ردّ قادیانیت
رسائل
- جناب واجد علی خان صاحب
- جناب محمد صادق قریشی قادیانی
- جناب خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب
- مولانا نور محمد گکھڑوی صاحب
- مولانا عبدالحلیم لیاسی صاحب
- مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب
- جناب امت الاحسن صاحب
- جناب سعید قریشی صاحب
- جناب چودھری محمد حسین ایم۔اے
- مولانا مشتاق احمد چرتھاولی صاحب
- جناب عبدالقیوم پراچہ صاحب
- مولانا عبدالرزاق انقلابی صاحب
- مولانا محمد اسحاق امرتسری صاحب
- مولانا قاضی عبدالصمد سربازی صاحب
- جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد صاحب
- جناب عبدالوہاب حجازی صاحب
- جناب ملک محمد صادق صاحب
- جناب غلام نبی جانباز مرزا صاحب
احتساب قادیانیت
جلد ٣٧
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٣٧
- جناب محمد صادق قریشی قادیانی
- جناب واجد علی خاں صاحب
- مولانا نور محمد مہر جامی صاحب
- جناب خواجہ عبدالوحید بٹ صاحب
- مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب
- مولانا عبدالحلیم لائلپوری صاحب
- جناب سعید قریشی صاحب
- جناب اختر احسن صاحب
- مولانا مشتاق احمد چرتھاولی صاحب
- جناب چودھری محمد حسین ایم اے
- مولانا عبدالرزاق انقلابی صاحب
- جناب عبدالقیوم پراچہ صاحب
- مولانا قاضی عبدالصمد سربازی صاحب
- مولانا محمد اسحاق امرتسری صاحب
- جناب عبدالوہاب حجازی صاحب
- جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد صاحب
- جناب غلام نبی جانباز مرزا صاحب
- جناب ملک محمد صادق صاحب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد سینتیس (٣٧) مصنفین : جناب واجد علی خان صاحب جناب خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب مولانا عبدالحلیم الیاسی صاحب جناب اختر احسن صاحب جناب چوہدری محمد حسین ایم۔اے جناب عبدالقیوم پراچہ صاحب مولانا محمد اسحاق امرتسری صاحب جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد صاحب جناب ملک محمد صادق صاحب جناب محمد صادق قریشی قادیانی مولانا نور گھرجاکی صاحب مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب جناب سعید قریشی صاحب مولانا مشتاق احمد چرتھاولی صاحب مولانا عبدالرزاق انقلابی صاحب مولانا قاضی عبدالصمد سربازی صاحب جناب عبدالوہاب حجازی صاحب جناب غلام نبی جانباز مرزا صاحب
صفحات : ٦٧٢ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : فروری ٢٠١١ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحم
فہرست رسائل مشمولہ.......١
عرض مرتب
- ١....... فتنہ مرزائیت
- ٢....... فرقہ احمدیہ کا ماضی و مستقبل
- ٣....... قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم
- ٤....... آئینہ قادیانیت
- ٥....... حقیقت قادیانیت
- ٦....... کاشف مغالطہ قادیانی فی نشان آسمانی
- ٧....... قادیانیوں کا اصل حقیقت سے فرار
- ٨....... اباطیل مرزا
- ٩....... حالات مرزا یعنی مرزائی مذہب کی اصلیت
- ١٠....... بطلان مرزا
- ١١....... قادیانی مذہب اور علامہ اقبال کا قول فیصل
- ١٢....... آئینہ مرزائیت
- ١٣....... فسخ بیعت خلیفہ قادیان
- ١٤....... ختم نبوت از روئے آیات قرآنی واحادیث رسول ﷺ واقوال...
- ١٥....... بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا یعنی دیندار انجمن
- ١٦....... مسلمانوں کی تکفیر
- ١٧....... عقائد قادیانی منظوم
- ١٨....... قتل دجال
- ١٩....... فتح مبین
- ٢٠....... مرزائیاں دے غلط اندیشہ
- ٢١....... مرزا غلام احمد کی تصویر کے دو رخ
- ٢٢....... جانباز پاکٹ بک
- ٢٣....... سر ظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کے خطوط
- ٢٤....... وزیر خارجہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
احتساب قادیانیت جلد سینتیس (٣٧)
جناب واجد علی خان صاحب جناب خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب مولانا عبدالحلیم الیاسی صاحب جناب اختر احسن صاحب جناب چوہدری محمد حسین ایم۔اے جناب عبدالقیوم پراچہ صاحب مولانا محمد اسحاق امرتسری صاحب جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد صاحب جناب ملک محمد صادق صاحب جناب محمد صادق قریشی قادیانی مولانا نور کھرجاکی صاحب مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب جناب سعید قریشی صاحب مولانا مشتاق احمد چرتھاولی صاحب مولانا عبدالرزاق انقلابی صاحب مولانا قاضی عبدالصمد سربازی صاحب جناب عبدالوہاب حجازی صاحب جناب غلام نبی جانباز مرزا صاحب
٦٧٢ ٣٠٠ روپے ناشر زین پریس لاہور فروری ٢٠١١ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٧
عرض مرتب ٤
- ١...... فتنہ مرزائیت جناب واجد علی خان ٩
- ٢...... فرقہ احمدیہ کا ماضی و مستقبل جناب خواجہ عبدالحمید بٹ ٣٥
- ٣...... قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم " " ٨٥
- ٤...... آئینہ قادیانیت مولانا عبدالحلیم الیاسی ١٠٧
- ٥...... حقیقت قادیانیت جناب اختر احسن ١٤٩
- ٦...... کاشف مغالطہ قادیانی فی رد نشان آسمانی جناب چوہدری محمد حسین ایم۔اے ٢٢٥
- ٧...... قادیانیوں کا اصل حقیقت سے فرار جناب عبدالقیوم پراچہ ٢٦٩
- ٨...... اباطیل مرزا حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری ٢٧٧
- ٩...... حالات مرزا یعنی مرزائی مذہب کی اصلیت " " ٢٨٩
- ١٠...... بطلان مرزا " " ٣٣١
- ١١...... قادیانی مذہب اور علامہ اقبال کا قولِ فیصل جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد ٣٤٩
- ١٢...... آئینہ مرزائیت جناب ملک محمد صادق، سابق قادیانی ٣٥٣
- ١٣...... فتح بیعت خلیفہ قادیان جناب محمد صادق قریشی قادیانی ٣٧٣
- ١٤...... ختم نبوت از روئے آیات قرآنی واحادیث رسول ﷺ و اقوال مرزا قادیانی مولانا نور کھرجاکی ٣٨٣
- ١٥...... بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا یعنی دیندار انجمن مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی ٤٠٩
- ١٦...... مسلمانوں کی تکفیر جناب سعید قریشی ٤٧٩
- ١٧...... عقائد قادیانی منظوم مولانا مشتاق احمد چرتھاولی ٤٨٧
- ١٨...... قتل دجال مولانا عبدالرزاق انقلابی ٤٩٥
- ١٩...... فتح مبین مولانا قاضی عبدالصمد سربازی ٥٠٥
- ٢٠...... مرزائیاں دے خلق دا شیشہ جناب عبدالوہاب حجازی ٥٢٣
- ٢١...... مرزا غلام احمد کی تصویر کے دو رخ غلام نبی جانباز مرزا ٥٣٩
- ٢٢...... جانباز پاکٹ بک " " ٥٦٧
- ٢٣...... سرظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کے خطوط " " ٦٢٧
- ٢٤...... وزیر خارجہ " " ٦٤٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
عرض مرتب
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ۔ اما بعد ! اللہ رب العزت کی توفیق و عنایت سے احتساب قادیانیت کی سینتیسویں (٣٧) جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں پہلا رسالہ :
- ١...... فتنہ مرزائیت: جناب واجد علی خان کا شامل اشاعت ہے۔
- ١/٢...... فرقہ احمدیہ کا ماضی ومستقبل: جناب خواجہ عبدالحمید بٹ کا اس جلد میں
شامل ہے۔ خواجہ عبدالحمید بٹ قادیان کے رہائشی تھے۔ قادیانی تحریک کا بڑے قریب سے آپ نے مطالعہ کیا۔ عمر بھر قادیانیت کے خلاف نبردآزما رہے۔ پاکستان بننے کے بعد لودھراں میں آ کر مقیم ہوئے۔ لودھراں کی میونسپل کمیٹی کے ممبر بھی بنے۔ آپ کے قادیانیت کے رد میں دو رسائل ہمیں میسر آئے۔ جو اس جلد میں شامل کر رہے ہیں۔
- ٢/٣...... قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم: یہ بھی خواجہ عبدالحمید بٹ آف قادیان کا
مرتب کردہ ہے۔ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں کے ناظم اعلیٰ صوفی نور محمد مجاہد مرحوم نے شائع کیا تھا۔ حق تعالیٰ مؤلف و ناشر کی مغفرت فرمائیں۔
- ٤...... آئینہ قادیانیت: ١٦؍ نومبر ١٩٦٣ء میں یادگیر گلبرگہ انڈیا سے یہ کتاب
شائع ہوئی۔ مرزا قادیانی کے عجیب وغریب انکشافات، اعتقادات، اجتہادات، افتراقات پر مشتمل ہے۔ مولانا عبدالحلیم الیاسی، چشتی، قادری، نقشبندی اس کے مرتب کرنے والے ہیں۔ آپ پروفیسر الیاس برنی کے نامور شاگرد تھے۔ اس نسبت سے اپنے آپ کو الیاسی بھی لکھتے تھے۔ نصف صدی بعد اس کی اس جلد میں اشاعت محض اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے اور بس۔
- ٥...... حقیقت قادیانیت: اسلامی مشن سنت نگر لاہور کے جناب اختر احسن
صاحب کی یہ کتاب مرتب کردہ ہے۔ اس جلد میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ جناب اختر احسن بٹالہ کے رہائشی تھے۔ ہمسایہ ہونے کے ناطے قادیان کے دجالی گروہ قادیانیت کے اندرون خانہ کے حالات کا قریبی نظر سے آپ نے مطالعہ کیا۔ آپ نے بٹالہ میں ایک مرکز قائم کیا ہوا تھا۔ دیوبند کے فاضل مولانا سلطان محمود اس میں خدمات سرانجام دیتے تھے۔ اختر احسن حضرت مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب کے والد گرامی کے ہمراہ بھی گورنمنٹ کے ایک تعلیمی ادارہ میں پڑھاتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد سنت نگر میں حضرت علامہ خالد محمود صاحب کے گھر واقع سنت نگر لاہور، کے جوار میں ان کا گھر تھا۔ اصلاً آپ کو عیسائیت
پر مکمل عبور تھا۔ قادیانیت پر بھی آپ کی یہ کتاب ریکار
- ٦...... کاشف مغالطہ قادیانی فی رد
ایک نامور صوفی و شاعر گزرے ہیں۔ ان کا ایک قصہ ترتیب الٹ پلٹ کر تحریف لفظی و معنوی کا ملغوبہ تیار جھوٹ تراشے۔ رسالہ کا نام مرزا قادیانی نے ”نشان محمد حسین صاحب ایم۔اے کو توفیق دی۔ انہوں نے حاصل کئے اور پھر مرزا قادیانی کے مکر و فریب کو دلائل کر اٹھی۔ ماہنامہ رسالہ انجمن تائید الاسلام لاہور کی صاحب کا یہ رسالہ شائع ہوا۔ اس جلد میں نوے سال ہماری خوشی کے ٹھکانہ کی حد کو خوشیاں دینے والی ذات
- ٧...... قادیانیوں کی اصل حقیقت ن
رہائشی ہیں۔ قادیانیوں نے ایک رسالہ ”احمدی مسلم کیا۔ جو پراچہ صاحب کے مکان کی ڈیوڑھی میں پی رسالہ کی شکل میں جواب دیا۔ اس جلد میں شائع کر
- ١/٨...... اباطیل مرزا: مرزا محمد اسم
مولانا حبیب اللہ امرتسری کے حلقہ یاران کی ایک رسائل لکھے۔ ہمیں صرف تین رسائل پر دسترس ١٣٥٣ھ کا مرتب کردہ ہے۔ اس میں مرزا قادیانی
- ٢/٩...... حالات مرزا یعنی مرزائی
امرتسری کا مرتب کردہ ہے۔ اکتوبر ١٩٣٣ء میں آ اس رسالہ کی توفیق پر اللہ رب العزت کے بے پایا
- ٣/١٠...... بطلان مرزا: مولانا محمد اس
یہ بھی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر المہدی واضح بھی آخری مرحلہ پر میسر آیا۔ اسے لولاک
- ١١...... قادیانی مذہب اور علامہ
سیالکوٹ کے باسی تھے۔ سیالکوٹ کی مسلم لیگ اقبال مرحوم کے فرامین کی روشنی میں قادیانیت کے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مسلم لیگ کے پ
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد ! کی توفیق وعنایت سے احتساب قادیانیت کی سینتیسویں (٣٧) جلد میں پہلا رسالہ:
- قادیانیت: جناب واجد علی خان کا شامل اشاعت ہے۔
- احمدیہ کا ماضی و مستقبل: جناب خواجہ عبدالحمید بٹ کا اس جلد میں
ہے۔ قادیان کے رہائشی تھے۔ قادیانی تحریک کا بڑے قریب سے آپ کے خلاف نبرد آزما رہے۔ پاکستان بننے کے بعد لودھراں میں آ کر کی کمیٹی کے ممبر بھی بنے۔ آپ کے قادیانیت کے رد میں دو رسائل بھی شامل کر رہے ہیں۔
- انیت ایک دہشت گرد تنظیم: یہ بھی خواجہ عبدالحمید بٹ آف قادیان کا
کی تحفظ ختم نبوت لودھراں کے ناظم اعلیٰ صوفی نور محمد مجاہد مرحوم نے ناشری مغفرت فرمائیں۔
- قادیانیت: ١٦؍ نومبر ١٩٦٣ء میں یادگیر گلبرگہ انڈیا سے یہ کتاب
عجیب وغریب انکشافات، اعتقادات، اجتہادات، افتراقات پر قاسمی، چشتی، قادری، نقشبندی اس کے مرتب کرنے والے ہیں۔ د اور شاگرد تھے۔ اس نسبت سے اپنے آپ کو الیاسی بھی لکھتے تھے۔ کی اشاعت محض اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے اور بس۔
- قادیانیت: اسلامی مشن سنت نگر لاہور کے جناب اختر احسن
ہے۔ اس جلد میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شائع کرنے کی سعادت ن بٹالہ کے رہائشی تھے۔ ہمسایہ ہونے کے ناتے قادیان کے خانوادہ کے حالات کا قریبی نظر سے آپ نے مطالعہ کیا۔ آپ نے دیوبند کے فاضل مولانا سلطان محمود اس میں خدمات سرانجام مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب کے والد گرامی کے ہمراہ بھی میں پڑھاتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد سنت نگر میں حضرت ف گوجرانوالہ کے جوار میں ان کا گھر تھا۔ اصلاً آپ کو عیسائیت
پر مکمل عبور تھا۔ قادیانیت پر بھی آپ کی یہ کتاب ریکارڈ کا ایک حصہ ہے۔
- ٦...... کاشف مغالطہ قادیانی فی رد نشان آسمانی: شاہ نعمت اللہ کرمانی ایران کے
ایک نامور صوفی و شاعر گزرے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ مرزا قادیانی ملعون کے ہاتھ لگا۔ اس کی ترتیب الٹ پلٹ کر تحریف لفظی و معنوی کا ملغوبہ تیار کیا۔ جس میں اپنے مہدی و مسیح ہونے کے کئی جھوٹ تراشے۔ رسالہ کا نام مرزا قادیانی نے ”نشان آسمانی“ رکھا۔ اللہ رب العزت نے چوہدری محمد حسین صاحب ایم ۔اے کو توفیق دی۔ انہوں نے قصیدہ شاہ نعمت اللہ کرمانی کے تین مختلف نسخے حاصل کئے اور پھر مرزا قادیانی کے مکر و فریب کو دلائل کی دنیا میں ایسے طور پر تار تار کیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ ماہنامہ رسالہ انجمن تائید الاسلام لاہور کی اشاعت جولائی ١٩٢١ء میں چوہدری محمد حسین صاحب کا یہ رسالہ شائع ہوا۔ اس جلد میں نوے سال بعد (١٩٢١ء......٢٠١١ء) میں شائع کرنے پر ہماری خوشی کے ٹھکانہ کی حد کو خوشیاں دینے والی ذات باری تعالیٰ ہی جان سکتی ہے۔ فالحمد للہ!
- ٧...... قادیانیوں کا اصل حقیقت سے فرار: جناب عبدالقیوم پراچہ سرگودھا کے
رہائشی ہیں۔ قادیانیوں نے ایک رسالہ ”احمدی مسلمان کس غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھیں“ مرتب کیا۔ جو پراچہ صاحب کے مکان کی ڈیوڑھی میں پھینک گئے۔ آپ نے قادیانیوں کے رسالہ کا اس رسالہ کی شکل میں جواب دیا۔ اس جلد میں شائع کر کے محفوظ کیا جا رہا ہے۔
- ٨/١...... اباطیل مرزا: مرزا محمد اسحاق امرتسری یہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ،
مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے حلقہ یاران کی ایک اہم کڑی تھے۔ آپ نے رد قادیانیت پر کئی رسائل لکھے۔ ہمیں صرف تین رسائل پر دسترس ہوئی۔ پہلا رسالہ اباطیل مرزا یہ ٢٤؍ رمضان ١٣٥٣ھ کا مرتب کردہ ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کے جھوٹ جمع کئے گئے ہیں۔
- ٩/٢...... حالات مرزا یعنی مرزائی مذہب کی اصلیت: یہ رسالہ بھی مولانا محمد اسحاق
امرتسری کا مرتب کردہ ہے۔ اکتوبر ١٩٣٤ء میں آپ نے یہ شائع کیا۔ اب پون صدی بعد دوبارہ اس رسالہ کی توفیق پر اللہ رب العزت کے بے پایاں کرم پر سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔
- ١٠/٣...... بطلان مرزا: مولانا محمد اسحاق امرتسری کا یہ رسالہ ١٩٣٥ء کا مرتب کردہ ہے۔
یہ بھی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا ایک اور رسالہ القول فصیح فی تحقیق المہدی و المسیح بھی آخری مرحلہ پر میسر آیا۔ اسے لولاک جمادی الاول ١٤٣٢ھ میں شائع کر دیں گے۔
- ١١...... قادیانی مذہب اور علامہ اقبال کا قول فیصل: جناب ڈاکٹر نذیر احمد صوفی
سیالکوٹ کے باسی تھے۔ سیالکوٹ کی مسلم لیگ حلقہ نمبر ٨ شہر کے صدر بھی تھے۔ آپ نے علامہ اقبال مرحوم کے فرامین کی روشنی میں قادیانیت کے ملعونہ عقائد کا تجزیہ کیا۔ ڈاکٹر نذیر صاحب نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک کی بھر پور اخلاقی مدد کی۔ یہ
قادیانی فتنہ کی سنگینی سے خود آگاہ تھے اور لیگی قیادت کو اس فتنہ کے زہریلے عقائد وعزائم سے باخبر کرتے رہتے تھے۔ آپ کا یہ رسالہ جلد میں محفوظ کیا جارہا ہے۔
- ١٢...... آئینہ مرزائیت: ملک محمد صادق صاحب اصلاً قادیانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے
توفیق بخشی تو قادیانیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ آپ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ جو اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔
- ١٣...... فسخِ بیعت خلیفہ قادیان: جناب محمد صادق قریشی صاحب قادیانی تھے۔ آپ
نے مرزا محمود خلیفہ قادیان کے یارِ حاضر باش کی خدمات سرانجام دیں۔ مرزا محمود کے قابلِ اعتماد کارکن ہونے کے حوالہ سے سیاسی، جماعتی و ذاتی خدمات میں مرزا محمود کے ہر حکم کو بجالاتے رہے۔ اس قرب نے مرزا محمود کی گھناؤنی زندگی کو ان پر منکشف کر دیا۔ جس سے یہ قادیان کے گرو مرزا محمود کی بیعت سے علیحدہ ہو گئے۔ فسخِ بیعت کے نام پر آپ نے مرزا محمود پر جو چارج شیٹ لگائی۔ اس پر مشتمل یہ رسالہ ہے۔
- ١٤...... ختمِ نبوت از روئے آیاتِ قرآنی واحادیثِ رسولﷺ واقوال
مرزا قادیانی: مولانا نور محمد خاں گوجرانوالہ کے رہائشی تھے۔ اہل حدیث مکتبہ فکر کے نامور علماء میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ آپ کا یہ رسالہ اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔
- ١٥...... بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا، یعنی دیندار انجمن: حضرت مولانا مفتی رشید احمد
لدھیانوی بانی جامعۃ الرشید کراچی ومؤلف احسن الفتاویٰ، وامام المجاہدین نے یہ کتاب مرتب فرمائی۔ دیندار انجمن کے بانی صدیق حیدرآباد دکن کا ایک قادیانی تھا۔ بعد میں خود بھی مدعیِ نبوت و وحی ہو کر پتہ نہیں کیا کچھ دعوے کئے۔ یہ انجمن دراصل قادیانی جماعت ہی کی ایک شاخ ہے۔ کراچی میں اس انجمن کے کچھ مبلغین نے اس کو زندہ کرنا چاہا۔ ان کی یہ یورش دیکھ کر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی نے یہ کتاب مرتب فرمائی۔ جو سب سے پہلے مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے زیر اہتمام حضرت مفتی صاحبؒ نے شائع کرائی۔ آج اس جلد میں شائع کرنے پر بہت ہی خوشی ہورہی ہے۔ حضرت مفتی صاحبؒ سے فقیر کی یہ نسبت آخرت میں ذریعہ نجات کا وسیلہ بن جائے۔ وما ذالك على الله بعزيز!
- ١٦...... مسلمانوں کی تکفیر: جناب سعید قریشی صاحب کراچی کے باسی تھے۔
احرار سٹوڈنٹس یونین آپ نے قائم کی اور اس کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ آپ نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ جو اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔
- ١٧...... عقائدِ قادیانی منظوم: حضرت مولانا مشتاق احمد چرتھاولی بہت بڑے
عالمِ دین اور درسِ نظامی کے ماہر ترین اساتذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ آپ نے درسِ نظامی کی تدوینِ نو کی اور نصابِ جدید مرتب کیا۔ اس میں کئی درسی کتابیں آپ کے رشحاتِ قلم کی مرہونِ منت ہیں۔ جو آج بھی وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتب سے مرزا قادیانی کے عقائد کو مرتب کیا سے یہ کتابچہ ”عقائدِ قادیانی منظوم“ شائع ہوا فقیر کو خوشی ہے۔ اے کاش قارئین سے بھی کوئی
- ١٨...... قتلِ دجال: مولانا عب
رہائشی اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ ایک بھی ہوئی تھی۔ تب آپ مکہ مکرمہ میں عبادت کی کے نام سے یہ پمفلٹ دراصل ایک نظم ہے۔ جو جلد میں شاملِ اشاعت ہے۔
- ١٩...... فتح مبین: مولانا قاضی
بلوچستان قلات کے قاضی القضاۃ بھی رہے۔ نبوت کے رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے
- ٢٠...... مرزائیاں دے خُلق دانی
حجازی بد نصیبی سے قادیانی ہو گئے۔ پھر خوش نصیبی پر یہ رسالہ لکھا۔
- ١/٢١...... مرزا غلام احمد کی تصویری
جھلک۔ مجلس احرارِ اسلام کے نامور رہنماؤں میں تھے۔ برصغیر کی آزادی کے لئے آپ نے گراں ق شائع کرتے رہے۔ سکول کی معمولی تعلیم تھی۔ لیک محقق بنا دیا تھا۔ جس پر ان کا دور ناز کرتا ہے۔ آ کرسکتی۔ آپ نے تنِ تنہا ٨ آٹھ جلدوں میں برصغ مرتب کیا ہے۔ آپ نے کئی کتابیں تحریر فرمائیں کی شکل میں شائع کردے تو بہتوں کا بھلا ہو جا آپ کے ردِ قادیانیت پر چار رسائل ہمیں میسر آ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔
- ٢/٢٢...... جانباز پاکٹ بک:
- ٣/٢٣...... سر ظفر اللہ اور دیگر مرزائی
- ٤/٢٤...... وزیرِ خارجہ:
کتب سے مرزا قادیانی کے عقائد کو مرتب کیا اور پھر ان کو نظم میں مرتب کیا۔ مکتبہ دارالتبلیغ دیوبند سے یہ کتابچہ ”عقائد قادیانی منظوم“ شائع ہوا۔ قریباً پون صدی بعد اس کتابچہ کی اشاعت نو پر جتنی فقیر کو خوشی ہے۔ اے کاش قارئین سے بھی کوئی دوست اس کی قدردانی فرماسکیں۔
- .......١٨........ قتل دجال: مولانا عبدالرزاق صاحب انقلابی شجاع آباد کے علاقہ کے
رہائشی اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ ایک بار فقیر مرتب کی مکہ مکرمہ میں آپ سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ تب آپ مکہ مکرمہ میں عبادت کی غرض سے قیام پذیر تھے۔ آپ کا ”قتل دجال“ کے نام سے یہ پمفلٹ دراصل ایک نظم ہے۔ جو آپ نے دجال قادیان کے متعلق تحریر کی۔ اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔
- .......١٩........ فتح مبین : مولانا قاضی عبدالصمد سربازی نامور عالم دین تھے۔ آپ
بلوچستان قلات کے قاضی القضاۃ بھی رہے۔ آپ نے اس رسالہ میں فارسی نظم میں تحریک ختم نبوت کے راہنماؤں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
- .......٢٠........ مرزائیاں دے خلق دا شیشہ: سمندری ضلع فیصل آباد کے عبدالوہاب
حجازی بدنصیبی سے قادیانی ہوگئے۔ پھر خوش نصیبی سے مسلمان ہوگئے۔ پنجابی نظم میں مرزائی اخلاق پر یہ رسالہ لکھا۔
- ١/٢١....... مرزا غلام احمد کی تصویر کے دورخ: مرزا غلام نبی جانباز، المعروف جانباز
مرزا۔ مجلس احرار اسلام کے نامور رہنماؤں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ بڑے انقلابی شاعر حریت تھے۔ برصغیر کی آزادی کے لئے آپ نے گرانقدر قربانیاں دیں۔ آپ لاہور سے ماہنامہ تبصرہ بھی شائع کرتے رہے۔ سکول کی معمولی تعلیم تھی۔ لیکن اکابرین احرار کی صحبت و تربیت نے آپ کو ایسا محقق بنا دیا تھا۔ جس پر ان کا دور ناز کرتا ہے۔ آپ نے تحریری وہ کام کیا جو ایک انجمن بھی شاید نہ کر سکتی۔ آپ نے تن تنہا، آٹھ جلدوں میں برصغیر کی آزادی کی تاریخ کو ”تاریخ احرار“ کے نام پر مرتب کیا ہے۔ آپ نے کئی کتابیں تحریر فرمائیں۔ اے کاش کوئی اللہ کا بندہ ان کو دوبارہ ایک سیٹ کی شکل میں شائع کردے تو بہتوں کا بھلا ہو جائے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ آپ کے رد قادیانیت پر چار رسائل ہمیں میسر آئے۔ جو اس جلد میں شائع کرنے کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔
- ٢/٢٢....... جانباز پاکٹ بک:
- ٣/٢٣....... سرظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کے خطوط:
- ٤/٢٤....... وزیر خارجہ:
یہ رسائل بھی غلام نبی جانباز مرزا کے مرتب کردہ ہیں۔ آپ کے یہ چاروں رسائل اس جلد میں شامل اشاعت کر رہے ہیں۔
خلاصہ: احتساب قادیانیت کی جلد سینتیس (٣٧) میں:
- ١...... جناب واجد علی خان کا ١ رسالہ
- ٢...... جناب خواجہ عبدالحمید بٹ کے ٢ رسائل
- ٣...... مولانا عبدالعلیم الیاسی کا ١ رسالہ
- ٤...... جناب اختر احسن کا ١ رسالہ
- ٥...... جناب چوہدری محمد حسین ایم۔اے کا ١ رسالہ
- ٦...... جناب عبدالقیوم پراچہ کا ١ رسالہ
- ٧...... حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری کے ٣ رسائل
- ٨...... جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد کا ١ رسالہ
- ٩...... جناب ملک محمد صادق، سابق قادیانی کا ١ رسالہ
- ١٠...... جناب محمد صادق قریشی قادیانی کا ١ رسالہ
- ١١...... مولانا نور کھرجاوی کا ١ رسالہ
- ١٢...... مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی کا ١ رسالہ
- ١٣...... جناب سعید قریشی کا ١ رسالہ
- ١٤...... مولانا مشتاق احمد چرتھاولی کا ١ رسالہ
- ١٥...... مولانا عبدالرزاق انقلابی کا ١ رسالہ
- ١٦...... مولانا قاضی عبدالصمد سربازی کا ١ رسالہ
- ١٧...... عبدالوہاب حجازی کا ١ رسالہ
- ١٨...... غلام نبی جانباز مرزا کے ٤ رسائل
ٹوٹل ٢٤ رسائل
گویا ١٨ حضرات کے ٢٤ رسائل پر مشتمل یہ جلد آپ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ نے پیش کرنے کی توفیق سے سرفراز فرمایا۔
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٧ ربیع الاول ١٤٣٢ھ، بمطابق ٢١/جنوری ٢٠١١ء
مرتب کردہ ہیں۔ آپ کے یہ چاروں رسائل اس جلد (٣٧) میں:
کا ١ رسالہ کے ٢ رسائل کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ ایم۔اے کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ تری کے ٣ رسائل کا ١ رسالہ سابق قادیانی کا ١ رسالہ قادیانی کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ سمانوی کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ قادیانی کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کے ٤ رسائل
ٹوٹل ٢٤ رسائل مکمل یہ جلد آپ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ نے پیش
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ربیع الاول ١٤٣٢ھ، بمطابق ٢١ / جنوری ٢٠١١ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتنہ
مرزائیت
جناب واجد علی خان
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمدلله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على سيدنا و مولانا محمد خاتم الانبيا والمرسلين وعلى آله واصحابه وازواجه وذرياته اجمعين!
تاریخ اسلام اور ابتدائے فتنہ قادیانیت
دنیا اسی کا نام ہے کہ آنسوؤں کی گود میں مسکراہٹیں پلتی ہیں۔ دنیا انقلاب کی بنا پر قائم ہے۔ جب آفتاب جہاں تاب اپنی تابانی سمیٹ کر پردوں کی اوٹ میں چلا جاتا ہے تو مہتاب کی روشنی ایک نئے انقلاب کی نشان دہی کرتی ہے۔ مہتاب ستاروں کی فوج کے ہمراہ بھی اپنے اقتدار کو دائمی حیثیت نہیں دے سکتا اور ہر صبح طلوع ہوتے وقت ایک نیا احساس لے کر آتی ہے۔ نسیم سحر انقلاب کی پیامبر ہوتی ہے۔ جن سبزہ زاروں میں طائران خوش الحان چہکتے ہیں وہاں زہریلے ناگ بھی لہراتے ہیں۔ ہر بلندی کے بعد نشیب آتا ہے۔ اسی طرح آج سے چودہ سو سال قبل عرب کی سرزمین پر جو برائیوں کی آماجگاہ تھی۔ ظلم و تشدد جہاں کے لوگوں کا پیشہ تھا۔ عالم انسانیت کی فضائے روحانی کا ایک انقلاب عظیم رونما ہوا۔ یہ امت مسلمہ کے ظہور کا پہلا دن تھا۔ یعنی یہ حضرت ختم المرسلین، رحمتہ اللعالمین ﷺ کی ولادت باسعادت تھی۔ یہ عرب کی ترقی و عروج کے بانی کی پیدائش نہ تھی۔ محض قوموں کی طاقتوں کا اعلان نہ تھا۔ اس میں صرف نسلوں اور ملکوں کی بزرگی کی دعوت نہ تھی۔ بلکہ یہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہائی کی پیدائش تھی۔ یہ تمام کرۂ ارضی کی سعادت کا ظہور تھا۔ یہ تمام نوع انسانی کے شرف واحترام کا قیام تھا۔ یہ انسانوں کی بادشاہتوں، ملتوں کی بڑائیوں اور قوموں کی فتوحات کا دن نہ تھا۔ بلکہ خدا کی ایک اور عالمگیر بادشاہت کے عرش جلال وجبروت کی آخری اور دائمی نمود تھی۔ آفتاب رسالت طلوع ہوچکا تھا۔ اسلامی تاریخ کی داغ بیل ڈالی جاچکی تھی۔ محمد ﷺ کی تبلیغ کی بنا پر پورا عرب اسلام کی روحانی گود میں سما چکا تھا۔ محمد ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو خلفائے راشدینؓ نے ایک اعلیٰ نظام حکومت مرتب کیا۔ جس کی وجہ سے ایران وروم کی سرکش سلطنتوں کے جھنڈے سرنگوں ہوگئے۔ ظلم وستم کو اس عادلانہ نظام میں سرچھپانے کی کوئی جگہ نہ مل سکی۔ یہاں تک کہ بنوامیہ کے تاجدار ولید بن عبدالملک کے دور میں ہندوستان کی تاریخ نے بھی اچانک پلٹا کھایا۔ ایک نیا آفتاب پردۂ سیمیں پر ابھر آیا۔ طائران خوش الحان نے نغمہ توحید سنایا اور تاریخ عالم کے سب سے کم عمر جرنیل محمد قاسمؒ
٢
نے ہندوستان میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ یوں تو ہے۔ لیکن برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ایک جنگل کی جہاں راستہ تلاش کرنا ناممکن ہے۔ محمد بن قاسمؒ کے آندھی کی طرح واپس چلا گیا۔ اس کے بعد خاندان کا اضافہ کیا۔ اسی طرح خلجی، تغلق، سید اور لودھی خا برصغیر کی حکومت تاتاریوں کی مسلمان اولاد کے ہا ظہیر الدین بابر نے ١٥٢٦ء میں مغل حکومت کی بنیا
مغلیہ حکومت اورنگزیب عالمگیر کے زما پذیر ہونا شروع ہوئی۔ محمد شاہ رنگیلا جیسے حکمرانو نادر شاہ درانی اور احمد شاہ ابدالی نے مل کر مغلوں نے تجارت کی غرض سے ہندوستان کے سمندروں اتحاد کے ساتھ کام کرتی رہیں۔ لیکن بعد از ایں مداخلت شروع کر دی جو ان کی باہمی جنگوں کا سبب انڈیا کمپنی سیاہ وسفید کی مالک بن گئی۔ انگریزو رنگے اور وہ مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف فوجی عام مل جاتے تھے اور غداروں کی بھی کمی ن کرنے کے خواب دیکھنے شروع کر دئیے۔ سب بنا اور میر جعفر اور میر قاسم کی غداری کی وجہ سے ا قابض ہو گئے اور یہاں کی دولت سے اپنی پونجی کے خلاف آواز بلند کرنے اور تحریک آزادی کی بیدار مغز بیٹا سلطان ٹیپو تھا۔ جو متلاطم دریاؤں میں آہنی دیوار ثابت ہوا اور جام شہادت پیا۔ فرنگی تیز رفتار جنگی جہازوں میں سوار ہو کر سات سمند قزاقوں نے ہمارے پانیوں میں ہمارا شکار کیا جن انگریز برصغیر میں آئے۔ اس وقت مسلمان ہی ا
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على خاتم الانبيا والمرسلين وعلى آله واصحابه وازواجه
ظہور قادیانیت
آنسوؤں کی گود میں مسکراہٹیں پلتی ہیں۔ دنیا انقلاب کی بنا پر قائم اپنی تابانی سمیٹ کر پردوں کی اوٹ میں چلا جاتا ہے تو مہتاب کی دعویٰ کرتی ہے۔ مہتاب ستاروں کی فوج کے ہمراہ بھی اپنے اقتدار ہر صبح طلوع ہوتے وقت ایک نیا احساس لے کر آتی ہے۔ نسیم سحر ہی سبزہ زاروں میں طائران خوش الحان چہکتے ہیں وہاں زہریلے عروج کے بعد نشیب آتا ہے۔ اسی طرح آج سے چودہ سو سال قبل کی آماجگاہ تھی۔ ظلم و تشدد جہاں کے لوگوں کا پیشہ تھا۔ عالم انسانیت میں یتیم رونما ہوا۔ یہ امت مسلمہ کے ظہور کا پہلا دن تھا۔ یعنی یہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت تھی۔ یہ عرب کی ترقی و عروج کے سوں کی طاقتوں کا اعلان نہ تھا۔ اس میں صرف نسلوں اور ملکوں کی یہاں تک آنے والے تمام انسانوں کی رہائی کی پیدائش تھی۔ یہ تمام اور تمام نوع انسانی کے شرف واحترام کا قیام تھا۔ یہ انسانوں کی صرف صفوں کی فتوحات کا دن نہ تھا۔ بلکہ خدا کی ایک اور عالمگیر کی آخری اور دائمی نمود تھی۔ آفتاب رسالت طلوع ہو چکا تھا۔ چکی تھی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کی بنا پر پورا عرب اسلام کی روحانی گود سے رخصت ہوئے تو خلفائے راشدینؓ نے ایک اعلیٰ نظام حکومت اور روم کی سرکش سلطنتوں کے جھنڈے سرنگوں ہو گئے۔ ظلم و ستم کو کی کوئی جگہ نہ مل سکی۔ یہاں تک کہ بنو امیہ کے تاجدار ولید بن کی تاریخ نے بھی اچانک پلٹا کھایا۔ ایک نیا آفتاب پردۂ سیمیں پر نے توحید سنایا اور تاریخ عالم کے سب سے کم عمر جرنیل محمد قاسمؒ
٢
نے ہندوستان میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ یوں تو تاریخ عالم ہی ایک بل کھاتی ہوئی نہر کی طرح ہے۔ لیکن برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ایک جنگل کی طرح ہے جو خاردار جھاڑیوں میں الجھا ہوا ہو۔ جہاں راستہ تلاش کرنا ناممکن ہے۔ محمد بن قاسمؒ کے بعد محمود غزنویؒ ایک بگولے کی طرح آیا اور آندھی کی طرح واپس چلا گیا۔ اس کے بعد خاندان غلامان نے برصغیر کی تاریخ میں ایک خونی باب کا اضافہ کیا۔ اسی طرح خلجی، تغلق، سید اور لودھی خاندان برسر اقتدار رہنے کے بعد مٹ گئے اور برصغیر کی حکومت تاتاریوں کی مسلمان اولاد کے ہاتھ لگی جو مغلوں کے روپ میں نمودار ہوئے اور ظہیر الدین بابر نے ١٥٢٦ء میں مغل حکومت کی بنیاد رکھی۔
مغلیہ حکومت اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں نقطۂ عروج پر پہنچی اور اس کے بعد زوال پذیر ہونا شروع ہوئی۔ محمد شاہ رنگیلا جیسے حکمرانوں نے اس کے زوال میں بڑا کردار ادا کیا اور نادر شاہ درانی اور احمد شاہ ابدالی نے مل کر مغلوں کی تجہیز و تکفین کر دی۔ اس دوران مغربی قوموں نے تجارت کی غرض سے ہندوستان کے سمندروں پر مورچے جمائے۔ کچھ عرصہ تک یہ قومیں باہمی اتحاد کے ساتھ کام کرتی رہیں۔ لیکن بعد ازاں انہوں نے مقامی حکومتوں کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی جو ان کی باہمی جنگوں کا سبب بنی اور کرناٹک کی لڑائیوں کے بعد برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے باہمی نفاق سے خوب ہاتھ رنگے اور وہ مسلمانوں کی کمزوریوں سے واقف ہو گئے۔ ان کے پاس جدید اسلحہ تھا۔ کرائے کے فوجی عام مل جاتے تھے اور غداروں کی بھی کمی نہ تھی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے برصغیر پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے بنگال انگریزوں کے جبر و استبداد کا نشانہ بنا اور میر جعفر اور میر قاسم کی غداری کی وجہ سے انگریز نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال پر قابض ہو گئے اور یہاں کی دولت سے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط کے خلاف آواز بلند کرنے اور تحریک آزادی کی بنیاد رکھنے والا ریاست میسور کے حکمران حیدر علی کا بیدار مغز بیٹا سلطان ٹیپو تھا۔ جو متلاطم دریاؤں پر لڑنا جانتا تھا۔ انگریزوں کے لئے سب سے مضبوط آہنی دیوار ثابت ہوا اور جام شہادت پیا۔ فرنگستان سے جو عظیم خطرہ (سوداگروں کے لباس میں) تیز رفتار جنگی جہازوں میں سوار ہو کر سات سمندر پار کر کے ہمارے ساحلوں پر پہنچا اور ان بحری قزاقوں نے ہمارے پانیوں میں ہمارا شکار کیا۔ اب یہ سوداگروں کا ٹولہ حکمران بن چکا تھا۔ جب انگریز برصغیر میں آئے۔ اس وقت مسلمان ہی ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے اور
٣
انہوں نے سب سے زیادہ ظلم و ستم مسلمانوں ہی پر ڈھایا اور اپنے دور اقتدار میں بھی مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں اور ہندوستان چھوڑتے وقت بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
انگریزوں کو اپنے رنگ پر مان تھا۔ وہ ہندوستانیوں کو کالا آدمی کہہ کر پکارتے۔ انہیں اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ انہیں بدتمیز وحشی اور جنگلی کہہ کر پکارتے اور انہیں اپنا غلام سمجھتے۔ جب ان کے ظلم و ستم اپنی انتہاء کو پہنچے اور مختلف مذاہب میں رخنہ اندازی شروع کر دی۔ عوام بدحالی کا شکار ہو گئے۔ ظلم و نا انصافی کا دور شروع ہو گیا۔ اخوت و محبت کی اصطلاحیں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔ گورے حکمران اور کالے غلام بن گئے۔ جب حاکم و محکوم میں نفرت اپنی انتہاء کو پہنچی تو برصغیر کے عوام نے بلا امتیاز مذہب وملت باہم مل کر مغلوں کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ١٨٥٧ء میں آزادی کی جنگ لڑی جو بعض نامساعد حالات کی بناء پر ناکام ہوئی اور اس کا اصل مجرم مسلمانوں ہی کو ٹھہرا کر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو زندگی کے ہر پہلو سے بیگانہ کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ انگریزوں نے برصغیر پر اپنے اقتدار کی بنیادوں میں انسانوں کا خون ہی نہیں اخلاقی اصولوں کا خون بہایا اور جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو خوف تھا کہ ایسی جنگ دوبارہ بھی لڑی جاسکتی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں میں جذبہ جہاد مفقود کرنے اور تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ایک سازش تیار کی۔ چونکہ مسلمان معاشی، سیاسی اور تعلیمی میدان میں تو پسماندہ کر دیئے گئے تھے۔ ان کو مذہب سے بھی بیگانہ کر کے اپنے اقتدار کو دائمی حیثیت دینے کی ترکیب سوچی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی ایمانی جز ختم نبوت کو بدلنے کی کوشش کی۔ تاکہ مسلمانوں کا بین اسلامی اتحاد نہ رہے اور جذبہ جہاد بھی ختم ہو جائے۔ اس لئے انہوں نے ایک شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) کو منصب نبوت پر فائز کیا۔ گویا آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدﷺ تک تو نبوت خدا کی طرف سے ملتی رہی۔ لیکن اب نبوت انگریزوں کی طرف سے ملنا شروع ہوگئی۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل دلیل سے ظاہر ہوتا ہے۔
١٨٧٠ء میں وائٹ ہال لندن میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں برطانوی کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی شریک ہوئے۔ کمیشن نے ایک رپورٹ پیش کی۔ جو دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا کے نام سے شائع ہوئی۔
"The Arival of British Empire in India."
٤
جس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت بنگال کے جعفر اور پنجاب کے مرزا غلام مرتضیٰ (والد سے برصغیر کے چپے چپے پر قابض ہو چکے ہیں۔ لیکن لئے کسی وقت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں ہی میں سے کـ مسیح موعود بھی کہلائے اور مسلمانوں کو ہمارے (انگریز اطاعت کو لازم کر دے۔‘‘ (مرزا غلام احمد انگریز انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریزوں اس رپورٹ کا اقتباس جو ’دی ارائیول آف برٹش ا اس منصب کے لئے پنجاب کے جنگ آزادی کے خریدا گیا۔ (اس غداری کو مرزا غلام احمد قادیانی خو آزادی کے دوران انگریزوں کو سپاہی اور گھوڑے مـ مذہب کا بھی غدار ہوتا ہے اور اس کے لئے ختم نبوت اس سازش کے تحت وقتی طور پر انگریزوں کو کچھ تقویـ انگریزوں کے اس خودکاشتہ پودے کو دانستہ نظر انداز ملک سے نکالنے کے لئے اور زیادہ سرگرم ہو گئے او تو گئے۔ لیکن ہمارے لیڈروں میں غلامانہ ذہنیت آپـ انگریز اپنے لگائے ہوئے پودے کو پروان چڑھانے عرب کے مسلمانوں کے خواب غفلت سے فائد اچھوتا نہ ہوگا۔ اگر انگریز پاکستان میں اسرائیل کے ہم بھی عربوں کی طرح خواب غفلت میں سرشار ہـ میں سازگار ہو رہے ہیں۔
مرزائی مرتد اور کافر ہیں
پچھلے صفحات میں یہ بات تفصیل کے سا کیوں اور کس طرح ہوئی۔ اب میں یہ ثابت کروں
٥
مسلمانوں ہی پر ڈھایا اور اپنے دور اقتدار میں بھی مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں اور ہندوستان چھوڑتے وقت بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
ت پر مان تھا۔ وہ ہندوستانیوں کو کالا آدمی کہہ کر پکارتے۔ انہیں عزت نہ تھی۔ انہیں بدتمیز وحشی اور جنگلی کہہ کر پکارتے اور انہیں اپنا اور اپنی انتہاء کو پہنچے اور مختلف مذاہب میں رخنہ اندازی شروع کر ظلم و نا انصافی کا دور شروع ہو گیا۔ اخوت و محبت کی اصطلاحیں بے بن اور کالے غلام بن گئے۔ جب حاکم ومحکوم میں نفرت اپنی انتہاء کو تو مذہب وملت باہم مل کر مغلوں کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر آزادی کی جنگ لڑی جو بعض نا مساعد حالات کی بناء پر ناکام ہوئی اور گھیر کر ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو زندگی کے ہر پہلو سے بیگانہ انگریزوں نے برصغیر پر اپنے اقتدار کی بنیادوں میں انسانوں کا خون لگایا اور جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو خوف تھا کہ ایسی جنگ نہ اٹھے انہوں نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں میں روح آزادی کو کچلنے کے لئے ایک سازش تیار کی۔ چونکہ مسلمان کو تو پسماندہ کر دیئے گئے تھے۔ ان کو مذہب سے بھی بیگانہ کر کے کی ترکیب سوچی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی عمل کی ۔ تاکہ مسلمانوں کا تمدن اسلامی اتحاد نہ رہے اور جذبہ جہاد انہوں نے ایک شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) کو منصب نبوت پر فائز جو کہ حضرت محمدﷺ تک تو نبوت خدا کی طرف سے ملتی رہی۔ لیکن سے ملنا شروع ہوگئی۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل دلیل سے ظاہر ہوتا ہے۔
سال لندن میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں برطانوی کمیشن جس میں متعین مشنری کے پادری بھی شریک ہوئے۔ کمیشن نے ایک آف برٹش ایمپائر ان انڈیا کے نام سے شائع ہوئی۔ "The Arival of British Empire" ٤
جس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ: ”ہم (انگریز) دکن کے صادق، بنگال کے جعفر اور پنجاب کے مرزا غلام مرتضیٰ (والد مرزا غلام احمد قادیانی) جیسے غداروں کی مدد سے برصغیر کے چپے چپے پر قابض ہو چکے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا جذبہ جہاد ہماری حکومت کے لئے کسی وقت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس جذبہ جہاد کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں ہی میں سے کوئی ”نبوت“ کا دعویٰ کرے جو اپنے آپ کو مسیح موعود بھی کہلائے اور مسلمانوں کو ہمارے (انگریزوں کے) خلاف جہاد کو حرام قرار دے اور اطاعت کو لازم کر دے۔“ (مرزا غلام احمد انگریزوں کی خواہشات پر پورا اترا اور اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریزوں کی اطاعت کو خدا کی اطاعت قرار دیا) یہ تھا اس رپورٹ کا اقتباس جو ’دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا‘ کے نام سے شائع ہوئی اور اس منصب کے لئے پنجاب کے جنگ آزادی کے مشہور غدار کے بیٹے مرزا غلام احمد قادیانی کو خریدا گیا۔ (اس غداری کو مرزا غلام احمد قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے والد نے جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کو سپاہی اور گھوڑے مہیا کئے تھے) چونکہ جو ملک کا غدار ہوتا ہے وہ مذہب کا بھی غدار ہوتا ہے اور اس کے لئے ختم نبوت سے غداری کرنا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ اس سازش کے تحت وقتی طور پر انگریزوں کو کچھ تقویت ملی۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں نے انگریزوں کے اس خودکاشتہ پودے کو دانستہ نظر انداز کر کے اس کے محرک (انگریزوں) ہی کو اس ملک سے نکالنے کے لئے اور زیادہ سرگرم ہو گئے اور آخر نکال کر ہی دم لیا۔ انگریز اس ملک کو چھوڑ تو گئے۔ لیکن ہمارے لیڈروں میں غلامانہ ذہنیت آج بھی باقی ہے۔ جن کے تعاون سے آج بھی انگریز اپنے لگائے ہوئے پودے کو پروان چڑھانے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف تو عرب کے مسلمانوں کے خواب غفلت سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو جنم دیا تو دوسری طرف اچنبھا نہ ہوگا۔ اگر انگریز پاکستان میں مرزائیل کے نام سے مرزائیوں کے ملک کو جنم دیں؟ چونکہ ہم بھی عربوں کی طرح خواب غفلت میں سرشار ہیں اور جیسا کہ حالات بھی مرزائیوں کے حق میں سازگار ہو رہے ہیں۔
مرزائی مرتد اور کافر ہیں
پچھلے صفحات میں یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں کہ فتنہ مرزائیت کی ابتداء کیوں اور کس طرح ہوئی۔ اب میں یہ ثابت کروں گا کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس ٥
سلسلے میں مرزا قادیانی کی کہانی ان کی اپنی زبانی بیان کرتا ہوں اور قرآن وحدیث کی رو سے یہ بات ثابت کی جائے گی کہ مرزائی واقعی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ خواہ وہ لاہوری ہوں یا قادیانی اور ان میں سے کسی ایک کو مسلمان کہنے والا بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
مرزا قادیانی کی کہانی ان کی اپنی زبانی
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی
مرزا غلام احمد قادیانی نے پنجاب کے ایک قصبہ قادیان کے ایک غدار خاندان میں ١٨٤٠ء میں جنم لیا۔ یہ ایک ایسے شخص کی پیدائش کا دن تھا جو بعد میں قوم وملت کا غدار ہی نہیں بلکہ دین اسلام کا غدار بھی ثابت ہوا اور جس نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی طرح ختم نبوت سے بھی غداری کی۔ جس نے انبیاء کی توہین کی۔ صحابہ پر کیچڑ اچھالا اور خاتون جنت فاطمۃ بنت محمدؐ پر بہتان عائد کئے۔ جس نے فرنگیوں کے اقتدار کو تقویت پہنچائی۔ لیکن افسوس! لاکھوں باغیرت مسلمانوں میں کوئی بھی ناموس رسالت کا غازی علم الدین شہید جیسا پروانہ پیدا نہ ہوا۔ جو اسے موقع پر ٹھکانے لگا دیتا اور فرنگیوں کا لگایا ہوا یہ پودا باوجود ان کی پوری کوشش کے یوں پروان نہ چڑھتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے باون سال کی عمر میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کی باون سالہ تعلیمات اسلام کے مسلمہ اصولوں پر مبنی ہیں۔ لیکن فرنگیوں کے اشارے پر دعویٰ نبوت کے بعد مرزا قادیانی اپنی باون سالہ زندگی کی تعلیمات سے منحرف ہو گیا۔ اوّل تو یہ بات ہی مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نے بہت سے مدرسین سے تعلیم حاصل کی اور یہ شان نبوت کے خلاف ہے کہ کوئی نبی انسانوں کے لئے رہبر بن کر آئے اور پھر ان سے تعلیم بھی حاصل کرے۔ نبیوں کو تو خدا کا دیا ہوا اتنا علم ہوتا ہے۔ جس سے وہ پوری دنیا کو منور کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف تو آپ اُمی تھے۔ لیکن دوسری طرف پوری دنیا مل کر بھی آپؐ کے علم کی برابر نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی کا علم خدا کی طرف سے عطاء ہوتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی ان نبیوں سے الگ تھلگ پیدا ہوئے۔ جو آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ تک آئے۔ یہ ایک عقلی دلیل تھی۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نبیوں کی برادری سے خارج ہے۔ لیکن مرزائیوں کے لئے یہ واضح
٦
کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی خود اپنے آپ پر کفر کا فتویٰ میں نے دنیاوی شہرت اور فرنگیوں کے اقتدار کو مستحکم ک میں یہ بات مرزا قادیانی کے ارشادات سے ثابت کرت کوئی ثبوت نہیں۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سیدنا و مولانا ح مدعی نبوت ورسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں اور میر ہوئی اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
مرزا قادیانی ترجمہ (حمامۃ البشریٰ ص ٩ ”محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٣٣٢)
تعلیمات کو مکمل کر دیا اور اللہ پاک نے آپ پر قرآن تک آنے والی نسلوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا۔ اس لی حاجت نہیں رہتی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧
محمد ﷺ کے بعد رسالت اور نبوت کا دعویدار ہوا اور قرآن یہ ثابت کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی
یہ تصویر کا ایک رخ تھا۔ اب میں تصویر خبیث مرزا قادیانی نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا،
مرزا قادیانی ان کتابوں میں رقمطراز ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کو) اپنا رسول بھیجا۔“ ”اور مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہ
گویا اس میں مرزا قادیانی نے صرف نبی انبیاء علیہم السلام پر فوقیت دی۔
٧
کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی خود اپنے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا کر مرا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے دنیاوی شہرت اور فرنگیوں کے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے ہمیشہ کے لئے جہنم خریدی اور میں یہ بات مرزا قادیانی کے ارشادات سے ثابت کرتا ہوں اور مرزائیوں کے پاس آج تک اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سیدنا و مولانا حضرت محمدﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں اور میرا یقین ہے کہ رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠،٢٣١)
مرزا قادیانی ترجمہ (حمامتہ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧) میں رقمطراز ہیں: ”محمدﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص٤٩، خزائن ج٧ ص٢٣٣) میں لکھتے ہیں: ”چونکہ محمدﷺ نے اسلام کی تعلیمات کو مکمل کر دیا اور اللہ پاک نے آپ پر قرآن جیسی مکمل اور مدلل کتاب اتاری اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا۔ اس لئے آپؐ کے بعد کسی قسم کے ظلی یا بروزی نبی کی حاجت نہیں رہتی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص٢٧، خزائن ج١١ ص٢٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”بدبخت ہے وہ شخص جو محمدﷺ کے بعد رسالت اور نبوت کا دعویدار ہو اور وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ کیونکہ قرآن یہ ثابت کرتا ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی تھے۔“
یہ تصویر کا ایک رخ تھا۔ اب میں تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیتا ہوں۔ جس میں خبیث مرزا قادیانی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا۔
مرزا قادیانی ان کتابوں میں رقمطراز ہیں: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں (مجھ مرزا غلام احمد قادیانی کو) اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلا ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١)
”اور مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا۔“
(حقیقت الوحی ص٧٣، خزائن ج٢٢ ص٧٦)
گویا اس میں مرزا قادیانی نے صرف نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ بلکہ اپنے آپ کو تمام انبیاء علیہم السلام پر فوقیت دی۔
٧
(تحفہ حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) میں لکھتے ہیں: ”اللہ پاک نے مجھ سے معجزات وابستہ کئے اور اس قدر معجزات کا دریا رواں کیا کہ تمام انبیاء مل کر بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔“ اس بات کو بھی مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”قرآن میں خاتم النبیین کے لئے جو آیت موجود ہے وہ میرے لئے ہی لکھی گئی ہے اور میں آخری نبی ہوں۔“ مرزا قادیانی ”اربعین“ میں لکھتے ہیں: ”میں صاحب شریعت نبی ہوں اور میں نے اپنا ایک قانون مقرر کیا ہے تو کیا اب بھی میری نبوت میں کوئی شک رہ گیا ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٦ ،خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) ہی میں لکھتے ہیں۔ میں آنحضرت ﷺ سے افضل ہوں۔ ”چونکہ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا ، تو اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ میں محمدؐ سے افضل ہوں۔“ اور مرزا قادیانی اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں۔ جب کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی گئی ہے۔
آپ خود فیصلہ کریں
میں نے مرزا قادیانی کی ان تحریرات سے عبارتیں نقل کیں۔ جو ١٨٧٦ء سے ١٨٩٩ء تک مسلمانوں کے اجتماعی عقائد اور دعویٰ نبوت سے پہلے کی تھیں اور ان کتابوں سے بھی نقل کیں جو دعویٰ نبوت کے بعد لکھی گئیں۔ جو اسلام کے بنیادی اصولوں ہی سے نہیں ٹکراتی۔ بلکہ مرزا قادیانی کی اپنی ابتدائی تعلیمات سے بھی متضاد ہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ایک ایسا شخص جس کے اقوال میں اس قدر تضاد ہو۔ یعنی ختم نبوت بھی ہے۔ اجرائے نبوت بھی ، حیات مسیح بھی ہے۔ وفات مسیح بھی ، پر ایمان لایا جا سکتا ہے یا اسے رسالت کا درجہ سونپا جا سکتا ہے؟ کبھی نہیں ہو سکتا۔ چونکہ نبی معاشرے کی اصلاح کے لئے آتے ہیں نہ کہ بربادی کے لئے۔ نبوت کا منصب اسی کو عطاء کیا جا سکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ اس لئے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکار کذاب، مفتری، کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
صاحب کو اپنے حسن پہ کتنا غرور تھا
٨
جعلی نبی مرزا غلام احمد، قرآن وحدیث کی نظر میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیء علیما (الاحزاب: ٤٠)“ ﴿ (لوگو) محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔﴾
قرآن کریم محمد ﷺ پر آہستہ آہستہ نازل ہوا اور جس موقع پر جس آیت کی ضرورت محسوس فرمائی۔ اللہ پاک نے اسی موقع پر آیت نازل کی ۔ اسی طرح مندرجہ بالا آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپؐ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ کی بیوی حضرت زینبؓ سے آپؐ کا نکاح ہوا اور محمد ﷺ کے اس فعل مبارک پر اعتراضات کئے اور کہا کہ آپؐ نے اپنی بہو سے نکاح کیا۔ جب کہ اس سے پہلے آپؐ شریعت محمدیؐ میں بہو سے نکاح کو حرام قرار دے چکے تھے تو اس آیت کا مقصد ایک فتنہ کو مٹانا تھا اور اسی لئے اس بات کی وضاحت کی گئی کہ: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ ﴿ محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔﴾ یعنی وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا اور اس چیز کی وضاحت کی گئی کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی جوان بیٹا نہیں ہے۔
مخالفین نے دوسرا اعتراض یہ پیش کیا کہ اگر منہ بولے بیٹے کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کرنا جائز ہے تو ٹھیک ہے۔ آخر نکاح کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اس کے جواب میں اسی آیت میں ”ولکن رسول اللہ“ ﴿ مگر وہ اللہ کے رسول ہیں ۔﴾ یعنی یہ ضروری تھا کہ حلال چیز کو جن فرسودہ رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے۔ اس کے بارے میں تعصبات اور غلط فہمیاں ختم ہو جائیں اور کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور پھر زور دار الفاظ میں تاکید فرمائی کہ: ”وخاتم النبیین“ وہ خاتم النبیین ہیں کہ آپ (ﷺ) کے بعد چونکہ کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے معاشرے میں کوئی پیچیدگی باقی نہ رہ جائے۔ اسی لئے آپؐ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کیا اور آپؐ کا یہ فعل آخری نبی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
اس آیت سے یہ بات بغیر کسی پیچیدگی کے واضح ہو جاتی ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی تھے
٩
اور اس آیت کی اس تشریح پر ہر زمانے میں مسلمان متفق رہے اور آج چودہ سو سال کے بعد اس باہمی نفاق کے زمانے میں بھی اس بات پر مکمل طور پر مسلمانوں میں اتحاد ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ اب مرزائیوں کی عیاری دیکھیں کہ وہ کس طرح سے قرآن سے منحرف ہوتے ہیں اور اس آیت سے مختلف قسم کے معانی نکال کر اپنے لئے راہ ہموار کرتے ہیں۔
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
کیا مرزائی ، حضرت محمد ﷺ اور ابوبکر صدیقؓ سے بھی زیادہ قرآن کو سمجھتے ہیں۔ جب کہ آپؐ نے اپنی زندگی میں مدعی نبوت مسیلمہ کو کذاب قرار دیا اور اسود عنسی کو ایک آدمی کے ہاتھوں قتل کروا دیا۔ اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ ہرگز ایسا نہ کرتے۔ چونکہ آپؐ سے پہلے ایک ہی وقت اور ایک ہی علاقے میں ایک سے زائد نبی آتے رہے۔ اسی اثناء میں آپ کا انتقال ہوگیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے فتنہ ارتداد کو مٹانے کی کوشش کی۔ اگر قرآن حکیم آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کی گواہی نہ دیتا تو ابوبکر صدیقؓ کو انسانیت کا خون بہانے کی کیا ضرورت تھی؟ گویا ابوبکر صدیقؓ نے آنے والی نسلوں کے لئے راہ ہموار کی کہ فتنہ ارتداد جب کبھی اور جہاں کہیں بھی سر اٹھائے، اس کو اپنی جان کی بازی لگا کر بھی کچل دو اور یہی مؤمن کی نشانی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزائی ختم نبوت کے ہی منکر نہیں ہیں۔ قرآن کے منکر بھی ہیں اور قرآن کا منکر خدا کا منکر ہوتا ہے اور اس کے کافر اور مرتد ہونے میں کوئی شک نہیں اور اس سے پہلے کہ فتنہ ارتداد سر اٹھانے کی کوشش کرے۔ اس کو حرف غلط کی طرح مٹا دینا چاہئے۔
اب میں حدیثوں کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کا مسلمان ہونے کا دعویٰ محض دھوکہ اور فریب ہے اور مرزائیوں میں جھوٹ ہی جھوٹ ہر طرف ہے۔ بات سچی ان کی زبان پر آتی ہی نہیں۔
- ١...... ”قال رسول اللہ ﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت
فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی ج ٢ ص ٥٢، باب ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔﴿
١٠
- ٢...... ”قال رسول اللّٰہ
(رواہ البیہقی فی کتاب الرؤیا) ”اور میری امت کے بعد کوئی امت (یعنی کسی نئے آ
- ٣...... ”قال النبی ﷺ لو
(مشکوٰۃ ص ٥٠٨) ”نبی ﷺ نے فرمایا: میر
- ٤...... ”قال رسول اللہ ﷺ
موسٰی اِلَّا انہ لیس نبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٢٧٨) ”رسول اللہ ﷺ نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھ ہارون (علیہ السلا
- ٥...... ”قال النبی ﷺ
بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع ویعجبون لہ ویقولون ھلّا وضعت ھـ (مسلم ج ٢ ص ٢٤٨، باب ذکر کونہ ﷺ مجھ سے پہلے گذرے ہوئے انبیاء کی مثال ایـ حسین وجمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک ایـ پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ جسے پر کر
- ٦...... ”عن ثوبان قـ
امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعـ (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، باب لا تقوم الساعۃ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا..... اور یہ کہ میر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں مندرجہ بالا احادیث کے صحیح ہو
سئلے میں مسلمان متفق رہے اور آج چودہ سو سال کے بعد اس بات پر مکمل طور پر مسلمانوں میں اتحاد ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں کہ وہ کس طرح سے قرآن سے منحرف ہوتے ہیں اور اس اپنے لئے راہ ہموار کرتے ہیں ؎
ہے اور ابوبکر صدیق سے بھی زیادہ قرآن کو سمجھتے ہیں۔ جب امت مسیلمہ کو کذاب قرار دیا اور اسود عنسی کو ایک آدمی کے کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ ہرگز ایسا نہ کرتے۔ چونکہ آپ سے ہلے ایک سے زائد نبی آتے رہے۔ اسی اثناء میں آپ کا ہونے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے فتنہ ارتداد کو مٹانے کی خدا کے آخری نبی ہونے کی گواہی نہ دیتا تو ابوبکر صدیق کو پڑی؟ گویا ابوبکر صدیق نے آنے والی نسلوں کے لئے راہ پر کھیل بھی سر اٹھائے، اس کو اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اس سے ثابت ہوا کہ مرزائی ختم نبوت کے ہی منکر نہیں منکر خدا کا منکر ہوتا ہے اور اس کے کافر اور مرتد ہونے ارتداد سر اٹھانے کی کوشش کرے۔ اس کو حرف غلط کی
الے بتاتا ہوں کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور جب ہے اور مرزائیوں میں جھوٹ ہی جھوٹ ہر طرف
ﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت ی ج٢ ص ٥٢ ، باب ذهبت النبوة وبقيت رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب
- ٢...... "قال رسول الله ﷺ لا نبی بعدی ولا امة بعد امتی
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور
(رواة البيهقى فى كتاب الرؤيا)
میری امت کے بعد کوئی امت (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت) نہیں۔ ﴾
- ٣...... "قال النبى ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب
نبی ﷺ نے فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ ﴾
(مشكوة ص ٥٥٨)
- ٤...... "قال رسول الله ﷺ لعلى انت منى بمنزلة هارون من
موسى الا انه ليس نبي بعدي
(بخاری ج ١ ص ٦٣٣ ، باب غزوه تبوك في غزوة العسرة
"رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے جو
ج ٢ ص ٢٧٨)
موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾
- ٥...... "قال النبى ﷺ مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل
بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلاً وضعت هذه اللبنة، فانا اللبنة وانا خاتم النبيين نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور
(مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ ، باب ذكر كونه ﷺ خاتم النبيين)
مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے۔ مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ جسے پر کرنے کے لئے کوئی نبی آئے۔ ﴾
- ٦...... "عن ثوبان قال رسول الله ﷺ ...... وانه سيكون في
امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي "ثوبانؓ سے روایت ہے
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ، باب لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون)
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا...... اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
مندرجہ بالا احادیث کے صحیح ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ جس کا مطلب
١١
یہ ہوا کہ محمد ﷺ آخری نبی تھے۔ لیکن میں نے جو حدیث چھٹے نمبر پر تحریر کی۔ جس میں آپ نے فرمایا۔ میرے بعد تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اس بات کو ہمیشہ سے دوست و دشمن تسلیم کرتے رہے کہ نبی ﷺ کا ہر قول ہمیشہ سچا ثابت ہوا اور آپ نے جو تیس کذاب آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ وہ مرزا قادیانی جیسے نبوت کے دعویداروں نے پوری کی اور اس حدیث میں امت محمدیہ کو تنبیہ کی گئی کہ وہ ایسے چالبازوں اور کذابوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی ایسی حدیثیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی تھے اور آدم صفی اللہ سے محمد ﷺ سے پہلے تک جتنے بھی نبی آئے انہوں نے اپنے بعد نبی آنے کی تائید کی اور اگر حضور آخری نبی نہ ہوتے تو آپ بھی پہلے نبیوں کی طرح اجزائے نبوت کی بشارت کرتے اور اس سے آپ کی شان اقدس میں کوئی فرق نہ آتا۔ لیکن چونکہ نظام قدرت ہے کہ جس چیز کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس کی انتہاء بھی ہوتی ہے۔ جس طرح قرآن سورۂ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ الناس پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور نبی اکرم ﷺ پر ختم ہوئی۔ اس کے علاوہ تورات اور انجیل مقدس میں بھی اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہوں گے اور انجیل مبارک میں آخری نبی ہونے کے ساتھ نام بھی درج ہے اور اس پر چودہ سو سال سے لے کر آج تک علماء اور فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو محمد ﷺ کے کسی ایک کلمہ کے ماننے سے بھی انکار کر دے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر دیکھا جائے تو مرزائی اس حکم کے منکر ہیں۔ جس پر دین اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ مرزائی مرتد، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا جائزہ
یوں تو غائب کا علم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ لیکن بعض لوگ رفتار حالات کو ملحوظ رکھ کر نیچر کے استمراری واقعات کی بناء پر قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور اللہ پاک اپنے مقرب بندوں (یعنی پیغمبروں) کو حالات کے مطابق وقت سے پہلے بتائی ہوئی بات بھی پوری کرتا ہے۔ اس بات کو مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“ لیکن فریبی نبیوں کی پیش گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ اب چونکہ مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کر چکے تھے اور اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے بہت سی پیش
١٢
گوئیاں کیں اور اسی سلسلے میں (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨ صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی کہ مرزا قادیانی کا کذب و صدق معلوم کرنے کے لئے گوئیاں ہیں۔ اب ہم ان کی چند پیش گوئیوں کا جائزہ نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہے۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی
احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری مرزا قادیانی لڑکی کے ہمراہ کسی کام سے قادیان گئے اور مرزا قادیانی کام مرزا قادیانی کے ذریعے ہو سکتا تھا۔ جس میں انہوں ہاں مفقود ہے) آخر مرزا قادیانی نے وہ کام اس شرط ساتھ (یعنی مرزا قادیانی سے) کرے۔ اگر غور کیا جائے حیائی کا ثبوت دیا اور کاروباری نقطہ نظر سے کام کر کیا۔ جب کہ وہ خود اپنی آخری عمر میں تھے اور لڑکی مرزا قادیانی اور ان کے حواری اپنی لڑکیوں کا بھی ا طرح کا کاروبار کرتے ہوں گے۔ حالانکہ یہ بات مرزا قادیانی تو مدعی نبوت بھی ہیں۔ کیا مرزائیوں اب میں ان پیش گوئیوں کا ذکر کر محمدی بیگم کی شادی مرزا قادیانی کے ساتھ نہ کر کو لکھا جس کا اقتباس یہ ہے: ”خدا تعالیٰ نے دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ میں نہ آیا تو آپ کے لئے دوسری جگہ رشتہ کر موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت میرا صدق و کذب معلوم ہو سکتا ہے۔“ اس خلاف تہذیب اور بازاری
ش نے جو حدیث چھٹے نمبر پر تحریر کی۔ جس میں آپ نے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اس بات کو کہ نبی ﷺ کا ہر قول ہمیشہ سچا ثابت ہوا اور آپ نے جو و مرزا قادیانی جیسے نبوت کے دعویداروں نے پوری کی اور دہ ایسے چالبازوں اور کذابوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پیش ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے پہلے تک جتنے بھی نبی آئے انہوں نے اپنے بعد نبی ہوتے تو آپ بھی پہلے نبیوں کی طرح اجرائے نبوت کی قدس میں کوئی فرق نہ آتا۔ لیکن چونکہ نظام قدرت ہے تہاء بھی ہوتی ہے۔ جس طرح قرآن سورۂ فاتحہ سے ۔ اسی طرح نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع اور تورات اور انجیل مقدس میں بھی اس بات کی نشان اور انجیل مبارک میں آخری نبی ہونے کے ساتھ لے کر آج تک علماء اور فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو نکار کر دے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر س پر دین اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ لہذا اس سے سے خارج ہیں۔
سی کو نہیں۔ لیکن بعض لوگ رفتار حالات کو ملحوظ رکھ یاں کرتے ہیں اور اللہ پاک اپنے مقرب بندوں سے پہلے بتائی ہوئی بات بھی پوری کرتا ہے۔ اس ہ) میں تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ممکن نہیں و نبیوں کی پیش گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ اب پنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے بہت سی پیش
گوئیاں کیں اور اسی سلسلے میں (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ۔“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کا کذب وصدق معلوم کرنے کے لئے پہلا اور سب سے بڑا معیار ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ اب ہم ان کی چند پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ جن کو خاص طور پر مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہے۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی
احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری مرزا قادیانی کے قریبی رشتہ دار تھے۔ جو اپنی نوجوان لڑکی کے ہمراہ کسی کام سے قادیان گئے اور مرزا قادیانی کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔ اتفاق سے وہ کام مرزا قادیانی کے ذریعے ہوسکتا تھا۔ جس میں انہیں ایثار اور قربانی کرنا پڑتی تھی۔ (جوان کے ہاں مفقود ہے ) آخر مرزا قادیانی نے وہ کام اس شرط پر منظور کیا کہ وہ اپنی لڑکی کی شادی میرے ساتھ (یعنی مرزا قادیانی سے ) کرے۔ اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کس بے حیائی کا ثبوت دیا اور کاروباری نقطہ نظر سے کام کرنے کے عوض ان کی لڑکی کا رشتہ اس وقت طلب کیا۔ جب کہ وہ خود اپنی آخری عمر میں تھے اور لڑکی سولہ سال کے لگ بھگ تھی۔ میرا خیال ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری اپنی لڑکیوں کا بھی (شرم وشرافت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ) اسی طرح کاروبار کرتے ہوں گے۔ حالانکہ یہ بات کسی بھی شریف آدمی کو زیب نہیں دے سکتی۔
مرزا قادیانی تو مدعی نبوت بھی ہیں۔ کیا مرزائیوں کے نزدیک معیار نبوت یہی ہے۔
اب میں ان پیش گوئیوں کا ذکر کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو اپنی لڑکی محمدی بیگم کی شادی مرزا قادیانی کے ساتھ نہ کرنے پر کیں۔ مرزا قادیانی نے ایک خط مرزا احمد بیگ کو لکھا جس کا اقتباس یہ ہے: ”خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک سے مجھ پر ظاہر کیا کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی دور کر دے گا اور اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا تو آپ کے لئے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد، تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت کی ایسی پیش گوئیاں ہیں کہ جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق و کذب معلوم ہوسکتا ہے۔“
اس خلاف تہذیب اور بازاری غنڈوں کی زبان میں دھمکی آمیز خط سے ڈرنے کی
١٣
بجائے مرزا احمد بیگ صاحب نے اس کو اخبارات میں شائع کروا دیا۔ جس سے مشتعل ہو کر مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل پیش گوئیاں کیں۔
- ......١ مرزا احمد بیگ کا داماد سلطان محمد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔
- ......٢ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کے اندر فوت ہوگا۔
- ......٣ میں (مرزا قادیانی) اس وقت تک زندہ رہوں گا۔ جب تک محمدی بیگم میرے نکاح
میں نہ آجائے گی۔
مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئیاں کر کے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ لیکن؎
اور مرزا قادیانی امید و یاس کے دھندلکے دل میں سموئے ہوئے مصائب کا شکار ہو کر شکست کے مارے ہوئے مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔
(اس موقع پر مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی کہ ”میں مکہ یا مدینہ میں مروں گا“ جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے) اور مرزا احمد بیگ صاحب پیش گوئی سے اڑھائی سال بعد اپنی طبعی موت مر گئے۔ جب کہ مرزا قادیانی کے مطابق ان کو محمدی بیگم کی شادی مرزا قادیانی کے ساتھ رچا کر مرنا تھا اور محمدی بیگم اپنے خاوند مرزا سلطان محمد کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر و خوبی آباد رہنے کے بعد ١٩ نومبر ١٩٦٦ء کو لاہور میں اپنے خوبرو جواں سال بیٹوں کے ہاں انتقال فرما گئیں۔ انا لله وانا اليه راجعون!
ان پیش گوئیوں سے مرزا قادیانی کا جھوٹ عیاں ہوتا ہے۔ جب کہ ان کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ اسی طرح کی ہزاروں پیش گوئیاں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے کذب و صدق کا معیار قرار دیا جھوٹی ثابت ہوئیں۔ مرزا قادیانی (آئینہ کمالات اسلام) میں لکھتے ہیں: ”جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو۔ اس کی پیش گوئیاں ہرگز پوری نہیں ہوتیں“
اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے“۔
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) میں لکھتے ہیں: ”جب ایک بات میں کوئی شخص جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے“۔
١٤
صاحب نے اس کو اخبارات میں شائع کروا دیا۔ جس سے مشتعل ہو کر ذیل پیش گوئیاں کیں۔ کا داماد سلطان محمد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔ ہوشیار پوری تین سال کے اندر فوت ہوگا۔ قادیانی) اس وقت تک زندہ رہوں گا۔ جب تک محمدی بیگم میرے نکاح آئے گی۔ نے یہ پیش گوئیاں کر کے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہر حربہ
ہائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا وہ امید و یاس کے دھندلکے دل میں سموئے ہوئے مصائب کا شکار ہو کر مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی کہ ”میں مکہ یا مدینہ میں مروں گا۔“ جھوٹی ت احمد بیگ صاحب پیش گوئی سے اڑھائی سال بعد اپنی طبعی موت ان کے مطابق ان کو محمدی بیگم کی شادی مرزا قادیانی کے ساتھ رچا کر جبکہ مرزا سلطان محمد کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر و خوبی آباد رہنے لاہور میں اپنے خوبرو جواں سال بیٹوں کے ہاں انتقال فرما گئیں۔ انا
لئے مرزا قادیانی کا جھوٹ عیاں ہوتا ہے۔ جب کہ ان کو مرزا قادیانی قرار دیا تھا۔ اسی طرح کی ہزاروں پیش گوئیاں جن کو مرزا قادیانی قرار دیا جھوٹی ثابت ہوئیں۔ مرزا قادیانی (آئینہ کمالات اسلام) ان میں کاذب ہو۔ اس کی پیش گوئیاں ہرگز پوری نہیں ہوتیں۔“ ہیں: ”کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں
خزائن ج ٢٢ ص ٢٣١) میں لکھتے ہیں: ”جب ایک بات میں کوئی میری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔“
١٤
ہم نے مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی کو لکھا اور اس کو مرزا قادیانی کی تحریرات پر پرکھا۔ ان کی اپنی تحریرات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جو آدمی اپنے دعوے میں جھوٹا ہو۔ اس کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے خود کہا کہ میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں۔ اس بات پر مرزائیوں کو غور کرنا چاہئے اور مرزا قادیانی کی اندھا دھند تقلید کر کے ان پر مزید جہنم کا بوجھ مسلط نہ کریں۔ بلکہ جتنا ہے اتنا ہی رہنے دیں اور راہ راست پر آجائیں۔ اس طرح ان کی اپنی آخرت ہی نہیں سنورے گی۔ بلکہ مرزا قادیانی کے لئے بھی سودمند ہوگی۔
مرزا قادیانی کی سچی پیش گوئی
جب فرنگیوں کے ایماء پر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تو انہوں نے اپنے لگائے ہوئے اس پودے کو دولت کے بل بوتے پر پروان چڑھانے کی پوری کوشش کی اور مرزا قادیانی کو خوب دولت سے نوازا۔ مرزا قادیانی نے دولت کے سہارے ان لوگوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنا شروع کیا جو دولت کے بھوکے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہونا جانتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے جب لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ”ہر فرعونے را موسیٰ“ والی سنت کو دہرا کر مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کا سر کچلنے کے لئے بہت سے مسلمانوں کو کھڑا کر دیا۔ انہی میں سے ایک مجاہد مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری بھی تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی کے جال کو تار تار کر دیا اور ہر میدان میں مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کو فاش شکستیں دیں اور مرزائیت کا خوب پوسٹ مارٹم کیا۔
جب مرزا قادیانی نے اپنی بے بنیاد عمارت کو گرتا، اپنے گلستان کو اجڑتا، اپنے گھر کو برباد اور اپنی جھوٹی پیشوائی کو تاخت و تاراج ہوتے دیکھا تو مرزا قادیانی نے اپنی روایتی عیاری اور بازاری ہتھکنڈوں کا ثبوت دیتے ہوئے ثالث بالخیر بن کر مولوی ثناء اللہ صاحب سے مباہلے کا فیصلہ کیا۔ جس کے الفاظ یہ تھے: ”اگر میں (یعنی مرزا قادیانی) کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں تو میں مولوی صاحب کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب اپنے دشمنوں کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور اگر میں سچا ہوا تو مولوی صاحب میری زندگی میں وفات پا جائیں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣)
١٥
اس کے بعد مرزا قادیانی نے دکھاوے کے لئے ایک دعا شائع کی ۔ ”اے میرے آقا! اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں کسی مہلک بیماری (مرزا قادیانی اس سے مراد طاعون اور ہیضہ لیتے ہیں) میں مبتلا کر کے اٹھالے۔ اے میرے مالک تو ایسا ہی کر ۔آمین!“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣)
دیکھا جائے تو کس قدر عاجزانہ اور پرمغز دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بناوٹی عاجزی کو مدنظر رکھ کر مرزا قادیانی کی دعا قبول کی اور ایک سال بعد مرزا قادیانی مولوی صاحب کے سامنے مہلک مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گئے اور مولوی صاحب کئی سال بعد تک فاتحانہ زندگی بسر کرتے رہے۔ اس دعا کا مفید اور عمدہ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کا پول کھل گیا اور اپنے اقرار کے مطابق کاذب اور مفسد ٹھہرے۔ چونکہ مرزا قادیانی نے جو علامت مفسد اور کذاب کی مقرر کی تھی۔ آپ اس پر پورے اترے۔
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا
اب اگر کوئی راہ ہدایت پر آنا چاہے تو اس کے لئے مندرجہ بالا دو پیش گوئیاں ہی کافی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے اپنے اقوال کے مطابق مرزا قادیانی اور ان کے حواری کاذب، فریبی، مکار، عیار، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
معیار نبوت
اللہ پاک اپنے مقرب بندوں کو نبی مقرر کرتا ہے جو معاشرے کی اصلاح کے لئے اور انسانوں کو ایک خدا کی اطاعت کا سبق دینے کے لئے آتے ہیں۔ وہ نفس کا غلام بننے کی بجائے اسے اپنا غلام بناتے ہیں اور ان کا نفس اطاعت خداوندی میں ہمیشہ ان کا مطیع رہتا ہے۔ اسی وجہ سے انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور اگر انبیاء معصوم نہ ہوتے تو اللہ اپنی مخلوق کو ان کی بے چون و چرا اطاعت اور متابعت کا حکم نہ دیتا۔ انبیاء کی عقل دوسرے لوگوں کی عقلوں سے ارفع اور اکمل ہوتی ہے۔ ان کی رائے تمام لوگوں کی رائے سے وزنی، مؤثر اور قوی ہوتی ہے۔ فصاحت، بلاغت اور تاثیر سخن میں بھی انبیاء تمام ابنائے عصر پر غالب رہتے ہیں۔
١٦
قادیانی نے دکھاوے کے لئے ایک دعا شائع کی ۔ ”اے میرے آقا! انصاف کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں جو حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں بیماری (قادیانی اس سے مراد طاعون اور ہیضہ لیتے ہیں ) میں مبتلا کر کے ہلاک کر ۔ آمین !“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣)
کس قدر عاجزانہ اور پُر مغز دعا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس بناوٹی عاجزی کو شرف قبولیت بخشا اور ایک سال بعد مرزا قادیانی مولوی صاحب کے سامنے ہو کر ہلاک ہو گئے اور مولوی صاحب کئی سال بعد تک فاتحانہ زندگی بسر کرتے رہے اور نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کا پول کھل گیا اور اپنے اقرار کے مطابق چونکہ مرزا قادیانی نے جو علامت مفسد اور کذاب کی مقرر کی تھی ۔
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا
صداقت پر آنا چاہے تو اس کے لئے مندرجہ بالا دو پیش گوئیاں ہی کافی ہیں ۔ ان اقوال کے مطابق مرزا قادیانی اور ان کے حواری کاذب، فریبی، دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔
جب بندوں کو نبی مقرر کرتا ہے جو معاشرے کی اصلاح کے لئے اور سبق دینے کے لئے آتے ہیں ۔ وہ نفس کا غلام بننے کی بجائے نفس اطاعت خداوندی میں ہمیشہ ان کا مطیع رہتا ہے۔ اسی وجہ اگر انبیاء معصوم نہ ہوتے تو اللہ اپنی مخلوق کو ان کی بے چون و چرا انبیاء کی عقل دوسرے لوگوں کی عقلوں سے ارفع اور اکمل ہوتی لحاظ سے وزنی ، مؤثر اور قوی ہوتی ہے۔ فصاحت ، بلاغت اور ہمیشہ غالب رہتے ہیں ۔
١٦
تاریخ عالم اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سلاطین عالم کا طریق بھی یہی ہے کہ ہر کس و ناکس کو اپنا وزیر اور سفیر نہیں بناتے۔ وزارت اور سفارت کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرتے ہیں۔ جو عقل اور فہم میں یگانہ روزگار ہو۔ بادشاہ اور اس کی حکومت کا وفادار ، اطاعت شعار ، صادق اور راست باز ہو۔ جھوٹا اور مکار نہ ہو۔ جب شاہان دنیا کی مجازی اور فانی حکومت کی وزارت اور سفارت کے لئے اتنا بلند معیار ہے تو اس احکم الحاکمین اور شہنشاہ حقیقی کی نبوت اور خلافت کے لئے اس سے ہزار درجہ بڑھ کر اعلیٰ وارفع معیار ہوگا۔
آج کل نبوت ایک تماشہ بن چکی ہے ۔ جس کا جی چاہتا ہے نبوت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی نبوت کا دعویٰ ایک تماشہ سمجھ کر کیا ۔ اب ہم مرزا قادیانی کو مختصر طور پر اس معیار پر پرکھتے ہیں ۔ جو نبوت کے لئے ضروری ہے اور دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس پر پورا اترتے ہیں یا نہیں ۔
١...... اخلاق و کردار
نبی کے لئے اخلاق و کردار کا مجسمہ ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگ اس کی پیروی کر کے ایک اعلیٰ اخلاقی معاشرے کو جنم دیں۔ جو انسانیت کی فلاح کے لئے بہتر ثابت ہو۔ مرزا قادیانی صرف بداخلاق ہی نہ تھے۔ بلکہ آپ کا کردار انتہائی گرا ہوا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ آپ بڑھاپے کے عالم میں ایک سولہ سالہ دوشیزہ پر فریفتہ ہو کر بازاری ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ یہاں صرف چند واقعات نقل کرتا ہوں ۔
(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠) میں یہ واقعہ درج ہے کہ: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل جو مرزا قادیانی کے بہت بڑے معتقد تھے، کو مرزا قادیانی کی بیوی نے بتایا کہ حضرت صاحب کی ایک خادمہ بانو نامی عورت ایک رات جب کہ سردی زوروں پر تھی۔ حضور (مرزا قادیانی) کو دبا رہی تھی ۔ چونکہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے شبہ نہ ہو سکا کہ جس چیز کو وہ دبا رہی تھی ۔ مرزا قادیانی کی ٹانگیں نہیں بلکہ کوئی اور چیز ہے ۔ مرزا صاحب نے کہا بانو آج بڑی سردی ہے۔ بانو نے کہا : ہاں جی ندے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں نے ۔“
(الفضل ) مرزائیوں کا روز نامہ ہے ۔ اس میں ٣١ دسمبر ١٩٣٨ء ص ٦ میں ایک مرزائی کا خط شائع ہوا ۔ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا قادیانی ) ولی اللہ تھے اور ولی
١٧
اہل اللہ کبھی کبھار زنا کر لیتے ہیں۔ چونکہ حضرت مرزا صاحب ولی تھے۔ انہوں نے (یعنی مرزا قادیانی نے) کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ ہمیں اعتراض مسیح موعود پر نہیں۔ کیونکہ وہ کبھی کبھار زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (بشیر الدین محمود) پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘
ان حوالوں سے مرزا قادیانی کا کردار سامنے آتا ہے۔ اس کے ہر قول وفعل میں تضاد تھا اور نبوت کی اوٹ میں نوجوان دوشیزاؤں کی عصمتوں کو اپنی شہوت کے تیروں سے چھلنی کرتے رہے۔ اس حقیقت کو پڑھ کر مرزائی خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ اٹھیں گے اور زخم خوردہ ناگن کی طرح تڑپیں گے۔ لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ اب بھی ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ اگر گذشتہ گناہوں سے توبہ کرلیں اور راہِ راست پر آجائیں اور اس بات کی گواہی دیں کہ مرزا قادیانی کو منصبِ نبوت پر فائز کرنا تو درکنار اس کے نام کے ساتھ لفظ نبوت بھی انبیاء کی توہین ہے۔
اب مرزا قادیانی کے بازاری اخلاق کے کچھ اور نمونے ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور پیارے نبی عیسیٰ علیہ السلام کو کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١) میں لکھتے ہیں: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے۔‘‘
مرزا قادیانی (نور القرآن حصہ دوم ص ٧٣، خزائن ج ٩ ص ٤٣٨) میں رقمطراز ہیں: ’’آپ کے یسوع کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روئیں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز ونخرے سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ کسی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔‘‘
مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں لکھتے ہیں: ’’تین دادیاں اور نانیاں آپ کی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی) زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا ظہور ہوا۔‘‘
بدزباں کا قلب ہے بیت الخلاء
١٨
کیا کسی نبی کا اخلاق ایسا ہو سکتا ہے؟ نبی تو کیا کسی شریف آدمی کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی۔ چونکہ مرزا قادیانی خود زانی اور شرابی تھے۔ اس لئے اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے دوسروں پر بہتان تراشی کرتے رہے۔ کیا ایسا قبیح اخلاق انسان نبی ہو سکتا ہے؟
٢...... تقویٰ
نبی کا مقصد بندوں کو صرف خدا تک پہنچانا ہوتا ہے اور اگر نبی میں یہ صفت نہ ہو تو وہ انسانوں کو خدا پرست بنانے کے بجائے شہوت پرست اور دنیا پرست بنادیں۔ مرزا قادیانی میں بھی ذرہ بھر تقویٰ نہ تھا۔ جیسا کہ گذشتہ واقعات سے ظاہر ہو چکا ہے۔ آپ شہوت پرست، مطلب پرست، دنیا پرست تھے اور آپ نے اپنے مریدوں کو بھی یہی تعلیم دی۔
٣...... صادق و امین
نبی کے لئے ایسا صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ جسے دوست و دشمن سب تسلیم کریں۔ جیسے کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے صادق وامین ہونے کی گواہی انتہائی دشمنی کے باوجود دیا کرتے تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کے ہر قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ جو بات ایک دفعہ کہتے ہیں۔ اس کی نفی ضرور کرتے ہیں۔ جو شانِ نبوت کے خلاف ہے۔ گویا صادق اور امین کے لفظ ہی سے آپ کو نفرت تھی۔
٤...... عقل وفہم
نبی کے لئے کامل العقل ہونا بھی ضروری ہے اور دنیا میں اس کی عقل فہم کی نظیر نہ ہو اور نہ ہی کسی امتی کی عقل نبی کی عقل سے بڑھ کر ہو سکتی ہے۔ اسی لئے نبی وحی الہی سمجھنے میں غلطی نہیں کرتا۔ لیکن مرزا قادیانی کو اگر اس کسوٹی پر پرکھیں تو ان کو پاگلوں کے زمرے میں شمار کرنا چاہئے۔ ان کا وہ کون سا قول ہے جس کی انہوں نے نفی نہ کی ہو۔ اس لئے ان کا مذہب (مرزائیت) مجموعہ اضداد ہے۔
٥...... قوی حافظہ
نبی کا حافظہ قوی ہونا بھی ضروری ہے۔ تاکہ وحی نازل ہوتے ہی یاد ہو جائے۔ اگر نبی کا حافظہ خراب ہو تو وحی پوری طرح یاد نہ رہے گی اور ایک لفظ کی کمی بیشی سے حکم خداوندی میں زمین و آسمان کا فرق آ جاتا ہے اور اگر اللہ کی وحی پوری پوری نہ پہنچے وہ بجائے ہدایت کے گمراہی کا موجب بن جاتی ہے۔
١٩
مرزا قادیانی رسالہ (تشحیذ الاذہان) قادیان ماہ مئی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں: ”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا اور مجھ کو ان دو بیماریوں مالخولیا اور مراق نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔“ شاید حافظے کی خرابی کی وجہ ہی سے مرزا قادیانی اپنے عاید کئے ہوئے سابقہ حکموں کو بھول جاتے ہیں اور نئے حکم نافذ کرتے۔
مرزا قادیانی کی نبوت کو پرکھنے کے لئے جو چند پیمانے مقرر کئے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پر بھی پورا نہ اتر سکے۔ اخلاق و کردار ایسا کہ شرم و حیا بھی اپنا منہ نوچ لے۔ مرزائیو! کیا معصوم دوشیزاؤں کی آہوں اور اشکوں سے کھیلنے والے اخلاق و کردار کے غازی بن سکتے ہیں؟ معلوم نہیں مرزا قادیانی نے کتنی ماؤں کی معصوم مسرتوں کا خون کیا۔ ان سے مسکرانے کی آسودگیاں چھینیں۔ یعنی ایک شیطان پیغمبری کا معصوم لبادہ اوڑھ کر پردۂ سیمیں پر آیا۔ جس کے تقویٰ کا پہلو بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ صداقت وامانت میں کسی عیار اور سود خور بنیئے سے کم نہیں اور عقل وفہم میں پاگلوں سے بھی بڑھ کر۔ حافظہ دیوانے بچوں سے بھی زیادہ تیز۔ کیا مرزائیوں کے نزدیک معیار نبوت یہی ہے؟ جو وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایسے عاقبت نااندیش کو نبی مانتے ہیں۔ جس نے بری خواہشات کا رستہ تن پروری سے بھر دیا۔ جس نے شغل شراب میں زندگی گزارتے ہوئے انجام فراموش بن کر شرفاء کی عزت سے ٹکر لی۔ جس کی آنکھ ہر وقت حسن بے مثال کی تماشائی بنی رہی۔ جس نے اپنی تعلیمات کو افشائے حقیقت کے خوف سے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ اگر مرزائیوں کو اپنی جانیں عزیز ہیں اور وہ ڈوب کر حرام موت نہیں مرنا چاہتے تو ان کے لئے پھولوں بھرا راستہ یہ ہے کہ نشیلے شربت پلا کر لوگوں کو اپنے شبستان میں کھینچ لانے والے، بوئے گل اور نغمہ شیریں سنا کر گمراہی کے راستے پر ڈالنے والے کا دامن چھوڑ کر اس ختمی مرتبتؐ کے گلستان میں پناہ لیں۔ جس کے دامن میں ظلم وستم کی کوئی جگہ نہیں۔ جس نے انسانوں کو اخوت ومحبت کا پیکر بنایا۔ جس کے ارادوں میں تسلسل تھا۔ ترتیب تھی عزم استقلال تھا۔ جبھی تو کلیاں آج بھی اسی محبوب صادق کا کلمہ پڑھتی ہوئی بیدار ہوتی ہیں اور آفتاب انہی کا نام لے کر طلوع ہوتا ہے۔ اگر اس بات کی گواہی لیتے ہو تو جاؤ عراق عجم کے کوہساروں سے پوچھو، شام ومصر کے میدانوں سے پوچھو، ایشیا کے دریاؤں اور صحراؤں سے پوچھو۔ افریقہ کے دشت وجبل سے پوچھو۔ بلاشبہ سنگ وخشت، خاروگل، قطرہ وصدف اس کی
٢٠
اخبار الاذہان) قادیان ماہ مئی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں: ”میرا حافظہ ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ حافظہ کی یہ ابتری (یعنی کہہ سکتا اور مجھ کو ان دو بیماریوں مالینخولیا اور مراق نے کہیں کا نہیں وجہ ہی سے مرزا قادیانی اپنے عائد کئے ہوئے سابقہ حکموں کو بھول
کو پرکھنے کے لئے جو چند پیمانے مقرر کئے گئے ہیں۔ ان میں اخلاق و کردار ایسا کہ شرم و حیا بھی اپنا منہ نوچ لے۔ مرزائیو! اور اشکوں سے کھیلنے والے اخلاق و کردار کے غازی بن سکتے نے کتنی ماؤں کی معصوم حسرتوں کا خون کیا۔ ان سے مسکرانے کی ان پیغمبری کا معصوم لبادہ اوڑھ کر پردہ سیمیں پر آیا۔ جس کے میں ۔ صداقت و امانت میں کسی عیار اور سود خور بنیئے سے کم نہیں بڑھ کر۔ حافظہ دیوانے بچوں سے بھی زیادہ تیز۔ کیا مرزائیوں ؟ جو وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام مانتے ہیں۔ جس نے بری خواہشات کا رستہ تن پسندی سے بھر زندگی گزارتے ہوئے انجام فراموش بن کر شرفاء کی عزت سے ٹکر بے مثال کی تماشائی بنی رہی۔ جس نے اپنی تعلیمات کو افشائے کر پیش کیا۔ اگر مرزائیوں کو اپنی جانیں عزیز ہیں اور وہ ڈوب کر کے لئے پھولوں بھرا راستہ یہ ہے کہ نشیلے شربت پلا کر لوگوں کو لئے ہوئے گل اور نغمہ شیریں سنا کر گمراہی کے راستے پر ڈالنے محبت کے گلستان میں پناہ لیں۔ جس کے دامن میں ظلم و ستم کی کو اخوت و محبت کا پیکر بنایا۔ جس کے ارادوں میں تسلسل تھا۔ نمایاں آج بھی اسی محبوب صادق کا کلمہ پڑھتی ہوئی بیدار ہوتی طلوع ہوتا ہے۔ اگر اس بات کی گواہی لیتے ہو تو جاؤ عراق عجم مصر کے میدانوں سے پوچھو، ایشیا کے دریاؤں اور صحراؤں سے سے پوچھو۔ بلاشبہ سنگ و خشت، خار و گل، قطرہ و صدف اس کی
٢٠
سچائی کی داستانیں سنائیں گے۔ اس آفتاب نے آج سے چودہ سو برس پیشتر آمنہ کی کوکھ سے جنم لیا۔ جس کا نام محمد (ﷺ) تھا۔ جو آخری نبی بنا کر بھیجے گئے۔ مرزائیو! اسی کے دامن میں پناہ لو۔ یہی تمہاری دنیا و آخرت کے لئے بہتر ہے۔ اسی دامن میں رہ کر جنت ملے گی۔ سکون ملے گا۔ اطمینان ملے گا۔ ہدایت ملے گی۔ اگر تم نے ان کے دامن رحمت میں پناہ نہ لی تو سوائے ندامت، رسوائی اور پریشانی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
مرزائیت اور اسلام میں فرق
یوں تو مرزائیت اور اسلام میں اتنا فرق ہے۔ جتنا زمین اور آسمان میں، دن اور رات میں، شمع اور آفتاب میں، صحرا اور گلستان میں، لیکن بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مرزائیت، مذہب اسلام ہی کی ایک شاخ ہے۔ نہ کہ ایک علیحدہ مذہب۔ یہ عقیدہ غلط فہمی اور سراسر اصول اسلام سے لاعلمی اور بے خبری پر مبنی ہے۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور بد قسمتی کی انتہاء ہے کہ انہیں اسلام اور کفر میں فرق تک معلوم نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اخلاقی پستی اور فرض ناشناسی جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہیں۔
ہر ملت اور مذہب کے اپنے کچھ اصول، اپنے عقائد اور اپنی روایات ہوتی ہیں اور یہ عقائد اور اصول ہی کسی مذہب کا حقیقی حسن ہوتے ہیں۔ جس کی بناء پر دوسرے تمام مذاہب عالم سے وہ مذہب جدا اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے بھی چند بنیادی اصول اور عقائد ہیں اور مرزائیت کے بھی، اور یہ دونوں اصول ایک دوسرے سے متضاد حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً:
- ١...... مسلمان ختم نبوت کے قائل ہیں اور مرزائی اجرائے نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی
لئے مرزائی ، حضورﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔
- ٢...... ختم نبوت کی طرح مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا سے زندہ
اٹھائے گئے اور وہ دوبارہ آنحضرتﷺ کے امتی بن کر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزائیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔
- ٣...... مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی وہ تفسیر معتبر ہے جو حضور پرنورﷺ نے فرمائی۔ لیکن
مرزائیوں کے نزدیک قرآن کی وہ تفسیر صحیح ہے جو مرزا قادیانی نے بیان کی۔ چاہے وہ محمدﷺ کی تفسیر کے الٹ ہو۔
٢١
- ٤...... مسلمانوں کے نزدیک حضورﷺ کی حدیثوں کو ماننا ضروری ہے اور حدیثوں کو نہ
ماننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن مرزائیوں کے نزدیک حدیثوں کو ماننا کوئی ضروری نہیں۔
- ٥...... اسلام ظلم و ستم کے خلاف جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن مرزائیت کے نزدیک ظلم و ستم
کے خلاف جہاد حرام ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے فرنگیوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا۔
اس کے علاوہ مرزائیت اور اسلام میں اور بھی بہت سے فرق بیان کئے جاسکتے ہیں۔ یعنی مرزائیت کی بنیاد قرآن وحدیث سے ہٹ کر ہے اور مرزائیت کے تمام عقائد اسلام سے متضاد حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے مرزائیت اور اسلام دو الگ الگ نظریے ہیں۔
اسلام اور مرزائیت کے عقائد کے مقابلے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام سے مرزائیت کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ چونکہ اسلام کے بنیادی عقائد سے مرزائی منحرف ہو چکے ہیں اور مرزائیت کی بنیاد قرآن وحدیث کی تعلیمات سے ہٹ کر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائیت اسلام کی ایک شاخ نہیں بلکہ کفر کی ایک یلغار ہے۔
آخری دعوت اور فیصلہ
مرزائیت کی ابتداء کی وجوہات اور اس کے بعد مرزا قادیانی کے اقوال سے ان کی نبوت کا جائزہ لیا۔ جس سے وہ اپنے فیصلے کے مطابق جھوٹا ٹھہرا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں نے بھی آپ کا ساتھ نہ دیا اور آپ نبوت کے کسی بھی معیار پر پورا نہ اتر سکے۔ جس سے مرزائیت اور اسلام کا فرق واضح ہو جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس (مرزا قادیانی) نے کس طرح عاقبت نااندیش کا ثبوت دیتے ہوئے خدا کے حکموں اور محمدﷺ کی شان کو پس پشت ڈال دیا۔ مرزائیو! راہ ہدایت پر آجاؤ اور اس میں تمہاری فلاح ہے۔ کیونکہ بچھڑے پر دونوں پاؤں ایک طرف کر کے بیٹھ جانے سے آدمی شہسوار نہیں بن جاتا۔ اسی طرح جھوٹا مدعی نبوت سچا نبی نہیں بن جاتا اور جس طرح تند اور پر شور پہاڑی ندی بلندی سے پستیوں کی طرف گرتے وقت اپنے دامن میں کوئی چیز نہیں چھپا سکتی۔ اسی طرح زخموں سے رسنے والا خون چھپانا بھی ناممکن سی بات ہے۔ مرزا قادیانی نے اگرچہ مختلف قسم کے جھوٹ اس طرح بولے جیسے خوش ذائقہ شربت کا ایک گھونٹ، لیکن پھر بھی وہ شہد مکھی کی طرح مکڑی کے جالے میں الجھ گئے اور وہ اپنے کذب کو اپنے الفاظ کے پردوں میں چھپا نہ سکے۔ جس سے ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جس طرح یمامہ کے مسیلمہ کذاب پر
٢٢
نزدیک حضور ﷺ کی حدیثوں کو ماننا ضروری ہے اور حدیثوں کو نہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن مرزائیوں کے نزدیک حدیثوں کو ماننا
خلاف جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن مرزائیت کے نزدیک ظلم و ستم حرام ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے فرنگیوں کے خلاف جہاد کو حرام
ائیت اور اسلام میں اور بھی بہت سے فرق بیان کئے جاسکتے ہیں۔ حدیث سے ہٹ کر ہے اور مرزائیت کے تمام عقائد اسلام سے متضاد زائیت اور اسلام دو الگ الگ نظریے ہیں۔ کے عقائد کے مقابلے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام سے ہے۔ چونکہ اسلام کے بنیادی عقائد سے مرزائی منحرف ہو چکے ہیں اور کی تعلیمات سے ہٹ کر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائیت بھی ایک یلغار ہے۔
ان وجوہات اور اس کے بعد مرزا قادیانی کے اقوال سے ان کی اپنے فیصلے کے مطابق جھوٹا ٹھہرا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی پیش لیا اور آپ نبوت کے کسی بھی معیار پر پورا نہ اتر سکے۔ جس سے ہو جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس (مرزا قادیانی) نے کس لیتے ہوئے خدا کے حکموں اور محمد ﷺ کی شان کو پس پشت ڈال اس میں تمہاری فلاح ہے۔ کیونکہ بچھڑے پر دونوں پاؤں ایک سوار نہیں بن جاتا۔ اسی طرح جھوٹا مدعی نبوت سچا نبی نہیں بن کی ندی بلندی سے پستیوں کی طرف گرتے وقت اپنے دامن ان زخموں سے رسنے والا خون چھپانا بھی ناممکن سی بات ہے۔ گھونٹ اس طرح بولے جیسے خوش ذائقہ شربت کا ایک گھونٹ، پستی کے جالے میں الجھ گئے اور وہ اپنے کذب کو اپنے الفاظ کے ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جس طرح یمامہ کے مسیلمہ کذاب پر
٢٢
٣١
محمد ﷺ نے کفر کا فتویٰ عائد کیا۔ اسی طرح ہم مسیلمہ پنجاب (مرزا غلام احمد قادیانی) پر حقائق کی بناء پر کفر کا فتویٰ عائد کرتے ہیں اور مرزا قادیانی اور ان کے حواری مرتد، کافر، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
پیغام انقلاب
اب خون سے میدان کو ہم بھر کے ہٹیں گے
جتنے انسان اس دنیا میں آئے انہیں کٹھن قسم کے امتحانات سے گزرنا پڑا اور اللہ پاک ہر مومن کا امتحان لے کر اسے آزما کر اس کا درجہ بڑھاتے ہیں۔ اللہ پاک مؤمنوں کو دولت دے کر آزماتے ہیں۔ غربت دے کر آزماتے ہیں۔ روٹی دے کر اور بھوکا رکھ کر آزماتے ہیں۔ بیماری اور تندرستی دے کر آزماتے ہیں۔ عزت و ذلت دے کر آزماتے ہیں اور راحت و تکلیف دے کر آزماتے ہیں۔ اسی طرح اللہ پاک نے اپنے بھیجے ہوئے نبیوں کو آزمایا۔ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ کے انبار میں آزمایا، یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں آزمایا۔ یوسف علیہ السلام کو زلیخا کے حسن میں آزمایا۔ سلیمان علیہ السلام کو تاج و تخت دے کر آزمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کو نیل و فرعون کے درمیان لا کر آزمایا۔ محمد عربی ﷺ کو شعب ابی طالب میں آزمایا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق جتنے بھی دجال یعنی جھوٹے مدعی نبوت آئے وہ مسلمانوں کے لئے آزمائش ثابت ہوئے۔ یعنی یہ کہ ان دجالوں کے آنے کے بعد مسلمان اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ یا بعض مسلمان جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف اور جاہل ہیں۔ دنیاوی جاہ و جلال کے لالچ میں آ کر ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی بھی مسلمانوں کے لئے کڑی آزمائش ثابت ہوئے۔ چونکہ جو مسلمان اپنی اسلامی تعلیمات سے پھر کر اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے تھے۔ وہ اس کفر کے شکنجے میں جکڑے گئے اور یوں فرنگیوں کا لگایا ہوا پودا پروان چڑھتا گیا اور اب پاکستان میں مرزائی اپنی متحدہ کوششوں سے سول اور ملٹری کے ہر کلیدی عہدے پر فائز ہو رہے ہیں۔ جس شعبے کا سربراہ مرزائی بن جاتا ہے۔ وہ پہلے تمام سٹاف معطل کر کے تمام کا تمام مرزائی اسٹاف رکھتا ہے اور ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ گویا مرزائی پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اگر ہم یوں ہی خواب خرگوش میں سرشار رہے تو مرزائی پاکستان پر حکومت تو شاید نہ کر سکیں۔ لیکن وہ بہت جلد پاکستان میں ایک مرزائیل کو جنم دینے والے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ایک کوشش بھی کر چکے ہیں اور مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور
٢٣
مغربی طاقتیں اس معاملے میں ان کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے یہودیوں کی پشت پناہی کر کے عرب مسلمانوں کے علاقے میں اسرائیل کو جنم دیا اور کفر و اسلام کی یہ دشمنی جو آج سے چودہ سو سال سے چلی آ رہی ہے۔ وہ آج بھی باقی ہے اور مغربی قومیں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو اپنے ذہن کے تاریک کونوں میں چھپا کر موزوں موقعے کی تلاش میں ہیں اور پاکستان اس وقت اسلام کا سب سے بڑا قلعہ ہے۔ اس لئے ان کی سازشی توپوں کے منہ اسی طرف ہیں اور ان کا یہ ناپاک ارادہ کہ پاکستان میں ایک مرزائیل کو جنم دیا جائے۔ موجود ہے اور ان کو اس سے موزوں موقع بھی ہاتھ نہ آئے گا کہ ہم بری طرح باہمی نفاق کا شکار ہیں۔ سیاسی معاشی اور معاشرتی طور پر ابتر ہو چکے ہیں۔ سماجی برائیاں ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح تباہ کر رہی ہیں اور ان حالات میں ہمارے کان اگرچہ نصیحتوں کی طرف سے بہرہ ہو چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی کہوں گا کہ ہمیں باہمی اتحاد کو قائم کرنا چاہئے اور خاص طور پر علماء کو ایک دوسرے کی مخالفت کی بجائے متحد ہو جانا چاہئے۔
پیچھے قدم او بت ترے لشکر کے ہٹیں گے
اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دلوانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دینی چاہئے۔ چونکہ مرزائیوں کا ٹولہ پاکستان میں سب سے بڑا ”C.I.A“ کا ایجنٹ ہے اور یہودیوں کی تنظیم ”فری میسن“ میں مکمل طور پر شامل ہے اور پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے اور اس سازش کو ختم کئے بغیر پاکستان کے سازشی ماحول کو ختم کرنا ناممکن ہے اور مرزائیت کو لگام دیئے بغیر ہم ملکی امن وامان قائم کرنے اور بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔
میدان سے میدان کو سر کر کے ہٹیں گے
پاکستان کی آبیاری مسلمانوں نے اپنے خون سے کی اور اس کی بنیادوں میں لاکھوں اسلام کے پروانوں کا خون ہے۔ اسے لٹی پٹی عصمتوں نے وجود بخشا اور اب اسے اپنے ہی ہاتھوں ختم کر رہے ہیں۔ مسلمانو! ہوش میں آؤ اور محمدﷺ کی شان کو منواؤ اور حضورﷺ کی شان اقدس اس میں ہے کہ ہر شخص سے اس بات کا اقرار کروایا جائے کہ حضور نبی اکرمﷺ آخری نبی ہیں۔ دوسروں کی غیرت کو جگانے والو تمہاری اپنی غیرت کہاں آرام کر رہی ہے کہ خاتون جنت کی توہین کرنے والوں کو پروان چڑھتا دیکھ رہے ہو۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ جو ملک اسلام کے مقدس نام ٢٤
کی امانت ہے۔ اس میں ختم نبوت کے سے پہلے ایسے فتنے سر اٹھائیں تم ان کو ہیں۔ جن کی غیرت زمین و آسمان سے ڈرو۔ آج بھی صد ہا نیل اور سندھ تمہارے اولاد ہو۔ تم جہاں بانوں کی اولاد ہو۔ ج لیا۔ زبردست فرعونوں کے ملک قلوپطر بہادر قیصر اور شجاع انطونی کا کعبہ عشق اہرام سطوت اسلام کے سامنے سرنگوں ان کی مشکبار لڑکیوں کی نگاہوں کے تی تحفہ اور مرزائیوں کی حمایت میں جو آوا گی۔ شان محمدیؐ کے خلاف اٹھیں گی۔ پسینہ کا ایک ایک قطرہ آسمان کے ستارو گے وہ ہمیشہ رنگ لائے گا۔ تم وہ پہاڑ ہو فولاد کے آگے اچٹ جائے۔ عظمت تمہاری ایڑیوں پر نہیں گرا۔ کبھی کسی جرا
اس کثرت ا
تمہاری غیرت دنیا کے ق پلٹ دو۔ اپنی ہتک کے انتقام میں دش سجدہ ریز ہونا جانتی ہے اور دنیاوی طا کی چنگھاڑ کے درمیان بھی خدا کے ح ترتیب اور استقلال ہونا چاہئے۔ تمہا رکھو۔ جب کوئی قوم انتہائی پستیوں می پر بجلی کی طرح تباہی نازل ہوتی ہے داستانیں مرقوم ہیں۔ جنہوں نے اف اٹل قانون ان پر طوفان کی طرح جھپ
ان کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے یہودیوں کی علاقے میں اسرائیل کو جنم دیا اور کفر و اسلام کی یہ دشمنی جو آج تی ہے۔ وہ آج بھی باقی ہے اور مغربی قومیں مسلمانوں کے خلاف گوشوں میں چھپا کر موزوں موقعے کی تلاش میں ہیں اور پاکستان کا قلعہ ہے۔ اس لئے ان کی سازشی توپوں کے منہ اسی طرف ہیں اور ان میں ایک مرزائیل کو جنم دیا جائے۔ موجود ہے اور ان کو اس سے ہوگا کہ ہم بری طرح باہمی نفاق کا شکار ہیں۔ سیاسی معاشی اور سماجی برائیاں ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح تباہ کر رہی ہیں اور ہم سچے نصیحتوں کی طرف سے بہرہ ہو چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی کہوں گا اپنے اور خاص طور پر علماء کو ایک دوسرے کی مخالفت کی بجائے متحد
ہم اٹھے تو ترے لشکر کے ہٹیں گے
ے قرار دلوانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دینی چاہئے۔ یں سب سے بڑا ”C.I.A“ کا ایجنٹ ہے اور یہودیوں کی تنظیم نا ہے اور پاکستان کو ختم کرنے کے در پے ہے اور اس سازش کو ختم نی کو ختم کرنا ناممکن ہے اور مرزائیت کو لگام دیئے بغیر ہم ملکی امن دروں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔
یسے میدان کو سر کر کے ہٹیں گے
مسلمانوں نے اپنے خون سے کی اور اس کی بنیادوں میں لاکھوں ے لٹی پٹی عصمتوں نے وجود بخشا اور اب اسے اپنے ہی ہاتھوں میں آؤ اور محمد ﷺ کی شان کو منواؤ اور حضور ﷺ کی شان اقدس ت کا اقرار کروایا جائے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔ اری اپنی غیرت کہاں آرام کر رہی ہے کہ خاتون جنت کی توہین ہے ہو۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ جو ملک اسلام کے مقدس نام ٢٤
کی امانت ہے۔ اس میں ختم نبوت کے غدار مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں۔ تمہیں چاہئے کہ اس سے پہلے ایسے فتنے سر اٹھائیں تم ان کو کچل دو۔ چونکہ ابھی ہم میں ایسی مائیں ہیں جو ایسے لعل جنتی ہیں۔ جن کی غیرت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے۔ مسلمانو! تم مرزائیوں کی طاقت سے مت ڈرو۔ آج بھی صد ہا نیل اور سندھ تمہاری آوازوں کی تابانی کی قسم کھاتے ہیں۔ تم فاتحین جہاں کی اولاد ہو۔ تم جہاں بانوں کی اولاد ہو۔ جنہوں نے ایشیاء کے متمدن علاقوں کو اسلام کے زیرنگیں کر لیا۔ زبردست فرعونوں کے ملک قلوپطرہ کا مسکن اس طوفان میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ بہادر قیصر اور شجاع انطونی کا کعبہ عشق مجاہدین اسلام کے قبضے میں آگیا۔ عظیم ابوالہول اور مضبوط اہرام سطوت اسلام کے سامنے سرنگوں ہو گئے۔ اٹھو مسلمانو! مرزائیوں کی تنظیم سے مت گھبراؤ۔ ان کی مشکبار لڑکیوں کی نگاہوں کے تیروں کے نشانوں میں مت آؤ۔ تاج لو یا سر دو۔ تخت مانگو یا تختہ اور مرزائیوں کی حمایت میں جو آوازیں اٹھیں گی۔ وہ خدا کے نام کی سربلندی کے خلاف اٹھیں گی۔ شان محمدؐ کے خلاف اٹھیں گی۔ ختم نبوت کے خلاف اٹھیں گی۔ مسلمانو! تمہاری محنت کے پسینہ کا ایک ایک قطرہ آسمان کے ستاروں اور گوہر والماس سے زیادہ قیمتی ہے اور تم جو راہ حق پر بہاؤ گے وہ ہمیشہ رنگ لائے گا۔ تم وہ پہاڑ نہیں جو کسی طوفان کے بالمقابل گر جائے ۔ تم وہ بجلی نہیں جو کسی فولاد کے آگے اچٹ جائے۔ عظمت تمہاری میراث ہے۔ تم عجوبۂ روزگار ہو۔ تمہارا خون کبھی تمہاری ایڑیوں پر نہیں گرا۔ کبھی کسی جراح نے آج تک تمہاری کمر کی زخم دوزی نہیں کی۔
اس کثرت اعداء سے نہ ہم ڈر کے ہٹیں گے
تمہاری غیرت دنیا کے تمام طوفانوں سے زیادہ طوفانی ہے۔ تم عزت کی خاطر سمندر پلٹ دو۔ اپنی ہتک کے انتقام میں دشت و جبل کو ہلا دو۔ تم ایک ایسی قوم ہو جو صرف خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا جانتی ہے اور دنیاوی طاقتیں تمہارے آگے ہیچ ہیں۔ تم تلواروں کی جھنکار اور فوجیوں کی چنگھاڑ کے درمیان بھی خدا کے حضور سجدہ ریز ہونا جانتے ہو۔ تمہارے ارادوں میں تسلسل، ترتیب اور استقلال ہونا چاہئے۔ تمہارے فیصلے چٹان سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں۔ لیکن یاد رکھو۔ جب کوئی قوم انتہائی پستیوں میں گر جائے تو اس میں زندگی کا کوئی جوہر باقی نہیں رہتا۔ اس پر بجلی کی طرح تباہی نازل ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق اور زمین کے کھنڈروں میں صد ہا قوموں کی داستانیں مرقوم ہیں۔ جنہوں نے اخلاق چھوڑ کر اپنے نظریات چھوڑ کر زندہ رہنا چاہا۔ مگر قدرت کا اٹل قانون ان پر طوفان کی طرح جھپٹا اور ان کے مقدر پر موت کی مہر ثبت کر گیا۔ ٢٥
دین اسی کا نام ہے۔ قربانی جس کا آئین ہو۔ مسلمانو! اٹھو شرار شمشیر سے ظلمت زار کو چراغاں کر دو۔ نیزوں کی آگ دامن صرصر کو دکھا دو۔ تلوار کے پانی سے ریت کے جنگل کو نہلا دو۔ توحید اور تکبیر کے نعروں سے زمین ہلا دو۔ زماں ہلا دو اور اس کے لئے تمہاری طوفانی موجیں بحر اوقیانوس سے تیز ہونی چاہئیں۔ سد سکندری ہو یا دیوار چین، البرز ہو یا ہمالہ، سندھ ہو یا نیل، کوئی تمہاری راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ تمہارے سینوں اور بازوؤں میں خون کی موجیں بیقرار ہونی چاہئیں۔ تمہاری تلواریں میانوں میں تڑپنی چاہئیں۔ تمہارے نیزے دریائے لہو میں تیرنے کے لئے مچلنے چاہئیں۔ تم اپنے اندر شعلوں کا التہاب، بجلی کی لپک اور کڑک پیدا کرو اور خس و خاشاک اور ظلم و عیاشی کے انبار جلا دو۔ کافروں کے جھوٹے خداؤں کو تاخت و تاراج کر دو۔ مرض گناہ میں دم توڑتی دنیا کو آب حیات پلا دو۔ مسلمانو! مایوسی ہمارے دین میں کفر ہے۔ ہمیں جنگ میں فتح ملے تو نعمت، شہادت ملے تو رحمت۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم حق پر چلیں گے تو ایک ساتھ کئی تلواریں ہمارے خلاف اٹھیں گی۔ ہمارے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے گا۔ ہمیں ٹینکوں کے نیچے روند دیا جائے گا۔ لیکن ہم وہ قوم ہیں جو؎
جانباز یہ واروں سے نہ خنجر کے ہٹیں گے
ہتھکڑیاں ہمارا زیور ہوں گی۔ جیل خانے ہماری رہائش گاہیں ہوں گی۔ لیکن؎
میدان میں آئے ہیں تو کچھ کر کے ہٹیں گے
چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو حق پر چلتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی گھر نہیں ہوتا۔ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ ان کے راستے میں کوئی سایہ دار درخت نہیں ہوتا اور وہ عزم راسخ لئے ہوئے اس راستے سے گزر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے اپنی یادوں کے چنار چھوڑ جاتے ہیں۔ جو آگ کے شعلوں کی طرح دھرتی سے نکل کر آسمان کی طرف سر بلند ہو کر حضور رسالت مآبﷺ کی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ ہمیں جام شہادت پینا منظور ہے۔ لیکن ختم نبوت کے غداروں کو ختم کر کے دم لیں گے۔
اس جان دو عالم پہ فدا جان کریں گے
٢٦
قربانی جس کا آئین ہو۔ مسلمانو! اٹھو شرار شمشیر سے ظلمت زار کو دامن صرصر کو دکھا دو۔ تلوار کے پانی سے ریت کے جنگل کو نہلا دو۔ سفینہ جلا دو۔ زماں ہلا دو اور اس کے لئے تمہاری طوفانی موجیں چاہے سد سکندری ہو یا دیوار چین، البرز ہو یا ہمالہ، سندھ ہو یا نیل، بلکہ تمہارے سینوں اور بازوؤں میں خون کی موجیں بیقرار ہونی چاہئیں۔ تمہارے نیزے دریائے لہو میں تیرنے کے شوق کا التہاب، بجلی کی لپک اور کڑک پیدا کرو اور خس و خاشاک فرعونوں کے جھوٹے خداؤں کو تاخت و تاراج کر دو۔ مرض گناہ میں مبتلا مسلمانو! مایوسی ہمارے دین میں کفر ہے۔ ہمیں جنگ میں فتح ہمیں معلوم ہے کہ ہم حق پر چلیں گے تو ایک ساتھ کئی تلواریں ہمارے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے گا۔ ہمیں ٹینکوں کے نیچے روندا جائے گا۔
تلواروں سے نہ خنجر سے ہٹیں گے
آگ، جیل خانے ہماری رہائش گاہیں ہوں گی۔ لیکن ۔
آئے ہیں تو کچھ کر کے ہٹیں گے
جو حق پر چلتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی گھر نہیں ہوتا۔ کوئی جائے پناہ سایہ دار درخت نہیں ہوتا اور وہ عزم راسخ لئے ہوئے اس راستے پر اپنی یادوں کے چنار چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں آگ کے شعلوں کی طرف سر بلند ہو کر حضور رسالت مآب ﷺ کی سچائی کی گواہی دینا منظور ہے۔ لیکن ختم نبوت کے غداروں کو ختم کر کے دم لیں گے۔
ہم خاتم پہ فدا جان کریں گے
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں
میرے بعد کوئی نبی نہیں
فرقہ احمدیہ
کا
ماضی و مستقبل
جناب خواجہ عبدالحمید بٹ
بسم الله الرحمن الرحيم!
پیش گفت
فرقہ احمدیہ کے عقائد و حرکات و سکنات اور طریق کار کا مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ نہ تھا اور نہ ہے۔ بلکہ اب یہ ملک کے داخلی و اندرونی مسائل سے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جس کا پرامن حل جتنی جلدی کر لیا جائے اتنا ہی خود فرقہ احمدیہ کے لئے اور مسلمانوں و ملکی داخلی امن کے لئے بہت ضروری و اہم ہے۔ اگر اب اس مسئلہ کے لئے آنکھیں بند کی گئیں تو آئندہ اس فرقہ کے طریق کار سے مسلمانوں اور ملکی بہی خواہوں کو خوفناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا اور امت مسلمہ کے لئے روحانی اور قومی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ پھر وقت گزر جانے کے بعد اس کی تلافی کے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ ابھی سے اس کا حل تلاش کر لینا چاہئے۔ ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں ہماری کوتاہ نظری و غفلت کا ماتم کرتی رہیں گی۔
یہ فرقہ روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے اور تمام مسلمانوں سے مذہبی و سیاسی و مجلسی طور پر الگ تھلگ رہتا ہے۔ محض دوسرے لوگوں اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر سیاسی و اقتصادی فائدہ اٹھائے۔ فرقہ احمدیہ، گروہ بندی، سیاسی اور تمدنی اعتبار سے پاکستان کے وجود اور ملکی اندرونی امن کے لئے مستقل خطرہ ہے۔ جن پر حکومت اور اصحاب فکر کو پورے غور و فکر سے کام لینا چاہئے۔ خواجہ عبدالحمید بٹ ، لودھراں ضلع ملتان!
برطانوی عہد حکومت میں ١٨٥٧ء کے بعد مسلمانوں سے جو برا سلوک کیا گیا اوراق تاریخ میں ایک نمایاں باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کی تہذیب و تمدن رسم و رواج اور مذہب کو ہر حیلے بہانے ختم کرنے کا جتن کیا گیا اور مفاد حکومت اور جمہوریت کی آڑ میں انگریزوں اور انگریز پرستوں نے مسلمانوں کی سیاسی اور مجلسی تنظیم فنا کر کے مسلمانوں کو درماندہ قوم بنا دیا اور یہ کوئی عجیب بات نہ تھی۔
برطانوی امپیریلزم عرصہ دراز سے ممالک اسلامیہ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اپنا غلام بنائے رکھنا اپنی بقاء کا جزو سمجھتی ہے۔ برطانوی عہد سلطنت ہند میں مسلمانوں کے کنبوں کو ختم کیا گیا۔ مسلمانوں کی سیاسی و مذہبی تنظیم کو فنا کرنے کے لئے انگریزوں کو مذہبی رجحان رکھنے والے کارکن کی ضرورت تھی۔ جو مسلمانوں کے ذہن سے انگریزوں کے کردہ مظالم کے خلاف نفرت پیدا
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پیش گفتار
مملکت اور طریق کار کا مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ نہ تھا اور نہ مذہبی مسائل سے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جس کا پرامن حل جتنی دیہ کے لئے اور مسلمانوں وملکی واعلیٰ امن کے لئے بہت س کے لئے آنکھیں بند کی گئیں تو آئندہ اس فرقہ کے طریق کار رناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا اور امت مسلمہ کے لئے افہ ہوگا۔ پھر وقت گزر جانے کے بعد اس کی تلافی کے لئے حل تلاش کر لینا چاہئے۔ ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں ہماری مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے اور تمام مسلمانوں سے مذہبی ہے محض دوسرے لوگوں اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے مسلمانوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر سیاسی و اقتصادی فائدہ اور تمدنی اعتبار سے پاکستان کے وجود اور ملکی اندرونی امن اور اصحاب فکر کو پورے غور و فکر سے کام لینا چاہئے۔
خواجہ عبدالحمید بٹ ، لودھراں ضلع ملتان !
١٨٥٧ء کے بعد مسلمانوں سے جو برا سلوک کیا گیا اور ان دشمنی رکھتا ہے۔ مسلمانوں کی تہذیب و تمدن رسم و رواج اور تباہ کیا گیا اور مفاد حکومت اور جمہوریت کی آڑ میں انگریزوں اور مجلسی تنظیم فنا کر کے مسلمانوں کو درماندہ قوم بنا دیا اور یہ جسے ممالک اسلامیہ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اپنا غلام برطانوی عہد سلطنت ہند میں مسلمانوں کے مکتبوں کو ختم فنا کرنے کے لئے انگریزوں کو مذہبی رجحان رکھنے والے ذہن سے انگریزوں کے کردہ مظالم کے خلاف نفرت پیدا
٢
نہ ہونے دے اور انگریز کے ہر حکم کو خدائی حکم کی طرح نشر واشاعت کر کے مسلمانوں کو ان ناقابل برداشت مظالم پر قانع رہنے کا پروپیگنڈا کرے اور اس کی اندرونی و بیرونی خدمات بجالائے۔
برطانوی ہند میں انگریزوں کو سیاسی طور پر ایسے تو آدمی مل گئے۔ مگر مسلمانوں کے دلوں سے مذہبی خیالات ، جہاد کو دور کرنے اور ان میں تفریق ڈالنے کے لئے کسی عربی خواں مذہب نما فرد کی ضرورت تھی۔ جو مسلمانوں میں مذہبی انتشار ڈالے اور اس قوم کو مذہبی فرقوں کے نام پر لڑوائے اور پھر مذہبی فرقہ بندی کر کے اس قوم کا رہا سہا شیرازہ بھی منتشر کر دے۔
حکومت کے ذرائع ہمیشہ وسیع ہوتے ہیں۔ جویندہ یابندہ کے مصداق انگریزوں کو ایسے رجحان کا ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی ضلع گورداسپور سے مل گیا۔ جس کے ساتھ اندرونی طور پر وعدے وعید کئے گئے کہ قادیان کے علاقہ کو جاگیر کی شکل میں ایک چھوٹی سی حکومت بنائی جائے گی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے خاندان کی مالی حالت گر چکی تھی۔ ملاحظہ ہو:
مالی حالت
- .......١ "میرے والد (مرزا غلام مرتضیٰ) جو اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم
رہتے تھے۔ اس نامرادی (مقدمات کی شکست) کی وجہ سے والد مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب، غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔"
(کتاب البریہ ص ١٦٩، خزائن ج ١٣ ص ١٨٧)
- .......٢ "آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر
ملازم ہو گئے۔"
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٣٤، روایت نمبر ٤٩)
چنانچہ ملازمت کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے مختاری (وکالت) کا امتحان دیا۔ بدقسمتی سے اس میں فیل ہو گئے۔ چنانچہ اس کے بعد مذہب کی آڑ لے کر ایک فرقہ کی بنیاد رکھی۔ ملاحظہ ہو:
فرقہ احمدیہ
"مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جاوے۔"
(تریاق القلوب ص ٣٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٧)
ظاہراً اگرچہ اس فرقہ کو اپنے نام پر چلایا گیا اور مسلمانوں کا نام دے کر اس کو مسلم فرقہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اندرونی طور پر اس فرقہ کو مسلمانوں سے الگ کرنا مقصود تھا۔ جب
٣
تک کافی لوگ مرید نہ ہو جائیں اور جب تک قوت نہ ہو تب تک اس کو مسلم فرقہ ہی ظاہر کرنا مصلحت تھی۔ تا کہ مسلمان، غیر مسلم نام، یا غیر مانوس خلاف اسلام فرقہ سے بدک نہ جائیں۔ اقتدار اور ترقی حکومت کو خوش کرنے سے جلد مل جاتی ہے۔ اس پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی نے حکومت کی خوشامد، چاپلوسی اور مسلمانوں سے آہستہ آہستہ علیحدگی اختیار کی۔ چنانچہ اپنے مریدوں کو خطاب کرتے ہوئے لکھا: ''تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل ضبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے اور وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور وہ ہر ایک بات میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے۔''
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
قرآن شریف کا حکم
''ان الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعاً لست منهم فی شيئاً (الانعام: ١٥٩) ''بیشک جنہوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہو گئے مختلف گروہ۔ نہیں آپ کو ان سے کوئی سروکار۔''
- ......٢ ''اعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا (آل
عمران: ١٠٣) ''مضبوط تھامے رہو۔ اللہ کی رسی سب مل کر اور نہ ہو فرقہ فرقہ اور یاد کرو اللہ کا احسان جو اس نے تم پر کیا۔ جب کہ تم آپس میں دشمن تھے۔ پھر اس نے الفت ڈال دی تمہارے دلوں میں اور تم ہو گئے اس کی (اللہ) مہربانی سے بھائی بھائی۔''
- ......٣ اور نہ ہو جاؤ ان کی طرح جو ہو گئے۔ فرقہ فرقہ اور باہم اختلاف کرنے
لگے۔ بعد اس کے کہ آ چکیں ان کے پاس روشن دلیلیں اور یہی لوگ جنہیں عذاب ہوگا بہت بڑا۔
چنانچہ نقاش پاکستان، مفکر ملت، دانائے راز علامہ اقبال مرحوم فرماتے ہیں:
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
مرزا غلام احمد قادیانی نے نئی فرقہ بندی کو جاری کر کے صرف الگ فرقہ ہی تیار نہیں کیا۔ بلکہ ہر شعبہ زندگی میں تفریق کی نئی بدعت ایجاد کی اور مسلمانوں کے ہر اسلامی طریق اور مسلمانوں کے مجموعی مفاد کی ہر لحظہ مخالفت کی اور اپنی تفریق پسندی اور غلط کاری کو عین اسلام بتایا اور
٤
سارے عالم اسلام کو ہندوؤں، عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح کا فرقہ قرار دیا۔ ملاحظہ ہو:
اختلاف
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول اکرمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ میاں خلیفہ محمود احمد پسر مرزا غلام احمد قادیانی اخبار الفضل ج ١٩ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس نئی تفریق و انتشار اور فرقہ بندی کا مجرم کون ہے اور اس جرم کی شرعاً قانوناً کیا روک تھام ہے؟ مسلمانوں نے اس نئی فرقہ بندی کے خلاف احتجاج کیا تو اس پر تفریق پسندوں نے جو جواب دیا۔ وہ بھی ملاحظہ ہو۔
جرم کا اعتراف اور اس پر باغیانہ اکڑفوں
”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کو غیروں سے الگ نہیں کر دیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا۔ بیشک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے الگ کر دیا۔ تو نئی اور انوکھی بات کون سی کہی۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٨٠ ص ٣، مورخہ ٢ مارچ ١٩١٨ء)
”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دے دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا۔ جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی اور دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ غرضیکہ ہر ایک طریق سے ہم کو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے غیروں سے الگ کیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩، مرزا بشیر احمد قادیانی)
غالباً قائد اعظم اور قائد ملت کا جنازہ اسی وجہ سے فرقہ احمدیہ نے نہیں پڑھا۔
تازہ اور بگڑا ہوا دودھ
”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اوّل تو خدا کے حکم سے تھا
٥
اور نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ (مسلمان) ریاپرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا، ان لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑگئے ہیں۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٨ ص ٣١١، اگست ١٩١١ء)
اک ادائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کر کے مسلمانوں کے مذہب اور قوم وعقیدوں کا جو تمسخر اڑایا گیا ہے اور عیسائیوں کی نگاہ میں مسلمانوں کو بدنام کیا وہ بالکل عیاں ہے۔ یہ تمام دیدہ دلیری، انگریزی حکومت کے کھونٹے پر تھی۔ ورنہ مسلمان اپنی مذہبی عقیدوں میں بہت راسخ اور حساس ہے اور اپنی قومی دل آزاری کو برداشت نہیں کرتا۔ فرقہ احمدیہ کی جو اخلاقی حالت ہے۔ وہ الگ مستقل باب ہے۔ جس پر پھر کبھی انشاء اللہ بحث کی جائے گی۔ فی الحال صرف نمونہ ملاحظہ ہو۔ خود فرقہ احمدیہ کی اخلاقی حالت پر مرزا غلام احمد قادیانی کیا تبصرہ کرتے ہیں۔
فرقہ احمدیہ کی مثال
”ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت وتہذیب و پاک دلی و پرہیزگاری و دلی محبت باہم پیدا نہیں کی...... بعض لوگ جماعت (فرقہ احمدیہ) میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے توبۃ النصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں اور اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیکم نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے دست بداماں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینہ پیدا کر لیتے ہیں...... یہ حالات ہیں جو اس قدر مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل جلتا اور کباب ہوتا ہے اور بے اختیار دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں جنگل کے درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ یہ لوگ کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں ہے۔ میں تو ایسے لوگوں سے بیزار ہوں۔ اگر میں اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ان لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا۔“
(شہادت القرآن ص ٩٩ تا ١٠١، خزائن ج ٦ ص ٣٩٥ تا ٣٩٧)
٦
خلیفہ قادیانی پر الزامات
”موجودہ خلیفہ (فرقہ احمدیہ) سخت ب کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو میں رکھتا ہ میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں ماسٹر احمدیہ سکول قادیان فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہ
لاہور مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٨ء)
فرانسیسی سینما اور ننگی عورتیں
”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصو حصہ دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں آئے تو میں چوہدری سر ظفر اللہ خاں سے جو میر جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے۔ ت لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ ادھر سوسائٹی کی جگہ ہے۔ جسے دیکھ کر آپ اندازہ ہ کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب س بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے
(بیان خلیفہ قادیان معی
فرقہ احمدیہ کے دو حصے ہیں۔ ق ملاحظہ ہو:
لاہوری احمدی
”یہ لوگ (لاہوری احمدی) نہ ام آئین اور انسانی حقوق کو۔ بلکہ سب کو پانی سمجھ سنو۔ شکلیں دیکھو، کتابیں دیکھو، تو ملائکہ اور گندوں کی نالیاں بہہ رہی ہیں۔ ٹھیک اسی طر
خلیفہ قادیانی پر الزامات
”موجودہ خلیفہ (فرقہ احمدیہ) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ اس کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو میں رکھتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“ (بحوالہ شیخ عبدالرحمٰن مصری سابق ہیڈ ماسٹر احمدیہ سکول قادیان فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور شائع کردہ مولوی محمد علی ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ لاہور مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٨ء)
فرانسیسی سینما اور ننگی عورتیں
”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے یہ خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں چوہدری سر ظفر اللہ خاں سے جو میرے ساتھ تھے۔ کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے۔ وہ بھی فرانس سے واقف نہ تھے۔ مگر مجھے اوپیرا میں لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے کہا یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے۔ جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے۔ اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔“
(بیان خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج٢١ نمبر ٩٠ ص ٥، مورخہ ٢٨؍ جنوری ١٩٣٤ء)
فرقہ احمدیہ کے دو حصے ہیں۔ قادیانی احمدی اور لاہوری احمدی۔ اب دونوں کی حالت ملاحظہ ہو:
لاہوری احمدی
”یہ لوگ (لاہوری احمدی) نہ اخلاق کو جانتے ہیں نہ شریعت کو نہ اپنے قواعد کو نہ ملکی آئین اور انسانی حقوق کو۔ بلکہ سب کو پانی میں حل کر کے سالم نگل چکے ہیں۔ ان کے منہ کی باتیں سنو۔ شکلیں دیکھو، کتابیں دیکھو، تو ملائکہ اور فرشتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اعمال میں اور اندر مخفی گندوں کی نالیاں بہہ رہی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح اس کے تحت میں زمین کے بہت نیچے گندی نالی بہتی
ہے...... ان کی اولادیں احمدیت یا دین سے ہرگز اچھا تعلق نہیں رکھتیں۔ بلکہ قریباً قریباً بے دین ہیں۔ اس لئے خدا کے الہام میں یہ سب روحانی حقیقت میں لاولد ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٧ نمبر ٢٥٤ ص ٣ مورخہ ٧؍ مارچ ١٩٣٩ء)
قادیانی احمدی
”قادیانی فاضل (مبلغ احمدیت) کی یہ حرکت میرے لئے غیر متوقع نہ تھی۔ کیونکہ قادیانیت کی بنیاد ہی دجل، فریب، مکر، کذب اور افتراء پر ہے۔ مگر مولوی اللہ دتہ صاحب (مبلغ احمدیت قادیان) پر واضح رہے کہ قادیانیت کو موت سے بچانے کے لئے یہ حیلے انشاء اللہ کارگر نہ ہوں گے۔“
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح مورخہ ١٢؍ جون ١٩٢٧ء)
چار گواہ
کسی الزام کی تائید میں خلیفہ قادیان کی بعض باتوں کا احمدیہ جماعت قادیان کی دوسری احمدیہ پارٹی کی طرف سے جو جواب شائع ہوا۔ ملاحظہ ہو:
”حالانکہ میں نے اپنے خطبہ میں لکھا تھا کہ لوگوں سے سنا ہے کہ جناب چار گواہوں کا مطالبہ فرماتے ہیں۔ اگر چہ ہم سے تو آپ نے نہیں فرمایا۔ تاہم اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اس کے لئے تیاری فرمالیں۔ ہم صرف چار گواہ ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں۔ علاوہ عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے ہم خود جناب والا کی شہادت پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت پیش نہ کر سکیں تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔“ (چیلنج بہت بڑا ہے)
(حکیم عبدالعزیز احمدی سیکرٹری انجمن انصار احمدیہ قادیان کا ٹریکٹ)
میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ قادیانی فرقہ کے اخلاقی فوٹو پر تبصرہ کروں۔ مجھے صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ آیا گندہ اور سڑا ہوا دودھ کون سا ہے۔ یہ جدید فرقہ یا مسلمان؟ فیصلہ ناظرین خود کریں۔ مجھے صرف یہ عرض کرنا تھا کہ فرقہ احمدیہ نے مسلمانوں سے ہر قسم کے معاملہ میں خود علیحدگی اختیار کی۔ ملاحظہ ہو:
مسلمانوں کی انجمن میں شرکت کرنے سے انکار
”علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی۔ وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب نے ایک خط بھیجا کہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہیں۔ لہٰذا ہم چاہتے
٨
دین سے ہرگز اچھا تعلق نہیں رکھتیں۔ بلکہ قریباً قریباً بے دین سب روحانی حقیقت میں لاولد ہیں۔"
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٧ نمبر ٥٤ ص ٣، مورخہ ٧؍مارچ ١٩٣٩ء)
انیت) کی یہ حرکت میرے لئے غیر متوقع نہ تھی۔ کیونکہ کا کذب اور افتراء پر ہے۔ مگر مولوی اللہ دتہ صاحب (مبلغ انیت کو موت سے بچانے کے لئے یہ حیلے انشاء اللہ کارگر نہ
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح مورخہ ١٢؍جون ١٩٢٧ء)
قادیان کی بعض باتوں کا احمدیہ جماعت قادیان کی دوسری ہو، ملاحظہ ہو: میں لکھا تھا کہ لوگوں سے سنا ہے کہ جناب چار گواہوں کا ہم نے نہیں فرمایا۔ تاہم اگر چہ یہ بات درست ہے تو پھر کہ چار گواہ ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں۔ علاوہ عورتوں، زنا کی شہادت پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت پیش مقام ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا
العزیز احمدی سیکرٹری انجمن انصار احمدیہ قادیان کا ٹریکٹ)
شخص کے اخلاقی فوٹو پر تبصرہ کروں۔ مجھے صرف یہ ظاہر ہے ۔ یہ جدید فرقہ یا مسلمان؟ فیصلہ ناظرین خود نے مسلمانوں سے ہر قسم کے معاملہ میں خود علیحدگی
سے انکار ہماری غرض سے ایک انجمن بنائی گئی ۔ وہاں کے سب خادم اور ماہر قرآن مجید ہیں۔ لہٰذا ہم چاہتے
ہیں کہ ہماری انجمن میں آپ صاحبان شریک ہوں۔ مگر باوجود مولانا عبد الکریم (مرید مرزا غلام احمد قادیانی) کی کوشش کے حضور (مرزا غلام احمد قادیانی) نے انکار فرمایا۔"
(کشف اختلاف ص ٤٢)
خطرناک عقائد
"کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔"
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
ہندو یا عیسائی
"جو شخص غیر احمدیوں کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا ہے کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر تم (فرقہ احمدیہ) سے کافر اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔"
(کتاب ملائکۃ اللہ ص ٤٦)
غیر احمدی کا بچہ بھی کافر ہے
"غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ وہ تو حضرت مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔"
(انوار خلافت ص ٩٣، مصنفہ مرزا محمود قادیانی)
شرعی نبی
"مولوی صاحب (مولوی نور الدین خلیفہ اوّل مرزا قادیانی) فرماتے تھے کہ یہ تو نبوت کی بات ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں پھر تو بھی مجھے (مرزا غلام احمد قادیانی کو) ماننے سے انکار نہ ہو۔"
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٩٩، روایت نمبر ١٠٩)
سچ مسئلہ
"اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزا قادیانی کو مانے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔"
(بیان نور دین کلمۃ الفضل ص ١٤٩)
٩
غیر احمدی کفار ہیں
سوال ...... کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہو۔ یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے۔
جواب ...... ”غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔“
(فتویٰ مفتی سرور شاہ، مفتی فرقہ احمدیہ قادیان، اخبار الفضل مورخہ ٧؍ فروری ١٩٢١ء)
فتویٰ عام
”جو شخص مرزا قادیانی کا انکار کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔“
(الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٣٠ ص ٣، مورخہ ١٧؍ اکتوبر ١٩٢١ء)
تو پھر جنازہ کیسا
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے صاف حکم دیا ہے کہ غیر احمدیوں کے ساتھ کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں۔ جب کہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا۔ تو پھر جنازہ کیسا؟“
(اخبار الفضل مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩١٦ء)
کامل علیحدگی
”کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا عمل درعمل کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی میں غیروں (مسلمانوں) کی کسی انجمن کے ممبر نہ بنے۔ نہ ان میں سے کسی کو اپنی انجمن کا ممبر بنایا۔ نہ کبھی ان کو چندہ دیا نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔
(کشف الاختلاف ص ٢٤، مطبوعہ قادیان)
(یہ جدا بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے نام پر ہزاروں مسلمانوں سے چندہ لیا اور چندہ مانگتے رہے)
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٤)
مسلم لیگ کی مخالفت
”ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے مصلح حقیقی اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود مہدی آخر الزمان (مرزا قادیانی) کے حضور جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی۔ پس کیا کوئی ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے۔ مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں! اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنی حقیقی نفع و ضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے باز
١٠
رہیں۔ جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا نفع ت
قائد اعظم کی مخالفت
”کیا مسٹر جناح ساری دنیا اسلامی دنیا کے تمام نقائص اور خرابیوں کو پھر ایمان کو پہلی حالت میں قائم کر سکتا ہے
ساری دنیا دشمن ہے
”ساری دنیا ہماری دشمن ہے شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدرد دشمن ہے۔“
بڑا آدمی
”لوگ اخباروں میں مضامین ہے۔ کوئی گاندھی جی کا نام لیتا ہے۔ کو ہے جس پر خدا کا فضل سب سے بڑھ کر الدین احمد (خلیفہ قادیان) ہے۔“
نیا کلمہ کیوں جاری نہ کیا
”ہم پہ اعتراض کیا جاتا ہے ضروری ہے تو پھر حضرت مرزا صاحب کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کیا ہے) پس جب بروزی رنگ میں ق دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
”ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرو ضرورت پیش آتی۔“
رہیں۔ جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا نفع دے سکتے ہیں۔ نہ دین کا۔‘‘
(اخبار الفضل مورخہ ٨؍جنوری ١٩١٦ء)
قائد اعظم کی مخالفت
’’کیا مسٹر جناح ساری دنیا کے مسلمانوں کے نگران ہو سکتے ہیں اور کیا مسٹر جناح اسلامی دنیا کے تمام نقائص اور خرابیوں کو دور کر سکتے ہیں۔ کیا مسٹر جناح یا کوئی مسلمان نمائندہ آج پھر ایمان کو پہلی حالت میں قائم کر سکتا ہے۔ جو کہ حالت قرون اولیٰ کی تھی۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٨، مورخہ یکم؍مارچ ١٩٤٠ء)
ساری دنیا دشمن ہے
’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ بعض لوگ جب ان کو ہم سے مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی رکھنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا۔ ہمارا دشمن ہے۔‘‘
(تقریر مرزا محمود احمد قادیانی مورخہ ٢٥؍اپریل ١٩٣٠ء)
بڑا آدمی
’’لوگ اخباروں میں مضامین دیا کرتے ہیں کہ اس زمانے کا سب سے بڑا آدمی کون ہے۔ کوئی گاندھی جی کا نام لیتا ہے۔ کوئی اتاترک کا، کوئی مسولینی اور ہٹلر کا، مگر حقیقت میں بڑا وہ ہے جس پر خدا کا فضل سب سے بڑھ کر ہو اور وہ اللہ کے رسول کا جانشین حضرت فضل عمر مرزا بشیر الدین احمد (خلیفہ قادیان) ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٦ نمبر ٢٨١ ص ٣، مورخہ ٧؍دسمبر ١٩٣٨ء)
نیا کلمہ کیوں جاری نہ کیا
’’ہم پہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کے بعد مرزا قادیانی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر حضرت مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (یہ تناسخ کا عقیدہ نہیں تو اور کیا ہے) پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہی ہیں جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
’’ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ اور کوئی آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص ١٥٧، ١٥٨، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
١١
محمد رسول اللہ کا مفہوم
"حضرت مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور نبی کی زیادتی ہو گئی ہے۔"
(کلمتہ الفصل ص ١٥٨)
فرقہ احمدیہ کا عقیدہ
غوث الاعظم شہ جیلاں رسول مدنی
پہلی بعثت میں محمدؐ ہے تو احمدؐ ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی
(اخبار الفضل ج ١٠ نمبر ٣٠ ص ٢١، مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩٢٢ء)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے
"مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔"
(کلمتہ الفصل ص ١٥٨)
ہمارا جلسہ حج ہے
"ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔"
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٦ ص ٥، مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
قادیان مکہ مدینہ
"میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے اور یہاں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی رہتی ہیں۔"
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٧٠ ص ١، مورخہ ١١؍ دسمبر ١٩٣٢ء)
١٢
ہر مرزائی صحابہ ہے
"جو میری جماعت میں دا میں داخل ہوا۔"
شیشہ ے لب پ
آمد مسیح
"جب مسیح علیہ السلام دوبا آفاق و اقطار میں اسلام پھیل جائے گا "ایسے زمانے میں صور پھ
مسیح کا نزول
"اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے او
نہ رام چندر نہ کرشن نہ عیسیٰ علی "مسیح موعود آ گیا ہے اور جائے گا نہ کرشن نہ عیسیٰ علیہ السلام۔"
اولین فرض مسیح
"مسیح موعود کا اولین فرض
اسلام کی حمایت
"اگر میں نے اسلام کی میں یونہی مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ ناظرین! مسیح کے متعلق کو اسلام پہ اکٹھا کرتا ہے اور آمد مس نہ رہے گی۔ مگر خود اپنے فرقہ جد
کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور نبی کی زیادتی
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
الاعظم شہ جیلاں رسول مدنی
خلعت میں محمدؐ ہے تو احمدؐ ہے
پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی
(اخبار الفضل ج ١٠ نمبر ٣٠ ص ١، ٢، مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩٢٢ء)
آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
دیکھنے ہوں جس نے اکمل
احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
ہے رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
تم کا ظلی حج ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٦ ص ٥، مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت والی برکات نازل ہوتی رہتی ہیں۔“
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٧ ص ١، مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء)
١٢
ہر مرزائی صحابہ ہے
”جو میری جماعت میں داخل ہوا۔ وہ درحقیقت میرے سردار، خاتم النبیین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)
لب پہ دعویٰ ہے پارسائی کا
آمد مسیح
”جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے جمیع آفاق واقطار میں اسلام پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
”ایسے زمانے میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا۔“
(شہادت القرآن ص ١٠١، خزائن ج ٦ ص ٣١٢)
مسیح کا نزول
”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
نہ رام چندر نہ کرشن نہ عیسیٰ علیہ السلام
”مسیح موعود آ گیا ہے اور وہ وقت آنا ہے۔ بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چند پوجا جائے گا نہ کرشن نہ عیسیٰ علیہ السلام۔“
(شہادت القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)
اولین فرض مسیح
”مسیح موعود کا اولین فرض استیصال فتن دجالیہ ہوگا۔“
(ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤٧٧)
اسلام کی حمایت
”اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا۔ نہ کر دکھایا اور میں یونہی مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار البدر قادیان مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
ناظرین! مسیح کے متعلق ان حوالہ جات کو پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ مسیح کا کام تمام قوموں کو اسلام پر اکٹھا کرنا ہے اور آمد کے بعد نہ ہندو رہنے چاہئیں نہ عیسائی۔ بلکہ قوموں کی تفریق بھی نہ رہے گی۔ مگر خود اپنے فرقہ جدیدہ کو چلانے کے لئے مسلمانوں میں ہی مستقل تفریق پیدا ١٣
کی۔ مرزا قادیانی کے ان اقوال اور متضاد عمل کو دیکھ کر مجبوراً کہنا پڑتا ہے۔
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں سے الگ ہونے کے لئے جس قسم کے زہریلے اور دل آزار و توہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور دعوے نبوت کر کے مسلمانوں میں انتشار و تفریق کی گہری خلیج حائل کر کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اور ان کے عقائد اور اعمال سے نفرت دلا کر چند آدمیوں کو اپنے ساتھ ملایا اور ختم نبوت کی مقدس مہر کو توڑ کر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو موقعہ دیا کہ وہ تاج رسالت سے بغاوت کرے اور ناموس رسالت پر حملہ کرے۔ اپنی نبوت کی دوکان چمکائے اور رسول اللہ کے مقدس دین میں نقائص نکالنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو رسول اور اپنے مریدوں کو متقی اور صالح قرار دے۔ کاش ایسے دین کے باغی لوگوں کے لئے کوئی قانون بنایا جاتا جو ایسے کاذب اور دجل کرنے والوں کو گرفت کر سکتا۔ ملاحظہ ہو: کیسے کیسے نامعقول لوگوں نے دعویٰ نبوت کرنے کی جرأت کی۔
یار محمد نبی
’’ایک میرے استاد تھے جو اسکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے اتنی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں اس پر جنون کا رنگ غالب آگیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو۔ مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔‘‘
(ارشاد خلیفہ محمود احمد قادیانی، الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩٣٣ء)
احمد نور کابلی نبی
’’سید احمد نور کابلی، ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(ارشاد خلیفہ قادیانی، اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٨ ص ١٧، مورخہ ١١؍ نومبر ١٩٣٣ء)
ناظرین! اندازہ لگائیں کہ یار محمد اور احمد نور کابلی مدعیان نبوت ہیں اور فرقہ احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میاں محمود احمد قادیانی ان کے دعویٰ نبوت کی تردید بنا بریں کرتے ہیں کہ بیمار یا جنون میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا نبی نہیں ہو سکتے۔ مگر خود اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام بیماریوں پر
١٤
عامل کو دیکھ کر مجبوراً کہنا پڑتا ہے۔
میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
مسلمانوں سے الگ ہونے کے لئے جس قسم کے زہریلے اور جھوٹے دعوے نبوت کر کے مسلمانوں میں انتشار و تفریق کی قرار دے کر اور ان کے عقائد اور اعمال سے نفرت دلا کر چند ایک مقدس مہر کو توڑ کر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو موقعہ دیا گیا ہے اور ناموس رسالت پر حملہ کرے۔ اپنی نبوت کی دوکان چمکانے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو رسول اور نبی کہے۔ کاش ایسے دین کے باغی لوگوں کے لئے کوئی قانون بنایا جاتا جو گرفت کر سکتا۔ ملاحظہ ہو: کیسے کیسے نامعقول لوگوں نے
سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے اتنی محبت غالب آ گیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی مسیح موعود کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ منسوب کرنے لگے۔“
(خلیفہ محمود احمد قادیانی، الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩٣٢ء)
ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ب کیا جا سکتا ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٨ ص ١٧، مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٣ء)
ایسے جھوٹے مکاذب مدعیانِ نبوت ہیں اور فرقہ احمدیہ سے دعویٰ نبوت کی تردید بنا بریں کرتے ہیں کہ بیمار یا اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام بیماریوں پر
کیوں پردہ ڈالتے ہیں۔ ان کی مختصر بیماریاں ملاحظہ ہوں۔
دو مرض
”مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دورانِ سر...... اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں تقریباً تیس برس سے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
سو سو دفعہ پیشاب
”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... درد اور دورانِ سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے...... اور دوسری ذیابیطس جو ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)
حالت مردی کالعدم
”میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دورانِ سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر کبھی دور نہ ہوا تھا۔ میری حالت مردی کالعدم تھی۔“
(نزول مسیح ص ٢٠٩ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٥٧٨)
نامرد
”جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ٢١)
اسی طرح ایک اور خط میں لکھا: ”ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔“
(مکتوبات ج ٥ نمبر ٢ ص ١٤)
نامردی کیسے دور ہوئی
”ایک ابتلاء مجھے شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سی امراض کا نشانہ رہ چکا تھا...... اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی...... اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا...... غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس ١٥
نے دفعہ مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ دوائیں بتلائیں۔ میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں نے تیار کی...... میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا۔ اب پھر میں اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مردوں کے قائم مقام دیکھا۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣، ٢٠٤)
کمزوری مردی کی وجوہات
”اللہ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٣٥ ص ١١، مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٠١ء)
مرض ہیضہ
”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“
(حیات ناصر ص ١٤)
مرض دق (مراق)
مرزا قادیانی فرماتے تھے کہ: ”مجھے مراق کی بیماری ہے۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
خارجی مراق
”مراق کا مرض حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا۔“
(ماہنامہ ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١٠، اگست ١٩٢٦ء)
مراقی بیوی
”میری بیوی کو بھی مراق ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ ص ١٤، اگست ١٩٠١ء)
مراقی بیٹا
”حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (میاں محمود) نے فرمایا کہ مجھے بھی مراق ہے۔“
(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦، ماہ اگست ١٩٢٦ء)
مرض سل
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کو سل ہو گئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٥٥ روایت ٦٦)
١٦
ذریعہ دوائیں بتلائیں۔ میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی ...... میں اس زمانہ میں طرح تھا۔ اب پھر میں اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس
(تریاق القلوب ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٥ص٢٠٣،٢٠٤)
بھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ بندی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد اسی عمر میں پیدا ہو گئے
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٣٥ ص ١١، مورخہ ٢٣ ستمبر ١٩٠١ء)
مینہ ہو گیا ہے۔"
(حیات ناصر ص ١٤)
کہ: "مجھے مراق کی بیماری ہے۔"
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ
(ماہنامہ ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ١٠،اگست ١٩٢٦ء)
ہے"۔
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ ص ١٤، اگست ١٩٠١ء)
(میاں محمود) نے فرمایا کہ مجھے بھی مراق ہے۔"
(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦ ، ماہ اگست ١٩٢٦ء)
والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت گئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہوگئی۔"
(سیرت المہدی ج ١ ص ٥٥ روایت ٦٦)
١٦
بیماری کے لئے استعمال شراب
"اخویم حکیم محمد حسین صاحب۔ السلام علیکم ! اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خرید کر ایک بوتل ٹانک وائن (مقوی شراب) کی پلومر کی دوکان سے خرید دیویں۔"
(مرزا غلام احمد عفی عنہ ، خطوط امام بنام غلام ص ٥)
مراق کا مریض مسیح
"دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی فرمائی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور دوسرے نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔"
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
مراق کا مریض
"مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ کوئی خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ میں خدا ہوں۔"
(بیاض نورالدین ص ٢١٢)
مراق و مالیخولیا
"مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ۔"
(بیاض نورالدین حصہ اول ص ٢١١)
عجب یہ دوستی ہے اور عجب یہ راز داری ہے
جھوٹے نبی اور دجال
مسلمانوں میں انتشار و تفریق پھیلانے کا سبق مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جھوٹے مدعیان نبوت سے سیکھا اور ان کی تقلید میں ایک الگ فرقہ کی بنیاد رکھی اور انگریزوں کی حمایت کی۔ مسلمانوں کی ہر معاملہ میں مخالفت کی تاکہ انگریز آقا خوش ہو کر انعام واکرام کی عنایات کرے اور مرزا قادیانی اور اس کا خاندان اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرے۔ نیز انگریزوں سے سیاسی واقتصادی فوائد حاصل کرے۔ یہ خود غرضی کی انتہاء تھی اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی غداری تھی۔ جس کو مسلمان قوم معاف نہیں کرے گی اور بقول علامہ الیاس برنی
١٧
حیدرآباد دکن، ”مرزا غلام احمد قادیانی نے دین وملت کی صلاح وفلاح کا دعویٰ کر کے کس طرح تخریب وتفرقہ کی سازش کی۔ قادیانیت کا فریب بھی تاریخ اسلام میں یادگار رہے گا اور انجام عبرت آموز ہوگا۔“
(قادیانی مذہب ص ١)
مرزا قادیانی، آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو جھوٹا سمجھتے ہوئے ان کی تردید کرتے ہیں۔ مگر خود ہی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
شریر لوگوں نے دعویٰ پیغمبری کیا
”حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہو گیا۔ کہ کئی فرقے عرب کے مرتد ہو گئے....... اور جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے....... خدا نے حضرت ابوبکر صدیقؓ میں ....... برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا۔ اس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت و جلال پا کر قتل کیا....... آنحضرت ﷺ کے بعد چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔ جس کے ساتھ کئی لاکھ بدبخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اسقدر بڑھ گیا کہ صحابہ کی جماعت ان کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی....... جس شخص کو اس زمانہ کی تاریخ پہ اطلاع ہے وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا طوفان تھا کہ اگر درحقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کا خاتمہ تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٨ تا ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٥ تا ١٨٨)
مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی مدعیان نبوت
”غور کا مقام ہے کہ جس وقت نبی کریم ﷺ نبوت حقہ کی تبلیغ کر رہے تھے....... اس وقت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا کیا فتنے برپا کئے....... ایسا ہی ابن صیاد نے بہت فتنہ ڈالا تھا اور یہ تمام لوگ ہزار ہا لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہوئے تھے۔“
(مکتوبات احمدیہ ص ١٣ ج ٥ نمبر ٢)
تیس دجال
”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک تیس کے قریب دجال ہوں گے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
طریقہ دجال
”دجال کے لئے ضروری ہے کہ نبی برحق کے تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل کو ملا دے۔ چونکہ آئندہ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع ہو کر دجل کا کام کریں گے تو وہی دجال کہلائیں گے۔“
(تبلیغ رسالت ص ٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٣١)
١٨
نے دین وملت کی صلاح وفلاح کا دعویٰ کر کے کس طرح کا فریب بھی تاریخ اسلام میں یادگار رہے گا اور انجام
(قادیانی مذہب ص ١)
کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو جھوٹا سمجھتے ہوئے ان نبوت کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہو گیا۔ کہ کئی جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے۔ ...... خدا نے حضرت ابوبکر اسی طرح اس کا اقبال چمکا۔ اس نے مفسدوں اور جھوٹے ...... آنحضرت ﷺ کے بعد چند شریر لوگوں نے پیغمبری سخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اسقدر کچھ بھی چیز نہ تھی ...... جس شخص کو اس زمانہ کی تاریخ پہ گمان ایسا طوفان تھا کہ اگر درحقیقت اسلام خدا کی طرف
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٨ تا ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ١٨٥ تا ١٨٨)
ن نبوت
نبی کریم ﷺ نبوت حقہ کی تبلیغ کر رہے تھے ...... اس فتنے برپا کئے ...... ایسا ہی ابن صیاد نے بہت فتنہ ڈالا تھا غائب ہوئے تھے۔“
(مکتوبات احمدیہ ص ١٣١ ج ٥ نمبر ٢)
دنیا کے اخیر تک تیس کے قریب دجال ہوں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
بر حق کے تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل کو پہلے نبی کے تابع ہو کر دجل کا کام کریں گے تو
(حقیقت رسالت ص ٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٣١)
ایک لاکھ مرتد
”اور جب نبی کریم ﷺ وفات پا گئے تو اسلام اور مسلمانوں پر مصیبتیں نازل ہو گئیں اور مرتد ہو گئے۔ بہت سے منافقین اور لمبی ہو گئیں زبانیں مرتدوں کی اور نبوت کا دعویٰ کیا ایک گروہ مفسدین نے اور جمع ہو گئے ان کے پاس گنوار لوگ۔ یہاں تک کہ مسیلمہ کے پاس قریب قریب ایک لاکھ جاہل فاجر ہو گئے۔“
(سر الخلافہ ص ٢٠، خزائن ج ٨ ص ٣٣٤)
دوبارہ اسلام کی شان
”اور تو سوچ کیسی حالت تھی۔ مسلمانوں کی خلافت میں اور اسلام ایک مٹے ہوئے کی طرح تھا۔ پھر اللہ نے دوبارہ اسلام کی شان قائم کی اور اس کو نکالا ایک گہرے کنوئیں سے اور قتل کئے گئے نبوت کے دعویدار سخت دکھوں کے ساتھ اور ہلاک کئے گئے مرتد۔ چوپاؤں کی طرح۔“
(سر الخلافہ عربی ص ٢١، خزائن ج ٨ ص ٣٣٥)
ناظرین! اب خود اندازہ فرمائیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کون تھے اور ان کا کیا انجام ہوا۔
دیکھ کیا کیا نگہ یار کے احساں ہوں گے
قادیانی نبوت کا کارنامہ
بعض مسلمان حضرات جن کو فرقہ احمدیہ کی اندرونی اسلام دشمنی کا پوری طرح علم نہیں ہے۔ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ فرقہ مسلمانوں میں مذہبی طور پر تو شامل نہیں ہے۔ مگر سیاسی طور پر اس کی گنتی مسلمانوں میں رہے تو کیا حرج ہے۔ یہ فرقہ سیاسیات میں مسلمانوں کا ساتھ تو دیتا ہے۔ ایسے حضرات کی خدمت میں التماس ہے کہ اس فرقہ کی انگریز نے اپنی مطلب براری کے لئے پرورش کی اور ممالک اسلامیہ کو ابدی غلامی میں رکھنے کے لئے اس کی حمایت کی تاکہ یہ لوگ مسلمانوں سے الجھے رہیں اور مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہیں اور انگریز کی اطاعت مذہبی طور پر قرآن وحدیث سے ثابت کرتے رہیں اور مسلمانوں سے ہر معاملہ میں دست گریباں رہیں۔ مسلمان ممالک اسلامیہ اور مسلمانوں کی آزادی کی طرف توجہ نہ دے سکیں۔ یہ فرقہ انگریز کی پیداوار ہے۔ جو الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اس کا پاکستان میں آکاس بیل کی طرح بڑھنا۔ شجر پاکستان کے لئے کسی وقت بھی خطرہ کا باعث ہوگا۔ (اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین) ملاحظہ ہو:
١٩
خودکاشتہ پودا
”ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام یہ راقم ہے۔ ہندوستان کے اکثر شہروں میں پھیلتا جاتا ہے...... قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ و نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں۔ حضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبال کو آگاہ کروں اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ ہر ایک فرقہ جو نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقہ کے دشمن جن کی عداوت اور مخالفت ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے۔ (مگر آپ کا طرز عمل کیا ہے۔ مصنف) گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں۔ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہزاروں مسلمانوں نے مجھے اور میری جماعت کو کافر قرار دیا (تو یہ بات انگریز گورنر کو کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ مصنف) میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان کرتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جانثار یہی فرقہ ہے۔ جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں...... میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ فرقہ جدید جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں...... غرض یہ ایک جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ ہے اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں...... سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جانثار ثابت کر چکی ہے۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت احتیاط، تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارے فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١تا٢١)
پہلا اجلاس
”جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا باقاعدہ اجتماع جو ١٨٩٢ء میں منعقد ہوا۔ اس کی کیفیت آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔ اس کیفیت میں لکھا ہے کہ آئندہ بھی اس جلسہ کے یہی مقاصد ہوں گے کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کا سچا شکر گزار اور قدر دان بننے کی کوشش اور تدبیریں کی جائیں۔“
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح ص٦، مورخہ ١٥؍دسمبر ١٩٣٤ء)
٢٠
عاجزانہ ادب
”اے مخدومہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند! ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیری حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)
اعلیٰ مقاصد
”اس محسن گورنمنٹ کا مجھ پر سب سے زیادہ (شکریہ) واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٣١، ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٢، ٢٨٣)
چاپلوسی دعویٰ
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی ایسی گورنمنٹ نہیں ہے۔ جس نے زمین پر امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں۔ (جھوٹ نہیں ہے۔ تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ جو قلم میں آتا ہے لکھتے جائیں۔ مصنف) کہ جو کچھ ہم پوری آزادی کے ساتھ اس گورنمنٹ کے تحت اشاعت میں لا سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
برطانیہ سے سرکشی خدا اور رسول سے سرکشی ہے
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ (اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔)“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
مرزا قادیانی کی اس توہین آمیز تحریر جس میں اسلام کو بدنما خوشامدی مذہب بنا کر انگریز کی چاپلوسی کی گئی ہے۔ علامہ اقبال کا شعر صادق آتا ہے۔
تو جھکا جب غیر کے آگے تو تن تیرا نہ من
٢١
گورنمنٹ برطانیہ کی وفادار فوج
"بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی، مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے۔۔۔۔۔کہ اس کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جس کا ظاہر اور باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا پڑا ہے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)
عزت کا طالب
"اس عاجز کو وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے۔ جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا۔ جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔"
(ستارہ قیصریہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١١، ١١٢)
ملکہ معظمہ کا واسطہ
"یہ مؤلف تاج عزت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر گورنمنٹ انگلیشیہ کے اعلیٰ آفیسران اور معزز حکام سے با ادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جاوے یا سن لیا جاوے۔"
(کشف الغطاء ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ١٧٩)
انگریزی گورنمنٹ پہ قربان
"بلا شبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے دعا گو ہیں۔"
(تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٥٣)
گورنمنٹ انگریزی کا تعویذ و پناہ
"میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے جو آفتوں سے بچاوے۔"
(نور الحق ص ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٤٥)
مسلمانوں کی جاسوسی
"قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جاویں۔ جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔۔۔۔۔ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح
٢٢
اپنے دفتر میں محفوظ رکھے گی۔
(تبلیغ رسالت ص ٥، ج ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
خدمات ومعاوضہ کا طالب
”میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کی قدر کرے گی۔“
(تبلیغ رسالت ص ٦٩ ج ٦، اشتہار مورخہ ١٨ نومبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٦)
حرز سلطنت انگریزی
”چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ میرا اس گورنمنٹ کی پر امن سلطنت اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دعاء میں مشغول ہوں۔ کیونکہ میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ نہ روم نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں...... غرض میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت (تعویذ) ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠، ٣٧١)
فنا فی گورنمنٹ انگریزی
”سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر کچھ وقوع میں آیا۔ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٣ مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٢، ١٤٣)
گورنمنٹ انگریزی کے احسان جو در پردہ ہوں گے۔ ان کی تشریح پھر کی جائے گی۔ یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی خدمات کی قدر کی جو آس لگا رکھی ہے اور مسلمانوں اور اسلام کی جس شدومد سے مخالفت جاری کی اس کا صلہ اور سرفرازی پہ کچھ روشنی پڑتی ہے اور خدا تعالیٰ کے الہام کا بھی کچھ کچھ پتہ چلتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
روپیہ کا الہام
”یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو۔ یا اور چیزیں (تشریح نہیں ہے۔ مصنف) تحائف کے طور پر ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشانات پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)
٢٣
تین لاکھ کی آمد
”مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے میری دست گیری کی کہ میں یقیناً کہتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
لفافوں میں نوٹ
”اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو۔ تاکہ معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہ رہی۔ بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آ کر دے جاتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
علامہ اقبال مرحوم کا اضطراب
علامہ اقبالؒ مرزا قادیانی کی تحریرات کو پڑھ کر بہت مضطرب ہوئے اور مجبوراً مرحوم کو یہ تلخ حقیقت بیان کرنی پڑی۔ فرماتے ہیں۔
رقص با گرد کلیسا کرد ومرد
بدخیال جہادی اور بدقسمت ظالم
”میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں۔ میں ان کو سخت نادان اور بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
٢٤
نکہ اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
نہ ہو تو بیس برس کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو۔ تاکہ خدمت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
ت کو پڑھ کر بہت مضطرب ہوئے اور مجبوراً مرحوم کو یہ
تخلیا کرد ومرو
سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ ن ہوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی دل میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات ف کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
جہاد قطعاً حرام ہے
”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ (خودکاشتہ پودا۔مصنف) جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور پر۔ جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٣٨٩، ٣٩٠، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧، ٥١٨)
نظم جہاد
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ وقتال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
لوگوں کو یہ بتاؤ کہ وقتِ مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
(درثمین، تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨، ٨٠)
جہاد قطعاً حرام ہے
”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھے مسیح موعود جانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔‘‘
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
جہاد آئندہ بھی نہیں ہوگا
”فرقہ احمدیہ کی خاص علامت یہ ہے کہ وہ نہ صرف جہاد کو موجودہ حالت میں ہی رد کرتا
٢٥
(الحکم قادیان مورخہ ١٧ فروری ١٩٠٢ء)
ہے۔ بلکہ یہ آئندہ بھی کسی وقت اس کا منتظر نہیں ہے۔“
علامہ اقبالؒ کا جواب
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔
آں زحج بیگانہ ایں از جہاد
سینہ ہا از گرمئ قرآں تہی
ایں چنیں مرداں چہ امید بہی
یعنی ایرانی نبی بہاء اللہ منکر حج تھا اور ہندی نبی مرزا غلام احمد قادیانی جہاد کا منکر ہے۔ ان دونوں کے سینے تعلیم قرآن شریف وحرارت ایمان سے خالی ہیں۔ منکران ارکان دین اسلام سے خدمت اسلام کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔
نقاش پاکستان علامہ اقبالؒ کا فرمان
علامہ کو مرزا غلام احمد قادیانی منکر جہاد اور فرقہ احمدیہ کی تحریرات پڑھ کر بہت صدمہ ہوا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بےسود وبے اثر
تیغ وتفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہے موت کی لذت سے بے خبر
باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش یا کمر
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونی سے ہو خطر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
٢٦
اسلام کا محاسبہ یورپ سے درگذر
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)
مسیح موعود کے بعد خلیفۃ المسیح
”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ میں مہدی اور حکومت برطانیہ میری تلوار ہے...... عراق، عرب، شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٣٢، ص ٩، مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)
(مطلب صاف ہے کہ ممالک اسلامیہ انگریزوں کے غلام بن جائیں۔ جس طرح بھی ہو۔ مصنف )
مشترکہ فوائد
”ہمارے فوائد اور گورنمنٹ (برطانیہ) کے فوائد متحد ہو گئے ہیں۔ جہاں یہ گورنمنٹ پھیلتی ہے۔ وہاں ہمارے لئے تبلیغ کا ایک اور میدان کھلتا ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٩ اکتوبر ١٩١٤ء)
نرالا تعلق
”ایک بات جس کا آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس وقت کہنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ سے جو تعلق ہے۔ وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں جو کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی قدم آگے بڑھانے کا موقعہ ملتا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)
غیر انگریزی ممالک میں امداد
”اگر ہم دیگر ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“
(برکات خلافت ص ٦٥)
روس میں انگریزی خدمات
”روس میں اگرچہ میں تبلیغ کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش گورنمنٹ کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا ہوں۔
٢٧
وہاں مجھے لازماً انگریزی حکومت کی خدمت کرنی پڑتی تھی۔“
(الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٤٥ ص ١١، مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٣ء)
افغانستان میں جاسوسی
”حکومت افغانستان نے دو احمدیوں پر مقدمہ چلایا کہ وہ برطانیہ کے جاسوس ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣ مارچ ١٩٢٠ء)
برطانیہ کی جاسوس جماعت
”ایک دفعہ برلن (جرمنی) میں احمدیوں نے ایک ٹی پارٹی کا انتظام کیا۔ (یہ تبلیغ کا پہلا زینہ ہے۔ مصنف) اور بڑے بڑے آفیسروں کو ٹی پارٹی میں شمولیت کے لئے دعوت نامے بھیجے اور ایک جرمن وزیر بھی اس پارٹی میں شامل ہوا تو حکومت جرمنی نے اس جرمن وزیر سے جواب طلبی کی کہ برطانیہ کی جاسوس جماعت کی پارٹی میں کیوں شامل ہوئے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣ اپریل ١٩٣٤ء)
گورنمنٹ کی پٹھو اور جاسوس جماعت
”ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع میں ہی لوگ کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے۔ بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔“
(خطبہ میاں محمود، اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٨ ، ص ٢، مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٤ء)
جاسوس اور ایجنٹ برطانیہ
”پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے یہ سوال کیا؟ کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں۔ آپ کا انگریزی حکومت سے کیا تعلق ہے؟ (زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ مصنف) ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں۔ ایک دفعہ قادیان آئے اور انہوں نے بتلایا کہ پنڈت جواہر لال نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے سٹیشن سے اتر کر جو باتیں سب سے پہلے پہلے کیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ میں یہ سبق حاصل کیا ہے کہ انگریزی گورنمنٹ کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے جماعت احمدیہ کو کمزور کیا جاوے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور
٢٨
ان کی ایجنٹ ہے۔“ (خطبہ میاں محمود خلیفہ قادیان
ٹرکی کی شکست پر چراغاں
جب ٹرکی کو جنگ عظیم میں انگریز لئے مصیبت اور سوگواری کا دن تھا۔ اس خود قادیان میں جشن منایا۔ ملاحظہ ہو:
”١٣؍ مارچ جب کہ جرمنی کی ہو جانے کی اطلاع قادیان پہنچی تو خوشی اور کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر می جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا مولوی محمد سرور ( طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح و نصرت اغراض و مقاصد کے لئے نہایت فائدہ بخش تار بھیجے گئے اور حضور نے ٥٠٠ روپے اظہا خدمت میں بھجوایا۔ تاکہ آپ جہاں پسند ف ٹرکی کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں پانچ خدمت میں بھجوایا تھا۔“
انگریز کی فتح ہماری فتح ہے
”جماعت احمدیہ کے لئے ف سلطنت فاتح ہوئی اور خوشی کی پہلی وجہ ی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسیح مو کی طرح ”يومئذ يفرح المؤمنون
ترک دشمنی
”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم اپنے مذہبی
ان کی ایجنٹ ہے۔ (خطبہ میاں محمود خلیفہ قادیان، الفضل ج٢٣ نمبر ٣١، ص٧، ٨، مورخہ ٦؍ اگست ١٩٣٥ء)
ترکی کی شکست پر چراغاں
جب ترکی کو جنگ عظیم میں انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو وہ دن عالم اسلام کے لئے مصیبت اور سوگواری کا دن تھا۔ اس خود کاشتہ پودا نے مسلمانان عالم کی دل آزاری کے لئے قادیان میں جشن منایا۔ ملاحظہ ہو:
”١٣؍ تاریخ جب کہ جرمنی کی شرائط منظور کر لینے اور التوا جنگ کے کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع قادیان پہنچی تو خوشی اور انبساط کی ایک لہر۔ برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس خبر کو سنا۔ شاداں و فرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں، انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل کر دی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا مولوی محمد سرور (مفتی قادیان) نے تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح و نصرت پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد کے لئے نہایت فائدہ بخش بتلایا۔ حضرت خلیفہ المسیح کی طرف سے مبارک باد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے ٥٠٠ روپیہ اظہار مسرت کے طور پر ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا۔ تاکہ آپ جہاں پسند فرمائیں خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند روز ہوئے تھے کہ ترکی کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں پانچ ہزار روپیہ جنگی اغراض کے لئے ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔“
(اخبار الفضل قادیان ج٦ نمبر ٣٧ ص١، مورخہ ١٦؍ نومبر ١٩١٨ء)
انگریز کی فتح ہماری فتح ہے
”جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی کا مقام ہے کہ اس جنگ میں انگریزوں کی سلطنت فاتح ہوئی اور خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انگریز قوم ہماری محسن ہے اور اس کی فتح ہماری فتح ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسیح موعود کی دعا نہایت زبردست رنگ میں مقبول ہوئی اور صحابہ کی طرح ”يَوْمَئِذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ........“ کا انعام ہمیں عطاء ہوا۔“
(اخبار ریویو قادیان ج١٧ نمبر ١٢ ص٣٦١، ماہ دسمبر ١٩١٨ء)
ترک دشمنی
”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں (پوچھا کس نے ہے؟ مصنف) کہ مذہبباً ترکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم اپنے مذہبی خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا
٢٩
سمجھیں۔ جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو۔“ (قادیانی فرقہ کا ایڈریس گورنر پنجاب مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩١٩ء)
ایک اعلان
”بذریعہ اس اعلان کے پبلک کو مطلع کیا جاتا ہے کہ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا عقیدہ نہیں ہے کہ سلطان ٹرکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ فروری ١٩٢٠ء)
پوپ بننے کی خواہش
”میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا خلیفہ ہی نہیں (تو مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ ہندوستان کے خود ساختہ خلیفہ) بلکہ خلیفہ ہوں۔ حضرت مسیح موعود کا۔ اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے۔ (سبحان اللہ کیا خوب دلیل ہے۔ مصنف) عرب، ایران، چین، جاپان، یورپ، امریکہ، افریقہ، سماٹرا خود انگلستان کے لئے۔ غرضیکہ کل جہاں کے لوگوں کے لئے خلیفہ ہوں۔ اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے تابع ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہ ہو۔“
(الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٣، ص ٤، یکم نومبر ١٩٣٤ء)
(انگریز عاقل کو اشارہ کر دیا ہے اب اس کا کام ہے کہ خلیفہ قادیان کو پوپ بنا دے۔ مصنف)
پوپ اور خلیفہ ایک ہیں
”زمانہ وسطیٰ میں تو یہ قاعدہ تھا کہ جب بادشاہ تخت پر بیٹھتا تو وہ پوپ کے پاس اپنی بادشاہت کی منظوری کے لئے چٹھی بھیجتا اور جب وہ اسے بادشاہ تسلیم کرتا تب وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا۔ عیسائی اپنا مذہبی پیشوا پوپ کو سمجھتے ہیں۔ لیکن جماعت احمدیہ کے نزدیک خلیفہ وقت اس کا مذہبی پیشوا ہے۔ پس جو بادشاہ بھی احمدی ہوگا۔ وہ اپنے آپ کو خلیفہ وقت کا ماتحت اور اس کا نائب سمجھنے لگا۔ گو دنیاوی معاملات میں اس کے احکام نافذ نہ ہوں۔ مگر دینی معاملات میں حکومت احمدی خلیفہ کی ہی ہوگی۔“
(خطبہ میاں محمود، مندرجہ الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ١٩٩ ص ٨، ٩، مورخہ ٢٧؍ اگست ١٩٣٧ء)
ریاست کی خواہش
”احمدیوں کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا نہیں۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنا لو اور جب تک ایسا مرکز نہ ہو۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم اپنے مطلب کے امور جاری نہیں کر سکتے اور نہ ہی اخلاق کی تعلیم ہو سکتی ہے۔ نہ پورے طور پر
٣٠
تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم ایسا علاقہ جب تک ہمیں نصیب نہیں ہوت وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔ اگر
بادشاہت کا خواب
”تم اس وقت تک امن نہیں ہمارے لئے امن کی ایک ہی صورت ہ
ہندو امپیریلزم کی دور اندیشی
”سب سے اہم سوال جو مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا اور پیکٹ کئے جاتے ہیں۔ (یادرہے کہ سے گوپال کرشن گوکھلے اور مسلمانوں تھے۔ مصنف) کبھی لالچ دے کر ان معاملات کو سیاسیات کا جزو بنا کر ان ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو الگ ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو ہندوستان میں ہندوستانی قوم پرستوں اور مجاہ جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر (فرقہ کی بجائے احمدیوں میں قوم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
آؤ! ہم احمدیہ تحریک کا مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا
تربیت کی جاسکتی ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ مکہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو۔ ایسا علاقہ جب تک ہمیں نصیب نہیں ہوتا جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو۔ مگر اس میں غیر نہ ہو۔ اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔ اگر یہ نہ ہوا تو کام اور بھی مشکل ہو جائے گا۔
(خطبہ محمود، مندرجہ الفضل قادیان مارچ ١٩٢٢ء)
بادشاہت کا خواب
”تم اس وقت تک امن میں نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمہاری اپنی بادشاہت نہ ہو۔ جو ہمارے لئے امن کی ایک ہی صورت ہے کہ دنیا پر غالب آجائیں۔“
(خطبہ محمود، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٢/ اپریل ١٩٤٠ء)
ہندو امپیریلزم کی دور اندیشی
”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جاوے۔ کبھی ان کے ساتھ سودے معاہدے، اور پیکٹ کئے جاتے ہیں۔ (یادرہے کہ ١٩١٦ء میں ایک ہندو مسلم پیکٹ ہوا تھا۔ ہندوؤں کی طرف سے گوپال کرشن گوکھلے اور مسلمانوں کی طرف سے محمد علی جناح قائد اعظم مرحوم نے دستخط کئے تھے۔ مصنف) کبھی لالچ دے کر ان کو ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ان کے مذہبی معاملات کو سیاسیات کا جزو بنا کر اتحاد کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ رات دن عرب کے گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔ اس تاریکی اور مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے۔ وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہندو قوم بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ قوم (فرقہ کی بجائے احمدیوں میں قوم کا احساس پیدا کیا جارہا ہے۔ مصنف) کی ترقی پان اسلامزم کا خاتمہ کرسکتی ہے۔
آؤ! ہم احمدیہ تحریک کا قومی نگاہ سے مطالعہ کریں۔ پنجاب کی سرزمین میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو! خدا نے قرآن مجید میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ میں ہی ہوں۔ آؤ! مجھ پر ایمان لاؤ اور میرے جھنڈے
٣١
تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر نہیں آؤ گے تو خدا تم کو قیامت تک نہیں بخشے گا۔ دوزخی ہو جاؤ گے۔ میں مرزا قادیانی کے اس اعلان کی صداقت یا بطالت پہ بحث کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے مسلمانوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ ایک مرزائی کا عقیدہ ہے کہ:
- ......١ خدا سمے سمے (وقتاً فوقتاً) لوگوں کی رہبری کے لئے ایک انسان پیدا کرتا ہے۔ جو اس
وقت کا نبی ہوتا ہے۔
- ......٢ خدا نے عرب کے لوگوں میں ان کی اخلاقی گراوٹ کے زمانے میں حضرت
محمد (ﷺ) کو نبی بنا کر بھیجا۔
- ......٣ حضرت محمد (ﷺ) کے بعد خدا کو ایک نبی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس لئے
مرزا قادیانی کو بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔
میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت، رام، کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی (زمین) میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد (ﷺ) میں اس کی عقیدت کم ہو جاتی ہے۔
علاوہ ازیں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی۔ اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ اور مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی احمدی چاہے، عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی گوشے میں بیٹھا ہو۔ وہ روحانی تسلی کے لئے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی زمین اس کے لئے پنیہ بھومی (سرزمین نجات) ہے اور اسی میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے لئے ہندوستان میں پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستان میں تھے اور اب جتنے خلیفے اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں۔ سب ہندوستانی ہیں۔
اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی قرآن کو الہامی مانتے ہیں تو پھر اسلام سے کیسے الگ ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدگی ہے۔
گورو گرنتھ صاحب میں رام، کرشن، اندر، وشنو، سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ورنن (ذکر) آتا ہے۔ مگر کیا سکھوں نے رام کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا۔ گورودواروں سے
٣٢
رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں بھلایا۔ کیا سکھ اپنے آپ کو ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب احمدی برملا کہیں گے۔ صاحب ہم محمدی مسلمان نہیں۔ ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم محمد (ﷺ) کی نبوت کو مانتے ہو۔ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد (ﷺ) عیسیٰ (علیہ السلام) رام، کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی مانتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب نہیں کہ ہم ہندو، عیسائی یا محمدی ہو گئے۔
یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان، احمدی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ احمدیت ہی عربی تحریک اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو ترکی یا عرب میں قائم کرنے کی بجائے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جو ہر وقت پان اسلامزم و پان عربی سنگٹھن (اتحاد) کے خواب دیکھتے ہیں۔ کتنی ہی مایوس کن ہو۔ مگر ایک قوم پرست ہندو کے لئے باعث مسرت ہے۔“ (مضمون ڈاکٹر شنکر داس مہرہ، بی۔ایس۔سی، ایم۔بی۔بی۔ایس مندرجہ لالہ لاجپت رائے کا اخبار بندے ماترم مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣١ء)
مسلمانوں کی طرف سے بیداری کا ثبوت
اس بات پر زیادہ تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہندوستان میں برطانوی امپریلزم آئندہ جگہ چھوڑ کر اپنی مسند پر ہندو امپریلزم کو بٹھانا چاہتا تھا۔ اس لئے انگریز آتے جاتے خود کاشتہ پودے کو ہندو مالی کے سپرد کرنا چاہتا تھا اور ہوا بھی یہی۔ مسلمانوں نے گہری نیند سے کروٹ لی اور اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے مرحوم جسٹس مرزا ظفر علی کو اور مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ کو جنہوں نے علامہ اقبالؒ کو توجہ دلائی۔ چنانچہ جسٹس سر ظفر علی ریٹائرڈ جج ہائیکورٹ پنجاب، گورنر پنجاب مسٹر ایمرسن کو ملے اور علامہ اقبالؒ کے جرأت مندانہ فیصلہ نے مسلمانوں کو اپنے مار آستیں سے آگاہ کیا۔ چنانچہ علامہ اقبالؒ اور چوہدری افضل حق مرحوم سابق ایم۔ایل۔سی کی کوششوں سے مرزا محمود خلیفہ قادیان کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے بنا بریں برطرف کیا گیا کہ مسلمانوں کی انجمن کا کوئی مرزائی رکن نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ مرزائی جماعت یعنی فرقہ احمدیہ نے مسلمانوں سے ہر معاملہ میں خود علیحدگی اختیار کر کے مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ چنانچہ اس کے ساتھ ہی مسٹر جلال الدین شمس مرزائی کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی سیکرٹری شپ سے بھی برطرف کر دیا گیا اور تمام مرزائی ممبر اس اسلامی انجمن سے نکال دیئے گئے اور بعد ازاں انجمن حمایت اسلام لاہور جو مسلمانوں کی سب سے بڑی تعمیری انجمن ہے۔ اس کی رکنیت سے
٣٣
مرزائی ممبروں کو نکالا گیا۔ اسی طرح پنجاب کی تمام اسلامی انجمنوں نے مرزائیوں سے اپنے وجود کو پاک کرلیا۔
مجلس احرار اسلام ہند نے مختلف مقامات پہ جلسے کر کے لوگوں کو اس فرقہ احمدیہ کی اندرونی منافقتوں سے آگاہ کیا۔ اخبار زمیندار اور احسان اور مولانا مرتضیٰ احمد خان کی کوششیں اس کار خیر میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلمانوں میں بیداری یہاں تک بڑھی کہ پنجاب مسلم لیگ نے بھی مرزائیوں کو مسلم لیگ سے خارج کر دیا۔ چنانچہ مرزائی مسلم لیگ کے اس فیصلہ پر بہت تلملائے۔ ملاحظہ ہو:
مسلم لیگ کا اعلان
”مسلم لیگ اعلان کر چکی ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو خدا تعالیٰ کا مامور اور راست باز مانے اسے وہ (مسلم لیگ) مسلمان نہیں سمجھتی اور نہ اپنے ساتھ سیاست میں اس وقت تک شامل کرنے کو تیار ہے۔ جب وہ احمدی ہونے سے انکار نہ کر دے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٣٧ء)
مسلم لیگ کا حلف نامہ
”اب تو مسلم لیگ نے بھی جس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھے جاتے تھے اور ہندوستان کی ذہنی روح تصور کئے جاتے تھے ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ جو ان کی (مسلم لیگ) طرف سے اسمبلی کے لئے امیدوار کھڑا ہو وہ یہ حلف اٹھائے کہ میں اسمبلی میں جا کر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کروانے کی کوشش کروں گا۔“
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح مورخہ ١٩ دسمبر ١٩٣٦ء)
آپ حیران ہوں گے کہ مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعت نے آخر یہ انتہاء پسندانہ اقدام کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقہ احمدیہ نے اگرچہ مذہب کی اوڑنی اوڑھ رکھی ہے۔ مگر یہ کوئی فرقہ مذہبی نہیں ہے۔ مذہب کی آڑ میں سیاست پہ چھا جانا چاہتا ہے۔ اپنی خوشامدانہ باتوں سے اقتدار پہ چھاپہ مارنا چاہتا ہے اور جوں جوں اس فرقہ کے ہاتھ میں اقتدار آیا۔ اس نے اپنے وار کا رخ مسلمانوں پر ہی کیا اور جس مذہب اور قوم سے نشو و نما حاصل کی۔ اسی کی جڑ کاٹنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر اسلام کا اللہ حافظ تھا۔ مسلم لیگ پہلے اس فرقہ کے پر فریب اعلانات پر دھوکہ کھا گئی تھی۔ مگر جب مسلم لیگ نے قریب ہو کر دیکھا کہ یہ فرقہ مسلمان کا ہی جانی سیاسی و اقتصادی دشمن ہے تو مسلم لیگ نے محسوس کیا کہ اس فرقہ کو مسلمانوں کے نام پر سیاسی فوائد حاصل کرنے کا کوئی حق
٣٤
نہیں اور یہ بات مسلم لیگ نے اس فرقہ کے اسلام دشمن رویہ سے محسوس کی اور پابندی اور حلف نامہ کا اقدام کیا۔ یہ فرقہ انگریزی سامراج کے قائم مقام ہندو سامراج سے اندرونی طور پر آنکھیں ملا چکا تھا اور اب مسلم لیگ نے اس فرقہ کو عملاً کانگریس اور ہندو کا ایجنٹ بنتے دیکھا۔ ١٩٣٦ء میں اس فرقہ کے لیڈروں نے قادیان میں کانگریس کے لیڈروں کو بلا کر تقاریر کروائیں اور ان جلسوں میں مسلم لیگ کی بڑی شد و مد سے مخالفت کی گئی۔ چنانچہ ان دنوں پنڈت جواہر لال نہرو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر تھے اور انہوں نے مسلم ماس کنٹکٹ تحریک چلائی تھی کہ مسلمانوں کو کانگریس میں پھنسایا جاوے۔ چنانچہ قادیان میں مسز لاڈو رانی زتشی مشہور کانگریسی لیڈر اور ان کے ہمراہ چند پنجاب کے کانگریسی لیڈروں کو بلایا اور شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ، امیر جماعت احمدیہ لاہور کو اس جلسہ کا صدر بنایا گیا۔ جو کہ مرزائیوں کا معتمد وکیل تھا اور خلیفہ قادیان میاں محمود احمد کا رشتہ دار بھی ہے۔ اس جلسہ میں فتح محمد سیال مرزائی ناظر اعلیٰ قادیان نے بھی تقریریں کیں۔ اس جلسہ میں جی بھر کے مسلمانوں اور مسلم لیگ کے خلاف گند اچھالا گیا۔
ادھر مسلمانوں نے مسلم ماس کنٹکٹ تحریک کی سخت مخالفت کی۔ پنڈت جواہر لال نہرو صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے پنجاب کا دورہ کیا تو مسلمانوں نے اس کے دورہ کا بائیکاٹ کیا۔ مگر قادیانی فرقہ نے اس کا پرجوش استقبال کر کے اپنے اخبار میں فخر کے ساتھ روئیداد شائع کی۔ ملاحظہ ہو:
صدر کانگریس کا شاندار استقبال
"علی الصباح چھ بجے تمام باوردی (قادیانی) والنٹیرز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ جاذب توجہ و روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام (قادیانی) کور کر رہی تھی اور کوئی (مسلم) آرگنائزیشن اس موقعہ پر نہ تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ درجن والنٹیروں کے اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظام کے لئے ہمارے والنٹیرز موجود تھے۔ پلیٹ فارم پر جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایم ۔ ایل ۔ سی کمانڈر آل انڈیا نیشنل لیگ کور موجود تھے...... (اب چوہدری صاحب اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ہائیکورٹ پنجاب ہیں اور چوہدری ظفر اللہ خاں کے بھائی ہیں ۔مصنف ) اور باہر جہاں پنڈت جی نے آ کر کھڑا ہونا تھا۔ جناب شیخ صاحب موجود تھے۔ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہو گیا تھا اور لوگوں نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی ۔ مگر ہمارے والنٹیروں نے قابل تعریف ضبط اور نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ شیخ بشیر احمد صاحب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ (قادیان)
٣٥
نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالے۔ کور کی طرف سے حسب ذیل موٹو جھنڈوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے۔
- 1- Beloved of the nation, Welcome you.
- 2- We join in civil liberties Union.
- 3- Long live Jawahir Lal.
کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا۔
کانگریس لیڈر کور کے ضبط اور ڈسپلن سے حد درجہ متاثر ہوئے اور بار بار اس کا اظہار کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔ تو یقیناً ہماری فتح ہوگی۔"
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٤ نمبر ٢٧٨ ص ٢، مورخہ ٣١ مئی ١٩٣٦ء)
عام مرزائیوں کے اعتراضات
خلیفہ قادیان میاں محمود احمد پسر مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نے کانگریس سے ساز باز حالات کے بدلتے ہوئے رخ کو دیکھ کر کی۔ کہ انگریز ہندو کے ہاتھ میں اقتدار دے کر جائے گا اور کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا۔ تو پھر منہ مانگا انعام ملے گا۔ مگر عام مرزائیوں کو اس ساز باز کا علم نہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے اعتراض کئے کہ کانگریس کی مخالفت احمدیت کا جزو تھا۔ جواہر لال یورپ سے یہ سبق حاصل کر کے آیا تھا کہ انگریزوں کو ہندوستان سے ختم کرنے کے لئے برطانیہ کی اس جاسوس جماعت کو ختم کرنا ضروری ہے اور یہ بات ڈاکٹر سید محمود سیکرٹری کانگریس نے خلیفہ کو قادیان میں ملاقات کے دوران میں جواہر لال نہرو کا خیال بتایا تھا۔ پھر اس کے باوجود اس کا شاہانہ استقبال کیوں کیا گیا ہے۔ یہ مسیح موعود کی توہین ہے اور ساری جماعت احمدیہ کی مٹی پلید ہوئی ہے اور ہم دنیا میں شرم کے مارے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اور یہ ابن الوقتی ہمیں ذلیل کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ تو حضرت خلیفہ المسیح نے جو جواب دیا۔ ملاحظہ ہو:
جواہر لال کا استقبال اچھی بات ہے
"اگر پنڈت جواہر لال نہرو یہ اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لئے وہ اپنی طاقت خرچ کریں گے۔ جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا۔ لیکن اگر اس کے خلاف قریب کے زمانہ میں پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبالؒ کے ان مضامین کا رد لکھا ہو جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیئے جانے کے لئے لکھے ہیں اور نہایت عمدگی
٣٦
سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو الگ کرنے کا سوال بالکل فضول ہے اور ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا استقبال جب کہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو تو ایک سیاسی انجمن (نیشنل لیگ کور قادیان) کی طرف سے بہت اچھی بات ہے۔"
(خطبہ جمعہ میاں محمود، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جون ١٩٣٦ء)
عیاں بات
اس امر پہ حیرانی کی کوئی وجہ نہیں کہ جواہر لال فرقہ احمدیہ کو برطانوی جاسوس سمجھتا ہو۔ ابھی کیوں اس فرقہ کی پشت پناہی پہ کھڑا ہوا۔ بات واضح ہے کہ ہندو امپریلزم برٹش امپریلزم کی جگہ لے رہا تھا اور ہندو، انگریز اور مسلمانوں کو دشمن سمجھتا تھا۔ لہٰذا اس پودے کی پرورش ”داشتہ بکار آید“ ضروری تھی۔
نہ جانے کیا کرے جو خدا اختیار دے
قادیانی کا تجارتی معاہدہ
قادیان میں جہاں فرقہ احمدیہ کی اکثریت تھی۔ اس کی مردم شماری ١٩٤١ء میں تقریباً حسب ذیل تھی:
مرزائی ................................ ٧٠٠٠ سات ہزار (اہل سنت) مسلمان ................... ٢٣٠٠ دو ہزار تین سو ہندو، سکھ ............................ ١٠٠٠ ایک ہزار دیگر چوہڑے عیسائی ................. ٨٠٠ آٹھ سو
قادیان میں فرقہ احمدیہ نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر مسلمانوں کا تجارتی و اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا تھا اور اپنی سیاسی چالاکی سے ایک معاہدہ شرائط لکھا کر سودا خریدتے تھے۔ یہ ایک قسم کا لائسنس ہر غیر مرزائی کو جو مرزائیوں کے پاس سودا فروخت کرنا چاہے۔ ان سے لینا پڑتا تھا۔ جو یہ تجارتی معاہدہ کا بورڈ نہ لے اس سے کوئی مرزائی سودا نہیں خریدتا تھا۔ اگر کوئی مرزائی بھولے سے غیر مرزائی سے سودا خریدے تو اس کو میاں محمود خلیفہ المسیح کی نظارت کی طرف سے جرمانہ کی سزا دی جاتی تھی۔ اس طرح مرزائی سی۔آئی۔ڈی عام بازاروں میں پھر کر نوٹ کرتی کہ کون سا مرزائی غیر مرزائیوں سے سودا خریدتا ہے۔ چنانچہ اس لائسنس یا بورڈ کی شرائط حسب ذیل تھیں:
٣٧
شرائط معاہدہ
"قادیان کی جماعت احمدیہ نے جو معاہدہ ترقی تجارت تجویز کیا ہے۔ مجھے منظور ہے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت احمدیہ کا خیال رکھوں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلا چوں و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو اور ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی۔ ان کی بھی پابندی کروں گا۔ اگر میں کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا وہ ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ میرا جو جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ (قادیان) کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خریدوں گا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ٢٠ روپیہ سے لے کر ٨٠ روپیہ تک جرمانہ ادا کروں گا اور میں روپیہ پیشگی جمع کرا دوں گا۔ اگر میرا جمع شدہ روپیہ ضبط ہو جاوے تو مجھے اس کی واپسی کا حق نہ ہوگا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالفت مجلس میں شریک نہ ہوں گا۔ شرائط معاہدہ تجارتی لائسنس جاری کردہ ناظر امور عامہ قادیان۔"
مسلم لیگ کا مطالبہ پاکستان
ملکی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ انگریز بین الاقوامی طور پر مجبور ہو رہا تھا کہ وہ دور دراز کے علاقوں سے جن پر اس کا جبری قبضہ تھا۔ اپنا تسلط اٹھا لے اور ان ملکوں کو آزاد کر دے۔ ہندوستان میں ١٩٤٢ء کی کانگریسی تحریک نے انگریز کو جان کنی کی حالت میں کر دیا تھا اور قریب تھا کہ انگریزی سامراج کی جگہ ہندو سامراج متحدہ ہندوستان پہ قبضہ جمالے۔ قائد اعظم کی دور رس نگاہوں نے کانگریس کی ہوشیاری کو بھانپ لیا تھا۔ چنانچہ مسلمانان ہند نے ان کی قیادت میں ١٩٤١ء میں پاکستان کی تحریک کو زور شور سے پیش کیا۔ انگریزی سامراج کی بجائے ہندو سامراج ترقی کر رہا تھا۔ میاں محمود کو اس کش مکش میں مسلمانوں کا ساتھ دینا منظور نہ تھا۔ کیونکہ انگریز خود پاکستان کو مسلمانوں کے مطالبہ کے مطابق مسلم سلطنت بنانے کے لئے تیار نہ تھا۔ کیونکہ انٹرنیشنل طور پر اسلامی بلاک بننے کے امکانات پیدا ہو رہے تھے۔ چنانچہ اس نے چپ سادھ لی اور اپنے خود کاشتہ پودے کے کان میں پھونک دیا کہ اب میری بجائے کانگریس کو آقائے ولی نعمت سمجھو اور اس کی پوجا کرو۔ فرقہ احمدیہ کا خلیفہ اس بات کو سمجھ گیا۔ اس کا تو شروع سے مسلمانوں کی ہر بات میں مخالفت شیوہ تھا۔ چنانچہ وہ سوچ رہا تھا کہ اس مطالبہ پاکستان کا جو ایک زبردست تحریک عملی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کس طرح مخالف ہو۔ کیونکہ اس طوفانی تحریک میں اس کا نقصان پہنچ جانے
٣٨
کا امکان بھی تھا۔ ادھر مسلم لیگ کے نعرے گلی گ کی تحریک تک پہنچ چکے تھے اور مسلمانوں نے ہر کمیٹی قائم کی۔ ملک میں پاکستان کے حق میں پ نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے فسادات ڈرا کر اس مطالبہ سے باز رہیں۔ چنانچہ کئی جگہ ب اس وقت اس دشمن پاکستان فرقہ کے خلیفہ میاں قادیان میں خطبہ دیا۔ ملاحظہ ہو:
مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیا جائے
"اس ایجی ٹیشن قانون شکنی اور
(خطبہ محمود،
چاہیے۔"
پاکستان کا مطالبہ غلط ہے
"ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار ک اصولاً غلط ہے۔"
گاندھی جی سے ہم بستری
"میں نے دیکھا کہ گاندھی جی ہم پر سو گئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستاں
(خواب میاں محمود، مندر
اکھنڈ ہندوستان رہے
"ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ رہیں۔ تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں شاندار ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری کرے۔ چنانچہ اس رؤیا (خدائی اشارہ افتراق ہو۔ (میاں محمود پاکستان بننے کا ج عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے ک حالت عارضی ہوگی۔ ہمیں کوشش کرنی چا
کا امکان بھی تھا۔ ادھر مسلم لیگ کے نعرے گلی، کوچوں، بازاروں، جلسے جلوسوں بلکہ سول نافرمانی کی تحریک تک پہنچ چکے تھے اور مسلمانوں نے ہر قسم کی جانی مالی قربانی کے پیش نظر ہر شہر میں ایکشن کمیٹی قائم کی۔ ملک میں پاکستان کے حق میں عام جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعض جگہ شرارتی ہندوؤں نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے فسادات شروع کر دیئے۔ تاکہ مسلمان اپنے نقصان سے ڈر کر اس مطالبہ سے باز رہیں۔ چنانچہ کئی جگہ بلوے ہوئے۔ امرتسر میں زبردست فساد ہوا۔ چنانچہ اس وقت اس دشمن پاکستان فرقہ کے خلیفہ میاں محمود نے محض ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے قادیان میں خطبہ دیا۔ ملاحظہ ہو:
مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیا جائے
”اس ایجی ٹیشن قانون شکنی اور سٹرائک میں احمدیوں کو مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینا چاہئے۔“
(خطبہ محمود، الفضل قادیان ج٣٥ نمبر ٢٧ ص٢، مورخہ یکم فروری ١٩٤٧ء)
پاکستان کا مطالبہ غلط ہے
”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ہر تقسیم اصولاً غلط ہے۔“
(بیان خلیفہ محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٣ اپریل ١٩٤٧ء)
گاندھی جی سے ہم بستری
”میں نے دیکھا کہ گاندھی جی مجھ سے ملنے آئے ہیں اور وہ میرے ساتھ ایک ہی بستر پر سو گئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں مل کر رہنے میں فائدہ ہے۔“
(خواب میاں محمود، مندرجہ الفضل قادیان ج٣٥ نمبر ٨٧ ص٢، مورخہ ١٢ اپریل ١٩٤٧ء)
اکھنڈ ہندوستان رہے
”ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں۔ تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ کام مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد رہیں۔ تاکہ احمدیت اس وسیع دیس میں ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا (خدائی اشارہ) میں اس طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو۔ (میاں محمود پاکستان بننے کا نام افتراق رکھتے ہیں۔ اس لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ
ہندوستان بنے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ٨١ ص ٣، مورخہ ٥ اپریل ١٩٤٧ء)
متحدہ ہندوستان
”اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ اگر عارضی علیحدگی ہو تو یہ اور بات ہے۔ ہندوستان کی تقسیم پر ہم رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائے۔“
(بیان خلیفہ محمود، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ١١٦، مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)
ہندو لیڈروں کے بیانات
مندرجہ جس قدر خلیفہ قادیان کے بیانات ہیں۔ یہی بات ہندو لیڈر اور ماسٹر تارا سنگھ کہتے ہیں کہ تقسیم ہندوستان غلط ہے۔ دوبارہ متحد ہونا چاہئے اور پاکستان پر حملہ کر دینا چاہئے۔ سوچنے والا آسانی سے اس بات کو پاسکتا ہے کہ خلیفہ صاحب کا منشاء کیا ہے۔
انہیں کی محفل سنوارتا ہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی
مگر انڈین یونین کے لیڈروں نے میاں محمود کے بیانات پہ دھوکہ نہ کھایا اور باوجود اس کے کہ مرزائیوں نے باؤنڈری کمیشن کے روبرو ایک میمورنڈم پیش کیا کہ قادیان کے مرزائی پاکستان و ہندوستان میں شامل ہونا نہیں چاہتے۔ مگر یہ میمورنڈم فیل کر دیا گیا اور مرزائیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
انگریزی حکومت کا مطالبہ پاکستان کو تسلیم کر لینے سے پیشتر فرقہ احمدیہ کے ہیڈ میاں محمود نے انگریزوں کی حکومت کو اپنی پرانی وفاداری کا واسطہ دے کر یہ مطالبہ کیا کہ جاتے جاتے ان کے حقوق بطور اقلیت کے محفوظ کئے جائیں۔ مگر مرزائیوں کو اس جگہ بھی بری طرح ناکامی ہوئی۔ ملاحظہ ہو:
احمدی اقلیت تسلیم کی جاوے
”میں نے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز آفیسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس آفیسر نے کہا کہ وہ
٤٠
تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس طرح آج ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں ۔ تم ایک پارسی پیش کرو۔ میں اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کر دوں گا ۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٣ نومبر ١٩٤٦ء)
مارچ ١٩٤٧ء میں متحدہ ہندوستان و پنجاب میں فسادات زور وشور سے شروع ہو گئے۔ مرزائیوں نے جواہر لال، چندولال ترویدی، گورنر مشرقی پنجاب اور گاندھی جی کے پاس پہنچ کر کہا کہ پاکستان کے مسلمان، جن کو ہم ساری عمر کافر کہتے رہے اور ان کی ہر بات میں مخالفت کرتے رہے۔ وہاں ہمیں جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ حکم جاری کرو کہ ہمیں قادیان سے نہ نکلنا پڑے۔ مگر ہندوسکھ لیڈروں سے بھی ندامت اٹھانی پڑی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور چاروناچار پاکستان میں پناہ لینی پڑی اور مسلمان قوم کے ہی قدموں میں گرنا پڑا۔ مسلمان نے لا تثریب علیکم الیوم آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا کہہ دیا اور مسلمان اس رعایت سے مرزائیوں نے بے شمار الاٹ منٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔
قادیان کے متعلق فرقہ احمدیہ نے اکثر ڈھینگ ماری ہے کہ ہمارے پاس ہوائی جہاز تھے۔ اسلحہ تھا۔ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہمارا کچھ نقصان نہیں ہوا۔ سو یہ مرزائیوں کا محض جھوٹ ہے۔ ملاحظہ ہو:
تشویش ناک حالات
” پہلے سکھوں نے ارد گرد کے دیہات پر حملہ کر کے مسلمانوں کو مار بھگایا ( اور قادیانی تماشہ دیکھتے رہے۔ مصنف ) اور ان کے مال ومتاع کولوٹ کر جلا دیا۔ پھر قادیان کا رخ کیا۔ حکومت کی مدد سے رسل ورسائل کے تمام اسباب منقطع کر دیئے ۔ یہاں تک کہ قادیان کے وہ ہوائی جہاز جو ارد گرد کی خبر لاتے تھے اور مصیبت زدہ مسلمانوں کی کچھ نہ کچھ مدد کرتے تھے۔ ( یہاں مسلمانوں سے مراد فرقہ احمدیہ لیا ہے ) ان کی پرواز بھی ممنوع قرار دے دی گئی۔
اسی اثناء میں سکھوں نے مختلف محلوں میں لوٹ مار شروع کر دی اور جن مقامات سے عورتوں اور بچوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا تھا۔ ان پر قبضہ کر لیا۔ خان بہادر نواب محمد الدین سابق ڈپٹی کمشنر ( جس نے میاں محمد ممتاز دولتانہ صدر مسلم لیگ موجودہ وزیر اعظم پنجاب کا ١٩٤٦ء کے الیکشن میں خضری ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا اور بری طرح شکست کھائی ۔ مصنف ) و سابق
٤١
وزیر جودھپور کا گھر لوٹ لیا گیا اور بھی کئی گھروں سے ہزاروں روپے کی مالیت کے زیورات نکال لئے گئے۔
ان حالات کے پیش نظر خلیفہ صاحب قادیان نے اپنا مرکز جودھامل بلڈنگ لاہور میں منتقل کر لیا ہے اور اس کا نام احمدیہ پاکستان مرکز رکھا گیا ہے۔ اس جگہ قادیان سے آئے ہوئے پناہ گزین فروکش ہیں اور اخبار الفضل یہیں سے شائع ہوتا ہے۔
جہاں تک احمدیہ مرکز پاکستان اور معاصر ”الفضل“ کی شائع کردہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے۔ حالات روبہ اصلاح ہونے کی بجائے دن بدن اور لحظہ بہ لحظہ خراب ہو رہے ہیں۔ جو بہت تشویش ناک امر ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے۔ ہمیں قادیان کے ساتھ بوجہ حضرت مسیح موعود کا مولد و مدفن ہونے اور بہت سے نیک لوگوں کی آرام گاہ ہونے اور اس نور کا سرچشمہ ہونے کے جو خدا کے مامور نے دنیا میں پھیلایا اور اسلام کو دنیا کا غالب مذہب ثابت کیا۔ دلی محبت ہے اور ہم خلیفہ صاحب قادیان سے جو حضرت مسیح موعود کے نام لیوا ہیں۔ دلی ہمدردیوں کا اظہار کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مقام کی حفاظت میں ان کی ہمتوں اور کوششوں میں برکت دے اور ان کو ظالموں اور درندوں کی دست برد سے بچائے۔“
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح مورخہ یکم؍ اکتوبر ١٩٤٧ء)
قادیان میں قتل و غارت
”افسوس ہے کہ قادیان کے حالات دن بدن زیادہ ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ تازہ اطلاعات سے یہ معلوم کرنا حد درجہ افسوس ناک ہے کہ جناب میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا مکان، بیت الحمد اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی لوٹ لی گئی۔ محلہ دار الرحمت اور دار الانوار میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ جس میں کہا جاتا ہے کہ ڈیڑھ دو صد آدمی شہید ہوئے۔ مسجد میں گردونواح کے ہندو مکانات سے بم پھینکے گئے۔ جس سے دو آدمی شہید ہوئے۔“
(لاہوری احمدیوں کا اخبار پیغام صلح مورخہ ١٨؍ اکتوبر ١٩٤٧ء)
قادیان چھوڑنے کے تاثرات
”ہم نے انڈین یونین کو اپنی پرانی روایات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ قادیان हमारा مذہبی مرکز ہے۔ ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے اور عہد کرتے ہیں کہ ہم حکومت کے پورے پورے وفادار رہیں گے۔....... ہمارا یقین دلانے اور عہد کرنے کے باوجود ملٹری اور پولیس نے قادیان کے نواحی محلوں پر حملے شروع کر دیئے
٤٢
حالات اس قدر نازک صو گیا...... اور اس قدر انہیں صدمہ ہوا کہ بعض صحابہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے اے کاش انڈین یونین میری بات کو سنے دنیا کو چھوڑا ہے۔ اب وہ ان کو چھوڑ کر یک آل محمد وعلیٰ عبدالمسیح الم
فرقہ احمدیہ کے ان پوشیدہ کوئی خفیہ سازش کر سکتے ہیں۔ ورنہ ال ہے۔ اسی آرزو کا وہ اظہار کر بھی چکے مستقبل کے لئے ربوہ، ضلع جھنگ میں نے بھی کھولی تھی۔ شاید ان کو یہ خیال غافل ہو اور سر فرانسس موڈی گورنر پنج بلجیم کا انٹورپ (ربوہ) بنایا گیا ہے۔
ربوہ
”احمدیوں کا نیا مرکز پاک دریائے چناب کے پاس ربوہ کے نام ہیں۔ یہ نام اس نیک فال کے طور پر کی بلندیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنے زمین قیمتاً خریدی گئی ہے۔ چنیوٹ سرگودھا کے عین وسط میں ہے۔ اس انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے دفا خانہ اور نور ہسپتال کی عارضی عمارتیں
غور کا مقام
پس اب مسلمانان پاک
حالات اس قدر نازک صورت اختیار کر گئے کہ عاشقان احمد کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ...... اور اس قدر انہیں صدمہ ہوا کہ ہجرت کے بعد سلسلہ کے بزرگ اور حضرت مسیح موعود کے بعض صحابہ اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے حقیقی مولا سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ....... اے کاش انڈین یونین میری بات کو سمجھے کہ احمدیوں نے قادیان اور قادیان والوں کی خاطر ساری دنیا کو چھوڑا ہے۔ اب وہ ان کو چھوڑ کر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ”اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد وعلی عبدالمسیح الموعود وبارک وسلم انک حمید مجید“
(الفضل قادیان ج ٢ نمبر ١١٨ ص ٢، مورخہ ٢٦ مئی ١٩٤٨ء)
فرقہ احمدیہ کے ان پوشیدہ عزائم کی تکمیل کے لئے خاص خطہ یا علاقہ ہو تو تبھی یہ لوگ کوئی خفیہ سازش کر سکتے ہیں۔ ورنہ ان کی ہر حرکت کا عوام الناس اور حکومت وقت کو پتہ چل سکتا ہے۔ اسی آرزو کا وہ اظہار کر بھی چکے ہیں کہ ان کے لئے علاقہ ہونا چاہئے۔ شاید انہیں امور کی تکمیل کے لئے ربوہ، ضلع جھنگ میں بنایا گیا۔ جس کی حقیقت زمیندار کے علاوہ اخبار نوائے وقت نے بھی کھولی تھی۔ شاید ان کو یہ خیال ہو کہ حکومت پاکستان ان کے ماضی کے مشکوک رویہ سے غافل ہو اور سر فرانس موڈی گورنر پنجاب جاتی دفعہ اپنے پودے کی پرورش کر کے پاکستان میں بیلجیم کا انٹورپ (ربوہ) بنا گیا ہے۔
ربوہ
”احمدیوں کا نیا مرکز پاکستان کے ضلع جھنگ میں چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلہ پر دریائے چناب کے پاس ربوہ کے نام سے آباد کیا ہے۔ ربوہ کے معنی بلند مقام یا پہاڑی مقام کے ہیں۔ یہ نام اس نیک فال کے طور پر رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مقام کو حق وصداقت اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بناوے۔ آبادی کے لئے سردست دس سو چونتیس (١٠٣٤) ایکڑ زمین قیمتاً خریدی گئی ہے۔ چنیوٹ سے جانے والی لائن اس زمین سے گزرتی ہے۔ یہ جگہ لائل پور سرگودھا کے عین وسط میں ہے۔ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس تک پہنچ چکی ہے۔ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے علاوہ حضرت امیر المومنین کی رہائش گاہ ، لنگر خانہ، مہمان خانہ اور نور ہسپتال کی عارضی عمارتیں تیار ہو چکی ہیں۔“
(اخبار الرحمت مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٩ء)
غور کا مقام
پس اب مسلمانان پاکستان کے لئے غور کا مقام ہے کہ جس فرقہ کو عرب، حجاز، مصر،
٤٣
عراق، ترکی وغیرہ ممالک اسلامیہ سے انس نہ ہو۔ بلکہ ان کی بربادی و تباہی پر چراغاں کیا اور اپنے مسیح موعود کی پیش گوئی ظاہر کر کے خوش ہوں اور باطن میں خوشیاں منائیں اور پاکستان کے وجود کو عارضی سمجھیں۔ پھر وہ پاکستان کے اندر ایک مرکز بنالیں۔ جس میں سوائے قادیانی فرقہ کے کوئی دوسرا فرقہ نہ ہو اور پھر وہ کوئٹہ اور بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کی خطرناک تیاریاں کریں اور پھر وہ انڈین یونین کو سمجھائیں کہ کاش انڈین یونین سمجھے کہ قادیان سے بچھڑ کر ہم تڑپ رہے ہیں اور پھر مزید براں پاکستان کے اندر جم کر حلف نامہ تیار کریں۔ جس کے پیش نظر صرف اور صرف قادیان حاصل کرنا ہو اور پھر وہ حصول کی مختلف سکیمیں تیار کریں۔ وہ مسلمانوں اور پاکستان کے کب خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
حلف نامہ یعنی ہمارا عہد
”میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو احمدیہ جماعت کا مرکز بنایا ہے۔ میں اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہوں گا اور اس مقصد کو کبھی بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا‘ نیز میں اپنے نفس کو اور اپنے بیوی بچوں کو اور اگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی ہو تو اولاد کو ہمیشہ اس بات کے لئے تیار کرتا رہوں گا کہ وہ قادیان کے حصول کے لئے ہر چھوٹی اور بڑی قربانی کے لئے تیار رہیں۔ اے خدا مجھے اس عہد پر قائم رہنے اور اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“
(بحوالہ پاکستان میں مرزائیت ، مصنفہ مولانا مرتضیٰ احمد خاں ایڈیٹر روز نامہ مغربی پاکستان لاہور)
دوبارہ غور کا مقام
فرقہ احمدیہ کی جان ہندو سکھ قوم کی مٹھی میں ہے۔ جہاں ان کے ٣١٣ درویش رہتے ہیں۔ ان کی وقتاً فوقتاً آمد و رفت پاکستان میں رہتی ہے۔ ربوہ نہایت اہم مقام پر واقع ہے۔ اکھنڈ بھارت بنانے کا خیال دل میں ہے۔ اپنے خلیفہ کی بات کو سچی کرنا بھی احمدیوں کے فرائض میں شامل ہے۔ پھر اس حلف نامہ میں ہر قسم کی کوشش کا جامع لفظ موجود ہے۔ سیاسی مقام میں فرقہ احمدیہ ابن الوقت ہے۔ اس کو صرف قادیان سے محبت ہے۔ اس کی ماضی مشکوک ہے۔ مستقبل میں کیا ضمانت ہے کہ وہ کسی وقت بھی قادیان کے حصول کی خواہش میں بھارت کے کہنے پر کیا کچھ نہ کر گزرے۔ دانشمندوں کے لئے ہر قسم کی کوشش کا لفظ قابل غور ہے اور اسے سرسری طور پر خیال کرنا یا نظر انداز کرنا، قوم کے لئے کسی وقت بھی خطرہ کا باعث ہو سکتا ہے۔ خیر خواہاں پاکستان ابھی سے محتاط نہ ہوں گے تو آئندہ قومیں ہمیں مطعون کریں گی۔
٤٤
ربوہ کے مختصر حالات
”ربوہ کے مرکزی احمدی ملازمین و آفیسران سلسلہ کے اخلاقی اور عملی نمونہ کو اگر نزدیک سے دیکھا جائے ...... وہاں پر اکثریت ایسے احمدیوں کی ہے جو وہاں پر منافقانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے دل احمدیت سے بیزار ہیں ...... ان کے دلوں میں ناجائز حکومت کرنے کا خبط سوار ہے۔ کوئی کسی کے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا۔
وہاں پر جھوٹ، فریب، دھوکہ، بے انصافی اور ظلم کا ایک منظم جال بنا ہوا ہے۔ قادیان میں جو تھوڑا بہت تقدس باقی رہ گیا تھا۔ افسوس کہ یہاں پر سب کچھ مفقود ہے اور خدا کے بندوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ حضور کو سب کچھ علم ہے۔ حضور سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔
ربوہ کے آفیسران نے اپنی ناجائز آمدن کے معقول ذرائع بنا رکھے ہیں ...... جماعت ربوہ میں سرمایہ دارانہ ذہنیت اور محض دنیا داری پیدا ہوچکی ہے ...... اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے کر گمراہی سے بچائے اور ہر مشکل کو آسان کردے اور آخرت نیک کرے۔ آمین ثم آمین !“ (بیان عزیز احمد احمدی ٹھیکیدار ربوہ ساکن منڈی چک جھمرہ مورخہ ٢١ اپریل ١٩٥١ء، ربوہ کی کہانی، ربوہ والوں کی زبانی ص ١١، ١٦، شائع کردہ عزیز احمد ٹھیکیدار )
فرقہ احمدیہ اور نقاش پاکستان علامہ اقبالؒ
حکیم الامت، مفکر ملت، نقاش پاکستان علامہ اقبالؒ نے جب فرقہ احمدیہ کے لٹریچر کو پڑھا اور ان کو اس فرقہ کے خطرناک عزائم کو معلوم کرنے کا موقعہ ملا تو انہوں نے فوراً انگریزی حکومت کو ڈانٹ پلا کر حضور نبی اکرمﷺ کے فرمان کو پورا کیا کہ افضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر یعنی حق بات ظالم بادشاہ کے منہ پہ کہنا افضل جہاد ہے اور مسلمانان عالم اور ہندوستان کو بھی اس فتنہ عظیمہ سے آگاہ فرمایا۔ اس مرد مومن اور دانائے راز نے اس فرقہ کو یہودی فرقہ کی طرح خطرناک سمجھ کر جو خیالات ظاہر فرمائے ہیں۔ جن کو اخبار تنظیم اہل سنت لاہور نے مرزا غلام احمد نمبر میں شائع کیا ہے۔ وہ مسلمانان پاکستان کے لئے آگاہی کا الارم ہے۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں: ”لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کا ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح و مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا فاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روحِ مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام
٤٥
چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٣، طبع دوم)
فرقہ احمدیہ الگ اقلیت قرار دیا جاوے
”میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہی ہوگا کہ وہ قادیانیوں (مرزائیوں) کو الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا۔ مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٨، ١٢٩)
گستاخ جماعت
”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک (احمدیہ) کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٢، طبع دوم)
حکومت قادیانیوں کو الگ فرقہ قرار دے
”ملت اسلامیہ کو اس بات کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں (مرزائیوں) کو علیحدہ کردے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ پورا نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کو برائے نام کی اکثریت سے ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٤٨)
قادیانیوں کے لئے دو راستے
”ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ایک الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول اکرم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے دو راہیں
٤٦
ہیں ۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“
قادیانیوں کو سیاسی طور پر مسلمانوں
”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک احمدیہ سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ علاوہ بریں الـ مسلمانوں کی تمام کار سے قطع تعلق، نکاح و سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں۔ علاوہ سرکاری ہزار (٥٦٠٠٠) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر
جاذب توجہ خیالات
”مرزائیت کے بارے میں کے ساتھ جاذب توجہ ہے۔ ان خیالات جذبہ کے ماتحت ان کا اظہار فرمایا۔ حقیقت نچوڑ ہے۔“
(شیخ فیض محمد ایڈووکیٹ سابق سپیکر پنجاب
فتنہ کی بنیاد
”مرزا قادیانی نے یہ بیان کر فتنہ کی بنیاد ڈالی ہے اور ناممکن ہے کہ اس کو بھی ملیامیٹ کر دے۔ اس طرح مذہر
ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو، تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔"
(حرف اقبال ص ١٣٦، ١٣٧)
قادیانیوں کو سیاسی طور پر مسلمانوں سے الگ کیا جائے
"ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام کے متعلق ان کے رویہ (گذشتہ) کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک احمدیہ نے اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار اپنی جماعت کا نیا نام مسلمانوں کی تمام روایات سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں....... اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت، غور وفکر کی ضرورت نہیں۔ جب قادیانی مذہبی و معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں۔ علاوہ سرکاری ملازمتوں کے فوائد کے ان کی موجودہ آبادی جو پچپن ہزار (٥٦٠٠٠) ہے۔ انہیں کسی اسمبلی میں ایک نشست بھی نہیں دلا سکتی...... ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔"
(حرف اقبال ص ١٣٧، ١٣٨)
جاذب توجہ خیالات
"مرزائیت کے بارے میں حضرت علامہ اقبالؒ کے خیالات کی اشاعت خصوصیت کے ساتھ جاذب توجہ ہے۔ ان خیالات کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ علامہ موصوف نے کسی ہنگامی جذبہ کے ماتحت ان کا اظہار فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی رائے گرامی برسوں کے عمیق مطالعہ کا نچوڑ ہے۔"
(شیخ فیض محمد ایڈووکیٹ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی لاہور، مندرجہ اخبار تنظیم اہل سنت لاہور مرزا غلام احمد نمبر)
فتنہ کی بنیاد
"مرزا قادیانی نے یہ بیان کر کے کہ نبوت قیامت تک جاری ہے۔ اسلام میں ایک فتنہ کی بنیاد ڈالی ہے اور ناممکن ہے کہ اس کے بعد کوئی شخص دعوتِ نبوت کرے اور ان کی کارگزاری کو بھی ملیا میٹ کر دے۔ اس طرح مذہب (اسلام) سے امان اٹھ جائے گی اور اس کے کہ وہ
٤٧
(اسلام) ایک کھیل اور تمسخر بن جائے۔ اس کی کوئی حقیقت باقی نہ رہے گی۔“
(فیصلہ عالی جناب میاں محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولپور )
پاکستان کی مشکلات اور قادیانی
”ہمارا خیال تھا کہ قیام پاکستان کے بعد وحدت اور اتحاد کے بدترین دشمن اور برساتی فتنے خود بخود ختم ہو جائیں گے یا کم ازم نزاکت وقت کے ماتحت خاموش ہو جائیں گے۔ مگر یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آج جب کہ پاکستانی مسلمان ملکی مصائب ومشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ قادیانی فرقہ اپنی ”مخصوص“ سرگرمیوں میں مصروف ہے اور امت محمدیہ کو اسلام کی مقدس تعلیم اور عقائد حقہ سے ہٹا کر نبوت جدیدہ کی دعوت دینے میں مبتلا ہے۔ دراصل قادیانی فرقہ کو بعض عارضی وجوہات کی بناء پر سخت غلط فہمی ہو گئی ہے کہ اب مذہبی ڈاکہ زنی کے لئے ہمارے لئے میدان کھلا ہے۔ لہٰذا خانہ ساز نبوت کی نشر واشاعت خوب دل کھول کر کریں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری چشم پوشی یا خاموشی محض نو پیدا شدہ حالات کے ماتحت تھی۔ ورنہ ہم اس مفسد فرقہ کی ان صداقت سوز حرکات سے غافل نہیں ہیں۔“
(مولانا عتیق الرحمٰن فاروقی سابق مبلغ جماعت احمدیہ قادیان حال نو مسلم مبلغ اسلام مصنف قادیانی نبوت)
مرزائیت مذہب نہیں ہے
”مرزائیت کوئی مذہب نہیں ہے۔ مذہب کی توہین ہے۔ یہ اسلام کا کوئی فرقہ نہیں، مضحکہ ہے۔“
(سید نورالحسن بخاری ایڈیٹر اخبار دعوت لاہور)
خطرہ سے آگاہی
”پاکستان کے لوگوں کو جن میں ارباب حکومت بھی شامل ہیں۔ ان خطرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے جو ان کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ لیکن ہمیں مرزائی جماعت کے رجحانات وعزائم اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد صاف نظر آ رہے ہیں۔“
(مولانا مرتضیٰ احمد خان ایڈیٹر روزنامہ مغربی پاکستان لاہور)
شکریہ معاونین
میں اپنے مکرم دوست جناب سید اقبال احمد شاہ صاحب وعاصی کرنالی و جناب مخدوم سید علمدار حسین شاہ صاحب گیلانی ایم۔ ایل۔ اے ملتان کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھے ان کتب کی تلاش میں امداد دی۔ جن میں یہ حوالہ جات درج ہیں۔ ان کا قومی اور مذہبی
٤٨
٨٣
احساس بھی قابل تقلید ہے جو اس وقت انگریزی مرچنٹ کوئٹہ اور شیخ محمد شریف مہاجر ڈلہوزی تاجر اس کار خیر کے انجام دینے کی طرف توجہ دلائی۔ مشوروں سے نوازتے رہیں گے۔ خواجہ عبدالحمید بٹ ،لودھران
میرا مشاہدہ
فرقہ احمدیہ یعنی مرزائی فرقہ کو مجھے ب کیونکہ میرا آبائی وطن خاص قادیان ہے۔ میر والجماعت فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ میر مرحوم کے زیر اثر ہوئی۔ میں نے ابتدائی تعلیم الاسلامیہ ) ہائی سکول قادیان میں ہوئی۔ جہاں ح میں اس قسم کے سوالات آتے تھے۔ مسیح موعود کی قرآنی سے اجرائے نبوت ثابت کرو۔ (٣) وفات کامیابی کے راز بیان کرو۔ بھلا ایک مسلمان طال بچا سکتا تھا۔ جب کہ اس کو پاس ہونے کے لیے لاکھ شکر ہے کہ اس کا فضل اور احسان ہر لحظہ میر ایمان کو محفوظ رکھا۔ جس طرح اس نے حضرت ع بعینہ مرزائی سکول میں ان کے سنہرے گمراہ کن سے میرے ایمان کو محفوظ رکھا۔ ١٩٣١ء میں میں میں نے مرزائی لٹریچر کو بغور پڑھا اور مرزائی د سرکردہ لوگوں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان امیر ج احمد ناظر کارخاص (یعنی انچارج محکمہ جاسوسی ولی اللہ شاہ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ یعنی ہ وزیر خزانہ ) مفتی محمد صادق ناظر امور خارجہ، سی سکول قادیان، مولوی اللہ دتہ انصاری مبلغ سلس
حقیقت دین کے نہ رہے گی۔“
(جناب میاں محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولپور)
وحدت اور اتحاد کے بدترین دشمن اور برساتی کے ماتحت خاموش ہو جائیں گے۔ مگر یہ کس کی ہلکی مصائب و مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ہے اور امت محمدیہ کو اسلام کی مقدس سی تعلیم میں مبتلا ہے۔ دراصل قادیانی فرقہ کو بعض ذہنی ڈاکہ زنی کے لئے ہمارے لئے میدان کھول کر کریں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ماتحت تھی۔ ورنہ ہم اس مقدس فرقہ کی ان
(ایمان حال نو مسلم مبلغ اسلام مصنف قادیانی نبوت)
توہین ہے۔ یہ اسلام کا کوئی فرقہ نہیں،
(سید نور الحسن بخاری ایڈیٹر اخبار دعوت لاہور)
بھی شامل ہیں۔ ان خطرات سے آگاہ میں مرزائی جماعت کے رجحانات رہے ہیں۔“
(م۔ خاں ایڈیٹر روزنامہ مغربی پاکستان لاہور)
صاحب و عاصی کرنالی و جناب ان کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مطبوع ہیں۔ ان کا قومی اور مذہبی
احساس بھی قابل تقلید ہے جو اس وقت انگریزی طبقہ میں ناپید ہے۔ نیز میں مسٹر محمد طفیل جنرل مرچنٹ کوئٹہ اور شیخ محمد شریف مہاجر ڈلہوزی تاجر لاہور کا ممنون احسان ہوں۔ جنہوں نے مجھے اس کارخیر کے انجام دینے کی طرف توجہ دلائی۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہیں گے۔ خواجہ عبدالحمید بٹ، لودھراں ضلع ملتان، پاکستان، مورخہ یکم جنوری ١٩٥٢ء
میرا مشاہدہ
فرقہ احمدیہ یعنی مرزائی فرقہ کو مجھے بہت قریب ہو کر مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ کیونکہ میرا آبائی وطن خاص قادیان ہے۔ میرے باپ دادا کشمیری خاندان اور اہل سنت والجماعت فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ میری تعلیم و تربیت میرے والد مولوی امام الدین مرحوم کے زیر اثر ہوئی۔ میں نے ابتدائی تعلیم مرزائیوں کے سکول موسومہ ٹی آئی (تعلیم الاسلامیہ) ہائی سکول قادیان میں ہوئی۔ جہاں مرزائی لٹریچر جبراً پڑھایا جاتا تھا اور مرزائی دینیات میں اس قسم کے سوالات آتے تھے۔ مسیح موعود کی صداقت میں پانچ دلیلیں لکھو۔ (٢) دس آیات قرآنی سے اجرائے نبوت ثابت کرو۔ (٣) وفات مسیح پر بیس آیات لکھو۔ (٤) جماعت احمدیہ کی کامیابی کے راز بیان کرو۔ بھلا ایک مسلمان طالب علم ایسے ماحول میں تعلیم پا کر اپنے ایمان کو کیسے بچا سکتا تھا۔ جب کہ اس کو پاس ہونے کے لئے نیم مرزائی نہ بننا پڑتا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کا فضل اور احسان ہر لحظہ میرے شامل حال رہا اور اپنے فضل کے ساتھ میرے ایمان کو محفوظ رکھا۔ جس طرح اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے گھر میں پرورش کیا۔ بعینہ مرزائی سکول میں ان کے سنہرے گمراہ کن فریب و لالچ اور جبری تعلیم مرزائیت کے جراثیم سے میرے ایمان کو محفوظ رکھا۔ ١٩٣١ء میں میں نے پنجاب یونیورسٹی کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں میں نے مرزائی لٹریچر کو بغور پڑھا اور مرزائی جماعت کی اخلاقی حالت کو بھی دیکھا اور ان کے سرکردہ لوگوں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان امیر جماعت احمدیہ، میاں بشیر احمد ایم اے، میاں شریف احمد ناظر کار خاص (یعنی انچارج محکمہ جاسوسی قادیان) مفتی سرور شاہ، فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ، سید ولی اللہ شاہ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ یعنی ہوم منسٹر) فرزند علی انصاری ناظر بیت المال (یعنی وزیر خزانہ) مفتی محمد صادق ناظر امور خارجہ، شیخ عبدالرحمن مصری ناظر تعلیم و تربیت و ہیڈ ماسٹر احمدیہ سکول قادیان، مولوی اللہ دتہ انصاری مبلغ سلسلہ احمدیہ، مرزا ناصر احمد پرنسپل جامعہ احمدیہ، مولوی
٤٩
ظفر اللہ، مولوی جلال الدین شمس وغیرہ وغیرہ۔ مقدسین قادیان کی گفتار کردار و معاشرت کو بخوبی وبغور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچا کہ یہ گروہ اسلام سے کوسوں دور ہے اور یہ فرقہ مذہبی فرقہ نہیں بلکہ مذہب کی آڑ میں سیاسی اور اقتصادی تاجروں کی ایک کمپنی ہے۔ جو بہشت قادیان کی تجارت کرتی ہے اور یہ لوگ اس کے ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر ہیں۔ جن کو اسلام سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ ان لوگوں کا اخلاقی اور معاشرتی سلوک قادیان کے قریباً اڑھائی ہزار اہل سنت والجماعت مسلمان باشندوں سے نہایت مجرمانہ تھا۔ یہ لوگ مقدمہ باز تھے اور دنیا جانتی ہے کہ کچہریوں میں آئے دن مقدمہ بازی کرنے والوں کی اخلاقی حالت کیسی ہوتی ہے۔ باوجود ان کی ناقابل برداشت تکلیفیں سہنے کے جب ١٩٤٧ء میں ہندوؤں، سکھوں نے قادیان کو گھیر رکھا تھا تو بھی قادیان کے اہل سنت والجماعت فرقہ نے اسلامی نمونہ کے مطابق فراخدلی سے ان کی حفاظت کی۔ مگر اس نازک وقت پر آشوب زمانہ میں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان سب سے پہلے موٹر کار کے پردوں میں بیٹھ کر لوگوں کو دھوکہ اور فریب دے کر نکل آئے اور مرزائی حضرات سرکاری ٹرکوں پر سوار ہو کر پاکستان پہنچ گئے اور غریب قادیان اور اردگرد کے مسلمانوں کو پیدل چل کر قافلہ بنا کر پاکستان آنا پڑا اور اس طرح فرقہ احمدیہ کی روحانیت کا بھانڈا جو دھامل بلڈنگ میکلوڈ روڈ لاہور کے عین چوراہے میں پھوٹ گیا۔ اب یہ گروہ الاٹمنٹوں پر چھاپہ مار کر ربوہ کو مرکز بنا کر اپنے مخصوص پروگرام کی تکمیل کے لئے مختلف تدابیر تبلیغ کی آڑ میں سوچ رہا ہے اور اپنے رہن شدہ متروکہ قادیان کے حصول کی خاطر اپنی من گھڑت پیش گوئیاں کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان قوم اور سلطنت پاکستان کو ان کے منصوبوں سے اپنے خاص فضل و کرم سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
خواجہ عبدالحمید بٹ لودھراں ملتان یکم جنوری ١٩٥٢ء
غور طلب بات
روس میں نقلی سٹالن، جرمنی میں مصنوعی ہٹلر، برطانیہ میں ظلی چرچل، اٹلی میں غیر تشریعی موسولینی، ترکی میں فرضی و قیاسی اتاترک، امریکہ میں جعلی ٹرومین کے فرامین کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ تو ایک اسلامی ملک یعنی پاکستان میں فرضی اور مصنوعی پیغمبر و مسیح موعود کی متوازی نبوت کے پروپیگنڈہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
٥٠
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
سیدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
قادیانیت
ایک دہشت گرد تنظیم
جناب خواجہ عبدالحمید بٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ قادیانی جماعت کا خان لیاقت علی خاں مرحوم کے قتل میں خفیہ ہاتھ کام کرتا رہا۔ کیونکہ قادیانی جماعت کی کوشش تھی کہ سر ظفر اللہ خاں، آنجہانی وزیر خارجہ پاکستان کو وزیراعظم بنایا جائے۔ قادیانی جماعت نے اندرونی سازش اور نمائش کے لئے مذہبی لباس کا بہروپ دھار رکھا ہے اور یہ جماعت انگریزی حکومت کا ”خودکاشتہ“ پودا تھی اور انگریزی حکومت کی پوری طرح ایجنٹ تھی اور انگریزی حکومت کے اشارے پر مسلم حکومت کی جاسوسی کرتی تھی۔ صرف مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور انگریزی حکومت سے ہر ناجائز مفاد حاصل کرتی رہی ہے۔ مختلف محکموں میں ٹھیکے داریاں وغیرہ حاصل کر کے اقتصادی مفاد اٹھا رہی ہے اور علمائے کرام اور مسلم رہنماؤں کی کردار کشی کرتی رہتی ہے۔ پاکستان بننے سے پیشتر اپنی ریاست قادیان بنوانے کے لئے ہر ناجائز حربے استعمال کئے۔ حتیٰ کہ قیام پاکستان کے وقت بھی قادیانی اسٹیٹ کی سکیم باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کی۔ قادیان کو مرکز بنا کر پریس لگائے۔ مختلف فرضی انجمنوں کے نام رکھ کر اپنے مخالفوں کو بدنام کرنا اور مفاد اسلام کے خلاف صف آرا رہی۔ قادیانی جماعت کی فسطائی طرز و سامراج کے مطابق تنظیم کی، ملاحظہ ہو۔ مرزا محمود خلیفہ قادیان کی سکیم۔
انجمن اطفال احمدیہ
١٨ سال سے کم عمر کے بچوں کی تنظیم بنائی، خدام الاحمدیہ۔ ١٨ سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کی تنظیم جس کا صدر مرزا ناصر احمد آنجہانی بی اے مرزا محمود کا بیٹا تھا۔ قادیانی جماعت کا بعد میں خلیفہ ثالث بنا۔
الانصار الاحمدیہ
٥٠ سال سے زائد عمر کے افراد کی انجمن بنائی۔ آل انڈیا مرکزی نیشنل لیگ۔ جس کے صدر آنجہانی مسٹر اسد اللہ خاں، آنجہانی سر ظفر اللہ کے چھوٹے بھائی۔ یہ جماعت کانگریس سے ساز باز کرتی اور مختلف پوسٹر و ٹریکٹ اپنے مخالفوں کے خلاف شائع کرتی۔ پریس ان کے گھر کے تھے۔ ضیاء الاسلام پریس، اللہ بخش سٹیم پریس، الحکم پریس قادیان، مسٹر شیخ بشیر احمد
٢
ایڈووکیٹ لاہور آنجہانی سیکرٹری تھا۔ جنہوں نے لاہور میں پنڈت جواہر لال نہرو صدر کانگریس کا مسلم لیگ کی مخالفت میں جلوس نکالا اور مسز لاڈو رانی زتشی صدر پنجاب کانگریس کو قادیان بلا کر فتح محمد عرف فتو سیال ناظر اعلیٰ سلسلہ احمدیہ قادیان کی صدارت میں مسلم لیگ کے خلاف اور قائد اعظم کے خلاف، مسلم ماس کنٹیکٹ کے موضوع پر تقریر کروائی اور مسلم لیگ اور قائد اعظم پر الزامات اور بہتان تراشی کروائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دریدہ دہنی کی اور ہرزہ سرائی کی۔
قادیانی عورتوں کی تنظیم (لجنہ اماء اللہ)
مرزا محمود خلیفہ قادیان نے عورتوں کی تنظیم کی انجمن موسومہ لجنہ اماء اللہ قائم کی۔ جس کی صدر مرزا محمود قادیانی کی بیوی تھی۔ جس کا اپنا اخبار ہفت روزہ ”مصباح“ تھا۔
احمدیہ کور
یہ انجمن لٹھ بند اور تلوار بند دہشت گرد تنظیم تھی۔ جو ہر روز صبح پریڈ کرتی۔ اس کا سالار محمد حیات سرمہ فروش تھا۔ اس کور کے خاص الفاظ کوڈ ورڈ میں تھے۔ جو عام لوگ یا مخالف لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اس میں جو نوجوان شامل نہ ہوتا۔ اس کو جرمانہ کیا جاتا۔ ان کو لاٹھی، فائرنگ، غلیل، نشانہ بازی سکھائی جاتی اور ان کو تشدد کے گر سکھائے جاتے۔
احمدیہ سٹوڈنٹ فیڈریشن، یہ کالج اور ہائی سکولوں کے طلباء کی انجمن تھی ۔ جو مخالفوں کے خلاف فرضی انجمن بنا کر اشتہار شائع کرتی اور مخالفوں پر گندے الزامات عائد کر کے کردار کشی کرتی۔
اخبارات
قادیان کی معمولی آبادی تھی۔ جو ١٩٣١ء میں تقریباً ٧٠٠٠ ہزار تھی اور منشی غلام قادیانی کے زمانہ اور خلیفہ محمود کے زمانے تو صرف ٢٥٠٠/٣٠٠٠ آبادی تھی۔ مگر قادیانیوں کے مکروہ عزائم کا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے انگریزی حکومت نے ان کو توہین انگیز، دل آزار اور مسلمانوں کی دل شکنی کے لئے ان کو اخبارات کے بے شمار ڈیکلریشن دے رکھے تھے۔ مثلاً اخبار البدر، اخبار الحکم، اخبار فاروق، عورتوں کا اخبار مصباح، ریویو آف ریلیجنز انگریزی اور اردو ایڈیشن۔ بعد میں فرقان
٣
البشیر، تحریک جدید، الفضل ہفت روزہ لاہور وغیرہ وغیرہ اور ان کو انگریزی حمایت اور مسلمانوں میں سر پھٹول کروانے کی کھلی آزادی تھی۔ مسلمانوں کو قادیان میں اخبار نکالنے کی اجازت تھی۔ نہ اپنے اسلامی عقائد کی تبلیغ کے لئے جلسہ کرنے کی اجازت تھی۔
پہلا اسلامی جلسہ
١٩٢٦ء میں قادیان کے مسلمانوں کی انجمن اسلامیہ نے جلسہ کرنا چاہا۔ پہلے تو انگریز ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے بہت جدوجہد سے مسلمانوں کو جلسہ کرنے کی اجازت دے دی۔ مگر بعد میں قادیانیوں کے دباؤ کے تحت حکم جاری کر دیا۔ آئندہ مسلمانوں کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر علاقہ قادیان میں مسلمانوں نے جلسہ کیا تو قادیان سے خلیفہ محمود نے اپنی لٹھ بند کور اور خدام الاحمدیہ کے والنٹیرز بھیج دیئے کہ جلسہ میں شور و شر کریں اور جلسہ نہ ہونے دیں کہ فساد کا خطرہ پیدا کریں اور دہشت گردی پیدا کریں۔ لیکن سکھ تھانے دار، ہندو مجسٹریٹ گورداسپور لالہ خوشی رام نے جلسہ کے پنڈال کو حراست میں لے لیا اور مرزائیوں کی سازش ناکام رہی۔
دوسرا اسلامی جلسہ ١٩٢٩ء اور مرزائیوں کا حملہ
انجمن اسلامیہ قادیان نے دوسرا اسلامی جلسہ ١٩٢٩ء میں کیا۔ جس میں مولانا ثناء اللہ امرتسری و دیگر علمائے کرام امرتسر، بٹالہ اور لاہور نے متفقہ طور پر اسلام کی تبلیغ کی۔ علاقہ میں مرزائیوں کی تبلیغ کا اثر خاک میں مل گیا۔ مولانا ثناء اللہ نے دوپہر کو مرزا غلام احمد قادیانی کی دعوت مباہلہ کے واقعات سنائے اور وہ عصر کے وقت واپس چلے گئے۔ رات کو قادیانی کور اور خدام الاحمدیہ نے مرزا ناصر (جو اب واصل جہنم ہو چکے ہیں) نے جلسہ کے سائبانوں کی قناتیں کاٹ دیں اور گیس توڑ ڈالے۔ (اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی) اور جلسہ کے مہمانوں، میر ابراہیم سیالکوٹی اور دیگر علماء پر حملہ کر دیا۔ علماء کرام اور عوام زخمی ہوئے۔ پولیس نے قادیانی غیر مشہور والنٹیر کا چالان کیا اور موٹے موٹے حملہ آوروں کو چھوڑ دیا۔ چند ایک مرزائیوں کو بلوہ کرنے پر معمولی سزائیں ہوئیں۔
قادیانی تنظیم
مسلمانوں کے جلسہ کو روکنے اور درہم برہم کرنے کے لئے مقامی جنرل پریذیڈنٹ ٤
احمدیہ قادیان کی کور الگ تھی۔ جس کا انچارج نام پر سرمہ فروخت کرتا تھا۔ جس کی دکان قا کباڑی گارڈ دستہ الگ تھا۔ جس کا نام محکمہ کار جو مرزا محمود خلیفہ قادیان کا برادر خورد تھا اور سالہ ولی اللہ شاہ تھا۔ جس کو سالار جنگ کہتے
ناظر ضیافت
میر محمد اسحاق جو خلیفہ قادیان کا اعلیٰ لنگر خانہ عام، اعلیٰ لنگر خانہ، بڑے ہا دن کی دعوتیں ان سے میل ملاقات رکھنا ان مہمان خانہ، عام مرزائیوں کے گھر بلوا کر اعلیٰ مہمان خانہ میں مرغ پلا ہوتے تھے اور عام لنگر خانہ میں بھینس، رات کو چنے اور ماش کی دال یا سبزی، تکلف
جمعہ کا آنا
قادیانی بہشتی مقبرہ کے قری بوڑھے ضعیف لوگ بسائے جاتے تھے جمعرات کے روز بھیجا جاتا۔ وہ لنگر خانہ جمعہ کا آنا اور علاقہ کے مرزائیوں، یا مر یتیم لڑکے اپنا پیٹ پالتے۔
تارکین کا حشر
(بائیکاٹ اٹھا کر اخراج مرزائی جماعت سے الگ ہو ہی نہیں سک شدید خطرہ ہوتا۔ یہ سزائیں خلیفہ قادیان
احمدیہ قادیان کی کور الگ تھی۔ جس کا انچارج مرزا ناصر اور محمد حیات سرمہ فروش جو موتی سرمہ کے نام پر سرمہ فروخت کرتا تھا۔ جس کی دکان قادیانی عبادت گاہ اقصیٰ کے ملحقہ تھی۔ مرزا محمود قادیانی کا باڈی گارڈ دستہ الگ تھا۔ جس کا نام محکمہ کار خاص تھا۔ جس کا انچارج کیپٹن مرزا شریف احمد تھا۔ جو مرزا محمود خلیفہ قادیان کا برادر خورد تھا اور محکمہ امور عامہ کا ناظر (منسٹر ) مرزا محمود خلیفہ قادیان کا سالہ ولی اللہ شاہ تھا۔ جس کو سالار جنگ کہتے تھے اور امور خارجہ کا ناظر مفتی ماسٹر محمد صادق تھا۔
ناظر ضیافت
میر محمد اسحاق جو خلیفہ قادیان کا ماموں تھا۔ اس کے ماتحت دو لنگر خانے تھے۔ لنگر خانہ اعلیٰ ولنگر خانہ عام، اعلیٰ لنگر خانہ، بڑے بڑے سرکاری، افسران کے لئے تھا۔ آفیسران کی آئے دن کی دعوتیں ان سے میل ملاقات رکھنا اس لنگر خانہ کا نام مہمان خانہ یعنی گیسٹ ہاؤس تھا اور عام مہمان خانہ، عام مرزائیوں کے گھریلو آمدہ مہمانوں کے لئے تھا۔
اعلیٰ مہمان خانہ میں مرغ پلاؤ، تیتر، بٹیر، ہرن کا گوشت اور اعلیٰ ماکولات ومشروبات ہوتے تھے اور عام لنگر خانہ میں بھینس، بیل گائے کا گوشت ان کو شلجم (شلغم) ملا کر پکایا جاتا اور رات کو چنے اور ماش کی دال یا سبزی، کلفہ، پیٹھا، کدو، بینگن اور گھیا توری پکتی تھی۔
جمعہ کا آٹا
قادیانی بہشتی مقبرہ کے قریب، یتیم مرزائیوں کا محلہ دار الضعفاء یعنی یتیم لڑکے اور بوڑھے ضعیف لوگ بسائے جاتے تھے۔ یہ مرزائی یتیم لڑکے بے بس تھے۔ ان کو دیہات میں ہر جمعرات کے روز بھیجا جاتا۔ وہ لنگر خانہ عام اور اپنے گزارہ کے لئے جا کر آواز لگاتے۔ جمعہ کا آٹا، جمعہ کا آٹا اور علاقہ کے مرزائیوں، یا مرزائی نواز مسلمانوں سے آٹا مانگ کر سر پر لاتے۔ اس طرح یتیم لڑکے اپنا پیٹ پالتے۔
تائبین کا حشر
(بائیکاٹ، اخراج، مقاطعہ ) اوّل تو کوئی مرزائی قادیان میں رہتے ہوئے مرزائی جماعت سے الگ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ اس کو بائیکاٹ اور مقاطعہ اور اخراج کا اور حملہ کا شدید خطرہ ہوتا۔ یہ سزائیں خلیفہ قادیان کے حکم پر دی جاتیں۔ ان سزاؤں سے توبہ کرنے والے
٥
مرزائی کی دین و دنیا تباہ کر دی جاتی۔ مثلاً ابتداء محفوظ الحق علمی مرزائی ایڈیٹر اخبار الفضل قادیان، نائب ایڈیٹر مہر محمد شہاب، ماسٹر اللہ دتہ مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ تائب ہونے پر ان کا اخراج کر دیا گیا۔ یعنی وہ قادیان میں نہیں رہ سکتے۔ پھر بائیکاٹ اور مقاطعہ ہوا۔ یعنی اقتصادی بائیکاٹ، کوئی مرزائی نہ ان سے بول چال کرے، نہ سودا دیوے۔ نہ کوئی ان سے کوئی کام کروائے۔ نہ سودا لیوے۔ قطع کلامی، اس کی بیوی بچوں تک کو بھی اس سے کلام بول چال کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ان کو مرتد کے لفظ سے خطاب کیا جاتا۔ عام مرزائی عبادت گاہوں کے علاوہ احمدیہ بازار میں بورڈوں پر چاک سے لکھ دیا جاتا اور مرزائی اخباروں میں اس سزا کا اعلان کیا جاتا۔
مستری عبدالکریم، مستری فضل کریم، محمد زاہد زیر عتاب ہو گئے
تقریباً ١٩٣٠ء میں مستری عبدالکریم، مستری فضل کریم ، محمد زاہد جب مرزائیت سے تائب ہوئے ان کا مکان بہشتی مقبرہ کے پل کے قریب تھا۔ ان کا راتوں رات مکان جلا دیا گیا۔ خلیفہ محمود قادیانی کے حکم کی اطلاع ان کو ایک برقعہ پوش نے دے دی تھی۔ جو خلیفہ کے اس حکم کو ظلم عظیم سمجھتی تھی تو یہ صاحبان عشاء سے پہلے ہی مکان چھوڑ کر نکل آئے اور رات سکھوں کے بورڈنگ کے ایک کمرہ میں پناہ لی۔ علی الصبح فجر سے پہلے برقعہ پہن کر سکھوں کی موٹر میں بیٹھ کر بٹالہ اور پھر بٹالہ سے امرتسر پہنچ گئے اور مجلس احرار اسلام امرتسر کی حفاظت میں امرتسر ہال بازار میں دکان لی اور مکان کرایہ پر لے کر رہائش اختیار کی۔ قادیان میں ان کا مکان رات کے تقریباً بارہ بجے جلا کر راکھ کر دیا۔ صبح اخبار ”الفضل“ قادیان عرف الدجال نے خبر شائع کی کہ مستری مرتدین نے خود اپنے مکان کو آگ لگائی ہے۔ امرتسر سے عبدالکریم نے اخبار مباہلہ شائع کیا۔ جس میں اپنی بے بسی اور بے کسی کی روداد شائع کی۔
قادیان میں شیخ یعقوب علی مدیر الحکم کی صدارت میں نئے ڈاکخانہ کی مجوزہ جگہ سبزی منڈی پر ان کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں اور مرزائیوں کو ان کے خلاف جوش دلایا گیا۔ انگریزی حکومت نے مستری عبدالکریم عرف عبدالکریم مباہلہ کے خلاف زیر دفعہ 153-A مقدمہ کی سماعت ہونے لگی۔ مسلمانوں کی طرف سے شیخ شریف حسین ایڈووکیٹ گورداسپور، حال ساہیوال مرحوم نے مقدمہ کی پیروی کی۔ مرزائیوں کی طرف سے مرزائی وکیل مرزا عبدالحق وکیل تھا۔ جو اب سنا گیا ہے کہ سرگودھا میں پریکٹس کرتا ہے۔
٦
عبدالکریم مباہلہ کے قتل کا منصوبہ
مولوی عبدالکریم مباہلہ امرتسر خلیفہ قادیان کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ چنانچہ مرزا (بنجارا) اور حکومت روس نے اس کو انگریز تھا) قید کر لیا اور بعد میں انگریزی حکومت
تبلیغ کے نام پر جاسوسی
”ہمارے برادر محترم محمد امی جماعت احمدیہ نے تبلیغ اسلام کے لئے قادیان ہوئے۔ جنہیں اچانک اندر دیکی سے بھر پور ہو گئے۔“
جاسوسی یا تبلیغ احمدیت
”روس میں اگرچہ تبلیغ احم باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہ لازماً مجھے انگریز حکومت کی خدمت گز ہندوستان میں ہے۔ تو ساتھ ہی ہند کے سامنے کرنا پڑتا تھا۔“
(محمد امین صاحب قادیان کا
روس سے مفروری
”اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہ پیاس نہ بجھی تھی۔ اس لئے پھر کا کار نکلا اور پشاور، بخارا پہنچا۔ بخارا میں کاکان کی طرف لایا گیا اور وہاں ج بھاگے اور بخارا پہنچے۔“
(اعلان میاں محمود
عبدالکریم مباہلہ کے قتل کا منصوبہ
مولوی عبدالکریم مباہلہ امرتسر سے گورداسپور میں پیشی کے لئے آتا تھا۔ مگر مرزا محمود خلیفہ قادیان کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ چنانچہ مرزائیوں کے ایک مبلغ محمد امین پٹھان جو روس میں مبلغ تھا۔ (بخارا) اور حکومت روس نے اس کو انگریزی حکومت کی جاسوسی کے الزام میں (جو ثابت ہو چکا تھا) قید کر لیا اور بعد میں انگریزی حکومت کی مدد سے اس کی رہائی ہوئی۔ ملاحظہ ہو۔
تبلیغ کے نام پر جاسوسی
”ہمارے برادر محترم محمد امین خاں صاحب جنہیں روس کے علاقہ میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا تھا۔ بغیر کسی اطلاع کے آج ٢٥؍ جون ١٩٢٧ء وارد قادیان ہوئے۔ جنہیں اچانک اندر دیکھ کر اہل قادیان (مرزائی) خوشی اور مسرت کے جذبات سے بھرپور ہوگئے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ١٤ نمبر ١٠١ ص ٢، مورخہ ٢٨؍ جون ١٩٢٧ء)
جاسوسی یا تبلیغ احمدیت
”روسیہ میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا۔ لیکن سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے انگریز حکومت کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔ کیونکہ ہمارے سلسلہ کا مرکز (قادیان) ہندوستان میں ہے۔ تو ساتھ ہی ہندوستانی حکومت کے احسانات اور مذہبی آزادی کا ذکر لوگوں کے سامنے کرنا پڑتا تھا۔“
(محمد امین صاحب قادیان کا مکتوب مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٢٥ مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٩٢٣ء)
روس سے مفروری
”اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے۔ چونکہ ابھی اس کی پیاس نہ بجھی تھی۔ اس لئے پھر کاکان ریلوے اسٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور پیادہ بخارا پہنچا۔ بخارا میں ایک ہفتہ کے بعد پھر ان کو گرفتار کر لیا گیا اور بدستور سابق پھر کاکان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے آپ کو پھر سمرقند پہنچایا گیا۔ وہاں سے آپ پھر چھوٹ کر بھاگے اور بخارا پہنچے۔“
(اعلان میاں محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج ١١ نمبر ١٢ ص ٦، مورخہ ١٤؍ اگست ١٩٢٣ء)
٧
انگریزی جاسوس
”چونکہ برادرم محمد امین خاں صاحب کے پاس پاسپورٹ نہ تھا۔ اس لئے وہ روس میں داخل ہوتے ہی پہلے ریلوے اسٹیشن پر انگریزی جاسوس قرار دے کر گرفتار کئے گئے۔ کپڑے اور کتابیں جو کچھ ان کے پاس تھا۔ وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں رکھا گیا۔ پھر عشق آباد کے قید خانے میں رکھا گیا اور بار بار بیان لئے گئے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی جاسوس ہیں۔
اس کے بعد گوئنکی سرحد افغانستان پر لے جایا گیا۔ وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دے دیا گیا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔ دوماہ تک آپ وہاں آزاد رہے۔ لیکن دوماہ بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور بخارا سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد ایران کی طرف واپس بھیج دیا گیا۔“
(اعلان میاں محمود قادیانی اخبار الفضل ج ١١ نمبر ١٢ مورخہ ١٤ اگست ١٩٢٣ء)
مستری عبدالکریم عرف مولانا عبدالکریم عرف مباہلہ
کے قتل کا منصوبہ اور حاجی محمد حسین بٹالوی کا قتل
مرزائی، قادیانی جماعت کو اور اس کے خلیفہ محمود کو اس بات کا دلی رنج اور غصہ تھا کہ مستری عبدالکریم بچ کر نکل گیا ہے اور وہ امرتسر سے گورداسپور اپنے مقدمہ کی سماعت کے لئے امرتسر سے بس (لاری) پر جاتا تھا۔ امرتسر میں عبدالکریم مباہلہ کو قتل کرنا آسان نہ تھا۔ وہ عبدالکریم کی تاک میں تھے۔
محمد امین خاں کا رول
انہوں نے محمد امین خاں مجاہد بخارا پٹھان سے فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ (چیف منسٹر) سلسلہ احمدیہ قادیان کے ذریعہ کوئی پٹھان کرایہ کا قاتل مہیا کرنے کی سازش کی، محمد امین خان پٹھان تھا وہ کوئی بیرونی قاتل پٹھان لانے کا انچارج بنایا گیا اور معقول رقم دینے کا عہد و پیماں ہوا۔ محمد امین خاں نے ایک پٹھان قاضی محمد علی نوشہروی سے عبدالکریم کو قتل کرنے کا سودا کیا اور اس کو
٨
کافی رقم پیشگی دی گئی اور عبدالکریم امرتسر سے گورداسپور روانگی پر لاری بس میں قتل کرنے کی سکیم بنائی۔ امرتسر لاری اڈا پر خدام الاحمدیہ کے مخصوص والنٹیرز مقرر کئے گئے۔ سازش یہ تھی کہ عبدالکریم جب لاری بٹالہ پہنچے تو والنٹیرز اڈا پر ہاتھ نکال کر قاضی محمد علی نوشہروی کو اس لاری میں سوار ہونے کا اشارہ دے دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب لاری بٹالہ اڈا پر آ کر ٹھہری۔ قاضی محمد علی نوشہری اشارہ پاتے ہی اس لاری میں سوار ہو گیا۔
حاجی محمد حسین ضامن کا قتل
مولانا عبدالکریم مباہلہ کے ہمراہ حاجی محمد حسین بٹالوی مالک زمیندار فاؤنڈری بٹالہ اس کا ضامن بھی سوار تھا۔ والنٹیرز بٹالہ اڈا پر اتر گیا۔ مگر وہ قاضی محمد علی نوشہروی (مرزائی قاتل) کو مولانا عبدالکریم مباہلہ کی نشاندہی کر گیا۔ لاری چلنے لگی اور بٹالہ سے چند میل دور لاری کے اندر ہی خنجر لے کر اٹھا اور اس نے مولانا عبدالکریم پر وار کرنا ہی تھا۔ مگر وار خطا گیا اور خنجر حاجی محمد حسین کے لگ گیا۔ یہ نشاندہی کی وجہ سے کیا گیا۔ قاتل جلدی میں مولانا محمد حسین ضامن اور مولانا عبدالکریم میں امتیاز نہ کر سکا۔ کیونکہ قاتل کا خون اتر کر اس کی عقل پر چھا جاتا ہے۔
بہر حال لاری رک گئی اور مسافروں نے ہمت کر کے قاضی محمد علی قاتل کو گرفتار کر لیا۔ اس پر زیر دفعہ ٣٠٢ (قتل) مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ اس مقدمہ کی تفصیل کا ذکر فیصلہ سرکار بنام امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بجرائم A-153 میں مسٹر جی۔ ڈی کھوسہ سیشن جج گورداسپور میں آتا ہے۔ یہ فیصلہ پڑھنے کے قابل ہے۔
قاتل کے امدادی قادیانی وکلاء
قاضی محمد علی نوشہروی قاتل کو بچانے کے لئے پریوی کونسل لندن تک کوشش کی گئی۔ احمدیہ ڈیفنس کونسل وکلاء کی کونسل تھی۔ جو سر ظفر اللہ خان بیرسٹر آنجہانی عرف ظفرو چوہدری اس کا بھائی چوہدری اسد اللہ آنجہانی (جو کسی وقت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ پنجاب بھی رہا تھا) مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ گورداسپور، محمد احمد وکیل کپور تھلہ اور مولوی فضل الدین قادیان، شیخ ارشد علی ایڈووکیٹ بٹالہ وغیرہ مرزائی وکلاء پر مشتمل تھی۔ قاتل کو پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ پنجاب ہائیکورٹ نے اپیل خارج کر دی تھی اور پریوی کونسل لندن نے بھی اپیل خارج کر دی۔
٩
قادیان میں لاش کا جلوس
قاضی محمد علی نوشہروی کی لاش قادیان میں لائی گئی۔ اس کا جلوس نکالا گیا اور اس کو شہید احمدیت کا خطاب دیا گیا۔ خلیفہ محمود نے اس کی لاش کو کندھا دیا اور اس کو بہشتی مقبرہ (نام نہاد) میں بڑے کر و فر سے دفن کیا۔ بڑے بڑے مرزائی جنازہ میں شامل ہوئے۔ احمد یہ کور اور خدام الاحمدیہ جس کا انچارج مرزا ناصر احمد آنجہانی خلیفہ ثالث تھا۔ قدم قدم پر شہید احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے اور اس کی خدمات کو سراہا گیا۔
مشاعرہ شہید احمدیت
رات کو عام مہمان خانہ میں مشاعرہ ہوا۔ قاضی اکمل ایڈیٹر الفضل قادیان، رحمت اللہ شاکر اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل عرف الدجل قادیان، منظور احمد منظور بھیروی، حافظ سلیم اٹاوی، ابراہیم عاجز مالیرکوٹلی، روشن دین، تنویر سیالکوٹی وغیرہ۔ شاعران احمدیت نے محمد علی قاتل کی شان میں نظمیں سنائیں۔ بعد میں ان نظموں کی کتاب ”گلدستہ احمدیت“ کے نام پر شائع کی گئی جو عام تقسیم کی گئی۔
صرف ایک شعر ملاحظہ ہو:
مثل عیسیٰ آسمان پہ چڑھ گیا
خلیفہ محمود بہت کایاں شخص تھا۔ جب اس کی نظر کتاب کے اس شعر پر پڑی تو اس نے فوراً کتاب بحق سلسلہ ضبط کر لی۔ کیونکہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا ثابت ہوتا تھا۔ جو مرزائیت کی ساری عمارت پر ایٹم بم تھا۔
قدرت کا انتقام: محمد امین کا قتل
اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ اس کا انتقام دیر گیر و سخت گیر ہوتا ہے۔ حاجی محمد حسین بٹالوی کا بے گناہ قتل رنگ لایا۔ محمد امین مجاہد بخارا جس نے قاضی محمد علی قاتل مہیا کیا تھا۔ اس کی کچھ رقم محمد امین کو فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ سلسلہ احمدیہ قادیان نے عبد الکریم مباہلہ کو قتل کروانے کے لئے پیشگی دی تھی اور کچھ رقم بقایا تھی۔ محمد امین خان نے بقایا رقم کا فتح محمد سیال ایم۔ اے ناظر
١٠
اعلیٰ سلسلہ احمدیہ عالیہ قادیان سے مطالبہ و تقاضا کیا (عرف فتو سیال) اور اس کی کوٹھی پر رقم لینے گیا۔ جو موضع بھینی کے نزدیک تھی اور ریلوے اسٹیشن قادیان سے نصف میل پر تھا۔ فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ نے کہا کہ میری کوٹھی پر نہ آیا کرو۔ بلکہ دفتر میں آؤ۔ محمد امین نے کہا کہ دفتر میں عوام آتے جاتے ہیں۔ یہ راز فاش ہو گیا تو سلسلہ کی بدنامی ہوگی اور سلسلہ قاتلوں کی حوصلہ افزائی والا گنا جائے گا۔ لہٰذا حساب کتاب تنہائی میں ٹھیک ہوگا۔
فتح محمد نے جواب دیا کہ رقم میری ذاتی نہیں ہے۔ بلکہ دفتر محاسب سے چیک دے کر نکلوانی ہوتی ہے۔ کیونکہ سلسلہ کا کام ہے۔ محمد امین خان مبلغ نے کہا کہ میں دفتر میں نہیں جاؤں گا۔ کوٹھی پر رقم لوں گا۔ آخر فتح محمد نے جواب دے دیا کہ رقم کوٹھی پر نہیں دوں گا۔
دیگر بات یہ ہے کہ جس کو قتل کروانا تھا۔ یعنی عبدالکریم مباہلہ کو وہ تو بچ گیا اور حاجی محمد حسین اس کے ضامن کو قتل کیا گیا۔ مقصد تو پورا نہ ہوا۔ محمد امین خان ایک مبلغ تھا۔ دوسری دفعہ فتح محمد سیال کی کوٹھی پر گیا۔ رقم کا تقاضا کیا۔ باتوں باتوں میں تلخ کلامی ہوئی اور فتح محمد سیال نے اپنے گھریلو افراد اور ملازمین کو بلایا۔ ان کے ذریعے اس کو کوٹھی سے نکالنا چاہا۔ مگر محمد امین نے کہا وہ تو رقم لے کر ہی جائے گا۔ اس نے نوکروں کو اشارہ کیا وہ اس پر حملہ آور ہو گئے اور فتح محمد سیال نے گرے ہوئے پر کلہاڑی سے وار کیا۔ اس کے سر پر لگی۔ خون بہنے لگا۔ ایک دو ضربات لگائیں اور محمد امین قادیانی نے پانی مانگا۔ پانی بھلا کون دیتا اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔
فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ نے اس لاش کو اٹھوا کر شارع عام راستہ پر گروا دیا۔ جو راستہ موضع بھینی کے قادیان کو جاتا تھا۔ فتح محمد سیال کی کوٹھی کے قریب ایک سکھ پرتاپ سنگھ عرف پرتاپو کا رقبہ اور کنواں تھا۔ جب پرتاپ سنگھ کنواں سے گھر آنے لگا تو مردہ لاش پڑی تھی۔ اس خطرہ کے پیش نظر کہ شاید پولیس تفتیش کے وقت ان پر ہی نزلہ نہ گرا دے۔
انہوں نے پولیس کو رپورٹ کی، پولیس موقعہ پر پہنچی۔ بے گور و کفن لاش پڑی تھی۔ محمد علی نمبردار موضع بھینی کو بلوایا گیا اور مخلوق بھی اس عبرتناک واقعہ کو دیکھنے گئی تھی۔ قاتل کون ہے اور موقع پر کس نے دیکھا۔ یہ قانونی سوال زیر تفتیش تھے۔
محمد علی نمبردار موضع بھینی نے لاش کو شناخت تو کر لیا۔ یہ محمد امین مبلغ بخارہ کی نعش ہے۔ مگر قتل کیسے ہوا۔ بنائے قتل ارادہ وجوہات قتل (Motive) کیا تھا۔ محمد علی نے تھانہ دار کو
١١
صرف اتنا ہی بتایا کہ محمد امین خاں مبلغ کو کئی دن ہوئے میں نے چوہدری فتح محمد سیال ناظر اعلیٰ کی کوٹھی میں دیکھا تھا۔
مرزائی جماعت روپیہ کو پانی کی طرح بہانا جانتی ہے۔ پوسٹر، اشتہارات، مخالفوں کے خلاف، دلالوں کی رقمیں اور عیش وعشرت میں زندگی بسر کرنا، بہشتی مقبرہ کی آمدنی معمولی نہیں ہے۔ کروڑوں روپوں کی آمدنی ہے اور پھر حکومتوں سے رقمیں لے لے کر ان کے کاز کی اشاعت کرنا۔
بھارت و برطانیہ کا پروپیگنڈہ، اسرائیل کا پروپیگنڈہ وغیرہ وغیرہ۔ مرزائیوں نے پولیس قادیان کو رام کر لیا۔ پھر فتح محمد عرف فتو سیال ایم۔اے ناظر اعلیٰ سلسلہ احمدیہ عالیہ پر انگریزی حکومت کی موجودگی میں ہاتھ کون ڈالے۔ نعش پوسٹ مارٹم کے بعد لاوارث قرار دے کر دفن کر دی گئی اور کوئی چالان وغیرہ نہ ہوا۔ اس قتل پر مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے اپنے فیصلہ کا ذکر سرکار بنام امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری زیر دفعہ A-153 میں بخوبی کیا ہے۔
انجمن انصار احمدیہ قادیان کا قیام
مرزا محمود خلیفہ قادیان کے اخلاقی عیبوں کو دیکھ کر شیخ مصری، فخر الدین ملتانی اور حکیم عبد العزیز اور کچھ دوسرے لوگوں نے قادیانیت، مرزائیت سے علیحدگی کا اعلان کر کے انجمن انصار احمدیہ قادیان کا اعلان کیا کہ خلیفہ محمود کو خلافت سے الگ کر لیا جائے۔ ان کی باہمی پوسٹر بازی ہوئی۔ نمونہ ملاحظہ ہو۔ موجودہ خلیفہ (فرقہ احمدیہ قادیانیہ ) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور عورتوں کو ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ اس کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو رکھتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“ (بحوالہ شیخ مصری سابق ہیڈ ماسٹر احمدیہ سکول قادیان فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور شائع کردہ مولوی محمد علی ایم اے امیر جماعت احمدیہ لاہور مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٧ء ) اس پر خلیفہ محمود قادیانی نے جواب دیا کہ تمہارے خاندان فحش کا مرکز ہیں۔ اس کے جواب میں انصار احمدیہ قادیان نے جو جواب دیا ملاحظہ ہو:
”چار گواہ: حالانکہ میں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ لوگوں کی تمنا ہے کہ جناب چار گواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر چہ ہم سے آپ نے ذکر نہیں فرمایا۔ تاہم اگر یہ بات درست
١٢
ہے تو پھر اس کے لئے تیاری فرمائیں۔ ہم صرف چار گواہ ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں لڑکیوں اور لڑکوں کی جناب والا کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت پیش نہ کر سکیں تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔“
(حکیم عبدالعزیز سیکرٹری انجمن انصار احمدیہ قادیان کا ٹریکٹ شائع شدہ)
ان حالات میں انجمن انصار احمدیہ قادیان کے عہدے داران کی نگرانی پر بائیکاٹ ومقاطعہ جاسوسی کا عمل سخت کر دیا گیا۔ مجلس خدام الاحمدیہ قادیان (جس کا صدر خلیفہ کا بیٹا ناصر احمد آنجہانی تھا) اور اس کے ممبر وحواری کی کوشش سے اس مخالفت کو ختم کروانا تھا اور اس کا خاتمہ کرنا تھا۔ جس کے طبقے بنائے گئے ۔ جس میں عبدالعزیز عرف میجر بھانبڑی انچارج کار خاص، محمد حیات سرمہ فروش، شیرو لوہار، لال دین موچی، عزیز قلعی گر (جس نے بعد میں فخر الدین کو قتل کیا تھا) نذیر مولوی فاضل، نذر محمد مولوی، ظفر محمد مولوی وغیرہ تھے۔ شیخ عبدالرحمن مصری کی کوٹھی پر اس کی درخواست پر مولوی عنایت اللہ چشتی امیر مجلس احرار قادیان برانچ نے ١٢ احرار والنٹیرز گارڈ کو پہرہ لگوا دیا اور ٹارچیں اور کلہاڑیاں پہرہ داروں کے پاس تھیں۔ تاکہ رات کو حملہ نہ ہو سکے۔ جب بھانبڑی موقعہ پر رات کے ١٢ بجے گیا۔ تو پہرہ داروں کو دیکھ کر واپس لوٹ گیا اور شیخ مصری کا خاندان قتل سے بچ گیا۔ صبح کو پولیس کی امداد سے نقل مکانی کر لی۔
فخر الدین ملتانی کا قتل
فخر الدین ملتانی قادیانی کی دکان چوک قادیان میں مرزائیوں کے خلیفہ مرزا محمود کے محل کو جانے والے راستہ اور قادیانی عبادت گاہ مسجد مبارک قادیان کے عین نیچے تھی۔ اس دکان کا نام احمدیہ کتاب گھر قادیان تھا۔ جو مرزائیوں کی تبلیغی کتب شائع کرتا تھا۔ اس کے تعلقات شیخ عبدالرحمن بی اے ہیڈ ماسٹر احمدیہ سکول جو اس کے مکان کے قریب رہتا تھا، سے تھے۔ شیخ عبدالرحمن قادیانی مصر میں مبلغ بھیجا گیا تھا۔ جو واپسی کے بعد (منسٹر) ناظر تعلیم وتربیت سلسلہ احمدیہ تھا۔ عبدالعزیز بھی سلسلہ احمدیہ کا مبلغ تھا۔ ان تینوں کے باہمی مراسم تھے۔ بعض اخلاقی معاملات میں شیخ عبدالرحمن مصری (جو خلیفہ محمود کے سفر لندن، فرانس، اٹلی وغیرہ یورپین ممالک کے وقت قائم مقام خلیفہ قادیان مقرر کیا جاتا تھا) خلیفہ محمود اور شیخ عبدالرحمن مصری کے اختلافات ہو گئے۔ شیخ مصری نے بعض اندرونی اخلاقی کردار کے متعلق وضاحت چاہی تھی اور خلیفہ محمود کو مختلف اوقات میں
١٣
چٹھیاں لکھیں۔ جن کا جواب مرزا محمود قادیانی خلیفہ قادیان نے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے نہ دیا۔ چنانچہ فخرالدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز نے چٹھیاں پڑھ کر شیخ عبدالرحمن مصری کا ساتھ دیا۔
خلیفہ محمود کے حکم سے عبدالرحمن مصری، فخرالدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز کا بائیکاٹ ”مقاطعہ“ کر دیا اور ان کے خلاف قادیانی مساجد میں اعلان کر دیئے گئے اور اخبار الفضل میں ان کے خلاف اشتعال انگیز مضامین چھاپے گئے اور ان کے خلاف توہین خلافت اور الزامات خلافت کی بناء پر جلسے شروع ہو گئے اور ان کے قتل کا منصوبہ قصر خلافت میں ہوا۔ جس میں قادیانی غنڈوں کی خدمات حاصل کی گئیں کہ راتوں رات ان کو قتل کر دیا جائے۔ یہ راز فاش ہو گیا۔ صبح اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے فخرالدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز تھانہ چوکی قادیان کو اطلاع کرنے بڑے بازار سے گزر رہے تھے کہ قادیانی غنڈوں نے ان کو گھیر لیا اور عزیز قلعی گر احمدی سیالکوٹی نے فخرالدین کے خنجر گھونپ دیا اور حکیم عبدالعزیز کی گردن پر خنجر مارا جو اتفاق سے خنجر اس کے کندھے پر لگا اور ہر دو لہولہان ہو گئے۔ چونکہ اس بازار میں دو تین سکھوں اور کچھ مسلمانوں کی دکانیں تھیں، شور مچنے پر وہاں پہنچے۔ مضروبین کو ڈاکٹر گوربخش سنگھ سے پٹی کروائی گئی۔ فخرالدین ختم ہو چکا تھا۔ حکیم عبدالعزیز زخموں سے کراہ رہا تھا۔ عبدالعزیز قلعی گر کو چھپا لیا گیا۔ دوسرے دن اخبار الفضل عرف الدجل نے خبر شائع کی کہ مرتدین کا احمدیوں پر حملہ، بڑے بازار والے خبر پڑھ کر حیران ہو گئے کہ اتنا صریح جھوٹ، غنڈہ سے غنڈہ بھی نہیں بولتا۔ جو الدجل بولتا ہے۔
مسلمانوں کی عید گاہ پر حملہ
یہ غالباً ١٩٣٧ء یا ١٩٣٨ء کا واقعہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان کے ملحقہ عید گاہ تھی۔ جس میں شروع سے ہی مسلمان نماز عید ادا کرتے چلے آ رہے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ کی تبلیغی کوششوں سے دیہات سے بھی لوگ عید گاہ میں نماز کے لئے آنے شروع ہو گئے اور مرزائیوں کا دہشت، دباؤ اٹھنا شروع ہو گیا۔ یہ بات خلیفہ قادیان اور اس کی جماعت کو ناگوار گزرنے لگی تو انہوں نے عید گاہ پر قبضہ کرنے کی ناپاک ومکروہ سازش و سکیم بنائی۔ چنانچہ عید کے روز صبح ہی خدام الاحمدیہ کے لٹھ بند والنٹیرز مرزا ناصر کی سرکردگی میں عزیز بھانبڑی کی سپہ سالاری میں عبدالرحمن جٹ قادیانی پادری جنرل پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ قادیان کی رہنمائی میں مرزائی غنڈوں کا گروہ پہنچ گیا اور مسلمانوں کو وہاں عید گاہ میں نماز ادا کرنے سے روک دیا۔ مسلمان خالی
١٤
ہاتھ تھے۔ ان کو یک دم حملہ کا وہم گمان بھی نہ تھا پہنچائیں۔ جس پر مقدمہ چلا۔ پادری عبدالرحمن سزائے قید ہوئی۔ بوڑھا شخص شیخ چراغ دین مرزائیوں نے عید گاہ کے ساتھ میں دفنانے نہ دیا۔ مسلمانوں نے شیخ چراغ دین گیا اور نعش کو مسٹر کشن ماتھر کی کچہری میں مرزائیوں نے قبضہ کر لیا ہے اور دفنانے نہیں مسلمانوں کے قبرستان میں پولیس کی حفاظ لوگوں نے قبرستان اور مساجد پر بورڈ لگا دی نہیں ہو سکتا۔ یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے مالکان نے پھٹے لٹکا کر لکھ دیا کہ یہ مرزائیاں مطالبہ ہونے لگ گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت ظفر علی ریٹائرڈ جج ہائیکورٹ پنجاب انجمن حمایت اسلام لاہور سے مرزائیوں مرزا ناصر احمد صدر خدام الاحمدیہ لندن سے تعلیم دلوائی۔ مرزا محمود کا خلیفہ مقام پر رہتا تھا۔ کیونکہ وہ تماش بینوں مریض بن جاتا۔
محمد علی ایم اے لاہوری کی پولیس کو کسی تفتیش کے سلسلہ میں ڈبون بند رضا کاروں کے انچارج) سے کہا اشارے پر مختلف جلسوں پر حملہ کر چکے سمجھتا تھا۔ اس نے پولیس کو دھمکیاں
قادیان نے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے نہ بڑھ کر شیخ عبدالرحمٰن مصری کا ساتھ دیا۔ فخر الدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز کا بائیکاٹ میں اعلان کر دیئے گئے اور اخبار الفضل میں ان انہی کے خلاف توہین خلافت اور الزامات خلافت قصر خلافت میں ہوا۔ جس میں قادیانی غنڈوں قتل کر دیا جائے۔ یہ راز فاش ہو گیا۔ مع اپنی جانوں عبدالعزیز تھانہ چوکی قادیان کو اطلاع کرنے بڑے مکان کو گھیر لیا اور عزیز قلعی گر احمدی سیالکوٹی نے گردن پر خنجر مارا جو اتفاق سے خنجر اس کے کندھے میں سکھوں اور کچھ مسلمانوں کی دکانیں تھیں، سے پٹی کروائی گئی۔ فخر الدین ختم ہو چکا تھا۔ قاتل کو چھپا لیا گیا۔ دوسرے دن اخبار الفضل پر حملہ، بڑے بازار والے خبر پڑھ کر حیران ہوا۔ جو الدجل بولتا ہے۔
مسلمانوں کے قبرستان کے ملحقہ عید گاہ تھی۔ جا رہے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ مجلس احرار کے عید گاہ میں نماز کے لئے آنے شروع ہو گئے یہ خلیفہ قادیان اور اس کی جماعت کو ناگوار کوئی مکر و سازش و سکیم بنائی۔ چنانچہ عید کے سرکردگی میں عزیز بھانبڑی کی سپہ سالاری انجمن احمدیہ قادیان کی رہنمائی میں مرزائی ادا کرنے سے روک دیا۔ مسلمان خالی
ہاتھ تھے۔ ان کو یک دم حملہ کا وہم گمان بھی نہ تھا۔ حملہ کر کے غریب اور نہتے مسلمان کو شدید ضربات پہنچائیں۔ جس پر مقدمہ چلا۔ پادری عبدالرحمٰن جٹ جنرل پریزیڈنٹ اور اس کے کچھ حواریوں کو سزائے قید ہوئی۔ بوڑھا شخص شیخ چراغ دین نامی ضربات کی تاب نہ لا کر فوت ہو گیا۔
مرزائیوں نے عید گاہ کے ساتھ قبرستان پر حملہ کرنا چاہا۔ شیخ چراغ دین کو مسلم قبرستان میں دفنانے نہ دیا۔ مسلمانوں نے شیخ چراغ دین کے جنازے کو اٹھایا۔ ١٢ میل کندھوں پر بٹالے لے گیا اور نعش کو مسٹر کشن ماتھر کی کچہری میں رکھ دیا اور فریاد کی کہ ان کے عید گاہ اور قبرستان پر مرزائیوں نے قبضہ کر لیا ہے اور دفنانے نہیں دیتے۔ انہوں نے پولیس کی گارد بھیجی جو قادیان میں مسلمانوں کے قبرستان میں پولیس کی حفاظت میں شیخ چراغ دین کو دفن کیا گیا۔ اس پر بٹالہ شہر کے لوگوں نے قبرستان اور مساجد پر بورڈ لگا دیئے کہ یہ مسلمانوں کی مسجد ہے۔ اس میں مرزائی داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے اس میں مرزائی دفن نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ہوٹلوں کے مالکان نے چھکے لٹکا کر لکھ دیا کہ یہ مرزائیوں اور عیسائیوں کے لئے جدا برتن ہیں اور پنجاب میں عام مطالبہ ہونے لگ گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ سرکاری طبقہ میں علامہ اقبالؒ اور سر مرزا ظفر علی ریٹائرڈ جج ہائیکورٹ پنجاب لاہور نے مرزائیوں کے خلاف عملی سرگرمیاں دکھائیں۔ انجمن حمایت اسلام لاہور سے مرزائیوں کا اخراج ہوا۔
مرزا ناصر احمد صدر خدام الاحمدیہ کا پولیس مقابلہ و گرفتاری
مرزا محمود خلیفہ قادیان عیش و عشرت کا دلدادہ تھا اور اس نے اپنے بیٹے ناصر احمد کو لندن سے تعلیم دلوائی۔ مرزا محمود کا خاندان گرمیوں میں قادیان چھوڑ، ڈلہوزی پہاڑ صحت افزا مقام پر رہتا تھا۔ کیونکہ وہ تماش بینوں کی وجہ سے مرغن غذائیں کھاتا۔ جو ہضم نہ ہوتیں اور اکثر مریض بن جاتا۔
محمد علی ایم اے لاہوری کی پارٹی کے لیڈر کی بھی ڈلہوزی میں کوٹھی تھی۔ ١٩٤٢ء میں پولیس کو کسی تفتیش کے سلسلہ میں ڈلہوزی جانا پڑا۔ انہوں نے مرزا ناصر احمد صدر خدام الاحمدیہ (لٹھ بند رضا کاروں کے انچارج) سے کوئی بات دریافت کرنی تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ جماعتی اشارے پر مختلف جلسوں پر حملہ کر چکے تھے۔ مرزا ناصر احمد اپنے آپ کو ہونے والا خلیفہ (شہزادہ) سمجھتا تھا۔ اس نے پولیس کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور اپنے کمرہ کی تلاشی نہ کرنے دی۔
١٥
پولیس بحکم آفیسران، خدام الاحمدیہ کے ریکارڈ یا دیگر سیاسی ریکارڈ تنظیم واسلحہ کی دریافت میں تھی۔ یورپ کی جنگ برطانیہ و جرمنی جاری تھی۔ اس پر پولیس نے مداخلت کے جرم میں اس کو گرفتار کرنا چاہا تو مرزا ناصر نے اندر سے آتشیں اسلحہ نکال کر مقابلہ پر پوزیشن لے لی۔ اس کے حواری بھی مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے۔ آخر پولیس نے مرزا ناصر پسر مرزا محمود خلیفہ قادیان کو حراست میں لے لیا اور شیخ نور محمد صاحب سابق ڈپٹی کمشنر کی ضمانت ویقین دہانی پر مرزا ناصر احمد کو رہائی ملی۔ اخباروں میں عام خبریں جو شائع ہوئیں کہ منکرین جہاد انگریزی کے فرمانبردار ذاتی وقار کے لئے جہاد پر کیوں اتر آئے؟
فاضل قصاب کا دردناک قتل
محمد فاضل قصاب ایک نوجوان مسلمان بدوملہی ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ اس کا بہنوئی مولا بخش قصاب نے مرزائی ہوکر قادیان میں اقصیٰ کے دروازے کے سامنے گوشت فروخت کرتا تھا۔ محمد فاضل قصاب بھی چند دن کے لئے بطور مہمان اس کے گھر آیا اور مولا بخش کی دکان پر بیٹھ کر مولا بخش کی گوشت فروشی میں امداد کرتا۔ مولا بخش دیہات میں بکرے خریدنے جاتا تو محمد فاضل اس کی دکان پر بیٹھ کر پیچھے کام چلاتا۔ چونکہ مرزائیوں نے مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ محمد فاضل ان کی اقصیٰ میں نماز پڑھنے نہ جاتا اور وہ مرزائیوں کے بڑے چھوٹے افراد کو نہ جانتا تھا۔ مرزائی جماعت کے لوگوں نے محمد فاضل سے باتوں باتوں میں معلوم کرلیا کہ وہ احمدی نہیں ہے اور مرزائیوں کے کار خاص (سی۔ آئی۔ ڈی) نے ناظر امور عامہ میں رپورٹ دے دی کہ محمد فاضل غیر احمدی ہے اور احمدی دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ وہ احمدی ہے اور غیر مرزائی کے ہاتھ اور دوکان سے سودا نہیں خریدتے تھے۔ جب تک معاہدہ تجارت کا ناظر امور عامہ اور احمدیہ پریذیڈنٹ قادیانی لائسنس فروختگی نہ لے۔ کیونکہ قادیانی اسٹیٹ میں محکمہ کارخاص سی۔ آئی۔ ڈی سفید کپڑوں میں بھرے شہر کی رپورٹیں محکمہ امور عامہ کے ناظر سید ولی اللہ شاہ جو خلیفہ قادیان مرزا محمود کا سالا تھا۔ وہ انچارج تھا اور وہ رپورٹوں پر حکم جنرل پریذیڈنٹ کو لکھتا تھا کہ فلاں کا بائیکاٹ، فلاں کا مقاطعہ، فلاں کا اخراج جماعت اور اخراج از قادیان کیا جائے۔
محمد فاضل کی محکمہ امور میں طلبی
قادیانی معبد اقصیٰ کے ملحقہ بلڈنگ میں مرزائی جماعت قادیانی کی سٹیٹ کے دفاتر
١٦
تھے۔ عام دفاتر تھے۔ یہ بلڈنگ دومنزلہ تھی۔ نیچے جنرل پریذیڈنٹ کا دفتر اور دیگر دفاتر محکمہ خزانہ محاسب کا دفتر، تبلیغ کا دفتر، دفتر اشاعت ٹریکٹ و پوسٹر مخالفین کے خلاف وغیرہ وغیرہ۔ ان دفاتر کے بالکل سامنے تقریباً ١٢ فٹ گلی کے ساتھ قصر خلافت الموسومہ قصر غلاظت تھا۔ جس میں خلیفہ محمود اوپر کی منزل میں رہتا اور ہر قسم کے اخلاقی الزامات اس قصر غلاظت میں ہوتے۔ جہاں ہر طرح سے عیش و طرب مہیا تھا، محمد فاضل نوجوان تھا۔ اس کو دفتر امور او پر بلڈنگ میں بلایا گیا اور اس کو مختلف قسم کے لالچ دے کر مرزائی بنانے کی پیش کش کی۔ مگر اس کی عزت نے گوارہ نہ کیا اور جب وہ نہ مانا تو مختلف قسم کی دھمکیاں دی گئی اور کارخاص کے رضا کاروں نے اس پر چھتر برسائے اور اس کو گلے سے پکڑ کر ولی اللہ شاہ ناظر امور عامہ کے حکم سے زدوکوب کیا گیا۔ گلا گھونٹا گیا۔ جس سے اس نے شور مچایا۔ مگر آواز باہر نہ آسکی تھی۔ گلا گھونٹنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس جرم سے بچنے کے لئے اس کو دوسری منزل سے نیچے پختہ فرش دفاتر کے راستہ پر پھینک کر الٹا مرزائی ناظر و رضا کاروں نے شور مچایا کہ محمد فاضل نے خودکشی کر لی اور نعش کو باہر اپنے دفتر کے سامنے رکھ دیا اور اس کو مولا بخش کے ذریعہ دفنانے کا انتظام کرنے لگے کہ راز فاش ہو گیا کہ محمد فاضل کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ کیونکہ بعض ملازمین مرزائی ولی اللہ شاہ سے خوش نہ تھے۔ انہوں نے درپردہ مسلمانوں کو اطلاع دے دی تھی۔ مسلمانوں نے تھانہ میں اطلاع اور حکام کو بھی تفتیش ہوئی۔ پولیس نے دفاتروں کا موقعہ دیکھا۔ فرش پر خون کے دھبے گرانے کی وجہ جو آئی تھی۔ آفیسر ان نے موقعہ دیکھا۔ مگر انگریزی دور میں مرزائیوں کا کیا بگڑ سکتا تھا اور یہ لوگ روپیہ خرچنے میں بہت دلیر واقع ہوئے ہیں۔ پھر معاملہ قتل کا تھا۔ پولیس نے یہ تفتیش ناکام کر دی کہ موقعہ پر گلا گھونٹنے اور منزل سے گرانے کا کوئی گواہ نہیں ہے اور اس کی خودکشی دو منزل مکان کے نیچے چھلانگ لگانے کے بہت سے مرزائی ملازم گواہ بن چکے تھے۔ اس طرح محمد فاضل کا قتل بھی چھپ گیا۔
اغوا و تفتیش
ہر حکومت کو مرزائی کی سابقہ دہشت گردی، محمد امین خاں مبلغ کا قتل، فخر الدین کا قتل، محمد فاضل کا قتل اور پھر ان قتلوں کو چھپانا اور جرم سے صاف بچ کر نکلنا مرزا طاہر احمد کا برقع پہن کر فرار ہونا۔ ان کے پاس ربوہ میں ناجائز اسلحہ کا سٹاک ان کی فاشی ذہنیت مسلمان طلباء کی ٹرین پر حملہ ان
١٧
کو عزیز بھانبڑی جیسے غنڈوں سے کام لینا۔ اس کے ذرائع اور ہاتھ لمبے ہیں۔
قادیانی گروہ ملٹری ٹرک، جیپ، کاریں، ہوائی جہاز پر آسانی سے سیر کر سکتے ہیں۔ ایسے دہشت گردی کے واقعات ان کے بائیں ہاتھ کے کرتب ہیں۔ پاکستان کو وہ دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ قادیان حاصل کرنے کے لئے اپنے مخالفوں کو ہر قسم کا نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہیں۔ اس گروہ کے سیاہ کارناموں کا عوام کو پتہ چل سکے۔ اللہ تعالیٰ اس حسن صباحی گروہ کے مکروں سے بچائے۔ آمین!
بولتی تحریریں....... کس کے وفادار؟ کس کے ایجنٹ؟ کس کے جاسوس؟
قادیان کے حسن بن صبا کی جماعت مرزائی لوگوں کے سامنے مذہبی لبادہ اوڑھ کر فرقہ احمدیہ کے نام سے نمودار ہوئی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ”مناسب معلوم ہوتا ہے اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھا جائے۔“
(تریاق القلوب ص ٣٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٧)
مالی غربت
”میرے والد (غلام مرتضیٰ) جو اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے...... اس نامرادی کی وجہ سے ایک عمیق گرداب غم و اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔“
(کتاب البریہ ص ١٦٩، خزائن ج ١٣ ص ١٨٧)
انگریزی ملازمت
”آپ (منشی غلام احمد قادیانی) شہر سیالکوٹ میں، ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں، قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ (١٥ روپے ماہوار)“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٤٣، روایت نمبر ٤٩)
شہرت کا طریق
منشی غلام احمد قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا۔ جس میں وہ فیل ہو گیا۔ پھر مذہب میں چھلانگ لگائی۔ دل میں شہرت کا خیال اور مال و دولت کی حرص تھی۔ اس لئے مختلف طریقوں سے روپیہ حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔ سب سے پہلے کتابوں کو لکھنے اور فروخت کرنے کی سبیل بنائی اور ساتھ ہی اسلام کی خدمت کرنے کے بہانے سے چندہ حاصل کیا اور پھر مختلف دعاوی شروع کر دیئے۔ مجدد، مہدی، مثیل مسیح، پھر مسیح، ظلی نبی، بروزی، غیر شرعی نبی، مامور، نذیر قسم کے گول مول الفاظ سے مسلمانوں کو دھوکہ دیتا رہا۔
١٨
شہرت کی ہوس میں کرشن، جے سنگھ بہادر، رودر گوپال اور کرشن اوتار بنا۔ کشف الہام، خواب کو بنیاد بنا کر مختلف قسم کے جھوٹے دعاوی کرتا رہا جو بعد میں اس کی ذلت کے باعث بنے۔ ملاحظہ ہو:
”مسیح آ گیا ہے اور وہ وقت آتا ہے۔ بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نند رام چندر پوجا جائے گا نہ کرشن، نہ عیسیٰ علیہ السلام۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)
”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا میں کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ (ہندو، عیسائی یہودی، بہائی غیر مسلم وغیرہ) ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔“
(ایام صلح ص ١٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
غلام احمد قادیانی چاپلوسی، خوشامد اور ابن الوقتی کا ماہر ہوتا گیا اور دولت کی فراہمی میں ہر دجل سے کام لیا اور جاسوسی کو (انگریزی حکومت کی) اس نے اپنا مذہب بنالیا۔ ملاحظہ ہو:
”بالاعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے (انگریزی حکومت) گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جانثار یہی فرقہ ہے۔“
(تبلیغ رسالت ص ١٣ ج ٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥)
”سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔۔۔۔۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط تحقیق اور توجہ سے کام لے۔ اپنے ماتحت حکام کو اشارے فرمائے۔ (راز داری سے) کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(تبلیغ رسالت ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
”جو کچھ ہم پوری آزادی کے ساتھ اس گورنمنٹ کے تحت اشاعت میں لا سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز نہیں کر سکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٣٠، خزائن ج ٣ ص ١٣٠)
انگریز کی جاسوسی مسلمانوں کی دل آزاری اور انبیاء اور اسلام کی توہین کے علاوہ اور کون سی خدمت کی۔ اگر ہم برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔
گورنمنٹ برطانیہ کی وفادار فوج
”میری جماعت گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جس کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٢)
١٩
جاسوسی کی ابتدائی تبلیغ
"قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے ایسے نام ہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جاویں جو درپردہ برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ...... ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔"
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٢٧)
"میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن گورنمنٹ عالیہ میری خدمات کی قدر کرے گی۔"
(تبلیغ رسالت ج١٠ ص٢٨، اشتہار ١٨؍ نومبر ١٩٠١ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٤٦)
"غرض میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں۔"
(تبلیغ رسالت ج٦ ص٦٩، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٧١)
تبلیغ کا پول
"سو مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا ہے۔ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔ والد مرحوم کے اثر نے، گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے، خدا تعالیٰ کے الہام نے، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست۔"
(مندرجہ ضمیمہ تریاق القلوب ص ج، خزائن ج١٥ ص٤٩١)
مشترکہ فوائد
"ہمارے فوائد اور گورنمنٹ کے فوائد متحد ہو گئے ہیں۔ جہاں جہاں یہ گورنمنٹ پھیلتی ہے۔ وہاں ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان کھلتا ہے۔"
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ اکتوبر ١٩١٤ء)
نرالہ تعلق
"ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں جو کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں قدم آگے بڑھانے کا موقعہ ملتا ہے۔"
(خطبہ مرزا محمود قادیانی مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٩١٨ء)
غیر ممالک میں امداد
"اگر ہم دیگر ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔"
٢٠
روس میں انگریزی خدمات
”روس میں اگر چہ تبلیغ کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں تبلیغ کرتا ہوں۔ وہاں مجھے لازماً انگریزی حکومت کی خدمات کرنی پڑتی تھی۔“
(مندرجہ الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٢٥، مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٣ء)
افغانستان میں جاسوس
”حکومت افغانستان نے دو احمدیوں پر مقدمہ چلایا کہ وہ برطانیہ کے جاسوس ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣ مارچ ١٩٢٠ء)
تبلیغ کا پہلا زینہ، جاسوس جماعت
”ایک دفعہ برلن (جرمنی) میں احمدیوں نے ایک ٹی پارٹی کا انتظام کیا اور بڑے بڑے آفیسروں کو ٹی پارٹی میں شمولیت کے دعوت نامے بھیجے۔ ایک جرمن وزیر بھی اس پارٹی میں شامل ہوا تو حکومت جرمنی نے اس جرمن وزیر سے جواب طلبی کی کہ برطانیہ کی جاسوس جماعت کی پارٹی میں کیوں شامل ہوئے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٣٣ء)
گورنمنٹ برطانیہ کی پٹھو جماعت
”ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع میں ہی لوگ کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ خوشامد اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے۔ بعض لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٨ ص ٢، مورخہ ١١؍ نومبر ١٩٣٤ء)
جاسوس اور ایجنٹ جماعت
”پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لوگوں کے دل میں اس قدر راسخ تھا کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں۔ آپ کا انگریزی حکومت سے کیا تعلق ہے۔ ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں۔ ایک دفعہ قادیان آئے۔ انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے سٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں۔ ان میں ایک یہ بھی تھی کہ میں نے اس سفر سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ انگریزی گورنمنٹ کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ تو ضروری ہے کہ پہلے جماعت احمدیہ کو کمزور کیا جاوے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ایجنٹ ہے “ (خطبہ محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٣ نمبر ٣١ ص ٧ ،مورخہ ٦؍ اگست ١٩٣٥ء)
٢١
انگریزوں کی فتح ہماری فتح ہے
”جماعت احمدیہ کے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اس جنگ میں انگریزوں کی سلطنت فاتح ہوئی اور خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کی قوم ہماری محسن ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسیح موعود کی دعا زبردست رنگ میں مقبول ہوئی اور صحابہ کی طرح یومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ کا انعام ہمیں عطا ہوا۔“
(اخبار ریویو آف ریلیجنز ج ١٧ نمبر ١٢ ص ٤٦١)
ممالک اسلامیہ انگریزوں کے غلام بن جائیں
”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی ہوں اور حکومت برطانیہ میری تلوار ہے۔......عراق، عرب، شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٤ ص ٩، مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)
تین لاکھ روپیہ
”مجھے اپنی حالت پہ خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے ۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک سے اٹھاتا ہے اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اس نے میری دست گیری کی اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ روپیہ قریب آچکا ہے اور شاید اس سے بھی زیادہ۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
لفافوں میں نوٹ
”اگر میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس سے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو۔ تاکہ معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس مدت میں کھولا گیا۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہ تھی۔ روپیہ کی آمدنی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دے جاتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
علامہ اقبال کا اضطراب
علامہ اقبالؒ مرزا جہنمی قادیانی کی تحریرات پڑھ کر بہت مضطرب ہوئے اور ان کو مجبوراً یہ کہنا پڑا۔
رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد
ترجمہ: غیروں کی دولت کو رحمت شمار کیا اور گرجے، وکلیسا کے گرد ناچ کیا۔
پس ثابت ہوا کہ مرزائیوں اور مرزا قادیانی کا اصل مشن انگریز کی جاسوسی تھا۔
٢٢
خاتم النبیین لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
آئینہ
قادیانیت
مولانا عبدالحلیم الیاسی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف
اجراء نبوت کا فتنہ اتنا سخت فتنہ ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کی وفات کے بعد جب چند مدعیان نبوت نے نبوت کا دعویٰ کیا تو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بلا تامل ان کے اور ان کے متبعین کے کافر و مرتد ہونے کا اعلان فرما دیا اور ان سے جہاد فرمایا۔ اس کے بعد بھی تاریخ اسلام میں کبھی کبھی ایسے فتنے نمودار ہوتے رہے اور آخر کار کیفر کردار کو پہنچے۔
زمانہ حال کے دو فتنوں میں سے ایک فتنہ ایران کے بہاء اللہ کے دعویٰ نبوت کا ہے اور دوسرا قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کا ہے۔ مغرب کی استعماری و سامراجی طاقتوں میں سے زار روس نے اپنے وقت میں بہائیوں کو عشق آباد میں پناہ دی اور پروان چڑھنے کے مواقع بہم پہنچائے اور ہندوستان میں انگریزوں نے قادیانیت کی سرپرستی کی اور اسے پھلنے پھولنے کے مواقع دیئے۔ اس فتنہ کے خلاف علمائے وقت نے خوب خوب قلمی جہاد کیا۔ تقریریں ہوئیں، بحثیں ہوئیں۔ مناظرے ہوئے۔ لیکن فتنہ کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ گرفت میں بڑی مشکل سے آتا ہے اور یہی حالت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیچ در پیچ دعوؤں اور ان کے مریدین کی الجھی ہوئی تاویلات کی تھی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ؎
کے مصداق حضرت پروفیسر مولانا محمد الیاس برنیؒ نے قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد شروع فرمایا اور آپ کی مساعی بالآخر مشہور کتاب قادیانی مذہب اور قادیانی تحریک سے متعلق چند رسالوں کی شکل میں نمودار ہوئیں۔ ان تصنیفات نے مسلمانوں کے سامنے قادیانی مذہب کا پول کھول دیا اور مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ قادیانی مذہب کی اصلیت کیا ہے، حقیقت کیا ہے، مدعا کیا ہے، انجام کیا ہے۔
حضرت موصوف کی یہ کتابیں کچھ عرصہ سے کم یاب ہیں۔ حال میں دکن میں چند خاص مقامات پر قادیانی تحریک حرکت میں آئی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ ان مقامات اور اطراف اکناف کے مسلمانوں کو قادیانیت کی حقیقت سے واقف کرا دیا جائے۔ میرے استاد محترم مولوی عبد الحلیم صاحب حضرت مولانا الیاس برنیؒ کے بڑے فیض یافتہ مرید خاص ہیں۔ آپ نے ابھی
٢
حال میں مولانا الیاس برنی کے ملفوظات کا ایک مجموعہ مرتب کر کے ”قول طیب“ کے نام سے شائع فرمایا ہے۔ جسے خاص و عام میں بہت حسن قبول حاصل ہوا۔
میں نے اور بعض دیگر احباب مولوی نجم الہدیٰ صاحب اور حاجی اسحاق سیٹھ صاحب نے عبدالحلیم صاحب موصوف سے خواہش کی کہ قادیانی تحریک سے متعلق معلومات پر مشتمل ایک ایسا مختصر رسالہ مرتب فرمائیں کہ سرسری نظر میں قادیانیت کے خدوخال مسلمانوں کے سامنے آجائیں۔ وقت بہت کم تھا۔ تاہم صاحب موصوف نے اپنا قیمتی وقت صرف کر کے یہ رسالہ مرتب فرمایا ہے۔ جس میں نہایت سنجیدگی اور متانت سے قادیانی مذہب کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رسالہ کو اہل سنت والجماعت کمیٹی یادگیر کی طرف سے شائع کیا جارہا ہے۔ مقصد یہ کہ اس رسالہ کے مضامین کو مساجد و مجالس میں پڑھ کر سنایا جائے۔ تاکہ جو مسلمان اس فتنہ کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ باخبر اور ہوشیار ہو جائیں۔
والسلام! خادم: عبدالصمد افغانی یادگیر ضلع گلبرگہ، ١٦؍ نومبر ١٩٦٣ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم ٠ خاتم النبیین ٠ رحمة للعالمین ٠ بالمؤمنین رؤف رحیم!
تمہید
قادیانی تحریک کے متعلق مرشدی ومولائی حضرت الیاس برنی کی مشہور تالیف ”قادیانی مذہب“ تحقیق کے اعتبار سے سند مانی جاتی ہے۔ ترتیب وتہذیب کے اعتبار سے بے نظیر تسلیم کی جاتی ہے اور جامعیت کے اعتبار سے قادیانیت کی ”انسائیکلو پیڈیا“ کہلاتی ہے۔ قادیانی تحریک کیا ہے۔ اس کا مقصد ومنشاء کیا ہے۔ انجام کیا ہے اور مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنے کی کس درجہ ضرورت ہے۔
قادیانی لٹریچر کی خصوصیات
قادیانیت تمام تر تحریف وتدلیس کا عبرت ناک کرشمہ ہے۔ جس نے مرزا قادیانی کو نبی رسول بنا دیا۔ مزعومہ قادیانی وحی کو قرآنی وحی کے ہم پلہ بنا دیا اور خود قادیان کو مکہ معظمہ کے ہم مرتبہ بنا دیا۔ بلکہ قادیان کو قرآن میں لکھا ہوا کشفا مرزا قادیانی نے دیکھ لیا۔ قادیانی لٹریچر کی خصوصیات ہیں۔ طول کلام، التباس وابہام، لفظی ہیر پھیر، اختلاف کے ڈھیر، کہیں اقرار، کہیں
٣
انکار، کہیں دعویٰ، کہیں فرار، پراگندہ تکرار، سخن سازی کی بھرمار، تاویلات کے انبار، بحیثیت مجموعی قادیانی لٹریچر ایک بھول بھلیاں بن گیا۔ قرآن میں، حدیث میں، تفسیر میں، اکابر امت کی تصانیف میں کس خوبی اور کس بے باکی سے کتر بیونت کی گئی۔ تب کہیں اس مذہب کی صورت پیدا ہوسکی۔ اگر اس کا نام ہی کتر بیونت رکھ دیا جائے تو اسم بامسمّی ہوگا۔ اسی وقت کے مدظلہ مولانا محمد الیاس برنیؒ نے مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء اور قادیانی اکابر کی کتابوں کا مطالعہ کر کے ان کے اصول و مسائل کو محاسبہ کے طور پر کتاب ”قادیانی مذہب“ کے نام سے شائع فرما دیا کہ دنیا پر قادیانیت کا پول کھل گیا۔
اسلام میں اخوت و اتحاد کی جس قدر تعلیم و تاکید ہے۔ کسی دوسرے مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حالات زمانہ بھی سخت متقاضی ہیں کہ مسلمان آپس میں متفق و متحد ہو جائیں۔ فرقوں کی تفریق گھٹائیں۔ بلکہ ہو سکے تو تفریق مٹائیں۔ اللہ ایک، رسول ایک، قرآن ایک، یہی اساس دین ہیں۔ سب مسلمان اسلام کے نام پر ایسے متحد ہو جائیں کہ قرآن کے لحاظ سے گویا فولاد کی دیوار بن جائیں۔ لیکن قادیانیت کی کارگزاری ملاحظہ فرمائیے۔ ایک نیا رسول کھڑا کیا۔ قرآن کریم کے پہلو بہ پہلو وحی کا دروازہ کھولا۔ تمام مسلمانان عالم کو کافر قرار دیا۔ سیاسیات میں قدم جمایا اور اسلامی ممالک میں ریشہ دوانی شروع کی۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیت نے اسلام اور مسلمانوں کے واسطے انشقاق و افتراق کا خطرہ عظیم پیدا کر دیا تھا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ مولانا الیاس برنیؒ نے اپنی تالیفات کے ذریعہ قادیانیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا اور مسلمان ہوشیار ہو گئے۔ قادیانی تحریک سے متعلق حضرت کی ضخیم تالیفات عرصہ سے کم یاب ہیں۔ احباب کا تقاضا ہوا کہ قادیانی مذہب سے متعلق اہم معلومات کا ایک خلاصہ مرتب ہو جائے تاکہ عوام و خواص کو بہ یک نظر قادیانیت کے چہرے کے خدوخال نظر آ جائیں۔ چنانچہ ”آئینہ قادیانیت“ پیش ہے۔ اس رسالہ کی ترتیب میں بیشتر مولانا برنیؒ کی تالیفات سے مدد لی گئی ہے۔ آئندہ بھی حسب ضرورت انشاء اللہ سلسلہ وار رسالے پیش ہوتے رہیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو داخلی و خارجی شر و فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین!
خادم: عبدالحلیم الیاسی، ایم۔اے ١٣٨؍ مسجد پیر پاشا بیرون دروازہ دبیر پورہ حیدرآباد (بھارت) بروز پیر مورخہ ٢٣؍ جمادی الثانی ١٣٨٣ھ، بمطابق ١١؍ نومبر ١٩٦٣ء
٤
باب اوّل ...... مرزا قادیانی کی جسمانی و دماغی صحت
مرزا غلام احمد قادیانی کی جسمانی اور دماغی صحت بہت خراب رہتی تھی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
١...... دائم المرض
”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب، تشنج، دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بعض اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)
٢...... مراق اور کثرت بول
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان ص ٥ نمبر ٢ ج ١، اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ بیماروں کو تندرست بلکہ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ لیکن مسیح موعود یعنی بزعم خود مرزا قادیانی کی نشانی خود امراض ہیں۔ خاص کر مراق اور کثرت بول۔
٣...... ہسٹریا
”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض وقت آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے ایک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی دم نکلتا ہے۔ یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا پریشان ہونا۔ وغیرہ ذالک!“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥، روایت نمبر ٣٦٩)
٥
”ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔“
(اخبار قادیان ج١٠ نمبر ٨٢، مورخہ ٣٠ اپریل ١٩٢٣ء)
٤.......خاندانی اثرات
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مرزا صاحب کے ایک حقیقی ماموں تھے۔ جن کا نام مرزا جمعیت بیگ تھا۔ ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئی اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آ گیا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٢٥، روایت نمبر ٢١٢)
”مراق کے اسباب میں سے سب سے بڑا سبب ورثہ میں ملا ہوا طبعی میلان اور عصبی کمزوری ہے۔ عصبی امراض ہمیشہ ورثہ میں ملتے ہیں اور لمبے عرصے تک خاندان میں چلتے ہیں۔“
(بیاض حکیم نورالدین جلد اول منقول از اخبار پیغام صلح مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٨ء)
٥.......مراق کی ماہیت
”مالیخولیا کی ایک قسم ہے جسے مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے۔ اس سے سیاہ بخارات اڑ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔“
(شرح الاسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا مصنفہ علامہ برہان الدین نفیس)
٦.......مراق کے اسباب
”اکثر یہ مرض (مراق) تنہا رہنے یا زیادہ خوض علم میں کرنے یا محنت شدید یا ریاضت شدید یا مجاہدہ نفس سے پیدا ہوتا ہے۔“
(تذکرۃ الاوفاق فی علاج المراق ص ٦٠)
٧.......علامات مرض
”مریض ہمیشہ سست و متفکر رہتا ہے۔ اس میں خودی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر بات میں مبالغہ کرتا ہے۔ بھوک نہیں لگتی، کھانا ٹھیک طور پر ہضم نہیں ہوتا۔“
(مخزن حکمت مصنفہ شمس الاطباء حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی طبع دوم)
”بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے...... اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔“
(شرح الاسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا مصنفہ علامہ برہان الدین نفیس)
٦
”مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہو جاتے ہیں جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
٨...... ہسٹریا اور دعویٰ الہام
”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
٩...... خبیث چیزیں
”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔ پس اس طرح جب میں نے خدا پر توکل کیا تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤)
توکل کی بات تو عامۃ الناس کو سنانے کی چیز تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ صرف افیون بلکہ ٹانک وائن (مقوی شراب) اور سنکھیا بھی استعمال فرماتے تھے اور لطف یہ کہ اپنے مریدان خاص کو باور کراتے تھے کہ افیون جسے خود انہوں نے خبیث چیز لکھا ہے۔ اسے شریک کر کے دوا کا نسخہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے تحت تیار کرایا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ کا ارشاد ملاحظہ ہو:
١٠...... افیون کا استعمال
”افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دوا نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہیں ...... حضرت مسیح
٧
(مرزا قادیانی) نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج١٧ نمبر ٦ مورخہ ١٩؍جولائی ١٩٢٩ء)
١١....... ٹانک وائن کی فرمائش
اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام! مرزا غلام احمد عفی عنہ
(خطوط امام بنام غلام ص٥، مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی)
١٢....... ٹانک وائن کا فتویٰ
ٹانک وائن کے متعلق قادیانی فتویٰ قابل ملاحظہ ہے: ”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریدوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لئے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لئے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے۔ نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطباء یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندرین حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی تھا تو اندرین حالات بطور علاج پی بھی لی ہو تو کیا قباحت لازم آگئی۔“
(اخبار پیغام صلح ج٢٣ نمبر ١٥ مورخہ ٤؍مارچ ١٩٣٥ء، ج٢٣ نمبر ٦٥، مورخہ ١١؍اکتوبر ١٩٣٥ء)
٨
اوپر کی تحریروں سے ظاہر ہے تھی۔ دیگر عوارض کے علاوہ ہسٹریا اور مرا جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کا حال اکا کے ساتھ افیون اور ٹانک وائن کے استع کا کام کیا۔ جس کے نتائج مختصراً آئندہ اور
١٣....... حیض بچہ ہو گیا
”اسی طرح میری کتاب (ا صاحب کی نسبت یہ الہام ہے۔ یعنی بابو ا پر اطلاع پائے۔ مگر خدائے تعالیٰ تجھے ا نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو معر
١٤....... مرزا قادیانی کا حمل
”حضرت مسیح موعود نے ایک پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عو فعل ) کا اظہار فرمایا ہے۔“ ”مریم کی طرح عیسیٰ کی رو ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو در عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن
١٥....... قادیانیت میں خدا کا تص
”قیوم العالمین (اللہ تعالیٰ ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعدا طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضاء ہو کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس لازمی امر ہوگا۔“
اوپر کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی جسمانی اور دماغی صحت کی کیا کیفیت تھی۔ دیگر عوارض کے علاوہ ہسٹریا اور مراق کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور ان بیماریوں کے مریض کی جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کا حال اکابر اطباء کی تحریرات سے اوپر درج ہو چکا ہے۔ ان امراض کے ساتھ افیون اور ٹانک وائن کے استعمال سے اس ذہنی کیفیت کو جو تقویت ملی۔ اس نے دو آتشہ کا کام کیا۔ جس کے نتائج مختصراً آئندہ اوراق میں قابل ملاحظہ ہیں۔ دعووں کی شکل میں۔
١٣.......حیض بچہ ہوگیا
”اسی طرح میری کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) میں بابوالہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے۔ یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدائے تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔ جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
١٤.......مرزا قادیانی کا حمل
”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت (مردمی کے فعل) کا اظہار فرمایا ہے۔“
(ٹریکٹ نمبر ٣٤، اسلامی قربانی ص ١٢)
”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام ......مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
١٥.......قادیانیت میں خدا کا تصور
”قیوم العالمین (اللہ تعالیٰ) ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بیشمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض وطول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔ جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس حرکت کے ساتھ اس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہوگا۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
٩
”انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٣٩)
”انت من ماء نا وهم من فشل تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ بزدلی سے ۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)
میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے کہا: ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
باب دوم ...... مرزا قادیانی کے معاملات
مرزا قادیانی کے بچپن اور جوانی کے جو واقعات مستند ذرائع سے ہم تک پہنچے ہیں۔ ان میں سے چند واقعات مختصراً یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ جن سے اندازہ ہوگا کہ ان کے عادات واطوار کیسے تھے اور ان کی دیانت وامانت داری کا کیا معیار تھا۔
١...... جیبوں میں نمک
”بیان کیا مجھ سے والدہ نے کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) سناتے تھے کہ جب میں بچہ تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھ سے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا (شکر) اپنی جیبوں میں بھر کر باہر آ گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ چونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٢٤٤، روایت نمبر ٢٤٤)
٢...... روپیہ اڑانا
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھرتا رہا۔ پھر جب آپ (مرزا قادیانی) نے
١٠
سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ (شرم سے یا ڈر سے۔ للمؤلف) اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء یہ تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔ (یعنی پندرہ روپیہ ماہوار پر۔ للمؤلف)“
”والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چارے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا۔ مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچالیا۔ ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا۔ ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ (گویا مرزا قادیانی کا روپیہ اڑانا اور امام الدین کا ڈاکہ مارنا تو کوئی عیب ہی نہ تھا۔ للمؤلف)“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٤٣، روایت نمبر ٤٩)
دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا قادیانی کی جو مالی حالت تھی اور اس کے بعد مریدوں کے چندوں سے دولت وثروت میں جو اضافہ ہوا۔ اس کا حال مرزا قادیانی خود اس طرح بیان کرتے ہیں: ”ہماری معاش اور آرام کا تمام دارومدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر تھا...... مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک سے اٹھاتا ہے اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔..... اگر اس میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ ہزارہا روپیہ کی آمدنی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان آ کر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١، ٢٢٢)
مرزا قادیانی کو مریدوں سے جو آمدنی ہوتی تھی۔ اسے وہ اپنے اہل وعیال پر بھی خرچ کرتے تھے اور بے دریغ صرف کرتے تھے۔ لیکن جب مرزا قادیانی کی آمدنی پر انکم ٹیکس لگایا گیا تو مرزا قادیانی نے تحصیلدار بٹالہ ضلع گورداسپور کے سامنے صاف بیان دے دیا کہ مریدوں سے ان کو جو آمدنی ہوتی ہے وہ ان کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی۔ اس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ ہو: ”اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مہدی مسعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنی زندگی میں اپنے اہل وعیال اور
١١
اقارب کو اسی آمدنی میں سے خرچ دیتے تھے جو جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہوتی تھی یا کسی اور سبیل سے۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) اسی آمد سے خرچ دیا کرتے تھے۔ پس آپ کے بعد انجمن (احمدیہ قادیان) کا فرض ہے کہ ان کو اسی آمد میں سے اسی انداز پر دیں جس طرح حضرت مسیح موعود دیتے تھے۔ کیونکہ انجمن مسیح موعود سے بڑھ کر امین نہیں ہو سکتی۔‘‘ (مریدوں کو بھی بہر حال مرزا قادیانی کا معیار امانت برقرار رکھنا لازم تھا۔ للمؤلف) (اظہار حقیقت ص ١٣ مورخہ ٢٨ نومبر ١٩١٣ء جس کو قادیانیوں کی انجمن انصار اللہ قادیان نے شائع کیا)
ایک اور شہادت ملاحظہ ہو: ”لدھیانہ کا ایک شخص تھا۔ جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ بھیجتی ہے۔ مگر یہاں بیوی صاحبہ (مرزا قادیانی کی بیوی) کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا اس پر حرام ہے کہ وہ ایک حبہ بھی سلسلہ کے لئے بھیجے اور پھر دیکھے کہ خدا کے سلسلہ کا کیا بگاڑ سکتا ہے اور آپ نے فرمایا کہ اس سے کبھی چندہ نہ لیا جائے۔ حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوٰی سے بھی پہلے آپ سے تعلق رکھتا تھا۔“ (جب ہی تو بے تکلفی کا مزا چکھا۔ للمؤلف)
(الفضل قادیان ج ٢٦ نمبر ٢٠، مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء)
مزید شہادت ملاحظہ ہو:
٣...... خانگی زندگی
’’اور جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے کڑیا نوالے کی طرف جارہے تھے اور جناب نواب خان صاحب تحصیلدار کے ٹانگے پر ہم تینوں سوار تھے۔ کو چوان اور خواجہ کمال الدین آگے تھے۔ میں (یعنی سید سرور شاہ صاحب اور جناب محمد علی صاحب) پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تو خواجہ صاحب نے یہ فرما کر کہ راستہ باتوں میں طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں۔ آپ جواب دیں۔ سوال شروع کیا۔ صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا۔ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب
١٢
ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں۔ وہاں ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھو اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں بھیجیں۔ اس پر خواجہ (کمال الدین کرتے ہو۔ مگر تمہارا وہ جواب میرے زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا ہو رہا تھا کہ غضب خدا نازل ہورہا عرض کرتا تھا کہ مولا کریم میں اس مجبور ہوں۔ بس تیرا غضب جو نازل
مرزا قادیانی اس آمدنی وہ خود علیحدہ ہو جائیں تو سب آمدنی
٤...... مالی مناقشے
’باقی آپ سے (یعنی م محمود احمد ابن مرزا غلام احمد قادی (مرزا قادیانی) زندہ رہتے تو ان مولوی محمد علی لاہوری) اندر ہی اندر انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا حضرت صاحب نے اپنی وفات کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا ن آج خواجہ صاحب، مولوی محمد علی ک خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہڑ
ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں۔ وہاں انہوں نے اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو۔ ہم نے قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آئیں گی۔ پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔ اس پر خواجہ (کمال الدین) صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو۔ مگر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا...... ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ غضب خدا نازل ہو رہا ہے اور میں متواتر دعاء میں مشغول تھا۔ بار بار جناب الٰہی میں یہ عرض کرتا تھا کہ مولا کریم میں اس قسم کی باتوں کے خلاف ہوں۔ اس مجلس سے علیحدہ ہو جاتا مگر مجبور ہوں۔ بس تیرا غضب جو نازل ہو رہا ہے اس سے مجھے بچانا۔"
(کشف الاختلاف ص ١٣)
مرزا قادیانی اس آمدنی پر اپنا حق اس لئے سمجھتے تھے کہ وہ خود ذریعہ آمدنی ہیں اور اگر وہ خود علیحدہ ہو جائیں تو سب آمدنی بند ہو جائے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
٤...... مالی مناقشے
"باقی آپ سے (یعنی مولوی حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اوّل سے) میں (یعنی میاں محمود احمد ابن مرزا غلام احمد قادیانی) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابتلاء اگر حضرت (مرزا قادیانی) زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا۔ کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی لاہوری) اندر ہی اندر تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) سے حساب لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب، مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آ کر آپ
١٣
نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق۔ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدنی بند ہو جائے۔
پھر خواجہ صاحب نے ایک اور ڈپیوٹیشن کے موقعہ پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا۔ مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت (مرزا قادیانی) آپ تو خوب عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو۔ جس کا جواب مولوی محمد علی نے یہ دیا کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہو سکتا۔ مگر بشریت ہے۔ کیا ضرور میرا ان باتوں کے لکھنے سے یہ مطلب تھا کہ یہ ابھی بات شروع نہیں ہوئی۔ بلکہ حضرت اقدس کے زمانے سے ہے۔ وہ (یعنی مرزا قادیانی) لنگر کا چندہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ آپ نے وہ بھی ان کے (یعنی خواجہ صاحب وغیرہ) کے حوالے کر دیا۔ اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور بھی سب کچھ چھینو۔ باقی رہا ان کا تقویٰ وہ تو ان کے بلوں اور بجٹوں سے بہت کچھ ظاہر ہو سکتا ہے کہ جس پر شور مچا رہے ہیں وہ کام روزمرہ کرتے ہیں۔“
(میاں محمود احمد کا خط بنام مولوی نور الدین خلیفہ اول، مندرجہ حقیقت اختلاف ص ٥٠)
اس خط کے آخری فقرہ سے میاں صاحب کی گھبراہٹ جو ان کو اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ سب کچھ انجمن کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، جا رہا ہے، کسی قدر عیاں ہے۔ حضرت مولوی (نورالدین) کا بھی یہی بڑا قصور قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے لنگر کا چندہ بھی انجمن کے حوالے کر دیا اور اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور سب کچھ چھینو...... مگر یہ سب کچھ چھین کر ہم کہاں لے جا رہے ہیں۔ کیا اپنی جائیداد بڑھا رہے تھے یا قوم پر ہی صرف کر رہے تھے...... ہاں میاں (محمود احمد) کی ذاتی جائیداد بے شک بہت بڑھ گئی ہے اور مریدوں کے بھی مکانات بن گئے ہیں۔“
(حقیقت اختلاف ص ٢٤)
ان تمام شہادتوں سے ظاہر ہے کہ چندوں کی آمدنی خود مرزا قادیانی کے اہل وعیال اور انتظام خانہ داری پر بھی خرچ ہوتی تھی۔ اب مرزا قادیانی کا وہ بیان ملاحظہ ہو جو انہوں نے عذرداری انکم ٹیکس کی کارروائی میں تحصیل دار بٹالہ کے سامنے دیا تھا۔
٥...... املاک، آمدنی اور خرچ
”اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی کل املاک منقولہ وغیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہوگی۔ عیسائیوں کو دے دوں گا۔“
(اشتہار مورخہ ١٤؍دسمبر ١٨٩٦ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٥ ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٥١)
١٤
”مرزاغلام احمد پر امسال سات ہزار دو سو روپیہ اس کی سالانہ آمدنی قرار دے کر ایک سو بیاسی روپیہ اٹھ آنے انکم ٹیکس قرار دیا گیا۔ اس کی عذرداری پر اس کا بیان خاص موقع پر قادیان میں جب کہ کمترین بتقریب دورہ اس طرف گیا، لیا گیا اور تیرہ کس گواہان کی شہادت قلمبند کی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بیان حلفی میں لکھوایا کہ اس کو تعلقہ داری زمین اور باغ کی آمدنی ہے۔ تعلقہ داری کی سالانہ تخمیناً ستاسی روپیہ دس آنے کی۔ زمین کی تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ اور باغ کی سالانہ دوسو تین سو روپیہ چار سو روپیہ اور حد درجہ پانسو روپیہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی اور قسم کی آمدنی نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تقریباً پانچ ہزار دوسو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے۔ ورنہ اوسط سالانہ آمدنی تقریباً چار ہزار روپے کی ہوتی ہے۔ وہ پانچ مدوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔ خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی۔ خرچ اور آمدنی کا حساب باضابطہ کوئی نہیں ہے۔ صرف یادداشت سے تخمیناً لکھوایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کی ذاتی آمدنی باغ، زمین اور تعلقہ داری کی اس کے خرچ کے لئے کافی ہے اور اس کو کچھ ضرورت نہیں ہے کہ وہ مریدوں کا روپیہ ذاتی خرچ میں لاوے۔“ (رپورٹ تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ ضلع گورداسپور مورخہ ٣١ اگست ١٨٩٨ء، مندرجہ ضرورۃ الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٥١٦)
پیدائش دولت اور صرف دولت کے متعلق مرزا قادیانی اور ان کے معتبر اکابر، مریدین کے مستند بیانات اوپر درج ہوئے اور انکم ٹیکس افسر کی سرکاری تحقیقات میں مرزا قادیانی نے جو حلفیہ غلط بیانی کی ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کا معیار امانت ودیانت اظہر من الشمس ہے۔ قرآن نے تو نبی، رسول کی شان ”صدیق امین“ بیان فرمائی ہے۔ لیکن جناب مرزا قادیانی کے ذاتی بیانات اور ان کے اکابر مریدین کی شہادتوں کے لحاظ سے وہ اس کے برعکس ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادیانیوں کو ہدایت نصیب کرے کہ صداقت وامانت کا قرآنی معیار کھل جائے۔ آمین ! (للمؤلف)
باب سوم ...... دینی الفاظ کا چکر
مسلمان، قرآن، حدیث، اسلام اور خاتم النبیین
قادیانی فرقہ تقریر وتحریر میں بے تکلف ان الفاظ سے کام لیتا ہے۔ جس سے مسلمان دھوکہ کھاتے ہیں کہ گویا ان کے یہ الفاظ اسلامی اصطلاحات کے عین مطابق ہیں۔
١٥
١...... مسلمان کا مفہوم
قادیانی اپنی تحریر وتقریر میں بالعموم مسلمانوں کو مسلمان کہتے ہیں تو مسلمان سمجھتے ہیں کہ قادیانی درحقیقت ان کو مسلمان مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ آئی کہ زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ۔ لفظ کچھ ہے اور معنی کچھ۔ چنانچہ لفظ مسلمانوں کی قادیانی تفسیر سنئے اور بے داد کی داد دیجئے۔ (المؤلف)
مسلمان را مسلمان باز کردند
(حقیقت الوحی ص ١٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
”اس الہامی شعر میں (یہ مرزا قادیانی کا شعر ہے۔ للمؤلف) اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر واسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل سکتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔ آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو۔ اس سے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“
(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٢٣،١٢٤)
”مجھے الہام ہوا ہے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٧٥)
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
٢...... ذریۃ البغایا مسلمانوں کو گالیاں
”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من
١٦
معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون ”ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر بدکار رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
گویا جو مسلمان مرزا قادیانی کی دعوت کی تصدیق نہ کریں۔ بدکار، رنڈیوں کی اولاد ہیں۔ مرزا قادیانی کی تحریرات میں گالیاں کمیاب نہیں وہ عادت سے مجبور تھے۔ ان گالیوں سے مرزا قادیانی کی اخلاقی و دماغی مرتبت کا صاف اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس حد تک ایک شریف انسان ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے۔ اب قادیانی صاحبان ”بغايا“ کے لفظ کی تاویل کرنے لگے ہیں کہ کہیں مسلمانوں کے دل میں بیٹھ گئی تو بڑی مشکل ہو گی۔ مشہور عربی لغت ”لسان العرب“ میں اس کے معنی ملاحظہ ہوں:
ترجمہ: بغایا باندیوں کو کہتے ہیں۔ کیونکہ بدچلنی ان کا شیوہ تھا۔ پھر کثرت استعمال سے بالآخر اس کا اطلاق بالعموم فاجرات یعنی بدچلن عورتوں پر ہونے لگا۔ خواہ باندیاں ہوں خواہ آزاد۔
پھر قرآن میں سورۂ مریم رکوع :٢ ملاحظہ ہو: ”قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغياً“ مستند ترجمہ شاہ رفیع الدین دہلویؒ یہ ہے: ”(مریم) بولی کہاں سے ہوگا میرا لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور کبھی نہ تھی میں بدکار،“
اور مفتی اعظم قادیان مولا نا سید محمد سرور شاہ قادیانی کا ترجمہ قرآن ملاحظہ ہو: ”اس نے کہا میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی نے نہیں چھوا اور نہ میں بدکار تھی۔“
٣...... قرآن
”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
٤...... قادیانی قرآن
”اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہ ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
١٧
٥.......حدیث
جب مرزا قادیانی نے اپنے الہامات کو قرآن کے مساوی قرار دے دیا تو پھر ان کے سامنے جو حدیث مفید طلب نظر آئی، قبول کر لی۔ خواہ کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو اور جو خلاف مطلب نظر آئی رد کر دی۔ خواہ وہ کتنی ہی مستند ہو۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی کہتا ہے: ”اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)
٦.......اسلام
قرآن وحدیث کا قادیانی قلوب میں جو رتبہ ہے معلوم ہوا۔ اب اسلام کو لیجئے کہ اس کی اشاعت کا قادیانی فرقہ بہت اعلان کرتا رہتا ہے۔ احسان جتاتا ہے۔ لیکن اسلام کا نام ہے۔ قادیانیت کا کام ہے۔ چنانچہ اسلام کے متعلق قادیانی تشریح ملاحظہ ہو:
”عبداللہ کولیم نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویب نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ (یعنی مرزا قادیانی) نے مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ کہ جس اسلام میں آپ پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں اسے آپ اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفۂ اوّل (حکیم نور الدین) نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا (قادیانیوں کا) اسلام اور ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٨٥، مورخہ ٣١؍ دسمبر ١٩١٤ء)
”ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود کے پاس رہ کر اندر یا باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے۔ پس اس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود لایا۔“
(منصب خلافت تقریر میاں محمود احمد قادیانی ص ٢٠)
٥.......خاتم النبیین
قادیانی جماعت جب خاتم النبیین کا ذکر واعلان کرتی ہے تو اس کا منشاء اجراء نبوت کا قادیانی عقیدہ ہوتا ہے اور مسلمان ختم نبوت کا اسلامی عقیدہ سمجھ کر قادیانی تقریر وتحریر سے دھوکا
١٨
کہلاتے ہیں۔ قادیانی فرقہ میں دو جماعتیں ہیں۔ ایک قادیانی جماعت۔ دوسری لاہوری جماعت۔ قادیانی جماعت تو مرزا قادیانی کو عقیدہ کی بناء پر کھلم کھلا نبی رسول مانتی ہے اور ان کے منکر کو کافر قرار دیتی ہے۔ لیکن لاہوری جماعت مرزا قادیانی کو مہدی موعود اور مسیح موعود تو برحق مانتی ہے۔ البتہ مرزا قادیانی کے نبی رسول ہونے کی تاویل کرتی ہے۔ منافقت اور مصلحت کی بناء پر مسلمانوں کو کافر نہیں ٹھہراتی اور ان سے جدا ہونا نہیں چاہتی۔
نبی کریم ﷺ کی ایک خاص شان قرآن کریم نے خاتم النبیین بیان فرمائی ہے۔ مسلمانوں کو تو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ابتداء میں پختگی سے اسی عقیدہ پر قائم تھے۔ لیکن بعد کو جب خود ان کی نبوت کی تحریک شروع ہوئی تو قادیانی تحریک کے تحت طبع آزمائیاں شروع ہوئیں۔ اس کی تفصیل کتاب ”قادیانی مذہب“ میں موجود ہے۔ مختصراً قادیانی تضاد ملاحظہ ہو:
٨....... ختم نبوت پر ایمان
”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ’لا نبی بعدی‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے۔ اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“
(ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، ٣٩٣)
٩....... اجراء نبوت
”اللہ جل شانہٗ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
”نبی کریم خاتم النبیین کیا ہوئے۔ جب کسی انسان پر آپ کی نبوت کی مہر نہ لگی اور
١٩
آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ اگر آپ کی امت میں کوئی نبی نہیں ہے تو آپ خاتم النبیین بھی نہیں ہیں ۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٥١ مورخہ ١٠ جون ١٩١٥ء)
’’وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے ...... اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرت کی قوت قدسی کچھ بھی نہ تھی۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٣ء)
’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے ....... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار بدر قادیان مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء منقول از حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢ ضمیمہ نمبر ٣)
١٠...... مرزا کرشن
’’ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے۔ جس کو رو در گوپال بھی کہتے ہیں۔ (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریا قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں ۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
تاہم جب مرزا قادیانی نبی بنے تو ان کے امتی اپنا حصہ کیوں چھوڑنے لگے۔ چنانچہ اسی قادیانی اصول کے تحت نبوت کا دروازہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور مختلف قادیانیوں نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ مثلاً چن بسویشور وغیرہ۔
١١...... مرزا قادیانی خود حضرت محمد رسول اللہ
رفتہ رفتہ جب نبوت کچھ چل نکلی تو دعویٰ کیا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ جو قادیان میں دوبارہ آئے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٠١ء)
’’تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتار تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص ١٠٥ نمبر ٣ ج ١٤)
٢٠
١٢...... رسول اللہ پر فضیلت
اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ د خسف القمر المنیر وان لی کریم ﷺ کے) لئے (صرف) چاند گر (کے گرہن) کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
’’قرآن شریف کے لئے تیـ سے نازل ہوا اور صحابہؓ کے ذریعہ اس ۔ سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے ..... آنحضـ اور صحابہؓ کے وقت میں اس کے ہر ایک اس کے روحانی فضائل واسرار کے ظہور کـ
’’ہمارے نبی کریم ﷺ کی ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت ۔ فرمائی۔‘‘
محمد پھر اور ہیں آپـ محمد دیکھنے غلام احمد
تاہم جب مرزا قادیانی چنانچہ اسی قادیانی اصول کے تحت نبو نبوت کا اعلان کر دیا۔ مثلاً چن بسویـ مثالیں ملاحظہ ہوں ۔
’’حضرت مسیح موعود (مر
١٢......رسول اللہ پر فضیلت
اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ دعویٰ بڑھتا ہی گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”لــــــه خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان اتنکر“ اس کے (نبی کریم ﷺ کے) لئے (صرف) چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں (کے گرہن) کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
”قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں۔ وہ سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہؓ کے ذریعہ اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے ...... آنحضرت ﷺ کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہؓ کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل واسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٢ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٦)
”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧ تا ١٧٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٨، ٢٦٩)
اور ہیں آگے سے بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩١٦ء)
تاہم جب مرزا قادیانی نبی بن گئے تو ان کے امتی اپنا حصہ کیوں چھوڑنے لگے۔ چنانچہ اسی قادیانی اصول کے تحت نبوت کا دروازہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور مختلف قادیانیوں نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ مثلاً چن بسویشور صدیق دیندار وغیرہ۔ آنحضرت ﷺ پر فضیلت کی مزید مثالیں ملاحظہ ہوں ۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا ......
٢١
اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔۔۔۔۔ لوگ اعلیٰ تربیت کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ جن کا جواب بغیر ذہنی ترقی کے مشکل تھا۔ تلوار کے جہاد کی بجائے قلمی جہاد کا وقت تھا۔‘‘
(مندرجہ رسالہ الفضل قادیان بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء)
’’تین ہزار معجزات ۔۔۔۔۔۔ ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
’’میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
اللہ تعالیٰ کے سچے رسول اور نبی ، محمد رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا عبد یعنی بندہ اور رسول کہا۔ لیکن مرزا قادیانی نے ادعائے نبوت ہی پر اکتفاء نہ کیا ۔ بلکہ اپنے آپ کو بمنزلہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کے قرار دیا۔
نعوذ باللہ من ذالک ! چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام ہے : ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
١٣...... صاحب کتاب
مرزا قادیانی نے جب ابتداء میں نبوت کا دعویٰ کیا تو مسلمانوں سے یہ کہا کہ میں قرآن اور شریعت محمدی کے سوا کوئی نئی چیز پیش نہیں کرتا۔ لیکن یہ چیز ذہنی بہلاوے کے سوا کچھ نہیں تھی ۔ کیونکہ رسالت سے مراد ہی صاحب وحی الٰہی ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ وحی الٰہی واجب التعمیل ہوتی ہے۔ چنانچہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا قادیانی صاحب کتاب بھی بن گئے۔ ملاحظہ ہو:
’’حضرت مسیح موعود اپنی وحی اپنی جماعت کو سنانے پر مامور ہیں۔ جماعت احمدیہ کو اسی وحی پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ وحی اللہ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے۔ ورنہ اس کا سنانا اور پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا۔ جب کہ اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو۔ یہ شان بھی صرف انبیاء ہی کو حاصل ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن میں یہ ہی حکم ملا اور ان ہی الفاظ میں ملا اور بعد حضرت احمد (مرزا قادیانی) کو ملا۔ پس یہ امر بھی آپ (مرزا قادیانی) کی نبوت کی دلیل ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی نمبر ٢٥، بابت ١٩١٩ء موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ٢٨)
٢٢
”خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے بہئیت مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین فرمایا ہے اور جدا جدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ حضرت (مرزا قادیانی) کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا۔ پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلا سکتی ہے اور مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین کہہ سکتے ہیں۔ پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے۔ خواہ وہ کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی اس شرط کو بھی خدا نے پورا کر دیا ہے اور حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کے مجموعہ الہامات کو جو مبشرات اور منذرات میں الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ ولو کره الکافرون“
(رسالہ احمدی نمبر ٥ تا ٧، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص ٤٣، ٤٤)
کتاب سے نوبت شریعت تک آئی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا....... میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی کی شریعت کی جدتیں
- ١٤....... جہاد کی تنسیخ
”مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)
- ١٥....... قادیان میں مسجد اقصیٰ
”پس اس پہلو کی رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت کا سیر کشفی ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے۔
”پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سبحان الذي اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)
٢٣
”اور مسجد اقصیٰ وہی ہے جس کو بنایا مسیح موعود نے ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٩)
١٦...... ارض حرم
”جو احباب واقعی مجبوریوں کے سبب اس موقعہ (جلسہ سالانہ) پر قادیان نہیں آسکے۔ وہ تو خیر معذور ہیں...... لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد واثق کا پاس کیا اور ارض حرم (قادیان) کے انوار و برکات سے بہرہ اندوز ہونے...... کے شوق میں دارالامان مہدی ٹھیک وقت پر آ پہنچے۔ ان کی للٰہیت ان کا اخلاص فی الواقعہ قابل تحسین ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ ص ٧٤، مورخہ ٢٦؍ دسمبر ١٩١٥ء)
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٢)
١٧...... قادیان کا ظلی حج
”چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں۔ حالانکہ ایسی تحریکات پہلے غرباء ہی میں پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا۔ تا وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٦، مورخہ یکم نومبر ١٩٣٢ء)
”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)
١٨...... قادیان کا بہشتی مقبرہ
”صبح کو نماز کے لئے اٹھنے سے کوئی ٢٠، ٢٥ منٹ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک زمین اس مطلب کے لئے خریدی گئی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کی جائیں تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہشتم ص ٤٩٦، ٤٩٧ مرتبہ منظور الٰہی)
”کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھلایا گیا۔ جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور پھر
٢٤
الہام ہوا: ”کل مقابر الارض لا تقابل ھذا الارض“ یعنی زمین ہند کی تمام مقابر اس زمین سے مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ (اللہ رے جسارت اور گستاخی ۔ ١٢مؤلف)
(مرزا قادیانی کے مکاشفات ص ٥٩)
باب چہارم ...... انبیاء واولیاء امت پر مرزا قادیانی کی فضیلت
١...... مرزا قادیانی کی تدریجی تاویلات وترقیات
مرزا قادیانی پہلے پہل بلا اگر، مگر، بلا چون و چرا، قرآن وحدیث کے مطابق صراحت وبداہت کے ساتھ ”خاتم النبیین“ پر نبوت کا ختم ہو جانا یقین تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ تاویل وتشکیل شروع ہوتی ہے۔ ولایت، مجددیت، محدثیت، لغوی نبوت، اصطلاحی نبوت، باطنی نبوت، جزوی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، امتی نبوت، بالآخر مستقل نبوت کہ اس کی وحی قرآن کریم کے مساوی اور ہم پلہ قرار پائے۔ پھر مکمل نبوت کہ اس کے بغیر نبوت محمدی ناقص رہ جائے اور لازمی نبوت کہ انکار یا تردد سے ہر مسلمان کافر بن جائے۔ بلکہ تمام ناواقف بے خبر مسلمان بھی اس کی برکت سے خود بخود کافر ہو جائیں۔ ختم نبوت کی کیسی انوکھی تفسیر اور ارتقاء نبوت کی کیسی اچھی تصویر ہے۔
ایک وہ زمانہ تھا جب کہ اکابر امت کی خاک پا ہونے پر فخر تھا۔ یا یہ زمانہ آیا کہ اولیاء تو کجا انبیاء بھی نظر میں نہیں بھرتے اور خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو مد مقابل واقع ہوئے ہیں۔ بے حقیقت نظر آتے ہیں۔ خود نبی کریم ﷺ پر اول جزوی فضیلت پاتے ہیں۔ پھر بذات خود قرآنی پیش گوئی ”اسمہ احمد“ کا حقیقی مصداق بن جاتے ہیں اور دیگر عظیم الشان قرآنی مبشرات محمدی کو خاص اپنے سے منسوب بتاتے ہیں۔ قرآن میں قادیان دکھاتے ہیں۔ عجب فضیلت جتاتے ہیں۔ انبیاء سے افضلیت کا یہ حال ہے تو اولیاء امت کو کب خاطر میں لا سکتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف جملہ خلفاء راشدین، اولیاء اللہ پر فضیلت ہی جتاتے ہیں۔ بلکہ ان کی جس درجے تذلیل کرتے ہیں۔ ان سے ہمارا ایمان کانپ اٹھتا ہے۔ پناہ مانگتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک! مختصراً ملاحظہ ہو:
٢...... مرزا قادیانی کی تحریف، قرآن میں قادیان
”اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ : ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“
٢٥
اس جگہ مجھے یاد آیا ہے کہ جس روز وہ الہام مذکور بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے۔ ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن میں لکھا ہوا ہے۔..... تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن میں درج ہے اور میں نے کہا کہ اور تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔ یہ کشف تھا کہ کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧ تا ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٣٩، ١٤٠)
٣......تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
(درثمین ص ١٧٢)
”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب کے سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ ہے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کی خاص صفات کے اور اب ہم (مرزا غلام احمد قادیانی) ان تمام صفات میں حضرت نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں...... نبی کریم نے گویا سب لوگوں سے چندہ وصول کیا اور وہ لوگ تو اپنے اپنے مقامات اور حالات پر رہے۔ لیکن حضرت نبی کریم ﷺ کے پاس کروڑوں روپے ہوگئے اور آپ سب سے بڑھ کر دولت مند ہوگئے۔“ (چندہ کی مثال خوب ہے۔ جس کی دھن میں مرزا قادیانی رات دن رہتے تھے)
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ١٤٢ مرتبہ منظور الہی)
”واتانی مالم یوت احد من العالمین“ (یعنی) مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے کہ دنیا و آخرت میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔ (استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)
٤......حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت
”اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں۔
٢٦
جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو وہ اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے۔ جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“ (گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر معجزے مرزا قادیانی نے دکھلائے۔ للمؤلف)
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
٥...... چومکھی نبوت
”خدا تعالیٰ نے ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ تمام نبیوں کے قائم مقام ایک نبی مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے لئے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں کے لئے محمد اور احمد ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ١١١، مورخہ ٦ مئی ١٩١٦ء)
٦...... تمام اولیائے امت پر فضیلت
”اسلام میں اگرچہ ہزار ہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں۔ مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا۔ لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔“ (یعنی خود مرزا قادیانی)
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣١)
”میں ولایت کے سلسلہ کو خود ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے آنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٦٩، ٧٠)
٧...... حضرت ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت
”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
٢٧
٨....... حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کی تذلیل
”مجھے اہل بیت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا۔ میرے ایک محب تھے جو اس وقت مولوی فاضل ہیں اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بھی اتنی پیشین گوئیاں نہیں جتنی کہ مسیح موعود کی ہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ بولا کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کیا تھا۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔ ان فقروں نے مجھے ایسا دکھ دیا اور ان کے سننے سے مجھے ایسی تکلیف ہوئی کہ میری نظر میں جو توقیر اور عزت اہل بیت مسیح موعود میں سے ہونے کی ان کی نسبت تھی وہ سب جاتی رہی۔“
(المہدی نمبر ٢، ٣، ص ٥، ٧)
حضرت علیؓ کی تذلیل
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو ایک زندہ علی (یعنی مرزا قادیانی۔ للمؤلف) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(اخبار الحکم قادیان نومبر ١٩١٢ء، ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٣١)
١٠....... حضرت امام حسینؓ کی تذلیل
”امام حسینؓ پر فضیلت کے بارے میں کہ ان پر میری فضیلت سن کر یوں ہی غصہ میں آ جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں امام حسینؓ کا نام لیا ہے۔ زید کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہئے تھا کہ امام حسینؓ کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر ”مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ“ کہہ کر اور بھی ابوت (باپ ہونا) کا خاتمہ کر دیا۔ اگر الا حسین اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ کا ہاتھ کہیں تو پڑ جاتا۔“
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ١٩١،١٩٢)
”اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(ایضاً)
صد حسین است در گریبانم
(درثمین ص ١٧١)
٢٨
باب پنجم ...... مرزا قادیانی کی سیاسیات
سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی یہ شان بیان فرمائی ہے کہ: ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله “ یعنی ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اس لئے کہ اس کا حکم مانا جائے۔ اللہ کے فرمان سے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تحریرات اور سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ عمر بھر حکومت برطانیہ کی خوشامد کرتے رہے اور اپنے مریدین اور غیر مریدین سب کو انگریزوں کی محکومیت اور اطاعت کو نعمت سمجھنے کی ترغیب دیتے رہے۔ چنانچہ ایک مقام پر مرزا قادیانی دنیا کے شغلوں سے اپنے ...... علیحدہ ہونے اور خدا کی طرف مشغول ہونے کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
١...... خدا کی طرف مشغولیت
”والد صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزا قادیانی) دنیا کے شغلوں سے بالکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں میں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ، مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ، بلاد شام و مصر اور کابل و افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے جو ناسمجھ ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھا نہ سکا۔“ (یہ خدا کی طرف مشغولیت تھی یا انگریزوں کی طرف۔ للمؤلف)
(ستارہ قیصریہ ص٣،٤، خزائن ج١٥ ص١١٤)
٢...... جوش وفاداری برطانیہ
مرزا غلام احمد قادیانی میں حکومت برطانیہ کی وفاداری کا یہ جوش اور غلبہ ہے کہ جو کوئی
٢٩
ان سے اختلاف کرے وہ اس کو احمق، نادان بلکہ بدکار، حرامی قرار دیتے ہیں۔ اس معیار سے ان کی اخلاقی ذہنیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”بعض احمق نادان سوال کیا کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض ہے اور واجب ہے۔ ان سے جہاد کیسا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک بدکار اور حرامی آدمی کا کام ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
٣...... انگریزوں سے صلہ کی تمنا
انبیاء کرام ”ان اجرى الا على الله“ کے مقام پر فائز رہتے ہیں کہ کسی مخلوق سے اجر کی توقع نہیں رکھتے۔ سوائے اللہ کے وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور اسی سے اجر کے امیدوار۔ لیکن مرزا قادیانی کا مسلک تھا۔ حکومت برطانیہ کی محکومیت غلامی و فرمانبرداری اور اس کے صلہ میں خواہش مند رہے کہ انگریز قادیانی مذہب اور ان کے مریدین ومعتقدین کی سرپرستی کرتے رہیں۔ چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گذرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت، خدمت گذاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھیں...... گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔ ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں۔ ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گذرا ہوگا کہ ہماری خوشامد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں...... لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں ۔ جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکر گذاری اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں تھے۔ ان میں گورنمنٹ کی خوشامد کی کون سا موقع تھا۔ کیا گورنمنٹ نے مجھے مجبور کیا تھا کہ میں ایسی کتابیں تالیف کر کے ان ملکوں میں روانہ کروں اور ان سے گالیاں سنوں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کی قدر کرے گی ۔“ (اس خدمت کی غرض تو خود قدردانی کی آرزو سے ظاہر ہے۔ للمؤلف)
(اشتہار مورخہ ١٨؍ نومبر ١٨٩٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٥، ٢٢٦)
غالب کا ایک شعر ہے۔
انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا
٣٠
٤....... تمنائے جواب
حکومت برطانیہ کے جوش الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ”میں خ خدمت میں بھیجا گیا۔ یہی حالات الا معظمہ کے اخلاص وسیعہ پر نظر رکھ کر میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے ہمدر تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و آتا، ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ ا وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاد دہانی
٥....... فتنہ در فتنہ
فتنوں کی بھی عجیب مج صدی عیسوی کے اوائل میں جب دوائیوں میں مصروف تھیں۔ ہند شروع ہوئی۔ حکومت برطانیہ کو اپن وافتراق پیدا ہو۔ چنانچہ انگریزوں پھیلے اور ملت اسلامیہ کا رہا سہا اتحا نفسیات کا اندازہ لگایا کہ وہ مسلما کی مخالفت اور انگریزوں کی اطاع اس کے معاوضہ میں قادیانیت بہ اس طرح حکومت برطانیہ اور قادی حاجی بگو کا سودا رہا۔ ملاحظہ ہو:
٦....... انگریزوں کی حمایت
”میں اپنی جماعت
٤...... تمنائے جواب
حکومت برطانیہ کے جوش اطاعت میں مرزا قادیانی کے دل پر جو گذری ہے اسے ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ”میں (یعنی مرزا قادیانی) نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصر ہند کی خدمت میں بھیجا گیا۔ یہی حالات اور خدمات اور دعوات گذارش کئے تھے۔ میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاص وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا۔ اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا۔ بلکہ ضرور آتا، ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرۂ ہند کے پُر رحمت اخلاق پر کمال وثوق اسے حاصل ہے۔ اس یاد دہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا۔“ (ستارۂ قیصرہ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٥ ص ١١٥)
٥...... فتنہ در فتنہ
فتنوں کی بھی عجیب عجیب شکلیں ہوتی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں جب یورپ کی استعماری طاقتیں اسلامی حکومتوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھیں۔ ہندوستان میں، جو برطانوی طاقت کا بڑا مرکز تھا۔ قادیانی تحریک شروع ہوئی۔ حکومت برطانیہ کو ایسے ذرائع کی تلاش ہی تھی۔ جس سے مسلمانوں میں اختلاف وافتراق پیدا ہو۔ چنانچہ انگریزوں نے غنیمت سمجھا کہ قادیانیت پھیلے تو مسلمانوں میں نفاق و شقاق پھیلے اور ملت اسلامیہ کا رہا سہا اتحاد پاش پاش ہو جائے۔ مرزا قادیانی نے حکومت برطانیہ کی اس نفسیات کا اندازہ لگایا کہ وہ مسلمان کے جذبہ جہاد سے خائف رہتی ہے تو انہوں نے جہاد بالسیف کی مخالفت اور انگریزوں کی اطاعت گذاری اور فرمانبرداری کی تحریک پھیلانے کا بیڑا اٹھایا تاکہ اس کے معاوضہ میں قادیانیت کے حق میں انگریزوں کی تائید و حمایت و سر پرستی حاصل ہوسکے۔ اس طرح حکومت برطانیہ اور قادیانی تحریک میں چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کا سودا رہا۔ ملاحظہ ہو:
٦...... انگریزوں کی حمایت
”میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود
٣١
ہیں ۔ جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً ٢٦ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٣)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ”ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکر گزار ہیں اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسے ظالم بادشاہ کے حوالے نہیں کیا ۔ جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا۔ بلکہ اس نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطاء کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش اور مہربانی کے مینہ سے ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر اٹھاتی ہے ۔“ (نور الحق حصہ اوّل ص ٤، خزائن ج ٨ ص ٦)
٧...... سرکار انگریزی کی تائید کے آثار
بہر حال جب سرکار انگریزی کی تائید کے آثار قادیانی معاملات میں ظاہر ہونے لگے تو دنیا طلب لوگ جو بالعموم دین کی اہمیت کم سمجھتے ہیں ۔ ترقی کے شوق میں قادیانیت پر گرنے لگے کہ گویا زندگی کی کش مکش خاص کر سرکاری ملازمتوں میں ، سرکاری ٹھیکوں میں اور دوسرے سرکاری کاروبار میں ان کا میدان اور ہموار ہو گیا اور ہر طرف سرکاری محکموں میں قادیانی صاحبان کی آؤ بھگت ہونے لگی۔ چنانچہ دنیا طلب لوگ قادیانیت کی طرف کس طرح لپکے۔ اس کی کیفیت خود مرزا قادیانی کی زبانی مختصراً قابل شنید ہے۔ فرماتے ہیں : ”ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص زیادہ ہیں۔ اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں جو ڈپٹی کلکٹر اور ایکسٹرا اسسٹنٹ کلکٹر اور تحصیلدار وغیرہ معزز عہدوں والے آدمی ہیں ۔ (واقعی سرکار کے معزز عہدہ داروں کو جلد از جلد قادیانی مرید بنانا لازم تھا کہ سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے کا یہ ایک مجرب نسخہ تھا۔ اس کے بعد رئیسوں کو ، جاگیرداروں کو اور بالآخر نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ کو جو تلاش معاش اور حصول ملازمت پر مجبور تھے۔ ان کو بھی قادیانیت ہی میں کار براری اور کامیابی کا راستہ سہل اور قریب نظر آیا۔ چنانچہ وہ بھی اسی راستہ پر پڑ گئے ۔ خدانخواستہ سب پر یا اکثر پر تو نہیں البتہ بہت سی کمزور طبیعتوں پر یہی دور گزر گیا۔ للمؤلف) ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے کئی رئیس اور
٣٢
جاگیردار اور اکثر تعلیم یافتہ ایف۔ اے اور بی۔ اے اور ایم۔ اے اور بڑے بڑے تاجر (ایسے تاجر جن کے سرکار سے کاروباری معاملات رہتے ہیں۔ للمؤلف) اس جماعت میں داخل ہیں۔“
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان خاص نمبر ج ٣٧ نمبر ١٨، ١٩، مورخہ ٢١ مئی ١٩٣٤ء)
٨...... خدا کا لگایا ہوا پودا
انبیاء کی جماعتوں کی جو شان ہوتی ہے۔ اسے قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعاً سجداً يبتغون فضلاً من الله ورضوانا سيماهم فى وجوههم من اثر السجود ذلك مثلهم فى التوراة ومثلهم فى الانجيل كزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ واستوى على سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار (فتح)“ ﴿محمد رسول اللہ اور آپ کے اصحاب زور آور ہیں کافروں پر۔ نرم دل ہیں آپس میں۔ تم دیکھتے ہو ان کو رکوع میں اور سجدے میں۔ ڈھونڈھتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی خوشی۔ ان کی نشانی ان کے منہ پر سجدے کے اثر سے ہے۔ ان کی یہ مثل ہے۔ توریت میں اور انجیل میں۔ جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اس کی کمر مضبوط کی پھر موٹا ہوا۔ پھر کھڑا ہوا اپنے نال پر خوش لگتا کھیتی والوں کو تا کہ جلاوے ان سے جی کافروں کا۔﴾
پس انبیاء کی جماعتیں اللہ تعالیٰ کے کاشتہ اور پروردہ پودے ہوتے ہیں اور اسی کے سہارے پر بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی جماعت خود ان کے بیان کے مطابق انگریزوں کا خود کاشتہ پودا تھی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
٩...... سرکار انگریزی کا خود کاشتہ پودا
”میری اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر چہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں...... صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربے سے ایک وفادار جان نثار ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ
٣٣
قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنی ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایت اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں۔ تا کہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں۔“
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ
٢٤ فروری ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٠،٢١)
١٠...... سرکار انگریزی کی راہ میں جاں نثاری
انبیاء کی جماعتیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طالب ہوتی ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جان دینے سے بھی انھیں دریغ نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی کو سرکار انگریزی کی راہ میں خون بہانے اور جان دینے میں تامل نہیں۔ البتہ اللہ کی راہ میں جہاد بالسیف خاص کر انگریزوں کے مقابل وہ حرام قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت (نساء)“ ﴿یعنی وہ جو ایمان والے ہیں لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور وہ جو منکر ہیں لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں ۔﴾
انبیاء کی جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی طلب گار ہوتی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی سرکار انگریزی کی عنایات اور خصوصی توجہ کے لئے درخواستیں پیش کیا کرتے تھے۔
انبیاء کی جماعتوں کی خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کی ترقی کفار کو ناگوار گزرتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی جماعت ”لیغیظ بهم الکفار“ کا مصداق نہیں رہی۔ بلکہ سرکار انگریزی کی منظور نظر رہی کہ انگریزی حکومت اس جماعت کی حوصلہ افزائی کرتی رہی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں ...... اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“
(برکات خلافت ص ٦٥)
٣٤
١١...... سچے انبیاء اور مظلوم
حضرت موسیٰ علیہ ال بنا رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ ال حضرت ہارون علیہما السلام نے ف کے جواب میں فرعون نے احسا عمرك سنين“ (یعنی فرعون عمر میں سے کئی برس ہم میں نہیں کوئی اہمیت نہیں دی۔
اور فرمایا: ”وتلك احسان مجھ پر اس لئے جتاتے علیہ السلام نے اپنی جدوجہد جا آزاد کرالیا۔
قرآن مجید میں حض ”ویضع عنهم اصرهم کرتے ہیں ان پر سے لدے ہ ہے کہ کس طرح آپ نے انسا پھندوں سے نجات دلائی اور ان تعالیٰ کے بندے بن جاؤ کہ بو نقطہ یہ ہے کہ ان کی جماعت سر میں لکھتے ہیں: ”غرض یہ ایک حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ
١٢...... مرزا قادیانی اور س
مظلوم اور محکوم قوم کجا مرزا غلام احمد قادیانی اور
١١...... سچے انبیاء اور مظلوموں کی حمایت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون نے بنی اسرائیل کو مصر میں محکوم و مغلوب بنا رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب پیغمبری سے سرفراز ہوئے تو آپ اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ اس کے جواب میں فرعون نے احسان جتایا۔ ”قال الم نربک فینا ولیداً ولبثت فینا من عمرک سنین “ (یعنی فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے اپنے پاس بچپن میں تجھے پالا نہیں تھا اور تو اپنی عمر میں سے کئی برس ہم میں نہیں رہا ) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس احسان جتانے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
اور فرمایا: ”وتلک نعمة تمنھا علی ان عبدت (بنی اسرائیل) “ ﴿یعنی تم یہ احسان مجھ پر اس لئے جتاتے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ ﴾ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ حتیٰ کہ بنی اسرائیل کو فرعون اور قبطی قوم کے پنجہ غلامی سے آزاد کرالیا۔
قرآن مجید میں حضرت رسول اکرمﷺ کے اس وصف کو یوں بیان فرمایا ہے: ”ویضع عنہم اصرہم والاغلال التی کانت علیہم (اعراف)“ ﴿یعنی آپ دور کرتے ہیں ان پر سے لدے ہوئے بوجھ اور ان پر پڑے ہوئے پھندے۔ ﴾ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح آپ نے انسانیت کو مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی وسیاسی ہر قسم کے مظالم کے پھندوں سے نجات دلائی اور انسانیت کو پیام دیا کہ: ”کونوا عباد اللہ اخوانا“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بندے بن جاؤ کہ بھائی بھائی ہو کر رہو۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے مفاخر کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ان کی جماعت سرکار انگریزی کی نمک پروردہ جماعت ہے۔ چنانچہ ایک درخواست میں لکھتے ہیں: ”غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠، مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء)
١٢...... مرزا قادیانی اور سامراجیت کی حمایت
مظلوم اور محکوم قوموں کو سامراجی اور استعماری قوتوں کے پنجے سے آزادی دلانا تو کجا مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مریدوں کی ہمیشہ یہ آرزو رہی کہ تمام اسلامی ممالک
٣٥
مغلوب ہو کر حکومت برطانیہ کے تحت آجائیں۔ عجیب بات ہے کہ حق کے لئے جہاد کو تو مرزا قادیانی حرام اور ممنوع قرار دیتے تھے۔ لیکن سامراجی قوتیں چھوٹے چھوٹے ممالک کو مغلوب ومحکوم بنانے کے لئے جو جنگ وجدال کرتی تھیں۔ ان کی مرزا قادیانی اور ان کے مرید تائید کرتے تھے۔ دعا دیتے تھے اور اس غرض کے لئے اپنا خون بہانے کو بھی مستحسن قرار دیتے تھے۔ چنانچہ چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
١٣....... فتح بغداد پر خوشیاں
"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے۔ جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا۔ تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔" (جیسی روح ویسے فرشتے۔ للمؤلف)
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢، مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)
"عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔"
(اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ١٧ مورخہ ٣١ اگست ١٩٢٣ء)
١٤....... جنگ کابل
"جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی...... اور خود ہمارے سلسلے کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔"
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤؍ جولائی ١٩٢١ء ج ٩ نمبر ١)
یہ ہے قادیانی سیاسیات جس کے باوجود اسلام اور مسلمانوں پر احسانات جتائے جاتے ہیں۔
٣٦
باب ششم ...... سلسلہ دراز عشق
١...... نامردی کا یقین
مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک شادی پہلے ہی قادیان میں ہوچکی تھی اور اس بیوی سے ان کے دو جوان لڑکے سلطان احمد اور فضل احمد موجود تھے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک اور شادی دہلی کے میر ناصر نواب کی صاحبزادی نصرت جہاں بیگم سے کی۔ حالانکہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کی قوت مردی کے ضعف کا جو حال تھا وہ قابل ملاحظہ ہے۔
بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی حکیم نور الدین سلمہ اللہ تعالیٰ
جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ آخر میں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ سے پرامید اور دعا کرتا رہا۔ سو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ (پھر شادی کس ہمت وامید پر کی تھی۔ للمؤلف) خاکسار غلام احمد قادیانی مورخہ ٢٢ فروری ١٨٨٨ء
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢، خط نمبر ١٤)
مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوتی ہے کہ چند امراض کاہلی وسستی ورطوبات معدہ اس سے دور ہوگئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت ہی خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ (خیزش) بکلی جاتا رہتا تھا۔ شائد قلت حرارت عزیزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بکلی جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرارت عزیزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ ...... چونکہ دوا ختم ہوچکی ہے اور میں نے زیادہ سے زیادہ کھالی ہے۔ اس لئے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے۔ جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرانے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٤، ١٣)
مرزا قادیانی کے ضعف مردی کی تو یہ کیفیت تھی۔ لیکن اپنی رسالت کے دعویٰ کی تائید
٣٧
میں پیشین گوئیوں کے لئے موقع کے منتظر رہتے تھے۔ مرزا قادیانی کے ایک ماموں زاد بھائی تھے۔ جن کا نام احمد بیگ صاحب تھا۔ مرزا احمد بیگ کی اہلیہ عمر النساء مرزا قادیانی کی چچازاد ہمشیرہ تھی۔ مرزا قادیانی کے دوسرے لڑکے فضل احمد کی اہلیہ عزت بی بی مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی۔ چنانچہ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کا مرزا احمد بیگ اور ان کے اقرباء پر خاندانی تعلقات کے اعتبار سے کافی اثر تھا۔ مرزا احمد بیگ کی ایک نو عمر لڑکی تھی۔ جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ ادھر مرزا احمد بیگ کو اپنی زمین کے معاملات میں مرزا قادیانی سے کچھ کام پڑا اور انہوں نے مرزا قادیانی سے اس معاملہ میں تعاون کی درخواست کی اور ادھر عمر النساء بیگم کے بھائی اور مرزا احمد بیگ کے سالے امام الدین نے جو ایک لاابالی طبیعت کے شخص تھے۔ مرزا قادیانی کو امید دلائی کہ وہ اپنی بھانجی محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کی شادی کرادیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کر ڈالی کہ ان سے محمدی بیگم کا نکاح آسمان پر طے ہو چکا ہے اور جب انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو انہوں نے طرح طرح سے مرزا احمد بیگ پر خاندانی تعلقات کے دباؤ ڈالے۔ اس کی روئیداد ذیل میں قابل ملاحظہ ہے۔
٢...... انعام کا وعدہ
”بیان کیا مجھ سے عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں (امام الدین) نے محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے رشتہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کامیاب نہ ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ جب کہ محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیانی یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ لڑکی کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت (مرزا قادیانی) نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل روایت نمبر ١٧٩ ص ١٩٢، ١٩٣)
٣...... محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی
”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی) پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح
٣٨
میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عذر ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ع مرزا قادیانی کی) طرف لائے گ وفات تک وہ سہاگن بنی رہی۔ ا گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گ
٤...... تخویف
”خدا تعالیٰ نے اس یہ پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان عاجز کو نہ دے گا تو تین برس ک نکاح سے اڑھائی برس کے ا مرزا قادیانی کی وفات کے بع میں داخل ہوگی۔“
٥...... ترغیب
”آپ سے وعد دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں ک میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔
٦...... التماس
آپ کو شاید معل ہے۔۔۔۔ اور ایک جہاں کی ا ہاتھ سے اس پیش گوئی کے
(خاکسار احقر عبادا
رہے تھے۔ مرزا قادیانی کے ایک ماموں زاد بھائی احمد بیگ کی اہلیہ عمر النساء مرزا قادیانی کی چچا زاد ہمشیرہ احمد کی اہلیہ عزت بی بی مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی۔ احمد بیگ اور ان کے اقرباء پر خاندانی تعلقات کے ثمر لڑکی تھی۔ جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ ادھر مرزا احمد انی سے کچھ کام پڑا اور انہوں نے مرزا قادیانی سے عمر النساء بیگم کے بھائی اور مرزا احمد بیگ کے سالے ل تھے۔ مرزا قادیانی کو امید دلائی کہ وہ اپنی بھانجی گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کر ڈالی کہ تا ہے اور جب انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو خاندانی تعلقات کے دباؤ ڈالے۔ اس کی روئیداد ذیل
ئے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً نے ایک حقیقی ماموں (امام الدین) نے محمدی بیگم کا ان کامیاب نہ ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔ وغیرہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور اور چونکہ محمدی کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی کے وں سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی حصہ اول روایت نمبر ١٧٩ ص ١٩٢،١٩٣)
خط (مرزاغلام احمد قادیانی) پر ظاہر فرمایا کہ لڑکی وہ (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح
میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔ (مگر مرزا قادیانی کی وفات تک وہ سہاگن بنی رہی۔ بیوہ نہیں ہوئی۔ للمؤلف) اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
٤...... تخویف
”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہ دے گا تو تین برس کے عرصہ بلکہ اس کے قریب فوت ہو جائے گا اور جو نکاح کرے گا روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا۔ (لیکن سلطان محمد جو محمدی بیگم کا شوہر بنا مرزا قادیانی کی وفات کے بعد بھی سالہا سال تک زندہ رہا) اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢ حاشیہ، مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء)
٥...... ترغیب
خط بخدمت مرزا احمد بیگ ”آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔ اس لئے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٦...... التماس
مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے۔..... اور ایک جہاں کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے۔..... یہ عاجز آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔
(خاکسار و احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ مورخہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء، منقول از رسالہ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)
٣٩
مرزا قادیانی کی پہلی اہلیہ اور بڑے صاحبزادے مرزا سلطان احمد کو محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا رشتہ پسند نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے مرزا قادیانی کی تائید نہیں کی۔ مرزا قادیانی نے اپنی تائید کے لئے ان پر جس طرح دباؤ ڈالا اور غصہ نکالا اس کا حال ملاحظہ ہو:
٧......خانہ بربادی
”میرا بیٹا سلطان احمد ...... اور اس کی تائی صاحبہ...... اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ ...... بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔ ...... انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہیں دیا ...... اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔ ...... آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ١٨٩١ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ظاہر کرتا ہوں کہ ...... نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے...... اور اگر اس کا بھائی فضل احمد (مرزا قادیانی کا دوسرا لڑکا ) اپنی بیوی (مرزا احمد بیگ کی بھانجی) کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)
٨...... یاس میں آس
”سچ ہے کہ وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٥ ص ٢٩ ، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)
٩...... پیش گوئی کا انجام
اس شادی کی پیش گوئی کی تکمیل آسمان پر اور تشہیر زمین پر بخوبی ہوچکی تھی اور خود مرزا قادیانی نے اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ مزید برآں اس کی دھن میں گھر برباد ہوا۔ قدیم بیوی کو طلاق ملی۔ جوان بچے عاق ہوئے۔ بہر حال لاکھ ترکیبیں کیں۔ نکاح نہ ہونا تھا، نہ ہوا۔ مرزا قادیانی کو اور قادیانی صاحبان کو بڑی شرمندگی ہوئی اور جھوٹ کھل گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا اپنی پیش گوئیوں کے متعلق تصفیہ ملاحظہ ہو: ”بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور محک امتحان ہو سکتا ۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٩)
٤٠
باب ہفتم ....... مرزا قادیانی آنجہانی کا ہیضہ سے خاتمہ
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے جو مرزا قادیانی کے مقابلے ہوئے تو ان میں مرزا قادیانی نے یہی بددعا کی کہ جو کاذب اور مفتری ہو اس پر مرض ہیضہ کی شکل میں موت وارد ہو اور فریق مقابل سے پہلے نازل ہو۔ گویا جو پہلے مرے اور مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر مرے وہ مفتری کذاب مانا جائے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا دعویٰ اور انجام ملاحظہ ہو:
١....... کذاب کے لئے ہیضے کی پیش گوئی
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ!
اگر میں ایسا ہی کذاب و مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ (چنانچہ یہی واقعہ ہوا) کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔ (اس اشتہار کے سوا سال بعد ہی مرزا قادیانی صاحب اس دنیا سے گذر گئے۔ للمؤلف) اور آخر وہ ذلت و حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔
پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میرے زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
(واقعہ کیا ہوا؟ اس اشتہار کے سوا سال بعد ہی یعنی اوائل جولائی ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی ہیضہ کے مرض میں دنیا سے رخصت ہوئے اور حضرت ثناء اللہ صاحب بعد کو مدت دراز تک بہ صحت و عافیت قادیانیت کی سرکوبی کرتے رہے۔ للمؤلف)
قادیانی صاحبان مرزا قادیانی کی ہیضہ سے وفات کو ماننے سے کتراتے ہیں۔ گھبراتے ہیں۔ اگر ہیضہ ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی کی نبوت و مسیحیت پر پانی پھر جائے گا۔ لیکن بات کھل گئی تو کیا کریں۔
٢....... ہیضہ کے متعلق خسر صاحب کی شہادت
خود مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب صاحب کا چشم دید بیان ملاحظہ ہو۔ اس سے بہتر شہادت شائد ممکن نہیں۔
٤١
”حضرت مرزا صاحب جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے خطاب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ (گویا زبان بند ہوگئی۔ جیسی کہ اکثر ہیضہ میں آخر وقت خشکی سے ہو جاتی ہے۔ للمؤلف) یہاں تک کہ دوسرے دن دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(خودنوشتہ حالات مندرجہ حیات ناصر مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
٣....... قے ، دست کے متعلق بیوی کی شہادت
”والدہ صاحب (مرزا بشیر احمد قادیانی) نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے..... تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانے نہ جاسکے۔ اس لئے..... چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگر گوں ہوگئی۔“
(سیرۃ المہدی ص ١١، ١٢ ، حصہ اول روایت نمبر ١٢)
(مختصر یہ کہ مرزا قادیانی کا ہیضہ سے اس طرح عبرتناک انجام ہوا اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے عین مطابق ان کے دعویٰ نبوت کی تکذیب ہوگئی)
”فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العلمين“
”فاعتبروا يا اولى الابصار“
ترجمہ: اے آنکھوں (عقل) والو۔ عبرت حاصل کرو۔ خدا کرے قادیانی صاحبان کو اس سے عبرت حاصل ہو۔ توبہ کی توفیق ہو اور وہ دوبارہ اسلام میں واپس آجائیں۔ (آمین ثم آمین) ”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“
خادم: عبدالحلیم الیاس عفی عنہ
٤٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حقیقت
قادیانیت
جناب اختر احسن
بسم الله الرحمن الرحيم!
پیش لفظ
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اپنے آپ کو احمدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ حالانکہ اس فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو مرزائی یا قادیانی کہنا چاہئے۔ زیر نظر کتاب DIMENSION OF QADIANISM کا ترجمہ ہے۔ اس تالیف کا مقصد سادہ لوح مسلمانوں کے علاوہ یہ بھی واضح کرنا ہے کہ کس طرح مرزا قادیانی نے نہ صرف قرآن حکیم کے معانی میں تحریف کرنے کی شرانگیز کوشش کی بلکہ آیات قرآنی میں بھی تصرف کی ناپاک جسارت کی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٨٣٩ء میں ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان میں جنم لیا۔ ١٨٥٧ء میں محبّ وطن عناصر نے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی لڑی تو مرزا قادیانی کے والد نے اپنے ہم وطن، آزادی کے پروانوں کے خلاف برطانوی غاصب و جابر حکمرانوں کی پچاس گھڑ سواروں سے مدد کی۔ خود مرزا قادیانی نے اس کا ذکر فخریہ انداز میں کیا ہے: ”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے رہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٨، ١٩، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٠، ٢٧١)
١٨٥٧ء میں برطانوی سامراجیوں نے مکر و فریب، عیاری و بددیانتی، سازشی ہتھکنڈوں اور مرزا قادیانی کے باپ جیسے غداروں کی مدد سے سلطنت ہند کے مسلمان حکمرانوں کو تخت و تاج سے محروم کر دیا۔ حتیٰ کہ آخری مغل بادشاہ، بہادر شاہ ظفر کو انتہائی بے بسی کی حالت میں گرفتار کر کے رنگون کے قید خانے میں آہنی سلاخوں کے پیچھے ہمیشہ کے لئے مقید کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ بے دست و پا شہزادوں کو اپنے گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا اور عفت و عصمت کی پیکر شہزادیوں کو جنہیں آسمان نے بھی کبھی کھلے سر نہ دیکھا تھا اور جنہوں نے قصر سلطانی سے باہر کبھی قدم نہ رکھا تھا۔ بے بسی اور بے یار و مددگاری کی حالت میں سڑکوں پر نکلنے کو مجبور کر دیا۔ انگریزوں ٢
نے حریت پسندوں کے خون سے جی بھر کر ہولی کھیلی اور آخر میں مسلمانوں کے لئے تمام عہدوں کے راستے مسدود کر کے تمام اختیارات واقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ استبدادی قوتیں خوفزدہ تھیں کہ کہیں فرزندان توحید انہیں کسی وقت دیس نکالا دینے کا منصوبہ نہ بنا ڈالیں۔ لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کو کچلنے اور اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے لئے دوہری پالیسی پر مشتمل ایک پروگرام مرتب کیا۔ ان کے پیش نظر ایک طرف تو افتراق وانتشار کے بیج بو کر اس بہادر قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور دوسری طرف خود اسلام کے بنیادی عقائد پر ضرب لگا کر اس کی فکری وحدت اور مرکزیت کو ضعف پہنچانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں ایک ایسے غدار کی ضرورت تھی جو ان کا آلہ کار بن کر ان کے اشاروں پر ناچ سکے، کروڑ ہا مسلمانوں میں سے انہوں نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جو ان کی امنگوں پر پورا اتر سکا اور وہ تھے مرزا غلام احمد قادیانی، جنہوں نے ضمیر اور قلم کی عصمت کا سودا کر ڈالا اور قبیح کام کے لئے اپنی خدمات پیش کر کے فخر محسوس کیا۔ ان کے ذہن میں اپنے خاص سیاسی مقاصد تھے۔ وہ برطانوی سامراج کے زیر سایہ اپنی ریاست قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔
ناموس رسالت اور اسلام کے ان دونوں دشمنوں نے اپنے گھناؤنے پروگرام کی تکمیل کے لئے اسلامی اعتقادات میں سب سے پہلے فریضۂ جہاد اور ختم نبوت پر ضرب لگانا مناسب سمجھا۔ فریضۂ جہاد اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ جہاد اس مقدس جنگ کو کہتے ہیں جو ریاست کی حفاظت و بقاء، مظلوموں کی داد رسی اور مبلغان اسلام کی راہ سے سنگ و خار ہٹانے کے لئے لڑی جاتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کے علاوہ تمام آدمیوں پر اس جنگ میں حصہ لینا فرض ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ”اور تم کو کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ نکال کر کہیں اور لے جا۔“
(النساء:٧٥)
تمام اسلام دشمن استبدادی طاقتیں اسلام کے اس بنیادی رکن جہاد سے ہمیشہ لرزہ براندام رہی ہیں اور اسے متزلزل کرنے کے لئے کوشاں، انگریز حکمران بھی مسلمانوں کے شوق شہادت اور جذبہ جہاد سے خائف ولرزاں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہی جذبہ جہاد ان کے خلاف مسلمانوں کے جوش وخروش کو معراج پر پہنچانے کا باعث بن سکتا تھا۔ وہ اس ولولے کو ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے۔ جو ان کے اقتدار پر کاری ضرب لگانے کی سکت رکھتا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس
٣
خدمت کا بیڑا بھی اٹھا لیا۔ حکم خداوندی کے خلاف مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریر پڑھ کر اس کے حاشیہ برداروں کا سر شرم و ندامت سے جھک جانا چاہئے۔
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی حکومت کی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات طبع کئے ہیں کہ اگر انہیں اکٹھا کیا جائے تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مذہب کو انگریز کا خود کاشتہ پودا لکھنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اسی سرپرستی کے عوض تو انگریز کی حمایت میں سرشار مرزا نے جہاد کی مخالفت کر کے ملت اسلامیہ کی شہ رگ کاٹنے کی کوشش کی۔ لہٰذا ملاحظہ فرمائیں: ”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر چہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ لیکن صرف اتنی التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار ثابت کر چکی ہے اور جن کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ جو اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہٗ منجانب خاکسار غلام احمد قادیانی از قادیان۔ مورخہ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“ (ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٦، ٧٧)
٤
تعجب ہے کہ اس دور میں جب یورپی طاقتیں اسلامی سلطنتوں کو تہ و بالا کرنے میں سرگرم عمل تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی امت مسلمہ میں انتشار و تفرقہ پیدا کرنے کے لئے اسلام کے مقابلہ میں ایک اور مذہب لا کھڑا کیا اور دین اسلام کے بنیادی رکن فریضہ جہاد کو حرام قرار دے دیا۔ اس اہم فریضہ کو حرام قرار دے کر دراصل مرزا قادیانی نے نہ صرف انگریز بہادر کی بے پایاں خدمت کی بلکہ ملت اسلامیہ کی جڑیں کاٹنے کی مذموم کوشش بھی کی۔
اس طرح برطانوی سامراج مرزا قادیانی کے روپ میں اپنا ایجنٹ پالینے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ملت اسلامیہ سے اس غداری کے صلہ میں انگریز حاکموں نے مرزا قادیانی کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ وہ جس طرح چاہے اپنے حریفوں کو گالیوں سے نوازے۔ حریف تو درکنار اس کی مغلظ زبان کی زد سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نہ بچ سکے۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے پرستار عیسائی حکمرانوں نے اس کی یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی سے چشم پوشی اختیار کر لی۔ اپنے خدا کے بیٹے اور اس کے خاندان کے خلاف سب کچھ سنا۔ لیکن اف تک نہ کی۔ یہی خاموشی ان کے مرزا قادیانی کے سرپرست ہونے کا بیّن ثبوت ہے۔ ورنہ کون بے غیرت قوم اپنے روحانی پیشوا کی رسوائی و ذلت کو برداشت کرسکتی ہے۔
ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرے بھی دراصل ایک ایسی چال تھی۔ جس کا مقصد سادہ لوح مسلمانوں کو اس دام فریب میں مبتلا کرنا تھا کہ مرزا قادیانی ہی اسلام کا سب سے بڑا مبلغ و ہمدرد تھا اور وہ دشمنان اسلام کے خلاف محاذ آرائی کر کے اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہا تھا۔
حالانکہ اس دعویٰ میں حقیقت کی کوئی رمق ہوتی تو مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کو انگریزوں کے عہد حکومت میں ان کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی اور آج بھی جب برصغیر سے ان کے اقتدار کا جنازہ اٹھے اٹھائیس سال بیت چکے ہیں۔ وہ سات سمندر پار بیٹھے اس فرقہ کی حمایت و حفاظت پر کمر بستہ دکھائی نہ دیتے۔
١٩٤٧ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو تمام قادیانی بھی اس نوزائیدہ اسلامی ریاست میں منتقل ہوگئے اور ان کا ایک سرکردہ رہنما کسی نہ کسی طرح وزارت خارجہ کا سربراہ بننے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے اپنے ہم مذہبوں کی ہر طرح حوصلہ افزائی کی۔ انہیں کلیدی عہدوں پر
٥
فائر کروایا۔ مسلمانوں کو پس پشت ڈال کر حکومت کے ہر محکمہ پر ان کو قابض ہونے کے مواقع فراہم کئے۔ ان کے حوصلے اتنے بڑھے کہ حصول اقتدار کے لئے انہوں نے ریاست در ریاست قائم کرنے کے مقصد کو حرز جان بنالیا اور اس کے لئے عملی طور پر جدوجہد شروع کر دی۔ مسلمانوں کی طرف ان کا رویہ ہمیشہ جارحانہ رہا۔ وہ اپنے مذہبی و سیاسی مرکز ربوہ کے دروازے ہر اس شخص پر بند رکھتے ہیں جو ان کے خیالات و مقاصد سے متفق نہیں ہوتا۔
بیرونی دنیا میں انہوں نے اپنا دام فریب اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ واشاعت کے ذریعہ بچھایا اور اندرون ملک بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں نیز سرکاری ملازمتوں پر قبضہ جما کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔
بظاہر یہ فرقہ ضالہ اسلام کا دم بھرتا ہے۔ لیکن درحقیقت دین اسلام کا بدترین دشمن ہے۔ ہر مقام پر اس نے اسلام کے اساسی اصولوں کا تمسخر اڑایا ہے۔ ہر مرحلہ پر اس نے اسلام کے خلاف محاذ آرائی سے کام لیا ہے۔ اپنے مقاصد کی برآری کے لئے اس نے قرآنی آیات کو نہ صرف حسب منشاء جامہ معانی پہنائے ہیں۔ بلکہ لفظی تحریف کا بھی مرتکب ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کے مذہبی اور معاشرتی نظام کا بائیکاٹ کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے پیرو مسلمانوں کی مساجد میں نماز ادا نہیں کر سکتے۔ اپنی لڑکیوں کو ان کے نکاح میں نہیں دے سکتے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر گردانتے ہیں۔
اردو میں قادیانی تحریک پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ لیکن انگریزی زبان میں DIMENSIONS OF QADIANISM اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ جس میں قادیانی فتنے کا ہر پہلو سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ اور اس فرقہ ضالہ کے مذموم عزائم کو آشکارا کیا گیا ہے۔ یہاں انگریزی خواں طبقہ میں اسے بہت پسند کیا گیا۔ نیز بیرونی ممالک میں بھی اسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر احباب نے اس کا اردو متن میں ترجمہ کرانے کے لئے اصرار کیا۔ مشن نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس کام کا بیڑا بھی اٹھا لیا۔ اب یہ معمولی اضافے کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ رب العزت ہماری اس حقیر کوشش کو شرف قبولیت عطاء فرمائے اور اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو فلاح دارین سے نوازے۔ آمین!
