک میں دندناتے نہ پھر

پاکستان کے قیام تک میں ان ق نے باؤنڈری کمیشن میں بھی پاکستان کے سا پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گیا اس کے بعد مسلسل یہ لوگ پاکست مسلمانوں کو مرتد بناتے رہے۔ بیرون ممالک غلط پروپیگنڈہ کر کے افریقی اور دیگر ممالک م

مرزا بشیر الدین محمود نے یہ وصی جائے اور میری سڑی ہوئی لاش کو پاکستان آ جائے۔ جو کردار مشرق وسطیٰ میں یہودی اد لاہوری ادا کر رہے ہیں۔ جو بزعم خود احمدی ک سواد اعظم اہل سنت کے علماء، صو

صفحہ ٢٩٥

کے نوجوان طلباء میدان میں آگئے۔ ربوہ کے گردونواح میں مسلمان بستیاں پہلے بھڑک اٹھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جوابی کارروائی شروع ہو گئی۔ پورے علاقہ میں تحریک کی صورت پیدا ہو گئی۔ رفتہ رفتہ اس آگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آگ معمولی آگ نہیں تھی۔ عشق مصطفیٰ ﷺ کی آگ تھی۔ یہ پانی سے نہیں بجھائی جاتی یہ کچھ اور ہی تلاش کرتی ہے۔ آج بھی اس پاکستان میں سواد اعظم مقام مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ اور ناموس رسالت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہے۔ باوجود تمام برائیوں اور گناہوں کے مسلمان جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے خلاف نہ کوئی بات سن سکتا ہے اور نہ برداشت کر سکتا ہے۔ پھر ایسے لوگوں سے جو منافقت کا لبادہ اوڑھ کر بزعم خود اپنے کو مسلمان کہیں اور حضور ﷺ کے مقام کو نہ پہچانیں۔ قرآن کی کھلی آیات اور اس کے کھلے مطلب کا انکار کر کے پوری امت مسلمہ کو بیوقوف بنائیں۔ تواتر سے جو عقیدہ مسلمانوں کے درمیان چلا آ رہا ہے۔ اس کے خلاف پچھلے نوے سال سے چند مٹھی بھر افراد نبرد آزما ہوں اور مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو چیلنج کریں۔ وہ تو خیر کیجئے صدیق اکبرؓ کا زمانہ نہیں ہے۔ ورنہ غلام احمد مرتد تلوار کی زد سے بچ کر نہیں جا سکتا تھا اور مرتدین اس طرح مسلمانوں کے ملک میں دندناتے نہ پھرتے۔

پاکستان کے قیام تک میں ان قادیانیوں نے روڑے اٹکائے۔ یہاں تک کہ ظفر اللہ نے باؤنڈری کمیشن میں بھی پاکستان کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس طرح گرداسپور قادیان اور کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کے بعد مسلسل یہ لوگ پاکستان کے خلاف سازش میں مبتلا رہے ۔ بھولے بھالے مسلمانوں کو مرتد بناتے رہے۔ بیرون ممالک میں اپنے اڈے قائم کئے اور پاکستان کے سہارے غلط پروپیگنڈہ کر کے افریقی اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانستے رہے۔

مرزا بشیر الدین محمود نے یہ وصیت کی تھی کہ بھارت کو پھر اکھنڈ بنانے کی جدوجہد کی جائے اور مری سڑی ہوئی لاش کو پاکستان بھارت کے ایک ہونے کے بعد قادیان میں دفن کیا جائے۔ جو کردار مشرق وسطیٰ میں یہودی ادا کر رہے ہیں۔ وہی کردار پاکستان میں قادیانی اور یہ لاہوری ادا کر رہے ہیں۔ جو بزعم خود احمدی کہلاتے ہیں۔

سواد اعظم اہل سنت کے علماء، صوفیا اور رہنماء چونکہ پاکستان بنانے میں قائد اعظم محمد علی

٣

صفحہ ٢٩٧

فاسق و فاجر

س...... شریعت کی شخص کو کیا بلایا جائے جو مسلمان کہ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تو رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام چھوڑے وہ دونوں صورتوں میں دور فا اور فاسق وہ شخص ہے جو خلاف شرع کام اور فدیہ نہ دے، یہاں تک کہ اگر کوئی گناہ کبیرہ کے بعد میں کہوں گا کہ ابھی یہ گناہ گار ہے کروں پھر توبہ کروں گا، پھر جب شریعت کا کہ ایک مسلمان جو وقت گناہوں سے بچے گا کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کیا تقریب میں یا مجلس میں تالیاں بجانا جائز ہے اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح کی تقاریب میں شرکت کرنا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

جناح کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔ اس لئے انہیں اس ملک سے قلبی محبت اور لگاؤ تھا اور ہے۔ انہوں نے صرف مقام مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ اور نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لئے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن کیا معلوم تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا جائے گا اور بعد میں مفاد پرست حضرات پاکستان کے نظریہ کے خلاف عمل پیرا ہوں گے۔

کافی دنوں تک پاکستان بننے کے بعد سواد اعظم اہل سنت حکومتی سیاست سے الگ رہے۔ لیکن دین مصطفیٰ ﷺ کی اشاعت اور مقام مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لئے محراب و منبر سے اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے علمائے اہل سنت کے افراد نے جن میں مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، مولانا سید ابوالحسنات قادریؒ، مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی (والد ماجد مولانا شاہ احمد نورانی صدر جمعیت علماء پاکستان) اور مولانا سید سعید احمد کاظمی اور مولانا عبدالستار خان نیازی وغیرہ نے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے خلاف آواز اٹھائی اور حکمرانوں پر یہ واضح کیا کہ ان کو تبلیغ سے روکا جائے۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

نبی کریم ﷺ کے مقام کے تحفظ کو سواد اعظم اہل سنت اپنے ایمان کا جز تصور کرتے ہیں۔ وہ ذکر رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا معمول بنائے ہوئے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے ان کا مشغلہ درود وفاتحہ و میلاد اور منقبت رسول ہے۔ انہیں اعمال کی وجہ سے انہیں مخالفین کے طعنے بھی سننے پڑے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بے پرواہ ہو کر حضور اکرم ﷺ کے ذکر کو اپنے ایمان کی کسوٹی تصور کرتے ہیں۔ سواد اعظم اہل سنت کے علماء اور عوام قرآن کی اس آیت کا ورد ہر فاتحہ درود تلاوت اور ذکر میں کرتے ہیں۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ ”محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اور لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ۔“

ایسے لوگ بھلا کب اور کیسے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ یا اس کے خلاف معرکہ آرائی میں پیچھے رہ سکتے ہیں؟

١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی علماء اور عوام اہل سنت نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ تاریخ کے اوراق ان کے گواہ ہیں۔ بالخصوص جسٹس منیر کی رپورٹ اس کی منہ بولتی

٤

تصویر ہے۔ لاتعداد علماء اہلسنت جیلوں میں گئے عبدالستار نیازی اور مولانا خلیل احمد صاحب قادری ان تمام حالات کے باوجود ان رہبران ملت کے پائے ١٩٥٣ء کی تحریک اس کے بعض نام نہاد ہوئی۔ لیکن یہ بیج ایسا بوگئی تھی۔ جس کا پھل کبھی نہ ک نوجوان طلبہ نے شروع کی۔ اس میں علماء اور عوام ا صرف اسلامیان پاکستان کو بلکہ پوری ملت اسلامیہ آبیاری کی۔ کون اس کے لئے شکریہ کے حقدار ہیں ریکارڈ مل جانے پر انشاء اللہ پیش کی جائے گی۔

یہاں مختصراً اس ضمن میں جو کارروائی ع اور حکومت کا رویہ کیسا رہا؟ اس کی روداد اپنی معل بالخصوص مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالمصطفی تحریک کی کامیابی کے آخری دنوں یعنی ٤ ستمبر ١٩٧٤ میں مقیم تھا۔ اس لئے آخری وقت کی کارروائیوں سے حاصل کی ہے۔

قوم کے نام ١٣؍ جون ١٩٧٤ء کو جناب اس تقریر پر فی الوقت تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ عوام کو م کیا کیا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال انہیں م آگ میں جلنے لگا۔ چاروں صوبوں میں تحریک خ گئی۔ پولیس اور سکیورٹی فورس حرکت میں آگئی۔ ج عوام کے ساتھ سختیوں اور تشدد پر اتر آئی۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب جمہوری طریقے سے طے کیا جائے۔ اس لئے یہ م گا۔ وہ جو فیصلہ کرے گی۔ وہ مجھے اور پوری قوم کو قبو

٨

صفحہ ٢٩٧

تصویر ہے۔ لاتعداد علماء اہلسنت جیلوں میں گئے۔ سینکڑوں افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ مولانا عبدالستار نیازی اور مولانا خلیل احمد صاحب قادری کو مارشل لاء کورٹ سے سزائے موت دی گئی۔ ان تمام حالات کے باوجود ان رہبران ملت کے پاؤں میں لغزش نہ آئی۔

١٩٥٣ء کی تحریک اس کے بعض نام نہاد شرکاء اور تنظیم کی خرابی کی وجہ سے ناکام ضرور ہوئی۔ لیکن یہ بیج ایسا بو گئی تھی۔ جس کا پھل کبھی نہ کبھی آنا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس بیج کی آبیاری نوجوان طلبہ نے شروع کی۔ اس میں علماء اور عوام شامل ہوگئے اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو اس کا پھل نہ صرف اسلامیان پاکستان کو بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو ملا۔ یہ کیوں اور کیسے ملا۔ کھیت کی کس کس نے آبیاری کی۔ کون اس کے لئے شکریہ کے حقدار ہیں۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ جو قومی اسمبلی کا پورا ریکارڈ مل جانے پر انشاء اللہ پیش کی جائے گی۔

یہاں مختصراً اس ضمن میں جو کارروائی علمائے اہل سنت اور دیگر افراد کی طرف سے کی گئی اور حکومت کا رویہ کیسا رہا؟ اس کی روداد اپنی معلومات کی بناء پر جو میں نے اراکین قومی اسمبلی بالخصوص مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری سے حاصل کی ہیں، پیش کرتا ہوں۔ تحریک کی کامیابی کے آخری دنوں یعنی ٤ ستمبر ١٩٧٤ء سے ٨ ستمبر ١٩٧٤ء تک میں بھی اسلام آباد میں مقیم تھا۔ اس لئے آخری وقت کی کارروائیوں سے کچھ نہ کچھ میں نے ذاتی طور پر بھی واقفیت حاصل کی ہے۔

قوم کے نام ١٣؍جون ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ایک لمبی تقریر نشر کی۔ میں اس تقریر پر فی الوقت تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ عوام کو معلوم ہے کہ بھٹو صاحب کیسی تقریر کرتے ہیں اور کیا کیا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال انہیں موقع کی سنگینی اور نزاکت کا احساس ہوا۔ پنجاب آگ میں جلنے لگا۔ چاروں صوبوں میں تحریک زور پکڑتی گئی۔ گرفتاریاں اور مار دھاڑ شروع ہو گئی۔ پولیس اور سکیورٹی فورس حرکت میں آگئی۔ ملک کی پوری انتظامیہ لاء اینڈ آرڈر کے بہانے عوام کے ساتھ سختیوں اور تشدد پر اتر آئی۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب نے یہ وعدہ کیا کہ اسے طے کرنے کا راستہ جمہوری طریقے سے طے کیا جائے۔ اس لئے یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں ٣٠؍جون کو پیش کر دیا جائے گا۔ وہ جو فیصلہ کرے گی۔ وہ مجھے اور پوری قوم کو قابل قبول ہوگا۔

٥

صفحہ ٢٩٨

فاسق و فاجر

الجواب

س....... فاسق و فاجر کس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی رہتا ہے۔ شریعت کے بعض اح چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق شخص ہے جو خلاف شرع کا اور شریعت کے صریح اور قطعی حکم ک بے عمل کہوں گا، کبھی گناہ کروں کروں تو میں غیر عادل ہوں، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے ک کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے۔

تالیاں بجانا، اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا فنکشن میں یا بچوں کو اسکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے یا اس طرح تالیوں کا بجانا مکروہ، گناہ کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج....... تالیاں بجانا کفار اور منافق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

پاکستان کے تمام مسلمان یہ جانتے ہیں کہ قادیانی مرتد اور کافر ہیں۔ نئے فتوے کی ضرورت نہیں۔ علماء کرام اپنی بحثیں تمام کر چکے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ انہیں بحیثیت مسلمان کے پاکستان میں تبلیغ کرتے رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہاں! غیر مسلم کی حیثیت سے ان کے جان و مال کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن منافق کی حیثیت سے رہنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ پاکستان میں عظیم اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ جو حضور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی تصور کرتے ہیں اور ان کے بعد کسی قسم کی نبوت یا وحی کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے کفر اور ارتداد تصور کرتے ہیں۔ اس لئے اس عقیدے کے خلاف جو لوگ بھی ہیں۔ وہ کافر مرتد ہیں۔ وہ اپنے کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

چونکہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ اس لئے اسلام کے بنیادی عقیدہ کے خلاف کسی منافق کو تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لازمی طور پر قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم آئینی حیثیت سے قرار دیا جائے تاکہ پاکستان سازش سے بچ سکے اور مسلمان اپنے دین و ایمان کا تحفظ کر سکیں۔

وزیر اعظم نے جمہوریت کے سہارے اس بنیادی مسئلہ کے لئے بھی مہلت چاہی۔ حالانکہ جمہوری اداروں کے ذریعے اسلامی مملکت میں بنیادی عقائد طے نہیں کئے جاتے۔ اسلام میں جمہوریت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی قائم کردہ حدود کے اندر ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کی ہے۔ وہ اکثریت سے حلال ہو جائے اور حلال حرام ہو جائے۔

اسی طرح اللہ عزوجل کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی آخری نبوت اور رسالت۔ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے متعلق فیصلہ یا قیامت کے قائم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ۔ اس قسم کی بنیادی باتیں مغربی طرز کی اکثریتی جمہوریت کے طور پر نہیں طے ہوتیں۔

بہر حال حکومت نے وقت لیا۔ ادھر تحریک پھر زور شور سے چلنے لگی۔ حضور ﷺ کی خاتمیت پر ایمان رکھنے والے مختلف الخیال لوگ ایک جگہ جمع ہو گئے۔ اس میں اہل سنت کے علاوہ دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ حضرات بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے افراد مثلاً نیشنل عوامی پارٹی، مسلم لیگ، خاکسار، جمعیت علماء پاکستان، جمعیت العلمائے اسلام (مفتی گروپ) جماعت اسلامی وغیرہ نے بھی متحد ہو کر کام شروع کیا اور اس طرح ایک مرکزی مجلس عمل ٦

٩ تحفظ ختم نبوت کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔

مرکزی مجلس عمل کے صدر دیوبند مکتبہ فکر کے بنوری (کراچی) منتخب ہوئے اور اس کے جو مولانا سید محمود احمد رضوی خلف الرشید حضرت م لاہور منتخب ہوئے۔ مجلس عمل میں مختلف جماعتوں

عملی طور پر اس مجلس میں جن لوگوں جماعت مجلس عمل میں شریک نہیں ہوئیں۔ البتہ صاحبزادہ احمد رضا قصوری ایم این اے مجلس عمل رہے اور قومی اسمبلی میں ختم نبوت کا نعرہ بلند کیا اور اس کے علاوہ کچھ خالص سرکاری کا کے سربراہ بزعم خود صاحبزادہ سید فیض الحسن صا معروف خوشامدی مولوی ان تمام کا ذکر فضول حضور ﷺ سے نہ جانے انہیں کتنا لگاؤ ہے اور مو یہ لوگ کتنا قریب ہیں۔ اس کا فیصلہ عوام خود کر کے خلاف گول مول بیانات دیئے لیکن کھل کر کبھی سا

مرکزی مجلس عمل نے اپنا کام تیزی ہوا۔ مساجد اور منبروں سے حضور ﷺ کی منقبت گئی۔ جلوس نکالے گئے۔ مجلس عمل نے چند صا

دیئے تمام جماعت کے لوگوں نے لیکن سواد اعظم اہل سنت نے جتنا اسے حق تھا ہ و تحریر کے ذریعے مسئلہ کی اہمیت کو واضح کرنے ک

صفحہ ٢٩٩

تحفظ ختم نبوت کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ مرکزی مجلس عمل کے صدر دیوبند مکتبہ فکر کے (شیخ الاسلام) مولانا (سید محمد یوسف) بنوری (کراچی) منتخب ہوئے اور اس کے جنرل سیکرٹری سواد اعظم اہل سنت کے مشہور عالم مولانا سید محمود احمد رضوی خلف الرشید حضرت مولانا سید ابوالبرکات مدظلہ العالی حزب الاحناف لاہور منتخب ہوئے۔ مجلس عمل میں مختلف جماعتوں کو نمائندگی دی گئی۔

عملی طور پر اس مجلس میں جن لوگوں نے حصہ نہیں لیا وہ یہ ہیں۔ تحریک استقلال بحیثیت جماعت مجلس عمل میں شریک نہیں ہوئیں۔ البتہ انفرادی طور پر تحریک استقلال کے ایک رہنماء صاحبزادہ احمد رضا قصوری ایم این اے مجلس عمل کے رہنماؤں کے ساتھ تحریک کی حمایت کرتے رہے اور قومی اسمبلی میں ختم نبوت کا نعرہ بلند کیا اور قادیانیوں کے خلاف تقاریر کیں۔

اس کے علاوہ کچھ خالص سرکاری کاسہ لیس مولوی نام نہاد جمعیت علمائے پاکستان جس کے سربراہ بزعم خود صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب آلو مہار شریف والے ہیں۔ نیز چند مشہور اور معروف خوشامدی مولوی ان تمام کا ذکر فضول ہے۔ یہ لوگ حکومت کے اشارے کے منتظر رہے۔ حضور ﷺ سے نہ جانے انہیں کتنا لگاؤ ہے اور موجودہ حکومت کے افراد بالخصوص بھٹو صاحب سے۔ یہ لوگ کتنا قریب ہیں۔ اس کا فیصلہ عوام خود کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی ان لوگوں نے بھی قادیانیوں کے خلاف گول مول بیانات دیئے لیکن کھل کر کبھی سامنے نہیں آئے۔

مرکزی مجلس عمل نے اپنا کام تیزی سے شروع کیا۔ بالخصوص پنجاب میں بڑا زور شور ہوا۔ مساجد اور منبروں سے حضور ﷺ کی منقبت شروع ہوئی۔ ان کے مقام کی فضیلت بیان کی گئی۔ جلوس نکالے گئے۔ مجلس عمل نے چند صاف اور واضح مطالبات رکھے۔ وہ یہ ہیں:

ویسے تمام جماعت کے لوگوں نے جو اس تحریک میں ساتھ تھے، اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن سواد اعظم اہل سنت نے جتنا اسے حق تھا، وہ ادا کیا۔ علماء اور خطباء پورے ملک میں اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے مسئلہ کی اہمیت کو واضح کرنے لگے۔ سندھ میں مجلس عمل کا صدر جناب صوفی محمد ایاز

٧

صفحہ ٣٠٠

خان صاحب نیازی صدر جمعیت علمائے پاکستان (کراچی ڈویژن) کو بنایا گیا۔ جنہوں نے اس صوبہ کے تمام اضلاع میں مجلس عمل کی بنیاد ڈالی۔ دورے کئے اور مسئلہ سے عوام الناس کو روشناس کرایا اور حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس مسئلہ کو التواء میں نہ ڈالے۔ ادھر پنجاب میں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی اور مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا محمد ذاکر صاحب اور مفتی ظفر علی نعمانی (سینیٹر) دو محاذوں پر لڑ رہے تھے۔ پورے صوبے کا دورہ بھی کر رہے تھے اور اسمبلی کی کارروائیوں میں برابر کے شریک رہے۔

ان حضرات کے ساتھ بطل حریت جانباز ختم نبوت مولانا عبدالستار نیازی جنہیں ١٩٥٣ء کی تحریک میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی بھی شامل ہوئے اور پورے پنجاب میں ان علماء اور انجمن طلباء اسلام کے سپوتوں نے حضورﷺ کے عشق و محبت کا اپنی بساط سے زیادہ حق ادا کیا۔ انجمن طلباء اسلام پنجاب کے صدر اقبال اظہری ، محمد خان لغاری سیکرٹری نشر و اشاعت ، قاری عطاء اللہ نائب ناظم رانا لیاقت ناظم ، لاہور راؤ ارتضیٰ اشرفی ، ناظم اوکاڑہ ، عبدالرحمن مجاہد ، سندھ کے حافظ محمد تقی افضال قریشی ، محمد حنیف طیب ، علماء میں مجاہد اہل سنت صاحبزادہ سید محمود شاہ گجراتی اسیر ہوئے اور ضمانت پر رہائی سے انکار کر دیا۔ سخت اذیتوں میں مبتلا کئے گئے۔ جمعیت علمائے پاکستان پنجاب کے صدر مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا محمد بشیر چشتی خطیب پنڈی گھیپ کو بھی اسیری کا شرف حاصل ہوا۔

ان مشاہیر کے علاوہ سینکڑوں خطباء اور آئمہ قید و بند میں ڈالے گئے۔ باوجود حکومت کے تشدد اور پابندی کے ان علماء نے آواز حق بلند کیا۔ لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگ گئی۔ مساجد میں جلسے سے روک دیا گیا۔ پورے ملک میں دفعہ ١٤٤ کا نفاذ ہو گیا اور اس طرح ذکر مصطفیٰ ﷺ کو پوری شدت سے روکا گیا۔ لاٹھی چارج ہوا۔ آنسو گیس چھوڑی گئی۔ گولیاں چلیں۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں خود ایس پی اور ڈی ایس پی نے گولیاں چلائیں۔ ٤٠ کے قریب افراد نے راہ حق میں جام شہادت نوش کیا۔ یہ تمام کام باہر ہورہے تھے اور اندر حکومت مشورے کر رہی تھی۔ تین روز کے کام میں مسلسل تین مہینہ لگایا گیا۔

اس اثناء میں بھٹو صاحب نے بلوچستان کا دورہ کیا۔ وہاں کے غیور بلوچ اور پٹھانوں نے قادیانیوں کے متعلق اپنے ردعمل کا اظہار کیا تو بھٹو صاحب نے فوری طور پر ایک تاریخ مقرر

٨

صفحہ ٣٠١

کردی۔ وہ غالباً اگست ١٩٧٤ء کی کوئی تاریخ تھی۔ لیکن بعد میں یہ تاریخ بدل دی گئی اور ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء فیصلہ کی آخری تاریخ مقرر کی گئی۔

علماء، طلباء اور عوام نے جو عظیم جدوجہد کی۔ اس کے نتیجہ میں اراکین قومی اسمبلی بھٹو صاحب سمیت اس مسئلہ کو عامۃ المسلمین کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کو تیار ہو گئے۔

اسمبلی کی کارروائی

مسئلہ ٣٠؍ جون ١٩٧٤ء کو دو قراردادوں کی شکل میں اسمبلی میں پیش ہوا۔ ایک قرارداد عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی خاتمیت پر جو یقین نہیں رکھتا اور ان کے بعد کسی دوسرے نبی یا مصلح تصور کرتا ہے۔ ان کی حیثیت کا تعین کیا جائے۔

دوسری قرارداد مولانا شاہ احمد نورانی ممبر قومی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر جمعیت علمائے پاکستان جنرل سیکرٹری متحدہ حزب اختلاف قومی اسمبلی وصدر جمعیت علمائے پاکستان اور صدر ورلڈ اسلامک مشن نے حزب اختلاف کے ٢٢ افراد کے دستخط سے جو بعد میں ٣٧ کی تعداد ہو گئی، پیش کی۔ اس قرارداد پر نیشنل عوامی پارٹی کے افراد نے بھی دستخط کئے۔

قرارداد کا متن

ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کے اس جھوٹے اعلان میں بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں، اسلام کے بڑے احکامات کے خلاف غداری تھیں۔ نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔ نیز ہرگاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کو نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما، کسی صورت میں بھی گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ مکمل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان

صفحہ ٣٠٣

فاسق و فاجر

ایوان میں

س...... فاسق و فاجر کس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہو

ج......... شریعت کی لیکن شریعت کے احکام پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جنہیں چھوڑنے والا دونوں صورتوں میں گناہ گار ہوتا ہے اور فاجر وہ شخص ہے جو علانیہ شرع کی خلاف ورزی کرے اور گناہ کرے۔ جس کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ گناہ کر رہا ہو اور یہ بھی کہہ رہا ہو کہ میں گناہ کر رہا ہوں اور دوسرا یہ کہ کوئی گناہ کرے اور اگر کوئی اس کو منع کرے تو کہے کہ میں تو کروں گا، پس جو شخص علانیہ گناہ کرے وہ فاجر ہے، پس گنہگار کو، جب تک کہ شریعت کے احکام سے بغاوت نہ کرے اسے فاجر نہیں کہہ سکتے۔

فاسق، مسلمان کو وقت گناہوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے اور اگر کوئی غلطی سے یا جان بوجھ کر گناہ کر لے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے ۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س.... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

ج...... تالیاں بجانا جاہلیت کی رسم ہے، تقریبات یا مجالس میں تالیاں بجانا کسی طرح جائز نہیں بلکہ ناجائز ہے۔

اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں، تالیاں بجانا کفار اور منافقین کا طریقہ ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔

س..... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانی اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے۔ جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہئے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔ قرارداد پر مندرجہ ذیل افراد نے دستخط کئے۔

١....... مولانا مفتی محمود ۔٢...... مولانا شاہ احمد نورانی ۔٣...... مولانا سید محمد علی رضوی ۔٤...... چودھری ظہور الٰہی ۔٥...... مولانا عبد المصطفیٰ الازہری ۔٦...... پروفیسر غفور احمد ۔٧...... مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) ۔٨...... سردار شیر باز خان مزاری ۔٩...... مولانا ظفر احمد انصاری ۔١٠...... صاحب زادہ احمد رضا قصوری ۔١١...... مولانا صدر الشہید ۔١٢...... جناب عمرہ خان ۔١٣...... سردار شوکت حیات خان ۔١٤...... راؤ خورشید علی خان ۔١٥...... جناب عبدالحمید جتوئی ۔١٦...... جناب محمود اعظم فاروقی ۔١٧...... مولوی نعمت اللہ ۔١٨...... سردار مولا بخش سومرو ۔١٩...... حاجی علی احمد تالپور۔ ٢٠...... رئیس عطا محمد مری ۔٢١...... مخدوم نور محمد صاحب۔

بعد میں قرارداد پر مندرجہ ذیل افراد نے دستخط کئے:

٢٣...... نوابزادہ میاں محمد ذاکر قریشی ۔٢٤...... جناب کریم بخش اعوان ۔٢٥...... مہر غلام حیدر بھروانہ ۔٢٦...... صاحبزادہ صفی اللہ ۔٢٧...... ملک جہانگیر خان ۔٢٨...... جناب اکبر خان مہمند ۔٢٩...... حاجی صالح خان ۔٣٠...... خواجہ جمال محمد کوریجہ ۔٣١...... جناب غلام حسن خان دھاندلہ ۔٣٢...... صاحبزادہ محمد نذیر سلطان ۔٣٣...... میاں محمد ابراہیم برق ۔٣٤...... صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری ۔٣٥...... جناب عبد السبحان خان ۔٣٦...... میجر جنرل جمالدار ۔٣٧...... جناب عبد المالک خان ۔

قرارداد اسمبلی میں غور کے لئے پیش ہونے کے بعد پوری اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ نیز چند لیڈروں پر مشتمل ایک رہبر کمیٹی بنائی گئی۔ جس میں مولانا شاہ احمد نورانی۔ پروفیسر غفور احمد۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ وغیرہ شامل تھے۔ حکومت کی طرف سے عبدالحفیظ پیرزادہ

١٠

مولانا کوثر نیازی شامل کئے گئے۔

٣٠؍جون ١٩٧٤ء کے بعد کمیٹی کے مسلسل اجلاس شروع ہوئے۔ ان اجلاسوں میں قادیانی مسئلہ کا جائزہ لینے کے لئے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اسی اثناء میں قادیانی ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ کی طرف سے قومی اسمبلی میں اپنا اپنا محضر نامہ پیش کیا گیا۔ جس میں مرزا ناصر احمد ربوہ گروپ کی طرف سے اور لاہوری گروپ کی طرف سے صدر الدین نے اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنے عقائد کے دفاع کے لئے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کی اجازت مانگی۔ کمیٹی نے خوشی سے اجازت دے دی۔ مرزا ناصر احمد اپنے گیارہ افراد کے ہمراہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ خدا کی قدرت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ کہ مرزا نے اپنے لیے جس شخص کو منتخب کیا وہ خط پڑھنا شروع کیا۔ اسمبلی کے اندر اس بند ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں مرزا ناصر پر پسینہ اس طرح بہہ رہا تھا جیسے پرندے کا پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا، سیدھا اس محضر نامہ پر گرا۔ مرزا ناصر نے فوراً اسے رومال سے صاف کیا (in turb سارے اراکین اسمبلی یہ تماشا دیکھ رہے تھے کہ اوپر سے اس طریقہ سے گرے۔

بہر حال محضر نامہ پڑھا گیا۔ اس کمیٹی کے ممبران کی طرف سے مرزا ناصر سے سوالات کئے گئے۔ نیز علمائے ملت کی طرف سے محضر نامہ کا جواب دیا گیا۔ بعد میں لاہوری گروپ کا صدر الدین پیش ہوا اس نے اپنی طرف سے الگ جواب دیا۔

سوالوں کی تعداد طویل تھی۔ تقریباً ٢٧ سو کے قریب سوالات کئے گئے۔ تمام سوالات اٹارنی جنرل سید محمد علی رضوی اور مولانا ذاکر صاحب کی طرف سے کئے گئے۔ اراکین اسمبلی کی طرف سے جو سوالات سیکرٹری کو دیئے گئے اور ان سوالات کو پوچھنے کی ذمہ داری بھی یحییٰ بختیار اور سید محمد علی رضوی کے سپرد کی۔

مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر سے جرح ہوتی رہی۔ مرزا ناصر ہر روز چھ گھنٹے تک کٹہرے میں کھڑا رہا۔ مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتا تھا۔ حتی کہ ایک دن مرزا ناصر نے کہا کہ میں تو تھک گیا ہوں۔ ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں پچاس سے زیادہ پنکھے چل رہے تھے اس کے باوجود مرزا ناصر کو پسینہ آ رہا تھا۔

اسے یہ گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں اسے کھڑا کیا جائے گا۔

کی کارروائی چونکہ ابھی پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس لئے...

١١

صفحہ ٣٠٣

،مولانا کوثر نیازی شامل کئے گئے۔

٣٠/ جون ١٩٧٤ء کے بعد کمیٹی کے مسلسل اجلاس شروع ہوئے اور قراردادوں پر غور کرنے کے لئے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اسی اثناء میں قادیانی ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ کے سربراہوں کا ایک خط کمیٹی میں پیش کیا گیا۔ جس میں مرزا ناصر احمد ربوہ گروپ نے اور لاہوری گروپ کے سربراہ صدر الدین نے اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنے عقائد کی وضاحت کے لئے حاضری کی اجازت مانگی۔ کمیٹی نے خوشی سے اجازت دے دی۔ مرزا ناصر احمد ایک محضر نامہ کے ساتھ جو ١٨٠ صفحات پر مشتمل تھا، حاضر ہوا۔ خدا کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کا معجزہ دیکھئے، جس وقت مرزا نے محضر نامہ پڑھنا شروع کیا۔ اسمبلی کے اندر اس بند ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں اوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کا پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا، سیدھا اس محضر نامہ پر گرا جس پر وہ چونک پڑا اور کہا (I am in turb) سارے اراکین اسمبلی یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی چیز اوپر سے اس طریقہ سے گرے۔

بہر حال محضر نامہ پڑھا گیا۔ اس کمیٹی کے علماء اور دیگر افراد نے سوال نامہ مرتب کیا اور نیز علمائے ملت کی طرف سے محضر نامہ کا جواب دیا گیا۔ مولوی غلام غوث ہزاروی نے بھی محضر نامہ کا اپنی طرف سے الگ جواب دیا۔

سوالوں کی تعداد طویل تھی۔ تقریباً ٧٢ سوالات صرف علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری مولانا سید محمد علی رضوی اور مولانا ذاکر صاحب کی طرف سے پیش کئے گئے۔ سوالات لکھ کر اسمبلی کے سیکرٹری کو دیئے گئے اور ان سوالات کو پوچھنے کی ذمہ داری اٹارنی جنرل پاکستان جناب یحییٰ بختیار کے سپرد کی۔

مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر سے جرح ہوتی رہی اور سوال اور جوابی سوال کیا جاتا رہا۔ مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتا اور آخر تنگ ہو کر کہہ دیتا کہ بس اب میں تھک گیا ہوں۔ ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں پچاس سے زائد گلاس پانی کے مرزا ناصر روزانہ پیتا تھا۔ اسے یہ گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھا کر جرح کی جائے گی۔ سوالات اور جرح کی کارروائی چونکہ ابھی پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس لئے اس کی تفصیلات بیان نہیں کی جاسکتی۔ ہاں

11

صفحہ ٣٠٤

فاسق و فاجر

شخص کو کہا جائے جو مسلمان نہ ہو۔ شریعت کی چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اور فاسق و فاجر شخص پر اور مدینہ کے بے شرم گستاخوں کی تائیدیں...... کے بعد میں کہوں گا، اگلی بات یہ کہہ دوں کروں پھر توقف کروں گا، جب تک شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجائی جائیں اس کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناجائز گانا بجانا اور تالیاں بجانے کا کیا حکم ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

اتنی بات ضرور ہے کہ وہ اپنا عقیدہ خود اراکین اسمبلی کے سامنے بیان کر گیا اور اس بات کا اعلان کر گیا کہ حضور ﷺ کے بعد مسیح موعود اور امتی نبی ہے۔ جن اراکین اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق حقائق نہیں معلوم تھے۔ انہیں بھی معلوم ہو گئے اور انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ دراصل یہ لوگ کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

جس طرح ان قادیانیوں نے قرآن وحدیث کی توضیح اور من مانی تشریح کی ہے۔ اس طرح مرزا ناصر، مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال اور تحریرات کی توضیح بیان کر رہا تھا۔ بہر حال اللہ کا شکر ہے کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔ بلکہ اور زیادہ ذلیل ورسوا ہوا۔

نئی تہذیب اور تعلیم کے لوگ جو مذہبی مسائل کو دقیانوسی شمار کرتے ہیں اور اس مسئلہ کو خالص فرقہ وارانہ، شیعہ سنی یا وہابی مسئلہ سمجھتے تھے، وہ بھی اس بات کے قائل ہو گئے کہ یہ لوگ ایک الگ مذہب کے پرچارک ہیں اور یہ اسلام کے خلاف ایک زبردست سازش ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد المصطفیٰ الازہری، مولانا سید محمد علی رضوی اور اس ضعیفی اور علالت میں مولانا ذاکر صاحب نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے اس تین ماہ کے دوران تقریباً پنجاب کے علاقہ میں چالیس ہزار میل کا دورہ کیا۔ رات رات بھر دورے کرتے رہے۔ تقریریں کیں۔ مسلمانان اہل سنت کو حقائق سے روشناس کرایا اور پھر اسمبلی کی کمیٹی اور رہبر کمیٹی میں فرائض انجام دیئے۔ سینکڑوں کتابوں کا مطالعہ کیا۔ ان کے محضر نامہ کے جواب کی تیاری کی۔ علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا محمد علی رضوی اور مولانا ذاکر نے سوالات اور جوابی سوالات تیار کئے ۔ مسلسل مہینوں اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد میں مقیم رہے۔

حکومت اور بالخصوص جناب ذوالفقار علی بھٹو کے رویہ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس پوری تحریک کے دوران ان کی جماعت کے لوگوں نے کھل کر عوام کے سامنے نہ کوئی تقریر کی اور نہ عوام کے اس مطالبہ کی حمایت کی۔ ہاں کمیٹی اور رہبر کمیٹی کو طول دینے کا فریضہ انجام دیا۔ پورے ملک میں زور وشور سے تحریک چل رہی تھی اور حکومت طاقت استعمال کر رہی تھی۔ جگہ جگہ ظلم و تشدد کی پرانی داستان دہرائی گئی۔ بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ جلسہ جلوس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حتیٰ کہ مساجد میں بھی لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی۔

١٢

٥ پنجاب تو پنجاب، سندھ میں بھی ہم شہروں اور قصبات میں گیا۔ جلسوں سے خطاب کیا۔ لیکن یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ٹنڈو آدم کی مسجد جلسہ تھا۔ جس میں مجھے اور مولانا محمد حسن حقانی ا ہم لوگ بذریعہ کار ٹنڈو آدم پہنچے تو معلوم ہوا کہ بغیر لاؤڈ سپیکر جلسہ چل رہا ہے۔ پورے شہر میں مساجد کے لاؤڈ گردی کی اس سے بڑی مثال اور کیا مل سکتی ہے آباد میں میری موجودگی میں گورنمنٹ ہاسٹل پ گئے۔ لاٹھی چارج ہوا۔ یہاں تک کہ ہاسٹل کے شیل پھینکے گئے۔ یہ واقعہ جمعہ ١٧ جون ١٩٧٤ء کو ہاسٹل سے باہر نہ نکل سکے۔ اس لئے کہ شیل کے اوکاڑہ، ساہیوال، جہلم، گجرات، ہ کارناموں کا بدترین ریکارڈ ہے۔ سمجھ میں یہ بات نقصان پہنچ رہا تھا۔ ادھر تو تحریر و تقریر پر پابندی قادیانیوں کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہیں اپنے ا سائیکلو اسٹائل مضامین خطوط کے ذریعے عام اشتہار کتابچہ چھاپے تو اس پر پابندی تھی۔ اسلام اس تحریک کی ساری کامیابی کا ام اعظم اہل سنت و جماعت کے عقیدہ رکھنے وا سے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، قابل م مبارکباد ہیں۔ علماء اور طلباء قابل مبارکباد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ قابل مبارکباد ہیں پ اور پھر وہ لوگ جو قومی اسمبلی کے اراکین ہیں کر حصہ لیا اور اپنا دن رات ایک کر دیا۔

صفحہ ٣٠٥

پنجاب تو پنجاب، سندھ میں بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا۔ میں خود سندھ میں متعدد شہروں اور قصبات میں گیا۔ جلسوں سے خطاب کیا۔ بعض جگہوں پر لاؤڈ سپیکر زبردستی استعمال کیا۔ لیکن یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ٹنڈوآدم کی مسجد میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت صوبہ سندھ کا ایک جلسہ تھا۔ جس میں مجھے اور مولانا محمد حسن حقانی ایم پی اے کراچی کو خطاب کرنا تھا۔ رات کو جب ہم لوگ بذریعہ کار ٹنڈوآدم پہنچے تو معلوم ہوا کہ جلسہ فلاں مسجد میں ہے۔ وہاں جاکر دیکھا کہ بغیر لاؤڈ سپیکر جلسہ چل رہا ہے۔

پورے شہر میں مساجد کے لوگ ڈر کے مارے جلسہ کرانے سے گھبرا رہے تھے۔ دہشت گردی کی اس سے بڑی مثال اور کیا مل سکتی ہے۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں گرفتار ہوئے۔ اسلام آباد میں میری موجودگی میں گورنمنٹ ہاسٹل کے سامنے ایک جلوس پر ٹیر گیس کے شیل پھینکے گئے۔ لاٹھی چارج ہوا۔ یہاں تک کہ ہوسٹل کے اندر جہاں اراکین قومی اسمبلی ٹھہرے ہوئے تھے۔ شیل پھینکے گئے۔ یہ واقعہ جمعہ ٧ جون ١٩٧٤ء کو دو پہر کو ہوا اور رات بھر بلکہ دوسرے دن تک لوگ ہوسٹل سے باہر نہ نکل سکے۔ اس لئے کہ شیل کے دھوئیں کی وجہ سے آنکھیں کھولنی مشکل ہوگئی تھیں۔

اوکاڑہ، ساہیوال، جہلم، گجرات، سرگودھا، لائل پور میں جو کچھ ہوا۔ وہ حکومت کے کارناموں کا بدترین ریکارڈ ہے۔ سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر ختم نبوت کے عقیدہ کی تبلیغ سے کیا نقصان پہنچ رہا تھا۔ ادھر تو تحریر و تقریر پر پابندی عائد کی گئی۔ اخباروں پر سنسر لگا دیا گیا۔ ادھر قادیانیوں کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہیں اپنے اخباروں اور رسالوں میں لکھ دیں۔ جس طرح چاہیں سائیکلو اسٹائل مضامین خطوط کے ذریعے عام مسلمانوں کو بھیجیں اور گمراہ کریں۔ سواد اعظم کوئی اشتہار کتابچہ چھاپے تو اس پر پابندی تھی۔ اسلام دوستی اور حضورﷺ سے وابستگی کا مظاہرہ۔

اس تحریک کی ساری کامیابی کا اعزاز صرف اور صرف عامتہ المسلمین بالخصوص سواد اعظم اہل سنت و جماعت کے عقیدہ رکھنے والوں کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، قابل مبارکباد ہیں۔ ١٩٥٣ء کے شہداء اور اسیران قابل مبارکباد ہیں۔ علماء اور طلباء قابل مبارکباد ہیں۔ وہ شہداء جن کا خون اس تحریک میں بہا مبارکباد کے مستحق ہیں۔ قابل مبارکباد ہیں لوگ جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور پھر وہ لوگ جو قومی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ بالخصوص وہ علماء جنہوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنا دن رات ایک کر دیا۔

١٣

صفحہ ٣٠٦

حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مجبوراً گھٹنے ٹیک دے۔ بالخصوص پنجاب کے عوام نے بھٹو صاحب کے ہوش اڑا دیئے اور جہاں تک معلوم ہوا ہے یہ بھی ہوا کہ پولیس نے اس مسئلہ میں مدد سے معذوری ظاہر کردی۔

بھٹو صاحب خود کہاں تک اس مسئلہ سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ ان کی تقریروں سے اور بالخصوص آخری تقریر سے جو اس مسئلہ پر انہوں نے اسمبلی میں کی، ہوتا ہے۔

آخری تقریر میں انہوں نے اس میں شک نہیں کہ اسے مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔ پرانا مسئلہ بتایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ حضور ﷺ کے مقام کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ ادھر وہ یہ مسئلہ حل کر رہے ہیں دوسری طرف سیکولرازم اور سوشل ازم کا نام لے رہے ہیں، معلوم نہیں بیک وقت بھٹو صاحب کس کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ سوشلزم سوشلزم زبان پر اب تک جاری ہے۔ لیکن اتنی ہمت نہیں ہوسکی کہ اس لفظ کو آئین میں جگہ دلا سکیں۔ برخلاف اس کے مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء کی جدوجہد سے اسلام کو سرکاری مذہب ماننا پڑا۔ مسلمان کی تعریف آئین میں شامل کرنا پڑی اور اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا پڑا۔

بھٹو صاحب آخر وقت تک راضی نہیں ہو رہے تھے۔ کبھی اعتراض یہ تھا کہ لفظ قادیانی احمدی نہیں آنا چاہئے۔ کبھی غلام احمد نام پر اعتراض۔ غرض یہ کہ ٥؍ستمبر ١٩٧٤ء سے رہبر کمیٹی کے افراد مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، مولا بخش سومرو صاحب، جناب فاروق صاحب اور چودھری ظہور الٰہی صاحب کی میٹنگ بھٹو صاحب کے یہاں شروع ہوئی۔ ٥ کو دو میٹنگز ہوئیں مگر مسئلہ طے نہ ہوا۔ ٦؍ستمبر کو دو میٹنگز ہوئیں۔

ادھر مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا راولپنڈی میں مسلسل اجلاس ہو رہا تھا۔ سارے لوگ فیصلے کے منتظر تھے۔ پوری قوم لڑنے مرنے کو تیار تھی۔ پورے ملک کے کونے کونے میں فوج ١٢

تعینات کر دی گئی۔ آخر کار ٦؍ستمبر کا دن گزر کر گاہ راولپنڈی میں یہ مسئلہ طے ہوا اور ٧؍ستمبر ٤ فوری ترمیم منظور کی گئی اور اس روز ٧ بجے شب بھٹو صاحب نے کسے مانا؟ کیا کیا سے تحریر کیا جائے گا۔ جب اسمبلی کی تمام کار ابھی تمام باتیں صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں۔

اب میں آخر میں ان ترامیم کی طر خصوصی کمیٹی نے قراردادوں پر غور کرنے نیز مندرجہ ذیل رپورٹ پیش کی:

قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے ا جائے۔ (دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے بالا سفارشات کے لئے خصوصی کمیٹی کی طرف

جائے۔

تشریح

کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف سزا ہوگا۔

١٩٧٤ء میں منتخب قانون اور ضابطے کی ترم

صفحہ ٣٠٧

تعینات کر دی گئی۔ آخر کار ٦ ستمبر کا دن گزر کر شب میں تقریباً ١٢ بجے بھٹو صاحب کی سرکاری قیام گاہ راولپنڈی میں یہ مسئلہ طے ہوا اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو ٢ بجے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئین میں فوری ترمیم منظور کی گئی اور اس روز ٧ بجے شب میں سینیٹ نے اس کی توثیق کر دی۔

بھٹو صاحب نے کسے مانا؟ کیا کیا باتیں ہوئیں؟ یہ انشاء اللہ بعد میں کسی وقت تفصیل سے تحریر کیا جائے گا۔ جب اسمبلی کی تمام کارروائی کو بھی شائع کرنے کی اجازت ممکن ہو جائے۔ ابھی تمام باتیں صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں۔

اب میں آخر میں ان ترامیم کی طرف آتا ہوں جو آئین میں کی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قراردادوں پر غور کرنے نیز پوری کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسمبلی کو متفقہ طور پر مندرجہ ذیل رپورٹ پیش کی:

الف...... پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔ (اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔ (دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعہ منکرین ختم نبوت کی تعریف کی جائے۔ مذکورہ بالا سفارشات کے لئے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودہ قانون منسلک ہے۔

ب...... کہ موجودہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥۔الف میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے۔

تشریح

کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ کی تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔

ج...... کہ متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں متعلقہ قانون اور ضابطے کی ترمیمات کی جائیں۔

١٥

صفحہ ٣٠٨

....... کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں کی جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

اس رپورٹ کے بعد قومی اسمبلی ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو ساڑھے ٤ بجے مندرجہ ذیل مسودہ قانون پیش کیا گیا اور متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

(١)......مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(٢)......آئین کی دفعہ ١٠٦ میں ترمیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ ”اشخاص“ کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) درج کئے جائیں۔ (آئین کی اس دفعہ میں دراصل غیر مسلم اقلیتوں کو صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی مختص کرنے کا ذکر ہے۔ اس میں عیسائی، پارسی، ہندو، بدھ اور اچھوت کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے لئے مختلف صوبوں میں نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔ اچھوتوں سے پہلے قادیانیوں کا ذکر کیا گیا ہے)

(٣)......آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم

آئین کی دفعہ ٢٦٠ شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی۔ یعنی (٣) جو شخص محمد ﷺ کے جو آخری نبی ہیں، خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا محمد ﷺ کے بعد کسی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے۔ وہ آئین یا قانون کی اغراض میں مسلمان نہیں ہے۔

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ کل ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے ۔ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو محمد ﷺ کے خاتم النبیین پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا جو کسی ایسے مدعی نبوت کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے۔ اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

١٦

PDF 310

خاتم النبیین لا نبی بعدی

عیسیٰ آنحضرت ﷺ کے امتی ہو کر آئیں گے

عقیدہ

ظہور مہدی

احادیث کی روشنی میں

حضرت مولانا ڈاکٹر نظام الدین شامزئی

صفحہ ٣١١

فتاویٰ

س....... فاسق و فاجر شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہ رہتا ہے۔ شریعت کے بعض اح چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق شخص پر جو احکام شریعت کے اور جو نیک ہے، پرہیز گار ہے، گناہ کر کے کے بعد کہہ دوں کہ میں نے یہ گناہ کیا تو کی کروں پھر توبہ کر لوں، کیا یہ گناہ ہے، شرعاً کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ ک ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے ۔

تقریبات میں تالیاں بجانا، سلام کرنا کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا، سلام کرنا کیسا ہے؟

تقریب میں یا مجلس میں تالیاں بجانا درست ہ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناچ گانا یا میوزک سننا، کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟

ج....... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حرفِ چند

پیشِ نظر کتاب والد صاحب حضرت مفتی ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ نے اب سے کوئی چھبیس سال قبل ١٤٠٢ھ میں تحریر فرمائی تھیں۔ کتاب لکھنے کا باعث کیا تھا؟ حضرت والد صاحبؒ نے اس بارے میں تفصیل سے کتاب کی ابتداء میں تحریر فرما دیا ہے۔ اس کتاب کو عوام اور علماء دونوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ موضوع اور مواد کے لحاظ سے (اس موضوع پر) یہ اردو کی اولین کتابوں میں سے ہے۔ چنانچہ اس کتاب کے متعلق جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں:

"غالباً ان کی سب سے پہلی کتاب مہدیِ منتظر کے بارے میں تھی۔ جس میں انہوں نے ان تمام احادیث کی تحقیق کی تھی۔ جن میں امام مہدی کی تشریف آوری کی خبر دی گئی ہے۔ اس موضوع پر اب تک جتنی کتابیں یا مقالے میری نظر سے گزرے ہیں۔ ان کی یہ تالیف ان سب سے بڑھ کر محققانہ اور مفصل تھی اور میں نے اس سے بڑا استفادہ کیا۔"

اس کتاب کے بیسیوں ایڈیشن آپؒ کی زندگی میں شائع ہوئے۔ آپؒ کی شہادت کے بعد یہ کتاب از سر نو کمپیوٹر کتابت کرا کے شائع کی جارہی ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ مفتی صاحبؒ کی تمام علمی اور قلمی کاوشوں کو بتدریج منظر عام پر لاتے رہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان کوششوں کو قبول فرمائیں اور دین کو غلبہ اور سر بلندی عطاء فرمائیں، آمین بحرمۃ سید المرسلین!

تقی الدین شامزئی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

گزارشات

ظہور مہدی سے ہے۔ اس مضمون میں، میں نے کوشش کی ہے کہ صحیح احادیث، محدثین اور متکلمین کے اقوال کی روشنی میں امت کا چودہ سو سالہ پرانا عقیدہ جس کا تعلق امام مہدی کے ظہور سے ہے، پیش کروں اور اس مسئلے کے متعلق حتی الامکان جتنا بھی منتشر مواد ہے۔ اس کو جمع کر دوں۔ اپنی اس کوشش میں میں کہاں تک کامیاب رہا اس کا فیصلہ تو پڑھنے والے کریں گے۔ میں نے تو اپنے طور پر پوری کوشش کی ہے کہ اس مسئلے کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہ رہے۔

٢

کاشمیری صاحب کا ایک مضمون آیا تھا۔ جس کے متعدد سوالات آئے۔ جن کے مختصر جوابات دینے احادیث کی روشنی میں شروع کی کہ اس مسئلے کی پور جن کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے، مل گئیں۔ جن کو کیا۔ کچھ کام کرنے کے بعد مضمون کی ایک قسط تو لیکن شائع نہ ہوسکی۔ اس کے بعد کچھ مہربان دوستو کی وجہ سے مضمون کی تکمیل کا ارادہ بھی ملتوی کر دیا کی تکمیل کی توفیق بخشی۔ والحمد لله على ذالك

امید ہے کہ آپ اس قسم کی غلطیوں سے درگزر فر اردو نہیں ہے۔

الفاظ کے پیچوں م
غواص کو مطلب ہے ص

الامام المہدیؒ

حضرت امام مہدی سے متعلق احاد ضروری معلوم ہوتا ہے۔ شاہ رفیع الدین صاحبؒ

حضرت امام مہدی کا نام اور نسب اور ال

حضرت امام مہدی سید اور اولاد فاطمہ دراز، بدن چست، رنگ کھلا ہوا اور چہرہ پیغمبر خدا اخلاق پیغمبر خدا ﷺ سے پوری مشابہت رکھتے ہو والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لک ران پر ہاتھ ماریں گے۔

؎١ یہ مضمون بلفظہ مولانا محمد بدر عالم کی کتاب

صفحہ ٣١١

کاشمیری صاحب کا ایک مضمون آیا تھا۔ جس کے متعلق اس وقت جامعہ فاروقیہ کے دارالافتاء میں متعدد سوالات آئے۔ جن کے مختصر جوابات دیئے گئے۔ لیکن اپنے طور پر اس مسئلے کی تحقیق صحیح احادیث کی روشنی میں شروع کی کہ اس مسئلے کی پوری حقیقت واضح ہوجائے۔ چنانچہ متعدد احادیث جن کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے، مل گئیں۔ جن کو میں نے ایک مضمون کی شکل میں جمع کرنا شروع کیا۔ کچھ کام کرنے کے بعد مضمون کی ایک قسط قومی ڈائجسٹ ہی میں اشاعت کے لئے بھیجی گئی۔ لیکن شائع نہ ہوسکی۔ اس کے بعد کچھ مہربان دوستوں کی طرف سے ایسے واقعات پیش آئے کہ جن کی وجہ سے مضمون کی تکمیل کا ارادہ بھی ملتوی کر دیا گیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس کی تکمیل کی توفیق بخشی۔ والحمدللہ علی ذالك!

امید ہے کہ آپ اس قسم کی غلطیوں سے درگزر اور صرف نظر کریں گے۔ کیونکہ میری مادری زبان اردو نہیں ہے۔

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

والسلام! ...... نظام الدین شامزئی

الامام المہدی

حضرت امام مہدی سے متعلق احادیث کا مطالعہ فرمانے سے قبل ان کا مختصر تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:

حضرت امام مہدی کا نام اور نسب اور ان کا حلیہ شریف

حضرت امام مہدی سید اور اولاد فاطمہ زہراؓ میں سے ہیں اور آپ کا قد و قامت قدرے دراز، بدن چست، رنگ کھلا ہوا اور چہرہ پیغمبر خدا ﷺ کے چہرے سے مشابہ ہوگا۔ نیز آپ کے اخلاق پیغمبر خدا ﷺ سے پوری مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف محمد والد کا نام عبداللہ، والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ جس کی وجہ سے تنگ دل ہو کر کبھی کبھی ران پر ہاتھ ماریں گے۔

١؂ یہ مضمون بلفظہ مولانا محمد بدر عالمؒ کی کتاب ترجمان السنۃ جلد نمبر ٢ ص ٣٧٢ تا ٣٧٦ سے ماخوذ ہے۔

٣

صفحہ ٣١٢

آپ کا علم لدنی (خداداد ) ہوگا۔ سید برزنجی اپنے رسالہ الاشاعت میں تحریر کرتے ہیں کہ تلاش کے باوجود مجھ کو آپ کی والدہ کا نام روایات میں سے کہیں نہیں ملا۔ آپ کے ظہور سے قبل سفیانی کا خروج شاہ روم اور مسلمانوں میں جنگ اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا !

آپ کے ظہور سے قبل ملک عرب اور شام میں ابوسفیان کی اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو سادات کو قتل کرے گا۔ اس کا حکم ملک شام و مصر کے اطراف میں چلے گا۔ اس درمیان میں بادشاہ روم کی عیسائیت کے ایک فرقہ سے جنگ اور دوسرے فرقہ سے صلح ہوگی۔ لڑنے والا فریق قسطنطنیہ پر قبضہ کر لے گا۔ بادشاہ روم دارالخلافہ کو چھوڑ کر ملک شام میں پہنچ جائے گا اور عیسائیوں کے دوسرے فریق کی اعانت سے اسلامی فوج ایک خونریز جنگ کے بعد فریق مخالف پر فتح پائے گی۔

دشمن کی شکست کے بعد موافق فریق میں سے ایک شخص نعرہ لگائے گا کہ صلیب غالب ہوگئی اور اس کے نام سے یہ فتح ہوئی۔ یہ سن کر اسلامی لشکر میں ایک شخص اس سے مار پیٹ کرے گا اور کہے گا کہ نہیں، دین اسلام غالب ہوا اور اس کی وجہ سے یہ فتح نصیب ہوئی۔ یہ دونوں اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکاریں گے۔ جس کی وجہ سے فوج میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

بادشاہ اسلام شہید ہو جائے گا۔ عیسائی ملک شام پر قبضہ کرلیں گے اور آپس میں ان دونوں عیسائی قوموں کی صلح ہو جائے گی۔ باقی مسلمان مدینہ منورہ چلے جائیں گے۔ عیسائیوں کی حکومت خیبر ( جو مدینہ منورہ سے قریب ) تک پھیل جائے گی۔ اس وقت مسلمان اس فکر میں ہوں گے کہ امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے تا کہ ان کے ذریعے سے یہ مصیبتیں دور ہوں اور دشمن کے پنجہ سے نجات مل جائے۔

تذکرہ میں اس کا نام عروہ تحریر فرمایا ہے۔ سید برزنجی نے اپنے رسالہ الاشاعت میں اس کا حلیہ اور اس کے دور کی پوری تاریخ تحریر فرمائی ہے۔ مگر اس کا اکثر حصہ موقوف روایات سے ماخوذ ہے۔ اس لئے شاہ صاحب کے رسالہ سے اس کا مختصر تذکرہ نقل کیا ہے۔ امام قرطبی نے بھی امام مہدی کے دور کی پوری تاریخ نقل فرمائی ہے۔ تذکرہ قرطبی گو اس وقت دستیاب نہیں، مگر اسکا مختصر مؤلفہ امام شعرانی عام طور پر ملتا ہے۔ قابل ملاحظہ ہے۔ سید برزنجی کے رسالہ میں امام مہدی کے زمانہ کی مفصل اور مرتب تاریخ کے علاوہ اس باب کی مختصر حدیثوں میں جمع و تطبیق کی پوری کوشش کی گئی ہیں۔ لیکن چونکہ اس باب کی اکثر روایات ضعیف تھیں۔ اس لئے ہم نے ان کی تطبیق نقل کرنے کی چنداں اہمیت محسوس نہیں کی۔

٤

صفحہ ٣١٣

امام مہدی کی تلاش اور ان سے بیعت کرنا

امام مہدی اس وقت مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوں گے۔ مگر اس ڈر سے کہ مبادا لوگ مجھ جیسے ضعیف کو اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کی تکلیف دیں، مکہ معظمہ چلے جائیں گے۔ اس زمانہ کے اولیاء کرام اور ابدال عظام آپ کی تلاش کریں گے۔ بعض آدمی مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے کریں گے۔ حضرت مہدی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ کو مجبور کر کے آپ سے بیعت کر لے گی۔

اس واقعہ کی علامت یہ ہے کہ اس سے قبل گزشتہ (پہلی تاریخ) ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ جائے گا اور بیعت کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی: ”هذا خليفة الله المهدى فاستمعوا له واطيعوا“ اس آواز کو اس جگہ کے تمام عام و خاص سن لیں گے۔ بیعت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال ہوگی۔ خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی۔ تمام عراق اور یمن کے اولیاء کرام و ابدال عظام آپ کی محبت میں اور ملک عرب کے تمام لوگ آپ کے لشکر میں داخل ہو جائیں گے اور خزانہ کعبہ کو جو کعبہ میں مدفون یا (جس کو رتاج الکعبہ) کہتے ہیں، نکال کر مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں گے۔

خراسانی سردار کا امام مہدی کی اعانت کے لئے فوج روانہ کرنا

اور سفیانی لشکر کو ہلاک و تباہ کرنا!

جب یہ خبر اسلامی دنیا میں پھیلے گی تو خراسان کا ایک شخص ایک بہت بڑی فوج لے کر آپ کی مدد کے لئے روانہ ہوگا۔ جو راستہ میں بہت سے عیسائیوں اور بددینوں کا صفایا کر دے گا۔ اس لشکر کے مقدمۃ الجیش کی کمان منصور نامی ایک شخص کے ہاتھ میں ہوگی۔ وہ سفیانی (جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے) اہل بیت کا دشمن ہوگا۔ اس کی ننھیال قوم بنو کلب ہوگی۔ حضرت امام مہدی کے مقابلے کے واسطے اپنی فوج بھیجے گا۔

جب یہ فوج مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان میں پہاڑ کے دامن میں مقیم ہوگی۔ تو اسی جگہ اس فوج کے نیک و بد سب کے سب دھنس جائیں گے اور قیامت کے دن ہر ایک کا حشر اس

٥

صفحہ ٣١٤

فاسق و فاجر ایمان س:....... فاسق و فاجر کی شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی دیتا ہے۔ شریعت کے بعض اح چھوڑے دونوں صورتوں میں وہ فا اور قادیانی چونکہ شریعت کے اور قادیانیت مرتد ہے جو کہ کفر سے بھی ہے، بعد میں توبہ کرلوں گا ، ایسا گناہ کبیرہ کروں تو پھر توبہ کر لوں گا ، جب تک شریعت کا کہ ایک مسلمان مرتد ہو جاؤں گا۔ کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فورا توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے ۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س :...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجانا بالکل بے شرمی کی اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست چاہئے اسی طرح تالیاں بجانا بے ہودہ کام ہے، مسلمانوں کے لئے نا جائز ہے۔

س :...... تالیاں بجانا کفار اور منافق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

عقیدے اور عمل کے مطابق ہوگا۔ ان میں سے صرف دو آدمی بچیں گے۔ ایک حضرت امام مہدی کو اس واقعہ کی اطلاع دے گا اور دوسرا سفیانی کو۔ عرب کی فوجوں کے اجتماع کا حال سن کر عیسائی بھی چاروں طرف سے فوجوں کو جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے اور اپنے اور روم کے ممالک سے فوج کثیر لے کر امام مہدی کے مقابلے کے لئے شام میں جمع ہو جائیں گے۔

مقابلہ کیلئے اجتماع اور امام مہدی کے ساتھ خونریز جنگ

اور آخر میں امام مہدی کی فتح مبین

ان کی فوج کے اس وقت ستر جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ بارہ ہزار سپاہ ہوگی۔ جس کی تعداد (٨٤٠٠٠٠) ہوگی۔ حضرت امام مہدی مکہ مکرمہ سے روانہ ہو کر مدینہ منورہ پہنچیں گے اور پیغمبر خدا ﷺ کے روضہ کی زیارت سے مشرف ہو کر شام کی جانب روانہ ہوں گے۔ دمشق کے پاس آ کر عیسائیوں کی فوج سے مقابلہ ہوگا۔

اس وقت امام مہدی کی فوج کے تین گروہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ نصاریٰ کے خوف سے بھاگ جائے گا۔ خداوند کریم ان کی توبہ ہرگز قبول نہ فرمائے گا۔ باقی فوج میں سے کچھ تو شہید ہو کر بدر اور احد کے شہداء کے مراتب کو پہنچیں گے اور کچھ بتوفیق ایزدی فتح یاب ہو کر ہمیشہ کیلئے گمراہی اور انجام بد سے چھٹکارا پائیں گے۔ حضرت امام مہدی دوسرے روز پھر نصاریٰ کے مقابلے کے لئے نکلیں گے۔ اس روز مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی: ”یا میدان جنگ فتح کریں گے یا مرجائیں گے ۔“ یہ جماعت سب کی سب شہید ہو جائے گی۔ حضرت امام مہدی باقی ماندہ قلیل جماعت کے ساتھ لشکر میں واپس جائیں گے۔

دوسرے دن پھر ایک بڑی جماعت یہ عہد کرے گی کہ فتح کے بغیر میدان جنگ سے واپس نہیں آئیں گے، یا پھر مرجائیں گے اور حضرت مہدی کے ہمراہ بڑی بہادری کے ساتھ جنگ کریں گے اور آخر میں یہ بھی جام شہادت نوش کریں گے۔ شام کے وقت امام مہدی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ واپس اپنی قیام گاہ تشریف لے آئیں گے۔ چوتھے روز حضرت امام مہدی رسدگاہ کی محافظ جماعت کو لے کر دشمن سے پھر نبرد آزما ہوں گے۔ یہ جماعت تعداد میں بہت کم ہوگی۔ مگر خداوند کریم ان کو فتح مبین عطاء فرمائے گا۔ عیسائی اس قدر قتل ہوں گے کہ باقیوں کے دماغ سے حکومت

٦

کی بو نکل جائے گی اور بے سروسامان ہو کر مسلمان ان کا تعاقب کر کے بے انتہاء انعام واکرام اس میدان کے خوشی حاصل نہ ہوگی۔ کیونکہ اس جنگ کی میں فیصد صرف ایک آدمی ہی بچا ہوگا۔ الـ اور حقوق العباد کی انجام دہی میں مصروف اور ان مہمات سے فارغ ہو کر فتح قسطنطنیہ

ستر ہزار فوج کے ساتھ

اور ایک نعر

بحیرہ روم کے کنارے پر پہنچ کے اس شہر کی خلاصی کے لئے جس کو آج شہر کے قریب پہنچ کر نعرہ تکبیر بلند کریں جائے گی۔ مسلمان ہلہ کر کے شہر میں داخـ عدل وانصاف کے ساتھ کریں گے۔ ایـ گزرے گا۔ امام مہدی ملک کے بندوبـ نکل آیا۔

امام مہدی کا دجال کی تحقـ

اور ان

اس خبر کے سنتے ہی حضرت ا تحقیق کے لئے پانچ یا نو سوار جن کے باپ، قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں آدمیوں سے بہتر ہوں گے،“ لشکر کے ہے۔ پس امام مہدی عجلت کو چھوڑ کر ملک اس میں کچھ عرصہ نہ گزرے

صفحہ ٣١٥

کی بو نکل جائے گی اور بے سروسامان ہو کر نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ بھاگ جائیں گے۔ مسلمان ان کا تعاقب کر کے بہتوں کو جہنم رسید کردیں گے۔ اس کے بعد امام مہدی بے انتہاء انعام و اکرام اس میدان کے جانبازوں میں تقسیم فرمائیں گے۔ مگر اس مال سے کسی کو خوشی حاصل نہ ہوگی۔ کیونکہ اس جنگ کی بدولت بہت سے خاندان و قبیلے ایسے ہوں گے۔ جس میں فیصد صرف ایک آدمی ہی بچا ہوگا۔ اس کے بعد امام مہدی بلاد اسلام کے نظم و نسق اور فرائض اور حقوق العباد کی انجام دہی میں مصروف ہوں گے۔ چاروں طرف اپنی فوجیں پھیلا دیں گے اور ان مہمات سے فارغ ہو کر فتح قسطنطنیہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔

ستر ہزار فوج کے ساتھ امام مہدی کی فتح قسطنطنیہ کیلئے روانگی

اور ایک نعرہ تکبیر سے شہر کا فتح ہوجانا

بحیرہ روم کے کنارے پر پہنچ کر قبیلہ بنو اسحاق کے ستر ہزار بہادروں کو کشتیوں پر سوار کر کے اس شہر کی خلاصی کے لئے جس کو آج کل استنبول کہتے ہیں، مقرر فرمائیں گے۔ جب یہ فصیل شہر کے قریب پہنچ کر نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو اس کی فصیل خدا کے نام کی برکت سے یکا یک گر جائے گی۔ مسلمان ہلا کر کے شہر میں داخل ہوں گے۔ شورشوں کو ختم کر کے ملک کا انتظام نہایت عدل و انصاف کے ساتھ کریں گے۔ ابتدائی بیعت سے اس وقت تک چھ سات سال کا عرصہ گزرے گا۔ امام مہدی ملک کے بندوبست ہی میں مصروف ہوں گے کہ افواہ اڑے گی کہ دجال نکل آیا۔

امام مہدی کا دجال کی تحقیق کیلئے ایک مختصر دستے کا روانہ فرمانا

اور ان کی افضلیت کا حال

اس خبر کے سنتے ہی حضرت امام مہدی ملک شام کی طرف واپس ہوں گے اور اس خبر کی تحقیق کے لئے پانچ یا نو سوار جن کے حق میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”میں ان کے ماں، باپ، قبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کا رنگ جانتا ہوں اور اس زمانے کے روئے زمین کے آدمیوں سے بہتر ہوں گے۔“ لشکر کے آگے بطور طلیعہ روانہ ہو کر معلوم کریں گے کہ یہ افواہ غلط ہے۔ پس امام مہدی عجلت کو چھوڑ کر ملک کی خبر گیری کی غرض سے آہستگی اختیار فرمائیں گے۔ اس میں کچھ عرصہ نہ گزرے گا کہ دجال ظاہر ہو جائے گا اور قبل اس کے کہ وہ دمشق

پہنچے

صفحہ ٣١٦

فتاویٰ

س : ...... شخص کو کیا کہا جائے جو مسلمان جس میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ا رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکا چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا اور ظاہر و باطن میں شریعت کے خلاف شرع کام اور دعویٰ کرے کہ میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ کے بعد میں کروں گا، یا میں گناہ کروں گا تو کروں، مجھ پر کوئی گناہ نہیں ، جب کہ شریعت کا یہ کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کوشش کرے، اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر کوئی ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گا۔

س : ...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا خوشی میں بجائی جائے؟ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر، سکول و غیرہ میں کیا اسی طرح تالیوں کا بجانا جو کہ سنت کے خلاف کے لئے جائز ہے؟

ج : ...... تالیاں بجانا کفار اور فساق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

پہنچے، حضرت امام مہدی دمشق آچکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری و ترتیب فوج کر چکے ہوں گے اور اسباب حرب و ضرب تقسیم کرتے ہوں گے کہ مؤذن عصر کی اذان دے گا۔ لوگ نماز کے لئے تیاری میں مصروف ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ لگائے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارہ پر جلوہ افروز ہوکر آواز دیں گے کہ سیڑھی لاؤ، سیڑھی حاضر کردی جائے گی۔

حضرت عیسیٰ کا اترنا اور اس وقت کی نماز امام مہدی کی امامت میں ادا کرنا

آپ اس سیڑھی کے ذریعہ سے نازل ہوکر امام مہدی سے ملاقات فرمائیں گے۔ امام مہدی نہایت تواضع و خوش خلقی سے آپ کے ساتھ پیش آئیں گے اور فرمائیں گے کہ: ”یا نبی اللہ ! امامت کیجئے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تم ہی کرو، کیونکہ تمہارے بعض بعض بعض کے لئے امام ہیں اور یہ عزت اس امت کو خدا نے دی ہے۔“

پس امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اقتداء کریں گے۔ نماز سے فارغ ہوکر امام مہدی پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ: ”یا نبی اللہ ! اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے۔ جس طرح چاہیں انجام دیں۔ وہ فرمائیں گے: نہیں ! یہ کام بدستور آپ کے تحت رہے گا۔ میں تو صرف قتل دجال کے واسطے آیا ہوں۔ جس کا میرے ہی ہاتھ سے مارا جانا مقدر ہے۔“

امام مہدی کے عہد خلافت کی خوشحالی ، اس کی مدت اور ان کی وفات

تمام زمین امام مہدی کے عدل و انصاف سے (بھر جائے گی ) منور اور روشن ہو جائے گی۔ ظلم و ناانصافی کی بیخ کنی ہوگی ۔ تمام لوگ عبادات واطاعت الٰہی میں سرگرمی سے مشغول ہوں گے۔ آپ کی خلافت کی میعاد سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ واضح رہے کہ سات سال عیسائیوں کے فتنے اور ملک کے انتظام میں آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ وجدال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزرے گا۔ اس حساب سے آپ کی عمر ٤٩ سال کی ہوگی۔ بعد ازاں امام مہدی کی وفات ہوجائے گی۔ ان کے بعد تمام چھوٹے اور بڑے انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں آجائیں گے۔

اس موقع پر یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ شاہ صاحب نے گو تمام یہ سرگزشت حدیثوں کی روشنی ہی میں مرتب فرمائی ہے۔ جیسا کہ احادیث کے مطالعہ سے واضح ہے۔ مگر

٨

١٧

واقعات کی ترتیب اور بعض جگہ ان کا تعین یہ دونوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث وقرآن میں جو تفصی زمانے سے متعلق ہوں یا آئندہ سے۔ ان کا اسلو مناسبت مقام ان کا ایک ایک ٹکڑا متفرق طور پر ذک جاتا ہے۔ تو بعض مقامات پر کبھی ان کی درمیانی کڑی جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر بعض خام طبائع تھ ہیں۔ حالانکہ غور یہ کرنا چاہئے کہ جب قرآن وحد تصانیف کا ہے تو پھر حدیثوں میں اس کو تلاش ہی ک ترتیب خود صاحب شریعت نے بیان ہی نہیں فرما جائے؟ لہٰذا اگر اپنی جانب سے کوئی ترتیب قائم کر ہے جو ترتیب ہم نے اپنے ذہن میں بنا رکھی ہے۔

بہت سے امور ہیں جو قرآن وحدیثی قصص میں ن رائے سے اٹھالیا جائے۔ اس کو کتاب وسنت کے سر کی وجہ سے اصل واقعہ کا ہی انکار کردینا یہ اس سے بھی واقعات کی پوری تفصیل اور اس کے اجزاء کی پور نہیں۔ یہ ایک مؤرخ کا وظیفہ ہے۔ رسول آئند ہے۔ پھر جب کے ظہور کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپ ہیں اور اس وقت یہ ایک کرشمہ معلوم ہوتا ہے کہ ات میں آچکی ہے وہ بہت کافی تھی اور قبل از وقت اس ب بلکہ شاید اور زیادہ الجھاؤ کا موجب تھی۔ علاوہ ازی جانتا تھا کہ کم وقت میں دینِ روایت اور اسانید ہ اختلاف سے روایتوں کا اختلاف بھی لازم ہوگا۔ ف یقیناً ان میں بھی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا ا اٹھاسکتی تھی، تفصیلات بیان کرنے میں وہ بھی فوت ہ

صفحہ ٣١٧

واقعات کی ترتیب اور بعض جگہ ان کا تعین یہ دونوں باتیں خود حضرت موصوف ہی کی جانب سے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث و قرآن میں جو قصص و واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ خواہ وہ گزشتہ زمانے سے متعلق ہوں یا آئندہ سے۔ ان کا اسلوب بیان تاریخی کتابوں کا سا نہیں۔ بلکہ بسبب مناسبت مقام ان کا ایک ایک ٹکڑا متفرق طور پر ذکر میں آیا ہے۔ پھر جب ان سب ٹکڑوں کو جوڑا جاتا ہے۔ تو بعض مقامات پر کبھی ان کی درمیانی کڑی نہیں ملتی۔ کہیں ان کی ترتیب میں شک وشبہ رہ جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر بعض خام طبائع تو اصل واقعہ کے ثبوت ہی سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ غور یہ کرنا چاہئے کہ جب قرآن وحدیث کا اسلوب بیان ہی وہ نہیں جو آج ہماری تصانیف کا ہے تو پھر حدیثوں میں اس کو تلاش ہی کیوں کیا جائے؟ نیز جب ان متفرق ٹکڑوں کی ترتیب خود صاحب شریعت نے بیان ہی نہیں فرمائی تو اس کو صاحب شریعت کے سر کیوں رکھ دیا جائے؟ لہٰذا اگر اپنی جانب سے کوئی ترتیب قائم کر لی گئی ہے۔ تو اس پر جزم کیوں کیا جائے؟ ہو سکتا ہے جو ترتیب ہم نے اپنے ذہن میں بنا رکھی ہے۔ حقیقت اس کے خلاف ہو۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے امور ہیں جو قرآن وحدیثی قصص میں تشنہ نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہاں جو قدم اپنی رائے سے اٹھا لیا جائے۔ اس کو کتاب وسنت کے سر رکھ دینا ایک خطرناک اقدام ہے اور اس ابہام کی وجہ سے اصل واقعہ کا ہی انکار کر دینا یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ واقعات کی پوری تفصیل اور اس کے اجزاء کی پوری پوری ترتیب بیان کرنی رسول کا وظیفہ ہی نہیں۔ یہ ایک مؤرخ کا وظیفہ ہے۔ رسول آئندہ واقعات کی صرف بقدر ضرورت اطلاع دیتا ہے۔ پھر جب ان کے ظہور کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی تفصیل کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور اس وقت یہ ایک کرشمہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے واقعات کے لئے جتنی اطلاع حدیثوں میں آچکی ہے وہ بہت کافی تھی اور قبل از وقت اس سے زیادہ تفصیلات دماغوں کے لئے غیر ضروری بلکہ شاید اور زیادہ الجھاؤ کا موجب تھی۔ علاوہ ازیں جس کو ازل سے ابد تک کا علم ہے وہ یہ خوب جانتا تھا کہ اُمت میں دین روایت اور اسانید کے ذریعے پھیلے گا اور اس تقدیر پر راویوں کے اختلاف سے روایتوں کا اختلاف بھی لازم ہوگا۔ پس اگر غیر ضروری تفصیلات کو بیان کر دیا جاتا تو یقیناً ان میں بھی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا اور ہو سکتا تھا کہ امت اس اجمالی خبر سے جتنا فائدہ اٹھا سکتی تھی، تفصیلات بیان کرنے میں وہ بھی فوت ہو جاتا۔

٩

صفحہ ٣١٩

علم اصول حدیث کی بعض اص

اصول حدیث کی تعریف

علم اصول حدیث وہ علم ہے۔ جس کے ذریعے حدیث

اصول حدیث کی غایت

علم اصول حدیث کی غایت یہ ہے کہ حدیث کے جائے اور غیر مقبول سے بچا جائے۔

اصول حدیث کا موضوع

علم اصول حدیث کا موضوع حدیث ہے۔

حدیث کی تعریف

حضرت رسول خدا ﷺ ، صحابہ کرامؓ و تابعین کے قو اور کبھی اس کو خبر واثر بھی کہتے ہیں۔

حدیث کی تقسیم

حدیث دو قسم پر ہے۔ (١) خبر متواتر ۔ (٢) خبر واحد

وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے ہرز سب کے جھوٹ پر اتفاق کر لینے کو عقل سلیم محال سمجھے۔

خبر واحد اپنے منتہیٰ کے اعتبار سے تین قسم پر ہے۔ مر مرفوع : وہ حدیث ہے جس میں حضرت رسول ﷺ موقوف : وہ حدیث ہے جس میں صحابی کے قول یا فعل یا تقریر کا جس میں تابعی کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو۔

١؎ تقریر رسول ﷺ یہ ہے کہ کسی مسلمان نے رسول کوئی بات کہی۔ آپ نے جاننے کے باوجود منع نہ فرمایا بلکہ خام اور اس طرح اس کی تصویب و تثبیت فرمائی۔

١١

صفحہ ٣١٩

علم اصول حدیث کی بعض اصطلاحیں

اصول حدیث کی تعریف

علم اصول حدیث وہ علم ہے۔ جس کے ذریعے حدیث کے احوال معلوم کئے جائیں۔

اصول حدیث کی غایت

علم اصول حدیث کی غایت یہ ہے کہ حدیث کے احوال معلوم کر کے مقبول پر عمل کیا جائے اور غیر مقبول سے بچا جائے۔

اصول حدیث کا موضوع

علم اصول حدیث کا موضوع حدیث ہے۔

حدیث کی تعریف

حضرت رسول خدا ﷺ ، صحابہ کرامؓ و تابعین کے قول و فعل و تقریر ؎١ کو حدیث کہتے ہیں اور کبھی اس کو خبر واثر بھی کہتے ہیں۔

حدیث کی تقسیم

حدیث دو قسم پر ہے۔ (١) خبر متواتر۔ (٢) خبر واحد۔

وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اس قدر کثیر ہوں کہ ان سب کے جھوٹ پر اتفاق کر لینے کو عقل سلیم محال سمجھے۔

خبر واحد اپنے منتہی کے اعتبار سے تین قسم پر ہے۔ مرفوع، موقوف، مقطوع۔ مرفوع : وہ حدیث ہے جس میں حضرت رسول ﷺ کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو اور موقوف : وہ حدیث ہے جس میں صحابی کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو اور مقطوع وہ حدیث ہے جس میں تابعی کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو۔

؎١ تقریر رسول ﷺ یہ ہے کہ کسی مسلمان نے رسول کریم ﷺ کے سامنے کوئی کام کیا یا کوئی بات کہی۔ آپؐ نے جاننے کے باوجود منع نہ فرمایا بلکہ خاموشی اختیار فرما کر اسے برقرار رکھا اور اس طرح اس کی تصویب و تثبیت فرمائی۔

(کذا فی مقدمہ فتح الملہم ص ١٠٧)

١١

صفحہ ٣٢١

فاسق و فاجر

س...... فاسق و فاجر شخص کس کو کہا جاتا ہے؟ ج: جو مسلمان رہتے ہوئے شریعت کے بعض احکامات چھوڑنے پر دونوں صورتوں میں وہ فاسق اور فاجر شخص ہے۔ شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے سے پرہیز کرنا اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا، سچے مسلمان کا اولین فرض ہے، جب کہ شریعت کا پابند رہے اور اگر کبھی غلطی سے گناہوں کا ارتکاب ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کسی تقریب میں یا مجلس میں یا بچوں کے اسکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے یا اسی طرح تالیاں بجانا، یہ شرک ہے؟ کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور منافقین کا طریقہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

خبر واحد کی دوسری تقسیم

خبر واحد عدد رواۃ کے اعتبار سے تین قسم پر ہے۔ (١) مشہور۔ (٢) عزیز۔ (٣) غریب۔

مشہور...... وہ حدیث ہے، جس کے راوی ہر زمانے میں تین سے کم کہیں نہ ہوں۔

عزیز...... وہ حدیث ہے، جس کے راوی ہر زمانے میں دو سے کم کہیں نہ ہوں۔

غریب...... وہ حدیث ہے، جس کا راوی کہیں نہ کہیں ایک ہو۔

خبر واحد کی تیسری تقسیم

خبر واحد اپنے راویوں کی صفات کے اعتبار سے سولہ قسم پر ہے: (١) صحیح لذاتہ۔ (٢) حسن لذاتہ۔ (٣) ضعیف۔ (٤) صحیح لغیرہ۔ (٥) حسن لغیرہ۔ (٦) موضوع۔ (٧) متروک۔ (٨) شاذ۔ (٩) محفوظ۔ (١٠) منکر۔ (١١) معروف۔ (١٢) معلل۔ (١٣) مضطرب۔ (١٤) مقلوب۔ (١٥) مصحف۔ (١٦) مدرج۔

صحیح لذاتہ...... وہ حدیث ہے، جس کے کل راوی عادل کامل الضبط ہوں اور اس کی سند متصل ہو۔ معلل وشاذ ہونے سے محفوظ ہو۔

حسن لذاتہ...... وہ حدیث ہے جس کے راوی میں صرف ضبط ناقص ہو۔ باقی سب شرائط صحیح لذاتہ کے اس میں موجود ہوں۔

ضعیف...... وہ حدیث جس کے راوی میں حدیث صحیح وحسن کی شرائط نہ پائی جائیں۔

صحیح لغیرہ...... اس حدیث حسن لذاتہ کو کہا جاتا ہے۔ جس کی سندیں متعدد ہوں۔

حسن لغیرہ...... اس حدیث ضعیف کو کہا جاتا ہے۔ جس کی سندیں متعدد ہوں۔

موضوع...... وہ حدیث ہے جس کے راوی پر حدیث نبوی میں جھوٹ بولنے کا طعن موجود ہو۔

متروک...... وہ حدیث ہے جس کا راوی متہم بالکذب ہو یا وہ روایت قواعد معلومہ فی الدین کے مخالف ہو۔

شاذ...... وہ حدیث ہے جس کا راوی خود ثقہ ہو مگر ایک ایسی جماعت کثیر کی مخالفت کرتا ہو جو اس سے زیادہ ثقہ ہیں۔

محفوظ...... وہ حدیث ہے جو شاذ کے مقابل ہو۔

١٢

منکر...... وہ حدیث ہے جس کا راوی باوجود ضعیف ہونے کے ثقہ راوی کی مخالف روایت کرے۔

معروف...... وہ حدیث ہے جو منکر کے مقابل ہو۔

معلل...... وہ حدیث ہے جس میں کوئی ایسی علت خفیہ قادحہ ہو جو صحت حدیث میں خلل ڈال دیتی ہے۔ اس کو معلوم کرنا ماہر فن ہی کا کام ہے۔

مضطرب...... وہ حدیث ہے جس کی سند یا متن میں ایسا اختلاف واقع ہو جس میں ترجیح یا تطبیق نہ ہوسکے۔

مقلوب...... وہ حدیث ہے جس میں بھول سے متن یا سند میں تقدیم و تاخیر کر دی گئی ہو۔ یعنی لفظ مقدم کو موخر اور موخر کو مقدم رکھا گیا ہو۔ یا مجہول کو معروف رکھا گیا ہو۔

مصحف ١؎...... وہ حدیث ہے جس میں باوجود صورت خطی کے باقی رہنے کے نقطوں و سکونوں کے تغیر کی وجہ سے تلفظ میں غلطی واقع ہوگئی ہو۔

مدرج...... وہ حدیث ہے جس میں کسی جگہ راوی اپنا کلام داخل کر دے۔

خبر واحد کی چوتھی تقسیم

خبر واحد سقوط و عدم سقوط راوی کے اعتبار سے سات قسم پر ہے: (١) متصل۔ (٢) مسند۔ (٣) منقطع۔ (٤) معلق۔ (٥) معضل۔ (٦) مرسل۔ (٧) مدلس۔

متصل...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند میں راوی پوری طرح متصل ہوں۔

مسند...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند رسول اللہ ﷺ تک متصل ہو۔

منقطع...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند متصل نہ ہو۔ بلکہ درمیان سے کوئی راوی گر جائے۔

معلق...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع میں ایک یا زیادہ راوی پے در پے گرے ہوں۔

معضل...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے درمیان میں سے دو یا دو سے زیادہ راوی پے در پے گرے ہوں۔

مرسل...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے آخر سے کوئی راوی یعنی صحابی گر جائے۔

مدلس...... وہ حدیث ہے جس کے راوی کی یہ عادت ہو کہ وہ اپنے شیخ کا نام چھپا لیتا ہو۔

١؎ بعض اوقات مصحف کو محرف بھی کہتے ہیں۔

١٣

صفحہ ٣٢١

منکر ...... وہ حدیث ہے جس کا راوی باوجود ضعیف ہونے کے جماعت ثقات کے مخالف روایت کرے۔

معروف ...... وہ حدیث ہے جو منکر کے مقابل ہو۔

معلل ...... وہ حدیث ہے جس میں کوئی ایسی علت خفیہ ہو جو صحت حدیث میں نقصان دیتی ہے۔ اس کو معلوم کرنا ماہر فن ہی کا کام ہے۔ ہر شخص کا نہیں۔

مضطرب ...... وہ حدیث ہے جس کی سند یا متن میں ایسا اختلاف واقع ہو کہ اس میں ترجیح یا تطبیق نہ ہو سکے۔

مقلوب ...... وہ حدیث ہے جس میں بھول سے متن یا سند کے اندر تقدیم و تاخیر واقع ہو گئی ہو۔ یعنی لفظ مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم رکھا گیا ہو۔ یا بھول کر ایک راوی کی جگہ دوسرا راوی رکھا گیا ہو۔

مصحف ١؎ ...... وہ حدیث ہے جس میں باوجود صورت خطی باقی رہنے کے لفظوں حرکتوں وسکنوں کے تغیر کی وجہ سے تلفظ میں غلطی واقع ہو جائے۔

مدرج ...... وہ حدیث ہے جس میں کسی جگہ راوی اپنا کلام درج کر دے۔

خبر واحد کی چوتھی تقسیم

خبر واحد سقوط و عدم سقوط راوی کے اعتبار سے سات قسم پر ہے۔ (١) متصل۔ (٢) مسند۔ (٣) منقطع۔ (٤) معلق۔ (٥) معضل۔ (٦) مرسل۔ (٧) مدلس۔

متصل ...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند میں راوی پورے مذکور ہوں۔

مسند ...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند رسول اللہ ﷺ تک متصل ہو۔

منقطع ...... وہ حدیث ہے کہ اس کی سند متصل نہ ہو۔ بلکہ کہیں نہ کہیں سے راوی گرا ہوا ہو۔

معلق ...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع میں ایک راوی یا کثیر گرے ہوئے ہوں۔

معضل ...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے درمیان میں سے کوئی راوی گرا ہوا ہو یا اس کی سند میں ایک سے زائد راوی پے بہ پے گرے ہوئے ہوں۔

مرسل ...... وہ حدیث ہے جس کی سند کے آخر سے کوئی راوی گرا ہوا ہو۔

مدلس ...... وہ حدیث ہے جس کے راوی کی یہ عادت ہو کہ وہ اپنے شیخ یا شیخ کے شیخ کا نام چھپا لیتا ہو۔

١؎ بعض اوقات مصحف کو محرف بھی کہتے ہیں۔

(مقدمہ فتح الملہم ص ١٤٢)

١٣

صفحہ ٣٢٢

خبر واحد کی پانچویں تقسیم

خبر واحد صیغ کے اعتبار سے دو قسم پر ہے۔ (١) معنعن ۔ (٢) مسلسل۔

معنعن ...... وہ حدیث ہے جس کی سند میں لفظ ”عن“ ہو اور اس کو ”عن عن“ بھی کہا جاتا ہے۔

مسلسل...... وہ حدیث ہے جس کی سند میں صیغ ادا کے یا راویوں کے صفات یا حالات ایک ہی طرح کے ہوں۔

باب اوّل

عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں

الحمدلله وكفى والصلوة والسلام على محمد ن المصطفى وعلى اله واصحابه الاتقياء . اما بعد فقد قال الله تبارك وتعالى فان تنازعتم فى شىء فردوه الى الله والرسول (النساء : ٥٩)

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر کسی مسئلے کے متعلق اختلاف رائے ہو تو خدا کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کی طرف اس کو لوٹاؤ۔ یعنی اس کا حکم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں تلاش کرو۔ اس قاعدے کے مطابق جس مسئلے میں مسلمانوں میں اختلاف رائے ہو تو بجائے اس کے کہ اپنی رائے پر زور دیا جائے اور اسے حتمی و آخری سمجھا جائے ۔ چاہئے کہ اس کو اللہ کی کتاب اور حضور ﷺ کی سنت میں تلاش کیا جائے۔ کیونکہ دین کے یہی دو ایسے سرچشمے ہیں۔ جس سے ہدایت کے پیاسے سیراب ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” فاعقلو ايها الناس قولى فانى قد بلغت وقد تركت فيكم ايها الناس ما ان اعتصمتم به فلن تضلوا ابدا كتاب الله وسنة نبيه (كتاب السنة لمحمد بن نصر المروزى ص ٢١ ) ﴿اے لوگو! میری بات کو سمجھو میں نے تمہیں دین کی باتیں پہنچادی ہیں اور ایسی چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم ان کو مضبوطی سے پکڑو تو گمراہ نہیں ہوگے۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری اللہ کے رسول ﷺ کی سنت۔﴾

اس طرح حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی یہ مضمون مختلف الفاظ سے مروی ہے۔

جنوری ١٩٨١ء کے قومی ڈائجسٹ میں جناب اختر کاشمیری صاحب کا ایک مضمون خروج مہدی کے متعلق چھپا تھا۔ جس میں انہوں نے تحقیقی اور سنجیدہ طریقے پر ظہور مہدی کے مسئلے

١٤

پر کلام فرمایا ہے۔ انہوں نے اس پر زور دیا ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہیں اور ثبوت کے درجے ت مہدی کا عقیدہ جو مسلمانوں میں چودہ سو سا صاحب مضمون نے اس کی فرمائش کی ہے کہ صحیح احادیث سے مسئلہ ثابت ہو جائے تو صا اسی طرح رسالہ کی مجلس ادارت گئی تھی اور ساتھ ساتھ یہ خطرہ تھا کہ اگر س میں مبتلا ہوں گے۔ نیز اس سے یہ بھی لازم کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو اپنی کتابوں یہی وہ محرکات تھے کہ بندہ کو اس پر قلم ا حضرات بھی اس موضوع پر اپنے گراں قد سے عام مسلمان مستفید ہوں گے۔ اس طو ظہور مہدی کا عقیدہ صحیح احادیث مسلم اور مشہور ہے۔ اب میں تفصیل سے ان کی بنیاد ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ

واشراط الساعۃ میں یہ حدیث نقل کی ہے:

”ابن مسعود رفعه ل ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رج واسم ابيه اسم ابي يملأ الار

داؤد ج ٢ ص ١٣١ کتاب المهدی والترمذ

مسعودؓ کی مرفوع روایت ہے کہ اگر دنیا کا ص کو طویل کر دیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعا اہل بیت میں سے ہوگا۔ اس کا نام میر پر ہوگا۔ (یعنی محمد بن عبداللہ ) وہ زمین کو انص

صفحہ ٣٢٣

پر کلام فرمایا ہے۔ انہوں نے اس پر زور دیا ہے کہ ظہور مہدی کے متعلق جتنی احادیث مروی ہیں۔ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں اور ثبوت کے درجے تک نہیں پہنچی ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ جو مسلمانوں میں چودہ سو سال سے منتقل ہوتا آیا ہے، بے بنیاد ہے۔ چونکہ خود صاحب مضمون نے اس کی فرمائش کی ہے کہ دوسرے علماء اس موضوع پر قلم اٹھائیں، اور یہ کہ اگر صحیح احادیث سے مسئلہ ثابت ہو جائے تو صاحب مضمون اپنا خیال بدل سکتا ہے۔

اسی طرح رسالہ کی مجلس ادارت کی طرف سے بھی اس موضوع پر لکھنے کی دعوت دی گئی تھی اور ساتھ ساتھ یہ خطرہ تھا کہ اگر سکوت اختیار کیا جائے تو عام مسلمان شکوک وشبہات میں مبتلا ہوں گے۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ سلف صالحین کے متعلق بدگمانی پیدا ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ جس کی کوئی صحیح بنیاد موجود نہیں۔ یہی وہ محرکات تھے کہ بندہ کو اس پر قلم اٹھانے کی جرأت ہوئی۔ امید ہے کہ دوسرے علماء حضرات بھی اس موضوع پر اپنے گراں قدر خیالات اور تحقیقات کا اظہار فرمائیں گے۔ جس سے عام مسلمان مستفید ہوں گے۔ اس طویل تمہید کے بعد میں اصل مدعا پر آتا ہوں۔

ظہور مہدی کا عقیدہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور چودہ سو سال سے مسلمانوں میں مسلم اور مشہور ہے۔ اب میں تفصیل سے ان احادیث کو مع حوالہ درج کرتا ہوں کہ جن پر اس عقیدہ کی بنیاد ہے۔ وما توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب۔

واشراط الساعۃ میں یہ حدیث نقل کی ہے:

"ابن مسعود رفعه لو لم يبق من الدنيا الا يوم واحد لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلا منى او من اهل بيتى يواطئ اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى يملأ الارض قسطا وعدلا كماملئت ظلما وجورا (ابی داؤد ج٢ص١٣١ کتاب المهدي والترمزی ص٥١٢ ج٢ حدیث نمبر ٢٢١٣)" عبداللہ بن مسعودؓ کی مرفوع روایت ہے کہ اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل کر دیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں ایک آدمی مبعوث فرمائیں گے جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا۔ اس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ (یعنی محمد بن عبداللہ) وہ زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا۔

١٥

صفحہ ٣٢٥

ج٢ ص١٣١، کتاب المھدی، جمع الفوائد ص ٥١٢ ج٢ حدیث نمبر ٩٩١٧) ”حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری آل سے ہوگا۔ یعنی فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا۔“

قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما یملك سبع سنین (ابی داؤد ج٢ ص١٣١، کتاب المھدی، بلفظہ ص ٥١٢ ج٢ جمع الفوائد، حدیث نمبر ٩٩١٥) ”ابوسعید خدریؓ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہدی مجھ سے ہوگا۔ کھلی پیشانی والا اور طویل و باریک ناک والا ، وہ زمین کو انصاف و عدل سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم و زیادتی سے بھر چکی ہوگی۔ سات سال تک اس کی حکومت رہے گی۔“

رسول اللہ ﷺ وسیخرج من صلبہ رجل یسمی باسم نبیکم یشبہ فی الخلق ولا یشبہ فی الخلق (لابی داؤد ج٢ ص١٣١، کتاب المھدی، جمع الفوائدج٢ ص ٥١٣) ”حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہوگا۔ جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ان کی پشت سے ایک آدمی پیدا ہوگا جن کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا۔ وہ نبی کے ساتھ اخلاق میں مشابہ ہوگا اور جسم میں مشابہ نہ ہوگا۔“

جمع الفوائد کی یہ حدیثیں جو کہ صحیح یا حسن درجہ کی ہیں۔ خروجِ مہدی پر صراحۃً دلالت کرتی ہیں۔ جمع الفوائد کے مصنف نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھا کہ: ”وان لم اذکر شیئا بعد عزو حدیث غیر الجامع فذالك الحدیث مقبول حسن او صحیح برجال الصحیح او غیر ھم (جمع الفوائد ص ١٠ ج ١) ”یعنی اگر کسی حدیث کو میں نقل کروں اور اس کے بعد اس پر ضعف وغیرہ کا کوئی حکم نہ لگاؤں تو وہ حدیث قابلِ قبول حسن یا صحیح ہوگی۔“

نوٹ: حدیث صحیح اور حسن وغیرہ کی تعریفات ہم نے اس لئے نہیں لکھیں کہ ان کی اصطلاحات کی پوری تفصیل جناب اختر کاشمیری صاحب کے مضمون میں موجود ہے۔

مصنف کی اس صراحت کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں رہی کہ ان احادیث کے راویوں پر ہم فرداً فرداً کلام کریں۔

ابوداؤد میں حضرت علیؓ کی ایک اور روایت ہے عثمان بن ابی شیبۃ قال حدثنا الفضل بن بن ابی بزۃ عن ابی الطفیل عن علی عن النبی ﷺ الا یوم لبعث اللہ رجل من اھل بیتی یملا ص ١٣١، ج٢ ، کتاب المہدی) ”حضرت علیؓ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک آدمی میرے اہل عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ اس روایت پر امام ابوداؤدؒ نے سکوت کیا ہے۔ ابوداؤدؒ نے سکوت کیا۔ کم از کم درجہ حسن کی ہوتی ہیں۔ ترمذی میں ہے کہ: ”ان کی کتاب (ابوداؤد) میں حسن، ضعیف اور مضطرب احادیث پر کلام کرنے کے بھی عادی ہیں جس حدیث پر وہ سکوت کریں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ استدلال ہے۔ البتہ بعض مرتبہ اگر ضعفِ ضعیف ہو تو وہ بیان نہیں کرتے۔“ اور خود امام ابوداؤدؒ کا قول بھی کتابوں میں موجود شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں نقل فرمایا: ”ومن مظانہ سنن ابی داؤد فقد ومایشبهه ومايقاربه وروينا عنه ايضاً ماعرفه في ذالك الباب وقال ماكان في بينته ومالم اذكر فيه شيئا فهو صالح العلم ص٢٩ ج١) ”امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اور صحیح کے قریب روایتیں نقل کی ہیں اور حافظ ابن حجرؒ الفاظ نقل کئے ہیں کہ وہ ہر باب میں اس باب کی صحیح ترین

صفحہ ٣٢٥

ابوداؤد میں حضرت علیؓ کی ایک اور روایت ان الفاظ سے مروی ہے: ”حدثنا عثمان بن ابي شيبة قال حدثنا الفضل بن دكين قال حدثنا فطر عن القاسم بن ابی بزة عن ابی الطفيل عن علی عن النبی ﷺ قال لو لم يبق من الدهر الا يوم لبعث الله رجل من اهل بيتي يملأها عدلا كما ملئت جورا (ابوداؤد ص ١٣١، ج٢، کتاب المهدی)“ ﴿حضرت علیؓ نقل کرتے ہیں کہ پیغمبرﷺ نے فرمایا کہ اگر زمانہ کا ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک آدمی میرے اہل بیت سے پیدا فرمائیں گے جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔﴾

اس روایت پر امام ابوداؤدؒ نے سکوت کیا ہے اور محدثین کے ہاں وہ روایت جس پر امام ابوداؤدؒ نے سکوت کیا۔ کم از کم درجہ حسن کی ہوتی ہیں۔ جیسے مولانا محمد تقی عثمانی کی املائی تقریر درس ترمذی میں ہے کہ: ”ان کی کتاب (ابوداؤد) میں حسن اور ضعیف احادیث بھی آگئی ہیں۔ البتہ وہ ضعیف اور مضطرب احادیث پر کلام کرنے کے بھی عادی ہیں۔ بشرطیکہ ضعف زیادہ ہو۔ چنانچہ جس حدیث پر وہ سکوت کریں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک قابل استدلال ہے۔ البتہ بعض مرتبہ اگر ضعف خفیف ہو تو وہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس پر کلام نہیں کرتے۔“

(درس ترمذی ص ١٢٨، ج١)

اور خود امام ابوداؤدؒ کا قول بھی کتابوں میں منقول ہے جیسے کہ حافظ ابن صلاحؒ کا قول شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں نقل کیا ہے:

”ومن مظانه سنن ابی داؤد فقد روينا انه قال ذكرت فيه الصحيح ومايشبهه ومايقاربه وروينا عنه ايضاً مامعناه انه يذكر فى كل باب اصح ماعرفه فى ذالك الباب وقال ماكان فى كتابى حديث فيه وهن شديد فقد بينته ومالم اذكر فيه شيئا فهو صالح وبعضها اصح من بعض (مقدمه فتح الملهم ص٢٩ ج١)“ ﴿امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں صحیح اور اس کے مشابہ اور صحیح کے قریب روایتیں نقل کی ہیں اور حافظ ابن صلاحؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوداؤدؒ سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ وہ ہر باب میں اس باب کی صحیح روایتیں نقل کرتے ہیں اور فرمایا کہ میری

١٧

صفحہ ٣٢٦

فاسق و فاجر

س: ........ فاسق و فاجر ج: ........ شخص کو کہا جاتا ہے جو نافرمان پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ن رہتا ہے۔ شریعت کے بعض ا چھوڑے دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق وہ شخص ہے جو خلاف شرع کا اور طریقہ کے خلاف شرع کام کر ے گا وہ گنہگار ہو گا۔ جب شریعت کی

بے حد ثواب ہے کہ اگر کوئی نیک کروں تو پھر ثواب ملے گا۔ کیا یہ صحیح کہ ایک مسلمان کو بہت گناہوں سے بچنا چا کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ ک ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ س معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س: ........ تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کیا کسی تقریب میں تالیاں بجانا اسلام میں بالکل جائز نہیں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیاں بجانا کیسا ہے جبکہ کفار مسلمانوں کے لئے بجاتے ہیں؟ ج: ........ تالیاں بجانا کفار اور منافقوں کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

کتاب میں اگر ایسی روایت ہو کہ جس میں شدید قسم کا ضعف ہو تو میں اس کو بیان کر دیتا ہوں اور جس حدیث کے متعلق میں سکوت کروں تو وہ صالح ہوتی ہے۔ (یعنی یا صحیح یا حسن اور اگر ضعف ہو بھی تو ادنیٰ درجے کا ہوتا ہے، جس کا جبرہ ممکن ہوتا ہے۔ ﴾ حافظ ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ امام ابوداؤدؒ کے اس قول کی بناء پر اگر کوئی حدیث مطلقاً یعنی بغیر کسی کلام کے منقول ہو۔ جبکہ وہ روایت بخاری ومسلم میں موجود نہ ہو اور کسی محدث نے اس کی صحت وحسن پر حکم لگایا ہو تو وہ روایت امام ابوداؤدؒ کے نزدیک درجہ حسن کی ضرور ہوتی ہے اور امام ابوداؤدؒ کا یہ قول ان الفاظ کے ساتھ بھی منقول ہے کہ: ”وما سكت عنه فهو صالح .“ (مقدمہ فتح الملہم ص ٢٩ ج ١) ﴿یعنی حدیث کے متعلق میں سکوت کروں تو وہ صالح ہوتی ہے اور صالح حدیث بھی صحیح ہو سکتی ہے اور حسن بھی۔ تو احتیاط یہ ہے کہ حسن ہی کا حکم اس پر لگایا جائے۔﴾ اور امام ابوداؤدؒ کا یہ قول بھی کتابوں میں منقول ہے کہ : ”ما ذكرت في كتابي حديثا اجتمع الناس على تركه“ (مقدمہ ابوداؤد ص ٣) ﴿میں نے کوئی ایسی حدیث نقل نہیں کی ہے کہ جس کے ترک اور ضعف پر محدثین کا اتفاق ہو۔﴾ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے بستان المحدثین ص ٢٨٥ میں فرمایا کہ: ”دروی التزام نموده است که حديث صحيح باشد ياحسن“ ﴿اس کتاب میں اس کا التزام ہے کہ حدیث صحیح ہو یا حسن۔﴾ باقی تحقیق مقدمہ ابوداؤد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ص ٤، ٥، ج ١، اور مقدمہ فتح الملہم ص ٢٩ ج ١ میں ملاحظہ ہو۔ اس پوری تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام ابوداؤدؒ جس حدیث پر سکوت کریں وہ حدیث کم از کم حسن کے درجہ کی ہوتی ہے۔ جیسے خروج مہدی کے مذکورہ حدیث پر انہوں نے سکوت کیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث کم از کم حسن کے درجہ کی ہے۔

ساتھ نقل کی ہے اور اس پر سکوت فرمایا ہے۔ صرف علی بن نفیل کی توثیق کا قول ابوالشیخ سے نقل کیا ہے: ”حدثنا احمد بن ابراهيم قال حدثنی عبدالله بن جعفر الرقى قال حدثنا ابوالمليح الحسن بن عمر عن زياد بن بيان عن على بن نفيل عن

١٨

٢٧ سعيد بن المسيب عن ام سلمة قالت سمـ عترتى من ولد فاطمة (ابوداؤد ص ١٣١ ج اس روایت کا ترجمہ نمبر ٢ پر گزر چکا ہے

مروی ہے: : ”حدثنا محمد بن المثنى قتاده عن صالح ابى الخليل عن صاحب النبي ﷺ قال يكون اختلاف عند موت هاربا الى مكة فياتيه ناس من أهل ويبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم الناس ذالك اتاه ابدال الشام وعصائب من قريش اخواله كلب فيبعث اليه بعثا الخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب فيقسـ ويلقى الاسلام بجرانه الى الارض عليه المسلمون ، قال ابوداؤد وقـ بعضهم سبع سنين (ابوداؤد ص ١٣١ ج ٢ ﴿حضرت ام سلمہؓ نبی کریم ﷺ سے اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک آدمی بھاگ اس کو زور سے نکال کر اس کی بیعت کریں گے۔ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان بیداء کے مقام پر زمـ کا ایک آدمی جس کے ماموں کلب قبیلے کے ہوں مہدی کا لشکر قریش کے لشکر پر غالب آجائے گا۔ غنیمت میں حاضر نہیں ہوا۔ مہدی مال تقسیم کریں اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا۔ (یعنی ا

صفحہ ٣٢٧

سعيد بن المسيب عن ام سلمة قالت سمعت رسول الله ﷺ يقول المهدى من عترتى من ولد فاطمة (ابوداؤد ص ١٣١ ج ٢،کتاب المہدی)“

اس روایت کا ترجمہ نمبر ٢ پر گزر چکا ہے۔

مروی ہے:

”حدثنا محمد بن المثنى حدثنا معاذ بن هشام حدثنى ابى عن قتاده عن صالح ابى الخليل عن صاحب له عن ام سلمة زوج النبى ﷺ عن النبى ﷺ قال يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هاربا الى مكة فياتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه ويبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فاذا رأى الناس ذالك اتاه ابدال الشام وعصائب اهل العراق فيبايعونه ثم ينشأ رجل من قريش اخواله كلب فيبعث اليه بعثا فيظهرون عليهم وذالك بعث كلب و الخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب فيقسم المال ويعمل في الناس بسنة نبيهم ويلقى الاسلام بجرانه الى الارض فيلبث سبع سنين ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ، قال ابوداؤد وقال بعضهم عن هشام تسع سنين وقال بعضهم سبع سنين (ابوداؤد ص ١٣١ ج ٢، کتاب المہدی)“

حضرت ام سلمہؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف ہوگا تو اہل مدینہ میں سے ایک آدمی بھاگ کر مکہ چلا جائے گا۔ اہل مکہ اس کے پاس آ کر اس کو جبراً نکال کر اس کی بیعت کریں گے۔ اہل شام اس کے پاس اپنا لشکر بھیجیں گے تو اس کا لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان بیداء کے مقام پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر اس کے بعد قریش کا ایک آدمی جس کے ماموں کلب قبیلے کے ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجیں گے تو مہدی کا لشکر قریش کے لشکر پر غالب آجائے گا۔ خسارہ ہو اس آدمی کے لئے جو قبیلہ کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہیں ہوا۔ مہدی مال تقسیم کریں گے اور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کریں گے۔ اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا۔ (یعنی اسلام پھیل جائے گا) سات سال تک رہیں گے۔

١٩

صفحہ ٣٢٨

اس کے بعد وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔﴾

اس روایت میں اگرچہ ایک راوی مجہول ہے۔ لیکن یہی روایت مستدرک حاکم میں متصل سند سے مذکور ہے۔ اگرچہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ (مستدرک حاکم ص ٤٢٩ ج ٤)

اس طرح علامہ ذہبیؒ نے تلخیص المستدرک میں اس کی تصحیح کی ہے۔ (ملاحظہ ہو تلخیص المستدرک للذہبی ص ٤٢٩ ج ٤ ، بذیل المستدرک)

اسی طرح اس روایت کی تائید حضرت ابوہریرہؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔ جس کی صحت پر ابو عبداللہ حاکم اور علامہ ذہبی دونوں متفق ہیں اور روایت بخاری ومسلم کی شرط پر ہے جس کو ہم آگے نقل کریں گے۔ (مستدرک حاکم ص ٥٢٠ ج ٤)

(ص ١٣١، ج ٢، کتاب المہدی)

ہے۔

ہے۔ جس کو ہم پہلے جمع الفوائد کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اور اس کے آخر میں امام ترمذیؒ نے فرمایا: ”هذا حديث حسن صحيح. (ص ٤٧ ج ٢، باب خروج المہدی) “ ﴿حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی یہ روایت صحیح ہے۔﴾

مذکورہ روایت میں ایک راوی ہے۔ جس کا نام اسباط بن محمد ہے۔ وہ خود اگرچہ ثقہ ہے۔ لیکن سفیان بن ثوری سے جو روایت وہ نقل کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے۔ جیسے کہ تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ اسباط بن محمد بن عبدالرحمن بن خالد بن میسرہ القرشی مولاہم ابو محمد ثقہ ضعف فی الثوری۔ (تقریب ج ١ ص ٤٠)

لیکن ایک تو یہ کہ خود امام ترمذیؒ نے اس کی روایت کی توثیق کی ہے اور محدثین جب کسی ایسے راوی سے حدیث نقل کرتے ہیں۔ جس کی جرح پر واقف ہوں تو وہ روایت ان کے نزدیک قابل اعتماد ہوتی ہے۔ اس لئے ہر راوی کی صدق اور کذب اور صحیح وضعیف روایتیں پہچانتے ہیں۔ جیسے کہ امام ترمذیؒ نے کتاب العلل میں سفیان بن ثوری کا قول نقل کیا ہے:

٢٠

صفحہ ٣٢٩

"حدثنا ابراهيم بن عبدالله بن المنذر الباهلى حدثنا يعلى بن عبيد قال قال لنا سفيان الثورى اتقو الكلبى فقيل له فانك تروى عنه قال انا اعرف صدقه من كذبه (ترمذی ج٢ ص٢٣٤،کتاب العلل) " سفیان ثوریؒ نے کہا کہ کلبی سے بچو کسی نے ان سے کہا کہ آپ جو کلبی سے نقل کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے سچ اور جھوٹ کو پہچانتا ہوں۔

اس کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ عبید بن اسباط کے متعلق حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں فرمایا ہے کہ: "صدوق (ج١ ص٣٨٢) "

سفیان ثوریؒ تو مشہور امام اور متفق علیہ ثقہ ہیں۔ ایک راوی عاصم بن بھدلہ ہے۔ جس کی توثیق حافظ ابن حجرؒ نے (تقریب ص١٥٨) میں کی ہے۔ نیز یہ طبقہ سادسہ کے راویوں میں سے ہے۔ جن کے متعلق حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے: "ولم يثبت فيه مايترك حديثه من اجله واليه الاشارة بلفظ مقبول (تقريب التهذيب ص١٠)"

نیز یہ صحیحین کے بھی راوی ہیں۔ (تقریب التہذیب ج١ ص٢٦٦) نیز ان پر حافظ ابن حجرؒ نے صفحہ مذکورہ میں (ع) کی علامت لگائی ہے۔ تو یہ صحاح ستہ کے متفق علیہ راوی ہیں۔ "کما صرح به الحافظ فى التقريب ج١ ص٢٦٦"

ایک راوی اس میں زر ہے۔ جس کی توثیق حافظ ابن حجرؒ نے "ثقہ جلیل" کے الفاظ سے کی ہے اور اس پر بھی (ع) کی علامت بنائی ہے۔

١١....... امام ترمذیؒ نے عاصم بن بھدلہ کی سند سے ایک دوسری روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے نقل کی ہے۔ یہ روایت اگر چہ موقوف ہے۔ لیکن محدثین کے ہاں یہ قاعدہ مشہور ہے کہ موقوف روایت بھی ایسے مسئلے میں جو مدرک بالقیاس نہ ہو مرفوع کے حکم میں ہے۔ روایت یہ ہے:

"عن ابى هريرة قال لولم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم حتى يلى، هذا حديث حسن صحيح (ترمذی ص٤٧ ج٢، باب خروج المهدى) " یعنی اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دیں گے۔ یہاں تک کہ مہدی والی بنے۔ ﴾

اس حدیث کو بھی امام ترمذیؒ نے حسن اور صحیح کہا ہے۔

٢١

صفحہ ٣٣١

”حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة قال سمعت زيد العمى قال سمعت ابا الصديق الناجی يحدث عن ابی سعيد الخدری قال خشينا ان يكون بعد نبينا حدث فسالنا نبی اللہ ﷺ قال ان فی امتی المهدی یخرج یعیش خمسا اوتسعا زيد الشاك قال قلنا وماذالك قال سنين قال فيجئ اليه الرجل فيقول يا مهدی اعطنی اعطنی قال فیحثی له فی ثوبه ما استطاع ان يحمله هذا حديث حسن وقد روی من غیر وجه عن ابی سعید عن النبی ﷺ وابوالصديق الناجی اسمه بكر بن عمرو يقال بكر بن قيس (ترمذی ص٤٧ج٢، باب خروج المهدی) ”ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ڈر محسوس ہوا کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے بعد کوئی فتنہ نہ ہو تو ہم نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں مہدی پیدا ہوگا اور پانچ یا سات یا نو سال تک رہے گا۔ ان کے پاس آدمی آئے گا، کہے گا کہ اے مہدی! مجھے مال دے دے تو وہ کپڑا بھر کر اس کو اتنا دے گا جتنا وہ اٹھا سکے گا۔“

اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے حسن کہا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کی مختلف اسناد ہیں۔ جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث ضعیف نہیں ہے۔ نیز یہ کہ ابوسعید خدریؓ کی مہدی کے متعلق روایت امام ابوداؤدؒ نے بھی نقل کی ہے اور اس پر سکوت فرمایا ہے۔ جو صحت و حسن کی دلیل ہے۔

(ملاحظہ ہو ابوداؤد ص ٢٣٢ ج ٢، کتاب المهدی)

اور حاکم نے مستدرک میں بھی ابوسعیدؓ کی روایت کی تخریج کی ہے۔ حاکم اور ذہبی اس کی صحت پر متفق ہیں۔

(ملاحظہ ہو مستدرک حاکم مع تلخیص الذہبی ص ٥٥٧ ج ٤)

اور حدیثیں نقل کی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت نقل کی ہے: ”حدثنا عثمان بن ابی شيبة حدثنا معاوية بن هشام حدثنا على بن صالح عن يزيد بن ابی زياد عن ابراهيم عن علقمه عن عبدالله قال ٢٢

بينما نحن عند رسول اللہ ﷺ اذا قبل فتية من بنی هاشم فلما راهم النبی ﷺ اغرورقت عيناه وتغير لونه قال فقلت ما نزل نری فی وجهك شيئا نكرهه فقال انا اهل بيت اختار الله لنا الاخرة علی الدنيا وان اهل بيتی سيلقون بعدی بلاء وتشريدا وتطريدا حتی یاتی قوم من قبل المشرق معهم رايات سود فيسئلون الخير فلا يعطونه فيقا تلون فينصرون فيعطون ماسئلو افلا يقبلونه حتی يدفعو نها الی رجل من اهل بيتی فيملاها قسطا وعدلا كما ملؤها جورا فمن ادرك ذالك منهم فا ليتهم ولو حبوا علی الثلج“ (سنن ابن ماجه ص٢٩٩، باب خروج المهدی) ”عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں بنی ہاشم کے کچھ لڑکے سامنے آئے۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے اور رنگ متغیر ہو گیا۔ عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے ہیں، جو ہمیں پسند نہیں۔ فرمایا، ہم وہ اہل بیت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آخرت کو اختیار فرمایا ہے اور میرے بعد میرے اہل بیت پر عنقریب بلا اور مصیبت آئے گی۔ یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے ایک قوم آئے گی، ان کے ساتھ کالے رنگ کے جھنڈے ہوں گے تو وہ لڑیں گے اور کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر جو وہ مانگیں گے وہ ان کو دیا جائے گا۔ لیکن وہ اس کو قبول نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ حکومت میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کے حوالے کریں گے جو زمین کو انصاف و عدل سے بھر دے گا جیسا کہ لوگوں نے اس کو ظلم سے بھرا تھا۔ جس کو یہ وقت ملے وہ اس کے پاس آئے اگرچہ برف پر گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے۔“ یہ روایت بھی قابل استدلال ہے اس لئے کہ کسی نے اس کے راویوں پر کذاب اور وضاع کا حکم نہیں لگایا۔ ”ما تمس اليه الحاجة لم يطالع سنن ابن ماجه“ کے مصنف علامہ عبدالرشید نعمانی نے اس سب احادیث کو جمع کیا ہے۔ جن پر موضوع ہونے کا حکم لگایا گیا ہے مگر ان میں یہ روایت نہیں ہے۔ اب اس کے بعد اس روایت کے راویوں پر جو جرح کی گئی ہے ہم اس کو نقل کرتے ہیں۔

ابن حجرؒ نے فرمایا: ”ثقة حافظ شهير“ ٢٣

صفحہ ٣٤١

بينما نحن عند رسول الله ﷺ اذ اقبل فتية من بنى هاشم فلما راهم النبى ﷺ اغرورقت عيناه وتغير لونه قال فقلت ما نزال نرى فى وجهك شيئا نكرهه فقال انا اهل بيت اختار الله لنا الاخرة على الدنيا وان اهل بيتى سيلقون بعدى بلاء وتشريدا وطريدا حتى ياتى قوم من قبل المشرق معهم رايات سود فيسئلون الخير فلا يعطونه فيقاتلون فينصرون فيعطون ماسئلوا فلا يقبلونه حتى يدفعونها الى رجل من اهل بيتى فيملأ ها قسطا وعدلا كما ملؤها جورا فمن ادرك ذالك منهم فلياتهم ولو حبوا على الثلج

(سنن ابن ماجه ص ٢٩٩، باب خروج المهدی) ”عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں بنی ہاشم کے کچھ لڑکے سامنے آئے۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے اور رنگ متغیر ہوگیا۔ میں نے عرض کیا کہ ہم آپ کے چہرے پر غم کے آثار دیکھتے ہیں، جو ہمیں پسند نہیں۔ فرمایا کہ ہم ایسے گھرانے کے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آخرت کو اختیار فرمایا ہے اور میرے اہل بیت پر میرے بعد مصیبت آئے گی۔ یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے ایک قوم آئے گی۔ ان کے ساتھ کالے جھنڈے ہوں گے تو وہ لڑیں گے اور کامیاب ہوجائیں گے۔ پھر ان کی مانگی ہوئی چیز دی جائے گی۔ لیکن وہ اس کو قبول نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ حکومت میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کے حوالے کریں گے جو زمین کو انصاف وعدل سے بھر دے گا۔ جیسے انہوں نے اس کو ظلم سے بھرا تھا۔ جس کو یہ وقت ملے وہ اس کے پاس آئے اگرچہ برف پر گھسٹ کر آنا پڑے۔“

یہ روایت بھی قابل استدلال ہے اس لئے کہ کسی نے بھی اس روایت پر موضوع ہونے کا حکم نہیں لگایا۔ ”ما تمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابن ماجة “ میں علامہ عبدالرشید نعمانی نے ان سب احادیث کو جمع کیا ہے۔ جن پر موضوع ہونے کا حکم کسی نے لگایا ہے۔ ان میں یہ روایت نہیں ہے۔ اب اس کے بعد اس روایت کے راویوں پر ہم انفراداً جرح وتعدیل کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

ابن حجرؒ نے فرمایا: ”ثقة حافظ شهير“

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٣٩٥)

٢٣

صفحہ ٣٣٢

کیوں فاسق و فاجر

س:...... فاسق و فاجر ...... شریعت کی شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہو پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ن رہتا ہے، شریعت کے بعض احک چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاس اور فاسق شخص بے دین ہوتا ہے، اس ک اور بے دین کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے

بعد میں کرلوں گا، ابھی کیا ہے، اگر کو کروں تو پھر توبہ قبول نہ ہو گی، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان پر وقت پر نماز پڑھنا فرض ہے، ح کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ ک ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا فنکشن میں یا سکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناجائز کام پر روک تھام کیلئے تالیاں بجانا کیسا ہے؟

ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق و فاجر کا طریقہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

اور ان کے نام پر حافظ نے خ م دس ق کی علامتیں بنائی ہیں۔ یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔

اور ان کے نام پر بخ م ع کی علامتیں بنائی ہیں۔ (تقریب ج٢ص٥٩٣) یعنی امام بخاریؒ نے ادب المفرد میں اور امام مسلم نے صحیح مسلم میں اور ابن ماجہ، ترمذی، ابوداؤد، نسائی میں ان محدثین ان کی روایتیں نقل کی ہیں۔ جس سے ان کا قابل اعتبار ہونا معلوم ہوتا ہے۔

(تقریب ج١ص٤١٤) اور ان کے نام پر بھی م ع کی نشانی بنائی ہے۔ یعنی مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔

کے نام پر بخ د ک کی علامتیں لکھی ہیں۔ یعنی ادب المفرد ترمذی اور موطا مالک کے راوی ہیں۔

اس کے بعد ابراہیم نخعی اور علقمہ جو مشہور آئمہ حدیث اور ثقہ ہیں۔

چکی ہے۔ ابن ماجہ میں بھی مندرجہ ذیل سند کے ساتھ مروی ہے:

”حدثنا نصر بن علی الجہضمی حدثنا بن مروان العقیلی حدثنا عمارۃ بن ابی حفصۃ عن زید العمی عن ابی الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری ان النبی ﷺ قال یکون فی امتی المہدی (ابن ماجہ ص٣٠٠، باب خروج المہدی)“ یعنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں مہدی ہوں گے۔

یہ روایت بھی کم از کم یہ کہ موضوع نہیں ہے جیسے کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ حدیث عمی ان احادیث میں مذکور نہیں ہے کہ جن پر وضع کا قول کیا گیا ہے اور ساتھ یہ کہ ترمذی، ابوداؤد اور مستدرک حاکم میں اس کے متابعات منقول ہیں۔ کما مر (ترمذی ص٤٦، ج٢، ابوداؤد ص٢٣٢ ج٢)

اور اب اس کے رواۃ پر انفرادی بحث کی جاتی ہے۔

ثبت“ (ج٢ص٢٤١) نیز ان پر ع کی علامت بنائی ہے۔ یعنی یہ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ یعنی

سب کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔

التہذیب ج٢ص٥٥١) اور ان پر ق کی علامت

ص٤٢٣) یعنی ثقہ ہے۔ نیز ان پر خ اور ع کی ماجہ اور ابوداؤد کے راوی ہیں۔

ہیں۔ جن کی احادیث مقبول ہیں۔ نیز یہ متابع ابن حجرؒ نے ع کی علامت بنائی ہے۔ جو اس ک کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔

(تقریب التہذیب ص٧٢ ج١) میں لکھا ہے: ”ث صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ اس تفصیل سے معلو راویوں کے ثقہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ ہم ا محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ ہم علی ولا یت علی للعل شاہ بخاری موضوع یا ضعیف نہیں۔ بلکہ محدثین کے نزدیک

”حدثنا محمد بن یحیی عن سفیان الثوری عن خالد الح عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ لا یصیر الی واحد منہم ثم تطلع ا قتلا لم یقتلہ قوم ثم ذکر شیئ ولو حبوا علی الثلج فانہ خلیفۃ اللہ

٢٤

صفحہ ٣٣٣

سب کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔

التہذیب ج ٢ ص ٥٥١) اور ان پر ق کی علامت بنائی ہے۔ یعنی ابن ماجہ کے راوی ہیں۔

ص ٢٤٢) یعنی ثقہ ہے۔ نیز ان پر خ اور ع کی علامتیں بتائی ہیں۔ یعنی بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابوداؤد کے راوی ہیں۔

ہیں۔ جن کی احادیث مقبول ہیں۔ نیز یہ متابعات کی وجہ سے ضعف منجبر ہوگیا ہے۔ نیز ان پر حافظ ابن حجر نے ع کی علامت بنائی ہے۔ جو اس کی علامت ہے کہ یہ صحاح ستہ کے راوی ہیں اور سب کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔

(تقریب التہذیب ج ١ ص ١٢٧) میں لکھا ہے: ”ثقة“ نیز ان کے نام پر ع کی علامت لکھی ہے۔ یعنی صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔ روایت کے راویوں کے ثقہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ ہم اس روایت کی صحت کا جزم نہیں کر سکتے کیونکہ بقول محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ ہم اس منصب کے اہل نہیں: ”كما قال فى تقريظه على ولايت على للعلامہ شاہ بخاری“ لیکن کم از کم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ روایت بہرحال موضوع یا ضعیف نہیں۔ بلکہ محدثین کے نزدیک قابل اعتبار ہے۔

”حدثنا محمد بن يحيى واحمد بن يوسف قالا حدثنا عبدالرزاق عن سفيان الثورى عن خالد الحذاء عن ابى قلابة عن ابي أسماء الرحبي عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ يقتل عند كنزكم ثلاثة كلهم ابن خليفة ثم لايصير الى واحد منهم ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم ثم ذكر شيئا لا احفظه فقال فاذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج فانه خليفة الله المهدى (سنن ابن ماجه ص ٣٠٠، باب خروج

٢٥

صفحہ ٣٣٥

فاسق و فاجر الایمن س: فاسق و فاجر..... ج:..... شریعت..... شخص کو بنایا جائے جو مسلمان..... س: کیا شرعاً اللہ تعالیٰ کی..... پر عمل کرنیوالا اور اللہ تعالیٰ کی..... چھوڑنے والا فاسق و فاجر کہلا..... رہتا ہے۔ شریعت کے بعض ا..... اور اقوال تو کچھ ہیں، عمل کچھ اور ہے..... اور توہین کرے، یہ صریح کفر ہے..... کے بعد میں کروں گا، ابھی کیا..... کروں گا، تو یہ کفر نہیں، جب تک شریعت کا..... کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر..... گنہگار مسلمان ہے۔ البتہ گناہوں سے بچنے کا..... ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کرے اللہ تعالیٰ..... معاف فرمائے گا۔

س: تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ ج: تالیاں بجانا اسلام میں منع ہے، کسی تقریب میں یا خوشی میں یا بچوں کو کھلانے وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں ہے۔ تالیاں بجانا کفار اور فاسق و فاجر مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔ س: تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور اسلئے حضرت نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو

المهدی) ”حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے خزانے کے پاس تین آدمی لڑیں گے ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہوگا۔ لیکن وہ خزانہ ان تینوں میں سے ایک کا بھی نہیں ہوگا۔ پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے آئیں گے وہ تم سے ایسی لڑائی لڑیں گے کہ اس سے پہلے کسی قوم نے تم سے ایسی لڑائی نہیں لڑی ہوگی، پھر کچھ بات کی جو کہ راوی کو یاد نہیں رہی، پھر فرمایا کہ جب اس کو دیکھو تو اس کی بیعت کرو اگرچہ تمہیں برف پر گھسٹ کر ان کے پاس آنا پڑے اس لئے کہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہوگا۔“

یہ روایت بھی موضوع اور ضعیف نہیں ہے۔ کیونکہ اس کو کسی نے بھی ابن ماجہ کے موضوعات میں شمار نہیں کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ”ماتمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابن ماجہ“ نیز یہ کہ اس کے متابعات ابوداؤد میں (کتاب المہدی ص ٢٣٢ ج ٢) میں موجود ہیں۔ نیز مستدرک حاکم میں (ص ٥٠٠ ج ٤ پر) اس کا متابع موجود ہے اور دوسرے صحابہ کی احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس روایت کے رواۃ کی تفصیل حسب ذیل ہے:

التہذیب میں کئی راوی ہیں۔ لیکن ابن ماجہ کی علامت جس پر بنی ہے۔ ان کا نام محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی ہے۔ حافظ نے ان کے متعلق لکھا ہے: ”صدوق“ (ج٢ ص ٥٦١) اگرچہ ابو حاتم کا قول بھی حافظ نے نقل کیا ہے: ”قال ابو حاتم كانت فيه غفلة“ لیکن ان کا متابع احمد بن یوسف موجود ہے اور وہ ثقہ ہے۔

ثقہ“

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٢٤)

یہی ہیں اور یہ ثقہ ہیں۔ جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٣٥٥)

ان کے متعلق اگرچہ حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے ”وکان يتشيع“

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٣٥٥)

لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ متقدمین کے نزدیک تشیع کا الگ مفہوم تھا۔ موجودہ زمانہ کا ٢٦

شیعہ عقیدہ مراد نہیں۔ جیسے کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ہے۔

نیز فیض الباری میں خاتم المحدثین حضرت عـ ہے۔ ملاحظہ ہو (فیض الباری ج ٤) نیز یہ عبدالرزاق صحاح الحافظ ابن حجر فی التقریب بعلامة ع (تقر

ان کے متعلق لکھا ہے: ”ثقة حافظ فقيه عابد اما (ج ١ ص ٢١٦) ”صحاح ستہ کے راوی ہیں۔

ان کے متعلق لکھا ہے: ”وهو ثقة يرسل (ج ١ ص کرتے ہیں۔ نیز ان پر ع کی علامت بھی بنائی ہے۔ یعنی

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف

ياسين عن ابراهيم بن محمد بن الحنيفة عـ الله ﷺ المهدى من اهل البيت يصلحه الله باب خروج المہدی) ”یعنی مہدی اہل بیت سے ایک ہی رات میں دیں گے۔“

علیؓ کی روایت مہدی کے متعلق ترمذی، ابودا کے ساتھ مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو (ترمذی ص ٤٦ ج ٢، باب المہدی، مستدرک حاکم ص ٥٥٤، ٥٥٧ ج ٤) نیز اس کی صحت اس روایت کے رواۃ کی تفصیل ملاحظہ ہو:

٢٧

صفحہ ٣٣٥

شیعہ عقیدہ مراد نہیں۔ جیسے کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے تحفہ اثناعشریہ میں اس کی صراحت کی ہے۔

(تحفہ اثناعشریہ ص١١٦، ٨١)

نیز فیض الباری میں خاتم المحدثین حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے بھی اس پر بحث کی ہے۔ ملاحظہ ہو (فیض الباری ج٤) نیز یہ عبدالرزاق صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ ”کماصرح علیه الحافظ ابن حجر فى التقریب بعلامة ع (تقریب التهذیب ج١ ص٣٠٠)“

ان کے متعلق لکھا ہے: ”ثقة حافظ فقیه عابد امام حجة من رؤس الطبقة السابعة (ج١ ص٢١٦)“ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔

ان کے متعلق لکھا ہے: ”وهو ثقة يرسل (ج١ ص١٥٣)“ یعنی وہ ثقہ ہے۔ کبھی کبھی ارسال کرتے ہیں۔ نیز ان پر ع کی علامت بھی بنائی ہے۔ یعنی صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف نہیں ہے۔ بلکہ قابل اعتبار ہے۔

ياسين عن ابراهيم بن محمد بن الحنفية عن ابيه عن علی قال قال رسول الله ﷺ المهدى من اهل البيت يصلحه الله فى ليلة (سنن ابن ماجه ص٣٠٠، باب خروج المهدى)“ ﴿یعنی مہدی اہل بیت سے ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کو امارت کی صلاحیت ایک ہی رات میں دیں گے۔﴾

علیؓ کی روایت مہدی کے متعلق ترمذی، ابوداؤد اور مستدرک حاکم میں بھی صحیح سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو (ترمذی ص٤٦ ج٢، باب خروج المہدی، ابوداؤد ص ٢٣٢ ج٢، کتاب المہدی، مستدرک حاکم ص ٥٥٤، ٥٥٥ ج٤) نیز اس کی صحت پر حاکم اور ذہبی دونوں متفق ہیں۔ اب اس روایت کے رواۃ کی تفصیل ملاحظہ ہو:

(تقریب التہذیب ج ١ص ٣٩٥)

٢٧

صفحہ ٣٣٦

فاسق ایسے شخص کو کیا کہا جائے جو مسلمان س...... شریعت کی عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکا چھوڑے دونوں صورتوں میں وہ فا اور نافرمان ہے۔ بخلاف شرعی احکا اور توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کرنا شرعاً ہے بعد میں کر لوں گا، ابھی کیا تاخیر کی کروں پھر کر لوں گا، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان برداشت نہیں کر سکتا اور کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف کرائے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا کیسا ہے؟ تقریب میں یا خوشی میں یا کمال وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناچنا گانا میوزک سننا کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسقوں کا طریقہ اور اس کو حضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مسلمانوں

نیز بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں: ”کما صرح به الحافظ فی التقریب“

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٣٩٥)

نہیں ہے۔

پر ق کی علامت بنائی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابن ماجہ کے راوی ہیں اور لکھا ہے ”لا باس به“

(تقریب ج ٢ ص ٢٥٤)

”صدوق“ اور ان کے نام پر ت ، س اور ق کی علامتیں بنائی ہیں۔ یعنی ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی کے مسند علی کا راوی اور قابل اعتبار ہے۔

ہیں اور حضرت علیؓ کے صاحبزادے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تقریب التہذیب ج ٢ ص ٥٣١) اور صحاح ستہ کے راوی ہیں۔

ابوالمليح الرقى عن زياد بن بيان عن على بن نفيل عن سعيد بن المسيب قال كنا عندام سلمة فتذاكرنا المهدى فقالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول المهدى من ولد فاطمۃ (سنن ابن ماجه ص ٣٢٠، باب خروج المهدی)“ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ام المومنین ام سلمہؓ کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے آپس میں مہدی کے متعلق ذکر کیا تو ام سلمہؓ کہنے لگیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مہدی حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا۔

یہ روایت بھی ضعیف نہیں، مستدرک حاکم، ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ میں مذکور ہے۔ رواۃ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

نے تقریب میں لکھا ہے کہ ”ثقه حافظ صاحب تصانيف“

(تقریب ج ١ ص ٤٣٠)

٢٨

نیز ان پر خ م د س ق کی علامات ماجہ کے راویوں میں سے ہیں۔ یعنی ان سب

تكلم فيه بلا حجة“

(تقریب ج ١ ص ١٨)

بلا دلیل ہے۔

کے راوی ہیں۔ ملاحظہ ہو

ہے کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔

عن على بن زياد اليمامي عن عكر ابي طلحة عن انس بن مالك قال عبدالمطلب سادة اهل الجنة انا والمهدی (سنن ابن ماجه ص ٣٠٠، باب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، فرما ہوں گے۔ یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین یہ روایت بھی ابن ماجہ کے موضوع شواہد موجود ہیں۔ اس روایت کے رواۃ کی تفصیـ

ہے: ”صدوق“ (ج ٢ ص ١٣٣) یعنی ثقہ ہیں

صفحہ ٣٣٧

نیز ان پر خ م د س ق کی علامات بنائی ہیں۔ یعنی بخاری ، مسلم ، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہیں۔ یعنی ان سب کے نزدیک قابل اعتبار اور ثقہ ہیں۔

تکلم فیه بلا حجة“ (تقریب ج ١ص ١٨) یعنی ثقہ ہیں اور جن لوگوں نے ان پر جرح کی ہے وہ بلا دلیل ہے۔

کے راوی ہیں۔ ملاحظہ ہو

(تقریب التہذیب ج ١ص ١١٨)

(تقریب التہذیب ج ١ص ١٨٢)

(ج ١ص ٣٢٠)

ہوا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔

عن علی بن زياد اليمامى عن عكرمة بن عمار عن اسحاق بن عبدالله بن ابی طلحة عن انس بن مالك قال سمعت رسول الله ﷺ يقول نحن ولد عبدالمطلب سادة اهل الجنة انا وحمزة وعلى جعفر والحسن والحسين والمهدى (سنن ابن ماجه ص ٣٠٠، باب خروج المهدى)“ انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، فرماتے ہیں کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد جنت کے سردار ہوں گے۔ یعنی میں حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی۔

یہ روایت بھی ابن ماجہ کے موضوعات میں شامل نہیں ہے۔ نیز اس کے متابعات اور شواہد موجود ہیں۔ اس روایت کے رواۃ کی تفصیل یہ ہے:

ہے: ”صدوق“ (ج٢ص٦٣٢) یعنی ثقہ ہیں۔

٢٥

صفحہ ٣٤٨

ابوداؤد اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ضعیف ہیں۔ لیکن دوسرے شواہد کی وجہ سے روایت بہر حال قابل اعتبار ہے۔

ج ١ ص ٤٠٨) نسائی ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ نیز بخاری نے بھی ان سے تعلیقاً روایت نقل کی ہے۔ ”کما صرح بہ الحافظ ج ١ ص ٤٠٨ تقريب التہذیب“

ہے۔ (تقریب ج ١ ص ٤٤) اس تفصیل سے بھی معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔

قالا حدثنا ابو صالح عبدالغفار بن داؤد الحرانی قال حدثنا ابن لہیعہ عن ابی زرعہ عمرو بن جابر الحضرمی عن عبداللہ بن الحارث بن جزء الزبیدی قال قال رسول اللہ ﷺ یخرج ناس من المشرق فیوطون المہدی یعنی سلطانہ (سنن ابن ماجہ ص ٣٠٠، باب خروج المہدی) ”یعنی مشرق کی طرف سے لوگ نکلیں گے اور مہدی کی تائید کر کے ان کی حکومت قائم کریں گے۔“ یہ حدیث بھی قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ کسی نے اس کو موضوع نہیں کہا ہے۔ رواۃ کی تفصیل یہ ہے:

نسائی، ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہیں۔

بلا حجۃ“ (ج ١ ص ٢٨) یعنی ثقہ اور حافظ ہیں۔ جن لوگوں نے جرح کی ہے۔ بلا حجت ہے۔

نسائی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص ٤٦٢)

ہیں۔ اگر چہ یہ کتابیں جل جانے کے بعد ان کی روایتوں میں خلط آیا لیکن کذاب نہیں ہیں۔ خصوصاً ٣٠

جب ان کی روایت کی تائید دوسری روایتوں سے

سے ان روایات کی تائید ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قا روایتیں نقل کرتے ہیں:

الساجی حدثنا محمد بن اسماعیل حدثنا الاوزاعی عن یحییٰ بن ابی قال رسول اللہ ﷺ یخرج رجل یقال یتبعہ من کلب فیقتل حتی یبقر بـ قیس فیقتلہا حتی لا یمنع ذنب تلـ فیبلغ السفیانی فیبعث لہ جندا منـ معہ حتی اذا صار ببیداء من الار عنہم . ہذا حدیث صحیح علی شر ج ٥ ص ٧٢٧، حدیث نمبر ٨٦٢٣)“ حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم ﷺ سے نکلے گا۔ جس کو سفیانی کہا جائے گا۔ اس پـ گے وہ لوگوں کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ عورتـ قبیلہ قیس کے لوگ ان کے مقابلے میں جمع ہو کوئی باقی نہیں رہے گا اور میرے اہل بیت میـ پر سفیانی اس کے مقابلے کے لئے فوج بھیجـ سب لشکر کو لے کر اس کے مقابلے کے لئے پہنچے گا تو زمین ان کو نگل لے گی۔ ان میں سے

فتاویٰ .... کہ ...... فاسق و فاجر شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی فرمانی کرتا ہے۔ شریعت کے بعض احـ کام چھوڑے یا سب چھوڑے وہ دونوں صورتوں میں وہ فا سق اور نافرمان ہے۔ یہ شرعاً فاسق کی تـ عریف ہے اور توبہ نہ کرے تو یہ اس کی بڑی محر ومی ہے کہ دل میں کہے کہ میں گناہ کر لو ں کروں پھر توبہ کر لوں گا، جب شریعت کا حـ کم ہے کہ ایک مسلمان ہمیشہ گناہوں سے بچے اور نیک عمل کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کـ ر گناہ ہو جائے فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریبات میں تالیاں بجانا کیسا ہے؟ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح نعت پر پیسہ پھینکنا، کیا یہ مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج....... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو

صفحہ ٣٣٩

جب ان کی روایت کی تائید دوسری روایتوں سے ہوتی ہے تو اعتبار کیا جائے گا۔

(تقریب التہذیب ج ١ ص ٣٠٨)

(ج ١ ص ٤٣٦)

خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔ اب ہم اس مستدرک حاکم کی کچھ روایتیں نقل کرتے ہیں:

﴿حضرت ابو ہریرہؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی دمشق کے درمیان سے نکلے گا۔ جس کو سفیانی کہا جائے گا۔ اس کے تابعداری کرنے والے قبیلہ کلب کے لوگ ہوں گے وہ لوگوں کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چاک کرے گا اور بچوں کو قتل کرے گا۔ قبیلہ قیس کے لوگ ان کے مقابلے میں جمع ہو جائیں گے۔ وہ ان کو بھی قتل کر دے گا۔ یہاں تک کہ کوئی باقی نہیں رہے گا اور میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا (یعنی مہدی) حرہ کے مقام پر سفیانی اس کے مقابلے کے لئے فوج بھیجے گا۔ مہدی ان کو شکست دے گا۔ پھر سفیانی خود اپنے سب لشکر کو لے کر اس کے مقابلے کے لئے آئے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچے گا تو زمین ان کو نگل لے گی۔ ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔﴾

٣١

صفحہ ٣٤٠

اس طرح تلخیص المستدرک میں ذہبی نے اس حدیث کو علی شرط الشیخین مانا ہے۔ اس روایت کی طرف امام ترمذیؒ نے بھی (ص ٤٦ ج ٢) میں اشارہ کیا ہے۔ اس روایت میں اگرچہ امام مہدی کے نام کی صراحت نہیں ہے۔ لیکن ایک تو یہ کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی دوسری روایت میں نام کی صراحت موجود ہے اور ساتھ یہی صفات مذکورہ موجود ہیں۔ نیز یہ بھی کہ محدثین نے اس سے مراد مہدی ہی لیا ہے:

الدارمى حدثنا سعيد بن أبى مريم انبأنا نافع بن يزيد حدثنى عياش بن عباس ان الحارث بن يزيد حدثه انه سمع عبدالله بن زريع الغافقي يقول سمعت على بن ابى طالب يقول ستكون فتنة يحصل الناس منها كما يحصل الذهب فى المعدن فلاتسبوا اهل الشام وسبوا ظلمتهم فان فيهم الابدال وسيرسل الله اليهم سيبا من السماء فيغرقهم حتى لو قاتلهم الثعالب غلبهم ثم يبعث الله عند ذالك رجلا من عترة رسول ﷺ فى اثنى عشر الفا او خمسة عشرا الفا ان كثرو امارتهم او علامتهم امت امت على ثلاث رأيات يقاتلهم اهل سبع رايات ليس من صاحب رأية الا وهو يطمع بالملك فيقتلون ويهزمون ثم يظهر الهاشمى فيرد الله الى الناس الفتهم ونعمتهم فيكونون على ذالك حتى يخرج الدجال هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه

(مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧١٤، ٧١٥، حدیث نمبر ٨٦٠٥)“

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ عنقریب فتنہ ہوگا۔ اس میں لوگ ایسے حاصل ہوں گے جیسے کان میں سونا نکلتا ہے۔ تم اہل شام کو گالیاں مت دو۔ وہاں کے ظالم لوگوں کو برا کہو ان میں ابدال ہوں گے۔ وہاں کے لوگوں پر بارش برسے گی، جس سے غرق اور کمزور ہوجائیں گے۔ اگر گیدڑ بھی ان سے لڑے تو ان لوگوں پر غالب آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہاشمی کو یعنی مہدی کو مبعوث کریں گے جو نبی کریم ﷺ کے اولاد میں سے ہوں گے۔ ان کے ساتھ بارہ ہزار یا پندرہ ہزار کا لشکر ہو گا۔ ان کی لڑائی کا نعرہ امت کا لفظ ہوگا۔ تین جھنڈوں کے نیچے ان کا لشکر لڑے گا۔ ان کے مقابل سات جھنڈوں کے نیچے ہوں گے۔ یعنی سردار ہر جھنڈے والا اقتدار کی طمع میں ہوگا۔ وہ لڑیں گے

٣٢

صفحہ ٣٤١

اور شکست کھائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہاشمی کو یعنی مہدی کو فتح دے گا۔ اسی طرح امام ذہبیؒ نے اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

(تلخیص المستدرک ص ٥٥٣ ج ١)

اس روایت میں بھی اگر چہ نام کی صراحت نہیں ۔ لیکن حضرت علیؓ کی دوسری روایت میں جیسے (ابوداؤد ص ١٣١، کتاب المہدی، ج٢، ترمذی ص ٤٦، ج ٢) میں ہے، نام کی صراحت موجود ہے۔

عفان العامرى حدثنا عمرو بن محمد العنقزى حدثنا يونس بن ابى اسحاق اخبرنى عمار الذهبي عن ابى الطفيل عن محمد بن الحنفية قال كنا عند علىّ فساله رجل عن المهدى فقال علىّ هيهات ثم عقد بيده سبعاً فقال ذاك يخرج فى اخر الزمان اذا قال الرجل اَللّٰه اَللّٰه قتل فيجمع اَللّٰه تعالىٰ قوما قزع كقزع السحاب يؤلف اَللّٰه بين قلوبهم لا يستوحشون الى احد ولا يفرحون باحد يدخل فيهم وعلى عدة اصحاب بدر لم يسبقهم الاولون ولا يدركهم الاخرون وعلى عدة اصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر الى ان قال هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه (مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧٦٨، ٧٦٧، حدیث نمبر ٨٧٠٢) “ اسی طرح امام ذہبیؒ نے اس روایت کو تسلیم کیا ہے۔

(صفحہ مذکور) محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علیؓ کے پاس موجود تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے مہدی کے متعلق پوچھا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: کہ یہ تو دور کی بات ہے۔ پھر اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر سات مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کہ وہ آخر زمانے میں اس وقت نکلے گا جب ایک آدمی اللہ اللہ کہے گا تو اسے شہید کر دیا جائے گا۔ (یعنی اللہ کا نام لینا جرم سمجھا جائے گا) پھر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایسے اکٹھا کر دے گا جیسا کہ بکھرے بادلوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ پھر ان میں باہمی الفت پیدا کر دے گا۔ اس طرح کہ وہ کسی سے ڈریں گے نہیں اور نہ کسی کے آنے سے خوش ہوں گے۔ ان کی تعداد اصحاب بدر کے برابر ہو گی۔ پہلے لوگ ان سے آگے نہیں نکلے ہوں گے۔ بعد والے ان کے مرتبے کو نہیں پہنچے ہوں گے اور ان کی تعداد حضرت طالوت کے لشکر کے برابر ہو گی۔ وہ کہ جنہوں نے حضرت طالوت کے ساتھ نہر کو عبور کیا تھا۔ الیٰ آخر الحدیث!