اختر احسن
٦
قادیانیت کا پس منظر
قرآن حکیم و احادیث نبوی، آثار صحابہ اور اقوال آئمہ و مفسرین اس عقیدے پر کلی طور پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے دین اسلام کو ہمہ وجوہ کامل ترین اور جامع صورت عطاء فرمائی ہے۔ اسی طرح قرآن حکیم وحی الٰہی کی معراج ہے اور اس معراج کے شہنشاہ، ہر زمانہ کی تمنا و آرزو پوری بنی نوع انسان کے لئے رحمت، شہزادہ موعود، پیغمبر اسلام ﷺ ہیں جو کہ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ آپؐ سے قبل اپنے ہم قوموں کو رشد و ہدایت کی راہوں پر ڈالنے کے لئے مختلف ممالک اور مختلف ادوار میں پیغمبر مبعوث ہوتے رہے۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت تو مستقبل کی ان تمام انسانی و جناتی نسلوں پر بھی محیط و حاوی ہے جو آپؐ کے عہد مبارک میں پیدا نہ ہوئی تھیں یا پھر قیامت تک پیدا ہوتی رہیں گی۔ آپؐ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہدایت قرآن کی روشنی میں تمام انسانیت کے لئے ایک صاف، سیدھی، منور و پاکیزہ اور واضح شاہراہ متعین فرما گئے۔ جس کی حفاظت و تحفظ کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات عالی کے لئے مختص فرمایا۔ لہٰذا آپؐ کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قرآن حکیم کی ٩٩ آیات سے یہ ثابت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام آخری نبی تھے اور آپ کے بعد قطعاً کوئی نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ”اور آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔“
(المائدہ: ٣)
جلیل القدر مفسر علامہ ابن کثیر مندرجہ بالا آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لئے دین کو کامل فرمایا۔ لہٰذا امت محمدیہ نہ کسی اور دین کی محتاج ہے اور نہ کسی اور نبی کی اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء (آخری نبی) کی حیثیت سے جن و بشر کی طرف مبعوث فرمایا۔“
کلام اللہ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ختم المرسلینی کا مزید اعلان ملاحظہ فرمائیے: ”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (نبوت) کی مہر یعنی اس (نبوت) کو ختم کر دینے والے ہیں۔“
(احزاب: ٤٠)
مذکورہ بالا دونوں قرآنی آیات سے مترشح ہے کہ قرآن حکیم کے بعد کوئی وحی نازل نہ ہوگی۔ اسلام دین خداوندی کی کامل ترین صورت ہے۔ نیز سید عرب و عجم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
٧
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ قرآنی آیات کے علاوہ تقریباً ٢١٠ احادیث مبارکہ آنحضور ﷺ کی ختم المرسلینی پر شاہد ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ حضور اقدس فداہ ابی وامی سے روایت فرماتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے کہ جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا۔ مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ چنانچہ میں (حضور ﷺ) نے اس جگہ کو پر کیا اور مجھ ہی سے قصر نبوت مکمل ہوا اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے۔
(مشکوٰۃ ص ٥١١، باب فضائل سید المرسلین)
حضرت سعدؓ بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ: ”تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ (اس لئے) کہ تم ہارون (علیہ السلام) کی طرح نبی نہیں ہو۔“
(مشکوٰۃ ص ٥٦٣، باب مناقب علیؓ بن ابی طالبؓ)
مندرجہ بالا احادیث کسی ابہام کے بغیر پیغمبر اسلام کے بعد کسی بھی نبی کی بعثت کی نفی کرتی ہیں۔ گذشتہ چودہ سو سال سے امت مسلمہ کا بالاجماع یہی عقیدہ رہا ہے۔ چنانچہ امام غزالیؒ امت کے اجماع پر اظہار خیال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”تمام امت نے لفظ خاتم النبیین سے سمجھا کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے بعد مطلقاً کسی نبی یا کسی رسول کے پیدا ہونے کی نفی کرتی ہے اور تمام امت محمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے نہ تخصیص اور جس نے اس آیت کو تاویل کر کے کسی خاص جماعت سے خاص کرنے کا ارادہ کیا۔ اس کا کلام از قبیل ہذیان ہے اور اس کی یہ تاویل ہمیں اس سے نہیں روک سکتی کہ ہم اس کے کافر ہونے کا حکم لگا دیں۔ اس لئے کہ وہ شخص اس آیت کریمہ کا مکذب اور منکر ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے کہ نہ اس میں کوئی تاویل اور نہ کوئی تخصیص۔“
(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ١٣٣)
حضرت ثوبانؓ رسالت مآب ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“
(مشکوٰۃ ص ٤٦٥، باب الملاحم)
٨
اس حدیث مبارکہ سے دو اہم نقاط کی وضاحت ہوتی ہے۔ (١) سرور کونین حضور علیہ الصلوٰۃ پر اختتام نبوت۔ (٢) رسالت مآب ﷺ کے بعد ٣٠ کذابوں کا دعویٰ نبوت۔
اس مختصر سے کتابچے میں ایسے ہی ایک کذاب نبی جس کا تعلق قادیان سے ہے، کے عقائد کی تصریح کرتے ہوئے اس کے دعوؤں کا پول کھولا گیا ہے۔ سید الانبیاء حضور ﷺ کی ختم المرسلینی کی شہادت میں واضح قرآنی آیات، صاف اور روشن احادیث نبوی کی موجودگی اور امت مسلمہ کے اجماع کے باوجود اس کاذب نبی سے قبل بھی کئی گم کردہ راہ اشخاص مختلف ادوار میں نبوت کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں۔
مسیلمہ بن حبیب نے سرور کونین کی حیات طیبہ کے دوران ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ تاریخ میں اس مدعی نبوت کو کذاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ شخص مدینہ منورہ میں رسالت مآب ﷺ کی خدمت اقدس میں مشرف بہ اسلام ہونے کے لئے حاضر ہوا۔ لیکن چونکہ ذہن میں فتور تھا۔ سیاسی مقاصد پیش نظر تھے۔ اقتدار کا متمنی تھا۔ کسی سلطنت کا تاجدار بننے کے خواب پریشان کا شکار تھا۔ لہٰذا نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ نیز سید الاولین و آخرین کے حضور چند شرائط پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ اسے نبوت میں شریک ٹھہرا کر جانشین نامزد کر دیا جائے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس پر رحمٰن نامی فرشتے کے ذریعے وحی کا نزول ہوتا تھا اور یوں نازل شدہ کتاب مختلف ابواب و آیات پر مشتمل تھی۔ خاتم النبیین ﷺ کے وصال کے بعد آپ کی خواہش کے مطابق خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خالد بن ولید کی زیر کمان مرتد و کذاب کی گوشمالی کے لئے فوج کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ مسیلمہ چالیس ہزار مسلح نوجوانوں کو لے کر مقابلے کے لئے بڑھا لیکن شکست کھائی اور قتل ہوا۔
آنحضور ﷺ کے عہد مبارک میں یمن کے ایک باشندہ اسود عنسی نے بھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا اصل نام عبہلہ ابن کعب اور لقب ذی الحمار تھا۔ وہ اپنی زبان کی فصاحت وبلاغت کہانت اور شاعری کے سبب معروف تھا۔ اس نے بھی یہی مشہور کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حالت وجد میں وہ اپنا سر جھکا لیتا پھر قدرے توقف کے بعد اسے اوپر اٹھاتے ہوئے کہتا: ”اس نے مجھے یہ اور یہ حکم دیا ہے۔“ اس مکار اور جھوٹے مدعی نبوت کو ختم المرسلین ﷺ کے وصال سے ٢٤ گھنٹے پیشتر واصل جہنم کر دیا گیا تھا۔
قبیلہ اسد سے طلیحہ بن خویلد نے ایک وفد کے ہمراہ سرور کائنات، رسول خدا، محمد ﷺ
٩
کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ لیکن اپنے قبیلے میں واپس پہنچتے ہی فتنے کا شکار ہو کر نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ذوالنون فرشتے کی وساطت سے اس کے پاس وحی پہنچتی ہے۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے بھی خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ ہی کی زیر قیادت ایک لشکر روانہ کیا۔ مقابلہ میں شکست کھا کر یہ کاذب نبی شام کی طرف فرار ہو گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد از خود ارتداد سے تائب ہو کر بقیہ زندگی نہ صرف حلقہ بگوش اسلام ہو کر گزار دی۔ بلکہ اس نے جنگ قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے۔
بنی تغلب کی ایک مکار و عیار عیسائی عورت سجاح بنت حارث عراق کے علاقے جزیرہ سے بنی تمیم میں آئی۔ اس کے پیش نظر لوگوں کو اسلام سے بددل کرنا تھا۔ اس نے حضورﷺ کے وصال کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے یہ مشہور کر دیا کہ اس پر بھی وحی کا نزول ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں کے مقابلہ میں نکلی۔ لیکن ناکامی کا منہ دیکھ کر مسیلمہ کذاب کے ساتھ جا ملی۔ بالآخر نبوت کے ان دونوں مدعیوں نے آپس میں شادی رچا لی۔ مسیلمہ کے قتل کے بعد اس نے اپنی مذموم حرکتوں اور جھوٹے دعووں سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا اور آخر تک اسی دین پر قائم رہی۔
خلیفہ عبدالملک کے عہد خلافت میں ایک اور خبطی حارث دمشقی کو بھی نبی بننے کا جنون سوار ہوا۔ اس دور کے علمائے کرام نے اس کے لئے سزائے موت تجویز کی۔ لہٰذا اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے خلیفہ نے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا۔
علاوہ ازیں مندرجہ ذیل اشخاص بھی نبوت کے دعویٰ کے مرتکب ہوئے۔
- ١...... المغیرہ بن سعید العجلی ٧٢٢ء ٧٤١ء
- ٢...... ابو منصور العجلی ٧٤٢ء ٧٤١ء
- ٣...... اسحاق الاخرس المغربی ٧٥٠ء ٧٥٤ء
- ٤...... ابوعیسیٰ اسحاق اصفہانی ٧٥٢ء ٧٧٥ء
- ٥...... علی بن محمد خارجی ٨٦٩ء
- ٦...... حیمن بن اللہ محماصی
- ٧...... محمود واحد گیلانی ١٥٨٦ء ١٦٢٨ء
- ٨...... مرزا علی محمد باب (ایران) ١٨٢٢ء ١٨٥٠ء
١٠
- ٩....... مرزا بہاء اللہ (ایران) ١٨٦٣ء ١٨٩٢ء
- ١٠....... مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٩١ء ١٩٠٨ء
- ١١....... مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کے کئی ایک معتقد۔
مندرجہ بالا گوشوارے سے عیاں ہے کہ سرکار مدینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد پہلی صدی کے سوا باقی صدیوں کی نسبت انیسویں صدی میں کاذب نبیوں کی تعداد زیادہ رہی ہے۔ ایشیاء میں تاریخ اسلام کے قارئین بخوبی واقف ہیں کہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں مسلمانوں کی سیاسی قوتیں رو بہ تنزل تھیں اور استعماری طاقتیں اپنے مکروہ ہتھکنڈوں سے ہر جگہ خاص کر مسلمان حکومتوں کو مغلوب کر کے غلبہ حاصل کر رہی تھیں۔ چنانچہ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کی اس حالت زار کا نقشہ کھینچا ہے۔ جو ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔
”تاریخ اسلام میں ١٧٩٩ء کا سال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی سال سلطان ٹیپو کا زوال ہوا۔ اس مرد مجاہد کے زوال سے ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی وقار کی بحالی کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اسی سال نوارینو کی جنگ میں ترکی بیڑے کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اسی طرح ١٧٩٩ء میں براعظم ایشیاء میں اسلام کا سیاسی زوال اپنی انتہاء کو پہنچ گیا۔“
(اسلام اور احمدیت، علامہ اقبال)
انیسویں صدی کی ابتداء تک اسلامی دنیا کی سیاسیات پر یورپی استعمار مکمل طور پر غالب آچکا تھا۔ یورپی بزعم خودوں نے اپنی چیرہ دستیوں اور مذموم ہتھکنڈوں سے اسلامی ممالک پر تسلط تو جما لیا تھا۔ لیکن مسلم اور عیسائی دنیا کے صد ہا سالہ پرانے حریفانہ تعلقات ان فاتحین کے دل میں خلش پیدا کرنے کے لئے کافی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ غلامان اسلام کو مغلوب رکھنے کا مسئلہ آسان نہیں۔ ان پر یہ حقیقت بھی عیاں تھی کہ انہوں نے اپنے حریفوں کو سیاسی انتشار و افتراق کا شکار بنا کر بظاہر مغلوب تو کر لیا تھا۔ لیکن ان کا مذہبی اتحاد ایک ناقابل تسخیر قلعہ تھا۔ جس کے سبب کسی وقت بھی ان کے منصوبے خاک میں مل سکتے تھے۔ انہیں اندیشہ تھا کہ اعلان جہاد لمحہ بھر کے نوٹس پر اسلام کے نام لیواؤں کو ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف متحد کر سکتا تھا۔ وہ اپنی روز افزوں فتوحات کے باوجود اسلام اور اس کے سرفروشوں کو اپنے لئے چیلنج تصور کرتے تھے۔ درحقیقت مسلم اتحاد کی تحریک پہلے ہی جنم لے چکی تھی۔ سید جمال الدین افغانی، مفتی عبدہ، السنوسی اور بہت سے دیگر مسلمان مفکرین، امت مسلمہ کی پراگندہ قوتوں کو یکجا کرنے کے لئے انتہائی تندہی سے سرگرم عمل تھے۔ جس کے نتیجہ میں پان اسلامک تحریک وجود پذیر ہو چکی تھی۔
١١
اس سلسلے میں سید جمال الدین افغانی نے مسلم ممالک کا وسیع دورہ کیا اور اپنی آتش بیانی سے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ہر ممکن سعی کی۔ اسی طرح فخر اسلام صحافی مفتی عبدہ نے مسلم اتحاد کی ضرورت اور اس کے حصول کے لئے اپنا سارا زور بیان صرف کر دیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلامی دنیا کے سیاسی زوال کی راکھ میں چنگاری نہاں تھی۔ جو شعلہ بن کر عیسائی غاصبوں کو بھسم کر کے ناکام و نامراد کر سکتی تھی۔ دراصل مسلمانوں کا تابناک مستقبل سامراجی دنیا کے لئے پیغام اجل تھا اور پان اسلامک تحریک ہی وہ تحریک تھی جو مذہبی جوش وخروش کے تحت سامراجیوں اور مغربی دنیا کے خلاف برسرپیکار تھی۔ نوآبادیاتی طاقتیں جو حالات کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ مسلم اتحاد کے دور رس نتائج سے بے خبر نہ تھیں۔ انہیں علم تھا کہ یہ اتحاد ایک نہ ایک دن ان کے قصر اقتدار کو زمین بوس کر کے رہے گا۔ لہذا اس تقدیر سے بچنے اور مسلم رہنماؤں کے عظیم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے فاتح اقوام نے سازشوں کا جال بچھا دیا۔
اسی پس منظر میں صہیونی تحریک کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔ وی آنا کے ایک یہودی ڈرامہ نویس تھیوڈور ہرزل نے اپنی کتاب DER JUDENSTAAT (یہودی ریاست) میں جو ١٨٩٦ء میں طبع ہوئی۔ یہودیوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کرتے ہوئے صہیونی تحریک کا بیج بویا۔ اس تحریک کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے یہودی کو فلسطین میں یک جا ہونے اور اسے بطور وطن اپنانے کی راہ دکھائی۔ برطانوی سامراج نے فلسطین کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان متنازعہ مسئلہ بنانے کے لئے اس تحریک کی پشت پناہی کی۔ اس کے پیش نظر دو مقاصد تھے۔ مسلم قوت کو کمزور کرنا اور اس خطہ سرزمین میں مستقل اثر و رسوخ حاصل کرنا۔ اس تمام سازشوں کا حقیقی مقصد تو اسلام کے مسلمہ اعتقادات پر کاری ضرب لگانا تھا۔ لیکن اسلامی تعلیمات کی بیخ کنی اور انہیں مسخ کرنے کے لئے براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے خفیہ طریقے اپنائے گئے۔ اس مذموم منصوبے کی تکمیل کے لئے انہوں نے مسلمانوں میں ایسے نئے اور جھوٹے فرقے پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا جو بظاہر اسلام کا لیبل لگا کر در پردہ اسلامی تعلیمات کے پرخچے اڑانے میں سرگرم عمل رہیں۔
ان ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے بددیانت افراد جو ان کے اشاروں پر ناچ سکیں، کی خدمات کا حصول لازمی تھا۔ اوّل تو ایران میں بابی اور بہائی فرقوں کی پشت پناہی کی گئی۔ لیکن چونکہ ان دونوں فرقوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا تصادم کی راہ اختیار کی۔ لہذا اپنے آقاؤں
١٢
کی کوئی خدمت بجا لانے کی بجائے وہ خود ہی تباہی و بربادی کا شکار ہو گئے۔ مرزا محمد علی باب نے پہلے تو اپنے آپ کو مہدی کا مجسمہ قرار دیا۔ بعد ازاں ”نقطہ“ ہونے کا اعلان کیا۔ لیکن اس نے اپنے غیر اسلامی اور ملحدانہ خیالات کے سبب تمام اسلام دنیا کو اپنا دشمن بنالیا۔ وہ رواداری کا شدید مخالف تھا اور کھلم کھلا تشدد کی تبلیغ کرتا تھا۔ جس کے نتیجہ میں خونریز فسادات برپا ہوئے۔ آخر کار بغاوت کے الزام میں سزائے موت کا مستحق ٹھہرا اور ١٨٥٠ء میں تبریز کے مقام پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
محمد علی کے بعد اس نئے مسلک کی باگ ڈور ”صبح ازل“ نامی شخص کے ہاتھ میں آئی۔ اس کا اصل نام مرزا یحییٰ تھا۔ جلد ہی اس کے سوتیلے بھائی مرزا بہاء اللہ نے اس کی جگہ لے لی۔ اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور الہام گھڑنے شروع کر دیئے۔ اس نے قرآن حکیم کی بجائے اپنی کتاب ”کتاب اقدس“ کے نام سے پیش کی۔ اس نے اپنے مسلک کو اسلام کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ اس کھلم کھلا محاذ آرائی اور دشمنی کے سبب یہ مسلک سامراجی دنیا کے لئے کارآمد ثابت نہ ہوسکا۔ انہیں تو ایک ایسے غدار کی تلاش تھی جو بظاہر اسلام کا لیبل اپنے اوپر چسپاں رکھے۔ اس مذہب سے خلوص و وفاداری کا دم بھرے۔ لیکن خفیہ طور پر اپنے انگریز آقاؤں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے ان کے اشاروں پر ناچ سکے۔
یہ داستان تو بین الاقوامی سطح پر برطانوی سازش کا محض ایک معمولی تذکرہ ہے۔ برصغیر ہند میں مسلمانوں کے جذبات نئے حکمرانوں کے خلاف شدید تند و تیز تھے۔ ١٨٥٧ء میں جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز حکمران یہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی فتوحات کا دور ختم ہو رہا ہے اور اگر مسلمانوں کو کچلا نہ گیا تو برطانوی سامراج کو ہند سے جلد ہی اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑے۔ لہٰذا ١٨٦٩ء میں برطانوی صحافیوں اور عیسائی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد ہندوستان بھیجا گیا۔ جس کا مقصد حالات کا مطالعہ کر کے مسلم آبادی کو ہمنوا بنانے اور ہندوستانیوں کے دلوں میں سلطنت برطانیہ کے لئے وفاداری کے جذبات پیدا کرنے سے متعلق تجاویز پیش کرنا تھا۔ ١٨٧٠ء میں اس وفد کے دونوں گروہوں مشنریوں اور سیاست دانوں نے اپنی علیحدہ رپورٹیں پیش کیں۔ یہ رپورٹیں THE ARRIVAL OF THE BRITISH EMPIRE IN INDIA کے عنوان سے شائع ہوئیں۔
رپورٹ میں مختلف سفارشات کے علاوہ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں پر اندھا دھند اعتقاد رکھتی ہے۔ لہٰذا اگر حکومت کسی ایسے شخص کی
١٣
خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جو پیغمبر خدا ہونے کا دعویٰ کرے تو اکثر لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مسلمانوں میں اس قسم کا آدمی تلاش کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ لیکن اگر اس کا انتظام ہو جائے تو حکومت کی سر پرستی میں ایسے شخص کی نبوت، تکمیل مقاصد کے لئے بہت ممد و معاون ثابت ہوگی۔ رپورٹ میں مسلمانوں کے اندرونی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں زیر نظر کتاب کے موضوع مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ رچایا۔
مرزا قادیانی نے ١٨٣٩ء میں ضلع گورداسپور (موجودہ بھارت کا ایک ضلع) کے ایک گاؤں قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ کے ہاں جنم لیا۔ اس نے بعض گمنام اساتذہ سے اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ اپنی تعلیم کے متعلق وہ خود تحریر کرتا ہے: ”جب میں نے بچپن سے جوانی میں قدم رکھا تو میں نے معمولی سی فارسی، صرف کی چند کتابیں، کچھ قواعد نحو اور حکمت کے متعلق معمولی سا علم حاصل کیا۔ میرے باپ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔ وہ اکثر وقت مجھے تلقین کرتے رہتے کہ کسی طرح طبابت میں مہارت حاصل کرلوں۔ اس طرح مجھے حدیث اور اصول فقہ کے گہرے مطالعہ کا موقع نہ ملا۔“
(کتاب البریہ ص١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ١٣ ص١٨٠، ١٨١)
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مالیخولیا کے مرض کا شکار تھا۔
(ریویو از قادیان، قادیانی میگزین بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا اپنی یادگار کتاب ”القانون“ میں اس مرض کی وضاحت یوں فرماتے ہیں: ”مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات و افکار متغیر بخوف و فساد ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب مزاج سوداوی ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے۔“
علامہ برہان الدین نفیس، شرح اسباب والعلامات امراض مالیخولیا میں فرماتے ہیں: ”مالیخولیا خیالات و افکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف و فساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔“
مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔
(تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون ١٩٠٦ء)
١٤
”کام کی مصروفیت کی وجہ سے رات کو زیادہ جاگتا ہوں۔ جس سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔“
(ملفوظات ج٢ ص٣٧٦)
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی شہادت بھی ملاحظہ فرمائیں: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٦ روایت نمبر ١٩)
اس سے عیاں ہے کہ مرزا قادیانی ابتدائے جوانی ہی میں اس مرض کا شکار ہو گیا تھا۔ اسی بیماری کا کرشمہ تھا کہ اسے تخیل میں فرشتے نظر آنے لگے تھے۔
”ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی ہوں۔“
(تذکرہ ص ٢٥)
اس مراقی نبی کے تخیل کے مزید کرشمے ملاحظہ فرمائیے: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
مرزا غلام احمد قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا۔ لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ ١٨٦٤ء وہ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر بطور منشی بھرتی ہوگیا۔ اس آسامی پر اس نے چار سال تک کام کیا۔ باپ کے انتقال کے بعد وہ مذہبی لٹریچر کے مطالعہ میں منہمک ہو گیا اور ١٨٨٠ء میں اپنی کتاب براہین احمدیہ کی پہلی جلد اور اگلے چار سال کے دوران اس کی مزید تین جلدیں شائع کیں۔ ابتداء میں اس کاذب نبی نے یہ مشتہر کیا تھا کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی حمایت میں براہین احمدیہ کو پچاس حصوں میں طبع کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کتاب کی تعریف یوں کی گئی کہ اس کے پڑھنے سے غیر مسلموں کے لئے قبولیت اسلام کے سوا چارہ نہ رہے گا۔ سادہ لوح مسلمانوں نے دھڑا دھڑ پیشگی قیمت جمع کرانی شروع کی۔ دیوانہ وار چندہ دیا۔ لیکن اس منافق نے چار جلدیں طبع کرانے کے بعد تقاضوں پہ تقاضوں کے باوجود بقیہ حصے شائع نہ کرائے اور مسلمانوں کے چندے ہضم کر کے ڈکار تک نہ لی۔
اس کتاب میں اسلام، قرآن حکیم اور سرور کونین ختم المرسلینﷺ کی شان اقدس میں
١٥
توصیفیہ پیراگراف تو موجود تھے۔ لیکن بغور مطالعہ کرنے والوں پر واضح ہو گیا تھا کہ اس میں ایک نئے مسلک کے جراثیم پائے جاتے ہیں اور مصنف کا ذہن کسی طویل المیعاد منصوبے کے تحت کام کر رہا ہے۔ ایک طرف تو مرزا قادیانی نے اس امر پر زور دیا تھا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ لیکن دوسری طرف اسے یہ بھی اصرار تھا کہ نزولِ وحی کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ بلکہ وحی کا سلسلہ بذریعہ الہام ہر وقت ممکن ہے۔ تیسری جلد منظر عام پر آئی تو مسلمانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ حصہ حکومت برطانیہ کی تعریف وتوصیف سے بھرا پڑا تھا۔ حکومت تو پہلے ہی ایسے چاپلوس غدار کی تلاش میں تھی۔ اسے تو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے گوہر مقصود ہاتھ آ گیا اور اس نے فوراً اس کاسہ لیس کی سر پرستی شروع کر دی۔
ابھی مرزا قادیانی نے اپنے ملحدانہ خیالات کی کھل کر تشہیر نہیں کی تھی۔ لیکن اس نے مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ علمائے کرام ابتداء ہی میں اس کے منصوبے کو سمجھ گئے تھے۔ انہوں نے اس کے نظریات وخیالات پر شدید نکتہ چینی کی اور ان خدشات کا اظہار کیا کہ اس مرتد کے ہاتھوں آخرکار اسلام کو نقصان پہنچ کر رہے گا۔
اب نبوت کی منزلیں مرزا قادیانی نے کچھ اس انداز سے طے کرنی شروع کیں کہ سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ اسے الہام ہوا ہے کہ وہ مامور من اللہ ہے۔ ١٨٨٥ء میں اس نے مشتہر کیا کہ وہ مجدد ہے۔ ١٨٨٨ء میں اس نے دعویٰ کیا کہ بذریعہ الہام اس پر منکشف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے معتقدوں سے حلف بیعت لے۔ ١٨٩٠ء میں اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد سے متعلق ایک نیا نظریہ لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ نہ ان کا پھانسی پر انتقال ہوا۔ بلکہ جب وہ پھانسی پر لٹکائے گئے تو بے ہوش ہو گئے۔ انہیں زخمی حالت میں اتار لیا گیا۔ طبیعت سنبھلنے پر وہ کشمیر کی طرف بھاگ نکلے اور وہاں طبعی طور پر انتقال فرمایا۔ مرزا قادیانی نے اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ یہ دعویٰ بھی داغ دیا کہ وہ خود مثیل مسیح تھا۔ ”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں...... بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج اول ص ٢٣١)
مرزا قادیانی کو بخوبی علم تھا کہ مسلمان ختم نبوت پر بہت حساس واقع ہوئے ہیں اور اس کے جھوٹے دعویٰ سے ان میں شدید ردعمل شروع ہوگا۔ لہٰذا ابتداء میں تو اس نے کھلم کھلا حضورﷺ کے رتبہ ختم المرسلینی کی مخالفت کی جرأت تو نہ کی۔ بلکہ ایک عیارانہ راہ اختیار کی۔
١٦
”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالۃ اوہام ص٧٦١، خزائن ج٣ ص٥١٠)
جب مرزا قادیانی کی ہیرا پھیری اور ایچ پیچ کی پالیسی کے باعث چاروں طرف سے شدید ردعمل ہوا تو اس نے ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء کو دہلی کی جامع مسجد میں مندرجہ ذیل تحریری بیان ”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا جامع مسجد دہلی میں کرتا ہوں کہ جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠،٢٣١)
لیکن جلد ہی اس بدعہد نے اپنے مندرجہ بالا بیان کی مخالفت میں سیالکوٹ کے مقام پر ایک تقریر میں کہا: ”انعام خداوندی ہے کہ انبیاء آتے رہیں اور ان کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور یہ اللہ کا قانون ہے۔ جسے تم توڑ نہیں سکتے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص٣٢، خزائن ج٢٠ ص٢٢٧)
١٨٩١ء کو اس نے مہدی ہونے کا اعلان کیا اور پھر اسی سال مسیح موعود بننے کا بیہودہ اور فضول ڈھونگ رچا لیا۔ لیکن مسلمانوں کے خوف سے اس نے اپنے خیالات کا اظہار مبہم الفاظ ہی میں کیا: ”میں نبی نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں۔ تاکہ دین مصطفےٰ کی تجدید کروں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٨٣، خزائن ج٥ ص٣٨٣)
کچھ عرصہ بعد مزید جسارت کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ اگرچہ اب بھی کھل کر سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ ”میں نبی نہیں ہوں۔ بلکہ محدث، محدث میں تمام اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں۔ لیکن بالقوۃ، بالفعل نہیں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص٨١، خزائن ج٧ ص٣٠٠)
”محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص٥٦٩، خزائن ج٣ ص٤٠٧)
اس ناقص نبوت سے مرزا قادیانی نے ایک قلابازی اور کھائی۔ ”میں مسیح ہوں جس کے متعلق خدا کے رسول ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔“
(ازالۃ اوہام ص٦٨٢، خزائن ج٣ ص٤٦٨)
١٧
بالآخر ١٩٠١ء کو اس نے اپنے منصوبے کو آخری شکل پہناتے ہوئے ظاہر کر ہی دیا کہ:
”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
اب مرزا کئی ایک قلابازیاں کھانے کے بعد باقاعدہ اور مکمل پیغمبر بن چکا تھا۔ بلکہ بعض لحاظ سے نعوذ باللہ انبیاء سابقین سے افضل۔ اس نے مجدد کے دعویٰ سے آغاز کیا اور آکر اپنے ناپاک منصوبے کے مطابق نبوت کے درجے پر پہنچ ہی گیا۔ بلکہ دریدہ دہنی، ڈھٹائی اور جسارت کی حد کر دی اور دعویٰ کیا: ”میں محمد رسول اللہ ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
قادیان کے اس متنبی نے وطیرہ اختیار کر رکھا تھا کہ کوئی مبہم سا بیان دیتا۔ لیکن مسلمانوں کی تنقید کے خوف سے فوراً ہی پینترا بدل لیتا اور اس سے متضاد کوئی اور بیان داغ دیتا۔ لیکن اپنی ہیرا پھیریوں کے باوجود وہ اس امر پر سب سے زیادہ زور دیتا رہا کہ وہ خدا کی طرف سے فرستادہ نبی ہے اور اس پر آسمانی وحی نازل ہوتی ہے۔ مندرجہ ذیل سطور سے اس کی تلون مزاجی اور تضاد بیانی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔
”مجھ اکیلے کو وہ سب کچھ دیا گیا ہے۔ جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا گیا تھا۔“
(الاستفتاء حقیقۃ الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)
سابقہ اوراق میں مذکور ہے کہ مرزا قادیانی نے حضورﷺ کے بعد کسی شخص کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد کے امکانات کو خارج از بحث قرار دیا تھا۔ لیکن وہ زیادہ عرصہ تک اپنے اس عقیدے پر قائم نہ رہ سکا اور جلد ہی یہ دعویٰ کر دیا کہ حضرت جبرائیل اس کے پاس آتے تھے۔
”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
”جو مجھ میں مصطفےٰ (محمدﷺ) میں امتیاز کرتا ہے۔ اس نے نہ مجھے جانا اور نہ مجھے دیکھا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
١٨
پیغمبر اسلام کے معجزے تین ہزار تھے۔ لیکن میرے معجزوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
(نسیم دعوت ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ٤٧٢)
ایک شاعرانہ دھن کی ہرزہ سرائی بھی ملاحظہ فرمائیے: ”میں مسیح اور موسیٰ ہوں۔ میں محمد اور احمد ہوں۔ جسے خدا نے چن لیا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
اور پھر اپنے کمالات کا ذکر کس انداز سے کیا ہے؟ ”کمالات متفرقہ جو تمام انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول اکرم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے ۔“
(ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)
ایک اور موقع پر اپنی تعریف میں مرزا یوں رطب اللسان ہے۔ ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا۔ جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں اسماعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰؑ بن مریم ہوں، میں محمدؐ ہوں۔ یعنی بروزی طور پر، سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان محمدؐ میں پائی جاوے ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
مرزا قادیانی نے نبوت کے دعویٰ ہی پر اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ خدائی کا شریک بھی بن بیٹھا۔ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
اور پھر تمام حدود پار کرتے ہوئے کہا: ”میں خدا کا باپ ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
ایک اور مقام پر اس نے نعوذ باللہ خدا کے بیٹے کا کردار اختیار کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی۔ ”تو (مرزا قادیانی) بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”اے میرے بیٹے سن ۔“
(البشریٰ ج اول ص ٤٩)
”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات و کشوفات ص ٧٠٤)
”عیسیٰ بن مریم مجھ سے ہے اور میں اللہ سے ہوں۔ وہ بابرکت ہے وہ جس نے مجھے پہچانا اور جس کی آنکھوں سے میں چھپا ہوں۔ وہ لعنتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١١٩)
١٩
مرزا قادیانی کے پیروکاروں میں سے ایک بیہودہ گو کا بیان تو دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کی انتہاء ہے۔ ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢)
”مجھے خدا کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦،٥٥)
کسی جال میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح مرزا قادیانی تیزی سے قلابازیاں کھاتا ہے۔ تاکہ تضاد بیانی کی ذلت سے بچ سکے۔ لیکن ہر نئی قلابازی اس کی خود تنقیصی میں اضافہ کرتے ہوئے مزید رسوائی کا باعث بن جاتی۔ چونکہ اس کی نبوت چومکھی تھی۔ اس لئے مسلمانوں کے علاوہ اسے ہندوؤں اور عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب بھی دینے پڑے۔ ہر اعتراض کے جواب میں وہ ایک چولا پہنتا۔ ایک نیا بیان جڑتا اور خود تنقیصی و خود تردیدی کی دلدل میں کمر کمر پھنس جاتا اور پھر ایک نیا روپ دھار لیتا۔ یکم نومبر ١٩٠٤ء کو سیالکوٹ کے مقام پر اس پر یہ اسرار کھلا کہ وہ ہندوؤں کا کرشن ہے۔ چنانچہ ایک لیکچر میں گل افشانی کرتے ہوئے کہا: ”اس خدا نے مجھے ایک موقع پر نہیں بلکہ کئی بار بتایا ہے کہ میں ہندوؤں کے لئے کرشن ، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سن کر جاہل مسلمان فوراً پکار اٹھیں گے کہ میں نے مقدس کرشن جسے وہ کافر سمجھتے ہیں۔ کا نام اختیار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن میں آج اتنے بڑے اجتماع میں اس دعویٰ کا اعلان کرتا ہوں۔ کیونکہ جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ وہ کسی کی بدزبانی یا الزام تراشی سے خوف نہیں کھاتے۔ اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے۔ در حقیقت ایسا کامل انسان تھا۔ جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی۔ مجھے کرشن سے محبت ہے۔ کیونکہ میں اس کا بروز ہوں۔ روحانی طور پر کرشن اور مسیح موعود ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ ان میں اتنا ہی فرق ہے۔ جتنا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی اصطلاحات میں۔“
اسی لیکچر میں اس نے اپنے آپ کو برہمن اوتار بھی ظاہر کیا۔ ”پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں۔ وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“
٢٠
پھر اس نے ہندؤوں کو مخاطب پر انتباہ کرتا ہوں۔“
مرزا قادیانی کی ان قلابازیوں رکھتے ہیں۔
”سب تعریفیں اللہ کے لئے کی مانند ان دنوں بھی ایک نبی مبعوث فر مصلح ، سب قوموں کی آرزو ، اسلام کا حام مشرق کا بدھ وغیرہ وغیرہ۔“ )
مرزا قادیانی کو وہم تھا کہ اس نازل ہوتی تھی۔ ایک دو بار اس نے یہ ہے۔ جس میں معتقدوں کے لئے پر اسرا ہلچل مچ گئی اور مرزا قادیانی کو چاروں طر اس کے خلاف کفر کے فتوے صادر کر دیے برطانوی حکومت کے سایہ عاطفت میں پردازیاں اور یاوہ گوئیاں تمام حدود کو برداشت تھیں۔ ان کی برہمی حق بجانب پر علامہ اقبال کا تجزیہ کیسا موزوں ہے۔
”اس قسم کے کفر کی ستم رانی ملتی ہے۔ اسی لئے فطری طور پر عامۃ المس وجہ ہے کہ بہائیوں کے خلاف ایرانی ہ قادیانیوں کے خلاف ہندوستانی مسلمانو
لہٰذا قادیانیت اسلام کے خ اور ریشہ دوانیوں کا جال اسلام کے سار کی سرپرستی حکومت برطانیہ نہ کرتی تو کوئ
پھر اس نے ہندوؤں کو مخاطب کر کے کہا۔ ”بحیثیت کرشن میں آریوں کو ان کی غلطیوں پر انتباہ کرتا ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
مرزا قادیانی کی ان قلابازیوں کے باوجود اس کے بعض پرستار اس پر اندھا دھند اعتقاد رکھتے ہیں۔
”سب تعریفیں اللہ کے لئے جو مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ جس نے سابقہ زمانوں کی مانند ان دنوں بھی ایک نبی مبعوث فرمایا۔ جس کا نام احمد، مسیح موعود، مہدی، کرشن، پارسیوں کا مصلح ، سب قوموں کی آرزو، اسلام کا حمایتی، عیسائیت کی اصلاح کرنے والا، ہندوؤں کا اوتار، مشرق کا بدھ وغیرہ وغیرہ۔“
(احمدیہ موومنٹ نامی کتاب مصنفہ سر والٹر میں ایک قادیانی کا خط)
مرزا قادیانی کو وہم تھا کہ اس پر اردو، فارسی، انگلش اور بعض اوقات عربی میں وحی نازل ہوتی تھی۔ ایک دو بار اس نے بے معنی اور بے ربط ہندسے لکھے اور کہا کہ یہ تمثیلی قسم کی وحی ہے۔ جس میں معتقدوں کے لئے پراسرار پیغام ہیں۔ ان جھوٹے اعلانات سے مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی اور مرزا قادیانی کو چاروں طرف سے شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ علمائے کرام نے اس کے خلاف کفر کے فتوے صادر کر دیئے۔ مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچنے کے لئے اس نے برطانوی حکومت کے سایۂ عاطفت میں پناہ لی۔ درحقیقت مرزا قادیانی کی دریدہ دہنی، افتراء پردازیاں اور یاوہ گوئیاں تمام حدود کو پار کر چکی تھیں۔ جو مسلمانوں کے صبر کے لئے ناقابل برداشت تھیں۔ ان کی برہمی حق بجانب تھی۔ ان کا شدید ردعمل غیر متوقع نہ تھا۔ مسئلہ کے اس پہلو پر علامہ اقبال کا تجزیہ کیسا موزوں ہے۔
”اس قسم کے فکری ستم رانی جو اسلام کی حدود کو متاثر کرے۔ تاریخ اسلام میں نشاندہی ملتی ہے۔ اسی لئے فطری طور پر عامۃ المسلمین کے جذبات شدت کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہائیوں کے خلاف ایرانی مسلمانوں کے جذبات بے حد شدید تھے اور اسی بناء پر قادیانیوں کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات اتنی شدت لئے ہوئے ہیں۔“
(اسلام اور احمدیت، علامہ اقبال)
لہٰذا قادیانیت اسلام کے خلاف سرکشی و بغاوت تھی۔ زیر زمین بغاوت خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا جال اسلام کے سارے ڈھانچے کو منہدم کرنے کی گہری سازش۔ اس بغاوت کی سرپرستی حکومت برطانیہ نہ کرتی تو کون کرتا؟ اس بغاوت کو برطانوی سامراج تحفظ نہ دیتا تو کون
٢١
دیتا؟ غرض اس خود کاشتہ پودہ کی آبیاری فرنگی آقاؤں نے اپنی عنایات خسروانہ سے جی بھر کر کی۔ یہ ایک تحریک تھی۔ ایک مخفی تحریک جو برطانوی استعمار کے ایماء پر چلائی گئی تھی اور جس کی نشو و نما میں اسلام کے دشمنوں نے بھر پور حصہ لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس باغیانہ تحریک کی قیادت کی اور قادیان کی بد بخت و منحوس سرزمین پر اسے پنپنے کا موقع ملا۔ دراصل اس قسم کی بدی اسلامی دنیا کے کسی خطے میں کہیں بھی سر نہیں اٹھا سکتی تھی۔ مرزا قادیانی نے سچ ہی تو کہا تھا: ”میں اپنے کام (نبوت) کو نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ ترکی میں نہ شام و ایران و کابل میں چلا سکتا ہوں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کی دعا کرتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
”اور گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔“
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢ ص ٩، مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)
”اس کے (برطانوی حکومت) کے ہم پر احسان ہیں۔ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٤٦، لاہوری ایڈیشن)
مرزا غلام احمد قادیانی نے فرنگی آقاؤں کا آلہ کار بن کر مسلمانوں کی فکری وحدت کو جو نقصان پہنچایا۔ اسلام کے اساسی اعتقادات کی جس انداز سے بیخ کنی کی۔ ملت اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں کا جو جال پھیلایا۔ اسلام کے بدترین دشمنوں کی مدح سرائیوں، چاپلوسیوں، کاسہ لیسیوں اور وفا شعاریوں سے اپنے دامن کو جس طرز سے داغدار کیا۔ اس کا اعتراف وائسرائے ہند کے نام ایک درخواست میں کرنے کے بعد انگریز کی ٹکسال سے نکلا ہوا نبی اپنے آقاؤں سے نوازشات کا طالب ہوتا ہے۔
”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی
٢٢
ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار مدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں۔ تاکہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔
درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہٗ منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣١)
لیجئے! بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان ایک ایسی طاغوتی طاقت کا خادم و جان نثار ہے جو اسلام کی ازلی دشمن ہے۔ اب یہ قارئین کرام کا کام ہے کہ وہ خود یہ فیصلہ فرمائیں کہ اس خط کا تحریر کنندہ خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے یا برطانوی حکومت کا ساختہ نبی۔ خصوصاً اس کا خود اعتراف ہے کہ قادیانیت برطانوی حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک اور درخواست کا ایک پیراگراف ملاحظہ فرمائیے: ”میرا مذہب جس کو بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت، دوسرے اس سلطنت کی جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم اس حکومت برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا ہم اسلام، خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“
(بعنوان گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لئے، شہادت القرآن ص٨٤، خزائن ج٦ ص٣٨٠)
یہ تھا کردار قادیانیت کے بانی کا، اور یہ تھے مذموم مقاصد اس زیر زمین تحریک کے، جو برطانوی حکومت کے ایماء پر شروع کی گئی تھی۔ یہ تحریک اسلام کے بنیادی اعتقادات کے خلاف بغاوت تھی۔ ایسی بغاوت جو اسلام کی ازلی دشمن عیسائیت نے اس دینِ برحق کے خلاف کھڑی کی تھی۔ ابتداء سے آج تک اس کا یہی کردار رہا ہے۔ اسلام کا لبادہ تو صرف سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دینے اور اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے اوڑھا گیا تھا۔ ورنہ اس کا اسلام اور قرآن حکیم سے کوئی تعلق نہیں۔ غلام احمد قادیانی نے تو اپنے بیہودہ اور فضول اوہام کو الہامات کا نام دے کر نہ صرف قرآن حکیم کی آسمانی تعلیمات کے برابر لا کھڑا کیا۔ بلکہ اپنے مراقی ذہن کے بے لگام ملحدانہ خیالات کو وحی سے موسوم کر کے المبین کے نام سے بیس اجزاء پر مشتمل کتاب کو قرآن عظیم کی جگہ دینے کی ناپاک جسارت بھی کر ڈالی۔
٢٣
مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں پر ایک نظر
مرزا غلام احمد قادیانی کو وحی الہی کا مہبط ہونے کا دعویٰ تھا۔ اپنے اس باطل اور کھوکھلے دعوے کی تائید میں اسے نہ صرف بے شمار کرامات اور معجزے اپنی طرف منسوب کرنے پڑے۔ بلکہ یہ ڈینگ بھی مارنا پڑی کہ اس کے معجزوں کی تعداد پیغمبر اسلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزوں سے زیادہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
’’میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)
’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
مرزا قادیانی نے لاف زنی سے کام لیتے ہوئے اپنے معجزات کی تعداد تو لاکھوں بتادی۔ لیکن ان کی تفصیل بتانے کی زحمت گوارا نہ کی۔ دراصل مرزا قادیانی جیسا کاذب نبی اپنی تخریبی کارروائیوں کے نتیجہ میں اگر کسی معجزے پر فخر کر سکتا تھا تو وہ یہی تھا کہ اس نے انگریز کی پشت پناہی کے بل بوتے پر امت مسلمہ کے اتحاد میں نقب لگا کر اپنے مذموم سیاسی ارادوں کی تکمیل کے لئے ایک علیحدہ گروہ تیار کر لیا۔ زمانہ ماضی میں اگر اللہ تعالیٰ کے فرستادہ سچے پیغمبر انسانی فہم سے بالاتر مافوق الفطرت معجزوں کا اظہار کرتے رہے ہیں تو نبوت کے کاذب مدعی بھی ہمیشہ سادہ لوح انسانوں کو دام فریب میں پھنسانے کے لئے مکاری و عیاری کو اپنا شعار بناتے رہے ہیں۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منا سکتی ہے۔ بالآخر یہ مکر و فریب ظاہر ہو کر رہتے ہیں۔ کذب و افتراء کے سہارے حاصل کردہ عظمت و شوکت ذلت و رسوائی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔
قادیان کے خود ساختہ نبی کا حال بھی ان شعبدہ بازوں سے مختلف نہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی لا تعداد پیش گوئیوں کے متعلق ڈینگیں مارتا دکھائی دیتا ہے۔ جو اس کے معتقدوں کے خیال میں سچ ثابت ہوئیں۔ مندرجہ ذیل صفحات میں ایسی ہی چند پیش گوئیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہیں پڑھ کر ناظرین خود مرزا قادیانی کی نبوت کے متعلق فیصلہ فرما سکتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا جائزہ لینے سے پیشتر اس کی ایک تحریر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی پیش گوئیوں کو کس قدر اہمیت دیتا تھا؟
٢٤
”ہمارے مخالفین پر واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
گویا متنبی قادیانی نے خود اپنے دعویٰ کی صداقت کا معیار یا کسوٹی اپنی پیش گوئیوں ہی کو ٹھہرایا ہے۔ اس کی نام نہاد پیش گوئیاں تعداد میں کثیر ہیں۔ جو اس کے دور کے تاریخی، سیاسی اور معاشرتی حالات و واقعات پر محیط ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا۔ جس پر عوام الناس کی توجہ مرکوز ہو جاتی تو مرزا قادیانی بلا تاخیر اس سے اپنی کسی پیش گوئی کی تکمیل ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا اور اسے اپنی نیک نامی میں اضافے کا سبب بنا دینا چاہتا۔ اکثر اوقات اس کی مبہم قسم کی پیش گوئیاں تشنہ تکمیل رہ جاتیں۔ تو مخالفین کے ہاتھوں سے شدید تنقید، طنز و تضحیک کا ہدف بننا پڑتا۔ لیکن اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور آئندہ کے لئے کذب بیانی اور بیہودہ گوئی سے تائب ہونے کی بجائے وہ ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے اپنی پیش گوئی کے ابہام والتباس میں پناہ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرتا اور مختلف تاویلیں پیش کرتا۔ اس کی نام نہاد پیش گوئیاں اکثر زلزلوں، آفات و حادثات، تباہی و بربادی اور مخالفین کی تذلیل و موت سے متعلق ہی ہوتیں۔ سچ پوچھئے تو اس کی یہ گل افشانیاں پیش گوئیاں تو نہیں۔ البتہ بد دعائیں، دشنام طرازیاں اور لعنتیں ملامتیں ضرور تھیں۔ جن کو بیان کر کے اپنا اعمال نامہ سیاہ کرتا رہتا۔
در حقیقت مرزا قادیانی کے اس دعویٰ نے امت کو دو مخالف گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا اور دونوں طرف سے دلائل و جواب دلائل کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ جونہی کوئی شخص مرزا قادیانی کے کذب کو ثابت کرنے کے لئے زبان کھولتا۔ وہ فوری طور پر اس پر لعن طعن کی بوچھاڑ کرتے ہوئے بددعاؤں کے تیر چلانے شروع کر دیتا۔ عبداللہ آتھم عیسائی، چراغ دین قادیانی (مرزا قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نبوت کا دعویدار ) مولانا ثناء اللہ امرتسری، ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی، پنڈت لیکھرام خصوصاً مرزا قادیانی کی نام نہاد پیش گوئیوں کے ہدف بنے رہے ہیں۔
عبداللہ آتھم متنبی قادیانی کے عیسائی مخالفین میں سے تھا۔ دونوں میں اکثر مذہبی مناظرے ہوتے رہتے۔ ایک دفعہ مناظرے سے پہلے ہی مرزا قادیانی نے اپنے حاشیہ برداروں کو خوش کرنے کے لئے اپنی کامیابی کی پیش گوئی سنادی۔ لیکن اس خوشخبری کے برعکس جب مناظرہ بغیر کسی فیصلے کے اختتام پذیر ہوا۔ تو اس نے اپنے مخالفین کو لعنت ملامت اور گالی گلوچ اور بددعاؤں سے نوازنا شروع کر دیا۔ لہٰذا جون ١٨٩٣ء کو اس نے اعلان کر دیا کہ عبداللہ آتھم پندرہ
٢٥
ماہ کے عرصہ میں اس دنیا سے کوچ کر جائے گا۔ ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیے : ”میں تسلیم کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے اندر میں آج کی تاریخ ٥؍جون ١٨٩٣ء سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا اور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
مذکورہ پیش گوئی کی رو سے آتھم کو ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تک موت سے ہم کنار ہونا تھا۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کے گم کردہ راہ حامیوں نے یہ درمیانی عرصہ آتھم کی موت کے لئے خشوع وخضوع سے دعائیں کرتے ہوئے گزارا۔ دن گزرتے گئے کاذب نبی کی دعائیں بے اثر ثابت ہوتی نظر آرہی تھیں۔ ستر سالہ بوڑھے کو موت آئی نہ کسی بیماری نے حملہ کیا۔ وہ اچھا بھلا تندرست و توانا دندناتا ہوا پھرتا رہا۔ چونکہ اس پیش گوئی کی خوب تشہیر کی گئی تھی۔ دوست دشمن مقررہ تاریخ کے لئے بے تابی سے منتظر تھے۔ خود مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں اس پیش گوئی کی تکمیل اس کے نام نہاد دعوؤں کی صداقت کے لئے دلیل کی حیثیت رکھتی تھی۔
مرزا قادیانی کے ایک قادیانی سوانح نگار کی تحریر سے خود اس کاذب زمانہ اور اس کے حاشیہ برداروں کی ذہنی بے چینی واضطراب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ”آتھم کے متعلق پیش گوئی کا آخری دن آ گیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ تھے۔ بعض لوگ ناواقفی کے باعث عبداللہ آتھم کی موت پر شرطیں باندھ چکے تھے۔ ہر طرف سے مایوسی اور اداسی کے آثار ظاہر تھے کہ اے خداوند رسوا مت کریو۔ غرض ایسا کہرام مچ رہا تھا کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہورہے تھے۔“
(سیرت المسیح الموعود ص ٩، مصنفہ یعقوب علی قادیانی)
قادیانیوں کی تمام توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں۔ مقررہ تاریخ آ پہنچی لیکن آتھم کو موت نہ آئی۔ وہ مرزا قادیانی کا منہ چڑانے کو زندہ رہا۔ ذلت ورسوائی، روسیاہی وندامت پیش گوئی کرنے والے کا مقدر بن گئی تھی۔ یہ عیسائی خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ انہوں نے جشن کامیابی منانے کے لئے آتھم کا جلوس نکالا۔ غلام احمد قادیانی ذلت آمیز شکست کے ناقابل
٢٦
برداشت بوجھ تلے پس رہا تھا۔ اس کا کذب مشتہر و عیاں ہو چکا تھا۔ اس کا ریت پر تعمیر شدہ جھوٹا قصر نبوت یک لخت زمین بوس ہو گیا تھا۔ وہ اس سزا کا مستحق تھا کہ اس کے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔ عدل و انصاف کا تقاضا تھا کہ مرزا قادیانی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ کذب بیانی سے تائب ہو جاتا۔ سابقہ گناہوں کا اقرار کرتا اور بقیہ زندگی ان کی سزا سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے گزار دیتا۔ لیکن ہر پیش گوئی کی ناکامی پر مختصر خاموشی کے بعد یہ مراقی نبی اپنے حواریوں کو خوش فہمی میں مبتلا رکھنے کے لئے ایک نئی تاویل پیش کر دیتا۔
"بعض اوقات کسی پیش گوئی کی توضیح میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔ کیونکہ پیغمبر بھی تو فانی انسان ہی ہیں۔"
مرزا قادیانی کی یہ تاویل محض عذر لنگ سے زیادہ نہ تھی اور نہ ہی مزید توضیح و تصریح کی محتاج۔
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ سے متعلق پیش گوئی کا بھی یہی حشر ہوا۔ مرزا قادیانی نے بددعا کی تھی کہ دونوں میں سے جو کاذب و مفتری ہو۔ وہ ہیضے جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر فریق مخالف سے پہلے موت کا شکار ہو۔
"اگر میں کاذب و مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد و کذاب ہوں تو مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! اور اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک امراض سے۔"
(مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
٢٧
اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی دعا کو شرف قبولیت بخشا۔ صدق و کذب، حق و باطل کا فیصلہ جلد ہی ہو گیا۔ صرف ایک سال بعد ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی اپنے حریف کی حیات کے دوران ہی ہیضہ کے مہلک مرض میں مبتلا ہو کر ہلاکت سے دوچار ہوا اور مولانا موصوف بفضل ایزدی مزید چالیس سال تک اسلام کی مخالف قوتوں خصوصاً قادیانیت کے خلاف مصروف جہاد رہے اور آخر کار یہ مجاہد اسلام ١٩٤٨ء میں کبرسنی میں طبعی طور پر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
مرزا قادیانی کے حاشیہ برداروں کے لئے اس سے زیادہ اور کیا مقام عبرت ہو سکتا ہے۔ اسلام کے ایک اور فرزند ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی نے مرزا قادیانی کو مناظرے کا چیلنج دیا تو اس نام نہاد پیغمبر کو اسے قبول کرنے کی ہمت تو نہ ہوئی۔ البتہ اپنا پرانا حربہ استعمال کرتے ہوئے ایک پیش گوئی فرمادی کہ: ”عبدالحکیم چونکہ میری توہین و تذلیل کرتا ہے۔ اس لئے میری زندگی ہی میں مرے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٩)
یہ امر دلچسپ ہے کہ عبدالحکیم نے اسی زبان میں جواب دیتے ہوئے یہ پیش گوئی کی کہ: ”قادیانی کاذب آج سے پندرہ ماہ بعد مرجائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٨)
شان خداوندی ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی تو اس مقررہ مدت کے دوران ہی جہنم رسید ہوا۔ لیکن عبدالحکیم صاحب عرصہ دراز تک بحیات رہے۔ لیکن حیف صد حیف قادیانیوں نے اس ذلت آمیز شکست و رسوائی کے بعد بھی درس عبرت حاصل نہ کیا۔
مرزا قادیانی کی کئی ایک پیش گوئیوں کے سبب امن عامہ شدید خطرے میں پڑ گیا تھا۔ حالات ایسی نازک صورت اختیار کر چکے تھے کہ قادیانی متنبی کی سرپرست برطانوی حکومت بھی اس کی مذموم حرکات کے خلاف امتناعی حکم جاری کرنے اور اس سے درج ذیل توبہ نامہ لینے پر مجبور ہوگئی۔
- .......١ ”میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا۔ جس کے یہ معنی خیال کئے
جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ ہو) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الہی ہوگا۔“
- .......٢ ”میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا
کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔“
٢٨
- ٣....... ”میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا
منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔“
قارئین کرام! آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ کیا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین ختم المرسلین آنحضور محمد مصطفیٰ ﷺ تک کسی نبی نے ایسے کردار کا مظاہرہ کیا۔ جس کا مرتکب قادیانی نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہوا؟ وہ دنیاوی عدالت کے ایک ادنیٰ غیر مسلم حاکم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ یعنی ضلع گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے تحریری طور پر اپنا توبہ نامہ پیش کر دیتا ہے۔ لیکن اپنے عہد پر قائم رہنا اس مراقی پیغمبر کے مقدر میں کہاں تھا؟ ابھی اس تحریری عہد نامہ کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ اس نے حسب عادت فوری طور پر اپنے مخالفین کو بددعاؤں اور دشنام طرازی سے نوازنا شروع کر دیا۔
مرزا قادیانی نے اپنی اس باطل اور نام نہاد نبوت کو حصول دولت کا ذریعہ بھی بنا رکھا تھا۔ وہ اپنے خاندان اور اپنے معتقدوں کے لئے وقتاً فوقتاً نرینہ اولاد کی پیدائش کی پیش گوئیاں کر دیتا اور یوں اچھی بشارتوں کے عوض بھاری رقوم وصول کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک معتقد عبداللہ تیما پوری جو مرزا قادیانی کی موت کے بعد خود بھی نبوت کا مدعی بن بیٹھا تھا، نے ایسی ایک مثالیں بیان کی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک پمفلٹ کی تردید میں اس نے ایک رسالہ لکھا۔ جس میں ایسے واقعات قلم بند کئے جن سے یہ تصریح ہوتی ہے کہ مرزا نرینہ اولاد کے خواہش مندوں کو بیٹے کی پیدائش سے متعلق پیش گوئی سنا کر پانچ سو روپے کی خطیر رقم بٹور لیتا تھا۔ اس نے خصوصاً ایک رسالدار میجر کی حالت زار کا ذکر کیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کو پانچ سو روپے کی رقم دینے کے باوجود بیٹے سے محروم رہا۔
ایک صاحب منظور محمد نامی بھی مرزا قادیانی کے پیروکاروں میں سے تھا۔ جب مرزا قادیانی کو اس کی بیوی کے حاملہ ہونے کا علم ہوا تو نہ صرف فوراً اسے بیٹے کی پیدائش کی بشارت سنا دی بلکہ عالم وجود میں کبھی نہ آنے والے اس فرزند کو بشیر الدین کے نام سے بھی موسوم کر دیا۔ کاذب نبی کی بشارت کے برعکس منظور کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا اور مرزا قادیانی اور منظور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
اپنے بیٹے مبارک احمد کی پیدائش پر مرزا قادیانی نے ایک الہامی بیان جاری کیا: ”اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک ہے وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ وہ
٢٩
صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت والا ہوگا۔ مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ کلمتہ اللہ ہے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کنارے تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت حاصل کریں گی۔”
(تذکرہ ص ١٣٨، ١٣٩ بطبع چہارم)
لیکن تدبیر خداوندی ملاحظہ فرمائیں کہ اس بشارت کا مصداق بقول مرزا قادیانی دنیا کا مسیحا، نجات دہندہ اور مصلح موعود آٹھ سال کی عمر ہی میں اس جہانِ فانی سے رحلت کر گیا اور اس کے کاذب باپ کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ مرزا قادیانی کی کذب بیانی لوگوں پر آشکار ہوتی رہی۔ اس کے فریب عیاں ہوتے رہے۔ اسے شکست پر شکست اٹھانا پڑی۔ لوگ اس کی رسوائی و پسپائی کا نظارہ کرتے رہے۔ کوئی غیرت مند انسان ہوتا تو اسے منہ چھپائے نہ بنتی۔ لیکن حیاء و شرم سے عاری نبی کو کبھی بھی ذرہ بھر ندامت محسوس نہ ہوئی۔ اس نے تو اپنے مریدوں کو خوش فہمیوں میں مبتلا رکھنے کے لئے ایک جال بچھا رکھا تھا۔ اس کی ایک تدبیر ناکام ہوتی تو دوسری چال چلتا۔ ایک مسیح موعود (مبارک احمد) مرگیا تو تاویل سے کام لیتے ہوئے دوسرے کی پیدائش کی بشارت سنا ڈالی۔ لیکن اب کے بھی لڑکے کی بجائے عصمت نامی بیٹی تولد ہوئی اور مرزا قادیانی کی ناکام بشارتوں میں مزید ذلت کا باعث بنی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ بچی بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہی اور چھوٹی عمر میں مرزا قادیانی کی روسیاہیوں میں دوچند اضافہ کرتے ہوئے انتقال کر گئی۔
١٩٠٥ء میں حکومتِ برطانیہ نے انتظامی مصلحتوں کے تحت بنگال کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا۔ چونکہ اس تقسیم سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان تھا۔ لہٰذا اس کے خلاف ہندوؤں کا ردّعمل شدید تھا۔ انہوں نے منسوخ کرانے کے لئے شدید ہنگامہ بپا کر رکھا تھا۔ حکومت کا رویہ بھی سخت تھا اور بظاہر آثار یہی تھے کہ وہ تقسیم کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے شورش پسندوں کے مطالبے کو درخور اعتنا نہیں سمجھے گی۔ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مرزا قادیانی نے یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اپنے طائفے کو یہ بشارت سنادی کہ تقسیم بنگال قائم رہے گی اور دونوں صوبوں کا اتحاد بعید از امکان ہے۔ فرنگی آقاؤں نے ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے اپنے پروردہ کی لاج نہ رکھی اور دسمبر ١٩١١ء میں جارج پنجم نے دہلی دربار کے موقع پر تقسیم بنگال کو منسوخ کرتے ہوئے صوبے کی سابقہ حالت کو بحال کر دیا۔ بنگال متحد ہوگیا اور کذابوں کے سرخیل مرزا قادیانی کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی۔
٣٠
عیسی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو نور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد بڑھے گا اور کے کنارے تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے
(تذکرہ ص ١٣٨، ١٣٩، طبع چہارم)
ہا کہ اس بشارت کا مصداق بقول مرزا قادیانی دنیا کا عمر ہی میں اس جہان فانی سے رحلت کر گیا اور اس مرزا قادیانی کی کذب بیانی لوگوں پر آشکار ہوتی شکست پر شکست اٹھانا پڑی۔ لوگ اس کی رسوائی انسان ہوتا تو اسے منہ چھپائے نہ بنتی۔ لیکن حیاء حسوس نہ ہوئی۔ اس نے تو اپنے مریدوں کو خوش رہا تھا۔ اس کی ایک تدبیر ناکام ہوتی تو دوسری چال عمل سے کام لیتے ہوئے دوسرے کی پیدائش کی ”عصمت“ نامی بیٹی تولد ہوئی اور مرزا قادیانی کی کی بات یہ ہے کہ یہ بچی بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ میں دوچند اضافہ کرتے ہوئے انتقال کر گئی۔
مصلحتوں کے تحت بنگال کو دوحصوں میں تقسیم کر امکان تھا۔ لہٰذا اس کے خلاف ہندوؤں کا ردعمل ہنگامہ بپا کر رکھا تھا۔ حکومت کا رویہ بھی سخت تھا دیتے ہوئے شورش پسندوں کے مطالبے کو نے مرزا قادیانی نے یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ م بنگال قائم رہے گی اور دونوں صوبوں کا اتحاد س کرنے کے لئے اپنے پروردہ کی لاج نہ رکھی قا پر تقسیم بنگال کو منسوخ کرتے ہوئے صوبے اہیوں کے سرخیل مرزا قادیانی کو ایک بار پھر
١٨٩٨ء میں جب طاعون کی وبا نے ہندوستان کے بعض حصوں کو اپنی گرفت میں لے لیا تو مرزا قادیانی نے اپنا الہام شائع کیا کہ غضب الٰہی اس کے مخالفین کے لئے طاعون کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ اس وبا کے شکار صرف اس کے مخالفین ہوں گے۔ جنہوں نے اس کے نام نہاد دعوؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی توہین وتذلیل کے مرتکب ہوئے تھے۔
طاعون ابھی قادیان کی حدود سے دور تھی۔ مرزا قادیانی نے جوش مسرت میں قادیانیوں کو یہ خوشخبری بھی سنادی کہ وہ اپنے معتقدوں سمیت اس وبا سے محفوظ رہے گا۔ طاعون اس کے گھر کی چاردیواری میں داخل نہیں ہوسکے گی۔ نیز سارے قادیان کو اس وبا سے مامون ومحفوظ قرار دے دیا۔
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا اور خدا تعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا۔ گو ستر سال تک رہے۔ قادیان کو اس خوف ناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠، ٢٣١)
اپنی اس قسم کی خوش فہمیوں کے تحت مرزا قادیانی نے طاعون کے خلاف حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور ٹیکہ لگوانے کی تجاویز کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور کہا: ”یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ میں طاعون اور دوسری بیماریوں سے بچاؤ کے لئے دوائیوں کے استعمال اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو ممنوع قرار نہیں دیتا۔ کیونکہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے علاج پیدا نہ کیا ہو۔ لیکن میں ٹیکوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس نشان کو مٹانے کے خلاف ہوں۔ جو اس نے کمال شفقت سے میرے اور میرے معتقدوں کے لئے ظاہر فرمایا اور جس کے ذریعہ وہ میرے ساتھ خلوص وفاداری کا تعلق رکھنے والوں کے لئے اپنے لطف وکرم کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا میں ٹیکہ لگوا کر اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بے اعتقادی اور رحمت کے اس عظیم الشان نشان کی توہین واہانت کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ١ نمبر ١١ ص ٤٢٥ ملخص)
قارئین کرام کو اس امر پر متعجب نہیں ہونا چاہئے کہ اس بار بھی اس بشارت پر جو الہام پر مبنی تھی۔ وہی حشر ہوا جو اس سے پیشتر سینکڑوں کا ہو چکا تھا۔ پلیگ نہ صرف قادیان کے ہر کونے میں پھیلی بلکہ نام نہاد نبی کا عشرت کدہ بھی اس سے محفوظ نہ رہا۔ خوف سے مرزا قادیانی پر رعشہ طاری تھا۔ اس کی کیفیت کا اندازہ اس کے اس خط سے لگائیے۔ جو اس نے اپنے داماد محمد علی خان کے نام تحریر کیا۔
٣١
”اس جگہ طاعون تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کب یہ ابتلاء دور ہو۔ مکرر یہ کہ آتے وقت ایک بڑا بکس فینائل کا جو سولہ یا بیس روپے کا آتا ہے۔ ساتھ لے آویں اور علاوہ اس کے آپ بھی اپنے گھر کے لئے بھیج دیں اور ڈس انفیکٹ کے لئے رس کپور اس قدر بھیج دیں جو چند ماہ کے لئے کافی ہو۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١١٣)
قدرت خداوندی ملاحظہ فرمائیے۔ ایک شخص جو وحی خداوندی کے تحت طاعون کو اپنی دعاؤں کا ثمر اور اپنے نشانوں میں سے ایک عظیم الشان نشان سمجھتا ہو اور اپنے مخالفوں کے لئے عذاب الٰہی اور اپنے معتقدوں کے لئے رحمت خداوندی گردانتا ہو۔ ٹیکہ تک لگوانے سے انکار کر چکا ہو۔ کس طرح اب حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔ بلکہ اپنے فرنگی آقاؤں کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکہ کی تجویز کی اور بندگان خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ روپیہ کا بوجھا اپنے سر پر ڈال لیا۔ درحقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانش مند رعایا کا فرض ہے۔“
(کشتی نوح ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١١)
اور ہاں یہ نام نہاد پیغمبر تو اپنے گھر کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند آفات وبلیات سے محفوظ سمجھتا تھا۔ اب غضب الٰہی سے اس کے گھر کا حصار اور اس کے مکین بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ بلکہ وہ خود بھی مرض کا شکار ہوتا ہے۔ اگرچہ موت ابھی اسے منہ نہیں لگاتی۔ مرزا قادیانی کی اپنی تحریر ملاحظہ فرمائیں: ”طاعون تو ہمارے گھر میں بھی داخل ہوگئی ہے۔ بڑی غوغاں کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے اور ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیا۔ آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا۔ بعض اوقات میں بھی ایسا بیمار ہو گیا کہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطرناک آثار ظاہر ہو گئے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١١٥)
کیا اس کاذب نبی کے دعوٰی کی تردید میں مزید شواہد و دلائل کی ضرورت ہے۔
مرزا قادیانی کا ایک اور ڈھکوسلہ زلزلہ کی پیش گوئی سے مشہور ہوا۔ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو شمالی ہندوستان میں قیامت خیز زلزلہ آیا جو کانگڑے کے زلزلہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس سے گنجان آباد علاقے کھنڈرات میں بدل گئے۔ انسانی آبادیاں ویرانوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس دور
٣٢
یک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند تا ہے کہ یہ ابتلاء دور ہو۔ مگر یہ کہ آتے وقت ایک ے ساتھ لے آویں اور علاوہ اس کے آپ بھی اپنے خ رس کپور اس قدر بھیج دیں جو چند ماہ کے لئے کافی
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١١٣)
ایک شخص جو وحی خداوندی کے تحت طاعون کو اپنی تم نشان سمجھتا ہو اور اپنے مخالفوں کے لئے خداوندی گردانتا ہو۔ ٹیکہ تک لگوانے سے انکار کر کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔ بلکہ اپنے فرنگی کو لکھتا ہے: ”شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ سے بچانے کے لئے ٹیکہ کی تجویز کی اور بندگان پڑ ڈال لیا۔ درحقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر
(کشتی نوح ص ١ خزائن ج ١٩ ص ١)
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند آفات لئے گھر کا حصار اور اس کے مکین بھی محفوظ نہ رہ ت ابھی اسے منہ نہیں لگاتی۔ مرزا قادیانی کی انی داخل ہوگئی ہے۔ بڑی غوثاں کو تپ ہو گیا لو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے اور تا باہر نکال دیا۔ آج ہمارے گھر میں ایک قت میں بھی ایسا بیمار ہوا گیا کہ وہم گزرا کہ لئے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١١٥)
تا مزید شواہد و دلائل کی ضرورت ہے۔ سے مشہور ہوا۔ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء کو شمالی کے نام سے مشہور ہے۔ اس سے منجان عقول کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس دور
کے ماہر ارضیات نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ایسے ہولناک زلزلوں کے بعد یکے بعد دیگرے مزید جھٹکوں کا رونما ہونا لازمی ہے۔ جو شدت کے لحاظ سے مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ ایک عام آدمی بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ روئے ارض کے مختلف مقامات پر وقتاً فوقتاً زلزلوں کے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی جسے پیش گوئیاں کرنے کا جنون تھا۔ اس سنہری موقع کو ہاتھ سے کیوں جانے دیتا؟ لہٰذا پہلے زلزلے کے صرف چار دن بعد یعنی ٨؍ اپریل ١٩٠٥ء کو یہ پیش گوئی سنادی کہ بہت جلد اس کی زندگی ہی میں ایک ہولناک زلزلہ رونما ہوگا۔ چند دن بعد اس نے ایک اور اشتہار کے ذریعہ قریب الوقوع زلزلے کا اعلان کیا۔
”آج ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ہولناک زلزلے کی خبر دی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٢٦)
ایک اور تحریر میں اس نے پر زور الفاظ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق زلزلہ سولہ سال کے اندر اس کی زندگی ہی میں رونما ہوگا۔ مرزا قادیانی نے ہوشیاری یہ کی کہ زلزلہ کے وقوع کے اوقات اور مقام کا ذکر حذف کرتے ہوئے مبہم الفاظ میں یہ پیش گوئی شائع کردی۔
قارئین کرام! غور فرمائیے کہ سولہ سال کی طویل مدت کے دوران کسی ایک نہیں، بلکہ کئی ایک زلزلوں کا وقوع پذیر ہونا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ اس طویل مدت کا تعین بھی مرزا قادیانی کی چالاکی تھی۔ مرزا قادیانی نے لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے اپنی قیاس آرائی کا غیر ضروری طور پر کئی بار اعادہ کیا۔ مرزا قادیانی اپنے اوہام اور ڈھکوسلوں کو شائع کرنے پر ہی اکتفا نہ کرتا۔ بلکہ حکومت کو بھی اپنے بیمار ذہن کے اختراع کردہ آسمانی خطرات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا اور مناسب انتظامات کرنے پر زور دیتا رہتا۔ لہٰذا اب کے بھی اس نے ایک پمفلٹ
"AN URGENT REQUESTT DEMANDING ATTNTION OF THE GOVERNMENT"
شائع کیا اور حکومت کو بھی خبردار کرنے کے لئے اس کی نقول روانہ کردیں۔ مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی پر اتنا کامل یقین تھا کہ اس نے قادیان میں اپنے عشرت کدہ کو خیر باد کہہ کر قصبہ سے باہر باغ میں نہ صرف خود خیمے لگا لئے بلکہ اپنے قادیانی ٹولے کو بھی اس کی ترغیب دی۔ اس سے مترشح ہے کہ مرزا قادیانی زلزلے کی صورت میں کسی ہولناک تباہی کا منتظر تھا۔ ایسی تباہی و بربادی جو سابقہ تمام ریکارڈوں کو مات کر دے اور جان و مال کے نقصان کے لحاظ سے اپنا ثانی نہ رکھتی ہو۔
٣٣
قارئین کرام! یہ جان کر لطف اندوز ہوں گے کہ چھوٹے موٹے زلزلوں کے جھٹکے کہیں ادھر ادھر محسوس کئے گئے ہوں تو ہوں۔ لیکن جس شدید زلزلے کی مرزا قادیانی نے اطلاع دی تھی اور جس کا خوب ڈھول پیٹا گیا تھا۔ اس کی زندگی میں رونما ہوا اور نہ سولہ برس کی طویل مدت میں۔
مرزا قادیانی کے اوہام، ڈھکوسلے، چال بازیاں جنہیں وہ پیش گوئیوں کا نام دیتا تھا۔ تعداد میں تو بے شمار ہیں۔ ان سب کو گنانا تو تضیع اوقات ہے۔ لیکن اس کے شیطانی نفس کی ایک اور اختراع قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ عبداللہ آتھم سے متعلق پیش گوئی کی مانند اس نے اسے بھی اپنے صادق و کاذب ہونے کی دلیل قرار دیا تھا۔
مرزا قادیانی کا ایک قریبی عزیز احمد بیگ نامی کسی کام میں حصول مدد کے لئے اس کے پاس پہنچا۔ مرزا قادیانی نے اس کام کے عوض میں احمد بیگ کی بیٹی کا رشتہ اپنے لئے طلب کرلیا۔ لیکن جب حصول مراد میں دقت پیش آئی تو ہیرا پھیری اور پیش گوئیوں کے مکارانہ حربے آزمانے شروع کر دیئے۔ لہٰذا احمد بیگ کو ایک خط لکھا گیا۔
مکرمی مخدومی اخویم مرزا احمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کر دے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے۔ یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہوگا اور ہمارے انعام واکرام بارش کی طرح اس پر نازل ہوں گے اور تنگی اور سختی اس سے دور کر دی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہوگا اور ہمارے قہر سے نہ بچ سکے گا۔
اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تاکہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ اور اس کے بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب ولحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دیندار اور ایماندار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں۔ ہبہ نامہ پر جب چاہو دستخط کر جاؤ اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔ عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرنے کسی عہدہ دلانے کی خاص کوشش و سفارش کر لی ہے تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدت مندوں میں ہے۔ تقریباً کر دیا ہے اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو۔ فقط:
(خاکسار غلام احمد عفی عنہ لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٨ء)
٣٤
خط کا متن کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔ اس کا آغاز ایک پیش گوئی سے ہوتا ہے۔ لیکن تحریر کنندہ کو یقین ہے کہ اس پیش گوئی کا حشر بھی دوسری پیش گوئیوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ لہٰذا ترغیب و تحریص اور دھمکیوں کا نسخہ بھی ساتھ ہی آزمایا جا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر ملاحظہ فرمائیں: ”محمدی بیگم کا نکاح ایک طے شدہ امر ہے۔ مجھے اپنے رب کی قسم کہ یہ سچ ہے۔ وہ اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ خدا نے مجھے بتایا ہے۔ ہم خود اس کا نکاح تمہارے ساتھ کر چکے ہیں۔ ہماری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)
لیکن احمد بیگ تو غالباً کسی اور مٹی سے بنا تھا۔ اس پر تحریص و ترغیب کے حربے کامیاب ہوئے اور نہ دھمکیاں کارگر ہوئیں۔ اس نے مرزا قادیانی کی یاوہ گوئی کی ذرہ بھر پرواہ نہ کی۔ جب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ اس کی کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں تو اس نے مرزا احمد بیگ کو راضی کرنے کے لئے کئی قسم کے دباؤ ڈالے۔ لیکن کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ بالآخر ہوس کے اس بندے کو وہ دن بھی دیکھنا پڑا۔ جب محمدی بیگم کی شادی کی رسم ہندوستانی فوج کے ایک سپاہی سلطان بیگ کے ساتھ ادا ہو گئی۔
مرزا قادیانی کے لئے یہ گھاؤ بہت گہرا تھا۔ وہ دل تھام کر رہ گیا۔ وہ اپنی محبوب سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ ایک طرف تو وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا اور دوسری طرف اپنی ہیرا پھیری اور چال بازیوں کی ناکامی پر جگ ہنسائی کا خوف، خفت مٹانے کے لئے ایک اور پیش گوئی سنادی کہ محمدی بیگم تین سال کے عرصہ میں بیوہ ہونے پر اس کے نکاح میں آ کر رہے گی۔
”یہ درست ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے نہیں ہو سکا۔ لیکن یہ حکم الٰہی ہے اور پیش گوئی کے مطابق انجام کار وہ میری زوجیت میں آ کر رہے گی۔“
”اور پھر خدا کی قسم یہ بالکل سچ ہے کہ وہ میرے نکاح میں آئے گی۔ میں اس پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کی دلیل ٹھہراتا ہوں۔ میں نے یہ اس وقت تک نہیں کہا جب تک خدا تعالیٰ نے مجھے اس کی خبر نہیں دی۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے متعلق پہلی پیش گوئی ١٨٨٨ء میں کی تھی۔ لیکن نہ تو محمدی بیگم کا شوہر سلطان بیگ تین سال کے عرصہ میں فوت ہوا اور نہ مرزا قادیانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ البتہ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی، محمدی بیگم سے شادی کی حسرت دل میں لئے ہوئے اپنی روسیاہیوں کا حساب چکانے کے لئے اس دنیا سے کوچ کر گیا۔
٣٥
مرزا قادیانی کو نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ نبی کی پیش گوئیاں تو ہمیشہ واضح اور دو ٹوک ہوتی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی ہر پیش گوئی مبہم اور ہیرا پھیری کا پہلو لئے ہوتی۔ چنانچہ اپنے حاشیہ برداروں کو بشارت سنا دی کہ ٨٠ سال کی عمر پاؤں گا۔ شاید پانچ چھ سال کی کمی بیشی ہو جائے۔ لیکن جناب کا انجام کیا ہوا۔ ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضے کا شدید حملہ ہوا۔ مرض جان لیوا تھا۔ کئی بار قے کرنے کے بعد چھبیس مئی ١٩٠٨ء کو ٦٨ ، ٦٩ سال کی عمر میں خدائی اور نبوت کا دعویٰ، نبیوں پر افتراء باندھنے والا، ناموس رسالت پر ڈاکہ ڈالنے والا ناپاک وجود خالق حقیقی کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ملک عدم کو سدھارا۔
مرزا قادیانی کی کوئی ایک پیش گوئی بھی حقیقت کا رنگ اختیار نہ کر سکی۔ تقریباً ہر بار اسے رسوائی و ذلت ہی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن آپ اس کی چالاکی و ہوشیاری ملاحظہ فرمائیے۔ ہمیشہ متوقع واقعہ سے متعلق مقام وقوع اور وقت کو نظر انداز کر دیتا۔ اپنے ڈھکوسلوں کو الہام کے دبیز پردوں میں لپیٹ کر پیش کرتا۔ تا کہ پینترا بدلنے اور ہیرا پھیری کرنے میں سہولت رہے۔
مرزا قادیانی کی ناکام پیش گوئیاں، نفرت انگیز چالیں، ایچ پیچ اور ہیرا پھیریاں یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہیں کہ نبوت سے متعلق اس کا دعویٰ محض کذب پر مبنی تھا۔ حرص و آز کے اس بندے نے یہ ڈھونگ حصول اقتدار کے لئے رچایا تھا۔ سیالکوٹ کی کچہری کا یہ محرر اپنے خاندان کو اس عروج پر لے جانا چاہتا تھا جہاں سے ان کے لئے کسی مملکت کا حکمران بننا آسان ہو جائے۔ انگریز کی یہ ذریت پاکستان میں آج بھی ان مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سرگرم عمل ہے اور مسلمانوں کی ملی غیرت کے لئے ایک چیلنج۔
مسلمانوں اور قادیانیوں کے عقائد میں بنیادی اختلافات
سابقہ دو ابواب میں ان حالات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ جن کے تحت قادیانی تحریک نے جنم لیا۔ ناظرین کو ان ہتھکنڈوں اور حربوں سے بھی روشناس کیا جا چکا ہے۔ جو ملت اسلامیہ سے غداری کی اس تحریک کو فروغ دینے کے لئے استعمال کئے گئے۔ اب اس کے بعض اساسی اعتقادات کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ تا کہ اسلام سے اس کے بنیادی اختلاف کی صحیح تصویر سامنے آسکے۔
٣٦
اسلام اور قادیانیت کا پہلا بنیادی اختلاف
مسئلہ ختم نبوت سے متعلق ہے۔ اس کا ذکر تو پہلے باب میں بھی کیا جا چکا ہے۔ یہاں صرف اتنا واضح کر دینا کافی ہے کہ قادیانیت کے پیرو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم المرسلین پر ایمان نہیں رکھتے۔ مرزا قادیانی کو اپنا نبی مانتے ہیں۔ ان کے خیال میں رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے رسالہ ”شرائط بیعت“ میں عقیدہ سے متعلق آرٹیکلز کی پانچویں شق کی عبارت ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے۔
”نبوت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہا ہے اور کھلا رہے گا۔ خدا کی کوئی صفت بے کار نہیں ہو جاتی۔ جس طرح وہ پہلے اپنے نیک بندوں سے بذریعہ وحی ہم کلام ہوتا تھا۔ وہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔“
یہ امر کسی کے لئے تعجب انگیز نہیں ہونا چاہئے کہ قادیانیوں نے جب اپنے مذہبی پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کو مصلح سے مسیحا اور مسیحا سے نبی کے درجہ تک ارتقا پذیر ہوتے دیکھا تو ان کے دل میں بھی اپنے روحانی پیشوا کے نقش قدم پر گامزن ہونے کی خواہش نے چٹکیاں لینی شروع کیں۔ چنانچہ سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے کے معلم مسٹر یار محمد نے مرزا کے نام نہاد الہامات کو اپنی طرف منسوب کرنے کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں ایک اور قادیانی احمد نور نامی بھی نبوت کا دعویدار بن کر اکھاڑے میں اتر آیا اور لوگوں کو تبلیغ کرنا شروع کر دی۔
”اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب آسمان کے نیچے اللہ کا دین میری تابع فرمانی ہے۔ میرا مان لینا اللہ کا دین ہے اور میرے خلاف اور نہ مان لینا اللہ کے دین سے اخراج ہے۔“
دکن میں شوراپور کے نواحی علاقے تیمار پور کا مولوی عبداللہ جسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مصاحب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ کیوں پیچھے رہتا۔ فوراً مقابلے میں آیا اور اعلان کر دیا کہ:
”غلام احمد کی پیش گوئیوں کے مطابق میں نبی ہوں۔ میں خدا کا رسول ہوں۔ تم سب کو میری پیروی کرنی چاہئے۔ میں قادیان کا اصل خلیفہ ہوں۔“
”اللہ پاک نے نیز اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کے بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی بادشاہ زمین و آسمان نے اس عاجز کو چن لیا تاکہ زور آور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے۔“
(تفسیر آسمانی طبع الثانی عبداللہ تیمار پوری)
٣٧
عبداللہ اپنی نبوت کو مرزا قادیانی ہی کے روحانی فیوض وبرکات کا مرہون منت سمجھتا تھا۔ غلام محمد قادیانی کو بھی نبی بننے کی سوجھی تو خدا کی قسم کھا کر دعویٰ کر دیا کہ: ”مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا تمام الہامات ومکاشفات میں تمام شاہانہ تصور اور اس کے متعلقہ کاروبار میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف میں ہی ان سب کا مصداق اور مدعی صادق ہوں۔“
(رسالہ نمبر ہشتم منجانب شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود)
عبداللطیف قادیانی اور چراغ دین قادیانی نے بھی نبوت کے ایسے ہی دعوؤں کا برملا اعلان کیا۔ ظاہر ہے اس قسم کے اعتقادات ودعاوی قرآنی تعلیمات واحادیث نبوی سے صریحاً متضاد ہیں۔ اسلام میں ایسے ملحدانہ وکافرانہ افکار کی کوئی گنجائش نہیں۔
اسلام اور قادیانیت میں دوسرا اختلاف
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یوم حشر سے قبل دنیا میں ان کے دوبارہ ورود سے متعلق ہے۔ امت اسلامیہ کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر انتقال نہیں فرمایا۔ وہ آسمانوں پر زندہ اٹھا لئے گئے اور قیامت سے قبل ان کا روئے زمین پر نزول ہوگا۔
اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کی موت سے بچ کر کشمیر چلے گئے اور بعد میں طبعی طور پر اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ نیز قبل از قیامت جس مسیح صفت مہدی موعود کا انتظار ہے۔ وہ خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
اسلام اور مرزائیت میں تیسرا اہم اختلاف
مسئلہ جہاد سے متعلق ہے۔ اس امر پر بھی بلا تخصیص اسلامیان عالم متفق ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس مسئلہ پر امت اسلامیہ میں کبھی کوئی اختلاف رونما نہیں ہوا۔
قرآن حکیم میں سورۃ البقرہ کی آیات ١٩٠،١٩٣،٢١٦،٢٤٤، سورۃ آل عمران کی آیات ١٦٧، ١٦٩، ١٤٢، سورۃ النساء کی آیات ٧١، ٧٤ تا ٧٧، ٨٤، ٩٥، سورۃ التوبہ کی آیات ١٤، ٢٩، ٣٨، ٤١، ١٢٣، سورۃ الانفال کی آیات ١٥، ١٦، ٦٠، ٦٥، سورۃ محمد کی آیات ٤، ٢٠ اور سورۃ الحج کی آیات ٣٩، ٤٠، سورۃ الفرقان کی آیت ٥٢، سورۃ الصف کی آیات ١٠ تا ١٣ کے ذریعہ مسلمانوں کو فریضہ جہاد کو بجالانے کا حکم دیا گیا۔
لیکن دشمن اسلام مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کے اس واضح حکم کے خلاف فریضہ جہاد بالسیف کو حرام قرار دینے کی ناپاک جسارت کی۔ لہٰذا منیر انکوائری رپورٹ میں مندرج ہے۔
٣٨
”١٩٠٠ء میں اس نے اپنے اس نظریہ کو پیش کیا کہ آئندہ کے لئے جہاد بالسیف منسوخ کیا جاتا ہے۔“
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص٩)
فریضہ جہاد سے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کی وضاحت کے لئے اس کی اپنی تحریروں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں: ”لوگو! میں تمہارے لئے ایک حکم لایا ہوں کہ آئندہ سے جہاد بالسیف ممنوع ہے۔“ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ایضاً)
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے لئے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
”کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)
”اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)
”میں نے زندگی کا بیشتر حصہ برطانوی حکومت کی اطاعت اور جہاد کی مخالفت کرنے میں گزارا۔ میں نے اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔ یہاں تک کہ مسلمان دل سے حکومت کے وفادار ہوگئے۔“
دراصل بعض دنیوی مصلحتوں کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن پاک اور احادیث نبوی کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے فریضہ جہاد کو حرام قرار دے دیا تھا۔ خدشہ تھا کہ باحمیت اور غیرت مند اسلامیان ہند کہیں اس کے مسیحی آقاؤں سے ٹکر نہ لے بیٹھیں۔ لہٰذا حکومت کی خوشنودی اور اپنے دنیوی مفاد کے پیش نظر اس نے دین فروشی اور اسلام سے غداری کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ جہاد کی مخالفت میں اس کاذب نبی کی ایک گہری چال تھی۔ ایک بھیانک سازش جس کے دور رس نتائج کی زد میں امت مسلمہ کی سیاسی زندگی بلکہ خود اسلام تھا۔ اس سازش کا تفصیلی جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔
٣٩
زیر نظر کتاب کے باب اول میں واضح کیا جا چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کا ڈھونگ اس وقت رچایا جب اسلامی دنیا یورپی استعمار کے جور و ستم کا شکار ہو چکی تھی۔ عیسائیت کا پرستار یورپ جو ایک تھپڑ کھا کر دوسرا تھپڑ کھانے کے لئے رخسار پیش کرنے پر ایمان رکھتا تھا۔ مسلمانوں کو اپنے ظلم واستبداد کی چکی میں پیس رہا تھا۔ اقتدار کے نشہ میں مست استعماری قوتیں بالعموم یہ حقیقت فراموش کر دیتی ہیں کہ ظلم وتشدد اور مکر و فریب سے حاصل کی ہوئی طاقت جسموں پر تو حکمرانی کر سکتی ہے۔ لیکن ضمیر کے چراغوں کو گل کرنا ان کی استطاعت سے کہیں بعید ہوتا ہے۔ غیرت وحمیت کی چنگاریاں سینے کی اتھاہ گہرائیوں میں سلگتی رہتی ہیں۔ جو کسی وقت بھی شعلہ بن کر ظالم حکمرانوں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہیں۔ ہندوستان میں بھی انگریز اپنی عیاریوں اور مکاریوں کے باعث تاجدار ہند تو بن بیٹھے تھے۔ لیکن جیسا کہ ظالم وغاصب حکمرانوں کا وجود زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جاتا۔ لوگوں نے غیر ملکی تسلط کے اس جوئے کو اتار پھینکنے کی تدبیروں پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ غلامی کی زنجیریں کاٹ پھینکنے کی تجویزوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ لہذا وقت کی اہم ضرورت اتحاد وتنظیم تھی۔ ١٨٥٧ء میں ہندوستان کی سرزمین پر پہلی جنگ آزادی لڑی گئی۔ اس میں اسلامیان ہند نے نہایت اہم کردار ادا کیا اور وہ کیوں نہ کرتے وہ اس خطۂ ارض کی آبرو کے امین تھے۔ یہاں قدم قدم پر ان کے آباؤ اجداد کی عظمت وشوکت کے نقوش کندہ تھے۔ بلکہ ہند کی عظمت تو ان ہی کی کاوشوں کی مرہون منت تھی۔ یہاں کے چپے چپے کو انہوں نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔ وہ اس صنم پرست دھرتی پر توحید کا پیغام لے کر آئے تھے۔ اس کے شہروں اور دیہاتوں کو مسجدوں سے رونق بخشی تھی اور اب انہیں مسجدوں کے بلند و بالا مینار انہیں درس جہاد دے رہے تھے۔ انہوں نے اس صدائے حق پر لبیک کہا اور شوق شہادت میں ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں بے خطر کود پڑے۔
غدار ملت مرزا غلام احمد قادیانی کے غدار باپ مرزا غلام مرتضیٰ نے اس کٹھن وقت میں بھی آزادی کے پروانوں کا ساتھ نہ دیا۔ ساتھ دیا تو کس کا دیا؟ ظلم وتشدد کا۔ جور واستبداد کا، باطل و فاسد قوتوں کا ، بیرونی حکمرانوں کا ، ایک طرف سکھوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے تحریک آزادی کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی سعی کی اور دوسری طرف آزادی کے جیالے سپاہیوں کو تہ تیغ کرنے میں اپنے بیرونی آقاؤں کا دست و بازو بن گیا۔
٤٠
برطانوی دسترخوان کے زلہ خوار مرزا غلام احمد قادیانی نے ان غدارانہ مساعی کو فخریہ بیان کیا ہے: ”میرے والد غلام مرتضیٰ دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے۔ سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٨، ١٩، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠، ٢٧١)
مرزا قادیانی کے باپ نے اسی پر اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ سکھوں کے عہد میں مجاہد آزادی، اسلام کے بطل عظیم سید اسماعیل شہیدؒ کی مخالفت کرتے ہوئے فرعونی قوتوں کا ساتھ دیا۔
برطانوی حکمران افغانستان کے خلاف صف آراء ہوئے تو مسلمانوں نے علم جہاد بلند کرنے کی نیت سے اپنے پراگندہ ومنتشر قوت کو متحد کرنے اور اپنے وسائل کو یک جا کرنے کی مساعی کا آغاز کیا۔ مسلمانوں کے ساتھ مختلف جھڑپوں اور تصادمات کے دوران بالآخر استعماری طاقتوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ ان کے منتشر دشمنوں کو جس جذبے نے یکجا کیا ہے۔ وہ شوق شہادت ہے۔ فریضۂ جہاد ہی نے ان کے قلب ونظر کو جلا بخشی ہے اور وہ سر بکف تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دشمنوں کے خلاف بیک جان محاذ آرا ہو جاتے ہیں۔ برطانویوں نے برصغیر کے علاوہ ترکی میں بھی اپنی مذموم سازشوں کا جال پھیلا رکھا تھا۔ روس، ترکی پر قبضہ جمانے کے لئے دانت تیز کر رہا تھا۔ ترکی نے شمع آزادی کو فروزاں رکھنے کے لئے طویل جدوجہد کی۔ بالآخر جب روسی یلغار کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو گیا تو بہ امر مجبوری غاصبوں کی پیش کردہ صلح کی شرائط کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس دوران میں انگریزوں کے استعماری عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ انہوں نے ترکی کی بے بسی سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے عیارانہ حربوں اور خفیہ ہتھکنڈوں کے ذریعہ قبرص کے علاقہ پر مکمل قبضہ جما لیا۔
١٨٨١ء میں برطانوی فوجوں نے اپنی مکارانہ چالوں سے مصریوں کو مغلوب کر لیا۔ سوڈان میں مسلمانوں نے شدید مزاحمت کر کے انگریزوں کے دانت کھٹے کئے۔ لیکن بالآخر سامراجی فوجوں کی وحشیانہ جارحیت ہی کامیاب رہی۔ برطانوی یلغار نے عدن اور بحرین کو بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا اور اسے بھی زیر کر کے ہی دم لیا۔
بظاہر اسلام دشمن طاقتوں نے اپنی حریف ملت اسلامیہ کو بے دست و پا کر دیا تھا۔ لیکن وہ خائف بھی تھیں کہ یہ زخم خوردہ شیر کسی وقت بھی کچھار سے باہر آ سکتا ہے۔ غیرت وحمیت کی
٤١
دبی ہوئی چنگاری کسی لمحہ بھی شعلہ بن کر ان کی اخلاقی اقدار سے عاری شجاعت و دلیری کے ایوانوں کو راکھ بنا سکتی ہے اور ان کے کبر ونخوت کے محلات کو ملیا میٹ کر سکتی ہے۔ استعماری قوتیں اس امر سے باخبر تھیں کہ جذبہ جہاد سے سرشار مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے مفتوحہ علاقے کسی وقت بھی ان کے اقتدار کا قبرستان بن سکتے ہیں۔ لہٰذا اب ان کے پیش نظر اگر کوئی نصب العین تھا تو وہ مسلمانوں میں جہاد کی روح کو کچلنا تھا۔ یہودی پہلے ہی اس جذبے کو پامال کرنے کے لئے ادھار کھائے بیٹھے تھے اور مسلمانوں کو اس حکم خداوندی سے برگشتہ کرنے کے لئے دھڑا دھڑ لٹریچر شائع کر رہے تھے۔ انگریزوں نے ان کی خوب پیٹھ ٹھونکی۔ ان کے معاندانہ خیالات کی تشہیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لیکن اپنی تمام تر مساعی کے باوجود دشمنان اسلام مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کی روشن شمع گل نہ کر سکے۔ بالآخر وہ اسی نتیجہ پر پہنچے کہ اس مہم کو سر کرنے کے لئے مسلمانوں کے ہاں کسی غدار کو آمادہ کیا جائے۔ کسی ففتھ کالمسٹ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کی پیٹھ ٹھونکی جائے۔ اس کی سرپرستی کی جائے اور اسے اپنا آلہ کار بنایا جائے۔ ان کی آنکھیں تو پہلے ہی قادیان کے اس خود ساختہ نبی پر لگی ہوئی تھیں۔ ان کی نظر میں یہی وہ شخص تھا جو ان کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا تھا اور ان کا دست و بازو بن کر جہاد بالسیف کو حرام قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے اتحاد میں دراڑ ڈال سکتا تھا۔ ہز ایکسیلنسی لارڈ ریڈنگ کی خدمت میں قادیانی ایڈریس ان تلخ حقائق پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ متعلقہ اقتباس پیش خدمت ہے: ”جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ تمام اسلامی دنیا جذبہ جہاد سے سرشار تھی۔ اس کی حالت پٹرول کے بیرل کی مانند تھی۔ جو بھڑکنے کے لئے کسی شعلے کا منتظر ہو۔ لیکن بانی تحریک نے جہاد کے غیر اسلامی اور خلاف امن تصور کی مخالفت میں پورے زور شور سے تحریک چلائی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بمشکل چند سال ہی گزرے تھے کہ ارکان حکومت کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ جس فرقہ کی تشکیل کو وہ امن کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ وہ ان کے لئے غیر معمولی طور پر باعث اعانت و تقویت ثابت ہوئی ہے ۔“
(الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٥٢ ص ٣ مورخہ ١٤ جولائی ١٩٢١ء)
مرزا غلام احمد قادیانی نے فریضہ جہاد کے خلاف بہت کچھ لکھا اور اسلام کے اس واضح حکم کی شدید مخالفت کی۔ اس نے اپنے زہر آلود خیالات کی تشہیر کے لئے مختلف زبانوں میں کتابیں لکھ کر اسلامی ممالک میں بھجوائیں۔ اس سلسلے میں اس کا اپنا بیان ملاحظہ فرمائیں ۔
٤٢
”میری کتابوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“
(ستارہ قیصریہ ص٣،٤، خزائن ج١٥ ص١١٤)
سامراجیوں کا پٹھو اور انگریزوں کا پروردہ ہونے کی حیثیت سے مرزا قادیانی نے گلستان اسلام کو جو نقصان پہنچایا۔ مسلمانوں میں عالم گیر رشتۂ اخوت کے انقطاع کی جو مساعی کیں۔ ملت اسلامیہ میں افتراق و شقاق کا جو باب کھلا۔ وہ اگر چہ اب ڈھکا چھپا راز نہیں رہا۔ تاہم اسے صفحۂ قرطاس پر لاتے ہوئے قلم بھی ندامت سے سرنگوں ہو جاتا ہے۔
قادیانی مذہب کا ایک عجیب و غریب پہلو یہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کی یاوہ گوئی ابہام و التباس سے پر تضاد بیانی کو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت قرآن حکیم کے متوازی لا کھڑا کیا ہے۔ ملت اسلامیہ کا بالاجماع یہ عقیدہ ہے کہ ہر وہ شخص جو قرآن حکیم کو وحی کی معراج اور آخری آسمانی کتاب نہیں سمجھتا۔ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن قادیان کے کاذب کا دعویٰ تھا کہ اس پر وحی الٰہی نازل ہوتی تھی اور یوں اس نے اپنے اوہام اور فریب خیال کو کلام اللہ کا نام دے رکھا تھا۔
لہٰذا اس نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص٢٢٠، خزائن ج٢٢ ص٢٢٠) میں گل افشانی کی ہے۔
”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر ملاحظہ فرمائیں: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ توریت، انجیل اور قرآن پر۔“
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
٤٣
مرزا قادیانی کے کذب وافتراء پر مشتمل اپنی کتاب ہے۔ جسے وہ تذکرہ کا نام دیتا ہے۔ اس کے بیس اجزاء ہیں۔ ہر جزو متعدد آیات ( نام نہاد الہامات ) پر مشتمل ہے۔
علاوہ ازیں یہ جھوٹا مدعی نبوت اپنے آپ کو رحمۃ اللعالمین محمد مصطفیٰ ﷺ فداہ امی وابی کا ہم پہلو بتاتا ہے۔ قارئین کرام اس کی ہرزہ سرائی ملاحظہ فرمائیں: ”جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیٰ ﷺ میں فرق کرتا ہے۔ اس نے مجھے نہیں جانا اور نہیں پہچانا ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
حد تو یہ ہے کہ یہ کاذب تو ذات خداوندی پر بھی کذب وافتراء باندھنے سے گریز نہیں کرتا۔ ”خدا نے مجھ سے کہا تو مجھ سے ظاہر ہوا میں تجھ سے ۔“
”تو مجھ سے ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ میں ہی ظاہر ہو گیا۔ یعنی تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور ہو گیا۔“
(تذکرہ ص٧٠٣)
انگریزوں کے اس آلہ کار متنبّی نے اپنی علیحدہ شریعت پیش کرنے کی بھی شرانگیز کوشش کی۔ ”میں صاحب شریعت ہوں۔ میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین حصہ چہارم ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
چودھویں صدی کا یہ دجال جس کا قلب و ذہن ختم المرسلین فخر انبیاء حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سمیت تمام پیغمبروں کے احترام سے بیگانہ تھا۔ جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کوئی شرم وحیا محسوس نہ کرتا تھا۔ جو کلام اللہ پر قطعاً ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اس کے ماننے والوں سے کسی صحیح عقیدے کی توقع رکھنا محض عبث ہے۔ وہ تو اس سے بھی بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر وہ ایک کاذب نبی کے پیرو جو ٹھہرے وہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی جنم بھومی قادیان کی پرستش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس ملعون مقام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام وحضرت اسماعیل علیہ السلام کے آباد کردہ مقدس شہر، خاتم الانبیاء سرور کائنات حضور ﷺ کی جائے ولادت، مرجع خلائق، ام القریٰ مکہ مکرمہ کے برابر مقام دیتے ہیں۔ اس کاذب نبی کے جانشین مرزا محمود احمد کی دریدہ دہنی ملاحظہ فرمائیں۔
”میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٨٠ ص ١، مورخہ ١١؍ دسمبر ١٩٣٢ء)
(گویا اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے سارے خاندان ہی سے ہم کلام ہوتا رہتا ہے)
٤٤
ایک جمعے کا خطبہ بھی سن لیجئے : ”قادیان کو دنیا میں ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہان کے لئے ام قرار دیا ہے اور اس مقدس مقام کے بغیر دنیا کو کوئی فیض حاصل کرنا ناممکن ہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ١٧١، ص ١٠، مورخہ ٣ جنوری ١٩٢٥ء)
اور یہ دشمن دین کس کس انداز سے شعائر اسلام کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ قادیان کی مسجد ضرار کو مسجد اقصی سے، امام الانبیاء، خاتم النبیینؐ جہاں معراج کی رات تشریف لے گئے۔ افضل بتاتا ہے۔
حالانکہ قرآن حکیم کا فرمان مسجد اقصی سے متعلق واضح ہے: ”سبخن الذی اسرٰی بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصا الذى بركنا حوله لنريه من ايتنا (بنی اسرائیل : ١) ” ﴿وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصٰی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا۔ تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔﴾
قرآن پاک کی آیت کریمہ کے برعکس مرزا قادیان کی ہذیان گوئی ملاحظہ فرمائیں: ”اس معراج میں آنحضرتﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے اور وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥ حاشیہ ، خزائن ج ١٦ ص ٢٥)
اور پھر گستاخی کی انتہاء دیکھئے کہ قادیان کو بیت اللہ شریف کا قائم مقام بتایا جاتا ہے۔ ”ہمارا سالانہ جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔۔۔۔۔ خداوند کریم نے قادیان کو اس کام کے لئے پسند کیا ہے اور جیسا حج میں رفث فسوق اور جدال منع ہے۔ ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے۔“
(برکات خلافت ص ز)
یہ امر قابل غور ہے کہ مرزا محمود اور اس کے باپ کے پیرو کار ایک نام نہاد اقصٰی تو بھارت میں چھوڑ آئے تھے اور اب دوسری اقصٰی ربوہ میں تعمیر کر چکے ہیں۔ اس نئی اقصٰی کی حیثیت کے متعلق قادیانی حضرات کیا فتویٰ صادر فرماتے ہیں۔
مندرجہ بالا تمام اقتباسات اس تصریح کے لئے کافی ہیں کہ قادیانیوں کے اپنے مخصوص نظریات اور جداگانہ معتقدات ہیں۔ جن کا مسلمانوں کے عقائد سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا اپنا نام نہاد نبی مرزا غلام احمد ہے۔ اپنی کتاب تذکرہ اور اپنی شریعت ہے۔ وہ مکہ کی بجائے ایک علیحدہ مرکز قادیان کے تابع ہیں۔ یاد رہے کہ اب قادیان کی جگہ ربوہ (چناب نگر) نے لے لی ہے۔ جہاں وہ
٤٥
سالانہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں اور اپنی ان سالانہ مذموم کارروائیوں اور منصوبوں کو حج کے برابر گردانتے ہیں۔ امت محمدیہ کے ساتھ ان کی کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ انہوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ وہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے سامراجی محسنوں سے خفیہ تعلقات کی پردہ پوشی کے لئے یہ سب پاپڑ بیل رہے ہیں۔ ورنہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ان کے کاذب نبی کا۔
مرزا قادیانی نے جونہی نبوت کے باطل دعویٰ کا اعلان کیا۔ علماء کرام نے اسی وقت اس کے خلاف کفر کے فتوے صادر فرما دیئے تھے۔ لیکن بعض مکار و عیار قادیانیوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک عیارانہ طریق کار اختیار کرنے کی سوچی۔ انہیں یہ موقع جلد ہی ہاتھ آ گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی جانشینی ( قادیانیوں کے مطابق خلافت ) کے سوال پر جب یہ گمراہ طبقہ متفق نہ ہو سکا تو محمد علی جو پہلے ہی اپنے کاذب نبی پر بعض معاملات میں انگشت نمائی کا مرتکب ہو چکا تھا، نے قادیانیت کے لاہوری گروہ کی بنیاد رکھی۔ ١٩١٤ء میں اس نے انجمن اشاعت اسلام کا آغاز کیا۔ اس نئے گروہ نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا تصادم کی بجائے انتہائی عیارانہ اور پرفریب انداز اختیار کیا۔ وہ ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو نبی کا درجہ دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن اسے مجدد اعظم اور مہدی موعود قرار دیا۔ ان کا مقصد ان کو گمراہ کرنا تھا۔ جو اب تک گمراہ نہ ہو سکے تھے۔ ان کو دام فریب میں مبتلا کرنا تھا۔ جو اب تک دھوکا نہ کھائے تھے۔ بظاہر وہ قادیانیوں سے اپنے اختلافات کی بہت تشہیر کرتے تھے۔ لیکن درحقیقت وہ قادیانی تحریک ہی کا ایک حصہ ہیں اور انہیں کے خیالات کو صاد کرتے ہیں۔ وہ اسلام دشمنی میں کسی طرح بھی قادیانی گروہ سے کم نہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی زندگی اور اسلام کے لئے ان کے عزائم اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے گروہ کے۔ ملت اسلامیہ کے خلاف اس گروہ کی کاروائیاں اور منصوبے ویسے ہی مذموم ہیں۔ جیسے قادیانی فرقے کے۔ کیا یہ عقل کا اندھا فرقہ ضالہ اتنا بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ جو کاذب نبوت کا جھوٹا دعویٰ رچائے۔ جلیل القدر پیغمبروں پر افتراء اور بہتان باندھے۔ ختم المرسلین ﷺ کے ناموس پر ڈاکہ ڈالے۔ صحابہ کرامؓ اور خاتون جنت فاطمۃ الزہرہؓ کی توہین کا مرتکب ہوا۔ ائمہ دین کو گالیوں سے نوازے وہ مجدد کہلانے کا مستحق کیسے ہو سکتا ہے۔
دراصل یہ دونوں ہی گروہ اپنے اس خود ساختہ مذہب کے دست و بازو ہیں اور قادیانی گروہ سے لاہوری گروہ کے فروعی اختلافات کے باعث انہیں مسلمان نہیں گردانا جا سکتا۔
٤٦
تحریف قرآن حکیم
مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف لا تعداد کافرانہ وملحدانہ خیالات کے حامل تھے۔ بلکہ قرآنی آیات میں تحریف وتصرف کے بھی مرتکب تھے۔ لغات فیروزی کے مطابق تحریف کے معانی متن کے اصل الفاظ کو بدل کر کچھ اور لکھ دینے کے ہیں۔ لہٰذا قرآن حکیم کی آیات میں دانستہ طور پر الفاظ کی کمی بیشی تحریف لفظی کے مترادف ہے۔ قرآن مجید کا ترجمہ کرنے میں ارادۂ اصل معانی کو نظر انداز کر کے کوئی دوسرا مفہوم اختیار کرنا تحریف معنوی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آقائے دو جہاں رسول عربی ﷺ، صحابہ کرامؓ یا مقدس مقامات کی شان میں نازل شدہ آیات کو کسی اور شخص یا مقام پر چسپاں کرنا تحریف منصبی کہلاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآن حکیم میں نہ صرف تحریف لفظی ومعنوی کا ارتکاب کیا۔ بلکہ حضور ﷺ اور مکہ مکرمہ کی شان وعظمت میں نازل شدہ آیات کو اپنی ذات اور قادیان کی سرزمین پر منطبق کرنے کی جسارت بھی کی۔
ملت اسلامیہ اس امر پر بالا جماع متفق ہے کہ ہر وہ شخص جو مقدس اور نا قابل منسوخ کلام الٰہی میں کسی قسم کی تبدیلی کر کے اس کے تقدس کو مجروح کرے، کافر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کو آخری آسمانی کتاب ماننے والا کوئی بھی مسلمان ایسی جسارت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تحریف قرآنی کی چند مثالوں کا جائزہ لینے سے پیشتر اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کی نظر میں قرآن حکیم کی کیا وقعت تھی؟ اس کا دعویٰ ہے کہ اس پر وحی نازل ہوتی تھی۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ قرآن مجید پر بطور آخری وحی ایمان لانے کے لئے تیار نہ تھا۔ بلکہ اس متبرک ومقدس کتاب سے بظاہر اس کی شیفتگی محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے تھی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اپنے دعاوی میں اس انداز سے مبہم قسم کے اشارے کر جاتا۔ جس سے لوگ مغالطہ میں مبتلا ہو کر گمراہی کا شکار ہو جاتے۔ مثلاً: ”قرآن دنیا سے اٹھ چکا تھا۔ میں اسے آسمانوں سے دوبارہ لے کر آیا ہوں۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٩٤)
”میں قرآن کی مانند ہوں اور یہ مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
مرزا قادیانی کی درج ذیل عبارت ہر ذی شعور کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ ”میں قرآن کی غلطیاں دور کرنے کے لئے آیا ہوں۔ جو تفاسیر کی کثرت کے باعث پیدا ہو گئی تھیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)
٤٧
گویا مرزا قادیانی کے ذہن نے اپنے خیال کے مطابق قرآنی آیات میں تصحیح کا پروگرام بنایا تھا۔ اگر وہ قرآن حکیم پر بطور آخری آسمانی کتاب ایمان لایا ہوتا تو درج ذیل قرآنی آیت کا مفہوم اسے ذہن نشین کرنے میں دقت پیش نہ آتی۔ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر:٩)“ ﴿بے شک یہ کتاب ہمیں نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔﴾
قرآن حکیم میں نام نہاد تصحیح کی یہ کوشش صریحاً ایک قبیح جرم ہے۔ یہ ایک ایسا مذموم گناہ ہے جو اکیلا ہی مرزا قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینے کے لئے کافی ہے۔ اس کی اپنی تصانیف سے تحریف کی چند مثالیں ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں۔ مزید سہولت کے لئے اصل آیات بھی درج کی جاتی ہیں۔
اصل آیات قرآنی محرف آیات ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ علیٰ عبدنا فاتوہ بسورہ من مثلہ وادعوا شھداءکم من دون اللہ ان وان لم تفعلوا ولن تفعلوا “ (سرمہ کنتم صدقین . فان لم تفعلوا ولن چشم آریہ حاشیہ ص١٤، خزائن ج٢ ص٦٢، براہین تفعلوا (البقرہ:٢٣)“ ﴿اور اگر تم کچھ احمدیہ ص٥٢٦، خزائن ج١ ص٦٥٢) شک میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندے (محمد عربی) پر تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنالاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ۔ ان کو بھی بلالو ۔ اگر تم سچے ہو لیکن اگر نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے ۔﴾
تحریف شدہ متن میں مرزا قادیانی نے ”وادعوا شھداءکم من دون اللہ ان کنتم صادقین“ کے الفاظ حذف کر دیئے ہیں اور ”فان“ کو ”وان“ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس غلطی کو سہو کاتب کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی چار مختلف کتب میں آیت اسی انداز سے تحریر کی گئی ہے۔
٤٨
”قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا (بنی اسرائیل)“ ﴾فرما دیجئے کہ اگر تمام انسان اور جنات سب اس بات کے لئے جمع ہو جاویں کہ بنا لاویں۔﴿
”قل لئن اجتمعت الجن والانس علی ان یأتوا“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٣، خزائن ج ٢ ص ٦١، نور الحق ج ١ ص ١٠٩، خزائن ج ٨ ص ١٤٦)
مرزا قادیانی نے ”الجن“ کے لفظ کو ”الانس“ سے قبل لا کر کلام اللہ کی ترتیب ہی کو تبدیل کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القی الشیطن فی امنيته (الحج:٥٢)“ ﴾(اے محمدﷺ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ پڑھا۔ تب ہی شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار) کے قلوب میں شبہ ڈالا۔﴿
”وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا ان تمنى القی الشیطن فی امنيته“ ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اس کی یہ حالت نہ ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے۔ یعنی اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اس کی خواہش میں کچھ نہ ملاوے۔ (دافع الوساوس ص، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)
مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی آیت میں سے ”قبلك“ کا لفظ خارج کر دیا ہے۔ کیونکہ آیت کریمہ میں نبوت کا حوالہ آپ سے پہلے دیا گیا ہے نہ کہ آپ کے بعد۔ لہذا اس لفظ کی موجودگی میں وہ اپنا قصر نبوت گھڑنے سے قاصر تھا۔ مندرجہ بالا معانی جو مرزا قادیانی کی تصنیف آئینہ کمالات سے نقل کئے گئے ہیں۔ بھی تحریف سے خالی نہیں۔
”يايها الذين امنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً ويكفر عنكم سیاتكم ويغفرلكم والله ذوالفضل العظیم (الانفال: ٢٩)“ ﴾اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے ہو گے تو اللہ تعالیٰ
”يايها الذين امنوا ان تتقوا يجعل لكم فرقانا ويكفر عنكم سیاتكم ويجعل لكم نوراً تمشون به“ اے ایمان والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء
٤٩
تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو تمہارے گناہ دور کرے گا اور تم کو بخش دے خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ ﴿ فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا۔ جس نور کے ساتھ تم اپنی راہوں میں چلو گے۔
(دافع الوساوس ص، خزائن ج ٥ ص ٩٧)
مرزا قادیانی نے ”ویجعل لکم نورا تمشون به“ کا اضافہ کر کے ”یغفرلکم“ کو غائب کر دیا ہے۔ محرف آیات کا ترجمہ بھی مرزا قادیانی کے ذہن کی پیداوار ہے۔
”وجاہدوا باموالكم وانفسكم فی ”ان يجاهد فی سبیل الله سبيل الله (توبه: ٤١)“ ﴿اور اللہ کی باموالكم وانفسكم“ اگر وہ جہاد کریں راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں۔ کرو۔﴾
(جنگ مقدس ص ٢٧٦، خزائن ج ٦ ص ٢٧٦)
اس آیت میں واضح حکم ہے اور جہاد کرو۔ اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں۔ انگریزوں کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے فریضہ جہاد کو حرام قرار دے دیا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس آیت سے مخاطب کا صیغہ اڑا کر فریضہ جہاد کے حکم کو ختم کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ نیز ”ان يجاهدوا باموالهم وانفسهم“ کا اپنی طرف سے اضافہ کرنے کے علاوہ فی سبیل اللہ کو آخری سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا۔
”يوم تبدل الارض غير الارض ”بدلت الارض غیر الارض“ (ابراهیم:٤٨)“ ﴿جس دن یہ زمین زمین کے بدلے دوسری زمین بدل دی دوسری زمین سے بدل دی جائے گی۔﴾ گئی۔
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨٥)
مرزا قادیانی نے قرآنی لفظ یوم تبدل کو بدلت میں تبدیل کر کے آیت کے معانی ہی بدل ڈالے۔
”وما ارسلنا من قبلك من رسول الا ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نوحى اليه انه لا اله الا انا فاعبدون نبی ولا محدث الا اذا تمنى القی (الانبياء:٢٥)“ ﴿اور جو پیغمبر ہم نے تم سے الشيطان فی امنیة فینسخ الله ما یلقی
٥٠
پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو۔﴾
مندرجہ بالا آیت کریمہ اور ا مرزا قادیانی نے ”من رسول“ ک حصے میں تبدیلی کرتے ہوئے نہایت ہوشیا میں کہیں بھی موجود نہیں۔ نبوت کا دعویٰ جس کے گمان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو لئے اسے یہ چال چلنا پڑی۔
”ادع الى سبيل ربك بالح والموعظة الحسنة وجادلہم با هي احسن (النحل: ١٢٥)“ ﴿( پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلا بہت ہی اچھے طریق سے ان سے م کرو۔﴾
اس ساری آیت ہی کو مرزا میں نہیں بلکہ دو مختلف تصانیف میں موجو
”الم يعلموا انه من يحادد ورسوله فان له نار جهنم خـ فيها ذالك الخزى العظ (توبه: ٦٣)“ ﴿کیا ان لوگوں ک نہیں کہ جو شخص خدا اور رسول سے م کرتا ہے۔ تو اس کے لئے جہنم کی آ (تیار) ہے۔ جس میں وہ ہمیش رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔﴾
پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔﴾
الشيطان ثم يحكم الله آيۃ“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢ ،خزائن ج ٣ ص ٣٢١)
مندرجہ بالا آیت کریمہ اور اس کی تحریف سے ناظرین پر یہ منکشف اور واضح ہو چکا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے ”من رسول“ تک قرآن حکیم کی آیت کا اصل متن تحریر کرنے کے بعد باقی حصے میں تبدیلی کرتے ہوئے نہایت ہوشیاری سے لفظ محدث کا اضافہ کر دیا ہے۔ جو سارے قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں۔ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پیشتر چونکہ وہ اپنے آپ کو محدث یعنی وہ شخص جس کے کلمات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہوں۔ ”معلم من الله “ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اسے یہ چال چلنا پڑی۔
”ادع الـى سـبـيـل ربـك بـالـحكمـة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هی احسن (النحل: ١٢٥)“ ﴿(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔﴾
”وقال جـــادلـهــم (ای جــادل النصارى) بالحكمة والموعظة“ اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو۔
(نور الحق ص ٤٢ ،خزائن ج ٨ ص ٦٢)
اس ساری آیت ہی کو مرزا قادیانی نے تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ تبدیلی کسی ایک تصنیف میں نہیں بلکہ دو مختلف تصانیف میں موجود ہے اور معنی بھی تحریفی ہی ہیں۔
”الم يعـلـمـوا انـه من يحادد الله ورسـولـه فـان لـه نـار جـهـنـم خـالـدا فـيـهـا ذالك الخزى العظيم (تـوبـہ : ٦٣)“ ﴿ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور رسول سے مقابلہ کرتا ہے۔ تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔﴾
”الـم يـعـلـمـوا انـه من يـحـادد الله ورسـولـه يـدخـلـه نـارا خـالـدا فـيـهـا ذالك الخزى العظيم “ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور رسول کی مخالفت کرے خدا اسی کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ ایک بڑی رسوائی ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣)
٥١
مرزا قادیانی نے لفظ یدخلہ اپنی طرف سے اضافہ کر کے ”فان له“ اور ”جهنم“ کو خارج کر دیا۔
”وجعل منهم القردة والخنازير ”وجعلنا منهم القردة (المائده:٦٠)“ ﴿اور (جن کو) ان میں والخنازیر“ اور ہم نے ان میں سے سے بندر اور سور بنا دیا۔﴾ بندر اور سور بنا دیئے۔
(ازالہ اوہام ج١ ص٤٧٤)
مرزا قادیانی نے لفظ ”جعل“ کو ”جعلنا“ میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔
”كل من عليها فان ، ويبقى وجه ”كل شئ فان ويبقى وجه ربك ربك ذو الجلال والاكرام ذو الجلال والاكرام“ ہر چیز فانی ہے۔ (الرحمن:٢٦، ٢٧) “﴿جو (مخلوق)
(ازالہ اوہام قدیم نسخہ ص١٣٦)
زمین پر ہے۔ سب کو فنا ہونا ہے اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت سے باقی رہے گی۔﴾
مرزا قادیانی نے سورۃ رحمٰن کی ان دو آیات کو ایک آیت ظاہر کیا ہے۔ نیز ”من علیھا“ کو حذف کر کے ”شئ“ کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے۔
”انا انزلناه فى ليلة القدر ”انا انزلناه قريباً من القاديان “ (القدر:١) “ ﴿ہم نے اس ہم نے اس قرآن کو قادیان کے قریب (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا نازل کیا۔ شروع) کیا۔﴾
(براہین احمدیہ ص٣١٣)
قادیان مرزا کا مولد و مسکن تھا۔ اس مقام کا تقدس جتانے کی خاطر اسے قرآن حکیم میں لفظ قادیان کے اضافے کی ضرورت پیش آئی۔
قارئین کرام! یہ ہے وہ لفظی تحریف جو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے پیش نظر مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے قرآن کے متن میں تصحیح کے نام پر عمل میں لانے کی کوشش کی۔ لیکن تحریف کی یہ تو صرف چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ورنہ جیسا کہ
٥٢
پہلے بھی تحریر کیا جا چکا ہے کہ لفظی تحریف کے علاوہ وہ معنوی اور منصبی تحریف کی جسارت کا بھی مرتکب ہوئے ہیں اور اس طرح انہوں نے متعلقہ آیات کے سارے سیاق و سباق کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
اپنی تصنیف حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی نے قرآن حکیم کی مشہور و معروف آیت: ”یسین . والقرآن الحکیم . انك لمن المرسلين“ میں سے صرف ” والقرآن الحکیم “ کے الفاظ کو حذف کر دیا۔ بلکہ اس آیت کو اپنے مطلب کے مطابق نئے معنی پہناتے ہوئے اصرار کیا کہ اس آیت میں جس شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ رسول عربی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود ہے۔ اس طرح وہ الفاظ کو حذف کرنے اور آیت کو اپنے پر منطبق کرنے کے دوہرے گناہ کے مرتکب ہوئے۔
قرآنی آیت: ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين“ میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمۃ للعالمین کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے۔ لیکن اس کاذب کا کذب ملاحظہ فرمائیے کہ اس نے اس آیت کا اطلاق بھی اپنے اوپر کر لیا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
قرآن حکیم کی سورۃ الصف آیت: ٦ ” ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احـــمـــد “ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک پیش گوئی امام الانبیاء ختم المرسلین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جن کا اسم مبارک احمد بھی ہے، سے متعلق بیان فرمائی گئی ہے۔ اس نے اس قرآنی آیت کو بھی اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یہ آیت رسول عرب و عجم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں نہیں بلکہ احمد کے لئے نازل ہوئی ہے اور احمد سے مراد اس نے اپنا وجود لیا ہے۔ حالانکہ ان کا نام غلام احمد تھا اور ہر ذی عقل یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایک پیش گوئی جو احمد سے منسوب ہو۔ غلام احمد یعنی احمد کے غلام پر کس طرح چسپاں ہو سکتی ہے؟
سورۃ الفتح کی آخری آیت میں پیغمبر اسلام کا اسم مبارک محمد مذکور ہے اور یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ آیت سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی شان مبارک میں نازل ہوئی تھی۔ آپؐ کے امتیوں میں سے کوئی شخص بھی یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ حضور ﷺ کو ان کے بلند مرتبے سے محروم کر کے خود اس پر قابض ہو جائے۔ لیکن قادیانی صاحب جن کا مقصد ہی محمد ﷺ کے مذہب پر کاری ضرب لگانا تھا۔ اس آیت کا اطلاق بھی اپنے اوپر کرتے ہوئے یہ اصرار کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اسے مطلع کیا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے مراد مرزا غلام احمد ہے۔
٥٣
غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے سورۃ فاتحہ کی آخری آیت: ”غیــــــر المغضوب عليهم ولا الضالین“ کا ترجمہ کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ”جن پر نہ تو بعد میں تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ وہ بعد میں گمراہ ہو گئے ہیں۔“
حالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ”نہ (دکھا) رستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہو گئے۔“
ان حقائق کے باوجود اگر کوئی قادیانی مصر ہے کہ مرزا قادیانی قرآنی متن میں تحریف کا مرتکب نہیں ہوئے تو پھر یا تو وہ جہالت و بے خبری کا شکار ہے یا جان بوجھ کر اس مسلک کے بانی کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ حالانکہ تنہا یہی ایک جرم انہیں دائرہ اسلام سے خارج کر دینے کے لئے کافی تھا۔
یہ کرتوت تو قادیانیت کے بانی کے تھے۔ لیکن ان کے گمراہ پیرو کار تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے اسلام کی پہلی شرط کلمہ توحید ہی کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کلمہ میں محمد کے لفظ کو الاحمد میں تبدیل کر دیا ہے۔
نائجیریا کی قادیانی عبادت گاہ کی پیشانی پر یہ کلمہ جلی حروف میں تحریر کیا گیا ہے اور محمد رسول اللہ کے الفاظ کی بجائے الاحمد رسول اللہ کے الفاظ درج کئے گئے ہیں۔ نیز ربوہ سے مطبوعہ کتاب ”AFRICA SPEAKS“ میں اس عبادت گاہ کی تصویر شامل ہے اور تحریف شدہ کلمہ عبادت گاہ کی پیشانی پر نمایاں ہے۔
اس باب کو ختم کرنے سے پیشتر یہ ذکر کرنا لازمی ہے کہ مرزا قادیانی اپنی زندگی کے اولین دور میں اپنی بعض تحریروں میں قرآن کریم میں کسی قسم کی تحریف کے مرتکب شخص کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان کی ایک تصنیف ازالہ اوہام سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔
”قرآن حکیم آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کی آیات و احکامات میں کسی شوشے یا نقطے کی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ قرآنی احکامات کی تبدیلی منسوخی کے سلسلہ میں اب خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی وحی یا الہام کے نزول کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ اسے ممکن سمجھنے والا شخص میرے خیال میں مرتد، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤٧، ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)
بہر حال قرآن حکیم میں تحریف کی مندرجہ بالا چند مثالوں کے مطالعہ سے جو غیر ارادی
٥٤
طور پر نہیں بلکہ قصداً اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناپاک اور مذموم ارادوں کی تکمیل کے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
قارئین! اس امر پر متفق ہو چکے ہوں گے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی فتویٰ کے مطابق دائرہ اسلام سے اخراج کے مستحق تھے۔ کسی شوشے یا نقطے کو تبدیل کرنے اور اپنی جگہ سے ہٹانے کی بات تو چھوڑیئے۔ مرزا قادیانی تو قرآنی آیات میں فاش لفظی و معنوی اور منصبی تحریف کا مرتکب ہوا ہے۔ یہ روشن و واضح حقائق بیان کرنے کے بعد مرزا قادیانی کے متعلق فیصلہ ناظرین کرام کی صائب رائے پر چھوڑا جاتا ہے۔
قادیانی ایک علیحدہ امت
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس امر سے اچھی طرح باخبر ہونے کے باوجود کہ رسولِ عربی حضور محمدﷺ کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ دار بالاجماع امت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کر ڈالا۔ اپنی زندگی کے علمی و مذہبی دور کی ابتدائی تحریروں میں وہ رسالت مآبﷺ کو پر زور الفاظ میں آخری نبی ہی قرار دیتا رہا۔ لیکن نبوت کا دعویٰ کر کے اس نے دین اسلام جس کے تحت حضورﷺ کو آخری نبی ماننا شرط ایمان ہے، کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر کے کفر و ارتداد پر مبنی ایک نئے مسلک قادیانیت کی اساس رکھی۔ اس کے حامی اپنے آپ کو احمدی کہنے لگے۔ گویا انہوں نے اپنا ایک نیا نام منتخب کر کے خود ہی مسلمانوں سے علیحدہ امت ہونا تسلیم کر لیا۔ مرزا قادیانی نے صرف جھوٹے دعوؤں پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ اس کی نبوت پر ایمان نہ لانے والے کافر ہیں۔
”اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٠٧)
”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا ۔“
(نزول المسیح ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
”مجھے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کہا جو تمہاری پیروی نہیں کرتا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔“
(تذکرہ ص ٣٣٦ طبع سوم)
٥٥
مرزا قادیانی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے پر جوش مسلمانوں کو گالیاں دینے سے بھی گریز نہ کرتے۔ لہٰذا جوش گفتاری اور طبع آزمائی ملاحظہ فرمائیے۔
”کنجریوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧)
اور میرے دشمن جنگلوں کے سور بن گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے آگے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ دنیا میں سب جانوروں سے زیادہ پلید خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! اے بدذات فرقہ مولویان ۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
مشہور عالم دین مولانا ثناء اللہ کے لئے انتہائی گندے الفاظ استعمال کئے ہیں جو نبی تو درکنار کسی بازاری آدمی کی زبان سے بھی زیب نہیں دیتے۔
”ابن بغا، غدار۔“
(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٤)
”کفن فروش کتا۔“
(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)
”خبیث، سور، کتا، بدذات، گوں خور۔ ہم اس (ثناء اللہ) کو کبھی جلسہ عام میں نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔“
(بحوالہ الہامات مرزا از شیخ الاسلام ص ١٢٢)
وہ شائستگی کی تمام حدود پار کرتے ہوئے پیغمبران خدا کو بھی اپنی ہرزہ سرائی کا ہدف بنانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ نقل کفر کفر نہ باشد کے مقولہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے قارئین سے معذرت کے ساتھ اس کی دریدہ دہنی کی مثال پیش کی جاتی ہے۔
”عیسیٰ کا رجحان زنا کاری کی طرف تھا۔ کیونکہ آپ کی تین دادیاں اور نانیاں کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
مرزا قادیانی کی تحریروں میں اس قسم کی ہرزہ سرائیاں بکثرت ملتی ہیں۔ درحقیقت وہ اشتعال انگیزی، دشنام طرازی اور ناشائستہ انداز گفتگو میں اتنا آگے جا چکے تھے کہ گورداسپور کی عدالت کو انہیں بددماغ اور دشنام طراز قرار دیتے ہوئے یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ وہ اپنے مخالفین کو
٥٦
گالیاں دینے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز کاروائیاں کرنے سے باز رہیں۔ اس پابندی پر عمل کرانے کے لئے اسے تحریری عہد نامہ عدالت میں داخل کرنے کو کہا گیا۔ قادیانی متنبی نے اپنے ولی نعمت کی عدالت میں نہ صرف تحریری طور پر توبہ نامہ پیش کر دیا۔ بلکہ پبلک میں اس امر کا اعتراف بھی کر لیا۔
”میں نے عدالت میں عہد نامہ پیش کیا کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔“
(تمہید کتاب البریہ ص ١٥، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
لیکن وہ اپنی فطرت سے مجبور تھے۔ ضبطِ نفس کی صفت سے محروم تھا۔ یہ تحریری عہد نامہ ان کی بے لگام زبان کو لگام نہ دے سکا۔ مخالفین کے ساتھ مغلظ گالیوں کا طوفان جہاں مرزا قادیانی کے کردار پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ وہاں یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نے خود ہی مسلمانوں اور قادیانیوں میں حد فاصل مقرر کر کے امت محمدیہ اور اپنے پیروکاروں میں تفریق کی بنیادیں رکھ دی تھیں۔ اس نے اپنے فرقہ ضالہ کے لئے الگ اور نئے مذہبی عقائد ہی نہ گھڑے بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی علیحدگی اختیار کر کے مسلمانوں کی وحدت کو پاش پاش کرتے ہوئے ایک نئی اور علیحدہ امت کی بنیاد رکھی۔
مرزا قادیانی نے اپنے پیروکاروں کو مسلمان اماموں کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے روک دیا اور اس طرح خود ہی ملت اسلامیہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔
”پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو...... جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
ایک بار مرزا قادیانی کے معتقدوں میں سے کسی نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ کسی ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے جس کے عقائد سے وہ واقف نہیں؟
جواب ملا: ”نہیں پہلے تمہارا فرض ہے۔ اس کے عقائد معلوم کرو۔ اگر وہ میری تصدیق کرتا ہے تو پھر اس کے پیچھے نماز پڑھ لو اور اگر وہ مجھے جھٹلاتا ہے تو یہ جائز نہیں اور اگر وہ نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٦، مرتبہ منظور الٰہی)
٥٧
مرزا قادیانی نے اپنے ٹولے کو (غیر احمدیوں) مسلمانوں کی نماز جنازہ بھی پڑھنے سے روک دیا۔
”جب نماز سمیت تمام تعلقات منقطع ہو چکے ہیں تو ان کے مردوں کے لئے نماز جنازہ پڑھنے کے لئے متردد نہیں ہونا چاہئے۔“
(کلمۃ الفصل ص١٦٩)
اپنے اس عقیدے پر مرزا قادیانی اس شدت سے عمل پیرا تھا کہ اس نے اپنے سگے بیٹے کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہ کی۔ صرف اس لئے کہ وہ عظیم بیٹا شمع ختم نبوت کا پروانہ تھا اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا منکر۔
مرزا قادیانی کا ٹولہ آج بھی اپنے اس عقیدے پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ یہاں تک کہ قادیانی امت کے بزرجمہر چوہدری ظفر اللہ خاں نے اپنے محسن بانیٔ پاکستان حضرت قائد اعظمؒ کی نماز جنازہ تک ادا نہ کی اور غیر مسلموں کی صف میں کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔
یوں غیر مسلموں کے ساتھ کھڑا ہو کر اس نے خود ہی ثبوت مہیا کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کی وحدت میں دراڑ پیدا کرنے کی ایک اور تدبیر اختراع کی۔ اس نے غیر احمدیوں کو لڑکیوں کا رشتہ دینے کی تو ممانعت کر دی۔ لیکن مطلقاً مسلمانوں کی لڑکیوں کو بیاہ لانے کی اجازت بحال رکھی۔
ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور اس کے خلیفہ ثانی نے اس امر کی وضاحت کیسے کی ہے؟ ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت ص٧٥)
”جو شخص اپنی بیٹی کو غیر احمدیوں کے نکاح میں دیتا ہے وہ کافر ہوگا اور اسے جماعت سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔“
مزید ملاحظہ فرمائیے: ”چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی اپنی لڑکیوں کے رشتے غیر احمدیوں کو دیئے ہیں۔ اس لئے ان کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے اور وہاں کی جماعت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق رکھیں۔“
(الفضل قادیان ج٢٢ نمبر ٦٩ ص٨، مورخہ ٦؍دسمبر ١٩٣٤ء)
٥٨
لہٰذا اس جابرانہ حکم کے تحت پانچ افراد کو جو نام نہاد مسیح کی ہدایات پر عمل پیرا نہ ہوسکے۔ مرزائی ٹولے سے خارج کر دیا گیا۔
اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے طائفہ کے اراکین ہمیشہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کا سوانگ بھرتے رہے ہیں۔ لیکن قادیانی نمرود و فراعنہ کے چند بیانات کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ ابتداء ہی سے یہ فرقہ ایک نیا نیز جداگانہ ملحدانہ عقائد کا حامل فرقہ تھا۔ جس کا دین اسلام اور عامۃ المسلمین سے کوئی تعلق نہ تھا۔
’’غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے...... حاصل یہی ہے کہ تمام زاویوں سے ہم میں مکمل اختلاف ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)
مسلمانوں سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کے فیصلہ کی تائید میں جو دلائل متنبئ مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش کی ہیں۔ انہیں بھی ملاحظہ فرمالیں۔ ’’یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اوّل تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا۔ نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہو اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہوں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٨ ص ٣١١، بابت ماہ اگست ١٩١١ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا محمود احمد کا فرمان بھی سن لیجئے : ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے (خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں) خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
٥٩
”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ہے۔ ان کا حج اور۔ اس طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٨٥ ص ٨، مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء)
دراصل قادیانیت کے بانی اور اس کے فرقۂ ضالہ نے مسلمانوں اور اپنے درمیان نئے اعتقادات ونظریات کی وسیع خلیج حائل کر کے خود ہی ایک قسم کے سوشل بائیکاٹ کو رائج کر دیا تھا۔ مندرجہ بالا سطور سے قارئین پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہوگی کہ ابتداء ہی میں قادیانیوں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کے عقائد کے حامل افراد ایک مختلف گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی حیثیت ملت اسلامیہ سے بالکل جدا گانہ ہے۔ ١٩٠١ء میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے جماعت احمدیہ کی ابتداء کی تو خود ہی حکومت سے استدعا کی کہ انہیں مردم شماری کے ریکارڈ میں ایک علیحدہ فرقے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ مسلم دشمنی کی علمبردار حکومت نے مرزا قادیانی کی اس آرزو کی بھی تکمیل کر دی۔ اس طرح اس نام نہاد نبی نے خود ہی اپنے حریص ٹولے کو ملت اسلامیہ سے الگ کر لیا۔ منطقی لحاظ سے بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اسلام اور قادیانیت میں حد فاصل کھینچنے کے لئے کافی ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کا اس فرقۂ ضالہ کو متفقہ رائے سے کافر، مرتد اور غیر مسلم قرار دینا بالکل صحیح اور عین حقائق کے مطابق ہے۔ وہ انہیں اسلام اور ملی سیاسیات کے لئے خطرناک سمجھنے میں بھی قطعی طور پر حق بجانب ہیں۔ بلکہ حالیہ واقعات تو اس سازشی فرقے کی مزید ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو بھی منظر عام پر لے آئے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کی کیسی صحیح ترجمانی کی ہے:
”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان۔ انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل (عقیدہ ختم نبوت) کو عبور کرنے کی
٦٠
جسارت نہیں کر سکا۔ ایرانیوں میں بھی بہائیوں (بہاء اللہ ایرانی کی امت ) نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص١٣٦)
لہٰذا فطری طور پر مسلمان ابتداء ہی سے اس نئے مسلک کے ساتھ برسر پیکار رہے اور قادیانی ٹولے کو سرکاری طور پر امت اسلامیہ سے علیحدہ فرقہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس مطالبے کے حق میں بڑے ٹھوس دلائل پیش کئے ہیں۔ جو ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں: ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں۔ جتنے سکھ ہندوؤں سے، کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے۔‘‘
(حرف اقبال ص ١٣٧)
اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟
درحقیقت مسلمان علماء کرام اور سیاسی رہنماؤں نے اسلام کے خلاف قادیانی طائفے کی سرکشی کو ابتداء ہی میں بھانپ لیا تھا۔ اگرچہ بانی مسلک اور اس کے معاونین نے کھلم کھلا علم بغاوت بلند کرنے کی بجائے خفیہ سازشی ہتھکنڈوں کا طریق کار اپنایا تھا۔ علامہ اقبالؒ کے خیالات پھر ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں: ”وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں۔ مکمل اور ابدی ہے۔ محمدﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص ١٣٩، ١٥٠)
٦١
قادیانی ٹولہ اسلام کے اعتقادی ڈھانچے کو تہ و بالا کرنے کے لئے صرف ایک نئے فرقے کی حیثیت سے تخلیق نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ جیسا کہ واضح کیا گیا ہے۔ یہ ایک زیر زمین خفیہ سازش تھی۔ جس نے برطانوی سر پرستی میں جنم لیا تھا۔
دنیا جانتی ہے کہ جہاد کی مخالفت کرنا گویا اسلام کی شہ رگ پر چھری چلانے کے مترادف ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اس اہم دینی فریضہ کو قطعی طور پر حرام قرار دینا ہی اس تحریک کے ناپاک عزائم کی چہرہ کشائی کرنے کے لئے کافی ہے۔ مزید برآں اس کاسہ لیس متنبّی نے اپنی تمام زندگی برطانوی حکومت کی حاشیہ برداری، خیر خواہی و غم گساری میں گزار دی اور اپنے اس جنون میں اس حقیقت کو بھی فاش کر دیا کہ اس کا ناپاک وجود حکومت کی سرپرستی اور تحفظ کا مرہونِ منت ہے۔ جیسا کہ اس نے خود اپنی تصنیف (تحفہ قیصریہ ص ٣١، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٣) میں اس کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
”میں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایۂ رحمت کے نیچے جگہ دی۔ جس کے زیر سایہ میں آزادی سے اپنا کام نصیحت اور واعظ ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو سکتے ہیں۔ کسی اور حکومت کے زیر نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“
انگریزوں کا ساختہ و پروردہ نبی مرزا قادیانی اپنی محسن و سرپرست حکومت کی چاپلوسی کرنے اور ممنون ہونے میں بالکل حق بجانب تھا۔ جس نے اس پودے کو لگایا اور پھر اس کو حزم و احتیاط سے سینچنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہاں تک کہ اس نے ایک تنومند شجر کی صورت اختیار کر لی۔ مرزا، بہائی اور بابی دونوں ملحدانہ تحریکوں کے حشر سے باخبر تھا۔ جو اسلامی ممالک ایران اور ترکی میں بری طرح کچل دی گئی تھیں۔ بہاء اللہ ١٨٩٢ء میں جہنم رسید ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے صرف ایک سال پیشتر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ لہٰذا بہائیوں کے ڈرامے کا آخری منظر بھی اس کے پیش نظر تھا۔ اسے کامل یقین تھا کہ اس کے ملحدانہ اعتقادات کا بھی یہی حشر ہوگا۔ اگر اس نے یہ بیہودہ دعویٰ کسی اسلامی مملکت میں کیا ہوتا تو ابتداء ہی میں اس فتنے کا گلا گھونٹ دیا جاتا۔ یہ تو برطانوی حکومت کی نظر کرم کا نتیجہ تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنے آقاؤں کی تلواروں کے سایے میں پناہ لیتے ہوئے
٦٢
مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ناپاک جسارت کی۔ جس کا اسے خود اعتراف ”اور گورنمنٹ برطانیہ میری پ نہیں جاتی۔“
”ہم احمدی اس فتح پر خوش کیوں چمکتے ہوئے فتح یاب دیکھنا چاہتے ہیں۔“
ایک اور مقام پر وہ اعتراف کرتا کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی
”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں ان میں نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورن
مرزا قادیانی اپنے ساتھیوں ک ”یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے پ سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے خداداد نعمت کی قدر کرو۔ تم یقیناً سمجھ لو کہ اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس پر ک کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیں تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی ق ان سے بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہیں واعظ
یہ بیان اپنے اختصار کے
مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کر کے ان کی صفوں میں افتراق وانتشار پھیلانے کی ناپاک جسارت کی۔ جس کا اسے خود اعتراف ہے۔
”اور گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔“
”ہم احمدی اس فتح پر خوش کیوں نہ ہوں؟ ہم اس تلوار کو عراق، عرب، شام اور ہر جگہ چمکتے ہوئے فتح یاب دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(الفضل ج ٦ نمبر ٤٢ ص ٩، مورخہ ٧، دسمبر ١٩١٨ء)
ایک اور مقام پر وہ اعتراف کرتا ہے: ”بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔ تو پھر کسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٣١٢)
”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
مرزا قادیانی اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرتے ہوئے حقائق پر سے مزید پردہ اٹھاتا ہے:
”یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے؟ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خدا داد نعمت کی قدر کرو۔ تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے اور اگر اس پر کوئی آفت آئے تو آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی...... ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ سنو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل وجان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ انگریز ان سے بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)
یہ بیان اپنے اختصار کے باوجود کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ یہ ایک متنبّی کے فاسدانہ
٦٣
ستائشی الفاظ ہیں۔ جو ایک کافر اور دشمن اسلام حکمران کی تعریف میں الاپے گئے ہیں۔ نیز ہر شخص جو اسے پڑھتا ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قادیانیت کا نشو و ارتقاء برطانوی استعمار کی حمایت و معاونت کا مرہون منت ہے۔ اگر اسے فرنگی آقاؤں کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو اس کا پنپنا ناممکن تھا۔ بلکہ ابتداء ہی میں از خود اس کا خاتمہ ہوجاتا۔ درحقیقت اس تمام منظر کے پس پردہ برطانوی نوآبادیاتی پالیسی کارفرما تھی۔ جو خالصتاً سیاسی وجوہات کے باعث اسلام کو اس کی قوت حیات سے محروم کرنے کے درپے تھی۔ لہٰذا قادیانیوں کی آواز ہز ماسٹرز وائس ہے۔ یہ طائفہ ہر لحاظ سے اپنے آقاؤں کی توقعات پر پورا اترا اور اس نے استعماریت کی مرادیں برلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جب کبھی مسلمانوں کو کوئی قومی یا بین الاقوامی مسئلہ پیش آیا۔ قادیانی اپنے مخصوص ذہن اور نظریات کو چھپائے بغیر نہ رہ سکے۔ مثلاً ١٩١٣ء میں حکومت نے کانپور میں کسی سڑک کو سیدھا کرنے کے لئے اس پر واقع مسجد کا ایک حصہ گرا دیا۔ مسلمانان ہند نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ عوامی احتجاج نے نازک صورت اختیار کر لی۔ بہت سے مسلمانوں نے مسجد کی حرمت پر اپنی جانیں نثار کردیں۔ لیکن قادیانی رہنماؤں نے ان شہیدان اسلام کو مقتول باغی کے لقب سے نواز کر اپنے خداوندان نعمت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ١٩١٨ء میں مسلمان ترکی سے متعلق برطانیہ کے مذموم عزائم کے باعث مضطرب تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں نے قادیان میں برطانیہ کی فتح کی خوشی میں چراغاں کیا۔ مختلف مقامات پر جلسے کر کے اپنے محسنوں کی کامیابی پر تقریبات جشن منا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی۔ غلامان رسول عربی ﷺ کے خلاف استعمال کئے جانے والے فوجی اسلحہ کی خرید کے لئے چندہ اکٹھا کر کے مسلم دشمنی کی علمبردار کافر حکومت کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا اور اس طرح مسلم کشی میں عملی طور پر حصہ لیا۔
جب عراقی سرزمین برطانوی فوجی دستوں کے ناپاک قدموں تلے روندی گئی تو مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے نے ایک بہت بڑے اجتماع کا انتظام کیا اور تقاریر کے ذریعے اپنی مسرت و شادمانی کا اظہار کیا۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٣١ ص ١، ٢، مورخہ ٣؍ دسمبر ١٩١٨ء)
قادیانیوں کے خلیفہ ثانی مرزا محمود احمد کا مندرجہ ذیل بیان بھی قابل غور ہے: ”عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہایا اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے ۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٢٣ء)
٦٤
اسی طرح یروشلم میں برطانوی داخلے پر تقریبات جشن و مسرت منائی گئیں اور سقوط ترکی پر انگریزوں کا یہ ایجنٹ فرقہ خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ اس سلسلے میں منیر انکوائری رپورٹ کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ”پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے ہاتھوں ترکی کی شکست اور پھر ١٩١٨ء میں بغداد کی پسپائی پر قادیان میں جشن مسرت منائے جانے پر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور احمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے ۔“
(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٩)
قادیانیوں کی قابل نفرت اور مذموم کاروائیاں برصغیر ہی تک محدود نہ رہیں۔ بلکہ تمام دنیائے اسلام ان کی تخریبی کاروائیوں کی آماجگاہ بن گئی۔ قادیانی مبلغ تمام اسلامی ممالک میں روانہ کئے جاتے۔ جو تبلیغ اسلام کی آڑ میں برطانوی آقاؤں کے لئے جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتے۔
میر محمد سعید حیدر آبادی پہلا قادیانی مبلغ تھا۔ جس کے ناپاک قدم سر زمین عرب میں ١٩٢١ء میں پہنچے۔ اس پر جاسوسی کا شک گزرا تو مقامی حکومت کو اس کی رہائش گاہ کی تلاشی لینا پڑی۔ جب اس مرتد ٹولے کے کارندوں نے عراق کا رخ کیا اور وہاں اپنا جال پھیلایا تو عراقی حکومت کو جلد ہی ان کے ناپاک عزائم کا پتہ چل گیا۔ لہٰذا انہیں عراق سے فوری طور پر نکلنے کا حکم دے دیا گیا۔ نیز عراقی پارلیمنٹ نے ١٩٣٤ء میں قادیانیوں کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی۔ شام میں قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کو ١٩٢٧ء میں حصول آزادی کے جیالے سپاہیوں نے انہیں وجوہات کے باعث واصل جہنم کر دیا۔ مصر میں بھی ان سے یہی سلوک کیا گیا اور انہیں ملک سے باہر نکال دیا گیا۔
مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں افغانستان میں دو قادیانیوں کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ نیز ١٩٢٤ء میں نعمت اللہ قادیانی پر جاسوسی اور ارتداد کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ الزامات ثابت ہونے پر اسے سنگ سار کیا گیا۔ ملا عبد الحلیم اور ملا نور علی کے خلاف بھی ان ہی الزامات کے سبب عدالتی کاروائی کی گئی۔
شام کے مفتی اعظم نے بھی ایک فتویٰ کے ذریعے قادیانیوں کو ملحد اور کافر قرار دے دیا۔ نیز ان کی مذموم و فاسدانہ اور خفیہ کاروائیوں کے پیش نظر شامی حکومت نے ١٩٥٧ء میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی۔ متعدد مسلمان ممالک جو اس تحریک کو اپنے اصل رنگ میں دیکھ چکے ہیں اور اس کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کی تشہیر پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ مثلاً مصر، ترکی، افغانستان، شام، حجاز، عراق، اردن میں کسی قادیانی مشن کا وجود نہیں پایا جاتا۔
٦٥
عرب ممالک میں قادیانیوں کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے تو انہوں نے افریقی ممالک نائیجیریا، گھانا، کینیا، یوگنڈا، ماریشس اور جنوبی افریقہ میں اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لئے وسیع جال پھیلا دیا۔ فلسطین میں تو وہ ١٩٢٨ء ہی میں اپنا مرکز قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہاں سے انہوں نے عربی زبان میں ”البشریٰ“ نامی میگزین کی اشاعت کا آغاز کیا اور اسے عرب دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجنے کا انتظام کیا۔
جب صہیونی تحریک مسلم فلسطین کے وسط میں صہیونی ریاست بنانے کے لئے مصروف جدوجہد تھی اور مسلم دنیا اس کی مخالفت پر اپنا پورا زور صرف کر رہی تھی۔ قادیانی خلیفہ نے ١٩٢٣ء میں ایک اعلان جاری کیا۔ ”قرآنی پیش گوئیوں اور مسیح موعود کے الہامات سے یہ واضح ہے کہ یہودی اس ملک (فلسطین) میں آباد ہونے میں یقیناً کامیاب ہو جائیں گے۔“
(قادیانی میگزین الفضل مورخہ ١٩؍ فروری ١٩٣٣ء)
قادیانیوں کے اس اعلان نے کہ اصل مسجد اقصیٰ فلسطین میں نہیں بلکہ قادیان میں واقع ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کشمیر میں مدفون ہیں اور ان کے دوبارہ دنیا میں نزول کا عقیدہ محض افسانہ ہے۔ صہیونیت کو خوب فائدہ پہنچایا۔ اس قسم کے اعلانات سے انہوں نے مذہب سے نا آشنا ان پڑھ مسلمانوں کے ذہنوں کو انتشار و الجھنوں میں مبتلا کر دیا۔ بلکہ جب اسرائیل ریاست کے وجود کا اسلامی دنیا کے عین قلب میں خنجر گھونپ دیا گیا۔
اور تمام مسلمانوں نے انفرادی اور قومی سطح پر استعماریت کی اس ذریت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو بھی قادیانیوں نے اپنی سرگرمیاں وہاں جاری رکھیں۔ پاکستانیوں پر اسرائیل کے دروازے ہمیشہ بند رہے۔ لیکن قادیانیوں کی آمد و رفت وہاں جاری رہی اور آج بھی ان کا مشن وہاں کی حکومت کی سرپرستی میں مسلم دنیا کے خلاف تخریبی کاروائیوں میں سرگرم عمل ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا مبارک احمد کی تالیف " OUR FOREIGN MISSIONS" کے صفحہ ٧٩ کے ایک اقتباس کا ترجمہ ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے: ”اسرائیل میں احمدیہ مشن حیفہ کے مقام پر ماؤنٹ کرمل میں واقع ہے۔ وہاں ہماری ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول ہے۔ مشن ایک ماہانہ میگزین ”البشریٰ“ کی اشاعت کرتا ہے۔ جو عربی جاننے والے تیس ممالک میں تقسیم کیا جاتا ہے۔“
مندرجہ بالا حقائق کے مطالعہ سے ناظرین پر یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ مذہبی اور سیاسی
٦٦
دونوں لحاظ سے قادیانی ایک جدا سیاسی و مذہبی فرقہ ہے۔ جس کے پیش نظر اپنا علیحدہ نصب العین اور مقاصد ہیں۔ اپنے بار بار دہرائے گئے دعوؤں کے باوجود ان کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے مسلک اور اسلام میں کوئی قدر مشترک نہیں۔ البتہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے وہ اسلام کا نام لے لے کر فائدہ ضرور اٹھاتے رہے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے ان کا کتنا صحیح تجزیہ پیش کیا ہے: ”ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو، تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“
(حرف اقبال ص ١٣٧)
قادیانیت اور پاکستان
زیر نظر سطور سے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ قادیانیت دراصل ایک سیاسی تحریک ہے۔ جس نے سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں مبتلا کرنے کی خاطر اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ چنانچہ سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اس نے ہمیشہ تقریباً ہر مسئلہ میں ملت اسلامیہ کے خلاف لائحہ عمل اختیار کیا۔ جب آزادی کے متوالے برطانوی استعمار کے خلاف برسر پیکار تھے اور غاصب حکمرانوں کو وطن عزیز سے نکالنے کے لئے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے۔ داستان دار و رسن دھرائی جا رہی تھی۔ اسلامیان ہند عروس آزادی سے ہم کنار ہونے کو بے چین تھے۔ قومی نصب العین بن چکا تھا۔ امت محمدیہ غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لینے کے لئے جادہ پیما تھی۔ مگر مرزائی تھے کہ اس کی راہ میں سنگ گراں بن رہے تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت روئے زمین کے نقشہ پر ابھرنے کے لئے مضطرب تھی۔ لیکن قادیانی اس سلطنت کے وجود ہی کے خلاف تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کا یہ خود کاشتہ پودا انہیں کے زیر سایہ پنپ سکتا تھا۔ لہٰذا ١٩٤٠ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری پر چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے پریس کو بیان دیتے ہوئے کہا: ”جہاں تک ہمارا (قادیانی بحیثیت جماعت) تعلق ہے۔ ہم اسے محض ایک باطل خیال اور ناقابل عمل حل تصور کرتے ہیں۔“
قادیانیوں کے خلیفہ ثانی مرزا محمود احمد کا بیان بھی ملاحظہ فرمائیں: ”انگلستان سے علیحدگی نہ صرف ناممکن ہے۔ بلکہ منشاء خداوندی کے بھی خلاف ہے۔“
(ہندوستانی مسئلہ کے حل کے لئے چند تجاویز ص ٤١)
ناظرین! منشاء خداوندی کے الفاظ پر غور فرمائیں کہ کس طرح مرزا محمود احمد اپنے حامیوں کو تحریک آزادی سے علیحدہ رکھنے کے لئے اس ترکیب کو اختراع کیا۔ نیز جب نظریہ
٦٧
پاکستان کو حقیقت کا روپ دھارنے میں کوئی تاخیر نہ تھی۔ منزل عین سامنے تھی۔ اس وقت بھی مرزا محمود اپنے زہر آلود خیالات کی تشہیر سے باز نہ رہا اور کہا : ”ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال ختم ہو جائے اور تمام قومیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں۔ تاکہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچ جائے۔ اگرچہ یہ کام مشکل ہے۔ لیکن اس کا پھل میٹھا ہوگا۔ یہ خدا کی منشاء ہے کہ سب قومیں اکٹھی رہیں۔ تاکہ احمدیت کو پنپنے کے لئے وسیع تر خطہ ارض میسر رہے۔ یہ آسمانی بشارت ہے کہ عارضی تقسیم کا امکان ہے۔ لیکن احمدیہ جماعت کا ایمان ہے کہ پاکستان کا وجود چند روزہ ہوگا۔ دونوں قومیں کچھ عرصہ کے لئے علیحدہ رہیں گی۔ لیکن یہ دور محض عارضی ہوگا۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں ۔“
( قادیانی اخبار الفضل قادیان ج ٣٥ نمبر ٨١ ص ٣، مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)
”نیز میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خدا کی مرضی یہی ہے کہ ہندوستان متحد رہے۔ لیکن اگر فریقین میں غیر معمولی نفرت تقسیم ہند کا باعث بنی تو یہ ایک ناگزیر برائی ہوگی۔ لہٰذا ملک کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)
جسٹس منیر انکوائری رپورٹ کا ایک اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں : ”جب تقسیم ملک کے ذریعے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے امکانات افق پر ہلکے سے روشن ہو رہے تھے۔ احمدی مستقبل کے تصور سے پریشان تھے۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٤٧ء کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔“
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٢٠٩)
”لہٰذا جب پاکستان کا دھندلا تصور درخشاں حقیقت بن کر سامنے آنے لگا تو قادیانیوں کو اس نئی ریاست کے تصور سے اپنے خیالات و جذبات کو ہم آہنگ کرنا دشوار محسوس ہوا۔ وہ انتہائی تذبذب کے عالم میں تھے۔ وہ نہ تو ہندوستان کی ہندو (بظاہر غیر مذہبی) حکومت کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ ہی پاکستان سے اپنی تقدیر وابستہ کرنا چاہتے تھے۔ جہاں فرقہ پرستی کی حوصلہ افزائی متوقع نہ تھی۔ ان کی بعض تحریروں سے واضح ہے کہ وہ تقسیم کے قطعی طور پر مخالف تھے اور تہیہ کئے ہوئے تھے کہ تقسیم کی صورت میں وہ ملک کو دوبارہ متحد کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔“
عدالتی تحقیقات کی موجودگی میں مزید دلائل و شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
٦٨
دراصل جب تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھی۔ مسلمانوں کا بچہ بچہ حصول پاکستان کے لئے سربکف تھا۔ قادیانی رہنما اپنے قصبہ قادیان کی علاقائی توسیع کرا کے اسے پاپائے روم کے شہر ویٹیکن کی مانند اندرونی طور پر بفرسٹیٹ (فاضل ریاست) کا درجہ دلانے کے لئے جتن کر رہے تھے۔ سرکاری ریکارڈ شاہد ہے کہ سکھوں نے وزیر اعظم اٹلی کو خالصتان کے مطالبہ کے لئے میمورنڈم پیش کیا تو قادیانیوں نے بھی فوری طور پر قادیان کو ویٹیکن کا درجہ دلانے کے لئے برٹش گورنمنٹ کے سیاسی مشیر ہیرلڈ جے لاسکی کو ایک یادداشت پیش کر دی۔ جغرافیائی لحاظ سے اس مطالبہ کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ کیونکہ متعلقہ علاقہ چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا تھا۔ جب مرزائیوں کو یقین ہو گیا کہ قادیانی ریاست کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے قاصر ہے تو بادل نخواستہ انہیں تحریک پاکستان کے خلاف معاندانہ رویہ ترک کرنا پڑا۔ ان کے انداز فکر میں یہ تبدیلی مئی ١٩٤٧ء میں رونما ہوئی۔
یہ امر قابل غور ہے کہ تحریک پاکستان کی مخالفت کر کے قادیانی ٹولہ دراصل مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر ہندوؤں کے مفاد کے لئے کام کر رہا تھا۔ جن کا اصل مقصد ہندوستان کو متحد رکھ کر تمام قوموں پر حکمرانی کرنا تھا۔ ڈاکٹر شنکر داس کی کتاب (بندے ماترم) کے درج ذیل اقتباس سے اس امر پر قدرے روشنی پڑتی ہے۔
”ہندوستانی قوم پرستوں کو اگر کوئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے تو وہ احمدیت کی تحریک ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان جس قدر احمدیت کی طرف راغب ہوں گے اسی قدر قادیان کو مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر کار سرگرم قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں اگر کوئی تحریک عربی تہذیب اور پان اسلامزم کا خاتمہ کر سکتی ہے تو وہ یہی احمدی تحریک ہے۔ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان بن جانے پر اس کی شردھا (عقیدت) رام، کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر حضرت محمد صاحب، قرآن مجید اور عرب کی بھومی (ارض حرم) پر منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور جہاں پہلے اس کی وفاداریاں عرب میں تھیں۔ اب وہ قادیان میں آ جاتی ہیں۔“
اس تحریر سے اظہر من الشمس ہے کہ قادیانیت دراصل پان اسلامک تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے وجود میں لائی گئی تھی۔ قادیانیوں کی غداریوں کے باوجود مسلمانوں کی جدوجہد
٦٩
رنگ لائی۔ دعائیں مستجاب ہوئیں اور پاکستان ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو دنیا کے نقشے پر پانچویں اور اسلامی ممالک میں سب سے بڑی اسلامی مملکت کی حیثیت سے ابھرا۔ اس نئی ریاست کو کمزور، متزلزل، بے دست و پا نیز مشکلات سے دوچار کرنے کے لئے مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال کے علاوہ بھارت کے کئی حصوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا۔ لاکھوں لٹے پٹے، زخمی لاچار مسلمان قافلوں کی صورت میں پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ سکھوں کی مار دھاڑ کے خوف سے قادیانی بھی اپنے نام نہاد مقدس قصبہ قادیان کو ہندو گورنمنٹ کے ہاتھوں میں چھوڑ کر پاکستان کے سایہ عاطفت میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں انہوں نے چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے پار ١٠٣٣ ایکڑ زمین نہایت ہی سستے داموں خریدی۔ پاکستان کی نوزائیدہ مملکت لاتعداد معاشی اور سیاسی مسائل سے دوچار تھی۔ ایک طرف کیمپوں میں بیٹھے ہوئے لاکھوں مہاجرین کی آبادی کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف زخمیوں کی دیکھ بھال ادھر انتظامیہ کو ازسرنو ترتیب دینا اور کام پر لگانا تھا۔ ادھر دفتروں میں سیاہی، پنسل اور کاغذ تک ناپید تھے۔ ملک کی اقتصادی حالت ابتر تھی۔ اندرونی معاملات کے علاوہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بھی استوار کرنا تھے۔ فوجیں بھارت کے دور دراز علاقوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
ان حالات میں حکومت اس فتنے کی طرف توجہ نہ دے سکی۔ اس دوران اس غدارِ وطن فروش ٹولے کو اپنی کاروائیاں تیز تر کر کے اپنے ناپاک عزائم کو بلا روک ٹوک عملی جامہ پہنانے کا موقع مل گیا۔ اسلام کے دشمن ہونے کے باعث نظریۂ پاکستان کے بھی دل سے قائل نہ تھے۔ لہٰذا اپنے سابقہ نقطۂ نظر پر اڑے رہے۔ بظاہر اس ریاست سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے بھی دراصل ان کی وفاداریاں قادیان ہی سے وابستہ رہیں جو تقسیم کے بعد بھارت کے حصہ میں آیا۔ کلمہ لا الہ کے نام پر لی ہوئی اس مملکت کو وجود پذیر ہوئے ابھی سال بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ ان کے مذموم ارادے بے نقاب ہوگئے۔ ان کے خلیفۂ ثانی مرزا محمود نے کوئٹہ میں ایک تقریر کے دوران صوبہ بلوچستان کو اپنا حصار بنانے کے ناپاک منصوبے کا اظہار کیا۔ دلیری ملاحظہ فرمائیں:۔
”برطانوی بلوچستان جو اب پاکستانی بلوچستان ہے کی کل آبادی پانچ چھ لاکھ ہے۔ اگرچہ اس کی آبادی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن بلوچستان ایک خود کفیل اکائی کی حیثیت سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو
٧٠
بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ یاد رکھئے کہ صرف تبلیغی کاروائیاں بار آور نہیں ہوسکتیں۔ جب تک کہ مرکز مضبوط نہ ہو۔ اگر مرکز مضبوط ہوگا تو لوگوں کو دائرہ اسلام میں لانا آسان ہوگا۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہوگا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ مقصد بغیر کسی دقت کے حاصل ہوسکتا ہے۔“ (الفضل قادیان مورخہ ١٣؍اگست ١٩٤٨ء، ج ٢ نمبر ١٨٣ص٤)
تقریباً ایک ماہ بعد جمعہ کی تقریر میں مرزا محمود احمد قادیانی نے پھر اپنے ہم مذہبوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ”میں جانتا ہوں کہ بلوچستان کا صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا۔ یہ ہمارے قبضے میں آ کر رہے گا۔ اگر تمام دنیا کی قومیں بھی متحد ہو جائیں تو وہ اس خطۂ ارض کو ہم سے نہیں چھین سکتے۔“
(الفضل قادیان ج٢ نمبر ٢٤٠ ص ٥، مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٤٨ء)
پاکستان میں قادیانیوں نے چنیوٹ کے قریب انتہائی سستے داموں وسیع خطۂ زمین حاصل کر کے ایک نئی کالونی کی بنیاد رکھی۔ جو انہوں نے محض اپنے ہم مذہبوں کے لئے مخصوص رکھی۔ چنانچہ قادیان خلیفہ نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے انکشاف کیا۔
”اگرچہ موجودہ حالات کے مطابق زمین خاصی مہنگی ہونے کے علاوہ اپنے اندر کوئی کشش نہیں رکھتی۔ لیکن انشاء اللہ ہم اسے ایک خوبصورت شہر میں تبدیل کر دیں گے۔ جو فوجی نقطۂ نظر سے محفوظ ترین ہوگا۔“
پاکستان کے عین وسط میں اپنا گڑھ بنا کر قادیانی ٹولے نے ملک میں ہر طرف اپنی سازشوں کا وسیع جال پھیلا دیا۔ انہوں نے ربوہ کو ریاست در ریاست بنا کر اپنا علیحدہ نظامِ حکومت قائم کر لیا۔ جس میں محکمہ امور خارجہ سے لے کر نیم فوجی تنظیموں تک کو منظم کیا گیا۔
منیر انکوائری رپورٹ کا ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ”احمدیوں کا ایک منظم طبقہ ہے۔ جس کا ہیڈ کوارٹر ایک ایسے قصبہ میں ہے جو اس نے صرف اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ اس کی مرکزی تنظیم مختلف محکموں پر مشتمل ہے۔ مثلاً محکمہ امور خارجہ، محکمہ امور داخلہ، محکمہ امور عامہ، محکمہ اطلاعات ونشر واشاعت وغیرہ۔ اس قسم کے محکمے صرف ایک باقاعدہ حکومت کے سیکرٹریٹ ہی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس والنٹیرز کا بھی جتھا ہے۔ جسے خدام دین کہا جاتا ہے اور فرقان بٹالین پر مشتمل ہے۔ یہ وہی بٹالین ہے جو کشمیر میں خاص احمدیوں پر مشتمل تھی۔“
(منیر انکوائری رپورٹ ص ١٩٨)
یہ امر واضح ہونے کے باوجود کہ قادیانی تحریک پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے لئے سرطان کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی حکمران نے اس بے لگام فتنے سے نمٹنے اور اس کے بزرجمہروں کو
٧١
راہ راست پر لانے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ ان کی ہرزہ سرائی اور ہذیان گوئی پر کوئی قدغن نہ تھی۔ ان کی پروپیگنڈہ مشینری بے لگام تھی۔ لہٰذا انہوں نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ چوہدری ظفر اللہ وزیر امور خارجہ پاکستان کے بیرونی ممالک میں اثر و رسوخ سے بھی اسلام کو مسخ کر کے پیش کیا اور کفر و ارتداد سے بھر پور عقائد باطلہ کی خوب تشہیر کی۔ نیز ہر طرف سازشوں کے وسیع وعریض دام پھیلا دیئے۔
اسلامی عقائد سے انحراف پر ہی معاملہ ختم نہ ہوا۔ بلکہ حکومت پر قابض ہونے کے گھناؤنے منصوبے کے تحت قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں افواج پاکستان میں بھرتی ہو کر کلیدی آسامیوں پر بھی قبضہ جما لیا۔ یہ بے لگام افسر جدھر کا بھی رخ کرتے احمدیت کا پرچار کرتے۔ اس طرح سرکاری فرائض کی انجام دہی کے علاوہ وہ اپنے مذہب کے مبلغ کی حیثیت سے بھی اپنے عقائد باطلہ ماتحتوں تک پہنچاتے اور انہیں ان عقائد کو اختیار کرنے پر مجبور کرتے۔ جسٹس منیر ایسے ہی معاملات کی چھان بین کے بعد اپنی انکوائری رپورٹ میں رقمطراز ہیں۔
”احمدی افسروں کی کوششوں سے تبدیلی مذہب کے واقعات بھی ثابت کئے گئے۔ نیز ان کی رپورٹ ہیڈ کوارٹر میں پہنچائی گئی۔“
(منیر انکوائری رپورٹ ص ١٩٧)
”وہ اتنے دلیر ہو گئے تھے کہ ١٩٥١ء میں کرسمس کے موقع پر صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے اپنے پیروکاروں سے پر جوش اپیل کی کہ وہ تبدیلی مذہب کی کاروائیوں کو تیز تر کر دیں۔ تاکہ سب غیر احمدی ١٩٥٢ء کے اخیر تک احمدیت کی آغوش میں آ جائیں۔“
(منیر انکوائری رپورٹ ص١٩٩، ٢٠٠)
اس اشتعال انگیز اپیل سے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور نتیجہ میں تمام ملک وسیع پیمانے پر فسادات کا شکار ہو گیا۔ حالات بے قابو ہو گئے۔ لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ نے نازک صورت اختیار کر لی۔ عاشقان رسالت مآبؐ دار و رسن کی داستانیں تازہ کر رہے تھے۔ حب رسول میں سرشار غیرت مند و باحمیت مسلمان ہر صعوبت ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیل رہے تھے۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ جائیدادیں نذر آتش ہوئیں۔ سرکاری مشینری امن بحال کرنے میں ناکام ہو گئی تو وطن عزیز کے بعض حصوں میں مارشل لا کا سیاہ دور مسلط کر دیا گیا۔ مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ آئینی طور پر اس مسئلہ کے حل ہونے پر مسلمان اور قادیانی اکثریت و اقلیت کی حیثیت سے ایک پر امن دور کا آغاز کر سکیں گے۔ یہ مطالبہ نیا نہ تھا اور نہ ہی
٧٢
ناجائز بلکہ اس مطالبہ کی صدائے بازگشت تھی جو سالہا سال پیشتر سے ہوتا چلا آ رہا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے کئی سال پیشتر مرزائی سر پرست کافر حکومت کو یہی مشورہ دیا تھا۔ ”میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا۔ جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٨، ١٢٩)
اب تک قادیانیوں کی اندرونی پخت و پز بے نقاب ہوچکی تھی۔ یہ بھی اظہر من الشمس تھا کہ یہ طائفہ مسلمانوں کا مذہبی فرقہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی تنظیم ہے۔ ایک سیاسی سازشی تحریک ہے جو استعماریت کی آلہ کار ہے۔ جس کا نصب العین ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پاش پاش کرنا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ یہ فرقہ ضالہ امت محمدیہ کے خلاف عالمی استعمار کی سازشوں کا مہرہ بنا رہا۔ لیکن سابقہ حکومتیں رحیم و کریم بن کر نہایت دریادلی سے ان کے قبیح جرائم سے چشم پوشی کرتی رہیں اور مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کو بے اعتنائی و بے التفاتی کی نذر کرتی رہیں۔
بہر حال مارشل لاء کی چیرہ دستیوں اور ستم ظریفیوں نے فسادات کے شعلوں کو وقتی طور پر تو مدھم کر دیا۔ لیکن فدایان رسالت مآبﷺ کی قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام مسلمان اس فتنے کی سنگینی کو محسوس کرنے لگے۔ قادیانیوں پر خاص نظر رکھی جانے لگی۔ آخر دو سال بعد ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ سیشن جج راولپنڈی نے تاریخی فیصلہ صادر فرمایا کہ: ”قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
اگرچہ اس قسم کا فیصلہ قانونی لحاظ سے نیا نہ تھا۔ لیکن یہ اس لئے خاص اہمیت کا حامل تھا کہ اخباروں میں اس کی اشاعت و تشہیر سے قادیانی مسئلہ از سر نو زندہ ہو گیا۔
بعد ازاں گاہے گاہے قادیانیوں کے خلاف ادھر ادھر کے سیاسی و مذہبی پلیٹ فارم سے اکا دکا احتجاجی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ جو صدا بصحرا ثابت ہوتی ہوئی خامشی سے دم توڑتی رہیں۔ ان کی شنوائی کرنے والا کوئی ہمنوا نہ ملا۔ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ہوس پرستوں اور دنیاوی جاہ و جلال پر مر مٹنے والوں میں سے کوئی ایسا صاحب دل نہ نکلا۔ جو محسن انسانیت رسول اکرمﷺ تاجدار عرب و عجم کے ناموس کے تحفظ کے لئے موہوم خدشات کی پرواہ کئے بغیر اپنے اقتدار کو بازی پر لگا کر دنیا و عقبیٰ کی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔
١٩٦٩ء میں جیمس آباد کی فیملی کورٹ کے سول جج نے بھی اپنے تاریخی فیصلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقدوں کو غیر مسلم اور مرتد گروہ قرار دے دیا۔ ویسے تو ان دونوں فیصلوں
٧٤
سے قبل ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولپور نے بھی اپنے ٧؍فروری ١٩٣٥ء کے فیصلہ میں انہیں مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکے تھے۔ یہ عدالتی فیصلے مسلمانوں کے عوامی مطالبوں کا جواب تو نہ تھے۔ لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت ضرور رکھتے تھے۔ بلکہ قادیانیوں کے بزرجمہر قانون دانوں کو بھی ان فیصلوں کو چیلنج کرنے کی جرأت نہ پڑی۔
چار سال بعد ٢٨؍ اپریل ١٩٧٣ء کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی مندرجہ ذیل قرارداد منظور کرلی۔
- ١...... ”قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ریاست میں مقیم تمام قادیانیوں کی رجسٹریشن
کرنے کے بعد مختلف محکموں میں ان کی نمائندگی کا تناسب مقرر کیا جائے۔“
- ٢...... ”آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ ممنوع قرار دی جائے۔“
اس قرارداد کی منظوری یقیناً صراط مستقیم کی طرف ایک صحیح قدم تھا۔ اسی لئے تمام مسلم دنیا میں اسے بنظر استحسان دیکھا گیا۔ پاکستان کے مقتدر مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے بھی حکومت کی توجہ اس اہم فریضہ کی طرف دلائی اور ایسی ہی کاروائی کا مطالبہ کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد قادیانیوں نے ایک اور گل کھلایا۔ جس نے اس مطالبہ کے حصول کے لئے مہمیز کا کام دیا۔ اس فرقہ ضالہ نے بلوچستان میں قرآن حکیم کے ایسے نسخے جن کی آیات میں لفظی تحریف کی گئی تھی۔ تقسیم کر کے مسلمانوں کی حمیت کو للکارا۔ اس سے ازسرنو فسادات کی راہ کھل گئی۔ نتیجہ کے طور پر ایک دو حادثات بھی وقوع پذیر ہوئے۔ گورنمنٹ کی فوری مداخلت سے حالات قابو میں آگئے۔ بظاہر معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ لیکن اس راکھ میں چنگاریاں دبی ہوئی تھیں۔ جو کسی وقت بھی شعلہ بن سکتی تھیں۔ ادھر قادیانی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ لہٰذا ٢٩؍مئی ١٩٧٤ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طالب علموں کو پشاور کی سیر سے واپسی پر قادیانیوں کے بے قابو ہجوم نے ربوہ اسٹیشن پر بری طرح زدوکوب کیا۔ خون میں لت پت زخمی طالب علم لائل پور پہنچے تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل گئی۔ گورنمنٹ نے تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی کی سربراہی میں عدالتی ٹربیونل مقرر کیا۔ ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے مثال قسم کی ایجی ٹیشن شروع ہوگئی۔ لوگوں کے جان و مال کو بے شمار نقصان پہنچا۔ پندرہ جون ١٩٧٤ء کو ملک گیر اور ایک مکمل بے نظیر ہڑتال کی گئی۔ تحریک ختم نبوت نے ایجی ٹیشن کو پرامن طریق سے جاری رکھنے کے لئے مجلس عمل کو تشکیل کیا۔ ساری قوم نے متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
- ١...... قادیانیوں کو اقلیت کا درجہ دیا جائے۔
- ٢...... ربوہ کو جو کلیتاً قادیانی کالونی ہے۔ کھلا شہر قرار دیا جائے اور فرقان فورس کی طرز کی تمام
نیم فوجی تنظیموں کو ختم کیا جائے۔
- ٣...... قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کیا جائے تا کہ وہ قومی مفاد کو مزید نقصان نہ
پہنچا سکیں۔
قادیانیوں کی ناپاک سازشوں، مذموم حرکتوں، اسلام دشمن ہتھکنڈوں اور معصوم نہتے طالب علموں پر دلیرانہ حملے سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو چکے تھے۔ لہذا انہوں نے اس طائفے کا مکمل طور پر سوشل بائیکاٹ کر دیا۔ آخر کار عوامی مطالبہ کے پیش نظر یکم جولائی ١٩٧٤ء کو قادیانیوں کی حیثیت متعین کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل کی گئی۔ جس نے اپنی رہنما کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی مدد سے اس کے سامنے پیش شدہ قومی اسمبلی کی طرف سے اس کی بھیجی گئی قرار دادوں پر غور کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ و انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد سات ستمبر کو متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کے لئے ایک تاریخی قرارداد قومی اسمبلی کو بھیجی۔ جسے دونوں ایوانوں نے اپنے اپنے اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔ جس کے تحت پاکستان میں قادیانیوں اور احمدیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ بل کے تحت آئین کے دفعات ١٠٦ اور ٢٦٠ میں ترمیم کی گئی اور قرار دیا گیا کہ ایسا کوئی شخص جو حضرت محمد مصطفے ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو یا خود کسی بھی صورت نبی یا مصلح ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔ یا ایسے کاذب نبی کو مانتا ہو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ عوامی مطالبہ پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے آئین میں یہ تاریخی ترمیم منظور کر کے قادیانیوں کی حیثیت کو ہمیشہ کے لئے متعین کر دیا۔ غیر مسلم تو وہ پہلے بھی تھے۔ لیکن آئینی طور پر ان کا تشخص ہو جانے سے وہ اب اسلام کا پیراہن زیب تن کر کے دنیا کو مزید دھوکا نہیں دے سکتے۔ ان دو ترامیم کے علاوہ قومی اسمبلی نے یہ بھی سفارش کی کہ قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں بھی مناسب ترامیم کی جائیں۔ نیز مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ ایف میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے۔ کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق نمبر ٣ کی تشریحات کے مطابق حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔ لہذا اس کے بعد سے قادیانی آئینی لحاظ سے ایک ایسی اقلیت ہیں۔ جن
٧٥
کے مذہب کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن جیسے دیگر اقلیتوں ہندو، سکھ اور عیسائیوں کی مانند تمام بنیادی حقوق و تحفظات حاصل ہیں۔ قادیانیت پہلے بھی اسلام سے ایک جدا مسلک تھا۔ لیکن مندرجہ بالا قرارداد کی منظوری سے اس کے خدوخال کی چہرہ کشائی ہوگئی ہے اور قادیانی کفر و ارتداد کے اصنام پاش پاش ہوگئے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد قادیانی یا احمدیوں کے علاوہ لاہوری گروہ کے اراکین کو بھی اسلام کا بہروپ دھارنے کی قانونی طور پر ممانعت کر دی گئی ہے اور یہ سب ان تحفظات سے محروم ہوگئے ہیں۔ جو دین اسلام کے نام پر انہوں نے حاصل کر رکھے تھے۔ اردن میں بھی پاکستان کی پیروی کرتے ہوئے اردنی فتویٰ بورڈ نے قادیانیوں کے کافرانہ عقائد کا تفصیلی جائزہ لے کر انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے۔ کئی دیگر اسلامی ممالک مثلاً ملائشیا نے بھی بروقت کاروائی کرتے ہوئے غداروں کے اس ٹولے کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اپنے ملکوں میں اس فتنہ کا سدباب کیا ہے۔ لیکن کیا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دینا اور ختم نبوت کو مسلمانوں کی امنگوں کے مطابق قانونی تحفظ مل جانا ہی کافی ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ قادیانیت خالصتاً ایک سیاسی تحریک ہے۔ جس کے پیش نظر سیاسی نصب العین ہے۔ وہ یہودیوں کی مانند دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اپنے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات مصروف جدوجہد ہیں۔ ”نہیں معلوم کب ہمیں خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو جانا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“
(خطبہ محمود احمد خلیفہ قادیان، الفضل بابت ماہ جون ١٩٤٠ء)
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حسب عادت حکومت سے ایک مطالبہ منوانے کے بعد خواب خرگوش کے مزے نہ لوٹیں۔ بلکہ انگریزوں کے اس کاسہ لیس گروہ کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہیں۔ جو امت مسلمہ کی فکری وحدت کو پاش پاش کرنے کے لئے وجود میں لایا گیا تھا اور جو اب بھی اسلام کے خلاف عالمی استعمار کی سازشوں کا ایک مہرہ ہے۔ نیز جو آج بھی پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ ہے جو آج بھی اس کی سالمیت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ آئین میں ترمیم کے باوجود جو آج بھی اس کے ہر محکمے، ہر سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور ہر صنعت پر چھایا ہوا ہے اور مسلمانوں کے حقوق غصب کئے ہوئے ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے مختلف محکموں میں ان کی نمائندگی کا تناسب مقرر کیا جائے۔
تمت بالخیر!
٧٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
کاشف مغالطہ قادیانی
فی رد نشان آسمانی
جناب چوہدری محمد حسین ایم اے
بسم الله الرحمن الرحيم!
مکرم برادران اسلام!
کسی مدعی کے دعویٰ کی تصدیق کے واسطے شہادت کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ دعویٰ بلا ثبوت و شہادت قابل سماعت نہیں اور نہ مدعی کی اپنی شہادت اپنے دعویٰ کی تصدیق میں حجت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا مدعی کے واسطے ضروری ہے کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق میں گواہ پیش کرے۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزا قادیانی نے بھی اپنے دعویٰ مہدی آخر الزمان ہونے کی تصدیق میں شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کا قصیدہ پیش کیا ہے۔ جب اصل قصیدہ دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے جس طرح توریت، انجیل، قرآن و احادیث نبوی وغیرہ میں تحریف کر کے سادہ لوحوں کو مغالطہ دیا ہے۔ اسی طرح اس قصدیہ میں بھی توڑ مروڑ کر کے نیچے کے اشعار اوپر اور اوپر کے نیچے کر کے، الفاظ تبدیل کر کے، معانی غلط کر کے اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ مثلاً قصیدہ میں مہدی کا نام محمد تھا اور مرزا قادیانی نے احمد کر لیا۔ کیونکہ اس کا اپنا نام محمد نہ تھا۔ دیکھو ذیل کے اشعار؎
نام او نامدار مے بینم
مرزا قادیانی نے لکھا ہے؎
نام آں نامدار مے بینم
جب مدعی اپنے گواہ کے بیان میں اپنے مطلب کے الفاظ تبدیل کردے تو وہ مدعی ایسی شہادت پیش کردہ سے کبھی ڈگری حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی عدالت اس شہادت محرف ومتبدل کی وقعت رکھ سکتی ہے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ جس گواہ کو مرزا قادیانی پیش کرتے ہیں۔ وہی گواہ مرزا قادیانی کے برخلاف گواہی دیتا ہے اور مرزا قادیانی کو جھوٹا مدعی قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ عراق اور خراسان میں جنگ کا ہونا مقامات مقدسہ کا خراب ہونا تمام دنیا کے بادشاہوں کا باہمی خونریز جنگ ہونا وغیرہ وغیرہ ان تمام واقعات کے بعد امام آخر الزمان مہدی علیہ السلام کا ظہور قصیدہ پیش کردہ مرزا قادیانی میں لکھا ہے۔ چونکہ یہ واقعات مرزا قادیانی کے فوت ہونے کے دس سال بعد وقوع میں آئے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدی آخرالزمان کی تردید اس
٢
کا اپنا ہی گواہ کرتا ہے۔ جیسا کہ چوہدری محمد حسین صاحب ایم۔اے نے اس کتاب میں ثابت کر دیا ہے۔ ناظرین کرام غور سے پڑھیں اور مرزا قادیانی کی دیانت اور لیاقت کی داد دیں اور چوہدری صاحب کے حق میں دعائے خیر کریں کہ انہوں نے خدمت اسلام کر کے مسلمانوں کو راہ راست دکھایا ہے۔ اصل قصیدے نقل کر کے حق و باطل میں فرق دکھایا ہے۔ انجمن تائید الاسلام لاہور ان کی اس خدمت اسلامی اور اعانت ملی کی مشکور ہے۔ خاکسار: پیر بخش سیکرٹری، انجمن تائید الاسلام لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی
میوہ پس غنچہ آید آخر
کارگاہ ہستی ایک پیہم و مسلسل انقلاب ہے۔ جس کی رفتار کبھی تیز ہوتی ہے کبھی سست۔ جس کی سحر آفرین نیرنگیاں چشم ظاہر پر کبھی یک رنگ ہو کر نمایاں ہوتی اور اسے مست و غافل کر جاتی ہیں اور کبھی ایک نئے رنگ کو بیسیوں نمونوں میں ظاہر کر کے اسے دنگ و ششدر کرتی ہیں۔ روز و شب، صبح و شام، گرما و سرما ایسے تغیرات ہیں جو کوئی انقلابی دلچسپیاں نہیں رکھتے۔ بیج کا بونا اس کا اگنا، نشوونما پانا، انسان کی پیدائش، تربیت، موت، معمولی مشاہدات ہیں۔ غم و شادی، آنی جانی کیفیتیں ہیں۔ مگر پھر یہی طمانیت و سکون ہوتا ہے کہ دفعۃً حرکت و جولانی سے متبدل ہو جاتا ہے۔
نہ روز و شب، وہ روز و شب رہتے ہیں۔ نہ صبح و شام وہ صبح و شام دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ماہ و سال کی تمیز اڑ جاتی ہے۔ غم الم بن جاتے ہیں۔ شادیاں ناشادیاں۔ نسیم صبح کے جانفزا جھونکے صرصر عاد کی جانسوز شدتوں سے متبدل ہوتے ہیں۔ گلشن میں پھول تبسم کی تمام ادائیں چھوڑ کر گریباں چاک دکھائی دیتے ہیں۔ بلبلوں اور قمریوں کے ترانہ ہائے مسرت فریاد و شیون کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ بہار، خزاں ہو جاتی ہے۔ عیش و عشرت رنج و ماتم سے بدل جاتے ہیں۔ تبسم گریہ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ تمام سکون و امن تہ و بالا ہو جاتا ہے۔ بجز فتنہ و آشوب کچھ نظر نہیں آتا۔ اس انقلاب کی تیزی کے زمانہ میں کبھی حق باطل پر غالب اور کبھی باطل حق پر مرجح ہوتا ہے۔ زبردست زیر دست ہو جاتے ہیں۔ زیر دستوں کا پائے ہمت سربلندی کی منزل پر جا نکلتا ہے۔ مگر یہ کل تبدیلیاں یہ سارے انقلاب یہ تمام نیرنگیاں اپنے زمان و مکان کے پابند صرف اس وقت ظہور میں آتی ہیں جب مقتضائے مشیت ہو اور جب اس علیم و قدیر کی حکمت انہیں نمایاں کرنا چاہے۔
٣
صفحہ زمین پر چشم فلک نے سینکڑوں آبادیاں برباد ہوتی دیکھی ہیں اور ہزاروں ویرانے آباد ہوتے مشاہدہ کئے ہیں۔ قومیں بنی بھی ہیں اور بگڑی بھی ہیں۔ قدرت کا قانون اقوام کی نسبت یہی نظر آیا کہ ایک دفعہ معراج ترقی پر پہنچیں۔ پھر مائل بہ زوال ہوئیں۔ مٹیں اور گئیں۔ ان کے اقبال و عروج کے زمانے اسی نسبت سے لمبے اور طویل رہے۔ جس نسبت سے ان میں عصبیت و استقلال، ہمت و جوانمردی، ایثار و بے نفسی کے گراں بہا جوہر موجود رہے۔ جونہی دولت و آسودگی نے بے عملی و کاہلی کے سبق دیئے۔ قعر مذلت میں گریں اور ہمیشہ کے لئے فنا ہو گئیں۔ مگر اصول جن پر اقوام سلف اپنے مدارج عروج کی بنا رکھتی تھیں۔ وہ بھی ان زمانوں کے حالات کے مطابق اس قسم کے ہوتے تھے کہ زمانہ کا ایک خاص عرصہ ان پر عمل پیرا ہونے سے وہ اقوام دنیا میں پھول پھل سکتی تھیں اور چونکہ اس عہد کے ختم ہو جانے کے بعد نیا زمانہ نئے اصولوں کا مقتضیٰ ہوتا اور وہ لوگ خوشی سے انہیں پرانی باتوں پر کار بند رہتے۔ اس لئے کسی فوری انقلاب کے بعد وہ اپنے رتبہ سے گر جاتے اور مٹ جاتے۔ نئے نصب العین کی طرف بڑھنے والے پھر نئے لوگ ہوتے اور ایک مخصوص عہد تک پھر ان کا زمانہ رہتا۔ وقت مگر آخر ایسا آنا چاہئے تھا اور وہ آیا کہ اصول زندگی وہ بودے اور کمزور اصول نہ رہیں۔ جن پر چل کر ایک زمانہ خاص کے بعد زندگی بسر کرنا مشکل ہو جائے۔ جس طرح اس عالم موجودات کی اور اشیاء کا یہ خاصہ ہے کہ وہ تمام انقلابات سے گزر کر بالآخر اپنے انتہائی نقطہ ترقی کو پہنچتی ہیں۔ اسی طرح خود انسانی زندگی کی بھی یہی فطرت ہے کہ وہ بھی کسی نہ کسی طرح پیشتر اس کے کہ یہ عالم فانی فنا ہو، اپنے منتہائے کمال کو پائے۔ بنا برایں آخر وہ وقت آیا کہ وحی حق کے وہ تمام و کمال، غیر متبدل و غیر فانی اصول انسانی زندگی کو اس کے منتہائے اوج پر دکھانے کے لئے انسانوں کو عطا کئے اور کہہ دیا کہ: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي“ یہ فرض ہو چکا کہ اب قیامت تک تمام نوع انسان انہیں اوامر و نواہی کی نشر و اقتدار میں اپنی سعی و ہمت کو صرف کرے جو فی الفور اس طرف آ جائیں۔ وہ سابقون الاولون میں شمار ہوں اور جو قبل از قیامت آخری زمانہ میں منسلک ہوں۔ ”آخــــــريـــــن منهم لما يلحقوا بهم“ کی پچھلی صف میں کھڑے ہوں۔ ان کے ماسوا شومئی قسمت سے جو اس سمت نہ رخ پھیریں اور نہ قدم بڑھائیں۔ وہ رہیں طغیان و ضلالت میں کیونکہ وہ جوہر قابل ہی نہیں۔ ان کی فطرت میں رشد و سعادت ودیعت ہی نہیں۔ فلا هادی لهم!
اسلام دنیا کا آخری مذہب ہے اور حق کی وہ صراط مستقیم۔ جس کا اختیار کرنے والا قدم
٤
اٹھاتے ہی منزل پر ہوتا ہے۔ آخری مذہب ہونے کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ اس کے ظہور کے بعد فورا ہی ہستی فنا ہو جائے اور ارض غیر الارض سے بدل جائے۔ اگر یوں مقدر ہوتا تو اس کے یہ معنی تھے کہ انسانی حیات کا اصلی مہر تابندہ چند لمحوں کے لئے افق پر نمودار ہوتا اور پھر الٹے پاؤں وہیں غروب ہو جاتا۔ یہ آخری عہد کم از کم اس قدر لمبا ہونا چاہئے تھا اور ہو رہا ہے کہ تمام دنیا یعنی اس کے تمام اقوام ومذاہب زینہ بہ زینہ اسباب وعلل کو پیدا کرتے اور ارتقاء کے تمام کرشمے دکھاتے۔ بالآخر باہم دگر اس طرح جذب ومتحد ہوں کہ تمام کی تمام نوع انسان ایک اخوت کے سلسلہ میں بندھ جائے اور نسل وطن کی تمام قیدوں کو چھوڑ کر اس طریق پر حبل اللہ سے اعتصام کرے کہ شرقی وغربی عربی و عجمی کی سب تمیز مٹ جائے۔ اسلام کا دنیا اور اس کی اقوام پر یہ اثر ہورہا ہے یا نہیں۔ چشم بصیرت سے اوجھل نہیں۔ ہم یہ لکھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ الفاظ سن کر ہزاروں کے دل میں آئے گا کہ بحالات موجودہ دنیا تو اسلام کو زوال میں دیکھ رہی ہے۔ یہ کس بناء پر کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے تمام نوع کو متحد و منسلک کرنے والے اثرات اقوام پر اپنا ڈورہ ڈال رہے ہیں۔ یہ ایک وسیع اور گہرا مضمون ہے۔ جس پر بحث اس مضمون کی حدود سے خارج ہے اور اگر کی گئی تو ایک بے محل گریز ہوگی۔ یہ اشارہ کر دینا کافی ہوگا کہ اسلام ایک چوتھائی انسانوں کو بلا واسطہ اپنے اندر داخل کر چکا ہے۔ تمام نوع سے وہ بت پرستی اور اوہام پرستی چھڑا چکا ہے۔ جو تمام روحانی و مادی ترقی کے لئے سنگ راہ تھی۔ عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں کے مذاہب میں جتنے اصلاحی انقلاب پیدا ہوئے ہیں۔ وہ سب اس کے ظہور کے بعد ہوئے ہیں اور اسی کے اثر کا نتیجہ ہیں۔ ان مذاہب کے نئے فرقے اگر بالکلیت نہیں تو نیم اسلامی ضرور ہیں۔ توحید کا مہر عالم تاب تمام عالم پر چمک رہا ہے۔ رسالت کے مہ چار دہم کی کرنیں منکرین ہر جگہ جلوہ فگن دیکھ رہے ہیں۔ اگر اندرون خانہ ابھی نہ گھسنے دیں تو یہ وقت کا انتظار ہے۔ بات قبضہ سے باہر ہوئی جارہی ہے۔ اقوال میں اگر کچھ نہیں مانتے۔ اعمال میں سب کچھ تسلیم کر رہے ہیں۔ زبانیں اظہار تسلیم میں بخل کریں اور گنگ رہیں۔ دل اندر ہی اندر معترف ہوئے جارہے ہیں۔ یہ وہ شراب ہی نہیں جو مدت العمر چھپ چھپ کر پی جاسکے۔ وقت قریب ہے کہ اس مستی کا تشنہ لب قیود ورسوم کے پردوں سے باہر آجائے اور پھوٹ کر منہ سے ببانگ دہل کہہ دے کہ؎
پنہاں کنم چو غنچہ نرگس پیالہ را
٥
اس تمام عبارت سے بتانا یہ مقصود تھا کہ اسلام نے ابھی تک اپنا کمال نہیں دیکھا۔ ابھی تک راہ میں ہے۔ منزل پر نہیں پہنچا۔ ”ولكل بناء مستقر“ کمال اس کا جب ہوگا۔ جب تمام نوع انسان اس کے اندر داخل ہو چکیں گی اور لسان وقلب سے اس کی برکات کی مدح سرا ہو گی۔ ابھی تک جو نشیب وفراز دنیا میں ہو رہے ہیں یا یوں کہو کہ اسلام دیکھ رہا ہے۔ یہ سب اس کے عروج کی زنجیر کی ضروری کڑیاں ہیں وہ منزلیں ہیں جن سے اس کو لابد گزرنا ہے۔ ہزار کامیابیاں ناکامیوں کی راہیں ہیں اور لاکھوں ٹھوکریں ثبات قدم کا ذریعہ۔
پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام دنیا میں اپنے زمانہ قیام کے اندر اسلام کے عالمگیر ومکمل اصولوں کی تبلیغ کو حد انتہاء تک پہنچا گئے۔ کوئی ملک نہ رہا کوئی بستی نہ رہی۔ جہاں آوازہ حق پہنچ کر نہ رہا۔ فالحمد للہ علی ذالک! اس ”فرستادہ خاص پروردگار“ اور ”رسانندہ حجت استوار“ پر یہی فرض تھا اور یہی اس نے کیا۔
بہر کشور صلائے عام در داد
اس پر یہ فرض نہ تھا کہ دوران حیات ہی میں تمام مخلوق کو مومن بنا جاتا۔ اس کا جی چاہتا ہو اور وہ اندر ہی اندر کڑھتا ہو کہ کیوں اکثر حصہ میری نوع کا بوجہ نادانی و جہالت اصلیت و حقیقت کا قائل نہیں ہوتا۔ مگر یہ اس کے بس نہ تھی۔ فطرۃ رؤف ورحیم تھا۔ مگر مشیت کے مقتضیٰ سے بھی مجبور تھا۔ اس کے سینہ میں اس تمنا کے جو سیلاب اٹھتے تھے۔ ان کا اندازہ حکیم مطلق کے اس فرمان سے ہوسکتا ہے اور پھر ایک بار نہیں کئی دفعہ اس مضمون کو دہرایا گیا۔ ”ولو شاء ربك لا من من في الارض كلهم جميعاً افانت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين“
آخری حجت اپنی تکمیل کو پہنچ چکی۔ مگر قبول حجت کا زمانہ ابھی تا قیام قیامت جاری ہے۔ یہ تبلیغ توحید کی امانت اپنے متبعین یعنی ملت اسلامیہ کو سپرد کرتے وقت اس ختم المرسلین نے وہ رموز واسرار بھی ایک خاص حد تک ان پر افشاء کر دئیے۔ جو ابھی آغوش مستقبل میں مستور و محجوب تھے۔ بطور پیش گوئیوں کے وہ تمام اہم ترین انقلابات جو اس ملت کی زندگی میں واقع ہونے والے تھے۔ سب کے سب کہہ دئیے۔ جہاں یہ پیش گوئیاں اپنے پورے ہونے کے وقت پیغمبر کی صداقت و دیانت پر حجت تھیں۔ وہاں ملت کو بطور حفظ ما تقدم احتیاط و حزم کے اعلان بھی تھے۔
ملت کا حلقہ چونکہ اتنا وسیع ہونا مطلوب تھا کہ اس سے اوسع کبھی ہو نہ سکے اور پھر زندگی
٦
بھی اس کی اتنی طولانی کہ ختم ہو تو حشر ہی پر جا ہو۔ ساتھ ہی ادھر فطرت بشر میں بشریت کے سب تقاضے میں سے کسلان و غفلت پیدا ہوتے ہیں اور انسان اپنے فرائض سے غافل و کوتاہ پڑ جاتا ہے، معلوم تھے۔ اس لئے جن جن مواقع پر تقدیر میں یہ تھا کہ قاصدان توحید سستی کی وجہ سے اپنی رفتاروں کو ڈھیلا کر دیں گے۔ ان کی طرف بھی خاص اشارے کر دیئے اور بتلا دیا کہ جب عوام میں یہ کمزوریاں ایک خاص حد تک رونما ہو جایا کریں گی۔ ہمارے نائب خاص جن کا کام ایجاد نہیں بلکہ تجدید ہوا کرے گا۔ دفعتاً نمودار ہوا کریں گے۔ ہمارے دیئے ہوئے مگر بھولے ہوئے سبق از سر نو پڑھا کر لوگوں کو سعی عمل پر کمر بستہ کر دیا کریں گے۔ غفلتیں پھر ایک خاص عرصہ کے لئے اڑ جایا کریں گی۔ ہمتوں میں برکت پیدا ہو جایا کرے گی۔ فراموش کردہ پیمانوں کی اہمیت آشکارا ہوا کرے گی اور ملامت کے تازیانے سمند عمل کو گرم سبک سیری کیا کریں گے۔ روح القدس کا فیض عام پھر دکھا دیا کرے گا۔ کہ؎
فداک روحی یا محمدﷺ
سالہا سجدۂ صاحب نظراں خواہد بود
مدعیان مجددیت و مہدویت
میاں دعویٰ و حجت ہزار فرسنگ است
رسول عربی ﷺ نے ایسے ارباب ارشاد کے ظہور کا وقت جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ عام طور پر ہر سو سال کے بعد بتایا اور ان کو مجددین دین کے نام سے تعبیر کیا۔ ان کے متعلق اس زبان اطہر سے جو وارد ہوئے وہ یہ الفاظ ہیں: ”ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها“
ان الفاظ سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہ جو شخص تجدید دین پر مامور ہوگا۔ وہ از خود مدعی بھی ضرور ہوگا۔ کوئی حقیقت اپنے پاس ہو تو اس کا دعویٰ اگر مذموم نہیں تو عبث و فضول ضرور ہے۔ دعوؤں کی خاص طور پر ضرورت جب بھی ہوتی ہے باطل مدعیوں کو ہوتی ہے۔ ورنہ یہ کون جانتا کہ مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔
٧
تیرہ سو سال سے زیادہ گزر رہے ہیں۔ ہم سب کا عقیدہ ہے کہ ہر سو سال کے اختتام پر دین کی رونق وزینت کو دوبالا کرنے والا کوئی نہ کوئی مرد خدا ضرور پیدا ہوا ہے۔ پورے سو سال کے بعد یا اس سے کم وبیش مقدار یک مایہ ہے۔ خواہ مجدد سو سال کے سر پر ظاہر ہو یا درمیان میں یا آخر میں ۔ غرض ایک ایسے وجود کے ظہور سے ہے جو تجدید کا کام سرانجام دے۔ تجدید کے معنی پرانی چیز کے تازہ کرنے کے ہیں۔ نہ کہ احداث وابتداع شی ۔ دین میں تجدید کے جو معنی ہو سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لوگوں کو غلو سے روکا جائے ۔ جہلاء کی تاویلوں کی نفی کی جائے اور حق وباطل میں تمیز دکھائی جائے ۔ جو یہ نہ کرے وہ کیسا ہی فاضل ہو، عامل ہو، فقیہ ہو، صاحب دل ہو، صاحب مکاشفہ ہو، مجدد نہیں ہو سکتا۔ یہاں یہ بتلا دینا بھی غیر محل نہ ہوگا کہ لفظ من کا اطلاق واحد اور متعدد دونوں پر ہو سکتا ہے۔ یہ قطعی طور پر لازمی نہیں کہ مجدد ایک صدی میں ایک ہی ہو۔ ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔ خیر تاریخ مذہب اسلام ان واقعات پر پورے طور پر روشنی ڈالتی ہے۔ مجددین برحق کوئی چھپی ہوئی ہستیاں نہیں۔ بات مدعی ہونے کے متعلق تھی۔ بیشک یہ چند ایک حالات میں واضح ہے کہ ان کے ایام زندگی ہی میں لوگوں نے ان کی خدمت ملت ودین سے یہ اندازہ لگا لیا کہ وہ بموجب حدیث نبوی مجدد ہیں۔ ان کو اس لقب سے یاد بھی کیا گیا۔ مگر انہیں خدمت کی دھن تھی۔ وہ کام کرنا تھا جو کرنے آئے تھے۔ نہ کہ اس لقب کو اختیار کرنے کی خاص فکر ۔ پیغمبر نہ تھے کہ دنیا کو مذہب از سرنو سکھانا تھا۔ نئے احکام دینے تھے۔ اپنے منکرین پر اپنے دعوؤں کی حجتوں کو پورے زور سے عیاں کرنا تھا اور اس لئے تحدی ان کا فرض تھا۔ پیغمبر کے دعویٰ میں چونکہ اس کی تبلیغ مضمر ہوتی ہے۔ اسے بغیر تحدی بن نہیں پڑتی ۔ اس کے انکار سے خلق خدا صرف اس کی منکر ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنے خالق کی بھی منکر ٹھہرتی ہے۔ اس لئے اس کا ہر اس قسم کا اعلان ہمیشہ بطور دعویٰ ہی پیش ہو سکتا ہے۔ اسے متعدد خداؤں سے مخلوق کو روگرداں کرنا ہوتا ہے۔ حقیقی معبود کی عبادت پر سب کو لانا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے دعوے اس کے نہیں ہوتے بلکہ وہ خود اس کے مامور کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ مجددین کے لئے کہیں واجب نہیں اور کسی صورت اولیٰ نہیں کہ وہ بھی اسی حیثیت میں مدعی ہوں اور سچ یہ ہے کہ حقیقی مجددوں کو جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔ شغل اصلاح وفکر تجدید ایسے عبث دعوؤں کے خواب بھی کیوں آنے دیتی ہے۔
مرا چہ جائے کرامات و نام بانگ است
٨
مگر بمصداق الاشیاء تعرف باضدادھا۔ جہاں سچے برحق اور غیر مدعی مجددین (مثلاً امام غزالیؒ، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ وغیرہم) کو ظاہر ہونا تھا۔ وہاں کاذبوں اور مدعیوں کو بھی موقعہ تھا کہ حدیث پیغمبر کو حجت پکڑتے اور اس سے تمسک کر کے اپنی ڈینگ مارتے۔ ایک دفعہ نہیں کئی بار ہو چکا ہے اور قریباً ہر صدی کے گزرنے پر ہوا ہے کہ اصلی مجدد نے تو چپ چاپ خاموشی سے اپنا کام شروع کیا۔ بغیر اس احساس کے کہ وہ مجدد ہے بھی یا نہیں اور ادھر ایک دو بلکہ اس سے زیادہ مدعیوں نے اپنے مکر وحیلہ کے جال پھیلا، مناظروں اور پیش گوئیوں کے اعلان کر کے اپنے حواریوں کی جماعتیں پیدا کر لیں۔ جو انہیں اس صدی کا مجدد کہیں اور ان کے نام کا ہر طرف ڈنکا بجائیں۔ اکثر نے تو اچھی خاصی لاکھوں کی تعداد میں گروہ بھی پیدا کئے ہیں۔ جو ان کے بعد بھی اس زہر کو پھیلانے میں کچھ عرصہ کوشاں رہے۔ مگر آخر فنا ہو گئے۔ "ان الباطل کان زھوقاً"
اس تمہیدی بحث کو چھوڑ کر اپنے اصل مدعا کو پکڑتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جیسا اوپر بیان ہو چکا ملت اسلامیہ اپنے تمام نشیب وفراز دیکھتی۔ آخر اس نکتے پر پہنچنے والی ہے۔ جہاں یہ تمام اقوام ومذاہب کو اپنے اندر گھیر لے گی۔ مگر چونکہ وہ اس کے انتہائی فراز کا دور ہوگا۔ اس لئے اس سے پہلے اس کو اپنا انتہائی نشیب بھی دیکھنا ہوگا۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول مقبول ﷺ نے اپنی احادیث میں جہاں مجددین اسلام کا ذکر فرمایا۔ وہاں یہ بھی بطور پیش گوئی کے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت ان ان حوادث وواقعات کی بناء پر اپنے انتہائی انحطاط کو پہنچ چکے گی۔ یا یوں کہو کہ فتنہ آخر الزمان کو دیکھ چکے گی تو اس کے بعد آخری مگر سب سے بڑا اور افضل ترین مجدد جو مہدی کے لقب سے ملقب ہوگا، رونما ہوگا اور آخری مقصد تبلیغ کو تکمیل دے گا۔
الفاظ نشیب وفراز کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغمبر خدا ﷺ کے حسب ذیل ارشادات مطالعہ کرنے دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔
"عن عبدالله ابن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى رواه الترمذى وابوداؤد، وفى رواية له قال لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله تعالى ذالك اليوم حتى يبعث فيه رجلا منى او من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابى يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت
٩
وجوراً“ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دنیا ختم نہیں ہوگی۔ جب تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت سے عرب کا مالک ہو جائے۔ جس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا۔ (ترمذی وابوداؤد) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر مدت دنیا سے صرف ایک دن باقی رہ گیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس قدر لمبا کر دے گا کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا۔ جس کا نام، میرے نام اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے۔ جیسا کہ اس سے پہلے وہ ظلم، بے انصافی سے بھری ہوگی۔ ﴿
”عن ابی سعیدؓ قال ذکر رسول اللہ ﷺ بلاء یصیب ھذہ الامۃ حتی لا یجد الرجل ملجا یلجا الیہ من الظلم فیبعث اللہ رجلا من عترتی واھل بیتی فیملاء بہ الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً یرضیٰ عنہ ساکن السماء وساکن الارض لا تدع السماء من قطرھا شیئاً الا صبتہ مدراراً ولا تدع الارض من نباتھا شیئاً الا اخرجتہ حتی تتمنی الاحیاء الاموات لیعیش فیہ ذالک سبع سنین او ثمان او تسع “ ابی سعیدؓ سے مروی ہے۔ فرمایا نبی علیہ السلام نے اس امت پر ایک ایسی بلا نازل ہوگی کہ کسی شخص کو اس سے جائے پناہ نہیں ملے گی۔ تب اللہ میرے اہل بیت سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ پہلے جور وظلم سے پر ہوگی اور ساکنان زمین وآسمان اس سے خوش ہو جائیں گے اور آسمان کوئی قطرہ پانی کا برسائے بغیر نہ رہے گا اور زمین کوئی انگوری اگائے بغیر نہیں رہے گی۔ یہاں تک کہ زندہ لوگ مردوں کے جی اٹھنے کی خواہش کریں گے۔ وہ سات یا آٹھ یا نو سال زندہ رہیں گے۔ ﴿
”عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ یخرج رجل من وراء النھر یقال لہ الحارث حراث علی مقدمتہ رجل یقال لہ منصور یوطن او یمکن لال محمد کما مکنت قریش لرسول اللہ ﷺ وجب علی کل مؤمن نصرہ او قال اجابتہ رواہ ابوداؤد“ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک شخص ماوراء النہر سے نکلے گا۔ جس کا نام حارث ہوگا۔ جس کے سرلشکر ایک شخص منصور نام ہوگا۔ وہ آل محمد کو تسلی اور اطمینان دے گا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو قریش نے دی تھی۔ ہر ایک مومن کو اس کی مدد، اطاعت واجب ہوگی۔ ﴿
١٠
”وعن ثوبانؓ قال قد جاءت من قبل خراس والبیھقی “ حضرت ثوبانؓ جھنڈے خراسان کی طرف سے آئ خلیفہ ہوگا۔ ﴿ گویا وہ علم بردار مساوا سے آشکار ہونے والا ہے۔ وہ مبش تاویلیں لایعنی ومہمل ہیں۔ اپنے دعو مگر جہاں مجدد کا لقب کیا۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ بڑے دعویٰ پ دعوئیٰ کے وقت ہمیشہ کہا کہ یہی زما نہ کبھی آگے ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ ہمی کے نجات اخروی محال قطعی ہے۔ ی دیکھا اور نہ ہی آج تک کوئی حق پر آشکار ہو کر رہے۔ مدعیان تجدید مہ ملتے
ہم ذیل میں چند ا مہدویت کے دعویٰ کئے یا جن کے ان میں سے بعض نبوت کے مدعی ب اسود عنسی ، زکریا بن بن محمد بن حنفیہ ، سلیمان قرمطی ، محمد نفس زکیہ ، محمد بن قاسم ، قاسم ب حسن عسکری ، محمد بن حسن عسکری پوشیا ، وامیہ ، بہبود ، ابراہیم بزلہ ، م قطع نظر ان سے خوف
"وعن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ اذا رايتم الرايات السود قد جاءت من قبل خراسان فاتوها فان فيها خليفة المهدى رواه احمد والبيهقى “ ﴿حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سیاہ جھنڈے خراسان کی طرف سے آتے دیکھو تو ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ کیونکہ اس میں اللہ کا خلیفہ ہوگا۔﴾
گویا وہ علم بردار مساوات وحریت یعنی حضرت مہدی علیہ السلام جن جن آثار وقرائن سے آشکار ہونے والا ہے۔ وہ سب اظہر من الشمس کر دیئے ہیں۔ ان تصریحات کے مقابلہ میں تاویلیں لایعنی ومہمل ہیں۔ اپنے منہ سے ہر شخص کو باتیں بنانے کا اختیار ہے۔
مگر جہاں مجدد کا لقب اتنا ہوس انگیز ثابت ہوا کہ ہزاروں مدعیوں نے اسے اختیار کیا۔ کیسے ہوسکتا تھا کہ بڑے دعوے کے مدعی مہدی بن کر نہ رہتے۔۔ چنانچہ اکثر نے دعوے کئے اور دعوے کے وقت ہمیشہ کہا کہ یہی زمانہ وہ آخری ابتلاء کا زمانہ ہے۔ بے دینی کا رواج اس سے بڑھ کر نہ کبھی آگے ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ ہمیں اس تجدید پر مامور کیا گیا ہے اور بجز ہمارے دعوے کے تسلیم کئے نجات اخروی محال قطعی ہے۔ جمہور ملت نے نہ ایسے مدعی کو آج تک کسی وقعت کی نظر سے دیکھا اور نہ ہی آج تک کوئی حق بجانب ثابت ہوا۔ مجددین جو حقیقت میں مجددین تھے۔ وہ خود آشکار ہو کر رہے۔ مدعیان تجدید مر مٹ گئے، مگر مہدویت کا سکہ آج تک بالکل کسی کا نہ جم سکا۔
ہم ذیل میں چند ایسے شخصوں کے نام دے دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ جنہوں نے مہدویت کے دعوے کئے یا جن کے مریدوں نے کچھ عرصہ انہیں مہدی بنائے رکھا۔ مہدویت چھوڑ ان میں سے بعض نبوت کے مدعی بھی تھے۔
اسود عنسی، زکریا بن امام محمد باقر، مغیرہ، ابن صیاد، طلیحہ بن خویلد، عبداللہ بن معاویہ، احمد بن محمد بن حنفیہ، سلیمان قرمطی، یحییٰ، عیسیٰ بن مہرویہ، ابو جعفر محمد بن اسمعیل، عبداللہ بن احمد فاطمی، محمد نفس زکیہ، محمد بن قاسم، قاسم بن مرہ، عباس محمد بن تومرت، استاذ سیس، عطاء، عثمان بن نہیک، حسن عسکری، محمد بن حسن عسکری، محمد مہدی عباسی، احمد بن کیال، شیخ محمد خراسانی، محمد احمد سوڈانی، پوشیا، وامیہ، بہبود، ابراہیم بزلہ، علی محمد باب، محمد سبحانی۔
قطع نظر ان سے خود ہندوستان میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ سید محمد جونپوری وغیرہ:
١١
کو سب لوگ جانتے ہیں اور پھر آخری شخص تو وہ ہے جسے رحلت فرمائے ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں اور جس کے کارناموں کے چرچے اپنی مدھم رفتار سے ابھی جاری ہیں۔ ہمارا اشارہ صاف ہے اور جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ہے۔ انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ مہدی آخرالزمان بنے۔ مسیح موعود اپنے آپکو کہا۔ (یہ جرأت ان سے قبل آج تک کسی اور کو نہ ہوئی تھی) ہندوؤں کے لئے کرشن بنے اور ان سب پر طرہ کہ مرسل و نبی ہونے کا پیغام بھی دنیا کو دیا۔ ان سب دعوؤں کی تائید ہزار ہا الہاموں سے کی۔ جن میں سینکڑوں وعدے اور سینکڑوں وعیدیں تھیں۔ تحدیاں کیں۔ پیش گوئیوں کو رواج دیا۔ نئی نئی باتیں بنائیں۔ بنی ہوئی سینکڑوں بگاڑ کی کوشش کی۔ ماشاء اللہ علم و فضل کے مالک تھے۔ مناظرے کے میدانوں میں بھی قدم مارے۔ ہارے یا جیتے یہ قسمت کے کھیل تھے۔
لمبی تقریروں اور تحریروں سے ایک دو نہیں ہزاروں سادہ لوح متاثر ہوئے۔ مجدد بنے۔ بڑوں کے پھندوں میں کئی عقیدت شعار پھنسے۔ جہاں محکمات کو متشابہات کر دکھایا۔ وہاں خود ایسی متشابہات سے ارادت مندوں کو مسحور کیا کہ وہ خصوصیات احمدیہ و مرموزات مہدویہ کے عقیدوں سے تا قیامت کسی اور طرف آنکھ نہ پھیریں۔ پیر پرستوں کے لئے اکبر اکابر المشائخ ظاہر ہوئے۔ انتظار مہدی کے مریضوں کے لئے نہ صرف مہدی بلکہ مسیحا بنے۔ سائنس دانوں کی خاطر معجزات کو نئے نئے رنگ دیئے۔ معجزہ کے طلبگاروں کے لئے پیش گوئیوں کے دفتر لکھے۔ علماء کی تواضع تفسیر واجتہاد سے کی۔ گویا ہر محفل کے صدر بنے اور ہر رنگ پر اپنا رنگ غالب کرنے کی سعی کی۔ جس خیال کا کوئی دیکھا اسی خیال کے پردے میں اپنا خیال چھپا کر اس کے پیش کر دیا۔ پھر کون تھا جو اس کرشمہ کا شہید نہ ہوتا اور اس دعوت کو قبول نہ کرتا ؎
فریب چشم تو صد فتنہ در جہاں انداخت
جو بچ گئے اپنی قسمت کو دعائیں دیں اور خدا بخشندہ کا شکر ادا کریں۔
متبعین کی تعداد ابھی لاکھوں میں ہے۔ ہمارے بھائی ہیں۔ دل نہیں چاہتا جو ایک دفعہ ایک رشتہ میں ہمارے ساتھ منسلک ہو چکے تھے۔ پھر کبھی ہم سے الگ ہوتے۔ مگر کیا کریں جس قطع
١٢
و برید پردہ تلے بیٹھے ہیں۔ وہ انہیں کی ایجاد ہے۔ نہ ہماری ، مرزا قادیانی موصوف میں کوئی ایسی خوبی ہوگی۔ جسے دیکھ کر وہ باقی سب امت محمدیہ سے جدا ہوئے ۔ مگر خدائے واحد شاہد ہے کہ ہمیں آج تک بجز دھوکوں اور بے جا تاویلوں اور تحریفوں کے کچھ نظر نہیں آیا۔ دل آزاری اپنے بھائیوں کی مطلوب نہیں۔ یہ لکھتے ہوئے اپنا دل دکھتا ہے۔ مگر مذہب کا معاملہ ہے۔ کتمان حقیقت یہاں گناہ ہے۔ مرزا قادیانی کی ان کے مریدوں کی آنکھوں میں اگر کوئی ظاہری خوبی ہے۔ بھی تو وہ یاد رکھیں کہ ہر جگہ ایسی ظاہری خوبی کے ساتھ کوئی نہ کوئی چھپی ہوئی بلا ایسی ضرور ہوگی۔ جو اگر اس خوبی پہ جاتے ہیں تو اس بلا میں بھی بری طرح گرفتار ہوتے ہیں۔
اے مرغ مرو در پئے ایں دانہ کہ دام است
یہ بہتان نہیں جو لکھ رہے ہیں۔ بے جا حملہ نہیں جو کر رہے ہیں۔ ایسا دعویٰ نہیں جس کے محض دو چار سو ثبوت ہوں۔ حقیقت ہے اور حقیقت ظاہرہ صداقت ہے اور صداقت باہرہ اسی حقیقت وصداقت کو کلی طور پر نہیں تو جزوی طور پر کھولنے کا ارادہ ہے کہ یہ طول طویل مبادیات لکھنے پڑے۔ مرزا قادیانی کے جو دعاویٰ قرآن وحدیث پر مبنی تھے۔ ان کا رد بارہا قرآن سے کیا گیا اور وہ غیر معروف نہیں۔ آئے دن یہی جھگڑے ان کے مقلدین سے پیش رہتے ہیں۔ جو پردہ ہم اپنے بھائیوں یعنی مرزا قادیانی کے پیروں کی چشموں سے آج اٹھانا چاہتے ہیں وہ وہ ہے۔ جس کے اٹھتے ہی حقیقت کا رخ نگارین وہ خود دیکھ لیں گے۔ جو شہادت نہایت معتبر وغیر متزلزل سمجھ کر مرزا قادیانی اپنی مہدویت کے ثبوت میں ہمارے بھائیوں کو دیئے گئے ہیں۔ وہی شہادت اپنے اصلی رنگ میں ظاہر ہوگی اور پکارے گی کہ میں کتنی مبدل ومحرف تھی۔ جس صورت میں کہ جناب مرزا قادیانی نے مجھے پیش کیا۔ میرے معنی کیا تھے اور کیا بنا کر دنیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ مجھے نہ صرف یہ شکایت ہے کہ مرزا قادیانی وہ مہدی نہ تھے۔ جس مہدی کے لئے میں کہتا ہوں اور مجھے بے محل پیش کیا۔ بلکہ یہ کہ میرے حق میں مرزا قادیانی اپنے علم وفضل سے دور چلے گئے۔ میں ایک منظوم شہادت تھی۔ مجھ کو مذاق ادب کی محک پر نہ پرکھا۔ حالانکہ ان کے حواریوں کا دعویٰ ہے کہ آپ عروض و مصرع سازی میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ قرآن وحدیث کی طرح میری طرف بھی چشم تحقیق کو ہرگز ملتفت نہ ہونے دیا۔ مجھے یہ شک ہے شک نہیں۔ گمان غالب ہے کہ میری شکل کو دانستہ بگاڑا گیا ہے۔ تا کہ میں کسی کی ہم شکل بن جاؤں۔ میں مدتوں سے جو ہر رنگ زدہ تھی۔
١٣
انصاف کرتے چشم حق بین کو وا کرتے تو یہ زنگ مجھ سے دور کرنے کی کوشش کرتے۔ نہ کہ اور چڑھاتے۔ خیر انہوں نے جتنا پردہ زنگاری میں مجھے چھپایا۔ میری اتنی ہی قدر اور بڑھی اور میرے شوق دید نے آخر دلوں کو گرمایا اور مجھ کو اصلی رنگ میں دیکھنے پر آمادہ کیا۔ یعنی ہر رنگ کے جامہ میں میرا انداز قد وہی رہا جو تھا۔
شاہ نعمت اللہ کرمانی کی پیش گوئی اور مرزا قادیانی
کہ کاذب جس سے ثابت مدعی قادیانی ہے
موجودہ مستشرقین یورپ میں پروفیسر برون چوٹی کے ادباء میں شمار ہیں۔ فارسی علم ادب و تاریخ پر آپ سند ہیں۔ اس وقت جب کہ تمام مشرقی علوم وفنون کے خزانے اہل مغرب کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ پروفیسر موصوف جیسے فراخ حوصلہ آدمی جب کبھی ہم شرقیین کو ہماری لٹی ہوئی دولت سے بطور صدقہ و خیرات کچھ عنایت فرمائیں تو اسے قبول کرتے وقت بیشک ہم کو پشیمان بھی ہونا چاہئے اور غیرت میں بھی آنا چاہئے۔ مگر ساتھ ہی ان کے جائز شکریہ میں بھی بخل سے کام نہ لینا چاہئے اور تصانیف کے علاوہ فارسی علم ادب کی تاریخ پر آپ ہمیں گراں بہا مستند کتابیں لکھ لکھ کے دے رہے ہیں۔ اس سلسلہ کی تیسری کتاب ابھی ابھی ولایت میں چھپ کر یہاں پہنچی ہے۔ اس کا نام ہے۔ ”فارسی علم ادب در عہد تاتاریاں“ اس کتاب میں تاتاری زمانہ کے شعراء کے تذکرہ میں پروفیسر صاحب نے شاہ نعمت اللہ کرمانی کے حالات و سوانح لکھے ہیں ان کے مشہور مگر غیر مطبوع قصیدہ (بردیف ے بینم) کو جس میں بہ سبیل کنایات امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور دیگر ملحقہ واقعات کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے۔ درج کیا ہے۔ اس معاملہ میں پروفیسر موصوف کی تحقیق و تدقیق کا اندازہ صرف اسی امر سے ہو سکتا ہے کہ وہ خود اپنے ایران کے سفر میں ماہان جہاں شاہ صاحب کا مزار ہے، گئے ہیں اور وہاں اس قصیدہ کا وہ نسخہ حاصل کیا ہے۔ جس کو وہ نہایت معتبر اور سب سے قدیم بتاتے ہیں۔ ایسی قومیں کیوں نہ دنیا پر حکمرانی کریں۔ جن میں اس اس قسم کے محقق افراد موجود ہوں جو غیر ممالک میں علمی تحقیقوں کی خاطر سفروں کی اتنی زحمتیں گوارا کریں۔ یہ تحقیقات خواہ اسی بناء پر کی جاتی ہوں کہ اقوام جن پر حکومت کرنا مطلوب ہو۔ ان کے قلب و دماغ کے رجحان کا پتہ چلائیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ یہ ہنرمند و ہوشیار لوگ جو تحقیق بھی کرتے ہیں اور خاص کر علمی اور ادبی تحقیق وہ تعصب اور طرفداری کی لوث سے پاک
١٤
ہوتی ہے۔ ایک اجہل سے اجہل بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایک غیر مذہب غیر ملک کا آدمی جس کو محض علمی و ادبی ذوق مختلف ممالک میں کشاں کشاں لئے پھرتا ہے۔ وہ جو بات بھی اپنے فن کے متعلق پیش کرے گا۔ وہ تعصب کی آلودگی سے پاک ہوگی۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں اور ہر وہ شخص جس نے یورپ کے مصنفین کی اس قسم کی کتب کا مطالعہ کیا ہے وہ اس امر کو یاد کرے گا کہ یہ لوگ اگر مذہب اسلام نہیں تو اسلامی لٹریچر پر ضرور اپنی رائیں آزادانہ دیتے ہیں اور وہی لکھتے ہیں جس کو وہ صحیح سمجھتے ہیں۔ مذہب اور تاریخ اسلام پر حملہ کرنے والے بھی عام طور پر اس گروہ سے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ وہ اشخاص ہیں جن پر مذہبی رنگ زیادہ غالب ہے۔ کم از کم ادباء کی نسبت ہر ایک کو ماننا پڑے گا کہ یہ اسلام کے اندرونی تفرقوں پر بحث کرتے اور اپنی رائے دیتے وقت طرف داری کے عیب سے پاک ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کو طرف داری کی ضرورت بھی کیا ہوسکتی ہے۔ پروفیسر براؤن کو کیا غرض ہے کہ وہ حضرات تشیع کی خاطر اہل تسنن کی کسی خوبی کو چھپائیں یا ان کے ایک شاعر کو محض اس لئے برا کہیں کہ دوسرے کو خوش کرسکیں۔
شاہ نعمت اللہ کرمانی کے سوانح پروفیسر براؤن نے نہایت تحقیق کے بعد لکھے ہیں۔ ان کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ جہاں سے اخذ کئے ہیں۔ گویا ہمارے لئے شاہ صاحب کو دنیا میں پھر زندہ کر دکھایا ہے۔ شاہ صاحب کا قصیدہ ”مے بینم“ جو ہمارا اصلی مبحث ہے۔ وہ اپنی دیانت کی بناء پر انہوں نے ویسے کا ویسے ہی کتاب میں درج کر دیا ہے۔ جیسا ان کو ملا ہے اور جس کو وہ اپنی تحقیق پر سب سے معتبر اور قدیم بتا رہے ہیں۔
یہی شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کا ”قصیدہ مے بینم“ وہ معرکۃ الآراء قصیدہ ہے۔ جس میں شاہ صاحب نے اپنے وہ مکاشفات بیان فرمائے ہیں جو واقعات و حالات فتنۂ آخر الزمان اور ظہور امام مہدی پر مشتمل ہیں۔ اس قصیدہ سے بھی بعض مدعیان مہدویت نے ویسا ہی تمسک کیا ہے۔ جیسا کہ احادیث نبوی سے، چنانچہ پروفیسر براؤن جیسا کہ ان حالات سے جو انہوں نے شاہ صاحب کے لکھے ہیں۔ آگے چل کر ظاہر ہو جائے گا۔ لکھتے ہیں کہ ایران میں بابیوں نے ظہور باب کے متعلق بھی اسی سے استشہاد کیا اور اس کے ظہور کی تاریخ ایک شعر کے ان حرف ابجد سے نکالی۔ جو ظہور مہدی کے متعلق اس میں دیئے گئے ہیں۔ خواہ یہ حروف بدل کر ایسا کیا گیا ہو۔ کیا ضرور گیا۔ بقول مرزا غلام احمد قادیانی، ہندوستان میں سید احمد بریلوی صاحب کے پیروؤں نے اسی شعر سے سید صاحب موصوف کے ظہور کو اس پیش گوئی کے مطابق سمجھا اور کہا کہ یہ پیش گوئی صرف ان ہی
١٥
کے متعلق کی گئی تھی۔ پھر ان کے اس دعویٰ کا ابطال کرتے ہوئے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ان پر چسپاں کرنے والوں کی یہ صریح غلطی تھی۔ پیش گوئی دراصل میرے حق میں ہے۔ تاریخ بھی چودھویں صدی برآمد ہوتی ہے۔ نہ کہ تیرھویں اور باقی حالات بھی میرے حسب حال ہیں۔ نہ کہ اس سے پہلے کسی اور کے۔ ان امور سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس پیش گوئی کی کتنی اہمیت ہے اور مدعیوں نے اس سے کس کس طرح تمسک کیا ہے۔
جو معتبر شہادت کہ ہم نے اوپر لکھا ہے۔ مرزا قادیانی سے بزبان حال شاکی اور نالاں ہے اور ان کے صریح مخالف ہے۔ وہ یہی شہادت ہے۔ مرزا قادیانی نے اسے اپنے حق میں ١٨٩٢ء میں شائع کیا تھا۔ اٹھائیس سال کے بعد پروفیسر براؤن کی عنایت سے آج یہ شہادت طشت از بام ہوئی ہے اور اپنے اصلی رنگ میں کھلے طور پر دنیا کے اور خاص کر مسلمانوں کے سامنے پیش ہوئی ہے۔ مسلمان، پروفیسر صاحب کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے۔ اگر وہ اسے اپنی کتاب میں درج کر کے شائع نہ کرتے تو باطل اپنے آپ کو حق کی شکل میں پیش کر ہی چکا تھا اور ہم بزدلوں میں سے کسی کو اس کے باقاعدہ رد کی جرأت نہ تھی۔ پروفیسر صاحب نے اپنی طرف سے محض ادبی دنیا پر یہ احسان کیا تھا۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ مسلمانوں کے ہاں کسی فرقہ کی بنیاد ہی ایک حد تک اس خشت پر قائم ہے۔ سو وہ اب دو شکریوں کے مستحق ہیں۔ ادبی لوگ بھی ان کے ممنون ہوں اور مذہبی بھی۔
ہندوستان میں یہ پیش گوئی جہاں تک ہمیں اس وقت تک معلوم ہوا ہے۔ پانچ چھ افراد سے زائد کے پاس موجود نہ تھی۔ ایک نسخہ لاہور میں تھا۔ ایک ندوۃ العلماء میں۔ ایک بہاولپور میں بتلایا جاتا ہے۔ ایک وہ ہوگا جس سے مرزا قادیانی نے نقل کیا اور اپنے حق میں شائع کیا۔ شاید ایک آدھ اور بھی بزرگ ہوں جن کے پاس قلمی نسخے ہوں۔
مرزا قادیانی نے تمام دنیا کو چیلنج دیتے ہوئے جب اس آسمانی شہادت کو بطور حجت کے پیش کیا تو اس کی تردید کسی طرف سے نہ ہوئی۔ حالانکہ ایسے نسخے جب بھی موجود تھے۔ جو مرزا قادیانی کی نقل سے اختلاف رکھتے تھے اور جن سے کئی قسم کی قلعی کھل سکتی تھی۔ مگر اس وقت جو کسی کو تردید اور مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی تو اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ جس جس صاحب کے پاس یہ نسخہ تھا وہ جانتا رہا کہ یہ میرے ہی پاس ہے اور کسی کے پاس نہیں۔ اگر میں نے شائع کیا اور مرزا قادیانی کے نسخے سے اختلاف ظاہر کیا تو وہ کہیں گے کہ دیکھو ہم تو مولوی اسماعیل شہید کی
١٦
کتاب سے اسے نقل کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ سند ہے۔ تم بتاؤ کہاں سے اسے لے رہے ہو۔ تم ہمارے نسخے کو جھوٹا اور غلط کہتے ہو، تمہارا ہم سے زیادہ غلط ہے۔ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ تمہارا صحیح ہے اور ہمارا غلط۔ اگر ایک کو بھی اس کے شائع کرنے کی ہمت پڑتی اور بات چھڑ جاتی تو اور بھی اس کی مدد کو پہنچتے۔ بات کھل جاتی۔ مگر ہر ایک اسی ڈر سے چپ رہا اور ضبط کئے رہا اور مرزا قادیانی بلاخوف تردید اپنی شہادت کو آسمانی شہادت کہہ گئے اور اپنی مہدویت کا سکہ جما گئے۔
اب جو پروفیسر برون کی کتاب آئی۔ بعض ادبی مذاق کے لوگوں میں اس کا چرچا ہوا تو کئی احباب کو یاد آ گیا کہ مرزا قادیانی نے بھی اس قصیدہ کو اپنی مہدویت کا سنگ اساسی قرار دیا تھا اور اسے شائع کیا تھا۔ آؤ تو ان کے شائع کردہ قصیدہ اور اس کو ملائیں۔ کہاں تک مطابقت کھاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے معلوم ہوا کہ فرق زمین آسمان کا نہیں۔ بلکہ تحت الثریٰ اور فوق السماء کا ہے۔ شک یہ ہونے لگے کہ دال میں اور بھی کالا ہے۔ مرزا قادیانی نے اشعار کی جو ترتیب دی ہے۔ اس میں کئی طرح کے شکوک ہیں۔ بعض الفاظ و تراکیب اس طرح غلط اور الٹ پلٹ لکھے ہیں کہ معانی کو آسمان سے زمین کر دیا ہے۔ پھر جن اشعار کی اپنے حق میں تشریح کی ہے۔ ان میں تو اور بھی غضب ہے۔ کوئی بات نہیں چھوڑی جو ان کے خلاف ہو سکتی تھی اور اسی کو اپنے حق میں ثابت نہیں کیا۔ جن اشعار کی تشریح کر کے مضمون کا سلسلہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق تمام نظم میں سے کہیں کہیں سے اٹھا کر رکھ دیئے ہیں۔ جو صریحاً مخالف تھے۔ جن کی تاویل کی کوئی سبیل نہ تھی۔ ان کو چھوا تک نہیں۔ گویا میٹھے میٹھے (جن کو خود میٹھے بنانے کی کوشش کی گئی ہے) سب چن کر رکھ لئے ہیں اور کڑوے کڑوے سب چھوڑ دیئے ہیں۔ خیر اس مضمون کو مفصل طور پر ہم اگلے باب میں لکھیں گے۔
یہاں پر یہ جتا دینا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے اس شہادت کو معتبر ترین شہادت سمجھا ہے اور شہادتوں کے سلسلہ میں اس کو پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ جہاں اس کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مجذوب کے اقوال کو بھی بطور سند پیش کیا ہے۔ جس کی نسبت اس جگہ کچھ لکھنا بے محل ہے۔ ان دونوں پیش گوئیوں کو ایک جگہ شائع کر کے مرزا قادیانی نے ان کو حجت اللہ سے تعبیر کیا ہے۔ کتاب کا ایک نام ”نشان آسمانی“ رکھا ہے اور دوسرا ”شہادت الملہمین“ سرورق پہلا جملہ یہ لکھا ہے کہ: ”الحمدللہ والمنتہ کہ رسالہ شافیہ کافیہ جو مخالفوں پر حجت اللہ اور موافقوں کے لئے موجب زیادت ایمان وعرفان ہے۔“
١٧
حسب ذیل قطعہ بطور چیلنج اسی ٹائٹل پر بحروف جلی رقم فرمایا ہے:
یا صوفی خویش را بروں آر یا تو بہ بکن ز بد گمانی
قارئین کے دلوں پر اس شہادت کا اعتبار جو مرزا قادیانی بٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ منقولہ صدر عبارتوں اور قطعہ سے پورے طور پر عیاں ہے۔ قطعہ کا دوسرا مصرعہ جس دعوٰی پر دال ہے۔ وہ مخفی نہیں۔ گویا ”فاتو بسورة من مثله“ کا جواب لکھا ہے۔ کوئی شخص ان الفاظ کو پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ شہادت مرزا قادیانی کے خیال میں کوئی معمولی اور محض ضمنی سی شہادت تھی۔ ہمارے خیال میں اور کسی شہادت کی مرزا قادیانی کے خیال میں اتنی وقعت نہ تھی۔ جتنی اس کی، اس لئے کہ اور شہادتیں زیادہ تر عقلی و نقلی ثبوتوں پر مبنی تھیں اور یہ خالص الہام پر جب ایک الہام کی تائید دوسرا الہام کرے تو وہ الہام کس حد تک صحیح اور معتبر نہ ہوگا۔
مرزا قادیانی سے اس سے زیادہ اور کیا بن پڑ سکتی تھی کہ وہ الہام کی تائید میں الہام ہی پیش کرتے۔ اس پر بھی جو نہ مانتے وہ انہیں شقی ازلی کہنے کے ہر طرح مجاز تھے۔ سادہ لوحوں پر اس شہادت سے بڑھ کر اور کسی شہادت کا اثر بھی کم ہو سکتا تھا جہلاء تو پھر شکار ہوئے۔ ایسی باتوں کے۔ کتاب کا نام ہی شہادت الملہمین، رکھ کر اس میں وہ جادو مضمر کر دیا کہ لاکھوں پڑے مسحور ہوں۔
اصل پیش گوئی اور اس کی تشریح، جو مرزا قادیانی کی ہے اس پر تنقید
پروفیسر براؤن کی عبارت ظاہر کرتی ہے کہ شاہ نعمت اللہ صاحب کے دیوان کو مطالعہ کرنے والا اس نتیجہ پر پہنچتا ہے اور ان کی زندگی بھی ساری اسی رنگ کی تھی کہ وہ ہمیشہ تصوف میں غرقاب رہتے۔ اسی مضمون پر عام رسالے لکھتے اور مسئلہ وحدت الوجود کی تعلیم دیتے۔ اس سے الگ وہ عام طور پر بطور پیش گوئیوں کے کچھ کلام کہتے۔ جس کا اشارہ فتنہ آخر الزمان اور ظہور مہدی کی طرف ہوتا۔ ان دونوں مضامین کی طرف ان کے کلام میں کئی کنائے ہیں اور بعض جگہ صاف بیانیوں سے بھی کام لیا ہے۔ اس قصیدہ میں جو ہمارا مبحث فیہ ہے۔ انہوں نے ظہور مہدی اور اس سے قبل فتنہ آخر الزمان کے متعلق اپنے تمام مکاشفات کو یکجا اکٹھا کر کے بیان فرما دیا ہے۔ آپ ٧٣٠ھ میں پیدا ہوئے اور ٨٣٣ھ میں انتقال فرمایا۔ قصیدہ کی تصنیف کا سال عیاں طور پر کہیں نہیں دیا گیا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ قصیدہ اسی زمانہ کا ہو سکتا ہے۔ جب آپ صاحب مکاشفہ ہو چکے ہوئے تھے۔ یہ زمانہ کم و بیش ٨٠٠ھ کے قریب ہوگا۔ قصیدہ کے لکھنے اور مکاشفات کے ظاہر کرنے میں جو اصول مدنظر رکھا گیا ہے۔ وہ صرف یہی ہو سکتا ہے کہ سب سے مقدم ظہور مہدی کی تاریخ
١٨
بتائی جائے۔ ساتھ یہ بتلایا جائے کہ اس ظہور کے وقت سے پہلے دنیا کن کن مصائب و آلام اور فتنوں اور بے امنیوں میں مبتلا ہوگی۔ پھر جب دفعۃً ظہور ہوچکے گا تو کس طرح یہ خاکے فوراً بدل جائیں گے اور عالم امن وامان اور عدل وحق کا گھر بن جائے گا۔ ظہور امام کا سال جس شعر میں بتایا گیا ہے۔ اس میں بدقسمتی سے حروف ابجد رکھے گئے ہیں۔ جن سے تاریخ برآمد ہوسکتی تھی۔ مگر زمانے کے اتنا لمبا گزر جانے اور اس قصیدہ کے نقل درنقل قلمی نسخوں کی حیثیت میں اب تک رہنے سے ان حروف کو اس طرح بدلا دیا گیا ہوا ہے کہ قریباً ہر نسخے میں یہ حروف ابجد مختلف ہیں۔ یہ سب کارستانیاں مدعیان مہدویت وغیرہ اور ان کے مؤیدین ومقلدین کے ہاتھوں ہی عام طور پر طے پاتی ہیں۔ کیونکہ تحریف وتبدیل کی جتنی ضرورت انہیں ہوتی ہے۔ وہ کسی اور کو نہیں ہوتی اور یہ خاص ملکہ بھی انہیں ہی حاصل ہوتا ہے۔ خیر جس طرح بھی ہوا یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس شعر میں اصل حروف ابجد کیا تھے۔ یہ شعر پروفیسر براؤن کی کتاب میں یوں ہے۔
بو العجب کار و بار مے بینم
وہ لکھتے ہیں کہ بابیوں نے جب ظہور باب پر اسے چسپاں کیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اصل میں عین کی بجائے غین ہے۔ جس سے تاریخ ١٢٦٠ھ نکلتی ہے اور یہی باب کے ظہور کا زمانہ ہے۔ مگر غین کی بجائے عین رکھنے سے جس طرح پروفیسر براؤن کے نسخہ میں ہے۔ یہ تاریخ ١٢٧٤ھ بنتی ہے۔ شملہ کے خواجہ عبدالغنی صاحب کے پاس جو نقل ہے اور جس کو وہ سب سے معتبر ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس میں یہ حروف عین زا دال ہیں۔ جن سے سال ١٢٧٧ھ برآمد ہوتا ہے۔ انہیں کا قول ہے کہ ندوۃ العلماء والے نسخہ میں جس کی نقل ان کے پاس بھی ہے یہ حروف ضاد زا فا ہیں بہر صورت یہ سب مختلف ہیں۔ اس لئے تاریخ وسال کا تعین قطعاً محال ہے۔ مگر باوجود حروف میں اختلاف ہونے کے ان تمام نسخوں میں حروف کی تعداد تین ہی ہے اور وزن شعر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ یہ حروف تین ہی ہونے چاہئیں اور اس میں تحریف وتبدیل کی گنجائش بھی اسی لئے ہوئی کہ ان حروف کی جگہ ان کے ہم وزن اور حروف رکھے جاسکتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں جو نقل درج کی ہے۔ اس میں یہ شعر مرزا قادیانی کے مذاق، شعر و ادب اور تحقیق کا خوب پتہ دیتا ہے۔ اس میں درج ہے کہ ؎
بوالعجب کاروبار مے بینم
١٩
مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی کو جس نسخہ سے یہ نقل ملی۔ اس میں اسی طرح لکھا تھا۔ مگر کیا مرزا قادیانی کے ذوق ادب و کمال علم نے جب وہ سال چوں گذشت از سال لکھ رہے تھے۔ یہ سوال نہ کیا کہ آخر اس کے معنی کیا۔ پہلے لفظ سال کی بجائے ضرور کسی تیسرے حرف کا اسم درج ہوگا۔ جس کے پڑھنے میں تجنیس خط نے اگر پہلے مرزا قادیانی کو نہیں تو جس کتاب سے مرزا قادیانی لے رہے ہیں۔ اس میں درج کرنے والے کو دھوکا دیا ہوگا۔ مگر کیا مرزا قادیانی کی علمیت اس سے بھی عاجز تھی کہ وہ ”سال چوں گذشت از سال“ کو مہمل سمجھتے۔ غین و را سے عدد ١٢٠٠ھ برآمد ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی بعض اشعار کی تشریح میں نہایت دقتوں سے تاویلیں کر کے اور شعروں کو آگے پیچھے رکھ کر بڑی مشکل سے اس ١٢٠٠ھ کو چودھویں صدی ثابت کیا ہے۔ اس معمہ کو سمجھنا ہو تو ان کی تشریح کو ان کی کتاب نشان آسمانی سے پڑھ لینا چاہئے۔ مرزا قادیانی کو تو اگر وہ کچھ تحقیق کرتے اور اس پہلے لفظ سال کو چھوڑ کر اس کی جگہ دال وغیرہ کوئی حرف رکھتے اور مصرع کو بامعنی بناتے تو ان کو خود فائدہ تھا۔ کیونکہ اس طرح تیرہویں صدی کو چودھویں صدی بنانے میں از خود کچھ نہ کچھ مدد مل جاتی۔ مگر مرزا قادیانی کے پنجابی مذاق نے تو حرف را کے اسم کو بھی رے ہی لکھا۔
اس شعر کو اس کی موجودہ حالت میں خواہ یہ کسی نسخہ میں ہو دیکھ کر جس نتیجہ پر کوئی شخص پہنچ سکتا ہے۔ اس سے اشتباہ ہی رہے گا کہ دراصل سال کون سا ہے۔ عقل و فکر یہ کہتے ہیں کہ بوالعجب کاروبار سے اشارہ فتنہ آخرالزمان کی طرف ہے اور چونکہ ظہور مہدی پیش گوئی کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس لئے یہ حوادث و واقعات تھوڑا عرصہ قبل از ظہور امام وقوع پذیر ہوں گے۔ ان حروف سے ٢٧٤ تا ٢٧٧ کے عدد نکال کر اس قصیدہ کی تاریخ تصنیف کے بعد اتنے عرصوں کے واقعات پر اس پیش گوئی کو محمول کرنا محض عبث ہے۔ جب پیش گوئی کرنے والے کا مقصد اقصیٰ ظہور مہدی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بے ربط اندھا دھند اسلام پر تاتاری حملہ وغیرہ کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔ فکر سلیم تسلیم کرتی ہے کہ بوالعجب کارو بار ضرور وہی واقعات ہیں جو ظہور امام سے تھوڑا عرصہ قبل ظاہر ہونا شروع ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی مہدی تھے تو کیا ان کے ظہور یعنی ان کے لفظوں میں ان کے دعویٰ کی تاریخ سے قبل۔ مگر ساتھ ہی متصل یہ حوادث و واقعات جو شاہ صاحب نے بطور پیش گوئی بتائے ہیں۔ واقع ہوئے۔ جن اشعار میں ان واقعات کو عیاں طور پر لکھا گیا ہے۔ ہم وہ بجنسہ درج کرتے ہیں۔ عبارت اشعار کی بالکل سلیس اور سادی ہے۔ کوئی لمبے چوڑے استعارات و تلمیحات نہیں کہ سمجھنے میں دقت ہو۔ ناظرین خود اندازہ لگائیں کہ اس بنا پر
٢٠
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں کس حد تک سچا یا جھوٹا جانچنے کی نسبت یہ ہے کہ اگر منجانب اللہ سچا سمجھنا چاہئے۔ پس اگر ہونے لکھے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بھی نمودار ہوئے ہیں تو مرزا قادیانی ہوئے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ باطل وہ یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کی وفات گوئی کا یہ حصہ بالکل پورا اور سچا ہمارے مرزائی بھائی خود اس بات پر جلوہ گر ہوگا۔ جس کی اس قصیدہ میں والے ہیں۔ وہ حسب ذیل اشعار میں
ظلمت ظلم ظالمانہ
قصہ بس عجیب مے
جنگ و آشوب و فتنہ
غارت و قتل و لشکر
بندہ را خواجہ وش ہمی
سکہ زنند بررخ
دوستان عزیز ہر
ہر یک از حاملان ہم
نصب و عزل یلچی
ترک و تاجیک رابی
حال ہندو خراب
بقعہ خیر ١؎ سخت گفتہ
اندکے امن اگر بود
١؎ مراد مکہ مکرمہ۔
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں کس حد تک حق بجانب تھے۔ مرزا قادیانی کا اپنا اصول کسی پیش گوئی کا سچا یا جھوٹا جانچنے کی نسبت یہ ہے کہ اگر کسی پیش گوئی کا ایک حصہ سچا ثابت ہو جائے تو اس کو ساری کو منجانب اللہ سچا سمجھنا چاہئے۔ پس اگر وہ واقعات جو شاہ نعمت اللہ ولی نے ظہور مہدی سے قبل وقوع ہونے لکھے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ سے قبل بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان کی موت کے دن تک بھی نمودار ہوئے ہیں تو مرزا قادیانی سچے ہو سکتے ہیں۔ مگر اگر یہ واقعات اس زمانہ میں ظاہر نہیں ہوئے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ باطل تھا۔ ساتھ اس کے دوسری بات جو اس سے نتیجتاً اخذ ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کی وفات کے بعد یہ سب واقعات دنیا کو پیش آچکے ہیں اور اس پیش گوئی کا یہ حصہ بالکل پورا اور سچا ثابت ہوا ہے تو کیوں نہ مرزا قادیانی کے اصول کے مطابق ہمارے مرزائی بھائی خود اس بات پر ایمان لے آئیں کہ اب ان واقعات کے بعد وہ حقیقی مہدی جلوہ گر ہوگا۔ جس کی اس قصیدہ میں پیش گوئی کی گئی ہے۔ جو واقعات ظہور امام برحق سے قبل ہونے والے ہیں۔ وہ حسب ذیل اشعار میں اپنا پتہ آپ دے رہے ہیں۔
ظلمت ظلم ظالمان دیار بیحد و بے شمارے بینم
قصہ بس عجیب مے شنوم غصہ در دیارے بینم
جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد از یمین و یسارے بینم
غارت و قتل و لشکر بسیار درمیان و کنارے بینم
بندہ را خواجہ وش ہمی یابم خواجہ را بندہ دارے بینم
سکہ نو زنند بر رخ زر درہمش کم عیارے بینم
دوستان عزیز ہر قومے گشتہ غمخوار و خوارے بینم
ہر یک از حاکمان ہفت اقلیم دیگرے را دوچارے بینم
نصب و عزل بخشی و عمال ہر یکے را دوبارہ بینم
ترک و تاجیک را بہم دیگر خصمی و گیر و دارے بینم
حال ہندو خراب مے یابم جور ترک و تارے بینم
بقعہ خیر ١؎ سخت گشتہ خراب جائے جمع شرارے بینم
اندکے امن اگر بود آں ہم در حد کوہسارے بینم
ا۔ مراد مکہ مکرمہ۔
٢١
کیا یہ سب واقعات مرزا قادیانی کے مدعی ہونے کے قبل رونما ہو چکے تھے۔ مرزا قادیانی نے ١٨٩٢ء میں اس قصیدہ کو اپنے حق میں شائع کیا۔ ایک شعر کی تشریح میں کہتے ہیں کہ دس سال ہو چکے ہیں۔ مجھ کو لوگوں کو دعوت دیتے۔ تو گویا اپنا دعویٰ انہوں نے ١٨٨٢ء کے قریب کیا تھا۔ کیا ١٨٨٢ء سے پہلے دنیا نے یہ حالات دیکھے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ کیا یہ واقعات ١٩٠٨ء تک بھی رونما ہوئے۔ جس سال میں مرزا قادیانی نے رحلت فرمائی اور اگر نہیں ہوئے تو مرزا قادیانی وہ مہدی کیوں تھے۔ جو یہ پیش گوئی کہتی ہے۔ اب دیکھئے اس پیش گوئی کا مہدی جب ظاہر ہو چکے گا تو اس کے ظہور کے بعد دنیا میں یہ کیفیتیں ہوں گی۔
ایں جہاں را چو مصرے نگرم عدل اورا حصارے بینم
عاصیاں از امام معصوم خجل و شرمسارے بینم
برکف دست ساقئے وحدت بادۂ خوشگوارے بینم
تیغ آہن دلان زنگ زدہ کند و بے اعتبارے بینم
زینت شرع و رونق اسلام ہر یکے را دو بارے بینم
گرگ با میش و شیر با آہو در چرا برقرارے بینم
گنج کسریٰ و نقد اسکندر ہمہ بروئے کارے بینم
ترک عیار مست مے نگرم خصم او در خمارے بینم
کیا مرزا قادیانی کے دعویٰ سے لے کر آج تک ان باتوں میں سے کوئی بات پوری ہوئی ۔ ابھی تو وہی باتیں تمام و کمال ظہور پذیر نہیں ہوتیں۔ جو ان اشعار سے اوپر کے درج کردہ اشعار میں بتائی گئی ہیں تو یہ کب ہوتیں۔
بلکہ من آشکار مے بینم
نہ صرف ظہور مہدی سے قبل کے واقعات جس طرح اس پیش گوئی میں درج ہیں ظاہر نہ ہوئے تھے۔ بلکہ خود اس ظہور کے متعلق جو باتیں اور شرائط ہمیں بتائی گئی ہیں۔ وہ بھی ابھی ہرگز پیدا نہیں ہوئیں۔ خود حضرت مہدی کی ذات کی نسبت ہم جو کچھ اس قصیدہ میں پڑھتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ان باتوں سے کوئی علاقہ نہ تھا۔ ان میں وہ شرائط نہ پائی جاتی تھیں اور یہی اخص بحث ہے جس کی طرف ہم ان کے مریدین کی توجہ مخصوص طور پر منعطف کرانا چاہتے
٢٢
ہیں ۔ یہی وہ خاص مقام ہے۔ اس قصیدہ میں جہاں مرزا قادیانی پر کئی قسم کے اعتراض وشکوک خود بخود وارد ہوتے ہیں۔
واقعات قبل مہدی کا ذکر کر کے شاہ نعمت اللہ فرماتے ہیں کہ ؎
غم مخور زانکہ من دریں تشویش خُرمن وصلِ یارے مے بینم
بعد امسال وچند سالِ دگر عالمے چوں نگارے مے بینم
آگے لکھتے ہیں کہ؎
اگر وہ نسخہ زمستانِ اوّل کب سے شروع ہوتا ہے۔ وہ پہلے شعر میں لفظ ’’امسال‘‘ بتا رہا ہے۔ امسال سے وہی سال مراد ہوسکتا ہے جس سال یہ حوادثِ قبل از ظہور اپنی انتہاء کو پہنچے ہوں گے ۔ مرزا قادیانی نے اس شعر کے پڑھنے اور اس کی تشریح کرنے میں اپنے تمام علم وقابلیت کو صرف کر دیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے ؎
شمس خوش بہارے مے بینم
جس سے مرزا قادیانی نے نقل لی۔ مطبوع تھا اور اس میں درج کرنے والے نے جس قلمی نسخے سے لیا۔ اس میں ’’زمستان پنجمیں‘‘ کو تجنیسِ خط کی وجہ سے اس نے ’’زمستان بے چمن‘‘ اور ’’ششمش‘‘ کو ’’شمس‘‘ پڑھا۔ یہ اس کا قصور تھا۔ مان لیا (بشرطیکہ اس کو ثابت کر دیا جاوے) مگر کیا مرزا قادیانی کا کوئی مرید جو بیشک فاضلِ جید بھی ہو یہ بتا سکتا ہے کہ ’’زمستان بے چمن‘‘ کس مرغ کا نام ہے اور ’’شمس خوش بہار‘‘ کس زبان کی ترکیب ہے۔ مرزا قادیانی کیا اس کو مہمل سمجھنے سے بھی قاصر تھے اور پھر ان کی شاعری وعروض دانی شمس خوش بہار مے بینم کو کس طرح کہتی تھی کہ یہ موزوں مصرع ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے۔ جناب مرزا قادیانی لفظ شمس (بسکون میم) کو یہ شعر پڑھتے وقت شمس (بہ تشدید میم) پڑھتے ہوں گے۔ یا شمس (بہ حرکت میم) مگر کمال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس مہمل وغلط شعر کی بھی اس طرح تفسیر کی ہے کہ چودھویں صدی کے مدعی پر اس پیش گوئی کا چسپاں ہونا بھی اسی شعر سے نکل آیا ہے اور ان کا مجدد وقت ہونا بھی اسی سے ثابت ہو گیا۔ سبحان اللہ ! ماشاء اللہ ۔ چشم بد دور ۔ آپ اس کی تشریح میں یوں رقمطراز ہیں کہ: ’’یعنی جب کہ زمستان بے چمن مراد یہ ہے کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گذر جائے گا۔ تو چودھویں
٢٣
صدی کے سر پر آفتاب بہار نکلے گا۔ یعنی مجدد وقت ظہور کرے گا۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
صدی کا موسم خزاں کیا ہوتا ہے؟ دیکھ لیجئے ! حضرات یہ ہے زمستان بے چمن سے مراد اور یہ ابلغ کنایہ تھا۔ شمس خوش بہار کے استعارہ میں۔
سخن شناس نہ دلبرا ...................