٣٣

صفحہ ٣٤٣

نیز محمد بن الحنفیہ کی یہ روایت (ابن ماجہ ص ٣٠٠، باب خروج المہدی) پر بھی ہے۔

وابوبكر محمد بن احمد بن بالويه قالو احدثنا بشر بن موسى الاسدى حدثنا هوذة بن خليفه حدثنا عوف بن ابی جميله حدثنا محمد بن بشار حدثنا ابن ابی عدى عن عوف حدثنا ابوالصديق الناجي عن ابي سعيد الخدرى قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى تملأ الارض ظلما وجورا وعدوانا ثم يخرج من اهل بيتي من يملأها قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وعدوانا ٠ هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه

(مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧٧٠، ٧٧١، حدیث نمبر ٨٧١٢) “

ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ زمین ظلم و زیادتی سے بھر جائے گی۔ اس کے بعد میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ جو زمین کو انصاف و عدل سے بھر دے گا۔

اسی طرح امام ذہبیؒ نے بھی خ،م کی علامت لگائی۔ یعنی صحیح ہے اور بخاری ومسلم کے شرط پر ہے۔ یہ روایت (ترمذی ص ٣٦ ج٢، ابو داؤد ص ١٣٦، ج٢، کتاب المہدی، ابن ماجہ ص ٣٠٠، باب خروج المہدی) میں بھی موجود ہے۔ اس روایت میں اگرچہ نام کا ذکر نہیں۔ لیکن ایک تو یہ محدثین اس حدیث کو مہدی ہی کے باب میں ذکر کرتے ہیں۔ جیسے کہ ابن ماجہ، ابو داؤد اور ترمذی کا حوالہ گزر چکا ہے۔ نیز یہ کہ شارحین اس سے مراد امام مہدی ہی کو لیتے ہیں۔

الصغانى حدثنا عمرو بن عاصم الكلابى حدثنا عمران القطان حدثنا قتاده عن ابي نضرة عن ابي سعيد الخدری قال قال رسول الله ﷺ المهدى منا اهل البيت اشم الانف اقنى اجلى يملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت جورا وظلما يعيش هكذا وبسط يساره واصبعين من يمينه المسبحة والا بهام وعقد ثلاثة ٠ هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه

(مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧٧١ حدیث نمبر ٨٧١٣) “

٣٤

مطلب یہ کہ مہدی اہل بیت میں سے ہوگا۔ جو زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ اسی طرح امام ذہبیؒ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

ونكر من فضله قال سمعت سعيد بن المسيب سمعت النبى ايذكر المهدى فقال نعم هو حق

(مستدرك حاكم ج ٥ ص ٧٧١ حدیث نمبر ٨٧١٤) “

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ امام ذہبیؒ نے اس پر کوئی تعاقب نہیں کیا اور وہ بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔

مستدرک حاکم کی یہ سب حدیثیں صحیح ہیں۔ اور ان کے راوی ثقہ ہیں۔ عام طور پر لوگ حاکم کی تصحیح کا اعتبار نہیں کرتے ہیں مگر علم حدیث میں یہ اصول مشہور ہے کہ ذہبی اور حاکم جب کسی حدیث کی تصحیح پر متفق ہو جائیں تو وہ حدیث یقینی طور پر صحیح ہوتی ہے۔ جیسے کہ مولانا تقی عثمانی کی درس ترمذی میں بھی یہی اصول لکھا ہے۔

اسی طرح حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:

"گفته است که حلال نیست کسی راکه بر تصحیح حاکم اعتماد کند الا بعد تعقبات وتلحیقات مرائه بیند“

یعنی ذہبیؒ نے کہا ہے کہ جب تک میری گرفت نہ دیکھ لے تب تک حاکم کی تصحیح پر مغرور نہ ہونا چاہئے۔ یعنی دونوں کا قول جب متفق ہو جائے تب صحیح ہے۔

مذکورہ احادیث میں کچھ تو صحیح ہیں اور کچھ درجہ حسن تک پہنچتی ہیں۔ اور کوئی حدیث اگر ضعیف ہو بھی تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے صحیح ہو جاتی ہے۔ اسی کو اصول میں کہتے ہیں ” وبكثرة طرقه يصحح “ (شرح نخبہ ص ٣٥) یعنی کثرت طرق کی وجہ سے حدیث درجہ صحت تک پہنچتی ہے۔

٣٥

فاسق و فاجر

ایسی عورت کہ....... فاسق و فاجر شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہو کر پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام پر چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فاسق و فاجر ہے۔ اور فاسق شخص پر جو احکام شرعاً لاگو ہوتے

صغیرہ پر اصرار کرنے والا (یعنی بار بار کی گواہی بھی شرعاً قبول نہیں کی جائے گی۔

کو ترک نہ کردے، اگر وہ قاضی کے سامنے کرے اور اگر کسی غلطی سے قاضی نے اس ہو جائے تو فوراً اس پر استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے مانگے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کسی تقریب میں یا خوشی میں یا بچوں کی اسکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناچ گانا میوزک سننا، کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج....... تالیاں بجانا کفار اور منافقوں کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

صفحہ ٣٤٤

مطلب یہ کہ مہدی اہل بیت میں سے ہوگا۔ کھلی پیشانی اور سیدھی باریک ناک والا، زمین کو عدل سے بھر دے گا۔

اسی طرح امام ذہبیؒ نے بھی اس حدیث کو صحیح علی شرط مسلم تسلیم کیا ہے۔

٢٥...... "اخبرنی ابوالنضر الفقيه حدثنا عثمان بن سعيد الدارمی حدثنا عبدالله بن صالح انبانا ابو المليح الرقى حدثنی زیاد بن بيان ويذكر من فضله قال سمعت سعيد بن المسيب يقول سمعت ام سلمة تقول سمعت النبی اذ یذکر المهدی فقال نعم هو حق وهو من بنی فاطمه (مستدرك حاکم ج ٤ ص ٥٥٧ حدیث نمبر ٨٧١٦)“

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ امام ذہبیؒ نے اس پر کوئی جرح نہیں کی ہے۔ یعنی مہدی کا ظہور حق ہے اور وہ بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔

مستدرک حاکم کی یہ سب حدیثیں صحیح ہیں۔ جو صراحۃً خروج مہدی پر دلالت کرتی ہیں۔ عام طور پر لوگ حاکم کی تصحیح کا اعتبار نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ قاعدہ تو محدثین کے نزدیک مشہور ہے کہ ذہبی اور حاکم جب کسی حدیث کی تصحیح پر متفق ہو جائیں تو وہ محدثین کے نزدیک یقیناً صحیح ہوتی ہے۔ جیسے کہ مولانا تقی عثمانی کی درس ترمذی میں اس کی صراحت موجود ہے۔

(درس ترمذی ص ٥٣،٥٢، ج ١)

اسی طرح حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے بستان المحدثین میں فرمایا: ”ذهبی گفته است که حلال نیست کسی راکه بر تصحیح حاکم غره شود تاوقتیکه تعقبات وتلخیصات مرانه بیند“

(ص ١٠٩، ١١٠)

یعنی ذہبیؒ نے کہا ہے کہ جب تک میری گرفت اور بحث نہ دیکھی جائے۔ حاکم کی تصحیح پر مغرور نہ ہونا چاہئے۔ یعنی دونوں کا قول جب متفق ہو جاتا ہے۔ تو پھر وہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔

مذکورہ احادیث میں کچھ تو صحیح ہیں اور کچھ درجہ حسن کی ہیں۔ ضعیف کوئی بھی نہیں۔ لیکن اگر ضعیف ہو بھی تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے صحیح ہو جاتی ہے۔ جیسے حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے: ”وبكثرة طرقه يصحح“ (شرح نخبہ ص ٣٥) (یعنی کثرت طرق کی وجہ سے حدیث درجہ صحت تک پہنچتی ہے۔)

٣٥

صفحہ ٣٤٤

٢٦....... ”اخبرنا عبدالرزاق عن معمر عن قتادة يرفعه الى النبي ﷺ قال يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من المدينة فياتى مكة فيستخرجه الناس من بيته وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام فيبعث اليه جيش من الشام حتى اذا كانوا بالبيداء خسف بهم فياتيه عصائب العراق وابدال الشام فيبايعونه فيستخرج الكنوز ويقسم المال ويلقى الاسلام بجرانها الى الارض يعيش فى ذالك سبع سنين او قال تسع سنين

(مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٢، باب المہدی، حدیث نمبر ٢٠٩٣٤)“

یہ روایت پہلے ابوداؤد کے حوالہ سے گزر چکی ہے۔ وہاں ہم اس کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں اور اس کی صحت کے متعلق بھی مختصر کلام ہو چکا ہے۔ نیز اس روایت کی صحت کو امام ہیثمیؒ نے بھی مجمع الزوائد میں تسلیم کیا ہے۔ جیسا کہ علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی نے مصنف عبدالرزاق کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ: ”واخرجه الطبرانی ایضاً قال الهيثمی رجاله رجال الصحیح ص ٣١٥ ج ٧ نقلا عن تعلیق مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧“

٢٧....... ”اخبرنا عبدالرزاق قال اخبرنا معمر عن ابی ھارون عن معاویہ بن قرة عن ابی الصدیق الناجي عن ابی سعید الخدریؓ قال ذکر رسول اللہ ﷺ بلاء یصیب ھذہ الامة حتی لا یجد الرجل ملجأ یلجا الیه من الظلم فیبعث اللہ رجلا من عترتی من اھل بیتی فیملاً به الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا یرضی عنه سکن السماء وساکن الارض لا تدع السماء من قطرھا شیئا الا صبته مدرارا ولا تدع الارض من مائھا شیئا الا اخرجته حتی تتمنی الاحیاء الاموات یعیش فی ذلک سبع سنین او ثمان او تسع سنین

(مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٦، باب المہدی، حدیث نمبر ٢٠٩٣٥)“

یہ حدیث پہلے ابوداؤد وابن ماجہ کے حوالہ سے گزر چکی ہے اور مستدرک حاکم میں بھی ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی اس حدیث پر حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”حدیث ابی سعید روی من غیر وجه کما قال الترمذی فراجع الترمذی ص٤٦ ج٢ وابن ماجه ص ٣٠٠ والزوائد للهیثمی واما بھذا اللفظ فاخرجه الحاكم فی

٣٦

المستدرک“ (نوٹ: اس حدیث کا ترجمہ بھی

٢٨....... ”اخبرنا عبدالرزاق عن الجلد قال تكون فتنة ثم تتبعها السوط تتبعه ذباب السيف ثم تكو يجتمع الناس على خيرهم رجلا

(مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧، باب المہدی، حدیث نمبر

چوتھا بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی کے بعد لوگ ایک بہتر اور بزرگ آدمی یعنی آسانی سے آئے گی۔ یعنی خود بخود، جبکہ وہ گھر اس حدیث کے راوی سب کے سب

٢٩....... ”اخبرنا عبدالرزاق عن الخدریؓ قال ان المهدى اقنى اجلى

(حدیث نمبر ٢٠٩٣٨) ”یہ حدیث بھی ابوداؤد اس حدیث میں باقی راوی تو ثقہ جیسے کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ دوسری روای روایت بھی قابل اعتبار ہے۔

٣٠....... ”اخبرنا عبدالرزاق عن عن جابر بن عبدالله قال يكون يحثوا (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ علامہ حبیب ہے کہ: ”اخرجه البزار ومسلم ص جميعاً (مصنف ص ٣٧٣ ج ١١) ”ہاں یہ م مسلم ہے کہ غیر مدرک بالقیاس مسائل میں قو یہ حدیث ابو سعید خدریؓ سے مرفوع بھی منقول

صفحہ ٣٤٥

المستدرک" (نوٹ: اس حدیث کا ترجمہ بھی گزر چکا ہے)

.......٢٨ "اخبرنا عبدالرزاق عن معمر عن ايوب عن ابن سيرين عن ابي الجلد قال تكون فتنة ثم تتبعها اخرى لاتكن الاولى في الاخرة الا كثمرة السوط تتبعه ذباب السيف ثم تكون فتنة فلايبقى لله محرم الا استحل ثم يجتمع الناس على خيرهم رجلا تاتيه امارته هنيئا وهو في بيته (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧، باب المهدی، حدیث نمبر ٢٠٩٣٦)" ﴿تین بڑے فتنے ہوں گے اس کے بعد چوتھا بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی سب حرام کردہ چیزوں کو حلال بنا دیا جائے گا۔ اس کے بعد لوگ ایک بہتر اور بزرگ آدمی یعنی مہدی پر جمع ہو جائیں گے۔ اس کے پاس امارت آسانی سے آئے گی۔ یعنی خود بخود، جبکہ وہ گھر میں بیٹھا ہوگا۔﴾

اس حدیث کے راوی سب کے سب ثقہ ہیں۔

.......٢٩ "اخبرنا عبدالرزاق عن معمر عن مطر عن رجل عن ابي سعيد الخدری قال ان المهدی اقنی اجلی (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧، باب المهدی حدیث نمبر ٢٠٩٢٨)" یہ حدیث بھی ابوداؤد کے حوالہ سے بمعہ ترجمہ گزر چکی ہے۔

اس حدیث میں باقی راوی تو ثقہ ہیں۔ سوائے اس کے کہ ایک آدمی مجہول ہے۔ لیکن جیسے کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ دوسری روایات اس کی متابع اور مؤید موجود ہیں۔ اس لئے یہ روایت بھی قابل اعتبار ہے۔

.......٣٠ "اخبرنا عبدالرزاق عن معمر عن سعيد الجريري عن ابی نضرة عن جابر بن عبدالله قال يكون على الناس امام لايعدهم الدراهم ولكن يحثوا (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣١٧، باب المهدی، حدیث نمبر ٢٠٩٣٩)"

یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ علامہ حبیب الرحمٰن نے مصنف عبدالرزاق کے حاشیے میں لکھا ہے کہ: "اخرجه البزار ومسلم ص ٣٢٥ ج ٢ من حديث ابي سعيد وجابر جميعاً (مصنف ص ٣٧٣ ج ١٠)" ہاں یہ حدیث موقوف ہے۔ لیکن یہ بات محدثین کے نزدیک مسلم ہے کہ غیر مدرک بالقیاس مسائل میں قول صحابی مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ حدیث ابو سعید خدری سے مرفوع بھی منقول ہے۔

٣٧

PDF 347

فاسق و فاجر

ایسا شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ق....... شریعت کی نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی رہتا ہے شریعت کے بعض ا چھوڑے وہ دونوں صورتوں میں وہ فا اور جو شخص بے جا وظائف شرعیہ کا اور توجیہہ نہ کر سکے یہ کبائر کی ایک قسم یہ عہد میں کروں گا، الٰہی یہ گناہ کر لوں کروں پھر توبہ کر لوں گا، جب شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے ک کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ ک ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا مجلس میں کیسا ہے؟ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناچ گانا میوزک سننا، کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟

ج....... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

اس حدیث میں بھی اگر چہ نام کی صراحت موجود نہیں ہے۔ لیکن امام عبدالرزاق اور مسلم وغیرہ کا اس کو خروج مہدی کے باب میں نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں ”امام“ کے لفظ سے مہدی ہی مراد ہے۔

بن عباس قال لا يخرج المهدى حتى تطلع مع الشمس آية“ (مصنف عبدالرزاق ج١٠ ص٣٧، باب المہدی، حدیث نمبر٢٠٩٣٠) یعنی مہدی اس وقت تک ظاہر نہیں ہوں گے جب تک سورج کے ساتھ کسی نشانی کا طلوع نہ ہو۔ یہ روایت بھی صحیح ہے اور اس کے راوی قابل اعتبار ہیں۔ عبدالرزاق اور معمر بخاری اور مسلم کے مشہور راوی ہیں۔ علی بن عبداللہ بن عباسؓ کے متعلق حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے: ”ثقة عابد“ (ص٤٢٧) نیز ان پر ثقہ، عدل کی علامتیں بتائی ہیں۔ یعنی مسلم، بخاری کے ادب المفرد اور سنن اربعہ کے راوی ہیں اور ابن طاؤس کا نام عبداللہ بن طاؤس ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب میں ان کے متعلق لکھا ہے: ”ثقة عابد فاضل“ (ص١٧٧) یعنی ثقہ اور قابل اعتبار ہیں۔

یہ روایت اگرچہ مرسل ہے۔ لیکن مرسل جمہور کے نزدیک حجت ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک بھی جب مرفوع سے تائید ہو جائے تو پھر حجت ہے۔ جیسے کہ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں لکھا ہے: ”وقال بعض الائمة المرسل صحيح يحتج به وهو مذهب ابى حنيفة ومالك واحمد فى روايته المشهورة حكاه النووى وابن القيم وابن كثير وغيرهم وجماعة من المحدثين وحكاه النووى فى شرح المذهب من كثير من الفقهاء ونقله الغزالى عن الجماهير (مقدمه فتح الملهم ص٣٧ج١)“ یعنی بعض آئمہ نے کہا ہے کہ مرسل حدیث حجت ہے۔ یہ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور مشہور روایت کے مطابق امام احمدؒ کا مذہب ہے۔ جیسے کہ امام نوویؒ، امام ابن قیمؒ اور ابن کثیرؒ نے نقل کیا ہے اور نوویؒ نے شرح مہذب میں اس کو بہت سے فقہاء سے اور امام غزالیؒ نے جمہور سے نقل کیا ہے۔

اسی طرح اس روایت کی تائید ہماری نقل کردہ مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ تو پھر امام شافعیؒ کے نزدیک بھی حجت ہوگی۔ جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے شرح نخبۃ الفکر میں لکھا ہے:

٣٨

”وثانيهما وهو قول المالكين والكوف اعتضد بمجيئه من وجه اخريـ يترجح احتمال كون المحذوف ثقة فـ یعنی امام احمدؒ بن حنبل کا قول ثانی ا ہے کہ حدیث مرسل حجت ہے اور امام شافعیؒ فر جائے تو پھر حجت ہوگی۔ چاہے دوسری سند مسند

ينزل ابن مريم عليه ممصرتان بين ا بل يصلى بكم امامكم انتم امر ج١٠ ص٤٣٥، باب الدجال، حدیث نمبر اور ان کے اوپر دو زرد قسم کے کپڑے ہوں گے ان سے کہیں گے کہ نماز کے لئے آگے آجائـ ایک دوسرے کے امام ہو، تمہارا امام نماز پڑھائـ اس حدیث میں جو امام نماز پڑھائـ عبدالرزاق میں اس روایت کے بعد دوسری رو قال كان ابن سيرين يرى انه ا عبدالرزاق ج١٠ ص٤٣٥، باب الدجال امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ امام مہدی ہو یہ روایت صحیح ہے۔ علامہ حبیب الر ”اخرج بعض معناه البـ هريرة واحمد من حديث جابر وبعـ یعنی اس روایت کے کچھ حصوں کی روایت موجود ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ روایت بـ

صفحہ ٣٤٧

”وثانيهما وهو قول المالكين والكوفيين يقبل مطلقا وقال الشافعى يقبل ان اعتضد بمجيئه من وجه آخر ببيان الطريق الاولى مسندا كان او مرسلا يترجح احتمال كون المحذوف ثقة فى نفس الامر (ص٥٥)“

یعنی امام احمد بن حنبل کا قول ثانی اور مالکیہ اور کوفین یعنی امام ابو حنیفہ وغیرہ کا قول یہ ہے کہ حدیث مرسل حجت ہے اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب دوسری سند سے اس کی تائید ہو جائے تو پھر حجت ہوگی۔ چاہے دوسری سند مسند ہو یا مرسل۔

ينزل ابن مريم عليه ممصرتان بين الاذان والاقامة فيقولون له تقدم فيقول بل يصلى بكم امامكم انتم امراء بعضكم على بعض (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣٣٥، باب الدجال، حديث نمبر ٢١٠٠٢)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور ان کے اوپر دوزرد قسم کے کپڑے ہوں گے۔ اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت ہوگا۔ لوگ ان سے کہیں گے کہ نماز کے لئے آگے آجائیے، وہ فرمائیں گے کہ نہیں! تم اس امت کے لوگ ایک دوسرے کے امام ہو، تمہارا امام نماز پڑھائے۔

اس حدیث میں جو امام نماز پڑھائیں گے۔ وہ امام مہدی ہوں گے۔ جیسے کہ مصنف عبدالرزاق میں اس روایت کے بعد دوسری روایت ہے کہ: ”اخبرنا عبدالرزاق عن معمر قال كان ابن سيرين يرى انه المهدى الذى يصلى وراه عيسىٰ (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣٣٥، باب الدجال، حديث نمبر ٢١٠٠٣)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام جس امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ امام مہدی ہوں گے۔

یہ روایت صحیح ہے۔ علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی اس روایت کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ:

”اخرج بعض معناه البخاري ص ٣١٧ج٦ ومسلم من حديث أبي هريرة واحمد من حديث جابر وبعضه مسلم من حديث جابر ص ٧٨ ج ١ .“

یعنی اس روایت کے کچھ حصوں کی تخریج بخاری نے کی ہے اور مسلم اور مسند احمد میں بھی روایت موجود ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل صحیح ہے۔

٣٩

فاسق و فاجر ایوان س ...... فاسق و فاجر ج ...... شریعت کی شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی رہتا ہے۔ شریعت کے بعض ا چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق شخص ہے۔ شریعت کی اصط اور قید نہ کرے یہ سوچ کر کہ ابھی تو زند ہے بعد میں کرلوں گا، ابھی یہ گناہ کرلوں کرلوں پھر توبہ کرلوں گا، جب شریعت کا کرے کہ ایک مسلمان ہر وقت شریعت کا کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س ...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ کیا کسی تقریب میں تالیاں بجانا بالکل ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست نہیں، اسی طرح ناچنا گانا بھی جائز نہیں۔ کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج ...... تالیاں بجانا کفار اور منافق کا طریقہ ہے، اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

جو نہیں ہے۔ لیکن امام عبدالرزاق اور بات کی دلیل ہے کہ اس میں ”امام“ کے

ی طاؤس عن على بن عبدالله مع الشمس آية“ (مصنف عبدالرزاق وقت تک ظاہر نہیں ہوں گے جب تک ہے اور اس کے راوی قابل اعتبار ہیں۔ دی ہیں۔ علی بن عبداللہ بن عباس کے ثقہ عابد“ (ص ٢٤٧) نیز ان پر جرح اور سنن اربعہ کے راوی ہیں اور ابن ب میں ان کے متعلق لکھا ہے: ”ثقة

کے نزدیک حجت ہے۔ امام شافعی کے جیسے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے مقدمہ صحيح يحتج به وهو مذهب رة حكاه النووى وابن القيم عاه النووي في شرح المذهب (مقدمه فتح الملهم ص ٣٤ ج ١)“ ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور نووی، امام ابن قیم اور ابن کثیر نے باء سے اور امام غزالی نے جمہور سے

ں حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ تو پھر ر نے شرح نخبۃ الفکر میں لکھا ہے:

صفحہ ٣٤٨

عن ابی هريرة رض قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف بكم اذانزل فيكم ابن مريم حكما فامكم اوقال امامكم منكم (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣٣٥، ٣٣٦، باب نزول عيسى، حديث نمبر ٢١٠٠٥) ”یعنی کیسے ہوگے تم جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام فیصلہ والے بن کر اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“

اس روایت میں امام سے مراد امام مہدی ہیں۔ جیسے کہ اس سے پہلے ابن سیرین کا قول مصنف عبدالرزاق کے حوالے سے گزر چکا ہے۔

(مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣٣٥)

نیز یہ روایت بھی صحیح ہے۔ کیونکہ بخاری و مسلم دونوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ جیسے مصنف عبدالرزاق کے محشی علامہ حبیب الرحمٰن اعظمی نے لکھا ہے: ”اخرجه الشيخان لفظ البخارى ومسلم امامكم منكم (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ٣٣٥)“ یعنی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی مروی ہے اور بخاری و مسلم دونوں میں لفظ امامکم منکم مروی ہے۔

٣٤...... ”حدثنا عمرو الناقد وابن ابی عمرو واللفظ لعمر وقالا حدثنا سفيان بن عيينة عن امية بن صفوان سمع جده عبدالله بن صفوان يقول اخبرتني حفصة انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليؤمن هذا البيت جيش يغزون حتى اذا كانوا ببيداء من الارض يخسف بهم باوسطهم وينادى اولهم آخرهم ثم يخسف بهم فلا يبقى الا الشريد الذى يخبر عنهم فقال رجل اشهد عليك انك لم تكذب على حفصة واشهد على حفصة انها لم تكذب على النبي صلى الله عليه وسلم (صحيح مسلم ص ٣٨٨ ج ٢، کتاب الفتن)“

٣٥...... ”وحدثنی محمد بن حاتم بن ميمون حدثنا الوليد بن صالح حثنا عبيد الله بن عمرو انبانا زيد بن ابی انیسه عن عبدالملك العامرى عن يوسف بن مالك قال اخبرني عبدالله بن صفوان عن ام المومنين ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سيعوذ بهذا البيت يعنى الكعبة قوم لسيت لهم منعة ولاعدد ولا عدة يبعث اليهم جيش حتى اذا كانوا ببيداء من الارض خسف بهم قال يوسف واهل الشام يومئذ يسيرون الى مكة فقال عبدالله بن صفوان ام والله ماهو بهذا الجيش الذى نكره عبدالله بن صفوان (مسلم ص ٣٨٨ ج ٢، کتاب الفتن)“

٤٠

صفحہ ٣٤٩

نزل فيكم ابن مريم ٣٣٠،٣٢، باب نزول علیہ السلام فیصلہ والے

پہلے ابن سیرین کا قول بدالرزاق ج ١٠ص ٣٤٥) کی تخریج کی ہے۔ جیسے يه الشيخان لفظ ٣٢) “ یعنی یہ حدیث مروی ہے۔

لعمر وقالا حدثنا بن صفوان يقول هذا البيت جيش لهم وينادى اولهم فقال رجل اشهد نها لم تكذب على

ید بن صالح حثنا عامري عن يوسف ن رسول الله ﷺ دد ولا عدة يبعث سف واهل الشام بهذا الجيش الذي

ان دونوں روایتوں کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک لشکر بیت اللہ کا قصد کرے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو بیداء کے مقام پر زمین میں دھنسا دیں گے۔ آگے عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ اس سے شامیوں کا وہ لشکر مراد نہیں جو عبداللہ بن زبیر کے دور میں بیت اللہ کے پاس ان کے مقابلے کے لئے آیا تھا۔

ان دونوں روایتوں میں اگر چہ مہدی کی صراحت نہیں ہے۔ لیکن ان دونوں صحیح روایتوں میں وہ صفات مذکور ہیں۔ جو مہدی کے نام کے صراحت سے احادیث میں مذکور ہیں۔ جس سے صرف اتنا ثابت کرنا مقصود ہے کہ مہدی کے متعلق وہ روایتیں جو پہلے ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے گزر چکی ہیں۔ وہ بے اصل نہیں۔ بلکہ ان کی مؤید روایتیں مسلم میں بھی موجود ہیں۔ نیز یہ کہ مسلم ہی میں ان روایتوں کے بعد جو روایت مروی ہے۔ جس کو ہم آگے چل کر نقل کریں گے اس میں ”رجل من قريش“ کے الفاظ موجود ہیں۔ جس سے محدثین کی تصریح کے مطابق مہدی ہی مراد ہے۔ تو گویا ان حدیثوں کا تعلق بھی ظہور مہدی کے ساتھ ہے۔ نیز یہ کہ حدیث کے ساتھ تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ امام مسلم کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مبہم روایتوں کو پہلے نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد اس روایت کی تشریح کے دوسری روایتیں نقل کرتے ہیں اور ان روایتوں کے بعد امام مسلمؒ نے ”من رجل قريش“ والی روایت نقل کی ہے۔ جس میں گویا اس طرف اشارہ ہے کہ ان روایتوں کا تعلق بھی ظہور مہدی ہی سے ہے۔

٣٦...... ”حدثنا ابوبكر بن ابی شيبة حدثنا يونس بن محمد حدثنا القاسم بن الفضل الحراني عن محمد بن زياد عن عبدالله بن الزبير ان عائشة قالت لعبث رسول الله ﷺ في منامه فقلنا يا رسول الله صنعت شيئا في منامك لم تكن تفعله فقال العجب ان ناسا من امتى يؤمون البيت برجل من قريش قد لجأ بالبيت حتى اذا كانوا بالبيداء خسف بهم فقلنا يارسول الله ان الطريق قد يجمع الناس قال نعم فيهم المستبصر والمجبور وابن السبيل يهلكون مهلكا واحدا ويصدرون من مصادر شتى يبعثهم الله على نياتهم (مسلم ص ٣٨٨ ج ٢، کتاب الفتن)“

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نیند میں ہل گئے اور مضطرب

٤١

فاسق و فاجر

ایویں س....... فاسق و فاجر ج....... شریعت کی شخص اگر گناہ کا عادی ہے اور علانیہ گناہ عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی رہتا ہے، شریعت کے بعض احکاما چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق شخص پر جو شریعت کے خلاف شرعاً اور توبہ سے یہ مراد کہ اسے اچھی طرح کے بعد میں کرلوں گا، یا کسی گناہ کو ہو کرلوں گا پھر توبہ کرلوں گا، جب کہ شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ ہو جائے تو فوراً توبہ واستغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا، اسلام میں کیا ہے؟

س....... تالیاں بجانا، اسلام میں کیا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجانا کیسا ہے؟ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیاں بجانا کیا مبارک شادیاں منانے کے لئے جائز ہے؟ ج....... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

صفحہ ٣٥٠

ہوئے تو ہم نے پوچھا کہ آج آپ نے ایسا کام کیا جو آپ نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ فرمایا :ہاں تعجب ہے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ قریش کے ایک آدمی کو قتل کرنے کے لئے بیت اللہ کا قصد کریں گے جبکہ اس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگی۔ یہاں تک یہ لشکر جب بیداء تک پہنچے گا تو زمین میں دھنس جائے گا۔

اب اس حدیث میں رجل من قریش سے مراد مہدی ہیں۔ اس لئے کہ عبداللہ بن زبیر سے لڑنے کے لئے لشکر تھا وہ تو زمین میں نہیں دھنسا تھا۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ نیز لشکر کی یہ صفات ان احادیث میں مروی ہیں۔ جس میں مہدی کے نام کی صراحت بھی ہے اور ان احادیث کی محدثین نے خروج مہدی کے ابواب میں نقل بھی کیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قریش کے اس آدمی سے مراد مہدی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!

اسماعيل بن ابراهيم عن الجريرى عن ابي نضرة قال كنا عند جابر بن عبدالله فقال يوشك اهل العراق ان لايجيء اليهم قفيز ولا درهم قلنا من اين ذاك قال من قبل العجم يمنعون ذاك ثم قال يوشك اهل الشام ان لا یجیء اليهم دينار ولا مدى قلنا من اين ذاك قال من قبل الروم ثم سكت هنية ثم قال قال رسول الله ﷺ يكون فى اخر امتى خليفة يحثى المال حثيا ولا يعده عدا قال قلت لابي نضرة وابى العلاء اتريان انه عمر بن عبدالعزيز فقال لا (صحیح مسلم ص٣٩٥ج٢،کتاب الفتن)"

یعنی حضرت جابرؓ فرماتے ہیں بقریب ہے کہ اہل عراق کے پاس نہ درہم و دینار آئیں گے نہ کچھ غلہ، کسی نے پوچھا کہ یہ مصیبت کس کی طرف آئے گی۔ کہا کہ عجم کی طرف سے، پھر فرمایا کہ قریب ہے کہ اہل شام کی بھی یہی حالت ہوگی، تو کسی نے پوچھا کہ یہ کس کی طرف سے؟ کہا کہ اہل روم کی طرف سے۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں آکر ایک خلیفہ ہوگا جو مال کو بغیر گنے تقسیم کرے گا۔ جریدی کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ اور ابوالعلاء سے پوچھا کہ کیا اس خلیفہ سے مراد عمر بن عبدالعزیز ہیں تو فرمایا نہیں۔

اس حدیث میں خلیفہ سے محدثین کی تصریحات کے مطابق مہدی مراد ہیں۔ کیونکہ اس

٤٢

حدیث کو ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے۔

حدثنا على بن حجر حدثنا اسماعی يزيد عن ابي نضرة عن ابی سعی خليفة يحثو المال حثيا ولا یعدہ (صحیح مسلم ص٣٩٥ج٢،کتاب الفتن

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہار تقسیم کریں گے۔ اس حدیث میں بھی ساب

ابی حدثنا داؤد من ابي نضرة ع رسول الله ﷺ يكون في اخرالز ص٣٩٥ج٢،کتاب الفتن)'' اس حدی حدیث میں بھی خلیفہ سے مراد مہدی ہیں۔ کمـ

يونس عن ابن شهاب قال اخبرن هريرة قال قال رسول الله ﷺ کی منکم (صحیح مسلم ص٧٨ج١،باب نزو عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور تمہارا امام تم میں س مہدی ہیں۔ جیسے کہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثما

قالوا حدثنا حجاج وهو ابن محمد ع سمع جابر بن عبدالله يقول سمع

فاسق و فاجر

فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان ہو کر احکام شریعت کی نافرمانی کرے، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہتا ہے۔ شریعت کے بعض احـ کام کو چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ فا سق اور تارک سنت ہے یہ خلاف شرع کا کام کرے اور توبہ نہ کرے یہ گناہ کی تاکید کرتا ہے، بعد میں کرلوں گا، ابھی سے کیا توبہ کروں، پھر توبہ کرلوں گا، جب شریعت کا مذاق اڑا کر ایک مسلمان پر وحشت طاری ہوتی ہے ایسا نہ کرے، اور اگر کبھی غلطی سے ہو جائے تو فورا توبہ واستغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا مجلس میں؟ یا کیا ایسی جگہ بھی اسی طرح غازی یا پیر کے عرس پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناجائز کاموں پر تالیاں بجانا مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟

ج....... تالیاں بجانا کفار اور فساق کا طریقہ ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں

صفحہ ٣٥١

حدیث کو ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ نے مہدی کے صفات میں خروج مہدی کے باب میں ذکر کیا ہے۔

حدثنا علی بن حجر حدثنا اسماعیل یعنی ابن علیة کلا هما عن سعید بن یزید عن ابی نضرة عن ابی سعید قال قال رسول الله ﷺ من خلفائکم خلیفة يحثو المال حثیا ولا یعده عددا وفى روایة ابن حجر یحثی المال (صحیح مسلم ص٣٩٥ج٢،کتاب الفتن)“

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے خلفاء میں ایک خلیفہ ہوں گے جو مال کو بغیر گنے، تقسیم کریں گے۔ اس حدیث میں بھی سابق تفصیل کے مطابق خلیفہ سے مراد مہدی ہیں۔

ابی حدثنا داؤد من ابی نضرة عن ابی سعید وجابر بن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ یکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولایعده (مسلم ص٣٩٥ج٢،کتاب الفتن)“ اس حدیث کا بھی وہی مطلب ہے جو گزشتہ حدیثوں کا تھا۔ اس حدیث میں بھی خلیفہ سے مراد مہدی ہیں۔ کما بیناہ!

یونس عن ابن شهاب قال اخبرنی نافع مولی ابی قتادة الانصاری ان ابا هریرة قال قال رسول الله ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (صحیح مسلم ص٢٨ج١،باب نزول عیسی) ”یعنی کیا حال ہوگا تمہارا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ اس سے مراد مہدی ہیں۔ جیسے کہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے فتح الملہم میں لکھا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتح الملہم ص٣٠٣ج١)

قالوا حدثنا حجاج وهو ابن محمد عن ابن جریج قال اخبرنی ابو الزبیر انه سمع جابر بن عبدالله یقول سمعت النبی ﷺ یقول لا تزال طائفة من امتی

٤٣

صفحہ ٣٥٢

يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة

(مسلم ص ٢٧٨ ج ١، باب نزول عیسی)“

﴿یعنی حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا فرما رہے تھے کہ ہمیشہ میری امت میں ایک جماعت حق کے لئے لڑتی رہے گی اور وہ غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے تو مسلمانوں کے امیر ان سے عرض کریں گے کہ آیئے نماز پڑھایئے۔ وہ فرمائیں گے کہ نہیں اس امت کے لوگ خود بعض بعض کے لئے امام اور امیر ہیں۔﴾

اس حدیث میں بھی مسلمانوں کے امیر سے مراد مہدی ہیں۔ جیسے کہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے فتح الملہم میں لکھا ہے کہ: ”قوله فيقول اميرهم الخ هو امام المسلمين المهدى الموعود المسعود (فتح الملہم شرح صحیح مسلم ص ٣٠٤ ج ١) “ علامہ شبیر احمد عثمانی کی ان عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ سب احادیث جن میں امیر یا خلیفہ کا لفظ مبہم مذکور ہے۔ اس سے مراد مہدی ہیں۔

من الناس وزلزال فيملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا ويرضى ساكن السماء وساكن الارض ويقسم المال سماحا بالسوية ويملأ قلوب امة محمد غنى ويسعهم عدله حتى انه يأمر مناديا ينادى من له حاجة الى فما يأتيه احد الا رجل واحد يأتيه فيسئله فيقول ائت الخازن حتى يعطيك فيأتيه فيقول انا رسول المهدى فيلقى حتى يكون قدر مايستطيع ان يحمله فيخرج به فيندم فيقول انا كنت اجشع امة محمد نفسا كلهم دعى الى هذا المال فتركه غيرى فيرد عليه فيقول انا لا نقبل شيئا اعطيناه فيلبث في ذالك ستا او سبعا او ثمانيا او تسع سنين ولا خير فى الحيوة بعده (منتخب

كنز العمال على هامش مسند احمد ص ٢٩ ج ٢) “

﴿ابو سعید الخدریؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خوشخبری قبول کرو مہدی کے ساتھ کہ میرے اہل میں سے ہوگا اور اس کا ظہور امت کے اختلاف اور زلزلوں کے وقت ہو

٤٤

صفحہ ٣٥٣

گا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم و زیادتی سے بھر چکی ہوگی۔ زمین و آسمان کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے اور مال برابر اور عدل سے تقسیم کرے گا اور امت محمدی کے دلوں کو مستغنی کر دے گا۔ یہاں تک کہ ان کا منادی آواز دے گا کہ اگر کسی کو کوئی حاجت ہو تو میرے پاس آئے، سوائے ایک آدمی کے اور کوئی نہیں آئے گا وہ ایک آدمی آکر ان سے سوال کرے گا تو وہ فرمائیں گے کہ میرے خزانچی کے پاس جاؤ۔ وہ جائے گا تو خزانچی سے کہے گا کہ میں مہدی کا فرستادہ ہوں۔ مجھے مال دے دے۔ وہ کہے گا لے لو۔ تو وہ اتنا اٹھا لے گا کہ اٹھا نہیں سکے گا۔ پھر اس کو کم کرے گا۔ اتنا لے گا جتنا اٹھا سکے گا۔ پھر باہر جا کر نادم ہو جائے گا کہ پوری امت کو آواز دی گئی۔ سوائے میرے کوئی نہیں آیا۔ تو وہ مال واپس کرنا چاہے گا ۔ لیکن خزانچی کہے گا نہیں ہم جب کچھ دیتے ہیں تو پھر واپس نہیں لیتے۔ مہدی چھ، سات، آٹھ یا نو سال تک رہے گا۔

یہ حدیث منتخب کنز العمال میں محدث علی متقی نے مسند احمد کے حوالے سے نقل کی ہے:۔ "وكل ما كان في مسند احمد فهو مقبول فان الضعيف الذي فيه يقرب من الحسن (منتخب کنز العمال علی هامش مسند احمد)“ یعنی جو حدیث مسند احمد کی ہوگی۔ وہ مقبول ہے۔ اس میں اگر ضعیف بھی ہو تو وہ درجہ حسن کے قریب ہوتی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث بہر حال مقبول ہے۔ نیز یہ حدیث ان ہی الفاظ کے ساتھ (مسند احمد ص ٥٢ ج ٣) میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی۔ رواۃ کی تفصیل یہ ہے:

"اصله من خراسان وكان بالكوفة ورحل في الحديث فاكثر منه وهو صدوق (ج ١ ص ١٩٠)“ یعنی اصلاً یہ خراسان کے باشندے تھے۔ لیکن کوفہ میں رہتے تھے اور سچے تھے۔ نیز حافظ ابن حجرؒ کی تصریح کے مطابق یہ مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ گویا ان سب کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔

ثبت فقيه (ج ١ ص ١٣٧)“ یعنی قابل اعتماد اور فقیہ تھے۔

٤٥

صفحہ ٣٥٤

فاسق و فاجر ایمان ....... شخص کو کہا جائے جو مسلمان ....... یہ کہ رقص کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ....... دیتا ہے۔ شریعت کے بعض احکام ....... چھوڑے، دونوں صورتوں میں گناہ گار ....... اور فاسق ہے۔ جو طائف شرعاً کفر ....... اسے ثواب سمجھ کر کرے گا، تب بھی گناہ گار ....... ہے، بعد میں کروں گا، تب بھی گناہ گار ہو ....... کہے گا، تو کافر ہو جائے گا، جب کہ شریعت کا ....... کر کے ایک مسلمان اور سنت رسول سے بچنے کا ....... ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ ....... معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س..... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا مجلس میں یا بچوں کو کھلانے وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح ناچنا گانا میوزک سننا کیا اسلام میں اس کے لئے جائز ہے؟ ج..... تالیاں بجانا کفار اور منافقین کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

”صدوق قلیل الحديث زاهد (ج٢ص٥٩٦)“ یعنی سچے اور زاہد ہیں اور بہت کم حدیث نقل کرتے ہیں۔ خلاصہ تہذیب تہذیب الکمال میں خزرجی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ: ”وثقة ابو حاتم (ص٢٨٣)“ یعنی ابو حاتم نے ان کو قابل اعتماد کہا ہے۔ نیز یہ کہ امام بخاریؒ نے بھی ان سے تعلیقا صحیح البخاری میں روایت لی ہے اور مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔

اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں ان کی توثیق کی ہے۔ (تقریب التہذیب ج١ص٧٤) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی قابل اعتماد اور صحیح ہے۔

فيها خليفة الله المهدى (منتخب كنز العمال ص٢٩ج٦،علی هامش مسند احمد)“ یعنی جب تم کالے جھنڈے دیکھ لو کہ خراسان کی طرف سے آئے تو اس کی طرف چلے جاؤ۔ اس لئے کہ اس میں خدا کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔

اس روایت کو صاحب منتخب نے مسند احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور مستدرک حاکم ، بخاری ، مسلم، صحیح ابن حبان اور مختارہ ضیاء مقدسی کے متعلق مصنف نے امام سیوطیؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ”مافى الكتب الخمسة خ م حب ك ض صحيح فالعزو اليها معلم بالصحة سوى مافى المستدرك من المتعقب فانبه عليه (منتخب کنزل العمال ص٢٩ج٦، علی هامش مسند احمد ج١)“ یعنی بخاری ، مسلم، صحیح ابن حبان، مستدرک اور ضیاء مقدسی کے مختارہ سے جب ہم روایت نقل کریں گے اور ان کتابوں کی طرف منسوب کریں گے۔ تو یہ اس روایت کی صحت کی علامت ہے۔ ہاں مستدرک کی وہ روایات جن پر جرح ہے۔ اس پر تنبیہ کروں گا اور اس روایت پر کوئی تنبیہ نہیں کی گئی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ روایت قابل اعتبار ہے۔ نیز یہ روایت مسند احمد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: ”حدثنا وكيع عن الاعمش عن سالم عن ثوبان قال قال رسول الله اذا رأيتم رايات السود قد جاءت من قبل خراسان فائتوها فان فيها خليفة الله المهدى (ص٢٧٧ج٥)“ اس روایت کے راوی سب ثقہ ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے:

......١ وکیع : ان کا نام وکیع بن الجراح

ان کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے

بن محرز ہو تو یہ دونوں بھی ثقہ ہیں۔

......٢ اعمش: ان کا نام سلیمان بن م

نے لکھا ہے کہ: ”ثقه حافظ عارف با

......٣ سالم: سالم سے مراد سالم بن

خزرجی نے خلاصہ میں لکھا ہے: ”قال اح

منه “ یعنی امام احمد نے فرمایا کہ ان کی ملا

کہ انہوں نے ثوبان سے نہیں سنا۔ تو اس

ثوبانؓ سے بالواسطہ نقل کی ہے۔ تو منقطع

درمیان معدان بن ابی طلحہ موجود ہے۔ جیس

اور ثوبانؓ کے درمیان معدان بن ابی طلحہ م

ہی سے لی ہے۔

البتہ ان کی عادت ارسال کی

نام ذکر نہیں کیا اور اگر تدلیس بھی ہے۔ تو

جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے معدان کے متعلق

ص٥٩٤) یعنی معدان بن ابی طلحہ شامی ث

صورت تدلیس کی محدثین کے نزدیک قا

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ

ابوزرعہ، یحییٰ بن معین اور امام نسائی نے

طرح معدان کی توثیق بھی عجلی اور ابن ح

مستدرک حاکم میں ثوبان سے بجائے

ہے۔ (مستدرک حاکم ص٥٠٢ ج٤)

ابو قلابہ سے نقل کرنے والے

٤٦

صفحہ ٣٥٥

فاسق وفاجر

س...... فاسق وفاجر کس شخص کو کہا جاتا ہے جو مسلمان پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ن رہتا ہے۔ شریعت کے بعض اح چھوڑے وہ دونوں صورتوں میں فاسق و فا اور فاسق وہ شخص ہے جو شریعت کے احکام اور عقیدہ کے پہلو میں گمراہ بھی ہو۔ تو جب کے بعد میں کروں گا، اگلی بار گناہ کروں گ کروں گا، پھر توبہ کروں گا، جب کہ شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ اور استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں، فنکشن میں یا بچوں کو کھلانے وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیاں بجانا کا بھونڈا مذاق مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو......

...نی سچے اور زاہد ہیں اور بہت کم حدیث ...نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ: ”وثقة ...لکھا ہے۔ نیز یہ کہ امام بخاریؒ نے بھی ...اربعہ کے راوی ہیں۔ ...یہ سنن اربعہ یعنی ابو داؤد، ترمذی، نسائی ...ب میں ان کی توثیق کی ہے۔ (تقریب ...ھی قابل اعتماد اور صحیح ہے۔ ...ن قبل خراسان فائتو ها فان ...٦، علی هامش مسند احمد)“ ...طرف سے آئے تو اس کی طرف چلے

...رک حاکم کے حوالہ سے نقل کیا ہے ...مقدسی کے متعلق مصنف نے امام ...سه؟ خ م حب ك ض صحيح ...درك من المتعقب فانبه عليه ...ج١)“ ...ضیاء مقدسی کے مختارہ سے جب ہم ...گے ۔ تو یہ اس روایت کی صحت کی ...اس پر تنبیہ کروں گا اور اس روایت پر ...ر ہے۔ نیز یہ روایت مسند احمد میں صحیح ...عن سالم عن ثوبان قال قال ...ن قبل خراسان فائتو هافان ...کے راوی سب ثقہ ہیں۔ تفصیل

ان کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے: ”ثقة“ (ج ص ٦٤٩) نیز اگر وکیع بن عدس ہو یا وکیع بن محرز ہو تو یہ دونوں بھی ثقہ ہیں۔

نے لکھا ہے کہ: ”ثقه حافظ عارف بالقراءة ورع“ یعنی قابل اعتماد ہیں۔

خزرجی نے خلاصہ میں لکھا ہے: ”قال احمد: لم يلق ثوبان وقال البخاری لم یسمع منه“ یعنی امام احمد نے فرمایا کہ ان کی ملاقات ثوبان سے ثابت نہیں ہے اور امام بخاری نے فرمایا کہ انہوں نے ثوبان سے نہیں سنا۔ تو اب اس روایت پر اعتراض ہوگا کہ یہ روایت انہوں نے ثوبانؓ سے بالواسطہ نقل کی ہے۔ تو منقطع ہوگئی۔ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے اور ثوبان کے درمیان معدان بن ابی طلحہ موجود ہے۔ جیسے کہ خود مسند احمد (ص ٢٧٦، ٢٨٠، ٢٨١ ج ٥) میں سالم اور ثوبانؓ کے درمیان معدان بن ابی طلحہ موجود ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی سالم نے معدان ہی سے لی ہے۔

البتہ ان کی عادت ارسال کی تھی یا یہ کہ معدان ان کے مشہور استاد تھے۔ اس لئے ان کا نام ذکر نہیں کیا اور اگر تدلیس بھی ہے۔ تو تدلیس ثقہ سے ہوگی۔ اس لئے کہ معدان بھی ثقہ ہے۔ جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے معدان کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا کہ: ”شامى ثقه“ (ج ٢ ص ٥٩٤) یعنی معدان بن ابی طلحہ شامی ہیں اور قابل اعتبار ہیں۔ تو تدلیس ثقہ سے ہے اور ایسی صورت تدلیس کی محدثین کے نزدیک قابل اعتبار ہوتی ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بہرحال قابل اعتبار ہے۔ نیز سالم کی توثیق، ابو زرعہ، یحییٰ بن معین اور امام نسائی نے کی ہے۔ تو وہ خود بھی ثقہ ہیں۔ (حاشیہ خلاصہ ص ٣١) اس طرح معدان کی توثیق بھی عجلی اور ابن سعد نے کی ہے۔ (حاشیہ خلاصہ ص ٣٨٢) نیز یہ کہ یہ حدیث مستدرک حاکم میں ثوبان سے بجائے معدان بن ابی طلحہ کے ابوالسماء الرحبی نے نقل کی ہے۔ (مستدرک حاکم ص ٥٠٢ ج ٤)

ابو قلابہ سے نقل کرنے والے خالد الحذاء ہیں۔ ان کا نام خالد بن مہران ہے۔ حافظ ابن

٤٧

صفحہ ٣٥٦

حجر نے ان کے متعلق لکھا ہے: ”ثقہ“ (تقریب التہذیب ج ص ١٥٣) یعنی قابل اعتماد ہیں۔ اسی طرح خلاصہ للخزرجی میں ان کی توثیق منقول ہے۔ (١٠٣) اسی طرح تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے لکھا کہ یحییٰ بن معین، نسائی، امام احمد وغیرہ نے توثیق کی ہے۔ (حاشیہ خلاصہ للخزرجی ص ١٠٣) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ روایت صرف سالم بن ابی الجعد سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا متابع مستدرک کی روایت میں موجود ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!

ملوك ومن بعد الملوك جبابرة ثم يخرج رجل من اهل بيتي يملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت جورا ثم يؤمر بعده القحطان فوالذي بعثني بالحق ما هو بدونه (كنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٥ ، باب خروج المهدی، حدیث نمبر ٣٨٦٦٧)“

﴿یعنی نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ پھر ان کے بعد امیر ہوں گے۔ پھر ان کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ پھر ان کے بعد جابر بادشاہ ہوں گے۔ پھر میرے اہل میں سے ایک آدمی نکلے گا وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ جیسے وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ ان کے بعد قحطانی امیر ہوں گے۔ وہ عدل میں ان سے کم نہیں ہوں گے۔

اس روایت میں بھی ”رجل من اھل بیتی“ سے مراد مہدی ہیں۔ مصنف کا اس کو مہدی کے باب میں نقل کرنا اس کی دلیل ہے۔ نیز یہ روایت قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ اس روایت کو طبرانی کبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور مصنف کے حوالے سے پہلے ہم نقل کر چکے ہیں۔ چونکہ طبرانی کی روایت اگر ضعیف ہوتی تو وہ اس پر تنبیہ کرتے ہیں۔ لیکن اس روایت کے بعد کوئی تنبیہ نہیں کی ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت ان کے نزدیک قابل اعتبار ہے۔

من ولدك مرفقا رضيا مرضيا (منتخب کنز العمال ص ٣١ ج ٦)“ ﴿نبی کریمﷺ نے حضرت عباسؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے چچا! کیا آپ نہیں جانتے کہ مہدی آپ کی اولاد میں سے ہوگا۔﴾

اس روایت کے متعلق صاحب منتخب نے آخر میں لکھا کہ ”رجال سنده ثقات (ص٣١ ج٦)“ یعنی اس حدیث کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔

٤٨

صفحہ ٣٥٧

اس حدیث میں فرمایا کہ مہدی عباس کی اولاد سے ہوں گے۔ تو ممکن ہے کہ ماں کی طرف سے حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں اور باپ کی طرف سے حضرت عباس کی اولاد میں سے ہوں یا بالعکس۔

فاذا استحلوه فلا تسأل عن هلكة احد تجيئ الحبشة فيخربونه خرابا لا يعمر بعده ابداوهم الذين يستخرجون كنزه (منتخب كنز العمال ص ٣١ ج٢) "

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی کی بیعت رکن اور مقام کے درمیان کی جائے گی اور بیت اللہ کو لڑائی کے لئے حلال نہیں کریں گے۔ مگر اس کے بعد پھر سب کی ہلاکت ہوگی۔ حبشی آئیں گے اور بیت اللہ کو ویران کریں گے۔ اس کے بعد کبھی اس کی تعمیر نہیں ہوگی اور یہی لوگ بیت اللہ کا خزانہ نکالیں گے۔

اس روایت میں رجل سے مراد مہدی ہے۔ کیونکہ صاحب کتاب نے اس حدیث کی تخریج مہدی کے باب میں کی ہے۔ نیز یہ کہ یہ حدیث بھی مصنف کی تصریح کے مطابق صحیح ہے۔ اس حدیث کو صاحب منتخب نے مسند احمد، مستدرک حاکم اور مصنف ابوبکر بن ابی شیبہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور مصنف کا یہ قانون ہم پہلے نقل کرچکے ہیں کہ مستدرک حاکم کی طرف سے کسی حدیث کی نسبت اس حدیث کی صحت کی دلیل ہے۔ اگر کوئی ضعف ہو تو مصنف اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ نیز مسند احمد کے بارے میں بھی مصنف نے یہ قانون بیان کیا ہے کہ اس کی احادیث صحیح اور حسن کے درجے کی ہوتی ہے اور اگر کوئی حدیث ضعیف بھی ہو تو وہ محدثین کے نزدیک قبول ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو منتخب کنز العمال ص ٩،٨ ج١) مسند احمد کے بارے میں اس قانون کو حافظ ابن حجر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں کوئی موضوع حدیث نہیں ہے۔

مسند احمد کی وہ احادیث جن پر امام ابن الجوزی نے وضع کا حکم لگایا ہے۔ اس کو حافظ نے تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ القول المسدد کے نام سے اس پر مستقل کتاب لکھی اور ثابت کیا کہ وہ احادیث بھی موضوع نہیں ہیں۔

(منتخب كنز العمال ص ٣٣ ج ٦ ) " حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ مہدی کا خروج اس وقت تک

٤٩

صفحہ ٩

فتاویٰ

ق شخص کو کہا جائے گا جو مسلمان پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی دیتا ہے۔ شریعت کے بعض او چھوڑ دے وہ دونوں صورتوں میں وہ فا اور فاسق شخص ہے جو خلاف شرع کام اور فریب دے یہ بھی گناہ کی ایک عہد میں کروں تو پھر کروں گا ابھی تو کروں گا پھر توبہ کروں گا، جب کہ شریعت کا کہ ایک مسلمان ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س...... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں یا مجلس میں؟ بچوں کا اسکول وغیرہ میں اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالی کا پیٹنا، بجانا، مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟ ج...... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

نہیں ہوگا جب تک کہ تم ایک دوسرے کے منہ پر نہ تھوکو۔ یعنی لوگوں کی حالت ایسی ہوگی کہ تہذیب انسانیت ان میں نہیں ہوگی اور ہر طرف فتنہ وفساد ہوگا تب مہدی کا ظہور ہوگا۔ یہ حدیث بھی قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ اس پر مصنف نے کوئی جرح نہیں کی ہے۔ ٤٨........ "عن علیؓ اذا خرج خیل السفیانی فی الکوفہ بعث فی طلب اهل خراسان ویخرج اهل خراسان فی طلب المهدی فیلتقی هو والهاشمی برایات سود علی مقدمته شعیب بن صالح فیلتقی هو والسفیانی بباب اصطخر فتکون بینهم ملحمة عظیمة فتظهر الرایات السود وتهرب خیل السفیانی فعند ذالك یتمنی الناس المهدی ویطلبونه (منتخب کنز العمال

. ص ٣٤ ج ٦ ،هامش مسند احمد ج ٦)“

٭ حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ جب سفیانی کا لشکر نکل کر کوفہ آئے گا تو اہل خراسان کے طلب میں لشکر بھیجے گا اور اہل خراسان مہدی کی طرف جائیں گے تو کالے جھنڈوں کے ساتھ ملیں گے تو وہاں پر ہاشمی اور سفیانی لشکروں میں لڑائی ہوگی۔ ہاشمی کا لشکر غالب آجائے گا اور سفیانی کا لشکر بھاگ جائے گا۔ اس وقت لوگ مہدی کی تمنا کریں گے اور ان کو تلاش کریں گے۔ یہ اور اس سے ماقبل والی روایت دونوں اگرچہ موقوف، لیکن ایک تو یہ کہ یہ روایتیں مرفوع بھی مروی ہیں۔ نیز یہ کہ مسائل غیر مدرک بالقیاس میں قول صحابی مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ نیز اس روایت پر مصنف نے بھی کوئی کلام نہیں کیا ہے۔ تو اس کے قاعدے کے مطابق یہ روایتیں صحیح ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب! ٤٩........ "عن علیؓ قال المهدی فتی من قریش ادم ضرب من الرجال (منتخب کنز العمال ص ٣٤ ج ٦ ،هامش مسند احمد) ""یعنی حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ مہدی قریش کے نوجوان ہوں گے اور چھریرے بدن کے آدمی ہوں گے۔" ٥٠........ "عن علیؓ قال المهدی رجل منا من ولد فاطمہ (منتخب کنز العمال ص ٣٤ ج ٦)""یعنی مہدی ہم میں سے ہوں گے حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے۔" ٥١........ "عن علیؓ قال یبعث بجیش الی المدینة فیأخذون من قدروا علیہ من آل محمدﷺ ویقتل من بنی ھاشم رجالا ونساء فعند ذالك یهرب المهدی ٥٠

والمبیض من المدینة الی مکة الخ (منتخب احمد ج ٦) " حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ کردیں گے۔ مہدی اور بعض مکہ بھاگ جائیں اس حدیث کو بھی مصنف نے بلا کسی دلیل ہے۔ یہ پچاس حدیثیں ہیں جو صراحۃً ظہور ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ بے اصل و بے بنیاد نہیں ظہور مہدی کے متعلق کچھ احادیث ا کنز العمال میں ص ٣٩ ج ٦ سے ص ٤٦ ج ٦ تک نیز امام ترمذی، عبدالرزاق، ابن ما کتابوں میں اس کے لئے ابواب قائم کئے ہیں۔ ج کے نزدیک بے اصل و بے بنیاد نہیں۔ ورنہ جلیل قائم نہ کرتے۔

الباب

عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں

اس سے پہلے ہم وہ احادیث محدثین مہدی کا ذکر تھا۔ متعدد محدثین نے اس کے لئے ان کا عقیدہ ظہور مہدی بخوبی واضح اور ثابت ہوتا علم حدیث سے تعلق رکھنے والے جا کرتے ہیں۔ وہ ان کی نظر میں احادیث سے ثاب میں نقل حدیث کے بعد وہ اس پر سکوت کرتے دخطر کہی جاسکتی ہے کہ جو محدثین نے ظہور مہد احادیث پر ابواب بھی قائم کئے ہیں تو یہ ان کا عق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوں گے۔

صفحہ ٣٥٩

والمبيض من المدينة الى مكة الخ (منتخب كنز العمال ص ٣٣ ج ٦ ،علی ھامش مسند احمد ج ٦) ”حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ وہ آل بیت کو قتل کریں گے۔ مہدی اور مبیض مکہ بھاگ جائیں گے۔“

اس حدیث کو بھی مصنف نے بلا کسی جرح کے نقل کیا ہے۔ جو ان کے نزدیک صحت کی دلیل ہے۔

یہ پچاس حدیثیں ہیں جو صراحتاً ظہور مہدی پر دلالت کرتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ بے اصل وبے بنیاد نہیں۔ جیسے کہ اختر کشمیری صاحب کا دعویٰ ہے۔

ظہور مہدی کے متعلق کچھ احادیث اور بھی ہیں۔ جو مستدرک کی جلد رابع میں اور منتخب کنز العمال میں ص ٢٩ ج ٦ سے ص ٣٦ ج ٦ تک مروی ہیں۔

نیز امام ترمذی، عبدالرزاق، ابن ماجہ، ابو عبداللہ حاکم اور دوسرے محدثین نے اپنی کتابوں میں اس کے لئے ابواب قائم کئے ہیں۔ جو صراحتاً اس کی دلیل ہے کہ یہ عقیدہ ان بزرگوں کے نزدیک بے اصل و بے بنیاد نہیں۔ ورنہ جلیل القدر محدثین اپنی کتابوں میں ان کے لئے ابواب قائم نہ کرتے۔

الباب الثانی

عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں

اس سے پہلے ہم وہ احادیث محدثین کی کتابوں سے نقل کر چکے ہیں۔ جن میں ظہور مہدی کا ذکر تھا۔ متعدد محدثین نے اس کے لئے اپنی کتابوں میں ابواب قائم کئے ہیں۔ جس سے ان کا عقیدہ ظہور مہدی بخوبی واضح اور ثابت ہوتا ہے۔

علم حدیث سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ محدثین اپنی کتابوں میں جو ابواب قائم کرتے ہیں۔ وہ ان کی نظر میں احادیث سے ثابت ہوتے ہیں۔ خصوصاً اس صورت میں جبکہ باب میں نقل حدیث کے بعد وہ اس پر سکوت کرتے ہیں۔ اس قاعدہ کے مطابق اب یہ بات بلا خوف وخطر کہی جاسکتی ہے کہ جو محدثین نے ظہور مہدی کی احادیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان احادیث پر ابواب بھی قائم کئے ہیں تو یہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت مہدی کا ظہور ہوگا اور وہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوں گے۔

٥١

صفحہ ٣٦٠

اب اس کے بعد ہم ان محدثین کی نشاندہی کرتے ہیں جنہوں نے ظہور مہدی کی احادیث کو نقل کر کے ابواب قائم کئے ہیں:

١...... امام ترمذیؒ

ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن الضحاک السلمی البوغی المتوفی ٢٧٩ھ۔ امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب ”سنن ترمذی“ میں ابواب الفتن میں ”باب ما جاء فی المہدی“ کا باب قائم کیا ہے۔ (ص ٥٦ و فی بعض المطابع ص ٤٢ ج ٢) اور اس کے تحت وہ احادیث مسلسل سندوں کے ساتھ نقل کی ہیں۔ جن کو ہم نقل کر چکے ہیں اور ان کی اسنادی حیثیت بھی واضح کی جا چکی ہے۔ اس سے ان کے عقیدے کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ خود امام ترمذیؒ نے کتاب العلل میں واضح کیا ہے:

لے امام ترمذیؒ کے متعلق شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ: ”و ترمذی را در حفظ بی مثل دانند و او را خلیفه بخاری گفته اند و تورع وزهد وخوف بحدی داشت که فوق آن متصور نیست، بخوف الهی بسیار گریه وزاری کرد و نابینا شد“ (بستان المحدثین ص ٢٩٠) اور ان کی کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ: ”و این جامع بهترین آن کتب است بلکه به بعضی وجوه وحیثیات از جمیع کتب حدیث خوب تر واقع شده الخ“ (ص ٢٩٠) اور خود شاہ صاحب امام ترمذی کا قول نقل کیا ہے کہ: ”ترمذی گفته است که من هر گاه از تصنیف این جامع فارغ شدم آنرا بعلماء حجاز عرض نمودم ، ایشان همه پسند فرموده بعد ازاں پیش علماء عراق بردم ایشان نیز متفق الکلمه آن را مدح کردند بعد ازاں بر علماء خراسان عرض کردم ایشان نیز رضامند شدند، بعد ازاں ترویج وتشهیر نمودم و نیز گفته در خانه هر که این کتاب باشد پس گویا در خانه او را پیغمبر است که تکلم می کند“ (بستان المحدثین ص ٢٩٢)

اسی طرح اس کتاب کے بارے میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ”الحطہ فی ذکر صحاح ستہ“ میں (ص ٢٣٩ سے ٢٤٢) تک علماء کے اقوال نقل کئے ہیں اور پوری وضاحت سے اس کتاب کا مرتبہ واضح کیا ہے۔

٥٢

”جميع مافى هذا الكتا أهل العلم ماخلا حديثين ،حديـ والعصر بالمدينة والمغرب والعشا النبي ﷺ انه قال اذا شرب الخمـ بيّنا علة الحديثين جميعاً في الكـ

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کے ہاں معمول بہا ہیں اور سوائے ان دونو متروک نہیں۔

اگر چہ ان دونوں حدیثوں کے بہا ہیں۔ لیکن بہر حال اتنا تو معلوم ہوا کہ عقائد کے ساتھ، وہ معمول بہا ہیں۔ ١

٢...... امام ابو داؤدؒ

سلیمان بن الاشعث بن اسحاق المتوفی ٢٧٥ھ۔ امام ابوداؤدؒ نے بھی احادیث مہدی پر باب قائم کیا ہے۔ (ج سندوں کے ساتھ نقل کی ہیں اور بعض احاد کے درجہ کی ہیں۔

١ حضرت الامام الحافظ الحجۃ شاہ الحديثين معمولان بهما عـ الحديث هو الجمع الفعلى وذالـ فى المرة الرابعة فجائز عندنا تعـ ”وقال محدث العصر ا قال شيخنا وكل هذا تكلف وا فعلا لا وقتا واعترف به الحافظ ”فقال واستحسنه القـ من القدماء ابن الماجشون والطحا

صفحہ ٣٦١

”جميع مافي هذا الكتاب من الحديث هو معمول به وبه اخذ بعض ١ أهل العلم ماخلا حديثين ، حديث بن عباس ان النبي ﷺ جمع بين الظهر والعصر بالمدينة والمغرب والعشاء من غير خوف ولا سفر ولا مطر وحديث النبي ﷺ انه قال إذا شرب الخمر فاجلدوه فان عاد في الرابعة فاقتلوه وقد بينا علة الحديثين جميعاً في الكتاب (سنن ترمذی، کتاب العلل ص ٢٣٣ ج ٢)“

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام ترمذیؒ کی سب احادیث امت میں کسی نہ کسی امام کے ہاں معمول بہا ہیں اور سوائے ان دونوں حدیثوں کے کوئی بھی حدیث پوری امت کے نزدیک متروک نہیں۔

اگر چہ ان دونوں حدیثوں کے متعلق بھی بعض محدثین نے ذکر کیا ہے کہ یہ بھی معمول بہا ہیں۔ لیکن بہر حال اتنا تو معلوم ہوا کہ باقی احادیث چاہے اعمال کے ساتھ ان کا تعلق ہو یا عقائد کے ساتھ، وہ معمول بہا ہیں۔

٢...... امام ابوداؤد

سلیمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازدی السجستانی المتوفی ٢٧٥ھ۔ امام ابوداؤدؒ نے بھی اپنی کتاب ”سنن ابوداؤد“ میں کتاب الفتن میں احادیث مہدی پر باب قائم کیا ہے۔ (ج ٢ ص ١٣٠، ١٣١) اور ظہورِ مہدی کی احادیث اپنی مسلسل سندوں کے ساتھ نقل کی ہیں اور بعض احادیث پر سکوت کیا ہے۔ جو ان کے نزدیک کم از کم حسن کے درجہ کی ہیں۔

١؎ حضرت الامام الحافظ الحجۃ شاہ انور شاہ کشمیریؒ سے منقول ہے کہ: ”واعلم ان الحديثين معمولان بهما عندنا،على ماحررت سابقاً فان المذكور فى الحديث هو الجمع الفعلى وذلك جائز عندنا بلا عذر واماقتل شارب الخمر في المرة الرابعة فجائز عندنا تعزيراً (العرف الشذى ص ٤٨٦،كتاب العلل)“

”وقال محدث العصر الشيخ البنورى (بعد نقل اقوال المحدثين) قال شيخنا وكل هذاتكلف والصحيح الذي يعتمد ان يقال كان هو الجمع فعلا لا وقتا واعترف به الحافظ ابن حجر في الفتح (ص ١٩ج ٢)“

”فقال واستحسنه القرطبى ورجحه قبله امام الحرمين وجزم به من القدماء ابن الماجشون والطحاوى...... الخ (معارف السنن ص ١٦٣ج ٢)“

٥٣

صفحہ ٣٦٢

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے سنن ابوداؤد کے متعلق لکھا ہے: ”چون از تصنیف این سنن فارغ شد پیش امام احمد بن حنبل برد وعرض نمود، امام دیدند وبسیار پسند کردند، وابوداؤد دروقت تصنیف این سنن پنج لاکھ احادیث حاضر داشت از جمله آنهمه انتخاب نموده است که این سنن را مرتب ساخت چار هزار وهشت صد احادیث است ودروے التزام نموده است که حدیث صحیح باشد یاحسن“

(بستان المحدثین ص٢٨٥)

(اس بحث کو ہم پہلے باحوالہ لکھ چکے ہیں) اس سے ان کا اعتقاد واضح ہوتا ہے کہ یہ امام مہدی کے ظہور کے قائل تھے۔ اس لئے مہدی کی احادیث کو اپنی کتاب میں لائے۔

ابوعبداللہ محمد بن یزید بن عبداللہ ابن ماجہ قزوینی ربعی المتوفی ٢٧٣ھ۔ انہوں نے بھی اپنی کتاب میں فتن کے ابواب کے ضمن میں ظہور مہدی کی کچھ احادیث کو اپنی سندوں میں نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (باب خروج المہدی ص٢٩٩) ان احادیث سے بھی ان کے عقیدہ پر استدلال کیا جائے گا۔ کما مر

سنن ابن ماجہ میں اگر چہ کچھ احادیث موضوع بھی ہیں۔ لیکن یہ احادیث ان احادیث میں شامل نہیں۔ جن پر محدثین نے وضع کا قول کیا ہے۔

ابن ماجہ کی وہ سب احادیث جن کو کسی محدث نے موضوع کہا ہے۔ علامہ عبدالرشید نعمانی کی کتاب ”ماتمس اليه الحاجه لمن يطالع سنن ابن ماجه“ میں موجود ہیں۔ ظہور مہدی کی احادیث ان میں شامل نہیں ہیں۔ ہاں ”لا مهدی الا عیسیٰ“ کی حدیث پر ضرور کلام کیا ہے۔ جس سے ظہور مہدی کے منکرین استدلال کرتے ہیں۔

اس حدیث کے متعلق علامہ شوکانی نے اپنی کتاب ”الفوائد المجموعة الاحاديث الموضوعة“ میں لکھا ہے: ”حديث لا مهدی الا عیسی بن مریم قال الصغانی موضوع (ص ٥١٠)“ اسی طرح امام ابن قیم نے ”المنار المنیف“ میں اس حدیث کو موضوع لکھا ہے۔

٥٤

آپ نے اپنی کتاب ”مصنف کے تحت احادیث ظہور مہدی ذکر کی ہیں۔

١؎ عبدالرزاق کو اگرچہ بعض م کے ہاں مقبول ہیں۔ کیونکہ متقدمین کے عبدالرزاق نے مصنف میں شیخین اور حضر ذہبی نے خود عبدالرزاق کا قول نقل کیا ہے عبدالرزاق یقول افضل الشي يفضلهما لم افضلهما کفی بی الاعتدال ص ٣٤٤ ج ٤)“ اور دوسرا قول ان افضل عليا علی ابی بکر وعم توثیق کے متعلق یحییٰ بن معین کا یہ قول بھی عبدالرزاق عن الاسلام ماترد امام احمد سے نقل کیا ہے جو کہ ”قلت لا عبدالرزاق قال لا (ميزان الاعتد نے عبدالرزاق کا ترجمہ ختم کیا ہے۔ جس طرف ہے۔ اس کے علاوہ عبدالرزاق بـ وجہ تعدیل ہے اور حافظ ابن حجر نے کہ: ”ثقة حافظ منصف شيع التاسعه ....... الخ (ج ١ ص ٣٠٠ معلوم ہوا کہ مطلق تشیع وجہ جرح نہیں ہے میں کتنے ایسے راویوں کی روایات ہیں کہ وہ شیعہ ہیں۔ لیکن صرف شیعہ ہونا و نے کتاب تقریب التہذیب میں ابن عـ فارجوانه لابأس به (ج ٣ ص ١ التھذیب ج ٣ ص ٤٤٦)“ فقط واللہ تعا

فاروق الاکرم

س....... فاروق کہ....... سائل زکوة قبض کر لیا جاتا ہے جو سائلان رہتا ہے۔ شریعت کے بعض اد چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ قا اور فاقہ زدہ شخص پر جو خلاف شرع کا اور قہر بندے پر ہی گرا کہ اس کی تذلیل

ج۔ بعد میں کر لوں گا، ابھی یہ گناہ کر لو۔ کر لوں تو پھر توبہ کر لوں گا، جب کہ شریعت کا کہ ایک مسلمان کو ذلت کی نگاہوں سے بچائے گا کرے اور اگر کسی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجانا اس کا رواج دیگر م اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست ہے؟ اسی طرح تالیاں بجانا کیا یہود و نصاریٰ، مسلمانوں کے لئے جائز ہے؟

ج....... تالیاں بجانا کفار اور فاسق کا طریقہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

صفحہ ٣٦٣

٤....... امام عبدالرزاق بن ہمام بن نافعؒ

آپ نے اپنی کتاب ”مصنف عبدالرزاق“ میں ظہور مہدی کا باب قائم کیا ہے اور اس کے تحت احادیث ظہور مہدی ذکر کی ہیں۔

(مصنف عبدالرزاق ج١٠ ص٣٦٨، ٣٦٧)

کے ہاں مقبول ہیں۔ کیونکہ متقدمین کے تشیع کو آج کل کے تشیع پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ عبدالرزاق نے مصنف میں شیخین اور حضرت عثمانؓ کی فضیلت میں احادیث ذکر کی ہیں اور علامہ ذہبی نے خود عبدالرزاق کا قول نقل کیا ہے کہ: ”وقال احمد بن الازهر سمعت عبدالرزاق يقول افضل الشيخين بتفضيل علي اياهما على نفسه ولولم يفضلهما لم افضلهما كفى بى ازراء ان احب عليا ثم اخالف قوله (ميزان الاعتدال ص ٣٤٤ ج ٤)“ اور دوسرا قول یہ منقول ہے کہ ”والله ما انشرح صدرى قط ان افضل عليا على ابى بكر وعمر (ميزان ج ٤ ص ٣٤٤)“ اس طرح عبدالرزاق کی توثیق کے متعلق یحییٰ بن معین کا یہ قول بھی میزان الاعتدال میں منقول ہے: ”لو ارتد عبدالرزاق عن الاسلام ماتركنا حديثه (ج ٤ ص ٣٤٤)“ اور احمد بن صالح نے امام احمدؒ سے نقل کیا ہے کہ: ”قلت لاحمد بن حنبل ارايت احسن حديثا من عبدالرزاق قال لا (ميزان الاعتدال للذهبي ج ٤ ص ٣٤٤)“ اور اسی قول پر علامہ ذہبی نے عبدالرزاق کا ترجمہ ختم کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود ذہبی کا رجحان بھی اس کی طرف ہے۔ اس کے علاوہ عبدالرزاق بخاری ومسلم وغیرہ کے راوی ہیں۔ جو محدثین کے نزدیک وجہ تعدیل ہے اور حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں عبدالرزاق کے متعلق لکھا ہے کہ: ”ثقة حافظ منصف شهير عمى فى اخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعه ....... الخ (ج ١ ص ٣٥٥)“ یعنی ثقہ اور مقبول ہے۔ حافظ کی اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ مطلق تشیع وجہ جرح نہیں ہے۔ علم حدیث سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ صحاح میں کتنے ایسے راویوں کی روایات ہیں۔ جن کے متعلق ہم اسماء رجال کی کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ وہ شیعہ ہیں۔ لیکن صرف شیعہ ہونا وجہ ترک نہیں ہوسکتی ہے۔ كما بيناه! اور حافظ ابن حجرؒ نے کتاب تقریب التہذیب میں ابن عدی کا قول نقل کیا ہے کہ: ”واما فى باب الصدق فارجو انه لاباس به (ج ٣ ص ٤٤٦)“ اور عجلی کا قول ہے کہ: ”ثقة تشيع (تقريب التهذيب ج ٣ ص ٤٤٦)“ فقط واللہ تعالیٰ اعلم!