ہائے اللہ اگر یہی الفاظ ہیں جن سے آپ چودھویں صدی کے مجدد ثابت ہیں تو پھر اب اس ثبوت کے بعد کسی اور کو دعوؤں کے ثبوت لانے پر کیوں جرأت ہوگی۔
خیال فرمائیے کہ اصل شعر ہو:
ششمش خوش بہارے بینم
اس کو پڑھا جائے۔ -
شمس خوش بہارے بینم
اور اس کی تشریح وہ کی جائے جو مرزا قادیانی نے کی ہے اور پھر اس پر دعویٰ مجددیت کی بناء رکھی جائے۔ کوئی ہے ایسا جو شمہ بھر عقل دماغ میں رکھتا ہو اور اس دعویٰ اور ثبوت پر وہ کچھ نہ کہے جو اسے کہنا چاہئے۔ مگر اس سے بڑھ کر بلکہ سب سے بڑھ کر مزے کی بات آگے ہے۔ اس شعر سے اگلا وہ شعر ہے جو اس ساری پیش گوئی میں وہ شرط پیش کرتا ہے۔ جس سے کسی مدعی مجددیت کی دال نہیں گل سکتی اور نہ آج تک گلی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے بھی جس طرح اس بلا سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بھی انہیں کا حصہ تھا۔ یہ شعر ہے۔
بلکہ من آشکار مے بینم
اس قصیدہ میں دراصل تین خاص ہستیوں کے ظہور کا پتہ دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے نمبر پر نائب مہدی ہیں۔ پھر ان کا پسر ، پھر خود امام ۔ نائب مہدی یا خود امام کے متعلق ہفت باشد وزیر وسلطانم بھی کہا گیا ہے۔
٢٤
یہ اعتراض کہ نائب مہدی، مہدی سے پہلے کیسے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نائب تو بعد میں آتا ہے، عبث ہے۔ کیونکہ حضرت مہدی اس وقت پیدا ہو چکے ہوئے ہوں گے۔ ابتدائی زمانہ مہدویت کو سنبھالنے کے لئے اور دنیا کے ارتقاء کو اس کے انتہاء تک پہنچانے کے لئے حضرت مہدی سے ایسے حضرات ضرور پہلے ہی ہوں گے۔ یہ نائب اس اصل صاحب مقام کے لئے میدان تیار کریں گے اور نقیبوں کا کام دیں گے۔
یہ شعر تمام ان نسخوں میں موجود ہے۔ جو ہمارے علم میں ہیں۔ مولوی عبدالغنی صاحب کے نسخہ میں یہ ہے۔ ندوۃ العلماء والے نسخہ میں یہ ہے۔ پروفیسر براؤن کے نسخہ میں یہ ہے۔ تذکرہ مجمع الفصحاء میں بھی ہے۔ مگر مرزا قادیانی قبلہ کی نقل میں یہ معدوم ہے۔ کیا مرزا قادیانی کا کوئی مرید یہ بتائے گا کہ جس کاپی سے مرزا قادیانی نے قصیدہ نقل کیا ہے۔ اس میں بھی یہ موجود نہیں اور اگر وہاں ہے اور مرزا قادیانی نے دانستہ اسے درج نہیں کیا تو کیا مرزا قادیانی کی دیانت اس مقام پر معرض خطر میں نہیں؟
مگر معاملہ صاف ہے۔ اگر مرزا قادیانی اس شعر کو لکھ دیتے تو پھر انہیں ثابت کرنا پڑتا کہ مجھ سے پہلے فلاں شخص نائب مہدی تھا اور وہ ظاہر تھا کہ کوئی بھی نہ تھا۔ جس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ شعر اس نسخہ میں ضرور ہوگا۔ جس سے مرزا قادیانی نے نقل کی اور اسے دانستہ درج نہ کیا۔ وہ اس اگلے شعر میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے اس اگلے شعر کو درج کیا ہے اور چوں زمستان بے چمن کے بعد ساتھ ہی یہ شعر ہے۔
پسرش یاد گار مے بینم
چونکہ لفظ پسر اس میں آ گیا۔ مرزا قادیانی کو صاحب اولاد ہونے کی وجہ سے اس میں بڑی بھاری تائید و تقویت نظر آئی اور اس کو اپنی ایک پیش گوئی کے مطابق لکھا۔ مگر افسوس یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ ”او“ کون ہے۔ کیا وہی شمس جو اصل میں شمش ہے اور کیا ”او“ کی ضمیر شمس کی طرف جا بھی سکتی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس شعر سے اوپر کا شعر نائب مہدی آشکار شود وہاں لکھا ہوگا۔ مگر وہ چھوڑ دیا گیا۔ ورنہ مرزا قادیانی کو کیا پڑی تھی کہ ”او“ کی ضمیر کو خواہ مخواہ بیجان کی طرف راجع کرتے۔ اچھا ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی نائب مہدی والا اس کاپی میں نہ ہوگا۔ جس میں سے مرزا قادیانی نے نقل لی۔ مگر اب جب یہ باقی تمام نسخوں میں موجود ہے اور بغیر شمہ بھر اختلاف
٢٥
کے موجود ہے تو کیا مرزائی صاحبان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شعر اس قصیدہ کا نہیں اور اگر ہے تو وہ کون نائب مہدی تھا جس کے بعد مرزا قادیانی تشریف لائے اور اگر کوئی نہیں تھا تو کیا مرزا قادیانی اس پیش گوئی کے مطابق مہدی تھے؟
پسرش یاد گارے بینم
کے بعد یہ شعر ہے۔
سر بسر تاجدار مے بینم
اس ”او“ پر بھی مرزا قادیانی نے غصب کیا ہے اور اس کو بھی اپنے ”شمس“ کی طرف لے گئے ہیں۔ حالانکہ حق ”پسر“ کا تھا۔ کتنا ظلم ہے اور نا انصافی اور پھر کس سے؟ تاجداروں کو آخر اپنے ہی ”بندگان“ شمار کیا۔ یہ کسی اور کا حصہ کیوں ہوتا۔ اس کی تشریح بھی کچھ دلچسپ ہی کی ہے۔
لکھتے ہیں: ”یعنی یہ بھی مقدر ہے کہ بالآخر امراء اور ملوک اس کے معتقد خاص ہو جائیں گے اور اس کی نسبت ارادت پیدا کرنا بعضوں کے لئے دنیوی اقبال اور تاجداری کا موجب ہوگا۔ فرماتے ہیں یہ اس پیش گوئی کے مطابق ہے جو اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھ پر اس قدر فضل کروں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ایک جگہ فرمایا کہ تیرے دوستوں اور محبوں پر بھی احسان کیا جائے گا۔“
پھر کچھ شعر چھوڑ کر اس شعر کی تشریح کی ہے۔
دور آں شہسوار مے بینم
یہ بھی پرلطف ہے۔ اس میں بھی ”آں شہسوار“ دراصل اس پسر ہی کی طرف اشارہ ہے۔ مگر آپ نے اسے بھی اپنے حق میں لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”یعنی اس روز سے جو وہ امام ملہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا۔ چالیس برس تک زندگی کرے گا۔“
اب واضح رہے کہ یہ عاجز (آپ نے ہر جگہ اپنے آپ کو عاجز لکھا ہے) اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک
٢٦
یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ۔ (براہین احمدیہ ص ٢٨) ”واللہ علیٰ کل شئ قدیر“ اگرچہ اب تک حضرت نوح علیہ السلام کی طرح دعوت حق کے آثار نمایاں نہیں۔ بلکہ اپنے وقت پر تمام باتیں پوری ہوں گی ۔“
(نشان آسمانی ص١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٤٧)
کیا مزے کی باتیں ہیں۔ یہی کہ دنیا ہنسے گا کہ آپ ١٩٠٨ء میں دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ ناظرین خود اندازہ لگالیں کہ اس اپنی تشریح کے مطابق کہاں تک سچے تھے۔
ایک اور لطف کی بات ہے کہ آپ نے اکثر شاہ نعمت اللہ صاحب کی پیش گوئیوں کو اپنی پیشگوئیوں کی محک پر پرکھا ہے اور اس کتاب میں ہر جگہ لکھا ہے کہ یہ بعینہ اس عاجز کی اس پیش گوئی کے مطابق ہے۔ جو براہین احمدیہ کے صفحہ فلاں پر درج ہے۔ براہین احمدیہ قرآن سے کم کہاں رہ گئی ۔ مگر شاہ نعمت اللہ تو حضرت مرزا قادیانی سے کئی سو سال پہلے یہ باتیں کہہ گئے ہوئے تھے۔ کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شاہ صاحب کا یہ قصیدہ مرزا قادیانی کے قبضہ میں مدت سے تھا اور پھر اس سے دیکھ کر آپ اسی کے مطابق پیش گوئیاں کرتے رہے۔ (یہ فرضی باتیں ہیں۔ بطریق استدلال لکھ رہے ہیں۔ ورنہ حقیقتاً ان پیش گوئیوں کو ان کی پیش گوئیوں سے کیا نسبت) پھر براہین احمدیہ میں چھاپ کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو یہ ہماری اس پیش گوئی کے مطابق ہے۔ جو ہم نے فلاں صفحہ پر درج فرما رکھی ہے۔
خیر یہ جملہ معترضہ تھا۔ تشریح کرتے وقت مضمون کو ربط دینے کے لئے ایک دو شعر کے بعد پھر مرزا قادیانی نے جس شعر کی تفسیر کی ہے وہ یہ ہے۔
باز با ذوالفقار مے بینم
اس کو مرزا قادیانی نے اپنے مذاق کے مطابق یوں لکھا ہے یا یوں پڑھا ہے۔ اگر لکھنے میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔
یا نہ با ذوالفقار مے بینم
مرزا قادیانی کی تشریح
یعنی اس کا روشن ہاتھ جو اتمام حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے۔ پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گزر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ
٢٧
کے ہاتھ میں تھی۔ مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے گا۔ اس طرح پر کہ اس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا۔ جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہو گا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے۔ جو پھر ظاہر ہو گئی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہو گا اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی۔ (آہ! مونث قلم کب یہ کام دے سکتی ہے ) یہ پیش گوئی بعینہ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے (جو بات ہم نے اوپر کہی وہ سچ نکلی۔ دیکھا شاہ نعمت اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی پیش گوئی کا کس طرح ترجمہ اڑایا ہے ) جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے۔ ( صحیح ہے شاہ صاحب کی پیش گوئی اس وقت تک کب چھپی تھی کہ متقدم ٹھہرتی ) اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اسی بناء پر بار ہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ (کہیں نہ کہ آپ غازی نہ تھے )
اس کے سوا کچھ اور کہنے کا کیا یارا کہ؎
یعنی بریں عقل و دانش الخ
ابھی مرزا قادیانی نے اوپر کہا تھا کہ میرا نام غازی رکھا گیا ہے۔ یہ لو شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئی بھی یہی کہنے لگی۔ اگلا شعر اب درج کرتے ہیں۔
ہمدم و یار غار مے بینم
(جو غازی آپ بن رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں ذال کے ساتھ ہو گا۔ یعنی غاذی، مختلف غذائیں ضرور استعمال کرتے ہوں گے۔ یہ دعویٰ سچا ہے )
آپ نے اس کی تشریح بالکل درست لکھی ہے اور ان کے اپنے حق میں کیسی سچی کہ: ”وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے غازی ہے۔ دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا۔ بس اگر اس کے معنی سمجھ نہ آسکیں تو قارئین اوپر کے شعر ید بیضا والے کے معنی پھر سے پڑھ لیں۔ بس یہاں تک آپ مہدی تھے۔ آگے جو بنتے ہیں خود اگلے شعر کی تشریح سے سمجھ لیجئے اور مسئلہ ارتقاء کا تقاضہ بھی یہی تھا ۔“
علم و حلمش شعارے بینم
٢٨
مرزا قادیانی کی تشریح
یعنی ظاہر و باطن اپنا نبی کی
اس کا شعار ہے۔ مراد یہ کہ باعث
ہو گئی ہے۔ یہ اس الہام کے مطابق
ثبوت ملے ) جو اس عاجز کے بارہ میں
حلل الانبیاء “ یعنی فرستادہ خدا
نظامی گنجوی نے رسول اللہ ﷺ کی شان
فرستادہ
صورت و سیرت کے معنی
وہی صورت اور وہی سیرت ہے۔ یہ
کی اتباع ۔
دینش
محکم
”یعنی اس کے آنے سے
دین متین محمدی محکم اور استوار ہو جائے
( ہمیں افسوس ہے کہ
بھائیوں پر چوٹ کی ہے ) اس الہام
پہلے براہین میں چھپ چکا ہے اور
تر محکم افتاد۔
اور نیز یہ الہام ” هو الـ
علی الدین كله “ .
یہ الہام معلوم ہوتا ہے
مرزا قادیانی کے اپنے الہام میں
وجہ تھی کہ خدا خود ایک وعدہ کرے اور
دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام
مسلمان کو ہو رہا ہے۔
مرزا قادیانی کی تشریح
یعنی ظاہر و باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شان نبوت اس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اس کا شعار ہے۔ مراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع کے گویا وہی صورت اور وہی سیرت اس کو حاصل ہو گئی ہے۔ یہ اس الہام کے مطابق ہے۔ (دیکھئے پھر نگاہ شاہ صاحب کو پیش گوئی کے سچا ہونے کا ثبوت ملنے ) جو اس عاجز کے بارہ میں براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ یعنی فرستادہ خدا در حلہ انبیاء قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ فرستادہ خدا کسے کہتے ہیں۔ نظامی گنجوی نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں یہ لکھا تھا کہ ؎
صورت و سیرت کے معنی ظاہر و باطن لکھنا بھی قابل غور ہے۔ بباعث اپنی اتباع کے وہی صورت اور وہی سیرت ہے۔ یہ اتباع کی صورت ہوئی یا مرزا قادیانی کی اور پھر اپنی اتباع یا ان کی اتباع۔
محکم و استوار مے بینم
”یعنی اس کے آنے سے شرع آرائش پکڑ جائے گی اور اسلام رونق پر آجائے گا اور دین متین محمدی محکم اور استوار ہو جائے گا۔“
(ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے یہاں دین متین محمدی لکھ کر ہمارے احمدی بھائیوں پر چوٹ کی ہے ) اس الہام کے مطابق ہے جو اس عاجز کی نسبت اس وقت سے دس برس پہلے براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے، خرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔
(براہین احمدیہ ص بقیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٢٢، خزائن ج ١ ص ٦٢٣)
اور نیز یہ الہام ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٦٥)
یہ الہام معلوم ہوتا ہے کہ محمدیوں کے حق میں اس لئے پورا نہیں ہوا کہ باوجود مرزا قادیانی کے اپنے الہام میں انہیں یاد کرنے کے وہ ان کے پھندے میں نہ آئے۔ ورنہ کوئی وجہ تھی کہ خدا خود ایک وعدہ کرے اور وہ پورا نہ ہو۔ مگر وقت آنے والا ہے۔ ہم سچے دل سے شہادت دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام کم از کم ضرور سچا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ یہ الہام روز و شب ہر ایک مسلمان کو ہو رہا ہے۔
٢٩
آگے پھر وہ شعر ہے۔ جس میں پھر مرزا قادیانی کی دیانت کو کسی کسوٹی کی ضرورت ہے۔ تمام نسخے جن کے ہم نے اوپر حوالے دیئے ہیں اس شعر کو جس میں امام موعود کا نام دیا گیا ہے۔ یوں لکھتے ہیں۔
نام آں نامدار مے بینم
میم، حامیم، دال سے تو محمد بنتا ہے۔ یہی نام احادیث نبوی میں ہے۔ یواطی اسمہ اسمی پیش گوئی کے مطابق سب نسخے بھی جیسا کہ کہا گیا ہے۔ اس پر متفق ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی سبز کتاب کہتی ہے۔
نام آں نامدار مے بینم
یوں لکھنے سے اگرچہ پہلے مصرع کا وزن نہیں رہتا۔ کیونکہ ابجد کے پہلے ہمزہ کا اسم الف بکسر و لام ہے نہ کہ بسکون لام جس کے معنی ایک ہزار کے ہو جائیں گے۔ الف متحرک ”لام“ پڑھ سکتے۔ مگر آگے حا کا لفظ مانع ہے اور یہ بھی سمجھ نہیں آ سکتا کہ شاہ نعمت اللہ جیسے شاعر نے اسے الف بسکون لام ہی باندھ دیا ہو۔ کیا ہم اس موقع پر بھی مرزائی صاحبان کو چیلنج دے سکتے ہیں کہ وہ ثابت کریں۔ یہ حقیقت میں ا ح م د ہی ہے اور مرزا قادیانی نے اس کے لکھنے میں صفائی برتی ہے اور اگر یہ نہیں م ح م د ہے تو پھر مرزا قادیانی اس پیش گوئی کے مہدی کیوں تھے۔
(سائیں گلاب شاہ کی پیش گوئی مرزا قادیانی کے متعلق جو اسی کتاب نشان آسمانی میں دوسری جگہ درج ہے۔ شاہ صاحب کی پیش گوئی سے زیادہ معتبر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی کا پورا نام غلام احمد سائیں گلاب شاہ کو بتایا گیا ہے۔ قارئین اس پیش گوئی کو بھی ضرور پڑھیں ۔ بڑی پر لطف ہے)
مگر اس م ح م د کے شعر سے قبل تمام نسخوں میں اور خود مرزا قادیانی کے نسخہ میں بھی وہ شعر تھے جو دراصل امام موعود کی طرف اشارہ کرتا ہے اور نائب مہدی اور پسرش یادگار ۔ والے شعروں کے بعد ہے۔ یعنی اس قاعدہ کے مطابق کہ پہلے نائب مہدی ہوگا۔ پھر اس کا لڑکا اور پھر خود امام منتظر جلوہ نما ہوں گے۔ اس لحاظ سے خواجہ عبد الغنی صاحب شملوی کے نسخہ کی ترتیب اس مقام پر زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ اس میں یہ اشعار یوں ہیں۔
٣٠
پادشاہ تمام دور او چوں شود بندگان جناب بعد ازو خود امام پادشاہ امام ہفتم میم وحامیم دال اس ترتیب سے الف باجود اس امر کے اپنی نقل میں ام اس کو بالکل نہیں رکھا۔ جن کی ا خوش بہا ر کو اپنی طرف منسوب ک دور پسرش کو اپنے اوپر لگا بندگان سر میں بھی ”او“ خود ”او“ کو کہاں لے جاتے اور ال کہ امام سے پہلے اس کے نائب کہ اس شعر کو تشریح میں چھوڑے نقل میں لکھا بھی تو کیوں اس نسخہ کے علم سے دریافت کیا کہ ج کے کیا معنی کس کے بعد۔ اگر د ”بعد از و خود امام خواہد بود“ کا مک برتی ہے۔ ”بعد از و“ کو ”بعد از ”آں“ ہی سہی۔ یہ معنی کہ کوئی کے ظہور کا مضمون تو وہی رہے گا
میں پھر مرزا قادیانی کی دیانت کو کسی کسوٹی کی ضرورت لکھ دیے ہیں اس شعر کو جس میں امام موعود کا نام دیا گیا
نامدار مے بینم
ہے۔ یہی نام احادیث نبوی میں ہے۔ یواطی اسمہ اسمی لکھا گیا ہے۔ اس پر متفق ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی سبز
نامدار مے بینم
کا وزن نہیں رہتا۔ کیونکہ ابجد کے پہلے ہمزہ کا اسم معنی ایک ہزار کے ہو جائیں گے۔ الف متحرک کہ یہ بھی سمجھ نہیں آسکتا کہ شاہ نعمت اللہ جیسے شاعر نے کسی موقع پر بھی مرزائی صاحبان کو چیلنج دے سکتے ہیں ہے اور مرزا قادیانی نے اس کے لکھنے میں صفائی برتی نہیں پیش گوئی کے مہدی کیوں تھے۔
مرزا قادیانی کے متعلق جو اسی کتاب نشان آسمانی میں گوئی سے زیادہ معتبر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں کو لوٹایا گیا ہے۔ قارئین اس پیش گوئی کو بھی ضرور
نسخوں میں اور خود مرزا قادیانی کے نسخہ میں بھی وہ لکھتا ہے اور نائب مہدی اور پسرش یاد گار۔ والے کیونکہ پہلے نائب مہدی ہوگا۔ پھر اس کا لڑکا اور پھر مجاہد مجدد یعنی صاحب مثنوی کے نسخہ کی ترتیب اس اشعار یوں ہیں۔
دور او چوں شود تمام بکام پسرش یاد گار مے بینم
بندگان جناب حضرت او سر بسر تاجدار مے بینم
بعد ازو خود امام خواہد بود کہ جہاں را مدار مے بینم
پادشاہ امام ہفت اقلیم شاہ عالی تبار مے بینم
میم و حامیم دال مے خوانم نام آں نامدار مے بینم
اس ترتیب سے ان حضرات کے ظہور کی ترتیب از خود نمایاں ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے باجود اس امر کے اپنی نقل میں اس ”بعد از خود امام خواہد بود“ کے شعر کو درج کیا ہے۔ ان اشعار میں اس کو بالکل نہیں رکھا۔ جن کی ایک جگہ تشریح کی ہے اور کرتے بھی کس طرح۔ سب سے پہلے شمس خوش بہار کو اپنی طرف منسوب کر چکے۔ پھر ؎
پسرش یاد گار مے بینم
کو اپنے اوپر لگایا۔ پھر:
سر بسر تاجدار مے بینم
میں بھی ”او“ خود ہی بنے۔ اب اگر لکھتے ہیں کہ: ”بعد از او خود امام خواہد بود۔“ تو اس ”او“ کو کہاں لے جاتے اور ان ”خود امام“ کے الفاظ کو کیا کرتے۔ کیونکہ ”خود“ کا لفظ کہہ رہا ہے کہ امام سے پہلے اس کے نائب وغیرہ ضرور ظہور پذیر ہوں گے۔ ہمیں نہایت رنج سے لکھنا پڑا ہے کہ اس شعر کو تشریح میں چھوڑنے سے مرزا قادیانی نے اپنی صفائی کا ثبوت نہیں دیا اور جب اس کو نقل میں لکھا بھی تو کیوں اس کے معنی پر غور نہ کیا۔ کیوں نہ اپنے ضمیر سے پوچھا۔ بلکہ اپنے معمولی نحو کے علم سے دریافت کیا کہ یہ ”او“ کی ضمیر اس شعر میں کس کی طرف جاتی ہے اور پھر ”بعد از او“ کے کیا معنی کس کے بعد۔ اگر وہ ایک ہی شخص ہے جس نے ظاہر ہونا ہے تو ان الفاظ کے کیا معنی۔ ”بعد ازو خود امام خواہد بود“ کا کیا مطلب۔ مگر ہم بھول گئے۔ مرزا قادیانی نے تھوڑی احتیاط ضرور برتی ہے۔ ”بعد ازو“ کو ”بعد ازاں“ لکھا ہے۔ مگر ”خود“ کی طاقت کو نہیں دبا سکے۔ ”او“ کو چھوڑو ”آں“ ہی سہی۔ یہ معنی کہ کوئی شخص نہیں کوئی واقعہ ہوگا تو پھر بھی ”بعد ازاں خود امام خواہد بود“ امام کے ظہور کا مضمون تو وہی رہے گا کہ وہ اوپر کے بیان کردہ لوگوں اور واقعات کے بعد آئے گا۔
٣١
”م ح م“ کا شعر جو مرزا قادیانی کے نسخہ ”ا ح م د“ بن گیا ہوا ہے۔ اس شعر کے بعد ہے اگلا شعر جو تشریح میں درج کیا ہے۔ یہ شعر ہے۔
خلق زو بختیار مے بینم
تشریح لکھتے ہیں۔ ”یعنی اس کے آنے سے اسلام کے دن پھریں گے اور دین کو ترقی ہوگی اور دنیا کو بھی۔“
ہم اتنی تشریح نقل کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ کیونکہ آگے جو کچھ لکھا ہے وہ پھر اس کی تشریح ہے۔ اسلام کے دین و دنیا کو مرزا قادیانی نے جو ترقیاں دی ہیں۔ وہ پوشیدہ نہیں۔ اس تشریح میں آگے چل کر لکھتے ہیں: ”اور یہ جو اشارہ کیا کہ اس کے آنے سے اسلام کی دینی و دنیوی حالت صلاحیت پر آ جائے گی۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ اسلام کے لئے رحمت ہو کر آتا ہے اور اسی کے ساتھ جلد سے یا دیر سے رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے۔“ یہ یا دیر سے ملاحظہ ہو اور اوپر لکھ کر رہے ہیں۔ اس کے آنے سے ہی یہ کچھ ہوتا ہے اور شعر بھی کہہ رہا ہے کہ ”دین و دنیا ازو شود معمور“ مگر معمولی بات ہے۔ مرزا قادیانی دانا تھے۔ انہیں اپنی اصل حقیقت معلوم تھی۔ یا دیر سے کہے بغیر باقی کی بات ساری کی ساری جاتی تھی۔ آگے فرماتے ہیں اور کیا یقین دلاتے ہیں۔ یہ لکھ کر ”مگر اوائل میں قحط اور وباء وغیرہ کی تنبیہیں بھی اترا کرتی ہیں اور اہل کشف انجام کا حال بیان کرتے ہیں نہ ابتدائی واقعات کا۔“ اللہ اللہ! پیش گوئی نے تمام دنیا کو زیر و زبر کر کے امام موعود کو ظاہر کیا اور ابھی یہ ابتدائی واقعات باقی ہی تھے کہ امام کے ظاہر ہو جانے پر بھی ہمیشہ ہوتے ہی رہتے۔
شاہ عالی تبار مے بینم
تشریح: یعنی مجھ کو کشفی نظر میں وہ ایک شاہ عالی خاندان ہفت اقلیم کا بادشاہ نظر آیا ہے۔ یہ مطابق اس پیش گوئی کے ہے۔ جو ازالہ اوہام میں درج ہو چکی ہے اور وہ یہ ہے۔
”حکم اللہ الرحمٰن الخلیفۃ اللہ السلطان سیوتی لہ الملک العظیم“
یہ اس عاجز کی نسبت الہام ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفۃ اللہ بادشاہ جس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا، ”(ما شاء اللہ) اور جس پر زمین کے خزانے کھولے جائیں گے۔ آگے لکھا ہے۔ ”اس بادشاہی سے مراد اس دنیا کی ظاہری بادشاہی نہیں بلکہ روحانی بادشاہی ہے۔“ کیا ہمارے مکرم
٣٢
مرزائی صاحبان یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ لکھتے وقت مرزا قادیانی کے دل میں کس کا ڈر تھا۔ خدا ملک عظیم عطا کر رہا ہے۔ خود تفسیر میں لکھ رہے ہیں۔ ”زمین کے خزانے کھولے جائیں گے“ اور بن گئی ”روحانی بادشاہی“ یا اللہ بچانا حکمرانوں کے خوف سے۔ آخری شعر اپنی تفسیر قصیدہ میں یہ لکھا ہے اور اس نے سب دعوؤں کو ثابت کر دیا ہے۔
ہر دورا شہسوارے بینم
تشریح: ”یعنی وہ مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی۔ دونوں صفات کا حامل ہوگا اور دونوں صفات سے اپنے تئیں ظاہر کرے گا۔ یہ آخری بیت عجیب تصریح پر مشتمل ہے۔ جس سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم پا کر عیسیٰ ہونے کا بھی دعویٰ کرے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ تیرہ سو برس سے آج تک کسی نے بجز اس عاجز کے نہیں کیا کہ عیسیٰ موعود میں ہوں ۔“ شعر کیا ہے اور اس تشریح میں کیا نکات اور کیا دلچسپیاں ہیں۔ قارئین خود اندازہ لگا لیں۔ ہم حضرات مرزائیہ سے صرف ”ہردو“ کے معنی پوچھیں گے اور بس۔
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
ترک اور جناب مرزا قادیانی
کتاب نشان آسمانی کے شروع میں جہاں مرزا قادیانی نے قصیدہ سارے کا سارا نقل کیا ہے۔ قصیدہ کو ختم کر کے کسی منشی محمد جعفر کے خلاف جس نے یہ کہا ہوگا کہ یہ قصیدہ حقیقتاً سید احمد صاحب بریلوی کے حق میں تھا۔ لکھتے ہوئے مرزا قادیانی مفصلہ ذیل شعر سے استدلال کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ اس قصیدہ کا صحیح مخاطب میں ہوں۔ نہ سید احمد بریلوی۔ اصلی شعر ہے
خصم او در خمارے بینم
مرزا قادیانی نے اس کو یوں لکھا ہے یا پڑھا ہے۔
خصم او در خمارے بینم
قصیدہ میں اس شعر کا جو محل ہے ہم اس پر بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ امام موعود کے ظہور کے بعد جب زمانہ کا یہ حال ہوگا کہ؎
٣٣
بادہ خوشگوارے بینم
ہر یکے را دوبارے بینم
اس وقت ترک جو مسلمان ہیں۔ ان کی اگر یہ کیفیت ہو کہ؎
خصم او در خمارے بینم
تو بالکل بجا اور درست ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے ترکوں کو مست کی بجائے سست بنا کر اس امر سے حجت پکڑی ہے کہ چونکہ ترک اس وقت کمزور سے نظر آرہے ہیں اور پیش گوئی یہ کہہ رہی ہے کہ ظہور مہدی کے وقت وہ سست ہوں گے۔ اس لئے میں وہ مہدی ہوں جو یہ پیش گوئی کہتی ہے۔ کیا مرزا قادیانی یہ اندازہ نہیں لگا سکتے تھے اور انہیں یہ لکھتے وقت کچھ خیال نہ آیا کہ جب ساری دنیا کا ظہور مہدی کے بعد یہ حال ہونا چاہئے کہ؎
عدل اورا حصارے بینم
تو پھر ترک غریبوں نے کیا گناہ کیا ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں بھی سست ہی رہتے۔ بلکہ ایسے زمانہ میں آکر سست ہو جاتے۔ کیا محض اس لئے کہ ان کو مرزا قادیانی قبلہ کی ہستی کا علم نہیں ہوا تھا اور خاص کر اس لئے کہ وہ غریب مسلمان کہلاتے ہیں۔ اگر مہدی کی یہی برکت ہے کہ اسلامی سلطنتیں اس کے عہد میں کمزور و سست ہو جائیں تو ہم بغیر مہدی کے ہی اچھے ہیں۔ پھر دوسری بات یہ اور مرزا قادیانی کے بالغ نظر ہونے کی دلیل کہ جب ترک بھی سست ہو چکا تو پھر دوسرے مصرع میں ’’خصم او در خمارے بینم‘‘ کے کیا معنی ہو سکتے تھے۔ مرزا قادیانی کی تشریح خمار میں لکھتے ہیں کہ فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ جائے گا۔ کاش کوئی ہمارا قابل مرزائی بھائی اس وقت مرزا قادیانی سے خمار کے معنی بھی پوچھنے کی جرأت کرتا۔ تمام نسخوں میں حتیٰ کہ مجمع الفصحاء میں یہ شعر یوں ہے؎
خصم او در خمار مے بینم
خمار اس کیفیت کو کہتے مقابل ہو بھی لفظ مست ہی سکتا تھا عیاں سی ادبی رمز اپنے آپ پا جات مرزا قادیانی کا اس شعر اسلامی سلطنت کی خیر خواہی دل میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر (محمد جعفر صاحب نے بھی اس خیا لیکن ایک عقلمند جو انصاف و تدبر مضامین کا ایک آخری مضمون ہے کا ظہور ہوا اور پھر اس کے بعد کوئی خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے نہیں کیا۔ یا اس کے دعویٰ کے بعد صحیح معنی یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کیوں وہ زینت شرع افتاد۔ کدھر جائے گا وہ صرف اس سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس و کرسکا کہ ترکوں کا صرف ایک ر فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ان سے دریافت کیا کہ یہ حد ضعیف ہونا چاہئے تھا۔ یا اس سے پہلے یہ ہیں خیالات مرفو اس وقت مرزا قادیانی دنیا میں م ترک خصم
خمار اس کیفیت کو کہتے ہیں جو نشہ شراب کے زائل ہونے کے بعد رہ جائے اور خمار کے مقابل ہو بھی لفظ مست ہی سکتا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کو اتنا ذوق سلیم کب عطاء ہوا کہ وہ از خود اس عبارت کی ادبی رمز اپنے آپ پا جاتے۔
مرزا قادیانی کا اس شعر سے اپنے حق میں استدلال کرنا بہت ہی مضحکہ انگیز ہے۔ اس اسلامی سلطنت کی خیر خواہی دل میں رکھتے ہوئے مرزا قادیانی یوں لکھتے ہیں: ”اس جگہ منشی محمد جعفر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی ترک عیار گویا اس عاجز کی تکذیب کی نسبت پیش گوئی ہے۔
(محمد جعفر صاحب نے بھی اس خیال سے کہا ہوگا کہ مرزا قادیانی کو ترک کہہ کر مست و عیار تو کہہ لو)
لیکن ایک عقلمند جو انصاف و تدبر سے کچھ حصہ رکھتا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدہ کے مضامین کا ایک آخری مضمون ہے اور قصیدہ کی ترتیب سے ببداہت معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مسیح موعود کا ظہور ہو اور پھر اس کے بعد کوئی اور واقعہ پیش آوے جو ترک عیار مست نظر آوے اور اس کا دشمن خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں بجز اس عاجز کے کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ تا اس کے دعویٰ کے بعد ایک ناقص الفہم اس عاجز کو ترک قرار دے۔ پس اس شعر کے صحیح معنی یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کے بعد ترکی سلطنت کچھ مست ہو جائے گی۔“
کیوں وہ زینت شرع و رونق اسلام کدھر جائے گی۔ پائے محمدیان بر منار بلند تر محکم افتاد۔ کدھر جائے گا وہ صرف اسی لئے ہے کہ براہین احمدیہ میں حوالہ کے لئے لکھا جائے اور سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس (مرزا قادیانی کا تمام مکاشفہ اور الہام تمام عمر صرف یہی دریافت کر سکا کہ ترکوں کا صرف ایک روس ہی دشمن ہے) فتح یابی کا کچھ اچھا پھل نہیں دیکھے گا اور آخر کار فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ جائے گا...... اور حدیثوں کے رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہو جائے گی (کیا مرزا قادیانی کے مریدین معتقدین نے کبھی ان سے دریافت کیا کہ یہ حدیثیں کہاں ہیں اور کیا ترکی سلطنت کو مہدی کے ظہور ہونے بعد ضعیف ہونا چاہئے تھا۔ یا اس سے پہلے ضعف کا زمانہ کاٹ چکنا چاہئے تھا)
یہ ہیں خیالات مرزا قادیانی کے اپنے ظہور کے وقت غریب ترکوں کے متعلق۔ کاش اس وقت مرزا قادیانی دنیا میں موجود ہوتے۔ ہم انہیں بتا دیتے کہ حضرت شعر کو صحیح یوں پڑھئے۔
خصم او در خمارے بینم
٣٥
اور اب اس کے معنی لیجئے اور اپنے پر چسپاں کیجئے۔ مگر مرزا قادیانی بچے تھے۔ ترک تو مست اصلی مہدی کے ظہور کے بعد ہوں گے۔ مرزا قادیانی کوئی مہدی تھوڑے تھے۔
یہاں تک لکھ کر ہم بطور نتیجہ کوئی بات نہیں کہتے۔ ارباب علم و دانش خود سمجھ لیں۔ ان کے مرید اپنے ضمیروں سے پوچھیں۔ رہ حق اب بھی دور نہیں۔ ایک توبہ پچھلی تمام لغزشوں کی تلافی ہے۔ شکست توبہ پر بھی توبہ ہو سکتی ہے۔
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
انتظار امام
امام موعود کا تمام اسلامی دنیا کو اس اضطراب سے انتظار ہے کہ راتوں کو نیندیں نہیں آتیں۔ وہ روز کب دیکھنا نصیب ہوگا کہ تمام دنیا اپنے کمال ترقی پر پہنچی ہوئی دکھاوے۔ بجز توحید کسی دوسرے معبود کا نام نہ ہو۔ ہر جگہ اور ہر زبان پر ”لا الہ الا اللہ “ کے نعرے ہوں۔ عدل و مساوات، حریت واخوت کے ترانوں سے گلشن عالم معمور ہو۔ انسان اپنے آپ کو کامل انسان پائیں۔ نسل و وطن کی تمیزیں دلوں سے محو ہو جائے۔ آہ ! یہ زمانہ کیسا آ گیا۔ یہ عروج ہمیں کب دیکھنا نصیب ہوگا۔ یا رب ہمیں یا تو اتنی لمبی عمر دے کہ ہم اس رحمتہ اللعالمین نائب کا زمانہ دیکھیں۔ یا ہم پر رحم فرما اور اسے ابھی بھیج ۔ اگر یہ وقت اس کے ظہور کا نہیں تو اور کون سا ہوگا۔
چشم ہر کس بر رخ یارے ست یار من کجاست
دریغ عمر کہ در انتظار مے گذرد
خدائے داند و من تاچہ زارے گذرد
چرا نہ نالم از اندوہ در فراق غمش
کہ بے وصال مرا روزگارے گذرد
بیا بیا کہ نسیم بہارے گذرد
بیا کہ گل زرخت شرمسارے گذرد
بیا کہ فصل بہار است و موسم شادی
مدار منتظرم روز گارے گذرد
٣٦
اے سوار اے فروز رونق در سواد شورش نغمہ خیزو جام باز در جنگجویاں نوع انساں کاروان دشمنت از چوں سجدہ از از پس
قصیدہ کی مختلف نقلیں
پروفیسر براؤن
حالت روزگارے بینم
حال امسال صورت دگر است
نہ چو پیرار و پارے بینم
از نجوم ایں سخن نمے گویم
بلکہ از کردگارے بینم
اے فروغ دیدہ امکاں بیا
رونق ہنگامہ ایجاد شو
در سواد دیدہ ہا آباد شو
شورش اقوام را خاموش کن
نغمہ خود را بہشت گوش کن
خیز و قانون اخوت ساز دہ
جام صہبائے محبت باز دہ
باز در عالم بیار ایام صلح
جنگجویان را بدہ پیغام صلح
نوع انسان مزرع تو حاصلی
کاروان زندگی را منزلی
ریخت از جور خزاں برگ شجر
چوں بہاراں بر ریاض ما گزر
سجدہ ہائے طفل و برنا و پیر
از جبیں شرمسار ما بگیر
از وجود تو سرافرازیم ما
پس بآلام جہاں سازیم ما
قصیدہ کی مختلف نقلیں
خواجہ عبدالغنی مرزا قادیانی پروفیسر براؤن قدرت کردگارے بینم قدر کردگارے بینم قدرت کرد گارے بینم حالت روزگارے بینم حالت روزگارے بینم حالت روزگارے بینم حکم امسال صورت دگر است از بخوم ایں سخن نمے گویم حال امسال صورت دگر است نہ چو پیرار و پارے بینم بلکہ از کرد گارے بینم نہ چو پیرار و پارے بینم از بخوم ایں سخن نمے گویم در خراسان و مصر و شام و عراق از بخوم ایں سخن نمے گویم بلکہ از کرد گارے بینم فتنہ و کارزارے بینم بلکہ از کردگارے بینم
٣٧
بوالعجب کاروبار مے بینم گر یکے در ہزارے بینم بوالعجب کاروبار مے بینم ماندہ در رہگزارے بینم
در خراسان و مصر و شام و عراق قصہ بس غریب مے شنوم در خراسان و روم و شام و عراق مکر و تزویر وحیلہ بسیار
فتنہ و کار زار مے بینم غصہ در دیارے بینم فتنہ کار زار مے بینم از صغار و کبار مے بینم
ظلمت ظلم ظالمان دیار غارت و قتل لشکر بسیار گرد آئینہ ہمی دو جہاں حال ہندو خراب مے یابم
بیحد و بے شمار مے بینم از یمین و یسارے بینم گرد و زنگ و غبار مے بینم جور ترک وتتارے بینم
قصہ بس عجیب مے شنوم بس فرومایگان بے حاصل ہمہ را حال مے شود دیگر بقعہ خیر سخت گشتہ خراب
غصہ در دیارے بینم عالم وخوند کارے بینم گر یکے در ہزارے بینم جائے جمع شرارے بینم
جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد مذہب دیں ضعیف مے یابم ظلمت و ظلم ظالمان دیار بعضے اشجار بوستان جہاں
از یمین و یسارے بینم مبدع افتخارے بینم بیحد و بے شمار مے بینم بے بہارو ثمار مے بینم
غارت و قتل و لشکر بسیار دوستان عزیز ہر قومے قصہ بس غریب مے شنوم اند کے امن اگر بود آں ہم
درمیان و کنارے بینم گشتہ غمخوار خوار مے بینم غصہ در دیارے بینم در حد کوہسارے بینم
بندہ را خواجہ وش مے بینم منصب و عزل شحنگی عمال جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد ہمدمی وقناعت دکنجے
خواجہ را بندہ دار مے بینم ہر یکے را دوبارے بینم درمیان و کنارے بینم حالیا اختیار مے بینم
سکہ نوزند بر رخ زر ترک و تاجیک را بہم دیگر بندہ را خواجہ وش ہمی یابم گرچہ مے بینم ایں ہمہ غمہا
در ہمش کم عیارے بینم خصمی و گیر دارے بینم خواجہ را بندہ دار مے بینم شادیے غمگسارے بینم
دوستان عزیز ہر قومے مکر و تزویر وحیلہ در ہر جا غارت و قتل لشکر بسیار غم مخور از انکہ من دریں تشویش
گشتہ غمخوار و خوار مے بینم از صغار و کبار مے بینم از یمین و یسارے بینم خرمن وصل یارے بینم
ہر یک از حاکمان ہفت اقلیم بقعہ خیر سخت گشتہ خراب بندہ را خواجہ وش ہمی یابم بعد امسال و چند سال دگر
دیگرے را دو چار مے بینم جائے جمع شرارے بینم خواجہ را بندہ دار مے بینم عالمے چوں نگارے بینم
نصب و عزل شحنگی و عمال اند کے امن گر بود امروز بس فروماندگان بے حاصل ایں جہاں را چو مصر مے نگرم
ہر یکے راد و بار مے بینم در حد کوہسارے بینم عالم وخواندگارے بینم یوسفے را بکارے بینم
ماہ را رو سیاہ مے بینم گرچہ مے بینم ایں ہمہ غم نیست ہر کہ او پار یار بود امسال ہفت باشد وزیر وسلطانم
مہر او زنگارے بینم شادی غمگسارے بینم خاطرش زیر بارے بینم ہمہ را کام بارے بینم
ترک و تاجیک را ہمدیگر بعد امسال و چند سال دگر مذہب و دیں ضعیف مے یابم عاصیاں از امام معصوم
خصمی و گیر و دار مے بینم عالمے چوں نگارے بینم مبدع افتخارے بینم خجل و شرمسارے بینم
سکہ نوزند بر رخ زر بر کف دست ساقئے وحدت
در ہمش کم عیارے بینم جام مے خوشگوارے بینم
٣٨
بادشاہ مشام دانائے
دوستان وعزیز ہر قومے
ماندہ در رہگزارے بینم
سرور باوقارے بینم
گشتہ غمخوار وخوارے بینم
مکر و تزویر وحیلہ بسیار
حکم امثال صورتے دگر است
ہر یک از حاکمانِ ہفت اقلیم
از صغار وکبارے بینم
نہ چوبیدار وارے بینم
دیگرے راد و چارے بینم
حال ہندو خراب مے یابم
غین یے میم لام چوں گذشت از سال
نصب وعزلِ لکھی دھمال
جور ترک وتتارے بینم
بوالعجب کاروبار مے بینم
از صغار وکبارے بینم
بقعہ خیر سخت گشتہ خراب
گرد آئینہ ضمیر جہاں
ماہ را روسیاہ مے یابم
جائے جمع شرارے بینم
گرد وزنگ وغبارے بینم
مہر را دلفگارے بینم
بعضے اشجار بوستان جہاں
ظلمت ظلم ظالمان دیار
ترک وتاجیک را بہم دیگر
بے بہارو ثمارے بینم
بے حد وبے شمارے بینم
خصمے گیر دارے بینم
اند کے امن اگر بود آں ہم
جنگ وآشوب وفتنہ وبیداد
تاجر از دست دزدو بے ہمراہ
درحد کوہسارے بینم
درمیان وکنارے بینم
ماندہ در رہگزارے بینم
ہمدی وقناعت و کنجے
بندہ را خواجہ وش ہمی یابم
مکر و تزویر وحیلہ در ہر جا
حالیا اختیارے بینم
خواجہ را بندہ وارے بینم
از صغار وکبارے بینم
گرچہ مے بینم ایں ہمہ غمہا
ہر کہ ادبار یار بود امسال
حال ہندو خراب مے یابم
شادیئے غمگسارے بینم
خاطرش زیر بارے بینم
جور ترک وتتارے بینم
غم مخور از انکہ من دریں تشویش
سکہ نوزنند بر رخ زر
بقعہ خیر سخت گشتہ خراب
خرم وصل یارے بینم
درمش کم عیارے بینم
جائے جمع شرارے بینم
بعد امسال وچند سال دگر
ہر یک از حاکمانِ ہفت اقلیم
بعضے اشجار بوستان جہاں
عالمی چوں نگارے بینم
دیگرے راد و چارے بینم
بے بہارو ثمارے بینم
ایں جہاں را چو مصر مے نگرم
ماہ را روسیاہ مے نگرم
اند کے امن گر بود امروز
ہفت باشد وزیر وسلطانم
تاجر از دور دست بے ہمراہ
ہمدیئے قناعت و کنجے
ہمہ را کام بارے بینم
ماندہ در رہگزارے بینم
حالیا اختیارے بینم
عاصیاں از امام معصوم
حال ہندو خراب مے یابم
گرچہ مے بینم ایں ہمہ غمہا
خجل و شرمسارے بینم
جور ترکِ تتارے بینم
شادیئے غمگسارے بینم
بر کف دست ساقئے وحدت
بعض اشجار بوستانِ جہاں
غم مخور از انکہ من دریں تشویش
٣٩
غازی دوستدار دشمن کش ہم دلی وقناعت و کنجے پادشاہے تمام دانائے
ہمدم دیار یارے بینم حالیا اختیارے بینم شاہ عالی تبارے بینم
تیغ آہن دلان زنگ زدہ غم مخور زانکہ من دریں تشویش بعد ازو خود امام خواہد بود
کند و بے اعتبارے بینم خرمی وصل یارے بینم کہ جہاں را مدارے بینم
زینت شرع و رونق اسلام چوں زمستان بہ چمن بگذشت میم حامیم دال مے خوانم
ہر یکے را دوبارے بینم ششمش خوش بہارے بینم نام او نامدارے بینم
گرگ بامیش و شیر با آہو نائب مہدی آشکار شود صورت و سیرتش چو پیغمبر
در چرا برقرارے بینم بلکہ من آشکارے بینم علم و حلمش شعارے بینم
گنج کسریٰ و نقد اسکندر دور او چوں شود تمام بکام ید بیضا کہ باد پائندہ
ہمہ بر روئے کارے بینم پسرش یادگارے بینم باز با ذوالفقارے بینم
ترک عیار مست مے نگرم بندگان جناب حضرت او مہدی وقتِ عیسیٰ دوراں
خصم او در خمارے بینم سر بسر تاجدارے بینم ہر دو را شہسوارے بینم
نعمت اللہ نشستہ در کنجے بادشاہ تمام ہفت اقلیم گلشن شرع را ہمی بویم
از ہمہ برکنارے بینم شاہ عالی تبارے بینم گل دیں را بہارے بینم
چوں زمستاں پنجمیں بگذشت صورت و سیرتش چو پیغمبر
ششمش خوش بہارے بینم علم و حلمش شعارے بینم
نائب مہدی آشکار شود ید بیضا کہ با او تابندہ
بلکہ من آشکارے بینم باز با ذوالفقارے بینم
پادشاہے تمام دانائے گلشن شرع را ہمی بویم
سرور باوقارے بینم گل دیں را بہارے بینم
بندگان جناب حضرت او تا چہل سال اے برادر من
سربسر تاجدارے بینم دور آں شہسوارے بینم
تا چہل سال اے برادر من عاصیاں از امام معصوم
دور آں شہریارے بینم خجل و شرمسارے بینم
دور او چوں شود تمام بکام غازی دوستدار دشمن کش
ہمدم دیار غارے بینم
زینت شرع و رونق اسلام
٤٠
... جماعت دیکے بعد امسال چند سال دگر
... اختیارے بینم عالمے چوں نگارے بینم
... من دریں تشویش چوں زمستان پنجمین بگذشت
... یارے بینم ششمش خوش بہارے بینم
... تا بہ چمن گذشت نائب مہدی آشکار شود
... بہارے بینم بلکہ من آشکارے بینم
... شود تمام بکام بادشاہ تمام دانائے
... وارے بینم سرور باوقارے بینم
... حضرت او دور او چوں شود تمام بکام
... مہارے بینم پسرش یاد گارے بینم
... ہفت اقلیم بندگان جناب حضرت او
... یارے بینم سر بر تاجدارے بینم
... چوں پیغمبر بعد ازو خود امام خواہد بود
... غارے بینم کہ جہاں را مدارے بینم
... با او تا بندہ بادشاہ و امام ہفت اقلیم
... خلیلے بینم شاہ عالی تبارے بینم
... غابے بویم میم وحے میم دال مے خوانیم
... دارے بینم نام آں نامدارے بینم
... بہ مادر من صورت وسیرتش چو پیغمبر
... ہاے بینم علم حلمش شعارے بینم
... معصوم دین ودنیا ازو شود معمور
... ے بینم خلق ازو بختیارے بینم
... دشمن کش ید بیضا کہ باد پائندہ
... ے بینم باز با ذوالفقارے بینم
... اسلام مہدیِ وقت عیسٰیِ دوراں
بادشاہے تمام دانائے گنج کسریٰ ونقد اسکندر گلشن شرع را بے بویم
شاہ عالی تبارے بینم ہمہ بر روئے کارے بینم گلبن دیں بہارے بینم
بعد ازو خود امام خواہد بود بعد ازاں خود امام خواہد بود ایں جہاں راچو مصر مے نگرم
کہ جہاں رامدارے بینم پس جہاں رامدارے بینم عدل اور احصارے بینم
میم حامیم دال مے خوانیم ا ح م د دال مے خوانیم تا چہل سال اے برادر من
نام او نامدارے بینم نام آں نامدارے بینم دور آں شہریارے بینم
صورت وسیرتش چو پیغمبر دین ودنیا از وشود معمور ہفت باشد وزیر سلطانم
علم وحلمش شعارے بینم خلق زوبختیارے بینم ہمہ راکامگارے بینم
ید بیضا کہ باد پائندہ مہدیِ وقت وعیسٰیِ دوراں عاصیاں از امام معصوم
باز با ذوالفقارے بینم ہر دورا شہوارے بینم خجل وشرمسارے بینم
مہدیِ وقت وعیسٰیِ دوراں ایں جہاں راچو مصر مے نگرم برکف دست ساختے وحدت
ہر دورا شہوارے بینم عدل اور احصارے بینم بادۂ خوشگوارے بینم
گلشن شرع را بے بویم ہفت باشد وزیر سلطانم غازیِ دوستدار دشمن کش
گل دیں را بہارے بینم ہمہ راکامگارے بینم ہمدمِ یار غارے بینم
برکف دست ساختے وحدت تیغ آہن دلان زنگ زدہ
بادۂ خوشگوارے بینم کندو بے اعتبار ے بینم
تیغ آہن دلان زنگ زدہ زینت شرع ورونقِ اسلام
کندو بے اعتبارے بینم محکم واستوارے بینم محکم واستوارے بینم
گرگ بامیش شیر با آہو گرگ بامیش شیر با آہو گرگ بامیش شیر با آہو
در چرا باقرارے بینم در چرا برقرارے بینم در چرا برقرارے بینم
ترک عیار مست مے نگرم گنج کسریٰ ونقد اسکندر گنج کسریٰ ونقد اسکندر
خصم او درخمارے بینم ہمہ بر روئے کارے بینم ہمہ بر روئے کارے بینم
نعمت اللہ نشست برکنجے ترک عیار مست مے نگرم ترک عیار مست مے نگرم
از ہمہ برکنارے بینم خصم او درخمارے بینم خصم او درخمارے بینم
نعمت اللہ نشستہ برکنجے او ہمہ برکنارے بینم
٤١
سید نعمت اللہ کرمانی
پروفیسر براؤن نے اپنی کتاب ”فارسی ادب در عہد تاتاریاں“ میں ان کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔ جن میں سے انہوں نے شاہ نعمت اللہ کے حالات و واقعات زندگی مختصراً اخذ کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شاہ نعمت اللہ کی سب سے معتبر سوانح زندگی ریو صاحب کی کتاب موسوم بہ پرشین کیٹلاگ (فہرست اسماء ادبا فارس) میں دیئے گئے ہیں۔ جہاں ان حالات پر جو عام کتب سیر میں پائے جاتے ہیں۔ ایک اس زمانہ کے نادر کتبہ سے جو اس وقت برٹش میوزیم میں موجود ہے۔ تفصیلات لے کر اضافہ کی گئی ہیں۔ نیز تاریخ یزد و مشاہیر یزد موسوم بہ جامع مفیدی سے بھی مزید حالات لئے گئے ہیں۔
شاہ صاحب کے مجمل حالات زندگی یوں ہیں۔ ان کا پورا نام امیر نور الدین نعمت اللہ تھا۔ باپ کا نام میر عبداللہ تھا۔ نسب میں اپنے آپ کو شیعوں کے پانچویں امام محمد باقر جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب کے پوتے تھے کی اولاد کہتے تھے۔ آپ حلب میں ٧٣٠ھ مطابق ١٣٢٩ء یا ١٣٣٠ء پیدا ہوئے۔ مگر شباب کا اکثر حصہ عراق میں بسر کیا۔ چوبیس برس کی عمر میں مکہ معظمہ کی زیارت کی۔ جہاں سات سال مقیم رہے اور شیخ عبداللہ یافعی کے اکابر مسترشدین میں شمار ہونے لگے۔ شیخ موصوف اپنے زمانہ کے ایک مشہور صوفی اور مورخ تھے۔ جنہوں نے ٧٦٨ھ مطابق ١٣٦٦،٦٧ء میں انتقال فرمایا۔ شاہ نعمت اللہ کی آخری زندگی سمرقند۔ ہرات اور یزد میں بسر ہوئی۔ تا آنکہ بالکل اخیر پر آپ ماہان متصل کرمان تشریف لے گئے اور زندگی کے باقی پچیس سال وہیں گزارے۔ آپ نے اسی مقام پر سو سال سے زائد عمر پائی۔ ٢٢؍ رجب ٨٣٤ھ مطابق ٥؍ اپریل ١٤٣١ء کو انتقال کیا۔ مؤرخ عبدالرزاق سمرقندی نے ٨٤٥ھ مطابق ١٤٤١،٤٢ء میں آپ کی قبر کی زیارت کی۔
شاہ نعمت اللہ درویشوں کے بادشاہ تھے۔ اسی لئے انہیں لقب شاہ سے پکارا جاتا تھا۔ آپ کے بادشاہوں سے دوستانہ تعلقات تھے۔ شاہ رخ آپ کی خاص عزت کرتا تھا۔ احمد شاہ بہمنی شاہ دکن نے اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھا۔ جب اس کی تاکیدی التجاؤں پر شاہ صاحب کا ایک پوتا آخر اس کے دربار میں آ گیا۔ دو اور پوتوں نے بھی باپ کے ساتھ ادھر کا رخ کیا۔ شاہ نعمت اللہ کے اخلاف میں سے جو ایران ہی میں رہے۔ کئی ایک نے صفویوں کے شاہی خاندان میں شادیاں کیں۔
٤٢
قول ریو صاحب، شاہ صاحبؒ نے ٥٠٠ سے زائد رسالے تصوف پر لکھے اور پیچھے چھوڑے۔ ان کے علاوہ ایک اشعار کا دیوان بھی ان کی سب سے بڑی تصنیف ہے۔ دیوان کے متعلق پروفیسر براؤں لکھتے ہیں کہ میرے پاس اس کی طہران کی ١٢٧٦ھ مطابق ١٨٦٠ء کی چھپی ہوئی مکمل کاپی ہے۔ مگر اس کے اکثر انتخابات ان تمام کتب سیر اور بیاضوں میں جن میں شاہ صاحب کا حال لکھا ہے۔ مندرج ملتے ہیں۔ شاہ صاحب بحیثیت شاعر اتنے مشہور نہیں جتنے بحیثیت ولی اور صوفی۔
شعر میں آپ کا انداز مغربی کا سا ہے۔ (اس مقام پر پروفیسر موصوف نے آپ کے کلام پر کچھ تنقید لکھی۔ جس کا ذکر ہمارے مقصد سے باہر ہے) آپ کی اپنے خاص رنگ کی تمام نظمیں جو تعداد میں تھوڑی ہیں وہ ہیں۔ جو آپ نے الہامی انداز میں لکھی ہیں۔ ان کا ابھی تک لوگوں پر ایک خاص اثر ہے اور ان کے خاص سلسلہ معتقدین جس کے وہ خود بانی تھے کے علاوہ دوسرے ایرانی بھی ان سے استشہاد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پروفیسر لکھتے ہیں کہ جب میں کرمان میں تھا تو بابی فرقہ کے لوگ مجھے بتایا کرتے تھے کہ باب کے ظہور کی تاریخ ١٢٦٠ھ مطابق ١٨٤٤ء بطور پیش گوئی اسی مے پئم کے قصیدہ میں بتائی گئی ہے۔ جب میں نے ولی نعمت اللہ کے مقبرہ کی زیارت کی تو میں نے ایک درویش سے اس نظم کا سب سے قدیم اور نہایت معتبر قلمی نسخہ سے اس کی ایک نقل حاصل کی۔ میں نے دیکھا کہ اس میں جو تاریخ دی ہوئی ہے۔ وہ ١٢٦٠ کی بجائے ١٢٠٤ نکلتی ہے۔ یعنی (س رغ = ١٠٠٠ + ٢٠٠ + ٦٠) کی بجائے اس میں (د ر غ = ١٠٠٠ + ٢٠٠ + ٤) ہے اور رضا قلی خان کے تذکرہ مجمع الفصحاء میں جہاں یہ نظم درج کی گئی ہے۔ تاریخ (درغ = ١٠٠٠ + ٢٠٠ + ٤) بنتی ہے۔ مجمع الفصحا میں نظم کا عنوان یہ دیا گیا ہے۔ در اظہار بعضے از رموزات ومکاشفات برسبیل کنایات۔ پروفیسر موصوف یہ نظم ماہان میں ٩ اگست ١٨٨٨ء کو حاصل کی۔ اس میں ١٥٠ اشعار ہیں۔ مجمع الفصحا میں صرف ٢٤ ہیں اور ایک یا دو شعر نئے ہیں۔ یعنی پروفیسر صاحب کی کاپی میں وہ نہیں ہیں۔ بعض جگہ ترتیب اشعار بھی مختلف ہے اور کہیں کہیں الفاظ وعبارت میں تغیر وتبدل بھی ہے۔ پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ جس چھپے ہوئے دیوان کا ادھر ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ نظم بالکل مفقود ہے۔ ان کے عام اشعار پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کا کلام عام طور پر مبہم و پیچیدہ اقوال سے پر ہے۔ مثلاً عام طور پر آپ فتنہ آخرالزمان اور ظہور امام مہدی کے متعلق ہی پیش گوئیاں وغیرہ لکھتے ہیں۔ یہ بھی لکھا ہے کہ جب میں ١٨٨٨ء میں قبر کو دیکھنے ماہان گیا تو وہاں نعمت الہی سلسلہ کے درویشوں نے جو مزار پر موجود تھے۔ میری بہت خاطر تواضع کی۔
٤٣
شاہ نعمت اللہ کرمانی کے متعلق مرزا قادیانی کے محققانہ اور مؤرخانہ معلومات
آپ (نشان آسمانی ص٩، خزائن ج٤ ص٣٦٩) میں لکھتے ہیں: ”واضح ہو کہ نعمت اللہ ولی رہنے والے دہلی کے نواحی کے اور ہندوستان کے اولیائے کاملین میں سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ ٥٦٠ھ ان کے دیوان کے حوالہ سے بتایا گیا ہے۔“
کاش مرزا قادیانی بذریعہ کشف والہام ہی پتہ لے لیتے کہ شاہ صاحب پیدا حلب میں ٧٣٠ھ میں ہوئے تھے اور انتقال ٨٣٣ھ میں ماہان (ایران) میں کیا۔ اگر یہ اس رسالہ میں دیا ہوا جس سے مرزا قادیانی نے قصیدہ نقل کیا ہے کہ شاہ صاحب ہندوستان کے رہنے والے تھے تو خیر۔ ورنہ اگر یہ بھی مرزا قادیانی کی اپنی اختراع ہے تو یہ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی چونکہ خود ہندوستانی تھے۔ اس لئے اس ولی کا وطن بھی ہندوستان میں بتایا۔ تا کہ پیش گوئی کی نسبت خیال ہو کہ ضرور کسی ہندوستانی مہدی کے لئے ہے۔
مفصلہ ذیل شعر کی تشریح مرزا قادیانی نے معلوم ہوتا ہے اسی خیال کو مدنظر رکھ کر کی ہے۔
درمیان وکنارے بینم
تشریح: یعنی ہندوستان کے درمیان میں اور اس کے کناروں پر بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہوگا۔ (کاش جناب مرزا قادیانی زندہ ہوتے اور ہم انہیں بتاتے کہ جنگ ہوگی) اور ظلم ہوگا۔ کیا کوئی مرزائی حضرات بتا سکتے ہیں کہ اس شعر کی تشریح میں ہندوستان کا ذکر خیر کیوں آیا ہے۔
مرزا قادیانی کا اس قصیدہ کا ماخذ
فرماتے ہیں۔ (نشان آسمانی ص٩، خزائن ج٤ص٣٦٩، ٣٧٠) جس کتاب میں ان کی (شاہ نعمت اللہ کی) یہ پیش گوئی لکھی ہے۔ اس کے طبع کا سن بھی ٢٥ محرم الحرام ١٨٦٨ء ہے۔ اس حساب سے اکتالیس برس ان ابیات کے چھپنے پر بھی گزر گئے اور یہ ابیات رسالہ اربعین فی احوال مہدیین کے ساتھ شامل ہیں۔ جو مطبوعہ تاریخ مذکورہ بالا ہے۔ کیا حضرات مرزائیہ یہ رسالہ دکھا کر مسلمانوں کو ممنون احسان کریں گے۔ تاکہ مرزا قادیانی کی نقل اور اس اصل کا مقابلہ ہو سکے۔ گو باقی اعتراضات ویسے کے ویسے ہی رہیں گے۔
٤٤
٢٦
انی کے محققانہ اور مؤرخانہ معلومات ٤٠) میں لکھتے ہیں: ”واضح ہو کہ نعمت اللہ ولی اولیائے کاملین میں سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ
نا پوچھ لے لیتے کہ شاہ صاحب پیدا حلب میں (ایران) میں کیا۔ اگر یہ اس رسالہ میں دیا ہوا صاحب ہندوستان کے رہنے والے تھے تو خیر۔ ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی چونکہ خود ہندوستانی متا کہ پیش گوئی کی نسبت خیال ہو کہ ضرور کسی معلوم ہوتا ہے اسی خیال کو مدنظر رکھ کر کی ہے۔
ے ہفتم
پاور اس کے کناروں پر بڑے بڑے فتنے کو زندہ ہوتے اور ہم انہیں بتاتے کہ جنگ لکھا اس شعر کی تشریح میں ہندوستان کا ذکر خیر
اس ٣٦٩، ٣٧٠) جس کتاب میں ان کی ں بھی ٢٥ محرم الحرام ١٨٦٨ء ہے۔ اس ونگے اور یہ ابیات رسالہ اربعین فی احوال ہے۔ کیا حضرات مرزائیہ یہ رسالہ دکھا کر کی نقل اور اس اصل کا مقابلہ ہو سکے۔
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں
میں آخری نبی ہوں
قادیانیوں
کا
اصل حقیقت سے فرار
جناب عبدالقیوم پراچہ
بسم الله الرحمن الرحیم!
ایک پمفلٹ
نماز فجر کے بعد مسجد سے واپس آیا تو مکان کی ڈیوڑھی میں پڑے ہوئے ایک پمفلٹ پر نظر پڑی۔ پہلے تو بچوں پر غصہ آیا کہ یوں زمین پر ایک کتابچہ کیوں پھینک دیا۔ لیکن جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ مرزائی گروہ کی کارستانی ہے۔ وہ ایک کتابچہ بنام ’’احمدی مسلمان کس غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھیں‘‘ ڈیوڑھی میں پھینک گئے تھے۔ خیال کر لیا کہ میں ان نام نہاد ’’احمدیوں‘‘ کو بتاؤں گا کہ تمہیں کسی کے پیچھے نماز پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جب تمہاری نمازیں اور یہ ظاہری نمائشی تقویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے نمازیں اور تقویٰ ہی نہیں تو کسی کے آگے اور پیچھے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔
تمہارے دل جب مسلمانوں کی دشمنی میں پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں۔ جب تم حرم بیت اللہ اور حرم نبوی کے خلاف رات دن سازشیں کرنے میں مصروف ہو اور جب تم عالم اسلام کے بدترین دشمن، جن کو قرآن کی آیات میں مسلمانوں کا غلیظ ترین اور شدید ترین دشمن قرار دیا گیا ہے اور تم اے قادیانیو! ان کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کا مکروہ کاروبار کر رہے ہو۔
تمہارے اپنے یہودی آقاؤں کے خلاف تمہیں ایک لفظ بھی کہنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ تو اب تم ہم سے سوال کرتے ہو اور بڑے مقدس اور غیر جانب دار بن کر کہ کس کے پیچھے ہم ’’نیک ومقدس احمدی‘‘ نماز پڑھیں۔ تم میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ ہم جیسے ملائکہ کو اپنے پیچھے کھڑے ہونے کی دعوت دے۔
حقیقت واقعہ
قادیانی ہمیشہ اصل موضوع سے ہٹ کر ادھر ادھر کی مثلاً شیعہ سنی اختلاف، بریلوی دیو بندی اختلاف کی باتیں اور مقلد غیر مقلد کے جھگڑے کا تذکرہ لے بیٹھتے ہیں۔ جب کہ اصل موضوع یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جس کو میں
٢
نبوت کے منصب پر مامور فرماتا ہوں۔ اس کا اقرار راست روی اور سلامتی کی راہ ہے اور انکار نبوت کج روی اور گمراہی بمنزلہ کفر ہے اور صاف اور سیدھی بات تو یوں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٩٠٢ء میں صاف صاف نبوت کا دعویٰ کیا اور ١٨٨٠ء سے ١٩٠٢ء تک مسلسل ٢٢ سال اس سے انکار کیا۔ بلکہ پوری شدت سے تردید کی۔ جیسا کہ فرمایا : ”میں اس بات پر محکم یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ﷺ ہیں۔ آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)
”اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد سلسلہ نبوت جاری نہ کرو۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)
اور پھر ١٩٠٢ء میں صاف صاف اعلان فرما دیا کہ : ”دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔“ جیسا کہ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے فرمایا ہے: ”میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“
اور اس کی تشریح بھی خود غیر مبہم اور واضح الفاظ میں یوں کر دی۔ جس کا حوالہ کلمتہ الفصل میں (تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) کا دیتے ہوئے خلیفہ ثانی یوں بیان فرماتے ہیں کہ : ”حضرت مسیح موعود کی اس تحریر سے بہت سی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ اوّل یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خان کو جماعت سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا اور تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ خبیث عقیدہ ہے اور یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لئے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔“
(کلمتہ الفصل ص ١٢٥)
٣
اور اس کے بعد خود خلیفہ ثانی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ١٨٨٠ء سے لے کر ١٩٠٢ء تک جملہ اعلانات اور بیانات پر تو صاف پانی پھیر دیا اور واضح طور پر کہہ دیا کہ: ”ہر وہ انسان جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا خواہ اس نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ صداقت از مرزا بشیر الدین محمود ص ٣٥)
یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی نبی نے دعویٰ نبوت بتدریج نہیں کیا۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ اس سے پوچھا گیا ہو اور اس نے انکار کیا۔ بلکہ جب وحی نبوت اس پر نازل ہوتی ہے تو وہ دوٹوک دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان فرماتا ہے کہ میں انسانوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے منصب رسالت پر مامور کیا گیا ہوں۔ مجھے نبی مانو تو مسلمان کہلاؤ گے اور نجات پاؤ گے۔ بصورت دیگر اگر کفر کی حالت میں مرو گے تو واصل جہنم ہو جاؤ گے۔
اب قادیانیوں کی ہیرا پھیری
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی شان ہی نرالی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر انہی کی عبارت سے ثابت کیا ہے۔ لیکن ان واضح اعلانات کے بعد آج قادیانی جماعت کا کوئی مبلغ جب اپنی بات شروع کرتا ہے تو یوں گویا نہیں ہوتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے اقرار کرو گے تو مسلمان کہلاؤ گے اور انکار کرو گے تو کافر ہو جاؤ گے اور دائرہ اسلام سے خارج۔ بلکہ حیات مسیح، تنظیم جماعت، نشر واشاعت کا حدود اربعہ اور چیدہ چیدہ الہامات کا اظہار کرے گا اور ان سے جب بھی یہ پوچھا جائے گا کہ بھئی مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا۔ پہلے اس معاملہ کو صاف کریں تو کنی کترا جائیں گے۔ بلکہ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں نے یعنی علماء نے خواہ مخواہ مرزا قادیانی کو کافر کہا۔ جس کے جواب میں ہم بھی مسلمان کو کافر سمجھنے والے کو کافر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل اس کے خلاف ہے۔ ١٩٠٢ء تک جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا تھا تو ان کو کسی نے کافر نہ کہا۔ دعویٰ کے بعد تو کفر لازم تھا ہی جیسا کہ مرزا قادیانی کے لئے ان کی نبوت کا انکار کفر تھا۔ ویسے ہی حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کھلم کھلا کفر ہے۔ لیکن اس کو کیا کہئے کہ آج بھی خود مرزا قادیانی اور خلیفہ دوم کے واضح
٤
اعلانات کے بعد جماعت احمدیہ کے مبلغین اور مقررین دوٹوک بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ جس کا حوالہ میں اوپر کلمۃ الفصل ص ١٢٥ اور آئینہ صداقت ص ٣٥ کا حوالہ دے چکا ہوں۔ مزید خلیفہ دوم فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام کیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی، دوسری دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ہیں۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اگر کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩، ١٧٠)
قادیانیوں کا منافقانہ مؤقف
اس طرح جب یہ قادیانی حضرات دوٹوک بات نہیں کرتے اور کفر و اسلام کے اس واضح امتیاز کو گول کر جاتے ہیں تو عوام الناس کو سمجھانے کے لئے علماء کرام ان باتوں کا سہارا لیتے ہیں کہ قادیانی ہم سے یوں دینی و دنیوی تعلقات منقطع کرنے کے بعد ہم میں سے کیسے ہو سکتے ہیں تو یہ حضرات بھی عوام الناس کو اس طلسم ہوشربا میں پھنسائے رکھنے کو اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا جھگڑا ان سے یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ وہ ہم سے رشتہ ناطہ کیوں نہیں کرتے۔ وہ ہمارے جنازے کیوں نہیں پڑھتے۔ بلکہ ان سے اختلاف ہے تو صرف یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو لازم ہے کہ دو میں سے ایک مسلمان اور دوسرا کافر ہے۔ آج جب کہ اس بات کو صاف صاف کہنے سے کتراتے ہیں تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ یہ بات ان کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ کوئی مسلمان بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ میں کافر تھا مسلمان ہو رہا ہوں اور میرے مسلمان ہونے سے میرے والدین اور بھائی بہن سب کافر ہو
٥
جائیں گے تو ان کے پھندے میں کبھی نہ آتا۔ بلکہ شروع میں تو یہ اپنے قریب کرتے ہیں اور جب آدمی ان کے قریب ہوتا ہے تو اس کے ارد گرد کے عزیز واقارب اس سے باز پرس کرتے ہیں تو وہ صرف ان کی انفرادی تعریفیں اور تبلیغی اعداد وشمار اور تنظیمی سرگرمیوں تک کو بیان کرتا ہے کہ وہ اچھے لوگ ہیں۔ نہ ہی اس معاملہ کو اس پر آشکار کیا جاتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا اظہار کر سکتا ہے۔ بس جب پوری طرح ان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو لوگ اس کو مرزائی کہنے لگتے ہیں اور وہ ضداً مرزائی ہونے کا اقرار کر گزرتا ہے اور پھنستا چلا جاتا ہے۔
چند مثالیں
یہ صرف مفروضہ نہیں، میں اس کی کئی مثالیں دے سکتا ہوں اور ایسے انسانوں کے نام تک گنوا سکتا ہوں جو اس طرح مرزائیت کے قریب ہوئے اور پھنستے چلے گئے اور آج تک گو مگو میں مبتلا ہیں۔ اعلانیہ مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار بھی نہیں کرتے اور اپنے آپ کو مرزائی بھی کہتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار بھی کرتے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو مرزائی سمجھتے ہیں اور کہلواتے ہیں۔ اس طرح قادیانی حضرات ہم کو زبانی کافر نہ کہنے سے اپنے اندر کے بغض کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقیدہ سے بھی منافق ہیں۔ جب کہ عملاً وہ تمدنی معاشرتی اور مذہبی روابط منقطع کر لیتے ہیں تو خود بخود ثابت ہو جاتا ہے کہ ہمارے بارے میں ان کا طرز عمل کیا ہے۔ اس لئے حاصل مدعا یہ ہے کہ ہمارا ان سے اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ ہمارے جنازوں میں کیوں شرکت نہیں کرتے اور ہم سے رشتہ ناطہ کیوں نہیں کرتے۔ بلکہ اصل اختلاف تو صرف اور صرف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو کہ جھوٹا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والا ہر انسان دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قادیانی حضرات کے لئے سیدھی سی بات صرف یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں تو ان کی نبوت سے انکار کرنے والے ہر انسان کو کافر سمجھیں۔ کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے تو واضح اعلان کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اگر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جیسا کہ ان کی تحریروں سے ثابت ہے تو وہ کاذب اور جھوٹا مدعی نبوت تھا وہ دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی
٦
ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے بات صاف اور دوٹوک ہے۔ دنیا کا کوئی مسلمان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا ہے کہ اگر وہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔ رشتہ ناطہ کرے تو ہم اس کی نبوت مان لیں گے۔ کسی انسان کو نبوت کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے فائز کرنے سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کا اقرار عین اسلام اور اس کا انکار عین کفر ہو۔ جیسا کہ آج تک کوئی نبی نہیں گزرا (خواہ وہ ہارون علیہ السلام ہوں جن کے پاس شریعت نہ تھی) جس نے یہ بات دوٹوک نہ کہی ہو کہ میں انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی مامور ہوں۔ اگر میری نبوت کا اقرار کرو گے تو اسلام میں آجاؤ گے اور اگر انکار کرو گے تو کفر میں رہو گے۔ جیسا کہ تمام مسلمانان عالم کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی ایک نبی کا انکار دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ جب کہ ہم حضور نبی اکرمﷺ کی شریعت کے سوا کسی کی شریعت کی کوئی پابند نہیں۔ صرف نبی ماننا شرط ایمان ہے تو پھر صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرات کے ساتھ بھی ہمارا اختلاف صرف اور صرف دعویٰ نبوت اور کچھ بھی نہیں۔ صرف یہ صاف ہونا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا تھے اور قادیانی حضرات ان کو کیا مانتے ہیں اور اس سے کیا نتائج اخذ ہوتے ہیں اور ان نتائج کا اطلاق کیسے ہوتا ہے۔
قصہ اس کتابچے کا جس کا تذکرہ میں نے ابتداء میں کیا تھا
اب میں اس پمفلٹ کا بھی ذکر کروں گا جو کہ مبارک محمود صاحب رام گلی نمبر ٣ برانڈرتھ روڈ لاہور کا شائع کردہ ہے۔ اس کا عنوان سرورق پر یوں ہے۔ احمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ اس کے اندر انہوں نے ان فتوؤں کا ذکر کیا ہے جو کہ وقتاً فوقتاً مختلف حضرات نے مختلف مکاتب فکر کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے لئے دیئے ہیں۔ حالانکہ ان کا تعلق مرزائیت کی صداقت سے بالکل نہیں ہے۔ جیسا کہ میں اوپر واضح کر چکا ہوں کہ اصل اختلاف یہ ہے ہی نہیں اور جو اصل اختلاف ہے۔ اس کو تو خود مبارک محمود صاحب نے اپنے عنوان سرورق پر تحریر عبارت میں واضح کر دیا ہے۔ مگر اپنی اس پرانی تکنیک سے کہ بات ہی گول مول کرو کہ عوام جو ہمارا شکار ہیں۔ کچھ نہ سمجھ پائیں۔ تحریر فرماتے ہیں کہ احمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ غور فرماویں احمدی مسلمان، لیکن غیر احمدی مسلمان ہیں۔ جب کہ احمدی مسلمان ٹھہرے تو غیر احمدی
٧
کے ساتھ اگر لفظ مسلمان کا نہ ہو تو صاف ظاہر ہے کہ غیر مسلم ٹھہرے۔ اگر مبارک محمود صاحب کا یہ مدعا نہ ہوتا تو عبارت یقیناً یوں ہوتی کہ احمدی مسلمان غیر احمدی مسلمانوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ اب بات تو صاف ہوگئی کہ احمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ اس لئے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور یہی حقیقت بھی ہے کہ مسلمان کی نماز کافر کے پیچھے نہیں ہو سکتی۔ جس کا انہوں نے خود اعتراف کیا۔ مگر واضح اور دو ٹوک بات صرف اس لئے نہ کہی کہ اس طرح عوام الناس پر صاف ظاہر ہو جائے گا کہ احمدی مسلمان نہیں سمجھتے۔ جس سے عوام الناس کا یہ مطالبہ کہ جب قادیانی ہم کو مسلمان نہیں سمجھتے تو پھر ہم میں سے کیوں ہیں۔ اگر پاکستان میں احمدی مسلمان ہیں اور ہم کافر تو ان کو کافر اکثریت میں مسلم اقلیت قبول کرنی چاہئے اور اگر ہم مسلمان ہیں اور وہ کافر۔ جیسا کہ مسلمانان عالم کا متفقہ فیصلہ ہے تو پھر ان کو مسلم اکثریت میں کافر اقلیت قبول کرنی چاہئے۔ جیسا کہ قائد اعظم کے جنازہ کے موقعہ پر اخبار نویسوں کے سوال کرنے پر سر ظفر اللہ خاں نے جواب دیا تھا کہ مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر سمجھو یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر۔
احمدی نوجوان سوچیں
کہ ان کی جماعت کے یہ اکابر انہیں کس قسم کی پیچیدہ صورتحال میں پریشان کئے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو ان کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم مظلوم ہیں اور مولوی لوگ ہمیں خواہ مخواہ کافر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ پورے عالم اسلام کے مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی خطے میں بستے ہوں۔ خواہ انہوں نے غلام احمد قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو۔ ان کو غیر احمدی، غیر مسلم، کافر، دائرہ اسلام سے خارج جہنمی، کتیوں کی اولاد، حرام کی اولاد، بیابانوں کے خنزیر قرار دیتے ہیں۔ خاندانی تعلقات کو ختم کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں کسی گروہ کو بھی اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ اس کے آگے کھڑے ہو کر کسی وقت نماز کی امامت بھی کراسکے۔ دوسری طرف ایسے ہی غیر احمدی کافروں کے درمیان رہنے پر مصر بھی ہیں۔ ان کے حقوق پر ڈاکہ بھی ڈالتے ہیں۔ کس قدر یہ ظالمانہ کاروائی ہے مرزائیوں کی اور کس قدر سادہ ہیں ہمارے حکمران جو یہ ظالمانہ مذاق دیکھ رہے ہیں۔ مرزائی احمدی نوجوان سوچیں کہ اس صورتحال کا کسی وقت کیا خطرناک نتیجہ نکل سکتا ہے۔
٨
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اباطیل مرزا
حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده!
بعد حمد و تعریف کے واضح ہو کہ جھوٹ کو اسلام ہی نہیں برا کہتا بلکہ ہر مذہب وملت کا انسان جھوٹ سے نفرت کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی باوجود رسالت کے مدعی ہونے کے بھی (بقول خود) جھوٹ اور بہتان تراشی کی عادت تھی۔ تصانیف مرزا دیکھنے سے پتہ چلتا ہے۔ آنجہانی قادیانی کو افتراء اور کذب بیانی میں کمال حاصل تھا۔
احباب کرام کی آگاہی کے لئے اس رسالہ میں چند ایک جھوٹ درج کئے جاتے ہیں۔ ہمارا مقصود صرف اصلاح ہے۔ بعد مطالعہ کے آپ خود ہی اپنے دل سے دریافت کرنا کہ ایسا شخص نبوت کا مصداق ہو سکتا ہے؟
نوٹ: اگر آپ مرزائیت کی اصلیت سے کما حقہ آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا دوسرا رسالہ حالات مرزا ملاحظہ فرمائیے۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر کوئی احباب غور سے اس کا مطالعہ کرے گا تو انشاء اللہ العزیز ہر جگہ مرزائیوں پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔
اباطیل مرزا کے معنی ہیں مرزا قادیانی کے جھوٹ۔ چونکہ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے جھوٹ جمع کئے ہیں۔ اس واسطے اس کا نام بھی اباطیل مرزا انتخاب کیا گیا ہے۔
- ١...... ناظرین کرام! مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت
انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا۔ میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)
مشتاق: پچاس الماریاں کتابوں سے بھرنی خالہ جی کا باڑہ نہیں۔ مرزا قادیانی کی کل کتابیں اسی کے قریب ہیں۔ دیکھو اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ٧ اگست ١٩٣٢ء ص٧) اور مرزا قادیانی کے صاحبزادے لکھتے ہیں: ”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے تمام اشتہارات کو بھی جن کی تعداد ١٨٠ سے زیادہ ہے۔“
(منصب خلافت ص٣٣)
کیا قادیانی احباب بتا سکتے ہیں کہ اگر ٨٠ کتابیں اور ١٨٠ اشتہارات یکجا جمع کئے جائیں تو کیا ان سے پچاس الماریاں بھری جاسکتی ہیں؟
- ٢...... ”تاہم مسلمان کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔ یہ
٢
وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔“
(کشتی نوح ص ٦٠، خزائن ج ١٩ص ٦٥)
مشتاق: مرزا قادیانی نے بغیر سوچے سمجھے بخاری جیسی متبرک کتاب پر بیجا حملہ کیا۔ حالانکہ بخاری میں صاف لکھا ہے۔”عن ابی ھریرة قال قال رسول الله کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری)“ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔﴾
- ٣...... ”امام مالک جیسا امام عالم حدیث وقرآن ومفتی اس بات کا قائل ہے کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہے۔ اس طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب اللہ اصح الکتاب ہے۔ وفات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص٢٠٤، خزائن ج ١٣ص٢٢١)
مشتاق: بالکل سفید جھوٹ ہے۔ ان بزرگوں میں سے کوئی بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہرگز نہ تھا۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں۔ ”وکان الروم واليونان وغيرهم مشركين يعبدون الهياكل العلوية والاصنام الارضية فبعث المسيح عليه السلام رسله يدعونهم الىٰ دين الله تعالىٰ فذهب بعضهم فى حيات فى الارض (بعضهم بعد رفعه) الى السماء فدعوهم الى دين الله تعالى فدخل من دخل فى دين الله“ ﴿روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتان زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں گئے اور بعض مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔ پس وہ لوگوں کو دین الٰہی کی دعوت دیتے تھے۔ ان کی دعوت سے اللہ کے دین میں داخل ہوا۔ جس کسی نے داخل ہونا تھا۔﴾
(الجواب الصحیح ج ١ص ١٩)
اسی طرح امام صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”وقال لهم نبيهم لوکان موسىٰ حيا ثم اتبعتموه وتركتمونى لضللتم وعيسىٰ بن مريم عليه السلام اذا نزل من السماء انما يحكم فيهم بكتاب ربهم وسنة نبيهم فاى حاجة لهم مع هذا الىٰ الخضر وغيره والنبى ﷺ قد اخبرهم بنزول عيسىٰ من السماء وحضوره
٣
مع المسلمين وقال كيف تهلك امة انا اولها وعيسى في آخرها “ (اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور تم اس کی پیروی کرتے اور مجھ کو چھوڑ دیتے تو گمراہ ہوجاتے اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جب اترے گا آسمان سے تو وہ مسلمانوں میں کتاب اور سنت کے مطابق حکم کرے گا۔ پس کون سی اور ضرورت ہے باوجود اس کے خضر علیہ السلام وغیرہ کی طرف۔ حالانکہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بتایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے اور مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوں گے اور فرمایا کہ کیسے ہلاک ہوسکتی ہے وہ امت جس کے ابتداء میں، میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہو۔)
(زیارۃ القبور ص ٧٥)
- ٤...... ”ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام
وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔“
(ایام الصلح ص ٤٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٣)
مشتاق: حدیث کی کسی کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ نہیں آتا۔ اگر قادیانیوں کے پاس وہ کتاب ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ ہو تو ہم کو بھی دکھا دیویں۔ ورنہ صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ: ”لعنة الله على الكاذبين“ دوستو! یاد رکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ کسی حدیث کی کتاب میں نہیں اور نہ ہی انشاء اللہ العزیز مرزائی دکھا سکتے ہیں۔ حدیث کی معتبر اور مستند کتابوں میں صرف یہ الفاظ ہیں۔ ”لوكان موسى حياً ما وسعه الا اتباعی“
(مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ١ ص ٢٠٦، مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٧)
- ٥...... ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی
ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
مشتاق: مرزائی دوستو! ہم بھی اس بات کے متمنی ہیں کہ ان نبیوں کے اسماء گرامی کی فہرست ہمیں بھی دکھلا کر بتلائیے کہ ان کے نام کس صحیفہ میں درج ہیں۔
- ٦...... ”تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا۔“
(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
مشتاق: امید ہے کہ امت مرزائیہ اس امر میں اپنے پیغمبر کو سچا ثابت کرے گی۔ ورنہ ہماری طرف سے ”لعنت الله على الكاذبين“ کا تحفہ قبول کرے۔
- ٧...... ”اسرائیلی نبیوں نے تو شیر خوار بچے بھی قتل کئے۔ ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں
تک نوبت پہنچی۔“
(مکتوبات احمدیہ حصہ سوم ص ٢٤)
٤
مشتاق: کیا ہی خوب ہو۔ اگر مرزا قادیانی کی تقلید کرنے والے احباب کرام ان نبیوں کے نام معہ حوالہ شائع کر دیں۔
- ٨...... ”مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے خواب میں دیکھا کہ ایک نور آسمان
سے قادیان پر گرا۔ (یعنی عاجز پر) اور فرمایا کہ میری اولاد اس نور سے محروم رہے گی۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٦٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٦٣)
مشتاق: ہم مرزائی انجمن کے ممبروں سے طالب دریافت ہیں۔ کیا ہی آپ کا شکریہ ہو اگر آپ لوگ اس کا مکمل ثبوت دیں۔ یہ واقع مولانا مرحوم علیہ الرحمت نے کن لوگوں کے درمیان بیان کیا۔ ان شاہدوں کی فہرست پیش کی جاوے۔
- ٩...... ”جواب شبہات الخطاب المليح في تحقيق المهدى
والمسيح“ جو مولوی رشید احمد گنگوہی کی خرافات کا مجموعہ ہے۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٩٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٧١)
مشتاق: بالکل اعجازی جھوٹ ہے۔ یہ رسالہ مولوی اشرف علی تھانوی کا تصنیف کردہ ہے۔ آنجہانی نے بلا سوچے سمجھے لکھ دیا۔ افسوس کہ ٹائٹل پر سے ہی مؤلف کا نام پڑھ لیتے۔
- ١٠...... ”خدا نے میرے لئے یہ نشان بھی دکھائے کہ اس نے ہر ایک مباہلہ میں
میرے دشمنوں کو ہلاک کیا۔“
(چشمہ معرفت حصہ دوم ص ٣١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
مشتاق: ہمیں افسوس اس بات پر ہے کہ مرزا قادیانی نے ہلاک شدہ دشمنوں کے نام تحریر نہ کئے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کے نام لکھ دیتے۔ کیا مرزائی دوست بتائیں گے۔ ١٨٩٣ء میں بمقام عید گاہ امرتسر میں، مابین مولانا صوفی عبدالحق صاحب غزنویؒ اور مرزا قادیانی مباہلہ ہوا تھا۔ اس کا انجام کیا ہوا۔ کیا صوفی موصوف، کرشن جی کی وفات کے بعد پورے ٩ سال زندہ نہ رہے تھے۔ پھر یہ کہنا کہ ”مباہلہ میں میرے دشمن ہلاک ہوئے“ کس انصاف پر مبنی ہے۔
- ١١...... ”اس پیش گوئی (نکاح محمدی بیگم) کی تصدیق کے لئے جناب رسول
اللہ ﷺ نے بھی پہلے اس سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ”(يتزوج ويولد له ) یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ ”تزوج“ اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز (مرزا قادیانی) کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ
٥
ان سیاہ دل منکروں کو شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
مشتاق: یہ پیش گوئی ہرگز نبی کریم ﷺ نے نہیں فرمائی۔ اگر بالفرض بقول مرزا مذکورہ پیش گوئی آنحضرت ﷺ نے کی ہو تو دنیا اس پر شاہد ہے کہ مرزا قادیانی محمدی بیگم سے باوجود اتنی سعی و کوشش کے محروم رہے۔ تو کیا نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ (شرم)
- ١٢...... ”لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا)
نزول آسمان سے ہوگا۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٧)
مشتاق: کیا امت مرزائیہ سے ہم توقع رکھ سکتے ہیں۔ اگر حدیث میں آسمان کا لفظ موجود ہو تو کیا مرزا قادیانی کا دامن چھوڑ کر امت محمدیہ میں داخل ہو جائیں گے۔ مرزائیو! ہمارا فرض ہے کہ بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا۔ ہم تمہاری ہمدردی اور مسلمانوں کی آگاہی کے لئے حدیث نقل کرتے ہیں۔ ”عن ابن عباس مرفوعاً قال الدجال اوّل من یتبعہ سبعون الفاً من الیھود علیھم السیجان قال ابن عباس قال رسول اللہ ﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء (کنزالعمال ج ٧ ص ٢٦٨، ح ١٤ ص ٦١٩، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)“
علاوہ اس کے آسمان کی تصدیق خود مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ”دیکھو میری بیماری کی نسبت آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ جو اس طرح پر وقوع پذیر ہوئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٧ /جون ١٩٠٦ء ص ٥)
- ١٣...... ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس
کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
اسی صفحہ مذکورہ میں مرزا قادیانی اس الہام کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں۔ ”اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں۔ وہ تو ٧٤ اور ٨٦ برس کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔“
مشتاق: مرزا قادیانی (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) پر لکھتے ہیں: میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“ یہ بات روز روشن کی
٦
طرح واضح ہے۔ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوئے۔ (عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٦١٢) سن وفات ١٩٠٨ء، سن ولادت ١٨٤٠ء کل عمر ٦٨ سال ہوئی۔
- ١٤...... ”یہ عجیب بات ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر جس قدر بجز میرے لوگوں
نے مجدد ہونے کے دعوے کئے تھے۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن خان بھوپال اور مولوی عبدالحئی لکھنوی سب صدی کے اوائل دنوں میں ہی ہلاک ہو گئے ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢ حاشیہ)
مشتاق: رئیس الموحدین عمدۃ المفسرین جناب نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالوی مرحوم اور مولانا مولوی عبدالحئی لکھنوی کا دعویٰ مجددیت آپ نے کس کتاب میں دیکھا۔ اگر قادیانی دوستوں کے پاس اس کا حوالہ ہو تو ہمیں بھی درکار ہے۔
- ١٥...... ”سنت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری
زمانہ میں انہی کے نام پر ایک اور امام پیدا ہو گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)
مشتاق: اہل سنت والجماعت کے جتنے فرقے مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہل حدیث وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ان کا یہ مذہب نہیں یہ محض افتراء اور بناوٹ ہے۔
- ١٦...... ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ
میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت و شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے۔ پس میں جھوٹا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار بدر مورخہ ١٩/ جولائی ١٩٠٦ء)
مشتاق: اس کے جواب میں اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے۔
نامرادی میں ہوا تیرا آنا جانا
- ١٧...... ”مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھ
والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کذاب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔ ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کذاب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا کے سامنے پیش کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
٧
مشتاق: مرزا قادیانی کی نبوت کو تسلیم کرنے والو! وہ کتاب یا اس کا حوالہ ہمارے سامنے لاؤ۔ جہاں مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری اور مولوی اسماعیل علی گڑھ نے یہ مضمون تحریر کیا ہے۔ ورنہ یاد رکھو۔ ”جھوٹ بھی شرک کا ایک حصہ ہے۔“
(کشتی نوح ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨)
.......١٨ ”اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢١٠)
مشتاق: قادیانی فاضلو! اگر آپ کو اپنے نبی کی عزت کو برقرار رکھنا منظور ہے تو اصحاب کبارؓ کے قول ہمارے پیش نظر کرو۔
.......١٩ ”قرآن شریف قطعی طور پر مسیح ابن مریم کی موت ثابت و ظاہر کر چکا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧١٦، خزائن ج ٣ ص ٥١٠)
قادیانی مبلغو: ”اتقوا الله“ خدا سے ڈرو۔ قرآن جیسی پاک اور متبرک کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور اگر قرآن حکیم کو حقیقی معنوں میں خدا کا کلام تسلیم کرتے ہو تو وفات مسیح کا ذکر نکال کر دکھاؤ۔ غالباً یہ آیت اس قرآن کے اندر ہوگی۔ جو قادیان کے اندر چھپا ہے۔ مطبوعہ لاہوری، امرتسری، کانپوری، دہلوی اور مصری وغیرہ کے اندر تو یہ آیت موجود نہیں۔ ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے پیغمبر کے دامن سے کذب بیانی دور کرو۔ قرآن کریم تو للکار کر کہہ رہا ہے۔
”الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تب فوت ہوں گے جب تمام اہل کتاب وغیرہ مسلمان ہو جائیں گے۔ چہ جائیکہ ہم مرزا قادیانی کے قول کے مطابق ان کو فوت شدہ تسلیم کر لیں۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔
.......٢٠ ”نبی کی اجتہادی غلطی بھی درحقیقت وحی کی غلطی ہے۔ کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وحی سے خالی نہیں ہوتا...... پس چونکہ ہر ایک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے۔ وحی ہے۔ اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہوگی تو وحی غلط کہلائے گی۔ نہ اجتہاد کی غلطی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مشتاق: افسوس کہ مرزا قادیانی خود ہی لکھتے ہیں: ”ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے۔ مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣)
”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے۔ یا منافق!“
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
٨
.......٢١ ”پہلے نبیوں کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد ت نبوت کریں گے اور عوام الناس روح ح مشتاق: مرزا قادیانی ک لفظ نہیں ہیں۔
.......٢٢ ”آپ لوگ ہے۔ لیکن اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑوی مولوی عبدالجبار و عبدالحق و عبدالواحد گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تامل سے مشتاق: تحفہ گولڑویہ جو م انصاف سے کام لو کیا ٣٢٨ صفحہ کی کت ہی تحفہ غزنویہ بھی شامل کرلو۔
.......٢٣ ”مولوی صا ہوگا تو قرآن کریم کے تمام احکام ب گے۔ یعنی وحی ان پر نازل ہوا کرے
مشتاق: صد افسوس ایس ہے کہ آنجہانی نے نواب صاحب دیتے۔ مرزا قادیانی کے مقلدو! آپ کے دکھائیں۔ نہیں تو ”جھوٹے پر ل
.......٢٤ ”براہین ا ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ ر
مشتاق: افسوس کہ اسی خ
.......٢٥ ”اے عز ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو م
٢١...... ”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہوجائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔“
(ضرورۃ الامام ص ٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)
مشتاق: مرزا قادیانی کا یہ بھی صریح جھوٹ ہے کسی احادیث کی کتاب کے اندر یہ لفظ نہیں ہیں۔
٢٢...... ”آپ لوگ میری بڑی بڑی کتابوں کو تو نہیں دیکھتے اور فرصت کہاں ہے، لیکن اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کو ہی دیکھو۔ جو پیر مہر علی شاہ اور غزنوی جماعت مولوی عبدالجبار و عبدالحق و عبدالواحد وغیرہ کی ہدایت کے لئے لکھی گئی ہے۔ جن کو آپ لوگ صرف دو گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تأمل سے پڑھ سکتے ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
مشتاق: تحفہ گولڑویہ جو ٢٠×٢٦ کی قطع پر ٢٣٨ صفحہ کی کتاب ہے۔ مرزائیو! عقل اور انصاف سے کام لو کیا ٢٣٨ صفحہ کی کتاب صرف ٢ گھنٹے کے اندر کوئی شخص ختم کرسکتا ہے اور پھر ساتھ ہی تحفہ غزنویہ بھی شامل کرلو۔
٢٢...... ”مولوی صدیق حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ عیسیٰ بن مریم جب نازل ہوگا تو قرآن کریم کے تمام احکام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے ان پر کھولے جائیں گے۔ یعنی وحی ان پر نازل ہوا کرے گی۔ مگر وہ حدیث کی طرف رجوع نہیں کرے گا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩)
مشتاق: صد افسوس ایسے بزرگوں پر آنجہانی بیجا حملے کر رہے ہیں۔ غضب اس بات پر ہے کہ آنجہانی نے نواب صاحب کا نام تو پیش کردیا۔ مگر اتنی جرأت نہ کی کہ کتاب کا حوالہ پیش کر دیتے۔ مرزا قادیانی کے مقلدو! آپ کا مذہبی فرض ہے کہ مرزا قادیانی کو اس بات میں صادق کر کے دکھائیں، نہیں تو ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔“
(ازالۃ اوہام ص ٨٦٥، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)
٢٣...... ”براہین احمدیہ میں ہے کہ میں نے (خدا نے) مجھے بشارت دی ہے کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤١٩)
مشتاق: افسوس کہ اسی کتاب کے اندر اپنے مجموعہ امراض ہونے کا ثبوت لکھا ہے۔
٢٤...... ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے
٩
بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)
مشتاق: جن نبیوں نے مسیح قادیانی کی زیارت کا شوق ظاہر کیا ہے۔ ان کے اسماء گرامی سننے کے ہم بھی مشتاق ہیں۔
- ٢٥......”ایک اور حدیث بھی مسیح بن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے
اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
مشتاق: نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے سو برس تک قیامت بتانے والی حدیث کے ہم بھی متمنی ہیں۔
امت مرزائیہ اس حدیث کو کسی کتاب سے دکھائے۔ ورنہ فرمانِ محمدی سُن لیں۔ ”مَن کذب علیّ متعمداً فلیتبوء مقعدہ فی النار (مسلم ج ١ ص ٧)“ (یعنی رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص عمداً مجھ پر جھوٹ باندھے گا پس وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔)
- ٢٦......”عیسائی اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ
چودھویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔“
(چشمہ معرفت ج ٢ ص ٣١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٣)
مشتاق: مرزائی امت سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ تمام اولیاء کرام کی فہرست اپنے اخبار الفضل کے اندر شائع کر دیں اور ایک پرچہ بذریعہ رجسٹری خاکسار کو بھی بھیج دیویں۔
- ٢٧......”قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ توفّی کا ذکر آیا
ہے۔..... ان تمام مقامات میں توفّی کے معنی موت کے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢٧١)
مشتاق: بالکل سفید جھوٹ ہے۔
- ٢٨......”قرآن مجید میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ
مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
مشتاق: میں بھی اس بات کا متلاشی ہوں کہ مرزائی اس کا پورا پتہ دے کر اپنے نبی کے دامن کو پاک کریں۔
١٠
٢٩......”تمام نبیوں کی کتاب سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٤٥، خزائن ج ٢٠ ص ٢٧٠)
مشتاق : تمام نبیوں کی اور قرآن کریم کی تعلیم کو میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ ورنہ یاد رکھیں جھوٹ بھی ایک حصہ شرک ہے۔
٣٠......”ایک دفعہ آنحضرتﷺ کے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا۔ تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ: ”كان في الهند نبيا اسود اللون اسمه كاهنا“ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے۔ جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، ١١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٣)
مشتاق : مسلمانوں! یاد رکھو کہ محض جھوٹی اور بناوٹی حدیث ہے۔ حدیث کی کسی مستند کتاب کے اندر یہ عبارت نہیں پاؤ گے۔ اے مرزائیو! میں خاص آپ کو مخاطب کر کے للکارتا ہوں کہ مذکورہ حدیث کا حوالہ دکھائیں۔ ورنہ یاد رکھیں ”خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے۔ بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٨)
٣١......”نبی کریمﷺ نے نہ ایک دلیل بلکہ بارہ محکم دلیلوں اور قرائن قطعیہ سے ہم کو سمجھا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح موعود اسی امت سے ہے۔“
(دافع الوساوس ص ٤٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مشتاق: مرزائیت کے ممبروں کو چاہئے کہ اپنے پیر و مرشد کو اس قول میں سچا ثابت کر کے دکھائیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
٣٢......”بٹالوی صاحب کا رئیس المکفرین ہونا میرا ہی خیال نہیں بلکہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ٥٩٩)
مشتاق : مولانا مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالویؒ مرحوم پر یہ بالکل سفید جھوٹ اور افتراء ہے۔ ہمارا مسلمانوں کا مولانا مرحوم علیہ الرحمۃ کے متعلق ایسا خیال ہرگز نہیں ہے۔
٣٣......”پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٩٢)
١١
مشتاق: بالکل اعجازی جھوٹ ہے۔ کیا مرزائی دوست اس امر میں آنجہانی کو سچا ثابت کر کے دکھا سکتے ہیں۔ نہایت ہی آپ کا احسان ہو اگر آپ ان مجتہدین کے اسمائے گرامی پیش کریں۔ جو وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ ورنہ حیات مسیح علیہ السلام کے جو بزرگ، مجتہدین، امام، صحابہ کرام قائل تھے۔ ان کے نام دکھانے کے لئے ہم تیار ہیں۔
- ......١ "جھوٹ بھی ایک حصہ شرک ہے۔"
(کشتی نوح ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨)
- ......٢ "جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس کا
اعتبار نہیں رہتا۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
- ......٣ "جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔"
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢)
- ......٤ "جھوٹے پر خدا کی لعنت۔ لعنت اللہ علی الکاذبین"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ......٥ "جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
- ......٦ "جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ......٧ "نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔"
(مسیح ہندوستان میں ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٢١)
- ......٨ "کاذب کا خدا دشمن ہے۔ وہ اس کو جہنم میں لے جائے گا۔"
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٠)
- ......٩ "خدا کی لعنت ان لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔"
(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)
- ......١٠ "جیسے بت پوجنا شرک ہے۔ ویسے جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔"
(اخبار الحکم مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٧ء ص ١٣)
- ......١١ "جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔"
(انجام آتھم ص ٤٣، خزائن ج ١١ ص ٤٣)
- ......١٢ "جھوٹے پر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔"
(ازالۃ اوہام ص ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)
- ......١٣ "ہاتف نے کہا 'لعنت اللہ علی الکاذبین ' یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ میں نے
کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔"
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
١٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حالات مرزا
یعنی
مرزائی مذہب کی اصلیت
حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ
پہلے مجھے دیکھئے!
امرتسر کے مشرق کی جانب قریباً ٢٤ میل کے فاصلے پر ایک بڑا پرانا قصبہ بٹالہ کے نام سے مشہور ہے۔ بٹالہ کے پاس گیارہ میل کے فاصلے پر ایک معمولی سا گاؤں قادیان ہے۔ جہاں مرزا غلام احمد قادیانی پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام حکیم غلام مرتضیٰ تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتداء میں مشرقی علوم مولوی گل شاہ شیعہ سے بٹالہ میں پڑھے۔ اردو، عربی، فارسی کے سوا انگریزی وغیرہ سے ناواقف تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مرزا قادیانی تلاش معاش کے لئے باہر نکلے اور شہر سیالکوٹ میں جاکر پندرہ روپے ماہوار تنخواہ پر ملازم ہوگئے اور ساتھ ہی قانون کا مطالعہ شروع کیا۔ قانون کا مطالعہ کے بعد مرزا قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا۔ جس میں ناکام رہے۔ آخر کار ملازمت ترک کر کے واپس قادیان میں آئے اور تصانیف کا سلسلہ آغاز کیا اور سب سے پہلے براہین احمدیہ ایک کتاب لکھی اور مسلمانوں سے چندہ جمع کرنے کی درخواست کی اور ساتھ ہی بیعت جاری کی۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے مجدد، مسیح موعود، نبی بلکہ اوتار کرشن کا دعویٰ کیا۔
علمائے اسلام نے ان کی تردید کے لئے کمر ہمت باندھی اور مرزا قادیانی کے رد میں بہت سی کتابیں لکھیں۔ خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ مگر یہ کتابیں اکثر مشکل ہیں جو کہ عوام الناس کی عقل سے بالاتر ہیں۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خاکسار کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ قادیانی مشن کی تردید میں ایک بے نظیر رسالہ سلیس اردو کا لکھا جائے جو کہ عوام الناس کے لئے از حد مفید ثابت ہو اور حقیر کے لئے ذریعہ نجات بنے۔ لہٰذا اس ضرورت کے لئے میں نے قلم اٹھایا ہے۔ خداوند کریم اس کام کو اپنے فضل و کرم سے سرانجام دے اور اس میں میری مدد فرمائے اور امت مرزائیہ جو راستہ بھٹکی ہوئی ہے۔ ان کے لئے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین!
”اللہم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم“
نوٹ: اگر کسی جگہ حوالہ میں شک وشبہ معلوم ہو تو خاکسار سے بذریعہ جوابی کارڈ دریافت فرمائیں۔ فقط:
خاکسار: محمد اسحاق مصنف رسالہ ہذا لوہگڑھ امرتسر مورخہ ٢٤؍اکتوبر ١٩٣٤ء ٢
الرحمن الرحیم!
دیباچہ
مجھے دیکھئے!
٤٤ میل کے فاصلے پر ایک بڑا پرانا قصبہ بٹالہ کے نام کے فاصلے پر ایک معمولی سا گاؤں قادیان ہے۔ جہاں والد کا نام حکیم غلام مرتضیٰ تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے سے بٹالہ میں پڑھے۔ اردو، عربی، فارسی کے سوا انگریزی کے بعد مرزا قادیانی تلاش معاش کے لئے باہر نکلے اور دہ پر ملازم ہوگئے اور ساتھ ہی قانون کا مطالعہ شروع مختاری کا امتحان دیا۔ جس میں ناکام رہے۔ آخر کار تصانیف کا سلسلہ آغاز کیا اور سب سے پہلے براہین جمع کرنے کی درخواست کی اور ساتھ ہی بیعت جاری مجدد، نبی بلکہ اوتار کرشن کا دعویٰ کیا۔
کے لئے کمر ہمت باندھی اور مرزا قادیانی کے رد میں نے خیر دے۔ مگر یہ کتابیں اکثر مشکل ہیں جو کہ عوام محسوس کرتے ہوئے خاکسار کے دل میں یہ شوق پیدا رسالہ سلیس اردو کا لکھا جائے جو کہ عوام الناس کے موجب نجات بنے۔ لہٰذا اس ضرورت کے لئے میں نے قلم و کرم سے سرانجام کرے اور اس میں میری مدد فرمائے کے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔ آمین!
انت السمیع العلیم“
شک و شبہ معلوم ہو تو خاکسار سے بذریعہ جوابی کارڈ
خاکسار: محمد اسحاق مصنف رسالہ ہٰذا لوہگڑھ امرتسر مورخہ ٢٤؍ اکتوبر ١٩٣٢ء
٢
تقریر مرزا
”میرا کام ہے۔ جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور تثلیث کی جگہ توحید پھیلاؤں۔ حضور کی جلالت دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں۔ یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے وہ کام کر دکھایا جو مسیح علیہ السلام یا المہدی نے کرنا تھا تو میں سچا ہوں اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج٢ ص ١٦٢ حصہ اوّل)
مرزا غلام احمد قادیانی
٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مر گئے۔
اب ذرا ان کے مرید برائے مہربانی بتائیں کہ کیا دنیا کے تمام عیسائی مسلمان ہوگئے۔ کیا تثلیث توڑ دی گئی۔ افسوس ؎
نامرادی میں ہوا تیرا آنا جانا
عیسائیوں کا اسلام قبول کرنا تو کجا بلکہ مسلمانوں کے سینوں سے توحید جاتی رہی۔
قرآن مجید! میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے قریب حضرت ابن مریم علیہ السلام دوبارہ دنیا پر رونق افروز ہوں گے۔ تو جتنے اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی ضرور ان کی وفات سے پیشتر اسلام قبول کریں گے۔ ”الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (النساء: ١٥٩)“
پس اسی ارشاد مبارک کے مطابق مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ لہٰذا ہم مرزا قادیانی کو ہرگز ہرگز نبی تسلیم نہیں کرسکتے اور نہ کوئی عقل سلیم والا انسان آنجہانی کو نبی مان سکتا ہے۔ پیٹ کے لئے ان کو نبی تسلیم کرے تو علیحدہ بات ہے۔ عیسائیوں کا اسلام قبول کرنا تو درکنار مرزا قادیانی کے بڑے حریف دشمن مسٹر عبداللہ آتھم بھی باوجود اتنی کوشش اور سعی کے مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔
٣
عقائد مرزا ...... (دربارہ حضرت مسیح علیہ السلام)
- ١...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان
کی قوم نے گرفتار کر کے سولی دلوایا۔ جہاں سے وہ نیم جان اتار لئے گئے اور پھر خفیہ طور پر مرہم پٹی کرواتے رہے اور پوشیدہ کشمیر کو بھاگ آئے۔ جہاں آ کر ایک سو بیس برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ چنانچہ شہر سری نگر محلہ خانیار کے اندر آپ کی قبر موجود ہے“ حالانکہ مرزا قادیانی اپنی سب سے پہلی کتاب براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ دوبارہ دنیا پر تشریف لاویں گے۔ (براہین احمدیہ ص ٤٩١، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) اسی طرح حدیثوں سے بلکہ خود فرقان حمید سے بھی پتہ چلتا ہے۔
حدیث نبوی علیہ السلام
”ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمساً واربعین سنة ثم یموت (مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیه السلام)“ ﴿اتریں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر، پس نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد پیدا ہو گی اور زمین پر پنتالیس برس رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔﴾
اس حدیث شریفہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا پر تشریف لاویں گے۔ نکاح کریں گے۔ پھر مرزا قادیانی کا قول کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ حضرت ابن مریم وفات پا چکے ہیں۔ یہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک بہتان ہے۔
مرزا قادیانی اپنے مرتبہ کا اظہار کرتے ہیں
”میں نور ہوں، مجدد مامور ہوں، عبدمنصور ہوں، المسیح موعود ہوں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ١٦ ص ٥١، ٥٢)
”مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ، میرے بعد کوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام قوت و برکت وعزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منار پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔ پس خدا سے ڈرو۔ اے جوانو ڈرو اور مجھے پہچانو اور نافرمانی مت کرو۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
٤
”میرے سوا اور دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانے کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٥٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٣)
”پس جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)
ناظرین! ذرا غور فرمائیے۔ حضرت پرنور ﷺ جن کو خدا تعالیٰ رحمۃ اللعالمین کے لقب سے پکارے انہوں نے صحابہ کرامؓ کو اپنی تعریف اپنے سامنے کرنے سے منع فرمایا اور دوسری جگہ بھی آتا ہے کہ جو کسی دوسرے شخص کے سامنے اس کی تعریف کرے اس کے منہ میں راکھ بھرو، یہ حکم ہے دوسرے شخص کے واسطے، اور جو شخص خود بخود اپنی تعریف کرے اس کی کیا سزا ہے۔
حج
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ایام الصلح اردو ص ١٦٨، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦) پر لکھا ہے: ”ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال کفر اور دجل سے باز آ کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔“ لطف! تو اس بات میں ہے کہ مرزا قادیانی اس جگہ حج فریضہ کو جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مگر (حقیقت الوحی ص ١٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٦) پر فرماتے ہیں: ”پانچواں نشان حج کا بند ہونا ہے جو صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں حج کرنا کسی مدت تک بند ہو جائے گا۔“ مرزائی دوستو! جواب دیجئے۔ اگر بقول مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی حج کو اللہ جل شانہ نے بند کر دیا ہے۔ تو ایام الصلح میں کیوں لکھا کہ ہم دجال کو مسلمان بنا کر حج کو روانہ ہوں گے؟
حکم جہاد منسوخ
اسلام میں جہاد سب سے اعلیٰ رکن اسلام ہے۔ قرآن مجید عموماً سورۃ التوبہ خصوصاً جہاد کے حکم سے بھری پڑی ہے۔ مگر کرشن صاحب لکھتے ہیں: ”میرے آنے پر خدا تعالیٰ نے جہاد کو حرام کر دیا۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
اشعار
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
٥
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سید کونین مصطفےٰ
عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
(درثمین ص ٢٨، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)
حضرت مسیح کی قبر
- ١...... مرزا قادیانی آنجہانی لکھتے ہیں: ”جو سری نگر محلہ خانیار میں شہزادہ یوز
آسف کے نام سے قبر موجود ہے۔ وہ درحقیقت بلاشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“
(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢)
اس سے پہلے مرزا قادیانی نے اپنی (کتاب ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) پر لکھا ہے: ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا۔ پھر زندہ ہو گیا۔“
خوب گزری! مرزا آنجہانی پہلے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتا رہے ہیں۔ بعد میں گلیل بلکہ ایک جگہ یروشلم میں بھی بتاتے ہیں۔
قادیانی ممبرو! تمہارا گرو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتا رہا ہے اور بعد میں گلیل بلکہ یروشلم تمہارا کون سی جگہ پر اعتقاد ہے۔ اگر آپ ابن مریم کی قبر کشمیر میں مانتے ہو تو تمہارا امام یعنی مرزا قادیانی تو گلیل بتا رہا ہے۔ اگر گلیل میں قبر کے قائل ہو۔ تو کرشن صاحب یروشلم میں بتا رہے ہیں۔ اب آپ کون سی جگہ کے قائل ہو۔ ذرا مجھے بھی تو بتائیے۔ مگر یاد رکھو کہ اپنے بناوٹی نبی کے مخالف نہ چلئے۔ اب دوستو! کس طرف جاؤ گے۔
آؤ! میں آپ کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ ایک بناوٹی نبی کی تقلید کو چھوڑ کر حقیقی نبی یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کی فہرست میں اپنا نام درج کرائیے۔
یاد رکھو! ایک نہ ایک روز ضرور خدا تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اس وقت دربار الٰہی میں کیا جواب دو گے اور کون سا منہ لے کر عدالت میں حاضر ہو گئے۔
ناظرین کرام! ہم آگے چل کر انشاء اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کو بقول مرزا منافق اور پاگل بھی ثابت کریں گے۔
٦
مولوی محمد سعید مرزائی ساکن طرابلس کی تحریر
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدۃ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۃ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے۔ اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے۔ وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدۃ قدس کا نام یروشلم تھا ۔“
(اتمام الحجہ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩ حاشیہ )
نتیجہ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر دنیا میں کسی جگہ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے ہم خیال لوگ صریحاً جھوٹ بولتے ہیں ۔ حضرت ابن مریم علیہ السلام جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو حج کے بعد اور قتل دجال کے بعد ان کی قبر مدینہ النبی میں نبی کریم ﷺ کے روضہ اطہر کے پاس ہوگی ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔
”ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسٰی علیہ السلام) “ ”یعنی نزول کے بعد فوت ہوں گے اور رسول خدا ﷺ کے روضہ مبارک میں آپ کے ساتھ اور حضرت ابو بکر اور عمر کے درمیان مدفون ہوں گے ۔“
- ٢...... ”عن عائشۃ قالت قلت یا رسول اللہ انی ارای انی اعیش
بعدك فتأذن لی ان ادفن الی جنبک فقال وانی لی بذالك الموضع مافیه الا موضع قبری ابی بکر وعمر وعیسیٰ بن مریم (کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠، حدیث نمبر ٣٩٧٢٨) “
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس آپ کے پہلو میں دفن کی جاؤں ۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ کی نسبت میرا کچھ اختیار نہیں ہے۔ وہاں تو سوائے میری قبر اور ابی بکرؓ اور عمرؓ اور عیسیٰ بن مریم کی قبر کے کسی کی جگہ نہیں ۔ ایسی بہت سی حدیثوں کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا ذکر صاف لفظوں میں ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے ۔
برخلاف مرزا قادیانی ١٨٣٩ء قادیان کے اندر پیدا ہوئے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو
٧
پنجاب کے مشہور و معروف شہر لاہور کے اندر وفات پائی اور بذریعہ ریلوے آپ کی لاش بٹالہ لائی گئی اور وہاں سے قادیان کے اندر پہنچائی گئی۔ جہاں آپ کو دفن کیا گیا۔ آج کل قادیان کے اندر بہشتی مقبرہ کے نام سے قادیانیوں نے مشہور کر رکھا ہے۔
مراقی خاندان
ان چند سطور کے اندر مرزا قادیانی آنجہانی کے اقوال سے خود ان کا اور ان کی بیوی صاحبہ کا اور ان کے جانشین بیٹے میاں بشیر الدین محمود آنجہانی کا مراقی ہونا ثابت کیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے مرید کے اقوال کے مطابق مرزا قادیانی کا نبی نہ ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
- ١...... کرشن قادیانی فرماتے ہیں: ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی
آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع پذیر ہوئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧؍جون ١٩٠٦ء ص ٥، ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
- ٢...... ”حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے فرمایا۔ مجھے مراق کی بیماری ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان ج ٢٤ نمبر ٤، بابت ماہ اپریل ١٩٢٥ء ص ٤٥)
- ٣...... ”حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج
اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔“
(ریویو قادیان ج ٢٦ نمبر ٥ ص ٨، بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء)
بیوی صاحبہ کو مراق
مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں: ”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔“
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٩ ص ٤، مورخہ ١٠؍اگست ١٩٠١ء)
مرزا محمود کو مراق
”حضرت خلیفہ مسیح الثانی (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ١٨، ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١١)
٨
مراقی شخص نبی یا ملہم نہیں ہو سکتا؟
ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب مرزائی اسسٹنٹ سرجن لکھتے ہیں: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مرگی، مالیخولیا کا مرض ہے تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے بھی کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو بیخ اس کی صداقت کی عمارت کو بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٧، ٦)
فیصلہ! بقول ڈاکٹر صاحب مرزا قادیانی نبی یا ملہم ہرگز نہیں ہو سکتے۔ میں اقوال مرزا قادیانی اور ان کے مرید کا پیش کر کے فیصلہ ناظرین پر چھوڑتا ہوں۔ آیا مرزا قادیانی بقول ڈاکٹر، مدعی الہام ہو سکتے ہیں۔
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
امراض مرزا
یعنی مرزا قادیانی کن کن امراض کا شکار تھے۔ مرزا قادیانی خود اپنے مجموعہ امراض ہونے کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں ایک دائم المریض آدمی ہوں۔
(١) ہمیشہ درد سر۔ (٢) دوران سر۔ (٣) کمی خواب۔ (٤) تشنج دل۔ (٥) ضعف اعصاب۔ (٦) اسہال۔ (٧) ہسٹریا۔ (٨) ضعف حافظہ۔ (٩) نسیان۔ (١٠) مالیخولیا۔
بلکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مجھے رات کو سو سو دفعہ پیشاب آتا ہے اور کثرت بول سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب میرے شامل حال ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
کمالات مرزا
”مرزا قادیانی کا حاملہ ہونا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
”مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا..... پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنے کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
حصہ دوم مرزا قادیانی نبی تھے یا کچھ اور۔
٩
توہین انبیاء
مرزا قادیانی ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١،٢٨٩) پر لکھتے ہیں۔ یسوع مسیح، شریر، مکار، موٹی عقل والا۔ بدزبان، غصہ والا، گالیاں دینے والا، جھوٹا علمی اور اصلی قوی میں کچا اور تین دادیاں اور نانیاں اس کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں کہ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان جدی مناسبت سے تھا۔ زنا کاری کا عطر ایک کنجری سے آپ نے کرایا تھا۔
- ٢...... "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار متکبر خود بین خدا کا دعویٰ کرنے والا۔ مگر اس سے پہلے بھی کئی خدا کا دعویٰ کرنے والے گزر چکے ہیں۔ ایک مصر میں ہی موجود تھا۔"
(مکتوبات احمدیہ حصہ سوئم ،نور القرآن نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٨٧)
دوستو ! انصاف سے کام لو کیا ایسا شخص انبیاء علیہ السلام کی توہین کرنے والا نبی ہوسکتا ہے۔ کسی شریف بنی نوع انسان کا کام نہیں گالیاں دینا۔ کسی نبی کی تحقیر کرنی کفر ہے۔ سب پر ایمان لانا فرض ہے۔
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ
بسم الله الرحمن الرحيم!
نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، يستنبؤنك احق هو فقل اى وربى انه لحق!
بخدمت جناب مولوی ثناء اللہ امرتسری السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ مدت سے آپ کے
١۔ مرزائی لوگ اس بدنامی کے سیہ داغ کو رفع کرنے کے لئے عذر پیش کیا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو برا بھلا نہیں کہا۔ یسوع مسیح کو کہا گویا ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ اور یسوع مسیح دو شخص ہیں۔ مگر حقیقت میں ایک ہی شخص ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی کہتے ہیں۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
١٠
پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال اور مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا ہے اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوا ہوں اور آپ بہت سی افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں ۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں مفتری اور کذاب نہیں ہوں اور خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے مطابق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم اور خبیر ہے اور میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک امراض سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین! میں ان کے ہاتھوں سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد
١١
سے گزر گئی۔ وہ مجھے اب چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت ”لا تقف ما لیس لک بہ علم“ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ اپنی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے میں اب تیرے ہی تقدس کا اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!“ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین“
بالآخر مولوی (ثناء اللہ) صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
مولانا ثناء اللہ امرتسری جن کے متعلق مرزا قادیانی نے مذکورہ فیصلہ لکھا ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج مورخہ ٢٦؍ اکتوبر ١٩٣٣ء تک زندہ سلامت ہیں اور خود قادیانی بناوٹی نبی غلام احمد دوسرے سال ہی اپنی دعا کی زد میں آ کر ہیضہ کے عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور کے مقام سے ان کا جنازہ دجال کے گدھے کی پیٹھ پر سوار ہو کر قادیان پہنچا۔ اب اس پر مولانا مولوی ثناء اللہ مرزائیوں کو گھیرے ہوئے ہیں کہ تمہارے امام و مرشد کے قول کے مطابق جھوٹا سچے کی زندگی میں مر چکا ہے۔ اب تمہیں سچے کے ہاتھ پر بیعت کر کے جھوٹے کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے۔ مرزائی پہلے تو کچھ عرصہ خاموش رہے۔ پھر بھاگنے کے لئے یہ راستہ اختیار کیا کہ اسی دعا کا نام مباہلہ رکھا۔ لیکن یہ مباہلہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ جب کہ ان کے پیرومرشد ظلی وبروزی نبی متذکرہ بالا اقرارنامہ کے دفعہ نمبر ٥ میں بحضور خداوند یہ اقرار کر چکے ہیں۔
”میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست
١٢
یا پیر کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔" مرزا قادیانی نے یہ اقرار ٢٤ مئی ١٨٩٩ء کو کیا ہے اور دعا جس کو مرزائی مباہلہ بتا رہے ہیں۔ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو کی گئی ہے۔ اب مرزائیوں کے پاس سوا اس کے کیا جواب ہے کہ مرزا قادیانی کا ساتھ چھوڑ دیں اور دین مصطفوی کے صحیح معنوں میں پابند ہو جائیں اور دوزخ کی نار کو اپنی عار پر ترجیح نہ دیں۔ دوستو ! موت کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ کب آجاوے۔ لہٰذا جہاں تک ممکن ہو نیک کام میں جلدی کرنی چاہئے۔
آمد مسیح علیہ السلام
”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد حتیٰ تکون السجدۃ الواحدة خیراً من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ الآیة متفق علیہ (مشکوٰۃ ص٤٧٨، باب نزول عیسٰی علیہ السلام) ”ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے۔ پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے۔ اس کو موقوف کرائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال سے اچھا معلوم ہوگا۔ ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو۔ تو یہ آیت پڑھ لو: ”وان من اھل الکتب“ یعنی عیسٰی علیہ السلام کے اترتے وقت کل اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے۔﴾
اگر غور سے اس حدیث کی طرف دیکھا جائے تو کیا مرزا قادیانی میں ایسی صفت موجود تھی۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں کہ مال کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ برخلاف اس کے آج لوگ مال کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں۔ بلکہ خود مرزا قادیانی سیالکوٹ میں پندرہ روپے ماہوار پر ملازم رہے۔ (سبحان اللہ) ایسے ہی مسیح تھے۔
- ٢...... ”عن النبی ﷺ قال والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم
بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او لیثنینھما (باب جواز التمتع فی الحج والقران
١٣
صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مسیح موعود فج الروحاء سے جو مکہ مدینہ کے درمیان جگہ ہے۔ (نووی شرح مسلم) حج کا احرام باندھیں گے۔“ یہ حدیث حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعین کرتی ہے۔
مرزا قادیانی کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلمہ امر ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا ان کو تو ہندوستان سے باہر جانا بھی نصیب نہ ہوا۔ احرام باندھنا تو کجا رہا۔
نواب صدیق حسن خان مرحوم
بھوپالوی اپنی کتاب (حج الکرامہ فی اثار القیامہ ص ٤٢٣) پر کنز العمال کے حوالے سے حدیث نقل کرتے ہیں ۔”وفی حدیث ابن عباسؓ ذکرہ صاحب کنز العمال سمعت رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم من السماء علی جبل افیق اماما ھادیا حکما عادلا علیہ ، برنس لہ مربوع الخلقة اصلت سبط الشعر بیدہ حربة يقتل الدجال وتضع الحرب اوزارھا “ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی حدیث میں آیا ہے۔ جس کو صاحب کنز العمال نے ذکر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ حضور پر نور ﷺ فرماتے تھے کہ میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے اترے گا۔ افیق پہاڑ پر وہ امام ہدایت کرنے والا ہوگا اور حاکم اور عادل ہوگا۔ اس پر ایک کوٹ ہوگا۔ میانہ پیدائش ہوگا۔ اس کے سر پر بال سیدھے لمبے ہوں گے۔ اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا اور جنگ بند ہو جائے گی۔“
پیش گوئی ڈپٹی آتھم
یہ پیش گوئی مرزا قادیانی نے مورخہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ کے خاتمہ پر اپنے دشمن مقابل ڈپٹی آتھم کے متعلق کی تھی۔ جس کی اصلی عبارت درج ذیل ہے۔
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے اور وہ انہی مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق
١٤
کی طرف رجوع نہ کرے اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور چلنے لگیں گے اور بعض بہرے یہ پیش گوئی اپنے مع نہ ہوا۔ بلکہ باوجود آتھم کفر پر متعلق مرزا قادیانی نے بہت ع
مرزا قادیانی کا معیار
”ہمارا صدق یا کذ نہیں ہو سکتا۔“
دوستو! کیا مرزا قاد ہی مرگیا؟ اگر میعاد مقررہ کے ا مرزا قادیانی از روئے فتویٰ خود ک
تہذیب مرزا
- ١...... ”اے
آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت ک ایمانی کا پیالہ پیا ہے۔ وہی عوام
- ٢...... مولان
ہے: ”اس نالائق نذیر حسین او ہے۔“
- ٣...... ”ہمار
شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں
- ٤...... ”ہمار
ہیں۔“
رئیس الموحدین ض حسین بٹالوی اس خیال پر زط
کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١)
یہ پیش گوئی اپنے مضمون میں بالکل صاف ہے۔ کسی قسم کا پیچ پیچ نہیں۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ بلکہ باوجود آتھم کفر پر رہ کر میعاد مقررہ کے بعد بھی تقریباً دو سال تک زندہ رہا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی نے بہت عذر پیش کئے۔
مرزا قادیانی کا معیار
”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(دافع الوساوس ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
دوستو! کیا مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی صادق نکلی۔ کیا مسٹر آتھم میعاد مقررہ کے اندر ہی مر گیا؟ اگر میعاد مقررہ کے اندر ہی مرا ہے تب تو مرزا قادیانی کی پیش گوئی سچی نکلی۔ اگر نہیں تو مرزا قادیانی از روئے فتویٰ خود کذاب ٹھہرے۔
تہذیب مرزا
- ١...... ”اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت
آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑ دو گے۔ اے ظالم مولویو تم پر افسوس ہے کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا ہے۔ وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٢...... مولانا شمس العلماء سید نذیر حسین صاحب محدث دہلویؒ کی شان میں لکھا
ہے۔ ”اس نالائق نذیر حسین اور اس کے نا سعادت مند شاگرد محمد حسین (بٹالوی) کا یہ سراسر افتراء ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٣...... ”ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا صاف سمجھا جائے گا اس کو ولد الحرام بننے کا
شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
- ٤...... ”ہمارے مخالف مسلمان جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر
ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
رئیس الموحدین مولانا احمد اللہ صاحب مرحوم امرتسریؒ کے حق میں لکھا ہے: ”اگر محمد حسین بٹالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے۔ اگر مولوی احمد اللہ امرتسری
١٥
یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے اور تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنی تقویٰ دکھائیں ...... مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
نوٹ : مرزا قادیانی (ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١) پر فرماتے ہیں: ”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا بطریق شرافت نہیں۔“ اس سے ناظرین کرام خود ہی نتیجہ نکال سکتے ہیں۔
لطیفہ : ایک دفعہ مرزا قادیانی نے مولانا محمد حسینؒ بٹالوی کی نسبت یہ لکھا کہ اے اللہ مولوی صاحب کو تیرہ ماہ کے اندر ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر ، جب مولوی صاحب مرحوم کو کسی طرح کی ذلت نہ ہوئی بلکہ روز افزوں عزت افزائی ہوتی گئی تو مرزا قادیانی نے خفیہ کاروائی سے مولوی صاحب پر ایک کفری فتویٰ لگوادیا اور کہا کہ یاد رکھو کہ بس یہی ذلت تھی۔ جب غور کیا اور سمجھے کہ اس سے تو کام نہ چلے گا تو اور سوجھی کہ مولوی صاحب مرحوم کو انہیں ایام سے گورنمنٹ آف انڈیا نے بہت سی اراضی دی تھی۔ جو کہ قریب پانچ مربعہ کے ایک ہی جگہ تھی اور نہری پانی سے خوب آباد تھی۔ تو مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ بجائے ذلت کے ان کو عزت ملی ہے تو فوراً لکھ دیا کہ اراضی کا ملنا بھی ذلت ہے۔ مرزا قادیانی ایسی تاویلوں سے کام لیا کرتے تھے۔
محمدی بیگم
مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھتے ہیں: ”یاد رکھو! اس پیش گوئی کی دوسری جز (نکاح) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“ مرزا قادیانی نے ایک عورت محمدی بیگم سے نکاح کی سکیم چلائی تھی۔ جس پر کئی الہام اور خفیہ کاروائیاں بھی کیں ۔ مگر اس عورت محمدی بیگم سے آپ محروم رہے۔ برخلاف اس کے عورت کے والد نے اپنی لڑکی کی شادی پٹی میں کر دی ۔ وہ آج مورخہ ٣١؍ اکتوبر ١٩٣٤ء تک زندہ سلامت ہے۔ ناظرین! اپنی قوت استدلالیہ سے خود ہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
سری رام چندر
مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں : ”مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
١٦
اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص٢٩١) پر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہ تھا۔“
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
توہین حضرت فاطمۃ الزہراؓ
”حضرت فاطمۃ الزہرا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٤، خزائن ج ١ ص ٥٩٩ حاشیہ)
اختلافات مرزا
محدث ہونے کا اقرار
”یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً، توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، حمامۃ البشریٰ ص ٧٥، ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٠، ٢٩٧) میں مرزا قادیانی کو اپنی محدثیت کا اقرار ہے۔ اب اس کے برخلاف دیکھئے۔
محدث ہونے سے انکار
”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت میں اظہار غیب کے نہیں ہیں۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩، حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں محدثیت کی بجائے دعویٰ نبوت موجود ہے۔
مہدی ہونے کا اقرار
”یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤، خطبہ الہامیہ ص ٢٤، خزائن ج ١٦ ص ایضاً حاشیہ، تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣) میں مہدویت کا اقرار موجود ہے۔
١٧
مہدی ہونے سے انکار
”میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں۔ جو مصداق من ولد فاطمۃ ومن عترتی وغیرہ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)
مسیح موعود ہونے کا اقرار
- ١...... ”اب ثبوت اس بات کا کہ وہ مسیح موعود جس کے آنے کا وعدہ قرآن کریم
میں ہے۔ یہ عاجز (مرزا قادیانی) ہی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)
- ٢...... ”اب جو امر اللہ تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ مسیح
موعود میں ہی ہوں۔“ (ازالۃ اوہام ص ٢٦١،٢٦٩، خزائن ج ٣ ص ٢٣٩، اتمام الحجہ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٢٧٥، شہادۃ القرآن ص ٧٢، خزائن ج ٦ ص ٣٦٨، خطبہ الہامیہ ص ١٨، خزائن ج ١٦ ص ٥١، کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١، تحفۃ الندوہ ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٩٥، دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) میں مسیحیت مذکور ہے۔
مسیح موعود ہونے سے انکار
”اس عاجز (مرزا قادیانی) نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
(الی ان قال) ”میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔“ (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١) میں بھی مسیحیت کا انکار ہے۔
نبی ہونے کا اقرار
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر قادیان مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١، تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣، تجلیات الہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢، حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ، تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٢) میں بھی نبوت کا اقرار ہے۔
نبی ہونے سے انکار
”خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں نبوت کا مدعی بنوں۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
١٨
”سوال رسالہ فتح الاسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اما الجواب نبوت کا دعویٰ نہیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠، تحفہ بغداد ص ٧، ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٩، ٣٣، انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کے ایلچی تھے
”وہ باتیں زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر بآدب التماس کروں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)
مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کے ایلچی نہ تھے
”خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی (مرزا قادیانی) مسیح موسوی سے افضل ہے۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)
- ا......”انت منی وانا منك “ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(تذکرہ ص ٤٢٢، دافع البلا ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
- ا......”انت منی بمنزلة اولادی “ اے مرزا تو میرے بیٹے کی طرح ہے۔
(تذکرہ ص ٤٢٢، دافع البلا ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
- ٢......خدا کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا۔
(کرامات الصادقین ص ٨، خزائن ج ٧ ص ٥٠)
- ٢......خدا اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے۔
(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
- ٣......وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥٠، تذکرہ ص ٦٣)
- ٣......ہم ویدوں کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔
(پیغام صلح ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤)
- ٤......خدا تعالیٰ ہر ایک نقصان سے پاک ہے۔ جس پر کبھی موت اور فناء طاری نہیں ہوتی۔ بلکہ اونگھ اور نیند سے جو فی الجملہ موت سے مشابہ ہے۔ پاک ہے۔
(وید قرآن کا مقابلہ ص ٢٧)
- ٤......مرزا قادیانی کو خدا مخاطب کر کے فرماتا ہے ۔ ”واسهر وانام “ یعنی میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩، تذکرہ ص ٤٦٠)
١٩
قادیان میں طاعون نہیں آئے گا
”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا ستر برس تک قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔“
(دافع البلاء ص ٥، ٧، ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ تا ٢٣٠)
برخلاف
”اور پھر طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
مرزا قادیانی کا منکر کافر نہیں
- ١...... ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی
شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
- ٢...... ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر
کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت و احکام جدید لاتے ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے
- ١...... ”جو مجھے (مرزا قادیانی کو) نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔
کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ٢...... ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے۔
(مرزا قادیانی) خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس شخص کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
خلیفہ محمود فرماتے ہیں ۔ ”جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء، عقائد محمودیہ ص ٤)
پیارے دوستو! میں نے آئینہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ دیکھو کس قدر بناوٹی نبی کی زبان میں تناقض ہے۔ باوجود اپنے آپ کو نبی کہلانے کے پھر اس قدر باتوں میں تناقض۔
٢٠
متضاد اور متناقض باتیں کہنے والا پاگل ہے
مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ......١ "ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متضاد باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے
طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔"
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
- ......٢ "اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے۔ ایک کھلا کھلا
تناقض اپنی کلام میں رکھتا ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
- ......٣ "جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
سبحان اللہ! مرزا قادیانی نے اپنی کذب بیانی پر خود دستخط کر دیئے۔ ہمارا بھی یہی مقصد تھا کہ خدا تعالیٰ سچ اور جھوٹ میں سچا فیصلہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ جو شخص جھوٹا ہو اس کی باتوں میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی آنجہانی کی باتوں میں کس قدر تناقض ہے۔ ایک جگہ پر وید کو گمراہی سے بھرا ہوا کہتے ہیں اور دوسری جگہ پر خدا کی کلام ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ غرضیکہ ہزار ہا تناقض ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی بقول خود اپنے دعویٰ میں جھوٹے نکلے۔
فلاسفی اصول کے مطابق بھی وہ بات قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ جس میں کہ تناقض ہو۔
حیرت انگیز شبہ
مرزا قادیانی کے اس قسم کے اختلافات دیکھنے والا انسان سخت متحیر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جیسی شخصیت کا مالک جن کی پرواز آسمان نبوت سے گزر کر عرش الوہیت پر پہنچی ہوئی ہے اور جو بخیال خود تمام کمالات و اوصاف کے واحد اجارہ دار ہیں۔ ان سے ایسے اختلافات کا صدور جو پاگلوں اور مجنونوں سے بھی ناممکن ہیں۔ کیونکر ہوا، تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ درحقیقت مرزا قادیانی دماغی امراض دوران سر، مراق، جنون میں فطرتی طور پر مبتلا تھے۔ وہ اپنے دماغی توازن و صحت کو قائم نہ رکھ سکے۔ جس سے ان بے سروپا دعاوی اور مختلف باتوں کا آپ کے دماغ کشت زار سے پیدا ہونا ضروری تھا۔
٢١
انکار ختم نبوت
”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اس سے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
اس جگہ مرزا محمود آنجہانی نے صاف اقرار کیا ہے۔ انکار نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔ افسوس کہ خود ہی ان کے والد صاحب لکھتے ہیں کہ: ”بعد ہمارے نبی کریم ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آسکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
٢
حضرت امام حسین کی ہتک
صد حسین است در گریبانم
انى قتيل الحب لكن حسينكم
قتيل العدى فالفرق اجلی واظہر
میں حسین سے افضل ہوں۔ کیونکہ میں محبت کا قتل شدہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمن کا قتل شدہ ہے۔
(درثمین ص ١٩٣، اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
فرمان نبوی ﷺ
- ١......
”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (مشكوة شريف ص٤٦٥، باب الملاحم)“ ﴿یعنی اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک تیس جھوٹے دجال نہ پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے رسول ہونے کا گمان کرے گا۔﴾
- ٢......
”سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مشكوة شريف ص٤٦٥، كتاب الفتن)“ ﴿یعنی حضور سرور کائنات ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت میں عنقریب ہی تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ مسلمانو! یاد رکھو میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
٢٢
سب سے پہلے ایران کے اندر بہاء اللہ نامی ایک شخص نے رسالت کا دعویٰ کیا۔ پھر ہندوستان کے اندر مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو چلتے بنے۔ ان کے بعد ان کے مریدوں نے دوکانداری چلتی دیکھ کر نبی بن بیٹھے۔ چنانچہ اس وقت بھی تقریباً پانچ شخصوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔ ایک تو قادیان کے اندر ہی احمد نور کابلی جس کی دوکان قادیانی عبادت گاہ مبارک کے پاس ہے اور سرمہ فروخت کرتا ہے۔ دو شخص ایک عبداللہ اور ایک اور شخص ہے۔ جس کے نام سے میں ناواقف ہوں جو ہر ماہ میں دو چار رسالے شائع کرتا ہے۔ نبوت کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔
اس نے پیش گوئی کی ہوئی ہے کہ لاہور، دہلی اور قادیان پر عذاب الٰہی آنے والا ہے۔ کئی اور بھی نبوت کے امیدوار ہیں۔ جو کہ عنقریب انشاء اللہ نبوت کا دعویٰ کریں گے اور بموجب فرمان محمدی ﷺ تیس دجالوں کی فہرست کے اندر اپنا نام درج کرائیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی
- ١....... ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب
تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘
(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ٢....... ’’افسوس ہے جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات میں غلطیاں
ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)
- ٣....... ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شخص نے جو ان کا مرید بھی تھا۔ اعتراض
کیا کہ آپ نے ایک فاحشہ عورت سے عطر کیوں ملوایا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پاؤں دھوتا ہے اور یہ آنسوؤں سے۔‘‘
(اخبار بدر مورخہ ٤؍مئی ١٩٠٨ء)
مریم صدیقہ پر اتہامات
- ١....... ’’افغان یہودیوں کی طرح نسبت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں کرتے۔
لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے۔‘‘
(ایام الصلح ص ٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)
٢٣
- ٢...... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یوسف اور مریم کی
اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ)
ناظرین کرام! مرزا قادیانی نے جس دریدہ دہنی و اتہام طرازی سے حضرت مریم صدیقہ کی عصمت و ناموس پر حملہ کیا ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کی ایمانی کیفیت خود بخود روشن ہو رہی ہے اور مرزائیت کے کفر دارانہ انداز میں یہ شہادت کافی سے بھی زیادہ ہے۔
توہین احادیث نبوی ﷺ
- ١...... ”اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
- ٢...... ”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں
سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)
مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی کے عقائد
- ١...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل
نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے عقائد یہ ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
میاں صاحب قادیانی نے اپنے تمام مخالف مسلمانوں کو کافر قرار دیا ہے۔
- ٢...... ”جو حضرت مرزا قادیانی کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٩ ص ١٤٠)
- ٣...... ”آپ نے (مرزا قادیانی نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔
مگر مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٩ ص ١٤٠)
پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی
ڈاکٹر صاحب موصوف عرصہ بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہے۔ جب انہوں نے مرزا قادیانی کے فریب و مکر اچھی طرح دیکھ لئے تو معلوم کر لیا کہ یہ دعویٰ نبوت محض ایک غلط
٢٤
پروپیگنڈہ اور دوکانداری کے سوا کچھ بھی نہیں تو ڈاکٹر صاحب نے آنجہانی کے برخلاف قلم اٹھائی۔ بلکہ دعویٰ الہام سے بھی مقابلہ کیا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنا آخری الہام مرزا قادیانی کی موت کے متعلق شائع کیا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی کے الفاظ درج ذیل ہیں۔
”ایسا ہی کئی دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان بھی نہ رہا۔ ہاں ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے۔ ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت ﷺ کے نجات ہو سکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف اس لئے میں نے منع کیا۔ مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر میں نے اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جاوے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا ضرور اس کی مدد کرے گا ۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)
اس مقابلہ کا انجام یہ ہوا کہ مرزا قادیانی، ڈاکٹر صاحب کی میعاد مقررہ کے اندر ہی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہو گئے اور اس کے بعد ڈاکٹر صاحب عرصہ تک زندہ رہے۔
ناظرین کرام
آپ کو اس کے مطالعہ سے حقیقت سے آگاہی ہوگئی ہے کہ مرزا قادیانی از روئے قرآن مجید وحدیث نبوی ﷺ اور بقول خود نہ مسیح، نہ نبی، نہ مجدد تھے۔ بلکہ ایک مجنون الحواس انسان تھے۔ ان کا پروپیگنڈہ محض شریف بنی نوع کو مغالطہ میں ڈالنا تھا۔ مجدد تو کجا بلکہ ہفوات مرزا سے پتہ چلتا ہے کہ آنجہانی شریف انسان بھی نہ تھے۔
ہم بوجہ مجبوری مرزا قادیانی کی پوری حقیقت واضح نہیں کر سکے۔ لہٰذا معافی کے
٢٥
خواستگار ہیں۔ باقی حقیقت ہم انشاء اللہ العزیز اپنے دوسرے رسالہ تحفہ غزنویہ فی تردید کرشن قادیانی کے اندر ہدیہ ناظرین کریں گے۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
مباہلہ غزنوی
جن دنوں مرزا قادیانی نے ڈپٹی آتھم سے مباحثہ کیا تھا۔ انہی دنوں میں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی امرتسری سے مباہلہ کیا۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مرزا قادیانی کے مقابلہ میں اشتہارات وغیرہ نکالا کرتے تھے۔ بات بڑھتے بڑھتے مباہلہ تک نوبت پہنچی۔ جس کو آخر کار فریقین نے منظور کر لیا۔ آخر کار خط و کتابت کے بعد مرزا قادیانی امرتسر میں آئے اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو ایک عریضہ لکھا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نحمده ونصلى على رسوله الكريم! از طرف عاجز عبداللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ!
برادر میاں عبدالحق غزنوی کو واضح ہو کہ اب حسب درخواست آپ کے جس میں آپ نے قطعی طور پر مجھ کو کافر اور دجال لکھا ہے۔ مباہلہ کی تاریخ ہو چکی ہے اور میرے امرتسر میں آنے کے لئے دو ہی وجہیں تھیں۔ ایک عیسائیوں سے مباحثہ اور دوسرے آپ سے مباہلہ میں بعد استخارہ مسنونہ انہیں دو غرضوں کے لئے مع اپنے قبائل کے آیا ہوں اور جماعت کثیر دوستوں کی جو میرے ساتھ کافر ٹھہرائی گئی ہے۔ ساتھ لایا ہوں اور اشتہارات بھی شائع کر چکا ہوں اور متخلف پر لعنت بھیج چکا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے لعنت سے حصہ لے میں تو حسب وعدہ میدان مباہلہ یعنی عید گاہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔ خدا تعالیٰ کاذب اور کافر کو ہلاک کرے۔
”ولا تقف ما لیس لك به علم ان السمع والبصر والفواد كل اولئك کان عنه مسؤولا“ یہ بھی واضح رہے کہ میں مورخہ ١٥؍ جون ١٨٩٣ء کے مباحثہ میں نہیں جاؤں گا۔ بلکہ میری طرف سے اخویم حکیم نورالدین صاحب یا حضرت سید محمد احسن صاحب بحث کے لئے جاویں گے۔ ہاں یہ منظور ہے کہ مقام میں کوئی وعظ نہ کروں۔ صرف یہ دعا ہو گی کہ میں مسلمان اللہ رسول کا متبع ہوں۔ اگر میں اس قول میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ میرے پر لعنت کرے۔
٢٦
آپ کی طرف سے یہ دعا ہوگی کہ یہ شخص درحقیقت کافر کذاب اور دجال اور مفتری ہے اور اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے۔
اگر یہ الفاظ میری دعا کے آپ کی نظر میں ناکافی ہوں جو آپ تقویٰ کی راہ سے لکھیں کہ دعا کے وقت یہ کہا جائے۔ وہی لکھ دوں گا۔ مگر اب ہرگز ہرگز تاریخ مباہلہ تبدیل نہیں ہوگی۔ ”لعنۃ اللہ علیٰ من تخلف منا وما حضر فی ذالک التاریخ والیوم والوقت والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ“ خاکسار: غلام احمد از امرتسر
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ اول ص ١٩١،١٩٢، مورخہ ٧؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ)
غرض یہ ہے کہ اب میں بری الذمہ ہو گیا ہوں اور مجھ پر کسی قسم کی ملامت نہیں۔ کیونکہ میں نے تاریخ کا بدلنا تو اس سبب سے چاہا تھا کہ اگرچہ میں اور دیگر مسلمان مرزا قادیانی کو کیسا ہی گمراہ سمجھیں۔ مگر جب وہ اسلام کی طرف سے لڑتا ہے تو ہم سب کو بجائے بددعا کے دعا اور مدد دینی چاہئے۔ مگر مرزا قادیانی نے وہ تاریخ ١٠؍ ذیقعدہ نہیں بدلی۔ اب بھی اس وقت معینہ پر کہ ١٠؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ بوقت ٢ بجے دن کے اپنا حاضر ہونا مباہلہ کے واسطے مقام مباہلہ میں فرض سمجھتا ہوں اور وہاں جا کر وعظ یا لیکچر یا اظہار صفائی طرفین سے مطلق نہ ہوگا۔ جیسا کہ اس نے اپنے خط میں وعدہ کر لیا ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں گا۔ مقام عیدگاہ میں مباہلہ اس طریق پر بدیں الفاظ ہوگا۔
”میں یعنی عبدالحق تین بار بآواز بلند کہوں گا کہ یا اللہ مرزا قادیانی کو ضال، مضل، ملحد، دجال، کذاب، مفتری، محرف کلام اللہ تعالیٰ واحادیث رسول اللہ ﷺ سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر۔ جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔“
مرزا تین بار بآواز بلند کہے۔ یا اللہ اگر میں ضال ومضل وملحد ودجال وکذاب ومفتری ومحرف کتاب اللہ واحادیث رسول اللہ ﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر۔ جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔ بعدہ رو بقبلہ ہو کر دیر تک ابتہال اور عاجزی کریں گے کہ یا اللہ جھوٹے کو شرمندہ اور رسوا کر اور سب حاضرین مجلس آمین کہیں گے۔“ المشتہر: عبدالحق غزنوی از امرتسر پنجاب
(مورخہ ٨؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ مطابق ماہ جون ١٨٩٣ء)
اس اشتہار کے مطابق عیدگاہ امرتسر میں دونوں صاحبوں کا مباہلہ ہوا اور دونوں فریق امن وامان سے واپس آ گئے۔
٢٧
نتیجہ: اس مباہلہ کا یہ ہوا کہ اس سے ایک سال تین ماہ بعد جب ڈپٹی آتھم والی پیش گوئی کی میعاد پوری ہوگئی اور آتھم کی وفات نہ ہوئی اور چاروں طرف سے مرزا قادیانی پر بھر مار ہوئی تو مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مباہل نے اشتہار دیا۔ جس کا عنوان ”اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی برغلام احمد قادیانی“ اس اشتہار میں غزنوی مباہل نے مرزا قادیانی کی ناکامی اور بدنامی اور رسوائی کو اپنے مباہلہ کا نتیجہ قرار دیا اور سند میں مرزا قادیانی کے رسالہ (حجت الاسلام ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٤٩) کا حوالہ دیا۔ جس میں مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے جواب میں لکھا تھا۔ میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہوں۔ اگر نشانی ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔
آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے مباہل کی موجودگی میں مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو فوت ہو گئے اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی امرتسری مرزا قادیانی سے پورے ٩ سال بعد ٢٣ رجب ١٣٣٥ھ مطابق ١٦ مئی ١٩١٦ء کو فوت ہوئے۔ پس حقیقت میں مرزا قادیانی ہی کذاب تھے اور مولانا مولوی عبدالحق مرحوم صادق تھے۔ خدا تعالیٰ نے صادق کی زندگی میں ہی کذاب کو اٹھا لیا۔
عمر مرزا
(کتاب سراج المنیر ص ٧٩، خزائن ج ١٢ ص ٨١) پر لکھا ہے:
- ١...... چھتیسویں پیش گوئی یہ ہے۔ جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھ چکا ہوں۔
خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تیری عمر اسی برس یا اس سے کچھ کم یا زیادہ ہوگی۔ (اس فقرے میں لفظ کم یا زیادہ کا ہے) ظاہر ہے کہ خدا کو بھی اچھی طرح معلوم نہیں۔ (بقول مرزا قادیانی) ”میں تجھے اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢)
- ٢...... کتاب (منظور الٰہی ص ٢٢٨) پر لکھا ہے: ”تیس سال سے زیادہ عرصہ گذرتا
ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اسی برس یا دو چار اوپر نیچے ہوگی۔“
- ٣...... ”سو اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا
کہ میں اسی برس یا دو تین برس کم زیادہ تیری عمر کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
جھوٹا تھا۔ تبھی جلد مر گیا۔ اس قریباً من ذلك او تز ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیا (اربعین
پیدائش مرزا
( کتاب البریہ ص ١ ١٨٣٠ء میں سکھوں کے آخری اور کتاب (نور الـ مہدی مسعود ١٨٣٩ء“ (اخبا ہے: ”مرزا قادیانی کا جنم ٣٩ مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء ا نوٹ: مرزا قادیا پس آپ کی عمر وا احمد قادیانی کی عمر ٧٤ سال ہے متعلق ہیں۔ وہ چھہتر اور چھیاس
مرزا غلام احمد قادیا ہے: ”جب ایک بات میں کوئی
قرآنی کسوٹی اور مرزا قا
چونکہ انبیائے کرام کرام کا اخلاق کریمہ بھی اعلیٰ قرآن مجید کے اندر فرماتے ہ محمدﷺ آپ خلق عظیم پر پ چنانچہ ملاحظہ ہو:
جھوٹا تھا۔ تبھی جلد مر گیا۔ اس لئے پہلے ہی خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”ثمانین حولا او قريباً من ذالك اوتزيد عليه سنيناً وترى نسلاً بعيدا “ یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل دیکھے گی۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٤١٨، ضمیمہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)
پیدائش مرزا
(کتاب البریہ ص ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) پر لکھا ہے کہ : ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔“
اور کتاب (نور الدین ص ١٧٠) پر لکھا ہے: ”سن پیدائش حضرت صاحب المسیح موعود مہدی مسعود ١٨٣٩ء ۔“ (اخبار بدر ١٣؍دسمبر ١٩٠٢ء ص ٥، اخبار الحکم مورخہ ١٥؍دسمبر ١٩٠٢ء ص ٧) پر یوں لکھا ہے : ”مرزا قادیانی کا جنم ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوا تھا۔“ مندرجہ بالا تحریروں سے معلوم ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء یعنی ١٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے تھے۔
نوٹ : مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوئے تھے۔
(عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٦٠٧)
پس آپ کی عمر ٦٩ سال کی ہوئی۔ ان تمام دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر ٧٤ سال سے کم ہوئی۔ حالانکہ وہ لکھ چکے تھے کہ : ”جو ظاہر الفاظ کے وعدہ کے متعلق ہیں ۔ وہ پچھتر اور چھیاسی کے اندر اندر کی عمر کی تعین کرتے ہیں ۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) پر لکھا ہے : ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
قرآنی کسوٹی اور مرزا قادیانی
چونکہ انبیائے کرام تمام بنی نوع کے لئے رہنما اور نمونہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے انبیائے کرام کا اخلاق کریمہ بھی اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔ خداوند تعالیٰ رسول اکرم ﷺ کی شان کی بابت قرآن مجید کے اندر فرماتے ہیں ۔ ”وانك لعلى خلق عظيم (القلم :٤) “ ﴿یعنی اے محمد ﷺ آپ خلق عظیم پر ہیں ۔﴾ مرزا قادیانی فرمان الٰہی سے لاکھوں کوس دور پڑے ہیں ۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
٢٩
ہفوات مرزا
- ١...... ”جو شخص اپنی شرارت سے بار بار کہے گا اور کچھ شرم و حیا کو کام میں نہیں
لائے گا اور بغیر اس کے کہ ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے۔ جو میں نے پیش کی ہے۔ ورنہ حرامزادے کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوارالاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
- ٢...... ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
کر۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ٣...... ”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا “ یعنی
سب مسلمان مجھے قبول کرتے اور میری دعوت کو مانتے۔ مگر حرامزادے نہیں مانتے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اب میں بھی وہی سوال قادیانیوں سے کرتا ہوں جو کہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری فاتح قادیان نے اپنے رسالہ موسومہ بہ (تعلیمات مرزا ص ٦٣، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٩ ص ٢١٥) پر کیا ہے۔ ایک شخص بہت عرصہ تک آنجہانی کا مخالف رہا۔ اتنا عرصہ حرامزادہ رہا مگر بحکم انقلاب وہ بجائے منکر کے معتقد ہو گیا۔ کیا اب وہ حلال زادہ ہو جائے گا۔
دعویٰ مرزا
- ١...... ”میں محدث ہوں“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٢...... ”مجدد ہوں“
(حقیقت الوحی ص ١٩٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١)
- ٣...... ”مسیح موعود“
(ازالہ اوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
- ٤...... ”مثیل مسیح ہوں“
(توضیح المرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١)
- ٥...... ”مہدی ہوں“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤)
- ٦...... ”ملہم ہوں“
(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)
٣٠
گے گا اور کچھ شرم و حیا کو کام میں نہیں سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان گا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد وہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
تی دعوتي الا ذرية البغايا “ یعنی حرامزادے نہیں مانتے۔
کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ہن جو کہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ا مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٩ ص ٢١٥) پر یا تو عرصہ حرامزادہ رہا مگر بحکم انقلاب وہ
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
(حقیقت الوحی ص ١٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١)
(ازالۃ الاوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
(توضیح المرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١)
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤)
(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)
- ٧...... ”حارث موعود ہوں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١)
- ٨...... ”رجل فارسی ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ١١٥)
- ٩...... ”اتار کرشن ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
- ١٠...... ”خاتم الانبیاء ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- ١١...... ”خاتم الاولیاء ہوں۔“
(خطبۃ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
- ١٢...... ”خاتم الخلفاء ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٤، کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)
- ١٣...... ”چینی الاصل ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧)
- ١٤...... ”معجون مرکب ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٣)
- ١٥...... ”یسوع کا ایلچی ہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)
- ١٦...... ”مسیح ابن مریم سے افضل ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ١٧...... ”حسین سے بہتر ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ١٨...... ”رسول ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ١٩...... ”مظہر خدا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
- ٢٠...... ”مانند خدا ہوں۔“
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- ٢٢...... ”بروزی محمد و احمد ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- ٢٣...... ”تشریعی نبی ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ٢٤...... ”حجر اسود ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ٢٥...... ”نوح ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ٢٦...... ”ابراہیم ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ٢٧...... ”یوسف ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ٢٨...... ”موسیٰ ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ٢٩...... ”داؤد ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
- ٣٠...... ”سلیمان ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
٣١
- ٣١...... ”یعقوب ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
- ٣٢...... ”تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
- ٣٣...... ”تمام انبیاء سے افضل ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٣٤...... ”احمد مختار ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٣٥...... ”اسمہ احمد کا میں ہی مصداق ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٣٦...... ”مریم ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
- ٣٧...... ”میکائیل ہوں۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
- ٣٨...... ”بیت اللہ ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)
- ٣٩...... ”آریوں کا بادشاہ ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
- ٤٠...... ”امام الزمان ہوں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
- ٤١...... ”محی ہوں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٥٦، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ٤٢...... ”ممیت ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٤)
بشارت بحق احمد ﷺ
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پیش گوئی کی تھی۔ ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کہ میرے بعد ایک رسول ہوگا۔ جس کا نام احمد ہوگا۔ ہمارا اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اسمہ احمد کے حقیقی مصداق حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ تھے۔
(مسند احمد ج ٤ ص ١٢٧، ١٢٨، ج ٥ ص ٢٦٢)
اس کے علاوہ کتب حدیث تفاسیر کے اندر صاف لکھا ہے کہ اسمہ احمد کے حقیقی مصداق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس پیش گوئی کے بارے میں مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ج ٢ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) پر لکھتے ہیں: ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے لحاظ سے ایک ہی ہیں۔ اس کی طرف اشارہ ہے۔ ”ومبشراً برسول یأتی من بعد اسمه احمد“ مگر ہمارے نبی کریم صرف احمد ہی نہیں ہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلالی و جمالی ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں یہ پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے۔ بھیجا گیا ہے۔“
٣٢
اسی طرح مرزا قادیانی کے صاحبزادے لکھتے ہیں ”پس اس آیت میں جس رسول احمد والے نام کی خبر دی گئی ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں۔ آپ کے وقت میں پورے ہوں۔ تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے۔ کیونکہ سب نشان جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر چسپاں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔“
(انوار خلافت ص ٢٣)
میں پہلے بھی آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ ہمارا کامل یقین ہے کہ اسمہ احمد کے اصلی مصداق نبی ﷺ ہیں۔ کسی قسم کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ سردست پھر بھی آپ کو بتا دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
- ١...... ”عن جبیر بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی
اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علٰی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (مشکوٰۃ شریف ص ٥١٥، باب اسماء النبی وصفاتہ) ﴿یعنی حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ سنا میں نے نبی کریم ﷺ سے فرماتے تھے۔ تحقیق میرے لئے نام ہیں۔ میں محمدؐ ہوں۔ احمدؐ ہوں اور میں ماحی ہوں۔ مٹا دے گا اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو اور میں حاشر ہوں۔ اٹھائے جاویں گے لوگ میرے قدم پر اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
امام نوویؒ نے فرمایا کہ ان ناموں کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے اور بھی نام ہیں اور ابن عربی نے اخوذی شرح ترمذی میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہزار نام ہیں اور اسی طرح رسول خدا ﷺ کے بھی ہزار نام ہیں۔
- ٢...... ”وعن ابی موسیٰ الاشعری قال کان رسول اللہ ﷺ
یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ (رواہ مسلم ج ٢ ص ٢٦١، باب فی اسمائہ ﷺ)“ ﴿روایت ہے ابی موسیٰ اشعریؓ سے کہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نام بیان کرتے تھے۔ ہمارے لئے اپنی ذات شریف کے اتنے نام پس فرماتے ۔ میں ہوں محمدؐ اور احمدؐ اور مقفی اور حاشر اور توبہ کا اور نبی رحمت کا۔﴾
٣٣
مرزائی لٹریچر
جب مسیح نے پیش گوئی کی تو احمد کے نام سے کی۔ کیونکہ وہ خود جمالی شان رکھتے تھے۔ یہ وہی نام ہے جس کا ترجمہ فارقلیط ہے اور پھر ”اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم“ اس لفظ میں لیڈ بھی آ گیا۔ جس کے معنی شیطان کے ہیں۔ بہر حال فارقلیط آنحضرت ﷺ کا نام ہے اور میں پیچھے عبارت نقل کر چکا ہوں کہ احمد کے معنی ہیں۔ فارقلیط مطابق اس تحریر کے اسمہ احمد کے مصداق آنحضرت ﷺ ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز اس کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ اب ہم ناظرین کی آگاہی کے لئے ایک تحریر مرزا نقل کرتے ہیں۔
”حضرت رسول کریم ﷺ کا نام احمد وہ ہے۔ جس کا ذکر حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا۔”یاتی من بعد اسمه احمد“ من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی جو میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ الفاظ نہیں کہے۔ بلکہ انہوں نے ”محمد رسول الله والذین آمنوا معه اشداء“ میں حضرت رسول کریم ﷺ کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب بہت سے مومنین کی معیت ہوئی جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت کا نام محمد بتایا ﷺ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خود بھی جلالی رنگ میں تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کا نام احمد بتایا۔ کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جلالی رنگ میں تھے۔
(ملفوظات احمد یعنی ڈائری ص ١٧٧)
جس بات کے ہم متلاشی تھے۔ وہ بات مرزا غلام احمد قادیانی نے خود ہی بتادی۔ اب جو لوگ اسمہ احمد کا مصداق مرزا آنجہانی کو مانتے ہیں۔ یہ محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔
عقلی دلیل
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا۔ غلام احمد نام ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ احمد کوئی پہلے گذر چکا ہے۔ یہ شخص اس کا غلام ہے۔ زمانہ حال کے اندر جتنے لوگ غلام احمد نام اپنی اولاد کا رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے۔ احمد ﷺ جو گذر چکے ہیں۔ یہ لڑکا ان کا غلام ہے۔ یعنی تابعدار!
٣٤
محمدی بیگم یار محمد ہے
یہ سرخی دیکھ کر آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے۔ میں اصل حقیقت آپ کے پیش نظر کرتا ہوں۔
ایک شخص یار محمد وکیل ہوشیار پوری اس کا دعویٰ ہے کہ محمدی بیگم میں ہوں۔ نکاح سے مراد بیعت میں میرا داخلہ ہے اور مرزا قادیانی کے بعد گدی کا حقدار میں ہوں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”قدرت ثانیہ کا مظہر وہ ہے جو میری خو پر ہو گا۔“ چنانچہ یہ علامت مجھ میں سب سے بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ مرزا محمود کے مقابلہ میں تقریباً پچاس رسالے لکھ چکا ہے۔ جن میں وہ خلافت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگر مسند خلافت پر چونکہ میاں محمود صاحب قابض ہیں۔ اس لئے اس کی تبلیغ معرض وجود میں نہیں آتی۔
سبحان اللہ! خدا کی شان کا کرشمہ ہے کہ ایک یہ بھی زمانہ آنا تھا۔ جس کے اندر آدمی عورتیں بن رہی ہیں۔ یار محمد صاحب نے کوئی انوکھی بات کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ خود آنجہانی نے اپنے آپ کو حیض آنے اور مریم بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوالہ پیچھے گزر چکا ہے۔ وہاں ملاحظہ ہو:
ولادت مسیح علیہ السلام
عیسائیوں کا عقیدہ تھا اور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ مگر قرآن مجید نے اس کی تردید کی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں۔ مگر افسوس کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے کہ کوئی معمولی سا انسان بھی نبی ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے۔ خواہ اس کا دعویٰ اسلام کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے ناعاقبت اندیش لوگ اس کی آواز پر لبیک پکار دیتے ہیں۔ مثلاً فرقہ نیچریہ جس کے بانی مبانی سرسید احمد خان علی گڑھی تھے۔ تمام اہل اسلام قرآن مجید کے علاوہ احادیث نبوی کو بھی حجت اور شرعی دلیل تسلیم کرتے ہیں۔ مگر یہ فرقہ سوائے قرآن کریم کے کسی دوسری چیز کو حجت نہیں مانتا۔ اب تو ہمارے شہر امرتسر کے اندر بھی چند ایک ہستیاں ایسے خیال کی پائی جاتی ہیں۔
- .......٢ دوسرا فرقہ چکڑالوی جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہلاتے ہیں۔ اس فرقہ
کے بانی مبانی مولوی عبداللہ جن کا اصلی نام غلام نبی تھا اور ضلع کیمبلپور کے باشندے تھے۔ وہاں سے دہلی جاکر حدیث پڑھی۔ کچھ عرصہ تک مسجد اہل حدیث چینیاں والی لاہور میں مقیم رہے۔ آہستہ
٣٥
آہستہ لوگوں کو حدیث پر عمل کرنے سے روکا اور قرآن مجید پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی۔ سوائے قرآن کے کوئی چیز قابل حجت نہیں۔ بعد میں آ کر حدیث کو بہت برا بھلا کہا۔ آخر کار کچھ لوگ مولوی صاحب مذکور کی آواز پر لپٹ ہی گئے۔
اب مسجد چینیاں والی کے اندر روزانہ نماز کے متعلق جھگڑا ہونے لگا۔ پہلے اہل حدیث کی جماعت ہونے لگی اور بعد مولوی صاحب کے ہم خیال لوگوں کی۔ مولوی صاحب کی جماعت میں سب سے بڑے رکن میاں محمد بخش چنو تھے۔ انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان کو ایک چٹھی لکھی تھی۔ جس میں دس بیس ہزار روپیہ مولوی صاحب کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بشرطیکہ مولوی صاحب اپنا مذہب چھوڑ کر اہل عیال کو لے کر ہمارے پاس آ جاویں اور ہمارے مذہب کی تبلیغ کریں۔ جس کے جواب میں مولانا صاحب نے لکھا کہ میں نے یہ مذہب کسی لالچ وغیرہ کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔ بلکہ سچا مذہب سمجھتا ہوں۔
آخر کار مولوی عبداللہ صاحب واپس اپنے وطن میں جا کر فوت ہو گئے۔ اس کی ایک جماعت گوجرانوالہ کے اندر پیدا ہو گئی۔ ایک جماعت شہر گجرات کے اندر کھڑی ہو گئی۔ جنہوں نے نماز میں صرف تین ہی فرض بتائے۔ ایک جماعت امرتسر کے اندر خواجہ احمد الدین نے امت مسلمہ کے نام سے قائم کی۔ امرتسر سے اس جماعت کا ایک ماہوار رسالہ البلاغ نکلتا ہے۔ اب ہم اصلی مقصد پر پہنچ گئے ہیں۔ مولوی محمد علی ایم اے امیر جماعت احمدیہ لاہور، خواجہ احمد الدین وغیرہ کا نصاریٰ کی طرح عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باپ کے ذریعہ پیدا ہوئے اور یہی عقیدہ تھا سرسید احمد علی گڑھی کا۔ یہ سب حضرت مسیح کی وفات کے بھی قائل ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران: ٥٩)“ یعنی بیشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی مثل ہیں۔ ان کو یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا۔ پھر ان کو حکم دیا کہ موجود ہو جا۔ پس وہ یعنی حضرت آدم علیہ السلام موجود ہو گئے۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ حضرت ابن مریم کا باپ کوئی نہ تھا۔ یعنی نہ خدا تھا اور نہ ہی کوئی انسان تھا۔ حضرت مریم صدیقہ کا خاوند ثابت کرنا سوائے کذب بیانی کے اور کچھ نہیں۔
٢...... ”كانا ياكلان الطعام“ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ محترمہ مائی مریم
٣٦
صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ السلام کا ذکر آتا ہے۔ اس جگہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ اور یہ کیوں نہ کہا کہ حضرت عیسیٰ کی۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا باپ کسی نبی کی مشابہت نہیں کھاتا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ لاہور کی تسلی کے لئے ہم ان شہادت کو قابل تسلیم نہ سمجھیں شہادت پیش کرتے ہیں۔
اس ”ہمارا ایمان اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور
معراج جسمانی
اہل اسلام کا متفقہ قرآن مجید پارہ ١٥ میں معراج حالت میں بولا جاتا ہے۔ موجود ہو جسم نہ ہو۔ تو ہم تب بھی جسمانی کے قائل نہیں۔ یہ علیحدہ کیونکہ معراج ہجرت سے ایک معراج سے واقعی روحانی مراد روحانی ہوا تھا۔ اب ہم مرزا
صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس جگہ بھی باپ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جہاں کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔ اس جگہ پر آپ کے باپ کا ذکر نہیں۔ ہم صرف اس فقرے پر بحث کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی مشابہت کیوں کہا اور یہ کیوں نہ کہا کہ حضرت عیسیٰ مثال ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باپ تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کا باپ نہ تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی کوئی باپ نہ تھا۔ اس لئے کسی دوسرے نبی کی مشابہت نہیں دی۔ صرف اسی پیغمبر کی مثال دی۔ جس کا باپ نہ تھا۔ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہ تھا۔ مولانا محمد علی ایم اے۔ امیر جماعت احمدیہ لاہور کی تسلی کے لئے ہم ان کے گھر کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ قرآن حدیث کی شہادت کو قابل تسلیم نہ سمجھیں۔ ہماری غرض تو صرف اصلاح ہے۔ اس لئے ہم ان کے گھر کی شہادت پیش کرتے ہیں۔
”ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ کے تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور نیچری یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا۔ وہ بڑی غلطی پر ہیں۔“
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٣۔ مورخہ ٢٤؍ جون ١٩٠١ء ص ١١)
معراج جسمانی
اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ معراج کو بجسم عنصری گئے تھے۔ جہاں قرآن مجید پارہ ١٥ میں معراج کا ذکر ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے عبد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ عبد اس حالت میں بولا جاتا ہے۔ جب کہ روح اور جسم دونوں چیزیں موجود ہوں اور اگر صرف روح موجود ہو جسم نہ ہو۔ تو ہم تب بھی عبد نہیں کہہ سکتے۔ باقی رہی یہ بات کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ معراج جسمانی کی قائل نہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے۔ معراج جسمانی کے وقت ابھی مائی صاحبہ شیر خوار تھیں۔ کیونکہ معراج ہجرت سے ایک سال پیشتر ہوا۔ مائی صاحبہ جو روحانی معراج کی قائل ہیں۔ اس معراج سے واقعی روحانی مراد ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کو معراج جسمانی کے سوا کئی دفعہ معراج روحانی ہوا تھا۔ اب ہم مرزائی دوستوں کی تسلی کے لئے خود ان کے امام کی شہادت پیش کرتے
٣٧
ہیں ۔ کیونکہ وہ اپنے امام کے قول کو تو رد نہیں کر سکتے ۔ شاید وہ قرآن اور حدیث کی دلیل کو تسلیم نہ کریں ۔ لہٰذا ہم معراج جسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کا فیصلہ پیش کرتے ہیں ۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : ”جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کیا گیا ہے ۔ وہ دو ہیں ۔ ایک ادریس علیہ السلام اور دوسرا مسیح ابن مریم جن کو کہ عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
یہ تاویل بالکل غلط ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان ہوائی اور ناری کرّے ہیں ۔ کسی بشر کو وہاں سے گذرنا دشوار ہے ۔ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی شخص کو معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھا سکتا ہے۔ اب تو خدا تعالیٰ نے کافروں کی یہ دلیل بھی توڑ دی ۔ کیونکہ موجودہ زمانہ کے اندر ہوائی جہاز سینکڑوں من لوہا اور آدمی لے کر اڑ سکتا ہے۔
معراج جسمانی کے اثبات میں علمائے متقدمین کا مذہب
حضرت امام ابو حنیفہؒ کا مذہب
چنانچہ فقہ اکبر کی شرح میں لکھا ہے : ”و خبر المعراج اے بجسده المصطفےٰ ﷺ یقظہ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ تعالیٰ فی المقامات العلیٰ حق اے حدیثہ ثابت بطریق متعددۃ فمن رواہ اے ذالک الخبر ولم یؤمن بمقتضی ذالک الاثر فھو مبتدع ضال مبتدع اے جامع بین الضلالۃ والبدعۃ (شرح فقہ اکبر ص ١٣٠)“ یعنی رسول اللہ ﷺ کو بیداری کی حالت میں مع آپ کے جسم کے آسمان تک پھر جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا بلند مقاموں تک معراج کا ہونا احادیث متعددہ سے ثابت ہے۔ جس نے اس کے وقوع کا انکار کیا اور اس کے صحیح ہونے کا انکار کیا۔ وہ گمراہ اور بدعتی ہے۔ یعنی اس میں بدعت اور گمراہی دونوں جمع ہیں۔
مولانا شاہ ولی اللہؒ کا مذہب
حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ”واسربہ الی المسجد الاقصیٰ ثم الیٰ سدرة المنتھیٰ والی ماشاء اللہ وکل ذالک بجسده ﷺ (حجۃ الله البالغہ ج ٢ ص ١٩٠) “ یعنی (اسی اثناء میں) آپ کو مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی۔ پھر وہاں
٣٨
سے سدرۃ المنتہیٰ اور جہاں تک خدا کی مرضی تھی سیر کرائی گئی۔ یہ تمام امور حالت بیداری میں جسم کے ساتھ واقع ہوئے۔
جمہور علمائے محدثین کا مذہب
خاتمۃ الحفاظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”فمنهم من ذهب الى ان الاسراء والمعراج وقع فى ليلة واحدة فى اليقظة بجسد النبىﷺ وروحه بعد البعث والى هذا ذهب الجمهور من علماء المحدثين والفقهاء والمتكلمين وتواردت عليه ظواهر الاخبار الصحيحه (فتح البارى ص ٤٥١، پ ١٥)‘‘ یعنی سلف میں سے بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ آپ کو اسراء اور معراج بیداری کی حالت میں معہ روح اور جسم کے ایک ہی رات میں معاً واقع ہوئی ہیں اور اسی طرف گئے ہیں۔ تمام علماء محدثین میں سے اور فقہا اور متکلمین میں سے اور اسی پر ظواہر اخبار صحیحہ کا وارد ہونا بھی پایا جاتا ہے۔
علامہ ابن القیمؒ کا مذہب
آپ فرماتے ہیں: ”ثم اسرى برسول اللهﷺ بجسده على الصحيح (زاد المعاد ج ١ ص ٣٠٠)‘‘ یعنی صحیح مذہب یہ ہے کہ آپ کو اسراء اور معراج اسی جسم کے ساتھ ہوئیں۔
علامہ قاضی عیاضؒ کا مذہب
آپ فرماتے ہیں: ”والحق ...... انه اسرى بالجسد والروح فى القصۃ كلها وعليه تدل الایہ وصحيح الاخبار والاعتبار ولا يعدل عن الظاهر والحقیقۃ الى التاويل الا عند الاستحالہ (شفاء:٨٥)‘‘ یعنی تمام قصہ میں صحیح قول یہ ہے کہ اسراء (اور معراج) روح اور جسم دونوں کے ساتھ تھی۔ اس پر آیت قرآنی اور احادیث صحیحہ اور اعتبار دلالت کرتے ہیں اور ایک کھلی ہوئی حقیقت اور ظاہری بات کی بغیر اشکال کے تاویل کرنی جائز نہیں۔
مولانا عبدالحق دہلویؒ کا مذہب
آپ فرماتے ہیں: ”صحیح آنست کہ وجود اسراء ومعراج ہمہ در حالت بیداری وبجسدہ بود جمہور علماء از صحابہ وتابعین واتباع من بعدہم از محدثین وفقہاء متکلمین براین اند ومتوارد است بران احادیث ٣٩
صحیحہ واخبار صحیحہ (مدارج النبوة) ”یعنی صحیح بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو معراج حالت بیداری میں معہ جسم کے ہوئی۔ جمہور علماء صحابہ تابعین اور تبع تابعین اور ان کے بعد کل فقہا اور متکلمین اسی عقیدہ پر ہیں اور صحیح حدیثیں اور خبریں اسی پر متوارد ہیں۔
یہاں تک علماء حقہ میں کے ارشادات معراج جسمانی کے اثبات میں تحریر کئے گئے ہیں۔ اب یہاں سے عقلی پہلوؤں کی خاطر چند دلائل عقلیہ لکھے جاتے ہیں جو اصحاب عقلی امور کو ہر حال میں ترجیح دیتے ہیں۔ وہ بغور مطالعہ فرماویں اور فیصلہ اپنے دلوں پر چھوڑ دیں۔
معراج جسمانی کے عقلی دلائل
جس قادر ذوالجلال نے پرندوں کو طاقت طیران (پرواز) بخشی ہے اور وہ باوجود کثیف جسم ہونے کے جو سماء (آسمان کی فضاء) میں اڑتے پھرتے ہیں۔ کیا وہ حی قیوم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرانے پر قادر نہیں؟
- ٢...... جب انسان جیسی ہستی کو پروردگار عالم نے اتنی طاقت بخشی ہے کہ وہ اپنے
ناتوان بازو سے پتھر جیسی ثقیل اور بوجھل شی کو اوپر پھینک سکتا ہے تو کیا یہ پتھر کو پھینکنا اس امر کا مشعر نہیں کہ جب انسان ضعیف البنیان اپنی خداداد طاقت سے زمین کی اتنی بڑی اور بے حد طاقت کو مغلوب کر لیتا ہے تو کیا وہ مالک الملک جبار وقہار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو معہ آپ کے جسم کے آسمانوں پر نہیں لے جا سکتا۔
- ٣...... جس احکم الحاکمین نے فرشتوں کو اولی اجنحة مثنیٰ وثلاث
ورباع (دو دو، تین تین، چار چار پر دیئے ہیں) اور ان کے نزول وصعود (اترنے اور چڑھنے) کو کوئی شی مانع نہیں (چنانچہ وہ اترتے اور چڑھنے بھی ہیں) تو کیا وہ مالک، عزیز، قادر، ذوالجلال حضرت خاتم الانبیاء سراج منیر سید البشر کو اوپر لے جانے پر قادر نہیں؟ ’’بلى وهو على كل شئ قدیر‘‘
ناظرین! معراج جسمانی کے مختصراً عقلی اور نقلی دلائل (مگر مکمل) بیان کرنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ مخالفین کے عقلی اور نقلی شبہات کا بھی مختصراً صحیح جواب لکھوں۔ تاکہ سادہ لوح طبیعتیں ان شبہات سے متاثر ہو کر اپنے سچے اور پاک مذہب اسلام کو دھبہ نہ لگائیں۔
نیز یاد رہے کہ لفظ مخالفین سے ہماری مراد جناب مرزا قادیانی اور آپ کے ہم مشرب ہیں۔ گو لفظ مخالفین کا اطلاق اس کی ذہنیت کے لحاظ سے ہر اس شخص پر ہو سکتا ہے کہ جو مسئلہ زیر بحث کا منکر ہو۔ لیکن قادیانی نبوت کا خاصہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اس خاصہ کی حق ادائی میں ہم بھی
٤٠
مرزا قادیانی کے دوش بدوش... ترک کرتے ہوئے صرف... انگریزوں کی اطاعت... جو شخص کسی کا... لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر... ممانعت جہاد اور انگریزی... ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتا... ایسی کتابوں کو تمام ممالک ع... رہی ہے کہ مسلمان اس سلطن... روایتیں اور جہاد کے جوش... دلوں سے معدوم ہو جائیں... پچاس الماریاں...
(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ...
کتابیں لکھی ہیں ۔ انصاف... نہیں۔ ہذا بہتان عظیم!
ختم نبوت
”ما کان ... النبيين ۔ وكان الله بـ ... ہے اللہ تعالیٰ کا۔ یعنی رسول... چیزوں کے لئے خبردار ۔... صاحب مرحوم دہلویؒ لکھتے ہیں...
یہی مذہب ہے... دوستو! کیسی صا... ہیں۔ خاتم النبین یعنی تمام... ”لا نبی بعدی “ یعنی میرے...
مرزا قادیانی کے دوش بدوش ہوں۔ فقط! چنانچہ آئندہ سے ہم لفظ مخالفین کے کلی افراد کے ذکر کو ترک کرتے ہوئے صرف مرزا قادیانی کی ذات مبارک کو ترجیح دیں گے۔
انگریزوں کی اطاعت
جو شخص کسی کا غلام ہو۔ وہ شخص احکام الٰہی ہرگز واضح طور پر نہیں پہنچا سکتا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس انگریزی سلطنت کی تائید اور حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر شام اور کابل روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
پچاس الماریاں کتابوں سے بھرنی کوئی آسان کام نہیں۔ مرزا قادیانی کا مرید یعنی (اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ٧ اگست ١٩٣٢ء) کے پرچہ میں لکھتا ہے کہ : ”مرزا قادیانی نے قریب اسی کتابیں لکھی ہیں۔“ انصاف سے کام لو۔ کیا اسی کتابوں سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہٰذا بہتان عظیم !
ختم نبوت
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین . وكان الله بكل شئ عليما“ ﴿ نہیں ہے محمدؐ باپ کسی مرد کا تم میں سے پر بھیجا ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا۔ یعنی رسول ہے اور سب پیغمبروں کو ختم کرنے والا ہے اور ہے خدا تعالیٰ سب چیزوں کے لئے خبردار۔﴾ یعنی سب چیزوں کی اسے خبر ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالقادر صاحب مرحوم دہلویؒ لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آوے گا۔
(موضح القرآن ص ٢٢٣)
یہی مذہب ہے۔ تمام مسلمانوں کا۔
دوستو! کیسی صاف کلام ہے۔ اس میں کوئی ایچ پیچ کی بات نہیں ہے۔ صاف فرما رہے ہیں۔ خاتم النبیین یعنی تمام نبیوں کا ختم کرنے والا۔ اس کی تفسیر خود نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے۔
”لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
٤١
مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔
”اکیسویں آیت یہ ہے کہ: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین “ یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے، مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پس اس میں بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
قادیانی انجمن کے ممبرو
دیکھو! آپ کے پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں آسکتا۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔
- ٢...... مرزا قادیانی اپنی دوسری تحریر میں فرماتے ہیں: ”اور مجھے کہاں حق پہنچتا
ہے کہ میں ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔ کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر ادعاء نبوت کروں۔“
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
ہمارا بھی تو یہی مقصد ہے کہ سردار دو عالم ، حضور پرنور حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا مطابق فرمان مصطفویﷺ دجال ہے۔
الحمد للہ! بندہ نے اس مختصر رسالہ میں از روئے قرآن کریم، احادیث صحیحہ اور لٹریچر مرزائی یہ ثابت کر دیا ہے کہ حضور پرنور سرور کونین نبی کریمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ کوئی ماں ایسی نہیں جو اپنے شکم سے نبی پیدا کرے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے یہ لمبے چوڑے دعوے سراسر افتراء اور جھوٹ ہیں۔ لہٰذا یہ خاکسار احقر العباد محمد اسحاق بن محمد یعقوب امرتسری عفا اللہ عنہما! مرزائی دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو میری تحریر سے رنج نہ پیدا ہونا چاہئے۔ کیونکہ حوالہ جات مرزا قادیانی کی کتابوں سے ہی لئے گئے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ بھی تحریر نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی صاحب مرزا قادیانی کی کتب دیکھنے سے عاجز ہوں تو ان صاحبوں کی خدمت بابرکت میں عرض ہے کہ وہ احقر کے پاس دفتر حقانی امرتسر میں تشریف لے آئیں۔ بندہ ان کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار اور حاضر ہے۔ فقط!
٤٢
لام کو فوت شدہ ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔ د ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله ی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ کا ہے اور ختم گر رہی ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی ابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں نہیں
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
احمد قادیانی اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ ور کی داڑھی میں تنکا ۔ تحریر میں فرماتے ہیں : ”اور مجھے کہاں حق پہنچتا خ ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
لم حضور پرنور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ہ دجال ہے۔ از روئے قرآن کریم احادیث صحیحہ اور لٹریچر ی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ کوئی ماں
ڈے دعوے سراسر افتراء اور جھوٹ ہیں۔ لہٰذا ی رضی اللہ عنہما ! مرزائی دوستوں کی خدمت میں رنج نہ پیدا ہونا چاہئے ۔ کیونکہ حوالہ جات نی طرف سے کچھ بھی تحریر نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی تو ان صاحبوں کی خدمت با برکت میں عرض لے آئیں ۔ بندہ ان کی خدمت کے لئے ہر
خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
بطلان مرزا
حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ!
پہلے مجھے دیکھئے!
لاکھ لاکھ شکر ہے اس خدائے تعالیٰ وحدہ لاشریک کا جو قہار و جبار ہے۔ جس نے مجھے اپنے خاص مذہب یعنی دین اسلام کا خادم بنایا اور جس نے مجھے اتنی توفیق بخشی کہ میں اس وقت جب کہ مسلمان برائے نام ہی مسلمان رہ گئے۔ اس وقت مجھ کو دین کی سمجھ عطاء کی۔ مجھ کو اس نے اتنی طاقت عنایت کی کہ فرقہ ضالہ جدیدہ مرزائیہ جو کہ نہایت ہی خطرناک فرقہ ہے۔ میں اس کی تردید کر سکوں۔ تالیف کا سلسلہ میں نے محض اس لئے شروع کر رکھا ہے کہ امت مرزائیہ جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیچھے اپنے ایمانوں کا ستیاناس کرچکی ہے۔ اس کی اصلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ کے فضل وکرم سے میں نے ان کی تردید میں چند رسائل لکھے اور ان کو صحیح معنوں میں اسلام کی دعوت دی۔ خدا کی مہربانی سے میری تصنیف مسمی بہ حالات مرزا پر پنجاب کے بڑے بڑے علماء کرام حنفی اور اہل حدیث نے ریویو لکھے۔ جن میں سے خصوصاً فخریہ حضرت مولانا شیر پنجاب سردار اہل حدیث ثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار اہل حدیث امرتسر مولانا محمد عالم صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج امرتسر اور سید محمد شریف صاحب گھڑیالوی کا نام پیش کرتا ہوں۔ ان کے علاوہ دیگر علماء کرام نے بھی رسالہ مذکورہ پر ریویو لکھے ہیں جو کہ ملاحظہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
مرزائی احباب کرام نے میرے خیال مذکورہ کا جواب نہ دیا ہے اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔ انشاء اللہ! اتنی تمہید کے بعد میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ رسالہ ہذا کے سرورق پر میں نے لکھا ہے کہ اس رسالہ میں مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ سے مرزا قادیانی کی تردید کی گئی ہے۔ سو میں انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی حتی الامکان ضرور کوشش کروں گا۔ (وباللہ التوفیق نصرتہ)
بطلان مرزا
ناظرین کرام! مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میرا کام ہے جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑوں اور تثلیث کی جگہ توحید پھیلاؤں۔ حضورﷺ کی جلالت دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں
٢
نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں ۔ دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے ۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی ۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح علیہ السلام یا المہدی نے کرنا تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔‘‘
(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٧ء)
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بموقع میلہ بھدر کالی کو لاہور کے مقام پر فوت ہوئے ۔ سرسری نظر سے بھی اگر دیکھا جائے کہ کیا مرزا قادیانی اپنی پیش کردہ تحریر کے اندر ثابت قدم نکلے تو صاف جواب نفی میں دینا پڑے گا ۔ کیونکہ قرآن مجید تو علانیہ ڈنکے کی چوٹ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پیشتر تمام اہل کتاب ان پر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آویں گے ۔ مگر افسوس کے ساتھ اس بات کو بیان کرنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی پر ایک بھی عیسائی جو کہ مرزا قادیانی کا سخت جانی دشمن تھا ۔ یعنی (عبداللہ) مرزا قادیانی کی اشد کوشش کے باوجود بھی مرزا قادیانی پر ایمان نہ لایا ۔ جس کی بابت مرزا قادیانی نے یوں پیش گوئی بھی فرمائی تھی ۔ جس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے ۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب کہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے ہو جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے ۔‘‘
(جنگ مقدس ص ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١)
اور اسی طرح اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں ۔ ”بلکہ پیش گوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا ۔ تو صرف اس حالت میں پیش گوئی کے اندر فوت ہوں گے ۔‘‘
(انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣)
٣
ناظرین کرام! ان مقرر کردہ پندرہ ماہ کی میعاد ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کو ختم ہونی تھی۔ مگر آتھم قریباً ٢ سال بعد مرا۔ آتھم کی وفات کا سن خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”مسٹر عبداللہ آتھم صاحب مورخہ ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے۔“
(انجام آتھم ص ١ خزائن ج ١١ ص ١)
مگر افسوس جب مرزا قادیانی اس پیش گوئی میں فیل ثابت ہوئے تو اپنے رسالہ کشتی نوح میں لکھ دیا۔ ”پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کے رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔“
(کشتی نوح ص ٦ خزائن ج ١٩ ص ٦)
صحیح بخاری جس کو مرزا قادیانی بھی (کشتی نوح ص ٦٥) پر معتبر کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس میں صریح الفاظ میں لکھا ہے: ”وعن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لايقبله احد (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم)“ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم لوگوں میں ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور وہ ایک با انصاف حاکم ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور سور کو قتل کر دیں گے اور جنگ جو کافروں سے ہوتی ہے۔ اسے موقوف کر دیں گے اور مال بہا بہا پھرے گا ۔ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔
ناظرین کرام! امید ہے کہ آپ نے حقیقت سے آگاہی حاصل کر لی ہوگی۔ مرزا قادیانی کی تحریر ہے کہ: ”جو کام مسیح یا مہدی نے کرنا تھا وہ کام اگر میں نے کر دیئے تو میں صادق ہوں نہیں تو اس کا الٹ۔“ اب مندرجہ بالا تحریر جو آپ کی آگاہی کے لئے لکھی ہے۔ اس سے اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی نے وہ کام نہیں کئے جو مسیح یا المہدی نے کرنے تھے اور ان کا فتویٰ جو سب سے پہلے گزر چکا ہے۔ وہ بھی آپ غور سے ملاحظہ فرمادیں۔
مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی
مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں: ”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جز (نکاح محمدی بیگم) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“
”اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
٤
مرزا قادیانی نے ایک عورت محمدی بیگم سے نکاح کی مشین چلائی تھی۔ جس پر کئی الہام اور خفیہ کاروائیاں بھی کیں۔ مگر اس عورت محمدی بیگم سے آپ باوجود کوشش و سعی کے محروم رہے۔ برخلاف اس کے اس عورت کے والد نے اپنی لڑکی کی شادی پٹی میں کر دی۔ وہ آج مورخہ ٣؍فروری ١٩٣٥ء تک پٹی ضلع لاہور کے اندر صحیح سلامت موجود ہے اور مرزا قادیانی آج سے قریباً ٢٧ سال گزرے کہ فوت ہو گئے۔ جب یہ پیش گوئی پوری نہ نکلی تو امت مرزائیہ کو لوگوں نے چاروں طرف سے جھوٹا کرنا شروع کیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں کہ: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
تو مرزائی امت خصوصاً حکیم نور الدین خلیفہ اوّل قادیان نے یہ تجویز نکالی کہ محمدی بیگم اور مرزا بذات خود مراد نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے گھر لڑکا در لڑکا در لڑکا اور عورت کے گھر لڑکی در لڑکی در لڑکی کہیں نہ کہیں جا کر ان کا نکاح ہو جائے گا۔
پس پیش گوئی پوری ہو گئی۔ مگر دوستو! یہ تاویل کسی حد تک صحیح نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے خود دستخط موجود ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ: ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ ”یتزوج ویولد لہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
تحریر صاف ہے کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نکاح سے محروم رہے۔ لہٰذا مسیح نہ ہوئے۔
اور دوسری جگہ کرشن قادیانی لکھتے ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ (نہ ٹلنے والی تقدیر) اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی
٥
پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١)
اب ہم مرزا قادیانی کا ایک اور حوالہ سپرد قلم کرتے ہیں: ”پس دیکھئے پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا۔ یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح بھی ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ”لا تبديل لكلمات الله“ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہو جاتا ہے۔ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا۔ جو اس کے نفاذ سے مانع ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ان ساری تحریروں کا لب لباب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ محمدی بیگم ضرور بالضرور میرے نکاح میں آجاوے گی اور اگر نہ آئی تو میں جھوٹا ہوں۔ اب جو نتیجہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو سوائے ناکامی کے کچھ بھی حاصل نہ ہوا اور خود ہی اپنی تحریروں کے نیچے آکر جھوٹے نکلے۔ کیونکہ محمدی بیگم کا نکاح کہیں ہوا اور بغیر نکاح ہونے کے مرزا قادیانی دنیا سے تشریف لے گئے۔
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعانی کا
حالات مرزا
اپنے رسالہ میں زیر عنوان مراقی خاندان ہم نے مضمون لکھا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی اور اتباع مرزا سے مرزا قادیانی کو اور میاں محمود خلف مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق ثابت کیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ کچھ اس جگہ بھی مراق کے متعلق ذکر کیا جائے تو امید ہے کہ مفید ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
-
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ جو اس طرح وقوع پذیر ہوئی۔ آپ نے یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اس طرح مجھ کو دو
٦
بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(اخبار بدر قادیان ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥)
آپ کے دل میں اس وقت یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس جگہ اس تحریر کو زیر قلم لانے کی کیا وجہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عاجز نے سرورق پر وعدہ کیا ہوا ہے کہ مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ سے آنجہانی کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا وعدہ مذکورہ کا ایفا کرنے کی غرض سے یہ تحریر سپرد قلم کی گئی ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ہم نے ثابت کرنا ہے کہ مراقی شخص ملہم یا نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم بذات خود یا کسی طب کی معتبر کتاب سے اس کا ثبوت دیتے تو ممکن تھا کہ اس ثبوت کو قبولیت حاصل نہ ہوتی اور قادیانی احباب ہماری محنت کو ٹھکرا دیتے۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ان کے گھر کی ہی شہادت پیش کی جائے تو بجا ہو گی۔
ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب مرزائی اسسٹنٹ سرجن لکھتے ہیں: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مانخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“
(رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٧، ٦)
اور اس رسالہ کے پرچہ بابت ماہ نومبر ١٩٢٩ء کے ص ٩ پر تحریر ہے کہ: ”ہسٹریا کے مریض کو جذبات پر قابو نہیں ہوتا۔“ بلکہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں: ”مگر یہ بات تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“
(کتاب البریہ ص ٢٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٤)
ناظرین کرام! غور کا مقام ہے۔ جب مراقی عورت کی بات قابل اعتبار نہیں ہو سکتی تو مراقی آدمی کی بات کیونکر قابل اعتبار ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی
جو عرصہ بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہے اور بعد میں مرزائیت کو ترک کر دیا۔ ڈاکٹر موصوف نے پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی مورخہ ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود اپنی کتاب (چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦) پر لکھتے ہیں: ”ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی مورخہ ٤؍ اگست
٧
١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔‘‘
اور (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٧) پر لکھتے ہیں: ’’اس نے (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم) یہ پیش گوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی مورخہ ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘
اس مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کی بتائی ہوئی پیش گوئی کی مدت کے اندر ہی اندر مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے اور ڈاکٹر صاحب آخر ١٩١٩ء تک زندہ رہے۔ پس مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔
مرزا قادیانی کے آنے کا مقصد
ناظرین مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ وہ تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں۔ وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور دنیا اس کو بھول جائے اور خدا تعالیٰ واحد کی عبادت ہو۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٠٥ء، ص ٥)
مرزا قادیانی کی اصلی تحریر جو ہم نے نقل کی ہے۔ ناظرین کرام! سامنے رکھ کر غور سے مطالعہ کریں۔ آیا مرزا قادیانی اپنے وعدہ کے اندر پورے نکلے۔ افسوس کسر صلیب کی بجائے عیسیٰ پرستی اور صلیب پرستی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ عیسائیوں کی تعداد بہ نسبت سابق ترقی کر رہی ہے جو کہ مردم شماری سے پتہ لگ سکتا ہے۔ مسلمان آج تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونے کی بجائے گمراہ ہورہے ہیں اور اپنے مذہب کو سلام کئے جارہے ہیں۔ مختصر یہ کہ مرزا قادیانی نے جو دعویٰ کیا ہے۔ اس میں ناکامی کے سوائے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ نہ عیسیٰ پرستی کا ستون گرا نہ کسر صلیب ہوئی۔ بلکہ عیسائیوں کی زیادتی تعداد کے متعلق خود مرزا قادیانی کا مرید لکھتا ہے: ’’آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ آج پچاس لاکھ کے قریب ہے۔‘‘
(پیغام صلح مورخہ ٦؍مارچ ١٩٢٨ء)
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی مذہب
اور
علامہ اقبال کا قول فیصل
جناب ڈاکٹر صوفی نذیر احمد
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پیش لفظ
قادیانی امت سکھوں کے ڈر سے جس دن سے پاکستان میں آگئی ہے۔ مسلمان کا بہروپ بھر کر زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ کیونکہ عام مسلمان مرزائی عقائد سے اچھی طرح واقف نہیں۔ اس لئے اپنی سطحی معلومات کی وجہ سے ان کے شاطرانہ تبلیغی جال میں گرفتار ہو کر انہیں مسلمان سمجھنے لگتے ہیں۔ اندریں حالات جماعت مسلم لیگ کے کارکنوں کو بالخصوص اور عام مسلمانوں کو بالعموم قادیانی مذہب کے عقائد مزعومہ سے باخبر کرنے کے لئے احمدی کتابوں سے چند اقتباسات پیش نظر ہیں۔
مرزا قادیانی حقیقی رسول اور نبی
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
”میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں ...... جن دلائل سے کسی نبی کو سچا کہہ سکتے ہیں۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ٢١٧، ٢١٨)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ١٢٧)
”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔ یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا اور آپ کے یوم وصال ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔ پھر اسی پر بس نہیں کہ مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ نبیوں کے سرتاج محمد مصطفےٰ ﷺ نے آنے والے مسیح کا نام نبی اللہ رکھا۔ جیسا کہ صحیح مسلم سے ظاہر ہے۔ پس ان تین عظیم الشان شہادتوں کے ہوتے ہوئے کون ہے جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت سے انکار کرے۔“
(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص ١١٠، نمبر ٣ ص ١٤)
٢
”شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
مرزا قادیانی امتی نبی نہیں
”نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا آنحضرت ﷺ کو جو سیدالمرسلین اور خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٩ جون ١٩١٥ء بعقائد محمودیہ ص ٤١)
مرزا قادیانی محمد واحمد
”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)
”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد “ قرآن کریم میں جو احمد کی بشارت ہے وہ احمد میں ہوں۔
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
”تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا۔ تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٠٥، ج ٣ نمبر ٣)
”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨، ج ٣ نمبر ٣، عقائد محمودیہ ص ١٦)
مرزا قادیانی کی رسول اکرم ﷺ پر فضیلت
”حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت آخر میں یعنی ان دنوں میں (بشکل مرزا قادیانی) بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار ........... صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کے ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (بشکل مرزا قادیانی) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦)
٣
”اتانی مالم یؤت احد من العالمین“ مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے کہ دنیا و آخرت میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔
(استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)
”ان قدمی علیٰ منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ“ میرا قدم اس مینار پر ہے۔ جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
”لا تقیسونی باحد ولا احدابی“ میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔
(خطبہ الہامیہ ص ١٩، خزائن ج ١٦ ص ٥٢)
مرزا محمود احمد صاحب کے منکر کافر، جہنمی اور ذریۃ البغایا
”میرا منکر کافر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
”جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
”قطع دابر القوم الذین لا یؤمنون“ یعنی جو قوم (مرزا قادیانی) پر ایمان نہ لائے گی اس کی جڑ بنیاد کاٹ دی جائے گی۔
(تذکرہ ص ٦٤٦)
(لیکن مسلمانان ہند کو مرزا قادیانی کے انکار کے انعام میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان عطاء کیا ہے۔ للمؤلف!)