٥٥

صفحہ ٣٦٣

فاش بیوقوفی

س....... شریعت مـ شخص کو گویا بلایا ہے جو مسلمان تـ پر عمل نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نـ رہتا ہے کہ شریعت کے بعض احکـ چھوڑے دونوں صورتوں میں بعض او اور بظاہر چھوٹی چھوٹی سورتوں میں وہ فا اور توبہ نہ کرے یہ سوچ کر کہ اس گناہ کے کے بعد میں کروں گا، جی یہ گناہ کرلوں کریں گے اور نہ کریں گے، جب کہ شریعت کا کرے اور اگر کبھی غلطی سے یا جان بوجھ کر ہو جائے تو فوراً توبہ واستغفار کر کے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا۔

تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟

س....... تالیاں بجانا اسلام میں کیسا ہے؟ تقریب میں تالیاں بجانا بالکل ناجائز اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر تالیاں بجانا درست کے لئے کیا چیز ہے؟ ج.......؟ ہاں سجدہ شکر اور نماز حق شکر ادا کرنے کا طریقہ اداء شکر نعمت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو

آپ نے بھی اپنی کتاب ”مستدرک حاکم“ میں ظہور مہدی کے متعلق بہت سے روایتیں نقل کی ہیں۔ ملاحظہ ہو (مستدرک حاکم ص ٦٥٨ ، ٦٥٧ ، ج ٥) اس سے ان کے عقیدہ کا اظہار ہوتا ہے کہ حاکم بھی عقیدہ ظہور مہدی کے قائل تھے۔ اس لئے انہوں نے ان احادیث کی تخریج اپنی کتاب میں کی ہے۔

حاکم کے متعلق بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ شیعہ تھے۔ لہٰذا ان کی روایتیں قابل اعتبار نہیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ حاکم کے زمانہ سے لے کر اب تک محدثین ان کی احادیث کا اعتبار کرتے رہے ہیں۔ البتہ مستدرک حاکم کی احادیث سب کی سب ایک درجہ کی نہیں۔ بلکہ ہر قسم کی حدیثیں موجود ہیں۔ لہٰذا وہ احادیث قابل اعتبار ہوں گی جن کی تصحیح پر حاکم کے ساتھ ذہبی بھی تلخیص المستدرک میں متفق ہوں: ”کما قال الشاہ عبدالعزیز محدث دهلوی ولهذا علماء حدیث قرار داده اندکه برمستدرك حاكم اعتماد بنا يدکرد مگر بعد از تلخيص ذهبی (بستان المحدثین ص ١١٣)“

دوسری بات یہ کہ مطلق تشیع کسی راوی کی رد حدیث کے لئے کافی نہیں ہے۔ جیسے کہ ابان بن تغلب کے ترجمہ میں علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ: ”الكوفی شیعی جلد ولكنه صدوق فلنا صدقه عليه بدعته وقد وثقه احمد بن حنبل يحيى معين وأبوحاتم واورده ابن عدي وقال كان غاليا في التشيع وقال السعدى زائغ مجاهر فلقائل ان يقول كيف ساغ توثيق مبتدع وحد الثقة العدالة والا تقان فكيف يكون عدلا من هو صاحب بدعة وجوابه ان البدعة على ضربين فبدعة صغریٰ كغلو التشيع اوكالتشيع بلا غلو ولا تحرف فهذا كثير في التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق فلورد حديث هولاء لذهب جملة من الآثار النبوية وهذه مفسدة بینه.......الخ (میزان الاعتدال ص ١١٨) “

اس عبارت سے واضح ہوا کہ مطلق تشیع رد روایت کے لئے کافی نہیں ہے۔ جیسے کہ بعض لوگوں کا طریقہ ہے کہ جہاں کسی راوی کے ترجمہ میں دیکھا کہ یہ شیعہ ہے تو اس کی روایت کو رد کر دیتے ہیں۔ یہ نری جہالت ہے اور یہ ان لو کے اصول سے واقف نہیں اور نہ ان کے ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جہل وضلال وعناد سـ امام نووی نے تقریب میں لکھا ہـ بدعة ولا يحتج به ان كان داعية الاكثر وضعف الاول باحتجاج المبتدعة غير الدعاة (تقريب النووى اس عبارت کا بھی مطلب وہی ہـ بلکہ کچھ شروط کے ساتھ قبول ہوگی۔

آپ اپنی کتاب ”جمع الجوامع“ مـ کیا ہے۔ بلکہ اس موضوع پر مستقل رسالہ بھی جمع کیا ہے اور اس عقیدہ کے اثبات پر زو رسائل کا مجموعہ ہے۔

انہوں نے ”المهدی عليه السلا روایتیں اس کے ثبوت میں پیش کیں۔ (ملاحـ اسی طرح منتخب کنز العمال میں احادیث ذکر کیں۔ (منتخب کنز العمال بر حاشیہ

کو نقل کیا ہے۔ جس سے ان کے اعتقاد پر پہلے باب میں ہم نقل کر چکے ہیں اور یہ کہ و قول علامہ علی متقی کے حوالہ سے ہم پہلے نقل کـ کی ضرور ہیں اور عام طور پر محدثین نے انہـ میں موضوع حدیثیں بھی ہیں۔ ابن جریرؒ، ابـ ٥٦

صفحہ ٣٦٥

دیتے ہیں۔ یہ نری جہالت ہے اور یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے کہ جو محدثین کی آراء اور علم حدیث کے اصول سے واقف نہیں اور نہ ان کے اس طریقے سے عقیدہ اہل سنت کی کوئی خدمت ہوتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جہل وضلال وعناد سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ آمین !

امام نووی نے تقریب میں لکھا ہے کہ: ”وقیل یحتج بہ ان لم یکن داعیۃ الی بدعۃ ولا یحتج بہ ان کان داعیۃ وھذا ھوا الاظھر الاعدل وقول الکثیر بل الاکثر وضعف الاول باحتجاج صاحبی الصحیحین وغیر ھما بکثیر من المبتدعۃ غیر الدعاۃ (تقریب النووی ص٣٢٥ج١)“

اس عبارت کا بھی مطلب وہی ہے کہ اہل بدعت کی روایت مطلقاً رد نہیں کی جائے گی بلکہ کچھ شروط کے ساتھ قبول ہوگی۔

آپ اپنی کتاب ”جمع الجوامع“ اور جامع صغیر وغیرہ میں ظہور مہدی کی احادیث کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ اس موضوع پر مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔ جس میں مہدی کے متعلق سب احادیث کو جمع کیا ہے اور اس عقیدے کے اثبات پر زور دیا ہے۔ ملاحظہ ہو (الحاوی جلد ثانی) جو علامہ سیوطیؒ کے رسائل کا مجموعہ ہے۔

انہوں نے ”المہدی علیہ السلام “ کا مستقل باب قائم کیا اور اس کے تحت تقریباً تیس روایتیں اس کے ثبوت میں پیش کیں۔ (ملاحظہ ہو کنز العمال ص٥٨٤ تا ٥٩٩ ج١٤)

اسی طرح منتخب کنز العمال میں بھی المہدی کا عنوان قائم کیا اور اس کے تحت بھی احادیث ذکر کیں۔ (منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمدؒ ص٢٩ تا ٣٧ ج٦)

کو نقل کیا ہے۔ جس سے ان کے اعتقاد پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ مسند احمد کی حدیثیں پہلے باب میں ہم نقل کر چکے ہیں اور یہ کہ وہ حدیثیں کم از کم حسن کے درجہ کی ہیں۔ کیونکہ سیوطیؒ کا قول علامہ علی متقیؒ کے حوالہ سے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں کہ مسند احمد کی حدیثیں کم از کم حسن کے درجہ کی ضرور ہیں اور عام طور پر محدثین نے ابن جوزیؒ کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ مسند احمد میں موضوع حدیثیں بھی ہیں۔ ابن حجرؒ کا ”القول المسدد“ اس پر دال ہے۔

٥٧

صفحہ ٣٦٦

......٩ حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی ٨٠٧ھ

انہوں نے اپنی کتاب ”مجمع الزوائد“ (ص٣١٤ج٧) پر ظہور مہدی کے متعلق حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت نقل کی ہے۔ جس کو ہم مختلف کتابوں کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اور روایت کے آخر میں فرمایا کہ امام احمدؒ نے مسند میں اور ابو یعلیٰ نے اس روایت کو ایسی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ جن کے راوی ثقہ ہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ ظہور مہدی کے متعلق یہ حدیث صحیح ہے اور ساتھ یہ کہ مصنف کا عقیدہ بھی یہی ہے۔ اس لئے کہ ادنیٰ مسلمان سے بھی یہ بعید ہے (کجا علامہ ہیثمیؒ) کہ کسی چیز کے متعلق حدیث منقول ہو جائے اور وہ اس کا انکار کرے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حدیث مسند ابو یعلیٰ میں بھی موجود ہے اور سند بھی صحیح ہے۔

یہ تو مختصر طور پر ان محدثین کے اسماء گرامی ہیں۔ جنہوں نے مہدی کے نام کی صراحت کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں۔ جن سے ظہور مہدی کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے اور بھی بیسیوں محدثین ہیں۔ جنہوں نے اس قسم کی احادیث نقل کی ہیں۔ جن کے اسماء گرامی کنز العمال اور اس کی تلخیص کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہو جاتے ہیں۔ حوالہ ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔

اب اس کے بعد ان محدثین کی عبارتیں نقل کی جاتی ہیں جنہوں نے حدیث کی کتابوں کے شروعات میں امام مہدی کے ظہور کا ذکر کیا ہے۔

.......١١ امام العصر حضرت انور شاہ کشمیریؒ سے عرف الشذی میں منقول ہے: ”ویبعث المهدی عليه السلام لاصلاح المسلمين فبعد نزول عیسیٰ عليه السلام يرتحل المهدی من الدنيا الى العقبیٰ (عرف الشذی باب ماجاء فی المهدی ص٤٦٤)“ یعنی حضرت مہدی مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ظاہر کئے جائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد انتقال فرما جائیں گے۔

......١٢ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فتح الملہم میں باب نزول عیسیٰ علیہ السلام میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کے ان الفاظ پر کہ : ”امامکم منکم“ پر بحث کرتے ہوئے حافظ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ”وقال ابوالحسن الخسعی الابدی فی مناقب الشافعی تواترت الاخبار بان المهدی من هذه الامة وان عیسیٰ یصلی خلفه (فتح الملہم ص٣٠٢ج١)“

٥٨

یعنی ابوالحسن الخسعی نے مناقب مہدی اس امت سے ہوں گے اور حضرت بعد اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ لنا......الخ (فتح الملہم ص٣٠٣ج١) ہی ہیں جو مسلمانوں کے امام ہوں گے۔ جـ

......١٣ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث فرماتے ہیں: ”وهمچنین مابین نص فرموده است بآنکه امام عندالله وعند رسوله امام وانصاف چنانکه پیش از افاده فرموده اند که استخلاف تعلق بخلیفه داردالخ (ازالة الخلـ

یعنی اسی طرح ہم یقینی طور سے ذکر کیا ہے کہ امام مہدی قرب قیامت ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے اب اس حدیث سے معلوم واجب ہو گی۔ حضرت شاہ صاحب کی بات مہدی کے ساتھ ان کی اتباع بھی واجب

......١٤ مسلم کی شرح اکمال اکمال اـ منکم“ کی شرح میں فرماتے ہیں: ”قد فسره في الاخبار الحديث ،قلت: وقال ابن الـ الامال المهدى الافي آخر الزمان

صفحہ ٣٦٧

یعنی ابوالحسن الخسعی نے مناقب شافعی میں ذکر کیا ہے کہ اس پر احادیث متواتر ہیں کہ مہدی اس امت سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور اس کے بعد اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ان الفاظ پر ”فیقول اميرهم تعال صل لنا......الخ (فتح الملهم ص ٣٠٢ ج ١)“ یعنی حدیث کے الفاظ میں امیرھم سے مراد حضرت مہدی ہی ہیں جو مسلمانوں کے امام ہوں گے۔ جن کے آنے کا احادیث میں ذکر موجود ہے۔

فرماتے ہیں:

”وهمچنین مابیقین میدا نیم که شارع عليه الصلوة والسلام نص فرموده است بآنکه امام مهدی در آن قیامت موعود خواهد شد دوی عندالله وعند رسوله امام برحق است وپرخواهد کرد زمین را به عدل وانصاف چنانکه پیش ازوی پرشده باشد بجوروظلم ـ پس باین کلمه افاده فرموده اند که استخلاف امام مهدی را واجب شد اتباع وی درآنچه تعلق بخلیفه داردالخ (ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ص٦ ج١)“

یعنی اسی طرح ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ شارع علیہ الصلوٰۃ السلام نے صراحت سے ذکر کیا ہے کہ امام مہدی قرب قیامت میں موجود ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خلیفہ برحق ہوں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ جیسے کہ وہ پہلے ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔ اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان کی خلافت واجب ہوگی اور ان کی اتباع بھی واجب ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ عبارت اپنے مطلب میں بالکل واضح ہے کہ عقیدہ ظہور مہدی کے ساتھ ان کی اتباع بھی واجب ہوگی۔

منکم“ کی شرح میں فرماتے ہیں:

”قد فسره فی الاخر من رواية الجابر ينزل عيسى فيقول اميرهم الحديث ،قلت: وقال ابن العربي وقيل یعنی بمنکم من قریش وقیل یعنی الامام المهدی الا فی اخر الزمان الذی صح فیه حديث الترمذي من طريق

٥٩

صفحہ ٣٦٩

ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يوافق اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى ومن طريق ابى هريرة لم يبق من الدنيا الا يوم لطوله الله حتى لى وفي ابى داؤد عن ابي سعيد قال قال رسول الله ﷺ المهدى منى اجلى الجبهة اقنى الانف فالا جلى الذى انحسر شعر مقدم رأسه والاقنى احديدا بفى الانف وفيه ايضا عن ام سلمه سمعت رسول الله ﷺ يقول المهدى من عترتى ولد فاطمه يعمل فى الناس بسنة نبيهم ويلقى الاسلام بجرانه الى الارض يلبث سبع سنين ثم يموت ويصلى عليه المسلمون (ابن العربى) وماقيل انه المهدى بن ابى جعفر المنصور لا يصح فانه وان وافق اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى فليس من ولد فاطمه وامنا هو المهدى الاتى فى اخر الزمان (ص ٢٦٨ ج ١)“

اس پورے اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کے اس جملے ”اما منکم“ کی شرح دوسری حدیث ”فیقول امیرهم“ میں موجود ہے اور ابن عربی نے کہا ہے کہ ”منکم“ سے مراد یا تو قریش ہیں یا عام مسلمان لیکن امیر سے مراد مہدی ہیں۔ جو آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ ان کے ظہور پر ترمذی کی عبداللہ بن مسعودؓ کی صحیح حدیث دلالت کرتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ اور ابوسعیدؓ اور ام سلمہؓ کی روایتیں بھی ان کے خروج پر دلالت کرتی ہیں۔

٨٩٥ھ اس لفظ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: ”وقیل یعنى الامام المهدى الاتى فى اخر الزمان (ص ٢٦٨ ج ١)“ یعنی مراد امام منکم اور فیقول امیرھم سے مہدی علیہ السلام ہیں۔ جو آخری زمانے میں آئیں گے۔

فتح الملہم اور اکمال الاکمال اور مکمل اکمال الاکمال کی عبارتوں سے ایک تو یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صحیحین کی احادیث میں بھی امام مہدی کا ذکر موجود ہے۔ اگرچہ صراحتاً نہیں ہے۔ لیکن ان الفاظ سے مراد امام مہدی ہیں۔ تو اختر کاشمیری صاحب اور بعض دوسرے لوگوں کا وہ اعتراض ختم ہوا کہ صحیحین میں مہدی کا ذکر نہیں ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعودؓ کی ترمذی والی حدیث صحیح ہے۔ جیسے کہ علامہ ابی نے اکمال الاکمال میں لکھا ہے کہ: ”صح فیه حديث الترمذى من طريق ابن مسعود (ص٢٢٨ج١)“

٦٠

یعنی ظہور مہدی کے مسئلے میں حضرت عبد یہ قول انہوں نے ابن العربی سے نقل کیا ہے۔ تو مع ہے۔ تو اختر صاحب کا یہ اعتراض بھی ختم ہوا کہ کوئی تو وہ ماننے کے لئے تیار ہیں۔ جیسے کہ انہوں نے ا خدا کے نبی کے بعد کسی شخص پر ایمان بالغیب ممکن رسول ﷺ کا کوئی معتبر ارشاد سامنے نہ آجائے۔ ام بالغیب ممکن ہوگا۔ کیونکہ محدثین کی صراحت کے مطا نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مہدی سے مراد ع زمانے میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے۔

احادیث کی شرح کی ہے اور پھر مہدی موعود عنداھل کیا ہے اور اہل تشیع کی تردید کی ہے اور اس کے سا ہے۔

مسئلے پر طویل کلام کیا ہے اور مختلف احادیث کی ”وبالجملة ان احاديث ظهور المهدى تلقاها الامة بالقبول فيجب اعتق المتكلمون فى العقائد الائمة التی (ص ١٩٨ ج ٦)“ خلاصہ یہ ہے کہ ظہور مہدی کی ا ان احادیث کو قبول کر چکی ہے۔ لہٰذا ظہور مہدی ہے۔ کیونکہ متکلمین نے اس کو ان عقائد میں ذکر اور ضروری ہے۔

حضرت مولانا کی اس عبارت سے کئی فو احادیث حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسرا یہ کہ مہدی

٦١

صفحہ ٣٦٩

یعنی ظہور مہدی کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی ترمذی والی حدیث صحیح ہے اور یہ قول انہوں نے ابن العربی سے نقل کیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ ان دونوں کے نزدیک وہ روایت صحیح ہے۔ تو اختر صاحب کا یہ اعتراض بھی ختم ہوا کہ کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور اگر صحیح حدیث موجود ہو تو وہ ماننے کے لئے تیار ہیں۔ جیسے کہ انہوں نے اپنے اردو ڈائجسٹ والے مضمون میں لکھا تھا کہ خدا کے نبی کے بعد کسی شخص پر ایمان بالغیب ممکن نہیں۔ جب تک اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا کوئی معتبر ارشاد سامنے نہ آجائے۔ امید ہے کہ اب مہدی پر اختر صاحب کا ایمان بالغیب ممکن ہوگا۔ کیونکہ محدثین کی صراحت کے مطابق ابن مسعودؓ کی ترمذی والی روایت صحیح ہے۔

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مہدی سے مراد مہدی بن جعفر نہیں۔ بلکہ وہ موعود مہدی آخری زمانے میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے۔

احادیث کی شرح کی ہے اور پھر مہدی موعود عند اہل السنۃ والجماعۃ اور موعود عند الشیعۃ پر مفصل کلام کیا ہے اور اہل تشیع کی تردید کی ہے اور اس کے ساتھ ہندوستان کے فرقہ مہدویہ کی بھی تردید کی ہے۔

(ملاحظہ ہو مرقاۃ ص ١٧٣ تا ١٨٠ ج ١٠)

مسئلے پر طویل کلام کیا ہے اور مختلف احادیث کی تطبیق کی ہے۔ چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: "وبالجملۃ ان احادیث ظہور المہدی قد بلغت فی الکثرۃ حد التواتر وقد تلقاھا الامۃ بالقبول فیجب اعتقادہ ولا یسوغ ردہ وانکارہ کما ذکر المتکلمون فی العقائد الازمۃ التی یجب اعتقادھا علی المسلم ۔ الخ (ص ١٩٨ ج ٦)" خلاصہ یہ ہے کہ ظہور مہدی کی احادیث تواتر کو پہنچ چکی ہیں اور پوری امت ان احادیث کو قبول کر چکی ہے۔ لہٰذا ظہور مہدی کا اعتقاد واجب ہے اور انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ متکلمین نے اس کو ان عقائد میں ذکر کیا ہے۔ جن کا اعتقاد ہر مسلمان پر واجب اور ضروری ہے۔

حضرت مولانا کی اس عبارت سے کئی فوائد حاصل ہوئے۔ ایک تو یہ کہ ظہور مہدی کی احادیث حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسرا یہ کہ مہدی کے ظہور کا عقیدہ ان عقائد میں سے ہے جن کا

٦١

صفحہ ٤٧٠

اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اب اس کے بعد یہ کہنا کہ مہدی کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں، بالکل غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ محدثین کے نزدیک ظہور مہدی کی احادیث تواتر تک پہنچ گئی ہیں جہاں کلام کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ احادیث متواتر کی سند سے بحث نہیں کی جاتی۔

حافظ ابن حجر نے شرح نخبۃ الفکر میں تواتر کے ساتھ بحث میں لکھا ہے کہ: ”والمتواتر لا یبحث عن رجالہ بل یجب العمل بہ من غیر بحث (ص ١٢)“ یعنی حدیث متواتر کی سند اور اس کے رجال سے بحث نہیں کی جاتی ہے۔ بلکہ اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اور یہی بات مولانا محمد حسین ہزاروی نے شرح نخبۃ الفکر کی فارسی شرح (توضیح الفکر ص ٤٨) میں لکھی ہے جو مشہور اہلحدیث عالم علامہ سید نذیر حسین دہلوی کے شاگرد ہیں۔

اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ جو لوگ اس بناء پر انکار کرتے ہیں کہ مہدی کے متعلق احادیث صحیحین میں موجود نہیں، یہ غلط ہے۔ عبارت یہ ہے: ”واعلم انه قد طعن بعض المؤرخین فی احادیث المہدی وقال انہا احادیث ضعیفة ولذا اعرض الشیخان البخاری ومسلم عن اخراجہا.....الخ (الی ان قال) قلت وہذا غلط وشطط قطعا وبتاتا فان احادیث المہدی قد اخرجہا ائمة الحدیث فی دواوین السنة کالامام احمد والترمذی البزار وابن ماجة والحاکم والطبرانی وابی یعلی الموصلی ونعیم بن حماد شیخ البخاری وغیرہم عن جماعة من الصحابہ.....الخ (ص ١٩٦ ج ٦ تعلیق الصبیح شرح مشکوة المصابیح)“

یعنی بعض مورخین (ابن خلدون مراد ہے) نے ظہور مہدی کی احادیث کو مطعون کیا ہے کہ سب ضعیف احادیث ہیں۔ اس لئے بخاری ومسلم نے ان احادیث سے اعراض کیا ہے۔ لیکن غلط ہے کیونکہ ظہور مہدی کی احادیث کو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ جیسے کہ امام احمد، امام ترمذی، بزار، ابن ماجہ، حاکم، طبرانی، ابویعلی موصلی، نعیم بن حماد جو امام بخاری کے استاد ہیں اور ان کے علاوہ بہت سے محدثین نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے ان احادیث کو نقل کیا ہے۔

اس کے بعد مولانا نے ان صحابہ اور تابعین کے نام لکھے ہیں۔ جن کی تعداد تقریباً ٢٥ ہے جو درج ذیل ہے: ”حضرت علیؓ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت

٦٢

عبداللہ بن عمرؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت خدریؓ، حضرت انسؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت بن جزء الزبیدیؓ، حضرت قرۃ المزنیؓ، حضرت حضرت ابوامامہؓ، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ سعید بن مسیبؓ، حضرت قتادہؓ، شہر بن حوشبؓ

اس کے بعد مولانا نے فرمایا کہ: ” حسن ومنها ضعیف (ص ١٩٦ ج ٦)“ بعض صحیح ہیں اور بعض حسن وضعیف ہیں۔ اور : ”زاد الاحادیث المرفوعة فی (ص ١٩٧ ج ٦)“ یعنی ظہور مہدی کی مرفوع اس کے علاوہ ہیں۔ اور پھر سیوطیؒ کے حوالے ہے کہ: ”قد تواترت الاخبار واستفا المہدی وانہ من اہل بیتہ.....الخ کے طریقے سے نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں

محدثین کے ان اقوال سے معلو متواتر ہیں اور اتنے لوگوں سے مروی ہیں احادیث ایسی ہیں۔ جن میں مہدی کے نام ہے تو یہ قاعدہ محدثین کے ہاں مشہور ہے ک بعض مجمل ہوں اور بعض مفصل تو مجمل کو مفس

اس لئے علامہ سفارینی نے فر اس عقیدے پر ایمان واجب ہے۔ جیسے ک ہم ان کا قول نقل کریں گے۔

میں لکھا ہے کہ:

صفحہ ٣٧١

عبداللہ بن عمرؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت انسؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت ثوبانؓ، حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء الزبیدیؓ، حضرت قرۃ المزنیؓ، حضرت جابرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت ابوامامہؓ، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ، حضرت علی ہلالیؓ، حضرت عوف بن مالکؓ، حضرت سعید بن مسیبؓ، حضرت قتادہؓ، شہر بن حوشبؒ۔ (التعلیق الصبیح ص ١٩٧ ج ٦)

اس کے بعد مولانا نے فرمایا کہ: ”باسانيد مختلفة منها صحيح ومنها حسن ومنها ضعيف (ص ١٩٧ ج ٦)“ یعنی ظہور مہدی کی احادیث مختلف درجات کی ہیں۔ بعض صحیح ہیں اور بعض حسن وضعیف ہیں۔ اور پھر ظہور مہدی کے متعلق کل احادیث کی تعداد بتائی کہ :”زاد الاحاديث المرفوعة فى المهدى على تسعين والا ثار سوى ذالك (ص ١٩٧ ج ٦)“ یعنی ظہور مہدی کی مرفوع احادیث نوے سے زیادہ ہیں اور آثار صحابہ و تابعین اس کے علاوہ ہیں۔ اور پھر سیوطیؒ کے حوالے سے ابوالحسن محمد بن الحسین بن ابراہیم کا قول نقل کیا ہے کہ :”قد تواترت الاخبار واستفاضت بكثرت رواتها عن المصطفى بمجيئ المهدى وانه من اهل بيته ....... الخ (ص ١٩٧ ج ٦)“ یعنی ظہور مہدی کی احادیث تواتر کے طریقے سے نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں۔

محدثین کے ان اقوال سے معلوم ہوا کہ ظہور مہدی کی احادیث صرف صحیح نہیں۔ بلکہ متواتر ہیں اور اتنے لوگوں سے مروی ہیں جن کا جھوٹ پر جمع ہو جانا ممکن نہیں اور پھر یہ کہ تیس احادیث ایسی ہیں۔ جن میں مہدی کے نام کی صراحت موجود ہے اور بعض میں اگر نام مذکور نہیں ہے تو یہ قاعدہ محدثین کے ہاں مشہور ہے کہ اگر ایک واقعہ کے متعلق مختلف احادیث وارد ہوں تو بعض مجمل ہوں اور بعض مفصل تو مجمل کو مفصل ہی کے اوپر حمل کیا جاتا ہے۔

اس لئے علامہ سفارینیؒ نے فرمایا ہے کہ ظہور مہدی کی احادیث کے تواتر کی وجہ سے اس عقیدے پر ایمان واجب ہے۔ جیسے کہ اگلے باب میں انشاء اللہ متکلمین کے اقوال کے ضمن میں ہم ان کا قول نقل کریں گے۔

میں لکھا ہے کہ:

٦٣

صفحہ ٣٧٢

”اعلم ان المشهور بين الكافة من اهل الاسلام على ممر الاعصار انه لا بد فى اخر الزمان من ظهور رجل من اهل البيت يؤيد الدين ويظهر العدل ويتبعه المسلمون ويستولى على المالك الاسلاميه من اشراط الساعة الثابتة في الصحيح على اثره وان عيسى عليه السلام ينزل من بعده فيقتل الدجال او ينزل من بعده فيساعده على قتله ويأتم بالمهدى فى صلاته ......

......الخ (ص ٤٨٤ ج ٦)“

یعنی تمام اہل اسلام متقدمین ومتاخرین کے ہاں یہ مشہور ہے کہ آخری زمانے میں ایک آدمی کا ظہور ہوگا جو دین کی تائید کرے گا اور عدل ظاہر کرے گا اور تمام مسلمان ان کی تابعداری کریں گے اور تمام ممالک اسلامیہ پر اس کا غلبہ ہوگا۔ اس آدمی کو مہدی کہا جاتا ہے اور خروج دجال اور دوسری قیامت کی نشانیاں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ وہ ان کے بعد ظہور پذیر ہوں گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان کے ظہور کے بعد اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔

علامہ مبارکپوریؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ بعد کا ایجاد شدہ نہیں۔ بلکہ پہلے سے اہل اسلام کا یہ عقیدہ چلا آ رہا ہے۔ جیسے کہ ان کے یہ الفاظ کہ ”المشهور بين الكافة من اهل الاسلام على ممر الاعصار“ صراحۃً اس دال پر ہے اور اس کے بعد علامہ مبارک پوری نے ظہور مہدی کی احادیث کے متعلق فرمایا ہے کہ:

”وخرج احاديث المهدى جماعة من الائمه منهم ابوداؤد والترمذى وابن ماجه والبزار والحاكم والطبرانى وابويعلى الموصلى واسندوها الى جماعة من الصحابه ......الخ (تحفة الاحوذی شرح ترمذی ص ٤٨٤ ج ٦)“

یعنی ظہور مہدی کی احادیث کو ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، بزار، حاکم، طبرانی اور ابو یعلی موصلی نے ذکر کیا ہے اور اس کے بعد علامہ مبارک پوری نے ان صحابہ کے اسماء گرامی ذکر کئے ہیں۔ جن سے ظہور مہدی کی احادیث منقول ہیں۔ جن کو ہم التعلیق الصبیح کے حوالہ سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

اور پھر ان احادیث کے بارے میں فرمایا کہ: ”واسناد احادیث هولاء بين

٦٣

صحيح وحسن ضعيف (ص٤٨٤ کچھ صحیح ہیں اور کچھ ضعیف۔ ﴾

تو معلوم ہوا کہ ظہور مہدی کی لئے علامہ مبارک پوریؒ نے ابن خلدو صاحب اور دوسرے کچھ لوگوں نے بھی مہد

علامہ مبارک پوریؒ فرماتے ہی

بن خلدون المغربى فى تاريخه بل اخطا......الخ (تحفة الاحوذی

مہدی کی خوب تضعیف کی ہے اور سب ب ہے۔ ﴾ اور اس کے بعد پھر علامہ مبارک پ

”قلت الاحاديث الو اكثرهم ضعاف ولاشك في ان حد في هذا الباب لا ينحط عن درج وضعاف فحديث عبدالله بن مسع بلامرية فالقول بخروج المهد الاحوذی ص ٤٨٥ج ٦)“ میں کہتا ہو

ضعیف ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ م ماجاء فی المہدی میں نقل کی ہے یہ حسن ہے کے ہیں اور بعض ضعیف ہیں۔ لیکن عبداللہ کے لئے بلا شک کافی ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی

اس عبارت میں اگرچہ مہدی ک نے کچھ حدیثوں کو حسن تسلیم کیا ہے اور اس چکے اور اس کے علاوہ دوسرے محدثین نے مہدی کی بحث کے آخر میں علامہ شوکانی ک

صفحہ ٣٧٣

صحیح و حسن ضعیف (ص ٤٨٤ ج ٦) ”﴿یعنی ان صحابہ سے جو احادیث منقول ہیں وہ کچھ صحیح ہیں اور کچھ ضعیف۔﴾

تو معلوم ہوا کہ ظہور مہدی کی بعض احادیث ان کے نزدیک صحیح اور حسن بھی ہیں۔ اس لئے علامہ مبارک پوری نے ابن خلدون کی تردید کی ہے۔ جن کے اتباع میں اختر کاشمیری صاحب اور دوسرے کچھ لوگوں نے بھی مہدی کی احادیث کو تضعیف و تردید کی ہے۔

علامہ مبارک پوری فرماتے ہیں کہ: ”وقد بالغ الامام المورخ عبدالرحمن بن خلدون المغربى فى تاريخه فى تضعيف احاديث المهدى كلها فلم يصب بل اخطا...... الخ (تحفة الاحوذی ص ٤٨٤ ج ٦) ”﴿یعنی ابن خلدون نے احادیث ظہور مہدی کی خوب تضعیف کی ہے اور سب روایتوں کو ضعیف کہا ہے۔ لیکن یہ ان کی غلطی اور خطاء ہے۔﴾ اور اس کے بعد پھر علامہ مبارک پوری نے اپنی تحقیق یہ ذکر کی ہے:

”قلت الاحاديث الواردة فى خروج المهدى كثيرة جدا ولكن اكثرهم ضعاف ولا شك فى ان حديث عبدالله بن مسعود الذى رواه الترمذى فى هذا الباب لا ينحط عن درجة الحسن وله شواهد كثيرة من بين حسان وضعاف فحديث عبدالله بن مسعود هذا شواهده وتوابعه صالح للا حتجاج بلا مرية فالقول بخروج المهدى وظهوره هو القول الحق والصواب (تحفة الاحوذی ص ٤٨٥ ج ٦) ”﴿میں کہتا ہوں کہ خروج مہدی کی احادیث بہت زیادہ ہیں۔ لیکن اکثر ضعیف ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عبداللہ بن مسعود کی یہی حدیث جو امام ترمذی نے باب ماجاء فی المہدی میں نقل کی ہے یہ حسن ہے اور اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں جو حسن کے درجہ کے ہیں اور بعض ضعیف ہیں۔ لیکن عبداللہ بن مسعود کی یہ حدیث اپنے توابع وشواہد کے ساتھ دلیل کے لئے بلا شک کافی ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی خروج کا قول کرنا ہی حق ہے۔

اس عبارت میں اگرچہ مہدی کی عام احادیث کو علامہ نے ضعیف کہا۔ لیکن خود انہوں نے کچھ حدیثوں کو حسن تسلیم کیا ہے اور اس سے پہلے ان ہی کی عبارت میں گزرا کہ کچھ کو صحیح تسلیم کر چکے اور اس کے علاوہ دوسرے محدثین نے تواتر سے قول کیا ہے اور خود علامہ مبارک پوری نے بھی مہدی کی بحث کے آخر میں علامہ شوکانی کا قول نقل کیا ہے کہ مہدی کی احادیث حد تواتر کو پہنچ چکی

٦٥

صفحہ ٣٧٤

ہیں اور پھر شوکانی کے اس قول پر سکوت اختیار کیا کوئی تردید نہیں کی۔ جس سے معلوم ہوا کہ علامہ مبارک پوری کو بھی شوکانی کی اس تحقیق پر اعتماد ہے۔

تسلیم کیا ہے اور اس پر انہوں نے مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔ تحفۃ الاحوذی میں علامہ شوکانی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ:

”وقال القاضی الشوکانی فی الفتح الربانی الذی امکن الوقوف علیه من الاحادیث الواردة فی المهدی المنتظر خمسون حدیثا وثمانیة وعشرون اثرا ثم سردها مع الکلام علیها ثم قال وجمع ماسقناه بالغ حد التواتر کما لایخفی علی مثله فضل اطلاع (ص٤٨٥ج١)“

﴿یعنی شوکانی نے اپنی کتاب الفتح الربانی میں کہا ہے کہ مہدی کی وہ احادیث جن پر واقف ہونا ان کے لئے ممکن ہوا۔ پچاس مرفوع احادیث اور اٹھائیس آثار ہیں۔ پھر انہوں نے ان سب احادیث کے سند وغیرہ کلام کے ساتھ نقل کیا ہے اور پھر فرمایا کہ جتنی احادیث ہم نے نقل کی ہیں۔ یہ تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں۔ جیسے کہ علم حدیث پر اطلاع رکھنے والوں سے مخفی نہیں۔﴾

شوکانی کی اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ مہدی کی احادیث متواتر ہیں لہذا اس پر عقیدہ رکھنا واجب ہے۔

ابوہریرہؓ کی حدیث میں ”وامامکم منکم“ کی شرح ابوالحسن الخسعی الابدی سے نقل کی ہے کہ:

”تواترت الاخبار بان المهدی من هذا الامة وان عیسی یصلی خلفه ...... الخ (فتح الباری ص٣٥٨ج٦)“ ﴿یعنی احادیث متواتر سے ثابت ہے کہ مہدی اس امت میں سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔﴾

اور اس کے بعد پھر حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ: ”وفي صلوة عیسی خلف رجل من هذا الامة مع کونه في آخر الزمان وقرب قيام الساعة دلالة لصحيح من الاقوال ان الارض لاتخلوا عن قائم الله بحجة (فتح الباری ص٣٥٨ تا ٣٥٩ ج ٦)“

٦٦

﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ اس بات کی دلیل ہے کہ زمین ایسے کرے گا۔﴾

حافظ ابن حجرؒ کی ان عبار احادیث میں ”وامامکم منکم“ ک کے شارحین کے حوالے سے گزر چکی اس سے معلوم ہوا کہ ان کا ذکر نہیں ہے اور نیز یہ بھی ثابت ہو ادا کریں گے۔ نیز فتح الباری میں ا احادیث متواتر ہیں اور پھر اس پر حاف نزدیک بھی ظہور مہدی کی احادیث م کرتے۔ جیسے کہ ان کا یہ طریقہ فتح ا ہیں اور وہ ان کے نزدیک صحیح نہیں ہو

السلام کے شروع میں ”وامامکم من پھر ایک قول یہ نقل کیا کہ اس سے مرا کو ترجیح دی ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہی

وغیره عن زربن عبدالله قا العرب رجل من اهل بیتی سنن ترمذی ص ٧٨ ج ٩)“

﴿یعنی کہا گیا ہے کہ مر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی حدیث بادشاہ میرے اہل بیت میں سے ایک اس کے بعد ابوبکر نے

صفحہ ٣٧٥

﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین ایسے آدمی سے خالی نہیں ہوگی جو خدا کے دین کی خدمت دلیل سے کرے گا۔﴾

حافظ ابن حجرؒ کی ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی بخاری ومسلم والی احادیث میں ”وامامکم منکم“ کے الفاظ سے مراد حضرت مہدی ہیں۔ جیسے کہ یہ بات پہلے مسلم کے شارحین کے حوالے سے گزر چکی ہے اور یہی علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی رائے صحیح نہیں جو کہتے ہیں کہ بخاری ومسلم میں مہدی کا ذکر نہیں ہے اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ نیز فتح الباری میں ابن حجرؒ نے ابوالحسن الخسعیؒ کا جو قول نقل کیا ہے کہ ظہور مہدی کی احادیث متواتر ہیں اور پھر اس پر حافظ نے سکوت کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حافظ ابن حجرؒ کے نزدیک بھی ظہور مہدی کی احادیث متواتر ہیں۔ اگر وہ خود اس کے قائل نہ ہوتے تو پھر اس کی تردید کرتے۔ جیسے کہ ان کا یہ طریقہ فتح الباری دیکھنے والوں پر مخفی نہیں کہ جب وہ کسی کا قول نقل کرتے ہیں اور وہ ان کے نزدیک صحیح نہیں ہوتا تو ضرور اس پر رد کرتے ہیں۔

السلام کے شروع میں ”وامامکم منکم“ کے الفاظ کی شرح کرتے ہوئے مختلف اقوال نقل کئے اور پھر ایک قول یہ نقل کیا کہ اس سے مراد حضرت مہدی ہیں اور پھر بہت سی روایتیں ذکر کرکے اس قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”وقیل یعنی المہدی الذی روی ابوعیسی وغیرہ عن زر بن عبدالله قال قال رسول اللہ ﷺ لا تذهب الدنیا حتی یملك العرب رجل من اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی......الخ (عارضۃ الاحوذی شرح سنن ترمذی ص ٧٨ ج ٩)“

﴿یعنی کہا گیا ہے کہ مراد ”وامامکم منکم“ سے مہدی ہیں۔ جن کے متعلق امام ترمذیؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک عرب کا بادشاہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نہ بنے جس کا نام میرے نام پر ہوگا۔﴾

اس کے بعد ابوبکرؒ نے اس قول کی تائید کے لیے ابوہریرہؓ کی روایت بھی نقل کی ہے

٦٧

صفحہ ٣٧٧

اور پھر دونوں حدیثوں کے بارے میں لکھا ہے کہ: ”حسنان صحيحان (ص ٧٦ ج ٩)“ کہ یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور اس کے بعد ام سلمہ اور دوسرے صحابہ کی روایتیں بھی نقل کی ہیں اور اس قول کو راجح قرار دیا ہے کہ ”وامامکم منکم“ سے مراد حضرت مہدی ہی ہیں۔

پھر اس باب کے آخر میں فوائد کے تحت فائدہ ثانی میں لکھا ہے کہ: ”ويؤمكم منكم قد روى انه يصلى وراء امام المسلمين، خضوعا لدين محمد او شريعة (ص ٧٨ ج ٩)“ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ دین اسلام کے لئے خضوع اختیار کرتے ہوئے یعنی دین اسلام کی تائید کے لئے وہ پہلے مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس سے بھی مراد مہدی ہی ہیں۔ اس لئے کہ سب مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے امام حضرت مہدی ہی ہوں گے۔

کا حکم لگایا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی ظہور مہدی کی حدیثیں صحیح ہیں۔ ملاحظہ ہو (شرح معالم السنن للخطابی ص ١٥٦ تا ١٦٢ ج ٦)

اب حضرت کی تقریر بخاری المسمی بفیض الباری کے اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں: ”قوله كيف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامكم منكم“ بخاری کی اس حدیث کی شرح میں حضرت لکھتے ہیں: ”المتبادر منه الامام المهدى (فيض البارى ص ٤٤ ج ٤)“ یعنی و امامکم منکم سے ظاہر مراد حضرت مہدی ہی ہیں۔ اور پھر مختلف احادیث کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”والراجح عندى لفظ البخارى اى وامامكم منكم بالجملة الاسميه والمراد منه الامام المهدى لما عند ابن ماجة ص ٣٠٨ باسناد قوی یا رسول الله فاين العرب يومئذ قال هم يومئذ قليل ببيت المقدس وامامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم يصلى بهم الصبح اذانزل عليهم عيسى بن مریم (الى ان قال) فقد صرح فى ان مصداق الامام في الاحاديث هو الامام المهدى دون عيسى عليه الصلوة والسلام فلا يبالى فيه باختلاف الرواية

٦٨

بعد صراحة الحديث (فیض الباری ص ٤٥ ج

اور اس سے مراد امام مہدی ہیں۔ اس لئے کہ ابن ماجہ کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس دن عرب کہاں ہوں کے پاس ہوں گے اور ان کا امام ایک نیک آدمی یعنی مہ صبح کی نماز کے لئے آگے آچکا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ ع واپس ہوگا۔ اب اس حدیث میں صراحت ہو گئی کہ امام اور وہ امام مہدی ہوں گے نہ کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ الس راویوں کے اختلاف الفاظ کا کچھ اعتبار نہیں۔

اس کے بعد پھر فرماتے ہیں کہ : ”فالاما علیه السلام يكون هو المهدى عليه السل يصلى بهم المسيح عليه السلام (فيض الباری

ہوں گے۔ کیونکہ ان ہی کی امامت میں وہ نماز شروع ہ نمازوں میں امامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔ باتیں معلوم ہوئیں:

نقل کی ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں۔ صحیح الفاظ یہی ہیں۔

حدیث جس کی سند قوی ہے۔ اس پر صراحتاً دلالت کرتی

امامت پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔

پھر مکرر عرض کرتا ہوں کہ اس سے وہ اعتر مودودی اور اختر کاشمیری صاحب وغیرہم کا تھا (کہ مہ جیسے کہ مولانا مودودی صاحب نے ”رسائل و مسائل“ مسئلے کی دین میں اتنی بڑی اہمیت ہو اسے محض اخبار آح

٦٩

صفحہ ٣٧٧

بعد صراحة الحديث (فیض الباری ص٤٥ تا ٤٧ ج٤)“ یعنی راجح میرے نزدیک بخاری کے الفاظ ”وامامکم منکم“ ہیں جملہ اسمیہ کے ساتھ اور اس سے مراد امام مہدی ہیں۔ اس لئے کہ ابن ماجہ میں ص٣٠٨ پر صحیح حدیث موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس دن عرب کہاں ہوں گے ۔ تو فرمایا وہ تھوڑے سے بیت المقدس کے پاس ہوں گے اور ان کا امام ایک نیک آدمی یعنی مہدی ہوں گے۔ پس اس اثناء میں ان کا امام صبح کی نماز کے لئے آگے آچکا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو وہ امام واپس ہوگا۔ اب اس حدیث میں صراحت ہو گئی کہ امام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دوسرا ہو گا اور وہ امام مہدی ہوں گے نہ کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ اب اس حدیث کی صراحت کے بعد راویوں کے اختلاف الفاظ کا کچھ اعتبار نہیں۔

اس کے بعد پھر فرماتے ہیں کہ: ”فالامام فی اول صلوٰة بعد نزول المسيح عليه السلام يكون هو المهدی علیه السلام لانه كانت اقيمت له ثم بعد ها يصلی بھم المسیح علیه السلام (فيض البارى ص٤٧ ج٤)“

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کے بعد پہلی نماز میں تو امام حضرت مہدی ہوں گے۔ کیونکہ ان ہی کی امامت میں وہ نماز شروع ہونے والی تھی۔ لیکن اس کے بعد پھر دوسری نمازوں میں امامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب کے ان اقوال سے کئی باتیں معلوم ہوئیں:

نقل کی ہیں ، وہ صحیح نہیں ہیں۔ صحیح الفاظ یہی ہیں۔

حدیث جس کی سند قوی ہے۔ اس پر صراحتاً دلالت کرتی ہے۔

امامت پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔

پھر مکرر عرض کرتا ہوں کہ اس سے وہ اعتراض جو ابن خلدون اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور اختر کاشمیری صاحب و غیرھم کا تھا (کہ مہدی کا ذکر بخاری و مسلم وغیرہ میں نہیں ہے جیسے کہ مولانا مودودی صاحب نے ”رسائل و مسائل“ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ جس مسئلے کی دین میں اتنی بڑی اہمیت ہو اسے محض اخبار آحاد پر چھوڑا جا سکتا تھا اور اخبار آحاد بھی اس

٦٩

صفحہ ٣٧٨

وجہ کہ امام مالک اور امام بخاری اور مسلم جیسے محدثین نے اپنے حدیث کے مجموعوں میں سرے سے ان کا لینا ہی پسند نہ کیا ہو۔ حصہ اول ص ٥٨) وہ اعتراض ختم ہو گیا۔

کیونکہ محدثین کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ بخاری و مسلم کی ان احادیث میں ”وامامکم منکم“ سے مراد مہدی ہیں۔ منکرین کے دلائل پر تبصرہ چوتھے باب میں ہوگا۔ انشاء اللہ!

کہ صحابہ نے جب پیغمبر علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کے بعد کیا واقعات پیش آئیں گے تو نبی کریم ﷺ نے جواب میں حضرت مہدی کا ذکر کیا۔ فرماتے ہیں: ”فدفعه النبى ﷺ باظهار ظهور المهدى اذذاك فيزكيهم ويعلمهم ويطهرهم عن دنس البدعات (الكوكب الدری ص ٢٥٧)“ یعنی نبی کریم ﷺ نے ان کے سوال کے جواب میں حضرت مہدی کا ذکر کیا کہ مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ لوگوں کو شرک و بدعت سے پاک کر دیں گے۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کبھی بھی امت کو بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑیں گے ۔ بلکہ مختلف صورتوں میں ان کی ہدایت کا بندوبست ہوگا۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت گنگوہی کے نزدیک بھی ظہور مہدی ضروری ہے اور وہ اس کے فوائد کے لئے ہوگا۔

مہدی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی مختلف نشانیوں کا ذکر کرتے ہیں اور بغیر کسی تردید کے پورے باب کی احادیث کی شرح کی ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ ظہور مہدی کی احادیث سب کی سب ان کے نزدیک صحیح ہیں۔ (ملاحظہ ہو بذل المجہود ج ٥ ص ١٠١ تا ١٠٣)

كثيرة شهيرة افردها غير واحد فى التاليف...... الخ (ص٢٧٩ج٦)“ یعنی ظہور مہدی کی احادیث بہت ہیں اور مشہور ہیں۔ لوگوں نے اس پر مستقل تالیفات لکھی ہیں۔

مراد امامکم منکم سے حضرت مہدی ہیں ۔ (تیسیر القاری ص ٣٤٦ج٣)“

نام سے، ان کے مجموعہ رسائل ”الحاوی“ میں چھپ چکا ہے اور اس میں انہوں نے بہت سی احادیث و آثار جمع کئے ہیں اور ظہور مہدی کی احادیث کے لئے انہوں نے تواتر معنوی کا دعویٰ کیا

٧٠

صفحہ ٣٧٩

ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظہور مہدی کا عقیدہ ان کے نزدیک عقائد ضروریہ میں سے ہے۔

فرمایا کہ ”الاحادیث التی یحتج بہا علی خروج المہدی صحاح رواہا احمد وابوداؤد والترمذی منہا حدیث ابن مسعود ام سلمۃ وابی سعید وعلی (ص٥٢٧) ”(یعنی ظہور مہدی کے لئے جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ صحیح ہیں۔﴾ امام احمد، ترمذی، ابوداؤد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ ان میں سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ام سلمہؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت علیؓ کی روایتیں ہیں۔﴾

ہے ۔ ترجمان السنۃ میں فرماتے ہیں کہ : ”یہاں جب آپ اس خاص تاریخ سے علیحدہ ہو کر نفس مسئلہ کی حیثیت سے احادیث پر نظر کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امام مہدی کا تذکرہ سلف سے لے کر محدثین کے دور تک بڑی اہمیت کے ساتھ ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ امام ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ نے امام مہدی کے عنوان سے ایک ایک باب علیحدہ قائم کیا ۔“

ان کے علاوہ وہ آئمہ حدیث جنہوں نے امام مہدی کے متعلق حدیثیں اپنی اپنی مؤلفات میں ذکر کی ہیں۔ ان میں سے چند کے اسماء حسب ذیل ہیں : ”امام احمد، البزار، ابن ابی شیبہ، الحاکم، الطبرانی، ابویعلی موصلی رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ وغیرہ......الخ (ترجمان السنۃ ص٣٧٧ج٤)“

یہاں تک کہ ہم نے محدثین کے اقوال مختصر طور پر نقل کئے ہیں۔ جن سے اس مسئلے کی کافی وضاحت ہوئی اور مختلف حوالوں کے ضمن میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ظہور مہدی کی احادیث کچھ محدثین کے نزدیک تو حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ جیسے امام سیوطیؒ، امام شوکانیؒ اور تعلیق الصبیح وغیرہ کے حوالہ آپ پڑھ چکے ہیں۔

ابن ماجہ کے حاشیہ ”انجاح الحاجۃ“ میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددی نے اس مسئلے پر مجمع البحار سے مفصل کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (ص٣٠٠ ابن ماجہ ) ظہور مہدی کی احادیث کو متواتر ماننے والوں میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بھی ہیںؒ، چنانچہ مشکوٰۃ کی فارسی شرح ”اشعۃ اللمعات“ میں لکھتے ہیں کہ درین باب احادیث بسیار وارد شدہ ، قریب تواتر (اشعۃ اللمعات ص ٣١٨ ج ٤) کہ خروج مہدی کے باب میں بہت سی احادیث وارد ہیں جو تواتر کے قریب ہیں۔

اور کچھ محدثین نے اگرچہ تواتر کا قول تو نہیں کیا ۔ لیکن ان احادیث کو صحیح ضرور تسلیم

٧١

صفحہ ٣٨٠

گیا۔ جس سے ان لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا۔ جو کہتے ہیں کہ اگر صحیح حدیث سے ثابت ہو جائے تو ہم مان لیں گے۔ ان احادیث کو مؤرخ ابن خلدون کے علاوہ کسی نے بھی ضعیف نہیں کہا ہے۔ چوتھے باب میں انشاء اللہ تعالیٰ منکرین کے دلائل پر تبصرہ میں آپ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔ لہٰذا اب یہ کہنا کہ سب احادیث ضعیف ہیں حق سے بہت دور اور بالکل بے جا بات ہے۔

الباب الثالث

عقیدہ ظہور مہدی متکلمین کی نظر میں

والقدریہ میں لکھتے ہیں: ”ان الاحادیث التی یحتج بها علی خروج المهدی احادیث صحیحه رواها ابو داؤد والترمذی واحمد وغیرهم من حدیث ابن مسعود وغیره کقوله ﷺ فی الحدیث الذی رواه ابن مسعود لولم یبق الا یوم لطول الله ذالك اليوم حتّى يخرج فيه رجل منى او من اهل بيتى يواطى اسمه واسم ابيه اسم أبى ......الخ (ص٢١١ ج ٤)“

١؎ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کے بارے میں ملا علی قاری حنفی شمائل کی شرح جمع الوسائل میں لکھتے ہیں کہ ”كانا من اكابر اهل السنة والجماعة ومن اولياء هذه الامة (ص٣٠٨ ج ١) “ اور مرقاة شرح مشکوۃ المصابیح میں لکھتے ہیں: ”و من طالع شرح منازل السائرين تبين له انهما كانا من اكابر أهل السنة والجماعة وان اولياء هذه الامة (ص٤٧٢ ج٤) “ اور یہی عبارت مولانا ادریس کاندھلوی کی تعلیق الصبیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے (ص ٣٨٨ ج ٤) اور تعلیق الصبیح میں ملا علی قاری سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ ”وانه برئ مما رماه اعداءه الجهمية من التشبيه والتعطيل على عادتهم في رمى أهل السنة ومسلكه في حفظ حرمة نصوص الاسماء والصفات باجراء اخبارها على ظواهرها موافق لاهل الحق من السلف وجمهور الخلف وكلامه بعينه مطابق لما قاله الامام الاعظم والمجتهد الاقدم في الفقه الاكبر (تعلیق الصبیح ص ٣٨٨ ج ٤) “ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٧٢

صفحہ ٣٨١

یعنی وہ احادیث کہ جن میں ظہور مہدی کے لئے استدلال کیا جاتا ہے۔ وہ صحیح ہیں۔ جن کو امام ترمذی امام ابوداؤد، امام احمد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن مسعودؓ کی یہ روایت ہے جس میں امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی ہو تو اللہ تبارک

حاشیہ گزشتہ صفحہ:

"وعلى هذا الاصل اعتقدنا فى شيخ الاسلام ابن تيميه انا تحققنا من حاله انه عالم بكتاب الله ومعانيه اللغوية والشرعية وحافظ لسنة رسول الله و آثار السلف عارف بمعانيه اللغوية والشرعية استاذ فى النحو و اللغة محرر لمذهب الحنابله وفروعه واصوله فائق فى الذكاء ذولسان وبلاغة فى الذب عن عقيدة اهل السنة لم يوثر عنه فسق ولا بدعة(الى ان قال) فمثل هذا الشيخ عزيز الوجود فى العلم ومن يطيق ان يلحق شاوه فى تحريره وتقريره والذين ضيقوا عليه ما بلغوا معشار مااتاه الله تعالى (تاريخ دعوت وعزيمت لابی الحسن على الندوى ص ١٧٩ تا ١٨٠ ج ٢) ”اور علامہ ذہبی کے معجم شیوخ سے ابن عماد حنبلی نے شذرات الذہب میں ان کا یہ قول امام ابن تیمیہ کے بارے میں نقل کیا کہ ”وهو اكبر من ان ينبه على سيرته مثلى فلو حلفت بين الركن والمقام لحلفت انى مارأيت بعينى مثله وانه مارأى مثل نفسه (ص ٦٨ ج ٦) ”اور اسی شذرات میں ابن سید الناس کا یہ قول بھی منقول ہے کہ ”لم ير اوسع منه علما ولا ارفع من درايته يربى فى كل فن على ابناء جنسه ولم ترعين من راه مثله ولا رأت عينه مثل نفسه (ص ٨٢ ج ٦) ”اور ذہبی کا یہ قول بھی ان کی تاریخ کبیر کے حوالے سے شذرات الذہب میں منقول ہے کہ ”يصدق عليه ان يقال كل حديث لايعرفه ابن تيميه فليس بحديث(ص ٨٢ ج ٦)“ اور شیخ عماد الدین کا قول ہے کہ ”فوالله ثم والله لم ير تحت اديم السماء مثل شيخكم ابن تيميه علما وعملا وحالا وخلقا، واتباعا وكرما وحلما وقياما فى حق الله ...... الخ (ص ٨٢ ج ٦) “اور امام تقی الدین بن دقیق العید کا یہ قول ہے کہ کسی نے جب ان سے پوچھا کہ ابن تیمیہ کو کیسے پایا تو فرمایا : ”رأيت رجلا سائر العلوم بين عينيه ياخذ ماشاء منها ويترك ماشاء (ص ٨٣ ج ٦) “اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی نے دررکامنہ میں امام ابن تیمیہ کا طویل ترجمہ لکھا ہے اور ان کے معاصرین کے ان اقوال کا ذکر کیا ہے ملاحظہ ہو (دررکامنہ ص ١٤٨ تا ١٨٧ ج ١) طبقات حنابلہ میں ابن رجب نے ابن دقیق العید کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جب ابن دقیق العید کی ملاقات ابن تیمیہ سے ہوئی تو فرمایا کہ: ”ماكنت اظن ان الله بقى يخلق مثلك (ص ٣٩٢ ج ٢) “طبقات حنابلہ میں ابن رجب نے مختلف علماء کے اقوال ان کی توصیف میں نقل کئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو از ص ٣٨٧ تا ٣٨٨ ج ٢) اور ابن کثیر جو ان کے شاگرد اور ہم عصر بھی ہیں لکھتے ہیں: ”فصار الامام فى التفسير وما يتعلق به عارفا بالفقه فيقال انه كان اعرف بفقه المذاهب من اهلها الذين كانوا فى زمانه وغيره(الى ان قال) واما الحديث فكان حامل رايته حافظ له مميزا بين صحيحه عارفا برجاله مطلعا من ذالك ...... الخ (البدايه والنهايه ص ١٤٧ ج ١٤) “ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ٣٨٢

وتعالیٰ اس کو طویل کر دیں گے۔ یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی ظاہر ہو جائے جس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔ جو زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ جیسے کہ پہلے وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔

امام ابن تیمیہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک ظہور مہدی کی احادیث صحیح ہیں۔ آگے پھر انہوں نے شیعوں کی تردید کی ہے کہ اس سے وہ مہدی غائب مراد نہیں جس کا شیعہ اعتقاد رکھتے ہیں۔

سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ذہبی کی بھی یہی رائے ہے کہ ظہور مہدی کی احادیث صحیح ہیں۔

طویل کلام کیا گیا ہے اور ظہور مہدی کی سب احادیث کو نقل کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو (از ص ٦٦ تا ٨٢ ج ٢) اور اس کے بعد پھر لکھا ہے کہ:

"قد كثرت الروايات بخروج المهدى حتى بلغت حد التواتر المعنوى وشاع ذالك بين علماء السنة حتى عد من معتقداتهم فالايمان بخروج المهدى واجب كما هو مقرر عند اهل العلم ومدون فى عقائد اهل السنة والجماعة (شرح عقيده سفارینی ص ٨٠ ج ٢) ”یعنی خروج مہدی پر بہت سے احادیث دلالت کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ روایتیں تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ لہٰذا خروج مہدی پر ایمان واجب ہے۔ جیسے کہ اہل علم کے نزدیک ثابت ہے اور عقائد کی کتابوں میں لکھا گیا ہے۔"

علامہ سفارینی کی اس عبارت سے کئی باتیں معلوم ہوئیں:

"واما ظهور المهدى فى اخر الزمان وانه يملا الارض قسطا وعدلا

كما ملئت ظلما وجورا من عترته الاخبار سيد الابرار ﷺ (ص ٦ گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں مہدی نبی کریم ﷺ کی اولاد میں سے ہوں سے احادیث وارد ہو چکی ہیں۔﴾

دوسری جگہ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہ اولا فى الحرمين الشريفين ثم يـ ترتیب واقعہ یہ ہوگی کہ اولاً حضرت امام مہدی گے۔ وہاں پھر دجال کا ظہور ہوگا۔ پھر عیسیٰ ع اور تیسری جگہ لکھتے ہیں: ”الام المهدى (ص ١٣٧) ”یعنی صحیح یہ ہے ک اور مہدی ان کی اقتداء کریں گے۔﴾

ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مسلم ہے۔

"صح فى الحديث (ص ٣١٥) "کہ مہدی کے بارے م عبداللہ ہوگا۔﴾ پھر اس کے بعد لکھتے ہیں ک "تواترات الاحاديث بالتاليفات وملخصها انه من أهـ خروج مہدی کے بارے میں احادیث متو جو محمد بن عبداللہ المعصوم عباسی یا عمر بن عبد فرمایا: "فکله مخالف للـ کے خلاف ہیں۔﴾

صفحہ ٣٨٣

كما ملئت ظلما وجورا من عترته عليه السلام من ولد فاطمه وانه قد ورد به الاخبار سيد الابرار ﷺ (ص ١٧٦) ”یعنی امام مہدی آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جب وہ ظلم اور زیادتی سے بھر چکی ہوگی اور یہ کہ مہدی نبی کریم ﷺ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ حضرت فاطمہؓ کی اولاد ہے اس پر نبی کریم ﷺ سے احادیث وارد ہو چکی ہیں۔“

دوسری جگہ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ: ”فترتيب القضيه ان المهدى يظهر اولا في الحرمين الشريفين ثم ياتى بيت المقدس......الخ (ص ١٣٦) ”یعنی ترتیب واقعہ یہ ہوگی کہ اولاً حضرت امام مہدی کا ظہور ہوگا حرمین میں پھر بیت المقدس چلے جائیں گے۔ وہاں پھر دجال کا ظہور ہوگا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔“

اور تیسری جگہ لکھتے ہیں: ”الاصح ان عيسى يصلى بالناس ويقتدى به المهدی (ص ١٣٧) ”یعنی صحیح یہ ہے کہ پہلی نماز کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے اور مہدی ان کی اقتداء کریں گے۔“

ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ ظہور مہدی حضرت ملا علی قاری کے نزدیک ثابت اور مسلّم ہے۔

”صح فى الحديث ان اسم والد المهدي عبدالله ،نبراس (ص ٣١٥) ”کہ مہدی کے بارے میں صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔“ پھر اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”تواترت الاحاديث فى خروج المهدى وافردها بعض العلماء بالتاليفات وملخصها انه من اهل بيت النبي ﷺ...... الخ (ص ٣١٥) ”کہ خروج مہدی کے بارے میں احادیث متواتر آچکی ہیں۔ اس کے بعد پھر ان لوگوں کی تردید کی ہے جو محمد بن عبداللہ المنصور عباسی یا عمر بن عبدالعزیز یا محمد بن حنفیہ کو مہدی کہتے ہیں۔ فرمایا: ”فکله مخالف للحديث (ص ٣١٥) ”یعنی یہ سب باتیں احادیث کے خلاف ہیں۔“

٧٥

صفحہ ٣٨٤

اور آخر میں فرمایا ہے کہ بہت سے اولیاء وصوفیا نے مہدی کے لئے مخصوص اوقات کا ذکر کیا ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس میں سکوت بہتر ہے۔ کیونکہ دوسری علامات قیامت کی طرح اس کو بھی خدا نے مخفی رکھا ہے اور ظہور مہدی کے معین وقت کی اطلاع کسی کو نہیں دی۔ ملاحظہ ہو (نبراس ص ٣١٤، ٣١٥) علامہ عبدالعزیز کے ان ارشادات سے بھی کئی باتیں ثابت ہوئیں:

مخفی رکھا ہے۔ اسی طرح نبراس میں ہے: ”وبالجملة فالتصديق بخروجه واجب (ص ٣١٥)“ یعنی خروج مہدی کی تصدیق واجب ہے۔

کہ: ”واعلم انه یجب الایمان بنزول عیسیٰ علیہ السلام وکذا بخروج المہدی (ص ٩٠)“ جان لو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اور امام مہدی کے خروج پر ایمان لانا واجب ہے اور پھر اس کے بعد نیز اس کے ثبوت کے لئے متعدد احادیث سے استدلال کیا ہے۔

قیامت سے پہلے دجال کا نکلنا، حضرت مسیح اور حضرت مہدی کا تشریف لانا اور جن چیزوں کی خبر صحیح اور قابل استدلال احادیث سے ثابت ہوئی ہے۔ ان کا واقع ہونا حق ہے۔ (ص ٧)

سنت والجماعت کے عقائد میں امام مہدی کا ظہور آخر زمانہ میں حق اور صدق ہے اور اس پر اعتقاد ضروری ہے۔ اس لئے کہ امام مہدی کا ظہور احادیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اگرچہ اس کی بعض تفصیلات اخبار آحاد سے ثابت ہوں عہد صحابہ و تابعین سے لے کر اس وقت تک امام مہدی کے ظہور کا مشرق ومغرب میں ہر طبقہ کے مسلمان علماء صلحاء عوام وخواص ہر قرن وعصر میں نقل کرتے ہیں۔ (ص ١١٣)

٧٦

صفحہ ٣٨٥

انتقال ہوگا تو عام مسلمان پھر ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (ص ٢٧٨ ج ٦) اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ظہور مہدی حق ہے۔ اس لئے کہ موت تو بعد الظہور ہی ہوگی۔

فاطمہ...... الخ (ص ٢٧٩ ج ٦)“ کہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی اولاد فاطمہ میں سے ہوں گے۔

متکلمین کے ان اقوال کی روشنی میں یہ بات بلا خوف وخطر کہی جاسکتی ہے کہ عقیدہ ظہور مہدی اہل سنت والجماعت کے ضروری عقائد میں سے ہے۔ جیسا کہ آپ بعض متکلمین کے اقوال پڑھ آئے کہ ظہور مہدی پر ایمان واجب ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین!