”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہی ہے۔ اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو معاذ اللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو اور دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ج ١٤ ص ١٤٧)
”آپ نے (مسیح موعود) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔ مگر مزید اطمینان کے لئے بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“
(ارشاد میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠)
٤
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
”اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٢٩ نمبر ٣ ج ١٣)
”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“ ”ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر بدکار عورتوں (کنجریوں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔ (بغایا کا معنی خود مرزا قادیانی نے بدکار عورتیں، زنان بازاری، زنان فاحشہ وغیرہ کیا ہے)
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
”ہمارے دشمن جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بدتر ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
مرزا قادیانی خدا
”رائيت فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو فخلقت السمٰوت والارض“ میں نے اپنے آپ کو بعینہ خدا دیکھا اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین و آسمان بنائے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
”انت من مائنا وهم من فشل“ یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی (مٹی) سے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
لیکن ارشاد الٰہی ہے۔ ”خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب (طارق)“
٥
قادیان کا حج اور روحانیت خانہ کعبہ ختم
”کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ’انا انزلناہ قریب من القادیان‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا۔ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔..... تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔ یہ کشف تھا کہ کئی سال ہوئے مجھے دکھایا گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨، ٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، ١٤٠)
”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اسی کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ اب حج کا مقام قادیان ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥، خطبہ جمعہ )
”جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد آنحضرت ﷺ عین اس وقت مبعوث ہوئے۔ جب کہ آپ کی اولاد اور تمام دنیا بت پرستی اور فسق و فجور میں مبتلا تھی۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی عین اس وقت مبعوث ہوئے۔ جب کہ آپ کی امت کے تہتر کے تہتر فرقے فسق و فجور اور بت پرستی کی وجہ سے جہنمی بن چکے تھے اور خانہ خدا اپنی روحانی حیثیت کھو کر صفحہ ہستی سے معدوم ہو چکا تھا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری ١٩٥٠ء ص ٦)
مرزا قادیانی کا کلمہ شریف
”اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔ جیسا کہ وہ (مرزا قادیانی) خود فرماتے ہیں۔ صار وجودی وجودہ نیز ’من فرق بینی وبین المصطفےٰ ما عرفنی و مارای‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ”آخرین منھم“ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود
٦
(مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت آتی۔“
مرزا قادیانی اور جہاد
اب دین اب دیں اب آ اب دشمن مگر
”میں یقین رکھتا ہوں کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ
(درخواست مرزا قادیانی
”یاد رکھو کہ اسلامی کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں
مرزا قادیانی اور گورنمنٹ
”میرا مذہب جس ایک یہ کہ خدا کی اطاعت سلطنت حکومت برطانیہ
خانہ کعبہ ختم
دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرے قریب بیٹھ کر بآواز پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ “ سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔ تب میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے یہ کشف تھا کہ کئی سال ہوئے مجھے دکھایا گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٨، ٤٠۔ خزائن ج٣ ص ١٤٠، ١٣٨)
ہے ۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اسی کام کے لئے مقرر کیا
(برکات خلافت ص ٥، خطبہ جمعہ)
علیہ السلام کے بعد آنحضرت ﷺ میں اس وقت مبعوث تمام دنیا بت پرستی اور فسق و فجور میں مبتلا تھی۔ ایسا ہی موجود (مرزا قادیانی) بھی عین اس وقت مبعوث ہوئے۔ وقت فسق و فجور اور بت پرستی کی وجہ سے جہنمی بن چکے تھے ہستی سے معدوم ہو چکا تھا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری ١٩٥٠ء، ص ٦)
ہم بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔ جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمودہ نیز ”من فرق بینی و بین المصطفیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو آخرین منھم“ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود
٦
٣٤٥
(مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمتہ الفصل مندرجہ ریویو قادیان ج١٤ نمبر٣ ص ١٥٨)
مرزا قادیانی اور جہاد
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢٩٧)
”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“
(درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ١٩)
”یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٨٤)
مرزا قادیانی اور گورنمنٹ برطانیہ کی خدمت گزاری
”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کر چکا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہے۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ج)
٧
”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں اور میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر اور شام تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ص ١٥٥)
”بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ص ٢٢٥)
”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دل میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں.....ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی.....ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ص ٢٢٧)
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم الٰہی
(مجدد العصر علامہ محمد اقبالؒ)
مرزا قادیانی کے اپنے نام پر جماعت احمدیہ
”ان تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں۔ مسیح موعود بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر اسی پر بس نہیں۔ بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ یقینی ہے کہ آپ احمد تھے۔“
(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو قادیان ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٣٩)
٨
اور ١٩٠٠ء میں اپنی جماعت کا نام احمدی رکھنے کا اشتہار و اعلان کیا اور سرکار سے استدعا کی کہ مردم شماری میں اسی نام سے اس فرقہ کو درج کیا جائے۔
مرزا قادیانی کی مسلم لیگ سے بے زاری
”ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے مصلح حقیقی اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود ومہدی آخرالزمان (مرزا قادیانی) کے حضور میں جب مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور (مرزا قادیانی) نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی تھی۔ پس کیا کوئی کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے۔ مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع وضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے باز رہیں۔ جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا فائدہ دے سکتے ہیں نہ دین کا۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کئی سال سے یہ نیشنل کانگریس کی نقل ہوتی ہے۔ اس سے مسلمانوں نے کیا کچھ حاصل کیا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج٣ نمبر ٨٧ مورخہ ٨ جنوری ١٩١٦ء)
مرزا قادیانی کی شان مراقبہ
”مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان، اخبار بدر قادیان ج٢ نمبر ٣٣ مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء)
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥ نمبر ٣٦٩)
”ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج١٠ نمبر ٨٣، مورخہ ٣٠ اپریل ١٩٢٣ء)
”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان ج٥ نمبر ٢٩، مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)
”جب خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔
٩
چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی (میاں محمود احمد) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان ص ١١، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ اگست ١٩٢٢ء)
مرزا قادیانی اور لاہوری احمدی
”ہم حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔“
(پیغام صلح ج ١ نمبر ٢٤، مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩١٣ء)
”ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانہ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے تھے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“
(پیغام صلح ج ١ نمبر ٢٥، مورخہ ٧؍ ستمبر ١٩١٣ء)
چوہدری ظفر اللہ خاں کا عقیدہ
”چوہدری صاحب کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار دینا غلطی ہے۔ باقی غیر احمدی کافر ہیں یا نہیں اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی چوہدری صاحب نے اس کی تائید کی۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٢١، مورخہ ١٤؍ ستمبر ١٩٢٢ء)
قادیانی جماعت اور مجدد العصر مرحوم کا قول فیصل
جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے جس کا انکار مستلزم
١٠
بکفر ہو وہ خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے بیان سے بعض حلقوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں نے گورنمنٹ سے قادیانی جماعت کو بزور دبانے کے لئے تجویز پیش کی ہے۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔ میں نے یہ صاف ظاہر کر دیا ہے کہ مذہبی آزادی ہی ہندوستانی حکمرانوں کے لئے صحیح طریق کار ہے۔ کوئی اور طریقہ قابل عمل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود میں اقرار کرتا ہوں کہ میرے خیال میں یہ طریقہ مختلف دینی ملتوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ لیکن اس کے سوا چارہ نہیں اور جنہیں اس آزادی سے گزند پہنچ رہا ہے۔ انہیں خود مناسب طریقوں سے اپنا بچاؤ کرنا ہوگا۔ میری رائے میں قادیانیوں کو ایک علیحدہ ملت قرار دینا ہندوستان کے حکمرانوں کے لئے سب سے اچھی بات ہے۔ ایسا کرنا قادیانیوں کے اپنے نظم و نسق کے عین مطابق ہوگا اور ہندوستانی مسلمان دوسرے مذہبوں کی طرح پھر انہیں بھی روادار رکھیں گے۔“
(نوٹ بر رسالہ اسلام اور قادیانزم، از مجدد العصر علامہ محمد اقبال مرحوم ۔ ترجمہ للمؤلف)
مسلم لیگ اور احمدی اقلیت
”اب تو مسلم لیگ نے بھی جس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھے جاتے ہیں اور ہندوستان کی ذہنی روح تصور کئے جاتے ہیں۔ ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ جو ان کی طرف سے اسمبلی کے لئے امیدوار کھڑا ہو وہ یہ حلف اٹھائے کہ میں اسمبلی میں جا کر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں گا۔“
(اخبار پیغام صلح ج ٢٤ ص ٦٠ ، مورخہ ١٩ ستمبر ١٩٤٦ء)
حرف آخر
- ١...... مرزا قادیانی مستقل اور حقیقی نبی تھے۔
- ٢...... مرزا قادیانی امتی نبی نہیں تھے۔ (تو پھر مسلمان کیسے ہوئے)
- ٣...... مرزا احمد واحمد محمد رسول اللہ تھے۔
- ٤...... مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت ﷺ سے زیادہ اقویٰ ، اکمل اور اشد تھی (نقل کفر
١١
کفر نباشد) کیونکہ نبی اکرم ﷺ روحانیت کے پہلے قدم پر تھے اور مرزا قادیانی انتہاء پر۔ (حضور پاک ﷺ سے بے ادبی کے بعد کوئی مسلمان کیسے رہ سکتا ہے)
- ......٥ مرزا قادیانی کے منکر کافر جہنمی اور بدکار عورتوں کی اولاد ہیں۔
- ......٦ مرزا قادیانی خود خدا تھے اور خدا کے نطفے سے تھے۔ (ارشاد الٰہی تو لم یلد ولم یولد ہے۔
اس کھلے شرک کے بعد مرزا قادیانی کو مسلمان سمجھنے والے کو کون عقلمند کہے گا)
- ......٧ مرزا قادیانی کی بعثت کے وقت خانہ کعبہ اپنی روحانی حیثیت کھو کر صفحہ ہستی سے معدوم
ہو چکا تھا۔ بقول مرزا قادیانی قادیان کا نام اعزاز سے قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اور ...... حج کا مقام قادیان ہے۔ (کعبہ سے روگردانی کفر نہیں تو پھر کفر کسے کہتے ہیں)
- ......٨ مرزا قادیانی کیونکہ محمد رسول اللہ ہیں۔ اس لئے نیا کلمہ شریف بنانے کی ضرورت پیش
نہیں آئی۔ احمدی بعثت ثانی کے پیش نظر جو کہ روحانیت میں بقول مرزا قادیانی زیادہ اقویٰ، اکمل اور اشد ہے۔ ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ مرزا محمد رسول اللہ کے لئے پڑھتے ہیں۔ (پھر مسلمان کس طرح ہوئے)
- ......٩ مرزا قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دیا ہے اور قادیانیوں کے نزدیک جہاد سے بدتر
اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔ (پھر قرآن پر ایمان کا دعویٰ خدا سے تمسخر نہیں تو اور کیا ہے)
- ......١٠ مرزا قادیانی انگریزوں کے خوشامدی رپورٹر تھے۔ حکومت برطانیہ کی خدمت گذاری
کی نیت سے مسلمانوں کو فریضہ جہاد سے برگشتہ کرنے میں مصروف رہے۔
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
(فرمودہ مجدد العصر علامہ محمد اقبال)
- ......١١ مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو احمدی اپنے نام پر کہا اور مردم شماری میں احمدیوں کو
١٢
مسلمان کی بجائے اسی نام سے درج کرنے کی حکومت برطانیہ سے استدعا کی۔ اس لئے احمدیوں کو اب مسلمان شمار کرنا ملت مسلمہ سے زیادتی اور قادیانی امت سے ناانصافی ہے۔ حکومت برطانیہ نے تو اپنے خودکاشتہ پودہ کی فریاد نہ سنی۔ اب پاکستانی حکومت ہی قادیانی امت کو احمدی قرار دے کر مرزا قادیانی کی آرزو کو بطریق احسن پورا کر دے۔
- ١٢....... مرزا قادیانی مسلم لیگ جماعت کو ناپسند کرتے تھے اور احمدی اسی لئے اسے بے
برکت جماعت سمجھتے ہیں۔ ایسی ناپسندیدہ جماعت کا اب رکن بننا چہ معنی۔ اللہ اکبر! خدا تعالیٰ نے مسلم لیگ کو مسلمانوں کے لئے سازگار اور بابرکت بنا کر ابطال احمدیت کے لئے پاکستان سا نشان مبرم عطا کر دیا ہے۔
- ١٣....... مرزا قادیانی، ان کی بیگم اور بیٹا (موجودہ جانشین) تینوں مریضان مراق ہیں۔ اس
لئے احمدیت کی تردید کے لئے بقول ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں کیا ایک اسلامی حکومت کا یہ فرض منصبی نہیں کہ مسلمانوں کو مراقی دست برد سے محفوظ کرنے کے لئے علاج کی فوراً تدبیر کرے۔
- ١٤....... مرزا قادیانی کو لاہوری احمدی بھی نبی اور رسول مانتے تھے اور ان پر ایمان لائے بغیر
نجات ناممکن سمجھتے تھے۔ اب مجددیت کی آڑ میں منافقت کا کھیل کھیلنا اسلام دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔
- ١٥....... چوہدری ظفر اللہ کل مسلمانوں کو کافر جانتے ہیں۔
- ١٦....... مبشر پاکستان مجدد العصر علامہ محمد اقبال مرحوم احمدیوں کو ان کے عقائد فاسدہ کی وجہ سے
دائرہ اسلام سے خارج کر کے انہیں ایک علیحدہ اقلیت قرار دینے کا فیصلہ دے چکے ہیں۔
- ١٧....... مسلم لیگ بروئے حلف نامہ ممبران اسمبلی مجوزہ ١٩٤٦ء احمدیوں کو علیحدہ اقلیت منظور
کرانے کا ذمہ لے چکی ہے۔ اس لئے ہر مسلم لیگی کا بالعموم اور ارکان مجلس قانون ساز کا بالخصوص یہ فرض ہے کہ وہ مسلم لیگی حکومت پاکستان پر زور دے کہ:
١٣
- الف...... حسب وعدہ احمدیوں کو اب ایک علیحدہ اقلیت قرار دے کر ان کی آبادی کے مطابق
انھیں حقوق دے اور مسلمانوں کی حق تلفی کا سد باب کرے۔ حق آبادی سے زیادہ احمدی ملازموں کو برطرف کر کے مستحق مسلمانوں کو خدمت ملت کا موقع بہم پہنچائے۔
- ب...... چوہدری ظفر اللہ خان چونکہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور پاکستان چونکہ ایک
مسلمانوں کی اسلامی ریاست ہے۔ اس لئے چوہدری صاحب کو بروئے قانون جمہوریت مسلمانوں کی نمائندگی کا حق نہیں۔ چوہدری صاحب کو فوری طور پر وزارت خارجہ سے علیحدہ کر کے کسی مسلمان کو وزیر بنایا جائے تاکہ ہماری حکومت کی اسلامی نکتہ نگاہ سے غیر ملکوں میں صحیح نمائندگی ہو سکے۔
- ج...... مرزا قادیانی نے چونکہ جہاد کو حرام ٹھہرایا ہے اور ان کے پیروؤں کا جہاد پر چونکہ اعتقاد
نہیں۔ اس لئے احمدیوں کو فوجی ملازمت کے ناقابل قرار دے کر حفاظت پاکستان کے پیش نظر فوج سے فوری طور پر خارج کیا جائے۔
- د...... احمدی کتابوں کے ان حصوں کو جن میں جناب رسول خداﷺ کی ذات بابرکات،
دیگر انبیاء علیہم السلام صلحائے امت اور مسلمانوں کا ذکر غیر اسلامی اور نازیبا طریق سے کیا گیا ہے۔ بحق سرکار ضبط کیا جائے۔
امید ہے کہ پاکستان کی کل صوبائی، شہری اور ابتدائی مسلم لیگیں ان مطالبات کی پرزور تائید سے مسلم لیگی ارکان حکومت پاکستان کو وعدہ ایفائی پر مجبور کر کے مشیر پاکستان مجدد العصر علامہ محمد اقبال مرحوم کی روح پرفتوح کو خوش کریں گی اور اپنے اپنے علاقہ میں احمدیوں کو جو کہ عقیدتاً مخالفان مسلم لیگ ہیں۔ ممبر نہ بنائیں گی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے حکیم الامتؒ کے زمانہ صدارت میں صوبائی مسلم لیگ نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ امید ہے کہ پنجاب مسلم لیگ اس قرارداد کو بروئے کار لا کر نقش گر پاکستانؒ کے حسب منشاء مسلمانوں کی اس اہم مسئلہ میں بروقت رہبری سے گریز نہ کرے گی۔
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
١٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
آئینہ
مرزائیت
جناب ملک محمد صادق سابق قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تمہید
حضرات! میں پیدائشی احمدی تھا اور اکثر وقت مطالعہ کتب اور تبلیغ میں صرف کرتا تھا اور اسی کو ذریعہ نجات سمجھتا تھا۔ جملہ حالات سے متاثر ہو کر میرے بھائی عبدالغنی نیوز ایجنٹ لائل پور نے مختلف قسم کے رسائل اور کتب مرزائیت کے خلاف بھیجنے شروع کئے اور ساتھ ہی بلا تعصب اور نظر عمیق مطالعہ کرنے کی تاکید کی۔ بعد از مطالعہ میرے دل میں بہت سے شکوک پیدا ہو گئے اور میں نے ازالہ شکوک کا مرزائی حضرات سے مطالبہ کیا جس کے جواب میں مجھے کہا گیا کہ مخالف لٹریچر کا مطالعہ چھوڑ دو۔ بھلا ایک طالب حق اس بیہودہ اور غیر معقول جواب سے کب مطمئن ہو سکتا تھا۔ میں نے مرزائیت سے توبہ کر لی اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزائی یا دوسرے لفظوں میں احمدی کوئی مذہب نہیں ہے۔ بلکہ سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور اپنا الو سیدھا کرنے، کھانے، کمانے تمام سلف صالحین، انبیاء کی رکیک اور بیہودہ تاویلوں سے توہین کرنے اور دراصل جہالت اور حماقت کا نام ہے۔ چنانچہ میں نے بعض احباب کے اصرار پر مرزائیت کے ڈھول کا پول کھولنے کی غرض سے مختصر رسالہ لکھنے کا تہیہ کر لیا۔ جو آپ کے پیش نظر ہے۔ اگر قارئین کرام اور معاونین نے میری حوصلہ افزائی فرمائی اور فضل ایزدی شامل حال رہا تو بندہ وقتاً فوقتاً مرزائیت کے راز پنہاں اور انکشاف حقیقت سے آپ کو آگاہ کرتا رہے گا۔ آخر میں میں حکیم عبدالرحمن اور بھائی عبدالغنی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری معاونت فرمائی۔
خادم قوم: ملک محمد صادق!
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عقائد مرزا
- ١...... ”یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ص ٢٩٠)
نوٹ: مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے عیسیٰ علیہ السلام کو یسوع نہیں کہا۔ بلکہ یہ ایک یسوع تھا چنانچہ مرزا قادیانی خود اپنے رسالہ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) پر لکھتے ہیں
٢
کہ : ”یسوع مسیح عیسیٰ ابن مریم ایک ہی نبی کے نام ہیں۔“
- ٢...... ”یورپ کے لوگوں کو جو شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا
کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ٣...... ”عیسائیوں نے یسوع کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ
ہے کہ کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٤...... ”میں مسیح موعود ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
- ٥......
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ٦......
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ٧...... خدا نے مرزا قادیانی کو فرمایا: ”آسمان سے کئی تخت اترے۔ سب سے
اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
نوٹ : یاد رہے مرزا قادیانی کا خدا ہاتھی دانت کا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں :
”ربنا عاج“
(البشریٰ ج ١ ص ٤٣)
- ٨...... ”خدا کے عظیم الشان نشان بارش کی طرح میرے پر اتر رہے ہیں اور غیب
کی باتیں میرے پر کھل رہی ہیں۔ ہزار ہا دعائیں اب تک قبول ہو چکی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٠)
نوٹ : مرزائی دوستو! خدارا ہمیں تفصیل سے تو بتاؤ کہ کون سی دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔ ہم نے تو ایک بھی قبول ہوتی نہیں دیکھی۔
٣
- ٩...... خدا نے مجھے کہا: ”لولاك لما خلقت الافلاک“ مرزا نہ ہوتا تو میں
زمین و آسماں پیدا نہ کرتا۔
(حقیقت الوحی ص٦٩، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)
- ١٠...... ”انما امرك اذا اردت شيأ ان تقول له كن فيكون“ اے مرزا
تجھے اختیار ہے۔ جب تو کسی چیز کو ہو جا کہے فوراً ہو جائے گی۔
(حقیقت الوحی ص١٠٥، خزائن ج٢٢ ص١٠٨)
نوٹ: کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔
- ١١...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے کہا: ”انت اسمی الاعلیٰ“
تو اے مرزا میرا (خدا کا) بڑا نام ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص٣٤، خزائن ج١٧ ص٤٢٣)
- ١٢...... ”مرزا قادیانی کا قول ہے، مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو
اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٩، خزائن ج١٦ ص١٩)
- ١٣...... ”میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں۔ جس کے ساتھ
جسم نہیں، اور سورج ہوں۔ جس کو روشنی اور کینے کا دھواں چھپا نہیں سکتا۔“
(خطبہ الہامیہ ص٢٠، خزائن ج١٦ ص٢٠)
نوٹ: مرزا قادیانی! ہم خوب سمجھ گئے کہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔
- ١٤...... ”مجھے خدا کی طرف سے دنیا کو فنا کرنے اور پیدا کرنے کی طاقت دی گئی
ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص٢١، خزائن ج١٦ ص٥٦)
”میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا۔ مگر وہی جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“
(خطبہ الہامیہ ص٣٥، خزائن ج١٦ ص٧٠)
نوٹ: حضرات! دیکھا کس طرح لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کیا کرتے تھے۔ ذرا ان سے پوچھئے تو کہ آپ کو دنیا فنا کرنے کی طاقت تھی۔ مگر اپنے مخالفوں کو تو تباہ نہ کر سکے اور نہ ہی محمدی بیگم کو حاصل کر سکے۔
- ١٥...... ”جو کوئی میری جماعت میں داخل ہو، درحقیقت وہ آنحضرت ﷺ کے
صحابہ میں داخل ہو گیا۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص١٧١)
٤
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣ ، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
ترجمہ: میں مسیح زمان ہوں۔ میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں۔
- ......١٦ "میں محمد ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں ۔"
(تریاق القلوب ص ٣ ، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ......١٧
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درثمین ص ١٢٣ ، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
نوٹ: مرزا قادیانی کیا ہوئے معجون مرکب ہوئے۔
- ......١٨
صد حسین است در گریبانم
(درثمین فارسی ص ١٦٩ ، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ترجمہ: میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔
نوٹ: حضرات! مرزا قادیانی کی ان بیہودہ تعلیوں کو دیکھئے کہ کن مکروہ الفاظ اور کس متکبرانہ لہجہ میں حضرت امام حسینؓ سے افضلیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
- ......١٩ "میں محبت کا کشتہ ہوں۔ مگر تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق
بیّن اور ظاہر ہے۔“
(نزول المسیح ص ٨١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
٥
- ٢٠...... ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا
کہ میں وہی ہوں۔ پھر میں نے ایک آسمان بنایا اور زمین بنائی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤،خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
نوٹ: احمدی دوستو! بتاؤ اور سچ بتاؤ کہ مرزا قادیانی نے خدا ہونے میں کون سی کسر باقی چھوڑی؟ فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا۔ ”انا ربکم الاعلیٰ“ بتاؤ۔ مرزا قادیانی کے ان الفاظ اور فرعون کے مقولہ میں کیا فرق ہے؟ ناظرین ایسے کمالات والے انسان سے جو جو امیدیں ہو سکتی ہیں ۔ وہ ظاہر ہیں۔
- ٢١...... ”عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت سیکھی تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦،خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
نوٹ: قرآن مجید کی سورہ آل عمران پارہ سوم کے رکوع نمبر ١٣ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”یعلمہ الکتب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل“ ﴿اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔﴾ قرآن مجید کی کسی آیت اور صحیح حدیث نبوی میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توریت ایک یہودی سے سیکھی تھی۔ یہ محض مرزا قادیانی کا افتراء ہے۔
مراق مرزا
یا ایہا الناظرین! پیشتر اس کے کہ مدعی نبوت اور ملہم کے دعاوی اور الہامات کا مطالعہ کیا جائے۔ دیکھنا چاہئے کہ آیا اس کی صحت درست ہے۔ صحیح الدماغ ہے۔ حافظہ اچھا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے ایک مرید نے لکھا ہے: ”ملہم کے دماغی قویٰ کا نہایت مضبوط ہونا ضروری ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز ماہ ستمبر ١٩٢٩ء، ص ٤)
”انبیاء کا حافظہ بہت اعلیٰ ہوتا ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز ماہ ستمبر ١٩٢٩ء، ص ٨)
”ملہم کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔“
(ریویو ماہ جنوری ١٩٣٠ء ص ٢٦)
بخلاف اس کے اگر نبی یا ملہم کے دماغی قویٰ کمزور ہوں۔ حافظہ کمزور ہو۔ یہاں تک نسیان تک نوبت پہنچ جائے۔ دماغ خراب ہو اور ان تمام عوارضات ردیہ کا باعث مالیخولیا ہو تو ان حالات کی موجودگی میں اس کے دعاویٰ کی تردید و تکذیب میں کسی اور ضرب کی ضرورت محسوس
٦
نہیں ہوتی۔ جیسا کہ ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب احمدی اسسٹنٹ سرجن فرماتے ہیں ۔ ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مانخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی ۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی
(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص ٦، ٧)
صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے ۔“
برادران! آپ کو نبی کے پرکھنے کی کسوٹی تو معلوم ہو گئی۔ اب ہم آپ کو خود مرزا قادیانی کی زبانی بتلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی نہ تو نبی تھے، نہ مسیح موعود تھے۔ نہ مجدد نہ ولی نہ کرشن بلکہ دراصل مانخولیا مراق کے مریض تھے۔ اس جگہ ہم مانخولیا مراقی کے اسباب و علامات بیان کرتے ہیں ۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ مانخولیا کیا چیز ہے۔ غور سے سنیں:
اسباب
- .......١ ”یہ تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہو جاتا ہے۔ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں ورم
بارد پیدا کر دیتا ہے یا ماساریقا یا تلی یا غشاء مراق میں جمع ہو کر ورم پیدا کر دیتا ہے اور اس عضو سے
(شرح اسباب ج ١ ص ٧٦)
سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں ۔“
”یا ضعف دماغ ، رنج و غم ، کثرت مجامعت، حمق، کثرت محنت دماغی ، زیادہ جاگنا، نہایت مشکل مسائل کے حل کرنے میں رات دن سوچتے رہنا بھی اس مرض کا سبب ہوتے ہیں ۔“
(مخزن حکمت طبع پنجم ج ٢ ص ١٣٥١)
علامات
”بعض مریضوں میں یہ فساد گاہے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بسا اوقات ہونے والے واقعات کی خبر پہلے ہی دے دیتا ہے۔“
(شرح اسباب ج ١ ص ٦٩)
- .......٢ ”اگر سپاہی ہو تو دعویٰ بادشاہی کرتا ہے۔ اگر مریض عالم ہو تو دعویٰ پیغمبری
کرتا ہے اور معجزات و کرامات کرتا ہے۔ وسخن از خدائی گوید اور لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔“
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
اب ہم مرزا قادیانی کی تحریروں سے ان کے مانخولیا، مراق ، نسیان، درد سر، سوء ہضم، ذیابیطس، ہسٹریا وغیرہ کے مریض ہونے کا جواز پیش کرتے ہیں۔
٧
- ١...... ہمیشہ درد سر، کمی خواب، تشنج قلب کی بیماری دورے کے ساتھ آتی ہے اور
دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر٤ص٤، خزائن ج١٧ ص٤٧١)
- ٢...... ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو
اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٧؍جون ١٩٠٦ء ص٥، ملفوظات ج٨ص٤٤٥)
- ٣...... ’’حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘
(ریویو اپریل ١٩٢٥ء ص٣٥)
- ٤...... حضرت مرزا صاحب نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ’’مجھ کو مراق
ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج٢٥ نمبر٨ ص٦، ماہ اگست ١٩٢٦ء)
- ٥...... ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود
(مرزا قادیانی) کو پہلی بار دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص١٦، بروایت ١٩)
- ٦...... ’’مراق کا مرض حضرت مرزا صاحب کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی
اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔‘‘
(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص١٥)
- ٧...... ڈاکٹر شاہ نواز صاحب لکھتے ہیں: ’’جب خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی
تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘
(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص١١)
نوٹ: چہ خوب یک نہ شد دو شد۔ باپ تو مراقی تھا ہی بیٹا بھی مراقی نکلا۔
- ٨...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔‘‘
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اگست ١٩٠١ء)
٨
نوٹ: قیس جنگل میں اکیلا ہے۔ مجھے جانے دو، خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔
ناظرین! غور فرمائیں کہ جس شخص کا دماغی توازن درست نہیں اور مرض مراق کا شکار ہو چکا ہے۔ کیا اس کا کوئی قول بھی قابل التفات ہے؟ ہرگز نہیں۔
ایک دفعہ اپنے خلیفہ نور دین کو خط لکھتے ہیں۔ جس کا اقتباس بجنسہ ہدیہ قارئین کرتے ہیں:
- ......١ ”جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے۔ مجھے یقین نہیں
کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ آخر میں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر امید اور دعا کرتا رہا۔ سو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ خط ١٣، مورخہ ٢٢؍ فروری ١٨٨٧ء)
- ......٢ ”دوا جس میں مروارید داخل ہیں۔ جو کسی قدر آپ لے گئے تھے۔ اس
کے استعمال سے بفضل تعالیٰ مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔ قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ ہے اور کاہلی اور سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور اس کو استعمال کر کے مجھ کو اطلاع دیں۔ مجھے تو بہت ہی موافق آ گئی ہے۔ فالحمد لله على ذالك “
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٢، خط نمبر ٩)
- ......٣ ”ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت (جماع) کے وقت لیٹنے کی
حالت میں نعوظ (خیزش عضو مخصوصہ ) بکلی جاتا رہتا تھا۔ (خیال رہے یہ ایک نبی کا مقدس کلام ہے ) شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی وہ عارضہ بالکل جاتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو مفید ہے اور منی کو گاڑھا کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ واللہ اعلم اگر دوا موجود ہوتی اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ کچھ زیادہ قدر شربت کر کے استعمال کریں تو میں خواہش مند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد (خیزش عضو) مخصوصہ کی بشارت سنوں۔ کبھی کبھی دوا کی چھپی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے۔ جو کہ ہفتہ عشرہ کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ دوا ختم ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے زیادہ کھائی ہے۔ اس لئے ارادہ ہے
٩
کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔ لیکن چونکہ گھر ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے۔ جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج٥ نمبر٢ ص١٣،١٤، خط نمبر١٥)
الہامات مرزا
قرآن مجید میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ یعنی جو نبی بھیجا گیا وہ اپنی قوم کی زبان میں۔ ابتدائے آفرینش سے یہی دستور چلا آیا ہے کہ خدا کے نبی اپنی ہی مادری زبان میں خدا کا کلام لوگوں کو سناتے رہے اور کبھی کسی غیر قوم کی زبان میں ان پر خدا کا الہام نہیں ہوا اور اس میں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ ملہم پر اس زبان میں وحی نازل ہوئی ہو۔ جس کو وہ خود نہ سمجھتا ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں: ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا؟ جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٢٠٩، خزائن ج٢٣ ص٢١٨)
حضرات! مگر مرزا قادیانی کچھ ایسے مظہر العجائب تھے کہ ان پر عربی میں الہام ہوئے۔ فارسی میں ہوئے۔ عبرانی میں ہوئے۔ اردو میں ہوئے۔ حتیٰ کہ انگریزی میں ہوئے اور نہایت دلچسپ ہوئے اور نہ ہوئے تو ایک اپنی غریب مادری زبان پنجابی میں نہ ہوئے۔ دوسری جگہ خود لکھتے ہیں: ”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص٥٧، خزائن ج١٨ ص٤٣٠)
اب ہم بطور نمونہ چند الہام درج کرتے ہیں۔ جن سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی ان کو خود نہیں سمجھ سکے۔ دوسروں کو خاک سمجھاتے۔
”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس میرے خدا، اے میرے خدا، مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس باعث ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ ان کے کچھ معنی کھلے ہیں۔“
(البشریٰ ج اوّل ص ٣٦)
١٠
”پھر اس کے بعد خدا نے فرمایا۔’ھوشعنا نعساً ‘ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٤)
”پریشن، عمر براطوس یا پلاطوس۔ نوٹ آخری لفظ براطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں؟ اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔“
(از مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٦٨)
”پیٹ پھٹ گیا۔ دن کے وقت کا الہام ہے۔ معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
”خدا اس کو ٥ بار ہلاکت سے بچائے گا نہ معلوم کس کے حق میں یہ الہام ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
”بہتر ہوگا کہ اور شادی کر لیں۔ معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٣)
”بعد ’١١‘ انشاء اللہ اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ١١ سے کیا مراد ہے؟ ١١ دن یا ١١ ہفتے یا کیا یہی ہندسہ ١١ کا دکھایا گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥، ٦٦)
”عثم عثم عثم“
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٠)
”ایک دم میں رخصت ہوا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)
”ایک دانہ کس کس نے کھایا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
مرزائیو! یہ الہام ہیں یا بجھارتیں۔
”ربنا عاج“ ہمارا رب عاجی ہے۔ عاجی کے معنی ہیں ہاتھی دانت یا گوبر ۔ پس ربنا عاج کے معنی ہمارا رب ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ کیوں اب تو سمجھ گئے نا۔
”آسماں ایک مٹھی بھر رہ گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٩)
”خاکسار پیپرمنٹ“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
نوٹ: کیوں مرزا قادیانی خاکسار پیپرمنٹ یا امرت دھارا تھا۔
”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٢١)
بیڑا غرق تو اسی دن ہو گیا تھا جب کہ محمدی بیگم کی شادی کسی دوسری جگہ ہو گئی تھی۔
١١
”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
اور مرے کہاں نہایت پاک جگہ میں؟
ناظرین! آپ نے مندرجہ بالا الہام کا مطالعہ کر لیا۔ اب انگریزی الہام بھی ملاحظہ کریں۔ انگریزی دان حضرات ذرا توجہ سے پڑھ لیں اور مرزا قادیانی کی انگریزی دانی کی داد دیں۔
”I am quarrler“ یعنی میں جھگڑنے والا ہوں۔
(براہین احمدیہ ص ٤٧٢، خزائن ج ١ ص ٥٤١)
نوٹ: یہ بات تو آپ کی اظہر من الشمس ہے۔
”I can what i will do.“ یعنی کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔
(براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٥٠)
نوٹ: کیسی اعلیٰ انگریزی ہے۔
Though all men shall be angry, But God is with you. Words of God can not exchange. یعنی اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ مگر خدا تمہارے ساتھ ہے۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٤، خزائن ج ١ ص ٦٣٨)
نوٹ: ”Words of God cannot exchange“ الہامی انگریزی کا نمونہ ہے۔ کیونکہ انسانی محاورہ میں یہ استعمال نہیں ہوتا۔
نوٹ: مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کو جس زبان میں الہام ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی اس زبان کو نہیں جانتے۔ بتاؤ۔ مرزا قادیانی پر یہ مثال صادق آتی ہے یا نہیں۔
نوٹ: بالفرض اگر مرزا قادیانی کا کوئی خواب یا الہام سچا بھی ثابت ہو گیا تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے۔ کیونکہ خواب تو بعض اوقات بازاری عورتوں کے بھی سچے ہو جایا کرتے ہیں۔ چنانچہ جیسا کہ مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥) پر خود فرماتے ہیں کہ: ”میرا ذاتی تجربہ ہے کہ زانیہ اور قوم کنجری جن کا دن رات پیشہ زنا کاری ہے۔ ان کو دیکھا گیا ہے کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔“
”میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٥)
١٢
کذبات مرزا
قرآن مجید میں اللہ پر خدا کی لعنت ہے۔ یہ خدائی لئے مرزا قادیانی بھی جھوٹ کی
- ......١ ”جو
بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں رہتا
- ......٢ ”جو
- ......٣ ”جو
باتوں میں فرق نہیں۔“
- ......٤ ”جو
- ......٥ ”غلط
ہے۔“
- ......٦ ”نبی
ناظرین! اب ہم کتاب اور صفحہ کا حوالہ دے کر کر حیرت ہوتی ہے۔ بتلائیے دائرہ سے باہر ہوتا ہے۔
پہلا جھوٹ: ”باری
اگر چہ اس امت کے بعض ا گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ شخص ن
کذبات مرزا
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”لعنۃ اللہ علیٰ الکاذبین“ یعنی جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے۔ یہ خدائی فیصلہ ہے۔ جھوٹا آدمی کبھی بھی مقرب بارگاہ الٰہی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی بھی جھوٹ کی مذمت میں لکھتے ہیں:
- ١...... ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں
بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص٢٢٢، خزائن ج٢٣ ص٢٣١)
- ٢...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٠، خزائن ج١٧ ص٥٦)
- ٣...... ”جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے۔ جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔ ان دونوں
باتوں میں فرق نہیں۔“
(الحکم مورخہ ١١؍صفر ١٣٢٣ھ)
- ٤...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٢٦، خزائن ج٢٢ ص٤٥٩)
- ٥...... ”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت ہی شریر اور بدذات آدمیوں کا کام
ہے۔“
(آریہ دھرم ص١١، خزائن ج١٠ ص١٣)
- ٦...... ”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص٢١، خزائن ج١٥ ص٢١)
ناظرین! اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جھوٹ مرزا قادیانی کی ضمیر میں داخل تھا اور وہ کتاب اور صفحہ کا حوالہ دے کر بھی جھوٹ بولتے تھے۔ جس سے ان کی جرأت اور دیدہ دلیری دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ بتلائیے کیا جھوٹا آدمی نبی ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ تو انسانیت کے دائرہ سے باہر ہوتا ہے۔
پہلا جھوٹ: ”بات یہ ہے کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ شخص نبی کہلاتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)
١٣
نوٹ: مرزائی دوستو! خدارا مکتوبات کو ذرا غور سے مطالعہ کرو اور دیکھو کہ اس حوالہ میں نبی کا لفظ ہے؟ اگر نہیں ہے اور یقیناً نہیں تو کیوں ایسے جھوٹے آدمی کے پیچھے لگے ہو۔ جو نبوت کے لئے مجدد صاحب کی پناہ لینے کے لئے محض افتراء سے کام لے رہا ہے۔
دوسرا جھوٹ: ”اور یہ بھی یادرہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
نوٹ: اے مرزائیو! یہ قرآن شریف پر بہتان طرازی نہیں تو کیا ہے؟ اگر ہمت ہے تو کوئی ایک آیت ایسی بتلاؤ۔ جس کا مطلب یہ ہو کہ مسیح کے وقت طاعون پڑے گی۔ ورنہ کم از کم دس مرزائی تو مسلمان ہو جاؤ۔
تیسرا جھوٹ: ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے۔ جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
مرزائیو! پڑھو: ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ اتنا بڑا جھوٹ کیا کوئی مرزائی بتلائے گا کہ کون کون سے پیغمبر نے مرزا قادیانی کے درشن کی آشا کی تھی۔
چوتھا جھوٹ: ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
(تحفہ ندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)
نوٹ: ہے کوئی مرزا قادیانی کا چیلہ جو ہمیں قرآن مجید سے کرشن قادیانی کا نام ابنِ مریم دکھاوے۔ ورنہ جھوٹے آدمی کو نبی کہنا چھوڑ دے۔ کیونکہ جھوٹا آدمی صحیح معنوں میں مؤمن نہیں ہو سکتا۔
پانچواں جھوٹ: ”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
نوٹ: اے مرزائیت کے علمبردار! کیا آپ نے قرآن شریف میں قادیان کا نام تلاش کیا۔ اگر نہیں تو اب تلاش کر کے دکھاؤ اور اگر نہ ملے تو سب مل کر کہہ دینا ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“
چھٹا جھوٹ: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
١٤
نوٹ: مرزائی دوستو! یہ کا نام ہے؟
ساتواں جھوٹ: ”ہم گی۔“ برعکس نہند نام زنگی کا مسلمانوں میں فرقہ بندی کا بیج دراز کے لئے ناپید کر دیئے۔
آٹھواں جھوٹ: ”میں دنیا جانتی ہے کہ مرزا ڈینگ ماری تھی اور دیدہ دانستہ جھوٹ
نواں جھوٹ: ”مرزا یہ بیوی میرے پاس نہ آئے تو میں خود مرزائی جانتے ہیں پوری نہ ہوئی۔
دسواں جھوٹ: ”عیسیٰ یہ قول بھی مرزا قادیا ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو چنانچہ اس پیش گو پیشین گوئی آتھم کی تصدیق کر الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال ”پہلے پچاس حصو پانچ کے عدد میں صرف ایک نقط
ایات کو ذرا غور سے مطالعہ کرو اور دیکھو کہ اس حوالہ میں ؟ کیوں ایسے جھوٹے آدمی کے پیچھے لگے ہو۔ جو نبوت محض افتراء سے کام لے رہا ہے۔ ہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں طاعون پڑے گی۔“ (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) شریف پر بہتان طرازی نہیں تو کیا ہے؟ اگر ہمت ہے تو یہ ہو کہ مسیح کے وقت طاعون پڑے گی۔ ورنہ کم از کم دس
تم نے وہ وقت پایا ہے۔ جس کی بشارت تمام نبیوں نے تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)
انا الیہ راجعون ”اتنا بڑا جھوٹ کیا کوئی مرزائی قادیانی کے درشن کی آشا کی تھی۔ میں میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں ۔“
(تحفہ ندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)
ایسا چیلہ جو ہمیں قرآن مجید سے کرشن قادیانی کا نام ابن اسے چھوڑ دے۔ کیونکہ جھوٹا آدمی صحیح معنوں میں مؤمن
تمام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ
(ازالۃ الاوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
دکھا دیا کہ آپ نے قرآن شریف میں قادیان کا نام تلاش نہ ملے تو سب مل کر کہہ دینا ”لعنة الله على
تھے یا مدینہ میں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
١٤
نوٹ: مرزائی دوستو! ایمان سے کہو کہ مرزا قادیانی کہاں مرے۔ کیا جھوٹ کسی جانور کا نام ہے؟
ساتواں جھوٹ: ”میرے زمانہ میں دنیا کی تمام قومیں ایک مسلم قوم کی شکل بن جائیں گی۔“
(چشمہ معرفت ص ٢١٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢١)
برعکس نہند نام زنگی کافور ۔ بجائے اس کے کہ تمام دنیا کا مذہب اسلام ہو جاتا۔ مسلمانوں میں فرقہ بندی کا بیج بو دیا۔ اسلام کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کی ترقی کے امکانات عرصہ دراز کے لئے ناپید کر دیئے۔
آٹھواں جھوٹ: ”میں مدینہ روضہ نبویہ میں دفن ہوں گا۔“
(ازالہ خورد ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)
دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی کی ہڈیاں قادیان میں دفن ہیں۔ لہٰذا یہ محض آپ نے ڈنگ ماری تھی اور دیدہ دانستہ جھوٹ کہا تھا۔
نواں جھوٹ: ”مرزا احمد بیگ کی بیوی سے میرا نکاح آسمان پر ہو چکا ہے۔ دنیا میں اگر یہ بیوی میرے پاس نہ آئے تو میں جھوٹا۔“
(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
خود مرزائی جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی تو اس تمنا کو ساتھ ہی لے کر دنیا سے چل بسے اور پوری نہ ہوئی۔
دسواں جھوٹ: ”عبداللہ آتھم ١٥ ماہ میں ٦ ستمبر ١٨٩٤ء تک مر جائے گا۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
یہ قول بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ثابت ہوا۔ کیونکہ مسٹر عبداللہ آتھم مورخہ ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے۔
چنانچہ اس پیش گوئی کے نہ پورا ہونے کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”جو کوئی پیشین گوئی آتھم کی تصدیق کر کے ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا۔ صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
”پہلے پچاس حصہ لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ عدد پورا ہو گیا۔“
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)
١٥
نوٹ: جھوٹ ظاہر ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔
- ٤...... خلیفہ اول حکیم نورالدین صاحب فرماتے ہیں ۔ ”مانخولیا کا کوئی مریض
خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔“
(بیاض نورالدین حصہ اوّل ص ٢١٢)
- ٥...... ”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا
ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا۔ اس کام کو کرتا رہتا ہوں ۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ اور زیادہ ہو جاتا ہے۔“
(کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٨)
- ٦...... ” میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان
تک چلی گئی ۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے ۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔ اس وقت آپ اپنے بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٦ ، روایت نمبر ١٩)
- ٧...... ” بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع
پاوے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے الہامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ بچہ بن گیا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ٨...... حکیم محمد حسین قریشی جو مرزا قادیانی کے خاص مریدوں میں سے ہیں۔
انہوں نے اپنی دوکان کو شہرت دینے کے لئے مرزا قادیانی کے ”خطوط امام بنام غلام“ شائع کئے ہیں۔ جس میں سے صرف ایک خط شُرابی قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کرتے ہیں۔
”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ! محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن، خود پلومر کی دوکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ۔“
(خط نمبر ١٢)
١٦
نوٹ: ٹانک وائن سے مراد ایک اعلیٰ درجہ کی ولایتی انگوری شراب ہے۔
عمر مرزا
یادش بخیر! مرزا آنجہانی رئیس قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق چند پیشین گوئیاں کی تھیں۔ مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہ ہوئی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل اقتباسات سے مرزا قادیانی کے سارے کے سارے کچے چٹھے کا راز کھل جائے گا۔ فرماتے ہیں:
- ......١ ”مجھے ایک عربی میں الہام ہوا کہ اے مرزا ہم تجھ کو اسی سال کی عمر دیں
گے۔ یا اس کے قریب۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
- ......٢ ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں ان کاموں کے لئے تجھے اسی
برس یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال اسی برس سے زیادہ دوں گا۔ (عمر کی میعاد یہاں بھی زیر تجویز ہے۔ مصنف)“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢)
- ......٣ ”خدا نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی
اور یا ٥، ٦ سال زیادہ یا ٥، ٦ سال کم۔ (یہاں مرزا قادیانی سے سچی پچی نے تین وعدے کئے۔ مگر ایفاء وعدہ سے گریز کیا اور آپ مفت میں رسوا ہوئے۔ مصنف)“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩)
- ......٤ ”میری عمر اسی برس یا اس سے ٥، ٤ سال کم یا زیادہ ہوگی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
- ......٥ ”تیس سال سے زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں
میں فرمایا کہ تیری عمر اسی سال یا ٢، ٤ برس اوپر یا نیچے ہوگی۔ (اوپر اور نیچے میں فصاحت و بلاغت کوٹ کوٹ کر بھردی گئی ہے۔ مصنف)“
(منظور الٰہی ص ٢٢٨)
- ......٦ ”سو اسی طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے خلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا
کہ میں ٨٠ برس یا ٢، ٣ برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٣، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨)
- ......٧ ”اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں۔ وہ تو ٧٤ اور ٨٦ کے اندر
اندر عمر کا تعین کرتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩)
مندرجہ بالا اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے مختلف وقتوں میں مختلف
١٧
پیش گوئیاں کر کے بہتیری کوششیں کی کہ کسی نہ کسی طرح ایک پیشین گوئی کے مطابق عمر ختم ہو جائے ۔ مگر سب کی سب کوشش ناکام ثابت ہوئیں اور مرزا قادیانی خیر سے اپنی عمر کے چھیاسٹھویں (٦٦ ویں) دور ہی میں چل بسے۔ (جہاں از خس و خاشاک پاک شد۔ مصنف )
اب بھی کوئی بھائی اصرار کرے کہ مرزا قادیانی صحیح الدماغ انسان تھے تو اس کی تسلی کے لئے سپرد قلم ہے۔ فرماتے ہیں:
- ......١ ”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب ہزار ششم سے گیارہ برس رہتے
تھے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٩٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢)
- ......٢ ”اب چھٹے ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر تھے۔ جس میں خدا کے
سلسلہ کو فتح ہوگی اور روشنی و تاریکی میں یہ آخری جنگ ہے۔“
(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦، مورخہ یکم؍مارچ ١٩٠٦ء)
- ......٣ ”موت مرزا۔ مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء، مطابق ١٣٢٦ھ“
- ......٤ ”ہمارا زمانہ (١٣٢٠ھ) حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم میں واقع
ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٥)
- ......٥ ”میرا اپنا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس دور کے
خاتم ہیں اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں۔ کیونکہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا
اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا ۔“ (ضمیمہ اخبار الفضل مورخہ ١٤؍فروری ١٩٢٨ء)
مندرجہ بالا اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ہزار ششم سے گیارہ سال رہتے تھے کہ پیدا ہوئے اور ١٣٢٤ھ تک ہزار ششم ختم نہیں ہوا۔ ١٣٢٦ھ میں آپ دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اب اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ١٣٢٦ھ میں ہزار ششم ختم ہو گیا تو بھی مرزا قادیانی کی عمر زیادہ سے زیادہ ١١ سال بنتی ہے۔ ورنہ اس سے بھی کم۔ اب بھی اگر کوئی سر پھرا مرزا قادیانی کے مراقی ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش رکھے تو ہمارے خیال میں وہ خود بھی اس مرض میں مبتلا ہوگا۔ اب مرزائیوں کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو مرزا قادیانی کی عمر ١١ سال تسلیم کرلیں یا ان کے مراقی ہونے کی صورت میں دعویٰ نبوت سے انکار کر دیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود فرما گئے ہیں کہ جب میری عمر ٤٠ برس کو پہنچی تو خدا نے مجھے مامور و مبعوث کیا اور ساتھ ہی یہ بھی اٹکل پچو لگا گئے کہ مسیح موعود ہزار ششم میں مامور و مبعوث ہوں گے تو اس حساب سے آپ بجائے ہزار ششم کے
١٨
کی کہ کسی نہ کسی طرح ایک پیشین گوئی کے مطابق عمر ختم ہو ناکام ثابت ہوئیں اور مرزا قادیانی خیر سے اپنی عمر کے سال ہے۔ (جہاں از خس و خاشاک پاک شد۔ مصنف) کہے کہ مرزا قادیانی صحیح الدماغ انسان تھے تو اس کی تسلی کے
ئش اس وقت ہوئی جب ہزار ششم سے گیارہ برس رہتے
(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢)
کہ ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر تھے۔ جس میں خدا کے ہو آخری جنگ ہے۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص ب، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦، مورخہ یکم مارچ ١٩٠٦ء)
مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء، مطابق ١٣٢٦ھ‘‘
١٣٢ھ ) حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم میں واقع
(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٥)
وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس دور کے ہی ہیں ۔ کیونکہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا
(ضمیمہ اخبار الفضل مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٢٨ء)
صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ہزار ششم سے گیارہ سال ہزار ششم ختم نہیں ہوا۔ ١٣٢٦ھ میں آپ دنیا سے کوچ کر کہ ١٣٢٦ھ میں ہزار ششم ختم ہو گیا تو بھی مرزا قادیانی کی لہٰذا اس سے بھی کم ۔ اب بھی اگر کوئی سر پھرا مرزا قادیانی ماننے لگے تو ہمارے خیال میں وہ خود بھی اس مرض میں مبتلا ہیں یا تو مرزا قادیانی کی عمر ١١ سال تسلیم کر لیں یا ان کے سے انکار کر دیں ۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود فرما گئے ہیں کہ ما مبعوث کیا اور ساتھ ہی یہ بھی اٹکل پچو لگا گئے کہ ہوں گے تو اس حساب سے آپ بجائے ہزار ششم کے
١٨
ہزار ہفتم میں مبعوث ہوئے۔ لہذا دعویٰ نبوت غلط اور بے سر و پا ماننا پڑے گا۔ ناظرین ! ذرا ایک قدم آگے بڑھئے تو یہ مثل بالکل واضح ہو جائے گی کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ! مرزا قادیانی کی اپنی عمر ان کے اپنے حساب کے مطابق ١١ سال ہوتی ہے۔ مگر میاں بشیر الدین محمود نہیں مانتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہزار ہفتم کا دور ختم کر کے ہزار ششم میں جا نکلے اور خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں ہزار ششم سے ١١ سال رہتے پیدا ہوا تو اس حساب سے آپ کی عمر ہزار ششم کے ١١ سال لے کر اور ہزار ہفتم کا پورا دور شمار کر کے ١٠١١ سال ہوتی ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے ہزار ششم کے چند سال بھی اور لے لئے جاویں تو ١٠١١ سے اوپر ہو جاتی ہے۔ ہمیں مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے بیٹے کے مراقی ہونے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ملتی اور نہ ہی ان بھول بھلیوں کی کچھ سمجھ آتی ہے کہ ان دونوں میں سے کون سچا ہو سکتا ہے۔ اب ہم فیصلہ مرزائی دوستوں پر چھوڑتے ہیں کہ باپ اور بیٹا میں سے کون سچا تھا۔
مرزا قادیانی بقول خود کافر
مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ: ”ان روح اللہ ينطق فی نفسی“ تحقیق اللہ کی روح میرے نفس میں بولتی ہے۔
(انجام آتھم ص ٧١، خزائن ج ١١ ص ١٧٦)
اور شان یہ ہے: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى“ اور نہیں بولتا مرزا قادیانی اپنی خواہش سے مگر جو وحی کیا گیا ہو اس کی طرف۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)
اور حالت یہ ہے کہ بغیر بلائے بولتا نہیں بغیر سمجھائے سمجھتا نہیں اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔
(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہے گا وحی منطوق اور منزل من السماء کہے گا۔ جس میں کسی قسم کا شک و شبہ خرمن ایمان کے لئے برق خاطف ثابت ہوگا اور جو کچھ بھی (انٹ سنٹ ) اس پر نازل ہوگا۔ من اللہ ہوگا اور تو اور اس میں ملہم الیہ کے لئے بھی چون و چرا یا لیت ولعل کی گنجائش نہ ہوگی۔ اس مطلب کی وضاحت کے لئے مرزا قادیانی اپنے جوامع الکلم یوں فرماتے ہیں ۔ ”یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے۔ یقینی ہے۔ اگر میں ایک یوم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔“
(تجلیات الہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
١٩
مرزائی حضرات کلیجے پر پتھر باندھ کر ذیل کا ملفوظ شریف بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ”مسیح کی وفات، عدم نزول اور اپنی مسیحیت کے الہامات کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا۔ (گھر کا معاملہ ہوا) بلکہ رد کردیا۔ (شک کرنا تو بجائے خود رہا)“
(حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ص٢٩٦)
اب انصاف سے کہئے کہ ایک یوم کے شک وشبہ سے جہاں کفر اور آخرت کی تباہی لازم آتی ہے۔ وہاں دس سال کے التواء بلکہ رد وحی کی کیا سزا ہونی چاہئے اور اس جرم کی بناء پر مسلمان اگر مرزا قادیانی کے لئے سزا تجویز کریں۔ یعنی صرف یہی کہ کافر کہہ دیں تو آپ کا چراغ پا ہو جانا بے جا ہوگا یا نہیں۔ کیونکہ ہم اپنی طرف سے تو ان کے لئے کوئی لقب تجویز نہیں کر رہے۔ یہ سب ان کا اپنا ہی تجویز کردہ ہے۔ مرزائی دوستو! کہ تھوڑی دیر کے لئے اس حقیقت پر غور کرو گے اور کیا آسمانی گزٹ اپنے نبی کو کفر سے بچانے اور ان حوالہ جات کی تطبیق کی سعی کرو گے۔
خدمت اسلام
مرزا قادیانی اگر اپنے دعویٰ میں سچے اور مامور من اللہ ہوتے تو تمام مخلوق سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کئے جاتے۔ لیکن چونکہ ان کے دعاوی کی بنیاد نفسانیت پر قائم تھی۔ اس لئے آپ کو ایک ایسے مادی سہارے کی تلاش ہوئی۔ جس کے بل بوتے پر آپ اپنے مشن کو جاری رکھ سکتے۔ چنانچہ آپ نے اس مقصد کے لئے حکومت وقت کی خوشامد اختیار کی اور اس میں اس قدر زیادتی کی کہ جہاد جیسے اسلام کے قطعی مسئلہ سے انکار کر دیا اور اپنی تمام کوشش اس بات پر صرف کر دی کہ گورنمنٹ کی اطاعت وفرمانبرداری جزو ایمان ہے اور جہاد بالکل حرام ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتب لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ملک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری تحریروں کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں لوگوں نے جہاد کے خیال کو چھوڑ دیا ہے۔“
(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ص١٥٥)
یہ وہ کلمات ہیں۔ جنہوں نے تمام مسلمانوں کے دلوں میں ناسور ڈالے ہیں اور روزمرہ کے مشاہدات کی بناء پر وہ یقین کر چکے ہیں کہ حکومت برطانیہ ان کی ہر ممکن اعانت کے لئے مستعد رہتی ہے۔
٢٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فسخ بیعت
خلیفہ قادیان
جناب محمد صادق قریشی قادیانی
لمحہ فکریہ
ایک مذہبی جماعت کا امام جو اپنے آپ کو خصوصیت سے مقدس اصطلاحوں سے بریکٹ کرتا ہے۔ پھر فضل عمر ہونے کے علاوہ سینکڑوں محدثین سے بڑھ کر بھی اس کا دعویٰ ہے۔ لیکن اس کی یہ یاوہ گوئی کہ خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور میری دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سراسر دھوکہ اور لاف زنی ہے۔ جگہ کی قلت کے پیش نظر مختصر دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔ تاکہ اس کی دعاؤں کی حقیقت اور مقبولیت کا اندازہ بآسانی لگا سکیں۔ یہ کہ اس کی بدعادات واطوار جیسے قبیحہ فعل کے سیاہ اور بد نما داغ کی وجہ سے اس کی چہیتی بیوی اور اس کا کیا انجام ہوا اور پھر اپنی ہی وحی مقدس کتاب (تذکرہ ص ١٨ بطبع ٣) پر درج ہے۔
”کلب یموت علی کلب“ (یعنی وہ کتا اور کتے کی موت مرے گا) کا الہام پورا ہونا لازمی امر تھا۔ پوری تفصیل کے لئے (ملک عزیز الرحمن صاحب) حقیقت پسند پارٹی مدن ولا کرشن نگر لاہور سے رسالہ حاصل کریں۔
- ١....... اس کی ایک بیوی جس کا نام مریم ہے۔ ہمشیرہ ولی اللہ شاہ جو اپنے طرز
طریق سے حسین و جمیل تھی۔ آتشک جیسی مرض میں مبتلا رہی اور اس کا تمام بدن گل سڑ گیا۔ تمام ظاہری کوششوں کے باوجود کوچ کر گئی۔ جنازے کے وقت بھی جو بدبو اور تعفن تھا۔ خدا کی پناہ اس بدبو کو دور کرنے کے لئے قیمتی سے قیمتی عطر استعمال میں لایا گیا۔ لیکن یہ عطر بھی اس بدبو کو مسخر نہ کر سکا۔
- ٢....... پھر جو زنا کے الزام میں ملوث ہو جس کا چلن سوائے غلاظتوں کے
ڈھیروں کے ڈھیر ہو اور مذہب کا مقدس لبادہ کی آڑ میں زنا کیا ہو۔ پھر ایک طویل عرصہ فالج کا شکار رہا ہو۔ ڈاکٹر ڈوئی سے بھی بدتر حالت میں موت واقع ہوئی۔ اس عبرتناک انجام سے ہر احمدی بخوبی واقف ہے۔
”فاعتبروا یا اولی الابصار“ جماعت احمدیہ خالصتاً ایک غیر سیاسی جماعت ہے اور اس نے حکومت کے صوبائی مرکزی ردو بدل میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ کسی سیاسی معاملہ میں دخل دیا ہے۔ انشاء اللہ یہ اصول جماعت کا جزو ایمان ہے کہ قانوناً قائم شدہ حکومت کے ساتھ نہ صرف وفاداری کی جائے۔ ٢
بلکہ ’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘ کے قرآنی اصول کے مطابق اس کی حمایت کی جائے۔ جماعت کے اس اصول سے تمام دنیا واقف ہے اور گواہ ہے کہ جماعت ہمیشہ اس کی پابند رہی ہے۔
(الفضل مورخہ ٢؍اکتوبر ١٩٥٦ء)
مندرجہ بالا حوالہ کی روشنی میں اس کو بغور ملاحظہ کریں۔ کیا یہ مذہبی جماعت کا کردار ہے۔ بہر حال نئی نسل کے عوام اور عوامی حکومت کی نشاندہی کے لئے خصوصیت سے قابل غور ہے۔ تاکہ ان کی خفیہ سرگرمیاں اور ریشہ دوانیاں اور خطرناک ارادے سے روشناس ہو سکے۔ بقیہ مزید تفصیل کے ساتھ آئندہ روشنی ڈالی جائے گی۔
طالب دعا: محمد مظہر الدین ملتانی معرفت پوسٹ بکس ١٠٢٨ لاہور
نقل چٹھی متعلق فسخ بیعت بنام خلیفہ قادیان مورخہ ٤؍اگست ١٩٣٧ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
بخدمت جناب مرزا محمود احمد صاحب خلیفۂ قادیان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
چونکہ میں نے آپ کی بیعت محض دینی اغراض کی وجہ سے کی تھی اور اس لئے میں آپ کا مرید بن گیا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جانشین ہونے کی وجہ سے سلسلہ احمدیہ کی خدمت کرتے ہیں اور سلسلہ کی عزت و ناموس ہر وقت آپ کو مدنظر ہے اور کہ آپ عادل صداقت پسند اور غریب اور امیر کو آپ ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور کہ جن لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت حاصل کی ہے اور حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ایمان لا کر تن من دھن نثار کر دیا ہے۔ آپ ان کی صحیح طور پر رہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح کہ میں ذیل میں ثابت کروں گا۔ میرا ذاتی تجربہ شاہد ہے کہ آپ میں یہ صفات نہیں پائی جاتیں۔ بلکہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والا معاملہ ہے۔ اندرونی طور پر آپ ان محاسن سے بے بہرہ ہیں اور آپ کا فعل ان کے منافی۔ آپ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور اس کے پاک بانی کے ناموس کو بٹہ لگا رہے ہیں۔ غریبوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ شریفوں کو ذلیل کرنے کے درپے ہیں اور رذیلوں کو سیاہ و سفید کا مالک بنا کر یا ان کے ساتھ ناشائستہ رعایت کر کے درپردہ دوسروں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ بھی شرافت اور صداقت کو چھوڑ کر ان کا سا رویہ اختیار کریں۔
٣
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے حقوق کو غصب کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر میں آپ کی بیعت سے دستبردار ہوتا ہوں۔ تا کہ آپ یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ میں نے بہانہ بنالیا ہے۔ میں ذیل میں آپ کی بے انصافی آپ کے قابل اعتراض رویہ آپ کی دروغگوئی اور آپ کے درپردہ دشمنان سلسلہ احمدیہ و دشمنان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امداد دینے کی چند مثالیں نمونہ کے طور پر درج کرتا ہوں۔
- ١...... آپ نے سپرنٹنڈنٹ صاحب دفاتر کو کہہ کر مجھ سے صدر انجمن احمدیہ
میں ریکارڈ کیپر نظارت امور عامہ کی آسامی کے لئے درخواست دلوائی۔ لیکن بجائے براہ راست مجھے اس آسامی پر لگانے کے مجھے نیشنل لیگ کا پریذیڈنٹ مقرر کر دیا۔ جو کہ ایک موہوم اور فرضی آسامی تھی اور پھر یہی ظاہر کرتے رہے کہ گویا میں امور عامہ کا ملازم ہوں۔ یہ آپ کی صریح دھوکہ بازی تھی۔
- ٢...... چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے آپ کے ایماء سے مجھے احراریوں پر
جب کہ وہ شروع شروع میں قبرستان و عید گاہ کے متعلق جھگڑنے لگے تھے۔ قاتلانہ حملہ کرنے کی ترغیب دی۔ جو کہ بالکل ایک غیر شرعی فعل تھا۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ چوہدری صاحب موصوف نے ایسی ترغیب مجھے دی تھی۔ لیکن مجھے اس کے لئے آمادہ نہ پا کر مزید زور نہ دیا۔ اس وقت میں یہ اس کی ذاتی حماقت سمجھتا تھا۔ لیکن آپ کے باقی حالات اور خیالات کا اندازہ کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ ممکن نہیں کہ چوہدری صاحب آپ کے مشورہ یا ایماء کے بغیر اس قدر دلیرانہ قدم اٹھاتے۔
- ٣...... لاہور میں مجھے سیکرٹری آل انڈیا نیشنل لیگ مقرر کر کے بھیجتے وقت آپ
نے جو احکام دیئے تھے۔ ان میں سے خاص کر ایک حکم قابل اظہار ہے۔ آپ نے ایک ہزار روپیہ خاص کام کے لئے دیا تھا کہ یہ شیخ بشیر احمد کے حوالہ کر دو اور اس کو کہہ دو کہ اس میں سے مبلغ یک صد روپیہ فی الفور اختر علی آف زمیندار کے سپرد کر دیں اور بعد میں ان کو جس قدر رقم کی ضرورت ہووے دیا کریں۔ اختر علی اور اس کا باپ سلسلہ اور مسیح موعود علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) کو نعوذ باللہ دجال ، عیاش ، شراب خور وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور آپ ان کے پروپیگنڈا کے لئے مومنوں سے حاصل کردہ چندہ میں سے زرخطیر عنایت کرتے ہیں۔ یہ ہے آپ کی ایمانی غیرت اور مومنانہ شان اللہ پناہ دے۔
٤
- ٤...... آپ ہمیشہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے گورنمنٹ کو کبھی دھوکہ نہیں دیا اور
نہ ہی گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں دروغگوئی اور منافقت سے کام لیا ہے۔ حالانکہ آپ کا رویہ گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ ہے اور آپ ہمیشہ سے گورنمنٹ کو وفا کے پردے میں نقصان پہنچانے کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں۔ جو خود میرے مشاہدہ میں آئی ہیں۔
- الف ...... نیشنل لیگ کا اجرا ہی آپ نے اس لئے کرایا ہے کہ تاکہ آپ اس طرح
گورنمنٹ کے خلاف پروپیگنڈا مؤثر طریق سے کر سکیں۔ میں نے جب سب سے پہلے قادیان میں نیشنل لیگ کا چارج لیا تو گو آپ نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ نیشنل لیگ کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیں گے۔ لیکن سب سے پہلا جلسہ جو میں نے کیا اس میں ریزولیشنز پاس کرانے کے لئے آپ ہی نے یحییٰ خان کے ہاتھ بھجوائے جو کہ ہمیں نقل کروا کر اصلی کاپی آپ کی ہدایت کے مطابق واپس لے گئے۔ کیونکہ آپ کو خطرہ تھا کہ کسی طرح یہ راز افشا نہ ہو جائے۔ اس کے بعد بھی نیشنل لیگ کی باگ ڈور آپ کے ہی ہاتھ رہی۔ نہ پریزیڈنٹ اور نہ سیکرٹری کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ آپ جملہ معاملات میں ڈپلومیسی سے کام لیتے رہے۔
- ب ...... جب لاہور میں گولی چلی تو جماعت نے احراریوں کے ساتھ گورنمنٹ کے
خلاف بھی سخت پروپیگنڈا شروع کیا۔ چنانچہ بیسیوں اشتہار لکھوائے گئے۔ جن پر غیر احمدیوں کے دستخط کرا کر اور ان کو اس کا معاوضہ دے کر تمام ہندوستان میں شائع کیا جاتا رہا۔ یہ کام آپ گورنمنٹ کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے کر رہے تھے۔ ورنہ جن لوگوں کی طرف سے اشتہارات شائع کروائے جاتے رہے۔ وہ سلسلہ کے جانی دشمن ہوتے تھے۔
- ج ...... سید ولی اللہ شاہ صاحب نے لاہور میں گولی چلنے کے متعلق خلاف واقعہ
خفیہ مضمون لکھ کر خفیہ طور پر میرے ذریعہ سے شائع کرائے۔ جن میں گورنمنٹ کے خلاف اکسایا جاتا رہا۔ ظاہر ہے کہ شاہ صاحب کو آپ ہی نے اس کام کے لئے مامور کیا ہوا تھا۔
- د ...... سید ولی اللہ شاہ صاحب نے میرے سامنے سید حبیب آف سیاست کے
بھائی سید عنایت شاہ کو اخبار کی پالیسی خریدنے کے لئے مبلغ ایک سو روپے کا نوٹ پیشگی دیا تھا۔ حالانکہ تمام دنیا کو معلوم ہے کہ سیاست نے کئی بار احمدیت کے خلاف شرمناک طور پر قدم اٹھایا۔ سیاست کی پالیسی اسی میں سے خریدی گئی تھی کہ وہ گورنمنٹ کے لئے شہید گنج کے واقعہ
٥
مشکلات پیدا کرے۔ سید حبیب سیاسی قیدی تھا۔ گورنمنٹ کا مجرم تھا۔ آپ نے اس کی اعانت کر کے گویا گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ قدم اٹھایا۔
- ہ...... شہید گنج کے موقع پر ایک طرف تو آپ کے نمائندے لاہور میں پبلک کو
گورنمنٹ اور احراریوں کے خلاف جوش دلاتے رہے اور دوسری طرف شیخ بشیر احمد صاحب زر کثیر خرچ کر کے کانگریسی لیڈروں اور اخبار نویسوں کو اپنے مکان پر مدعو کر کے پروپیگنڈا میں شامل کرتے رہے۔ روپیہ غریب مؤمنوں اور مفلسوں کا خرچ ہوا اور فائدہ کانگریس کو ہوا۔ آپ کے نمائندوں کو الو بنا کر جواہر لعل نہرو کا استقبال کرایا اور آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ خدا نے آپ کو اس شرمناک فعل کا کیسا بدلہ دیا۔
- و...... محتسبی کے زمانہ میں مثلیں دیکھنے سے یہ امر مجھ پر اچھی طرح کھل گیا
کہ آپ دکھاوے کے طور پر اس طرح کہتے ہیں کہ جماعت میں کسی ایسے معاملے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ جس کی قانون اجازت نہ دیتا ہو۔ مسماۃ منی بنت سنت سنگھ خاکروب نو مسلم کے ساتھ جن دو آدمیوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ اس کی تحقیقات سابق محتسب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی سے کرائی گئی۔ انہوں نے تحقیقات کے بعد رپورٹ میں یہ وضاحت سے بیان کیا کہ ان دو آدمیوں نے بھی اس لڑکی کے ساتھ زنا کیا ہے اور اس سے پیشتر فلاں فلاں نے اس کے ساتھ ایسا فعل کیا ہے۔ آپ نے ناظر صاحب امور عامہ کو حکم دے کر کہا کہ اس رپورٹ کو دوبارہ لکھوایا جاوے اور اس میں سے زنا کا لفظ کاٹ کر یہ لکھ دیا جاوے کہ فلاں فلاں کو منی کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا گیا ہے۔ اس وقت محتسب میں تھا جب ناظر نے مجھے آپ کا حکم سنا دیا تو میں نے کہا جب مثل میں زنا کا لفظ بار بار آتا ہے تو محض رپورٹ سے اسے نکالنے کی کیا ضرورت ہے تو انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ مثل کو ہم تلف کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اغوا، چوری، خود کشی کی کوشش وغیرہ کے مقدمات میں امور عامہ میں فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ جن کی تفصیل وقت پر بتائی جاسکے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اگر ضرورت ہوئی۔
- ز...... جب احرار نے مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ اس وقت آل انڈیا ڈکٹیٹر کو آپ
نے حکم دیا تھا کہ قرب و جوار کی جماعتوں کو آدمی بھیجے جاویں اور ان کو تاکید کر دیں کہ فلاں مضمون کا پرچہ جب الفضل میں نکلے تو تم فوراً قادیان میں خود بخود آ جاؤ۔ تاکہ گورنمنٹ یہ نہ کہہ سکے کہ مرکز نے بلوایا ہے۔
٦
- ٤...... جب میں آل انڈیا نیشنل لیگ کا سیکرٹری تھا تو مجھے سرحد میں اس لئے بھیجا
گیا کہ ایک تو میں پیغام مندرجہ (ز) ان کو سنا دوں تو دوسرے یہ اگر ممکن ہو سکے تو افغان جرگہ اور سرخ پوشوں کے ساتھ نیشنل لیگ کا الحاق کرا دوں اور ظاہر ہے کہ یہ جماعتیں گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔ افغان جرگہ خفیہ طور پر اور سرخ پوش اعلانیہ۔
- ٥...... جب میں لاہور میں آیا تھا تو میں نے آپ کے اخلاق اور آپ کی
بیویوں، لڑکیوں اور لڑکوں اور میاں شریف احمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور ان کے لڑکوں کے اخلاق کے متعلق بہت سی باتیں سنی تھیں۔ لیکن خوش اعتقادی کی وجہ سے میں یقین نہیں کرتا تھا۔ آخر جب میں قادیان آیا تو سب سے پہلے غائب سے ان کے متعلق تحقیق کرنے کی تحریک میرے دل میں ڈالی گئی تو پھر جب میں محتسب ہوا تو آفیشل طور پر بھی میں نے تحقیق کی اور جو جو معلومات مجھے اس بارہ میں ہوئیں۔ وہ میں نے کچھ تو نظارت کی معرفت اور کچھ براہ راست تحریری طور پر آپ کو پہنچا دیں۔ مگر آپ نے پر کاہ جتنی بھی ان کی پرواہ نہ کی۔ ان معلومات میں سے بعض کا ذکر میں ذیل میں مجمل طور پر کرتا ہوں۔ کیونکہ مفصل طور پر میں رپورٹ کر چکا ہوں اور بعض کی رپورٹ کا موقعہ نہیں ملا۔
- الف....... آپ منڈے بازی کرتے ہیں۔
- ب....... آپ نامحرم عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں۔
- ج....... آپ اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو دوسروں کے حوالے کرتے ہیں کہ ان کے
ساتھ زنا کریں۔ گویا آپ نے ایک حسن بن صباحی باطنی فرقہ بنایا ہوا ہے۔
- د....... آپ شراب پیتے ہیں۔
- ہ....... زنا کر کے آپ بغیر نہائے اور وضو کئے بغیر نماز پڑھاتے ہیں۔
- و....... آپ کا لڑکا مبارک زنا کرتا ہے۔ شراب پیتا ہے۔ نماز نہیں پڑھتا۔
- ز....... میاں بشیر احمد صاحب منڈے بازی کرتے ہیں۔
- ح....... میاں بشیر احمد کے لڑکے منڈے بازی کرتے ہیں۔ نمازیں نہیں پڑھتے۔
- ط....... میاں شریف احمد منڈے بازی کرتے ہیں۔ نماز بہت کم پڑھتے ہیں۔
- ی....... میں نے ایک رپورٹ میں ثابت کر دیا تھا کہ آپ کی بیوی عزیزہ کا شیخ
بشیر احمد کے ساتھ تعلق ہے۔ آپ نے نہ کوئی گواہ کو سزا دی اور نہ ہی اپنی بیوی کو اور نہ ہی شیخ بشیر احمد صاحب کو، معاملات بدستور ہیں۔ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
٧
- ک....... میں نے رپورٹ میں یہ بھی ثابت کر دیا تھا کہ آپ کی لڑکیوں امت القیوم
اور امت الرشید کا ایک غیر آدمی کے ساتھ تعلق ہے۔ آپ نے شہادت بھی لی۔ لیکن طرفین میں سے کسی کو بھی سزا نہ دی۔ ان تمام واقعات کے میرے پاس مکمل ثبوت ہیں۔ جن کو بر وقت پیش کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
- ٢....... آپ نے میاں مولا بخش صاحب کی زمین متصل ڈاکخانہ ظالمانہ طریق
سے چھین لی۔ اگر چہ اس میں میاں بشیر احمد کو آگے کیا ہوا تھا۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ آپ کی منظوری، اجازت یا علم کے بغیر یہ ناجائز کام کیا گیا ہو۔
- الف....... آپ نے مولوی فخر دین صاحب ملتانی کے معاملہ میں پبلک کو زبردست
دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً اپنے چند آدمی کھڑے کر کے ان کو حلف دلائی کہ بتائیں کہ آیا ان کو فخر الدین کی نگرانی کے لئے کہا گیا تھا یا کہ نہیں۔ آپ نے خود کیوں نہ قسم کھائی کہ میں نے کسی کو بھی ان کا جاسوس مقرر نہیں کیا تھا یا نہیں کرایا تھا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب میں میاں شریف احمد کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ اس وقت سے دفتر خاص سے قاضی اکمل صاحب، مولوی فخر الدین صاحب، سردار مصباح الدین صاحب اور حضرت مولانا مولوی عبدالرحمن صاحب مصری ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق آپ کے پاس خفیہ رپورٹیں تیار ہو کر بھیجی جاتی تھیں اور یہ سلسلہ اب تک منقطع نہیں ہوا۔
- ب....... جب کہ آپ ڈاکٹر احسان علی کے رویہ کو اس کے بھائی کے چوری کرنے
کے معاملہ میں بری نظر سے دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ آپ نے اپنی بیویوں کو بقول آپ کے اس سے دوائی منگوانے سے بھی روکا تھا۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ میاں بشیر احمد صاحب آپ کی اجازت اور مشورہ کے بغیر اس کو رقم برائے مقدمہ قرض دیتے اور اسی مقدمہ کی خاطر سید منظور علی شاہ صاحب کے لئے رخصت حاصل کرتے۔
- ج....... آپ نے سید منظور علی شاہ صاحب کی رخصت کے بارہ میں تو ہیڈ ماسٹر
تعلیم الاسلام ہائی سکول اور خود سید منظور علی شاہ صاحب کو قسم دلائی۔ میاں بشیر احمد کو جنہوں نے رخصت دلوائی تھی۔ قسم کھانے کا حکم کیوں نہ دیا۔ تا کہ اس کے بعد اگر آپ سچے ہوتے تو کسی کو دم مارنے کی گنجائش نہ رہتی۔
- د....... محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی نے مجمع عام میں نیر صاحب کا قسمیہ بیان غلط
ثابت کر دیا تھا اور آپ کے منہ پر کہہ دیا تھا کہ نیر صاحب نے یہ جھوٹ لکھا ہے کہ الیکشن کے دنوں
٨
میں انہوں نے ان کو پٹرو ثبوت مل گیا یہ کہ نیر صاح احسان علی کو پٹرول کا ٹھیکہ دلا
- ہ....... آ
ڈاکٹر احسان علی سے ٹھیکہ لکھا تھا کہ آپ نے ان کو تا کہ وقت پر کام فیل ہونے
- و.......
متعلق جب بدظنی پھیلنے لگ یہ کیا راز ہے۔ ایک طرف دن کہنے کو تیار ہوتے ہیں کی لڑکیوں کے ساتھ ہے (انچارج تحریک جدید) زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اگر
- ز.......
کرائی۔
- ح.......
تاکہ لوگوں کے ذہن سے آپ پر الزام آتا ہے۔ محمد اسحاق صا حذف کرا دی گئی۔ اسی طر کاٹ دیا گیا۔ ان واقعات چاہتا۔ وقت پر ظاہر کروں الغرض آپ ایسا سخت نقصان پہنچا میں آپ کی بیعت میں
میں انہوں نے ان کو پٹرول کا ٹھیکہ دینے کے متعلق ایک حرف بھی کہا ہو۔ اس سے دو باتوں کا ثبوت مل گیا یہ کہ نیر صاحب سے یہ بیان جبرًا لکھوایا گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ واقعی آپ نے ڈاکٹر احسان علی کو پٹرول کا ٹھیکہ دلوایا تھا۔
ہ...... آپ نے مجمع عام میں بیان کیا تھا کہ نیر صاحب کو کہا گیا تھا کہ کسی طرح ڈاکٹر احسان علی سے ٹھیکہ لے کر کسی اور کو دے دیا جائے اور نیر صاحب کے حلفیہ تحریری بیان میں لکھا تھا کہ آپ نے ان کو کہا تھا کہ ڈاکٹر احسان علی کے علاوہ کسی اور کو بھی ٹھیکہ دے دیا جاوے۔ تاکہ وقت پر کام فیل ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ ان دونوں بیانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
و...... اور آپ نے مجمع عام میں بیان کیا تھا کہ عبدالرحمان برادر احسان علی کے متعلق جب بدظنی پھیلنے لگی تو میں نے کئی بار اس کو باغ میں آنے سے روکا تھا۔ لیکن وہ نہ رکتا تھا۔ یہ کیا راز ہے۔ ایک طرف تو یہ حال کہ آپ کے کہنے سے ”جی حضورئیے“ دن کو رات اور رات کو دن کہنے کو تیار ہوتے ہیں اور دوسری طرف ایک شخص جس کے متعلق گمان ہے کہ اس کا تعلق آپ کی لڑکیوں کے ساتھ ہے۔ وہ بار بار کہنے سے بھی منع نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ آپ اس کو انور صاحب (انچارج تحریک جدید) کے ذریعے منع کرواتے ہیں۔ کیا انور صاحب کا حکم آپ کے حکم سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اگر ہوتا ہے تو دال میں کالا کالا ضرور ہے۔
ز...... محمد حسین بی کام کی شہادت بیان میں تو پڑھی۔ مگر الفضل میں شائع نہ کرائی۔
ح...... آپ نے اپنے اس بیان کو الفضل میں شائع ہونے سے اس لئے روکا تاکہ لوگوں کے ذہن سے تفصیلات نکل جائیں اور آپ اس میں سے وہ باتیں نکال دیں جن میں آپ پر الزام آتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی نے نیر صاحب کی دروغگوئی ثابت کی تھی۔ وہ الفضل میں حذف کرادی گئی۔ اسی طرح اس واقعہ کے متعلق نیر صاحب کے حلفیہ بیان میں جو اظہار تھا وہ بھی کاٹ دیا گیا۔ ان واقعات کے علاوہ اور بھی کئی واقعات ہیں۔ جن کو فی الحال میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ وقت پر ظاہر کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
الغرض آپ نے حضرت مسیح موعود کی بتلائی ہوئی جماعت کو دنیاوی اور روحانی طور پر ایسا سخت نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جو آسمان پر کبھی بھی معاف نہیں ہوسکتی۔ ان حالات میں آپ کی بیعت میں رہنا اپنے آپ کو دانستہ ہلاک میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہذا میں آپ
٩
کی بیعت سے علیحدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے جملہ دعاوی پر میرا ایمان ہے۔ خلافت کا میں قائل ہوں۔ لیکن آپ کی ذات کو جماعت احمدیہ کے لئے مضر دیکھ کر میں آپ کی بیعت سے علیحدہ ہوتا ہوں۔
خاکسار: قریشی محمد صادق، شبنم بی۔اے، سابق محتسب و پریذیڈنٹ نیشنل لیگ قادیان و سیکرٹری آل انڈیا نیشنل لیگ لاہور ، مورخہ ٤ اگست ١٩٣٧ء
نئی پود کے لئے مشعل راہ
ناموس کے سودے چکتے ہیں تقدیس کے بادہ خانوں میں
(ایک مخلص احمدی شاعر کے قلم سے)
اس تمام سابقہ لٹریچر کا اعادہ اس لئے کیا جا رہا ہے۔ تا آئندہ آنے والی نسلیں مرزا محمود کا بحیثیت خلیفہ تجزیہ کر سکیں۔ وہ کس قماش کا انسان تھا۔ خاص و عام کے تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ نئی نسل کے ذہن میں یہ خیال خام ہے کہ موجودہ پیر ایسے ویسے ہیں اور مرزا محمود نہایت پاکباز اور متقی تھا۔ میں سردست کسی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ صرف نئی پود کی رہنمائی کے لئے سابقہ ریکارڈ خدمت کے بہترین جذبہ کے ساتھ رفتہ رفتہ منظر عام پر لانے کی سعی کرتا رہوں گا۔ (بشرط زندگی) تاکہ مرزا محمود کی حیات قدسیہ صحیح معنوں میں خصوصیت سے نئی پود کے سامنے آ جائے کہ اس نے اپنے ہر عمل سے مذہب کو کس طرح بازیچۂ اطفال بنایا اور مذہب کے مقدس لبادہ کی آڑ میں انسانیت کی فطرت کو کس طرح مسخ کیا۔ وغیرہ وغیرہ!
الغرض اس قیمتی لٹریچر سے استفادہ کرنا، نئی نسل کا کام ہے۔ مجھے تو اس کی نشاندہی نوع انسان کی ہمدردی کی خاطر مقصود ہے۔
بہر کیف اس کی ابتداء مکرمی جناب قریشی محمد صادق شبنم بی۔اے کے چند مفید شب نمی قطروں سے کر رہا ہوں۔ جس کو ستمبر ١٩٤٠ء میں رفاہ عام کے لئے سیکرٹری صاحب انجمن انصار احمدیہ قادیان (ضلع گورداسپور) نے شائع فرمایا تھا۔ بعد ازاں حضرت مولانا مولوی فخر الدین ملتانی شہید کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ شائع کیا جائے گا۔ علیٰ ہٰذا القیاس یہ سلسلۂ خدمت کا بدستور جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نئی پود کے لئے موجب ہدایت اور مفید نتائج پیدا کرے۔
طالب دعا: ناچیز خادم محمد مظہر الدین ملتانی!
١٠
ادا کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے قائل ہوں۔ لیکن آپ کی ذات کو جماعت احمدیہ کے ہوتا ہوں۔
بی۔اے، سابق محتسب و پریذیڈنٹ نیشنل لیگ قادیان اگست ١٩٣٧ء
ہیں تقدیس کے بادہ خانوں میں
(ایک مخلص احمدی شاعر کے قلم سے) لئے کیا جا رہا ہے۔ تا آئندہ آنے والی نسلیں مرزا محمود انسان تھا۔ خاص و عام کے تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ عقیدہ یہ ہے کہ ایسے ویسے ہیں اور مرزا محمود نہایت پاکباز اور نہیں چاہتا۔ صرف نئی پود کی رہنمائی کے لئے سابقہ رفتہ رفتہ منظر عام پر لانے کی سعی کرتا رہوں گا۔ (بشرط لوں میں خصوصیت سے نئی پود کے سامنے آجائے کہ نوخیز بچہ اطفال بنایا اور مذہب کے مقدس لبادہ کی آڑ غیرہ وغیرہ! کرنا، نئی نسل کا کام ہے۔ مجھے تو اس کی نشاندہی نوع
تحریر منشی محمد صادق شبنم بی۔اے کے چند مفید مضامین ادارہ رفاہ عام کے لئے سیکرٹری صاحب انجمن انصار فرمایا تھا۔ بعد ازاں حضرت مولانا مولوی فخر الدین جائے گا۔ علیٰ ہٰذا القیاس یہ سلسلہ خدمت کا بدستور کے لئے موجب ہدایت اور مفید نتائج پیدا کرے۔ طالب دعا: ناچیز خادم محمد مظہر الدین ملتانی !
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ
میں آخری نبی ہوں،
لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میرے بعد کوئی نبی نہیں
ختم نبوت
از روئے آیات قرآنی
واحادیث رسول حقانی
واقوال مرزا قادیانی
مولانا نور محمد جاکی
بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله وحده والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده!
- ١...... ”یا بنی أدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم أیتی
فمن اتقی واصلح فلا خوف علیهم ولا هم یحزنون (اعراف:٣٥)“
- ٢...... ”واذ اخذ ربک من بنی أدم من ظهورهم ذریتهم......
جمعهم...... ثم اخذ علیهم العهد والمیثاق...... واشهد علیکم اباکم أدم ان تقولوا یوم القیمة لم نعلم بهذا...... انی سارسل الیکم رسلی...... وانزل علیکم کتبی...... ورفع علیهم أدم علیہ السلام ینظر الیهم...... ورای الانبیاء فیهم مثل السرج (مشکوۃ ص ٢٧، باب الایمان بالقدر)“
منهم کبدر التم غیر محمد
”قال أدم من هذا یارب قال هو أخر النبیین من ذریتک (شفاء)“
- ٣...... ”ولقد ارسلنا نوحا وابراهیم وجعلنا فی ذریتهما النبوۃ
والکتب (حدید:٢٦)“
- ٤...... ”ووهبنا له اسحق ویعقوب وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ
والکتب (عنکبوت:٢٧)“
- ٥...... ”ولقد اتینا موسی الکتب وقفینا من بعدہ بالرسل
(بقرہ:٨٧)“
- ٦...... ”ومبشراً برسول یأتی من بعد اسمه احمد (صف:٦)“
- ٧...... ”هذا کوکب احمد قد طلع هذا کوکب لا یطلع الا بالنبوۃ
ولم یبق من الانبیاء الا احمد (دلائل النبوۃ ص ١٧، کنزالعمال)“
- ٨...... حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ میرے باپ کے پاس دو ورق تھے۔
اس میں لکھا تھا ”محمد رسول الله خاتم النبیین لا نبی بعدہ“
(ابونعیم در منثور ج ٣ ص ١٢٢)
٢
ختم ن
پہلی آیت
- ١...... ”الحم
رب واحد ہے۔ یعنی پرورش کر
دوسری آیت
- ٢...... ”وما
ہدایت ہے۔ کسی ملک یا قوم کے لی
تیسری آیت
- ٣...... ”ان ال
للعلمین (العمران:٩٦)“ مکہ شریف تمام دنیا وہ دنی خلیل ا ازل ب کہ ا
چوتھی آیت
- ٤...... ”وم
جس طرح سب قرآن سب دنیا قبلہ ایک ہے تما نبی ایک ہے تما
- ٥...... ”تقر
واحد واباکم واحد و ص ٩٣، روایت نمبر ٥
ختم نبوت از روئے قرآن کریم
پہلی آیت
- ١...... ”الحمد لله رب العلمین“ سب تعریف ہے اس کے لئے جو تمام دنیا کا
رب واحد ہے۔ یعنی پرورش کرنے والا ہے۔ بلا استثناء تمام مخلوقات کا رب ہے۔ کوئی فرد بھی باہر نہیں۔
دوسری آیت
- ٢...... ”وما هو الا ذکر للعلمین (القلم:٥٢)“ قرآن مجید تمام دنیا کے لئے
ہدایت ہے۔ کسی ملک یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں۔ سب کے لئے اس نے اپنے دروازوں کو کھول دیا۔
تیسری آیت
- ٣...... ”ان اوّل بیت وضع للناس للذی ببکة مباركاً وهدى
للعلمين (العمران:٩٦)“ کہ مکہ شریف تمام دنیا کے لئے قیامت تک ہے۔ دنیا کا ایک فرد بھی اس سے باہر نہیں۔
خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا
ازل سے مشیئت نے تھا اس میں تاکا
کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ہدیٰ کا
چوتھی آیت
- ٤...... ”وما ارسلناك الا رحمة للعلمين (الانبیاء:١٠٧)“
قرآن سب دنیا کے لئے ایک ہے تا قیامت ...................... ذکر للعلمین!
قبلہ ایک ہے تمام دنیا کے لئے تا قیامت ...................... هدى للعلمین!
نبی ایک ہے تمام دنیا کے لئے تا قیامت ...................... رحمة للعلمین!
- ٥...... تشریح خود محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمادی: ”یا ایها الناس ان ربکم
واحد واباکم واحد ودینکم واحد ونبیکم واحد لا نبی بعدی (کنز العمال ج٣ ص٩٣، روایت نمبر ٥٦٠٠)“ کہ اے میری امت کے لوگو! یاد رکھو تمہارا خدا ایک ہے۔ تمہارا
٣
باپ ایک ہے۔ تمہارا دین ایک ہے۔ تمہارا نبی بھی ایک ہی ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- ٦...... حضرت عمرؓ نے فرمایا: ”کیف تختلف ھذہ الامۃ وکتابھا واحد ونبیھا واحد وقبلتھا واحدۃ (کنز العمال ج١ ص٣٩٨) “کہ یہ امت کس طرح مختلف ہوسکتی ہے۔ جب کہ ان کی کتاب ایک ہے اور نبی بھی ایک ہی ہے اور قبلہ بھی ایک ہی ہے۔
معلوم ہوا کہ جب دوسرا نبی آجائے تو امت بھی اور ہو جاتی ہے۔ پہلے نبی کی امت نہیں رہتی۔ دوسرا نبی ماننا باعث اختلاف ہے۔
پانچویں آیت
- ٧...... ”قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (اعراف:١٥٨)“
یعنی ان تمام لوگوں کو کہہ دو کہ میں نہ ایک دو کے لئے نہ کسی خاص قوم کے لئے اور نہ ہی کسی خاص ملک کے لئے بلکہ دنیا کے ہرگوشہ کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے مبعوث ہو کر آیا ہوں۔
- ٨...... رسول خداﷺ نے خود تشریح فرمادی ہے: ”انا رسول من ادرکت حیاً ومن یولد بعدی (کنز العمال ج١١ ص٤٠٤، حدیث نمبر٣١٨٨٠) “کہ میں ان تمام لوگوں کے لئے رسول ہوں۔ جن کو اپنی زندگی میں پاؤں اور ان کے لئے بھی میں ہی رسول ہوں جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔
- ٩...... ترجمہ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ ”یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ نہ صرف ایک قوم کے لئے۔“
(چشمہ معرفت ص٦٨، خزائن ج٢٣ ص٦٨)
چھٹی آیت
- ١٠...... ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (مائدہ:٣)“ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”قرآن شریف نے تورات وانجیل کی طرح کسی دوسرے (نبی) کا حوالہ نہیں دیا۔ بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کر دیا اور فرمایا۔ الیوم اکملت لکم دینکم“
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص٤، خزائن ج٢١ ص٥)
اس آیت میں اکمال دین بھی آگیا اور اتمام نعمت بھی اور اس کے بعد رضیت بھی فرما دیا گیا۔ اس لئے آپ خاتم النبیین ہوئے اور آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں۔ جس کو مقام نبوت پر کھڑا کیا جائے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ آپ کا دین ناقص تھا۔ جس کے لئے دوسرا نبی مبعوث کیا جاوے اور وہ دین کو پورا کرے۔
- ١١...... علامہ ابن کثیر اس آیت کے تحت میں فرماتے ہیں: ”ھذا اکبر نعم اللہ
٤
تعالیٰ علیٰ ھذہ الا غیرہ ولا الیٰ نبی غیر الانبیاء (ابن کثیر ج٣ ص
کہ اس نے ان کے لئے ان دوسرے نبی کے سوا اپنے نبی ک
- ١٢...... مرز محمدﷺ “کہ رسول خدا
ساتویں آیت
- ١٣...... ”و
ترجمہ جو مرزا قا نہیں بھیجا۔ بلکہ اس لئے بھ جہان کا خدا ہے۔ ایسا ہی آن ہیں۔“
آٹھویں آیت
- ١٤...... ”و الناس لا یعلمون (سب
یعنی ہم نے ت ضرورت تھی اور دنیا اس ب آئے جو کامل اور مکمل ہوا ہو۔ جس کے توسط سے ا اور تمام لوگوں کے لئے ق شاید امت م پنجاب میں جنم لینا پڑا۔
- ١٥...... وختم بی النبییون
تعالى على هذه الامة حيث اكمل الله تعالى دينهم ولا يحتاجون الى دين غیره ولا الى نبى غير نبيهم صلوة الله وسلامه عليه ولهذا جعله الله خاتم الانبياء (ابن کثیر ج ٣ ص ٢٧٩) ’’کہ یہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس امت پر کہ اس نے ان کے لئے ان کے دین کو کامل فرمایا۔ اب وہ نہ کسی دین کے محتاج ہیں اور نہ کسی دوسرے نبی کے سوا اپنے نبی کے۔ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا۔
- ١٢...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”فلا حاجة لنا الى نبى بعد
محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کہ رسول خدا ﷺ کے بعد ہم کو کسی اور نبی کی حاجت نہیں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٤)
ساتویں آیت
- ١٣...... ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء: ١٠٧)“
ترجمہ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے: ’’یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لئے نہیں بھیجا۔ بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے۔ پس جیسا کہ خدا تعالیٰ تمام جہان کا خدا ہے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ تمام دنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں۔‘‘
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٨)
آٹھویں آیت
- ١٤...... ”وما ارسلناک الا کافة للناس بشيراً ونذيرا ولكن اكثر
الناس لا يعلمون (سبا: ٢٨)“
یعنی ہم نے تجھ کو نہیں مبعوث کیا۔ مگر اس لئے کہ اب تمام دنیا کے لئے ایک ہی نبی کی ضرورت تھی اور دنیا اس بات کی محتاج تھی کہ بجائے علیحدہ علیحدہ نبی اور رسول آنے کے ایک ہی نبی آئے جو کامل اور مکمل ہو اور آئندہ کے لئے صرف اسی کے وجود پر تمام دنیا کی ہدایت و نجات کا مدار ہو۔ جس کے توسط سے لوگ اس خالق حقیقی تک پہنچیں۔ اس لئے ہم نے تجھ کو اس کام کے لئے چنا اور تمام لوگوں کے لئے قیامت تک بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کیا۔
شاید امت مرزائی کے لئے آپ کی رسالت کافی نہ ہو۔ اس لئے کسی دوسرے نبی کو پنجاب میں جنم لینا پڑا۔
- ١٥...... رسول خدا ﷺ نے خود بھی اعلان فرما دیا: ”ارسلت الى الخلق كافة
وختم بي النبييون (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٩، باب کتاب المساجد) ”کہ لوگوں کو!
٥
میں تمام جہان کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں اور تمام نبیوں کا مجھ پر خاتمہ ہو گیا اب کوئی نبی نہ ہوگا۔
نویں آیت
......١٦ ”هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدین کله (الفتح:٢٨)“ کہ وہ ذات بابرکت جس نے اپنے رسول کو ساتھ ہدایت اور دین حق کے بھیجا تا کہ غالب کرے۔ اس کو اوپر تمام ادیان کے۔
دسویں آیت
......١٧ ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذیرا (الفرقان:١)“ یعنی مبارک ہے وہ ذات جس نے قرآن مجید اپنے بندے پر نازل فرمایا۔ تا کہ تمام جہان والوں کے لئے نذیر بنے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ آپ کی بعثت تمام عالم والوں کے لئے عام ہے اور عموم بعثت سے ختم نبوت کا ثبوت لازم ہے۔
......١٨ ترجمہ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے: ”یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے۔“
(چشمہ معرفت ص ٦٨، خزائن ج ٢٣ ص ٧٦)
گیارھویں آیت
......١٩ ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء کم رسول (آل عمران:٨١)“ ترجمہ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے: ”اور یاد کر کہ جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں گا اور تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا۔ تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو چکے تھے۔ یہ حکم ہر نبی کی امت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے۔ خدا تعالیٰ ان کو ضرور مواخذہ کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٠، ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٤)
اس آیت میں ”ثم جاء کم“ کے الفاظ قابل غور ہیں۔ ان میں نبی کریم ﷺ کے تمام انبیاء کے بعد تشریف لانے کو لفظ ثم کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔ اس لئے ”ثم جاء کم“ کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد سب کے آخر میں آپ تشریف لائیں گے۔
٦
بارھویں آیت
......٢٠ ”واذ اخـ وابراهيم وموسى وعيسى الصدقين عن صدقهم واعد لـ نے آپ سے اور سب انبیاء سے عہد لـ کی بار ہوگی ۔
......٢١ اس آیت کی تـ قوله تعالى واذ اخذنا من النبيين فى الخلق وأخرهم مـ حضرت ابو ہریرہؓ اس آیـ کہ میں پیدائش میں سب نبیوں سے یعنی پیدائش کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نـ
تیرھویں آیت
......٢٢ ”وداعيـ اس آیت میں خدا تعالیٰ نـ ہی سورج ہے۔ اسی طرح زمین میں
......٢٣ مرزا قادیـ بعد شمسه الا نجم التلـ الانبیاء ہے اور اس کے سورج کـ ہوتے ہیں۔ کوئی اور سورج طلوع شمـ عیـ
(حمامة البشری ص ٤٩، خزائن ج ٧ مـ
......٢٤ آپ ـ ستاروں کے ہیں۔ پس آپ ـ قادیانی دوست ـ
بارھویں آیت
- ٢٠....... ”واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح
وابراهيم وموسى وعيسى ابن مريم واخذنا منهم ميثاقاً غليظاً، ليسئل الصدقين عن صدقهم واعد للكفرين عذاباً اليما (احزاب:٨،٧)“ اور یاد کر جب ہم نے آپ سے اور سب انبیاء سے عہد لیا کہ ہر صادق کو اس کے صدق پر سوال ہوگا اور کافروں کو جہنم کی مار ہوگی۔
- ٢١....... اس آیت کی تفسیر خود محمد ﷺ نے فرمادی ہے: ”عن ابي هريرة في
قوله تعالى واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك قال النبي ﷺ كنت اوّل النبيين في الخلق وآخرهم في البعث فبدأ بى قبلهم (ابن کثیر ج ٨ ص ٤٢)“
حضرت ابو ہریرہؓ اس آیت کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ میں پیدائش میں سب نبیوں سے پہلے تھا اور اس عالم بعثت میں سب سے آخر ہوں۔ اسی لئے یعنی پیدائش کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں میرا نام پہلے لیا ہے۔
تیرھویں آیت
- ٢٢....... ”وداعياً الى الله باذنه وسراجاً منيرا (الاحزاب:٤٦)“
اس آیت میں خدا تعالیٰ نے رسول خدا ﷺ کو سورج فرمایا کہ جس طرح آسمان میں ایک ہی سورج ہے۔ اسی طرح زمین میں بھی ایک ہی سورج ہے۔ جس کی روشنی قیامت تک رہے گی۔
- ٢٣....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”واعلم انه خاتم الانبياء ولا يطلع
بعد شمسه الا نجم التابعين الذين يستفيضون من نوره“ اور جان لو کہ وہ خاتم الانبیاء ہے اور اس کے سورج کے سوا ستاروں کے جو اسی کے صحابی ہیں اور اس کے نور سے مستفیض ہوتے ہیں۔ کوئی اور سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔
عين الندى نبعت لنا بحراء
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٣٤٤)
- ٢٤....... آپ نے فرمایا: ”اصحابی کالنجوم“ کہ میرے صحابہ مانند
ستاروں کے ہیں۔ پس آپ کے بعد کوئی سورج طلوع نہیں ہوگا۔
قادیانی دوست کہتے ہیں کہ سورج کے لئے چاند بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی چاند
٧
ہیں ۔ اس کا جواب بھی سنئے ۔ اس سورج کا تو ایک چاند ہے ۔ لیکن نبی ﷺ کے تین چاند ہیں ۔ جیسا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا:
- ٢٥....... ” قالت رأیت ثلثۃ اقمار (موطا امام مالك ج ١ ص ٢٣١) “ کہ
میرے حجرے میں تین چاند اترے ہیں ۔ ایک خود اور شیخینؓ ۔
چودھویں آیت
- ٢٦....... ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله
وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ ترجمہ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے : ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
- ٢٧....... رسول خدا ﷺ نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی ہے : ”انا خاتم
النبیین لا نبي بعدی (مشكوة ص٤٦٥، کتاب الفتن) “ کہ میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
- ٢٨....... مرزا قادیانی اس تفسیر نبوی کی تائید فرماتے ہیں : ”ولكن رسول الله
وخاتم النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسر نبينا ﷺ فى قوله لا نبى بعدى ببيان واضح للطالبین “ کیا تم نہیں جانتے (اے بے سمجھ مرزائیو!) کہ خدا رحیم کریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر ”لا نبي بعـدی“ کے ساتھ فرمائی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
- ٢٩....... ”قد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين “ بی
شک آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
- ٣٠....... حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے : ”قد انقطع الوحی
وتم الدین “ وحی منقطع ہوگئی اور دین پورا ہو گیا۔
(تاریخ الخلفاء ص ٩٤)
٨
- ٣١....... ام ایمنؓ نے
السماء “ بے شک اب آسمانی وحی
- ٣٢....... خود رسول اللہ ﷺ
انقطعت فلا رسول بعدی وبغير المبشرات) “ وحی رسول ہوگا اور نہ نبی۔
- ٣٣....... علامہ ابن
الذی ختم الله النبوة فطبع جریر ج ٢٢ ص ١٢) “ کہ وہ اللہ کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔
- ٣٤....... علامہ ابن
(ابن کثیر ج ٨ ص ٨٩) “ کہ یہ
- ٣٥....... علامہ ز
ص ٢١٥) “ کہ آپ کے بعد کوئی
- ٣٦....... امام راغ
تممها بمجيئه (مفردات ص نبوت کو ختم کر دیا۔ یعنی آپ نے
- ٣٧....... ” خا
النبیین “
- ٣٨....... ” خا
جریر ص ١١ ج ١٢) “
- ٣٩....... ”
بعده (عباسی) “
- ٤٠....... یہ آ
ہوسکتا۔
- ٣١...... ام ایمن نے آپ کی وفات پر کہا: ”ان الوحی قد انقطع من
السماء“ بے شک اب آسمانی وحی منقطع ہو گئی۔
(مشکوٰۃ ص ٥٤٨، باب وفات النبی ﷺ)
- ٣٢...... خود رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد
انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی ج ٢ ص ٥١، باب ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات)“ بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔
- ٣٣...... علامہ ابن جریر فرماتے ہیں: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین
الذی ختم اللہ النبوۃ فطبع علیھا فلا تفتح لاحد بعدہ الی قیام الساعۃ (ابن جریر ج ٢٢ ص ١٢)“ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین یعنی ایسا رسول کہ جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی۔ پس وہ آپ کے بعد قیامت تک کسی پر نہ کھولی جائے گی۔
- ٣٤...... علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”فھذہ الآیۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ
(ابن کثیر ج ٨ ص ٨٩)“ کہ یہ آیت نص صریح ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
- ٣٥...... علامہ زمخشری فرماتے ہیں: ”لا ینباء احد بعدہ (کشاف
ص ٢١٠)“ کہ آپ کے بعد کوئی نبی بنایا ہی نہ جائے گا۔
- ٣٦...... امام راغب فرماتے ہیں: ”وخاتم النبیین لا نہ ختم النبوۃ ای
تممھا بمجیئہ (مفردات ص ١٤٢)“ کہ محمد ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ یعنی آپ نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرمایا۔
- ٣٧...... ”خاتم النبیین ای آخرھم (جامع البیان زیر آیت خاتم
النبیین)“
- ٣٨...... ”خاتم النبیین بفتح التاء بمعنی انہ اخر النبیین (ابن
جریر ص ١١ ج ١٢)“
- ٣٩...... ”خاتم النبیین ای ختم اللہ بہ النبیین قبلہ لا یکون نبی
بعدہ (عباسی)“
- ٤٠...... یہ آیت اس امر میں نص ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں
ہو سکتا۔
(ترجمان القرآن ج ١١ ص ٣٣٣)
٩
ختم النبوۃ از روئے احادیث
- ١...... ”مثلی ومثل الانبياء كمثل قصر...... فكنت انا سددت
موضع اللبنة وختم بى البنيان وختم بى الرسل (مشکوۃ ص ٥١١، باب فضائل سيد المرسلين) “رسول خداﷺ نے فرمایا کہ میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔ میرے آنے سے قصر نبوت مکمل ہوا اور مجھ پر تمام رسول ختم کر دیئے گئے۔
- ٢...... ”فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخارى ج ١ ص ٥٠١،
باب خاتم النبيين) “فرمایا کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا ۔
- ٣...... ”فجئت انا واتممت تلك اللبنة (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤،
زیر آیت ماکان محمد) “فرمایا کہ میرے آنے سے وہ کمی پوری ہو گئی جو ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔
- ٤...... ”ختم بى الانبياء (ترمذی) “میرے ساتھ انبیاء ختم کر دیئے گئے ۔
- ٥...... ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى
خلفه نبي وانه لا نبى بعدى (بخارى ج ١ ص ٤٩١ ، باب ماذكر عن بنى اسرائيل) “ فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے ۔ جب ایک نبی فوت ہوتا دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہو جاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میرے خلیفے نبی نہیں ہوں گے۔
- ٦...... ”فانه ليس كائناً فيكم نبى بعدى (ابن جریر وابن ماجه) “
یعنی بنی اسرائیل میں تو یہ سلسلہ رہا کہ نبی کے بعد نبی آتا رہا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا ہی نہیں۔
- ٧...... علامہ ابن جریر فرماتے ہیں: ”تسوسهم الانبياء اى انهم كانوا اذا
ظهر فيهم فساد بعث الله لهم نبياً يقيم لهم امرهم ويزيل ما غير وامن احكام التوراة (فتح البارى ج ٦ ص ٣٦) “کہ بنی اسرائیل میں جب فساد ظاہر ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی نبی بھیج دیتا ۔ جو ان کے امور کو درست کرے اور ان تحریفات کو دور کرے جو انہوں نے تورات میں کی ہیں۔
١٠
اس سے صاف معلوم ہو بلکہ شریعت موسویہ کی اتباع تبلیغ ا اس بناء پر حدیث مذکور کا حامل و ہوں گے۔
- ٨...... ”انا خا
سید المرسلين) ”فرمایا میں ختم کر
- ٩...... ”ارسلا
ص ٥١٢، باب فضائل سید تمام نبی مجھ پر ختم کئے گئے۔
- ١٠...... ”انى ع
فى طينته (مشکوة ص١٣ نزدیک لکھا گیا ہوں۔ ختم کرنے ونشان بھی نہ تھا۔
- ١١...... ”انا ا
ص ٥١٥ ، باب اسماء النبي ﷺ نبی نہ ہو ۔
- ١٢...... ”سی
وانا خاتم النبيين لا نـ امت میں تیس بڑے جھوٹے پـ خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعـ
- ١٣...... ”لا نـ
نبى (طبراني) ”فرمایا مـ ایک ان میں سے نبوت کا دعـ
- ١٤...... ایک ہـ
کہ میری امت میں کذاب دیـ لا نبي بعدي (كنز العمـ
اس سے صاف معلوم ہوا کہ یہ انبیاء بنی اسرائیل شریعت مستقلہ لے کر نہیں آتے تھے۔ بلکہ شریعت موسویہ کی اتباع تبلیغ احکام کرتے تھے اور لوگوں کو صحیح احکام توراۃ کا پابند بناتے تھے۔ اس بناء پر حدیث مذکور کا حاصل صاف یہ ہوا کہ اس امت میں غیر تشریعی انبیاء بھی پیدا نہیں ہوں گے۔
- ٨...... ”انا خاتم النبيين ولا فخر (مشكوة ص٥١٤، باب فضائل
سيد المرسلين)“ فرمایا میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا اور یہ فخر نہیں۔
- ٩...... ”ارسلت الى الخلق كافة وختم بى النبيون (مشكوة
ص٥١٢، باب فضائل سيد المرسلين)“ فرمایا کہ میں تمام مخلوق کے لئے بھیجا گیا ہوں اور تمام نبی مجھ پر ختم کئے گئے۔
- ١٠...... ”انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل
فى طينته (مشكوة ص٥١٣، باب فضائل سيد المرسلين)“ فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک لکھا گیا ہوں۔ ختم کرنے والا نبیوں کا۔ اس وقت سے کہ جب آدم (علیہ السلام) کا نام ونشان بھی نہ تھا۔
- ١١...... ”انا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى (مشكوة
ص٥١٥، باب اسماء النبىﷺ)“ فرمایا کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
- ١٢...... ”سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله
وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مشكوة ص٤٦٥، كتاب الفتن)“ فرمایا کہ میری امت میں تیس بڑے جھوٹے ہوں گے ہر ایک ان میں کا ادعائے نبوت کرے گا۔ باوجودیکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
- ١٣...... ”لاتقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا كلهم يزعم انه
نبى (طبرانى)“ فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس بڑے جھوٹے ظاہر نہ ہولیں۔ ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔
- ١٤...... ایک روایت میں ہے: ”سيكون فى امتى كذابون دجالون
کہ میری امت میں کذاب دجال ہوں گے جو دعویٰ نبوت کریں گے۔ ”وانى خاتم النبيين لا نبى بعدى (كنز العمال ج١٤ ص١٩٦، حديث نمبر ٣٨٣٦٠)“ حالانکہ میں ختم کرنے
١١
والا ہوں نبیوں کا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ باوجود میری امت ہونے کے دعویٰ نبوت کریں گے اور کہیں گے کہ میں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں۔
- ١٥...... "لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كذابون
كلهم يزعم انه نبي فمن قاله فاقتلوه ومن قتل منهم احداً فله الجنت (کنز العمال ج١٤ ص١٩٩، حدیث نمبر ٣٨٣٧٦) ”رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ ہوں گے تیس دجال بڑے جھوٹے ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوت کرے گا۔ پس جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اس کو قتل کر دو۔ جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا اس کے لئے جنت ہے۔
ان احادیث میں دجال کذاب ہونے کی یہی علت ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ دعوائے نبوت کریں گے۔
کبریٰ: جو شخص نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ دجال ہے۔ صغریٰ: مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ نتیجہ ظاہر ہے۔
- ١٦...... "لا تقوم الساعة حتى يخرج سبعون كذاباً (كنزالعمال
ج١٤ ص١٩٧، حدیث نمبر ٣٨٣٦٣) ”فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ جب تک کہ ستر کذاب نہ ظاہر ہولیں۔ جن میں قریباً تیس ایسے ہوں گے جو ایک پہلو سے امتی ہوں گے اور باقی غیر امتی مستقل نبی کہلائیں گے۔ جیسے بہاء اللہ وغیرہ۔
- ١٧...... "ان الله لم يبعث نبيا الا حذر امته الدجال وانا أخر
الانبياء وانتم أخر الامم ...... يا عباد الله فاثبتوا فانه يبدء فيقول انا نبي فلا نبى بعدى (ابن ماجه) ”فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ نہیں مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مگر ڈرایا اس نے امت اپنی کو دجال سے اور یاد رکھو کہ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ پھر فرمایا۔ اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا وہ ضرور آنے والا ہے اور کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو دعویٰ کرے وہ دجال ہے۔
اس حدیث میں آپ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور "یا عبادالله فاثبتوا" کے بعد فرمایا "لا نبی بعدی" کہ صرف مجھ کو ہی نبی مانو گے اور میرے بعد کسی دوسرے کو نبی نہ مانو گے تو فتنہ دجال سے محفوظ رہو گے۔
١٢
- .......١٨
النبى الامى لا نبي ہوں، میں محمد نبی امی ہوں
- .......١٩
بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ میـ آخری امت۔
- .......٢٠
بالاذان الله اكبر الـ محمد رسول الله (کنز العمال ج٤ ص٩، نے فرمایا کہ جب آدم علـ کے پاس آئے اور اللہ الـ پھر اشهد ان محمد رسـ جواب ملا کہ انبیاء میں سے پیٹ سے نبی پیدا ہو۔
- .......٢١
ذريتك (طبراني) ”مـ نبی نہ ہوگا۔
اس حدیث مـ ولد ہیں تو اب آپ کے بـ
- .......٢٢
موسى الا انه لا نبـ کہ تم میرے ساتھ ایـ نبی نہیں ہو سکتا۔
- .......٢٣
حضرت ہارون تو نبی تھـ
ل ہوگا۔ باوجود میری امت ہونے کے دعویٰ نبوت کریں اور ایک پہلو سے امتی ہوں گے۔ ساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كذابون له فاقتلوه ومن قتل منهم احداً فله الجنت ث نمبر ٣٨٣٧٦) ”رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ نہیں قائم دجال بڑے جھوٹے ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوت ہوں اس کو قتل کر دو۔ جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا
ب ہونے کی یہی علت ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ دعوائے نبوت
حد دعویٰ نبوت کرے وہ دجال ہے۔ نبوت کیا۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ لساعة حتى يخرج سبعون كذاباً (كنز العمال ٣٨) ”فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ جب تک کہ ستر نا ایسے ہوں گے جو ایک پہلو سے امتی ہوں گے اور باقی اللہ وغیرہ۔ نبعث نبيا الا حذر امته الدجال وانا آخر د الله فاثبتوا فانه يبدء فيقول انا نبي فلا ﷺ نے کہ نہیں مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مگر اور کھو کہ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم آخری تقدم ہوتا وہ ضرور آنے والا ہے اور کہے گا کہ میں نبی جو دعویٰ کرے وہ دجال ہے۔ میں آخر الانبیاء ہوں اور ”یا عبادالله فاثبتوا“ کوئی نبی مانو گے اور میرے بعد کسی دوسرے کو نبی نہ
١٢
- ١٨...... ”انا محمد النبی الامی انا محمد النبی الامی انا محمد
النبی الامی لا نبی بعدی (كنز العمال) ”فرمایا کہ میں محمد نبی امی ہوں، میں محمد نبی امی ہوں، میں محمد نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
(شفا ج٢ ص١٤٣، ابن کثیر ج ١ص٩١)
- ١٩...... ”لا نبی بعدی ولا امة بعد امتی (بیهقی)“ کہ نہ میرے
بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہوگی۔ میں آخری نبی اور میری امت آخری امت۔
- ٢٠...... ”نزل آدم بـالهند واستـوحـش فـنزل جبريل فنادى
بـالاذان الله اكبر الله اكبر مرتين اشهد ان لا اله الا الله مرتين اشهد ان مـحـمـد رسول الله مرتين قال آدم مـن مـحـمـد قال آخر ولدك من الانبياء (كنز العمال ج ٤ ص ٣٠٩) وهـو آخـر النبيين من ذريتك (شفا ج ١ ص٢٨) ”آپ نے فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام ہند میں اتارے گئے تو گھبرائے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور اللہ اکبر اللہ اکبر دوبار کہا۔ پھر اشهد ان لا اله الا الله دوبار کہا۔ پھر اشهد ان محمد رسول الله دوبار کہا۔ یہ سن کر آدم (علیہ السلام) نے کہا کہ محمد کون ہے تو جواب ملا کہ انبیاء میں سے تیرا یہ آخری بیٹا ہے۔ یعنی آمنہ کے بعد کوئی ایسی ماں ہی نہیں جس کے پیٹ سے نبی پیدا ہو۔
- ٢١...... ایک روایت میں اس طرح آیا ہے: ”وهـو آخـر الانبيـاء من
ذريتك (طبرانی)“ کہ وہ آخری نبی ہے تیری اولاد سے۔ یعنی تیری اولاد سے محمد کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ باعتبار نبی ورسول ہونے کے نسل آدم میں آخری ولد ہیں تو اب آپ کے بعد نبی کیسا؟
- ٢٢...... آپ نے حضرت علیؓ کو فرمایا: ”انـت مـنـى بـمـنـزلـة هـارون من
مـوسـى الا انه لا نبى بعدى (مشكوة ص٥٦٣، باب مناقب علی بن ابی طالب)“ کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے حضرت ہارون موسیٰ کے ساتھ۔ مگر وہ نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
- ٢٣...... ایک روایت میں ہے: ”الا انه لا نبوة بعدی (مسلم)“ کہ اے علیؓ
حضرت ہارون تو نبی تھے۔ لیکن میرے بعد نبوت نہیں ہے۔
١٣
- ٢٤....... اس طرح بھی آیا ہے: ”الا انک لست نبیا (مسلم)“ کہ اے علی تم
نبی نہیں ہو۔
- ٢٥....... آپؐ نے فرمایا: ”انی آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد
(مسلم ج١ ص٤٤٦، باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)“ کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔
- ٢٦....... دوسری روایت میں تفصیل ہے: ”انا خاتم الانبیاء ومسجدی
خاتم مساجد الانبیاء (کنزالعمال ج١٢ ص٢٧٠، روایت نمبر٣٤٩٩٩)“ کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد مساجد انبیاء کی خاتم ہے۔
حاصل یہ ہے کہ نہ آپؐ کے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ کسی نبی کی مسجد بنے گی۔ جس کو مسجد نبوی کہا جائے۔
- ٢٧....... ایک شخص نے آپؐ کو خواب میں دیکھا کہ آپؐ اونٹنی چلا رہے ہیں۔ اس
نے آ کر تعبیر پوچھی آپؐ نے فرمایا: ”وانا الناقۃ التی رایتھا واریتنی ابعثھا فھی الساعۃ علیھا تقوم لا نبی بعدی ولا امۃ بعدی امتی (ابن کثیر ج٩ ص٣٦٩)“ کہ وہ ناقہ جس کو تو نے خواب میں دیکھا کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔ وہ قیامت ہے جو ہم پر قائم ہوگی۔ پس میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور میری امت کے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔
- ٢٨....... آپؐ نے فرمایا: ”بعثت انا والساعۃ کھاتین (مشکوٰۃ ص٤٨٠،
باب قرب الساعۃ)“ کہ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں۔ جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا۔
- ٢٩....... آپؐ نے ابو ذرؓ کو فرمایا: ”اول الرسل ادم وآخرھم محمد
(کنزالعمال ج١١ ص٤٨٠، حدیث نمبر٣٢٢٦٩)“ کہ اے ابو ذرؓ! یاد رکھ کہ دنیا میں سب انبیاء سے پہلے آدم علیہ السلام ہوئے ہیں اور سب کے آخر محمد ﷺ میں ہوں۔
- ٣٠....... مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ: ”سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ختم
المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠)
١٤
- ٣١....... آپؐ نے فرمایا
ص٢٠٧، زیر آیت یا ایھا النبی انا اور آخر ہوں۔
- ٣٢....... اور فرمایا: ”ان
ولا نبی (ترمذی ج٢ ص٥١، باب نبوت منقطع ہوگئی ہے۔ پس میرے بعد
- ٣٣....... آپؐ نے فرمایا
ص٢٩٧، باب فتنۃ الدجال وخرو سے آخری امت ہو۔
- ٣٤....... اور فرمایا: ”کنا
ص٥٥٨، باب مناقب عمرؓ)“ کہ اگر
- ٣٥....... اور فرمایا: ”کم
(کنزالعمال ج١١ ص٤٠٩، حد سے پہلا نبی ہوں اور باعتبار بعثت کے
- ٣٦....... آپؐ نے لو
خاتم انبیاء ورسلہ (مستدرک معبود نہیں اور میں نبیوں اور رسولوں پ اس حدیث میں نبی ﷺ دیا ہے۔
- ٣٧....... آپؐ نے ف
موسى ثم اتبعتموه لضل (مسند احمد در منثور ج٢ ص٨ کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اتباع کرنے لگو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے حصہ ہوں۔ پھر مجھ کو چھوڑ کر کیوں ہے۔ وہ میری امت سے خارج ہ
- ٣١....... آپ نے فرمایا: "اني عبداللہ وخاتم النبیین (در منثور ج ٥
ص ٢٠٧ ، زیر آیت یا ایہا النبی انا ارسلناک) "کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور تمام نبیوں کا خاتم اور آخر ہوں۔
- ٣٢....... اور فرمایا: "ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی
ولا نبی (ترمذی ج ٢ ص ٥١ ، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات) "کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔
- ٣٣....... آپ نے فرمایا: "انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ
ص ٢٩٧، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم) "کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔
- ٣٤....... اور فرمایا: "لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (مشکوۃ
ص ٥٥٨ ، باب مناقب عمر) "کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے ۔
- ٣٥....... اور فرمایا: "کنت اوّل الناس فى الخلق وآخرہم في البعث
(کنز العمال ج ١١ ص ٤٠٩ ، حدیث نمبر ٣١٩١٦) "کہ میں باعتبار اصل خلقت کے سب سے پہلا نبی ہوں اور باعتبار بعثت کے سب سے آخری ہوں ۔
- ٣٦....... آپ نے لوگوں کو فرمایا: "ان تشہدوا ان لا الہ الا اللہ واني
خاتم انبیاء ورسلہ (مستدرک حاکم ج ٣ ص ٣١٤) "کہ اس طرح کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں نبیوں اور رسولوں کے ختم کرنے والا ہوں۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے عقیدہ ختم نبوت کو کلمہ شہادت کی طرح جزو ایمان قرار دیا ہے۔
- ٣٧....... آپ نے فرمایا: "والذی نفس محمد بیدہ لو اصبح فیکم
موسی ثم اتبعتموہ لضللتم انکم حظی من الامم وانا حظکم من النبیین (مسند احمد، در منثور ج ٢ ص ٤٨ ، زیر آیت اخذ اللہ میثاق النبیین) " قسم ہے خدا قدوس کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان آجائیں اور تم ان کی اتباع کرنے لگو تو تم گمراہ ہو جاؤ ۔ کیونکہ تمام امتوں سے میرا حصہ ہو اور میں تمام نبیوں سے تمہارا حصہ ہوں ۔ پھر مجھ کو چھوڑ کر کیوں غیر کی طرف جاؤ ۔ جو میرے سوا کسی اور کو میرے بعد نبی مانتا ہے ۔ وہ میری امت سے خارج ہے۔
١٥
- ٣٨....... ایک روایت میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی
جان ہے: ”لو بدالکم موسٰی فاتبعتموہ وترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ولو کان موسٰی حیا وادرک نبوتی لا تبعنی (دارمی مشکوٰۃ ص ٣٢، باب اعتصام بالکتاب والسنۃ) ”اگر موسٰی علیہ السلام تمہارے درمیان آ جائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور میری اطاعت چھوڑ دو البتہ گمراہ ہو جاؤ تم سیدھے راہ سے، اگر موسٰی علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا۔
- ٣٩....... ایک روایت میں اس طرح آیا ہے: ”ولو کان موسٰی حیا ما
وسعہ الا اتباعی (احمد، بیہقی، مشکوٰۃ ص ٣٠، باب اعتصام بالکتاب والسنۃ) ”کہ آپؐ نے فرمایا اگر موسٰی علیہ السلام زندہ ہوتے تو نہیں لائق تھی ان کو مگر پیروی میری۔
- ٤٠....... پھر آپؐ نے فرمایا: ”لو اتاکم یوسف فاتبعتموہ وترکتمونی
لضللتم (کنز العمال ج ١) ”اگر یوسف علیہ السلام بھی آ جائیں اور تم ان کی اتباع کرو اور میری پیروی چھوڑ دو تو البتہ ضرور گمراہ ہو جاؤ۔
مطلب صاف ہے کہ اگر آپ کے بعد یوسف اور موسٰی علیہما السلام جیسا بھی کوئی آئے تو بھی اس کی تابعداری گمراہی کا باعث ہے۔ لہٰذا آپ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں اور نہ ہوسکتا ہے۔
- ٤١....... آپؐ نے حجۃ الوداع میں جس وقت قریباً ایک لاکھ ٤٤ ہزار کا مجمع تھا۔
فرمایا: ”یایہا الناس انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم“ بعد میں فرمایا: ”وانتم تسئلون عنی (مسند احمد ج ٢ ص ٣٩١) ”کہ اے لوگو! خبردار رہنا اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور تمہارے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔ کیونکہ تم آخری امت ہو اور تم کو قیامت کے دن میری نسبت ہی سوال ہوگا۔ کسی اور کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا۔
گویا آپؐ نے آخری وصیت بھی فرما دی کہ میرے بعد کسی کو نبی نہ بنانا جو بنائے وہ آپ کی آخری وصیت کا بھی منکر ہے۔
- ٤٢....... پھر فرمایا: ”ان ربکم واحد واباکم واحد ودینکم واحد
ونبیکم واحد (کنز العمال ج ٣ ص ٩٣، حدیث نمبر ٥٦٠٠) ”کہ لوگو یاد رکھو۔ تمہارا خدا ایک ہی ہے اور باپ بھی ایک ہی ہے اور تمہارا دین بھی ایک ہی ہے اور تمہارا نبی بھی ایک ہی ہے۔
سبحان اللہ! آپؐ نے کس کس طریقہ سے امت کو سمجھا دیا کہ اب میرے بعد دوسرا نبی
١٦
نہیں ہوگا۔ جس طرح تمہارا باپ بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا اور دوسرا باپ بنانے کے برابر ہے جو
- ٤٣....... اسی واسطے
للسیوطی) ”کہ میں تمہارے لیے یا یہ مطلب کہ جس طر تیار نہیں۔ اسی طرح مجھ کو بھی سمجھو
- ٤٤....... اور فرمایا
حرام (بخاری) ”کہ جو اپنے ٹھیک اسی طرح اگر (احمدی وغیرہ) کہلایا تو تم پر جن
- ٤٥....... پھر آپ
کریں گے تو سب لوگ میری طر وخاتم الانبیاء“ اے محمدؐ پاس جا کر ہم عرض کریں۔ آ مؤمنوں کو بخشائیں گے۔ (بخاری ج ٢ ص
اگر آپ کے بعد الانبیاء بھی نہ کہتے۔
اس حدیث سے ہوسکتا۔
- ٤٦....... حدی
معك“ یہ کون ہے۔ جبرائیل النبیین ہے۔
- ٤٧....... ج
کہے گا۔ ”محمد نبی وهو
نہیں ہوگا۔ جس طرح تمہارا باپ ایک ہے۔ اسی طرح تمہارا صرف ایک ہی نبی ہے اور میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ کے بعد کسی دوسرے نبی کا قائل ہونا اپنا دوسرا باپ بنانے کے برابر ہے جو مشعر بہ سب وشتم ہے۔ نعوذ بالله من ذالك!
- ٤٣...... اسی واسطے آپ نے فرمایا: ”انما انا لكم مثل الوالد (جمع الجوامع
للسيوطى)“ کہ میں تمہارے لئے باپ کی مانند ہوں۔ میرے سوا تمہارا کوئی روحانی باپ نہیں۔ یا یہ مطلب کہ جس طرح تم اپنے باپ کو ایک ہی سمجھتے ہو کوئی دوسرا باپ بنانے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح مجھ کو بھی سمجھو اور میرے ساتھ کسی اور کو نہ بناؤ۔
- ٤٤...... اور فرمایا: ”من ادعی الى غير ابيه وهو يعلم فالجنة عليه
حرام (بخارى)“ کہ جو اپنے باپ کو چھوڑ کر غیر کی طرف نسبت کرے اس پر جنت حرام ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر تم نے مجھ کو چھوڑ کر اور کو نبی بنایا یا اس کی طرف اپنی نسبت کر کے (احمدی وغیرہ) کہلایا تو تم پر جنت حرام ہو جائے گی۔
- ٤٥...... پھر آپ نے فرمایا: میدان محشر میں جب تمام انبیاء شفاعت سے انکار
کریں گے تو سب لوگ میری طرف آئیں گے اور آ کر کہیں گے ”يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبیاء“ اے محمد آپ رسول اللہ کے ہیں اور آپ کے بعد کوئی رسول نہیں۔ جس کے پاس جا کر ہم عرض کریں۔ آپ ہی ہماری سفارش کریں۔ آپ سفارش کریں گے اور سب مؤمنوں کو بخشائیں گے۔
(بخاری ج ٢ ص ٦٨٥، باب قوله ذرية من حملنا مع نوح، مسلم ج ١ ص ١١١، باب اثبات الشفاعة)
اگر آپ کے بعد بھی کوئی رسول ہوتا تو لوگ ان کی طرف بھی جاتے اور آپ کو خاتم الانبیاء بھی نہ کہتے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ محمد ﷺ سے لے کر میدان محشر تک کوئی رسول نہیں ہو سکتا۔
- ٤٦...... حدیث معراج۔ فرشتوں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: ”من هذہ
معك“ یہ کون ہے۔ جبرائیل نے کہا: ”هذا محمد رسول وخاتم النبيين“ یہ محمد خاتم النبیین ہے۔
- ٤٧...... جب قبر میں سوال ہوگا۔ ”ومن نبيك“ کہ تیرا نبی کون ہے تو مؤمن
کہے گا۔ ”محمد نبى وهو خاتم النبيين“ کہ میرا نبی محمد نبیوں کا ختم کرنے والا ہے۔
١٧
- ٣٨...... ”ولو قضی ان یکون بعد محمدﷺ نبی عاش ابنه ولکن
لا نبی بعدہ (بخاری ج٢ ص ٩١٤، باب من سمّی باسماء الانبیاء)“
- ٣٩...... آپؐ نے امت کو یہ درود سکھایا: ”اللہم صلوٰتک وبرکاتک علٰی
سید المرسلین وامام المتقین وخاتم النبیین (کنز العمال ج١ ص ١٢٥)“
ختم نبوت از روئے اقوال مرزا قادیانی
خاتم النبیین کے معنی
- ١...... مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”ماکان محمد ابا احد من
رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا؟ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبیﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص٦١٤، خزائن ج٣ص٤٣١)
- ٢...... یہی آیت لکھ کر فرماتے ہیں: ”الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل
سمی نبیناﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبیناﷺ فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبیناﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یجئ نبی بعد رسولناﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاۃ وختم اللہ بہ النبیین“ کیا نہیں جانتے تم (اے مرزائیو!) کہ خدا کریم و رحیم نے ہمارے نبیﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین قرار دیا ہے اور ہمارے نبیﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبینِ حق کے لئے یہ بات واضح ہے اور اگر ہم اپنے نبیﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا جواز قبول کریں تو گویا ہم نے وحیِ نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ حالانکہ وہ بند ہو چکا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آ سکتا ہے؟ جب کہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔
(حمامتہ البشریٰ ص٢٠، خزائن ج٧ص٢٠٠)
- ٣...... ”ولا یجئ نبی بعد رسول اللہﷺ وھو خاتم النبیین“
اور رسولﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
(حمامتہ البشریٰ ص١٩، خزائن ج٧ص١٩٩)
١٨
ان يكون بعد محمد ﷺ نبي عاش ابنه ولكن
(باب من سمى باسماء الانبياء)
کو یہ درود سکھایا: ”اللهم صلوتك وبركاتك على خاتم النبيين (كنز العمال ج ١ ص ١٢٥)“
روئے اقوال مرزا قادیانی
کتابوں میں لکھتے ہیں: ”ماكان محمد ابا احد من خاتم النبيين“ یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ولا نبیوں کا؟ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد نہیں آئے گا۔
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
فرماتے ہیں: ”الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل غير استثناء وفسره نبينا ﷺ في قوله لا نبى ولو جوزنا ظهور نبى بعد نبينا ﷺ لجوزنا بليتها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين لانه وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به قادیانو!) کہ خدا کریم و رحیم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ہوگا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے اور اگر ہم کا جواز قبول کریں تو گویا ہم نے وحی نبوت کا دروازہ کھول نبی ﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آ سکتا ہے؟ جب کہ ان تعالیٰ نے آپؐ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
نبى بعد رسول الله ﷺ وهو خاتم النبيين“ کیونکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔
(حمامة البشریٰ ص ١٩، خزائن ج ٧ ص ١٩٩)
١٨
- ٤....... ”ماكان الله ان يرسل نبياً بعد خاتم النبيين وماكان الله
ان يحدث سلسلة النبوة ثانياً بعد انقطاعها“ اللہ کو یہ شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں اس کو کہ سلسلۂ نبوت کو از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)
- ٥....... ”وامنت بان رسولنا سيد ولد آدم وسيد المرسلين بان
الله ختم به النبيين“ مرزا قادیانی خدا کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہیں اور رسولوں کے بھی سردار ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)
- ٦....... ”وقد ختم الله برسولنا النبيين“ اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو
ہمارے رسول کے ساتھ ختم کر دیا۔
(تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩)
- ٧....... ”اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا
اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
جو معنی اس جگہ خاتم الاولاد کے ہیں۔ وہی معنی خاتم الانبیاء کے ہیں۔
رسل سے مراد محدث
- ٨....... ”اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر
رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٢٣، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)
- ٩....... نیز فرماتے ہیں کہ: ”مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب
رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام رسل رکھا ہے۔ ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔ اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں ’وقفينا من بعده بالرسل‘ آیا ہے اور یہ نہیں کہ ’قفينا من بعده بالانبياء‘ پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں۔ چونکہ ہمارے سید اور رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیا ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔“
(شہادت القرآن ص ٢٧، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣)
نبی نہیں بلکہ محدث ہوں
- ١٠....... کسی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا کہ آپ نے فتح اسلام میں نبوت کا
دعویٰ کیا ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ (الجواب) نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔
١٩
جو خدا کے حکم سے کیا گیا۔
(ازالۃ الاوہام ص ٤٢١، ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
- ١١...... ”لست بنبى ولكن محدث الله “ کہ میں نبی نہیں بلکہ محدث اللہ
ہوں ۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ٣٨٣)
وحی منقطع ہو گئی ہے
- ١٢...... ” وكيف يجئى نبى بعد رسولناﷺ وقد انقطع الوحى
بعد وفاته وختم الله به النبيين “ اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ جب کہ ان کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
- ١٣...... ”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف
ایک ہی فقرہ جبرائیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے۔ اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١)
رسول کے ساتھ وحی لازمی امر ہے
- ١٤...... ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ
جبرائیل کے حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
- ١٥...... ”جس طرح یہ ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی
طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الہی اور جبرائیل نہ ہو۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
- ١٦...... ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی اور رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ
وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بپیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول آوے۔ مگر سلسلہ وحی
٢٠
رسالت نہ ہو ۔“
- ١٧...... ”خت
فكيف يجئى المسيح ب کے ساتھ ختم کر دیا اور وحی نبوت اور ہمارے رسول کے بعد تو کوئی نبی کے لئے ضروری ہے
- ١٨...... ”جو
کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہ کو وہ کلام سنادے۔ جو اس پر اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ مجھ کو نبی کہنے والے مفتری
- ١٩...... ”وق
ورسله وملائكته و افضل الرسل وخاتم ال يدعى انه نبى “ اور اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور رس بھی ایمان رکھتا ہوں کہ ہما ہیں اور ان (قادیانی) لوگوں کا دعویٰ کرتا ہے۔
- ٢٠......
کے کیا کہیں کہ:’ لعنة ال اور مفتری ہے۔“
- ٢١......
ہے اور گویا ہم معجزات اور ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ
رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
- ١٧...... ” ختم الله برسولنا النبیین وقد انقطع وحی النبوۃ
فکیف یجئی المسیح ولا نبی بعد رسولنا “ اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو ہمارے رسول کے ساتھ ختم کر دیا اور وحی نبوت منقطع ہو گئی۔ پھر مرزا قادیانی مسیح موعود بن کر کس طرح آ سکتا ہے اور ہمارے رسول کے بعد تو کوئی نبی ہی نہیں ہے۔“
(تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩)
نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی امت اور کتاب ہو
- ١٨...... ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا کی ہستی
کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور خلق اللہ کو وہ کلام سناوے۔ جو اس پر خدا کی طرف سے نازل ہوا ہو اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٤، خزائن ج ٥ ص ٣٤٤)
مجھ کو نبی کہنے والے مفتری کذاب اور لعنتی ہیں
- ١٩...... ” وبعزۃ الله وجلالہ انی مؤمن مسلم واومن بالله وکتبہ
ورسلہ وملائکتہ والبعث بعد الموت وبان رسولنا محمد المصطفےٰ ﷺ افضل الرسل وخاتم النبیین وان ہؤلاء قد افتروا علی وقالوا ان ہذا الرجل یدعی انہ نبی“ اور اللہ تعالیٰ کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں مؤمن اور مسلمان ہوں اور اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور رسولوں اور ملائکہ اور بعث بعد الموت پر ایمان رکھتا ہوں اور اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے محمد مصطفےٰ ﷺ سب نبیوں سے افضل اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ان (قادیانی) لوگوں نے مجھ پر افتراء کیا ہے کہ یہ شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
- ٢٠...... ”اگر یہ اعتراض ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تو بجز اس
کے کیا کہیں کہ: ”لعنۃ الله علی الکاذبین المفترین“، یعنی جو شخص مجھے نبی مانتا ہے وہ لعنتی اور مفتری ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥)
- ٢١...... ”افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا
ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افتراء ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٧، ١٩٨، خزائن ج ١٣، ص ٢١٥، ٢١٦)
٢١
مجھ کو نبی کہنے والے دجال ہیں
٢٢....... ”ويقولون ان هذا الرجل لا يؤمن بالملائكة ونزولهم وصعودهم ويحسب الشمس والقمر والنجوم اجسام الملائكة ولا يعتقد بان محمدا ﷺ خاتم الانبياء ومنتهى المرسلين لا نبى بعده وهو خاتم النبيين . فهذا كلها مفتريات وتحريفات سبحان ربى ماتكلمت مثل هذا ان هو الا كذب والله يعلم انهم من الدجالين‘‘ اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ملائکہ اور ان کے نزول وصعود کو نہیں مانتا اور شمس اور قمر اور تاروں کو فرشتوں کے اجسام مانتا ہے اور محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں مانتا۔ حالانکہ ان کے بعد کوئی نہیں آسکتا اور وہی خاتم الانبیاء ہیں۔ پس یہ سب مفتریات اور تحریفات ہیں۔ پاک ذات ہے میرا رب میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی اور یہ سراسر جھوٹ اور کذب ہے اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ (آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والے ) دجال ہیں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٩ خزائن ج ٧ ص ١٨٥)
مدعی نبوت کا ذب اور کافر ہے
٢٣....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر (دہلی) کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ملائکہ کا منکر بہشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات نبوی سے بکلی منکر ہے۔ لہٰذا میں اظہار حق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
مدعی نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہے
٢٤....... ”اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“
٢٢
کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)
اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کو نبی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ حقیقت میں مرزا قادیانی کا دشمن اور ان کو اسلام سے خارج کرنا چاہتا ہے۔
مدعی نبوت کافر اور اسلام سے خارج ہے
- ٢٥...... ”وماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق
بقوم الکافرین“ اور میرا کیا حق ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مدعی نبوت مسلمان نہیں
- ٢٦...... ”فکیف ادعی النبوۃ وانا من المسلمین“ یہ کیونکر ممکن ہے کہ
میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔ کیونکہ نبوت کا دعویٰ کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مدعی نبوت بدبخت مفتری اور قرآن کا منکر ہے
- ٢٧...... ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن
شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرتﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)
مدعی نبوت اسلام سے باہر ہے
- ٢٨...... ”اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے
گا۔“
(کشف راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٨)
مدعی نبوت لعنتی ہے
- ٢٩...... ”ان پر (یعنی مولوی غلام دستگیر پر) واضح رہے کہ ہم بھی (آپ کی طرح)
نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
٢٣
مدعی نبوت امت سے خارج ہے
- ٣٠...... ”نہ مجھے دعویٰ نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات وملائک اور نہ
لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠،خزائن ج ٤ ص٣٩٠)
- ٣١...... ”فلا حاجۃ لنا الیٰ نبی بعد محمد ﷺ وقد احاطت
برکاتہ کل ازمنۃ“ اور ہم کو محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩،خزائن ج ٧ص٢٤٤)
خلاصہ
ان تمام عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مدعی نبوت کافر، کاذب، بے ایمان، دائرہ اسلام سے باہر، بدبخت، مفتری، لعنتی، دجال، قرآن کا منکر اور امت محمدیہ سے خارج ہے۔ تلك عشرۃ کاملۃ!
اب جو شخص مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتا ہے۔ حقیقت میں وہ مرزا قادیانی کا دشمن اور آپ کو اس عشرہ کاملہ کا مستحق سمجھتا ہے اور خود مفتری، کاذب، لعنتی اور دجال ہے۔
مرزا قادیانی کا آخری فرمان
کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت کو جاری کرنے والے کافر کی اولاد، قرآن کے دشمن اور بے شرم و بے حیا ہیں۔ وہو ہذا!
- ٣٢...... ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو۔ دشمن قرآن نہ بنو اور
خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٢٥،خزائن ج ٤ ص٣٣٥)
اس فتویٰ کے بعد ہمیں تو حوصلہ نہیں پڑتا کہ مرزا قادیانی کو نبی مانیں۔ بلکہ ہم تو یہی کہیں گے۔
- ٣٣......
ہر نبوت را برو شد اختتام
(در ثمین فارسی ص ١١٤)
٢٤
ختم نبوت اور صحابہ کرام و اجماع امت
- ١...... حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں: ”قد انقطع الوحى وتم
الدین“ کہ وحی منقطع ہوگئی اور دین مکمل ہوگیا۔
(تاریخ الخلفاء للسیوطی)
- ٢...... حضرت عمرؓ نے آپ کے فوت ہونے پر کہا: ”بابی انت وامی یا
رسول الله قد بلغ من فضيلتك عنده ان بعثك أخر الانبياء“ میرے ماں باپ قربان آپ کو خدا نے آخر نبی بھیجا تھا۔
(مواہب ج٢ ص٢٩٦)
- ٣...... حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ”وهو خاتم النبيين“ کہ آپ نبیوں کو ختم
کرنے والے ہیں۔
(شمائل ترمذی ص ٢، باب ما جاء فی خلق رسول اللهﷺ)
- ٤...... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پڑھا کرتے تھے: ”اللهم اجعل صلوتك
وبركاتك ورحمتك على سيد المرسلين وامام المتقين وخاتم النبيين“ کہ اے اللہ رسولوں کے ختم کرنے والے پر رحمت بھیج۔
(کنز العمال ج ٢ ص ٢٧٩، حدیث نمبر ٤٠٠٥)
- ٥...... حضرت ابن ابی اوفیٰؓ فرماتے ہیں: ”لا نبی بعدہ“ کہ آپ کے بعد
کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(بخاری)
- ٦...... حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ”لان نبيكم اخر الانبياء“ کہ آپ
آخری نبی ہیں۔
(تلخیص التاریخ ج ١ ص ٢٩٤)
- ٧،٨...... اجماع امت ”وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطقت به الكتب
وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلفه ويقتل ان اصر (روح المعانی ج٧ ص ٦٥) ”اور آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل سے ہے۔ جس پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ بوضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔
- ٩...... علامہ ابن حجر مکیؒ فرماتے ہیں: ”ومن اعتقد وحياً بعد محمدﷺ
كفر باجماع المسلمين“ کہ جو شخص آپ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ کافر ہے۔
(فتاویٰ ابن حجر)
- ١٠...... ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: ”ودعوى النبوة بعد نبيناﷺ كفر
بالاجماع“ کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔
(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)
٢٥
......١١
برسالة بعد النبى محمد
"وقال الرسول يا رب ان قومى اتخذوا هذا القرآن مهجوراً (فرقان)"
نہ اس نال ایمان لیائے نہ کچھ عمل کمایا ایہہ کد میری امت وچوں بندے بار خدایا
کشتی نوح ازالہ پڑھ پڑھ عمر پیاری گالی روگردانی کرن قرآنوں رہے ایمانوں خالی
کہے قرآن محمدؐ رحمت کارن دنیا ساری ایہہ آکھن اوہ رحمت مرزا عقل اجہی ماری
کہے قرآن محمدؐ سورج خوب کرے روشنائی ایہناں چھوڑ طریقہ میرا بتی ہور جگائی
کہے قرآن محمدؐ اُوتے ختم نبوت ہوئی ایہناں نواں رسول بنایا کرن خیال نہ کوئی
کہے محمدؐ میں تھیں پچھے دعوے کرن بہترے تساں نہ ہرگز نیڑے جانا رہنا پرے پریرے
جیڑا چھڈ طریق نبی دا نواں طریق نکالے اوہ نہیں ساڈی امت وچوں کہیا مدینے والے
لہندے چڑھدے دکھن پربت دیکھ لوو جگ سارا ایسا کدھرے مول نہ لبھے سوہنا نبی پیارا
عالی شان محمدؐ سرور ہے سلطان رسولاں اے پر قدر نہ ہرگز جاتا بے سمجھاں مجہولاں
خیر الناس محمدؐ عربی شہر مدینے والا جس نے مشرق مغرب تائیں کیتا نور اجالا
اعظم پیر محمدؐ سرور رہبر کل جہاناں سوہنا نام تے سوہنی خصلت نبیاں وچہ یگاناں
کل پیغمبر نفسی نفسی جدن آکھ سناون اُس دن نبی محمدؐ ساڈے یا امتی فرماون
یارب چھوڑ جہناں نے مینوں وکھرا نبی بنایا بیشک میرے منکر پورے میرا قدر نہ پایا
اج ایہناں دی نسبت یارب میں ایہہ حکم سناندا نہ ایہہ میری امت وچوں نہ میں نبی ایہناں دا
جے ایہہ میری امت ہوندے کیوں مرزے ول جاندے چھوڑ مدینہ قادیان دے ول ہرگز قدم نہ پاندے
میں ہن اپنی امت لے کر جنت دے ول جاواں ایہہ آکھن جا مرزے تائیں میں نہ مول چھڈاواں
کر کر سجدے نبی محمدؐ امت نوں بخشاوے اس دن ایہناں مرزائیاں توں قدر نبی دا آوے
رو رو آکھن دنیا اوتے بھیج ربا اک واری من قرآن نبی سرور دی کریئے تابعداری
حکم ہووے ہن دنیا اتے واپس مول نہ جانا سخت عذاب جہنم اندر دائم برا ٹھکانا
یا رب نور بندہ گھر جاکھی ہر دم کرے دعائیں تابعدار نبی دا رکھیں آخر مردیاں تائیں
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا
یعنی
دیندار انجمن
مفتی رشید احمد لدھیانوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ایک نظر ادھر بھی
اسلام کو دو قسم کے دشمنوں کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ ایک وہ جو کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور علانیہ اسلام کے خلاف نبردآزما رہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو بظاہر اسلام کے مدعی ہوتے ہیں۔ اپنے کو اسلام اور مسلمانوں کا خیرخواہ ظاہر کرتے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ مسلمان نہیں ہوتے۔ بلکہ کافر و مشرک مسلمان کی شکل میں آکر اندر اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مشغول رہتے ہیں۔ پہلی قسم کی بہ نسبت یہ دوسری قسم زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں کفر کے ساتھ نفاق بھی ہوتا ہے۔ یہ مار آستین کی طرح ہے۔ پتہ نہیں چلتا کہ کب ڈسے گا۔
ان خفیہ اور علانیہ سازشوں کا مد مقابل اگر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب ہوتا تو کب کا اس کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا۔ لیکن اسلام کی قیامت تک حفاظت کا چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذمہ لے لیا ہے۔ اس لئے اس کے مقابلے میں دشمنان اسلام کی ایک بھی نہیں چلتی۔ جہاں کوئی فتنہ نمودار ہوا وہاں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کسی بندے کو فوراً متوجہ فرما دیتے ہیں کہ تیار ہو جاؤ۔ اس طرف سے کوئی فتنہ سر اٹھا رہا ہے اور پھر ناصرین اسلام رجال کی ایک جماعت سینہ سپر ہو کر زبان و قلم بلکہ تیغ و تفنگ اور ہر ممکن قوت سے ان باطل قوتوں کی سرکوبی میں مشغول ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ابتداء اسلام سے آج تک کوئی ایسا فتنہ چھوٹا یا بڑا نہیں آیا۔ جس کا مقابلہ علماء اسلام نے نہ کیا ہو اور فتح و کامرانی نے ہمیشہ ان کے قدم نہ چومے ہوں۔
اب سے تین ہفتہ پہلے کی بات ہے کہ میرے محسن ومربی حضرت مفتی (رشید احمد لدھیانوی) صاحب مدظلہم نے احقر سے فرمایا کہ دیندار انجمن والوں کے عزائم بڑے خطرناک ہیں۔ جتنی جلدی ہوسکے ان سے متعلق کچھ لکھ کر عوام کو اس فتنہ سے باخبر کرنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت والا نے قلم برداشتہ زیر نظر رسالہ لکھنا شروع کردیا۔ لیکن احقر کے ذہن میں اس بات کی اتنی اہمیت محسوس نہ ہوئی جو ہونی چاہئے تھی۔ اتفاقاً بندہ ایک کام سے اپنے ایک دوست کاتب کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ دیندار انجمن کے موجودہ نگران اعلیٰ سعید بن وحید آج کل اپنے اس مشن کو دوبارہ منظم کرنے اور نشر و اشاعت کے ذریعہ اپنی انجمن کا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کاتب صاحب کو بعض پمفلٹ دے رکھے تھے اور ان کو اپنے مخصوص انداز میں تبلیغ کرکے ایک حد تک متاثر کر دیا تھا اور ایک کتاب ان کو معروف اجرت سے کافی زیادہ پیشگی رقم دے کر کتابت
٢
کے لئے دے دی تھی۔ کاتب صاحب کی ہمت قابل داد ہے کہ انہوں نے حقیقت منکشف ہونے پر زیادہ اجرت کی پرواہ کئے بغیر ان کی رقم اور مسودہ مع کتابت شدہ کاپی سب واپس کر کے کتاب لکھنے سے صاف انکار کر دیا۔ بعد میں حضرت والا کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ یہ لوگ مرتد ہیں۔ ان کی رقم واپس نہیں کرنی چاہئے تھی۔ ہاں کسی مسکین کو دے دیتے۔ دیگر کاتب حضرات سے بھی یہ اپیل ہے کہ وہ ان دشمنان اسلام مرتدین کی کتابیں نہ لکھیں۔ ان کی یہ تگ و دو دیکھ کر فتن کے نباض حضرت فقیہ العصر مجدد القرن الخامس عشر حضرت مفتی (رشید احمد لدھیانوی) صاحب دامت برکاتہم کی دور رس نگاہ جو بات تاڑ گئی تھی۔ اس کی اب بہت ہی زیادہ اہمیت بلکہ نہایت ضرورت ذہن میں آئی نیز ساتھ ہی اس انجمن کی بعض کتب بندہ کے ہاتھ آگئیں۔ ان کو دیکھ کر تو اور زیادہ اس کی اہمیت و ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ دوسری اہم مصروفیات کے باوجود ایک ہی ہفتہ میں حضرت والا نے یہ رسالہ مکمل فرما دیا۔ خیال یہ تھا کہ احسن الفتاویٰ مکمل مبوب جس کی آج کل ترتیب ہو رہی ہے۔ اس کی کتاب الایمان میں اسے شائع کر دیا جائے گا ۔ مگر مضمون کی اہمیت اور اس کی فوری اشد ضرورت کے پیش نظر اس کو الگ بھی شائع کیا جا رہا ہے۔
یہ رسالہ دیندار انجمن کے فتنہ سے متعلق ہے۔ جس کے بانی صدیق دیندار چن بسویٹور ہیں۔ جنہوں نے حیدرآباد دکن میں خانقاہ سرور عالم بنائی تھی۔ نیز پیغمبری بلکہ خدائی تک کے دعوے بھی کئے۔ ان کی مکمل تفصیل آپ کو اس کتاب میں ملے گی۔ ذیل میں ہم ان دعاویٰ کی ایک مختصر فہرست لکھ دیتے ہیں۔ تاکہ ایک نظر میں اس انجمن اور اس کے بانی کے نظریات کا خلاصہ بیک وقت آپ کے سامنے ہو۔ دعاویٰ کی جو فہرست یہاں دی جا رہی ہے۔ ان میں سے ایک ایک آپ کو ترتیب کے ساتھ اسی رسالہ میں جستہ جستہ مل جائے گا۔
چن بسویٹور کے دعاویٰ کی مختصر فہرست
مامور وقت، ایشور، چن بسویٹور، پرماتما، شنکر، موسیٰ، مثیل موسیٰ، داؤد، یوسف موعود، شتمکھ، مصلح موعود، پیران پیر، محمد، امام الغیب، صدیق حکیم اللہ، سپہ سالار، محبوب، تو محمد جلال ہے، مہدی آخرالزمان، دھن پتی، دیندار، محی الدین، صاد جنگ، سری پتی، تاج الاولیاء، فاتح ہندوستان، نور محمد، محمود صدیق، جری اللہ، نبی کریم کے فرزند، سکندر اعظم، عبدالقادر، عبداللہ، سلیمان، مولانا، نگہبان، عیسیٰ، پہلوان، عادل سیران صاحب، آسمان کا تارا، بی بی فاطمہ کا لعل،
٣
اندر جیوتی، میرا صابر، چراغ دین، سلطان نصر الدولہ، کرونا تھ، یا منصور، یوسف، بابا صدیق، فانی الرسول، مظہر اللہ، محمد ﷺ کی بعثت ثانی، بروز محمد، قاضی حشر، حوض کوثر کا قاسم، آخرین کا سردار، فقیر فانی الرسول، رحمۃ اللعالمین، اللہ، انبیاء کے سردار وغیرہ۔
ناظرین! یہ وہ القاب و دعاوی ہیں جنہیں عام طور پر چن بسویشور اپنی ہوس جاہ کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ اپنے لئے اعزاز واکرام کے اور عنوان بھی متعدد مواقع میں استعمال کئے ہیں۔ جو در حقیقت اعزاز واکرام نہیں بلکہ ان کی روسیاہی اور جہنم کا ایندھن بننے کے موجب ہیں۔ نیز ان کا یہ کہنا کہ جہنم بے کار خانہ ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک غیر مسلم یعنی چن بسویشور کی شکل میں آئیں گے۔ قرآن مجھ پر دوبارہ نازل ہوا اور اس قسم کے ہزاروں خرافات زیر نظر رسالہ میں حوالہ کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ تاہم یہ سرسری مطالعہ کا نتیجہ ہیں۔ ورنہ ان کی کتابوں میں مندرجہ خرافات کے مقابلہ میں یہ مشتے نمونہ از خروار سے بھی کم ہیں۔
اس کتاب کے پڑھنے والوں بلکہ تمام مسلمانوں سے میری یہ اپیل ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کے شیدائیوں کے دل کی یہ آواز ہے کہ:
- ١...... اس کتاب کو شروع سے آخر تک غور سے پڑھیں۔
- ٢...... کتاب کو پڑھ کر اپنی الماری کی زینت نہ بنائیں۔ بلکہ کسی اور مسلمان کو پڑھنے کے
لئے دے دیں۔
- ٣...... خود کتاب پڑھنے پر اکتفاء نہ کریں۔ بلکہ اس فتنہ کو ختم کرنے کی بھر پور جد و جہد کریں۔
- ٤...... نیز اس فتنہ سے تمام مسلمانوں کو باخبر رکھنے کی سعی و کوشش کریں۔ آپ کے جو دوست
آپ سے دور ہیں۔ ان کو اس فتنہ سے بذریعہ خط و کتابت مطلع کریں۔ ان کے عزائم اور دعاوی سے ان کو مطلع کریں۔ تاکہ وہ ان کی خفیہ سازشوں کے جال میں نہ پھنسیں۔
- ٥...... یہ کوشش رہے کہ مسلمانوں کا کوئی گھرانہ ایسا نہ رہے جو ان کے فتنوں سے باخبر نہ ہو۔
- ٦...... مصنف کی طرف سے اس کتاب کے چھاپنے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ نیز اسے
رسائل واخبارات والے حضرات اس کتاب کو بعینہ قسط وار یا اس کے اقتباسات شائع کریں۔
- ٧...... اہل ثروت حضرات اس کتاب کے مزید نسخے حاصل کر کے دوسرے لوگوں تک
پہنچانے کی کوشش کریں۔
٤
- ٨...... ہر مسلمان ہر امکانی ک
غیر مسلم قرار دینے کا نفاق کی وجہ سے قاد قانون کے لحاظ سے (قادیانی اور لاہور
- ٩...... اس کتاب کے ا
تقسیم کیا جائے۔ ا
- ١٠...... کوئی کاتب ان کی
دو عالم ﷺ کی نبوت کر اپنی عاقبت بر گی۔ مگر آخرت م اکبــــــر ”وط فرمائیں۔ آمین ث
الحمد للہ وکف بعد ربنا لا تزغ قلو الوهاب!
کسی مذہب، ملت مخالفین کسی نظریہ کو ناکام بنانا کریں۔ مگر سب کا حاصل اند مملکت کا ایسا وجود نہ آیا ہے، بھی یہی ہے کہ اسی تقابل کے عام طور پر کسی نظر ہیں اور جب ان سے ناامیدی
- ٨...... ہر مسلمان ہر امکانی کوشش کر کے حکومت کے کانوں تک یہ مطالبہ پہنچائے کہ وہ ان کو
غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کرے۔ کیونکہ یہ دراصل قادیانیوں ہی کی ایک شاخ ہے اور نفاق کی وجہ سے قادیانیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حکومت پاکستان کے موجودہ قانون کے لحاظ سے ان کا وہی حکم ہونا چاہئے۔ جو مرزائیوں کے دونوں فرقوں (قادیانی اور لاہوری) کا ہے۔
- ٩...... اس کتاب کے اقتباسات کو الگ شائع کر کے مساجد بلکہ دفاتر اور اسکولوں میں بھی
تقسیم کیا جائے۔
- ١٠...... کوئی کاتب ان کی کتابیں نہ لکھے اور پریس والوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ سرکار
دوعالم ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ زنی کرنے والے اس کافر و مرتد گروہ کی کتابیں چھاپ کر اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔ اس کے عوض دنیا میں اگر چہ تھوڑی بہت رقم مل جائے گی۔ مگر آخرت میں اللہ کا عذاب اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ ”والعذاب الاخرة اکبر“ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ان معروضات پر عمل کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین ! ”وما ذلك على الله بعزيز“ دیندار انجمن کا خیر خواہ: احتشام الحق آسیا آبادی
بسم الله الرحمن الرحيم!
الحمد لله وكفى والصلوة والسلام على عباده الذين اصطفى اما بعد ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب!
کسی مذہب، ملت یا مستحکم قانون کو دو طرح کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ جب مخالفین کسی نظریہ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے طور پر ہزاروں بلکہ لاکھوں حربے استعمال کریں۔ مگر سب کا حاصل اندرونی سازش اور بیرونی یلغار ہے اور بس کوئی مذہب یا نظریہ یا کسی بھی مملکت کا ایسا وجود نہ آیا ہے، نہ آئے گا کہ اس کے خلاف کوئی سازش میں لگا ہوا نہ ہو اور عادۃ اللہ بھی یہی ہے کہ اسی تقابل کے میدان میں آکر کھرے کھوٹے کا پتہ چلتا ہے۔
عام طور پر کسی نظریہ کو فیل کرنے کے لئے ابتداءً خارجی وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں اور جب ان سے ناامیدی ہو جاتی ہے تو اندرونی طور پر ایسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں۔ جو اس
٥
تحریک کو ناکام بنادیں۔ امتحان و آزمائش کی ان سخت گھڑیوں میں بعض مات کھا جاتے ہیں اور بعض اس آزمائش سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔
اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت انسانی کی صحیح ترجمانی اگر کہیں پائی جاتی ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ نظریہ اسلام اور دیگر مختلف نظریات میں جہاں دوسرے فرق ہیں۔ وہاں یہ فرق نہایت واضح ہے کہ وہ تمام قوانین ونظریات جو غیر اسلامی ہیں۔ وہ ایک خاص طبقہ اور مکتب فکر کے جذبات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ وہ خالص جذبات پر مبنی ہونے کی بناء پر اول تو مصالح بشریہ سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور اگر ان میں کچھ مصلحت ہو بھی تو وہ مخصوص طبقہ اور مخصوص زمانے تک محدود ہوتے ہیں۔ بخلاف اسلام کے کہ وہ چونکہ خالق کائنات کا اپنی مخلوقات کے لئے بنایا ہوا ضابطہ ہے جو علیم و خبیر ہونے کی وجہ سے بندوں کے حالات مابعد و ماقبل سے بخوبی واقف ہے۔ اس لئے اس ضابطہ حیات میں جہاں جذبات انسانی کی رعایت رکھی گئی ہے۔ وہاں اس کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ وہ انسان کی طبیعت سلیمہ اور فطرت عالیہ کی حقیقی ترجمانی کرتا ہو۔ ارشاد ربانی ہے: ”فاقم وجهك للدين حنيفا فطرت الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذالك الدين القيم ولكن اكثر الناس لا يعلمون (روم)“
ویسے تو ہر فرد بشر جب اپنی ڈیڑھ اینچ کی مسجد بنالیتا ہے تو وہ اسی کو اپنی معراج اور کائنات کی نجات کا واحد ذریعہ قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہے: ”الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعاً كل حزب بما لديهم فرحون (روم)“
لیکن جب واقعات اور حقائق پر نظر ڈالی جاتی ہے تو لوٹ کر بات پھر وہیں آکر رک جاتی ہے۔ جہاں سے ہم چلے تھے کہ : ”الا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير (ملك)“
لیکن ظاہر ہے کہ ایسا عالمگیر مذہب اور جذبات و فطرت انسانیہ پر حاوی ضابطہ حیات دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اس لئے زیر گردوں جب اسلام کا سورج چمکا تو خیرہ چشموں کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں اور دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ اس کو ختم کرنے کی کس قدر سعی لاحاصل کی گئیں۔ مگر وہ قدم قدم پر اسلام کی ترقی کا موجب بنتی رہیں۔
آخر کار جب ان دشمنان اسلام نے دیکھ لیا کہ اس طرح سے ان کا داؤ نہیں چل رہا
٦
ہے تو انہوں نے دشمنی کا دوسرا روپ اختیار کر لیا۔ چاہیں تو اسے وہ طریقہ کہہ لیں جسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے سرکار دو عالم ﷺ کی عداوت میں شروع کیا تھا۔ یا ہوسِ نبوت کا وہ تخم زہر قاتل کہیں جس کی آبیاری مسیلمہ کذاب اور اس کے ہمنواؤں سجاح اور طلیحہ اسدی نے کی تھی۔ بہر حال ہیں یہ سب ایک ہی شجرۂ خبیثہ کے برگ و بار ۔ ”الکفر ملۃ واحدۃ“ کا قانون اٹل ہے۔ نام اور کام کے رنگ ڈھنگ کا فرق ہے اور بس ؎
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
اور شاعر نے ایسی ہی حالت کے مطابق کیا خوب کہا ہے کہ ؎
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
مگر یاد رہے کہ یہ تمام حربے اندرونی ہوں یا بیرونی ۔ جس طرح اب تک ان کے لئے غیر مفید رہے ہیں۔ اسی طرح آئندہ بھی ان کا ہر حربہ بے نقاب ہو کر انہیں کے لئے ذلت و رسوائی کا موجب ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
مسلمانوں کے دلوں سے اسلام کی اہمیت کو کم کرنے بلکہ انہیں بے دینی کی راہ پر لگانے کے لئے جہاں دیگر ذرائع کام میں لائے گئے ۔ انہی میں ایک فتنہ دعوائے نبوت کا بھی ہے۔ نبی بننے کو ایسا آسان کر دیا گیا کہ جب چاہیں نبی بن جائیں۔ بلکہ حد یہ کر دی کہ ایک احمق کو نبی بننے کا شوق ہوا تو اس کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرماتے ہیں۔ جب دعویٰ نبوت کیا تو لوگوں نے پوچھا کس نے تمہیں نبی بنا کر بھیجا ہے؟ تو فرمانے لگے۔ مجھے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
یوں تو سرکار دو عالم ﷺ کے انتقال کے بعد کتنے لوگوں نے نبی، رسول، مسیح موعود، یوسف موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ بلکہ بروز محمد (ﷺ) اور عین محمد (ﷺ) ہونے تک کے دعوے بھی ہوئے۔ لیکن مردم خیزی کا جو شرف ہند و پاک اور خصوصاً سر زمین پنجاب کو نصیب ہوا ہے وہ دنیا کے کسی اور خطے کو خواب میں بھی نصیب نہ ہوگا۔
اس خطۂ مقدسہ میں غلام احمد قادیانی ”لعنۃ اللہ علیہ وعلیٰ من حذا حذوہ“
٧
نے جو کشت نبوت بوئی ہے اور جس کے پودے پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ شرف کسی اور دشمن اسلام کو کم ہی نصیب ہوگا۔ اس کی وجہ غالباً یہی ہو سکتی ہے کہ اس کی خمیر میں وہ تمام خباثتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔ جو معلم الملائکہ ابلیس ”علیہ وعلیٰ اتباعہ اللعنة الی یوم الدین“ میں اس کی سرکشی کے عوض ودیعت رکھی گئیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ شیطان نے خدا بننے کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن آپ کے شاگرد بھی خدا بن گئے۔
یا الہی! میں یہ کیا سن رہا ہوں۔ یا اللہ! یہ تیرا ناسپاس گزار غلام ہے۔ جو اب خدائی کا دعویدار ہے۔ کبھی تو چہرے سے مکھی بھی نہ ہٹا سکے اور اب جو آپ نے صحت وقوت عطاء فرمائی ہے تو تیرے مقابل آ کھڑا ہے۔ ”اللهم خذهم اخذ عزیز مقتدر“ عجیب اتفاق ہے کہ استاذ وپیر (غلام احمد قادیانی) تو درجہ نبوت سے نہ بڑھ سکے اور مرید (صدیق دیندار چن بسویشور) نبوت سے ترقی کر کے مظہر خدا بن بیٹھے۔ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ ورنہ ...... اکبر الہ آبادی مرحوم انہیں سے تو نالاں ہو کر یہ کہہ گئے
مجھ کو حیرت ہے کہ یہ بت کیوں خدا مانے گئے
ان بیچاروں نے بچپن گزارا۔ جوانی کے دن عیش وعشرت میں کاٹے۔ پیری کے لمحے بسر کئے۔ یہاں تک کہ موت نے آ دبوچا۔ مگر یہ نہ سمجھے کہ ہم کیوں آئے تھے اور کیا کر چلے، اکبر یہاں بھی آ پہنچے۔
بگاڑا موت نے اور یہ نہیں سمجھے بنے کیوں تھے؟
مگر دوسرے مصرع میں اتنی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اکبر مرحوم کی روح بھی انشاء اللہ اس سے خوش ہوگی۔
واللہ! یہ اور ان کے پجاری خوب جانتے ہیں کہ خدا جس نے ساری کائنات کو بشمول ان کے پیدا فرمایا ہے۔ وہ کوئی اور ذات ہے صدیق دیندار چن بسویشور نہ خود خدا ہے نہ اس کا مظہر
٨
اور نہ کوئی نیک بندہ۔ بلکہ یہ سب گورکھ دھندا ہے۔ بے وقوف بننے کا شوق ہوا تو سوچا کہ اس طرح سے بھی بے وقوف بنا اور بنایا جاتا ہے۔ ورنہ
آج تو بار بار اکبر ہی یاد آ رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی ایسا کوئی بے وقوف ہوگا۔ ارشاد ہے:
دل لگی کے لئے ایک بت بھی لگا رکھا ہے
مگر ان بیچاروں کا قصور نہیں۔ ان کو ان کے دادا (انگریز) نے یہی سبق سکھایا ہے کہ قسمت آزمائی کرتے رہو۔ ہو سکتا ہے قرعہ اندازی میں مرزا قادیانی کی مصاحبت کی بدولت خدا بننے کے لئے نام نکل گئے۔ ورنہ پیغمبروں میں تو شمار ہو ہی جاؤ گے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اس لئے کہ؎
کیا تعجب ہے جو نکلا پیمبر نمبر
مرزا غلام احمد قادیانی کے مریدین میں نبی تو بہت سے بنے ہیں۔ بلکہ ایسے بھی ہیں جو اپنے گرو سے بھی پانچ انگل آگے نکل گئے ہیں۔ لیکن یہ سعادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے جو بیک وقت یوسف موعود بھی ہو، نبی بھی ہو، عین محمد (ﷺ) بھی ہو اور مظہر خدا بھی۔ مگر صدیق دیندار چن بسویشور میں یہ تمام صفات متضاد موجود ہیں۔
تا نہ بخشد خدائے مرزایش
ذیل میں ہم اس مرد مجاہد صدیق دیندار چن بسویشور (لعنہ اللہ) سے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں اور یہ سلسلہ کی آخری کڑی نہیں ہے۔ بلکہ فتنہ مرزائیت کے بعد حکومت اور عوام کو اس کی طرف توجہ دینے کی ایک اپیل ہے۔ سب سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صدیق دیندار کا مختصر تعارف کرا دیا جائے۔
صدیق دیندار چن بسویشور
انسانی تاریخ میں وہ دن کتنا منحوس تھا جس میں صدیق دیندار نے جنم لیا۔ جس نے
٩
اپنے خود ساختہ دین کو دیندار کا لیبل لگا کر کفر و ارتداد کی ظلمت پھیلادی۔ سادہ دل بندوں کو احتیاط، توسع ، شوق جہاد اور اتفاق پسندی کے سبز باغ دکھا کر قعر مذلت میں گرا دیا۔ بلکہ جو سادہ لوح مسلمان اس کے دام تزویر میں پورے طور پر نہیں آئے۔ ان کو بھی شیطان نے یہ فریب دے رکھا ہے کہ یہ خدمت اسلام کرنے والے مجاہدین کی ایک فکری غلطی ہے۔ حالانکہ کفر و ارتداد کی طغیانی میں یہ خود تو غرق ہو چکے ۔ اگر تمہاری یہ روش رہی تو خدا نہ کرے ایک نہ ایک دن یہ تم کو بھی بہالے جائیں گے۔
اس بد بخت کا نام صدیق ہے۔ دیندار لقب ہے۔ عام طور پر اپنے نام کے ساتھ چن بسویشور لکھا کرتے تھے۔ حیدر آباد دکن میں ان کی رہائش تھی۔ ٤؍ رمضان المبارک ١٣٠٣ھ بروز پیر میں دکن ہی میں اپنا منحوس قدم رکھا۔ عام طور پر اپنا نام اور لقب اس طرح لکھا کرتے تھے۔
”صدیق دیندار چن بسویشور“
آصف نگر حیدر آباد میں ان کی خانقاہ کا نام ”خانقاہ سرور عالم“ یا جگت گرو آشرم تھا۔ جس میں سیرت النبی کے جلسے بھی کراتے تھے۔ خود چونکہ تقریر میں زیادہ اچھے نہ تھے۔ اس لئے اپنے جلسوں کو رونق افروز کرنے کے لئے بعض دوسرے حضرات کو بھی بلایا کرتے تھے۔ صدیق دیندار صاحب غلام احمد قادیانی کے ساتھ میل ملاپ رکھتے تھے۔ لیکن بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان سے جا کر بیعت کی پھر۔ محمد علی لاہوری مرزائی سے جا کر قادیانی تفسیر پڑھی۔ اس کے بعد پھر حیدر آباد دکن آ کر ہندوؤں کی کتابوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کو کھینچ تان کر اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے ہندوؤں کا اوتار چن بسویشور ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ یوسف موعود، مثیل موسیٰ مظہر خدا کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ خانقاہ سرور عالم واقع آصف نگر ( حیدر آباد دکن ) میں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی دوبارہ بعثت ہوئی ہے۔ نیز اپنے کو اللہ ، قیامت کا مالک اور شافع محشر بھی لکھا۔ یہ سب باتیں انشاء اللہ انہی کی کتابوں کے حوالہ سے پیش کی جائیں گی۔
چن بسویشور کی تصانیف میں اب تک مہر نبوت ، خادم خاتم النبیین ، جامع البحرین، معراج المومنین اور دعوت الی اللہ کے حوالے ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی تصانیف ہیں جو بہائیوں کی کتاب اقدس کی طرح فضا سازگار ہونے پر میدان میں آئیں گی۔
١٠
مؤخر الذکر کتاب دعوت الی اللہ ان کے مذہب اور دیگر کتابوں کا سنگ بنیاد ہے۔ ان کی باقی کتب اور مریدین کی دیگر تصانیف گویا اسی کی تعبیر وتشریح ہیں۔ کتاب کے سرورق پر یہ عبارت چھپی ہوئی ہے۔ "دعوۃ الی اللہ، الداعی تقدیس مآب حضرت قبلہ مولانا صدیق دیندار چن بسویشور یوسف موعود سردار آخرین جو باہتمام اراکین دیندار انجمن رزاقی پریس مغل پورہ میں طبع ہو کر ربیع آخر ١٣٥٩ھ میں حیدرآباد سے شائع ہوئی۔"
دیندار انجمن
صدیق دیندار چن بسویشور نے ١٩٣٢ء میں اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ایک انجمن قائم کی۔ جس کا نام دیندار انجمن رکھا۔ نام کی ملمع سازی نے بہت سے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈال کر گرفتار بلا کر دیا۔ اس انجمن کا اصول یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ایسی باتیں ظاہر کی جائیں جو ان کی نظروں کے لئے جاذب ہوں۔ مثلاً جہاد کی ترغیب، اتفاق واتحاد کی کوشش وغیرہ اور ان کے نبی چن بسویشور کے جو اصل عقائد ان کی کتابوں میں ہیں۔ حتی الامکان یہ کوشش رہے کہ وہ عوام کے سامنے نہ آئیں۔
آج کل اس انجمن کی تین تحریکیں تین مختلف ناموں سے چل رہی ہیں۔ ان کی وضاحت اس لئے کرنا ضروری ہے کہ کہیں عوام کسی دوسرے نام سے ان کے دھوکہ میں نہ آجائیں۔ پورے ہند و پاک میں ان کے مبلغین پھیلے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں یہ تحریک، حزب اللہ دیندار انجمن کہلاتی ہے۔ اس کی ایک شاخ کراچی میں بھی ہے۔
کراچی ہی میں سعید بن وحید بی اے (علیگ) کی امارت میں جمعیت مجاہدین فی سبیل اللہ دیندار انجمن کے نام سے یہ لوگ کام کرتے رہے ہیں۔ یہ انجمن آج کل فقراء مبلغین اسلام دیندار انجمن اور زیادہ تر صرف دیندار انجمن کے نام سے کام کر رہی ہے۔ جس کا سربراہ سعید بن وحید ہے۔ اس انجمن کا مرکزی دفتر کورنگی کراچی میں ہے۔ تیسری تحریک مرکزی دیندار انجمن کے نام سے ہے۔ جس کے مبلغین پنجاب اور پشاور وغیرہ میں ظاہر اور پوشیدہ طریقوں سے کام کر رہے ہیں۔ عوام کو دھوکہ دہی کے لئے ان کے مبلغین کے دو خاص پیشے ہیں۔ بعض پیش امام بن کر مساجد میں امامت کرتے ہیں اور بعض پیر بن کر اپنے حلقہ ارادت میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔ ان کی وضع قطع مخصوص ہے۔ اس لئے اسے بھی لکھا جاتا ہے۔ تاکہ ناواقف مسلمان ان کو وضع قطع سے پہچان کر ان کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔
١١
وضع قطع
دیندار انجمن کے لوگ ہرے رنگ کے عمامے باندھتے ہیں۔ جس کے نیچے عموماً سادہ ٹوپی ہوتی ہے۔ رنگے ہوئے گیروے کرتے پہنتے ہیں۔ سر پر لمبی لٹیں، لمبی داڑھی اور پراگندہ منہ دکھائی دیتے ہیں اور چائے سے مکمل پرہیز، زاہد صدیقی صاحب سابق مبلغ دیندار انجمن جو اب تائب ہو گئے ہیں۔ فاران کراچی فروری ١٩٥٧ء میں لکھتے ہیں۔
”راقم الحروف نے چار سال کا عرصہ ہوا۔ جمعیت حزب اللہ دیندار انجمن کو ایک تبلیغی ادارہ تصور کرتے ہوئے زندگی وقف کر کے اپنی خدمات پیش کر دی تھیں۔ اس کے بعد سے مندرجہ بالا واقعہ تک میں ایک سرگرم مبلغ کی حیثیت سے مغربی پاکستان میں دورہ کرتا رہا اور ہزار ہا افراد کے مجمع میں اس جماعت کا تعارف کراتا رہا۔ لیکن یہ کسے خبر تھی کہ جنہیں میں نے خدام الدین سمجھا ہے وہ غارت گر ایمان اور منکرین ختم نبوت ہیں۔ صوفیانہ حلیہ، دیندارانہ وضع قطع فرقوں کے اتحاد کے متمنی، غرض یہ کہ انہیں آپ دیکھ کر کبھی یہ تصور نہیں کر سکتے کہ اس وضع قطع کے لوگ بھی دینداری کی آڑ لے کر بے دینی اور مشرکانہ عقائد کی در پردہ تبلیغ کرتے ہوں گے۔“
اقتباسات
یہاں تک اس انجمن کا اجمالی تعارف کرایا گیا ہے۔ اب انجمن کے بانی صدیق دیندار چن بسویشور کی تصانیف سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ان سے ان کے معتقدات، عزائم اور کئی دیگر خرافات آپ کو معلوم ہو جائیں گی اور پھر اندازہ لگائیں کہ یہ لوگ (دیندار انجمن والے) حقیقت میں کیا ہیں اور کس روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان عقائد وعزائم کے حاملین عوام میں جہاد و اتحاد کے نام سے تبلیغ کر کے عوام کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔
اگر دنیا میں رہنا ہے تو پھر پہچان پیدا کر
لیجئے! اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
چن بسویشور اور مرزا غلام احمد قادیانی
دیندار انجمن کے بانی صدیق دیندار چن بسویشور فرماتے ہیں: ”نبیوں کے اسرار مجھ پر کھلنے کے دو اسباب ہیں۔ پہلا سبب یہ کہ فقیر ١٩٠٨ء میں فتنہ دجال سے کما حقہ واقف ہو کر
١٢
جستجوئے حق میں تھا۔ ١٩١٤ء میں مسیح (مرزا غلام احمد قادیانی) کو پایا اور نہایت مخلصانہ طور پر اٹھائیس سال کی عمر میں ترک دنیا کر کے مزید حصول علم دین کے لئے قادیان پہنچا اور مرزا قادیانی کے تحریر کردہ دس ہزار صفحات سے جن میں تین سو جگہ مسئلہ نبوت کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پورا پورا واقف ہو گیا۔ اس طرح ”اسرار نبوت“ کے کھلنے کا اس فقیر پر یہ پہلا سبب ہے۔“ (مہر نبوت ص ٢٥)
اس اقتباس سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ چن بسویشور کا قادیان جانا، مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود ماننا اور ان کی تصانیف سے استفادہ دینی اور اسرار نبوت کا کھلنا۔ قارئین حضرات یہیں سے اقتباسات کو ذہن نشین کرتے جائیں اور یہ بات نہ بھولیں کہ یہیں سے دیندار صاحب پر اسرار نبوت کھلنے شروع ہو گئے۔ اس وقت اٹھائیس برس کی عمر ہے۔ آج ترک دنیا کر کے مرزا قادیانی کی کتابوں سے کفریات کی خوشہ چینی میں مصروف ہیں۔ کل کو پتہ چلے گا کہ ”اسرار نبوت“ کھلے ہیں یا جہنم کے انگاروں سے دامن بھر لیا ہے۔
ہوش آئے گا انہیں موت کی بیہوشی میں
(اکبر الہ آبادی)
غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے اسرار نبوت خاک ملتے وہاں تو اغواء نفسانی کے غول بیابانی کمین گاہ میں شکار کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہیں زقوم کے کانٹوں میں بھی پھول ملا کرتے ہیں۔ اب تو جہنم رسید ہونے کے بعد چن بسویشور صاحب دل ہی دل میں کہتے ہوں گے کاش میں وہاں نہ جاتا۔ مگر اب تو ”یٰلیتنی کنت ترابا“ کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے کا۔
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت میں میں
مدتوں ڈھونڈا کیا نظارۂ گل خار میں
آہ! وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں
(علامہ اقبال)
دربار قادیان سے نا امید لوٹے، تبھی تو قادیانیوں بالخصوص میاں محمود سے روٹھے اور اپنی مستقل نبوت اور مامور وموعود ہونے کے دعویدار بنے اور زبان حال سے یہ کہتے ہوئے دربار قادیان سے لوٹے کہ؎
١٣
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے
چھوڑ کر مانند بو، تیرا چمن جاتا ہوں میں
رخصت اے بزم جہاں سوئے وطن جاتا ہوں میں
(علامہ اقبال)
یعنی نبی بننے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ جو آپ کے پاس نہ ملا۔
اس کو چلا ہوں ڈھونڈنے جو ابھی ملا نہیں
یوسف موعود
صدیق دیندار چن بسویشور نے چونکہ قادیان میں جا کر غلام احمد قادیانی کے علمی خزانے سے کافی استفادہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اسرار نبوت آپ پر منکشف ہو گئے تھے۔ اس لئے اب دعوائے نبوت کرنے میں کیا دیر تھی۔ بس حیدر آباد پہنچا تھا کہ دعویٰ کر دیا۔ میں یوسف موعود ہوں۔ مامور من اللہ چن بسویشور ہوں اور اپنے دعویٰ کی وضاحت کے لئے ایک کتاب خادم خاتم النبیین کے نام سے لکھ ڈالی۔ جس میں اکثر و بیشتر مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام و پیش گوئیوں سے اپنے دعویٰ کو مبرہن کیا ہے۔ آپ بھی چند اقتباسات سن کر قوت دلیل کا اندازہ کرلیں۔
"اب حق آ گیا۔ اس کی طرف حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک کوئی روح القدس سے تائید پا کر کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو اور اس کے بعد اس کی اتباع کرنا، اسی میں نجات ہے۔ اس کام کے لئے اپنی جماعت میں دن رات دعا کرتے رہنے کے لئے کہا تھا۔"
منتظر جس کے تھے آج وہ موعود آیا
گزشتہ تین سال میں میاں صاحب کے نام میں نے متعدد خطوط بھیجے اور بار بار لکھا کہ دکن کے اولیاء اللہ (ہندو، سادھو وغیرہ) کی کتب پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ایک شخص شمال میں دیر بسنت (اولوالعزم محمود) نامی پیدا ہوگا۔ وشنو (غلام احمد قادیانی) کی گادی پر بیٹھے گا۔
١٤
اس کے بعد اور بھی تفصیل ذکر کر کے بشیر الدین محمود کو ہندوؤں کی کتابوں سے موعود انسان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے متعلق لکھا ہے کہ: ”اس کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور کرے گا۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٠٩، از دیندار چن بسویشور)
لیجئے! یوسف موعود کا دعویٰ ذرا اور وضاحت سے فرماتے ہیں: ”حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) کی بشارت میں جتنی صفتیں یوسف موعود کی آئی ہیں وہ کل درجہ پر مجھ پر صادق آتی ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٥٨)
اس کے بعد اسی کتاب میں ص ٥٨ سے ص ٦٨ تک رات کے دو بجے ایک حسین نوجوان لڑکی کا ان کے بسترے میں آ کر لیٹ جانے کا واقعہ ذکر کیا ہے اور آخر میں حضرت یوسف علیہ السلام پر اپنی فضیلت کی چھ وجوہ ذکر کی ہیں۔
یوسف موعود کے دنیا میں آ کر لوگوں کی اصلاح کرنے کی روایت ہندوؤں کی کتابوں یا پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات سے کوئی پیش کرے تو کرے، قرآن وحدیث و کتب شرع میں تو اس کا نام ونشان تک نہیں۔
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
مأمور وقت
جب صدیق دیندار نے ہندوؤں میں چن بسویشور کا دعویٰ کیا تو اس سلسلے میں لکھا: ”دکن میں ایک مأمور کا انتظار تقریباً آٹھ سو سال سے چلا آ رہا ہے اور اس دھوم سے کہ کرناٹک کا ہر بچہ بڑا واقف ہے۔ اتنا انتظار کسی مأمور کا مسلمانوں میں نہیں۔ اس کثرت سے نشانات بیان کئے گئے ہیں کہ مہدی اور مسیح کے بھی نہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١١)
مزید سنئے اور چن بسویشور صاحب کے علم کلام میں مہارت کی بھی داد دیجئے۔ ”میری مأموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی پیش کرے۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٥٩)
ٹھیک فرمایا حضرت والا نے کیسی دور رس نگاہ ہے۔ خانہ خالی را دیو میگیرد مأمور وقت جیسا اہم عہدہ خالی پڑا رہنا زیب نہیں دیتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جناب والا کی شان عالیہ میں شاعر کہہ گئے ہیں۔
١٥
امڈے ہیں فریب امیدوں کے طوفاں ہیں بپا ارمانوں کے
تھی عقل زباں پر اے اکبر اور عشق پہ رکھی ہم نے نظر
ممتاز رہے ہشیاروں میں سرخیل رہے دیوانوں کے
یوسف موعود ہونے کا دعویٰ ایک اور روپ میں
خدا کرے ذیل کا دعویٰ بھی آپ کی سمجھ میں آجائے۔ سنئے اور سر دھنئے!
”یوں تو جلال کے لحاظ سے موسیٰ بھی ہوں اور داؤد علیہ السلام بھی، مسیح موعود کی عبارت میں ان دونوں کا نام کیوں نہیں آیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوسف مصر کے بادشاہ تھے۔ وہ جس قوم پر حکومت کرتے تھے۔ وہ عربی النسل قوم تھی۔ قبل ظہور اسلام دو ہزار سال کے اندر اندر وہ تمام قوم ہندوستان کے جنوبی علاقے میں پہنچ گئی تھی...... یہ بچھڑے کے پجاری اور شرک پر قائم رہے۔ ان میں ایک رسول کی بشارت چلی آ رہی تھی۔ جس کو شنمکھ اوتار کہتے ہیں۔ شنمکھ کے اصلی معنی نفس امارہ کا مقابلہ کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ یوسف کا تعریفی نام ہے۔ قوم لنگایت میں شنمکھ کا مجھ سے پیشتر ٢٧ دفعہ آنا مانا جاتا ہے اور یہ آخری ظہور ہے۔ آج سے آٹھ سو سال پیشتر اولیاء اللہ (ہندو سادھو) نے اس کو دیندار چن بسویشور کے نام سے موسوم کیا ہے۔“
(دعوة الی اللہ ص ٢٨)
قارئین حضرات! کیا سمجھے؟ حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں صرف ایک مرتبہ نہیں آئے۔ بقول چن بسویشور ان سے قبل ستائیس دفعہ وہ ہندوستان کی قوم لنگایت میں تشریف لا چکے ہیں۔ اب اٹھائیسویں مرتبہ ایک ہندو چن بسویشور کے روپ میں آئے۔ نعوذ باللہ من شر ذالک! خدا کا پیغمبر اور ہندو کے روپ میں۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ یاد رہے یہ دعویٰ کی پہلی سیڑھی ہے۔ آگے چل کر خود حضرت یوسف علیہ السلام پر اپنی فوقیت جتلاتے ہیں۔ خاموشی اور انگشت بدنداں رہ جانے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آئے تو کوئی عرض بھی کرے یہاں پر تو ؎
اپنے ہی حسن کا جوش ہے سب کچھ ہمیں میں ہے
اپنے قارئین دوستوں کو بس اتنا بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں اور اس سے بڑھ کر یوسف
١٦
اور ان کا تعارف مجھ ناچیز سے نہ کرایا جاسکتا ہے۔ نہ ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ جس قدر آپ کے ذہن میں حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حسن مبارک ہوگا۔ اتنا ہی چن بسویشور کی بدصورتی کا اندازہ کرلیں اور یہ حقیقت ہے مبالغہ آمیزی نہیں۔ ان کو جہنم رسید ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ دیکھنے والے ابھی تک زندہ ہیں۔ درحقیقت ؎
مہدی آخرالزمان
جو شخص نبی بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اس کے لئے مہدی آخرالزمان بننا کیا مشکل تھا۔ جب کہ اس سلسلہ میں ایک خواب بھی بطور تائید نظر آیا تھا۔ فرماتے ہیں: ”حضور (ﷺ) نے میری طرف انگلی سے اشارہ کر کے عوام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تک کوئی شخص اس میں فنا نہ ہوگا وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٨)
میرے آقا سرور کونین ﷺ کی طرف جھوٹا خواب نسبت کر کے آسمان سے تو پروانہ مل ہی چکا تھا۔ اب لوگوں کو دھوکا دینا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ایسی صورت میں دعویٰ مہدیت اور بیعت رضوان لینے میں کیا چیز مانع تھی؟ جس سادہ لوح مسلمان نے حضور ﷺ کے نام مبارک کے ساتھ بشارت سنی۔ اپنا تن من دھن قربان کر ڈالا اور مہدی مان کر بیعت کرلی۔ سنئے چن بسویشور کی اپنی زبانی۔
”ہبلی میں ایک عورت میرا وعظ سن رہی تھی۔ روحانیت کا اتنا اثر ہوا کہ جدھر دیکھے چن بسویشور نظر آرہا ہے اور ہر ایک آواز چن بسویشور ہے۔ اگر مرغ بانگ دے تو چن بسویشور کہتا ہے اور بچہ بھی روتا ہے تو چن بسویشور ہی کہتا ہے۔ بگھار چڑھاہوا ہے تو چن بسویشور آواز آ رہی ہے۔ کئی دن ایسا رہا۔ اس معاملہ میں وہ عورت گھبرا گئی۔ اپنے خاوند کو لے کر میرے پاس آئی۔ میں نے بیعت لے کر دعا دی اب تک وہ اچھی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو بعد وعظوں کے پکار اٹھے کہ آپ مہدی ہیں۔ بعض نے مہدی مان کر بیعت کر لی۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٤٨)
ایسے ہی اسی کتاب میں اپنی روحانیت کا ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ”وہ (کوئی لڑکی) بن سنور کر رات میں مجھ سے آ کر لپٹ گئی۔“ یہ ہیں مہدی آخرالزمان کی روحانیت کے کرشمے۔
١٧
آپ کا کوئی قصور نہیں۔ اصل میں اسلام کو چھوڑے ہوئے کافی زمانہ گزر گیا ہے۔ اب یاد نہیں رہا کہ مہدی کیا ہوتے ہیں۔ بس سمجھ کی غلطی ہے۔ بیچارہ یہی سمجھا کہ مہدی آخرالزمان بھی کوئی چاکیواڑہ کا غنڈہ ہوگا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کس چمن میں تھا نشیمن یہ نہیں یاد مجھے
تعجب ان دیوانوں پر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ہوس آ کر سب سے پہلا وار ہوش پر کرتی ہے۔ جب عقل وخرد ہی رخصت ہوگئی تو پھر کسی کا کیا رونا۔ مگر تعجب ان مسلمان بھائیوں پر ضرور ہوتا ہے۔ جو ایسی خرافات بکنے والوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنا رہبر تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ مگر ”لكل ساقطة لا قطة“ کے قانون پر اس کے بغیر عمل ہی ناممکن تھا۔
ہو ہی جاتے ہیں سب اس شعبدہ پرواز کے ساتھ
گل تازہ شگفت
”اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے کہ جو عین وقت یعنی ١٩٢٤ء میں آیا۔ اگر میاں (محمود) صاحب کے مامور ہونے کا انتظار ہے تو وہ بالبداہتہ غلط ہے۔ پہلے تو اسی بناء پر غلط ہے کہ مامور کبھی ایک زبردست جماعت کا خلیفہ نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ مامور کے ساتھ ہونے والوں کو ایمان بالغیب اور امتحانات میں سے گزرنا پڑتا ہے اور سوائے اس کے حضرت (مرزا قادیانی) نے یوسف موعود کے لئے نطفہ اور علقہ لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ معمولی انسان ہوگا۔ تمہاری نظریں دھوکہ کھا جائیں گی اور یہی سنت اللہ ہے۔..... ایسی صورت میں نہ خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ مولانا محمد علی صاحب اور نہ میاں (محمود) صاحب یہ کل مشہور انسان ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کام کے لئے مامور ہو جائیں تو خدا کی سنت میں فرق آتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ جل شانہ نے اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتلاء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کیا۔ دیر آمدہ زراہ دور آمدہ کا وعدہ پورا کیا۔ اس کا تفصیل وار ذکر آئندہ آئے گا۔“
١٨
ہر لفظ پیش گوئی کا فقیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ نشان کہ وہ نطفہ علقہ کی طرح ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگوں کی نظر دھوکہ کھائے گی۔ وہ اس طرح کی پیدائش کے لحاظ سے بھی میرا یہ حال ہے کہ میں حد درجہ کا کمزور پیدا ہوا تھا۔ رونے کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔ والد نے یہ کہا کہ یہ بچہ کیا جیتا ہے؟ کوڑے پر پھینک دو۔ والدہ نے کہا کہ ابھی جان ہے۔ ذرا ٹھہرو...... اللہ جماعت احمدیہ سے کام لینا چاہتا ہے۔ ان میں مخلص لوگ کثرت سے ہیں...... اللہ اس جماعت کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پھر دوبارہ فضل ہوا ہے۔ حضرت (مرزا قادیانی) نے لکھا ہے کہ جب تک کوئی روح حق پا کر کھڑا نہ ہو سب مل کر کام کرو۔ اس روح حق والے کی طرف ہو جاؤ اور وہ صدیقی رنگ میں ہے۔ نطفہ اور علقہ کی طرح ہے۔ حقیقت نظر آئے گا۔ دھوکا نہ کھانا، غرض اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہ خدا کے وعدے پورے ہو رہے ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٨)
ٹھیک فرمایا، آنجناب نے واقعی آپ احمدیوں (قادیانیوں) کے مامور موعود ہیں۔ جو شک کرے کافر ہوگا۔ ”اشهد انك من القاديانيين متنبيهم لعنة الله عليك وعلى شيخك غلام احمد وعلى من حذا حذوكم الى يوم التناد و اخذكم الله تعالى اخذ عزيز مقتدر“ بڑا افسوس ہوا آپ کے خلیفہ سعید بن وحید کی قلمی کتاب ختم نبوت کا قرآنی مفہوم دیکھ کر اس نے صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے آپ کو اور آپ کی جماعت کو قادیانی جماعت سے الگ بلکہ بیزار ظاہر کیا ہے۔ بے شک آپ قادیانی نہ ہونے کے الزام سے بری ہیں۔ بلکہ پکے قادیانی ہیں۔
چنن بسویشور کی روح معذب کو میرا مشورہ ہے کہ اس ناخلف خلیفہ کو جو کورنگی میں رہتے ہیں، جلدی ریٹائر کر دیں ورنہ یہ تمہارے مذہب ہی کو مٹا دینے کو تیار ہیں۔
چنن بسویشور نے اپنے مامور وقت ہونے کے دعویٰ کے سلسلہ میں ہندؤوں کی کتابوں سے بھی بعض پیش گوئیاں درج کی ہیں۔
شینخو خود دنیا کی ایک سو ایک ذاتوں کو عام کرنے آئے گا۔ دس اوتار کے رنگ میں خدا گھوڑے پر سوار ہو کر ملک ملک پھرے گا...... بسو پر بھو اس انسان کو سمجھ کر انکار کر کے اس سے بات مت کرو...... دائم قائم رہنے والا پر ماتما خود اترا ہے۔ معجزے دکھائے گا...... ایشور کے روپ
١٩
والا ...... دنیا میں ایشور آتا ہے کوئی دیر نہ ہوگی ...... دنیا کا ایشور چن بسویشر دنیا کے کھیل اور فریب فاش کرے گا۔ شنکر زمین پر اترے گا۔
(دعوة الی اللہ ص ١٧، ١٨)
دیکھ لیا چن بسویشور قائم دائم رہنے والا ہے۔ یعنی ”ھو الحی القیوم“ بہت خوب، یہ عجیب ”الحی القیوم“ ہے کہ مدت ہوئی جہنم رسید ہوگئے۔ شیو کو تو ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ وہ غلام احمد قادیانی ہے۔ ایشور کی حضرت نے تشریح کردی کہ وہ چن بسویشور ہے۔ مگر یہ شنکر اور پرماتما سمجھ میں نہیں آیا کیا بلا ہیں۔ ویسے حسن ظن تو یہی رکھتے ہیں کہ وہ آنجہانی ہیں اور دس اوتار جن کے رنگ میں ایشور صاحب کا ظہور ہوگا اور وہ ملک ملک پھرے گا۔ اس کی تشریح ابھی رہنے دیتے ہیں۔ اس کا عقدہ کوئی اور دوست انشاء اللہ سمجھا دے گا...... اچھا بھئی بسو پربھو جن کا یہاں ذکر ہے کہ وہ آپ کو انسان سمجھیں گے۔ اس نے تو واقعی بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ ننگ انسانیت کو انسان سمجھنا یہ تو واقعی ان کی ناسمجھی ہے۔ مگر یہ نہیں پتہ چلا کہ مرد مجاہد بسو پربھو ہے کون؟
حضورﷺ پر تہمت
نبوت اور مأمور ہونے کی تائید میں اگر غلام احمد قادیانی کے الہامات اور ہندو سادھوؤں کی پیش گوئیوں پر اکتفاء کرتا تو تعجب نہ ہوتا کیونکہ وہ اسی زمرے میں شمار ہیں۔ مگر سرکار دوعالمﷺ پر بھی اپنی تائید کی جو تہمت لگائی اس میں جھوٹ اور دیدہ دلیری کی حد کردی ہے۔
”حضورﷺ نے جو تاریخ پیدائش میری بتائی ہے اور حالات بتائے ہیں۔ وہی اولیاء دکن (سادھوؤں) نے بتائے ہیں اور انہوں نے جو تاریخ پیدائش اور حالات بتائے ہیں وہی حضرت مرزا کی کتب میں نظر آتے ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٦)
جھوٹ، سفید جھوٹ، حضورﷺ نے یہ کہاں فرمایا؟ نبی کریمﷺ پر یہ اتنی بڑی تہمت ہے کہ اس پر جو بھی بڑی سے بڑی سزا تجویز کی جائے وہ اس جرم کی بہ نسبت کم ہے۔
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
غلطی سے ان کو بادہ فروش کہا۔ ورنہ یہ ہیں بادہ نوش
مثیل موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
”مسیح موعود نے بھی میری نسبت فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ایک موسیٰ ہے میں اس کو ظاہر کروں گا۔“
(دعوة الی اللہ ص ٢١)
٢٠
اکی...... دنیا کا ایشور چن بسویشر دنیا کے کھیل اور فریب
(دعوة الی اللہ ص ١٧، ١٨)
ہنے والا ہے۔ یعنی ”ھوالحی القیوم“ بہت خوب، ائی جہنم رسید ہو گئے۔ شیو کو تو ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ نے تشریح کر دی کہ وہ چن بسویشور ہے۔ مگر یہ شنکر اور ی ظن تو یہی رکھتے ہیں کہ وہ آنجہانی ہیں اور دس اوتار اور وہ ملک ملک پھرے گا۔ اس کی تشریح ابھی رہنے اء اللہ سمجھا دے گا...... اچھا بھئی بسو پر بھوجن کا یہاں س نے تو واقعی بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ ننگ ہے۔ مگر یہ نہیں پتہ چلا کہ مرد مجاہد بسو پر بھو ہے کون؟
د میں اگر غلام احمد قادیانی کے الہامات اور ہندو ہ نہ ہوتا کیونکہ وہ اسی زمرے میں شمار ہیں۔ مگر سرکار ق میں جھوٹ اور دیدہ دلیری کی حد کر دی ہے۔ ت تیری بتاتی ہے اور حالات بتاتے ہیں۔ وہی اولیاء ئعے جو تاریخ پیدائش اور حالات بتائے ہیں وہی
(خادم خاتم النبیین ص ١٦)
ہے یہ کہاں فرمایا؟ نبی کریم ﷺ پر یہ اتنی بڑی تہمت عے وہ اس جرم کی بہ نسبت کم ہے۔
فروش از کجا شنید
یہ ہیں بادہ نوش
ہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ایک موسیٰ ہے میں اس کو
(دعوة الی اللہ ص ٢١)
٤٢٩ سچ فرماتے ہیں۔ میں بھی تائید کرتا ہوں کہ آپ مثیل موسیٰ بلکہ عین موسیٰ ہیں۔ لیکن پتہ ہے کون سا؟ وہی موسیٰ جس کے بارے میں ارشاد ہے۔
(اس عبارت میں موسیٰ سے مراد سامری ہے۔ سامری کا نام بھی موسیٰ تھا۔ مرتب)
آپ کا کوئی قصور نہیں۔ مرزا قادیانی کا الہام سمجھنے میں کچھ غلطی ہوئی ہے اور یہ اجتہادی غلطی ہے۔ آپ کے شیخ الشیخ حضرت مرزا علیہ ماعلیہ سے بھی ایسی ہی غلطی ہوئی تھی۔ شیطان نے دل میں وہم ڈالا تو وہ سمجھے کہ یہ وحی نازل ہورہی ہے۔
حد یہ کر دی کہ ہوسِ نبوت جب بڑھی تو اپنے لئے مختلف نام تجویز فرمائے اور ہونا بھی چاہئے۔ اس لئے کہ صرف چن بسویشور، یوسف موعود، مثیل موسیٰ، مصلح موعود، مامور وقت، شنکر اور پرماتما وغیرہ کے دعوؤں سے کہاں تسلی ہوتی۔ چنانچہ اپنے الہامی ناموں کا اعلان کر دیا۔
”لہٰذا آج پچیس سال سے مجھ سے مکالمہ الہیہ جاری ہے اور میرے اعزازی نام یہ ہیں: اے پیران پیر، محمد، امام الغیب، صدیق، کلیم اللہ، سپہ سالار، محبوب، تو محمد جلال ہے، مہدی آخر الزمان، دھن پتی، دیندار، محی الدین، صادق جنگ، سری پتی، اے تاج الاولیاء، فاتح ہندوستان، نور محمد، محمد صدیق، جری اللہ، اے نبی کے فرزند، سکندر اعظم، عبدالقادر، عبداللہ، موسیٰ، سلیمان، مولانا نگہبان، اے عیسیٰ، اے پہلوان، عادل میران صاحب، اے میرے آسمان کے تارے، بی بی فاطمہ کے لعل، اندر جیونی، میرے صابر، چراغ دہر، سلطان نصر الدولہ، کرو ناتھ، یا منصور اور بھی کئی نام ہیں۔ ان ناموں کے علاوہ مجھے بار بار یوسف پکارا گیا اور کھلے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے کہا یوسف ہے بابا صدیق اور کہا تو ہی چن بسویشور ہے۔“
(دعوة الی اللہ ص ٣٥)
ایک ہی شجر کے برگ و بار
خلیفہ قادیان کے بارے میں لکھا ہے: ”اے خلیفہ جماعت احمدیہ میں آپ کو ایک زمانے سے جانتا ہوں کہ آپ متقی ضرور ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٧٣)
اسی صفحہ پر مزید تقدیس بیان کرتے ہیں: ”بھلا اس وقت کیا حال ہوگا جب دیر بسنت (اولوالعزم محمود) دکن تشریف لائیں گے۔ میں میاں محمود احمد صاحب کو دکن کی بشارتوں کی بناء پر خلیفہ جماعت احمدیہ مانتا ہوں۔ گو لاہور کی جماعت مخالف ہی کیوں نہ ہو۔“
٢١
حقیقت یہ ہے کہ صدیق دیندار کی جماعت ہو یا قادیانی یا لاہوری سب ایک ہی درخت کے برگ و بار ہیں۔ صدیق، دیندار اور اس کی کتابوں سے جہاں قادیانیت کو تقویت پہنچتی تھی۔ وہاں انہی کے ذریعہ لاہوریت کا پرچار بھی رہا۔ چنانچہ محمد علی لاہوری کے بارے میں لکھتا ہے: ”حضرت مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ نے ایک خط میں مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے ہماری جماعت کا ہر فرد خوش ہے۔“
(حوالہ بالا)
ایک ایسا ہی خط قادیان سے آیا ہے۔ اسے بھی ذیل میں درج کرتے ہیں:
مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عرض یہ ہے کہ مجلس مشاورت کے بعد آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد بھیجنے کی کوشش کی جائے گی ...... بہرحال آپ کام کرتے رہئے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنے وقت پر پورے ہو جائیں گے۔ مزید برآں یہ عرض ہے کہ بوجہ مالی تنگی اس علاقہ کی طرف توجہ نہ ہوسکی...... کام کی رپورٹ براہ کرم بھیج دیا کریں اور مشکلات اور نتائج سے آگاہ کرتے رہیں۔ والتسلیم ! دستخط عبدالرحیم نیر نائب ناظر دعوۃ وتبلیغ قادیان
(منقول از کتاب خادم خاتم النبیین ص ٧٨)
جس کتاب سے یہ حوالے دیئے جارہے ہیں وہ خود بانی انجمن صدیق چن بسویشور کی تصنیف ہے۔ ان اقتباسات بالخصوص مذکور خط سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دیندار انجمن باقاعدہ ایک شاخ کی حیثیت سے اپنے مرکز قادیان میں کام کی رپورٹ اور نتائج بھجوایا کرتی تھی۔ اس لئے جماعت کے بعض افراد کا یہ کہنا کہ ہمارا قادیانیوں سے نہ نظریاتی کچھ تعلق ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کا، بدیہی البطلان ہے۔
دیندار انجمن والوں کا امتحان
عوام کی دھوکہ دہی کے لئے دیندار انجمن کے مبلغین یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا قادیانیوں اور ان کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہماری انجمن کے بانی چن بسویشور کے وہ عقائد نہ تھے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے تھے اور یہ کہ وہ نبوت کے مدعی نہ تھے۔ وغیرہ!
یہ سب فریب اور ملمع سازی ہے۔ جہاں تک ان کے مرزائیت کی دونوں جماعتوں قادیانی اور لاہوری سے تعلقات کا معاملہ ہے۔ اس سے متعلق ہم پیچھے خود بانی جماعت کی کتابوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت قادیانی جماعت کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتی ہے۔
٢٢
قادیانیوں کے ساتھ چن بسویشور کا اتفاق اور غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود وغیرہ ماننے کی تصریحات بھی پیچھے ذکر کی جاچکی ہیں اور خود بانی کے دعویٰ نبوت سے متعلق بھی بعض عبارتیں پیچھے آچکی ہیں اور بعض آئندہ آرہی ہیں۔ یہ ایسے حقائق ہیں کہ ان کا انکار کسی طرح نہیں کیا جاسکتا۔
اگر واقعتاً ان مبلغین حضرات کو ان عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے تو یہ خوشی کا مقام ہے۔ مگر صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں بلکہ جن لوگوں نے بشمول صدیق چن بسویشور نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان سب کو علی الاعلان تقریراً و تحریراً کافر کہیں اور ان کی کتابوں کو میدان میں رکھ کر جلائیں ان کی جماعت سے اپنی برأت کا اظہار کریں۔ اگر اس کے لئے تیار نہیں بلکہ بانی انجمن کے نام لیواؤں میں اپنے کو شمار کرتے ہیں۔ ان کی تحریک کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ ان کی کتابوں کو چھاپتے اور ان کی اشاعت کرتے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہمارا ان عقائد سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ جس طرح بانی جماعت چن بسویشور اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر دجال اور دائرہ اسلام سے خارج شمار کیا جاتا ہے۔ یہی حکم ان کا بھی ہوگا۔
قارئین حضرات! اس کا تجربہ کریں۔ جب بھی بھیڑ کی صورت میں کسی بھیڑیئے کو دیکھیں۔ لمبی لٹوں اور سبز پگڑی والے کسی خضر صورت منافق سے ملاقات ہو تو اولاً تو اس کے ملعون چہرہ ہی پر اس کے دل کی ظلمت نمایاں ہوگی۔ مزید تجربہ کے لئے اس سے مرزا قادیانی اور ختم نبوت سے متعلق دریافت کریں تو وہ مرزا سے سخت بیزاری اور ختم نبوت پر ایمان کی تقریر کرے گا۔ اگر آپ اس سے ملعون قادیانی اور چن بسویشور کی تکفیر کے اعلان کا مطالبہ کریں تو وہ اس پر ہرگز تیار نہ ہوگا۔
آج سے تقریباً بیس برس قبل غالباً ١٣٧٦ھ میں مجھے دارالعلوم کورنگی میں اطلاع ملی کہ لانڈھی ماچس فیکٹری کی مسجد میں دیندار انجمن کا ایک منافق امام ہے۔ میں نے دارالعلوم سے ایک طالب علم کو چن بسویشور کی کتابوں کے حوالے مہیا کر کے جمعہ کے روز اس مسجد میں بھیجا۔ انہوں نے بوقت نماز جمعہ عوام کے سامنے اس مردود امام کے نفاق کا پردہ چاک کیا۔ لوگوں نے اس ملعون کو انتہائی ذلت کے ساتھ مسجد سے نکالا۔ وہ بھاگتا ہوا میرے پاس پہنچا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کا دیندار انجمن اور قادیانیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور وہ پکا مسلمان ہے۔ بالآخر یہاں تک کہا کہ میں آپ کے سامنے اسلام قبول کرتا ہوں اور مرزا قادیانی اور چن بسویشور کو کافر کہتا ہوں۔ آپ میری امامت بحال کرادیں۔ میں نے کہا کہ آپ جمعہ کے روز اسی مسجد میں یہ اعلان کریں۔
٢٣
”میں پہلے مرتد تھا۔ اب دوبارہ میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ میں غلام احمد قادیانی اور صدیق دیندار چن بسویشور اور ان کی جماعت کو کافر اور مرتد سمجھتا ہوں۔ میں آئندہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔“
نیز یہی اعلان اخبار جنگ اور انجام میں بھی شائع کریں۔ اس کے بعد آپ کو مسلمان قرار دیا جائے گا۔ باقی رہا امامت کا مسئلہ تو آج ہی کوئی سکھ اسلام قبول کرے اور فوراً اسے امامت کا منصب بھی دے دیا جائے یہ نہ عقلاً قابل تسلیم ہے نہ شرعاً۔ ایک سال تک آپ کے حالات اور دیندار انجمن سے قطع تعلق کا جائزہ لیا جائے گا۔ اطمینان ہونے کے بعد آپ کو امام بنایا جاسکتا ہے۔
اس منافق نے جب دیکھا کہ یہاں اس کا کوئی داؤ نہیں چل رہا تو راہ فرار اختیار کی۔ کسی دوسری مسجد میں جاکر امامت کی صورت میں عوام کے ایمان پر غارتگری شروع کر دی ہوگی۔
بھیڑیے پہنے ہوئے پھرتے ہیں بھیڑوں کا لباس
حضور ﷺ کی بعثتِ ثانی
اپنی کتاب مہر نبوت میں لکھتے ہیں: ”الحمد للہ اعلان نبوت منجانب احمدیاں مسیح موعود کی شہرت کا باعث بنا اور یہ شہرت قیامت کے قائم ہونے کی ایک عظیم الشان حجت تھی۔ یہی ایقان قیامت بعثت ثانی کے ثبوت میں بینات بن کر ہمالیہ کے پہاڑ کی طرح سر بلند اور مستحکم کھڑا ہے۔“
(مہر نبوت ص ٥٦)
اس عبارت سے تشفی نہ ہو تو مزید تشریح سنئے: ”جب بعثت ثانی میں ان کے باپ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے ان کو چھوڑ کر احمدیوں نے ولد اللہ کی حقیقت کو قائم رکھنا چاہا تو ان کو فتنوں میں مبتلا کر دیا۔“
(مہر نبوت ص ٣٦)
میرے خیال میں حضرات قارئین نہیں سمجھے ہوں گے۔ یہ دفع دخل مقدر ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ تو نبی برحق ہے تو یہ احمدی (قادیانی) تجھے کیوں نہیں مانتے؟ جواب یہ دیا ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد حضور ﷺ تشریف لائے تو اکثر عیسائیوں نے نہ مانا، اسی طرح مسیح موعود کے بعد جب دوبارہ حضور کی بعثت ثانی بشکل چن بسویشور ہوئی تو ان احمدیوں نے بھی عادت سابقہ کی طرح نہ مانا۔
٢٤
اگلی عبارت اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے۔ ملاحظہ ہو: ”دوسرے الفاظ میں اس ولی کے وجود میں بزمانہ قیامت حضور منبع انوار خود تشریف لاتے ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ سے یہ بروز محمد کہلاتا ہے۔ اسی وجود کی نشاندہی میں مسیح ظاہر ہوتا ہے۔ جو ”انہ لعلم للساعۃ“ کی حقیقت منکشف کرنے کے لئے بچہ کی طرح کچھ نہ کچھ کہہ دے کر عقائدی طوفان مچاتا ہے۔ قیامت کا علم دینے کے لئے اس کی بدنامی مقدر ہوتی ہے۔“
(مہر نبوت ص ٤٣)
قارئین حضرات! اس عبارت میں آخری فقرہ ”بدنامی مقدر ہوتی ہے“ کو دوبارہ ملاحظہ فرمالیں۔ کیا آپ کو یہ گوارا ہے کہ خدانخواستہ آپ کی بدنامی مقدر ہو۔ یقیناً نہیں تو کیا جو خدا کا نبی یا بروز نبی ہو گا ۔ اللہ کو یہ گوارا ہو سکتا ہے کہ اس کی بدنامی ہی مقدر ہو؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس رسوا سر بازار کو امتحان و آزمائش اور بدنامی میں امتیاز نہیں۔ الٹا اچھا ہوا اپنے ہی قلم سے تقسیم مناسب کر دی۔ جو اللہ تعالیٰ کا مقرب اور نبی ہوتا ہے۔ بعض موقعوں پر اللہ تعالیٰ اسے آزمائش میں ڈالتے ہیں۔
جانچ ہوتی ہے انہی کی جن پہ ہوتا ہے کرم
اور جو نبی نہیں بلکہ متنبی (جھوٹی نبوت کے دعویدار) ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے لئے بدنامی مقدر ہوتی ہے۔ چن بسویشور کو اپنی حقیقت کا علم تو تھا ہی اس لئے حقیقت ظاہر کر دی کہ وہ ایسا بروز محمد ہے کہ بدنامی اس کے لئے مقدر ہے۔ ”یسود اللہ وجہ یوم القیامۃ“
بروز محمد کی تشریح
پچھلی عبارت میں بروز محمد (ﷺ) کی تشریح اگرچہ آچکی ہے کہ اس ولی کے وجود میں حضور منبع انوار خود آتے ہیں۔ لیکن اس کی مزید تشریح اشعار میں بھی کر دی ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرمالیں۔
ہے مظہر خدا کا قرآں کا ہے عالم ہے قاضی حشر حوض کوثر کا قاسم
(مہر نبوت ص ٤٣)
٢٥
سردار دوجہاں ﷺ نے اپنے کو قاضی حشر نہیں فرمایا: ”سید ولد آدم“ تو فرمایا ہے لیکن حاکم الانبیاء نہیں فرمایا۔ اس لئے یہاں بروز محمد کی جو تشریح کی ہے۔ وہ ایسا بروز ہے۔ جو حضور ﷺ سے بھی قدر و منزلت میں بڑھا ہوا ہے۔ بلکہ قاضی حشر یا مالک حشر تو صفات خداوندی ہیں۔ اس لئے بلا مبالغہ بروز محمد کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا جو صفات محمدیہ کے ساتھ بشکل ہندو...... چن بسویشور آیا ہے۔ وہ یہ بندہ ناچیز ہے۔
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے
مذہب چن بسویشور میں اس کے اندر کوئی استحالہ نہیں۔ اس لئے کہ ان کے نزدیک مسلمان کا درجہ نبی کے برابر ہے اور جو جامع الانبیاء ہو وہ ظاہر ہے کہ کم از کم خدا تو ہو گا ہی۔ مسلمان اور نبی کا درجہ برابر ہے۔ اس سلسلے میں خود چن بسویشور کے الفاظ سن لیجئے۔
(مہر نبوت ص ٦١)
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ورنہ عام مسلمانوں کے برابر ہوتا۔ العجب ثم العجب!
بسویشور کے دربار میں نبیوں کا اجتماع
حد ہوگئی ہوس جاہ کی، مامور وقت سے لے کر مہدی آخرالزمان اور یوسف موعود و دیگر خیالی مراتب تک پہنچنے کے بعد اب بھی ہوس پوری نہیں ہوئی تو بکنے لگا کہ تمام انبیاء میرے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔
فرماتے ہیں: ”بروز محمد سے مطلب بعثت ثانی میں ”آخرین منہم“ کے مالک اور آقا ہیں...... یہی وقت اجتماع انبیاء کا ہوگا۔ جب کل انبیاء جمع رہیں گے ان پر حاکم ایک امتی فنافی الرسول ہوگا۔ جو بروز محمد کہلائے گا۔“
(مہر نبوت ص ٤٤)
جب خود بروز محمد ہو گئے محمد ﷺ کی بعثت ثانی بشکل چن بسویشور ہو گئی۔ بیت المقدس کی بجائے حیدرآباد دکن میں انبیاء کرام جمع ہو گئے۔ حاکم بسویشور صاحب مقرر ہو گئے۔ اب آسمان سے نزول قرآن کے خیالی تصور میں کیا دیر تھی، اس لئے ارشاد ہے: ”علم قرآن جب خلیج
٢٦
عوج میں اولیاء کی بعثت کے زمانہ میں بتدریج ایک ہزار سال کے اندر آسمان پر چڑھ جائے تو دوبارہ وہ ذات بابرکت تشریف لائیں گے۔ ان پر علم قرآن نازل ہوگا۔
(مہر نبوت ص ٤٤)
عجیب وہ قرآن جس کا نزول سرکار دو عالم ﷺ پر مکہ و مدینہ میں ہوتا تھا۔ آج ہندوؤں کے اوتار چن بسویشور پر اس کا نزول حیدرآباد دکن میں ہو گیا۔
بہائیوں کی کتاب اقدس دنیا میں عمل کے لئے آئی تھی۔ فضا سازگار نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ کر چھپ گئی۔ فضا سازگار ہو گی تو پھر نزول کرے گی۔ اس دشمن خدا کے نزدیک قرآن بھی ایک ہزار سال تک بھاگ کر آسمان پر چھپا رہا۔ اب چن بسویشور کی موجودگی میں حیدرآباد کی فضا سازگار ہوئی تو وہ اتر آیا۔
ارے دشمن خدا! ہوش کے ناخن لے کہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب بھاگا کرتی ہے۔ کتاب اللہ تو اس لئے آتی ہے کہ بے عملی کے زمانے میں لوگ اس سے عمل سیکھیں۔
دریدہ دہنی کی انتہاء کر دی
پہلے مسیلمہ کذاب کی بوجہلیت سن کر داد دیں۔ ”یہ فقیر فانی الرسول اپنے اندر سے حضور منبع انوار کی قدسی طاقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے میرے سامنے نہیں بلکہ حضور منبع انوار کے سامنے کل انبیاء زانوئے ادب طے کئے بیٹھے ہیں ۔“
(مہر نبوت ص ٦٢)
دیکھ لیا من تو شدم تو من شدی کا عجیب و غریب مظاہرہ کہ کل انبیاء میرے سامنے زانوئے ادب طے کر کے بیٹھے ہیں ۔ مگر چونکہ میں بروز محمد ہوں۔ اس لئے درحقیقت حضور کے سامنے انبیاء ادب سے بیٹھے ہیں۔ یہ کیسا عجیب منطقی جملہ ہے۔ نبوت بھی اپنی ایجاد اور منطق بھی۔ یہ مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج نہیں تو اور کیا ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ایسی توہین کہ وہ ایک ہندو کذاب کے سامنے زانوئے ادب طے کئے بیٹھے رہیں۔ اس انجمن کی کوئی تصنیف اس قسم کی لغویات سے خالی نہیں ۔ ضرور ان حرکات شنیعہ کے پس پردہ کوئی شقی ہاتھ کام کر رہا ہے مگر
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
٢٧
جنت نہیں بیکار خانہ
تصور آخرت، جہنم کا خوف، جنت کی طلب یہ ایسی چیزیں ہیں جو مسلمان کو عمل کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ اس لئے اس دشمن خدا کے دل میں یہ شرارت پیدا ہوئی کہ پہلے اس تصور کا خون کر دیا جائے تا کہ آگے مختلف دعاوی کر کے اپنی ہوس پوری کی جاسکے اور تصور آخرت دل سے مٹ جانے کے بعد مسلمان بندہ نفس بن کر اس کی ہوسناکیوں کو برداشت کر لیں۔ ارشاد ہے:
”جب دنیا میں گناہوں کا زور ہوتا ہے تو جنتی ارواح کو غیرت ہوتی ہے۔ اللہ کے اذن سے بصورت اولیاء اللہ آ کر کام کرتی ہیں۔ ورنہ یہ خیال کیا جائے کہ جنتی لوگ ہمیشہ جنت میں پڑے رہتے ہیں۔ اس سے تو جنت نہ ہوئی۔ بیکار خانہ ہوا۔ بیکاری انسان کی بیماری کا باعث ہوا کرتی ہے۔ بے کار انسان جنتی نہیں کہلا سکتا۔“
(معراج المومنین ص ٥٦)
برادران اسلام اس طرز فکر کو سمجھئے مرنے کے بعد انسان کامل کہاں جاتے ہیں؟ دوبارہ لوٹ کر گناہوں کی دنیا میں آ جاتے ہیں؟ لوٹنے سے قبل کہاں تھے؟ بیکار خانہ جنت میں چن بسویشور کے عقیدہ کے مطابق اب ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد حضور کی بعثت ثانی ہوئی۔ لیکن اس ساڑھے تیرہ سو سال میں حضور کہاں تھے؟ کیا نعوذ باللہ بیکار خانہ میں رہے؟ اگر نہیں تو فرمائیے اس درمیانی وقفہ میں کہاں رہے؟
مسلمانو! ہوش میں آؤ کچھ سمجھو، یہ کیا کہا جا رہا ہے؟ چن بسویشور بکتا ہے۔ تصور آخرت غلط ہے۔ جنت بیکار خانہ ہے۔ حضورﷺ بے کارخانہ میں رہ نہیں سکتے۔ اس لئے آپ اس دنیا میں بہ لباس دیگر تشریف لائے ہیں۔ جب تمہارا نبی اس بیکارخانہ میں رہنے کو پسند نہیں کرتا تو تم جنت کی فکر میں لگ کر کیا حماقت کر رہے ہو؟
یہ چوہے اسلام کی جڑیں کاٹنے میں کس قدر منہمک ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ مسلمانوں سے چندہ کر کر کے اسلام کے خلاف یہ سازشیں ہو رہی ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر دل و دماغ بے قابو ہوئے جاتے ہیں۔ اے کاش کہ اس وقت میرے ہاتھ میں بجائے قلم کے تلوار ہوتی اور حضور اکرمﷺ فداہ ابی و امی کی توہین کرنے والے اور اسلام کا مذاق اڑانے والے ان جھوٹے نبیوں، دیندار انجمن والوں اور ان تمام لوگوں کی گردنیں قلم کرنے میں مصروف ہوتا جو ان دجالوں کو چندہ دیتے ہیں۔ مگر ع
٢٨
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
راز کھل گیا
اسلام پر مر مٹنے والو! خوب سمجھ لو۔ چن بسویشور کو حضور اقدس ﷺ کے ساتھ محبت نہیں کہ آپ کا بروز اور فنافی الرسول کہلا رہا ہے۔ بلکہ یہ سازش انگریز نے سوچ سمجھ کر تیار کی ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ مسلمانوں کو اپنے پیغمبر سے عشق کے درجہ تک محبت ہے اور اس کو کم کرنے کی اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو ان کی نظر انتخاب اس پر پڑی کہ لوگوں کو پہلے یہ باور کرایا جائے کہ حضور کا بعینہ مع اپنی تمام صفات کے کسی دوسرے انسان میں حلول ہو جاتا ہے اور پھر چند بداخلاق غنڈوں کو اس دعویٰ پر تیار کر دیا۔ تا کہ مسلمان یہ دیکھ لیں کہ ہمارا نبی جس پر ہم مر مٹنے کو تیار ہیں۔ وہ ان اخلاق و عادات کا مالک ہے۔
لیکن اس بددماغ کو یہ نہیں معلوم کہ جو منافق ہیں وہ ان کا ساتھ دیتے ہیں اور اسلام کو ان کی ضرورت نہیں بلکہ اچھا ہوا کہ ان کے ذریعہ کھرے کھوٹے الگ ہو گئے اور جو مسلمان ہیں۔ ان کو حضور کی صفات عالیہ واخلاق حمیدہ کا درس رب العزت نے اپنی آسمانی کتاب قرآن مجید میں دے دیا ہے : ”وکان خلقہ القرآن (حدیث)“ ﴿آپ کے اخلاق قرآن کے مطابق تھے۔
یہ سبق مسلمانوں کو اس قدر یاد ہو چکا ہے کہ بھولے سے نہیں بھولتا۔ تمہاری اس سازش کا صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو منافق بشکل مسلمان اسلام کے دعویدار بنے تھے۔ وہ الگ ہو گئے۔ فللہ الحمد علی ذالك !
مجھ اوتار
چن بسویشور کے متعلق حقیقت حال خود اس کی زبانی معلوم ہو گئی کہ وہ اپنے کو مسلمانوں کا پیغمبر نہیں ہندوؤں کا اوتار کہتا ہے۔ مہر نبوت کی عبارت ملاحظہ ہو : ”ہے کوئی دنیا میں نبی ایسا جس کے دربار میں انبیاء جمع ہوں۔ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک کل انبیاء اور مجھ اوتار سے لے کر گوتم بدھ اوتار تک کل انبیاء جمع ہوں۔“
(مہر نبوت ص ٦٢)
٢٩
پھر وہ ایسا ہی کون ہے۔ اس کی خود تشریح فرماتے ہیں: ”یہ فقیر فانی الرسول اپنے اندر سے حضور منبع انوار کی قدسی طاقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے میرے سامنے نہیں بلکہ حضور منبع انوار کے سامنے کل انبیاء زانوئے ادب طے کئے بیٹھے ہیں۔“
(مہر نبوت ص ٦٢)
پیچھے کئی عبارتوں میں یہ دکھایا جا چکا ہے کہ انہوں نے ہندو، سادھوؤں کو اولیاء اللہ کہا ہے۔ ہمیں تو اس پر تعجب ہوتا تھا کہ ہندوؤں کو اولیاء اللہ کیسے کہا۔ مگر جو خود کو ہندوؤں کا اوتار کہے ظاہر ہے وہ ہندوؤں کو اولیاء اللہ ہی کہے گا۔ ایسی تحریریں دیکھ کر بے ساختہ ان کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کر رہے ہیں اور اپنے کو ہندوؤں کا اوتار ثابت کر رہے ہیں۔ مگر سوائے اس کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ ؎
یہاں پر عجائب نظارے بہت
فلک پر ہی دمدار تارا نہیں
زمیں پر بھی دمدار تارے بہت
نہیں کوئی مسلم ہے نبیوں سے کچھ کم
دل پر انتہائی جبر کر کے لکھ رہا ہوں۔ ورنہ نہ قلم ایسی عبارتیں نقل کرنے کو تیار ہے۔ نہ ضمیر اس کی اجازت دیتا ہے کہ ایسی بکواس کو نقل کیا جائے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان میں ایسی توہین آمیز عبارتیں دیکھ کر جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ جگر قاش قاش ہو جاتا ہے۔ خدا کی قسم مسلمانوں کو ان کے مکائد سے بچانے کی خاطر یہ عبارتیں ان کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ ورنہ ان خرافات کا نقل کرنا تو درکنار میں ان کو دیکھنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔
چن بسویشور نے اپنے ساتھ اپنے مریدین کی بھی آخرت تباہ کر ڈالی۔ ان کو سبز باغ دکھا کر ان کا ضمیر موہ لیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ پیر صاحب تو محمد ثانی بن بیٹھیں اور مرید بیٹھے منہ تکتے رہیں اس لئے اپنے مریدین کو انبیاء کا معزز لقب دے کر انہیں الو بنا دیا۔ قارئین حضرات کو یاد ہوگا کہ غلام احمد قادیانی نے اپنے چیلوں کو صحابی کا لقب دیا تھا۔ لیکن یہاں تو ایں خانہ ہمہ آفتاب است والا معاملہ ہے۔ ارشاد ہے۔
ہمہ انبیاء را رفیق ہم پلہ
٣٠
ہے اس کی خود تشریح فرماتے ہیں : ”یہ فقیر فانی فی الرسول اپنے اندر کو ظاہر کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے میرے سامنے نہیں بلکہ حضور شفیع ادب طے کئے بیٹھے ہیں۔“
(مہر نبوت ص ٦٢)
یہ دکھایا جا چکا ہے کہ انہوں نے ہندو، سادھوؤں کو اولیاء اللہ کہا کہ ہندوؤں کو اولیاء اللہ کیسے کہا۔ مگر جو خود کو ہندوؤں کا اوتار کہے ں کہے گا۔ ایسی تحریریں دیکھ کر بے ساختہ ان کی عقل پر ماتم کرنے امامت و تبلیغ کر رہے ہیں اور اپنے کو ہندوؤں کا اوتار ثابت کر کیا کہہ سکتے ہیں کہ ۔
پر عجائب نظارے بہت
پر ہی دمدار تارا نہیں
پر بھی دمدار تارے بہت
لکھ رہا ہوں۔ ورنہ یہ قلم ایسی عبارتیں نقل کرنے کو تیار ہے۔ نہ کی بکواس کو نقل کیا جائے ۔ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان کر جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ جگر قاش قاش ہوا جاتا کے مکائد سے بچانے کی خاطر یہ عبارتیں ان کے سامنے رکھ رہا اور کنار میں ان کو دیکھنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔ ساتھ اپنے مریدین کی بھی آخرت تباہ کر ڈالی۔ ان کو سبز باغ ہی تھا کہ پیر صاحب تو محمد ثانی بن بیٹھیں اور مرید بیٹھے منہ تکتے کا معزز لقب دے کر انہیں الو بنا دیا۔ قارئین حضرات کو یاد ہوگا ین کو صحابی کا لقب دیا تھا۔ لیکن یہاں تو ایں خانہ ہمہ آفتاب
اہ را رفیقہای بینم
٣٠
جہاں اپنے مریدین کو خوش کرنے کے لئے انہیں نبی کا خطاب دیا۔ وہاں عامۃ مسلمین کی دلجوئی کے لئے عام قانون بنا دیا کہ ۔
چلتے لگے ہاتھوں ، چن بسویشور کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمالیں ۔ ”جو مسلمان پیدا ہوتا ہے یا مسلمان ہوتا ہے۔ وہ پہلے ہی قدم میں کسی نہ کسی نبی کا مثیل بننے کی بالقوۃ طاقت رکھتا ہے اور دوسرا تصرف حضرت منبع انوار کا مسلمانوں میں یہ چل رہا ہے کہ کسی مسلمان کو خیال تک نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کسی بچہ کا نام کسی نبی کی غلامی میں رکھے ۔ جیسے عام طور پر غلام محمد ، غلام احمد ، غلام علی ، غلام دستگیر نام رکھتے ہیں۔ اس طرح غلام ابراہیم ، غلام موسیٰ ، غلام عیسیٰ رکھنے کا کسی مسلمان کو خیال نہیں ہوتا۔ کیونکہ ۔
(مہر نبوت ص ٦١،٦٠)
اس خامہ فرسائی کو دیکھ کر ان کی عقل پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ یہ اس قابل بھی نہیں کہ اس کا رد کرنے کے لئے کاغذ ضائع کیا جائے ۔ لیکن اس کی آڑ لے کر دیندار انجمن کے موجودہ نگران اعلیٰ سعید بن وحید نے کشمیر میں سیرت النبی کے جلسہ میں کہا تھا کہ : ”جہاں سے نبوت ختم ہوتی ہے۔ وہاں سے تو مؤمن کے کمال کا آغاز ہوتا ہے اور کوئی مؤمن اگر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے مرتبہ سے نیچی بات کا دعویٰ کرتا ہے ۔“
دریدہ دہنی کی انتہاء ہوگئی کہ مؤمن نبی سے بڑے درجے کا ہوتا ہے۔ نبی اگر مؤمن سے کم درجہ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ انبیاء مؤمن نہیں اور جب انبیاء کے لئے مؤمن ہونا ضروری نہیں تو وہ کافر ہی ہوں گے۔ جیسا کہ چن بسویشور صاحب عجیب منطقی چال ہے۔ نبوت ایسی سستی کر دی کہ ایمان کی شرط بھی اڑا دی۔ اگر نبوت بے ایمانی اور بے غیرتی کا نام ہے تو وہ تمہیں ہی مبارک ہو۔
یہی ہے عشق تو اب ترک عاشقی اولیٰ
(اکبر الہ آبادی)
حقیقت کچھ اور ہے۔ انہیں خود بھی پتہ نہیں کہ نبی کیا ہوتے ہیں۔ دراصل غلام احمد
٣١
قادیانی کی بدولت مسیح موعود، مہدی آخرالزمان اور نبوت کے دعوے کو کھلی چھٹی ملی۔ چنانچہ بیسیوں جھوٹے نبی اسی زمانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کو بھی شوق ہوا کہ چلو ہم بھی انہی کے ساتھ۔
مچا ہے قافلے میں شور ہم بھی غل مچاتے ہیں
(اکبر الہ آبادی)
چن بسویشور نے اپنی تصانیف میں بار بار مقام مسلم کو مقام نبوت سے اعلیٰ وافضل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنی تصنیف مہر نبوت کے شروع میں رقمطراز ہیں۔
بفضل خدا اس کے در مجھ پہ وا ہیں
کہوں راز داری کے اسباب کیا ہیں
میں ان کی جگہ ہوں وہ میری جگہ ہیں
کہ عیسیٰ تلک جس قدر انبیاء ہیں
وہ رفقاء کار رسول خدا ہیں
فنافی الرسول خدا جو ہوا ہے
وہ لاریب حق میں فنا ہوگیا ہے
کہ نبیوں سے دربار اس کا بھرا ہے
ہیں رفقاء نبی یہ عجب ماجرا ہے
نیز اسی کتاب کے شروع میں یہ بھی ہے کہ۔
انتہاء کر دی چن بسویشور کے شاگرد مولوی غازی ابوالکلام عبدالغنی نے۔ پیر نے تو صرف اپنے رفقاء کی انبیاء پر فضیلت ثابت کی۔ مگر عبدالغنی سود اللہ وجہہ نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ چن بسویشور کا مبعوث ہو کر محمد ﷺ کی امت میں آجانا، دوسرے انبیاء کے لئے باعث معراج ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، لکھتے ہیں۔
نبیوں کا گویا ہے معراج پانا
(شمس الضحیٰ ص ٦٢)
٣٢
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چن بسویشور مہر نبوت لکھتے وقت یہ قسم کھا کر بیٹھے ہیں کہ انبیاء کی توہین جس قدر ہوسکے اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ لکھا ہے: ”ان کا ایک وجود کئی کئی انبیاء کو اپنے اندر رکھتا تھا۔ اسی وسیلہ سے انبیاء اقوام عالم جن پر صرف سلام تھا۔ رحمتہ اللہ اور رضی اللہ کے حقدار ہوئے۔“
(مہر نبوت ص ٣٤)
ستم بالائے ستم
توہین نبوت کا جو کردار چن بسویشور نے ادا کیا ہے۔ اس کو نوک قلم پر لاتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ لیکن ان کے مرید ابوالکلام عبدالغنی نے توہین نبوت کا جو بیڑا اٹھایا ہے۔ بلاشبہ جس کے دل میں ذرا بھی ایمان ہو تو وہ اس بدبخت کا سر کچلنے کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔
اے کاش کہ میرے مسلمان بھائیوں کو ان کی خرافات کا پہلے سے علم ہوتا۔ تاکہ مجھے نقل کفر کی ضرورت نہ پیش آتی اور خدا شاہد ہے کہ نقل کفر کفر نباشد کو سامنے رکھ کر یہ قدم اٹھا رہا ہوں۔ عبدالغنی مذکور کی عبارت ملاحظہ ہو۔
”جماعت دینداران کو خطابات من جانب اللہ ملے ہیں۔ دوسو سے زیادہ مرد میدان اکثروں نے نبیوں کے منازل طے کئے۔ وہ متعدد انبیاء کے ناموں سے پکارے گئے۔ وہ دربار بروز محمد (خانقاہ سرور عالم آصف نگر دکن) میں جمع ہیں۔ صرف رام اور کرشن اوتار ہی ایک درجن سے زیادہ ہیں۔“
(شمس الضحیٰ ص ٩١)
غور فرمائیے! کیا یہ چیلا اپنے گرو سے سبقت نہیں لے گیا؟ واقعی لائق انعام ہے۔ چٹکیوں میں جماعت کے درجنوں افراد کو ہندوؤں کا رام اور کرشن اوتار بنا دیا۔ کئی حضرات کو آن واحد میں نبی بنا دیا اور جو منتظر نبوت ہیں۔ ان کو خطابات من جانب اللہ تقسیم کر ڈالے۔ بخدا یہاں تو قادیانیت بھی شرما رہی ہے۔ وہاں تو چھان بین کے بعد نبوت ملا کرتی تھی۔ مگر یہاں تو منازل نبوت بہت جلدی طے ہوجاتے ہیں۔
ادھر تو یہ ظالم عوام کالانعام کو اپنا سامان طرب بنا کر رقص کرارہے ہیں۔ ادھر مجنونانہ بڑ میں خرافات بکی جارہی ہیں اور وہ لوگ جن کو نبوت کا سرٹیفکیٹ ملنے والا ہے۔ انتظار میں بیٹھے بندروں کی طرح ان بدبختوں کی ڈگڈگی پر رقص میں مصروف ہیں۔
صحابہ کی گروہ بندی
سرور کائنات ﷺ کے صحابہ کو جو اعزاز حاصل ہے۔ اب چن بسویشور اپنی جھوٹی نبوت
٣٣
پر ایمان لانے والے الوؤں کا بھی وہی مرتبہ بتا رہے ہیں۔ اس طرح صحابہ کے دو دور ہو جاتے ہیں۔ اس خوش کن گروہ بندی کو ذکر کر کے دو قرنوں سے متعلق لکھتے ہیں: ”اب تک یہ وعدہ دو دفعہ پورا ہو چکا۔ ز جابہ قرن اولیٰ، ز جابہ قرن اخریٰ۔“
(مہر نبوت ص ٣٤)
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بے شعور صاحب تو شور مچائیں اور باشعور صاحب خاموش منہ تکتے رہیں۔ اس لئے گرو کی لے میں لے ملا کر عبد الغنی باشعور فرماتے ہیں۔
عیاں قرن اخریٰ میں ہے ان کی قلت
(شمس الضحیٰ ص ٨٧)
شمس الضحیٰ
اس کتاب کا مصنف ابوالکلام عبد الغنی ہے۔ جس کی کتاب کے متعدد حوالے پیچھے گزر چکے ہیں۔ اس کتاب پر دیندار انجمن کے بانی چن بسویشور کی تقریظ ہے۔ اس تقریظ کی وجہ سے کتاب کی اہمیت اور بڑھ گئی۔ چن بسویشور اپنی تقریظ میں لکھتے ہیں: ”مصنف کتاب ہذا مولوی غازی ابوالکلام عبد الغنی صاحب مصنف میثاق الانبیاء نے مضامین تبلیغ کو مسدس کی صورت میں منضبط کیا ہے۔ وہ کتاب میری نظر سے گذری۔ انتہائی معقولیت سے کام لیا ہے۔ ہماری انجمن کے جذبات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ در حقیقت وہ جذبات کیا ہیں۔ قرآن کریم عمل میں ہے۔ یہ کتاب ہر مسلم کو ہدایت کا باعث ہوگی۔ شفاعت کا باعث ہوگی۔ پڑھنے والوں کو صراط مستقیم پر لائے گی۔“
(دیندار چن بسویشور المرقوم مورخہ ٢٥ / رجب المرجب ١٣٦٥ھ)
بقول صاحب تقریظ یہ کتاب مسلمانوں کی ہدایت اور صراط مستقیم پر لانے کی غرض سے تصنیف کی گئی ہے۔ وہ صراط مستقیم کیا ہے؟ اس کتاب کی محولہ عبارات اور چن بسویشور کی تصانیف کی خرافات کو سامنے رکھ کر قارئین حضرات خود فیصلہ فرمائیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ توہین انبیاء چن بسویشور کو یوسف موعود، مثیل موسیٰ، مصلح موعود، مأمور وقت امام الناس، مالک قیامت، بروز محمد اور اللہ بشکل چن بسویشور مان لینا۔ نعوذ باللہ من ذالك!
لتنذر قوماً لداً
کہتے ہیں شیطان کی آنت بہت لمبی ہوتی ہے۔ ان کی لغویات کا یہی عالم ہے کہ
٣٤
بیان کرنے والا تھک جاتا ہے۔ مگر ان لغویات کا عشر عشیر بھی نہیں کہہ پاتا۔ لیکن لتنذر قوماً لدا کی جو تفسیر کی ہے۔ وہ تو دریائے معرفت ہے۔ خاص کر اس پر جو عبارت فٹ کر کے اس آیت کی وضاحت کی ہے۔ وہ تو بے نظیر ہے۔ جلدی سے سن لیجئے۔ ایسی بے بہا نعمت اور کہیں سے نہیں ملنے کی۔
”وہ اس خانقاہ میں کیسے آسکتے ہیں۔ جن کے سینے میں قرآن پڑھنے کا جذبہ نہ ہو۔ مبارک ہیں وہ جنہوں نے آسان زبان میں یعنی صدیق کی زبان سے قرآن کریم کے رموز سیکھے۔ صدیق کی زبان دراصل محمد کی زبان ہے کہ جس سے ہم پر قرآن نازل ہوا۔ قرآن کریم نے محمد کی زبان سے پڑھنے کی قید لگائی ہے۔ فانما یسرنہ بلسانک“ اور آگے ہے لتنذر قوماً لدا“ یعنی آپ آخر زمانے میں قرآن آسان کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔“
(شمس الضحیٰ ص ٤٢)
مصنف کو اختلاط کا مرض ہے۔ صدیق کی زبان سے جو کتاب تم پر آسان کی گئی وہ قرآن نہیں ہندوؤں کی وید ہے۔ جسے تو نادانی سے قرآن سمجھا ہے۔ ارے جس نے قرآن دیکھا ہو وہی بیان کرے۔ اپنے گرو سے پڑھ کر تو آئے وید اور تفسیر کرنے بیٹھے قرآن کی۔
شاعری ان کو نہیں آئی زباں داں ہو گئے
تبلیغ و ہجرت حرام
کتاب شمس الضحیٰ کے دیباچہ میں غازی عبدالغنی لکھتا ہے: ”اب ہم صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا ماضی موعودہ اور بشارتوں کی بناء پر گزر گیا۔ مستقبل بھی موعودہ ہے وہ بھی گزر جائے گا۔ آئندہ اس قسم کی تبلیغ، ہجرت اور غزوات تیرہ سو سال تک نہیں ہوں گے۔“
(دیباچہ شمس الضحیٰ)
جہاد کی حرمت کا حکم تو ان کے گرو غلام احمد قادیانی پہلے سے کر چکے تھے۔ اب چیلے نے آکر تبلیغ اور ہجرت پر بھی بندش لگا دی۔ مگر برعکس نہند نام زنگی کافور کے مطابق غازی کہلاتے ہیں۔ حضرت بجا فرماتے ہیں۔ جس تبلیغ کے لئے دیندار صاحب تشریف نہ لائیں کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ آکر تبلیغ شروع کردے۔ یہ میراث تو انہی کو ”ابا عن جد“ ملی ہوئی ہے۔ اس پر دوسروں کی دست اندازی جائز نہیں۔
گھن چکر
مسلمانو! کلیجہ تھام کر گھن چکر کے معنی سمجھ لو اور پھر دیکھو چن بسویثور صاحب کس کو گھن
٣٥
چکر بتا کر خود طوفانی دورے پر جاتے ہیں: ”حضور (چن بسویشور) نے فرمایا۔ میرا کام ختم ہو گیا۔ میں ایک طوفانی دورے پر جانے والا ہوں۔ میں ہمیشہ آتا رہوں گا۔ اللہ بڑا گھن چکر ہے وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر وہ کسی کی سمجھ میں آ گیا تو وہ خدا ہی نہیں ۔“
(شمس الضحیٰ ص ١)
برادران اسلام! یہ باتیں عالم ادب میں نہیں کہی جارہی ہیں۔ کسی مجذوب کی بڑ نہیں ہیں۔ یہاں ہر بات سوچ سمجھ تصنیف کے لئے فارغ ہو کر مصنف قلم سنبھالے اپنے گرو کی باتیں تبرک سمجھ کر لکھ رہا ہے۔ کسی نے آج تک کسی بدمعاش، شرابی اور چرسی کو نشے میں بھی ایسی باتیں بکتے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس پر طرہ یہ کہ دیندار انجمن والے انہی بھول بھلیوں پر خوشی سے جھومے جاتے ہیں اور بقول خود پکے مسلمان بلکہ بمنزلہ نبی ہیں۔ جن کو مسلمانوں میں یہ امتیاز ہے کہ دیندار کہلاتے ہیں۔
سوچ لو
اے میرے فریب خوردہ بھائیو! اب بھی ہوش سے کام لو۔ ہمارا تمہارا دین ایک، خدا ایک، نبی ایک، قرآن بھی ایک، آؤ کلمہ شہادت پڑھ کر دوبارہ انہی کی آغوش رحمت میں آرام کرو ان دھوکہ بازوں کے گھن چکر میں آ کر اپنا دین و ایمان، مال و آبرو برباد نہ کرو۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو کسی سے پوچھ لو۔ خود بھی ذرا عقل سے کام لو۔ یہ عقل ایسے ہی مواقع پر کام میں لانے کے لئے دی گئی ہے۔ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا
تفسیری موشگافیاں
صاحب شمس الضحیٰ سورۃ بلد کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”اس کے علاوہ اس سورۃ میں ایک متقیوں کی جماعت کا بھی ذکر ہے۔ جو اسلام کے لئے مصائب جھیلنے والی ہے اور اپنے عمل سے صبر اور زحمت کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ انہی کو اصحاب میمنہ یعنی غازیان اسلام کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ان کی مخالفت میں آنے والی قوت کو اصحاب مشئمہ یعنی بد بخت گروہ بتایا گیا۔ ان کی انتہاء یہ ہے کہ وہ ایک ایسی آگ میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ جس کو نار مؤصدۃ کہا گیا ہے۔ یعنی اس آگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ تمام دروازے بند کر دیئے جائیں گے۔ سب سے
٣٦
پہلے اللہ پاک نے ”لا اقسم بھذا البلد“ کہہ کر ام القریٰ والے بلد امین کی قسم کھائی ہے۔ ”انت حل بھذا البلد“ کہہ کر حضور کے ایک دوسرے بلد میں مزید اترنے کی بشارت دی گئی ہے۔ جو ”انت حل“ سے ظاہر ہے۔ ”ووالد وما ولد“ میں ”بلد امین“ کو باپ قرار دے کر بعثت ثانی میں دوسرے بلدہ کو اس کا بیٹا قرار دیا گیا ہے۔ جو روئے زمین میں شہر حیدر آباد ہی بلدہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہی اپنے بلدہ کا بیٹا ہے۔ جس میں بعثت ثانی کے لئے حضور سرور ﷺ نے بھی اس آنے والے موعود کو رجل من امتی اور من ولدی ہی کہا ہے اور وہ وجود حضرت مولانا صدیق دیندار چن بسویشور کا ہے۔ جنہوں نے جسمانی ٥٦ اور اخلاقی ٩٦ نشانات کے ساتھ ایک دوسرے بلدہ میں نزول فرمایا۔ ”ولقد خلقنا الانسان فی کبد“ میں ایک ایسے انسان کو حجت پیش کی جارہی ہے۔ جو اپنے مقصد کے حصول میں انتہائی مشقت اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔ لیکن وہ بقاء اللہ سے محروم ہے۔ وہ دل گردہ رکھنے کے باوجود روحانیت سے بے بہرہ ہے۔ حضور سرور عالم کے بہ لباس دیگر دوسرے بلدہ میں نزول کو نہیں مانتا اور وہ وجود قاسم رضوی کا ہے۔ ”ایحسب الانسان ان لن یقدر علیہ احد“ یعنی انسان پر یہ حجت پیش کی گئی ہے۔ وہ کیوں اپنے اقتدار میں اس قدر نازاں ہے۔ کیا اسے یہ خیال نہیں ہوتا کہ شاید کسی اور کو اس پر قدرت حاصل ہو؟ یہ وہ عالم بتایا گیا ہے۔ جب کہ سید قاسم رضوی پوری حیدرآباد ریاست پر حکومت واقتدار کے نشہ میں چور تھا اور یہ سمجھتا کہ اس کی سیاست اور قوت ہمیشہ رہے گی۔ حضرت صدیق دیندار اور ان کے فقراء کو نظر میں بھی نہ لاتا تھا۔ لیکن آگے بتلایا گیا ہے۔ ”یقول اھلکت مالا لبدا“ یعنی بالآخر وہ شخص اپنے ہاتھوں اپنا بہت سامان برباد کرے گا۔ قوم کی ساری دولت کو اپنی غلط رہبری سے ہلاکت کے گڑھے میں اتار دے گا۔“
(عکس الضحیٰ ص ٨٥)
قرآن کریم کی ایسی دلیرانہ تحریف کہ مطالب قرآنی کو سراسر مطالب نفسانی کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ہے۔
قارئین حضرات یہ نہ بھولیں کہ قرآن چن بسویشور صاحب پر دوبارہ نازل ہوا ہے۔ ان پر علوم قرآنی وا ہیں، تبھی تو قرآن کی ایسی تفسیر لکھی ہے کہ دنیا کے کسی بڑے سے بڑے جھوٹے ظالم نے بھی ایسی تفسیر نہیں کی۔ جو الف تا یا نفسانی خواہشات پر مبنی ہو۔ مگر یاد رہے کہ یہ جھوٹ فریب آخر تا بکے۔
٣٧
بعد اس کے حسرت دل سوز ہے
عدو شرے برانگیزد کہ خیر ما درآں باشد
سورۂ بلد کی تفسیر میں قاسم رضوی کی نسل کو انتہائی ذلت آمیز الفاظ میں ذکر کرتے ہوئے دریدہ دہن عبدالغنی نے لکھا ہے: ”اولیاء اللہ کی مخالفت میں دو ہی قسم کے لوگ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایک وہ جن کی نسل صحیح نہ ہو یا پھر وہ جو نسل کا تو اچھا ہے۔ لیکن گنہگار ہے۔ سید قاسم رضوی نے بحیثیت صدر اتحاد المسلمین ہمارے متعلق صدر ناظم کوتوالی کو حکم دیا ہے کہ دیندار چور اور ڈاکو ہیں۔ گداگری کرتے پھرتے ہیں۔ اب کمیونسٹوں کے حملہ کے موقع پر لوٹ مار شروع کر دی ہے۔ یہ عیسائی ہیں، نہ مسلمان، نہ پارسی، یہ بے دین ہیں۔ ان کو بہادر یار جنگ مرحوم ختم کرنا چاہتے تھے۔ افسوس وہ ختم نہ کر سکے۔ میں ان کو ختم کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ میں حکم دیتا ہوں کہ ان کو ختم کر ڈالو۔ جہاں پاؤ پکڑ لو، سخت سے سخت سزا دو۔ یہ دو سو کے قریب ہیں۔ یہ ختم ہو گئے تو دوسرے نہیں۔“
(شمس الغنی ص ١٠٣)
نیز آپ پر ایک شعر قاسم رضوی کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
گئی حیف بیکار ہڑبوم تیری
(حوالہ بالا)
مصنف نے جس مقصد کے تحت یہ عبارت نقل کی ہے۔ جس میں بہادر یار جنگ کا ان دینداروں کے بارے میں نظریہ اور قاسم رضوی کا ان کو ختم کر دینے کا ذکر کیا ہے۔ وہ تو مصنف ہی بہتر جانتے ہیں۔ مگر اس عبارت سے ہمیں بہت بڑا فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ اس متنبّی سے متعلق دو ایسے حضرات کی رائیں معلوم ہو گئیں۔ جو ان کو قریب سے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے دعوؤں اور دیگر نجی اور اخلاقی کیفیات سب پر واقف ہونے کے بعد انہوں نے یہ رائے قائم کی ہے۔
نزول قرآن
قارئین حضرات کو یاد ہوگا کہ چن بسویشور صاحب پر نزول قرآن تو بعثت ثانی میں ہو گیا تھا۔ لیکن اس دعویٰ میں ایک کسر باقی تھی کہ نزول اوّل کے بعد صحابہ کرام کے زمانہ میں جمع
٣٨
کے حسرت دل سوز ہے
ان باشد
م رضوی کی نسل کو انتہائی ذلت آمیز الفاظ میں ذکر کرتے ہے: ”اولیاء اللہ کی مخالفت میں دو ہی قسم کے لوگ کھڑے ہو یا پھر وہ جو نسل کا تو اچھا ہے۔ لیکن گنہگار ہے۔ سید قاسم ہمارے متعلق صدر ناظم کوتوالی کو حکم دیا ہے کہ دیندار چور اور ۔ اب کمیونسٹوں کے حملہ کے موقع پر لوٹ مار شروع کردی رہی، یہ بے دین ہیں۔ ان کو بہادر یار جنگ مرحوم ختم کرنا میں ان کو ختم کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ میں حکم دیتا ہوں کہ ان کو ختم سخت سزا دو۔ یہ دوسو کے قریب ہیں۔ یہ ختم ہو گئے تو دوسرے
(شمس الضحیٰ ص ١٠٣)
رضوی کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
بیکار ہڑبوم تیری
(حوالہ بالا)
حقیقت یہ عبارت نقل کی ہے۔ جس میں بہادر یار جنگ کا ان م رضوی کا ان کو ختم کر دینے کا ذکر کیا ہے۔ وہ تو مصنف ہی گئی بہت بڑا فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ اس مجتبیٰ سے متعلق دو ایسے قریب سے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے دعوؤں اور دیگر نجی کے بعد انہوں نے یہ رائے قائم کی ہے۔
کہ چن بسویشور صاحب پر نزول قرآن تو بعثت ثانی میں تی تھی کہ نزول اوّل کے بعد صحابہ کرام کے زمانہ میں جمع
٣٨
قرآن بھی ہوا۔ لیکن نزول ثانی میں اس کا ذکر ہی نہیں۔ اس لئے چن بسویشور کے چیلے نے یہ کسر بھی پوری کردی ملاحظہ فرمائیں: ”انا علينا جمعه وقرآنه“ یعنی قرآن کا جمع ہونا اور اس کا پڑھنا ایک خاص وقت پر ہوتا ہے اور وہ وقت معین ہے۔ یہ عمل حضور سرور عالم (ﷺ) کے ظہور پر ہوا یا پھر حضرت مولانا صدیق دیندار قدس سرہ العزیز کے وجود نے اس عمل کو پورا کیا۔“
(شمس الضحیٰ ص ٦)
حضور ﷺ کے بعد سے صدیق کے ظہور نامسعود تک قرآن پاک کا پہلا نزول اور جمع و ترتیب باقی رہی یا ختم ہوگئی؟ اگر اس عرصے میں وہی منزل قرآن مرتب موجود رہا تو نہ چن بسویشور پر نزول کی ضرورت رہی اور نہ چن بسویشور کے جمع و ترتیب کی حاجت، اور اگر حضور ﷺ کے بعد قرآن ختم ہو گیا۔ العیاذ باللہ! تو فرمائیے کہ اس تیرہ سو برس میں مسلمانان عالم جس قرآن کو قرآن مانتے آئے وہ کیا تھا؟ اس عرصے میں جب قرآن ہی نہیں تھا تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے پاس جو تھا وہ قرآن کے علاوہ تھا۔ اس کی تشریح دیندار انجمن والوں سے مطلوب ہے۔
دشٹ
اب حضرت والا سچ بولنے لگے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”ہم میں تقریباً تمام ہندوستان کے اوتار ہیں۔ ہم سے ہندوستان کو امن ہوگا۔ دشٹوں کے نمبر میں مت آؤ۔“
(دیباچہ شمس الضحیٰ)
خیر کوئی بات نہیں دشٹوں کا نمبر بعد میں سہی۔ مگر آنجناب نے بات بڑے پتے کی بتادی۔ ایک اوتار کے لغویات کا تحمل بھی مشکل ہوتا ہے۔ جب آپ کے پیر جی میں یا خود آپ میں ہندوستان کے تمام اوتار جمع ہیں تو ایسی صورت میں نہ جانے ان خرافات ولغویات کا کتنا بڑا انبار لگا ہوگا اور بلاشبہ یہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے چند اقتباسات اس رسالہ میں بھی ملاحظہ فرما لئے ہوں گے۔
قارئین حضرات! یہ نہ بھولئے کہ اوتار کی اصطلاح مسلمانوں میں نہیں ہے۔ یہ ہندو سادھوں کی اصطلاح ہے۔ ہندوؤں کا خدا کہئے یا موعود مذہبی رہنماء، بہر حال اسلام کا دامن ان اوتاروں سے پاک ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصنف بیچارے کا میلان ہندوؤں کی طرف زیادہ ہے۔ جس کی وجہ شاید یہی ہو سکتی ہے کہ ان کی نبوت اور دیگر دعاویٰ کے دلائل ہی انہی کی کتب سے ماخوذ ہیں۔ ایسی صورت میں اگر ان کی دلجوئی کی خاطر ان کی طرف کچھ بھی جھکاؤ نہ رہے تو یہ نمک حرامی ہوگی۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں شوق سے ہندوؤں کا نمک ادا کریں۔ مگر اسلام کا لیبل لگا کر نہیں۔
٣٩
مقام محمود پر ڈاکہ زنی
چن بسویشور کے چیلے عبدالغنی نے اپنی کتاب شمس الضحیٰ میں ایک شعر لکھا ہے۔
کہ ذات محمدی محمود ہے اب
حاشیہ میں اس شعر کی طویل تشریح کی ہے اور ایسی تاویل کی ہے کہ بلاشبہ لفظ تاویل بلکہ لفظ شرم کو بھی شرم آتی ہے۔ لکھتے ہیں: ”چونکہ سارے اولیاء حضور کی مدح میں گم تھے۔ لیکن کسی ولی کو مقام محمود، حاصل نہیں ہوا۔ اس لئے کہ وہ دور آگے تھا۔ جیسے کہ اس آیت سے روشن ہے۔ ”عسیٰ ان یبعثک مقاماً محموداً“ آیت کے اس تیسرے حصہ میں حضورﷺ کی ذات کو مقام محمود پر لانے کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ دورِ آخر ہے۔ جو موعود ہے۔ حضور نے اسی مقام محمود والی بعثت کے لئے مسلمانوں کو بعد اذان دعا سکھائی۔ جس کی تعمیل میں ہر مسلمان ’وابعثہ مقاماً محموداً“ کے الفاظ دہراتا ہے۔ ادھر نماز کے قعدہ میں شہادت کی انگلی اسی بعثت ثانی کی شہادت میں اٹھائی جاتی ہے۔ جس کا انتظار مسلمانوں میں ہے۔ وہی بعثت مقام محمود والی بعثت ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ ہر تیرہ سو سال کے بعد ایک امتی کی قبا پہن کر جلوہ گر ہوں گے۔ اسی لئے قعدہ میں ”السلام علیک ایھا النبی“ کہا جاتا ہے کہ جس سے حضور سے مخاطبت ہوتی ہے۔ ”ایھا النبی“ کی مخاطبت غائب کی نہیں ہے۔ بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کی جہت پیش کرتی ہے۔ ...... بہرصورت یہ بعثت ثانی کس رنگ میں ہوگی۔ بعثت ثانی میں وہ اپنا نام کیا پائے گی۔ اس کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضور سے دعاء کرنے کے لئے کہا ہے۔ وہ یہ ہے۔ ”قل رب ادخلنی مدخل صدق ...... سلطانا نصیراً“ حضور کے سارے کمالات روحانی کا اگر کوئی وجود متحمل ہو سکتا ہے تو وہ وجود صدیق اکبر کا ہے۔ بعثتِ اوّل میں بھی صدیق تھے۔ بعثتِ ثانی میں بھی صدیق ہی ہیں۔ ...... پس اب ظاہر ہوا کہ حضور شاہد و مشہود بھی ہیں اور روز قیامت میں محمود بھی اور اس طرح جب آپ کا اعادہ ہوتا ہے تو موعود بھی ہیں۔ ...... حقیقت یہ ہے کہ یہ آخری بعثت ہے۔ جس کو ”والبعث بعد الموت“ بھی کہا گیا ہے۔ حضور کے سوا کوئی دوسرا وجود اس امت کی اصلاح کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ یعنی اس امت میں ہی ایک کامل انسان بروزِ محمد کی شکل میں مبعوث ہوگا۔“
(اقتباسات از کتاب شمس الضحیٰ ص ٣٠، ٣١)
٤٠
ی نے اپنی کتاب شمس الضحیٰ میں ایک شعر لکھا ہے۔
محمدی محمود ہے اب
شرح کی ہے اور ایسی تاویل کی ہے کہ بلاشبہ لفظ تاویل بلکہ چونکہ سارے اولیاء حضور کی مدح میں گم تھے۔ لیکن کسی ولی نہ کہ وہ دور آگے تھا۔ جیسے کہ اس آیت سے روشن ہے۔ واً" آیت کے اس تیسرے حصہ میں حضور ﷺ کی ذات کو ہے۔ یہ دور آخر ہے۔ جو موعود ہے۔ حضور نے اسی مقام محمود ن دعا سکھائی۔ جس کی تعمیل میں ہر مسلمان "وابعثہ مقاماً نماز کے قعدہ میں شہادت کی انگلی اسی بعثت ثانی کی شہادت مانوں میں ہے۔ وہی بعثت مقام محمود والی بعثت ہے۔ جس تمثال کے بعد ایک امتی کی قبا پہن کر جلوہ گر ہوں گے۔ اسی ا النبی " کہا جاتا ہے کہ جس سے حضور سے مخاطبت ہوتی ئب کی نہیں ہے۔ بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کی حجت پیش کرتی نگ میں ہوگی۔ بعثت ثانی میں وہ اپنا نام کیا پائے گی۔ اس ور سے دعا کرنے کے لئے کہا ہے۔ وہ یہ ہے۔"قل رب نصیراً" حضور کے سارے کمالات روحانی کا اگر کوئی چکا ہے۔ بعثت اوّل میں بھی صدیق تھے۔ بعثت ثانی میں کہ حضور شاہد و مشہود بھی ہیں اور روز قیامت میں محمود بھی موعود بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آخری بعثت ہے۔ اس کو کہا گیا ہے۔ حضور کے سوا کوئی دوسرا وجود اس امت کی ث میں ہی ایک کامل انسان بروز محمد کی شکل میں مبعوث
(اقتباسات از کتاب شمس الضحیٰ ص٣٠، ٣١)
٤٠
اعادہ سے متعلق اشعار بھی سن لیجئے۔ فرماتے ہیں۔
شہادت میں خود اپنی مشہود ہوکر
(شمس الضحیٰ ص١٢)
نیز ارشاد ہے۔
قیامت کی بعثت میں محمود آئے
اعادہ میں اپنے وہ موعود آئے
غرض دور آخر کے مقصود آئے
(شمس الضحیٰ ص١٥)
مسلمان کے کسی بچے سے پوچھئے وہ یہی کہے گا کہ ہم چن بسویشور کی بعثت کے لئے یہ دعا نہیں کرتے۔ پھر یہ کہنے کی تمہیں کیسے جرأت ہو گئی کہ حضور ﷺ نے تمہاری بعثت کے لئے بعد اذان دعا سکھائی۔ جس کی تعمیل میں ہر مسلمان ”وابعثہ مقاماً محموداً“ کے الفاظ دہراتا ہے۔ چن بسویشور کو شیطان نے دھوکہ دیا ہے کہ مسلمان تیری بعثت کے لئے دعا کر رہے ہیں۔
اف غضب کر دیا بدبخت نے یہ کہہ کر کہ ادھر نماز کے قعدہ میں شہادت کی انگلی اسی بعثت ثانی کی شہادت میں اٹھائی جاتی ہے۔ العیاذ باللہ حضور ﷺ کے ایک ہندو کی شکل میں آنے کی شہادت کوئی مسلمان دے سکتا ہے؟
خدا غارت کرے کہتا ہے کہ حضور کا تیرہ سو سال بعد کسی کی شکل میں ظاہر ہونے کا مسلمانوں میں انتظار ہے۔ مسلمان تو بیچارے خواب میں بھی ایسا گمان نہیں کر سکتے۔ بلکہ دیندار انجمن والے جو بالاتفاق کافر اور منافق ہیں۔ وہ بھی اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے ضمیر سے فتویٰ لیں کہ کیا واقعی تمہیں کسی کی شکل میں حضور کی بعثت ثانی کا انتظار تھا۔ یقیناً دل سے یہی فتویٰ ملے گا کہ نہیں یہ تو اس جماعت میں شامل ہونے کے بعد سے تمہارے ذہنوں میں بٹھایا ہوا جھوٹ کا پلندہ ہے۔
بعثت ثانی پر دلیل قاطع جو مصنف نے پیش کی ہے۔ وہ یہ کہ قعدہ میں ”ایھا النبی“
٤١
سے حضور کی طرف مخاطبت ہے اور یہ مخاطبت کسی غائب کی طرف نہیں ہے۔ آنکھوں سے دیکھنے کی حجت پیش کرتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملے لکھتے وقت بیچارے مصنف کی عقل کا جنازہ اٹھ چکا تھا۔ یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ کچھ جام معرفت پی لیا ہوگا۔ تبھی تو ذہن مبارک ایسی بھول بھلیوں کا شکار ہے۔
حضور! فرمائیے کہ بعثت اوّل اور بعثت ثانی کے درمیان جو تیرہ سو سال آپ بھی مانتے ہیں۔ اس میں کیا مسلمان نماز کے قعدہ میں ’ایھا النبی‘ نہیں کہتے تھے؟ اب فرمائیے کہ اس زمانے میں مخاطبت نے آنکھوں سے دیکھنے کی کیا حجت پیش کی اور اب چن بسویشور کے جہنم رسید ہوکر طوفانی دورے پڑ جانے کے بعد تمہاری آنکھوں کے سامنے مخاطب کہاں موجود ہے اور جس زمانے میں یہ خدا کے غضب کا مظہر چن بسویشور اپنی تمام نحوستوں سمیت آصف نگر حیدرآباد دکن میں موجود تھا۔ اس وقت باقی دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ”ایھا النبی“ نے کون سی حجت پیش کی۔ یہ سب سوچ کر اس سے استدلال کرتے۔ ایسے ابوالکلام کو اور کیا کہا جائے۔ سوائے اس کے کہ ؎
افتراء پردازی و بہتان سے باز آئیں وہ
مجھے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ سادہ دل بندے ایسے بوسیدہ جال میں کس طرح پھنس گئے کہ اگر ذرا سی پھونک ماریں تو ان کے جال کے پرخچے اڑ جائیں؎
پھنسے ہو کس طرح تم آب وگل میں
یہ میرے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کتنا بڑا بہتان ہے کہ آپ کی دعاء ”رب ادخلنی مدخل صدق“ میں صدق سے مراد صدیق دیندار چن بسویشور ہے۔ خدارا کم از کم اپنی ہی جان پر رحم کرتے۔ بہتان طرازی کی ایسی مثال ہمیں تو کہیں نظر نہیں آئی۔ دیندار انجمن کا کوئی بھی فرد حضور ﷺ سے اس روایت کو ثابت کر کے دکھادے۔ ورنہ اس دریدہ دہنی سے توبہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے روز میرے آقا کے سامنے مجرم کی حیثیت سے کھڑا کر دیا جائے اور حضور ﷺ کی یہ حدیث سنا کر جہنم کے انگاروں میں جھلنے کے لئے بھیج دیا جائے۔
٤٤
” من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار “ جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
ہلاکت قیصر و کسریٰ
قیصر و کسریٰ کی ہلاکت سے متعلق لکھتے ہیں: ”قرنِ اولیٰ میں ہلاکت کسریٰ والی پیش گوئی حضرت عمرؓ سے پوری ہوئی اور ہلاکت قیصر والی پیش گوئی ساڑھے تیرہ سو سال بعد حضرت صدیق کے ذریعہ سے پوری ہوئی۔ وہ اس طرح کہ قوم انگریز جو قیصر ہند کہلاتی تھی۔ آپ کی ہمت سے وہ اپنے مشرقی جزائر کھو بیٹھی۔ آج نہیں تو کل آنے والی نسلیں ضرور اس بین حقیقت کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکیں گی۔ جیسے کہ یوم الجمعہ میں تمام انبیاء کا اجتماع حضور کے دربار میں ہوا تھا۔ وہی اعادہ اسلام کی صورت میں بوقت یوم الجمعہ وارث انبیاء کی جماعت کے ساتھ لوٹ آیا۔“
(شمس الضحیٰ ص٤١)
معاف کیجئے، ابوالکلام صاحب! آپ کی نظر تاریخ سے ناواقف ہے۔ قیصر ہند اور ہے قیصر روم اور، یہ قیصر ہند آپ کی اصطلاح ہے۔ حضور ﷺ کی نہیں۔ وہ قیصر تو چن بوسیشور کے جہنم رسید ہونے سے برسوں پہلے جہنم رسید ہوچکا ہے۔ ذرا کسی سے تاریخ کے الف بے ت پڑھ لیں تو اچھا ہے۔ تا کہ شیطان کے الہامات صحیح سمجھ سکیں۔
ایک مشورہ
دیندار انجمن کے مفتری کذاب (عبدالغنی) کو چاہئے تھا کہ وہ کچھ جھوٹ اور فریب کی باتیں باقی چھوڑ جاتے۔ تاکہ آپ کے بعد جو دوسرے مدعی نبوت آئیں تو ان کے کام آجائیں۔ ورنہ وہ بڑے پریشان ہوں گے۔ ایسی ناانصافی ٹھیک نہیں ہے۔
تصور قیامت
قیامت سے متعلق بھی ان دینداروں کی رائے سن لیجئے۔ ”قیامت صغریٰ مسیح محمدی (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ظہور ہے۔ جسے نفخِ اوّل کہا گیا ہے۔ نفخِ ثانی قیامت کبریٰ کو مختص ہے۔ جو حضور کی ذات کو مختص کرتی ہے۔ اسی کو نشاۃ اخریٰ کہا گیا ہے۔ ”وان علیہ النشأۃ الاخریٰ“ یعنی دوسری بعثت لازم قرار دی گئی۔ جس طرح اوّل میں ہوا۔ آخر میں ہوگا۔“
(شمس الضحیٰ ص١٩)
قیامت حشر ونشر اور جزا وسزا کی اہمیت کو مسلمانوں کے دلوں سے مٹانے کے لئے اس قسم کی بکواس بکے جارہے ہیں۔ تاکہ مسلمان یہ سمجھیں کہ جس قیامت سے ہم ڈرتے ہیں۔ جس
٤٣
کے خوف سے کتنی مصیبات سے ہم بچے رہتے ہیں۔ وہ قیامت یہ ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس میں نہ جنت ہے نہ دوزخ۔
رحمۃ اللعالمین
سارے خطابات پیر صاحب نے خود اپنے آپ کو دے دیئے تھے۔ لیکن وہ خود کو رحمۃ اللعالمین کہلانے سے بھول گیا۔ اس لئے مرید نے یہ کسر بھی پوری کر دی۔ فرماتے ہیں: ”پہلی دفعہ آپ مخلوق پر رحم فرما کر رحمۃ اللعالمین بن کر تشریف لائے اور مخلوق کو ہر بلا سے بچایا۔ اب دوبارہ آپ ہی تشریف لائے ہیں۔“
(شمس الضحیٰ ص ٧٤)
آپ مخلوق کے لئے رحمت کہلائے۔ ہاں کفر و ضلالت، الحاد و زندقہ اور بے دینی کے امڈتے ہوئے سیلاب لا کر مخلوق خدا کو گمراہ بنانے کا شیطانی کردار ادا کر دیا اور یہ کشت نامراد بو کر چلے گئے۔
شفاعت اور قیامت کا مالک
ستم ظریفی کی انتہاء کر دی کہ شفاعت کے ٹھیکہ دار بن گئے اور اس پر طرہ یہ کہ یہی دھن پتی مہاراج چن بسویشور قیامت کے مالک بھی بن گئے۔ لکھتے ہیں: ”قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ قاضی کی حیثیت سے آئے گا اور سزا و جزا کے فیصلے سنائے گا۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ بروز حشر حضور اکرم ﷺ امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ یہ بعثت ثانی کی طرف اشارہ ہے۔ اسلام میں ختم نبوت کا مسئلہ مسلم ہے۔ اس لئے کوئی شخص حضور کے بعد دعویٰ نبوت نہیں کر سکتا۔ اس لئے امت کی شفاعت آپ ہی کریں گے۔ وہ بہ لباس دیگر ہوگی۔ وہی بعثت بروز محمد کہلائے گی۔ وہ قیامت کے مالک بن کر آئیں گے۔ وہ وجود حضرت مولانا صدیق دیندار چن بسویشور صاحب کا ہے۔“
(شمس الضحیٰ ص ٧٦)
شفاعت کا مسئلہ تو الگ ہے۔ یہاں تو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ قیامت کے مالک بن کر آئیں گے۔ اس میں تو کسی مسلمان کو شک نہیں کہ قیامت کے مالک اللہ تعالیٰ ہیں۔ اب اگر چن بسویشور قیامت کا مالک ہے تو معلوم ہوا کہ وہ خود خدا ہے اور اس کا چیلا عبدالغنی مصنف شمس الضحیٰ اس کو خدا ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رہا ہے۔ یہ مغالطہ بھی قابل غور ہے کہ اسلام میں ختم نبوت کا مسئلہ مسلم ہے۔ عجیب امر ہے کہ ختم نبوت مسلم ہے۔ اس لئے اب بروز نبی کی حیثیت سے آ جایا کرو۔ یا خدا بن کر آیا کرو۔
٤٤
فلاح کی راہ
چن بسویشور اپنے اندر لوگوں کے فنا ہونے کو شرط لازم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بعد حمد ونعت کے میں تمام بنی نوع انسان خصوصاً مسلمانوں کو جن کی گردن پر تبلیغ کا جوا ہے۔ وہ کسی صورت سے نکل نہیں سکتا۔ اس کتاب (دعوة الی اللہ) کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں کہ کوئی گروہ اور کوئی فرد واحد موجودہ زمانے میں اللہ تک پہنچ نہیں سکتا۔ جب تک وہ مجھ میں فنا نہ ہو۔ یہ میرے منہ کی بات نہیں ہے۔ یہ تو حضور سرور عالم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ لاکھ لاکھ درود اس ذات احدیت مآب پر، سولہ سال پیشتر آپ نے اس فقیر کی رویا میں تشریف لا کر اس فقیر کو یہ مرتبہ عطاء فرمایا۔ سننے والوں کو یہ بات شاق گزرتی ہوگی۔ خفگی اور برہمی کی کوئی بات نہیں۔ یہ حقیقت ہے کوئی تعلیٰ اور فخر نہیں۔ کوئی خود غرضی و خود نمائی نہیں۔ ایسے مقام والے وجود انسان ہی ہوتے ہیں۔“
(دعوة الی اللہ ص٢)
خدا تک رسائی کے لئے چن بسویشور میں فنا ہونے کا نمبر بعد میں آئے گا۔ مگر ذرا یہ بتاؤ کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک جو نقل فرمایا ہے۔ وہ کہاں ہے؟ حضور ﷺ آپ کے اندر فنا ہونے کا کیا فرماتے۔ آپ نے تو اپنے اندر فنا ہونے کا بھی حکم نہیں دیا۔ یہی فنائیت ہے جس نے دیندار انجمن والوں کا ایمان فنا کر دیا۔ مگر اب دودماں جل جانے پر بھی ان بے حسوں کو ہوش نہیں آ رہا۔
اللہ کا مظہر اور خدائی اختیارات
اب تک تو چن بسویشور نبوت اور اس کے آس پاس گھوم رہے تھے۔ مگر اب پوری خدائی پر قبضہ جمانے کے خوابوں میں مست ہیں۔ ارشاد ہے: ”یہ کل بے نوری اور خدا سے دوری۔ اس وجہ سے ہے کہ انفرادیت اور انتشار کی حالت والا تقسیم نعمت کا زمانہ ختم ہو گیا۔ وہ جامع الناس، دین کا مالک، قیامت قائم کرنے والا، حشر برپا کرنے والا۔ تیسری دفعہ ”لا تثریب علیکم اليوم“ کہنے کے لئے یوسف کے لباس میں جیل بھگتا ہوا۔ بیڑیاں پکڑا ہوا، ثور کے بطن سے صدیق اور عنموائیل نام پر زمین و آسمان کے ٩٦ نشانوں کی شہادت کے ساتھ جسمانی اور اخلاقی ٥٦ نشانوں کے ساتھ غیر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ کامل متبع رسول الثقلین صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کر کے ’ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله یدالله فوق ايديهم“ کی بشارت کے ساتھ دوبارہ شان اسلام کو دنیا کے کناروں تک چمکانے کے لئے کامل بشارتوں کے ساتھ اللہ کا مظہر صدیق و دیندار چن بسویشور آیا ہے۔ اب اس کی صحبت
٤٥
میں حضرت محمد مصطفے ﷺ تک پہنچتے ہیں۔
(دعوة الی اللہ ص ٢)
جیل اور بیڑیوں سے اس طرف اشارہ ہے کہ بقول ان کے چونکہ بدنامی ان کے لئے مقدر ہے۔ اس لئے جس طرح دنیا میں وہ سزا یافتہ ہیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی وہ سزا یافتہ رہیں گے۔
چن بسویشور صاحب اللہ کا مظہر بنے ہیں۔ لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ ان کے گرو غلام احمد قادیانی اس وصف میں ان سے آگے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے خلیفہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کی شان میں لکھتے ہیں: ”فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٦٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
العیاذ باللہ
”حدیث رویت اللہ میں آیا ہے کہ اللہ محشر کرنے آئے گا۔ وہ غیر کی صورت میں رہے گا۔ اس سے مراد یہ کہ اللہ غیر مسلم کے نام ولباس سے آئے گا۔ یعنی چن بسویشور کے نام سے آئے گا۔ مسلمان ونعوذ باللہ منک کہیں گے واقعی میرے دعوے چن بسویشور پر مسلمانوں نے بدعقیدہ اور گمراہ سمجھ کر نعوذ باللہ منک کہا۔ پندرہ سال کے بعد اب ان کے امام اور احمدیوں کے موعود یوسف کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہوں۔ اس سے خوش ہیں۔ اب ضرور ”انت ربنا“ کہیں گے۔“
(دعوت الی اللہ ص ١٤)
اس عبارت میں دو جگہ خود چن بسویشور نے اپنے غیر مسلم ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ایک یہ کہ انہوں نے مخالفین کو تقابل کی صورت میں مسلمان ذکر کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ غیر مسلم کی شکل میں آئے گا۔ یعنی چن بسویشور کے نام سے آئے گا۔ اس میں اپنے غیر مسلم ہونے کی صراحت کردی۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ آپ قادیانیوں کے یوسف موعود ہیں۔ یہ مسئلہ قادیانی صاحبان ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا یوسف موعود کون ہے۔
خدا بصورت چن بسویشور (علیہ ماعلیہ)
یہ جملے آپ کو کتنے ہی ناگوار گزریں۔ مگر پڑھ لیجئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت قاضی حشر کی مغفرت سے محروم رہ جائیں۔ ابوالکلام عبد الغنی اپنے پیر جی چن بسویشور کا ایک خواب نقل
٤٦
فرماتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا۔ حشر بپا ہے۔ اللہ قاضی کی حیثیت سے آیا ہے۔ ایک بلند تخت پر بیٹھا ہے۔ جزا و سزا کے فیصلے دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ میری صورت میں ہے۔“
(شمس الضحیٰ ص ٧٦)
مسلمانو! اب بھی نہ سمجھے اور ان کی بیخ کنی کے لئے تیار نہ ہوئے تو ان دشمنان خدا کے ہاتھوں عذاب چکھنے کا انتظار کیجئے۔
ناپاک عزائم
زاہد صدیقی صاحب جو پہلے اس انجمن کے ایک سرگرم مبلغ تھے۔ جو بعد میں ان کی حقیقت منکشف ہونے پر تائب ہو گئے۔ لکھتے ہیں: ”اے عظمت انبیاء اور ختم نبوت کے دعویدارو! سنو!! اگر تم نے اب بھی نہ سنا اور نہ مانا اور مخالفت کی تو وعید ہے۔ یہ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں۔ اس میں اپنی طرف سے ایک لفظ کا بھی اضافہ نہیں۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ مخالفین کے بارے میں اس جماعت کے عزائم انتہائی خطرناک اور ظالمانہ ہیں۔ کیونکہ صدیق دیدار چن بسویشور کی وصیت ہے۔ مخالفت کرنے والے مولویوں کو چار مینار پر کھڑا کر کے گولی مار دینا مخالفت دب جائے گی۔“
(فاران کراچی فروری ١٩٥٧ء)
خدا کا دیدار آصف نگر حیدرآباد دکن میں
دشمن خدا، خدائی کا دعویٰ کر کے لوگوں کو اپنے دیدار کے لئے بلا رہا ہے۔ چنانچہ ”صراط الذین انعمت علیہم“ کے متعلق لکھتا ہے: ”صراط الذین انعمت علیہم کی دعا یہاں سنی جاتی ہے۔ جن لوگوں نے نبیوں کو نہیں دیکھا ہے وہ آئے یہاں دیکھے ہر بات کا آرام واطمینان یہاں ہے۔ بہشت یہاں ہے، مقربان یہاں ہیں، گلشن اولیاء یہی ہے، یہاں سب سے بڑی نعمت خدا کا دیدار ہے۔ اے طالبان حق! آؤ اے عاشقان رسول آؤ۔ اے محبان علی! آؤ، بڑے انتظار کے بعد یہ روحانی دربار کھلا ہے۔ اپنے وقت مقررہ پر کھلا ہے۔ نشانات دیکھ کر برکات دور آخرین سے فیضیاب ہو جا۔ ”وما علینا الا البلاغ“ ”صدیق دیدار۔“
(دعوۃ الی اللہ ص ٩٤)
یوسف موعود جو اب خدا بنے ہیں اور اپنے دیدار کو دیدار خداوندی قرار دے کر لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ ان کے حسن کا یہ عالم تھا کہ دیکھ کر بھنگی کو مہتر کہنے کی اصطلاح یاد آنے لگی۔
اللہ چن بسویشور کے روپ میں
چن بسویشور صاحب نے جب خدائی کا دعویٰ کر کے رسول بھیجنے اور قیامت برپا کرنے
٤٧
کا کاروبار شروع کیا تو خیال آیا کہ کتنا بے وقوف سہی مگر ایسے بدیہی البطلان دعویٰ کو کس طرح قبول کر سکتا ہے؟ اس لئے چن بسویشور ”من کل الوجوہ اللہ“ نہ بنے بلکہ اپنے اندر خدائی صفات کے ضمن میں خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔ اللہ جل شانہ کی ذات سے متعلق تمام انبیاء علیہم السلام نے جس عقیدہ کی تبلیغ فرمائی ہے کہ وہ ازل سے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ اس سے متعلق عوام کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ ذات باری تعالیٰ کی جو تشریح کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
”لم یکن شیئاً مذکوراً ظاہر کرتا ہے کہ ایک وقت انسان کا ایسا بھی گزرا ہے کہ اس کا بیان انسانی طاقت سے باہر ہے۔ یعنی ذات واجب الوجود احدیت کے مقام پر تھا۔ جب اس ذات مذکور نے اپنی ذات واجب الوجود سے مل کر شہادت میں آنے کا ارادہ کیا۔ عقل کل میں آکر ٹھہری۔ عقل کل سے عالم ارواح کا روپ لیا۔ پھر وہی ذات عالم امثال میں آئی۔ پھر عالم اجسام یا شہادت کا جامہ پہنا۔ رحمتہ اللعالمین کی صورت اختیار کی۔“
(معراج المومنین ص ٤١)
یہ فلسفہ یونان کی فکری نکتہ آفرینیاں ہیں۔ جن کا اسلام کے ساتھ جوڑ ملانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ جس طرح قدیم ہیں۔ عقل کل بھی ایسی ہی قدیم ہے اور اللہ تعالیٰ عالم شہادت یعنی چن بسویشور کی صورت میں عقل کل کے محتاج ہوئے۔
آخرین کا سردار
مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری خلیفہ مانتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اسلام کے آخری خلیفہ نے آخری فرقہ بنایا۔ اس طرح دین قیم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ..... چونکہ پھل اپنی شاخوں کا مصدق ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ آخرین کا سردار چن بسویشور جملہ فرقہائے اسلام کی تصدیق کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ جس کو اولین کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آخری فرقہ کے سردار مسیح ناصری کی تصدیق کرنے پر آپ کی قوم نے آپ پر تالیاں بجائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ عیسائی ہو گیا ہے۔ اسی طرح آخرین کے سردار کے لئے بھی یہ ضروری تھا کہ وہ آخری فرقہ کے سردار مسیح موعود کی تصدیق کرنے پر اس کی قوم تالیاں بجائے اور کہے کہ یہ احمدی (قادیانی) ہو گیا ہے۔“
(دعوۃ الی اللہ ص ٦)
استدلال کا یہ بہترین گر شاید کسی اور کو معلوم نہیں ہو گا کہ خود واقعات بنا کر کسی کی طرف منسوب کریں۔ پھر وجہ نسبت کی تعین کریں۔ اپنے خود ساختہ علم کلام سے خود ساختہ واقعات کی روشنی میں اپنے دعاوی پر استدلال کریں۔ بس وہی بات ہے کہ؎
٤٨
اس پر طرہ یہ کہ اس پر واہ واہ بھی خود کریں۔ آخر میں یہ نہ بھولئے گا کہ آخرین کے سردار اور آخری فرقہ کے سردار مسیح ناصری میں جو جدت کا فرق نکالا ہے۔ وہ قابل داد ہے۔ عجیب راہ نکال لی۔
قادیانیوں سے قدیم تعلقات
آج کل دیندار انجمن والے اپنی ناک بچانے کے لئے یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا قادیانیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات قابل التفات تو اس لئے نہیں کہ بانی انجمن نے بار بار غلام احمد قادیانی کا ادب و احترام سے ذکر کیا ہے۔ بلکہ اپنے اساتذہ و شیوخ میں شمار کیا ہے۔ حتیٰ کہ اس ملعون کو مسیح موعود ماننے کا بھی اعتراف کر لیا ہے۔ ان ناقابل تردید حقائق کے ہوتے ہوئے مزید ان کے آپس کے تعلقات کے لئے دلائل کی کوئی صورت نہیں۔ تاہم اس مقصد کے لئے ان کی ذیل کی عبارت بھی ملاحظہ فرمائیے: ”غرض یہ کہ یوسف موعود (چن بسویشور) اس وقت موجود تھا۔ جس وقت جماعت قادیان اور جماعت لاہور کی مخالفت کا بازار گرم تھا۔ جس نے مئی ١٩١٤ء سے ١٩٢٢ء تک یعنی تقریباً آٹھ سال بہترین مبلغ بن کر مرزا قادیانی کی محبت میں کام کیا۔ تقریباً تمام اضلاع پنجاب کی احمدی جماعتوں کا دورہ کیا۔ اس زمانہ میں کسی کو خبر نہیں تھی کہ اس قدر جوش صدیق میں کیوں ہے۔ اس راز کا علم خود صدیق کو بھی نہیں تھا۔ جب صدیق کی چالیس سال کی عمر پہنچی۔ یعنی ١٩٢٤ء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام سے بشارت دی کہ اے یوسف! تو ہی چن بسویشور ہے۔ ”پھر الہام ہوا ۔ ”یوسف ہے بابا صدیق۔“ غرض بابا یوسف اور صدیق کا نام الہامات میں آنے لگا۔“
(دعوۃ الی اللہ ص ٤٤)
سوچ لیں وہ سادہ لوح مسلمان جن کو دھوکہ میں ڈالنے کے لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ دیندار انجمن کا قادیانیوں اور ان کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا آپ کی نظر میں کسی کی محبت میں کام کرنے کے معنی مخالفت کے ہو سکتے ہیں؟ ”فشتان بینھما“ حقیقت یہ ہے کہ ان دو شیطانوں کے باہم بہت قریبی مراسم اور تعلقات پائے جاتے ہیں۔ خاص کر صدیق دیندار تو اپنے ہر دعویٰ میں غلام احمد قادیانی کے مسیح موعود وغیرہ ہونے کی تصدیق بھی ملا لیتا ہے۔ پھر یہ بے ربطی کہاں رہی۔
بام بے زینہ ہے وہ یہ زینہ بے بام ہے
٤٩
قادیانی اختلافات
قادیانی اور لاہوری دو جماعتوں کے اختلافات کے بارے میں اپنے کو فیصل مقرر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عیسائیوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ آسمانی محکمہ سے ہوا۔ احمدیوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ بھی آسمانی حکم یوسف موعود (چن بسویشور) سے ہی ہوگا۔ جس کی آمد کو قرآن کریم اور احادیث اور بشارات مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور بشارات اولیاء دکن (ہندو سادھو) اور خود یوسف موعود کے الہامات میں اللہ کا آنا کہا گیا ہے۔ ما اختلفتم فیه من شئ فحکمه الی اللہ‘‘
(دعوة الی اللہ ص ٥٣)
کیا اصلاح کی؟ جس چیز پر آپس کی لڑائی ہورہی تھی۔ اس پر خود قبضہ جمالیا۔ کیا آسمانی فیصلہ یہی ہوا کہ غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بارے میں آپس میں جھگڑا ہورہا ہے۔ اس لئے تم خود جاکر نبی بن جاؤ۔ ان کا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ نیز چن بسویشور کو تو جہنم رسید ہوئے بھی عرصہ ہوگیا۔ قادیانیوں اور لاہوریوں کا آپس کا اختلاف تو اب تک باقی ہے۔ پھر کیا فیصلہ کیا حضرت والا نے؟ صرف اتنا کرم کیا کہ ان کی خباثت میں مزید خباثت ملا کر ’’فزادتهم رجسا الى رجسهم‘‘ کے مصداق بن گئے۔
خود گرو کو جہنم رسید ہوئے عرصہ گزر گیا ہے۔ لیکن ان کے متبعین اور دیندار انجمن کے سر برآوردہ افراد بھی زندہ ہیں۔ ان سب کو ہم یہ چیلنج دیتے ہیں کہ کسی ایک قرآنی آیت میں یوسف موعود کے آنے کی خبر دکھا دیں۔ ورنہ صاف کہہ دو کہ گرو نے جھوٹ بولا ہے۔ یہی معاملہ احادیث کا بھی ہے۔ نیز یاد رہے کہ اس میں جہاں اولیاء دکن کا نام آتا ہے کہ انہوں نے میری بشارت دی ہے۔ ان سے خود ان کی مراد دکن کے ہندو سادھو ہیں۔ اس سے یہ عقدہ بھی حل ہوگیا کہ ان کے نزدیک ہندولوگ پکے دیندار ہیں۔ بلکہ اولیاء اللہ میں ان کا شمار ہے۔ آخر میں جو یہ کہا ہے کہ اللہ کا آنا کہا گیا ہے۔ اس کا مقصد وہی ہے جو ابھی ابھی پیچھے ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک غیر مسلم یعنی چن بسویشور کی شکل میں آئیں گے۔
خلیفہ قادیان کی اصلاح
خلیفہ قادیان میاں محمود کے عقائد کی اصلاح کے بارے میں رقمطراز ہیں: ’’اولیاء دکن (ہندو سادھوؤں) نے آج سے تقریباً آٹھ سو سال پیشتر فیصلہ کیا ہے کہ خلیفہ قادیان کے عقائد غلط رہیں گے۔ وہ اس طرح کہ میاں محمود احمد صاحب کو ویر بسنت کہا گیا ہے اور ویر بسنت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ غلط عقائد پھیلاتا رہے گا۔ اس کے عقائد کی اصلاح
٥٠
کے لئے چن بسویشور آئے گا۔‘‘
عقائد کی یہ اصلاح کی کہ ا آخرین کا سردار اور کوئی اصلاح سمجھ م لئے خلیفہ قادیان میاں محمود سے بیع اصلاح کرتا ہو۔ نہ کہ پیر مرید کی۔
لنگایت؟
لیجئے! یک نہ شد دو شد۔ ی موعود ہونے کی تیاریاں زور شور سے جماعتوں یعنی لنگایت اور احمدیوں می بناء پر ہے۔ اس میں کامیابی دکھائی ن اور احمدی مسلمانوں میں یہ دونوں زوروں سے خصوصی ہندوستان کے
بہت خوب، آپ ل ہندوؤں میں سے ہیں۔ اچھا ہے
مسیح گرو اور اس کی خانقاہ
حضرات قارئین! اب ا اب سے کچھ مزید انکشافات ہو مختصراً پچھلا سبق دھرا کر آگے چ قادیانی مغضوب کے پاس چلے پھر یوسف موعود، پھر کئی انبیاء کے کے بعد مظہر خدا، مالک حشر، انبیا یہ شیخ چلی خود خدا بن گیا۔
اچھا جناب عالی! ا جاہ کے بھوکے کا پیٹ صرف ا نہیں۔ چن بسویشور خدا تو بن ذمہ داری ہے۔ چن بسویشور
کے لئے چن بسویشور آئے گا۔“
(دعوة الی اللہ ص ٥٤)
عقائد کی یہ اصلاح کی کہ ان کے گرو غلام احمد کو آخری فرقہ کا سردار کہلاؤ۔ اپنے آپ کو آخرین کا سردار اور کوئی اصلاح سمجھ میں نہیں آتی۔ اس لئے کہ چن بسویشور تو خود اپنی اصلاح کے لئے خلیفہ قادیان میاں محمود سے بیعت ہوا تھا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے ہاں مرید پیر کی اصلاح کرتا ہو۔ نہ کہ پیر مرید کی۔
لنگایت؟
لیجئے! یک نہ شد دو شد۔ پہلے تو صرف احمدیوں کے موعود تھے۔ اب لنگایت کے بھی موعود ہونے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ لکھتے ہیں: ”اس وقت میں اپنے موعود کی منتظر جماعتوں یعنی لنگایت اور احمدیوں میں پوری طاقت سے پیش ہو رہا ہوں۔ وہ بھی ایک بشارت کی بناء پر ہے۔ اس میں کامیابی دکھائی گئی ہے۔ اس میں یہ حقیقت نظر آتی ہے کہ لنگایت ہندوؤں میں اور احمدی مسلمانوں میں یہ دونوں ہر حیثیت سے زبردست جماعتیں ہیں۔ ان کی توجہ بڑے زوروں سے خصوصی ہندوستان کے مختلف مذہبوں کی طرف ہونی چاہئے“
(دعوة الی اللہ ص ٤٥)
بہت خوب، آپ لنگایتوں کے اوتار ہیں۔ یہ راز اب محقق ہو کر کھل گیا کہ آپ ہندوؤں میں سے ہیں۔ اچھا ہے، مسلمان جس مغالطہ میں تھے جناب نے اسے رفع کر دیا۔
مسیح گرو اور اس کی خانقاہ
حضرات قارئین! پیچھے مذکور تفاصیل کو خوب ذہن نشین کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ اب سے کچھ مزید انکشافات ہونے والے ہیں۔ آج کل کے حافظے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لئے مختصراً پچھلا سبق دھرا کر آگے چلتے ہیں۔ صدیق دیندار چن بسویشور پہلے عام آدمی تھے۔ پھر قادیانی مغضوب کے پاس چلے گئے۔ پھر خلیفہ قادیان سے بیعت ہوئے۔ پھر مہدی آخر الزمان، پھر یوسف موعود، پھر کئی انبیاء کے مثیل، بروز محمد اور عین محمد ﷺ، یہ تمام مدارج بآسانی طے کرنے کے بعد مظہر خدا، مالک حشر، انبیاء کے حاکم، قاضی حشر ان خدائی صفات کے مالک ہو گئے۔ حتیٰ کہ یہ شیخ چلی خود خدا بن گیا۔
اچھا جناب عالی! یہ سب عہدے مبارک ہوں۔ مگر کیا کسی ہوس کے بندے اور حب جاہ کے بھوکے کا پیٹ صرف ان دعاوی اور ان کے برابر کے دیگر دعوؤں سے بھر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ چن بسویشور خدا تو بن ہی گیا تھا۔ اگلے رسولوں کے بھیجنے میں کیا دیر لگتی اور ویسے بھی یہ خدا کی ذمہ داری ہے۔ چن بسویشور خدا بننے کے باوجود رسولوں کے بھیجنے کا بندوبست نہ کرے تو مخلوق
٥١
کے گمراہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔ اس لئے رسول بنانے کے لئے ایک تربیتی کورس شروع کر دیا۔ اس کا مرکز جہاں سے مکمل رسول بننے کا سرٹیفکیٹ عنایت ہوتا ہے۔ اس کا نام مسلمان نبی بننے والوں کے لئے خانقاہ سرور عالم ﷺ اور ہندو نبی بننے والوں کے لئے جگت گرو آشرم رکھا۔ دینداروں کے بیک وقت پیغمبر اور خدا نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ اب کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ پیغمبر اور رسول بھیجنے کی جسارت کرے۔
سنئے ! چن بسویشور کی عبارت ملاحظہ کیجئے : ”حسب بشارت گمنام مقام سے امیوں میں ایک ایسی طاقت (چن بسویشور) کو کھڑا کیا گیا۔ جو مسیح گر ہے۔ ( مسیح بنانے والا ) اور وہ وجود رسولوں کو جمع کرنے والا ہے۔ جس کی خانقاہ میں وارث انبیاء پیدا ہوتے ہیں۔ مریم بن کر آبیٹھتے ہیں۔ مسیح بن کر نکلتے ہیں۔ چوتھے آسمان سے ساتویں آسمان تک سیر کرائی جاتی ہے۔ کوئی نوح علیہ السلام ، کوئی ابراہیم علیہ السلام ہے، کوئی یحییٰ اور کوئی نارو ہے۔ کوئی موسیٰ علیہ السلام اور کوئی جامع جمیع کمالات کا خطاب پایا ہوا ہے۔ کوئی ہرلیا اور کوئی بسویشور اور کوئی نرسمہوں ہے۔ چونکہ اولین میں یہ روحانیت تھی۔ آخرین میں بھی وہی روحانیت ہے۔ تاکہ مماثلت پوری ہو۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی خانقاہ کا یہ حال ہو۔ (العیاذ باللہ خدا دوسروں کو اس سے محفوظ رکھے ) کیا کوئی روحانیت کے دعویدار گدی نشین کو مسیح گر ہونے کا دعویٰ ہے۔ کیا ان کی خانقاہوں میں مثیل انبیاء پیدا ہوتے ہیں۔ برخلاف اس کے ہر گدی اور خانقاہ کا رخ زمین کی طرف ہے۔“
(دعوة الی اللہ ص ٣)
نبی ساز یونیورسٹی
محترم قارئین ! مسیح گر کی ترکیب پر غور فرمائیں۔ زرگر کے معنی ہیں سنار۔ آہنگر کے معنی ہیں لوہے کا کاروبار کرنے والا اور مسیح گر کے معنی ہیں مسیح بنانے والا۔ یہ نیا عہدہ مبارک ہو۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس مسیح گر (خدا) کے رسول ابھی تک دنیا میں زندہ ہیں اور خود خدا صاحب جہنم رسید ہو گئے۔ چودھویں صدی کے مکار انگریز کو کچھ ایسے خداؤں کی ضرورت بھی تھی۔ جو رسول اور نبی کا کورس پڑھانے کے قابل ہوں۔ تاکہ خود بیچارے انگریز کو اس کی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔ ایک عدد ایسا جامع جمیع کمالات پروفیسر ملا مگر اول تو اتنی بڑی نبی ساز یونیورسٹی کو چلانے کے لئے ایسے کئی پروفیسروں کی ضرورت تھی۔ دوسری یہ اور مصیبت آگئی کہ وہ ایک نبی ساز پروفیسر بھی جلد ہی مر گیا۔ اکبر الہ آبادی مرحوم کا یہ شعر انگریز کی اس ہندی نبی ساز یونیورسٹی پر پورا صادق آ رہا ہے۔
٥٢
فیصلہ قسمت کا اے اکبر مگر لندن میں ہے
اس عبارت میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس انجمن کے انبیاء کو چوتھے آسمان سے لے کر ساتویں آسمان تک کی سیر کرائی جاتی ہے۔ پہلے تین آسمانوں کی سیر کیوں نہیں کرائی جاتی؟ شاید اس میں کوئی مصلحت ہوگی۔ یا پھر ان میں کوئی سیر کی جگہ ہی نہیں۔
بطور مثال مساوات
اس یونیورسٹی سے جو انبیاء تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کی چند مثالیں بھی ذکر کی ہیں اور اپنی انصاف پسندی کا بھی خوب مظاہرہ کیا ہے۔ یہ نبی ساز یونیورسٹی جس میں بیک وقت ہندو اور مسلم انبیاء تیار کئے جاتے ہیں۔ اس میں بننے والے انبیاء کی مثال میں چار مسلمان انبیاء کے نام ذکر کئے ہیں اور چار ہندوؤں کے نام پیش کئے ہیں اور ایک مشترک یعنی جامع جمیع کمالات یعنی مسلمان، عیسائی، یہودی، بت پرست وغیرہ اس طرح سے تمثیل انبیاء میں مساوات کر کے ہندو مسلم اتحاد کی داد حاصل کی ہے۔ یادرہے کہ اس یونیورسٹی میں مہدی اور مامور سے لے کر بوسیٹور تک کے عہدے کے انبیاء اور رجال کار ہوتے تھے۔ صرف ایک عہدہ جو چن بوسیٹور ہے۔ اس کی تیاری یہاں نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ منصب خود حضرت والا کا ہے اور محولہ بالا عبارت میں اس دعویٰ پر صراحتاً قدغن لگا دی گئی ہے۔” الا عند اشد الضرورة “ جس کا فیصلہ براہ راست لندن یونیورسٹی سے اس مقصد کے لئے رکھے ہوئے ماہرین امور شیطنت کر لیا کریں گے۔ آج کل چن بوسیٹور کے واصل جہنم ہونے کے بعد سے یہ منصب خالی پڑا ہے۔ صاحب ضرورت حضرات اپنی درخواستیں بھیج دیں۔ لیکن یادرہے کہ ماہرین امور شیطنت کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ جس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
جبریل امین اور نبی کے درمیان واسطہ
پچھلے زمانے میں لوگوں میں ذہانت اور شوق و ذوق اس قدر زیادہ تھا کہ اشاروں سے بات کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔ مگر ہمارے زمانے میں جہاں دوسری چیزوں میں انحطاط آ گیا ہے۔ وہاں ذہانت میں بھی کافی حد تک کمی آ گئی ہے۔ جس کی انتہاء یہ ہے کہ چن بوسیٹور کی محولہ بالا عبارتوں میں ایک اہم مسئلہ جس کی صراحت کر دی گئی ہے۔ ہمارے قارئین اسے بھی نہیں سمجھے۔ شاید اب وہ ہمارے قائم کردہ عنوان سے سمجھ گئے ہوں گے۔
معزز قارئین! یہاں دراصل ایک اہم عقدہ کو حل کرنے کے لئے چن بوسیٹور نے نبی
٥٣
ساز اکیڈمی کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ رسول اور نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اصلی، دوسری ظلی جو بعینہ اصل کے مطابق یا اس سے اعلیٰ ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے بعض انبیاء وہ ہوتے ہیں جن کے پاس براہ راست جبرئیل علیہ السلام آتے ہیں اور بعض وہ جن کے پاس جبرئیل براہ راست نہیں آتے۔ بلکہ وہ باقاعدہ نبوت کا کورس پڑھتے ہیں۔ پھر ان کے نگران اعلیٰ کے پاس جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر آتے ہیں اور یہ آگے اس دوسری قسم کے انبیاء تک یہ پیغام وحی پہنچاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی قسم کی وحی میں جبرئیل علیہ السلام کا نزول بلا واسطہ ہوتا ہے اور یہاں سند تو متصل ہے۔ مگر بیچ میں نبی ساز یونیورسٹی کے چانسلر کا واسطہ ہوتا ہے۔ ایک واقعہ سے اس مسئلہ کی مزید وضاحت کر دیتے ہیں۔ کتاب جواہر معصومیہ میں روضہ قیومیہ کے حوالے سے اکبر بادشاہ اور مجدد الف ثانیؒ کے فرزند خواجہ محمد معصومؒ کا واقعہ لکھا ہے کہ خواجہ صاحب ذی لیاقت عالم اور ارکان سلطنت اکبری کے مرد ممتاز اور معتمد علیہ تھے۔ بادشاہ کو آپ پر بڑا بھروسہ اور کامل اعتماد تھا۔ گفتی و ناگفتی امور میں آپ کو راز دار جانتا تھا۔ اسی زمانہ میں بادشاہ کے مقرب شیخ ابوالفضل نے بلحاظ اپنی مصلحتوں کے بادشاہ کو باور کرایا کہ آپ ہنود کے اوتار ہیں۔ ایک اوتار کا دنیا میں آنا جو باقی تھا۔ اس کی سب علامتیں بموجب وید کے آپ میں موجود ہیں۔ بعض آیتیں بھی فرشتے نے آپ کے لئے مجھے لاکر دی ہیں۔ چنانچہ ان میں ایک آیت یہ ہے: ”یا ایھا البشر لا تذبح البقر وان تذبح البقر فما راک السقر“ پھر تو بادشاہ کے خیال میں یہ بات اچھی طرح سما گئی کہ حقیقت میں وہ اوتار یعنی نبی ہے اور ابوالفضل فیضی اور فیاضی اس کے اصحاب ہیں۔
ایک ایسی کتاب بھی ترتیب پانی چاہئے جس میں وہ آیات جو وقتاً فوقتاً نازل ہوں، جمع ہوتی رہیں۔ بالآخر بلحاظ رازداری ولیاقت و کارگزاری بادشاہ نے اپنا امین سمجھ کر اس خدمت کو خواجہ صاحب کے سپرد کر دیا۔
خواجہ محمد معصومؒ ان آیتوں کو جو ابوالفضل کے واسطے سے دستیاب ہوئی تھیں۔ لکھ کر بقیہ آیات کے لئے قلم ہاتھ میں لئے آسمان کی طرف دیکھنے لگے تو بادشاہ نے آپ سے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں، کتاب لکھئے۔ آپ نے کہا کہ جبرائیل کا منتظر ہوں۔ وہ لائے تو لکھوں، بادشاہ نے سمجھایا کہ کچھ تو لکھو۔ مگر آپ نے کہا کہ آسمانی کتاب کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ ویسے ہی لکھ لی جائے۔ بہر حال اکبر بادشاہ یہ سن کر شرمندہ ہوا اور اپنی شرمندگی دور کرنے کے لئے پنجاب کا صوبہ دار مقرر کر دیا۔ آخر میں جب بادشاہ کا ارتداد مشہور ہوا تو ان کو مخالفت کی وجہ سے شہید کرا دیا۔
٥٤
چن بسویشور صاحب یہ کہ یہاں ایک مہینہ بلکہ ہفتہ میں لو سارے ایسے بالواسطہ انبیاء بنا بھی بھی ہیں۔ جن کی کتاب پر بسویشور تعجب فرشتہ کتاب ہر ایک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جال اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ حفاظ ٣١٨ قلب انبیاء دیندار انجمن کے بانی سے پڑھئیے : ”حدیثوں میں بشار ماسبق کے رہتے ہیں۔ قرن اولیٰ منتشر تھے۔ قرن آخری چونکہ حش کی صورت میں خانقاہ سرور عال (چن بسویشور) کی پیدائش کا مقا و جمال کا کافی سامان یہیں ہے مقام پیدائش کا نام والے ٣١٨ قلب انبیاء ماسبق کریں۔ کیا دیندار انجمن کے بانی ہے کہ چن بسویشور نے نبوت ک ان کے کفر میں تو کوئی شک ہی کتابوں اور دلوں میں کیا چھپا جا رہا ہے۔ عوام تو ایسے منافقو
چن بسویشور صاحب یہاں بھی ایسا ہی کاروبار چلانا چاہتے تھے۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں کہ یہاں ایک مہینہ بلکہ ہفتہ میں لوگ اتنے مدارج طے کرتے ہیں کہ نبی بنتے ہیں۔ چنانچہ بہت سارے ایسے بالواسطہ انبیاء بنا بھی دیئے۔ جن میں سے ایک ابوالکلام عبدالغنی صاحب شمس الضحیٰ بھی ہیں۔ جن کی کتاب پر بسویشور کی تقریظ بھی ہے۔ ایسے چکر بازوں سے متعلق کسی نے کہا ہے ؎
فرشتہ نے نہ پائی راہ شہ تک
کتاب اتری تو ایسی لغو و مہمل
ہر ایک آیت ہے جس کی محض مہمل
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نفس و شیطان کی چالوں سے محفوظ رکھیں۔ ورنہ شیطان کے جال اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ حفاظت مشکل ہے۔
٣١٨ قلب انبیاء
دیندار انجمن کے بانی کی مجموعہ چالبازیوں میں ایک ٣١٨ کا چکر بھی ہے۔ اسے غور سے پڑھیئے: ”حدیثوں میں بشارت ہے کہ ہر دور نسل انسانی مسلم میں تین سو اٹھارہ قلب انبیاء ماسبق کے رہتے ہیں۔ قرن اولیٰ میں ان کا مجموعہ تھا۔ فج اعوج کے زمانہ میں بوجہ فرقہ بازی قلوب منتشر تھے۔ قرن آخری چونکہ حشر کا زمانہ ہے۔ اس وجہ سے وہ تمام قلوب انبیاء ماسبق آخری امین کی صورت میں خانقاہ سرور عالم حیدرآباد دکن میں جمع ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کے سردار صدیق (چن بسویشور) کی پیدائش کا مقام اس ریاست میں ہے۔ یہ شہر جامع جمیع کمالات ہے اور جلال و جمال کا کافی سامان یہیں ہے۔“
(دعوۃ الیٰ اللہ ص ٤)
مقام پیدائش کا نام ظاہر نہ کرنے میں ضرور کوئی مصلحت ہوگی۔ لیکن دیندار انجمن والے ٣١٨ قلب انبیاء ماسبق فج اعوج اور ان (انبیاء) کے سردار صدیق کے مطالب کی وضاحت کریں۔ کیا دیندار انجمن کے بکواس بکنے والے مبلغین کے لئے اب بھی یہ کہنے کی کوئی گنجائش باقی ہے کہ چن بسویشور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تو انبیاء کے سردار کیسے بنے؟ ان کے کفر میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ لیکن یہ دیندار انجمن والوں کی صریح منافقت بھی ہے کہ اپنی کتابوں اور دلوں میں کیا چھپائے ہوئے ہیں اور تبلیغی جلسوں میں عوام کے سامنے کیا کچھ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عوام تو ایسے منافقوں کو بس یہی جواب دیا کریں کہ ؎
٥٥
ہم ایک گوشے میں اپنے آبلے دبائے پڑے ہوئے ہیں
مُردوں کو زندہ کرنے والے
اپنے شان مسیحائی کے بارے میں لکھتے ہیں: ”آخرین کے سردار صدیق دیندار کی صحبت سے کئی مثیل انبیاء بنے اور بن رہے ہیں۔ خانقاہ میں جو زندگی وقف کر کے بیٹھتا ہے وہ مریم بن جاتا ہے۔ جب وہ میدان میں نکلتا ہے تو مسیح بن جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے والے ہماری خانقاہ سے نکل رہے ہیں۔ گونگے بول رہے ہیں۔ جن کو اللہ نے یحییٰ، نوح اور موسیٰ پکارا۔ وہ بھی میرے بیعت کردہ ہیں اور قاسم صاحب جن کی مماثلت نوح کی ہے وہ بھی میری بیعت میں ہیں۔“
(دعوة الی اللہ ص ٩١)
دیندار کی صحبت سے کئی مثیل انبیاء بنے اور کئی بن رہے ہیں۔ نبی گری کی یہ صنعت بڑی اچھی ہے۔ کسی طبی کالج کے چانسلر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا کالج ماشاء اللہ بڑا اچھا چل رہا ہے۔ یہاں کئی لوگ اچھے اچھے ڈاکٹر بنے اور کئی ڈاکٹر بن رہے ہیں۔ کیا خیال ہے دونوں باتوں میں اچھا جوڑ ہے۔ ہم نے جو نبی ساز یونیورسٹی لکھا تھا۔ اس کا اب یقین آ رہا ہوگا۔ گویا نبی بننا ایک کھیل تماشا ہے۔ یا بالفاظ دیگر یوں کہیں کہ دنیا میں جس طرح صنعت و حرفت ایک پیشہ ہے جو آدمی اس میں لگ کر محنت کرتا ہے۔ اس کی ڈگریاں حاصل کر لیتا ہے۔ اس کو اپنی لائن کا نہ کوئی منصب مل جایا کرتا ہے۔ جس سے وہ اپنا کسب معاش کرتا ہے۔ ایسے ہی نبی اور رسول کو سمجھئے کہ وہ کسب معاش یا گزر اوقات کے طریقے ہیں۔ قادیان کے تمام انبیاء نے نہ صرف اس مقصد کے تحت اپنی نبوت کو استعمال کیا۔ بلکہ اپنے اقوال وافعال سے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ نبوت بھی اس قسم کا کاروبار ہے۔ ”اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے والے ہماری خانقاہ سے نکل رہے ہیں۔“
اس عبارت کو غور سے دیکھئے اور پھر دیندار انجمن والوں سے پوچھئے کہ اے مردوں کو زندہ کرنے والو! اور نہ سہی اپنے نبی اور خدا کو تو دوبارہ زندہ کر کے لے آؤ۔ تا کہ تمہاری اصلاح کر دیں اور امت کی بھی اصلاح ہوگی۔
بزم مشاورت
چن بسویشور نے ایک اہم راز کا انکشاف کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”یہ (اہل اللہ ) اہم
٥٦
معاملات میں قرآن وحدیث میں غور کرنے کے بعد خداوند کریم کے دربار میں مشورہ کرتے ہیں ۔‘‘
(معراج المومنین ص ٣٣)
یہ اصطلاح نہ بھولیں کہ چن بسویثور کے ہاں اہل اللہ اور اولیاء اللہ ہندو سادھوؤں کو کہا جاتا ہے اور بالفرض مسلمان اولیاء اللہ ہی مراد ہوں تو قرآن وحدیث میں کہاں آیا ہے کہ اہل اللہ، اللہ کے دربار میں جا کر مجلس شوریٰ منعقد کرتے ہیں ۔ ہاں البتہ اگر اللہ کے دربار سے چن بسویثور کا دربار مراد ہے۔ جہاں سے نبی اور رسول بنا کر بھیجے جاتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ مگر یہ اہل اللہ بڑے خطرناک ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان اہل اللہ سے اپنی حفاظت میں رکھیں ۔ درحقیقت یہ ابلیس کی بزم مشاورت ہے اور یہ اولیاء اللہ کی صورت میں اولیاء الشیطان ہیں۔
علوم شرع میں صفر
چن بسویثور مامور وقت کے عہدے پر تو شروع ہی سے قابض ہو گئے اور علوم دینیہ سے ماشاء اللہ مس بھی نہیں ہوا۔ اس لئے اس شبہ کا ازالہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ”معلوم ہوتا ہے کہ مامور وقت یعنی فنا فی الرسول ظاہری علوم میں مشہور و معروف نہیں ہوتا ۔‘‘
(معراج المومنین ص ٣٦)
مامور وقت کون؟
اوپر کی عبارت میں مامور وقت کا ذکر تھا۔ مگر اس کی تشریح نہیں کی کہ وہ کون صاحب ہیں ۔ اگلی عبارت میں اس کا کچھ اتا پتا بھی دیتے ہیں ۔ لکھتے ہیں : ”فقیر نے گاندھی جی اور محمد علی مرحوم سے کہا تھا کہ تم سب میری اطاعت کرلو۔ انشاء اللہ دس سال کے اندر سوراج دلاتا ہوں ۔‘‘
(معراج المومنین ص ٣٧)
امتی بنانے کے لئے ماشاء اللہ نظر انتخاب بڑی اچھی شخصیتوں پر پڑی ہے۔ اچھا ہی ہوا کہ آپ کی تجویز کو ان لوگوں نے نہیں مانا۔ فرما رہے ہیں کہ تم میری اطاعت کرو۔ جیسے ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ میں اطاعت خدا و رسول کا حکم ہے۔
پردہ میں رہنے دو
مامور وقت کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”معلوم ہوتا ہے کہ مامور وقت یعنی فنا فی الرسول انسان ظاہری علوم میں مشہور نہیں ہوتا اور وہ سرکاری ملازمتوں اور عہدوں پر مامور نہیں ہوتا ۔ وہ خدا کا مقرر کردہ انسان ہوتا ہے۔ دربار سرکار میں اس کی عزت نہیں ہوتی ۔ وہ
٥٧
ایک پردہ میں رہتا ہے۔ تاکہ اللہ کے کام کے لوگ ہی اس کے قریب آسکیں۔‘‘
(معراج المومنین ص ٣٦)
اپنا مبلغ علم جو کچھ چاہیں بیان کریں۔ مگر یہ جھوٹ نہ بولیں کہ اللہ کے مامور لوگ پردہ میں رہتے ہیں۔ نہیں پردہ نشین عورت ہوا کرتی ہے خدا کے پیغمبر میدان میں آتے ہیں۔ جہاں اعلاء کلمۃ الحق اور آپ جیسے جھوٹے مدعی نبوت کی سرکوبی کی ضرورت ہو وہیں پہنچ جاتے ہیں۔ البتہ نبی ساز یونیورسٹی آصف نگر سے جو نبی اور مامور بن کر نکلتے ہیں۔ وہ ضرور پردہ نشین ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ بقول آپ کے ”وہ مریم بن کر آ بیٹھتے ہیں ۔“
(دعوة الی اللہ ص ٣)
یہ ایک ایسا انداز فکر اور افتاد طبع ہے جو ذہنوں کو ابہام اور الجھنوں بلکہ خطرناک نزاکتوں کی طرف لے جاتا ہے۔
سہیلی بوجھ پہیلی
چن بسویشور کی طرف سے ایک گورکھ دھندہ پیش خدمت ہے۔ اس پہیلی کو حل کریں۔
فرماتے ہیں: ”یہ لوگ زندہ ہیں۔ یہ جسم کثیف بھی نہیں، لطیف بھی نہیں، ارادہ و عقل بھی نہیں، اطمینان بھی ہیں۔ یہ کل ایک دوسرے کے ماتحت ہیں۔ یہ کسی کے ماتحت نہیں۔ یہ کل ضائع ہونے والے ہیں۔ یہ فنا سے خالی ہیں۔ خدا کو غائب کر کے مظہر خدا بنے ہیں۔“
(معراج المومنین ص ٣٢)
چیستان، مہملات، واہیات
چن بسویشور کی جس کتاب سے یہ حوالے دیئے گئے ہیں۔ اس کا نام ہے ”معراج المومنین“ اس کتاب کا پیش لفظ ایک اور دیوانے مولوی ابو احمد دستگیر نے لکھا ہے۔ اس میں کئی عبارتیں ایسی مہمل ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ نہ وہ خود سمجھے ہیں کہ ان سے ان کا مقصد کیا ہے۔ نہ ان کے گرد و گمان کے مطالب معلوم ہیں۔ عام انسان تو کیا خاک سمجھیں گے۔ ایک دو ایسی عبارتیں آپ کے سمجھنے کے لئے لکھتا ہوں۔
”جس طرح جہاد مردوں پر فرض ہے۔ اسی طرح قرآن کریم ذات وحدۃ الوجود رحمۃ للعالمین پر فرض ہے۔“
آگے ارشاد ہے: ”اسی حقیقت کے اظہار میں اللہ تعالیٰ جب کبھی روح کے نزول کا ذکر کرتا ہے تو وحدت کا اظہار کرتا ہے۔“
اور جب روح کے اظہار کا ارادہ نہیں فرماتا تو کیا کثرت کا اظہار کرتا ہے؟ اس چیستان کا حل مطلوب ہے۔ آگے فرماتے ہیں: ”ایسے زمانہ میں حضور منبع انوار ﷺ کا رہنا ضروری ہے۔
٥٨
تا کہ اپنا دربار گرم کریں۔ اس دربار مبارک کی شان بھی فرضیت قرآن سے ظاہر ہے۔“
فرضیت قرآن اور وحدت و کثرت کی یہ اصطلاحات ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔ کیونکہ یہ شیطانی الہامات ہیں۔ جن سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ”اللہم لا ملجاء ولا منجا منك الا اليك“
تین کو چار کرنے والا نبی
- ١...... ”میں بھائیوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں اور بہنوں کے لحاظ سے بھی
چوتھا۔ چھوٹوں میں بھی چوتھا ہوں اور بڑوں میں بھی چوتھا ہوں۔“
- ٢...... ”میری پیدائش کی گھڑی چوتھی ہے۔ دن چوتھا ہے۔ تاریخ چوتھی ہے۔
صدی بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چوتھا ہے۔ یعنی ٤؍ رمضان پیر کا دن ١٣٠٣ھ میں پیدا ہوا۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٥٩)
یہ دو دلیلیں واقعی بڑی اہمیت رکھتی ہیں نبوت پر استدلال کے لئے اندھے کی لاٹھی چلائی ہے۔
قادیانی نشان
اپنی نبوت پر استدلال میں لکھتے ہیں: ”١٩٢٥ء جولائی کے ماہ میں قادیان گیا ہوا تھا۔ وہاں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بطور نشان بے موسم بارش بھیجی۔ وہ اس طرح کہ ایک رات کے اندر اطراف قادیان یک تالاب ہو گیا۔ سب کھڈ اور نالے بند ہو گئے اور کم سے کم پانی راستہ پر ران برابر ٹھہرا تھا۔ لوگوں کی زبانی سنا گیا کہ شاید ہی کسی زمانے میں ایک رات میں اتنی بارش آئی ہو اور اس بارش میں مزید نشان یہ ہوا کہ قادیان کا مشہور کتب خانہ جس میں ہزار ہا روپیہ کی نایاب کتب ہیں۔ ایک حصہ دیوار مع چھت گر گیا اور رات کا وقت تھا۔ بارش زور کی تھی۔ کوئی شخص خبر نہ لے سکا۔ آخر صبح تک تمام الماریاں کیچڑ میں لدی ہوئی تمام کتابیں بری طرح بھیگی ہوئیں۔ صبح یہ نظارہ اپنی زبان حال سے پکار کر کہہ رہا تھا کہ جو کتب خانہ قادیان کی علمیت کے فخر کا باعث تھا۔ جن پروفیسر کے تصرفات نے اس علم پر پانی پھیر دیا۔ لطف یہ کہ وہ کل کتب دوپہر کے وقت جب دھوپ میں کھول کر ڈال دی گئیں تو وہیں ڈالی گئیں جہاں فقیر نے تکیہ لگایا تھا۔ فقیر بیٹھا ہوا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا اور خدائے قدیر کے احسان کا مزا اٹھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کتب خانہ زبان سے پکار کر کہہ رہا ہے۔ اے صدیق! قادیان والوں نے ہمارے الفاظ کے غلط معنی کر کے دنیا میں دھوم مچائی ہے۔ ہم آپ کے پاس فریاد لائے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار لہم البشرٰی فی
٥٩
الحيوة الدنيا والآخرة“
(خادم خاتم النبیین ص ٣٥)
ایک سے ایک بات کو لیجئے۔ آپ کو اندازہ ہو گیا کہ اس سے اپنی نبوت پر استدلال کرنے والا کس قدر پانی میں ہے۔ ہر دلیل سے چن بسویشور کی ایک نئی بے وقوفی کا علم ہو جاتا ہے۔ چن بسویشور قادیان کے کتب خانہ کے بھیجنے سے جس خوش فہمی میں مبتلا ہوئے۔ یہ ان کا قصور فہم ہے۔ قادیان کی کتابوں کا بھیجنا اور بھی ایسے وقت جب کہ جناب چن بسویشور وہاں رونق افروز ہوں۔ یہ بے معنی نہیں ہے۔ لیکن وہ اس کا مطلب غلط سمجھے ہیں۔ درحقیقت مطلب یہ تھا کہ: ”اے چن بسویشور! جن کتابوں کو تم اپنا مرکز و مآخذ خیال کرتے ہوئے آئے ہو۔ جن کے حوالے رات دن اپنی تقاریر اور کتابوں میں لکھتے ہو۔ جن سے اپنی نبوت چن بسویشور، یوسف موعود اور مأمور وقت ہونے پر استدلال کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔ آج ان سب کتب و دلائل پر پانی پھر گیا۔ یہ سب دلائل و کتب ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہیں۔ کیا بے وقوف بنے ہوئے ہو کہ ان سے استدلال کر رہے ہو۔ یہ تھی ان کتابوں کی آواز جو زبان حال سے نکل رہی تھی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار لهم خزى الدنيا وعذاب الاخرة“
چن بسویشور اور خلیفہ قادیان
قادیانیت کے ساتھ عشق کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔ ”مختصر حال یہ ہے کہ یوں تو فقیر ١٩١٠ء بھی قادیان گیا تھا۔ اس وقت اس سلسلہ کی طرف توجہ نہ ہوئی۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٥)
جی ہاں اس وقت نبوت کے راز سربستہ نہیں کھولے ہوں گے۔ مزید ارشاد ہے: ”میری نیک نیتی اور خلوص دیکھو۔ میں نے تلاش حق میں خود میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان کی خلافت مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور قادیان پہنچا اور نیک نیتی سے تحقیقات کرتا رہا اور ان کے عقائد میں غلو کرنا پسند نہ آیا۔ دعائیں کیں۔ آخر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو بچانا چاہتا تھا۔ وہاں سے نکلا بیعت فسخ کر دی اور لگا تار اس عقیدے کی تردید میں ١٢ سال کا کام کیا اور بڑے شدومد سے کام کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے فقیر کی دعا کو سنا اور ان کی (قادیانیوں کی) جماعت کا منتظر موعود بنا دیا۔ (دریں چہ شک، مؤلف) اس سے وہی کام محض اپنے رحمانی تقاضا کے ماتحت لے رہا ہے۔ جو اس سے پیشتر بزرگان دین (غلام احمد قادیانی اور ہندوسادھو وغیرہ۔ مؤلف) سے کام لیا تھا۔ اور کثرت سے نشانات ظاہر کئے اور قدرت کو کمال درجہ پر ہمارے ساتھ کر دیا۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٢٥)
واقعی نیک نیتی اور اخلاص کی یہ انتہاء ہے کہ پہلے بیعت کرلی۔ بعد میں عقائد کی صحت
٦٠
و بطلان کی تحقیق کرتے رہے۔ پھر نبوت کی گدی پر خود قبضہ جما لیا اور بالآخر خدا بن بیٹھے۔ مزید ارشاد ہے: ”میں اس فاضل اجل (جو در حقیقت فاضل اجہل ہے۔ مؤلف) کی ہر لعنت ملامت کو اطمینان سے سنتا رہا۔ جب وہ مجھے دنیا دار سمجھ کر ریاست کا بت سامنے لائے۔ میں فوراً سیدھا ہو گیا۔ (پہلے ٹیڑھے تھے۔ مؤلف) اور کہا دوات قلم لے آؤ۔ میں ابھی لکھ دیتا ہوں۔ ہزار دفعہ لکھ دیتا ہوں کہ میں پکا قادیانی ہوں (بلا شک و شبہ۔ مؤلف) کاغذ لے کر ذیل کی تحریر لکھ دی۔ صدیق دیندار پکا احمدی ہے۔ قادیانی سلسلہ قادیان سے میاں محمود نے جو جاری کیا ہے۔ اس کا سخت دشمن ہوں اور عقائد جو میاں محمود نے جاری کئے ہیں۔ ان کی بیخ کنی کرتا رہوں گا۔ صدیق دیندار چن بسویشور۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٢٩)
آگے اور وضاحت کرتے ہوئے اپنے اور ان کے نشانات ذکر فرماتے ہیں: ”اس بات کو گواہ تقریباً تمام دکن کی اقوام ہیں۔ ان کی عبارتوں میں یہ بات چلی آ رہی ہے کہ پہلے دیر بسنٹ (ابوالعزم محمود) ظاہر ہوگا۔ اس کے خیالات سے عالم میں پریشانی ہوگی۔ لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کے دور کرنے کے لئے چن بسویشور ظاہر ہوگا۔ ان بزرگوں نے ان دونوں کے وجود کی تاریخ ظہور و نشانات بتائے ہیں۔ اس کی کوئی تردید کردے تو میں ہر شرط منظور کرنے کو تیار ہوں۔ گویا پیش گوئیوں نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کے بتا دیا ہے کہ یہ چن بسویشور ہے اور یہ دیر بسنٹ چن بسویشور کے حالات سے آپ کو ایک حد تک علم ہوا ہے۔ صرف اب دیر بسنٹ کے نشانات بطور حجت دوبارہ پیش کر کے چیلنج دیتا ہوں کہ اگر نشانات والا دیر بسنٹ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کے سوا دوسرا کوئی ہے تو ثابت کر دے تو ایسی صورت میں ہر شرط منظور۔ دیر بسنٹ (ابوالعزم محمود) والی ایک علیحدہ کتاب تیار ہے۔ اس میں تفصیل وار بیان ہے۔..... ان نشانات کے علاوہ اور بھی بہت سے نشان ہیں۔ مگر اب میں جماعت قادیان اور تمام سے سوال کرتا ہوں کہ ادھر قدیم کتب اولیاء میں یہ پیش گوئیاں موجود اور ادھر موعود انسان (یعنی میاں محمود خلیفہ قادیان) موجود ہے۔ پھر آپ کو شک میں ڈالنے والی وہ کون سی چیز ہے۔ ان پیش گوئیوں کے ساتھ ہی لکھا ہے یہ دیر بسنٹ مسلمانوں کو قرآن کریم کے الفاظ کے غلط معنی کر کے بتائے گا اور ایشور اوتار جس کو رحمتہ للعالمین کہتے ہیں۔ ان کی ہتک کرے گا۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٨)
مزید لکھتے ہیں کہ : ”اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا شخص عقائد میں غلطی پر رہے گا۔ اس کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور سے ہوگی اور صاف لکھا ہے کہ دیر بسنٹ (ابوالعزم محمود) قرآن کے الفاظ کے غلط معنی بیان کرے گا....... اور لکھا ہے کہ چن بسویشور کے عقائد
٦١
درست رہیں گے اور چن بسویشور کے ذریعہ سے دیر بسنت کے عقائد کی اصلاح ہوگی۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٠)
ہم خود بسویشور کی عبارتوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ اولیاء اللہ سے ان کی مراد ہندو سادھو ہیں اور اب یہ حضرت انہی کی کتب قدیمہ کے حوالے سے اپنی اور میاں محمود کی علامات پیش فرما رہے ہیں۔ ان میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں۔
چار مشہور وید یعنی رگ وید، سام وید، یجروید، اتھروید، دس گیتا اور پیتا پوراں، ہندوؤں کی جدید کتب میں ہندوازم، ستیارتھ پرکاش، سوامی اور ویدارتھ پرکاش وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جن سے چن بسویشور کو اپنی نبوت کے لئے مزید نشانیاں مل سکتی تھیں۔ اگر یہ کتابیں ان کو مل جاتیں تو نہ جانے ان کی خباثتیں کہاں سے کہاں پہنچ جاتیں۔
منجملہ اور باتوں کے یہاں یہ بات بھی لکھی ہے کہ چن بسویشور کے ذریعہ میاں محمود کے غلط عقائد کی اصلاح ہوگی۔ دوسری باتیں کہاں تک سچی نکلیں۔ ہمیں فی الحال ان سے بحث نہیں۔ لیکن قارئین حضرات بلکہ خود دیندار انجمن کے افراد ایمانداری سے بتائیں کہ میاں محمود کے جو عقائد اس وقت تھے۔ کیا ان کی اصلاح ہوگئی۔ یا ویسے کے ویسے رہے۔ بلکہ ان کے عقائد میں روز بروز مزید خباثتیں شامل ہوتی گئیں۔ یہاں تک کہ جہنم رسید ہوگئے۔
میاں محمود کی مزید تقدیس
میاں محمود کی مزید تقدیس بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”فقیر (چن بسویشور) جانتا ہے کہ وہ (میاں محمود دیر بسنت خلیفہ قادیان) ایک مرد متقی ہے اور بڑی بشارتیں دینے والا ہے۔ ان سے ہمارا جھگڑا صرف مذہبی چند فروعات میں ہے۔ جن کی غفلت سے اصول ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے مخالفت کی۔ اب مخالفت نہیں ہے۔ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے کہ وہ قریب میں ہمارے عقیدے کے ساتھ ہو جائیں گے۔ جس کے آثار گذشتہ چند ماہ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین دیباچہ ص ز، مورخہ یکم جون ١٩٢٧ء)
دروغ گو را حافظ نباشد
مندرجہ بالا عبارت میں میاں محمود سے متعلق لکھا ہے کہ: ”ان سے ہمارا جھگڑا صرف مذہبی چند فروعات میں ہے۔“
یاد رہے کہ یہ کتاب خادم خاتم النبیین چن بسویشور نے ١٩٢٦ء میں لکھی ہے اور اس کی تصریح انہوں نے خود اپنی سب سے پہلی کتاب دعوۃ الیٰ اللہ کے ص ٤٤ میں کی ہے اور دعوۃ الیٰ اللہ
٦٢
ان کے دعویٰ مامور وقت و یوسف موعود کے ابتدائی زمانہ یعنی ١٩٢٤ء میں لکھی گئی ہے۔ یہاں تو یہ لکھتے ہیں کہ میاں محمود سے ہمارا اختلاف چند فروعات میں ہے۔ لیکن اس سے قبل دعوۃ الی اللہ ص٥٤ میں لکھا ہے کہ میاں محمود کے عقائد غلط ہوں گے۔ نیز اسی کتاب خادم خاتم النبیین کے ص٨، ص١٠، ص٢٥ اور ص٢٩ میں صراحتاً یہ لکھا ہے کہ ان کے عقائد ہی خراب ہوں گے۔ وہ غلط عقائد پھیلائے گا۔ لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ قرآن کے الفاظ کے غلط معنی بیان کرے گا۔ وغیرہ! سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد، اور یہ تضاد بطور نمونہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ ورنہ ع
نیز دیندار انجمن والوں کے پیغمبر نے محولہ بالا عبارت میں یہ بھی لکھا ہے کہ : ”مجھے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے کہ وہ (قادیانی) قریب میں ہمارے عقائد کے ساتھ ہو جائیں گے۔ جس کے آثار گذشتہ چند ماہ سے ظاہر ہورہے ہیں۔“ اس سے دیندار انجمن میں غلطی سے پھنسے ہوئے سادہ لوح حضرات خوب سمجھ لیں کہ ان کے موجودہ پیشوا اپنے کو بظاہر قادیانیوں سے الگ ظاہر کر کے ان کو کس طرح دھوکہ دے رہے ہیں۔
٤٢٥٧ جھوٹ
اپنی کتاب خادم خاتم النبیین کا ذکر کرتے ہوئے کذب بیانی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے: ”اس کے بعد ١٩٢٦ء میں میں نے ایک کتاب خادم خاتم النبیین لکھی جو اس کتاب کا مقدمہ تھا۔ جس کا ذکر اس کتاب کے ص ٥٨، ٥٩ پر ہے۔ اس زمانہ سے اب تک ٤٢٥٧ الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث سے بھی اس دعویٰ کا تاریخی، قدرتی اور شہادتی ثبوت ملا۔ یہ کتاب ”دعوۃ الی اللہ“ سنت انبیاء کے مطابق ”انی مغلوب فانتصر “ کے زمانہ میں لکھی جارہی ہے۔“
(دعوۃ الی اللہ ص ٤٤)
جھوٹ کا ریکارڈ توڑ دیا
٤٢٥٧ جھوٹ بول کر خاموش نہیں ہوئے۔ بلکہ مزید یہ ستم کیا کہ یہ تمام جھوٹ قرآن واحادیث میں تاریخی، قدرتی اور شہادتی طور پر ثابت ہیں۔ ان سب کو تلاش کرنے کی آپ کو کہاں فرصت ہے اور مزید جھوٹ بھی بولنے ہیں مگر کچھ فرصت نکال کر ان میں ایک جھوٹ قرآن یا حدیث سے دکھا دیں تو کرم ہوگا۔
٦٣
بعد اس کے حسرت دل سوز ہے
چن بسویشور کو ماننے والے دجالوں کی مختصر فہرست
اس سلسلہ میں اپنی کتاب (دعوة الی اللہ ص ٥٦، ٥٧) میں کئی قادیانی دجالوں کے نام ذکر کئے ہیں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ یا بیعت ہو کر مان لیا ہے۔ ایک مختصر فہرست چند مشہور عالم دجالوں کے نام کی ان کی اپنی عبارت میں ملاحظہ ہو: ”اہل بصیرت کے لئے میرا دعویٰ سورج کی طرح روشن ہے۔ سعید ارواح کو جب میری خبر پہنچ جاتی ہے تو سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ آمنا وصدقنا کہتے ہیں۔ حسب ارشاد مسیح موعود (مرزا قادیانی) سلسلہ احمدیہ کے بڑی عمر پانے والوں میں سے جن لوگوں نے میری تصدیق کی ہے۔ ان میں سے مشہور اور ذی اثر اشخاص کے چند نام ذیل میں دیئے جاتے ہیں۔“
- .......١ زبدۃ الحکماء مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفیٰ نے میری تصدیق
کی۔
(دعوة الی اللہ ص ٥٦)
- .......٢ سلسلہ احمدیہ کے دوسرے مشہور ذی اثر ایشیاء میں مشہور انسان ڈاکٹر امین
حسین شاہ صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ لاہور، شاہ صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کا دعویٰ مصلح موعود کا ہے۔ میں نے کہا: ہاں۔ کہا میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہوں...... میں آپ کے اصول وعقائد کو امت مرحومہ کے لئے باعث برکت سمجھتا ہوں۔ میں نے مولوی محمد علی صاحب (امیر قادیانی جماعت لاہور) کو بھی آپ کی نسبت میرے ہم عقیدہ پایا۔
(دعوة الی اللہ ص ٥٧)
اس پر کوئی تبصرہ کرے تو کیا کہے۔ بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ؎
یہ فتنہ پھر اٹھایا جا رہا ہے
ناظرین! آپ یہ نہ سمجھیں کہ دیندار انجمن کے بانی چن بسویشور اور دیگر بڑے افراد جہنم رسید ہو گئے۔ تو اب فتنہ ختم ہو چکا ہے۔ بلکہ یہ فتنہ اسی زور شور سے پھر سر اٹھا رہا ہے۔ جس طرح بانی انجمن نے شروع کیا تھا۔ بلکہ یہ فتنہ شروع میں تو کفر و ارتداد کی کھلی دعوت کے ساتھ پھیلایا جا رہا تھا۔ جس سے عوام کو اکثر و بیشتر ان کی حالت معلوم ہو جاتی تھی۔ مگر اب تو یہ کفر و ارتداد کے ساتھ ساتھ نفاق، دھوکہ فریب اور نہایت خفیہ عزائم لئے میدان میں آیا ہے۔ انتہاء یہ ہے کہ
٦٤
عوام الناس کے سامنے یہ نہیں ظاہر کیا جاتا کہ ہم ان عقائد کے حامل ہیں۔ چن بسویشور کے پیرو ہیں۔ بلکہ کہا یہ جاتا ہے کہ ہم پکے دیندار سرکار دو عالم ﷺ کے شیدائی ہیں۔ مسلمانوں کی بری حالت کو دیکھ کر ہم ان کی اصلاح کو نکلے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ سادہ مسلمانوں سے دین کے نام پر چندہ لے کر انسانیت سوز کتابوں کی نشر و اشاعت میں لگاتے ہیں۔
شوگر کوٹڈ پیلٹس
جب اٹھا پردہ تو ابلیس لعین آیا نظر
دیندار انجمن والے عام طور پر مسلمانوں میں اتحاد، جوش جہاد، اسکولوں اور کالجوں کی اصلاح وغیرہ سے متعلق تبلیغ کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم مبلغین اسلام ہیں۔ ہمارے تبلیغی مشن کے یہ ابتدائی خاکے ہیں۔ اس طرح سے جاہل عوام خصوصاً نوجوان جنہیں دین کا صحیح علم نہیں ہے۔ جلدی سے ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ انہوں نے نشر و اشاعت کا منظم کام شروع کر دیا ہے۔ عام طور پر کتابیں اس منافقانہ انداز میں لکھ کر چھاپتے ہیں کہ عوام ان سے برا تاثر نہ لیں۔ چنانچہ کوئی کتاب لکھتے ہیں تو ادھر ادھر کی ناصحانہ باتیں لکھتے لکھتے بیچ میں ایک آدھ جگہ اپنے بانی انجمن کی کوئی بات ذکر کر دیتے ہیں۔ یا ان کی جانب اشارہ کر جاتے ہیں۔ جس کا اثر یہ ہوگا کہ عوام اور نوجوان طبقہ ان دجالوں سے اس انداز سے متعارف ہوگا کہ ان کافروں دجالوں کے ساتھ ان کو حسن ظن پیدا ہوگا۔ پھر رفتہ رفتہ جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور پھر ان کے ساتھ مل کر ایمان سوزی کے ساتھ ساتھ بے غیرتی کے بھی عادی ہو جاتے ہیں۔ تب ان کو اصل کتابیں جو مقصود ہیں بالترتیب پڑھنے کے لئے دے دی جاتی ہیں اور خبیث ترین لٹریچر جو اصل بانی انجمن کا ہے۔ سب سے آخر میں دیا جاتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگ جو دیندار انجمن کے فریب اور بے دینی سے مطلع ہوکر ان سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے ان کی انجمن میں بحیثیت مبلغ کام کیا ہے۔ لیکن تین چار سال تک ان کی اصل کتابیں ہم کو نہ دی گئیں۔ اس کے بعد جب ہم پر پورا اعتماد ہوگیا کہ یہ ہر طرح سے ہماری بے غیرتی برداشت کرسکیں گے۔ تب انجمن کے بانی کی کتابیں ہم کو دی گئیں۔ جن کی خباثتوں کو دیکھ کر ان سے متنفر ہوئے اور ان سے برأت اور توبہ کا اعلان کیا۔
نشر و اشاعت میں دیندار انجمن کی مکاریوں کی ایک مثال
سعید بن وحید جس کا ذکر اس کتاب میں پیچھے متعدد دفعہ آیا ہے۔ اس مہم میں پیش پیش
٦٥
ہے ۔ کراچی میں دیندار انجمن کے نگران کی حیثیت سے یہ خباثتیں تصنیف و تالیف کی صورت میں پھیلا رہا ہے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اس نے کئی کتابیں لکھی ہیں ۔ جن میں سے اکثر احقر کی نظر سے گذری ہیں ۔ مثال کے طور پر اس کی کتاب ”ملی مسائل کا قرآنی حل“ کو لیجئے۔ اس میں اس نے بڑے درد انگیز اور دلیرانہ لہجے میں نظریہ پاکستان وغیرہ سے بحث کی ۔ کئی خامیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ کتاب ٦٤ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے ٥٨ صفحات لکھنے کے بعد اب مقصد کی طرف لطیف اشارات شروع کر دئیے ہیں اور بڑی مکاری سے مقصود اصلی چن بسویشور کی طرف آیا ہے۔ چونکہ دیندار انجمن والے چن بسویشور کو نبی ماننے کے ساتھ ساتھ مامور وقت بھی کہتے ہیں۔ اس لئے تدابیر امر اور تعین شخصیت کے دو مختصر عنوان قائم کر کے ان میں چند مثالیں دی ہیں ۔ اس کے بعد مقصد کی طرف یوں لطیف اشارہ کیا ہے ۔ غرض قرآن پاک میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ جو من جانب اللہ تدبیر امر اور تعین شخصیت کا پتہ دیتی ہیں۔
(ملی مسائل کا قرآنی حل ص ٦٠)
اس کے بعد ماورائے عقل کا عنوان قائم کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ لوگ اگرچہ ایسی شخصیتوں کو پاگل کہا کریں گے ۔ مگر یہ اللہ والے ہیں۔ پھر آگے چل کر انتہائی چالاکی سے اس مامور شخصیت کا نام اس انداز سے ذکر کیا ہے کہ لوگ یہ نہ محسوس کریں کہ مصنف اس کا یقینی فیصلہ سناتا ہے۔ چنانچہ ”بشریٰ للمؤمنین“ کا عنوان لکھ کر یہ عبارت لکھی ہے۔
ہندوستان تمام مسلمان ہونے والا ہے۔ الہام بانی دیندار انجمن ۔
(ملی مسائل کا قرآنی حل ص ٦١)
بانی انجمن کا یہ الہام انہوں نے جلی اور خط کشیدہ اس طرح سے لکھا ہے کہ اگلی عبارات کے لئے عنوان کا بھی کام دے۔ مامور شخصیت کا یہ الہام ”بشریٰ للمؤمنین“ ہے۔ چن بسویشور جس نے نبوت اور خدائی تک کے دعوے کئے ہیں۔ اس کا نام کتاب ملی مسائل کا قرآنی حل میں اس طرح اعزاز واکرام اور تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ”بانی دیندار انجمن حضرت مولانا صدیق دیندار چن بسویشور قدس اللہ سرہ العزیز ۔“ (ملی مسائل کا قرآنی حل ٹائٹل ص ٣) دنیا کے اس بدترین کافر کا نام اس اعزاز کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ جس نے یوسف موعود، مہدی آخرالزمان، نبی، بروز محمد بلکہ خدائی تک کے دعوے کئے۔ اس کے باوجود دیندار انجمن والے عوام کو یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں۔
٦٦
ختم نبوت کی تشریح
مسلمان تو ختم نبوت کی یہ تشریح کرتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفے ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ خواہ وہ نبی مستقل ہو یا ظلی و بروزی۔ لیکن سعید بن وحید نے ختم نبوت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ”کیونکہ اعلان ختم نبوت کا منشاء ہی یہ ہے کہ اسلام اور صرف اسلام ہی دنیا کا واحد دین ہو۔“
(ملی مسائل کا قرآنی حل ص ٦٢)
اس عبارت سے عوام الناس کو آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے کہ بات تو بڑی اچھی لکھی ہے۔ مگر یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی تشریح جو بالکل واضح ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کو چھوڑ کر اس تشریح کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وجہ یہ ہے کہ اس تشریح کی رو سے اگر کوئی مستقل نبوت کا دعویٰ نہ کرے۔ بلکہ ظلی نبی یا بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ کہے کہ اس کا مذہب اسلام ہی ہے تو وہ چونکہ اسلام کو دنیا کا واحد دین مان رہا ہے۔ اس لئے اس کا عقیدہ ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حکومت سے اپیل
ہم سطور بالا میں دیئے گئے حوالجات کی طرف اپنی عوامی حکومت کو توجہ دلاتے ہوئے تمام مسلمانوں کی طرف سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ چونکہ حضور ﷺ کے بعد چن بسویشور مدعی نبوت ہے۔ نیز یوسف موعود اور مامور وقت اور دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مثیل ہونے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے اندر حلول خدا کا مدعی ہے۔ اس لئے چن بسویشور کافر و مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کو نبی یا بزرگ بلکہ مسلمان سمجھنے والے بھی کافر ہیں۔ دیندار انجمن والے جو اپنے کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ان کو اپنا دینی پیشوا مانتے ہیں۔ وہ بھی مرتد ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
جس طرح حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو کافر و مرتد قرار دے کر غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور یہ موجودہ حکومت کا اتنا عظیم کارنامہ ہے کہ وجود پاکستان سے آج تک حکومت پاکستان میں اتنا اہم کارنامہ انجام نہیں پایا۔ اسی طرح دیندار انجمن والوں کو بھی کافر و مرتد قرار دے کر ان کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کرے۔
دراصل یہ قادیانیوں ہی کی ایک شاخ ہے۔ جس کو ہم پیچھے بارہا ثابت کر چکے ہیں۔ مگر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد یہ چالاکی سے اپنے کو قادیانیوں سے الگ ظاہر کر رہے ہیں۔ تا کہ جو حکم قادیانیوں پر ہوا ہے۔ یہ اس سے خارج رہیں۔
٦٧
ہمیں امید ہے کہ حکومت اس معاملہ پر غور کرے گی اور ناموس خاتم النبیین سید المرسلین ﷺ کی حفاظت کرنے کا یہ دوسرا اعزاز حاصل کرے گی۔
عوام سے اپیل
جیسا کہ ہم بارہا بتا چکے ہیں کہ دیندار انجمن والے اور ان کا پیشوا کافر و مرتد ہیں اور یہ اسلام کے لئے زہر قاتل ہیں۔ اس لئے سرکار دو عالم ﷺ کی ناموس مبارک کی حفاظت کی خاطر اس معاملہ میں ہر ممکن کوشش سے گریز نہ کریں۔ اس مسئلہ کو جتنا ہو سکے عام کریں۔ عوام کا کوئی مجمع بلکہ کوئی گھر ایسا نہ چھوڑیں جہاں یہ آواز نہ پہنچے۔ اس سلسلے میں ہر قسم کا تعاون کریں۔ اس کے منتظر نہ رہیں کہ آپ سے کوئی اس کی اپیل کرے۔ ان کے خلاف پمفلٹ اور رسالے وغیرہ چھپوا کر تقسیم کریں۔ تا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے قیامت کے روز یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے کہ: ”تمہارے سامنے میری نبوت بلکہ اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ اس وقت تم کیوں خاموش رہے۔“
دیندار انجمن والوں سے ہمدردانہ گذارش
ہمیں یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اس انجمن میں جہاں بعض بدبخت جان کر اسلام کی جڑیں کاٹنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ وہاں کچھ ایسے سادہ دل بندے بھی ہیں جو محض اسلام کے نام پر ان کی چرب بیانی سے متاثر ہو کر خدمت دین کے لئے اس انجمن میں داخل ہوگئے ہیں۔
ان سطور میں ہم اپنے ان بھائیوں کو ہمدردانہ نصیحت کرتے ہیں کہ خدارا ان کے عقائد اور مکر وفریب کو سمجھیں اور ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ یہ اپنی عاقبت برباد کر چکے ہیں۔ تمہاری بھی عاقبت برباد کرنے کی فکر میں ہیں۔
میرے بھٹکے ہوئے دوستو
کیا اسلام کا وہ طریقہ آپ کے لئے ناکافی ہے۔ جسے سرکار دو عالم ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پیشتر پیش فرمایا تھا۔ جس کو صحابہ کرام، محدثین اور ائمہ عظام نے بحفاظت ہم تک پہنچایا ہے۔ اس کو چھوڑ کر آپ چن بسویشور اور دیندار انجمن کی گود میں آکر پناہ لے رہے ہیں۔ خدارا اپنی جانوں پر رحم کھائیں۔ اب بھی وقت ہے اسلام کی رحمت میں اب بھی آپ کو سایہ مل سکتا
٦٨
ہے۔ اپنی گذری ہوئی خوش فہمیوں سے توبہ کر کے اسلام کے حلقہ کو مضبوط پکڑ لو اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی ارتداد کے اس جال سے نکالنے کی کوشش کرو۔ و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“
رشید احمد عفا اللہ عنہ و عافاہ! ٢٣؍ ربیع الاول ١٣٩٦ھ، مطابق ٢٥؍ مارچ ١٩٧٦ء
زبردست شہادت
کتاب ”بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا“ کی کتابت مکمل ہو چکی تھی۔ اس کے بعد زاہد صدیقی صاحب سابق مبلغ دیندار انجمن کی کتاب ”ہندو اوتار“ کے آخر میں ایک زبردست شہادت نظر سے گزری جو درج ذیل ہے۔ (مؤلف)
”١٧؍ مارچ ١٩٥٧ء کی صبح کو مجھے ایک لفافہ ملا۔ ”بے نقاب“ اور ”یک نہ شد دو شد“ پڑھ کر حیدر آباد دکن کے ایک سابق پولیس افسر نے ”انجمن دینداران کا مسلک“ کے عنوان کے تحت چند نہایت اہم رازوں کا انکشاف کیا ہے۔
صاحب موصوف کے مراسلہ کے مندرجہ ذیل اشارے نہایت اہم اور قابل غور ہیں۔
- ......١ صدیق دیندار چن بسویشور مدراس کے ایک سابق شیعہ خاندان کے فرد،
میسور کے متوطن حیدر آباد کی ریاستی پولیس میں ملازم ہوئے۔ ہیڈ کانسٹیبل ہونے کے بعد کسی جرم کی پاداش میں برطرف کر دیئے گئے۔ دوران ملازمت میں ان کا قیام گلبرگہ شریف (دکن) میں رہا۔ اس کے بعد گذر اوقات کی خاطر پیری مریدی شروع کی اور محلہ آصف نگر حیدر آباد (دکن) میں سکونت پذیر ہوئے۔ لنگایت ہندو فرقے کے اوتار کا ڈھونگ رچایا۔ بھگوت گیتا، رامائن ار مہا بھارت کو الہامی کتابیں ثابت کرنے پر سارا زور صرف کیا۔ مذاہب عالم کانفرنس کے رنگ میں ہر سال اپنے مکان پر جلسے کیا کرتے۔ جہاں قادیانی عقائد کا پرچار ہوتا اور ہر مذہبی مسئلہ کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا۔
- ......٢ صدیق دیندار چن بسویشور صاحب نے کچھ دن بعد اپنے آپ کو ”خاتم
النبیین“ کہنا شروع کر دیا اور میں نے یہ بھی سنا کہ وہ اپنی پیٹھ پر کوئی نشان بتلا کر اسے ”مہر نبوت“ کہتے ہیں۔ ان کے فرقے سے تعلق نہ رکھنے والے صحیح العقیدہ مسلمانوں کو انہوں نے قادیان کے ارباب نبوت کی اتباع میں کافر گردانا۔ ان میں تفرقے ڈالنے کی خاطر سازشیں کیں۔ اپنے مریدین کے ذریعہ ان کو لوٹا۔
٦٩
افزائش نسل اور لونڈیوں کے جواز کے تحت ہر کمزور مخالف کی عورتوں اور لڑکیوں کی عصمت دری کی، بدنام نہاد دینداری اور فقیرانہ لباس کی آڑ میں عیش پرستی کو جاری رکھا۔ مخالفین کے ساتھ اس قسم کی انسانیت سوز و خلاف تہذیب حرکات کا نام ”غزوات اور جہاد فی سبیل اللہ“ رکھا گیا۔
- ٣....... تقسیم ہند اور آزادی ریاست حیدرآباد کے بعد ان کی تباہ کاریوں
و سیاہ کاریاں لا محدود ہو کر رہ گئیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ڈاکہ زنی ہے۔ جس میں صدیق چن بسویشور کے مریدوں نے نواح حیدرآباد محلہ بیگم پیٹھ میں ایک ساہوکار کے گھر دن دھاڑے لوٹ مار مچائی اور ایک تجوری جس میں پانچ لاکھ کی نقدی، زیورات و جواہرات تھے۔ لے کر رفو چکر ہو گئے۔
جب ان کی دیدہ دلیری حد سے تجاوز کر گئی تو انہوں نے ریاست کے ملحقہ علاقوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔ اس سے اس قدر دھوکہ ہوتا کہ غیر مسلم ان کو رضا کاران اتحاد المسلمین سمجھ کر اخبارات میں اسٹیٹ مسلم لیگ کے خلاف زہر افشانی کرتے۔
- ٤....... قاسم رضوی صاحب کے دور سے قبل ہی حکومت وقت نے ان کو نظر بند کر
رکھا تھا۔ کیونکہ ان کی فتنہ سامانی سب پر روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ ان کی زبان بندی کے احکامات مدتوں سے جاری تھے۔ سقوط حیدرآباد کے بعد ان کے مریدین روپوش ہو گئے۔ انہوں نے لباس تک چھوڑ دیا اور آخر کار بھاگ بھاگ کر پاکستان آ رہے ہیں۔
ایک ریاست کو تباہ کر کے اب انہوں نے دوسری سلطنت کو تاکا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ پولیس افسر کے خط کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد زاہد صدیقی صاحب لکھتے ہیں: ”صاحب موصوف کے مراسلے کا آخری جملہ ارباب حکومت کے لئے زبردست آگاہی و انتباہ ہے۔ میں پھر عرض کروں گا کہ حیدرآباد دکن کے ذمہ دار مہاجرین سے دیندار انجمن اور اس کی ہلاکت آفرینیوں کا ریکارڈ حکومت ضرور طلب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری حکومت خارجی فتنوں کے کچلنے میں لگی ہو اور یہ اندرون ملک شورش برپا کر دیں۔“
وما علينا الا البلاغ
رشید احمد عفا اللہ عنہ وعافاہ ١٩؍ جمادی الثانیہ ١٣٩٦ھ
٧٠
کے جواز کے تحت ہر کمزور مخالف کی عورتوں اور لڑکیوں کی لوٹ فقیرانہ لباس کی آڑ میں عیش پرستی کو جاری رکھا۔ کی انسانیت سوز وخلاف تہذیب حرکات کا نام ”غزوات اور
اور آزادی ریاست حیدر آباد کے بعد ان کی تباہ کاریوں میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ڈاکہ زنی ہے۔ جس میں نے نواح حیدر آباد محلہ بیگم پیٹھ میں ایک ساہوکار کے گھر چوری جس میں پانچ لاکھ کی نقدی، زیورات و جواہرات
سے تجاوز کر گئی تو انہوں نے ریاست کے ملحقہ علاقوں میں اور دھوکہ ہوتا کہ غیر مسلم ان کو رضا کارانِ اتحاد المسلمین سمجھ کر خلاف زہر افشانی کرتے۔ صاحب کے دور سے قبل ہی حکومت وقت نے ان کو نظر بند کر روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ ان کی زبان بندی کے حیدر آباد کے بعد ان کے مریدین روپوش ہو گئے۔ انہوں بھی بھاگ کر پاکستان آ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے دوسری سلطنت کو تا کا ہے۔ اللہ تعالی سب کو خبر کے خط کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد زاہد صدیقی صاحب کے مراسلے کا آخری جملہ ارباب حکومت کے لئے کر عرض کروں گا کہ حیدر آباد دکن کے ذمہ دار مہاجرین سے ان کا ریکارڈ حکومت ضرور طلب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری اور یہ اندرون ملک شورش برپا کر دیں ۔“
عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ
رشید احمد عفا اللہ عنہ وعافاہ ١٩ / جمادی الثانیہ ١٣٩٦ھ
٧٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مسلمانوں
کی تکفیر
جناب سعید قریشی
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
قارئین کرام! حوالہ جات مرزا غلام احمد زندیق بانی جماعت احمدیہ کی خود تحریر کردہ کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں۔ آپ سے مخلصانہ درخواست ہے کہ آپ ان حوالہ جات کو توجہ سے پڑھیں ۔ اگر آپ غور فرمائیں گے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ یہ سیاسی گروہ مسلمانوں کو فریب اور دھوکے دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اب ہم نے دیکھنا ہے کہ انگریز نے اس سیاسی گروہ کو کیوں جنم دیا؟ وہ ان سے کیا خدمات حاصل کرنا چاہتا تھا ؟ اس میں بات یہ ہے کہ اسلام میں جس قدر اتحاد اور اخوت کی تعلیم ہے۔ دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انگریز سمجھ گیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کیا جائے گا۔ تب تک وہ مسلمان پر زیادہ عرصہ تک اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے اس کو ایسے شخص کی ضرورت پیش آئی جو اس کے سیاسی اغراض کو بروئے کار لا سکے۔ آخر کار پنجاب کی زرخیز سرزمین سے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھا اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو! خدا کے قرآن میں جس نبی سابق کے آنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ میں ہوں اور مجھ پر ایمان لاؤ اور میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ اور اگر نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے روز نہیں بخشے گا اور تم جہنم میں جاؤ گے۔
اور اس طرح مرزا قادیانی کاذب نے تمام عالم کے مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قرار دے دیا۔ جہاد جیسے اہم فریضہ کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے کا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کے سب مسائل اور اصول بدنام کرنے والے ہیں ۔ مرزا قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دے کر قرآن کریم سب سے بڑا اہم ترین اور اسلام کے روح پرور ایمان افروز مسئلہ کو منسوخ کر دیا۔ تاکہ فرنگی اور کفار جہاد کے نام ہی سے لرزتے تھے خوش ہو کر مرزا قادیانی اور اس کی امت پر اپنی نوازشات کی بارش کرتے رہیں اور ملت اسلامیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پھیلائی ہوئی گمراہی میں پھنس کر جہاد جیسے اہم فرض کو خیر باد کہہ دے اور پھر زندہ قوموں میں شمار نہ ہو سکے اور انگریزی حکومت قائم و دائم رہے۔ تاکہ مسیلمہ کذاب کا جانشین سادہ لوح انسان کی وحدت کا شکار رہے۔
٢
چونکہ اس سیاسی گروہ کو انگریز نے بیشمار فوائد سے نوازا ہے۔ اس لئے انگریز کی اطاعت اور جاسوسی اس قوم یعنی قادیانی کے مذہب میں شامل ہے۔ انگریز کی خدمت کا جذبہ بھی ان کی رگ میں سمایا ہوا ہے۔ (خود مرزا غلام احمد زندیق نے (ستارہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤) میں لکھا ہے۔ ”مجھ سے (مرزا قادیانی سے) سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل واشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے اسلامیہ ممالک میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی مخلص ہے۔ اس لئے مسلمان کا فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے) اور اب بھی فرقہ قادیانی کے امام مرزا بشیر الدین اور چوہدری سر ظفر اللہ اس پروگرام میں مصروف عمل ہیں۔ تاکہ مرزا بشیر امام جماعت احمدیہ کا الہام سچا ثابت ہوسکے۔ جو انہوں نے اپنی علم و عرفان کی محفل میں اپنا رویا یعنی الہام کو بیان کر رہا تھا کہ: ”اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ ہندوستان اکھنڈ رہے اور اگر خدا نخواستہ تقسیم ہوگئی تو یہ عارضی ہوگی۔“ چنانچہ پاکستان کے اعلان کے پندرہ دن پہلے مرزا بشیر یہ کہتا ہے کہ ہم اصول تقسیم کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس لئے ہم تقسیم کو مجبوراً قبول کر رہے ہیں۔ بہر حال ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور ہندوستان کو پھر ایک کردیں۔
(الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ٨١، مورخہ ٥؍اپریل ١٩٤٧ء)
حضرات! اب آپ سے دوسری گذارش یہ ہے کہ اگر آپ اس ٹریکٹ کے پڑھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ واقعی یہ قوم ایسی ہے کہ اس کی موجودگی ملت اسلامیہ کے لئے مضر ہے تو آپ کا فرض ہے کہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو ان سے خبردار کریں اور اس قوم کو اقلیت قرار دلوانے میں ہمارا ہاتھ بٹائیں اور اس مطالبہ کی خود بھی حمایت کریں اور دوسروں کی بھی اس کی حمایت کرنے کی تبلیغ کریں۔ تاکہ حضرت علامہ اقبالؒ کی روح کو ثواب پہنچایا جائے۔ جنہوں نے سب سے پہلے ١٩٣٢ء میں کہا کہ قومیں چونکہ نبوت سے بنتی ہیں اور احمدیوں نے اپنا نبی الگ بنالیا ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دے۔
نوٹ: مرزائی حضرات سے میری گذارش ہے کہ وہ اس کو ہر قسم کے تعصب سے بالا
٣
ہوکر پڑھیں اور مجھے امید ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ مسیلمہ کذاب کا جانشین جو اپنے آپ کو خدا، محمد، احمد، عیسیٰ، موسیٰ اور کرشن وغیرہ لکھتا ہے۔ وہ نبی تو کیا ایک ادنیٰ شریف انسان بھی نہیں ثابت ہو سکتا۔
سعید قریشی!
قادیانی نبی
ہمچوں قرآں منزہ اش دانم از خطاہا ہمین ست ایمانم
انبیا گرچہ بودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمترم زکسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام رامرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(درثمین ص ٢٨٧)
ہر رسول نہاں بہ پیرہنم
(اخبار الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٦٥، مورخہ ١٨؍ فروری ١٩٣٠ء)
’’اے عزیزو! تم نے وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (یعنی مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
’’(ملک عبدالرحمٰن) خادم صاحب (مرزا قادیانی) نے حضرت مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب سے چالیس حوالے پڑھ کر سنائے۔ جن میں حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا اور نبوت کا غیر مشروط دعویٰ کیا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٤ نمبر ١٢٣، مورخہ ٢١؍ نومبر ١٩٣٦ء)
’’خدا تعالیٰ نے ’’جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء‘‘ (یہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ للمؤلف) تمام نبیوں کے قائم مقام ایک مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے
٤
لئے عیسیٰ، ہندوؤں کے لئے کرشن، مسلمانوں کے لئے محمد و احمد ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ١١١ مورخہ ٦؍ مئی ١٩١٦ء)
’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں (یعنی ہندوؤں کو) دیا گیا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔‘‘
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٣ نمبر ١ ص ٤١، منقول از رسالہ تبدیلی عقائد ص ٣٦)
’’ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ....... ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح نمبر ٣٥ مورخہ ٧؍ ستمبر ١٩١٣ء، اخبار الفضل قادیان ج ٨ نمبر ٣٥ مورخہ ١٤؍ اکتوبر ١٩٢٠ء)
رسول عربی احمد نہیں بلکہ مرزا زندیق، احمد ہے؟
’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد مرقوم الصدر الفاظ میں مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیش گوئی کی ہے کہ میں ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد ہوگا۔ اس کا نام احمد ہے۔ پیش گوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتلایا گیا ہے۔ جس کا مصداق آنحضرت (محمد رسول اللہﷺ) اس لئے نہیں ہو سکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نام نامی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ (قادیانی مغالطہ ملاحظہ ہو۔ للمؤلف) ہاں محمدؐ آپ کا اسم گرامی ضرور ہے۔ جیسا کہ آپ قبل از دعوت نبوت محمد ہی کے نام سے مشہور تھے اور ایسا ہی قرآنی وحی میں بھی آپ کو بار بار محمد ہی کے نام سے یاد فرمایا گیا ہے اور توریت میں بھی آپ کی پیش گوئی میں آپ کا نام محمد ہی بتلایا گیا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٢٥ مورخہ ١٩؍ اگست ١٩١٨ء)
٥
”اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یونہی نہیں کر دیا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین) نے بھی یہی فرمایا ہے کہ (مرزا غلام احمد قادیانی) صاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درسوں کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت ”اسمہ احمد“ کے مصداق حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ہی ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٢١)
تمام عالم اسلام کے مسلمان مرزا غلام احمد
مسیلمہ کذاب کے جانشین کو نبی نہ ماننے والے کافر اور جہنمی ہیں؟
”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٣٥ء)
”مجھے الہام ہوا جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، تبلیغ رسالت ج نہم ص ٢٧)
”آپ نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔ مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل سے سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ بلکہ بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر ٹھہرایا ہے۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء، منقول از عقائد احمدیہ ص ١٠٨)
”ایک شخص نے خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نور الدین) سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ١١ ص ٤٢، بابت ماہ نومبر ١٩١٣ء، مندرجہ اخبار بدر ج ١٢ نمبر ٢ مورخہ ١١؍ جولائی ١٩١٣ء)
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل
٦
نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
”پس اس آیت کے ماتحت ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو تو مانتا ہے پر حضرت مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے ”اولئک ھم الکافرون حقاً“ فرمایا ہے۔“
(کلمتہ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١١٠)
”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ (یہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ للمؤلف) سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت احمد (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ایک عظیم الشان نبی اللہ ہیں اور ان کا انکار موجب غضب الٰہی اور کفر ہے۔“
(موسوم النبوۃ فی الالہام ص ١٠)
خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود کا (مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے الہام میں احمد نام رکھا ہے۔ اس لئے آپ کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ احمد کے منکر کے لئے قرآن مجید میں لکھا ہے۔ ”واللّٰہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون“
(کلمتہ الفصل مندرجہ رسالہ ریویونمبر ٣ ج ١٤ ص ١٣١)
چوہدری سر ظفر اللہ خان کی نظر میں عالم اسلام کے مسلمان
”چوہدری (یعنی سر ظفر اللہ خان قادیانی) کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار دینا غلطی ہے۔ باقی غیر احمدی (یعنی مسلمان) کافر ہیں یا نہیں اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائیکورٹ میں بھی چوہدری ظفر اللہ نے اس کی تائید کی۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٢١، مورخہ ١٤ستمبر ١٩٢٢ء)
مفتی کا فتویٰ
(اخبار بدر پرچہ مورخہ ٩؍مارچ ١٩٠٦ء) میں ملک مولا بخش آف گودالی نے یہ سوال کیا کہ کیا
٧
حضرت مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر ماننا چاہئے ۔ حضرت مفتی (محمد صادق) قادیانی یہ جواب لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا شرائط اسلامی میں داخل ہے۔ ایک شخص آدم سے لے کر نبی کریم ﷺ تک سب پر ایمان لاتا ہے۔ درمیان میں سے ایک رسول کو (بالفرض مسیح ابن مریم ہی کو سہی) نہیں مانتا۔ کہتا ہے وہ تو کافر تھا۔ بتلاؤ وہ شخص یہودی کہلائے گا یا مسلمان ۔ حضرت مرزا قادیانی بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔ جو خدا کے رسولوں میں سے ایک رسول کا انکار کرتا ہے اس کا کیا حشر ہوگا۔ آپ ہی بتلائیے مگر انصاف شرط ہے۔“
(مولوی محمد علی کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص ١٤٣)
مسلمانوں کو دھوکا
قادیانی اپنی تحریر میں تقریر میں بالعموم مسلمانوں کو مسلمان کہتے ہیں تو مسلمان سمجھتے ہیں کہ قادیانی درحقیقت ان کو مسلمان مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آئی کہ زبان پر کچھ ہے دل میں کچھ۔ لفظ کچھ ہے اور معنی کچھ۔ چنانچہ لفظ مسلمان کی قادیانی تفسیر سنئے اور بیداد کی داد دیجئے ۔
مسلماں را مسلماں باز کردند
اس الہامی شعر میں (یہ مرزا قادیانی کا شعر ہے۔ للمؤلف) اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے گا۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل سکتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر سے مسلمان کیا جائے۔“
(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٢٣)
ختم شد !
٨
فرمانا چاہئے۔ حضرت مفتی (محمد صادق) پر ایمان لانا شرائط اسلامی میں داخل ہے۔ مان لاتا ہے۔ درمیان میں سے ایک رسول کو تو کافر تھا۔ بتلاؤ وہ شخص یہودی کہلائے گا یا وں میں سے ایک رسول ہیں۔ جو خدا کے حشر ہوگا۔ آپ ہی بتلائیے مگر انصاف شرط
(نی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص١٤٣)
نوں کو مسلمان کہتے ہیں تو مسلمان سمجھتے ہیں ں کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ آئی کہ ۔ چنانچہ لفظ مسلمان کی قادیانی تفسیر سنئے اور
باز کردند
ہر ہے۔ للمؤلف) اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر ی خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے ں لئے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے ے گا۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل سکتا کہ کون مراد ب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ
(لفصل مندرجہ رسالہ ریویو ج١٤ نمبر٣ ص١٣٢)
د !
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
عقائد قادیانی منظوم
مولانا مشتاق احمد چرتھاولی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مقدمہ
مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں علمائے اسلام نے قابل آفرین جدوجہد سے مکائد مرزائیہ کی قلعی کھول کر مسلمانوں کو اس بڑی مصیبت سے نجات دلائی تھی۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد مرزائیوں نے مختلف جماعتوں میں ہو کر اس قدر شور و شر پھیلایا کہ علماء کو از سرنو ان کی سرکوبی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
خصوصاً محمد علی ایم اے اور کمال الدین لاہوری نے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تاویل کر کے قوم کی بدگمانی دور کرنے اور اشاعت مرزائیت کے لئے خود مسلمانوں ہی سے امداد حاصل کرنے میں ایسی چالاکی و ابلہ فریبی سے کام لیا کہ علماء کی مشکلات میں چند در چند اضافہ ہو گیا۔ مگر خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ علماء ربانی نے اس چالاک جماعت کی مکاریوں کا راز فاش کرنے میں بھی پوری مستعدی سے کام لیا اور مرزائی دعویٰ نبوت سے تاویلوں کا پردہ اٹھا کر لاہوری مرزائیوں کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا اور دراصل اس چالاک جماعت کی تردید میں یہ طریقہ نہایت مؤثر ثابت ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل دعوؤں کو بیان کر کے تمام مرزائیوں کا کفر مسلمانوں پر ظاہر کر دیا جائے۔
اسی لئے خاکسار نے بھی بحیثیت ایک ادنیٰ خادم اسلام ہونے کے مرزائی عقائد کو سلیس اُردو میں نظم کر دیا ہے تاکہ معمولی سمجھ کا مسلمان بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب اور اس کے تمام مریدوں کو مرتد و خارج از اسلام یقین کرنے میں تامل نہ کرے اور اس چالاک جماعت کے فتنہ سے محفوظ رہے۔ واللہ الہادی!
مندرجہ ذیل کتابوں سے قادیانی عقائد نقل کئے گئے ہیں حقیقت الوحی، ازالۃ اوہام، اعجاز احمدی، دافع البلاء، نزول المسیح، اربعین نمبر ٣،٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، مکتوبات احمدیہ، کتاب البریہ، البشریٰ، آئینہ کمالات اسلام، کرامات الصادقین، منارۃ المسیح، اعجاز المسیح، اخبار بدر، مارچ ١٩٠٠ء۔
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مقدمہ
ہوگی میں علمائے اسلام نے قابل آفرین جدوجہد سے مکائد ہوئی مصیبت سے نجات دلائی تھی۔ لیکن اس کے مرنے کے ہو کر اس قدر شور و شر پھیلایا کہ علماء کو از سر نو ان کی سرکوبی کی
کمال الدین لاہوری نے مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت کی اور اشاعت مرزائیت کے لئے خود مسلمانوں ہی سے امداد ہی سے کام لیا کہ علماء کی مشکلات میں چند در چند اضافہ کہ علماء ربانی نے اس چالاک جماعت کی مکاریوں کا راز کام لیا اور مرزائی دعویٰ نبوت سے تاویلوں کا پردہ اٹھا کر بکھیر دیا اور دراصل اس چالاک جماعت کی تردید میں یہ غلام احمد قادیانی کے باطل دعوؤں کو بیان کر کے تمام ئے۔
حیثیت ایک ادنیٰ خادم اسلام ہونے کے مرزائی عقائد کو مجھ سا مسلمان بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب اور اس یقین کرنے میں تأمل نہ کرے اور اس چالاک جماعت
عقائد نقل کئے گئے ہیں الہدی، دافع البلاء، نزول المسیح، اربعین نمبر ٣، ٤، ضمیمہ ہدیٰ، آئینہ کمالات اسلام، کرامات الصادقین، منارۃ
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
عقائد قادیانی منظوم
یہ ہر سمت کیسی پڑی کھلبلی ہے کہ ہر فرد کو قوم کے بےکلی ہے
نہ ہے چین دن کو نہ شب کو ہے آرام پریشان رہتے ہیں اب اہل اسلام
ہدایت نے دنیا سے باندھا ہے بستر کھلے جابجا ہیں ضلالت کے دفتر
بنایا ہے اب اہل مطلب کو لیڈر جو ہیں راہزن ان کو سمجھا ہے رہبر
قیامت کے سارے کھلے ہیں یہ آثار ہے اب اہل اسلام کو جینا دشوار
عقائد میں پھیلی ہوئی ابتری ہے کوئی اہل قرآں کوئی نیچری ہے
سلف سے انہیں دعویٰ ہمسری ہے نئی بات کہنے میں ہر اک جری ہے
نہ کچھ حق و باطل کا معیار ہے اب ہر اک اپنے مذہب کا مختار ہے اب
مٹی شرم وغیرت ہوا دین برباد جسے دیکھئے ہے وہ مذہب سے آزاد
خودی کا سبق ایسا ازبر کیا یاد کہ بن بیٹھے ہیں آپ ہی اپنے استاد
سمائی دماغوں میں مادہ پرستی زمانہ میں پھیلی نئی روشنی ہے
ہوا ان کے نزدیک قرآن بیکار پرانی ہوئیں سب احادیث واخبار
ہے فتنہ کا اب ہر طرف گرم بازار نئے دین کے سب ہوئے ہیں خریدار
یہی ہے تمنا یہی آرزو ہے نئے دین کی رات دن جستجو ہے
ہے ایک فرقہ پنجاب میں قادیانی سنو اب ذرا مجھ سے اس کی کہانی
ہے مرزا قادیانی اس جماعت کا بانی ضلالت میں جس کا نہیں کوئی ثانی
رکھا کفر کا نام اسلام اس نے کیا قوم کو خوب بدنام اس نے
مشیئت سے پہلے مجدد بنا وہ کچھ ایام گزرے تو مہدی ہوا وہ
مسیحا پھر اپنے کو کہنے لگا وہ غرض جو چلا چال انوکھی چلا وہ
نیا دین تھا اس کا مذہب جدید تھا نہ تھی شرم اس کو نہ خوف خدا تھا
٣
تھا ملعون دنیا کا عقبیٰ کا مردود غرض سارے اوصاف تھے اس میں موجود
کہوں کیا میں تم سے کہ کیا کیا بنا وہ تھا بندہ خدا کا خدا بن گیا وہ
کبھی ابن مریم سے خود کو بڑھایا کبھی سارے نبیوں سے افضل بتایا
عجب خبط تھا اس کے دل میں سمایا سماں جیسا دیکھا وہی راگ گایا
نیا رخ ہمیشہ بدلتا رہا وہ نئی سے نئی چال چلتا رہا وہ
بچھایا عجب مکر کا جال اس نے کیا دین احمد کو پامال اس نے
کی تجدید دعویٰ کی ہر سال اس نے بنایا برا قوم کا حال اس نے
نہ تھا خوف عقبیٰ کے سود و زیاں کا فقط دھن تھی یہ ہو نبی قادیان کا
لکھا کہ تھے عیسیٰ کے ناپاک اطوار تھی ماں اور نانی بھی اس کی زنا کار
شرارت میں مرزا سے شیطاں گیا ہار مگر یہ نہ ہرگز ہوا اس سے بیزار
نبی پر یہ تہمت غضب ہے خدا کا مزہ خوب چکھے گا اس کی سزا کا
بڑا بے ادب ہے بہت بے حیا ہے ہر ایک بات اس کی سلف سے جدا ہے
بھلا ایسی جرأت کی کیا انتہاء ہے؟ حقیقت میں یہ صاف دعویٰ کیا ہے
کہ جو جام ہر اک نبی کو ملا تھا خدا نے وہ پورا مجھے دے دیا تھا
کہا جتنے گزرے ہیں پیر و پیمبر امام و ولی پیشوا اور رہبر
ہوئے گدلے ان سب کے پانی سراسر کبھی میرا چشمہ نہ ہو گا مکدر
مجدد نبی برگزیدہ ہوں مرسل بنایا خدا نے مجھے سب سے افضل
مرا رتبہ ہے سب سے بالا و برتر میں ہوں سارے نبیوں کا سالار و افسر
کئی تخت اترے سما سے زمیں پر مرا تخت لیکن بچھا سب سے اوپر
میں ختم الرسل اشرف الانبیاء ہوں مرے نور سے سب میں نور خدا ہوں
میں ہوں باعث خلق و ایجاد عالم بدولت مرے ہوئی تخلیق آدم
جہاں میں جو موجود ہے خشک اور نم زمیں آسمان اور عرش معظم
مرے ہی سبب سے یہ پیدا ہوئے ہیں مکین و مکاں سب ہویدا ہوئے ہیں
دنیا میں جتنے شجر اور حجر ہیں گل و خار جو کچھ کہ پیش نظر ہیں
٤
اگر میں نہ ہوتا خدائی نہ ہوتی خدا کی یہ جادہ نمائی نہ ہوتی
مری ذات پر امر کن کا کھلا راز مجھی سے ہے ہر شے کا انجام و آغاز
خدا کی میں ہر آن سنتا ہوں آواز ہے مرے سے ہر کام کا ساز و پرداز
ارادہ مرا ہے خدا کا ارادہ ہے سب علم میں میرے کم اور زیادہ
خدا نے مجھے بیٹا کہہ کر پکارا برابر کا ساجھی پھر اپنا بنایا
یقین جان اس میں نہیں شک ہے اصلاً جو منکر ہے میرا وہ منکر خدا کا
خدا بھی ہوں میں اور ابن خدا بھی ہمیشہ ہوں پیوستہ اس سے جدا بھی
کہا اس نے اک دن ہوا مجھ پر الہام خدا کی طرف سے کہ اے نیک انجام
مبارک ہو تجھ کو ہمارا یہ پیغام تو ہے مجھ سے میں تجھ سے پاتا ہوں آرام
احد اور صمد میں ہوں توحید تو ہے میں فرد و یگانہ ہوں تفرید تو ہے
بڑھی اس کی آخر یہاں تک دلیری کہی بات وہ جو نہ ہم نے سنی تھی
ہے ہر شے تو تسبیح کرتی خدا کی خدا عرش پر حمد کرتا ہے میری
جہاں کے لئے میں سراپا ہوں رحمت تمام انبیاء نے دی میری بشارت
جو القاب خیر الوریٰ کے تھے شایاں کئے اسنے سب ذات پر اپنی چسپاں
نہ پاس ادب تھا نہ کچھ پاس ایمان یہ طالب تھا شہرت کا اور بندۂ نان
بکے سخت الفاظ حضرت کی شاں میں نہ گستاخ ایسا ہوا ہے جہاں میں
کہا کافروں نے رسول خدا سے کہ دعوٰی میں اپنے اگر تم ہو سچے
دکھاؤ ہمیں چاند کے ٹکڑے کر کے تو ہم تابع ہو جائیں گے سب تمہارے
تمہاری رسالت کا یہ امتحان ہے نہیں اس میں گنجائش ایں و آں ہے
کیا انگلی کا جب نبی نے اشارہ طرف چاند کے ہو گیا وہ دو پارہ
جو قدر خدا کی ہوئی آشکارا تو کفار نے اس کو جادو بتایا
اسی معجزے کا ہے شق القمر نام جسے دل سے ہیں مانتے اہل اسلام
سنو اب کہ مرزا کی بکواس کیا ہے؟ کھلے معجزے کو وہ کیا لکھ رہا ہے؟
گہن تھا نہیں چاند ہرگز پھٹا ہے قصیدہ میں یہ صاف بتلا دیا ہے
٥
گھٹاتا ہے رتبہ یہ خیر البشر کا
کہا یہ کہ اس کے لئے کیا ہوا تھا؟
فقط چاند ہی کو گہن لگ گیا تھا
مگر مجھ پہ دو چند ہے فضل رب کا
ہوئے دو گہن چاند و سورج کے پیدا
نبوت کا میری ہوا صاف اظہار
کیا اب بھی باقی تمہیں عذر و انکار؟
ہوئی تھی جو معراج حضرت کو اک شب
معہ جسم اطہر گئے تھے سوئے رب
ملا تھا نہ پہلے کسی کو جو منصب
تھے اس کے لئے آپ اولیٰ و انسب
احادیث و قرآں میں یہ سب عیاں ہے
ہر اک واقعہ کا مفصل بیاں ہے
مگر بکتا ہے مرزا بد طبیعت
شب و روز اس پر خدا کی ہو لعنت
تھی معراج کیا کشف تھا درحقیقت
ہوئے ہیں مجھے کشف ایسے بکثرت
میں اس کشف میں صاحب تجربہ ہوں
یہ ہے آپ بیتی جو میں کہہ رہا ہوں
ہے اللہ کی مجھ پر ہر دم عنایت
نوازش کی اس کی نہیں حد و غایت
اترتی ہے وحی اس کی ہر ایک ساعت
نہیں ہے احادیث کی مجھ کو حاجت
میں بے مثل و زندہ سے لیتا ہوں امداد
روایت سے مردوں کی تم سب ہو دلشاد
جو آتی ہے وحی خدا مجھ پہ ہر آں
وہ ہے مثل توریت و انجیل و قرآں
یقیں ہے مرا اس پہ اور ہے یہ ایماں
کہ اصلاً نہیں کذب کا اس میں امکاں
ہے ترک احادیث آساں و لیکن
یقیں کو میں چھوڑوں نہیں ہے یہ ممکن
احادیث کا ہے جو موجود انبار
ہے دراصل کذب و بناوٹ کا طومار
رطب اور یابس کی ہے اس میں بھرمار
سمجھتا ہوں میں اس ذخیرے کو بیکار
ہو بیواسطہ مجھ پہ جب حق کا الہام
تو جھوٹی حدیثوں سے کیا پھر مجھے کام؟
میں آیا ہوں بن کر حَکَم اور مامور
نہیں ہوں حدیثوں کے لینے پہ مجبور
خصوصاً جو ہو مدعا سے مرے دور
کسی طرح مجھ کو نہیں ہے وہ منظور
حدیثوں کے لینے میں مختار ہوں میں
جسے چاہوں پھینکوں جسے چاہوں لوں میں
دکھائی پھر اس نے یہ اپنی سفاہت
غلام ہو کے آقا پے دی یوں فضیلت
کہ جن جھگڑوں کی ہے سچی روایت
صحابہ نے بھی دی ہو ان کی شہادت
حدیثوں میں وہ صرف سی صد عیاں ہیں
ولیکن مرے پاس سہ لکھ نشان ہیں
٦
چلے گا زمیں کا وہ کیا جانور
غرض آج تک تھے یہ الفا
صحابی جو تھے ابن مسعود
کشادہ بنایا تھا ایسا
غبی اس کے نزدیک تھے
سنو اس سے بھی طرفہ تر
مچایا تھا دنیا میں جس نے
جو کچھ بھید کھلنے سے باقی
کہا پیدا ہو گا میرے اہل
ولادت سے اس کی جہاں ہو
بشیر عمانوائیل ہے نام
وہ ہے پیاری اور موٹی
وہ اوصاف میں اپنے
بہت جلد نشو و نما پا
زمیں کے کناروں میں
وہ سب ظلمتوں کے لئے
اسے دیکھ کر بول اٹھیں گے
فیوض اس کے ہر چار سمت ہوں
اسیروں کو مل جائے گی
وہ باعظمت و شوکت ہو
ہوا جب وہ مولود
روانہ کئے تار و خط اس
کیا تھا بڑی دھوم سے
مگر ایسی لڑکے نے کی
ہوا تھا؟ فقط چاند ہی کو گہن لگ گیا تھا
رب کا ہوئے دو گہن چاند و سورج کے پیدا
اظہار کیا اب بھی باقی تمہیں عذر و انکار؟
ل شب مہِ جسم اطہر گئے تھے سوئے رب
منصب تھے اس کے لئے آپ اولیٰ و انسب
یاں ہے ہر اک واقعہ کا مفصل بیاں ہے
طبیعت شب و روز اس پر خدا کی ہو لعنت
حقیقت ہوئے ہیں مجھے کشف ایسے بکثرت
ا پر ہوں یہ ہے آپ بیتی جو میں کہہ رہا ہوں
عنایت نوازش کی اس کی نہیں حدو غایت
ساعت نہیں ہے احادیث کی مجھ کو حاجت
یں امداد روایت سے مردوں کی تم سب ہو دلشاد
برآں وہ ہے مثل توریت وانجیل و قرآں
ایماں کہ اصلاً نہیں کذب کا اس میں امکاں
ولیکن یقیں کو میں چھوڑوں نہیں ہے یہ ممکن
اخبار ہے دراصل کذب وبناوٹ کا طومار
ا بھرمار سمجھتا ہوں میں اس ذخیرے کو بیکار
الہام تو جھوٹی حدیثوں سے کیا پھر مجھے کام؟
ا مامور نہیں ہوں حدیثوں کے لینے پہ مجبور
کا دور کسی طرح مجھ کو نہیں ہے وہ منظور
وں میں جسے چاہوں پھینکوں جسے چاہوں لوں میں
امت غلام ہو کے آقا پے دی یوں فضیلت
قیمت صحابہ نے بھی دی ہو ان کی شہادت
ہیں ولیکن مرے پاس سہ لکھ نشان ہیں
٦
چلے گا زمیں کا وہ کیا جانور چال؟ نہ واضح کیا یہ رہا اس میں اجمال
غرض آج تک تھے یہ الفاظ مجمل حقیقت کھلی ان کی مجھ پر مفصل
صحابی جو تھے ابن مسعود ذیشاں بتایا انہیں ایک معمولی انساں
کشادہ بنایا تھا ایسا گریباں کہ رکھتا تھا وہ سوسین اس میں پنہاں
غبی اس کے نزدیک تھے بوجریرہ ہے جن کی روایت کا دنیا میں شہرہ
سنو اس سے بھی طرفہ تر ماجرا تم کہ سننے سے جس کے ہو عقل وخرد گم
مچایا تھا دنیا میں جس نے تلاطم ہلا تھا جہاں جس سے تاچرخ ہشتم
جو کچھ بھید کھلنے سے باقی رہا تھا وہ اس واقعہ نے عیاں کر دیا تھا
کہا پیدا ہو گا میرے ایک فرزند جو ہوگا ذہین و ذکی و خرد مند
ولادت سے اس کی جہاں ہوگا خورسند کرے گا وہ رنج ومصیبت کے دربند
بشیر عمانوائیل ہے نام اس کا بہت ہوگا دنیا میں اکرام اس کا
وہ ہے پیاری اور موہنی شکل والا کہ ہے نور کے گویا سانچے میں ڈھالا
وہ اوصاف میں اپنے ہو گا نرالا زمانہ میں پھیلے گا اس سے اجالا
بہت جلد نشو و نما پائے گا وہ عجیب شان دنیا کا دکھلائے گا وہ
زمیں کے کناروں میں مشہور ہوگا جہاں فیض سے اس کے معمور ہوگا
وہ سب ظلمتوں کے لئے نور ہوگا وہ علم اور حکمت سے بھرپور ہوگا
اسے دیکھ کر بول اٹھو گے زباں سے کہ گویا ہے اترا خدا آسماں سے
فیوض اس کے ہر چارسمت ہوں گے جاری کٹھن مشکلیں ہوں گی آسان ساری
اسیروں کو مل جائے گی رستگاری کرے گا غریبوں کی وہ دستیاری
وہ باعظمت و شوکت و جاہ ہو گا وہ شاہانِ عالم کا بھی شاہ ہوگا
ہوا جب وہ مولود موعود پیدا مریدوں کو مرزا نے مژدہ سنایا
روانہ کئے تار وخط اس نے ہر جا کیا آن کی آن میں خوب چرچا
کیا تھا بڑی دھوم سے یہ عقیقہ نہ رکھا تکلف میں باقی دقیقہ
مگر اسی لڑکے نے کی بے وفائی دیا جلد مرزا کو داغِ جدائی
٧
نہ ہاتھ آیا مرزا کو جز رنج و حسرت ملی خاک میں اس کی ساری نبوت
مرا نظم لکھنے سے یہ مدعا تھا کہ دجال جو قادیان میں ہوا تھا
غضب آہ! ظالم نے کیسا کیا تھا؟ کہ حضرت محمدؐ سے افضل بنا تھا
میں سب مکر و فن اس کے تم کو بتاؤں جو چالیں چلی ہیں وہ سب کہہ سناؤں
ہوا مختصر حال اس کا بیاں سب سنائی تمہیں کفر کی داستاں سب
یہ مشتے نمونہ ہے ورنہ کہاں سب سمائے نہ دفتر میں گر ہو بیاں سب
بکی عمر بھر ایسی بکواس اس نے کہ دین کا کیا ستیاناس اس نے
لگاتا تھا مسلم کے ہر آن وہ نیش کبھی دیکھتا ہی نہ تھا کچھ پس و پیش
بچا کوئی عالم نہ صوفی نہ درویش کہ مرزا نے اس کا کیا ہو نہ دل ریش
بہت عالموں کا دل اس نے دکھایا بہت پیشوایان دیں کو ستایا
محمدؐ ہیں سچے نبی اور مرسل ہوا ہے نہ ہوگا کوئی ان سے افضل
جو ہم رتبہ ان کا بنے کوئی اجہل نہایت کمینہ ہے وہ اور ارذل
میں ایسے کمینہ سے رکھتا ہوں نفرت ہمیشہ کیا کرتا ہوں اس پر لعنت
ذرا آپ انصاف کیجئے خدارا نبیؐ کی ہو توہین کیسے گوارا؟
ہے ان کی شفاعت کو ہم کو سہارا اگر وہ راضی باشد غمی نیست مارا
کیا ہو گا دل جس نے حضرت کا ناشاد کرے گا خدا اس کو عقبیٰ میں برباد
نبی کی رضا کا طلب گار ہوں میں دل و جان سے اس کا خریدار ہوں میں
شراب محبت سے سرشار ہوں میں جو ہو بے ادب اس سے بیزار ہوں میں
ہے عشق محمد مرے دل میں بے حد سراپا بنا ہوں میں مشتاق احمد
جو احباب ہیں کل اصاغر اکابر مرا حال ان پر ہے ظاہر و باہر
کہ شعر و سخن میں نہیں ہوں میں ماہر نہ منشی ہوں اور نہ کوئی شاعر
نہ عالم نہ فاضل نہ پیر و ولی ہوں میں اک طالب علم چرتھا ولی ہوں
ختم شد!
٨
ملی خاک میں اس کی ساری نبوت
کہ دجال جو قادیان میں ہوا تھا
کہ حضرت محمدؐ سے افضل بنا تھا
جو چالیں چلی ہیں وہ سب کہہ سناؤں
سنائی تمہیں کفر کی داستاں سب
سمائے نہ دفتر میں گر ہو بیاں سب
کہ دین کا کیا ستیاناس اسنے
کبھی دیکھتا ہی نہ تھا کچھ پس و پیش
کہ مرزا نے اس کا کیا ہو نہ دل ریش
بہت پیشوایان دیں کو ستایا
ہوا ہے نہ ہوگا کوئی ان سے افضل
نہایت کمینہ ہے وہ اور ارذل
ہمیشہ کیا کرتا ہوں اس پر لعنت
نبی کی ہو توہین کیسے گوارا؟
اگر وہ راضی باشد غمی نیست مارا؟
کرے گا خدا اس کو عقبیٰ میں برباد
دل و جان سے اس کا خریدار ہوں میں
جو ہو بے ادب اس سے بیزار ہوں میں
سراپا بنا ہوں میں مشتاق احمد
مرا حال ان پر ہے ظاہر وباہر
نہ منشی ہوں اور نہ کوئی شاعر
میں اک طالب علم چوتھا ولی ہوں
ختم شد!
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قتل دجال
مولانا عبدالرزاق انقلابی
بسم الله الرحمن الرحيم!
(١)
کبھی نشانے ہیں عقل کے سیدھے اور کبھی وہ خطا ہوئے ہیں
عدو ختم نبوت آئے منافقین رونما ہوئے ہیں
حقیقتاً اقتصادی چالاکیوں کے ابواب وا ہوئے ہیں
نماز روزہ الگ ہے ان کا زکوٰۃ و حج اپنے آستاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٢)
رسالت حق کے دشمنوں کو نبی کے عاشق مٹا چکے ہیں
ہوا جو فتنہ مسیلمہ کا صحابہ اس کو دبا چکے ہیں
بقاء ایماں کی خاطر اپنی عزیز جانیں لٹا چکے ہیں
ہے اہل سجیں کا اک نمونہ مسیح دجال قادیاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٣)
حسین جس نے کہ خوں سے اپنے کی دیں برحق کی آبیاری
نماز نبویؐ میں ناز جس کے سے ہووے نازل رضا الٰہی
بہشت کے سب جوانمردوں کا ہے وہ سردار کربلائی
جہاد وایمان کی مکمل حسینی تصویر ہے زماں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
٢
(٤)
وہ سیدہ پاک جس کا پیکر نبیؐ کے خوں پاک سے بنا ہے
وہ شیر مولیٰ لقب ہے جس کا اور انت منی جسے عطا ہے
نفوس پاکاں کہ جن سے ظاہر رسول اقدس کی ہر ادا ہے
وہ ننگ انسانیت کو آئے تھے دیکھنے بدتریں مکاں میں؟
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٥)
ملائکہ کی نظر تھی نیچی کہ دختر ختم انبیاء ہے
مثال جس کی ہوئی نہ ہوگی وہ ہمدم شاہ مرتضیٰ ہے
خطاب خاتون جنت اس کا وہ ام حسنین بے مرا ہے
یہ جسم ناپاک واجب القتل بک رہا ہے کچھ اس کی شاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٦)
کمینگی گمراہی کی حد ہے یہ بے حیا اور پلید جاں ہے
یہ کرم مرزائیت جہنم میں ملیا میٹ اور بے نشاں ہے
مٹا دو دنیا سے نام مرزا یہ راندۂ ارض و آسماں ہے
میں قوم اپنی کو دیکھتا ہوں وہ کیسے اترے گی امتحان میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٧)
یہ ان صحابہ کے ہیں مشابہ جو تھے نبیؐ کے جلیس و ہمدم؟
٣
جہاد و تبلیغ سے کیا ہے جنہوں نے اونچا ہلالی پرچم
ملے گی کیونکر ہدایت ان کو جو آئیں شیطان کی دکاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
خبر بھی ہے کچھ؟ جو انبیاء تھے وہ گلشن دیں کے باغباں تھے
وہ کلمۂ حق کے پاسباں تھے خدا کی باتوں کے راز داں تھے
زباں پہ جن کی تھا حق اترتا جہاد و ایماں کی داستاں تھے
انہی کی کرتا ہے موشگافی جو غیب و حاضر کے نکتہ داں تھے
انہی پہ اس کی زباں درازی کہ جن کا چرچا ہے آسماں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
وہ ابن مریم کہ جس کی تعریف سے ہے لبریز پاک قرآں
وہ جس کی عصمت کی دے رہا ہے گواہی اب تک خدائے یزداں
مدد تھی روح القدس کی جس کو جو آسماں پر ہے زندہ تاباں
نبی کے روضہ کا مستحق ہے وہ بازو اسلام کا ہے دایاں
ہے مرقد عیسیٰ خالی اب تک پڑا ہے دجال مردگاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
نساء عالم میں چیدہ بی بی خدا کی وہ برگزیدہ مریم
مطہرہ جس کو بولا رب نے نہ دیکھا تھا جس نے غیر محرم
خدا نے پھونکی تھی روح جس میں بشکل روح مسیح اعظم
وہ خاندان نبوت آرا ہوئے ہیں جس میں رسول پیہم
٤
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
وہ سرور کائنات ہے اور اسی کی خاطر فلک زمیں ہے
وہ آیہ خاتم النبیین اس کی تخصیص بہترین ہے
خدا نے بعد اپنے دی فضیلت اسے وہ رحمت للعالمیں ہے
جو شان اس کی نہ سمجھے کیونکر وہ آئے گا اس کے سائباں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
کہاں یہ قیدی جو قیدیاں کا غلام پسر غلام زادہ
غلام موصوف لغوی احمد صفت ہے لغوی نہیں اضافہ
یہ ترجمہ ہے غلام تعریف کردہ برطانیہ شہی کا
معاند حق ہے ضد احرار ہے غلامان قیدیاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
خدا کے بندوں مجاہدوں کی ملائکہ اور اولیاء کی
جو پاک ہر ایک عیب سے ہے بھلا رجولیت اس خدا کی
تف اے ظلوم وجہول وابتر یہی علامت ہے اتقاء کی؟
یہی خرافات روز محشر دکھائے گا اپنی داستاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
٥
(١٤)
نبیؐ تھے اخلاق کے مجسم یہی تو ممتاز اک ادا ہے
کبھی نبی نے کسی طبیعت پہ ایسا بدتر ستم کیا ہے؟
کہاں خدا نے نہ ماننے والوں کو خنازیر و سگ کہا ہے؟
تھی جتنی ہرزہ سرائی ممکن وہ کر گیا ہے نجس زباں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(١٥)
ان الجھنوں میں پھنسانے آیا یہ الٹا مکار روح و تن کو
کبھی خدا ہے کبھی نبی ہے کبھی مجدد بنا سخن کو؟
عجب تضاد اس کے دعوؤں میں ہے بنایا پرخار ہے چمن کو
ہے فرق دونوں گروہوں میں اس کے جتنا فرق ارض و آسماں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(١٦)
تملق و ذلت و غلامی رذالت و کذب و زرگری ہے
فرنگ یاری فریب و مکر و ضلالت و کفر و آبرو ریزی ہے
نبوت اس کی کتب فروشی جماعت اس کی وہ مشتری ہے
ہے سامریت طریق اس کا ہیں دھوکہ باز اس کے کارواں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(١٧)
کسی مؤرخ نے اپنی تاریخ میں یہ فرضی نبی لکھا ہے؟
٦
یہ فرضی اس کی ہے مرضی اپنی، غرض مرض میں اسے روا ہے
خدا بھی فرضی ہے وحی کچی بھی خود بھی فرضی ہے قادیاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(١٨)
بنایا اس نے ہے خواہش اپنی کو اپنا معبود درحقیقت
ہوا ہے نسخ جہاد شریعت میں یہ مفقود درحقیقت
خیال اپنے کو وحی سمجھا نبی بنا خود درحقیقت
کریہہ منظر غلط بیانی میں پایا مردود درحقیقت
بڑی ہی تاویل اور تکذیب ہے تضاد اس کے ہر بیاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(١٩)
شہید کیونکر ہوئے صحابہؓ مسیلمہ گر نبی بنا تھا
بتاؤ سجاح بنت حارث طلیحہ اسود کا جرم کیا تھا؟
وہ عائشہؓ اور علیؓ کی جنگ میں نبی کا آنا نہ کیوں ہوا تھا؟
حسینؓ و عثمانؓ کی شہادت میں بال جبریل تھک گیا تھا؟
فرنگیوں کی مدد کی خاطر نبی ہوا پیدا قادیاں میں؟
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٢٠)
خدا کو غیرت نہ آئی اس وقت جب کہ چنگیز بھی چھا چکے تھے
ہلاکو خاں نے ستم کیا تو فرشتے رحمت کے جا چکے تھے
ہوا جو اسپین خالی ہم سے نبی نبوت چھپا چکے تھے
جو آئے ہندوستان میں انگریز مرزا مرتد بھی آ چکے تھے
وہ کون سا تھا سبب کہ پہلے نہ ہو سکا پیدا اس زماں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
٧
بہاء کو کیوں قتل کر دیا تھا ہوا جو ایران میں نبی تھا؟
عرب کا قابل ترین احمد جو شاعری کا بڑا دھنی تھا
کلام جس کا سند ادب کی وہ شاعر فی البدیہہ بھی تھا
نبی نہ عربوں نے اس کو مانا غلام احمد تو عجمی تھا
وہ کون سی خوبی تھی نہ ان میں جو نیم ایمان و نیم جاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
نہ کوئی خیر القرون میں حضرتؐ کے بعد کر سکتا تھا نبوت
نہ یار غار نبی کا حق تھا نہ کاتب وحی کو مہارت
خدا کا ہمراۓ فاتح کل حیا و ایمان کو نہ جرأت
ولی امام و فقیہ و غوث و حکیم و اصحاب کی نہ قسمت
یہ مرزائی تھی ام شر القرون کی قسمت کے کہکشاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
علیؓ و عثمانؓ و عمرؓ و ابوبکرؓ جو محمدؐ کے جانشیں ہیں
نزول جبریل دیکھتے تھے جو روز وہ تو نبی نہیں ہیں
بتاؤ آیات یا روایات بعثت مرزا کی کہیں ہیں؟
ہوا ہے گلزار دیں مکمل یہ فتنہ پرداز و ننگ دیں ہیں
خداع و فسق و فجور کا ہے عذاب سب نار جاوداں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
نشانی کوئی نہ ٹھیک اتری وہ بے نکاح محمدی ہے
یہ سحر و باطل کے معجزے ہیں لکھوکھہا گنتی واقعی ہے
٨
سقر میں اوندھا گرا ہے گمراہ نتیجہ کارکردگی ہے
سزا گناہ عظیم کی پا رہا ہے وہ آتش تپاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
وہ ڈھول کا پول موت کے وقت تھی غلاظت دہن میں
یہی نشانی جو ہیضہ کی ہے بڑی نشانی ہے اس کے تن میں
کسی نبی کو نصیب ایسی ہوئی تھی ذلت کبھی کفن میں؟
مسیح موعود کا یہی خاتمہ ہوا اس کے مرد و زن میں
وہ خبث باطن نکل رہا تھا شکم کا منہ کے کھلے نشاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
نبی کے مسکن میں کوئی مرتد نہ جال اپنا بچھا سکے گا
مدینہ طیبہ میں منحوس پاؤں کو وہ نہ لا سکے گا
اگرچہ سرمایہ دار دجال ہو مگر وہ نہ آسکے گا
یہی سبب ہے نہ پہنچا موذی تو کیسے جنت میں جا سکے گا
بچھائے کیونکر خبیث کانٹے رسول خاتم کے گلستاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
یہ تخم فتنہ اگا ہوا ہے مراق نشو و نما ہوا ہے
فرنگی خود کاشتہ ہے پودا خباثتوں سے پھلا ہوا ہے
ہیں پتے بدکار کی کتابیں گروہ مفسد تنا ہوا ہے
یہ باد فتنہ چلی ہے ایسی کہ باغ وحدت جھڑا ہوا ہے
جو قتل کر دیتے فتنہ گر کو بہار فصل آتی کیوں خزاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
٩
(٢٨)
دیا ہے آب حیات ملت کو چونکہ امرت ہے ان کا مولد
ظفر علی خاں ظفر بمیداں زباں مجاہد قلم مجاہد
غلام نامی غلام انگلیز کرم درگور و خون فاسد
پلا بڑھا ہے یہ کرم الحاد و زندقہ گوروں کی اماں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٢٩)
نہ بدھ اچھوت اور جین مت میں نہ فرق ارزاں میں اور گراں میں
نصاریٰ ہندو بھی ہیں مسلماں نہ فرق تثلیث اور رحماں میں
یہودی زرتشتی بالمیکی یہ پارسی سکھ ہیں کس گماں میں؟
صد صنم کے پجاری بیچارے کیوں پڑے بحث رائیگاں میں؟
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
(٣٠)
تعلقات ان سے ختم کر دو یہ لین دین اور تولنا بھی
پلٹ دو سب اصطلاحیں ان کی کتب نہ ان کی ٹٹولنا بھی
نہ دو کلیدی مناصب ان کو وہ قفل ٹیلے کا کھولنا بھی
قلیل عرصہ ہے انقلابی گریں گے یہ موت کے دہاں میں
غلام احمد اگر ہے مسلم تو کوئی کافر نہیں جہاں میں
ختم شد!
١٠
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتح مبین
مولانا قاضی عبدالصمد سربازی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
گنبد خضراء
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا
رحمت عالمیان صفوت جن و انسان مفخر ہر دو جہاں خسرو شاہاں اینجا است
سید جملہ بشر شافع یوم محشر خاتم جملہ رسل رموز فرقان اینجا است
آنکہ شاہاں جہاں فخر غلامیش کنند کمترین چاکر وے سرور و سلطان اینجا است
آنکہ در عشق جمالش شدہ صدہا مجنوں آن پری چہرہ سمن بر شہ خوباں اینجا است
ہمچو یعقوب زہجرش شدہ ام دیدہ سفید آن دلارام جہاں شاہد کنعاں اینجا است
جگرم خوں شدہ چوں نافہ ز ہجر رخ او آں کمان ابرو و مہ رو گل خنداں اینجا است
جعد مشکیں مسلسل کہ کمند دلہا است قد دلجوی ہمیں سرو خراماں اینجا است
وصف چشم و رخ و زلفش ز من زار مپرس نرگس و سرخ گل سنبل و ریحاں اینجا است
بلبل سوختہ دل زار چرامی نالی منظر غنچہ و گل روضہ رضواں اینجا است
شرط عشق است ہمی سوزم و آہے نکشم ہمچو پروانہ پیش شمع شبستاں اینجا است
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا کہ ازوست رہبر خضر ہمین شاہ سلیماں اینجا است
زلف سودا رخ بیضا قد زیبا دارد معجزہ بین کہ شب و مہر درخشاں اینجا است
چشم گریاں دل بریاں تن لاغر دارم آنکہ دردش بمریضاں شدہ درماں اینجا است
آں حبیب عربی چوں بشکر خندہ رود معدن در و گہر لعل بدخشاں اینجا است
بین کہ بسمل شد سربازی ازیں درد فراق محور روح و رواں راحت جاناں اینجا است
نعت سرور کائنات ﷺ
جہاں محو حیرت زشان رسالت چہ گویم زعز و جلال محمدؐ
نہ بینی باخلاق و اوصاف ہرگز بدنیا و عقبےٰ مثال محمدؐ
شفیع کریم رؤف رحیم قسیم و وسیم خصال محمدؐ
٢
الرحمن الرحیم!
گنبد خضراء
می آید جنید و بایزید اینجا
ت مطلع نور و ضیاء نیر تاباں اینجا است
ان مطہر ہر دو جہاں خسرو شاہاں اینجا است
شر خاتم جملہ رسل رموز فرقان اینجا است
سند کمترین چاکروے سرور و سلطان اینجا است
وں آں پری چہرہ سمن بر شہ خوباں اینجا است
قید آں دلارام جہاں شاہد کنعاں اینجا است
او آں کماں ابرو و مہ رو گل خنداں اینجا است
قد دلجوی ہمیں سرو خراماں اینجا است
نرگس و سرخ گل سنبل و ریحاں اینجا است
منظر غنچہ و گل روضہ رضواں اینجا است
ہمچو پروانہ پرش شمع شبستاں اینجا است
رہبر خضر ہمیں شاہ سلیماں اینجا است
مرد معجزہ بین کہ شب و مہر درخشاں اینجا است
م آنکہ دروش بمریضاں شدہ درماں اینجا است
معدن درو گہر لعل بدخشاں اینجا است
محور روح و رواں راحت جاناں اینجا است
کائنات ﷺ
چہ گویم ز عز و جلال محمدؐ
بدنیا و عقبےٰ مثال محمدؐ
قسم ویم خصال محمدؐ
٢
خوشا قسمت آں درخشندہ طالع شود بہرہ ور از وصال محمدؐ
خدایش بخلق عظیم آفریدہ نہایت حسین خدوخال محمدؐ
بعرش بریں زد قدم تابہ قوسین شنو رفعت بے مثال محمدؐ
نبوت برو ختم شد تا قیامت ببیں دولت لازوال محمدؐ
سلاطین دنیا و شاہاں عالم نیرزند موی بلال محمدؐ
بہر مکتب ومدرسہ خانقائے بود رونق قیل و قال محمدؐ
صلوٰۃ و سلام ای دل زار بہردم بحال محمدؐ بآل محمدؐ
الٰہی تو سربازی تشنہ لب را بنوشان زآب زلال محمدؐ
انتساب!
بندہ ناچیز ہیچ نیرزد و ہیچ مدان ایں ہدیہ مختصرہ را بنام نامی واسم گرامی آقائی خود سرکار دو عالم شفیع المذنبین خاتم الانبیاء والمرسلین احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ منسوب کردہ از آیۂ کریمہ اقتباس و ببارگاہ رفیعش التماس مینماید کہ: ”یا ایہا العزیز مسنا واهلنا الضر و جئنا ببضاعة مزجاة فاوف لنا الكيل وتصدق علينا“
عیب است ولیکن ہنر است از مورے
احقر العباد عبدالصمد سربازی کہ یکے از کمترین و نالائق تریں امتان حضور پر نور است از بارگاہ رفیعش خواستگار شفاعت است۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
حمد باری تعالیٰ عزوجل
شکر للہ خوشا ازین مژدہ گشت تحریک قادیاں مردہ
ایں ہمہ فضل خالق دو جہاں اوست دانائے جملہ سر و نہاں
قادر و کبریائے بے ہمتا آنکہ در ذات خویشتن یک تا
فتح بر قادیان میسر شد چہرۂ مومنان منور شد
درود و سلام بر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ
حاشر و حامد است ہم محمود در قیامت مقام او محمود
مدح ما بر محمد عربی بعد از وے نبوده است نبی
بر محمد سلام میگویم بدرودش وسیلہ میجویم
بر محمد صلوٰة باد و سلام خاتم الانبیاست وخیرانام
ہم باصحاب او درود و سلام ہم بر ازواج و اہل بیت کرام
بعد حمد خدا و مدح رسول میکنم قصۂ ظلوم وجہول
قصہ اش را بیاں ہمی سازم زانکہ واقف ازیں ہمہ رازم
تعارف مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت
مردکے مفتری و گردن تاب قادیان جائے اوست در پنجاب
دفتری منشی و کلارک بود لیک مکار و نامبارک بود
گفت اوّل بحکم عالم غیب ایں صدی را مجددم لاریب
مہدی ایں زماں منم بے شک فیض روح القدس مرا است کمک
بازگفتا منم مسیح زماں ابن مریم کجا است در این آں
ظہور مہدی علیہ السلام در حرم پاک مکہ مکرمہ
کرد پیوند مہدی و عیسیٰ ہر دو تا را نمود در یک جا
لیک مہدی دگر مسیح دگر پس تو پیوند ہر دو تا بنگر
ہر یکے را تشخص است جدا جاہل مطلق است او بخدا
م
شخص مہدی ہر یکے زین یا کہ صاحب مریم در ہست جائے چوں خدارا نام او با سید است
مدعی نامرد بود بد حج در عمر فرض اسلام ہم ندیدہ دروغ علیٰ نبینا وعلیہ السلام در جامعہ مسجد دمشق را چشم ندیده است واز دست عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہم نزولش ہست جائے مرکز غازیاں
ہر یکے زین دوتا بوقت آید نیست واقف ازیں خبر شاید
یا کہ صاحب غرض بود مجنون ہست مشہور ہمچوں فنون
مہدی در حرم ظہور کند ارض را بقعہ زنور کند
ہست جائے ظہور او حجاز در حقیقت خبر دہم نہ مجاز
چوں خدا را بخلق فضل شود این جہاں پر ز امن وعدل شود
نام او با حضور ہم نام است وقت او بہترین ز ایام است
سید است از نسل پیغمبر مومنان را امام وہم رہبر
محروم شدن مرزاغلام احمد از حرم کعبہ وفریضہء حج
بیت اللہ الحرام واز زیارت روضہ مطہرہ در مدینہ منورہ
بود بد بخت سخت نافرمان از حرم شد نصیب او حرمان
حج در عمر خود نصیب نشد ہم بارض حرم قریب نشد
فرض اسلام او چو فوت شدہ تاکہ او در کنار موت شدہ
ہم ندیدہ است گنبد خضراء بین تو شومی طالع بدرا
دروغ گوئی مرزاغلام احمد کہ خود را عیسیٰ ابن مریم قرار دادہ است زیرا کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام در ملک شام بہ شہر دمشق بصد احترام واکرام ہمراہ ملائکہ کرام بمنارۃ ابیض در جامع مسجد دمشق از آسمان نزول اجلال میفرماید و مرزاغلام احمد در تمام عمر ملک شام وشہر دمشق را بچشم ندیدہ ست بلکہ از ترس جان قدم بیرون از ہندوستان نہ نہادہ است نیز دجال خروج میکند و از دست عیسیٰ علیہ السلام قتل میشود۔
ہم نزولش بملک شام بود کار اسلام بانتظام بود
ہست جائے نزول او در شام از حدیث صحیح خیر الانام
مرکز غازیاں شود بدمشق سینہ شان پر از محبت وعشق
٥
سخت جاری شود قتال و جہاد تاکہ گردد زبیخ قطع فساد
ابن مریم چو میشود ظاہر قتل دجال میکند آخر
قتل کفاری شود بہ مزید خاصتہً از یہودیاں پلید
مہدی ما امیر اسلام است آنکہ در عدل و جود خوش نام است
ابن مریم شود سپہ سالار تا بر آرد دمار از کفار
دعویٰ کردن مرزا غلام احمد کہ من کلیم خدا ہستم و من محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ہستم و توہین عیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء کرام و فاحشہ گفتن جدہ ہائے مسیح علیہ السلام و معجزات خود را از معجزات حضور علیہ السلام زیادہ تر و فائق تر قرار دادن و توہین امام حسینؓ نمودن و در پیدائش ارض و سما بقدرت خداوند عزوجل ہمسری نمودن۔
ابن مریم کجا است این ساعت در مقابل نباشدش طاقت
کرد توہین انبیائے عظام نیز تحقیر اولیاء کرام
گفت آں مردک تعلی خواہ از سر کبر و فخر و عزت و جاہ
معجزاتم کہ بے شمار بود مصطفےٰ را دو سہ ہزار بود
کربلائے است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم
قادر من بخلق ارض و سما میکنم ہفت آسمان پیدا
بست تہمت بہ جدہ ہائے مسیح تہمت فحش و سب و شتم قبیح
ژاژ خائی نمودہ است بسے گفت من خود نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادند ہر نبی را جام دادہ آں جام را مرا بہ تمام
کذب بر کذب سر بسر بستہ کردہ دلہائے اہل دل خستہ
کذب او بیش از مسیلمہ است لاجرم خوار و زار و دل سیہ است
و دعویٰ کردن مرزا غلام احمد کہ دین محمد مصطفےٰ ﷺ برائے نجات کافی نیست زیرا کہ دین محمد عربی کہنہ و فرسودہ شدہ است لہٰذا ہر کہ بمن ایمان نیاورد او کافر و جہنمی است اگرچہ او صبی و نابالغ باشد و ہر کہ بمن ایمان ندارد حرام زادہ ہست۔
٦
گفت آں دین مصطفےٰ کہن است تازہ تر دین باتباع من است
اتباع محمد عربی نیست کافی نجات گر طلبی
اتباع مرا کنید قبول زانکہ ہستم رسول بعد رسول
گفت ہر کس کہ منکرست مرا کافر است و لعین بہر دوسرا
ہر کہ ایمان ندارد کہ نبی است کافر است ارچہ کودک است و صبی است
خلق را گفتہ کافر و مرتد افترا کردہ بر خدا بے حد
ہر کہ در دست او ندادہ دست زادہ قحبہ دیوث گفتہ است
خلق بسیار از غلط فہمی واصل نار شد بہ بے رحمی
کردہ گمراہ عوام را بسیار وقنا ربنا عذاب النار
شخص واحد دعویٰ چہار اشخاص را بہ یکبارگی میکند کہ من مہدی و ابن مریم و کلیم خدا و حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہستم و ایں قول او دروغ بے فروغ و بدیہ البطلان است در جہاں احمق تر کسے است کہ بر قول او اعتبار کردہ بروئے ایمان بیارد۔
مہدی ابن مریم و موسیٰ احمد مجتبیٰ رسول خدا
شخص یک تن چگونہ است چہار پس بہ ہفواتش اعتبار مدار
پس بگوئید کیں چہ طوفان است مذہب جملہ بے وقوفان است
مذہب او بدیہ بطلاں است ہمچو بازیچہ ز طفلان است
گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلاں تمام شد واللہ
تحریف کردن آیات قرآنی را و ناواقفیت او از حدیث نبویؐ
کرد تحریف آیت قرآن پیش او نے دلیل و نے برہان
گفتہ او خلاف قرآن بود قول او بے دلیل و برہان بود
نیز او از حدیث پیغمبر بے خبر بود ناقص و ابتر
٧
نے زقرآن رموز دانستہ نے کہ او درحدیث شائستہ
خرق اجماع ہست مذہب او نیست قولے معین مشرب او
گاہ موسیٰ وگہ شدہ آدم کرد تبدیل ذات خود ہر دم
گاہ یعقوب گاہ ابراہیم بیش از الہ خوف و بیم
گاہ کرشن بگفت خود تان را بہر دنیا فروخت ایمان را
کفر و اسلام کے شود یکجا کذب او ظاہر است در ہر جا
متحد کے شوند ظلمت و نور ہمہ کذب و فریب و محض غرور
باز گفتہ کہ تابعش شدم چوں زنے پیش مرد فرش شدم
مردکے راکہ حیض می آید گر تو خنثیٰ بگویش شاید
نسل آن کس کہ بے شمار بود بے حیاؤ ذلیل وخوار بود
حضور اکرم پیغمبر آخرالزمان است وخاتم الانبیاء است
خاتم الانبیاست خواجہ ما جان ما بر روان اوست فدا
خواجہ ام ختم مرسلین باشد شافع جملہ مذنبیں باشد
بعدآن مرسل صدوق و امین نیست پیغمبری بروئے زمین
آنکہ او ہست سید و سرور بعد از و نیست ہیچ پیغمبر
نہ بروزی نہ ظلی است پدید باطن مدعی خبیث و پلید
خواجۂ ماست ساقی کوثر باشد او نیز شافعی محشر
گرچہ ما عاصی و گنہگاریم لیک از او امیدہا داریم
خوش بگفته است سعدی خوشگو رحمت حق مباد بر سر او
کس نیاید بزیر سایہ بوم ور ہما از جہاں شود معدوم
پس ندانست آن ظلوم وجہول بعد احمدؐ نیا مدہ است رسول
باب پیغمبری شدہ مسدود آنچنین مدعی شدہ مردود
ایں نبوت بموہبت باشد از خداوند مرحمت باشد
٨
لیک ایں سلسلہ شدہ
فتنہ پردازی مرزا غلام
الحفیظ از چنیں غلا
انتشار و فساد و
کفر و اسلام را چو یکجا
کفر را بودہ است و
مدح سرائی مرزا
(در مدح
مدح خواں حکومت
بہر مدحت بہ محنت او
باز دعویٰ کند نبو
مدح خوانی بشاہ ما
کے رسولے خوشامد
کس نگوید کہ آن
بلکہ فرمود حضرت
کس نگوید کہ آن
بلکہ فرمود آں
ہمہ ایشاں بکرده
قصہ آں خلیل نا
بحث نمرود با
ذکر فرعون و
آنکہ غالب شده اس
نے کہ او در حدیث شائستہ
نیست قولے معین مشرب او
کرد تبدیل ذات خود ہر دم
بیش از الہ خوف و بیم
بہر دنیا فروخت ایمان را
کذب او ظاہر است در ہر جا
ہمہ کذب و فریب و محض غرور
چوں زنے پیش مرد فرش شدم
گرتو خنثی بگویش شاید
بے حیاؤ ذلیل وخوار بود
است وخاتم الانبیاء است
جان مابر روان اوست فدا
شافع جملہ مذنبین باشد
نیست پیغمبری بروئے زمین
بعد از و نیست ہیچ پیغمبر
باطن مدعی خبیث و پلید
باشد او نیز شافع محشر
لیک از او امیدہا داریم
رحمت حق بباد بر سر او
ورنہ از جہاں شود معدوم
بعد احمد نیا مدہ است رسول
ایں چنیں مدعی شدہ مردود
از خداوند مرحمت باشد
لیک ایں سلسلہ شدہ مسدود ہرکہ دعویٰ کند شود مردود
فتنہ پردازی مرزا غلام احمد در اسلام وآلہ کار بودن او مر انگریزاں را
الحفیظ از چنیں غلام شریر کردہ گمراہ بحر خلق کثیر
انتشار و فساد و بد مستی کرد قائم بعالم ہستی
کفر و اسلام راچو جنگ شدہ آلہ کار ، از فرنگ شدہ
کفر را بودہ است دست نہال با مسلمان ہمیشہ جنگ وجدال
مدح سرائی مرزا قادیانی مر کفار را و پر شدن پنجاہ الماری
در مدح وتعریف حکومت انگریزی بقول خود
مدح خواں حکومت کفار انجمن مدعی ناہنجار
بہر مدحت بہ محنت و خواری پر بکردہ پچاس الماری
باز دعویٰ کند نبوت را بین تو بے شرم و بے مروت را
مدح خوانی بشاہ نصرانی در کتابے چنین نمخوانی
کے رسولے خوشامدی بکند باہمۂ مؤمنان بدی بکند
کس نگوید کہ آں خلیل خدا مدح نمرود کردہ است بنا
بلکہ فرمود حضرت ابراہیم ماچنین پادشہ نمیخواہیم
کس نگوید کہ آں کلیم خدا وصف فرعون کردہ است بجا
بلکہ فرمود آں کلیم اللہ غرق فرعون بکن قویا اللہ
ہمہ ایشان بکردہ اند جہاد تاکہ از بیخ بر کنند فساد
قصہ آں خلیل بانمرود ہست اندر کتابہا موجود
بحث نمرود با خلیل اللہ ہست موجود در کتاب اللہ
ذکر فرعون و حضرت موسیٰ آنکہ بد صاحب ید بیضا
آنکہ غالب شدہ است بابرہاں قصہ اش جا بجا است در قرآن
٩
دعویٰ پیغمبری او محض برائے حاصل کردن متاع و اسباب دنیوی بود
کاذب پر فریب و دجالے منکر و بے نصیب و بد حالے
نزد او جملہ مومنان کافر خود او گشتہ کافر و فاجر
علما را مقابلہ کردہ بہر ناحق مجادلہ کرد
در مجالس شکستہا خوردہ گشتہ خوار و ذلیل پژمردہ
بہر دنیائے دوں شدہ مغرور در ہمہ جلسہا شدہ مقہور
گفت اکنوں جہاد گشت حرام بعد ازیں کار دین شدہ است تمام
محسن و حاکم و اولوالامرست طاعتش از خدا بجا امرست
سایہ انگریز ظل الہ دادہ ما را بزیر ظل پناہ
آنکہ نزدش جہاد گشت حرام کے شود پیشوائے در اسلام
دین را ذروۃ السنام جہاد میشود از جہاد رفع فساد
غلط بودن پیشین گوئی مرزا غلام احمد در بارہ محمدی بیگم
مولانا ثناء اللہ امرتسری
گفت بے شک محمدی بیگم عقد من آید و شوم بے غم
ہست در حسن چوں بہشتی حور در بغل گیرم و شوم مسرور
پیش گوئی او غلط بودہ جملہ دعویٰ برین نمط بودہ
در نکاحش نیا مدآن بیگم تاکہ رفت از جہاں بحسرت و غم
بے مراد از جہاں ہلاک شدہ ای بسا آرزو کہ خاک شدہ
گفت با مولوی ثناء اللہ بود شخصی ز جملہ اہل اللہ
زیں دوتا ہر کہ مفتری باشد میرد و آن دگر بری باشد
فوت شد قبل از ثناء اللہ گشت کاذب بقول خود واللہ
قول او جملہ ضد اسلام است لاجرم نامراد و بدنام ہست
ہست مشہور نزد اہل سخن گنجہ آن بہ نباشدش ناخن
١٠
جاری ساختن اصطلاح امہات المؤمنین و اصحاب و بہشتی مقبرہ
برائے زنان و یاران مرزا غلام احمد و قبرستان ایشان
مادر مومنان زنان او بد تمیزی بہر بیان او
ہمنشینان او شداند اصحاب بے ادب گشتہ ہست در ہر باب
تا بہ ایں مرتبہ شدہ بے باک دادہ تشبیہ پاک با ناپاک
مَثَلے گفتہ اند اہل سُخن بے حیا باش ہرچہ خواہی کُن
رفتن مرزا غلام احمد از دنیا و مقرر شدن جانشینان او یکے بعد دیگرے
ہر کہ آمد عمارت نو ساخت رفت و منزل بدیگرے پرداخت
لیک طرح فساد وا بگذشت بہر خود یک خلیفہ بگذاشت
بعد از و شد خلیفہ نور الدین کرد گمراہ خلق را ز دین
نور دین کرد زندگی را گم پسر مدعی خلیفہ دوئم
پسرش مرزا بشیر الدین ہمچناں بود فاسق و بے دین
پس خلیفہ است مرزا ناصر از ہمہ گشت خائب و خاسر
ہم بدنیا است خائب و خاسر ہم بدین است ناقص و قاصر
ابتداء برانگیختن فساد قادیانیاں و حملہ ایشاں بر طلباء
نشتر کالج ملتان در ایستگاہ ربوہ
ثمر انقلاب در انجام گشت نفعش نصیبۂ اسلام
ربوہ و قادیاں ہر دو یکے در یکے بودنش نبودہ شکے
قادیاں بود اولین مرکز ابتدائش زابجد و ہوز
آخری مرکزش کہ ربوہ بود در یکے بودنش چہ شبہ بود
زاہل ربوہ شروع گشت فساد نزد ایشاں حرام بود جہاد
١١
مشتعل گشت ہر مسلمانے آنکہ در دل بداشت ایمانے
مجتمع گشت قوت اسلام از ہمہ مومناں چہ خاص و چہ عام
متحد گشتہ اند پیر و جوان متفق بودہ اند خرد و کلاں
دادہ قربانی از برائے خدا بہر ناموس پاک خیر وراء
بعض محبوس و بعض گشتہ شہید باد رحمت بروحہائے سعید
انقلابے عظیم گشت پدید اینچنیں انقلاب کس نشنید
در ہمہ گوشہائے پاکستان در ہمہ شہر و قریہ و میدان
مرکز انقلاب در پنجاب ضرب اوّل است قید و بند عتاب
شورشے تا بصوبہ سرحد رونما شد بمومناں بے حد
شور افتاد در بلوچستان زلزلہ شد ز جذبہ ایمان
اثرش در قلات و در خضدار گشت ظاہر بہ جملگی یکبار
اہل مستونگ ہم درین میدان بردہ سبقت بقوت ایمان
ہم بکوئٹہ شہید شمس الدین کرد سر را فدا براہ دین
بود او در اسمبلی کوئٹہ کہ نکردہ بزبان خود کوتہ
چوں بایواں بود اسپیکر بود او خوش بیاں و خوش پیکر
نوجوانی زفورٹ سنڈیمن عالم باعمل محب وطن
مرد میدان مجاہد و غازی بردہ از شہسوار ہا بازی
او نخست از ہمہ شدہ قربان بہر دین و حفاظت قرآن
مقصد فساد از قادیانیاں ایں بود کہ بر ریاست پاکستان قبضہ کردہ
حکومت قادیانی براں مسلط باشد
بود از اہل ربوہ منصوبہ غلبہ حاصل شود بہر صوبہ
کوششے سخت تر ہمی باید تا ریاست بدست ما آید
تا بعالم شود تسلط ما کار تبلیغ ماشود ہر جا
١٢
فاش شد راز اندروں شان سازش قادیاں بشد عیاں
راز ہائے دروں کہ چاک شدہ ای بسا آرزو کہ خاک شدہ
نصرت حق بجانب اسلام سازش اہل ربوہ شد ناکام
عاقبت پاس گشت این آئین قادیانی است کافر و بے دین
پاس گشتہ بحکم رب ودود مذہب قادیان شدہ مردود
قادیانی گروہ لاہوری ہر دو یکساں بکفر و گمرہی
ایں گروہ بدترست زاہل کتاب غیر مسلم اقلیت بحساب
بعد احمد نیا مدہ ست نبی مدعی ہست کور فہم و غبی
کافراست ہر کہ مدعی باشد آنکہ دعواش از نبی باشد
پاس شد در اسمبلی قانون مدعی ہست کافر و ملعون
کافرست او پیرو انش ہم دلیلش گشت درہم و برہم
تاریخ متفقہ قومی اسمبلی بہ غیر مسلم اقلیت قرار دادن قادیانیان
چار و ہفتاد ونوزدہ صد بود مذہب قادیانیاں رد بود
ختم شد فتنہ نود سالہ از بزرگاں بہزاراں نالہ
بود ایں دور ذوالفقار علی ضرب گردن بہ ذوالفقار علی
بود در عہدہ ایں وزیر نخست در ہمہ کاروبار دنیا چست
ہر مسلماں پر از مسرت شد امت قادیاں بحسرت شد
جشنہائے خوشی بہر جا بود فتنہ قادیان شدہ نابود
فتنہ بود بس عریض وطویل ختم گشتہ بحکم رب جلیل
منت مرخدائے رحمان را کرد مقہور کفر و طغیان را
ہمتے بود از مسلماناں ہر مصیبت کشیدہ اند بجاں
چونکہ در قوم اتحاد بود ثمرش رافع فساد بود
چونکہ این غیرت از قدیر بود عاقبت بیں کہ سخت گیر بود
تابکے غیرت خدائے قدیر ماند خاموش او سمیع و بصیر
١٣
گشت فتنہ زبیخ استیصال ایں بفرمان قادر متعال
ہست ایں فتح فتح دین مبین فتح پیغمبر صدوق وامین
در حرم بندش براست ایشان نیست رہ کافران وبدکیشان
پیش گوئی حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ در مرض موت خود برفتن انگریزان از ہند و
پاکستان استیصال قادیانیان وترویج اسلام بروایت حضرت مولانا طفیل احمد صاحب مدظلہ العالی بانی
مدرسہ تعلیم الاسلام مجاہد آباد کراچی۔
من شنیدستم از طفیل احمد ذاکر و عابد یست وہم ارشد
روز و شب فیض او بود جاری کار او بہر خلق غمخواری
اہل دل ہست ونیز اہل طریق ہست در فکر دین محو و غریق
صاحب مسجد است ومدرسہ است رونق مسند است وخانقہ است
او روایت کندز انور شاہ عالم دین بود و حق آگاہ
قبل تقسیم ہند و پاکستان بود در دیوبند ہندوستان
پیش از موت آن ولی اللہ گفت قولے زجانب اللہ
انقلابے عظیم می خیزد انگریز از دیار بگریزد
پس نماندز انگریز یکے نیست درقول راست ہیچ شکے
امت قادیان شود بدحال قادیانی زبیخ استصال
ختم گردد زفضل حق مبین فتنہ قادیان زروی زمین
شرع انور شود رواج پذیر درہمہ ملک برصغیر و کبیر
دور دور نظام اسلامی واچہ خوش قسمتی است و خوش نامی
دعوت ظفر اللہ قادیانی خان قلات را (موجودہ گورنر بلوچستان) بقادیانی بودن وجواب
خاں قلات بظفر اللہ خاں را و شرمندہ شدن ظفر اللہ قادیانی از جواب او۔
بود با من دو سہ بزرگ دگر آمدہ بود از مہم سفر
گفت رفتم بیورپ و مغرب پس مپرس از مصیبتم صاحب
١٤
ایں بفرمان قادر متعال
فتح پیغمبر صدوق و امین
نیست رہ کافران وبدکیشان
کشمیری در مرض موت خود برفتن انگریزان از ہندو ایت حضرت مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہ العالی بانی
ذاکر و عابد یست وہم ارشد
کار او بہر خلق غمخواری
ہست در فکر دین محو و غریق
رونق مسند است وخانقہ است
عالم دین بود و حق آگاہ
بود در دیوبند ہندوستان
گفت قولے زجانب اللہ
انگریز از دیار بگریزد
نیست در قول راست ہیچ شکے
قادیانی زبیخ استصال
فتنہ قادیان زروی زمین
درہمہ ملک برصغیر و کبیر
وا چہ خوش قسمتی است و خوش نامی
(موجودہ گورنر بلوچستان) بقادیانی بودن وجواب قادیانی از جواب او۔
آمدہ بود از مہم سفر
پس مپرس از مصیبتم صاحب
٥١٩
گفت بامن کہ خان احمد یار سخنم گوش گیر و یاد بدار
ہست میرزا رسول و پیغمبر او بدنیا است آخری رہبر
پس بگویم ترا کہ احمد یار کلمہ اش را بخوان و ایمان آر
بار بار این سخن بمن گفتہ سینہ ام را بہ تیر ہا سفتہ
از سخنہائے او شدم رنجور در جوابش بگفتم ای بے نور
شنو از من جواب فیصلہ کن پس مگو بعد ازیں تو ہیچ سخن
گر بفرض آن حضور پیغمبر کہ بدنیا و دین ما رہبر
گویدم رو برو کہ احمد یار بر سر مرزا تو ایمان آر
دست بستہ بشاہ میگویم یا رب معذرت ہمی جویم
گویم ای سید و شہ خوبان دل و جانم بود بتو قربان
بہر ہر حکم تو فدا سازم دل و جان را بفخری نازم
کہ تو آقا و من غلام توام سیدا من فدا بنام توام
لیک ازیں کلام معذورم تو مگو ایں سخن کہ مجبورم
چوں توئی سید و حبیب خدا خاتم الانبیاء بہر دوسرا
خود تو گفتی کہ لا نبی بعدی بعد ازیں از کجاست آزادی
من نگویم غلام را کہ نبی خواجہ ما رسول مطلبی
گفتم آخر معاف دار مرا زین سخن کو کشد بدار مرا
زیں جواب عجیب و فرخندہ قادیانی بگشت شرمندہ
پس جوابم کہ باصواب شدہ شکر کردم کہ لاجواب شدہ
پس بگفتم کہ شکر یا اللہ ختم کردم سوال ظفر اللہ
خوش بگشتند مہمان بزرگ کہ رہائی شر از دہاں گرگ
مداخلت نمودن ڈاکٹر محمود قادیانی در جلسہ مسلمانان منعقدہ در کوئٹہ و اعتراض آوردن بر علماء و مشتعل شدن اہل جلسہ بخلاف قادیانی مذکور وسنگسار شدن او از عوام الناس۔
بود آں جلسہ جلسہ دینی اندر آں رد کفر و لا دینی
١٥
اعتراضے بعالماں آورد نام عالم با احترام نبرد
ایں ازیں مردماں بدانستند قادیانی است برسرش جستند
بارش سنگ وچوب بر او بود تاکہ از زندگی بشد نابود
اولاً رہسپار شد ز آنجا بعد ازاں سنگسار شد آنجا
گرچہ ہر سو گریخت راہ ندید تاکہ او فوت شد ز ضرب شدید
قادیانی ازیں بدانستند کہ مسلماں بدیں خود ہستند
ہمت قادیانیاں شد پست راہ تبلیغ مذہب شاں بست
شکر اللہ کہ در بلوچستاں ہست مضبوط قوت ایمان
ذکر بعض ممتاز علماء کرام ومشائخ عظام کہ درقلع وقمع فتنہ قادیانیت جدوجہد کردہ قوم را صحیح رہبری نمودند۔
شیخ اسلام ہست و شیخ حدیث قاطع فتنہ گروہ خبیث
نام نیک ومبارکش یوسف در مصیبت نگفتہ گاہے اف
ہست شاگرد سید انور شاہ عالم دین بود و حق آگاہ
٭ ...... ٭ ...... ٭
ہمچو محمود غزنوی بنہاد ہست شیخ الحدیث ونیک نہاد
پس لسانش چو تیغ بران است ہم بتقریر شیر غراں است
نیز شیخ الحدیث عبدالحق ہم بایواں بگفت کلمہ حق
چوں بمیدان حق سخن پرداخت زلزلہ دراسمبلی انداخت
پسرش راست گو سمیع الحق نیست خوف ازملا متش مطلق
٭ ...... ٭ ...... ٭
عالم دین عارف کامل بود درایں جہاد ہم شامل
١٦
نیز اشرف حکیم العصر جان و مالش فدائے پیغمبر
پسر نوجوان او خالد شامل ایں جہاد با والد
دست راست پدر بود بنجاد پسر نیک بخت و نیک نہاد
ہم محمد شفیع مفتی ما دادہ فتویٰ بکفر اہل دغا
عالم دین مفتی اعظم بصفات و کمال او نازم
ہم محمد تقی عثمانی دادہ در راہ دین قربانی
با پدر در جہاد ہم دوش است سینہ از عشق دوست پر جوش است
عالم دین جناب شمس الحق شیخ وقت ہست و عالم برحق
ہم مفسر محدث ہست جلیل علم حکمت بیان کند بدلیل
عمر او صرف شد بقید و بند در رہ دین و همچنان خرسند
در رہ حق مجاہدہ کردہ رنج و غم را مشاہدہ کردہ
تھانوی صاحب احتشام الحق واقف دین و عالم برحق
رہبر دین خطیب پاکستان گوئی سبقت ببردہ در میدان
با رفیقاں صالح و خوشنام خدمت دین بترجمان اسلام
بخوشی جان و مال کردہ نثار آن فدائی سید ابرار
مفتی حق پرست لائل پور سینہ اش پر بودز حکمت و نور
١٧
٭ ...... ٭ ...... ٭
شیخ قرآن در لقب مشہور اہل بدعت ز دست او مقہور
سیف قاطع شدہ است در تقریر گوئی سبقت ربودہ در تحریر
بے شمار از مجاہدین کرام علماء و بزرگہائے عظام
نیک دل یک زباں دریں میدان رحمت حق باد بریشاں
مشتی از نمونہ خروار گفتم و ترک دادہ ام بسیار
یا الہی توئی غفور و رحیم بطفیل آنکہ شافع است و کریم
پر امید است از تو سربازی کہ مرا در محشر بنوازی
قافلہ سالار
شفیع جملہ امم خاتم جمیع رسل برائے جن و بشر مرسل خداست و نبی است
صفات ذات و کمالات او برون ز حساب بہرچہ نسبت او میکنم بے ادبی است
چہ خوش کہ صاحب خلق عظیم و شافع خلق بذکر و مدحت او در لسان ما رطبی است
اطاعتش بہ شمار اطاعت رب است بدیں رموز نفہمد کسی بدانکہ غبی است
چو محو ساخت ازیں پیش جملہ ادیان را بناء دیں دگر بالیقین ز بولہبی است
چو ختم گشت نبوت بذات اقدس او گمان مبر بکسی کو بروزی است و نبی است
بذات ساقی کوثر امیدہا داریم بروز حشر کہ فریاد ہا ز تشنہ لبی است
ز قادیانی و پرویزیاں صلاح مخواہ غلام باغی و خیرے ازوچہ بوالعجبی است
غلام باغی او بے نصیب و محروم است سبب مپرس کہ حرمان او ز بدنسبی است
اساس فتنہ کہ از خواجگان لندن بود بنائے مذہب ایشاں ز لعبت ذہبی است
تمام مذہب شاں بر بنائے الحاد است ہمہ دعاوی شاں پر زکفر و بے ادبی است
غلام خواجہ ہر دو سرا است سربازی
ستودہ ذات کہ نامش محمد عربی است
١٨
.......