الباب الرابع

منکرین ظہور مہدی کے دلائل پر تبصرہ

ظہور مہدی کے منکرین کا بنیادی ماخذ مقدمہ ابن خلدون کی وہ بحث ہے جو ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں ”الفصل الثانی والخمسون فی امر الفاطمی وما یذھب الیہ الناس فی شانہ وکشف الغطاء عن ذالك“ کے عنوان سے کی ہے۔ اس لئے اس باب میں اولاً ہم ان کے دلائل پر تبصرہ کریں گے۔ اس کے بعد ان اشکالات کا جائزہ لیا جائے گا جو اختر کاشمیری صاحب نے اپنے مضمون میں اٹھائے ہیں۔

ابن خلدون کا تعارف

لیکن اس بحث سے پہلے ہم قارئین کے سامنے ابن خلدون کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔ جس سے واضح ہوگا کہ تاریخ وفلسفہ تاریخ میں امام ہونے کے باوجود فن حدیث میں ان کا کیا مقام ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ فن حدیث کے ماہرین اور آئمہ کے اقوال اور آراء کے مقابلے میں ان کے قول کی کیا حیثیت ہے۔

١؎ ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٣١١ تا ٣٣٠ مطبوعہ مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت لبنان۔

٧٧

صفحہ ٣٨٦

نام ونسب

عبدالرحمن بن محمد بن محمد بن الحسن بن محمد بن ابراہیم بن محمد بن عبدالرحیم یہ ان کا پورا نام ونسب ہے۔ اصلاً تونس کے باشندے تھے۔ تونس کی طرف منسوب ہو کر تونسی کہلاتے تھے۔ اسی طرح اسی علاقے کے ایک مقام اشبیلہ کی طرف منسوب ہو کر اشبیلی کہلاتے تھے۔ ٧٣٢ھ میں بدھ کے دن رمضان کے اوائل میں ان کی پیدائش تونس میں ہوئی اور وہیں پر ان کا بچپن گزرا۔ عبداللہ بن سعد بن نزال کے پاس قرآن پڑھا اور ابو عبداللہ محمد بن عبدالسلام وغیرہ سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ عبدالمہیمن حضرمی اور محمد بن ابراہیم اربلی سے معقول کی تعلیم حاصل کی۔

علامہ سخاوی نے ضوء اللامع میں ان کے اساتذہ کی تفصیل لکھی ہے۔ علم حدیث کی تحصیل ابوعبداللہ محمد بن عبدالسلام اور ابوعبداللہ داد یاشی سے کی۔ علامہ سخاوی سے خود انہی سے نقل کیا ہے کہ صحیح بخاری ابوالبرکات بلقینی سے سنی اور موطا امام مالک محمد بن عبدالسلام سے سنی اور صحیح مسلم علامہ دادیاشی کے پاس پڑھی اور علم قرأت کی تحصیل محمد بن سعد بن نزال انصاری سے کی۔ علم ادب سے بھی گہرا تعلق تھا اور حبیب بن اوس کے اشعار اور دیوان متنبّی کا کچھ حصہ یاد تھا۔ مختصر یہ کہ اکثر علوم کی تحصیل بقول ابن العماد حنبلی برع فی العلوم وتقدم فی الفنون وماهر فی الادب (شذرات الذہب ص ٧٦ ج ٧) یعنی علوم میں کامل ، فنون میں مقدم اور ادب میں ماہر تھے۔ مالکی المذہب تھے اور قاہرہ میں مالکی مذہب کے قاضی بنائے گئے۔

ایک دفعہ قضاء سے معزول کئے گئے۔ پھر دوبارہ قاضی بنائے گئے۔ اسی طرح کبھی معزول کئے جاتے اور کبھی دوبارہ اس عہدہ پر مقرر کئے جاتے تھے۔ پھر ٨٠٨ھ میں بدھ کے دن رمضان کے مہینے میں انتقال ہوا۔ امور سیاست میں ماہر تھے اور حکومت کے مختلف عہدوں پر رہنے کی وجہ سے عملی تجربہ بھی حاصل تھا۔ لیکن ان امور کے باوجود فقہ وحدیث میں وہ مقام حاصل نہ تھا جو اس وقت کے دوسرے آئمہ اور قضاۃ کو حاصل تھا۔ اسی لئے علامہ سخاوی نے لکھا ہے :

١ ملاحظہ ہو الضوء اللامع لاھل القرن التاسع للامام السخاوی ص ١٤٥ ج ٤ وشذرات الذھب لابن العماد الحنبلی ص ٧٦ ج ٧۔

٢ ملاحظہ ہو الضوء اللامع ص ١٤٥ ج ٤ وشذرات الذھب ص ٧٦ ج ٧۔

٧٨

”ويقال ان اهل المغرب لما يو المصريين الى قلة المعرفة بحيث قال ابن المناصب فلما وليها هذا عدناها بضد من

”یعنی کہا جاتا ہے کہ اہل مغرب کی جب ال تو انہوں نے تعجب کیا اور اہل مصر کے متعلق کہا کہ معلوم نے کہا کہ ہم قضاء کے منصب کو بہت عظیم وجلیل منص بنے تو اب قضاء کی وہ عظمت باقی نہیں رہی۔ اگر چہ م اکثر زندگی امراء کی مصاحب اور حکومت کے مختلف م پوری توجہ نہیں تھی۔ ٢؎

علامہ سخاویؒ نے اپنے استاذ حافظ ابن حج (یعنی ابن خلدون ) کے حالات میں ان کے بہت س کہ : ”ومع ذالك فلم يصفه فيما قال شيخنا فى الادب وشيئا من نظمه (الضوء الام ساتھ ان کا ذکر تو کیا ہے۔ لیکن باوجود ان صفات س ساتھ ان کو موصوف نہیں کیا۔ ادب میں ان کی کچھ تص کا ذکر کیا ہے۔

اس کے بعد علامہ سخاویؒ نے حافظ ابن حج شيخنا ولم يكن بالمبرز فيه......الخ (ص ٧ علامہ کراکی سے کسی نے ابن خلدون ب ”عرى عن العلوم الشرعية له ا تقدم فيها (الضوء اللامع ص ١٤٧ ج٤) ”کہ تھے اور علوم عقلیہ میں کچھ درک تھا۔ لیکن اس میں بھ علامہ مقریزی نے ان کی تاریخ اور مق بیان کئے۔ لیکن حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: ”وما

٧٩

صفحہ ٧٩

”ويقال ان اهل المغرب لما بلغهم ولايته القضا تعجبوا ونسبوا المصريين الى قلة المعرفة بحيث قال ابن عرفة كنا نعد خطة القضاء اعظم المناصب فلما وليها هذا عدنا ها بضد من ذالك (الضوالامع ص١٨٦ج٤)“

﴿یعنی کہا جاتا ہے کہ اہل مغرب کی جب ان کی قضاء کے منصب پر فائز ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے تعجب کیا اور اہل مصر کے متعلق کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ مردم شناس نہیں ہیں اور ابن عرفہ نے کہا کہ ہم قضاء کے منصب کو بہت عظیم وجلیل منصب سمجھتے تھے۔ لیکن ان جیسے لوگ جب قاضی بنے تو اب قضاء کی وہ عظمت باقی نہیں رہی۔ اگر چہ کچھ وقت فقہ وحدیث کی تدریس بھی کی۔ لیکن اکثر زندگی امراء کی مصاحب اور حکومت کے مختلف عہدوں پر رہنے کی وجہ سے ان علوم کی طرف پوری توجہ نہیں تھی۔﴾

علامہ سخاویؒ نے اپنے استاذ حافظ ابن حجرؒ سے نقل کیا ہے کہ ابن الخطیب نے ان کے (یعنی ابن خلدون) کے حالات میں ان کے بہت سے اوصاف لکھے ہیں۔ لیکن سخاوی لکھتے ہیں کہ : ”ومع ذالك فلم يصفه فيما قال شيخنا ايضا بعلم وانما ذكر له تصانيف فى الادب وشيئا من نظمه (الضوء الامع ص١٥٧ج٤)“ یعنی بہت سی صفات کے ساتھ ان کا ذکر تو کیا ہے۔ لیکن باوجود ان صفات کے جیسے کہ ہمارے شیخ نے کہا کہ علمی صفت کے ساتھ ان کو موصوف نہیں کیا۔ ادب میں ان کی کچھ تصانیف کا ذکر کیا ہے اور ان کے کچھ منظوم کلام کا ذکر کیا ہے۔

اس کے بعد علامہ سخاویؒ نے حافظ ابن حجرؒ کا یہ قول ان کے متعلق نقل کیا ہے کہ: ”قال شيخنا ولم يكن بالماهر فيه...... الخ (ص١٤٧ج٤)“ کہ علم ادب میں بھی ماہر نہیں تھے۔

علامہ رکراکی سے کسی نے ابن خلدون کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ”عرى عن العلوم الشرعية له معرفة بالعلوم العقلية من غير تقدم تقدم فيها (الضوء الامع ص١٤٧ج٤)“ کہ علوم شرعیہ یعنی فقہ حدیث تفسیر وغیرہ سے عاری تھے اور علوم عقلیہ میں کچھ درک تھا۔ لیکن اس میں بھی تقدم حاصل نہ تھا۔

علامہ مقریزی نے ان کی تاریخ اور مقدمہ کی بہت تعریف کی اور بہت کچھ اوصاف بیان کئے۔ لیکن حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ : ”وما وصفها به فيما يتعلق بالبلاغة

صفحہ ٣٨٨

والتلاعب بالكلام على الطريقة الجاحظية مسلم فيه واما الاطراء به زيادة على ذالك فليس الامر كما قال الا فى بعض دون بعض...... الخ (الضوء الامع ص١٤٧ج٤) ”مقریزی نے جو تعریف کی ہے وہ بلاغت اور جاحظ کے طریقہ پر لفظی کھیل اور ہیر پھیر کے اعتبار سے تو مسلم ہے لیکن باقی امور میں تعریف کامل طریقے پر صحیح نہیں ہے۔سوائے چند امور کے۔

اسی طرح حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے استاد اور مشہور محدث حافظ ہیثمیؒ ابن خلدون کے خوب مذمت کرتے تھے۔حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں حضرت امام حسینؓ کا ذکر جب کیا تو لکھا کہ ”قتل بسیف جدہ“ یعنی اپنے دادا کی تلوار سے قتل کئے گئے۔ سخاویؒ لکھتے ہیں کہ ہمارے استاد حافظ ابن حجرؒ نے جب ان کا یہ کلمہ نقل کیا تو ساتھ ہی ابن خلدون پر لعنت بھیجی اور برا کہا اور رو رہے تھے۔حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ ان کے یہ الفاظ اب موجودہ تاریخ میں موجود نہیں ہیں۔

اس کے ساتھ یہ بھی مدنظر رہے کہ ابن خلدون ناصبی بھی تھے اور آل علیؓ سے انحراف رکھتے تھے۔علامہ سخاویؒ نے لکھا ہے کہ مقریزی اس لئے ابن خلدون کی تعریف کرتے تھے کہ مقریزی مصر کے فاطمین کے نسب کے حضرت علیؓ سے متصل ہونے کے قائل تھے اور ابن خلدون بھی فاطمین کے نسب کو حضرت علیؓ سے متصل ثابت کرتے تھے۔حالانکہ ابن خلدون کا مقصد اس سے آل علیؓ میں نقص ثابت کرنا تھا۔ کیونکہ مصر کے فاطمین کے عقائد خراب تھے۔بعض ان میں سے زندیق تھے اور بعض نے الوہیت کا بھی دعویٰ کیا تھا اور رافضی تو سب تھے تو ان کا نسب جب اصل علیؓ سے ثابت ہوجاتا ہے تو آل علیؓ کا نقص ثابت ہوتا ہے۔ سخاویؒ کے الفاظ یہ ہیں:

”وغفل عن مراد ابن خلدون فانه كان لانحرافه عن آل علىّ يثبت نسب الفاطميين اليهم اشتهر من سوء معتقد الفاطمين وكون بعضهم نسب الى الزندقة وادعى الالهية كالحكم وبعضهم فى الغاية من التعصب لمذهب الرفض حتى قتل فى زمانهم جمع من اهل السنة (الى ان قال) فاذا كانوا بهذه المثابة وصح انهم من آل علىّ حقيقة التصق بآل علىّ العيب وكان ذالك من اسباب النفرة عنهم (الضوء الامع ص١٤٧ج٤)“

٨٠

صفحہ ٣٨٩

یعنی مقریزی تو اس لئے تعریف کر رہے ہیں کہ ابن خلدون فاطمین کے نسب کو آل علی سے ثابت جانتے ہیں اور وہ ابن خلدون کے مقصد سے غافل ہیں کہ فاطمین جب اپنی ان بد اعتقادیوں کے ساتھ آل علی کی طرف منسوب ہوں گے تو آل علی میں عیب ثابت ہو جائے گا۔ اس لئے فاطمین میں کچھ تو زندیق تھے اور کچھ نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ انتہائی متعصب اور رافضی تھے کہ ان کے زمانے میں بہت سے اہلسنت قتل کئے گئے۔

علامہ سخاوی کی اس عبارت سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ابن خلدون آل علی کے انتہائی مخالف تھے۔ تو ظہور مہدی کے انکار کی اصل وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ چونکہ مہدی آل علی میں سے ہوں گے۔ جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور ابن خلدون آل علی کے لئے کسی بڑائی اور منقبت کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے ظہور مہدی کا انکار کیا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری کہ نہ مہدی آئیں گے اور نہ آل علی کے لئے منقبت اور بڑائی ثابت ہوگی۔ حالانکہ آل علی کی فضیلت و منقبت مہدی کے آنے پر موقوف نہیں اور امور کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ یہ بھی مدنظر رہے کہ ابن خلدون علم وعمل کے اس مقام پر فائز نہیں ہیں کہ ان کی بات پر کسی عقیدہ کی بنیاد رکھی جاسکے۔

علامہ سخاوی نے ابن خلدون کے متعلق علامہ عینی حنفی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”وکان يتهم بامور قبيحة (الضوء الامع ص١٤٨ ج٤)“ کہ بہت سے قبیح امور کے ساتھ متہم تھے۔ اسی طرح لکھا ہے کہ قضاۃ کے ہاں اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جاتی تھی۔ چنانچہ سخاوی نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک قاضی کے ہاں کسی مسئلے میں گواہی دی تو ”فلم يقبله مع انه كان من المتعصبين له (الضوء الامع ص١٤٦ج٤)“ یعنی ان کی گواہی قبول نہیں کی حالانکہ وہ ان کے لئے تعصب کرنے والوں میں سے تھے۔ یعنی ان کے طرف داروں میں سے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی طبیعت میں فطری طور پر مخالفت کا جذبہ تھا اور ہر معاملہ میں اپنی شان انفرادی رکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ جب قاضی بنائے گئے تو قضاۃ کا لباس نہیں پہنا بلکہ اپنے مغربی طرز کے لباس میں ملبوس رہے۔ علامہ سخاوی نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”لحبه المخالفة في كل شئ (الضوء الامع ص١٤٦ج٤)“ یعنی یہ اس لئے کہ ہر چیز میں مخالفت پسند تھے۔ ان کے ان حالات سے معلوم ہوا کہ علوم شرعیہ خاص کر علم حدیث میں ان کو یہ مقام حاصل نہیں تھا

٨١

صفحہ ٣٩٠

کہ ان کے کسی قول کو دلیل بنایا جائے۔ اس بحث سے ہمارا مقصد ابن خلدون کی شان کو گھٹانا نہیں۔ بلکہ ان کا اصل مقام متعین کرنا ہے۔

تاریخ وفلسفہ تاریخ واجتماع میں ان کا کلام اچھا ہے۔ لیکن اس میں بھی بقول حافظ ابن حجر وہ مقام حاصل نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ بیان کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے فلسفہ اجتماع یا فلسفہ تاریخ کے خوش کن الفاظ دیکھ کر اور اہل یورپ کی تقلید میں ابن خلدون کو وہ مقام دیا جاتا ہے۔ جس کا وہ مستحق نہیں ہے۔ حالانکہ یہ حکم شرعی ہے کہ ہر آدمی کو اس کے مقام پر رکھ کر اس کے قول وفعل کا اعتبار اس کے مقام کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ ”کما فی المسلم عن عائشة امرنا رسول اللہ ﷺ ان ننزل الناس منازلهم (مسلم ص ٤ ج ١)“

اب ہم احادیث مہدی پر ابن خلدون کے کلام کا جائزہ لیں گے۔ ابن خلدون کے کلام کا خلاصہ بقول مولانا بدرعالم صاحب کی تین باتیں ہیں۔

(ترجمان السنة ص ٣٨٢ ج ٤)

کے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تینوں باتیں کچھ وزن نہیں رکھتیں۔ کیونکہ ہمیشہ اور ہر جرح کو ترجیح دینا یہ بالکل خلاف واقع ہے۔ چنانچہ خود محقق موصوف کو جب اس پر تنبیہ ہوئی کہ اس قاعدے کے تحت تو صحیحین کی حدیثیں بھی مجروح ہوئی جاتی ہیں تو اس کا جواب انہوں نے صرف یہ دے دیا کہ یہ حدیثیں چونکہ علماء کے درمیان مسلم ہوچکی ہیں۔ اس لئے وہ مجروح نہیں کہی جا سکتیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جب قاعدہ یہ ٹھہرا تو پھر علماء کو وہ مسلم ہی کیوں ہوئیں۔

(ترجمان السنة ص ٣٨٢،٣٩٣ ج ٤)

نیز اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ صحیحین کی حدیثیں چونکہ علماء کے نزدیک مسلم ہوچکی ہیں۔ اس لئے اس قاعدے کا اطلاق صحیحین کی احادیث پر نہیں ہوگا۔ جیسا کہ خود ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا ہے کہ:

٨٢

صفحہ ٣٩١

"ولا تقولن مثل ذالك ربما يتطرق الى رجال الصحيحين فان الاجماع قد اتصل فى الامة على تلقيها بالقبول والعمل بما فيهما ولا جماع اعظم حماية واحسن دفعة (ابن خلدون ج ١ ص ٣١٢)“

﴿یعنی یہ نہ کہا جائے کہ یہ قاعدہ بخاری ومسلم کے رجال کی طرف متوجہ ہوں۔ اس لئے بخاری ومسلم کی احادیث کی قبولیت پر امت کا اجماع ہے تو اگر اس قاعدہ کے تحت بخاری ومسلم کے رجال کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے تو امت نے ان کو قبول کیا ہے۔ تو اسی طرح احادیث مہدی کو بھی امت نے قبول کیا ہے اور بقول محدثین کے احادیث مہدی تواتر کی حد تک پہنچی ہیں تو یہ قاعدہ احادیث مہدی پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔﴾

نیز یہ قاعدہ کہ جرح بھی تعدیل پر مقدم ہے اس اطلاق کے ساتھ مسلم بھی نہیں ہے۔ جیسے کہ علامہ تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیہ الکبریٰ میں احمد بن صالح المصری کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ:

"قلت احمد بن صالح ثقة امام ولا التفات الى كلام من تكلم فيه ولكنا ننبهك هنا على قاعدة فى الجرح والتعديل ضرورية نافعة لا تراها فى شىء من كتب الاصول فانك اذا سمعت ان الجرح مقدم على التعديل ورأيت الجرح والتعديل وكنت غراباً لامور اوقد ما مقتصراً على منقول الاصول حسبت ان العمل على جرحه فاياك ثم اياك والحذر كل الحذر من هذا الحسبان بل الصواب عندنا ان من ثبتت امامته وعدالته وكثر مادحوه ومذكوه وندر جارحه وكانت هناك قرينة دالة على سبب جرحه من تعصب مذهبى او غيره فانا لا نلتفت الى الجرح فيه ونعمل فيه بالعدالة والا فلو فتحنا هذا الباب او اخذنا تقديم الجرح على اطلاقه لما سلم لنا احد من الائمة اذ ما من امام الا وقد طعن فيه طاعنون وهلك فيه هالكون...... الخ (ص ٨٨ ج ١)“

﴿یعنی جب آپ نے یہ بات کہ جرح مقدم ہے ۔ تعدیل پر اور آپ کسی آدمی کے ترجمہ میں جرح وتعدیل دیکھیں اور دھوکے میں پڑنے والے اور اصول منقول پر اختصار کرنے والے ہو جائیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے۔ لیکن اپنے آپ کو اس غلطی

٨٣

صفحہ ٣٩٣

سے بچائیں اور ڈریں اس گمان سے بلکہ ہمارے نزدیک صحیح اور حق یہ ہے کہ جس راوی کی امامت اور عدالت ثابت ہو اور اس کی تعریف اور صفائی پیش کرنے والے زیادہ اور جرح کرنے والے کم ہوں اور وہاں کوئی ایسا قرینہ بھی موجود ہو جو دلالت کرتا ہو کہ جرح کا سبب کوئی مذہبی تعصب یا اور کوئی وجہ ہے تو ایسی صورت میں ہم جرح کی طرف التفات نہیں کریں گے اور عدالت پر عمل کریں گے ورنہ اگر ہم اس پر دروازے کو کھول لیں (کہ جرح مقدم ہے تعدیل پر) یا مطلقا جرح کو تعدیل پر مقدم مان لیں تو پھر ہمارے آئمہ میں سے بھی کوئی بھی صحیح سالم نہیں بچے گا اس لئے کہ کوئی بھی ایسا امام نہیں کہ جس پر طعن کرنے والوں نے طعن نہ کیا ہو اور ان کے بارے میں ہلاک ہونے والے ہلاک نہ ہوئے ہوں۔﴾

اور دوسرے مقام پر علامہ تاج الدین سبکی فرماتے ہیں: ”ولكن نرى أن الضابطه ما نقوله من أن ثابت العدالة لا يلتفت فيه الى قول من تشهد القرائن بأنه متحامل عليه أما لتعصب مذهبى أو غيره (طبقات الشافعيه الكبرى ص١٨٨ ج ١)“ ﴿یعنی ہمارے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ جس کی عدالت ثابت ہو چکی ہو تو پھر اس کے بارے میں کسی ایسے آدمی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا جس نے جرح کسی مذہبی تعصب وغیرہ کی وجہ سے کی ہو۔﴾

اور پھر حافظ ابن عبدالبر مالکی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ: ”الصحيح في هذا الباب أن من ثبت عدالته وصحت في العلم إمامته وبالعلم عنايته لم يلتفت إلى قول أحد ...... الخ (ص١٨٨ ج١)“ ﴿یعنی جرح و تعدیل کے باب میں صحیح بات یہ ہے کہ جس کی عدالت، امامت اور علم کے ساتھ تعلق ثابت ہو چکا ہو تو پھر اس کے بارے میں کسی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔

اور پھر اس کے بعد حافظ ابن عبدالبر کی بعض باتوں پر گرفت کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”قلت عرفناك أولا من أن الجارح لا يقبل منه الجرح وان فسره في حق من غلبت طاعته على معاصيه ومادحوه على ذاميه ومزكوه على جارحيه اذا كانت هناك قرينة يشهد العقل بأن مثلها حامل على الوقيعة في

٨٤

صفحہ ٣٩٣

الذي جرحه من تعصب مذهبى او منافسة دنيوية كما يكون من النظراء وغير ذالك (طبقات الشافعية الكبرى ص١٩٠ج١)“

”یعنی پہلے ہم نے تم کو بتلا دیا کہ جس کی نیکیاں اس کے گناہوں پر غالب ہوں اور تعریف کرنے والے مذمت کرنے والوں سے اور صفائی پیش کرنے والے جرح کرنے والوں سے زیادہ ہوں تو ایسے آدمیوں کے بارے میں کسی قسم کی جرح مقبول نہیں ہوگی۔ اگر چہ وہ جرح مفسر ہی ہو۔ خاص کر جب اس قسم کا کوئی قرینہ موجود ہو کہ جرح کسی مذہبی اختلاف یا دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہو۔“

اگر اس قاعدے کو مطلقاً قبول کیا جائے کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے تو پھر امام مالکؒ کے بارے میں ابن ابی ذئب نے اور امام شافعیؒ کے بارے میں یحییٰ بن معین نے اور امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں سفیان ثوری اور یحییٰ وغیرہ نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کو بھی قبول کر لینا چاہئے اور یہ آئمہ ساقط الاعتبار ہونے چاہئیں۔ حالانکہ کوئی بھی عاقل اس بات کو قبول نہیں کرسکتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ قاعدہ اپنے اس اطلاق کے ساتھ کسی کے ہاں بھی مقبول نہیں ہے۔ ورنہ اسی قاعدے کے تحت خود ابن خلدون کی ذات بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔

نہیں تو یہ بھی کئی وجوہ سے غلط ہے:

روایت میں ”وامامكم منكم “ اور مسلم کی حضرت جابر کی روایت میں ”فيقول اميرهم “ سے شارحین بخاری ومسلم کے حوالوں کے مطابق ہم ثابت کرچکے ہیں کہ مراد امام مہدی ہیں۔ (ملاحظہ ہو اسی کتاب کا باب ثانی عقیدہ ظہور مہدی محدثین کی نظر میں) لہٰذا یہ اعتراض بالکل لغو اور بے کار ہے۔ یاد دہانی کے لئے فتح الملہم شرح صحیح مسلم کا حوالہ پھر نقل کرتا ہوں۔ شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی ”فيقول اميرهم “ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: ”هو امام المسلمين المهدي الموعود المسعود (ص٢٠٢ج١)“ کہ مراد امیر سے امام مہدی ہیں۔

سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی باطل ہو جب کہ دوسری صحیح احادیث میں اس کا ذکر صراحۃً

٨٥

صفحہ ٣٩٤

موجود ہے۔ کیونکہ امام بخاری اور امام مسلم نے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ ہم نے سب صحیح احادیث کو جمع کیا ہے اور کوئی صحیح حدیث ان دونوں کتابوں سے باہر نہیں رہی ہے۔ بلکہ خود ان حضرات کے اقوال موجود ہیں کہ ہم نے صرف صحیح احادیث نقل کی ہیں اور بہت سی صحیح احادیث ایسی باقی ہیں جن کو ہم نے نقل نہیں کیا۔

مولانا بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں کہ: ”رہا امام مہدی کی حدیثوں کا صحیحین میں ذکر نہ آنا تو یہ اہل فن کے نزدیک کوئی جرح نہیں ہے۔ خود ان ہی حضرات کا اقرار ہے کہ انہوں نے جتنی صحیح احادیث جمع کی ہیں وہ سب کی سب اپنی کتابوں میں درج نہیں کی ہیں۔ اس لئے بعد میں ہمیشہ محدثین نے مستدرکات لکھی ہیں۔ (ترجمان السنہ ص ٣٨٣ ج ٤)“

مولانا ادریس کاندھلوی تعلیق الصبیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں لکھتے ہیں کہ: ”واعلم انہ قد طعن بعض المورخین فی احادیث المہدی وقال انہا احادیث ضعیفہ ولذا عرض الشیخان البخاری ومسلم عن اخراجہا فمال ہذا المؤرخ الی انکار ظہور المہدی رأسا (قلت) ہذا غلط وشطط (ص ١٩٧ ج ٦)“

﴿یعنی بعض مورخین (ابن خلدون) نے ظہور مہدی کی احادیث پر طعن کیا ہے کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں۔ اس لئے بخاری ومسلم نے ان حدیثوں سے اعراض کیا ہے۔ لیکن یہ وجہ بالکل غلط ہے۔﴾ اور پھر آگے لکھتے ہیں کہ:

”واما تعلل ہذا المؤرخ انکار ظہور المہدی بان الشیخین البخاری ومسلما لم یخرجا احادیث المہدی فتعلل معلوم لایقبلہ الا ذو علۃ فان البخاری ومسلما لم یستوعبا الاحادیث الصحیحہ والالاف المؤلفۃ من الاحادیث الصحیحہ لم یخرجہا البخاری ومسلم وہی صحیحہ بلا شک وشبہۃ عند ائمۃ الحدیث (ص١٩٨ج٦)“

﴿یعنی اس مورخ کا ظہور مہدی کی احادیث کے لئے یہ علت بیان کرنا کہ بخاری و مسلم نے ان احادیث کی تخریج نہیں کی ہے۔ خود معلوم اور کمزور ہے۔ اس لئے کہ امام بخاری ومسلم نے صحیح احادیث کا استقصاء نہیں کیا ہے۔ ہزاروں احادیث ایسی ہیں کہ جو محدثین کے نزدیک بلاشک وشبہ صحیح ہیں۔ لیکن بخاری ومسلم میں وہ حدیثیں موجود نہیں ہیں۔﴾

٨٦

خود امام مسلم کا یہ جب امام مسلم نے حضرت ا ان سے ابو ہریرہؓ کی اس روا الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ ا ابو ہریرہؓ کی اس روایت کے صحیح ہے۔ تو ابو بکر نے پوچھا میرے نزدیک صحیح ہو میں اپ پر اجماع ہو۔ الفاظ یہ ہیں: ”قال ابو اسـ مسلم ترید احفظ مـن صحیح یعنی واذا قره فـ فقال لیس کل شیء عـ علیہ (صحیح مسلم، باب ﴿یعنی ابو اسحاق نے کہا کہ کیا سلیمان سے زیـ ہے۔ یعنی ”واذا قره فـا تو ابو بکر نے کہا کہ پھر آپ یـ صحیح ہو میں یہاں نقل نہیں کر اور علامہ ابو الفضـ ”واما البخا یتوجہ علیہ الاعترا الی شیء من جہات الـ تاریخہ یشتمل عـ السبع مائۃ ومن خـ الحدیث (ص ٦٠)“

صفحہ ٣٩٥

خود امام مسلم کا یہ قول ان کی کتاب صحیح مسلم باب التشہد فی الصلوٰۃ میں منقول ہے کہ جب امام مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی ایک لمبی روایت نقل کی تو ان کے شاگرد ابو بکر نے ان سے ابو ہریرہؓ کی اس روایت کے متعلق پوچھا کہ جو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ والی حدیث کے الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔ البتہ ”واذا قرء فانصتوا“ کے الفاظ اس میں زائد ہیں کہ ابو ہریرہؓ کی اس روایت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہ میرے نزدیک صحیح ہے۔ تو ابوبکر نے پوچھا کہ پھر آپ نے یہاں نقل کیوں نہیں کی تو فرمایا کہ ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہو میں اپنی کتاب میں نقل نہیں کرتا بلکہ میں تو وہ احادیث نقل کرتا ہوں کہ جن پر اجماع ہو۔ الفاظ یہ ہیں:

”قال ابو اسحاق قال ابوبکر بن اخت ابی النضر ھذا الحديث فقال مسلم تريد احفظ من سليمان فقال له ابوبکر فحديث ابی هريرة فقال هو صحیح یعنی واذا قرء فانصتوا فقال ھو عندی صحيح فقال لم لم تضعه هھنا فقال ليس كل شىء عندى صحيح وضعت هھنا وانما وضعت هھنا ما اجمعو عليه (صحيح مسلم، باب التشهد فى الصلوة ص ١٧٤ ج ١)“

﴿یعنی ابو اسحاق کہتے ہیں کہ ابوبکر بن اخت ابی النضر نے اس حدیث پر کچھ کہا تو مسلم نے کہا کہ کیا سلیمان سے زیادہ کسی حافظ کو چاہتے ہو تو ابو بکر نے کہا کہ پھر ابو ہریرہؓ کی حدیث کیسی ہے۔ یعنی ”واذا قرء فانصتوا“ والی روایت، تو مسلم نے کہا کہ وہ میرے نزدیک صحیح ہے۔ تو ابو بکر نے کہا کہ پھر آپ نے یہاں نقل کیوں نہیں کی۔ تو فرمایا کہ ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہو میں یہاں نقل نہیں کرتا۔ بلکہ یہاں تو میں وہ نقل کرتا ہوں جس پر اجماع ہو۔﴾

اور علامہ ابو الفضل محمد بن طاہر بن علی المقدسی شروط الائمۃ الخمسۃ میں لکھتے ہیں کہ:

”واما البخارى فانه لم يلتزم ان يخرج كل ماصح من الحديث حتى يتوجه عليه الاعتراض وكما انه لم يخرج عن كل من صح حديثه ولم ينسب الى شىء من جهات الجرح وهم خلق كثير يبلغ عددهم ثلث وثلاثين الفا لان تاريخه يشتمل على نحومن اربعين الفا وزيادة وكتابه والضعفاء دون السبع مائة ومن خرجهم فى جامعه دون الفين كذالم يخرج كل ما صح من الحديث (ص ٦٠)“

٨٧

صفحہ ٣٩٦

یعنی امام بخاریؒ نے اس کا التزام نہیں کیا ہے کہ ہر صحیح حدیث کی تخریج اپنی کتاب میں کریں تاکہ ان پر اعتراض وارد ہو اور جیسے کہ انہوں نے ہر اس آدمی کی حدیثیں نقل نہیں کیں جن کی حدیثیں صحیح ہوں اور اس پر کوئی جرح نہ ہو اور یہ بہت لوگ ہیں۔ جن کی تعداد تقریباً تیس ہزار سے زائد اس لئے کہ بخاری کی اپنی تاریخ تقریباً چالیس ہزار افراد پر مشتمل ہے اور ان کی ضعفاء کی کتاب تقریباً سات سو آدمیوں پر مشتمل ہے اور جن احادیث کی تخریج انہوں نے صحیح بخاری میں کی ہے۔ وہ دو ہزار سے بھی کم ہیں۔ اسی طرح ہر صحیح حدیث کی بھی تخریج نہیں کی۔

اور پھر اس کی دلیل میں بخاری کا یہ قول اپنی مسلسل سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:

"كنت عند اسحاق بن راهويه فقال لنا بعض اصحابنا لو جمعتم كتابا مختصرا لسنن النبى ﷺ فوقع ذالك فى قلبى فاخذت فى جمع هذا الكتاب فقد ظهر ان قصد البخارى كان وضع مختصر فى الصحيح ولم يقصد الاستيعاب لا فى الرجال ولا فى الحديث (ص ٢١)"

یعنی امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ میں امام اسحاق بن راہویہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا کہ اگر تم احادیث کی ایک مختصر کتاب جمع کر لیتے تو اچھا ہوتا تو یہ بات میرے دل کو لگی۔ علامہ مقدسیؒ فرماتے ہیں کہ بخاریؒ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ ان کا قصد ایک مختصر کتاب جمع کرنے کا تھا۔ نہ صحیح اور ثقہ راویوں کا استیعاب مقصود تھا اور نہ صحیح احادیث کا۔

اور امام ابو عبداللہ حاکم نے مستدرک کے اول میں دونوں کے متعلق لکھا کہ:

"ولم يحكما ولا واحد منهما انه لم يصح من الحديث غير ما اخرجه......الخ (مستدرك الحاكم ص ١ ج ١) " یعنی بخاری و مسلم نے اور نہ ان میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ صرف وہی احادیث صحیح ہیں جو انہوں نے نقل کی ہیں۔

امام بخاری و مسلم کے ان اقوال سے اور محدثین کی تصریحات سے یہ بات بالکل پورے طریقے سے ثابت ہوئی کہ صحیح احادیث صرف وہ نہیں ہیں جو بخاری و مسلم میں منقول ہیں۔ بلکہ ان کے علاوہ بھی اور بہت سی احادیث صحیح ہیں کہ جن کی تخریج بخاری و مسلم نے نہیں کی ہے۔

اب اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ظہور مہدی کی احادیث اگر بالفرض بخاری ومسلم میں نہ ہوں تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ ابن خلدون اور اختر

٨٨

کاشمیری کے اس اعتراض پر نظر ڈالیں کہ یہ اشکال مولانا مودودی صا ہیں اور منکرین میں سے نہیں ہیں۔ لیکن آ "در حقیقت جو شخص علوم دی باور نہیں کر سکتا کہ جس مسئلے کی دین میں اخبار احاد بھی اس درجہ کی کہ امام مالکؒ، کے مجموعوں میں سرے سے ان کا لینا ہی با لیکن یہ اختر کاشمیری صاحب نہ تو ظہور مہدی کی احادیث اخبار آحاد ہیں۔ "ظہور مہدی کی احادیث متواتر ہی اور مسلمؒ نے ان احادیث سے اعراض کیا جن سے محدثین کی تصریحات کے مطاب ابن خلدون اور اختر کاشمیری مہدی کی احادیث نہیں ہیں۔ لیکن مولا میں ظہور مہدی کی احادیث کیوں نہیں۔ لیکن یہ اشکال وہ آدمی کرسکت اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ اس لئے کہ موطا مسائل ومعتقدات ایسے ہیں کہ جن کے تک پوری امت میں سے بشمول مالکیہ ک یا یہ کہ فلاں مسئلہ کمزور ہے۔ اس لئے کہ ہے۔ کیونکہ موطا امام مالکؒ تو احادیث م آثار واقوال تابعین ہیں اور آثار و اقوال حصہ کے ساتھ ہے۔ نظری اور اعتقادی اس تفصیل سے معلوم ہوا ک

صفحہ ٣٩٧

کاشمیری کے اس اعتراض پر نظر ڈالیں کہ بخاری و مسلم میں ظہور مہدی کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ یہ اشکال مولانا مودودی صاحب کو پیش آیا۔ اگرچہ مولانا فی الجملہ ظہور مہدی کے قائل ہیں اور منکرین میں سے نہیں ہیں۔ لیکن لکھتے ہیں کہ :

"در حقیقت جو شخص علوم دینی میں کچھ نظر و بصیرت رکھتا ہو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جس مسئلے کی دین میں اتنی اہمیت ہو اسے محض اخبار آحاد پر چھوڑا جا سکتا تھا اور اخبار احاد بھی اس درجہ کی کہ امام مالک اور امام بخاری اور امام مسلم جیسے محدثین نے اپنی احادیث کے مجموعوں میں سرے سے ان کا لینا ہی پسند نہ کیا ہو ۔" (رسائل و مسائل ص ٥٨ ج١)

لیکن یہ اختر کاشمیری صاحب اور مولانا مودودی صاحب کی غلط فہمی ہے۔ اس لئے کہ نہ تو ظہور مہدی کی احادیث اخبار آحاد ہیں۔ جیسا کہ محدثین کی تصریحات باب ثانی میں گزر چکی ہیں۔ "ظہور مہدی کی احادیث متواتر ہیں۔" (ملاحظہ ہو شرح عقیدہ السفارینی ص ٨٠ ج٢) اور نہ بخاری اور مسلم نے ان احادیث سے اعراض کیا ہے۔ بلکہ بخاری و مسلم میں ایسی احادیث موجود ہیں کہ جن سے محدثین کی تصریحات کے مطابق مراد امام مہدی ہی ہیں۔

ابن خلدون اور اختر کاشمیری صاحب کو تو صرف یہ اشکال تھا کہ بخاری و مسلم میں ظہور مہدی کی احادیث نہیں ہیں۔ لیکن مولانا مودودی صاحب کو یہ بھی اشکال ہے کہ موطا امام مالک میں ظہور مہدی کی احادیث کیوں نہیں۔

لیکن یہ اشکال وہ آدمی کر سکتا ہے کہ جس نے موطا امام مالک کا صرف نام سنا ہو اور خود اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ اس لئے کہ موطا امام مالک کو دیکھنے والے جانتے ہیں کہ دین کے سینکڑوں مسائل و معتقدات ایسے ہیں کہ جن کے متعلق موطا امام مالک میں کوئی حدیث نہیں ہے۔ لیکن آج تک پوری امت میں سے بشمول مالکیہ کسی نے بھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ فلاں مسئلے کو ہم نہیں مانتے یا یہ کہ فلاں مسئلہ کمزور ہے۔ اس لئے کہ موطا امام مالک میں اس کے متعلق کوئی حدیث منقول نہیں ہے۔ کیونکہ موطا امام مالک تو احادیث مرفوعہ کا ایک نہایت مختصر مجموعہ ہے۔ باقی مرسل روایات اور آثار و اقوال تابعین ہیں اور آثار و اقوال بھی صرف وہ کہ جن کا تعلق فقہی احکام یعنی دین کے عملی حصہ کے ساتھ ہے۔ نظری اور اعتقادی قسم کی احادیث تو موطا میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے اعتراضات کی جرات وہ آدمی کر سکتا ہے کہ

٨٩

صفحہ ٣٩٨

جس کا فن حدیث سے کوئی خاص تعلق نہ ہو ورنہ حدیث کے کسی مجموعہ میں کسی حدیث کا نہ ہونا آج تک محدثین کے نزدیک قابل اعتراض نہیں رہا۔ و الله يقول الحق وهو يهدي السبيل!

٣....... اسی طرح ان کی تیسری بات کہ ”صحیح احادیث میں مہدی کی تصریح نہیں۔“ یہ بھی قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ باب اول میں ہم ابوداؤد، ترمذی مسند احمد، مستدرک حاکم کے حوالے سے وہ حدیثیں مع تحقیق وسند کے نقل کر چکے ہیں کہ جو صحیح بھی ہیں اور جن میں مہدی کی تصریح بھی ہے۔

(اس اشکال کا اسی جواب سے ملا جلا جواب مولانا بدر عالم میرٹھی نے دیا ہے)

مولانا لکھتے ہیں کہ: یہ دعویٰ بھی تسلیم نہیں کہ صحیح حدیثوں میں امام مہدی کا نام مذکور نہیں ہے۔ کیا وہ حدیثیں جن کو امام ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ جیسے محدثین نے صحیح اور حسن ١؎ کہا ہے۔ صرف محقق موصوف کے بیان سے صحیح ہونے سے خارج ہو سکتی ہیں؟

دوم..... یہ کہ جن حدیثوں کو محقق موصوف نے بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ اگر وہاں ایسے قوی قرائن موجود ہیں جن سے اس شخص کا امام مہدی ہونا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے تو پھر امام مہدی کے لفظ کی تصریح ہی کیوں ضروری ہے۔

سوم..... یہاں اصل بحث مصداق میں ہے مہدی کے لفظ میں نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک خلیفہ کا ہونا اور اس کا خاص صفات کا حامل ہونا جو بجز روایت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے شخص میں بھی نہ تھیں، ثابت ہو جاتا ہے تو بس اہل سنت والجماعت کا مقصد اتنی بات سے پورا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مہدی تو صرف ایک لقب ہے۔ علم اور نام نہیں ہے اور یہ آپ ابھی معلوم کر چکے ہیں کہ مہدی کا لفظ بطور لقب کے دوسرے اشخاص پر بھی اطلاق کیا گیا ہے۔ اگرچہ سب میں کامل مہدی وہی ہیں جن کا ظہور آئندہ زمانے میں مقدر ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ جس طرح دجال کا لفظ حدیثوں میں ستر مدعیان نبوت کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ مگر دجال اکبر وہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔..... ہاں..... اس لقب کی زد اگر پڑتی ہے تو ان اصحاب (مراد اہل تشیع ہیں) پر پڑتی ہے جو مہدی کے ساتھ ساتھ کسی قرآن کے منتظر بیٹھے ہیں۔

(ترجمان السنۃ ص ٣٨٣ ج ٣)

١؎ صرف صحیح و حسن بھی نہیں بلکہ دوسرے محدثین نے متواتر کہا ہے۔ جیسے کہ باب ثانی میں گزر چکی ہے۔ نظام الدین!

٢؎ خاص کر اس صورت میں کہ شارحین بخاری ومسلم کے نزدیک مراد امام مہدی ہی ہیں جیسا کہ باب ثانی میں شارحین بخاری ومسلم کے حوالہ جات تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ نظام الدین

٩٠

صفحہ ٣٩٩

اور اسی اشکال کے جواب میں مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں کہ:

”وقد اخرج الحافظ السيوطى هذه الاحاديث السبعين بطولها فى العرف الوردى وفى ستة وثلاثين حديثا منها ورد اسم المهدى صريحا والباقى منها جاء باسم الخليفه وباوصافه التى وردت فى الاحاديث فبطل بهذا تعلل المورخ المذكور بان احاديث المهدى جاءت مبهمة ليس فيها تصريح اسم المهدى والمبهم يحمل على المفصل بالاجماع اذا كان الحديث واحدا والاحاديث التى لم يقع فيها صراحة بل مبهما واشارة تحمل على الاحاديث المفصلة التى ورد فيها اسم المهدى صراحة فان المفسر يقضى على المبهم وكيف وان ايراد ائمه الحديث هذالاحاديث مبهمة فى باب ذكر المهدى دليل ان هذه الاحاديث المبهمة الدالة على خروج الخليفة العادل فى اخر الزمان كلها محمولة على المهدى عند أئمة الحديث (تعليق الصبيح شرح مشكوة المصابيح ص١٩٨ ج٦)“

﴿یعنی علامہ سیوطیؒ نے ظہور مہدی کی ان نوے احادیث کی تخریج اپنے رسالہ العرف الوردی میں کی ہے۔ جن میں چھتیس احادیث کی تخریج میں مہدی کا نام صراحتاً موجود ہے اور باقی احادیث خلیفہ کے لفظ اور ان اوصاف کے ساتھ وارد ہوئی ہیں کہ جو مہدی کی احادیث میں ہیں۔

سیوطیؒ کے اس بیان سے ابن خلدون کا یہ اعتراض بھی ختم ہو جاتا ہے کہ مہدی کی احادیث مبہم ہیں اور ان میں نام کی صراحت موجود نہیں۔ نیز یہ کہ مبہم کو مفصل پر بالاتفاق حمل کیا جاسکتا ہے۔ جب حدیث ایک ہو۔ لہٰذا وہ احادیث جو کہ مبہم ہیں یا ان میں اشارۃً مہدی کا ذکر ہے۔ ان کو ان مفصل احادیث پر حمل کیا جائے گا کہ جن میں مہدی کا نام صراحتاً وارد ہوا ہے۔ اس لئے کہ مفسر قاضی ہوتا ہے مبہم پر۔ نیز محدثین کا ان مبہم احادیث کو مہدی کے باب میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ احادیث مبہم جو کہ آخر زمانے میں ایک خلیفہ عادل کے ظہور پر دلالت کرتی ہیں۔ محدثین کے نزدیک مہدی ہی پر محمول ہیں۔

اس تفصیل سے ابن خلدون کے تینوں اعتراضات کا جواب علیٰ وجہ الاتم ہو جاتا ہے کہ نہ تو جرح مطلقاً تعدیل پر مقدم ہے۔ جیسا کہ ابن خلدون کا دعویٰ ہے اور نہ مہدی کی سب احادیث

٩١

صفحہ ٤٠٠

ضعیف ہیں اور نہ مبہم ہیں۔ نیز یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اگر سب احادیث ضعیف بھی ہوتیں تو بھی بالکلیہ ظہور مہدی کا انکار صحیح نہ ہوتا۔ کیونکہ محدثین کے ہاں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ جب کسی حدیث کی روایات کی کثرت ہو جاتی ہے تو اگر چہ وہ ضعیف ہوں لیکن پھر بھی اتنا معلوم ہو جاتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور موجود ہے۔ چنانچہ ابو عبداللہ حاکم نے مستدرک میں یہ قاعدہ بیان کیا ہے اور ان سے ابن عراقی نے ”تنزیه الشریعه المرفوعه عن الاخبار الشنيعه الموضوعه“ میں نقل کیا ہے کہ:

”قال الحكم فى المستدرك اذا كثرت الروايات في حديث ظهر ان للحديث اصلا (٢٠٠ج١)“ یعنی حاکم نے مستدرک میں کہا ہے کہ جب کسی حدیث کی روایات کثیر ہو جاتی ہیں تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ حدیث کے لئے اصل موجود ہے۔

اب اس قاعدہ کے لحاظ سے اگر غور فرمائیں گے تو بھی ظاہر ہو جائے گا کہ مہدی کی احادیث اگر بالفرض سب کی سب ضعیف ہوں تب بھی اس کی اصل موجود ہے۔ اس لئے کہ مہدی کی احادیث کی تعداد نوے تک پہنچی ہے۔ جن میں سے تینتیس میں مہدی کی صراحت بھی موجود ہے اور تقریباً پچیس صحابہ و تابعین سے مروی ہیں۔ (تعلیق الصبیح ص ١٩٧ ج ٦) اس لئے اس کو بالکل بے اصل کہنا صحیح نہیں ہے۔

جناب اختر کاشمیری کا ایک منفرد اشکال

اختر کاشمیری صاحب کا ایک منفرد اشکال یہ بھی ہے کہ مہدی کا ذکر قرآن میں موجود نہیں ہے۔ چنانچہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ”مہدی کے ذکر سے قرآن خالی ہے، قرآن میں مہدی کا کوئی ذکر نہیں۔۔ حالانکہ قرآن میں عقیدہ کی ہر بات موجود ہے تو اس صورت میں جولوگ ظہور مہدی کا عقیدہ رکھتے ہیں، ان کے نزدیک قرآن کی کیا اہمیت ہوگی۔“

یہ اختر کاشمیری صاحب کا اشکال ہے۔ اس کو بار بار پڑھئے اور آپ پرویز یوں کے ان اعتراضات پر بھی نظر ڈالئے جو وہ حدیث کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ آپ کو ذرہ برابر فرق محسوس نہیں ہوگا۔

یہ بعینہ وہی حالت ہے جس کی خبر نبی کریم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے دی تھی (فداہ ابی امی) مستدرک حاکم، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی میں حضرت ابو رافع اور مقدام بن

٩٢

معدیکرب سے مروی ہے کہ: ”قال امری مما امرت به او نهی اتبعنا“ اور مستدرک کے دوسری ر الله عملنا به والافلا “ او هذا فيه (مستدرک حاکم ص ٨٠ ص ٣ باب تعظیم حدی ص ٦٣٢ ج ٢ ومشكوة المص ص ٢٩ ج ١ ومفتاح الجنة فی ”اس حدیث کا مفہو ٹیک لگائے ہوئے ہو اور میرا کو دیا ہو۔ کسی چیز سے منع کیا ہو تو وہ کو اس کو جانیں گے اور جو قرآن اعتراض کا مفہوم بھی یہی ہے کہ آ میں نہیں ہے اس لئے ہم نہیں مان حقاً وارزقنا اتباعه! اسی قسم کے ایک سوال نے فرمایا تھا کہ کیا نماز کی رکعتوں کے الفاظ یہ ہیں جس کی صحت پر ح ”حدثنا الحس نبيناﷺ فقال له رج واصحابك يقرؤن القرآن محدثي عن الزكوة فى الق وغبت انت ثم قال فرد الرجل احييتنى احياك

صفحہ ٤٠١

معدیکربؓ سے مروی ہے کہ: ”قال لالفین احدکم متکئا علی اریکتہ یأتیہ الامر من امری مما امرت بہ او نھیت عنہ فیقول ما ادری ما وجدنا فی کتاب اللہ اتبعنا“ اور مستدرک کی دوسری روایت میں اس کے بجائے یہ الفاظ ہیں: ”ما وجدنا فی کتاب اللہ عملنا بہ والا فلا“ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”وھذا کتاب اللہ ولیس ھذا فیہ (مستدرک حاکم ص١٠٨، ١٠٩ ج ١)“ ”واللفظ لہ وابن ماجہ عن ابی رافع ص٣ باب تعظیم حدیث رسول اللہ ﷺ وابوداؤد باب فی لزوم السنۃ ص٦٣٢ ج٢ ومشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ الفصل الثانی ص٢٩ ج ١ ومفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ عن البیہقی ص ١١“

”اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس حال میں کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہو اور میرا کوئی امر اس کے پاس آئے جس میں میں نے کسی چیز کا حکم دیا ہو۔ کسی چیز سے منع کیا ہو تو وہ کہہ دے کہ میں تو اس کو نہیں جانتا۔ ہم تو جو قرآن میں پائیں گے اس کو جانیں گے اور جو قرآن میں نہیں ہوگا اس کو نہیں مانیں گے ۔“ تو گویا اختر صاحب کے اعتراض کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اگر قرآن میں مہدی کا ذکر ہوتا تو ہم مانتے لیکن چونکہ قرآن مجید میں نہیں ہے اس لئے ہم نہیں مان سکتے۔ اللہ ہدایت نصیب فرمائے۔ اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ!

اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا تھا کہ کیا نماز کی رکعتوں کی تعداد اور زکوٰۃ کے مقادیر تمہیں قرآن میں ملتے ہیں۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں جس کی صحت پر حاکم اور ذہبیؒ دونوں متفق ہیں۔

”حدثنا الحسن قال بینما عمران بن حصین یحدث عن سنۃ نبینا ﷺ فقال لہ رجل یا ابا نجید حدثنا بالقرآن فقال لہ عمران انت واصحابک یقرؤن القرآن اکنت محدثی عن الصلوٰۃ وما فیھا وحدودھا اکنت محدثی عن الزکوٰۃ فی الذھب والابل والبقر و اصناف المال ولکن قد شھدت وغبت انت ثم قال فرض علینا رسول اللہ ﷺ فی الزکوٰۃ، کذا کذا وقال الرجل احییتنی احیاک اللہ قال الحسن فما مات ذالک الرجل حتی صار من

٩٣

صفحہ ٤٠٢

فقهاء المسلمين (مستدرك حاكم ص ١٠٩ ج ١) ”اور امام سیوطیؒ نے مفتاح الجنة میں یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:

”عن شبیب بن ابی فضالة المكي ان عمران بن حصینؓ نكر الشفاعة فقال له رجل من القوم يا ابا نجيد انكم تحدثونا باحاديث لم نجدها اصلا فى القرآن فغضب عمران وقال للرجل قرأت القرآن قال نعم قال فهل وجدت فيه صلاة العشاء اربعا ووجدت المغرب ثلاثا والغداة ركعتين والظهر اربعا والعصر اربعا قال لا قال فعن من اخذتم ذالك ألستم عنا اخذتموه واخذنا عن رسول الله ﷺ اوجدتم فيه من كل اربعين شاة شاة وفى كل كذا بعيرا كذا وفى كل كذا درهما كذا قال لا قال فعن من اخذتم ذالك الستم عنا اخذتموه واخذنا عن النبى ﷺ وقال اوجدتم فى القرآن وليطو فوا بالبيت العتيق او وجدتم فيه فطوفوا سبعا واركعو ركعتين خلف المقام اوجدتم فى القرآن لا جلب ولا جنب ولا شغار فى الاسلام؟ اما سمعتم الله قال فى كتابه وما اتكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهوا قال عمران فقد اخذنا عن رسول الله ﷺ اشياء ليس لكم بها علم (ص١٠)“

”یعنی حضرت عمران بن حصینؓ نے شفاعت کے بارے میں ایک حدیث بیان کی تو ایک آدمی نے کہا کہ اے ابو نجید (کنیت عمران بن حصین) تم ہمیں ایسی احادیث سناتے ہو جن کی کوئی اصل قرآن میں موجود نہیں ہے تو حضرت عمران بن حصینؓ کو غصہ آیا اور اس آدمی سے کہا کیا تم نے قرآن پڑھا ہے۔ اس نے کہا ہاں! تو فرمایا کہ کیا تو نے قرآن میں دیکھا کہ عشاء کی چار رکعتیں اور مغرب کی تین اور صبح کی دو اور ظہر وعصر کی چار چار رکعتیں ہیں۔ اس آدمی نے کہا کہ نہیں۔ تو فرمایا کیا تم نے یہ ہم سے نہیں سیکھیں؟ اور ہم نے نبی کریم ﷺ سے نہیں سیکھیں؟ پھر فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں دیکھا ہے کہ چالیس بکریوں میں زکوۃ کی ایک بکری ہوتی ہے اور اونٹوں میں اتنے اونٹ اور دراہم میں اتنے دراہم تو اس آدمی نے کہا کہ نہیں۔ تو فرمایا کہ کیا یہ تم نے ہم سے نہیں سیکھے اور ہم نے پیغمبر ﷺ سے اور پھر فرمایا کہ تم قرآن میں پاتے ہو کہ طواف کرو بیت اللہ کا۔ لیکن کیا قرآن مجید میں ساتھ یہ بھی ہے کہ سات طواف کرو اور پھر دو رکعت نماز پڑھو

٩٤

اور پھر فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں والا عاشر کو اور نہ جلب اور جنب ہے ہیں) اور پھر فرمایا کہ کیا تم قرآن میں سے تمہیں منع کرے اس سے رک کریم ﷺ سے بہت سی چیزیں سیکھیں

حضرت عمران بن حصینؓ قرآن سے نہیں ہوتا۔ بلکہ احادیث مثالیں حضرت عمران بن حصینؓ نے اور ایک اعتقادی اور یہ دونوں احادیث کہ چار رکعت فرض پڑھے جائیں جائے کہ ظہر کی چار رکعتیں ہیں اور نماز کی چار رکعتوں کا انکار کرے اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔ تو معلوم سے ثابت ہیں۔

اسی طرح بخاری و مسلم مسعودؓ کی وہ مشہور حدیث نقل کی ہے

”اخرج الشيخان والمستوشمات والمتنمصـ فبلغ ذالك امرأة يقال لها ا وكيت فقال مالي لا العـ لقد قرأت ما بين اللوحـ اما قرأت وما اتكم الرسـ نهى عنه (مفتاح الجنة ص ص ٢٠٥ ج ٢ ، باب تحريم فعل ا

صفحہ ٤٠٤

اور پھر فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں یہ حکم دیکھا ہے کہ نہ عاشر مال والے کو تکلیف دے اور نہ مال والا عاشر کو اور نہ جلب اور جنب ہے اسلام میں (یہ دو فقہی اصطلاحیں ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں) اور پھر فرمایا کہ کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتے کہ رسول ﷺ تم کو جو دے اس کو لو اور جس چیز سے تمہیں منع کرے اس سے رک جاؤ اور پھر حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ سے بہت سی چیزیں سیکھی ہیں، جن کا تمہیں علم نہیں ہے

حضرت عمران بن حصینؓ کی اس حدیث سے واضح ہوا کہ عقائد واعمال کا ثبوت صرف قرآن سے نہیں ہوتا۔ بلکہ احادیث سے بھی اعمال وعقائد ثابت کئے جاسکتے ہیں۔ اس لئے کہ جو مثالیں حضرت عمران بن حصینؓ نے پیش کی ہیں۔ ان میں سے ہر عمل کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک عملی اور ایک اعتقادی اور یہ دونوں احادیث سے ثابت ہیں۔ مثلاً ظہر کی نماز کی ایک تو عملی حیثیت ہے کہ چار رکعت فرض پڑھے جائیں اور ایک اعتقادی حیثیت ہے کہ چار رکعت نماز کا اعتقاد رکھا جائے کہ ظہر کی چار رکعتیں ہیں اور یہ دونوں چیزیں ایک جیسی فرض ہیں۔ مثلاً اگر کوئی آدمی ظہر کی نماز کی چار رکعتوں کا انکار کرے اور یہ کہے کہ ظہر کی نماز دو رکعت فرض ہے تو اس اعتقاد سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ ان اعمال کی دونوں حیثیتیں جو فرض ہیں، حدیث ہی سے ثابت ہیں۔

اسی طرح بخاری ومسلم دونوں کے حوالے سے علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے عبداللہ بن مسعودؓ کی وہ مشہور حدیث نقل کی ہے کہ:

”أخرج الشيخان عن ابن مسعودؓ انه قال لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله تعالىٰ فبلغ ذالك امرأة يقال لها ام يعقوب فجاءت فقالت انه بلغني انك قلت كيت وكيت فقال مالي لا العن من لعن رسول الله ﷺ وهو في كتاب الله فقالت لقد قرأت ما بين اللوحين فما وجدته قال ان كنت قرأتيه فقد وجدتيه اما قرأت وما اتكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهو اقالت بلى قال فانه نهى عنه (مفتاح الجنة ص١٩، ٢٠ وبخارى، باب المستوشمه ص٨٨٠ ج٢، مسلم ص٢٠٥ ج٢، باب تحريم فصل المواصله كتاب اللباس )“

٩٥

صفحہ ٤٠٤

عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت میں بھی وہی بات ہے جو عمران بن حصینؓ کی روایت میں گزر چکی ہے۔ آپ ان احادیث کو پڑھیں اور اس کے بعد جناب اختر کاشمیری صاحب کے اعتراض پر نظر ڈالیں اور اس کے ساتھ مولانا مودودی صاحب کی اس عبارت پر بھی نظر ڈالیں۔ مولانا نے بھی دبے الفاظ میں تقریباً وہی بات کہی ہے جو اختر کاشمیری صاحب نے کھلے لفظوں میں کی تھی، لکھتے ہیں:

”اب مہدی کے متعلق خواہ کتنی ہی کھینچ تان کی جائے، بہرحال ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اسلام میں اس کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اس کے جاننے اور ماننے پر کسی کے مسلمان ہونے اور نجات پانے کا انحصار ہو۔ یہ حیثیت اگر اس کی ہوتی تو قرآن میں پوری صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کیا جاتا اور نبی ﷺ کبھی دو چار آدمیوں سے اس کو بیان کر دینے میں اکتفاء نہ فرماتے۔ بلکہ پوری امت تک اسے پہنچانے کی سعی بلیغ فرماتے۔“ (رسائل و مسائل ص ٥٨ ج١)

معلوم ہوتا ہے کہ مولانا مودودی صاحب اور اختر کاشمیری ایک ہی بیماری میں مبتلا ہیں کہ عقائد سب کے سب قرآن میں مذکور ہونے چاہئیں اور مہدی کے ظہور کا ذکر چونکہ قرآن میں نہیں لہٰذا یہ ایک من گھڑت قصہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن گزشتہ حدیثوں میں یہ بات واضح ہوئی کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان سے اگر کوئی عقیدہ یا عمل ثابت ہو جائے تو اس کا ماننا بھی لازمی ہوتا ہے۔ یہ تو مولانا اور اختر کاشمیری صاحب بھی تسلیم کرتے ہوں گے کہ قرآن میں بعض چیزوں کا ذکر تفصیلاً ہے اور کچھ چیزیں قرآن میں اجمال کے ساتھ اشارۃً ذکر کی گئی ہیں۔ ورنہ جیسا کہ حدیث میں گزر چکا ہے کہ ہر چیز یعنی عقیدہ و عمل اس تفصیل کے ساتھ قرآن میں کہاں موجود ہے کہ جس تفصیل کے ساتھ اس پر امت کا اجماع پایا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ظہور مہدی کا ذکر قرآن میں نہیں تو کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔

لیکن یہ ملحوظ رہے کہ بعض مفسرین کی صراحت کے مطابق ظہور مہدی کا ذکر اجمالاً قرآن میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ سورۃ الانعام کی اس آیت میں کہ: ”يوم يأتي بعض آيات ربك (الانعام : ١٥٨)“ میں علامات قیامت کا اجمالاً بیان ہے اور مفسرین کی تصریح کے مطابق اس میں بہت سے علامات قیامت کی طرف اجمالاً اشارہ ہے۔ جس میں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابۃ الارض کا خروج، نزول عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح اس میں خروج

٩٦

صفحہ ٤٠٥

مہدی کی طرف بھی اجمالاً اشارہ ہے۔ جیسا کہ ہم علامہ سیوطیؒ کی تفسیر درمنثور کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں۔ اسی تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظہور مہدی بھی دوسرے بہت سے مسائل کی طرح اجمالاً قرآن مجید میں مذکور ہے۔

جناب اختر کاشمیری صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ: ”حدیث نبوی کو بھی دیکھیں اگر اس پر (یعنی ظہور مہدی) کوئی صحیح یا متواتر حدیث مل جائے تو اسے ماننا پڑے گا ورنہ اس کے نہ ماننے سے حدیث نبوی کا انکار لازم نہیں آتا ہے۔“

میں قارئین سے درخواست کروں گا کہ جناب اختر کاشمیری کے ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد آپ اس کتاب کے باب ثانی پر دوبارہ نظر ڈال لیں اور دیکھیں کہ محدثین کے ہاں ظہور مہدی کی احادیث کا مرتبہ کیا ہے۔ صحت کے قائل تو سب محدثین بالاجماع ہیں اور اکثر تواتر کے قائل ہیں۔ جیسے کہ شارح عقیدہ سفارینی کا قول ہم نقل کر چکے ہیں کہ:

”ان احادیث ظهور المهدي قد بلغت في الكثرة حد التواتر وقد تلقاها الامة بالقبول فيجب اعتقاده......الخ ص ٨٠ ج ٢۔ والبحث بکماله فی شرح عقیدة السفارینی من ص ٦٦ ج ٢ الی ص ٨٢ ج ٢ من حیث الروایة “ کہ ظہور مہدی کی احادیث جو حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں۔ اسی طرح دوسرے محدثین کے اقوال بھی گزر چکے ہیں اور اگر یہ الفاظ صرف نوک قلم سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں تو اس کتاب کے باب اول و ثانی پر نظر ڈال کر اپنی رائے پر نظر ثانی فرمائیے۔ اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه!

کچھ باتیں جناب اختر کاشمیری صاحب کے مضمون میں ایسی ہیں کہ جو ان کی ذہنی اختراع ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ: ”جس طرح پہلے لوگوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ چودھویں صدی ختم ہوتے ہی قیامت آ جائے گی۔ چودھویں صدی ختم ہو گئی مگر قیامت نہیں آئی جس طرح یہ گھڑا ہوا عقیدہ تھا، اسی طرح ظہور مہدی کا واقعہ بھی ایک من گھڑت عقیدہ ہے۔“

اسی کا نام ہے: ”بناء الفاسد علی الفاسد“ ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں اگر کسی نے غلط طور پر مشہور کر دیا کہ چودھویں صدی ختم ہوتے ہی قیامت آئے گی اور چودھویں صدی ختم ہو گئی مگر قیامت نہ آئی تو اس سے یہ کہیں لازم آتا ہے کہ قیامت کی وہ علامات جو نبی

٩٧

صفحہ ٤٠٦

کریم ﷺ نے بیان فرمائی اور ہمارے پاس صحیح سندوں سے پہنچیں۔ جیسا کہ ظہور مہدی، یہ بھی من گھڑت اور جھوٹ ہے۔

نیز یہ کہ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ چودھویں صدی کے کے ختم ہونے پر قیامت کے آنے کی پیشین گوئی مرزا غلام احمد قادیانی نے کی تھی اور اس کو اپنا الہام ظاہر کیا تھا اور پھر قادیانیوں نے اس کو مشہور کر دیا اور جہال میں یہ بات مشہور ہوئی کہ چودھویں صدی کے اختتام پر قیامت قائم ہو جائے گی تو اس کا جھوٹ ہونا اب ہر ایک پر ظاہر ہوا اور اس لئے کہ اب سب پندرہویں صدی ہجری میں سانس لے رہے ہیں۔ بخلاف اس کے ظہور مہدی کا عقیدہ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے اور پوری امت کے مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے تو کیا کسی عاقل کی نظر میں اس دونوں باتوں کا وزن ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ ایک نبی صادق کی پیشین گوئی ہے جو صحیح اور متواتر اسناد سے ہم تک پہنچی ہے اور دوسری دجال اور کذاب کی پیشین گوئی تھی۔ جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذلیل وخوار اور جھوٹا کر دکھایا۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلی بات کی تکذیب سے قادیانی کی تکذیب ہوتی ہے، جو ضروری جز ایمان ہے اور دوسری کی تکذیب سے محمد رسول اللہ ﷺ فداہ ابی وامی کی تکذیب ہوتی ہے۔ شتان مابینھما!

نیز چودھویں صدی میں قیام قیامت والی بات کی پشت پر کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں اور ظہور مہدی کے عقیدے پر نوے روایات جن کو پچیس صحابہ وتابعین نقل کرتے ہیں، موجود ہیں اور پوری امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

نیز اختر صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مشہور ہے کہ ان کی پہچان یہ ہوگی (یعنی مہدی کی) کہ وہ ایٹمی اسلحہ سے بے نیاز ہو کر تلوار سے جنگ کریں گے۔ ان کی پھونکوں میں اتنی طاقت ہوگی کہ جہاں تک ان کی نظر جائے گی وہاں تک ان کی پھونک پہنچے گی۔“

خدا جانتا ہے کہ یہ باتیں کہاں اور کس حدیث میں ہیں اور کہاں سے اختر صاحب نے لکھیں، کیونکہ کسی صحیح روایت میں نہ تو اس کی نفی ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ استعمال نہیں کریں گے اور نہ یہ ذکر ہے کہ ان کی پھونکوں میں یہ طاقت ہوگی۔ ہاں البتہ ان کے غزوات کا ذکر احادیث میں ہے اور اگر احادیث میں تلوار کا ذکر ہو تو اس سے اس کی نفی کہاں لازم آتی ہے کہ وہ کسی دوسری قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کریں گے اور یا اس کا ثبوت کہاں ہے کہ موجودہ حالت میں دنیا اپنے اس ایٹمی

٩٨

صفحہ ٤٠٧

دور کے ساتھ اس وقت بھی موجود رہے گی۔ کیا بعید ہے کہ سب کچھ ختم ہو جائے اور انسان پھر حالت اول کی طرف لوٹ جائے۔ جس میں جنگ کے وہی اوزار وقوانین ہوں کہ جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تھے۔ اگر اس چیز کو اعتراض کا ذریعہ بنایا جائے کہ مہدی کی احادیث میں تلوار کا ذکر ہے تو بعینہ یہی اعتراض پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام والی احادیث پر بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس میں بھی اس کا ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلوار سے قتل کردیں گے۔ حالانکہ ان احادیث کی صحت کے اختر صاحب بھی قائل معلوم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی عبارت پہلے ہم نے نقل کی ہے۔

اپنے مضمون میں ایمان بالشہود کی سرخی قائم کر کے اختر کاشمیری صاحب لکھتے ہیں کہ: ”خدا کے نبی کے بعد کسی شخص پر ایمان بالغیب ممکن نہیں جب تک کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول کا کوئی معتبر اشارہ سامنے نہ آجائے۔“

لیجئے ! محدثین کی تصریحات کے مطابق ایک نہیں کئی صحیح احادیث موجود ہیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت جو باب اول میں گزر چکی ہے وہ تو محدثین کے نزدیک بالاتفاق صحیح ہے۔ جیسا کہ باب ثانی تحفۃ الاحوذی کے حوالے سے گزر چکا ہے اور ام سلمہؓ کی روایت جو ابوداؤد کے حوالے سے گزر چکی ہے، ابوداؤد، منذری، ابن قیم وغیرہ سب نے اس پر سکوت کیا۔ جو محدثین کی اصطلاح کے مطابق اس حدیث کی صحت کی دلیل ہے اور عون المعبود میں اسی روایت کے متعلق لکھا ہے: ”وفی الاذاعة رجاله رجال الصحيحين لامطعن فيهم لامغمز (ص ١٧٦ ج ٤)“

کہ اس روایت کے راوی سب صحیحین یعنی بخاری، مسلم کے راوی ہیں۔ کوئی جرح اور طعن نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ بلکہ صحت کو چھوڑیئے محدثین کے ہاں تو ظہور مہدی کی احادیث متواتر ہیں اور انکار کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ احادیث بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ہر حدیث میں منکرین حدیث کی طرح کوئی نہ کوئی کیڑا ضرور نکالا جاتا ہے۔ یا کسی راوی پر جرح نقل کی جاتی ہے۔ اگر چہ وہ راوی بخاری ومسلم کا ہو اور سب کے نزدیک ثقہ ہو۔ لیکن تعدیل کے اقوال کو چھوڑ کر صرف جرح نقل کی جاتی ہے تا کہ ضعف کو ثابت کیا جائے حالانکہ جہاں سے ضعف کا قول نقل کیا جاتا ہے۔ اس کے آگے پیچھے تعدیل کے اقوال کا انبار ہوتا ہے۔ جن کو دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے:

٩٩

صفحہ ٤٠٨
حق بات جانتے ہیں مگر مانتے نہیں
ضد ہے جناب شیخ تقدس مآب کو

اختر صاحب لکھتے ہیں کہ: ”بہر حال واضح ہے کہ پندرہویں صدی کا استقبال کرنے والا طبقہ گزشتہ تمام اعتبار سے بہر حال مختلف ہے۔ اس کے مسائل جدا، سوچ منفرد، انداز فکر انوکھا اور کسی چیز کو قبول کرنے کا طریقہ الگ ہے۔ یہ طبقہ اگر ایسا مطالبہ کرتا ہے تو بے جا نہیں ہے۔“ اور لکھتے ہیں: ”یہ میرے ذاتی خیالات کا خلاصہ نہیں۔ بلکہ اس جدید طبقہ کے جذبات کا عکس ہے۔ سائنسی دور کے دل و دماغ پر لگی چھاپ کو بلا دلیل نہ تو بدلہ جا سکتا ہے اور نہ ہی شعور سے کھرچ کر نکالنا ممکن ہے۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ مسئلے کے تمام پہلو سامنے لا کر رکھ دیئے جائیں اور قبول نا قبول کا فیصلہ اس فیصلے پر چھوڑ دیا جائے۔“

یہ تو بالکل صحیح ہے کہ عملی یا اعتقادی مسئلے کے متعلق دلیل طلب کی جائے کہ اس کا ثبوت کس چیز سے ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی کے دل و دماغ پر اگر سائنسی چھاپ لگی ہوئی ہو تو اس کے لئے ہم اپنے معتقدات کو بدلیں یا اس کو ایسے سچ پر لے آئیں کہ ان کے لئے ان کا ماننا ممکن ہو جائے۔ ہم اس کے مکلف نہیں۔ صحیح بات کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنا یہ کار نبوت ہے۔ اگر وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتی یا کسی بیرونی چھاپ کی وجہ سے وہ سمجھنا نہیں چاہتا تو اس کے لئے نہ تو کسی اعتقاد کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دلیل کو جانچنے کا وہ طریقہ استعمال کرنا چاہئے جو اختر صاحب کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ کسی بھی فن کی بات ہو اس کے ماہرین کی رائے کا احترام واعتبار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس مسئلے میں فن حدیث کے ان ماہرین کی رائے کا اعتبار ہوگا۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اس فن کی تحقیق کے لئے وقف کیں اور اس فن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا۔ اس فن میں نہ میری رائے کا اعتبار ہوگا، نہ جناب اختر کاشمیری صاحب یا کسی اور کی رائے کا۔ بلکہ ہم اگر رائے زنی کریں گے تو یہ خود ہمارے لئے وبال وخسران ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ ہم محدثین کی رائے کا اعتبار کریں۔

تو اب دلیل کے مطالبے سے مراد اگر دلیل شرعی کا مطالبہ ہے تو وہ پیش کی جا چکی ہے کہ احادیث اس باب میں متواتر ہیں اور دلیل سے مراد اگر عقلی دلیل ہو تو عقل بھی اس کی مخالف نہیں کہ آخری زمانے میں ایک مجدد پیدا ہو جو دین کی حفاظت اور احیاء سنت کے لئے کام کرے۔ نہ

١٠٠

صفحہ ٤٠٩

معلوم وہ کون سا سائنسی نظریہ یا فارمولا ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ اس کی مخالفت کی وجہ سے رد کیا جا رہا ہے یا سائنس کی چھاپ لگے ہوئے دل و دماغ اس کو نہیں سمجھ پارہے ہیں اور وہ کونسا اشکال ہے جو ان کو پیش آتا ہے۔ اس لئے کہ نہ تو مہدی پتھر سے پیدا ہوں گے اور نہ بغیر ماں باپ کے، بلکہ وہ اس معتاد اور جاری عادت کے مطابق پیدا ہونے والے ایک انسان ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ دین کی تجدید کا کام لے گا اور جن کا نام محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا اور وہ نبی کریم ﷺ کی نسل میں سے ہوں گے۔ ماں کی طرف سے حسینی اور باپ کی طرف سے حسنی ہوں گے اور حدیث ”ومن ولد العباس“ جو آیا ہے کہ حضرت عباسؓ کی اولاد سے ہوں گے تو وہ حدیث ضعیف ہے۔

(تعلیق الصبیح ص ١٩٦ ج ٦)

تو ان باتوں میں کوئی بات غیر معتاد اور سمجھ میں نہ آنے والی ہے۔ ہاں اگر کسی نے انکار مہدی کی ٹھان لی ہو اور عقل میں بھی کچھ فتور ہو تو وہ بات اور ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی عقل سے بچائے۔

صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرائیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

سے پہلے ابوبکر الاسکاف کی اس حدیث پر بحث کی ہے جو ان الفاظ کے ساتھ حضرت جابرؓ سے منقول ہے کہ : ”من کذب بالمهدی فقد کفر ومن کذب بالدجال فقد کذب...... الخ (مقدمه ابن خلدون ص ٣١٢ ج ١)“

اس روایت کو ابن خلدون نے ابوبکر الاسکاف کی کتاب فوائد الاخبار کے حوالے سے اپنے مقدمہ میں نقل کیا ہے اور پھر آخر میں اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں: ”وحسبك هذا غلوا والله اعلم بصحة طريقه الى مالك بن انس على ان ابابکر الاسکاف عندهم متهم وضاع (مقدمه ص ٣١٢ ج ١ ، ابن خلدون) “

یہ روایت بعض محدثین کے نزدیک موضوع ہے : جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے لسان المیزان میں محمد بن الحسن بن راشد الانصاری کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ ”ووجدت فی کتاب معانی الاخبار للکلابازی خبرا موضوعا حدث به عن محمد بن علی بن الحسن عن

١٠١

صفحہ ٤١١

الحسين بن محمد بن احمد عن اسماعيل بن ابی اویس عن مالك عن ابن المنكدر عن جابر فيه من انكر خروج المهدى فقد كفر..... الخ

(ص ١٣٠ ج ٥)“

لیکن بعض محدثین کے نزدیک یہ حدیث موضوع نہیں ہے۔ جیسے کہ سہیلی نے روض الانف میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور پھر اس کی سند کی غرابت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن موضوع نہیں کہا ہے۔ اگر ضعیف ہو تو بھی دوسری صحیح احادیث اس کی تائید کے لئے پیش کی جا سکتی ہیں اور اس بات کی طرف علامہ سہیلی نے بھی اشارہ کیا ہے کہ ”والاحاديث الواردة فى المهدى كثيرة جدا

(روض الانف ص ٦٩ ا ج ١)“

کہ ظہور مہدی کی احادیث بہت زیادہ ہیں۔ اسی طرح امام سیوطیؒ نے اپنے رسالہ ”العرف الوردی“ میں اس حدیث کو نقل کر کے سکوت کیا ہے۔ ملاحظہ ہو

(الحاوی ص ٨٢ ج ٢)

نیز اس کی سند بھی ایک نہیں بلکہ کئی ہیں۔ جس کی طرف سہیلی نے اشارہ کیا ہے: ”وكذا فى التصريح بماتواتر فى نزول المسيح

(ص ٢٤٣)“

ابن خلدون نے ابو بکر الاسکاف کو اس کا واضع ٹھہرایا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ابو بکر الاسکاف پر وضع حدیث کا الزام کسی نے بھی نہیں لگایا۔ اگر حدیث موضوع ہو تو پھر اس کا واضع بقول حافظ ابن حجر محمد بن الحسن بن علی بن راشد الانصاری ہے۔

(لسان المیزان ص ١٣٠ ج ٥)

رہا ابو بکر الاسکاف تو وہ ثقہ اور امام ہے: ”كما فى الفوائد البهية ٠ محمد بن احمد ابوبکر الاسکاف البلخى امام كبير جليل القدر

(ص ١٦٠)“

......٢ ظہور مہدی کی دوسری روایت جس پر ابن خلدون اور اختر کاشمیری وغیرہ نے ضعف کا حکم لگایا ہے، وہ روایت ہے جو ابو داؤد و ترمذی کے حوالے سے باب اول میں ہم مع ترجمہ نقل کر چکے ہیں۔ جس کے الفاظ ابن خلدون نے یہ نقل کئے ہیں کہ: ”عن عبداللہ ابن مسعودؓ عن النبى ﷺ لولم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلا منى او من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى

(مقدمه ابن خلدون ص ٣١٢ ج ١)“

اس روایت میں ابن خلدون اور اختر کاشمیری صاحب نے عاصم بن ابی النجود پر جرح کی ہے اور روایت کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن عاصم محدثین کے نزدیک قوی ثقہ ہیں۔

١٠٢

چنانچہ ابن ابی حاتم نے ”کتاب الجرح والتعدیل“ بن محمد بن حنبل فيما كتب الى قال: عاصم بن ابی النجود) فقال ثقة رجل وكان شعبة يختار الاعمش عليه في معين عنه فقال ليس به باس قال عبد ابى سليمان وعاصم فقال عاصم وحماد صاحب فقه

(کتاب الجرح والتعدیل

ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مجھے عبد اپنے والد احمد بن حنبل سے عاصم کے متعلق پوچھا ثقہ ہے۔ لیکن اعمش ان سے زیادہ حافظ تھے اور کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے عاصم کے بات نہیں، یعنی ثقہ ہے اور عبداللہ کہتے ہیں کہ م اور حماد کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ مجھے عاصم زیادہ اور حماد فقہ والے۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عاصم کو معین ثقہ مانتے ہیں۔ البتہ شعبہ کے نزدیک عاصم کی بات نہیں ہے۔

اس کے بعد ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ پوچھا تو فرمایا کہ: ”وهو صالح اكثر حد واحب الى من ابى قيس

(کتاب الجرح وا

ابو حاتم نے کہا کہ عاصم صالح ہے اور اس سے زیادہ مشہور ہے اور مجھے عاصم ابو قیس سے اور اس کے بعد پھر نقل کیا ہے کہ میں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے عاصم کو عبد الملک

صفحہ ٤١١

چنانچہ ابن ابی حاتم نے ”کتاب الجرح والتعدیل“ میں نقل کیا ہے: ”اخبرنا عبدالله بن احمد بن محمد بن حنبل فیما کتب الی قال سألت ابی عن عاصم بن بهدلة (یعنی عاصم بن ابی النجود) فقال ثقة رجل صالح خیر ثقة والاعمش احفظ منه وكان شعبة يختار الاعمش عليه في تثبيت الحديث قال وسالت یحییٰ بن معین عنه فقال لیس به باس قال عبداللہ بن احمد وسالت ابی عن حماد بن ابی سلیمان وعاصم فقال عاصم احب الینا عاصم صاحب قرآن وحماد صاحب فقه (كتاب الجرح والتعديل لابن ابی حاتم ص ٣٤١ ج ٦)“

٭ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن احمد بن حنبل نے خبر دی ہے کہ میں نے اپنے والد احمد بن حنبل سے عاصم کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ ثقہ ہے اور نیک آدمی ہے اور بہترین ثقہ ہے۔ لیکن اعمش ان سے زیادہ حافظ تھے اور شعبہ اعمش کو عاصم پر ترجیح دیتے تھے اور عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے عاصم کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ عاصم کی روایت میں کوئی بات نہیں، یعنی ثقہ ہے اور عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل سے عاصم اور حماد کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ مجھے عاصم زیادہ پسند ہے۔ اس لئے کہ عاصم قرآن والے تھے اور حماد فقہ والے۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عاصم کو امام احمد بن حنبل اور امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین ثقہ مانتے ہیں۔ البتہ شعبہ کے نزدیک عاصم پر اعمش کو ترجیح حاصل ہے۔ لیکن یہ کوئی جرح کی بات نہیں ہے۔

اس کے بعد ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ابو حاتم سے عاصم کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ: ”وهو صالح اكثر حديثا من ابي قيس الاودی واشهر منه واحب الى من ابي قيس (كتاب الجرح والتعديل ص ٣٤١ ج ٦)“

ابو حاتم نے کہا کہ عاصم صالح ہے اور ابو قیس سے زیادہ حدیثیں نقل کرنے والا ہے اور اس سے زیادہ مشہور ہے اور مجھے عاصم ابو قیس سے زیادہ پسند ہے۔

اور اس کے بعد پھر نقل کیا ہے کہ میرے والد سے عاصم بن النجود اور عبدالملک بن عمیر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے عاصم کو عبدالملک پر ترجیح دی۔ (ص ٣٤١ ج ٦)

١٠٣

صفحہ ٤١٢

اور ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو زرعہ سے عاصم کے متعلق پوچھا تو کہا کہ ثقہ ہیں۔ (ص ٣٣١ ج ٦) ابن ابی حاتم کی ان عبارات سے معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبل، امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین، ابوحاتم، ابوزرعہ جیسے محدثین اور جبال الحدیث کے نزدیک عاصم ثقہ ہے۔

علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ابوحاتم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”محلہ الصدق“ عاصم کا مقام سچ کا ہے۔ (میزان الاعتدال ج ٣ ص ١٤)

اور خود ذہبی فرماتے ہیں: ”قلت هو حسن الحديث وقال احمد وابوزرعه ثقہ (میزان الاعتدال ج ٤ ص ١٤) ”میں کہتا ہوں کہ وہ حسن الحدیث ہے۔ یعنی اس کی احادیث حسن ہیں اور احمد وابوزرعہ نے عاصم کو ثقہ کہا ہے اور پھر کہا کہ یہ بخاری ومسلم کے راوی بھی ہیں۔ (میزان الاعتدال ج ٣ ص ١٤)

اور پھر ابن سعد سے بھی عاصم کی ثقاہت نقل کی ہے۔ (میزان الاعتدال ج٤ ص١٤) اور حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں یہ اقوال نقل کئے ہیں اور ساتھ مجلی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ: ”وقال العجلى كان صاحب سنة وقرأة وكان ثقه (ج ٤ ص ١٣٢)“ مجلی نے کہا ہے کہ عاصم سنت والے تھے، ثقہ اور قاری تھے۔

اور حافظ نے تقریب التہذیب میں بزار کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ”ولا نعلم احدا ترکہ (ج ٤ ص ١٣٢)“ عاصم کو کسی نے ترک نہیں کیا۔ اور تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ ”عاصم بن بهدلة وهو ابن ابی النجود بنون وجيم الاسدى مولاهم ، الكوفي ابوبكر المقرى صدوق ......الخ (ج ١ ص ١٦٦)“

ان اقوال سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوئی کہ عاصم بن ابی النجود ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک ثقہ ہے۔ لہٰذا ابن خلدون یا اختر کاشمیری کا عاصم کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہنا صحیح نہیں ہے۔

نیز یہ کہ عاصم صحیحین یعنی بخاری ومسلم کے راوی ہے۔ اگرچہ بخاری ومسلم نے ان سے مقرون بالغیر حدیثیں نقل کی ہیں۔ لیکن پھر بھی اتنی بات تو ثابت ہوئی کہ بخاری ومسلم نے ان کی روایتیں نقل کی ہیں۔ نیز سنن اربعہ میں بھی ان کی روایتیں منقول ہیں اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ روایت ان روایات میں سے ہے جن پر امام داؤد نے سکوت کیا ہے اور یہ قاعدہ ابن خلدون نے بھی نقل کیا ہے کہ ابوداؤد جس روایت پر سکوت کرے وہ قابل اعتبار ہوتی ہے: ”كماقال: هذا

١٠٢

صفحہ ٤١٤

لفظ ابی داؤد وسكت عليه وقال في رسالته المشهوره ان ما سكت عليه في كتابه فهو صالح (مقدمہ ابن خلدون ج١ ص٣١٦) ”ابوداؤد نے اس روایت کے نقل کرنے کے بعد اس پر سکوت کیا ہے اور ابوداؤد نے اپنے خط میں یہ لکھا تھا کہ جس روایت پر سکوت کروں وہ قابل اعتبار ہوگی اور ترمذی نے اس روایت کو حسن اور صحیح کہا ہے۔ ملاحظہ ہو (ترمذی کا باب ماجاء فی المہدی اور مقدمہ ابن خلدون ص٣١٢ ج١)

نیز منذری نے تلخیص ابوداؤد میں ، علامہ خطابی نے معالم السنن میں اور امام ابن قیم نے تہذیب السنن میں اس روایت پر کوئی جرح نہیں کی اور عون المعبود اور تحفۃ الاحوذی میں اس حدیث کو صحیح کہا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو (عون المعبود ص١٧٦ ج٤)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح اور قابل اعتبار ہے۔ لہذا محدثین کے قول کا اعتبار ہوگا نہ کہ ابن خلدون اور اس کے مقلد کاشمیری کے قول کا، کیونکہ لكل فن رجال، مسلم قاعدہ ہے۔

٣...... تیسری روایت جس پر ابن خلدون نے جرح کی ہے۔ حضرت علیؓ کی وہ روایت ہے جس کو ہم باب اول میں نقل کر چکے ہیں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ”عن على عن النبی ﷺ قال لولم يبق من الدهر الا يوم لبعث الله رجلا من اهل بيتي يملأها عدلا كما ملئت جورا (مقدمہ ابن خلدون ج١ ص٣١٣)“

اس روایت میں ابن خلدون نے ایک راوی قطن بن خلیفہ پر کلام کیا ہے اور اس کی وجہ سے روایت کو ضعیف کہا ہے۔ راوی کا اصل نام قطن نہیں بلکہ فطر بن خلیفہ ہے۔ جیسے کہ ابوداؤد کے اصل نسخہ اور رجال کی کتابوں میں لکھا ہے۔ پتہ نہیں یہ ابن خلدون کی غلطی ہے یا کہ کاتب نے تصحيف کی ہے۔ اس طرح ابن خلدون کی تقلید میں اختر صاحب نے بھی غلط نقل کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اختر صاحب نے ابوداؤد کی اصل روایت کی طرف رجوع کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ بلکہ ابن خلدون ہی پر اعتماد کیا (اگرچہ اختر صاحب نے اپنے پورے مضمون میں یہ ظاہر نہیں کیا کہ ان کا مضمون ابن خلدون سے ماخوذ ہے، لیکن ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ان کا پورا مضمون ابن خلدون کی اس فصل کا ترجمہ ہے) لیکن یہ راوی محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔

حافظ ابن حجر تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں: ”صدوق (ج٢ ص٤٧٨)“ یعنی سچے تھے۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں: ”وثقه احمد وقال ابوحاتم صالح الحديث (ص٣٦٣ ج٢)“ امام احمد نے توثیق کی ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ اس کی حدیثیں

١٠٥

صفحہ ٤١٤

صالح ہیں۔ ابن سعد نے کہا ہے ”وثقه انشاء اللہ تعالیٰ (میزان الاعتدال ج٥ ص ١٤٤)“ یعنی انشاء اللہ ثقہ ہے اور ذہبی نے امام احمد سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ”کان فطر عند یحییٰ ثقہ (میزان الاعتدال ج٥ ص١٤٤)“ یعنی ثقہ اور صالح الحدیث ہیں اور صاحب عون المعبود لکھتے ہیں کہ ”وفی اسنادہ فطر بن خلیفة الکوفی وثقه احمد ویحییٰ بن سعيد القطان ويحيى بن معين والنسائي والعجلى وابن سعد والساجى وقال ابوحاتم صالح الحديث واخرج له البخارى فالحديث قوى (عون المعبود شرح ابوداؤد ص١٧٣ ج٤)“ ”وكذافى ترجمان السنة (ص٣٨٥ ج٤)“ یعنی اس حدیث کی سند میں فطر بن خلیفہ ہے۔ امام احمد، یحییٰ بن سعید القطان، یحییٰ بن معین، نسائی، عجلی، ابن سعد اور ساجی نے ان کی توثیق کی ہے اور ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا ہے اور بخاری نے ان کی حدیثیں نقل کی ہیں۔ پس حدیث قوی ہے۔

تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے وہ سب اقوال نقل کئے ہیں جو کہ ہم پہلے میزان وغیرہ کے حوالہ سے نقل کر چکے ہیں اور عجلی کا یہ قول بھی نقل کیا: ”وقال العجلى، کوفى ثقة حسن الحديث وكان فيه تشيع قليل (ج٦ ص ٤٢٨)“ عجلی نے کہا کہ فطر کوفی ہے۔ ثقہ ہے اور اچھے حدیث والے ہیں اور ان میں تھوڑا سا تشیع تھا۔ اسی طرح حافظ نے امام نسائی کا قول بھی نقل کیا ہے کہ ”وقال النسائى لاباس به وقال فى موضع اخرثقه حافظ كيس (تقريب التهذيب ج٦ ص ٤٢٩)“ کہ نسائی نے کہا کہ فطر میں کوئی خرابی نہیں اور دوسری جگہ کہا کہ ”فطر ثقة حافظ“ اور ہوشیار ہے۔ نیز حافظ نے یہ بھی نقل کیا کہ: ”وقال ابوذرعه الدمشقى سمعت ابانعيم يرفع من فطر ويوثقه وينكر انه كان ثبتا فى الحديث (تقريب التهذيب ج٦ ص ٤٢٩)“ یعنی ابو زرعہ دمشقی کہتے ہیں کہ میں نے ابو نعیم کو سنا ہے کہ فطر کو اونچا کر رہے تھے۔ یعنی اس کی بڑائی بیان کر رہے تھے اور کہا کہ وہ حدیث میں تثبت والے ہیں۔

نیز حافظ نے لکھا کہ: ”وقال ابن عدى له احاديث صالحة عند الكوفيين وهو متماسك وارجوانه لاباس به (ج٦ ص٤٢٩)“ ابن عدی نے کہا کہ ان کی (فطر کی) کوفیوں کے ہاں احادیث اچھی ہیں اور ان سے دلیل پکڑی جاسکتی ہے اور مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔

ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ جمہور محدثین کے نزدیک فطر بن خلیفہ ثقہ ہیں اور جن

١٠٦

محدثین نے کچھ جرح کی ہے تو تشیع کی ب کہ ”كان يقدم عليا على عثمان حضرت عثمان پر فضیلت میں مقدم سمجھتے ”مايسرنى ان مكان كل شعرة (ج٥ ص٤٤٢)“ یعنی مجھے محبت اہل بی ایک فرشتہ ہوتا اور تسبیح پڑھتا۔ یعنی ان کا تش مسلمان کے نزدیک جزو ایمان ہے اور ح جیسے کہ یہ بعض اہل سنت سے بھی مروی نہ یہ ضعف کے لئے وجہ بن سکتی ہے۔ جس کے ابتداء میں نے لکھا ہے: ”ان البدع اور كالتشيع بلا غلو ولا تحري والورع والصدق فلورد حديث مفسده بيّنة (ص٥ ج١)“ یعنی بدعت دو قسم پر ہے۔ ای تحریف کے۔ تو یہ تابعین اور تبع تابعین اگر ان کی حدیثیں رد کر دی جاتیں تو احاد فساد ہے۔ اس کے بعد علامہ ذہبی نے اب ابوبکر کو حضرت عثمان پر فضیلت دے رہ ہوں گے۔

اس پوری بحث سے ثابت ہو

روایت ہے جس کو ہم ابوداؤد کے حوالہ سے الحسن ان ابنى هذا سيد كما سم يسمى باسم نبيكم يشبهه فى ال ......الخ (ص٣١٣)“ اس روایت میں ہے کہ وہ رافضی تھے۔

صفحہ ٤١٥

محدثین نے کچھ جرح کی ہے تو تشیع کی بناء پر کی ہے۔ حالانکہ ان کی تشیع کی حقیقت صرف اتنی تھی کہ ”کان یقدم علیا علی عثمان (تهذیب التهذیب ج ٦ ص ٤٢٩) “ یعنی حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت میں مقدم سمجھتے تھے اور میزان الاعتدال میں ان کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ”مایسرنی ان مکان كل شعرة فى جسدى ملك فيسبح الله لحبى اهل البيت (ج ٥ ص ٤٤٢) “ یعنی مجھے محبت اہل بیت کے بدلے یہ پسند نہیں کہ میرے ہر بال کے بدلے ایک فرشتہ ہوتا اور تسبیح پڑھتا، یعنی ان کا تشیع صرف اتنا تھا کہ اہل بیت سے محبت رکھتے تھے۔ جو ہر مسلمان کے نزدیک جزو ایمان ہے اور حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت میں مقدم سمجھتے تھے۔ جیسے کہ یہ بعض اہل سنت سے بھی مروی ہے۔ صرف اتنی بات سے تشیع بھی ثابت نہیں ہوتا ہے اور نہ یہ ضعف کے لئے وجہ بن سکتی ہے۔ جیسے کہ امام الجرح والتعدیل علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال کے ابتداء میں یہ لکھا ہے: ”ان البدعة على ضربين فبدعة صغرى كغلو التشيع او كالتشيع بلا غلو ولا تحرف فهذا كثير فى التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق فلورد حديث هولاء لذهب جملة من الآثار النبوية وهذه مفسدة بيّنة (ص ٥ ج ١) “

یعنی بدعت دو قسم پر ہے۔ ایک بدعت صغریٰ جیسے کہ تشیع غلو کے ساتھ یا بغیر غلو اور تحریف کے۔ تو یہ تابعین اور تبع تابعین میں بہت تھا۔ لیکن دینداری، تقویٰ اور سچائی کے ساتھ تو اگر ان کی حدیثیں رد کر دی جاتیں تو احادیث نبوی کی ایک وافر مقدار رد ہو جائے گی اور یہ ظاہراً فساد ہے۔ اس کے بعد علامہ ذہبیؒ نے ابان بن تغلب کی توثیق کی ہے جو کہ حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عثمانؓ پر فضیلت دے رہے ہیں اور کوئی جرح بھی موجود نہیں ہے تو بطریق اولیٰ ثقہ ہوں گے۔

اس پوری بحث سے ثابت ہوا کہ یہ تیسری حدیث بھی صحیح ہے۔

روایت ہے جس کو ہم ابو داؤد کے حوالہ سے پہلے نقل کر چکے ہیں کہ: ”قال علی ونظر الی ابنه الحسن ان ابنى هذا سيد كما سماه رسول الله ﷺ سيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيكم يشبهه فى الخلق ولا يشبهه فى الخلق يملأ الارض عدلا ......الخ (ص ٣١٣) “ اس روایت میں اختر صاحب نے عمرو بن ابی قیس پر جرح کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ رافضی تھے۔

١٠٧

صفحہ ٤١٦

عمرو بن قیس کے متعلق حافظ ابن حجرؒ نے تقریب میں لکھا ہے کہ: ”صدوق له اوھام (ص ٤٤٥)“، یعنی سچے ہیں۔ البتہ ان کے کچھ اوھام ہیں۔ اور تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ ”رے“ کے کچھ لوگ سفیان بن ثوری کے پاس آئے اور کچھ حدیثوں کے متعلق ان سے پوچھا تو سفیان ثوریؒ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ازرق موجود نہیں۔ اس سے مراد عمرو بن ابی قیس ہے۔ (ج٦ ص٢٠١) اس سے معلوم ہوا کہ سفیان ثوریؒ کو ان پر اعتماد تھا اور لوگوں نے حدیث کے متعلق ان سے رجوع کرنے کے لئے کہا کرتے تھے اور ابو داؤد کا یہ قول بھی تہذیب میں منقول ہے کہ ”لا باس بہ“

نیز حافظؒ نے لکھا کہ: ”وذکرہ ابن حبان فی الثقات (ج٦ ص٢٠١)“ یعنی ابن حبان نے عمرو بن ابی قیس کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے۔ ابن شاہین نے بھی ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے اور عثمان بن ابی شیبہ نے فرمایا ”لا باس بہ “ اور بزار نے کہا کہ مستقیم الحدیث تھے۔

(تہذیب التہذیب ج٦ ص ٢٠١)

ان اقوال سے معلوم ہوا کہ عمرو بن ابی قیس محدثین کے ہاں بالاتفاق قابل اعتبار ہیں۔

نوٹ: مقدمہ میں عمرو بن ابی قیس کی بجائے عمر بن ابی قیس لکھا ہے۔ شاید یہ کاتب کی غلطی ہو۔

نیز جو جوابی مضمون اردو ڈائجسٹ میں چھپا اس میں بھی عمر بن قیس لکھا تھا۔ یہ بھی صحیح نہیں۔

ابو داؤد کے سب نسخوں میں نام عمرو بن ابی قیس لکھا ہے۔ عمرو بن قیس کے نام کے اسماء رجال کی کتابوں میں دو راوی ہیں۔ لیکن وہ الگ ہیں اس روایت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

نیز اس روایت میں ابن خلدون نے ہارون بن المغیرہ پر بھی جرح کی ہے اور ابو داؤد سے نقل کیا ہے کہ ہارون شیعہ کی اولاد میں سے تھے۔ (مقدمہ ص٣١٤) لیکن ہارون بن المغیرہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”ھارون بن المغیرہ بن حکیم البجلی ثقة (ج٢ ص٦٣١)“ یعنی ہارون ثقہ ہیں۔

علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ ”وثقه النسائی “ کہ نسائی نے ثقہ کہا ہے۔ (میزان الاعتدال ج٤ ص٦٦) اور لکھا ہے کہ ”قال ابو داؤد لا باس بہ (ج٤ ص٦٦)“

اور حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”قال جرير لا اعلم بھذا البلد اصح حدیثا منہ (تہذیب التہذیب ج٩ ص١٤)“ کہ جریر نے کہا رے میں ان سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں تھا اور نسائی سے نقل کیا ہے کہ ”قال النسائی کتب عنہ یحییٰ بن معین وقال صدوق (ج٩ ص١٤)“ یعنی نسائی نے کہا ہے کہ امام الجرح والتعدیل یحییٰ

١٠٨

بن معین نے ان سے حدیث نقل کی ہے ”لا باس بہ“ کہا ہے اور امام احمد (ج٩ ص١٤)“ ان سب اقوال سے باوجود ثقہ ہیں۔ نفس تشیع وجہ جرح نہیں کے اقوال ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اسی روایت میں ابن خلدون نام عمرو بن عبداللہ ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے اور ثقہ و عابد ہیں۔ البتہ آخری عمر میں ان علامہ ذہبیؒ نے ان کے متعلق الا انه شاخ ونسی ولم يختلط، فـ لوگوں میں سے ہیں۔ البتہ بوڑھا ہو ہوا تھا۔

اس عبارت میں علامہ ذہبیؒ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ابو اسحاق ا ہے۔ اس لئے کہ علامہ ذہبیؒ نے میزان میں ان کی ولادت ہوئی تھی اور حضرت زید...... الخ (میزان ج٢ ص٣٢٦)

نیز یہ بخاری و مسلم کے راوی بحث کی ابتداء میں یہ قاعدہ بیان کیا ہے تلقيهما بالقبول والعمل بمـ وليس غير الصحيحين بمثابـ یعنی بخاری و مسلم کی قبولیت ہے اور صحیحین کے علاوہ دوسری کتابیں پختہ ہے اور بخاری و مسلم کے راوی ہو ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت علی تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”رو

صفحہ ٤١٧

بن معین نے ان سے حدیث نقل کی ہے اور ان کو ثقہ کہا ہے اور ابو داؤد نے شیعہ ہونے کے باوجود ”لا باس بہ“ کہا ہے اور امام احمد نے یحییٰ بن معین سے نقل کیا ہے کہ ”شیخ صدوق ثقة (ج ٩ ص ١٤)“ ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ محدثین کے نزدیک ہارون شیعہ ہونے کے باوجود ثقہ ہیں۔ نفس تشیع وجہ جرح نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ آپ پہلے تفصیل سے اس مسئلے پر محدثین کے اقوال ملاحظہ کر چکے ہیں۔

اس روایت میں ابن خلدون نے ابو اسحاق السبیعی پر کلام کیا ہے۔ لیکن یہ ثقہ ہیں ان کا نام عمرو بن عبداللہ ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے ان کے متعلق تقریب میں لکھا ہے کہ صحاح ستہ راوی ہیں اور ثقہ و عابد ہیں۔ البتہ آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ (ج ١ ص ٣٣٢)

علامہ ذہبیؒ نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ ”من ائمة التابعين بالكوفة واثباتهم الا انه شاخ ونسى ولم يختلط (میزان ج ٥ ص ٣٢٦)“ یعنی ابو اسحاق ائمہ تابعین اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔ البتہ بوڑھا ہونے کی وجہ سے کچھ روایات بھول گئے تھے اور اختلاط نہیں ہوا تھا۔

اس عبارت میں علامہ ذہبی نے اختلاط کی بھی نفی کر دی۔ ابن خلدون کا اس روایت پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ابو اسحاق کی روایت حضرت علیؓ سے منقطع ہے۔ لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں ان کی ولادت ہوئی تھی اور حضرت علیؓ کو دیکھا تھا۔ الفاظ یہ ہیں ”ورأى عليا واسامة بن زيد...... الخ (میزان ج ٥ ص ٣٢٦)“ یعنی حضرت علیؓ و اسامہ کو دیکھا تھا۔

نیز یہ بخاری و مسلم کے راوی بھی ہیں جن کے رواۃ کے متعلق خود ابن خلدون نے اپنی بحث کی ابتداء میں یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ: ”فان الاجماع قد اتصل فى الامة على تلقيهما بالقبول والعمل بما فيهما وفى الاجماع اعظم حماية واحسن دفعا وليس غير الصحيحين بمثابتهما فى ذالك (مقدمه ابن خلدون ص ٣١٢)“ یعنی بخاری و مسلم کی قبولیت اور ان کی احادیث کے معمول ہونے پر امت کا اجماع ہے اور صحیحین کے علاوہ دوسری کتابیں اس مرتبے پر نہیں ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ ابو اسحاق السبیعی ثقہ ہے اور بخاری و مسلم کے راوی ہونے کی وجہ سے امت کا ان کی قبولیت وثقاہت پر اجماع ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت علیؓ کو دیکھا تھا لہٰذا روایت منقطع نہیں ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے بھی تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”روى عن على بن ابى طالب والمغيره بن شعبه

١٠٩

صفحہ ٤١٨

وقد رآهما (ص ٦٣ ج ٨)“ یعنی حضرت علیؓ اور مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ اور ان دونوں کو دیکھا بھی تھا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت علیؓ کو نہیں دیکھا تھا لیکن یہ قول محدثین کے ہاں ضعیف ہے۔ چنانچہ حافظ نے اس مذکور عبارت کے بعد دوسرے قول کو قیل سے نقل کیا ہے۔ جس میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے۔ نیز حافظ نے بغوی سے نقل کیا ہے کہ بغوی نے سند مسلسل کے ساتھ ابواحمد زبیری ”لقی ابو اسحاق علیا (تهذیب ص ٦٠ ج ٨)“ کہ ابواسحاق کی ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی تھی۔ لیکن اگر ملاقات نہ بھی ثابت ہو تو بھی ان کی روایت حضرت علیؓ سے امام مسلم اور جمہور کے قول کے مطابق صحیح ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ کا زمانہ پایا۔

ایک اعتراض اس روایت پر یہ ہے کہ ہارون المغیرہ اور ابوداؤد کے درمیان کا راوی بھی معلوم نہیں ہے اور یہ بھی انقطاع ہے۔ لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہارون کی یہ روایت ابوداؤد نے اصالتاً نقل نہیں کی ہے۔ بلکہ ماقبل والی روایتوں کی تائید کے لئے اس کو لائے ہیں۔ اس لئے یہ انقطاع مضر نہیں۔ نیز یہ کہ ابوداؤد کے سکوت کے بعد روایت پھر بھی درجہ حسن کی ہے۔

کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہے: ”قال النبی ﷺ يخرج رجل من وراء النهر يقال له الحارث على مقدمته رجل يقال له المنصور ...... الخ (مقدمه ص ٣١٣)“ اس روایت پر اعتراض یہ ہے کہ اس میں ابوالحسن اور ہلال بن عمر مجہول ہیں۔ لیکن یہ اعتراض بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ ایک تو روایت اصالتاً منقول نہیں۔ بلکہ تائید کے لئے ہے۔ نیز ابوداؤد نے سکوت بھی کیا ہے اور ہلال بن عمرو مجہول بھی نہیں۔ ابن ابی حاتم نے کتاب الجرح والتعدیل میں لکھا ہے کہ: ”هلال بن عمرو سمع ابابردة عن ابی موسیٰ روى عنه يحيى بن سعيد القطان سمعت ابي يقول ذالك (ص ٧٦ ج ٩)“ یعنی ہلال بن عمرو نے ابو بردہ سے روایتیں سنی ہیں اور ہلال سے یحییٰ بن سعید القطان نے روایتیں نقل کی ہیں۔ نیز ابوالحسن بھی مجہول نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ مطرف بن طریف جیسا ثقہ آدمی اس سے نقل کرتا ہے۔ جبکہ مطرف کے متعلق یہ مشہور ہے کہ انہوں نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ نقل کیا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ١٠ ص ٨١) نوٹ: ابوداؤد کے نسخہ میں ابوالحسن کے بجائے حسن نام ہے۔

١١٠

روایت ہے جس کو ام سلمہؓ سے ہم پہلے نقل کر يقول المهدي من ولد فاطمة ...... الخ اس روایت میں ابن خلدون صرف اسی روایت کے ساتھ پہچانے جاتے علی بن نفیل کی تضعیف کی ہے۔ لیکن یہ جرح بن نفیل ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ حافظ ابن بن نفیل کی تعریف کیا کرتا تھا اور لکھا ہے کہ الثقات (تهذيب التهذيب ج ٥ ص ٢٩٩ ابن حبان نے ان کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا حافظ ابن حجر نے اگرچہ عقیلی متابع موجود نہیں ہے۔ لیکن پھر خود اس کی غير هذا الوجه (تهذيب التهذيب احادیث کے علاوہ بھی جید اور مضبوط حافظ کے اس قول سے عقیلی جیسے کہ ابن خلدون اور اختر صاحب نے والله الموفق!

اور حافظ ابن حجر تقریب الجزري لا باس به (ج ١ ص میزان الاعتدال میں ابوحاتم کا یہ قول اور کتاب الجرح والتعدیل کیا ہے جس کو تہذیب کے حوالے سے به “ کا قول بھی نقل کیا ہے۔ (ملاحظہ

حوالے سے حضرت سلمہؓ سے پہلے ہم نقل کر اختلاف عند موت خليفة فيخ ناس من اهل مكة فيخرجونه و

صفحہ ٤١٩

روایت ہے جس کو ام سلمہؓ سے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں: ”سمعت رسول الله ﷺ یقول المهدی من ولد فاطمه...... الخ (وكذا فى المستدرك الحاكم مقدمه ص٣١٤)“

اس روایت میں ابن خلدون اور اختر صاحب نے علی بن نفیل پر جرح کی ہے اور وہ صرف اسی روایت کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ نیز ابن خلدون نے لکھا ہے کہ ابو جعفر عقیلی نے علی بن نفیل کی تضعیف کی ہے۔ لیکن یہ جرح بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ محدثین کے نزدیک علی بن نفیل ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ حافظ ابن حجر تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ ابو الملیح الرقی علی بن نفیل کی تعریف کیا کرتا تھا اور لکھا ہے کہ ”قال ابو حاتم لا باس به وذکره ابن حبان في الثقات (تهذیب التهذیب ج٥ ص٧٤٩)“ ابو حاتم نے لکھا ہے کہ علی میں کوئی خرابی نہیں ہے اور ابن حبان نے ان کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن حجر نے اگرچہ عقیلی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ احادیث مہدی میں اس کا کوئی متابع موجود نہیں ہے۔ لیکن پھر خود اس کی تردید کی ہے کہ: ”وفى المهدى احاديث جياد من غير هذا الوجه (تهذیب التهذیب ج٥ ص٧٤٩)“ کہ ظہور مہدی کے بارے میں ان کی احادیث کے علاوہ بھی جید اور مضبوط احادیث مروی ہیں۔

حافظ کے اس قول سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہدی کی سب احادیث ضعیف نہیں ہیں۔ جیسے کہ ابن خلدون اور اختر صاحب کی رائے ہے۔ بلکہ جید اور قابل اعتماد احادیث بھی مروی ہیں۔

والله الموفق!

اور حافظ ابن حجر تقریب میں ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”على بن نفيل النهدی الجزری لا باس به (ج١ ص٤٢٠)“ یعنی علی بن نفیل میں کوئی خرابی نہیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ابو حاتم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”لا باس به (ج٥ ص٧٤٩)“

اور کتاب الجرح والتعدیل میں بھی ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ ابو الملیح کا قول نقل کیا ہے جس کو تہذیب کے حوالے سے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ نیز اپنے والد ابو حاتم سے ”لا باس به“ کا قول بھی نقل کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو ص٢٠٦ ج٦)

حوالے سے حضرت ام سلمہؓ سے پہلے ہم نقل کر چکے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں: ”عن ام سلمة قال یكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هاربا الى مكه فياتيه ناس من اهل مكة فيخرجونه وهو كاره فبايعونه بين الركن والمقام...... الخ

١١١

صفحہ ٤٢٠

(مقدمه ص ٣١٤) ”اس حدیث پر ابن خلدون کو تو دو اعتراض ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس روایت میں مہدی کے نام کی صراحت نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ قتادہ نے اس کو عن کے ساتھ نقل کیا ہے اور مدلس جس روایت کو ”عن“ کے ساتھ نقل کرے وہ قابل قبول نہیں ہوتی۔ (مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٤)

لیکن یہ دونوں اعتراض صحیح نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اگرچہ حدیث میں مہدی کے نام کی صراحت نہیں لیکن صفات سب وہی مذکور ہیں جو دوسری احادیث میں مہدی کے نام کی صراحت کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں۔ نیز محدثین کا اس حدیث کو مہدی کے باب میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد حضرت مہدی ہی ہیں۔ چنانچہ خود ابن خلدون لکھتے ہیں: ”نعم ذكره ابوداؤد فی ابوابه (مقدمه ص ٣١٤)“ یعنی ہاں یہ تسلیم شدہ ہے کہ ابو داؤد نے اس کو مہدی کے ابواب میں ذکر کیا ہے۔

جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لئے قتادہ کی ملاقات اور سماع ابوالخلیل سے ثابت ہے۔

حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اس کے اساتذہ میں صالح ابی الخلیل کا نام لکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص ٣٥١ ج ٨)

نیز محدثین نے ان لوگوں کے نام الگ ذکر کئے ہیں کہ جن سے قتادہ نقل کرتے ہیں اور سماع ثابت نہیں ہے۔ ان میں صالح ابی الخلیل کا نام نہیں ہے۔ بلکہ صالح ابی الخلیل کا نام ان لوگوں میں لکھا ہے جن سے قتادہ بلاواسطہ روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب ص ٣٥١ تا ٣٥٢ ج ٨) اور پھر جہاں تہذیب التہذیب میں صالح کا ذکر ہے تو اس کے شاگردوں میں قتادہ کا نام لکھا ہے کہ ”وعند عطاء بن ابی رباح وقتادة عثمان البتی ...... الخ (ص ٤٠٢ ج ٩)“

ان عبارتوں سے ثابت ہوا کہ قتادہ نے اس روایت میں تدلیس نہیں کی لہذا تدلیس کا اعتراض غلط ہے۔ صالح ابی الخلیل کے بارے میں اختر صاحب نے ایک دلچسپ اعتراض کیا ہے کہ یہ اپنے ساتھی کا نام لئے بغیر روایت کر رہے ہیں۔ اگر وہ اپنے ساتھی کا نام بھول گئے ہیں تو حدیث کے الفاظ کیسے یاد رہ گئے ہوں گے؟ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اختر صاحب نے ابوداؤد کی طرف رجوع نہیں فرمایا۔ کیونکہ یہ حدیث ابوداؤد میں تین سندوں کے ساتھ منقول ہے اور آخری سند میں صالح ابی الخلیل اس روایت کو عبداللہ بن الحارث کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ جس میں نام کی صراحت ہوگئی۔ ابن خلدون لکھتے ہیں: ”ثم رواه ابوداؤد من رواية ابی الخليل عن عبدالله بن الحارث عن ام سلمة فتبين بذالك المبهم فی الاسناد الاول

١١٤

(مقدمه ابن خلدون ص ٣١٤)

جس میں مبہم روایت کی وضاحت ہو

معلوم ہوتا ہے کہ اختر صا

کر دھوکہ دینے کے لئے یہ مہمل بات

ہیں۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ: ”وب

(مقدمه ص ٣١٤)“ اور عون المع

ہے۔ (ملاحظہ ہو ص ١٧٦ ج ٤) اور صا

کے اعتراض کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ:

هو اعرف بهذه القاعدة

وابن القيم ولم يتكلموا ع

قتادة من ابی الخليل لهذا الـ

یعنی اس میں کوئی شک ن

کہ مدلس کا عنعنہ قبول نہیں۔ ابن خلـ

پھر علامہ منذری نے اور ابن قیم نے

کے نزدیک اس حدیث میں قتادہ کـ

سکوت کیا۔ ورنہ یہ حضرات ہرگز سکو

ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ قتادہ کا لقا اور سـ

٨...... روایت نمبر ٨ میں بھی و

لئے یہ روایت بھی اسی سند کے ساتھ

٩...... روایت نمبر ٩ جس پر ابن

جو ابو داؤد اور مستدرک حاکم کے حوا

سعيد الخدرى قال قال رسو

يملأ الارض قسطا وعدلا كم

اس روایت میں ابن خـ

خارجی تھے۔ چنانچہ ابن خلدون نقل کـ

صاحب نے بھی یزید بن زریع کے حـ

صفحہ ٤٢١

(مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٤) کہ ابوداؤد نے پھر اس حدیث کو دوسری سند سے نقل کیا ہے جس میں مبہم روایت کی وضاحت ہوگئی ہے کہ وہ عبداللہ بن الحارث ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اختر صاحب کی اپنے ماخذ پر بھی پوری نظر نہیں یا انہوں نے جان بوجھ کر دھوکہ دینے کے لئے یہ مہمل بات لکھ دی۔ اس روایت کے راوی صحیحین (بخاری ومسلم) کے ہیں۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ: ”ورجاله رجال الصحيحين لا مطعن فيه ولا مغمز (مقدمہ ص٣١٤)“ اور عون المعبود شرح ابوداؤد میں بھی رواۃ کی پوری تفصیل کے ساتھ یہی لکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو ص ١٧٦ ج ٤) اور صاحب عون المعبود نے قتادہ پر تدلیس کے الزام میں ابن خلدون کے اعتراض کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ: ”فلاشك ان أبوداؤد يعلم تدليس قتادة بل هو اعرف بهذه القاعدة من ابن خلدون ومع ذالك سكت عنه ثم المنذری وابن القيم ولم يتكلموا على هذا الحديث فعلم ان عندهم علما ثبوت سماع قتادة من ابی الخلیل لهذا الحديث (ص١٧٦ ج ٤)“

یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوداؤد کو قتادہ کی تدلیس کا بھی علم تھا اور وہ اس قاعدہ پر کہ مدلس کا عنعنہ قبول نہیں۔ ابن خلدون سے بھی زیادہ عالم تھے۔ لیکن باوجود اس کے ابوداؤد نے پھر علامہ منذری نے اور ابن قیم نے اس حدیث پر سکوت کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک اس حدیث میں قتادہ کا سماع ابی الخلیل سے ثابت ہے۔ اس لئے ان حضرات نے سکوت کیا۔ ورنہ یہ حضرات ہرگز سکوت نہ کرتے۔ نیز تہذیب التہذیب کے حوالہ سے آپ پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ قتادہ کا لقا اور سماع ابی الخلیل سے ثابت ہے۔

لئے یہ روایت بھی اسی سند کے ساتھ حضرت ام سلمہؓ سے منقول ہے۔

جو ابوداؤد اور مستدرک حاکم کے حوالے سے پہلے باب میں گزر چکی ہے۔ الفاظ یہ ہیں: ”عن ابی سعيد الخدرى قال قال رسول الله ﷺ المهدى منى أجلى الجبهة اقنى الانف يملا الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجوراً..... الخ (مقدمہ ص٣١٥)“

اس روایت میں ابن خلدون اور اختر صاحب کو عمران القطان پر اعتراض ہے کہ یہ خارجی تھے۔ چنانچہ ابن خلدون نقل کرتے ہیں کہ ”کان حروریا (مقدمہ ص ٣١٥)“ اور اختر صاحب نے بھی یزید بن زریع کے حوالے سے ان کا خارجی ہونا نقل کیا ہے۔

١١٣

صفحہ ٤٢٤

یہ صحیح ہے کہ بعض محدثین نے ان کو خارجی کہا ہے۔ لیکن باوجود اس کے ان کی توثیق بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی روایات قبول ہیں۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ امام احمدؒ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ”ارجو ان یکون صالح الحدیث (میزان الاعتدال ص ٢٣٦ ، ج٣)“ اور آخر میں لکھتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ ”کان عمران القطان یری رای الخوارج ولم یکن داعیۃ (ص٢٣٧ ج٣)“ کہ خارجی تو تھے، لیکن داعی نہ تھے اور مبتدع جب داعی الی بدعۃ نہ ہو تو پھر اس کی روایت محدثین کے ہاں قبول ہوتی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ لسان المیزان کے مقدمہ میں مبتدعین کی روایت کے قبول اور عدم قبول کے متعلق تین قول نقل کرتے ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر مبتدع اپنے مذہب کی طرف داعی ہو تو اس کی روایت قبول نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ داعی نہ ہو اور صادق بھی ہو تو اس کی روایت قبول ہوتی ہے۔

اسی بحث میں انہوں نے یزید بن ہارون کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ”یکتب عن کل صاحب بدعۃ اذالم یکن داعیۃ (ص١٠ ج١)“ اور پھر اسی تیسرے قول کے متعلق لکھتے ہیں: ”وامام التفصیل فہو الذی علیہ اکثر اھل الحدیث بل نقل فیہ ابن حبان اجماعہم (لسان المیزان ص١٠ ج١)“ کہ اس تفصیل والے قول کو اکثر محدثین نے اختیار کیا ہے۔ بلکہ ابن حبان نے اس پر محدثین کا اجماع نقل کیا ہے اور پھر آگے لکھتے ہیں کہ ”وینبغی ان یقید قولنا بقبول روایۃ المبتدع اذاکان صدوقا ولم یکن داعیۃ بشرط ان لایکون الحدیث الذی یحدث بہ مما یعضد بدعتہ ویشیدہا....... الخ (ص١١ ج١)“

یعنی محدثین کا یہ قاعدہ کہ مبتدع جب صادق ہو اور داعی نہ ہو تو اس کی روایت قبول ہوتی ہے۔ اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ وہ روایت ایسی نہ ہو جس سے اس کی بدعت کی تائید ہوتی ہو۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور ابن حجرؒ و سیوطیؒ کے اقوال نقل کئے ہیں کہ غیر داعی مبتدع جب صادق ہو تو اس کی روایت قبول ہوتی ہے۔ (مقدمہ فتح الملہم ص٦٥، ٦٦ ج١)

علامہ نوویؒ تقریب میں لکھتے ہیں کہ: ”وقیل یحتج بہ ان لم یکن داعیۃ الی بدعتہ ولایحتج بہ ان کان داعیۃ وہذا ہو الاظہر الاعدل وقول الکثیر والا کثر (ص٣٢٥ ج١)“ غیر داعی کی روایت سے دلیل پکڑی جاسکتی ہے اور داعی کی روایت سے نہیں اور یہی قول اعدل اور ظاہر اور اکثر محدثین کا ہے۔

١١٤

اس تفصیل سے معلوم ہوتا روایت قبول کی جاتی ہے۔

اب اس قانون کے تحت کہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب تھا۔ جیسے کہ ذہبیؒ نے میزان میں ذ میں یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا کسی عقیدے کی تائید بھی نہیں

یہ تفصیل اس سلسل قول ہے۔ لیکن محدثین خارجی سمجھ رہے ہیں۔ جب حافظ ابن حجرؒ تہذیب التہذیب میں ی عمران خارجی تھے۔ لکھتے ہیں ”قل (ص١٣١ ج٨)“ کہ ان کو خارجی کہنا حافظ نے غلط فہمی کا منشاء واضح کیا عمران نے ان کے حق میں فتویٰ دیا تھ ”کان یری السیف علی اھل جانتے تھے۔ حالانکہ ابراہیم کے خروج چنانچہ حافظ لکھتے ہیں کہ ص١٣٢ ج٨)“ کہ ابراہیم اور اس اہل بیت میں سے تھے۔

بہر حال اگر خارجی بھی تو سب سے زیادہ سچے تھے۔ کیونکہ و فی اھل الاھواء اصح حدیث

صفحہ ٤٢٣

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مبتدع کے اندر جب تین صفات موجود ہوں تو اس کی روایت قبول کی جاتی ہے۔

اب اس قانون کے تحت جب ہم عمران القطان کو دیکھتے ہیں تو وہ صادق بھی ہے جیسے کہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ: ”صدوق (ص٢٦٧)“ اور داعی بھی نہیں تھا۔ جیسے کہ ذہبیؒ نے میزان میں (ص٢٣٧ ج٣) اور ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب (ص١٣٢ ج٨) میں یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا ہے ”ولم یکن داعیۃ“ اور ظہور مہدی کی روایت سے خوارج کے کسی عقیدے کی تائید بھی نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا عمران القطان کی یہ روایت قابل قبول ہونی چاہئے۔

یہ تفصیل اس صورت میں تھی کہ جب عمران کو خارجی تسلیم کیا جائے جیسے کہ بعض محدثین کا قول ہے۔ لیکن محدثین کہتے ہیں کہ یہ خارجی نہیں تھے۔ ان کے ایک فتویٰ کی وجہ سے لوگ انہیں خارجی سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ اس فتویٰ کا معروف خارجی عقیدے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ تہذیب التہذیب میں یزید بن زریع کے اس قول کے بعد کہ ”کان حروریا“ یعنی عمران خارجی تھے۔ لکھتے ہیں ”قلت فی قولہ حروریا نظر ولعلہ شبھۃ بھم (ص١٣١ ج٨)“ کہ ان کو خارجی کہنا محل نظر ہے۔ شاید کچھ محدثین کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس کے بعد حافظ نے غلط فہمی کا منشاء واضح کیا ہے کہ جب ابراہیم اور محمد نے منصور کے خلاف خروج کیا تھا تو عمران نے ان کے حق میں فتویٰ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے محدثین کو غلط فہمی ہوئی اور محدثین نے لکھا کہ ”کان یری السیف علی اھل القبلۃ (تہذیب ص١٣١ ج٨)“ یعنی اہل قبلہ کے قتل کو جائز جانتے تھے۔ حالانکہ ابراہیم کے خروج کا معروف خوارج کے ٹولے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

چنانچہ حافظ لکھتے ہیں کہ: ”لیس ھؤلاء من الحروریۃ فی شیء (تہذیب ص١٣٢ ج٨)“ کہ ابراہیم اور اس کے ساتھیوں کا خوارج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو اہل بیت میں سے تھے۔

بہر حال اگر خارجی بھی تھے تو صرف خارجی ہونا وجہ جرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ خوارج تو سب سے زیادہ سچے تھے۔ کیونکہ وہ کذب کو کفر سمجھتے تھے۔ اس لئے محدثین کا قول ہے کہ ”لیس فی اھل الاھواء اصح حدیثا من الخوارج (میزان ص٢٣٦ ج٢)“ کہ اہل بدع میں

١١٥

صفحہ ٤٤٤

خوارج سے زیادہ صحیح حدیث والے کوئی نہیں تھے۔ امام بخاریؒ، ساجیؒ، عقیلی، ابن شاہین وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے۔ (تہذیب التہذیب ص ١٣٢ ج ٨)

حاکم اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدریؓ سے نقل کی ہے: ”عن ابی سعید الخدری قال خشينا ان يكون بعض شىء حدث فسالنا نبى الله ﷺ فقال ان فى امتى المهدى يخرج ويعيش خمسا او سبعا او تسعا ..... الخ (مقدمه ٣١٥)“

اس روایت میں ان حضرات نے زید العمی پر جرح کی ہے۔ زید العمی کو اگرچہ بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن کچھ محدثین نے توثیق کی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے عبداللہ بن احمد سے ان کے والد امام احمدؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ”صالح وهو فوق يزيد الرقاشي (تہذيب التہذيب ص ٤٠٨ ج ٢)“ کہ یزید رقاشی سے اونچے درجے کے ہیں اور صالح ہیں۔

یحییٰ بن معین کا بھی ایک قول توثیق کا ہے۔ (تہذیب ص ٤٠٨ ج ٢، میزان الاعتدال ص ١٠٢ ج ٢)

ابوداؤد سے ان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ: ”ما سمعت الا خيرا“ یعنی میں نے ان کے بارے میں اچھا ہی سنا ہے۔ (تہذیب ص ٤٠٨ ج ٢) دارقطنیؒ نے بھی صالح کہا ہے۔ (ص ٤٠٨ ج ٢ تہذیب و کذا قال ابوبکر البزار صالح تہذیب ص ٤٠٨ ج ٢)

ان اقوال سے معلوم ہوا کہ زید العمی متفق علیہ ضعیف نہیں اور نہ بالکل بے حقیقت ہیں۔ جیسا کہ اختر صاحب کا ارشاد ہے۔ بلکہ کئی محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔

نیز یہ کہ ابو سعید خدریؓ کی یہ روایت صرف زید العمی کی سند سے نہیں۔ بلکہ یہ حدیث تو متعدد سندوں سے منقول ہے۔ جیسے کہ خود ابن خلدون نے لکھا ہے کہ اس روایت کو حاکم نے بھی کئی سندوں سے ابوسعید خدریؓ سے نقل کیا ہے۔ حاکم کی ایک روایت میں ابوالصدیق ناجی سے نقل کرنے والے سلیمان بن عبید ہیں جن کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ دوسری سند میں ابوالصدیق ناجی سے نقل کرنے والے مطر الوراق اور ابوہارون العبدی ہیں۔ تیسری سند میں ابوالصدیق سے نقل کرنے والے عوف الاعرابی ہیں۔

طبرانی نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ طبرانی کی سند میں ابوالصدیق الناجی سے نقل کرنے والے ابوالواصل عبدالحمید بن واصل ہیں۔ جن کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٦)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس روایت کی نقل میں زید العمی ابوالصدیق الناجی سے

١١٦

متفرد نہیں ہیں۔ بلکہ مستدرک حاکم میں ال العبدی، عوف الاعرابی اور طبرانی میں عبدالحمید اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہ پڑتا ہے۔ اس لئے کہ روایت کرنے میں و در حقیقت مسلم کی اس روایت کی شرح ہے ج سے نقل کر چکے ہیں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: يحثو المال حثوا“ اور دوسری روایت يقسم المال ولا يعده (ملاحظه هو م جریری نے جب اس روایت ک اس سے مراد عمر بن عبدالعزیز ہیں تو انہوں بن عبداللہ سے بھی مروی ہے۔ جب مسلم ا دونوں روایتیں ایک ہیں۔ البتہ سنن اور مست ہے۔ تو معلوم ہوا کہ نفس روایت ثابت ہے اگرچہ ابن خلدون نے اس کا ہیں۔ لکھتے ہیں: ”واحاديث مسلم ل انه المراد منها (مقدمه ص ٣١٦)“ دلیل اس پر قائم ہے کہ مہدی ہی ان احادی بات کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ ابوداؤد ہیں۔ چنانچہ علامہ ابی مالکی اکمال اکمال المعلم ”قيل ان هذا الخليفة هو ج تلك الصفات ونكر الترمذى وابو بالمهدى وفى الترمذى لاتقوم السا يواطى اسمه اسمى وقال حديث وعدلا كما ملئت جورا ومن ج بعدنبينا حدث فسالنا فقال يخ وتسعا زيد الشاك قال قلنا وماذال

صفحہ ٤٢٥

متفرد نہیں ہیں۔ بلکہ مستدرک حاکم میں ان کے متابع سلیمان بن عبید مطر الوراق، ابوہارون العبدی، عوف الاعرابی اور طبرانی میں عبدالحمید بن واصل موجود ہیں۔

اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ زید العمی کی تضعیف سے روایت پر کچھ اثر نہیں پڑتا ہے۔ اس لئے کہ روایت کرنے میں وہ متفرد نہیں ہیں۔ نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ روایت درحقیقت مسلم کی اس روایت کی شرح ہے جو باب اول میں ہم مسلم کے حوالے سے ابو سعید خدریؓ سے نقل کر چکے ہیں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”عن ابی سعید قال من خلفائكم خليفة يحثو المال حثوا“ اور دوسری روایت میں ہے کہ : ”يكون في اخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده (ملاحظه هو مسلم كتاب الفتن ص ٣٠٥ ج ٦)“

جریری نے جب اس روایت کے بیان کے بعد ابونضرہ اور ابوالعلاء سے پوچھا کہ کیا اس سے مراد عمر بن عبدالعزیز ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں اور یہی روایت مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے بھی مروی ہے۔ جب مسلم اور سنن کی روایتوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں روایتیں ایک ہیں۔ البتہ سنن اور مستدرک کی روایتیں تفصیلی ہیں اور مسلم کی روایت اجمالی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ نفس روایت ثابت ہے۔

اگرچہ ابن خلدون نے اس کا انکار کیا ہے کہ یہ حدیثیں مسلم والی حدیث کی تفسیر نہیں ہیں۔ لکھتے ہیں: ”واحاديث مسلم لم يقع فيها ذكر المهدى ولا دليل يقول على انه المراد منها (مقدمه ص ٣١٦)“ کہ مسلم کی احادیث میں مہدی کا ذکر نہیں ہے اور نہ کوئی دلیل اس پر قائم ہے کہ مہدی ہی ان احادیث سے مراد ہیں۔ لیکن محدثین نے ابن خلدون کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ ابوداؤد، ترمذی والی احادیث مسلم کی ان مجمل احادیث کی تفسیر ہیں۔ چنانچہ علامہ ابی مالکی اکمال اکمال المعلم شرح مسلم میں لکھتے ہیں:

”قيل ان هذا الخليفة هو عمر بن عبدالعزيز ولا يصح اذليست فيه تلك الصفات وذكر الترمذى وابوداؤد (وكذا الحاكم) هذا الخليفة وسمياه بالمهدى وفى الترمذى لاتقوم الساعة حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى وقال حديث حسن وزاد ابوداؤد يملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت جورا ومن حديث ابى سعيد وقال خشينا ان يكون بعدنبينا حدث فسالنا فقال يخرج من امتى المهدى يعيش خمسا او سبعا وتسعا زيد الشاك قال قلنا وماذاك يارسول الله ﷺ قال سنين قال يجيئ

١١٧

صفحہ ٤٢٦

اليه الرجل فيقول يامهدى اعطنى قال فيحثى له فى ثوبه ما استطاع ان يحمله قال حديث حسن وفى ابى داؤد المهدى من امتى اجلى الجبهة اقنى الانف يملأ الارض قسطا وعدلا كما ملئت جورا يملك سبع سنين فهذه اخبار صحيحة مشهورة تدل على خروج هذا الخليفة الصالح فى أخر الزمان وهو منتظر اذ لم يوجد من كملت فيه تلك الصفات التى تضمنها تلك الحديث قلت وقال ابن العربى ولا خلاف انه سيكون وليس المهدى المتقدم (ص ٢٥٣ ج٧ اكمال اكمال المعلم شرح صحيح مسلم) “

یعنی کہا گیا کہ ان احادیث میں (یعنی مسلم والی احادیث میں) جو خلیفہ مذکور ہے یہ عمر بن عبدالعزیز ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ صفات حضرت عمر بن عبدالعزیز میں موجود نہیں تھیں۔ ترمذی، ابوداؤد نے اس خلیفہ کا ذکر مہدی کے نام سے کیا ہے۔ چنانچہ ترمذی میں منقول ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری اہل بیت میں سے ایک آدمی عرب کا بادشاہ نہ بن جائے۔ اس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ اس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے اور ابوداؤد میں اس روایت کے ساتھ یہ الفاظ بھی زائد ہیں کہ وہ خلیفہ زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی اور ابوسعید خدری کی روایت میں ہے کہ ہم ڈر گئے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی واقعہ پیش نہ آئے تو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے مہدی نکلیں گے۔ وہ پانچ یا سات یا نو سال رہیں گے۔ اس حدیث کے راوی زید کو شک ہوا کہ کون سا عدد ذکر کیا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سال مراد ہیں۔ پھر فرمایا کہ مہدی کے پاس آدمی آئے گا، کہے گا کہ اے مہدی! مجھے مال دے دے۔ تو ہاتھ بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا دیں گے جتنا وہ اٹھا سکے گا۔ ابوداؤد نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور ابوداؤد میں ہے کہ مہدی میری امت میں سے ہوگا۔ کھلی پیشانی والا اور اونچی ناک والا۔ زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ سات سال تک بادشاہ رہے گا۔ یہ سب احادیث صحیح اور مشہور ہیں۔ جو دلالت کرتی ہیں کہ اس صالح خلیفہ کا ظہور آخر زمانے میں ہوگا۔ اس لئے کہ اب تک کوئی ایسا آدمی نہیں آیا جس میں ان احادیث میں مذکور صفات مکمل طور پر موجود ہوئی ہوں۔ ابن عربی نے کہا کہ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ مہدی آئندہ آئے گا اور پہلے مہدی کے نام سے جو خلیفہ گزرا ہے وہ مراد نہیں ہے۔ اسی قسم کی عبارت ان الفاظ کے ساتھ مسلم کی دوسری شرح مکمل اکمال الاکمال للسنوسی میں ہے۔ ملاحظہ ہو (ص ٢٥٣ ج ٨)

١١٨

شارحین مسلم کی ان عبارتوں

تفصیل ہیں۔

صراحت نہیں ہے۔

مشہور ہیں۔ واللہ الموفق! اس پوری تفصیل سے یہ با کی سند میں زید العمی تھے۔ بے حقیقت رائے ہے۔ اس روایت میں اور آگے بھی جرح کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان کی عمرو المعافری ہے۔ لیکن اختر صاحب کی یہ دو ہیں جیسے کہ اختر صاحب کا ارشاد ہے بن قیس نام ذکر کیا ہے۔ یہ الگ ہیں دونوں الگ الگ مذکور ہیں۔ اختر صا نہ آتا۔ حافظ ابن حجر تقریب التہذیب الدال المكسورة هو بكر بن عم والجيم بصرى ثقة (ص ٤٧) “ تقریب میں حافظ نے ملاحظہ ہو۔ مذکور ۔ معافری مصری راوی ہیں۔ حافظ نے ان کے نام پر ابن حجر نے دونوں کو الگ الگ ذکر کی ابو الصدیق کے بارے

صفحہ ٤٢٧

شارحین مسلم کی ان عبارتوں سے کئی باتیں معلوم ہوئیں:

تفصیل ہیں۔

صراحت نہیں ہے۔

مشہور ہیں۔ واللہ الموفق!

اس پوری تفصیل سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ ابوداؤد کی روایت جس کی سند میں زید اعمی تھے۔ بے حقیقت اور ساقط نہیں ہے۔ جیسا کہ ابن خلدون اور اختر صاحب کی رائے ہے۔

اس روایت میں اور آنے والی کچھ روایتوں میں اختر صاحب نے ابوالصدیق الناجی پر بھی جرح کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان کی روایت کو آئمہ حدیث نے رد کیا ہے۔ ان کا پورا نام ابوبکر بن عمر والمغافری ہے۔

لیکن اختر صاحب کی یہ دونوں باتیں صحیح نہیں ہیں۔ نہ تو ابوالصدیق بکر بن عمرو معافری ہیں جیسے کہ اختر صاحب کا ارشاد ہے۔ بلکہ ان کا نام بکر بن عمرو الناجی ہے اور بعض محدثین نے بکر بن قیس نام ذکر کیا ہے۔ یہ الگ ہیں اور بکر بن عمرو معافری الگ ہیں۔ اسماء رجال کی کتابوں میں دونوں الگ الگ مذکور ہیں۔ اختر صاحب نے محنت کی زحمت گوارہ نہیں فرمائی ورنہ یہ مغالطہ پیش نہ آتا۔ حافظ ابن حجر تقریب التہذیب کے باب الکنیٰ میں لکھتے ہیں کہ: ”ابوالصدیق بتشدید الدال المكسورة هو بكر بن عمرو وقيل ابن قيس ابو الصديق الناجي بالنون والجيم بصری ثقة (ص ٤٧)“

تقریب میں حافظ نے ان کے نام سے پہلے بکر بن عمرو معافری کا ذکر الگ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ص مذکور ۔ معافری مصری ہے اور ابوالصدیق بصری ہے۔ نیز ابوالصدیق صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ حافظ نے ان کے نام پر ”ع“ کی علامت بنائی ہے۔ تہذیب التہذیب میں بھی حافظ ابن حجر نے دونوں کو الگ الگ ذکر کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص ٣٨٥، ٣٨٦ ج١)

ابوالصدیق کے بارے میں تہذیب میں لکھا ہے کہ: ”قال ابن معین و ابوذرعه

١١٩

صفحہ ٤٢٨

والنسائى ثقة وذكره ابن حبان فى الثقات (ص٤٨٦ج١) ”یعنی ابن معین ابوذرعہ اور نسائی نے ثقہ کہا ہے اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح کتاب الجرح والتعدیل میں ابن ابی حاتم نے دونوں کو الگ الگ ذکر کیا ہے اور ابوالصدیق کے بارے میں یحییٰ بن معین اور ابوذرعہ سے توثیق کے اقوال نقل کئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ص٣٩٠ج٢)

اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ بکر بن عمرو معافری الگ آدمی ہے۔ جن پر بعض محدثین نے جرح کی ہے اور بکر بن عمرو ناجی الگ آدمی ہے جو متفق علیہ ثقہ ہیں۔ کسی نے بھی ان پر جرح نہیں کی ہے۔

مستدرک حاکم کی روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”عن ابي سعيد الخدريّ قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى تملا الارض جورا وظلما وعدوانا ثم يخرج من اهل بيتي رجل يملأها قسطا وعدلا....... الخ“ اس روایت پر ابن خلدون نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو مقدمہ ص٣١٦)

لیکن اختر صاحب نے اس روایت میں ابوالصدیق الناجی پر کلام کیا ہے۔ جس کا جواب اس سے ماقبل والی حدیث کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ حاکم نے اس روایت کو علی شرط الصحیحین کہا ہے۔ وكذا الذهبی!