شغل او درس در کتاب اللہ
اہل بدعت ز دست او مقہور
گوئی سبقت ربودہ در تحریر
علماء و بزرگان عظام
رحمت حق باد بر ایشاں
گفتم و ترک دادہ ام بسیار
بطفیل آنکہ شافع است و کریم
کہ مرا در محشر بنوازی
الار
برائے جن و بشر مرسل خدا است و نبی است
بہر چہ نسبت او میکنم بے ادبی است
بذکر وحدت او در لسان ما رطبی است
بدیں رموز نفہمد کسی بدانکہ غبی است
پناہ دیں دگر بالیقین ز بولہبی است
گمان مبر بکسی کو بروزی است و نبی است
بروز حشر کہ فریاد ہا ز تشنہ لبی است
غلام باغی و خیرے ازو چہ بوالعجبی است
سبب مپرس کہ حرمان او ز بدنسبی است
بقائے مذہب ایشان ز لعبت ذہبی است
ہمہ دعاوی شاں پر ز کفر و بے ادبی است
است سربازی
محمد عربی است
لا نبی بعدی
خاتم النبیین
سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول
میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیاں دے
خلق دا شیشہ
جناب عبدالوہاب حجازی
فیضِ نبی سے صاحبِ ایمان بن گیا
بتقلید کافر شدم روز چند برہمن شدم در مقالات ہند
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
گنہگار رب دا رسول توں بھی شرمسار توبہ توبہ توبہ توبہ دی دہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
سمجھ کے تریاق پڑی زہر دی میں کھا گیا بھل کے میں دجال دے شکنجے وچ آ گیا
نور اتے کفر دا اندھیر گھیرا پا گیا گھٹ الحاد دی ایمان اتے چھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
انی سو انجا تے مہینہ سی اگست دا ہویا مرزائی عہد بھلیا الست دا
منی قبولی تے مٹایا کھوج ہست دا ایسی میری ہوش ابلیس نے ونجائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دوسری تاریخ کربلا دے شہید دی کر بیٹھا بھل کے میں بیعت یزید دی
تعزیئے دے روز میں منائی خوشی عید دی قتل والی رات میں سہاگ دی بنائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
وقت بھی کیہا میں پیاری جند جان نوں کفر توں نثار کیتا دین تے ایمان نوں
سمجھیا میں مکے دی مانند قادیان نوں ربوے نوں سمجھیا مدینہ مصطفائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
سمجھیا میں جس نوں خلیفہ المسیح جے نکلیا کجھ پلہ اوہ چار سو تے ویہہ جے
ذرا ناہیں شک میری بات ایہہ صحیح جے فرعون وانگ دعویٰ ایس دا خدائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
٢
عیسیٰ اتھے اتریا ایہہ جھوٹھ
بھن
آکھدائے فضل عمر
مردا نہیں ڈب کے
بھن
عالم پاکیزہ نال سبھاں
عادل فاروق نال جوڑ
بھن
آکھدائے میں اس وقت
پرافٹ آف انڈیا بھی
بھن
انی سو انجا تے م
میں ہاں مسیح موعود
بھن
آج دیکھ کل دیکھ ہ
ریل دی سیٹ دیکھ د
بھن
آکھدا سی قادیان جا
اللہ جانے پوے کدی ا
بھن
صاحب ایماں بن گیا
برہمن شدم در مقالات ہند
الرحمن الرحیم!
توبہ توبہ توبہ توبہ دی دہائی جے
شکنجہ مرزائی جے
گھٹ الحاد دی ایمان اتے چھائی جے
شکنجہ مرزائی جے
امی میری ہوش ابلیس نے ونجائی جے
شکنجہ مرزائی جے
قتل والی رات میں سہاگ دی بنائی جے
شکنجہ مرزائی جے
ربوے نوں سمجھیا مدینہ مصطفائی جے
شکنجہ مرزائی جے
فرعون وانگ دعویٰ ایس دا خدائی جے
مرزائی جے
عیسیٰ ایتھے اتریا ایہہ جھوٹھ تے طوفان جے موسیٰ دے خدا ول کیتی ایہناں دھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
مردا نہیں ڈب کے حیاء دا مقام ہے سگوں ایس شرم والی لوئی اتوں لائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
عادل فاروق نال جوڑ کی سفاک نوں توبہ توبہ کفر اسلام دی جدائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پرافٹ آف انڈیا بھی مشہور عام جے کافی امریکی اخباراں دی گواہی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میں ہاں مسیح موعود دوم نمبری دیکھو کسے روز دعویٰ ہووندا خدائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ریل دی سپیٹ دیکھ تیز رفتار دیکھ مغل پوروں چل کے رسول پور آئی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اللہ جانے پوے کدی ربوہ بھی چھڈناں ہن الفضل وچ دیوندا دہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
٣
قادیان دے وچ جویں ہویاں نے بربادیاں ایسے طرح ربوے دی ہونی تباہی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
جان جوگا رہ گیا نہ کسے بنے نس کے لعنتاں دا ہار ایہو کھٹی میں کمائی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
سجن پیارے تائیں ملنا سی لازمی یار سی پرانا نالے رشتے دار بھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
دین بھی گوایا ساری دنیا گوائی سی دلوں ہو کے جاتا میرا ایہو باپ مائی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
سینکڑے روپیا ندے مکاواں کاغذات میں پھر بھی نہ لکھی جاوے ظلم دی چوتھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
انشاء اللہ ہوونا اخیر کم راس ہے مرزے وانگ پیش گوئی میں بھی سنائی جے
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
رل مل ساریاں نے دتیاں صدائیں سی لکھ دتی چھٹی ہویا ربوے نوں راہی سی
بھن توڑ چھڈیا شگنجہ مرزائی جے
٤
چٹھی پکڑائی جا کے ناظر ضیافت نوں تن دن اوس روٹی لنگروں کھوائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ربوے شریف وچہ بھکھیاں نہ مرنوں ربوے دے وچہ وات پچھدا نہ کائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ربوہ شریف ہے کہ کربلا ہے یا اللہ جیل نالوں لنگر خانہ مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
بیٹھے اوتھے وڈے وڈے رکن احمدیت دے السلام علیکم آن میں نے بلائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
عرض کیتی ناظر صاحب رب دا میں مہماں پھر بھی نہ اوس نے زبان بدلائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
داد فتیانے تے ہڑپے دے وچال جے لکھ چٹھی اوس میرے ہتھ پکڑائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کیتی اوس گفتار بہت خوب مزیدار ساڈے پنڈ مولوی دی ٹور نہیں کائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
٥
حال سارا مولوی قمر نوں سنایا میں چاندنی قمر نے بھی بدلیں چھپائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ملیا میں پھیر تحریک جدید نوں وکیل الدیوان دی جیل روڈ نوں
محمد شریف صاحب خالد ولید نوں دسیا میں زندگی بھی واقف کرائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
وقف اوس کیتا میرا نام منظور ہے واقفین نال اوہنوں دشمنی ضرور ہے
سوہنی تنظیم بہت ہے سوہنا دستور ہے بہت سوہنی ہوئی میرے حق دی رسائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ملیا اوتھائیں اک حافظ قرآن سی اوہدی میری مدتا ندی جان تے پچھان سی
اللہ ولوں اگے اوہدا نام رمضان سی وچہ رمضان پین کھان دی مناہی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اللہ دتے مولوی جالندھری نوں ملیا پرنسپل جامعہ دے مبشری نوں ملیا
احمدی مناظر اک نمبری نوں ملیا ساری واردات مڈھوں اوس نوں سنائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کہن لگا جامعہ احمدیہ جاری جے کرلویں فاضلی دے واسطے تیاری جے
اٹھ مہینہ لا کے تعلیم سکھیں ساری جے کیتی میری ساریاں مدرسیاں پذیرائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دین دو روٹیاں تے چھولیاں دی دال جے بسترہ نہ کول اتوں موسم سیال جے
پرنسپل تائیں میں سنایا سارا حال جے پر کون جاندا مصیبت پرائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پرنسپل صاحب سرگودھے مینوں گھلیا لکھ چٹھی مرزے عبدالحق نوں تسلیا
قصہ کوتا گیا سرگودھے وچہ چلیا چٹھی مرزے عبدالحق صاحب نوں پھڑائی جے
٦
مرزے عبدالحق ہوراں ہور اگے ٹوریا اگلیاں جواب دتا سانوں کاہدی لوڑیا
پھیر گھوڑا دل دا پچھاہاں نوں میں موڑیا پرنسپل تائیں ساری حالت سنائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پرنسپل کہن لگا ایتھوں ڈیرہ چاتوں ساڈے ولوں جتھے تیری مرضی ہے جاتوں
غیر مسلمان نوں حقیقت سناتوں احمد نگر وچ وسدے قصائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پھیر دوجی وار وچہ ربوے دے دھسیا ڈھیماں وچوں نکل کے تے واہن وچہ پھسیا
خالد محمد شریف تائیں کیا مر گیا میں بھکھا سچے نام دی دہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ساریاں دے اگے کیتی رو کے پکار جے واسطے خدا دے دسو کوئی کم کار جے
اوہناں نے بنایا کارکن مددگار جے لائبریری میری ڈیوٹی لگائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
خورشید صاحب انچارج لائبریری جے کٹ دتا اوس مینوں کر کے دلیری جے
دوسرا مقرر کیتا بندہ جگہ میری جے بہت سوہنی کیتی اوس میری خیر خواہی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ساریاں میں کس طراں سناواں ہڈبیتیاں دفتر اوندے وچہ درخواستاں میں کیتیاں
سب نے شراباں لا ابالی دیاں پیتیاں ہوئے مدہوش ہوش کسے نوں نہ آئی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
بہت درخواستاں میں کیتیاں حضور نوں داستان غم دی سنائی بے شعور نوں
ماریاں آوازاں اصحاب قبور نوں قبراں دے وچوں نہ آواز کوئی آئی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
رحم دی اپیل کیتی ظالم صیاد نوں پتھر نہیں سندا کسے دی آواز نوں
مردہ نہیں پہنچ دا کسے دی امداد نوں کچھ نہیں حصول نری مغز دی کھپائی جے
٧
بہہ گیا سمندری میں ربوے چوں آکے بہت سارے واقعات چھوڑ دتے میں جان کے
طول اتے وقت دی نزاکت نوں پہچان کے اختصار نال کیتی فرض دی ادائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
آیا میں سمندری چراغ دین واسطے ہور کسے لئی طمع لالچ نہ آس تے
نہیں تے میں سمندری نوں اونا سی کاستے سوچیا میں ایتھے مرا بھائی مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہاشمی دی ہٹی وچہ ڈیرہ ڈنڈا لا لیا اپنی ہانڈی روٹی کدی وکھرا پکا لیا
اوڑک دیہاڑی اوہناں ہٹیوں نکالیا ہٹی اوہناں خالی کرائے تے چڑھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہو گیا تھاں نہ ٹکانہ رات رہن نوں دنے نہ سہارا کتے گھڑی پل بہن نوں
کوئی نہ تیار مرے نال دکھ سہن نوں بھاویں مرزائی بھاویں غیر مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
جے سچا مرزائی سی تے ایں طراں نہ کردا تھوڑا بہتا کچھ تے خدا کولوں ڈردا
پر ایہہ عذاب سی اللہ پاک دا اپنے گناہ دی سزا میں پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اسماعیل نام اصحابی جے اوہدے اگے رات نوں میں پایا بڑا ترلا جے
مر گیا میں پالے مینوں دیو کوئی تلا جے کہن لگا ساڈے گھر کپڑا نہ کائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ڈھٹھا ہویا ڈھارا مرزائیاں دی مسیت سی اوہدے نال مینوں کچھ قدرتی پریت سی
چارے کوٹاں کھلیاں تے اتوں ورہے اوس سی ساری رات صف اتے لیٹ کے لنگائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اک دری اک کھیس ایہو پارچات سی ایہو جائداد میری کل کائنات سی
اکھیاں نے جاگ کے گذاری ساری رات سی سردی نے خوب شان اپنی دکھائی جے
٨
دوجی رات پھیر میں مسیتے لگا
بولیا نیاز شاہ بھائی تسیں ک
بھن تو
کہن لگا تینوں کوئی جگہ ناہیں
کرو تکلیف ناہیں تسیں ج
بھن تو
دکھنے دیاں سگوں مورچ
جگہ کیوں نہیں لیند ا جے تو پیال
بھن تو
ساریا ندے اگے کیتی رو
پیسے بناں میر جیسا آدمی ک
بھن تو
کسے جگہ تسیں کوئی
دس ویہہ روپے کتوں
بھن تو
اپنی مسیتے مینوں
پڑھو سارے آپ بھی تے
بھن تو
میر کولوں پڑھو تفسیر
سکھ لو حدیث رسولہ
بھن تو
روشن دین کہن لگا
وٹیا روپیہ ڈیڑھ ابے
دوجی رات پھیر میں مسیتے لگا سون جے ٹٹی ہوئی صف لگا جھاڑ کے وچھون جے
بولیا نیاز شاہ بھائی تسیں کون جے عرض کیتی شاہ صاحب آپ دا میں بھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کہن لگا تینوں کوئی منجی ناہیں چاہی دی عرض کیتی شکریہ ہے مہربانی بھائی دی
کرو تکلیف ناہیں تسیں چارپائی دی شاہ صاحب بہت بے تحاشہ ڈنڈ پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دھکے دیاں سگوں مورچہ اڑھیمیا مورکھا تے بے وقوفا بھیڑیا نکمیا
منجی کیوں نہیں لیندا جے تو پیاں ایتھے لمیاں تیز رفتار کار پیر نے چلائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ساریاں دے اگے کیتی رو کے پکار جے پیسے بناں آدمی نہ کسے درکار جے
پیسے بناں میر جیسا آدمی بے کار جے کرو امداد تسیں سارے میرے بھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کسے جگہ تسیں کوئی نوکری لوا دیو پھراں نہ بیکار کسے کم تے لگا دیو
دس ویہہ روپے کتوں قرضہ دوا دیو کراں میں بھی حق تے حلال دی کمائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اپنی مسیتے مینوں مولوی بنالو صبح ویلے درس قرآن دا کرا لو
پڑھو سارے آپ بھی تے بچے بھی پڑھالو علم جیسی دولت نہ ہور چیز کائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میر کولوں پڑھو تفسیر قرآن دی صرف نحو پڑھو لغت عربی زبان دی
سکھ لو حدیث سردار دو جہان دی بہت شوق نال کرو فقہ دی پڑھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
روشن دین کہن لگا منگتا سوالی جے کھل اساں دتی ایہنوں قربانی والی جے
وٹیا روپیہ ڈیڑھ اجے تھوٹھا خالی جے پھڑی ایس مولوی نے بہت بے حیائی جے
٩
خوشیاتے گامی مینوں آکھدے سی ملاں جی روکے نتے پچن سگوں الٹیا ہڑلاں جے
اونہاں دا قصور نہیں حضور دلوں بھلاں جے میٹھی گفتار سرکار نے سکھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہاشمی ہمیش میرے ادب وچہ رہندا سی جدوں بھی بلاوے مینوں مولانا ہی کہندا سی
میر نام اوس دا چراغ دین لیندا سی جناں چر تیک ناہیں ہویا مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
چکھ لئی میں جدوں قادیان دی پوہل بھی ہاشمی دا بدل گیا جھٹ پٹ قول بھی
مولانا دی جگہ لگا کہن اوے مولبی ایسی تہذیب اتے لعنت خدائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
لفظ اوئے مولبی دار بکیا پچھا ہاں سی علم والا آدمی سی پہنچیا اوتھا ہاں سی
کر گیا ترقیاں اگاہاں تھیں اگاہاں سی ال میری ہاشمی نے اولے ملو پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
جان تے ایمان نالوں ہور شے عزیز کی بڑے مرزائی بنے پھردے نے چیز کی
میر تیری کسے بے تمیز نوں تمیز کی چڑیل دے حمیل گل ہیر پاندی پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
محمد حسین صاحب سیکرٹری کمیٹی جے اوہدے اگے کھولی میں مصیبتاں دی پٹی جے
کرو میرے واسطے بھی کوئی جیہی جیٹی جے کہن لگا میرے پاس نوکری نہ کائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
بھلا لوک خان صاحب عبدالمجید سی پریزیڈنٹ احمدی تے مینوں بھی امید سی
کئی دفعہ کیتی جاکے اوس نوں تاکید سی خان صاحب کرو میری مشکل کشائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
خان صاحب ہوراں نے اجیہی چٹ وٹی جے یعنی میری اوس نوں کلام لگی کھٹی جے
خوار خلق کوئی جے ٹھگاندی ایہہ ہٹی جے میر نے ہزار وار بات آزمائی جے
١٠
اک دن لبھا مینوں اک اشتہار سی سرخ رنگ حرف سوہنے نقش تے نگار سی
شائع کرنوالی اوہدی مجلس احرار سی سڑ بل کولے ہویا اک مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
سوڈے والا مستری غلام رسول جے اشتہار اتوں مینوں بکیا فضول جے
علم والا ہندیاں بھی بہت مجہول جے ایویں میری کھٹی کیتی مارنے دھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میرے پاس کچھ تھوڑا جیا سامان سی کوئی مینوں گھر تے نہ ٹکری دکان سی
لیا میں کرائے تے کمیٹی دا مکان سی ڈبل روٹی ویچی سر ٹوکری اٹھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
عزتی بے عزتی نوں سمجھیا میں ہیچ سی تھوڑے جے منافے اتوں سودا دینا ویچ سی
ہیر پھیر لاوناں نہ کوئی ایچ پیچ سی اوہو رات کھانی جہدی دن دی کمائی سی
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
گیا میں بتالی چک ویچنے نوں روٹیاں اک مرزائی دیاں نیتیاں سی کھوٹیاں
رات مینوں رکھ کے چرایاں ست روٹیاں چوہدری تے مولوی تے پکا مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
نت دیاں مسافتاں نے دتا مینوں مار سی گلی گلی گھمنا تے سر اتے بھار سی
سردی دے پاروں ہو گیا ڈاڈھا بیمار سی زندگی دی آس میرے دل توں مٹائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پلے وچہ آنا تے نہ گھڑے وچہ پانی سی روٹی نہیں سی لبھدی تے دوا کتھوں کھانی سی
میرے بھانے ہو گیا جہان سارا فانی سی باراں دن تیک کسے دتی بھی نہ داہی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
تیرھویں دہاڑے جاں افاقہ کچھ آیا سی ہولی ہولی اٹھ کے بازار ول ودھیا سی
مہر دین تائیں سارا ماجرا سنایا سی حلقہ سمندری دا جیہڑا ہیڈ بھائی جے
١١
رویا اوہدی جان نوں میں ہو گیا بیمار جے افسوس تساں میری پچھی بھی نہ سار جے
ہو گیا اخیر جدوں دم میرا پار جے چوہے میری لاش نوں بیشک جاہن کھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کہن لگا اسیں پچھدے نہ سار ہاں تینوں کی بتائیے اسی آپ ہی بیمار ہاں
تیتھوں پہلے اسیں آپ مرن نوں تیار ہاں دیکھیا جے کیسے ہمدرد مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہور اک قدرت اللہ نام مرزائی سی میرے دل وچہ اوہدی عزت سمائی سی
رو کے حقیقت میں اوس نوں سنائی سی تسی میرے دکھ سکھ وچہ بہن بھائی سی
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کہن لگا کراں گے ضرور انتظام جے پڑھن گے اساڈے بچے صبح تے شام جے
رکھاں گے مسیتی تینوں اپنا امام جے اج تیک اوس مڑ شکل نہ دکھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ساریاں دے ولوں مینوں ہو گئی تسلی جے باقی رہندا اک اصحابی جے
سونہہ مینوں رب دی او سب تو نکلا جے سو عہد کیتا پوری اک وی نہ پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کدی آکھے تینوں اسی مولوی بناواں گے کدی آکھے تینوں کتے منشی لگاواں گے
کدی آکھے کسے کارخانے وچہ لاواں گے خواہ مخواہ جان اساڈی ایویں او اڈائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دس میاں مٹھو پیلوں پکیاں کے کچیاں میں سنایاں گلاں جھوٹیاں کے سچیاں
جھوٹ جہڑا بولے اوہدے مرن بچے بچیاں ہو گئی اخیر کار سچ دی رہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کوئی مرزائی اٹھے ذمہ وار آدمی مرزے دی جس نے قبول کیتی خادمی
حق دی تحقیق کرنی وچ کاہدی نادمی نکلے میدان وچ بن کے سپاہی جے
١٢
جیہڑے جیہڑے نام میں رسالے وچہ لیتے نے سوہنہ دیوے ساریاں نوں چاہڑ کے صیغے نے
ہڈ بیتی واقعہ بیان جو میں کیتے نے حق سچ بات ہے کہ جھوٹھ دی رہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دیکھنے نے تاں میری صدق دے دلائل جے رہو تمام میری صادقی دا قائل جے
دفتراں دے وچہ موجود میرے فائل جے دیکھ کے بیشک کرو حق آزمائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دستخط سب توں کرا دے وار وار جے ہاں تے یا ناں دا کرا دے اقرار جے
جھوٹھ دی گرفت نوں حضور سرکار جے جھوٹھے اتے چلنی قانونی کارروائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کامیاب ہوناں اخیر کار سچ جے چور چور ہوناں اخیر کار کچ جے
اخیر سچ سچ ہے اخیر کچ کچ ہے ہون لگی سچ اتے کچ دی لڑائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
سچ نے میدان وچہ شیر وانگ گجناں کچ دا میدان وچہ ریزہ ریزہ بھجناں
حق دا نقارہ حق حق حق وجناں کوڑ دی جہان وچہ ہونی رسوائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
تن سوہاں میں کھاواں تن تسی کھالو سچ اتے جھوٹھ دا مقابلہ کرا لو
فارتقبو دا نتیجہ - آزما لو دیکھ کیہدے حق ہوندا فیصلہ جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
جھوٹیاں تے لعنت تمام اولیاء دی جھوٹیاں تے لعنت تمام انبیاء دی
جھوٹیاں تے لعنت محمد مصطفیٰ دی جھوٹیاں دے اتے ہووے لعنت خدائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
دیکھ لوو شیشہ مرزائی اخلاق دا آپو وچہ ایہاندے سلوک اتفاق دا
شور ہے جہان اتے شہرہ آفاق دا نرا بکواس نری مفت دی دہائی جے
١٣
پہلے دیکھ شیشہ پھیر دور بین دیکھنا تے محمود تے نور دین دیکھنا
قادیانی سین سارا یورپین دیکھنا ایکٹرز عیسائی تے ڈائریکٹر بھی عیسائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہن اخلاق پھیر تنظیم دساں گا تنسیخ دساں گا میں ترمیم دساں گا
خورد بین نال میں جراثیم دساں گا جنہاں نے جہان اتے طاعون پائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
مرزے دے دعوے کدی پھیر میں سناواں گا انشاء اللہ روشنی میں ڈاہڈی سوہنی پاواں گا
پورا پورا حق تبلیغ دا اداواں گا زندگی جے میری اللہ پاک نے ودھائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
مرزائی بھائیاں نوں بھنڈارہ ورتاواں گا عشق والی بھٹی چھولے بھن کے چباواں گا
ہر دم دم دا رگڑا میں چلاواں گا دم دم وانگ میں بھی گھسیا سودائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
عندلیبو سنو! دل سوز فریاد جے گھات لائی بیٹھا کوئی ظالم صیاد جے
ان جہنم لکم صیاد جے ہل من مزید دی او دیوانا دہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اوس دی صلاح تساں بلبلاں نوں پھڑن دی گلشن محمدی نوں برباد کرن دی
تساں دی دلیل جے حرام موتے مرن دی پھس جاؤ ظالم صیاد پھاہی لائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
تساں نوں پھسواندا جے کون کدی دا جی کہن جے تہانوں ہو جاؤ احمدی بھرا جی
ٹھوک کے جواب دیو اگیوں سنا جی آکھو اسی احمدی نہیں اسی سودائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اسیں جے محمدی تے اسیں بنے گے احمدی جھوٹھیاں نبوتاں توں جند ساڈی سہم دی
ساڈے اتے چوہدری نگاہ رکھو رحم دی اسی مسلمان سادا مسلمان مصطفائی جے
١٤
نہیں دیکھنا سنے محمود سنے نور دین دیکھنا
نہیں دیکھنا ایکٹر ز عیسائی تے ڈائریکٹر بھی عیسائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میں دساں گا تنسیخ دساں گا میں ترمیم دساں گا
میں دساں گا جنہاں نے جہان اتے طاعون پائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میں سناواں گا انشاء اللہ روشنی میں ڈاہڈی سوہنی پاواں گا
ودھاواں گا زندگی جے میری اللہ پاک نے ودھائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
بھٹھ تاواں گا عشق والی بھٹی چھولے بھن کے چباواں گا
گاواں گا دم دم وانگ میں بھی گھسلا سودائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہے گھات لائی بیٹھا کوئی ظالم صیاد جے
ہے ہل من مزید دی او دیواندا دہائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہے مرضی گلشن محمدی نوں برباد کرن دی
ہے مرضی پس جاؤ ظالم صیاد پھاہی لائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
بھرا جی کہن جے تہانوں ہو جاؤ احمدی بھرا جی
سنا جی اگے اسی احمدی نہیں انہوں سودائی جے
توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
اے احمدی جھوٹیاں نبوتاں توں جند ساڈی سہم دی
شرم دی ای مسلمان سادا مسلمان مصطفائی جے
١٤
پچھیں ناہیں جاؤ خلق دیکھ کے بھرا جی بلی وانگوں رکھدے جے نونہندراں چھپائی جے
کھوہب دیندے ڈھڈ وچہ لگے جدوں داجی اتوں اخلاقی وچوں پورے پورے دائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
مڑا خلق لہنہاں دا میں من نوں تیار نہیں تیری تبلیغ میرے کسے درکار نہیں
ڈوب دے جے بیڑا لایا کسے نوں دیں پار نہیں وچہ نہیں جے کچھ نری ہتھ دی صفائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
میرزے دی نبی پاک والی شان سمجھدے میرزے دی وحی تائیں قرآن سمجھدے
پٹی دانی مائی نوں نہیں امی جان سمجھدے اللہ جانے اوہدے کولوں ہوئی کی برائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
وڈے وڈے لیڈراں نوں نادان سمجھدے حاجیاں نمازیاں نوں بے ایمان سمجھدے
مسلمان تائیں نہیں جے مسلمان سمجھدے اوہو مسلمان جیہڑا پکا مرزائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
ہووے مرزائی بھاویں زانی تے شرابی جے داہڑی منے حقہ پین والے اصحابی جے
ایہناں اصحابیاں دا نبی وی پنجابی جے عربی رسول ولوں کنی کترائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
پڑھنی نماز جنہاں مسلماناں نال نہیں پڑھنا جنازہ مسلمان دا مجال نہیں
دیوناں نکاح مسلمان نوں حلال نہیں وکھری مسیت ڈیڑھ اٹ دی بنائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
کوئی مینوں لالچ تے کوئی مینوں طمع نہیں نال نہیں لے جانا کچھ کر جانا جمع نہیں
شمع محمدی بغیر کوئی شمع نہیں جند پروانے ایسے شمع نے جلائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
جھوٹیاں نبوتاں نوں میں نہیں جے مندا رب دا پجاری ہاں تے بتاں نوں جے بھندا
طالب دیدار ہاں محمد سوہنے چن دا زمین آسمان اتے جہدی روشنائی جے
١٥
سچا دربار ہے محمد رسول دا نانا جو حسین دا تے ابا ہے بتول دا
رہے گا ہمیش ہی رسولی جھنڈا جھولدا ایسے جھنڈے ہیٹھ ہونی سب دی رہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
آخری کتاب اکو پاک قرآن ہے حضرت محمد نبی آخر الزمان ہے
ایہو ہے عقیدہ میرا ایہو ہی ایمان ہے پاک ذات اللہ اکو میر دا سہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
سن اکونجا ڈیٹ جنوری دی یاراں سی مک گئی خزاں کھڑ پیاں گلزاراں سی
سکے ہوئے باغ اتے آگیاں بہاراں سی رحمتاں دی گھٹ جھٹ پٹ چڑھ آئی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
رب دا سبب بھی عجیب ڈھب میل دا کسے نوں نہیں بھید اوہدی قدرت دے کھیل دا
عبدالحکیم صاحب مولوی کمیل دا کھچ تقدیر کتوں اوس نوں لیائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
رکھ دتا بسترہ تے کول میرے بہہ گیا مسئلے مسائل دیاں گلاں کرن ڈہہ گیا
ہولی ہولی چمک پتھر لوہے نال کھہ گیا مقناطیس کشش کھچ لوہے نوں لیائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
توڑ کے قفس ہویا پنچھی آزاد جے باغ دی بہار اجے پنچھی نوں یاد جے
کرے گا ضرور کدی آلنہ آباد جے ہور کیاں پنچھیاں دی کرے گا رہائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
مک گئی خزاں تے فغاں میر بس کر ہوگیا آزاد توں قفس وچ پھس کر
زندگی گزار گلزار وچہ وس کر خوب دل نشین شان دین مصطفائی جے
بھن توڑ چھڈیا شکنجہ مرزائی جے
تمت بالخیر
١٦
دا نانا جو حسین وا تے ابا ہے بتول وا
ہوندا ایسے جھنڈے ہیٹھ ہونی سب دی رہائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
ہے حضرت محمد نبی آخرالزمان ہے
ہے پاک ذات اللہ اکو میر دا سہائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
ناسی مک گئی خزاں کھڑ پیاں گلزاراں سی
ناسی رحمتاں دی گھٹ جھٹ پٹ چڑھ آئی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
دا کسے نوں نہیں بھیت اوہدی قدرتاندے کھیل دا
دا کچی تقدیر کتوں اوس نوں لیائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
گیا مسئلے مسائل دیاں گلاں کرن ڈھکیا
مقناطیس کشش کچھ لوہے نوں لیائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
باغ دی بہار اجے پنچھی نوں یاد جے
ہور کیاں پنچھیاں دی کرے گا رہائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
ہو گیا آزاد توں قفس وچ پھس کر
خوب دل نشین سن دین مصطفائی جے
چھڈیا ٹھگنہ مرزائی جے
بالخیر!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزا غلام احمد
کی
تصویر کے دو رخ
غلام نبی جانباز مرزا
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
آج بھی کچھ لوگ اس ملک میں ایسے ملتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک کو اس کے اصل رنگ میں نہیں دیکھ سکے۔
کالج کی تعلیم سے فارغ نوجوان سے تو کوئی ایسا گلہ نہیں۔ اس لئے کہ والدین نے اسے مذہب کی تعلیم سے کورا رکھا۔ آگے چل کر جن ملاؤں سے ان کے رسم و راہ بڑھے۔ بدقسمتی سے وہ لوگ صحیح معنوں میں مذہب کے پیشوا نہیں تھے۔ ان کی باگ ڈور، اجنبی حکومت کے ہاتھوں میں تھی۔ رائج الوقت سلطنت نے ایسے لوگوں کو اپنی اپنی درسگاہوں میں بظاہر بطور معلم کے چھوڑ رکھا تھا۔ دراصل وہ برطانوی سلطنت کے جاسوس تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ مسلمان نوجوان کو مذہب کی کسی ایسی راہ سے آشنا نہیں کراسکتے تھے۔ جس پر چلنے سے اسلام کا صحیح پرتو نوجوانوں کے مستقبل کو روشن اور واضح کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ربع صدی میں جس قدر مذہبی تحریکیں متحدہ ہندوستان میں چلیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان ان میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی جہاں کہیں دو مختلف الخیال علماء باہم مذہبی گفتگو کرتے ہوں۔ ان اجتماعوں میں دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ اوّل وہ جنہیں مذہب سے نہ صرف لگاؤ ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک مذہب انسانی زندگی کا کماحقہ رہنما ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مذہب سے محبت رکھتے ہیں۔ خواہ انہوں نے اسلام کا ابتدائی قاعدہ پڑھا ہو یا نہ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ نوجوانوں کو مذہب سے نفرت ہے۔ بلکہ وہ اپنے آپ کو اس بحث کے قابل نہیں پاتے۔ ان کی تعلیم کی ابتداء مذہب سے نہیں ہوئی۔ بلکہ ایک ایسی تعلیم سے ہوئی ہے۔ جس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک کو مذہب کا لباس پہنا دیا گیا تھا۔ اس لئے مذہب سے بیگانہ نوجوان ان علماء کی باتیں سننے سے دور رہا۔ جو شروع میں تردید مرزائیت کے لئے میدان میں آئے۔
اگر عام لوگوں میں یا خاص گھرانوں میں اسلام کی تعلیم کا رواج عام ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک کو اس قدر فروغ ہوتا۔ جس قدر انگریز کی عملداری میں اس کو ہوا۔
٢
قریباً تیس برس کی جدوجہد سے مرزائیت دنیا بھر میں اس قدر ننگی ہو چکی ہے کہ اس کے جسم کی تمام بیماریاں ایک ایک کر کے گنی جاسکتی ہیں۔ گو اس نے اسلام کا ایک عضو ہی نہیں بلکہ خود اسلام بننے کی کوشش کی۔ لیکن اسلام کے محافظ ڈاکٹروں نے اس گندے جسم سے اسلام ایسے پاک اور ستھرے مذہب کو ہمیشہ محفوظ رکھا۔
باوجود اس کے کہ ارض وسماوات کے درمیان کی ہر شے آج مرزائیت کو اسلام کے لئے انسانیت کے لئے، شرافت کے لئے اور پاکستان کے لئے ضرر رساں خیال کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہنوز ایسے لوگ بھی ہیں جو وقت کی اس آواز کو نہ خود سنتے ہیں اور نہ دوسروں کو سننے دیتے ہیں۔
مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ مرزائیوں میں بھی نوے فیصدی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں آج تک مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ وہ سفید چادریں ہیں۔ ان کے والدین چونکہ مذہباً مرزائی ہیں۔ لہٰذا جو رنگ ان پر چڑھا دیا گیا۔ وہ اسی رنگ میں رنگے گئے۔ میرا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک آدمی دہریہ تو ہوسکتا ہے۔ لیکن مرزائی نہیں رہ سکتا۔
زیر نظر کتاب کے دو رخ ہیں۔ پہلا رخ اس کے چال چلن کی رنگین اور گندی تصویر ہے۔ جسے اس کے متعلقین اور خود مرزا غلام احمد قادیانی نے واضح اور صاف لفظوں میں اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اس کے بعد آنے والے بھی اسی راہ پر چلے۔
دوسرا رخ اس کے دعویٰ سے متعلق ہے۔ دونوں رخ دیکھنے اور مطالعہ کرنے کے بعد آدمی کس نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ اس کے لئے راستہ بند نہیں کیا گیا۔
میں نے یہ کتاب اسی اصول کے تحت ترتیب دی ہے۔ میں ہر آدمی کو دعوت دیتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھ کو جواب دے کہ واقعی مرزائیت کوئی مذہب ہے؟ جانباز مرزا!
تصویر کا پہلا رخ
”مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ پیشاب آتا ہے اور بعض دفعہ سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر سے کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔ اکثر پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے
٣
ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانی شروع کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩،خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤)
حامد علی قادیانی کا بیان
حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے دوسری شادی کی تو ایک عرصہ تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ زد جام عشق کے نام سے مشہور ہے۔ بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفہ اول بھی فرماتے تھے کہ میں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو بھی کھلایا تھا۔ تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر کئے۔
نسخہ زد جام عشق
زعفران، دارچینی، جائفل، افیون، مشک، عقرقرحا، شنگرف، لونگ۔
ان سب کو ہم وزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سنبل فار میں چرب کر کے رکھتے اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔ اس نسخے کے استعمال کے متعلق مرزاغلام احمد قادیانی (تریاق القلوب ص ٦٨) پر لکھتا ہے کہ:”یہ نسخہ فرشتہ نے میرے منہ میں ڈال دیا۔“ نیز آگے چل کر اسی کتاب کے اسی صفحہ پر کہتا ہے کہ:”پھر میں نے اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٥٠،٥١، روایت نمبر ٥٦٩)
”ایک مرض مجھے نہایت خطرناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ (یعنی انتشار) بکلی جاتا رہتا تھا۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٢، ٢١)
”چونکہ حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ اس لئے ان کو (موسم سرما کی اندھیری راتوں میں) غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا اور ان سے اختلاط ومس کرنا منع نہیں ہے۔ بلکہ کار ثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٢٠/مارچ ١٩٢٨ء)
٤
”دو مرض میرا کے نیچے کے حصہ میں۔ اور مرضیں اس زمانہ سے ج ہے۔“
”کچھ عرصہ ہوا دو لوگ قادیان گئے تھے آپ نے ان کو دو تین گھنٹے دفتر میں پہلے چوہدری محمد ڈاکٹر اللہ بخش نے اپنی ڈائ شراب پی ہوئی ہے۔ اس ملاقات کی۔ انہوں نے آ
عدالت کے تبصرے
”مرزا (غلام دوسرے خطوط میں یاقوتی پلومر کی شراب دواءً استعما ڈاکٹر شاہنواز مرزائی ”جب خاوند مرض منتقل ہوتی ہے۔ چو ہوتا ہے۔“ ڈاکٹر محمد اسماعیل کانو ”حضرت
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(درثمین اردو ص٩٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٧، خزائن ج٢١ ص١٢٧)
”دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں۔ جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص٣٠٦، ٣٠٧، خزائن ج٢٢ ص٣٢٠)
”کچھ عرصہ ہوا کہ ڈاکٹر اللہ بخش لاہوری احمدی اور مولوی آفتاب الدین مسلم مشنری ووکنگ قادیان گئے تھے۔ انہوں نے وہاں آپ (مرزا محمود قادیانی) سے ملاقات کا انتظام کیا۔ آپ نے ان کو دو تین گھنٹہ کے وقفہ سے ملاقات کا موقعہ دیا۔ مجھے اس ملاقات کے متعلق میرے دفتر میں پہلے چوہدری محمد سعید صاحب بھٹہ اور دوسرے پھر مولوی آفتاب الدین نے سنایا۔ بلکہ ڈاکٹر اللہ بخش نے اپنی ڈاکٹری کے باعث دوران ملاقات میں یقینی طور پر اندازہ کیا کہ آپ نے شراب پی ہوئی ہے۔ اس لئے آپ نے دو تین گھنٹے کا وقفہ لیا اور پھر آپ نے جو خوشبوئیں لگا کر ملاقات کی۔ انہوں نے آپ کے منہ سے شراب کی بو کو بہر حال محسوس کر لیا ہے۔“
(شیخ غلام محمد قادیانی کا مکتوب رسالہ تصنیفات احمدیہ جلد یازدہم نمبر ١١ ص٩)
عدالت کے تبصرے کا اقتباس
”مرزا (غلام احمد قادیانی) ایک ٹانک استعمال کرتا تھا۔ جس کا نام پلومر کی شراب، پھر دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔ مرزا محمود نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے پلومر کی شراب دواءً استعمال کی ۔“
(مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور، مورخہ ٦؍ جون ١٩٣٥ء)
ڈاکٹر شاہنواز مرزائی کا بیان
”جب خاندان سے اس کی ابتداء (مراق) ہو چکی ہو تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج٢٥ ص٨، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
ڈاکٹر محمد اسماعیل کا بیان
”حضرت ام المؤمنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی)
٥
کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسمات بھانو تھی۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں۔ بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا کہ بھانو آج بڑی سردی ہے؟ بھانو کہنے لگی۔ ہاں جی! تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں نے۔ (کبھی تو آج آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں)“
(سیرت المہدی ص٢١٠، روایت ٧٨٠)
”حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھار زنا کر لیتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے۔ انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ہمیں اعتراض تو موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء)
عبدالرحمن مصری کی کورٹ میں درخواست
”موجودہ خلیفہ (بشیرالدین محمود) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ کے رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں۔“
(عبدالرحمن مصری کی درخواست مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٣٨ء)
مہاشا محمد عمر کا بیان
میں خدا کی قسم کھا کر یہ بھی لکھتا ہوں کہ: ”انہوں نے (میاں فخر الدین ملتانی قادیانی) ایک دن اپنے مکان کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا تھا کہ تحریک جدید کے بورڈنگ کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا اور اب لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں۔“
(اخبار فاروق مورخہ ٧ اگست ١٩٣٧ء)
میں نے (بشیر الدین محمود) رویا دیکھا کہ: ”ایک بڑا ہجوم ہے۔ میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی میرے پاس بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ میرا آزار بند پکڑ کر گرہ کھولنی چاہی۔ میں نے سمجھا تھا کہ اس کا ہاتھ اتفاقاً لگا ہے اور میں نے آزار بند پکڑ کر اپنی جگہ پر اٹکالیا۔ پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے
٦
ا۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو ی تھی۔ اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا ا۔ ہاں جی! ندے تے تہاڈی لتّاں لکڑی وانگر ہویاں طرح سخت ہو رہی ہیں)“
(سیرت المہدی ص ٢١٠، روایت ٧٨٠)
یانی) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھار زنا کر لیتے ہیں۔ اللہ تھے۔ انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٣٨ء)
نواست ا) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردے میں عورتوں ض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ کے رکھا ہوا لوگوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی
(عبدالرحمٰن مصری کی درخواست مورخہ ٢٢؍ ستمبر ١٩٣٨ء)
اول کہ: ”انہوں نے (میاں فخر الدین ملتانی قادیانی) کہا تھا کہ تحریک جدید کے بورڈنگ کا ایک فائدہ ضرور حاب لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں۔“
(اخبار فاروق مورخہ ٧؍ اگست ١٩٣٧ء)
تھا کہ: ”ایک بڑا ہجوم ہے۔ میں اس میں بیٹھا ہوں جانب میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا۔ لانی چاہی۔ میں نے سمجھا تھا کہ اس کا ہاتھ اتفاقاً لگا ۔ پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے
٦
پھر یہی سمجھا کہ اتفاقیہ ایسا ہوا۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا تب مجھے اس کی بدنیتی پر شبہ ہوا اور میں نے روکا نہیں جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ وہ برا ارادہ کر رہا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤؍ ستمبر ١٩٣٧ء)
”جب میں (بشیر الدین محمود ) ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے۔ کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں کہ جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آئے۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی فرانس سے واقف نہ تھے۔ مگر مجھے اوپیرا میں لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے۔ جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے۔ اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا۔ ننگی نہیں ہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئی ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔“
(الفضل مورخہ ١٨؍ جنوری ١٩٣٤ء)
بشیر الدین کی والدہ کا بیان
”تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھی۔ حضرت صاحب (غلام احمد قادیانی) فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ والدہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ کی چند بوڑھی عورتیں ملنے آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی (مرزا غلام احمد قادیانی کا بچپن کا نام ہے) ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٤٥، روایت نمبر ٥١)
ڈاکٹر محمد اسماعیل کا بیان
”ایک دفعہ میاں یعنی خلیفۃ المسیح الثانی دالان کا دروازہ بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے جب کہ نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور
٧
فرمایا۔ میاں! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٩٢، روایت نمبر ١٧٨)
والدہ بشیر الدین محمود کا بیان
”حضرت مسیح الموعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے۔ تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور اگر گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٥٥، روایت ٦٥)
بشیر الدین کی والدہ کا بیان
”جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام دین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر قادیان لانے کی بجائے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح الموعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٢٣، روایت نمبر ٤٩)
”جیسا کہ حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور خداوند تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔“
(ٹریکٹ نمبر ٣٤، اسلامی قربانی)
حکیم نور دین کا بیان
”ایک دفعہ حضرت مسیح الموعود کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں ایک جگہ بٹھا دیا جائے۔ حکیم صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا کہ میں تو نہیں کہتا۔ آپ خود کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ: ”جاؤ جی! میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔“ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچا کر کے نیچی ڈالے میری طرف آئے۔
٨
میں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص٦٣، روایت نمبر ٧٧)
عبداللہ سنوری کا بیان
”ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت (مرزا قادیانی) سے فتویٰ دریافت کیا کہ: ”میری ایک بہن کنجری تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا۔ پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا۔ مگر بعد میں اللہ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس کے مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانے میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٦١، ٢٦٢، روایت نمبر ٢٧٢)
ڈاکٹر محمد اسماعیل کا بیان
”ایک دفعہ لاہور کے کچھ احباب رمضان میں قادیان میں آئے۔ حضرت (غلام احمد قادیانی) کو اطلاع ہوئی۔ آپ بمعہ کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا ہم سب روزہ سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہئے۔ چنانچہ ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوا دیئے۔“
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٩، روایت نمبر ٣٧٨)
مائی رسول بی بی بیوہ کا بیان
”ایک زمانہ میں حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کے گھر میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے ہوئے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں پہرے پر مائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص٢١٣، روایت نمبر ٨٨٦)
ڈاکٹر میر محمد اسماعیل کا بیان
”حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١١٩، روایت نمبر ٦٧٢)
میاں حامد علی خادم مرزاغلام احمد کا بیان
”ایک دفعہ سفر میں حضرت (مرزا قادیانی) کو احتلام ہوا۔ جب میں نے یہ روایت سنی
٩
تو بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔ پھر بعد فکر کرنے کے اور طبی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک فطرتی ، دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے ہے۔ انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہو سکتا ہے۔ مگر شیطانی نہیں ہوتا۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٤٢، روایت نمبر ٨٤٣)
پیر عنایت علی شاہ لدھیانوی کا بیان
”سفر میں حضور (مرزا قادیانی) نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا۔ جس میں ہندو، عیسائی، مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے۔ تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی۔ بوجہ سفر کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا..... اس لئے حضور اقدس نے تین گھنٹے تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔ مولوی محمد احسن نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا۔ جس پر ناواقف مسلمانوں نے اعتراضاً کہا کہ مرزا قادیانی رمضان میں دودھ پیتا ہے اور شور کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا۔ فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے ۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٢٧٢، روایت نمبر ٩٠٩)
حکیم نور دین کا بیان
”میں نے ایک دن حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) سے کہا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔ یہ طبیعتوں کی مناسبت ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٣٠٤، روایت ٩٦٩)
”پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دے دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں اور وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کر لیا تو وہ واپس آ کر ہمارے سر پر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے ...... پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا ہے۔“
٭ (کشف الاختلاف ص ١٣)
١٠
مرزا غلام احمد قادیانی کے خسر میر ناصر نواب کا بیان
”عاجز (میر ناصر نواب) نے چند امور کے لئے حضرت مرزا (مرزا قادیانی) سے دعا منگوانے کے لئے خط لکھا۔ جن میں سے ایک امر یہ بھی تھا کہ دعا کرو۔ مجھے خدا تعالیٰ نیک اور صالحہ داماد عطا فرمائے۔ اس کے جواب میں مجھے حضرت (مرزا قادیانی) نے تحریر فرمایا کہ میرا تعلق میری بیوی سے گویا نہ ہونے کے برابر ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے۔ ایسا ہی تم کو سادات کے عالی شان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا اور اس نکاح میں برکت ہوگی اور اس کا سب سامان میں بہم پہنچاؤں گا۔ تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ یہ آپ کے خط کا خلاصہ ہے۔ بلفظہ یاد نہیں اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھ پر نیک ظنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح کردیں اور تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔“
(حیات ناصر ص ٧)
درخواست گورنمنٹ اف انڈیا کے حضور میں تجویز تعطیل جمعہ
”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اس اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت جمعہ سے منکر ہوکر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تحریر کیا گیا ہے تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں...... جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی حسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہی چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں۔ جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر ان لوگوں کو شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھوں میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا اور ایسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے
١١
ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے ۔ جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں۔ گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں۔ فقط یہی مضمون درج ہے۔ ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے نام بمعہ پتہ ونشان یہی ہیں۔“
نمبر شمار نام معہ لقب وغیرہ سکونت ضلع کیفیت
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
نو نہال سنگھ، شیر سنگھ (یہ دونوں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے فوجی جرنیل تھے)
”دربار لاہور کے دور دورہ میں غلام مرتضیٰ (مرزا غلام احمد قادیانی کا والد) ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔ ١٨٤١ء میں یہ جنرل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا۔ ١٨٤٣ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیندار بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدہ (یاد رہے کہ حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے ساتھیوں سے بالاکوٹ کی لڑائی میں سکھوں کی فوج میں شامل ہو کر ان مجاہدوں سے لڑتا رہا) میں اس نے کارہا نمایاں کئے اور ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی سرکار (سکھوں) کا وفادار رہا۔ اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣١، روایت نمبر ١٣٢)
”میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمات کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے (مرزا قادیانی کے باپ اور بھائی) ١٨٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مہیا کر کے گورنمنٹ (برطانیہ) کی امداد کے لئے دیئے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣٢، روایت ١٣٣)
١٢
”اور میرا بھائی مرزا غلام قادر ترمون، پٹن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔ غرض اس طرح میرے بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ (برطانیہ) کی نظر میں ثابت کیا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣٢، روایت نمبر ١٤٣)
”میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا اور جب ترموں کے غدر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں۔ ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور قرین مصلحت سمجھ کر اس امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپائی اور اشاعت پر ہزاروں روپے خرچ ہوئے اور وہ کتابیں، عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ اس قدر بڑی کارروائی اور اس قدر دور دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے؟ جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کو روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا ہے۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے خلاف ہیں۔ کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اعانت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ، بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کسی انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٥ تا ٨، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
”اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے۔ جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی عہد سلطنت ایسا نہیں جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی
١٣
طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٧)
”سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا۔ تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح (مرزا قادیانی) کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
”اے ملکہ معظمہ قیصر ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٨، ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)
”شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے ضرورت نہیں ہے کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آبِ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہو کر آپ کے مطیع ہیں۔ بلکہ آپ کی انواع و اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے۔ جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔“ (ستارہ قیصریہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩، ١٢٠)
”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔“
(کتاب البریہ ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
١٤
(ستارۂ قیصرہ ص ٦ ،خزائن ج ١٥ص ١١٧)
آیا۔ تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ے عہدِ سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا ۔“
(ستارۂ قیصرہ ص ٨ ،خزائن ج ١٥ص ١١٨)
خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا ہا سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ستے صاف کر رہے ہیں۔“
(ستارۂ قیصرہ ص ٨، ٩،خزائن ج ١٥ص ١١٩)
ے عہدِ سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس بان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے س طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات اس طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہوکر تمام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ی اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ج کا ہاتھ اس رعایا پر ہے۔ جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہے۔“
(ستارۂ قیصرہ ص ٩،خزائن ج ١٥ص ١١٩، ١٢٠)
ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد دار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی سان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی ۔ پچاس سوار اور گھوڑے باہم پہنچا کر زمانہ غدر کے ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودی حکام ان سے گم ہوگئیں۔“
(کتاب البریہ ص٤، خزائن ج ١٣ص ایضاً)
١٤
”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ (برطانیہ) سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ یہ سوال ان کا نہایت ہی حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی کا کام ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص٨٤،خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
”جس گورنمنٹ کے زیرسایہ خدا نے ہم کو کر دیا ہے یعنی گورنمنٹ برطانیہ جو ہماری آبرو اور جان اور مال کی محافظ ہے۔ اس کی سچی خیر خواہی کرنا اور ایسے مخالف امن امور سے دور رہنا جو اس کو تشویش میں نہ ڈالیں۔“
(کتاب البریہ ص١٤، خزائن ج ١٣ص ایضاً)
”خدا کا یہ فضل اور احسان ہے کہ ایسی محسن گورنمنٹ کے زیرسایہ ہمیں رکھا۔ اگر ہم کسی اور سلطنت کے زیرسایہ ہوتے تو یہ ظالم طبع ملا کب ہماری جان و آبرو کو چھوڑنا چاہتے۔“
(کتاب البریہ ص٢٢،خزائن ج ١٣ص ٤٠)
”یاد رہے کہ مسلمان کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی شان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ بظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کیلئے لڑائیاں کی جائیں۔“
(تریاق القلوب ص٣٨٩،خزائن ج ١٥ص ٥١٧)
تصویر کا دوسرا رخ
”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے اور اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح الموعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تحفۃ حقیقت الوحی ص ٦٨ ،خزائن ج ٢٢ص ٥٠٣)
”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔“
(توضیح المرام ص ١٨ ،خزائن ج ٣ص ٦٠)
”اور چونکہ وہ بروزی محمدی جو قدیم سے موعود تھا۔ وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء ہوئی ہے۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ١١،خزائن ج ١٨ص ٢١٥)
١٥
”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسے کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
”میں آدم ہوں، شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔“
(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
”اور میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں....... اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے اور اس حالت میں یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایک نیا نظام اور آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں تو پہلے میں نے آسمان وزمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
”خدا تعالیٰ نے مجھے مسیح ابن مریم ٹھہرایا۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
”اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
”میں (غلام احمد قادیانی) کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفا مکان ہے۔ اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ حاکم الحاکمین یعنی رب العالمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں۔ جیسے حاکم کا کوئی رشتہ دار ہوتا ہے۔ میں نے کچھ احکام قضاء وقدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔ جب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔ اس وقت میری ایسی حالت ہوئی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قدرتاً اس کا دل بھر آتا ہے۔ میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ حاکم الحاکمین یا فرمایا رب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے اپنے پاس
١٦
س وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر حیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں سف ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔
(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
ں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ...... اس حالت میں یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایک نیا نظام اور نئے آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور ا۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا ۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
ریم ٹھہرایا ۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
ف سے نہیں بلکہ خدا نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفا مکان ہے۔ اس میں حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں۔ جیسے حاکم کا قضاء و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی یب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے یسیٰ حالت ہوئی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا دل بھر آتا ہے۔ میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے اپنے پاس
١٦
بٹھلایا ہے اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے دستخط کرنے کی غرض سے پیش کئے۔ انہوں نے قلم سرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی ڈبویا۔ میری طرف جھاڑ کر دستخط کر دیئے ۔“
(سیرت المہدی ص ٨٢، ٨٣، حصہ اوّل روایت نمبر ١٠٠)
”میں نے (غلام احمد قادیانی نے) خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرے کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر قد ناپیں۔ پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے ۔“
(سیرت المہدی ص ١٦ حصہ دوم روایت نمبر ٣٨١)
”حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جب کہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ (مرزا قادیانی) کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا میں اس سنت اہل بیت و رسالت کو بجالاؤں۔ سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے۔ وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے ...... اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز اور سرخ ایسے دلکش اور دل ستان طور پر نظر آتے تھے۔ جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے۔ جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا۔“
”دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہ ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندے کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔ یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کی نظروں سے بہت دور ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔“
(تذکرہ ص ٢٢، ٢٣، کتاب البریہ ص ١٧٩، ١٨٠، خزائن ج ١٣ ص ١٩٧، ١٩٨ حاشیہ)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں ۔“
(بحوالہ حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢، اخبار بدر ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
١٧
اس سے بہتر غلام احمد ہے
”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعہ ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
مصنف سیرت نصرت جہاں بیگم یوں رقمطراز ہے: ”١٨٦٥ء میں حضرت میر صاحب کی شادی کے تین سال بعد وہ بااقبال لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کی پیدائش کی صدیوں سے انتظار تھی اور جس کی پیدائش جس کا فیصلہ روز ازل سے ہی الٰہی پروگرام کے تحت مقدر ہو چکا تھا۔“
اللہ نے دنیا کی تخلیق میں اس کی اصلاح کے لئے انبیاء اور مرسلین مبعوث فرمائے۔ اس نے سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ قائم کیا۔ سلسلہ موسویہ کی اصلاح کے لئے ایک مسیح کو مبعوث فرمایا جو احیائے دین موسوی کے لئے مبعوث ہوا۔ پھر سلسلہ محمدیہ قائم کیا اور اس سلسلہ کو سلسلۂ موسویہ کے بالکل متوازی قائم کیا اور اس کے لئے یہ مقدر کیا کہ جب سلسلہ بنی اسرائیل کی طرح بگڑ جائے گا تب ایک مسیح بروز محمد بنا کر بھیجا جائے گا۔ جو اتباع محمد اس قدر محو ہوگا کہ اس میں اور اس متبوع میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ حتیٰ کہ وہ خود پکار اٹھے گا کہ: ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی ومارای اس پر محمدیت کی چادر ڈال دی جائے گی اور وہ اس قدر اس میں محو ہوگا کہ وہ زندگی تو زندگی مرنے کے بعد بھی رسول کریم ﷺ کی قبر میں ہی مدفون ہوگا۔“
(ماخوذ سیرت نصرت جہاں بیگم ص ١٧١، ١٧٢)
”اے ناظرین! میں (مرزا قادیانی) آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار مورخہ ١٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشین گوئی کی تھی اور خدا سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا۔“
(سیرت نصرت جہاں بیگم ص ٣٤٤، ٣٤٥ حصہ اوّل)
١٨
”میرا پہلا لڑکا جس کا نام محمود ہے۔ ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا پایا۔ محمود“
(تذکرہ ص١٦٢، ماخوذ سیرت نصرت جہاں بیگم حصہ اوّل ص٣٦٨)
”آسمان سے کئی تخت اترے پر میرا (مرزا قادیانی کا) تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ مجھے اس امت کے جملہ اولیاء پر فضیلت حاصل ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص١٦، روایت نمبر ٤٨١)
”میں نے (مرزا قادیانی نے) اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔ یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو۔ یہاں تک کہ کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔
اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک میرا کوئی زور باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء، میری آنکھ اس کی آنکھ، میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔
حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اس کی طرف کھنچ گیا۔ پھر ہمہ مغز ہو گیا۔ جس میں کوئی پوست نہ تھا اور تیل بن گیا۔ جس میں کوئی میل نہ تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس میں اس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی۔
اس قطرے کی طرح جو دریا میں جاملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں میں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے میں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں میں اور میرے پٹھوں میں سرایت کر گئی اور میں بالکل اپنے آپ سے دور ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے
١٩
میرے سب اعضاء اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں ۔ چنانچہ اس کی گرفت میں بالکل معدوم ہو گیا اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ کے اعضاء ہیں اور میں خیال کرتا تھا کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہیئت سے قطعاً نکل چکا ہوں ۔ اب کوئی شریک اور کوئی منازع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اس کا ہو گیا اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا ہوں ۔ ہم ایک نیا نظام ، نیا آسمان ، نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں منشاء حق موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں ۔ پھر میں نے آسمان اور دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زینا السماء الدنيا بمصابیح“ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے ۔ پھر میری حالت کشفی سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“
(تذکرہ طبع ٣ ص ١٩٢، ١٩٣، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ تا ٥٦٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”اس وقت اسلام کی ترقی اللہ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ جیسا وہ ہمیشہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جو میری مانے گا ، جیتے گا اور جو میری نہ مانے گا، ہار جائے گا اور جو میرے پیچھے چلے گا خدا کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستے سے الگ ہو جائے گا ۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دیئے جائیں گے ۔“
(بیان بشیرالدین محمود، اخبار الفضل قادیان ج ٣٣، مورخہ ١٢، نومبر ١٩٤٦ء)
”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات احمدیہ ج اول ص ١٣١، اخبار الحکم نومبر ١٩١٢ء)
”اس وقت اسلامی دنیا پانچ وقت اللہ کی عظمت، بزرگی اور بڑائی کا اعلان کلمہ اللہ اکبر کے ساتھ کرتی ہے۔ اہل اسلام کا نعرۂ جنگ میں اور صلح میں ہر حال میں یہی ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کی بڑائی کے بعد سب سے بڑھ کر ہر زمانہ میں وہ ہے جس کو اللہ اپنا برگزیدہ رسول بنا کر
٢٠
ے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اس سے زیادہ ممکن لکل معدوم ہو گیا اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے ناء ہیں اور میں خیال کرتا تھا کہ میں اپنے سارے وجود سے چکا ہوں۔ اب کوئی شریک اور کوئی منازع روک کرنے والا نہیں گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون ن میں یوں کہہ رہا ہوں۔ ہم ایک نیا نظام، نیا آسمان، نئی زمین ان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب افق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس مان اور دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زينا السماء الدنيا ک اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف ق في احسن تقويم“
ص١٩٢، ١٩٣، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
چھا للہ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ جیسا وہ ہمیشہ اپنے یا کرتا ہے۔ پس جو میری مانے گا، جیتے گا اور جو میری نہ مانے ے گا خدا کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور گا۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دیئے
بشیر الدین محمود، اخبار الفضل قادیان ج ٣٣، مورخہ ١٢؍ نومبر ١٩٤٦ء)
چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ کرتے ہو۔“
(ملفوظات احمدیہ ج اول ص ١٣١، اخبار الحکم نومبر ١٩١٢ء)
س وقت اللہ کی عظمت، بزرگی اور بڑائی کا اعلان کلمہ اللہ اکبر دن میں اور صلح میں ہر حال میں یہی ہے کہ اللہ سب سے بڑا مگر ہر زمانہ میں وہ ہے جس کو اللہ اپنا برگزیدہ رسول بنا کر ٢٠
مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے بھیجے اور ان رسولوں کے بعد ان کے جانشین خلفاء راشدہ سب سے بڑے انسان حضرت مسیح الموعود مہدی حضرت مرزا غلام احمد گزرے ہیں اور اب سب سے بڑا انسان اس رسول کا جانشین اور خلیفہ برحق ہے۔ جس کی نسبت پہلے سے پیش گوئی ہو چکی ہے اور تورات اور زبور میں بھی جس کا ذکر ہے اور جو حضرت مسیح الموعود کا نہ صرف پسر ہے۔ موعود ہے بلکہ خلیفۃ معہود ہے۔“
(الفضل خلافت جوبلی نمبر قادیان مورخہ ٢٨؍ دسمبر ١٩٣٩ء)
”آخر ایک ایسی جگہ میں پہنچا ہوں جہاں ایک میدان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایک باغ ہے۔ جس میں میرا مکان ہے۔ میرے پیچھے پیچھے وہ عورت بھی پہنچ گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جنت میں میرے ساتھ رہنے کے لئے آئی ہے۔ وہ بہت خوبصورت عورت ہے۔ میں اس کی ٹھوڑی پکڑ کر کہتا ہوں کہ کیا تم بھی جنت میں میرے ساتھ رہو گی؟ اس نے کہا ہاں۔ میں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں گی۔ میں نے کہا کہ تمہیں میری بیویوں کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ وہ کچھ حیرت ظاہر کرتی ہے۔ (بیویوں کے ساتھ؟) مگر اس نے انکار نہیں کیا۔ اس وقت ایک دم میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ خوبصورت عورت اللہ ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔“
(خواب بشیر الدین محمود، اخبار الفضل قادیان ج ٣٥ ش ٢٧، مورخہ ٢٠؍ مارچ ١٩٤٧ء)
”حضرت مسیح الموعود نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب میں کسی سفر سے واپس قادیان آ رہا تھا تو میں نے بٹالہ پہنچ کر قادیان کے لئے یکہ کرایہ پر کیا۔ اس یکے پر ایک ہندو سواری بھی بیٹھنے والی تھی۔ جب ہم سوار ہونے لگے تو وہ ہندو جلدی کر کے اس طرف چڑھ گیا جو سورج کے رخ سے دوسری جانب تھی اور مجھے سورج کے سامنے بیٹھنے پڑا۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ جب ہم شہر سے نکلے تو ناگاہ بادل کا ایک ٹکڑا اٹھا اور میرے اور سورج کے درمیان آ گیا اور ساتھ ساتھ آیا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥، روایت نمبر ٧)
”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر وہ دوسری باتوں میں اس پر کوئی اعتماد نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
”قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
”اے میرے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے۔ جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے ٢١
اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“
(اربعین نمبر٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
”حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کی بعثت رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ آپ کے صحابہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے مثیل ہیں اور آپ کے خلفاء رسول کریم ﷺ کے خلفاء کے مثیل ہیں۔ جو آپ سے محبت کرتا ہے وہ رسول کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ جو آپ سے دشمنی رکھتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا دشمن ہے۔ جو آپ کے صحابہ اور آپ کے خلفاء اور آپ کی اولاد سے محبت کرتا ہے اور ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ اور آپ کے خلفاء اور آپ کی اولاد سے محبت کرتا ہے اور ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لیکن جو حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کے خلفاء کا دشمن ہے وہ یقیناً رسول کریم ﷺ کے خلفاء کا دشمن ہے۔ آنحضرت ﷺ کا پہلا خلیفہ حضرت ابوبکرؓ تھے اور مسیح الموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پہلا خلیفہ حضرت مولوی حکیم نور دین تھے۔ کتنی شاندار صداقت ہے کہ مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کا آنا رسول کریم ﷺ کا آنا ہے اور آپ کے بعد خلیفہ اوّل یعنی حضرت مولوی نور دین کا وجود رسول کریم ﷺ کے بعد خلیفہ اوّل یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وجود ہے۔“
(مضمون اخبار الفضل قادیان نمبر ٤٢، مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٢٦ء)
”مجھے بتایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
(کتاب اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
”مجھے خدا نے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا اور توارث کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
”اسلام میں خدا نے ایک عظیم الشان نبی بھیجا ہے۔ تاکہ وہ اس زندہ خدا کا لوگوں کو پتہ دے۔ جو اسلام نے پیش کیا ہے اور ان کا نام نامی حضرت مرزا غلام احمد ہے۔ جو قادیان پنجاب میں مبعوث ہوا۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ٢٦٢، مورخہ ١٢؍ نومبر ١٩٣٧ء)
”ایک دفعہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور سوال کیا کہ قرآن کریم سے مرزا (غلام احمد قادیانی) کی صداقت کا ثبوت پیش کریں۔ ایسے لوگ اکثر آتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ سارا
٢٢
دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
قادیانی) کی بعثت رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ صحابہ کے مثیل ہیں اور آپ کے خلفاء رسول کریم ﷺ کے بت کرتا ہے وہ رسول کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ جو آپ شمن ہے۔ جو آپ کے صحابہ اور آپ کے خلفاء اور آپ کی کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ اور آپ تا ہے اور ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لیکن جو حضرت کا دشمن ہے وہ یقیناً رسول کریم ﷺ کے خلفاء کا دشمن ہے۔ ئے تھے اور مسیح الموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پہلا خلیفہ حضرت صداقت ہے کہ مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کا آنا رسول خلیفہ اول یعنی حضرت مولوی نور دین کا وجود رسول ابوبکر صدیق کا وجود ہے۔“
(مضمون اخبار الفضل قادیان نمبر ٤٢، مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٣٦ء)
کہ قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین
(کتاب اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
کے رنگ میں پیدا کیا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
ظیم الشان نبی بھیجا ہے۔ تاکہ وہ اس زندہ خدا کا لوگوں کو پتہ کا نام نامی حضرت مرزا غلام احمد ہے۔ جو قادیان پنجاب
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ٢٦٢، مورخہ ١٢؍ نومبر ١٩٣٧ء)
ے پاس آیا اور سوال کیا کہ قرآن کریم سے مرزا (غلام احمد کہ ایسے لوگ اکثر آتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ سارا
٢٢
قرآن ہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔“ (بیان بشیر الدین محمود، الفضل مورخہ ٥؍ فروری ١٩٣٨ء)
”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ! اس وحی الٰہی میں خداوند تعالیٰ نے میرا نام محمد رکھا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار البدر قادیان مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
”مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ امام مہدی اور مسیح مانتے ہیں۔ جس کی خبر تمام انبیاء علیہم اجمعین نے اور حضرت محمد رسول خاتم النبیین نے دی۔ ہم بغیر کسی فرق کے بہ لحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول مانتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔“
(الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٢٨٦، بابت ماہ اکتوبر ١٩١٧ء)
”لیکن کیا امتی کہلانے سے آپ کی نبوت تامہ کاملہ نہ رہی۔ یا آپ نبوت کے لحاظ سے پہلے نبیوں سے شان میں کم رہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ کا کسی پہلے نبی سے نبوت کے لحاظ سے کم رہنا تو الگ رہا۔ آپ تو اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ خدا نے اس امت میں سے مسیح الموعود بھیجا۔ جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٤ نمبر ٤٥، مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩١٦ء)
”ایک دن جب میں عشاء کی نماز سے فارغ ہوا تو اس وقت نہ مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی میں اونگھ رہا تھا اور نہ ہی کوئی بیہوشی کے آثار تھے۔ بلکہ میں بیداری کے عالم میں تھا۔ اچانک سامنے سے ایک آواز آئی۔ آواز کے ساتھ ہی دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آ رہے ہیں۔ بیشک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علی ساتھ اپنے دو بیٹوں کے اور ساتھ اپنی بیوی فاطمہ کے اور سردار مرسلین کے اور دیکھتا کیا ہوں کہ فاطمۃ الزہرا نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور میری طرف گھور گھور کر دیکھنا شروع کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٩، ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٢٣
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
ترجمہ: میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میری قمیص میں چھپا ہوا ہے۔
(نزول المسیح ص ١٠٠،خزائن ج١٨ص٤٧٨)
صد حسین است در گریبانم
ترجمہ: کربلا میرے روز کی سیر گاہ ہے۔ حسین جیسے سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔
(نزول المسیح ص ٩٩،خزائن ج١٨ص٤٧٧)
”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ (نجات دینے والا ہے) کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣،خزائن ج١٨ص٢٣٣)
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتی کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
بشیر الدین محمود کی پیدائش کے متعلق مرزا قادیانی کا بیان
”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا، گرامی و ارجمند ہوگا۔ اوّل و آخر کا مظہر ہوگا اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترے گا۔“
(تذکرہ ص ١٣٩)
”دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زائد نہیں۔ بذریعہ الہام اس کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا۔ یعنی مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردِ زہ تناء کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧،خزائن ج١٩ص٥٠)
”لوگ اخباروں میں مضامین دیا کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں سب سے بڑا آدمی کون ہے؟ کوئی گاندھی جی کا نام لیتا ہے۔ کوئی اتاترک کا کوئی مسولینی اور ہٹلر کا۔ مگر حقیقت میں بڑا وہ ہے جس پر خدا کا فضل سب سے بڑھ کر ہو اور وہ اللہ کے رسول کا جانشین حضرت فضلِ عمر مرزا بشیر الدین محمود ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٧؍ دسمبر ١٩٣٨ء)
٢٤
سوئے نہاں بہ پیراہنم
سے ہر نبی زندہ ہو گیا ۔ ہر رسول میری قمیص میں چھپا ہوا ہے ۔
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
حسین است در گریبانم
خدا کی سیر گاہ ہے۔ حسین جیسے سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ (نجات دینے والا آج تم میں سے ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
متعلق مرزا قادیانی کا بیان
نامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق رہنما ۔ یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا، گرامی وارجمند ہوگا۔ اوّل مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترے گا ۔“
(تذکرہ ص ١٣٩)
پیٹ میں میں نے پرورش پائی ۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس کر کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن کہلایا ہے جو دردِ زہ تازہ کھجور کی طرف لے آئی ۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
دعوٰی دیا کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں سب سے بڑا آدمی کون کوئی اتاترک کا کوئی مسولینی اور ہٹلر کا۔ مگر حقیقت میں بڑا وہ شخص ہے اور وہ اللہ کے رسول کا جانشین حضرت فضلِ عمر
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ دسمبر ١٩٣٨ء)
٢٤
”بعض نادان شیعہ نے جنہوں نے حسین کی پرستش کو اسلام کا مغز سمجھ لیا ہے۔ ہمارے رسالہ دافع البلاء کے دیکھنے سے بہت زہر اگلا ہے اور گالیاں دے کر یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسین سے افضل ہو..... افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے امام حسین کو رتبہ اہلبیت کا بھی نہیں دیا۔ بلکہ نام تک مذکور نہیں ان سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن میں موجود ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم“ کی آیات نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا۔ نہایت ہی ناچیز کر دیا۔ لیکن میں مسیح الموعود نبی اور رسول ہوں۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو مجھ سے کیا نسبت ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣)
”اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد ﷺ سے کوئی بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے تو میں کہا کرتا ہوں کہ خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٦ جون ١٩٣٢ء ص ٨)
”اب جو سید کہلاتا ہے۔ اس کی سیادت باطل ہو جاتی ہے۔ اب وہی سید ہوگا۔ جو حضرت مسیح الموعود (مرزا قادیانی) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“
(قول الحق ص ٣٢)
”حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اعلیٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ بدر کامل چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
”حضرت مسیح الموعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ جو حضرت مسیح الموعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء)
”ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت مرزا (مرزا قادیانی) ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر حضرت مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ اس کا جواب یہ ہے..... کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا..... پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(كلمة الفصل ص ١٥٨، ١٥٧)
٢٥
”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں....... میری نسبت یہ وحی اللہ ہے...... محمد رسول اللہ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
”میں ابراہیم ہوں۔ اب میری پیروی میں نجات ہے۔ خدا نے میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ”سلام علیٰ ابراھیم صافیناہ ونجیناہ من الغم واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“ یعنی سلام ہے ابراہیم پر۔ یعنی (غلام احمد قادیانی) اس عاجز پر ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دلائی اور تم جو پیروی کرتے ہو۔ تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو۔ تا نجات پاؤ...... یہ قرآن کریم کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا۔ تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ...... یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم (مرزا قادیانی) کا پیرو ہوگا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٨، ٦٩)
”آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے...... عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ ابن مریم کو خدا بنایا...... اور اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح الموعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”جو وحی ونبوت کا جام ہر نبی کو ملا۔ وہ جام مجھے بھی ملا ہے۔ بخدا میں اپنی وحی کو مثل قرآن منزہ اور کلام مجید سمجھتا ہوں۔ اگرچہ لاکھوں انبیاء ہوئے ہیں۔ لیکن میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ جو یقین عیسیٰ کو انجیل پر ہے۔ موسیٰ کو توریت پر ہے۔ آنحضرت کو قرآن پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی میں ہے جو کوئی اس کو ناحق کہے وہ لعین ہے۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
٢٦
”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔..... پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
”خدا تعالیٰ نے اپنی پاک وحی میں مسیح الموعود (مرزا قادیانی ) کو محمد رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح الموعود کا آنا بعینہ محمد رسول کا دوبارہ آنا ہے۔ مسیح الموعود کو عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اور یہی وہ بات ہے جو احمدیت کی اصل اصول کہی جا سکتی ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ اگست ١٩١٥ء)
”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)
”ہمارا عقیدہ ہے کہ دوبارہ حضرت محمد رسول ہی آئے ہیں اور اگر محمد رسول اللہ پہلے نبی تھے تو اس حیثیت میں بھی ۔ اگر محمد رسول اللہ کے انکار سے پہلے انسان کافر ہو جاتا تھا تو اب بھی آپ کے انکار سے انسان ضرور ضرور کافر ہو جائے گا۔ ہم (احمدیوں) نے مرزا (مرزا قادیانی ) کو بحیثیت مرزا نہیں مانا۔ بلکہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ کیونکہ ہم اگر ساری جائیدادیں سارے اموال اور جانیں قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہو سکتے ۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا اور اس شرف کو نہیں پا سکتے ۔ جو صحابہ عظام نے پایا ہے۔ کیونکہ انہیں محمد رسول اللہ کا چہرہ نہیں دیکھا۔ مگر اللہ نے ہمیں محمد کا چہرہ مبارک دکھایا کہ اس کی محبت مستعار کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٧ ستمبر ١٩١٣ء)
ہے جلوہ ریز وہ اب قادیاں کے سینے میں
(اخبار الفاروق قادیان ج ٢٥ نمبر ٢١٥، بابت ماہ اپریل ١٩٤٠ء)
”غرض سب سے بڑا انسان ہونے کے واسطے جو ظاہری اور باطنی خوبیاں اور روحانی اور دنیوی برکات کسی شخص میں ہونی چاہئیں۔ تو وہ آج سب سے بڑھ کر سیدنا حضرت مسیح الموعود کے خلیفہ موعود حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب خلیفہ الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں پائی جاتی ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان جوبلی نمبر ، مورخہ ٢٨ نومبر ١٩٣٩ء)
٢٧
مرزا بشیر الدین محمود کا بیان
”پہلی بات میری طرف یہ منسوب کی جاتی ہے کہ میں حضرت مسیح الموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آنحضرت ﷺ کے برابر سمجھتا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ظلیت کے لحاظ سے حضرت مسیح الموعود میں آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات آ گئے ہیں۔ مگر درجہ کے لحاظ سے آپ کو آنحضرت ﷺ کے برابر کہنا میں کفر سمجھتا ہوں۔ دیکھو! تصویر میں وہ باتیں آ جاتی ہیں جو اصل میں ہوتی ہیں۔ مثلاً ناک، کان، سر، آنکھیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر پھر بھی تصویر تصویر ہی ہے اور اصل اصل ہی، پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح الموعود اس قدر رسول کریم ﷺ کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے۔ لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح الموعود میں ہے۔ ہم اگر آپ کو آنحضرت ﷺ کا کامل واکمل بروز مانتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی یقین اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کا تعلق رسول کریم ﷺ سے خادم اور غلام کا ہے۔ ہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم ﷺ کے ذریعے ظاہر ہوا تھا۔ وہی مسیح الموعود نے دکھلا دیا۔ اس لحاظ سے برابر بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح الموعود کی ایک شان اور ایک درجہ ہے۔ بلکہ شاگرد اور استاد آقا اور غلام کی نسبت ہے۔ البتہ حضرت مسیح الموعود آپ کی کامل اتباع اور پوری پیروی سے ایسے صاف ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات اپنے اندر اخذ کر لئے ہیں۔“
(ذکر الہی ص ١٨، ١٩)
حکیم محمد حسین مرہم عیسیٰ کا بیان
”میرے ایک محبّ تھے جو اس وقت مولوی فاضل ہیں اور اہل بیت مسیح الموعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بھی اتنی پیش گوئیاں نہیں تھیں جتنی مسیح الموعود کی ہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ بولا کہ ابوبکرؓ، عمرؓ کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمے بھی کھولنے کے لائق نہ تھے۔ ان فقروں نے مجھے ایسا دکھ دیا اور ان کو سننے سے مجھے ایسی تکلیف ہوئی کہ میری نظر میں جو توقیر اور عزت اہل بیت مسیح الموعود میں سے ہونے کی نسبت تھی۔ وہ سب جاتی رہی۔ اس وقت بقول شخصے یہ شعر یاد آ گیا۔
(المہدی نمبر ٢، ٣، ص ٥٧)
٢٨
یہ منسوب کی جاتی ہے کہ میں حضرت مسیح الموعود علیہ الصلوٰۃ ت بتاتا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ظلیت کے لحاظ سے حضرت مسیح مام کمالات آگئے ہیں۔ مگر درجہ کے لحاظ سے آپ کو رکھتا ہوں۔ دیکھو! تصویر میں وہ باتیں آ جاتی ہیں جو اصل میں س وغیرہ وغیرہ۔ مگر پھر بھی تصویر تصویر ہی ہے اور اصل اصل الموعود اس قدر رسول کریمﷺ کے نقش قدم پر چلے کہ وہی مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر منے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت میں ہے۔ ہم اگر آپ کو آنحضرتﷺ کا کامل واکمل بروز یدہ رکھتے ہیں کہ آپ کا تعلق رسول کریمﷺ سے خادم اور جو رسول کریمﷺ کے ذریعے ظاہر ہوا تھا۔ وہی مسیح الموعود ہا جاسکتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ آنحضرتﷺ اور حضرت مسیح لکہ شاگرد اور استاد آقا اور غلام کی نسبت ہے۔ البتہ حضرت دعویٰ ہے ایسے صاف ہوئے کہ آنحضرتﷺ کے تمام
(ذکر الٰہی ص ١٨، ١٩)
اس وقت مودودی فاضل ہیں اور اہل بیت مسیح الموعود کے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بھی اتنی نہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ لام احمد کی جوتیوں کے تسمے بھی کھولنے کے لائق نہ تھے۔ ان وں سے مجھے ایسی تکلیف ہوئی کہ میری نظر میں جو توقیر اور عقیدت کی نسبت تھی۔ وہ سب جاتی رہی۔ اس وقت بقول شخصے
(المہدی نمبر ٢، ٣، ص ٥٧)
٢٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
جانباز
پاکٹ بک
غلام نبی جانباز مرزا
بسم الله الرحمن الرحیم!
بحمد الله!
کہ جانباز پاکٹ بک کی ترتیب کو ایک طرف اگر کالج کے پرنسپل، سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز، طالب علموں نے پسند فرمایا تو دوسری طرف کاروباری طبقے کے علاوہ شہری اور دیہاتی عوام نے بھی اسے وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
تیسرے ایڈیشن میں نئے عنوان کے ساتھ مزید اور اوراق کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دعا کریں کہ پروردگار مجھے ہمت دے کہ میں ہر ایڈیشن کے ساتھ نئے عنوان کے زیر تحت اضافہ کرتا رہوں۔ تاکہ یہ مفید سلسلہ جاری اور ساری رہے۔ جانباز!
حرف اول
دنیا میں بغیر قوت کے نہ سلطنت چل سکتی ہے نہ مذہب ترقی کر سکتے ہیں۔ عرب جیسی سنگلاخ زمین پر جہاں گناہ کو بھی ثواب کا درجہ حاصل تھا۔ ایک سعید روح نے جب فاران کی چوٹی سے باطل کو للکارا تو کفر مجتمع ہو گیا۔ عرب کے پہاڑوں نے بھی کفر کا ساتھ دیا۔ لوگ ان راستوں سے پتھروں کی جھولیاں بھرتے اور اس ذات گرامی پر راہ چلتے اس طرح پھینکتے جیسے (نعوذ باللہ) کسی مجنوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ عرب کے پھول کانٹے بن کر محسن کائنات کے پاؤں تلے آ کر کفر کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں اور اپنوں نے بیگانوں کا سا روپ بھر لیا ہے۔ آج جو ساتھ تھے کل وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ مکہ کی گلیاں اور بازار نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ یہ وقت عارضی نہیں تھا بلکہ تیرہ برس یہی عمل رہا۔ اس پر آشوب دور میں عبداللہ کے یتیم اور آمنہ کے لال (جن کا نام ہے محمد محسن سے دونوں جگ منور ہوئے صلوٰۃ والسلام ) نے آبدیدہ نگاہوں سے آسمان کو دیکھ کر فرمایا۔
اے خالق کائنات تو دیکھ رہا ہے کہ تیری مخلوق تیرے مقابل خالق بن گئی ہے اور تیری جگہ پتھروں کی پوجا ہو رہی ہے۔ میں نے تیرہ برس تیرے پیغام کی منادی کی ہے۔ لیکن کام بنتا نظر نہیں آتا۔ اس لئے اگر تو چاہے کہ اس بے آب و گیاہ زمین کے خشک پہاڑوں کی چوٹیوں سے تیرا نام بلند ہو تو پھر عمر بن ہشام (ابوجہل ) میرے ساتھ کر دے یا عمر بن خطاب کو میری جھولی میں ڈال دے۔
٢
م اللہ الرحمن الرحیم!
بحمد للہ !
ترتیب کو ایک طرف اگر کالج کے پرنسپل، سکولوں کے ہیڈ وسری طرف کاروباری طبقے کے علاوہ شہری اور دیہاتی عوام ے قرار دیا ہے۔ عنوان کے ساتھ مزید اور اوراق کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دعا میں ہر ایڈیشن کے ساتھ نئے عنوان کے زیر تحت اضافہ کرتا رہی ہے۔ جانباز !
ات چل سکتی ہے نہ مذہب ترقی کر سکتے ہیں۔ عرب جیسی چھ حاصل تھا۔ ایک سعید روح نے جب فاران کی چوٹی کے پہاڑوں نے بھی کفر کا ساتھ دیا۔ لوگ ان راستوں لئے گمراہی پر راہ چلتے اس طرح پھینکتے جیسے (نعوذ باللہ ) حسوس ہوتا تھا کہ عرب کے پھول کانٹے بن کر محسن کائنات رہے ہیں اور اپنوں نے بیگانوں کا سا روپ بھر لیا ہو گئے۔ مکہ کی گلیاں اور بازار نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ ہو رہا۔ اس پر آشوب دور میں عبداللہ کے یتیم اور آمنہ کے رف منور ہوئے صلوٰۃ والسلام ) نے آبدیدہ نگاہوں سے
گہ دنیا میں تیرا نام رہے یکھئے کہ تیری مخلوق تیرے مقابل خالق بن گئی ہے اور چھلے تیرہ برس تیرے پیغام کی منادی کی ہے۔ لیکن کہ اس بے آب و گیاہ زمین کے خشک پہاڑوں کی (ابوجہل ) میرے ساتھ کر اور یا عمر بن خطاب کو ٢
یہ دعا وہ اولوالعزم پیغمبر مانگ رہا ہے جس کے لئے پروردگار عالم نے ارض و سماوات کے نظام کو قائم کیا۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی بغیر قوت کے دنیا میں نہ چل سکے۔ آج جب یہ سطور رقم کر رہا ہوں کفر اپنی دنیاوی قوت سے لیس ہو کر حق سے نبرد آزما ہے۔ لیکن مسلمان قوم ہے کہ اپنے مستقبل سے غافل ہو کر آپس کے باہمی تنازعوں میں اس طرح الجھی ہے کہ اب اس کے سلجھنے کے امکان ختم ہوتے جارہے ہیں۔ آہ! ہم آگے جانے کی بجائے ماضی کی طرف لوٹ جائیں۔ شاید راستہ کی کوئی ٹھوکر ہماری بیداری کا باعث ہو اور ممکن ہے اس گئے گذرے دور میں ہم دین کے کسی کام آسکیں۔ ورنہ جس نہج پر مسلمان آج جا رہا ہے۔ یہ وہ پگڈنڈی ہے۔ جہاں پر کفر حق کا راستہ روکے کھڑا ہے۔
مرزائی پاکستان کی کلیدی اسامیوں پر قابض ہے اور مسلمان نوجوان برسوں کی تعلیم اور ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد جب ملازمت سے مایوس ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں۔ خودکشی کر کے موت کی آغوش میں آرام کرے یا ایمان ضائع کرنے کے بعد مرزائیت کا پہلو اپنائے۔ ان دو مقامات کے سوا تیسرا کوئی ٹھکانہ اور نہیں جہاں اس نوجوان کو امان مل سکے۔
اے مملکت خداداد کے ذمہ دار ارکان! سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کے کلرک! پولیس کے افیسر اور سپاہی ، عدالتوں کے مجسٹریٹ ، ہائی کورٹ کے جج صاحبان ! دنیاوی ذمہ داریوں کے علاوہ آپ پر کوئی دینی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور حاکم کے سامنے بھی پیش ہونا ہے تو اس وقت کے لئے سامان فراہم کرو۔
اگر چوہدری سرظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے کفر کی تبلیغ سے باز نہیں آتا تو آپ دین حق کی تبلیغ سے کیوں پہلو تہی کرتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو سنبھالا دو جو محض دنیاوی ضروریات کے لئے اپنی دنیا اور ایمان ضائع کر رہے ہیں۔ ورنہ قیامت کے دن ان سے کہیں زیادہ مجرم آپ کو ٹھہرایا جائے گا۔ ان کی دنیا اور دین آپ درست کریں۔ خدا تمہارا حامی و مددگار ہوگا۔ یہ ڈائری آپ کے پاس ایک تاریخی دستاویز ہے۔ تا کہ کفر کے مقابل آپ اس سے کام لے سکیں۔ انشاء اللہ بہتر نتائج پیدا ہوں گے۔ جانباز مرزا! ١٥؍ جنوری ١٩٥٦ء
مرزائی مذہب کی ابتداء
ابھی ہندوستان میں برطانوی سامراج کی بنیادیں پڑ رہی تھیں کہ اجنبی حکومت کے ٣
خلاف ١٨٥٧ء کے وسط میں بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ قریب تھا کہ انگریزی راج اس بھٹی میں جل کر راکھ ہو جاتا۔ ملک کے بعض عناصر نے اس جلتی ہوئی آگ کو اپنے خون سے ٹھنڈا کرنے میں انگریز قوم کا ساتھ دیا۔ پنجاب کا سکھ اور ضلع گورداسپور (قصبہ قادیان) کا ایک رئیس مرزا غلام مرتضیٰ اس سلسلہ میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا مرزا غلام احمد قادیانی خود اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ : ”میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو گورنر کے دربار میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گرفن صاحب کی تاریخ رؤسائے پنجاب میں ہے اور انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے چٹھیاں خوشنودی حکام اس کو ملی تھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٥٩)
اسی پر بس نہیں بلکہ آگے چل کر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خاندان کی دیگر غداریوں کا بڑے فخر سے اظہار کرتا ہوا اسی کتاب کے اسی صفحے پر رقمطراز ہے: ”میرے والد کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ جب تمون کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“
(اشتہار واجب الاظہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٥٩، ٣٦٠)
گویا مرزا غلام احمد کا خاندان ایسے وقت میں انگریزی حکومت کا معتمد ومعاون ہوا جب ہندوستان کے افق پر تہذیب مغرب کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ ورنہ سلطنت مغلیہ چراغ سحری کی طرح آخری سنبھالا لینے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر وہ منحوس گھڑی آ ہی گئی۔ جب ایسے غداروں کے ہاتھوں ہندوستان کی جنگ آزادی میں انگریز کے مقابل ہندوستانیوں کو شکست ہوئی۔
یاد رہے کہ ١٨٥٧ء کی لڑائی جہاد کے نام سے لڑی گئی تھی اور عام ہندوستانیوں کے علاوہ پانچ سو کے قریب اس وقت کے جلیل القدر علماء انگریزوں کے تحت بیک وقت مختلف شہروں میں سر بازار پھانسیوں پر لٹکائے گئے تھے۔
انگریزی نظام حکومت کے بڑھتے ہوئے اقتدار کا دامن جب سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا اور انگریزی مدبروں کو یقین ہو گیا کہ اس لڑائی میں بہادر شاہ ظفر کے ساتھ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوؤں نے بھی اس تصویر میں رنگ بھرنے کی کوشش کی تو اپنے مستقبل
٤
شعلے بھڑک اٹھے۔ قریب تھا کہ انگریزی راج اس بھٹی میں جل کر خاکستر بنے اس جلتی ہوئی آگ کو اپنے خون سے ٹھنڈا کرنے کا سہرا سکھ اور ضلع گورداسپور (قصبہ قادیان) کا ایک رئیس اپنے سر باندھتا ہے۔ یہ رئیس قابل ذکر ہیں۔ مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کا خاندان ہے۔ یہ خاندان ایک ایسے خاندان میں سے ہے جو اس گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو غدر کے بعد بھی برابر دربارِ گورنری اور مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیس پنجاب میں ہے کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے غدر میں انگریزی حکومت کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار گھوڑے بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو دیئے تھے۔ ان کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٥٩)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خاندان کی دیگر وفاداریوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک مقام پر رقمطراز ہے: ”میرے والد کی وفات کے بعد میں مصروف رہا۔ جب پلٹنوں کے گذر پر مفسدوں کا ان کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“ مورخہ ٢٠ نومبر ١٨٩٢ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٥٩، ٤٦٠ یہ خاندان ایسے وقت میں انگریزی حکومت کا معتمد و معاون ہوا بن چکی تھی۔ آخر وہ منحوس گھڑی آ ہی گئی۔ جب ایسے غداروں کی سازشوں کے مقابل ہندوستانیوں کو شکست ہوئی۔ کے نام سے لڑی گئی تھی اور عام ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ متحدہ علماء انگریزی کے تحت بیک وقت مختلف شہروں میں کھوئے ہوئے اقتدار کا دامن جب سارے ملک کو اپنی ہو گیا کہ اس لڑائی میں بہادر شاہ ظفر کے ساتھ تصویر میں رنگ بھرنے کی کوشش کی تو اپنے مستقبل
کے پیش نظر ہندو مسلم اتحاد کی اس عمارت کا منہدم کرنا ان کے لئے ضروری ہو گیا۔ جس کے سائے میں ہندوستان کے لوگوں نے باہم مل کر آزادی وطن کے لئے اپنا خون بہایا تھا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جہاں اور بہت سی تجاویز کار آمد ثابت ہوئیں۔ وہاں مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان کے خاندان کو بھی سامنے لایا گیا۔ ١٨٨٤ء میں جب ایک طرف عیسائی مشنری عیسائیت کی تبلیغ شروع کر چکی تھی اور عیسائی پادری سروں پر کرسیاں اٹھائے چوک چوک میں اپنے مذہب کی تعریف میں ہندو اور مسلمانوں سے الجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نیز ہر مذہب کو عیسائیت کے مقابل چیلنج کرتے پھرتے تھے۔ انہی دنوں مرزا غلام مرتضیٰ کے بیٹے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مجدد ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے دو چار سال بعد ١٨٨٨ء میں اس نے عام لوگوں سے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ جب دیکھا کہ میرے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے تو اپنی کتاب ”تبلیغ رسالت“ میں اعلان کیا کہ: ”گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج٦ ص٦٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٦ تا ٣٦٧)
”٢٧ دسمبر ١٨٩٢ء میں جو پہلا سالانہ جلسہ قادیان میں ہوا۔ اس میں کہا گیا کہ آئندہ بھی ہمیشہ اس سالانہ جلسہ کے یہی مقاصد ہوا کریں گے۔ اس گورنمنٹ برطانیہ کا سچا شکر گزار اور قدردان رہنے کی کوششیں اور تدبیریں کی جائیں گی۔“
(اشتہار ملحقہ آئینہ کمالات اسلام ص٦١٦، خزائن ج٥ ص٦١٦)
١٨٩١ء میں مرزا غلام احمد اپنے دعویٰ کفر میں اور آگے بڑھا اور اس نے ”مہدی“ اور ”مسیح موعود“ ہونے کا اعلان کیا۔ نیز کتاب شہادت القرآن میں اپنے ماننے والوں کے اس سوال کا کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ جواب دیتے ہوئے اس نے کہا: ”سو یاد رہے کہ سوال ان کا نہایت ہی حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب ہے جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کریں اور دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہے۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادت القرآن ص٨٤، خزائن ج٦ ص٣٨٠)
جیسے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کے قدم کفر کی جانب بڑھتے گئے۔ وہ اپنے مریدوں ٥
کے لئے بھی اسی آگ میں جلنے کا انتظام کیا گیا۔ جس میں وہ اپنے جلنے کا انتظام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ١٩٠١ء میں اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور کتاب ”ضرورت الامام“ میں پہلے سے اور آگے بڑھ کر کہتا ہے:”اطيعوا الله واطيعو الرسول واولوالامر منكم (القرآن) “ اولوالامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہوسکے۔ وہ ہم میں سے ہے۔ اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولوالامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔
(ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)
جو کام انگریز کے ہاتھوں نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کام انگریز کے خودکاشتہ پودا نے انجام دیا۔ ١٨٥٧ء کے تشدد سے مرعوب ہو کر وقتی طور پر حریت کی آگ دلوں میں دب گئی تھی۔ لیکن انگریز یہ جانتا تھا کہ یہ چنگاری کسی دن بھی میرے خرمن حیات کو خاکستر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہندوؤں سے کہیں زیادہ مسلمان سے خائف تھا۔ سلطنت مسلمانوں سے چھینی تھی اور ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کا لیڈر بھی مسلمان تھا۔ لہٰذا انگریزی سیاست کا تقاضا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں سے انگریز کی نفرت اور جہاد کا خیال جیسے کیسے بھی ہو نکال دے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انہی دو باتوں کے لئے اسلام کے پانچ اصولوں کے مقابل اپنے پانچ اصول وضع کئے۔
نمبر شمار اسلام کے پانچ اصول نمبر شمار مرزائیت کے پانچ نکات
- ١۔ کلمہ شہادت ١۔ خدا تعالیٰ کو واحد اور لاشریک سمجھنا۔
- ٢۔ نماز ٢۔ حضرت محمدﷺ کو سلسلۂ نبوت کا خاتم اور
آخری شریعت والا، نجات حقیقی کی راہ بتانے والا یقین رکھنا۔
- ٣۔ روزہ ٣۔ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور
آسمانی نشانوں سے کرنا اور خلاف غازیانہ اور جہاد و جنگجوئی کے اس زمانہ کے لئے قطعی حرام اور منع سمجھنا اور ایسے جذبات کے پابند کو صریح غلطی پر سمجھنا۔
٦
- ٤۔ حج
- ٥۔ زکوٰۃ
ان خیالات کو ا اب زمینی جہاد بند کر دیئے جب مسیح آئے گا تو دین کے اب اس کے بعد جو دین م اور اس کے نبی کا نافرمان ہ یہ تو یقینی امر
مختصر یہ کہ مر اقتدار کی خوشنودی کے کے لئے خدا کے حضور م
- ٤۔ حج
- ٤۔ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت کہ جس کے ہم
زیر سایہ ہیں یعنی کہ گورنمنٹ انگلشیہ کے لئے کوئی مفسدانہ خیال دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔
- ٥۔ زکوٰۃ
- ٥۔ بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنا اور ہر شخص
کی دنیا و آخرت کی بہبودی کی کوشش کرتے رہنا۔
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩، ٢٠)
ان خیالات کو وہ یوں بھی کہتا ہے ۔ ”لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ اب زمینی جہاد بند کر دیئے گئے ہیں اور آسمان کے کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ جیسے کہ پہلے لکھا گیا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھائے گا اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے نبی کا نافرمان ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ١٧)
یہ تو نثر تھی اب نظم میں سرکاری نبی کا الہام ملاحظہ ہو:
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
مختصر یہ کہ سرکار برطانیہ کا یہ خود کاشتہ پودا اپنی زندگی انہی لیل و نہار میں گزار کر انگریزی اقتدار کی خوشنودی کے لئے اسلام کے دامن کو داغدار کر کے مئی ١٩٠٨ء میں اپنے حساب و کتاب کے لئے خدا کے حضور حاضری دینے کے لئے ہیضہ کی بیماری سے چلتا بنا۔
٧
مرزائیت متحدہ ہندوستان سے باہر
بدقسمتی سے مسلمان نوجوانوں نے مذہبی تعلیم کی کمی کے باعث قادیانی ٹولہ کو بھی اسلام کا ایک ایسا ہی فرقہ خیال کر لیا ہے۔ جیسے شیعہ، سنی، اہل حدیث یا آج کل دیوبندی اور بریلوی ہیں۔ حالانکہ ان مختلف فرقوں کے باہم جھگڑے اسلام کے بنیادی جھگڑے نہیں اور نہ ہی اس ہنگامہ آرائی سے مذہب کو حقیقی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دراصل آپس کی یہ لڑائیاں وقتی اور محبت رسول کی لڑائیاں ہیں۔ ہر فرقہ محبت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کھینچا تانی میں کبھی کسی نے اسلام کی عمارت کے بنیادی پتھر مسئلہ ختم نبوت کو اپنی جگہ سے چھیڑنے کی گستاخی نہیں کی اور نہ ہی کہیں اس کی مثال ملتی ہے۔ لیکن قادیانی ٹولہ جسے ہمارے تعلیم یافتہ حضرات نے ہمیشہ اسلام کا ایک جز تصور کئے رکھا ہے۔ اس کے بالکل برعکس اس ٹولے کو نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ اس کا اپنا کوئی مذہب ہے۔ انگریز نے اپنی سیاسی ضرورت کے تحت اس ٹولے کی بنیاد ڈالی تھی اور تمام عمر اس ٹولے کا لیڈر مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کے کام آیا اور اس نے نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا بلکہ بلاد اسلامی میں بھی اپنی شیطنت کے جوہر دکھائے۔
١٨٥٧ء کے بعد خصوصیت سے جو تشدد انگریز نے ہندوستان کے مسلمانوں پر کیا عہد فرنگی میں اس کی مثال تاریخ کے کسی ورق سے نہیں ملتی۔ اس کے باوجود برطانوی استعمار پرستوں کو اطمینان قلب حاصل نہیں تھا۔ یہ کانٹا ہنوز ان کے دل میں کھٹکتا تھا کہ یہ شیر ایک دفعہ پھر حملہ آور ہوگا۔ چنانچہ جیسے ہی اسلامی ممالک میں انگریز کے خلاف ذرا ہلچل ہوئی۔ فوراً مرزائی جاسوس وہاں پہنچے اور وہاں کے مسلمانوں کو کلمہ جہاد کے خلاف وعظ کرنے۔
حکومت افغانستان کے وزیر داخلہ کا ایک بیان میرے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے۔
”کابل کے دو اشخاص ملاں عبدالحلیم اور ملاں نور علی قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدے کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ گیارہ رجب کو عدم آباد پہنچا دیئے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا۔ حکومت افغانیہ کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضہ سے
٨
پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمن کے ہاتھ بک چکے ہیں۔“
(اخبار امان افغان، بحوالہ الفضل مورخہ ٣/مارچ ١٩٢٥ء)
حکومت افغانستان کے وزیر خارجہ کے بیان کی تصدیق میں بشیر الدین محمود کا یہ بیان بھی پڑھئے: ”ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا۔ لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان نے قادیانیوں کو اس لئے مروا دیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتے تھے۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٤، ص ١٢، مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)
یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جب سیاسی کشمکش کے باعث ایک طرف جرمن افغانستان پر اپنا اثر ڈال رہا تھا اور دوسری طرف انگریز وہاں اپنا جادو چلا رہا تھا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی بھی رائے تھی کہ امیر حبیب اللہ خان اگر آج ہندوستان پر حملہ آور ہو تو ہماری غلامی کی زنجیریں کٹ سکتی ہیں۔ یہ زمانہ بین الاقوامی حالات کے تحت بڑا ہی ہنگامی دور تھا۔ انگریز اپنے مستقبل کے لئے دوڑ دھوپ کر رہا تھا۔ ترکی اپنی آزادی کے لئے یونان سے برسر پیکار تھا۔ انگریز یونان کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ ١٨٥٧ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان نے خلافت کے نام پر ایک اور سیاسی کروٹ لی تھی۔ ان دنوں مرزائی جاسوسوں نے کیا پارٹ ادا کیا۔ اس کے لئے بشیر الدین محمود کا ایک اعلان ملاحظہ ہو: ”چونکہ برادر محمد امین خان قادیانی کے پاسپورٹ نہ تھا۔ اس لئے وہ روس میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے اسٹیشن قہقہہ پر انگریزی جاسوس قرار دے کر گرفتار کر لئے گئے۔ کپڑے اور کتابیں اور جو کچھ پاس تھا۔ ضبط کر لیا گیا تھا اور ایک مہینہ تک آپ کو قید میں رکھا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانے میں منتقل کیا گیا۔ وہاں سے مسلم روسی پولیس کی حراست سے براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیان لئے گئے۔ تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کے لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے۔ تاکہ عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی رہے۔ اس کے بعد کوشک سرحد افغانستان پر بھی لے جایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا۔ چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے۔ (یعنی مسلمانوں کو جہاد سے منع کرنا ہے) اس
٩
لئے واپس آنے کو اس نے موت سمجھا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔ دو ماہ تک وہاں آزاد رہا۔ لیکن دوماہ کے بعد انگریزی جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کر لئے گئے۔ تین ماہ تک نہایت دل ہلا دینے والے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور بخارا سے روسی مسلم پولیس کی حراست میں سرحد ، ایران کی طرف بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے۔ کیونکہ ابھی اس کی پیاس نہیں بجھی تھی...... اس لئے پھر کاکان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے سمرقند لایا گیا۔ وہاں سے پھر بھاگ کر بخارا پہنچے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ١٣ ص ٥، ٦ مورخہ ١٤؍اگست ١٩٢٣ء)
جس ملک میں بھی مرزائی جاسوس گئے۔ چونکہ یہ گورنمنٹ برطانیہ کی جاسوسی کرتے تھے۔ اس لئے برطانیہ نے انہیں ہر جگہ امداد دی۔ ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام واطمینان سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں...... ہم دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری امداد کرتی ہے۔“
(کتاب برکات خلافت ص ٦٥)
”دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارات کے افتتاح میں ایک جرمنی وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم اس جماعت کی تقریب میں شامل ہوئے۔ جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔“
(خطبہ محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)
”خواجہ کمال الدین فرماتے ہیں میں جہاں بھی گیا وہاں کے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ قادیانی لوگ گورنمنٹ کے خفیہ جاسوس ہیں۔ یہ بات غلط ہو یا صحیح مگر لوگوں کے قلوب پر یہ بداثر کیوں پڑا۔ اس لئے کہ میاں صاحب (بشیر الدین محمود قادیانی) گورنمنٹ کی خاطر خفیہ کاروائیاں کیا کرتے تھے۔ جن کا خود انہوں نے اپنی تقریروں میں اعتراف کیا ہے۔“
(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٥؍مئی ١٩٣٧ء)
نہ صرف مرزائی خود اسلامی ممالک میں گئے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں کے ذریعے مسلمانان عالم کو گمراہ کیا۔ انہیں انگریزوں کے خلاف جہاد نہ کرنے کی تلقین کی۔ اس طرح سے اس نے جاسوسی کے جراثیم اسلامی ممالک میں پھیلائے۔
”والد صاحب کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے مشغلوں سے علیحدہ ہو کر خدا کی طرف مشغول ہو گیا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمات ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے
١٠
ہی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا ماہ کے بعد انگریزی جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کر لئے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور بخارا سے ان کی طرف بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت اور بھی اس کی پیاس نہیں بجھی تھی...... اس لئے پھر کاکان کی وہاں سے پھر بھاگ کر بخارا پہنچے۔“
(بدر الفضل قادیان ج ١١ نمبر ١٢ ص ٥، ٦، مورخہ ١٤ اگست ١٩٢٣ء)
ویں گے۔ چونکہ یہ گورنمنٹ برطانیہ کی جاسوسی کرتے دی ۔ ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں کرتے ہیں اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں...... ہم وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری امداد کرتی ہے۔“
(کتاب برکات خلافت ص ٦٥)
سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارات کے تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم اس انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔“
(خطبہ محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)
میں میں جہاں بھی گیا وہاں کے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ ا۔ یہ بات غلط ہو یا صحیح مگر لوگوں کے قلوب پر یہ بداثر م الدین محمود قادیانی ) گورنمنٹ کی خاطر خفیہ کاروائیاں تقریروں میں اعتراف کیا ہے۔“
(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٥؍ مئی ١٩٣٧ء)
ایک میں گئے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں انگریزوں کے خلاف جہاد نہ کرنے کی تلقین کی۔ اس لامی ممالک میں پھیلائے۔ نکہ بوجہ عاجز دنیا کے مشغلوں سے علیحدہ ہو کر خدا کی نامی کے حق میں جو خدمات ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے
١٠
پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک میں اور شہر میں دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں میں اردو، فارسی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ممالک میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر کے بھیج دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل میں افغانستان متفرق شہروں میں جہاں ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا سکیں گے۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٦ ،خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
اس قسم کے لٹریچر کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی ایک اور دعویٰ کرتا ہے: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اس طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا خدا اس الہام میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال وشوکت میں تیرا وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ۔“ (عریضہ بحالی خدمت گورنمنٹ انگریزی منجانب مرزا قادیانی مورخہ ٢٢؍ مارچ ١٨٥٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٧٠، ٣٧١)
اس پولیٹیکل ٹولے کی ان جاسوسانہ اور خلاف اسلام حرکات کو دیکھ کر تمام اسلامی ممالک سیخ پا ہوئے تھے۔ مضمون کی طوالت کے باعث صرف ترکی کے علماء کے رئیس مولانا نور اللہ آفندی اور غازی مصطفیٰ کمال پاشا مرحوم کے بیانات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
رئیس علماء مولانا نور اللہ آفندی ترکی کا بیان
”مسجد استنبول میں ایک عام اجلاس میں منعقد ہوا۔ جس میں ملت ترکیہ کے ستر ہزار فرزندوں کے علاوہ پچاس کے قریب قائدین ملت نے بھی شرکت کی۔ نماز جمعہ کے بعد رئیس العلماء حافظ نور اللہ آفندی نے ایک بصیرت افروز تقریر کی اور کہا۔ اس وقت دشمنان اسلام ملت کے درمیان افراط و تفریق کا بیج بونے کی ناپاک کوشش میں مصروف ہیں۔ میرے غیور بھائیو! میں فرقہ مرزائیہ کے دجل کا تار پود بکھیرنا چاہتا ہوں۔ اس فرقے کی ابتداء ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان سے ہوئی تھی۔ آج سے چند سال قبل مرزا غلام احمد نامی ایک آدمی نے اپنے نبی اور مسیح
١١
ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنی فریب کاریوں سے اس نے ایسا اثر پیدا کیا کہ معدودے چند احمقوں نے اس کی بیعت کر لی اور اس کی نبوت کا اقرار کر لیا۔
اس وقت حاضرین میں سے کسی نے مرزا غلام احمد قادیانی کی لیاقت اور اس کے اقتدار کے متعلق سوال کیا۔ مقرر نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ مرزا مذکور سرکاری دفتر میں معمولی اہل کار تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اپنی شاطرانہ چالوں اور فوق العادت ذکاوت فطری کی وجہ سے نبی کے رتبہ تک جا پہنچا۔ اس نے اپنے گرد و پیش کاسہ لیسیوں کا ایک حلقہ بھی جمع کر لیا۔ جو اس کی تائید وحمایت میں مضامین لکھتا اور اس کی تالیفات کی تعریف میں رطب اللسان رہتا۔ اس نے ہندوستان کی موجودہ گورنمنٹ کی تائید واعانت کے بل بوتے پر وہاں کے مسلمانوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا اور انہوں نے کفر والحاد کے فتوے چسپاں کرنے شروع کر دیئے۔ میں اور میرے چند رفقاء فرقہ مرزائیہ کی ایمان سوز سرگرمیوں کا دلچسپی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ترکی مدتوں تک شخصی حکومت کی زنجیروں میں جکڑا رہا اور جب ملوکیت کی نحوست دور ہوئی تو غیر مسلم اقوام نے اسے تباہ کرنے کے لئے اس پر یورش کر دی اور ہمیں آج تک کوئی موقعہ نہ مل سکا کہ ہم عوام کو باقاعدہ اس نئے فرقہ باطلہ کے حالات سے مطلع کر سکیں اور انہیں بتا سکیں کہ اس فرقے نے اغیار کی مدد سے شعائر اسلامی میں رخنہ اندازی کر کے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کس قدر کوشش کی ہے۔
میرے عزیز بھائیو! مرزا نے قرآنی آیات کی ترجمانی میں بہت تحریف سے کام لیا ہے اور قرآنی آیات میں اپنے نام کو داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جہاد کو منسوخ کر دیا اور مکہ معظمہ کی بجائے حجاز کی عقیدت کا مرکز قادیان کو قرار دیا۔ وہ کلیم اللہ ہونے کا مدعی تھا اور عوام میں ہمیشہ یہ مشہور کرتا تھا کہ رات کو مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھ میں مسیح موعود کی تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے مجھ پر ایمان لاؤ۔
مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد اس کے جانشین بدستور اس غلط راہ پر کار بند رہے۔ جو مرزا قادیانی نے ان کے لئے تجویز کیا تھا۔ وہ لوگ ذلیل سے ذلیل حرکت کے ارتکاب سے نہیں ہچکچاتے۔ پچھلے دنوں تو انہوں نے مسلمانوں کی تحقیر اور حقوق شکنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے سوا روئے زمین کے مسلمان کافر ہیں۔ مرزا قادیانی کا جانشین بشیر الدین محمود اپنے آپ کو دنیا کا روحانی حکمران تصور کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ میں اپنی بددعاؤں سے تمام عالم پر بیماریاں اور عذاب نازل کروں گا۔
١٢
احتجاج
میرے دوستو ! یہ وہی ذلیل گروہ ہے جس نے جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست پر خوشی کے شادیانے بجائے اور سقوط بغداد اور عربستان سے ترکوں کے اخراج کے موقع پر حکومت ہند کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ میں ترکوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی قوت کے مطابق اس فتنے کے انسداد کے لئے کوشاں ہوں گے۔ اس تقریر کے بعد آلۂ مکبر الصوت پر انگورہ سے جواب دیتے ہوئے غازی مصطفےٰ کمال پاشا نے کہا۔
مصطفےٰ کمال پاشا
میں نے رئیس العلماء حافظ نور اللہ آفندی کی تقریر کو سنا ہے اور مجھے سخت رنج ہوا ہے۔ واقعی اغیار نے اسلام کو کھلونا سمجھ رکھا ہے اور وہ ذلیل اور ناپاک طریقوں سے آئے دن ملت اسلامیہ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اغیار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ترکوں نے اسلامی تعلیمات کو ترک کر دیا ہے اور اس لئے ان کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ وہ ہمارے فلاکت زدہ اور محکوم بھائیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ مخالفین اسلام نے اسلامی تعلیمات کو تضحیک واستہزاء کا موضوع سمجھ رکھا ہے۔ اس وقت ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم دنیا پر ظاہر کر دیں کہ شوکت اسلام کے احیاء کے لئے ہم آج بھی آمادہ عمل ہیں۔
عزیز بھائیو! جب میں کروڑوں مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ایک درد اٹھتا ہے۔ کاش مسلمان یہ سمجھتے کہ غلامی ان کے مذہبی احکام کے خلاف ہے۔ ترکوں کو ملک گیری کی ہوس بالکل نہیں۔ لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان غلامی کی قید سے نجات پائیں اور اسلامی مقدسات پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔ ہمارا فرض ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں شمشیر دی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”اتفاق امتی حجة قاطعة“ تم یہ خیال نہ کرو کہ ہندوستان کہاں اور ہم کہاں۔ بلکہ اس حدیث شریف پر عمل کرو۔ کیونکہ مرد مجاہد کے لئے جغرافیائی حدود کی کوئی حقیقت نہیں۔ تمہارے آباؤ اجداد بھی دریاؤں، پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔
میرے دوستو ! اگر کوئی موقع آیا تو تم دیکھو گے کہ تحفظ ناموس اسلام کی راہ میں سر کٹانے کے لئے مجاہدین کی صف اول میں شامل ہوں گا۔ تمہیں اجازت ہے کہ تم فرقہ ضالہ قادیانیہ کے استیصال کے لئے ہر ممکن اور جائز ذریعہ اختیار کرو۔ میں تمہیں کامیابی کی نوید دیتا ہوں۔ ”وكان حقاً علينا نصر المؤمنين (الروم:٤٧)“
١٣
جلسہ کا اہتمام
غازی اعظم اتاترک کی تقریر کے بعد حافظ نور اللہ صاحب آفندی نے قوم کی طرف سے غازی اعظم کا شکریہ ادا کیا اور قادیانیت اور دوسرے فتنوں کے استیصال کے لئے ”انجمن مدافعہ حقوق مقدسہ اسلامی“ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس انجمن کی تشکیل کے لئے یکم فروری ١٩٣٥ء بروز جمعہ مسجد سلطان محمد فاتح میں مسلمانوں کا اجتماع ہوگا۔“
(اخبار احسان مورخہ ٢٠ جنوری ١٩٣٥ء)
پاکستان میں مرزائیت
یوں تو عہدِ غلامی کا کوئی سال ایسا نہیں گذرا جب اجنبی حکومت کے خلاف کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی تحریک ملک میں شروع نہ رہی ہو۔ لیکن ١٩٣١ء کا سال بڑا عجیب سال تھا۔ اگر ایک طرف کانگریس کی تحریک سول نافرمانی شروع تھی تو دوسری طرف مجلس احرار، کشمیر کے بتیس لاکھ انسانوں کے لئے مہاراجہ ہری سنگھ سے دست و گریبان تھی۔ ہاں البتہ انگریز بظاہر اس زمانہ میں بہت حد تک اپنے اندرونی جھگڑوں سے فارغ تھا۔ لیکن آنے والی دوسری جنگ عظیم کے پیش نظر اشتراکیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے خوف سے کشمیر اور خاص گلگت پر اپنا اقتدار چاہتا تھا۔ جیسے ہی کشمیری عوام نے ریاست کی شخصی حکومت سے گلو خلاصی کا عزم کیا فوراً انگریزی حکمرانوں نے اپنے پر پرزے سنبھالے اور دیکھتے ہی دیکھتے کشمیر کمیٹی کی تشکیل عمل میں آ گئی اور مرزا بشیر الدین قادیانی اس کا صدر بن گیا۔
یہ وقت تھا جب کشمیری مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان ضائع ہو جانے کا احتمال تھا۔ کیونکہ مرزائی انگریزی نظام کے سہارے عالم اسلام میں پروپیگنڈا کر سکتا تھا کہ کشمیر کے بتیس لاکھ انسانوں نے مجھے اپنا امیر منتخب کر لیا ہے اور پھر فرنگی کا دامن اس واقعہ کو ہوا دینے کے لئے موجود تھا۔ لہٰذا خوف پیدا ہو گیا تھا کہ ہندوستان سے باہر کے مسلمان اس واقعات سے متأثر ہو کر متاعِ ایمان نہ کھو بیٹھیں ۔ ان حالات کے پیش نظر مجلس احرار نے فوری اقدام کیا۔ جس سے کفر کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ مسلمان رؤسا میں سے جو اس کمیٹی کے ذمہ دار عہدیدار تھے۔ ان واقعات سے آشنائی کے بعد سب سے پہلے مفکر ایشیاء ڈاکٹر سر محمد اقبال نے حسب ذیل بیان دیا۔
”بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقہ کے امیر کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ احمدی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو
١٤
کے بعد حافظ نور اللہ صاحب آفندی نے قوم کی طرف یت اور دوسرے فتنوں کے استیصال کے لئے ”انجمن لان کیا گیا۔ اس انجمن کی تشکیل کے لئے یکم فروری مانوں کا اجتماع ہوگا۔“
(اخبار احسان مورخہ ٢٠/جنوری ١٩٣٥ء)
یا نہیں گذرا جب اجنبی حکومت کے خلاف کسی نہ کسی رہی ہو۔ لیکن ١٩٣١ء کا سال بڑا عجیب سال تھا۔ اگر شروع تھی تو دوسری طرف مجلس احرار، کشمیر کے بتیس دست و گریبان تھی۔ ہاں البتہ انگریز بظاہر اس زمانہ فارغ تھا۔ لیکن آنے والی دوسری جنگ عظیم کے پیش خوف سے کشمیر اور خاص گلگت پر اپنا اقتدار چاہتا تھا۔ ومت سے گلو خلاصی کا عزم کیا فوراً انگریزی حکمرانوں ہی دیکھتے کشمیر کمیٹی کی تشکیل عمل میں آ گئی اور
وں کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان ضائع س نظام کے سہارے عالم اسلام میں پروپیگنڈا کر سکتا تھا امیر منتخب کر لیا ہے اور پھر فرنگی کا دامن اس واقعہ کو ہوا لیا تھا کہ ہندوستان سے باہر کے مسلمان اس واقعات حالات کے پیش نظر مجلس احرار نے فوری اقدام کیا۔ کھڑے رہ گئے۔ مسلمان رؤسا میں سے جو اس کمیٹی کے کمیٹی کے بعد سب سے پہلے مفکر ایشیاء ڈاکٹر سر محمد اقبال
لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقہ کے امیر کے سوا کسی گیا۔ چنانچہ احمدی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو
١٤
میرپور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ حال میں اپنے بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا کہ تمام احمدی حضرات کا یہی خیال ہوگا۔ اس طرح میرے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مستقبل مشکوک ہو گیا۔“
(حرف اقبال ص ٢٢١، ٢٢٢، مورخہ ٢٠/جون ١٩٣٣ء)
اس بیان کے بعد علامہ اقبال کشمیر کمیٹی سے مستعفی ہو گئے۔ انہی دنوں ہندوستان کی تمام ریاستیں کشمیر کی دیکھا دیکھی انقلاب زندہ باد کے نعروں سے شخصی حکمرانوں کو پریشان کر رہی تھیں اور دوسری طرف کانگرس نے سارے ملک کو انگریز کے خلاف شعلہ جوالہ بنا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں صرف ریاستی حکمران ہی ایک ایسا طبقہ تھا جو برطانوی سنگھاسن کو کندھا دے کر بچا سکتا تھا۔ پھر انگریز ان کے خلاف کیوں کر بغاوت کے آثار برداشت کرتا۔ اس نے اس تحریک کا رخ پلٹنے کی غرض سے اپنے سروں اور خان بہادروں کے ذریعہ اوّل اوّل ملک میں فرقہ دارانہ فساد کرائے جس سے ملک کی تمام سیاسی فضا مکدر ہو کر رہ گئی۔ محبت نفرت میں بدل گئی۔ ملک کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ اتنے میں ہٹلر کا ہلکا سا سایہ جرمنی کے ایک کونہ سے نمودار ہوا۔ جس سے سامراجی قوتیں خوفزدہ ہو گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے آثار اور زیادہ نمایاں ہو گئے۔
ہندوستان کا ہندو مستقبل سے غافل نہیں تھا۔ وہ یورپ کے مصائب میں اپنے ملک کی نجات خیال کرتا تھا۔ اسے ہندوستان کے مسلمانوں سے ان کے گذشتہ رویہ کے پیش نظر سیاسی سمجھوتہ کی امید نہیں تھی اور نہ ہی اسے مسلمان پر یقین تھا۔ وہ بڑی دور کی کوڑی لایا اور بجائے مسلمانوں کے اب اس نے مرزائیوں کو اپنے مدعا کے لئے بہتر سمجھا۔ جس کا اندازہ انہی دنوں کے اخبار بندے ماترم میں ڈاکٹر شنکر داس مہرابی، بی۔سی۔ایس۔سی، ایم۔بی۔بی۔ایس کے مندرجہ ذیل مضمون سے ہوتا ہے۔
”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ کبھی ان کے ساتھ سودے معاہدے پیکٹ کئے جاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ان کے مذہبی معاملات کو سیاست کا جزو بنا کر پولیٹکل اتحاد کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب ہی کے گن گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو عرب کا نام دے دیں۔
١٥
اس تاریکی میں اس مایوسی کے عالم میں ہندوستان قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے۔ وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آؤ ہم احمدیہ تحریک کا قومی نگاہ سے مطالعہ کریں۔
پنجاب کی سرزمین میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو خدا نے قرآن میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ میں ہوں اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے روز نہیں بخشے گا اور تم دوزخی ہو جاؤ گے۔ میں مرزا قادیانی کے اس اعلان کی صداقت یا بطالت پر بحث نہ کرتے ہوئے صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے مسلمان میں کیا تبدیلی ہوتی ہے۔ ایک مرزائی کا عقیدہ ہے کہ:
- ......١ خدا سمے سمے پر لوگوں کی رہبری کے لئے ایک انسان پیدا کرتا ہے جو اس وقت کا نبی
ہوتا ہے۔
- ......٢ خدا نے عرب کے لوگوں میں ان کی اخلاقی گراوٹ کے زمانہ میں حضرت محمد (ﷺ)
کو نبی بنا کر بھیجا۔
- ......٣ حضرت محمد (ﷺ) کے بعد خدا کو ایک نبی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس نے
مرزا قادیانی کو بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔
میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہونے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ سے اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی۔ اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔ ایک احمدی چاہے عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو۔ وہ روحانی تربیت کے لئے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لئے سرزمین
١٦
نجات ہے اور اس میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لئے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفے اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔ اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہوئے؟ اس کا جواب سکھوں کی موجودہ ہندؤوں سے علیحدگی۔ گرنتھ صاحب میں رام کشن، اندر وشنو سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر آتا ہے۔ مگر کیا سکھوں نے رام، کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا؟ گوردواروں سے رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا۔ کیا سکھ اب ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے؟
اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب کہ احمدی برملا یہ کہیں گے کہ لو صاحب ہم محمدی مسلمان نہیں ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم حضرت محمد (ﷺ) کی نبوت کو مانتے ہو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد، عیسیٰ، رام، کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو، عیسائی یا محمدی ہو گئے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان احمدی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جو ہر وقت پان اسلام ازم و پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں۔ کتنی ہی مایوس کن ہو مگر ایک قوم پرست (ہندو) کے لئے باعث مسرت ہے۔“
(اخبار بندے ماترم مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣٥ء)
اس مضمون کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان کے اکثر ہندو رہنماؤں نے قادیانی مذہب کی حمایت میں کھلم کھلا باتیں کہنا شروع کر دیں اور سب سے پہلے بنگالی ہندو نے اس آواز پر کان دھرا۔ کیونکہ وہاں کی مسلم اکثریت سے ہندو بہت زیادہ خائف تھا۔ ١٩٣٥ء ایکٹ کی رو سے وہاں کے مسلم وزارت کے سامنے ہندو اپنی تمام ہوشمندیوں کے باوجود ہتھیار ڈال چکا تھا۔ چنانچہ ٦؍ مارچ ١٩٣٨ء کو مرزائی دارالتبلیغ کے سلسلے میں ایک افتتاحی جلسہ البرٹ ہال کلکتہ میں زیر صدارت شری سنت کمار رائے میر کارپوریشن آف کلکتہ منعقد ہوا۔ جس میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر سرت چندر نے یہ بھی کہا کہ: ”فی الحقیقت جماعت احمدیہ کی تعلیم اپنی نوعیت میں دورِ حاضرہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔“
١٧
آگے چل کر انہوں نے کہا: ”جماعت احمدیہ کے لوگ اس کے بانی کو دل سے ایک سچا اور بہت بڑا نبی تصور کرتے ہیں۔ بہرحال خاص دنیوی اور تاریخی زاویہ نگاہ سے یہ تمام کو تسلیم ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد کی تحریک دور حاضرہ میں اسلام کی ایک بہت بڑی اصلاحی تحریک ہے۔ نیز اتحاد عالم کے لئے یہ ایک ایسی تحریک ہے۔ جس میں خیر و برکت کی انتہائی قوتیں پنہاں ہیں۔ ہم صدق دل سے اس کی ترقی کے خواہاں ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٣ مارچ ١٩٣٨ء)
مسٹر سرت چندر بوس مسٹر سبھاش چندر بوس کے بڑے بھائی تھے۔ سیاسیات ملک سے لگاؤ رکھنے والے جانتے ہیں کہ مسٹر سرت چندر بوس کس قدر ہندو نواز تھے اور فرقہ پرستی ان کے اندر گھر کر چکی تھی۔ ایسے آدمی کا مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کہنا کہ: ”احمدیہ تحریک دور حاضرہ کی نہایت ہی ضروری تحریک ہے۔“ اپنے اندر کس قدر سیاسی عزائم رکھتا ہے۔
ڈاکٹر شنکر داس کے بیان کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک بیان شائع ہوا۔ جو دراصل ڈاکٹر شنکر داس کے مضمون کی حمایت میں تھا۔ بظاہر اس کا رخ ڈاکٹر اقبالؒ کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں دیا تھا۔ جنوری کے دوسرے ہفتے ڈاکٹر مرحوم نے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا: ”میں خیال کرتا ہوں کہ قادیانیت کے متعلق میں نے جو بیان دیا تھا۔ جدید اصول کے مطابق صرف ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس سے پنڈت جواہر لال اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہندوستان کے قوم پرست جن کے سیاسی تصورات نے ان کے احساس حقائق کو مردہ کر دیا ہے۔ اس بات کو گوارہ نہیں کرتے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے دل میں خود اعتمادی اور خود مختاری کا خیال پیدا ہو۔ اس طرح یہ بات بھی ظاہر ہو رہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کا سیاسی وقار بڑھ جانے سے ان کا مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسول عربیؐ کی دسترس سے قطع و برید کر کے ہندوستانی نبی کے لئے ایک جدید امت تیار کریں۔
حیرت کی بات ہے کہ میری اس کوشش سے کہ مسلمانان ہند کو یہ بتاؤں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس وقت جس نازک دور سے وہ گزر رہے ہیں۔ اس میں ان کی اندرونی یکجہتی کس قدر
١٨
ضروری ہے۔ ان کے افتراق پر کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سے ہمدردی فرمائیں۔“
یاد رہے کہ بشیر الدین ہیں اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں
اگر چہ سیاسی سوجھ بوجھ ١٩٣٦ء کو قادیانی رضا کاروں استقبال کیا تھا۔ لیکن حالات نے واقعات نے ہوا کے رخ کا پتہ ہے کہ انہوں نے ہندوؤں
مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ”ابتداء میں حضور نے اپنا ایک کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر دوران گفتگو میں حضور نے گاندھی ہے۔ گاندھی جی نے بھی اس سنگھ کی زبان گاندھی جی نے اور حضور گاندھی جی کے کہنے ہوئی تھیں۔ اس لئے حضور
اس رویا کی تعبیر چلتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات کوئی صورت نکل آئے
آگے چل کر کھل جائے اس کی کامیابی احمدیت کے لئے اتنی کرنا چاہتا ہے اور سب کہ ہندو مسلم سوال اٹھ
ضروری ہے۔ ان کے افتراق پرور انتشار انگیز مقاصد سے محترز رہنا لازمی ہے۔ جو اسلامی تحریکوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پنڈت جی (جواہر لال نہرو) کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قسم کی تحریکوں سے ہمدردی فرمائیں۔“
(مضمون اسلام اور احمدیت، رسالہ اسلام لاہور مورخہ ٢٢ جنوری ١٩٣٦ء)
یاد رہے کہ بشیر الدین محمود اپنی ڈائری میں یہ بات تسلیم کر چکا ہے کہ: ”ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
اگرچہ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مسلمانوں کا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا۔ جب ٢٩ مئی ١٩٣٦ء کو قادیانی رضا کاروں نے پنڈت جواہر لال نہرو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا لاہور میں استقبال کیا تھا۔ لیکن حالات کے اس قدر جلد پلٹا کھا جانے کی امید بہت کم تھی۔ تاہم بعد کے واقعات نے ہوا کے رخ کا پتہ دیا۔ ان واقعات اور حالات سے قادیانیوں کے عزائم کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں سے درپردہ کیا سازش کر رکھی تھی۔ چنانچہ تقسیم ملک سے پہلے ہی مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے مریدوں کی ایک نجی مجلس میں اپنا ایک الہام بیان کرتے ہوئے کہا: ”ابتداء میں حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا۔ جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آئے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذرا سی دیر لیٹ کر اٹھ بیٹھے اور گفتگو شروع کر دی۔ دوران گفتگو میں حضور نے گاندھی جی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے اچھی زبان اردو ہے۔ گاندھی جی نے بھی اس کی تصدیق کی۔ پھر حضور نے فرمایا دوسرے نمبر پر پنجابی ہے۔ تارا سنگھ کی زبان گاندھی جی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور مان گئے اس کے بعد رویا میں نظارا بدل گیا اور حضور گاندھی جی کے کہنے پر عورتوں میں تقریر کرنے تشریف لے گئے۔ مگر وہ بہت تھوڑی آئی ہوئی تھیں۔ اس لئے حضور نے تقریر نہیں فرمائی۔
اس رویا کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ موجودہ فسادات کے متعلق ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات اس حد تک نہیں پہنچے کہ صلح نہ ہو سکتی ہو۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد کوئی صورت نکل آئے۔
آگے چل کر آپ نے اپنا ایک اور الہام ظاہر کیا۔ ہندوستان جیسی مضبوط بیس میں جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس میں مشیت ہے کہ اس نے احمدیت کے لئے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک اسٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔ تا ملک کے حصے بخرے نہ
١٩
ہوں۔ بیشک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ تا احمدیت اس وسیع میں ترقی کرے۔ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ لیکن عارضی طور پر افتراق ہو۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد متحد ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان رہے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)
اسی سلسلے کی ایک اور الہامی کڑی میں دیکھا: ”کہ ایک جگہ میرا بسترا بچھایا جانے والا ہے اور کسی شخص نے آکے کہا کہ گاندھی جی آپ سے ملنے کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کی شرط یہ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر سوئیں گے۔ پہلے تو مجھے یہ سن کر کچھ نفرت سی ہوئی۔ پھر میں نے سوچا اگر اس طرح صلح ہوتی ہو تو کیا حرج ہے۔ میں نے کہا کہ اچھا منظور ہے۔ چنانچہ وہ آگئے۔ وہ بھی ایک ہی بستر پر لیٹ گئے اور میں بھی لیٹ گیا۔ گاندھی جی کا جسم کچھ موٹا سا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے جسم پر بھی کپڑا ہے۔ ان کی عادت کے خلاف ایک منٹ یا ڈیڑھ منٹ ہی گزرا ہوگا کہ وہ اٹھ بیٹھے۔ اس رویا کی تعبیر یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی عارضی جدائی جلد ختم ہو جائے گی۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍ اپریل ١٩٤٧ء)
علم وعرفان کی ایک اور نجی مجلس میں مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر اگر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ مئی ١٩٤٧ء)
جب مرزا بشیر الدین محمود اس قسم کے الہامی بیانات دے کر ہندوستان کے اکالی مہا سبھائی اور راشٹریہ سیوک سنگھ جیسے ہندوؤں کی سیاسی مصلحتوں کو پورا کر رہا تھا۔ ان دنوں ہندوستان کے دریاؤں میں بجائے پانی کے مسلمان کا خون بہہ رہا تھا اور شہروں کی سڑکیں بے گناہوں کے خون سے لالہ زار ہو رہی تھیں۔ چونکہ ہندوستان کی تقسیم مسلم اور غیر مسلم کے نام پر ہوئی تھی۔ اس لئے مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے بیان کے ذریعے اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو غیر مسلم ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے: ”ہندوؤں کے بھی تیرتھ ہیں اور مسلمانوں کا بھی قبلہ ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں کہ نہ اپنے مقدس مقامات کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ٩؍ اپریل ١٩٤٧ء)
٢٠
اس قسم کے الہامات اور بیانات کا یہ نتیجہ ہوا کہ جب گورداسپور کی تقسیم پر باؤنڈری کمیشن کے سامنے دونوں حکومتوں کے وکیل آمنے سامنے دلائل پیش کر رہے تھے تو مرزائیوں نے اپنا الگ وکیل (شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ صدر جماعت احمدیہ لاہور) پیش کیا۔ حالانکہ مسلم لیگ نے سر ظفر اللہ کو اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔ لیکن باوجود اس کے مرزائیوں کے وکیل نے کہا کہ ہمارے مرکز قادیان کو ایک بین الاقوامی یونٹ قرار دے دیا جائے۔ اس بناء پر جس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ وہ اقلیت میں شمار ہو کر بھارت کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس تمام جدوجہد کے بعد بھی مرزائیوں کو جب پاکستان کی طرف ہانک دیا گیا تو یہاں پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ جماعت احمدیہ چونکہ ایک مذہبی جماعت ہے اور سیاسیات سے بالکل الگ رہتی ہے اور اپنے اصول کے مطابق جس حکومت کے تحت بھی اس کے افراد ہوں۔ وہ اس کے فرمانبردار ہو کر رہتے ہیں۔ اس لئے ہم نے انڈین یونین کو اپنی پرانی روایات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ قادیان میں ہمارا مذہبی مرکز ہے۔ ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے اور عہد کرتے ہیں۔ ہم حکومت کے پورے پورے فرمانبردار ہو کر رہیں گے۔
مگر چند لاکھ کی چھوٹی سی مذہبی جماعت کی کون سنتا تھا۔ ہمارے یقین دلانے اور عہد کرنے کے باوجود ملٹری اور پولیس نے قادیان کے نواحی محلوں پر حملے شروع کر دیئے۔ مسلمانوں کو قتل کیا جانے لگا۔ حکومت کو بار بار توجہ دلائی گئی مگر بے سود۔ یہاں تک کہ حالات اس قدر نازک صورت اختیار کر گئے کہ عشاق احمد (غلام احمد قادیانی) کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦ مئی ١٩٤٨ء)
پھر ہر مرزائی نے اپنے لیڈر کے سامنے اس عہد کو دہرایا۔ ”میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو احمدیہ جماعت کا مرکز مقرر فرمایا ہے۔ میں اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہوں گا اور اس مقصد کو کبھی بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا اور اپنے بیوی بچوں کو اور اگر خدا کی مشیت یہی ہو تو اولاد کی اولاد کو ہمیشہ اس بات کے لئے تیار کرتا رہوں گا کہ وہ قادیان کے حصول پر ہر چھوٹی اور بڑی قربانی کے لئے تیار رہیں۔ اے خدا مجھے اس عہد پر قائم رہنے اور اس کو پورا کرنے کی توفیق عطاء فرما۔“
(مندرجہ بالا تحریر طبع شدہ ہے اور ہر مرزائی کے گھر بطور کیلنڈر کے دیوار پر آویزاں ہے)
مندرجہ بالا تحریروں سے ہر ذی ہوش انسان بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ مرزائی مذہب کے پیرو کس قسم کے کھیل میں مصروف ہیں۔ اگر ہندوستان کے لیڈر اور وہاں کے اخبارات دن
٢١
رات یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کو ایک کر کے رہیں گے تو مرزا بشیر الدین محمود پاکستان میں بیٹھ کر اکھنڈ ہندوستان کی تجویزیں سوچ رہا ہے اور پھر یہ کوئی معمولی خیال نہیں بلکہ یہ اس کا الہامی عقیدہ ہے اور پھر جب کہ اس کے پیرو اس کو نبی مانتے ہوں تو یہ ممکن نہیں کہ مرزائی اپنے نبی کے حکم کی تعمیل میں ہر کوشش کو بروئے کار نہ لائیں گے۔ مرزائی آج بھی اپنے مذہبی عقیدہ کی بناء پر وہیں کھڑا ہے۔ جہاں کہ وہ تقسیم ملک سے پہلے تھا۔ چنانچہ دسمبر ١٩٤٩ء قادیان کے سالانہ جلسہ کی روئیداد مختلف اخبارات کی زبانی سنئے:
اخبار ٹائمز بمبئی
قادیان مورخہ ٣٠ دسمبر احمدیوں کا سہ روزہ سالانہ جلسہ آج ختم ہو گیا۔ اس میں تقریر کرتے ہوئے شیخ بشیر احمد بیرسٹر جو لاہور سے تشریف لائے اور جو وفد کے لیڈر تھے نے کہا۔ پاکستان کی حکومت جو اسلامی تحریک کا نتیجہ ہے۔ مرزائیوں کی حفاظت سے قاصر رہی۔ وہاں تین مرزائی قتل ہو چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل ہندوستان کی حکومت نے بے دین ہونے کے باوجود ہر مذہب کے پیرو اور بالخصوص مرزائیوں کی حفاظت کا خاطر خواہ سامان مہیا کر رکھا ہے۔ پاکستان میں ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت نے اودھم مچا رکھا ہے۔ مگر ہندوستان میں ہمیں ہر قسم کا امن میسر ہے۔ ان اصولوں کی روشنی میں ہندوستان کی حکومت کو اللہ کی نعمت قرار دیا اور اعلان کیا کہ ہم اس حکومت کے وفادار رہیں گے۔
اخبار بندے ماترم
قادیان مورخہ ٢٨ دسمبر کل یہاں احمدیوں کا سالانہ سہ روزہ جلسہ شروع ہوگا۔ جس میں پاکستان سے آمدہ ٢٩٧ آدمیوں اور ہند کے مختلف حصوں کے ٥٢ احمدیوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی بھاری تعداد میں شریک ہوئے۔ جلسہ میں ایک قرارداد پاس کی گئی۔ جس میں ہند سرکار سے درخواست کی گئی کہ قادیان میں موجود احمدیوں کی وہ تمام جائیدادیں واپس کر دی جائیں۔ جو نکاسی قرار دی جا چکی ہیں۔ کیونکہ قادیانی بھارت کے وفادار ہیں۔ ایک اور قرارداد میں پنجاب اور ہند کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ قادیان کی زیارت کے لئے سہولتیں دی جائیں۔ نیز چونکہ انہیں بھارت کی مٹی سے اتنی محبت ہے۔ اس لئے پاکستان میں مقیم احمدیوں میں جو شخص مر جائے اس کی لاش قادیان میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔
٢٢
اخبار الفضل ٣١ دسمبر ١٩٤٩ء
اول تو قادیان جماعت ہیں۔ ١٩٤٧ء کے فسادات کی وجہ یہاں آ کر رہنے کے لئے بے قرار
اجیت دہلی
قادیان مورخہ ٣٠؍ دسمبر سے ختم ہو گیا ہے۔ شیخ بشیر احمد مرزا بشیر الدین محمود دوسری مصروفیت الوداع کہنے آئے تھے اور انہوں بے تاب ہیں اور وہ دن دور نہیں گا۔ شیخ محبوب الٰہی عرفانی جو کہ انہوں نے کہا کہ: ”ہمارے نبی کا قدرتی حکم ہے۔ قادیانی ہندوستان قادیانیوں نے حکومت کے خلاف
مولوی شریف احمد
بانی نے ١٩٠٨ء میں سالانہ جلسے پاجانے کی وجہ سے کر نہ سکے۔ ہندو اور سکھ حضرت محمد کا احترام خلاف ورزی کرے گا تو وہ تین لا
تقریر کا آخری حصہ
لئے جو تقریر تیار کر رکھی تھی ۔ اس اسلام کا احترام کریں اور مسلما تین لاکھ روپیہ دوسرے فرقہ کو ص
مرزا غلام احمد قادیانی
علماء کے جواب دینے کا ہے۔ مر
اخبار الفضل ٣١ دسمبر ١٩٤٩ء
اول تو قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔ جس کی شاخیں ساری دنیا پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ١٩٤٧ء کے فسادات کی وجہ سے متعدد احمدیوں کو قادیان کو مجبورا چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ واپس یہاں آ کر رہنے کے لئے بے قرار ہیں۔
اجیت دہلی
قادیان مورخہ ٣٠ دسمبر ١٩٤٩ء، ٢٦ تا ٢٨ دسمبر قادیان کا سہ روزہ سالانہ جلسہ کامیابی سے ختم ہو گیا ہے۔ شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ لاہور نے اپنی تقریر کے اخیر میں کہا۔ حضرت مرزا بشیر الدین محمود دوسری مصروفیتوں کے باعث جلسہ کے لئے کوئی پیغام نہ لکھ سکے۔ لیکن وہ ہمیں الوداع کہنے آئے تھے اور انہوں نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے قادیانی قادیان آنے کے لئے بے تاب ہیں اور وہ دن دور نہیں جب دنیا میں خدا کی حکومت ہوگی اور شیطان کا دور ختم ہو جائے گا۔ شیخ محبوب الٰہی عرفانی جو کہ ٨٠ سال کے بزرگ ہیں اور حیدرآباد سے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ: ”ہمارے نبی کا حکم ہے کہ وقت کی حکومت کی وفاداری کرو اور یہ حکم ہمارے لئے قدرتی حکم ہے۔ قادیانی ہندوستان کی حکومت کے اتنے ہی وفادار ہیں۔ جتنا کوئی دوسرا آج تک قادیانیوں نے حکومت کے خلاف سازش یا بغاوت میں کوئی حصہ نہیں لیا۔“
مولوی شریف احمد نے ہندو مسلم اتحاد پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: ”قادیانی فرقہ کے بانی نے ١٩٠٨ء میں سالانہ جلسے کے لئے جو تقریر تیار کر رکھی تھی اور وہ جلسے سے پہلے ہی وفات پا جانے کی وجہ سے نہ پڑھ سکے۔ اس میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے یہ فارمولا پیش کیا کہ ہندو اور سکھ حضرت محمد کا احترام کریں اور مسلمان گاؤ کشی بند کر دیں۔ اگر کوئی فرقہ اس سمجھوتہ کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ تین لاکھ روپیہ ہرجانہ دوسرے فریق کو ادا کرے۔“
تقریر کا آخری حصہ قابل غور ہے کہ بانی تحریک احمدیہ نے ١٩٠٨ء میں سالانہ جلسے کے لئے جو تقریر تیار کر رکھی تھی۔ اس میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کا فارمولا پیش کیا تھا کہ ہندو سکھ پیغمبر اسلام کا احترام کریں اور مسلمان گاؤ کشی بند کر دیں۔ جو اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کرے گا وہ تین لاکھ روپیہ دوسرے فرقہ کو دے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے اس فارمولا کی حقیقت مذہبی نقطہ نگاہ سے کیا ہے۔ یہ سوال علماء کے جواب دینے کا ہے۔ لیکن اقتصادی نکتہ نظر سے اس تجویز میں مسلمان ہی کو پریشان کیا گیا
٢٣
تھا۔ قادیان میں بیٹھ کر ایسا فارمولا پیش کرنا کہ یہاں کا مسلمان اقتصادی طور پر مرزائیوں کے رحم وکرم پر زندگی کے دن پورے کر رہا تھا۔ غیر مسلموں سے مل کر وہاں کے غریب مسلمان کو ان کی غلامی پر مجبور کرنے کے مترادف تھا۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ مسلمان تین لاکھ روپے والی شرط کا متحمل نہیں ہو سکتا اور پھر وہ قادیان کا مسلمان جس کی ساری پونجی اس کے اپنے وجود کے علاوہ اس کے بیوی بچے تھے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ فارمولا سارے ہندوستان کے لئے آیا تھا تو ١٩١٨ء کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب انگریز کے ایماء پر خود مرزائیوں نے ہندو مسلم کشیدگی کا بیج بویا تھا۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ فارمولا دیانت پر مبنی نہیں تھا اور بقول حضرت غالب؎
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
تقسیم ملک سے پیشتر سیاسی طور پر بھلے ہی کسی کو قائد اعظم سے اختلاف ہو۔ لیکن پاکستان کے وجود میں آجانے کے بعد بلاشبہ وہ اس ملک کے معمار اور کروڑوں مسلمانوں کے محبوب رہنما تھے۔ موت کے بعد تو ویسے ہی کسی سے اختلاف نہیں رہنا چاہئے۔ خواہ دشمن کیوں نہ ہو، محلے میں اگر کوئی موت واقع ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شمولیت نہ صرف اخلاقی فرض ہوتا ہے۔ بلکہ شرعی طور پر ثواب بھی۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے صحابی سر ظفر اللہ نے جب کہ قائد اعظم کی موت کے دن کراچی میں موجود تھا۔ نماز جنازہ میں شرکت نہ کی۔ بلکہ نماز جنازہ کے وقت غیر مسلموں کے ساتھ الگ بیٹھا رہا۔ حالانکہ مسلمانوں کے بعض فرقوں کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ جائز کا کوئی شرعی جواز نہیں۔ تاہم اپنے محبوب رہنما کی موت پر کروڑوں مسلمانوں نے آنسو بہائے اور غائبانہ نماز جنازہ میں شمولیت کی۔ لیکن سر ظفر اللہ کو دیکھئے کہ کراچی میں ہوتے ہوئے اس سعادت سے محروم رہا۔ چوہدری سر ظفر اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب خود چوہدری صاحب کی زبانی سنئے:
”پچھلے دنوں جب چوہدری سر ظفر اللہ خان ایبٹ آباد آیا تو مولانا محمد اسحاق خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد تحقیق واقعہ کے لئے ظفر اللہ کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت کیا۔ کیا وہ واقعہ درست ہے کہ تم نے قائد اعظم مرحوم و مغفور کا جنازہ کراچی میں موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا۔
جواب: سر ظفر اللہ نے بے باکی اور جرأت سے کہا: ”بیشک میں نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔“
٢٤
مولانا نے پوچھا۔ کیوں؟ ظفر اللہ نے کہا میں صرف اس کو سیاسی لیڈر سمجھتا تھا۔ مولانا نے کہا۔ کیا تم مرزا قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو۔ حالانکہ تم اس حکومت کے وزیر بھی ہو۔ ظفر اللہ نے کہا آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔ تمہیں ایسا سمجھنے کا حق ہے۔“
(اخبار الصلاح مورخہ ٢٨؍ اگست ١٩٤٩ء پشاور)
اس واقعہ کی شہادت میں ایک اور واقعہ نقل کرنا ضروری ہے۔ ”آج شہر میں ایک خبر نے سنسنی پھیلا دی۔ جب مرزائی نے قائد اعظم کو کافر کہا۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے۔ آج صبح لائل پور کو اپریٹو سوسائٹی کی ایک بس جو جڑانوالہ سے لائل پور جارہی تھی کہ مسافر آپس میں ظفر اللہ وزیر خارجہ پر تبادلہ خیالات کر رہے تھے۔ جڑانوالہ کے عنایت اللہ نے کہا کہ اس نے کراچی میں ہوتے ہوئے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ ایسے آدمی سے کیا امید ہو سکتی ہے۔ اس پر ایک مرزائی نے کہا کہ مومن کافر کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہو سکتا۔ اس پر موٹر میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور ڈرائیور کو موٹر کھڑی کرنی پڑی۔ جب کچھ معاملہ سنبھلا تو موٹر چلی۔ اس خبر نے عوام کو قادیانوں کے خلاف بہت بھڑکا دیا۔“
(نوائے وقت مورخہ ٧؍ جنوری ١٩٥٠ء)
ان واقعات کی مزید تصدیق۔ ”جناب چوہدری سر ظفر اللہ پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ جواب: تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہذا جماعت احمدی کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“
(پمفلٹ نمبر ٤، عنوان احراری علماء کی راست گوئی، شائع کردہ ربوہ ضلع جھنگ)
اسی سلسلے میں مرزائی خلیفہ بشیر الدین کا فتویٰ: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت ص٩٠، بابت ماہ اکتوبر ١٩١٦ء)
کشمیر
نہ صرف پاکستان کے لئے کشمیر کا مسئلہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ بلکہ اس وقت عالم اسلام کے مسلمان اس ادھیڑ بن میں ہیں کہ پاکستان کو دائمی زندگی کیسے نصیب ہو۔ کیونکہ دنیائے اسلام کی یہ سلطنت باقی ماندہ مسلم ممالک کے بقاء کی ضامن ہے۔ لیکن اس کی حیات جاوداں کشمیر
٢٥
کے دامن سے وابستہ ہے۔ وہاں کے بتیس لاکھ انسانوں سے نہ صرف ہمارے خون کا رشتہ ہے۔ بلکہ وہاں کی سر سبز پہاڑیاں ہمارے ملک کی پہرہ دار ہیں۔ وہاں کے دریا ہمارے سرسبز کھیتوں کو زندگی بخشتے ہیں۔ ان دریاؤں کے راستے گلمرگ اور اننت ناگ کی کیسری ہوائیں فرحت کا پیام لاتی ہیں۔
اس سرزمین پر ہمارا حق اس لئے بھی ہے کہ اس پر جنت کا سا گماں ہوتا ہے اور جنت پر خدا کے وعدہ کے مطابق مؤمن کا حق ہے۔ آج اس مملکت خداداد کی عمر اللہ رکھے خیر سے پانچ برس ہونے کو آئی ہے اور مجاہدین بھی تقریباً اتنی ہی مدت سے اس خطۂ پاک کے لئے نہ جانے کس قدر جانیں جان آفرین کے سپرد کر چکے ہیں اور ہنوز دلی دور است اگر روزِ اوّل احتیاط سے کام لیا ہوتا اور مسلم لیگ کے وکیل سر ظفر اللہ کی موجودگی میں شیخ بشیر احمد قادیانی وکیل قادیان کے لئے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ نہ کہتے کہ ”قادیان کو ایک بین الاقوامی یونٹ قرار دیا جائے ۔“
اور اگر وہ غلطی کر ہی چکے تھے تو مسلم لیگ کے وکیل سر ظفر اللہ کو چاہئے تھا کہ وہ یہ کہہ کر انہیں روک دیتے کہ تم کون ہو درمیان میں بولنے والے ۔ جب کہ مسلم لیگ نے مسلمانوں کی طرف سے وکالت کا حق مجھے سونپا ہے تو خدا گواہ ہے۔ گورداسپور کا ضلع بھارت کے قبضہ میں کبھی نہ جاتا۔ جب کہ ٣؍ جون ١٩٤٧ء کے اعلان میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس ضلع کو پاکستان کے حوالہ کر چکا ہے۔ اس ایک ضلع کے ضائع ہو جانے سے کشمیر ہم سے جدا کر دیا گیا اور ہاتھوں کی دی ہوئی اب دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں اور ہنوز مرزائی کشمیر کے حصول میں کس قدر رکاوٹ ہیں۔ اس کے لئے آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے ناظم سردار آفتاب احمد خان صاحب کا بیان مطالعہ سے تعلق رکھتا ہے۔
”لاہور ١٨؍ نومبر خبر شائع ہوئی ہے کہ مسلم کانفرنس برانچ لاہور کے نام نہاد صدر مفتی ضیاء الدین کو شیخ عبداللہ کے ساتھ نامہ و پیام اور پاکستان کے خلاف ساز باز کرنے کے سلسلہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
لاہور کے جملہ جرائد سیاسی جماعتیں، خبر رساں ایجنسیاں ایسوسیٹڈ پریس آف پاکستان اس حقیقت سے کما حقہ آگاہ ہیں کہ مفتی ضیاء الدین کا نہ تو کبھی مسلم کانفرنس سے تعلق رہا ہے اور نہ اب ہے۔ اس کے برعکس سردار محمد عالم خان صدر مسلم کانفرنس برانچ لاہور نے بار بار زبانی اور تحریری متعلقہ حکام کو توجہ دلائی کہ مفتی ضیاء الدین اور ان کے حواریوں نے مسلم کانفرنس کے متوازی جماعت کی تنظیم کر کے بے جا روپیہ ناجائز طریقوں سے فراہم کیا اور متعدد تحائف آزاد کشمیر کے
٢٦
نام پر خرد برد کئے اور مسلم کا لیکن ایک مدت تک سردار بارے میں کوئی تحقیق نہ کی گئی مارچ گزشتہ میں کے لئے مامور فرمایا تو مکمل بالخصوص ڈاکٹر اسلام الدین (یہ سب کے سب مرزائی پشت پناہی مرزائی کر رہے مسلم کانفرنس کے مقابلہ میں جموں وکشمیر کو گمراہ کرنے کی مسلم کانفرنس ان کی باز پرس کی جائے اور سلطنت خداداد پاکستان ۔ رکھیں۔ ان واقعات کا نق ساغر نے کر دی۔ لیکن اس کے دشمنان کے خلاف کو جائے شکریہ خلاف مسلم کانفرنس کی جا گرفتار کر کے اس کے حوا تفتیش سے مفتی ضیاء الدین یہ بات قابل جب تک تادیبی کاروائی ن گے اور تخریبی سرگرمیوں اگر اس بات پہنچائی جاتی۔ لیکن ان کرتا ہوں اور اس کا فیصلہ
لاکھ انسانوں سے نہ صرف ہمارے خون کا رشتہ ہے۔ کی پہرہ دار ہیں۔ وہاں کے دریا ہمارے سرسبز کھیتوں کو لمرگ اور اننت ناگ کی کیسری ہوائیں فرحت کا پیام
یسے بھی ہے کہ اس پر جنت کا سا گماں ہوتا ہے اور جنت پر آج اس مملکت خداداد کی عمر اللہ رکھے خیر سے پانچ برس کی مذمت سے اس خطۂ پاک کے لئے نہ جانے کس قدر اور نوزائیدہ ریاست اگر روز اوّل احتیاط سے کام لیا ہوتا نجوگی میں شیخ بشیر احمد قادیانی وکیل قادیان کے لئے دیان کو ایک بین الاقوامی یونٹ قرار دیا جائے۔‘‘ مسلم لیگ کے وکیل سرظفراللہ کو چاہئے تھا کہ وہ یہ کہہ کر ق بولنے والے۔ جب کہ مسلم لیگ نے مسلمانوں کی آگاہ ہے۔ گورداسپور کا ضلع بھارت کے قبضہ میں کبھی نہ میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس ضلع کو پاکستان کے حوالہ کر چکا کشمیر ہم سے جدا کر دیا گیا اور ہاتھوں کی دی ہوئی اب تائی کشمیر کے حصول میں کس قدر رکاوٹ ہیں۔ اس کے وردار آفتاب احمد خان صاحب کا بیان مطالعہ سے تعلق
کہے کہ مسلم کانفرنس برانچ لاہور کے نام نہاد صدر مفتی اندر پاکستان کے خلاف ساز باز کرنے کے سلسلہ میں
تیں، خبر رساں ایجنسیاں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان یاء الدین کا نہ تو کبھی مسلم کانفرنس سے تعلق رہا ہے اور نہ صدر مسلم کانفرنس برانچ لاہور نے بار ہا زبانی اور تحریری ور ان کے حواریوں نے مسلم کانفرنس کے متوازی ریقوں سے فراہم کیا اور متعدد تحائف آزاد کشمیر کے
٢٦
٥٩٣
نام پر خرد برد کئے اور مسلم کانفرنس کے خلاف شب و روز تخریبی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن ایک مدت تک سردار صاحب کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور عائد کردہ الزامات کے بارے میں کوئی تحقیق نہ کی گئی۔
مارچ گذشتہ میں قائد ملت (غلام عباس) نے راقم کو لاہور مسلم کانفرنس کی تنظیم جدید کے لئے مامور فرمایا تو مکمل تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ مفتی ضیاء الدین اور اس کے حواری بالخصوص ڈاکٹر اسلام الدین نیاز پیر عبد الخالق شاہ، مولوی عبد الواحد اور عبد الغفار اور غلام محمد نقاش (یہ سب کے سب مرزائی ہیں) وغیرہم تنظیمی کام میں سنگ گراں ثابت ہورہے ہیں اور ان کی پشت پناہی مرزائی کر رہے ہیں۔ خلیفہ قادیان کی حمایت اور روپیہ کے بل بوتے پر ان لوگوں نے مسلم کانفرنس کے مقابلہ میں متوازی جماعتوں کی داغ بیل ڈال رکھی ہے اور سادہ لوح مہاجرین جموں و کشمیر کو گمراہ کرنے کے علاوہ دشمن کے ایجنٹ کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
مسلم کانفرنس نے جب ایسے لوگوں کی قلعی کھول کر ارباب تدبیر سے درخواست کی کہ ان کی باز پرس کی جائے تو اس گروہ سے چند افراد بھاگ کر سری نگر چلے گئے۔ وہاں ریڈیو پر سلطنت خداداد پاکستان کے خلاف زہر اگلا اور باقی ماندہ مفسدین نے اپنی تخریبی کاروائیاں جاری رکھیں۔ ان واقعات کا تذکرہ لاہور تبلیغ کانفرنس میں کیا گیا۔ جس کی تصدیق فخر کشمیر جناب اے آر ساغر نے کر دی۔ لیکن اس کے باوجود طوعاً و کرہاً فرقان بٹالین کو توڑنے کے علاوہ اسلام اور ملت کے دشمنان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
جائے شکر ہے کہ اب پولیس کی تحقیقات پر مفتی ضیاء الدین اور اس کے حواریوں کے خلاف مسلم کانفرنس کی جانب سے عائد کردہ الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے ہیں اور سرغنہ مفرورین کو گرفتار کر کے اس کے حواریوں کی تلاش جاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دیانتدار اور غیر جانبدارانہ تفتیش سے مفتی ضیاء الدین کے جملہ شرکاء جرم گرفتار ہو کر کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔
یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ مفتی ضیاء الدین کی پشت پناہ جماعت کے خلاف جب تک تادیبی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ یہ لوگ مسلم کانفرنس کے خلاف محاذ جاری رکھیں گے اور تخریبی سرگرمیوں سے باز نہیں آئیں گے۔‘‘
(اخبار زمیندار مورخہ ٢؍نومبر ١٩٥٠ء)
اگر اس بات کے طویل ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو اس سے متعلق اور بہت سی معلومات بہم پہنچائی جاتی۔ لیکن ان واقعات ومشاہدات کے بعد صرف ایک اور حوالہ نقل کر کے اس بات کو ختم کرتا ہوں اور اس کا فیصلہ اپنی گورنمنٹ پر چھوڑتا ہوں۔
٢٧
١٩٥١ء میں قادیان کے سالانہ جلسے سے واپسی پر شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ (قادیانی) لاہور نے آفاق کے نمائندہ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ : ”ایک بڑے سکھ لیڈر نے مجھ سے ملاقات کر کے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جو تقسیم ملک کے فوراً بعد عمل میں آئے اس سکھ لیڈر نے مجھ سے التماس کی ہے کہ میں ان کے جذبات کو پاکستانی عوام تک پہنچا دوں۔“
(روزنامہ آفاق مورخہ ٣ جنوری ١٩٥٢ء)
ایک طرف سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ کے وہ بیانات ہیں۔ جن میں وہ ہر روز بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی تلقین کر رہا ہے اور دوسری طرف ننکانہ صاحب (پاکستان) میں سو سے زائد آکالی سکھ اپنے گوردوارے کی حفاظت میں سیوا دار بن کر بیٹھے ہیں۔ تیسری طرف تین سو سے زائد مرزائی درویش بن کر قادیان (بھارت) بیٹھے ہیں اور اکثر ان میں سے جب جی چاہتا ہے پاکستان آ جاتے ہیں اور جب جی چاہتا ہے بھارت چلے جاتے ہیں اور چوتھی طرف شیخ بشیر احمد وکیل قادیانی سکھوں کے پیغام مسلمانوں کے نام پاکستان میں پہنچا رہے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟
قادیانی مذہب کے اخلاق
مندرجہ بالا عنوان کے تحت نہ لکھنے کو جی چاہتا تھا اور نہ ہی اب ارادہ ہے۔ لیکن اپنے راستے کی ایک منزل سمجھ کر یہاں سے گزر رہا ہوں۔ وہ بھی بادل ناخواستہ۔
بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے کو نبی کہتا ہے اور صرف نبی ہی نہیں بلکہ اس کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں: ”محمد رسول اللہ والذی معه اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی الٰہی میں خدا تعالیٰ نے میرا نام محمد رکھا ہے اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
ایک مجلس میں جس میں خود مرزا غلام احمد قادیانی موجود تھا۔ اکمل نامی شاعر نے یہ شعر پڑھے۔
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار البدر مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
٢٨
لانہ جلسے سے واپسی پر شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ (قادیانی) ان دیتے ہوئے کہا کہ : ”ایک بڑے سکھ لیڈر نے مجھ سے اظہار کیا ہے۔ جو تقسیم ملک کے فوراً بعد عمل میں آئے اس میں ان کے جذبات کو پاکستانی عوام تک پہنچا دوں۔“
(روزنامہ آفاق مورخہ ٣ جنوری ١٩٥٢ء)
ارا سنگھ کے وہ بیانات ہیں۔ جن میں وہ ہر روز بھارت کو اور دوسری طرف ننکانہ صاحب (پاکستان) میں سو سے زائد میں سیوادار بن کر بیٹھے ہیں۔ تیسری طرف تین سو سے عورت) بیٹھے ہیں اور اکثر ان میں سے جب جی چاہتا ہے ا ہے بھارت چلے جاتے ہیں اور چوتھی طرف شیخ بشیر احمد تا کے نام پاکستان میں پہنچا رہے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کیا ؟
لکھنے کو جی چاہتا تھا اور نہ ہی اب ارادہ ہے۔ لیکن اپنے خذ ہوں۔ وہ بھی بادل ناخواستہ۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد نہیں بلکہ اس کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں: اشداء على الكفار رحماء بينهم “ اس وحی الٰہی میں گئی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
ا غلام احمد قادیانی موجود تھا۔ اکمل نامی شاعر نے یہ شعر
بڑھ کر اپنی شان میں
ں جس نے اکمل
دیکھے قادیان میں
(اخبار البدر مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
٢٨٦١
کچھ لوگوں نے جب اکمل پر اعتراض کیا تو اس نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا۔ جب میں نے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے سامنے یہ نظم پڑھی اور خوش خط لکھ کر آپ کے پیش کی گئی تو آپ نے کہا جزاک اللہ اور نظم کو وہ اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ نیز اس نے کہا۔ یہ مضمون میں نے حضرت صاحب کی کتاب خطبہ الہامیہ سے نقل کیا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢ اگست ١٩٣٢ء)
دعویٰ پیغمبری کی تصدیق کے بعد اب بانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق کا حال سنئے:
- ......١ ”حضرت صاحب نے ایک دفعہ دیکھا کہ میں عورت ہو گیا ہوں اور خدا
نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار کیا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢)
- ......٢ ”پھر آپ نے فرمایا کہ میں حاملہ ہو گیا ہوں۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
- ......٣ ”میں نے (مرزا قادیانی نے) رویا دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے۔ میں اس
میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی میرے پاس بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ مجھے دبا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ میرا ازار بند پکڑ کر گرہ کھولنا چاہا۔ میں سمجھا کہ اس کا ہاتھ اتفاقاً لگا ہے اور میں نے ازار بند پکڑ کر اپنی جگہ پر اٹکا لیا۔ پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر یہی سمجھا کہ اتفاقیہ ایسا ہوا۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا تب مجھے اس کی بدنیتی کا شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں۔ جب تک کہ میں دیکھ نہ لیا کہ وہ برا ارادہ کر رہا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٤ ستمبر ١٩٢٧ء)
- ......٤ ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے بیان کیا کہ حضرت ام المؤمنین نے ایک دن
بتایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات کو جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے اس پر شبہ نہ ہو سکا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں۔ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا کہ بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو نے کہا ہاں جی تدے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں نے۔“ (جبھی تو آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح ہو رہی ہیں)
(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠)
٢٩
- ٥...... (بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ) ”ایک خط جس
کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھار زنا کر لیتے ہیں۔ حضرت مرزا قادیانی ولی اللہ تھے۔ انہوں نے (یعنی مرزا غلام احمد ) نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔ ہمیں اعتراض مسیح موعود پر نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ یعنی (بشیر الدین محمود ) پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔ اس اعتراض سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص پیغامی ہے۔ (یعنی لاہوری مرزائی ) اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے۔ مگر پیغامی اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٣٨ء ص ٦)
مسٹر عبدالرحمن مصری کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست
ہائیکورٹ لاہور کے فیصلہ کے اندر تحریر ہے۔ درخواست کنندہ (عبدالرحمن مصری) نے ایک تحریری بیان دیا ہے۔ جس کے دوران میں اس نے یہ کہا۔ ”موجودہ خلیفہ (بشیر الدین محمود قادیانی ) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ کے رکھا ہوا ہے۔ اس کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
(ماخوذ فیصلہ مسٹر ایف۔ ڈبلیو سکیمپ ، جج عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور، مورخہ ٢٣؍ ستمبر ١٩٣٨ء)
درخواست دہندہ مسٹر عبدالرحمن مصری خلیفہ بشیر الدین محمود قادیانی کے نزدیک نہایت ذمے دار آدمی تھا۔ مرزائی روپے سے یہ تعلیم کے لئے مصر گیا اور واپسی پر قادیان آکر بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی اور بیس برس تک قادیان احمدیہ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر رہا۔ نیز ١٩٣٥ء میں جب مجلس احرار نے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کیا تو یہی مرزائی جماعت کی طرف سے شرائط مباہلہ طے کر مجلس احرار اسلام سے گفتگو کرنے آیا تھا۔
فخر الدین ملتانی کا بیان
”مہاشہ محمد عمر کا کہنا ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر یہ بھی لکھتا ہوں کہ انہوں نے (میاں فخر الدین قادیانی ) ایک دن اپنے مکان کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا تھا کہ تحریک جدید کے
٣٠
بورڈنگ کا ایک فائدہ ضرور لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں
فخر الدین ملتانی
بعد اسے سر بازار دن کی نامی کا مطالعہ کیا جائے۔
حلفیہ شہادت
حقائق بھی ملاحظہ فرمائیے خاندان شاطر سیاست کے ہیں۔ میں ان کی وہ تحریر من ”بسم اللہ اشہد ان لا الہ الا میں اقرار کرتا ہوں۔ حضر ہے۔ میں احمدیت کو بھی ایمان رکھتا ہوں اور مسیح م ”میں اپنے ناظر جان کر اس کی پا اپنے سامنے اپنی بی لعنت اور عذاب مجھ پ اٹھانے کے لئے بھی تیا دستخط ماخوذ از ایل۔ ایل۔ بی وکیل ق
قادیانی خاتون کا
”میں ب چاہتی ہوں کہ وہ کیسی
بورڈنگ کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے۔ (خلیفہ قادیانی کو) کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا۔ اب لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں۔“
(اخبار فاروق مورخہ ١٧؍اگست ١٩٣٧ء)
فخر الدین ملتانی بھی عبدالرحمن مصری کا ساتھی تھا اور اس بیان کے تھوڑے دنوں کے بعد اسے سر بازار دن کی روشنی میں کسی مرزائی نے قتل کر دیا تھا۔ اس ضمن میں کتاب ”مذہبی آمر“ نامی کا مطالعہ کیا جائے۔
حلفیہ شہادت، شاطر سیاست کے اخلاق کا تذکرہ چل نکلا ہے تو لگے ہاتھوں چند مزید حقائق بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ہمیں ایک نوجوان محمد یوسف کی تحریر موصول ہوئی ہے۔ مسٹر یوسف کا خاندان شاطر سیاست کے خاص الخاص مریدوں میں سے ایک ہے اور وہ ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں۔ میں ان کی وہ تحریر من وعن شائع کر رہا ہوں۔
”بسم الله الرحمن الرحيم ٠ نحمده ونصلى على رسوله الكريم ٠ اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله“ میں اقرار کرتا ہوں۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھتا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس اقرار کے بعد میں بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔
”میں اپنے علم اور مشاہدہ اور رؤیت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کی پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں۔“
دستخط: محمد یوسف معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے للوانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی
ماخوذ از ربوہ کا مذہبی آمر مصنف راحت ملک برادر اصغر ملک عبدالرحمن خادم
ایل۔ ایل۔ بی وکیل قادیان سابق جنرل سیکرٹری، کشمیر کمیٹی۔ (مکتبہ نور سادات طبع دوم)
قادیانی خاتون کا بیان
”میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے
٣١
زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مؤمنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا الزام لگایا جاسکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا۔ جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی۔ جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آگئی۔ چند دنوں بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جوں ہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے مل آؤں مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹکیاں (چٹخنیاں) لگادیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر کا چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آرہی تھی کہ مجھ کو چکر آگیا اور گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں انہوں نے پی ہو۔ کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہ ہی تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہوگی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔‘‘
(مباہلہ جون ١٩٢٩ء، ماخوذ از ربوہ کا مذہبی آمر ص ٩١ تا ٩٣)
قادیان میں ان دنوں اندرونی خلفشار کے باعث بہت سے مرزائی قادیان کی موجودہ برسر اقتدار پارٹی سے کٹ کر لاہوری مرزائی یا دوسرے کسی گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔ مجلس احرار اسلام کا دفتر ان دنوں قادیان میں اپنا تبلیغی کام کر رہا تھا اور فخر الدین ملتانی کے قتل کے بعد عبدالرحمن مصری کو مجلس احرار اسلام کے رضا کاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
اگر مرزائیت واقعی کوئی مذہب ہے اور اس کے اخلاق یہ ہیں۔ جن کا آپ نے مطالعہ کیا ہے تو پھر
٣٢
ان کی مؤمنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ جا سکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے کیا کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ اس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر ب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آ گئی۔ چند دنوں بعد مجھے کوئی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جوں ہی ہم دونوں میاں کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا۔ دے ہیں۔ ان سے مل آؤں مجھے یہ کہہ کر اس کمرے پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور (چٹخنیاں) لگا دیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر کا اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا آخر عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو کہتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسا نہیں کرتے۔ ممکن گا۔ کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہ تھے خاندانی ہوگی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔"
(المبلغ جون ١٩٢٩ء، ماخوذ از ربوہ کا مذہبی آمر ص ٩١ تا ٩٣)
ار کے باعث بہت سے مرزائی قادیان کی موجودہ ہمارے کسی گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔ مجلس احرار کام کر رہا تھا اور فخر الدین ملتانی کے قتل کے بعد میں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ ان کے اخلاق یہ ہیں۔ جن کا آپ نے مطالعہ
کار طفلاں تمام خواہد شد
توہین انبیاء
چند اچھے اصولوں کا نام مذہب ہے۔ خواہ وہ مذہب اسلام ہو یا کوئی دوسرا۔ ہر ایک مذہب کے داعی نے جب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ اخلاق کا دروازہ تھا۔ جہاں سے کھڑے ہو کر انہوں نے عوام الناس کو خدا کا پیغام دیا۔ سننے اور دیکھنے والوں نے مذہبی داعی و مذہب کو اسی وزن سے جانچا۔ اگر آدمی کے اپنے اخلاق اچھے نہ ہوں تو آدمی آدمی نہیں رہتا۔ بلکہ وہ حیوان کے مترادف ہو جاتا ہے۔
عرب جیسی قوم جس کے دل پتھر اور ریت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ جس نے مخلوق پر خالق کا یقین کر لیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چور سے چوکیدار کیسے بن گئی۔ دختر کش، یتیم پرور کیسے بنا دیئے گئے۔ بھیڑ بکریوں کے چرواہوں سے دنیا بھر کے شہنشاہ لرزہ براندام کیوں رہنے لگے تھے۔ یہ ساری برکت اس ذات گرامی کی تھی۔ جو اخلاق کا اس قدر بلند و روشن مینار تھا کہ جس کی روشنی کفر کی اندھیری راتوں میں اجالا کئے بغیر نہ رہ سکی۔
دنیا کی ہر بات اخلاق کے ترازو میں وزن کی جاتی ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہو تو بات کا وزن نہیں رہتا اور پھر راہنما یا لیڈر کے لئے تو اس معیار کو اور بھی اونچا کرنا پڑتا ہے۔ اس اونچائی سے گرنے والے کو تاریخ نے اپنے اندر جگہ نہ دی۔ اگر سر راہ کسی کو گالیاں دی جائیں تو ممکن ہے کہ وہ اپنی شرافت کی وجہ سے چپ رہے۔ لیکن راہ گیر ضرور محسوس کریں گے کہ یہ عام آدمی کی بات ہے۔ لیکن ایک آدمی اپنے کو نبی اور رسول کہتا ہو اور پھر خدا کے پیغمبروں کو کھلم کھلا گالیاں بھی دے۔ انہیں سر بازار غلط طور پر رسوا کرے اور پھر یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہو جو انہی پاک اور سعید روحوں کے نام پر حاصل کیا گیا ہے تو پھر کیا ہمیں خدا کے فیصلہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
"یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے؟"
(کشتی نوح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
٣٣
”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی حرام کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ (پاک دامن) مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس کے نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص٤، خزائن ج١٨ ص٢٢٠)
یہ الزام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر عائد کیا گیا۔ اس کی مزید تشریح خود مرزا قادیانی کرتا ہے۔ ”آپ کے یسوع کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روئیں۔ کیا یہ مناسب تھا وہ ایک زانیہ عورت کو موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت نخرے سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بدحالت سے پاک ہوتا تو وہ کسی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگوں کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔“
(نورالقرآن حصہ دوم ص٧٣، خزائن ج٩ ص٤٤٨)
قرآن کریم کی گواہی
یہ تو تھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کی رائے۔ لیکن قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاک دامنی پر کیا شہادت دی۔
جب حضرت حنا (نانی محترمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے پروردگار عالم سے دعا کی کہ مجھے ایسی اولاد دیجیو جو خود بھی شیطان کے دخل سے پاک رہے اور پھر اس کی اولاد بھی پاک ہو اور حضرت مریم (والدہ محترمہ عیسیٰ علیہ السلام) پیدا ہوئیں تو فرمایا حضرت حنا نے ”وانی اعیذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم (آل عمران) “ ﴿اور تحقیق میں نے پناہ دی اس کو (مریم کو) ساتھ تیرے اور اولاد اس کی کو، شیطان راندے ہوئے سے۔﴾
جب حضرت حنا کی دعا قبول فرمائی تو جہانوں کے پالنہار نے اعلان کیا۔ ”فتقبلها ربها بقبول حسن (آل عمران) “ ﴿رب تعالیٰ نے ان کی دعا کو احسن طریق سے قبول فرمالیا۔﴾
اس طرح نانی اماں کی دوسری دعا قبول فرماتے ہوئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو
٣٤
پنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے وئی بے تعلق جوان اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا پاک دامن ) مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس
( دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
لیہ السلام پر عائد کیا گیا۔ اس کی مزید تشریح خود مرزا قادیانی کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روئیں۔ موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس ی حالت سے پاک ہوتا تو وہ کسی عورت کو نزدیک آنے سے واؤں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔“
(نورالقرآن حصہ دوم ص ٧٣، خزائن ج ٩ ص ٤٤٨)
کے متعلق مرزا قادیانی کی رائے ۔ لیکن قرآن کریم نے ہادت دی۔
رت عیسیٰ علیہ السلام ) نے پروردگار عالم سے دعا کی کہ ن سے پاک رہے اور پھر اس کی اولاد بھی پاک ہو اور دا ہوئیں تو فرمایا حضرت حنانے ”وانی اعیذها (آل عمران )“ ﴿ اور تحقیق میں نے پناہ دی اس کو ان راندے ہوئے سے۔ ﴾
س کی تو جہانوں کے پالنہار نے اعلان کیا۔ ” فتقبلها ہ رب تعالیٰ نے ان کی دعا کو احسن طریق سے قبول قبول فرماتے ہوئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو
٣٤
بشارت دی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی اور ساتھ ہی بچے کی پاکدامنی کا اعلان بھی کر دیا۔ ”قال انما انا رسول ربك لا هب لك غلاما ذكيا (مریم )“ ﴿ کہنے لگا ( فرشتہ ) سوائے اس کے نہیں کہ میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار تیرے کا کہ بخش جاؤں تجھ کو لڑکا پاکیزہ ۔ ﴾
اب کون فیصلہ کرے کہ قرآن کریم کا ارشاد بجا ہے یا مرزا غلام احمد قادیانی کی باتیں۔
خاتم الانبیاء کی توہین
بنیادی پتھر عمارت کی جان ہوتا ہے۔ اگر یہی کمزوری ہو تو ساری عمارت دھڑام سے نیچے آ رہے گی۔ اسلام ایک عمارت ہے۔ جس کی بنیاد ختم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ہے اور یہی وہ محور ہے جس کے گرد ارض و سماوات کے تمام نظام چکر کاٹ رہے ہیں۔ لیل و نہار کی سیاہی و سفیدی ان کے لبوں کی مسکراہٹ اور غصہ بھری نگاہوں کا ایک ہلکا سا پرتو ہیں۔ چاند اور ستاروں نے اپنی رعنائیاں انہی کے چہرہ انور سے مستعار لی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور
وہ ذرا نقاب الٹ دیں تو ابھی بہار آئے
دیگر مذاہب کے پیروؤں نے بھی اس محسن کائنات کو اگر نہ مانا ہو۔ لیکن دلی احترام سے جانا ضرور ہے اور اس حقیقت سے انکار کفر ہوگا کہ محمد کے گھرانے کے تمام افراد نے بنی نوع انسان کے لئے ہر مصیبت کو قبول کیا۔ چنانچہ میدان کربلا کا واقعہ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف نگاہیں بلکہ دل بھی ان کا نام آتے ہی احترام سے جھک جاتے ہیں۔ جس خاندان کے بنی نوع انسان پر اس قدر احسانات ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس پاک گھرانے کے متعلق کہتا ہے۔
”ایک دن جب میں عشاء کی نماز سے فارغ ہوا۔ اس وقت نہ تو مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی میں اونگھ رہا تھا اور نہ ہی کوئی بے ہوشی کے آثار تھے۔ بلکہ میں بیداری کے عالم میں تھا۔ اچانک سامنے سے ایک آواز آئی۔ آواز کے ساتھ ہی دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آ رہے ہیں۔ بے شک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علیؓ ساتھ اپنے دو بیٹوں اور ساتھ اپنی بیوی فاطمہ کے اور سردار مرسلین کے اور دیکھتا کیا ہوں کہ فاطمۃ الزہرا نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور میری طرف گھور گھور کر دیکھنا شروع کیا۔“
( آئینہ کمالات اسلام ص ٥٣٩، ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٣٥
یوں تو مندرجہ بالا عبارت میں حضور سرور کائناتﷺ کے سارے خاندان کی توہین ہے۔ لیکن حضرت فاطمۃ الزہرا کے متعلق یہ لفظ کہ: ”اس نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔“ خاتون جنت کی توہین کا کس قدر نمایاں پہلو لئے ہوئے ہے۔ زمانہ ماضی میں رواج تھا کہ اگر محلہ میں کسی بدمعاش نے کسی کی بہو، بیٹی کے متعلق کوئی نازیبا کلمات کہے تو سارا محلہ اس کی جان کا لاگو ہو جاتا تھا۔ لیکن آہ! زمانہ حال کی بدحالی! کہ آج ہم اپنے بڑوں کی عزت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس کے الٹ۔
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
اس سے آگے کہتا ہے۔
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
ترجمہ: میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے۔
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
یہ تو تھی مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبارت۔ اب اس کے بیٹے بشیر الدین محمود قادیانی کی بات سنئے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
توہین امام حسینؓ
افسانہ نویس جب افسانہ تحریر کرتا ہے تو زیب داستان کے لئے اس میں مصنوعی رنگ بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن داستان کربلا کو حسینؓ نے اپنے خون سے اس قدر حسین بنا دیا ہے کہ تیرہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی ہر روز سر شام آسمان پر شفق کی سرخیاں اس کہانی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اتنے عرصے میں جس قدر آنسو امام مظلوم کی یاد میں عالم اسلام نے بہائے ہیں۔ اگر تمام کو جمع کر لیا جائے تو نہ جانے کس قدر نیل و فرات اس میں سے بہہ نکلتے اور زمانہ کے ہزاروں یزید اور شمر اس میں خاشاک کی طرح بہ جاتے۔ اگر یقین نہ ہو تو سبز گنبد کی جالی کو پکڑ کر سوال کرو کہ تیرے پر کھیلنے والے سوار نے اسلام کی تصویر میں رنگ بھرنے کے لئے اپنے سارے کنبہ کا خون کیوں بہایا تھا۔ ان مہوش شہزادیوں کو جنہیں دیکھنے کو آسمان کے ستارے ترس گئے
٣٦
تھے۔ ننگے منہ کربلا سے دمشق کیوں لے جایا گیا تھا۔ جاؤ دریائے فرات سے گواہی لو کہ جب معصوم اصغر کا خون تیرے پانی کے ساتھ مل کر بہنے لگا تھا تو تیرے چہرے کی رنگت سفید کیوں پڑ گئی تھی؟ اگر کربلا کی زمین بول سکتی ہے تو اس سے پوچھو کہ آج بھی تیری خاک سے وہ سانچے ڈھل سکتے ہیں۔ جس سے حسین ابن علی کی سی للکار پیدا ہو؟ اگر یہ سب شاعری نہیں واقعہ ہے۔ پھر حسین کا انسانیت پر احسان کیوں نہ مانئے کہ انہوں نے شجر اسلام اور ملت کے اصولوں کو اپنے خون سے از سر نو جلا بخشی۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے۔
صد حسین است در گریبانم
ترجمہ: کربلا میری روز کی سیر گاہ ہے۔ حسین جیسے سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور سنو: ”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کر کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ (نجات دینے والا) کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
شہید علم الدین کی توہین
مختصر یہ کہ کوئی مقام ایسا نہیں جہاں قادیانی ٹولہ کے لیڈر نے اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بہتر ثابت نہ کیا ہو۔ اس کی تصنیف کردہ کتب جن سے پچاس الماریوں کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ سوائے دو باتوں کے کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
- ١...... انگریز کی بے جا حمایت۔
- ٢...... انبیاء کرام اور خاص کر حضور سرور کائنات ﷺ کی توہین۔
بلکہ ان لوگوں کو بھی اس ٹولہ نے ذلیل کیا جو اس محسن کائنات پر قربان ہوگئے۔ چنانچہ ”رنگیلا رسول“ نامی کتاب شائع ہوئی اور اس میں ختم المرسلین کی توہین کی گئی تو متحدہ ہندوستان کے مسلمان ماہی بے آب کی طرح تڑپ اٹھے۔ احرار رہنماؤں نے رائج الوقت حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ کتاب ضبط کر لی جائے۔ نیز تعزیرات ہند میں ایک نئے قانون کا اضافہ کیا جائے کہ جو شخص توہین انبیاء کا مرتکب ہو یا کسی مذہب کے رہنماء کی توہین کرے۔ اسے قانوناً قرار واقعی سزا دے۔ اس تحریک کے سلسلہ میں جہاں اور لوگ اسیر فرنگ ہوئے۔ وہاں حضرت امیر شریعت
٣٧
عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، غازی عبدالرحمن بھی کچھ برسوں کے لئے جیل بھیج دیئے گئے۔
انگریز ابھی سوچ ہی رہا تھا۔ کیا فیصلہ کرے کہ لاہور کے لوہار کے ایک بیٹے غازی علم الدین نے کتاب ہذا کے مصنف راجپال کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی توہین اس سے برداشت نہیں ہو سکتی۔ مسلمان کی رائے ہے کہ یا کہنے والی زبان نہ رہے، یا سننے والے کان نہ رہیں۔ تیسرا کوئی فیصلہ نہیں۔
راجپال کا قتل ہونا تھا کہ سارے ملک میں ایک آگ سی بھڑک اٹھی۔ مسلمانوں نے علم الدین غازی کی ہمت مردانہ پر اس کے خاندان کو مبارک باد دی۔ کفر کو یقین ہو گیا کہ اس کمبل پوش آقا کے غلام ہنوز زندہ ہیں۔
مقدمہ شروع ہوا۔ انگریزی قانون اپنی ساری طاقت سے لیس ہو کر سامنے آیا۔ ایک طرف فرنگی آئین کے محافظ مقتول کی پشت پناہی کر رہے تھے اور دوسری طرف اللہ کے سہارے رسول اکرم ﷺ کی عزت کے وارث تھے۔ ایسے وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا کہتا ہے۔
”قتل راجپال محض مذہبی دیوانگی کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ وہ بھی مجرم ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ وہ بھی قانون کا دشمن ہے۔ جو لیڈر ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔ وہ خود بھی مجرم ہیں۔ قاتل و ڈاکو ہیں۔
جو لوگ توہین انبیاء کی وجہ سے قتل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے برأت کا اظہار کرنا چاہئے اور ان کو دبانا چاہئے۔ یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے۔ نادانی ہے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی......
......علم الدین کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں ملے گی۔ لیکن قبل اس کے وہ ملے، تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو۔ توبہ کرو۔ گریہ زاری کرو۔ خدا کے حضور گڑگڑاؤ۔ یہ احساس ہے جو اس کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدائی سزا (جہنم ) سے بچ سکتا ہے اور اصل سزا وہی ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ اپریل ١٩٢٩ء)
٣٨
ایک سال بعد
مولانا عبدالکریم مباہلہ خاندانی مرزائی تھے اور شاید ان کے والد مرحوم سرکاری نبی کے صحابہ میں شامل تھے۔ والد کی زندگی میں مولانا موصوف نے جب ہوش سنبھالا اور واقعات کو بالغانہ نگاہوں سے دیکھا تو انہیں پارسائی کے پردے میں ریا کاری کا ایک بہت بڑا جال ہمرنگ زمین نظر آیا۔ وہ چیخ اٹھے اور انہوں نے قادیان کے مصنوعی نبی اور خلیفہ بشیرالدین محمود قادیانی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس بغاوت کے سائے میں اور نہ جانے کس قدر راز ہائے درون پردہ کا انکشاف ہوتا۔ لیکن حسن بن صباح کے اس جانشین نے مولانا موصوف کے قتل کی سازش کی۔ چنانچہ اس غرض کے لئے محمد امین بخارا کی وساطت سے محمد علی پشاوری کو سرحد سے منگوایا گیا اور ایک دن جب کہ مولانا عبدالکریم اور حاجی محمد حسین بٹالوی گورداسپور سے واپس آ رہے تھے۔ ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ دراصل یہ حملہ مولانا عبدالکریم مباہلہ پر تھا۔ چونکہ قاتل اجنبی تھا۔ نشاندہی کے مطابق وار ٹھیک نہ کر سکا۔ اس نے عبدالکریم مباہلہ کی بجائے حاجی محمد حسین پر وار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حاجی صاحب شہید ہو گئے اور قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔
حاجی محمد حسین شہید حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مرید تھے اور یہ واقعہ ١٩٣٠ء کا ہے۔ جب حاجی محمد حسین کے قاتل کو پھانسی دی گئی تو مرزا بشیر الدین محمود نے اس کے جنازہ کو کندھا دیا۔ اسے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا۔ اس کی مغفرت کے لئے مرزائیوں نے دعائیں کیں۔ بے شک یہ آخری واقعہ کچھ بے تعلق سا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مقصود یہ ہے کہ مسلمان کو سمجھایا جا سکے کہ اگر علم الدین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے راجپال کو قتل کرے تو وہ خدا کی سزا مستحق یعنی جہنمی ہے اور ایک بے گناہ مسلمان کو شہید کر کے مرزائی اگر پھانسی کی سزا پائے وہ جنتی۔
اگر تو مرزائی حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ ؎
تو تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو اور اگر قیامت کے دن پر یقین ہے اور وہاں انسانی اعمال کے حساب و کتاب کا ہونا بھی یقینی امر ہے تو پھر اپنی موجودہ روش پر غور کرو۔ ایسا نہ ہو کہ عمر رواں کا قافلہ دور نکل جائے اور پھر تم لوٹنا بھی چاہو تو ممکن ہے۔ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہو اور تم دیکھتے کے دیکھتے رہ جاؤ۔
٣٩
زیر نظر ڈائری کا دوسرا حصہ بھی لکھنے کا ارادہ ہے۔ زندگی اور وقت دونوں نے ساتھ دیا تو انشاء اللہ کوشش کروں گا۔
مولانا عبد الرحیم اشعر مبلغ مجلس احرار اسلام لائل پور کا ممنون ہوں کہ انہوں نے ہر مشکل موڑ پر راہنمائی کی۔
( جانباز مرزا، مورخہ ١٤؍ جنوری ١٩٥٢ء )
سازش
سازش ایک ایسا لفظ ہے جس کی تفسیر میں اتنا کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ ماضی کے قلمکاروں نے مستقبل کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ یہ لفظ اب روزمرہ کی گفتگو میں بطور محاورہ استعمال ہو رہا ہے۔
اگر یہ لفظ سلطنت کے مقابل استعمال کیا جاوے تو اس کے پس منظر انسانی لاشوں کے انبار ہوتے ہیں اور شاہی محلات سے بھڑکتے ہوئے آتش انتقام کے شعلے آسائش حکمرانی کو اس طرح جلا کر بے نشان کر دیتے ہیں کہ صدیوں بعد آنے والے سیاح ناخن تدبیر ہی سے اپنے شوق کو پورا کر سکتے ہیں۔ ورنہ خاک کے ذرات شاہی تمکنت کو اپنے اندر اس طرح جذب کر چکے ہوتے ہیں کہ ہزار تراش کے بعد وہاں ماضی کا کوئی نقش دکھائی نہیں دیتا۔
اور کہیں سلطنت کے اپنے منہ سے یہ لفظ نکل جائے تو پھر اس کی تخیل میں جھوٹ کو اس قدر جمع کیا جاتا ہے اور اس پر حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے۔ رعایا میں سے خاصی تعداد کا جھوٹ کے سنگھاسن تلے آ کر خون ضائع ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اسی دور کو سیاسی زبان میں پر آشوب دور کہا جاتا ہے۔ ان دنوں ظلم اور انصاف ترازو کے ایک ہی تول تلتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب آمریت کے ہاتھوں بے گناہ انسانوں کا خون اپنے ضائع ہونے کی قیمت وصول کرتا ہے۔
اگر یہ لفظ سازش آپس کی محفل میں بولا جائے تو دوست اور دشمن دونوں کی بھویں تن جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو شبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ یار چلتے چلتے رک جاتا ہے۔ محبت کی عبادت نفرت کی پوجا کرنے لگ جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آباد گھرانے ویران ہو جاتے ہیں۔ اپنے ہی گھر کی دیواریں جاسوس معلوم ہوتی ہیں۔ دوست کی بات بھی دشمن کی طرح سنی جاتی ہے۔ ہواؤں سے خوف آنے لگتا ہے۔ اف کس قدر بھیانک لفظ ہے سازش !