روایت ہے۔ الفاظ یہ ہیں: ”عن ابي سعيد الخدريّ عن رسول الله ﷺ قال يخرج فى آخر امتی المهدی....... الخ“ اس روایت کو حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے کہ اس کے سب راوی صحیحین کے ہیں۔ سوائے سلیمان بن عبید کے وہ بھی ثقہ ہیں۔ ابن حبان نے ثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون ص٣١٦)

خدریؓ کی روایت ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ”عن ابي سعيد الخدريّ ان رسول الله ﷺ قال تملا الارض جورا وظلما فيخرج رجل من عترتي فيملك سبعا او تسعا....... الخ“ اس روایت میں ابو ہارون عبدی پر بھی کلام کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو مقدمہ ص٣١٦) لیکن

١٢٠

صفحہ ٤٢٩

ہارون عبدی کی تضعیف کی وجہ سے روایت پر ضعف کا حکم صحیح ہے۔ اس لئے کہ ابوہارون عبدی کے ساتھ اس روایت کو ابو الصدیق الناجی سے مطر الوراق بھی نقل کرتے ہیں۔ جو ثقہ ہے۔ حافظ ابن حجرؒ تقریب میں ان کے متعلق لکھتے ہیں ”صدوق (ص ٣٣٨)“ نیز مسلم کے راوی بھی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ ”مطر من رجال مسلم حسن الحدیث (میزان الاعتدال ص١٢٧ج٤)“ کہ مطر الوراق مسلم کے راوی ہیں اور اچھے حدیث والے ہیں۔ یہ روایت مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ ابوحاتم نے ان کو صالح الحدیث اور ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔ بخاری میں بھی تعلیقاً ان کی روایت ہے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص١٦٨ج١٠) خلیفہ نے کہا کہ ”لا باس به“ عجلی نے کہا کہ ”بصری صدوق وقال مرة لا باس به وقال ابوبكر البزار ليس به باس“ نیز بزار کا قول ہے کہ ”لا نعلم احد ترك حديثه وقال الساجي صدوق (تہذیب التہذیب ص١٦٨، ١٦٩ج١٠)“ یحییٰ بن معین، ابوزرعہ، ابوحاتم سب نے صالح کہا ہے۔

(کتاب الجرح والتعدیل ص٢٨٨ج٨)

اسی روایت میں ابن خلدون نے اسد بن موسیٰ پر بھی جرح کی ہے۔ حالانکہ وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور قوی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے ”صدوق (تقریب ص٣١)“ بخاری، ابوداؤد، سنن نسائی کے راوی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ: ”قال النسائى ثقة وقال البخارى هو مشهور الحديث وقد استشهد به البخارى فاحتج به النسائى وابوداؤد وماعلمت به بأسا (میزان ص٢٠٧ج١)“ ابن حزم نے اس کی تضعیف کی ہے۔ جس کے متعلق علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے: ”وهذا تضعیف مردود (میزان ص٢٠٧ج١)“ کہ ابن حزم کی تضعیف مردود ہے اور اسد بن موسیٰ ثقہ ہیں۔ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں بخاری، نسائی، ابن یونس، ابن قانع، عجلی، بزار، ابن حبان وغیرہ سے ان کی توثیق نقل کی ہے۔ (ملاحظہ ہو ص٢٦٠ج١) اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ ابو ہارون العبدی کی وجہ سے یہ روایت ضعیف نہیں ہے۔

خدریؓ نے روایت کی ہے۔ جسے امام طبرانی نے معجم الاوسط میں نقل کیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں: ”عن ابی سعيد الخدرى قال سمعت رسول الله ﷺ يخرج رجل من امتى يقول بسنتى ينزل الله عزوجل له القطر من السماء وتخرج الارض بركتها وتملأ

١٢١

صفحہ ٤٤٠

الارض منه قسطا وعدلا كما ملئت جورا وظلما يعمل على هذه الامة سبع سنين وينزل على بيت المقدس“

اس روایت کی سند میں حسن بن یزید اور ابوالواصل پر کلام کیا ہے۔ لیکن ان دونوں کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون ص ٢١٧) لہٰذا یہ روایت بھی قوی ہے۔ نیز یہ کہ ماقبل والی روایتیں بھی تائید میں موجود ہیں۔ نیز حسن بن یزید کو حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں ثقہ لکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو ص ٣٢٨ ج ٢)

اس روایت پر اختر صاحب نے عقلی اعتراض بھی کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”ہم مضمون حدیث کے بارے میں ایک اور طرح بھی سوچنے پر مجبور ہیں۔ اس حدیث میں ظہور مہدی کی خوشخبری تو موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بیت المقدس مسلمانوں کے پاس نہ ہونے کی بدشگونی بھی جھانک رہی ہے۔ اب اگر اس روایت کو درست مان لیا جائے تو عالم اسلام کے تن آسان مسلمان کیوں نہ یہ کہہ کر جہاد سے جی چرائیں کہ بیت المقدس کے لئے ہماری کوشش ہی عبث ہے۔ کیونکہ یہ تو امام مہدی فتح کریں گے۔ خدا کے رسول ﷺ کا فرمان تو غلط نہیں ہو سکتا۔ ان سادہ دل مسلمانوں کو تو معلوم نہیں کہ یہ خدا کے رسول ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ نہیں۔“

لیکن اختر صاحب کی یہ بات بوجوہ صحیح نہیں:

نہیں: ”وينزل على بيت المقدس“ کا لفظ ہے۔ جس کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ وہ بیت المقدس جائیں گے۔

جائیں کہ فتح بیت المقدس کے لئے جہاد نہ کریں۔ آج کل پورا عالم اسلام ویسے ہی تن آسانی میں مبتلا ہے۔ پورے عالم اسلام میں دس فیصد مسلمان بھی نہیں ہوں گے جن کو اس حدیث کا علم ہو یا اس حدیث نے ان کو جہاد سے روکا ہے بلکہ حدیث میں جو فتح بیت المقدس کا اشارہ ہے۔ ممکن ہے اس سے مسلمانوں کی موجودہ یاس شائد آس سے بدل جائے۔ کیونکہ موجودہ دور کا مسلمان اگر چہ زبانی اقرار نہ کرے۔ لیکن عملا ہم سب یہود کو نا قابل تسخیر اور مافوق الفطرت مخلوق مانتے ہیں۔ اس لئے مقبوضہ علاقوں کے لئے حربی کوشش سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔ کبھی مذاکرات کئے جاتے ہیں اور کبھی عالمی اداروں کے دروازوں پر دہائی دیتے ہیں۔ حالانکہ ان اداروں نے ہمیشہ مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ اب تو کئی ممالک اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔

١٢٢

عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے۔ جس کے الفا بينما نحن عند رسول الله ﷺ اذا قـ الله ﷺ ذرفت عيناه وتغير لونه نكرهه فقال انا اهل البيت اختار الله

اس روایت میں ابن خلدون اور ا ملاحظہ ہو (مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٧) یزید بن ابـ اس روایت کو نا قابل اعتبار بتایا ہے۔ لیکن یہ بـ تحت اس کی پوری بحث گزر چکی ہے۔ اس قسم کـ کے حوالے سے حضرت ثوبانؓ نے نقل احمد) اور مستدرک حاکم وغیرہ کے بارے میں خو الكتب الخمسة خ م حب ك ض صحيـ المستدرك من المتعقب فانبه عليه هـ

یعنی ان پانچ کتابوں میں جو حدیـ حدیث کا منسوب ہونا اس حدیث کی صحت کی د جن پر محدثین نے تنقید کی ہے۔ اس پر تنبیہ کر ابن حبان ، مستدرک اور مختارہ ضیاء مقدسی ہیں کوئی تنبیہ نہیں کی گئی ہے۔

لہٰذا یہ روایت ان کے نزدیک صحـ مروی ہے:۔ ”حدثنا وكيع عن الاعـ الله ﷺ اذا رأيتم رايات السود قد جـ خليفة الله المهدي (ص ١٧٧ ج ٥)

تفصیل باب اول میں حدیث نمبر ٤١ کے تحـ سند کے ساتھ بھی مروی ہے ملاحظہ ہو۔

بہر حال اس تفصیل سے اتنی بات

صفحہ ٤٣١

١٥...... پندرھویں روایت جس پر ابن خلدون اور اختر صاحب نے کلام کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”عن عبداللہ بن مسعودؓ قال بینما نحن عند رسول اللّٰہﷺ اذ اقبل فتیۃ من بنی ہاشم فلما راہم رسول اللّٰہﷺ ذرفت عیناہ وتغیر لونہ قال فقلت ما نزال نری فی وجہک شیئا نکرہہ فقال انا اہل البیت اختار اللّٰہ لنا الاخرۃ علی الدنیا...... الخ“

اس روایت میں ابن خلدون اور اختر صاحب نے یزید بن ابی زیاد پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٧) یزید بن ابی زیاد پر اگرچہ بعض محدثین نے جرح کی ہے اور اس روایت کو ناقابل اعتبار بتایا ہے۔ لیکن یہ روایت ثابت ہے۔ باب اول کی حدیث نمبر ٤١ کے تحت اس کی پوری بحث گزر چکی ہے۔ اس قسم کی روایت منتخب کنزالعمال میں مسند احمد اور مستدرک کے حوالے سے حضرت ثوبانؓ نے نقل کی ہے۔ ملاحظہ ہو (ص ٢٩ج ٦ بحوالہ ہامش مسند احمد) اور مستدرک حاکم وغیرہ کے بارے میں منتخب کنزالعمال کے اول میں یہ لکھا ہے کہ: ”ما فی الکتب الخمسۃ خ م حب ک ض صحیح فالعزو الیہا معلم بالصحۃ سوی ما فی المستدرک من المتعقب فانبہ علیہ ص٩ج١ علی ہامش مسند احمد“ یعنی ان پانچ کتابوں میں جو حدیثیں ہیں۔ وہ صحیح ہیں۔ پس ان کتابوں کی طرف کسی حدیث کا منسوب ہونا اس حدیث کی صحت کی علامت ہوگی۔ ہاں مستدرک کی وہ بعض روایتیں کہ جن پر محدثین نے تنقید کی ہے۔ اس پر تنبیہ کروں گا۔ ان پانچ کتابوں سے مراد بخاری، مسلم، صحیح ابن حبان، مستدرک اور مختارہ ضیاء مقدسی ہیں۔ اب مستدرک کی اس روایت پر منتخب کنزالعمال میں کوئی تنبیہ نہیں کی گئی ہے۔

لہٰذا یہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہے۔ نیز یہ روایت مسند احمد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: ”حدثنا وکیع عن الاعمش عن سالم عن ثوبانؓ قال قال رسول اللّٰہﷺ اذا رأیتم رایات السود قد جاءت من قبل خراسان فائتوہا فان فیہا خلیفۃ اللّٰہ المہدی (ص ٢٧٧ج ٥)“ اس روایت کے رواۃ سب ثقہ ہیں اور عادل ہیں۔ تفصیل باب اول میں حدیث نمبر ٤١ کے تحت گزر چکی ہے۔ نیز مستدرک میں یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔

(مستدرک ص ٥٠٢ج ٤)

بہر حال اس تفصیل سے اتنی بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ رایات سود کی روایت بے

١٢٣

صفحہ ٤٣٢

اصل نہیں ہیں۔ نیز یزید بن ابی زیاد کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں یعقوب بن سفیان سے نقل کیا ہے: ”يزيد وانا كانوا يتكلمون فيه لتغيره فهو على العدالة الثقة (ص ٣٣١ ج ١١)“ یعنی یزید پر اگرچہ تغیر کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔ لیکن وہ عادل اور ثقہ ہیں۔

ابن شاہین نے ثقات میں شمار کیا ہے۔ احمد بن صالح مصری نے ثقہ کہا ہے اور کہا ہے کہ: ”ولا يعجبنى قول من تكلم فيه (تهذيب ص٣٣١)“ کہ یزید پر کلام کرنے والوں کا قول مجھے پسند نہیں ہے۔ ابن سعد نے کہا ہے کہ: ”كان ثقه (تهذيب ص٣٣١ج١١)“ کہ یزید ثقہ تھے۔ امام مسلم نے ان کو طبقہ ثالثہ کے راویوں میں شمار کیا ہے اور ان سے روایتیں نقل کی ہیں۔

(تہذیب ص٣٣١ ج١١)

١٦....... سولہویں روایت جس پر ابن خلدون اور اختر صاحب نے کلام کیا ہے۔ وہ حضرت علیؓ کی ابن ماجہ والی روایت ہے جس کو ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں: ”قال رسول الله ﷺ المهدى منا اهل البيت.......الخ“

اس روایت میں ابن خلدون نے یاسین العجلی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (مقدمہ ص ٣١٨) لیکن یاسین العجلی پر کسی محدث نے جرح نہیں کی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں ”لاباس به (٢٧٣)“ تہذیب التہذیب میں یحییٰ ابن معین سے منقول ہے کہ ”لاباس به“ اور اسحاق بن منصور نے ان کے متعلق یحییٰ بن معین سے نقل کیا ہے ”صالح“ ابو زرعہ سے منقول ہے کہ ”لاباس به (ص ١٧٣ ج ١١)“ اور تہذیب ہی میں ہے کہ سفیان ثوری اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھتے تھے۔ (ص ١٧٣ ج ١١)

اور یہ حدیث بھی قوی ہے۔ جن محدثین نے اس حدیث کی تضعیف کی ہے ان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس یاسین ابن شیبان العجلی کو یاسین بن معاذ زیات سمجھ کر حدیث کی تضعیف کی ہے۔ حالانکہ وہ دوسرا آدمی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں: ”ووقع سنن ابى ماجة عن ياسين غير منسوب فظنه بعض الحفاظ المتاخرين ياسين بن معاذ الزيات فضعف الحديث به فلم يصنع شيئا (ص١٧٣ج١١)“ کہ سنن ابن ماجہ کی سند میں یاسین کا نام بغیر کسی نسبت کے ذکر ہوا ہے تو بعض متاخرین حفاظ نے اس کو یاسین بن معاذ زیات سمجھ کر حدیث کو ضعیف کہا۔ لیکن یہ صحیح نہیں

١٢٤

ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے ہے۔ جو صحیح نہیں۔ یہ روایت صحیح ہے۔

١٧....... اس حدیث کے الفاظ مندرجہ ذ المهدى ام من غيرنا يارسول الله یہ حدیث امام طبرانی کی معجم او منقول ہے۔ اس میں ابن خلدون اور اخت عبداللہ بن لہیعہ ہے۔ محدثین نے ان پر کل مرویات کی کتابیں جل گئی تھیں۔ جس کی و کچھ خلط واقع ہو جاتا تھا۔ میزان الاعتدال جلی تھیں۔

بہر حال اس واقعے کے بعد محدثین نے ان پر کلام کیا ہے اور ایک دوس کچھ اثر ہوا تھا۔ چنانچہ میزان الاعتدال م ایک دفعہ جمعہ کی نماز کے بعد گدھے پر س وجہ سے ان کے دماغ پر چوٹ آئی۔ تو آ چنانچہ حافظ ابن حجر تقریب التہذیب میں الحضرمى أبو عبدالرحمن كتبه .......الخ (ص١٨٦) “ روایتوں میں خلط واقع ہوا تھا۔ یعنی فی نف ہیں۔ (تقریب التہذیب ص١٨٦) چنانچہ ب ملاحظہ ہو (میزان الاعتدال ص٤٧٦ و ص ٧ (میزان الاعتدال ص٤٨٣ ج ٦) “ ہے کہ ابن لہیعہ اگر چہ ضعیف ہیں۔ لیکن

کچھ محدثین نے کتابیں جل

صفحہ ٤٣٣

ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اس حدیث کی تضعیف کی ہے ۔ غلط فہمی کی وجہ سے کی ہے ۔ جو صحیح نہیں ۔ یہ روایت صحیح ہے ۔

المهدى ام من غيرنا يارسول الله فقال بل منا....... الخ “

یہ حدیث امام طبرانی کی معجم اوسط کے حوالے سے مقدمہ ابن خلدون میں (ص٣١٨) یہ منقول ہے۔ اس میں ابن خلدون اور اختر صاحب نے ابن لہیعہ پر جرح کی ہے۔ ابن لہیعہ کا نام عبداللہ بن لہیعہ ہے۔ محدثین نے ان پر کافی کلام کیا ہے۔ مگر ان کا واقعہ یہ ہے کہ ١٦٩ھ میں ان کی مرویات کی کتابیں جل گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے اس کے بعد یہ یاد سے روایتیں بیان کرتے تھے تو کچھ خلط واقع ہو جاتا تھا۔ میزان الاعتدال ص ٤٧٧ ج٢ اور امام بخاری نے فرمایا کہ ١٧٠ھ میں جلی تھیں۔

بہر حال اس واقعے کے بعد ان کی روایتوں میں خلط واقع ہوا تھا جس کی وجہ سے محدثین نے ان پر کلام کیا ہے اور ایک دوسرا واقعہ بھی پیش آیا تھا کہ جس کی وجہ سے ان کے دماغ پر کچھ اثر ہوا تھا۔ چنانچہ میزان الاعتدال میں علامہ ذہبیؒ نے عثمان بن صالح کا قول نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کی نماز کے بعد گدھے پر سوار ہو کر گھر جارہے تھے کہ راستے میں گر پڑے۔ جس کی وجہ سے ان کے دماغ پر چوٹ آئی۔ تو کچھ حافظہ کمزور ہو گیا۔ ورنہ فی نفسہ صادق اور ثقہ تھے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ ”عبدالله بن لهيعة ابن عقبه الحضرمي ابوعبدالرحمن المصرى القاضی صدوق خلط بعد احتراق كتبه ....... الخ (ص١٨٦) “ کہ یہ صادق اور سچے ہیں۔ البتہ کتابیں جل جانے کے بعد روایتوں میں خلط واقع ہوا تھا۔ یعنی فی نفسہ صادق ہیں اور مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (تقریب التہذیب ص ١٨٦) چنانچہ احمد بن صالح ابن وہب وغیرہ نے مطلقاً توثیق کی ہے۔ ملاحظہ ہو (میزان الاعتدال ص ٤٧٧ و ٤٧٨ ج ٢) اور خود ذہبیؒ کا قول ہے کہ ”كـــــامـــــل صــدوق (میـــزان الاعتدال ص٤٨٢ ج٦) “ معتدل بات وہی ہے جو حضرت مولانا تقی عثمانیؒ نے فرمائی ہے کہ ابن لہیعہ اگرچہ ضعیف ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کی احادیث کو استشہاداً پیش کیا جاسکتا ہے۔

(درس ترمذی ص ١٩٨ ج ١)

کچھ محدثین نے کتابیں جل جانے سے پہلے کی روایات قبول کی ہیں اور بعد والی

١٢٥

صفحہ ٤٣٤

کو ضعیف کہا ہے اور کچھ نے خاص شاگردوں کی روایات کو قبول کیا ہے۔ تفصیل اسماء رجال کی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن بہرحال محدثین اس پر متفق ہیں کہ بالکل ساقط الاعتبار نہیں ہیں۔ اسی لئے تو امام مسلم نے ان کی روایتیں استشہاداً نقل کی ہیں۔

ابن خلدون نے اس حدیث کے ایک دوسرے راوی عمرو بن جابر الحضرمی پر بھی جرح کی ہے۔ لیکن عمرو بن جابر کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ جیسا کہ ابن حاتم نے لکھا ہے کہ: ”سالت ابی عن عمرو بن جابر الحضرمي فقال عنده نحو عشرين حديثا هو صالح الحديث (كتاب الجرح والتعديل ص٢٢٧ ج٦)“ کہ میں نے اپنے والد ابو حاتم سے عمرو بن جابر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ تقریباً بیس حدیثیں نقل کرتے ہیں اور صالح الحدیث ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے بھی میزان الاعتدال میں عمرو بن جابر کے ترجمہ کے آخر میں ابو حاتم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ”صالح الحديث له نحو عشرين حديثا (ص٢٠٠ج٣)“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ ذہبی کی رائے بھی یہی ہے۔

اسی طرح حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں کئی محدثین سے ان کی توثیق نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”قلت ذكر ابن يونس انه توفى بعد العشرين ومائة وذكره البرقى فيمن ضعف بسبب التشيع وهو ثقة وذكره يعقوب بن سفيان في جملة الثقات وصحح الترمذى حديثه (ص١١ج٨)“ میں کہتا ہوں کہ (یعنی ابن حجر ) ابن یونس نے ذکر کیا ہے کہ ان کی وفات ١٢٠ھ کے بعد ہوئی ہے اور برقی نے عمرو بن جابر کو ان لوگوں میں ذکر کیا ہے کہ جو فی نفسہ تو ثقہ ہیں۔ لیکن تشیع کی وجہ سے ان کی تضعیف کی گئی ہے اور یعقوب بن سفیان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے اور ترمذی نے ان کی حدیث کی تصحیح کی ہے۔ ان اقوال سے معلوم ہوا کہ عمرو بن جابر بھی کچھ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ تضعیف تشیع کی وجہ سے کی گئی ہے اور ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ نفس تشیع وجہ ضعف نہیں ہے۔

کی روایت ہے جس کو طبرانی اور حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں کہ: ”عن علیؓ ان رسول الله ﷺ قال يكون في آخر الزمان فتنة يحصل الناس فيها كما يحصل الذهب في المعدن فلاتسبوا اهل الشام...... الخ“

اس روایت میں بھی عبداللہ ابن لہیعہ پر کلام کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو مقدمہ ص ٣١٩ ج ١)

١٢٦

لیکن یہ بھی صحیح نہیں۔ ماقبل والی حدیـ اس حدیث کی حاکم نے بھی تصحیح کی الحاكم في المستدرك وقـ خلدون ج ١ ص ٣١٩)“ یعنی حاکم کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے۔

له هيهات ثم عقد بيده سبعاً ابن خلدون ج ١ ص ٣١٩)“ یہ روایت بالکل صحیح ہے۔

”هذا حديث صحيح على شر حدیث صحیح ہے اور بخاری ومسلم کے شر تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”وانـ ج ١ ص ٣١٩)“ یعنی یہ روایت صرف صحیح ہوگی۔ جیسا کہ محدثین نے لکھا ہے البخارى ومسلم ثم ما انفر شرط البخارى ثم مسلم...... الـ یعنی صحیح حدیث کی کئی قسمیـ

اس سے معلوم ہوا کہ جـ بخاری ومسلم کا راوی ہے۔ جس کے

صفحہ ٤٣٥

لیکن یہ بھی صحیح نہیں۔ ماقبل والی حدیث کے ضمن میں اسی راوی کے متعلق بحث گزر چکی ہے۔ نیز اس حدیث کی حاکم نے بھی تصحیح کی ہے۔ جیسا کہ خود ابن خلدون نے لکھا ہے کہ: ”رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ولم یخرجاہ (مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٣١٩) “ یعنی حاکم نے مستدرک میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے۔

لہ ھیھات ثم عقد بیدہ سبعا فقال ذالک یخرج فی اخر الزمان...... الخ (مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٣١٩)“

یہ روایت بالکل صحیح ہے۔ حاکم نے تو مستدرک میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ ”ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین (مقدمہ ابن خلدون ص ٣١٩) “ یعنی یہ حدیث صحیح ہے اور بخاری و مسلم کے شرط پر پورا اترتی ہے اور خود علی شرط مسلم تو ابن خلدون نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”وانما ھو علی شرط مسلم فقط (مقدمہ ج ١ ص ٣١٩)“ یعنی یہ روایت صرف مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور جب یہ روایت علی شرط مسلم ہوگی تو صحیح ہوگی۔ جیسا کہ محدثین نے لکھا ہے کہ ”الصحیح اقسام اعلاھا ما اتفق علیہ البخاری ومسلم ثم ما انفرد بہ البخاری ثم مسلم ثم علی شرطھما ثم علی شرط البخاری ثم مسلم...... الخ (تقریب للنووی ص ٣١٣ ج ١)“

یعنی صحیح حدیث کی کئی قسمیں ہیں:

اس سے معلوم ہوا کہ جو حدیث مسلم کی شرط پر ہوگی وہ صحیح کی قسم ہے۔ اس کے راوی بخاری و مسلم کا راوی ہے۔ جس کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔ ایک راوی عماد ذھبی پر تشیع کا الزام

١٢٧

صفحہ ٤٣٦

ہے۔ لیکن امام احمد، یحییٰ بن معین، ابوحاتم، امام نسائی وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے۔ ملاحظہ ہو

(مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٣١٩)

٢٠...... بیسویں روایت جس پر ابن خلدون اور اختر صاحب نے مجروح ہونے کا حکم لگایا ہے وہ حضرت انسؓ کی روایت ہے جس پر تخریج ابن ماجہ نے کی ہے۔ الفاظ یہ ہیں کہ: ”عن انس قال سمعت رسول الله ﷺ يقول نحن ولد عبدالمطلب سادات اهل الجنة انا وحمزة وعلى وجعفر والحسن والحسين والمهدى“ اس روایت میں ابن خلدون نے عکرمہ بن عمار اور علی بن زیاد پر جرح کی ہے۔ عکرمہ بن عمار کے متعلق حافظ حجر تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ ”صدوق (ص ٢٧٦)“ یعنی سچے ہیں اور امام بخاری نے صحیح بخاری میں ان سے تعلیقاً نقل کیا ہے کہ مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے ان کی توثیق مندرجہ ذیل محدثین سے نقل کی ہے۔ یحییٰ بن معین، عثمان الدارمی، علی ابن المدینی، عجلی، ابوداؤد، امام نسائی، ابوحاتم، ساجی، علی بن محمد، طنافسی، صالح بن محمد اسحاق بن احمد، ابن خلف البخاری، سفیان ثوری، ابن خراش، دارقطنی، ابن عدی، عاصم بن علی، ابن حبان، یعقوب بن شیبہ، ابن شاہین، احمد بن صالح۔

(ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص ٢٦٢، ٢٦٣ ج ٧، میزان الاعتدال ص ٩١ ج ٣)

ان تمام محدثین کی توثیق کے مقابلے میں ابن خلدون کی جرح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

اسی طرح علی بن زید کی محدثین نے توثیق کی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے ان کو ذکر کر کے کوئی جرح نہیں کی ہے اور ابن حبان نے ان کو ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے۔

(ص ٣٢١، ٣٢٢ ج ٧)

نیز حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ عکرمہ سے اس حدیث کو عبداللہ بن سحیمی نے بھی نقل کیا ہے کہ ”وكذالك روى هذا الحديث المذكور (اى حديث المهدى) محمد بن خلف الحدادى عن سعد بن عبدالحميد وتابعه ابوبكر محمد بن صالح القناد عن محمد بن الحجاج عن عبدالله بن زياد الحسينى عن عكرمه بن عمار (ص ٣٢١ ج ٧)“

اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث کی متعدد سندیں موجود ہیں۔ لہٰذا حدیث بے اصل نہیں ہے۔ اس حدیث میں ابن خلدون نے سعد بن عبدالحمید پر بھی جرح کی ہے۔ حالانکہ یہ

١٢٨

صفحہ ٤٣٧

بھی محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب میں لکھا ہے کہ ”صدوق (ص ١١٨)“ یعنی سچے تھے اور علامہ ذہبی نے یحییٰ بن معین سے نقل کیا ہے کہ ”لا باس به (ص ١٢٦ ج ٢ میزان الاعتدال)“ یعنی ان میں کوئی خرابی نہیں تھی اور حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں یحییٰ بن معین کے علاوہ صالح جزرہ کا قول بھی ان کی توثیق میں نقل کیا ہے۔ نیز یہ ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ حالانکہ امام نسائی کے نزدیک جو راوی مجروح ہوتا ہے وہ اس سے نقل نہیں کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی قوی ہیں۔ (تہذیب التہذیب ص ٢٧٧ ج ٣)

اور خود ابن خلدون نے لکھا ہے کہ: ”وجعله الذهبي ممن لم يقدح فيه كلام من تكلم فيه (مقدمہ ابن خلدون ج ١ ص ٣٢٠)“ یعنی ذہبیؒ نے ان کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے کہ کلام کرنے والوں کے کلام سے ان کے بارے میں کوئی قدح لازم نہیں آتی ہے۔ یعنی یہ ثقہ ہیں۔ کلام کرنے والوں کے کلام کا کچھ اثر نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی صحیح ہے۔

٢١...... اکیسویں راوی ہے جس پر ابن خلدون اور ان کے مقلد اختر کاشمیری نے کلام کیا ہے وہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی مستدرک حاکم والی روایت ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”قال ابن عباس منا اهل البيت اربعة منا السفاح ومنا المنذر ومنا المهدی (الی ان قال) واما المهدی الذی یملأ الارض عدلا کما ملئت جورا......الخ“

اس روایت میں اسماعیل بن ابراہیم یعنی باپ اور بیٹے دونوں پر جرح کی گئی ہے اور ابن خلدون نے کہا ہے کہ دونوں ضعیف ہیں۔ (ملاحظہ ہو مقدمہ ج ١ ص ٣٢٠)

ابراہیم بن مہاجر محدثین کے نزدیک قوی ہیں۔ مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب میں لکھا ہے ”صدوق (ص ٢٣)“ یعنی سچے تھے۔ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں امام احمدؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ”لا بأس به (ص ١٦٧ ج ١)“ یعنی ان میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”وقال الثوری واحمد لا باس به (ص ١٦٧ ج ١)“ یعنی سفیان ثوری اور امام احمدؒ نے فرمایا کہ ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ امام نسائیؒ نے بھی فرمایا: ”ليس به بأس (تہذیب ص ١٦٨ ج ١)“ ابن سعد نے کہا ”ثقہ“ (تہذیب ص ١٦٨ ج ١)“ علامہ ساجی نے کہا کہ صدوق، ابو داؤد نے کہا کہ ”صالح الحدیث“ ابو

١٢٩

صفحہ ٤٣٨

حاتم نے ان کے اور کچھ دوسرے راویوں کے بارے میں فرمایا کہ ”ومحلہم عندنا محل الصدق (تہذیب التہذیب ص١٦٨ ج١)“

ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ابراہیم قوی ہیں اور ثقہ ہیں۔ ان کے بیٹے اسماعیل کے بارے میں جرح کے اقوال بھی مروی ہیں۔ لیکن محدثین نے توثیق بھی کی ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (تقریب ص٣٢)

علامہ ابوالحجاج مزی نے تہذیب الکمال میں لکھا ہے کہ:”قال عبد اللہ سالت ابی عن ابراہیم بن مہاجر فقال لیس بہ باس کذا وکذا وسالتہ عن ابنہ اسماعیل فقال ابوہ قوی فی الحدیث منہ وروی لہ الترمذی وابن ماجہ (تہذیب الکمال ص٤٩ ج١)“ (نقلا عن مضمون مولوی عبدالشکور صاحب کشمیری) یعنی عبداللہ نے اپنے والد امام احمد سے ابراہیم کے متعلق پوچھا تو کہا کہ کوئی خرابی نہیں۔ پھر ان کے بیٹے کے متعلق پوچھا یعنی اسماعیل کے متعلق پوچھا تو کہا کہ ان کے والد ان سے زیادہ قوی ہیں۔

محدثین کے نزدیک تو باپ بیٹے سے زیادہ قوی ہیں۔ لیکن اختر صاحب لکھتے ہیں کہ اس کا باپ اس سے بلند درجے کا ضعیف ہے۔ یہ اختر صاحب کا اگر ذاتی خیال ہو تو الگ بات ہے۔ باقی کسی محدث نے نہیں لکھا ہے۔

حضرت ثوبانؓ کی روایت ہے کہ جس کے الفاظ یہ ہیں:”عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ یقتل عند کنزکم ثلاثہ کلہم ابن خلیفہ ثم لا یصیر الی واحد منہم ثم تطلع الرأیات السود من قبل المشرق“

ابن خلدون لکھتے ہیں کہ:”اس روایت کے راوی سب صحیحین کے ہیں۔ البتہ ابوقلابہ مدلس ہیں“۔ (مقدمہ ج١ ص٤٣٠)

حافظ ابن حجرؒ نے ان کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ یہ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ ثقہ اور فاضل ہیں (تقریب ص١٧٤) اور تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے ان کی توثیق پر ابن سعد، مسلم بن یسار، ابن سیرین، ایوب سختیانی، عجلی وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں اور ابتداء میں لکھا ہے کہ:”احدالاعلام (تہذیب ص٢٢٤ تا ٢٦ ج٥)“ حافظ نے ان کی تدلیس کی بھی نفی کی ہے کہ ”ولا یعرف لہ تدلیس (تہذیب ص٢٢٦ ج٥)“

١٤٠

نیز یہ کہ یہ روایت ابوقلابہ ابواسم ایک تھا نیز ابواسماء رحبی بھی دمشق میں رہے میں رہتے تھے۔ (تقریب ص١٧٤، تہذیب ال دوسری متعدد احادیث میں ثابت ہے۔ تو ا مسلم سب کے نزدیک یہ معنعن مقبول ہے کی وجہ سے کسی کی روایات کو رد کرنا شروع ک

اسی حدیث میں ابن خلدون روایت کو مجروح ثابت کرنے کی کوشش کی سے کام لیتے ۔ اس مقام پر زیادہ مناسب کے رد میں لکھی ہے۔ جب اس نے علی ابن اتدری فیمن تتکلم (میزان ص٤٠ ذکر کیا ہے لیکن اس کی وجہ سے کسی نے بھی حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذ مسروق الثوری ابو عبداللہ الک (ص١٢٨) ”تہذیب التہذیب میں حا بھی لکھا ہے۔ جو اس حدیث میں ابھی الخداء سے ان کی ملاقات اور سماع ثاب بغدادی یہ مستثنیٰ ہیں:”کما فی تہذ وعالما من اعلام الدین مجم الاتقان والحفظ والمعرفۃ وا النسائی ہو اجل من ان ی ص١١٤ ج٤) “” وقال صالح بن الدنیا (تہذیب التہذیب ص٤١٥ ج٤

اسی حدیث میں ابن خلدون ہے کہ وہ شیعہ تھے۔ ان کے تشیع کے با جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب التہذ

صفحہ ٤٣٩

نیز یہ کہ یہ روایت ابو قلابہ ابو اسماء رحبی سے نقل کرتے ہیں کہ ابو اسماء رحبی اور ان کا زمانہ ایک تھا نیز ابو اسماء رحبی بھی دمشق میں رہتے تھے۔ (تقریب ص ٢٦٢) اور یہ بھی آخری عمر میں شام میں رہتے تھے۔ (تقریب ص ١٧٤،تہذیب التہذیب ص٢٢٦ ج٥) اور ابو اسماء رحبی سے ان کا سماع بھی دوسری متعدد احادیث میں ثابت ہے۔ تو اگر یہ روایت عن سے منقول ہے تو بھی امام بخاری وامام مسلم سب کے نزدیک یہ معنعن مقبول ہے۔ رد کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ اگر صرف تدلیس کی وجہ سے کسی کی روایات کو رد کرنا شروع کیا جائے۔ تو بہت سی احادیث سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

اسی حدیث میں ابن خلدون اور اختر کاشمیری نے سفیان ثوری کو بھی مدلس کہہ کر روایت کو مجروح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاش ابن خلدون اور اختر صاحب کچھ انصاف سے کام لیتے۔ اس مقام پر زیادہ مناسب ہے کہ وہ عبارت نقل کر دوں جو کہ علامہ ذہبی نے عقیلی کے رد میں لکھی ہے۔ جب اس نے علی ابن المدینی پر جرح کی کہ افمالك عقل یا عقیلی اتدری فیمن تتكلم (میزان ص ١٤٠ ج ٢) ”سفیان ثوری کی تدلیس کا کچھ حصہ محدثین نے ذکر کیا ہے لیکن اس کی وجہ سے کسی نے بھی ان کی روایت کو رد نہیں کیا ہے۔

حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ: ”سفيان بن سعيد بن مسروق الثورى ابوعبدالله الكوفي ثقة حافظ فقيه عابد امام حجة ..... الخ (ص١٢٨) “ تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے ان کے اساتذہ میں خالد الحذاء کا نام بھی لکھا ہے۔ جو اس حدیث میں ابھی ان کے استاد ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالد الحذاء سے ان کی ملاقات اور سماع ثابت ہے۔ باقی ان کی توثیق تو توثیق سے بقول خطیب بغدادی یہ مستغنی ہیں: ”كما في تهذيب التهذيب كان اماما من ائمة المسلمين وعالما من اعلام الدين مجمعا على امامته بحيث يستغنى عن تزكيته مع الاتقان والحفظ والمعرفة والضبط والورع والزهد (ص ١١٧، ج٧)“ ”وقال النسائى هو اجل من ان يقال فيه ثقة ..... الخ (تهذيب التهذيب ص ١١٧ ج٧)“ ”وقال صالح بن محمد بن سفيان ليس يقدمه عندى احمد في الدنيا (تهذيب التهذيب ص ١١٥ ج٧)“

اسی حدیث میں ابن خلدون اور اختر صاحب نے عبدالرزاق بن ہمام پر بھی جرح کی ہے کہ وہ شیعہ تھے۔ ان کے تشیع کے بارے میں واقعی اقوال ہیں کہ یہ شیعہ تھے۔ لیکن ثقہ تھے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ ”ثقه حافظ مصنف شهير

١٤١

صفحہ ٤٤١

(ص ٢١٣) ”نیز یہ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ امام بخاری، امام مسلم نے ان کی روایات کی تخریج کی ہے۔ (ملاحظہ ہو تقریب ص ٢١٣) تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے عبدالرزاق سے اچھی حدیث والا بھی کسی کو دیکھا ہے کہ فرمایا کہ نہیں (ص ٣١١ ج ٦) اور خود عبدالرزاق کے استاذ معمر کا قول ہے کہ ”واما عبدالرزاق فخلیق ان تضرب الیه اكباد الابل (تہذیب ص ٣١٢)“ کہ عبدالرزاق اس کا مستحق ہے کہ اس کے پاس اونٹوں پر سفر کر کے حاضری دی جائے اور یہ بھی منقول ہے کہ یحییٰ بن معین کے سامنے کسی نے کہا کہ عبداللہ بن موسیٰ عبدالرزاق کی احادیث کو تشیع کی وجہ سے رد کرتا ہے: ”فقال كان عبدالرزاق والله الذى لااله الاهو اعلى فى ذالك منه مأته ضعف (تہذیب التہذیب ص ٣١٣ ج ٦) “ کہ یحییٰ بن معین نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ عبدالرزاق سو درجے عبیداللہ بن موسیٰ سے اچھے تھے۔

اور عبداللہ ابن احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے پوچھا کہ ’هل كان عبدالرزاق يتشيع ويفرط فى التشيع فقال اماانا فلم اسمع منه في هذا شيئا (تہذیب ص ٣١٣ ج ٦)“ کہ کیا عبدالرزاق غالی شیعہ تھا۔ تو فرمایا کہ میں نے اس بارے میں ان سے کچھ نہیں سنا اور خود عبدالرزاق کا قول ہے کہ اس بارے میں کبھی میرا انشراح نہیں ہوا کہ حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ پر فضیلت دوں۔ (تہذیب ص ٣١٣ ج ٢) ابن خلدون اور اشعر صاحب تو تشیع کو رو رہے ہیں۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ ”لو ارتد عبدالرزاق ماتركناه حديثه (تہذیب ص ٣١٤ ج ٦)“ کہ عبدالرزاق اگر نعوذ باللہ مرتد ہو جائے۔ پھر بھی ہم ان کی احادیث کو ترک نہیں کریں گے۔

اور علامہ ذہبیؒ نے عباس بن عبدالعظیم کی جرح نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ”قلت ما وافق العباس عليه مسلم بل سائر الحفاظ وائمة العلم يحتجون به (ميزان الاعتدال ص ٦١١ ج ٢) “ کہ اس جرح پر کسی مسلمان نے بھی عباس کی موافقت نہیں کی ہے۔ بلکہ تمام محدثین عبدالرزاق کی احادیث کو قابل احتجاج مانتے ہیں اور علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں علی بن مدینی کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ ”ولو تركت حديث على وصاحبه محمد وشيخه عبدالرزاق وعثمان بن ابى شيبة وابراهيم ابن سعد و عفان وابان العطار واسرائيل وازهر السمان وبهز بن اسد وثابت البنانى وجرير ،

بن عبدالحميد لغلقنا الباب وانقطع الزنادقة ولخرج الدجال (ص ١٤٠ ج ٢)“ جرح یا کسی بدعت کے موجود ہونے کی وجہ سے ترک گا اور شریعت کا خطاب منقطع ہو جائے گا اور احادیث ہو جائیں گے۔ دجال نکل آئے گا۔

اور پھر لکھتے ہیں کہ: ”ثم ما كل احد فيه بما يوهن حديثه ولا من شرط والخطاء.......الخ (ميزان الاعتدال ص ١٤١ ج ١ ہو جائے یا جس کا کوئی غلط کلام مروی ہو جائے جو سبب ہو جائے، ایسا نہیں ہے۔ اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ قبول ہیں اور صرف تشیع سبب جرح نہیں جیسا کہ پہلے بالصواب!

روایت ہے جو عبداللہ بن الحارث بن جزء سے مروی يخرج ناس من المشرق فيوطون للمهدی اس روایت میں ایک تو عبداللہ ابن لہیعہ پہلے حدیث نمبر ١٧ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ اس لئے جرح کی گئی ہے۔ ان کے بارے میں بھی بحث حدیث

قرار دیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہے کہ: ”عن ابی امتی المہدی.......الخ“ اس روایت میں محمد بن مروان العجلی پر بحث وہ نقل کرتے ہیں کہ کسی نے نقل نہیں کی ہے۔ خلدون نے تسلیم کیا ہے کہ محمد بن مروان ثقہ ہیں لیکن توثیق کی ہے۔ (مقدمہ ص ٣٢١) تو جب محمد بن مروان

صفحہ ٤٤١

بن عبدالحميد لغلقنا الباب وانقطع الخطاب ولماتت الآثار واستولت الزنادقة ولخرج الدجال (ص ١٤٠ ج ٢) ”کہ اگر ان مذکورہ لوگوں کی احادیث کو ہم ان پر جرح یا کسی بدعت کے موجود ہونے کی وجہ سے ترک کردیں تو پھر تو روایات کا دروازہ بند ہو جائے گا اور شریعت کا خطاب منقطع ہو جائے گا اور احادیث دنیا سے نابود ہو جائیں گی اور زنادقہ غالب ہو جائیں گے۔ دجال نکل آئے گا۔

اور پھر لکھتے ہیں کہ: "ثم ما كل احد فيه بدعة او له هفوة او ذنوب يقدح فيه بما يوهن حديثه ولا من شرط الثقة ان يكون معصوما من الخطايا والخطاء...... الخ (میزان الاعتدال ص ١٤١ ج ٢) ”اور ہر وہ آدمی جس میں کوئی بدعت ثابت ہو جائے یا جس کا کوئی غلط کلام مروی ہو جائے جو سبب قدح ہو اور اس سے اس کی حدیث ضعیف ہو جائے، ایسا نہیں ہے۔ اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ عبدالرزاق کی احادیث محدثین کے نزدیک قبول ہیں اور صرف تشیع سبب جرح نہیں جیسا کہ پہلے بھی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ والله اعلم بالصواب!

روایت ہے جو عبداللہ بن الحارث بن جزء سے مروی ہے کہ : "قال قال رسول الله ﷺ يخرج ناس من المشرق فيوطون للمهدی یعنی سلطانه...... الخ “ اس روایت میں ایک تو عبداللہ ابن لہیعہ پر جرح کی گئی ہے جس کے بارے میں بحث پہلے حدیث نمبر ١٧ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح ان کے شیخ عمرو بن جابر الحضرمی پر بھی جرح کی گئی ہے۔ ان کے بارے میں بھی بحث حدیث نمبر ١٧ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔

قرار دیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہے کہ: ”عن ابي هريرة عن النبی ﷺ يكون فى امتی المهدى...... الخ “ اس روایت میں محمد بن مروان العجلی پر کلام کیا ہے کہ وہ متفرد ہیں۔ اس روایت کو صرف وہ نقل کرتے ہیں کہ کسی نے نقل نہیں کی ہے۔ لیکن یہ وجہ جرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ خود ابن خلدون نے تسلیم کیا ہے کہ محمد بن مروان ثقہ ہیں۔ ابو داؤد، ابن حبان، یحییٰ بن معین نے ان کی توثیق کی ہے۔ (مقدمہ ص ٣٢١) تو جب محمد بن مروان ثقہ ہیں، تو ان کے تفرد سے روایت مردود کیسے

١٣٣

صفحہ ٤٤٢

ہو سکتی ہے؟ کیونکہ ضعیف کے تفرد سے تو روایت پر ضعف کا حکم لگتا ہے لیکن ثقہ کے تفرد کی وجہ سے کسی محدث نے کبھی کسی روایت کو ضعیف نہیں کہا ہے۔ خصوصاً جبکہ مہدی کے بارے میں دوسری متواتر روایات بھی موجود ہیں ۔

محمد بن مروان کی توثیق یحییٰ بن معین، امام ابوداؤد، مرۃ ابن حبان وغیرہ نے کی ہے۔ (تہذیب التہذیب ص ٤٣٦ ج ٩)

مسند میں کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہے کہ: ”لا تقوم الساعة حتى يخرج عليهم رجل من اهل بيتى...... الخ“

اس روایت میں بشیر بن نہیک کے اوپر جرح کی گئی ہے۔ حالانکہ بشیر بن نہیک صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ تقریب میں لکھتے ہیں ثقہ (ص ٤٦) ۔ عجلی اور امام نسائی نے بھی ثقہ کہا ہے (تہذیب التہذیب ص ٤٧٠ ج ١) اور ابو حاتم کے قول ”لا يحتج بحديثه“ جو ابن خلدون نے نقل کیا ہے۔ اس کے متعلق حافظ حجر لکھتے ہیں کہ : ”وهذا وهم وتضعيف وانما قال ابو حاتم روى عنه النضر بن انس وابو مجلز وبركة ويحيىٰ بن سعيد (تہذیب التہذیب ص ٤٧٠ ج ١)“ کہ ابو حاتم نے یہ نہیں کہا بلکہ یہ لوگوں کا وہم ہے اور عبارت میں تصحیف کی گئی ہے۔ ابن سعید نے بھی ثقہ کہا ہے۔ ابن حبان نے ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے۔ امام احمد نے بھی ثقہ کہا ہے (ملاحظہ ہو تہذیب ص ٤٧٠ ج ١) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی قوی ہے۔

الفاظ یہ ہیں: ”لتملأن الارض جورا وظلما فاذا ملئت جورا وظلما بعث الله رجلا من امتى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى ...... الخ“

اس روایت میں ابن خلدون اور اخر صاحب نے داؤد بن المحبر بن المحبر پر جرح کی ہے اور لکھا ہے کہ اس حدیث کو داؤد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ (مقدمہ ص ٣٢٢)

ان دونوں کے حالات کتب اسماء رجال میں مل نہیں سکے۔ لیکن دوسری صحیح روایات کی موجودگی میں ضعیف روایات بھی تائیداً پیش کی جاسکتی ہیں۔

١٣٤

والأنصار (الى ان قال) فعلـ وهو صاحب رأية المهدى“

اس روایت میں ابن خلدون تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔ ابن خلدون نـ ظاہر ہے کہ اس سے عبداللہ بن عمر بن ”الصحابة كلهم عدول“ کا قائـ التہذیب میں تقریباً آٹھ ہیں اور سب نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن وہ بھی اکثر محد ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (ملاحظہ ہو تقریب

سے مقدمہ میں منقول ہے۔ جس میں الـ ہے۔ (مقدمہ ص ٣٢٢)

ثنیٰ اگر چہ اکثر محدثین کے نـ صالحہ کہا ہے۔ جیسا کہ تہذیب التہذیب (ص ٣٦ ج ١) ”اور داؤد العطار نے کہا ہـ بن الصباح (تهذيب التهذيب صـ نے نہیں دیکھا۔ تو معلوم ہوا کہ بعض محد ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (ملاحظہ ہو تہذیب

اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ ضـ مہدی ان ضعیف احادیث پر موقوف نہیـ بعض احادیث تھیں۔ جن پر منکرین ظہـ ”لا مهدي الا عيسى“ کی حدیث

لیکن یہ خود ابن خلدون کے اقرار کے مو چنانچہ مقدمہ میں اس حدیث

صفحہ ٤٤٣

والانصار (الى ان قال) فعليكم الفتی التميمي فانه يقبل من قبل المشرق وهو صاحب راية المهدى“

اس روایت میں ابن خلدون وغیرہ نے ابن لہیعہ پر کلام کیا ہے جس کے بارے میں تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔ ابن خلدون نے اس روایت میں عبداللہ ابن عمر کو بھی ضعیف کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے عبداللہ بن عمر بن خطابؓ تو مراد نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ تو صحابی ہیں اور ”الصحابة كلهم عدول“ کا قاعدہ تو مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس نام کے راوی تقریب التہذیب میں تقریباً آٹھ ہیں اور سب کے سب ثقہ ہیں۔ عبداللہ بن عمر بن حفص کو بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن وہ بھی اکثر محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور مسلم، بخاری، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (ملاحظہ ہو تقریب التہذیب ص١٨٢)

سے مقدمہ میں منقول ہے۔ جس میں ابن خلدون اور اختر صاحب نے مثنیٰ بن صباح پر جرح کی ہے۔ (مقدمہ ص٣٢٢)

مثنیٰ اگرچہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ لیکن ابن عدی نے ان کی احادیث کو صالحہ کہا ہے۔ جیسا کہ تہذیب التہذیب میں ہے کہ: ”قال ابن عدی له حديث صالح (ص٣٦ ج١)“ اور داؤد العطار نے کہا ہے: ”لم ادرك فى هذا المسجد اعبد من المثنى بن الصباح (تهذيب التهذيب ص٣٦ ج١)“ کہ اس مسجد میں ان سے زیادہ کسی عابد کو میں نے نہیں دیکھا۔ تو معلوم ہوا کہ بعض محدثین کے نزدیک قابل اعتبار ہیں۔ نیز ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص ٣٥ ج ١٠ و تقریب التہذیب ص٣٢٨)

اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ ضعیف روایات تائید میں پیش کی جارہی ہیں۔ عقیدہ ظہور مہدی ان ضعیف احادیث پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ کما مر یہ وہ بعض احادیث تھیں۔ جن پر منکرین ظہور مہدی نے کلام کیا تھا۔ بعض منکرین نے اس سلسلے میں ”لا مهدی الا عيسىٰ“ کی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو ابن ماجہ وغیرہ میں منقول ہے۔ لیکن یہ خود ابن خلدون کے اقرار کے مطابق منقطع مضطرب اور ضعیف ہے۔

چنانچہ مقدمہ میں اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”وهو منقطع و بالجملة

١٣٥

صفحہ ٤٤٤

فالحديث ضعیف مضطرب (ص٢٦٢) ”نیز بعض محدثین نے اس حدیث کو موضوع بھی کہا ہے جیسا کہ اس باب کے اول میں فوائد المجموعہ للشوکانی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔

(فوائد مجموعہ ص٥١٠)

بہر حال ظہور مہدی متواتر احادیث سے ثابت ہے اور محدثین کے نزدیک قیامت کی علامت میں سے ہے۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کی کتاب علامات قیامت کے ضمن میں اُس کو ذکر کیا ہے۔ نیز حدیث جبرائیل کے ضمن میں امارات قیامت پر بحث کرتے ہوئے محدثین نے جیسا کہ دوسری امارات وعلامات کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح ظہور مہدی کو بھی ثابت شدہ علامات قیامت میں ذکر کیا ہے۔

مسلم کی شرح اکمال اکمال المعلم میں علامہ ابی نے لکھا ہے کہ علامات قیامت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ علامات جو معتاد ہیں۔ جیسا کہ علم کا اٹھ جانا، جہل کا ظاہر ہونا، زنا اور شراب نوشی کی کثرت اور دوسری علامات وہ ہیں کہ جو غیر معتاد ہیں جیسا کہ ظہور دجال، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج یاجوج ماجوج، خروج دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ۔ اس کے بعد پانچ علامات غیر معتاد اور بھی ذکر کی ہیں اور اس کے بعد پھر لکھا ہے کہ: ”وزاد بعضهم فتح قسطنطنيه وظهور المهدى (ص١٧٠)“ یعنی محدثین نے فتح قسطنطنیہ اور ظہور مہدی کو بھی علامات قیامت میں ذکر کیا ہے۔ اسی قسم کی عبارت مکمل اکمال الاکمال میں علامہ سنوسی کی بھی ہے۔ (ملاحظہ ہو ص١٧٠ ج١)

ان عبارتوں سے ثابت ہوا کہ ظہور مہدی محدثین کے نزدیک ثابت شدہ علامات قیامت میں سے ہیں۔

فی الحال ہم ان ہی گزارشات پر اکتفا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر زندہ رکھے اور اسی پر موت دے۔

نظام الدین شامزئی ...... کراچی ٧ ربیع الثانی ١٤٠٢ھ

اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ، آمین! وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین!

PDF 446

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

سیدنا ومولانا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم

مرزائی مذہب کا

خاتمہ

حضرت مولانا ابوالنذیرؒ راولپنڈی

صفحہ ٤٤٦

بسم الله الرحمن الرحيم

ایمان کا جائزہ

ہر شخص کو مرنا ہے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے۔ لہٰذا ہر وہ مسلمان جو آخرت میں اپنی نجات چاہتا ہے اس پر فرض ہے کہ موت آنے سے پہلے اپنے ایمان کا جائزہ لے کہ ان کا ایمان ہے یا نہیں۔ اگر ہے، تو ناقص تو نہیں ہے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر نجات ممکن نہیں اور ناقص ایمان خدا جانے مقبول ہو یا نہیں۔ اس لئے ایمان کے بارے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایمان کا جائزہ کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ خدا کو وحدہ لاشریک مان لو اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمہ طیبہ کا مفہوم ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایمان بالانبیاء، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب الٰہیہ اور ایمان بالآخرت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ یہ سب باتیں ارکان ایمان میں سے ہیں۔ یہ باور رہے کہ خدا اور رسول ﷺ پر ایمان کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی صرف ہستیوں کو مان لیا جائے اور ان کے احکام کو نہ مانا جائے۔ بلکہ خدا اور رسول ﷺ کے ماننے کے معنی ہی یہ ہیں کہ خدا اور رسول ﷺ کے جملہ احکام کو بھی دل سے قبول کیا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے اور اس پر عمل کی کوشش کی جائے۔

اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کیسے نبی ہیں۔ آیا اول اور شروع کے نبی ہیں جیسے آدم علیہ السلام تھے یا درمیانی نبی ہیں جیسے نوح اور ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام تھے یا آخری نبی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠) ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور ختم کرنے والے سب نبیوں کے۔﴿

حق تعالیٰ نے اس آیت موصوفہ میں حضور ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ یعنی آپ تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ یعنی آخری نبی ہیں۔ یا آپ نبیوں پر مہر ہیں اور مہر کے معنی بھی یہی ہیں کہ سلسلہ نبوت کو بند کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی تشریعی یا غیر تشریعی نہیں ہوگا۔ کیونکہ لفظ نبیین اپنے معنی کے اعتبار سے مطلق ہے۔ اس کے ساتھ کوئی تصریح تشریعی نبی یا غیر تشریعی کی نہیں ہے اور یہ بات کہ مہر کے معنی بند کر دینے کے ہیں، ہر طرح ثابت ہے۔

٢

کہ اب اس فرمان کی عبارت بند ہوگئی۔ نہ

لفافہ بند ہی رہے گا۔

سیل مہر کو توڑا نہ جائے، بند رہے گی۔ یہ تما مہر کے معنی تمام کر دینے، ختم کر دینے اور کہ نبی ﷺ نے جو آخر الانبیاء ہیں، خاتم الا ہوگئی اور یہی عقیدہ تیرہ سو برس سے تمام ام

مہر کے شرعی معنی

اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ خود قرآ پہلی آیت....... ”ختم الله عل غشاوة (بقرة:٧) ”اللہ نے ان کے آنکھوں پر پردہ ہے۔﴿ اللہ نے ان کے اس لئے کہ اللہ کے علم میں وہ ایسے کافر ہی کے معنی بند کر دینے کے ہیں کہ نہ کانوں س داخل ہوسکے۔ ہدایت کے راستے بند کرد دوسری آیت....... ”اليوم نخت بما كانوا يكسبون (یس:٦٥) ”آ ہم سے کلام کریں گے اور گواہی دیں گے ب

صفحہ ٤٤٧

کہ اب اس فرمان کی عبارت بند ہو گئی۔ نہ گھٹ سکتی ہے نہ بڑھ سکتی ہے۔

لفافہ بند ہی رہے گا۔

سیل مہر کو توڑا نہ جائے، بند رہے گی۔ یہ تمام عقلی دلائل واقعات اور مشاہدات ثابت کرتے ہیں کہ مہر کے معنی تمام کر دینے، ختم کر دینے اور بند کر دینے کے ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے جو آخر الانبیاء ہیں، خاتم الانبیاء ہیں۔ سلسلہ نبوت کو ختم نہ کیا ہو۔ ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی اور یہی عقیدہ تیرہ سو برس سے تمام امت محمدیہ کا ہے۔

مہر کے شرعی معنی

اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ خود قرآن پاک کیا فیصلہ کرتا ہے اور مہر کے کیا معنی لیتا ہے۔

پہلی آیت ...... ”ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة (بقرہ:٧) “ ﴿بند لگا دیا یا مہر کی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔﴾ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر بند کیوں لگایا۔ یا مہر کیوں لگا دی؟ اس لئے کہ اللہ کے علم میں وہ ایسے کافر ہیں کہ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ دیکھئے یہاں پر مہر کے معنی بند کر دینے کے ہیں کہ نہ کانوں کے ذریعہ سے ہدایت کو سن سکیں۔ نہ قلوب کے اندر ایمان داخل ہو سکے۔ ہدایت کے راستے بند کر دیئے گئے۔

دوسری آیت ...... ”اليوم نختم على افواههم وتكلمنا ايديهم وتشهد ارجلهم بما كانوا يكسبون (یس:٦٥) “ ﴿آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور گواہی دیں گے۔ پاؤں ان کے جو کچھ یہ لوگ کیا کرتے تھے۔﴾

٣

صفحہ ٤٤٨

دیکھئے یہاں بھی یہی مذکور ہے کہ قیامت کے دن کفار کے مونہوں پر مہر لگا کر بند کر دیئے جائیں گے اور ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور پیر ان کے گواہی دیں گے۔ کہئے مہر کے معنی بند کر دینے کے ہوئے یا نہیں؟

تیسری آیت ...... ”وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوۃ (جاثیہ:٢٣) ”خدا تعالیٰ نے ان کے کان اور دل پر مہر لگادی اور ان کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ﴿ یہاں بھی مہر کے معنی کان اور دل بند کر دینے کے ہیں۔ جو پہلی آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔

چوتھی آیت ...... ”يسقون من رحيق مختوم ختامہ مسک (تطفیف:٢٥)“ ﴿ اور ان کے پینے کے لئے شراب خالص سر بمہر جس پر مشک کی مہر ہوگی، ملے گی ۔ ﴿ رحیق ایک قسم کی شراب ہوگی۔ جو جنت میں جنتیوں کو پینے کے لئے ملے گی۔ یہ شراب جس برتن میں بھی ہو۔ خواہ صراحی میں ہو یا بوتل وغیرہ میں، بہر حال بند ہوگی اور سر بمہر ہوگی اور اس کی مہر جس سے یہ بند کی گئی ہوگی، مشک کی ہوگی۔

دیکھا آپ قرآن شریف میں جہاں کہیں ”خاتم یا ختم“ لفظ آیا ہے۔ وہاں مہر ہی کے معنی ہیں اور مہر کے معنی بند کر دینے کے ہی ہیں۔ جاری کر دینے یا جاری ہونے یا تصدیق کر دینے یا منظوری دینے کے کہیں بھی نہیں ہیں۔ پس خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء، خاتم الانبیاء یعنی نبیوں کو ختم کرنے والے اور سلسلہ نبوت بند کرنے والا ہی ہیں اور تیرہ سو برس سے تمام امت محمدیہ کا مسلمہ طور پر یہی عقیدہ رہا ہے، اور ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپنے آپ کو نبی کہنے والا اور اس کو نبی ماننے والا اور سلسلہ نبوت کو خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ظلی ہو یا بروزی قطعی کافر اور امت محمدیہ سے خارج ہے۔

ہاتھ کے ہاتھ ایک شرعی مسئلہ بھی بیان کر دوں۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور کہے کہ میں خدا کی طرف سے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور کوئی مسلمان اس سے یہ کہے کہ اگر تو نبی ہے تو معجزہ دکھلا، تو ایسا کہنے والا شخص فوراً کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ختم نبوت پر اس شخص کا ایمان نہیں ہے۔ گویا اس کے ناقص خیال میں ابھی نبوت ختم نہیں ہوئی اور کوئی نیا نبی آسکتا ہے۔ جب ہی تو اس سے معجزہ طلب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو تجدید ایمان کرنا چاہئے۔

خاتم النبیین کے متعلق مرزائیوں کے من گھڑت معنی اور اس کے فساد اب ذرا قادیانیوں یا احمدیوں یا مرزائیوں کی بھی سن لیجئے کہ اس آیت شریفہ کے متعلق کیا کہتے ہیں کہ خاتم

٤

صفحہ ٤٤٩

کے معنی ہیں ”مہر“ اور خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ جو نبی ہوگا وہ نبی کریم ﷺ کی مہر یا تصدیق یا منظوری سے ہوگا۔ چونکہ سلسلۂ نبوت ختم نہیں ہوا اور قیامت تک جاری رہے گا۔ لہٰذا کوئی نبی محمد ﷺ کی مہر یا تصدیق یا منظوری کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ گویا حضور ﷺ نبی گر ہیں۔ یعنی نبیوں کے بنانے والے ہیں اور یہ حضور ﷺ کا بڑا شرف ہے۔ جو کسی نبی کو حاصل نہیں ہوا۔ قبل اس کے کہ اس پر بحث کی جائے۔ ہم مرزائیوں سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ یہ معنی شرعی ہیں یا طبعی ہیں۔ اگر شرعی ہیں تو اس کے استدلال میں قرآن شریف کی آیات احادیث رسول ﷺ پیش کرنا ہوں گی۔

جیسا کہ ہم نے مہر کے معنی قرآن شریف سے پیش کئے ہیں اور اگر یہ معنی آپ کے طبعی ہیں کہ آپ نے اپنی طبیعت سے گھڑے ہیں۔ تو کسی کو کیا غرض پڑی ہے کہ آپ کی من گھڑت باتوں کو مانتا پھرے۔ ان معنوں کو کم سے کم کسی عقلی دلیل سے کسی لغت کی کتاب سے ہی ثابت کیا ہوتا۔ آپ کا کہہ دینا تو کوئی دلیل نہیں ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ یہ معنی کیوں گھڑے گئے ہیں۔ جھوٹے مدعیان نبوت کے نبی بننے کا راستہ صاف کرنے کے لئے اپنے متبعین کو بیوقوف بنانے کے لئے تا کہ جاہل لوگ خوش ہو جائیں کہ واہ ہمارے نبی کی کیا شان ہے اور کیا مرتبہ ہے۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ اس چھوٹی سی بات میں کتنا بڑا فساد بھرا ہے۔ سنئے اور فرض کر لیجئے کہ اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کے تیرہ سو برس بعد قادیان میں مرزا قادیانی کو نبی بنانا چاہا اور اپنی منظوری کے بعد کا غذات نبوت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیئے تا کہ حضور ﷺ کی مہر یا تصدیق یا منظوری ہو جائے۔

اگر حضور ﷺ کی اور خدا کی رائے میں اختلاف ہو جاتا تو ایک بہت بڑا جھگڑا پڑ جاتا اور پھر نہ معلوم کس کی رائے فائق رہتی۔ خدا کی یا حضور ﷺ کی اور مرزا غلام احمد قادیانی نبی بنتے یا نہیں۔ مگر تھوڑی دیر کے لئے مان لیجئے کہ حضور ﷺ نے بھی اپنی مہر لگادی، تصدیق کردی، منظوری دے دی اور مرزا قادیانی نبی ہوگئے۔ معلوم ہے آپ کو کہ اس میں فساد کیا ہوا۔ جی جناب اس سے حضور اکرم ﷺ کی شان بڑھی ہو یا گھٹی ہو۔ لیکن خدا کی شان ضرور گھٹ گئی۔ خدا کی توہین ضرور ہو گئی۔ آج تک تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ خدا اپنے کاموں میں کسی کا محتاج نہیں خود مختار اور ”لا شريك له“ ہے ”مالهم فيهما من شرك وماله منهم من ظهيرہ (سبا:٢٢)“ زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں نہ تو اس کے ساتھ کسی کی شرکت ہے نہ اس میں سے اس کا کوئی مددگار ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے کاموں میں نہ تو کسی سے مشورہ کرتے ہیں نہ کسی کی مدد لیتے ہیں۔ نہ کسی

٥

صفحہ ٤٥٠

کی کسی کام میں تصدیق کراتے ہیں۔ نہ کسی کی منظوری لیتے ہیں۔ یہ شرف فی الافعال ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنا قطعی شرک اور کفر ہے۔ میاں وہ تو خیریت ہوگئی کہ خدا اور رسول میں اتفاق رائے ہو گیا اور معاملہ طے ہو گیا۔ اگر خدانخواستہ دونوں میں اختلاف رائے ہو جاتا تو معلوم ہے آپ کو کیا ہوتا۔ اجی وہی ہوتا جو خدا نے فرمایا: ”لوكان فيهما الهة الا الله لفسدتا (انبیاء:٢٢)“ اگر زمین و آسمان میں کوئی اور بھی خدا ہوتا تو یہ دونوں یعنی زمین و آسمان تباہ ہو جاتے۔ یا خدا کی خدائی نہ رہتی یا حضور کی رسالت اور نبوت نہ رہتی۔

دیکھا آپ نے اس چھوٹی سی بات میں کتنا بڑا فساد بھرا ہے۔ اس قسم کے معنی گھڑ کر اور اس قسم کا عقیدہ رکھ کر کیا کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس قسم کی باتیں قطعی شرک اور کفر ہیں۔ جب ہی تو ہم نے کہا کہ مسلمانو مرنے سے پہلے اپنے ایمان کا جائزہ لے لو۔ کہیں نجات سے محروم رہ جاؤ اور دوزخ میں ڈالے جاؤ۔

اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ چھوٹے حاکم اپنے کام کی تصدیق یا منظوری بڑے حکام سے لیا کرتے ہیں۔ لیکن مرزا جی کا قانون نرالا ہے۔ یہاں سب سے بڑا حاکم احکم الحاکمین اپنے ایک بندے سے نبوت کی تصدیق کراتا ہے اور منظوری لیتا ہے۔ یہ بڑے حاکم کی توہین نہیں ہے اور یہ بھی کھلا ہوا مسئلہ ہے کہ کوئی نبی کسی کو نبی نہیں بنا سکتا اس کی بھی شریعت میں کوئی سند نہیں ہے۔

جب آپ کو یہ معلوم ہو چکا کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی اور اب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی تشریعی یا غیر تشریعی آنے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے بشارت آئی: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣)“ آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لئے پسند کیا ہے۔

سبحان اللہ! کیا پیاری بشارت ہے اور کتنا مکمل بیان ہے اور کتنی اچھی بات ہے اور عمدہ ترتیب ہے۔ سمجھو اور غور کرو کہ نبوت اور ایمان بالانبیاء ارکان دین میں سے ہے اور کوئی چیز مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کا کوئی رکن یا کوئی چیز باقی ہو۔ پس اگر نبوت جاری ہے اور انبیاء آتے رہیں گے تو دین کا ایک رکن تکمیل سے باقی رہے گا۔ جب تک جتنے انبیاء قیامت تک آنے والے ہیں۔ سب کے سب نہ آچکیں، اور جب تک دین کا رکن تکمیل سے باقی رہے گا۔ دین اسلام مکمل کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی ایسی عمارت بھی مکمل کہلا سکتی ہے جس کا کوئی حصہ یا کوئی جز تعمیر سے باقی

٢

صفحہ ٤٥١

ہو؟ ہرگز نہیں۔ تکمیل شروع میں یا درمیان میں نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ ہمیشہ آخر میں ہوتی ہے۔

پھر مرزا غلام احمد قادیانی اگر نبی ہے تو ان پر ایمان لانا دین کا ایک رکن ہوگا اور ان کی نبوت دین اسلام کا ایک حصہ یا جز ہوگا۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی کے نبی بننے سے پہلے اور ان پر ایمان لانے سے تیرہ سو برس پہلے ہی دین اسلام مکمل ہو گیا۔ یہ تو کمال پر زیادتی ہے اور کمال پر زیادتی ہمیشہ عیب ہوا کرتی ہے۔ دیکھئے پنجہ کا کمال یہ ہے کہ اس میں پانچ انگلیاں ہوں۔ اگر کسی شخص کے پانچ کی بجائے چھ انگلیاں ہو جائیں تو یہ شخص چھینگا یا چھنگا کہلائے گا اور یہی عیب ہے۔ کیونکہ کمال پر زیادتی ہوئی ہے۔

پس تو خوب سمجھ لو۔ اپنے ایمان کا جائزہ لے لو کہ مرزا قادیانی کو نبی مانا جائے اور نبوت کو جاری سمجھا جائے تو یہ تکمیل اسلام کے بعد کی بات ہے۔ جو کمال پر زیادتی ہونے کی وجہ سے سراسر عیب ہے۔ لہٰذا ایسے معیوب اسلام کو ہرگز نہیں مان سکتے نہ نبوت کو جاری مان سکتے ہیں۔ نہ مرزا قادیانی پر ایمان لا سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت اسلام میں چھٹی انگلی ہے جو عیب ہے۔ کمال دین کے بعد اتمام نعمت ایک لازمی چیز ہے۔ دین ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ انبیاء و مرسلین کتب الٰہیہ اور شریعت وغیرہ سب ہی دین کے ارکان اور اجزاء ہیں اور چونکہ یہ سب چیزیں ذریعہ ہدایت ہیں۔ لہٰذا سب کی سب بڑی نعمتیں ہیں۔ اتمام نعمت کر کے حق تعالیٰ نے اپنی رضا کا اظہار فرما دیا کہ ہم نے دین اسلام تمہارے لئے پسند فرمایا۔ حق تعالیٰ کی رضا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ جس کام سے جس بات سے حق تعالیٰ رضا مند ہو جائے ، باقی کیا رہا؟ اس سے بڑی اور کیا نعمت اور سعادت ہو گی۔ دیکھا آپ نے کتنی اچھی اور عمدہ ترتیب ہے۔ پہلے نبوت کو ختم کیا گیا۔ پھر اکمال دین کیا گیا۔ کیونکہ کوئی چیز آنے کو باقی تو رہی نہ تھی۔ انبیاء، کتب شریعت سب ہی بند کر دیئے گئے۔ یہ نعمتیں تھیں جو امت محمدیہ کو دے دی گئیں۔ لہٰذا اتمام نعمت ہو گیا اور اتمام نعمت کے بعد اپنی رضا کی بشارت دے دی:

ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ

جب ہم کو یہ سب کچھ حاصل ہو گیا تو اب ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم سلسلہ نبوت کو جاری مانتے پھریں۔ یا مرزا قادیانی کو نبی مانتے پھریں؟ ہمیں تو دوزخ میں جانا منظور نہیں۔ ہمیں اصلی ایمان اور اصلی سعادت حاصل ہے۔

اس مسئلہ کے ایک اور پہلو پر نظر کرو جو مرزائی کہتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے فرض کر

٧

صفحہ ٤٥٢

کے یہ مان لو کہ نبوت جاری ہے اور ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لیکن فوراً ہی یہ سوال پیدا ہو گا کہ آخر کبھی نبوت ختم ہوگی بھی یا نہیں؟ اگر یہ کہو کہ کبھی ختم نہیں ہوگی تو یہ ناممکن اور محال عقلی ہے۔ کیونکہ اگر کسی چیز کا شروع ہے تو اس کا ختم بھی ضرور ہے۔ ایک سرے کی رسی اور ایک کنارے کا دریا کبھی ہوتا ہی نہیں۔ بہر حال قیامت آنے سے پہلے کبھی نہ کبھی نبوت ختم ضرور ہوگی اور کوئی نہ کوئی ایسا نبی ضرور ہوگا جس کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہوگا اور قیامت آجائے گی۔ نبی اور سلسلہ نبوت دونوں ختم ہو جائیں گے۔ اس وقت یہ قرآن شریف موجود ہوگا یا نہیں، ضرور ہوگا اور قرآن میں وہ آیات:

”یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی (اعراف:٣٥)“ ”وانعم الله عليهم من النبیین والصديقين والشهداء والصلحین (نساء:٦٩)“ موجود ہوں گی یا نہیں، یقیناً ہوں گی۔ اس وقت ان سب آیات کا کیا مطلب ہوگا۔ سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہوگا۔ نبی آنے بند ہو چکے ہوں گے۔ آخرالانبیاء نبی آچکا ہوگا۔ اس وقت اجراء نبوت کا سوال ہی باقی نہ رہے گا۔ کوئی اور نئی وحی آنے کی نہیں کہ سلسلہ نبوت جو جاری تھا، بند کر دیا گیا اور نبوت ختم ہوگئی اور اگر کوئی ایسی وحی آئے گی بھی تو کس پر وہ ناسخ قرآن ہوگی اور یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ آنے والا نبی محمدﷺ کا متبع نبی ہوگا نہ کہ ناسخ شریعت غرضیکہ اجراء نبوت کا عقیدہ ہر طرح سے باطل ہے۔ مسلمانو اس سے بچو۔

اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ختم نبوت کے متعلق مختلف طریقوں سے کیا کیا ارشاد فرمایا ہے؟۔ ایک اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠ میں فرماتے ہیں: ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا حضرت محمدﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہﷺ پر ختم ہوگئی۔“

دیکھا آپ نے مرزا قادیانی نے کتنے زور دار الفاظ میں اور کتنی صفائی کے ساتھ ختم نبوت کے منکر اور مدعی کو کاذب اور کافر کہا ہے۔ اس قول کے بموجب وہ خود ہی کاذب اور کافر بن گئے ہیں۔ دوسرا کوئی کیا کہے۔

ازالۃ اوہام مرزا قادیانی کی مشہور کتاب ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں: ”اور رسول کی حقیقت

٨

اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو ص ٤٧٨) اور ”یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اُمّ ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ٥١١) تو کیا بغیر وحی بھی کو ص ١٨٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٧) میں فرماتے ہ بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا نبی بع اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت

جب حدیث ”لا نبی بعدی“ کی ص کی تصدیق کرتا ہے کہ نبوت ختم ہو چکی۔ تو اس تغلیط کرنے والا ہی کاذب اور کافر ہے۔

(فیصلہ آسمانی ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ٥ ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذ کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو جاؤ گے۔“

معلوم نہیں مرزائی امت مرزا قا کرے گی یا نہیں۔ کیونکہ خاتم النبیین کے بعد نے جاری کیا ہے۔

مرزا قادیانی (ازالۃ اوہام ص ٧٦١ حاشی ہیں۔ جس سے ثابت ہے کہ کوئی نبی کسی قسم کا النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں کہتا۔ جو جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ بی رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

کہئے مرزا قادیانی تو خود کہتے ہیں ہیں نہ کوئی نیا یا پرانا رسول آسکتا ہے۔ ذرا ا صاحب شریعت ہوتا ہے۔ مگر صرف متبع نبی

سرپرست کونسل ڈاکٹر نواز رانا محمد ارشد تبسم ناظم نشر و اشاعت رابطہ دفتر: جامع مسجد اللہ والی (اہلحدیث) المکرم ٹرسٹ، چوک ریلوے اسٹیشن سرگودھا نائب امیر جماعت مولانا اکرم طوفانی معاون مرکز عبد اللطیف خالد قانونی مشیر عظمت علی حمید ایڈووکیٹ مظہر احمد سعید ایڈووکیٹ

صفحہ ٤٥٣

اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔ (ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) اور ”یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٧٦، خزائن ج ٣ ص ٥١١) تو کیا بغیر وحی بھی کوئی نبی یا رسول ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ (کتاب البریہ ص ١٨٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٧) میں فرماتے ہیں کہ ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

جب حدیث ”لا نبی بعدی“ کی صحت میں کسی کو کلام نہیں تھا اور قرآن شریف بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ نبوت ختم ہو چکی۔ تو اب یہ باتیں غلط کیونکر ہو گئیں؟ سوائے اس کے ان کی تغلیط کرنے والا ہی کاذب اور کافر ہے۔

(فیصلہ آسمانی ص ١٥، خزائن ج ٤ ص ٣٢٥) اور (حقیقت النبوۃ ص ٦٢) پر فرماتے ہیں: ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو، دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“

معلوم نہیں مرزائی امت مرزا قادیانی کے اس قول کو مانے گی یا نہیں اور اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔ کیونکہ خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ مرزا قادیانی اور ان کی امت ہی نے جاری کیا ہے۔

مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٥٧٦، خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں ایک جگہ ایک ایسی بات کہہ گئے ہیں۔ جس سے ثابت ہے کہ کوئی نبی کسی قسم کا ہرگز ہو نہیں سکتا۔ فرماتے ہیں: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں کہتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

کہئے مرزا قادیانی تو خود کہتے ہیں کہ وحی رسالت بند ہے۔ اس لئے نہ جبرائیل آسکتے ہیں نہ کوئی نیا یا پرانا رسول آسکتا ہے۔ ذرا گھبرا کر یہ نہ کہہ دیجئے گا کہ رسول تو نہیں آسکتا کیونکہ وہ صاحب شریعت ہوتا ہے۔ مگر صرف متبع نبی آسکتا ہے کہ وہ صاحب شریعت نہیں ہوتا۔ پس کہئے

٩

صفحہ ٤٥٤

سے کام نہیں چل سکتا۔ کیونکہ آیت شریفہ لفظ خاتم النبیین ہی ہے۔ خاتم المرسلین نہیں ہے۔ جبھی تو جمہور اسلام اس کے قائل ہیں کہ چونکہ آیت میں لفظ خاتم النبیین ہے۔ اس لئے کوئی نیا نبی صاحب شریعت یا غیر صاحب شریعت ہر گز نہیں آسکتا۔ جو اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ قطعی کافر ہے۔ پھر یہ شعر بھی مرزا قادیانی ہی کا ہے۔ چنانچہ سراج منیر (ص ٣ خزائن ج ١٢ ص ٩٥) میں فرماتے ہیں:

ہست بروی خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت کا برو شد اختتام

یہ ہیں مرزا قادیانی کے اقوال ختم نبوت کے متعلق۔ ایک عقلمند آدمی حیران ہو گا کہ جو شخص ختم نبوت کے منکر اور مدعی نبوت کو کاذب اور کافر کہہ رہا ہے، پھر وہ خود ہی ختم نبوت کا منکر اور مدعی نبوت ہو یہ عجیب بات ہے۔ آخر معاملہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اقوال دعوے نبوت سے پہلے کے ہیں۔ اب آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تو نبی ہے تو مرزا قادیانی نے اپنے عقیدہ کو بدل دیا۔

لیکن پھر سوال پیدا ہو گا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا قادیانی نے قرآن شریف اور حدیث شریف یعنی کلام خدا اور کلام رسول کو صحیح سمجھا تھا یا غلط۔ اگر صحیح سمجھا تھا تو پھر دعویٰ نبوت کیوں کیا اور اگر غلط سمجھا تھا تو کلام خدا اور کلام رسول کو غلط سمجھنے والا شخص نبوت کے قابل ہی نہیں۔ بھلا جو شخص قرآن کا اور رسول کا متبع ہو کر قرآن اور حدیث کو سمجھے ہی گا نہیں وہ تبلیغ دین کیا خاک کرے گا۔ دوسرے یہ رسالت کا مسئلہ عقائد کا مسئلہ ہے۔ اس میں تنسیخ بھی جائز نہیں۔ اعمال تو تنسیخ سے بدل جاتے ہیں۔ مگر عقائد نہیں بدلا کرتے۔ تیسرے یہ کہ نبی اپنی ذات سے معصوم ہوتا ہے۔ وہ اس قسم کی غلطی کر ہی نہیں سکتا۔ اس کو تو خدا محفوظ رکھتا ہے کہ یہ ایسی بات نہ کہے جو کل کو غلط ثابت ہو۔ ورنہ لوگ اس کو نہ صادق کہیں گے نہ امین اور نہ وہ معصوم رہے گا اور نبوت کی یہی صفات ہیں۔ پس ایسا شخص جو نہ معصوم ہو نہ صادق ہو اور نہ امین ہو۔ وہ نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی نبوت کی تغلیط کے لئے یہ کافی ہے۔

ایک بات مسلمان کو یاد رکھنی چاہئے کہ کسی مسلمان کو یہ نہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام کے متعلق مرزا قادیانی کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی سچائی ابھی خود محل نزاع ہے۔ پس جب تک مرزا قادیانی کی سچائی ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک ان کی کوئی بات سچی نہیں مانی جاسکتی۔ اسلام کے متعلق ہمیشہ ہم کو یہ دیکھنا ہو گا کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ سو برس تک اسلام کیا تھا۔ ان

١٠

صفحہ ٤٥٥

مسائل کی نوعیت جن کو مرزا قادیانی پیش کرتے ہیں، کیا تھی؟ مرزا قادیانی کے اقوال اور ان کی باتوں کا نام اسلام نہیں ہے۔ خدا اور رسول کے احکام کا نام اسلام ہے۔ لہٰذا اسلام اور مسلمانوں کا یہ متفقہ اور مسلمہ مسئلہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہوچکی ہے اور اب کوئی نبی نہیں ہوگا۔

مرزا قادیانی بھی برسوں یہی کہتے رہے جیسا کہ اوپر ان کے اقوال سے ثابت ہوچکا ہے۔ لہٰذا اب اس کے خلاف مرزا قادیانی کی کوئی بات نہیں مانی جاسکتی۔ مرزائی صاحبان کو چاہئے کہ مسلمانوں کے سامنے مرزا قادیانی سے پہلے کا اسلام پیش کریں۔ مرزا قادیانی کا اختراعی اسلام کوئی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرزائیوں کو جو وہم سوار ہے۔ ذرا اس کو دور کردوں۔ ایک وہم ان کا یہ ہے کہ پہلے بڑے بڑے انبیاء اس مرتبہ کے نہیں تھے جیسے کہ ہمارے نبی کریم ہیں۔ ان کی امت بھی اس مرتبہ کی نہیں تھی جیسے کہ ہمارے نبی کی امت خیرالامم ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان نبیوں کے بعد ان کی امت میں سے ان کے متبع انبیاء ہوتے رہے اور ان کی امت پر انعام نبوت بند نہیں ہوا۔ مگر یہ امت جو خیر الامم ہے، انعام نبوت اس پر کیوں بند کردیا گیا؟

اجی جناب انعام بند نہیں کیا گیا۔ بلکہ کلیتہً عطا کردیا گیا ہے۔ کیا آپ اوپر ”واتممت علیکم نعمتی“ نہیں پڑھ چکے اور قرآن شریف میں دوسری جگہ یہ نہیں فرمایا کہ: ”واسبغ علیکم نعمه ظاهرة وباطنه“ ﴿اور اس نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردیں۔﴾

پس آپ کا یہ کہنا کہ امت محمدیہ پر انعام نبوت کیوں بند کردیا گیا، کفرانِ نعمت ہے۔ اس وقت یعنی پہلے نبی یوں ہوتے رہے کہ نبوت بند نہیں ہوئی تھی اور اب چونکہ نبوت بند ہوگئی۔ لہٰذا نبی نہیں ہوتے۔ انعامات کا حصر صرف نبوت پر ہی نہیں ہے۔ نبوت بھی انعام کی ایک فرد ہے۔ جو ہمارے نبی ﷺ پر ختم کردی گئی اور یہ چیز ایسی ہے کہ کہیں نہ کہیں جاکر ختم ضرور ہونی لہٰذا اس کا شرف ہمارے نبی کریم ہی کو دے دیا گیا۔ باقی اس سے کم درجہ کے انعامات مثلاً صدیقیت، شہادت، صالحیت، ولایت اور خلافت، مجددیت وغیرہ سب کے سب امت کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور نبوت کی سعادت و برکات میں نبی کے ساتھ اس کی امت بھی شریک ہوتی ہے۔ اس ہی لئے اس امت کا لقب خیرالامم ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ امت کا ہر فرد بشر نبی بنایا جائے۔ ساری امت کے لئے ایک ہی نبی کافی ہوتا ہے۔

صفحہ ٤٥٦

چنانچہ ہمارے نبی کریم سرور دو عالم اپنی ساری امت کے لئے کافی ہیں۔ ہمیں مرزا قادیانی کی یا کسی اور نبی کی ضرورت نہیں۔ اگر امت کے سارے لوگ نبی بنا دیئے جائیں۔ وہ پھر امت کہاں رہے گی؟ دوسرا وہم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو دعا سکھلائی ہے کہ: ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم (فاتحہ: ٥)“ ”ہم کو صراط مستقیم پر چلا، راہ ان لوگوں کے جن پر تو نے انعام کیا۔“ وہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں۔ دوسری آیت میں فرمایا: ”انعم اللہ علیھم من النبیین وصدیقین والشھداء والصالحین (نساء: ٦٩)“ ”یہ دعا ہم روزانہ پانچ وقت نماز میں مانگتے ہیں۔ پس اگر یہ دعا مانگ کر اور ان لوگوں کی راہ پر چل کر ہم ان جیسے نہیں بن سکتے تو یہ دعا مانگنا ہی بیکار ہے۔

میاں یہ دعا تو نماز میں عورتیں اور بچے بھی مانگتے ہیں۔ تو کیا عورتوں اور بچوں کو بھی نبوت ملنی چاہئے اور پھر یہ دعا کروڑوں مسلمان مانگتے ہیں تو کیا پھر سب کو نبی بنا دیا جائے؟ کیا بے عقلی کی سی باتیں ہیں۔ میاں معلوم بھی ہے کہ نبوت بنص قرآنی بند ہو چکی ہے۔ اس کے لئے دعا مانگنا ہی شریعت میں حرام ہے۔ اگر آپ نبوت کے لئے دعا مانگتے ہوں تو خدا کے لئے اس سے جلد توبہ کر لیجئے۔ ورنہ یہ دعا آپ کی کبھی قبول نہ ہوگی اور معصیت الگ سر رہے گی۔

پہلے آپ کو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ راہ مستقیم اور انعام یافتہ لوگوں کی راہ سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے اسلام کی راہ، لہٰذا جو مسلمان ہیں۔ وہ بفضلہ تعالیٰ اسلام پر چل رہے ہیں۔ ان کی دعا قبول ہو رہی ہے۔ اب رہے مرتبے کہ نبوت تو بند ہو چکی البتہ صدیقیت، شہادت، صالحیت، ولایت وغیرہ ان مرتبوں کے لئے آپ دعا بھی کیجئے اور کوشش بھی کیجئے۔ اگر عطاء ربانی شامل حال ہوگی تو ان میں سے کوئی نہ کوئی مرتبہ آپ کو بھی مل جائے گا ورنہ ہم تو روزانہ یہ دعا مانگتے ہیں کہ: ”اللھم احینا علی الاسلام وتوفنا علی الایمان“ اگر اللہ تعالیٰ اس ہی کو قبول کر لیں تو اس کی بڑی مہربانی ہے اور شہادت حاصل کرنے کی اس سے آسان ترکیب ہے کہ آپ خدا کے لئے یعنی فی سبیل اللہ جہاد کیجئے اور شہید بن جائیں۔ یہ مرتبہ محض دعا سے حاصل نہ ہو سکے گا۔

ایک مرزائی صاحب نے آیت شریفہ: ”ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین (نساء: ٦٩)“ ”جو اطاعت کرے اللہ کی اور رسول کی پس وہ ساتھ ہوں گے ان لوگوں کے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبیین، صدیقین اور شہداء اور صالحین کے“ پیش کر کے ہم سے کہا کہ اس

١٢

صفحہ ٤٥٧

آیت کی رو سے جولوگ اس امت میں سے خدا اور رسول کی اطاعت کریں۔ وہ نبی ،صدیق، شہید اور صالحین ہوسکتے ہیں۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ جناب اس آیت میں تو صرف ان لوگوں کی معیت کا ذکر ہے جو مسلمان اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان بزرگوں کے ساتھ ہوں گے۔ کہاں ساتھ ہوں گے؟ جنت میں اور جنت کے درجات میں کیا آپ کو اتنی بات بھی معلوم نہیں کہ نبی بننے اور نبی کے ساتھ ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

اس آیت کا آخری فقرہ جو اس ساری آیت کی تفسیر ہے۔ اس کو آپ ہضم کر گئے۔ اس آیت کا آخری فقرہ ہے: ”وحسن اولئك رفيقاً (نساء: ٦٩) “ یعنی یہ لوگ نبی، صدیق، شہید، صالحین مسلمانوں کے اچھے رفیق ہیں۔ پھر فرمائیے آپ کا مدعا کیونکر ثابت ہوا۔ آیت کے اس آخری فقرے نے تو آپ کے سارے استدلال کی جڑ ہی کاٹ دی۔ پھر فرمایا جب اس امت میں مسلمان صدیق، شہید، صالح بن سکتا ہے۔ تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟ ہم نے عرض کیا کہ یوں نہیں بن سکتا کہ آیت خاتم النبیین کی رو سے ہر قسم کی نبوت بند ہے۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب سراج منیر (ص ٥ خزائن ج ١٢ ص ٩٥) میں خود فرماتے ہیں:

ہست آخر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام

اور صدیق، شہید اور صالحین یوں ہوسکتے ہیں کہ قرآن شریف میں ان کا ہونا ثابت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”والذين امنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء عندربهم (حديد: ١٩) “ صدیق اور شہداء کا ہونا اس آیت سے ثابت ہوا اور صالحین کی بابت فرمایا کہ: ”ان تكونوا صالحين فانه كان للا وابين غفوراً (بنی اسرائیل: ٢٥) “ کہئے! تینوں کا قرآن شریف سے ہونا ثابت ہوا یا نہیں۔ پھر فرمایا کہ آیت میں نبی کا لفظ موجود ہے۔ اگر ان میں سے ایک نعمت کا حصول ناممکن ہے تو سب کا انکار لازم آئے گا۔

ہم نے عرض کیا کہ جناب انکار تو آپ خود ہی فرمارہے ہیں کہ تشریعی نبی نہیں ہوگا۔ حالانکہ سب سے بڑی نعمت تشریعی نبوت ہی ہے۔ اس کے آپ خود منکر ہیں کہ تشریعی نبی نہیں ہوگا۔

ہم آیت خاتم النبیین کی بناء پر کہتے ہیں کہ تشریعی یا غیر تشریعی نبی نہیں ہوگا اور آپ کہتے ہیں کہ تشریعی نبی نہیں ہوگا اور غیر تشریعی ہوگا اور کوئی ثبوت قرآن مجید سے پیش نہیں کرتے اور یہ جو بار بار آپ فرماتے ہیں کہ خدا اور رسول کی اطاعت سے مسلمان نبی بن سکتا ہے۔ مگر یہ تو بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ میں آل رسول خلفائے راشدین و دیگر بڑے بڑے صحابہ، تابعین، تبع

١٣

صفحہ ٤٥٨

تابعین، اولیائے کرام، صوفیائے، علماء، قطب، غوث، ابدال و دیگر بزرگان دین میں سے صحیح معنوں میں کوئی متبع رسول ہوا یا نہیں۔ اگر ہوا تو اس میں سے کسی کو نبوت کیوں نہیں ملی اور مرزا قادیانی جو صحیح معنوں میں متبع رسول نہیں تھے۔ کیونکہ ان کے عقائد صحیح نہیں تھے۔ اخلاق اچھے نہیں تھے۔ اعمال کے اعتبار سے تارک فرائض تھے۔ نہ ہجرت کی، نہ جہاد کیا، نہ حج کیا نہ نصاب کے حساب سے زکوٰۃ دی۔ ان کو نبوت کس عمل کے صلہ میں مل گئی؟

وہ عمل ہم کو بتلانا بھی چاہئے تاکہ ہم بھی نبی بننے کی کوشش کریں۔ کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ نبوت کسبی نہیں ہے۔ وہبی ہے۔ کسی عمل کے صلہ میں نہیں مل سکتی۔ ہم نے عقلی دلائل سے قرآن شریف کی آیات سے مرزا قادیانی کے اقوال سے غرض ہر طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی کسی قسم کا نہیں آئے گا۔

ہمارے اور مرزا قادیانی کے درمیان صرف یہی ایک مسئلہ بنیادی ہے۔ اگر نبوت جاری ہے تو کوئی نہ کوئی ضرور نبی آ سکتا ہے۔ وہ مرزا قادیانی ہوں یا کوئی اور۔ اگر نبوت ختم ہو چکی ہے جیسا کہ حقیقت یہی ہے تو مرزا قادیانی کیا کسی بھی نبی کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پس سمجھنا چاہئے کہ ختم نبوت کے ساتھ مرزائی مذہب بھی ختم ہے اور اسی نسبت سے ہم نے اس چھوٹے سے رسالہ کا نام ”مرزائی مذہب کا خاتمہ“ رکھا ہے۔ جن لوگوں کے نصیب میں ہدایت لکھی ہے۔ وہ اس سے ہدایت پائیں گے ورنہ جن کو خدا ہی نے گمراہ کر دیا ہے۔ ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے

دیگر مسائل جیسے وفات مسیح، رفع، خلا وغیرہ پر بحث بالکل فضول ہے۔ کیونکہ یہ بنیادی مسائل نہیں ہیں نہ مرزا قادیانی کی نبوت سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ اسلام مرزا قادیانی کی پیدائش سے پہلے بھی تھا۔ یہ نہیں کہ اسلام ہم کو مرزا قادیانی نے آکر بتلایا ہو۔ لہٰذا ہم اسلام کے ہر مسئلہ کو مرزا قادیانی کی پیدائش سے پہلے جو کچھ تھا۔ اس طرح مانیں گے۔ مرزا قادیانی کے کہنے سے یا ان کے بتلانے سے ہرگز نہ مانیں گے۔ کیونکہ ہمارے پاس صحیح اور مکمل اسلام پہلے سے موجود ہے۔

وما علينا الا البلاغ

خادم الاسلام ابوالنذیر ناظم انجمن تبلیغ دین حال مہاجر مغربی پاکستان راولپنڈی یکم جنوری ١٩٥٠ء مطابق ١١ ربیع الاول ٦٩ ھ ١٤

مرزا قادیانی کے نبی نہ ہونے کے دلائل

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ مبعوث ختم مرزا قادیانی پھر بھی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔ وجوہ

مسیح موعود اور کبھی ظلی اور بروزی نبی، کبھی غیر تشر ہے کہ وہ ان میں سے کچھ بھی نہ تھے۔

معصوم تھے۔ نہ امین، نہ صادق، نہ ان میں انبیاء تھے۔ لہٰذا وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔

فرماتے ہیں کہ رسول کی حقیقت میں یہ امر داخل ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیام وحی جبرائیل کے کوئی نبی ہو نہیں سکتا اور مرزا قاد قادیانی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔

کا علم اکتسابی تھا۔ یعنی استادوں سے سیکھ کر اور کتا کہ ان کو علم نبوت حاصل تھا۔ بس جب ان کو علم نب

انسان کا دماغی توازن صحیح نہیں رہتا۔ کبھی جنون کچھ کہتا ہے اور یہ امر منافی نبوت ہے۔ لہٰذا ایسا

کیا نہ جہاد بلکہ جہاد کے منکر تھے۔ بس ایسا شخ احکام کا منکر ہو، ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔

ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہ نبی ہرگز نہیں ہو سکتے۔

صفحہ ٤٥٦

مرزا قادیانی کے نبی نہ ہونے کے دلائل

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی، بلکہ جاری ہے تو بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی پھر بھی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔ وجوہات حسب ذیل ہیں:

مسیح موعود اور کبھی ظلی اور بروزی نبی، کبھی غیر تشریعی نبی اور کبھی تشریعی نبی بنتے رہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان میں سے کچھ بھی نہ تھے۔

معصوم تھے۔ نہ امین، نہ صادق، نہ ان میں انبیاء جیسی فراست نہ وہ عقل سلیم اور خلق عظیم کے مالک تھے۔ لہٰذا وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔

فرماتے ہیں کہ رسول کی حقیقت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔ جب وحی رسالت بند ہے اور بغیر وحی جبرائیل کے کوئی نبی ہو نہیں سکتا اور مرزا قادیانی کے پاس جبرائیل کبھی وحی نہیں لائے تو مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔

کا علم اکتسابی تھا۔ یعنی استادوں سے سیکھ کر اور کتابیں پڑھ کر حاصل کیا تھا۔ لہٰذا ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ ان کو علم نبوت حاصل تھا۔ بس جب ان کو علم نبوت تھا ہی نہیں تو وہ نبی کیسے ہو سکتے ہیں۔

انسان کا دماغی توازن صحیح نہیں رہتا۔ کبھی جنون کی سی حالت ہو جاتی ہے۔ کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ کہتا ہے اور یہ امر منافی نبوت ہے۔ لہٰذا ایسا شخص نبی ہرگز نہیں ہو سکتا۔

کیا نہ جہاد بلکہ جہاد کے منکر تھے۔ بس ایسا شخص جو تارک الفرائض ہو اور خدا اور رسول خدا کے احکام کا منکر ہو، ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔

ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہ نبی ہرگز نہیں ہو سکتے۔

١٥

صفحہ ٤٦٠

لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

ہیں۔ لہٰذا وہ نبی ہرگز نہیں ہو سکتے۔

(ابراہیم: ٤)" "اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی بھیجے، ان کی زبان میں وحی بھیجی۔ کسی نبی کو مختلف زبانوں میں الہام یا وحی نہیں ہوئی اور چونکہ مرزا قادیانی کو مختلف زبانوں میں الہام یا وحی ہوتی تھی۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

حیلوں سے دولت حاصل کی اور چندے وصول کئے اور خوب مزے اڑائے۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

پھر کیسے مانا جائے کہ مرزا قادیانی نبی تھے۔ بے جا تاویلات کر کے اور کھینچ تان کر قرآن کی آیات اور احادیث کو اپنے اوپر چپکانے سے تو کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا۔ نبوت چونکہ عقائد کا مسئلہ ہے۔ اس لئے اس کے لئے نص صریح ہونا چاہئے۔ ورنہ ایسے تو ہر وہ شخص جس کا نام موسیٰ، عیسیٰ، یا محمد ہو، یہ کہہ کر کہ دیکھو میرا نام قرآن میں ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

انہوں نے جھوٹ بولا اور اپنی امت کو دھوکہ دیا کہ آنے والا تھا غلام احمد قادیانی اور بتلا دیا کہ عیسیٰ ابن مریم کا۔ جہاں حضورﷺ نے یہ فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم آئے گا، وہاں آپﷺ آسانی سے یہ بھی تو فرما سکتے تھے کہ قادیان میں ایک نبی ہوگا۔ اس کو مان لینا تاکہ حجت تمام ہو جاتی اور کوئی اختلاف نہ رہتا۔ چونکہ حضورﷺ نے مرزا قادیانی کی بابت کچھ نہیں فرمایا لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

گئے۔ مجھے مانو۔ مرزا قادیانی کے آنے سے مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوئی۔ دین اسلام کے تین

١٦

بڑے ارکان ہیں۔ عقائد، اخلاق، اعمال پھیل گئی۔ اخلاق تو بالکل ہی خراب ہوئے ارکان مرزا قادیانی کے بھی ٹھیک نہیں تھے اعمال ٹھیک نہیں تھے تو وہ دوسروں کی اصلاح

او خویش گم

کلام میں بے انتہاء تضاد موجود ہے۔ کبھی ہیں۔ کبھی وہ حیات مسیح کے قائل تھے۔ پھر تھے۔ پھر اس سے انکار کر کے اجراء نبوت پھر نبی بن بیٹھے۔ غرض ان کی بات کا ان کے اللہ پاک نے اپنے کلام قرآن کے پاس سے آیا ہوتا تو اس میں اختلاف ہونا دلیل ہے۔ اس بات کی ان کا کلام ہے۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کیا ص١٠٣) اس کی بابت ایک مرزائی نے فر کہا کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ماننی جھوٹا یا غلط ہے۔ اگر سچا اور صحیح ہے تو اس چونکہ نبی کو جھوٹے اور غلط خواب نہیں ہوتے "ربنا عاج کہ میرا خدا ہاتھی دانت کا ہے اس قسم کی غلط باتیں نہیں کہا کرتا۔ لہٰذا وہ ن

صفحہ ٤٦١

بڑے ارکان ہیں۔ عقائد، اخلاق، اعمال۔ مسلمانوں کے عقائد پہلے سے زیادہ بگڑ گئے۔ دہریت پھیل گئی۔ اخلاق تو بالکل ہی خراب ہو گئے۔ اعمال کی خرابی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں اور یہ تینوں ارکان مرزا قادیانی کے بھی ٹھیک نہیں تھے۔ جب خود مرزا قادیانی کے ہی عقائد اور اخلاق اور اعمال ٹھیک نہیں تھے تو وہ دوسروں کی اصلاح کیا کرتے؟ لہٰذا ایسا شخص نبی ہرگز نہیں ہو سکتا:

او خویش گم ست کرا رہبری کند

کلام میں بے انتہاء تضاد موجود ہے۔ کبھی وہ کسی بات کا اقرار کرتے ہیں پھر اسی کا انکار کر دیتے ہیں۔ کبھی وہ حیات مسیح کے قائل تھے۔ پھر وفات مسیح کے قائل ہو گئے۔ پہلے وہ ختم نبوت کے قائل تھے۔ پھر اس سے انکار کر کے اجراء نبوت کے قائل ہو گئے۔ پہلے کہتے تھے کہ میں نبی نہیں ہوں۔ پھر نبی بن بیٹھے۔ غرض ان کی بات کا ان کے قول قرار کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

اللہ پاک نے اپنے کلام قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کے پاس سے آیا ہوتا تو اس میں اختلاف کثیر ہوتا۔ پس مرزا قادیانی کے کلام میں اختلاف کثیر کا ہونا دلیل ہے۔ اس بات کی ان کا کلام خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ سب من گھڑت ہے۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتے۔

دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں ۔“ (کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج١٣ ص ١٠٣) اس کی بابت ایک مرزائی نے فرمایا کہ یہ خواب کی بات ہی کفر کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گی۔ یا تو مرزا قادیانی کا یہ خواب سچا اور صحیح ہے۔ یا جھوٹا یا غلط ہے۔ اگر سچا اور صحیح ہے تو اس کے کفر ہونے میں کیا شبہ ہے اور اگر جھوٹا اور غلط ہے تو چونکہ نبی کو جھوٹے اور غلط خواب نہیں ہوا کرتے۔ لہٰذا مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں۔ ایک جگہ فرمایا :”ربنا عاج کہ میرا خدا ہاتھی دانت کا ہے۔“ (براہین ص ٥٥٤، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٢ حاشیہ در حاشیہ) نبی اس قسم کی غلط باتیں نہیں کہا کرتا۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہو سکتا۔

١٧

صفحہ ٤٦٢

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین خاتم النبیین

موقف الامۃ الاسلامیۃ

من القادیانیۃ

تالیف مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید مترجم مولانا محمد طارق محمود ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان رابطہ دفتر: ٥ چناب مارکیٹ بالمقابل مین گیٹ پنجاب یونیورسٹی لاہور فون: ٥٨٦٣٥٩٩ Aalmi Majlis Tahaffuz Khatm-e-Nubuwwat Multan (Pakistan)

لہٰذا مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں ہو سکتے۔

الفاظ کسی کی نسبت نہیں کہا کرتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں تھے۔

تعالیٰ نے فرمایا: ”کتب علیکم القتال (بقرہ:٢١٦)“ ﴿کہ تم پر جہاد یعنی قتال فرض کیا گیا۔﴾ پھر: ”وجاھدوا فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم (توبہ:٤١)“ ﴿یعنی جہاد کرو اللہ کے راہ میں مال سے اور جان سے۔﴾ اور مرزا قادیانی نے صرف یہی نہیں کہ جہاد نہیں کیا۔ بلکہ اس فرض کا انکار کیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ جہاد کو منسوخ قرار دے دیا۔ چنانچہ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧) میں فرماتے ہیں:

اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
لوگوں کو یہ بتائیے کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

بتلائیے ایسا شخص جو خدا کے حکم کو منسوخ قرار دے۔ فرض کو حرام بتلائے۔ عقائد اسلامیہ میں تبدیلی کرے۔ نبی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ایسا شخص نبی تو کیا مسلمان بھی نہیں رہ سکتا۔

خادم الاسلام ...... ابوالنذیر راولپنڈی ١١ ربیع الاول مطابق یکم جنوری ١٩٥٠ء فرنٹیئر پریس صدر راولپنڈی

١٨

صفحہ ٤٦٦

نائب امیر مرکز مولانا محمد رمضان باندھویؒ مہتمم جامعہ عربیہ ہتھورا، باندہ (یو۔ پی) رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند مدیر مولانا مفتی محمد اعجاز مصطفیٰ معاون مدیر عبد اللطیف طاہر قانونی مشیر حکمت علی چیمہ ایڈووکیٹ منظور احمد چوہان ایڈووکیٹ سرکولیشن منیجر محمد داؤد کمپوزنگ و گرافکس محمد ارشد، محمد اسمعیل، محمد عرفان خان رابطہ دفتر: جامع مسجد، ڈسپلن لائن، کینٹ، لاہور۔

س دی ہیں۔ کوئی نبی ایسے اخلاق سے گرے ہوئے نی ہرگز نہیں ہو سکتے تھے۔ آن شریف میں جہاد کا حکم موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ (بقرہ: ٢١٦) "کہ تم پر جہاد یعنی قتال فرض کیا باموالكم وانفسكم (توبہ: ٤١) "یعنی جہاد ہے اور مرزا قادیانی نے صرف یہی نہیں کہ جہاد نہیں یا بلکہ جہاد کو منسوخ قرار دے دیا۔ چنانچہ (ضمیمہ تحفہ ہیں:

، دوستو جہاد کا خیال
ہے اب جنگ اور قتال
، دین کا امام ہے
وں کا اب اختتام
ور خدا کا نزول ہے
کا فتویٰ فضول ہے
، کہ وقت مسیح ہے
ر حرام اور قبیح ہے
جو کرتا ہے اب جہاد
یہ رکھتا ہے اعتقاد

منسوخ قرار دے۔ فرض کو حرام بتلائے۔ عقائد میں، ایسا شخص نبی تو کیا مسلمان بھی نہیں رہ سکتا۔

خادم الاسلام ........ نیاز لدھیانوی ١١ ربیع الاول مطابق یکم جنوری ١٩٥٠ء فرنٹیئر پریس صدر راولپنڈی

خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

عقیدہ ختم نبوت

لَا نَبِيَّ بَعْدِي

اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے

بناسُپتی نبوت

جناب نیاز لدھیانوی صاحب

صفحہ ٤٦٤

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مرزائیوں کی خواہش کیا ہے؟

مرزائی آج کل کوشش کر رہے ہیں کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کو کسی نہ کسی طریق سے ناکام بنایا جائے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ یہ تحریک ختم ہوگئی۔ ان کا مقصد فقط یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو بھڑکا کر یا تو حکومت سے ٹکرا دیں یا پھر مسلمانوں میں بد دلی پھیلا کر تحریک سے برگشتہ کردیں تاکہ ان کو پھر اپنے مکرو فریب کے جال میں پھنسایا جائے۔ مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانانِ پاکستان ان کی سب چالوں کو سمجھ رہے ہیں۔ مرزائیوں نے ایک اور مذموم حرکت بھی کی ہے۔ اپنے اخبار الفضل کا خاتم النبیین نمبر نکال کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے بھی ہم مسلمان کو اس تحریک سے جدا کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ میں یہ اپنا دینی اور دنیوی فرض سمجھتا ہوں کہ ان کے دجل وفریب کو آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر دوں تاکہ ناظرین کرام پر واضح ہو سکے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔ زیر نظر ٹریکٹ میں آپ کو معلوم ہو گا کہ کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانانِ عالم ، صحابہ کرام، اہلبیت، انبیاء کرام حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کی ہے اور خود کو تمام انبیاء کرام سے افضل ثابت کیا ہے۔

١...... مسلمانانِ عالم پر کفر کا فتویٰ

”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)

ترجمہ: کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی۔ مگر کنجریوں کی اولاد جنکے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

یعنی جو مسلمان میری دعوت (نبوت) کو نہیں مانتا وہ کنجریوں کی اولاد ہے۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا فضل احمد نے مرزا قادیانی کے باطل دعویٰ کو تسلیم نہیں کیا تو پھر وہ کس کی اولاد ٹھہرا اور مرزائی امت کی اما جان (مرزا قادیانی کی بیوی) کون سی عورت قرار پائیں؟

٢

شوق ہے اور حلال زادہ کے

استعمال کئے جائیں امن کا دعویدار شخص کے والد کا حلالی ہونا ثابت قادیانی کا منکر تھا۔ وہ کیا ہوا اور خـ مرزائیہ اس کا جواب دے؟۔

ان الـ ونفـ

ترجمہ: بیشک ہمارے سے بڑھ کر ہیں کل مسلمان جو حق خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں، (آئی مرزا فضل احمد کا نماز جنازہ نہیں خارج تھا۔

ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خد

فرستادہ خدا کا امین اور خدا کی طر جہنمی ہے۔“

صفحہ ٤٦٥

شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣١)

سوال ...... نوابزادہ، وزیرزادہ وغیرہ کے الفاظ ثابت کرتے ہیں کہ جس انسان کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے جائیں اس کا والد یا تو نواب ہے یا وزیر یا پیر ہے۔ اسی طرح حلال زادہ سے مراد اس شخص کے والد کا حلالی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مگر مرزا فضل احمد جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے کہ مرزا قادیانی کا منکر تھا۔ وہ کیا ہوا اور خود مرزا قادیانی کیا تھا اور اس کی والدہ کا چال چلن کیسا تھا۔ امت مرزائیہ اس کا جواب دے؟۔

ج ......

ان العداء صاروا خنازير الفلا
ونساءهم من دونهن الاكلب

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

ترجمہ: بیشک ہمارے دشمن (مسلمان) جنگل کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ کر ہیں کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں، (آئینہ صداقت ص ٣٥) اس لئے تو مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ نے مرزا فضل احمد کا نماز جنازہ نہیں پڑھا۔ کیونکہ وہ ان کے عقائد کی بناء پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تھا۔

ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(معیار الاخیار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

فرستادہ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٦)

٣

صفحہ ٤٦٦

آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت جھوٹا مانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کا منکر ہے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ١٥)

ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے کراچی میں موجود ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے محبوب قائد اعظم کا نماز جنازہ نہیں پڑھا۔ سنی، شیعہ، مقلد غیر مقلد حتیٰ کہ ہر عقیدہ و ہر مسلک اور ہر مدرسہ فکر کے مسلمانوں نے بغیر کسی اختلاف کے نماز جنازہ پڑھی۔ جب ظفر اللہ سے حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد نے سوال کیا تو ظفر اللہ نے جواب دیا کہ بے شک میں نے قائد اعظم کا جنازہ عمداً نہیں پڑھا۔ میں اس کو صرف سیاسی لیڈر سمجھتا ہوں۔ اس پر حضرت مولانا ممدوح نے پوچھا کیا آپ مرزا قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں حالانکہ تم اسی مسلمان حکومت کے وزیر بھی ہو؟ سر ظفر اللہ خان نے کمال بے باکی سے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر ملازم ۔ تم کو بھی ایسا سمجھنے کا حق ہے۔“

(منقول از اخبار زمیندار ٢٠ مارچ / ١٩٥٠ء)

اب قارئین کرام سے درخواست ہے کہ مندرجہ بالا حوالہ جات سے فیصلہ فرما دیں کہ تمام دنیا کے مسلمان سور، مسلمان عورتیں کتیا اور محمد عربی ﷺ کے ماننے والے، وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین صاحب، سردار عبد الرب نشتر، میاں مشتاق احمد گورمانی و دیگر وزراء، وزیر اعلیٰ سردار، وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر اعلیٰ بنگال، وزیر اعلیٰ بلوچستان، ممبران اسمبلی، صوبوں کے گورنر، گورنر جنرل اور باقی تمام اسلامی ممالک کے حکمران، علماء، فرزندان توحید کیا ہوئے؟ ثابت ہوا کہ یہ خود ہی ایک علیحدہ قوم ہیں۔ جن کا قرآن بھی الگ، حج بھی الگ، نماز بھی الگ، خدا بھی جدا، نبی بھی الگ۔ پھر مسلمانان پاکستان ان حقائق کی روشنی میں مرزائیوں کو علیحدہ غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے

٤

کے مطالبہ میں حق بجانب ہیں یا غلط

٢...... صحابہ کرام کی توہین

داخل ہوا ۔“

مرزائی آئے دن ہم پر یہ ال ہیں۔ ہم نے مندرجہ بالا حوالہ کی تقری کتاب سے نقل کی ہے۔

پر کسی ایک آدمی کو بھی بیٹھنے کی اجازت کے مشہور معروف وزیر خارجہ چودھری سے تھے جنہیں پلیٹ فارم پر جگہ ملی تھی

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا میدان بدر میں نکلے اور فتح نے ان کے ہے۔ ٣١٣ کا نشان اور مرزا محمود کا ا محمود نے اپنے سالانہ جلسہ واقع ر دھمکی دی۔

مجھے پکڑ سکتی ہے۔ مار سکتی ہے۔ مگر بالکل وہی ہے جیسا کہ فتح مکہ کے ب سے ایسے سلوک کی خواہش کی تھی جو بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ وہ وقت سامنے پیش ہوں گے۔“

اوپر کے بیان سے ثاب

صفحہ ٤٦٧

کے مطالبہ میں حق بجانب ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔

٢......صحابہ کرام کی توہین

داخل ہوا۔“

(خطبہ الہامیہ ص٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨،٢٥٩)

مرزائی آئے دن ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم کتر بیونت کر کے حوالے شائع کرتے ہیں۔ ہم نے مندرجہ بالا حوالہ کی تشریح خود ہی مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم ۔اے کی کتاب سے نقل کی ہے۔

پر کسی ایک آدمی کو بھی بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جو ”صحابی“ نہ ہو یا جو خلیفہ کا قریبی نہ ہو۔ پاکستان کے مشہور معروف وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ ایک معمولی دری فرش تھے اور وہ ان ٣١٣ لوگوں میں سے تھے جنہیں پلیٹ فارم پر جگہ ملی تھی۔“

(منقول از اخبار آفاق بعنوان لاہور کی ڈائری، م ش، ٣٠ نومبر ١٩٥١ء)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کو یہ کہنا تھا کہ جب حضرت محمد ﷺ ٣١٣ صحابہ کو لے کر میدان بدر میں نکلے اور فتح نے ان کے قدم چومے۔ چنانچہ مرزا محمود کا بیان بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ ٣١٣ کا نشان اور مرزا محمود کا اپنے آپ کو محمد ثابت کرنا کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ چنانچہ مرزا محمود نے اپنے سالانہ جلسہ واقع ربوہ (چناب نگر) ضلع جھنگ میں اپنے مخالفوں کو ان الفاظ میں دھمکی دی۔

مجھے پکڑ سکتی ہے۔ مار سکتی ہے۔ مگر میرے عقائد کو نہیں دبا سکتی۔ میرا عقیدہ فتح پانے والا ہے اور بالکل وہی ہے جیسا کہ فتح مکہ کے بعد ابو جہل کے حامیوں نے رسول کریم ﷺ سے استفسار پر ان سے ایسے سلوک کی خواہش کی تھی جو حضرت یوسف علیہ السلام نے درگزر سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ وہ وقت آنے والا ہے کہ جب یہ لوگ مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔“

(منقول از اخبار آفاق ٣٠ ستمبر ١٩٥١ء)

اوپر کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا محمود کوئی ایسی سازش تیار کر چکا ہے جس کے

٥

PDF 469

امیر مولانا محمد اکرم طوفانی معاون مرکز عبد اللطیف خالد قاری محمد قاسم حشمت علی حبیب ایڈووکیٹ مظہر احمد سعید ایڈووکیٹ سرپرست پنجم مجاز طریقت : محمد ارشد محمود، فیصل خان خاقان مرکزی دفتر : جامع مسجد اقصی چناب نگر (ربوہ) رابطہ نمبر : احترام سے گذارش ہے کہ اس کو محفوظ رکھیں Bahishti Maqbara (Qadian)

ذریعہ سے وہ مملکت پاکستان پر قبضہ کر لے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے ، مرزا ظفر اللہ بھی اس سازش میں شریک ہیں۔ تب ہی تو یہاں اسٹیج پر بیٹھ کر یہ تقریر کی گئی ہے۔

٣..... توہین انبیاء سابقین

زنده شد ہر نبی بآمد نم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

ترجمہ: میری آمد کی (مرزا) کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا اور ہر رسول میری (مرزا قادیانی) قمیص میں چھپا ہوا ہے۔

منم مسیح زماں و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

ترجمہ: میں مسیح زماں ہوں۔ میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں۔ میں محمد میں احمد مجتبیٰ ہوں۔

طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ داؤد ہوں۔ عیسیٰ ہوں اور آنحضرت کے نام میں مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں۔ نوح ہوں۔ ابراہیم ہوں۔ اسحاق ہوں۔ یعقوب ہوں۔ اسماعیل ہوں۔ موسیٰ ہوں۔ داؤد ہوں۔ عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ محمد ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اس کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے ہیں اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول ، نبیوں کے پیرایوں میں سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی

٦

جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا

میں سبھی آدم
نیز ابراہیم ہ
آدم نیز احمد
آنچه دادست ہر نبی را

”میں آدم ہوں، نیز احمد ہو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں۔ ان تمام پیالو

انبیاء گرچہ بودہ اند

”اگرچہ دنیا میں بہت سے سے کم نہیں ہوں۔“

کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے ہ

روضہ آدم
میرے آنے
صفحہ ٤٦٩

جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ ظہور ہو۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٠٣، خزائن ج٢١ ص٥٢١)

آدم نیز ، احمد مختار دربرم جامہ ، ہمہ ابرار
آنچہ دادست ہر نبی را جام دادآں جام را مرا بتمام

”میں آدم ہوں، نیز احمد مختار ہوں میں۔ تمام نبیوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں۔ ان تمام پیالوں کا مجموعہ ہوں میں۔“

(درثمین فارسی ص ١٦٣، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج١٨ ص ٤٧٧)

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زکسے

(درثمین فارسی ص ١٦٣، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج١٨ ص ٤٧٧)

”اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں۔“

کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ،ص٩٠،خزائن ج٢١ ص١١٧)

روضہ آدم تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

(درثمین اردو ص٨٤، خزائن، ج٢١ ص١٣٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١١٤)

٧

صفحہ ٤٧٠

معزز ناظرین! مندرجہ بالا حوالہ جات میں مرزا قادیانی نے کس ڈھٹائی، بے شرمی سے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ ہی انبیاء کرام کی توہین کی اور لاہوری قادیانی بتائیں کہ تم جو روز روز مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہو کہ مرزا قادیانی نے کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تو کیا مندرجہ بالا حوالوں سے مجددیت برستی ہے۔ اس نے تو صاف الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ میں نبی اور رسول ہوں۔ بلکہ تمام انبیاء کا مظہر اپنے آپ کو قرار دیا۔ کیوں اس کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔ اگر تمہارا ایمان یہ ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں آسکتا تو بھیجو اس کذاب پر تین حرف اور کلمہ پڑھ کر امت محمدیہ میں داخل ہو جاؤ تاکہ قیامت میں شفیع دوجہاںﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔ اگر اوپر کے حوالہ جات کافی نہیں تو کیا اس سے بھی انکار کرو گے۔

صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اپنے غصے کے لہجے میں فرمایا: ”جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آجاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٣٥، روایت نمبر ٤٢)

٤...... توہین اہل بیت کرامؓ

طاری تھی اور نہ ہی کوئی بے ہوشی کے آثار تھے۔ بلکہ بیداری کے عالم میں تھا۔ اچانک سامنے سے آواز آئی۔ آواز کے ساتھ دروازے کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں کہ دروازے کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آرہے ہیں۔ بے شک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علیؓ ساتھ اپنے بیٹوں کے اور یہ دیکھتا ہوں کہ فاطمہؓ نے میرا سر (مرزا) اپنی ران پر رکھ لیا اور میری طرف گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔“

(ترجمہ آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٩، ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ٥٤٩، ٥٥٠)

شتان ما بینی و بین حسینکم فانی اوید کل ان وانصر

”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

امام حسین فانکرو انه دشت کربلا الى هذا الايام تبكون فانظرو

٨

صفحہ ٤٧١

”مگر حسین، پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو

(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

کربلائیست سیر هر آنم صد حسین است در گریبانم

”میں ہر وقت کربلا کی سیر کرتا ہوں اور سینکڑوں حسین میری جیب میں ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

جب دو شخص آپس میں جھگڑ پڑیں تو ایک دوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اور اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے چل بے چل، تیرے جیسے سینکڑوں آدمی تو میری جیب میں پڑے ہیں۔ تو کس باغ کی مولی ہے، آیا کہیں سے بڑا۔ مرزائیو! خدارا انصاف سے کہو کہ حضرت امام عالی مقام شہید کربلا کی توہین نہیں تو کیا ہے؟

کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم میں ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

نسيتم جلال المجد يالعمی وما ذكرتم الا حسين أتنكر
فهذا على الاسلام احدی المصائب لدى نفحات المسك قذر مقنطر

”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہار اور دصرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ (انسانی گندگی) کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

ناظرین کرام! بے شرمی ملاحظہ ہو کہ حضرت عالی مقام کے ذکر کو نعوذ باللہ گندگی کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے اور اپنے ذکر کو کستوری سے۔ حالانکہ مسلمان ہر وقت درود پڑھتے ہوئے ان الفاظ کا تکرار ضرور بضرور کرتا ہے: (اللهم صل على محمد وعلى ال محمد) آل میں حضرت سیدنا امام حسین کی ذات بابرکات بھی ہے۔ مگر بے شرم کی بے شرمی ملاحظہ ہو۔

٩

صفحہ ٤٧٢
انی قتیل الحب لکن حبکم قتیل العدی فالفرق اجلی واظہر

”میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بین اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

مرزائیو! ذرا بتاؤ مرزا نے جو یہ کہا ہے ”میں محبت کا کشتہ ہوں“ یہ کس کی محبت میں کشتہ ہونے کا اعلان ہے۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔ کہیں محمدی بیگم کی محبت کی آنچ میں تو مرزا دھک نہیں آرہا؟

٥...... توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

ناظرین کرام خدارا انصاف نبی بھی کوئی شرابی ہوا ہے؟ یا نبی پر شراب حلال ہوئی ہے۔ بناسپتی نبی نے خود بھی شراب پی ہے۔ اپنی شراب خوری چھپانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگا دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے شراب پینے کا اقرار خود مرزا محمود نے کیا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے صحابی یار محمد کے ہاتھ سے ٹانک وائن (شراب کی قسم) منگوا کر پیا کرتے تھے۔

دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود (حضرت عیسیٰ کا) ظہور پذیر ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

تجھے ابن مریم بنایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

اس پر دو برس گزر گئے تو عیسیٰ علیہ السلام کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخری کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ہوا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

١٠

صفحہ ٤٧٤

اوپر کے ہر دو حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مرد نہیں بلکہ عورت تھی۔ کیونکہ یہ اس کا اپنا دعویٰ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ: ”مجھے خدا سے ایک پوشیدہ تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٨١)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ داستان جو ان کے حوالہ سے ان کے نام نہاد صحابی یار محمد نے بیان کی ہے۔ وہ صحیح ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ: ”مسیح نے اپنے آپ کو عورت پایا اور خدا نے اپنی طاقت رجولیت کو اظہار فرمایا۔“ معلوم ہوتا ہے یہ وہی داستان ہے جس کو مرزا نے نا قابل بیان قرار دیا ہے۔

مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی خود ہی عیسیٰ بن گیا تو اس کے اپنے خاندان کی دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ پس قادیانی بتائیں کہ بقول مرزا ولد الحرام کون ہوئے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی

....... ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ مسیح کا نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء آخری ص ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

مرزائی آئے دن یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ توہین تو فرضی یسوع کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو کہ ایک برگزیدہ رسول ہیں۔ ہم یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ مرزا مندرجہ بالا حوالہ میں صاف لکھتا ہے کہ خدا نے اس لئے قرآن میں مسیح کا نام حصور نہ رکھا کیونکہ اس کے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ خدا کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) بدچلن تھے۔ تو فیصلہ فرمائیے یہ قرآنی مسیح کی بات ہے یا فرضی مسیح کی۔ نیز مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتا ہے کہ یسوع اور مسیح دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ دیکھئے!

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

١١

صفحہ ٤٧٤

مرزا کی سوچیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود ہی مرزا بن گیا تو مسلمان عالم کس طرح اس کو سچا سمجھ سکتے ہیں۔ جب کہ وہ خود ہی جھوٹ بولنے کا اقرار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ بے تعلق جوان عورت نے اس کی خدمت کی ہو۔ بات دراصل یہ ہے کہ مرزانے اپنا کیریکٹر دنیا کے سامنے خود ہی پیش کر دیا تا کہ کوئی بھی بھانو نوکرانی کا طعنہ نہ دے سکے۔

ز.......

ابن مریم کا ذکر چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ غلام احمد کا مسیح ربانی کس طرح مقابلہ کر سکتا۔ کجا ایک زانی انگریزی مسیح۔ کجا پاک باز ربانی مسیح ابن مریم۔

ح....... اے عیسائیو! بس کرو یسوع یسوع مت کہو، دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس یسوع سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

ط.......

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجا ست تانہد پابمنبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

”میں وہ ہوں کہ جو حسب بشارات آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر پائوں رکھے۔“ ٹھیک ہے جب شیطان اپنی شیطنت اپنے منبر پر کھڑا ظاہر کرتا ہے تو نبی اپنے منبر سے اس کے خلاف اعلان کرتا ہے نہ کہ خود ہی شیطان کے پیرو ہو کر اس کے منبر پر کھڑا ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا ضرورت اس کے منبر پر کھڑا ہونے کی۔

ظ....... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

ک....... ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں ، ہر گز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

١٢

ٹھیک ہے صاحب ! مج ہے۔ جیسا کہ انبیاء سابقین کے تعل سچے رسول تھے۔ وہ کبھی بھی انگر (مرزا) ہی کرسکتا ہے۔ کیونکہ اسے پیغام ملا تھا کہ جہاد کو حرام قرار دی چڑھ کر بولے ”ٹھیک ہے بھئی کہ مسیح ابن مریم ربانی۔ کجا مسیح ابن ٦ ....... سرور دو جہاں ، فخر کا ”له خسف القمر ”اس کے لئے (حض قادیانی) کے لئے چاند اور سور مرزا قادیانی کا خسوف ظاہر کر اگر پ....... مرزا تعداد دس لاکھ سے زیا اس سے بھی مرزا ثابت کرنا اور رسول کریم کی توہ ج ....... ”محمد رس اور رسول بھی رکھا گیا ہے۔“ د....... ”ظلی نبوت نے کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

مرتب: عبد الرزاق عسکری

معاونین:

عبد الرحمان بالاکوٹی

مولانا محمد اکرم طوفانی

مولانا قاری محمد حنیف

معاون مرکز:

عبد اللطیف طاہر

قاری محمد شبیر

عظمت علی حبیب ایڈووکیٹ

مظہر احمد چوہدری ایڈووکیٹ

سیکرٹری نشر و اشاعت:

محمد نواز وڑائچ

ناظم نشر و اشاعت:

محمد ارشد چوہدری فیصل آباد ٹائون

اگر آپ یہ کتابچہ منگوانا چاہیں تو

رابطہ نمبر : بی - ٤ ، بہادر آباد ، کراچی

فون : ٤٩٣٣١٥٧ - ٤٩٣٣١٥٦

Bahadurabad (Karachi)

صفحہ ٤٧٥

ٹھیک ہے صاحب! نبی جب بھی دنیا میں تشریف لاتا ہے تو باطل حکومت سے جہاد کرتا ہے۔ جیسا کہ انبیاء سابقین کے فعل اور قرآن سے ثابت ہے۔ اگر مسیح ابن مریم جو کہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔ وہ کبھی بھی انگریز کے حق میں جہاد کو حرام قرار نہ دیتے تو صرف انگریزی مسیح (مرزا) ہی کر سکتا ہے۔ کیونکہ اسے آسمان لندن سے بذریعہ الہام معرفت حضرت ٹپی ٹپی یہی پیغام ملا تھا کہ جہاد کو حرام قرار دینا چاہئے، کسی نے مرزا کے متعلق ہی شاید یہ کہا تھا: ’’جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے‘‘ ٹھیک ہے بھئی کہ مسیح صادق، ابن چراغ بی بی کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے؟ ۔کجا مسیح ابن مریم ربانی ۔کجا مسیح ابن چراغ بی بی شیطانی!

’’له خسف القمر المنیروان لی غساء القمران المشرقان تنکر‘‘

’’اس کے لئے (حضرت محمد ﷺ ) چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے (مرزا قادیانی) کے لئے چاند اور سورج دونوں کا، کیا تو انکار کرے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ج ١٩ ص ١٨٣)

مرزا قادیانی کا کذب ملاحظہ ہو کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے لئے تو صرف چاند کا خسوف ظاہر کرتا ہے۔ مگر اپنے لئے چاند اور سورج دونوں کا یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں نبی اکرم ﷺ سے افضل ہوں۔ اس میں حضور کی توہین نہیں تو اور کیا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ کے حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢،) پر اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی ہے۔

اس سے بھی مرزا قادیانی کا صاف اور صریح مطلب اپنے آپ کو حضور ﷺ سے افضل ثابت کرنا اور رسول کریم کی توہین کرنا ہے۔

اور رسول بھی رکھا گیا ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا کر دیا ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١١٣)

١٣

صفحہ ٤٧٦

ناظرین کرام ! خیال فرماویں کہ حضور پرنور ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو تمام دنیا میں امن قائم فرمایا۔ کفر وظلمت کی گھٹائیں چھٹیں۔ لیکن یہ کیسا بناسپتی نبی آیا کہ جس کے آنے پر اسلام پر ادبار کی گھٹائیں چھا گئیں۔ بربادیاں، جنگیں، طاعون، ہیضہ، قحط سالی ساتھ لے کر آیا۔ سبحان اللہ کیا مقام پایا اس انگریز کے خود کاشتہ پودے نے۔

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

ہے حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)

پیش کئے اور پھر محفل میں سنائے۔ اس کے بعد مرزا اس کے لکھے ہوئے قطعہ کو لے کر گھر کے اندر چلے گئے اور جزاک اللہ بھی کہا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم اور آگے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جسے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣، ٤٤، ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء کرام اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

”اس حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی تکذیب مرزا کو مقصود تھی ’لا نبی بعدی‘ میرے بعد کوئی اور کسی طرح کا اور کسی زمانے میں نبی نہیں ہے اور دوسرے تمام صحابہ کرام، اولیاء اللہ، صوفیاء کرام کی توہین کر دی اور سب سے بلند اپنے مقام کو کیا اور اس قول سے اس کا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔

١٤

حضور کا چاند کو دو ٹکڑے کرنا قرآ ثابت ہے اور مرزا قادیانی نے خود کہا ہے ہوتے ہیں۔ ”ملاحظہ ہو (براہین حصہ چہارم ص نے شق القمر کے معجزے کو چاند گرہن قرار دیا حالانکہ قرآن کریم میں صاف ال القمر ”گھڑی قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑ مرزا قادیانی نے قرآنی گواہی کو معجزہ کی غلط تاویل کر کے اپنے آپ کو جہنم کا جن کی چند مثالیں پیش کر چکا ہوں۔ مرزا قا حقیقت الوحی میں لکھا ہے۔ (معاذ اللہ

”انا انزلنہ اللہ ورسولہ وكان الله ص ٩١) ”ہم نے ایسے قادیان کے قری اور خدا اور رسول اس کے نے خبر دی کہ وہ ”انما امرك اذا اردت شیا ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) ”تو (مرزا) جس با جاتا ہے۔“ قارئین کرام ذرا سوچئے کہ مرزا قا والد کو حکماً کہا۔ گو بعد میں منتیں بھی کیں اور با

ص ١١٠) ”مجھ کو وہ چیز دی جو دنیا کے لوگوں میں

نائب امیر احرار مولانا محمد اکرم طوفانی مولانا قاضی احسان الحق قاضی محمد قاسم عبد اللطیف طاہر مظہر احمد ایڈووکیٹ حشمت علی حبیب ایڈووکیٹ

پیش کش : مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد رابطہ نمبر : جامع مسجد اقصی اہلحدیث اکرم ٹاؤن سرگودھا روڈ فیصل آباد Babar Mahmood (0300-6644211)

صفحہ ٤٧٧

٧...... حضور پرنورﷺ کے معجزات سے انکار

حضور کا چاند کو دو ٹکڑے کرنا قرآن تاریخ کی کتابوں اور غیر مسلم تاریخ دانوں سے ثابت ہے اور مرزا قادیانی نے خود کہا ہے کہ: ”انبیاء کرام کے معجزات شعبدہ بازی سے پاک ہوتے ہیں۔“ ملاحظہ ہو (براہین حصہ چہارم ص ٣٩٢، خزائن ج ١ ص ٥١٨، ٥١٩) لیکن پھر خود مرزا قادیانی نے شق القمر کے معجزے کو چاند گرہن قرار دیا۔ دیکھئے!

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

حالانکہ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں آیا ہے: ”اقتربت الساعة وانشق القمر“ ”گھڑی قریب آ گئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔“

مرزا قادیانی نے قرآنی گواہی کو قبول نہ سمجھا اور حضور علیہ الصلوٰۃ کے ایک عظیم الشان معجزہ کی غلط تاویل کر کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنایا۔ کیونکہ ان کا قرآن کریم پر ایمان ہی نہیں۔ جن کی چند مثالیں پیش کر چکا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نازل ہونے والے قرآن کو حقیقت الوحی میں لکھا ہے۔ (معاذ اللہ) جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

٨...... مرزائیوں کا قرآن

”انا انزلناہ قریباً من القادیان بالحق انزلناہ وبالحق نزل صدق الله ورسول وكان الله مفعولا“ (حاشیہ براہین احمدیہ ص ٤٥٨، حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ”ہم نے اسے قادیان کے قریب اتارا سچائی کے ساتھ اتارا اور سچائی اس کے ساتھ اتری اور خدا اور رسول اس کے نے خبر دی کہ وہ اپنے وقت پر پوری ہوئی خدا کا ارادہ پورا ہونا ہی تھا۔

”انما امرک اذا اردت شیا ان تقول له کن فیکون“ (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) ”تو (مرزا) جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور پورا ہو جاتا ہے۔“

قارئین کرام ذرا سوچئے کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح کا ارادہ کیا اور اس کے والد کو حکماً کہا۔ گو بعد میں منتیں بھی کیں یہ اور بات ہے مگر وہ نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا۔

ص ١١٠) ”مجھ کو وہ چیز دی جو دنیا کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔

١٥

صفحہ ٤٧٨

المرسلون“ (حقیقت الوحی ص ٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٩٤) ”میں اور روح القدس تیرے ساتھ ہیں اور تیرے اہل کے ساتھ مت ڈرو میرے قرب میں میرے رسول نہیں ڈرتے۔“

کیوں نہ ہو باپ، بیٹا، روح القدس ماننے والے انگریز بہادر نے یہ ٹھیک ہی اپنے فرشتہ ٹچی ٹچی کے ذریعہ الہام کیا اور آج تک بیٹا اور مرید باوفا سر ظفر اللہ اسی خدائے لندنی کی خیر خواہی اسی انگریز بہادر کی حکومت تمام دنیائے اسلام پر دیکھنے کے تمنائی ہیں۔

٩...... مرزائیوں کا خدا

ص ٥٥، رسالہ دعوت قوم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) ”خدا عرش پر سے تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“

(البشریٰ جلد دوم ص ٦١)

مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا۔ اس لئے مرزائیوں کے خدا کا نام بھی غلام احمد ہے۔ یعنی مرزا غلام احمد خود ہی خدا ہیں۔ کیوں نہ ہو اہل ہنود کے عقیدہ میں اوتار جو ہوئے۔ خود مرزا بھی اس کا اقرار کرتا ہے کہ ”میں ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں ۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) ”ہے کرشن جی رودر گوپال“ (البشریٰ جلد اول ص ٥٦) ”برہمن اوتار (مرزا قادیانی) سے مقابلہ اچھا نہیں ۔ (البشریٰ جلد دوم ص ١١٦) ”آریوں کا بادشاہ“ (البشریٰ جلد اول ص ٥٦) ”امین الملک جے سنگھ بہادر (البشریٰ جلد دوم ص ١١٨) وغیرہ وغیرہ۔

(البشریٰ جلد دوم ص ٨٩)

غور فرمائیے کہ مرزائیوں کا خدا کتنا کمزور ہے کہ اسے اپنے ارد گرد باڑھ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی تا کہ کوئی اسے چرا کر نہ لے جائے۔ (استغفر اللہ)

(البشریٰ جلد اول ص ٥٦)

(البشریٰ جلد دوم ص ١٢٦)

خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں ۔“

١٦

صفحہ ٤٧٩

١٠...... مرزائیوں کے عقائد یعنی نماز، روزہ، حج وغیرہ الگ ہیں

حج اور ہے۔“

(عقائد احمدیت)

ارض حرم میں آ کر نفلی حج کریں گے۔ بلکہ جس طرح مکہ کے میدان میں حاجی قربانیوں کے جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسی طرح قادیان میں عید قربان کے روز قربانیاں کر کے اللہ تعالیٰ کی خاص رضا حاصل کریں۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ دسمبر ١٩٣١ء)

١١...... مرزا قادیانی کی خرافات (گالیاں)

جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)

کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“

(انوار اسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

گے۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

اور بھی اس قسم کی سینکڑوں گالیاں مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو دی ہیں۔ جو طوالت کے خوف سے ہدیہ ناظرین نہ کر سکا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہ نبی کی زبان ہے۔ سبحان اللہ ! کیسے جواہر پارے زبان فیض ترجمان سے ادا ہو رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو۔ سلطان القلم جو ہوئے:

بادہ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا
پھر بھی دعویٰ ہے اصلاح دو عالم ہم سے ہے

آگے چل کر خود ہی حضرت نے گالیاں نکالنے والوں کے متعلق فیصلہ لکھا ہے ملاحظہ ہو:

١٢...... بدزبانی کے متعلق مرزا قادیانی کا فیصلہ

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

١٧

صفحہ ٤٨٠

گزارش کنندگان : محمد ارشد ناظم دفتر ختم نبوت فیصل آباد محمد انور رانا سیکرٹری نشر و اشاعت منظور احمد چنیوٹی ایڈووکیٹ مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ قاضی بشیر عبداللطیف طاہر معاون مدیر مولانا ابوبکر مصطفیٰ مدیر مولانا محمد اکرم طوفانی ناظم تبلیغ مولانا پیر عبد الرحیم نقشبندی، سرگودھا سرپرست اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد رابطہ نمبر : جامع مسجد گول، باغ طارق، فیصل آباد فون نمبر : ٦١٢٣٧٠ ، ٦٢٧٩٨ Idara Bab-ur-Rehmat (Trust) Faisalabad (Pakistan)

ب.......

بدتر ہر ایک بد سے ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء وہی ہے
گو ہیں بہت درندے انسان کی پوستین میں
پاکوں کا خون جو پیوے وہ بھیڑیا ہی ہیں

(درثمین اردو ص ١٢)

مرزا قادیانی کی گالیاں اور گالیاں نکالنے والے کے متعلق جو کہا اس میں مرزا قادیانی خود کیا ہیں؟ میں یہ فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔

قوم یا ملت اس وقت عالم وجود میں آتی ہے۔ جب وہ پہلے نبی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے بعد آنے والے رسول کو جس کا ماقبل نبی نے پتہ دیا ہو۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے یہودی کہلائے پھر موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی لیکن ساتھ ساتھ اپنی نبوت کا بھی اقرار کروایا۔ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول برحق تسلیم کیا لیکن انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکار نہیں کیا تو وہ لوگ عیسائی کہلائے۔ یہودی قوم سے وہ عیسائی قوم بن گئی۔ پھر ہم اسے یہودی نہیں کہہ سکتے جب حضور ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو ان عیسائیوں نے جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی نبی تسلیم کیا تھا۔ حضور ﷺ پر ایمان لائے تو مسلمان کہلائے۔ حالانکہ اب تک انہوں نے نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکار کیا اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نبی ہونے سے انکار کیا۔ بلکہ دونوں پیغمبروں کو نبی اللہ اور رسول مانتے رہے اور ان کی کتب توریت اور انجیل کو بھی خدا کی کتابیں تسلیم کرتے رہے۔ تو اب ہم ان کو نہ یہودی اور نہ ہی عیسائی کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح حضرت محمد ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص کسی اور نبی کو تسلیم کرتا ہے تو قاعدے کی رو سے اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ حضور ﷺ کو بھی رسول تسلیم کرتا ہو۔

اب اوپر کے حوالہ جات سے بات صاف طور پر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ہے کہ مرزا کا نبی الگ، قرآن الگ، حج الگ، خدا جدا، تو کس طرح مسلمان رہے؟۔ ان حقائق کی روشنی میں مسلمانان پاکستان اس بات کا مطالبہ کریں کہ ان کو ایک علیحدہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو وہ کون سی غلطی کر رہے ہیں؟ وماعلينا الا البلاغ!

١٨