آج یورپ اور ایشیاء میں اسی ایک لفظ کے طفیل ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ ماضی قریب میں ملک شام میں یکے بعد دیگرے جو انقلاب آئے۔ وہ اسی لفظ کی متحرک تصویر تھے۔ ایران
٤٠
لگنے کا ارادہ ہے۔ زندگی اور وقت دونوں نے ساتھ دیا تو ں احرار اسلام لائل پور کا ممنون ہوں کہ انہوں نے ہر
(جانباز مرزا، مورخہ ١٣/جنوری ١٩٥٢ء)
کی تفسیر میں اتنا کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ ماضی کے نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ یہ لفظ اب روز مرہ کی گفتگو استعمال کیا جاوے تو اس کے پس منظر انسانی لاشوں کے اٹھتے ہوئے آتش انتقام کے شعلے آسائش حکمرانی کو اس ں بعد آنے والے سیاح ناخن تدبیر ہی سے اپنے شوق ت شاہی تمکنت کو اپنے اندر اس طرح جذب کر چکے کا کوئی نقش دکھائی نہیں دیتا۔
ے یہ لفظ نکل جائے تو پھر اس کی تکمیل میں جھوٹ کو اس ن ہونے لگتا ہے۔ رعایا میں سے خاصی تعداد کا جھوٹ ع ہو جاتا ہے اور اسی دور کو سیاسی زبان میں پر آشوب ازو کے ایک ہی تول تلتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کا خون اپنے ضائع ہونے کی قیمت وصول کرتا ہے۔
نہیں بولا جائے تو دوست اور دشمن دونوں کی بھویں تن ھ دیکھا جاتا ہے۔ یار چلتے چلتے رک جاتا ہے۔ محبت کی و دیکھتے ہی دیکھتے آباد گھرانے ویران ہو جاتے ہیں۔ ہیں۔ دوست کی بات بھی دشمن کی طرح سنی جاتی ہے۔ ر بھیا نک لفظ ہے سازش ! س لفظ کے طفیل ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ ماضی قریب اب آئے۔ وہ اسی لفظ کی متحرک تصویر تھے۔ ایران
٤٠
اپنے ملک کی معدنیات اگر کسی غیر ملک کو نہ دینا چاہے تو اس پر کسے اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہر شخص اپنی شے کا آپ مالک ہے۔ اس پر بزور قوت قبضہ کرنے کی نہ کوئی مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ ضابطہ حیات کی کوئی اور دفعہ مداخلت کرتی ہے۔ لیکن برطانیہ اور امریکہ پر شاید یہ دونوں قانونا لاگو نہیں ہوتے۔ ورنہ وہ روس کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر ایران کے تیل سے اپنے تاریک مستقبل کو روشن کرنے کی کبھی حرکت نہ کرتے۔
مصر اگر نہر سویز میں کسی سلطنت کا جہاز داخل نہ ہونے دے تو وہ اس پر حق بجانب ہے۔ آسمان و زمین گواہ ہیں کہ نہر سویز کا پانی مصر کی اپنی زمین سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے وطن کی زمین ہر اہل وطن کو عزیز ہوتی ہے۔ لیکن اقوام یورپ نہ جانے اپنے سوا کیوں کسی دوسری قوم کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتی۔ وہ اس حق کو اپنے ہی لئے کیوں مخصوص کر رہی ہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو پھر گذشتہ کئی برسوں سے مصر اپنے ظلم کا تختہ مشق کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کوریا کی سر زمین انسانی خون سے سرخ کیوں کی گئی۔ محض اس لئے کہ وہاں کی آبادی پر چند دولت مندوں کا اقتدار بحال رہے۔ وہاں کے اچھے بھلے آباد گھرانوں کے بے گھر کر دیا گیا۔ عمارتوں کو خاک کا ڈھیر کر دینے سے ان کے ہاتھ کیا آیا۔ وہاں کے بے خانماں لوگ آج فقیروں کی طرح بھیک مانگ رہے ہیں اور یہ سب ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا جھگڑا چار سال سے وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی اتنا حل طلب معمہ نہیں تھا کہ جس پر اس قدر وقت ضائع کیا جاتا۔ کتنا صاف سوال ہے کہ جب ہندوستان کی تقسیم وہاں کی آبادی کے لحاظ سے ہوئی ہے تو پھر بتیس لاکھ کی آبادی جس میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ کیوں پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کر سکتی۔ اگر حیدرآباد پر قبضہ کی دلیل یہی ہے تو پھر کشمیر کے لئے کیوں نہیں؟
چار سال ہونے کو آئے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے سیاستدان ہر چھ ماہ کے بعد اپنی سہاگ پٹاری اٹھا کر کشمیر کی طرف چل پڑتے ہیں اور گرمی کا موسم اس خطہ جنت نما میں گزار کر اپنا سا منہ لے کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ یہ کہاں کے سیاستدان ہیں۔ ایران کو مرعوب کرنے کی ترکیب ان کی سمجھ میں آسکتی ہے۔ نہر سویز کے پانی میں تیر کر ایشیاء کی تمام منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لئے منصوبے باندھ سکتے ہیں۔ کوریا کے بے گناہ انسانوں کو اپنے اقتدار کی بھٹی
٤١
میں جھونک سکتے ہیں۔ تیونس کے مسلمانوں کو آزادی مانگنے کے جرم میں بندوقوں کی سنگینوں اور توپوں کے دہانوں سے باندھ کر ان کے گوشت کا قیمہ کرنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر کشمیر کا مسئلہ ہی اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ چار برس سے ان سیاستدانوں کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ سب سازش نہیں؟ یقیناً یہ ایک بہت بڑی سازش ہے۔ کیوں جی؟ انگریزی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی جب مسلمان ممالک نے اپنے آپ کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانی چاہی تو برطانیہ امریکہ اور فرانس تینوں کے ماتھے سے پسینہ کیوں چھوٹنے لگا۔ فرانس، تیونس پر برطانیہ ایران اور مصر پر امریکہ کوریا پر لٹھ لے کر چڑھ دوڑے۔ کیوں! آخر آزادی مانگنا جرم کب سے قرار دے دیا گیا ہے۔ وہ کون سا بین الاقوامی آئین ہے جس کے تحت آدمی آدمی کا غلام رہ سکتا ہے اور پھر یہ ظلم مسلمانوں ہی سے کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔
ان واقعات کی موجودگی میں پاکستان کے حکمران جو سب سے بڑی اسلامی ریاست کے حکمران ہیں۔ ان کی اسلامی بلاک کی تجویز مضحکہ خیز تجویز نہیں تو اور کیا ہے۔ جب کہ برطانیہ امریکہ اور فرانس جو ڈرامہ مسلمان ممالک میں کھیل رہے ہیں۔ اس کا چیف اداکار ہمارے ملک کا وزیر خارجہ ہے۔
الاخوان المسلمین کے رہنما السید علی محمود مصری کا بیان میرے مندرجہ بالا واقعات کی تصدیق کرتا ہے۔ کراچی ٢٧؍ مئی ١٩٥٢ء مصر کی خالص دینی تحریک الاخوان المسلمین کے رہنما السید علی محمود نے پاکستان کی خارجہ حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ ”پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خان اینگلو امریکن بلاک کو مضبوط بنا کر دنیائے اسلام کو برطانوی اقتدار کے بے رحم ہاتھوں میں سونپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چوہدری صاحب نے اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیائے اسلام کی خود مختاری کو ختم کر کے یہاں برطانوی اثر رسوخ کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ چوہدری صاحب کی پالیسی نے بعض اہم مواقع پر اسلامی ممالک کے کاز کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مصر اور برطانیہ کے مذاکرات کے موقع پر آپ نے دونوں کو قصور وار قرار دے کر ظالم و مظلوم کو ایک ہی رسی میں پرونے کی سعی کی ہے اور یہ پالیسی مصر کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ اپنی جنگ آزادی کے لئے مصر کو دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک پاکستان سے جس امداد کی توقع تھی۔ افسوس کہ وہ محض چوہدری صاحب کی برطانیہ نواز پالیسی کے باعث پوری نہ ہو سکی۔“
(اخبار آزاد مورخہ ٣١؍ مئی ١٩٥٤ء)
اسی پر اکتفا نہیں چوہدری صاحب کا اپنا بھائی ہند مسٹر مومن (مرزائی) جو کہ امریکہ
٤٢
نوں کو آزادی مانگنے کے جرم میں بندوقوں کی سنگینوں اور کے گوشت کا قیمہ کرنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر کشمیر کا سے ان سیاستدانوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ سب سازش ہے۔ کیوں جی؟ انگریزی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی انگریز کی غلامی سے نجات دلانی چاہی تو برطانیہ امریکہ اور ا چھونے لگا۔ فرانس، تیونس پر برطانیہ ایران اور مصر پر کیوں! آخری آزادی مانگنا جرم کب سے قرار دے دیا گیا جس کے تحت آدمی آدمی کا غلام رہ سکتا ہے اور پھر یہ پیر ۔
پاکستان کے حکمران جو سب سے بڑی اسلامی ریاست تجویز مضحکہ خیز تجویز نہیں تو اور کیا ہے۔ جب کہ برطانیہ میں کھیل رہے ہیں۔ اس کا چیف ادا کار ہمارے ملک کا
السید علی محمود مصری کا بیان میرے مندرجہ بالا واقعات کی مصر کی خالص دینی تحریک الاخوان المسلمین کے رہنما کی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ ”پاکستان کے وزیر خارجہ کو مضبوط بنا کر دنیائے اسلام کو برطانوی اقتدار کے بے ا۔ چوہدری صاحب نے اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیا کر کے یہاں برطانوی اثر رسوخ کو زندہ دیکھنا چاہتے نے فرمایا۔ چوہدری صاحب کی پالیسی نے بعض اہم پہنچایا ہے۔ مصر اور برطانیہ کے مذاکرات کے موقع پر مظلوم کو ایک ہی رسی میں پرونے کی سعی کی ہے اور یہ ہوئی ہے۔ اپنی جنگ آزادی کے لئے مصر کو دنیا کے جس امداد کی توقع تھی۔ افسوس کہ وہ محض چوہدری ی نہ ہو سکی۔“
(اخبار آزاد مورخہ ٣١؍ مئی ١٩٥٢ء)
ب کا اپنا بھائی بند مسٹر مومن (مرزائی) جو کہ امریکہ
٤٢
جماعت شعوب المسلمین کا کارکن ہے۔ کراچی کے مرزائی اور مسلمان ہنگامہ کے بعد کہتا ہے۔ ”چوہدری ظفر اللہ خان صاحب صرف پاکستان کے وزیر خارجہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص مصر اور عرب دنیا کے بھی وزیر خارجہ ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں تیونس، مراقش، ایران اور مصر کی حمایت کر کے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔“
(اخبار آزاد مورخہ ٣١؍ مئی ١٩٥٢ء)
چوہدری سر ظفر اللہ واقعی پاکستان کے علاوہ مصر، ایران، مراقش اور تیونس کے بھی وزیر خارجہ ہیں؟ میری گورنمنٹ کے پاس اس سوال کا جواب کیا ہے؟
اگر مندرجہ بالا دونوں خبریں درست ہیں تو ہماری گورنمنٹ کیوں اپنی پوزیشن واضح نہیں کرتی۔ چلو ہم مصر کے مسلمان کا بیان غلط تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن امریکہ کا مرزائی مسٹر مومن تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ یہودی اسلام کا کس قدر دیرینہ رقیب ہے۔ آج امریکہ کے اشارے پر عرب دنیا میں یہودیت کا جال جس تیزی کے ساتھ کھلم کھلا پھیلایا جا رہا ہے۔ کیا یہ رسول کریم کے ارشاد کے خلاف بغاوت نہیں۔
”اخرجوا اليهود والنصارى من جزيرة العرب“ یہود اور نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔
اگر امریکہ نیک نیت ہوتا تو کیا اس کے اپنے ملک میں یہودیوں کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں؟ فلسطین جیسی پاک سرزمین کو یہودیوں کے ناپاک قدم سے کیوں ناپاک کیا گیا۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ امریکہ اپنی دولت کے زور سے تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لانا چاہتا ہے اور اس میں نہ صرف یہودی ہی اس کا پوری طرح معاون ہے۔ بلکہ ہمارے وزیر خارجہ چوہدری سرظفر اللہ بھی اس جاسوس ٹولے کے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ:
”دمشق کا مشہور روزنامہ ’الف باء‘ اپنی ٤؍ رجب کی اشاعت میں پاریس کے اخبار العرب کے حوالے سے لکھتا ہے کہ علامہ یونس الحیری جو بیروت کے ڈپلومیٹک حلقوں میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسے اہم راز کا انکشاف کیا ہے کہ جس کا ممالک عرب اور عالم اسلامی سے گہرا تعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان کا چیف سیکرٹری ایک یہودی ہے۔ جس کا نام بولووائز ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ کا نائب ہے۔
٤٣
العرب کے نمائندے نے اس خبر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ یہودی سیکرٹری عرب اور اسلامی ممالک کی سیاست سے پوری طرح آگاہ ہے۔ کیونکہ وہ یو۔این۔او کی طرف سے ان علاقوں کا دورہ کرچکا ہے۔ چونکہ وہ مکہ معظمہ میں بھی رہ چکا ہے۔ اس لئے وہ حجازی لہجہ میں بخوبی عربی بول سکتا ہے۔ اس کا ایک بھائی اس وقت تل ابیب میں ہے۔ العرب کے مراسلہ نگار کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں مصری سفارت خانہ میں بھی یہودی ملازم ہیں۔ اس سفارت خانہ میں اکثر ٹائپسٹ یہودی نوجوان ہیں۔“
(اخبار ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٢؍مئی ١٩٨٢ء)
جن لوگوں کو عرب کے کرنل لارنس کے کارناموں کا علم ہے کہ اس نے کس طرح عرب میں رہ کر عربی زبان لہجہ اور لباس پہن کر ترکوں اور عربوں کے درمیان کس قدر خونریز ڈرامہ کھیلا تھا۔ ہمارے وزیر خارجہ کے چیف سیکرٹری بھی ویسے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کیا اس سے مستقبل کا اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ جاسوس ٹولہ انگریز اور امریکہ کے ایماء پر اسلامی ممالک میں کیا گل کھلائے گا۔
یہودی اور مرزائی کے گٹھ جوڑ سے اسلامی ممالک کس طرح سیخ پا ہورہے ہیں۔ کاش میرے ملک کے وزیر اعظم عربی اخبارات کے مطالعہ سے اس کا اندازہ کریں اور سمجھ سکیں کہ ان کا لاڈلا وزیر خارجہ یہودیت کے پہلو بہ پہلو کس طرح دنیائے اسلام کی بیخ کنی کررہا ہے۔
ممکن ہے۔ میری باتوں کو پرانی باتیں کہہ کر ٹال دیا جائے۔ لیکن پرانی نہیں ہیں۔ دنیائے اسلام پاکستان کو اپنا سب سے بڑا سہارا خیال کئے بیٹھی ہے۔ اگر یہی سہارا کفر کا سہارا ثابت ہوا تو یاد رکھو کہ قیامت کے دن جہاں تم سے تمہارے گناہوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔ وہاں حقوق العباد کی بھی پرسش ہوگی۔ ہمسایہ ممالک کا خیال کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت شعاری اسلامی ممالک کو کفر کی آغوش میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور کردے۔
آؤ! اب اس سلسلہ کی دوسری کڑی پر بحث کریں۔ تقسیم ملک سے پیشتر ہمارا دعویٰ تھا کہ مرزائی مذہبی ٹولہ بلکہ ایک سیاسی گروہ ہے۔ اس کی پیدائش کی ذمہ داری فرنگی کی گردن پر ہے۔ ہم نے اپنے دعویٰ کی تصدیق میں بہت سی دستاویزات پیش کیں۔ بحمدللہ کہ آج عوام ہمارے مقدمہ کے حق میں ہیں اور خود مرزائی گروہ کا لیڈر مرزا بشیر الدین محمود اپنی اکثر تحریروں سے ہمارے دعویٰ کی تصدیق کرچکا ہے۔ مثلاً: ”سلسلہ کے کاموں کے لئے موزوں افسر نہیں ملتے۔ جو احباب اس وقت کام کر رہے ہیں۔ اکثر عمر کے ایسے مرحلوں سے گزر رہے ہیں کہ وہ زیادہ عرصہ
٤٤
تک اس کام کو نہیں چلا سکتے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اوّل تو ایسے نوجوان آگے آئیں جنہیں ذمہ داری کے کاموں پر لگایا جا سکے۔ ان کاموں کو خوبی سے نبھائیں اور جب تک ایسے نوجوان تیار نہیں ہوتے۔ اس وقت تک بیشتر احباب سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔ تا کہ ایک تو سلسلہ ان کے تجربہ اور قابلیتوں سے فائدہ اٹھائے اور دوسری طرف آخری ایام وہ خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول حاصل کر لیں۔"
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣ اپریل ١٩٥٢ء)
اگر بقول مرزائیوں کے یہ تبلیغی جماعت ہے تو پینشنروں کی کیا ضرورت پیش آئی۔ وہ کون سی ایسی خدمات ہیں کہ سلسلہ پینشنروں کے تجربہ اور قابلیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو پینشنروں کی تلاش نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ وہ تو مبلغ بنانے اور ڈھونڈنے میں مصروف رہتی ہیں۔ لیکن مرزائی جماعت کا لیڈر بار بار کہتا ہے: "ربوہ ١٣ اپریل جماعت احمدیہ کی تینتیسویں سالانہ کانفرنس آج یہاں شروع ہو گئی۔ اس کانفرنس میں جو سالانہ بجٹ اور اہم مسائل پر بحث کرے گی۔ جرمنی، چین، سوڈان، امریکہ اور انڈونیشیا کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی افتتاحیہ تقریر میں کہا کہ اب ہمارا مشن تمام دنیا میں مقبول ہو گیا ہے اور اب وہ دور آ گیا ہے۔ جب ہمیں اپنے آئندہ عمل کا منصوبہ تیار کرنا چاہئے۔"
(اخبار تعمیر نور راولپنڈی مورخہ ١٤ اپریل ١٩٥٢ء)
تبلیغی جماعتوں نے کبھی منصوبے تیار کئے ہیں۔ آئندہ عمل کون سا عمل ہے۔ تبلیغ کرنے والوں کا ماضی اور مستقبل ایک ہوتا ہے۔ ہاں البتہ مبلغوں کے پروگرام ہوتے ہیں کہ اس سال فلاں فلاں شہر قصبہ یا گاؤں میں دین کی تبلیغ کے لئے جانا ہوگا۔ لیکن یہ منصوبہ بندی تو خالص سیاسی زبان کا لفظ ہے۔ اسے کسی لغت سے تبلیغی ثابت نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی آج تک کسی تبلیغی جماعت نے اپنے کسی کارکن پر عمر کی قید لگائی۔ کم از کم اتنی عمر ہو تب آپ تبلیغ کریں۔ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جس نوجوان نے علوم دینی کی تمام منزلیں طے کر لی ہوں۔ اسے استاد یا مدرس اجازت دے دیتے ہیں کہ جاؤ اور دین کی تبلیغ کرو اور نہ ہی کسی کارکن پر شبہ کی گنجائش ہوتی ہے۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود اپنے سالانہ جلسے کے لئے مرزائی رضا کاروں کو طلب کرتا ہوا یہ شرائط عائد کرتا ہے۔
- ١...... "کوئی احمدی خادم ایسا نہ ہو جو پانچ سال پہلے کا احمدی نہ ہو۔ کسی احمدی
نسل سے نہ ہو اور پھر اس کی سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ کرے اور لکھے کہ یہ شخص اعتماد کے قابل ہے۔ اسے حفاظت کے کام پر لگایا جاوے۔
٤٥
- ......٢ باہر کی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے خدام کی تعداد سے دفتر
مرکزیہ کو اطلاع دیں۔ کیونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ مگر آدمی وہی ہوں جو کم از کم پانچ سالہ احمدی ہوں یا نسلی احمدی ہوں اور جن کے متعلق پریذیڈنٹ سیکرٹری اور زعیم تینوں اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور محبت سے کام کریں اور کسی قسم کی غفلت سستی یا غداری کا ارتکاب نہیں کریں گے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩٥١ء)
دنیا کی کسی تبلیغی جماعت نے اپنے گھر میں جلسہ کرتے وقت اپنے ہی ساتھیوں پر بداعتمادی کا اظہار کبھی نہیں کیا۔ سوائے سیاسی جماعتوں کے اس گروہ کے، جس نے سازش کر کے حکومت وقت کا تختہ الٹنا ہو۔ ورنہ تبلیغ اسلام کے لئے اس قدر شدید پابندیوں کی ضرورت کیوں ہے۔ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء کے الفضل میں مرزا بشیر الدین محمود کا ایک اور بیان ملاحظہ ہو: ”ہمارا تناسب فوج میں دوسرے محکمہ جات سے بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی ہمارے حقوق کی حفاظت پوری طرح سے نہیں ہو سکتی۔ اس لئے باقی محکمہ جات (پولیس، ریلوے، فنانس، اکونٹس، کسٹمز، انجینئرنگ) وغیرہ تمام محکموں میں ہمارے آدمیوں کو جانا چاہئے۔“
کیا یہ تبلیغ اسلام کا سبق دیا جا رہا ہے؟ یا سیاسی اقتدار کے حصول کا؟
پھر بقول مرزائی لیڈر کے فوج میں ہمارا تناسب دوسرے محکمہ جات سے زیادہ ہے۔ ملاحظہ ہو فوج میں مرزائی افسروں کی فہرست: ”دفتر میں آمدہ اکثر خطوط میں تقاضا کیا گیا ہے کہ کانفرنس نمبر میں شائع شدہ پاکستانی فوج میں قادیانی افسروں کی فہرست کے متعلق کچھ مفصل لکھا جائے۔ چونکہ یہ خالص فوجی معاملہ ہے۔ اس لئے ہم اس پر اپنی رائے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے صرف اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ یہ وہ فہرست ہے جو کہ ١٩٤٧ء میں مرزائیوں نے شائع کر کے خود باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کی تھی۔ یہ تعداد اس زمانے کی ہے۔ جب کہ انگریز فوج میں کسی گروہ کو مجتمع ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اس زمانے میں جب قادیانی افسروں کی تعداد کا یہ عالم تھا تو اس کے بعد حالات کی برہمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اس فہرست کو جس قدر بڑھا لیا ہوگا۔ قارئین اب خود ہی اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔“
(آزاد لاہور، مورخہ ٩؍ مئی ١٩٥٠ء)
- ......١ بریگیڈیئر نذیر احمد ملک (میجر جنرل)
- ......٢ کرنل ٹی ڈی احمد (بریگیڈیئر)
- ......٣ محمد عطاء اللہ کرنل (بریگیڈیئر)
٤٦
- ......٤ کرنل
- ......٥ لیفٹیننٹ
- ......٦ میجر
- ......٧ میجر
- ......٨ میجر
- ......٩ میجر
- ......١٠ میجر
- ......١١ ڈاکٹر
- ......١٢ میجر
- ......١٣ میجر
- ......١٤ میجر
- ......١٥ میجر
- ......١٦ میجر
- ......١٧ میجر
- ......١٨ میجر
- ......١٩ میجر
- ......٢٠
- ......٢١
- ......٢٢
- ......٢٣
- ......٢٤
- ......٢٥
- ......٢٦
- ......٢٧
- ......٢٨
کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے خدام کی تعداد سے دفتر تھوڑا رہ گیا ہے۔ مگر آدمی وہی ہوں جو کم از کم پانچ سالہ کے متعلق پریذیڈنٹ سیکرٹری اور زعیم تینوں اس بات کی نیت سے کام کریں اور کسی قسم کی غفلت سستی یا غداری کا
(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩٥١ء)
نے اپنے گھر میں جلسہ کرتے وقت اپنے ہی ساتھیوں پر سیاسی جماعتوں کے اس گروہ کے، جس نے سازش کر کے اسلام کے لئے اس قدر شدید پابندیوں کی ضرورت کیوں مرزا بشیر الدین محمود کا ایک اور بیان ملاحظہ ہو: ”ہمارا بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی ہمارے حقوق کی حفاظت محکمہ جات (پولیس، ریلوے، فنانس، اکونٹس، کسٹمز، وغیرہ) میں جانا چاہئے۔“
ہے؟ یا سیاسی اقتدار کے حصول کا؟
میں ہمارا تناسب دوسرے محکمہ جات سے زیادہ ہے۔
کہ: ”دفتر میں آمدہ اکثر خطوط میں تقاضا کیا گیا ہے کہ قادیانی افسروں کی فہرست کے متعلق کچھ مفصل لکھا لئے ہم اس پر اپنی رائے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہیں جو کہ ١٩٤٧ء میں مرزائیوں نے شائع کر کے خود وہ اس زمانے کی ہے۔ جب کہ انگریز فوج میں کسی اس زمانے میں جب قادیانی افسروں کی تعداد کا یہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اس فہرست کو جس شائع کر سکتے ہیں۔“ (آزاد لاہور، مورخہ ٩؍ مئی ١٩٥٠ء)
(میجر جنرل) (بریگیڈیر) (بریگیڈیر)
- ٤....... کرنل احیاء الدین (میجر جنرل)
- ٥....... لیفٹیننٹ کرنل منظور احمد (بریگیڈیر)
- ٦....... میجر اختر حسین ملک
- ٧....... میجر حبیب اللہ
- ٨....... میجر داؤد احمد مرزا (بریگیڈیر)
- ٩....... میجر شریف احمد باجوہ
- ١٠....... میجر نسیم احمد
- ١١....... ڈاکٹر سراج الحق
- ١٢....... میجر ظہور الحسن
- ١٣....... میجر عبد الحق ملک (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٤....... میجر غلام احمد
- ١٥....... میجر فیروز الدین (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٦....... میجر قاضی محمد احمد
- ١٧....... میجر محمد اشرف
- ١٨....... میجر محمد رمضان (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٩....... میجر عطاء اللہ
- ٢٠....... کیپٹن اقبال احمد شمیم
- ٢١....... کیپٹن افتخار احمد جنجوعہ
- ٢٢....... کیپٹن احمد خان
- ٢٣....... کیپٹن عزیز احمد چوہدری
- ٢٤....... کیپٹن سید افتخار حسین
- ٢٥....... کیپٹن احمد خان ایاز
- ٢٦....... کیپٹن اختر محمود (آئی۔ایم۔سی)
- ٢٧....... کیپٹن آفتاب احمد
- ٢٨....... کیپٹن احمد محی الدین
٤٧
کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے خدام کی تعداد سے دفتر ہذا کو آگاہ کریں۔ مگر آدمی وہی ہوں جو کم از کم پانچ سالہ تجنید کے متعلق پریذیڈنٹ سیکرٹری اور زعیم تینوں اس بات کی ضمانت دیں کہ وہ خلوص نیت سے کام کریں اور کسی قسم کی غفلت سستی یا غداری کا احتمال نہ ہو۔
(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩٥١ء)
ہم نے اپنے گھر میں جلسہ کرتے وقت اپنے ہی ساتھیوں پر یہ پابندیاں عائد کی ہیں، سیاسی جماعتوں کے اس گروہ کے، جس نے سازش کر کے پاکستان پر قبضہ کیا ہے۔ اسلام کے لئے اس قدر شدید پابندیوں کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی گئی؟ مرزا بشیر الدین محمود کا ایک اور بیان ملاحظہ ہو: ”ہمارا حقوق کے لحاظ سے حصہ بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی ہمارے حقوق کی حفاظت نہیں کی جاتی۔ پس ہمیں ان محکمہ جات (پولیس، ریلوے، فنانس، اکونٹس، کسٹمز، وغیرہ) میں جانا چاہئے۔“
اب بتائیے یہ تبلیغ ہے؟ یا سیاسی اقتدار کے حصول کا؟
ہمیں فخر ہے کہ فوج میں ہمارا تناسب دوسرے محکمہ جات سے زیادہ ہے۔
آزاد اخبار نے لکھا کہ: ”دفتر میں آمدہ اکثر خطوط میں تقاضا کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے سول اور قادیانی افسروں کی فہرست کے متعلق کچھ مفصل لکھا جائے اس وقت ان وجوہ کے لئے ہم اس پر اپنی رائے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے صرف وہ فہرست دے رہے ہیں جو کہ ١٩٤٧ء میں مرزائیوں نے شائع کر کے خود تقسیم کی تھی۔ یہ فہرست اس زمانے کی ہے۔ جب کہ انگریز فوج میں کسی قادیانی کو کمیشن نہیں ملتا تھا۔ اس زمانے میں جب قادیانی افسروں کی تعداد کا یہ عالم تھا تو آج کل کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اس فہرست کو جس قدر طول دے دیا ہو گا۔ ناظرین خود اندازہ کر سکتے ہیں۔“
(آزاد لاہور، مورخہ ٩؍ مئی ١٩٥٠ء)
- ٤....... کرنل احیاء الدین (میجر جنرل)
- ٥....... لیفٹیننٹ کرنل منظور احمد (بریگیڈیر)
- ٦....... میجر اختر حسین ملک
- ٧....... میجر حبیب اللہ
- ٨....... میجر داؤد احمد مرزا (بریگیڈیر)
- ٩....... میجر شریف احمد باجوہ
- ١٠....... میجر نسیم احمد
- ١١....... ڈاکٹر سراج الحق
- ١٢....... میجر ظہور الحسن
- ١٣....... میجر عبد الحق ملک (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٤....... میجر غلام احمد
- ١٥....... میجر فیروز الدین (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٦....... میجر قاضی محمد احمد
- ١٧....... میجر محمد اشرف
- ١٨....... میجر محمد رمضان (آئی۔ایم۔ایس)
- ١٩....... میجر عطاء اللہ
- ٢٠....... کیپٹن اقبال احمد شمیم
- ٢١....... کیپٹن افتخار احمد جنجوعہ
- ٢٢....... کیپٹن احمد خان
- ٢٣....... کیپٹن عزیز احمد چوہدری
- ٢٤....... کیپٹن سید افتخار حسین
- ٢٥....... کیپٹن احمد خان ایاز
- ٢٦....... کیپٹن اختر محمود (آئی۔ایم۔سی)
- ٢٧....... کیپٹن آفتاب احمد
- ٢٨....... کیپٹن احمد محی الدین
٤٧
- ٢٩....... کیپٹن مرزا احمد بیگ
- ٣٠....... کیپٹن بشیر احمد بھاگووال
- ٣١....... کیپٹن بشیر احمد آف ڈلیال
- ٣٢....... میجر سلطان محمود خان ملک
- ٣٣....... کیپٹن بشیر احمد بٹ
- ٣٤....... کیپٹن بدر الدین
(آئی۔اے۔ایم۔سی)
- ٣٥....... کیپٹن بشیر احمد
- ٣٦....... کیپٹن بشیر احمد چوہدری
- ٣٧....... کیپٹن بشیر احمد
- ٣٨....... کیپٹن بشیر احمد شیخ
(آف بھیرہ)
- ٣٩....... کیپٹن حبیب خان
- ٤٠....... کیپٹن خورشید احمد
- ٤١....... کیپٹن حمید احمد کلیم
- ٤٢....... کیپٹن شیر محمد خان
(او۔بی۔آئی)
- ٤٣....... کیپٹن شیر ولی خان
(او۔بی۔آئی)
- ٤٤....... کیپٹن ظہیر الحق
- ٤٥....... کیپٹن سید ضیاء الحسن
- ٤٦....... کیپٹن غلام احمد چوہدری
- ٤٧....... کیپٹن عزیز اللہ چوہدری
- ٤٨....... کیپٹن عبدالحمید
- ٤٩....... کیپٹن عبدالعلی ملک
- ٥٠....... کیپٹن عطاء اللہ چوہدری
- ٥١....... کیپٹن عمر حیات خان
- ٥٢....... کیپٹن غلام محمد کھوکھر
- ٥٣....... کیپٹن عبدالعزیز بشیری
٤٨
- ٥٤....... ڈاکٹر
- ٥٥....... کیپٹن
- ٥٦....... کیپٹن
- ٥٧....... کیپٹن
- ٥٨....... کیپٹن
- ٥٩....... کیپٹن
- ٦٠....... کیپٹن
- ٦١....... کیپٹن
- ٦٢....... کیپٹن
- ٦٣....... کیپٹن
- ٦٤....... کیپٹن
- ٦٥....... کیپٹن
- ٦٦....... کیپٹن
- ٦٧....... کیپٹن
- ٦٨....... کیپٹن
- ٦٩....... کیپٹن
- ٧٠....... کیپٹن
- ٧١....... کیپٹن
- ٧٢....... کیپٹن
- ٧٣....... کیپٹن
- ٧٤....... کیپٹن
- ٧٥....... کیپٹن
- ٧٦....... کیپٹن
- ٧٧....... کیپٹن
- ٧٨....... کیپٹن
(آئی۔اے۔ایم۔سی)
(آف بھیرہ)
(او۔بی۔آئی)
(او۔بی۔آئی)
٤٨
٥٤...... ڈاکٹر عمر دین ٥٥...... کیپٹن عطاء اللہ ٥٦...... کیپٹن عنایت اللہ ٥٧...... کیپٹن گل اکبر شاہ ٥٨...... کیپٹن ایف۔ یوخان ٥٩...... کیپٹن محمد یوسف ٦٠...... کیپٹن ظفر اللہ خان ٦١...... کیپٹن محمد طفیل ٦٢...... کیپٹن محمد مسعود احمد ٦٣...... کیپٹن ڈاکٹر محمد شریف ٦٤...... کیپٹن محمد عبداللہ باجوہ ٦٥...... کیپٹن محمد حیات کسرانی ٦٦...... کیپٹن چوہدری مظفر علی ٦٧...... کیپٹن محمد طفیل چوہدری
(جی۔آئی۔ایم۔ایس)
٦٨...... کیپٹن ڈاکٹر محمد ٦٩...... کیپٹن محمود احمد بہاولپوری ٧٠...... کیپٹن محمد صادق ملک ٧١...... کیپٹن محمد اسماعیل ٧٢...... کیپٹن محمد عمر مہر ٧٣...... کیپٹن مرزا محمد شفیع ٧٤...... کیپٹن محمود احمد ٧٥...... کیپٹن محمد عبدالرحمن ٧٦...... کیپٹن محمد شریف احمد ٧٧...... کیپٹن منظور احمد ٧٨...... کیپٹن محمد اسلم
٤٩
- ٧٩...... کیپٹن چوہدری نصر اللہ خان
- ٨٠...... کیپٹن نور الدین
(آئی۔ایم۔ایس)
- ٨١...... کیپٹن حمایت اللہ خان
- ٨٢...... کیپٹن نظام الدین
- ٨٣...... کیپٹن نذیر احمد
- ٨٤...... کیپٹن شیخ نواب دین
- ٨٥...... کیپٹن محمد اقبال
- ٨٦...... کیپٹن محمد نذیر
- ٨٧...... کیپٹن ڈاکٹر محمد شاہ
- ٨٨...... کیپٹن منیر احمد خالد
- ٨٩...... کیپٹن محمد علی ملک
- ٩٠...... کیپٹن محمد محسن
- ٩١...... کیپٹن محمد خان
(آئی۔اے ۔این۔سی)
- ٩٢...... کیپٹن محمد محسن
- ٩٣...... کیپٹن ایس۔ایم احمد ، ممتاز احمد سید
- ٩٤...... کیپٹن محمد ابراہیم
- ٩٥...... کیپٹن محمد امین درانی
- ٩٦...... کیپٹن وقیع الزمان
- ٩٧...... کیپٹن وہاب الدین
- ٩٨...... کیپٹن خورشید احمد چشتی
- ٩٩...... لیفٹیننٹ اقبال احمد
- ١٠٠...... لیفٹیننٹ ابوالخیر باجوہ
- ١٠١...... لیفٹیننٹ آفتاب احمد
- ١٠٢...... لیفٹیننٹ انوار احمد
- ١٠٣...... لیفٹیننٹ اکرام اللہ
٥٠
- ١٠٤...... لیفٹیننٹ
- ١٠٥...... لیفٹیننٹ
- ١٠٦...... لیفٹیننٹ
- ١٠٧...... لیفٹیننٹ
- ١٠٨...... لیفٹیننٹ
- ١٠٩...... لیفٹیننٹ
- ١١٠...... لیفٹیننٹ
- ١١١...... لیفٹیننٹ
- ١١٢...... لیفٹیننٹ
- ١١٣...... لیفٹیننٹ
- ١١٤...... لیفٹیننٹ
- ١١٥...... لیفٹیننٹ
- ١١٦...... لیفٹیننٹ
- ١١٧...... لیفٹیننٹ
- ١١٨...... لیفٹیننٹ
- ١١٩...... لیفٹیننٹ
- ١٢٠...... لیفٹیننٹ
- ١٢١...... لیفٹیننٹ
- ١٢٢...... لیفٹیننٹ
- ١٢٣...... لیفٹیننٹ
- ١٢٤...... لیفٹیننٹ
- ١٢٥...... لیفٹیننٹ
- ١٢٦...... لیفٹیننٹ
- ١٢٧...... لیفٹیننٹ
- ١٢٨...... لیفٹیننٹ
٦١٦
ن
(آئی۔ایم۔ایس)
(آئی۔اے۔این۔سی)
سید
٥٠
- ١٠٤...... لیفٹیننٹ بشیر احمد طلب پوری
- ١٠٥...... لیفٹیننٹ او۔ بی۔ آرکرڈ
- ١٠٦...... لیفٹیننٹ سید بشیر احمد
- ١٠٧...... لیفٹیننٹ حمید اللہ چوہدری
- ١٠٨...... لیفٹیننٹ رحمت اللہ باجوہ
- ١٠٩...... لیفٹیننٹ سید سعید حسن
- ١١٠...... لیفٹیننٹ ستار بخش ملک
- ١١١...... لیفٹیننٹ مرزا شریف احمد
- ١١٢...... لیفٹیننٹ سید احمد
(آئی۔اے۔ایم۔سی)
- ١١٣...... لیفٹیننٹ صاحب الدین
- ١١٤...... لیفٹیننٹ صبح صادق
- ١١٥...... لیفٹیننٹ ڈاکٹر ظفر اقبال
- ١١٦...... لیفٹیننٹ عزیز احمد چوہدری
- ١١٧...... لیفٹیننٹ عارف زمان
- ١١٨...... لیفٹیننٹ عبدالغنی
- ١١٩...... لیفٹیننٹ عزیز الرحمٰن
- ١٢٠...... لیفٹیننٹ عبداللطیف مرزا
- ١٢١...... لیفٹیننٹ عبدالکریم
- ١٢٢...... لیفٹیننٹ قاضی عطاء الرحمٰن
- ١٢٣...... لیفٹیننٹ عبدالغنی خان
- ١٢٤...... لیفٹیننٹ غلام محمد اقبال
- ١٢٥...... لیفٹیننٹ سید عبدالحمید
- ١٢٦...... لیفٹیننٹ عبدالمنان
- ١٢٧...... لیفٹیننٹ عبدالحفیظ
- ١٢٨...... لیفٹیننٹ عبدالرحمٰن
٥١
- ١٢٩...... لیفٹیننٹ گل محسن ١٥٤...... لیفٹینن
- ١٣٠...... لیفٹیننٹ کمال مصطفیٰ ١٥٥...... لیفٹینن
- ١٣١...... لیفٹیننٹ محمد یوسف خان ١٥٦...... لیفٹینن
- ١٣٢...... لیفٹیننٹ محمد نواز ١٥٧...... لیفٹینن
- ١٣٣...... لیفٹیننٹ قاضی منظور الحق ١٥٨...... سیکنڈ لیف
- ١٣٤...... میجر کیپٹن سید مقبول احمد ١٥٩...... سیکنڈ لیف
- ١٣٥...... میجر کیپٹن محمد احمد ڈار ١٦٠...... سیکنڈ لیف
- ١٣٦...... میجر کیپٹن محمد صفدر باجوہ ١٦١...... سیکنڈ لیف
- ١٣٧...... میجر کیپٹن مبارک احمد ١٦٢...... سیکنڈ لیف
- ١٣٨...... میجر کیپٹن سید محمود احمد ١٦٣...... سیکنڈ لیف
- ١٣٩...... میجر کیپٹن ایم۔اے سید ١٦٤...... سیکنڈ لیف
- ١٤٠...... میجر کیپٹن محمد یوسف شاہ ١٦٥...... لیفٹینن
- ١٤١...... میجر کیپٹن نذیر احمد ١٦٦...... فلائٹ
- ١٤٢...... لیفٹیننٹ سید نصیر احمد شاہ ١٦٧...... فلائٹ
- ١٤٣...... لیفٹیننٹ چوہدری نصیر احمد ١٦٨...... فلائٹ
- ١٤٤...... لیفٹیننٹ نصر اللہ خان ١٦٩...... فلائٹ
- ١٤٥...... لیفٹیننٹ محمد یعقوب ١٧٠...... فلائٹ
- ١٤٦...... لیفٹیننٹ محمد اسلم چوہدری ١٧١...... فلائٹ
- ١٤٧...... لیفٹیننٹ محمد اسحاق ١٧٢...... ائیر
- ١٤٨...... لیفٹیننٹ نوابزادہ محمد ہاشم ١٧٣...... فلا
- ١٤٩...... لیفٹیننٹ منصور احمد ١٧٤......
- ١٥٠...... لیفٹیننٹ ممتاز احمد (آف گجرات) ١٧٥...... فلا
- ١٥١...... لیفٹیننٹ مختار احمد ١٧٦......
- ١٥٢...... لیفٹیننٹ ممتاز احمد ١٧٧......
- ١٥٣...... لیفٹیننٹ ایم۔ایس صادق ١٧٨......
٥٢
(آف گجرات)
٥٢
- ١٥٤....... لیفٹیننٹ سید مسعود احمد
- ١٥٥....... لیفٹیننٹ منظور حسن
- ١٥٦....... لیفٹیننٹ مظفر احمد
- ١٥٧....... لیفٹیننٹ محمد عبدالرحمن
- ١٥٨....... سیکنڈ لیفٹیننٹ اعجاز احمد
- ١٥٩....... سیکنڈ لیفٹیننٹ بشیر احمد
- ١٦٠....... سیکنڈ لیفٹیننٹ خان ہمایوں
- ١٦١....... سیکنڈ لیفٹیننٹ خلیل الرحمن
- ١٦٢....... سیکنڈ لیفٹیننٹ طالب حسین
- ١٦٣....... سیکنڈ لیفٹیننٹ
- ١٦٤....... سیکنڈ لیفٹیننٹ فیروز خان
- ١٦٥....... لیفٹیننٹ عبدالسلام
- ١٦٦....... فلائٹ لیفٹیننٹ بشیر احمد ملک
- ١٦٧....... فلائٹ لیفٹیننٹ عبد المنان خان
- ١٦٨....... فلائٹ لیفٹیننٹ عبد الحی
- ١٦٩....... فلائٹ لیفٹیننٹ ایم۔ ایم لطیف
- ١٧٠....... فلائٹ لیفٹیننٹ ایم۔ این اختر
(ونگ کمانڈر)
- ١٧١....... فلائٹ لیفٹیننٹ حمید اللہ بھٹی
- ١٧٢....... انور ملک
(فلائنگ آفیسر)
- ١٧٣....... صلاح الدین فتح
(فلائنگ آفیسر، ونگ کمانڈر)
- ١٧٤....... محمد سید
(فلائنگ آفیسر)
- ١٧٥....... غلام علی
(فلائنگ آفیسر)
- ١٧٦....... ظفر احمد چوہدری
(فلائنگ آفیسر، ونگ کمانڈر)
- ١٧٧....... ایم ۔ ایم احمد
(فلائنگ آفیسر)
- ١٧٨....... منصور احمد
(فلائنگ آفیسر)
٥٣
- ١٧٩.......سعید اللہ خان (فلائنگ آفیسر)
- ١٨٠.......لیفٹیننٹ نواب علی (فلائنگ آفیسر)
- ١٨١.......محمود شفقت (کیپٹن)
- ١٨٢.......عصمت اللہ خان (کیپٹن)
اس طویل فہرست کے بعد مرزا بشیر الدین محمود کا ایک الہام پڑھئے: ”میں نے دیکھا کہ مجھے کوئی شخص کہتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں صوبے کے افسر سے چارج لے لیا ہے۔ میں دونوں آدمیوں کو جانتا ہوں۔ لیکن صوبے کا آفیسر تو مجھے یاد رہ گیا ہے اور دوسرے آدمی کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ مگر مصلحتاً میں اس صوبہ کے افسر کا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔ خواب میں میں حیران ہوں کہ ابھی تو ان کے چارج دینے کا وقت نہیں آیا تھا۔ انہوں نے چارج کیوں دے دیا اور میں سوچتا ہوں کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں یا ان کو کہیں بدل دیا گیا ہے۔ یا انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔ یا وہ فوت ہو گئے ہیں۔ فوت ہونے کا لفظ خاص طور پر میرے ذہن میں نہیں ہے۔ لیکن سارے خیالات کے نتیجے میں اس کا بھی طبیعت پر اثر ہے اور میں سوچتا ہوں کہ وہ کون سی وجہ ہے جو ان کے عہدے سے قبل از وقت ہٹنے کا باعث ہو سکتی ہے۔“
یہ مورخہ ٢٧؍جنوری ١٩٥١ء کا الہام ہے۔ جسے یکم؍فروری ١٩٥١ء کے الفضل نے شائع کیا۔ اس الہامی تحریر کے نشیب وفراز پر اگر سیاسی نقطۂ نظر سے غور کریں تو بہت سی سازشوں کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ لیکن میں اس قدر کہوں گا کہ اس الہام کے اکتالیس روز بعد ٩؍مارچ ١٩٥١ء کو راولپنڈی کی مشہور سازش پکڑی گئی۔ جس میں مرزائی اور کمیونزم کا اتحاد تھا۔ اگر حکومت پاکستان تھوڑی سی ہمت کرے اور بشیر الدین محمود کا ماضی تلاش کرے تو شاید ان بے گناہ انسانوں کے خون جن سے مرزائی لیڈر کا دامن داغدار ہے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کا خون بھی مسکراتا ہوا نظر آئے۔
اس موقعہ پر ایک مرزائی آفیسر فضل محمد خان ڈپٹی اسسٹنٹ فنانشل ایڈوائزر آرمی ڈپو راولپنڈی کا ایک خط اپنے لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کے نام نقل کرنا خالی از معلومات نہ ہوگا۔
عالی جناب سیدنا مخدومی قبلہ گاہی حضرت خلیفۃ المسیح السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
التماس ہے کہ میں چار پانچ ماہ سے وارد راولپنڈی ہوا ہوں۔ جس قدر تبلیغی جہود اس شہر میں ہے۔ وہ شاید کہیں نہ ہو۔ اس لئے درخواست ہے کہ شہر راولپنڈی جب کہ یہ آرمی
٥٤
ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اس میں تبلیغی ہیڈ کوارٹر بھی ہونا چاہئے۔ حضور کی توجہ کا محتاج ہے۔ اس پر قبضہ ساری آرمی پر قبضہ کے مترادف ہے۔ حضور نے اس شہر کو بار بار ملاحظہ فرمایا ہے۔ معلوم نہیں اس کو کیوں توجہ کے ناقابل سمجھا گیا ہے۔ اوّل تو میں خود روحانی اور جسمانی کمزوریوں سے پر ہوں۔ لیکن ماحول سے متاثر ہوتا ہوں۔ حالات یہ چاہتے ہیں کہ ہر احمدی پہلے سے زیادہ چست ہو۔ لیکن وقوع یہ ہے کہ ہر احمدی پہلے سے سست ہے۔ علی ہذا القیاس مجھ پر بھی اثر ہے۔ میں ایک عام آدمی کی طرح جتنی کوشش وہ کر سکتا ہے کرتا رہتا ہوں اور ہر ماہ سال رواں میں اوسطاً ایک بیعت بھی کروا دیتا ہوں۔ لیکن مالی طور پر خوش الحال نہیں ہوں۔ تالیف و تربیت نو مبائعین بے حد ضروری ہے۔ جس کے ناقابل ہونے کی وجہ سے کوشش معطل ہو جاتی ہے۔ بے حد ذہنی پریشانی ہوتی ہے۔ آدھی درجن سے زیادہ میجر، کیپٹن، کرنل وغیرہ ہیں۔ سب کے سب ماشاء اللہ ہوش مند ہیں۔ لیکن تبلیغی کارگزاری نہیں ہے۔ میں دفتر میں پرانا ملازم تھا اور خدا کے فضل و رحم کے ماتحت گزیٹڈ آفیسر ہو گیا ہوں۔ اس لئے غیر آرمی حکام کا ایک بڑا حصہ میرے خلاف ریشہ دوانیاں کرتا رہتا ہے۔ پارٹی بازی اور خویش پروری میں مبتلا ہے۔ اب اگر میں پختہ ہو جاؤں تو پنشن میں کافی فائدہ ہوگا۔ لیکن خدا محفوظ رکھے اگر لپیٹ میں آ گیا تو بے حد پریشانی ہوگی۔ حضور سے التجاء ہے کہ میرے لئے دعا فرماویں کہ مولا کریم مجھے ہر قسم کے آفات و حادثات سے محفوظ رکھے۔ میری سب روحانی جسمانی کمزوریوں کو دور فرماوے اور مجھ پر اپنی رضا کی راہیں کھول دے اور ہر قسم کی قربانی کی توفیق عطاء فرماوے۔
حضور کا ادنیٰ خادم: فضل محمد خان احمدی راولپنڈی مورخہ ٢٤؍ فروری ١٩٤٩ء
مندرجہ بالا خط نے میرے براہین کو اور زیادہ پختہ کر دیا۔ کس طرح مرزائی تبلیغ کے نام پر در پردہ اسلام اور مملکت خداداد کے خلاف ایک سیاسی محاذ مضبوط کر رہے ہیں۔ اس خط کی ہر سطر سے شرارت کی آگ دور سے دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف مسلمان آفیسروں کو حکام بالا کی نظروں میں رسوا کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کس بے باکی سے اظہار ہو رہا ہے۔ پھر یہ خط ایک ایسے دفتر سے تحریر کیا جا رہا ہے۔ جہاں پر ہمارے ملک کے محافظ نوجوان شب و روز زندگی اور موت کے نقشے تیار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ وہ بارود ہے اگر خدانخواستہ یہاں کفر کے شعلے بھڑک اٹھے تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
٥٥
ان حالات کے پیش نظر اگر یہ کہہ دیا جائے کہ پاکستان آرمی ہیڈ کوارٹروں میں انگریز اور امریکہ کے جاسوس کام کر رہے ہیں جن کی رہنمائی مرزا بشیر الدین محمود کر رہا ہے تو حقیقت سے بعید نہیں۔ آئیے اس سلسلے کی تیسری کڑی کے چند واقعات پر غور کریں۔ غالباً ١٩٥٠ء میں بشیر الدین محمود سے ایک مرزائی نے سوال کیا:
ہم قادیان کب واپس جائیں گے۔
جواب میں بشیر الدین محمود نے کہا آپ مجھ سے پوچھتے ہیں۔ قادیان کب واپس جائیں گے۔ میں کہتا ہوں ہمیں کوئی یہاں رہنے بھی دے گا کہ نہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں ہمیں اپنی لڑکیوں کے رشتے باہر کے ملکوں میں کرنے چاہئیں۔ تاکہ اگر ہم یہاں سے نکال دیئے جائیں تو ہمارے لئے وہاں پناہ کی جگہ تو ہو۔
اس سوال اور جواب سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مرزائیت دم توڑ رہی ہے اور اب دم دبا کر بھاگنے والی ہے۔ لیکن یکا یکی مولانا احتشام الحق کے بیان نے کایا پلٹ دی۔ وہ فرماتے ہیں۔
رمضان کے دن تھے۔ میں روزے کی حالت میں اعتکاف میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب مسجد میں آئے اور مجھ سے کہا آپ نے ہماری جماعت کا لٹریچر پڑھا ہے۔ میں نے پوچھا کون سی جماعت؟ انہوں نے بتایا کہ جماعت احمدیہ۔ میں نے کہا قادیانی جماعت کا لٹریچر نہ میں نے پڑھا ہے اور نہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ وہ شخص بڑے متکبرانہ لہجے میں کہنے لگا۔ آپ کو پڑھنا پڑے گا اور اگر نہیں پڑھیں گے تو آپ کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔
(ہفت روزہ دعوت مورخہ ١٤؍ دسمبر ١٩٥١ء)
مولانا کے اس بیان کے کچھ عرصہ بعد قادیانی امت کا لیڈر مرزا بشیر الدین محمود اپنے سالانہ جلسے کے موقعہ پر ربوہ میں وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ کی موجودگی میں کہتا ہے: ”جو لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ اقلیت کو اکثریت پر کوئی حق نہیں۔ میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں کیا ان کی دلیل وہی نہیں جو ابو جہل کے حامیوں کی تھی۔ ابو جہل کے حامی بھی یہی کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ تعداد میں اقلیت ہیں۔ انہیں اکثریت پر اپنی رائے نافذ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ میں ان اخبار نویسوں کو اس دلیل کے نتائج سے متنبہ کرتا ہوں اور انہیں فتح مکہ یاد دلانا چاہتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمہاری حکومت مجھے پکڑ سکتی ہے مار سکتی ہے۔ مگر میرے عقیدہ کو نہیں دبایا جا سکتا۔ میرا عقیدہ فتح پانے والا عقیدہ ہے اور دلیل وہی ہے جیسا کہ فتح مکہ کے بعد ابو جہل کے حامیوں نے رسول
٥٦
کریم ﷺ کے استفسار پر اسی سلوک کی خواہش کی تھی۔ جو حضرت یوسف نے درگزر سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ وہ وقت آنے والا ہے۔ جب یہ لوگ (مسلمان) مجرموں کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔ میں ان اخبار نویسوں سے کہتا ہوں کہ اس وقت تم بھی میرے یا میرے قائم مقام کے سامنے آکر یہی کہو گے کہ آپ یوسف ہیں اور ہمارے ساتھ یوسف کے بھائیوں کا سا سلوک کرو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اپنی طاقت قوت کے گھمنڈ پر جو جی میں آئے کہو اور کرو۔ اس موقع پر میں یا میرا قائم مقام تمہارے ساتھ یوسف والا سلوک ہی کریں گے۔“
آخر میں کہا: ”آج ہماری جماعت کو جو قوت حاصل ہے۔ وہ پچھلے سال نہیں تھی اور جو آئندہ سال حاصل ہوگی وہ اس سال نہیں۔“
(اخبار آفاق مورخہ ٢٠ دسمبر ١٩٥١ء)
(یاد رہے کہ یہ تقریر تین سو تیرہ (٣١٣) مرزائیوں کو جن میں پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ بھی شامل تھے۔ سامنے بٹھا کر کی گئی تھی)
مرزا بشیر الدین محمود کی ایک اور تقریر
”اگر ہم محنت کریں اور تنظیم کے ساتھ کام کریں تو ١٩٥٢ء میں ہم ایک عظیم انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ہر خادم کو اس عزم سے اس سال تبلیغ کرنی چاہئے کہ اس سال احمدیت کی ترقی نمایاں طور پر دشمن (مسلمان) بھی محسوس کرنے لگے۔ آپ اگر اپنے کاموں پر فریضہ تبلیغ کو مقدم کریں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بھولے ہوئے مسلمان کو ہدایت پر نہ لائیں۔ اپنے ارادوں کو بلند کیجئے کہ خدا کے فرشتے آپ کے کاموں میں آپ کی مدد کے لئے بے تاب کھڑے ہیں۔ دیر آپ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب احمدیت کا رعب دشمن (مسلمان) اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آگرے۔“
(الفضل مورخہ ١٦ جنوری ١٩٥٢ء)
ان تقاریر کے بعد کوئی گنجائش ہے کہ ان پر مزید تبصرہ کیا جائے۔ جب کہ مقرر صاف طور پر اپنے مخالفوں کو آئندہ انقلاب کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا کہ حضور سرور کائنات نے مکہ طاقت سے فتح کیا تھا۔ کیا مرزا بشیر الدین محمود (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ بن کر پاکستان کو ویسے ہی سلوک کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ جو فتح مکہ کے بعد مسلمانوں نے کفر کے ساتھ روا رکھا تھا۔
٥٧
کیا بشیر الدین محمود نے اپنے آپ کو یوسف کہہ کر حضور سرور کائنات ﷺ کے جد امجد کی توہین نہیں کی؟ اور اپنے سیاسی عزائم کا اظہار نہیں کیا۔ اب پہلی دوسری اور تیسری کڑی کو ملا کر اندازہ کریں کہ ملک کے باہر اور اندرون ملک یہودیوں کے ساتھ مل کر مرزائی کیا نقشہ تجویز کر رہا ہے۔ اسلامی ممالک کو یورپ کے نقشے میں داخل کرنے کے اس سے زیادہ واضح دلائل اور کیا ہو سکتے ہیں۔
لیکن میرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اپنے لاڈلے وزیر خارجہ کی ان حرکات کے بعد بھی اسے سر پر چڑھا رہے ہیں اور وہ استعفیٰ دینا چاہتا بھی ہے تو منظور نہیں کیا جاتا۔ کراچی ٢١؍ مئی معلوم ہوا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کیبنٹ سے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے حوالے کر دیا ہے اور وزیر اعظم اور گورنر جنرل غلام محمد کو مطلع کر دیا ہے کہ اگر پاکستان میں قادیانیوں کی حفاظت کا انتظام نہ کیا گیا تو وہ پاکستان سے نکل جانے پر مجبور ہوں گے۔“
(ویر بھارت مورخہ ٢٣؍ مئی ١٩٥١ء)
اس سے پیشتر روزنامہ آزاد لاہور اپنی ١٦؍ مئی ١٩٥٢ء کی اشاعت میں بمبئی کے ایک انگریزی اخبار کے حوالے سے اس راز کا انکشاف کر چکا ہے کہ دوسرے ممالک کے وزیر اعظم کی کانفرنس کی ناکامی کے بعد سر ظفر اللہ کشمیر کے متعلق پھر سے زیادہ تیز اور سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ اسے پاکستان کیبنٹ نے پسند نہیں کیا۔ اس کشمکش کے بعد چوہدری صاحب نے مستعفی ہونے کی دھمکی دی تو اس پر گورنر جنرل نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ چوہدری صاحب کا استعفیٰ منظور کر لینا چاہئے۔ لیکن خواجہ ناظم الدین نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
نوٹ: دونوں اخبارات کی تحریروں کو شائع ہوئے تادم تحریر ١٦ دن ہو چکے ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر ان کی کوئی تردید نہیں ہوئی۔ ایک طرف خواجہ صاحب کی شرافت کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف بقول اخبار زمیندار وزیر خارجہ یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔
”کراچی ٢٣؍ مئی۔ نمائندہ زمیندار کو معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر پارک کراچی میں جماعت احمدیہ کے پہلے دن کے اجلاس میں ہنگامہ کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اور وزیر صنعت سردار عبدالرب نشتر نے وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اگلے روز مرزائیوں کے جلسے میں شرکت اور تقریر نہ کریں۔ مگر ان دونوں
٥٨
حضرات کے مشورے کو نظر انداز کر کے اگلے دن نہ صرف شرکت ہی کی بلکہ تقریر بھی کی۔ جس پر اور ہنگامہ ہوا۔
(زمیندار مورخہ ٢٥ مئی ١٩٥٢ء)
کیا مندرجہ بالا واقعات اور مشاہدات جس کی تفصیل میں بہت کچھ پیش کیا گیا۔ ایک منظم سازش کا پتہ نہیں دے رہے۔ پاکستان گورنمنٹ کا سی ۔ آئی ۔ ڈی سٹاف کیوں خاموش ہے؟ اس سازش کی تحقیق میں کیا وزیر خارجہ کی ذات گرامی تو حائل نہیں؟ ربوہ کی دیواروں کی اوٹ میں مملکت خداداد کے خلاف کیا کچھ سوچا اور کیا جا رہا ہے؟
آخر میں پاکستان گورنمنٹ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ صوبہ سرحد کے سرخ پوش رہنما خان عبدالغفار خان اور ان کی جماعت اس بنا پر ابھی تک زیر عتاب ہے کہ انہوں نے پختانستان کا نعرہ بلند کیا تھا۔ پختانستان کیا تھا۔ اس کی تشریح میں خان عبدالغفار خان نے نمائندہ ڈان سے گفتگو کرتے وقت کہا: ”پختانستان پاکستان کے لئے باعث قوت ہوگا۔ اس طرح پاکستان ہماری قوت بھی ہوگا۔“
(اخبار آزاد مورخہ ٢ مارچ ١٩٤٨ء)
اس سے پیشتر ٤ ستمبر ١٩٤٧ء کو خدائی خدمت گار کارکنوں کی ایک کانفرنس مرکز عالیہ سردریاب میں بلائی گئی۔ جس میں مندرجہ قرار داد منظور ہوئی۔
”خدائی خدمت گار پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ وہ اس کو طاقت ور بنانے اور اس کے استحکام اور تحفظ کرنے کی خاطر ہر ممکن خدمت انجام دیں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس قرارداد کے بعد خان موصوف نے قائد اعظم کے نام حسب ذیل مکتوب ارسال کیا۔“
خط
پشاور، مورخہ ١٨ اپریل ١٩٤٨ء۔ پیارے قائد اعظم میں نے اپنی اور آپ کی گفتگو کا مفہوم خدائی خدمت گاروں کے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے استحکام اور حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ جس سے حکومت کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو۔ لیکن جائز نکتہ چینی کریں گے۔
آپ کا مخلص: عبدالغفار خان
٥٩
اس واضح صفائی کے بعد اگر ایک سلطنت میں کسی صوبے کی پارٹی یا فرد کو ایک نعرہ لگانے کی سزا یہ ہے کہ ان کے ساتھی چارسدہ کی مسجد میں گولیوں سے مارے جائیں، معصوم بچوں، کو بے رحمی سے قتل کیا جائے۔ عورتیں بے عزت کی جائیں۔ جیلوں میں ڈال کر ان کی صحت تباہ کر دی جائے اور چار برس تک ان پر قسم قسم کے تشدد روا رکھنے کے بعد ان سے یہ بھی نہ پوچھا جائے کہ تمہارا جرم کیا تھا اور پارٹی بھی وہ جس نے عمر بھر انگریزی نظام سلطنت کے خلاف لڑائی لڑ کر اس ملک کو غلامی سے نجات دلانے میں سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہو۔ ان کو آپ مجرم قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیں۔ ان کی تمام جائیداد ضبط کر لیں اور ان کے بال بچوں کو بھی آپ معاف نہ فرمائیں۔ مگر ایک پارٹی جس کا لیڈر مرزا بشیر الدین محمود ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں کم از کم ایک صوبہ تو اپنے لئے ایسا بنا لینا چاہئے جو احمدی سٹیٹ کہلا سکے۔
یہ احمدی سٹیٹ بنانے کا اشارہ بلوچستان کی طرف ہے اور یہ میٹنگ جس میں مجوزہ تجویز لائی گئی۔ کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں ریلوے کے ذمہ دار مرزائی آفیسر اور خود وزیر خارجہ اور بشیر الدین محمود نے شرکت کی۔ مرزائیوں کا یہ ٹولہ تمام عمر فرنگی راج کا نہ صرف معاون ہی رہا۔ بلکہ انہیں اولوالامر کہا۔ اسلامی ممالک کو تاخت و تاراج کرنے کے لئے اپنی تمام قوتیں صرف کر دیں۔ جاسوسانہ طور پر مسلمان ممالک میں دن رات انگریزوں کا کام کرتے رہے اور آج پاکستان میں بیٹھ کر ہندوستان برطانیہ اور امریکہ کے حق میں فضا صاف کر رہے ہیں۔ کشمیر میں جو کھیل مرزائی کھیل رہا ہے۔ اس کا اظہار پہلے ہوچکا ہے۔
حکومت کی کلیدی آسامیوں پر بیٹھ کر مرزائی مسلمان آفیسروں کے خلاف رات دن ریشہ دوانیاں کر رہے ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا واقعات کی موجودگی میں گورنمنٹ پاکستان نے کوئی آئینی اقدام مرزائیوں کے خلاف کیا؟ اگر عبدالغفار خان اور اس کی پارٹی تمام عمر خدمت گزار رہنے کے بعد پٹھانستان کا نعرہ لگا کر چار برس سے حکومت وقت کی نظروں میں مجرم ہے تو بشیر الدین محمود ظفر اللہ خان اور ان کی تمام پارٹی جو عمر بھر انگریزوں کے جاسوس رہے۔ اور آج بھی پاکستان میں بیٹھ کر اکھنڈ ہندوستان کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ نیز احمدی سٹیٹ بنانے کی تجویزیں سوچتے ہیں۔ پاکستان گورنمنٹ کی نظر میں کوئی مجرم نہیں؟
ایک ملک، ایک سلطنت اور ایک ہی پارٹی کی حکومت میں یہ دو قانون کیوں ہیں؟ کیا میرے اس سوال کا جواب دیا جائے گا۔
جانباز مرزا!
لائل پور، مورخہ ٣/جون ١٩٥٢ء
٦٠
ایک سلطنت میں کسی صوبے کی پارٹی یا فرد کو ایک نعرہ ربوہ کی مسجد میں گولیوں سے مارے جائیں، معصوم بچوں، حوالات کی جائیں۔ جیلوں میں ڈال کر ان کی صحت تباہ کر تشدد روا رکھنے کے بعد ان سے یہ بھی نہ پوچھا جائے کہ عمر بھر انگریزی نظام سلطنت کے خلاف لڑائی لڑ کر اس تباہ و برباد کر دیا ہو۔ ان کو آپ مجرم قرار دے کر جیلوں میں اور ان کے بال بچوں کو بھی آپ معاف نہ فرمادیں۔ موجود ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں کم از کم ایک صوبہ تو اپنے
بلوچستان کی طرف ہے اور یہ میٹنگ جس میں مجوزہ میٹنگ میں ریلوے کے ذمہ دار مرزائی آفیسر اور خود وزیر مرزائیوں کا یہ ٹولہ تمام عمر فرنگی راج کا نہ صرف معاون ہی تاخت و تاراج کرنے کے لئے اپنی تمام قوتیں صرف میں دن رات انگریزوں کا کام کرتے رہے اور آج جگہ کے حق میں فضا صاف کر رہے ہیں۔ کشمیر میں جو ہو چکا ہے۔
تھے کہ مرزائی مسلمان آفیسروں کے خلاف رات دن تحقیقات کی موجودگی میں گورنمنٹ پاکستان نے کوئی عبدالغفار خان اور اس کی پارٹی تمام عمر خدمت گزار ہیں، حکومت وقت کی نظروں میں مجرم ہے تو جو عمر بھر انگریزوں کے جاسوس رہے۔ اور آج بھی کر رہے ہیں۔ نیز احمدی سٹیٹ بنانے کی تجویزیں جرم نہیں؟ کی پارٹی کی حکومت میں یہ دو قانون کیوں ہیں؟ کیا
جانباز مرزا ! لائل پور، مورخہ ٣ جون ١٩٥٢ء
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سر ظفر اللہ
اور دیگر مرزائیوں کے خطوط
غلام نبی جانباز مرزا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں
سیاسیات میں میری عمر قریباً تین برس ہو گی۔ جب مجلس احرار نے استیصال مرزائیت کا عملی بیڑا اٹھایا۔ یہ واقعہ ١٩٣١ء کا ہے۔ ان دنوں مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کشمیر کمیٹی کے صدر اور عبدالرحیم درد جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ ان دنوں مرزائیوں کا کشمیری مسلمانوں کے ایمان اور وطن کا لیڈر بن جانے کے دوسرے معنی یہ تھے کہ پنجاب کے مسلمانوں نے کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں کفر کی آغوش میں پھینک دیا تھا۔
ایک طرف اگر قادیانی وہاں کے سادہ مزاج کشمیریوں کے ایمان پر قبضہ جمانے کی سعی میں کامیاب ہو جاتے تو دوسری طرف انگریز کا گلگت پر بلاشراکت غیرے قابض ہو جانا یقینی تھا۔ چنانچہ یہی وہ سکیم تھی جس کو بروئے کار لانے کے لئے انگریز شاطر نے پنجاب کے ٹوڈی مسلمان کو بطور مہرے کے آگے بڑھایا اور جیسے ہی کشمیر کی گلپوش وادیوں سے ڈوگرہ شاہی کی سنگینوں سے وہاں کے مظلوم مسلمانوں کے تڑپنے اور کراہنے کی آواز بلند ہوئی۔ پنجاب کا عیش پسند طبقہ آگے بڑھا اور انہوں نے انگریز کے اشارے پر قادیان کے خلیفہ بشیر الدین محمود قادیانی کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنا دیا۔
رہنمایان احرار کی دور رس نگاہوں نے اس سارے نقشے کو دیکھتے اور سمجھتے ہی ڈاکٹر اقبال مرحوم سے ملاقات کی۔ اقبال مشرق و مغرب کے علوم سے آراستہ تھے۔ وہ چوہدری افضل حق کی بات کو سمجھ گئے۔ ان دنوں حضرت انور شاہ صاحبؒ دیوبند سے پنجاب تشریف لائے ہوئے تھے۔ اقبال مرحوم کو ان سے عقیدت تھی۔ حضرت کے سمجھانے پر اقبال مرحوم نے بشیر الدین محمود قادیانی کو تار کے ذریعہ کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کا حکم دیا۔
یہ پہلی فتح تھی جو مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس احرار کو نصیب ہوئی۔ پھر اس تحریک کو جو فروغ ہوا۔ ڈاکٹر اقبالؒ نے جس تندہی کے ساتھ مرزائیت کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ تاریخ کے اوراق آج بھی انہیں اپنے دامن میں لئے بیٹھے ہیں۔
٢
تحریک شہید گنج
١٩٣٥ء کے وسط میں بعض سیاسی ضرورتوں کے تحت پنجاب کی بساط سیاست پر پھر کچھ مہرے نمودار ہوئے اور یکا یکی لاہور لنڈا بازار کی سو سالہ پرانی عمارت کو سرکاری کرینوں سے گرا دیا گیا۔ یہ عمارت عہد مغلیہ میں مسجد کے طور پر بنائی گئی تھی اور آج تک مسجد تھی۔ گو سرکاری کرین پر کام کرنے والے مزدور سکھ قوم کے دو فرد تھے۔ لیکن ان دو آدمیوں کا بوجھ ساری سکھ قوم پر آ پڑا، اور بظاہر مسلمان عوام کی نظر میں سکھ قوم مجرم قرار دی گئی۔ چلو ٹھیک ہے سکھ ہی مجرم تھے۔ مگر جب آگ بھڑک اٹھی تو سرکاری دامن نے اس آگ کا رخ سکھوں کی بجائے مجلس احرار کی طرف کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جو کل تک دامن مرزائیت کی دھجیاں نوچ رہے تھے۔ مجلس احرار سے برسر پیکار نظر آنے لگے۔
مرزا بشیر الدین محمود قادیانی جو اس سے پیشتر پنجاب چھوڑ کر صوبہ سندھ کو اپنا مرکز بنا رہا تھا اور سادہ لوح مرزائیوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی جمع شدہ روپیہ سے خریدی ہوئی جائیداد نئے مرکز میں تبدیل کر رہا تھا۔ اس ہماہمی میں اس کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سے جم گئے اور اس نے مسلمانوں کے قلعہ میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کا لباس پہن کر مجلس احرار پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ مستقبل کی تحریک گواہی دے گی کہ ان دنوں مسلمان نے اس قدر مجلس احرار پر تشدد نہیں کیا۔ جس قدر مرزائیوں نے مسلمان بن کر کیا۔ چنانچہ خود مرزا محمود قادیانی نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ تحریک شہید گنج میں مجلس احرار کے خلاف ہزاروں روپے کے اشتہار تقسیم کئے گئے تھے۔ اسی سلسلہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو قتل کرنے کے لئے ایک سکھ کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لئے میری دوسری کتاب آتش کدہ کا انتظار کریں۔ آخر وقت آیا کہ غلط فہمیوں کے تمام بادل چھٹ گئے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہا۔ گو اقتدار پرست لوگ وقتی طور پر اپنے ارادے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن مرزائیت کو پھر بھی منہ کی کھانی پڑی۔
قادیان میں دفعہ ١٤٤
اسی سال کے اختتام پر انگریزی نبی کے دارالخلافہ قادیان میں مسلمانوں پر نماز جمعہ کی
٣
پابندی عائد کر دی گئی۔ انگریز اپنے نبی کی حفاظت کے لئے کیل کانٹے سے لیس ہوکر سامنے آگیا۔ ہتھکڑیاں، بیڑیاں اور جیل خانہ کی تمام صعوبتوں کو مدنظر رکھ کر مجلس احرار کے رہنما انگریز کے عسکری نظام سے برسر پیکار ہوگئے۔ ایک ماہ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔ اپنے اقدام کی آپ ہی مذمت کرنا پڑی۔ مسلمانوں کو قادیان میں نماز جمعہ پڑھنے کی عام اجازت ہوگئی۔ یہ مرزائیت پر مجلس احرار کی دوسری فتح تھی۔
تقسیم ملک کے بعد
آدمی جب آدمیت سے عاری ہو جاتا ہے تو پھر اسے عقل و خرد کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں وہ اپنے آپ سے بیگانہ ہو کر جو راستہ اپنے مستقبل کے لئے تجویز کرتا ہے۔ وہ راستہ نیکی کا راستہ نہیں ہوتا۔ بلکہ معصیت اور برائی کی تمام خوبصورتی ان راہوں پر بکھری پڑی ہوتی ہے۔ جس سے گزرتے وقت وہ خوشی اور مسرت سے پاگل ہو جاتا ہے۔
١٩٤٧ء کا سال انسانوں کے لئے ایسا ہی سال تھا۔ اس سن میں انسانوں نے سب کچھ کھو دیا۔ یہاں تک کہ انسانیت بھی ضائع کر دی۔ اس سال جو دولت ضائع ہوئی تھی۔ وہ دوسرے سالوں میں پھر حاصل ہو جائے گی۔ عمارات جو راکھ کا ڈھیر ہو چکی ہیں۔ پھر سے استوار کر دی جائیں گی۔ افراد جنہیں موت نے اٹھا لیا ان کا نعم البدل قدرت کے ہاں سے مل سکتا ہے۔ لیکن جو چیز کھو کر نہیں مل سکتی۔ وہ عورت کی عصمت ہے۔ ١٩٤٧ء کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ جس کی تلافی کبھی نہیں ہو سکتی۔
اس پر آشوب دور سے جب ذرا فرصت ملی اور آنکھوں کے سامنے سے لہو اور کانوں میں خون خون کی صدائیں آنی بند ہوئیں تو زعمائے احرار نے مملکت خداداد کو ایسے لوگوں کے نرغے میں گھرا ہوا پایا جس کا حصار تنگ ہو رہا تھا اور قریب تھا کہ سلطنت جس کی بنیادوں میں ساٹھ ہزار عورتوں کی آبرو اور دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کا خون دیا گیا تھا۔ کفر کے اقتدار میں آجاتی۔ چنانچہ چار برس کی مسلسل چیخ و پکار کے بعد ملک اس سازش سے آشنا ہو گیا۔ جس سے پاکستان کے استحکام کی تمام دیواریں منہدم ہو جانے کا ڈر تھا۔ اس کا سرغنہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی اور ربوہ اس خوفناک سازش کا مرکز تھا۔
٤
ایک زمانہ تھا جب مسلمان مرزائیوں کے خلاف کچھ سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ لیکن احرار رہنماؤں نے ایک ایک دروازے پر جا کر دستک دی اور ایک ایک کان میں کہا کہ مرزائی پاکستان کے اندر بھارت اور انگلستان کا جاسوس ہے۔ یہ درست ہے کہ اکثر اوقات ہماری آواز صدا بصحراء ثابت ہوئی اور اس سے بھی انکار نہیں کہ اس راہ میں چلتے چلتے ہمارے کانوں نے ایسی آوازیں بھی سنیں کہ جن آوازوں میں دشنام کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مگر ہم پہچانتے تھے کہ ان آوازوں میں اکثر آوازیں مرزائیوں کی ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کا سا میک اپ کیا ہوا ہے۔ مگر عزم بلند اور ارادے کی پختگی ہمیں ان راہوں سے ہٹا نہ سکی۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے سامنے دنیا کی عزت نہیں بلکہ آخرت کا سودا ہے اور یہ سودا جان دے کر خریدنا پڑتا ہے۔
آج پاکستان کے درو دیوار ہم سے ہم آہنگ ہیں۔ قوم کا ایک ایک فرد ہمارے سر سے سر ملا کر وہی گیت گا رہا ہے۔ جسے کل تک بے وقت کی راگنی کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ہماری آواز تو فقیروں کی آواز تھی۔ شاید اس کا گزر کاخ امراء تک ہوتا کہ نہ ہوتا۔ لیکن اب تو وزیر بھی کہنے لگے ہیں: ”دوسری چیز جس میں آج ایک غصہ ایک رنج اور ایک دشواری محسوس ہو رہی ہے۔ اس کا باعث مسلمان نہیں بلکہ احمدیوں کی روش ہے۔ اس لئے اس قرارداد کے دوسرے حصے سے جو اختلاف پیدا ہوا ہے۔ اس خرابی چپقلش، بے اطمینانی کی تمام ذمہ داری احمدیوں کے غلط عقائد پر مبنی ہے۔“
یہ الفاظ میاں ممتاز دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ٢٧؍ جولائی ١٩٥٢ء کو پنجاب لیگ کونسل کے اجلاس میں کہے۔ آج سے پانچ برس پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بھی وہی کہے گا جو پنجاب کا امیر شریعت کہہ رہا ہے۔ بلکہ پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر محمد منیر اور جسٹس عطاء محمد جان نے بھی کہہ دیا کہ: ”احمدیوں کا وجود مسلمانوں کے لئے مسلسل اشتعال انگیزی کا باعث ہے اور مرزائیت کی تبلیغ مسلمانوں کے اشتعال دلانے کے لئے کافی ہے۔“
(اخبار زمیندار مورخہ ٢١؍ مارچ ١٩٥٢ء)
(یاد رہے کہ اوکاڑہ میں ایک مرزائی غلام محمد کو ایک مسلمان محمد اشرف نے قتل کر دیا تھا۔ سیشن کورٹ نے محمد اشرف کو حبس دوام کی سزا دی تھی۔ لیکن اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں غلام محمد مرزائی کی بیوی نے درخواست دی تھی کہ محمد اشرف کو سزائے موت ملنی چاہئے۔ اس پر ہائی
٥
کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے فیصلہ کے دوران میں مندرجہ بالا الفاظ کہے تھے )
پھر ایک سوچوالیس
جون ١٩٥٢ء کے شروع میں پنجاب گورنمنٹ نے ایک اعلان کیا کہ صوبہ میں بعض حالات کی بناء پر دفعہ ١٤٤ کا نفاذ کیا جاتا ہے اور جولائی ١٩٥٢ء کے آخر میں یہ حکم واپس لے لیا گیا۔ اس عرصہ میں پنجاب بھر میں گرفتاریاں ہوئیں۔ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک آور گیس سے کام لینا پڑا۔ یہاں تک کہ گولیاں بھی چلیں۔ یہ تمام حادثات ہوئے اور ہو کر ختم ہو گئے۔ لیکن ان کی یاد کبھی فراموش نہیں ہو سکتی۔ شاید قیدی اپنے ایام اسیری بھول جائیں۔ گجرات پولیس کی لاٹھیوں کے زخم مندمل ہو جائیں۔ لیکن ان ماؤں کے زخم کون اچھے کر سکتا ہے جن کے لال ملتان میں شہید کر دیئے گئے۔ ان بہنوں کے آنسو کون پونچھ سکتا ہے جن کے بھائی لوٹ کر انہیں نہیں مل سکیں گے۔ وہ باپ کیسے چپ رہ سکتے ہیں جن کا عصائے حیات ملتان کے بازاروں میں ٹوٹ کر رہ گیا ہو۔ ان معصوم بچوں کا داغ یتیمی کون دھو سکتا ہے۔ جن کے باپ اچھے بھلے بازار گئے لیکن واپس نہ آسکے۔
لا ریب
یہ مسئلہ اتنی ہی بڑی قربانی کا تقاضا کرتا تھا اور یہ اسی خون کا اثر تھا کہ ٢٧ جولائی کو پنجاب لیگ کونسل کے اجلاس میں ہر کونسلر کہہ اٹھا کہ: ”ربوہ کا جائزہ لینے سے محسوس ہونے لگتا ہے کہ مرزائیوں نے پاکستان میں ایک الگ حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ربوہ دراصل ایک سازشی مرکز ہے۔ حکومت نے مرزائیوں کو چناب کے کنارے ایک علیحدہ مرکز دے کر انہیں خلاف ملک وملت سازشوں کا موقعہ دیا ہے۔“
(حضرت خلیق قریشی لائل پور)
”مرزائی پاکستان میں جدا حکومت کر رہے ہیں۔ مرزائی مبلغ تبلیغ کے بہانے دنیا میں کفر اور ارتداد پھیلا رہے ہیں اور آپ نے حکومت پر زور دیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ ورنہ ملک میں آج جو اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس کا دور ہونا ناممکن ہے۔“
(مہر محمد صادق ایم۔ ایل۔ اے، لائل پور)
”اگر حکومت عبدالغفار خان کو محض اس بناء پر گرفتار کر سکتی ہے کہ انہوں نے پٹھانستان کے نام پر ایک نئی حکومت بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو پھر حکومت مرزا محمود کو گرفتار کیوں نہیں کرتی۔
٦
کے دوران میں مندرجہ بالا الفاظ کہے تھے )
پنجاب گورنمنٹ نے ایک اعلان کیا کہ صوبہ میں بعض ہے اور جولائی ١٩٥٢ء کو آخر یہ حکم واپس لے لیا گیا۔ ہوئیں۔ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک آور گیس سے کام لینا م حادثات ہوئے اور وہیں ختم ہو گئے۔ لیکن ان کی یاد کبھی ا میری بھول جائیں۔ گجرات پولیس کی لاٹھیوں کے زخم ون اچھے کر سکتا ہے جن کے لال ملتان میں شہید کر دیئے بچے جن کے بھائی لوٹ کر انہیں نہیں مل سکیں گے۔ وہ باپ ت ملتان کے بازاروں میں لٹ کر رہ گیا ہو۔ ان معصوم کے باپ اچھے بھلے بازار گئے لیکن واپس نہ آسکے۔
تقاضا کرتا تھا اور یہ اسی خون کا اثر تھا کہ ٢٧؍جولائی کو کہا تھا کہ: ”ربوہ کا جائزہ لینے سے محسوس ہونے لگتا ہے حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ربوہ دراصل ایک سازشی مرکز بنا کر ایک علیحدہ مرکز دے کر انہیں خلاف ملک و ملت
(حضرت خلیق قریشی لائل پور)
گشت کر رہے ہیں۔ مرزائی مبلغ تبلیغ کے بہانے دنیا میں نے حکومت پر زور دیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار جاتا ہے۔ اس کا دور ہونا ناممکن ہے۔‘‘
(مہر محمد صادق ایم۔ایل۔اے، لائل پور)
محض اس بناء پر گرفتار کر سکتی ہے کہ انہوں نے پٹھانستان مطالبہ کیا تھا تو پھر حکومت مرزا محمود کو گرفتار کیوں نہیں کرتی۔ ٦
جس نے پاکستان میں ایک نئی حکومت قائم کر رکھی ہے اور وہ اس کا امیر المؤمنین بنا بیٹھا ہے۔ ان کے اپنے محکمے اور اپنی وزارتیں ہیں۔ یہ وزارت خارجہ پاکستان کی نہیں یہ مرزا محمود قادیانی کی وزارت خارجہ ہے۔‘‘
(میاں منظور حسین ایم۔ایل۔اے، گوجرانوالہ)
غرض ہر تار رگ جاں سے یہی راگ گایا جارہا ہے کہ مرزائیت کو الگ اقلیت قرار دیا جائے اور خود ربوہ کا ڈکٹیٹر مرزا بشیر الدین محمود بھی مسلمانوں کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے: ”میں نے اپنے ایک نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز آفیسر کو کہلا بھیجا ہے کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس آفیسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت میں ہیں۔ تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلے میں میں دو دو احمدی (مرزائی) پیش کرتا جاؤں گا۔‘‘
(الفضل مورخہ ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء)
اور سنو! اخبار ڈیلی میل کے نامہ نگار کو جولائی ١٩٥٢ء میں ایک بیان دیتے ہوئے بشیر الدین محمود قادیانی کہتا ہے: ”اگر میری جماعت کو اقلیت قرار دے دیا گیا تو میں فوراً اپنے پیروؤں کو حکم دوں گا کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہلانے کی بجائے مسلم کہلانا شروع کردیں۔ ہم احمدی اس لئے کہلاتے ہیں کہ ہمارے بانی نے اپنی زندگی میں حکم دیا تھا کہ ہم مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوائیں۔‘‘
اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ اگر حکومت انہیں اقلیت قرار دے تب وہ مسلمان کہلانا شروع کردیں گے۔ اس سے زیادہ واضح اور صاف سوال کیا ہوسکتا ہے۔ اس لئے گورنمنٹ پاکستان کو چاہئے کہ مسلمانوں کی نہیں تو مرزا بشیر الدین محمود کی ہی بات مان لے۔
تشدد کا الزام
ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں یہ الزام عائد کیا کہ احرار اور احمدیوں کے درمیان تصادم بڑھتا جارہا ہے۔ نیز ہوم سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب نے کہا کہ احرار رہنماؤں کی تقریروں سے تشدد کا پرچار ہوتا ہے۔ لہٰذا صوبہ کے امن کی بحالی کے لئے مندرجہ بالا دفعہ ضروری سمجھی گئی ہے۔ ٧
یہ ایک الزام تھا جو گورنمنٹ پنجاب نے مجلس احرار کے دامن پر لگایا تھا۔ حالانکہ دو تین برس کے اندر اندر جس قدر مرزائی پنجاب میں مارے گئے۔ ان تمام کے مقدمات کی اگر تحقیق کی جائے تو یقیناً احرار کا دامن اس سلسلہ میں کورا نظر آئے گا۔ اگر وہ مذہب کے سوال پر قتل ہوئے ہیں یا خانگی جھگڑوں کی بناء پر تو دونوں صورتوں میں مجلس احرار کیوں مجرم ہے؟ کیا اچھا ہوتا کہ پنجاب گورنمنٹ مجلس احرار پر تشدد کا الزام لگانے سے پہلے ان کی زندگی کا مطالعہ کرتی۔ انہیں یقین ہو جاتا کہ احرار رہنما ایسے نہیں ہیں جیسے کہ انہیں خیال کر لیا گیا ہے۔ میاں ممتاز دولتانہ اگر تھوڑی سی ہمت کر کے انگریز سے دریافت کرتے تو باوجود یکہ احرار انگریز کے آج بھی ویسے ہی دشمن ہیں۔ جیسے کل تھے۔ یقیناً افرنگی کی رائے ایسی نہ ہوتی جیسی پنجاب گورنمنٹ کی ہے۔
احرار اپنی پشت پر ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ اس تاریخ کے ایک ایک ورق پر ہمارے خون کے چھینٹے ہنوز اسی طرح اجاگر ہیں جیسے کہ ان کی رنگت روز اوّل میں تھی۔ لیکن تیس برس کی ساری تاریخ میں ایک نشان ایسا نہیں جو اجنبی کے خون کا ہو یا وہ خون ہمارے ہاتھوں سے گرا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر ڈگلس ینگ، بخاری کو اپنی عدالت سے رہا کرنے کی بجائے پھانسی کے تختے پر کھڑا کرتے۔ باوجود اس کے اس کیس میں پنجاب کا فرعون مزاج وزیر اعظم سرسکندر حیات ایک فریق کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے برعکس ربوہ کے ڈکٹیٹر بشیر الدین محمود کے جسم پر ایسے بے گناہ لوگوں کے خون کے داغ چمک رہے ہیں۔ جو راز درون پردہ سے آشنا ہو چکے تھے۔ ایسے مجرموں کی فہرست اس قدر طویل ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس گرہ کو کھولنا چاہے تو اسے کوئی دقت محسوس نہ ہوگی۔ ہاں ناخن تدبیر کو ذرا سی حرکت دینی پڑے گی۔ فخر الدین ملتانی اور مولوی محمد حسین بٹالوی کا خون تو ابھی کل کی بات ہے۔ شاید قادیان کے بازاروں سے یہ خون ابھی خشک نہ ہوا ہو۔
ممکن ہے اسے داستان سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ لیکن بشیر الدین محمود تو اب بھی کہہ رہا ہے: ”ہاں! آخری وقت آ پہنچا۔ ان تمام علماء حق کے خون کا بدلہ لینے کا جنہیں شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملاّ قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
- ١...... عطاء اللہ شاہ بخاری سے۔
- ٢...... ملا بدایونی سے۔
٨
نمنٹ پنجاب نے مجلس احرار کے دامن پر لگایا تھا۔ حالانکہ دو تین پنجاب میں مارے گئے۔ ان تمام کے مقدمات کی اگر تحقیق کی میں کورا نظر آئے گا۔ اگر وہ مذہب کے سوال پر قتل ہوئے ہیں صورتوں میں مجلس احرار کیوں مجرم ہے؟ کیا اچھا ہوتا کہ پنجاب ام لگانے سے پہلے ان کی زندگی کا مطالعہ کرتی۔ انہیں یقین جیسے کہ انہیں خیال کر لیا گیا ہے۔ میاں ممتاز دولتانہ اگر تھوڑی ق کرتے تو باوجود یکہ احرار انگریز کے آج بھی ویسے ہی دشمن نے ایسی نہ ہوتی جیسی پنجاب گورنمنٹ کی ہے۔
تاریخ رکھتے ہیں۔ اس تاریخ کے ایک ایک ورق پر ہمارے ہیں جیسے کہ ان کی رنگت روز اوّل میں تھی۔ لیکن تیس برس کی جو اجنبی کے خون کا ہو یا وہ خون ہمارے ہاتھوں سے گرا ہو۔ چیف جسٹس مسٹر ڈگلس ینگ، بخاری کو اپنی عدالت سے رہا رکس دیا کرتے تھے۔ باوجود اس کے اس کیس میں پنجاب کا فرعون فریق کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے برعکس ربوہ کے ڈکٹیٹر لوگوں کے خون کے داغ چمک رہے ہیں۔ جو راز ہا درون وں کی فہرست اس قدر طویل ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس تم نہ ہوگی۔ ہاں ناخن تدبیر کو ذرا سی حرکت دینی پڑے گی۔ علوی کا خون تو ابھی کل کی بات ہے۔ شاید قادیان کے کو نظر انداز کر دیا جائے۔ لیکن بشیر الدین محمود تو اب بھی کہہ کہ تمام علماء حق کے خون کا بدلہ لینے کا جنہیں شروع سے لے ہیں ۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
٨
- ٣...... ملا احتشام الحق سے۔
- ٤...... ملا محمد شفیع سے۔
- ٥...... ملا مودودی (پانچویں سوار سے)“ (الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٥٢ء)
پھر فدایان قادیان کے نام سے مرزائیوں کی ایک انقلابی پارٹی کا ظہور میں آنا اور ساتھ ہی پنجاب کے مقتدر علماء کرام مولانا احمد علی، مولانا ابو الحسنات و دیگر رہنمایان ملت کو قتل کی دھمکیاں دینا۔ گو کفر میں اتنی جسارت نہیں، کفر ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔ لیکن پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی سی۔ آئی۔ ڈی کہاں ہے؟ جو مرزا بشیر الدین محمود کو گرفتار نہیں کرتی۔ وہ لوگوں کو قتل پر ابھار رہا ہے۔ پھر یہ کوئی خفیہ سازش نہیں۔ بلکہ واضح طور پر ١٥؍ جولائی کے الفضل اور ١٤؍ اگست کے زمیندار میں یہ تحریریں موجود ہیں۔ نہ جانے ہماری گورنمنٹ کی نظر سے ایسی خونی تحریریں کیوں اوجھل رہتی ہیں۔ اگر نہیں تو کیا وہ ایسی تحریروں کو امن پسند خیال کرتی ہے؟ حالانکہ تشدد کی واضح اور کھلم کھلا تبلیغ ہو رہی ہے۔ پنجاب پولیس کیوں غافل ہے۔ اگر کسی مرزائی کو مسلمانوں کے ہاتھوں ہلکا کانٹا بھی چبھ جائے تو پاکستان گورنمنٹ کی ساری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے۔ لیکن بشیر الدین محمود ربوہ میں بیٹھ کر اشتعال انگیز تقاریر کر رہا ہے۔ انقلابی پارٹیاں بن رہی ہیں۔ لوگوں کو قتل پر ابھارا جا رہا ہے اور پھر مرزا بشیر الدین محمود کی زندگی کا آئینہ اس قدر روشن ہے کہ اس میں سے اس کے گذشتہ کردار کے خط و خال واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ باوجود اس کے پنجاب پولیس خاموش ہے۔ کوئی تحقیق نہیں، کوئی گرفتاری نہیں۔ سارا ملک چیخ رہا ہے۔
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
وزیر خارجہ
چوہدری سر ظفر اللہ پر تمام پاکستان عدم اعتماد کا اظہار کر چکا ہے اور خود پاکستان گورنمنٹ کے ذمہ دار افراد وزیر خارجہ کی گذشتہ کارگزاریوں سے خوش نہیں اور ہو بھی کیسے سکتے ہیں۔ کیونکہ ایسے کام تو یکسوئی کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں۔ اگر ذہن متوجہ نہ ہو تو کوئی کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ چوہدری سر ظفر اللہ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ وہ مرزائی ہیں اور قادیان ان کا مقدس مقام ہے۔ وہ ہندوستان کے قبضے میں ہے۔ ان کے نبی (غلام احمد قادیانی) کی قبر ابھی تک
٩
قادیان ہے۔ لازمی ان کے ذہن پر اس کا بوجھ ہونا چاہئے ۔ چنانچہ وہ اپنے اکثر نجی خطوں میں اس دماغی پریشانی کا اظہار کر چکے ہیں۔ حالانکہ جن دنوں یہ خط تحریر کئے گئے ۔ ان دنوں پاکستان کے مسلمان واہگہ کے اس پار بیٹھے خون کے آنسو رو رہے تھے۔ ایسے میں ظفر اللہ کو اگر کچھ فکر تھی تو قادیان کی ، اور ہونی بھی چاہئے ۔ ایسے آدمی کو فوراً اپنے عہدے سے یا استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ یا پھر گورنمنٹ کو انہیں الگ کر دینا چاہئے ۔ کیونکہ ان کو رات دن اپنے مقدس مقام کی فکر رہتی ہے۔ وہ امور سلطنت میں کیسے دلچسپی لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک وہ کشمیر کے مقدمے میں پاکستان کا کوئی فائدہ نہیں کر سکے۔ مندرجہ ذیل خطوط اخبار زمیندار اور آزاد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان سب کا اصل موجود ہے۔
جانباز مرزا! مورخہ ٦؍اگست ١٩٥٢ء، لائل پور
سر ظفر اللہ کے خطوط
پہلا خط
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیارے بشیر! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، میں بفضل اللہ ١٦ کو یہاں پہنچ گیا تھا۔ ١٤ کی صبح کو ناشتہ دمشق کیا۔ دوپہر کا کھانا استنبول کھایا۔ شام کا کھانا لندن چوہدری محمد اشرف صاحب کے یہاں۔ اسی موقع پر مسجد والوں کو حالات سے آگاہ کیا۔ رات ہوٹل میں بسر کی۔ ١٥ کی دوپہر کو لندن سے روانہ ہوئے۔ براستہ Iceland پہنچے۔ شام کا کھانا یہاں کھایا۔ انجن میں نقص ہونے کی وجہ سے ٥ گھنٹے یہاں ٹھہرنا پڑا۔ نصف شب یہاں سے روانہ ہو کر دوسرے دن قبل دوپہر نیو یارک پہنچ گئے۔ ١٩ کو میں اپنے معائنہ کے لئے بوسٹن گیا اور ٢٢ کو یہاں واپس آ گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی رپورٹ بحمد اللہ تسلی بخش ہے۔ یہاں پہنچتے ہی میں نے خلیل احمد ناصر کو فون کیا تھا۔ انہیں ان دنوں تعطیل تھی۔ وہ ١٧ کی صبح کو یہاں پہنچ گئے۔ پرسوں شام واپس شکاگو گئے ہیں۔ U.N.O کی کاروائی میں ابھی تک ہم استحقاقاً کوئی حصہ نہیں لے سکتے۔ کیونکہ ابھی ہمارے داخلہ کی رسوم مکمل نہیں ہوسکیں۔ کل انشاء اللہ ہمارا داخلہ ہوگا۔ موسم یہاں بہت خوشگوار ہے اور باقی حالات بھی اچھے ہیں۔ لیکن قادیان کے حالات
١٠
کا بوجھ ہونا چاہئے۔ چنانچہ وہ اپنے اکثر نجی خطوں میں اس کہ جن دنوں یہ خط تحریر کئے گئے ۔ ان دنوں پاکستان کے کے آنسو رو رہے تھے۔ ایسے میں ظفر اللہ کو اگر کچھ فکر تھی تو آدمی کو فوراً اپنے عہدے سے یا استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ یا نہ کیونکہ ان کو رات دن اپنے مقدس مقام کی فکر رہتی ہے۔ تے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک وہ کشمیر کے مقدمے میں مندرجہ ذیل خطوط اخبار زمیندار اور آزاد میں شائع ہو چکے ہیں۔
جانباز مرزا! مورخہ ٦ اگست ١٩٥٢ء، لائل پور
ظفر اللہ کے خطوط
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، کیا تھا۔ ١٤ کی صبح کو ناشتہ دمشق کیا۔ دوپہر کا کھانا استنبول شرف صاحب کے یہاں۔ اسی موقع پر مسجد والوں کو حالات ١٥ کی دوپہر کو لندن سے روانہ ہوئے ۔ شام کو Iceland شمس ہونے کی وجہ سے ٥ گھنٹے یہاں ٹھہرنا پڑا۔ نصف شب کو پھر نیویارک پہنچ گئے۔ ١٩ کو میں اپنے معائنہ کے لئے مظفر صاحب کی رپورٹ بحمد اللہ تسلی بخش ہے۔ یہاں پہنچنے لیکن ان دنوں تعطیل تھی ۔ وہ ١٧ کی صبح کو یہاں پہنچ گئے ۔ بلی کی کاروائی میں ابھی تک ہم استحقاقاً کوئی حصہ نہیں ہم مکمل نہیں ہوسکیں۔ کل انشاء اللہ ہمارا داخلہ ہوگا۔ اور باقی حالات بھی اچھے ہیں ۔ لیکن قادیان کے حالات
١٠
کی وجہ سے ہر وقت سخت پریشانی رہتی ہے اور تمام وقت بے چینی میں گزرتا ہے۔ ابھی تک مجھے گھر سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ میں نے یہاں کا پتہ دوسری طرف لکھ دیا ہے۔ آپ فوراً تفصیلی خط لکھیں اور متواتر دو تین دن کے وقفہ پر لکھتے یا لکھواتے رہیں ۔ تا کہ جماعت اور قادیان اور اپنے عزیزوں کے متعلق مجھے پوری اطلاع ملتی رہے۔ عام Air letter پر دو آنے کا زائد ٹکٹ لگا دیا جائے تو یہاں خط مل جاتا ہے۔ اعجاز کو پیار اور احمد ، نصیر اور عطاء اللہ کو سلام اور پیار۔ احمدہ کو سلام، عزیزان کو پیار۔ اللہ تعالیٰ تم سب کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین ! والسلام! خاکسار: ظفر اللہ خان!
(روزنامہ زمیندار لاہور، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٥٢ء)
دوسرا خط
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! پیارے بشیر ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، تمہارا محبت نامہ ٧ اکتوبر کا لکھا ہوا ملا۔ جزاکم اللہ ۔ اس اثناء میں تین چار خط بھوپال سے لکھے ہوئے بھی مل گئے ہیں۔ وہاں تو بفضل اللہ خیریت ہے۔ قادیان کی خبروں سے دل بہت بوجھ کے نیچے دبا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا رحم فرمائے اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرما کر پھر امن اور اطمینان عطا فرمائے۔ آمین ! عزیز رشید احمد کی طرف سے کوئی اطلاع نہ ملنے کے متعلق بہت تشویش ہے۔ امید ہے اب تک عزیز واپس آ چکا ہو گا ۔ اس کی خیریت سے اطلاع دیں ۔ میں انشاء اللہ پرسوں ایک ہفتہ کے لئے پٹس برگ، کلیولینڈ شکاگو جماعتوں سے ملنے کے لئے جاؤں گا۔ اسمبلی کا کام تو ابھی لمبا چلے گا۔ میرا ارادہ ہے کہ میں نومبر کے پہلے ہفتہ کے آخر میں یہاں سے روانہ ہو جاؤں۔ اس لئے اس خط کے پہنچتے ہی فوراً جواب لکھ دینا۔ میں شائد رستہ میں دمشق دو تین دن ٹھہروں ۔ تا کہ وہاں بھی جماعت سے ملاقات ہو سکے۔ آگے جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ احمدہ کو سلام، عزیزان کو پیار۔ اعجاز کو پیار اور سلام ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین ۔ والسلام ! خاکسار: ظفر اللہ خان !
(روزنامہ زمیندار لاہور، مورخہ ٢٠ جولائی ١٩٥٢ء)
١١
تیسرا خط
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پیارے بشیر! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
تمہارا محبت نامہ مورخہ ١٤؍اکتوبر کو ملا۔ جزاکم اللہ! میں یہاں سے ١٨؍اکتوبر کی شام کو روانہ ہو کر جماعتوں کے دورہ کے لئے گیا تھا۔ رات واپس آیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سفر کے دوران میں پٹس برگ، کلیولینڈ اور شکاگو کی جماعتوں کو اصلاح، قربانی اور تبلیغ کے متعلق تلقین کرنے کا بہت عمدہ موقعہ مل گیا۔
یہاں اسمبلی کا کام تو ابھی بہت لحاظ سے ابتدائی مراحل میں ہے۔ ایک فلسطین کے قضیہ کے متعلق ہی کچھ طے ہونے میں نہیں آتا۔ لیکن کچھ تو میری طبیعت بھی اکتائی ہوئی اور اداس ہے اور پھر حضرت صاحب کا ارشاد موصول ہوا ہے کہ میں کام ختم ہوتے ہی فوراً واپس پہنچ جاؤں۔ پہلے تو میرا ارادہ تھا کہ واپسی کے سفر کے دوران میں دمشق بھی ٹھہروں۔ لیکن اب یہ ارادہ ترک کرنا پڑے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ وسط نومبر تک واپس کراچی پہنچ جاؤں گا۔ آگے جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ پروگرام طے ہو جانے پر شعبان صاحب کے پتہ پر تار دے دوں گا۔ آپ ان سے یہ انتظام کرلیں کہ وہ اطلاع ملنے پر آپ کو اطلاع کردیں۔
آخری اطلاعیں جو قادیان کے متعلق ملی ہیں۔ ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے فضل سے حالات سدھرنے کی توقع ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے فضل ورحم سے ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرماتے ہوئے امن اور اطمینان کی صورت پیدا کردے۔ آمین!
یہاں موسم ابھی تک بہت خوشگوار ہے۔ بلکہ اس وقت کے لحاظ سے کسی قدر گرمی ہے۔
بیچارے بلجیت کا خط دہلی سے آیا ہے کہ میرا مکان وغیرہ سیالکوٹ میں سب جلا دیا گیا ہے۔ اب بالکل مفلس و بیکار ہوں۔ اگر روزی کمانے میں کوئی مدد ہوسکتی ہو تو کرو۔ اعجاز اور تم اگر پسند کرو تو اسے ہمدردی کا خط لکھ دو۔ اس کا پتہ "11 Court Rd Delhi" ہے۔
١٢
شاہ نواز سے کہہ دیں اس کا خط مل گیا ہے۔ جزاہ اللہ! اب میں خود بھی واپس آنے والا ہوں۔ احمدہ کو سلام، عزیزان کو پیار۔ اعجاز کو سلام۔ امید ہے عزیز رشید احمد بفضل اللہ بخیریت واپس پہنچ گیا ہوگا۔ نصیر اور عطاء اللہ کو سلام اور پیار اور اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین!
والسلام!
خاکسار: ظفر اللہ خان
(روزنامہ زمیندار لاہور، مورخہ ٢١ / جولائی ١٩٥٢ء)
چوتھا خط
بسم الله الرحمن الرحیم!
پیارے بشیر!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
تمہارا ٥/نومبر کا لکھا ہوا محبت نامہ چند روز ہوئے ملا۔ جزاکم اللہ ! اس اثناء میں تمہیں میرا بھی ٦/نومبر کا لکھا ہوا خط مل چکا ہوگا۔ آج یہاں اسمبلی میں باقی کام تو ختم ہو جائے گا۔ لیکن ابھی فلسطین کا قضیہ باقی ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید ٢٦، ٢٧ تک یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے۔ اس صورت میں میں انشاء اللہ ٢٩ کو یہاں سے روانہ ہو کر ٣٠ کو دمشق پہنچوں گا اور ٤ کو وہاں سے روانہ ہو کر ٥ کی صبح کو کراچی پہنچوں گا۔ اگر مزید کوئی اور اطلاع آپ کو نہ ملے تو آپ یہی اندازہ رکھیں کہ میں انشاء اللہ ٥/دسمبر کی صبح کو Pan American Service Flight پر کراچی پہنچوں گا۔ مجھے چند دن ہوئے پاکستان کی حکومت کا تار ملا تھا کہ وزیر مال عنقریب امریکہ پہنچنے والے ہیں۔ تمہارے متعلق بہت ضروری کام ہے۔ تم ان سے ملنے کے بعد امریکہ سے روانہ ہونا۔ میں نے جواباً تار دے دیا تھا کہ میرا ارادہ یہاں سے ٢٩ کو چلنے کا ہے۔ مزید ٹھہرنا میرے لئے مشکل ہے۔ اس کا کوئی جواب وصول نہیں ہوا۔ سو امید ہے انشاء اللہ اس پروگرام کے مطابق روانہ ہوسکوں گا۔ اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو بروقت اطلاع دینے کی کوشش کروں گا۔
احمدہ کو سلام، عزیزان کو پیار، اعجاز، نصیر، عطاء اللہ کو پیار، اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ وناصر ہو۔ آمین!
والسلام!
خاکسار: ظفر اللہ خان
(روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ٢٢/جولائی ١٩٥٢ء)
١٣
مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کا ایک خط
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم علیٰ عبدہ المسیح الموعود بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ربوہ دارالہجرت خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہوالناصر، ١٩؍جولائی ١٩٥٢ء برادران! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
آپ نے ربوہ میں زمین خریدی اور سمجھ لیا کہ اپنے اخلاص کا ثبوت دے دیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ نے سلسلہ سے سخت دشمنی کی ہے۔ اتنے عرصہ سے آپ نے زمین خریدی ہوئی ہے۔ لیکن نہ نقشہ پاس کروایا ہے۔ نہ چار دیواری بنوائی ہے۔ نہ کوئی کمرہ بنوایا ہے۔ حالانکہ ایک دو نوکروں کے کمرے یا باورچی خانہ مویشی خانہ کے کمرے بنوا لیتے۔ تب بھی ربوہ کی حفاظت کی صورت ہوتی۔ اب یہ حالت ہے کہ اس قدر مخالفت میں ربوہ ننگا پڑا ہے۔ جو لوگ مکان بنوانا چاہتے ہیں۔ ان کے راستہ میں آپ کھڑے ہیں اور دشمن کو ربوہ پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر باورچی خانہ کا کمرہ ہی آپ بنوا لیتے تو کم سے کم کوئی احمدی اس میں کرایہ پر رہتا اور ربوہ کی حفاظت کا موجب ہوتا۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ دشمن کو شرارت کرنے کی دعوت دی اور اس پر مطمئن رہے کہ آپ نے سستے داموں زمین خرید لی ہے۔ مگر ربوہ ہی نہ رہا تو آپ کے مکان کہاں رہیں گے۔ آخر سلسلہ کی کچھ تو غیرت آپ کے دل میں چاہیے تھی۔
اب میں نے حکم دیا ہے کہ آپ کی دی ہوئی قیمت آپ کو واپس کر دی جائے اور کسی ایسے شخص کو زمین دے دی جائے جو فوراً مکان بنانے پر تیار ہو۔ سوائے ایسے لوگوں کے جو دو تین ہفتوں میں کمیٹی سے نقشہ منظور کروا کے کچھ نہ کچھ حصہ خواہ باورچی خانہ اور چار دیواری تعمیر کروالیں۔ اس کے بعد آپ کی شکایت ناقابل قبول ہوگی۔ کیونکہ سلسلہ کا فائدہ بہر حال آپ کے فائدہ سے مقدم ہے۔
والسلام!
خاکسار: مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
(روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ٢٩؍جولائی ١٩٥٢ء)
١٤
خلیفہ قادیان کا ایک خط
لہ الکریم علیٰ عبدہ المسیح الموعود الله الرحمن الرحیم! اور رحم کے ساتھ ہوالناصر، ١٩؍ جولائی ١٩٥٢ء السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
میدی اور سمجھ لیا کہ اپنے اخلاص کا ثبوت دے دیا۔ لیکن سخت دشمنی کی ہے۔ اتنے عرصہ سے آپ نے زمین خریدی نہ چار دیواری بنوائی ہے۔ نہ کوئی کمرہ بنوایا ہے۔ حالانکہ یہ مودی خانہ کے کمرے بنوا لیتے۔ تب بھی ربوہ کی حفاظت اس قدر مخالفت میں ربوہ ننگا پڑا ہے۔ جو لوگ مکان بنوانا کرتے ہیں اور دشمن کو ربوہ پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہے بنا لیتے تو کم سے کم کوئی احمدی اس میں کرایہ پر رہتا اور ربوہ ایسا نہیں کیا۔ بلکہ دشمن کو شرارت کرنے کی دعوت دی اور یوں زمین خرید لی ہے۔ مگر ربوہ ہی نہ رہا تو آپ کے مکان قیمت آپ کے دل میں چاہئے تھی۔ پ کی دی ہوئی قیمت آپ کو واپس کر دی جائے اور کسی مکان بنانے پر تیار ہو۔ سوائے ایسے لوگوں کے جو دو تین جلد کچھ حصہ خواہ باورچی خانہ اور چار دیواری تعمیر کروالیں۔ نہ ہوگی۔ کیونکہ سلسلہ کا فائدہ بہر حال آپ کے فائدہ سے
والسلام! خاکسار : مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
(روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ٢٩؍ جولائی ١٩٥٢ء)
١٤
مرزائی دجل و فریب کا تازہ شاہکار
بسم الله الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! مخلصی مکرمی ! شیخ محمد احمد صاحب امیر جماعت ہائے احمدیہ ضلع لائل پور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ایک مسودہ مطبوعہ اور کارڈ آپ کی خدمت میں بھیجے جارہے ہیں۔ یہ احرار کے پوسٹر کے جواب میں ہیں۔ احرار نے تین مطالبات کئے ہیں۔ جو پاکستان کے لئے سخت مضر اور فتنہ و فساد پیدا کرنے والے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان مطبوعہ کارڈوں پر پاکستان کے ہمدرد لوگوں کے دستخط حاصل کئے جائیں۔ دستخط حاصل کرنے کے بعد یہ سب کارڈ نظارت ہذا میں بھیج دیں۔ یہ کارڈ عزت مآب وزیر اعظم پاکستان اور عزت مآب وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام پر ہیں۔ اس لئے ہر دو پر دستخط حاصل کرنے ہوں گے۔
اس بارہ میں چونکہ فوری تگ و دو کی ضرورت ہے۔ اس لئے براہ مہربانی تمام جماعتوں میں اس مطبوعہ مسودہ کو پھیلا کر ان کارڈوں پر احمدی اور غیر احمدی دوستوں کے دستخط حاصل کریں۔ غیر احمدی دوستوں کے دستخط زیادہ تعداد میں حاصل کئے جائیں۔ احتیاط سے بھیجیں ایسا نہ ہو کہ راستہ میں گم ہو جائیں۔
نوٹ : ہر کارڈ پر دس دستخط کروائے جائیں۔ والسلام! 800+600 ٹریکٹ فقط : عبدالرحیم درد، ناظر امور عامہ (ربوہ)
(روزنامہ آزاد لاہور مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٩٥٢ء)
ایک مرزائی کا خط لاہوری جماعت کے صدر کے نام
مکرمی معظمی حضرت صاحب صدر صاحب احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
عید الفطر کے موقع پر مری میں بندہ نے آپ کی خدمت میں علماء سوء کی شرارت کا ذکر کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ اگر ہمیں اقلیت قرار دیا جائے تو ہمیں کچھ فکر نہیں ہے۔ اس بارے میں بندہ اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت چاہتا ہے کہ اقلیت قرار دیئے جانے پر ہماری
١٥
پوزیشن پاکستان میں ایک اچھوت کی ہو جاوے گی۔ جس طرح قبل تقسیم ہندو اکثریت کے سامنے مسلمانوں کی کوئی پوزیشن نہیں تھی۔ اسی طرح مسلم اکثریت کے سامنے ہماری پوزیشن بالکل گر جاوے گی۔ دفتروں، بازاروں اور پبلک اجتماعات میں ہماری کوئی عزت نہ رہے گی۔ دین کی خاطر ہم تو یہ بے عزتی برداشت کر لیں گے۔ مگر ہماری اولاد یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔ سکولوں میں لڑکوں کی نظر میں ہمارے بچے حقیر سمجھے جاویں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنے آپ کو احمدی کہلانے سے انکار کر دیں اور اس طرح ہماری آئندہ نسل بھی احمدیت سے خارج ہو جاوے۔
علاوہ ازیں علماء سوء جب دیکھیں گے کہ حکومت نے ہماری ایک بات مان لی تو پھر نئے پر پرزے نکالیں گے۔ ہمارے مردوں کو قبرستان میں دفن نہ کرنے، ہماری دکانوں پر پکٹنگ کرنے غرضیکہ مزید کئی حربے ہمیں نیست و نابود کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں ذمی قرار دیں۔ یا ہم سے عام مسلمانوں کا بائیکاٹ کرا دیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کر لی تو نتیجہ بہت خراب نکلے گا۔ جماعت کے بزرگوں کو اس موقع پر سوچنا چاہئے کہ ہم قانونی طور پر کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے ہیں تو پھر جماعت کو ہدایت کی جاوے کہ پچھلی رات کو خدا تعالیٰ کی جناب میں فریاد کریں۔ کیونکہ آخری عدالت وہی ہے۔ یہ فتنہ گذشتہ فتنوں سے عظیم ہے۔ اس لئے ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہئے
جز دعائے بامداد و گریۂ اسحار نیست
پوسٹر جو مرکزی دفتر سے چسپاں کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ وہ بھی ہمارا ملازم مار کے خوف سے دن کے وقت لگانے کی جرأت نہیں کر رہا۔ البتہ رات کو غالباً لگا سکے گا۔ اس خط کی ایک نقل حضرت امیر قوم، خان بہادر غلام ربانی صاحب، حافظ محمد حسن صاحب وکیل گجرات، خواجہ نذیر احمد صاحب لاہور، مولوی آفتاب الدین صاحب لاہور، مولانا احمد یار صاحب لاہور، مولانا عبدالحق صاحب ودیارتھی، مرزا مظفر بیگ صاحب ساطع مبلغ اسلام لائل پور، خان بہادر ڈاکٹر سعید احمد صاحب ڈاڈر، مولوی دوست محمد صاحب ایڈیٹر اخبار پیغام صلح کی خدمت میں بھی ارسال کی گئی ہے۔
خاکسار: عبدالعزیز خان
(روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ٢٦ جولائی ١٩٥٢ء)
١٦
اوے گی۔ جس طرح قبل تقسیم ہندو اکثریت کے اسی طرح مسلم اکثریت کے سامنے ہماری پوزیشن پبلک اجتماعات میں ہماری کوئی عزت نہ رہے گی۔ یں گے۔ مگر ہماری اولاد یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔ تیر سمجھے جاویں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی کر دیں اور اس طرح ہماری آئندہ نسل بھی احمدیت
گے کہ حکومت نے ہماری ایک بات مان لی تو پھر نئے ان میں دفن نہ کرنے، ہماری دکانوں پر پکٹنگ کرنے نے کے لئے استعمال کریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کا بائیکاٹ کرادیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کر لی تو ں کو اس موقع پر سوچنا چاہئے کہ ہم قانونی طور پر کیا پھر جماعت کو ہدایت کی جاوے کہ پچھلی رات کو شری عدالت وہی ہے۔ یہ فتنہ گذشتہ فتنوں سے عظیم
دگر یہ اشعار نیست
نے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ وہ بھی ہمارا ملازم مار نہیں کر رہا۔ البتہ رات کو غالباً لگا سکے گا۔ اس خط ام ربانی صاحب، حافظ محمد حسن صاحب وکیل ی آفتاب الدین صاحب لاہور، مولانا احمد یار ، مرزا مظفر بیگ صاحب ساطع مبلغ اسلام لائل مولوی دوست محمد صاحب ایڈیٹر اخبار پیغام صلح کی
خاکسار: عبدالعزیز خان
(روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ٢٦ جولائی ١٩٥٢ء)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
وزیر خارجہ
غلام نبی جانباز مرزا
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
گورنمنٹ پاکستان کے نام
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے؟
گذشتہ کئی برسوں سے زعمائے احرار یہ واویلا کر رہے ہیں کہ قادیانی ٹولہ پاکستان کی سالمیت کے لئے وجہ انتشار ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سرکاری فوج کی موجودگی میں مرزائیوں کی فرقان بٹالین اور ہر مرزائی کا تین ماہ کے لئے بطور رنگروٹ اس میں شامل ہو کر ٹریننگ حاصل کرنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ پھر بشیر الدین محمود قادیانی کے وہ الہامی بیانات جن کا راقم نے اپنی کتاب جانباز پاکٹ بک میں وضاحت سے ذکر کیا ہے۔ ان واقعات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
بحمد اللہ! مجلس احرار کی مسلسل مساعی جمیلہ سے قوم کا برسر اقتدار طبقہ آج سیاست کے اس موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ جہاں سے قادیانی تصویر کے تمام خط و خال واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ چار سال کی پیہم جدو جہد نے مرزائیت کے سیاسی عزائم کو اس حد تک عیاں کر دیا ہے کہ اب لاکھ پردوں میں بھی اس سنڈاس کی بو رک نہیں سکتی۔ آج ہر صاحب فکر پاکستانی مرزائیت کے نشیب و فراز سے آشنا ہو چکا ہے۔ چنانچہ پاک پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں ہمارے ملک کے وزیر خارجہ (چوہدری سر ظفر اللہ قادیانی) پر بہت سی لے دے ہوئی ہے۔ چوہدری صاحب پانچ برس سے اس ملک کے وزیر خارجہ چلے آ رہے ہیں۔ اس عرصہ میں ان کی زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ امریکہ یا لندن میں گذرا۔ لیکن پاکستان کی بہتری کے لئے انہوں نے کیا کیا؟
جہاں تک سوال کی ماہیت کا تعلق ہے۔ اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پارلیمان کے ممبروں کا ہی حق نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنے وزیر خارجہ سے یہی سوال کرے۔ سیاسی اعتبار سے آج پاکستان جس دوراہے پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال سے آشنا لوگ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ باوجودیکہ برطانوی اقتدار کا سایہ ہنوز ہم پر پرچھائیاں ڈال رہا ہے۔ ہر ملک ہماری موت کے دن گن رہا ہے۔ اگر ایک طرف امریکہ اپنے ڈالروں سے ہمارے گردا گرد معاشرتی جال بن رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے سیاہ پہاڑ ہمیں بری
٢
للہ الرحمن الرحیم
کا آسماں کیوں ہو
ب پاکستان کے نام
احرار یہ واویلا کر رہے ہیں کہ قادیانی ٹولہ پاکستان کی ہے ۔ پاکستان کی سرکاری فوج کی موجودگی میں مرزائیوں کے لئے بطور رنگروٹ اس میں شامل ہو کر ٹریننگ حاصل ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ پھر بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب جانباز پاکٹ بک میں وضاحت سے ذکر ہیں۔
عامی حیلہ سے قوم کا بر سر اقتدار طبقہ آج سیاست کے اپنی تصویر کے تمام خط و خال واضح دکھائی دے رہے ت کے سیاسی عزائم کو اس حد تک عریاں کر دیا ہے کہ اب نہیں سکتی ۔ آج ہر صاحب فکر پاکستانی مرزائیت کے ایک پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں ہمارے ملک کے بہت سی لے دے ہوئی ہے۔ چوہدری صاحب پانچ رہے ہیں۔ اس عرصہ میں ان کی زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ سفری کے لئے انہوں نے کیا کیا؟
رہی ہے۔ اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پارلیمان کے کہا ہے کہ وہ اپنے وزیر خارجہ سے یہی سوال کرے۔ پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال سے آشنا لوگ چونکہ برطانوی اقتدار کا سایہ ہنوز ہم پر پر چھائیاں کر رہا ہے۔ اگر ایک طرف امریکہ اپنے ڈالروں سے دوسری طرف افغانستان کے سیاہ پہاڑ ہمیں بری
٢
نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے پتھریلے دلوں سے خوفناک ارادوں کا اظہار ہورہا ہے۔ اگر کشمیر کے برفانی پہاڑوں سے سرد ہواؤں کے جھونکوں کی کبھی کبھار توقع تھی بھی تو ان کا رخ بھی آج بھارت کی طرف ہے۔ باقی رہا روس تو بحیثیت اسلامی ریاست کے ہمیں ایسے ملک سے ہمدردی کی کبھی توقع نہیں ہونی چاہئے جس کے لیڈر کہہ رہے ہوں کہ ہم نے خدا کو اپنے ملک سے پاؤں کی ٹھوکر سے نکال دیا۔ (معاذ اللہ )
جب ہمسایہ ملکوں کا یہ حال ہو تو ہر آنکھ اپنے ملک کے وزیر خارجہ کی طرف اٹھے گی اور ہونا بھی چاہئے ۔ جب کہ ملک کی حکومت نے یہ بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال دیا ہو۔ لیکن وہ ہیں کہ انہیں کفر کی تبلیغ سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ شاید میری گورنمنٹ کو یاد نہ ہو کہ جب ١٩٤٧ء میں چوہدری سر ظفر اللہ لیک سکس گئے ہیں تو ان دنوں عرب ڈیلی گیشن کا ایک تار مرزا بشیر الدین محمود کے نام آیا تھا۔ بقول اخبار الفضل لیک سکس ” مورخہ ٦ نومبر عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان ڈیلی گیشن کے لیڈر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرے رہنے کی اجازت دی۔
عرب ڈیلی گیشن کا جو تار انجمن احمدیہ لاہور کے دفتر میں موصول ہوا۔ اس میں لکھا ہے۔ اس سے ہمیں بے حد اطمینان ہوا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے عربوں کے مطالبہ کو بے حد تقویت حاصل ہوئی ۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٨؍نومبر ١٩٤٧ء)
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چوہدری سر ظفر اللہ حکومت پاکستان کی طرف سے لیک سکس گئے تھے تو پھر عرب ڈیلی گیشن کا تار حکومت پاکستان کے نام آنا چاہئے تھا نہ کہ مرزا بشیر الدین محمود کے نام۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ چوہدری سر ظفر اللہ نے عرب ڈیلی گیشن کو یقین دلایا ہوگا کہ میں تو اپنے لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اسی کے حکم سے یہاں مزید دنوں کے لئے ٹھہر سکتا ہوں ۔ ورنہ عرب ڈیلی گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجازت لینی چاہئے تھی ۔ نہ کہ قادیانی خلیفہ سے ۔
اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد ” الفضل“ میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ چوہدری سر ظفر اللہ نے واشنگٹن سے تار دیا ہے کہ مسٹر ٹرومین کے محل کے قریب احمدیہ جماعت کے دفتر کے لئے ایک بلڈنگ خرید لی گئی ہے۔ اگر مندرجہ بالا واقعات کی صحت سے انکار نہیں تو پھر اپنے ملک کے وزیر اعظم سے سوال کیا جاسکتا ہے۔
٣
آپ کو ان حالات کا علم ہے؟ اگر یہ ٹھیک ہے تو کیا اسلامی ریاست کے ایک وزیر کو بیرونی دنیا میں اپنے ملک کی نگرانی کے لئے مقرر کیا جاتا ہے یا کفر کی تبلیغ کے لئے؟ جب وزیر خارجہ اپنے فرض سے غافل ہو کر دوسرے ملکوں میں یہ کھیل کھیل رہے ہوں تو کل کلاں کو اگر پاکستان کو کسی بیرونی حملے کا احتمال ہو یا اس کے استحکام کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو خواجہ ناظم الدین کو بحیثیت وزیر دفاع کے چوہدری سر ظفر اللہ سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی خواجہ صاحب ایسا بھولا آدمی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ انہوں نے ڈالمیا کے ایک اخبار جس کا ایڈیٹر مرزائی ہے کے حوالہ سے پاک پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ہمارے وزیر خارجہ کی بڑی تعریف کر رہا ہے۔
محترم خواجہ صاحب ! اگر بھارت کے اخبارات یا بھارت کے لوگوں کی رائے ٹھیک ہے تو پھر کیا یہ بھی ٹھیک ہے؟
”بمبئی ١٥؍ جنوری بلٹز کے نامہ نگار کا بیان ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے ٢؍ جنوری کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا تھا۔ ابھی تک یہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔ مسٹر لیاقت علی اسے منظور کر لینا چاہتے تھے۔ لیکن خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کی مداخلت پر یہ طے ہوا کہ لندن سے واپسی پر مصالحت کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ مسٹر لیاقت علی اور چوہدری ظفر اللہ میں کشمیر کے سوال پر شدید اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔“
(اخبار ویر بھارت مورخہ ١٧؍ جنوری ١٩٥١ء)
انہی دنوں اخبار زمیندار نے اپنے نامہ نگار نور الامین مقیم کراچی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی تھی کہ : ”مسٹر لیاقت علی خان کی واپسی پر وزارت خارجہ میں کوئی اہم تبدیلی ہونے والی ہے۔“
گو مجھے دشمن کی ایسی باتوں پر اعتماد نہیں۔ تاہم ویر بھارت کی مندرجہ بالا خبر پر ہماری گورنمنٹ نے کوئی تردیدی بیان پریس کو نہیں دیا۔ پریس خواہ اپنا ہو یا پرایا۔ اس کی قوت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ قوم اور گورنمنٹ دونوں کو ان پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور پھر آج کل تو جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ اس میں تو عوام پر اعتماد کرنا ہی پڑے گا۔ اس کے بغیر نہ گورنمنٹ ہی چل سکتی ہے اور نہ ملک کا امن ہی قائم رہ سکتا ہے۔ پریس عوام کا دوسرا نام ہے۔
مارچ کے آخری ہفتہ میں پاک پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں وزیر خارجہ چوہدری
اگر یہ ٹھیک ہے تو کیا اسلامی ریاست کے ایک وزیر کو مقرر کیا جاتا ہے یا کفر کی تبلیغ کے لئے؟
ے غافل ہو کر دوسرے ملکوں میں یہ کھیل کھیل رہے ہوں کا احتمال ہو یا اس کے استحکام کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو چوہدری سر ظفر اللہ سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ انہوں نے کے حوالہ سے پاک پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے بڑی تعریف کر رہا ہے۔ ت کے اخبارات یا بھارت کے لوگوں کی رائے ٹھیک
یہ گمان ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ج دیا تھا۔ ابھی تک یہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔ مسٹر لیاقت ناظم الدین گورنر جنرل کی مداخلت پر یہ طے ہوا کہ ئے گی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ مسٹر لیاقت علی اور چوہدری پیدا ہو چکے ہیں۔“
(اخبار ویر بھارت مورخہ ٧؍ جنوری ١٩٥١ء)
اپنے نامہ نگار نور الامین مقیم کراچی کے حوالہ سے یہ واپسی پر وزارت خارجہ میں کوئی اہم تبدیلی ہونے
نہیں۔ تاہم ویر بھارت کی مندرجہ بالا خبر پر ہماری دیا۔ پریس خواہ اپنا ہو یا پرایا۔ اس کی قوت سے انکار بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور پھر آج کل تو جمہوریت کا رکھے گا۔ اس کے بغیر نہ گورنمنٹ ہی چل سکتی ہے اور دوسرا نام ہے۔ پارلیمان کے حالیہ اجلاس میں وزیر خارجہ چوہدری
سر ظفر اللہ پر جو نکتہ چینی ہوئی اور اس پر پاکستان کے پریس نے جو کچھ لکھا ہو سکتا ہے مصروفیت کی بناء پر گورنمنٹ پاکستان کی نظروں سے وہ اخبار غیر ارادی طور پر اوجھل رہے ہوں۔ چنانچہ میں ان مضامین کو ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کر رہا ہوں۔ تاکہ انہیں دیکھنے اور پڑھنے کے بعد پاکستان گورنمنٹ کسی اچھے نتیجہ پر پہنچ سکے۔
جانباز مرزا! مورخہ ٤؍ اپریل ١٩٥٢ء، لائل پور
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
چوہدری ظفر اللہ برطانوی اثر واقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں
کراچی، ٢٧؍ مئی مصر کی خالص دینی تحریک الاخوان المسلمون کے رہنما السید علی المحمود مصری نے پاکستان کی خارجہ حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان اینگلو امریکی بلاک کو مضبوط بنا کر دنیائے اسلام کو برطانوی اقتدار کے بے رحم ہاتھوں میں سونپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چوہدری صاحب نے اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیائے اسلام کی خود مختاری کو ختم کر کے یہاں برطانوی اثر و رسوخ کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ چوہدری صاحب کی پالیسی نے بعض اہم مواقع پر اسلامی ممالک کے کاز کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مصر و برطانیہ کے نزاع کے موقع پر آپ نے دونوں کو قصور وار قرار دے کر ظالم و مظلوم کو ایک ہی رسی میں پرونے کی سعی کی ہے اور یہ پالیسی مصر کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اپنی جنگ آزادی کے لئے مصر کو دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک پاکستان سے جس امداد کی توقع تھی۔ افسوس کہ وہ محض چوہدری صاحب کی برطانیہ نواز پالیسی کے باعث پوری نہ ہوسکی۔
(اخبار آزاد لاہور مورخہ ٣١؍ مئی ١٩٥٢ء)
آل پارٹیز مسلم کنونشن میں محمد ہاشم گزدر رکن مجلس دستور ساز پاکستان کی تقریر
جہانگیر پارک میں قادیانیوں کی کانفرنس سے پیدا شدہ صورتحال پر غور و خوض کے لئے اسلامیان کراچی کی آل مسلم پارٹیز کنونشن مورخہ ٢؍ جون تھیوسافیکل ہال میں منعقد ہوئی۔ جس میں کراچی کے تمام مسلم فرقوں کے مقتدر علماء شہر کی تمام اسلامی انجمنوں اور اداروں کے ذمہ دار ٥
عہدہ داروں نے شرکت فرمائی۔ اس کنونشن میں شریک ہونے والے ٧٥ علماء کرام اور اکابرین ملت میں حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ، حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ، حضرت مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، حضرت مولانا محمد یوسف کلکتوی، حضرت مولانا قاضی احسان احمدؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا مفتی صاحبدادؒ، حضرت مولانا ظفر احمد انصاریؒ، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا بشیر احمد جمالی، جناب سلطان احمد امیر جماعت اسلامی، جناب محمد ہاشم گزدر ممبر دستور ساز اسمبلی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس اجتماع میں پیش شدہ قرار دادوں پر مختلف علماء کے اظہار خیال کے بعد جناب محمد ہاشم صاحب گزدر ممبر مجلس دستور ساز پاکستان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تمام قراردادوں اور حضرات علمائے کرام کے خیالات سے کلی اتفاق کا اظہار کیا۔ آپ نے فرمایا: ”جب چوہدری سر ظفر اللہ خان کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کے لئے لیک سکس گئے ہوئے تھے۔ ان دنوں میں بھی وہاں موجود تھا۔ وہاں لابی حلقوں میں مشہور تھا کہ سر ظفر اللہ خان وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو ہندوستان چاہتا ہے۔ چنانچہ میں نے اسی روز تمام احوال سے حکومت پاکستان کے ایک منسٹر کو مطلع کر دیا کہ یہاں کے لابی حلقوں میں ایسی خبریں مشہور ہیں۔
اس کے بعد میں نے تمام ممالک کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔
آپ نے فرمایا چوہدری سر ظفر اللہ کے انگریزوں اور ہندوؤں سے گہرے مراسم ہیں اور ان کے امیر خلیفہ محمود کے بھی اسی نوعیت کے الہامات ہیں۔ سر ظفر اللہ قادیانی پاکستان سے زیادہ اپنے امام مرزا بشیر الدین محمود کے وفادار ہیں اور اپنے امام کی ہدایات کے مقابلہ میں حکومت پاکستان کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ اس لئے مرزائی افسران اور سر ظفر اللہ پر ایک لمحہ کے لئے بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور اس لئے مرزائی افسروں کو کلیدی آسامیوں سے فوراً علیحدہ کر دینا چاہئے۔ آپ نے فرمایا۔ مرزائی افسروں کا ہمیشہ سے یہ عمل رہا ہے کہ جب تک کوئی مسلمان مرتد نہ ہو جائے۔ اس وقت تک اسے ملازمت نہیں دی جاتی اور کوئی کسی نہ کسی طریقہ سے ملازم ہو بھی جائے تو پھر اس کی ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ آپ نے فرمایا میرے کئی دوست محض معمولی دنیاوی فوائد کے لئے مجبورا قادیانی ہو گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا پاکستان میں جو شخص اکھنڈ ہندوستان کے نعرے لگاتا ہے۔ وہ ملک کا دشمن ہے اور ہماری بد قسمتی
٦
ہے کہ اس وقت اکھنڈ ہندوستان کا عقیدہ رکھنے والے مرزائی ملک کے ٧٠ فیصدی کلیدی اسامیوں پر فائز ہیں اور خدانخواستہ اگر کسی وقت جنگ ہوگئی تو نہ معلوم پھر ہمارا کیا حال ہوگا اور ان افسروں کی پوزیشن کیا ہوگی۔
آپ نے فرمایا۔ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا تھا۔ مگر پاکستان کی مجلس دستور ساز میں جب بھی کوئی اسلامی بل پیش ہوتا ہے۔ سر ظفر اللہ اس بل کی مخالفت کرتا ہے۔ چنانچہ جب مسٹر اشتیاق حسین قریشی نے جمعہ کے روز تمام ملک میں ایک خطبہ ہونے کا بل پیش کیا تو چوہدری سر ظفر اللہ نے ڈیڑھ گھنٹہ اس کی مخالفت میں تقریر کی اور وہ بل محض اس لئے نہ پیش ہوسکا کہ احمدیوں کو اس سے اختلاف ہے اور وہ اپنی مرضی کا خطبہ دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ بل آئندہ اجلاس کے لئے ملتوی کر دیا گیا اور آج تک پھر پیش نہ ہوسکا۔ اس طرح ہمارے کئی اسلامی قانون محض سر ظفر اللہ کی وجہ سے مسترد ہوگئے ہیں۔
آپ نے فرمایا میں جمہور المسلمین کی طرح مرزائیوں کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ کیونکہ مرزائی ہم مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب یہ ملک ہم مسلمانوں نے اسلام کے لئے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے تو پھر مرزائیوں کو اس ملک میں اسلام کش حرکات کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے اور ان کی سرگرمیاں کس طرح برداشت کی جاسکتی ہیں۔ آپ نے فرمایا: پاکستان میں فتنہ قادیانیت کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں کا آپس میں اتحاد اشد ضروری ہے اور آپس کے اتحاد کے بغیر اس فتنہ کو کسی صورت میں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے اپنے مسلم وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
آپ لوگوں نے یہ کرسیاں اسلام کے نام پر حاصل کی ہیں اور اگر آپ لوگ ان کرسیوں پر بیٹھا رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسلام کی حفاظت و خدمت کرنی ہوگی۔‘‘
(روزنامہ آزاد مورخہ ١٢؍ جون ١٩٥٢ء)
وزارت خارجہ اور کشمیر
”پاکستان کے وزیر خارجہ نے اگر پارلیمان میں یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو جلد سے جلد حل کرانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ لیکن وہ اس سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے کہ اگر پرامن ذرائع ناکام رہے تو قضیہ کشمیر کو نپٹانے کی کیا صورت ہوگی؟ انہوں نے کہا ہے میں اس مرحلہ پر کشمیر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار نہیں
٧
کرنا چاہتا۔ کیونکہ یہ سوال ابھی ڈاکٹر گراہم کے زیر غور ہے۔ تاہم میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت پاکستان اس مسئلہ کو پرامن ذرائع سے حل کرانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ اگر پرامن ذرائع ناکام رہے تو حکومت پاکستان کیا رستہ اختیار کرے گی؟ اس کے جواب کا انحصار حالات پر ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت پاکستان پرامن ذرائع کو ناکام کب خیال کرے گی؟ کیا اس وقت جب غلام کشمیر کا نام نہاد دستور ساز اسمبلی الحاق کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہوگی؟ جب بھارت پورے کشمیر کو ہڑپ کر چکا ہوگا؟ جب پاکستان کو اچانک ایک دن یہ محسوس ہوگا کہ وہ بین الاقوامی سیاست کے میدان میں بے یارومددگار رہ گیا ہے اور پوری اقوام متحدہ میں اس کا ایک بھی ہمنوا نہیں رہا؟ اگر نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ:
- ١.......اقوام متحدہ کو کشمیر کے مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی اور اس کا ثبوت یہ ہے
کہ اوّل تو جب بھارت نے ڈیوڑز پلان کو مسترد کر دیا تو ڈاکٹر گراہم نے کوئی متبادل فارمولا پیش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دوسرے جن اقوام کا U.N.O پر قبضہ ہے۔ ان کی دلچسپی کا مرکز جنوب مشرقی ایشیاء سے بدل کر اب شرق الاوسط اور یورپ قرار پا چکا ہے۔ اس لئے وہ کشمیر کے مسئلہ کو تیسری جنگ کے آغاز تک بہ آسانی ٹال سکتے ہیں۔
- ٢.......بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ریاست جموں و کشمیر میں اپنے
پاؤں پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ جمانا شروع کر دیئے ہیں۔ چنانچہ شیخ عبداللہ کی نام نہاد دستور ساز اسمبلی اسی مقصد کے تحت مصروفِ عمل ہے۔ مانا کہ اب تک پوزیشن یہ ہے کہ غلام کشمیر کی نام نہاد دستوریہ کا یہ فیصلہ سیکورٹی کونسل کی کاروائی پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ لیکن کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں یکدم تغیر رونما ہو جائے۔ جس کے بعد U.N.O کے لئے یہ ممکن ہی نہ رہے کہ وہ نام نہاد دستوریہ کے فیصلہ کو مسترد کر سکے۔
- ٣.......کراچی کے سیاسی حلقوں نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر گراہم کے مشن کی
ناکامی میں کوئی پراسرار ہاتھ کام کر رہا ہے۔ چنانچہ اب یہ خیال عام ہو چکا ہے کہ بھارت اور امریکہ میں کوئی خفیہ معاہدہ طے پایا ہے۔ جس کے نتیجہ میں امریکہ بھارتی مؤقف کی تائید کرنے پر مجبور ہے۔ ممکن ہے اس خیال کی تردید بھی ہو جائے۔ تاہم اگر اس نوازش پیہم کو دیکھا جائے۔ جس ارش امریکہ کی جانب سے بھارت پر ہو رہی ہے تو یہ قیاس آرائی بلاوجہ بھی معلوم نہیں ہوتی۔
٨
اس کی تصدیق اس مکتوب سے بھی ہوتی ہے جو نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار مقیم کراچی نے اپنے اخبار میں درج کرایا ہے اور جس کا حوالہ ڈان کے سیاسی نامہ نگار نے بھی دیا ہے۔ اس مکتوب میں نامہ نگار لکھتا ہے: ”امریکہ نے بالآخر فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کے لئے پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کو مستحکم کرنا اور اپنے ساتھ ملانا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔“
اگر حکومت پاکستان کو ان تمام حقائق و واقعات کا علم ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں کب تک مبتلا رہے گی کہ مسئلہ کشمیر کو اب بھی پرامن ذرائع سے حل کرنا ممکن ہے؟
جہاں تک ہمیں یاد ہے۔ پاکستان کے اکابر ایک سے زائد مرتبہ اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کے نقطہ نگاہ سے سکیورٹی کونسل کا وہ اجلاس جو گذشتہ جنوری میں منعقد ہوا آخری ہے۔ اس کے بعد پاکستان اگلا قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ لیکن کیا تین مہینے کا تجربہ ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکا کہ کشمیر کے معاملہ میں اقوام متحدہ پر تکیہ رکھنا بے کار ہے۔
آخر حکومت پاکستان عوام سے یہ کب تک توقع رکھے گی کہ وہ کشمیر ایسے اہم اور قومی معاملہ کے سلسلہ میں برابر صبر و تحمل کا ثبوت دیتے رہیں؟ پاک پارلیمان میں بعض ارکان نے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کی ذات کو بھی مسئلہ کشمیر کے تصفیہ میں تاخیر و تعویق کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور ہمارے نزدیک یہ الزام بے بنیاد نہیں ہے۔ میاں افتخار الدین نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو موضوع تنقید بناتے ہوئے کہا ہے: ”دوسرے وزراء سے تو میں یہ کہوں گا کہ اگر وہ حکومت کی پالیسی کو غلط سمجھتے ہیں تو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔ لیکن سر ظفر اللہ کے معاملے میں جنہوں نے بیس برس تک اپنے برطانوی آقاؤں کی وفادارانہ طور پر خدمت کی ہے۔ میں حکومت اور عوام سے مطالبہ کروں گا کہ انہیں سبکدوش کر دیا جائے۔ وہ برطانی حکومت کے دیرینہ کاسہ لیس ہیں اور خوشامد تملق ان کا ہمیشہ نصب العین رہا ہے۔
میاں افتخار الدین اگر پاکستان کی موجودہ حکومت کو انگریز کا پٹھو قرار دیتے رہتے ہیں تو اس کا سبب ان کی غیر معمولی روس نوازی ہے۔ تاہم چوہدری ظفر اللہ خان کے متعلق انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ مبالغہ آمیز نہیں ہو سکتا۔ چوہدری ظفر اللہ خان اپنے مذہبی عقائد کی بناء پر بھی انگریز کو اپنا آقا و مولا سمجھنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ یہ واقعہ ہے کہ ڈپلومیسی کے میدان میں وہ آج تک کامیاب نہیں ہو سکے۔ الحاج خواجہ ناظم الدین نے ان کی سیاسی فتوحات کے ثبوت میں بھارت کے ایک انگریزی اخبار کا حوالہ دیا ہے۔ اوّل تو جس شخص کی تعریف میں ڈالمیا کا اخبار رطب
٩
انسان ہے۔ اس کا سیاسی کردار غیر مشکوک نہیں ہو سکتا۔ دوسرے اگر عرب ممالک کے نمائندوں نے چوہدری ظفر اللہ کی تعریف کی ہے تو اس کی وجہ ان کے ممدوح کی ذاتی صلاحیت نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں۔ پاکستان دنیائے اسلام میں ایک نئی قوت بن کر ابھرا ہے۔ اس لئے وہ قدرتی طور پر دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی نمائندگی کے فرائض چونکہ چوہدری ظفر اللہ کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ اس لئے جو خراج تحسین دراصل پاکستان کو ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے مستحق چوہدری ظفر اللہ خان بن جاتے ہیں۔ بہر حال یہ واقعہ ہے کہ اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی ابھی تک مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکی تو اس کا حقیقی سبب ظفر اللہ خان کی ذات ہے۔ جس کی خوش عقیدگی کا دامن برطانیہ سے بندھا ہوا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اگر پاکستان کشمیر کے مسئلہ کو پر امن ذرائع سے حل کرنے کا متمنی ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس وقت تک نظر ثانی نہیں ہو سکتی۔ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان کو موجودہ عہدے سے سبکدوش نہیں کیا جاتا۔“
(ایڈیٹوریل، زمیندار مورخہ ٣١/ مارچ ١٩٥٢ء)
کوتاہیاں اور سہل انگاریاں
”معاصر محترم زمیندار نے پاکستان کی قومی پالیسی اور اس کے آئین پر اپنے افتتاحیہ میں آج تبصرہ کیا ہے۔ معاصر نے لکھا ہے کہ : ”اگر چہ پاک پارلیمان نے برسر اقتدار پارٹی کے غیر نمائندہ ارکان کی اکثریت کے بل بوتے پر اس معاشی اور مالی لائحہ عمل پر مہر ثبت کر دی ہے جس کا خاکہ بجٹ کی تقریر میں کھینچا گیا تھا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر ان تمام نکتہ چینیوں کا مکمل غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے جن کا تختہ مشق حکومت پاکستان کی حکمت عملی کو بنایا گیا تو ایک ہی نتیجہ پر پہنچنا پڑتا ہے کہ جہاں تک قومی پالیسی کا تعلق ہے۔ اس کی بنیاد ہی دکھائی نہیں دیتی۔“
بے شک ہمیں معاصر کی اس رائے سے پورا اتفاق ہے کہ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے۔ حکومت پاکستان کے ہاں قومی پالیسی کی بظاہر کوئی بنیاد دکھائی نہیں دیتی اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اس کا داخلی اور خارجی نظام کار پہلے کے کسی سوچے سمجھے ہوئے لائحہ عمل پر نہیں چل رہا۔ باقی رہا یہ سوال کہ چونکہ پاک پارلیمنٹ میں برسر اقتدار پارٹی کے ارکان غیر نمائندہ ہیں۔ اس لئے ان کی اکثریت کے بل بوتے پر جو معاشی اور مالی لائحہ عمل منظور ہوتا ہے۔ وہ قومی پالیسی کا آئینہ دار نہیں ہو سکتا تو یہ ایک ایسی بات ہے جو میاں افتخار الدین آئے دن پاک پارلیمنٹ میں
١٠
نہیں ہوسکتا۔ دوسرے اگر عرب ممالک کے نمائندوں اس کی وجہ ان کے ممدوح کی ذاتی صلاحیت نہیں بلکہ یہ پاکستان دنیائے اسلام میں ایک نئی قوت بن کر ابھرا ہے۔ طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ بدقسمتی چوہدری ظفر اللہ کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ اس لئے جو تا ہے۔ اس کے مستحق چوہدری ظفر اللہ خان بن جاتے کی خارجہ پالیسی ابھی تک مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ت ہے۔ جس کی خوش عقیدگی کا دامن برطانیہ سے بندھا کشمیر کے مسئلہ کو پر امن ذرائع سے حل کرنے کا متمنی ہے تو لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس وقت تک نظرثانی ان کو موجودہ عہدے سے سبکدوش نہیں کیا جاتا۔‘‘
(ایڈیٹوریل، زمیندار مورخہ ٣١/مارچ ١٩٥٢ء)
پاکستان کی قومی پالیسی اور اس کے آئین پر اپنے افتتاحیہ کہ: ”اگرچہ پاک پارلیمان نے برسر اقتدار پارٹی کے پر اس معاشی اور مالی لائحہ عمل پر مہر ثبت کر دی ہے جس تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر ان تمام نکتہ چینیوں کا مکمل ومحقق حکومت پاکستان کی حکمت عملی کو بنایا گیا تو ایک ہی کا تعلق ہے۔ اس کی بنیاد ہی دکھائی نہیں دیتی۔‘‘
نے سے پورا اتفاق ہے کہ جہاں تک موجودہ حالات کا پالیسی کی بظاہر کوئی بنیاد دکھائی نہیں دیتی اور یوں معلوم ور پہلے کے کسی سوچے سمجھے ہوئے لائحہ عمل پر نہیں چل میں برسر اقتدار پارٹی کے ارکان غیر نمائندہ ہیں۔ اس اشی اور مالی لائحہ عمل منظور ہوتا ہے۔ وہ قومی پالیسی کا ہے جو میاں افتخار الدین آئے دن پاک پارلیمنٹ میں
١٠
کہتے رہتے ہیں اور اسی بناء پر وہ اپنے کو پاکستان کے ٩٠ فیصد عوام کا نمائندہ کہتے نہیں تھکتے۔
معاصر محترم نے سب سے پہلے پاکستان کی خارجی پالیسی پر تنقید فرمائی ہے۔ معاصر کے الفاظ میں : ”خارجہ حکمت عملی کی مدافعت میں وزیر متعلقہ نے جو تقریر کی ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے جن ہدایات کو عملی جامہ پہنایا وہ کسی اصول یا ضابطے پر مبنی نہیں ہیں۔“
بلکہ معاصر کے نزدیک ”چونکہ تقسیم سے پہلے بھی ان کو وزارت خارجہ کی گدی پر بیٹھنے کا موقعہ ملا۔ اس لئے وہ اب بھی اس پر قابض رہنے کے حق دار ہیں اور خارجہ مسائل کے تصفیہ کے لئے انہوں نے جو راہ اختیار کی ہے۔ وہ چونکہ ان کی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق بہترین ہے۔ اس لئے پاکستان کے عوام کو بھی اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔“
معاصر موصوف کے ان الفاظ سے ممکن ہے خود وزیر خارجہ پاکستان تو شاید اختلاف کریں۔ لیکن جہاں تک پاکستان کے فہمیدہ طبقوں کا تعلق ہے۔ ان کا ایک فرد بھی اس سے اختلاف نہیں کرے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ کی خارجی پالیسی ہر لحاظ سے ناکام ہو چکی ہے۔ ہم نے اینگلو امریکی بلاک سے ضرورت سے زیادہ دوستی کے تعلقات بڑھائے۔ لیکن اس دوستی سے ہمیں فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہوا۔ کیونکہ اس سے بھارت کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی اور اسے اس بلاک نے منہ مانگی قیمت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور جیسا کہ ڈان نے پچھلے دنوں لکھا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی اینگلو امریکی بلاک اب بھارت کی طرف جھک رہا ہے۔
ہم نے اسلامی بلاک بنانے کا نعرہ لگایا اور گذشتہ چار سالوں میں لاکھوں روپیہ ہوگا جو اسلامی ملکوں کے نمائندوں کو کراچی کی کانفرنسوں میں بلانے پر صرف کر دیا۔ لیکن اس سے بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا اور تو اور زیادہ دن نہیں ہوئے کہ ہمارے وزیر خارجہ پیرس سے واپسی پر انقرہ، بیروت، دمشق اور قاہرہ تشریف لے گئے اور قاہرہ میں اسلامی ملکوں کو متحد کرنے کے متعلق انہوں نے ایک بیان بھی دیا تھا۔ اس کے بعد کراچی میں آ کر اسلامی ملکوں کی ایک مشاورتی کونسل کی تشکیل کا اعلان بھی کیا اور اس ضمن میں یہ خبر بھی چھپی کہ اپریل میں تمام اسلامی ملکوں کی حکومتوں کے نمائندے کراچی میں آ رہے ہیں۔ لیکن تین چار دن ہوئے ڈان میں ترکی کے ایک مشہور اخبار وطن کے ایڈیٹر کا ایک خط چھپا ہے۔ جس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سخت اعتراضات کئے گئے
١١
ہیں ۔ بلکہ ترکی اخبار نویسوں کا ایک وفد جو آج کل بھارت میں گھوم رہا ہے۔ اس کے بعض ارکان نے بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کی ہے اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلامی ملکوں میں سے ترکی ہماری خارجہ پالیسی سے متفق نہیں ہے اور ظاہر ہے ترکی کے بغیر اسلامی ملکوں کے اتحاد کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے۔
قاہرہ کی تازہ خبر ہے کہ عرب لیگ کے ارکان نے بھی چوہدری ظفر اللہ خان کی تجویز کہ وہ اسلامی ملکوں کی مشاورتی کونسل کے متعلق زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ ان میں سے بعض اس اقدام کو کچھ اور معنی پہنا رہے ہیں اور مصر و شام و لبنان تو خاص طور پر اس قسم کی مشاورتی کونسل کے خلاف ہیں۔
یہ تو ہوا ہمارے وزیر خارجہ کی گذشتہ چار سال کی سیاسی سرگرمیوں کا انجام۔ جو ظاہر ہے اچھا خاصہ حسرت ناک ہے۔ چنانچہ اس کے بارے میں معاصر محترم زمیندار کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ: ”پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کسی اصول یا ضابطے پر مبنی نہیں ہے۔“
اس کے بعد قومی زبان کا مسئلہ آتا ہے۔ اس معاملے میں ایک طرف مسٹر نورالامین نے جس عدم تدبر، بے صبری اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اپنی جگہ کچھ کم قابل افسوس نہیں اور دوسری طرف پاکستان کی مرکزی حکومت جس تذبذب میں مبتلا ہے۔ وہ اچھا خاصہ تکلیف دہ ہے۔
ایک اور مسئلہ شہری آزادی کا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک صوبے میں اخبار تک نکالنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور جو کوئی زبان اعتراض کھولے۔ اسے سیفٹی ایکٹ میں دھر لیا جاتا ہے اور دوسرے صوبے میں تقریر کی بھی آزادی ہے اور تحریر کی بھی۔ حالانکہ دونوں صوبوں میں مسلم لیگ کی وزارتیں ہیں۔ جو قانوناً اور عملاً مرکزی مسلم لیگ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اب اگر پاکستان ایک وحدت ہے اور اس پر ایک ہی سیاسی جماعت مسلم لیگ کی حکومت ہے تو ضروری ہے کہ جہاں تک نظم ونسق کے بنیادی اصول ہیں۔ ان میں تمام صوبائی حکومتیں زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہوں اور یہ نہ ہو کہ ایک صوبے میں تو نادر شاہی ہو اور دوسرے صوبے میں جمہوریت پر تقریریں کی جائیں۔ اس سلسلے میں معاصر زمیندار کا یہ کہنا بالکل بجا ہے۔
”ابھی تک اتنا بھی طے نہیں ہوسکا کہ ہمارا ملک کس حد تک آزاد ہے اور اسے تحریر و تقریر کے معاملے میں اپنے عوام کو کس حد چھوڑ دینا ہے۔“
اور سب سے بڑا معاملہ آئین کا ہے۔ چار سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا۔ لیکن اب تک
١٢
جو آج کل بھارت میں گھوم رہا ہے۔ اس کے بعض ارکان گئی کی ہے اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلامی ملکوں متفق نہیں ہے اور ظاہر ہے ترکی کے بغیر اسلامی ملکوں کے
ب لیگ کے ارکان نے بھی چوہدری ظفر اللہ خان کی تجویز کے متعلق زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ ان میں سے ہیں اور مصر و شام و لبنان تو خاص طور پر اس قسم کی مشاورتی
ی گزشتہ چار سال کی سیاسی سرگرمیوں کا انجام۔ جو ظاہر ہے ں کے بارے میں معاصر محترم زمیندار کا یہ ارشاد بالکل بجا اصول یا ضابطے پر مبنی نہیں ہے۔‘‘
مسئلہ آتا ہے۔ اس معاملے میں ایک طرف مسٹر نورالامین ی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اپنی جگہ کچھ کم قابل افسوس نہیں اور ی جس تذبذب میں مبتلا ہے۔ وہ اچھا خاصہ تکلیف دہ ہے۔ گا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک صوبے میں اخبار تک کوئی زبان اعتراض کھولے۔ اسے سیفٹی ایکٹ میں دھر لیا بھی آزادی ہے اور تحریر کی بھی۔ حالانکہ دونوں صوبوں میں اور عملاً مرکزی مسلم لیگ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اب اگر ت ہی سیاسی جماعت مسلم لیگ کی حکومت ہے تو ضروری ہے مل ہیں۔ ان میں تمام صوبائی حکومتیں زیادہ سے زیادہ ہم ائیں تو نادر شاہی ہو اور دوسرے صوبے میں جمہوریت پر صر زمیندار کا یہ کہنا بالکل بجا ہے۔ ق ہوسکا کہ ہمارا ملک کس حد تک آزاد ہے اور اسے تحریر حد چھوڑ دینا ہے۔‘‘
ئین کا ہے۔ چار سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ لیکن اب تک
١٢
پاکستان کا آئین نہیں بنا۔ حالانکہ استحکام پاکستان کے لئے سب سے ضروری چیز آئین کا بنانا تھا۔ بقول معاصر زمیندار کے: ’’اگر آئین موجود ہوتا تو افتراق و تشتت کی گنجائش ہی کہاں تھی۔‘‘ آئین کی تکمیل کے سلسلے میں بارہا وعدے کئے گئے۔ لیکن اب تک ایک وعدہ بھی ایفا نہیں ہوا اور آئین کا معاملہ ہے کہ برابر ٹلتا جارہا ہے۔ ایک نیا ملک جس نے بڑی جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی ہو۔ چار سال سے زیادہ عرصہ ہو جائے اور اس کا آئین نہ بنے اور اس پر اسی پرانے آئین کے مطابق حکومت ہو جو اجنبی تسلط کی یادگار ہے۔ اس سے زیادہ افسوس ناک بات اور کیا ہوسکتی ہے۔
خارجہ پالیسی کا کسی واضح اصول پر مبنی نہ ہونا، قومی زبان کے معاملے میں مرکزی حکومت کا کوئی مثبت اقدام نہ کرنا، شہری آزادی کے معاملے میں کسی معین ضابطے کا عدم تعین اور سب سے زیادہ یہ کہ آئین کا نہ بنانا یہ ایسی چیزیں ہیں۔ جن کی وجہ سے پاکستان کی قومی پالیسی کا تعین نہیں ہورہا اور پاکستان کے مختلف حصوں میں ایک عام افراتفری پھیل رہی ہے۔ ضرورت ہے جیسا کہ معاصر زمیندار نے لکھا ہے کہ: ’’اس معاملے میں پنجاب اس نخل آزادی کو افتراق و انتشار کی ہولناک آندھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کمربستہ ہو جائے اور قومی پالیسی کو وضع کرنے میں نمایاں حصہ لے۔‘‘
پنجاب پاکستان کا صرف بازوئے شمشیر زن نہیں بلکہ وہ اس کا دل اور دماغ بھی ہے اور خوش قسمتی سے پنجاب میں نہ قومی زبان کا جھگڑا ہے اور نہ پختونستان کا اور پاکستان کے اصول ومقاصد سے پنجاب کو سب سے زیادہ وابستگی بھی ہے۔ پنجاب کا بحیثیت پاکستان کے ایک اہم حصہ ہونے کا فرض ہے کہ وہ مرکز کو اس اہم ضرورت کی طرف متوجہ کرے اور اسے ایک واضح اور مثبت قومی پالیسی بنانے پر مجبور کرے۔‘‘
(افتتاحیہ آفاق مورخہ ٣؍اپریل ١٩٥٢ء)
ڈاکٹر گراہم پھر ناکام ہو گئے
’’ڈاکٹر گراہم ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے اور ان کو ناکام ہونا ہی تھا۔ یہ بات پہلے روز سے معلوم تھی۔ بجز ہمارے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کے جنہوں نے ڈاکٹر گراہم کے تقرر کی اطلاع سنتے ہی پیش گوئی فرمائی تھی کہ اس مرتبہ ڈاکٹر گراہم کامیاب ہوں گے۔ قادیانی الہامات کی طرح چوہدری صاحب کا یہ ٹیوا بھی غلط ثابت ہوا۔ چوہدری صاحب ان لوگوں میں ہیں جو ہر گورے کو لیفٹیننٹ گورنر سمجھتے ہیں اور اس کی مافوق الفطرت صلاحیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
١٣
لیکن جو لوگ ”الہامات“ پر نہیں بلکہ حقائق پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ پہلے روز سے جانتے تھے کہ ڈاکٹر گراہم کی کامیابی مشتبہ ہے۔
سلامتی کونسل نے ڈاکٹر گراہم کو دوبارہ اس لئے پاکستان اور بھارت کا سفر اختیار کرنے پر مقرر کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین استصواب کشمیر کے سلسلے میں دو قابل حل مسائل پر گفتگو کریں۔ اوّل یہ کہ غیر جانبدارانہ استصواب کا ماحول تیار کرنے کے لئے متارکہ جنگ کی سرحدوں کے دونوں طرف دونوں ملکوں کی فوجوں کا تناسب کیا ہو۔ وہ چاہتے تھے۔ بھارت اس پر رضامند ہو جائے کہ یہ تناسب ١٢ اور ١٠ کا ہو اور دوسرے یہ کہ بھارت ناظم استصواب کے تقرر کو منظور کرلے۔ لیکن بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے دونوں تجویزوں کو نامنظور کردیا اور حالات کی گاڑی اسی جگہ کھڑی ہے۔ جہاں ڈاکٹر گراہم کی تشریف آوری سے پہلے تھی۔ ناکامی کے وجوہ کی تلاش کے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بھارت کے ارباب اختیار جانتے ہیں کہ استصواب میں ان کے مقاصد کی موت ہے۔ اس لئے وہ کوئی ایسی شرط قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ جس سے استصواب کے انعقاد کی نوبت آئے۔ ان کو سلامتی کونسل کے طرز عمل سے بھی شہ ملتی ہے۔ جو اس مسئلے کو ٹالتی چلی آرہی ہے اور اس کو عدل وانصاف کے نقطۂ نگاہ سے حل نہیں کرتی۔ بلکہ سیاسی اور قومی اغراض کو پیش نظر رکھتی ہے۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے۔ بجز ہمارے چوہدری ظفر اللہ خان کے بھارت کو معلوم ہے کہ یہ معاملہ جتنا ملتوی ہوتا رہے۔ اتنا ہی اس کا فائدہ ہے۔ کشمیر کا دل وجگر اس کے قبضے میں ہے۔ اگر موجودہ صورتحال بھی برقرار رہے تو اسی کی جیت ہے اور یہ صورتحال انکار مصالحت ہی سے برقرار رہ سکتی ہے۔
ہمارے وزیر خارجہ کا حسن عقیدت بھی جو وہ سلامتی کونسل کے نمائندوں کے تدبر، حسن نیت، صلاحیت کار اور کامیابی کے بارے میں ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اس میں حصہ دار ہے اور جب تک اس مسئلے کو سلجھانے کے لئے وہ مامور رہیں گے۔ حالات بگڑتے ہی جائیں گے۔
جب تک پاکستان کی طرف سے سلامتی کونسل اور اس کے نمائندوں کو پیشگی سند اعتبار اور ہدیۂ عقیدت ملتا رہے گا۔ مجلس اقوام متحدہ ہندوستان کی ناز برداری میں مبتلا رہے گی۔ یہ وہی صورتحال ہے جس پر برہم ہوکر مسٹر لیاقت علی خان مرحوم نے ازراہ طعن کہا تھا کہ برطانیہ ہم کو گھڑے کی مچھلی اور گھر کی مرغی سمجھتا ہے۔ جب ہم ہر حال میں سلامتی کونسل اور اس کے نمائندوں سے خوش ہیں تو وہ بھارت کو ناراض کرنے والا کوئی قدم کیوں اٹھائیں۔“
(روزنامہ تسنیم لاہور مورخہ ٢٧؍ مارچ ١٩٥٢ء)
١٤
خارجہ حکمت عملی
”پارلیمینٹری طرز حکومت میں غالباً انوکھی بات یہ ہے کہ پاکستان پارلیمنٹ کے اراکین کو تین سال تک وزیر خارجہ کے خیالات سننے اور ان کی موجودگی میں خارجہ حکمت عملی پر بحث کرنے کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔ نائب یا قائم مقام وزیر خارجہ ان کی طرف سے وکالت کرتے رہے اور خود وزیر خارجہ یورپ یا امریکہ میں مقیم رہے۔ دوسرے ممالک میں پاکستان کی ترجمانی اور اس کی تشہیر کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ لیکن تقریباً ہر ملک میں پاکستانی سفیر اور اتحادی قوموں میں پاکستان کے مستقل اور متبادل مندوب موجود ہے۔ جن کے تقرر کا واحد مقصد یہ ہے کہ ہر جگہ پاکستانی موقف کی ترجمانی ہو سکے۔ ان کے ذریعے وزیر خارجہ پاکستان میں رہ کر بھی وہی کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ جن کے لئے وہ طویل مسافت کی زحمت اٹھاتے ہیں۔ ملک میں ان کی موجودگی اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اراکین اور عوام کے خیالات و جذبات سے براہ راست آگاہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ملک سے دوری کی صورت میں وہ اس رعایت سے محروم رہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ خارجہ حکمت عملی بین الاقوامی صورت حال کی روشنی میں تیار کی جاتی ہے۔ لیکن کسی جمہوری ملک کا وزیر خارجہ اس معاملے میں اپنے عوام کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وزیر خارجہ کسی مسئلے پر ذاتی رائے کا اظہار نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے الفاظ پوری قوم کے نظریات کہلاتے ہیں۔ اس لئے عوام اور وزیر خارجہ کے درمیان براہ راست تعلق انتہائی ضروری ہے۔ شاید اسی قرب کا فیضان ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ نے اینگلو مصری تنازعہ کے بارے پہلی بار ارشاد فرمایا ہے کہ پاکستان اینگلو مصری تنازعہ میں ایسے سمجھوتے کا حامی ہے جو مصری عوام کے لئے تسلی بخش ہو۔ ورنہ اس سے پہلے وہ اسی تنازعہ کے بارے میں ہمیشہ پاکستان کی غیر جانبداری پر زور دیتے رہے۔ اس پر پاکستان کے عوام اور بیشتر اخبارات زبردست احتجاج کر چکے ہیں۔ کیونکہ ظالم و مظلوم کے درمیان غیر جانبداری ہمیشہ ظالم کے حق میں مفید رہتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے ایران کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ”ہم نے ایران کے اس حق کو منوانے کی کوشش کی کہ وہ تیل کی صنعت کو قومی ملکیت قرار دے سکتا ہے۔“ وزیر خارجہ کے نظریات میں یہ تبدیلی بیحد امید افزاء ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اینگلو ایرانی تنازعہ میں عالمی بنک کی ثالثی کی تجویز پیش کر کے اپنے تازہ ارشاد کی ترجمانی نہیں کی۔ کیونکہ قومی ملکیت کا حق تسلیم کرنے کے بعد ثالثی کی گنجائش نہیں رہتی اور پھر عالمی بنک کی ثالثی جو بالواسطہ امریکہ اور برطانیہ کی ثالثی کا درجہ رکھتی۔ کسی صورت
١٥
میں قابل قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت اس ثالثی کو مسترد کر چکی ہے۔ وزیر خارجہ کے تازہ بیان کی روشنی میں پاکستانی سفیر متعینہ ایران کے فرائض میں تبدیلی ہونا چاہئے۔ انہوں نے پچھلے دنوں فرمایا تھا کہ تیل کے مذاکرات میں، میں صرف قاصد کی حیثیت رکھتا ہوں۔ جو طرفین کی تجاویز دیکھے بھالے بغیر ایک دوسرے تک پہنچا دیتا ہے۔ ہمارے خیال میں پاکستانی سفیر کو اب یہ کام ایران کے کسی ڈاک گھر یا برطانیہ اور ایران کے اپنے اپنے قاصدوں کے سپرد کر دینا چاہئے اور اس کی بجائے ایران کے مطالبات منوانے کے لئے انہیں کوئی مؤثر اور مفید ذمہ داری اپنے سر لینا چاہئے۔
وزیر خارجہ نے فرمایا ہے کہ پاکستان مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لیبیا کی بھی مثال پیش کی ہے۔ لیکن جہاں تک ہمیں معلوم ہے۔ وزیر خارجہ نے لیبیا میں گورا فوج کے قیام کی ہرگز مخالفت نہیں کی۔ حالانکہ غیر ملکی فوج کی موجودگی میں لیبیا کی آزادی ادھوری رہ جاتی ہے۔ مسلم ممالک کے مسائل سے قطع نظر چوہدری صاحب نے دوسرے بین الاقوامی معاملات میں بھی لائق تحسین روش اختیار نہیں کی۔ انہوں نے صلح نامہ جاپان پر دستخط کر کے جاپان میں امریکی فوج کا قیام تسلیم کر لیا۔
حالانکہ ہم کشمیر سے غیر ملکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کوریا کے معاملے میں بلا پس و پیش امریکی عزائم کی حمایت کر دی۔ قائد اعظم کے واضح ارشاد کے باوجود ویٹ نام کی عوامی حکومت کو نظر انداز کیا۔ اسپین کے جمہوریت کش آمر فرانکو سے راہ و رسم بڑھائی اور امن کے دشمن ہتھیار ایٹم بم کو خلاف قانون قرار دینے کی تجویز کی حمایت نہ کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ پاکستان کو آج تک تاج برطانیہ سے وابستہ رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے سفیر برطانیہ اور پاکستان کے بیشتر تصورات کو ہم آہنگ بتاتے ہیں۔ حالانکہ قرارداد لاہور کی رو سے قیام پاکستان کے ساتھ تاج برطانیہ سے قطع تعلق لازمی تھا۔ یہ اور اسی قسم کے دوسرے مسائل کے بارے میں آزاد مملکت کے وزیر خارجہ کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٣٠؍ مارچ ١٩٥٢ء)
ہماری وزارت خارجہ برطانوی سامراج کی آلہ کار ہے
’’کراچی، گزشتہ ہفتہ پاک پارلیمنٹ میں محکمہ امور خارجہ اور رابطہ دولت مشترکہ کے مطالبات پر بحث کے دوران میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سخت مذمت کی گئی اور یہ مطالبہ کیا گیا
١٦
کی حکومت اس چٹھی کو مسترد کر چکی ہے۔ وزیر خارجہ کے نمائندہ ایران کے فرائض میں تبدیلی ہونا چاہئے۔ انہوں نے میں صرف قاصد کی حیثیت رکھتا ہوں۔ جو طرفین کی کو پہنچا دیتا ہے۔ ہمارے خیال میں پاکستانی سفیر کو اب یہ ایران کے اپنے اپنے قاصدوں کے سپرد کر دینا چاہئے وانے کے لئے انہیں کوئی مؤثر اور مفید ذمہ داری اپنے
پاکستان مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے کوشاں ہے۔ کی مثال پیش کی ہے۔ لیکن جہاں تک ہمیں معلوم ہے۔ کی ہرگز مخالفت نہیں کی۔ حالانکہ غیر ملکی فوج کی موجودگی نے مسلم ممالک کے مسائل سے قطع نظر چوہدری صاحب کوئی لائق تحسین روش اختیار نہیں کی۔ انہوں نے صلح نامہ کا قیام تسلیم کر لیا۔ کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کوریا کے حمایت کر دی۔ قائد اعظم کے واضح ارشاد کے باوجود ہسپانیہ کے جمہوریت کش آمر فرانکو سے راہ و رسم بڑھائی نہیں قرار دینے کی تجویز کی حمایت نہ کی اور سب سے بڑھ سے وابستہ رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے سفیر تک بتاتے ہیں۔ حالانکہ قرارداد لاہور کی رو سے قیام لازمی تھا۔ یہ اور اسی قسم کے دوسرے مسائل کے سخت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔“
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٣٠/مارچ ١٩٥٢ء)
سامراج کی آلہ کار ہے
اجلاس میں محکمہ امور خارجہ اور رابطہ دولت مشترکہ کے خارجہ پالیسی کی سخت مذمت کی گئی اور یہ مطالبہ کیا گیا ١٦
کہ ملک کی خارجہ پالیسی غیر ملکی اثر سے آزاد کی جائے اور امریکہ اور برطانیہ کو اپنا مائی باپ نہ سمجھا جائے۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بڑی شرمناک ہے۔ جس سے غیر ملکوں کی نظر میں پاکستان کا وقار گر گیا ہے۔ آج تقریباً تمام مقررین نے مسئلہ کشمیر کے تصفیہ میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اب اس تصفیہ میں مزید دیر لگائی جائے تو پاکستان اقوام متحدہ کی رکنیت سے مستعفی ہو جائے۔
میاں افتخار الدین نے اپنی تقریر میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ پاکستان کی خارجی پالیسی کسی طرح سامراجی طاقتوں کے اشارہ اور ان کے مفاد کے مطابق چل رہی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بڑی سختی کے ساتھ مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے عہدہ سے برخاست کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کو جو قابل اور چالاک وزیر خارجہ کی نگرانی میں برطانوی سامراج کی آلہ کار بن چکی ہے۔ وزارت خارجہ کے نام سے پکارنا اس لفظ کی توہین ہے۔
میاں صاحب نے کہا کہ مسلم گذشتہ پانچ چھ سوسال سے قعر مذلت میں گرے ہوئے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور دوسری نو آبادیاتی طاقتوں نے اقتصادی، سیاسی اور سماجی ہر اعتبار سے ان کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا تھا۔ اتنے طویل عرصہ تک خواب غفلت میں پڑے رہنے کے بعد اب جب ان کے اندر بیداری کی ذرا سی لہر پیدا ہوئی ہے اور وہ مصر، ایران، تیونس، مراکش اور دوسرے علاقوں میں اپنے حقوق کی حفاظت میں سامراجی طاقتوں کے پنجے سے نجات پانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں تو ہمارے وزیر خارجہ صاحب ان ممالک کو اپنے مسلمہ دشمنوں سے سمجھوتہ کر لینے کا مشورہ دے رہے ہیں ہم سے اچھی تو ان ممالک کی وہ نو مسلم آبادی ہے جو کسی تاریخی مذہبی یا ثقافتی رشتہ نہ ہونے کے باوجود اپنے وطنی بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ بلکہ اسے سراہ بھی رہی ہے۔ شرم کی بات ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم ان ممالک کی مدد کرتے۔ ہمارے وزیر خارجہ برطانیہ کی مدد کر رہے ہیں اور وہ بھی چوری چھپے نہیں علانیہ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مصر اور برطانیہ میں غیر جانبدار رہے۔ لیکن فریقین میں باعزت سمجھوتہ کرانے کی کوشش کرے گا۔ میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا غلامی اور آزادی سچائی اور جھوٹ نیک اور برے مقصد میں کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں ہو سکتا تو کیا وزیر خارجہ کے کہنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مصر سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے جائز حقوق سے برطانیہ کی خاطر دستبردار ہو جائے۔
١٧
میاں صاحب نے آگے چل کر کہا کہ گذشتہ چھ ماہ میں چوہدری ظفر اللہ نے ایران، مصر اور برطانیہ کے درمیان جو پارٹ ادا کیا ہے۔ وہ قابل مذمت ہے۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اس دعویٰ کا قدرتی تقاضہ یہ تھا کہ یہ ممالک اپنی آزادی کے لئے جو جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس میں ہم ان کی مدد کرتے۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مدد تو کجا ہم اپنے موجودہ رویہ سے ان ممالک کو اور الٹا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے جو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ پاکستان نے ایران اور مصر کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تو ضرور کیا ہے۔ لیکن یہ ہمدردی کا اظہار جس طریقے پر کیا گیا ہے۔ اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی برطانیہ اور امریکہ کا اشارہ ہی کام کر رہا ہے۔
میاں صاحب نے کہا کہ میں وزیر خارجہ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر برما کو ہتھیار بھیجے جاسکتے ہیں تو مصر کو کیوں نہیں بھیجے جاسکتے؟ آخر میں میاں صاحب نے کہا کہ وزیر خارجہ کا گذشتہ تیس سال کا ریکارڈ یہی ہے کہ وہ برطانوی سامراج کے ساتھ چمٹے رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی خدمات سے ایک وکیل کی حیثیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ پیسے دے کر ان سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ جس طرح پیسے لے کر وہ ساری عمر برطانیہ کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کا کام کرنے سے بھی انکار نہیں کریں گے ۔“
(ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٤؍ اپریل ١٩٥٢ء)
ہماری خارجہ پالیسی
”پاک پارلیمان میں جب ہماری خارجہ پالیسی ہدف تنقید بنائی گئی اور اس پر کڑی نکتہ چینی کی گئی تو پارلیمان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہمارے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ان اعتراضات کا اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا اور اس امر کی تردید فرمانے کی کوشش کی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اینگلو امریکی بلاک کے مقاصد کے عین مطابق ہے۔ چوہدری صاحب نے اپنی تقریر میں یہ ثابت کرنے کی سعی فرمائی کہ ہماری خارجہ پالیسی بالکل آزاد ہے۔
ہم اس یقین آفرینی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہماری عین تمنا یہ ہے کہ پاکستان حقیقتاً اپنی پالیسی میں آزاد رہے کہ ایک آزاد مملکت کے یہی شایان شان ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے
١٨
کہ مصر، ایران اور تیونس کے تعلق سے پاکستان کی پالیسی میں خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ لیکن پالیسی وہی کامیاب ہے۔ جس کے نتائج بھی کامیاب برآمد ہوں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جاپان سے معاہدے کے سلسلہ میں ہم نے اینگلو امریکی بلاک کی خیمہ برداری کی؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ لیبیا سے بیرونی افواج کے تخلیے کی ہم نے مخالفت کی؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آج ہم نے روس سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے۔
در آنحالیکہ ہمارا یہ ادعا ہے کہ ہم دنیا کے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کریں گے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کوریا میں ہم نے ٣٨ ویں عرض بلد کو عبور کرنے کی سفارش کی تھی؟ اور کیا یہ ساری باتیں اس امر کی غمازی نہیں کرتیں کہ اسی پالیسی کے اختیار کرنے میں امریکہ و برطانیہ کا فائدہ تھا؟ اور اینگلو امریکی بلاک کی رضا جوئی جو ہم نے حاصل کی آخر کس قیمت پر؟
ہمارا حریف آج بھارت ہے جس کا کشمیر، ماناودر اور جونا گڑھ پر قبضہ غاصبانہ ہے۔ مگر امریکہ و برطانیہ اسی بھارت کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ اس کی جمہوریت کے گیت گائے جارہے ہیں۔ اسے اربوں روپوں کی امداد دی جارہی ہے۔ در آنحالیکہ بھارت جاپان کے معاہدے میں اینگلو امریکی بلاک کا شریک نہیں۔ چین کے بارے میں اس کی پالیسی امریکی پالیسی کے خلاف ہے۔ کوریا کے تعلق سے وہ امریکی حکمت عملی کے خلاف جاچکا ہے اور کئی امور میں وہ علانیہ روس کی طرف مائل ہے۔
اب آئیے مسلم ممالک کے تعلق سے ہم اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں۔ ہم نے اسلامی ممالک کو اپنانے کی کوشش کی۔ مگر ہمارا پڑوسی اسلامی ملک افغانستان ہم سے خفا ہے اور یہاں بھی بھارت ہی کی پالیسی کامیاب رہی۔ ہم نے اسلامی بلاک کی تشکیل اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے بین الاقوامی اسلامی اقتصادی کانفرنس منعقد کی۔ جس کی زندگی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔ اس کے بعد موتمر عالم اسلامی کا انعقاد ہوا۔ لیکن یہ موتمر بھی صرف قراردادیں منظور کرنے تک ہی محدود رہی۔ پھر انتقال علمائے اسلام کا اجلاس ہوا۔ جس کا حشر بھی ممکن ہے۔ گذشتہ کانفرنسوں کا سا ہوا اور اب مسلم ممالک کی مشاورتی کونسل کی تشکیل کے سلسلہ میں ایران، افغانستان، مصر، سعودی عرب، شرق اردن، یمن، لبنان، شام، عراق و شرق ہند کو مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں سے ترکی ایران اور افغانستان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے
١٩
متعلق عبدالرحمن عزام پاشا سیکرٹری جنرل عرب لیگ نے کوئی اچھے تاثرات ظاہر نہیں کئے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہمارے اسلامی ممالک اپنے اپنے نمائندے بھیجیں اور پھر ایسی مشاورتی کونسل کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن عرب لیگ کے طرز عمل سے پتہ چلتا ہے کہ شاید مصر اسے شبہ کی نظروں سے دیکھتا ہے اور اس کا اندیشہ ہے کہ کہیں اس کا حشر بھی پچھلی کانفرنسوں کا سا نہ ہو۔ یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے سارے عرب ممالک اینگلو امریکی بلاک کے استعمار سے بیزار ہیں اور اس کے چنگل سے نکلنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہی حال تیونس، مراکش اور الجیریا کا ہے۔ یہ تمام ممالک آزادی چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی امداد کے بھی متمنی ہیں۔
لیکن انہیں اس کا احساس ہے کہ پاکستان ابھی تک اینگلو امریکی بلاک کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے۔ اس لئے کھل کر میدان میں نہیں آسکتا۔ اس کی ہمدردیاں یا تو زبانی رہیں گی یا قراردادوں تک۔ عملی طور پر پاکستان کچھ نہیں کرتا اور اگر کچھ کرتا ہے تو انہیں اس کا شبہ ہے کہ اینگلو امریکی بلاک کا طرفدار ہونے کی وجہ سے اس کا ہر پلان اور ہر منصوبہ بہت ممکن ہے۔ امریکہ و برطانیہ کے اشارے پر ہو اور اس طرح کہیں وہ امریکی سامراج کے بچھائے ہوئے دام ہمرنگ زمین میں گرفتار نہ ہو جائیں۔
مصر ہماری ہمدردی کا شکریہ تو ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ شکریہ رسمی معلوم ہوتا ہے۔ انڈونیشیا کی طرح مصر بھی بھارت ہی کی طرف زیادہ مائل رہتا ہے۔ ابھی چند ہفتے ہوئے ہمارے وزیر خارجہ نے اسرائیل اور عرب ممالک کے اتحاد کی بابت ایک بیان قاہرہ میں دیا تھا۔ جس پر اسلامی ممالک میں بڑی لے دے ہوئی۔ ان حالات میں مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کی حد تک ہمیں اندیشہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ جب تک ہم اسلامی ممالک کے اتحاد کے لئے محض مذہب کو وسیلہ بناتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اساس پر بھی اتحاد ہو۔ ان ممالک کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ عوام کو ساتھ لیا جائے۔ اینگلو امریکی بلاک کے حلقہ اثر سے آزاد ہو کر ان ممالک کی قیادت کی جائے۔ ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ کشمیر کا ہے۔ کشمیر کے سلسلہ میں ہم نے برطانیہ و امریکہ اور ان کی مصلحتوں کا دوسرا نام U.N.O پر بھروسہ کر کے دیکھا کہ ایک دو نہیں پورے پانچ سال سے ہم ان کی روش کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور U.N.O نے اپنی روش سے اس امر کا
٢٠
پورا پورا ثبوت دے دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ہیں اور ان حالات میں موسیو جیکب ملک کا یہ الزام ٹھیک ہی معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ و برطانیہ اپنے خصوصی سامراجی مقاصد کے لئے کشمیر کے بارے میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مخلص امریکہ و برطانیہ کی دوستی کی خاطر ہم کشمیر قربان کر دیں گے؟
دفتر خارجہ کی طرف سے کشمیر کے بارے میں ہمیشہ یہ پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ دنیا کی رائے عامہ ہمارے ساتھ ہے۔ لیکن جو رائے عامہ ہمیں کشمیر دلا نہ سکے۔ اسے لے کر ہم کیا کریں؟
کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم ہر دو بلاکوں سے اپنے تعلقات مساوی طور پر قائم کریں؟ اس کے لئے ابتدائی اقدام کے طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ روس سے تجارتی تعلقات قائم کئے جائیں۔ ہمارے ثقافتی وفد روس جائیں تو ہم روس کے ثقافتی وفد کو مدعو کریں۔ اس کے بعد بین الاقوامی امور میں ہم اس کی کوشش کریں کہ ہمارے پالیسی کا جھکاؤ محض امریکہ اور برطانیہ ہی کی طرف نہ ہو۔"
(روزنامہ احسان لاہور مورخہ ٢؍اپریل ١٩٥٢ء)
ہماری خارجہ پالیسی
"کل ہم نے اپنی موجودہ خارجہ پالیسی کے مضمرات اور نتائج پر بحث کرتے ہوئے یہ رائے دی تھی کہ ہمیں ایک تو اینگلو امریکی بلاک کے حلقہ اثر سے آزاد ہونا چاہئے اور دوسرے یہ کہ تدریجی طور پر دوسرے بلاک سے بھی تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اینگلو امریکی بلاک کے چنگل سے نکل کر روسی بلاک کے چنگل میں جا پھنسیں۔ مقصد یہ تھا کہ ہم کچھ اس طرح آزاد ہو جائیں کہ ان دو بلاکوں کے تعلق سے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے بھی ان سے دوستانہ مراسم قائم رکھیں۔
آج اگر ہم دنیا کی صورتحال کا بین الاقوامی حالات کی روشنی میں مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جہاں تک مشرق بالخصوص مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید کا تعلق ہے۔ اس وقت امریکہ اور روس دونوں اس سے دوستی کے خواہشمند ہیں۔ ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کو اپنے حلقہ اثر میں لے آئے۔ امریکہ اور روس ہر دو کی یہ خواہش ہے کہ اس خطہ ارض کے ممالک سے تجارتی و ثقافتی تعلقات قائم کریں۔ بلکہ امریکہ تو اس معاملہ میں ایک قدم آگے بڑھا چکا ہے۔ مارشل امداد چہار نکاتی پروگرام اور اسی طرح پسماندہ ممالک کی معاشی امداد کے
٢١
بہانے ان ممالک میں اپنے قدم جما رہا ہے اور جو لوگ امریکی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب کبھی لاکھوں کروڑوں ڈالر کی امداد کے معاہدے ہوتے ہیں تو اس کا اخلاقی دباؤ کیا ہوتا ہے۔ امریکہ کے پاس قارون کا خزانہ تو ہے نہیں، کہ وہ یونہی لٹاتا پھرے۔ نہ اس کی عقل ماری گئی ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے ڈالر کو نچھاور کرے۔ نہ اتنا بے وقوف ہے کہ کسی مقصد کے بغیر یہ دولت خرچ کرے۔ ترکیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترکیہ حلق تک ڈالر نگل چکا ہے اور اب ترکیہ کے تمام ہوائی اڈے وغیرہ امریکہ ہی کے قبضے میں ہیں۔ اسی طرح مختلف نوع کے علاقائی معاہدوں کی تجاویز کا مقصد بھی یہی ہے کہ روس کے خلاف ان ممالک کو اپنے تحت لایا جائے۔ اس نوع کی امداد دراصل ایک تمہید ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ملک اس چپقلش میں اینگلو امریکی بلاک کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو گیا اور بڑے سستے داموں اس احساس کے بعد کہ پاکستان تو بہر حال ہمارا بندہ بے دام ہے۔ امریکہ نے ہمارے پڑوسی مملکت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائیں اور ایک ہوشیار و مکار حسینہ کی طرح بھارت نے جو بیک وقت دو رقیبوں کی دلداری کر رہا تھا۔ اپنے سودے باز عاشق سے بڑے اونچے داموں سودا طے کیا اور امریکہ نے اس احساس کے ساتھ ہی یہ سودا طے کیا کہ بھارت کی دوستی جنوبی مشرقی ایشیاء کے استحکام کے لئے از حد ضروری ہے۔
ان حالات میں ہمارا قطعاً یہ مشورہ نہیں ہے کہ ہم بھی بھارت کی تقلید کریں۔ ہماری قیمت و وقعت اس وقت تک ہی ہے جب تک ہم دونوں بلاکوں کے اثر سے آزاد ہیں۔ جب تک ہم بین الاقوامی سیاست میں ایک آزاد و غیر جانبدار طاقت کی حیثیت سے نہ ابھریں گے۔ ہمیں امریکہ مٹی کا مادھو سمجھتا رہے گا اور روس ہم پر امریکہ کے خیمہ بردار کی پھبتی کستا رہے گا۔ اس لئے اوّل تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یک بارگی اینگلو امریکی بلاک کے ریشمی بندھنوں کو توڑ کر اور اس سے قطع تعلق کر کے الگ کھڑے ہوں۔ اس کے بعد سوال یہ پیدا ہو گا کہ ہم یا ہمارے ایسے ساتھی جو کسی بلاک سے تعلق رکھے بغیر آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ کیا کریں؟
U.N.O کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ جہاں اب تک تو دو پاور بلاکوں میں رسہ کشی جاری رہتی تھی۔ لیکن وہاں چھوٹی قوموں کا ایک اور بلاک ابھرا ہے۔ جو عرب ایشیاء اور افریقہ کی چھوٹی اقوام پر مشتمل ہے۔ حالات نے ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ اس لئے کہ ان کی تاریخ ایک سی رہی ہے۔ یہ تمام ممالک یا تو کسی نہ کسی مغربی طاقت کے زیر اثر ہیں یا رہے ہیں۔
٢٢
یہ سب کے سب محکوم یا نیم آزاد ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے ہمدردی ہونا قدرتی تھا۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ یہ سب پسماندہ ہیں اور انہیں اس کا احساس ہے کہ کل اگر روس اور امریکہ میں خوفناک تصادم ہو جائے تو یہ ان دو چکی کے پاٹوں کے درمیان بری طرح پس جائیں گے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بڑے ممالک انہیں للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ انہیں اپنے پنجے میں پکڑ کر رکھے اور ان کا آخری قطرہ خون تک پی جائے۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس ہو یا ڈچ یہ جمہوریت کے لاکھ دعوے کریں۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے لاکھ نعرے لگائیں۔ لیکن ان سفید فام طاقتوں کے دماغ میں سودا سمایا ہوا ہے کہ انہیں سیہ فام اقوام پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ برطانیہ اور فرانس ان ممالک کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو بساط سیاست کا مہرہ بنا کر عوام کے خلاف انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ مصر میں یہی ہوا۔ ایران میں اسی کی ناکام کوشش کی گئی اور تیونس میں یہی ہو رہا ہے۔ مگر ان ممالک میں اپنے حکمرانوں کے برخلاف آزادی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مصر میں انگریزوں سے نفرت مصریوں کا دوسرا مذہب ہے۔ تیونس و مراکش میں مجاہدین اپنے خون سے نئی تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، ہالینڈ کو اس کا احساس ہے کہ ان ممالک کے عوام کی مرضی کے بغیر ان پر آسانی سے نہ حکومت کی جا سکتی ہے۔ نہ کوئی دفاعی منصوبہ ان کے سر زبردستی تھوپا جا سکتا ہے۔
مشترکہ خطرے نے ان سب کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور سب کو اس کا احساس ہو چلا ہے کہ اگر ان میں اتحاد ہو تو وہ دونوں بلاکوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔ لیکن اگر یہ بکھرے رہے تو پھر انہیں ہر طاقت بڑی آسانی سے کچل دے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کوئی قیادت کے فرائض انجام دے۔ بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹے، تسبیح کے ان بکھرے دانوں کو رشتہ اخوت میں پروئے۔ باہمی مالی، سیاسی و اقتصادی امداد کا باقاعدہ پروگرام بنائے۔ اس طرح اگر یہ تمام ممالک ایک بلاک کی شکل بنا لیں تو یہ بلاک عالمی سیاست میں توازن قوت قائم رکھ سکے گا۔
اس قیادت کے فرائض پاکستان کو انجام دینے چاہئیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اینگلو امریکی بلاک کے اثر سے بالکل آزاد ہو جائیں اور ہمارے ساتھی ہمیں اس شبہ کی نظروں سے نہ دیکھیں کہ ہمارا ہر اقدام دراصل کسی بڑی طاقت کے اشارے پر ہے۔ اسی میں چھوٹی اقوام کی فلاح ہے۔ اسی طرح پاکستان طاقتور بن سکتا ہے اور اس طرح امن عالم برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘‘
(روزنامہ احسان لاہور مورخہ ٣؍اپریل ١٩٥٢ء)
٢٣
”خارجہ پالیسی کے مسئلہ پر ہم ایک سے زائد بار توجہ دلا چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی معین خارجہ پالیسی ترتیب ہی نہیں دی گئی۔ حالانکہ جب کوئی پالیسی ناکام ہوتی ہے تو فوراً اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں مسلسل ناکامی کے باوجود اسی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے اور طرفہ یہ کہ جب اس پر نکتہ چینی کی جائے تو اس کے جواز میں نئے نئے استدلال پیش کئے جاتے ہیں۔ قومی پالیسی کی تشکیل کے لئے دستور کی موجودگی ضروری ہے اور یہاں حال یہ ہے کہ ابھی تک ہم قومی ترانہ بنا نہیں پائے۔ آئین و دستور تو ابھی دور کی بات ہے۔“
(روزنامہ احسان لاہور مورخہ ٤؍ اپریل ١٩٥٢ء)
چوہدری ظفر اللہ خاں کی سرگرمیاں
”پیرس میں ان دنوں جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں ہمارے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہیں۔ چند ہی روز ہوئے کہ نہر سویز کے سوال پر موصوف نے ایک ایسا بیان دیا جسے سن کر پاکستان کی رائے عامہ ہکا بکا رہ گئی۔ تمام لوگوں نے اس بیان کو عوام پاکستان کے مؤقف کی غلط ترجمانی سے تعبیر کیا۔ ظفر اللہ خان صاحب کا خیال ہے کہ نہر سویز کے معاملے میں مصر بھی اسی طرح قصور وار ہے جس طرح برطانیہ۔ حالانکہ پاکستان کے عوام صرف برطانیہ کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس نے زبردستی مصر کے سر پر گورا فوج مسلط کر رکھی ہے۔ اگر یہ بیرونی فوج وہاں سے ہٹ جائے اور سوڈان کو برطانیہ خالی کر دے تو یہ تنازعہ بھی ختم ہو جائے۔ لیکن ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے بیان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا جس میں سویز سے گورا فوج کے انخلاء اور سوڈان میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کی تائید ہوتی ہو۔ حالانکہ ہم خود کشمیر سے بیرونی فوج کے انخلاء اور وہاں غیر جانب دارانہ رائے شماری کرانے کا مطالبہ پیش کرتے رہے ہیں۔
اب خود کشمیر کی بابت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک ایسا عجیب بیان دیا ہے۔ جس سے پاکستان کی رائے عامہ چونک اٹھی ہے اور ہر شخص یہ محسوس کر رہا ہے کہ آخر ظفر اللہ خان صاحب کا مطلب کیا ہے۔ پیرس کے اخبار کمیونسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ظفر اللہ خان صاحب سے ذیل کے بیانات منسوب کئے ہیں۔ ڈاکٹر گراہم کی کوششوں کے بارے میں رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ ہندوستان کو چاہئے کہ کشمیر کی افسوسناک صورتحال کو ختم کرنے کے لئے ڈاکٹر گراہم کی تجویز منظور کر لے۔
٢٤
ایک سے زائد بار توجہ دلا چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے دی گئی۔ حالانکہ جب کوئی پالیسی ناکام ہوتی ہے تو فوراً یہاں مسلسل ناکامی کے باوجود اسی پالیسی پر عمل ہو رہا لئے تو اس کے جواز میں نئے نئے استدلال پیش کئے دستور کی موجودگی ضروری ہے اور یہاں حال یہ ہے کہ وہ دستور تو ابھی دور کی بات ہے۔“
(روزنامہ احسان لاہور مورخہ ٤ اپریل ١٩٥٢ء)
کا اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں ہمارے وزیر خارجہ نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہیں۔ چند ہی روز ہوئے ا بیان دیا جسے سن کر پاکستان کی رائے عامہ ہکا بکا رہ مر کے مؤقف کی غلط ترجمانی سے تعبیر کیا۔ ظفر اللہ خان مصر بھی اسی طرح قصور وار ہے جس طرح برطانیہ۔ وار ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس نے زبردستی مصر کے سر فوج وہاں سے ہٹ جائے اور سوڈان کو برطانیہ خالی کر خاں صاحب نے اپنے بیان میں ایک لفظ بھی ایسا اور سوڈان میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کی تائید کے انخلاء اور وہاں غیر جانب دارانہ رائے شماری
خان صاحب نے ایک ایسا عجیب بیان دیا ہے۔ اور ہر شخص یہ محسوس کر رہا ہے کہ آخر ظفر اللہ خان کا حوالہ دیتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ظفر ہیں ۔ ڈاکٹر گراہم کی کوششوں کے بارے میں بجئے کہ کشمیر کی افسوسناک صورتحال کو ختم کرنے
واضح رہے کہ جب خان لیاقت علی خان صاحب کی شہادت کے فوراً ہی بعد ڈاکٹر گراہم کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو پاکستان کے تمام اخبارات نے جن میں مرکزی حکومت کا نیم سرکاری ترجمان ڈان بھی شامل تھا۔ اس رپورٹ کو زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر گراہم کی رپورٹ حد درجہ غیر اطمینان بخش ہے۔ دوسری طرف اتحادی انجمن میں ہندوستان کے مستقل مندوب مسٹر بی۔این راؤ نے اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر گراہم کی رپورٹ منصفانہ ہے۔ ہندوستانی اخبارات نے بھی اس رپورٹ کی تعریف کی تھی۔ اب ظفر اللہ خان صاحب ہندوستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر گراہم کی تجویز کو منظور کر کے قضیہ کشمیر کو ختم کر دے۔ گویا موصوف کو ڈاکٹر گراہم کے کارناموں سے اتفاق ہے۔ ہم حیران ہیں کہ آخر یہ کیا بوالعجبی ہے اور سر ظفر اللہ خان کا مقصد کیا ہے؟
موصوف نے سویز اور سوڈان کی بابت عوام پاکستان کے مؤقف پر ضرب کاری رسید کی ہے اور وہ اس طرح کہ انہوں نے اب تک مصر کے اس مطالبے کی تائید نہیں کی کہ سویز اور سوڈان سے گورا فوج ہٹ جائے اور سوڈان میں غیر جانبدارانہ رائے شماری ہو۔ حالانکہ عالمی رائے عامہ کے سامنے کشمیر کی بابت اس ملک کے مؤقف کو مضبوط اور استوار کرنے کے لئے مصر کے مذکورہ بالا مطالبے کی تائید بہت ضروری تھی۔ کیونکہ کشمیر اور سویز و سوڈان دونوں جگہ مطالبے کی نوعیت سو فیصدی ایک ہے۔ اب موصوف کشمیر کے مسئلے پر ڈاکٹر گراہم کی مساعی جمیلہ کی تعریف کر بیٹھے ہیں۔ جس سے ہندوستانی نمائندہ بی۔این راؤ کو بھی اتفاق ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آخر سر ظفر اللہ خان صاحب پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کو کدھر لئے جا رہے ہیں۔ خان لیاقت علی خان کی شہادت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد اہم بین الاقوامی معاملات پر ہمارے مؤقف اور ہماری حکمت عملی میں یہ خطرناک پھسلن کیوں پیدا ہو گیا ہے؟ ہماری پارلیمنٹ میں ایک ایسے سوال پر بحث کرنے سے اراکین کو کیوں روک دیا جاتا ہے۔ جس سے برطانیہ کے مفادات وابستہ ہوں؟
ایک اور اطلاع ہے جس کا تعلق مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال سے ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ کی پراسرار مشتبہ مشکوک قسم کی سرگرمیوں پر خاصی روشنی پڑتی ہے۔ مصر مشرق وسطیٰ کے اینگلو امریکی دفاع کی تجویز کو اس بناء پر ٹھکرا چکا ہے کہ اس تجویز کے مطابق مصر کو اپنے علاقے میں ایک چھوٹی سی گورا فوج کے قیام و طعام کا بندوبست کرنا پڑتا۔ لیکن برطانیہ کے محکمہ خارجہ
٢٥
نے اپنے خصوصی پٹھو وزیر اعظم عراق نورالسعید پاشا کے توسط سے اسی قسم کی ایک اور تجویز مصر کے سر پر دے ماری ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ مصر اسے ٹھکرا چکا ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے اپنے تازہ بیان میں اس تجویز کی حمایت فرمائی ہے اور نورالسعید پاشا اور ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان دوبارہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس وقت مصر اور ایران میں پٹ چکنے کے بعد انگریز مشرق وسطیٰ کی بساط سیاست پر نورالسعید پاشا کو بطور مہرہ استعمال کر رہا ہے۔ نورالسعید پاشا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان جس قدر گاڑھی چھن رہی ہے۔ اس سے لازماً خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پاکستان کے وزیر خارجہ بھی تو مصر اور مسلمانان مشرق وسطیٰ کی جدوجہد آزادی کے خلاف بطور مہرہ استعمال نہیں ہورہے ۔ کیا دنیا کے مسلم ممالک اور مسلم عوام کی رہنمائی کے فرائض اسی طرح برطانوی محکمہ خارجہ کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانان پاکستان کے اس مطالبے کا کہ ہم کامن ویلتھ چھوڑ دیں۔ اسی طرح جواب دیا جائے گا کہ ہم اپنی خارجہ حکمت عملی کو برطانوی خواہشات ومفادات کا اور بھی پابند بنالیں؟ برطانوی خارجہ حکمت عملی جس کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آج کشمیر کے چالیس لاکھ عوام ہندوستان میں شامل ہیں۔ اس خارجہ حکمت عملی کی اطاعت وفرمانبرداری سرظفر اللہ خان صاحب کس حساب سے ضروری قرار دے رہے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسے ایک لمحے کے لئے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٥١ء)
یورپ کے بے گھر مسلمان اور سر ظفر اللہ قادیانی
’’پچھلے دنوں آنریبل سر ظفر اللہ وزیر امور خارجہ حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ میں مسٹر نور احمد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مہاجرین کے عظیم مسئلہ کے باوجود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپ کے ایسے بے گھر مسلمانوں کو پاکستان میں آباد کرنے کے متعلق غور وخوض کرے گی۔ جو اس ملک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ چنانچہ مہاجرین کے بین الاقوامی ادارہ کے ڈائریکٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایسے بے گھر مسلمانوں کی فہرست دیں۔
ہم وزیر خارجہ سر ظفر اللہ سے آج یہ دریافت کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ جنہیں یورپ کے بے گھر مسلمان کے نام سے پکارا جارہا ہے۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ یا آپ کی جماعت
Wait, I missed "کی" in the last line in my transcription just now. Let me correct it.
نے اپنے خصوصی پٹھو وزیر اعظم عراق نورالسعید پاشا کے توسط سے اسی قسم کی ایک اور تجویز مصر کے سر پر دے ماری ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ مصر اسے ٹھکرا چکا ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے اپنے تازہ بیان میں اس تجویز کی حمایت فرمائی ہے اور نورالسعید پاشا اور ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان دوبارہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس وقت مصر اور ایران میں پٹ چکنے کے بعد انگریز مشرق وسطیٰ کی بساط سیاست پر نورالسعید پاشا کو بطور مہرہ استعمال کر رہا ہے۔ نورالسعید پاشا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان جس قدر گاڑھی چھن رہی ہے۔ اس سے لازماً خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پاکستان کے وزیر خارجہ بھی تو مصر اور مسلمانان مشرق وسطیٰ کی جدوجہد آزادی کے خلاف بطور مہرہ استعمال نہیں ہورہے ۔ کیا دنیا کے مسلم ممالک اور مسلم عوام کی رہنمائی کے فرائض اسی طرح برطانوی محکمہ خارجہ کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانان پاکستان کے اس مطالبے کا کہ ہم کامن ویلتھ چھوڑ دیں۔ اسی طرح جواب دیا جائے گا کہ ہم اپنی خارجہ حکمت عملی کو برطانوی خواہشات ومفادات کا اور بھی پابند بنالیں؟ برطانوی خارجہ حکمت عملی جس کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آج کشمیر کے چالیس لاکھ عوام ہندوستان میں شامل ہیں۔ اس خارجہ حکمت عملی کی اطاعت وفرمانبرداری سرظفر اللہ خان صاحب کس حساب سے ضروری قرار دے رہے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسے ایک لمحے کے لئے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٥١ء)
یورپ کے بے گھر مسلمان اور سر ظفر اللہ قادیانی
’’پچھلے دنوں آنریبل سر ظفر اللہ وزیر امور خارجہ حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ میں مسٹر نور احمد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مہاجرین کے عظیم مسئلہ کے باوجود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپ کے ایسے بے گھر مسلمانوں کو پاکستان میں آباد کرنے کے متعلق غور وخوض کرے گی۔ جو اس ملک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ چنانچہ مہاجرین کے بین الاقوامی ادارہ کے ڈائریکٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایسے بے گھر مسلمانوں کی فہرست دیں۔
ہم وزیر خارجہ سر ظفر اللہ سے آج یہ دریافت کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ جنہیں یورپ کے بے گھر مسلمان کے نام سے پکارا جارہا ہے۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ یا آپ کی جماعت نہیں wait, let me look at the image again: "یا آپ کی جماعت".
نے اپنے خصوصی پٹھو وزیر اعظم عراق نورالسعید پاشا کے توسط سے اسی قسم کی ایک اور تجویز مصر کے سر پر دے ماری ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ مصر اسے ٹھکرا چکا ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے اپنے تازہ بیان میں اس تجویز کی حمایت فرمائی ہے اور نورالسعید پاشا اور ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان دوبارہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس وقت مصر اور ایران میں پٹ چکنے کے بعد انگریز مشرق وسطیٰ کی بساط سیاست پر نورالسعید پاشا کو بطور مہرہ استعمال کر رہا ہے۔ نورالسعید پاشا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان جس قدر گاڑھی چھن رہی ہے۔ اس سے لازماً خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پاکستان کے وزیر خارجہ بھی تو مصر اور مسلمانان مشرق وسطیٰ کی جدوجہد آزادی کے خلاف بطور مہرہ استعمال نہیں ہورہے ۔ کیا دنیا کے مسلم ممالک اور مسلم عوام کی رہنمائی کے فرائض اسی طرح برطانوی محکمہ خارجہ کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانان پاکستان کے اس مطالبے کا کہ ہم کامن ویلتھ چھوڑ دیں۔ اسی طرح جواب دیا جائے گا کہ ہم اپنی خارجہ حکمت عملی کو برطانوی خواہشات ومفادات کا اور بھی پابند بنالیں؟ برطانوی خارجہ حکمت عملی جس کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آج کشمیر کے چالیس لاکھ عوام ہندوستان میں شامل ہیں۔ اس خارجہ حکمت عملی کی اطاعت وفرمانبرداری سرظفر اللہ خان صاحب کس حساب سے ضروری قرار دے رہے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسے ایک لمحے کے لئے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٥١ء)
یورپ کے بے گھر مسلمان اور سر ظفر اللہ قادیانی
’’پچھلے دنوں آنریبل سر ظفر اللہ وزیر امور خارجہ حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ میں مسٹر نور احمد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مہاجرین کے عظیم مسئلہ کے باوجود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپ کے ایسے بے گھر مسلمانوں کو پاکستان میں آباد کرنے کے متعلق غور وخوض کرے گی۔ جو اس ملک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ چنانچہ مہاجرین کے بین الاقوامی ادارہ کے ڈائریکٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایسے بے گھر مسلمانوں کی فہرست دیں۔
ہم وزیر خارجہ سر ظفر اللہ سے آج یہ دریافت کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ جنہیں یورپ کے بے گھر مسلمان کے نام سے پکارا جارہا ہے۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ یا آپ کی جماعت
٢ wait, it is "یا آپ کی جماعت". I see "کی" clearly.
نے اپنے خصوصی پٹھو وزیر اعظم عراق نورالسعید پاشا کے توسط سے اسی قسم کی ایک اور تجویز مصر کے سر پر دے ماری ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ مصر اسے ٹھکرا چکا ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے اپنے تازہ بیان میں اس تجویز کی حمایت فرمائی ہے اور نورالسعید پاشا اور ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان دوبارہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس وقت مصر اور ایران میں پٹ چکنے کے بعد انگریز مشرق وسطیٰ کی بساط سیاست پر نورالسعید پاشا کو بطور مہرہ استعمال کر رہا ہے۔ نورالسعید پاشا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان جس قدر گاڑھی چھن رہی ہے۔ اس سے لازماً خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پاکستان کے وزیر خارجہ بھی تو مصر اور مسلمانان مشرق وسطیٰ کی جدوجہد آزادی کے خلاف بطور مہرہ استعمال نہیں ہورہے ۔ کیا دنیا کے مسلم ممالک اور مسلم عوام کی رہنمائی کے فرائض اسی طرح برطانوی محکمہ خارجہ کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانان پاکستان کے اس مطالبے کا کہ ہم کامن ویلتھ چھوڑ دیں۔ اسی طرح جواب دیا جائے گا کہ ہم اپنی خارجہ حکمت عملی کو برطانوی خواہشات ومفادات کا اور بھی پابند بنالیں؟ برطانوی خارجہ حکمت عملی جس کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آج کشمیر کے چالیس لاکھ عوام ہندوستان میں شامل ہیں۔ اس خارجہ حکمت عملی کی اطاعت وفرمانبرداری سرظفر اللہ خان صاحب کس حساب سے ضروری قرار دے رہے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسے ایک لمحے کے لئے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٥١ء)
یورپ کے بے گھر مسلمان اور سر ظفر اللہ قادیانی
’’پچھلے دنوں آنریبل سر ظفر اللہ وزیر امور خارجہ حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ میں مسٹر نور احمد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے مہاجرین کے عظیم مسئلہ کے باوجود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ یورپ کے ایسے بے گھر مسلمانوں کو پاکستان میں آباد کرنے کے متعلق غور وخوض کرے گی۔ جو اس ملک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ چنانچہ مہاجرین کے بین الاقوامی ادارہ کے ڈائریکٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایسے بے گھر مسلمانوں کی فہرست دیں۔
ہم وزیر خارجہ سر ظفر اللہ سے آج یہ دریافت کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ جنہیں یورپ کے بے گھر مسلمان کے نام سے پکارا جارہا ہے۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ یا آپ کی جماعت
This is getting messed up by my own scratchpad. I will just output the clean text directly below.
سعید پاشا کے توسط سے اسی قسم کی ایک اور تجویز مصر کے سامنے ٹھکرا چکا ہے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے اپنے تازہ دورہ مصر میں سعید پاشا اور ظفر اللہ خان صاحب کے درمیان واضح ہے کہ اس وقت مصر اور ایران میں پٹ چکنے کے بعد امریکہ سعید پاشا کو بطور مہرہ استعمال کر رہا ہے۔ نور السعید پاشا کی یہ قلابازیاں جس قدر بھونڈی لگ رہی ہے۔ اس سے لازماً خیال پیدا ہوتا ہے کہ مصر اور مسلمانان مشرق وسطیٰ کی جدوجہد آزادی میں حصہ لے کر دنیا کے مسلم ممالک اور مسلم عوام کی رہنمائی کے فرائض سر انجام دیئے جائیں گے۔
کیا پاکستان کے اس مطالبے کا کہ ہم کامن ویلتھ چھوڑ دیں اپنی خارجہ حکمت عملی کو برطانوی خواہشات و مفادات کا تابع بنانا اس کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آج کشمیر کے چالیس لاکھ مسلمان برطانوی حکمت عملی کی اطاعت و فرمانبرداری سر ظفر اللہ خان کا واحد مقصد ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے اور اسے ایک لمحے کے
(روزنامہ امروز لاہور مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٥١ء)
ظفر اللہ قادیانی
سابق وزیر امور خارجہ حکومت پاکستان نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان نے یہ طے کیا ہے کہ یورپ کے ایسے بے گھر مسلمانوں کو پاکستان میں آباد کیا جائے جو اس ملک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔ چنانچہ ہم نے مہاجرین کے کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایسے بے گھر لوگوں کو تلاش کرے۔
ہم آج یہ دریافت کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ جنہیں پاکستان بلایا جا رہا ہے۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ یا آپ کی جماعت
٢٦
قادیانیہ جس جماعت کے پادری یورپ میں ٣٠ سال سے متواتر مرزائی مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ان پادریوں کے اغوا کئے ہوئے ہیں؟ کیا ان لوگوں کا واقعی مذہب اسلام ہے اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد نہ تو کوئی نبی آیا اور نہ آئے گا؟ اگر ان کا عقیدہ مسلمانوں جیسا ہے تو بے شک انہیں آباد کیا جائے۔
وہ ہمارے بھائی ہیں۔ اگر یورپ کے ان لوگوں کا جماعت قادیانی یعنی احمدی جماعت سے تعلق ہے کہ جس جماعت کو عالم اسلام کے علمائے کرام کافر قرار دے چکے ہیں تو وہ لوگ اس قابل نہیں کہ انہیں پاک خطہ میں آباد کیا جائے۔ کیونکہ ان کی آباد کاری جماعت مرزائیہ اور سر ظفر اللہ کو تو مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر پاکستان اور پاکستان کے ٧ کروڑ مسلمانوں کو ان کی آباد کاری سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں۔ مہاجرین بین الاقوامی ادارہ کے ڈائریکٹر سے لسٹ منگوانے سے پیشتر اس چیز پر غور کیا جائے اور پوری پوری تحقیقات کی جائے۔ آیا یورپ کے یہ بے گھر جنہیں مسلمان کہا جا رہا ہے۔ واقعی مسلمان ہیں یا جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کے وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین مدظلہ، اس طرف پوری توجہ فرمائیں گے۔
کیونکہ مملکت پاکستان اسلام ہی کے نام سے حاصل کی گئی ہے۔ اس لئے اس مملکت اسلامیہ میں سب سے پہلے حق ان مہاجرین کی آباد کاری کا ہے جو کہ مسلمان ہیں۔ جنہوں نے پاکستان کی خاطر گھر بار لٹایا اور عزیز و اقارب کو اللہ کے راستے میں قربان کیا۔ جو آج بے سروسامانی کی حالت میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
ہم اس سوال کو کبھی نہ اٹھاتے۔ مگر چونکہ سر ظفر اللہ کا جس جماعت سے تعلق ہے۔ اسلام کی دشمن اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ جو جماعت جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ ممالک اسلامیہ کے علاوہ تمام یورپ میں شاخیں قائم ہیں اور وہاں ان کے پادری موجود ہیں۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور اس کے لڑکے مرزا بشیر کو پاکستان کا امیر المومنین بتلا کر لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر کے اپنی جماعت میں شامل کیا گیا ہے؟
ممکن ہے کہ یہ یورپ کے بے گھر لوگ جنہیں میاں سر ظفر اللہ مسلمان کہہ کر پاکستان میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ آخر میں ہم دوبارہ اپنے پُر اعتماد
٢٧
وزیراعظم خواجہ ناظم الدین سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سر ظفراللہ اور ان کی جماعت کی اس لفظی دھوکے بازی پر توجہ مبذول فرما کر مرزا بشیر الدین محمود کو اس باعظمت لقب کے استعمال سے اخلاقاً اور قانوناً باز رکھنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھا کر خدمت اسلام سرانجام دیں۔“
(ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٤ اپریل ١٩٥٢ء)
کافر حکومت کا مسلمان ملازم
”تمام دنیا کی مسلمان قوموں کی ایک کانفرنس عنقریب کراچی میں منعقد ہونے والی ہے۔ مصر کی تمام جماعتوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس خیر مقدم میں ہمارے وزیر خارجہ چوہدری ظفراللہ خان کے متعلق چند الفاظ زیر غور ہیں۔ اگرچہ یہ الفاظ بادی النظر میں تو بے ضرر سے ہیں لیکن اس کے نتائج بہت اہم اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ وہ الفاظ یہ ہیں: ”چوہدری ظفراللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ جو ایک ہوشیار سیاستدان ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ اسلامی استحکام کو ایک حقیقت بنانے کے لئے ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔“
کیا اس قسم کے بیانات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ عالم اسلام چوہدری صاحب کو ایک صحیح مسلمان سمجھتا ہے۔ حالانکہ رسول کریم ﷺ کو آخری نبی نہ مانتے ہوئے ان کے صحیح مسلمان ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کیا غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ نہیں ہے کہ ہم نے اپنی حکومت کا اہم ترین شعبہ ان کے سپرد کیا ہے۔ کیا ہماری اس سہل انگاری اور غفلت سے چوہدری صاحب اور ان کے حواریوں کو عالم اسلام میں اور خصوصاً چوٹی کے لوگوں میں قادیانیت کا پروپیگنڈا کرنے کا زریں موقع مل گیا ہے۔ کیا ہم اس طرح پاکستان کے ساتھ ساتھ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی قادیانیت کا زہر پھیلانے کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا ہم حکومت کی اس پالیسی اور حکمت عملی سے یہ نتیجہ نکالیں کہ حکومت چوہدری صاحب اور قادیانیوں کو اچھا مسلمان سمجھتی ہے۔ حالانکہ چوہدری صاحب خود ایک مرتبہ فرما چکے کہ وہ ایک کافر حکومت کے مسلمان ملازم ہیں۔
چوہدری ظفراللہ کافر حکومت کے مسلمان وزیر ہیں یا مسلمان حکومت کے کافر وزیر۔ لیکن ان کی حق گوئی قوت ایمانی اور راسخ العقیدگی ہمارے وزراء اور عوام کے لئے قابل نمونہ ہے۔ تسنیم!
(ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٤ اپریل ١٩٥٢ء)
ہماری خارجہ پالیسی
”جس طرح ہمارے غیرملکی سفارتخانے ہمارے ملک کے حق میں آج تک کوئی مفید
٢٨
پیل کرتے ہیں کہ وہ سر ظفر اللہ اور ان کی جماعت کی اس مرزا بشیر الدین محمود کو اس باعظمت لقب کے استعمال سے یک قدم اٹھا کر خدمت اسلام سرانجام دیں ۔‘‘
(ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٤ اپریل ١٩٥٢ء)
وں کی ایک کانفرنس عنقریب کراچی میں منعقد ہونے والی خیر مقدم کیا ہے۔ اس خیر مقدم میں ہمارے وزیر خارجہ الفاظ زیر غور ہیں۔ اگرچہ یہ الفاظ بادی النظر میں تو بے ضرر دور رس ہو سکتے ہیں۔ وہ الفاظ یہ ہیں: ”چوہدری ظفر اللہ ہوشیار سیاستدان ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ اسلامی کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے ۔‘‘ یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ عالم اسلام چوہدری صاحب کو ایک صحیح کے آخری نبی نہ مانتے ہوئے ان کے صحیح مسلمان ہونے طی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکومت کا ہماری اس سہل انگاری اور غفلت سے چوہدری صاحب اور موقع ملا چوٹی کے لوگوں میں قادیانیت کا پروپیگنڈا کرنے کا پاکستان کے ساتھ ساتھ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی رہے ہیں؟ کیا ہم حکومت کی اس پالیسی اور حکمت عملی سے یہ ہم قادیانیوں کو اچھا مسلمان سمجھتی ہے۔ حالانکہ چوہدری ہماری حکومت کے مسلمان ملازم ہیں۔ ملک کے مسلمان وزیر ہیں یا مسلمان حکومت کے کافر وزیر۔ یہ العقیدگی ہمارے وزراء اور عوام کے لئے قابل نمونہ
(ہفت روزہ حکومت کراچی مورخہ ١٤ اپریل ١٩٥٢ء)
زیر خارجہ نے ہمارے ملک کے حق میں آج تک کوئی مفید ٢٨
خدمات انجام نہیں دے سکے ہیں۔ اسی طرح ہماری وزارت خارجہ بھی اپنی پالیسی میں ہر جگہ بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور اس کی یہ ناکامی ہمیں کشمیر کی صورت میں بھگتنا پڑ رہی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کے کمزور پہلوؤں سے آج ایک دنیا واقف ہوچکی ہے اور اس طرح ہمارا وہ وقار بھی مجروح ہو چکا ہے جو ایک آزاد قوم کا متاع حیات ہے۔
خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ ہی سے عالمی سیاست میں پاکستان کو ایک ایسا مہرہ تصور کرلیا گیا ہے۔ جس کا نہ تو کوئی بنیادی نصب العین ہے اور نہ اپنی کوئی مضبوط روش۔ ہماری کمزور خارجہ پالیسی کے دور رس اثرات ملک کو اجتماعی حیثیت سے جو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہماری تاریخ کا عنوان کہیں ہماری کمزور خارجہ پالیسی سے شروع نہ ہو۔‘‘
(پندرہ روزہ عزم بغداد الجدید مورخہ ٢٥ مارچ ١٩٥٢ء)
وزیر خارجہ کا ربوہ کا طواف
”ہمارے وزیر خارجہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب خیر سے آج کل ربوہ کا طواف کر رہے ہیں۔ آپ کے بھائی بندوں میں آپ کے لئے بے حد عقیدت اور احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ہمارے نامہ نگار خصوصی کا بیان ہے کہ چوہدری صاحب کی اس پراسرار آمد پر چنیوٹ کے شوالہ سے لے کر لائل پور کی جامع مسجد کے میناروں تک چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔
جب چوہدری صاحب ربوہ پہنچے تو کہتے ہیں کہ وہاں کے چند احباب نے چوہدری صاحب سے سیاسی چھیڑ خانی کرنا چاہی۔ مگر آپ چپ سادھے رہے اور سلامتی کونسل یا مسئلہ کشمیر کے متعلق کچھ کہنے سے احتراز کرتے رہے۔ یہ تو ہم خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارے وزیر خارجہ نے چشم بد دور اپنی دھواں دھار تقریروں سے بھارت کو ساری دنیا میں ننگا کر دیا ہے۔ مگر بھارت کا مہادیو تو اب بھی اپنی توند کو سہلاتا ہوا بھیا تک قہقہے لگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے یہ تمہارا جوتا گڑھ، یہ رہا تمہارا مانگرول، یہ رہا تمہارا حیدر آباد اور ادھر دیکھو میری مٹھی میں تمہارا کشمیر اور بھارت کی بھیروں دیوی کہہ رہی ہے کہ میں تمہارے کشمیر کا پانی گئو ماتا کا پورا دودھ سمجھ کر غٹا غٹ چڑھا رہی ہوں اور بھارت کا سیاہ دیو نئی دہلی کے پیپل کی ٹھونٹھ پر بیٹھا ہوا ہمیں ٹھینگا دکھا رہا ہے کہ جاؤ چاٹو شہد لگا کر سلامتی کونسل کی تجاویز کو۔ گراہم رپورٹ کو سنبھالو، اپنی وزارت خارجہ کے طاق پر ریکارڈ توڑ تقریروں کے پلندے، اب تو دو تہائی کشمیر پر میرا اور میرے باپ کا حق ہے۔
٢٩
دراصل یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی نئی تجویزوں کے پٹاخے چھوڑنے کے علاوہ آج تک سلامتی کونسل نے کیا ہی کیا ہے؟ اور کرے گی کیا؟ بہت زوروں پر آئے گی تو ایک کمیشن کی ناکامی پر دوسرا کمیشن بھیج دے گی۔ ڈاکٹر گراہم کے بعد کسی ڈاکٹر پناہم کو بھیج دے گی یا کوئی نمائندہ کشمیر مقرر کر دے گی۔ اگر مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی تربیت گاہ اطفال میں اسی طرح جھولا جھولتا رہا تو اس کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہو سکے گا۔ جب تک قیامت ہی نہ آجائے۔ لہٰذا قیامت تک سلامتی کونسل کے فیصلے کی امید نہیں۔ بھارتی دیو کے دماغ میں ہٹ دھرمی کا جو کیڑا گھس گیا ہے۔ اس کے نکالنے کے لئے سخت تدبر کی ضرورت ہے۔ اب رہا سلامتی کونسل کی نئی تجویز اور ڈاکٹر گراہم کی رپورٹ کا سوال تو اس کے متعلق کیا عرض کریں۔ جہاں آج سے پہلے وہ لمبی چوڑی بحثوں اور تجاویزوں سے طلسم ہوشربا کے کئی دفتر مرتب کر چکی ہے۔ وہاں ایک دفتر اور سہی۔ نتیجہ وہی ہوگا ڈھاک کے تین پات۔ بھارت تو گنیش جی مہاراج کی سونڈ یا ہنومان جی کی دم کے برابر اس لمبی تجویز پڑھنے کی تکلیف سوئی کے ناکے کے برابر بھی گوارا نہ کرے گا اور نہ ہی اپنی راشٹریہ سینا کو پاکستان کی سرحد سے ہٹائے گا۔ اس کی بہت بڑی کرپا یہ ہوگی کہ اس دفتر بے معنی کو پھاڑ کر حقارت کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی بجائے نئی دہلی میں بھولا رام اینڈ سنز شراب فروشاں کی دکان کے سامنے سفارتی اعزاز کے ساتھ دفن کرا دے اور پاکستان کے داڑھی مونچھ والے نئی تجویز کو جھنجھنا بجا کر خوش ہوں گے کہ وہ مارا سلامتی کونسل نے بھارت کی پیشانی پر بے ایمانی اور ہٹ دھرمی کی نئی مہر لگا دی اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نیو یارک کے آرام گھر میں فتح کے نقارے پر چوٹ لگا کر اعلان کریں گے۔ ’’ہم نے دنیا کے سامنے بھارت کو بے نقاب کر دیا اور بس اللہ اللہ خیر سلا۔‘‘
اس وقت ضرورت عمل کی ہے۔ بحثوں اور اعلانوں کی نہیں۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں حقیقت میں بھارت ماتا کو ناراض کرنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ شریمتی وجے لکشمی اپنا پراچین سمبندھ جو کہ زمانہ رامائن سے چلا آتا ہے۔ امریکہ سے جوڑ چکی ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو بھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ مگر اینگلو امریکن بلاک کو اب یاد رہنا چاہئے کہ اب پاکستان زیادہ دیر تک ایسی طفل تسلیوں اور لارے لپوں میں نہیں رہ سکتا۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے جسم کا ایک انگ ہے۔ جب تک یہ جسم سے جدا ہے کوئی بھی پاکستانی چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘
(ڈیلی بزنس رپورٹ لائل پور، مورخہ ١٨؍اپریل ١٩٥٢ء)٭
٣٠